Sunday, 12 October 2025
اردو اکیڈمی: ادبی محفل نہیں فلمی تماشہ !اتواریہ : شکیل رشیدپچاس سال پہلے اُردو کے چند معروف ادیبوں نے ، جِن میں علی سردار جعفری ، کرشن چندر ، عصمت چغتائی ، ستیہ مادھو راؤ پگڑی وغیرہ شامل تھے ، حکومتِ مہاراشٹر کو قائل کرکے ’ مہاراشٹر اردو اکیڈمی ‘ کی بنیاد رکھوائی تھی ، جسے اب ’ مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکیڈمی ‘ کہا جاتا ہے ؛ گزشتہ دنوں اس اکیڈمی کے جب پچاس سال مکمل ہوئے ، تب ایک ’ ایونٹ ‘ کا اہتمام کیا گیا ، جو اپنی نویت کا اکیڈمی کا پہلا ایسا ’ جشن ‘ تھا ، جِس کی باگ ڈور ایک ایونٹ کمپنی کو سونپی گئی تھی ، جِس نے سارے ’ جشن ‘ کو ایک ’ ادبی محفل ‘ کے بجائے ’ فلمی تماشے ‘ میں تبدیل کر دیا تھا ۔ حیرت اس بات پر نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا ، حیرت اس بات پر ہے کہ ’ ادبی محفل ‘ کو ’ فلمی تماشے ‘ میں تبدیل کیے جانے کے باوجود اردو کے ادیبوں ، شاعروں ، صحافیوں اور ’ اردو نوازوں ‘ نے اس ایونٹ میں جانے اور چند ہزار کے انعام لینے میں کسی طرح کی شرمندگی نہیں محسوس کی ! لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ ’ شرمندگی کاہے کی ، ایوارڈ پانے والے ایوارڈ لینے تو جائیں گے ہی نہ ؟ ‘ بالکل جائیں کوئی نہیں روکتا ، لیکن جب اُن کے لیے ذلت کا سارا سامان سجایا گیا ہو تب ، تب یقیناً انہیں عزتِ نفس کا خیال رکھنا ہوگا ، اور اس طرح کے ہر ایونٹ سے بچنا ہوگا ۔ اس پروگرام میں جاوید اختر مہمان کے طور پر آئے تھے ، اُن کا ایک شاعر کے طور پر بڑا نام ہے ، وہ دانشور کہلاتے ہیں اور اپنی لکھی ہوئی فلموں کی وجہ سے سارے عالم میں مشہور ہیں ، چلیے مان لیا کہ اُنہیں بلانا اور لاکھوں روپیے دینا ٹھیک تھا ، لیکن شیکھر سُمن ، علی اصغر ، سچن پِلگاؤنکر ، انوپ جلوٹا وغیرہ کو پیش پیش رکھ کر سارے ’ جشن ‘ کو ’ تماشا ‘ بنانے کا کیا تُک تھا ! پتا ہے کہ انوپ جلوٹا کو اس پروگرام کے لیے کتنی رقم دی گئی ؟ ۲۵ لاکھ روپیے ! اور باقی کے جو فلمی چہرے تھے اُنہیں بھی دس سے پندرہ لاکھ روپیے تک ملے ! اور جنہیں ایوارڈ دیا گیا ، صحافیوں ، ادیبوں ، شاعروں اور ٹیچروں کو کتنی رقم ملی ؟ پندرہ ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپیے تک ، بس ! شاید اردو والے اپنی حیثیت سمجھتے ہیں ، اُنہیں لگتا ہے کہ وہ بس پندرہ بیس ہزار ہی کے حقدار ہیں ۔ افسوس تو یہ ہے کہ ’ فیشن شو ‘ اور ’ ڈانس ‘ کے پروگراموں پر بھی اردو والوں کو شرم نہیں آئی ! خیر شرم آئے بھی کیوں ! انہوں نے بے شرمی کا لِبادہ جو اوڑھ رکھا ہے ، انہیں اپنی بے عزتی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، یہ بس چاہتے ہیں کہ اسٹیج پر کسی طرح پہنچ جائیں اور تصویر اتروا کر ساری دنیا میں گاتے پھریں کہ ’ ہمیں ایوارڈ ملا ہے ۔‘ سارا پروگرام بدنظمی کا شکار رہا ، ٹرافیاں ناقص تھیں ، پینے کے لیے پانی کی قلت تھی ، اور کرسیاں خالی نظر آئیں ۔ جواز دیا جا رہا ہے کہ کیا کریں ’ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی ‘ میں بس ایک ہی شخص ہے سید شعیب ہاشمی ۔ لیکن لوگ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ یہ پروگرام ’ مائنارٹی منسٹری ‘ کا تھا ، اور اس منسٹری کے پاس ایک بڑا عملہ موجود ہے ، اس سے کام لیا جا سکتا تھا ۔ خیر ، جب دس کروڑ کی رقم لُٹانا ہی مقصد ہو ، تو کاہے کا انتظام اور کاہے کا نظم ! ادبی محفل کو فلمی تماشا بنانے میں اکیڈمی اور مائنارٹی منسٹری اس قدر مصروف رہی کہ اسے یہ تک احساس نہیں ہوا کہ ابھی اردو اکیڈمی کی تشکیل میں پیش پیش رہنے والے حسن کمال اور ڈاکٹر عبدالستار دلوی حیات ہیں ، انہیں ہی اسٹیج پر بلا لیا جائے ، اور ان کی عزت افزائی کر دی جائے ! افسوس صد افسوس ! چلتے چلتے : اکیڈمی کے جشن کے اشتہار سے اردو کے اخبارات محروم رہے ، بلکہ کسی زبان کے اخبار کو اشتہار نہیں دیا گیا ، کیوں ؟ اس لیے کہ وزیراعلیٰ نے اشتہارات دینے سے اکیڈمی اور منسٹری کو روک دیا تھا ۔ کیوں ؟ اس لیے کہ اب اردو زبان اور اس کے اخبارات کی ان کی نظر میں اسی طرح کوئی اہمیت نہیں رہی جس طرح بی جے پی کی نظر میں مسلم ووٹوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ کیا اردو والے جاگیں گے ، اور اپنی بے عزتی کا کچھ ماتم کریں گے ؟_________László Krasznahorkai لاسلَو کراسناہورکای کے ساتھ بات چیت ہنگرین زبان میں “ایس ” اردو کے حرف “ش” کے مترادف ہے جبکہ “ایس زیڈ ” اردو کے حرف “س” کے مترادف ہوتا ہے۔ جبکہ “اے” کو زرا لمبا کھینچ کر الف کی آواز میں ادا کیا جاتا ہے جب اس کی شکل á ہو ۔ ó کا تلفظ بھی لام پر زبر ڈال کا زرا لمبا کھینچ کر ادا کیا جاتا ہے۔کراسنا ہوری کو جب نوبل پرائز کمیٹی کی ترجمان خاتون نے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے پوچھا کہ وہ نوبل انعام ملنے پر کیسا محسوس کررہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ"It is more than a catastrophe.""یہ کسی تباہی سے بڑھ کر ہے — جیسے میری تنہائی پر ہجوم ٹوٹ پڑا ہو، جیسے میرے لفظوں کی آزادی پر کوئی ان دیکھے قانون نافذ ہو گئے ہوں۔ یہ اعزاز نہیں، ایک زنجیر ہے جو میرے تخیل کے جنگل میں پہلی بار بجی ہے۔ لوگ اسے خوشی کہتے ہیں، اور میرے اندر ایک خاموش چیخ گونجتی ہے — اب میں پہلے جیسا نہیں رہوں گا۔"آپ کو شاید یاد ہو، جب سموئیل بیکٹ کو نوبل انعام کی خبر دی گئی تھی تو اُس نے بس اتنا کہا تھا: 'کیا آفت ہے!'اور میں کہتا ہوں: یہ تو آفت سے بھی بڑھ کر ہے۔لیکن یہ آفت خوشی سے لبریز ہے — ایک غیر متوقع افتخار، ایک سنجیدہ سی مسکراہٹ جو میرے اندر گونج رہی ہے۔میں خوش ہوں، بلکہ فخر محسوس کرتا ہوں، کہ میرا کام اُن عظیم ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ شمار میں آیا ہے جنہوں نے مجھے سکھایا کہ زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں، ایک طاقت ہے۔میں اپنی ہنگرین زبان کا شکر گزار ہوں — ایک چھوٹی، مگر بے حد قیمتی زبان — اور مجھے فخر ہے کہ میں نے اسی زبان کو اپنایا، اسی کو نبھایا، اور اسی کے ذریعے اپنے وقت کو لکھا۔"سب سے پہلے، میں اپنے قارئین کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ ہم سب — ہر فرد — دوبارہ وہ صلاحیت حاصل کرے جو شاید کہیں کھو گئی ہے: تخیل کی طاقت۔کیونکہ تخیل کے بغیر، زندگی محض ایک خشک حقیقت بن جاتی ہے — ایک ایسی دنیا جس میں رنگ نہیں، روشنی نہیں، امکان نہیں۔کتابیں پڑھنا، اُن میں ڈوب جانا، اور مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا — یہ سب ہمیں نہ صرف علم دیتے ہیں بلکہ ہمیں جینے کی طاقت بھی دیتے ہیں۔ہماری زمین اس وقت ایک انتہائی دشوار دور سے گزر رہی ہے۔ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا، خبردار ہونا ہوگا — اور شاید، بچنے کے لیے، ہمیں تخیل، ادب اور انسانیت کی طرف دوبارہ لوٹنا ہوگا۔"ترجمان نے نرمی سے پوچھا:"آپ اس وقت کہاں ہیں؟ اور جب آپ کو انعام کی خبر ملی، آپ نے کیسا محسوس کیا؟"کراسناہورکای نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر دھیرے سے مسکرائے۔ان کی آواز میں کسی انجانی دوری کا عکس تھا — جیسے ابھی تک وہ لمحہ ان پر پوری طرح اترا نہ ہو۔"میں اس وقت اپنے ایک دوست کے فلیٹ میں ہوں،"انہوں نے آہستہ سے کہا،"جو بیمار ہے... اور میں فرینکفرٹ آیا ہوں، صرف اُسے دیکھنے کے لیے۔"چند لمحے خاموشی رہی، جیسے وہ سوچ رہے ہوں کہ کیا کہنا ہے، یا شاید کیسے کہنا ہے۔"ابھی تک مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میں نوبل انعام جیت چکا ہوں۔میں خود کو دھیرے دھیرے قائل کر رہا ہوں...یہ سچ ہے، لیکن جیسے سچ ہونے کے لیے وقت مانگ رہا ہو۔میں واقعی خوش ہوں — لیکن یہ خوشی شور میں نہیں، خاموشی میں گونج رہی ہے۔"رجمان نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں واقعی بالکل بھی توقع نہیں تھی، یا کچھ نہ کچھ گمان ضرور تھا؟ کراسناہورکای نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ نہیں، انہیں کبھی بھی یہ توقع نہیں رہی، نہ ہی انہوں نے خود کو اس انعام کے قابل سمجھا۔ وہ اس وقت بھی حیرت کی کیفیت میں ہیں، ششدر — جیسے کوئی بہت بڑا واقعہ رونما ہو چکا ہو اور ذہن ابھی تک اس کے اثر کو پوری طرح سمیٹ نہیں پایا۔گفتگو کا رخ پھر تحریر کی طرف مڑ گیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ ان کی سب سے بڑی ترغیب، یا وہ محرک کیا ہے جو انہیں لکھنے پر آمادہ کرتا ہے؟ کراسناہورکای کا جواب نہایت ذاتی اور سچا تھا۔ انہوں نے کہا: تلخی۔ وہ خود کو ایک اداس انسان سمجھتے ہیں، اور اب ان کا زیادہ وقت اس سوچ میں گزرتا ہے کہ دنیا کی اصل حیثیت کیا ہے۔ یہ فقط ظاہری ترتیب نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کی گہرائی، تاریکی، اور انسانی المیے کی سطح ہے جو انہیں لکھنے پر مائل کرتی ہے۔ ان کے اندر ایک گہرا وجدان موجود ہے، ایک ایسا جذبہ جو صرف ان کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی انسپائریشن ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آج کا وقت — جیسا وہ اسے دیکھتے ہیں — بے حد تاریک ہے، اور اس تاریکی میں زندہ رہنے کے لیے ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ طاقت درکار ہے۔ترجمان نے نرمی سے سوال کیا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ زندہ رہنے کے لیے اب زیادہ طاقت چاہیے، تو کیا اس پس منظر میں "لکھنا" آپ کے لیے کوئی خاص معنی رکھتا ہے؟ کراسناہورکای نے سکون سے جواب دیا کہ وہ اپنے کام کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ وہ اپنی تحریریں عظیم شعرا و ادبا کو بھی نہیں دکھاتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسے لوگ موجود ہیں جن کا فن خود حیران کن ہے۔ ان کا طرزِ عمل سادہ ہے: وہ ایک کتاب لکھتے ہیں، مکمل ہونے پر اسے اپنے ناشر کو دے دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اب کچھ وقت کے لیے انہیں سکون درکار ہے۔ جب اگلی تحریر کا وقت آتا ہے، تو ان کی صرف ایک کوشش ہوتی ہے — کہ جو کچھ پہلے لکھا، اس سے بہتر کچھ تخلیق کریں۔اس کے بعد گفتگو نے ان کی روزمرہ زندگی کے ماحول کی طرف رُخ کیا۔ نوبل کمیٹی کی ترجمان نے پوچھا کہ کیا وہ ہمیشہ ایک ہی جگہ لکھتے ہیں، یا مختلف مقامات سے تحریر کرتے ہیں؟ اس پر کراسناہورکای نے ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ وہ ہنگری میں، بوڈاپسٹ کے مضافات میں ایک پہاڑی پر واقع ایک کاٹیج میں رہتے ہیں۔ یہ جگہ Triest کہلاتی ہے، اور ان کے لیے یہ ایک ذاتی بادشاہت ہے — ایک ایسی ہنگری جو صرف ان کی ہے۔ وہ کبھی کبھی ویانا میں بھی رہتے ہیں، کیونکہ بہرحال، یہ سب پرانی آسٹریا-ہنگری کی بادشاہت کا ہی حصہ تھا۔ ان کے لیے یہ جگہیں محض جغرافیائی حدود نہیں، بلکہ ایک تہذیبی تجربہ ہیں — ایک داخلی فضا، جہاں ان کا تخیل سانس لیتا ہے، اور جہاں ان کے الفاظ جنم لیتے ہیں۔ترجمان نے ان سے پوچھا کہ آج وہ اس خوشی کو کیسے منائیں گے تو کراسنا ہوری کای کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ایک خالہ کے پاس جرمنی جانے کا پروگرام بنارہے ہیں اور اس کے لیے وہ اپنے ایڈمنسٹریٹر کو اپنا نیا پوسٹل ایڈریس لکھوائیں گے۔ ترجمان ان سے ہنستے ہوئے پوچھتی ہیں تو بس یہی کچھ آپ کریں گے ۔ کراسنا ہورکای اس پہ ہنس پڑے اور کہا کہ نہیں ، نہیں وہ اس خبر کے ساتھ صرف اتنا ہی نہیں کرسکتے ، ہوسکتا ہے شام کو فرینکفرٹ میں دوستوں کے ساتھ پورٹائن اور شمپئن کے ساتھ ڈنر کریں ۔__________🔴🔴نسیم عزیزی اور شاعری کا مشینی لام کاف منظر نامہ تحریر رشیدہ منصوری ۔۔,۔۔۔۔۔۔,۔۔ ہوره آفرینش غزلوں کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں 73 غزلیں ہیں۔ ایک لمحے کو ایسے کسی بھی شعری مجموعے کے ساتھ چند ساعتوں میں کچھ نیا پن لگتا ہے۔ لیکن یہ چند ثانیوں کی بات ہوتی ہے۔ جب کہ ہم ایسے کئی تجربوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو ذرا سی دیر میں بیزار ہوجاتے ہیں۔ یہ بیزاری بلاوجہ نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ ہمارے سامنے کے منظروں کی یکسانیت اور شعر کی صورت میں موجود متونِ خیال کی تکرار ہے۔اشعار دیکھیئے:ذرا سی بات کیا نکلی تیرے حسن مجسم کی جبیں پر بل پڑے تیرے ثنا خوان معظم کی حوصلہ دیکھا ،سہم گیا دریاڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہےآوازوں کے جنگل میں سناٹا بھی چلاتا ہے منہ میں زباں رکھنے والا اکثر گونگا ہو جاتا ہےخوشی کہنے لگی غم سے تیرا جو حال میرا حال کبھی قسمت تیری چمکی کبھی قسمت میری چمکی کبھی صحرا انوردی اور کبھی سیر چمن کرائے کیا نہ کچھ ہم سے یہ شوق عاشقی دیکھ کر وہ اجنبی چہروں کی بھیڑ پوچھتے ہیں گھر ہے یا بازار ہے شب کی حسین یادیں جواں جذبات کے قصے کہ اکثر یاد اتے ہیں انہی لمحات کے قصےوہ بادشاہ ہے لفظوں کا بچ کے ارے یہ گا رقم نہ کر دے کوئی من گھڑت کتاب کہیںآج تخلیق کار ایک ہی روگ کا رونا روتے ہیں۔اور پھر ایک ہی رنگ میں ہر منظر کو کاڑھتے ہیں۔ شاعری پر برا وقت شعراء اور کتابوں کی کثرت سے اور کم شعری مکالمے ادبی تنقید کی غیر موجودگی کی وجہ سے ہے۔ آفرینش بھی ایسا مجموعہ ہے جس میں شاعر کی نفی کے باوجود صرف 'لام کاف' ہے۔ زندگی سے شکایتیں، خدا سے شکایتیں محبوب سے شکایتیں اور کبھی کبھی لگتا ہے کہ اب شاعری اس لیے ہو رہی ہے کہ ہمیں احتجاج، سیاسی ابلاغ اور سیاسی سٹریس کا بخار نکالنے کا اس سے زیادہ مفید کوئی اور راستہ نہیں ملتا۔ لیجیے ان کو دیکھیے:سچ ہے کہ ہم لام کاف کرتے نہیں ہیں بات مگر صاف صاف کرتے نہیں ہیںہم اپنے گھر میں بھی رہتے ہیں اجنبی کی طرح ملی یہ زندگی کب ہم کو زندگی کی طرح سمندر کی تہوں تک وہ تو جانا چاہتا ہے مگر دامن بھی پانی سے بچانا چاہتا ہے نیند چھپتی رہی ہے آنکھوں میں شبنمی شب کو بد مزہ کرنا روح غزل ہے کیا بلا اس سے غرض کسی کو کیا یہ بھی سخن کے میر ہیں وہ بھی سخن کے میر ہیں کہیں نہ کہیں ہم ان اشعار سے معانی نکال لیں گے تو شاید کوئی نیا پن نیا انداز بھی ثابت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کتاب تو نئی ہے مگر ۔۔۔! شاعر کا نام موسیقی کے آہنگ میں ہے سرورق کے رنگ نئے ناشر اور قاری بھی نئے ہو سکتے ہیں۔ لیکن خیال کی بنت، ادراک ،انسانی نفسیات، تہ داری حال کی کوئی پیشنگوئی ماضی کی شرح کچھ بھی نیا نہیں ہے۔سب ایک ہی رنگ میں ہیں۔ اس بے رحمی اور قاتل یکسانیت سے ادب اب قومی زندگی کا بوجھ ہے۔۔۔اس بوجھ اور بوجھل پن میں کس کی غلطی ہے؟ کون کر رہا ہے؟ یہ خرابی کیسے ہوگا؟ یہ سب درست گزارش یہ ہے سب کر رہے ہیں اور کوئی بھی نہیں کر رہے جب ہم کسی رینگنے والے کو دوڑ میں جیتنا والا کہیں گے اسے ریسلر بنا کر پیش کریں گے جو اپنی پشت زمین سے الگ نہیں کر سکتا اسے فتح قرار دیں گے جو زمین پر سیدھا نہیں چل سکتا اسے آسماں پر اڑتا دکھائیں گے تو یہی ہو گا۔ ہمیں ہر تک بندی شاہ کا شاہکار لگے گی اور الٹی سیدھی لکیریں آرٹ محسوس ہوں گے۔ لیکن زندگی پہ ایسے کسی آرٹ کا اثر نہیں یہ شاعری کا اختتام بھی ہو سکتا ہے۔ اگر نئی شاعری نہیں پیدا ہوتی نیا شاعر اور نیا محاورہ نہیں پیدا ہوتا۔ نیا استعارہ نہیں بنتا تو وقت کی بے رحم موج ہمیں اور ہمارے شعور کو روند کر گزر جائے۔ ہر شخص کی ذات محترم ہے شاعر تو اس سے بھی زیادہ محترم ہیں کہ اگر زمانہ ان کی شاعری کو تنقید کا نشانہ بنائے تو ان کی عمر بھر کی ریاضت ضائع ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی کہ ہر تخریب نئی تعمیر کا باعث ہوتی ہے اگر ہم ایسی چیزوں پر مکالمہ تنقید اور گفتگو نہیں کریں گے شاعری کے عمومی جمود پر بات نہیں کریں گے تو وقت ہم سے نہیں پوچھے گا۔ وہ قاری کو بھی اور شاعر کو بھی اٹھا کر پھینک دے گا کیا ہم سب وقت کے دھکے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لہذا! ہمیں مان لینا اور کہہ دینا چاہیے شاعری ہمارے بس کی نہیں! ہم اور مفید کام کر لیں جس سے چار اچھے پیسے آ جائیں. پیسے ہی کمانے ہیں تو لوگوں کے شعور پر جبر کر کے کیوں کمائیں. جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے شعر و ادب پر خزاں طاری ہے ان سے لڑنے کے بجائے اپنے شعر و ادب سے کچھ مکالمہ کر لیں اگر ہمارے شعر ہمیں اور ہمارے آس پاس کسی کیفیت کو اٹھا نہیں رہے۔ کسی دل کو دھڑکنا نہیں سکھا رہے کسی دماغ میں ہلچل نہیں مچا رہے کوئی قاری شاعری کو اپنی زندگی کی کسی خاص کیفیت میں گنگنا نہیں سکتا تو ایسی شاعری ایسا خیال دیوار پر دے مارنے کے قابل ہے ۔ ایک جیسی شاعری قاری کا ذائقہ ہی نہیں شعور بھی خراب کردیتی ہے۔ یہ طے ہے کہ ہم اپنی زبان و تہذیب کے دائرے میں ہی رہ کر کچھ کہہ سکتے ہیں شاعری اور آرٹ پر بھی یہ اصول صادق آتا ہے۔ لیکن یہ دائرہ تو بڑا ہو رنگ تو چوکھے ہوں حرف رقص تو کرتے دکھائ دیں معانی کی دنیا ہمیں پریشاں مضطرب اور بے چین تو کرے۔ لیکن ہم گھنٹہ بھر کتاب پکڑے تھکتے ہیں تو زور سے بستر پر پھینک کر فرار اور کافی پینے چلے جاتے ہیں ۔ اور یقینا اس وقت کی کافی ہمیں زندہ کردیتی ہے۔ کتنی اذیت کی بات ہے ہم کتاب کی تھکن چائے کافی یا کسی اور مشروب میں اتارتے ہیں۔ آرٹ شعر ادب جب تھکانے لگے تو سوچنا چاہیے کہ ادب اور شعر اب شعور و احساس کے جہاں سے نکل کر ایک مشینی ہنر بن گئے ہیں۔ جسے لفظ و بیاں کے ماہر گھڑتے اور برائے فروخت رکھ دیتے ہیں۔ یہ برتن ہیں جنھیں ٹھوک بجا کر لوگ خرید لیتے ہیں ۔ گویا شعر وادب کا اب شعور کی دنیا سے تعلق نہیں۔ یہ بس کچھ سجاوٹ کے لیے ہی رہ گیا ہے ۔۔۔ سوچنا چاہیے کہ ہم زندہ ادب کیوں نہیں تخلیق کر پا رہے ہیں۔ ہمارا ادیب مجبور ہے۔ اس کے اندر کا اضطراب اور اس کے احساس کی شدت کو کون کھا گیاہے۔ لیکن ہم تو کتابیں چھاپنے اور غزلوں نظموں کی تعداد میں کھو گئے ہیں۔ غالب زندہ ہے ذوق داغ اور اس کے کئی معاصر نصاب کی کتابوں میں گم ہیں۔ یہ تخلیق کی دنیا کی سٹریس اور گھٹن ہے۔ جو تخلیق کی اصل مشکل ہے۔ لیکن اس سے زیادہ تنقید نگار اور قاری سٹریس میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ بھی کتاب شوق سے نہیں ضرورت سے خرید رہا ہے۔ اور مروت یا کسی نصابی تقاضے کے تحت پڑھتا ہے۔۔یہ رشتہ اب صرف ثقافت کے جبر جیسا ہے۔ لیکن آخر یہ ظاہری رکھ رکھاؤ کب تک رہے گا ۔۔ ہم کسی ایک کتاب پر بات کریں یا دس بیس مجموعے سامنے رکھیں۔ خیالات کا جمود اور تخلیق کا خالی پن ایک جیسا رہے گا۔ الا ماشاءاللہ چند ہوں گے گنتی کے جو کم یاب و نایا ہیں لیکن گمنام ہیں کہ وہ بھی پبلک ریلیش اور اشتہار بازی اور گروپ بندی نہ ہونے کی وجہ سے کہیں زندگی کسے نکالے گئے ہیں۔ آفرینش جیسے بہت سے دواوین کاپی پیسٹ خیالات کا عکس ہیں۔ جنھیں زبان و بیان کے کچھ رنگوں کے چھڑکاؤ سے نیا دکھانے کی کوشش ہے۔ ہم یہ اصول مان بھی لیں کہ کوئی خیال نیا نہیں ہوتا لیکن اس میں ایک نیا تخلیقی انداز ندرت خیال اچھوتا پن کہیں ابہام کہیں تضاد نیا محاورہ نئی تشکیلات کچھ تو نیا پن نظر آئے کہ قاری اچانک حیرت میں چلا جائے تھوڑا حیران ہو لمحہ بھر ٹھہر جائے بے ساختہ وااااااہ کہہ دے۔ اس کے اندر کوئی کرن اور کوئی تحریک پیدا ہو۔۔۔تلخ حقیقت ہے کہ غزل نظم اب کاپی پیسٹ ہے چیٹ جی پی کے بعد اب یہ مشقت بھی نہ رہی۔۔۔کسی گہرے احساس سے محروم تخلیق کی یکسانیت فن کو تباہ کر دیتی ہے۔ ہم اگر اس یکسانیت کو دیکھیں تو اس کو جدید دور کے سوشل میڈیا اصطلاح کافی پیسٹ کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا یہی نہیں تخلیق کار سے زیادہ جمود اور یکسانیت قارئین پر طاری ہے کوئی خیال فکر کا دریچہ نہیں کھولتا کوئی شعر سن کر ہم بے ساختہ داد نہیں دیتے اچھل نہیں جاتے ہمارے اندر کی دنیا اتھل پتھل نہیں ہوتیقاری صرف شور سننا اور ویڈیو کیپشن کے ساتھ دیکھتا ہے۔ قاری بھی کتاب اور شعر کو سوشل ریلیز سمجھنے لگا ہے۔ تو پھر یہ مکھی مار قسم کا فن اور ایسا ہی فنکار سے قاری کا تعلق ہے جو سماجی انسانی یا قومی سطح پر کوئی فائدہ نہیں دے رہا۔۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو ہم تخلیق کر رہے جو شاعری ہم پڑھ رہے ہیں سن رہے ہیں دیکھ رہے ہیں وہ جمود کی کہیں پرلی سطح کو چھورہی ہے۔ ہم ہمارے قاری اور نقاد کو ہمارے لکھنے والے کو مروت اور تعلق سے ہٹ کر دیکھنا ہوگا کہ ہمارے فن میں کتنی گہرائی ہے کس درجے کی یکسانیت ہونی چاہیے کس نوعیت کا نیا پن ادب اور شعر کا تقاضا کر رہا ہے ہمارے محاورے کو کیا ماضی میں ہی ہونا چاہیے حال یا مستقبل کی خبر بھی دینی چاہیے۔ہمارا شعر ہماری شاعری نکھار نہیں دے رہی ہماری غزل بھی یا شکایت ہے یا توصیف ہے یا محبوب کی جفا کی خبر نامہ ہے۔ جسے سننے کے بجائے ہم پڑھ لیتے ہیں ۔۔ آفرینش کی شاعری میں گھومتے خیالات میں ،تیری عقیدت کو دل نہ مانے، پر دل کا ذکر ہونا چاہیے دماغ کا بھی ہونا چاہیے اور پھر اس ذکر کو برنگ دیگر بھی ہونا چاہیے کیا ان میں آپ کو کچھ الگ سی چیز نظر اتی ہے کوئی چڑانے کوئی چبھنے والی جس سے جلن پیدا ہو حسد پیدا ہو رشک آئے ضد بنے کوئی تعصب کیا جاوے ایسا کچھ بھی نہیں ہے ایک سے خیالات ہیں جن سے نہ ہمیں خطرہ لطف محسوس ہوتا ہے نہ کرم محسوس ہوتا ہے۔۔ یہ صرف آفرینش کی بات نہیں ہے عمومی تجزیہ یہی ہے۔ آپ کئی کتابیں کھول کر سامنے رکھیں یقیناً آپ ایسا ہی محسوس کریں جو میں محسوس کر رہی ہوں میں کچھ اشعار اپ کے سامنے پیش کروں گی دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان میں کوئی نیا پن اچھوتا پن ندرت خیال و فکر کچھ ہے جس سے ہم جی اٹھیں یا ہمیں جینا محسوس ہو ۔عالم ہی کچھ عجب ہے انصاف کے جہاں کا مسند نشیں کے آگے سرخم ہے آسماں کا جلوہ صد رنگ نہ آیا نظر خواب دکھاتے رہے آئینہ گرتال پر گیتوں کے گھنگرو پاؤں کے بجنے لگے وقت کے سینے سے پھوٹی سسکیوں کی آہٹیں کیا ندامت کیا تاسف کیا پشیمانی و رسوائی نسیم صاحب زر ہو گئے ہم کیا ہوا جو ساری قدریں کھو گئیں یار میرے دشمنی نبھانا لگے کیا اک ذرا اختلاف کرتے نہیں ہیں کوئی پیغام بھی نہیں آتا کیوں وہ روٹھا ہے کچھ کہو تو سہی عجیب بات ہے وہ جس نے قتل عام کیا اسی نے ماتمی جلسوں کا اہتمام کیا پھولوں کے تن کو چھو کے جب لوٹی غزل ہر رنگ میں ہر روپ میں نکھری غزل پرکیف یادوں کی گھٹا جب چھا گئی سانسوں کی انگنائی میں پھر اتری غزل حکایات غم ہستی بھی روشن ہیں اسی میںیہ مت کہنا رقم افسانہ دل کر رہا ہےیہاں بھی وہی خیالات کی روایتی تکرار ۔کاش یہ بات خبر سے زیادہ کچھ ہوتی کہ غزل پھول کے تن چھو کے آئی ہے۔پھر تو چار سو مہکتا۔ گلوں میں رنگ اور رنگ باتیں کرتے سانسوں کی انگنائی؟میں سر سنگت زندگی کو رقصم کردیتے ۔۔ کبھی اسمان کو زمین سے ملانا ہے زمین کو آسماں سے ملانا ہے عجیب مبالغہ ہے اور مبالغے کی زمین پر مبالغے کی فصل اب فصل نہیں رہی جھاڑ جھنکار ہے۔ یار جس نے قتل عام کیا اسی نے ماتمی جلسوں کا اہتمام کیا اس میں کوئی نیا پیغام کہاں ہے شاعری میں سادگی و پرکاری ہو۔ اب شاعرانہ سادگی میں کچھ تو بناؤ ہوں ہوں الجھنیں ہوں کہ ہم سلجھانے بیٹھیں شاعری میں مبالغہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ مبالغہ اتنا اذیت ناک تو نہ ہو کہ حساسیت ،کیفیت، سرشاری اچھوتا پن کسی حیرت میں چلے جانا کچھ بھی نہ ہو عجیب سی منمناتی شاعری کی دنیا میں شاعری کا قاری بیزار اور کم سواد رہتا ہےغم ہستی کی شکایات ان کا روشن ہونا ان کا افسانہ ہونا اسی دل میں ہونا مسیحائی کی چرچے سب لفاظی اور معنوی چرب زبانی ہے جس میں نہ گہرائی ہے نہ سخن آرائی ۔۔ شعر دیکھیے اور سوچیے : عصر حاضر سے ڈر گئی دنیا مٹھیوں میں اتر گئی دنیا پہلے شعر میں شاعر کِسے ڈرانا چاہتے ہیں عصر حاضر ہی دنیا ہے تو پھر وہ کس دنیا سے ڈر گئی؟ کیا دنیا سے ٹکرا رہی ہے یا ان کا آمنا سامنا ہو رہا ہے ."اور یہ دنیا کا مٹھیوں میں اتر جانا"یہاں قاری کا خون کھول رہا ہے کہ اگر دنیا ڈر گئی تھی تو وہ مٹھیوں میں کیوں اتر گئی!عصر حاضر سے ڈری دنیا ہے تو پوری دنیا پھر کون کیوں کسی کی مٹھی میں ہے ۔ کچھ تو معانی کا سراغ ملے تو قاری کا بوجھ کم ہو یکسانیت کے ساتھ شعر میں معنویت کا بھی ستیاناس ہو رہا ہے تو شعر کو گنگا برد اور شاعر کو جیل بھیجنا چاہے۔ وہ اس کے سامنے سجدہ ریز کیوں نہیں ہوئی اس کی مطیع کیوں نہیں ہوئی اس کے لیے تسخیر کیوں نہیں ہوئی۔ اور کیا دنیا کا مٹھیوں میں اتر جانا زبان بیان محاورے اور استعارے کی روح کے مطابق اور معیار پر پورا اترتا ہے ایسے زبردستی گھڑے گئے شعر صرف وزن پر پورا اترتے ہیں شعریت رمزیت ایمائیت گہری رومانویت سے ایسے اشعار محروم ہوتے ہیں۔ کچھ اور اشعار دیکھیے:گھروں میں کارخانے ٹیپ ٹی وی شور ہنگامے اسی ماحول میں پڑھنے کے عادی ہو گئے بچے اب یہ خبر بھی اگر شعر ہے تو پھر وہ چینل اچھے نہیں ہے جن پر ہم کچھ چہرے بھی دیکھتے ہیں:کبھی کانٹوں نے راہ زندگی میں دستگیری کی کبھی پھولوں کو بھی خنجر بکف شمشیر زن دیکھا ہزاروں خامیاں میں اپنے اندر پا رہا ہوں مگر میں دوسروں کو آئینہ دکھلا رہا ہوں بادلوں کو زعم تھا سورج پہ سایہ کر دیا اک ذرا سی دھوپ نے ہر سو اجالا کر دیااپنی ناکام کا خبر نامہ جاری کرنا یا اپنی غیر موجود خوبیوں کا اشتہار بانٹنا۔ اپنے ناکردہ عشق کی خیال داستانیں آسمان کی شکایت اور زمانے کا رونا نوے فیصد شاعری کا بڑا اور مرکزی خیال ہے ۔بادل سورج پہ سایہ فگن نہیں ہوتے نہیں ہوتے بادل دھرتی پہ سایہ فگن ہوتے ہیں سورج کو نہیں ڈھانپ رہے ہوتے سورج کی گرمی کا عذاب سہہ رہے ہوتے ہیں سورج پہ سایہ ہوتا تو اس سورج کو کوبھی ٹھنڈک ملتی ہے آسودگی ملتی ۔۔خیال سے محروم مشینی تک بندی اور کنکریٹ شاعری ، جیسے ایک فلک بوس ویراں ڈھنڈار عمارت یا کالی سیاہ سڑک جس پہ ربڑ اور لوہے کے ڈبے دوڑ رہے ہوں جن کی آوازیں ہمارے سٹریس لیول میں اضافہ کرتی ہیں ہم تھک جاتے ہیں بور ہو جاتے ہیں اور پھر آس پاس کی مناظر دیکھتے ہیں لیکن شاعری کا یہ عذاب ہمیں کوئی کھڑکی بھی کھولنے نہیں دیتا کم و بیش شاعری کا زیادہ اثاثہ خیال کی ایسی ہی یکسانیت ۔۔کسی زندہ احساس سے محروم کسی بھرپور تخلیقی تجربے کے بجائے الفاظ اور محاورے کی بندش سے زیادہ کچھ نہیں۔۔اسی طرح جب فن پارے کا یہ حال ہوگا وہاں نقاد اور قاری بھی کسی نئے اور اچھوتے طرز احساس سے محروم اور ستائش باہمی پرمجبور رہے گا۔۔جس شعر کو دوبارہ پڑھنے کا من نہ کرے۔ جس زمانے کی شاعری کے لاکھوں اشعار میں کوئی ایک کام کا اور زندگی بخش نہ ہو جو اپنے قاری کو ایک لمحے کو پکڑ نہ لے جکڑ نہ لے ٹھہرنے پر مجبور نہ کر دے وہ شعر بھرتی کا شعر ہوتا ہے زندہ شعر نہیں زندہ شاعری سلامت شاعری عام نہیں ہوتی خاص ہوتی کم ہوتی ہے شاذ ہوتی ہے۔ ایسی شاعری کے لیے دل اور جاں پر قیامتیں گزری ہوتی ہیں ۔ اس میں سوز ساز درد کرب آگہی اور نور ہوتا ہےلیکن ایک ہمارا زمانہ ہے شاعر ایک زمانے میں موجود ہیں لاکھوں کتابیں لکھ کر بھی شعر کی عمر شاعر کی عمر تک نہیں پہنچتی ایسی شاعری کو زندہ اور سلامت شاعری نہیں کہتے۔ نہ ایسے سماج میں شعر وادب شعور اور آگہی میں کسی انقلاب کا باعث ہوتا ہے۔۔ہم نے مان لینا ہوگا کہ ہم شاعری کی زمانے میں نہیں کی رہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارا دور شاعری کا نہیں ہمیں تخلیق کار نہیں ملے یا خدا کو منظور نہیں کہ اس زمانے میں بھی تخلیق اور آرٹ کے لوگ پیدا ہوں یہ مشینی دور ہے۔ اور ہم مشینی سے انسان ہیں ۔یہی۔وجہ ہے کہ ہمدردی رواداری اور انسانیت کے احترام کے لیے اب زیادہ قوانین بنانے پڑ رہے ہیں تاکہ بے حس انسانوں کو طاقت سے کچھ سکھایا جائے ورنہ یشعر وادب بھی معاشرے میں احساس ہمدردی رواداری اور برداشت پیدا کرتا رہا ہے۔مشینیں احساس نہیں کرتیں معاف نہیں کرتی شاعری نہیں کرتی وہ بس کام کرتی ہیں چیزیں جوڑ سکتی ہیں چیزیں توڑ سکتی ہیں۔۔ نہ انہیں جوڑنے نہ توڑنے کا احساس نہ بچپنے اور الھڑپنے کے زمانے نہ بچھڑنے ملنے کا احساس۔۔شاعری تو ساری کی ساری احساس اور درد کا نام ہے۔ فن زندگی کے دکھوں کا عکاس ہے اور انسان کو اس کے خاص اور مخلوق میں شرف حاصل ہونے کے شعور کا نام ہے۔ہمارے بھارتی سماج سے سچی شاعری رخصت ہوگئی ہے۔ جو دو چار وہ بھی چراغ سحری ہیں ۔غالب خسرو اور کبیر داس کی روحیں ہم سے روٹھ چکی ہیں۔۔اس یکساں اور شاعری سے محروم لفظ گری کے کھیل میں میری تحریر بھی اتنی بے ہنگم یا بور شمار ہوگی ۔ اس لیے کہ آداب کے قاری کی ترتیب بھی ادب کی تہذیب سے جڑی ہے۔کوئی باقاعدہ پرفیشنل نقاد تو چیزوں کا اچھا معروضی اور تنقیدی جائزہ پیش کرسکتا ہے۔ لیکن عجیب سی شعری خوشبو سے محروم شاعری پڑھنے یا پڑھانے پر مجبور قاری کا سٹریس لیول بھی شاعر کی طرح کا الجھا اور تضادات سے بھرپور ہوسکتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم سب کو شعر و ادب کی اس مردنی کا احساس کرنا ہے ۔ جس سے آفرینش جیسے وقت ضائع کرنے والے مجموعے اور اس قیمتی وقت کو مزید ضائع کرنے والی آج کی ایسی تحریریں سامنے آتی ہیں ۔اب اس میں کون ہے کتنا گنہگار یہ فیصلہ وقت ہی کر سکتا ہے ہم نہیں۔۔ آخر میں گزارش ہے کہ بدترین تخلیقی جمود کے باوجود ایک تخلیق کار کی چاک کی ریاضت اس کی سیپ کے مقدر کا قطرہ پالیتی ہے۔ جو اس کا حاصل ہوسکتا اور اس کی آگے کی تخلیقی کاوش کی توانائی بن سکتا ہے۔ آفرینش کےکسی دوسرے جنم کے قرطاس بھی اس سے محروم نہیں رہیں گے۔۔ تسلیم اور انکار کے درمیان بھی کچھ کاریز ہوتی ہیں ۔ ہمیں نہیں بھولنا کہ یہ چھوٹے چھوٹے راستے ہی اصل منزلوں تک پہنچاتے ہیں ۔مشینی اور بے ہنگم زندگی ہمیں ان موجود راستوں کا پتہ نہیں دیتی۔ ہمارے شعور کو حالات تھکا دیتے ہیں اور ہم ان خوبصورت اور دلکش راستوں کا سراغ اپنے فن میں نہیں دکھا سکتے۔۔۔ یہ اشعار بھی آفرینش میں ہیں فرق دیکھیئے ۔۔۔ کچھ سراغِ زندگی تو ہے۔۔غم حیات کے درپن میں منعکس ہو کرفنا کی اور بڑھا آدمی بھی قسطوں میں اک سلسلہ خیال کا آئینہ بن گیا گزرے ہیں جتنی بار تری رہ گزر سے ہم________🌺غزل 🌸چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میںنئے انوکھے موڑ بدلنے والا میںتم کیا سمجھو عجب عجب ان باتوں کوآگ کہیں ہو، یہاں ہوں جلنے والا میںبہت ذرا سی اوس بھگونے کو میرےبہت ذرا سی آنچ، پگھلنے والا میںبہت ذرا سی ٹھیس تڑپنے کو میرےبہت ذرا سی موج، اچھلنے والا میںبہت ذرا سا سفر بھٹکنے کو میرےبہت ذرا سا ہاتھ، سنبھلنے والا میںبہت ذرا سی صبح بکسنے کو میرےبہت ذرا سا چاند، مچلنے والا میںبہت ذرا سی راہ نکلنے کو میرےبہت ذرا سی آس ،بہلنے والا میں🎬راجنیدر منچندہ بانی 🎞️
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل