سرہند ریلوے اسٹیشن پر غریب رتھ ایکسپریس میں بھیانک آگ
پنجاب میں سرہند ریلوے اسٹیشن پر غریب رتھ ایکسپریس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ لگنے سے ٹرین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم یہ راحت کی بات تھی کہ تمام مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ کوچ نمبر 19 میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جس میں لدھیانہ سے متعدد تاجر سوار تھے۔
آگ کے شعلے دیکھ کر لوکو پائلٹ نے ایمرجنسی بریک لگا کر ٹرین کو روک دیا۔ مسافر فوراً اپنا سامان لے کر کوچ سے اتر گئے۔ افراتفری میں کئی مسافر ٹرین سے اترتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ ریلوے اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون جھلس گئی۔
ریلوے نے کیا کہا؟ ناردرن ریلوے نے واقعہ کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین نمبر 12204 امرتسر سہرسہ غریب رتھ کو بھٹنڈہ اسٹیشن سے گزرتے ہوئے آگ لگ گئی۔ فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹرین کو روک کر آگ پر قابو پالیا گیا۔ ایک مسافر کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور اس کا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔
ریلوے نے یہ بھی بتایا کہ حادثے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ٹرین جلد ہی روانہ ہونے والی ہے۔ تمام متعلقہ افراد جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
صبح 7 بجے فائر الرٹ موصول ہوا۔
مسافروں کے مطابق ٹرین صبح 7 بجے ہی سرہند اسٹیشن سے گزری تھی کہ جب ایک مسافر نے کوچ نمبر 19 سے دھواں اٹھتے دیکھا تو اس نے فوراً الارم بجا کر زنجیر کھینچ لی۔ دھویں کے ساتھ آگ کے شعلے اٹھنے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی مسافر زخمی، کئی اپنا سامان پیچھے چھوڑ گئے۔ اطلاع ملنے پر ریلوے، فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ افراتفری کے درمیان، مسافروں نے کوچ سے اترنا شروع کر دیا، جس سے کئی لوگ زخمی ہو گئے اور اپنا سامان چھوڑ کر چلے گئے۔ کوچ نمبر 19 میں آگ دیکھ کر آس پاس موجود بوگیوں میں موجود مسافر بھی اتر گئے۔ ٹرین کے ٹی ٹی ای اور پائلٹ بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے فوری طور پر ریلوے کنٹرول کو اطلاع دی۔
ریلوے پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔ سرہند جی آر پی کے ایس ایچ او رتن لال نے بتایا کہ لوگوں نے ٹرین کے ایک ڈبے سے دھواں اٹھتے دیکھا جس سے ٹرین کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔
مالیگاؤں، 15 اکتوبر (بدھ):
اردو لائبریری کے زیرِ اہتمام "یومِ ترغیبِ مطالعہ" کے عنوان سے ایک نہایت شاندار، بامقصد اور کامیاب تقریب منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام بدھ کی صبح 11 بجے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شروع ہوا۔
تقریب کی صدارت جناب عبدالحکیم شیخ (آئی آئی ٹی گوہاٹی، اے ایچ سی اکیڈمی، مالیگاؤں) نے فرمائی، جبکہ افتتاح جناب فیض عامر (چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ) کے مفید اور پراثر کلمات سے عمل میں آیا۔
اس موقع پر بطور مہمانِ خصوصی جن شخصیات نے شرکت فرمائی اُن میں ڈاکٹر پرویز فیضی (میڈیکل آفیسر، سول اسپتال مالیگاؤں)، معروف آرکیٹیکٹ جناب ریحان شیرازی، محترمہ پروین ہاشم علی (چیرپرسن، مون لائٹ ایجوکیشن سوسائٹی)، پروفیسر ڈاکٹر ایاز شاہ، معروف شاعر و افسانہ نگار جناب طاہر انجم صدیقی، پروفیسر اسماعیل وفا صاحب، ڈاکٹر مبین نذیرصاحب، پروفیسرپرگیہ دیورے(سٹی کالج)، فیضی ابوزر صاحب، اور خالد قریشی صاحب شامل تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں جناب عبدالحکیم شیخ نے کہا:
“مطالعہ انسان کو وقت کے صحیح استعمال کا شعور دیتا ہے۔ کتابیں شخصیت سازی کا بہترین ذریعہ ہیں، اور جو شخص مطالعہ سے دور ہے وہ ترقی کی منزل طے نہیں کرسکتا۔”
جبکہ افتتاحی تقریر میں جناب فیض عامر نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
“کتاب متاعِ وقت اور کاروانِ علم میری طالبِ علمی کے دور کا ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔ مطالعہ کے بغیر اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن نہیں۔”
تحریک صدارت جناب مظہر شوقی نے پیش کیا، جبکہ تقریب کی غرض و غایت ڈاکٹر احتشام دانش نے نہایت جامع انداز میں پیش کی۔
تقریب میں جے اے ٹی سینئر کالج، سٹی کالج اور مون لائٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ اختتامی لمحات میں ایک دلچسپ سوال و جواب سیشن منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے مہمانانِ گرامی سے مطالعہ اور کتابوں کی اہمیت پر نہایت عمدہ سوالات کیے۔
آخر میں جاوید شوکت عزیز کے پراثر کلماتِ تشکر کے ساتھ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
یہ پروگرام اردو لائبریری کی جانب سے فروغِ مطالعہ اور علمی بیداری کے لیے ایک قابلِ تقلید کوشش ثابت ہوا۔
مالیگاؤں (پریس ریلیز)مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس (ایم۔ایم۔اے۔این۔ٹی۔سی)، شعبۂ سول انجینئرنگ کے زیرِ اہتمام بی۔ای (سول انجینئرنگ) کے طلبہ کے لیے منماڑ کے سینٹرل انجینئرنگ ریلوے ورکشاپ کا ایک روزہ انڈسٹریل وزٹ منعقد کیا گیا۔ اس وزٹ کا بنیادی مقصد طلبہ کو اسٹیل اسٹرکچر کے ڈیزائن، فبری کیشن (Fabrication)، ایریکشن (Erection) اور مینٹیننس پروسیجرز کے عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا تھا۔ اس دوران طلبہ کو انڈسٹریل سیفٹی پریکٹسز، کوالٹی ایشورنس (QA/QC) اور اسٹرکچرل انٹیگریٹی کے معیارات کے متعلق مفصل آگاہی فراہم کی گئی۔
وزٹ کے دوران طلبہ نے ورکشاپ کے مختلف سیکشنز کا مشاہدہ کیا، جن میں اسٹور اینڈ میٹیریل ہینڈلنگ یونٹ، ٹیمپلیٹنگ سیکشن، فبری کیشن اینڈ ویلڈنگ یونٹ، پروسیسنگ اینڈ مشیننگ ڈویژن، پینٹنگ و فنشنگ بی، اور ڈسپیچ سیکشن شامل تھے۔ طلبہ نے پلیٹ گرڈر، برج اسٹرکچرز، گانٹری گرڈر، اور روف ٹرسز کی ڈیزائننگ اور فبری کیشن کے مختلف مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مزید برآں، شرکاء نے ویلڈیڈ، ریویٹیڈ اور بولٹیڈ کنکشنز کی تیاری کے عملی طریقۂ کار کو قریب سے دیکھا، اور ان میں استعمال ہونے والے کوالٹی کنٹرول پیرامیٹرز اور انسپیکشن ٹیسٹ پروسیجرز (ITP) کے بارے میں تکنیکی بریفنگ حاصل کی۔
جامعہ محمدیہ سوسائٹی کے چیئرمین جناب ارشد مختار صاحب کی سرپرستی اور سیکریٹری جناب راشد مختار صاحب کی رہنمائی میں ادارہ ہذا کے تحت اس طرح کے انڈسٹریل ایکسپوژر پروگرامز باقاعدگی سے منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ کو فیلڈ بیسڈ لرننگ کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ڈاکٹر شاہ عقیل احمد (پرنسپل، منصورہ انجینئرنگ کالج) نے بتایا کہ ہر شعبہ انجینئرنگ میں اس نوعیت کے وزٹس سے طلبہ کو انڈسٹریل ریڈی نیس (Industry Readiness) حاصل ہوتی ہے اور وہ جدید انجینئرنگ رجحانات سے ہم آہنگ ہو پاتے ہیں۔
اس انڈسٹریل وزٹ کی کامیابی میں پروفیسر سعود محودی (ہیڈ، شعبہ سول انجینئرنگ) اور پروفیسر نوید اختر (وزٹ اِنچارچ) کا کلیدی کردار رہا۔ ان کے ہمراہ پروفیسر اسامہ انصاری، پروفیسر عمران احمد، پروفیسر عبداللہ خان، پروفیسر محمد انس، اور پروفیسر شمس جہاں نے بھی طلبہ کی رہنمائی کی۔ اس موقع پر سالِ دوم، سالِ سوم اور آخری سال کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔
٭٭٭