Tuesday, 14 October 2025

*'بہارِ اُردو' جشن، بجٹ اور مستقبل کا لائحہ عمل**وسیم رضا خان* ⏺️⏺️⏺️ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی نے اپنی گولڈن جوبلی کے موقع پر 6 سے 8 اکتوبر تک ممبئی کے ورلی میں واقع ڈوم ایس وی پی اسٹیڈیم میں تین روزہ شاندار ثقافتی میلہ 'بہارِ اُردو' کا اہتمام کیا تھا۔ اس محفل میں اردو ادب، فن اور ثقافت کا ایک بھرپور امتزاج دیکھنے کو ملا، جس میں سیمینار، پینل ڈسکشن، مشاعرہ، قوالی اور غزل کی پیشکش شامل تھیں۔ یہ انتظامیہ کے مطابق بڑی شاندار تقریب رہی جس کو لے کر اردو والوں کے بیچ سے کئی تنقیدیں اور سوالات اٹھے ہیں۔ یہ تنقیدیں بنیادی طور پر تقریب کے فارمیٹ، توجہ کے مرکز اور خرچ سے متعلق ہیں، نہ کہ اردو کی ترویج کے خلاف۔ بعض اردو اسکالرز اور ادیبوں نے تبصرہ کیا کہ اس فیسٹیول کا زیادہ تر فوکس بالی ووڈ کی شخصیات، گلوکاروں اور فنکاروں (جیسے انوپ جلوٹا، شیکھر سمن) اور تفریحی پرفارمنسز (جیسے فیشن شو) پر تھا۔ ناقدین کے خیال میں یہ تقریب ایک "میلے" یا "شو" کی طرح زیادہ لگ رہی تھی، جبکہ اسے خالص اردو ادب، سنجیدہ علمی مباحث اور نئے/کم معروف ادیبوں کی حوصلہ افزائی پر زیادہ مرکوز ہونا چاہیے تھا۔ ایک اہم اعتراض یہ بھی ہے کہ پروگرام کی مکمل ذمہ داری ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کو سونپنے کے بعد اکیڈمی کے ذمہ داران نے گویا اپنی ذمہ داری سے دامن جھاڑ لیا۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اکیڈمی کو حکومت کی طرف سے ملنے والی گرانٹ (امداد) کا صحیح اور مناسب جگہ پر خرچ یقینی بنانے کے لیے، پہلے کی طرح بیرونی ارکان کی ایک کمیٹی دوبارہ بنائی جانی چاہیے تاکہ اردو ادیبوں کو زیادہ نہیں تو کم از کم کچھ فائدہ ضرور پہنچے۔ اگرچہ علمی سیمینار منعقد ہوئے، لیکن بعض لوگوں کا احساس تھا کہ انہیں کافی اہمیت نہیں دی گئی۔ اردو زبان اور ادب کے تحفظ اور ترقی کے لیے زمینی سطح پر کیا کیا جانا چاہیے، اس پر خاطر خواہ زور نہیں تھا۔ تنقید کی گئی کہ اکیڈمی کو اپنی گولڈن جوبلی کی تقریبات کو مہاراشٹر کے دیگر اضلاع (جیسے اورنگ آباد، ناگپور، پونے اور مالیگاؤں) میں بھی وسعت دینی چاہیے تھی، جہاں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ایک ہی شہر پر توجہ مرکوز کرنے سے ریاست کے دیگر علاقوں کے اردو والے محروم رہ گئے۔ کچھ اردو دوستوں نے ایک عالیشان فیسٹیول پر بڑے سرکاری بجٹ کے خرچ پر سوال اٹھایا۔ ان کا ماننا تھا کہ یہی رقم اردو اسکولوں کی مرمت، اساتذہ کی بھرتی، لائبریریوں کو گرانٹ یا نوجوان مصنفین کی کتابوں کی اشاعت جیسی زیادہ پائیدار اور بنیادی ضروریات پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ انعامات کی تقسیم کی ستائش کی گئی، لیکن بعض حلقوں میں انعام کے انتخاب کے عمل میں شفافیت اور کچھ مخصوص ایوارڈ یافتگان کی اہلیت کو لے کر بھی سرگوشیاں تھیں۔ یہ تبصرہ کیا گیا کہ قومی سطح کی جانی پہچانی ہستیوں کو نمایاں کیا گیا، لیکن مہاراشٹر کے گمنام اور جدوجہد کرنے والے مقامی اردو ادیبوں کو اسٹیج پر خاطر خواہ جگہ نہیں ملی، حالانکہ یہ تقریب 'مہاراشٹر اسٹیٹ' اکیڈمی نے منعقد کی تھی۔اس اندرونی تنقید کے نتائج کو لے کر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ جب اردو والےخود اپنے سب سے بڑے سرکاری پروگرام پر تنقید کرتے ہیں، تو غیر-اردو عوام اور سرکاری محکموں میں یہ تاثر بن سکتا ہے کہ اردو زبان والوں کو مطمئن کرنا ناممکن ہے، یا وہ ہمیشہ شکایت کی حالت میں رہتے ہیں۔ اس سے وہ طبقہ جو اردو کو فروغ دینے کے لیے وسائل لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ تفریح ​​پر توجہ مرکوز کرنے کی تنقید عوامی سطح پر اس تصور کی تصدیق کر سکتی ہے کہ اردو صرف شاعری اور تفریح کی زبان ہے، نہ کہ علم اور سنجیدہ ادب کی۔ عوامی سطح پر تنقیدیں کرنے سے مستقبل میں بڑے بجٹ کی منظوری دینے والے سرکاری اہلکار ہچکچا سکتے ہیں، اور وہ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ جب کمیونٹی ہی کوششوں کی تعریف نہیں کرتی تو ٹیکس دہندگان کا پیسہ کیوں خرچ کیا جائے۔ یہ اندرونی اختلافات کو اجاگر کرتا ہے اور کمیونٹی کی یکجہتی کو کمزور دکھاتا ہے، جس سے اردو کے اجتماعی مقاصد متاثر ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اردو کمیونٹی کی تنقید بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز تھی کہ فیسٹیول کا فارمیٹ ادب سے ہٹ کر تفریح ​​کی طرف جھک گیا تھا، اور بڑے خرچ کو زیادہ پائیدار اور بنیادی سطح کے کام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔سب سے اہم قدم یہ ہے کہ اردو کمیونٹی میں موجود بہترین ذہنوں، جن کا مقصد صرف زبان کی خدمت ہو، انہیں ایک جگہ لایا جائے تاکہ وہ مل کر کام کر سکیں۔اَکادَمی کی باگ ڈور سنبھالنے یا مشاورت کے لیے ایک ایسی ٹیم درکار ہے جو توازن کے ساتھ کام کرے जैसे علمی و تعلیمی ماہر,مالیاتی و انتظامی ماہر, جدید میڈیا/پبلشنگ, ایکسپرٹ, مقامی ادب کا نمائندہ. یہ ٹیم تشکیل پانے کے بعد، اسے وزیر (اقلیتی امور کے وزیر) سے ملاقات کرکے ان نکات پر بات کرنی چاہیے: اَکادَمی میں بیرونی ارکان (External Committee) کی ایک فعال کمیٹی یا بورڈ کی فوری بحالی کی درخواست کرنا، جس کے ممبران صرف اور صرف میرٹ پر منتخب کیے جائیں۔ وزیر کو یہ سمجھانا کہ بڑا بجٹ صرف ایک شو پر خرچ کرنے کے بجائے، اسے پائیدار منصوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ یہ تجویز دینا کہ آئندہ کے بڑے ایونٹس کے لیے اَکادَمی کو ایونٹ مینجمنٹ کمپنی پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے، علمی اور ادبی پہلوؤں کا کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ نئی ٹیم کی توجہ ایک وقتی جشن کے بجائے ان شعبوں پر ہونی چاہیے جو اردو کو طویل عرصے تک فائدہ پہنچائیں.__________عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)افسانہ نمبر 705 : برگد تلےتحریر : آر کے نارائن (بھارت)اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان) سُومل گاؤں ، جو میمپی کے جنگلوں میں کہیں دبک کر چھپا ہوا تھا، اس کی آبادی تین سو سے بھی کم تھی۔ یہ ہر اعتبار سے ایسا گاؤں تھا جسے دیکھ کر کسی دیہی اصلاح کار کا دل بیٹھ جائے۔ اس کا تالاب، جو گاؤں کے عین وسط میں ایک چھوٹی سی آبی سطح تھی، پینے، نہانے اور مویشی نہلانے کے کام آتی تھی اور اسی کے ساتھ ملیریا، ٹائیفائیڈ اور نہ جانے کون کون سی بلائیں بھی پالتا تھا۔ کچی جھونپڑیاں بےترتیبی سے پھیلی ہوئی تھیں اور گلیاں بچھو کی طرح بل کھاتی ہوئی ایک دوسرے کو دبوچتی جاتی تھیں۔ گاؤں والے مرکزی سڑک کو کوڑے کا ڈھیر بنائے ہوئے تھے اور ہر مکان کے پچھواڑے میں گندا پانی سبز جوہڑوں کی صورت میں سڑتا رہتا تھا۔ ایسا ہی تھا یہ گاؤں۔ بظاہر یہ لوگ بےحس تھے؛ مگر شاید اس سے زیادہ یہ بات درست تھی کہ انہوں نے کبھی اپنے گرد و پیش پر غور ہی نہ کیا تھا، اس لیے کہ وہ ایک دائمی طلسم کے حصار میں جی رہے تھے۔ یہ طلسم گر نامبی قصہ گو تھا۔ نامبی کی عمر ساٹھ یا ستر برس کی تھی یا پھر اسی، یا ایک سو اسی؟ کون کہہ سکتا تھا؟ ایسے کٹے پھٹے مقام پر، جہاں قریب ترین بس اسٹاپ بھی دس میل دور ہو، وقت کی گنتی معمول کے پیمانوں سے بھلا کہاں کی جاتی؟ جب کوئی نامبی سے اس کی عمر پوچھ بیٹھتا تو وہ کسی پرانی قحط سالی، یا کسی یلغار یا کسی پل کی تعمیر کا حوالہ دے کر بتاتا کہ اُس وقت وہ زمین سے کتنے بالشت اونچا ہوا کرتا تھا۔ وہ ناخواندہ تھا، اس معنی میں کہ لکھا ہوا لفظ اس کے لیے ایک معما تھا؛ لیکن کہانی گھڑنے کا ملکہ اسے ایسا عطا تھا کہ مہینے میں ایک نئی داستان اس کے ذہن میں جنم لے لیتی، اور ہر کہانی کو سنانے میں اسے دس دن لگ جاتے۔ نامبی کا مسکن وہ ننھا سا مندر تھا جو گاؤں کےآخری سرے پر واقع تھا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ اس نے مندر کو کب اور کیوں اپنا گھر بنا لیا۔ مندر سرخ دھاری دار دیواروں کے ساتھ، ایک چھوٹا سا تعمیراتی ڈھانچہ تھا، اور اندر دیوی شکتی کا پتھر کا پُتلا نصب تھا۔ مندر کا اگلا حصہ نامبی کا آشیانہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جگہ کو بھی وہ اپنا گھر کہہ سکتا تھا، اس لیے کہ اس کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔ اس کا کل اثاثہ ایک جھاڑو تھی، جس سے وہ مندر کو صاف کرتا، اور دو دھوتیاں اور ایک اوپری پوشاک۔ دن کا زیادہ حصہ وہ مندر کے سامنے پھیلے برگد کے سائے تلے بسر کرتا۔ بھوک لگتی تو جس گھر کا جی چاہتا، وہاں جا بیٹھتا اور کھانے میں شریک ہو جاتا۔ نئے کپڑوں کی ضرورت ہوتی تو دیہاتی خود بخود لا دیتے۔ نامبی کو شاذ ہی کسی کو ڈھونڈنے جانا پڑتا، کیونکہ برگد کا سایہ خود ہی گاؤں کے لوگوں کی بیٹھک بنا ہوا تھا۔ دن بھر لوگ اس کی رفاقت کے طلبگار ہو کر وہاں جمع رہتے۔ اگر نامبی کے من میں آتا تو ان کی باتیں سنتا اور اپنے واقعات اور حکایات سے انہیں محظوظ کرتا۔ ورنہ تیوری چڑھا کر کہہ دیتا: "کیا سمجھتے ہو مجھے؟ خبردار، اگلے پونم کو کہانی نہ ملی تو مجھ پر الزام نہ دینا۔ جب تک میں دھیان میں نہ بیٹھوں دیوی کہانی کیسے بخشیں گی؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ کہانیاں ہوا میں اڑتی پھرتی ہیں؟ "یہ کہہ کر وہ جنگل کے کنارے جا بیٹھتا اور درختوں کو تکنے لگتا۔ جمعہ کی شاموں میں گاؤں والے مندر میں پوجا کے لیے جمع ہوتے۔ نامبی بیسیوں چراغ جلا کر دیوی کےآستانے پر رکھ دیتا۔ مندر کے پچھواڑے میں اُگی ہوئی جنگلی کلیوں سے وہ دیوی کو سجاتا۔ وہی پجاری بن کر دیہاتیوں کے لائے ہوئےپھل پھول دیوی کے حضور چڑھاتا۔ جن راتوں کو کہانی سنانی ہوتی، نامبی برگد کے تنے میں بنی ایک دراڑ میں چراغ رکھ دیتا۔ شام ڈھلے جب لوگ گھر لوٹتے تو یہ چراغ دیکھ کر بیویوں سے کہتے: "جلدی کرو، کھانا لگاؤ، قصہ گو ہمیں بلا رہا ہے۔" جوں جوں چاند ٹیلے کے پیچھے سے جھانکتا، مرد، عورتیں اور بچے برگد کے نیچے جمع ہو جاتے۔ مگر قصہ گو ابھی نمودار نہ ہوتا۔ وہ دیوی کے آستان میں آنکھیں موندے گہری تپسیا میں بیٹھا رہتا۔ جتنی دیر چاہتا یوں ہی رہتا، پھر جب باہر آتا تو اس کی پیشانی راکھ اور سیندور سے دہک رہی ہوتی۔ وہ مندر کے سامنے پتھر کے چبوترے پر بیٹھتا اور یوں آغاز کرتا: انگشت کسی دور دراز سمت میں اٹھا کر پوچھتا:"ہزار برس پہلے، اس جانب ذرا سے فاصلے پر کیا تھا؟ یہ ہرگز وہ گھاس کا میدان نہ تھا جہاں اب گدھے لوٹتے ہیں۔ یہ ہرگز وہ کوڑا کرکٹ کا ڈھیر نہ تھا۔ یہ ایک راجدھانی تھی، کسی راجہ کی…"راجہ کبھی دشرَتھ ہوتا، کبھی وکرما دتیہ، کبھی اشوک یا کوئی اور جو اس کے ذہن میں آ جائے۔ دارالحکومت کا نام کبھی کپلا، کبھی کریڈا پورہ، یا کوئی اور۔ یوں آغاز کے بعد وہ بنا رُکے تین تین گھنٹے بولتا رہتا۔ ایک ایک اینٹ جوڑ کر محل تعمیر ہوتا۔ دربار کے کمرے میں وہ سو راجے، وزیر اور رعایا کو بٹھا دیتا۔ کسی اور حصے میں دنیا بھر کے گویّے جمع ہو جاتے اور گاتے اور ان کے زیادہ تر گیت نامبی خود بھی اپنی محفل کو سنا دیتا۔ وہ محل کی دیواروں پر لٹکی تصویروں اور فتوحات کی تفصیل بیان کرتا۔ یہ کہانی گوئی گویا رزمیہ کی سی شان رکھتی تھی۔ پہلے دن تو محض داستان کا پس منظر طے ہوتا اور سامعین کو ذرا اندازہ نہ ہوتا کہ اب کون کون آ رہا ہے۔ جب چاند میمپی کے درختوں کے پیچھے کھسکنے لگتا تو نامبی کہتا: "بس دوستو، ماں کہتی ہیں کہ آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔"اور اس سے پہلے کہ ہجوم کی سرگوشیاں تھمتیں وہ یکایک اُٹھ کر اندر جا سوتا ۔ دو تین دن بعد پھر چراغ جلتا، پھر مجمع لگتا۔ یوں مہینے کی روشن راتوں میں بار بار محفل جمتی۔ بادشاہ اور سورما، دُشمن اور پری زاد عورتیں، انسانی روپ میں دیوتا، سنت اور قاتل سب ایک دوسرے سے ٹکرا کر اس دیومالائی دنیا میں آ بستے۔ نامبی کی آواز میں ایسا اتار چڑھاؤ اور نغمگی تھی کہ سامعین سحر زدہ ہو جاتے۔ چاندنی اور گھڑی نے جادو مکمل کر دیا۔ گاؤں والے نامبی کے ساتھ ہنستے، اس کے ساتھ روتے، ہیرو کی پرستش کرتے، بدکار کو کوستے، سازشی کی پہلی جیت پر کراہتے اور خوش گوار انجام کے لیے دیوتاؤں کے حضور دل سے دعا مانگتے۔ جس دن کہانی ختم ہوتی، سارا مجمع مندر کے اندر جا کر دیوی کے قدموں پر سجدہ ریز ہو جاتا…جب اگلا چاند ٹیلے کے اوپر جھانکا تو نامبی ایک اور کہانی کے ساتھ تیار تھا۔ وہ کبھی اپنی کہانی دہراتا نہ تھا، نہ ہی ایک ہی جیسےکرداروں کو دوبارہ لاتا۔ گاؤں والے اُسے ایک معجزہ سمجھتے، اس کے اقوال کو دانائی کےموتی گردانتے اور اپنی کٹھن و بےرنگ زندگی کے باوجود ایک بلند سطح پر جی اٹھتے۔ یہ سب برسوں سے یوں ہی چل رہا تھا۔ ایک رات اس نے برگد میں چراغ جلایا۔ لوگ جمع ہو گئے۔ بوڑھا اپنے پتھر کے چبوترے پر بیٹھا اور یوں آغاز کیا:"جب وکرما دتیہ بادشاہ تھا، اس کا وزیر…"یہاں وہ رُک گیا۔ آگے نہ بڑھ سکا۔ پھر نئے سرے سے بولا: "وہ بادشاہ تھا…"لیکن الفاظ لڑکھڑا گئے اور بےمعنی بڑبڑاہٹ میں ڈھل گئے۔اس نے بے چارگی سے کہا:"یہ کیا ہو گیا ہے مجھے؟ اے ماں! عظیم ماں! میں کیوں لڑکھڑا رہا ہوں؟ کہانی تو مجھے یاد ہے، ابھی ابھی تو پورے کا پورا قصہ میرے ذہن میں تھا۔ یہ کیا ہو گیا ہے، میں کچھ سمجھ نہیں پاتا…"اس کی بےبسی دیکھ کر سامعین بولے:"آپ تھوڑا وقت لیجیے، آپ شاید تھک گئے ہیں۔" "چُپ رہو!" وہ بگڑ کر بولا۔ "کیا میں تھکا ہوں؟ ذرا ٹھہرو، ابھی سناتا ہوں…” سناٹا چھا گیا۔ بےتاب آنکھیں اس پر جمی رہیں۔“مجھ کو مت دیکھو!" وہ جھلّا اٹھا۔ کسی نے دودھ کا پیالہ دیا۔ لوگ صبر سے بیٹھے رہے۔ کچھ نے ہمدردی کے الفاظ کہے، کچھ نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں۔ بیرونی حلقے میں بیٹھے لوگ آہستہ سے کھسک گئے۔ آدھی رات کے قریب دوسرے بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ نامبی سر جھکائے زمین کو تک رہا تھا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وہ بُوڑھا ہو چکا ہے۔ اسے لگا اب وہ اپنے خیالات پر قابو نہ رکھ پائے گا، نہ انہیں صاف صاف بیان کر سکے گا۔ جب اس نے سر اٹھایا تو دیکھا سب جا چکے تھے، سوائے لوہار ماری کے۔"ماری، تم ابھی تک کیوں بیٹھے ہو؟" ماری نے سب کی طرف سے معذرت کی: "وہ لوگ آپ کو تھکانا نہیں چاہتے تھے، اس لیے چلے گئے۔" نامبی اٹھا۔ "ٹھیک کہتے ہو۔ کل انہیں پورا قصہ سناؤں گا۔ بڑھاپا… بڑھاپا! میری عمر کیا ہے؟ یہ تو اچانک ہی آ پہنچا ہے۔" اس نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا: "یہ دماغ کہتا ہے: ‘بوڑھے احمق، اب میں تمہارا خادم نہیں رہوں گا، اب تم میرے غلام ہو گے۔’ یہ نافرمان اور غدار ہو گیا ہے…" اگلے دن پھر اس نے چراغ جلایا۔ لوگ برگد تلے جمع ہوئے۔ نامبی نے سارا دن مراقبہ کیا تھا۔ دیوی سے دعائیں کی تھیں کہ وہ اُسے ترک نہ کرے۔اس نے کہانی شروع کی۔ پورا ایک گھنٹہ رواں بولا۔ اس قدر سکون محسوس کیا کہ بیچ میں بول اٹھا: "اے دوستو! ماں ہمیشہ مہربان ہیں۔ یہ تو ایک بےوقوفی کا خوف تھا…"لیکن تھوڑی ہی دیر میں زبان سوکھ گئی۔ اس نے جتن کیا مگر الفاظ ساتھ نہ دیتے۔ "اور پھر… اور پھر… کیا ہوا؟" وہ ہکلایا۔ پھر طویل خاموشی چھا گئی۔ ایک ایک کر کے سب اُٹھ گئے۔ وہ رات بھر پتھر پر بیٹھا سوچتا رہا حتیّٰ کہ مرغ صبح کی اذان دینے لگا : "میں انہیں الزام نہیں دے سکتا۔ بھلا وہ ساری رات میرے ساتھ کیوں بیٹھے رہتے؟" دو دن بعد اس نے کہانی کا ایک اور حصہ سنایا، لیکن وہ بھی چند منٹوں میں ختم ہو گیا۔ مجمع چھٹنے لگا۔ چراغ دیکھ کر آنے والوں کی تعداد گھٹتی گئی۔ جو آتے بھی تھے، محض فرض سمجھ کر آتے۔ نامبی نے سمجھ لیا کہ یہ جدوجہد بیکار ہے۔ اس نے کہانی کو جلدی اور ادھورا ختم کر دیا۔ دل ہی دل میں کہتا رہا: "کاش میں برسوں پہلے مر گیا ہوتا۔ ماں، آپ نے مجھے کیوں گونگا کر دیا ہے…" اب وہ مندر کے اندر بند ہو بیٹھتا، کھانے پینے کا ہوش نہ رہتا، دن کا بیشتر حصہ مراقبے میں گزرتا۔ اگلے پونم کو پھر چراغ روشن کیا۔ لوگ دیکھتے ضرور مگر بمشکل چند ہی حاضرہوئے۔"باقی کہاں ہیں؟" اس نے پوچھا۔ "چلو انتظار کرتے ہیں…"چاند نکل آیا۔ چھوٹا سا مجمع دھیرج سےبیٹھا رہا۔ پھر نامبی بولا: "میں آج کہانی نہیں سناؤں گا، نہ کل جب تک پورا گاؤں نہ آئے۔ یہ ایک عظیم کہانی ہے، سب کو سننی چاہیے۔"دوسرے دن وہ گلی گلی پھر کر پکارنے لگا: "آج رات ایک نہایت شاندار قصہ سنانے والا ہوں۔ سب آنا، کوئی رہ نہ جائے…"اس شخصی اپیل کا بڑا اثر ہوا۔ رات گئے برگد تلے ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ لوگ خوش تھے کہ قصہ گو کی قوت لوٹ آئی ہے۔ نامبی مندر سے باہر آیا اور بولا: "یہ ماں ہیں جو عطا فرماتی ہیں، اور وہی واپس لے لیتی ہیں۔ نامبی تو محض ایک بڈھا ہے۔ جب ماں کے پاس کہنے کو کچھ ہو تو وہ بولتا ہے، ورنہ خاموش ہو جاتا ہے۔ لیکن جب چنبیلی اپنی خوشبو کھو دے تو اس کا کیا حاصل؟ جب چراغ کا تیل ختم ہو جائے تو وہ کس کام کا؟ شکر ہے دیوی کا… یہ ہیں میرے زمین پر آخری الفاظ۔ اور یہی ہے میری سب سے بڑی کہانی۔ "وہ اٹھا اور اندر حجرے میں چلا گیا۔لوگ اس کی بات کا مطلب نہ سمجھے۔ دیر تک بیٹھے رہے، پھر تھک کر مندر کے اندر گئے۔ قصہ گو آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔"کیا آپ کہانی نہیں سنائیں گے؟" انھوں نے پوچھا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، سر ہلایا، اور اشارے سے بتایا کہ وہ اپنے آخری الفاظ کہہ چکا ہے۔ اب وہ بھوکا ہوتا تو کسی کچّی جھونپڑی میں جا بیٹھتا، خاموشی سے کھانا کھاتا اور فوراً نکل آتا۔ اس سے بڑھ کر اسے کسی سے کچھ درکار نہ رہا۔ اپنی باقی زندگی جو چند برس اور تھی نامبی نے ایک عظیم اور کامل خاموشی میں بسر کی۔ Original Title:Under The Banyan TreeWritten by:Rasipuram Krishnaswami Narayanaswami (10 October 1906 – 13 May 2001), better known as R. K. Narayan, was an Indian writer and novelist known for his work set in the fictional South Indian town of Malgudi. ________🔴🔴غزلسفیر صدیقی کی نذرحیرانی کا ڈھونگ رچاؤ نادانی ہشیاری ہوچہرہ چہرہ وحشت دیکھو طرفہ دنیا داری ہوہر دم تیرے خواب کے بادل سر پر سایہ کرتے ہیںچاہے میری ذات کے اندر جتنی مارا ماری ہوآگے ہمارے دوزانو ہیں رانجھا، مجنوں اور فرہاد عشق نگر میں جیسے ہم نے تنہا رات گزاری ہوخوابوں جیسے درشن اس کے مجھ سے اکثر کہتے ہیں لفظوں میں مت ڈھالو ہم کو گر تم پریم پجاری ہوچاند ستارے شب دریا پر دھیان لگائے بیٹھے ہیں کوئی ایسا عکس ابھارو حیرت میں سرشاری ہوجسم کے اک اک پور سے رستا خون عبیر یہ کہتا ہےاس کو کیا دکھ دوگے جس کی ہر مشکل سے یاری ہوشاہ رخ عبیر_______🔴تیرے دروازے پہ چلمن نہیں دیکھی جاتیجان جاں ہم سے یہ الجھن نہیں دیکھی جاتیرخ پہ یہ زلف کی الجھن نہیں دیکھی جاتیپھول کی گود میں ناگن نہیں دیکھی جاتیبے حجابانہ ملو ہم سے یہ پردہ کیسابند ڈولی میں سہاگن نہیں دیکھی جاتیجام میں ہو تو نظر آئے گلابی جوڑاہم سے بوتل میں یہ دلہن نہیں دیکھی جاتیگھر بنائیں کسی صحرا میں محبت کے لیےشہر والوں سے یہ جوگن نہیں دیکھی جاتیہم نظر باز ہیں دکھلا ہمیں دیوی کا جمالمورتی ہم سے برہمن نہیں دیکھی جاتیاے فناؔ کہہ دے ہوا سے یہ اڑا لے جائےہم سے یہ خاک نشیمن نہیں دیکھی جاتیشاعر : 🔴 فنا بلند شہری

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...