Sunday, 15 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




نائجیریا میں بندوق برداروں کےحملے میں کم سے کم 32 افراد ہلاک
نائجیریا میں بندوق برداروں کے حملے میں کم سے کم32 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ، موٹرسائیکل سوار بندوق برداروں نے تین گاؤں میں دھاوا بولا اور وہاں کے لوگوں کو نشانہ بنایا۔انھوں نے گھروں کوشعلوں کے حوالے کردیا ۔حملہ ہفتے کی صبح کیا کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں اس طرح کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرزکے حوالےسے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ، کونکوسو گاؤں میں ہوئے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کو سکیورٹی اہلکاروں کا کوئی خوف نہ تھا ۔

انھوں نےپولیس اسٹیشن کوبھی پھونک ڈالا۔ کونکوسو گاؤں میں قتل و غارت مچانے کے بعد حملہ آوروں نے پِسا گاؤں کا رخ کیا۔جہاں انھوں نے ایک شخص کو گولی مارکرہلاک کردیا۔حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشن کو بھی نذرآتش کردیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹونگا۔مکیری گاؤں میں بندوق بردار حملہ آوروں نے چھ افراد کو گولی مار کرہلاک کردیا جبکہ انھوں نے کئی گھروں میں آگ لگا دی ۔خبررساں ایحنسی رائٹرز کے مطابق ، ان گاؤں میں مہلوکین کی تعداد32 ہے جبکہ اے ایف پی نے یہ تعداد 46 افراد کی بات کہی گئی ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور 41موٹر سائیکل پر سوارتھے اور ایک موٹرسائیکل پر دو سے تین حملہ آورسوار تھے۔
نائجیریا میں بندوق برداروں کے بڑھتے حملوں پر روک لگانے میں حکومت ناکام رہی ہے۔












فرانسیسی صدرمیکروں کا سہ روزہ بھارت دورہ، مختلف پروگراموں میں کرینگے شرکت
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اپنی اہلیہ کے ساتھ 16 فروری کو ممبئی پہنچیں گے۔ وزارت خارجہ نے فرانسیسی صدر کے شیڈول کے حوالے سے تفصیلات شیئر کی ہیں۔ میکروں 16 فروری کو 11:30 بجے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچیں گے، اور ان کا سرکاری دورہ 17 فروری کو شروع ہوگا۔

اس کے بعد، منگل، 17 فروری، 3:15 بجے، وہ لوک بھون میں پرائم منسٹر نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔اس ملاقات کے دوران دونوں لیڈران یادداشت مفاہمت کا تبادلہ کریں گے اور مشترکہ بیان جاری کریں گے۔ ہند۔فرانس انوویشن فورم ہوٹل تاج محل پیلس میں شام 5:20 بجے منعقد ہوگا۔ اس کے بعد، 8:15 بجے، وہ گیٹ وے آف انڈیا پر ہند۔ فرانس اختراع کا سال تقریب میں شرکت کریں گے۔اگلے دن، بدھ، 18 فروری، دوپہر 1 بجے، صدر میکروں نئی دہلی میں بھارت منڈپم پہنچیں گے

صبح 10:40 بجے، وہ پھر کنٹری پویلین کا دورہ کریں گے۔ صبح 11:30 بجے HOSS/HOGS وزراء کے ساتھ ایک تصویر لی جائے گی، 12:00 بجے، فرانسیسی صدر لیڈرز پلینری اور ورکنگ لنچ میں بھی شرکت کریں گے۔ وہ سہ پہر 3:45 پر فرانس کے لیے روانہ ہوں گے۔

ہورائزن 2047 روڈ میپ
اس سے قبل ، وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ دورے کے دوران دونوں لیڈر ہورائزن 2047 کے روڈ میپ میں بیان کردہ متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مزید ، قائدین ہند۔بحرالکاہل میں تعاون سمیت باہمی فائدے کے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

صدر میکرون 19 فروری کو نئی دہلی میں AI امپیکٹ سمٹ میں شرکت کریں گے۔
یہ دورہ پی ایم مودی کے دورہ فرانس کے بعد ہورہا ہے اور یہ ہند۔فرانس اسٹریٹجک شراکت داری کے باہمی اعتماد اور گہرائی کے ساتھ ساتھ اسے مزید گہرا کرنے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انڈیااے آئی امپیکٹ سمٹ 16 سے 20 فروری تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہوگی۔ اس سمٹ میں دنیا بھر کے ممالک کے مندوبین شرکت کریں گے، جو گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہونے والی پہلی AI سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوگا۔پی ایم نریندر مودی اس سمٹ کا افتتاح کریں گے۔مصنوعی ذہانت (AI) ہندوستان کی ترقی کے سفر، حکمرانی کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر، جامع ترقی کی حمایت کرتا ہے اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہندوستان کا لسانی اور ثقافتی تنوع اسے AI نظام تیار کرنے کے لیے منفرد مقام دیتا ہے جو متنوع آبادی کی ضروریات کے مطابق متعدد زبانوں اور متعدد ماڈلز کو شامل کرتا ہے۔











اس مسلم ملک میں قتلِ عام، تین دنوں میں 6 ہزار افراد ہلاک، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، افریقی ملک سوڈان میں تین دنوں کے اندر 6000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے آخری ہفتے میں دارفور کے علاقے الفشر کے قصبے پر ہونے والے شدید حملوں میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی۔ یہ معلومات گواہوں کے بیانات پر مبنی ہے۔

سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ دارفور میں الفشر فوج کا آخری بڑا اڈہ تھا۔ 18 ماہ کے محاصرے کے بعد، RSF نے 26 اکتوبر کو شہر پر ایک بڑا حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 25 سے 27 اکتوبر کے درمیان شہر کے اندر کم از کم 4,400 افراد مارے گئے۔ مزید برآں، فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے 1,600 سے زیادہ مارے گئے۔ اس سے صرف تین دنوں میں مرنے والوں کی تعداد 6000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

کس قسم کا تشدد ہوا؟رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں بڑے پیمانے پر فائرنگ، گھروں پر حملے، قتل، خواتین کے خلاف جنسی تشدد، بچوں سمیت اغوا، تشدد اور بغیر مقدمہ چلائے پھانسی دینا شامل ہیں۔ بہت سے معاملات میں، حملے نسلی شناخت کی بنیاد پر کیے گئے۔ ایک واقعے میں، تقریباً 1,000 لوگوں نے یونیورسٹی کے ہاسٹل میں پناہ لینے کی اطلاع دی تھی۔ وہاں بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 500 لوگ مارے گئے۔ ایک اور واقعے میں تقریباً 600 افراد کو پکڑ کر ہلاک کیا گیا جن میں 50 بچے بھی شامل تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 28 اکتوبر کو ایک ہسپتال پر ہونے والے حملے میں بھی سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔صورتحال کتنی سنگین ہے؟
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری لڑائی نے سوڈان کو دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران میں ڈال دیا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اور کئی علاقوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مجرموں کے خلاف کارروائی نہ ہونا تشدد کے چکر کو ہوا دیتا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




*اور ملا سوم انعام*
*اسکول شیخ امام*
*_ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے*
 *جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے*_ 
         اللہ پاک کا بہت ہی بڑا کرم ہے کہ جاری تعلیمی سال کے آخری اسکولی مقابلے میں ایک مرتبہ پھر *شیخ امام پرائمری اسکول مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر* نے کامیابی کا عَلَم تھامے رکھا۔
آج بروز بدھ 11 فروری 2026 مالیگاؤں کی جامعتہ الہدی ہائی اسکول کیمپس میں *آل مالیگاؤں قصہ گوئی* کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں شہر عزیز کی 23 اسکولوں نے اپنے ہونہار طلبہ کے ساتھ شرکت کی اور مقابلے کو دلچسپ مفید پُراثر اور مزیدار بنایا ۔۔
      الحمداللہ! رب العزت نے اس مسابقے میں ایک بار پھر *شیخ امام پرائمری اسکول* کے جماعت *چہارم* کے طالب علم *محمد سعدین محمد اسماعیل* نے اپنے دلنشین انداز اور لب ولہجہ کی بنیاد پر *سوم انعام* کے حق سے نوازا۔ ۔طالب علم محمد سعدین محمد اسماعیل نے *مُناظرہ* عنوان سے اپنا قصہ پیش کرکے جج صاحبان کے ساتھ ہی ساتھ حاظرین و ناظرین کو متاثر بھی کیا۔اس طالب علم کو تیار کئے ہیں اسکول ہذا کے معلم *زاہد امین سر* اور قصے کا انتخاب کیا تھا *آصف اقبال سر* نے۔۔
انعام میں ایک خوبصورت *ٹرافی،بورڈ، رائٹنگ پیڈ،پیالے کا سیٹ، ایک باکس،ایک دعا کی کتاب ،ایک قصے کی کتاب فاتح اور شرکت کا سرٹیفکیٹ* جیسی چیزیں حاصل کی۔۔
اس عظیم کامیابی پر ہم اسکول کے ہیڈ ماسٹر شیخ تنویر سر ،معلیمن زاہد امین سر اور آصف اقبال سر طالب علم محمد سعدین محمد اسماعیل اور تمام اسٹاف کو ڈھیر ساری مبارکباد پیش کرتے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی کامیابی کے سفر کو یونہی آگے آگے بڑھتے رہنے کی تمنا اور دعائیں پیش کرتے ہیں کہ
*کوششیں لاکھ کرو دوستو لیکن سن لو*
*کامیابی کا سہرا تو خدا دیتا ہے*









*مصنوعی رنگت کا فریب اور مٹتی ہوئی فطری پہچان*
از: آصف جلیل احمد (چونابھٹّی، مالیگاؤں)

عصرِ حاضر میں انسانی معاشرت جن فکری اور سماجی تضادات سے دوچار ہے ان میں ایک سنگین المیہ ظاہری رنگ و روپ کی وہ اندھی دوڑ ہے جس نے انسانی شعور کو مادیت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران بازار و مارکیٹ میں رنگ گورا کرنے والی کریموں، فیس واش اور صابن کی جس تیزی سے بھرمار ہوئی ہے وہ محض ایک تجارتی رجحان نہیں بلکہ ایک گہرے نفسیاتی بحران کی علامت ہے۔ چکاچوند اشتہارات کے ذریعے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ سماجی قبولیت، اعتماد اور کامیابی کا واحد راستہ "گوری رنگت" سے ہو کر گزرتا ہے۔
اسی فریبِ نظر میں مبتلا ہو کر ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی مصنوعات استعمال کر رہی ہے جو وقتی طور پر نکھار کا دھوکا تو دیتی ہیں مگر بعد میں جلد کی قدرتی ساخت کو تباہ کر دیتی ہیں۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق ان غیر معیاری اور سستی مصنوعات میں پارہ (Mercury)، اسٹیرائڈز (Steroids) اور ہائیڈروکوئنون (Hydroquinone) جیسے خطرناک اجزاء پائے جاتے ہیں جو جلد کی حفاظتی تہہ کو مستقل نقصان پہنچاتے ہیں۔ نتیجتاً چند سالوں کے بعد چہرہ غیر معمولی حساس ہو جاتا ہے، سورج کی روشنی برداشت نہیں کر پاتا اور سرخی، خارش، سوزش اور قبل از وقت جھریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ اس بگاڑ کو بڑھاوا دینے میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ انسٹاگرام اور فیس بک پر نظر آنے والے وہ چہرے جو فلٹرز اور ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کے ذریعے غیر فطری چمک حاصل کر لیتے ہیں، نوجوان ذہنوں کے لیے حسن کا نیا معیار بن چکے ہیں۔
اس نقالی کے انجام نے ہمارے شہروں میں ایک خاموش مگر بھیانک المیہ جنم دیا ہے۔ وہ چہرے جو کبھی فطری تازگی رکھتے تھے، آج جھلسے ہوئے، کھردرے اور بے رونق نظر آتے ہیں۔ بے شمار نوجوان ماہرینِ جلد کے کلینکوں کے چکر کاٹ رہے ہیں، مگر افسوس کہ جلد کو پہنچنے والا یہ بگاڑ اکثر ناقابلِ تلافی ثابت ہو رہا ہے۔ ممبئی اور پونے جیسے بڑے شہروں میں گورا بدن گورا چہرہ کرنے کے لیے مہنگے انجکشن لگوانے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ عارضی سفیدی چند دن میں ماند پڑ جاتی ہے، جبکہ اندرونی طور پر گردوں اور جگر جیسے حساس اعضا متاثر ہونے لگتے ہیں۔
یہاں یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ مسئلہ زیبائش یا حسن کو بہتر بنانے کا نہیں، بلکہ اس کے غلط، نقصان دہ اور افراطی طریقوں کا ہے۔ اسلام فطری حسن کو سنوارنے اور پاکیزہ انداز میں زیبائش اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے، مگر نمائش، فریب اور خود کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ چہرے کی صفائی، مناسب نگہداشت، خوشبو، سلیقہ اور اعتدال کے ساتھ حسن میں اضافہ شریعت کے مزاج کے خلاف نہیں۔ اس لیے ہر کریم یا ہر فروش کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی انصاف نہیں۔ اصل خرابی وہاں جنم لیتی ہے جہاں حسن بڑھانے کے نام پر جلد کو تجربہ گاہ بنا دیا جائے، ناجائز اور مضر اجزاء استعمال کیے جائیں اور قدرتی رنگت کو احساسِ کمتری کی بنیاد بنا کر برباد کر دیا جائے۔
حسن کو بڑھانا جرم نہیں، مگر اسے جائز، محفوظ اور فطری طریقوں سے بڑھانا ضروری ہے۔ بدن ایک امانت ہے، جس کی حفاظت لازم ہے، نہ کہ وقتی چمک کے لیے اسے دائمی بگاڑ کے حوالے کر دیا جائے۔ زیبائش اگر وقار اور اعتدال کے ساتھ ہو تو بہتر ہے، اور جب وہ خود کو گورا دکھانے کی نمائش اور خود فریبی میں بدل جائے تو بعد میں خود اذیتی کا سبب بن جاتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس تلخ حقیقت کو تسلیم کریں کہ حقیقی کشش کسی مصنوعی نسخے یا مہنگے علاج کی مرہونِ منت نہیں۔ اصل جاذبیت اس نور سے پھوٹتی ہے جو باطنی پاکیزگی اور نیک اعمال کا ثمر ہوتی ہے۔ قدرت کا اٹل اصول ہے کہ جن چہروں پر تقویٰ کی چھاپ ہوتی ہے، وہاں خودبخود ایک ایسی وقار آمیز روشنی ہوتی ہے جو کسی ظاہری ملمع کی محتاج نہیں۔ وضو کی برکت سے حاصل ہونے والی طہارت چہرے پر وہ تازگی بکھیر دیتی ہے جو دیکھنے والوں کے دل میں بے ساختہ احترام اور محبت پیدا کرتی ہے۔
سانولی رنگت والا انسان بھی اگر سیرت میں مضبوط ہو تو اس کے چہرے پر ایسا وقار اُنسیت جاذبیت اور عشق جھلکتا ہے کہ لوگ اس کی صورت کے نہیں بلکہ اس کے کردار کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم اس مصنوعی حسن کے بت کو پاش پاش کریں اور فطرت کی طرف لوٹ آئیں، اور اپنی نئی نسل کو یہ شعور دیں کہ دائمی چمک کسی بوتل یا انجکشن میں نہیں بلکہ اس بندگی میں ہے جو ربِ کریم کو راضی کر دے۔
رابطہ: 9225747141











ابلا ہوا انڈا یا آملیٹ، وزن کم کرنے کے لیے کس کا استعمال بہتر ہے؟
انڈے ناشتے کا لازمی جزو ہیں جن میں بھرپور غذائی خصوصیات ہوتی ہیں۔ چاہے آپ انہیں اُبال کر کھائیں یا آملیٹ کی صورت میں، دونوں انداز اپنے اپنے فوائد رکھتے ہیں۔ تاہم پروٹین کی مقدار اور وزن کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے ان دونوں کے درمیان فرق آپ کی توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق کچھ لوگ آملیٹ کو زیادہ پسند کرتے ہیں، جبکہ کچھ اُبلے انڈے پر انحصار کرتے ہیں۔ تیاری کے طریقے اور اضافی اجزا غذائیت کو کس طرح بدلتے ہیں، یہ جاننا آپ کو ایسا انتخاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو واقعی آپ کے صحت کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ذیل میں دونوں کے سائنسی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ آپ فیصلہ کر سکیں کہ آپ کی پلیٹ پر مستقل جگہ کس کو ملنی چاہیے۔
اُبلا ہوا انڈا: سادہ، صاف اور پروٹین سے بھرپور
اُبلا ہوا انڈا انڈے کھانے کا سب سے سادہ طریقہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں پکانے کے دوران کوئی اضافی چیز شامل نہیں کی جاتی۔ نہ تیل، نہ دودھ اور نہ ہی مصالحہ، اس لیے اس کی کیلوریز صرف انڈے تک محدود رہتی ہیں۔ ایک بڑے اُبلے ہوئے انڈے میں تقریباً 6 سے 6.3 گرام مکمل پروٹین ہوتا ہے، جو جسم کے لیے تمام ضروری امینو ایسڈز فراہم کرتا ہے۔
جرنل آف دی امریکن کالج آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جو افراد ناشتے میں انڈے کھاتے ہیں وہ زیادہ دیر تک پیٹ بھرا محسوس کرتے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں میں کم کیلوریز استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھوک پر قابو پانے یا وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے اُبلے انڈے ایک قابلِ اعتماد انتخاب ہیں۔
پروٹین کے ساتھ ساتھ، اُبلے انڈے اہم غذائی اجزا بھی فراہم کرتے ہیں، جن میں وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور کولین شامل ہیں۔
اُبلے انڈے کو ترجیح دینے کی وجوہات
کیلوریز کی واضح اور کم مقدار
اضافی چکنائی شامل نہیں ہوتی
مقدار پر آسان کنٹرولآملیٹ: لذیذ، بھرپور اور حسبِ ضرورت
آملیٹ میں زیادہ ذائقے اور تنوع ہوتا ہے۔ بنیادی پروٹین وہی رہتا ہے، تقریباً 6 گرام فی انڈا۔ لیکن غذائیت کا مجموعی توازن استعمال ہونے والے اجزا کے مطابق بدل سکتا ہے۔ یہی چیز آملیٹ کو مختلف غذائی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
تیاری کا طریقہ غذائیت کو کیسے بدلتا ہے؟
سادہ آملیٹ ہلکا اور صحت بخش رہ سکتا ہے، مگر کچھ اضافے اس کی کیلوریز تیزی سے بڑھا دیتے ہیں:
1 چائے کا چمچ تیل: تقریباً 40 اضافی کیلوریز
پنیر: چکنائی اور نمک میں اضافہ
پراسیسڈ گوشت: سیر شدہ چکنائی میں نمایاں اضافہ
سبزیاں: حجم، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہیں
اگر آملیٹ کو کم سے کم تیل میں پکایا جائے اور اس میں پالک، شملہ مرچ، پیاز یا مشروم جیسی سبزیاں شامل کی جائیں تو یہ ایک متوازن غذا بن سکتا ہے، جو پروٹین کے ساتھ فائبر اور اہم مائیکرونیوٹرینٹس بھی فراہم کرتی ہے۔وزن کم کرنے کے لیے کون سا بہتر ہے؟
اگر آپ کیلوریز کا سخت حساب رکھتے ہیں تو اُبلا ہوا انڈا فطری طور پر بہتر انتخاب ہے۔ یہ سادہ، مقدار میں واضح اور پوشیدہ چکنائی سے پاک ہوتا ہے۔ تاہم ایک اچھی طرح تیار کیا گیا آملیٹ ایک اور فائدہ فراہم کرتا ہے: حجم۔ سبزیوں سے بھرا دو انڈوں کا آملیٹ زیادہ بھرپور محسوس ہوتا ہے، جس سے بھوک کم ہوتی ہے اور غی ضروری سنیکس سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرینِ غذائیت دونوں طریقوں کو ضرورت کے مطابق باری باری استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔


*🔴سیف نیوز اردو*




*سیف ٹرپس*
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.shariztech.saiftrips.app
*سیف نیوز جہاں یوٹیوب انسٹاگرام بلاگر فیس بک پیج پر خبریں و دیگر مواد لگاۓ جاتے ہیں وہیں اب الحمدللہ سیف ٹرپس ایپ بھی شروع کیا گیا ہے جہاں آپ کو ایک ہی کلک پر ہر نیوز یوٹیوب انسٹاگرام بلاگر کی مل جاۓ گی مختلف پلیٹ فارم پر تلاش ختم ۔۔۔ وہیں اس میں آپ کو سواریوں زمین ہوٹل وغیرہ کی بھی جانکاری ہوگی وہیں سے آپ بکنگ بھی کرسکیں گے پورے ملک میں کہیں بھی لہذا سیف ٹرپس ضرور ڈاؤن لوڈ کریں اور شکریہ کا موقع دیں*

*پلے اسٹور پر saif trips ٹائپ کریں انسٹال کریں اوپن ہونے پر allow دبائیں گیٹ اسٹارٹ کریں چھ سہولیات میں سے کوئی بھی سہولت سامنے آۓ وہاں کلک کریں موبائل نمبر ٹائپ کریں ویری فائی دبائیں ایپ شروع ہوجاۓ گا نہایت آسانی سے وہ بھی کم ایم بی لے گا*
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.shariztech.saiftrips.app










مالیگاوءں کارپوریشن برسر اقتدار سیکولر فرنٹ متوجہ ہوں۔
پہلی مہا سبھا میں ان تمام عنوانات کو لایا جائے۔
پریس نوٹ: از قلم آصف بنداس، 
9273019740
مالیگاوءں سیکولر فرنٹ کو تاریخی اقتدار نصیب ہوا۔ اور روز اول سے یہ چرچا رہی کہ کارپوریشن پر میئر اور ڈپٹی میئر سیکولر فرنٹ کا ہوگا۔ الحمد اللہ شہر کی تاریخ میں کارپوریشن میں پہلا اقتدار ایسا براجمان ہوا کہ اب یک مشت شہر کی ترقی ہوگی۔ 

لہذا بہت زیادہ گہرائی میں نہ جاتے ہوئے سیکولر فرنٹ کو ان عنوانات کی جانب توجہ دلائی جارہی ہے۔ جو شہر کے لئے بہت اہم اور سنگین مسلہ ہے۔ لہذا ان تمام عنوانات کو پہلی مہا سبھا جو کہ ماہ رمضان المبارک سے ایک روز قبل 18فروری کو ہونے جارہی ہے ۔ اس مہا سبھا میں ان عنوانات کو منظور کیا جائے بلکہ منظوری کے بعد فورا" اس پر عمل بجاونی مستقل کے لئے کی جائے۔ 


1)پورے شہر کی اہم اہم شاہراوں سے مستقل و ہمیشہ کے لئے اتی کرمن صاف کیا جائے۔ کیونکہ اتی کرمن کی وجہ سے ایک تو نالوں اور گٹروں کی مکمل صفائی نہیں ہوتی۔ دوسری وجہ اتی کرمن سے راستہ چلنا دشوار ہوگیا ہے۔ اس پر فورا" عملی کام سے شہریان جو راحت ملے گی۔


2) پورے شہر میں جہاں جہاں پرشاسک راج میں انڈر ڈرینج کا کام کرکے روڈ کو کھنڈر چھوڑ دیا گیا ایسے تمام روڈ راستوں کو جلد از جلد کانکریٹ تعمیر کیا جائے۔ 

3) ماہ رمضان المبارک کے پورے ایام میں ہر دن گندگی و کچرا اٹھایا جائے اور کورناک کمپنی کو باور کرایا جائے کہ افطاری کے بعد بھی گندگی و کچرا اٹھایا جائے تاکہ تعفن نہ ہو۔ 

4) پورے شہر میں مچھروں کی بہتات پروان چڑھی ہے۔ لہذا مچھر مار دواوءں کا کڑک چھڑکاوء علاقہ وائز مسلسل ہو۔

5) پورے ماہ رمضان المبارک میں پینے کے پانی کی فراہمی پابندی سے کی جائے۔ بلاوجہ ٹیکنیکل میسٹیک کے نام سے مزید پانی کٹوتی بالکل برادشت نہیں کی جائے گی۔ 

6) پورے رمضان المبارک میں مالیگاوءں پاور سپلائی کمپنی کو یہ باور کرایا جائے. کہ جان بوجھ کر لوڈ شیڈنگ براشت نہیں کی جائے گی۔



7) رمضان المبارک اور عید الفطر کے پیش نظر جہاں خراب راستے ہیں وہاں فورا" پیچ ورک کیا جائے۔ 

امید ہیکہ سیکولر فرنٹ اپنی پہلی مہا سبھا میں جتنے بھی عنوان ہیں ان میں یہ تمام عنوانات بھی شامل کریگا۔ اور شہریان کو شکریہ کا موقع دیگا












مالیگاؤں میں اے ایچ سی اکیڈمی ٹیلنٹ ہنٹ کا شاندار انعقاد   
مالیگاؤں میں اے ایچ سی اکیڈمی کے زیر اہتمام "ٹیلنٹ ہنٹ" پروگرام سنگمیشور کے وسیع و عریض لان میں نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں شہر کے طلباء، اساتذہ اور سرپرستوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔  

تقریب کے صدر حافظ ولی احمد خان (احمد آباد) نے نوجوانوں کو قوم و ملت کی امیدوں پر مزید محنت اور تعلیم پر توجہ دینے کی تلقین کی۔ کارپوریشن میئر نسرین شیخ نے شہر کے فلاحی کاموں اور بنیادی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اے ایچ سی اکیڈمی کے ڈائریکٹر عبدالحکیم شیخ نے ادارے کی کارکردگی اور بہترین نتائج پر روشنی ڈالی۔ اور طلباء کے تعلیمی مستقبل پر مفید مشوروں سے نوازا ۔

معروف وکیل و سماجی کارکن محترمہ جیوتی تائی بھوسلے نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی علم و تحقیق سے وابستہ ہے، نہ کہ صرف عمارتوں یا راستوں سے۔  

پروگرام میں رویندر پوار، سلیم اپسرا، کیتن دتانی، وجے کلکرنی، مستقیم ڈگنیٹی، چاند خان سر سمیت کئی معزز مہمان شریک ہوئے۔  

 انعام یافتہ طلباء کے نام  
- دسویں جماعت: دنیش پاٹل (اول)، تنوشری بھاسکر پاٹل (دوم)، رتوژہ سندیپ نکم (سوم)، زرین صدف (چہارم)  
- نویں جماعت: زرین فاطمہ سلیم احمد اپسرا (اول)، ڈیوک نوناتھ چتے (دوم)، تن مئے بال کرشن ٹھوکے (سوم)  
- آٹھویں جماعت: سائی ستیش بھوسلے (اول)، محمد اشہل عاصم (دوم)، محمد عمرین ساجد (سوم)، سیم سندیپ رسے (تیسرا)  
- ساتویں جماعت: دھرو نلیش لوہیا (اول)، وید منوج بھاری (دوم)، صالحہ شہباز مومن (سوم)  

کامیاب طلباء کو ٹرافی، سند، نقد رقم اور اسپورٹس سائیکل سے نوازا گیا۔  

یہ پروگرام نہ صرف طلباء کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ شہر میں تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی ایک روشن مثال بھی قائم کی۔











Tuesday, 10 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




"پاکستانی ڈالروں کے لئے اپنی ماں تک کو بیچ سکتے ہیں " ، عمران خان نے دکھایا تھا آئینہ
اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے حالیہ موقف نے ایک بار پھر ملکی سیاست اور کھیلوں کی انتظامیہ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان جس نے پہلے بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا تھا، اب اچانک یو ٹرن لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس الٹ پھیر نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایک برسوں پرانے بیان کو دوبارہ روشنی میں لادیا ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ دراصل عمران خان نے کہا تھا کہ ’’پاکستانی ڈالروں کے عوض اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں‘‘۔

اس بیان کے زیر بحث آنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کر سکتا ہے۔ سیاسی کشیدگی اور بیان بازی کے درمیان پی سی بی نے سخت موقف اپنانے کی کوشش کی۔ تاہم جیسے ہی مالی نقصانات اور آئی سی سی کی آمدنی کا معاملہ سامنے آیا، صورتحال بدل گئی۔ اب پاکستان بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دے رہا ہے۔عمران خان کا برسوں پرانا بیان خبروں میں کیوں ہے؟
عمران خان کا ایک پرانا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ حامی اور ناقدین دونوں کہہ رہے ہیں کہ پی سی بی کا یہ یو ٹرن اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کے خلاف عمران خان تنبیہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی پالیسیاں اکثر اصولوں سے نہیں بلکہ ڈالروں کی ضرورت سے طے ہوتی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میں اپنے موقف پر ڈٹا رہتا تو اسے مالی نقصان برداشت کرنے کی ہمت دکھانی پڑتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈوبتی ہوئی معیشت اور زرمبادلہ کی کمی کے دور میں کرکٹ بھی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔

ضمیر کہاں گیا؟
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسپورٹس مین شپ سے زیادہ معاشی مجبوری سے ہوا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے میچز کو عالمی کرکٹ میں سب سے زیادہ کمانے والے میچوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان براڈکاسٹ رائٹس، ایڈورٹائزنگ اور اسپانسر شپ سے حاصل ہونے والی خاطر خواہ ریونیو سے خود کو الگ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ سری لنکا کے ساتھ بات چیت کے بعد شہباز کے فلپ فلاپ نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان کی عزت نفس واقعی ڈالروں پر منحصر ہے۔ چند روز قبل شہباز شریف نے خود کہا تھا کہ انہیں قرضے کے حصول کے لیے کس طرح سر جھکانا پڑا، اور اب یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ یہ بات سچ بھی ہے ۔











"ایک دن بی جے پی گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی": اسدالدین اویسی نے ساورکر کے لیے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کے مطالبے کی مذمت کی
محبوب نگر (تلنگانہ): اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پیر کے روز وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن سے نوازنے کے سنگھ سربراہ کے مطالبے پر بی جے پی-آر ایس ایس پر سخت حملہ کیا۔

1857 کی بغاوت میں اپنا حصہ ڈالنے والے مولوی علاؤالدین کو یاد کرتے ہوئے اویسی نے ساورکر کو اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازنے کے خیال پر تنقید کی۔انہوں نے کہا، "حیدرآباد میں مکہ مسجد کے اس وقت کے امام مولوی علاؤالدین نے انگریزوں کے خلاف احتجاج کیا کیونکہ کچھ آزادی پسند جنگجو اورنگ آباد میں پکڑے گئے تھے۔ مولوی علاؤالدین نے حیدرآباد میں انگریزوں کی ریزیڈینسی کے روبرو احتجاج کیا، حالانکہ اس وقت انگریز ہی نظام کی حفاظت کرتے تھے۔ ان پر حملہ کیا گیا، لیکن وہ فرار ہو گئے، بعد میں، وہ گرفتار ہو گئے۔ وہ 'کالا پانی' ( انڈومان جیل) میں پہلے قیدی تھے۔"

اویسی نے اپنے خطاب میں آر ایس ایس کو یاد دلایا کہ کالا پانی کی سزا پانے والا پہلا مسلمان تھا جس کا نام مولانا علاؤالدین تھا۔ انھوں نے کہا کہ، جب علاؤالدین بیمار ہوئے تو انگریزوں نے نظام سے انھیں لے جانے کو کہا، لیکن نظام نے انکار کر دیا اور مولانا علاؤ الدین کا انڈومان جیل میں انتقال ہوگیا۔

اے آئی ایم آئی ایم لیڈر نے مزید کہا، "آج، آر ایس ایس ایک ایسے شخص کو بھارت رتن دینے کے لیے اپیل کر رہا ہے جس نے انگریزوں کو چھ رحم کی درخواستیں لکھی تھیں۔ ایک وقت آئے گا جب بی جے پی ناتھورام گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی۔"

واضح رہے اویسی نے یہ معاملہ ایسے وقت اٹھایا ہے جب آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے 'سنگھ کے 100 سال - نیو ہورائزنز' پر دو روزہ لیکچر سیریز میں کہا کہ اگر ساورکر کو بھارت رتن دیا جائے گا تو اس (ایوارڈ) کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ بھاگوت نے کہا کہ وہ فیصلہ کرنے والی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں لیکن موقع ملنے پر وہ اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

بھاگوت نے کہا، "میں اس کمیٹی میں نہیں ہوں، لیکن اگر میں کسی ایسے شخص سے ملوں گا تو میں ان سے پوچھوں گا۔ اگر سواتنتر ویر ساورکر کو بھارت رتن سے نوازا جاتا ہے، تو ایوارڈ کا وقار بڑھ جائے گا۔ اس وقار کے بغیر بھی وہ کروڑوں دلوں کے شہنشاہ بن چکے ہیں۔"

اس سے پہلے آج کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے موہن بھاگوت کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت رتن ایوارڈ اور ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے مجاہدین آزادی کی 'توہین' ہوگی۔

ٹیگور نے اے این آئی کو بتایا، "اپمان ہوگا (توہین ہوگی)، اگر ہم ان لوگوں کو بھارت رتن دیتے رہیں جو انگریزوں سے معافی مانگتے رہے۔ یہ بی آر امبیڈکر، سردار پٹیل، مہاتما گاندھی سمیت ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے لوگوں کی توہین ہوگی۔"

تاہم، بی جے پی اور یہاں تک کہ انڈیا بلاک کی اتحادی، شیوسینا (یو بی ٹی) نے بھاگوت کے مطالبات کو درست قرار دیا۔

بی جے پی ایم پی مدن راٹھور نے اے این آئی کو بتایا کہ کچھ لوگ "مکمل تاریخ نہ پڑھنے" کی وجہ سے اس خیال کی مخالفت کر رہے ہیں، اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ ساورکر نے "بہت نقصان اٹھایا ہے" اور انہوں نے امید کھوئے بغیر ملک کے لیے لڑنا جاری رکھا ہے۔

جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن نہ دینے پر بی جے پی پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے اس ضمن میں سیدھے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھ گچھ کرنے کی اپیل کی۔














امریکہ-بنگلہ دیش تجارتی معاہدہ : ڈیری، بیف اور پولٹری مارکیٹ کھل گئیں، گارمنٹس پر ٹیرف میں نرمی
امریکہ نے بنگلہ دیش کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش نے امریکی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی کے اہم شعبے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکہ نے بنگلہ دیشی برآمدات پر عائد محصولات میں نمایاں نرمی کی ہے۔

اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے امریکی ڈیری مصنوعات، گائے کے گوشت (بیف) اور پولٹری مصنوعات کو اپنی منڈی میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ساختہ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، موٹر وہیکلز اور ان کے پرزہ جات، طبی آلات، مشینری، آئی سی ٹی آلات، توانائی سے متعلق مصنوعات اور سویا پر مبنی اشیا کو بھی بنگلہ دیش میں ترجیحی تجارتی رسائی دی جائے گی۔

اس کے بدلے میں بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ریڈی میڈ گارمنٹس (RMG) کو امریکی منڈی میں صفر ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہوگی، بشرطیکہ ان ملبوسات میں استعمال ہونے والا کپاس اور مصنوعی فائبرز امریکہ سے درآمد کیے گئے ہوں۔ برآمدات کا حجم اسی شرط سے منسلک ہوگا کہ بنگلہ دیش امریکہ سے کتنا ٹیکسٹائل خام مال درآمد کرتا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارت تجارت کے حکام کے مطابق، معاہدے میں امریکی گندم، سویا بین اور ایل این جی (Liquefied Natural Gas) کی درآمد، ای-کامرس پر ٹیرف نہ لگانے کی یقین دہانی، امریکی طے کردہ انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے معیارات پر عمل درآمد اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں امریکہ کی حمایت یافتہ اصلاحات کی تائید بھی شامل ہے۔

معاہدے کے ایک اہم حصے کے طور پر بنگلہ دیش نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مزدور حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ اس میں جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی، مزدور قوانین میں ترمیم کے ذریعے تنظیم سازی اور اجتماعی سودے بازی (Collective Bargaining) کی آزادی، اور لیبر قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔امریکہ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے گا، جس کے لیے یو ایس ایکسپورٹ-امپورٹ بینک (EXIM Bank) اور یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) جیسے ادارے امریکی نجی شعبے کے اشتراک سے مالی معاونت فراہم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ قوانین اور اہلیت کے تقاضے پورے ہوں۔

اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے تقریباً 3.5 ارب ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات جن میں گندم، سویا، کپاس اور مکئی شامل ہیں ،خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں تقریباً 15 ارب ڈالر کی درآمدات آئندہ 15 برسوں میں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ہوابازی کے شعبے میں بھی تعاون شامل ہے۔

اسی تناظر میں، بنگلہ دیش نے حال ہی میں امریکی کمپنی بوئنگ سے 25 طیارے خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار کروڑ ٹکہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ قدم بھی امریکی ٹیرف میں نرمی کے لیے کیے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔

بنگلہ دیش کے ایکسپورٹ پروموشن بیورو (EPB) کے مطابق، امریکہ بدستور بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ گزشتہ سال اگست میں امریکہ نے بنگلہ دیشی برآمدات پر مجوزہ 37 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 20 فیصد کر دیا تھا، تاہم بنگلہ دیشی پالیسی سازوں کی خواہش تھی کہ اسے 15 فیصد تک لایا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بنگلہ دیش کی ملبوسات کی صنعت کے لیے نہایت اہم ریلیف ثابت ہوگا، کیونکہ یہی شعبہ ملک کی 80 فیصد سے زائد برآمدات کا ذریعہ ہے، تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے ، جن میں اکثریت خواتین کی ہے اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 10 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش 12 فروری کو عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، جن کے ذریعے نئی قیادت کا انتخاب کیا جائے گا اور 18 ماہ سے قائم یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کا خاتمہ متوقع ہے، جو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد جولائی میں ہونے والی پرتشدد طلبہ تحریک کے نتیجے میں اقتدار میں آئی تھی۔

بنگلہ دیش کی معیشت طویل عرصے سے ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات پر انحصار کرتی رہی ہے، جبکہ امریکہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ حالیہ برسوں میں مزدور حقوق، سیاسی عدم استحکام اور عالمی تجارتی دباؤ کے باعث بنگلہ دیش کو امریکی منڈی میں سخت شرائط کا سامنا رہا۔ یہ نیا تجارتی معاہدہ نہ صرف معاشی ریلیف بلکہ آنے والے انتخابات سے قبل عبوری حکومت کے لیے ایک سفارتی کامیابی بھی سمجھا جا رہا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

بزرگ شعراء و ادبی اکابرین ایک ساتھ تاریخ ساز تقریب
  گزشتہ دنوں سات فروری سنچر کی شب اسکس ہال میں ادارہ "سیف نیوز" اردو کی جانب سے ایک شام بزرگ شعراء کے نام منعقد کی گئی جسمیں 25 بزرگ شاعروں ادبیوں کا اعزاز و استقبال کیا گیا، مومنٹیو گل شال و تحائف کے ذریعے تقریب میں "کریم آف دا سٹی" معزز مہمانوں کی کیثر تعداد موجود تھی ایک اسٹیج پر تمام بزرگوں کی موجودگی نے پروگرام کو تاریخی بنا دیا سا معین کے خلوص سے تقریب نہایت کامیاب رہی شہر کے خوش فکر افراد نے مبارکباد دی۔۔ 
 سیف نیوز اردو کی جانب سے تمام شرکاء کے لیے اظہار تشکر دعاؤں کی درخواست اللہ ان بزرگوں کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے آمین

*🔴سیف نیوز اردو*




شکیل مصطفی سر کو پیکر ِ تدریس ایوارڈ تفویض 
 مالیگاؤں؍ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو بہ اشتراک اردو چینل کے زیراہتمام جشن اردو سال 2026 بڑے ہی تزک و اہتمام سے فیروز شاہ مہتا بھون، ممبئی یونیورسٹی کالینہ میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں جناب شکیل مصطفی سر (مالیگاؤں) کو پیکر تدریس ایوارڈ تفویض کیا گیا۔ یہ ایوارڈ تعلیم کے میدان میں نمایاں اور قابل قدر خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ 
 محترم موصوف 18؍ سال سے یعقوب بیگ ہائی اسکول وجونیئر کالج پنویل میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ تدریس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بچّوں کے ادب پر مشتمل کئی کتابیں شائع کیں ہیں۔ 
 پیکر تدریس ایوارڈ سے سرفراز کئے جانے پر اُن کے خیر خواہوں، ادبی حلقہ بگوش اور تعلیم سے روابط رکھنے والے احباب نے انھیں پرخلوص مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔











"بیرون ممالک اور یوروپین کنٹریز میں فیزیو تھراپی کو اولیت دی جاتی ہے" ڈاکٹر سعید فارانی 
"رفا ہیلتھ کیئر" کا شاندار افتتاح و آغاز 

شہر عزیز مالیگاؤں میں ربانی فیمیلی کی علمی ادبی سماجی، طبی و فلاحی شش پہلوی ہمہ جہت خدمات اظہر من الشمس ہیں- مرحوم بقرعیدی سردار سے لیکر الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر و فرزندان ڈاکٹر راشد ربانی، ایڈوکیٹ رفیق ربانی، ریحان ربانی و رضوان ربانی کے بعد اب تیسری نسل عوام الناس کی خدمات کے لئے میدان عمل میں آچکی ہے اس طرح کے احساسات کا اظہار "رفا ہیلتھ کیئر" کے افتتاحی پروگرام میں حاضرین نے کیا- جو ٨ فروری ٢٠٢٦ء بروز اتوار کو عصر بعد، انصار کالونی، نزد فباء مسجد, منعقد ہوا- اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر سعید احمد فارانی صاحب نے ڈاکٹر محمد معظم (فیزیو تھراپسٹ)و ڈاکٹر شعیب انجم (جنرل فزیشن) صاحبان کو مبارکباد پیش کی اور بتایا کہ ایمانداری سے اس پیشے کو اپنایا تو لوگ اسے خدمت خلق کا نام دیں گے- آپ نے موجودہ دور میں فیزیو تھراپی اور یونانی پریکٹس کی اہمیت، افادیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یورپین کنٹریز میں فیزیو تھراپی کو اولیت دی جاتی ہے، قبل اسکے معروف مبصر و مقرر عمران جمیل، ڈاکٹر افتخار احمد و عبدالعزیز مقادم صاحبان نے بھی مختصراً اظہار خیال کرتے ہوئے پورے خانوادے کو مبارکباد پیش کی- تقریب کا آغاز حافظ محمد مدثر کی قرأت سے ہوا ایڈوکیٹ رفیق ربانی نے غرض و غایت بیان کی مفتی شارق کی دعا اور الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے دست مبارک سے رفا ہیلتھ کیئر، فیزیو تھراپی کنسلٹنگ، رفا جنرل فزیشن کنسلٹنگ، رفا میڈیکل اینڈ جنرل اسٹورس کا افتتاح و آغاز ہوا- اس موقعے پر معززین شہر کی کثیر تعداد کے علاوہ پانچ اضلاع سے ڈاکٹرس حضرات و مہمانان موجود تھے- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر نے بحسن و خوبی انجام دیئے- شب دس بجے تک لوگوں کی آمد کا سلسلہ دراز رہا -












خوبصورت مگر زہریلے: وہ پھول جن سے محتاط رہنا ضروری ہے
خوبصورت، رنگ برنگے اور خوشبودار پھول گھروں، باغات اور تقریبات کی رونق سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں محبت، خوشی اور احترام کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تاہم سائنسی تحقیق اور ماہرینِ نباتات کی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ ہر پھول صرف خوبصورتی ہی نہیں رکھتا بلکہ بعض پھول قدرتی طور پر ایسے زہریلے کیمیائی مادے پیدا کرتے ہیں جو مخصوص حالات میں انسانوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ لاعلمی میں ان پھولوں کو چھونا، چبانا یا نگلنا صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی نے ایک تحقیق کے حوالے لکھا ہے کہ پودے اپنی حفاظت کے لیے قدرتی دفاعی نظام رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ حرکت نہیں کر سکتے، اس لیے الکلائیڈز، گلائیکوسائیڈز اور دیگر ثانوی کیمیائی مرکبات پیدا کرتے ہیں تاکہ کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کو دور رکھا جا سکے۔یہی مادے اگر انسانی جسم میں داخل ہو جائیں تو متلی، قے، جلن، اعصابی مسائل حتیٰ کہ کہ دل اور دیگر اہم اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ذیل میں سات ایسے عام پھولوں کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے جن کے بارے میں ماہرین نے صحت کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
اولیئنڈر
اولیئنڈر ایک عام آرائشی جھاڑی ہے جو پارکوں اور سڑکوں کے کنارے بکثرت لگائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پودے کے تمام حصوں میں کارڈیک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر اس کے پتے یا پھول نگل لیے جائیں تو قے، چکر اور دل کی بے ترتیبی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور شدید صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
فاکس گلوو
فاکس گلوو کے خوبصورت گھنٹی نما پھول بظاہر بے ضرر نظر آتے ہیں، مگر ان میں ڈیجیٹالس نامی مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ یہ مادے دل کے خلیوں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں اور اگر زیادہ مقدار میں جسم میں داخل ہو جائیں تو دل کی دھڑکن خطرناک حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاکس گلوو کو طبی لحاظ سے نہایت حساس پودا سمجھا جاتا ہے۔اینجلز ٹرمپٹ / برگمانسیا
یہ بڑے اور خوشبودار پھول خاص طور پر رات کے وقت اپنی مہک کے باعث توجہ حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان میں سکوپولامین اور ہائیوسایامین جیسے الکلائیڈز پائے جاتے ہیں جو ذہنی انتشار، فریب نظر، اعصابی کمزوری اور شدید صورت میں سانس کی دشواری کا سبب بن سکتے ہیں۔
پوائزن ہیملک
اگرچہ یہ پودا عام گھریلو باغات میں کم پایا جاتا ہے، لیکن تاریخی طور پر اسے نہایت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود طاقتور زہریلے مادے اعصابی نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ معمولی مقدار بھی سانس کے نظام کو متاثر کر کے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
کولمبائن
کولمبائن کے نازک اور منفرد شکل کے پھول کئی باغات کی زینت بنتے ہیں۔ تاہم کچھ اقسام میں سائنوجینک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں جو جسم میں جا کر سائنائیڈ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمزوری، چکر اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔کراؤن آف تھورنز
یہ کانٹے دار پودا زیادہ خطرناک تو نہیں، مگر اس کا دودھیا رس جلد اور آنکھوں میں شدید جلن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر غلطی سے نگل لیا جائے تو معدے میں تکلیف، قے اور بدہضمی ہو سکتی ہے۔ ماہرین اسے بچوں اور پالتو جانوروں سے دور رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
سیمبوکس
ایلڈر کے کچھ پھولوں اور پودوں میں بھی سائنوجینک مرکبات پائے جاتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں ان کا استعمال متلی، پیٹ درد اور کمزوری کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر انہیں بغیر مناسب تیاری کے استعمال کیا جائے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عام حالات میں صرف پھولوں کو دیکھنا یا مختصر وقت کے لیے سونگھنا زیادہ تر افراد کے لیے خطرناک نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب پودوں کو چبایا، نگلا یا طویل عرصے تک ننگے ہاتھوں سے سنبھالا جائے۔ بچوں، پالتو جانوروں، مالیوں اور پھول فروشوں کے لیے خطرات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔صحت کے ماہرین عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ پھولوں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ضرور ہوں، مگر احتیاط کے ساتھ۔ غیر معروف پودوں کو کھانے سے گریز کیا جائے، باغبانی کے دوران دستانے استعمال کیے جائیں، اور اگر کسی قسم کی جلن، متلی یا چکر محسوس ہوں تو فوری طبی مشورہ حاصل کیا جائے۔
فطرت کی یہ خوبصورتی اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب اس کے ساتھ شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔

Monday, 9 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



رنجی ٹرافی میں عاقب نبی نے مچائی تباہی ، مدھیہ پردیش کے خلاف جھٹکے 12 وکٹ ، جموں و کشمیر کو پہنچایا سیمی فائنل میں
نئی دہلی: جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی ڈومیسٹک کرکٹ میں وکٹ کی مشین بن گئے ہیں۔ رنجی ٹرافی کے ناک آؤٹ مرحلے میں مدھیہ پردیش کے خلاف ان کی تباہ کن گیند بازی نے سنسنی پیدا کردی۔ اندور میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میچ میں عاقب نبی نے مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی طاقتور گیند بازی کی بدولت جموں و کشمیر نے کوارٹر فائنل میچ میں مدھیہ پردیش کو 56 رنز سے شکست دے کر اگلے راؤنڈ میں جگہ پکی کرلی۔

جموں و کشمیر کی جیت کے ہیرو عاقب نبی نے میچ میں کل 12 وکٹیں حاصل کیں۔ نبی نے پہلی اننگز میں سات اور پھر دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح مجموعی طور پر عاقب نبی نے 12 وکٹیں حاصل کیں۔ عاقب کی زبردست کارکردگی کی بدولت جموں و کشمیر نے مدھیہ پردیش کو پورے میچ میں بیک فٹ پر رکھا اور آسانی سے جیت حاصل کی۔ایم پی اور جموں و کشمیر کے میچ میں کیا ہوا؟
وہیں اس میچ کی بات کریں تو جموں و کشمیر کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 67 اوورز میں 194 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ جواب میں مدھیہ پردیش کی بیٹنگ بھی ناقص رہی اور عاقب نبی کی جان لیوا باؤلنگ کے سامنے ٹیم صرف 152 رنز تک ہی محدود رہی۔ اس سے جموں و کشمیر کو پہلی اننگز میں 42 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔

پہلی اننگز میں سستے آؤٹ ہونے کے بعد جموں و کشمیر نے دوسری اننگز میں زیادہ محتاط کے ساتھ بیٹنگ کی۔ جموں و کشمیر نے دوسری اننگز میں 248 رنز بنا کر مدھیہ پردیش کو چوتھی اننگز میں 291 رنز کا ہدف دیا تھا۔ تاہم عاقب نے ایک بار پھر اپنی دمدار گیندبازی سے تباہی مچا دی۔ عاقب نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر ٹیم کو 234 رنز تک محدود کر دیا اور جموں و کشمیر نے یہ میچ 56 رنز سے جیت لیا۔









سپریم کورٹ نے بنگال میں ایس آئی آر جانچ کے لیے مزید وقت دے دیا، ڈی جی پی کو شو کاز نوٹس
سپریم کورٹ نے پیر کے روز مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت کی آخری تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے، جس کے بعد اب یہ فہرست 14 فروری کے بعد شائع کی جائے گی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ 14 فروری کو حتمی ووٹر لسٹ شائع نہیں کی جا سکتی، کیونکہ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر (CEC) کو خط لکھ کر سماعت کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت مانگ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ ووٹرز سے متعلق سماعت کے لیے دیے جانے والے وقت میں مزید توسیع کی جائے۔سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) سے ذاتی حلف نامہ طلب کرتے ہوئے انہیں شو کاز نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے اس حلف نامے کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ SIR کے دوران تعینات انتخابی اہلکاروں کو دھمکیاں دی گئیں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

الیکشن کمیشن کے الزامات پر سپریم کورٹ کی سختی
الیکشن کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران کئی مقامات پر اس کے اہلکاروں کو دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس سے آزاد اور منصفانہ ووٹر ریویژن کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ ان الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بنگال کے ڈی جی پی سے وضاحت طلب کی ہے۔

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت
اسی دن سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر بھی سماعت کی، جس میں انہوں نے آئندہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کو چیلنج کیا ہے۔

ممتا بنرجی نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جانبداری کے تحت کام کر رہا ہے اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا موجودہ طریقہ کار سماج کے پسماندہ طبقات کے لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے عدالت سے عبوری ہدایت کی مانگ کی ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کسی بھی ووٹر کا نام حذف نہ کیا جائے، خاص طور پر ان ووٹروں کا جنہیں “Logical Discrepancy” کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال میں رواں برس اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، ایسے میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ بن چکی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے غیر قانونی ووٹروں کو ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ حکمراں ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کو مخصوص طبقات کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی کی عرضی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا اور معاملے کی مزید سماعت پیر کے لیے مقرر کی تھی۔











دہلی کے 9 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، اسکولوں میں سیکورٹی سخت، سیکورٹی ایجنسیاں الرٹ
نئی دہلی :دہلی میں پیر کی صبح ایک بار پھر اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے سے ہلچل مچ گئی۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں واقع نو اسکولوں کو بم کی دھمکی آمیز کال موصول ہوئی، جس کے بعد دہلی پولیس، فائر بریگیڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آ گئیں۔پولیس کے مطابق یہ تمام دھمکی آمیز کالز صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان کی گئیں۔ ایک ہی وقت میں متعدد کالز آنے کے باعث سیکورٹی ایجنسیاں مکمل طور پر الرٹ ہو گئیں۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ اسکولوں کے اطراف سیکورٹی بڑھا دی گئی اور احتیاطی طور پر طلبہ اور عملے کی حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔جن نو اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے، ان میں دہلی کینٹ کا لوریٹو کانونٹ اسکول، سری نواس پوری کا کیمبرج اسکول، روہنی کا وینکٹیشور اسکول، نیو فرینڈز کالونی کا کیمبرج اسکول، صادق نگر کا انڈین اسکول، روہنی کا سی ایم شری اسکول، آئی این اے کا ڈی ٹی اے اسکول، روہنی کا بال بھارتی اسکول اور نیو راجندر نگر کا ونستھلی اسکول شامل ہیں۔ تمام اسکولوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فی الحال کسی بھی مشتبہ چیز کی اطلاع نہیں ملی ہے،قابل ذکر بات یہ ہےکہ مکمل تفتیش جاری ہے۔ ساتھ ہی دھمکی دینے والے شخص یا افراد کی شناخت کے لیے کال ڈیٹیلز اور تکنیکی شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جنوری سے فروری 2026 کے درمیان دہلی این سی آر میں اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 7 فروری کو ایک بڑے پیمانے پر بھیجے گئے ای میل کے بعد 50 سے زائد اسکولوں کو خالی کرایا گیا تھا، جسے بعد میں وزارت داخلہ نے فیک قرار دیا تھا۔اس سے قبل 28 اور 29 جنوری کو بھی سردار پٹیل ودیالیہ، لوریٹو کانونٹ اور ڈان بوسکو سمیت پانچ اسکولوں کو دھمکیاں ملی تھیں، تاہم تفتیش میں کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا اور چند گھنٹوں بعد تمام کیمپس کو محفوظ قرار دے دیا گیا تھا۔

*🔴سیف نیوز اردو*

نائجیریا میں بندوق برداروں کےحملے میں کم سے کم 32 افراد ہلاک نائجیریا میں بندوق برداروں کے حملے میں کم سے کم32 افراد...