Saturday, 21 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*





’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک ہے لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ ’خاموش قاتل‘ آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور دماغی ساخت کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ جس کا اندازہ اکثر بروقت نہیں ہو پاتا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طبی زبان میں ’ہائپر ٹینشن‘ کہلانے والا یہ مرض ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کی شریانوں پر دباؤ مسلسل زیادہ رہتا ہے۔
چونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے مریض برسوں تک اس سے بے خبر رہ سکتا ہے مگر اس دوران یہ جسم کے سب سے حساس حصے یعنی دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔
انسانی دماغ کا وزن پورے جسم کے کل وزن کا محض دو فیصد ہوتا ہے لیکن اسے کام کرنے کے لیے جسم کی کل آکسیجن اور خون کی فراہمی کا تقریباً 20 فیصد حصہ درکار ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خون کی گردش میں معمولی سی رکاوٹ بھی دماغی خلیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر دماغ پر درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے:
فالج کا خطرہ
بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں جسے ’ایتھیروسکلروسیس‘ کہا جاتا ہے۔ اگر خون کا کوئی لوتھڑا (Clot) دماغ کی کسی تنگ شریان میں پھنس جائے یا دباؤ کی وجہ سے شریان پھٹ جائے تو یہ فالج کا سبب بنتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مستقل معذوری یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
ذہنی صلاحیتوں میں کمی
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنے والے افراد میں آگے چل کر ’ڈیمنشیا‘ یا بھولنے کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون کی روانی متاثر ہونے سے ’واسکولر ڈیمنشیا‘ جنم لیتا ہے جس میں یادداشت، منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔
چھوٹے سٹروک
انہیں ’منی سٹروک‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتے ہیں جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی سپلائی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ اگرچہ یہ چند منٹوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن یہ اس بات کی علامت ہیں کہ مستقبل میں ایک بڑا فالج دستک دے رہا ہے۔
دماغ کا سکڑنا
طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہنے سے دماغ کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ خاص طور پر ’ہپوکیمپس‘ جو یادداشت کا مرکز ہے، تیزی سے سکڑنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کی گہرائی میں موجود باریک شریانیں متاثر ہوتی ہیں، جس سے ’وائٹ میٹر‘ کو نقصان پہنچتا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کے اثرات صرف سر تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے گردے اور آنکھیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ گردوں کی باریک شریانیں متاثر ہونے سے وہ خون صاف کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں جو ڈائلیسس کی نوبت لا سکتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر سے آنکھوں کے پردے کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں جس سے بینائی مستقل طور پر جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی میں چند سادہ تبدیلیوں سے اس ’خاموش قاتل‘ کو قابو کیا جا سکتا ہے۔
غذا میں نمک کا استعمال کم کریں اور پھل، سبزیاں اور اناج اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ پروسیس شدہ اور پیکٹ والے کھانوں سے پرہیز کریں۔
ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل ورزش (جیسے تیز چلنا یا تیراکی) بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں جادوئی اثر رکھتی ہے۔
ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے یوگا یا گہرے سانس لینے کی مشقیں کریں۔ موٹاپا بلڈ پریشر کا بڑا دشمن ہے۔
گھر پر بلڈ پریشر چیک کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ کسی بھی تبدیلی کا فوری علم ہو سکے۔اگر ڈاکٹر نے ادویات تجویز کی ہیں تو انہیں وقت پر لیں۔ بلڈ پریشر نارمل محسوس ہونے پر بھی خود سے دوا ترک نہ کریں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ آج اپنے بلڈ پریشر کو قابو کر لیتے ہیں تو آپ نہ صرف فالج بلکہ بڑھاپے میں یادداشت کھونے کے سنگین خطرات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔









پی ایم مودی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے کی بات، مغربی ایشیا میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کو عید اور نوروز کی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ تہوار کا موسم مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی لائے گا۔ ایرانی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں، وزیر اعظم مودی نے خطے میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی، جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ ہے اور عالمی سپلائی چین میں خلل پڑتا ہے۔ انہوں نے نیوی گیشن کی آزادی کے تحفظ کی اہمیت کا اعادہ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ شپنگ لین کھلی اور محفوظ رہیں۔

وزیر اعظم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا "صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے بات کی اور عید اور نوروز کی مبارکباد دی۔ ہم نے امید ظاہر کی کہ تہوار کا موسم مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی لائے گا،"۔ انہوں نے کہا، "ہم خطے میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، جو علاقائی استحکام کو خطرہ اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں۔" وزیر اعظم نے ایران میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لئے ایران کی مسلسل حمایت کی بھی تعریف کی۔موجودہ تنازع شروع ہونے کے بعد وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر کے درمیان یہ دوسری ٹیلی فون پر بات چیت تھی۔ 12 مارچ کو ایرانی صدر پیزشکیان نے وزیر اعظم مودی کو ایران کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور خطے میں حالیہ پیش رفت پر اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق، وزیر اعظم نے خطے میں سلامتی کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ہندوستان کے اس موقف کو دہرایا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے اپنے پڑوسیوں اور اسرائیل کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی۔

ایران آبنائے ہرمز کو بھی کنٹرول کرتا ہے، جو ایک اہم سمندری نقل و حمل کا راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کی توانائی کی مصنوعات کا 20 فیصد نقل و حمل کیا جاتا ہے۔ تنازع کے بعد سے، ایران نے بہت کم جہازوں کو اس کی نقل و حمل کی اجازت دی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے کئی ممالک کے رہنماؤں سے بھی بات کی ہے۔ ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، اردن، فرانس اور ملائیشیا کے رہنما شامل ہیں۔








عید پر بہترین اشعار: ان خوبصورت اشعار کے ساتھ دیں مبارک باد
حیدرآباد (نیوز ڈیسک): عید الفطر کے پُرمسرت موقعے پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینے، خوبصورت پیغامات لکھنے یا کسی سے اپنے دل کی بات کہنے کے لیے درج ذیل منتخب اشعار کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے مختلف شعراء کے چنندہ اشعار:

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے

محمد اسد اللہ

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

قمر بدایونی

وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو

ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو

مصحفی غلام ہمدانی

اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا

یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے

دلاور علی آزر

ہم نے تجھے دیکھا نہیں کیا عید منائیں

جس نے تجھے دیکھا ہو اسے عید مبارک

لیاقت علی عاصم

راس آ جاتیں ہمیں بھی عید کی خوشیاں تمام

کاش تو بھی پاس ہوتا عید کے لمحات میں

نامعلوم

اے ہوا تو ہی اسے عید مبارک کہیو

اور کہیو کہ کوئی یاد کیا کرتا ہے

تری پراری

عید اب کے بھی گئی یوں ہی کسی نے نہ کہا

کہ ترے یار کو ہم تجھ سے ملا دیتے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

جہاں نہ اپنے عزیزوں کی دید ہوتی ہے

زمین ہجر پہ بھی کوئی عید ہوتی ہے

عین تابش

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی

اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں

نامعلوم

*🛑سیف نیوز اُردو*


جے پور عیدگاہ میں انوکھی تصویر، نماز کے بعد پھولوں کی بارش، گنگا جمنی تہذیب کی نظر آئی مثال
 : راجستھان کی راجدھانی جے پور کی عیدگاہ میں عید الفطر کے موقع پر ایک بار پھر گنگا-جمنی تہذیب اور ہندو-مسلم اتحاد کی ایک انوکھی مثال دیکھنے کو ملی۔ ہزاروں کی تعداد میں مسلم برادری کے لوگوں نے یہاں جمع ہو کر عید کی نماز ادا کی۔ نماز کے دوران پورے علاقے میں جوش، خوشی اور عقیدت کا ماحول قائم رہا، لیکن اس بار کی عید خاص اس لیے رہی کیونکہ یہاں بھائی چارے کا ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے سب کا دل جیت لیا۔

عیدگاہ میں نماز کے دوران مختلف ہندو تنظیموں کے نمائندے بھی پہنچے۔ جیسے ہی نماز مکمل ہوئی، انہوں نے مسلم نمازیوں پر پھولوں کی بارش کی۔ پھولوں کی خوشبو کے ساتھ پورے احاطے میں محبت، ہم آہنگی اور باہمی احترام کا ماحول بن گیا۔ اس اقدام نے نہ صرف موجود لوگوں کو جذباتی کر دیا بلکہ سماج کو ایک مضبوط پیغام بھی دیا کہ مذاہب الگ ہو سکتے ہیں، لیکن انسانیت سب سے بڑھ کر ہے۔ہندو-مسلم ایکتا منچ کی جانب سے پہل
یہ پہل ہندو-مسلم ایکتا منچ کی جانب سے ہر سال کی طرح اس بار بھی کی گئی۔ اس منچ کے اراکین ہر مذہبی تہوار پر ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہو کر بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔ عید کے موقع پر کئی کوئنٹل پھول لے کر پہنچے لوگوں نے نماز کے بعد نمازیوں پر پھول برسائے اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔ دوسری جانب مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے بھی اس پہل کا خیرمقدم کیا اور سب کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔سماجی ہم آہنگی اور اعتماد کو مضبوط بنایا
قابل ذکر ہے کہ یہ روایت صرف عید تک محدود نہیں ہے۔ مسلم برادری کی جانب سے بھی رام نومی، ہولی اور دیوالی جیسے ہندو تہواروں پر اسی طرح پھولوں کی بارش کر کے مبارکباد دی جاتی رہی ہے۔ اس نے جے پور میں سماجی ہم آہنگی اور اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ جے پور میں ہندو-مسلم ایکتا منچ کی اس پہل نے باہمی محبت، احترام اور اتحاد کا پیغام دیا۔








’اب کوئی جنگ بندی نہیں، جنگ ہی صحیح‘، ایران کا بڑا بیان، ٹرمپ کو للکارا
تہران: امریکہ - ایران میں جاری جنگ اب اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ 22ویں دن بھی نہ تو امریکہ پیچھے ہٹنے کو تیار ہے اور نہ ہی ایران کسی جنگ بندی کے لیے راضی ہے۔ دونوں طرف سے آئے سخت بیانات نے صاف اشارہ دیا ہے کہ یہ ٹکراؤ اب طویل ہونے کے ساتھ اور جارحانہ ہونے والا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سیز فائر کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جبکہ ان کے اس بیان کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہا کہ تہران کسی بھی حالت میں سیز فائر قبول نہیں کرے گا۔

کیوڈو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ ‘ہم سیز فائر قبول نہیں کریں گے، کیونکہ ہم پچھلے سال جیسی صورتحال دہرانا نہیں چاہتے۔’ اس بیان سے یہ صاف اشارہ ملتا ہے کہ ایران اب کسی بھی طرح کی سفارتی چال میں پھننسنے سے بچنا چاہتا ہے اور مکمل طور پر سخت موقف اپنا چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا سیز فائر سے انکار
ایران کا یہ موقف ایسے وقت آیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی سیز فائر کو خارج کر چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جمعہ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘جب آپ دوسرے فریق کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہوں، تب سیز فائر نہیں کیا جاتا۔’ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی عسکری طاقت کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ایران کے پاس اب نہ بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی کوئی بڑی عسکری صلاحیت۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘ہم نے ان کی نیوی، ایئر فورس اور ایئر ڈیفنس سب ختم کر دیے ہیں۔’نیٹو پر بھی بھڑک اٹھے ٹرمپ
اس درمیان ٹرمپ نے اپنے شراکت داروں پر بھی نشانہ سادھا۔ انہوں نے نیٹو ممالک کو ‘ڈرپوک’ بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے بغیر یہ اتحاد صرف ‘کاغذی شیر’ ہے۔ یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ-ایران جنگ میں ٹرمپ کو اپنے روایتی شراکت داروں سے اتنا تعاون نہیں ملا، جتنا کہ انہیں توقع تھی۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان ٹکراؤ اور بڑھ گیا ہے۔ ایران نے صاف کہا ہے کہ یہ بحری راستہ صرف ‘دشمن جہازوں’ کے لیے بند کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2 مارچ کو ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اس اہم راستے کو بند کر دیا تھا۔











‘اللہ آپ کو آشیرواد دے’، عید کے موقع پر ممتا بنرجی کا پیغام، وہیں کالی گھاٹ پہنچے شوبھیندو ادھیکاری
کولکاتہ : مغربی بنگال میں جیسے جیسے اسمبلی انتخابات کی تاریخیں قریب آ رہی ہیں، دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ مندر–مسجد کی سیاست کا رنگ بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ عید کے موقع پر اس کی واضح جھلک نظر آئی۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی عید کی نماز میں شامل ہوئیں، تو دوسری طرف بی جے پی کے سینئر لیڈر شوبھیندو ادھیکاری کالی گھاٹ مندر جا کر پوجا ارچنا کی۔ اس طرح ریاست میں ووٹنگ سے پہلے بی جے پی اور برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس نے اپنا ایجنڈا صاف کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا نے عید کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری رضا اسی میں ہے کہ بی جے پی ہٹاؤ، دیش بچاؤ۔ وہیں بی جے پی رہنما شوبھندو ادھیکاری نے کالی گھاٹ میں پوجا کے بعد کہا کہ ریاست میں دراندازی کر کے بنگلہ دیشی دراندازوں نے بہت ظلم کیا ہے۔ بنگال انتخابات میں دراندازی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر کولکاتہ کے ریڈ روڈ پر منعقد ایک بڑے مذہبی پروگرام میں ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی مسائل پر کھل کر اپنی بات رکھی۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے نماز ادا کی اور پروگرام میں پُرجوش ماحول دیکھنے کو ملا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب کا آغاز سب کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بارش کو وہ اللہ کی برکت مانتی ہیں اور یہ لوگوں کی پریشانیوں کے ختم ہونے کی علامت ہے۔ انہوں نے ریاست اور ملک کی ترقی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور بنگال دونوں آگے بڑھیں۔بی جے پی پر براہِ راست حملہ
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی تقریر میں مرکزی حکومت اور بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ “ہمارا ایک ہی ارادہ ہے – بی جے پی کو ہٹانا اور ملک کی حفاظت کرنا۔” انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے دوران کئی لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں، جس کے خلاف وہ عدالتوں تک گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ “ہم اپنے حقوق کسی کو نہیں لینے دیں گے۔ ہم دہلی سے لے کر سپریم کورٹ تک لڑائی لڑیں گے۔” اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ “ہم ڈریں گے نہیں۔ جو ڈرتے ہیں وہ مرتے ہیں، لیکن جو لڑتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔” انہوں نے لوگوں سے متحد رہنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔کالی گھاٹ پہنچے شوبھیندو ادھیکاری
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی ماحول گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاست میں اپوزیشن کے لیڈر اور بی جے پی کے سینئر رہنما شوبھیندو ادھیکاری ہفتہ کے روز کالی گھاٹ مندر پہنچے اور پوجا ارچنا کر کے ماں کالی کا آشیرواد لیا۔ اس دوران انہوں نے ریاست میں سیاسی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماں سے طاقت مانگی ہے اور بنگال میں تبدیلی کی لہر چل رہی ہے۔

Friday, 20 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


پروٹین حاصل کرنے کے لیے کون کون سے پھل کھانے چاہییں؟
امرُود: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 4.2 گرام
امرُود گرم علاقوں کا پھل ہے جو میکسیکو، وسطی امریکہ، کیریبین اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ اس میں پروٹین کی مقدار انڈے کی سفیدی سے بھی تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔
امرُود میں مالٹے کے مقابلے میں وٹامن سی چار گنا زیادہ ہوتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت سے بھی زیادہ ہے۔
چونکہ امرود کی زیادہ تر غذائیت اس کے چھلکے میں ہوتی ہے، اس لیے آپ اسے چھیلے بغیر ثابت کھا سکتے ہیں۔
ایوکاڈو: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 3 گرام
ایوکاڈو کا شمار پروٹین سے بھرپور پھلوں میں ہوتا ہے۔ ایک کپ ایوکاڈو میں قریباً آدھی مقدار بادام کے برابر پروٹین موجود ہوتی ہے۔
اس میں 22 گرام صحت مند ’مونو اَن سیچوریٹڈ فیٹ‘ (غیر سیرشدہ چکنائی یا صحت مند چکنائی) ہوتی ہیں جو دل اور دماغ کے لیے مفید ہے۔
ایک کپ ایوکاڈو روزانہ کی فائبر کی ضرورت کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔
انار: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.9 گرام
انار کو تیار کرنے میں تھوڑی محنت درکار ہوتی ہے، لیکن اس کے بہت فائدے ہوتے ہیں۔ اس کے بیج کھانے کے قابل ہوتے ہیں جن میں کچھ مقدار میں پروٹین موجود ہوتی ہے۔
انار کو ’سُپرفوڈ‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ غذائی اجزاء سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔انار کھانے کے لیے بیجوں کو جِھلی اور چھلکے سے الگ کریں۔
خوبانی: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.3 گرام
خوبانی دیکھنے میں آڑو جیسی نظر آتی ہے۔ اس کا ذائقہ ہلکا سا کھٹا میٹھا ہوتا ہے، جسے کچھ لوگ آڑو اور آلو بخارے کے ملاپ جیسا کہتے ہیں۔
خوبانی میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، جو ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے اور اسے نارنجی رنگ دیتا ہے۔ بیٹا کیروٹین آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہے اور میکیولر ڈی جنریشن جیسی بیماری کے خلاف مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
خوبانی کا چھلکا کھانے کے قابل ہوتا ہے، اس لیے اسے چھیلنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اسے ثابت کھا سکتے ہیں۔
کیوی فروٹ: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.1 گرام
کیوی ایک چھوٹا مگر طاقتور پھل ہے جو وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن ای اور فولیٹ بھی ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام، نظامِ ہضم اور میٹابولزم کے لیے مفید ہیں۔
ایک کپ کیوی میں 5.4 گرام فائبر بھی ہوتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو اضافی فائبر کے لیے کیوی کو چھلکے سمیت کھا سکتے ہیں، ورنہ چھیل کر کاٹ لیں اور کھانے کا لُطف اٹھائیں۔









ایران-امریکہ جنگ میں شدت، 16 امریکی طیاروں کی تباہی کا دعویٰ،ایران نےکہا- F-35 بھی نشانے پر
نئی دہلی :ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تقریباً 20 دنوں سے جاری اس تنازع میں امریکہ کو بھاری فوجی نقصان اٹھانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک امریکی فوج کے کئی جدید طیارے اور ڈرون تباہ ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 لائٹننگ II کو بھی ایرانی حملے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔یہ جنگ 28 فروری 2026 کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان، ایران کی دفاعی طاقت برقرار

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کم از کم 16 امریکی فوجی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جن میں ڈرون اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ ان میں سے 10 MQ-9 ریپر ڈرون ایرانی فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ میں مار گرائے گئے، جن میں سے 9 فضا میں تباہ ہوئے جبکہ ایک ڈرون اردن کے ایک ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں نشانہ بنا۔ مزید دو ڈرون حادثات میں بھی تباہ ہوئے۔حادثات بھی نقصان کی بڑی وجہ بنے۔ کویت میں تین F-15 ایگل لڑاکا طیارے مبینہ طور پر اپنی ہی فوج کی فائرنگ (فرینڈلی فائر) کا شکار ہو گئے، جبکہ ایک KC-135 اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بھرنے کے دوران تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سعودی عرب کے ایک ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے میں پانچ KC-135 طیارے بھی متاثر ہوئے۔

ابتدائی کوششوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل ایران کے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے میں ناکام رہے ہیں اور ایران اب بھی مضبوط دفاعی پوزیشن میں ہے۔ ایک امریکی F-35 طیارہ بھی ایرانی حملے کے بعد ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔امریکی فوجی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکا۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے فوجی آپریشنز اور مسلسل پروازوں میں اضافہ بھی نقصانات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں کی حفاظت امریکہ کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں ایران کا فضائی دفاعی نظام مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔









نیتن یاہو نے کہا اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں نہیں گھسیٹا ، ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کا کیا دعویٰ
وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں نہیں گھسیٹا ہے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنگ میں ایران کو نقصان پہنچا ہے اس کے پاس یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے اور نہ ہی وہ بیلسٹک میزائل بناسکتا ہے۔تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔نیتن یاہو کے مطابق،ایران اتنا کمزورپہلے کبھی نہیں رہا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج ایران کے میزائل اور ڈرون کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہی ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق حملوں کا ہدف وہ فیکٹریاں ہیں جو میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے لیے پرزے تیار کرتی ہیں۔جمعرات کے روزتل ابیب میں پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران جنگ لوگوں کی سوچ سے بھی تیزی سے ختم ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پارس پر حملہ اسرائیل نے کیا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید حملوں سے روک دیا ہے۔

ایران میں حکومت کی تبدیلی انحصار عوام پر

ایران میں رجیم کی تبدیلی کے حوالے سے نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آسمان سے آپ انقلاب برپا نہیں کرسکتے۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔
’میں زندہ ہوں‘
نیتن یاہو نے میڈیا کے سامنے آکراپنی موت کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں اور آپ کے سامنے ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جب کہ میں نے اس فرضی خبر کو بے نقاب کر دیا ہے، میں آپ کو ایک اپ ڈیٹ دینا چاہتا ہوں۔ اس آپریشن کا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق خطرے کو ختم کرنا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*




*راہ گیروں کو چلنا ہوا آسان، مصلیوں کو ملی راحت*
*کلیم دلاور، ونعیم دلاور کی کاوشیں ہوئی کامیاب*
مالیگاؤں ،آگرہ روڑ،فیمس ہوٹل کے آگے، مدینہ مسجد کی گلی کے کارنر پر، ایم، ڈی ہوم اپلائنسس کے سامنے، ایک دیو ہیکل وائر تقریباًچار سال کے عرصے سے راستے سے لگ کر پڑا ہوا تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ فلاے اور بریج کی طویل مدتی ہوا اسے بھی چھو کر گزر گئی ہے، کارپوریشن وایم پی سی ایل خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی، آے دن بوڑھے، نوجوان بائیک سوار اور طلبہ وطالبات حادثات کا شکار ہورہے تھے۔اہلیان محلہ مدینہ آباد و مصلیانِ مسجد کو انتہائی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،لیکن اہل اقتدار کو جیسے سانپ سونگ گیا تھا۔ چار سال کے عرصے میں وہ وائر دھوپ کی شدت وبارش کے پانی سے بالکل سخت ہوگیا تھا، مختلف ڈپارٹمنٹ میں کئی عرضیاں داخل کرنے کے بعد بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی، بالآخر رمضان المقدس کے مہینے میں شیخ کلیم دلاور، اور ان کے لائق فرزند شیخ نعیم دلاور نے بوقت افطار لوگوں کی آمد ورفت کی دقتوں کا
بنظرِخود جائزہ لیا، اور دسویں ،بارہویں کے بورڈ کے ایگزام کے لیے جاتے ہوئے طلبہ وطالبات کی پریشانیوں کو محسوس کیا، فوراً راہ گیروں واہلیانِ محلہ کو یقین دلایا، کہ ہم اس جان لیوا وائر کو ہٹانے کی بھر پور کوشش کریں گے، چند دنوں کا وقت لیا، پھر کیا تھا! آپ کی بار بار حاضری وفکر مندی سے ایم پی سی ایل ڈپارٹمنٹ،وکارپوریشن لرز اٹھے، اور بالآخر 15 /مارچ بروز اتوار بعد نمازِ ظہر وہ دیو ہیکل وائر کو راستے سےہٹا کر دم لیا۔اس طرح راہ گیروں ومصلیانِ مسجد نے چار سال کے لمبے عرصے کے بعد راحت کا سانس لیا، شیخ کلیم دلاور، ونعیم دلاور کی اس پرزور وپُر اثر قیادت کی کافی سراہنا کی جارہی ہے، اور دعاؤں سے نوازا جارہا ہے۔









سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں منائی جارہی ہےعید الفطر
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں آج(جمعہ) عیدالفطر مذہبی جوش و جذبے سے منائی جارہی ہے ۔سعودی عرب میں مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ میں نماز عید کے بڑے اور روح پرور اجتماعات ہوئے جن میں لاکھوں افراد نےنماز ادا کی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو عیدالفطر کی مبارکباد دی۔ شاہ سلمان نے عالمی امن واستحکام کیلئےکوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، امت مسلمہ کےلیے امن، سلامتی اور استحکام کی دعا کی۔

دبئی، قطر، بحرین،یمن، کویت، لبنان ،فلسطین،عراق ، ترکیہ اور روس میں بھی آج عید منائی جا رہی ہے۔
مغربی ممالک برطانیہ، فرانس، اسپین،جرمنی سمیت دیگر ممالک میں بھی آج عیدالفطر منائی جارہی ہے۔امریکہ ،کینیڈا اور آسٹریلیا میں آج عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ مراکش اور مصر سمیت افریقی ممالک کے مسلمان بھی آج عید الفطر مذہبی جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔وہیں ہندوستان،پاکستان،بنگلہ دیش، سری لنکا، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں عیدالفطر کل ہو گی۔ ان ممالک میں شوال کا چاند29 رمضان المبارک کو نظر نہیں آیا لہذا ان ممالک میں آج (جمعہ) 30 روزے مکمل کیے جارہے ہیں ۔









مغربی ایشیامیں کشیدگی کے درمیان حکومت نے جاری کیا احکام، تیل اور گیس استعمال کرنے والوں کمپنیوں کودینا ہوگا حساب
مغربی ایشیا میں کشیدگی کے سبب توانائی کے بحران کے درمیان، حکومت نے ملک میں ضروری اشیاء ایکٹ نافذ کیا ہے۔ اس قانون کے تحت پیٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس کی پیداوار، پروسیسنگ، ریفائننگ، اسٹوریج، نقل و حمل، درآمد، برآمد، مارکیٹنگ، تقسیم اور استعمال میں شامل تمام اداروں کو اب اپنا ڈیٹا شیئر کرنا ہوگا۔ ان کمپنیوں کو تمام ڈیٹا پٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (PPAC) کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

اس معاملے سے واقف ایک اہلکار نے بتایا کہ حکومت نے ضروری اشیاء ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت ایک گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پی پی اے سی کو معلومات کو جمع کرنے، تالیف کرنے، دیکھ بھال کرنے اور تجزیہ کرنے کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے وضاحت کی کہ پی پی اے سی وزارت تیل کے لیے ڈیٹا کا محافظ ہے، اور اب تمام کمپنیوں کو اپنے استعمال یا برآمد کے بارے میں معلومات شیئر کرنے کی ضرورت ہوگی۔ایسا حکم کیوں جاری کیا گیا؟
پی پی اے سی کا مینڈیٹ تیل اور گیس کے شعبے سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنا ہےلیکن ایک حالیہ نوٹیفکیشن کے بعد، اب اسے حقیقی وقت میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اعداد و شمار ہنگامی حالات کے لیے حکومت کی منصوبہ بندی میں مدد کرے گا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کے ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت جاری حکم کی کسی بھی خلاف ورزی کو مجرمانہ جرم سمجھا جائے گا اور اس کے نتیجے میں قید ہو سکتی ہے۔

پی این جی میں شفٹ ہو رہے ہیں صارفین
وزارت پٹرولیم کے جوائنٹ سیکرٹری نے بتایا کہ پائپڈ نیچرل گیس اور کمپریسڈ نیچرل گیس کی سپلائی 100 فیصد بے روک ٹوک جاری ہے۔ کمرشل ایل پی جی صارفین کو سی جی ڈی (سٹی گیس ڈسٹری بیوشن) کمپنیوں کے ذریعے مراعات اور تیز رفتار کنکشن فراہم کرکے پی این جی کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 125,000 نئے گھریلو اور کمرشل پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ پچھلے تین دنوں میں 5,600 سے زیادہ ایل پی جی صارفین پی این جی میں شفٹ ہو چکے ہیں۔قطر پر حملہ اور بحران
قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایران کے حملے سے ہندوستان کی مشکلات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ہندوستان کے قطر کے ساتھ بڑے اور طویل مدتی ایل این جی اور ایل پی جی کی فراہمی کے معاہدے ہیں۔ ہندوستان اپنی قدرتی گیس کی کل درآمدات کا تقریباً 47 فیصد قطر سے کرتا ہے۔ ہندوستان بنیادی طور پر مغربی ایشیا سے اپنی توانائی کی فراہمی کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ فی الحال، یہ وینزویلا، روس اور امریکہ سمیت تقریباً 40 ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔ بھارت امریکہ، آسٹریلیا، ناروے اور روس سے قدرتی گیس بھی درآمد کرتا ہے۔ جوائنٹ سکریٹری نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ریاستوں اور مقامی حکام کو شامل کیا گیا ہے۔ ریاستوں نے کنٹرول رومز کو فعال کر دیا ہے اور چھاپوں کو تیز کر دیا ہے۔

Thursday, 19 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

پاکستان کی وہ کون سی میزائل، جس سے ڈر رہا ہے امریکہ؟ تلسی گبارڈ نے جو کہا، اس کی حقیقت جانئے
Which Pakistan Missile is Threat for US: امریکہ کے نشانے پر صرف ایران ہی نہیں بلکہ ہر وہ ملک ہے جس کی میزائل رینج امریکہ تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے اس حوالے سے کھل کر وارننگ دی ہے۔ چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ پاکستان کو بھی ان ممالک کی صف میں رکھا گیا ہے جن کے میزائل سسٹمز امریکی سرزمین کو براہِ راست نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بظاہر اچھے ہیں، لیکن سیکورٹی کے معاملے میں امریکہ پاکستان کو بھی اپنے لیے بڑا جوہری خطرہ سمجھتا ہے۔

خفیہ ادارے کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے کہا: “روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز تیار کر رہے ہیں، جن میں جوہری اور روایتی پے لوڈ شامل ہیں اور جو ہماری سرزمین تک پہنچ سکتے ہیں۔”تلسی گبارڈ ایران کی ٹیکنالوجی اور سال 2035 سے پہلے انٹرکونٹیننٹل بیلسٹک میزائل (ICBM) کی تیاری اور استعمال کی بات کر رہی تھیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائلوں کی طرف بھی توجہ دلائی، جو ICBM بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور جوہری وارہیڈ کے ساتھ امریکہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اب معاملہ صرف ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکہ کی نظر ان تمام ممالک پر ہے جو جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور ایسی میزائلوں کے ذریعے امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن اس میں پاکستان کا نام کیوں شامل ہے؟

پاکستان کی کون سی میزائل سے امریکہ کو خطرہ؟
امریکہ کے نزدیک سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائل ڈیولپمنٹ اب ICBM تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ شاہین-III میزائل کو تکنیکی طور پر تبدیل یا بڑھا کر ICBM بنایا جا سکتا ہے۔

شاہین-III اس وقت تقریباً 2750 کلومیٹر رینج کی میڈیم رینج بیلسٹک میزائل ہے، جو پورے ہندوستان کو کور کرتی ہے۔

بڑے راکٹ موٹرز اور زیادہ تھرو ویٹ کے ساتھ اس کی رینج کو 5500 کلومیٹر سے زیادہ تک بڑھایا جا سکتا ہے، یعنی امریکہ کے اہم حصوں تک۔ گبارڈ نے واضح کیا کہ پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائل ڈیولپمنٹ میں ICBM شامل ہو سکتے ہیں اور وہ امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

شاہین میزائل کی خصوصیات:
پاکستان کی بیلسٹک میزائل سیریز، جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے

نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس نے تیار کی

ٹھوس ایندھن سے چلتی ہے، تیزی سے لانچ ممکن

شاہین-I، شاہین-II، شاہین-III ورژنز

رینج تقریباً 750 کلومیٹر سے 2750 کلومیٹر تک

موبائل لانچر سے فائر کی جا سکتی ہے

اعلیٰ درستگی اور تیز رفتار اس کی خاصیت ہے

پاکستان کی جوہری دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ، باقاعدہ تجربات کے ذریعے اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاتا ہے

پاکستان پر امریکہ کی نظر کیوں ہے؟
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے عسکری معاہدے کے باعث خلیجی تنازع میں الجھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھی تو پاکستان کو دو محاذوں پر لڑنا پڑ سکتا ہے، اور ایسے میں ICBM کا آپشن امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا۔ شاہین-III کو ICBM میں تبدیل کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان اب صرف ہندوستان تک محدود جوہری ڈیٹیرنس سے آگے نکل چکا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ ایک ابھرتا ہوا خطرہ بن چکا ہے، اور تلسی گبارڈ نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کے میزائل پروگرام کی رفتار تیز ہے اور آنے والے چند سالوں میں یہ امریکہ تک پہنچنے کے قابل ہو سکتا ہے۔یہ بیان صرف ایک وارننگ نہیں بلکہ امریکی پالیسی میں ایک نیا موڑ بھی ہے۔ تلسی گبارڈ نے پاکستان کو چین کے برابر رکھ کر واضح اشارہ دیا ہے کہ اب واشنگٹن اسلام آباد کی میزائل خواہشات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اگر شاہین-III کو ICBM میں تبدیل کیا گیا تو عالمی نقشہ بدل سکتا ہے۔ تلسی گبارڈ کا پیغام واضح ہے کہ پاکستان اب صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک عالمی جوہری خطرہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔






دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست: فن لینڈ پہلے اور افغانستان آخری نمبر پر
ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 کے مطابق فن لینڈ مسلسل اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا ہے۔
اس بار درجہ بندی میں صرف نارڈک ممالک کی برتری ہی نہیں بلکہ کچھ غیر متوقع نتائج بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر خوشی کے تصور کو نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کوسٹا ریکا چوتھے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ میکسیکو بھی کئی امیر ممالک سے آگے نکل گیا ہے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ خوشی کا تعلق صرف آمدن سے نہیں بلکہ سماجی اعتماد، کمیونٹی اور روزمرہ زندگی کے معیار سے بھی ہے۔
رپورٹ میں نقشے کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں خوشی کی سطح کا موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
فن لینڈ 10 میں سے 7.8 سکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جو اس کی طویل عرصے سے جاری برتری کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب کوسٹا ریکا اور میکسیکو اس فہرست میں آئرلینڈ، آسٹریلیا اور جرمنی جیسے زیادہ آمدن والے ممالک سے بھی آگے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سماجی تعلقات، کمیونٹی اور طرز زندگی جیسے عوامل بھی خوشی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو صرف جی ڈی پی سے نہیں ناپے جا سکتے۔
یہ درجہ بندی کینٹرل لیڈر کے ذریعے کی گئی ہے، جس میں 0 سے 10 کے پیمانے پر افراد اپنی زندگی کا خود جائزہ دیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں 147 ممالک اور ایک لاکھ سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل ہے، جبکہ 2023 سے 2025 تک کے اوسط سکورز کو استعمال کیا گیا تاکہ زیادہ درست نتائج حاصل کیے جا سکیں اور سیمپلز کی غلطی کو کم کیا جا سکے۔امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور مغربی یورپ کے کئی ممالک 6.7 سے 6.9 کے محدود دائرے میں آ گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ممالک میں خوشی کی سطح ایک حد پر جا کر رک گئی ہے۔ دوسری جانب مشرقی یورپ کے ممالک جیسے پولینڈ اور ایسٹونیا مسلسل بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو بہتر ہوتے معیارِ زندگی اور سماجی حالات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایشیا میں تائیوان 26 ویں نمبر کے ساتھ خطے کا سب سے خوش ملک ہے، جبکہ جاپان 61ویں اور چین 65ویں نمبر پر ہیں۔ افریقہ میں ماریشس سرفہرست ہے، جہاں نسبتاً کم بدعنوانی اور زیادہ متوقع عمر جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برصغیر کا ذکر کیا جائے تو 104 نمبر پر پاکستان ہے جس کا ہیپی نیس سکور 4.9 ہے، جبکہ انڈیا 116ویں نمبر پر ہے اور اس کا سکور 4.5 ہے۔
ہیپی نیس انڈیکس کی فہرست کے 147ویں اور آخری نمبر پر افغانستان ہے جس کا سکور 1.4 ہے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں خوشی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے باعث۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر کی اس رپورٹ کے مطابق انگریزی بولنے والے ممالک اور مغربی یورپ میں نوجوان لڑکیوں پر اس کے اثرات زیادہ تشویشناک ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں 25 سال سے کم عمر افراد کی زندگی سے اطمینان کی سطح گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا ہے۔ کوسٹا ریکا اس سال چوتھے نمبر پر پہنچ گیا ہے، جو 2023 میں 23ویں نمبر پر تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس بہتری کی وجہ خاندانی تعلقات اور مضبوط سماجی روابط ہیں۔
آکسفورڈ کے ماہرِ معاشیات اور رپورٹ کے شریک مدیر جان-ایمانوئل ڈی نیو کے مطابق لاطینی امریکہ میں مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات موجود ہیں، جو دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ سماجی سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ فن لینڈ اور دیگر شمالی یورپی ممالک کی مسلسل کامیابی کی وجہ دولت، اس کی مساوی تقسیم، مضبوط فلاحی ریاست اور بہتر صحت مند زندگی کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق تنازعات کا شکار ممالک بدستور فہرست کے نچلے حصے میں ہیں، جہاں افغانستان ایک بار پھر سب سے ناخوش ملک قرار پایا، اس کے بعد سیرا لیون اور ملاوی کا نمبر آتا ہے۔ یہ درجہ بندی تقریباً 140 ممالک اور علاقوں کے ایک لاکھ افراد کے جوابات کی بنیاد پر کی گئی، جنہوں نے اپنی زندگی کو 0 سے 10 کے پیمانے پر درجہ دیا۔ یہ تحقیق گیلپ اور اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک کے تعاون سے کی گئی۔
دلچسپ طور پر مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے باوجود نوجوانوں کی خوشی میں کمی نہیں دیکھی گئی، جس کی وجہ مختلف سماجی اور ثقافتی عوامل قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 مسلسل دوسرا سال ہے جب کوئی بھی انگریزی بولنے والا ملک ٹاپ 10 میں شامل نہیں ہو سکا، جہاں امریکہ 23ویں، کینیڈا 25ویں اور برطانیہ 29ویں نمبر پر ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں کئی ممالک کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے یا اس پر غور کر رہے ہیں، جس سے اس مسئلے کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔







قطر کی ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد یورپ میں گیس قیمتیوں میں 30 فیصد اضافہ، 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا خام تیل
مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے قطر کی ایل این جی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی سطح پر سپلائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ قطر انرجی نے تصدیق کی ہے کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میزائل حملوں کا نشانہ بنا۔ ادارے کے مطابق پہلے حملے میں پرل جی ٹی ایل (گیس ٹو لیکوئڈز) پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ بعد میں کئی ایل این جی تنصیبات پر بھی حملے ہوئے جس سے آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت مئی ڈیلیوری کے لیے 6.3 فیصد بڑھ کر 114.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی، جہاں ڈچ ٹی ٹی ایف ہب (یورپی معیار) پر قیمت تقریباً 30 فیصد بڑھ کر 70.8 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ ہو گئی۔ برطانیہ میں بھی گیس کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قطر پہلے ہی 2 مارچ کو راس لفان اور میسعید انڈسٹریل سٹی پر ایرانی ڈرون حملوں کے بعد ایل این جی پیداوار روک چکا تھا۔ قطر دنیا کا دوسرا بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ہے اور عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، وہاں ٹینکرز کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے، جس سے سپلائی میں بڑے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ گلف آئل کے سینئر توانائی مشیرٹام کلوزا نے خبردار کیا کہ اگر تنازع خلیج سے باہر پھیل گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح ڈین پکرنگ نے کہا کہ صورتحال سپلائی چین کے مسئلے سے بڑھ کر حقیقی سپلائی بحران میں تبدیل ہو رہی ہے، جو کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

ایران کا ردعمل اور آپریشن

ایران کی پاسداران انقلاب آئی آر جی سی نے خطے میں امریکی مفادات سے جڑی تیل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ کارروائیاں ’’آپریشن ٹرو پرامس 4‘‘ کے تحت کی جا رہی ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں شروع کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور قطر کو ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قطر کی توانائی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو واشنگٹن سخت ردعمل سے گریز نہیں کرے گا، حتیٰ کہ تہران کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو عالمی سطح پر تیل و گیس کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور توانائی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔


*🛑سیف نیوز اُردو*

عید الفطر کا چاند 🌙 
نظر نہیں آیا
 
آج بروز جمعرات بتاریخ 29 رمضان المبارک 1447 ھ بمطابق 19 مارچ 2026 ء کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا گیا لیکن کہیں بھی چاند کی رؤیت نہیں ہوئی۔ لہذا جمعیت علماء ضلع ناسک (ارشد مدنی) رؤیت ہلال کمیٹی،ممبئی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اعلان کرتی ہے کہ بروز جمعہ 20 مارچ 2026 ء کو 30 رمضان المبارک 1447ھ ہوگا۔ اور 21 مارچ بروز سنیچر کو یکم شوال(عید الفطر ہوگی)، ان شاءاللہ
نوٹ: نماز عید الفطر لشکر والی عید گاہ پر ان شاء اللہ صبح ساڑھے آٹھ بجے حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی اقتدا میں ادا کی جائے گی۔
 عوام الناس سے گزارش ہے کہ وقت سے پہلے لشکر والی عید گاہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ 
  
 ائمہ کرام مساجد میں تاریخ درست لگا کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

فقط والسلام:
مفتی محمد یاسین صاحب ملی 
سکریٹری رؤیت ہلال کمیٹی
جمعیت علماء ضلع ناسک (ارشدمدنی)
مفتی و قاضی حسنین محفوظ ملی نعمانی
حضرت مولانا سراج احمد صاحب قاسمی
مولانا نثار احمد صاحب 
مفتی محمد مصطفیٰ صاحب جمالی
مولانا عبدالقیوم صاحب قاسمی 
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی
مفتی محمد خالد ملی
مفتی محمد مدثر ملی سیفی
مفتی عبدالمالک ملی قاسمی
مولانا سلمان صاحب قاسمی 
مولانا شیخ نعیم صاحب ملی
ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری
مولانا عبدالحمید قاسمی امبڑ
مولانا محمد ابراہیم ملی سٹانہ
جمیل خان چاندوڑ

*🛑سیف نیوز اُردو*




 _*خانقاہ رحمانیہ میں خطاب جمعہ اور مجلس بیعت*_ 
برادران اسلام کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ مورخہ30,رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ بمطابق 20/مارچ 2026ء بروز جمعہ نمازجمعہ سے قبل خانقاہ رحمانیہ(مسجد ہدایت الاسلام بسمﷲ باغ)میں شیخ طریقت حضرت مولانامحمّد عــــمـــرین مــحـفـــوظ رحــمــانی صاحب دامت برکاتہم (خلیفہ ارشد حضرت مولانا محمّد ولی رحمانی صاحب نورﷲمرقدہ) کاایمان افروزخطاب ہوگا،خطاب 1:00 بجے شروع ہوگا ان شاءﷲ
 نماز جمعہ کے بعد حضرت والاخواہش مندحضرات کو بیعت فرمائیں گے اورذکر و وظائف کی تعلیم دیں گے۔لہذا جو حضرات بیعت کے خواہش مند ہیں وہ نمازجمعہ مسجد ہدایت الاسلام ہی میں اداکریں۔

 *الداعیان: مریدین و متوسلین خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں۔* 

                            ٭٭٭
 _*Khanqah Rahmaniya mein Khitab E Juma aur majlis e bai'at*_ 

Biradraane Islam ko ye ittela di jaati hai ke batarikh 30,Ramzan ul mubarak 1447 ba mutabik 20/March2026 baroz juma namaz juma se Qabl Khanqah Rahmaniya (Masjid Hidayatul Islam Bismillah Baag) Mein Shaikh-E-Tareeqat HAZRAT MAULANA MUHAMMAD UMRAIN MAHFOOZ RAHMANI SAHAB DB (Khalifa Arshad Hazrat maulana Muhammad Wali Sahab Rahmani RH) ka Imaan afroz khitab hoga, Khitab 1:00 baje shuru hoga.INSHAALLAH
Namaz Juma ke baad HAZRAT DB khwahishmand hazraat ko bai'at farmayenge aur zikr wa wazaif ki taleem denge. Lehaza jo Hazraat Bai'at ke khwahishmand hain wo Namaze Juma Masjid Hidayatul Islam hi mein adaa karein.

 *Addaiyan:- Murideen wa Mutawassilin Khanqa Rahmaniya Malegaon.* 
                                  ٭٭٭
 _*खान्क़ाहे रहमानीया में खिताबे जुमा और मज्लिसे बै'अत में खिताबे जुमा और मज्लिसे बै'अत*_ 

बीरादराने ईस्लाम को ये इत्तेला दी जाती हैं के बतारिख 30, रमज़ानुल मुबारक़ 1447 बमुताबिक 20/मार्च 2026 बरोज़ जुमा नमाज़ जुमा क़ब्ल खान्क़ाहे रहमानीया (मस्जिद हिदायतुल इस्लाम बिस्मिल्लाह बाग) में शैखे तरीक़त हज़रत मौलाना मुहम्मद उम्रैन महफुज़ रहमानी साहब द ब (ख़लीफा अरशद हज़रत मौलाना मुहम्मद वली साहब रहमानी रह) के ईमान अफ्रोज़ खिताब होगा, खिताब 1 बजे शुरू होगा इंशाअल्लाह नमाज़े जुमा के बाद *हज़रत द ब`* ख्वहिश्मन्द हज़रात को बै'अत फरमाएंगे और ज़िक्र व वज़ाइफ की तालीम देंगे। लेहाज़ा जो ह्ज़रात बै'अत के ख्वहिश्मन्द है वो नमाज़े जुमा मस्जिद हिदायतुल इस्लाम बिस्मिल्लाह बाग ही में अदा करे।

 *अद्दाईयान:- मुरीदीन व मुतवस्सिलीन खानकाह रहमानीया मालेगाव।* 
                              ٭٭٭٭٭








آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے بل پر غور کر رہا ایران، جانئے دنیا پر کیا پڑے گا اثر
تہران: ایران نے اب پوری دنیا کی “نبض” یعنی آبنائے ہرمز کو معاشی ہتھیار بنانے کی تیاری کر لی ہے۔ جنگ کے دوران اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے ایران کی پارلیمنٹ اب ایک ایسا قانون لانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والے ہر غیر ملکی جہاز کو بھاری “ٹیکس” اور “ٹول” دینا ہوگا۔ اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو دنیا بھر میں تیل، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ-اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان یہی ہرمز ایران کی طاقت بنا ہوا ہے، جہاں ایران دنیا بھر کے ٹینکروں کو روک کر ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے۔

ہرمز کے حوالے سے ایران کا کیا منصوبہ ہے؟ہرمز پر ایران اس قدر طاقتور ہے کہ اس تنگ راستے پر IRGC کا مقابلہ کرنے میں امریکی بحریہ بھی ناکام رہی ہے۔ اب ایران اسی ہرمز کو اپنا معاشی ہتھیار بنانے جا رہا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ISNA) کے مطابق ایک ایرانی رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر “ٹرانزٹ فیس” لگانے کی تجویز تیار کر رہے ہیں۔ جو ممالک اس راستے کو شپنگ، توانائی کی فراہمی یا خوراک کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہیں اب ایران کو رقم ادا کرنی ہوگی۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے واضح کہا ہے کہ اس اسٹریٹجک پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے وہ ان مغربی ممالک پر “الٹی پابندیاں” لگائیں گے جنہوں نے ایران کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔

20 فیصد تیل والے راستے پر ٹیکس کا کیا اثر ہوگا؟
ایران کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہرمز کے لیے ایک نیا نظام بنایا جائے گا، جس سے ایران تیل کے اس راستے کا اصل “باس” بن کر ابھرے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم “چوک پوائنٹ” ہے۔ آبنائے ہرمز وہی راستہ ہے جہاں سے دنیا کا 20 فیصد ایندھن گزرتا ہے۔ عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع گیس اسی تنگ راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں، لیکن ایران کے اس نئے معاشی وار نے واشنگٹن کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔









آسام اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی نے اُمید واروں کی پہلی فہرست جاری کی
بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) نے آسام اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس میں کل 88 نام شامل ہیں۔ فہرست میں چیف منسٹر ہمنت بسوا سرما کا نام بھی ہے۔ پارٹی نے تجربہ اور تنظیمی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی سابق ایم پیز کو ٹکٹ بھی دیے ہیں۔

سی ایم ہمنت بسوا سرما کو جالوکباری سے امیدوار بنایا ہے۔ بھوپین بورا کو بہپوریا سے جبکہ بی جے پی میں کل شمولیت اختیار کرنے والے پردیوت بوردولوئی کو دسپور سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔

جاری کردہ فہرست کے مطابق دھوبری سے اتم پرساد، بیرسنگ جروا سے مادھبی داس، گولپارہ ویسٹ سے پبیتر رابھا اور دودھنئی سے تنکیشور رابھا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ابھئے پوری سے بھوپین رائے، بجنی سے اروپ کمار ڈے، بھوانی پور۔سوربھوگ سے رنجیت کمار داس، منڈیا سے بادل چندر آریہ، چمڑیا سے جیوتسنا کلیتا، اور بوکو چھائگاؤں سے راجو میچ کو پارٹی نے امیدواربنایا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے گوہپور سے اتپل بورا، رونگونڈی سے رشی راج ہزاریکا، لکھیم پور سے مناب ڈیکا، ڈھکوکھانہ سے نبا کمار ڈیلی، دھیماجی سے ڈاکٹر رنوج پیگو، جونئی سے بھوبن پیگو، سادیہ سے بالن چیٹیا، شرما سے بھاپے، شرما سے رونگی مارگریتا، ڈگبوئی سے سورین فوکن، ماکم سے سنجے کشن، تینسوکیا سے پلک گوہائی، چبوا-لاہووال سے بنود ہزاریکا، ڈبروگڑھ سے پرشانت پھوکن، کھوانگ سے چکرادھر گگوئی اور دولیاجن سے رامیشور تیلی اپنے امیدوار ہیں۔

بی جے پی نے لنگ کھونگ سے بمل بورا، نہرکٹیا سے ترنگ گگوئی، سوناری سے دھرمیشور کووار، مہمورہ سے سروج ڈھنگیا، ڈیمو سے سوشانت بارگوہین، نزیرہ سے میور بارگوہین، ماجولی سے بھوبن گام، جورہاٹ سے ہتیندر ناتھ گوسوامی، جورہاٹ سے ہتیندر ناتھ گوسوامی، ڈی روپی راجوانی سے امیدوار نامزد کیے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...