Sunday, 19 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


کراچی کے ملیرمیں افغان پناہ گزینوں پرکریک ڈاؤن، 42 سال سے مقیم 20ہزارافغانیوں کونکالا

افغانستان اورپاکستان تنازع کے بیچ سندھ صوبے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ کراچی کے ملیرعلاقے میں 200 ایکڑ اراضی پر آباد افغان پناہ گزینوں کی بستی کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے احکامات کے بعد سندھ پولیس، محکمہ ریونیو، اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یہ مشترکہ آپریشن کیا اور تقریباً 3000 جھونپڑیوں اور چھوٹے مکانات کومنہدم کر دیا گیا۔ افغان پناہ گزیں یہاں 1983 سے مقیم تھےاور تقریباً 18,000 سے 20,000 افغان یہاں آباد تھے ۔42 سال سے مقیم افغان پناپ گزینوں کواب بے دخل کردیا گیا ہے۔

مقامی حکام نے CNN-News18 کو بتایا کہ سندھ حکومت اب صوبے بھر میں اس طرح کی مزید کارروائیاں کرے گی۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان ہناہ گزینوں کی شناخت کے لیے کراچی سمیت کئی اضلاع میں چھاپے اور شناختی مہم جاری ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کی سرحدپر کشیدگی عروج پر ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانوں کو اپنے ملک واپس جانا چاہیے، پاکستان اب پہلے جیسے تعلقات برقرار نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ پاکستان سرحد پار سے مسلسل حملوں سے پریشان ہے اور پُرانے دور کی دوستی اب ختم ہوچکی ہے

ادھر دوحہ میں افغانستان اورپاکستان فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کےلیے میکانزم بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت کے دوران فریقین نے نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ دوطرفہ امن اور استحکام کے لیے ایک مستقل طریقہ کاروضع کرنےپر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق، سیزفائرکے نفاذ اور اس کے پائیدار تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا۔مزید قطر کی وزارت خارجہ نے یہ اُمید ظاہر کی ہے کہ ، یہ پیش رفت ہمسایہ ملکوں کے بیچ کشیدگی کے خاتمے کا سبب بنےگی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام راہ ہموارہوگی ۔
حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان تشدد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروپوں کو پناہ دے رہی ہے، جو پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں۔اس بیچ ، کابل نے جواب دیا کہ پاکستان اپنی سلامتی کی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر نہیں لگا سکتا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی ’افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی‘ اب محض انتظامی نہیں رہی بلکہ اس کی سیاسی اور سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے بیچ سیزفائر، دونوں ممالک پائیدارامن کے لیے میکانزم بنانے پرمتفق

افغانستان اور پاکستان کے بیچ جنگ بندی پراتفاق ہوگیا ہے۔ اس طرح گزشتہ ایک ہفتے سے جاری تنازع ختم ہوگیا ہے ۔ دونوں ممالک فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کےلیے میکانزم بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔آج حکام نے یہ جانکاری میڈیا کو دی ۔

قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت کے دوران فریقین نے نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ دوطرفہ امن اور استحکام کے لیے ایک مستقل طریقہ کاروضع کرنےپر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق، سیزفائرکے نفاذ اور اس کے پائیدار تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا۔مزید قطر کی وزارت خارجہ نے یہ اُمید ظاہر کی ہے کہ ، یہ پیش رفت ہمسایہ ملکوں کے بیچ کشیدگی کے خاتمے کا سبب بنےگی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام راہ ہموارہوگی ۔
دونوں ملکوں کے نمائندوں کے بیچ دوحہ میں تقریبًا 13 گھنٹوں تک بات چیت ہوئی ۔مذاکرات میں ،پاکستان کی جانب سے وزیردفاع خواجہ آصف اور افغانستان کے وزیردفاع ملا یعقوب شریک ہوئے۔ مذاکرات کی میزبانی قطر نے کی جبکہ ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ مذاکرات میں آئندہ بھی گفت وشنید کے سلسلے کوجاری رکھنے پررضامندی کا اظہار کیا گیا۔امکان ہے کہ 24 اکتوبر کو استنبول میں دونوں ممالک کے وفود تفصیلی بات چیت کےلیے ملاقات کریں گے

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، پاکستان کےوزیردفاع خواجہ آصف نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پوسٹ کیا ہے اور اپنے پیغام میں افغان ہم منصب کےساتھ مصافحہ کرتے تصویر شیئرکی ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ، پاکستان کی سرزمین پرافغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فوری اثرسے بند ہوگا، دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔ خواجہ آصف نے ثالثی پر قطر اور ترکیہ کا شکریہ بھی ادا کیا


طالبان کا موقف
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان قطر میں بات چیت دو طرفہ معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی ۔ ہم قطر اور ترکی جیسے برادر ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جن کی حمایت سے یہ معاہدہ ممکن ہوا۔ معاہدے کے تحت فریقوں نے امن، باہمی احترام اورہمسایہ سے اچھے تعلقات برقرار رکھنے کا عہد کیا ہے۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اختلافات کو مؤثر طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پایا ہے کہ نہ تو ایک دوسرے پر حملہ کرے گا اور نہ ہی پاکستانی حکومت پر حملہ کرنے والے کسی گروپ کی حمایت کرے گی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات 2023 سے کشیدہ ہیں۔ شورش زدہ خیبر پختونخواہ کے ضلع اورکزئی میں ایک حالیہ حملے نے بھی کشیدگی کو بڑھا دیا۔ اس حملے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر سمیت 11 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ دفتر خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا تھاکہ سرحد پر حالیہ کشیدگی کے درمیان افغانستان کے ساتھ اگلے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس کےبعد جمعہ کو جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی۔
جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی نہیں، سی ایم عمر عبداللہ کا بیان

سری نگر۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ جموں کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا ماضی میں دوسروں کی طرف سے کی گئی “غلطیوں” کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عبداللہ نے کہا کہ اگر ریاست کی بحالی کا انحصار جموں و کشمیر میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر ہے تو قومی پارٹی کو ایمانداری کے ساتھ ایسا کہنا چاہئے۔

انہوں نے کہا، ’’اگر عوام کے ساتھ یہی سمجھوتہ کیا جانا ہے تو بی جے پی کو ایماندار ہونا چاہیے، کیونکہ اپنے منشور میں اور پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ سے اپنے وعدوں میں، بی جے پی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ریاست کا درجہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر منحصر ہے

عمر عبداللہ نے کہا، “اگر ایسا ہے تو، میرے خیال میں بی جے پی کو ایماندار ہونا چاہیے اور ہمیں بتانا چاہیے کہ جب تک جموں و کشمیر میں غیر بی جے پی حکومت ہے، آپ کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا۔ پھر ہم فیصلہ کریں گے کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔” عبداللہ نے تاہم صاف کردیا کہ ’’بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک پریس کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی پارٹی جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرے گی، عبداللہ نے کہا، “نہیں۔” انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اب بھی 2015 میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد کے “برے اثرات” کا شکار ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا، “ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ اس نے جموں و کشمیر کو کتنا برباد کردیا ہے۔ 2015 میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان ایک غیر ضروری اتحاد قائم ہوا تھا۔ ہم اب بھی اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ میرا ان غلطیوں کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جو دوسروں نے کی ہیں۔”

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...