Sunday, 28 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*



وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں
صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پر گہرے مثبت اثرات ڈالتی ہے۔ صحت مند خوراک جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے، ہاضمہ بہتر بناتی ہے، موڈ کو خوشگوار رکھتی ہے اور جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔
یہی نہیں بلکہ متوازن غذا جسم کو جلد صحت یاب ہونے میں بھی مدد دیتی ہے، جو طویل المدتی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے تین ایسی غذاؤں کا ذکر کیا جو وہ روزانہ استعمال کرتی ہیں تاکہ ہارمونز، میٹابولزم اور خون میں شوگر کو متوازن رکھا جا سکے۔اس پوسٹ کا کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ ’وہ تین غذائیں جو میں بطور ڈاکٹر روزانہ استعمال کرتی ہوں۔‘
فروزن جنگلی بلیو بیریز
ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ کے مطابق جنگلی بلیو بیریز عام بلیو بیریز کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے چھلکے زیادہ ہوتے ہیں اور ان میں اینتھوسائننز کی مقدار بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔
یہ مرکبات انسولین کی حساسیت بہتر بناتے ہیں، دماغی صحت کو سپورٹ کرتے ہیں اور جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جنگلی بلیو بیریز کو ان کے عروجِ پختگی کے وقت فریز کیا جاتا ہے، جس سے ان کے غذائی اجزا محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ موسمی پھل نہ ہونے کے باوجود آسانی سے دستیاب بھی ہوتی ہیں۔
سرخ یا جامنی بند گوبھی
ڈاکٹر کے سرخ یا جامنی بند گوبھی مطابق آنتوں کی صحت انسولین ریزسٹنس اور وزن کو کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے سرخ بند گوبھی کو میٹابولزم کے لیے ایک کم قدر کی جانے والی مگر انتہائی مفید غذا قرار دیا۔ سرخ بند گوبھی میں فائبر، پولی فینولز اور ایسے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو آنتوں کی صحت بہتر بناتے ہیں، سوزش کم کرتے ہیں اور ہارمونز پر براہِ راست مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق یہ سبزی ایسٹروجن میٹابولزم کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انسولین کی حساسیت بھی بڑھاتی ہے۔
ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل
ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل بھی ڈاکٹر کی روزمرہ غذا کا لازمی حصہ ہے۔ان کے مطابق خاص طور پر جب اسے کھانے کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ انسولین لیول کم کرنے، انسولین کی حساسیت بہتر بنانے اور جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے ایک اہم مشورہ بھی دیا کہ زیتون کے تیل میں موجود صحت مند چکنائی خون میں شوگر کے اچانک اضافے کو سست کر دیتی ہے، جو بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کا ایک آسان مگر اکثر نظرانداز کیا جانے والا طریقہ ہے۔
اس حوالے سے ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ نے کہا ’یہ کوئی وقتی یا فیشن ایبل غذائیں نہیں بلکہ بلڈ شوگر کے توازن اور طویل المدتی صحت کے لیے بنیادی غذائی ذرائع ہیں جنہیں میں روزانہ استعمال کرتی ہوں۔‘
ایک اور انسٹاگرام پوسٹ میں ڈاکٹر نے وہ پانچ غذائیں بھی بتائیں جو وہ گروسری سٹور سے لازمی خریدتی ہیں۔ ان میں سرخ بند گوبھی، ایووکاڈو، بے بی سپینچ، فروزن جنگلی بلیوبیریز اور جنگلی طور پر پکڑی گئی الباکور ٹونا شامل ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق یہ غذائیں جسم میں سوزش کم کرنے، ہارمونز کو متوازن رکھنے اور بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔







نئی جھڑپیں، صدر ٹرمپ کی ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’فوجی آپریشن مکمل کرنے‘ کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کو جنگ دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کیا گیا تو ’اسلامی جمہوریہ باقی نہیں رہے گا۔‘  
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر تازہ حملے کیے ہیں اور نازک جنگ بندی اور امن مذاکرات مزید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے سنیچر کو ایران پر فضائی حملے کیے اور اس دوران ایران کے اندر 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی بیسز کو نشانہ بنایا ہے اور صورت حال نے دونوں ممالک کے درمیان عبوری معاہدے کو خدشات کا شکار کر دیا ہے۔
اسی طرح اتوار کی صبح کو کویت پر ہونے والا حملہ اس معاہدے کے بعد ہونے والا پہلا حملہ تھا جس کا مقصد لڑائی کو بند کرنا تھا۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب امریکہ افواج نے ایران کے متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
صدر ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ ’امریکی طیاروں نے جنگ بندی کے معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کرنے پر ایران کے میزائل اور ڈرونز ذخیرہ کرنے والے مقامات اور ساحلی ریڈار کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل سے کام لینا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ کام فوجی کارروائی کے ذریعے مکمل کرنا پڑے جس کا ہم نے کامیابی کے ساتھ آغاز کیا تھا، ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
تازہ جھڑپوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات پر ایک بار پھر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی بیسز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
یہ فوجی کشیدگی ایک ایسے نازک موڑ پر پیدا ہوئی ہے جب رواں ماہ جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی کے تحت دونوں ممالک کے مابین ایک اہم مفاہمت کی یادداشت طے پائی تھی جس کا مقصد خطے میں جاری جنگ کا پائیدار خاتمہ تھا۔
امریکہ اور ایران کے دستخط شدہ اس متن کے مطابق، دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی یا فوجی آپریشن کی ابتدا نہ کرنے اور طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کرنے کا عہد کیا تھا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں اور اب خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایران نے جمعرات کو بھی واضح کیا تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز نہیں گزرے گا جس کے بعد عمان نے، جو ایران کے مقابل ساحل پر واقع ہے، ایک متبادل بحری راستے کی نشاندہی کی تھی۔
اس وقت ایران کی جانب سے جہازوں کو صرف اپنے ساحل کے ساتھ واقع کوریڈور سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔









وینزویلا زلزلہ، ہلاکتیں 1400 سے بڑھ گئیں، ملبے تلے زندگی کے آثار معدوم
وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں مرنے والواں کی تعداد ایک ہزار چار سو 30 ہو گئی ہے جبکہ ملبے تلے مزید زندہ افراد کی امیدیں مدھم پڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے کا نشانہ بننے والے مختلف مقامات پر تیسرے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ اب بھی ہزاروں لاپتہ ہیں اور متعدد عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب وینزویلا پہلے ہی معاشی بحران اور سیاسی بے چینی کا شکار ہے۔
اس کی وجہ امریکی فوج کا وہ آپریشن تھا جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا تھا۔
اس کے بعد سے ملک کے حالات بہتر نہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو صاف پانی اور دوسری بنیادی ضروریات دستیاب نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت کے آنے کے بعد پہلے 72 گھنٹے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران ہی زیادہ سے زیادہ زندہ لوگوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے اور یہ وقت گزر جانے کے بعد لوگوں کے زندہ ملنے کی امیدیں کم ہوتی جاتی ہیں۔السواڈور سے تعلق رکھنے ایک امدادی کارکن جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے بتایا کہ ’اس مرحلے پر غالب امکان یہی ہے کہ ہمیں صرف لاشیں ملیں، اگر کچھ لوگ زندہ مل جائیں تو خدا کا بہت شکر ہو گا۔‘
ملک کے عبوری رہنما کا کہنا ہے کہ سنیچر کو رات گئے کیرابالیڈا کے علاقے میں ایک 11 سالہ لڑکے کو ملبے سے زندہ نکالا گیا۔
انہوں نے ایکس پر ایک ویڈیو بیان، جس میں وہ ریسکیو ورکروں کے ہمراہ تھے، کا کہنا تھا کہ ’ہر زندگی وینزویلا کے لیے امید کا ذریعہ ہے۔‘
دوسرے ممالک کی جانب سے امداد لینے پر مقامی حکام نے ناراضی کا اظہار کیا جبکہ امریکی حمایت روڈریگز نے مدد فراہم کرنے دوسرے ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ سائمن بولیوار بین الاقوقامی ہوائی اڈے کا ایک رن وے جزوی طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ طیارے امدادی سامان لے جا سکیں جبکہ امریکی بحریہ کا ایک جہاز وینزویلا کے ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
وینزویلا میں 24 جون کو خوفناک زلزلہ آیا تھا جس کے بعد 188 افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے ملبے تلے دبنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو لواحقین اور امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لیے بے تاب کوششیں کرتے رہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شب شمالی وینزویلا میں ایک منٹ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جن سے عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور ہزاروں افراد گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔
دارالحکومت کاراکاس کے شمال میں واقع ریاست لا گوائیرا سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں لوگ ملبے کے ڈھیروں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرتے اور ان کے نام پکارتے دکھائی دیے۔










*🛑سیف نیوز اُردو*


*"تربیتی کیمپ و جلسہ برائے اصلاحِ معاشرہ برائے بچیاں و خواتین " کے لیے شہر کی تمام تنظیموں سے تائید و حمایت کی اپیل* 
*ارتداد _ پیار عشق اور محبت میں دھوکہ پھر خودکشی _ نشہ ادویات سے کٹر بازی ڈکیتی کی واردات بداخلاقی اتی کرامن اور دیگر سنگین سماجی بُرائیوں کے خاتمے کیلئے اتحاد ضروری*
  
ازقلم: _شعیب احمد محمدی_
*گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں*

*1: اجتماعی ذمہ داری کی پکار*  
یہ وقت انفرادی کوشش کا نہیں، اجتماعی جدوجہد کا ہے۔ نشہ، ارتداد، بے حیائی اور خودکشی کا طوفان ہماری نسلوں کو نگلنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ اُمتی فاؤنڈیشن مالیگاؤں _ مالیگاؤں ہیلتھ آرگنائزیشن مالیگاؤں _ ایم آئی سی بلڈ ڈونر گروپ مولانا کمپاؤنڈ مالیگاؤں _ رضوان بھانجہ گروپ سلامت آباد _ الخدمت خواتین گروپ مالیگاؤں _ الیون اسٹار خواتین گروپ مالیگاؤں _ شیخ سلمان ہاکرس یونین گروپ قدوائی روڈ _ ادارہ ستارہ ہند گولڈن نگر _ اسماعیل رحمانی گروپ گلاب پارک _ للّہ چریٹیبل فاؤنڈیشن مالیگاؤں امان فاؤنڈیشن رمضان پورہ _ عضباء ایجوکیشنل سوسائٹی رونق آباد نعمان فاؤنڈیشن مالیگاؤں قلعہ تیراک گروپ قلعہ مالیگاؤں اور "گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں" نے 12 جولائی 2026 کو خواتین و بچیوں کے لیے تربیتی کیمپ و جلسہ اصلاح معاشرہ کا انعقاد کیا ہے۔ اس نیک مقصد کی تکمیل کے لیے ہم شہر مالیگاؤں کی تمام دینی، فلاحی، سماجی، تعلیمی اور طبی تنظیموں، اداروں، ٹرسٹوں اور جماعتوں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس اصلاحی مہم کا حصہ بنیں۔ آپ کی تائید ہماری طاقت ہے اور آپ کا تعاون ہمارے حوصلے کی ضمانت ہے۔

*2: خدمتِ خلق کا تسلسل*  
مالیگاؤں کی سرزمین ہمیشہ سے خدمتِ خلق، ایثار اور قربانی میں پیش پیش رہی ہے۔ چاہے وہ یتیم خانے ہوں، بیواؤں کی کفالت ہو، غریب بچیوں کی شادی ہو یا تعلیمی میدان ہو، آپ سب کے ادارے ہمیشہ قوم کے لیے ڈھال بنے ہیں۔ آج خاندان کی عزت اور ہماری بچیوں کی عصمت خطرے میں ہے۔ اس نازک موقع پر آپ کی خاموشی قوم کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ آئیے، اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اس پروگرام کی تشہیر کریں، اپنی خواتین کو بھیجیں، اور اس کارِ خیر میں اپنا نام لکھوائیں۔ یہ وقت "میں اور تو" کا نہیں، "ہم سب" کا ہے۔

*3: عملی تعاون کی درخواست*  
ہم شہر کے تمام ذمہ داران، علمائے کرام، سماجی کارکنان، ڈاکٹرس، وکلاء، تاجر برادری اور فلاحی تنظیموں کے سربراہان سے گزارش کرتے ہیں کہ: 1۔ اپنے ادارے کی جانب سے اس پروگرام کی تائیدی بیان جاری فرمائیں، 2۔ اپنے زیر اثر خواتین و بچیوں کو 12 جولائی کے جلسے میں شرکت کی تلقین کریں، ۔ یاد رکھیں، جو شخص کسی برائی کو مٹانے میں مدد کرے، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ آئیے، متحد ہو کر اپنی نسلوں کو بربادی سے بچائیں۔ _آؤ چلیں، پاک و صاف معاشرے کی طرف!_
*نیک خواہشات کے ساتھ*
*نصر فاؤنڈیشن مالیگاؤں*
*ذوبی فاؤنڈیشن رونق آباد*
*یونائیٹڈ سٹی زن فورم مالیگاؤں*
*نشہ مکت کمیٹی مالیگاؤں*








جنترمنتر پر سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال شروع، کاکروچ تحریک میں آئی شدت، دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ
نئی دہلی: تعلیمی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک کے خلاف سخت کارروائی، اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے لیے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری احتجاج میں اتوار کو ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی اصلاحات کے علمبردار سونم وانگچک بھی اب پوری طاقت کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ وانگچک نے آج سے مذکورہ مطالبات پر غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع شروع کر دی ہے۔

جنترمنتر پر سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال شروع، کاکروچ تحریک میں آئی شدت، دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہآل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کے کئی طلبہ رہنما بھی ان کے ساتھ اس بھوک ہڑتال میں شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر کی 650 سے زیادہ کسان تنظیموں نے اس تحریک کی حمایت میں دہلی میں ایک بڑی کھاپ پنچایت بلانے کا اعلان کیا ہے۔ طلباء، کسانوں اور سماجی تنظیموں کے اکٹھے ہونے سے کاکروچ تحریک میں شدت آ گئی ہے۔

حکومت پر جواب دیہی سے بچنے کا الزام

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ 20 جون کو جس دن تحریک شروع ہوئی۔ شروعاتی احتجاج میں شامل ہوئے سونم وانگچک نے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت نے ایک ہفتے کے اندر تعلیمی نظام میں بے قاعدگیوں کی ذمہ داری طے نہیں کی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہیں ہوئے تو وہ غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے بھوک ہڑتال شروع ہو گئی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔کئی طلبہ رہنما بھی بھوک ہڑتال میں شامل

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کے کئی طلبہ رہنما بھی بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ان میں اے آئی ایس اے کی قومی صدر نیہا، جے این یو طلباء یونین کے جوائنٹ سکریٹری دانش علی، اے آئی ایس اے اتر پردیش کے صدر منیش، دہلی یونیورسٹی کے طالب علم کارکن دیپک، جے این یو کے طالب علم کارکن رشیکیش، اور امبیڈکر یونیورسٹی کے طالب علم کارکن امین بھی بھوک ہڑتال میں شامل ہیں۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک لاکھوں طلبہ کے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور تعلیمی نظام میں اصلاح کی جنگ ہے۔

کسانوں کی حمایت بھی حاصل

کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان دیپک بالیان نے کہا کہ اس تحریک کو ملک بھر میں 650 سے زیادہ کسان تنظیموں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان بھی اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر میں اس لڑائی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کے ایک حصے کے طور پر آج دہلی میں ایک بڑی کھاپ پنچایت کا انعقاد کیا جائے گا جس میں اس تحریک کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔تحریک کے بنیادی مطالبات

مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ، پیپر لیک معاملے میں تمام ملزمان کی گرفتاری، امتحانی نظام میں شفافیت، تعلیمی نظام میں سدھار اور طلباء کے مستقبل کی حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان مطالبات پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کرتی، یہ تحریک اور بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔








آج بھی ہوسکتی ہے گرفتاری، ٹنّویادو کے گھر سے زیورات اور کاغذات برآمد، پولیس نے سبھی ملزمین کے گھروں کی لی تلاشی
رام مندرمیں چڑھاوے کی رقم اورقیمتی اشیا کی مبینہ چوری کے معاملے میں پولیس نے ملزم اویناش شکلا کے بھائی ابھیشیک شکلا سے پوچھ گچھ کی۔ ابھیشیک شکلا نے کہا کہ اسے اس بات کی کوئی معلومات نہیں کہ اس کا بھائی اویناش شکلا کیا کام کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ اگراویناش شکلا نے چوری کی ہے تو اسے اس کی سزا بھگتنی ہوگی اوراگراس سے کوئی غلطی ہوئی ہے، تووہ اس کا ساتھ نہیں دے گا۔

اویناش اورابھیشیک شکلا کوتوالی نگرکے کوشل پوری کالونی میں واقع یوگ آچاریہ ڈاکٹرچیتنیہ کے ہال میں رہتے ہیں۔ پولیس نے آج 7 ملزمان کے گھروں پرچھاپہ مارکارروائی کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کی۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے اپنی کارروائی تیزکردی ہے اورشام تک مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

پولیس نے گرفتارآٹھوں ملزمان کے گھروں پرتلاشی کی کارروائی مکمل کرلی ہے۔ اس دوران ٹنّو یادوکے گھرسے زیورات، نقد رقم اورجائیداد سے متعلق دستاویزات برآمد کی گئی ہیں۔ دیگر ملزمان کے گھروں سے بھی کچھ نہ کچھ سامان برآمد ہونے کی اطلاع ہے۔ تمام ملزمان کے اہل خانہ کے بیانات قلم بند کرلئے گئے ہیں۔ شام تک برآمد شدہ اشیا کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد پولیس یہ فیصلہ کرے گی کہ ملزمان کومزید تفتیش کے لیے پولیس ریمانڈ پرلیا جائے یا نہیں۔وہیں دوسری جانب، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ رام مندرمیں مبینہ چوری کی اطلاعات پہلے ہی ٹرسٹ کے علم میں تھیں۔ ذرائع کے مطابق 5 جون 2026 کوٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کی ہدایت پرٹرسٹ کے نمائندے پولیس کے ساتھ اویناش شکلا کے گھرپہنچے تھے۔ اس دوران اویناش کے ٹھکانے سے نقد رقم بھی برآمد ہوئی تھی۔ تاہم ٹرسٹ کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس اس وقت غیررسمی طورپرمعاملے کی جانچ کررہی تھی۔ بعد ازاں 7 جون کویہ معاملہ عوامی سطح پرسامنے آیا، جس کے بعد تحقیقات میں تیزی لائی گئی۔

Friday, 26 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

وینزویلا میں ہلاکتوں کی تعداد 235 ہوئی، دو طاقتور زلزلوں کے بعد تباہی میں اضافہ، 20 کروڑ ڈالر کے خصوصی امدادی فنڈ کا اعلان
کاراکاس: وینزویلا میں بدھ کی شام آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 235 ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پہلے 32 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم اب یہ تعداد 235 تک پہنچ گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ملک کے شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد امدادی اور تعمیرِ نو کے کاموں میں تیزی لانے کے لیے تین اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

خصوصی امدادی فنڈ اور تعمیر نو کا منصوبہ

قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے بتایا کہ قائم مقام صدر نے نجی کمپنیوں کو ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے 20 کروڑ امریکی ڈالر کے خصوصی امدادی فنڈ کے قیام اور متاثرہ تاجروں کے لیے خصوصی قرضہ اسکیم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات کئی دہائیوں بعد آنے والے ملک کے شدید ترین زلزلوں سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اوان گل نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی امداد کے مؤثر رابطے اور تقسیم کے لیے ضروری انتظامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق خطے سمیت دنیا کے مختلف حصوں کے کم از کم ایک درجن ممالک نے وینزویلا کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ملبے تلے افراد، آفٹر شاکس اور عالمی یکجہتی

بدھ کے روز وینزویلا میں مسلسل دو زلزلے آئے جن کی شدت بالترتیب 7.2 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی۔ ان زلزلوں سے شمالی وسطی ریاست لا گوئیرا میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جبکہ دارالحکومت کاراکاس اور اس کے مضافاتی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق تقریباً 200 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچانے کے لیے وقت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘ دونوں زلزلے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آئے، جس کی وجہ سے ان کی زیادہ تر توانائی زمین کی سطح کے قریب خارج ہوئی۔ دونوں جھٹکوں کے درمیان ایک منٹ سے بھی کم وقفہ تھا، جبکہ بعد ازاں آنے والے متعدد آفٹر شاکس کے باعث متاثرہ عمارتوں کے مزید منہدم ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی سرکاری اداروں کو فوری امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امریکہ وینزویلا کی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ادھر میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے بھی وینزویلا کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو ضروری امداد کی تیاری کی ہدایت دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وینزویلا کی حکومت نے فی الحال ریسکیو اور طبی ماہرین کی مدد کی درخواست کی ہے، اور میکسیکو ہر مشکل وقت میں وینزویلا کے ساتھ کھڑا رہے گا۔








اب وینزویلا میں آئے زلزلے کی وجہ سےبھارت میں بڑھیں گی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں؟
وینزویلا میں آنے والے شدید زلزلے (Venezuela Earthquake) کے اثرات بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تقریباً 14 ہزار کلومیٹر دور پیش آنے والی اس قدرتی آفت نے بھارت کی خام تیل کی سپلائی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر زلزلے کے باعث وینزویلا کی بندرگاہیں اور تیل برآمد کرنے کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا تو بھارت کو خام تیل کی سپلائی میں تاخیر، شپنگ لاگت میں اضافے اور میرین انشورنس پریمیم مہنگا ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

125 برس کا طاقتور ترین زلزلہ

24 جون کو وینزویلا میں چند سیکنڈ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلے آئے۔ انہیں گزشتہ 125 برس میں ملک کا سب سے شدید زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس آفت میں سیکڑوں افراد کے ہلاک اور ہزاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ مسلسل آنے والے آفٹر شاکس کے باعث حالات اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکے۔

بھارت کے لیے تشویش کیوں بڑھی؟

حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بھارت نے وینزویلا سے خام تیل کی درآمد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اپریل اور مئی کے دوران بھارتی ریفائنریوں نے بڑی مقدار میں وینزویلا سے تیل خریدا، جس کے بعد یہ بھارت کے اہم خام تیل فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ ایسے میں زلزلے کے باعث تیل کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ بھارت کی توانائی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

خام تیل کی درآمد مہنگی ہو سکتی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل بردار جہازوں کو بندرگاہوں پر زیادہ دیر انتظار کرنا پڑا یا متبادل راستے اختیار کرنے پڑے تو شپنگ لاگت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ڈیمرج چارجز اور میرین انشورنس پریمیم بھی بڑھ سکتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارتی ریفائنریوں اور بالآخر صارفین پر پڑ سکتا ہے۔

بھارت کی سرمایہ کاری بھی داؤ پر

بھارت کی سرکاری کمپنی او این جی سی ودیش (ONGC Videsh) نے بھی وینزویلا کے کئی تیل منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اگر زلزلے کی وجہ سے طویل عرصے تک تیل کی پیداوار یا برآمدات متاثر رہیں تو بھارت کے مالی اور تجارتی مفادات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی معمول پر آنے کی امید پیدا ہوئی تھی، جس کے بعد بھارت نے متبادل ذریعہ کے طور پر وینزویلا پر اپنا انحصار بڑھایا تھا۔ تاہم تازہ زلزلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ توانائی کی سپلائی کے نئے ذرائع بھی قدرتی آفات جیسے غیر متوقع خطرات سے محفوظ نہیں ہیں۔









پروفی اورعام کافی میں کیا فرق ہے اور اس کے استعمال کے کیا فوائد ہیں؟
’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق ماہر غذائیت ڈاکٹر سمرت کتھوریا کے مطابق ’پروفی کیفین کے فوری اثرات کے ساتھ پروٹین کی اضافی مقدار بھی فراہم کرتی ہے، جس سے معدہ زیادہ دیر تک بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے اور توانائی بتدریج حاصل ہوتی رہتی ہے۔ ان کے مطابق پروٹین ہاضمے کے عمل کو سست کرتا ہے، جس سے کیفین کے استعمال کے بعد ہونے والی اچانک تھکاوٹ یا توانائی میں کمی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔‘
اسی طرح انٹیگریٹو میڈیسن اور غذائیت کی ماہر ڈاکٹر کارتھیگائی سیلوی کا کہنا ہے کہ ’پروفی عام کافی کے مقابلے میں غذائی اعتبار سے زیادہ متوازن مشروب بن سکتی ہے، کیونکہ اس میں پروٹین شامل ہونے سے جسم کو اضافی غذائیت حاصل ہوتی ہے اور دن بھر بار بار کافی پینے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔‘
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پروفی کو مکمل ناشتہ سمجھنا درست نہیں۔ ایک متوازن ناشتے میں پروٹین کے ساتھ فائبر، صحت بخش چکنائیاں اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس بھی شامل ہونے چاہئیں۔ اس لیے پروفی کو صرف ایک معاون مشروب کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ مکمل غذا کے متبادل کے طور پر۔
ماہرین کے مطابق صحت مند پروفی تیار کرنے کے لیے کم چینی والا معیاری پروٹین پاؤڈر استعمال کرنا چاہیے۔ بہت زیادہ گرم کافی میں پروٹین شامل کرنے سے اس کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے ٹھنڈی یا نیم گرم کافی زیادہ بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہے۔بازار میں تیار شدہ پروفی مصنوعات بھی دستیاب ہیں، تاہم گھر میں تیار کی گئی پروفی میں چینی، کیفین اور پروٹین کی مقدار پر بہتر کنٹرول رکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پروفی کا حد سے زیادہ استعمال بے خوابی، بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے، ہاضمے کے مسائل، پیٹ پھولنے اور جسم میں پانی کی کمی جیسی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ گردوں کے امراض، کیفین سے حساسیت یا دیگر طبی مسائل رکھنے والے افراد کو اس کے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پروفی ایک مفید اور سہل غذائی انتخاب ہو سکتی ہے، تاہم یہ کوئی جادوئی صحت بخش مشروب نہیں۔ اس کے فوائد کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس مقدار میں، کن اجزاء کے ساتھ اور مجموعی غذا کے کس حصے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق جو افراد اپنی خوراک سے پہلے ہی مناسب مقدار میں پروٹین حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے عام بلیک کافی بھی ایک مناسب انتخاب ہو سکتی ہے، جبکہ اضافی پروٹین کی ضرورت رکھنے والے افراد پروفی کو اپنی روزمرہ روٹین کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


یہ ہمارے شہر کی سب سے افسوسناک اور شرمناک روایت بن چکی ہے کہ جو لوگ حقیقت میں عوامی مسائل کے حل کے لیے میدان میں اترتے ہیں، سرکاری دفاتر کے دھکے کھاتے ہیں، فائلوں کے پیچھے مہینوں دوڑتے ہیں، افسران کے سامنے عوام کی آواز بنتے ہیں اور اپنی ذاتی مصروفیات چھوڑ کر علاقے کی ترقی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف کچھ ایسے چہرے، جو پورے کام کے دوران کہیں دکھائی نہیں دیتے، صرف افتتاح کے دن اپنی سیاسی دکان چمکانے، تصویریں کھنچوانے اور سوشل میڈیا پر جھوٹا کریڈٹ لینے کے لیے اچانک نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہی لوگ آج اس شہر کی سیاست اور سماج پر بوجھ بن چکے ہیں۔
عبداللہ نگر مسجد سعیدہ حجن کے پاس سے راجو ہوٹل تک سیمنٹ کانکریٹ روڈ کی تعمیر کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ اہلِ علاقہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس روڈ کی منظوری اور تعمیر کے لیے احتشام بیکری والے نے مسلسل جدوجہد کی۔ کتنی بار متعلقہ محکموں کے دفاتر کے چکر لگائے گئے، کتنی بار افسران سے ملاقاتیں کی گئیں، کتنی بار فائلیں رکی رہیں اور کتنی بار فالو اپ کیا گیا، یہ سب عوام جانتی ہے۔ یہ سڑک کسی لیڈر کی ایک تقریر یا ایک فوٹو سیشن سے نہیں بنی بلکہ ایک شخص کی مستقل محنت، خلوص اور عوامی درد کے نتیجے میں مکمل ہوئی۔
لیکن افسوس اور شرم کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی کام مکمل ہوا، وہ لوگ سامنے آ گئے جنہوں نے نہ کبھی اس مسئلے پر آواز اٹھائی، نہ عوام کے درمیان کھڑے ہوئے اور نہ ہی کسی دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ صرف تیار شدہ کام پر اپنی سیاست چمکانے اور کریڈٹ لوٹنے کے لیے یہ لوگ سب سے آگے کھڑے نظر آئے۔ ایسے لوگوں کا کام صرف دوسروں کی محنت پر قبضہ کرنا، جھوٹے دعوے کرنا اور عوام کو بے وقوف بنانا رہ گیا ہے۔ انہیں نہ علاقے کی فکر ہے، نہ عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی، بلکہ مقصد صرف اپنی تشہیر، اپنی تصویر اور اپنا نام آگے کرنا ہوتا ہے۔
یہ شہر کی بدقسمتی ہے کہ یہاں محنت کرنے والے خاموش رہ جاتے ہیں اور شور مچانے والے ہیرو بن جاتے ہیں۔ جو لوگ ایک اینٹ تک نہ لگائیں وہ پورے منصوبے کے مالک بن کر گھومتے ہیں۔ یہ وہی عناصر ہیں جو ہر ترقیاتی کام کو اپنی ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ اگر واقعی ان میں عوامی خدمت کا جذبہ ہوتا تو یہ لوگ کام شروع ہونے سے پہلے میدان میں نظر آتے، نہ کہ صرف ربن کاٹنے کے وقت۔
عوام کو اب سمجھنا ہوگا کہ اصل خدمت اور دکھاوے کی سیاست میں فرق کیا ہے۔ عوام اب اتنی سادہ نہیں رہی کہ صرف چند تصویروں، بینروں اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے دھوکہ کھا جائے۔ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس نے دن رات محنت کی، کس نے دفاتر کے چکر لگائے اور کس نے صرف تیار شدہ سڑک پر کھڑے ہو کر تصویریں بنوائیں۔ اصل خدمتگار وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے عوام کے مسائل حل کرے، نہ کہ وہ جو دوسروں کی محنت چرا کر خود کو مسیحا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرے۔
سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں چاپلوسی اور مفاد پرستی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کچھ لوگ حقیقت جاننے کے باوجود جھوٹے دعویداروں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ صرف ذاتی مفاد، تعلقات یا وقتی فائدے کے لیے اصل محنت کرنے والوں کا حق مارا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتی۔ عوام سب دیکھ رہی ہے، سب سمجھ رہی ہے اور وقت آنے پر فیصلہ بھی عوام ہی کرے گی کہ کون مخلص ہے اور کون صرف فوٹو سیشن کا کھلاڑی۔
احتشام بیکری والے کی محنت، جدوجہد اور عوامی خدمت قابلِ تحسین ہے۔ اصل کریڈٹ اسی شخص کو ملنا چاہیے جس نے اس کام کے لیے پسینہ بہایا، وقت دیا اور مستقل کوشش کی۔ جبکہ صرف تیار کام پر قبضہ جمانے والے لوگوں کو عوام کو جواب دینا چاہیے کہ آخر کام کے آغاز سے لے کر تکمیل تک وہ کہاں تھے؟ عوامی خدمت صرف مائیک پکڑنے، بینر لگانے اور ربن کاٹنے سے نہیں ہوتی، بلکہ خدمت وہ ہوتی ہے جس میں انسان اپنا سکون قربان کر کے عوام کے مسائل حل کرے۔
وقت آ گیا ہے کہ عوام ان نام نہاد کریڈٹ خور سیاستدانوں اور موقع پرست لوگوں کو پہچانے، جو ہر تیار شدہ منصوبے پر ٹڈّی دل کی طرح حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ شہر کو ترقی دینے والے وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں، نہ کہ وہ جو دوسروں کی محنت پر اپنی سیاست کی دکان چلاتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ محنت کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے، جبکہ کریڈٹ چور صرف وقتی شور تک محدود رہتے ہیں۔








_*قلمکاروں کے نام: ارتداد پیار عشق محبت دھوکہ اور خودکشی ؛ نشہ ،پر درد مندانہ اپیل*_  
_تحریر: شعیب احمد محمدی_  
_گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں_
_تمہید_  
ہمارے شہر کے تمام سوشل ورکرز نے ایک پروگرام ترتیب دیا ہے جس میں ان موضوعات پر گفتگو ہوگی: ارتداد، خودکشی، بد اخلاقی، پیار محبت اور دھوکا، نشہ، آتی کرمن، اور دیگر سماجی برائیاں۔ خواتین اسلام کے روبرو نازیہ تسکین آپا اور دیگر عالمہ آپا کی تفصیلی گفتگو ہوگی۔ ان شاء اللہ 12 جولائی 2026 بروز اتوار دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک اسکول نمبر 1 گراؤنڈ، قدوائی روڈ پر۔ اس لیے قلمکاروں کے نام _امتی فاؤنڈیشن مالیگاؤں _ مالیگاؤں ہیلتھ آرگنائزیشن _ مسلم اُنتی سیوا فاؤنڈیشن _ ایم آئی سی بلڈ ڈونر گروپ مولانا کمپاؤنڈ _ ادارہ ستارہ ہند _ اسماعیل رحمانی گروپ _ امان فاؤنڈیشن رمضان پورہ _ رضوان بھانجہ گروپ سلامت آباد _ للّہ چیریٹیبل فاؤنڈیشن _ الخدمت خواتین گروپ _ الیون اسٹار خواتین گروپ مالیگاؤں _ گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں_ کا درد بھرا پیغام:

اے قلم کے وارثو، اے لفظوں کے امینو! یہ تحریر تمہارے نام ہے۔ وہ تم جو معاشرے کا ضمیر ہو، جو قوموں کی تقدیر لکھتے ہو، جو سیاہی سے اجالا کرتے ہو۔ آج تم سے ایک دردمندانہ گزارش ہے۔ موضوع ہے "ارتداد"۔ ایسا زہر جو عقیدے کی جڑیں کھوکھلی کر دیتا ہے، جو ایمان کے محل کو گرا دیتا ہے۔ 

_1 ارتداد کیا ہے؟_  
ارتداد یعنی دین اسلام کو چھوڑ دینا۔ زبان سے، عمل سے، یا دل سے انکار کر دینا۔ یہ صرف مذہب بدلنے کا نام نہیں، یہ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد "ألست بربکم" کو توڑ دینے کا نام ہے۔ 

قرآن کہتا ہے: _وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ_  
"تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مرے تو اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے۔"

_2 دینی پہلو: ارتداد صرف فرد کا مسئلہ نہیں_  
اے قلمکارو! یاد رکھو، ارتداد ایک روحانی خودکشی ہے۔ جب کوئی نوجوان سوشل میڈیا پر اسلام کا مذاق اڑاتا ہے، جب کوئی بیٹی ملحد ویب سائٹس سے متاثر ہو کر نماز چھوڑ دیتی ہے، جب کوئی بھائی شکوک کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے تو یہ صرف اس کا ذاتی معاملہ نہیں رہتا۔ یہ پوری امت کے جسم میں ایک ناسور بن جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے۔ اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔" 

تو بتاؤ، جب امت کا ایک فرد ایمان سے پھر جائے تو کیا ہمارے قلم کو بخار نہیں چڑھنا چاہیے؟

_3 معاشرتی پہلو: ارتداد کیوں پھیل رہا ہے؟_  
قلمکارو! تم معاشرے کی نبض دیکھتے ہو۔ تم بتاؤ کیا وجہ ہے کہ آج کا نوجوان دین سے دور ہو رہا ہے؟

1. _جہالت:_ ہم نے اپنے بچوں کو ڈگریاں تو دلوا دیں، قرآن کا ترجمہ نہ سکھایا۔ 
2. _نفرت انگیز مواد:_ یوٹیوب پر 5 منٹ کی ویڈیو ایک عالم کی 50 سال کی محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔ 
3. _گھریلو ماحول:_ جب گھر میں باپ سود کھائے، ماں ڈراموں میں گم رہے، تو بیٹے سے ایمان کی پختگی کی امید کیسی؟
4. _احساس کمتری:_ مغرب کی چکا چوند دیکھ کر ہمیں اپنا دین "پرانا" لگنے لگا ہے۔

تمہارا قلم اگر خاموش رہا تو یہ آگ ہر گھر تک پہنچے گی۔

_4 جذباتی پہلو: ایک مرتد کی ماں کا دکھ_  
ذرا آنکھیں بند کرو اور تصور کرو۔ ایک ماں جس نے راتوں کو اٹھ کر اپنے بیٹے کے لیے دعائیں کیں، جس نے اسے لا الہ الا اللہ سکھایا، آج وہی بیٹا کہتا ہے "میں خدا کو نہیں مانتا"۔ 

اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ سجدے میں گر کر کس سے فریاد کرے گی؟ 
اے قلمکارو! تمہارے لفظ اگر اس ماں کا سہارا نہ بنے تو پھر کس کام کے؟ تمہاری تحریر اگر اس بیٹے کو واپس نہ لا سکی تو تمہاری سیاہی کس دن کام آئے گی؟

_5 سماجی پہلو: ارتداد کا زہر کیسے روکیں؟_  
یہ کام صرف مولوی کا نہیں، یہ تمہارا بھی کام ہے۔ 

1. _محبت کا قلم اٹھاؤ:_ فتوے سے پہلے دلیل دو۔ نفرت سے پہلے محبت سے سمجھاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں پتھر کھا کر بھی دعا دیتے رہے۔ 
2. _سوال کا جواب دو:_ نوجوان کے ذہن میں جو شک ہے اسے "گستاخ" کہہ کر نہ دباؤ۔ اس کا جواب لکھو۔ آسان زبان میں لکھو۔ 
3. _متبادل دو:_ اگر وہ غلط ویب سائٹ دیکھتا ہے تو تم صحیح مواد بناؤ۔ کہانی لکھو، ناول لکھو، ڈرامہ لکھو، مگر پیغام ایمان کا دو۔
4. _گھر کو مسجد بناؤ:_ اپنے کالم میں لکھو کہ ماں باپ اپنے بچوں سے روز 10 منٹ دین کی بات کریں۔

_6 اخلاقی پہلو: قلمکار کی ذمہ داری_  
اے اہل قلم! تمہارا قلم اللہ کی امانت ہے۔ قیامت کے دن اس سیاہی کا حساب ہوگا۔ 

اگر کوئی مرتد ہوتا ہے اور دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے، تب تمہارا ایک مضمون کسی کو جہنم سے بچا کر جنت میں لے جا سکتا ہے۔ 

کیا تم نے کبھی سوچا کہ اگر تمہاری تحریر پڑھ کر کوئی مرتد ہو گیا تو اس کا وبال کس پر ہوگا؟ اور اگر تمہاری تحریر سے کسی کا ایمان بچ گیا تو اس کا اجر کتنا ہوگا؟

قرآن کہتا ہے: _وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا_  
"جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔"  
اور ایمان بچانا، جان بچانے سے بڑھ کر ہے۔

_حرف آخر: قلم کو تلوار بناؤ_  
اے قلمکارو! اٹھو۔ تمہارا وقت آ گیا ہے۔ ارتداد کا فتنہ دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ 

1. اپنے بچوں کو دلائل کے ساتھ دین سکھاؤ۔
2. سوشل میڈیا پر ہر شکوے کا جواب دو۔
3. محبت سے لکھو، درد سے لکھو، آنسوؤں کی سیاہی سے لکھو۔
4. یاد رکھو، تمہارا قلم اگر آج نہ اٹھا تو کل تمہاری نسلیں تم سے سوال کریں گی۔

ارتداد کے اس دور میں خاموش قلمکار مجرم ہے۔ بولو، لکھو، چیخو، مگر امت کے ایمان کو بچا لو۔ 

کیونکہ مٹی کے ذرے بھی گواہی دیں گے کہ جب ایمان لٹ رہا تھا، کس کا قلم سویا تھا اور کس کا قلم جاگا تھا۔

_وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ_

---







*کربلا کے پس منظر میں عصرِ حاضر کا معرکہ: تعلیمی انقلاب اور قوم کی تعمیر*
کربلا صرف تاریخ کا ایک المناک باب نہیں، بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم، کردار و مفاد اور قربانی و مصلحت کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک روشن معیار ہے۔
حضرت امام حسینؓ نے صرف اپنی اور اپنے اہلِ بیت کی جانوں کی قربانی نہیں دی، بلکہ پوری انسانیت کو یہ عظیم پیغام دیا کہ جب حق، انصاف، دیانت، عزتِ نفس اور دین کی حفاظت کا سوال ہو تو کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

ہر دور کا اپنا ایک یزید ہوتا ہے اور ہر زمانے کا ایک کربلا بھی۔
آج سوال یہ ہے کہ ہمارے دور کا معرکہ کیا ہے؟

آج کا سب سے بڑا معرکہ
جہالت اور علم.....
پسماندگی اور ترقی.....
کمزوری اور خود انحصاری.....
بدعنوانی اور دیانتداری.....
بے شعوری اور بیداری.....
کردار اور بے کرداریت کے درمیان برپا ہے۔

آج امتِ مسلمہ کا اصل میدان
تعلیم.....
تعلیمی بیداری.....
تحقیق.....
سائنس.....
ٹیکنالوجی.....
معیشت،
قیادت،
اخلاق اور کردار کا میدان ہے۔

جہاں دنیا کی دوسری قومیں علم، تحقیق، صنعت، تجارت، معیشت اور جدید ٹیکنالوجی میں مسلسل آگے بڑھتی گئیں، وہیں امتِ مسلمہ کا ایک بڑا حصہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری آبادی تو بڑھتی رہی، لیکن ہماری نمائندگی،
ہماری آواز،
ہماری معاشی طاقت اور
فیصلہ سازی میں ہمارا کردار کمزور ہوتا چلا گیا۔

سوچیے...

اگر ہماری تعلیمی نمائندگی کمزور ہوگی تو بہترین
ڈاکٹر کون بنے گا.....؟
انجینئر کون ہوگا.....؟
جج کون ہوگا.....؟
پروفیسر کون ہوگا.....؟
سائنس دان کون ہوگا.....؟
محقق کون ہوگا.....؟
پالیسی ساز کون ہوگا.....؟

منتظم، صنعت کار، ماہرِ معاشیات، بزنس لیڈر اور قومی رہنما کون ہوں گے........؟

اگر ان تمام شعبوں میں ہماری موجودگی نہ ہونے کے برابر ہوگی تو........
ہماری آواز بھی کمزور ہوگی،
ہماری معیشت بھی دوسروں کی محتاج ہوگی اور
ہماری آنے والی نسلیں بھی محرومی کا شکار رہیں گی۔

اسی لیے آج ہر مسلمان کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ
امت کی بقا.....
عزت.....
آزادی.....
خودمختاری.....
قیادت اور ترقی کا بنیادی ستون ہے۔

ہمارے مسلم اسکول، کالج، جامعات اور تحقیقی ادارے صرف تعلیمی عمارتیں نہیں بلکہ امت کے مستقبل کی تجربہ گاہیں ہیں۔
یہی وہ مراکز ہیں جہاں سے کل کے سائنس دان.....
ڈاکٹرز.....
انجینئرز.....
اساتذہ.....
صنعت کار.....
تاجر.....
منتظمین.....
سیاست دان.....
سماجی قائدین.....
مصلحین اور علماء تیار ہوں گے۔

یاد رکھئے...

ایک مضبوط تعلیمی معاشرہ ہی ایک مضبوط معاشی قوم کو جنم دیتا ہے۔
جب تعلیم آئے گی تو شعور پیدا ہوگا!!!!
شعور آئے گا تو تحقیق ہوگی!!!!!
تحقیق ہوگی تو نئی ایجادات ہوں گی۔!!!!!
ایجادات ہوں گی تو صنعت ترقی کرے گی۔!!!!!
صنعت بڑھے گی تو تجارت مضبوط ہوگی۔!!!!!
تجارت مضبوط ہوگی تو معیشت مستحکم ہوگی۔!!!!!
معیشت مضبوط ہوگی تو قوم خودمختار ہوگی۔!!!!!
اور جب تعلیم، معیشت، کردار اور قیادت ایک ساتھ مضبوط ہوں گے تو امت دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
اسی لیے اگر ہم واقعی امام حسینؓ کی قربانی کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے دور کے کربلا کو بھی پہچاننا ہوگا۔

آج کی سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ
ہم اپنی ذاتی خواہشات پر اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو ترجیح دیں۔!!!
اپنی دولت کا ایک حصہ معیاری تعلیم پر خرچ کریں۔!!!
اپنے بچوں اور بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔!!!
مسلم اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو مضبوط بنائیں۔!!!
مسلم اداروں کو مضبوط کریں اور ان پر آنچ نہ آنے دیں۔!!!
تعلیمی وظائف قائم کریں۔!!!
کتاب سے دوستی پیدا کریں۔!!!
مطالعہ، تحقیق اور اختراع کو فروغ دیں۔!!!
اور ہر گھر کو علم کا چراغ بنا دیں۔!!!

لیکن یاد رکھیے...

آج ملک اور پوری دنیا کو صرف اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والے افراد کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ایسے ایماندار، دیانتدار، باکردار، انصاف پسند، حق پسند، شفاف کردار کے حامل اور علم پر عمل کرنے والے انسانوں کی اشد ضرورت ہے، جو اپنی صلاحیتوں کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ انسانیت، قوم اور وطن کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔

ہمیں ایسے ڈاکٹر چاہییں جن کی دیانت پر مریض کو اعتماد ہو۔!!!
ایسے انجینئر چاہییں جن کی امانت داری سے قوم کا سرمایہ محفوظ رہے۔!!!
ایسے تاجر چاہییں جن کی تجارت سچائی، انصاف اور امانت پر قائم ہو۔!!!
ایسے اساتذہ چاہییں جو صرف کتابیں نہ پڑھائیں بلکہ نسلوں کا کردار بھی تعمیر کریں۔!!!
ایسے جج، وکیل، افسر اور سیاست دان چاہییں جن کا ہر فیصلہ انصاف، شفافیت، دیانت اور عوامی بھلائی پر مبنی ہو۔!!!
ایسے سائنس دان اور محققین چاہییں جو اپنی تحقیقات سے انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔!!!

یہی وہ افراد ہیں جن سے ہر شہری کو امید ہوگی کہ ہمارا ملک ایک صالح، انصاف پسند، ترقی یافتہ، خوشحال اور پُرامن معاشرہ بنے گا۔

اسلام ہمیں صرف عبادت گزار انسان نہیں بناتا، بلکہ ایسا انسان بناتا ہے جو امانت دار بھی ہو، دیانت دار بھی، انصاف پسند بھی، محنتی بھی، باکردار بھی اور اپنی قوم و ملک کے لیے مفید بھی۔

اسی لیے ہمارا مقصد صرف تعلیم یافتہ افراد پیدا کرنا نہیں بلکہ کردار یافتہ، باصلاحیت، بااخلاق اور ذمہ دار انسان تیار کرنا ہونا چاہیے۔ ایسی تعلیم جو علم کے ساتھ اخلاق، مہارت کے ساتھ دیانت، ترقی کے ساتھ خدمت، کامیابی کے ساتھ اللہ کا خوف اور دنیاوی کامیابی کے ساتھ آخرت کی جواب دہی کا احساس بھی پیدا کرے۔

جب ہمارے اسکولوں، کالجوں اور جامعات سے ایسے نوجوان نکلیں گے تو صرف مسلم معاشرہ ہی نہیں بلکہ پورا ملک ان سے فائدہ اٹھائے گا۔ وہ قومی ترقی، معاشی استحکام، سماجی انصاف، قومی یکجہتی، مضبوط جمہوریت اور ایک روشن مستقبل کی ضمانت بنیں گے۔


ایک اور حقیقت جسے ہمیں کربلا کے پیغام کی روشنی میں سمجھنا ہوگا، وہ اتحاد، اداروں کا تحفظ اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔

کسی بھی قوم کے تعلیمی، دینی اور سماجی ادارے ایک دن میں وجود میں نہیں آتے۔ ان کے پیچھے
بزرگوں کی دعائیں...
مخلص افراد کی قربانیاں...
عوام کا اعتماد۔..
اور کئی دہائیوں کی مسلسل محنت شامل ہوتی ہے۔
ایسے ادارے پوری قوم کا سرمایہ اور آنے والی نسلوں کی امانت ہوتے ہیں۔

یہ فطری بات ہے کہ افراد، جماعتوں یا اداروں کے درمیان بعض اوقات رائے کا اختلاف پیدا ہو جائے۔
لیکن یہ اختلاف کبھی اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ ہمارے اپنے ادارے کمزور ہوں، قوم تقسیم ہو جائے، یا برسوں کی محنت سے قائم کیے گئے تعلیمی مراکز تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیں۔

یاد رکھیے!

گھر کے افراد کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن گھر کی عزت، اس کی بنیاد اور اس کے مستقبل کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔

ہمیں اپنے اختلافات کو حکمت، شریعت، اخلاق اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنا چاہیے، نہ کہ اس انداز میں کہ قوم کے دشمن یا بدخواہ ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں۔

اگر ہمیں اپنے اداروں، قیادت یا کسی پالیسی سے اختلاف ہو تو اس کا حل اصلاح، مشورہ اور خیرخواہی ہے، نہ کہ ایسی کشمکش جو ہمارے ہی تعلیمی، دینی اور سماجی سرمایہ کو نقصان پہنچا دے۔

آج امت کو ایک دوسرے کو گرانے والوں کی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سنبھالنے والوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جو قوم اپنے اداروں اور اسلاف کی حفاظت کرتی ہے، وہی قوم اپنا مستقبل محفوظ کرتی ہے۔

اختلاف ہو سکتا ہے، انتشار نہیں؛
تنقید ہو سکتی ہے، تخریب نہیں؛
اصلاح ہونی چاہیے، تباہی نہیں۔
یہی کربلا کا شعور ہے اور یہی امت کی کامیابی کا راستہ ہے۔

یاد رکھیے...

جس قوم کی کتاب بند ہوجاتی ہے، اس کی تقدیر بھی بند ہوجاتی ہے۔

اور...

جس قوم کے اسکول آباد ہوتے ہیں، اس کے مستقبل کے ایوان بھی آباد ہوتے ہیں۔

آئیے! اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم اپنے دور کے معرکے میں
قلم اور علم کا علم اٹھائیں گے؛
نفرت نہیں، علم پھیلائیں گے؛
تقسیم نہیں، تعمیر کریں گے؛
مایوسی نہیں، امید پیدا کریں گے؛
اور ایک ایسا تعلیمی انقلاب برپا کریں گے جو امت کو علم، کردار، معیشت، قیادت اور خدمت کے اعلیٰ مقام تک پہنچا دے۔ ان شاءاللہ 

کیونکہ آنے والی صدیوں میں
امت کی عزت،
مضبوط معیشت،
باوقار سیاست،
کامیاب تجارت،
مؤثر قیادت،
صالح معاشرہ،
اور عالمی رہنمائی کا راستہ
صرف اور صرف تعلیم، کردار اور دیانت سے ہو کر گزرتا ہے۔

تعلیم صرف روزگار نہیں دیتی، بلکہ کردار بناتی ہے؛
کردار قوم بناتا ہے،
اور قومیں ہی تاریخ کا رخ بدلتی ہیں۔

آئیے! کربلا کے پیغام کو صرف آنسوؤں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے تعلیمی انقلاب، کردار سازی اور امت و ملک کی تعمیر کی عملی تحریک بنائیں۔ یہی آج کے دور میں امام حسینؓ کی قربانی کو حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔


✍️ اظہر مہدی
چیئرمن نیوارا گروپ آف ایجوکیشن 
azhar.newera@gmail.com

Wednesday, 24 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


دارالسرور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، برہان پور کا دس سالہ جشنِ تکمیل
مالیگاؤں سے ڈاکٹر ایوبی معاذ، ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان و پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحبان کو "حضرت سعدی دکنی برہان پوری ایوارڈ" تفویض 

دارالسرور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، برہان پور کا دس سالہ جشنِ تکمیل پروگرام ٢١ جون ٢٠٢٦ ء کی شب عبدالرحمن ہال، انصار نگر، برہان پور ایم پی میں ہوا جسمیں برہان پور کے بچوں کے ادب کا پہلا اردو ناول کمسن جاسوس (پروانہ برہان پوری) کا اجراء بھی معزز مہمانان کے ہاتھوں ہوا ساتھ ہی 19 اپریل 2026 کو منعقدہ مضمون نگاری مقابلے میں شرکت کرنے والے انعام یافتگان کو انعامات تقسیم کیے گئے۔ جیکہ ڈاکٹر عبدالکریم سالار صاحب(صدر اقراء ایجوکیشن سوسائٹی، جلگاؤں) محترم فیروز کمال صاحب(مالک کمال پبلکیشن، جبلپور)محترم مشیر احمد انصاری صاحب(مدیر ماہنامہ اردو آنگن، ممبئی) محترم پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحب(آنریری سیکریٹری اے ٹی ٹی ایجوکیشنل کیمپس، صدر سی سی آئی و صدر انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں)محترم ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان صاحب (معروف سنئیر وکیل مالیگاؤں کورٹ)محترم ڈاکٹر ایوبی معاذ احمد ڈاکٹر منظور حسن ایوبی صاحب (رکن انتظامیہ سٹیزن ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی، مالیگاؤں) صاحبان کی تعلیمی و سماجی خدمات جلیلہ کا اعتراف کرتے ہوئے "حضرت سعدی دکنی برہان پوری ایوارڈ" بھی تفویض کیا گیا- علاوہ ازیں مالیگاؤں سے بطور مہمان خاص مدعو ڈاکٹر آصف سلیم و رضوان ربانی صاحبان کو بھی اعزازی و اعترافی ٹرافیاں تفویض کی گئیں تمام ہی ایوارڈ و اعزاز یافتگان کو عمیق دل سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے-









پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شان میں گستاخانہ بیان کے خلاف SDPI کا احتجاج، نازیہ الٰہی خان کے خلاف FIR درج کرنے کا مطالبہ
مالیگاؤں (نامہ نگار):
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ اقدس میں مبینہ طور پر گستاخانہ اور اشتعال انگیز بیان دینے والی نازیہ الٰہی خان کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرکے سخت قانونی کارروائی کرنے کے مطالبے پر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے ایک وفد نے مالیگاؤں کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ASP) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DYSP) کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا۔

میمورنڈم میں کہا گیا کہ نازیہ الٰہی خان کے مبینہ بیانات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ وفد کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت، اشتعال اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھی فروغ دے سکتے ہیں، جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

وفد نے مطالبہ کیا کہ نازیہ الٰہی خان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارہ اور امن و امان برقرار رہے۔

اس موقع پر وفد نے مالیگاؤں سٹی پولیس اسٹیشن کے پولیس افسران سے بھی ملاقات کی اور میمورنڈم کی ایک نقل وہاں بھی پیش کی۔ وفد کے اراکین نے پولیس حکام کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات اور قانونی اصولوں کے مطابق مذہبی منافرت، اشتعال انگیزی اور عوامی امن کو متاثر کرنے والے معاملات میں پولیس کو از خود (Suo Motu) کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنی چاہیے اور شکایت کا انتظار کیے بغیر قانون کے مطابق فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

وفد کی نمائندگی SDPI کے ریاستی ورکنگ کمیٹی کے اراکین عبداللہ انجینئر اور مشتاق محاذ نے کی۔ اس موقع پر پولیس افسران سے گفتگو کرتے ہوئے مشتاق محاذ نے کہا کہ کسی بھی مذہب، مذہبی شخصیت یا مقدس ہستی کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں فوری اور مؤثر قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔

وفد میں SDPI کے ضلعی صدر مظہر الیاس، ابراہیم انقلابی، حافظ عمران شہباز، اظہر اسلم، جمیل شیخ سمیت متعدد ذمہ داران، کارکنان اور درجنوں عہدیداران شریک تھے۔ وفد نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی حساسیت اور سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی جرات نہ کر سکے۔

میمورنڈم کی نقول متعلقہ پولیس حکام اور دیگر ذمہ دار افسران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ SDPI قائدین نے اس موقع پر کہا کہ مذہبی احترام، آئینی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کے تحفظ کے لیے ان کی قانونی اور جمہوری جدوجہد آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس انتظامیہ اس معاملے میں فوری، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ کارروائی کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔








101 سے 65 کلو تک: فٹنس انفلوئنسر نے سات ماہ میں 36 کلو وزن کیسے کم کیا؟
وزن کم کرنے کی کامیاب کہانیاں اکثر فٹنس کے شوقین افراد کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ اگرچہ ایسی تبدیلیاں بظاہر آسان دکھائی دیتی ہیں، لیکن درحقیقت یہ نظم و ضبط، مسلسل محنت اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
بعض اوقات کسی ایک شخص کی کامیابی دوسروں کے لیے بھی صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور اپنے اہداف کے حصول کی ترغیب بن جاتی ہے۔
فٹنس کانٹینٹ کریئیٹر کاجل کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔کاجل نے اپنی وزن کم کرنے کی پوری جدوجہد انسٹاگرام پر شیئر کی اور بتایا کہ وہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں 101 کلوگرام سے 65 کلوگرام تک پہنچ گئیں۔ ان کی ویڈیوز کے مطابق انہوں نے اگست 2025 میں اپنی فٹنس ٹرانسفارمیشن کا آغاز کیا اور صرف سات ماہ میں تقریباً 36 کلوگرام وزن کم کرنے میں کامیاب رہیں۔
اپنی تازہ ویڈیو میں کاجل نے اپنی فٹنس ٹرانسفارمیشن کی قبل اور بعد کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اپنی غذا کا معمول بھی بتایا۔
پہلا دن
کاجل کے مطابق ہفتے کا آغاز سادہ اور متوازن گھریلو کھانوں سے ہوتا ہے۔ صبح وہ ایک کپ زیرہ واٹر اور پانچ بھیگے ہوئے خشک میوے استعمال کرتی ہیں۔
ناشتے میں دو چھوٹے بیسن چیلے پودینے کی چٹنی کے ساتھ کھاتی ہیں۔ درمیانی وقت میں ایک پیالہ پھل، عموماً پپیتا، اور ایک کھانے کا چمچ سورج مکھی کے بیج استعمال کرتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں آدھا کپ براؤن رائس، چنے کی دال اور بھنڈی شامل ہوتی ہے۔ شام کو ہربل چائے کے ساتھ 20 گرام بھنا ہوا مکھانہ کھاتی ہیں، جبکہ رات کے کھانے میں ٹوفو بھرجی، فرائی کی ہوئی پھلیاں اور ایک باجرے کی روٹی شامل ہوتی ہے۔
دوسرا دن
دوسرے دن کاجل زیرہ واٹر کی جگہ نیم گرم لیموں پانی میں بھیگے ہوئے چیا سیڈز استعمال کرتی ہیں۔
ناشتے میں سویابین کے ٹکڑوں کے ساتھ ویجیٹیبل پوہا کھاتی ہیں۔ بعد ازاں ایک سیب اور ایک کھانے کا چمچ کدو کے بیج بطور سنیک لیتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں دو روٹیاں، مونگ کی دال، لوکی کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کو چھاچھ اور بھنے ہوئے چنے کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں 100 گرام پالک پنیر، ایک جوار کی روٹی اور کھیرے کا رائتہ شامل ہوتا ہے۔تیسرا دن
تیسرے دن کا آغاز ایلوویرا شاٹ اور نیم گرم پانی سے ہوتا ہے۔ ناشتے میں راگی ڈوسا، پروٹین سے بھرپور سامبر اور چٹنی شامل ہوتی ہے۔ درمیانی وقت میں ایک امرود اور ایک کھانے کا چمچ السی کے بیج کھاتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں ایک چھوٹی جوار کی روٹی، تور دال، پالک کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کے وقت بغیر چینی والا یونانی دہی چیا سیڈز اور بیریز یا انار کے ساتھ کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں ویجیٹیبل کوئنوا پلاؤ اور کھیرے، ٹماٹر کا سلاد شامل ہوتا ہے۔
چوتھا دن
چوتھے دن کا آغاز بھیگے ہوئے میتھی دانے کے پانی اور ویجیٹیبل اپما سے ہوتا ہے۔ بعد میں ایک ناشپاتی اور آٹھ سے 10 بھیگی ہوئی کشمش کھاتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں باجرے کی کھچڑی اور کچری شامل ہوتی ہے۔ شام کو لیموں پانی اور ہمس کے ساتھ دو رائس کیکس کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں سویا کری اور ایک روٹی شامل ہوتی ہے۔پانچواں دن
پانچویں دن صبح لیموں اور ادرک والا پانی، پانچ بھیگے ہوئے آخروٹ اور سبزیوں سے تیار اوٹس چیلا سبز چٹنی کے ساتھ کھاتی ہیں۔ بعد ازاں پھل اور مختلف بیج استعمال کرتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں دو باجرے کی روٹیاں، مسور کی دال، بھنڈی کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کو چھاچھ اور بھنی ہوئی مونگ پھلی کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں پنیر تکہ، ہلکی فرائی کی ہوئی زوکینی اور آدھا کپ براؤن رائس شامل ہوتا ہے۔
اگرچہ وزن کم کرنے کے نتائج ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم کاجل کی یہ کامیاب جدوجہد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقل مزاجی، مناسب مقدار میں غذا کا استعمال اور متوازن خوراک طویل المدتی فٹنس اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

مالویہ نگر، لکھنؤ کے بعد اب دہلی کے ادیوگ بھون کے قریب آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو گئیں جھگیاں ، آخر کب تک معصوم زندگیاں ہوتی رہیں گی ناقص نظام کی ناکامی کا شکار؟
ملک کی راجدھانی دہلی سے لے کر اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ تک اس وقت شہروں میں لگنے والی آگ اور آتشزدگی کے واقعات کا ایک نہایت خوفناک اور تشویشناک سلسلہ سامنے آ رہا ہے۔ آج علی الصبح دہلی کے وی وی آئی پی اور انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے ادیوگ بھون کے قریب واقع مزدوروں کی جھگیوں میں اچانک بھیانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔آگ کے شعلے اتنے ہولناک تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں عارضی آشیانے جل کر خاکستر ہو گئے۔ موقع پر پہنچنے والی فائر بریگیڈ کی 20 گاڑیوں نے طویل جدوجہد کے بعد صبح تقریباً 5:30 بجے آگ پر قابو پایا، لیکن اس حادثے نے دہلی کے مالویہ نگر اور لکھنؤ میں پیش آنے والے حالیہ سانحات کی یاد تازہ کر دی۔

ادیوگ بھون کے قریب جھگیاں خاکستر

دہلی فائر سروس (DFS) کے حکام کے مطابق ابتدائی جانچ میں آگ لگنے کی وجہ ایک الیکٹرک پینل میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ بیشتر جھگیاں پلاسٹک، لکڑی اور دیگر عارضی مواد سے بنی ہوئی تھیں، اس لیے آگ نے چند ہی منٹوں میں خطرناک شکل اختیار کر لی۔اطمینان کی بات یہ رہی کہ علی الصبح مچی چیخ و پکار کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ فی الحال فائر ڈپارٹمنٹ نقصان کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔

والمیکی بستی سے مالویہ نگر تک خوف کی فضا

دہلی میں آگ کا یہ تباہ کن واقعہ کوئی پہلا حادثہ نہیں ہے۔ صرف دو روز قبل پیر کی رات مولانا آزاد میڈیکل کالج کے پیچھے واقع والمیکی بستی (تکیہ کالے خاں) میں بھی ایسی ہی ہولناک آگ لگی تھی، جہاں رہائشی جھگیوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے پلائی ووڈ اور لکڑی کے باعث 24 فائر ٹینڈروں کو آگ بجھانے کے لیے سخت مشقت کرنا پڑی تھی۔اتنا ہی نہیں، دارالحکومت کے لوگ ابھی تک مالویہ نگر کے اس مشہور آتشزدگی کے واقعے کو نہیں بھولے ہیں، جہاں تنگ گلیوں اور آتش گیر سامان کی موجودگی نے پورے علاقے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔

فائر این او سی پر ملک بھر میں ہنگامہ

ادیوگ بھون کے قریب پیش آنے والے اس واقعے نے حفاظتی معیارات پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ پیر کے روز ہی لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں ایک کوچنگ ادارے میں ہونے والے المناک آتشزدگی کے بعد پورے اتر پردیش اور دہلی میں فائر این او سی (Fire NOC) اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ اسی مہم کے تحت پریاگ راج میں خان سر کی کوچنگ تک سیل کی جا چکی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ چاہے لکھنؤ کا رہائشی و کوچنگ علاقہ ہو، دہلی کا مالویہ نگر ہو یا ادیوگ بھون کے قریب واقع مزدوروں کی یہ بستی، غیر قانونی برقی لوڈ، تنگ گلیاں اور فائر سیفٹی اصولوں کو نظرانداز کرنا ہی ایسے حادثات کی اصل وجوہات ہیں۔









امریکہ-ایران امن معاہدے پر منڈلانے لگے بحران کے بادل، ٹرمپ اور ایران کے درمیان لفظی جنگ کے بیچ کیا پھر بھڑک اٹھے گا مشرقِ وسطیٰ؟
مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) میں امن کی بحالی کی کوششوں کے دوران ایک بار پھر دنیا کے دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جاری انتہائی خفیہ اور اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے بیانات میں ایسا تضاد سامنے آیا ہے جس نے عالمی دفاعی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پنسلوانیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سخت اور طویل مدتی جوہری معائنے قبول کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب تہران نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جس کے بعد جاری مذاکرات کی کامیابی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران نے سخت جوہری معائنے مان لیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور ایک پریس کانفرنس میں جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے پسِ پردہ مذاکرات میں امریکی شرائط تسلیم کر لی ہیں اور جوہری تنصیبات کے سخت معائنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے بند کمرے کی بات چیت میں خود اس بات کی تصدیق کی تھی اور امریکہ کے پاس اس کے مکمل شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے موجودہ انکاری بیانات درست ہوتے تو وہ فوری طور پر مذاکرات ختم کر دیتے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران، مہنگائی اور غذائی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے، اس لیے اس کے پاس سمجھوتے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

تہران کا جواب: امریکہ گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہا ہے

دوسری جانب ایرانی حکام نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک منظم پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری معائنوں کے حوالے سے کوئی نئی شرط یا امریکی دباؤ قبول نہیں کیا۔ایرانی حکام کے مطابق ایران کا تعاون صرف پہلے سے طے شدہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے دائرے میں جاری رہے گا۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ بند کمرے میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں آخر کون سچ بول رہا ہے اور کون حقائق کو اپنے حق میں پیش کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز پر 60 روزہ مہلت برقرار

اس بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈیوں کے لیے ایک مثبت خبر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کسی قسم کی بحری ناکہ بندی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔تاہم امریکہ اور ایران نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک مستقل معاہدے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ لیکن جوہری معائنوں، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور یورینیم افزودگی کی حدود جیسے اہم معاملات پر دونوں ممالک کے سخت مؤقف کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی یہ چنگاری کسی بھی وقت دوبارہ بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔









حج پالیسی 2027 کا اعلان، آن لائن درخواستوں کا عمل شروع، 20 جولائی تک دے سکتے ہیں درخواست
لکھنؤ: حکومت ہند کی اقلیتی امور کی وزارت کے تحت حج کمیٹی آف انڈیا نے حج 2027 کے لیے آن لائن درخواست کا عمل شروع کر دیا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے عازمین کمیٹی کی سرکاری ویب سائٹ اور 'حج سہولت' موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ حج 2027 کے لیے درخواست کے وقت 22 جون 2026 سے 20 جولائی 2026 تک رات 11 بج کر 59 تک طے کیا گیا گا۔

حج کمیٹی کے مطابق ڈیجیٹل رینڈم سلیکشن پروسیس (قرہ) کے ذریعے منتخب ہونے والے عازمین کی فہرست جولائی 2026 کے آخری ہفتے میں جاری کی جائے گی۔ منتخب درخواست دہندگان کو 10 اگست 2026 تک 1,52,300 روپے کی ایڈوانس رقم جمع کرنی ہوگی۔

مطلوبہ دستاویزات:

درخواست کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات کی اسکین شدہ کاپیاں بھی اپ لوڈ کرنا لازمی ہے۔

ہندوستانی بین الاقوامی پاسپورٹ کے پہلے اور آخری صفحہ کی ایک کاپی۔

پاسپورٹ سائز کی تصویر۔

بینک پاس بک یا منسوخ شدہ چیک۔

پتے کا ثبوت۔

حج کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ درخواست کے وقت پاسپورٹ کی ویلیڈٹی 31 دسمبر سال 2027 تک ہونی چاہیے۔

سیٹ کینسل ہونے پر وارننگ

حج کمیٹی نے عازمین کو مشورہ دیا ہے سیٹ کینسل کرنے سے گریز کریں، کیوں کہ سیٹ رد ہونے سے آپریشنل اور انتظامی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اس لیے حج کے لیے مکمل عزم کے بعد ہی درخواست دیں۔ سیٹ کینسل ہونے کی صورت میں حج 2027 کے رہنما خطوط کے مطابق تعزیری دفعات لاگو کی جا سکتی ہیں۔حج پالیسی 2027 کا اعلان

نئی حج پالیسی کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان کوٹہ کی تقسیم 70:30 پر برقرار ہے، جس میں کمیٹی کے لیے 1,22,518 سیٹیں اور پرائیویٹ سیکٹر کے لیے 52,507 سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر رجیجو نے تمام اہل عازمین پر زور دیا کہ وہ مقررہ وقت کے اندر درخواست جمع کرائیں اور حج کمیٹی آف انڈیا اور متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ آرام دہ اور شفاف عمل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہر بھارتی عازمین کے لیے ایک محفوظ، آرام دہ، شفاف اور باوقار حج کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

رجیجو نے ایکس پر لکھا کہ "آج، میں نے حج پالیسی 2027 کا اعلان کیا اور حج کمیٹی آف انڈیا کے پورٹل اور حج سہولت ایپ کے ذریعے حج 2027 کے لیے درخواستیں کھولیں۔ حج 2026 کی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے، نئی پالیسی میں زیادہ سے زیادہ آرام، حفاظت، شفافیت اور وقار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ معاونت، مختصر حج پیکیج کا تسلسل، مضبوط میڈیکل اسکریننگ اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی خدمات، بشمول متعدد بھارتی زبانوں میں اے آئی سے چلنے والی مدد ہم ہر ہندوستانی عازم کے لیے حج کو مزید قابل رسائی، آرام دہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مجموعی کوٹہ بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، جو کہ گذشتہ سال 1,75,025 تھا۔ یہ اعلان 18 جون 2026 کو رجیجو کی زیر صدارت حج جائزہ اجلاس کے بعد ہوا، جہاں حج 2026 کے انعقاد کا جائزہ لیا گیا اور حج 2027 کے روڈ میپ کو حتمی شکل دی گئی۔

حج پالیسی 2027 حج 2026 کے دوران متعارف کرائے گئے اقدامات پر مبنی ہے، جس میں منیٰ میں صوفہ و بستر، مکہ اور مدینہ کے درمیان تیز رفتار ٹرین کا سفر، مکہ میں ہوٹل کی طرز کی رہائش، اور 20 روزہ مختصر حج پیکیج شامل ہیں۔ ہندوستانی حج مشن کو سعودی وزارت حج اور عمرہ کے ذریعہ حج 2026 کے لیے "بہترین حج کوآرڈینیشن اینڈ کمیونیکیشن" کے زمرے کے تحت دو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ہندوستان کو پہلی بار ایسا اعزاز حاصل ہوا۔

نئی حج پالیسی میں تبدیلیاں

اہم تبدیلیوں میں سے، پالیسی ریاستی حج انسپکٹر کے تناسب کو ہر 150 عازمین کے لیے ایک انسپکٹر سے ہر 135 کے لیے ایک کر دیا گیا ہے۔ ویٹنگ لسٹ کو منصفانہ طریقے سے حل کرنے کے لیے، حج 2026 کے آخری انتظار کی فہرست میں شامل درخواست دہندگان میں سے سب سے اوپر 20 فیصد کو ترجیح دی جائے گی، جو پہلے حج کی مانگ کے ساتھ جاری رہے گی۔ کولکاتا کو ایمبارکیشن پوائنٹ کے طور پر شامل کیا گیا۔

میڈیکل اسکریننگ کو سعودی رہنما خطوط کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دائمی طبی حالتوں میں مبتلا افراد کو سفر کے لیے کلیئر نہ کیا جائے، حجاج کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ مرکزی وزارت حجاج کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر بھی کام کر رہی ہے۔ ان میں اے آئی کی مدد سے ایپلی کیشن اور دستاویز کی تصدیق، فلائٹ ایلوکیشن کے لیے ڈیمانڈ ماڈلنگ، اور ریئل ٹائم شکایات کا پتہ لگانا شامل ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


بدھ کو نور باغ چوک میں 'ذکرِ تاجدارِ کربلا' اجتماع، مولانا سید امین القادری قبلہ کا خصوصی خطاب 

میئر و کمشنر کی ہدایت پر کارپوریشن کے اعلی افسران و کارپوریٹرس کا دورہ، خواتین کیلئے باپردہ انتظامات، ایل ای ڈی اسکرین کا بھی نظم 



مالیگاؤں : 23 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ)عالمی تحریک سنی دعوتِ اسلامی، شاخ مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی ذکرِ تاجدارِ کربلا کے عظیم الشان اور روح پرور اجتماعات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ وارث علی چوک اور آزاد نگر جیلانی چوک میں کامیاب اجتماعات کے انعقاد کے بعد، اب کل بروز بدھ کو اس سلسلے کا اگلا بڑا اجتماع نور باغ چوک میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس کے بعد جمعرات اور جمعہ کو اے ٹی ٹی ہائی اسکول گراؤنڈ پر آخری اجتماعات کے ساتھ یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔
ان اجتماعات میں ملک کے مایہ ناز اور شعلہ بیاں خطیب حضرت مولانا سید امین القادری قبلہ کا سلسلہ وار رقت انگیز اور علمی خطاب جاری ہے، جسے سننے کے لیے شہر بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول شرکت کر رہے ہیں۔اس طرح کی تفصیلات آج نور باغ چوک میں دورہ کے دوران نور باغ گروپ کے ذمہ داران میں رضوان میمن نے دی، انہوں نے بتایا کہ نور باغ چوک میں ہونے والے اجتماع کی اہمیت کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے افسران اور مختلف محکموں کے ذمہ داران نے اجتماع گاہ اور گرد و نواح کا تفصیلی دورہ کیا۔ میئر نسرین حاجی خالد شیخ رشید اور کمشنر کی خصوصی ہدایت پر کارپوریٹر شکیل بیگ، فقیر محمد، عرفان عابد علی، پربھاگ آفیسر عرفان تابانی، محکمہءِ صفائی کے سربراہ اقبال جان محمد، اور لائٹ و تجاوزات (اتیکرمن) ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر تیاریوں کا جائزہ لیا۔حکام نے یقین دلایا ہے کہ اجتماع سے قبل دو دنوں کے اندر نور باغ کے پورے علاقے کو ہنگامی طور پر مکمل صاف کر دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اجتماع کے پیش نظر پورے علاقے کی گہرائی سے صفائی، جھاڑو مارنا اور کچرے کی فوری نکاسی۔گٹروں کی صفائی اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ آمد و رفت میں رکاوٹ نہ ہو۔اسی طرح اسٹریٹ لائٹس اور بجلی کے نظام کو چاک و چوبند کرنا۔بارش اور وبائی امراض کے پیشِ نظر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ (فوارنی) اور سڑکوں کے دونوں جانب چونا/پاؤڈر کا بھی چھڑکاؤ کیا جائے گا۔سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آج شام پولس ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران بھی نور باغ چوک پہنچ کر حفاظتی انتظامات اور پولس بندوبست کا جائزہ لیں گے۔رضوان میمن گروپ نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے خصوصی باپردہ انتظام کیا گیا ہے، ایس ڈی آئی نور باغ گروپ کے متحرک ذمہ داران میں رضوان میمن، اقبال بھائی بکھار والے، شفیق انصاری اور ان کے تمام رفقاء گزشتہ کئی دنوں سے گھر گھر جا کر دعوت نامے تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہر کے برادرانِ اسلام اور خواتین سے کثیر تعداد میں اس دینی بزم میں شرکت کی مخلصانہ اپیل کی ہے۔
شرکاء کی سہولت کے لئے خواتین اسلام کے لیے باغبان جماعت خانہ کے گراؤنڈ پر مکمل باپردہ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کے لیے بڑی ایل ای ڈی (LED) اسکرین لگائی جا رہی ہیں تاکہ وہ پروگرام کو باآسانی دیکھ اور سن سکیں۔اسی طرح علماءِ کرام اور مشائخ عظام کے لیے ایک وسیع و عریض اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ پنڈال میں شرکاء کے بیٹھنے کے لیے صوفے، کرسیاں اور فرش کا بہترین انتظام رہے گا۔اس کے علاوہ گرمی اور موسم کی مناسبت سے زائرین کے لیے ٹھنڈے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی جا رہی ہیں۔پروگرام بروز بدھ کو بعد نمازِ مغرب شروع ہوگا، جس میں مولانا سید امین القادری صاحب کے مرکزی خطاب سے قبل دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوں گے۔اور پروگرام رات ٹھیک دس بجے اختتام پذیر ہوگا۔نمازِ عشاء: اجتماع کے فوری بعد رات دس بجے نمازِ عشاء باجماعت قاضی شرف الدین ہال میں ادا کی جائے گی۔اس پروگرام کی نظامت مسجد یارسول اللہ کے امام حافظ غفران اشرفی انجام دینگے۔شہر بھر سے آنے والے شرکاء کے لیے نور باغ چوک کی طرف آنے والے تمام راستوں کو صاف اور کشادہ اور روشن کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔







*پانی بچاؤ ،نلوں میں گندے پانی کی شکایت، کیا گرنا ڈیم کا پانی چوری ہو رہا ہے؟*
محمد عارف نوری 
(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں) 
(پریس ریلیز) پانی اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے لیکن مالیگاؤں کی قسمت دیکھیں ایک طرف عوام کو پینے کے لیے نلوں میں گندہ اور کم پانی مل رہا ہے کچھ علاقوں میں نل کھولو تو کیچڑ، بدبو اور مٹی والا پانی جو پینے اور استعمال کرنے کے لائق نہیں ہوتا گندہ پانی پلا کر کارپوریشن نے اسپتالوں کی کمائی بڑھا دی ہے اور ہم خود بھی پانی کو بے دردی سے ضائع کر رہے ہیں یہ دوہری مار ہے نل کُھلا چُھوڑ کر برتن دھونا، گاڑی دھونا، گلی دھونا وغیرہ عام بات ہے ٹینکی اوورفلو ہوتی رہتی ہے کوئی بند نہیں کرتا لیکیج والے نل مہینوں ٹپکتے رہتے ہیں ایک ٹپکتا نل دن میں 200 لیٹر پانی ضائع کرتا ہے آج ہم پانی بچائیں گے تو کل ہماری نسلوں کو پانی ملے گا "ہر قطرہ قیمتی ہے" ڈیم میں بھرپور پانی ہونے کے باوجود کیا گرنا ڈیم کا پانی چوری ہو رہا ہے؟ سب سے بڑا سوالیہ نشان یہ ہے گرنا ڈیم مالیگاؤں کی لائف لائن ہے لیکن الزام ہے کہ کیا رات کے اندھیرے میں بڑے پائپ ڈال کر کھیتوں اور فیکٹریوں کو غیر قانونی پانی دیا جا رہا ہے، وال توڑ کر اور میٹر بائی پاس کر کے پانی چوری ہو رہا ہے؟ کئ جگہوں پر لیکیج کی وجہ سے لاکھوں لیٹر پانی ضائع ہورہا ہے اگر یہ سچ ہے تو یہ صرف چوری نہیں عوام کے حق پر ڈاکہ ہے کارپوریشن کا پانی کم آنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے چوری روکنا کارپوریشن کا کام ہے چیکنگ، جرمانہ، ایف آئی آر کیوں نہیں ہوتی؟ کیا ملوث لوگ طاقتور ہیں؟ ڈیم کے پانی پر نظر رکھنا لیڈران کا فرض ہے اگر چوری ہو رہی ہے تو خاموش کیوں ہیں؟ ہم بھی دیکھ کر آنکھ بند کر لیتے ہیں چوری دیکھو تو شکایت کرو ہم دو محاذ پر لڑ رہے ہیں ایک طرف اپنا پانی بچانا ہے دوسری طرف چوری روکنی ہے عوام پانی کو عبادت سمجھ کر استعمال کریں بار بار پمپنگ اسٹیشن خراب ہوجاتا ہے مرمت کے نام پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں آخر بار بار خراب ہونے کی وجہ کیا ہے؟ شہریان ٹیکس دے، بل بھرے پھر بھی پیاسی مرے اور دوسری طرف کھیت والے سیراب ہوں یہ کونسا انصاف ہے عوام پانی کو ضائع کرنا بند کریں کارپوریشن گرنا ڈیم کی پائپ لائن کی فوری چیکنگ کریں چوری کرنے والوں پر سخت کارروائی ہونی چاہیے چاہے وہ کوئی بھی ہو
لیڈران عوام کا پانی بچائیں مافیا کو نہیں اگر آج نہیں جاگے تو وہ دن دور نہیں جب گرنا ڈیم ہوگا اور مالیگاؤں پیاسا رہے گا منماڑ شہر کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔








دسویں جماعت کے طلبہ سے....... ڈاکٹر مبین نذیر مالیگاؤں 
عزیز طلبہ! دسویں جماعت آپ کے تعلیمی سفر کا وہ سنگِ میل ہے، جہاں سے آپ کے مستقبل کی راہیں نکلتی ہیں۔
 چونکہ آپ زندگی میں پہلی بار بورڈ کے امتحان کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے تھوڑا بہت ذہنی دباؤ فطری ہے۔ تقریباً تیس برس گزر چکے ہیں، مگر دسویں جماعت کا پہلا پرچہ، امتحان ہال کا تناؤ بھرا ماحول ، دل کی تیز دھڑکنیں اور سپروائزر کی شکل و صورت ، آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہے ـ 
ہمارے معاشرے میں عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ دسویں کے طالب علم کو گوشہ نشین ہو کر صرف کتابوں میں گم رہنا چاہیے۔ یہ خیال درست نہیں۔ اعتدال اور مناسب منصوبہ بندی سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود، صحت اور سیر و تفریح کے لیے بھی باآسانی وقت نکالا جا سکتا ہے۔
کامیابی کا پہلا زینہ نظم و ضبط ہے۔ اپنے شب و روز کا ایک ایسا ٹائم ٹیبل بنائیں جس میں سال کے شروع میں روزانہ دو تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھائی کے لیے مختص ہوں۔ بعد میں اس میں بتدریج اضافہ کرتے جائیں ـ رٹا لگانے کی بجائے تمام مضامین کے کانسپٹ اور بنیادی باتوں کو سمجھنے پر زور دیں۔ جو بات سمجھ میں نہ آئے، بلا جھجک اپنے اساتذۂ کرام اور گھر پر والدین سے پوچھیں۔ یاد رکھیں، جو سوال کرتا ہے، وہی سیکھتا ہے۔
زبان اور ادب کی تیاری کے لیے مضمون نگاری، مکتوب نگاری، اشتہار سازی، خاکے کی مدد سے کہانی لکھنا اور اشعار کی تشریح جیسے امور محض یاد کرنے کے نہیں، بلکہ عملی مشق کے متقاضی ہیں۔ صنعتوں کی تعریفیں، محاوروں کا درست استعمال، ریاضی کے ضابطے، اور انگریزی گرامر پر ابھی سے توجہ مرکوز کریں۔ گزشتہ برسوں کے امتحانی پرچوں کو حل کریں اور تجزیہ کریں کہ ایک ہی سوال کو کس طرح مختلف انداز سے پوچھا جا سکتا ہے۔ 
 اپنے اساتذہ اور سرپرستوں کی نگرانی میں آپ مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لے سکتے ہیں تاکہ آپ کی تیاری مزید بہتر ہو۔ تاہم، اسکرین ٹائم کو صرف پڑھائی تک محدود رکھیں۔ انٹرنیٹ کا مواد آپ کی درسی کتابوں اور خود کی تیار کردہ نوٹس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے غیر ضروری طور پر موبائل کے استعمال سے گریز کریں۔ اپنی خوراک کا خیال رکھیں ـ امتحانات کے دوران راتوں کو بلاوجہ جاگنے کے بجائے بھرپور نیند لیں تاکہ آپ کا ذہن تروتازہ رہے۔ 
رزلٹ کے بعد آپ کو آگے کے مراحل میں کوئی پریشانی نہ ہو ،اس لیے امتحان کا فارم بھرتے وقت اپنے دستاویزات پر خاص توجہ دیں۔ اپنا اور والدین کا نام ، ایل سی کے مطابق لکھیں ۔ معمولی سی غلطی مستقبل میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔ آدھار کارڈ اپڈیٹ رکھیں ـ اس میں وہی موبائل نمبر لنک کرائیں جو مستقل جاری رہنے والا ہو ـ مختلف آن لائن فارم اور داخلے کے وقت او ٹی پی اسی نمبر پر آتا ہے ـ اس لیے درست اور جاری نمبر ہی ہر جگہ درج کریں ـ 
دسویں کے رزلٹ اور ایل سی کی اصل کاپیاں اور زیراکس تاحیات سنبھال کر رکھیں ـ دسویں کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کس شعبے میں اپنا کریئر بنانا ہے؟ حالانکہ یہ فیصلہ پہلے ہی ہوجانا چاہیے ـ آن لائن داخلے میں کٹ آف اور میرٹ کی بنیاد پر ایڈمیشن ملتا ہے، اس لیے اپنی پسند کے جونیئر کالج میں نشست پانے کے لیے ابھی سے کڑی محنت کریں۔ اپنا تعلیمی ہدف ابھی سے طے کرلیں اور جی جان سے اس کے حصول میں لگ جائیں ـ 
کریئر کے انتخاب میں بھیڑ چال کا حصہ نہ بنیں۔ اگر میڈیکل یا انجینئرنگ کا ارادہ ہے، تو یاد رکھیں کہ ان کے لیے سائنس، ریاضی اور انگریزی پر عبور لازمی ہے۔ ان مضامین میں کمزور ہونے کے باوجود محض شوقیہ طور پر یا دوستوں اور سہیلیوں کو دیکھ کر سائنس لینے والے اکثر طلبہ کا تعلیمی سفر آسان نہیں ہوتا۔ دوسری جانب، یہ غلط فہمی عام ہے کہ آرٹس میں کریئر کے مواقع نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہے ! قانون، صحافت، نفسیات، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سول سروسز اور گرافک ڈیزائننگ وغیرہ جیسے درجنوں شعبے آپ کے منتظر ہیں۔ بس آپ کے اندر اپنے شعبے کی مہارت ہونی چاہیے ـ کامرس کے توسط سے سی اے اور بینکنگ وغیرہ میں بھی کرئیر بنایا جا سکتا ہے۔
والدین بھی جان لیں کہ بچوں کا رزلٹ، سرپرستوں کی رہنمائی اور تربیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ بچوں کو بھرپور وقت دیں ـ انہیں اعتماد میں لیں اور ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ جس طرح ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اسی طرح ہر بچہ ڈاکٹر اور انجینئر نہیں بن سکتا۔ خالق ِ ارض و سماں نے ہر بچے کے اندر کوئی نہ کوئی منفرد صلاحیت رکھی ہے۔ آپ کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اپنے بچے کی اس خوبی اور صلاحیت کو پہچانیں اور اسی مخصوص شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔ اگر آپ نے ایسا کیا، تو یقیناً آپ کا بچہ ایک کامیاب انسان بن کر آپ کا نام روشن کرے گا۔  
عزیز طلبہ! نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے۔ ابھی سے اتنی لگن اور محنت سے پڑھائی کریں کہ جب دسویں جماعت کا رزلٹ آئے تو آپ کا اور آپ کے والدین کا دل خوشی سے جھوم اٹھے ـ آپ جس جونیئر کالج میں چاہیں وہاں آپ کا داخلہ ہوجائے ـ نمازوں ،دعاؤں اور سنتوں کا ساری زندگی اہتمام کریں ـ خاص مواقع پر نماز شکرانہ، صلاۃ التوبہ ،صلاۃ الحاجت کو بھی اپنا معمول بنائیں ـ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ، 
ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے 
 آپ کا مستقبل روشن اور تابناک ہو ـ ہماری دعائیں اور نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں ـ








*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...