Saturday, 7 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *


*اندھیرے سے لڑنے کا عزم" ، پی ایم مودی ایک بار پھر جوانوں کے ساتھ منائیں گے دیوالی ، ہم وطنوں کو دی مبارکباد*


روشنیوں کے تہوار دیوالی کے موقع پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اوروزیر اعظم نریندر مودی اور صدر نے قوم کو مبارکباد دی۔۔ اپنے پیغام میں صدر مرمو نے لوگوں کے لیے اچھی صحت، خوشی اور خوشحالی کی خواہش کی۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ملک کے محب وطن نوجوان ہندوستانی اقدار سے متاثر ہو کر ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں جوش و خروش سے حصہ ڈالیں گے۔ وزیر اعظم مودی نے دیوالی کو اندھیرے سے لڑنے کے ہندوستان کے عزم کی علامت قرار دیا اور ہم وطنوں کی زندگیوں میں خوشی، امن اور خوشحالی کی خواہش کی۔

صدر دروپدی مرمو نے بھی ہفتہ کو دیوالی کے موقع پر ہم وطنوں کو مبارکباد دی۔ اپنے پیغام میں، انہوں نے کہا کہ دیوالی کا تہوار راون پر فتح کے بعد لارڈ رام کی ایودھیا واپسی کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ اس وقت لارڈ رام نے چراغوں کی خوبصورت قطاریں دیکھیں۔

صدر نے کہا کہ یہ واقعہ دیوالی کی ثقافتی اور مذہبی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تہوار رام راجیہ کے اچھے آغاز کی بھی علامت ہے۔ انہوں نے ملک کے تمام شہریوں کے لیے اچھی صحت، خوشی اور خوشحالی کی خواہش کرتے ہوئے، انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور باہمی ہم آہنگی کی زندگی گزارنے کی اہمیت پر زور دیا۔ صدر جمہوریہ نے امید ظاہر کی کہ ملک کے محب وطن نوجوان ہندوستانی اقدار سے متاثر ہو کر ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں جوش و خروش سے حصہ ڈالیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ہم وطنوں کو دیوالی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ روشنیوں کا یہ تہوار اور آنے والا وقت ہر ایک کی زندگی میں خوشی، امن اور خوشحالی لائے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ روشنیوں کا یہ تہوار اندھیرے سے لڑنے کے ہندوستان کے عزم کی علامت ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ تہوار اور آنے والا وقت آپ کی زندگیوں میں خوشیاں، امن اور خوشحالی لائے۔

وزیر اعظم مودی نے ملک کے بہادر فوجیوں کے ساتھ دیوالی منانے کی اپنی سالانہ روایت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سال بھی اس روایت کو جاری رکھیں گے۔ پی ایم مودی نے کہا، “جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ملک کے بہادر فوجیوں کے ساتھ دیوالی منانا میری سالانہ روایت ہے، اور میں اس سال بھی اسے جاری رکھوں گا۔”




*ایران نے امریکہ کا 16 واں MQ-1 ڈرون مار گرایا ، ہرمز میں بحری جہاز میں دھماکہ ، ایک ملاح کی موت*

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے امریکہ کے خلاف اپنا مؤقف مزید سخت کر دیا ہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے قشم جزیرہ پر ایک اور امریکی ڈرون MQ-1 مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے مطابق یہ اس طرح کا 16 واں ڈرون ہے جسے اس کے فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا ہے۔ دریں اثناء آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور آگ لگنے سے سمندری راستے کی حفاظت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ادھر ایران نے امریکی صدر کی جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکیوں کو واشنگٹن کی گھبراہٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی سمندر سے لے کر آسمان تک اور جوہری پروگرام کے حوالے سے کئی محاذوں پر بڑھ رہی ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، IRGC نے جمعہ کو اطلاع دی کہ اس کے نئے فضائی دفاعی نظام نے جزیرہ قشم کی جنوبی فضائی حدود میں ایک امریکی MQ-1 جاسوسی اور جنگی ڈرون کو مار گرایا۔ آئی آر جی سی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس کی افواج دشمن کی فضائی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ انٹیلی جنس اور نگرانی کی بنیاد پر امریکی ڈرون کی نشاندہی کرکے اسے نشانہ بنایا گیا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ 16 واں MQ-1 ڈرون ہے جو اس کی افواج نے تباہ کیا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

اس سے قبل منگل کو آئی آر جی سی نے تین امریکی ڈرونز کے خلاف کارروائی کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دو MQM-170 آؤٹ لا ڈرون کو جزیرہ قشم پر روکا گیا، جبکہ ایک MQ-9 ریپر ڈرون آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں مار گرایا گیا۔

ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملے
ڈرون مار گرانے کے دعوؤں نے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں آئل ٹینکروں کی حفاظت کے بارے میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ جمعے کو ایک یونانی کمپنی کی ملکیت والے آئل ٹینکر Velos Sapphire کے مالک نے بتایا کہ جمعرات کو خلیج میں مبینہ میزائل حملے میں ایک ملاح ہلاک ہو گیا۔ مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے والا ٹینکر خالی تھا اور بحرین جا رہا تھا۔ کمپنی کے مطابق، ایک نامعلوم پروجیکٹائل جہاز کے بائیں عقبی حصے سے ٹکرا گیا، جس سے آگ لگ گئی۔ تاہم عملے کے باقی ارکان محفوظ بتائے گئے ہیں۔

ایران نے کہا ، ٹینکر بغیر اجازت کے آبنائے سے گزر رہے تھے
ایران کے پاسداران انقلاب نے الزام لگایا کہ دو آئل ٹینکروں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مقررہ راستے کی خلاف ورزی کی۔ ایک آبنائے کے مشرق میں تھا اور دوسرا اندر تھا۔ آئی آر جی سی کے مطابق دونوں بحری جہازوں نے اپنے نیوی گیشن اور شناختی نظام کو بند کر دیا تھا۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ امریکی فوجی مدد سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں بحری جہازوں میں آگ لگ گئی اور انہیں سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد روک دیا گیا۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔




*انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ کا ایران پر حملہ ، جوہری راز فراہم کرنے والے کو 2 کروڑ ڈالر کا انعام*


ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے محدود فوجی حملہ کیا۔ ٹرمپ نے اس کارروائی کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے حال ہی میں ایک چھوٹا طیارہ شکن نظام تیار کیا ہے، جسے امریکی فوج نے صرف 5 سے 15 منٹ میں تباہ کر دیا۔ دریں اثنا، امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کو 2 کروڑ ڈالر تک کے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم کے شجاع علاقے میں جمعے کو دو دھماکے سنے گئے۔ یہ جزیرہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی ڈرون MQ-1 کو مار گرایا ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، “انہوں نے ایک چھوٹا طیارہ شکن نظام بنایا تھا، اور ہم نے اسے تقریباً 15 منٹ میں تباہ کر دیا، شاید پانچ۔” اس سے قبل پیر کو قشم اور ہنگام جزائر کے علاوہ سرزمین پر بندر عباس کے ارد گرد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ امریکی فوج نے اس وقت اپنی کارروائی کو “دفاعی حملہ” قرار دیا۔ جمعہ کی کارروائی اس لیے اہم ہے کیونکہ منگل کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ انتخابات کے بعد ایران کے خلاف یہ پہلی نئی فوجی کارروائی بتائی جا رہی ہے۔
ایران جنگ ٹرمپ کی انتخابی پریشانی ہے؟
ایران جنگ پر ووٹروں کا غصہ امریکی انتخابی دھچکے کی ایک بڑی وجہ مانا جارہا ہے۔ جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت کے بہت سے حصے متاثر ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور جنگ سے نمٹنے نے امریکہ کے اندر بھی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ٹرمپ مسلسل ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ تاہم وہ بارہا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں ہم پہلے ہی بات چیت کر رہے ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات دینے پر 2 کروڑ ڈالر کا انعام
فوجی کارروائی کے درمیان امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے “انصاف کے لیے انعامات” پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کرنے والے کو ضرورت پڑنے پر نقل مکانی کی سہولیات کے علاوہ 2 کروڑ ڈالر تک کا انعام دیا جا سکتا ہے۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *

کتاب کاروانِ شعور : ایک مطالعہ
از : اسمٰعیل وفاؔ، مالیگاؤں

کتاب کاروانِ شعور ڈاکٹر اسد اللہ خان کی تحریر کردہ نئی کتاب ہے جو دراصل ان کے تعلیمی اور فکری مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ مضامین ایسے ہیں کہ کوئی رقیق القلب انسان کتاب پڑھتے ہوئے کئی جگہ روئے گا۔ 

ڈاکٹر اسد اللہ خان کو تدریس اور قوم کا درد ورثے میں ملا۔ آپ نے یہ راز پالیا کہ مسلمانوں کی ترقی کا پہلا زینہ تعلیم ہی ہے۔ تعلیم ہی کی بدولت ہماری دنیوی اور اخروی کامیابی ممکن ہوگی۔

ڈاکٹر صاحب نے صرف مسائل پر روشنی نہیں ڈالی، مسائل کا حل بھی سجھایا۔ آپ کے مضامین آئینہ ہیں، لیکن نصیحتون کا پٹارہ نہیں۔ ان کا انداز علمی ہے لیکن عام فہم انداز میں باتیں پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے طالبعلم، استاد اور سرپرست کے اس تکون کو بہت قریب سے دیکھا ہے، ظاہر ہے عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں۔ لیکن مسائل کو جس طرح پیش کیا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ ان کی آپ بیتی ہے۔

اساتذہ کے مسائل، کام کا انبار، نان گرانٹ اساتذہ کی حالت زار، سرپرستوں کے خواب، عزائم اور ان خوابوں کی تکمیل کیلئے کی جانے والی جدوجہد.... اور بالخصوص طالبعلم کے حالات 
... بہت سلجھے ہوئے انداز میں مصنف نے مسائل اور ان کے حل پر روشنی ڈالی ہے۔”ایک چھت کئی جزیرے“ 32 صفحات پر مشتمل مبسوط مبسوط مضمون ہے جو بچے کی تنہائی پر لکھا گیا ہے۔
”پوشیدہ نصاب“ اور”آپ کا بچہ آپ کی دوسری اننگ نہیں ہے“، ایسے موضوعات ہیں جن پر کوئی قلم نہیں اٹھاتا۔ یو ڈائس پلس رپورٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : مستقبل جدولوں میں نہیں، ان کمروں میں تشکیل پاتا ہے جہاں ایک با صلاحیت استاد کسی بچے کی آنکھ میں سوال جگاتا ہے اور اس کے دل میں خواب۔

ہیڈ ماسٹر کے منصب کی ضرورت اور اہمیت پر رقمطراز ہیں : سچ یہ ہے کہ ہیڈ ماسٹر کی کرسی فرنیچر نہیں امانت ہے اور امانت کا خالی رہنا خیانت کی ایک صورت ہے۔

اساتذہ کے مسائل پر بات کرتے ہوئے جہاں زمینی مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں وہیں یاددہانی بھی کراتے ہیں کہ آر ٹی ای میں جہاں طلبہ کے حقوق پر روشنی ڈالی گئی ہے وہیں دفعہ 27 کہتی ہے کہ استاد سے مردم شماری، آفات میں مدد اور انتخابی فرائض کے سوا کوئی غیر تدریسی کام نہ لیا جائے۔

طالبعلم اور سرپرست کے رشتے کے بحران پر لکھتے ہیں : ہمارے عہد کا سب سے بڑا تعلیمی بحران نصاب کا بحران نہیں تعلق کا بحران ہے۔ اعتماد کا بحران ہے۔ موجودگی کا بحران ہے۔

ان کا انداز سادہ، علمی اور فکر سے پر ہے۔ ہر ٹیچر کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسکول کے ذمہ داران کو سبق لینا چاہیے اور سرپرست حضرات کو ڈاکٹر صاحب کے تجربات کی روشنی میں اپنے معمولات اور بچوں سے متعلق اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔

کتاب کی اشاعت اور اس کے اجراء پر تہہ دل سے مبارکباد

Friday, 6 November 2026

🛑 *سیف نیوز بلاگر *

*کون ہیں اسٹیفن ملر، جنہیں ٹرمپ نے بنایا وائٹ ہاوس کا نیا باس؟ مسلم ممالک پر لگا چکے ہیں پابندی*




امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کراری شکست کے بعد اپنی ٹیم میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ انہوں نے اپنے سب سے قابلِ اعتماد اور سخت مشیروں میں شامل اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔ ملر 9 نومبر، پیر سے یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ وہ سوسی وائلز کی جگہ لیں گے، جو اس عہدے تک پہنچنے والی پہلی خاتون تھیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انتخابی جھٹکے کے بعد ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کا اشارہ دینے کے بجائے اسی شخص پر اعتماد ظاہر کیا ہے، جو ان کی سخت امیگریشن پالیسی کا اہم چہرہ رہا ہے

اسٹیفن ملر کون ہیں؟
41 سالہ اسٹیفن ملر کی پیدائش کیلیفورنیا کے سانتا مونیکا میں ہوئی تھی۔ انہوں نے 2017 میں ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت شروع ہونے سے کچھ وقت پہلے ان کے لیے تقاریر لکھنے کا کام شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کے معاون کے طور پر کام کر چکے تھے۔ ان میں سابق سینیٹر جیف سیشنز بھی شامل تھے۔ 2016 کی انتخابی مہم کے بعد سے ہی ملر کا شمار ٹرمپ کے انتہائی قریبی لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کی شناخت صرف ایک مشیر کی نہیں، بلکہ ٹرمپ کی کئی بڑی پالیسیوں کے پیچھے ذہن کام کرنے والے شخص کی بھی رہی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں اکثر ٹرمپ کا ’’دماغ‘‘ کہا جاتا ہے۔

ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں کئی مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کی پالیسی تیار کرنے میں ملر کا اہم کردار تھا۔ دوسری مدت میں وہ بڑے پیمانے پر غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکہ سے باہر بھیجنے کی مہم کے اہم حکمتِ عملی ساز بنے۔ ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ہوم لینڈ سیکورٹی کے مشیر کی حیثیت سے بھی انہوں نے داخلی پالیسیوں کی تیاری میں بڑا کردار ادا کیا۔

انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ نے انہی پر اعتماد کیوں کیا؟
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ایسے وقت میں ٹرمپ کے سامنے اپنی حکومت کی ترجیحات اور سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے چیلنج موجود ہے۔ ایسے میں اسٹیفن ملر کو چیف آف اسٹاف مقرر کرنا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ ٹرمپ اپنی سخت پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ خاص طور پر امیگریشن کے معاملے پر وہ پہلے کی طرح سخت موقف برقرار رکھ سکتے ہیں۔

چیف آف اسٹاف کا عہدہ وائٹ ہاؤس کے طاقتور ترین عہدوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ اس عہدے پر فائز شخص صدر کے روزمرہ کے کام کاج، ملاقاتوں، انتظامی ترجیحات اور اہم فیصلوں کے درمیان تال میل قائم کرتا ہے۔ ایسے میں ملر کے نئے کردار سے حکومتی پالیسیوں پر ان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔

ملر نے کیا کہا؟
نئی ذمہ داری ملنے کے بعد ملر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ اب ان کا مشن پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔ وہ پوری قوت کے ساتھ صدر کی حمایت کرنے اور امریکہ کے دفاع کے لیے کام کریں گے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے بھی اس تقرری کا خیرمقدم کیا۔ ریپبلکن پارٹی کے سابق رکنِ کانگریس میٹ گیٹز نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’’IT’S MILLER TIME۔‘‘

ہندوستان کے بارے میں اسٹیفن ملر کی کیا رائے ہے؟
اسٹیفن ملر ہندوستان کو امریکہ کا اہم شراکت دار مانتے ہیں اور ٹرمپ اور مودی کے تعلقات کو بھی اچھا قرار دیتے ہیں۔ تاہم ہندوستان کی بعض پالیسیوں کے حوالے سے وہ ناراضگی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ہندوستان امریکی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرتا ہے اور امریکہ سے زیادہ خریداری نہیں کرتا۔ انہوں نے H-1B ویزا نظام میں بے ضابطگیوں کا الزام بھی لگایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کچھ کمپنیاں اس نظام کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکی ملازمین کی جگہ ہندوستانی ملازمین کو رکھ رہی ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے روس سے ہندوستان کی تیل کی خریداری پر بھی سوال اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو مالی مدد مل رہی ہے۔ تاہم اب امریکہ خود بھی روس سے تیل خرید رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے شہریوں کے پاس امریکہ میں پناہ مانگنے کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہونی چاہیے۔

سوسی وائلز کی رخصتی
اسٹیفن ملر کی تقرری کے ساتھ ہی سوسی وائلز کا دور بھی ختم ہو رہا ہے۔ 69 سالہ وائلز وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف بننے والی پہلی خاتون تھیں۔ وہ طویل عرصے سے ٹرمپ کی مشیر رہی ہیں اور ان کی انتخابی مہموں میں بھی اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ میں پہلے بھی ہو چکی ہیں بڑی تبدیلیاں
وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ انتظامیہ میں یہ واحد تبدیلی نہیں ہے۔ محکمہ انصاف کے تین سینئر عہدیداروں نے بھی استعفے دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں شہری حقوق کے شعبے کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیت کور ڈھلوں، قومی سلامتی کے شعبے کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان آئزنبرگ اور فلوریڈا کے جنوبی ضلع کے امریکی اٹارنی جیسن ریڈنگ کوئینونز شامل ہیں۔





*بحیرۂ احمر میں حوثی باغیوں کا دبدبہ، اب جہازوں کو ای میل سے لینی ہوگی منظوری؟ پرمٹ ملنے پر نہیں ہوگا حملہ*


بحیرۂ احمر سے گزرنا اب جہازوں کے لیے پہلے جیسا آسان نہیں رہ گیا ہے۔ یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے مبینہ طور پر ایسا نظام شروع کیا ہے، جس کے تحت جہازوں کو اس سمندری راستے سے بحفاظت گزرنے کے لیے پہلے ای میل بھیج کر اجازت طلب کرنی پڑ رہی ہے۔ امریکی اخبار ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، حوثی باغی جہازوں کی معلومات حاصل کرنے کے بعد انہیں محفوظ راستے سے گزرنے کی منظوری دے رہے ہیں۔ بعض جہازوں کو 7 دن تک کارآمد رہنے والا ٹرانزٹ پرمٹ بھی دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے تنازع ختم کرنے کے بدلے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر مانگے ہیں۔ تاہم، ریاض نے اس دعوے کو مکمل طور پر فرضی قرار دیا ہے۔

دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کی جمعہ کو شائع ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق، کچھ جہاز بحیرۂ احمر میں داخل ہونے سے پہلے حوثی باغیوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ وہ ای میل کے ذریعے پوچھ رہے ہیں کہ کیا انہیں بغیر کسی حملے کے اس سمندری راستے سے گزرنے دیا جائے گا۔ اخبار نے جہازوں کے عملے کے ارکان کے بیانات اور اسے موصول ہونے والی ای میلز کی بنیاد پر بتایا کہ حوثی عام طور پر 24 گھنٹے کے اندر جواب دے دیتے ہیں۔

ایک جہاز کے کپتان نے اپنی ای میل میں لکھا کہ ان کے جہاز کا اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے محفوظ راستے سے گزرنے کے لیے حوثیوں سے تصدیق طلب کی۔ ایک دوسرے معاملے میں چین کے ایک کنٹینر جہاز نے بھی اجازت مانگی۔ جواب میں حوثیوں نے لکھا کہ انہیں خوشی ہے کہ جہاز نے ممنوعہ جہازوں سے متعلق قواعد کو سمجھ لیا ہے۔ اس کے بعد اسے سات دن کے لیے ٹرانزٹ پرمٹ جاری کر دیا گیا۔ حوثیوں نے جہاز کو اپنے ای میل الرٹ سسٹم سے منسلک ہونے کی دعوت بھی دی، تاکہ اسے سمندری راستے سے متعلق نئی معلومات ملتی رہیں۔

سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر مانگنے کا دعویٰ
بحیرۂ احمر میں جہازوں کی آمد و رفت پر دباؤ کے درمیان حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت کے حوالے سے بھی ایک بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ نے مذاکرات سے واقف لوگوں کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے ساتھ تنازع روکنے کے لیے بات چیت کے امکانات تلاش کیے۔ اس کے بعد حوثیوں نے مبینہ طور پر 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ رقم سعودی عرب کے کئی سالوں کے فوجی حملوں اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی ناکہ بندی سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے درکار ہے۔ مذاکرات میں دیگر رقموں پر بھی بات چیت ہونے کی اطلاع ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حوثی چاہتے ہیں کہ سعودی عرب انہیں باضابطہ طور پر یمن کا حکمران تسلیم کرے۔ تاہم، سعودی عرب نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

سعودی عرب نے کہا : مکمل طور پر من گھڑت
سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ اور عوامی سفارت کاری کے انچارج سفیر رائد کریملی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے مبینہ مطالبات سے متعلق خبر، اس کے لکھنے والوں یا ان کے بتائے گئے ذرائع کی مکمل طور پر من گھڑت کہانی ہے۔

کریملی نے حوثی باغیوں پر یمن کی حکومت کے خلاف جانے، ملک میں قحط جیسی صورت حال پیدا کرنے اور یمن کو ایسے تنازعات میں دھکیلنے کا الزام لگایا، جن سے وہاں کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ حوثی بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں، شہری تنصیبات اور اقتصادی مراکز پر حملے کر رہے ہیں اور امن کی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔



*"سونا ہی نہیں صحت میں بھی کریں سرمایہ کاری ، " دھنتیرس پر پی ایم مودی کا قوم کے نام پیغام، شہریوں سے صحت مند عادتیں اپنانے کی اپیل*

جمعہ کو دھنتیرس کے موقع پر، وزیر اعظم نریندر مودی نے شہریوں سے بہتر صحت کا عہد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آیوروید میں جڑی احتیاطی صحت کی دیکھ بھال اور صحت مند طرز زندگی کی عادات کو اپنا کر خاندان ایک بہتر اور صحت مند مستقبل بنا سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آیوروید نہ صرف بیماریوں کے علاج پر بلکہ صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں سے بچاؤ پر بھی خصوصی زور دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتیاطی صحت کی دیکھ بھال افراد اور خاندان دونوں کی مجموعی بہبود کے لیے بہت ضروری ہے۔


Back
وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
"سونا ہی نہیں صحت میں بھی کریں سرمایہ کاری ، " دھنتیرس پر پی ایم مودی کا قوم کے نام پیغام، شہریوں سے صحت مند عادتیں اپنانے کی اپیل
PM Modi Dhanteras Message: سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آیوروید نہ صرف بیماریوں کے علاج پر، بلکہ صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں سے بچاؤ پر بھی خصوصی زور دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتیاطی صحت کی دیکھ بھال افراد اور خاندان دونوں کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بہت ضروری ہے۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT

Last Updated : November 6, 2026, 5:27 pm IST
Published by : H.W. Karim
"سونا ہی نہیں صحت میں بھی کریں سرمایہ کاری ، " دھنتیرس پر پی ایم مودی کا قوم کے نام پیغام، شہریوں سے صحت مند عادتیں اپنانے کی اپیل
ADVERTISEMENT

متعلقہ ویڈیو
 Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب

Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں

Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا
Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

 Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب

Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں

جمعہ کو دھنتیرس کے موقع پر، وزیر اعظم نریندر مودی نے شہریوں سے بہتر صحت کا عہد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آیوروید میں جڑی احتیاطی صحت کی دیکھ بھال اور صحت مند طرز زندگی کی عادات کو اپنا کر خاندان ایک بہتر اور صحت مند مستقبل بنا سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آیوروید نہ صرف بیماریوں کے علاج پر بلکہ صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں سے بچاؤ پر بھی خصوصی زور دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتیاطی صحت کی دیکھ بھال افراد اور خاندان دونوں کی مجموعی بہبود کے لیے بہت ضروری ہے۔

ADVERTISEMENT

متعلقہ خبریں
مٹھائی نہیں ، iPhone 16 ، دہلی کی کمپنی کے دیوالی گفٹ نے انٹرنیٹ پر مچائی دھوم
"غریبی ہٹاو" کے نعرے سے آگے نکلا ہندوستان : پی ایم مودی
"آپ سے سیکھنے کی ضرورت نہیں،" دیوالی پر ایسا کیاں بولیں دیا مرزا ، BJP ہوگئی برہم
اپوزیشن ملک کے لئے رکاوٹیں کھڑی کررہاہے، "ذہنی نکسلیوں" سے عوام رہیں ہوشیار: پی ایم مودی
وزیر اعظم کے پیغام میں صحت مند طرز زندگی کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، جس میں متوازن اور ذہن ساز خوراک، باقاعدگی سے یوگا، مناسب نیند اور صحت کے باقاعدہ چیک اپ جیسی عادات کو روزمرہ کے معمولات میں شامل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات طویل مدت میں صحت کے بہتر نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے ایک ایکس پوسٹ میں کہا، “یہ دھنتیرس، بہتر صحت کا عہد لیں۔” مرکزی وزیر مملکت پرتاپراؤ جادھو نے صحت کے تحفظ پر آیوروید کی اہمیت اور احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کیوں ضروری ہے اس کی وضاحت کی۔ انہوں نے خاندانوں پر زور دیا کہ وہ صحت مند کھانے، باقاعدہ یوگا مشق، مناسب آرام اور بروقت صحت کی جانچ جیسی عادات کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے پیاروں کی صحت میں سرمایہ کاری سب سے قیمتی سرمایہ کاری ہے جو کوئی بھی خاندان کر سکتا ہے۔ آج جو طرز زندگی کی اچھی عادات اپنائی گئی ہیں وہ پورے خاندان کو آنے والے سالوں تک صحت مند اور محفوظ رکھنے میں مدد کریں گی۔

وزیر اعظم کے دفتر نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ دھنتیرس صرف مادی املاک میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع نہیں ہے، بلکہ بہتر صحت اور ذہنی تندرستی کے لیے ہماری وابستگی کا اعادہ کرنے کا ایک مناسب لمحہ ہے

Thursday, 5 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *



*40 لاکھ نوجوان سڑکوں پر آنے کو تیار، راہل گاندھی نے رو ک رکھا ہے ،" عرفان انصاری کے بیان پر ہنگامہ*



نئی دہلی/رانچی۔ کانگریس لیڈر اور جھارکھنڈ حکومت کے وزیر ڈاکٹر عرفان انصاری نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو لے کر ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔ عرفان انصاری نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نے ابھی ایکشن نہ لیا تو ملک میں ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور بھارت کے حالات بنگلہ دیش سے بھی بدتر ہو سکتے ہیں۔ انصاری نے دعویٰ کیا کہ 40 لاکھ نوجوان سڑکوں پر آ نے کو تیار ہیں، اور راہل گاندھی فی الحال انہیں روک رہے ہیں۔ ان کے اس بیان پر بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

عرفان انصاری نے کہا کہ انہوں نے دہلی میں طلباء اور نوجوانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 40 لاکھ نوجوان سڑکوں پر ہیں اور صرف احکامات کے منتظر ہیں۔ انصاری کے مطابق راہل گاندھی نے فی الحال ان نوجوانوں کو روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان، کسان، متوسط طبقہ، دلت اور قبائلی پریشان ہیں۔ اس لیے حکومت کو ان کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انصاری نے کہا کہ اگر ملک کے وزیر اعظم نے خیال نہیں رکھا تو ظاہر ہے کہ یہاں ایمرجنسی لگ جائے گی، آپ دیکھیں گے۔ بنگلہ دیش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات وہاں سے بھی بدتر ہو سکتے ہیں۔

بی جے پی کے پردیپ بھنڈاری نے جوابی حملہ کیا
بی جے پی کے قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے عرفان انصاری کے بیان پر جوابی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ کانگریس اور راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔ بھنڈاری نے الزام لگایا کہ عرفان انصاری کا بیان ملک میں عدم استحکام اور انتشار پھیلانے کی کانگریس کی دانستہ حکمت عملی کا ثبوت ہے۔ پردیپ بھنڈاری نے لکھا کہ کانگریس کے وزیر کھلے عام انارکی کی دعوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے انصاری کے اس بیان پر راہل گاندھی اور کانگریس کو نشانہ بنایا کہ حالات بنگلہ دیش سے بھی بدتر ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان نے اسے انتشار پھیلانے کی کانگریس کی حکمت عملی کا ثبوت قرار دیا۔

بیان سے سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے
عرفان انصاری کے اس بیان سے مرکزی حکومت اور کانگریس پارٹی کے درمیان سیاسی کشمکش مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف کانگریس لیڈر نے نوجوانوں، کسانوں اور سماج کے دیگر طبقات کے غصے کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو خبردار کیا ہے، وہیں دوسری طرف بی جے پی اسے ملک میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ اس بیان سے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی بحث تیز ہونے کا امکان ہے۔




*وسط مدتی انتخابات کے بعد اب ایران ختم کردے گا ٹرمپ کی باقی طاقت، مجتبی خامنہ ای نے کیا ’بہت بڑا‘ اعلان*



امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو ملی بڑی شکست کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس سیاسی دھچکے کے درمیان ایران نے بھی امریکہ کو کھلی وارننگ دے دی ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ کے روز امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر اس نے ایران پر دوبارہ کوئی فوجی حملہ کیا تو اس بار اسے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک جواب دیا جائے گا۔ امریکہ میں اقتدار کے سیاسی توازن میں تبدیلی اور ٹرمپ کی سیاسی مشکلات کے درمیان تہران نے ایک بڑا اعلان کردیا ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے فوراً بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے سخت بیان دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہر محاذ پر خود کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، تاکہ مکمل تحفظ اور ’ایبسولیٹ ڈیٹرنس‘ یعنی مکمل دفاعی روک تھام کی صلاحیت حاصل کی جاسکے۔ خامنہ ای نے امریکہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں امریکہ کا غلبہ اور اس کی فوجی طاقت مسلسل کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی اپنی غلط پالیسیوں اور جارحانہ رویے کی وجہ سے اس کی طاقت اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو یہ سمجھ رہے تھے کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس کے اقتدار میں آنے سے ایران کے تئیں امریکی پالیسی میں نرمی آئے گی۔ خامنہ ای نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جو لوگ امریکہ کے رویے میں تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے ہیں، وہ بہت بڑی غلط فہمی میں ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا طنز
خامنہ ای کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی انتخابات کے نتائج پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ امریکی ووٹروں نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو شکست دے کر دراصل ’جنگ کو نا‘ کہہ دیا ہے۔

قالیباف نے اپنے سخت انداز میں لکھا کہ ’’بات خواہ ضمیر کی ہو یا بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کی، امریکیوں نے جنگ کو صاف طور پر ’نا‘ کہہ دیا ہے اور ہم اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی حکومت اپنے عوام کی خواہشات کے خلاف جاکر بین الاقوامی بلیک میلروں کے اشاروں پر کام کرتی رہی تو اسے ایران کی مخالفت کے ایک خوفناک منظر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے بھی مانی غلطی
دوسری جانب، امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں بھاری شکست کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اندرونی دباؤ کو محسوس کرنا شروع کردیا ہے۔ ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے خود تسلیم کیا کہ ان کی پارٹی کی شکست کے پیچھے ایران کے ساتھ جاری تنازع اور اس کے نتیجے میں آسمان چھوتی پیٹرول کی قیمتیں ایک بڑی وجہ تھیں۔

ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اگرچہ امریکی عوام تہران کے خلاف ان کے سخت اقدامات سے متفق تھے، لیکن وہ اس تنازع کے نتیجے میں پڑنے والے قلیل مدتی معاشی بوجھ اور مہنگے ایندھن کے لیے تیار نہیں تھے۔

تاہم، اس کے باوجود ٹرمپ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ’سی بی ایس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کردیا کہ فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ پر انہیں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ تنازع ’’تبھی ختم ہوگا جب میں چاہوں گا کہ یہ ختم ہو



وسط مدتی انتخابات کے بعد اصل جنگ کیا ہے؟
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر قبضے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات پہلے ہی کافی بڑھ چکی ہیں۔ انتخابات سے ٹھیک پہلے ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں ہوا تو انتخابات کے فوراً بعد امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر بڑے پیمانے پر مکمل فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔

لیکن اب کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول اور امریکی عوام میں جنگ مخالف رجحان کے پیش نظر ٹرمپ کے لیے اپنی مرضی سے فیصلے کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسری جانب ایران بھی اپنی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور دنیا کے اہم ترین تیل کے راستوں میں شامل ’آبنائے ہرمز‘ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی ہے۔

امریکہ اور ایران کی جنگ کا کیا ہوگا انجام؟
وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے امریکی سیاست کا رخ بدل دیا ہے اور اندرون ملک صدر ٹرمپ کے اختیارات کو بڑی حد تک محدود کردیا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی بجائے مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔


ایک طرف ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کسی بھی حملے کا منہ توڑ اور خوفناک جواب دینے کا اعلان کردیا ہے، تو دوسری جانب ٹرمپ بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا سفارت کاری اس کشیدگی کو ختم کرپائے گی یا مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔



*اعظم خان کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، ای ڈی کی گرفتاری سے نہیں ملی راحت، ہائی کورٹ جانے کیلئے کہا*


سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر رہنما اعظم خان نے رام پور جیل سے رہائی کے فوراً بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے گرفتار کیے جانے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ان کی عرضی پر سپریم کورٹ نے آج سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے گرفتاری سے راحت دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے ایس پی رہنما کو جھٹکا لگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں، وہاں اس معاملے کی سماعت ہوگی۔

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جائے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ واضح رہے کہ اعظم خان کو جوہر یونیورسٹی سے وابستہ منی لانڈرنگ معاملے میں ای ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد غازی آباد کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے انہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد انہیں غازی آباد کی ڈاسنا جیل میں رکھا گیا ہے۔ عدالت نے انہیں 13 نومبر تک عدالتی حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔

16 نومبر کو ہوگی سماعت
اسی کے خلاف اعظم خان سپریم کورٹ پہنچے تھے، لیکن وہاں سے بھی انہیں مایوسی ہاتھ لگی۔ عدالت نے گرفتاری پر روک لگانے سے صاف انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس عرضی پر الہ آباد ہائی کورٹ سماعت کرے۔ ہائی کورٹ کو 16 نومبر کو سماعت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اعظم فی الحال جیل میں ہی رہیں گے۔

جوہر یونیورسٹی سے وابستہ ہے معاملہ
اس سے پہلے ہفتے کے روز ای ڈی نے اعظم خان کو گرفتار کیا تھا۔ یہ کارروائی اتر پردیش کے رام پور ضلع میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق 426.46 کروڑ روپے مالیت کی زمین اور عمارتوں کو عارضی طور پر قرق کرنے کے بعد کی گئی تھی۔ یہ کارروائی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ، اعظم خان اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ای ڈی کے مطابق، یونیورسٹی کی جائیدادوں کی موجودہ تخمینی مارکیٹ ویلیو تقریباً 1,170 کروڑ روپے ہے۔

26 ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی نے شروع کی تھی تحقیقات
ای ڈی نے بتایا تھا کہ رام پور کے سنگھ کھیڑا گاؤں کے جوہر نگر میں واقع یونیورسٹی کا کیمپس مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کی ملکیت ہے۔ اس ٹرسٹ کی بنیاد اعظم خان نے رکھی تھی اور وہی اسے چلاتے ہیں۔ وہ ادارے کے اعزازی چانسلر بھی ہیں۔ تحقیقات رام پور کے عظیم نگر پولیس اسٹیشن میں درج 26 ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں۔ ان ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے لیے کسانوں کی زرعی زمین زبردستی حاصل کی گئی تھی۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *

*مالیگاؤں اردو گھر: فوت ہوتے مقصد کو تحفظ کی ضرورت*

✍️  *وسیم رضا خان*  (9370170870)

مالیگاؤں شہر ہمیشہ سے اپنی بھرپور ثقافتی، ادبی اور تعلیمی روایات کے لیے پہچانا جاتا رہا ہے۔ 2014 میں ریاستی حکومت نے مہاراشٹر کے کچھ شہروں میں اردو گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈ مختص کیا تھا جس میں مالیگاؤں بھی شامل تھا. 
ریاستی حکومت اور رکن اسمبلی فنڈ سے تقریباً 8 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے ’اردو گھر‘ کی تعمیر کی بنیاد رکھی گئی تھی، تو شہر کے دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ میں ایک نئی امید پیدا ہوئی تھی۔ یہ محض اینٹ اور پتھر سے بنی ایک عمارت نہیں تھی، بلکہ اسے اردو زبان کے ایک اعلیٰ درجے کے تحقیقی اور مطالعاتی مرکز کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اسے کسی معتبر یونیورسٹی سے منظوری دلوائی جائے گی، جہاں زبان کے ماہرین، محققین اور تجربہ کار اساتذہ کی تقرریاں ہوں گی۔ اس کا مقصد مقامی نوجوانوں اور اسکالرز کو اردو زبان، ادب اور تحقیق کے میدان میں نئے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اردو گھر کی تعمیر 2019 میں مکمل کر لی گئی لیکن کورونا کی وجہ سے اس کا باقاعدہ افتتاح 2022 میں کیا گیا.  بدقسمتی سے، 4 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ پُرعزم منصوبہ اپنے اصل مقاصد سے کافی دور نظر آتا ہے۔ اردو زبان اور تحقیق کا مرکز بننے کے بجائے یہ عمارت محض ایک ہال یا آڈیٹوریم تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جسے تحصیل انتظامیہ مختلف پروگراموں کے لیے کرائے پر دیتی ہے۔ یونیورسٹی سے رابطہ، مستقل تعلیمی عملے کی بھرتی اور ریسرچ اسکالرز کی رہنمائی کے انتظامات آج تک محض کاغذی کارروائی اور دعوؤں تک محدود رہے ہیں۔

حال ہی میں اردو گھر کے احاطے میں سیاست دانوں کی جانب سے پریس کانفرنس جیسی سرگرمیوں کے انعقاد نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ یہ طرزِ عمل اردو گھر کے ادبی اور تعلیمی وقار کے منافی ہے۔ اگر بروقت اس پر روک نہیں لگائی گئی تو یہ ادارہ ایک تعلیمی مرکز بننے کے بجائے سیاسی گروہ بندی اور اجلاسوں کا اڈہ بن کر رہ جائے گا۔ ایسا بھی ہو سکتا کہ مخصوص سیاسی خاندان اسے اپنی ملکیت سمجھنے لگیں اور تعلیم کا یہ مرکز ایک جماعت خانہ بن کر رہ جائے. 

کسی بھی زبان کی ترقی کے مرکز یا تحقیقی ادارے کے مؤثر انتظام و انصرام کے لیے قانونی اور انتظامی وضاحت ضروری ہے۔ موجودہ وقت میں ریاستی حکومت کی جانب سے یہاں صرف ایک منتظم تعینات کیا گیا ہے۔  

کسی بھی مرکز کو سرکاری تحقیقی ادارے کا درجہ حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور متعلقہ ریاستی یونیورسٹی، مثلاً ساوتری بائی پھلے پونے یونیورسٹی یا ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی، کے قوانین کے تحت الحاق حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کسی بھی لسانی تحقیقی مرکز کا کامیاب کنٹرول اسی وقت ممکن ہے جب وہ ریاستی حکومت کے اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے محکمے یا اقلیتی ترقیاتی محکمے کے براہِ راست کنٹرول اور بجٹ کی فراہمی کے تحت کام کرے۔

اردو گھر کے اصل وجود اور مقصد کا تحفظ صرف حکومت ہی نہیں، بلکہ مالیگاؤں کے اردو زبان کے ماہرین، اساتذہ، صحافیوں، مصنفین اور دانشور شہریوں کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ شہر کا ادبی اور تعلیمی طبقہ متحد ہو کر اس مقصد کے لیے اپنی آواز بلند کرے، تاکہ اس ادارے کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اردو گھر کے احاطے میں کسی بھی سیاسی جماعت کی پریس کانفرنس، میٹنگ یا سیاسی پروگراموں کے انعقاد پر فوری طور پر قانونی پابندی عائد کی جائے۔ اس کا استعمال صرف تعلیمی، ادبی اور ثقافتی پروگراموں تک محدود رکھا جائے۔

اردو گھر کا انتظام و کنٹرول حکومتِ مہاراشٹر کے اقلیتی ترقیاتی محکمے یا اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے محکمے یا کسی نجی ادارے کے براہِ راست ماتحت کیا جائے۔ اس مرکز کو ریاست کی کسی معتبر یونیورسٹی سے تحقیقی مرکز کی حیثیت سے فوری منظوری دلوائی جائے۔

طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کی مناسب رہنمائی کے لیے قابل لسانی ماہرین، ریسرچ کوآرڈینیٹرز، لائبریرینز اور تعلیمی عملے کی منظور شدہ آسامیوں کا اشتہار جاری کرکے مستقل تقرریاں کی جائیں۔ ریسرچ اسکالرز کے لیے نایاب کتابوں، قلمی نسخوں، ڈیجیٹل کیٹلاگ اور انٹرنیٹ ریسرچ لیب کا انتظام کیا جائے۔

اگر اردو گھر کو اس کا اصل تعلیمی اور قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مالیگاؤں بلکہ پوری ریاستِ مہاراشٹر کے لیے اردو ادب اور تحقیق کے میدان میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہاں سیاسی جلسے ہونے لگیں یا ہو سکتا ہے شادیوں کیلئے کرائے پر چڑھایا جانے لگے.




*📢 خصوصی طبی معائنہ کیمپ کا انعقاد! 🏥*

تمام شہریوں کو یہ اطلاع دیتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ *محکمۂ صحت* کے اشتراک سے اور *معزز کارپوریٹر حافظ عبداللہ فیصل صاحب اور معاون کارپوریٹر شیخ سلمان شیخ سلیم صاحب* کے تعاون سے عوام کی صحت کی دیکھ بھال اور صحت سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے ایک خصوصی طبی معائنہ کیمپ منعقد کیا جا رہا ہے۔

📅 تاریخ: *5 نومبر 2026ء، بروز جمعرات*

⏰ وقت: *صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک*

📍 مقام: آروگیہ وردھنی کیندر (Arogya Vardhini Kendra)، ذیلی مرکز – سیوا ہیلتھ، انجمن چوک، شوقی کتاب کی دکان کے بازو میں۔

🔹 *کیمپ میں دستیاب طبی سہولیات*

1️⃣ خون کی کمی (انیمیا) کی جانچ
خون میں ہیموگلوبن (Hb) کی جانچ۔
خون کی کمی سے متعلق ضروری طبی رہنمائی۔

2️⃣ غیر متعدی امراض کی جانچ (NCD کیمپ)
بلڈ پریشر (BP) کی جانچ۔
بلڈ شوگر کی جانچ۔
غیر متعدی امراض سے متعلق طبی مشورے اور رہنمائی۔

3️⃣ عمومی طبی معائنہ (جنرل ہیلتھ چیک اَپ)
شہریوں کی عمومی صحت کی جانچ۔
عام بیماریوں اور صحت سے متعلق مسائل کا معائنہ۔

*ضرورت کے مطابق ڈاکٹر کی جانب سے طبی مشورہ اور علاج سے متعلق رہنمائی۔*

*🎯 کیمپ کے انعقاد کا مقصد*
شہریوں کو اپنے ہی علاقے میں طبی جانچ کی سہولت فراہم کرنا، بیماریوں کی بروقت تشخیص کرنا اور مناسب طبی مشورے و رہنمائی کے ذریعے عوام کو صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دینا۔

*🙏 جن آروگیہ سمیتی (JAS) کے تمام اراکین سے خصوصی اپیل*
تمام اراکین سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ شہریوں تک اس کیمپ کی اطلاع پہنچائیں اور انہیں کیمپ میں شرکت کرکے مفت طبی سہولیات سے استفادہ کرنے کی ترغیب دیں۔

*💐 آپ کی صحت، ہماری اولین ترجیح!*

منعقد کنندہ:
محکمۂ صحت، مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن
آروگیہ وردھنی کیندر – سیوا ہیلتھ، انجمن چوک
معزز کارپوریٹر صاحبان کے خصوصی تعاون سے۔


سمیع اللہ انصاری کے لئے تعزیتی نشست
شہر کی مشہور شخصیت مدیر ہاشمی آواز سمیع اللہ انصاری صاحب کے وصال پر سیف نیوز اور محبان و عقیدت مندان کی جانب سے ایک تعزیتی نشست خیال انصاری صاحب کی صدارت میں پانچ نومبر بروز جمعرات اردو میڈیا سینٹر پر بعد نماز عشا کی منعقد کی گئی ہے متعلقین و سوگواران سے شرکت کی خاص درخواست

*ہار سے بوکھلائے ٹرمپ ، اب ہندوستانی کمپنیوں پر امریکہ نے عائد کی پابندیاں ، ایران سے دوستی نبھانے پر کاروائی*





IPL Auction 2025
Trending
ویب اسٹوریز
قومی منظر
جموں وکشمير
عالمی منظر
انٹرٹینمنٹ
سپرہٹ گیلری
اسپورٹس
معیشت
تعلیم و روزگار
ویڈیو
اردو خبریں
/
خبریں
/
عالمی منظر
/
ہار سے بوکھلائے ٹرمپ ، اب ہندوستانی کمپنیوں پر امریکہ نے عائد کی پابندیاں ، ایران سے دوستی نبھانے پر کاروائی
PREV
Back
عالمی منظر
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
ہار سے بوکھلائے ٹرمپ ، اب ہندوستانی کمپنیوں پر امریکہ نے عائد کی پابندیاں ، ایران سے دوستی نبھانے پر کاروائی
US Slaps Sanctions on Indian-Turkish Companies: امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے اختتام کے ساتھ، انتظامیہ کی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ دریں اثنا، ہندوستان میں ایسی خبر آئی ہے جو پوری طرح سے حوصلہ افزا ءنہیں ہے۔ انتظامیہ نے ہندوستانی کمپنیوں اور کاروباری اداروں پر ایران کی مدد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT

Last Updated : November 5, 2026, 3:28 pm IST
Published by : H.W. Karim
ہار سے بوکھلائے ٹرمپ ، اب ہندوستانی کمپنیوں پر امریکہ نے عائد کی پابندیاں ، ایران سے دوستی نبھانے پر کاروائی
ADVERTISEMENT

متعلقہ ویڈیو
 Gaza Ceasefire: ایران کا غزہ جنگ بندی پر بڑا اعلان
Gaza Ceasefire: ایران کا غزہ جنگ بندی پر بڑا اعلان

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار

Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟
Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟

Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟

Isreal Hamas Ceasefire: اسرائیلی یرغمالیوں کا جذباتی لمحہ جب وہ اپنے اہل خانہ سے ملے
Isreal Hamas Ceasefire: اسرائیلی یرغمالیوں کا جذباتی لمحہ جب وہ اپنے اہل خانہ سے ملے

 Gaza Ceasefire: ایران کا غزہ جنگ بندی پر بڑا اعلان
Gaza Ceasefire: ایران کا غزہ جنگ بندی پر بڑا اعلان

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار

Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟
Israel Hamas War: غزہ جنگ بندی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے کی غزہ خالی کرانے کی بات؟

US action on India: امریکہ میں سیاسی بحران کے درمیان، ٹرمپ انتظامیہ نے ایک اہم اقدام کیا ہے جس سے ہندوستانی اور ترکی کے کاروبار کو جھٹکا لگے گا۔ ایران کشیدگی کی گرمی دونوں ممالک تک پہنچ رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہندوستان اور ترکی سے وابستہ کئی افراد اور کمپنیوں پر ایران کی مدد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے بھارتی تاجر سنیل کمار شرما، ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد اور ان سے وابستہ کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ان افراد نے فرضی دستاویزات اور فرضی جہازوں کی رجسٹریشن کے ذریعے تیل بیچ کر پابندیوں سے بچنے میں ایران کی مدد کی۔



امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کو نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔ یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کے “آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ” کے تحت کی گئی۔ اس مہم کا مقصد ایران کی تیل کی آمدنی کو روکنا اور اس کی اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔ امریکہ نے بھارت کے رہنے والے سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد کو اس نیٹ ورک کے مبینہ لیڈروں کے طور پر نامزد کیا ہے۔ دو دیگر ہندوستانی شہریوں اور شرما سے جڑی نو کمپنیوں اور اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

فرضی رجسٹریشن ایران کی کیسے مدد کر رہی تھی؟
امریکی محکمہ خزانہ کا الزام ہے کہ شرما اور اس کے ساتھیوں نے کئی ممالک کے ناموں پر فرضی میری ٹائم رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ بنائے۔ اس سے ایرانی تیل لے جانے والے ممنوعہ جہازوں کو اپنی اصل شناخت چھپانے اور بین الاقوامی ضوابط سے بچنے کی اجازت مل گئی۔ امریکہ کے مطابق اس نیٹ ورک نے گیانا، ایسواتینی اور لاؤس جیسے ممالک کے نام پر جہازوں کو جھوٹے جھنڈے اور سرٹیفکیٹ فراہم کیے تھے۔ ان میں سے کچھ بحری جہاز ایرانی فوج اور اس سے جڑے اداروں کے لیے کام کر رہے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں پابندیوں کے باوجود ایران کو اپنا تیل بین الاقوامی منڈی میں برآمد کرنے میں مدد دے رہی تھیں

ترکئی کمپنی کے خلاف بھی کارروائی
امریکہ نے نہ صرف ہندوستان سے وابستہ افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ترکی کی کمپنی فوگو گراؤنڈ سروسز انکارپوریشن پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنی پابندی والی ایرانی ایئر لائنز کو ایئرپورٹ کی ضروری خدمات اور گراؤنڈ ہینڈلنگ کی سہولیات فراہم کر رہی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر اقتصادی ناکہ بندی
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کی حمایت کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی زمینی، سمندری یا فضائی مدد کرنے والوں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس کے اقدامات نے ایران کی معیشت پر خاصا دباؤ ڈالا ہے۔ کرنسی، ریال، ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اور افراط زر تقریباً 90 فیصد ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

کیا بھارت کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے؟
یہ کارروائی واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایرانی اداروں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ دیگر ممالک میں مبینہ سپورٹ نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ تاہم، ان پابندیوں کو بھارتی حکومت کے خلاف کارروائی کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ فی الحال، ہدف مخصوص افراد اور کاروباری ادارے ہیں جو امریکی الزامات سے جڑے ہیں۔

Tuesday, 3 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *


تقریب اجراء کاروان شعور

معروف تعلیمی شخصیت ڈاکٹر اسد اللہ خان کے تعلیمی و فکری مضامین پر مشتمل کتاب کارواں شعور کی تقریب اجراء 7 نومبر بروز سنیچر اسکس ہال میں شب ساڑھے 9 بجے منعقد کی گئی ہے صدارت سید زاہد علی ممبر اجراء بدست محمد یاسین درگاہ ممبئی اظہار خیال محمد رضا سر جمیل کرانتی عمران جمیل نظامت منصور اکبر سیف نیوز باذوق ادبی احباب سے شرکت کی پر خلوص گزارش الداعی وائس آف اردو مالیگاؤں کا امتیاز جلیل اجراء کمیٹی





7/ نومبر2026ء کو مسجد زاہدہ اقبال کے پہلے سلیب (چھت) بھرائی۔


 الحمدللہ!

7/ نومبر 2026 ء بروز سنیچر صبح ساڑھے گیارہ بجے مدرسہ و مسجد زاہدہ اقبال اقصیٰ کالونی،مدینہ پارک، دیانہ کی پہلی چھت بھرائی کا کام شہر کے موقر علماء کرام کے دستہائے مبارک اور مخلصانہ دعاؤں سے رکھا جائے گا۔ اس میں 350 / عدد سیمنٹ بیگ،ایک ڈمپر ریتی،بارہ براس کھڑی،چار لاکھ روپے کی اسٹیل اور سلیب، کالم، بیم دونوں سائٹ زینے کی نقد مزدوری کے لیے ساڑھےتین لاکھ روپے کی اشد ضرورت ہے۔سلیب کا تقریباً خرچ مع مٹیریل و مزدوری آٹھ لاکھ روپے ہے ۔ رمضان المبارک سے قبل مسجد جاری کرنے کا عزم و ارادہ ہے۔ آپ اپنی طرف سے اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے تعاون فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔عمائدین و اہلیان شہر اور تمام دوست و احباب سے شرکت اور بھرپور تعاون کی اپیل ذمہ داران و تعمیری کمیٹی مسجد و مدرسہ زاہدہ اقبال اور اہلیان محلہ نے کی ہے  


نگراں : حافظ مختار احمد جمالی،مولانا عبدالقیوم قاسمی،عابد حسین پرفیکٹ،حامد حسین نیشنل موبائل ، شیخ انیس شیخ احمد ،ذاکر حسین نیشنل ،شاکر حسین نیشنل،


اشیاء اور رقومات دینے کیلئے ان نمبرات پر رابطہ فرمائیں:

 عابد حسین پرفیکٹ : 7058622815
حامد حسین : 9766207451
ذاکر حسین : 9028846711
حافظ شاکر حسین : 7020497159
ذاکر سر : 9072422152
شیخ انیس : 9890959381
حافظ مشتاق : 9422994652
غلام بھائی : 9326557944
الطاف بھائی دیشمکھ : 9637638901
ابراہیم بھائی : 9923092926


💌 ب کے بے شمار بکھیڑے!
_______________________
✒️ ڈاکٹر آصف فیضی (مالیگاؤں)
_______________________
🌷 اردو زبان کا حرف ’’ب‘‘ بڑا بااثر حرف ہے۔ اس کے بغیر نہ بات بنتی ہے، نہ بستر بچھتا ہے نہ بچھونا۔ نہ بازار آباد ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے بغیر گھر میں برکت آتی ہے۔ یہ ایسا حرف ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں بلا اجازت داخل ہو جاتا ہے۔ کبھی بوجھ بن جاتا ہے،کبھی بکری بن کر گھر میں گھس آتا ہے، کبھی بادل بن کر آسمان پر چھا جاتا ہے، کبھی بارش بن کر برس جاتا ہے اور کبھی بجلی کا بل بن کر جیب پر گرتا ہے۔
صبح بیدار ہوا تو بیگم نے بستر سے اٹھتے ہی ببانگِ دہل اعلان کیا کہ بازار سے بکرے کا گوشت، بچوں کے لیے بسکٹ اور بتاشے، باورچی خانے کے لیے برتن، باتھ روم کے لیے بالٹی لانی ہے اور بجلی کا بل بھی بھرنا ہے۔ میں نے بستر پر کروٹ بدلتے ہوئے کہا، ’’بیگم! بیک وقت اتنے بکھیڑے؟ ابھی تو میں بمشکل بیدار ہوا ہوں۔‘‘
بیگم نے بُری طرح گھورتے ہوئے کہا، ’’بہانے بند کرو، بس!‘‘
میں نے سوچا کہ بعض اوقات بیوی کے سامنے بہترین بہانہ بھی بدترین بے وقوفی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ بستر چھوڑا، بال سنوارے، بنیان بدلی، لباس تبدیل کیا اور بازار کی طرف روانہ ہوگیا۔
بازار میں داخل ہوا تو بکریاں، بکرے، بطخیں، بلیاں اور بچوں کی بھیڑ دیکھ کر بدحواسی طاری ہوگئی۔ ایک بکری نے میرے بٹوے کو منہ میں دبا لیا۔ میں نے بکری کو پکڑنے کی کوشش کی تو بکری نے ایسی بدتمیزی سے سینگ مارا کہ بٹوا بھی گیا اور بھرم بھی۔
بازار میں ایک بزرگ سے پوچھا، ’’بابا! بکری کا بھاؤ کیا ہے؟‘‘
بولے، ’’بیٹا! بھاؤ تو بکری کا ہے، مگر بکری کے ساتھ بکرا بھی خریدنا پڑے گا، ورنہ بکری بور ہو جائے گی۔‘‘
میں نے کہا، ’’بابا! بکری کی بوریت دور کرنے کے لیے میرے پاس بجلی کا بل کافی ہے۔ اسے دکھا دوں گا، ساری بوریت بھول جائے گی۔‘‘
بزرگ ہنسنے لگے۔
بازار سے واپس آیا تو بیگم بآواز بلند نے پوچھا، ’’گوشت کہاں ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا، ’’بالاتفاق بکری کے ساتھ ایک بحث ہوگئی تھی۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ بکری نے بٹوا چھین لیا اور میں تہی دست واپس آگیا۔‘‘
بیگم نے بے بسی سے سر پکڑ لیا۔ میں نے بات بدلنے کے لیے بچوں کو بلایا۔ بچے بستے لے کر آگئے۔ بڑے بیٹے نے کہا، ’’ابو! بائیولوجی کی بیاض چاہیے۔‘‘ چھوٹے نے کہا، ’’مجھے بیٹ چاہیے۔‘‘ بیٹی بولی، ’’میری باربی ڈول ٹوٹ گئی ہے۔‘‘
میں نے تینوں کو باری باری دیکھا اور سوچا کہ بچوں کی ضروریات بھی حرف ’’ب‘‘ کی طرح بے شمار ہیں۔ کسی کو بائیولوجی کی بیاض ، کسی کو بیٹ اور کسی کو باربی ڈال چاہیے۔ باپ کو صرف بجٹ چاہیے، جو کبھی درست ہوتا ہی نہیں۔
اسی دوران بادل گرجنے لگے، بجلی چمکی اور بارش شروع ہوگئی۔ بیگم نے بالکونی سے آواز دی، ’’باہر سے کپڑے اتار لاؤ!‘‘
میں نے کہا، ’’بیگم! باہر تو بارش ہے، کپڑے بھیگ جائیں گے۔‘‘
بولیں، ’’اسی لیے تو اتار لانے کے لئے کہہ رہی ہوں!‘‘
میں نے برآمدے سے بآسانی کپڑے اتارے، مگر ساتھ ہی بالکونی میں رکھی بالٹی نیچے گر گئی۔ نیچے سے پڑوسی کی آواز آئی، ’’بھائی صاحب! بالٹی بے‌کار میں باہر مت پھینکیے۔
میں باہر گیا اور شرمندگی سے بالٹی اٹھائی۔ زندگی میں بعض اوقات آدمی دوسروں کے لیے بوجھ نہیں بنتا، صرف بالٹی بن جاتا ہے۔
شام کو بجلی کا بل لے کر بیٹھا تو بیگم نے پوچھا، ’’کتنا آیا ہے؟‘‘
میں نے کہا، ’’بہت بڑا۔‘‘
بولیں، ’’کتنا بڑا؟‘‘
میں نے بل ان کے سامنے رکھ دیا۔ وہ اسے دیکھ کر بولیں، ’’اتنا بل کیسے آگیا؟‘‘
میں نے کہا، ’’ بیگم بختاور بادشاہ کی طرح بے تحاشا بجلی جو استعمال ہورہی ہے اور بآشائش زندگی جو گذر رہی ہے، تو بجلی بل تو بے تحاشا آنے والا ہی ہے ۔
بیگم نے کہا، بات کا بتنگڑ نہ بناؤ، بکواس بند کرو اور بل جلد بھر دو ۔
میں نے خاموشی اختیار کرلی۔ آخر گھر میں بولنے کا اختیار بھی ایک ایسا بنیادی حق ہے جو شادی کے بعد بتدریج بیوی کے قبضے میں چلا جاتاہے۔
رات کو بستر پر لیٹا تو دن بھر کے بکھیڑے یاد آنے لگے۔ بکری، بٹوا، بازار، بسکٹ، برتن، بالٹی، بادل، بجلی، بل، بچے، بیگم اور بے بسی!
مجھے محسوس ہوا کہ حرف ’’ب‘‘ محض ایک حرف نہیں بلکہ ہماری پوری زندگی کا بنیادی ڈھانچا ہے۔ بچپن بھی اسی سے شروع ہوتا ہے، بڑھاپا بھی اسی کے ساتھ آتا ہے۔ بندہ بھی اسی سے بنتا ہے اور بعض اوقات بندہ بے بندہ بھی اسی سے ہوتا ہے۔
اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ کسی ایسے حرف سے دوستی کروں گا جس سے کم از کم بجلی کا بل نہ بنتا ہو، بیوی کی بیزاری نہ بڑھے، بکری بٹوا نہ چھینے اور بازار جانے کی باری نہ آئے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اردو کے ہر حرف میں کوئی نہ کوئی بکھیڑا چھپا ہوا ہے۔
سوچتا ہوں، شاید ’’الف‘‘ بہتر ہو!
پھر خیال آتا ہے کہ الف سے افسانہ بھی ہے، افسوس بھی، افلاس بھی اور آخر میں آدمی کا انجام بھی!
خدا جانے اردو کے حروف تہجی میں ایسا کون سا حرف ہے جس سے زندگی کے بکھیڑے شروع نہ ہوتے ہوں!🍁



سمیع اللہ انصاری کا انتقال 

  شہر کے سماجی، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ خبر نہایت رنج و غم کیساتھ سنی جاےگی کہ شہر مالیگاوں مسلم لیگ کے صدر، ہفت روزہ ہاشمی آواز کے مالک ومدیر، بیباک رہنما، سمیع اللہ انصاری صاحب، اس دار فانی سے کوچ کر گےء، آپکی رحلت شہر کے سماجی و سیاسی، حلقوں کا عظیم نقصان ھے، 
  اس سانحہ پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعاے مغفرت کرتے ہوئے ایڈوکیٹ محمد ہاشم انصاری، ایڈوکیٹ عبداللہ، اور جملہ پسماندگان کے غم میں شریک رہکر صبر کی تلقین کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ، مرحوم کی عوامی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین، 
شریک غم، خیال انصاری، 
مدیر، خیر اندیش، مالیگاوں،

🛑*سیف نیوز بلاگر *


*ملک میں ہم سے بڑا کوئی غنڈہ نہیں ہے ،‘‘ جن ادھیکار ریلی میں او پی راج بھر کا غضب بیان*



باندہ : چاہے مختار انصاری ہو، برجیش سنگھ، دھننجے سنگھ، یا ابھے سنگھ، جودربار لگاتے ہیں، ان سے بڑا غنڈہ بھلا ہے کوئی ؟ ہم سے بڑا غنڈہ پورے ملک میں کوئی نہیں ہے۔‘‘ یہ بیان ریاستی کابینہ کے رکن اوم پرکاش راج بھر نے باندہ میں ایک جلسہ عام میں دیا۔

اوم پرکاش راج بھر نے، جو باندہ میں بھاگیداری پارٹی کی جن ادھیکار ریلی میں شرکت کر رہے تھے، کہا، “میں نے سنا ہے کہ باندہ میں بڑے غنڈے ہیں، تو جان لیں ک ہم سے بڑا غنڈہ کوئی نہیں ہے۔ اگر کوئی آنکھ دکھانے کی کوشش کرےگا تو اوم پرکاش راج بھر میں ان کی دوسری آنکھ نکالنے کی حیثیت رکھتا ہے۔” ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنا جھنڈا، اپنا ڈنڈا ،اپنی پارٹی کے لیے آپ کام کریں۔ اگر کوئی آپ کے پاس آتا ہے اور آپ سے اپنا جھنڈا پکڑنے کو کہتا ہے تو اسے بتائیں کہ وہ آپ کا جھنڈا پکڑے ہوئے ہیں۔

پنچایتی راج کے وزیر او پی راج بھر نے ببیرو قصبے کے نئے بازار میں منعقدہ جن ادھیکار ریلی میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ وزیر کا ان کی آمد پر بھگدڑی پارٹی کے قومی صدر سمیت دیگر عہدیداروں نے پرتپاک استقبال کیا۔ اسٹیج سے اپنے خطاب کے دوران اوم پرکاش راج بھر نے لوگوں سے بھاگیداری پارٹی کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔

او پی راج بھر نے کہا کہ پریم چند پرجاپتی جی نے بھاگیداری پارٹی بنائی اور اسے پوری ریاست میں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں جن ادھیکار ریلی کا اہتمام کیا۔ انہوں نے اس میں شرکت کی۔ آزادی کے بعد سے ہم دلتوں، محروموں، استحصال زدہ، پسماندہ اور دیگر لوگوں کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج یہاں بہت سے لوگوں نے ان سے اپنے مسائل شیئر کیے ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ جانکاری کی کمی کی وجہ سے لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں۔ ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی اور انہیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے بارے میں بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔




*احتجاج کےنام پر کسی جگہ پر قبضہ نہیں کرسکتے ، جنتر ۔منتر پروٹیسٹ پر بولے CJI سوریہ کانت ، سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس*




سپریم کورٹ نے رام لیلا میدان اور جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کے دھرنے کے خلاف دہلی کے تاجروں کی طرف سے دائر درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے احتجاج کے حق اور روزی روٹی کے حق کے درمیان آئینی توازن پر زور دیتے ہوئے ایک اہم ریمارک کیا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے نام پر کسی جگہ پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے یہ اہم ریمارک کرانہ کمیٹی، دہلی آئرن اینڈ ہارڈ ویئر مرچنٹس ایسوسی ایشن اور دہلی کے تاجروں اور کاروباری اداروں کی نمائندگی کرنے والی دیگر تجارتی تنظیموں کی طرف سے دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کیا۔ درخواست میں رام لیلا میدان اور جنتر منتر پر طویل، غیر معینہ مدت کے دھرنے اور احتجاج پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دونوں سائٹس دہلی کے اہم تجارتی علاقوں کے قریب واقع ہیں، اور وہاں کوئی بھی سرگرمی مارکیٹ اور کاروبار کو متاثر کرتی ہے۔تجارتی تنظیموں کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ جئے اننت دیہادرائی اور دیگر وکیل پیش ہوئے۔


عدالت نے کہا کہ احتجاج کا حق ہر ایک کو ہے لیکن یہ حق ایک مخصوص وقت اور جگہ تک محدود ہونا چاہیے تاکہ کسانوں، عام شہریوں اور تاجروں کو تکلیف نہ ہو۔

عدالت نے اس معاملے میں چھ نکات بنائے۔ سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر تشدد اور احتجاج سے متعلق شکایات کی سماعت کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ اب اگلی سماعت نومبر کے آخری ہفتے میں ہوگی۔

CJI نے کہا، “احتجاج کی جگہوں پر بھی غیر معینہ مدت تک قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔”
سماعت کے دوران، CJI سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے پرامن احتجاج کے بنیادی حق اور شہریوں کے اپنے پیشوں کو آگے بڑھانے اور اپنی روزی کمانے کے مساوی اہم حق کے درمیان آئینی توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر اہم ریمارک کیے۔

CJI سوریہ کانت نے کہا کہ احتجاج کی نامزد جگہوں پر بھی غیر معینہ مدت تک قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ احتجاج کا حق جمہوریت اور آئین کا ایک اہم حق ہے لیکن اسے لامحدود یا اس انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جس کے نتیجے میں دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کی غیر متضاد اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزی ہو۔

جمہوری حقوق کے استعمال کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں
عدالت نے نامزد احتجاجی مقامات کے منصفانہ اور مساوی استعمال کے حوالے سے بھی اہم ریمارک کیے۔ عدالت نے اشارہ کیا کہ کوئی ایک تنظیم یا گروہ کسی بھی عوامی جگہ پر اجارہ داری یا غیر معینہ مدت تک قبضے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ مختلف تنظیموں اور گروہوں کو پرامن احتجاج کے اپنے جمہوری حق کو استعمال کرنے کے لیے منصفانہ اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔




*غریبی ہٹاو" کے نعرے سے آگے نکلا ہندوستان ، وزیر اعظم مودی نے پونے میں رکھا میٹرو پروجیکٹس کا سنگ بنیاد*


وزیر اعظم نریندر مودی نے 3 نومبر کو پونے میٹرو پنک لائن کا افتتاح کیا۔ تقریب سے ورچوئلی خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تہواروں کی خوشی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب زندگی میں نئی سہولتیں شامل ہوتی ہیں۔ آج پونے کے لوگوں کے لیے ایک خوشی کا موقع ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج پونے میٹرو کی ایک اور لائن کا افتتاح ہو رہا ہے۔"

پی ایم مودی نے کہا، “10 سال پہلے، مجھے پونے میں پہلے مرحلے کے کام کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ اب ہنج وڑی اور شیواجی نگر کے درمیان میٹرو کے آغاز سے، پونے کے ایک بڑے آئی ٹی مرکز کو بہتر کنیکٹیویٹی ملے گی۔ نئی لائن، جس نے آج کام شروع کیا ہے، پرانے اور نئے علاقوں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط کرے گا۔ ایسی سوچ جنہوں نے قوم اور سماج کو نئی سمت دی ہے، آج پونے ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی نئی توانائی کو پروان چڑھا رہا ہے۔


انہوں نے کہا، “آئی ٹی، آٹوموبائل، فارماسیوٹیکل، اسٹارٹ اپس، اختراعات اور مینوفیکچرنگ سے، پونے ملک کے نوجوانوں کے خوابوں اور عزم کی جگہ ہے۔ یہاں میٹرو کنیکٹیوٹی کو مضبوط کرنا پونے کی ترقی کو نئی تحریک فراہم کرنے والا ہے۔ پونے میٹرو کا افتتاح اور توسیع اس بات کو دکھاتا ہے ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے ہم کس طرح شہروں کی تعمیر کررہےہیں۔پہلے کسی شہر کی پہچان اس کی انڈسٹری سے ہوتی تھی یا وہاں کسی مشہور کھان ۔ پان یا کسی پھل ،فصل سے ہوتی تھی ۔ آج شہروں کی پہچان کے ساتھ دو اور کسوٹیاں جڑ گئی ہیں ۔پہلا کوئی شہر کتنا کومپٹیٹو ہے اور دوسرا وہاں ایز آف لیونگ کی کیا سطح ہے؟ میٹرو پروجیکٹ ان دونوں کسوٹیوں میں کسی بھی شہر کو اور بہتر بناتا ہے۔

پی ایم نے کہا، “پونے میٹرو کی توسیع وقت کی بچت کر رہی ہے اور یہاں کے لوگوں کو زیادہ سہولت فراہم کر رہی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب کسی شہر میں وقت کی بچت ہوتی ہے تو پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ جب کسی شہر کی پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے تو ملک کی معیشت کو فروغ ملتا ہے، اور جب معیشت بڑھتی ہے تو غریب اور متوسط طبقے دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ آج کا یہ دن پرو۔پیپل، پروپیپل ایکٹو اور گڈ گورننس کی بھی ایک مثال ہے۔”

انہوں نے کہا، “2014 تک، میٹرو ملک کے صرف پانچ شہروں میں چل رہی تھی، اگر وہی پرانی سوچ، وہی پرانی حکومت اور وہی پرانا ورک کلچر برقرار رہتا تو میٹرو کو پونے تک پہنچنے میں مزید کئی دہائیاں لگ جاتیں۔ تاہم، 2014 میں، جب ملک نے این ڈی اے کو خدمت کا موقع دیا، ہم نے متوسط طبقے کے شہروں میں نقل و حمل کو یقینی بنانے اور نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے ایک عزم کے ساتھ قدم اٹھایا۔ آج ہم اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں، پچھلے 12 سالوں میں ملک میں میٹرو ٹرانسپورٹ باالکل بدل گئی ہے۔

پی ایم نے کہا، “اب، ہر روز 1 کروڑ سے زیادہ لوگ میٹرو سے سفر کرتے ہیں۔ آج ہندوستانی میٹرو نیٹ ورک کا شمار دنیا کے ٹاپ تین میٹرو نیٹ ورکس میں ہوتا ہے۔ آج ملک کا ہر شہری ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔ آج ہر کوئی اعتماد سے کہہ رہا ہے، ‘We Will Do It۔’ یہ جذبہ پورے ملک میں ہے، گزشتہ 12 سالوں میں، ملک کا توانائی کا شعبہ متعدد اسکیموں اور اختراعی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے، جن میں دیہی سڑکوں، ہائی ویز، ایکسپریس ویز، نئی ریلوے لائنوں کی برقی کاری، لمبی سرنگیں اور بلند و بالا پل شامل ہیں

پی ایم مودی نے کہا، “ملک کی کئی نسلیں ‘غریبی ہٹاؤ’ کے وعدوں اور دعوؤں کے درمیان پروان چڑھی ہیں۔” پہلے، غربت کے خلاف جنگ صرف نعروں تک محدود تھی۔ آج ہندوستان زمین پر غربت کو شکست دے رہا ہے۔ آج ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور تیزی سے غربت میں کمی آرہی ہے

🛑*سیف نیوز بلاگر *

*اندھیرے سے لڑنے کا عزم" ، پی ایم مودی ایک بار پھر جوانوں کے ساتھ منائیں گے دیوالی ، ہم وطنوں کو دی مبارکباد* روشنیوں کے تہ...