Tuesday, 21 October 2025

چھترپتی شیواجی مہاراج کی ’سیکولر بادشاہ‘ کی شبیہ اجاگر کرنے والی کتاب:"چھترپتی شیواجی مہاراج اور مسلمان"تبصرہ۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر گریش سی پاٹل ‌ناسک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے چھترپتی شیواجی مہاراج کی سیکولر پالیسی پر پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ تھا۔ یونیورسٹی سے مجھے ایک گائیڈ بھی مل گئے تھے۔ لیکن انہوں نے مجھے اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے کا مشورہ نہیں دیا۔ وجہ پوچھی تو بتایا کہ یہ بہت مشکل ہوگا، اُس دور کے زیادہ کاغذات دستیاب نہیں ہوں گے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ میں "پیشوا دور کی خواتین کی سماجی پالیسی" پر کام کروں۔ میں نے انکار کر دیا۔ اس پر انہوں نے ایم فل کے طلبہ کو لے لیا اور میرا نام کاٹ دیا۔ اس طرح میری پی ایچ ڈی رُک گئی۔ "پیشوا دور کی خواتین کی سماجی پالیسی" کا موضوع انہوں نے کیوں بتایا ہوگا، آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ انہیں اس میں دلچسپی تھی۔ ان کا نام اور ذات میں نہیں بتاؤں گا۔لیکن میں نے اس بات پر تحقیق جاری رکھی۔ اس دوران مجھے اس موضوع کو اجاگر کرنے والی ایک کتاب ملی۔ نیشنل اردو کالج ناسک کے میرے دوست لیاقت پٹھان نے مجھے صحافی اور ادیب سعید حمید کا رابطہ دیا۔ سعید حمید کی کتاب "چترپتی شیواجی مہاراج اور مسلمان" انہوں نے فوراً مجھے بھیج دی۔ میں اس کتاب کے بارے میں لکھے بغیر نہیں رہ سکا۔چترپتی شیواجی راجے نے "ہندوی سوراج" کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کا ساتھ دینے والے بارہ بلوتے دار تھے۔ یہی بات پر تحقیق کر کے صحافی و مصنف سعید حمید نے اپنی کتاب پیش کی ہے۔ راج شری شاہو مہاراج، مہاتما جیوتی با پھولے اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے خیالات کی وراثت مصنف کو ملی ہے۔ مصنف صرف صحافی نہیں بلکہ ایک ادیب اور مفکر بھی ہیں۔ کتاب میں انہوں نے اپنی یکطرفہ رائے نہیں دی بلکہ متعدد کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور حوالہ جات بھی دیے ہیں، جیسے پروفیسر نام دیو راو جادھو کی مراٹھی کتاب "شیورائے"، شری منت کوکاٹے کی "لوکرائے شیورائے"، پروشوتم کھیڑکر اور گووند پانسرے کی کتابیں، پروین گائیکواڑ، ایس جی سردیسائی وغیرہ۔ حتیٰ کہ وینا ئک دامودر ساورکر کی "ہندو راشٹر درشن" کا بھی ذکر کیا ہے۔آج کے دور میں یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ چترپتی شیواجی مہاراج مسلمانوں کے دشمن تھے، جو ان کی سیکولر شبیہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہی پہلو اس کتاب میں مصنف نے رکھا ہے اور ایک وکیل کی طرح زوردار وکالت کی ہے۔ یہی اس کتاب کی طاقت ہے۔اگر آپ کتاب کا فہرستِ مضامین دیکھیں گے تو اس کی گہرائی کا اندازہ ہوگا:ہندوتو وادی نہیں، ایک سیکولر حکمراں – مذہبی رواداری کی مثالیں – شیواجی مہاراج کا اصل دشمن کون تھا؟ – آگرہ میں قید کے اہم حقائق – مسلم بادشاہ اور چترپتی شیواجی کا شاندار استقبال – راجہ شیواجی اور قطب شاہی بادشاہ – ہندو سماج میں اصلاحات کی تحریک – مداری مہتر: ایک بہترین مثال – نور خان بیگ: شیوا شاہی پیدل فوج کا پہلا سپہ سالار – شیواجی مہاراج اور بہوجن راج – ایک سماج سدھارک اور سیکولر بادشاہ کو ہندوتو وادی کیسے بنایا گیا؟ – مغلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے گوریلا جنگ – تاریخ کے اوراق پر فرقہ پرستی کا زہر – چترپتی شیواجی: مہاراشٹر کا وسیع القلب حکمراں – شیواجی مہاراج کی جدوجہد – تاریخ اور فرقہ پرست طاقتوں کی سازش – مسجدوں کے لیے سہولیات – مزارات – شیواجی مہاراج کے کھلے اور خفیہ دشمن۔کل 24 ابواب ہیں۔آج کے زمانے میں کچھ لوگ شیواجی مہاراج پر اپنا حق جتاتے ہیں، حالانکہ انہی کی وجہ سے ان کا دوبارہ شیوراجیہ ابھیشیک کرنا پڑا تھا، یہ تاریخ گواہ ہے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر شیواجی مہاراج کے ساتھ لڑنے والے مسلمان بھی تھے، جیسے مداری مہتر، نور خان بیگ پیدل فوج کے سربراہ، یا مالک عنبر وغیرہ۔ اس کتاب میں بے شمار مثالیں دی گئی ہیں۔شیواجی مہاراج کی جنگ صرف مسلمانوں سے نہیں تھی، بلکہ چندر راو مورے سے بھی تھی۔ ان کی فوج میں بہوجن سماج کے ساتھ مسلمان بھی پوری قوت کے ساتھ شامل تھے، یہ بھی تاریخ میں درج ہے۔ ان تمام باتوں کا تفصیلی ذکر اس کتاب میں موجود ہے۔ہمارے آئین میں سیکولر سوچ ہے، جو ہمیں چترپتی شیواجی مہاراج کی فکر سے ملتی ہے۔ ہمیں کسی بھی غلط پروپیگنڈا کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انگریزوں نے ہندو مسلم کو بانٹنے کا گناہ کیا تھا، وہی تاریخ دہرانا غلط ہوگا۔ چترپتی شیواجی مہاراج کی ’سیکولر بادشاہ‘ کی شبیہ کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔ انہیں صرف مراٹھا یا ہندو بادشاہ کہہ کر ان کا قد کم کیا جا رہا ہے۔ وہ ایک عظیم سپہ سالار اور دنیا میں رعیت کے راجہ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی جنگ کسی مذہب سے نہیں تھی۔ جو لوگ انہیں مسلمانوں کا دشمن بتاتے ہیں، اس غلط پروپیگنڈا کا یہ کتاب ایک جواب ہے۔باقی کتاب آپ کو خود پڑھنی چاہیے۔ اگر سب کچھ یہاں بتا دوں تو آپ کتاب نہیں پڑھیں گے۔پروفیسر ڈاکٹر گِریش سی پاٹل، ناسک______________تیری میری کہانی“ نمبر 9"اوس کے موتی"مصنف،اقبال حسن آزاد(مونگیر، انڈیا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماسٹر صاحب نے کال بیل دبائی۔دروازہ کھلا اور وہ اپنی مخصوص جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔سجا سجایا ڈرائنگ روم،پرسکون ماحول اور روح میں تازگی پیدا کرنے والی خنکی۔باہر کی گرم ہوا جیسے کہیں گم ہو گئی تھی۔انہوں نے جیب سے رومال نکالا اور پیشانی پر آئے پسینے کے قطروں کوخشک کیا۔ماسٹر صاحب کی تھکن چند لمحوں ہی میں کافور ہوگئی۔ پھر انہوں نے ذرا بلند آواز میں پکارا۔ ”ندیم!“ ”آیا ماسٹر صاحب۔ “ اور پھر اگلے ہی لمحے ندیم ہاتھوں میں کاپیاں اور کتابیں سنبھالے ان کے سامنے کھڑا تھا۔اس کی معصوم آنکھیں ایک نا معلوم جوش اور جذبے سے چمک رہی تھیں اور اس لرزیدہ ہونٹ کچھ کہنے کو بیتاب نظر آ رہے تھے۔”ماسٹرصاحب ! ماسٹر صاحب!! معلوم ہے آج کون جیتا؟“ماسٹر صاحب نے اس کے سرخ و سپید گال کی جانب دیکھتے ہوئے دھیرے سے پوچھا۔”کون؟“”انڈیا!“ننھے ندیم کی آواز میں چڑیوں کی چہکار شامل تھی۔”اچھا!“”بیٹے ! ابھی تمہارے پڑھنے لکھنے کا وقت ہے۔ان سب کاموں کے لیے تو ساری عمر پڑی ہے۔“انہوں نے کہنا چاہا مگر کچھ سوچ کر چپ رہے۔ندیم مسلسل بولے جا رہا تھا۔ ”ماسٹر صاحب! جانتے ہیں....؟“بولتے بولتے اس کی سانسیں تیز تیز چلنے لگی تھیں۔ماسٹر صاحب صبر و سکون کے ساتھ اس کی باتیں سنتے رہے اور مسکراتے رہے۔پھر انہوں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔ ”پاپا کب آئیں گے؟“”پرسوں....پرسوں سنیچر ہے نا!“ انہیں یاد آا۔ندیم کے پاپا سنیچر کے سنیچر آیا کرتے ہیں۔بڑے افسر ہیں اور کسی دوسرے شہر میں پوسٹید ہیں۔ماسٹر ساحب سے ان کی بس دو ایک بار علیک سلیک ہوئی تھی۔ سارے معاملات میم صاحب ہی deal کرتی تھیں....اور وہ بھی اپنی خادمہ کے توسط سے۔ ماسٹر صاحب نے ندیم سے کہا۔”پاپا آئیں تو ان سے کہنا کہ ماسٹر صاحب نے تنخواہ بڑھانے کے لیے کہا ہے۔“ ”جی بہت اچھا ! کہہ دوں گا۔“ ”کیا کہوگے؟“ماسٹر صاحب نے گویا اسے سبق ےاد کراتے ہوئے کہا۔ ”وہی جو آپ نے کہا۔“ ”ٹھیک ہے اب اپنا سبق یاد کرو۔“ سنیچر کو بھی وہ حسب معمول ندیم کو پڑھانے گئے۔ ”پاپا آئے کیا؟“ماسٹر صاحب نے پہنچتے ہی سوال کیا۔ ”ہاں!تین بجے آئے۔ابھی سو رہے ہیں۔“ ”یاد ہے نا....میں نے کیا کہا ہے؟“ ”جی ماسٹر صاحب!یاد ہے۔“ ”اچھا!اب کتاب کھولو۔“ دوسرے روز اتوار تھا یعنی ٹیوشن کی چھٹی۔سموار کو انہوں نے ندیم سے پوچھا۔ ”پاپا چلے گئے کیا؟“ ”ہاں! وہ تو کل شام ہی کو چلے گئے۔“ ”تم نے اپنے پاپا سے کہا تھا؟“ ”کیا؟“ ”وہی پیسے والی بات۔“ ”ہاں۔“ ”کیا کہا انہوں نے؟“ ” کچھ نہیں۔“ ماسٹر صاحب مایوس ہو گئے۔کئی برسوں سے وہ اسی تنخواہ پر پڑھاتے آرہے تھے۔اگر اس میں کچھ اضافہ ہو جاتا تو....“ ندیم نے پھر کرکٹ کا تذکرہ چھیڑ دیا تھا۔ ماسٹر صاحب نے اسے نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ”بیٹے! کھیل کود کی باتیں زیادہ مت کیا کیجئے۔پڑھنے لکھنے پر دھیان دیجئے۔“ پھر وہ ندیم کو پڑھاتے رہے اور سوچتے رہے۔وہ بھی کیا دن تھے۔پڑھ لکھ کر نواب بننے کی باتیں اور کھیل کودکی خرابیاں۔اب تو کھیل کود نے گویا تعلیم کو پیچھے ....بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔آج کھلاڑی کڑوڑوں میں نیلام ہو رہے ہیں اور ایک وہ ہیں کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی دو دو سو کی ٹیوشن پڑھاتے پھر رہے ہیں۔پتہ نہیں کھوٹ کس میں تھا....ان کی تعلیم میں یا ان کی قسمت میں ؟اب تو ایسے لوگ بھی سرکاری ٹیچر بن رہے ہیں جنہیں اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا۔ کامیابی کی اس ریس میں وہ کہاں پچھڑے انہیں یاد نہیں۔ البتہ انہیں اپنا جھونپڑی نما مکان یاد تھا۔کھونٹی سے لالٹین لٹک رہی ہے۔امّاں بھیگی لکڑیاں پھونک رہی ہیں۔آنکھوں میں دھواں بھر رہا ہے اور آنکھوں کا پانی بہہ بہہ کر گالوں کو تر کر رہا ہے۔ابّا مسجد گئے ہیں....اذان دینے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آو ¿ نماز کی طرف آو ¿۔آو ¿ نماز کی طرف آو ¿۔آو ¿ سلامتی کی طرف آو ¿۔آو ¿ سلامتی کی طرف آو ¿۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور سب سے بڑے اللہ میاں کی جانب پکارنے والے کی تنخواہ بہت ہی چھوٹی تھی.... اتنی چھوٹی کہ وہ اس سے اپنے تین نفوس والے مختصر سے کنبے کی پرورش بھی ٹھیک طور پر نہیں کر پا رہے تھے۔ انہیں یاد آیا۔انہیں بھوک لگ رہی تھی۔سات برس کے بچے کی قوت برداشت یوں بھی کم ہوتی ہے۔مگر جب تک ابّا نہیں آ جائیں گے امّاں کھانا نہیں دیں گی۔ابّا کہتے ہیں بیٹا صبر کرو۔صبر بڑی چیز ہے۔اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور انہوں نے صبر کی تعلیم کو گانٹھ میں باندھ کر رکھ لیا تھا۔تبھی توجب ایک دن ابّااذان دیتے دیتے کھانسنے لگے تھے اور کھانستے کھانستے گر گئے تھے اور لوگ انہیں چارپائی پر لاد کر گھر لائے تھے تو انہوں نے اس وقت بھی صبر کیا تھا اور جب اسی طرح کھانستے کھانستے ایک دن ابّا گذر گئے تھے تب بھی انہوں نے صبر ہی کیا۔امّاں دوسروں کے گھروں کے برتن دھونے لگیں اور وہ حسب معمول اسکول جانے لگے۔امّاں کی شکل میں ابّا اپنا سایہ چھوڑ گئے تھے۔ ”بیٹا کبھی چوری مت کرنا۔کبھی جھوٹ مت بولنا۔کبھی کسی کے آگے ہاتھ مت پھیلانا۔“امّاں دن رات نصیحتیں کیا کرتیں۔امّاں برتن دھوتی رہیں اور وہ پڑھتے رہے۔ اور جب انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو امّاں نے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔اب وہ بالکل تنہا تھے....تنہااور تہی دست اور اگر ان کے پاس کچھ تھا مرحوم والدین کی دعائیں جو قبولیت کے انتظار میں نہ جانے کب سے آسمانوں میں رکی پڑی تھیں۔انہوں صبر کیا ،شکر کیا،ماں باپ کی نصیحتوں کو یاد رکھااور ٹیوشن کر کے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ اب وہی کام آرہا تھا۔سوچا تھا کہ گریجوایشن کرنے کے بعد کوئی نوکری مل جائے گی توگھر گھر جا کر ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا مگر شاید وقت ان کے حق میں نہیں تھا۔ اور وقت ہی خدا ہے۔ آخر یہ وقت ہی تو سب کچھ ہے۔یہی ہنساتا ہے،یہی رلاتا ہے۔کامیابی ،ناکامی سب اسی کے اختیار میں ہے۔ ہر کسی کو اس کا انتظار رہتا ہے مگر یہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔اور پھر نوکری کے انتظار میں ان کی عمر آگے بڑھتی گئی کیونکہ عمر بھی کسی کا انتظار نہیں کرتی اور اب ان کی عمر پچاس سے تجاوز کر چکی تھی۔ انہوں نے اپنی عمر کا کبھی حساب نہیں رکھا۔البتہ وقت نے ان کے چہرے پر اپنی مہر لگا دی تھی۔بال کھچڑی ہو چکے تھے۔آنکھوں پر موٹے فریم کی عینک چڑھ آئی تھی۔ہاتھوں کی پشت کی نسیں کیچوو ¿ں کی مانند نظر آتی تھیں اور سائکل چلاتے چلاتے گھٹنوں میں درد رہنے لگا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے نحیف و نزار جسم کے اندر اور کون کون سی بیماریاں پل رہی تھیں اس کا اندازہ انہیں نہیں تھا۔ہاں اپنے بچوں کی بڑھتی عمر کا انہیں خوب اندازہ تھا۔ بڑی بیٹی رابعہ بیس سال کی ہو چکی تھی۔چھوٹی بیٹی جویریہ پندرہ سال کی تھی اور بیٹا شمیم سات سال کا۔بالکل ندیم کا ہم عمر۔مگر کس قدر فرق ہے دونوں میں....ایک عمدہ کپڑوں میں ملبوس، زندگی سے بھرپور ،بھرے بھرے سرخ و سپید گال ،ہیرے کی کنی سی چمکتی چنچل اور شوخ آنکھیں۔دوسرا بوسیدہ کپڑوں میں لپٹا ،پچکے ہوئے گال ،بجھی بجھی آنکھیں۔کبھی کبھی انہیں لگتا جیسے پیسہ ہی سب کچھ ہے۔پیسہ زندگی کی حرارت ہے،پیسہ دلوں کی روشنی ہے۔اور پیسہ ہے تو ہر خوشی ہے۔مگر جب کسی مالدار آدمی کا جنازہ دیکھتے تو خیال آتا کہ سب کچھ مٹی ہے۔انہیں ےاد آیا ....ان کا بیٹا کئی مہینوں سے ویڈیو گیم کی فرمائش کر رہا تھا۔اس نے شاید اپنے کسی دوست کے پاس دیکھا تھا۔لیکن یہ کھلونا تو بہت مہنگا تھا.... !انہوں نے سمجھا بجھا کر اسے چپ کرا دیا تھا مگر خود کو نہیں سمجھا پائے تھے وہ۔وہ اپنے بچے کی ایک چھوٹی سی خواہش پوری کرنے سے قاصر تھے۔کوئی دوسرا باپ ہوتا تو غصے میں پیٹ دیتا۔مگر ماسٹر صاحب ٹھہرے سدا کے نرم مزاج....انہوں نے کبھی کسی بچے کو ڈانٹاتک نہیں۔ کبھی اونچی آواز میں کسی سے کوئی بات نہیں کی۔اور ویسے بھی کسی سے بات کرنے کی ان کے پاس فرصت ہی کہاں تھی۔صبح ہوتی اور وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی سائکل لے کر نکل کھڑے ہوتے۔رات کو تھکے ماندے آتے اور سوچتے کہ چلو زندگی ایک اور دن تمام ہوا۔ ندیم نے اپنا سبق شروع کر دیا تھا۔اسی دوران اندر سے خادمہ ہاتھوں میں ٹرے لیے ہوئے آئی۔چینی کی پلیٹ میں چند میٹھے اور نمکین بسکٹ تھے اور ایک کپ چائے....اور ٹرے کے ایک کونے میں سفید رنگ کا لفافہ رکھا تھا۔ ماسٹرصاحب نے لفافہ ا ±ٹھا کر خاموشی کے ساتھ اپنی جیب میں رکھا اور چائے میں بسکٹ بھگو بھگو کر کھانے لگے۔ پڑھائی ختم ہوئی تو وہ ا ± ٹھے۔بر آمدے سے اپنی سائکل ا ±ٹھائی اور سڑک پر نکل پڑے۔ شام ہو چلی تھی۔پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ فضائے بسیط میں محو پرواز تھے اور ان سب کے رخ اپنے اپنے آشیانوں کی جانب تھے مگر انہیں ابھی دو جگہوں پر اور جانا تھا۔پھر کل کے لیے سبزیاں خریدنی تھیں اور کوئی نو بجے تک گھر پہنچنا تھا۔انہوں نے وقت مقررہ پر دونوں جگہوں پر اپنی ڈیوٹی نبھائی اور پھر مارکیٹ کی جانب ہو لیے۔سبزیاں خرید چکنے کے بعد جب انہوں نے جیب سے لفافہ نکالا تو وہ بیک وقت حیرت اور مسرت دونوں سے دو چار ہوئے۔ لفافے میںاضافی رقم تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ندیم کے پاپا نے ان کی درخواست منظور کر لی۔ذرا سی دیر کے لیے انہیں اپنے جسم میں خون کی روانی تیز ہوتی ہوئی معلوم ہوئی۔ پھر انہوں نے خود کو سنبھالا اور سبزیاں تھیلے میں ڈال کر گھر کی جانب مڑے۔بازار ابھی بند نہیں ہوا تھا۔ چہار سو روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔کھلونوں کی دکان پر پہنچے تو ان کے قدم خود بخود رک گئے۔ ”کیوں نہ شمیم کے لیے ویڈیو گیم خرید لیا جائے۔کتنا خوش ہوگا وہ۔اس کے پچکے ہوئے گال فرط مسرت سے سرخ ہو جائیں گے اور اس کی آنکھیں بلور کی مانند چمکنے لگیں گی اور جب وہ اس کھلونے کو اپنے دوستوں کو دکھائے گا تو اس کے لہجے سے کیسا فخر و انبساط پھوٹے گا۔“مگر پھٹی ہوئی مختصر سی چادر نے ان کے ارادے کو متزلزل کر دیا۔ ”نہیں! ایک بےکار سے کھلونے کے لیے اتنے روپے.... نہیں نہیں.... یہ تو اصراف بے جا ہے۔گھر کی کتنی ضرورتیں منہ کھولے کھڑی ہیں۔ انہوں نے سائکل آگے بڑھادی۔لیکن پھر فوراً ہی بیٹے کا معصوم چہرہ نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ ” کیا ہوا اگرکچھ روپے بیٹے کی خوشی کے لیے خرچ کر دیے۔ لوگ تو اولاد کے لیے نہ جانے کیا کیا کرتے ہیں۔ اور پھر یہ تو اضافی آمدنی تھی۔بالکل غیر متوقع۔اگلے ماہ سے دوسری ضرورتوں پر دھیان دیا جائے گا۔ انہوں نے سائکل فٹ پاتھ کے کنارے لگا دی اور دکان میں داخل ہونے کے لیے قدم بڑھائے۔ پھر اچانک انہیں یاد آیا۔رابعہ کی اوڑھنی پھٹ گئی ہے۔ایک دو بار ان کی بیوی نے دبی زبان سے کہا بھی تھا۔نہیں رابعہ کی اوڑھنی زیادہ ضروری ہے۔اور وہ دکان کے دروازے سے لوٹ پڑے۔ رات کو بستر پر جانے سے قبل انہوں نے اپنی بیوی سے کہا۔ ”ندیم کے یہاں تو تنخواہ بڑھ گئی ہے۔اللہ نے رابعہ کی اوڑھنی کا انتظام کر دیا ہے۔ یہ لو روپے۔“ بیوی نے کوئی جواب نہ دیا۔لیکن کمرے میں پھیلی گہری تاریکی کے باوجود انہیں لگا جیسے اس کا مرجھایا ہوا چہرہ ایک پل کو چمک ا ±ٹھا ہو۔ دوسرے روز حسب معمو ل شام چار بجے وہ ندیم کے گھر پہنچے۔دروازہ خادمہ نے کھولا اور انہیں عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے اندر چلی گئی۔ماسٹر صاحب نے اس کی نظروں کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔وہ صوفے پر بیٹھ گئے اور آواز لگائی۔ ”ندیم!“ اندر سے ایک دھیمی آواز آئی۔ ”ماسٹر صاحب سے پوچھنا....سمجھے؟“ ”ہوں!“اور پھر ہاتھوں میں کتابیں اور کاپیاں تھامے ندیم ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔آج وہ کچھ خاموش خاموش سا دکھائی دے رہا تھا۔ماسٹر صاحب نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”کیا بات ہے؟“ ”کچھ نہیں۔“ندیم کے لہجے میں ہچکچاہٹ تھی۔ماسٹر صاحب کو شبہہ ہوا۔کوئی بات ہے ضرور۔ انہوں نے دوبارہ زور دیتے ہوئے پوچھا۔ ”کوئی خاص بات ہے کیا؟“ ”نہیں....!“ندیم کی زبان لڑکھڑاگئی۔اچانک ڈرائنگ روم کے پردے میں جنبش ہوئی۔ ”شرما کیوں رہے ہو ؟پوچھتے کیوں نہیں؟“ندیم نے اپنے دونوں ہونٹ سختی سے بند کر لیے۔ماسٹر صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔کبھی وہ ندیم کی جانب دیکھتے اور کبھی دروازے کی طرف۔اسی دوران ڈرائنگ روم کا پردہ ہٹا کر خادمہ اندر داخل ہوئی اور اس نے بغیر کسی تمہید کے کہنا شروع کیا۔ ”ماسٹر صاحب! میم صاحب پوچھ رہی ہیں کہ کل آپ کو جو لفافہ دیا گیا تھا اس میں کچھ روپئے زیادہ تھے کیا ؟“ ماسٹر صاحب ایک لمحے کو سٹپٹا سے گئے۔پہلے تو ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دیں۔پھر وہ خود ہی پوچھ بیٹھے۔ ”مطلب؟“ ”مطلب ای ماسٹر صاحب کہ کل جو میم صاحب نے ندیم بابو کی فیس لفافے میں دال کر بھیجی تھی اس میں غلطی سے زیادہ پیسے چلے گئے تھے۔“ ”غلطی....؟ ماسٹر صاحب سکتے میں آ گئے۔اور انہوں نے سمجھا کہ....ان کی نگاہوں میں رابعہ کی اوڑھنی گھوم گئی۔نئی اوڑھنی میں رابعہ کتنی پیاری لگے گی۔کہہ دو میاں کہ نہیں جی نہیں!بساتنے ہی روپے تھے لفافے میں جتنے ہر ماہ ملتے ہیں.... کیا ثبوت ہے؟ایں۔‘ ‘ مگر اچانک نہ جانے کہاں سے ابّا سامنے آ کھڑے ہوئے اور ان کے پیچھے پیچھے امّاں۔ان کی زبان سے دھیرے سے نکلا۔ ” ہاں تھے تو.... مگر میں سمجھا کہ“اور ان کی زبان سے ادا ہونے والا جملہ یوں درمیان سے ٹوٹ گےا جیسے کسی کی امید ٹوٹ جاتی ہے۔خادمہ کہہ رہی تھی۔ ”میم صاحب وہ پیسے واپس مانگ رہی ہیں۔“٭٭٭_____________استادِ محترم صالح ابنِ تابش صاحب کی رحلت جو ادبی حلقے کے لئے صدمۂ عظیم ہے اس سانحے پر اللہ پاک سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے خراجِ محبت میں چند الفاظ ماتم بپا ہے چار سو گوہر چلا گیاسیراب کر کے آج سمندر چلا گیامہر و وفا سے جیتی ہوئی سلطنت کو آج دے کر ہمارے ہاتھ سکندر چلا گیامحسوس تک کسی کو بھی ہونے نہیں دیاتشنہ لبوں کی پیاس بجھا کر چلا گیاچولھے کی مثل جلتا تھا گھر میں غریب کےپر آج کیا ہوا کہ تونگر چلا گیاراہیں اداس بیٹھی ہیں منزل اداس ہےاب کیا کریں سفیر کہ رہبر چلا گیاماہ و نجوم تکتے ہیں حیرت سے اب اسے خورشید جیسے ابر کے اندر چلا گیاسب کچھ لٹا کے رقص جو کرتا رہا اسدوہ ہنستا مسکراتا قلندر چلا گیاعبدالدیان اسد مالیگاؤں 8793606465___________🌺🌺(نظم) " یہ مالیگاؤں ہے " علیم طاہر مری جان ہے مری شان ہے مرا رنگ ہے پہچان ہے مرا دل بھی ہے منزل بھی ہے اسے جاننا مشکل بھی ہے یہ سچ بھی ہے بے داغ ہے ہنستا ہوا یہ باغ ہے اسے دھوپ سے نہیں جوڑنا یہ پیار کی ایک چھاؤں ہے یہ مالیگاؤں ہے یونہی نہیں شہرت بھی ہے عزت بھی ہے محنت بھی ہے مدت سے یہ مشہور ہے تعلیم سے مسرور ہے پھولوں سے ہیں بچے یہاں سب دل کے ہیں سچے یہاں برسوں سے یہ آباد ہے کھا پی کے سب ازاد ہے اسے تو کبھی نہ چھوڑنا یہ پیار کی ایک چھاؤں ہے یہ مالیگاؤں ہے انساں ہیں ہم انساں ہو تم مہماں ہیں ہم مہماں ہو تم یہ سانس بھی ٹوٹے یہاں ہاتھوں سے سب چھوٹے یہاں بدنام نہ کیجیے اسے الزام نہ دیجیے اسے لگتا ہے یہ اب تو ہمیں برباد نہ کر دے تمہیں دل پیار کے یہ توڑنا یہ پیار کی ایک چھاؤں ہے یہ مالیگاؤں ہے (C):Aleem TahirMobile no.9623327923Email: aleemtahir12@gmail.com.

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...