Saturday, 18 October 2025
مہا گٹھ بندھن میں سر پھٹول ، بی جے پی خوشاتواریہ : شکیل رشیدبہار اسمبلی الیکشن کے لیے ’ مہا گٹھ بندھن ‘ میں اب تک سیٹوں کے بٹوارے پر سسپنس بنا ہوا ہے ، اِس اتحاد کے کئی کئی امیدوار کئی کئی سیٹوں پر ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں ۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو یہ کہ کئی سیٹوں پر ، گٹھ بندھن میں شامل پارٹیوں کے امیدوار ، ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گیے ہیں ! یہ جو صورتِ حال ہے ، اس پر بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے محاذ خوش ہے ، بلکہ کہہ رہا ہے کہ ’ گٹھ بندھن ‘ پہلے آپس میں لڑ لے ، پھر بی جے پی سے لڑنے کی سوچے ۔ بات بڑی حد تک سچ بھی ہے ، اگر یہ آپس ہی میں لڑتے رہے تو بی جے پی اور اس کی حلیف سیاسی پارٹیوں کے لیے راستہ صاف ہو جائے گا اور اُن کے لیے جیت آسان ہو جائے گی ۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا کوئی بہت مشکل نہیں ہے ۔ دراصل اب اصولوں کی سیاست نے دَم توڑ دیا ہے ، اور سیاست کا مطلب ’اقتدار پر کسی بھی طرح قابض ہونے کی حرص ‘ اور ’ وزارتِ عظمیٰ و وزارتِ اعلیٰ کی کرسیوں پر متمکن ہونے کی لالچ ‘ بن گیا ہے ۔ پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی قابل امیدوار ہے ، تو اس امیدوار کی حریف سیاسی پارٹی بھی احتراماً اس کے خلاف اپنا امیدوار اتارنے سے احتراز کرتی تھی ۔ لیکن اب امیدوار کی قابلیت سیاسی پارٹیوں کی نظر میں بے معنیٰ ہو گئی ہے ، اب اُسے ایسے امیدوار چاہیے جو الیکشن جیتنے کے لیے دولت کا منھ بھی کھول سکیں ، اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ بھی کر سکیں ۔ اسی لیے اب سیاسی پارٹیوں کے ایسے امیدوار نظر آتے ہیں جن پر کئی کئی مجرمانہ معاملات درج ہوتے ہیں ۔ چونکہ انہیں اپنی جیت کا یقین ہوتا ہے ، اور یہ سیاسی پارٹیوں کو ہر طرح سے ’ امداد ‘ کا یقین دلاتے ہیں ، اس لیے سیاسی پارٹیاں انہیں امیدواری دینے کے لیے ’ اتحاد کے اصولوں ‘ تک کی پرواہ نہیں کرتیں ۔ مزید یہ کہ خود سیاسی پارٹیوں کے جو سربراہ ہوتے ہیں ، جیسے کہ بہار میں تیجسوی ، نتیش کمار وغیرہ ، انہیں وزیر اعلیٰ کی گدی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ، اور زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے چکّر میں ، تاکہ وہی وزیر اعلیٰ بنیں ، ان کی حلیف سیاسی جماعتوں سے کوئی دعویٰ نہ کر سکے ، یہ گٹھ بندھن کے اصولوں کو روند دیتے ہیں ۔ مہا گٹھ بندھن ’ ووٹ چور ، گدّی چھوڑ ‘ کا نعرہ لگا رہا تھا ، اور بات سیکولرزم و غریبوں کی ہو رہی تھی ، عزم تھا کہ اِس بار بی جے پی کی نتیش کمار کی قیادت والی سرکار کو اکھاڑ پھینکیں گے ، لیکن جس طرح سے گٹھ بندھن میں سَر پھٹّول ہے ، اُسے دیکھ کر اگر یہ کہا جائے کہ ساری باتیں اور دعوے بس ہوائی تھے ، تو غلط نہیں ہوگا ۔ سچ یہی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو نہ فرقہ پرستوں اور فرقہ پرستی کا سَر کچلنے کی فکر ہے ، نہ ہی عام لوگوں کو راحت پہنچانے کی ، انہیں بَس اپنی فکر ہے ، کہ کِسی طرح بھی بازی ان کے ہاتھ میں رہے ۔ اگر آنے والے چند دنوں کے اندر مہا گٹھ بندھن نے اپنی لڑائی پر قابو نہیں پایا ، اور چند ایک دوسرے کے خلاف کھڑے کیے گیے امیدواروں کو ’ سمجھوتہ ‘ کرکے کسی ایک امیدوار کے حق میں فیصلہ نہیں کیا ، تو بی جے پی کو ہرانے کا سپنا سپنا ہی رہے گا ۔ این ڈی اے میں بھی لڑائی ہے ، مگر وہاں مسٔلہ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جو گٹھ بندھن میں نظر نہیں آ رہی ہے ۔______________مائکروفکشن پر دو مائکرو نوٹ ~~~~~~~~~~~~~~~~~تحریر : سید تحسین گیلانیمدیر انہماک ۔ ۔۔۔۔۔۔مائکروفکشن ؟۔۔۔۔ایک مائکرو نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔مائکرو سمال کے meanings میں نہیں میں مائکرو کو Large کے معنی میں استعمال کر رہا Micro is Like a micro chip ..That can store million books in a small device!!Just a micro fiction should be like that !!ایک متن جو خرد ناول کا لطف دے -یعنی ایک ایسا متن جو ہر سطر میں ایک کہانی ہو کم میں زیادہ کہنے سے عبارت ہو - یوں اردو میں ہم اسے ایک ایسا متن دیکھتے ہیں جو 300 سے 500 الفاظ پر مشتمل ہو (ایک متفقہ طے حد از مکالمہ) ایک ایسا text جس کی ہر سطر سے کہانی پھوٹے لیکن جو آکر بنیادی کہانی سے ہی جڑت کرے ۔۔۔ ایک ایسا متن جو ہزار داستان لیے ہو جو مائکرو ہو لیکن اس کا وژن میکرو ہو ۔ اور ایک ایسا متن جو Apooria تعطل / معمہ کا عمدہ نمونہ ہو ۔افتراق و التوا اس متن کی ساخت پر مسلط ہو کہ فکشن تکشیکی حالتوں سے دوچار ہوتا اپنے signifier اور signified میں ثنویت کا حامل ہو بیک وقت کئی کہانیوں کو چھوتا ہو ایسا متن جو ہر سطر کے متن کو جذب کرتا ہوا اس کی تقلیب بھی کرے ۔اور کلی حیثیت میں بھی قاری اس متن کے بعد ایک نئی فکر سے جڑے اور اپنے آپ میں کئی متون کو بیک وقت سموئے ہوئے ہو پرت در پر معنی کے نئے در وا ہوتے چلے جائیں ...لیکن جو کہا جائے فکشن کے بھیتر کہا جائے۔ یہ اس کے ابتدائی نقوش ہیں ...بنیادی تفاصیل الگ ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : ستیہ پال آنند ۔۔۔۔۔۔ امریکہ 🌹 مائکروفکشن کی بات 🌹مائکرو فکشن، یعنی مختصر ترین افسانہ اردو مین انگریزی سے براہ راست اقرار باللسان کی طرح قبول کی گئ ایک ایسی اصطلاح ہے، جس کی اشد ضرورت تھی۔ "افسانچہ" یا "؛پوپ افسانہ" اس کے لیے موزوں عنوان نہیں تھا کہ ان میں طوالت ایک غیر طے شدہ امر ہے ۔۔۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کےوسط تک طویل ناول اور افسانے تحریر کیے جاتے تھے، جوں جوں فرصت کے لمحے کم پڑتے گئے اور ایک ہی نشست میں (یعنی بس یا میٹرو پر سفر کرتے ہوئے ۔۔ وغیرہ) مطالعہ میں کسی افسانے کو آخری پنچ لائن تک پڑھ لینا ایک امر محال بنتا گیا ، ضورت محسوس کی گئی کہ طوالت میں مختصر ترین تحریر میں بھی وہ جامع خوبیاں برقرار رکھتے ہوئے، جن پر طویل افسانوں کا تکیہ تھا، اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ نہ تو قاری آخر میں تشنگی محسوس کرے اور نہ ہی اس کےوقت کا ضیاع ہو ۔۔۔ افسانے عموماً plot-oriented or character oriented ہوتے ہیں،( حالانکہ یہ پارینہ اور کسی حد تک آج کے تناظر میں فرسودہ اصطلاحیں ہیں ، تو بھی ان کے توسط سے جو بات میں کہنا چاہتا ہوں، کہی جا سکتی ہے۔ ) ان دونوں اقسام کےافسانوں میں بیانیہ،(ذکر، تذکرہ ،تشریح، یا اشارہ، کنایہ ، سرگوشی، بات چیت) اور مکالمہ (اعتراف، انکشاف، اظہار،اطلاع، دو بدو اعلائے کلمۃ الحق، یا مونولاگ میں خود سے مشاورت،)، یعنی ہر وہ tool جو طویل افسانوں میں موجود تھا، قائم رہتا ہے۔ نفس مضمون، خیال بندی، معاملہ بندی، سب موجود و حاضر رہتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے (اور یہ بے حد ضروری ہے) کہ قلمکار اپنی کاسٹ، افرادِ ِ قصہ، پس منظر اور پیش منظر کو انکشاف exposition کی سطح پر مختصر ترین رکھے ۔۔۔ اس لحاظ سے یہ صنف، زمانہ حال و مستقبل، یکساں طور پر دونوں کی صنف ہے۔________نظم 🪷 سیندور🪷 سوچتی ہوں کہ، سیندور اِتنا دلکش کیوں ہوتاہے ،؟؟؟اور دل كش ہوتاہے تُو اِتنا بولتا کیوں ہے ؟؟ اور جب خاموش ہوتاہے تُو اپنے اندر اتنی کہانیاں کیوں پوشیدہ رکھتا ہے ؟؟؟جس لمحے میں اس نے میری مانگ میں لال رنگ کاری کی تھی ،میرے اندر ٹہر گیا وہ مقدس لمحہ ، ،اور قوس قزح کے دھنک رنگِ میری ذندگی میں شامل ہو گئے ،میری مانگ چاند تاروں سے سج گئی ،دعاء نے مُحبت کا روپ دھار لیا ،سیندور فقط ایک سرخ رنگ نہیں ،کسی کے لمس کی گواہی ہے ،مُحبت کی خوشبو ہے ،کہ کوئی تو اپنا ہے صرف اپنا ،جو سانسوں کے ساتھ جڑا ہے ،کہ کوئی تو ہے ،جس نے میری سونی سوئی ہوئی شام میں دریافت کے گجرے اور محبتوں کی پائل باندھ دی ہے ،مگر سیندور تیرے بھی کتنے روپ بہروپ ہیں ،کبھی ابدی دولہا دلہن ہونے کی گواہی ،کبھی اُداسی، کبھی آنسو ،کبھی سنگار اور پیا ملن کی آس ،جتنے بھی روپ ھوں سیندور تیرے ،،مگر نہ تُو مٹتا ہے نہ پھیکا پڑتاہے ،جب محبتین اپنا رخ بدل لیتی ہیں تب بھی سہاگن سیندور لگاتی ہیں،اس ابدی محبت کی گواہی کے لئے ،کہ میں خود اپنی تکمیل ھوں اور روح کی روشنی اور خود اعتمادی کی بھی ۔۔۔۔۔ Dr Mumtaz_________کلکتہ احسان فرَاموش ہے-🔴پرسن کُمار مکھوپادھیائے 🔴ناشکرے کلکتہ، تم اپنی ترقی اور اپنے نظم و نسق سے چمٹے ہوئے ہو________تم آرام سے بیٹھے ہوئے ہو، اپنی للت کلاؤں، رابندر سدن، کلا مندر کے بیج، اور تمہارے نیچے، باغی جوانوں کی لاشیں، لہواور ہڈیاں دَبی ہوئی ہیں، فٹ پاتھ پر، حوالاتوں میں-تمہارے مہذب شہریبھکاری کے چولھے پر ہر روز پانی انڈیل دیتے۔ ہیں_______اور ہوائی حملوں کا کوپ جاری رہتا ہےبلیک آوٹ کی مشقوں کے ساتھ-انھیں اس سب کا مزہ لینے دو "امن دستے کے، لوگوں نے کس طرح کسان لڑکیوں کی عصّمت دری کیجبکہ وہ انھی کے لیے چاول چھپا کر لائی تھیں---" انھیں سب کا مزہ لینے دو______نوکری سے نکالا ہوا مزدور کس طرح بھاگ کھڑا ہوا پولیس کی گاڑی دیکھتے ہی فٹ پاتھ پر اپنی لوٹ کا مال چھوڑ کر----انھیں مزہ لینے دو____آج اس سب کا مزہ لینے دو اس لیے کہ لہو سے سینچی دھان کی کھیتی کسان کی کٹیا تک پہنچ نہ سکےاس لیے کہ استحصال جاری رہے اور درندے پنپتے رہیں، ہر گاؤں کو ابھی کچھ اور چاہیے____(اب ہم چپ ہو جائیں) اور اسی کارن یہ ضروری ہے کہ شہروں کا نظم و نسق قائم رہےپس کلکتہ_______تم اپنی ترقی، اپنے نظم و نسق سے چمٹے رہواپنے یوُاوانی سمینار، باٹک، ڈہلیا، اور روزمرہ کے دوسروں درشنوں سے ⚫⚫⚫(پرسن کمُار مکھوپادھیائے:-چھٹے دہے کے ایک معروف شاعر تھے نئی بنگالی شاعری کو ایک واضح سمیت دینے میں سرگرم رہے ) 🔴شہر خوں آشام "سے،(شیم حنفی ) ناشر و طابع:-بَلراج مین رَاء شعور" پبلیکیشنز نئی دہلیانتخاب و ٹایپنگ⚫احمد نعیم مالیگاؤں ممبئی بھارت
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل