Sunday, 12 October 2025

*🛑سیف نیوز بلاگر*


کہنہ مشق صحافی انصاری احسان الرحیم کو حکومتِ مہاراشٹر کا ممتاز صحافتی اعزاز

نصف صدی پر محیط بے لوث صحافتی خدمات کا باوقاراعتراف 

مالیگاؤں( احتشام انصاری، سینئر جرنلسٹ)قلم قدرت کی وہ عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات اور احساسات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح اور قوم کی بیداری کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایک قلمکار اپنے قلم کی نوک سے قوم و ملت کی ایسی خدمت انجام دیتا ہے جس کی گونج زمانے تک سنائی دیتی ہے۔ یہی اعترافِ خدمت کسی بھی صحافی کے لیے حقیقی سرمایہ اور عزت کا نشان ہوتا ہے۔اسی جذبۂ خدمت اور صداقت کے علمبردار ہیں مالیگاؤں کے بزرگ اور کہنہ مشق صحافی جناب انصاری احسان الرحیم، جنہیں حال ہی میں حکومتِ مہاراشٹر نے ان کی طویل اور بے داغ صحافتی خدمات کے اعتراف میں خصوصی صحافتی ایوارڈ سے نوازا ہے۔

حکومتِ مہاراشٹر کا اعترافِ خدمت:
اردو اکیڈمی مہاراشٹر کے زیر اہتمام منعقدہ ایک باوقار تقریب میں یہ ایوارڈ پیش کیا گیا، جس میں پندرہ ہزار روپے نقد رقم اور توصیفی سند شامل تھی۔ اگرچہ حکومت کی نظرِ انتخاب تاخیر سے ان پر پڑی، مگر اہلِ قلم، عوام اور صحافتی حلقوں نے اس فیصلے کو ’’حق بہ حقدار رسید‘‘ قرار دیا۔ ایک غیر متنازعہ، مستقل مزاج اور سچے صحافی کو یہ اعزاز ملنے پر شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عوامی حلقوں اور صحافتی برادری نے اسے اردو صحافت کے وقار میں اضافہ قرار دیا۔

نصف صدی پر محیط صحافتی سفر:
جناب انصاری احسان الرحیم کا قلمی سفر تقریباً پچاس برس پر محیط ہے۔ انہوں نے نوجوانی ہی سے اپنے قلم کو حق گوئی کا ہتھیار بنایا۔
ابتدا میں انہوں نے مالیگاٶں اور ممبئی کے مختلف اخبارات میں مراسلہ نگار کے طور پر اپنی پہچان قائم کی۔ عوامی مسائل پر بےباک اظہارِ خیال نے انہیں کم عمری میں ہی مقبول بنا دیا۔ نامساعد حالات میں بھی انہوں نے قلم کو اپنا سہارا بنایا، اور کبھی سچائی کے راستے سے انحراف نہیں کیا۔انصاری احسان الرحیم شہر کے معروف روزنامہ ڈیلی کے بانی اراکین میں شامل رہے ہیں۔ وہ مختلف دیگر اخبارات و رسائل سے بھی وابستہ رہے اور اپنے قلم کے جوہر دکھاتے رہے۔فی الحال وہ روزنامہ نشاط نیوز کے کارگذار مدیر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والی تحریریں سنجیدہ تجزیے، متوازن رائے اور عوامی مفاد کی نمائندگی کرتی ہیں۔

کتاب’’آئینۂ صحافت‘‘ جدوجہد کی کہانی:
دو برس قبل ان کی نصف صدی پر محیط محنت اور تجربات کا نچوڑ ’’آئینۂ صحافت‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں منظر عام پر آیا، جو ان کے فکری سفر اور صحافتی استقامت کا آئینہ دار ہے۔ یہ مجموعہ ان کے علمی ذوق، غیر معمولی مشاہدے اور سماجی بصیرت کا واضح ثبوت ہے۔

زندگی میں توازن اورقلم میں استقامت:
زندگی کے نشیب و فراز نے بھی ان کی حوصلہ مندی کو متزلزل نہیں کیا۔ گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی خدمت کے درمیان انہوں نے ہمیشہ قابلِ تقلید توازن برقرار رکھا۔ ان کے فرزندان نے بھی اپنی تعلیم و محنت سے مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ممبئی ہائی کورٹ کے ممتاز وکیل اور جمعیت علمائے ہند کی لیگل ایڈ کمیٹی کے رکن ہیں۔ ڈاکٹر ساجد نعیم منصورہ انجینئرنگ کالج میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے والد کی صحافتی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔زاہد ندیم طبی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔یہ سب کامیابیاں انصاری احسان الرحیم کی مثالی تربیت، دیانت اور محنت کا ثمر ہیں۔

شہرمالیگاؤں کی جانب سے خراجِ تحسین:
انصاری احسان الرحیم کے اس اعزاز پر شہر بھر کی دینی، سماجی، تعلیمی اور صحافتی شخصیات نے دلی مسرت کا اظہار کیا ہے۔ سب نے دعا کی ہے کہ ان کا قلم ہمیشہ رواں رہے اور وہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں۔ جناب انصاری احسان الرحیم کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی، خلوص اور محنت کے ساتھ کی گئی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ان کا ایوارڈ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ صحافت کے وقار اور قلم کی حرمت کی جیت ہے۔
ہم اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں... پاکستان سے جھڑپ پر طالبان کے وزیر خارجہ کا دوٹوک جواب

افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اس وقت ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ اسی دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر جھڑپ بھی ہوگئی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے متقی نے پاکستان کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن انہیں اپنی حفاظت کرنی بھی آتی ہے۔

متقی نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی لوگ بھی افغانستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو افغانستان سے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا اشارہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کی طرف تھا۔ اس معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حملے کا افغانستان نے بھرپور جواب دیا ہے اور آئندہ بھی دیتا رہے گا۔

حفاظت کرنا جانتا ہے افغانستان
متقی نے تازہ جھڑپ کے حوالے سے کہا کہ ہماری طرف سے جنگ ابھی رکی ہوئی ہے۔ افغانستان کی حفاظت کی بات کی جائے تو وہاں عوام اور حکومت دونوں اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ چار سالوں سے امن قائم ہے اور کوئی کشیدگی نہیں ہے۔ تاہم افغانستان کو اپنی حفاظت کرنی آتی ہے۔ انہوں نے سرحدی حالات کے بارے میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈورنڈ لائن ہے، جو ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ یہ کسی نے کنٹرول نہیں کیا ہے اور زبردستی سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، یہ صرف نرم رویے سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان خود اپنے لوگوں کو کنٹرول کیوں نہیں کرتا؟ یہ بات پہلے بھی افغانستان کہہ چکا ہے کہ پاکستان اپنے لوگوں کو کنٹرول نہیں کر پا رہا اور وہ دہشت گردی کا الزام طالبان پر لگاتا ہے۔

کابل میں حالات بالکل معمول کے مطابق
متقی نے کہا کہ افغانستان میں ہماری حکومت آنے کے بعد ظلم کرنے والوں کو بھی معاف کردیا گیا۔ افغانستان کے تمام لوگ سمجھیں کہ یہ ہمارا وطن ہے کیونکہ خون کا جواب خون سے نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پرانی حکومت کے لوگ افغانستان میں ہیں اور سب سادگی سے رہ رہے ہیں۔ میں خود کابل میں موٹر سائیکل چلاتا ہوں اور وہاں امن ہے، جس کا تجارتی فائدہ بھی ہو رہا ہے۔ وہاں قانون کے تحت ہر کام کیا جا سکتا ہے۔
افغانستان کا بڑا دعویٰ ، سرحدی کشیدگی میں مارگرائے گئے 58 پاکستانی فوجی

پاکستان۔افغانستان کے بیچ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ صورتحال مزید ابتر ہونے کے آثار ہیں۔ سنیچر اور اتوار کی شب ڈیورنڈ لائن پر ہوئی جھڑپوں میں بڑے پیمانے تباہی ہوئی ہے۔ افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جھڑپ میں 58 پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں ۔

طلوع نیوز نے اس پر ایک رپورٹ شائع کی ہے ۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس کارروائی میں نو طالبان جنگجو بھی مارے گئے جبکہ دیگر16 زخمی ہوئے ۔مجاہد نے طلوع نیوز کو بتایا کہ افغان فورسز نے بڑی تعداد میں پاکستانی اسلحہ بھی لوٹ لیا ہے۔

طالبان نے 25 پاکستانی فوجی چوکیوں پر قبضہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ یہ کارروائی پاکستان کے مبینہ فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں ۔ اس ہفتے کے شروع میں ، افغان حکام نے پاکستان پر کابل میں بم دھماکے اور مشرقی افغانستان میں ایک مارکیٹ پر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا ۔ طالبان حکومت نے ان حملوں کو سرحدی خلاف ورزی قرار دیا جس میں 46 شہری ہلاک ہوئے ۔ مرنے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں ۔

پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی لیکن وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان حملوں کو بلا اشتعال قرار دیا اور ان پر شہریوں پر فائرنگ کا الزام لگایا ۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فوج نے افغان اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا اور ان کی کئی چوکیاں تباہ کر دیں ۔

افغانستان کےوزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں متنبہ کیا کہ افغان فوج ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ افغانستان کو اپنی فضائی اور زمینی سرحدوں کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور وہ کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا ۔

مجاہد نے فوج کو ڈیورنڈ لائن پرالرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے ۔اگر پاکستان کی جانب سے ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو کابل کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا ۔ وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا کہ جوابی آپریشن نصف شب ختم ہوا جس میں ہلمند ، قندھار ، پکتیکا ، خوست ، پکتیا ، زابل ، ننگرہار اور کنڑ صوبوں میں پاکستانی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ، آدھی رات کو ختم ہو گیا ۔ہلمند کی صوبائی حکومت کے ترجمان مولوی محمد قاسم ریاض نے میڈیا کو بتایا کہ آپریشن ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ضلع بہرامچہ کے قریب کیا گیا ۔ حریت ریڈیو کے مطابق افغان فوجیوں نے تین پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کر لیا ۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...