Monday, 20 October 2025
بشکریہ شامنامہ 19 اکتوبر 2025 دھوپ میں نکلو۔۔۔ ماحولیات کا توازن بگڑنے کے نتیجے میں دنیا بھر میں موسم کی غیر یقینی صورت حال بن گئی ہے۔ برف کا پگھلنا ، سمندر کی سطح میں اضافہ ، سمندری طوفان، زلزلے ، گرمی کی شدت اور بارش کی زیادتی کے سبب سیلابی کیفیت کا پیدا ہونا جیسے مسائل کے نتیجے میں دور جدید کی تمام مخلوقات ہی نہیں نسل انسانی کے وجود کوبھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ماہر موسمیات کی جانب سے اپڈیٹس دیے جاتے ہیں۔لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ موسم سے متعلق کی گئی پیشن گوئی صد فی صد درست ثابت نہیں ہوتی۔اس مرتبہ بارش کااوسط حد سے تجاوز کر گیا۔ چند برس قبل ایک سال یوں ہوا کہ رحمت باراں کا انتظار طویل ہو گیا۔ چرند پرند ، انسان پانی کی قلت سے پریشان تھے۔ ندی و تالاب سوکھ چکے تھے۔اگست کا پہلا ہفتہ گزرنے کو تھا۔اس دوران ایک تقریب میں شرکت کے دوران ہماری ملاقات ایک دور کے رشتے دار سے ہوئی۔ جناب ایک دیہات میں رہائش رکھتے ہیں۔ بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ذراعت کے پیشے سے جڑے ہیں۔علیک سلیک اور خیر و خیریت دریافت کرنے کے بعد دیگر موضوعات پر بات شروع ہوئی۔ہم نے آسمان کی جانب انہیں متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ،” پچھلے آٹھ روز سورج نظر نہیں آیا ہے۔ آسمان پر بادل چھائے ہیں لیکن جانے کیوں بارش نہیں ہو رہی ہے۔”انہوں نے بڑے پراعتماد لہجے میں وضاحت پیش کی،” جب تک دھوپ نہیں نکلے گی پانی نہیں گرے گا۔( بارش نہیں ہوگی۔)”ان کی یہ بات ہماری سمجھ سے پرے تھی اور ناقابل قبول بھی۔ بارش کے لئے آسمان پر بادلوں کا بننا پہلا عمل ہوتا ہے۔دھوپ نکلنے سے بارش ہو نے کے عمل کا کیا تعلق؟ ایک یا دوروز بعد دوپہر کے وقت سورج نے بادلوں کو شکست دے کر آسمان پر حکمرانی کا دعویٰ کیا۔شام ہونے تک دھوپ کی تپش ہلکی ہو گئی۔تیز ہوائیں چلنی شروع ہوئیں۔ گھنے بادل چھا گئے۔ باران رحمت کاطویل انتظار ختم ہوااور تیز بارش شروع ہو گئی۔بارش کا یہ سلسلہ وقفےوقفے سے کئی دنوں تک جاری رہا۔ایک ایسا شخص جس نے کوئی ڈگری حاصل نہیں کی ہےصرف اپنے تجربے کی بنیاد پر موسم سے متعلق جو سبق سکھایا وہ ہمیں ہمیشہ کے لئے یاد ہو گیا۔ہمارامشاہدہ رہا کہ قدرت کا یہ اصول حقیقت پر مبنی ہے۔دیرپا چھائے رہنے والے بادل برستے نہیں۔سورج کی تپش بادلوں کو بارش کی بوندوں کی شکل دے کر زمین تک پہنچاتی ہے۔اس ہفتے اسکولوں، کالجوں اورنجی اداروں میں یوم ترغیب مطالعہ منایا گیا۔سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے یوم پیدائش پر طلباء و طالبات کو مطالعے کی جانب راغب کرنے کے مقصد سے اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ یہ قابل تحسین عمل ہے۔طلباء کے لئے غیر نصابی کتابوں کا مطالعہ طلباء کے علم میں اضافے کے ساتھ شخصیت سازی کے لئے بھی مفید ہے۔لیکن ساتھ ساتھ عملی زندگی کے تجربات بھی لازم ہیں۔مقابلہ آرائی کے اس دور میں ہم اپنے بچوں کے کاندھوں کو نصابی بوجھ سے لادتے چلے جاتے ہیں ۔اساتذہ اوروالدین اپنے بچوں سے بڑی امیدیں وابستہ کئے رہتے ہیں۔ان امیدوں کی تکمیل کے لئے طلباء کوایک مخصوص طرز زندگی کا پابند بنا دیا جاتا ہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے پڑھائی کو لے کر طلباء پر ان کی صلاحیت سے زیادہ دباؤ بنایا جاتا ہے۔اس مقصد میں کامیابی مل بھی جائے تو اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بڑی ڈگری حاصل کر لینے کے باوجود ان طلباء میں کہیں نا کہیں خود اعتمادی کی کمی پائی جاتی ہے۔یہ ڈگری ہولڈرس بازار سے سودا سلف لانے کی اہلیت سے بھی عاری ہوتے ہیں۔دنیاوی سرگرمیوں سے واقفیت،ناگہانی آفتوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا،مسائل کے حل کی تدبیریں ، سیاسی وسماجی حالات کوسمجھنا اور خاندانی وانفرادی الجھنوں کا سد باب کرنا کسی بھی انسان کی عملی زندگی کالازمی حصہ ہےاوراس کاسبق کتابوں سے نہیں سیکھاجاسکتا۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم بچوں کو کم از کم اس قدر آزادی دیں کہ وہ دنیاوی معاملات سے واقف ہوں اورمستقبل میں آنےوالے حالات کا سامنا خود اعتمادی سے کر سکیں ۔حاصل مضمون یہ کہ ع دھوپ میں نکلوگھٹاؤں میں نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو تحریر:عامری عظمت اقبال 9970666785________2025 سررٸیلسٹک مائیکروف ایونٹ ماٸکروف :11 Sumaira Abid فرارخوف کا اور میرا ساتھ کب سے شروع ہوا ۔۔۔۔ یاد نہیں۔ لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں کے خوف سنپولیوں کی طرح سرسراتے۔ اسی طرح چھوٹی چھوٹی کامیابیاں ، ذرا سی حوصلہ افزائی ، تھوڑی سی تعریف ارد گرد اجالا کر دیتی اور خوف کے حصار میں شگاف پڑنے لگتے۔ وجہ معلوم نہ تھی۔۔۔پھر میں بڑی ہو گئی۔۔۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ الجھنیں اور پریشانیاں بھی بڑی ہو گیئں ۔ نہ میرے پاس حل تھا اور نہ ہی فرار کا رستہ۔ بس ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے۔۔۔ لیکن میں دیکھتی کہاں تھی؟ بس نظریں چرائے کھڑی رہتی۔ کبھی کبھی تو آنکھیں موند لیتی۔۔۔ اسی انتظار میں کہ بِلی کبوتر کو چھوڑ کے جا چکی ہو۔ لیکن بِلی تو مجھ کبوتر جیسی کو دیکھ کے بَلا بن جاتی۔ آنکھیں دکھاتی، پنجے نکالتی اور غراتی۔۔۔۔پھر میں نے فرار کی ایک کھڑکی کھول لی۔۔۔ رنگ برنگی بلاکس پر مشتمل پزل۔۔۔ موبائل کی سکرین پر ایک دوسرے سے الجھتے بلاکس کے لئے راستہ بناتی تو یوں لگتا جیسے اپنی زندگی کی کسی الجھن کا سرا ہاتھ میں آ گیا ہو۔شروع شروع میں تو آسان سے لیول تھے، وقت محدود ہونے کا مسئلہ ہی تھا۔ پھر چیلنجز مشکل ہونے لگے ۔۔۔اس کے بعد میں نے جانا کہ بار بار دستک دینے سے راستے کھل ہی جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ہٹیلے بلاکس راستے میں آتے ۔۔۔ ان کی اپنی ٹیڑھ، ان کے قائمہ زاویے میرے راستے مسدود کر دیتے اور میں گھوم گھوم کے بے حال ہو جاتی۔ لیکن سب سے زیادہ ڈر مجھے ڈائنامائٹ والے بلاک سے لگتا تھا۔۔۔ جسے چند سیکنڈ میں عبور کرنا ہوتا تھا ورنہ وہ بلاسٹ ہو جاتا تھا۔آج بھی ایک سرخ بلاک میری راہ کی دیوار بنا ہوا تھا۔۔۔ موبائل کچھ زیادہ گرم محسوس ہوا تو میں نے اسے آف کر دیا۔۔۔ لیکن وہ سرخ بلاک تو میری انگلی سے چپک ہی گیا۔ ہاتھ کھینچا تو وہ موبائل سکرین سے باہر ابھر آیا ۔ میں نے گھبرا کے موبائل کو دور پھینک دیا۔ اوہ۔۔۔ دیوار سرخ ہو گئی ۔ میں گھبرا گئی اور دروازے کی جانب بھاگی۔۔۔ لیکن دروازہ کہاں تھا؟؟؟ یہ تو سرخ دیوار ہی تھی جو دروازے کی سمت میں آ کھڑی ہوئی تھی۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں شاید میں اس دیوار کے آر پار گذر گئی۔۔۔ یا شاید دیوار میرے پار گذر گئی تھی۔سامنے ایک سبز ستون کی جانب بڑھی تو وہ بائیں سرک گیا۔ میں بھی اندھا دھند ادھر ہی بھاگی۔ اچانک ایک ارغوانی نصف دائرہ مجھ سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکراؤ کی شدت نے مجھے دور جا پٹخا۔نیلی اور زرد دیوار کے درمیان راستہ دکھائی دے رہا تھا۔ میں دبے پاؤں اس جانب بڑھنے لگی۔ لیکن وہ راستہ تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ۔۔۔ موڑ در موڑ در موڑ۔۔۔ میں نہ جانے کہاں آ گئی تھی؟فرش پر میرے پیر چپکنے لگے تھے۔ میں نے چھت کی جانب منہ کر کے ایک لمبا سانس کھنچنے کی کوشش کی۔ لیکن میری سانس وہیں اٹک گئی جب مجھے احساس ہوا کہ میں چھت کو دیکھ ہی نہیں پا رہی۔ نہ جانے وہاں چھت موجود تھی یا نہیں۔ یہ قریب آتی دیواریں، دروازوں کی تلاش، چھت کی عدم موجودگی ۔۔۔ سب مجھے سراسیمہ کر رہے تھے۔ اچانک مجھے ایک شفاف بلاک دکھائی دیا۔۔۔۔ شفاف؟؟؟ بلاک؟؟؟ اس گھٹن میں یہ بلاک کہاں سے آیا؟ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ اگر میں اس کے اندر چلی جاؤں تو شاید اس گھٹن زدہ ماحول سے نکل پاؤں گی۔ میں دیوانوں کی مانند اسے ہر جانب سے تھپتھپانے لگی، لیکن اس میں کوئی رخنہ نہیں تھا ۔ پھر بھی مجھے اس کے قریب رہنے سے تسکین مل رہی تھی کیونکہ وہ میری نگاہ کے سفر کو مہمیز کر رہا تھا۔ تھک ہار کے میں اس سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی۔ مجھے اس ماحول میں اپنی دھڑکنیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ دھک ۔۔۔دھک۔۔۔ دھک۔۔۔۔ ٹک ۔۔۔ٹک۔۔۔ٹک۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ دھڑکنیں تو نہیں تھیں۔۔۔ یہ آواز تو ڈائنامائٹ بلاک کی تھی۔ جو تیس سیکنڈ کے بعد پھٹ جاتا تھا ۔ ۔۔۔اوہ تو میرا دل اب ایسی آواز میں دھڑکنے لگا ہے؟ شاید یہ گھٹن کا اثر تھا۔ کلاسٹرو فوبیا۔۔۔ میں دھڑکنیں شمار کرنے لگی۔۔۔۔ نہ جانے کتنی دھڑکنیں ہو گذری تھیں۔۔۔ کہ ایک دھماکہ ہوا اور میرے چیتھڑے کمرے کی سفید دیواروں پر چپکے تھے۔ ڈوپامین کا سفر تمام ہو گیا تھا۔______:🔴غزل دل میں جینے کی چاہت آتی ہے دیکھ کر تجھکو راحت آتی ہے مجھ سے جب جب نظر ملاتے ہو تجھ پہ تب تب محبت آتی ہے میرے بچوں خیال کرنا مرا بڑی محنت سے دولت آتی ہے نازک آغاذ ہوتا ہے سب کا بعد عرصے کے قدرت آتی ہے وہ دن اس کا نہ پوچھ کیسا ہے کسی کی جس دن اجرت آتی ہے روزہ رکھنے سے جان جاتی ہے جان جانے سے جنت آتی ہے دیکھو عزت کیا کرو سب کی عزت کرنے سے عزت آتی ہے ہم کو مکاریاں پسند نہیں ورنہ ہم کو سیاست آتی ہے سب کا اک بار نام ہوتا ہے سب پہ اک بار طاقت آتی ہے میں بھی بچتا نہیں مصیبت سے آپ پر بھی مصیبت آتی ہےبیٹے والوں کو کوئی فکر نہیں بیٹی والوں کو غیرت آتی ہے اہل - سنت جو کہتے ہو خود کو بولو کیا کوئی سنت آتی ہے کچھ بھی ویسا نہیں کبھی رہتا شے ہر اک شے میں جدت آتی ہے جانے کس مٹی سے بنی ہے وہ پاس جاتے ہی وحشت آتی ہے اب کہیں ایک گھر بنانے میں ایک جیون کی لاگت آتی ہے اتنی کرنے میں بھی نہیں ہوتی جتنی باتوں سے لذت آتی ہے خوشی اک عارضی تسلی ہے کہاں غم سے فراغت آتی ہے پہلے بدنام ہونا پڑتا ہے تب کہیں جا کے شہرت آتی ہے کسی کے جانے کا کسے ہے غم اپنا جائے تو عبرت آتی ہے اس قدر دکھ ہیں سب کے چہروں پر قسمتوں سے مسرت آتی ہے جو بھی ملتا ہے اس پہ شکر کرو شکر کرنے سے برکت آتی ہے سوچ کر لینا دشمنی ہم سے کہ ہمیں بھی عداوت آتی ہے ڈاکو بھی ہوتے ہیں نمازی کلیم چوروں کو بھی امامت آتی ہے ٹوٹے پھوٹے کلیم سجدے ہیں ہلکی پھلکی عبادت آتی ہے یہ الگ بات کون کیسا ہے سب میں اک جیسی فطرت آتی ہےپکڑو منزل کوئی تو جانو تم رستے میں کتنی دقت آتی ہے کچھ نہیں بنتا کچھ دنوں میں کلیم دھیرے دھیرے مہارت آتی ہے وہ سمجھ سیدھا جنتی ہے کلیم جس کو آقا کی مدحت آتی ہےمرزا کلیم یونس________🔴🔴🌸صدف اقبال بہار ہندوستانSadaf Iqbal صدف اقبال تم جہاں سے بھی آئی ہوغلط وقت، غلط جگہ، اور غلط پہچان کے ساتھ آئی ہوآنا ہی تھا تو ایک الگ نام لے کر آتیصدف تم صدف نہ ہوکر شکھا بن جاتیدیکھو - - - -ایک چھلنی بنائی گی ہےجس سے تم کو گزرنا ہے تم کووہ ڈالیں گے اس چھلنی میںتم کو بھی، شکھا کو بھی، ساوتری اور سیتا کو بھی،تم ہو ساری بہنیںاس دھرتی کی بیٹیلیکن صدف اقبالتم سبھی چھانی جاؤ گی ایک ہی چھلنی سےاور صدف اقبالپھینک دیں گے تمہیں چھان کرایک بے بضاعت کنکر کی مانندکنسٹر یشن کیمپ میںصدف اقبال تم جو بھی ہو جہاں سے آئی ہواسی دھرتی پہ قتل ہوے تھے تمہارے بھی اجدادلٹی تھی عزت شکھا کی بھیساوتری کو بھی کیا گیا تھا اغواءساوتری کو بھی نوچا گیا تھالیکن تم چاروں کے ٹوٹے بکھرے نچے وجود کواس پناہ گاہ میں بھارت ماں کی چھاؤں میںکردیا گیا جدا تم بہنوں کووہ نہیں مانتے تمہارے وجود کوانکار ہے تمہارے ہونے سےانکار ہے کہ تم مظلوم ہوانکار ہے کہ یہ دھرتی تہماری بھی ہےتمہاری رسوائی اور ذلت طاقت دیتی ہے ان کو جو صندل ماتھے پر لگائے بدن پہ گیروار رنگ ڈالےقسم کھاتے تھے بیٹی بچانے کی بیٹی پڑھانے کی صدف اقبال یہ کس نے کہا تھا کہ تمہاری لاش کو قبر سے نکال کر تہماری حرمت کے آثار مٹائے جائیں گے وہ کون سنت تھا کون یوگی جو تہمارے مردہ وجود سے زنا کرکےاپنے تخیلی نفرت کی تسکین کا اعلان کر رہا تھا صدف اقبال تم جو بھی ہو جہاں سے بھی آئی ہو تمہیں خاموش رہنا تھا 🩸جاری نظم ہے ابھی مزید کئی صفحات پر مشتمل ہے بہ شکریہ 🏹اثبات🏹 مزاحمت نمبر سے
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل