Sunday, 26 October 2025

رام گوپال ورما انسان کیا حیوان بھی نہیںاتواریہ : شکیل رشیدایک دنیا رام گوپال ورما ( آر جی وی ) کو ایک فلم میکر کے طور پر جانتی اور مانتی ہے ، لیکن یہ نقلی آر جی وی ہے ، اگر آپ اصلی آر جی وی کو جاننا چاہتے ہیں تو اس کے ایکس(سابقہ ٹوئیٹر) کے اکاؤنٹ پر اس کی ایک پوسٹ دیکھ لیں ؛ وہ دیوالی کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھتا ہے "ہندوستان میں صرف ایک دن کی دیوالی ہے ، غزہ میں روز کی دیوالی ہے۔" اس پوسٹ کے ساتھ اس نے تین بھڑکتے ہوئے شعلوں کی ایموجی بھی شیئر کی ہے۔ اس پوسٹ پر ، جیسا کہ ہونا چاہیے تھا، ساری دنیا کی طرف سے تھو تھو ہو رہی ہے، کاش کوئی اٹھے اور آر جی وی کے منھ پر واقعتاً تھوک دے۔ اس لیے کہ غزہ دیوالی کا جشن نہیں ، ایک پوری نسل کا صفایا ہے ، تطہیر ہے ، اور اس دنیا میں جو بھی کسی نسل کی تطہیر کا جشن مناتا ہے یا منائے گا ، وہ اسی قابل ہے کہ اس کے چہرے کو تھوک دان اور کوڑا دان بنالیاجائے ۔ مکمل اعداد و شمار تو سامنے نہیں آئے ہیں لیکن شہر عزیمت میں شہید ہونے والوں کی تعداد 68 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے ۔ اور ان شہداء میں اکثریت بچوں کی ہے۔ بچوں کو قتل کرنے کا سیدھا مطلب نسل کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو بھی بچوں کی شہادت کا جشن منائے گا، وہ انسانوں میں سے کیا حیوانوں میں سے بھی نہیں کہلائے گا۔ یعنی آر جی وی کو حیوان بھی نہیں کہا جا سکتا۔ میں اس بے حس فلم میکر کے سیاسی نظریات سے واقف نہیں تھا، حالانکہ اس نے اپنی سابقہ پوسٹوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرانے کے لیے تعریف کی تھی اور پی ایم کو بھگوان بلکہ رام جی سے بھی مہان کہہ دیا تھا۔لیکن کئی بار پی ایم کی چٹکی بھی لی تھی، اب پتا چل گیا ہے کہ یہ چاہے جس مکھوٹے کے ساتھ سامنے آئے، ان سیاست دانوں اور نظریاتی شیطانوں کی صف سے ہی ہے ، جنہیں اپنے کمزوروں ، پچھڑوں اور اقلیتوں پر مظالم ڈھا کر یا دیکھ کر شدید لذت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ساری زندگی لذت کے پیچھے دوڑتا رہا ہے، کبھی اپنی فلموں کے ذریعے نوخیز لڑکیوں کا استحصال کرکے، کبھی ویڈیو کے ذریعے اداکارہ بننے کی خواہش رکھنے والی کسی لڑکی کے ساتھ فحش رقص کرکے اور کبھی لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں دخل دے کر۔ مگر یہ بے حیائیاں اور فحاشیاں بہرحال کسی کمزور پر ظلم سے لذت کشید کرنے کے مقابلے کم قابل مذمت ہیں۔ شکر ہے کہ لوگوں نے جی بھر کر مذمت کی ہے ، کسی نے جواب میں لکھا ہے کہ "تمہیں انسان بننے میں برسوں لگ جائیں گے" ، تو کسی نے "گندگی میں لتھڑا ہوا چوہا" لکھ کر مذمت کی ہے۔ سچ تو یہی ہے ؛ بے حس آر جی وی انسان تو دور حیوان بھی نہیں ہے ، اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ مزید ایک بات؛ دیوالی کے تہوار کا ایک جنگ ، وہ بھی یک طرفہ جنگ سے موازنہ کرنا، ہندتوادیوں کو کیسے برداشت ہوگیا! یہ تو سراسر ان کے دھرم اور تہوار کی توہین ہے۔ کیا دیوالی کو امیدوں کا تہوار نہیں کہا جاتا ہے؟ لیکن کسی ہندوتوادی جماعت، تنظیم یا کٹر وادی نیتاؤں نے آر جی وی کی مذمت نہیں کی۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کی بیخ کنی کا جشن مناتے ہوئے ، دھرم کی توہین ہو جائے تو بھی برداشت ہے؟ نفرت ایک ایسا گھناؤنا مرض ہے جو اس میں مبتلا ہر شخص کے ہوش و حواس چھین لیتا ہے اور وہ فرد اپنی بے حسی اور تذلیل تک سے آنکھیں موند لیتا ہے؛ آر جی وی اور ہندتوادیوں کا یہی حال ہے۔_________🔴اردو: مارڈن کلاسک فکشن سیریزکچرا باباکرشن چندرجب وہ ہسپتال سے باہر نکلا تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور اس کا سارا جسم بھیگی ہوئی روئی کا بنا معلوم ہوتا تھا اور اس کا جی چلنے کو نہیں چاہتا تھا وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ جانے کو چاہتا تھا۔ قاعدے سے اسے ابھی تک ایک ماہ اور ہسپتال میں رہنا چاہئیے تھا مگر ہسپتال والوں نے اس کی چھٹی کر دی تھی، ساڑہے چار ماہ تک وہ ہسپتال کے پرائیوٹ وارڈ میں رہا تھا اور ڈیڑھ ماہ تک جنرل وارڈ میں اس اثناء میں اس کا گردہ نکال دیا گیا تھا اور اس کی آنتوں کا ایک حصہ کاٹ کے آنتوں کے فعل کو درست کیا گیا تھا، ابھی تک اس کے کلیجے کا فعل راست نہیں ہوا تھا اسے ہسپتال سے نکل جانا پڑا، کیونکہ دوسرے لوگ انتظار کر رہے تھے، جن کی حالت اس سے بھی ابتر تھی۔ ڈاکٹر نے اس سے کے ہاتھ میں ایک لمبا سے نسخا دے دیا اور کہا یہ ٹانک پیو اور مقوی غذا کھاؤ، بالکل تندرست ہو جاؤ گے، اب ہسپتال میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر مجھ سے چلا نہیں جاتا، ڈاکٹر صاحب؟ اس نے کمزور آواز میں احتجاج کیا، گھر جاؤ چند دن بیوی خدمت کرے گی بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے، بہت ہی دھیرے دھیرے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے فٹ پاتھ پر چلتے اس نے سوچا گھر؟ میرا گھر کہاں ہے ؟ چند ماہ پہلے ایک گھر ضرور تھا، ایک بیوی بھی تھی،جس کے ایک بچہ ہونے والا تھا، وہ دونوں اس آنے والے بچے کے تصور سے کس قدر خوش تھے، ہو گی دنیا میں زیادہ آبادی، مگر وہ تو ان دونوں کا پہلا بچہ تھا۔ دلاری نے اپنے بچے کے لئے بڑے خوبصورت کپڑے سئیے تھے اور ہسپتال میں لا کر اسے دکھائے تھے اور ان کپڑوں کی نرم سطح پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے بچے کو بانہوں میں لے کر اسے پیار کر رہا ہوں ، مگر پھر اگلے چند مہینوں میں بہت کچھ لٹ گیا، جب اس کے گرد کا پہلا آپریشن ہوا تو دلاری نے اپنے زیور بیچ دئیے کہ ایسے ہی موقعوں کے لئے ہوتے ہیں ، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیور عورت کے جسن کی افزائش کے لئے ہوتے ہیں ، وہ تو کسی دوسرے درد کا مداوا ہوتے ہیں ، شوہر کا آپریشن، بچے کی تعلیم، لڑکی کی شادی، یہ بینک ایسے ہی موقعوں کے لئے کھلتا ہے اور خالی کر دیا جاتا ہے، عورت تو اس زیور کی تحویل دار ہوتی ہے اور زندگی میں مشکل سے پانچ چھ بار اسے اس زیور کو پہننے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔گردے کے دوسرے آپریشن سے پہلے دلاری کا بچہ ضائع ہو گیا، وہ تو ہو تو ہی دلاری کو دن رات جو کڑی مشقت کرنا پڑ رہی تھی، اس میں یہ خطرہ سب سے پہلے موجود تھا، ایسے لگتا جیسے دلاری کا یہ چھریرا سنہرا بدن اس قدر کڑی مشقت کے لئے نہیں بنایا گیا، اس لئے وہ دانا فرزانہ بچہ ہی میں سے کہیں لٹک گیا تھا، ناسازگار ماحول دیکھ کر اور ماں باپ کی پتلی حالت بھان کر اس نے خود ہی پیدا ہونے سے انکار کر دیا، بعض بچے ایسے ہی عقلمند ہوتے ہیں ، دلاری کئی دنوں تک ہسپتال نہیں آ سکی، اور جب اس نے آ کے خبر دی تو وہ کس قدر رویا تھا، اگر اسے معلوم ہوتا کہ آگے چل کر اسے اس سے کہیں زیادہ رونا پڑے گا، تو وہ اس حادثے پر رونے کے بجائے خوشی کا اظہار کرتا۔ گردے کے دوسرے آپریشن کے بعد اس کی نوکری جاتی رہی، طویل علالت میں یہی ہوتا ہے، کوئی کہاں تک انتظار کر سکتا ہے، بیماری انسان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے،اس لئے اگر وہ چاہتا کہ اس کی نوکری قائم رہے تو اسے زیادہ دیر تک بیمار نہ پڑنا چاہئیے، انسان مشین کی طرح ہے، اگر ایک مشین طویل عرصے کے لئے بگڑی رہتی ہے تو اسے اٹھا کے ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ نئی مشین آ جاتی ہے کیونکہ کام رک نہیں سکتا، بزنس بند نہیں ہو سکتا اور وقت تھم نہیں سکتا، اس لئے جس سے معلوم ہو کہ اس کی نوکری بھی جاتی رہی ہے تو اسے شدید دھچکا سا لگا، جسیے اس کا دوسرا گردہ بھی نکال لیا گیا، اس دھچکے سے اس کے آنسو بھی خشک ہو گئے، اصلی اور بڑی‫مصیبت میں آنسو نہیں آتے، اس نے محسوس کیا صرف دل کے اندر ایک خلا محسوس ہوتا ہے، زمین قدموں کے نیچے سے کھسکتی معلوم ہوتی اور رگوں میں خون کے بجائے خوف دوڑتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔کئی دنوں تک وہ آنے والی زنگی کے خوف اور دہشت سے سو نہیں سکا تھا، طویل علالت کے خرچے بھی طویل ہوتے ہیں ، اور زیر بار کرنے والے ہولے ہولے گھر کی سب قیمتی چیزیں چلی گئیں ، مگر دلاری نے ہمت نہیں ہاری، اس نے ساڑہے چار ماہ تک ایک ایک چیز بیچ دی اور آخر میں نوکری بھی کر لی، وہ ایک فرم میں ملازم ہو گئی تھی، اور روز اپنی فرم کے مالک کو لے کر ہسپتال بھی آئی تھی، وہ ایک دبلا پتلا، کوتاہ قد، ادھیڑ عمر کا شرمیلا آدمی دکھائی دیتا تھا، کم گو اور میٹھی مسکڑاہٹ والا، صورت شکل سے وہ کسی بڑی فرم کا مالک ہونے کے بجائے کتابوں کی کسی دکان کا مالک معلوم ہوتا تھا،دلاری اس کی فرم میں سو روپے مہینے پر نوکر ہو گئی تھی، چونکہ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی، اس لئے اس کا کام لفافوں پر ٹیکٹس لگانا تھا۔ یہ تو بہت آسان کام ہے ؟ دلاری کے شوہر نے کہا۔ فرم کا باس بولا کام تو آسان ہے، مگر جب دن میں پانچ چھ سو خطوں پر ٹیکٹس لگان پڑیں تو اسی طرح کا کام بہت آسان کام کے بجائے بہت مشکل کام ہو جات ہے۔ اور وہ اس منزل سے گز چکا تھا جس وہ کسی کو قصور وار نہیں ٹھہرا سکتا تھا، اتنی چوٹیں پے در پے اس پڑی تھیں کہ وہ بالکل بولا گیا، بالکل سناٹے میں آگیا وہ باطل دم بخور تھا، اب اس کی مصیبت اور تکالیف میں کسی طرح کا کوئی جذبہ یا آنسو نہیں رہ گیا تھا، بار بار ہتھوڑے کی ضربیں کھا کھا کراس کا دل دہات کے ایک پترے کی طرح بے جس ہو گیا، اس لئے آج جب اسے ہسپتال سے نکال گیا تو اس نے ڈاکٹر سے کسی ذہنی تکلیف کی دور کرنے کی شکایات نہیں کی تھی، اس نے اس سے یہ نہیں کہا تھا کہ اب وہ اس ہسپتال سے نکل کر کہاں جائے گا؟اب اس کا کوئی گھر نہیں تھا،کوئی بیوی نہیں تھی،کوئی بچہ نہیں ،کوئی نوکری نہیں ، اس کا دل خالی تھا، اس کی جیب خالی تھی، اور اس کے سامنے ایک خالی اور سپاٹ مستقبل تھا۔ مگر اس نے یہ سب کچھ نہیں کہا تھا،اس نے صرف یہ کہا تھا؟ ڈاکٹر صاحب مجھ سے چلا نہیں جا رہا ہے، بس یہی ایک حقیقت تھی جو اسے اس وقت یاد تھی، باقی ہر بات اس کے دل سے مجو ہو سکتی ہے، اس وقت چلتے چلتے وہ صرف یہ محسوس کر سکتا تھا کہ اس کا جسم گیلی روئی کا بنا ہوا ہے،اس کی ریڑھ کی ہڈی کسی کسی پرانی شکستہ چارپائی کی طرح چٹخ رہی ہے، دھوپ بہت تیز ہے، روشنی نشتر کی طرح چبھتی ہے، آسمان پر ایک میلے اور پیلے رنگ کا وارنش پھرا ہوا اور فضا میں تاریک تر کرتے اور چستیاں سی غلیظ مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہی ہیں اور لوگوں کی نگاہیں بھی گندے لہو اور پی کی طرح اس کے جسم سے چسپا کر رہ جاتیں ، اسے بھاگ جانا چاہئیے، کہیں ان ‫‫لمبے الجھے بجلی کے تاروں والے کھمبوں اور ان کے درمیان گڈ مڈ ہونے والے راستوں سے کہیں دور تھا، اپنا بھائی بھی یاد آیا جو افریقہ میں تھا، سن سن سن ایک ٹرام اس کے قریب سے اندر گھستی چلی جار رہی تھی اور پوری ٹرام کو اپنے جسم کے اندر چلتا ہوا محسوس کر سکتا تھا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کوئی انسان نہیں ہے ایک گھسا پٹہ راستہ ہے۔ دیر تک وہ چلتا رہا، ہانپتا رہا اور چلتا رہا، اندازے سے ایک موہوم سمت کی طرف چلتا رہا، جدھر کبھی اس کا گھر تھا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اب ا س کا کوئی گھر نہیں ہے، مگر وہ جانتے ہوئے بھی ادھر ہی چلتا رہا، گھر جانے کی عادت سے مجبور ہو کر مگر دھوپ بہت تیز تھی، اس کے سارے جسم میں چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں ، اور وہ کسی مسافر سے راستہ ہی پوچھ کے،معلوم کر لے یہ شہر کا کونسا حصہ ہے، ہولے ہولے اس کے کانوں میں ٹراموں اور بسوں کا شور بڑھنے لگا، نگاہوں میں دیواریں ٹیڑھی ہونے لگیں ، عمارتیں گرنے لگیں ، بجلی کے کھمبے گڈ مڈ کرنے لگے، پھر اس کی آنکھوں تلے اندھیرا اور قدموں تلے بھونچال سا آیا اور وہ یکا یک زمین پر گر پڑا۔ جب ہوش میں آیا تو رات ہو چکی تھی، ایک نیم خنک سا اندھیرا چاروں طرف چھایا ہوا تھا، اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا کہ جس جگہ پر گرا تھا اب تک وہیں پڑا ہے، یہ فٹ پاتھ ایک ایسا تھا جس کے عقب میں دو طرفہ دو دیواریں تھی دوسری شمال سے مغرب کو، اور وہ دونوں دیوروں کے اتصال پر لیٹا ہوا تھا، یہ دونوں دیواریں کوئی چار فٹ کے قریب بلند تھیں ، یہاں پر امرود اور جامن کے پیڑ تھے اور ان پیڑوں کے پیچھے کیا تھا وہ اسے اس وقت تک نہیں نظر نہیں آیا تھا،دوسری طرف مغربی دیوار کے سامنے پچیس تیس فٹ کا فاصلہ چھوڑ کر ایک پرانی عمارت کا عقب تھا، سہ منزلہ عمارت تھی اور منزل میں پیچھے کی طرف صرف ایک کھڑکی تھی جو چہ بڑے عقبی پائ تھے، عقبی پائ اور مغربی دیوار کے بیچ میں پچیس تیس فٹ چوڑی ایک اندھی گلی بن گئی تھی، جس کے تین طرف دیوار تھی اور چوتھی طرف سڑک تھی، کہنیوں پر زور دے کر ذرا سا اوپر اٹھا کر اور ادھر ادھر دیکھنے لگا، سڑک بالکل خالی تھی، سامنے کی دکانیں بند تھیں اور فٹ پاتھ کے اندھے سالوں میں کہیں کہیں بجلی کے کمزور بلب جھلملا رہے تھی، چند لمحوں کے لئے اسے یہ ٹھنڈی تاریکی بہت بھلی معلوم ہوئی چند لمحوں کے لئے اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے سوچا شاید وہ کسی مہربان سمندر کے پانیوں میں ڈوب رہا ہے۔ مگر اس احساس سے وہ اپنے آپ کو صرف چند لمحوں تک دہو دے کیونکہ اب اس نے محسوس کر لیا کہ اس پر شدید بھوک طاری ہو چکی ہے، چند لمحوں کی خوشگوار خنکی کے بعد اس نے محسوس کر لیا کہ وہ شدید طور پر بھوکا ہے، جس سے کی آنتوں کے فعل کو بیدار کر کے اس کے ساتھ کسی طرح کی بھلائی نہیں کی، اس کے معدے کے اندر عجیب اینٹھن سی ہو رہی تھی اور آنتیں اندر ‫ہی اندر تڑپ تڑپ کر روٹی کا سوال کر رہی تھیں اور اس وقت اس کے نتھنے کسی شہری انسان کے نتھنوں کی طرح نہیں کسی جنگلی جانور کے نتھنوں کی طرح کام کر رہے تھے، عجیب عجیب سی بوئیں اس کی ناک میں آ رہی تھیں ، بوؤں کی ایک سمفنی تھی جو اس کے احساس پر پھیلی ہوئی تھی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ اس سمفنی کے ایک ایک سر کا الگ الگ وجود پہچان سکتا تھا، یہ جامن کی خوشبو ہے، یہ امرود کی، یہ رات کی رانی کے پھولوں کی، یہ تیل میں تلی ہوئی پوریوں کی، یہ پیاز اور لہسن میں بگھارے ہوئے آلوؤں کی، یہ مولی کی، یہ ٹماٹر کی، یہ کسی سڑے گلے پھل کی، یہ پیشاب کی، یہ پانی میں بھیگی ہوئی مٹی کی جو غالباً بانسوں میں کے جھنڈ سے آ رہی ہے۔ وہ ہر بو کی نوعیت، شدت، سمت اور فاصلے تک کا اندازہ کر سکتا ہے، یکایک اسے یہ احساس بھی ہوا اور وہ اس بات پر چونکا بھی کہ کس طرح سے بھوک نے اس منفی قوتوں کو بیدار کر دیا۔ مگر اس امر پر زیادہ غور کئے بغیر اس نے اس طرف گھسٹنا شروع کر دیا، جدھر سے اسے تیل میں تلی ہوئی پوریوں اور لہسن سے بگھارے ہوئے آلوؤں کی، یہ مولی کی، یہ ٹماٹر کی، یہ کسی سڑے گلے پھل کی، یہ پیشاب کی، یہ پانی میں بھیگی ہوئی مٹی کی جو غالباً بانسوں میں کے جھنڈ سے آ رہی ہے۔ وہ ہر بو کی نوعیت، شدت، سمت اور فاصلے تک کا اندازہ کر سکتا ہے، یکایک اسے یہ احساس بھی ہوا اور وہ اس بات پر چونکا بھی کہ کس طرح سے بھوک نے اس منفی قوتوں کو بیدار کر دیا۔ مگر اس امر پر زیادہ غور کئے بغیر اس نے اس طرف گھسٹنا شروع کر دیا، جدھر سے اسے تیل میں تلی ہوئی پوریوں اور لہسن سے بگھارے ہوئے آلوؤں کی بو آئی تھی، وہ دھیرے دھیرے اندھی گلی کے اندر گھسٹنے لگا، کیونکہ وہ اپنے جسم میں چلنے کی سکت بالکل نہیں پاتا تھا، پھر اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی دھوبی اس کی آنتوں کو پکڑ کر مروڑ رہا ہے، پھر اس کے نتھنے میں پوریوں اور آلو کی اشتہا انگیز بو آئی اور وہ بے قرار ہو کر ادھ مندھی آنکھوں سے اپنے تقریباً بے جان سے جسم کو ادھر گھسیٹنے کی کوشش کرتا،جدھر سے آلو، پوری کی بو آ رہی تھی، کچھ عرصے کے بعد جب وہ اس جگہ پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مغربی دیوار اور اس کے سامنے کی پچھواڑے کے پائیوں کے درمیان پچیس تیس فٹ کے فاصلے میں مستطیل نما کچرے کا ایک بہت بڑا کھلا آہنی ٹب رکھا ہے۔ یہ ٹب کوئی پندرہ فٹ چوڑا ہو گا اور تیس فٹ لمبا اور اس میں طرح طرح کا کوڑا کرکٹ بھرا ہے گلے سٹرے پھلوں کے چھلکوں اور ڈبل روٹیوں کے غلیظ ٹکڑے اور چائے کی پتیاں اور ایک پرانی جیکٹ اور بچوں کے گندے پوتڑے اور انڈے کے چھلکے اور اخبار کے ٹکڑ اور رسالوں کے پھٹے اوراق اور روٹی کے ٹکڑے اور لوہے کی لونیاں اور پلاسٹک کے ٹوٹے ہوئے کھلونے اور مٹر کے چھلکے اور پودینے کے پتے اور کیلے کی پتّل پر چند ادھ کھائی پوریاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آلو کی بھاجی، پوریوں اور آلو کی بھاجی کو دیکھ کر گویا اس کی آنتیں ابل پڑیں ، اس نے چند لمحوں کے لئے اپنے بے قرار ہاتھ روک لئے، مگر دوسری بدبوؤں کے مقابلے میں اس کے نتھنوں میں اگلے چند ثانیوں تک پوری اور بھاجی کو دیکھ کی اشتہار آمیز خوشبو اسی طرح تیز تر ہو گئی جیسے کسی سمفنی میں یکایک کوئی خاص سر ایک دم اونچے ہو جاتے ہیں اور یکا یک تہذیب کی آخری دیواریں ڈھے گئیں اور اس کے کانپتے ہوئے بے قرار ہاتھوں نے کیلے کے اس پتل کو دبوچ لیا اور وہ اک وحشیانہ گرسنگی سے متاثر ہو کر ان پوریاں پر ٹوٹ پڑا۔ پوری بھاجی کھا کے اس نے کیلے کے پتے کو بار بار چاٹا اور اسے شفاف کر کے چھوڑ دیا، جیسے قدرت نے اسے بنایا تھا، پتل چاٹنے کے بعد اس نے اپنی انگلیاں چاٹیں اور لمبے لمبے ناخنوں میں بھری ہوئی آلو کی بھاجی زبان کی نوک سے نکال کے دکھائی اور جب اس سے بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو اس نے ہاتھ بڑھا کر کوڑے کے ڈھیر کو کھنگھولتے ہوئے اس میں سے پودینے کے پتے نکال کر کھائے اور مولی کے دو ٹکڑے اور ایک آدھا ٹماٹر اپنے منہ میں ڈال کر مزے سے اس کا رس پیا اور وہ سب کچھ کھا چکا تو اس تو اس کے سارے جسم میں نیم گرم غنودگی کی اک لہر اٹھی اور وہ ہیں ٹب کے کنارے گر کر سوگیا۔ آٹھ دس روز اسی نیم غنودگی اور نیم بے ہوشی کے عالم میں گزرے، وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب کے قریب جاتا اور جو کھانے کو ملتا کھا لیتا اور جب اشتہا آمیز بوؤں کی تسکین ہو جاتی اور وہ دوسری گندی بوئیں ابھرنے لگتیں تو وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب سے فٹ پاتھ کے ٹکڑ پر چلا جاتا، اور عقبی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا یا سو جاتا۔ پندرہ بیس روز کے بعد ہولے ہولے اس کے جسم میں طاقت ابھرنے لگی، ہولے ہولے وہ اپنے ماحول سے مانوس ہونے لگا، یہ جگہ کتنی اچھی ہے، یہاں دھوپ نہیں تھی، یہاں درختوں کا سایہ تھا، اندھی گلی سنان اور ویران تھی یہاں کوئی نہیں آتا تھا، کبھی کبھی عقبی عمارت سے کوئی کھڑکی کھلتی تھی اور کوئی ہاتھ پھیلا کر نیچے کے ٹب میں روز مرہ کا کوڑا پھینک دیتا تھا، یہ کوڑا جو اس کا روزی رساں تھا، اس کے شب و روز کا رازق تھا، اس کی زندگی کا محافظ تھا، دن میں سڑک چلتی تھی، دکانیں کھلتی تھیں ، لوگ باگ گھومتے تھے، بچے ابابیلوں کی طرح چہکتے ہوئے سڑک سے گزر جاتے تھیں ، عورتیں رنگین پتنگوں کی طرح ڈولتی ہوئی گزر جاتی تھیں ، لیکن یہ ایک دوسری دنیا تھی، اس دنیا میں اس کو کوئی علاقہ نہ تھا، اس دنیا میں اب اس کا کوئی نہ تھا، اور وہ اس کے لئے موہوم سائے بن گئے اور اس سے باہر میدان اور کھیت اور کھلا آسمان ایک بے معنی تصور، گھر، کام کاج،زندگی سماج،جدوجہد بے معنی الفاظ جو گل سٹ کر اس کوڑے کچرے کے ڈھیر میں مل کر غتر بود ہو گئے، اس دنیا سے اس نے منہ موڑ لیا تھا اور اب یہی اس کی دنیا تھی،پندرہ فٹ لمبی اور تیس فٹ چوڑی۔ ماہ و سال گزرتے گئے اور اس نکڑ پر بیٹھا بیٹھا ایک پرانے ٹھنٹھہ کی طرح اور کسی پرانی یاد گار کی طرح سب کی نظروں میں مانوس ہوتا چلا گیا وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا کسی کو فیض نہیں پہنچاتا تھا، کسی سے بھیک نہیں مانگتا تھا، لیکن اگر وہ کسی دن وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا تو اس علاقے کے ہر فرد کو اس مر پر حیرت ہوتی اور شاید کسی قدر تکلیف بھی ہوتی۔ سب لوگ اسے کچرا بابا کہتے تھے، کیونکہ یہ سب کو معلوم تھا کہ وہ صرف کچرے کے ٹب میں سے اپنی خوراک نکال کر کھاتا ہے اور جس دن اسے وہاں ‫سے کچھ نہ ملتا وہ بھوکا ہی سو جاتا، برسوں سے راہ گیر اور ایرانی رسٹوران والے اس کی عادت کو پہچان گئے تھے، اور اکثر عمارت کی عقبی کھڑکیوں سے اب کوڑے کے علاوہ خوردہ نوش کی دوسری چیزیں بھی پھینکی جاتیں ، صحیح و سالم پوریاں اور بہت سی بھاجی اور گوشت کے ٹکڑے اور ادھ چوسے آم اور چٹنی اور کباب کے ٹکڑے اور کھیر میں لتھڑے ہوئے پتل، ناؤ نوش کی ہر نعمت کچرا بابا کو اس ٹب میں سے مل جاتی ہیں ، کبھی کبھی کوئی پھٹا ہوا پاجامہ، کوئی ادھڑی ہوئی نیکر، کوئی تار تار شکستہ قمیض پلاسٹک کا گلاس، یہ کچرے کا ٹب کیا تھا، اس کے لئے ایک کھلا بازار تھا، جہاں وہ دن دہاڑے سب کی آنکھوں کے سامنے مڑ گشت کیا کرتا تھا، جس دکان سے جو سودا چاہتا مفت لیتا تھا، وہ اس بازار کا اس نعمت غیر مترقبہ کا واجد مالک تھا، شروع شروع میں چند گرسنہ بلیوں اور خارش زدہ کتوں نے شدید مزاحمت کی تھی، مگر اس نے مار مار کر سب کو باہر نکال دیا، اور اب اس کچرے کے ٹب کا واجد مالک تھا اور اس کے جق کو سب نے تسلیم کر لیا تھا، مہینے میں ایک بار میونسپلٹی والے آتے ہیں ، اور اس ٹب کو خالی کر کے چلے جاتے تھے اور کچرا بابا ان سے کسی طرح کی مزاحمت نہیں کرتا تھا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ دوسرے دن ٹب پھر اسی طرح بھرنا شروع ہو جائے گا اور اس کو اعتقاد تھا کہ اس دنیا سے نیکی ختم ہو سکتی ہے لیکن غلاظت ختم نہیں ہو سکتی رفاقت ختم ہو سکتی ہے، لیکن غلاظت اور گندگی کبھی ختم نہیں ہو سکتی، ساری دنیا سے منہ توڑ کر اس نے جینے کا آخری طریقہ سیکہ لیا تھا۔ مگر یہ بات نہیں ہے کہ اسے باہر کی دنیا کی خبر نہ تھی، جب شہر میں چینی مہنگی ہو جاتی تو مہینوں کچرے کے ٹب میں مٹھائی کے ٹکڑے کی صورت نظر نہیں آتی، جب گندم مہنگی ہو جاتی تو ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا تک نہ ملتا، جب سگریٹ مہنگے ہو تو تو سگریٹ کے جلے ہوئے ٹکڑے اتنے چھوٹے ملتے کہ انہیں سلگا کر پیا بھی نہیں جا سکتا۔ جب بھینگوں نے ہڑتال کی تھی تو مہینے تک اس کے ٹب کی کسی نے صفائی نہیں کی تھی،اور کسی روز اس کو ٹب میں اتنا گوشت نہیں ملتا تھا، جتنا بقر عید کے روز اور دیوالی کے دن تو ٹب کے مختلف کونوں سے مٹھائی کے بہت سے ٹکڑے مل جاتے تھے۔ باہر کی دنیا کا کوئی حادثہ یا واقعہ ایسا نہ تھا۔ جس کا سراغ وہ کچرے کے ٹب سے دریافت نہ کر سکتا تھا، دوسری جنگ عظیم سے لے کر عورتوں کے خفیہ امراض تک، مگر باہر کی دنیا سے اب اسے کسی طرح کی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی، پچیس سال تک وہ اس کچرے کے ٹب کے کنارے بیٹھا بیٹھا اپنی عمر گزار رہا تھا، شب و روز، ماہ و سال، اس کے سر سے ہوا کی لہروں کی طرح گزرتے گئے، اور اس کے سر کے بال سوکھ سوکھ کر ربٹر کی شاخوں کی طرح لٹکنے لگے، اس کی کالی داڑھی کھچڑی ہو گئی، اس کے جسم کا رنگ ملگجاہٹ ملا اور سبزی مائل ہوتا گیا، وہ اپنے مضبوط بالوں ، پھٹے چیتھڑوں اور بدبو دار جسم سے راہ چلتے لوگوں ‫‫کو خود بھی کچرے کا ایک ڈھیر دکھائی دیتا تھا جو کبھی کبھی حرکت کرتا تھا اور بولتا تھا، کسی دوسرے سے نہیں صرف اپنے آپ سے زیادہ سے زیادہ کچرے کے ٹب سے۔ کچرا بابا ان لوگوں سے کچھ کہتا نہیں تھا، مگر انکی حیرت کو دیکھ کر دل میں ضرور سوچتا ہو گا کہ اس دنیا میں کون ہے جو کسی دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اس دنیا میں جتنی گفتگو ہوتی ہے انسانوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ صرف اپنی ذاتی اور اس کی کسی غرض کے درمیان ہوتی ہے، دوسروں کے درمیان جو بھی گفتگو ہوتی ہے وہ دراصل ایک طرح کی خود کلامی ہوتی ہے، یہ دنیا ایک بہت بڑا کچرے کا ڈھیر ہے جس میں سے ہر شخص اپنی غرض کا کوئی ٹکڑا، فائدے کا کوئی ٹکڑا، فائدے کا کوئی چھلکا یا منافع کا کوئی چیتھرا دبوچنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور کہتا ہو گا یہ لوگ جو مجھے حقیر، فقیر یا ذلیل سمجھتے ہیں ، ذرا اپنی روح کے پچھواڑے میں تو جھانک کر دیکھیں ، وہاں اتنی غلاظت بھری ہے کہ جسے صرف موت کا فرشتہ ہی اٹھا کر لے جائے گا۔ اسی طرح دن پر دن گزرتے گئے ملک آزاد ہوئے، ملک غلام ہوئے حکومتیں آئیں ، حکومتیں چلی گئیں ، مگر یہ کچرے کا ڈب وہیں رہا اور اس کے کنارے بیٹھنے والا کچرا بابا اسی طرح نیم غنودگی میں بے ہوشی کے عالم میں دنیا سے منہ موڑے ہوئے زیر لب کچھ بدبداتا رہا کچرے کے ٹب کو گھنگھولتا رہا۔ تب ایک رات اندھی گلی میں جب وہ ٹب سے چند فٹ کے فاصلے پر دیوار سے پیٹھ لگائے اپنے پھٹے چیتھڑوں میں دبکا سورہا تھا، اس نے رات کے سناٹے میں ایک خوف ناک چیخ سنی اور وہ ہڑبڑا کر نیند سے جاگا، پھر اس نے ایک زور کی تیز چیخ سنی اور گھبرا کر کچرے کے ٹب کی طرف بھاگا، جدھر سے یہ چیخیں سنائی دے رہی تھیں ۔ کچرے کے ٹب کے پاس جا کر اس نے ٹٹولا، تو اس کا ہاتھ کسی نرم نرم لوتھڑے سے جا ٹکرایا اور پھر ایک زور کی چیخ بلند ہوئی، کچرا بابا نے دیکھا کہ ٹب کے اندر ڈبل روٹ کے ٹکڑوں ، چچوڑی ہوئی ہڈیوں ، پرانے جوتوں ، کانچ کے ٹکڑوں ، آم کے چھلکوں ، باسی دونوں اور ٹھرے کی ٹوٹی ہوئی بوتلوں کے درمیان ایک نوزائیدہ بچہ ننگا پڑا ہے اور اپنے ہاتھ پاؤں ہلا ہلا کر زور زور سے چیخ رہا ہے۔ چند لمحوں تک کچرا بابا حیرت میں ڈوبا ہوا جامد و ساکت اس ننھے انسان کو دیکھتا رہا جو اپنے چھوٹے سے سینے کی پوری قوت سے اپنی آمد کا اعلان کر رہا تھا، چند لمحوں تک وہاچپاچاپ، پریشان، پھٹی پھٹ آنکھوں سے اس منظر کو دیکھتا رہا پھر اس نے تیزی سے آگے جھک کر کچرے کے ٹب سے اس بچے کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ مگر بچہ اس کی گود میں جا کر بھی کسی طرحانہ رہا، وہ اس زندگی میں نیا نیا آیا تھا اور بلک بلک کر اپنی بھوک کا اعلان کر رہا تھا، ابھی اسے معلوم نہ تھا کہ غریبی کیا ہوتی ہے، مامتا کس طرح بزدل ہو جاتی ہے، زندگی کسیے ‫حرام بن جاتی ہے، وہ کس طرح ملیے پیکٹ اور غلیظ بنا کچرے کے ٹب میں ڈال دی جاتی ہے، ابھی اسے یہ سب کچھ معلوم نہ تھا ابھی وہ صرف بھوکا تھا اور رو رو کر اپنے پیٹ پر ہاتھ مار رہا تھا۔ کچرا باب کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیسے اس بچے کو کرائے اس کے پاس کچھ نہ تھا، نہ دودھ نہ چسنی، اسے تو کوئی لوری بھی یاد نہیں تھی، وہ بے قرار ہو کر بچے کو گود میں لے کر دیکھنے لگا اور تھپتھپانے لگا اور گہری نیند سے رات کے اندھیرے میں چاروں طرف دیکھنے لگا، کہ اس وقت بچے کے لئے دودھ کہاں سے مل سکتا ہے، لیکن جب ا سکی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تو اس نے جلدی سے کچرے کے ٹب سے آم کی ایک گٹھلی نکالی اور اس کا دوسرا سرا بچے کے منہ میں دے دیا۔ ادھ کھائے ہوئے آم کا میٹھا میٹھا رس جب بچے کے منہ میں جانے لگا تو وہ روتا روتا ہو گیا اور ہوتے ہوتے کچرا بابا کی بانہوں میں سو گیا، آم کی گٹھلی کھسک کر زمین پر جا گری اور اب بچہ اس کی بانہوں میں بے خبر سو رہا تھا، آم کا پیلا پیلا رس ابھی تک اس کے نازک لبوں پر تھا اور اس کے ننھے سے ہاتھ نے کچرا بابا کا انگوٹھا بڑے زور سے پکڑ رکھا تھا۔ ایک لمحے کے لئے کچرا بابا کے دل میں خیال آیا کہ وہ بچے کو یہیں پھینک کر کہیں بھاگ جائے، دھیرے سے کچرا باب نے اس بچے کے ہاتھ سے اپنے انگوٹھے کو چھڑانے کی کوشش کی،مگر بچے کی گرفت بڑی مضبوط تھی اور کچرا بابا کا ایسے محسوس ہوا جیسے زندگی نے اسے پھر سے پکڑ لیا ہے، اور دھیرے دھیرے جھٹکوں سے اسے اپنے پاس بلا رہی ہے، یکایک اسے دلاری کی یاد آ جاتی ہے، اور وہ بچہ جو اس کی کوکھ میں کہیں ضائع ہو گیا تھا اور یکا یک کچرا بابا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، آج سمندر کے پانیوں میں اتنے قطرے نہ تھے جتنے آنسو اس کی آنکھوں میں تھے، گزشتہ پچیس برسوں میں جتنی میل اور غلاظت اس کی روح پر جم چکی ہے وہ اس طوفان کے ایک ہی ریلے میں صاف ہو گئی۔ رات بھر کچرا بابا اس نوزائیدہ بچے کو اپنی گود میں لئے بے چین اور بے قرار ہو کرفت پاتھ پر ٹہلتا رہا اور جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو لوگوں نے دیکھا کہ کچرا بابا آج کچے کے ٹب کے پاس نہیں ہے، بلکہ سڑک پار نئی تعمیر ہونے والی عمات کے نیچے کھڑا ہو کر اینٹیں ڈھو رہا ہے اور اس عمارت کے قریب گل مہر کے ایک پیٹ کی چھاؤں میں ایک پھولدار کپڑے میں لپتا اک ننھا بچہ منہ میں دودھ کی چسنی لئے مسکرا رہا ہے۔_______🔴🔴نوجوان شاعر صدیق اکبر کی تازہ غزل احباب کے لیےسب کو حسرت سے دیکھتا تھا میںجانے کس کے لیے بنا تھا میںاُس کو آواز دے رہا ہوں ابجس کی آواز پر رُکا تھا میںخستہ دروازہ تھا سرائے کااور دستک سے ڈر رہا تھا میںشب وہاں سخت پہرے داری تھی دن دہاڑے جہاں لُٹا تھا میںاس جگہ سے بھی خوف آنے لگا جس جگہ خوف سے چھپا تھا میںتب اداسی وجود میں آئیچاک پر جب رکھا گیا تھا میںہجر نے زرد کر دیا مجھ کوورنہ کیسا ہرا بھرا تھا میںصدیق اکبر( مالیگاؤں/ناسک)انڈیا_______*مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر، نقاد،معلم و ڈرامہ نگار ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر صاحب کی غزل* ردیف دل ہے مرا قافیہ نظر اس کیسخن شناس بتا شعر میں کمی کیا ہے*معجز نمائی خواب کی ہر شب ہے نیند میں**اے کاش رتجگوں میں حقیقت دکھائی دے* نیلم و یاقوت و مرجان و عقیق اپنی جگہقطرۂ شبنم کی ذاکر ضوفشانی اور ہے*عشق والو! یہ ہنر دیر سے آپاتا ہے**محفلِ شعر میں مقتل بھی سجائے رکھنا* حاصلِ رنگینیِ دنیا فقط ہے خود سریسرفرازی بےخودی کے راز میں مظہر میں ہے*میز پر جلوہ نما جتنی بھی تحریریں ہیں**میدے احساس میں لپٹی تری تصویریں ہیں* گرچہ پروئے شعر میں جذباتِ رنگ و نورلیکن بیاں نہ ہوسکیں گہرائیاں تمام*شہکار کی تکمیل میں قربان ہوا ہے**بس اتنی کہانی ہے مرے دستِ ہنر کی* اسی کی شکل ذاکر شعر میں ہے روح کی مانندغزل کے جسم میں شامل وہی جذبات کرتا ہے*شاعری خلوت محبت آنچ آتشدان ہے**اس کے میرے درمیاں بس فیض کا دیوان ہے* عجب نہیں کہ نظر آئے نامۂ اعمال ہماری روح بدن سے گریز کرنے لگی*زنداں میں ترے دل کے آرام میسر ہے**ممنوع بنا دے اب ہر حکمِ رہائی کو* نہ ہوسکے جو ادا زباں سے نہ کر سکوں میں بیاں جنھیں ابمری نگاہوں میں قید ہیں وہ شکستگی کے تمام منظر*میں ترے شہر میں آیا تھا یہی سوچ کے بس**تجھ کو دیکھے ہوئے لگتا تھا زمانے گزرے* مجھ کو چھلکا نہ کبھی دیدۂ نمناک سے توتو نے پلکوں پہ سجایا ہے سجا رہنے دے

Thursday, 23 October 2025

علی گڑھ تحریک ، مسلم یونیورسٹی اور مولانا آزاد تکلف برطرف : سعید حمید تاریخ ایک ایسا موضوع ہے جسے حقائق کی روشنی میں پیش کیا جانا چاہئے ، عقیدت یا جذبات کے زیر اثر نہیں ، اور ہمارا المیہ ہے کہ جہاں ہم اندھ بھکتی کا الزام دوسروں پر عائد کرتے ہیں ، ہماری قوم نے بھی کئی شخصیات کے متعلق ایسا اندھی عقیدت والا رویہ اختیار کیا ہے کہ اس عقیدہ کے برخلاف ہم کسی بھی سچائی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔اگر آج اکیسویں صدی کا بھارتی مسلمان اس بات سے متفق ہے کہ بیسیویں صدی کے مسلمانوں کا سب سے عظیم و تا ریخی کارنامہ آج سے سو سال قبل علی گڑھ میں ’’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ کا قیام تھا ۔ اگر آج کا مسلمان اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ گذشتہ سو سالوں میں علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی نے ’’ملتِ اسلامیۂ ہند ‘‘ کی عظیم الشان اور بے مثال خدمت کی ہے ۔ اگر آج کا مسلمان یہ سوچ کر ہی چکرا جاتا ہے کہ خدا نخواستہ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم نہیں ہو تی ، تو آج بھارت کے مسلمانوں کا ( اعلی تعلیم کے لحاظ سے ) کیا حال ہوتا ؟تو پھر آج کا مسلمان اس بات سے بھی اتفاق کرے گا کہ جو لوگ ایک زمانہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تحریک کے دشمن تھے ۔ وہ مسلمانوں کے بھی دشمن تھے ۔ جن لوگوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کی ، یا اس کے منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں حصہ لیا ، وہ بھی مسلمانوں کے دشمن ہی کہلائے جا سکتے ہیں ۔تو کیا آپ یہ اعتراف کریں گے کہ مولانا ابولکلام آزاد بھی مسلمانوں کے دشمنوں کی صفوں میں ہی تھے ؟ تار یخ گواہ ہے کہ مولانا ابو لکلام آزاد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تحریک کے کٹر ّدشمن تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیا م کے سخت مخالفین میں شامل تھے ۔اس سلسلہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہی ایک پروفیسر جناب عارف الاسلام کی کتاب ؛ ’’ مسیحا کون ؟ سر سید یا آزاد ‘‘ چشم کشا قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ کتاب تاریخ کے ان گوشوں کو روشن کرتی ہے جنہیں اندھی بھکتی اور شخصیت پرستی کی عینک لگانے والوں نے غفلت کی تاریکی میں پوشیدہ کر رکھا ہے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ اور تاریخی شخصیات کی تاریخ کا مطالعہ اندھ بھکتی ، اندھی عقیدت اور اسیٹیریو ٹائپ سوچ سے ہٹ کر حقائق کی روشنی میں کیا جائے ۔آج ہم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کے اقلیتی کردار ( مسلم کردار ) کے مخالفین کی گنتی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے دشمنوں کی فہرست میں کرتے ہیں ، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو جب آزادی کے بعد شب خون مار کر ختم کرنے کی کوشش کی گئی ، تب بھارت کے مسلمانوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کیلئے زبردست مہم چلائی ۔اسلئے آزادی کے بعد بھارت کے مسلمانوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہوچکا کہ جو کوئی شخص یا ادارہ ، یا اخبار ، یا تنظیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا دشمن ہے ، وہ بھارت کے مسلمانوں کا دشمن ہے ۔اور جو کوئی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مخالف ہے ، وہ بھارت کے مسلمانوں کا مخالف ہے ۔تو کیا یہ فارمولہ آزادی سے قبل کی تاریخ پر نافذ نہیں ہو سکتا ؟اور اس آئینہ میں اگر مولانا ابولکلام آزاد کا کردار پرکھا جائے ، تو کیا حقیقت سامنے آتی ہے ؟تو کیا ہم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہی ایک مصنف ، دانشور ، پروفیسر عارف الاسلام کی کتاب کو اندھ بھکتی یا اندھی تقلید کے جذبات کی رو میں نظر انداز کردیں ؟اس پر غور و فکر نہیں کریں ؟ ایک طرح سے اس کتاب میں پروفیسر عارف الاسلام نے مولانا ابولکلام آزاد اور ان کے جرائد کی علی گڑھ تحریک سے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے دشمنی کا پوسٹ مارٹم کر ڈالا ہے ۔اور جو حقائق پیش کئے انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اسلئے یہ کتاب بھی ہمارے مطالعہ اور اٹھائے گئے سوالات کے جوابات حاصل کرنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔انگریزوں کے ساتھ جو جدید تعلیم بھارت میں داخل ہو چکی تھی ، اس کے متعلق اس زمانہ کے دور اندیش لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ انگریز ایک دن چلے جائیں گے لیکن انہوں نےجو تعلیمی نظام قائم کردیا ، وہ آزاد بھارت میں بھی قائم رہے گا اور بھارت کی تمام اقوام کیلئے ترقی کی کنجی بھی اسی نظام کے ماتحت تعلیم میںہی ہوگی ۔ یہ بات سر سید ّاحمد خان نے بھی سمجھ لی تھی ، یہ بات بدرالدّین طیب جی اور ان کے رفقا ء بھی سمجھ چکے تھے ۔ یہی بات بہوجن عوام کے رہنما مہاتما جوتی با پھلے ، چھترپتی شاہو مہاراج ، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر بھی سمجھ رہے تھے ۔لیکن اسی عصری تعلیم کے متعلق مولانا ابولکلام آزاد کا نظریہ کیا تھا ؟ ( جو آزادی کے بعد اس ملک کے پہلے وزیر تعلیم بھی بن گئے ؟ ) پروفیسر عارف الاسلام اپنی کتاب ’’ مسیحا کون ؟ سر سید یاآزاد ‘‘ میں لکھتے ہیں ؛’’ مسلمانوں کی گمراہی ، تعلیم ، مسلم یونیورسٹی اور مسلم لیگ ‘‘الہلال ستمبر ۱۹۱۲ ء کی اشاعت میں ، مولانا نے ’بنیادی گمراہی ‘ کے عنوان سے ایک مضمون شایع کیا ۔ یہ مضمون مولانا آزاد کی فکر کا آئینہ دار ہے کہ اس زمانہ میں وہ کس انداز میں سوچتے تھے اور کن کن کاموں کو مسلمانوں کیلئے مضر سمجھتے تھے ۔تعلیم اور مسلم یونیورسٹی کو بھی مولانا مضرت رساں سیاست پر قربان کردینے کے حق میں تھے ۔ جس انداز سے اور جن الفاظ میں وہ اپنے خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے ، وہ ایک قابل توجہ بات ہے ۔مولانا ہندوؤں کو ملک میں کام کرنے والی اصلی جماعت سمجھتے تھے ۔سر سیدّ کی تعلیمی تحریک اور بعد میں مسلم یونیورسٹی تحریک ؛ دونوں مولانا کی نظر میں اس لئے شروع کی گئی تھی کہ مسلمان ہندوؤں سے علیحدہ رہیں ، یعنی مسلمان کانگریس میں شامل نہ ہوں ۔( گویا اگر ایک زمانہ میں اور آج بھی ایک فرقہ پرست طبقہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو مسلم لیگ اور پاکستان سے جوڑتا ہے ، اسلئے اینٹی نیشنل سمجھتا ہے ، تو کیا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مخالفت میں مولانا آزاد کے خیالات کچھ کم ایذا رساں رہے ہونگے ؟ بہر کیف ۔۔۔) مولانا آزاد مزید فرماتے ہیں : ’سب سے پہلے یہ ہوا کہ ملک میں کام کرنے والی اصلی جماعت یعنی ہندوؤں سے مسلمان الگ ہوگئے ۔اس طرح عرصہ تک کیلئے ملکی مطالبات کی فتحیابی سے گورنمنٹ مطمئن ہوگئی اور ساتھ ہی یہ بھی ضروری تھا کہ ان کو بیکار نہیں بیٹھنا چاہئے ورنہ بیکاری سے اکتا کرراستہ کی تلاش میں ضرور نکلیں گے ۔کوئی مشغلہ ایسا ہونا چاہئے جو عرصہ تک ان کو اپنے آپ میں الجھائے رکھے اور اصلی کاموں کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں دے ۔تعلیم کو مسلمان پہلے ہی سے لئے بیٹھے تھے ، اسی لئے اعلی تعلیم کے بال و پر پھیلا کر ایسا الف لیلہ کا عجیب الخلقت پرندہ بنایا جو اپنا پر کھول دے تو سورج کو زمین پر جھانکنے کیلئے کوئی سوراخ تک نہ ملے ۔‘( الہلال ، ستمبر ۱۹۱۲ ء صفحہ : ۸ ) ’’یعنی سر سید ّنے اعلی تعلیم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ، مسلمانوں کو اس طرف راغب کرنے کی جو کوشش کی اس کے پس پردہ یہ سازش تھی کہ مسلمان ہندوؤں سے علیحدہ ہوجائیں ، جو مولانا کی نظر میں کانگریس کے جھنڈے تلےحریت کی تحریک چلا رہے تھے ۔ مولانا نے خیال ظاہر کیا کہ جس وقت ملک کی جائز آزادی کے مطالبات میں ہندو اپنا وقت اور روپیہ خرچ کر رہے تھے ،مسلمان تعلیم کی ٹھنڈی لاش لئے پھر رہے تھے ۔ایسا لگتا ہے مولانا تعلیم کے معنی سے ہی نا واقف تھے ۔ورنہ تعلیم کو ٹھنڈی لاش سے تشبیہ دینا کسی نا سمجھ آدمی کا ہی کام ہو سکتا ہے ۔‘‘ ( صفحہ : ( 260 / 261 یہ اقتباس ان قارئین کیلئے انتہائی نا قابل یقین ہوسکتا ہے ، جو مولانا ابولکلام آزاد کو بھارت کے پہلے وزیر تعلیم کے طور پر ہی جانتے ہیں کہ جنہوں نے آزاد بھارت میں برٹش سرکار کے ہی قیام کردہ اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کے نظام کو ہی آگے بڑھایا، آئی آئی ٹی ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن وغیرہ کا قیام کیا ۔ بھارت کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہیں یہ تعلیمی نظام ’ٹھنڈی لاش ‘ کیوں نہیں لگا ؟ اور انہوں نے مدرسوں ، آشرم شالاؤں کا نظام کیوں رائج نہیں کیا ؟ اس ٹھنڈی لاش کوٹھکانے لگانے کی بجائے اسی کو زندہ لاش کیوں بنا دیا ؟ پروفیسر عارف الاسلام کی کتاب میں اس انکشاف کی روشنی میںیہ سوال اٹھائے جا سکتے ہیں ۔اس سے مولانا ابولکلام آزاد کی متضاد شخصیت کا بھی سراغ لگتا ہے ۔( ماخوذ ؛ کتاب ، تحریک خلافت یا تاریخی حماقت: مصنف ؛ سعید حمید )__________🔴🔴ادارہ نثری ادب کی 229 ویں ماہانہ ادبی نشست 25 اکتوبر سنیچر کو 22 سال مکمل ہونے پر سیف نیوز کی جانب سے صدر و اراکین کا استقبال اور ڈاکٹر اقبال برکی صاحب کی کہانی کی کتاب روبوٹ کا اجراء ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(229) 25 اکتوبر 2025ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں ہوگی صدارت کے فرائض شاعر و ادیب محمد رضا سر (چئیرمین ایم ایس ای) انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) رشید آرٹسٹ(افسانہ نگار) ہارون اختر(افسانہ نگار) عظمت اقبال (افسانہ نگار) منصور اکبر(سیف نیوز)اور عزیز اعجاز (معلم و ڈرامہ نگار) اپنی تخلیقات پیش کریں گے- پیش کی گئی تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہو گی- ادارہ نثری ادب کو 22 سال مکمل ہونے پر سیف نیوز کی جانب سے صدر و اراکین کا استقبال کیا جائے گا ساتھ ہی ڈاکٹر اقبال برکی صاحب کی کہانی کی کتاب روبوٹ کا اجراء بھی عمل میں آے گا- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر انجام دیں گے اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ ،زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-_____:_________🔴🔴 🔴 جون ایلیا کہیں دِکھائی نہیں دے رہا ہوں خُود کو بھی تمہــــاری حد سے نکل کر کدھر گیا ہوں میں تمام عمر یہی اِکـــــــــــــــــــ گِلہ رہا خُود سےتمـــــــام فیصلے عُجلت میں کر گیا ہوں میں سفر، سفر، کوئی رہتا تھا ساتھ ساتھ میـرے مگر یہ شام، کہ تنہـــــا ہی گھر گیا ہوں میں اُسے پُـــــــــــــــــکار رہا ہوں بڑے تسلسل سےیہ اور بات کہ بـے حـــــــد بِکھر گیا ہوں میں مجھے یقین ہے، شاید، نہـــــــیں یقین مجھے میں مر رہا ہوں، نہــــیں یار! مر گیا ہوں میں___________🔴‏"درد آئے گا دبے پاؤں"فیض احمد فیضاور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کوفکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرےدرد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغوہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرےشعلہء درد جو پہلو میں لپک اٹھے گادل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گاحلقہء زلف کہیں گوشہء رخسار کہیںہجر کا دشت کہیں گلشنِ دیدار کہیںلطف کی بات کہیں پیار کا اقرار کہیںدل سے پھر ہوگی مری بات کہ اے دل اے دلیہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کایہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا، چلا جائے گااس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہوگامشتعل ہو کے ابھی اٹھیں گے وحشی سائےیہ چلا جائے گا رہ جائیں گے باقی سائےرات بھر جن سے ترا خون خرابا ہوگاجنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دلدشمنِ جاں ہیں سبھی سارے کے سارے قاتلیہ کڑی رات بھی یہ سائے بھی تنہائی بھیدرد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دللاؤ سلگاؤ کوئی جوشِ غضب کا انگارطیش کی آتشِ جرار کہاں ہے لاؤوہ دہکتا ہوا گلزار کہاں ہے لاؤجس میں گرمی بھی ہے ، حرکت بھی توانائی بھیہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکرمنتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھران کو شعلوں‌کے رجز اپنا پتا تو دیں‌گےخیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی، صدا تو دیں گےدور کتنی ہے ابھی صبح، بتا تو دیں گے

Tuesday, 21 October 2025

درسی کتابوں کی غلطیاں قسط نمبر 21 اعتراض نمبر 147 عمران امین 11 نومبر 2020 (یوم تعلیم) اساتذۂ کرام السلام علیکم!!! گذشتہ قسط میں راشٹر گیت کی ایک فاش غلطی کی نشاندہی کیا تھا. آج آپ لوگوں کی خدمت میں "بھارت کا آئین" (تمہید ) میں ادارہ بال بھارتی، کمار بھارتی اور یوک بھارتی کی ایک ایسی غلطی کی نشاندہی کررہا ہوں جو پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک اردو کے مختلف مضامین کی تقریباً 70 کتابوں میں دہرائی گئی ہے، ملاحظہ فرمائیں: اعتراض نمبر 147 بھارت کا آئین تمہید ہم بھارت کے عوام متانت و سنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک مقتدر سماج وادی، غیر مذہبی جمہوریہ بنائیں اور اس کے تمام شہریوں کے لیے حاصل کریں : انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی؛ آزادی خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت؛یہاں انصاف ذیلی سرخی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اس لیے اس کے بعد کوما نہیں لگے گا. انصاف کے ذیل میں سماجی، معاشی اور سیاسی آتا ہے یعنی بھارت کے عوام یہ عزم کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے تمام شہریوں کے لئے سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف حاصل کریں گے لیکن انصاف کے بعد کوما لگ جانے سے مفہوم بدل رہا ہے. اعتراض نمبر 148اسی طرح آزادی کے ضمن میں خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت آتے ہیں. یعنی بھارت کے عوام خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت کے معاملے میں تمام شہریوں کے لیے آزادی چاہتے ہیں. یہاں آزادی اور خیال کے درمیان کوما نہیں لگا (یعنی اوپر جو غلطی تھی وہ یہاں نہیں دہرائی گئی) لیکن چونکہ آزادی ذیلی سرخی ہے اس لیے اسے کچھ واضح کیا جانا چاہیے تاکہ ذیلی سرخی نظر آئے اور قاری کو سمجھ میں آئے کہ یہاں خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت کی آزادی مذکور ہے. اردو، انگریزی یا دوسری زبانوں کے قواعد میں ان اوقاف اور علامات کو بہت اہمیت حاصل ہے اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو مفہوم کچھ سے کچھ بلکہ بعض اوقات تو اس کے بالکل اُلٹ ہو جاتا ہے. " بھارت کا آئین" کی تمہید کو گذشتہ سال یوم آئین ہند یعنی 26 نومبر 2019 سے مہاراشٹر کی اسکولوں میں اسمبلی میں پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے. بچے درسی کتابوں میں دیکھ کر اسے پڑھتے ہیں. جب کتابوں میں ہی یہ غلط طریقے سے تحریر ہے تو بچے کیوں کر اسے درست پڑھ سکیں گے. اس غلطی کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ ہر قاری اسے غلط پڑھتا ہے. رموز اوقاف کی ایسی فاش غلطیوں کو درست کرنا نہایت ضروری ہے. درسی کتابوں کو مرتب کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسے ترتیب دینے کے لیے محض انگریزی کا لفظی ترجمہ کافی نہیں ہے بلکہ اردو کے رموز اوقاف کے استعمال کی باریکیوں کو سمجھ بوجھ کر ترجمہ کرنا ضروری ہے . عمران امین (ممبئی) 9867325358____________افسانچہ: سونا بہت مہنگا ہو گیا ہےشازیہ نے حسبِ معمول آج بھی ابو کے سامنے پانی کا گلاس رکھا۔ابو نے گلاس لیا، ایک نظر شازیہ کے معصوم چہرے پر ڈالی، پھر نم آنکھوں سے گھونٹ بھرا۔"سازی..." ان کی آواز بھرا گئی، "میں کیا کروں، سونا بہت مہنگا ہو گیا ہے۔"شازیہ کچھ نہ سمجھی، بس مسکرا کر بولی،"ابو! آپ تو کبھی زیور نہیں پہنتے، پھر آپ کو سونے کی کیا فکر؟"ابو نے نظریں چرا لیں۔کمرے کے ایک کونے میں شازیہ کی ماں کی تصویر لگی تھی — ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ، جیسے ابھی ابھی کہنے والی ہو:"میری بیٹی کے جہیز کے خواب ادھورے نہ رہیں۔"ابو نے خالی گلاس میز پر رکھا، آہ بھری،اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولا،"کاش سونا سستا نہیں... وقت تھوڑا سستا ہو جاتا۔"___:::::________غزلکہیں ضرب لگ رہی ہے کہیں زخم اُدھڑ رہے ہیںمرے جسم کی خزاں سے ترے رنگ جھڑ رہے ہیں ترے نام جپ رہا ہوں ترے دھیان میں مگن ہوںمری ذات کے اشارے نئے راگ گڑھ رہے ہیںتجھے خواب کرتے کرتے مری نیند کھو گئی ہےسو خیال تیرے ہر دم مرے پاؤں پڑ رہے ہیںدرِ اعتبارِ ہستی یہ خیال نے بتایا وہ تماشہ ہے تَوَہُّم، کہ نگر اُجڑ رہے ہیںشاہ رخ عبیر________غزل کا ایک مطلع دو شعرلباسِ غیر بدن پر کیا گوارہ نہیںخودی ہماری تکبّر کا استعارہ نہیںبہار ، دنیا میں اعلانِ حسنِ فطرت ہےوہ چشمِ غیب کا خفیہ کوئی اشارہ نہیںوہ اضطراب میں بنتا ہے میرے دل کا سکوںمرا یقین ، مراقِب کا استخارہ نہیں✍️ اؔقبال نذیر (مالیگاؤں ۔انڈیا)☎️ موبائل نمبر 9226235858 (91+)

چھترپتی شیواجی مہاراج کی ’سیکولر بادشاہ‘ کی شبیہ اجاگر کرنے والی کتاب:"چھترپتی شیواجی مہاراج اور مسلمان"تبصرہ۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر گریش سی پاٹل ‌ناسک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے چھترپتی شیواجی مہاراج کی سیکولر پالیسی پر پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ تھا۔ یونیورسٹی سے مجھے ایک گائیڈ بھی مل گئے تھے۔ لیکن انہوں نے مجھے اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے کا مشورہ نہیں دیا۔ وجہ پوچھی تو بتایا کہ یہ بہت مشکل ہوگا، اُس دور کے زیادہ کاغذات دستیاب نہیں ہوں گے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ میں "پیشوا دور کی خواتین کی سماجی پالیسی" پر کام کروں۔ میں نے انکار کر دیا۔ اس پر انہوں نے ایم فل کے طلبہ کو لے لیا اور میرا نام کاٹ دیا۔ اس طرح میری پی ایچ ڈی رُک گئی۔ "پیشوا دور کی خواتین کی سماجی پالیسی" کا موضوع انہوں نے کیوں بتایا ہوگا، آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ انہیں اس میں دلچسپی تھی۔ ان کا نام اور ذات میں نہیں بتاؤں گا۔لیکن میں نے اس بات پر تحقیق جاری رکھی۔ اس دوران مجھے اس موضوع کو اجاگر کرنے والی ایک کتاب ملی۔ نیشنل اردو کالج ناسک کے میرے دوست لیاقت پٹھان نے مجھے صحافی اور ادیب سعید حمید کا رابطہ دیا۔ سعید حمید کی کتاب "چترپتی شیواجی مہاراج اور مسلمان" انہوں نے فوراً مجھے بھیج دی۔ میں اس کتاب کے بارے میں لکھے بغیر نہیں رہ سکا۔چترپتی شیواجی راجے نے "ہندوی سوراج" کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کا ساتھ دینے والے بارہ بلوتے دار تھے۔ یہی بات پر تحقیق کر کے صحافی و مصنف سعید حمید نے اپنی کتاب پیش کی ہے۔ راج شری شاہو مہاراج، مہاتما جیوتی با پھولے اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے خیالات کی وراثت مصنف کو ملی ہے۔ مصنف صرف صحافی نہیں بلکہ ایک ادیب اور مفکر بھی ہیں۔ کتاب میں انہوں نے اپنی یکطرفہ رائے نہیں دی بلکہ متعدد کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور حوالہ جات بھی دیے ہیں، جیسے پروفیسر نام دیو راو جادھو کی مراٹھی کتاب "شیورائے"، شری منت کوکاٹے کی "لوکرائے شیورائے"، پروشوتم کھیڑکر اور گووند پانسرے کی کتابیں، پروین گائیکواڑ، ایس جی سردیسائی وغیرہ۔ حتیٰ کہ وینا ئک دامودر ساورکر کی "ہندو راشٹر درشن" کا بھی ذکر کیا ہے۔آج کے دور میں یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ چترپتی شیواجی مہاراج مسلمانوں کے دشمن تھے، جو ان کی سیکولر شبیہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہی پہلو اس کتاب میں مصنف نے رکھا ہے اور ایک وکیل کی طرح زوردار وکالت کی ہے۔ یہی اس کتاب کی طاقت ہے۔اگر آپ کتاب کا فہرستِ مضامین دیکھیں گے تو اس کی گہرائی کا اندازہ ہوگا:ہندوتو وادی نہیں، ایک سیکولر حکمراں – مذہبی رواداری کی مثالیں – شیواجی مہاراج کا اصل دشمن کون تھا؟ – آگرہ میں قید کے اہم حقائق – مسلم بادشاہ اور چترپتی شیواجی کا شاندار استقبال – راجہ شیواجی اور قطب شاہی بادشاہ – ہندو سماج میں اصلاحات کی تحریک – مداری مہتر: ایک بہترین مثال – نور خان بیگ: شیوا شاہی پیدل فوج کا پہلا سپہ سالار – شیواجی مہاراج اور بہوجن راج – ایک سماج سدھارک اور سیکولر بادشاہ کو ہندوتو وادی کیسے بنایا گیا؟ – مغلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے گوریلا جنگ – تاریخ کے اوراق پر فرقہ پرستی کا زہر – چترپتی شیواجی: مہاراشٹر کا وسیع القلب حکمراں – شیواجی مہاراج کی جدوجہد – تاریخ اور فرقہ پرست طاقتوں کی سازش – مسجدوں کے لیے سہولیات – مزارات – شیواجی مہاراج کے کھلے اور خفیہ دشمن۔کل 24 ابواب ہیں۔آج کے زمانے میں کچھ لوگ شیواجی مہاراج پر اپنا حق جتاتے ہیں، حالانکہ انہی کی وجہ سے ان کا دوبارہ شیوراجیہ ابھیشیک کرنا پڑا تھا، یہ تاریخ گواہ ہے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر شیواجی مہاراج کے ساتھ لڑنے والے مسلمان بھی تھے، جیسے مداری مہتر، نور خان بیگ پیدل فوج کے سربراہ، یا مالک عنبر وغیرہ۔ اس کتاب میں بے شمار مثالیں دی گئی ہیں۔شیواجی مہاراج کی جنگ صرف مسلمانوں سے نہیں تھی، بلکہ چندر راو مورے سے بھی تھی۔ ان کی فوج میں بہوجن سماج کے ساتھ مسلمان بھی پوری قوت کے ساتھ شامل تھے، یہ بھی تاریخ میں درج ہے۔ ان تمام باتوں کا تفصیلی ذکر اس کتاب میں موجود ہے۔ہمارے آئین میں سیکولر سوچ ہے، جو ہمیں چترپتی شیواجی مہاراج کی فکر سے ملتی ہے۔ ہمیں کسی بھی غلط پروپیگنڈا کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انگریزوں نے ہندو مسلم کو بانٹنے کا گناہ کیا تھا، وہی تاریخ دہرانا غلط ہوگا۔ چترپتی شیواجی مہاراج کی ’سیکولر بادشاہ‘ کی شبیہ کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔ انہیں صرف مراٹھا یا ہندو بادشاہ کہہ کر ان کا قد کم کیا جا رہا ہے۔ وہ ایک عظیم سپہ سالار اور دنیا میں رعیت کے راجہ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی جنگ کسی مذہب سے نہیں تھی۔ جو لوگ انہیں مسلمانوں کا دشمن بتاتے ہیں، اس غلط پروپیگنڈا کا یہ کتاب ایک جواب ہے۔باقی کتاب آپ کو خود پڑھنی چاہیے۔ اگر سب کچھ یہاں بتا دوں تو آپ کتاب نہیں پڑھیں گے۔پروفیسر ڈاکٹر گِریش سی پاٹل، ناسک______________تیری میری کہانی“ نمبر 9"اوس کے موتی"مصنف،اقبال حسن آزاد(مونگیر، انڈیا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماسٹر صاحب نے کال بیل دبائی۔دروازہ کھلا اور وہ اپنی مخصوص جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔سجا سجایا ڈرائنگ روم،پرسکون ماحول اور روح میں تازگی پیدا کرنے والی خنکی۔باہر کی گرم ہوا جیسے کہیں گم ہو گئی تھی۔انہوں نے جیب سے رومال نکالا اور پیشانی پر آئے پسینے کے قطروں کوخشک کیا۔ماسٹر صاحب کی تھکن چند لمحوں ہی میں کافور ہوگئی۔ پھر انہوں نے ذرا بلند آواز میں پکارا۔ ”ندیم!“ ”آیا ماسٹر صاحب۔ “ اور پھر اگلے ہی لمحے ندیم ہاتھوں میں کاپیاں اور کتابیں سنبھالے ان کے سامنے کھڑا تھا۔اس کی معصوم آنکھیں ایک نا معلوم جوش اور جذبے سے چمک رہی تھیں اور اس لرزیدہ ہونٹ کچھ کہنے کو بیتاب نظر آ رہے تھے۔”ماسٹرصاحب ! ماسٹر صاحب!! معلوم ہے آج کون جیتا؟“ماسٹر صاحب نے اس کے سرخ و سپید گال کی جانب دیکھتے ہوئے دھیرے سے پوچھا۔”کون؟“”انڈیا!“ننھے ندیم کی آواز میں چڑیوں کی چہکار شامل تھی۔”اچھا!“”بیٹے ! ابھی تمہارے پڑھنے لکھنے کا وقت ہے۔ان سب کاموں کے لیے تو ساری عمر پڑی ہے۔“انہوں نے کہنا چاہا مگر کچھ سوچ کر چپ رہے۔ندیم مسلسل بولے جا رہا تھا۔ ”ماسٹر صاحب! جانتے ہیں....؟“بولتے بولتے اس کی سانسیں تیز تیز چلنے لگی تھیں۔ماسٹر صاحب صبر و سکون کے ساتھ اس کی باتیں سنتے رہے اور مسکراتے رہے۔پھر انہوں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔ ”پاپا کب آئیں گے؟“”پرسوں....پرسوں سنیچر ہے نا!“ انہیں یاد آا۔ندیم کے پاپا سنیچر کے سنیچر آیا کرتے ہیں۔بڑے افسر ہیں اور کسی دوسرے شہر میں پوسٹید ہیں۔ماسٹر ساحب سے ان کی بس دو ایک بار علیک سلیک ہوئی تھی۔ سارے معاملات میم صاحب ہی deal کرتی تھیں....اور وہ بھی اپنی خادمہ کے توسط سے۔ ماسٹر صاحب نے ندیم سے کہا۔”پاپا آئیں تو ان سے کہنا کہ ماسٹر صاحب نے تنخواہ بڑھانے کے لیے کہا ہے۔“ ”جی بہت اچھا ! کہہ دوں گا۔“ ”کیا کہوگے؟“ماسٹر صاحب نے گویا اسے سبق ےاد کراتے ہوئے کہا۔ ”وہی جو آپ نے کہا۔“ ”ٹھیک ہے اب اپنا سبق یاد کرو۔“ سنیچر کو بھی وہ حسب معمول ندیم کو پڑھانے گئے۔ ”پاپا آئے کیا؟“ماسٹر صاحب نے پہنچتے ہی سوال کیا۔ ”ہاں!تین بجے آئے۔ابھی سو رہے ہیں۔“ ”یاد ہے نا....میں نے کیا کہا ہے؟“ ”جی ماسٹر صاحب!یاد ہے۔“ ”اچھا!اب کتاب کھولو۔“ دوسرے روز اتوار تھا یعنی ٹیوشن کی چھٹی۔سموار کو انہوں نے ندیم سے پوچھا۔ ”پاپا چلے گئے کیا؟“ ”ہاں! وہ تو کل شام ہی کو چلے گئے۔“ ”تم نے اپنے پاپا سے کہا تھا؟“ ”کیا؟“ ”وہی پیسے والی بات۔“ ”ہاں۔“ ”کیا کہا انہوں نے؟“ ” کچھ نہیں۔“ ماسٹر صاحب مایوس ہو گئے۔کئی برسوں سے وہ اسی تنخواہ پر پڑھاتے آرہے تھے۔اگر اس میں کچھ اضافہ ہو جاتا تو....“ ندیم نے پھر کرکٹ کا تذکرہ چھیڑ دیا تھا۔ ماسٹر صاحب نے اسے نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ”بیٹے! کھیل کود کی باتیں زیادہ مت کیا کیجئے۔پڑھنے لکھنے پر دھیان دیجئے۔“ پھر وہ ندیم کو پڑھاتے رہے اور سوچتے رہے۔وہ بھی کیا دن تھے۔پڑھ لکھ کر نواب بننے کی باتیں اور کھیل کودکی خرابیاں۔اب تو کھیل کود نے گویا تعلیم کو پیچھے ....بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔آج کھلاڑی کڑوڑوں میں نیلام ہو رہے ہیں اور ایک وہ ہیں کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی دو دو سو کی ٹیوشن پڑھاتے پھر رہے ہیں۔پتہ نہیں کھوٹ کس میں تھا....ان کی تعلیم میں یا ان کی قسمت میں ؟اب تو ایسے لوگ بھی سرکاری ٹیچر بن رہے ہیں جنہیں اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا۔ کامیابی کی اس ریس میں وہ کہاں پچھڑے انہیں یاد نہیں۔ البتہ انہیں اپنا جھونپڑی نما مکان یاد تھا۔کھونٹی سے لالٹین لٹک رہی ہے۔امّاں بھیگی لکڑیاں پھونک رہی ہیں۔آنکھوں میں دھواں بھر رہا ہے اور آنکھوں کا پانی بہہ بہہ کر گالوں کو تر کر رہا ہے۔ابّا مسجد گئے ہیں....اذان دینے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آو ¿ نماز کی طرف آو ¿۔آو ¿ نماز کی طرف آو ¿۔آو ¿ سلامتی کی طرف آو ¿۔آو ¿ سلامتی کی طرف آو ¿۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور سب سے بڑے اللہ میاں کی جانب پکارنے والے کی تنخواہ بہت ہی چھوٹی تھی.... اتنی چھوٹی کہ وہ اس سے اپنے تین نفوس والے مختصر سے کنبے کی پرورش بھی ٹھیک طور پر نہیں کر پا رہے تھے۔ انہیں یاد آیا۔انہیں بھوک لگ رہی تھی۔سات برس کے بچے کی قوت برداشت یوں بھی کم ہوتی ہے۔مگر جب تک ابّا نہیں آ جائیں گے امّاں کھانا نہیں دیں گی۔ابّا کہتے ہیں بیٹا صبر کرو۔صبر بڑی چیز ہے۔اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور انہوں نے صبر کی تعلیم کو گانٹھ میں باندھ کر رکھ لیا تھا۔تبھی توجب ایک دن ابّااذان دیتے دیتے کھانسنے لگے تھے اور کھانستے کھانستے گر گئے تھے اور لوگ انہیں چارپائی پر لاد کر گھر لائے تھے تو انہوں نے اس وقت بھی صبر کیا تھا اور جب اسی طرح کھانستے کھانستے ایک دن ابّا گذر گئے تھے تب بھی انہوں نے صبر ہی کیا۔امّاں دوسروں کے گھروں کے برتن دھونے لگیں اور وہ حسب معمول اسکول جانے لگے۔امّاں کی شکل میں ابّا اپنا سایہ چھوڑ گئے تھے۔ ”بیٹا کبھی چوری مت کرنا۔کبھی جھوٹ مت بولنا۔کبھی کسی کے آگے ہاتھ مت پھیلانا۔“امّاں دن رات نصیحتیں کیا کرتیں۔امّاں برتن دھوتی رہیں اور وہ پڑھتے رہے۔ اور جب انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو امّاں نے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔اب وہ بالکل تنہا تھے....تنہااور تہی دست اور اگر ان کے پاس کچھ تھا مرحوم والدین کی دعائیں جو قبولیت کے انتظار میں نہ جانے کب سے آسمانوں میں رکی پڑی تھیں۔انہوں صبر کیا ،شکر کیا،ماں باپ کی نصیحتوں کو یاد رکھااور ٹیوشن کر کے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ اب وہی کام آرہا تھا۔سوچا تھا کہ گریجوایشن کرنے کے بعد کوئی نوکری مل جائے گی توگھر گھر جا کر ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا مگر شاید وقت ان کے حق میں نہیں تھا۔ اور وقت ہی خدا ہے۔ آخر یہ وقت ہی تو سب کچھ ہے۔یہی ہنساتا ہے،یہی رلاتا ہے۔کامیابی ،ناکامی سب اسی کے اختیار میں ہے۔ ہر کسی کو اس کا انتظار رہتا ہے مگر یہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔اور پھر نوکری کے انتظار میں ان کی عمر آگے بڑھتی گئی کیونکہ عمر بھی کسی کا انتظار نہیں کرتی اور اب ان کی عمر پچاس سے تجاوز کر چکی تھی۔ انہوں نے اپنی عمر کا کبھی حساب نہیں رکھا۔البتہ وقت نے ان کے چہرے پر اپنی مہر لگا دی تھی۔بال کھچڑی ہو چکے تھے۔آنکھوں پر موٹے فریم کی عینک چڑھ آئی تھی۔ہاتھوں کی پشت کی نسیں کیچوو ¿ں کی مانند نظر آتی تھیں اور سائکل چلاتے چلاتے گھٹنوں میں درد رہنے لگا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے نحیف و نزار جسم کے اندر اور کون کون سی بیماریاں پل رہی تھیں اس کا اندازہ انہیں نہیں تھا۔ہاں اپنے بچوں کی بڑھتی عمر کا انہیں خوب اندازہ تھا۔ بڑی بیٹی رابعہ بیس سال کی ہو چکی تھی۔چھوٹی بیٹی جویریہ پندرہ سال کی تھی اور بیٹا شمیم سات سال کا۔بالکل ندیم کا ہم عمر۔مگر کس قدر فرق ہے دونوں میں....ایک عمدہ کپڑوں میں ملبوس، زندگی سے بھرپور ،بھرے بھرے سرخ و سپید گال ،ہیرے کی کنی سی چمکتی چنچل اور شوخ آنکھیں۔دوسرا بوسیدہ کپڑوں میں لپٹا ،پچکے ہوئے گال ،بجھی بجھی آنکھیں۔کبھی کبھی انہیں لگتا جیسے پیسہ ہی سب کچھ ہے۔پیسہ زندگی کی حرارت ہے،پیسہ دلوں کی روشنی ہے۔اور پیسہ ہے تو ہر خوشی ہے۔مگر جب کسی مالدار آدمی کا جنازہ دیکھتے تو خیال آتا کہ سب کچھ مٹی ہے۔انہیں ےاد آیا ....ان کا بیٹا کئی مہینوں سے ویڈیو گیم کی فرمائش کر رہا تھا۔اس نے شاید اپنے کسی دوست کے پاس دیکھا تھا۔لیکن یہ کھلونا تو بہت مہنگا تھا.... !انہوں نے سمجھا بجھا کر اسے چپ کرا دیا تھا مگر خود کو نہیں سمجھا پائے تھے وہ۔وہ اپنے بچے کی ایک چھوٹی سی خواہش پوری کرنے سے قاصر تھے۔کوئی دوسرا باپ ہوتا تو غصے میں پیٹ دیتا۔مگر ماسٹر صاحب ٹھہرے سدا کے نرم مزاج....انہوں نے کبھی کسی بچے کو ڈانٹاتک نہیں۔ کبھی اونچی آواز میں کسی سے کوئی بات نہیں کی۔اور ویسے بھی کسی سے بات کرنے کی ان کے پاس فرصت ہی کہاں تھی۔صبح ہوتی اور وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی سائکل لے کر نکل کھڑے ہوتے۔رات کو تھکے ماندے آتے اور سوچتے کہ چلو زندگی ایک اور دن تمام ہوا۔ ندیم نے اپنا سبق شروع کر دیا تھا۔اسی دوران اندر سے خادمہ ہاتھوں میں ٹرے لیے ہوئے آئی۔چینی کی پلیٹ میں چند میٹھے اور نمکین بسکٹ تھے اور ایک کپ چائے....اور ٹرے کے ایک کونے میں سفید رنگ کا لفافہ رکھا تھا۔ ماسٹرصاحب نے لفافہ ا ±ٹھا کر خاموشی کے ساتھ اپنی جیب میں رکھا اور چائے میں بسکٹ بھگو بھگو کر کھانے لگے۔ پڑھائی ختم ہوئی تو وہ ا ± ٹھے۔بر آمدے سے اپنی سائکل ا ±ٹھائی اور سڑک پر نکل پڑے۔ شام ہو چلی تھی۔پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ فضائے بسیط میں محو پرواز تھے اور ان سب کے رخ اپنے اپنے آشیانوں کی جانب تھے مگر انہیں ابھی دو جگہوں پر اور جانا تھا۔پھر کل کے لیے سبزیاں خریدنی تھیں اور کوئی نو بجے تک گھر پہنچنا تھا۔انہوں نے وقت مقررہ پر دونوں جگہوں پر اپنی ڈیوٹی نبھائی اور پھر مارکیٹ کی جانب ہو لیے۔سبزیاں خرید چکنے کے بعد جب انہوں نے جیب سے لفافہ نکالا تو وہ بیک وقت حیرت اور مسرت دونوں سے دو چار ہوئے۔ لفافے میںاضافی رقم تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ندیم کے پاپا نے ان کی درخواست منظور کر لی۔ذرا سی دیر کے لیے انہیں اپنے جسم میں خون کی روانی تیز ہوتی ہوئی معلوم ہوئی۔ پھر انہوں نے خود کو سنبھالا اور سبزیاں تھیلے میں ڈال کر گھر کی جانب مڑے۔بازار ابھی بند نہیں ہوا تھا۔ چہار سو روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔کھلونوں کی دکان پر پہنچے تو ان کے قدم خود بخود رک گئے۔ ”کیوں نہ شمیم کے لیے ویڈیو گیم خرید لیا جائے۔کتنا خوش ہوگا وہ۔اس کے پچکے ہوئے گال فرط مسرت سے سرخ ہو جائیں گے اور اس کی آنکھیں بلور کی مانند چمکنے لگیں گی اور جب وہ اس کھلونے کو اپنے دوستوں کو دکھائے گا تو اس کے لہجے سے کیسا فخر و انبساط پھوٹے گا۔“مگر پھٹی ہوئی مختصر سی چادر نے ان کے ارادے کو متزلزل کر دیا۔ ”نہیں! ایک بےکار سے کھلونے کے لیے اتنے روپے.... نہیں نہیں.... یہ تو اصراف بے جا ہے۔گھر کی کتنی ضرورتیں منہ کھولے کھڑی ہیں۔ انہوں نے سائکل آگے بڑھادی۔لیکن پھر فوراً ہی بیٹے کا معصوم چہرہ نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ ” کیا ہوا اگرکچھ روپے بیٹے کی خوشی کے لیے خرچ کر دیے۔ لوگ تو اولاد کے لیے نہ جانے کیا کیا کرتے ہیں۔ اور پھر یہ تو اضافی آمدنی تھی۔بالکل غیر متوقع۔اگلے ماہ سے دوسری ضرورتوں پر دھیان دیا جائے گا۔ انہوں نے سائکل فٹ پاتھ کے کنارے لگا دی اور دکان میں داخل ہونے کے لیے قدم بڑھائے۔ پھر اچانک انہیں یاد آیا۔رابعہ کی اوڑھنی پھٹ گئی ہے۔ایک دو بار ان کی بیوی نے دبی زبان سے کہا بھی تھا۔نہیں رابعہ کی اوڑھنی زیادہ ضروری ہے۔اور وہ دکان کے دروازے سے لوٹ پڑے۔ رات کو بستر پر جانے سے قبل انہوں نے اپنی بیوی سے کہا۔ ”ندیم کے یہاں تو تنخواہ بڑھ گئی ہے۔اللہ نے رابعہ کی اوڑھنی کا انتظام کر دیا ہے۔ یہ لو روپے۔“ بیوی نے کوئی جواب نہ دیا۔لیکن کمرے میں پھیلی گہری تاریکی کے باوجود انہیں لگا جیسے اس کا مرجھایا ہوا چہرہ ایک پل کو چمک ا ±ٹھا ہو۔ دوسرے روز حسب معمو ل شام چار بجے وہ ندیم کے گھر پہنچے۔دروازہ خادمہ نے کھولا اور انہیں عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے اندر چلی گئی۔ماسٹر صاحب نے اس کی نظروں کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔وہ صوفے پر بیٹھ گئے اور آواز لگائی۔ ”ندیم!“ اندر سے ایک دھیمی آواز آئی۔ ”ماسٹر صاحب سے پوچھنا....سمجھے؟“ ”ہوں!“اور پھر ہاتھوں میں کتابیں اور کاپیاں تھامے ندیم ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔آج وہ کچھ خاموش خاموش سا دکھائی دے رہا تھا۔ماسٹر صاحب نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”کیا بات ہے؟“ ”کچھ نہیں۔“ندیم کے لہجے میں ہچکچاہٹ تھی۔ماسٹر صاحب کو شبہہ ہوا۔کوئی بات ہے ضرور۔ انہوں نے دوبارہ زور دیتے ہوئے پوچھا۔ ”کوئی خاص بات ہے کیا؟“ ”نہیں....!“ندیم کی زبان لڑکھڑاگئی۔اچانک ڈرائنگ روم کے پردے میں جنبش ہوئی۔ ”شرما کیوں رہے ہو ؟پوچھتے کیوں نہیں؟“ندیم نے اپنے دونوں ہونٹ سختی سے بند کر لیے۔ماسٹر صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔کبھی وہ ندیم کی جانب دیکھتے اور کبھی دروازے کی طرف۔اسی دوران ڈرائنگ روم کا پردہ ہٹا کر خادمہ اندر داخل ہوئی اور اس نے بغیر کسی تمہید کے کہنا شروع کیا۔ ”ماسٹر صاحب! میم صاحب پوچھ رہی ہیں کہ کل آپ کو جو لفافہ دیا گیا تھا اس میں کچھ روپئے زیادہ تھے کیا ؟“ ماسٹر صاحب ایک لمحے کو سٹپٹا سے گئے۔پہلے تو ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دیں۔پھر وہ خود ہی پوچھ بیٹھے۔ ”مطلب؟“ ”مطلب ای ماسٹر صاحب کہ کل جو میم صاحب نے ندیم بابو کی فیس لفافے میں دال کر بھیجی تھی اس میں غلطی سے زیادہ پیسے چلے گئے تھے۔“ ”غلطی....؟ ماسٹر صاحب سکتے میں آ گئے۔اور انہوں نے سمجھا کہ....ان کی نگاہوں میں رابعہ کی اوڑھنی گھوم گئی۔نئی اوڑھنی میں رابعہ کتنی پیاری لگے گی۔کہہ دو میاں کہ نہیں جی نہیں!بساتنے ہی روپے تھے لفافے میں جتنے ہر ماہ ملتے ہیں.... کیا ثبوت ہے؟ایں۔‘ ‘ مگر اچانک نہ جانے کہاں سے ابّا سامنے آ کھڑے ہوئے اور ان کے پیچھے پیچھے امّاں۔ان کی زبان سے دھیرے سے نکلا۔ ” ہاں تھے تو.... مگر میں سمجھا کہ“اور ان کی زبان سے ادا ہونے والا جملہ یوں درمیان سے ٹوٹ گےا جیسے کسی کی امید ٹوٹ جاتی ہے۔خادمہ کہہ رہی تھی۔ ”میم صاحب وہ پیسے واپس مانگ رہی ہیں۔“٭٭٭_____________استادِ محترم صالح ابنِ تابش صاحب کی رحلت جو ادبی حلقے کے لئے صدمۂ عظیم ہے اس سانحے پر اللہ پاک سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے خراجِ محبت میں چند الفاظ ماتم بپا ہے چار سو گوہر چلا گیاسیراب کر کے آج سمندر چلا گیامہر و وفا سے جیتی ہوئی سلطنت کو آج دے کر ہمارے ہاتھ سکندر چلا گیامحسوس تک کسی کو بھی ہونے نہیں دیاتشنہ لبوں کی پیاس بجھا کر چلا گیاچولھے کی مثل جلتا تھا گھر میں غریب کےپر آج کیا ہوا کہ تونگر چلا گیاراہیں اداس بیٹھی ہیں منزل اداس ہےاب کیا کریں سفیر کہ رہبر چلا گیاماہ و نجوم تکتے ہیں حیرت سے اب اسے خورشید جیسے ابر کے اندر چلا گیاسب کچھ لٹا کے رقص جو کرتا رہا اسدوہ ہنستا مسکراتا قلندر چلا گیاعبدالدیان اسد مالیگاؤں 8793606465___________🌺🌺(نظم) " یہ مالیگاؤں ہے " علیم طاہر مری جان ہے مری شان ہے مرا رنگ ہے پہچان ہے مرا دل بھی ہے منزل بھی ہے اسے جاننا مشکل بھی ہے یہ سچ بھی ہے بے داغ ہے ہنستا ہوا یہ باغ ہے اسے دھوپ سے نہیں جوڑنا یہ پیار کی ایک چھاؤں ہے یہ مالیگاؤں ہے یونہی نہیں شہرت بھی ہے عزت بھی ہے محنت بھی ہے مدت سے یہ مشہور ہے تعلیم سے مسرور ہے پھولوں سے ہیں بچے یہاں سب دل کے ہیں سچے یہاں برسوں سے یہ آباد ہے کھا پی کے سب ازاد ہے اسے تو کبھی نہ چھوڑنا یہ پیار کی ایک چھاؤں ہے یہ مالیگاؤں ہے انساں ہیں ہم انساں ہو تم مہماں ہیں ہم مہماں ہو تم یہ سانس بھی ٹوٹے یہاں ہاتھوں سے سب چھوٹے یہاں بدنام نہ کیجیے اسے الزام نہ دیجیے اسے لگتا ہے یہ اب تو ہمیں برباد نہ کر دے تمہیں دل پیار کے یہ توڑنا یہ پیار کی ایک چھاؤں ہے یہ مالیگاؤں ہے (C):Aleem TahirMobile no.9623327923Email: aleemtahir12@gmail.com.

Monday, 20 October 2025

بشکریہ شامنامہ 19 اکتوبر 2025 دھوپ میں نکلو۔۔۔ ماحولیات کا توازن بگڑنے کے نتیجے میں دنیا بھر میں موسم کی غیر یقینی صورت حال بن گئی ہے۔ برف کا پگھلنا ، سمندر کی سطح میں اضافہ ، سمندری طوفان، زلزلے ، گرمی کی شدت اور بارش کی زیادتی کے سبب سیلابی کیفیت کا پیدا ہونا جیسے مسائل کے نتیجے میں دور جدید کی تمام مخلوقات ہی نہیں نسل انسانی کے وجود کوبھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ماہر موسمیات کی جانب سے اپڈیٹس دیے جاتے ہیں۔لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ موسم سے متعلق کی گئی پیشن گوئی صد فی صد درست ثابت نہیں ہوتی۔اس مرتبہ بارش کااوسط حد سے تجاوز کر گیا۔ چند برس قبل ایک سال یوں ہوا کہ رحمت باراں کا انتظار طویل ہو گیا۔ چرند پرند ، انسان پانی کی قلت سے پریشان تھے۔ ندی و تالاب سوکھ چکے تھے۔اگست کا پہلا ہفتہ گزرنے کو تھا۔اس دوران ایک تقریب میں شرکت کے دوران ہماری ملاقات ایک دور کے رشتے دار سے ہوئی۔ جناب ایک دیہات میں رہائش رکھتے ہیں۔ بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ذراعت کے پیشے سے جڑے ہیں۔علیک سلیک اور خیر و خیریت دریافت کرنے کے بعد دیگر موضوعات پر بات شروع ہوئی۔ہم نے آسمان کی جانب انہیں متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ،” پچھلے آٹھ روز سورج نظر نہیں آیا ہے۔ آسمان پر بادل چھائے ہیں لیکن جانے کیوں بارش نہیں ہو رہی ہے۔”انہوں نے بڑے پراعتماد لہجے میں وضاحت پیش کی،” جب تک دھوپ نہیں نکلے گی پانی نہیں گرے گا۔( بارش نہیں ہوگی۔)”ان کی یہ بات ہماری سمجھ سے پرے تھی اور ناقابل قبول بھی۔ بارش کے لئے آسمان پر بادلوں کا بننا پہلا عمل ہوتا ہے۔دھوپ نکلنے سے بارش ہو نے کے عمل کا کیا تعلق؟ ایک یا دوروز بعد دوپہر کے وقت سورج نے بادلوں کو شکست دے کر آسمان پر حکمرانی کا دعویٰ کیا۔شام ہونے تک دھوپ کی تپش ہلکی ہو گئی۔تیز ہوائیں چلنی شروع ہوئیں۔ گھنے بادل چھا گئے۔ باران رحمت کاطویل انتظار ختم ہوااور تیز بارش شروع ہو گئی۔بارش کا یہ سلسلہ وقفےوقفے سے کئی دنوں تک جاری رہا۔ایک ایسا شخص جس نے کوئی ڈگری حاصل نہیں کی ہےصرف اپنے تجربے کی بنیاد پر موسم سے متعلق جو سبق سکھایا وہ ہمیں ہمیشہ کے لئے یاد ہو گیا۔ہمارامشاہدہ رہا کہ قدرت کا یہ اصول حقیقت پر مبنی ہے۔دیرپا چھائے رہنے والے بادل برستے نہیں۔سورج کی تپش بادلوں کو بارش کی بوندوں کی شکل دے کر زمین تک پہنچاتی ہے۔اس ہفتے اسکولوں، کالجوں اورنجی اداروں میں یوم ترغیب مطالعہ منایا گیا۔سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے یوم پیدائش پر طلباء و طالبات کو مطالعے کی جانب راغب کرنے کے مقصد سے اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ یہ قابل تحسین عمل ہے۔طلباء کے لئے غیر نصابی کتابوں کا مطالعہ طلباء کے علم میں اضافے کے ساتھ شخصیت سازی کے لئے بھی مفید ہے۔لیکن ساتھ ساتھ عملی زندگی کے تجربات بھی لازم ہیں۔مقابلہ آرائی کے اس دور میں ہم اپنے بچوں کے کاندھوں کو نصابی بوجھ سے لادتے چلے جاتے ہیں ۔اساتذہ اوروالدین اپنے بچوں سے بڑی امیدیں وابستہ کئے رہتے ہیں۔ان امیدوں کی تکمیل کے لئے طلباء کوایک مخصوص طرز زندگی کا پابند بنا دیا جاتا ہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے پڑھائی کو لے کر طلباء پر ان کی صلاحیت سے زیادہ دباؤ بنایا جاتا ہے۔اس مقصد میں کامیابی مل بھی جائے تو اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بڑی ڈگری حاصل کر لینے کے باوجود ان طلباء میں کہیں نا کہیں خود اعتمادی کی کمی پائی جاتی ہے۔یہ ڈگری ہولڈرس بازار سے سودا سلف لانے کی اہلیت سے بھی عاری ہوتے ہیں۔دنیاوی سرگرمیوں سے واقفیت،ناگہانی آفتوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا،مسائل کے حل کی تدبیریں ، سیاسی وسماجی حالات کوسمجھنا اور خاندانی وانفرادی الجھنوں کا سد باب کرنا کسی بھی انسان کی عملی زندگی کالازمی حصہ ہےاوراس کاسبق کتابوں سے نہیں سیکھاجاسکتا۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم بچوں کو کم از کم اس قدر آزادی دیں کہ وہ دنیاوی معاملات سے واقف ہوں اورمستقبل میں آنےوالے حالات کا سامنا خود اعتمادی سے کر سکیں ۔حاصل مضمون یہ کہ ع دھوپ میں نکلوگھٹاؤں میں نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو تحریر:عامری عظمت اقبال 9970666785________2025 سررٸیلسٹک مائیکروف ایونٹ ماٸکروف :11 Sumaira Abid فرارخوف کا اور میرا ساتھ کب سے شروع ہوا ۔۔۔۔ یاد نہیں۔ لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں کے خوف سنپولیوں کی طرح سرسراتے۔ اسی طرح چھوٹی چھوٹی کامیابیاں ، ذرا سی حوصلہ افزائی ، تھوڑی سی تعریف ارد گرد اجالا کر دیتی اور خوف کے حصار میں شگاف پڑنے لگتے۔ وجہ معلوم نہ تھی۔۔۔پھر میں بڑی ہو گئی۔۔۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ الجھنیں اور پریشانیاں بھی بڑی ہو گیئں ۔ نہ میرے پاس حل تھا اور نہ ہی فرار کا رستہ۔ بس ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے۔۔۔ لیکن میں دیکھتی کہاں تھی؟ بس نظریں چرائے کھڑی رہتی۔ کبھی کبھی تو آنکھیں موند لیتی۔۔۔ اسی انتظار میں کہ بِلی کبوتر کو چھوڑ کے جا چکی ہو۔ لیکن بِلی تو مجھ کبوتر جیسی کو دیکھ کے بَلا بن جاتی۔ آنکھیں دکھاتی، پنجے نکالتی اور غراتی۔۔۔۔پھر میں نے فرار کی ایک کھڑکی کھول لی۔۔۔ رنگ برنگی بلاکس پر مشتمل پزل۔۔۔ موبائل کی سکرین پر ایک دوسرے سے الجھتے بلاکس کے لئے راستہ بناتی تو یوں لگتا جیسے اپنی زندگی کی کسی الجھن کا سرا ہاتھ میں آ گیا ہو۔شروع شروع میں تو آسان سے لیول تھے، وقت محدود ہونے کا مسئلہ ہی تھا۔ پھر چیلنجز مشکل ہونے لگے ۔۔۔اس کے بعد میں نے جانا کہ بار بار دستک دینے سے راستے کھل ہی جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ہٹیلے بلاکس راستے میں آتے ۔۔۔ ان کی اپنی ٹیڑھ، ان کے قائمہ زاویے میرے راستے مسدود کر دیتے اور میں گھوم گھوم کے بے حال ہو جاتی۔ لیکن سب سے زیادہ ڈر مجھے ڈائنامائٹ والے بلاک سے لگتا تھا۔۔۔ جسے چند سیکنڈ میں عبور کرنا ہوتا تھا ورنہ وہ بلاسٹ ہو جاتا تھا۔آج بھی ایک سرخ بلاک میری راہ کی دیوار بنا ہوا تھا۔۔۔ موبائل کچھ زیادہ گرم محسوس ہوا تو میں نے اسے آف کر دیا۔۔۔ لیکن وہ سرخ بلاک تو میری انگلی سے چپک ہی گیا۔ ہاتھ کھینچا تو وہ موبائل سکرین سے باہر ابھر آیا ۔ میں نے گھبرا کے موبائل کو دور پھینک دیا۔ اوہ۔۔۔ دیوار سرخ ہو گئی ۔ میں گھبرا گئی اور دروازے کی جانب بھاگی۔۔۔ لیکن دروازہ کہاں تھا؟؟؟ یہ تو سرخ دیوار ہی تھی جو دروازے کی سمت میں آ کھڑی ہوئی تھی۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں شاید میں اس دیوار کے آر پار گذر گئی۔۔۔ یا شاید دیوار میرے پار گذر گئی تھی۔سامنے ایک سبز ستون کی جانب بڑھی تو وہ بائیں سرک گیا۔ میں بھی اندھا دھند ادھر ہی بھاگی۔ اچانک ایک ارغوانی نصف دائرہ مجھ سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکراؤ کی شدت نے مجھے دور جا پٹخا۔نیلی اور زرد دیوار کے درمیان راستہ دکھائی دے رہا تھا۔ میں دبے پاؤں اس جانب بڑھنے لگی۔ لیکن وہ راستہ تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ۔۔۔ موڑ در موڑ در موڑ۔۔۔ میں نہ جانے کہاں آ گئی تھی؟فرش پر میرے پیر چپکنے لگے تھے۔ میں نے چھت کی جانب منہ کر کے ایک لمبا سانس کھنچنے کی کوشش کی۔ لیکن میری سانس وہیں اٹک گئی جب مجھے احساس ہوا کہ میں چھت کو دیکھ ہی نہیں پا رہی۔ نہ جانے وہاں چھت موجود تھی یا نہیں۔ یہ قریب آتی دیواریں، دروازوں کی تلاش، چھت کی عدم موجودگی ۔۔۔ سب مجھے سراسیمہ کر رہے تھے۔ اچانک مجھے ایک شفاف بلاک دکھائی دیا۔۔۔۔ شفاف؟؟؟ بلاک؟؟؟ اس گھٹن میں یہ بلاک کہاں سے آیا؟ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ اگر میں اس کے اندر چلی جاؤں تو شاید اس گھٹن زدہ ماحول سے نکل پاؤں گی۔ میں دیوانوں کی مانند اسے ہر جانب سے تھپتھپانے لگی، لیکن اس میں کوئی رخنہ نہیں تھا ۔ پھر بھی مجھے اس کے قریب رہنے سے تسکین مل رہی تھی کیونکہ وہ میری نگاہ کے سفر کو مہمیز کر رہا تھا۔ تھک ہار کے میں اس سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی۔ مجھے اس ماحول میں اپنی دھڑکنیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ دھک ۔۔۔دھک۔۔۔ دھک۔۔۔۔ ٹک ۔۔۔ٹک۔۔۔ٹک۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ دھڑکنیں تو نہیں تھیں۔۔۔ یہ آواز تو ڈائنامائٹ بلاک کی تھی۔ جو تیس سیکنڈ کے بعد پھٹ جاتا تھا ۔ ۔۔۔اوہ تو میرا دل اب ایسی آواز میں دھڑکنے لگا ہے؟ شاید یہ گھٹن کا اثر تھا۔ کلاسٹرو فوبیا۔۔۔ میں دھڑکنیں شمار کرنے لگی۔۔۔۔ نہ جانے کتنی دھڑکنیں ہو گذری تھیں۔۔۔ کہ ایک دھماکہ ہوا اور میرے چیتھڑے کمرے کی سفید دیواروں پر چپکے تھے۔ ڈوپامین کا سفر تمام ہو گیا تھا۔______:🔴غزل دل میں جینے کی چاہت آتی ہے دیکھ کر تجھکو راحت آتی ہے مجھ سے جب جب نظر ملاتے ہو تجھ پہ تب تب محبت آتی ہے میرے بچوں خیال کرنا مرا بڑی محنت سے دولت آتی ہے نازک آغاذ ہوتا ہے سب کا بعد عرصے کے قدرت آتی ہے وہ دن اس کا نہ پوچھ کیسا ہے کسی کی جس دن اجرت آتی ہے روزہ رکھنے سے جان جاتی ہے جان جانے سے جنت آتی ہے دیکھو عزت کیا کرو سب کی عزت کرنے سے عزت آتی ہے ہم کو مکاریاں پسند نہیں ورنہ ہم کو سیاست آتی ہے سب کا اک بار نام ہوتا ہے سب پہ اک بار طاقت آتی ہے میں بھی بچتا نہیں مصیبت سے آپ پر بھی مصیبت آتی ہےبیٹے والوں کو کوئی فکر نہیں بیٹی والوں کو غیرت آتی ہے اہل - سنت جو کہتے ہو خود کو بولو کیا کوئی سنت آتی ہے کچھ بھی ویسا نہیں کبھی رہتا شے ہر اک شے میں جدت آتی ہے جانے کس مٹی سے بنی ہے وہ پاس جاتے ہی وحشت آتی ہے اب کہیں ایک گھر بنانے میں ایک جیون کی لاگت آتی ہے اتنی کرنے میں بھی نہیں ہوتی جتنی باتوں سے لذت آتی ہے خوشی اک عارضی تسلی ہے کہاں غم سے فراغت آتی ہے پہلے بدنام ہونا پڑتا ہے تب کہیں جا کے شہرت آتی ہے کسی کے جانے کا کسے ہے غم اپنا جائے تو عبرت آتی ہے اس قدر دکھ ہیں سب کے چہروں پر قسمتوں سے مسرت آتی ہے جو بھی ملتا ہے اس پہ شکر کرو شکر کرنے سے برکت آتی ہے سوچ کر لینا دشمنی ہم سے کہ ہمیں بھی عداوت آتی ہے ڈاکو بھی ہوتے ہیں نمازی کلیم چوروں کو بھی امامت آتی ہے ٹوٹے پھوٹے کلیم سجدے ہیں ہلکی پھلکی عبادت آتی ہے یہ الگ بات کون کیسا ہے سب میں اک جیسی فطرت آتی ہےپکڑو منزل کوئی تو جانو تم رستے میں کتنی دقت آتی ہے کچھ نہیں بنتا کچھ دنوں میں کلیم دھیرے دھیرے مہارت آتی ہے وہ سمجھ سیدھا جنتی ہے کلیم جس کو آقا کی مدحت آتی ہےمرزا کلیم یونس________🔴🔴🌸صدف اقبال بہار ہندوستانSadaf Iqbal صدف اقبال تم جہاں سے بھی آئی ہوغلط وقت، غلط جگہ، اور غلط پہچان کے ساتھ آئی ہوآنا ہی تھا تو ایک الگ نام لے کر آتیصدف تم صدف نہ ہوکر شکھا بن جاتیدیکھو - - - -ایک چھلنی بنائی گی ہےجس سے تم کو گزرنا ہے تم کووہ ڈالیں گے اس چھلنی میںتم کو بھی، شکھا کو بھی، ساوتری اور سیتا کو بھی،تم ہو ساری بہنیںاس دھرتی کی بیٹیلیکن صدف اقبالتم سبھی چھانی جاؤ گی ایک ہی چھلنی سےاور صدف اقبالپھینک دیں گے تمہیں چھان کرایک بے بضاعت کنکر کی مانندکنسٹر یشن کیمپ میںصدف اقبال تم جو بھی ہو جہاں سے آئی ہواسی دھرتی پہ قتل ہوے تھے تمہارے بھی اجدادلٹی تھی عزت شکھا کی بھیساوتری کو بھی کیا گیا تھا اغواءساوتری کو بھی نوچا گیا تھالیکن تم چاروں کے ٹوٹے بکھرے نچے وجود کواس پناہ گاہ میں بھارت ماں کی چھاؤں میںکردیا گیا جدا تم بہنوں کووہ نہیں مانتے تمہارے وجود کوانکار ہے تمہارے ہونے سےانکار ہے کہ تم مظلوم ہوانکار ہے کہ یہ دھرتی تہماری بھی ہےتمہاری رسوائی اور ذلت طاقت دیتی ہے ان کو جو صندل ماتھے پر لگائے بدن پہ گیروار رنگ ڈالےقسم کھاتے تھے بیٹی بچانے کی بیٹی پڑھانے کی صدف اقبال یہ کس نے کہا تھا کہ تمہاری لاش کو قبر سے نکال کر تہماری حرمت کے آثار مٹائے جائیں گے وہ کون سنت تھا کون یوگی جو تہمارے مردہ وجود سے زنا کرکےاپنے تخیلی نفرت کی تسکین کا اعلان کر رہا تھا صدف اقبال تم جو بھی ہو جہاں سے بھی آئی ہو تمہیں خاموش رہنا تھا 🩸جاری نظم ہے ابھی مزید کئی صفحات پر مشتمل ہے بہ شکریہ 🏹اثبات🏹 مزاحمت نمبر سے

Sunday, 19 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


کراچی کے ملیرمیں افغان پناہ گزینوں پرکریک ڈاؤن، 42 سال سے مقیم 20ہزارافغانیوں کونکالا

افغانستان اورپاکستان تنازع کے بیچ سندھ صوبے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ کراچی کے ملیرعلاقے میں 200 ایکڑ اراضی پر آباد افغان پناہ گزینوں کی بستی کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے احکامات کے بعد سندھ پولیس، محکمہ ریونیو، اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یہ مشترکہ آپریشن کیا اور تقریباً 3000 جھونپڑیوں اور چھوٹے مکانات کومنہدم کر دیا گیا۔ افغان پناہ گزیں یہاں 1983 سے مقیم تھےاور تقریباً 18,000 سے 20,000 افغان یہاں آباد تھے ۔42 سال سے مقیم افغان پناپ گزینوں کواب بے دخل کردیا گیا ہے۔

مقامی حکام نے CNN-News18 کو بتایا کہ سندھ حکومت اب صوبے بھر میں اس طرح کی مزید کارروائیاں کرے گی۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان ہناہ گزینوں کی شناخت کے لیے کراچی سمیت کئی اضلاع میں چھاپے اور شناختی مہم جاری ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کی سرحدپر کشیدگی عروج پر ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانوں کو اپنے ملک واپس جانا چاہیے، پاکستان اب پہلے جیسے تعلقات برقرار نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ پاکستان سرحد پار سے مسلسل حملوں سے پریشان ہے اور پُرانے دور کی دوستی اب ختم ہوچکی ہے

ادھر دوحہ میں افغانستان اورپاکستان فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کےلیے میکانزم بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت کے دوران فریقین نے نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ دوطرفہ امن اور استحکام کے لیے ایک مستقل طریقہ کاروضع کرنےپر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق، سیزفائرکے نفاذ اور اس کے پائیدار تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا۔مزید قطر کی وزارت خارجہ نے یہ اُمید ظاہر کی ہے کہ ، یہ پیش رفت ہمسایہ ملکوں کے بیچ کشیدگی کے خاتمے کا سبب بنےگی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام راہ ہموارہوگی ۔
حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان تشدد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروپوں کو پناہ دے رہی ہے، جو پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں۔اس بیچ ، کابل نے جواب دیا کہ پاکستان اپنی سلامتی کی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر نہیں لگا سکتا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی ’افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی‘ اب محض انتظامی نہیں رہی بلکہ اس کی سیاسی اور سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے بیچ سیزفائر، دونوں ممالک پائیدارامن کے لیے میکانزم بنانے پرمتفق

افغانستان اور پاکستان کے بیچ جنگ بندی پراتفاق ہوگیا ہے۔ اس طرح گزشتہ ایک ہفتے سے جاری تنازع ختم ہوگیا ہے ۔ دونوں ممالک فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کےلیے میکانزم بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔آج حکام نے یہ جانکاری میڈیا کو دی ۔

قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت کے دوران فریقین نے نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ دوطرفہ امن اور استحکام کے لیے ایک مستقل طریقہ کاروضع کرنےپر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق، سیزفائرکے نفاذ اور اس کے پائیدار تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا۔مزید قطر کی وزارت خارجہ نے یہ اُمید ظاہر کی ہے کہ ، یہ پیش رفت ہمسایہ ملکوں کے بیچ کشیدگی کے خاتمے کا سبب بنےگی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام راہ ہموارہوگی ۔
دونوں ملکوں کے نمائندوں کے بیچ دوحہ میں تقریبًا 13 گھنٹوں تک بات چیت ہوئی ۔مذاکرات میں ،پاکستان کی جانب سے وزیردفاع خواجہ آصف اور افغانستان کے وزیردفاع ملا یعقوب شریک ہوئے۔ مذاکرات کی میزبانی قطر نے کی جبکہ ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ مذاکرات میں آئندہ بھی گفت وشنید کے سلسلے کوجاری رکھنے پررضامندی کا اظہار کیا گیا۔امکان ہے کہ 24 اکتوبر کو استنبول میں دونوں ممالک کے وفود تفصیلی بات چیت کےلیے ملاقات کریں گے

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، پاکستان کےوزیردفاع خواجہ آصف نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پوسٹ کیا ہے اور اپنے پیغام میں افغان ہم منصب کےساتھ مصافحہ کرتے تصویر شیئرکی ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ، پاکستان کی سرزمین پرافغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فوری اثرسے بند ہوگا، دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔ خواجہ آصف نے ثالثی پر قطر اور ترکیہ کا شکریہ بھی ادا کیا


طالبان کا موقف
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان قطر میں بات چیت دو طرفہ معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی ۔ ہم قطر اور ترکی جیسے برادر ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جن کی حمایت سے یہ معاہدہ ممکن ہوا۔ معاہدے کے تحت فریقوں نے امن، باہمی احترام اورہمسایہ سے اچھے تعلقات برقرار رکھنے کا عہد کیا ہے۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اختلافات کو مؤثر طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پایا ہے کہ نہ تو ایک دوسرے پر حملہ کرے گا اور نہ ہی پاکستانی حکومت پر حملہ کرنے والے کسی گروپ کی حمایت کرے گی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات 2023 سے کشیدہ ہیں۔ شورش زدہ خیبر پختونخواہ کے ضلع اورکزئی میں ایک حالیہ حملے نے بھی کشیدگی کو بڑھا دیا۔ اس حملے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر سمیت 11 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ دفتر خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا تھاکہ سرحد پر حالیہ کشیدگی کے درمیان افغانستان کے ساتھ اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس کےبعد جمعہ کو جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی۔
جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی نہیں، سی ایم عمر عبداللہ کا بیان

سری نگر۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ جموں کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا ماضی میں دوسروں کی طرف سے کی گئی “غلطیوں” کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عبداللہ نے کہا کہ اگر ریاست کی بحالی کا انحصار جموں و کشمیر میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر ہے تو قومی پارٹی کو ایمانداری کے ساتھ ایسا کہنا چاہئے۔

انہوں نے کہا، ’’اگر عوام کے ساتھ یہی سمجھوتہ کیا جانا ہے تو بی جے پی کو ایماندار ہونا چاہیے، کیونکہ اپنے منشور میں اور پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ سے اپنے وعدوں میں، بی جے پی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ریاست کا درجہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر منحصر ہے

عمر عبداللہ نے کہا، “اگر ایسا ہے تو، میرے خیال میں بی جے پی کو ایماندار ہونا چاہیے اور ہمیں بتانا چاہیے کہ جب تک جموں و کشمیر میں غیر بی جے پی حکومت ہے، آپ کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا۔ پھر ہم فیصلہ کریں گے کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔” عبداللہ نے تاہم صاف کردیا کہ ’’بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک پریس کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی پارٹی جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرے گی، عبداللہ نے کہا، “نہیں۔” انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اب بھی 2015 میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد کے “برے اثرات” کا شکار ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا، “ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ اس نے جموں و کشمیر کو کتنا برباد کردیا ہے۔ 2015 میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان ایک غیر ضروری اتحاد قائم ہوا تھا۔ ہم اب بھی اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ میرا ان غلطیوں کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جو دوسروں نے کی ہیں۔”

Saturday, 18 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


دوحہ میں افغانستان اورپاکستان کےبیچ مذاکرات رہےمثبت، فریقین نےفوری جنگ بندی پرکیااتفاق
افغانستان اورپاکستان کے بیچ تنازع کوحل کرنے کے لیے قطر کی راجدھانی دوحہ میں دونوں ملکوں کے بیچ بات چیت ہوئی۔ذرائع کے مطابق، پہلی دو ر کی بات چیت مثبت رہی۔ ساڑھے چار گھنٹے تک بند کمرے میں ہونے والی یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ تھی۔

مذاکرات میں دونوں ممالک کےنمائندے موجود تھے اور فریقین نے اتوارکو بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پراتفاق کیا ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے دیررات گئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کےدرمیان دوحہ مذاکرات کے بعدایک ہفتے کے اندر ایک اور ملاقات کا منصوبہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے وفد کی قیادت وزیر دفاع، قومی سلامتی کے مشیر اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے کی۔ ملاقات کا آغاز ایک سینئر قطری عہدیدار نے کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت ہوئی۔
ٹی پی جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ
بات چیت کے دوران، پاکستان نے اپنی شرائط واضح کیں، محدود جنگ بندی میں توسیع اور اپنی فوجی نقل و حرکت کے لیے ایک محفوظ راہداری کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس بیچ ، افغان طالبان نے پاکستان کی طرف سے سرحد پار فضائی حملے بند کرنے اور تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو سونپنے کا مطالبہ کیا۔ طالبان کے نمائندے نے کہا کہ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے کے پابند ہیں لیکن ہمارے پاس فضائی دفاع نہیں ہے۔
ڈیورنڈلائن پر ہوئی تھی جھڑپ
قطر ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور مغربی ممالک کی حمایت سے دونوں ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں۔ قطر چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کسی پر الزام لگائے بغیر مشترکہ بیان جاری کریں۔ دوحہ مذاکرات سے قبل پاکستان اور افغانستان کی سرحد ڈیورنڈ لائن پر شدید جھڑپیں ہوئیں تھیں جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ جمعےکو 48 گھنٹے کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد، پاکستان نے سرحد پار سے فضائی حملے کیے، جب کہ افغانستان نے ان کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پہلے کہا تھا کہ پاکستانی فوج کی بار بار کی کارروائیاں ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہیں۔
اس بیچ ، پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر نے حال ہی میں کہا تھا کہ طالبان کو چاہیے کہ وہ اپنے پراکسی گروپس کو کنٹرول کریں اور تشدد پر دیرپا امن کو ترجیح دیں۔دوحہ مذاکرات کو سفارتی حلقوں میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دوحہ میں سفارت کاروں کا خیال ہے کہ اگر ی یہ بات چیت آگے بڑھتی ہےتو یہ جنوبی ایشیا کی سب سے زیادہ غیر مستحکم سرحدوں میں سے ایک پر دیرپا امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے
بہار اسمبلی انتخابات، ایم آئی ایم نے جاری کی اُمیدواروں کی فہرست، 25 ناموں میں دو ہندوبھی شامل

اعلان کردہ امیدواروں کے نام اور اسمبلی حلقے درج ذیل ہیں

سیریل نمبر اسمبلی حلقہ امیدوار
1۔ امور - 56 اخترالایمان
2. بلرام پور- 65 عادل حسن
3. ڈھاکہ - 21 رانا رنجیت سنگھ
4. نارکٹیا اے سی 12 شمیم الحق
5۔ گوپال گنج اےسی 101 انس سلام
6۔ جوکیہاٹ – 50 مرشد عالم
7۔ بہادر گنج – 52 توصیف عالم
8۔ ٹھاکر گنج - 53 غلام حسنین
9. کشن گنج – 54 ایڈووکیٹ شمس آغاز
10۔ بیاسی - 57 غلام سرور
11۔ شیرگھاٹی–226 شان علی خان
12. ناتھ نگر – 158 محمد اسماعیل
13. سیوان - 105 محمد کیف
14. کیوٹی – 86 انیس الرحمن
15۔ ویبس – 87 فیصل رحمان
16۔ سکندرا -240 منوج کمار داس
17۔ مونگیر - 165 ڈاکٹر منذر حسن
18۔ نوادہ - 237 نسیمہ خاتون
19. مدھوبنی - 36 راشد خلیل انصاری
20۔ دربھنگہ دیہی -82 محمد جلال
21۔ گورابورام – 79 اختر شہنشاہ
22. ٹاؤن - 58 شاہنواز عالم
23. ارریا – 49 محمد منظور عالم
24. براری – 68 مطیع الرحمن شیرشاہ آبادی
25۔ کوچدھامن سرور عالم

دومرحلوں میں انتخابات
بہار میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ 6 جبکہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 11 نومبر کو ہوگی۔ نتائج کا اعلان 14 تاریخ کو ہوگا۔
۔
خالی پیٹ سیب کھانے کے 5 بڑے نقصانات

سیب کھانا صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
سیب میں ایسے بہت سے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو جسم کے لیے ضروری
اس کے باوجود خالی پیٹ سیب کھانا کچھ لوگوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

خالی پیٹ سیب کھانے سے گیس، پیٹ پھولنا اور اسہال جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

خالی پیٹ سیب کھانے سے معدے میں تیزابیت کی سطح بڑھ جاتی ہے جس سے سینے میں جلن ہو سکتی ہے۔
خالی پیٹ سیب کھانے سے خون میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے جو ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ
کچھ لوگوں کو سیب کھانے سے الرجی ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے جلد پر دانے پڑ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ سیب میں موجود تیزاب دانتوں کے تامچینی کو نقصان پہنچا سکتا

*🔴سیف نیوز بلاگر*



سرہند ریلوے اسٹیشن پر غریب رتھ ایکسپریس میں بھیانک آگ
پنجاب میں سرہند ریلوے اسٹیشن پر غریب رتھ ایکسپریس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ لگنے سے ٹرین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم یہ راحت کی بات تھی کہ تمام مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ کوچ نمبر 19 میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جس میں لدھیانہ سے متعدد تاجر سوار تھے۔

آگ کے شعلے دیکھ کر لوکو پائلٹ نے ایمرجنسی بریک لگا کر ٹرین کو روک دیا۔ مسافر فوراً اپنا سامان لے کر کوچ سے اتر گئے۔ افراتفری میں کئی مسافر ٹرین سے اترتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ ریلوے اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون جھلس گئی۔

ریلوے نے کیا کہا؟ ناردرن ریلوے نے واقعہ کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین نمبر 12204 امرتسر سہرسہ غریب رتھ کو بھٹنڈہ اسٹیشن سے گزرتے ہوئے آگ لگ گئی۔ فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹرین کو روک کر آگ پر قابو پالیا گیا۔ ایک مسافر کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور اس کا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

ریلوے نے یہ بھی بتایا کہ حادثے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ٹرین جلد ہی روانہ ہونے والی ہے۔ تمام متعلقہ افراد جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

صبح 7 بجے فائر الرٹ موصول ہوا۔
مسافروں کے مطابق ٹرین صبح 7 بجے ہی سرہند اسٹیشن سے گزری تھی کہ جب ایک مسافر نے کوچ نمبر 19 سے دھواں اٹھتے دیکھا تو اس نے فوراً الارم بجا کر زنجیر کھینچ لی۔ دھویں کے ساتھ آگ کے شعلے اٹھنے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی مسافر زخمی، کئی اپنا سامان پیچھے چھوڑ گئے۔ اطلاع ملنے پر ریلوے، فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ افراتفری کے درمیان، مسافروں نے کوچ سے اترنا شروع کر دیا، جس سے کئی لوگ زخمی ہو گئے اور اپنا سامان چھوڑ کر چلے گئے۔ کوچ نمبر 19 میں آگ دیکھ کر آس پاس موجود بوگیوں میں موجود مسافر بھی اتر گئے۔ ٹرین کے ٹی ٹی ای اور پائلٹ بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے فوری طور پر ریلوے کنٹرول کو اطلاع دی۔
ریلوے پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔ سرہند جی آر پی کے ایس ایچ او رتن لال نے بتایا کہ لوگوں نے ٹرین کے ایک ڈبے سے دھواں اٹھتے دیکھا جس سے ٹرین کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔
یومِ ترغیبِ مطالعہ — اردو لائبریری کی شاندار اور بامقصد تقریب
مالیگاؤں، 15 اکتوبر (بدھ):
اردو لائبریری کے زیرِ اہتمام "یومِ ترغیبِ مطالعہ" کے عنوان سے ایک نہایت شاندار، بامقصد اور کامیاب تقریب منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام بدھ کی صبح 11 بجے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شروع ہوا۔
تقریب کی صدارت جناب عبدالحکیم شیخ (آئی آئی ٹی گوہاٹی، اے ایچ سی اکیڈمی، مالیگاؤں) نے فرمائی، جبکہ افتتاح جناب فیض عامر (چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ) کے مفید اور پراثر کلمات سے عمل میں آیا۔
اس موقع پر بطور مہمانِ خصوصی جن شخصیات نے شرکت فرمائی اُن میں ڈاکٹر پرویز فیضی (میڈیکل آفیسر، سول اسپتال مالیگاؤں)، معروف آرکیٹیکٹ جناب ریحان شیرازی، محترمہ پروین ہاشم علی (چیرپرسن، مون لائٹ ایجوکیشن سوسائٹی)، پروفیسر ڈاکٹر ایاز شاہ، معروف شاعر و افسانہ نگار جناب طاہر انجم صدیقی، پروفیسر اسماعیل وفا صاحب، ڈاکٹر مبین نذیرصاحب، پروفیسرپرگیہ دیورے(سٹی کالج)، فیضی ابوزر صاحب، اور خالد قریشی صاحب شامل تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں جناب عبدالحکیم شیخ نے کہا:
“مطالعہ انسان کو وقت کے صحیح استعمال کا شعور دیتا ہے۔ کتابیں شخصیت سازی کا بہترین ذریعہ ہیں، اور جو شخص مطالعہ سے دور ہے وہ ترقی کی منزل طے نہیں کرسکتا۔”
جبکہ افتتاحی تقریر میں جناب فیض عامر نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
“کتاب متاعِ وقت اور کاروانِ علم میری طالبِ علمی کے دور کا ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔ مطالعہ کے بغیر اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن نہیں۔”
تحریک صدارت جناب مظہر شوقی نے پیش کیا، جبکہ تقریب کی غرض و غایت ڈاکٹر احتشام دانش نے نہایت جامع انداز میں پیش کی۔
تقریب میں جے اے ٹی سینئر کالج، سٹی کالج اور مون لائٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ اختتامی لمحات میں ایک دلچسپ سوال و جواب سیشن منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے مہمانانِ گرامی سے مطالعہ اور کتابوں کی اہمیت پر نہایت عمدہ سوالات کیے۔
آخر میں جاوید شوکت عزیز کے پراثر کلماتِ تشکر کے ساتھ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
یہ پروگرام اردو لائبریری کی جانب سے فروغِ مطالعہ اور علمی بیداری کے لیے ایک قابلِ تقلید کوشش ثابت ہوا۔
مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے سول انجینئرنگ کے طلبہ نے کیا منماڑ ریلوے ورکشاپ کا دورہ

مالیگاؤں (پریس ریلیز)مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس (ایم۔ایم۔اے۔این۔ٹی۔سی)، شعبۂ سول انجینئرنگ کے زیرِ اہتمام بی۔ای (سول انجینئرنگ) کے طلبہ کے لیے منماڑ کے سینٹرل انجینئرنگ ریلوے ورکشاپ کا ایک روزہ انڈسٹریل وزٹ منعقد کیا گیا۔ اس وزٹ کا بنیادی مقصد طلبہ کو اسٹیل اسٹرکچر کے ڈیزائن، فبری کیشن (Fabrication)، ایریکشن (Erection) اور مینٹیننس پروسیجرز کے عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا تھا۔ اس دوران طلبہ کو انڈسٹریل سیفٹی پریکٹسز، کوالٹی ایشورنس (QA/QC) اور اسٹرکچرل انٹیگریٹی کے معیارات کے متعلق مفصل آگاہی فراہم کی گئی۔

وزٹ کے دوران طلبہ نے ورکشاپ کے مختلف سیکشنز کا مشاہدہ کیا، جن میں اسٹور اینڈ میٹیریل ہینڈلنگ یونٹ، ٹیمپلیٹنگ سیکشن، فبری کیشن اینڈ ویلڈنگ یونٹ، پروسیسنگ اینڈ مشیننگ ڈویژن، پینٹنگ و فنشنگ بی، اور ڈسپیچ سیکشن شامل تھے۔ طلبہ نے پلیٹ گرڈر، برج اسٹرکچرز، گانٹری گرڈر، اور روف ٹرسز کی ڈیزائننگ اور فبری کیشن کے مختلف مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مزید برآں، شرکاء نے ویلڈیڈ، ریویٹیڈ اور بولٹیڈ کنکشنز کی تیاری کے عملی طریقۂ کار کو قریب سے دیکھا، اور ان میں استعمال ہونے والے کوالٹی کنٹرول پیرامیٹرز اور انسپیکشن ٹیسٹ پروسیجرز (ITP) کے بارے میں تکنیکی بریفنگ حاصل کی۔

جامعہ محمدیہ سوسائٹی کے چیئرمین جناب ارشد مختار صاحب کی سرپرستی اور سیکریٹری جناب راشد مختار صاحب کی رہنمائی میں ادارہ ہذا کے تحت اس طرح کے انڈسٹریل ایکسپوژر پروگرامز باقاعدگی سے منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ کو فیلڈ بیسڈ لرننگ کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ڈاکٹر شاہ عقیل احمد (پرنسپل، منصورہ انجینئرنگ کالج) نے بتایا کہ ہر شعبہ انجینئرنگ میں اس نوعیت کے وزٹس سے طلبہ کو انڈسٹریل ریڈی نیس (Industry Readiness) حاصل ہوتی ہے اور وہ جدید انجینئرنگ رجحانات سے ہم آہنگ ہو پاتے ہیں۔

اس انڈسٹریل وزٹ کی کامیابی میں پروفیسر سعود محودی (ہیڈ، شعبہ سول انجینئرنگ) اور پروفیسر نوید اختر (وزٹ اِنچارچ) کا کلیدی کردار رہا۔ ان کے ہمراہ پروفیسر اسامہ انصاری، پروفیسر عمران احمد، پروفیسر عبداللہ خان، پروفیسر محمد انس، اور پروفیسر شمس جہاں نے بھی طلبہ کی رہنمائی کی۔ اس موقع پر سالِ دوم، سالِ سوم اور آخری سال کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔
٭٭٭

مہا گٹھ بندھن میں سر پھٹول ، بی جے پی خوشاتواریہ : شکیل رشیدبہار اسمبلی الیکشن کے لیے ’ مہا گٹھ بندھن ‘ میں اب تک سیٹوں کے بٹوارے پر سسپنس بنا ہوا ہے ، اِس اتحاد کے کئی کئی امیدوار کئی کئی سیٹوں پر ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں ۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو یہ کہ کئی سیٹوں پر ، گٹھ بندھن میں شامل پارٹیوں کے امیدوار ، ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گیے ہیں ! یہ جو صورتِ حال ہے ، اس پر بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے محاذ خوش ہے ، بلکہ کہہ رہا ہے کہ ’ گٹھ بندھن ‘ پہلے آپس میں لڑ لے ، پھر بی جے پی سے لڑنے کی سوچے ۔ بات بڑی حد تک سچ بھی ہے ، اگر یہ آپس ہی میں لڑتے رہے تو بی جے پی اور اس کی حلیف سیاسی پارٹیوں کے لیے راستہ صاف ہو جائے گا اور اُن کے لیے جیت آسان ہو جائے گی ۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا کوئی بہت مشکل نہیں ہے ۔ دراصل اب اصولوں کی سیاست نے دَم توڑ دیا ہے ، اور سیاست کا مطلب ’اقتدار پر کسی بھی طرح قابض ہونے کی حرص ‘ اور ’ وزارتِ عظمیٰ و وزارتِ اعلیٰ کی کرسیوں پر متمکن ہونے کی لالچ ‘ بن گیا ہے ۔ پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی قابل امیدوار ہے ، تو اس امیدوار کی حریف سیاسی پارٹی بھی احتراماً اس کے خلاف اپنا امیدوار اتارنے سے احتراز کرتی تھی ۔ لیکن اب امیدوار کی قابلیت سیاسی پارٹیوں کی نظر میں بے معنیٰ ہو گئی ہے ، اب اُسے ایسے امیدوار چاہیے جو الیکشن جیتنے کے لیے دولت کا منھ بھی کھول سکیں ، اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ بھی کر سکیں ۔ اسی لیے اب سیاسی پارٹیوں کے ایسے امیدوار نظر آتے ہیں جن پر کئی کئی مجرمانہ معاملات درج ہوتے ہیں ۔ چونکہ انہیں اپنی جیت کا یقین ہوتا ہے ، اور یہ سیاسی پارٹیوں کو ہر طرح سے ’ امداد ‘ کا یقین دلاتے ہیں ، اس لیے سیاسی پارٹیاں انہیں امیدواری دینے کے لیے ’ اتحاد کے اصولوں ‘ تک کی پرواہ نہیں کرتیں ۔ مزید یہ کہ خود سیاسی پارٹیوں کے جو سربراہ ہوتے ہیں ، جیسے کہ بہار میں تیجسوی ، نتیش کمار وغیرہ ، انہیں وزیر اعلیٰ کی گدی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ، اور زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے چکّر میں ، تاکہ وہی وزیر اعلیٰ بنیں ، ان کی حلیف سیاسی جماعتوں سے کوئی دعویٰ نہ کر سکے ، یہ گٹھ بندھن کے اصولوں کو روند دیتے ہیں ۔ مہا گٹھ بندھن ’ ووٹ چور ، گدّی چھوڑ ‘ کا نعرہ لگا رہا تھا ، اور بات سیکولرزم و غریبوں کی ہو رہی تھی ، عزم تھا کہ اِس بار بی جے پی کی نتیش کمار کی قیادت والی سرکار کو اکھاڑ پھینکیں گے ، لیکن جس طرح سے گٹھ بندھن میں سَر پھٹّول ہے ، اُسے دیکھ کر اگر یہ کہا جائے کہ ساری باتیں اور دعوے بس ہوائی تھے ، تو غلط نہیں ہوگا ۔ سچ یہی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو نہ فرقہ پرستوں اور فرقہ پرستی کا سَر کچلنے کی فکر ہے ، نہ ہی عام لوگوں کو راحت پہنچانے کی ، انہیں بَس اپنی فکر ہے ، کہ کِسی طرح بھی بازی ان کے ہاتھ میں رہے ۔ اگر آنے والے چند دنوں کے اندر مہا گٹھ بندھن نے اپنی لڑائی پر قابو نہیں پایا ، اور چند ایک دوسرے کے خلاف کھڑے کیے گیے امیدواروں کو ’ سمجھوتہ ‘ کرکے کسی ایک امیدوار کے حق میں فیصلہ نہیں کیا ، تو بی جے پی کو ہرانے کا سپنا سپنا ہی رہے گا ۔ این ڈی اے میں بھی لڑائی ہے ، مگر وہاں مسٔلہ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جو گٹھ بندھن میں نظر نہیں آ رہی ہے ۔______________مائکروفکشن پر دو مائکرو نوٹ ~~~~~~~~~~~~~~~~~تحریر : سید تحسین گیلانیمدیر انہماک ۔ ۔۔۔۔۔۔مائکروفکشن ؟۔۔۔۔ایک مائکرو نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔مائکرو سمال کے meanings میں نہیں میں مائکرو کو Large کے معنی میں استعمال کر رہا Micro is Like a micro chip ..That can store million books in a small device!!Just a micro fiction should be like that !!ایک متن جو خرد ناول کا لطف دے -یعنی ایک ایسا متن جو ہر سطر میں ایک کہانی ہو کم میں زیادہ کہنے سے عبارت ہو - یوں اردو میں ہم اسے ایک ایسا متن دیکھتے ہیں جو 300 سے 500 الفاظ پر مشتمل ہو (ایک متفقہ طے حد از مکالمہ) ایک ایسا text جس کی ہر سطر سے کہانی پھوٹے لیکن جو آکر بنیادی کہانی سے ہی جڑت کرے ۔۔۔ ایک ایسا متن جو ہزار داستان لیے ہو جو مائکرو ہو لیکن اس کا وژن میکرو ہو ۔ اور ایک ایسا متن جو Apooria تعطل / معمہ کا عمدہ نمونہ ہو ۔افتراق و التوا اس متن کی ساخت پر مسلط ہو کہ فکشن تکشیکی حالتوں سے دوچار ہوتا اپنے signifier اور signified میں ثنویت کا حامل ہو بیک وقت کئی کہانیوں کو چھوتا ہو ایسا متن جو ہر سطر کے متن کو جذب کرتا ہوا اس کی تقلیب بھی کرے ۔اور کلی حیثیت میں بھی قاری اس متن کے بعد ایک نئی فکر سے جڑے اور اپنے آپ میں کئی متون کو بیک وقت سموئے ہوئے ہو پرت در پر معنی کے نئے در وا ہوتے چلے جائیں ...لیکن جو کہا جائے فکشن کے بھیتر کہا جائے۔ یہ اس کے ابتدائی نقوش ہیں ...بنیادی تفاصیل الگ ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : ستیہ پال آنند ۔۔۔۔۔۔ امریکہ 🌹 مائکروفکشن کی بات 🌹مائکرو فکشن، یعنی مختصر ترین افسانہ اردو مین انگریزی سے براہ راست اقرار باللسان کی طرح قبول کی گئ ایک ایسی اصطلاح ہے، جس کی اشد ضرورت تھی۔ "افسانچہ" یا "؛پوپ افسانہ" اس کے لیے موزوں عنوان نہیں تھا کہ ان میں طوالت ایک غیر طے شدہ امر ہے ۔۔۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کےوسط تک طویل ناول اور افسانے تحریر کیے جاتے تھے، جوں جوں فرصت کے لمحے کم پڑتے گئے اور ایک ہی نشست میں (یعنی بس یا میٹرو پر سفر کرتے ہوئے ۔۔ وغیرہ) مطالعہ میں کسی افسانے کو آخری پنچ لائن تک پڑھ لینا ایک امر محال بنتا گیا ، ضورت محسوس کی گئی کہ طوالت میں مختصر ترین تحریر میں بھی وہ جامع خوبیاں برقرار رکھتے ہوئے، جن پر طویل افسانوں کا تکیہ تھا، اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ نہ تو قاری آخر میں تشنگی محسوس کرے اور نہ ہی اس کےوقت کا ضیاع ہو ۔۔۔ افسانے عموماً plot-oriented or character oriented ہوتے ہیں،( حالانکہ یہ پارینہ اور کسی حد تک آج کے تناظر میں فرسودہ اصطلاحیں ہیں ، تو بھی ان کے توسط سے جو بات میں کہنا چاہتا ہوں، کہی جا سکتی ہے۔ ) ان دونوں اقسام کےافسانوں میں بیانیہ،(ذکر، تذکرہ ،تشریح، یا اشارہ، کنایہ ، سرگوشی، بات چیت) اور مکالمہ (اعتراف، انکشاف، اظہار،اطلاع، دو بدو اعلائے کلمۃ الحق، یا مونولاگ میں خود سے مشاورت،)، یعنی ہر وہ tool جو طویل افسانوں میں موجود تھا، قائم رہتا ہے۔ نفس مضمون، خیال بندی، معاملہ بندی، سب موجود و حاضر رہتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے (اور یہ بے حد ضروری ہے) کہ قلمکار اپنی کاسٹ، افرادِ ِ قصہ، پس منظر اور پیش منظر کو انکشاف exposition کی سطح پر مختصر ترین رکھے ۔۔۔ اس لحاظ سے یہ صنف، زمانہ حال و مستقبل، یکساں طور پر دونوں کی صنف ہے۔________نظم 🪷 سیندور🪷 سوچتی ہوں کہ، سیندور اِتنا دلکش کیوں ہوتاہے ،؟؟؟اور دل كش ہوتاہے تُو اِتنا بولتا کیوں ہے ؟؟ اور جب خاموش ہوتاہے تُو اپنے اندر اتنی کہانیاں کیوں پوشیدہ رکھتا ہے ؟؟؟جس لمحے میں اس نے میری مانگ میں لال رنگ کاری کی تھی ،میرے اندر ٹہر گیا وہ مقدس لمحہ ، ،اور قوس قزح کے دھنک رنگِ میری ذندگی میں شامل ہو گئے ،میری مانگ چاند تاروں سے سج گئی ،دعاء نے مُحبت کا روپ دھار لیا ،سیندور فقط ایک سرخ رنگ نہیں ،کسی کے لمس کی گواہی ہے ،مُحبت کی خوشبو ہے ،کہ کوئی تو اپنا ہے صرف اپنا ،جو سانسوں کے ساتھ جڑا ہے ،کہ کوئی تو ہے ،جس نے میری سونی سوئی ہوئی شام میں دریافت کے گجرے اور محبتوں کی پائل باندھ دی ہے ،مگر سیندور تیرے بھی کتنے روپ بہروپ ہیں ،کبھی ابدی دولہا دلہن ہونے کی گواہی ،کبھی اُداسی، کبھی آنسو ،کبھی سنگار اور پیا ملن کی آس ،جتنے بھی روپ ھوں سیندور تیرے ،،مگر نہ تُو مٹتا ہے نہ پھیکا پڑتاہے ،جب محبتین اپنا رخ بدل لیتی ہیں تب بھی سہاگن سیندور لگاتی ہیں،اس ابدی محبت کی گواہی کے لئے ،کہ میں خود اپنی تکمیل ھوں اور روح کی روشنی اور خود اعتمادی کی بھی ۔۔۔۔۔ Dr Mumtaz_________کلکتہ احسان فرَاموش ہے-🔴پرسن کُمار مکھوپادھیائے 🔴ناشکرے کلکتہ، تم اپنی ترقی اور اپنے نظم و نسق سے چمٹے ہوئے ہو________تم آرام سے بیٹھے ہوئے ہو، اپنی للت کلاؤں، رابندر سدن، کلا مندر کے بیج، اور تمہارے نیچے، باغی جوانوں کی لاشیں، لہواور ہڈیاں دَبی ہوئی ہیں، فٹ پاتھ پر، حوالاتوں میں-تمہارے مہذب شہریبھکاری کے چولھے پر ہر روز پانی انڈیل دیتے۔ ہیں_______اور ہوائی حملوں کا کوپ جاری رہتا ہےبلیک آوٹ کی مشقوں کے ساتھ-انھیں اس سب کا مزہ لینے دو "امن دستے کے، لوگوں نے کس طرح کسان لڑکیوں کی عصّمت دری کیجبکہ وہ انھی کے لیے چاول چھپا کر لائی تھیں---" انھیں سب کا مزہ لینے دو______نوکری سے نکالا ہوا مزدور کس طرح بھاگ کھڑا ہوا پولیس کی گاڑی دیکھتے ہی فٹ پاتھ پر اپنی لوٹ کا مال چھوڑ کر----انھیں مزہ لینے دو____آج اس سب کا مزہ لینے دو اس لیے کہ لہو سے سینچی دھان کی کھیتی کسان کی کٹیا تک پہنچ نہ سکےاس لیے کہ استحصال جاری رہے اور درندے پنپتے رہیں، ہر گاؤں کو ابھی کچھ اور چاہیے____(اب ہم چپ ہو جائیں) اور اسی کارن یہ ضروری ہے کہ شہروں کا نظم و نسق قائم رہےپس کلکتہ_______تم اپنی ترقی، اپنے نظم و نسق سے چمٹے رہواپنے یوُاوانی سمینار، باٹک، ڈہلیا، اور روزمرہ کے دوسروں درشنوں سے ⚫⚫⚫(پرسن کمُار مکھوپادھیائے:-چھٹے دہے کے ایک معروف شاعر تھے نئی بنگالی شاعری کو ایک واضح سمیت دینے میں سرگرم رہے ) 🔴شہر خوں آشام "سے،(شیم حنفی ) ناشر و طابع:-بَلراج مین رَاء شعور" پبلیکیشنز نئی دہلیانتخاب و ٹایپنگ⚫احمد نعیم مالیگاؤں ممبئی بھارت

Friday, 17 October 2025

علی برادران ہمیشہ علی گڑھ کالج سے برگشتہ رہے : ڈاکٹر شیخ عبداللہ( قسط : ۲) تکلف برطرف : سعید حمید علی برادران ہمیشہ علی گڑھ کالج سے برگشتہ رہے ، یہ انکشاف مذکورہ کتاب میں کیا گیا اور اس کی وجہ بھی بیان کی گئی، جو آنکھیں کھولنے والی ہے ( یہ تنقیدی تذکرہ اے ایم یو ویمنس کالج ، علی گڑھ کے بانی ڈاکٹر شیخ عبداللہ ایڈوکیٹ ( پدم بھوشن ) کی کتاب ’’مشاہدات و تاثرات ‘‘ میں موجود ہے ، ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتاب ہذا میں ڈاکٹر شیخ عبداللہ لکھتے ہیں : : ’’ مولانا محمد علی اور شوکت علی ، دونوں کالج سے ہمیشہ برگشتہ رہے ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ صاحبزادہ آفتاب احمد خان ، ڈاکٹر سر ضیا ء الدین اورمیں ، جن کے مشورہ کے بغیر نواب وقار الملک صاحب مرحوم کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔ان سے مولانا محمد علی اور شوکت علی پرخاش رکھتے تھے ۔ہم اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ اگر کالج کا کوئی روپیہ ان دونوں بھائیوں کے قبضہ میں آجائے تو ہندوستان میں ہی اس روپئے کو برباد کردیں گے ۔اور ترکوں تک اس میں سے ایک روپیہ بھی نہیں پہنچے گا ۔ ‘‘ ( صفحہ : 288 ) خلافت تحریک کے ہر ہر قدم پر ’’ لاؤچندہ ، لاؤچندہ ‘‘ کا شور مچایا گیا لیکن عوام کو کبھی ان کے چندہ کا صحیح حساب کتاب نہیں ملا ، اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مالی معاملات میں خلافت کمیٹی شفاّف (TRANSPARENT )نہیں تھی ۔ آخر خلافت تحریک کے دوران کتنا روپیہ جمع کیا گیا ؟ اس سوال کا کوئی حتمی جواب بھی نہیں ملتا ہے ۔ مصنف نے اس سلسلہ میں لکھا ؛ ’’ یہ بات خلافت کے ارباب ِحل و عقد نے بھی خود تسلیم کی تھی کہ باون لاکھ روپیہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ترکوں کی امداد کیلئے دیا ہے ۔ دوسرے لوگ تو اس چندہ کا اندازہ بہت زیادہ کرتے تھے کہ کئی کروڑ جمع ہوا تھا ۔ لیکن ہم رقم کو تسلیم کئے لیتے ہیں جو خلافت کارکنان نے قبول کی تھی ۔ تحریک کا کام ابھی جاری تھا کہ لوگوں نے تقاضے کرنا شروع کردیا کہ بتاؤ روپیہ کیا ہوا ؟ ترکی بھیجا گیا یا نہیں ؟اس پر مولانا محمد علی اپنے اخبار ہمدرد میں جواب دیتے رہے ۔پہلے کہا کہ اٹلی کی کسی بنک کی معرفت روپیہ ٹرکی بھیجا گیا ہے ، اس پر لوگوں نے ’’ یہ بات خلافت کے ارباب ِحل و عقد نے بھی خود تسلیم کی تھی کہ باون لاکھ روپیہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ترکوں کی امداد کیلئے دیا ہے ۔ دوسرے لوگ تو اس چندہ کا اندازہ بہت زیادہ کرتے تھے کہ کئی کروڑ جمع ہوا تھا ۔ لیکن ہم رقم کو تسلیم کئے لیتے ہیں جو خلافت کارکنان نے قبول کی تھی ۔ تحریک کا کام ابھی جاری تھا کہ لوگوں نے تقاضے کرنا شروع کردیا کہ بتاؤ روپیہ کیا ہوا ؟ ترکی بھیجا گیا یا نہیں ؟اس پر مولانا محمد علی اپنے اخبار ہمدرد میں جواب دیتے رہے ۔پہلے کہا کہ اٹلی کی کسی بنک کی معرفت روپیہ ٹرکی بھیجا گیا ہے ، اس پر لوگوں نے کہا کہ مہربانی سے اٹلی کے بنک نے جو رسید آپ کو دی ہوگی ، وہ آ پ پیش کیجئے ۔ اس پر جواب دیا کہ اٹلی کے بنک نے ہمیں کوئی رسید نہیں دی کیونکہ یہ کام انگریزوں سے خفیہ طور پر کیا گیا ہے ۔لوگوں نے اس پر بہت زیادہ تقاضا کیا اور آمد و خرچ کا حساب کتاب طلب کیا ۔مولانا محمد علی نے کہا کہ حساب کتاب تو خدا کے یہاں چل کر ہی دیں گے ۔بعد میں یہ معلوم ہوا کہ سیٹھ میاںچھوٹانی کے لکڑی کے کارخانہ سے بھی کوئی بہت زیادہ رقم وصول نہیں ہوئی ( جن پر خلافت کا سولہ سترہ لاکھ روپیہ اپنے میں بزنس میں استعمال کرلینے کا الزام تھا اور انہوں نے ہرجانہ کے طور پر اپنے دو کارخانے خلافت کو دے دیئے تھے ) ۔ لیکن جو رقم وصولی ہوئی اس سے ایک مکان بمبئی میں دفتر خلافت کیلئے خریداگیا جو بعد میں مسٹر زاہد خلف مولانا شوکت علی کا مملوکہ ہوگیااور اس وقت وہی اس مکان میں رہتے ہیں اور وہی تمتع حاصل کرتے ہیں ، کسی دوسرے کا اس میںدخل نہیں ۔‘‘ ( صفحہ : 291-292 )(ماخوذ : کتاب ، تحریک خلافت یا تاریخی حماقت )_________________🔴🔴تم انڈین ہو؟محمد علم اللہبرطانیہ صبح کے سناٹے میں کچھ ایسی خامشی بسی تھی جو اجنبی دیار میں زیادہ گہری لگتی ہے۔ میں نے کھڑکی کے پردے ہٹا کر باہر جھانکا—بادلوں میں لپٹی ہوئی ایک نامانوس سی صبح۔ ایک ایسا شہر جہاں درختوں کے پتے بھی مجھ سے اجنبی لگتے تھے، اور جہاں ہوا کی سانسیں میرے لیے ترجمے کی محتاج تھیں۔کمرے کے ایک کونے میں میرا بیگ پڑا تھا، بےترتیب کپڑوں کا انبار، کتابوں کی وہی دو چار گرد آلود جلدیں، اور ایک نوٹ بک جس پر درج تھا: "پیسے ختم ہو رہے ہیں۔ انکل سے رابطہ کرنا ہے۔"انکل نے وعدہ کیا تھا کہ رقم ویسٹرن یونین کے ذریعے بھیج دیں گے۔ اب وہ رقم آ چکی تھی۔ ایک مسیج آیا تھا:“Western Union Transfer received. Collect with ID.”ایک پرائے شہر میں، شناخت کے کاغذ لے کر نکل پڑا۔ گوگل میپس پر پتہ ڈھونڈا، مگر دل میں تشویش تھی کہ کیا صرف پتہ جاننے سے منزل مل جاتی ہے؟فون پر دئیے گئے نمبر پر کال کی، دوسری طرف ایک تیز لہجہ سنائی دیا—تیلگو زبان میں۔"Hello? Mee peru enti?"میں ٹھٹکا۔"ہندی آتی ہے؟ انگلش؟"لیکن جواب میں ایک ایسی دیوار تھی جو زبانوں کے فرق سے نہیں، دلوں کی اجنبیت سے بنی تھی۔ رابطہ منقطع ہو گیا۔میرے ساتھ میرا ہم جماعت، شوئک، تھا۔ بنگالی، ہندو، سوشیالوجی کا طالبعلم، جس کی نظروں میں ہمیشہ کچھ سوچتی ہوئی خامشی رہتی تھی۔ ہم نے پیدل ہی ویسٹرن یونین کی طرف رخ کیا۔ دھوپ اب چہرے پر جھلسنے لگی تھی، لیکن ہمارے قدم سوالوں کی دھن پر رواں تھے۔جب وہاں پہنچے تو دفتر کی فضا میں ایک مضمحل سا سناٹا تھا۔ جیسے وقت تھک کر کرسی پر بیٹھ گیا ہو۔ اندر داخل ہوئے تو ایک درمیانی عمر کا شخص کاؤنٹر پر بیٹھا تھا۔ میں نے مودبانہ لہجے میں کہا:"ویسٹرن یونین سے رقم آئی ہے۔ یہ میرا شناختی کارڈ ہے۔"اس نے کارڈ ہاتھ میں لیا۔ کچھ دیر تک غور سے دیکھا، پھر ایک غیرمتوقع سوال کیا:"تم انڈین ہو؟"یہ سوال اس قدر اچانک اور غیر متوقع تھا کہ میرے ذہن میں جیسے کسی نے سائلنٹ بم پھوڑ دیا ہو۔ میں نے آنکھیں سکیڑیں، چہرے پر طنز اور تحیر کا امتزاج لایا:"جی نہیں، افغانستان کا کارڈ لایا ہوں… آپ کو اردو پڑھنے نہیں آتی؟"اس نے دوبارہ پوچھا، اس بار آنکھوں میں شک کی ایک شعلہ زن کرن تھی۔"یہ انڈیا کا کارڈ ہے؟"شوئک کی آنکھیں غصے سے دہک اٹھیں۔ اس نے ایک جھٹکے سے میز پر ہاتھ مارا:"ابے سالے! ایسا سوال پوچھا کیوں؟"سب چونک گئے۔ دفتر میں موجود دو تین اور افراد ہماری طرف دیکھنے لگے۔ لمحہ بھر میں فضا بوجھل ہو گئی۔ جیسے لفظوں نے گرد جھاڑ کر ہتھیار اٹھا لیے ہوں۔پھر ایک بوڑھا شخص اندر داخل ہوا، خاکی وردی میں ملبوس، شاید پوسٹ ماسٹر تھا۔ چہرے پر حیرت، آواز میں برہمی:"چارُو! ایمی چیساؤ؟" وہ تیلگو میں کچھ کہنے لگا، ہم کچھ نہ سمجھے لیکن لہجہ سمجھ آ گیا تھا۔پھر اس نے مجھے پاس بلا کر بیٹھایا۔ چپراسی سے پانی منگوایا۔ شوئک اب بھی کھولتا ہوا سا لگ رہا تھا۔پوسٹ ماسٹر نے نرمی سے کہا:"بیٹا، جانے دو۔ وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہے۔ شاید وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ تم کس اسٹیٹ کے ہو، زبان ٹھیک نہیں تھی، الفاظ الٹ گئے۔"میں خاموش رہا، جیسے کسی اندرونی طوفان کو قابو میں رکھ رہا ہوں۔شوئک بولا:"سر، یہ سوال غلط تھا۔ ایک شناختی کارڈ دیکھ کر کسی کی قومیت پر سوال کرنا… یہ تعصب ہے۔ اور یہ ہم برداشت نہیں کرتے۔"پوسٹ ماسٹر نے نرمی سے سر ہلایا، جیسے اعتراف کر رہا ہو۔"چلو، اگر تم کہتے ہو، تو میں اسے سوری کہنے کو کہتا ہوں۔"پکارا گیا:"چارُو، سر کو سوری بولو!"جھینپتے ہوئے، وہ آدمی سامنے آیا۔ نظریں جھکی ہوئی، زبان ہلکی:"سوری سر۔"میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ نہ احساس شرمندگی تھا، نہ تکلف۔ بس ایک رسمی معافی، جیسے نظام کا ایک فرض۔پیسے لے کر ہم باہر نکلے تو سورج کے سائے کچھ نرم ہو چکے تھے۔ لیکن میرے اندر کا آفتاب ابھی جل رہا تھا۔اسی رات، میں نے اپنی نوٹ بک کھولی۔ اس پر لکھا:"سوال یہ نہیں کہ میں انڈین ہوں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ تم مجھے انسان مانتے ہو یا نہیں؟"پھر میں نے مزید لکھا:"یہ ملک میرے اجداد کی قربانیوں سے بنا ہے۔ اس کی فضا میں میرے دادا کی اذانوں کی بازگشت ہے، میرے ابا کی تختی کی سیاہی ہے، اور میری ماں کے آنچل کا سایہ۔ مجھے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ میں کون ہوں۔ شاید تمہیں سیکھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کو قومیت سے پہلے پہچانا جاتا ہے۔"چند مہینے گزر گئے۔ شوئک نے کالج میگزین کے لیے میری لکھی گئی کہانی "تم انڈین ہو؟" کو شائع کروا دیا۔ اگلے دن ایک نوجوان، جو دفتر کے عملے میں نیا بھرتی ہوا تھا، میرے پاس آیا:"سر، آپ کی کہانی پڑھی۔ دل کو چھو گئی۔"میں نے مسکرا کر سر ہلایا۔"ایک بات پوچھنی ہے سر…" وہ رکا۔"پوچھو۔""یہ کہانی سچی تھی؟"میں نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی۔ پھر آہستہ سے کہا:"کبھی کبھی سچ اتنا دردناک ہوتا ہے کہ افسانہ لگتا ہے۔ اور کبھی افسانہ اتنا سچا ہوتا ہے کہ دل میں چھید کر جاتا ہے۔ تم جو سمجھو، وہی سچ ہے۔"دن، زبان، مذہب، شناخت اور ملک—یہ سب الفاظ ہیں۔ مگر جب دل میں دراڑ پڑتی ہے تو آوازیں بھی اجنبی لگتی ہیں۔ میرے لیے وہ سوال محض ایک جملہ نہیں تھا، ایک پوری تاریخ، ایک ثقافت، ایک شناخت کی تذلیل تھی۔لیکن میں نے معاف کیاکیونکہ میں جانتا ہوں، میرا ہونا خود ایک ثبوت ہے۔میں ہندوستانی ہوں، اور یہی میری سب سے بڑی پہچان ہے۔__________🔴🔴"پہلا قدم"پہلے چند قدم اٹھانے مشکل ہوتے ہیںپیدائش کے بعد بھیڑ کے بچے کی طرح گرتے ہوےننھے کچھووں کی طرح سمندر کی طرف پھسلتے ہوے محبوب نظروں کی طرحان کی طرف کھچتے ہوے پہلے چند قدم ہی مشکل ہیںکسی سوچ کی طرفجدائی کی طرفتنہائی کی طرف ہر چیز قوت رکھتی ہے ہمیں اپنا اسیر کرنے کیہر قوت کی طرف ہم جاتے ہیںرحم کی امید کے ساتھہر قوت شفقت سے ہمارے سر پہ ہاتھ پھیرتی ہےپہلا قدمہماری مرضی کاہماری خواہش کا جبلت کا ہماری مجبوری کا پہلا قدم ہی مشکل ہےکٹھن راستوں کی طرفتاریکی کی طرفخاموشی کی طرف پہلا قدم ہی مشکل ہےمحبت کی طرفہمدردی کی طرفزندگی کی طرفطاہر راجپوت_______🔴🔴نظم 🔴 احمد نعیم🎬"نئی سڑک پہ چلنے کا پہلا دن، اور تلووں میں چھپی مسرّت"🎬 اچانکایک صبح جب آپ سو کر اٹھ کر دیکھتے ہیںکہ روز روز انتظامیہ کو گالی دے کر اپنے کام کی شروعات پہ جانے والی سڑک بن گی تو ایک ایسی مسرت کا احساس ہوتا ہے جیسے گمشدہ پاسپورٹ یا راشن کارڈ کے مل جانے پہ ہوتا ہے نئی سڑک پہ چلنے کی مسرت وہی تلوے جانتے ہیںجو روندی ہوئی سڑک سے کئی مرتبہ اپنے انگوٹھے یا چپل تڑوا چکے ہیںیا کسی تیز بارش میںجن کے پیر کی انگلی کے ناخن اکھڑ چکے ہوںنئی سڑک پہ چلنے کی مسرت ایسی ہی ہےجیسے کسی کو اچانک الرجی سے نجات حاصل ہو گئی ہویا پھرایک ایسی مسرت جیسے برسوں سے دھول، گرد و غبار میں کسی کونے میںیا طاق کے اوپر ٹنگا آئینہ جس کی جگہ چمکیلے آئینہ میں اپنا عکس دیکھنا جیسی مسرتنئی سڑک پہ قدم قدم چلنے کی مسرت آپ کسی بھی عورتبچے بوڑھے کے لبوں پہ دیکھ سکتے ہیںایک پرانی اور کھنڈر، گرد غبار میں اٹی سڑکایک باسی صبح مرمت شدہ ملتی ہے تو آدمی کو احساس ہوتا ہے جیسے اُس نے آج بڑی فرصت سے اپنے جسم کی صفائی کی ہے نئی سڑک کا وجود ایک کچی بستی کے مکینوں کے لیے جیسے خواب آنکھوں میں انڈے دے دیتے ہیں اس سے کچھ موسم خوشگوار گزارتے ہیں مگرآنے والی بارش کی تیسری چوتھی بارش میںکچے میڑیل والی سڑک بہہ جاتی ہے دوسرے تیسرے ٹینڈر کے انتظار میں کچی سڑک سے اچھی سڑک اور اچھی سڑک سے اچانک تیز بارش میں بہہ جانے والی سڑک تبدیل کچھ نہیں ہوتا بس وقت بے وقت ہماری آنکھیں بدل جاتی ہیں چیزیں اپنی جگہ وہی رہتی ہیں،،احمد نعیم

Wednesday, 15 October 2025

*لاڈلی بہن اسکیم کی ’کے وائی سی‘ کیلئے خواتین کو مسائل کا سامنا*لاڈلی بہن اسکیم کیلئے کے وائی سی کروانے کیلئے خواتین کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔ بالخصوص دیہی علاقوں کی خواتین کیلئے یہ کام جوئے شیر لانے کے مترادف ثابت ہورہا ہے۔ اس کے لئے انہیں کہیں پہاڑی پر چڑھائی کرنی پڑرہی ہے، تو کہیں دوپہر کی تیز دھوپ میں او ٹی پی کے انتظار میں لمبی قطار میں کھڑا رہنا پڑرہا ہے۔ نندوبار ضلع کا ایک علاقہ تو ایسا ہے جہاں سب کی نظریں ایک درخت سے بندھے موبائل فون پر جمی ہیں، اس اُمید میں کہ کہیں سے نیٹ ورک مل جائے۔ یہ ہے نندربار ضلع کا قبائلی اکثریتی علاقہ، جہاں’ڈیجیٹل انڈیا‘ کا خواب کمزور نیٹ ورک کی حقیقت سے ٹکرا رہا ہے۔ سینکڑوں مستحق خواتین لاڈلی بہن اسکیم کی ماہانہ قسط حاصل کرنے کیلئے ’لازمی ای کے وائی سی ‘ کارروائی مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک طرف دھڑگاؤں تعلقہ کےکھاردے خورد گاؤں میں عورتیں موبائل سگنل کیلئے تقریباً۳۰؍ منٹ تک پہاڑی پر چڑھتی ہیں۔وہیں دوسری طرف بھامنہ گرام پنچایت کے ۵۰۰؍ سے زیادہ مستحقین دھوپ میں انتظار کرنے پر مجبور ہیں، اس امید میں کہ درخت پر بندھا ان کا فون کبھی نیٹ ورک پکڑ لے اور او ٹی پی آجائے۔ نوبھارت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر کایہ علاقہ۲؍ ریاستوں گجرات اور مدھیہ پردیش کی سرحد پر ہے۔ کبھی موبائل نیٹ ورک گجرات سے آتا ہے تو کبھی مدھیہ پردیش سے۔ نیٹ ورک کی کامیابی کی شرح صرف۵؍ فیصد سے بھی کم ہے۔ الگولان فاؤنڈیشن نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے شریک بانیراکیش پوار نے بتایا، ’’ہم نے یہاں ایک کیمپ لگایا ہے، یہی واحد جگہ ہے جہاں کبھی کبھار موبائل ڈیٹا کام کرتا ہے، لیکن زیادہ تر اوقات میں ویری فکیشن ناکام رہتی ہے۔‘‘۱۰۰؍ میں سے صرف ۵؍ خواتین کواوٹی پی مل رہا ہے لاڈلی بہن اسکیم کیلئے ریاستی حکومت کے ای-کے وائی سی لازمی کرنے کے فیصلے نے دور دراز علاقوں کی اہل خواتین کیلئے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ویب سائٹ آہستہ لوڈ ہوتی ہیں، او ٹی پی آنے میں کافی وقت لگتا ہے، اور آدھار سے منسلک ویری فکیشن کی کارروائی بار بار ناکام ہو جاتی ہے۔ ایک رضاکار نے بتایا: ’’سو سے زیادہ خواتین کوشش کرتی ہیں، لیکن ان میں سے صرف پانچ یا دس ہی کامیاب ہو پاتی ہیں۔‘‘۳۰۰؍روپے ٹرانسپورٹ کا خرچ اُوشا پوار جیسی خواتین کیلئے ہر کوشش ایک امتحان بن جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا، ’’دھڑگاؤں تعلقہ دفتر تک پہنچنے کے لیے ہمیں پیدل جانا پڑتا ہے، اور مجموعی طور پر۳۰۰؍ روپے آمد و رفت کا خرچ دینا پڑتا ہے ، جو ہمارے لیے ممکن نہیں۔‘‘موبائل ٹاور لگے ہیں مگر نیٹ ورک نہیں دھڑگاؤں کے تحصیلدار گیانیشور سپکالے نے مشکلات تسلیم کرتے ہوئے کہا،’’موبائل ٹاور چار پانچ ماہ پہلے لگ چکے ہیں، مگر کنیکٹیویٹی اب بھی کمزور ہے۔ ہم نے آپریٹرز سے مسئلہ حل کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہم خواتین کی مدد کے لیے عام سروس مراکز اور آدھار آپریٹرز کا تعاون لے رہے ہیں۔‘‘ریاستی وزیر ادِتی تٹکرے کا بیان خواتین و اطفال ترقیات کی وزیر ادِتی تٹکرے نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ستمبر کی قسط جاری ہو چکی ہے اور مستحقین کو یاد دلایا گیا ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر آفیشیل ویب سائٹ:ladkibahin.maharashtra.gov.in پر اپنی ای-کے وائی سی مکمل کریں۔تاہم، ان کے سوشل میڈیا پر آئے تبصروں سے عوامی پریشانی کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک صارف نے پوچھا، ’’ان خواتین کا کیا ہوگا جن کے شوہر یا والد کا انتقال ہو چکا ہے یا وہ علیحدہ رہتی ہیں، اور ان کے آدھار کارڈ نہیں ہیں؟‘‘پونے کی مایا ڈبلیو نے کہا، ’’مجھے ستمبر کی رقم تو مل گئی، لیکن او ٹی پی اب تک نہیں آیا۔‘‘ اس پر ادِیتی تٹکرے نے یقین دلایا کہ ان کا محکمہ او ٹی پی اور ڈیٹا سے متعلق مسائل کو حل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ خواتین کو ان مسائل کے حل ہونے کا بے صبری سے انتظار ہے۔_______________🔴*"نو گرل فرینڈ،نوجاب،نو پرابلم"**افسانہ نگار" رفیع حیدر انجم (ارریا, بہار (انڈیا )* رشتے میں وہ میرے ماموں لگتے تھے..... اقبال ماموں.... لیکن عمر میں ہم دونوں برابر تھے. سو رشتے کا تقاضا پیچھے رہ گیا تھا اور ہم آگے بڑھ کر شہر سے دور دریا کنارے ریت پر بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگایا کرتے تھے. یہاں دریا میں ڈبکی لگانے والی عورتیں اور لڑکیاں ہمارے لئے خصوصی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں. ساحل کے کنارے ان عورتوں کے رنگ برنگے ملبوسات ہوا میں لہراتے رہتے. اکثر آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا ہوتا اور بےشمار کوے شور مچایا کرتے. چند بندر بھی ریت پر گھوما کرتے تھے. انسانی تہزیب نے دریا کے کنارے اپنا پہلا مسکن بنایا تھا. لیکن یہ بندر ارتقا کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے. شاید ہماری طرح ان عورتوں کو گھورنے کے لئے............ لیکن عورتوں کو ان بندروں سے کوئی خوف نہیں تھا. ہم اپنا بقیہ وقت سنیما گھروں میں یا کینٹین میں بیٹھ کر چائے پینے میں گزار دیتے تھے. کبھی کبھی اقبال پر مجھے کسی دوسرے شخص کے ہونے کا گمان ہوتا تھا. یہ احساس تب ہوتا تھا جب وہ فلسفیانہ قسم کی باتیں کرنے لگتا تھا. ایک بار ہم اپنے شہر کے ایک پارک 'رینو کنج' میں بیٹھے تھے. اس نے پارک کا سرسری جائزہ لیا اور فنیشور ناتھ رینو کے اسٹیچو کی طرف دیکھ کر کہا. "اس پارک میں رینو کا کیا کام؟ یہاں تو لوگ گداز جسموں والی عورتوں کو گھورنے کے لئے آتے ہیں. " اس نے ایک قہقہ لگایا اور پھر ایک دم سے سنجیدہ ہوکر کہنے لگا. "کیا تم اپنا اسٹیچو لگوانا پسند کروگے ؟" مجھے لگتا ہے کسی شے کے چھوٹ جانے یا کسی اندیشے کی دھند میں لپٹے ہوئے ہونے کا احساس اسے خوشی کے موقع پر بھی اداس کر دیتی ہے. دوچار مہینوں کے وقفہ پر میں اس کے شہر یا وہ میرے شہر میں آجاتا تھا. دوچار دنوں کے لئے ہمارا ساتھ رہتا اور پھر دوچار مہینوں کے لئے ہم جدا ہو جاتے تھے. یہ سلسلہ گزشتہ کئی برس سے جاری تھا. جدائی کے دنوں میں ہم ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے کہ ان دنوں موبائل کا چلن عام نہیں ہوا تھا. اس کی اردو کمزور تھی لہٰذا خطوں میں املا کی بہت سی خامیاں ہوا کرتی تھیں. میں اپنے خط میں ان کی نشاندہی کردیا کرتا تھا. وہ میرا احسان مند تھا کہ اس طرح میں اس کی اصلاح کر رہا ہوں. لہذا اس کا اصرار ہوتا کہ میں اس کے ہر خط کا جواب ضرور دیا کروں. ہمارے رنج و مسرت تقریباً ایک جیسے تھے. ہم دونوں بےروزگار گریجویٹ تھے اور نوکری کے لئے اسٹرگل کر رہے تھے. میں نے اقبال کو کبھی ماموں نہیں سمجھا اور نہ ہی ہمارے تعلقات کے درمیان اس رشتے کا احترام کبھی حائل ہوا. ہاں,اقبال کے بڑے بھائی اشفاق احمد میرے لئے ہمیشہ ماموں ہی رہے اور انہوں نے ماموں ہونے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا. اشفاق ماموں سراپا مذہبی رنگ میں ڈوبے ہوئے تھے. ان کے کمرے میں اسلامی لٹریچر کی موٹی موٹی کتابیں بکھری رہتی تھیں. ان کتابوں سے مجھے وحشت ہوتی تھی. وہ محکمہ امداد باہمی میں ضلعی سطح کے افسر تھے. لیکن میں ان سے ملاقات کی کوشش نہیں کرتا تھا. ہاں, جب کبھی نا دانستہ طور پر میرا ان سے آمنا سامنا ہو جاتا تو ان کا پہلا سوال یہی ہوتا " تم نے نماز شروع کی یا نہیں ؟" ........... اس سوال پر نہ جانے کیوں میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ جاتی جو انہیں بےحد ناگوار لگتی اور وہ دفعتاً بھڑک جاتے .......... "جب تک تم نماز پڑھنا شروع نہیں کرتے تمہیں نوکری نہیں مل سکتی. " اس تنبیہ پر میں خاموش رہتا لیکن میری مسکراہٹ اپنی جگہ قائم رہتی اور دل ہی دل میں سوچا کرتا کہ ماموں جان پہلے اپنی روزی تو حلال کر لیجیے اور یہ نانی جان جو دن بھر ٹی وی دیکھتی رہتی ہیں انہیں راہ راست پر لاکر تو دکھائیں.............. دراصل میری نانی طبعی عمر سے نانی نہیں لگتی تھیں. نہ جانے کیوں میرے نانا نے عمر کی ڈھلان پر پھسلتے ہوئے دوسری شادی کر لی تھی اور یہ دونوں میرے سگے ماموں نہیں تھے. میں وہاں صرف اقبال سے ملنے جایا کرتا تھا. لیکن نہیں........... شاید ایک اور وجہ تھی جو مجھے وہاں جانے کے لئے اکسایا کرتی تھی. اشفاق ماموں شادی شدہ تھے اور ان کی بیوی بےحد حسین وجمیل... اتنی خوبصورت ممانی میں نے دوسری جگہ نہیں دیکھی. ایک بار ممانی نے مجھے بتایا تھا کہ تمہارے ماموں نے مجھے پچپن ہی میں پسند کر لیا تھا جب وہ چڈی اور فراک پہن کر اسکول جایا کرتی تھیں. ان دنوں میرے نانا ہزاری باغ میں پوسٹیڈ تھے. ممانی بے وجہ بھی ہنسا کرتی تھیں. ظاہر ہے, اشفاق ماموں کو ان کا یہ رویہ پسند نہیں تھا. ممانی ان کے سامنے محتاط رہا کرتی تھیں. ممانی سے مل کر اور ان سے باتیں کر کے میں ایک عجیب و غریب کیفیت سے گزرا کرتا تھا. اس کیفیت میں جذبہء رشک کے شعلوں کے ساتھ ساتھ جذبہء انتقام کی کوئی دبی ہوئی سی چنگاری بھی شامل تھی. حالانکہ میں اس چنگاری کو ندامت کی پھونک مار مار کر بجھاتا رہتا تھا. لیکن کبھی کبھی تنہائی میں اس ندامت کے بوجھ سے میرا سر جھک جاتا تھا اور میں سوچا کرتا کہ آخر میں اپنے ماموں سے یہ کیسا انتقام لے رہا ہوں ؟ اس انتقامی کارروائی میں ممانی کی معصومیت کا کیا قصور ہے ؟ اگر اشفاق ماموں مجھے راہ راست پر لانا چاہتے ہیں تو یقیناً اس میں میری ہی بہتری پوشیدہ ہے. نہیں......... ماموں سچ کہتے ہیں, جب تک میں نماز شروع نہیں کرتا, میرا کچھ نہیں ہو سکتا. لیکن اقبال؟ .......... اسے تو نوکری مل جانی چاہئے تھی. ووہ تو اشفاق ماموں کی نصیحت پر سو فیصد عمل کر رہا تھا. وہ پابندی سے نماز پڑھ رہا تھا. اس کے پینٹ کی جیب میں کشیدہ کی ہوئی سفید رنگ کی گول ٹوپی ہر وقت موجود رہتی تھی. کئی بار تو ایسا ہوا کہ اسے انٹرویو دینے کے لئے دوسرے شہر میں جانا ہے. گھر سے تیار ہوکر وہ اسٹیشن کے لئے نکلا ہے لیکن راستے میں اسے ظہر کی اذان سنائی دیتی ہے. وہ سیدھے مسجد کا رخ کرتا ہے. نماز سے فارغ ہو کر اسٹیشن کے لئے روانہ ہو جاتا ہے لیکن وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوتا ہے کہ دو بجے کی ٹرین جا چکی ہے اور اب اس روٹ کی دوسری ٹرین نہیں ہے. میں نے اس سے کئی بار کہا کہ اسلام میں قضا کی نماز پڑھنے کی سہولت ہے. اس کا فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے ؟ میرے پوچھنے پر اس کا جواب یوتا کہ زندگی میں جو اذن پہلے میسر آئے اسی کو فوقیت دینی چاہیے. اس کی دلیل کو حتمی طور پر رد کر دینے کا میں اہل نہیں تھا کہ چند عقائد کی ڈور سے اس کی زندگی بندھی ہوئی تھی اور میں تمام بندھن توڑ کر آوارگی کی صف میں شامل تھا. آوارگی بہرحال ضابطوں سے کمزور ہوتی ہے. اپنی بےضابطہ زندگی زندگی کا محاسبہ کرتے ہوئے مجھے لگتا تھا کہ اقبال کو ایک نہ ایک دن نوکری ضرور مل جاےءگی. اس کی ریاضت رائیگاں نہیں جا سکتی. آئندہ چند ماہ میں میرا اندازہ درست نکلا. اسے نوکری مل گئی. اس کے لئے اسے دوسرے شہر کا سفر طے کرنا تھا. لیکن رخت سفر باندھنے سے قبل اس کے اسباب میں ایک اور شے کا اضافہ ہو گیا. یہ وہ شے تھی جس کی آمد کا منتظر ہر نوجوان ہوا کرتا ہے. اقبال کو ایک لڑکی سے محبت ہو گئی تھی. یہ لڑکی اس کے پڑوس میں رہتی تھی. اقبال نے اس لڑکی سے پہلی ملاقات کی تفصیل بتائی تو مجھے لگا کہ یہ لڑکی اس کی زندگی میں اس طرح داخل ہو گئی ہے جیسے اس کی جیب میں رکھی سفید گول ٹوپی............. اچھی طرح سے تہ کی ہوئی, احتیاط اور حفاظت کے ساتھ خوشبوءں میں بسی ہوئی. اقبال نے اب ہر نماز کے بعد اپنی دعا میں اس لڑکی کی سلامتی کے لئے بھی گنجائش نکال لی تھی. جلدی ہی وہ دن قریب آگیا جب اسے نوکری جوائن کرنے کے لئے دوسرے شہر کے سفر پر نکلنا تھا. حسب پروگرام اقبال کو الوداع کہنے کے لئے میں اس کے ساتھ اسٹیشن تک گیا. اسٹیشن پہنچا تو ٹرین کے لئے تھوڑا انتظار کرنا پڑا. یوں بھی انتظار کی عادت میری فطرت میں شامل ہو چکی تھی. پلیٹ فارم پر کافی بھیڑ بھاڑ اور شور شرابا تھا. ہر کسی کو کہیں نہ کہیں جانا تھا. بہت سے لوگ ایسے تھے جنہیں کسی کے آنے کا انتظار تھا. ٹرین آئی تو پلیٹ فارم پر لوگوں کی نقل و حرکت بڑھ گئی. میں پلیٹ فارم پر ٹرین کی کھڑکی کے قریب کھڑا تھا. اقبال کے چہرے سے کسی شے کے چھوٹ جانے یا کسی اندیشے کی دھند میں لپٹے ہوئے ہونے کا احساس نمایاں تھا. میں نے الوداع کے اس سوگوار لمحے میں اسے اپنا خیال رکھنے جیسا کوئی رسمی سا جملہ کہنا چاہا تبھی ٹرین اپنی جگہ سے کھسکنے لگی. میں تھوڑا آگے بڑھ گیا اور چاہا کہ اس سے مصافحہ کر لوں کہ دفعتاً کسی سے ٹکرا جانے کے سبب میرے قدم لڑکھڑا گئے اور توازن برقرار نہ رکھ پانے کے سبب میں پلیٹ فارم پر تقریباً گر پڑا. میرے دونوں ہاتھ کی کہنیوں پر فرش کی رگڑ سے خراشیں آ گئیں. اسی ایک لمحے میں ایک دراز قد نوجوان نے مجھے سنبھالا اور کہنے لگا........ 'برادر, ٹرین کی رفتار سے آگے جانے کی کوشش خطرے سے خالی نہیں'. ...... میری نظر ان خراشوں پر گئی جہاں سے خون کی ننہی ننہی بوندیں چھلک آئی تھیں. میں نے اس نوجوان کا شکریہ ادا کرنا چاہا تو دیکھا کہ وہ تھوڑا آگے نکل گیا ہے اور اب اس کی پشت میرے سامنے ہے. اس نے نیلا جینس اور سفید رنگ کا ٹی شرٹ پہن رکھا تھا. ٹی شرٹ پر سرخ رنگ کے بڑے بڑے انگریزی حروف دور سے چمک رہے تھے. وہاں لکھا تھا........ ...... 'نو گرل فرینڈ, نو جاب, نو پرابلم'............. کہنیوں پر لگی ہوئی چوٹ کی تکلیف کے باوجود میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی..منزلِ شوق کے مسافر نے رختِ سفر باندھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مالیگاؤں( مہاراشٹر ) کے بزرگ شاعر جناب محمد ہارون اکسیر گزشتہ روز اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون ان کا دل عشقِ الہی اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منور تھا ۔ ان کی ذات پاور لوم کے کارخانوں کے بےہنگم شور کے درمیان جذبِ دروں کا اعلی' نمونہ تھی ۔ اپنے جذبات کے اظہار کے لئے انھوں نے شاعری کی راہ چنی اور حمد، نعت، منقبت، غزل اور قطعہ وغیرہ میں طبع آزمائی کی ۔ 09 نومبر 2018 ء کو ایک سو غزلوں پر مشتمل ان کے اولین شعری مجموعے کا اجراء مالیگاؤں میں ہوا تھا ۔ اس محفل میں ان کی بیشتر کتابیں فروخت ہو گئی تھیں ۔ ان کے بے حد عزیز نواسے مدنی مجاہد سلیم کے اصرار پر میں نے ان کی شاعری کے حوالے سے ایک مختصر مضمون قلمبند کیا تھا جو ' منزلِ شوق ' میں شامل ہے ۔اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے ،جنت الفردوس میں اعلی مقام سے نوازے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمونہء کلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے خداوندِ جہاں اے خالقِ کون و مکاں ناتواں اکسیر سے کیا حمد ہو تیری بیاں پاک تو بے عیب تو تعریف سب تیرے لئے ہے تو ہی رزّاقِ عالَم تو ہی خلّاقِ جہاں طائرانِ خوش نوا کے لب پہ تیرا نام ہے ہیں وحوش و جن و انساں و ملائک مدح خواں تو سدا سے ہے سدا تو ہی رہے گا اے خدا ذرّے ذرّے سے تری قدرت کا ملتا ہے نشاں تیرے دریا تیری ندیاں تیری بارش اور گھٹا کوہ تیرے ، تیرے صحرا ، تیرے دشت و گلستاں تو نے ہی کشتی بچائی نوح کی طوفان سے پیٹ میں مچھلی کے دی یونس کو تو نے ہی اماں تو محافظ چاہ میں تھا یوسفِ کنعان کا اور موسیٰ کو عطا تو نے کیا عزمِ جواں تو نے ابراہیم کو وہ جوشِ ایمانی دیا آتشِ نمرود کو جس نے بنایا گلستاں اے خدا ! اکسیر کو یہ شوق دے یہ ذوق دے رات دن کرتی رہے تیری ثنا اس کی زباں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعت پاک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارض ہی نہیں واعظ ہے سماء محمد کا یہ جہاں ہوا اسکا جو ہوا محمد کادیکھ کھول کر اسکو سیرت النبی کیا ہے ہے کلامِ ربّانی آئینہ محمد کادھول اس کے قدموں کی تاج و تختِ سلطانی ہو گیا بصدقِ دل جو گدا محمد کااب مجھے نہیں خطرہ آتشِ جہنم کا ہاتھ میں میرے دامن آ گیا محمد کاہے نثار جنت کی اس پہ ساری رعنائی بن کے عمر بھر شیدا جو رہا محمد کاکارگر مسیحا کی ہوگی کیا مسیحائی دردِ عشق ہوتا ہے لادوا محمد کامعصیت کے دلدل میں اے پھنسے ہوئے انساں واسطوں میں افضل ہے واسطہ محمد کااے بہشت کے طالب چل بشوق چل اِس پر اُس کی سمت جاتا ہے راستہ محمد کاشمعِ آرزو کی لو اور تیز کر اکسیر روشنی بتا دیگی خود پتہ محمد کا🖊 محمد ہارون اکسیر ادیب (علیگ) مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر___________🔴🔴

*تحریری مباحث اور آمنے سامنے کی گفتگو کا فرق*از: آصف جلیل احمد۔ مالیگاؤںانسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ اس کی بقا اور ارتقا کا انحصار مکالمے، بات چیت اور ایک دوسرے کے ساتھ فکری و جذباتی تبادلے پر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ مکالمہ کس سطح پر زیادہ نتیجہ خیز ہوتا ہے؟ کیا وہ جو دورِ جدید میں ٹائپ شدہ الفاظ کی صورت میں (چیٹ اور میسیجنگ کے ذریعے) ہمارے سامنے آتا ہے، یا وہ جو آمنے سامنے بیٹھ کر دل کی آنکھوں سے جھانکتا ہے؟نفسیات بتاتی ہے کہ تحریری گفتگو میں انسانی دماغ زیادہ تیزی سے ردعمل دیتا ہے۔۔۔ وجہ صاف ہے کہ ٹائپ شدہ الفاظ جامد اور بے لہجہ ہوتے ہیں۔ ان میں نہ مسکراہٹ کی گرمی شامل ہوتی ہے، نہ آواز کی نرمی اور نہ ہی آنکھوں کی چمک۔ قاری اپنی کیفیت اور مزاج کے مطابق ان الفاظ کو پڑھتا ہے اور کئی بار وہ خودبخود سختی یا طنز بھی محسوس کرتا ہے جس کا شاید لکھنے والے کے ذہن میں شائبہ بھی نہ ہو۔ یوں تحریری بحث و مباحثہ اکثر اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ انسان سامنے والے کی ذات پر اتر آتا ہے اور غیر محسوس طریقے سے غلط اور نامناسب الفاظ کا چناؤ کرتا چلا جاتا ہے۔ نتیجتاً چیٹنگ کے ذریعے بات بگڑتی اور اشتعال انگیزی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لیکن یہی شخص اگر سامنے آ جائے تو چہرے کا تاثر اور زبان کا لہجہ بالکل مختلف ہوتا ہے، بات میں نرمی آجاتی ہے اور وہی جملے جو تحریر میں تیروں کی مانند محسوس ہوتے ہیں، ملاقات میں نرم پھولوں کی طرح سنائی دیتے ہیں کیونکہ جب انسان آمنے سامنے گفتگو کرتا ہے تو وہاں صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ لہجہ، آواز، حرکات، تاثرات اور ماحول بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب عوامل مل کر سخت سے سخت بات کو بھی قابلِ برداشت بنا دیتے ہیں۔ چہرے کی مسکراہٹ، آنکھوں کی معصومیت اور ہاتھوں کی جنبش خود بخود غصے کو کم کر دیتی ہے۔ یوں بالمشافہ ملاقات انسانی نفسیات کو ایک متوازن راستہ فراہم کرتی ہے اور مکالمے کو نرمی عطا کرتی ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ تحریر اور کلام میں وہی فرق ہے جو تلوار اور پانی کی دھار میں ہے۔ دونوں میں کاٹ ہے، مگر ایک زخمی کرتا ہے اور دوسرا سیراب۔ ارسطو نے کہا تھا کہ انسان بولنے والا حیوان ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف بولنے والا نہیں بلکہ محسوس کروانے والا حیوان بھی ہے۔ تحریری الفاظ احساسات سے محروم ہو سکتے ہیں، لیکن کلام میں یہ کمی نہیں رہتی۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی نے مکالمے کو سہل ضرور بنایا ہے، مگر اس کی تاثیر اور دلکشی صرف بالمشافہ ملاقات میں ہے۔ اگر ہم اپنے تعلقات کو بگڑنے سے بچانا چاہتے ہیں اگر ہم اپنے الفاظ کو اشتعال انگیزی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں براہِ راست گفتگو کو زیادہ اہمیت دینی ہوگی۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹائپ شدہ الفاظ فاصلے بڑھاتے ہیں، جبکہ آمنے سامنے کے جملے دلوں کو قریب کر دیتے ہیں۔________عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)افسانہ نمبر 700 : دیولی کی رات کی ریل گاڑیتحریر : رسکن بونڈ (بھارت)مترجم : عبدالوحید خان (لاہور)جب میں کالج میں تھا، تو اپنی گرمیوں کی چھٹیاں دیہرہ میں، اپنی نانی کے گھر گزارتا تھا۔ میں مئی کے شروع میں میدانوں سے نکلتا اور جولائی کے آخر میں واپس آتا۔ دیولی، دیہرہ سے تقریباً تیس میل دور ایک چھوٹا سا اسٹیشن تھا؛ وہیں سے بھارتی تراۓ کے گہرے جنگلات کا آغاز ہوتا تھا۔ریل گاڑی صبح پانچ بجے کے قریب دیولی پہنچتی، جب اسٹیشن دھندلی سی بجلی کی بتیوں اور تیل کے دیوں کی روشنی میں جگمگا رہا ہوتا، اور پٹریوں کے پار جنگل مدھم صبح کے اجالے میں نظر آنے لگتا۔ دیولی میں صرف ایک پلیٹ فارم تھا، اسٹیشن ماسٹر کا دفتر اور ایک انتظار گاہ۔ پلیٹ فارم پر ایک چائے کی دکان، ایک پھل فروش، اور چند آوارہ کتے نظر آتے؛ اس کے علاوہ کچھ خاص نہ ہوتا کیونکہ ٹرین وہاں صرف دس منٹ کے لیے رکتی، پھر جنگلوں کی طرف روانہ ہو جاتی۔کیوں ریل گاڑی دیولی پر رکتی، یہ مجھے کبھی معلوم نہ ہوا۔ وہاں کبھی کچھ نہیں ہوتا تھا۔ نہ کوئی اترتا، نہ کوئی سوار ہوتا۔ پلیٹ فارم پر کبھی کوئی قلی بھی نظر نہیں آتا۔ مگر پھر بھی ٹرین پورے دس منٹ وہاں رکی رہتی، پھر گھنٹی بجتی، گارڈ سیٹی بجاتا، اور دیولی پیچھے چھوٹ جاتا، جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔میں اکثر سوچتا کہ دیولی میں، اسٹیشن کی دیواروں کے پیچھے کیا ہوتا ہو گا۔ مجھے اس تنہا چھوٹے سے پلیٹ فارم پر ترس آتا، اس جگہ پر جو کوئی دیکھنا نہ چاہتا۔ میں نے طے کیا کہ ایک دن میں دیولی پر ضرور اُتروں گا، اور ایک دن وہاں گزاروں گا، صرف اس قصبے کو خوش کرنے کے لیے۔میں اُس وقت اٹھارہ برس کا تھا، اپنی نانی کے پاس آیا ہوا تھا، جب ایک صبح رات کی ریل گاڑی دیولی پر رکی۔ ایک لڑکی پلیٹ فارم پر نیچے اتری، جو ٹوکریاں بیچ رہی تھی۔صبح سرد تھی اور اس نے اپنے کندھوں پر ایک شال ڈال رکھی تھی۔ اس کے پاؤں ننگے تھے اور کپڑے پرانے، لیکن وہ ایک نوجوان لڑکی تھی، جو وقار سے اور نفاست سے چل رہی تھی۔جب وہ میرے کھڑکی کے پاس آئی، تو رکی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ میں اسے غور سے دیکھ رہا ہوں، مگر پہلے پہل اس نے نظر انداز کرنے کی اداکاری کی۔ اس کی جلد سانولی تھی، جس پر اس کے چمکدار سیاہ بال خوب جچتے تھے، اور اس کی آنکھیں گہری اور اداس تھیں۔ پھر وہ آنکھیں، جو پُرمعنی اور بولتی ہوئی تھیں، میری آنکھوں سے ملیں۔وہ کچھ دیر تک میری کھڑکی کے پاس کھڑی رہی، ہم دونوں خاموش رہے۔ جب وہ آگے بڑھ گئی، تو میں اپنی سیٹ چھوڑ کر ڈبے کے دروازے پر چلا گیا اور دوسری طرف منہ کیے پلیٹ فارم پر کھڑا رہا۔ میں چائے کے اسٹال کی طرف چل پڑا۔ ایک کیتلی چھوٹی سی آگ پر اُبل رہی تھی، مگر دکان کا مالک کہیں ریل کے کسی ڈبے میں چائے دے رہا تھا۔ لڑکی اسٹال کے پیچھے میرے پیچھے آئی۔"کیا آپ کو ٹوکری خریدنی ہے؟" اُس نے پوچھا۔ "یہ بہت مضبوط ہیں، بہترین بانس سے بنی ہوئی …""نہیں،" میں نے کہا، "مجھے ٹوکری نہیں چاہیے۔"ہم دونوں ایک دوسرے کو کچھ دیر تک دیکھتے رہے، پھر اُس نے کہا، "کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کو ٹوکری نہیں چاہیے؟""اچھا، ایک دے دو،" میں نے کہا، اور اوپر والی ٹوکری لے کر اسے ایک روپیہ دیا، اس کے انگلیوں کو چھونے کی ہمت بھی نہ ہوئی۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، لیکن تبھی گارڈ نے سیٹی بجا دی؛ وہ کچھ بولی، مگر آواز گھنٹی کی آواز اور انجن کی سیٹی میں دب گئی۔ مجھے دوڑ کر اپنے ڈبے میں واپس جانا پڑا۔ گاڑی جھٹکے سے چل پڑی۔میں اسے دیکھتا رہا جب تک کہ پلیٹ فارم پیچھے چھوٹ نہ گیا۔ وہ پلیٹ فارم پر اکیلی کھڑی تھی اور ہلی نہیں، مگر وہ مجھے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی۔ میں اسے دیکھتا رہا، یہاں تک کہ سگنل باکس آڑے آ گیا، پھر جنگل نے اسٹیشن کو چھپا لیا، مگر میں اب بھی اُسے وہاں اکیلا کھڑا دیکھ رہا تھا …باقی سفر میں میں جاگتا رہا۔ اس لڑکی کے چہرے اور اس کی گہری، سلگتی آنکھوں کی تصویر میرے ذہن سے نکل ہی نہ سکی۔مگر جب میں دیہرہ پہنچا تو وہ منظر دھندلا سا ہو گیا، کیونکہ زندگی کے دوسرے کاموں نے مجھے گھیر لیا۔ تبھی میں نے اسے پھر یاد کیا جب دو مہینے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ریل گاڑی جیسے ہی دیولی پہنچی، میں اُسے دیکھنے لگا، اور دل میں ایک عجیب سی خوشی ہوئی جب میں نے اسے پلیٹ فارم پر آتے دیکھا۔ میں فوراً ڈبے سے کودا اور اُسے ہاتھ ہلایا۔اس نے مجھے دیکھ کر مسکراہٹ بھری۔ وہ خوش تھی کہ میں نے اُسے یاد رکھا۔ اور میں خوش تھا کہ اُس نے بھی مجھے یاد رکھا۔ ہم دونوں خوش تھے، جیسے پرانے دوست مل رہے ہوں۔اس بار وہ پلیٹ فارم پر ٹوکریاں بیچنے نہیں گئی، بلکہ سیدھا چائے کے اسٹال پر آئی؛ اس کی آنکھیں اچانک روشنی سے بھر گئیں۔ ہم نے کچھ دیر تک کچھ نہ کہا، مگر ہماری خاموشی بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی۔میں اُسے فوراً ساتھ لے جانا چاہتا تھا؛ یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ اسے پھر دور ہوتے دیکھوں۔ میں نے اس کے ہاتھ سے ٹوکریاں لے کر زمین پر رکھ دیں۔ اس نے ایک واپس لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔"مجھے دہلی جانا ہے،" میں نے کہا۔اس نے سر ہلایا۔ "مجھے کہیں نہیں جانا۔"گارڈ نے سیٹی بجائی، اور مجھے اس پر غصہ آیا۔"میں پھر آؤں گا،" میں نے کہا۔ "کیا تم یہاں ہو گی؟"اس نے پھر سر ہلایا، اور جیسے ہی اس نے سر ہلایا، گھنٹی بجی اور ریل چل پڑی۔ مجھے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے الگ کرنا پڑا اور دوڑ کر چلتی ہوئی گاڑی میں سوار ہونا پڑا۔اس بار میں اسے بھولا نہیں۔ وہ باقی سفر میں میرے ساتھ رہی، اور اس کے بعد بھی لمبے عرصے تک۔جب کالج ختم ہوا، تو میں جلدی جلدی سامان باندھ کر دیہرہ روانہ ہوا۔ نانی میرے جلد آنے سے خوش تھیں، مگر میں اندر سے بے چین اور پریشان تھا۔ ٹرین جب دیولی پہنچی، میں گھبراہٹ سے پلیٹ فارم پر نظریں دوڑانے لگا، مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔میں نیچے اُترا۔ مایوسی اور ایک عجیب سا خدشہ دل پر چھا گیا۔ میں دوڑتا ہوا اسٹیشن ماسٹر کے پاس گیا اور پوچھا، "وہ لڑکی جو ٹوکریاں بیچتی تھی، کیا آپ اُسے جانتے ہیں؟""نہیں،" اسٹیشن ماسٹر نے کہا، "اور اگر ٹرین نہیں چھوڑنی تو فوراً چڑھ جاؤ۔"مگر میں پلیٹ فارم پر چکر کاٹتا رہا، ریلنگ کے پار جھانکتا رہا؛ وہاں صرف ایک آم کا درخت اور گرد سے اَٹی ایک سڑک نظر آئی، جو جنگل کی طرف جا رہی تھی۔ وہ سڑک کہاں جاتی تھی؟ ریل گاڑی چل پڑی، مجھے دوڑ کر واپس ڈبے میں چڑھنا پڑا۔جیسے جیسے ریل جنگلوں میں داخل ہوئی، میں کھڑکی کے سامنے بیٹھا سوچوں میں ڈوبا رہا۔میں کیا کر سکتا تھا اُس لڑکی کے بارے میں جسے میں نے صرف دو بار دیکھا تھا، جس سے دو باتیں ہی ہوئی تھیں، اور جس کے بارے میں میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا — سوائے اس کے کہ میں اُس کے لیے ایک ایسی نرمی اور ذمہ داری محسوس کرتا تھا جو کبھی کسی کے لیے نہ کی۔نانی میرے مختصر قیام پر خوش نہ تھیں، کیونکہ میں وہاں صرف چند ہفتے ہی رکا۔ میں بے قرار تھا۔ پھر میں واپس میدانوں کی طرف روانہ ہو گیا، یہ ارادہ لے کر کہ دیولی کے اسٹیشن ماسٹر سے مزید سوال کروں گا۔مگر اب وہاں نیا اسٹیشن ماسٹر تھا۔ پچھلا تبادلہ ہو چکا تھا۔ نئے والے کو اُس لڑکی کے بارے میں کچھ پتا نہ تھا۔ میں نے چائے والے کو ڈھونڈا، ایک چھوٹا سا، سوکھا سا آدمی، چکنائی سے بھرے کپڑے پہنے ہوئے، اور اس سے پوچھا:"وہ لڑکی جو ٹوکریاں بیچتی تھی، کیا تم اُسے جانتے ہو؟""ہاں، یہاں ایسی ایک لڑکی تھی، یاد ہے،" اُس نے کہا۔ "مگر اب آنا چھوڑ دیا ہے۔""کیوں؟ کیا ہوا اُسے؟""مجھے کیا پتا؟" اُس نے کہا۔ "میرا اس سے کیا لینا دینا؟"اور ایک بار پھر مجھے دوڑ کر ریل گاڑی پکڑنی پڑی۔جب دیولی پلیٹ فارم پیچھے ہٹنے لگا، میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ ایک دن میں یہاں اتر کر ایک دن ضرور گزاروں گا، اس لڑکی کی تلاش میں جو صرف ایک نظر سے میرا دل چرا لے گئی تھی۔یہی خیال میرے کالج کے آخری سال میں میری ڈھارس بنا رہا۔ میں اگلی گرمیوں میں پھر دیہرہ آیا، اور جب رات کی ریل دیولی پہنچی، میں پھر اُسے تلاش کرتا رہا، یہ جانتے ہوئے کہ وہ نہیں ملے گی، مگر پھر بھی امید لگاۓ رکھتا۔مگر میں کبھی دیولی پر نہیں اُترا۔ (اگر یہ کوئی افسانہ ہوتا یا فلم، تو شاید میں اُتر جاتا، راز سلجھاتا، اور کسی مناسب انجام تک پہنچ جاتا)۔ لیکن میں ڈرا ہوا تھا۔ شاید میں سچ جاننے سے گھبرا رہا تھا۔ شاید وہ اب دیولی میں نہیں تھی، شاید اس کی شادی ہو گئی تھی، شاید وہ بیمار ہو گئی تھی …ان گزشتہ برسوں میں میں نے کئی بار دیولی سے گزر کیا ہے، اور ہر بار کھڑکی سے جھانک کر اس کے چہرے کو تلاش کرتا ہوں، جو شاید وہاں کھڑا ہو اور مسکرا رہا ہو۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ دیولی میں، اسٹیشن کی دیواروں کے پیچھے، کیا ہوتا ہو گا۔ مگر میں کبھی وہاں نہیں اُتروں گا۔کیونکہ شاید حقیقت میرے خواب کو توڑ دے۔میں صرف امید میں جینا چاہتا ہوں —اور کھڑکی سے جھانک کر اُس لڑکی کا انتظار کرتا ہوں …جو ٹوکریاں بیچتی تھی۔اصل عنوان: The Night Train at Deoliمصنف کا تعارف:رسکن بونڈ (پیدائش ۱۹۳۴ء) بھارتی انگریزی ادیب ہیں، جو مختصر کہانیوں اور بچوں کے ادب کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا پہلا ناول The Room on the Roof تھا جس پر انہیں انعام ملا۔ ان کی معروف تصانیف میں The Night Train at Deoli اور The Blue Umbrella شامل ہیں۔ حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری اور پدم بھوشن سے نوازا۔ وہ مسوری (بھارت) میں مقیم ہیں۔*مترجم: عبد الوحید خان لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج ہیں ۔ _______"غزل " (غیرمطبوعہ)بند ہے شہر کا بازار نہیںبس غمِ دل کا خریدار نہیںاک توجہ کے طلب گار ہیں ہمخواہشِ درہم و دینار نہیںگھر سہولت سے وہ آسکتا ہےرہ میں حائل کوئی دیوار نہیںبارہا سوچ کے رہ جاتا ہوںتذکرہ اب لب و رخسار نہیںانتخاب ایک کا کرنا ہے مجھےسر جو بچتا ہے تو دستار نہیںاب ادھر سنگ نہیں آتے ہیںکیا شجر کوئی ثمر دار نہیںسر پہ مدت سے کھڑا ہے سورجاور کہیں سایہء اشجار نہیںمجھ کو پہلے یہ غلط فہمی تھیبھول جانا اسے دشوار نہیںزخم ناقابلِ برداشت سلیماپنے ہی دیتے ہیں، اغیار نہیں.....................................🔴🔴.............. غزل............. ……………صغیر ملال…… . . . . . . . . . . . . . . . . . کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتےشہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتےان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلےپھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتےپہلے دیتے ہیں دلاسا کہ بہت کچھ ہے یہاںاور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتےکبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جوواپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتےسر پہ سورج لئے پھرتے ہیں یقینا کوئی اپنے اطراف جو سایہ نہیں رہنے دیتےدائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاںکوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتےجس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کادیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتےزندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملالکیوں مسیحاو ¿ں کو زندہ نہیں رہنے دیتےآرٹ۔۔۔۔۔۔فہیم شناس کاظمی

Tuesday, 14 October 2025

*'بہارِ اُردو' جشن، بجٹ اور مستقبل کا لائحہ عمل**وسیم رضا خان* ⏺️⏺️⏺️ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی نے اپنی گولڈن جوبلی کے موقع پر 6 سے 8 اکتوبر تک ممبئی کے ورلی میں واقع ڈوم ایس وی پی اسٹیڈیم میں تین روزہ شاندار ثقافتی میلہ 'بہارِ اُردو' کا اہتمام کیا تھا۔ اس محفل میں اردو ادب، فن اور ثقافت کا ایک بھرپور امتزاج دیکھنے کو ملا، جس میں سیمینار، پینل ڈسکشن، مشاعرہ، قوالی اور غزل کی پیشکش شامل تھیں۔ یہ انتظامیہ کے مطابق بڑی شاندار تقریب رہی جس کو لے کر اردو والوں کے بیچ سے کئی تنقیدیں اور سوالات اٹھے ہیں۔ یہ تنقیدیں بنیادی طور پر تقریب کے فارمیٹ، توجہ کے مرکز اور خرچ سے متعلق ہیں، نہ کہ اردو کی ترویج کے خلاف۔ بعض اردو اسکالرز اور ادیبوں نے تبصرہ کیا کہ اس فیسٹیول کا زیادہ تر فوکس بالی ووڈ کی شخصیات، گلوکاروں اور فنکاروں (جیسے انوپ جلوٹا، شیکھر سمن) اور تفریحی پرفارمنسز (جیسے فیشن شو) پر تھا۔ ناقدین کے خیال میں یہ تقریب ایک "میلے" یا "شو" کی طرح زیادہ لگ رہی تھی، جبکہ اسے خالص اردو ادب، سنجیدہ علمی مباحث اور نئے/کم معروف ادیبوں کی حوصلہ افزائی پر زیادہ مرکوز ہونا چاہیے تھا۔ ایک اہم اعتراض یہ بھی ہے کہ پروگرام کی مکمل ذمہ داری ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کو سونپنے کے بعد اکیڈمی کے ذمہ داران نے گویا اپنی ذمہ داری سے دامن جھاڑ لیا۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اکیڈمی کو حکومت کی طرف سے ملنے والی گرانٹ (امداد) کا صحیح اور مناسب جگہ پر خرچ یقینی بنانے کے لیے، پہلے کی طرح بیرونی ارکان کی ایک کمیٹی دوبارہ بنائی جانی چاہیے تاکہ اردو ادیبوں کو زیادہ نہیں تو کم از کم کچھ فائدہ ضرور پہنچے۔ اگرچہ علمی سیمینار منعقد ہوئے، لیکن بعض لوگوں کا احساس تھا کہ انہیں کافی اہمیت نہیں دی گئی۔ اردو زبان اور ادب کے تحفظ اور ترقی کے لیے زمینی سطح پر کیا کیا جانا چاہیے، اس پر خاطر خواہ زور نہیں تھا۔ تنقید کی گئی کہ اکیڈمی کو اپنی گولڈن جوبلی کی تقریبات کو مہاراشٹر کے دیگر اضلاع (جیسے اورنگ آباد، ناگپور، پونے اور مالیگاؤں) میں بھی وسعت دینی چاہیے تھی، جہاں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ایک ہی شہر پر توجہ مرکوز کرنے سے ریاست کے دیگر علاقوں کے اردو والے محروم رہ گئے۔ کچھ اردو دوستوں نے ایک عالیشان فیسٹیول پر بڑے سرکاری بجٹ کے خرچ پر سوال اٹھایا۔ ان کا ماننا تھا کہ یہی رقم اردو اسکولوں کی مرمت، اساتذہ کی بھرتی، لائبریریوں کو گرانٹ یا نوجوان مصنفین کی کتابوں کی اشاعت جیسی زیادہ پائیدار اور بنیادی ضروریات پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ انعامات کی تقسیم کی ستائش کی گئی، لیکن بعض حلقوں میں انعام کے انتخاب کے عمل میں شفافیت اور کچھ مخصوص ایوارڈ یافتگان کی اہلیت کو لے کر بھی سرگوشیاں تھیں۔ یہ تبصرہ کیا گیا کہ قومی سطح کی جانی پہچانی ہستیوں کو نمایاں کیا گیا، لیکن مہاراشٹر کے گمنام اور جدوجہد کرنے والے مقامی اردو ادیبوں کو اسٹیج پر خاطر خواہ جگہ نہیں ملی، حالانکہ یہ تقریب 'مہاراشٹر اسٹیٹ' اکیڈمی نے منعقد کی تھی۔اس اندرونی تنقید کے نتائج کو لے کر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ جب اردو والےخود اپنے سب سے بڑے سرکاری پروگرام پر تنقید کرتے ہیں، تو غیر-اردو عوام اور سرکاری محکموں میں یہ تاثر بن سکتا ہے کہ اردو زبان والوں کو مطمئن کرنا ناممکن ہے، یا وہ ہمیشہ شکایت کی حالت میں رہتے ہیں۔ اس سے وہ طبقہ جو اردو کو فروغ دینے کے لیے وسائل لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ تفریح ​​پر توجہ مرکوز کرنے کی تنقید عوامی سطح پر اس تصور کی تصدیق کر سکتی ہے کہ اردو صرف شاعری اور تفریح کی زبان ہے، نہ کہ علم اور سنجیدہ ادب کی۔ عوامی سطح پر تنقیدیں کرنے سے مستقبل میں بڑے بجٹ کی منظوری دینے والے سرکاری اہلکار ہچکچا سکتے ہیں، اور وہ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ جب کمیونٹی ہی کوششوں کی تعریف نہیں کرتی تو ٹیکس دہندگان کا پیسہ کیوں خرچ کیا جائے۔ یہ اندرونی اختلافات کو اجاگر کرتا ہے اور کمیونٹی کی یکجہتی کو کمزور دکھاتا ہے، جس سے اردو کے اجتماعی مقاصد متاثر ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اردو کمیونٹی کی تنقید بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز تھی کہ فیسٹیول کا فارمیٹ ادب سے ہٹ کر تفریح ​​کی طرف جھک گیا تھا، اور بڑے خرچ کو زیادہ پائیدار اور بنیادی سطح کے کام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔سب سے اہم قدم یہ ہے کہ اردو کمیونٹی میں موجود بہترین ذہنوں، جن کا مقصد صرف زبان کی خدمت ہو، انہیں ایک جگہ لایا جائے تاکہ وہ مل کر کام کر سکیں۔اَکادَمی کی باگ ڈور سنبھالنے یا مشاورت کے لیے ایک ایسی ٹیم درکار ہے جو توازن کے ساتھ کام کرے जैसे علمی و تعلیمی ماہر,مالیاتی و انتظامی ماہر, جدید میڈیا/پبلشنگ, ایکسپرٹ, مقامی ادب کا نمائندہ. یہ ٹیم تشکیل پانے کے بعد، اسے وزیر (اقلیتی امور کے وزیر) سے ملاقات کرکے ان نکات پر بات کرنی چاہیے: اَکادَمی میں بیرونی ارکان (External Committee) کی ایک فعال کمیٹی یا بورڈ کی فوری بحالی کی درخواست کرنا، جس کے ممبران صرف اور صرف میرٹ پر منتخب کیے جائیں۔ وزیر کو یہ سمجھانا کہ بڑا بجٹ صرف ایک شو پر خرچ کرنے کے بجائے، اسے پائیدار منصوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ یہ تجویز دینا کہ آئندہ کے بڑے ایونٹس کے لیے اَکادَمی کو ایونٹ مینجمنٹ کمپنی پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے، علمی اور ادبی پہلوؤں کا کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ نئی ٹیم کی توجہ ایک وقتی جشن کے بجائے ان شعبوں پر ہونی چاہیے جو اردو کو طویل عرصے تک فائدہ پہنچائیں.__________عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)افسانہ نمبر 705 : برگد تلےتحریر : آر کے نارائن (بھارت)اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان) سُومل گاؤں ، جو میمپی کے جنگلوں میں کہیں دبک کر چھپا ہوا تھا، اس کی آبادی تین سو سے بھی کم تھی۔ یہ ہر اعتبار سے ایسا گاؤں تھا جسے دیکھ کر کسی دیہی اصلاح کار کا دل بیٹھ جائے۔ اس کا تالاب، جو گاؤں کے عین وسط میں ایک چھوٹی سی آبی سطح تھی، پینے، نہانے اور مویشی نہلانے کے کام آتی تھی اور اسی کے ساتھ ملیریا، ٹائیفائیڈ اور نہ جانے کون کون سی بلائیں بھی پالتا تھا۔ کچی جھونپڑیاں بےترتیبی سے پھیلی ہوئی تھیں اور گلیاں بچھو کی طرح بل کھاتی ہوئی ایک دوسرے کو دبوچتی جاتی تھیں۔ گاؤں والے مرکزی سڑک کو کوڑے کا ڈھیر بنائے ہوئے تھے اور ہر مکان کے پچھواڑے میں گندا پانی سبز جوہڑوں کی صورت میں سڑتا رہتا تھا۔ ایسا ہی تھا یہ گاؤں۔ بظاہر یہ لوگ بےحس تھے؛ مگر شاید اس سے زیادہ یہ بات درست تھی کہ انہوں نے کبھی اپنے گرد و پیش پر غور ہی نہ کیا تھا، اس لیے کہ وہ ایک دائمی طلسم کے حصار میں جی رہے تھے۔ یہ طلسم گر نامبی قصہ گو تھا۔ نامبی کی عمر ساٹھ یا ستر برس کی تھی یا پھر اسی، یا ایک سو اسی؟ کون کہہ سکتا تھا؟ ایسے کٹے پھٹے مقام پر، جہاں قریب ترین بس اسٹاپ بھی دس میل دور ہو، وقت کی گنتی معمول کے پیمانوں سے بھلا کہاں کی جاتی؟ جب کوئی نامبی سے اس کی عمر پوچھ بیٹھتا تو وہ کسی پرانی قحط سالی، یا کسی یلغار یا کسی پل کی تعمیر کا حوالہ دے کر بتاتا کہ اُس وقت وہ زمین سے کتنے بالشت اونچا ہوا کرتا تھا۔ وہ ناخواندہ تھا، اس معنی میں کہ لکھا ہوا لفظ اس کے لیے ایک معما تھا؛ لیکن کہانی گھڑنے کا ملکہ اسے ایسا عطا تھا کہ مہینے میں ایک نئی داستان اس کے ذہن میں جنم لے لیتی، اور ہر کہانی کو سنانے میں اسے دس دن لگ جاتے۔ نامبی کا مسکن وہ ننھا سا مندر تھا جو گاؤں کےآخری سرے پر واقع تھا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ اس نے مندر کو کب اور کیوں اپنا گھر بنا لیا۔ مندر سرخ دھاری دار دیواروں کے ساتھ، ایک چھوٹا سا تعمیراتی ڈھانچہ تھا، اور اندر دیوی شکتی کا پتھر کا پُتلا نصب تھا۔ مندر کا اگلا حصہ نامبی کا آشیانہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جگہ کو بھی وہ اپنا گھر کہہ سکتا تھا، اس لیے کہ اس کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔ اس کا کل اثاثہ ایک جھاڑو تھی، جس سے وہ مندر کو صاف کرتا، اور دو دھوتیاں اور ایک اوپری پوشاک۔ دن کا زیادہ حصہ وہ مندر کے سامنے پھیلے برگد کے سائے تلے بسر کرتا۔ بھوک لگتی تو جس گھر کا جی چاہتا، وہاں جا بیٹھتا اور کھانے میں شریک ہو جاتا۔ نئے کپڑوں کی ضرورت ہوتی تو دیہاتی خود بخود لا دیتے۔ نامبی کو شاذ ہی کسی کو ڈھونڈنے جانا پڑتا، کیونکہ برگد کا سایہ خود ہی گاؤں کے لوگوں کی بیٹھک بنا ہوا تھا۔ دن بھر لوگ اس کی رفاقت کے طلبگار ہو کر وہاں جمع رہتے۔ اگر نامبی کے من میں آتا تو ان کی باتیں سنتا اور اپنے واقعات اور حکایات سے انہیں محظوظ کرتا۔ ورنہ تیوری چڑھا کر کہہ دیتا: "کیا سمجھتے ہو مجھے؟ خبردار، اگلے پونم کو کہانی نہ ملی تو مجھ پر الزام نہ دینا۔ جب تک میں دھیان میں نہ بیٹھوں دیوی کہانی کیسے بخشیں گی؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ کہانیاں ہوا میں اڑتی پھرتی ہیں؟ "یہ کہہ کر وہ جنگل کے کنارے جا بیٹھتا اور درختوں کو تکنے لگتا۔ جمعہ کی شاموں میں گاؤں والے مندر میں پوجا کے لیے جمع ہوتے۔ نامبی بیسیوں چراغ جلا کر دیوی کےآستانے پر رکھ دیتا۔ مندر کے پچھواڑے میں اُگی ہوئی جنگلی کلیوں سے وہ دیوی کو سجاتا۔ وہی پجاری بن کر دیہاتیوں کے لائے ہوئےپھل پھول دیوی کے حضور چڑھاتا۔ جن راتوں کو کہانی سنانی ہوتی، نامبی برگد کے تنے میں بنی ایک دراڑ میں چراغ رکھ دیتا۔ شام ڈھلے جب لوگ گھر لوٹتے تو یہ چراغ دیکھ کر بیویوں سے کہتے: "جلدی کرو، کھانا لگاؤ، قصہ گو ہمیں بلا رہا ہے۔" جوں جوں چاند ٹیلے کے پیچھے سے جھانکتا، مرد، عورتیں اور بچے برگد کے نیچے جمع ہو جاتے۔ مگر قصہ گو ابھی نمودار نہ ہوتا۔ وہ دیوی کے آستان میں آنکھیں موندے گہری تپسیا میں بیٹھا رہتا۔ جتنی دیر چاہتا یوں ہی رہتا، پھر جب باہر آتا تو اس کی پیشانی راکھ اور سیندور سے دہک رہی ہوتی۔ وہ مندر کے سامنے پتھر کے چبوترے پر بیٹھتا اور یوں آغاز کرتا: انگشت کسی دور دراز سمت میں اٹھا کر پوچھتا:"ہزار برس پہلے، اس جانب ذرا سے فاصلے پر کیا تھا؟ یہ ہرگز وہ گھاس کا میدان نہ تھا جہاں اب گدھے لوٹتے ہیں۔ یہ ہرگز وہ کوڑا کرکٹ کا ڈھیر نہ تھا۔ یہ ایک راجدھانی تھی، کسی راجہ کی…"راجہ کبھی دشرَتھ ہوتا، کبھی وکرما دتیہ، کبھی اشوک یا کوئی اور جو اس کے ذہن میں آ جائے۔ دارالحکومت کا نام کبھی کپلا، کبھی کریڈا پورہ، یا کوئی اور۔ یوں آغاز کے بعد وہ بنا رُکے تین تین گھنٹے بولتا رہتا۔ ایک ایک اینٹ جوڑ کر محل تعمیر ہوتا۔ دربار کے کمرے میں وہ سو راجے، وزیر اور رعایا کو بٹھا دیتا۔ کسی اور حصے میں دنیا بھر کے گویّے جمع ہو جاتے اور گاتے اور ان کے زیادہ تر گیت نامبی خود بھی اپنی محفل کو سنا دیتا۔ وہ محل کی دیواروں پر لٹکی تصویروں اور فتوحات کی تفصیل بیان کرتا۔ یہ کہانی گوئی گویا رزمیہ کی سی شان رکھتی تھی۔ پہلے دن تو محض داستان کا پس منظر طے ہوتا اور سامعین کو ذرا اندازہ نہ ہوتا کہ اب کون کون آ رہا ہے۔ جب چاند میمپی کے درختوں کے پیچھے کھسکنے لگتا تو نامبی کہتا: "بس دوستو، ماں کہتی ہیں کہ آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔"اور اس سے پہلے کہ ہجوم کی سرگوشیاں تھمتیں وہ یکایک اُٹھ کر اندر جا سوتا ۔ دو تین دن بعد پھر چراغ جلتا، پھر مجمع لگتا۔ یوں مہینے کی روشن راتوں میں بار بار محفل جمتی۔ بادشاہ اور سورما، دُشمن اور پری زاد عورتیں، انسانی روپ میں دیوتا، سنت اور قاتل سب ایک دوسرے سے ٹکرا کر اس دیومالائی دنیا میں آ بستے۔ نامبی کی آواز میں ایسا اتار چڑھاؤ اور نغمگی تھی کہ سامعین سحر زدہ ہو جاتے۔ چاندنی اور گھڑی نے جادو مکمل کر دیا۔ گاؤں والے نامبی کے ساتھ ہنستے، اس کے ساتھ روتے، ہیرو کی پرستش کرتے، بدکار کو کوستے، سازشی کی پہلی جیت پر کراہتے اور خوش گوار انجام کے لیے دیوتاؤں کے حضور دل سے دعا مانگتے۔ جس دن کہانی ختم ہوتی، سارا مجمع مندر کے اندر جا کر دیوی کے قدموں پر سجدہ ریز ہو جاتا…جب اگلا چاند ٹیلے کے اوپر جھانکا تو نامبی ایک اور کہانی کے ساتھ تیار تھا۔ وہ کبھی اپنی کہانی دہراتا نہ تھا، نہ ہی ایک ہی جیسےکرداروں کو دوبارہ لاتا۔ گاؤں والے اُسے ایک معجزہ سمجھتے، اس کے اقوال کو دانائی کےموتی گردانتے اور اپنی کٹھن و بےرنگ زندگی کے باوجود ایک بلند سطح پر جی اٹھتے۔ یہ سب برسوں سے یوں ہی چل رہا تھا۔ ایک رات اس نے برگد میں چراغ جلایا۔ لوگ جمع ہو گئے۔ بوڑھا اپنے پتھر کے چبوترے پر بیٹھا اور یوں آغاز کیا:"جب وکرما دتیہ بادشاہ تھا، اس کا وزیر…"یہاں وہ رُک گیا۔ آگے نہ بڑھ سکا۔ پھر نئے سرے سے بولا: "وہ بادشاہ تھا…"لیکن الفاظ لڑکھڑا گئے اور بےمعنی بڑبڑاہٹ میں ڈھل گئے۔اس نے بے چارگی سے کہا:"یہ کیا ہو گیا ہے مجھے؟ اے ماں! عظیم ماں! میں کیوں لڑکھڑا رہا ہوں؟ کہانی تو مجھے یاد ہے، ابھی ابھی تو پورے کا پورا قصہ میرے ذہن میں تھا۔ یہ کیا ہو گیا ہے، میں کچھ سمجھ نہیں پاتا…"اس کی بےبسی دیکھ کر سامعین بولے:"آپ تھوڑا وقت لیجیے، آپ شاید تھک گئے ہیں۔" "چُپ رہو!" وہ بگڑ کر بولا۔ "کیا میں تھکا ہوں؟ ذرا ٹھہرو، ابھی سناتا ہوں…” سناٹا چھا گیا۔ بےتاب آنکھیں اس پر جمی رہیں۔“مجھ کو مت دیکھو!" وہ جھلّا اٹھا۔ کسی نے دودھ کا پیالہ دیا۔ لوگ صبر سے بیٹھے رہے۔ کچھ نے ہمدردی کے الفاظ کہے، کچھ نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں۔ بیرونی حلقے میں بیٹھے لوگ آہستہ سے کھسک گئے۔ آدھی رات کے قریب دوسرے بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ نامبی سر جھکائے زمین کو تک رہا تھا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وہ بُوڑھا ہو چکا ہے۔ اسے لگا اب وہ اپنے خیالات پر قابو نہ رکھ پائے گا، نہ انہیں صاف صاف بیان کر سکے گا۔ جب اس نے سر اٹھایا تو دیکھا سب جا چکے تھے، سوائے لوہار ماری کے۔"ماری، تم ابھی تک کیوں بیٹھے ہو؟" ماری نے سب کی طرف سے معذرت کی: "وہ لوگ آپ کو تھکانا نہیں چاہتے تھے، اس لیے چلے گئے۔" نامبی اٹھا۔ "ٹھیک کہتے ہو۔ کل انہیں پورا قصہ سناؤں گا۔ بڑھاپا… بڑھاپا! میری عمر کیا ہے؟ یہ تو اچانک ہی آ پہنچا ہے۔" اس نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا: "یہ دماغ کہتا ہے: ‘بوڑھے احمق، اب میں تمہارا خادم نہیں رہوں گا، اب تم میرے غلام ہو گے۔’ یہ نافرمان اور غدار ہو گیا ہے…" اگلے دن پھر اس نے چراغ جلایا۔ لوگ برگد تلے جمع ہوئے۔ نامبی نے سارا دن مراقبہ کیا تھا۔ دیوی سے دعائیں کی تھیں کہ وہ اُسے ترک نہ کرے۔اس نے کہانی شروع کی۔ پورا ایک گھنٹہ رواں بولا۔ اس قدر سکون محسوس کیا کہ بیچ میں بول اٹھا: "اے دوستو! ماں ہمیشہ مہربان ہیں۔ یہ تو ایک بےوقوفی کا خوف تھا…"لیکن تھوڑی ہی دیر میں زبان سوکھ گئی۔ اس نے جتن کیا مگر الفاظ ساتھ نہ دیتے۔ "اور پھر… اور پھر… کیا ہوا؟" وہ ہکلایا۔ پھر طویل خاموشی چھا گئی۔ ایک ایک کر کے سب اُٹھ گئے۔ وہ رات بھر پتھر پر بیٹھا سوچتا رہا حتیّٰ کہ مرغ صبح کی اذان دینے لگا : "میں انہیں الزام نہیں دے سکتا۔ بھلا وہ ساری رات میرے ساتھ کیوں بیٹھے رہتے؟" دو دن بعد اس نے کہانی کا ایک اور حصہ سنایا، لیکن وہ بھی چند منٹوں میں ختم ہو گیا۔ مجمع چھٹنے لگا۔ چراغ دیکھ کر آنے والوں کی تعداد گھٹتی گئی۔ جو آتے بھی تھے، محض فرض سمجھ کر آتے۔ نامبی نے سمجھ لیا کہ یہ جدوجہد بیکار ہے۔ اس نے کہانی کو جلدی اور ادھورا ختم کر دیا۔ دل ہی دل میں کہتا رہا: "کاش میں برسوں پہلے مر گیا ہوتا۔ ماں، آپ نے مجھے کیوں گونگا کر دیا ہے…" اب وہ مندر کے اندر بند ہو بیٹھتا، کھانے پینے کا ہوش نہ رہتا، دن کا بیشتر حصہ مراقبے میں گزرتا۔ اگلے پونم کو پھر چراغ روشن کیا۔ لوگ دیکھتے ضرور مگر بمشکل چند ہی حاضرہوئے۔"باقی کہاں ہیں؟" اس نے پوچھا۔ "چلو انتظار کرتے ہیں…"چاند نکل آیا۔ چھوٹا سا مجمع دھیرج سےبیٹھا رہا۔ پھر نامبی بولا: "میں آج کہانی نہیں سناؤں گا، نہ کل جب تک پورا گاؤں نہ آئے۔ یہ ایک عظیم کہانی ہے، سب کو سننی چاہیے۔"دوسرے دن وہ گلی گلی پھر کر پکارنے لگا: "آج رات ایک نہایت شاندار قصہ سنانے والا ہوں۔ سب آنا، کوئی رہ نہ جائے…"اس شخصی اپیل کا بڑا اثر ہوا۔ رات گئے برگد تلے ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ لوگ خوش تھے کہ قصہ گو کی قوت لوٹ آئی ہے۔ نامبی مندر سے باہر آیا اور بولا: "یہ ماں ہیں جو عطا فرماتی ہیں، اور وہی واپس لے لیتی ہیں۔ نامبی تو محض ایک بڈھا ہے۔ جب ماں کے پاس کہنے کو کچھ ہو تو وہ بولتا ہے، ورنہ خاموش ہو جاتا ہے۔ لیکن جب چنبیلی اپنی خوشبو کھو دے تو اس کا کیا حاصل؟ جب چراغ کا تیل ختم ہو جائے تو وہ کس کام کا؟ شکر ہے دیوی کا… یہ ہیں میرے زمین پر آخری الفاظ۔ اور یہی ہے میری سب سے بڑی کہانی۔ "وہ اٹھا اور اندر حجرے میں چلا گیا۔لوگ اس کی بات کا مطلب نہ سمجھے۔ دیر تک بیٹھے رہے، پھر تھک کر مندر کے اندر گئے۔ قصہ گو آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔"کیا آپ کہانی نہیں سنائیں گے؟" انھوں نے پوچھا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، سر ہلایا، اور اشارے سے بتایا کہ وہ اپنے آخری الفاظ کہہ چکا ہے۔ اب وہ بھوکا ہوتا تو کسی کچّی جھونپڑی میں جا بیٹھتا، خاموشی سے کھانا کھاتا اور فوراً نکل آتا۔ اس سے بڑھ کر اسے کسی سے کچھ درکار نہ رہا۔ اپنی باقی زندگی جو چند برس اور تھی نامبی نے ایک عظیم اور کامل خاموشی میں بسر کی۔ Original Title:Under The Banyan TreeWritten by:Rasipuram Krishnaswami Narayanaswami (10 October 1906 – 13 May 2001), better known as R. K. Narayan, was an Indian writer and novelist known for his work set in the fictional South Indian town of Malgudi. ________🔴🔴غزلسفیر صدیقی کی نذرحیرانی کا ڈھونگ رچاؤ نادانی ہشیاری ہوچہرہ چہرہ وحشت دیکھو طرفہ دنیا داری ہوہر دم تیرے خواب کے بادل سر پر سایہ کرتے ہیںچاہے میری ذات کے اندر جتنی مارا ماری ہوآگے ہمارے دوزانو ہیں رانجھا، مجنوں اور فرہاد عشق نگر میں جیسے ہم نے تنہا رات گزاری ہوخوابوں جیسے درشن اس کے مجھ سے اکثر کہتے ہیں لفظوں میں مت ڈھالو ہم کو گر تم پریم پجاری ہوچاند ستارے شب دریا پر دھیان لگائے بیٹھے ہیں کوئی ایسا عکس ابھارو حیرت میں سرشاری ہوجسم کے اک اک پور سے رستا خون عبیر یہ کہتا ہےاس کو کیا دکھ دوگے جس کی ہر مشکل سے یاری ہوشاہ رخ عبیر_______🔴تیرے دروازے پہ چلمن نہیں دیکھی جاتیجان جاں ہم سے یہ الجھن نہیں دیکھی جاتیرخ پہ یہ زلف کی الجھن نہیں دیکھی جاتیپھول کی گود میں ناگن نہیں دیکھی جاتیبے حجابانہ ملو ہم سے یہ پردہ کیسابند ڈولی میں سہاگن نہیں دیکھی جاتیجام میں ہو تو نظر آئے گلابی جوڑاہم سے بوتل میں یہ دلہن نہیں دیکھی جاتیگھر بنائیں کسی صحرا میں محبت کے لیےشہر والوں سے یہ جوگن نہیں دیکھی جاتیہم نظر باز ہیں دکھلا ہمیں دیوی کا جمالمورتی ہم سے برہمن نہیں دیکھی جاتیاے فناؔ کہہ دے ہوا سے یہ اڑا لے جائےہم سے یہ خاک نشیمن نہیں دیکھی جاتیشاعر : 🔴 فنا بلند شہری

Sunday, 12 October 2025

*🛑سیف نیوز بلاگر*


کہنہ مشق صحافی انصاری احسان الرحیم کو حکومتِ مہاراشٹر کا ممتاز صحافتی اعزاز

نصف صدی پر محیط بے لوث صحافتی خدمات کا باوقاراعتراف 

مالیگاؤں( احتشام انصاری، سینئر جرنلسٹ)قلم قدرت کی وہ عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات اور احساسات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح اور قوم کی بیداری کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایک قلمکار اپنے قلم کی نوک سے قوم و ملت کی ایسی خدمت انجام دیتا ہے جس کی گونج زمانے تک سنائی دیتی ہے۔ یہی اعترافِ خدمت کسی بھی صحافی کے لیے حقیقی سرمایہ اور عزت کا نشان ہوتا ہے۔اسی جذبۂ خدمت اور صداقت کے علمبردار ہیں مالیگاؤں کے بزرگ اور کہنہ مشق صحافی جناب انصاری احسان الرحیم، جنہیں حال ہی میں حکومتِ مہاراشٹر نے ان کی طویل اور بے داغ صحافتی خدمات کے اعتراف میں خصوصی صحافتی ایوارڈ سے نوازا ہے۔

حکومتِ مہاراشٹر کا اعترافِ خدمت:
اردو اکیڈمی مہاراشٹر کے زیر اہتمام منعقدہ ایک باوقار تقریب میں یہ ایوارڈ پیش کیا گیا، جس میں پندرہ ہزار روپے نقد رقم اور توصیفی سند شامل تھی۔ اگرچہ حکومت کی نظرِ انتخاب تاخیر سے ان پر پڑی، مگر اہلِ قلم، عوام اور صحافتی حلقوں نے اس فیصلے کو ’’حق بہ حقدار رسید‘‘ قرار دیا۔ ایک غیر متنازعہ، مستقل مزاج اور سچے صحافی کو یہ اعزاز ملنے پر شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عوامی حلقوں اور صحافتی برادری نے اسے اردو صحافت کے وقار میں اضافہ قرار دیا۔

نصف صدی پر محیط صحافتی سفر:
جناب انصاری احسان الرحیم کا قلمی سفر تقریباً پچاس برس پر محیط ہے۔ انہوں نے نوجوانی ہی سے اپنے قلم کو حق گوئی کا ہتھیار بنایا۔
ابتدا میں انہوں نے مالیگاٶں اور ممبئی کے مختلف اخبارات میں مراسلہ نگار کے طور پر اپنی پہچان قائم کی۔ عوامی مسائل پر بےباک اظہارِ خیال نے انہیں کم عمری میں ہی مقبول بنا دیا۔ نامساعد حالات میں بھی انہوں نے قلم کو اپنا سہارا بنایا، اور کبھی سچائی کے راستے سے انحراف نہیں کیا۔انصاری احسان الرحیم شہر کے معروف روزنامہ ڈیلی کے بانی اراکین میں شامل رہے ہیں۔ وہ مختلف دیگر اخبارات و رسائل سے بھی وابستہ رہے اور اپنے قلم کے جوہر دکھاتے رہے۔فی الحال وہ روزنامہ نشاط نیوز کے کارگذار مدیر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والی تحریریں سنجیدہ تجزیے، متوازن رائے اور عوامی مفاد کی نمائندگی کرتی ہیں۔

کتاب’’آئینۂ صحافت‘‘ جدوجہد کی کہانی:
دو برس قبل ان کی نصف صدی پر محیط محنت اور تجربات کا نچوڑ ’’آئینۂ صحافت‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں منظر عام پر آیا، جو ان کے فکری سفر اور صحافتی استقامت کا آئینہ دار ہے۔ یہ مجموعہ ان کے علمی ذوق، غیر معمولی مشاہدے اور سماجی بصیرت کا واضح ثبوت ہے۔

زندگی میں توازن اورقلم میں استقامت:
زندگی کے نشیب و فراز نے بھی ان کی حوصلہ مندی کو متزلزل نہیں کیا۔ گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی خدمت کے درمیان انہوں نے ہمیشہ قابلِ تقلید توازن برقرار رکھا۔ ان کے فرزندان نے بھی اپنی تعلیم و محنت سے مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ممبئی ہائی کورٹ کے ممتاز وکیل اور جمعیت علمائے ہند کی لیگل ایڈ کمیٹی کے رکن ہیں۔ ڈاکٹر ساجد نعیم منصورہ انجینئرنگ کالج میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے والد کی صحافتی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔زاہد ندیم طبی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔یہ سب کامیابیاں انصاری احسان الرحیم کی مثالی تربیت، دیانت اور محنت کا ثمر ہیں۔

شہرمالیگاؤں کی جانب سے خراجِ تحسین:
انصاری احسان الرحیم کے اس اعزاز پر شہر بھر کی دینی، سماجی، تعلیمی اور صحافتی شخصیات نے دلی مسرت کا اظہار کیا ہے۔ سب نے دعا کی ہے کہ ان کا قلم ہمیشہ رواں رہے اور وہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں۔ جناب انصاری احسان الرحیم کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی، خلوص اور محنت کے ساتھ کی گئی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ان کا ایوارڈ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ صحافت کے وقار اور قلم کی حرمت کی جیت ہے۔
ہم اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں... پاکستان سے جھڑپ پر طالبان کے وزیر خارجہ کا دوٹوک جواب

افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اس وقت ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ اسی دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر جھڑپ بھی ہوگئی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے متقی نے پاکستان کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن انہیں اپنی حفاظت کرنی بھی آتی ہے۔

متقی نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی لوگ بھی افغانستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو افغانستان سے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا اشارہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کی طرف تھا۔ اس معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حملے کا افغانستان نے بھرپور جواب دیا ہے اور آئندہ بھی دیتا رہے گا۔

حفاظت کرنا جانتا ہے افغانستان
متقی نے تازہ جھڑپ کے حوالے سے کہا کہ ہماری طرف سے جنگ ابھی رکی ہوئی ہے۔ افغانستان کی حفاظت کی بات کی جائے تو وہاں عوام اور حکومت دونوں اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ چار سالوں سے امن قائم ہے اور کوئی کشیدگی نہیں ہے۔ تاہم افغانستان کو اپنی حفاظت کرنی آتی ہے۔ انہوں نے سرحدی حالات کے بارے میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈورنڈ لائن ہے، جو ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ یہ کسی نے کنٹرول نہیں کیا ہے اور زبردستی سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، یہ صرف نرم رویے سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان خود اپنے لوگوں کو کنٹرول کیوں نہیں کرتا؟ یہ بات پہلے بھی افغانستان کہہ چکا ہے کہ پاکستان اپنے لوگوں کو کنٹرول نہیں کر پا رہا اور وہ دہشت گردی کا الزام طالبان پر لگاتا ہے۔

کابل میں حالات بالکل معمول کے مطابق
متقی نے کہا کہ افغانستان میں ہماری حکومت آنے کے بعد ظلم کرنے والوں کو بھی معاف کردیا گیا۔ افغانستان کے تمام لوگ سمجھیں کہ یہ ہمارا وطن ہے کیونکہ خون کا جواب خون سے نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پرانی حکومت کے لوگ افغانستان میں ہیں اور سب سادگی سے رہ رہے ہیں۔ میں خود کابل میں موٹر سائیکل چلاتا ہوں اور وہاں امن ہے، جس کا تجارتی فائدہ بھی ہو رہا ہے۔ وہاں قانون کے تحت ہر کام کیا جا سکتا ہے۔
افغانستان کا بڑا دعویٰ ، سرحدی کشیدگی میں مارگرائے گئے 58 پاکستانی فوجی

پاکستان۔افغانستان کے بیچ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ صورتحال مزید ابتر ہونے کے آثار ہیں۔ سنیچر اور اتوار کی شب ڈیورنڈ لائن پر ہوئی جھڑپوں میں بڑے پیمانے تباہی ہوئی ہے۔ افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جھڑپ میں 58 پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں ۔

طلوع نیوز نے اس پر ایک رپورٹ شائع کی ہے ۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس کارروائی میں نو طالبان جنگجو بھی مارے گئے جبکہ دیگر16 زخمی ہوئے ۔مجاہد نے طلوع نیوز کو بتایا کہ افغان فورسز نے بڑی تعداد میں پاکستانی اسلحہ بھی لوٹ لیا ہے۔

طالبان نے 25 پاکستانی فوجی چوکیوں پر قبضہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ یہ کارروائی پاکستان کے مبینہ فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں ۔ اس ہفتے کے شروع میں ، افغان حکام نے پاکستان پر کابل میں بم دھماکے اور مشرقی افغانستان میں ایک مارکیٹ پر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا ۔ طالبان حکومت نے ان حملوں کو سرحدی خلاف ورزی قرار دیا جس میں 46 شہری ہلاک ہوئے ۔ مرنے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں ۔

پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی لیکن وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان حملوں کو بلا اشتعال قرار دیا اور ان پر شہریوں پر فائرنگ کا الزام لگایا ۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فوج نے افغان اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا اور ان کی کئی چوکیاں تباہ کر دیں ۔

افغانستان کےوزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں متنبہ کیا کہ افغان فوج ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ افغانستان کو اپنی فضائی اور زمینی سرحدوں کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور وہ کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا ۔

مجاہد نے فوج کو ڈیورنڈ لائن پرالرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے ۔اگر پاکستان کی جانب سے ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو کابل کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا ۔ وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا کہ جوابی آپریشن نصف شب ختم ہوا جس میں ہلمند ، قندھار ، پکتیکا ، خوست ، پکتیا ، زابل ، ننگرہار اور کنڑ صوبوں میں پاکستانی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ، آدھی رات کو ختم ہو گیا ۔ہلمند کی صوبائی حکومت کے ترجمان مولوی محمد قاسم ریاض نے میڈیا کو بتایا کہ آپریشن ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ضلع بہرامچہ کے قریب کیا گیا ۔ حریت ریڈیو کے مطابق افغان فوجیوں نے تین پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کر لیا ۔

اردو اکیڈمی: ادبی محفل نہیں فلمی تماشہ !اتواریہ : شکیل رشیدپچاس سال پہلے اُردو کے چند معروف ادیبوں نے ، جِن میں علی سردار جعفری ، کرشن چندر ، عصمت چغتائی ، ستیہ مادھو راؤ پگڑی وغیرہ شامل تھے ، حکومتِ مہاراشٹر کو قائل کرکے ’ مہاراشٹر اردو اکیڈمی ‘ کی بنیاد رکھوائی تھی ، جسے اب ’ مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکیڈمی ‘ کہا جاتا ہے ؛ گزشتہ دنوں اس اکیڈمی کے جب پچاس سال مکمل ہوئے ، تب ایک ’ ایونٹ ‘ کا اہتمام کیا گیا ، جو اپنی نویت کا اکیڈمی کا پہلا ایسا ’ جشن ‘ تھا ، جِس کی باگ ڈور ایک ایونٹ کمپنی کو سونپی گئی تھی ، جِس نے سارے ’ جشن ‘ کو ایک ’ ادبی محفل ‘ کے بجائے ’ فلمی تماشے ‘ میں تبدیل کر دیا تھا ۔ حیرت اس بات پر نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا ، حیرت اس بات پر ہے کہ ’ ادبی محفل ‘ کو ’ فلمی تماشے ‘ میں تبدیل کیے جانے کے باوجود اردو کے ادیبوں ، شاعروں ، صحافیوں اور ’ اردو نوازوں ‘ نے اس ایونٹ میں جانے اور چند ہزار کے انعام لینے میں کسی طرح کی شرمندگی نہیں محسوس کی ! لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ ’ شرمندگی کاہے کی ، ایوارڈ پانے والے ایوارڈ لینے تو جائیں گے ہی نہ ؟ ‘ بالکل جائیں کوئی نہیں روکتا ، لیکن جب اُن کے لیے ذلت کا سارا سامان سجایا گیا ہو تب ، تب یقیناً انہیں عزتِ نفس کا خیال رکھنا ہوگا ، اور اس طرح کے ہر ایونٹ سے بچنا ہوگا ۔ اس پروگرام میں جاوید اختر مہمان کے طور پر آئے تھے ، اُن کا ایک شاعر کے طور پر بڑا نام ہے ، وہ دانشور کہلاتے ہیں اور اپنی لکھی ہوئی فلموں کی وجہ سے سارے عالم میں مشہور ہیں ، چلیے مان لیا کہ اُنہیں بلانا اور لاکھوں روپیے دینا ٹھیک تھا ، لیکن شیکھر سُمن ، علی اصغر ، سچن پِلگاؤنکر ، انوپ جلوٹا وغیرہ کو پیش پیش رکھ کر سارے ’ جشن ‘ کو ’ تماشا ‘ بنانے کا کیا تُک تھا ! پتا ہے کہ انوپ جلوٹا کو اس پروگرام کے لیے کتنی رقم دی گئی ؟ ۲۵ لاکھ روپیے ! اور باقی کے جو فلمی چہرے تھے اُنہیں بھی دس سے پندرہ لاکھ روپیے تک ملے ! اور جنہیں ایوارڈ دیا گیا ، صحافیوں ، ادیبوں ، شاعروں اور ٹیچروں کو کتنی رقم ملی ؟ پندرہ ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپیے تک ، بس ! شاید اردو والے اپنی حیثیت سمجھتے ہیں ، اُنہیں لگتا ہے کہ وہ بس پندرہ بیس ہزار ہی کے حقدار ہیں ۔ افسوس تو یہ ہے کہ ’ فیشن شو ‘ اور ’ ڈانس ‘ کے پروگراموں پر بھی اردو والوں کو شرم نہیں آئی ! خیر شرم آئے بھی کیوں ! انہوں نے بے شرمی کا لِبادہ جو اوڑھ رکھا ہے ، انہیں اپنی بے عزتی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، یہ بس چاہتے ہیں کہ اسٹیج پر کسی طرح پہنچ جائیں اور تصویر اتروا کر ساری دنیا میں گاتے پھریں کہ ’ ہمیں ایوارڈ ملا ہے ۔‘ سارا پروگرام بدنظمی کا شکار رہا ، ٹرافیاں ناقص تھیں ، پینے کے لیے پانی کی قلت تھی ، اور کرسیاں خالی نظر آئیں ۔ جواز دیا جا رہا ہے کہ کیا کریں ’ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی ‘ میں بس ایک ہی شخص ہے سید شعیب ہاشمی ۔ لیکن لوگ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ یہ پروگرام ’ مائنارٹی منسٹری ‘ کا تھا ، اور اس منسٹری کے پاس ایک بڑا عملہ موجود ہے ، اس سے کام لیا جا سکتا تھا ۔ خیر ، جب دس کروڑ کی رقم لُٹانا ہی مقصد ہو ، تو کاہے کا انتظام اور کاہے کا نظم ! ادبی محفل کو فلمی تماشا بنانے میں اکیڈمی اور مائنارٹی منسٹری اس قدر مصروف رہی کہ اسے یہ تک احساس نہیں ہوا کہ ابھی اردو اکیڈمی کی تشکیل میں پیش پیش رہنے والے حسن کمال اور ڈاکٹر عبدالستار دلوی حیات ہیں ، انہیں ہی اسٹیج پر بلا لیا جائے ، اور ان کی عزت افزائی کر دی جائے ! افسوس صد افسوس ! چلتے چلتے : اکیڈمی کے جشن کے اشتہار سے اردو کے اخبارات محروم رہے ، بلکہ کسی زبان کے اخبار کو اشتہار نہیں دیا گیا ، کیوں ؟ اس لیے کہ وزیراعلیٰ نے اشتہارات دینے سے اکیڈمی اور منسٹری کو روک دیا تھا ۔ کیوں ؟ اس لیے کہ اب اردو زبان اور اس کے اخبارات کی ان کی نظر میں اسی طرح کوئی اہمیت نہیں رہی جس طرح بی جے پی کی نظر میں مسلم ووٹوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ کیا اردو والے جاگیں گے ، اور اپنی بے عزتی کا کچھ ماتم کریں گے ؟_________László Krasznahorkai لاسلَو کراسناہورکای کے ساتھ بات چیت ہنگرین زبان میں “ایس ” اردو کے حرف “ش” کے مترادف ہے جبکہ “ایس زیڈ ” اردو کے حرف “س” کے مترادف ہوتا ہے۔ جبکہ “اے” کو زرا لمبا کھینچ کر الف کی آواز میں ادا کیا جاتا ہے جب اس کی شکل á ہو ۔ ó کا تلفظ بھی لام پر زبر ڈال کا زرا لمبا کھینچ کر ادا کیا جاتا ہے۔کراسنا ہوری کو جب نوبل پرائز کمیٹی کی ترجمان خاتون نے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے پوچھا کہ وہ نوبل انعام ملنے پر کیسا محسوس کررہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ"It is more than a catastrophe.""یہ کسی تباہی سے بڑھ کر ہے — جیسے میری تنہائی پر ہجوم ٹوٹ پڑا ہو، جیسے میرے لفظوں کی آزادی پر کوئی ان دیکھے قانون نافذ ہو گئے ہوں۔ یہ اعزاز نہیں، ایک زنجیر ہے جو میرے تخیل کے جنگل میں پہلی بار بجی ہے۔ لوگ اسے خوشی کہتے ہیں، اور میرے اندر ایک خاموش چیخ گونجتی ہے — اب میں پہلے جیسا نہیں رہوں گا۔"آپ کو شاید یاد ہو، جب سموئیل بیکٹ کو نوبل انعام کی خبر دی گئی تھی تو اُس نے بس اتنا کہا تھا: 'کیا آفت ہے!'اور میں کہتا ہوں: یہ تو آفت سے بھی بڑھ کر ہے۔لیکن یہ آفت خوشی سے لبریز ہے — ایک غیر متوقع افتخار، ایک سنجیدہ سی مسکراہٹ جو میرے اندر گونج رہی ہے۔میں خوش ہوں، بلکہ فخر محسوس کرتا ہوں، کہ میرا کام اُن عظیم ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ شمار میں آیا ہے جنہوں نے مجھے سکھایا کہ زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں، ایک طاقت ہے۔میں اپنی ہنگرین زبان کا شکر گزار ہوں — ایک چھوٹی، مگر بے حد قیمتی زبان — اور مجھے فخر ہے کہ میں نے اسی زبان کو اپنایا، اسی کو نبھایا، اور اسی کے ذریعے اپنے وقت کو لکھا۔"سب سے پہلے، میں اپنے قارئین کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ ہم سب — ہر فرد — دوبارہ وہ صلاحیت حاصل کرے جو شاید کہیں کھو گئی ہے: تخیل کی طاقت۔کیونکہ تخیل کے بغیر، زندگی محض ایک خشک حقیقت بن جاتی ہے — ایک ایسی دنیا جس میں رنگ نہیں، روشنی نہیں، امکان نہیں۔کتابیں پڑھنا، اُن میں ڈوب جانا، اور مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا — یہ سب ہمیں نہ صرف علم دیتے ہیں بلکہ ہمیں جینے کی طاقت بھی دیتے ہیں۔ہماری زمین اس وقت ایک انتہائی دشوار دور سے گزر رہی ہے۔ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا، خبردار ہونا ہوگا — اور شاید، بچنے کے لیے، ہمیں تخیل، ادب اور انسانیت کی طرف دوبارہ لوٹنا ہوگا۔"ترجمان نے نرمی سے پوچھا:"آپ اس وقت کہاں ہیں؟ اور جب آپ کو انعام کی خبر ملی، آپ نے کیسا محسوس کیا؟"کراسناہورکای نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر دھیرے سے مسکرائے۔ان کی آواز میں کسی انجانی دوری کا عکس تھا — جیسے ابھی تک وہ لمحہ ان پر پوری طرح اترا نہ ہو۔"میں اس وقت اپنے ایک دوست کے فلیٹ میں ہوں،"انہوں نے آہستہ سے کہا،"جو بیمار ہے... اور میں فرینکفرٹ آیا ہوں، صرف اُسے دیکھنے کے لیے۔"چند لمحے خاموشی رہی، جیسے وہ سوچ رہے ہوں کہ کیا کہنا ہے، یا شاید کیسے کہنا ہے۔"ابھی تک مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میں نوبل انعام جیت چکا ہوں۔میں خود کو دھیرے دھیرے قائل کر رہا ہوں...یہ سچ ہے، لیکن جیسے سچ ہونے کے لیے وقت مانگ رہا ہو۔میں واقعی خوش ہوں — لیکن یہ خوشی شور میں نہیں، خاموشی میں گونج رہی ہے۔"رجمان نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں واقعی بالکل بھی توقع نہیں تھی، یا کچھ نہ کچھ گمان ضرور تھا؟ کراسناہورکای نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ نہیں، انہیں کبھی بھی یہ توقع نہیں رہی، نہ ہی انہوں نے خود کو اس انعام کے قابل سمجھا۔ وہ اس وقت بھی حیرت کی کیفیت میں ہیں، ششدر — جیسے کوئی بہت بڑا واقعہ رونما ہو چکا ہو اور ذہن ابھی تک اس کے اثر کو پوری طرح سمیٹ نہیں پایا۔گفتگو کا رخ پھر تحریر کی طرف مڑ گیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ ان کی سب سے بڑی ترغیب، یا وہ محرک کیا ہے جو انہیں لکھنے پر آمادہ کرتا ہے؟ کراسناہورکای کا جواب نہایت ذاتی اور سچا تھا۔ انہوں نے کہا: تلخی۔ وہ خود کو ایک اداس انسان سمجھتے ہیں، اور اب ان کا زیادہ وقت اس سوچ میں گزرتا ہے کہ دنیا کی اصل حیثیت کیا ہے۔ یہ فقط ظاہری ترتیب نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کی گہرائی، تاریکی، اور انسانی المیے کی سطح ہے جو انہیں لکھنے پر مائل کرتی ہے۔ ان کے اندر ایک گہرا وجدان موجود ہے، ایک ایسا جذبہ جو صرف ان کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی انسپائریشن ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آج کا وقت — جیسا وہ اسے دیکھتے ہیں — بے حد تاریک ہے، اور اس تاریکی میں زندہ رہنے کے لیے ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ طاقت درکار ہے۔ترجمان نے نرمی سے سوال کیا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ زندہ رہنے کے لیے اب زیادہ طاقت چاہیے، تو کیا اس پس منظر میں "لکھنا" آپ کے لیے کوئی خاص معنی رکھتا ہے؟ کراسناہورکای نے سکون سے جواب دیا کہ وہ اپنے کام کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ وہ اپنی تحریریں عظیم شعرا و ادبا کو بھی نہیں دکھاتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسے لوگ موجود ہیں جن کا فن خود حیران کن ہے۔ ان کا طرزِ عمل سادہ ہے: وہ ایک کتاب لکھتے ہیں، مکمل ہونے پر اسے اپنے ناشر کو دے دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اب کچھ وقت کے لیے انہیں سکون درکار ہے۔ جب اگلی تحریر کا وقت آتا ہے، تو ان کی صرف ایک کوشش ہوتی ہے — کہ جو کچھ پہلے لکھا، اس سے بہتر کچھ تخلیق کریں۔اس کے بعد گفتگو نے ان کی روزمرہ زندگی کے ماحول کی طرف رُخ کیا۔ نوبل کمیٹی کی ترجمان نے پوچھا کہ کیا وہ ہمیشہ ایک ہی جگہ لکھتے ہیں، یا مختلف مقامات سے تحریر کرتے ہیں؟ اس پر کراسناہورکای نے ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ وہ ہنگری میں، بوڈاپسٹ کے مضافات میں ایک پہاڑی پر واقع ایک کاٹیج میں رہتے ہیں۔ یہ جگہ Triest کہلاتی ہے، اور ان کے لیے یہ ایک ذاتی بادشاہت ہے — ایک ایسی ہنگری جو صرف ان کی ہے۔ وہ کبھی کبھی ویانا میں بھی رہتے ہیں، کیونکہ بہرحال، یہ سب پرانی آسٹریا-ہنگری کی بادشاہت کا ہی حصہ تھا۔ ان کے لیے یہ جگہیں محض جغرافیائی حدود نہیں، بلکہ ایک تہذیبی تجربہ ہیں — ایک داخلی فضا، جہاں ان کا تخیل سانس لیتا ہے، اور جہاں ان کے الفاظ جنم لیتے ہیں۔ترجمان نے ان سے پوچھا کہ آج وہ اس خوشی کو کیسے منائیں گے تو کراسنا ہوری کای کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ایک خالہ کے پاس جرمنی جانے کا پروگرام بنارہے ہیں اور اس کے لیے وہ اپنے ایڈمنسٹریٹر کو اپنا نیا پوسٹل ایڈریس لکھوائیں گے۔ ترجمان ان سے ہنستے ہوئے پوچھتی ہیں تو بس یہی کچھ آپ کریں گے ۔ کراسنا ہورکای اس پہ ہنس پڑے اور کہا کہ نہیں ، نہیں وہ اس خبر کے ساتھ صرف اتنا ہی نہیں کرسکتے ، ہوسکتا ہے شام کو فرینکفرٹ میں دوستوں کے ساتھ پورٹائن اور شمپئن کے ساتھ ڈنر کریں ۔__________🔴🔴نسیم عزیزی اور شاعری کا مشینی لام کاف منظر نامہ تحریر رشیدہ منصوری ۔۔,۔۔۔۔۔۔,۔۔ ہوره آفرینش غزلوں کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں 73 غزلیں ہیں۔ ایک لمحے کو ایسے کسی بھی شعری مجموعے کے ساتھ چند ساعتوں میں کچھ نیا پن لگتا ہے۔ لیکن یہ چند ثانیوں کی بات ہوتی ہے۔ جب کہ ہم ایسے کئی تجربوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو ذرا سی دیر میں بیزار ہوجاتے ہیں۔ یہ بیزاری بلاوجہ نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ ہمارے سامنے کے منظروں کی یکسانیت اور شعر کی صورت میں موجود متونِ خیال کی تکرار ہے۔اشعار دیکھیئے:ذرا سی بات کیا نکلی تیرے حسن مجسم کی جبیں پر بل پڑے تیرے ثنا خوان معظم کی حوصلہ دیکھا ،سہم گیا دریاڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہےآوازوں کے جنگل میں سناٹا بھی چلاتا ہے منہ میں زباں رکھنے والا اکثر گونگا ہو جاتا ہےخوشی کہنے لگی غم سے تیرا جو حال میرا حال کبھی قسمت تیری چمکی کبھی قسمت میری چمکی کبھی صحرا انوردی اور کبھی سیر چمن کرائے کیا نہ کچھ ہم سے یہ شوق عاشقی دیکھ کر وہ اجنبی چہروں کی بھیڑ پوچھتے ہیں گھر ہے یا بازار ہے شب کی حسین یادیں جواں جذبات کے قصے کہ اکثر یاد اتے ہیں انہی لمحات کے قصےوہ بادشاہ ہے لفظوں کا بچ کے ارے یہ گا رقم نہ کر دے کوئی من گھڑت کتاب کہیںآج تخلیق کار ایک ہی روگ کا رونا روتے ہیں۔اور پھر ایک ہی رنگ میں ہر منظر کو کاڑھتے ہیں۔ شاعری پر برا وقت شعراء اور کتابوں کی کثرت سے اور کم شعری مکالمے ادبی تنقید کی غیر موجودگی کی وجہ سے ہے۔ آفرینش بھی ایسا مجموعہ ہے جس میں شاعر کی نفی کے باوجود صرف 'لام کاف' ہے۔ زندگی سے شکایتیں، خدا سے شکایتیں محبوب سے شکایتیں اور کبھی کبھی لگتا ہے کہ اب شاعری اس لیے ہو رہی ہے کہ ہمیں احتجاج، سیاسی ابلاغ اور سیاسی سٹریس کا بخار نکالنے کا اس سے زیادہ مفید کوئی اور راستہ نہیں ملتا۔ لیجیے ان کو دیکھیے:سچ ہے کہ ہم لام کاف کرتے نہیں ہیں بات مگر صاف صاف کرتے نہیں ہیںہم اپنے گھر میں بھی رہتے ہیں اجنبی کی طرح ملی یہ زندگی کب ہم کو زندگی کی طرح سمندر کی تہوں تک وہ تو جانا چاہتا ہے مگر دامن بھی پانی سے بچانا چاہتا ہے نیند چھپتی رہی ہے آنکھوں میں شبنمی شب کو بد مزہ کرنا روح غزل ہے کیا بلا اس سے غرض کسی کو کیا یہ بھی سخن کے میر ہیں وہ بھی سخن کے میر ہیں کہیں نہ کہیں ہم ان اشعار سے معانی نکال لیں گے تو شاید کوئی نیا پن نیا انداز بھی ثابت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کتاب تو نئی ہے مگر ۔۔۔! شاعر کا نام موسیقی کے آہنگ میں ہے سرورق کے رنگ نئے ناشر اور قاری بھی نئے ہو سکتے ہیں۔ لیکن خیال کی بنت، ادراک ،انسانی نفسیات، تہ داری حال کی کوئی پیشنگوئی ماضی کی شرح کچھ بھی نیا نہیں ہے۔سب ایک ہی رنگ میں ہیں۔ اس بے رحمی اور قاتل یکسانیت سے ادب اب قومی زندگی کا بوجھ ہے۔۔۔اس بوجھ اور بوجھل پن میں کس کی غلطی ہے؟ کون کر رہا ہے؟ یہ خرابی کیسے ہوگا؟ یہ سب درست گزارش یہ ہے سب کر رہے ہیں اور کوئی بھی نہیں کر رہے جب ہم کسی رینگنے والے کو دوڑ میں جیتنا والا کہیں گے اسے ریسلر بنا کر پیش کریں گے جو اپنی پشت زمین سے الگ نہیں کر سکتا اسے فتح قرار دیں گے جو زمین پر سیدھا نہیں چل سکتا اسے آسماں پر اڑتا دکھائیں گے تو یہی ہو گا۔ ہمیں ہر تک بندی شاہ کا شاہکار لگے گی اور الٹی سیدھی لکیریں آرٹ محسوس ہوں گے۔ لیکن زندگی پہ ایسے کسی آرٹ کا اثر نہیں یہ شاعری کا اختتام بھی ہو سکتا ہے۔ اگر نئی شاعری نہیں پیدا ہوتی نیا شاعر اور نیا محاورہ نہیں پیدا ہوتا۔ نیا استعارہ نہیں بنتا تو وقت کی بے رحم موج ہمیں اور ہمارے شعور کو روند کر گزر جائے۔ ہر شخص کی ذات محترم ہے شاعر تو اس سے بھی زیادہ محترم ہیں کہ اگر زمانہ ان کی شاعری کو تنقید کا نشانہ بنائے تو ان کی عمر بھر کی ریاضت ضائع ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی کہ ہر تخریب نئی تعمیر کا باعث ہوتی ہے اگر ہم ایسی چیزوں پر مکالمہ تنقید اور گفتگو نہیں کریں گے شاعری کے عمومی جمود پر بات نہیں کریں گے تو وقت ہم سے نہیں پوچھے گا۔ وہ قاری کو بھی اور شاعر کو بھی اٹھا کر پھینک دے گا کیا ہم سب وقت کے دھکے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لہذا! ہمیں مان لینا اور کہہ دینا چاہیے شاعری ہمارے بس کی نہیں! ہم اور مفید کام کر لیں جس سے چار اچھے پیسے آ جائیں. پیسے ہی کمانے ہیں تو لوگوں کے شعور پر جبر کر کے کیوں کمائیں. جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے شعر و ادب پر خزاں طاری ہے ان سے لڑنے کے بجائے اپنے شعر و ادب سے کچھ مکالمہ کر لیں اگر ہمارے شعر ہمیں اور ہمارے آس پاس کسی کیفیت کو اٹھا نہیں رہے۔ کسی دل کو دھڑکنا نہیں سکھا رہے کسی دماغ میں ہلچل نہیں مچا رہے کوئی قاری شاعری کو اپنی زندگی کی کسی خاص کیفیت میں گنگنا نہیں سکتا تو ایسی شاعری ایسا خیال دیوار پر دے مارنے کے قابل ہے ۔ ایک جیسی شاعری قاری کا ذائقہ ہی نہیں شعور بھی خراب کردیتی ہے۔ یہ طے ہے کہ ہم اپنی زبان و تہذیب کے دائرے میں ہی رہ کر کچھ کہہ سکتے ہیں شاعری اور آرٹ پر بھی یہ اصول صادق آتا ہے۔ لیکن یہ دائرہ تو بڑا ہو رنگ تو چوکھے ہوں حرف رقص تو کرتے دکھائ دیں معانی کی دنیا ہمیں پریشاں مضطرب اور بے چین تو کرے۔ لیکن ہم گھنٹہ بھر کتاب پکڑے تھکتے ہیں تو زور سے بستر پر پھینک کر فرار اور کافی پینے چلے جاتے ہیں ۔ اور یقینا اس وقت کی کافی ہمیں زندہ کردیتی ہے۔ کتنی اذیت کی بات ہے ہم کتاب کی تھکن چائے کافی یا کسی اور مشروب میں اتارتے ہیں۔ آرٹ شعر ادب جب تھکانے لگے تو سوچنا چاہیے کہ ادب اور شعر اب شعور و احساس کے جہاں سے نکل کر ایک مشینی ہنر بن گئے ہیں۔ جسے لفظ و بیاں کے ماہر گھڑتے اور برائے فروخت رکھ دیتے ہیں۔ یہ برتن ہیں جنھیں ٹھوک بجا کر لوگ خرید لیتے ہیں ۔ گویا شعر وادب کا اب شعور کی دنیا سے تعلق نہیں۔ یہ بس کچھ سجاوٹ کے لیے ہی رہ گیا ہے ۔۔۔ سوچنا چاہیے کہ ہم زندہ ادب کیوں نہیں تخلیق کر پا رہے ہیں۔ ہمارا ادیب مجبور ہے۔ اس کے اندر کا اضطراب اور اس کے احساس کی شدت کو کون کھا گیاہے۔ لیکن ہم تو کتابیں چھاپنے اور غزلوں نظموں کی تعداد میں کھو گئے ہیں۔ غالب زندہ ہے ذوق داغ اور اس کے کئی معاصر نصاب کی کتابوں میں گم ہیں۔ یہ تخلیق کی دنیا کی سٹریس اور گھٹن ہے۔ جو تخلیق کی اصل مشکل ہے۔ لیکن اس سے زیادہ تنقید نگار اور قاری سٹریس میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ بھی کتاب شوق سے نہیں ضرورت سے خرید رہا ہے۔ اور مروت یا کسی نصابی تقاضے کے تحت پڑھتا ہے۔۔یہ رشتہ اب صرف ثقافت کے جبر جیسا ہے۔ لیکن آخر یہ ظاہری رکھ رکھاؤ کب تک رہے گا ۔۔ ہم کسی ایک کتاب پر بات کریں یا دس بیس مجموعے سامنے رکھیں۔ خیالات کا جمود اور تخلیق کا خالی پن ایک جیسا رہے گا۔ الا ماشاءاللہ چند ہوں گے گنتی کے جو کم یاب و نایا ہیں لیکن گمنام ہیں کہ وہ بھی پبلک ریلیش اور اشتہار بازی اور گروپ بندی نہ ہونے کی وجہ سے کہیں زندگی کسے نکالے گئے ہیں۔ آفرینش جیسے بہت سے دواوین کاپی پیسٹ خیالات کا عکس ہیں۔ جنھیں زبان و بیان کے کچھ رنگوں کے چھڑکاؤ سے نیا دکھانے کی کوشش ہے۔ ہم یہ اصول مان بھی لیں کہ کوئی خیال نیا نہیں ہوتا لیکن اس میں ایک نیا تخلیقی انداز ندرت خیال اچھوتا پن کہیں ابہام کہیں تضاد نیا محاورہ نئی تشکیلات کچھ تو نیا پن نظر آئے کہ قاری اچانک حیرت میں چلا جائے تھوڑا حیران ہو لمحہ بھر ٹھہر جائے بے ساختہ وااااااہ کہہ دے۔ اس کے اندر کوئی کرن اور کوئی تحریک پیدا ہو۔۔۔تلخ حقیقت ہے کہ غزل نظم اب کاپی پیسٹ ہے چیٹ جی پی کے بعد اب یہ مشقت بھی نہ رہی۔۔۔کسی گہرے احساس سے محروم تخلیق کی یکسانیت فن کو تباہ کر دیتی ہے۔ ہم اگر اس یکسانیت کو دیکھیں تو اس کو جدید دور کے سوشل میڈیا اصطلاح کافی پیسٹ کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا یہی نہیں تخلیق کار سے زیادہ جمود اور یکسانیت قارئین پر طاری ہے کوئی خیال فکر کا دریچہ نہیں کھولتا کوئی شعر سن کر ہم بے ساختہ داد نہیں دیتے اچھل نہیں جاتے ہمارے اندر کی دنیا اتھل پتھل نہیں ہوتیقاری صرف شور سننا اور ویڈیو کیپشن کے ساتھ دیکھتا ہے۔ قاری بھی کتاب اور شعر کو سوشل ریلیز سمجھنے لگا ہے۔ تو پھر یہ مکھی مار قسم کا فن اور ایسا ہی فنکار سے قاری کا تعلق ہے جو سماجی انسانی یا قومی سطح پر کوئی فائدہ نہیں دے رہا۔۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو ہم تخلیق کر رہے جو شاعری ہم پڑھ رہے ہیں سن رہے ہیں دیکھ رہے ہیں وہ جمود کی کہیں پرلی سطح کو چھورہی ہے۔ ہم ہمارے قاری اور نقاد کو ہمارے لکھنے والے کو مروت اور تعلق سے ہٹ کر دیکھنا ہوگا کہ ہمارے فن میں کتنی گہرائی ہے کس درجے کی یکسانیت ہونی چاہیے کس نوعیت کا نیا پن ادب اور شعر کا تقاضا کر رہا ہے ہمارے محاورے کو کیا ماضی میں ہی ہونا چاہیے حال یا مستقبل کی خبر بھی دینی چاہیے۔ہمارا شعر ہماری شاعری نکھار نہیں دے رہی ہماری غزل بھی یا شکایت ہے یا توصیف ہے یا محبوب کی جفا کی خبر نامہ ہے۔ جسے سننے کے بجائے ہم پڑھ لیتے ہیں ۔۔ آفرینش کی شاعری میں گھومتے خیالات میں ،تیری عقیدت کو دل نہ مانے، پر دل کا ذکر ہونا چاہیے دماغ کا بھی ہونا چاہیے اور پھر اس ذکر کو برنگ دیگر بھی ہونا چاہیے کیا ان میں آپ کو کچھ الگ سی چیز نظر اتی ہے کوئی چڑانے کوئی چبھنے والی جس سے جلن پیدا ہو حسد پیدا ہو رشک آئے ضد بنے کوئی تعصب کیا جاوے ایسا کچھ بھی نہیں ہے ایک سے خیالات ہیں جن سے نہ ہمیں خطرہ لطف محسوس ہوتا ہے نہ کرم محسوس ہوتا ہے۔۔ یہ صرف آفرینش کی بات نہیں ہے عمومی تجزیہ یہی ہے۔ آپ کئی کتابیں کھول کر سامنے رکھیں یقیناً آپ ایسا ہی محسوس کریں جو میں محسوس کر رہی ہوں میں کچھ اشعار اپ کے سامنے پیش کروں گی دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان میں کوئی نیا پن اچھوتا پن ندرت خیال و فکر کچھ ہے جس سے ہم جی اٹھیں یا ہمیں جینا محسوس ہو ۔عالم ہی کچھ عجب ہے انصاف کے جہاں کا مسند نشیں کے آگے سرخم ہے آسماں کا جلوہ صد رنگ نہ آیا نظر خواب دکھاتے رہے آئینہ گرتال پر گیتوں کے گھنگرو پاؤں کے بجنے لگے وقت کے سینے سے پھوٹی سسکیوں کی آہٹیں کیا ندامت کیا تاسف کیا پشیمانی و رسوائی نسیم صاحب زر ہو گئے ہم کیا ہوا جو ساری قدریں کھو گئیں یار میرے دشمنی نبھانا لگے کیا اک ذرا اختلاف کرتے نہیں ہیں کوئی پیغام بھی نہیں آتا کیوں وہ روٹھا ہے کچھ کہو تو سہی عجیب بات ہے وہ جس نے قتل عام کیا اسی نے ماتمی جلسوں کا اہتمام کیا پھولوں کے تن کو چھو کے جب لوٹی غزل ہر رنگ میں ہر روپ میں نکھری غزل پرکیف یادوں کی گھٹا جب چھا گئی سانسوں کی انگنائی میں پھر اتری غزل حکایات غم ہستی بھی روشن ہیں اسی میںیہ مت کہنا رقم افسانہ دل کر رہا ہےیہاں بھی وہی خیالات کی روایتی تکرار ۔کاش یہ بات خبر سے زیادہ کچھ ہوتی کہ غزل پھول کے تن چھو کے آئی ہے۔پھر تو چار سو مہکتا۔ گلوں میں رنگ اور رنگ باتیں کرتے سانسوں کی انگنائی؟میں سر سنگت زندگی کو رقصم کردیتے ۔۔ کبھی اسمان کو زمین سے ملانا ہے زمین کو آسماں سے ملانا ہے عجیب مبالغہ ہے اور مبالغے کی زمین پر مبالغے کی فصل اب فصل نہیں رہی جھاڑ جھنکار ہے۔ یار جس نے قتل عام کیا اسی نے ماتمی جلسوں کا اہتمام کیا اس میں کوئی نیا پیغام کہاں ہے شاعری میں سادگی و پرکاری ہو۔ اب شاعرانہ سادگی میں کچھ تو بناؤ ہوں ہوں الجھنیں ہوں کہ ہم سلجھانے بیٹھیں شاعری میں مبالغہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ مبالغہ اتنا اذیت ناک تو نہ ہو کہ حساسیت ،کیفیت، سرشاری اچھوتا پن کسی حیرت میں چلے جانا کچھ بھی نہ ہو عجیب سی منمناتی شاعری کی دنیا میں شاعری کا قاری بیزار اور کم سواد رہتا ہےغم ہستی کی شکایات ان کا روشن ہونا ان کا افسانہ ہونا اسی دل میں ہونا مسیحائی کی چرچے سب لفاظی اور معنوی چرب زبانی ہے جس میں نہ گہرائی ہے نہ سخن آرائی ۔۔ شعر دیکھیے اور سوچیے : عصر حاضر سے ڈر گئی دنیا مٹھیوں میں اتر گئی دنیا پہلے شعر میں شاعر کِسے ڈرانا چاہتے ہیں عصر حاضر ہی دنیا ہے تو پھر وہ کس دنیا سے ڈر گئی؟ کیا دنیا سے ٹکرا رہی ہے یا ان کا آمنا سامنا ہو رہا ہے ."اور یہ دنیا کا مٹھیوں میں اتر جانا"یہاں قاری کا خون کھول رہا ہے کہ اگر دنیا ڈر گئی تھی تو وہ مٹھیوں میں کیوں اتر گئی!عصر حاضر سے ڈری دنیا ہے تو پوری دنیا پھر کون کیوں کسی کی مٹھی میں ہے ۔ کچھ تو معانی کا سراغ ملے تو قاری کا بوجھ کم ہو یکسانیت کے ساتھ شعر میں معنویت کا بھی ستیاناس ہو رہا ہے تو شعر کو گنگا برد اور شاعر کو جیل بھیجنا چاہے۔ وہ اس کے سامنے سجدہ ریز کیوں نہیں ہوئی اس کی مطیع کیوں نہیں ہوئی اس کے لیے تسخیر کیوں نہیں ہوئی۔ اور کیا دنیا کا مٹھیوں میں اتر جانا زبان بیان محاورے اور استعارے کی روح کے مطابق اور معیار پر پورا اترتا ہے ایسے زبردستی گھڑے گئے شعر صرف وزن پر پورا اترتے ہیں شعریت رمزیت ایمائیت گہری رومانویت سے ایسے اشعار محروم ہوتے ہیں۔ کچھ اور اشعار دیکھیے:گھروں میں کارخانے ٹیپ ٹی وی شور ہنگامے اسی ماحول میں پڑھنے کے عادی ہو گئے بچے اب یہ خبر بھی اگر شعر ہے تو پھر وہ چینل اچھے نہیں ہے جن پر ہم کچھ چہرے بھی دیکھتے ہیں:کبھی کانٹوں نے راہ زندگی میں دستگیری کی کبھی پھولوں کو بھی خنجر بکف شمشیر زن دیکھا ہزاروں خامیاں میں اپنے اندر پا رہا ہوں مگر میں دوسروں کو آئینہ دکھلا رہا ہوں بادلوں کو زعم تھا سورج پہ سایہ کر دیا اک ذرا سی دھوپ نے ہر سو اجالا کر دیااپنی ناکام کا خبر نامہ جاری کرنا یا اپنی غیر موجود خوبیوں کا اشتہار بانٹنا۔ اپنے ناکردہ عشق کی خیال داستانیں آسمان کی شکایت اور زمانے کا رونا نوے فیصد شاعری کا بڑا اور مرکزی خیال ہے ۔بادل سورج پہ سایہ فگن نہیں ہوتے نہیں ہوتے بادل دھرتی پہ سایہ فگن ہوتے ہیں سورج کو نہیں ڈھانپ رہے ہوتے سورج کی گرمی کا عذاب سہہ رہے ہوتے ہیں سورج پہ سایہ ہوتا تو اس سورج کو کوبھی ٹھنڈک ملتی ہے آسودگی ملتی ۔۔خیال سے محروم مشینی تک بندی اور کنکریٹ شاعری ، جیسے ایک فلک بوس ویراں ڈھنڈار عمارت یا کالی سیاہ سڑک جس پہ ربڑ اور لوہے کے ڈبے دوڑ رہے ہوں جن کی آوازیں ہمارے سٹریس لیول میں اضافہ کرتی ہیں ہم تھک جاتے ہیں بور ہو جاتے ہیں اور پھر آس پاس کی مناظر دیکھتے ہیں لیکن شاعری کا یہ عذاب ہمیں کوئی کھڑکی بھی کھولنے نہیں دیتا کم و بیش شاعری کا زیادہ اثاثہ خیال کی ایسی ہی یکسانیت ۔۔کسی زندہ احساس سے محروم کسی بھرپور تخلیقی تجربے کے بجائے الفاظ اور محاورے کی بندش سے زیادہ کچھ نہیں۔۔اسی طرح جب فن پارے کا یہ حال ہوگا وہاں نقاد اور قاری بھی کسی نئے اور اچھوتے طرز احساس سے محروم اور ستائش باہمی پرمجبور رہے گا۔۔جس شعر کو دوبارہ پڑھنے کا من نہ کرے۔ جس زمانے کی شاعری کے لاکھوں اشعار میں کوئی ایک کام کا اور زندگی بخش نہ ہو جو اپنے قاری کو ایک لمحے کو پکڑ نہ لے جکڑ نہ لے ٹھہرنے پر مجبور نہ کر دے وہ شعر بھرتی کا شعر ہوتا ہے زندہ شعر نہیں زندہ شاعری سلامت شاعری عام نہیں ہوتی خاص ہوتی کم ہوتی ہے شاذ ہوتی ہے۔ ایسی شاعری کے لیے دل اور جاں پر قیامتیں گزری ہوتی ہیں ۔ اس میں سوز ساز درد کرب آگہی اور نور ہوتا ہےلیکن ایک ہمارا زمانہ ہے شاعر ایک زمانے میں موجود ہیں لاکھوں کتابیں لکھ کر بھی شعر کی عمر شاعر کی عمر تک نہیں پہنچتی ایسی شاعری کو زندہ اور سلامت شاعری نہیں کہتے۔ نہ ایسے سماج میں شعر وادب شعور اور آگہی میں کسی انقلاب کا باعث ہوتا ہے۔۔ہم نے مان لینا ہوگا کہ ہم شاعری کی زمانے میں نہیں کی رہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارا دور شاعری کا نہیں ہمیں تخلیق کار نہیں ملے یا خدا کو منظور نہیں کہ اس زمانے میں بھی تخلیق اور آرٹ کے لوگ پیدا ہوں یہ مشینی دور ہے۔ اور ہم مشینی سے انسان ہیں ۔یہی۔وجہ ہے کہ ہمدردی رواداری اور انسانیت کے احترام کے لیے اب زیادہ قوانین بنانے پڑ رہے ہیں تاکہ بے حس انسانوں کو طاقت سے کچھ سکھایا جائے ورنہ یشعر وادب بھی معاشرے میں احساس ہمدردی رواداری اور برداشت پیدا کرتا رہا ہے۔مشینیں احساس نہیں کرتیں معاف نہیں کرتی شاعری نہیں کرتی وہ بس کام کرتی ہیں چیزیں جوڑ سکتی ہیں چیزیں توڑ سکتی ہیں۔۔ نہ انہیں جوڑنے نہ توڑنے کا احساس نہ بچپنے اور الھڑپنے کے زمانے نہ بچھڑنے ملنے کا احساس۔۔شاعری تو ساری کی ساری احساس اور درد کا نام ہے۔ فن زندگی کے دکھوں کا عکاس ہے اور انسان کو اس کے خاص اور مخلوق میں شرف حاصل ہونے کے شعور کا نام ہے۔ہمارے بھارتی سماج سے سچی شاعری رخصت ہوگئی ہے۔ جو دو چار وہ بھی چراغ سحری ہیں ۔غالب خسرو اور کبیر داس کی روحیں ہم سے روٹھ چکی ہیں۔۔اس یکساں اور شاعری سے محروم لفظ گری کے کھیل میں میری تحریر بھی اتنی بے ہنگم یا بور شمار ہوگی ۔ اس لیے کہ آداب کے قاری کی ترتیب بھی ادب کی تہذیب سے جڑی ہے۔کوئی باقاعدہ پرفیشنل نقاد تو چیزوں کا اچھا معروضی اور تنقیدی جائزہ پیش کرسکتا ہے۔ لیکن عجیب سی شعری خوشبو سے محروم شاعری پڑھنے یا پڑھانے پر مجبور قاری کا سٹریس لیول بھی شاعر کی طرح کا الجھا اور تضادات سے بھرپور ہوسکتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم سب کو شعر و ادب کی اس مردنی کا احساس کرنا ہے ۔ جس سے آفرینش جیسے وقت ضائع کرنے والے مجموعے اور اس قیمتی وقت کو مزید ضائع کرنے والی آج کی ایسی تحریریں سامنے آتی ہیں ۔اب اس میں کون ہے کتنا گنہگار یہ فیصلہ وقت ہی کر سکتا ہے ہم نہیں۔۔ آخر میں گزارش ہے کہ بدترین تخلیقی جمود کے باوجود ایک تخلیق کار کی چاک کی ریاضت اس کی سیپ کے مقدر کا قطرہ پالیتی ہے۔ جو اس کا حاصل ہوسکتا اور اس کی آگے کی تخلیقی کاوش کی توانائی بن سکتا ہے۔ آفرینش کےکسی دوسرے جنم کے قرطاس بھی اس سے محروم نہیں رہیں گے۔۔ تسلیم اور انکار کے درمیان بھی کچھ کاریز ہوتی ہیں ۔ ہمیں نہیں بھولنا کہ یہ چھوٹے چھوٹے راستے ہی اصل منزلوں تک پہنچاتے ہیں ۔مشینی اور بے ہنگم زندگی ہمیں ان موجود راستوں کا پتہ نہیں دیتی۔ ہمارے شعور کو حالات تھکا دیتے ہیں اور ہم ان خوبصورت اور دلکش راستوں کا سراغ اپنے فن میں نہیں دکھا سکتے۔۔۔ یہ اشعار بھی آفرینش میں ہیں فرق دیکھیئے ۔۔۔ کچھ سراغِ زندگی تو ہے۔۔غم حیات کے درپن میں منعکس ہو کرفنا کی اور بڑھا آدمی بھی قسطوں میں اک سلسلہ خیال کا آئینہ بن گیا گزرے ہیں جتنی بار تری رہ گزر سے ہم________🌺غزل 🌸چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میںنئے انوکھے موڑ بدلنے والا میںتم کیا سمجھو عجب عجب ان باتوں کوآگ کہیں ہو، یہاں ہوں جلنے والا میںبہت ذرا سی اوس بھگونے کو میرےبہت ذرا سی آنچ، پگھلنے والا میںبہت ذرا سی ٹھیس تڑپنے کو میرےبہت ذرا سی موج، اچھلنے والا میںبہت ذرا سا سفر بھٹکنے کو میرےبہت ذرا سا ہاتھ، سنبھلنے والا میںبہت ذرا سی صبح بکسنے کو میرےبہت ذرا سا چاند، مچلنے والا میںبہت ذرا سی راہ نکلنے کو میرےبہت ذرا سی آس ،بہلنے والا میں🎬راجنیدر منچندہ بانی 🎞️

*🔴سیف نیوز بلاگر*

آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہ...