Wednesday, 21 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *



_*ایک ہی دن میں تنظیم علماء کے دو اصلاحی پروگرام، معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور دینی بیداری پر زور.....!*_

مالیگاؤں، 20 اکتوبر: *تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں* کے زیرِ اہتمام *بروز منگل* شہر کے دو مختلف مقامات پر اصلاحِ معاشرہ کی مجالس منعقد ہوئیں، جن میں *حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی،* صدر تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں نے خصوصی خطاب فرمایا۔

*بعد نمازِ مغرب* رونق آباد کی *"رابعہ مسجد"* میں منعقدہ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ سب سے خطرناک بیماری یہ ہے کہ انسان بیمار ہو، لیکن اسے اپنی بیماری کا احساس ہی نہ ہو۔ جب انسان اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے بے خبر ہو جائے تو اصلاح کی راہیں مسدود ہونے لگتی ہیں؛ اس لیے معاشرتی بگاڑ کے خاتمے کے لیے خود احتسابی اور اپنے اعمال کی اصلاح ضروری ہے۔ موصوف نے تین چیزوں کو اصلاح کےلیے ضروری قرار دیا ذکر اللہ کی کثرت؛ قرآن پاک کی تلاوت؛ اہل اللہ کی صحبت۔ 

*بعد نمازِ عشاء* *"مسجد چشمۂ گلاب"* پوارواڑی میں منعقدہ سترھویں جلسۂ اصلاحِ معاشرہ و مجلسِ ذکر سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے مساجد سے دوری اور نمازیوں کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجدوں سے تعلق کمزور ہونے کے نتیجے میں معاشرے میں برائیاں اور بے حیائیاں فروغ پاتی ہیں۔ نشہ آور اشیا کے بڑھتے ہوئے استعمال پر متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نشہ چند لمحوں کا مزہ، لیکن عمر بھر کی سزا ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ اصلاحِ معاشرہ صرف علماء، مشائخ اور اہلِ تبلیغ کی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ذکرِ الٰہی کی فضیلت بھی بیان کی۔

رابعہ مسجد کی مجلس کا آغاز مدرسہ امام غزالی کے طالب علم *محمد حذیفہ بن قاری شفیق احمد* کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ جبکہ اس پروگرام کی صدارت *حافظ عبدالخالق*، ناظمِ اعلیٰ مدرسہ امام غزالی و امام و خطیب مسجد رابعہ نے فرمائی، اور نظامت کے فرائض مدرسے کے استاذ *مولانا فضیل الرحمن غزالی* نے انجام دیے۔ 

اسی طرح *مسجد چشمۂ گلاب* کے جلسے میں مدرسہ چشمۂ گلاب کے ایک طالبعلم *شرجیل عبداللہ* نے تلاوت اور دوسرے طالبعلم *محمد سعدین سہیل احمد* نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کیا۔ حالانکہ پروگرام کی صدارت *مولانا عمران اسجد ندوی،* نائب صدر تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں وامام مسجد ھذا نے فرمائی، نظامت کے فرائض مع تمہیدی گفتگو کے مدرسہ ھذا کے استاذ *مولانا فرحان ندوی* نے انجام دیے۔ اخیر میں ذکر ہوا، اور 
مذکورہ ہر دو پروگرام کا اختتام *حضرت والا* کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔

دونوں پروگراموں میں متعلقہ علاقوں کے سرکردہ افراد، نوجوانان محلہ، دونوں مساجد میں چل رہے مکاتب کے طلبہ و اساتذہ نے شرکت کی۔ پوارواڑی کے پروگرام میں وفاق المکاتب اور تنظیم علماء کے ذمہ داران *مولانا نعیم الظفر نعمانی، مولانا امین الجبار ملی، مولانا عبدالرحمن، مفتی اشفاق، حافظ ساجد اشاعتی، قاری ریحان، مولانا عقیل، مفتی عطاء الرحمن، مفتی محمد خالد ملی، مولانا ساجد خان، قاری حفیظ الرحمٰن شمسی* اور *قاری سلمان* کے علاوہ خواتینِ اسلام کی بڑی تعداد بھی شریک رہی۔

_*جاری کردہ: شعبۂ نشر و اشاعت*_
_*تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں*_




_*محلے کے سلگتے مسائل پر نوجوانان بسم اللہ باغ کی کارنر میٹنگ*_

_*مرکزی جلسۂ اصلاحِ معاشرہ سمیت متعدد تجاویز منظور*_

شہر مالیگاؤں میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیوں کے سدباب اور اصلاحِ معاشرہ کی مؤثر کوششوں کے سلسلے مخلتف تنظیمیں اور تحریکیں اپنے طور پر نمایاں کام کررہی ہے، علماء کرام کا متحدہ پلیٹ فارم تنظیم علماء ائمہ وحفاظ شہر نے بھی ان دنوں سلسلہ وار اصلاحی جلسوں اور کارنر میٹنگوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، 
چنانچہ تنظیم علماء کے اس مشن کو تقویت پہنچانے کےلیے *16 اکتوبر 2026ء بروز جمعہ،* بعد نمازِ مغرب، محلہ بسم اللہ باغ میں *نثار سیٹھ پھلکے والے کے مکان* کے قریب *نوجوانانِ بسم اللہ باغ و نظام پورہ* کی جانب سے ایک کل جماعتی کارنر میٹنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت *مولانا شکیل احمد صاحب،* امام و خطیب مسجد ہدایت الاسلام نے کی۔ یہ میٹنگ خانقاہ رحمانیہ کے سجادہ نشین اور تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں کے صدر *حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی* کی سرپرستی اور اجازت سے منعقد کی گئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے افراد نے شرکت کی۔

مجلس کا آغاز *حافظ عمران احمد ملی،* امام مسجد میزاب رحمت کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ابتدائی گفتگو میں *حافظ عبدالمالک اشاعتی* نے بچوں کے اخلاقی بگاڑ میں موبائل فون اور ہوٹلوں میں مفت وائی فائی کی سہولتوں کے منفی اثرات کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ تنظیم علماء کے رکن *مولانا محمد عمران کفلیتوی* نے میٹنگ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے نشہ اور نوجوانوں کی بے راہ روی سمیت علاقے میں بڑھتی ہوئی برائیوں کے مستقل حل کی ضرورت اجاگر کی، جب کہ *مولانا عقیل احمد صاحب،* امام و خطیب رضا مسجد نے فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے نوجوانوں کی اس کوشش کو سراہا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اصلاحِ معاشرہ کمیٹی کے کنوینر *مفتی محمد خالد شاہد ملی* نے، جو میٹنگ کے منتظم اور ناظم بھی تھے، اپنے خطاب میں نشہ، بے حیائی، سودی لین دین اور بیٹیوں کو میراث سے محروم رکھنے جیسی معاشرتی برائیوں پر روشنی ڈالی اور توبہ و رجوع الی اللہ کو اصلاحِ احوال کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ موصوف نے اصلاحی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں، جن میں *ایک ماہ کے اندر مسجد ہدایت الاسلام کے قریب مرکزی جلسۂ اصلاحِ معاشرہ کا انعقاد، اطراف کے علاقوں نعمت باغ، سلاٹر، پوارواڑی، اقراء نگر، نورانی نگر، باغ عائشہ، سروے 104 اور مولانا الیاس نگر کے باشندوں کی شرکت کو یقینی بنانا، مرکزی جلسے کے مقام کے اطراف کم از کم دس مساجد میں مستورات کے پردے کے انتظام کے ساتھ ایک گھنٹے کے اصلاحی پروگرام منعقد کرنا اور خواتین کے خصوصی اجتماعات کا اہتمام* شامل ہے۔
اسی طرح *نوجوانوں کی اصلاح و رہنمائی کے لیے مختلف چوک چوراہوں، کارنروں اور ہوٹلوں میں کارنر میٹنگیں منعقد کرنے اور محلے کے سماجی و اصلاحی مسائل کے حل کے لیے علماء کرام اور ذمہ دارانِ محلہ کی نگرانی میں ایک مرکزی تنظیم تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی،* جو علاقے کے مسائل کی نشان دہی اور ان کے مستقل حل کے لیے سرگرم رہے گی۔ حاضرین نے ہاتھ اٹھاکر اور بطور سند نام اور دستخط فرماکر تمام تجاویز کو اتفاقِ رائے سے منظوری دی۔

صدرِ مجلس *مولانا شکیل احمد صاحب* نے اپنے صدارتی خطاب میں نوجوانوں کے اس اصلاحی اقدام کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے انہیں اپنی منزل آسمانوں میں

آخر میں صدرِ مجلس کی دعا پر میٹنگ اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر ذمہ دارانِ محلہ میں *مختار بھائی، جمیل بھائی، عبدالرشید سیٹھ، نثار سیٹھ پھلکے والے، ارشاد مستری، صدیق بھائی (چیف ٹرسٹی، مسجد اہلِ سنت حافظ عبد الکریم) اور خالد بھائی (ادارہ نیو اسٹار)* سمیت نوجوانانِ محلہ نے پرجوش شرکت کی۔

_*منجانب: اراکین تحریک اصلاح معاشرہ گروپ، بسم اللہ باغ ونظام پورہ*_




💌 ایک سر ابھی باقی ہے ۔۔۔!؟
______________________
✒️ ڈاکٹر آصف فیضی ( مالیگاؤں)
______________________
🌷دسہرے کی شام تھی۔ شہر کے سب سے بڑے میدان میں راون کا پُتلا کھڑا تھا۔ دس سروں والا راون، رنگ برنگے کاغذوں سے سجا ہوا، سینے میں بارود بھرے، بانہوں میں بانسوں کی طاقت لیے، آسمان کو چھوتا ہوا۔
میدان میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ بچے اپنے باپ کے کندھوں پر بیٹھے تھے۔ عورتیں بھی موجود تھیں۔ نوجوان موبائل کے کیمروں میں اس منظر کو قید کر رہے تھے۔
اسٹیج پر شہر کے معززین براجمان تھے۔ تقریریں ہو رہی تھیں۔ ہر تقریر میں برائی کے خلاف جنگ کا اعلان تھا۔ ہر مقرر رام کی عظمت اور راون کی بدکرداری پر روشنی ڈال رہا تھا۔
میدان کے ایک کونے میں کھڑا گیارہ سالہ آکاش اپنے والد سے مسلسل سوال کر رہا تھا۔
’’پاپا، راون کو ہر سال کیوں جلاتے ہیں؟‘‘
والد نے نظریں اسٹیج پر جمائے ہوئے جواب دیا، ’’کیونکہ راون برائی کی علامت تھا۔ اس نے سیتا کو اغوا کیا تھا۔ اس میں غرور تھا، تکبر تھا، اس لیے اسے جلایا جاتا ہے ۔‘‘
’’تو کیا راون اب بھی زندہ ہے؟‘‘
والد مسکرائے۔ ’’نہیں بیٹا، راون تو سینکڑوں سال پہلے مر چکا۔‘‘
آکاش نے پُتلے کی طرف دیکھا۔
’’پھر ہم ہر سال کس کو جلاتے ہیں؟‘‘
والد نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ’’یہ تو صرف ایک روایت ہے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ برائی کا انجام برا ہوتا ہے۔‘‘
آکاش کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے پوچھا، ’’اگر برائی کا انجام برا ہوتا ہے تو لوگ برائی کرتے کیوں ہیں؟‘‘
والد کے چہرے پر مسکراہٹ تو باقی رہی، مگر جواب کہیں گم ہو گیا۔
اسی وقت اسٹیج سے اعلان ہوا کہ شہر کے مشہور تاجر اور سماجی کارکن سیٹھ دھرم داس راون کو آگ لگانے کے لیے تشریف لا رہے ہیں۔
تالیوں کی گونج میں سیٹھ دھرم داس آگے بڑھے۔ سفید لباس، سونے کی گھڑی، گلے میں موٹی زنجیر ۔ انہوں نے مائیک سنبھالا۔
’’میرے عزیز ہم وطنو! راون صرف ایک شخص کا نام نہیں، یہ برائی کا نام ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں جھوٹ، دھوکا، لالچ اور ناانصافی موجود ہے، ہمیں راون کو جلاتے رہنا ہوگا۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے اندر کی برائیوں کو ختم کریں گے۔‘‘
تالیاں بج اٹھیں۔
آکاش نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ والد بھی تالیاں بجا رہے تھے۔
سیٹھ دھرم داس کو تیر تھمایا گیا۔ انہوں نے اسے روشن کیا اور راون کی طرف چھوڑ دیا۔ تیر پُتلے سے ٹکرایا۔ ایک لمحے کے لیے خاموشی چھائی، پھر شعلے بھڑک اٹھے۔ آتش بازی کی آوازوں کے درمیان راون کے دسوں سر آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔
لوگ خوشی سے چیخنے لگے۔
آکاش بھی شعلوں کو دیکھ رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے راون کے سر ایک ایک کرکے جل نہیں رہے، بلکہ اس کے دس سوال آگ میں بدل رہے ہیں۔
میدان سے واپسی پر آکاش نے دیکھا کہ سیٹھ دھرم داس کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ ایک بوڑھا رکشہ چلانے والا ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔
’’صاحب، میری بیٹی کی شادی ہے۔ تین مہینے آپ کی دکان پر مزدوری کی ہے۔ میری اجرت کے بارہ ہزار روپے دے دیجیے۔ گھر میں راشن بھی نہیں ہے۔‘‘
سیٹھ دھرم داس نے غصے سے کہا، ’’کتنی بار بتایا ہے کہ حساب مکمل ہونے پر پیسے ملیں گے! تم جیسے لوگ روز کوئی نہ کوئی بہانہ لے کر آ جاتے ہو۔ جاؤ، کل آنا۔‘‘
بوڑھے نے پھر ہاتھ جوڑے۔ ’’صاحب، کل گھر میں چولہا نہیں جلے گا۔‘‘
سیٹھ نے اپنے محافظ کو اشارہ کیا۔ محافظ نے بوڑھے کو بازو سے پکڑ کر سڑک کے کنارے کر دیا۔
گاڑی آگے بڑھ گئی۔
آکاش کی نگاہیں گاڑی کی پچھلی کھڑکی پر جمی رہیں۔ اسے ابھی ابھی اسٹیج پر سنی ہوئی تقریر یاد آ رہی تھی۔
’’ہمیں اپنے اندر کی برائیوں کو ختم کرنا ہوگا۔‘‘
اس نے والد سے پوچھا، ’’پاپا، کیا سیٹھ انکل نے بھی راون جلایا ہے؟‘‘
’’ہاں، بیٹا۔ تم نے دیکھا نہیں؟ انھوں نے ہی تو آگ کا تیر چلایا تھا۔‘‘
’’لیکن انہوں نے اس بوڑھے کے پیسے کیوں نہیں دیے؟‘‘
’’بیٹا، یہ بڑوں کے معاملات ہیں۔ تم ابھی نہیں سمجھو گے۔‘‘
آکاش کوبپہلی بار محسوس ہوا کہ کچھ سوالوں کے جواب عمر بڑھنے سے نہیں، شاید ضمیر جاگنے سے ملتے ہیں۔
اگلی صبح اسکول میں دسہرے کے موضوع پر مضمون نویسی کا مقابلہ تھا۔
استاد نے تختۂ سیاہ پر لکھا:
’’دسہرہ کا پیغام‘‘
بچے لکھنے لگے۔ کسی نے رام کی بہادری بیان کی، کسی نے سیتا کی پاکیزگی، کسی نے راون کے غرور کا ذکر کیا۔ آکاش اپنی کاپی پر قلم رکھے دیر تک بیٹھا رہا۔
اسے سیٹھ دھرم داس یاد آ رہے تھے۔ وہ بوڑھا مزدور یاد آ رہا تھا۔ اسے وہ دکاندار بھی یاد آیا جس نے میلے میں غبارے کی قیمت بتاتے ہوئے ایک بچے سے دگنے پیسے لیے تھے۔ وہ شخص بھی یاد آیا جو تقریر کے دوران صفِ اول میں بیٹھا تھا اور واپسی پر اپنے ملازم کو سب کے سامنے گالیاں دے رہا تھا۔
اس نے لکھنا شروع کیا:
’’کل رات ہم نے راون جلایا۔ اس کے دس سر جل گئے، اس کی بانہیں جل گئیں، اس کا سینہ جل گیا۔ لیکن آج صبح جب میں اسکول آیا تو مجھے محسوس ہوا کہ راون ابھی زندہ ہے۔
وہ اس شخص کے اندر زندہ ہے جو مزدور کی اجرت روک لیتا ہے۔
وہ اس دکاندار کے اندر زندہ ہے جو مجبوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
وہ اس افسر کے اندر زندہ ہے جو رشوت لے کر انصاف کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔
وہ اس انسان کے اندر زندہ ہے جو دوسروں کے دکھ پر تقریر کرتا ہے، مگر اپنے عمل سے کسی کا دکھ کم نہیں کرتا۔
شاید راون کے دس سر دس الگ الگ برائیاں نہیں، بلکہ ایک ہی برائی کی دس شکلیں ہیں: انسان کا اپنے ضمیر کا قتل کر دینا۔‘‘
آکاش نے قلم روک دیا۔ پھر آخری سطر لکھی:
ہم ہر سال راون کو جلاتے ہیں، لیکن کیا کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب ہم اپنے اندر کے راون کو جلائیں گے؟‘‘
اس نے کاپی استاد کے حوالے کر دی۔
دوپہر کو نتائج کا اعلان ہوا۔ آکاش کو پہلا انعام ملا تھا۔
اسٹیج پر بلائے جانے سے پہلے استاد نے اس سے کہا، ’’تم نے بہت اچھا لکھا ہے۔ مگر آخری جملے میں تم نے بڑوں پر کچھ زیادہ ہی تنقید کر دی ہے۔‘‘
آکاش نے معصومیت سے پوچھا، ’’سر، کیا بڑوں کے اندر راون نہیں ہوتا؟‘‘
استاد نے اسے دیکھا۔ پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ’’ہوتا تو ہے، لیکن ہر بات کہنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔‘‘
’’سر، راون کو جلانے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے؟‘‘
استاد خاموش ہو گئے۔
اسی شام اسکول کے سالانہ پروگرام کی تیاری کے لیے استاد نے چوکیدار کو حکم دیا کہ وہ تمام پرانی کرسیاں اسٹور روم میں رکھ دے۔ چوکیدار نے اضافی مزدوری مانگی تو استاد نے کہا، ’’تمہاری تنخواہ اسی کام کی ملتی ہے۔ زیادہ حساب کتاب مت سکھاؤ۔‘‘
آکاش یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اس نے انعام میں ملنے والی اپنی چھوٹی سی ٹرافی کو دیکھا۔ اس پر لکھا تھا:
’’بہترین مضمون — دسہرہ کا پیغام‘‘
اسے لگا جیسے ٹرافی کے اندر کوئی چھوٹا سا راون قہقہے لگا رہا ہو۔
رات کو آکاش نے اپنے والد کو ایک بار پھر سوال کرتے سنا۔
’’بیٹا، تم نے مضمون میں لکھا کہ راون ہمارے اندر ہے۔ تم اسے جلاؤ گے کیسے؟‘‘
آکاش نے کچھ دیر سوچا۔ پھر بولا، ’’پاپا، اگر میں کسی کمزور کا مذاق نہ اڑاؤں، کسی کی چیز نہ چھینوں، کسی سے جھوٹ نہ بولوں، کسی کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھاؤں، تو کیا میرے اندر کا راون تھوڑا سا نہیں جلے گا؟‘‘
والد نے اسے غور سے دیکھا۔
’’اور اگر کوئی بڑا آدمی یہ سب کرے تو؟‘‘ آکاش نے پوچھا۔
والد کے پاس اب بھی کوئی آسان جواب نہیں تھا۔
آکاش نے اپنی ٹرافی میز پر رکھی اور سونے چلا گیا۔
والد دیر تک اس کے مضمون کو پڑھتے رہے۔ اچانک انہیں یاد آیا کہ ان کے دفتر کا ایک غریب ملازم گزشتہ دو ماہ سے اپنی تنخواہ میں کٹوتی کی شکایت کر رہا تھا۔ انہوں نے اس کی بات سنے بغیر اسے ڈانٹ دیا تھا۔ انہیں یہ بھی یاد آیا کہ گھر کے باہر بیٹھا ایک بوڑھا بھکاری کئی دنوں سے ان سے مدد مانگ رہا تھا اور وہ ہر بار اسے جھڑک کر آگے بڑھ جاتے تھے۔
ان کی نگاہ دوبارہ آکاش کے آخری جملے پر پڑی۔
’’کیا کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب ہم اپنے اندر کے راون کو جلائیں گے؟‘‘
کمرے میں خاموشی تھی۔ باہر کسی دور دراز محلے سے پٹاخے پھوٹنے کی آواز آ رہی تھی۔
انہوں نے موبائل اٹھایا اور دفتر کے ملازم کو پیغام لکھا:
’’کل دفتر آنے پر مجھ سے ملیے۔ آپ کی تنخواہ کی کٹوتی کا معاملہ دوبارہ دیکھنا ہے۔‘‘
پھر انہوں نے وہ پیغام بھیج دیا۔
یہ کوئی بہت بڑا انقلاب نہیں تھا۔ نہ آسمان سے پھول برسے، نہ کہیں آتش بازی ہوئی، نہ کسی میدان میں لوگوں نے نعرے لگائے۔
بس ایک انسان نے پہلی بار اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کی تھی۔
شاید اسی لمحے اس کے اندر کا ایک چھوٹا سا سر جلنے لگا تھا۔
اگلے سال پھر دسہرہ آیا۔
شہر کے اسی میدان میں اس سے بھی بڑا راون کھڑا کیا گیا۔ اسٹیج پر وہی تقریریں تھیں، وہی نعرے، وہی روشنیاں اور وہی ہجوم۔
آکاش اب بارہ سال کا ہو چکا تھا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ میدان میں آیا تھا۔
میدان میں راون کا آخری سر بھی جل کر زمین پر گر چکا تھا۔ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ مگر آکاش کی نگاہیں ان چہروں کو تلاش کر رہی تھیں جن کے اندر کا راون ابھی زندہ تھا۔
وہ جانتا تھا کہ وہ سب ایک ہی رات میں نہیں جل سکتے۔
اس کے لیے کسی تیر، کسی آتش بازی یا کسی بڑے میدان کی ضرورت نہیں تھی۔
صرف ایک سچے اعتراف کی، ایک درست فیصلے کی، ایک نیکی کی، اور اپنے ضمیر کے سامنے کھڑے ہونے کی ضرورت تھی۔
اس نے جلتے ہوئے راون کی آخری چنگاری کو دیکھا اور دل ہی دل میں کہا:
’’راون، تم ہر سال جلتے ہو، پھر بھی زندہ ہو جاتے ہو۔ شاید اس لیے کہ ہم تمہیں میدان میں جلاتے ہیں، اپنے اندر نہیں۔‘‘
اور اس رات پہلی بار آکاش کو محسوس ہوا کہ راون کا اصل سر کسی پُتلے کے جلنے سے نہیں، بلکہ اس دن شروع ہوگا جب انسان اپنی برائی کو برائی ماننے لگے گا۔
کیونکہ راون کا سب سے مضبوط قلعہ انسان کا دل نہیں، اس کا وہ ضمیر ہے جسے وہ خاموش کر چکا ہے۔
اور جب تک ضمیر خاموش رہے گا، راون جلتا بھی رہے گا اور زندہ بھی رہے گا۔🍁


🛑*سیف نیوز بلاگر*


*دہلی کی بجائے ممبئی کا دورہ کیوں کر رہے ہیں؟ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بتائی یہ بڑی وجہ*


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو وضاحت کی کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ ہندوستان کے لیے نئی دہلی کی بجائے ممبئی اور جام نگر کا انتخاب کیوں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے حوالے سے ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ روبیو نے کہا کہ ہندوستان کے وسیع رقبے اور اقتصادی اہمیت کے پیش نظر ملک کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مختلف خطوں کا دورہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ممبئی کو ملک کا مالیاتی مرکز قرار دیا۔

نیٹ ورک 18 گروپ کے ایڈیٹر اِن چیف راہل جوشی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد ہندوستان کے بارے میں وسیع تر معلومات حاصل کرنا اور ان کاروباری اداروں اور خطوں کے ساتھ روابط مضبوط کرنا تھا جو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

روبیو نے کہا کہ ’’یہ ایک بڑا ملک ہے، ایک اہم ملک ہے، اور میرے خیال میں کسی بھی بڑے ملک کی طرح، میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگر آپ امریکہ میں یہ جاننا اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے تو آپ صرف واشنگٹن جا کر ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘ انہوں نے ملک کو سمجھنے کے لیے مختلف امریکی علاقوں کا دورہ کرنے کی ضرورت سے اس کا موازنہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں توقع نہیں ہے کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی مدت کے دوران وہ ہندوستان کے ہر حصے کو دیکھ سکیں گے، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا اہم ہے۔

ممبئی کیوں؟ روبیو نے اقتصادی راجدھانی کی اہمیت بتائی
ممبئی کے دورے کے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے روبیو نے اسے ہندوستان کا ’’مالیاتی دل اور روح‘‘ قرار دیا اور امریکی کاروباری اداروں اور دوطرفہ تجارت کے لیے شہر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ ’’یہ وہ شہر ہے جہاں بہت سی ایسی کمپنیاں واقع ہیں جو امریکہ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور امریکہ کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں، اور جن کے ساتھ ہم مزید تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ملک کی اقتصادی زندگی کی شہ رگ ہے۔‘‘

روبیو نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ہندوستان و امریکہ کے درمیان تجارتی روابط میں ممبئی کے کردار کو دیکھتے ہوئے اس شہر کا دورہ ایک منطقی انتخاب تھا۔انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ امریکہ ہندوستان کے ساتھ اپنے روابط بڑھانا چاہتا ہے اور دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر واشنگٹن کو ہندوستان کے مزید دورے کرنے چاہئیں۔روبیو نے دن کے اوائل میں میڈیا کے ارکان کے ساتھ ہوئی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے کہا کہ اگر آپ اس رشتے کی اہمیت پر غور کریں تو ہم حقیقت میں یہاں ضرورت سے کم آتے ہیں


روبیو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ہندوستان اور امریکہ اپنے اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری اور کواڈ کے ذریعے تعاون دونوں ممالک کے درمیان روابط کے اہم شعبوں میں شامل ہیں۔






*مجھے گالی دو، لیکن چٹا تو بند کرو"، پنجاب میں منشیات کو لے کر AAP حکومت پر برسے امت شاہ*


لدھیانہ۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 20 اکتوبر کو پنجاب میں منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار پر عام آدمی پارٹی (AAP) حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی سرپرستی کے بغیر منشیات کی چھوٹی چھوٹی کھیپ کا پنجاب کے نوجوانوں تک پہنچنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو قتل یا خودکشی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ انہوں نے 20 اکتوبر کو پنجاب کے گرداس پور، سنگرور اور مانسا کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے منشیات کی لت کے خلاف جدوجہد کرنے والے تین افراد کے خاندانوں سے ملاقات کی۔ ان میں گورداسپور سے 40 سالہ وکرم جیت سنگھ، سنگرور سے گلزار سنگھ اور مانسا ضلع سے پرویندر سنگھ جھوٹھا شامل ہیں۔ شاہ نے کہا کہ ان تین افراد میں سے کچھ کو قتل کیا گیا تھا، جب کہ کچھ نے خودکشی کی تھی۔


وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ وجے دشمی کے موقع پر پنجاب کی مقدس سرزمین سے ریاست اور ملک کے لوگوں کو اپنی نیک تمنائیں دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وجے دشمی کو اپنی زندگی میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ امت شاہ نے کہا کہ وہ گزشتہ 30 سالوں سے اسمبلی اور لوک سبھا کے لیے منتخب ہو رہے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے کئی المناک واقعات سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کا اظہار کیا، لیکن ان تینوں خاندانوں سے ملنے کے بعد اتنا غم انہیں کبھی محسوس نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ان خاندانوں کے پاس گئے تو اردگرد کے علاقوں کے لوگ جو منشیات کے کاروبار سے متاثر ہیں وہ بھی ان کے گھروں پر موجود تھے۔ شاہ نے کہا کہ ان لوگوں نے انہیں پنجاب میں منشیات کی صورتحال کے بارے میں جو کچھ بتایا وہ اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک تھا جو انہیں دہلی میں رپورٹس کے ذریعے ملا تھا۔

پنجاب میں منشیات کے کاروبار سے متعلق گجرات کی بندرگاہوں پر الزامات کے بارے میں امت شاہ نے کہا کہ گجرات اور مہاراشٹر کی بندرگاہوں پر اب تک 20,000 کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ادویات کو ضبط نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ شاہ نے کہا کہ حکومت نے منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کام کیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس پر الزام لگایا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ بندرگاہوں پر بھاری مقدار میں منشیات پکڑے جانے کے باوجود یہ چھوٹی کنسائنمنٹس میں پنجاب پہنچ کر ریاست کے نوجوانوں تک کیسے پہنچ رہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی سرپرستی کے بغیر یہ ممکن نہیں۔

وزیر داخلہ شاہ نے پنجاب میں اے اے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے اس نے تین ماہ کے اندر منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن پانچ سال بعد بھی یہ تجارت جاری ہے اور بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اپنے بیٹے، کچھ اپنے بھائی اور کچھ نے اپنے شوہر کھو دیے ہیں۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ ان خاندانوں کے بارے میں ان سوالات کے جوابات دے۔ شاہ نے الزام لگایا کہ اب تک حکومت نے صرف بہانے سنے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جب وہ آخری بار پنجاب گئے تھے تو انہوں نے منشیات سے پاک پنجاب کے لیے بی جے پی کی ایک ریلی سے خطاب کیا تھا اور منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس وقت بھی ان پر الزام تھا۔ انہوں نے کہا، “آج میں سوگوار خاندانوں کو تسلی دینے آیا ہوں۔ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، پھر بھی میرے ساتھ زیادتی اور توہین کی گئی۔ میرے ساتھ زیادتی کرنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اگر اس سے آپ کو اطمینان ہو تو ایسا کریں۔ لیکن کم از کم منشیات کے کاروبار اور ‘چٹا’ کی لعنت کو ختم کر دیں۔”



*ہندوستان ہے ریفائننگ سپر پاور... ممبئی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بیان*


نئی دہلی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہندوستان کو ’’ ریفائننگ سپر پاور‘‘ قرار دیا ہے۔ ممبئی میں روبیو نے کہا کہ اگر خام تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے تو ہندوستان وینزویلا کے بھاری خام تیل کو ریفائن کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے لیے پابندیوں سے متعلق پابندیاں ہٹانی ہوں گی۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، روبیو نے کہا، “ہندوستان ایک ریفائننگ سپر پاور ہے۔ اس کے پاس بھاری خام تیل کو ریفائن کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہندوستان پہلے بھی ایسا کر چکا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے زیادہ وینزویلا کا تیل مارکیٹ میں دستیاب ہوگا، ہندوستان اسے ریفائن کر سکتا ہے”۔


ہندوستانی کمپنیاں وینزویلا میں پیداوار بڑھا سکتی ہیں
مارکو روبیو نے وینزویلا میں ہندوستان کے موجودہ تیل کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی کمپنیاں وینزویلا میں اپنے تیل کے اثاثوں سے بھی پیداوار بڑھا سکتی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وینزویلا سے تیل کی اضافی سپلائی بین الاقوامی منڈی میں سپلائی کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ روبیو نے کہا، “ہم نے پہلے بھی ہندوستان کے ساتھ اس پر بات چیت کی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ وہ تیار ہیں۔ ہندوستان ایسا کرنے پر آمادہ ہے۔”

جب کہ روبیو نے تسلیم کیا کہ اکیلا وینزویلا تیل کی عالمی قلت کو فوری طور پر پورا نہیں کر سکتا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا تعاون اہم ہو جائے گا۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کو پابندیوں اور تکنیکی پابندیوں کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے جو فی الحال تیل کی درآمد اور ریفائننگ میں رکاوٹ ہیں۔

بھارت وینزویلا سے خام تیل خرید رہا ہے
امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کے بعد بھارت نے وینزویلا سے خام تیل کی خریداری دوبارہ شروع کر دی ہے۔ اس سے پہلے، بھارت نے 2025 سے وینزویلا کا تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کے امریکی اعلان کی وجہ سے خریداری روک دی تھی۔ رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت مئی میں وینزویلا کا دوسرا سب سے بڑا تیل خریدار بن گیا، جو روزانہ تقریباً 427,000 بیرل درآمد کرتا ہے۔ فروری میں، وزارت خارجہ (MEA) نے کہا کہ ہندوستان تجارتی قابل عملیت کی بنیاد پر وینزویلا اور دیگر ممالک سے خام تیل خریدنے کے آپشن کے لیے کھلا ہے۔

ہندوستانی کمپنیوں کا حصہ
سان کرسٹوبل آئل فیلڈ میں سرکاری ONGC Videsh کا 40فیصد حصہ ہے۔ ہندوستانی کمپنیاں اجتماعی طور پر Carabobo-1 پروجیکٹ میں 18فیصد حصص رکھتی ہیں۔ اگست میں، ONGC کے فائنانس ڈائریکٹر انوپم اگروال نے بتایا کہ کمپنی ترمیم شدہ پیٹرولیم قانون کے تحت وینزویلا میں آئل بلاکس کو چلانے کے لیے معاہدوں پر عمل پیرا ہے۔

Tuesday, 20 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر*



*ایس جے شنکر کے ساتھ مضبوط رشتے اور تجارت پر بات چیت ، مارکو روبیو نے ہندوستان ۔ امریکہ تعلقات کی 10 اہم باتیں بتائیں*



بے حد قریب” ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے سے لے کر ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ان کے اچھے تال میل تک، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیٹ ورک 18 کے گروپ ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں متعدد مدعوں پر بات کی۔

اہم نکات اس طرح ہیں
مشکل دور کے بعد ایک اہم موڑ: روبیو نے کہا کہ جے شنکر کے ساتھ ان کے اچھے تال میل نے انہیں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کچھ نازک اور حساس مدعوں کو حل کرنے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے میں “زبردست مواقع” کا ذکر دیا۔


ایک تجارتی معاہدہ اب دسترس میں : انہوں نے کہا کہ ایک معاہدہ “بہت قریب” ہے اور “مہینوں نہیں بلکہ کچھ ہفتوں میں” ہونے کی امید ہے۔ اب صرف کچھ تکنیکی شرائط کو حتمی شکل دینا باقی ہے۔ ٹیرف پر مہینوں کے تناؤ کے بعد، یہ اب تک کی سب سے مضبوط علامت ہے کہ ایک اہم پیش رفت قریب ہے۔

بھارت مخالف نفرت پر بھروسہ دلانے والی بات: انہوں نے اس تصور کو مسترد کر دیا کہ امریکہ میں بھارت مخالف جذبات “بہت زیادہ یا گہرے” ہیں۔ انہوں نے اس طرح کے واقعات کو انجام دینے والوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ لیڈروں کو کبھی بھی اس طرح کی نفرت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔

Quadپھر سے ٹریک پر: انہوں نے سال کے اختتام سے پہلے لیڈروں کے سربراہی اجلاس کی تصدیق کی جو کہ ستمبر 2024 کے بعد پہلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے “مضبوط نتائج” حاصل ہوں گے نہ کہ صرف “اچھی سماجی ملاقات” بن کر رہ جائے گی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بطور وزیر خارجہ ان کا پہلا کام کواڈ میٹنگ میں شرکت کرنا تھا۔

بھارت ایک ترجیحی شراکت دار: انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ، امریکہ کی طرف سے “اب بھی معقول توجہ نہیں دی جارہی ہے۔” انہوں نے متواتر دوروں کا حوالہ دیا، بشمول ان کے اپنے، اٹارنی جنرل، کامرس سیکرٹری، اور امریکی قانون سازوں کے وفد کے دورے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود پھر سے ہندوستان کا دورہ کرنا چاہیں گے۔

روسی تیل پر تفہیم: انہوں نے ہندوستان کو کوئی نصیحت نہیں کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پابندیاں روس کے علاوہ دیگر ممالک کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ٹرمپ نے گھریلو تنقید کے باوجود نئے ٹیرف لگانے سے گریز کیا، یہ کہتے ہوئے، “میں سمجھتا ہوں کہ تناؤ موجود ہے۔”


ہندوستان کے اپنے مفادات کا احترام: انہوں نے تسلیم کیا کہ ہندوستان " اپنے لئے جو صحیح ہے وہ کرے گا اور اس کے لئے لڑے گا۔" انہوں نے امریکہ بھارت تعلقات کو ایک ایسے دوست اور اتحادی کے طور پر بیان کیا جن میں “بہت کچھ مشترک” ہے اور وہ اپنے اختلافات پر قابو پا سکتے ہیں۔

جے شنکر کے ساتھ ذاتی تعلق: انہوں نے انہیں “جئے” کہہ کر مخاطب کیا، ان کے ساتھ “بہت اچھے تعلقات” کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ کم از کم ایک درجن بار ملے ہیں اور “ہمیشہ ملنے کا وقت نکال ہی لیتے ہیں۔”


توانائی کے شعبہ میں نئی شراکت: ہندوستان کو توانائی کی فراہمی کے ذرائع کو بڑھانے میں مدد کرنے کے لیے، انہوں نے (Western Hemisphere)سے تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی — جس میں وینزویلا کا خام تیل بھی شامل ہے۔ انہوں نے امریکی ریفائننگ کی صلاحیت میں سرمایہ کاری کے لیے ریلائنس کی بھی تعریف کی اور اسے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔

ہندوستانی ملاحوں کے لیے تعزیت: انھوں نے تسلیم کیا کہ بحری جہازوں پر ایرانی حملوں میں “کئی ہندوستانی ملاح” مارے گئے ہیں ۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی مؤقف میں ہندوستان کے نقصانات کو اہم مدعہ بنایا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ “ہر رات” بحری جہازوں کی حفاظت کرتا ہے۔




*امریکہ نفرت پر مبنی جرائم کو کبھی برداشت نہیں کرتا: مارکو روبیو کا الینوئس میں ہندو مندر پر حملے کی "پریشان کن" سازش پر بیان*

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیٹ ورک 18 گروپ کے ایڈیٹر انچیف راہل جوشی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جب نفرت پر مبنی جرائم کی بات آتی ہے تو امریکی انتظامیہ نہ تو ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور نہ ہی ان کونظر انداز کرتی ہے اور نہ ہی انہیں اس کے لئے کوئی بہانہ بناتی ہے۔

جب ان سے الینوئس میں ایک ہندو مندر پر حملہ کرنے کی سازش اور نسلی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا، “بدقسمتی سے ایسا صرف امریکہ میں نہیں ہوتا، ایسی چیزیں دنیا بھر کے ہر معاشرے میں ہوتی ہیں، کیونکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے- کبھی جہالت، کبھی نفرت۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس طرح کے حملے مختلف وجوہات کی بناء پر ہوتے ہیں۔“کچھ حملے دہشت گردی سے متاثر ہوتے ہیں۔امریکہ بھی اس سے اچھوت نہیں ہے۔


عالمی منظر
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
امریکہ نفرت پر مبنی جرائم کو کبھی برداشت نہیں کرتا: مارکو روبیو کا الینوئس میں ہندو مندر پر حملے کی "پریشان کن" سازش پر بیان
مارکو روبیو کہتے ہیں، “…سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی اکثریت واضح طور پر تسلیم کرتی ہے کہ ایسی چیزیں کتنی غلط ہیں…”
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT

Last Updated : October 20, 2026, 11:13 pm IST
Published by : H.W. Karim
امریکہ نفرت پر مبنی جرائم کو کبھی برداشت نہیں کرتا: مارکو روبیو کا الینوئس میں ہندو مندر پر حملے کی "پریشان کن" سازش پر بیان
ADVERTISEMENT

متعلقہ ویڈیو
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے

California Fire: کیا امریکا کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟
California Fire: کیا امریکا کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟

Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار

Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

Los Angeles Fire Video: لاس اینجلس میں لگنے والی آگ نے مچا دی ہے تباہی
Los Angeles Fire Video: لاس اینجلس میں لگنے والی آگ نے مچا دی ہے تباہی

Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے
Trump Oath News: ٹرمپ کی ٖحلف برداری میں مکیش امبانی اور نیتا امبانی شرکت کے لئے پہنچے

California Fire: کیا امریکا کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟
California Fire: کیا امریکا کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟

Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار
Iran Drone Gaza: ایران نے بنایا خطرناک ہتھیار

Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟
Trump China War: کیا اب چین اور امریکہ میں بھی شروع ہوگی جنگ؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیٹ ورک 18 گروپ کے ایڈیٹر انچیف راہل جوشی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جب نفرت پر مبنی جرائم کی بات آتی ہے تو امریکی انتظامیہ نہ تو ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور نہ ہی ان کونظر انداز کرتی ہے اور نہ ہی انہیں اس کے لئے کوئی بہانہ بناتی ہے۔

جب ان سے الینوئس میں ایک ہندو مندر پر حملہ کرنے کی سازش اور نسلی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا، “بدقسمتی سے ایسا صرف امریکہ میں نہیں ہوتا، ایسی چیزیں دنیا بھر کے ہر معاشرے میں ہوتی ہیں، کیونکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے- کبھی جہالت، کبھی نفرت۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس طرح کے حملے مختلف وجوہات کی بناء پر ہوتے ہیں۔“کچھ حملے دہشت گردی سے متاثر ہوتے ہیں۔امریکہ بھی اس سے اچھوت نہیں ہے۔

ADVERTISEMENT

متعلقہ خبریں
کواڈ کی میٹنگ کب ہوگی، کیا ہندوستان آئیں گے ڈونلڈ ٹرمپ؟ امریکی وزیر خارجہ نے دیا یہ جواب
"ایس جے شنکر کے ساتھ ہمارا تال میل بہت اچھا ہے، مارکو روبیو کا بیان
ایس جے شنکر کے ساتھ مضبوط رشتے اور تجارت پر بات چیت: مارکو روبیو
ایران بنیاد پرست شیعہ علماء کے کنٹرول میں ہے: مارکو روبیو نے ایران کو کیا خبردار
انہوں نے کہا، “مجھے نہیں لگتا، اور نہ ہی میں نے کبھی محسوس کیا ہے کہ امریکہ میں ہندوستان مخالف جذبات وسیع یا گہرے ہیں۔ لیکن، کسی بھی بڑے اور پیچیدہ معاشرے کی طرح، ہمارے ملک میں بھی کچھ لوگ ہیں - افسوس کی بات ہے کہ - جو بے وقوف، ، جاہل، یا نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ تاہم، مجھے اس بات پر بہت فخر ہے کہ ہماری کمیونٹیز اس طرح کے واقعے کے ہونے پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے آس پاس کی دوسری کمیونٹیز بھی جو متحد ہو کر اس طرح کے واقعات کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔

" انہوں نے کہا، “مجھے یاد ہے کہ کچھ سال پہلے جب وسکونسن میں سکھ کمیونٹی کے ساتھ ایک خوفناک واقعہ پیش آیا تھا، اور کس طرح پوری کمیونٹی نے ان کی حمایت میں ریلی نکالی تھی، تو یہ چیزیں ہوتی ہیں، امریکہ میں یہودی (antisemitism)مخالفت بڑھی ہے، ہم نے اسے بھی دیکھا ہے، یہ بہت تشویشناک ہے۔ اس لیے، یہ وہ چیزیں ہیں جن پر ہم توجہ دیتے ہیں اور مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ملک کا بڑا حصہ واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ یہ چیزیں کتنی غلط ہیں ۔ ساتھ ہی ہم میں سے جو لوگ ذمہ دار عہدوں پر ہیں وہ کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کرتے جو اس طرح کے واقعات کی حوصلہ افزائی۔ انہیں صحیح ٹھہرایا جائے یا ان کی ان دیکھی کی جائے ۔



*کواڈ کی میٹنگ کب ہوگی، کیا ہندوستان آئیں گے ڈونلڈ ٹرمپ؟ امریکی وزیر خارجہ نے دیا یہ جواب*


وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
کواڈ کی میٹنگ کب ہوگی، کیا ہندوستان آئیں گے ڈونلڈ ٹرمپ؟ امریکی وزیر خارجہ نے دیا یہ جواب
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل کواڈ سربراہی اجلاس رواں سال کے آخر میں منعقد ہونے کا امکان ہے، حالانکہ ابھی تک اس کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT

Last Updated : October 20, 2026, 11:01 pm IST
Published by : Imtiyaz Saqibe
کواڈ کی میٹنگ کب ہوگی، کیا ہندوستان آئیں گے ڈونلڈ ٹرمپ؟ امریکی وزیر خارجہ نے دیا یہ جواب
ADVERTISEMENT

امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل کواڈ سربراہی اجلاس رواں سال کے آخر میں منعقد ہونے کا امکان ہے، حالانکہ ابھی تک اس کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

نیٹ ورک 18 گروپ کے ایڈیٹر اِن چیف راہل جوشی کو ایک خصوصی انٹرویو میں جب کواڈ سربراہی اجلاس اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ ہندوستان کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا کہ ’’ہماری امید ہے کہ کواڈ سربراہی اجلاس اس سال کے اختتام سے پہلے منعقد ہو جائے گا۔ اب اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ہم یہ اجلاس کریں گے۔ یہ اجلاس منیلا میں آسیان کانفرنس کے موقع پر منعقد ہوگا۔ ابھی ہمارے پاس کوئی مخصوص تاریخ نہیں ہے، لیکن یہ اجلاس ضرور ہوگا۔‘‘


انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کواڈ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ’’پرجوش‘‘ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے اس گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’’میرے خیال میں اس کے بعد سے اب تک ہماری سات یا آٹھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ جی 20 کے موقع پر اٹلانٹا میں ہماری ایک اور ملاقات ہونے والی ہے، اور ہم چند ہفتوں بعد یہاں آسیان کے موقع پر ہونے والے رہنماؤں کی سطح کے اجلاس میں بھی شرکت کے منتظر ہیں۔‘‘ تاہم، انہوں نے واضح طور پر ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ ہندوستان کا ذکر نہیں کیا۔

کواڈ سربراہی اجلاس کی میزبانی اصل میں 2025 میں ہندوستان کو کرنی تھی، لیکن اس میں تاخیر ہو چکی ہے اور چاروں رکن ممالک اب تک سالانہ اجلاس منعقد نہیں کر سکے ہیں۔ کواڈ کا آخری سربراہی اجلاس 21 ستمبر 2024 کو امریکہ کے سابق صدر جو بائیڈن کی میزبانی میں ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن میں منعقد ہوا تھا۔

ہند بحرالکاہل خطے میں سلامتی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کے درمیان کواڈ کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایران تنازع اور عالمی تجارتی راستوں پر جاری کشیدگی کے پس منظر میں اس سال اس گروپ کی بات چیت کو مزید جغرافیائی و سیاسی اہمیت حاصل ہونے کی توقع ہے۔

تاہم، ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت نے کئی طریقوں سے کواڈ کو متاثر کیا ہے۔ ان میں اتحادی ممالک کے ساتھ تجارتی کشیدگی، ٹیرف کے معاملے پر اختلافات، اسٹریٹجک خودمختاری سے متعلق اختلافِ رائے اور لین دین پر مبنی نتائج پر زیادہ توجہ شامل ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر ٹرمپ کی طرف سے ہندوستانی اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

🛑*سیف نیوز بلاگر*


*یمن میں حوثی باغیوں کا خونی کھیل، 3 بیلسٹک میزائلوں سے ملیٹری کیمپ تباہ، 53 فوجیوں کی موت، 200 زخمی*


قاہرہ: ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے جنوبی یمن میں سرکاری فوجی دستوں کے ایک کیمپ پر حملہ کیا، جس میں 53 فوجی ہلاک ہو گئے۔ فوجی حکام نے یہ اطلاع دی۔ فوجی حکام نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے جنوبی صوبے شبوا میں العَلَم فوجی کیمپ پر تین بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں کم از کم 200 فوجی زخمی بھی ہوئے۔ حوثی باغیوں نے شبوا میں فوجی کیمپ کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

صوبہ شبوا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی اندازہ ہے اور اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس بھیانک حملے میں ان نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جو تربیت اور تیاری کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔ بیان میں یمن کے صدر، سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد اور حکومت سے اپیل کی گئی کہ شبوا کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام اور ابتدائی انتباہی نظام جلد فراہم کیے جائیں۔


حوثیوں نے کیا زبردست حملہ
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ صوبے کے دو سرکاری اسپتالوں اور دیگر نجی طبی مراکز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زخمیوں کا علاج کریں اور ضرورت پڑنے پر شدید زخمیوں کو خصوصی طبی یونٹوں میں منتقل کریں۔ حکمران صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اس حملے کا ’’سخت جواب‘‘ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ حوثی باغیوں کے زیرِ کنٹرول خبر رساں ایجنسی ’’سبا‘‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ باغیوں کے حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تاہم، اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

صوبائی دارالحکومت عتق کے شمال میں واقع ضلع جردان میں قائم یہ کیمپ پہلے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے ایک گروپ کے کنٹرول میں تھا۔ یہاں سے حکومت کے زیرِ کنٹرول صوبہ مارب جانے والا راستہ گزرتا ہے۔ یہ راستہ سرکاری فوج کے لیے اہم ترین رسد کے راستوں میں سے ایک ہے۔

اس سے پہلے حوثیوں پر ہوا تھا حملہ
ایک فوجی افسر نے بتایا کہ حملے میں نشانہ بنائے گئے فوجی ’’ریپڈ انٹروینشن‘‘ نامی نو تشکیل شدہ فورس کا حصہ تھے، جسے علاقے کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے کہا کہ اتوار کے روز سعودی عرب کی قیادت میں قائم افواج کے فضائی حملے میں یمن کے باغیوں کے قبضے والے شمالی صوبے صعدہ میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے۔

یمن میں خانہ جنگی کے دوران سعودی عرب کی جانب سے حکومت کی حمایت کیے جانے کے باعث حوثی باغیوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔




*رجیم چینج پر موہن بھاگوت کا بڑا بیان، کہا: اقتدار کی تبدیلی مسئلہ کا حل نہیں*


ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے 20 اکتوبر کو ملک اور دنیا میں سرگرم ہندوستان مخالف طاقتوں کے خلاف کھل کر محاذ کھولا۔ سنگھ سربراہ نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ موجودہ قیادت میں ہندوستان جس تیزی سے عالمی سطح پر آگے بڑھ رہا ہے، وہ کچھ غیر ملکی اور ’’آسوری طاقتوں‘‘ کو ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اقتدار کی تبدیلی (Regime Change) کے لیے منصوبہ بند سازشیں رچی جا رہی ہیں۔

ناگپور میں منعقدہ روایتی وجے دشمی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے یورپ کے واقعات، خاص طور پر فرانس اور البانیہ میں اسکولی اصلاحات اور نوجوانوں کے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کو مغربی مفادات کے نقطۂ نظر سے سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مغرب سے ایک ایسا نظریاتی طوفان اٹھا ہے، جس کا واحد مقصد قائم شدہ نظاموں کو نقصان پہنچانا اور ثقافتی و سماجی اقدار کو تہس نہس کرنا ہے۔

سرسنگھ چالک نے الزام لگایا کہ ان تخریبی سرگرمیوں کے پیچھے سرگرم طاقتیں پوری دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا چکی ہیں اور اب ان کا اگلا اور اہم نشانہ ہندوستان ہے۔ انہوں نے سماج کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت اور اصلاحات کے نام پر ملک کی ثقافتی جڑوں اور روایات کو کھوکھلا کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بھاگوت نے کہا کہ ’’گزشتہ دو چار دنوں سے آنے والی خبروں پر توجہ دیں۔ دنیا بھر میں کیا ہو رہا ہے، اسے دیکھیں: فرانس اور البانیہ میں کیا ہو رہا ہے، بنگلہ دیش میں کیا ہوا، نیپال میں کیا ہوا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعات ان طاقتوں کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں، جو اپنے مفادات پورے کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کہا جاتا ہے کہ اقتدار بدلنے سے حالات بدل جائیں گے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘


بھاگوت نے الزام لگایا کہ ہندوستان میں بھی اسی طرح کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن انہوں نے دلیل دی کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ملک کی مضبوط پالیسیوں اور قیادت نے اسے آگے بڑھنے اور لوگوں کو متحد کرنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر نئی نسل میں ملک اور اس کے مستقبل کے تئیں ذمہ داری کا احساس مزید مضبوط ہوا ہے، جس سے سماج کو ان طاقتوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی ہے جو ہندوستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔


*کاکروچ جنتا پارٹی کو لگا جھٹکہ ، ابھی تہاڑ جیل میں ہی رہیں گے سورو داس اور آشوتوش رانکا ، حراست میں 2 دن کی توسیع*


کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) لیڈر سورو داس اور آشوتوش رانکا کو بڑا جھٹکہ لگا ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے پیر کو ان کی عدالتی تحویل میں 21 اکتوبر تک توسیع کر دی۔ دونوں رہنما اس وقت تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ انہیں جنتر منتر پر مبینہ طور پر تجاوزات کرنے اور امن بندھن کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

دونوں کو 14 اکتوبر کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ یہ الزام ہے کہ وہ رکاوٹیں عبور کر کے جنتر منتر کے علاقے میں داخل ہوئے، جسے احتجاجی مقام کے طور پر مطلع نہیں کیا گیا تھا، اور چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔


جنتر منتر پر احتجاج کے بعد کارروائی کی گئی
پولیس کے مطابق سی جے پی کے کارکنوں کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں غیر مجاز داخلے، امتناعی احکامات کی خلاف ورزی، امن بانڈ کی شرائط کی خلاف ورزی اور سرکاری ملازم کو اس کے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنا شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق سنیچر کے احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے کے بعد سورو داس اور آشوتوش رانکا نے ایک سال تک امن برقرار رکھنے کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کیے تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ اس کے باوجود وہ مبینہ طور پر پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنتر منتر کے علاقے میں داخل ہوئے۔

سی ای سی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف CJP اور دیگر تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے انتخابی فہرستوں کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

ان مظاہروں کے درمیان دہلی میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ سورو داس اور آشوتوش رنکا کی عدالتی حراست میں توسیع کر دی گئی ہے اور وہ 21 اکتوبر تک جیل میں رہیں گے۔ مقدمے میں لگائے گئے الزامات کے حوالے سے مزید عدالتی کارروائی انتہائی اہم ہوگی۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *

مولانا محمد یونس مالیگانوی
یا رب تجھ سے ہے یہ دعا
سن لے پئے محبوبِ خدا
علم کی دولت ہم کو خدا
فضل سے اپنے کر دے عطا
جتنے ہمارے ہیں مطلب
پورے ہوں وہ کل یا رب
قوم و وطن ماں باپ کے سب
حق ہوں ادا ہم سے یا رب
رَب توفیقِ اطاعت دے
اپنے نبی کی الفت دے
ذوقِ ادائے سنت دے
ہم کو حُسنِ عقیدت دے
ہیں جتنے یارانِ نبی
صدیق و عُمر، عثمان و علی
حُبِ اہلِ بیتِ نبی
دل میں دلا ہو ان سب کی

🛑*سیف نیوز بلاگر*


*بیاضِ عشق ”جناں بکف“ اور صاحبِ کلام مولانا محمد یونس مالیگ*
فاروق اختر مالیگ
(سبکدوش معلم اے ٹی ٹی ہائی اسکول مالیگاؤں)
عنوان کے علی الرغم پہلے بیان صاحبِ مجموعہ کلام کا ہو جائے۔ مہاراشٹر کے ایک اردوزار مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے اور گجرات جیسی غیر اردو ریاست میں خدمتِ دین اور خدمتِ شعر و ادب میں عمرِ عزیز صرف کرنے کے بعد وہیں مدفون ہونے والے شاعرِ اسلام حضرت مولانا محمد یونس مالیگ نور اللہ مرقدہ کا مجموعہ کلام ”جناں بکف“ رضا ریسرچ اینڈ پبلشنگ بورڈ مانچسٹر سے شائع ہو کر مقبولِ خاص و عام ہوا۔ یہ طویل جملہ جس قدر عجیب لگتا ہے، مرحوم کی حیاتِ با صفات بھی اسی قدر متحیر کن ہے۔
مولانا محمد یونس مرحوم مثالی وجیہ و شکیل انسان تھے اور ظاہری حسن سے زیادہ جمالِ باطنی سے بخوبی مزین و منور۔ اور یہ دعویٰ بے دلیل نہیں، بلکہ آپ کی زندگی کے نشیب و فراز اور آپ کا کلام اس کے شاہدینِ عادل ہیں۔ جب عشقِ مجازی میں مبتلا شاعر رنگینی بکھیر سکتا ہے تو عشقِ حقیقی اور محبوبِ حقیقی کے ذکر پر مبنی شاعری کس قدر حسن نہیں بکھیر سکتی!
مولانا مرحوم کے حسنِ کلام پر بلند و مترنم آواز سونے پر سہاگے کا کام کرتی تھی۔ اب بھی سوزِ عشقِ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ڈوبی ہوئی دلکش آواز کبھی یاد آتی ہے تو ایک کمی سی محسوس ہوتی ہے۔ وہ نوائے بلند جس پر غم و آلامِ دنیا کا ہلکا سا بھی اثر نہ ہوا۔ مرحوم صبح صادق کے وقت نماز سے متعلق اپنی نظم خوش الحانی سے پڑھا کرتے تھے، جسے سننے کے لیے لوگ وقت پر اٹھ جایا کرتے تھے۔
اے بندگانِ الٰہی اٹھو نماز پڑھو
کہ صبح ہوگئی بیدار ہو نماز پڑھو
آپ کی طبیعت کی نرمی اور بردباری کا بین ثبوت یہ ہے کہ پاور لوم کے شہر مالیگاؤں میں جہاں سوت کے تاجر امیر ترین اشخاص میں شمار ہوتے تھے، آپ نے ایسا معزز و منفعت بخش پیشہ بھی اپنی مرنجاں مرنج طبیعت کے سبب گنوادیا۔ پھر وہ دن بھی آئے کہ ع
ہے مشقِ سخن جاری، لکڑی کی تجارت بھی
پاور لوم صنعت کے تانے بانے بھی آپ کے لئے سلجھاؤ پیدا نہ کر سکے اور آپ
عزت ملی اسے جو وطن سے نکل گیا
وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے نکل گیا
کے مصداق سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ کی طرح بیرونِ ملک نہ سہی، بیرونِ ریاست چل پڑے (اس وقت مہاراشٹر اور گجرات الگ نہیں ہوئے تھے)۔ ان کے صاحبزادگانِ با خلف و اولو العزم نہ صرف ملک بلکہ برصغیر اور ایشیاء کو پھلانگ کر دیارِ فرنگ جا پہنچے۔ انھوں نے والدِ ماجد کو بھی اپنے مستقرِ بعید پر بلایا اور سال بھر ان کی خاطر مدارات کی اور پھر مولانا یونس مرحوم نے اپنے اس شعر کو بھی ”مجسم“ دیکھا کہ
مجھ پہ بھی آپ کا ہو گا کرم ان شاء اللہ
دیکھنا جاؤں گا سوئے حرم ان شاء اللہ
ذرا محسوس کیجئے اس جوہرِ قابل کے محسوساتِ قلبی جو حسنِ سیرت اور حسنِ صورت کا مرقع ہو اور ناقدریِ ہم وطناں سے دل برداشتہ ہو کر اپنے اس وطن کو چھوڑ کر چل پڑا ہو جہاں دور دراز سے لوگ آکر روزگار پاتے ہوں لیکن جیسا کہ بعد میں ثابت ہوا کہ اس غریب الدیار نے اپنے دینی و دنیوی مشاغل میں وہ تناسب و امتزاج برتا کہ آخر کار چھوٹا ہوا وطن ان کے تذکروں سے گونج اٹھا۔ رمضان المبارک کے اخیر دنوں میں پڑھی جانے والی آپ کی نظم ”الوداع“ جیسی مقبولیت مالیگاؤں میں شاید ہی کسی اور نظم کو حاصل ہوئی ہو۔ آج مالیگاؤں میں ”مولانا یونس ہال“ اور ”مولانا محمد یونس مالیگ مسجد“ آپ کی یادگاریں ہیں۔
آپ واعظِ خوش بیان بلکہ واعظِ شعلہ نوا تھے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا محمد ایوب اشرفی نے بھی آپ سے یہ ملکہ وراثت میں پایا تھا۔ برطانیہ میں مقیم مولانا نیاز احمد مالیگ اور جناب حافظ قاری محمد میاں مالیگ نے والدِ مرحوم کا مجموعہ شائع کروا کر مالیگاؤں کے اس قادر الکلام شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جسے مالیگاؤں کی اولین شعری انجمن ”بزمِ سخن“ کے صدر ہونے کا شرف حاصل تھا۔ اس بات کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ شعری انجمن کے اس صدر نے غزلیہ شاعری نہیں کی بلکہ نعتیہ و منقبتی شاعری کا حق ادا کیا۔
مالیگاؤں کے علاوہ گجرات کے اضلاع بھروچ، سورت، بڑودہ، احمد آباد میں اور ایک سالہ قیامِ برطانیہ کے دوران، نیز بمبئی میں عشرۂ محرم میں لا تعداد مواعظِ حسنہ کے ذریعے آپ نے خدمتِ دین و سنیت کی ہے۔ اہلسنت و جماعت کے بیشتر علماء اور مشائخِ عظام سے آپ کے عقیدت مندانہ اور برادرانہ تعلقات رہے ہیں۔ مجاہدِ ملت مولانا حبیب الرحمن صاحب، خطیبِ مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی، حضور مفتی اعظم ہند اور حضور محدثِ اعظم ہند کے جلسوں میں آپ نے خیر مقدمی اور عقیدت مندانہ نظمیں پیش کی ہیں۔ آپ نے اپنے مواعظ میں نعتیہ و منقبتی کلام سے تاثیر و تقدیس پیدا کی ہے، مساجد میں امامت و خطابت کرنے کے ساتھ ساتھ مدارس میں علمِ دین کا درس دیا ہے۔ غرض ایک عالمِ با عمل ہونے کی بناء پر آپ کی شاعری لفاظی نہیں بلکہ کیفیتِ دل کی آئینہ دار تھی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دردِ قوم و ملت سے معمور تھی۔ آپ کے برادرِ بزرگ حضرت مولانا محمد الیاس مشتاق مرحوم بھی خالص نعت گو شاعر تھے اور ”مداحِ رسول“ کے لقب سے ملقب تھے۔ دونوں برادران مالیگاؤں کے اس دورِ اولین میں دینی حلقوں میں انتہائی عزت و احترام کے حامل تھے کیوں کہ جب کسی بھی تبلیغی جماعت کا کہیں کوئی وجود نہیں تھا، انھوں نے خلوصِ دل سے اور نام و نمود کی چاہ کے بغیر دین کی تبلیغ کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ یہ اخلاق و کردار کی پختگی ہی تھی جس نے مولانا محمد یونس مرحوم کو ہر قسم کے حالات میں خوش اسلوبی سے جینے کی ہمت اور سلیقہ دیا، اور اپنے علاوہ دوسروں کی دین و دنیا سنوارنے کی توفیق دی۔ آپ کے صاحب زادے جناب حافظ قاری محمد میاں مالیگ (مولانا! اندھے کی لاٹھی، جن کا مشہور کارنامہ ہے) اور آپ کے نواسے جناب ابوزھرہ رضوی (مصنف ”عرش سے افضل“، ”آیاتِ نور“) دینی تصنیفی میدان میں اپنی اہمیت منوا چکے ہیں۔ جناب ابوزھرہ رضوی مایہ ناز خطیب بھی ہیں۔
حضرت مولانا محمد یونس علیہ الرحمہ کے کلام کے مختصر جائزے سے قبل یہ عرض کردوں کہ آپ کے مجموعہ کلام ”جناں بکف“ کو ترتیب دینے کا شرف اس ناچیز کو حاصل ہوا جس کے لیے میں مرحوم کے صاحبزادگان کا شکر گزار ہوں۔ (کتاب میں میں نے اپنا نام اس لیے ترتیب کار کے طور پر شامل نہیں کیا کہ چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک)
کتاب کی ابتداء میں جناب حافظ قاری محمد میاں مالیگ کا لکھا ہوا والدِ بزرگوار کا تعارفی مضمون نہایت جامع ہے۔ علمی اور عملی، دینی و دنیوی، شعری و ادبی تمام پہلوؤں سے آپ کی زندگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مالیگاؤں کے نامور صحافی اور شاعر و ادیب و نقاد عبد المجید سرور نے مولانا محمد یونس مرحوم کی نعت گوئی پر ایک طویل و بسیط مضمون سپردِ قلم کیا ہے جس میں ”جناں بکف“ سے جابجا شعری حوالے شامل ہیں۔ سرور صاحب کے مضمون سے یہ اقتباس ”قندِ مکرر“ کے طور پر یہاں نقل کرتا ہوں:
”مولانا محمد یونس مالیگ علم و فضل و کمال کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ ان کا علمی قد و قامت کسی سے کم نہ تھا۔ ان کے چہرے اور ان کے گفتار و کردار میں موہنی تھی، سنجیدگی و علمیت کا نور تھا۔ ان کی شخصیت اتنی باوقار اور پر کشش تھی کہ ہر کوئی اس سے متاثر ہوتا تھا۔ اس پر ان کی شاعرانہ وجاہت نے چار چاند لگا دیئے تھے۔ وہ مشاعروں کے شاعر نہ تھے لیکن وعظ کی مجالس میں یا دیگر اہم دینی مواقع پر جب وہ اپنی کہی ہوئی نعت، منقبت، حمد و مناجات سناتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ فرشتوں کے نورانی پروں کی روح پرور ہوا فضاؤں میں بکھر گئی ہو، کائنات دم بخود ہو کر ہمہ تن گوش بن گئی ہو۔ ان کی شاعری نری شاعری نہ تھی بلکہ اس میں اعلائے کلمۃ الحق، عشقِ رسول کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ فکری اور فنی دروبست سے لیکر معانی و مفاہیم تک میں انھوں نے جس طرح اپنے ان جذبات کی ترسیل کی ہے وہ ان کے رموزِ شریعت کے اسرار سے واقف ہونے کا واضح ثبوت ہے۔“
غرض عبدالمجید سرور صاحب کا تبصراتی مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور صاحبِ کلام کے کلام اور شخصیت سے نہ صرف انصاف کرتا ہے بلکہ ”زیبِ داستاں“ سے بھی پاک ہے اور اردوئے معلیٰ کے نمونے پیش کرتا معلوم ہوتا ہے۔
مجموعہ کلام کی ابتداء حمد اور مناجات سے کی گئی ہے۔ پھر محفلِ میلاد کا باب ہے۔ پھر نعتِ پاک نامی باب میں مختلف عنوانات کے تحت (جو نعتِ پاک سے ماخوذ ہیں) زبان و بیان کی رعنائیوں سے معمور اور عشقِ رسول میں ڈوبی ہوئی نعتیں ہیں، جن میں سے اکثر غزل کے فارم میں ہیں، چند نعتیں گیت کی شکل میں بھی ہیں، بعد ازاں اہل بیتِ کرام، شہدائے کربلا، غوثِ پاک، خواجہ غریب نواز اور دیگر بزرگانِ دین (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی منقبتیں ہیں۔ ”باب الریان“ کے تحت رمضان شریف سے متعلق کلام ہے اور ”باب الحرمین“ میں حج سے متعلق۔ اس کے علاوہ نماز، شبِ برات، تعمیرِ مساجد، عزمِ محکم، آہنگِ خودی، رحمت جھوم جھوم اٹھی، اسلام کا جوہر، جماعتِ رضائے مصطفیٰ، مقامِ علم، اردو، قومی ترانہ وغیرہ عنوانات کے تحت نظمیں ہیں۔
محترم قارئین! مذکورہ تفصیلات سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ صاحبِ جناں بکف ایک با مقصد شاعر ہیں۔ آپ نے صرف وہ شاعری فرمائی ہے جس میں اللہ پاک اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و بزرگی کے ترانے ہیں، قال اللہ و قال الرسول کی بازگشت ہے۔ قرآنی آیات کے ٹکڑے جابجا نگینوں کی طرح مثبت ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے اہلسنت و جماعت کے مطابق جابجا اپنے عقیدے کا برملا اظہار فرمایا ہے بلکہ اس کے لیے قرآن و حدیث کے حوالے بھی دیئے ہیں۔ باطل فرقوں کی آپ نے نہ صرف تردید فرمائی ہے بلکہ انھیں توبہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ غرض سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو ایک ایسا مکمل منظوم نصاب عطا فرمایا ہے جسے وہ حرزِ جاں بنا سکیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی، مولانا حسن رضا خاں بریلوی اور مفتی اعظم ہند علیہم الرحمۃ والرضوان کی شاعری ہر سنی مسلمان کے وردِ زبان ہے۔ کیوں کہ وہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور ہے۔ اسی طرح ”جناں بکف“ کے شاعر حضرت مولانا محمد یونس مالیگ نے بھی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبی ہوئی نعتیں لکھی ہیں۔ آپ ملاحظہ فرمائیں، کلام کی ندرت و پاکیزگی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔
کس جانِ مسیحا کے قدم آئے بھلا آج
بت خانوں میں بت بول رہے ہیں بخدا آج
اللہ رے شرف آئے قدم عرش مکیں کے
افلاک پہ کرتی ہے زمیں فخرِ بجا آج
یہ سلسبیل یہ کوثر ہیں جس کی دو بوندیں
وہی کرم کے یمِ بے کنار آتے ہیں
حق کو منظور تھا محبوب کا سایہ بھی نہ ہو
آپ کا ثانی بھلا کیسے گوارا ہوتا
وما ینطق سے ظاہر آپ کی شانِ تکلم ہے
کہ بیشک قولِ حق ہوتا ہے ہر جملہ محمد کا
گلشنِ اسلام میں لائے وہ کچھ ایسی بہار
غنچہ غنچہ بادۂ توحید کا ساغر ہوا
فرش سے تا عالمِ بالا ہوئے فرماں پذیر
ماہ دو ٹکڑے بحسبِ حکمِ پیغمبر ہوا
اے مزمل اے پیارے مدثر آقا
ہیں کیا نام کیا پیاری پیاری ادائیں
جنت ہے ان کے روضہ و منبر کے درمیان
جانِ بہارِ خلد ہے اس جلوہ گاہ میں
کھڑے کر دیئے آپ نے ایک صف میں
حجازی و حبشی و رومی و شامی
جابجا قرآنی آیات سے استفادہ کرنے کی آپ کی پیاری عادت قرآنِ پاک سے آپ کے قلبی لگاؤ کی غماز ہے اور اس سے آپ کی علمی و ادبی رفعت کا پتہ چلتا ہے۔ چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
رسولِ مکرم کی محبوبیت کی یہ حجت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جو مرضی ہے ان کی وہی حق کی مرضی، فترضٰی کا مژدہ ترضا ہوا ہے
اسرارِ الٰہی کے ہر بات سے واقف کیوں نہ ہو جو ہمرازِ فاوحیٰ ہو جائے
مثلِ کفِ دست ہے ان کیلئے کونین کی اعلیٰ ادنیٰ شے
معراج کی شب جن آنکھوں نے مازاغ کا سرمہ لگایا ہو
جب حق نے کہا وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
خود کیا کوئی رفعت مَازَاغَ کی بتائے
سلطانِ مدینہ خدا نے قسم یاد فرمائی اس کی
ہے طیبہ کی یہ بھی دلیلِ بزرگی
بلدِ الامین میں ہے اس کی تعریف آئی باظہارِ عز و وقارِ مدینہ
ہوا دیدارِ حق مگر موسیٰ کو ”ارنی“ کہہ کے
تم نادیدہ نادیدہ مَازَاغَ الْبَصَرِ کے شاہد
جب مآلِ معصیت سے دل مرا مایوس ہو
مژدۂ لَا تَقْنَطُوا سے نشاں پاتا ہوں میں رحمت کا
”والضحیٰ“ اور ”واللیل“ سے بالترتیب روئے پاک اور زلفِ پاک کو تشبیہ اکثر شعراء نے دی ہے، مولانا یونس مرحوم نے بھی دی ہے اور بار بار دی ہے لیکن مزہ تو یہ ہے کہ ہر بار نیا لطف ملتا ہے اور یہ آپ کی مشاقیِ سخن اور قادر الکلامی کے ساتھ ساتھ عشقِ رسالت کی بھی بین دلیل ہے۔
توصیفِ رخ ہے والضحیٰ، واللیل زُلف کی ثنا
تفسیرِ خالِ مصطفیٰ، صلِ علیٰ محمد
دمِ تلاوتِ آیاتِ والضحیٰ واللیل
خیال میں رخ و گیسوئے یار آتے ہیں
ہو جاتی ہے والشمس کی تفسیر مکمل
لکھتا ہوں جو وصفِ رخِ تابانِ محمد
زلف تفسیرِ واللیل ان کی
والضحیٰ شرحِ رخسارِ روشن
زبان پر عبور ہی کی بدولت آپ اکثر نئی تراکیب وضع کرتے ہیں جن میں شوکتِ لسانی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے، مثلاً:
جناں بکف ہیں بعز و وقار آتے ہیں
رسولِ پاک بصد افتخار آتے ہیں
ترکیب ”جناں بکف“ کم از کم میں نے اب تک نہیں سنی تھی اور بلا شبہ آپ کے مجموعہ کلام کی انفرادیت کے پیشِ نظر ایسا منفرد نام ہی شایانِ شان تھا۔
نبی کی الفت ہے میرا ایماں، تصور ان کا مری عبادت
مجھے خیالِ جحیم و جنت، غمِ جزا و سزا نہیں ہے
یہاں جحیم و جنت دوزخ اور جنت کی بجائے استعمال ہوا ہے اور مصرع کو روانی دے رہا ہے۔
سلام اے رحمتِ عالم، متاعِ فضلِ رحمانی
سلام اے سرورِ ذی شان شمعِ نورِ یزدانی
”متاعِ فضلِ رحمانی“، ”شمعِ نورِ یزدانی“ جیسی تراکیب کیسی تقدس مآبی لئے ہوئے ہیں۔
اے ربیعِ پاک تیری بارہویں کے ہم نثار
تجھ میں پیدا مصطفیٰ، اللہ کا دلبر ہوا
”ربیعِ پاک“ کی پاک ترکیب اور ”بارہویں“ کی بلاغت کس قدر کیف پرور ہے۔ دراصل غزل سے دور رہ کر آپ نے اس کا سارا حسن نعت و منقبت میں سمودیا ہے۔
آسمانِ جلال ہیں خواجہ
مرآۃِ صد جمال ہیں خواجہ
”آسمانِ جلال“ جیسی ترکیب آج سے نصف صدی قبل جدید ترین کہی جانے کے لائق تھی۔ آسمان کے ساتھ جلال کا جوڑ مناسب بھی تھا۔ شعر میں جلال اور جمال کا تضاد دونوں مصرعوں کو یک رنگ کئے دے رہا ہے۔ پھر جس طرح آسمان ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، خواجہ مخدوم بھی وہ آئینہ ہیں جسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، اور اگر چہ آپ کے جلال سے حکمرانِ وقت بھی کانپتے تھے، آپ ایسا آئینہ ہیں جس میں جمال ہی جمال نظر آتا ہے۔ ”مرآۃِ صد جمال“ کی ترکیب ”ندرتِ صد جمال“ لیے ہوئے ہے۔ اسے کہتے ہیں شاعری، اسے کہتے ہیں منقبت نگاری، اسے کہتے ہیں خدمتِ شعر و ادب!
مخزنِ علمِ ظاہر و باطن
مصدرِ قیل و قال ہیں خواجہ
پہلے مصرع کی بلاغت اظہر من الشمس ہے۔ مخزن و مصدر اپنا اپنا لطف الگ رکھتے ہیں۔ ظاہر و باطن کا تضاد ظاہر ہے، شریعت اور طریقت کی طرف اشارہ بلیغ ہے۔ ”مصدرِ قیل و قال“ کا جو لطف اہل زبان لے سکتے ہیں اس میں تو قیل و قال کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ترکیب ”مصدرِ قیل و قال“ کو آپ کی اختراع کہنے میں غالب کا طرفدار ہونے کا الزام بھی ہر گز نہ آئے گا۔
اردو دشمن بہرِ استیصالِ اردو مستعد ہیں
ایسے کچھ ہندی پریمی بے گماں ہیں
”اردو دشمن“ اور ”ہندی پریمی“ کیسی برمحل تراکیب ہیں۔ ”استیصال“ کے معنی ہیں بیخ کنی یا جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور یہاں اس کا ہی محل تھا۔ گویا لفظ کے استعمال کے ساتھ اس کے معنی بھی واضح کئے جارہے ہیں۔
حضرت مولانا یونس مرحوم مجالسِ وعظ میں اپنے اشعار سے سامعین کی دینی حمیت کو بیدار کرنے کا کام لیتے تھے۔ یتیموں، بیواؤں، غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کا احساس دلانے والے اشعار آپ کو ان کی کہی ہوئی نعتِ پاک میں جابجا ملیں گے۔ بلا شبہ آپ لچھے دار تقریر کر کے دل موہ لینے والے واعظ نہیں تھے بلکہ صحیح معنوں میں واعظ تھے۔ کچھ اشعار مثال کے طور پر پیش ہیں:
جو دیں گے درسِ مساوات و رحم و عفو و کرم
وہ سب سے بڑھ کے مروت شعار آتے ہیں
دیا درسِ مساوات و اخوت اہل عالم کو
عمل سے رشتۂ توحید پھیلاتے ہوئے آئے
نہ رو اے یتیم، اے غریب آہ مت کر
ترے ہم نوا آج تشریف لائے
ہاں وہی انساں جو تھا حیواں صفت اولاد کش
پرتوِ فیضِ نبوت سے ملک پیکر ہوا
اہلسنت و جماعت کے مخصوص عقائد و اعمال کے حق ہونے کا ذکر اور کہیں کہیں دلیلیں بھی آپ کے نعتیہ کلام میں ملتی ہیں۔
تصور حبیبِ خدا کا اے زاہد عبادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
جو نامِ محمد پہ چومیں انگوٹھے محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کرو شوق سے ذکرِ حضرت ولادت، نہیں منکروں کے کہے شرک و بدعت
یہ میلاد کی بزمِ نوری بحسبِ شریعت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
اگر بعدِ ذکرِ صلوٰۃ و سلام اور احترام و عقیدت
بتاؤ تو اے حاملانِ شریعت اطاعت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
اس کو کہتے ہیں عقیدہ اور اس کو کہتے ہیں عقیدے پر جمے رہنا۔ اور یہ بھی عقیدے کی پختگی ہی کی دلیل ہے کہ باطل عقیدے کے بطلان کا ثبوت بھی آپ دیتے جائیں۔
خداوندِ قدوس کو جھوٹا لکھیں، نبی کو بھی مٹی میں ملتا بتائیں
پناہِ خدا! ایسے گندے عقیدے خیانت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
نمازیں خیالِ نبی سے بچائیں، خرو گاؤ کے خیال سے بتائیں بہتر
کہو ایسے لوگوں کو آقا سے یونس! عداوت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
ذیل کے چند اشعار سے واضح ہوگا کہ مولانا یونس مالیگ نے مشکل بحروں میں بھی کتنے اچھے اشعار کہے ہیں:
ابرو کے اک اشارے پر دیتے تھے جان شوق سے
اصحاب و آلِ مصطفیٰ، صلِ علیٰ محمد
عیب پوشی یہاں امت کی ہے ان کے صدقے
حشر میں بھی وہ رکھیں گے بھرم ان شاء اللہ
سیرت نے تو بو جہل کا منہ موہ لیا تھا
قسمت میں نہ تھی الفتِ سلطانِ مدینہ
کریں کیوں نہ ذکر ان کا شب و روز والہانہ
کہ ہمارے غم میں شب بھر انہیں نیند بھی نہ آئی
چوتھے فلک پر پہنچے عیسیٰ، دیکھئے اب کب آتے ہیں
سرورِ عالم کا ہے مسلم عرش سے جا کر آنا بھی
جو آدم و حوا کو عفوِ لغزش کا سہارا ہو جائے
وہ کیوں نہ بنی آدم کے لیے رحمت کا سراپا ہو جائے
قرآن شروع سے ختم تک صفت و ادائے رسول ہے
کہیں حسنِ خلق کا ہے بیاں، تو کہیں ثنائے رسول ہے
روضۂ پاک کا منظر نقش کرلو دلوں پر زائرو
پھر نہ معلوم کب ایسے پیارے خلد ساماں نظارے ملیں گے
میلادِ پاک کے وقت جو معجزات رونما ہوئے ان کا بیان جابجا آپ نے فرمایا ہے اور یہ ضروری بھی ہے کہ نام نہاد سیرت نگار ان کے بھی منکر ہو جاتے ہیں۔
کنگرے گر گئے کسریٰ کا محل کانپ اٹھا
واہ کیا ہیبتِ سرکار تھی میلاد کی رات
آتے ہی قدم آپ کے بت اوندھے گرے ہیں
آتش کدۂ ایران کا یک لخت بجھا آج
بصرہ و شام کے محل دیکھے تھے آمنہ نے
جو چمکا تھا نور آپ کا صلِ علیٰ محمد
گیا سوکھ یک لخت دریائے ساوا
ہوئی نہر جاری بدشتِ سماوا
تھے اعجازِ وقتِ ولادت نمایاں
رسولِ مکرم کی میلاد آئی
حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم دین اور دنیا دونوں میں ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس عقیدے کا اظہار آپ اس طرح فرماتے ہیں:
وہ آئے تو ساتھ ان کے رحمت بھی آئی، گنہگارو اپنی شفاعت بھی آئی
بفیضِ نبی ہاتھ جنت بھی آئی، انہیں کا ہے صدقہ جو ہم پا رہے ہیں
ان کے ہی وسیلے سے اب بر آئیں گے سب کے مطلب
اب ہوں گی قبول دعائیں سرکار کی میلاد آئی
وہی یونس رفو کرتے ہیں چاکِ دامنِ قسمت
وہ ہیں تو کارگر ہے سوزنِ تدبیر سینے میں
”سوزنِ تدبیر“، ”سینا“، ”چاکِ دامنِ قسمت“ اور ”رفو کرنا“ میں صنعتِ مراعاۃ النظیر پائی جاتی ہے۔ تدبیر اور تقدیر کا معاملہ کس خوبی سے بیان فرمایا ہے!
مضمون کی طوالت کے پیشِ نظر گیتوں کے بند نقل نہیں کر رہا ہوں۔ قارئین ”جناں بکف“ میں خود ملاحظہ فرمائیں کہ اگر ایسے مترنم نغمے عوامِ اہلِ سنت کے لبوں پر ہوں تو کیا ہی بہتر ہوگا! میلاد شریف پر مبنی کلام میلاد خواں حضرات کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے۔
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ پاک کی برکت سے عورتوں کی درگت، قدر و منزلت میں تبدیل ہوئی اس کا بیان بھی آپ نے کئی جگہ فرمایا ہے۔ علم کی اہمیت پر نظم ”مقامِ علم“ اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ دیگر نظموں میں مسلمانوں کو عزم و حوصلہ، بھائی چارہ، مہر و مروت اور اپنی حالت آپ بدلنے، جہالت کو دور کرنے کی تلقین بڑے دل نشیں انداز میں پیش کی گئی ہے۔ غرض ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قوم و ملت کی اصلاح کا ایک واضح اور جامع منصوبہ آپ کے تصورِ عالی میں موجود تھا جسے آپ اپنی بساط بھر عملی جامہ پہنا بھی چکے ہیں جس کے شاہد وہ مقامات ہیں جہاں آپ نے دینی خدمات انجام دی ہیں۔
کلام کی دیگر خوبیوں کا علم آپ کو ”جناں بکف“ کے مطالعہ سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ ادبی تنقید میرا منصب نہیں۔ نقادانِ فن اپنا کام کریں گے۔ میں نے دو اور دو چار کے انداز میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔

Monday, 19 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر*





*احمد آباد سیریل بلاسٹ کیس: 21 بم دھماکے، 56 اموات... سپریم کورٹ نے محمد تنویر کی پھانسی پر لگائی روک*



سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں میں قصوروار قرار دیے گئے انڈین مجاہدین کے رکن محمد تنویر کی سزائے موت پر روک لگا دی ہے۔ ان دھماکوں میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔

جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا اور اپریش کمار سنگھ کی بنچ نے تنویر کی درخواست پر سماعت کرنے پر اتفاق کیا۔ تنویر نے گجرات ہائی کورٹ کے 7 جولائی کے فیصلے کو چیلنج کیا، جس نے احمد آباد سلسلہ وار دھماکوں کے کیس میں انڈین مجاہدین کے 38 مجرموں کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔


جولائی 2008 کو احمد آباد کے مختلف علاقوں میں صرف 70 منٹ کے اندر اندر 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ گجرات ہائی کورٹ نے بڑی تعداد میں ہلاکتوں، سازش کے پیمانے، اور بڑے پیمانے پر دہشت پھیلانے کے ارادے کو فیصلے کی بنیادی وجوہات قرار دیتے ہوئے مجرموں کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

9 اکتوبر کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا کہ محمد تنویر کو سنائی گئی سزائے موت پر روک برقرار رہے گی۔ عدالت نے نچلی عدالت اور گجرات ہائی کورٹ سے کیس سے متعلق اصل ریکارڈ بھی طلب کیا۔



*پنجاب کے سنگرور میں منریگا مزدوروں کو تیز رفتار کار نے کچلا، 8 کی موت، کئی سنگین طور پر زخمی*


پنجاب کے سنگرور ضلع کے لہراگاگا میں ایک بھیانک سڑک حادثے نے کئی غریب خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ یہاں منریگا کے تحت سڑک پر کام کر رہے مزدوروں کو ایک تیز رفتار کار نے زور دار ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں آٹھ مزدوروں کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مزدور زخمی ہو گئے۔ واقعے کے وقت تقریباً 25 مزدور سڑک پر کام کر رہے تھے۔ اچانک ہوئی اس ٹکر کے بعد جائے حادثہ پر افراتفری مچ گئی۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال پہنچایا گیا، جہاں کچھ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، حادثے میں جان گنوانے والے مزدور سنگرور ضلع میں لہراگاگا کے قریب واقع علی شیر گاؤں کے رہنے والے تھے۔ حادثے کے بعد پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہو گئی ہے۔ سنگرور کے ایس پی پلوِندر چیما نے بتایا کہ ملزم کا پتہ لگا لیا گیا ہے اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے کار ڈرائیور کا نام پرگٹ سنگھ کالا بتایا ہے۔ حادثے میں استعمال ہوئی کار کا رجسٹریشن نمبر PB11 CP 0080 بتایا جا رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے مناسب علاج اور معاوضے کا مطالبہ کیا
کانگریس لیڈر امرندر سنگھ وڑنگ نے اس دردناک حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’لہرا میں پیش آئے اس افسوسناک واقعے سے مجھے گہرا صدمہ پہنچا ہے، جہاں ایک تیز رفتار کار نے منریگا کے 8 مزدوروں کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔


یہ دل توڑ دینے والا واقعہ ہے۔ یہ سب سے غریب مزدور ہیں، جو اپنے روزگار کا انتظام کرنے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔ میں انتظامیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جائے، قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور مرنے والوں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ خدا مرحومین کی روحوں کو سکون عطا کرے۔‘‘



*گوالیار حادثہ : ڈرائیور کو نہیں معلوم تھا راستہ، گوگل میپ کے سہارے چلا رہا تھا ٹرک، 15 افراد کی موت*


مدھیہ پردیش کے گوالیار میں پیش آئے دردناک سڑک حادثے نے ہر کسی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی تک اس حادثے پر تعزیت کا اظہار کر چکے ہیں۔ شیتلا ماتا مندر کے قریب ایک بے قابو ٹرک نے درجنوں عقیدت مندوں کو کچل دیا۔ حادثے میں اب تک 15 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ تقریباً دو درجن عقیدت مند زخمی ہوئے ہیں، جن کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ چار افراد کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔ ٹرک کے مالک اور ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ ٹرک ڈرائیور کو راستے کی معلومات نہیں تھیں۔ وہ گوگل میپ کے سہارے سفر کر رہا تھا۔


موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ گزشتہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آیا۔ دو ٹرک تھے، جنہیں راستے کا علم نہیں تھا اور وہ گوگل میپس کے سہارے ایک دوسرے کے آگے پیچھے چل رہے تھے۔ ایک ٹرک گھاٹی پر ہی رک گیا تھا، جبکہ آگے چلنے والا ٹرک بے قابو ہو گیا اور چار رکاوٹیں توڑتے ہوئے مندر کے احاطے میں جا گھسا۔ شیتلا ماتا مندر میں نوراتری تہوار کے موقع پر درشن کے لیے بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔ اچانک اناج سے بھرا ایک ٹرک پہاڑی سے بے قابو ہو گیا۔ ڈرائیور ٹرک پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔ اس کے بعد ٹرک ڈھلوان سے سیدھا مندر کے باہر لگی دکانوں اور وہاں کھڑے عقیدت مندوں کو کچلتا چلا گیا۔ موقع پر افراتفری مچ گئی

مقامی لوگوں نے اطلاع دی
مقامی لوگوں نے فوراً پولیس اور ایمبولینس کو اطلاع دی۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔ حادثے میں اب تک 15 عقیدت مندوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ دو درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔ چار زخمیوں کی حالت سنگین ہے۔ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کلکٹر روچیکا سنگھ چوہان اور ایس ایس پی دھرم ویر سنگھ یادو موقع پر پہنچے اور بچاؤ کا کام شروع کروایا۔

وزیر اعلیٰ موہن یادو کا ایکشن
بھیانک سڑک حادثے پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے سخت کارروائی کی ہے۔ لاپروائی پر سی ایس پی کو فوری طور پر ہٹانے اور آٹھ پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ تین تھانوں کے انچارج، ایک ٹریفک انسپکٹر، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور تین کانسٹیبلوں کو معطل کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واقعے کی تفصیلی تحقیقات کے احکامات دیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تحقیقات میں ذمہ داری طے کرکے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے تعزیت کا اظہار کیا
وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے اہل خانہ کے لیے دو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50-50 ہزار روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔ وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بھی واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ کو چار چار لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو دو دو لاکھ روپے اور دیگر زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *

_*ایک ہی دن میں تنظیم علماء کے دو اصلاحی پروگرام، معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور دینی بیداری پر زور.....!*_ مالیگاؤں، 20 اکتوبر: *...