*اصلاح معاشرہ مہم کے دوران یوم تاسیس اسلام پارٹی اور صغیر ماسٹر اسلام پورہ کے علاوہ کروڑوں کی بدعنوانی جیسا ہٹ دھرمی والا کھیل آخر کب تک ؟؟؟۔ ایک لمحہ فکریہ* ۔۔۔۔
✒️ *اعجاز شاہین مالیگاؤں*
*کافی افسوس کہ ساتھ اس تحریر کو لکھنا پڑ گیا ہے کہ تاریخی شہر مالیگاؤں میں اب بدنامی لائن سے تاریخ مرتب کی جا رہی ہے آخر کیا وجہ ہے آج تک کسی کو بھی نہیں معلوم پڑتا دکھائی دے رہا ہے یا واقعی میں نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ جو کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے کافی خطرناک وقت ثابت ہو سکتا ہے پھر اس شعر کو بار بار یاد کیا جاتا ہے اور آئندہ بھی یاد کیا جاۓ گآ ۔۔۔ لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی* ۔۔۔ *شہر مالیگاؤں کا جائزہ لیا جائے تو چاہے گلی کی سڑکیں ہوں ، ڈی پی روڈ ہو یا پھر دنیا کی مہنگی ترین روڈ جسے شہر عزیز مالیگاؤں کی آگرہ روڈ کہا جاتا ہے بنانے کے بعد ہی کھودا جا رہا ہے*
*اور پھر انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی انڈر گراؤنڈ گٹریں کامیاب ہو گی یا نہیں* ۔۔۔ *مگر عوام سے ٹیکس وصول کر کے بل نکال کر اپنا اپنا الو ہمیشہ کی طرح سیدھا کرنا ہے* ۔۔۔
*شہر کے اکثر راستوں کو بند کر دیا گیا ہے ، سارے شہر میں دھول مٹی ، کچروں کے ڈھیر ، گٹروں کے گندے بدبودار پانی سڑکوں پر بہنے سے ہر کوئی شہری پریشان دکھائی دے رہا ہے چاہے وہ بزرگ ماں باپ ہوں ، دائمی مریض ہوں* ، *حاملہ عورتیں ہوں ، بچے بچیاں کے علاوہ نمازی حضرات ہوں ہر کوئی پریشان زندگی گزارنے پر مجبور ہے* ۔ *نوجوان لڑکے لڑکیوں کا حال دیکھ کر تو حیرت ہوتی ہے* *جیسے چالیس پچاس سال کے بوڑھے ماس پہنے*
*رومال سے منہ ڈھانکے ہانپتے کانپتے نظر آ تے*
*اسی تاریخی ماحول میں شہر مالیگاؤں بدترین مندی کا بھی شکار ہے مگر بنکر حضرات کی اکائی کو دیکھتے ہوئے بھی ایک تاریخ مرتب کی گئی ہے اور فیصلہ لیا گیا کہ کہ شہر مالیگاؤں کے پاورلوم کاروبار کو مکمل طور سے چند دنوں کے لئے بند رکھیں گے مگر دوسرے ہی روز کاروبار چالو رکھتے ہوئے بنکروں کی اکائی و اتحاد کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے* ۔۔۔ *پھر ایسے تاریخی ماحول میں جب کہ تنظیم علماء ائمہ کرام شہر مالیگاؤں میں اصلاح معاشرہ کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ایسے ماحول میں اسلام پارٹی کی جانب سے یوم تاسیس کے موقع پر آتش بازی کرنا ، ہورڈنگ ، ڈیکوریشن کے نام پر لاکھوں روپے پھونک دینا ، متنازعہ تقاریر کر کے شہر عزیز مالیگاؤں کے سنجیدہ و مہذب افراد کو ٹھیس پہنچانا اور جن لوگوں کی وجہ سے اقتدار حاصل ہوا ان ہی لوگوں کو ، آن کے خاندان والوں کے کاندھوں پر کارپوریشن کے بھاری بھرکم ٹیکس لاگو کرنا بھی شہر مالیگاؤں کے لئے ایک تاریخی قدم ہے* ۔۔۔
*حالانکہ اصلاح معاشرہ پروگرام کے کنوینر حضرات کو بھی اس کا بخوبی علم اور تجربہ تھا کہ یوم تاسیس کے موقع پر بہت ساری خرافات ہونا طئے ہے* ، *نوجوانوں کا ٹولہ اسی وقت جوش میں رہتا ہے اور پھر چاہے اذان و جماعت ہو گھروں میں سالوں سے بستر پر لیٹے ہوئے مریض ہوں پردہ نشین مہذب ماں بہنیں بیٹیاں ہوں سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے آتش بازی ، پٹاخوں کی آواز ، جانوروں جیسا شور شرابہ اور اتنا بڑا جلوس کہ جلد ختم بھی نہیں ہو رہا ہے* ۔ *یہ تمام خرافات طئے تھے مگر ہٹ دھرمی کے آگے کون کسے سمجھائے اور نصیحت کرے حالانکہ ایسے بہترین موقع پر افہام وتفہیم کے ذریعے ایسے ماحول میں سادگی کے ساتھ یوم تاسیس منا کر ایک اچھی تاریخ مرتب کی جا سکتی تھی مگر*.....
*اب جب کہ شہر مالیگاؤں میں اصلاح معاشرہ کے پروگرام کا اہتمام جاری ہے ایسے ماحول میں تاریخی شہر مالیگاؤں کے بدنام زمانہ صغیر ماسٹر جو کہ کئ دہائیوں سے سیکسی اسکینڈل جیسی نحوست میں خود بھی گرفتار ہیں اور دوسروں کو بھی ملوث رکھتے ہیں اور کئ مرتبہ عوام کے سامنے گرفتار و رہا بھی ہو چکے ہیں مگر آج بھی اسلام پورہ جیسے علاقے میں رہائش پذیر ہیں* *گذشتہ کئ ہفتوں سے کم عمر لڑکی کے ساتھ پکڑے جانے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئ اس کے بعد بھی اس صغیر ماسٹر کو اسلام پورہ سے نہیں نکالا گیا اور آخر گذشتہ روز جمعہ کے دن خود کی بیوی کے ساتھ ننگی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر کے گویا تاریخی کام انجام دیا گیا ہے چاہے وہ بدنامی لائن سے ہی کیوں نہ ہو* ۔۔۔۔ *شہر مالیگاؤں کا عجیب تماشہ یہی ہے کہ برائ ، کرپشن ، غنڈہ گردی وغیرہ جیسے جرائم کو شروع میں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور جڑیں مضبوط ہونے کے بعد ماتھا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں*
*ان سارے معاملات میں آج بھی سویرا ہے کہ طاقت کے ذریعے سے اجتماعیت کے ساتھ مجرمین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالیں تا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کو صحیح معنوں میں زندگی گزارنے کے اسباب میسر ہو سکیں ورنہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی* ۔ *اللہ تعالیٰ ہماری ہر طریقے سے مدد فرمائے اور امت مسلمہ کے حالات کو ساز گار بناۓ ۔ آمین*
*جوہر یونیورسٹی کے 426.46 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط ، اعظم خان کے خلاف ED کی بڑی کارروائی*
رام پور: سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے 426.46 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کیے گئے ہیں۔ اٹیچ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 1,170 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں ایک بڑی کارروائی میں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے لکھنؤ زونل آفس نے اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو عارضی طور پر ضبط کر لیا ہے۔ اٹیچ جائیدادوں کی قیمت 426.46 کروڑ ہے، جب کہ ان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 1,170 کروڑ بتائی گئی ہے۔
کارروائی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ، اتر پردیش کے سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خان اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر کی گئی۔ یہ یونیورسٹی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق، اس ٹرسٹ کی بنیاد اعظم خان نے رکھی تھی، جو اسے کنٹرول کرتے ہیں اور اس کے اعزازی چانسلر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے رام پور کے عظیم نگر پولیس اسٹیشن میں درج 26 ایف آئی آر کی بنیاد پر پی ایم ایل اے کے تحت تحقیقات شروع کیں۔ ان مقدمات میں الزام لگایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے کسانوں کی زرعی زمین زبردستی حاصل کی گئی تھی۔ رام پور ضلع انتظامیہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سنگھانکھیڑا گاؤں میں دشمن کی تقریباً 34 ایکڑ زمین بھی مبینہ طور پر یونیورسٹی کے لیے حاصل کی گئی تھی۔ الزام ہے کہ ٹرسٹ کے حق میں زمین کا لیز منسوخ کر دیا گیا اور ٹرسٹ نے اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے باوجود یونیورسٹی کے لیے زمین کو برقرار رکھا۔ وزارت داخلہ کے تحت دشمن کی جائیداد کے متولی نے بعد میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے زمین پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
یونیورسٹی کے لیے سرکاری فنڈز اور تعمیراتی مواد استعمال کرنے کے الزامات
ای ڈی کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ سرکاری تعمیرات کے لیے فنڈز اور تعمیراتی مواد کا مبینہ طور پر یونیورسٹی کے پرائیویٹ کیمپس میں استعمال کیا گیا۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے والے کچھ ٹھیکیداروں نے سرکاری کام کے لیے فنڈز اور میٹریل کو یونیورسٹی کی تعمیر میں موڑ دیا۔ تحقیقات میں ایک کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کا بیان بھی سامنے آیا جس نے محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) سے تقریباً 186 کروڑ روپے کے ٹھیکے حاصل کیے تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ کنٹریکٹ کی کل رقم کا 30 سے 40 فیصد یونیورسٹی کے لیے تعمیراتی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیا گیا۔
ای ڈی کے مطابق، ایک اور فرم کے پارٹنر نے بھی اعتراف کیا کہ اس کی کمپنی نے اعظم خان کے اثر و رسوخ میں کام کیا اور ٹرسٹ کو 40 لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔ اس معاملے میں محکمہ انکم ٹیکس کے نتائج کے مطابق انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی دفعات کے تحت ٹرسٹ کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ایم ایل اے/ایم ایل سی فنڈز سے 6.60 کروڑ روپے کے کام انجام دینے کا الزام
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایم ایل اے/ایم ایل سی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی کے پرائیویٹ کیمپس میں تقریباً 6.60 کروڑ روپے کے مختلف کام کئے گئے۔ ای ڈی کے مطابق، یہ کام اتر پردیش جل نگم نے کیا تھا، جس کے اس وقت اعظم خان چیئرمین تھے۔ مزید برآں، تحقیقات میں میرٹھ کے دو تعلیمی اداروں سے ٹرسٹ کو موصول ہونے والے کل 6.24 کروڑ روپے کے عطیات کا بھی انکشاف ہوا۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ یہ چندہ سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔
سرکاری خرچ پر بنائے گئے پنڈال، ہاسٹل اور ہسپتال کے بلاک پر بھی سوالات اٹھے
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، اتر پردیش حکومت نے یونیورسٹی کے پرائیویٹ کیمپس میں ایک پنڈال، ایک او بی سی لڑکوں کے ہاسٹل، اور ایک ہسپتال بلاک کی تعمیر کے لیے کل 23.41 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ اس میں 2015 کے حکومتی حکم کے تحت پنڈال کی تعمیر کے لیے منظور شدہ 12.16 کروڑ روپے شامل ہیں۔ حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پنڈال محکمہ ثقافت کی ملکیت رہے گا، اسے فروخت یا منتقل نہیں کیا جا سکے گا، اور ریاستی حکومت کے استعمال کے لیے اسے مفت دستیاب کرایا جائے گا۔
تاہم، ای ڈی کے مطابق، ان شرائط کو 2016 میں جاری کردہ ایک اور حکم کے ذریعے تبدیل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد، پنڈال کی ملکیت جوہر یونیورسٹی کو منتقل کر دی گئی تھی، اور اسے ریاستی حکومت کے استعمال کے لیے دستیاب کرنے کی شرط کو ہٹا دیا گیا تھا۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ سرکاری فنڈز سے بنائی گئی اس پبلک پراپرٹی کو مبینہ طور پر یونیورسٹی کی پرائیویٹ پراپرٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ متعلقہ حکم نامہ کے اجراء کے وقت اعظم خان اتر پردیش حکومت میں شہری ترقی کے وزیر تھے، اور جل نگم بھی ان کے محکمے کے تحت کام کرتا تھا۔
499.09 کروڑ روپے کی لاگت ، جائز ذرائع سے صرف 72.63 کروڑ کا حساب
ای ڈی کی تحقیقات میں یونیورسٹی کیمپس میں 59 عمارتوں کی تعمیراتی لاگت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ویلیوایشن آفیسر کی 10 نومبر 2023 کی رپورٹ کے مطابق، ان عمارتوں کی تعمیراتی لاگت کا تخمینہ 10000 روپے لگایا گیا تھا۔ 494.46 کروڑ 114 سیل ڈیڈز کے ذریعے حاصل کی گئی اراضی کی قیمت روپے تھی۔ 4.63 کروڑ اس طرح یونیورسٹی کیمپس کی کل لاگت کا تخمینہ 100000 روپے لگایا گیا۔ 499.09 کروڑ۔ ای ڈی کے مطابق، ٹرسٹ نے صرف روپے دکھائے تھے۔ اس کے انکم ٹیکس گوشواروں میں سرمایہ خرچ کے طور پر 78.32 کروڑ دکھایا تھا۔ اس میں سے 12.29 کروڑ روپے غیر حقیقی پائے گئے۔
تعمیر اور اراضی کے حصول پر آنے والے اصل اخراجات بعد میں صرف 66.03 کروڑ روپے سامنے آئے۔دیگر جائز ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم کو زمین اور عمارتوں کی کل قیمت میں شامل کرنے کے بعد بھی صرف روپے 72.63 کروڑ کا حساب مل سکا۔ ای ڈی کے مطابق، ٹرسٹ کے اہلکار بقیہ 426.46 کروڑ روپے کے ماخذ کی تسلی بخش وضاحت فراہم نہیں کر سکے۔ ایجنسی کو شبہ ہے کہ یہ رقم غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔ اس کی بنیاد پر، 426.46 کروڑ روپے کے اثاثے عارضی طور پر اٹیچ کردئے گئے ہیں۔
اعظم خان کے خلاف دیگر ایف آئی آرکی تحقیقات
ای ڈی نے کہا کہ اعظم خان اور دیگر کے خلاف رام پور پولس میں درج 28 دیگر ایف آئی آر کو بھی جانچ کے لیے لیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ ان مقدمات میں الزام لگایا گیا ہے کہ 2016 کے دوران رام پور میں وقف املاک پر رہنے والے کئی خاندانوں کے مکانات کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا تھا۔ الزامات کے مطابق اعظم خان کی ہدایت پر اس وقت کے سرکل آفیسر اور دیگر ملوث تھے۔ متاثرہ خاندانوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا، جھوٹے مجرمانہ الزامات کی دھمکیاں دی گئیں، اور ان کی نقدی، زیورات اور مویشی لوٹ لیے گئے۔ ایف آئی آر اور چارج شیٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ رام پور میونسپل کارپوریشن کے لیے خریدی گئی صفائی کی مشینری کو یونیورسٹی کیمپس کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔
13 اکتوبر 2026 کو درج کی گئی ایف آئی آر بھی تفتیش کا حصہ ہے
ای ڈی نے پی ایم ایل اے کی دفعہ 66(2) کے تحت اتر پردیش پولیس کے ساتھ سرکاری مقاصد کے لیے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق معلومات شیئر کیں۔ اس کی بنیاد پر، ایف آئی آر نمبر 0224/2026 عظیم نگر پولیس اسٹیشن میں 13 اکتوبر 2026 کو درج کی گئی تھی۔ اس ایف آئی آر میں اعظم خان، ٹرسٹ اور دیگر پر تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 61 (3) (5) اور 318 (4) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے 1988۔ ای ڈی نے پہلے 19 اگست 2026 کو یونیورسٹی کیمپس اور متعلقہ احاطے میں تلاشی لی تھی، جس کے دوران الیکٹرانک آلات اور مجرمانہ دستاویزات ضبط کی گئی تھیں۔ مزید تفتیش جاری ہے
*پاکستانی فوج پر بی ایل اے کا قہر، ہفتے میں 27 جوانوں کو مارنے کا دعوی*
BLA Kills 27 Pakistani Soldiers: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرگرم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 20 سے 26 اکتوبر کے درمیان 15 کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے 27 سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ تنظیم کے مطابق ان حملوں میں کئی دیگر سیکورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا نے 27 اکتوبر کو یہ اطلاع دی۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے بتایا کہ تنظیم کا خفیہ شعبہ پاکستانی کوسٹ گارڈ کے لیفٹیننٹ کرنل بلال جلیب کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ 24 اکتوبر کو ان کی گاڑی کو ریموٹ سے چلائے جانے والے دھماکہ خیز آلے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں دو سیکورٹی اہلکار شدید زخمی ہوئے اور گاڑی کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔
فوجی قافلے پر حملوں کا دعویٰ
ترجمان کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 24 اکتوبر کو گیدار کے علاقے میں پاکستانی فورسز اور بی ایل اے کے جنگجوؤں کے درمیان چار گھنٹے سے زیادہ وقت تک جھڑپ جاری رہی۔ اس میں پانچ فوجیوں کی ہلاکت اور 11 سے زائد اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ کیچ ضلع کے چیر کنچیتی علاقے میں فوجی قافلے پر پہلے دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا اور پھر فائرنگ ہوئی۔ بی ایل اے کے مطابق، اس واقعے میں چار فوجی ہلاک ہوئے۔
تنظیم نے بتایا کہ 26 اکتوبر کو مستونگ ضلع کے گرگینہ علاقے میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں چار فوجی ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے۔ وہیں، دشت بابا کے علاقے میں 25 اکتوبر کو کی گئی کارروائی میں دو فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔
ان واقعات کی بھی ذمہ داری لی
بی ایل اے نے یہ بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو مستونگ کے سرگوز علاقے میں فوجی رسد لے جانے والے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، قلات ضلع کے چوٹانک علاقے میں 22 اکتوبر کو ہوئے حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ تنظیم نے اسی علاقے میں بعد میں کیے گئے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
ترجمان کے مطابق، قلات میں ہوئے دھماکے میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ خضدار میں 25 اکتوبر کو کیے گئے حملے میں تین فوجیوں کی موت ہوئی۔ نوشکی میں فوجی کیمپ اور سیکورٹی چوکیوں پر حملوں کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
بی ایل اے نے خضدار میں لیویز اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے مشترکہ تھانے کے مرکزی دروازے کو دھماکے سے نقصان پہنچانے اور کوئٹہ-کراچی تجارتی راستے پر واقع ایک پل کو آگ لگانے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔