Tuesday, 14 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

ہرمز پر امریکی ناکہ بندی ناکام ! دندناتے ہوئے نکل رہے ایرانی جہاز ، دنیا کو بے وقوف بنارہے ٹرمپ
تہران: آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے درمیان ایسی خبریں منظر عام پر آئی ہیں جس نے سپر پاور امریکہ کی ساکھ پر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی بحریہ کی جانب سے ہرمز میں سخت ناکہ بندی کے اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد، دو بڑے ایرانی بحری جہازوں نے امریکی حفاظتی حصار کی خلاف ورزی کی اور بغیر کسی بچاؤ کے سفر کیا۔ سمندری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی فرم Kpler کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دو ایرانی بحری جہازوں نے ناکہ بندی کے چند گھنٹوں کے اندر اندر آبنائے کو عبور کیا جبکہ ایک چینی جہاز بھی راتوں رات وہاں سے گزرا۔

کیا امریکی ناکہ بندی ایک مذاق ہے؟ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی تیل کی سپلائی کو روکنے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بلند بانگ دعویٰ کیا، لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ امریکی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی کے باوجود ایرانی بحری جہازوں کا آبنائے ہرمز سے گزرنا یہ بتاتا ہے کہ یا تو ناکہ بندی میں اہم خامیاں ہیں یا پھر ایران کو اب امریکا سے خوف نہیں ہے۔

Kpler سے باخبر رہنے کے اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم تین جہازوں نے اس امریکی ناکہ بندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا سفر مکمل کیا۔

کیا ٹرمپ دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں؟
ماہرین اب سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ محض نفسیاتی جنگ کر رہی ہے؟ ایک طرف مذاکرات کی میز پر آنے کے اشارے مل رہے ہیں تو دوسری طرف ناکہ بندی کے دعوے ہو رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود ایرانی بحری جہازوں کے گزرنے کا انداز بتاتا ہے کہ پردے کے پیچھے کوئی بڑا معاہدہ ہو رہا ہے یا امریکہ کا کنٹرول کافی حد تک کمزور ہو گیا ہے۔

ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس سمندری راستے کی کنجی اس کے پاس ہے۔ جہازوں کی بحفاظت روانگی سے ایران کے دعوے کو تقویت ملتی ہے۔







بہار میں BJP کا چیف منسٹر : سمراٹ چودھری کا عروج ، بی جے پی کا نیا کاسٹ گیم، سینئرلیڈر دوڑمیں رہ گئے پیچھے
بہار کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ نتیش کمار کے طویل سیاسی دور کے بعد اب ریاست میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہونے والا ہے، جسے ’’سمراٹ دور‘‘ کہا جا رہا ہے۔ 15 اپریل 2026 کو سمراٹ چودھری بہار کے چیف منسٹر کے طور پر حلف لینے جا رہے ہیں۔

یہ صرف ایک حلف برداری نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس حکمتِ عملی کی جیت ہے جسے سیاسی حلقوں میں ’’کاسٹ انجینئرنگ‘‘ کہا جاتا ہے، اور جس نے بہار کی سیاست کے تمام تر توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

 نتیانند رائے سے آغاز، مگر انجام میں سب پر بھاریایک وقت تھا جب نتیانند رائے کو بہار بی جے پی کا سب سے مضبوط چہرہ اور چیف منسٹر کا بڑا دعویدار سمجھا جاتا تھا۔ انہی کی سرپرستی میں سمراٹ چودھری نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ حالات اس قدر بدلے کہ وہی سمراٹ، جنہیں پارٹی میں لایا گیا تھا، سب پر سبقت لے گئے۔

سمراٹ چودھری نے اپنی جارحانہ سیاست، تنظیمی صلاحیت اور عوامی رابطے کے ذریعے نہ صرف کارکنوں بلکہ پارٹی کی مرکزی قیادت کو بھی متاثر کیا۔بڑے بڑے لیڈر پیچھے رہ گئے
بی جے پی کے کئی تجربہ کار رہنما اس دوڑ میں شامل تھے، جن میں راجیو پرتاب روڈی، منگل پانڈے، پریم کمار،وجئے سنہا اور رینو دیوی جیسے نام شامل ہیں۔ ان سب کے پاس تجربہ، سینئرٹی اور تنظیمی مضبوطی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ سمراٹ چودھری کے سامنے پیچھے رہ گئے۔

 کاسٹ کارڈ : بی جے پی کی بڑی چال
سیاسی ماہرین کے مطابق، سمراٹ چودھری کے انتخاب کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ان کی ذات (کوئری/او بی سی) اور بہار کے سماجی مساوات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ بی جے پی نے ’’لو۔کش‘‘ اور او بی سی ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لیے سمراٹ کو بہترین چہرہ سمجھا۔

یہ فیصلہ اس بات کا واضح پیغام بھی ہے کہ بی جے پی اب صرف اعلیٰ ذات کی جماعت نہیں رہی، بلکہ پسماندہ طبقات کو بھی قیادت میں جگہ دے رہی ہے۔

 بند کمرے میں کیسے ہوا فیصلہ؟
ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت نے بہار میں ایک سروے کروایا جس میں سمراٹ چودھری سب سے زیادہ ’’جارحانہ اور عوامی مقبول‘‘ لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ پارٹی کو ایک ایسے چہرے کی تلاش تھی جو نتیش کمار کے ’’سوشاسن‘‘ ماڈل کو چیلنج کر سکے اور ساتھ ہی اپوزیشن کے ذات پر مبنی سیاست کو اسی کے میدان میں شکست دے سکے۔

سمراٹ چودھری اس کردار کے لیے مکمل طور پر موزوں ثابت ہوئے۔آر جے ڈی سے بی جے پی تک کا سفر
سمراٹ چودھری کا سیاسی سفر کافی دلچسپ اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا ہے۔ وہ پہلے لالوپرساد کی راشٹریہ جنتادل سے وابستہ تھے اور لا پرسادیادو کی سیاست کو قریب سے دیکھا۔ یہی تجربہ اب وہ بی جے پی میں رہ کر آر جے ڈی کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

 ’’پگڑی والے لیڈر‘‘ کی نئی پہچان
سمراٹ چودھری کی پگڑی (صافہ) والی شناخت انہیں ایک مضبوط، خوددار اور نہ جھکنے والے لیڈر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ان کی یہی امیج عوام کے درمیان ان کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہے۔

 نئی سیاست کا آغاز
سمراٹ چودھری کا چیف منسٹر بننا اس بات کی علامت ہے کہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہی ہے اور نوجوان، جارحانہ اور سماجی مساوات پر مبنی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا سمراٹ چودھری، نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو چیلنج کر کے بہار کو نئی سمت دے پائیں گے یا نہیں۔









لوک سبھا میں اب ہوں گے 850 اراکین پارلیمنٹ، مرکزی حکومت نے تیار کیا پلان، خواتین ریزرویشن بل میں ہوگا یہ التزام
نئی دہلی: حکومت نے ناری شکتی وندن ایکٹ کونافذ کرنے کے لئے 16 سے 18 اپریل تک پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ اس سیشن میں حکومت تین اہم بل پیش کرے گی، جو2029 کے لوک سبھا انتخابات سے لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن کونافذ کرے گی۔ آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں پارلیمانی امورکے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال پیش کریں گے۔ یہ اہم آئینی ترمیم ملک کے بدلتے ہوئے آبادیاتی ڈھانچے، ریاستوں کے درمیان آبادی کے عدم توازن، شہری کاری اورجمہوری نمائندگی کومزید جامع اورمتوازن بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
بل کا پس منظر
آئین کے آرٹیکل 82 اور170 ہرمردم شماری کے بعد لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں سیٹوں کی دوبارہ تقسیم کرنے کا التزام کرتے ہیں۔ تاہم، 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پرنشستوں کی الاٹمنٹ کوآئین (84ویں ترمیم) ایکٹ، 2001 کے ذریعہ 2026 کے بعد پہلی مردم شماری تک ملتوی کردیا گیا۔ سیٹوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ فی الحال، ملک کی آبادی کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں، ریاستوں کے درمیان آبادی میں اضافہ میں عدم برابری، اندرونی نقل مکانی اورتیزی سے شہری کاری نے بہت سے حلقوں میں نمائندگی کے توازن کودرہم برہم کردیا ہے۔ اس کوذہن میں رکھتے ہوئے یہ بل لایا گیا ہے۔
لوک سبھا کی تشکیل میں اہم تبدیلیاں
بل کے تحت لوک سبھا کی تشکیل میں اہم ترامیم مجوزہ ہیں۔ لوک سبھا میں اراکین کی کل تعداد کوبڑھا کر850 تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ 815 اراکین کوریاستوں سے منتخب کرنے کا فارمولہ ہے۔ جبکہ مرکزکے زیرانتظام ریاستوں سے 35 اراکین منتخب ہوں گے۔ اس اضافے کا مقصد ملک کی موجودہ آبادی کے مطابق نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔
عوامی آبادی کی نئی تعریف
اس بل میں واضح کیا گیا ہے کہ آبادی کا مطلب پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون کے ذریعہ طے شدہ مردم شماری سے ہوگا، جسے پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ مقررکرے گی اور جس کے باضابطہ اعدادوشمار شائع ہوچکے ہوں گے۔ یہ شق صدرارتی الیکشن (آرٹیکل 55)، لوک سبھا (آرٹیکل 81)، ریاستی قانون سازاسمبلیوں (آرٹیکل 170) اورریزرویشن کی دفعات (آرٹیکل 330 اور 332) پر یکساں طورپرلاگوہوگی۔
حد بندی کے عمل میں اصلاحات
سیٹیں مختص کرنے اورانتخابی حلقوں کودوبارہ ترتیب دینے کا کام اب واضح طورپرحد بندی کمیشن کوسونپا جائے گا۔ ہرمردم شماری کے بعد کے انتظام کوختم کرکے اس عمل کومزید لچکدار اوربروقت بنایا گیا ہے۔ سال 2026 کے بعد اگلی مردم شماری کا انتظارکرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ یہ دوبارہ ڈرائنگ کے عمل کوتیزتراورزیادہ موثربنائے گا۔ خواتین کے ریزرویشن کو پورا کیا جائے گا۔ یہ بل آئین (106ویں ترمیم) ایکٹ، 2023 (ناری شکتی وندن ایکٹ) کے نفاذ کوتیزکرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*



ایف ڈی او آفیس نیچے لاؤ ۔جنتا دل سیکولر مالیگاؤں کا مطالبہ (پریس نوٹ ) مالیگاؤں کی عوام راشن کارڈ کے متعلق جب کبھی ایف ڈی او آفیس جاتی ہے تو اُن کو بہت تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔خاص طور سے بزرگ مرد خواتین کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیوں کہ ایف ڈی او آفیس دوسرے فلور پر ہے بزرگوں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے مالیگاؤں جنتا دل سیکولر نے اس سے پہلے پرانت آفیسر کومیمورندم دے چکی ہے جس پر کہا گیا تھا کہ اِس کا اختیار ایڈیشنل کلکٹر کو ہے اس لیے 10. اپريل جمعہ کے دن ایڈیشنل کلکٹر کو پارٹی کی طرف سے میمورنڈم دے کر مطالبے کو یاد دلایا گیا جنتا دل سیکولر مالیگاؤں صدر عبدالخالق صدیقی کی ہدایت پر جنتا دل سیکولر مالیگاؤں سیکریٹری محمّد عارف ۔نائب صدر ۔کامران ۔محمد ابراہیم ۔اور علیم بھائی پر مشتمل ایک وفد نے ایڈشنل کلکٹر کو میمورنڈم دے کر ایف ڈی او آفیس کو پرانت آفیس کی گراونڈ فلور پر لانے کا مطالبہ کیا گیا ۔کلکٹر صاحب نے اس جانب توجہ دے کر بہت جلد عمل کرنے کا وعدہ کیا ہے اس تعلق سے جنتا دل سیکولر مالیگاؤں نے صاف کہا کہ اگر عوامی تکلیف کو جلد دور نہیں کیا گیا تو آگے پارٹی زبردست تحریک چلائے گی اِس طرح کی پریس نوٹ نائب صدر عبدالغفار نے دی ہے








مہاتما گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے اور ملیشیا یونیورسٹی میں تعلیمی قرار نامہ۔ 
طلباءکیلے تعلیمی ترقی اور نوکری ، سہولیات فراہم کرنا ہمارا نصب العین۔ ڈاکٹر اپورو ہیرے۔ 
مالیگاؤں/ کہتے ہیں کہ نیت اگر سچی ہو تو کامیابی خود قدم چومتی ہے۔ اس مثال کے مصداق مالیگاؤں کا یہ ادارہ اپنی کامیابی کی جانب مسلسل گامزن ہے۔۔ MGV تعلیمی ادارے کے کوآرڈینیٹر و سابقMLC ڈاکٹر اپورو پرشانت ہیرے نے بتایا کہ اب یہ ادارہ عالمی سطح پر اپنی کارکردگی انجام دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملیشیا کی یونیورسٹیINTI سے قرار نامہ ہوا ہے،۔ جس میں کیء اشتراکی معاہدہ طے ہوا ہے۔ جیسے تعلیم، LAW, ،Dentle، Farmecy..Administration, Service, . Commerce, Research. وغیرہ موضوعات شامل ہیں۔۔ وہیں ٹکنیکل تعلیم میں بھی یہ قرار اہم رول نبھانے گا۔ اس قرار نامہ پروگرام میںINTI یونیورسٹی ملیشیا کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر گوہ خانگ وین،پروفیسر ڈاکٹر اشوکن واسودیون، K ،کمریشن کرشناسامی،نے حصہ لیا۔وہیں گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے کی جانب سے سابقMLCڈاکٹر اپورو پرشانت ہیرے، ڈاکٹر VS مورے سر ڈاکٹر پردیپGL,ادارہ کے CEO ڈاکٹرBSیادو سر،ستین پاٹل سر،اور عالمی رابطہ کار مینجر ارپتا سونونے میڈم نے اہم رول نبھایا۔ڈاکٹر اپورو ہیرے نے مذید بتایا کہ گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارہ جسے کرم ویر بھاوء صاحب ہیرے نے1952 میں قائم کیا تھا۔ جس کی تقریبا250سے زائد تعلیمی شاخیں موجود ہیں۔ اور400ایکڑ سے زائد جگہ پر اپنی کارکردگی انجام دے رہا ہے۔ اب عالمی سطح پر بھی اپنی کارکردگی انجام دے گا۔ طلباء کی تعلیمی اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ مختلف سہولیات فراہم کرنا ہمارا نصب العین ہے۔۔ اس طرح کی گواہی بھی ڈاکٹر اپورو ہیرے نے دی ہے۔ اس طرح کی تفصیل دستگیر احمدMA نے فراہم کی ہے۔۔









صبح کافی سے پہلے برش دانتوں کی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے؟اگر آپ بھی صبح اٹھتے ہی ڈرامہ ’ٹو اینڈ اے ہاف مین‘ کے کردار چارلی ہارپر کی طرح فوراً کافی بنا کر پیتے ہیں تو ہو سکتا ہے آپ اپنے دانتوں کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ دندان ڈاکٹر مارک برہینی کا کہنا ہے کہ ’طریقہ یہ ہے کہ صبح کافی پینے سے پہلے برش کیا جائے کیونکہ اس سے دانتوں پر داغ پڑنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔‘
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’کافی کا پی ایچ لیول تقریباً پانچ ہوتا ہے جو دانتوں کی اوپری سطح (اینامل) کو نرم کر دیتا ہے۔‘ان کے مطابق ’ایسے میں اگر آپ کافی پینے کے فوراً بعد برش کرتے ہیں تو آپ دراصل دانت صاف نہیں کر رہے ہوتے بلکہ انہیں نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔‘
ڈاکٹر کے مطابق ’کافی کے بعد فوراً برش کرنا ایسا ہے جیسے آپ دانتوں کو رگڑ کر گھسا رہے ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اینامل کو دوبارہ سخت ہونے میں تقریباً 30 سے 40 منٹ لگتے ہیں اس لیے اس دوران برش کرنے سے دانتوں کی سطح مزید کمزور ہو سکتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کے دانت دن میں دو بار برش کرنے کے باوجود وقت کے ساتھ زیادہ پیلے نظر آنے لگتے ہیں۔‘
’اسی طرح اگر آپ برش کیے بغیر کافی پیتے ہیں تو رات بھر دانتوں پر بننے والی بیکٹیریا کی تہہ (بایوفلم) کافی اور دودھ کے اجزا کو زیادہ آسانی سے چپکنے دیتی ہے، جس سے داغ بڑھ سکتے ہیں۔‘اگر آپ کی عادت ہے کہ کافی کے بعد ہی برش کرتے ہیں تو ڈاکٹر نے اس کا حل بھی بتایا کہ ’پہلے تیل (ایم سی ٹی آئل) سے کلی کرنے سے بایوفلم کم ہو سکتی ہے، جبکہ کافی کے ساتھ پانی پینے سے تیزابیت کم ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مشورہ دیا کہ کافی پینے کے بعد کم از کم 30 سے 40 منٹ انتظار کریں، پھر دانت برش کریں۔ روزمرہ کی اس چھوٹی سی تبدیلی سے آپ اپنے دانتوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

Saturday, 11 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

ملبے میں ہی دبا رہے گا غزہ کیونکہ... ٹرمپ کے اربوں ڈالر والے منصوبے کی نکلی ہوا ، حماس کو ہٹانے والا پلان بھی فیل
نئی دہلی۔ غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے دنیا کے بڑے ۔ بڑے وعدے کھوکھلے ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ کو 17 بلین ڈالر دینے کا وعدہ ملا، لیکن زمینی حقیقت چونکا دینے والی ہے۔ 17 بلین ڈالر کو بھول جائیں، اسے ابھی تک 1 بلین ڈالر بھی نہیں ملے۔ خلیجی ممالک نے واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس میں اربوں ڈالر کی ہائی پروفائل فنڈنگ کا اعلان کیا تھا لیکن اب وہ پیچھے ہٹتے نظر آرہے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، مراکش اور ریاستہائے متحدہ کے استثناء کے ساتھ، باقی لوگ کم ہی نظر آرہے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ’’غزہ کی تعمیر نو‘‘ کا خواب فنڈنگ کی کمی کے باعث دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

سب سے بڑا دھچکا ایران کے ساتھ جنگ کو لگا ہے۔ اس تنازعہ نے منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ جو فنڈز غزہ کے لیے ہونے چاہیے تھے اب جنگ اور سلامتی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’ایران کے ساتھ جنگ نے ہر چیز کو متاثر کیا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ غزہ گلوبل پالیٹکس سے کھسک رہا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا نے بڑے بڑے وعدے کیے، لیکن جب ڈیلیور کرنے کی بات آئی تو پیچھے ہٹ گئی۔ غزہ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، اور “تعمیر نو” کاغذوں تک محدود ہے۔“ابھی پیسے نہیں ہیں”
فنڈنگ کے بحران نے غزہ کی قومی کمیٹی برائے انتظامیہ (NCAG) کو تعینات کرنے کے منصوبوں کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ یہ کمیٹی امریکی حمایت یافتہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس کا گروپ ہے جس کا مقصد حماس سے کنٹرول چھیننا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس معاملے سے واقف ایک اور فلسطینی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بورڈ نے حماس اور دیگر دھڑوں کو مطلع کیا ہے کہ غزہ کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی اس وقت فنڈز کی کمی کی وجہ سے علاقے میں داخل ہونے سے قاصر ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ ایلچی نکولے ملادینوف نے فلسطینی گروپوں کو بتایا، ’’اس وقت کوئی رقم دستیاب نہیں ہے۔‘‘

این سی اے جی، جس کی قیادت علی شاتھ نے کی تھی، کا تصور غزہ میں تنازعات کے بعد کی انتظامی اتھارٹی کے طور پر کیا گیا تھا۔ اسے حماس کے تخفیف اسلحہ اور اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء کے بعد وزارتیں چلانے اور پولیسنگ کی نگرانی کے لیے ذمہ دار ہونا تھا۔ تاہم، فنڈنگ کی کمی اور مسلسل سیکورٹی خدشات دونوں کی وجہ سے، کمیٹی کو ابھی تک تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

جنگ کے اثرات اور انسانی نقصانات
ذرائع نے بتایا کہ NCAG فنڈنگ اور سیکورٹی دونوں خدشات کی وجہ سے ابھی تک اس خطے میں داخل نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے باوجود، تشدد جاری ہے۔ مقامی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کم از کم 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی اندازوں کے مطابق، غزہ کی تعمیر نو پر، جہاں تقریباً 80 فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ یا تباہ ہو چکا ہے، پر تقریباً 70 بلین ڈالر لاگت آسکتی ہے۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق بعد ازاں اسرائیلی فوجی مہم میں 72000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

حماس کے تخفیف اسلحہ پر مصر کی میزبانی میں ہونے والی بات چیت میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے، کیونکہ دونوں فریق اپنے مطالبات پر ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا اصرار ہے کہ حماس کو اس کے فوجیوں کے انخلاء سے پہلے غیر مسلح کرنا چاہیے، جب کہ حماس نے اسرائیل کے مکمل انخلاء اور دشمنی کے خاتمے کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع نے ایجنسی کو بتایا کہ تعطل نے ایک اور بڑے پیمانے پر فوجی حملے کا خطرہ بڑھا دیا ہے، جس سے امن کی نازک کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔







اسرائیل نے جنگ بندی مذاکرات کو کردیا مسترد ، حزب اللہ پر کئے تابڑ توڑ حملے ، نیتن یاہو بگاڑ رہے ہیں کھیل
جب کہ ایران اور امریکہ جنگ کو روکنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیل نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے واشنگٹن میں لبنانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اس معاملے پر بات نہیں کرے گا اور اپنے حملے جاری رکھے گا۔ ادھر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں تازہ فضائی حملے شروع کر دیئے۔ یہ حملے اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوئے ہیں، جہاں کئی مہینوں سے لڑائی جاری ہے۔

مارکبہ بنی حیان کے علاقے میں زور دار دھماکہ ہوا، جب کہ شیبہ شہر کے مضافات میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا۔ فضائی حملے بنت جبیل اور شقرہ کے قصبوں پر بھی ہوئے۔ جعفہ میں ہونے والے حملوں کے بعد عمارتوں کو نشانہ بنانے اور ہوا سے گاڑھا دھواں اٹھنے کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ اسرائیل ان حملوں کو یہ واضح کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے کہ وہ اپنے مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔کیا اسرائیلی حملوں سے حالات مزید خراب ہوں گے؟
دریں اثنا، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد، اسرائیل نے بدھ کے روز وسطی بیروت میں بھیڑ تجارتی اور رہائشی علاقوں پر اچانک حملے شروع کر دیے۔ لبنان کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 182 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اسے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کا سب سے مہلک دن قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے کیونکہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ وہاں موجود ہے۔ انہوں نے لبنان میں جاری حملوں کو ایک الگ تنازعہ قرار دیا۔ تاہم ایران اور ثالث پاکستان کا اصرار ہے کہ جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک بھی ہونا چاہیے۔

اسرائیل حملے روکنے کو تیار نہیں
اسرائیلی فوج نے 10 منٹ کے اندر بیروت، جنوبی لبنان اور وادی بیکا میں حزب اللہ کے 100 سے زائد اہداف پر مربوط حملے کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے راستے آئل ٹینکروں کی آمدورفت کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے بند نہ کیے تو وہ جنگ بندی میں خلل ڈال سکتا ہے۔ ایران لبنان پر حملوں کو اپنی جنگ سمجھتا ہے لیکن اسرائیل اسے اپنے سے الگ سمجھتا ہے۔








حکومت کا بڑا فیصلہ، ڈیژل اور ہوائی ایندھن پر نمایاں ایکسپورٹ ڈیوٹی نافذ
مرکزی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی برآمد (ایکسپورٹ) سے متعلق ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نئے حکم نامے کے مطابق، ملک سے باہر بھیجے جانے والے ڈیژل اورایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) یعنی ہوائی ایندھن پرلگنے والے ایکسپورٹ ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ توانائی کے شعبے اورمعیشت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف تیل کمپنیوں کے منافع پراثر پڑے گا بلکہ مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی دستیابی کا بھی تعین ہوگا۔ڈیژل اورایوی ایشن فیول پرنئی قیمتوں کا نفاذ
حکومت کے ذریعہ دی گئی باضابطہ جانکاری کے مطابق، ڈیژل کے ایکسپورٹ ڈیوٹی کودوگنے سے بھی زیادہ کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ڈیژل کی ایکسپورٹ ڈیوٹی 21.5 روپئے فی لیٹر تھی، جسے اب بڑھا کر55.5 روپئے فی لیٹرکردیا گیا ہے۔ یہ ایک نمایاں اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ہوائی جہازمیں استعمال ہونے والے ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پرٹیکس کا بوجھ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ اے ٹی ایف پرایکسپورٹ ڈیوٹی 29.5 روپئے فی لیٹرسے بڑھا کر42 روپئے فی لیٹرکردی گئی ہے۔

کیوں اٹھایا یہ بڑا قدم؟

جب بھی کوئی ریفائنری کمپنی ہندوستان میں خام تیل (کچا تیل) درآمد (ایکسپورٹ) کرتی ہے اوراسے ریفائن کرتی ہے، اس کے پاس دواہم آپشن ہوتے ہیں: یا توتیارشدہ ایندھن کومقامی بازارمیں بیچے یا اسے غیرملکی مارکیٹ میں ایکسپورٹ کرے اورخاطر خواہ منافع کمائے۔ بعض اوقات جب بین الاقوامی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں توکمپنیاں ملکی طلب کونظراندازکر دیتی ہیں اورتیل بیرون ملک میں فروخت کرتی ہیں۔ اس صورتحال کوروکنے اورملک کے اندرڈیژل اوردیگر ایندھن کی مناسب فراہمی کویقینی بنانے کے لئے حکومت یہ ایکسپورٹ ڈیوٹی عائد کرتی ہے۔ ڈیوٹی میں اضافہ کمپنیوں کے لئے برآمدات کو مزید مہنگا بنا دیتا ہے، جس سے وہ اپنی مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے پرتوجہ مرکوزکرنے پرمجبورہوجاتی ہیں۔ اس طرح ملک میں تیل کی کمی نہیں ہوگی۔

پیٹرول سے متعلق ملی راحت

اس پورے عمل اورٹیکس میں اضافہ کے درمیان سب سے زیادہ اطمینان بخش خبرپٹرول کے محاذ پرہے۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پٹرول کی برآمدات پرکوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ پٹرول پرایکسپورٹ ڈیوٹی پہلے کی طرح صفررہے گی۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ فی الحال حکومت کومقامی بازارمیں پٹرول کی سپلائی کے حوالے سے کسی قسم کے بحران یا قلت کا خوف نہیں ہے۔

Saif News

कौशल्याला मिळणार शैक्षणिक मान्यता; जयहिंद लोकचळवळच्या उपक्रमातून रोजगाराच्या नव्या संधी — माजी आमदार डॉ. सुधीर तांबे
संगमनेर : कौशल्याधारित काम करणाऱ्या नागरिकांना त्यांच्या अनुभवाच्या आधारे अधिकृत शैक्षणिक प्रमाणपत्र मिळावे, यासाठी यशवंतराव चव्हाण मुक्त विद्यापीठ आणि जयहिंद लोकचळवळ यांच्या संयुक्त विद्यमाने पूर्व शिक्षण मान्यता मूल्यांकन केंद्राच्या माध्यमातून प्राथमिक बैठक सह्याद्री महाविद्यालय, संगमनेर येथे आयोजित करण्यात आली. या उपक्रमामुळे अनेकांना रोजगाराच्या नव्या संधी उपलब्ध होणार असल्याचा विश्वास माजी आमदार डॉ. सुधीर तांबे यांनी व्यक्त केला.

या बैठकीचे आयोजन जयहिंद लोकचळवळचे समन्वयक उबेदभाई शेख, सुनिता कांदळर, अंजुम बागवान यांनी केले. यावेळी जयहिंद लोकचळवळचे संस्थापक माजी आमदार डॉ. सुधीरजी तांबे, पूर्व शिक्षण मान्यता केंद्राचे संचालक डॉ. राम ठाकर, विद्यार्थी सेवा विभागाचे डॉ. प्रकाश देशमुख, जयहिंद महिला मंच अध्यक्षा सौ. दुर्गाताई तांबे, यशवंतराव चव्हाण मुक्त विद्यापीठाचे प्रशासकीय संयोजक अतिक शेख, नगरसेवक डॉ. दानीश शेख, ज्ञानेश्वर नाईक, फैजान तांबोळी, मोहसीन शेख, आवेज खान उपस्थित होते.

आर्थिक अडचणींमुळे अनेक तरुण-तरुणींना औपचारिक शिक्षण घेता येत नसले तरी ते इलेक्ट्रिशियन, फिटर, वेल्डर, मेकॅनिक, वायरमन, विणकाम, शिवणकाम, टेलरिंग अशा विविध क्षेत्रांत प्रवीणतेने काम करत असतात. मात्र, शैक्षणिक प्रमाणपत्रांच्या अभावामुळे त्यांना नोकरीच्या चांगल्या संधींपासून वंचित राहावे लागते.

या पार्श्वभूमीवर सुरू करण्यात आलेल्या या उपक्रमामुळे अशा कुशल नागरिकांना त्यांच्या कौशल्याचे अधिकृत प्रमाणपत्र मिळणार असून, त्यातून त्यांना रोजगार, प्रगती आणि सामाजिक सन्मान मिळण्याचा मार्ग मोकळा होणार आहे. जयहिंद लोकचळवळच्या या उपक्रमामुळे कौशल्याला मान्यता मिळून अनेकांच्या आयुष्याला नवी दिशा मिळेल, असा विश्वास यावेळी माजी आमदार डॉ. तांबे यांनी व्यक्त केला.

चौकट - 
जयहिंद लोकचळवळचे अधिकृत मासिक आता महाराष्ट्रभरात पोहोचत असून आपणही त्याचा लाभ घेऊ शकता. 
दिलेला क्यू आर कोड स्कॅन करा.

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے؟
انڈیا کی وزارت صحت نے وزن کم کرنے والی ادویات کے غیر منظم استعمال کے حوالے سے خبردار کیا ہے کیونکہ اوزیمپک جیسی معروف ذیابیطس ادویات کے سستے جنیرک متبادل پیٹنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد مارکیٹ میں آنا شروع ہو گئے ہیں۔
عرب نیوز پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سیماگلوٹائڈ، جو اوزیمپک اور ویگووی جیسی وزن کم کرنے والی ادویات کا فعال جزو ہے، کا پیٹنٹ 20 مارچ کو انڈیا میں ختم ہو گیا، جس کے بعد مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس کی اپنی تیار کردہ اقسام بنا کر کم قیمت پر فروخت کر سکتی ہیں۔متعدد کمپنیوں نے خون میں شوگر کی سطح اور بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمون سے منسوب جی ایل پی-1 ادویات کے جنیرک ورژن تیار کر کے انڈیا کی معروف فارمیسیز پر دستیاب کر دیے ہیں، جہاں ایک ہفتہ وار خوراک کی قیمت 15 ڈالر سے شروع ہو رہی ہے۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ ’جی ایل پی-1 پر مبنی وزن کم کرنے والی ادویات کے متعدد جنیرک متبادل حال ہی میں انڈین مارکیٹ میں متعارف کرائے گئے ہیں، جس کے بعد ریٹیل فارمیسیز، آن لائن پلیٹ فارمز، ہول سیلرز اور ویلنَس کلینکس کے ذریعے ان کی باآسانی دستیابی پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ’یہ ادویات اگر مناسب طبی نگرانی کے بغیر استعمال کی جائیں تو سنگین مضر اثرات اور صحت کے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔‘
ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی ’نووو نورڈسک‘ کی جانب سے 2017 میں تیار کی جانے والی دوا اوزیمپک ابتدائی طور پر ذیابیطس کے علاج کے لیے منظور کی گئی تھی تاہم بعد میں وزن کم کرنے میں موثر ثابت ہونے کے باعث عالمی سطح پر اس کی طلب میں اضافہ ہوا۔کئی برسوں تک نوو نورڈسک کے پاس اس دوا کا فعال جزو ’سیماگلوٹائڈ‘ کا پیٹنٹ موجود رہا جو گزشتہ ہفتے ختم ہو گیا۔
انڈیا میں، جہاں چین کے بعد دنیا میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کی دوسری بڑی تعداد موجود ہے اور موٹاپے کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، اوزیمپک کی اصل دوا کی ایک ہفتہ وار خوراک کی قیمت 20 سے 50 ڈالر کے درمیان ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں یہی قیمت تقریباً 220 ڈالر جبکہ یورپ میں لگ بھگ 30 ڈالر ہے۔
اگرچہ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس دوا کی منظوری اس شرط کے ساتھ دی گئی ہے کہ اسے صرف اینڈوکرائنولوجسٹ اور میڈیسن کے ماہرین کے نسخے پر استعمال کیا جائے جبکہ بعض صورتوں میں ماہر امراض قلب بھی اسے تجویز کر سکتے ہیں تاہم اس پر عمل درآمد کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
تیرونیلویلی میڈیکل کالج کے پروفیسر جے اے جے لال نے کہا کہ انڈیا میں فی الحال اس حوالے سے ’مجموعی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔‘انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہاکہ ’یہ ادویات آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے دستیاب ہیں، جو ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ اگر انہیں مناسب طبی نگرانی اور دیکھ بھال کے بغیر استعمال کیا گیا تو یہ متعدد پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔‘
تاہم انڈین حکام کے مطابق اس وقت فارماسیوٹیکل سپلائی چین میں ممکنہ بے ضابطگیوں کو روکنے اور غیر مجاز فروخت و استعمال کی روک تھام کے لیے ’ہدفی اقدامات کا ایک سلسلہ‘ شروع کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مریضوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ طبی نگرانی کے بغیر وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایسی ادویات صرف مستند طبی ماہرین کی رہنمائی میں استعمال کریں۔‘










سعودی عرب نے پاکستان کے لیے کھلو دئے اپنے خزانے ، قرض سے نجات کے لیے دے گا 46 کھڑب روپے سے زیادہ
پاکستان : مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خطرے نے پاکستان کی پہلے سے نازک صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں ریاض کا موقف پاکستان کے لیے خوش آئند ریلیف ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کے دہانے پر

اپریل پاکستان کے لیے ایک لٹمس ٹیسٹ رہا ہے۔ پاکستان کے قرضوں کے اعداد و شمار پر ایک نظر حیران کن ہیں :کل قرض ادا کرنا ہے: صرف اسی ماہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کی مد میں 5 بلین ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔

پاکستان پر متحدہ عرب امارات کا کتنا قرضہ ہے؟ پاکستان اپنے کل قرضوں کا ایک اہم حصہ، 3.5 بلین ڈالر، صرف متحدہ عرب امارات کا مقروض ہے۔

انتباہ: فوری مدد یا رول اوور کے بغیر (پرانے قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع)، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 11.5 بلین ڈالر تک گر سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملک کی لیکویڈیٹی مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب سے پاکستان کی اپیل: اس دباؤ کے درمیان، اسلام آباد نے ریاض سے 5 بلین ڈالر کے نئے قرضے کی درخواست کی ہے اور اس کی تیل کی مالی معاونت کی سہولت میں اگلے پانچ سال تک توسیع کی ہے۔

صرف ٹرسٹ کی ‘گارنٹی’
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں کسی نئے مالیاتی معاہدے یا قرض کی رقم کی باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھرپور تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کوئی ہنگامی بیل آؤٹ نہیں ہے بلکہ دو دیرینہ اتحادیوں کے درمیان جاری ہم آہنگی کا حصہ ہے۔ تاہم اس دورے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لیے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

معاشی امداد سے ہٹ کر سعودی وزیر خزانہ نے ایک اور اہم بیان دیا جس نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ریاض نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی صلاحیت پر گہرے اعتماد کا اظہار کیا۔ تاہم یہ صورت حال اتنا ہی چیلنج پیش کرتی ہے جتنا کہ یہ ایک سفارتی فتح دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے دونوں اطراف سے تعلقات ہیں۔ عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں اس کے حقیقی اثر و رسوخ کی حد تک ایک بڑا سوال ہے۔









کیونکہ سب سے چھوٹے تابوت سب سے بھاری ہوتے ہیں
آج صبح کی چائے گرم تھی، لیکن آنکھیں ٹھنڈی پڑ گئیں۔ موبائل سکرین پر اس تصویر نے دل کو چھلنی کردیا ۔ ہوائی جہاز کے اندر، خالی نیلی نشستیں اور مسکراتی ہوئی ا سکول کی لڑکیوں کی تصاویرایک چھوٹی سی لڑکی حجاب میں ،ایک لڑکا پیلے کرتے میں اور ان کے بغل میں سفید کی کلی جو دھیرے ۔ دھیرے مرجھا رہی تھی ۔ ذہن میں بیٹی کا چہرہ چمکا۔ کیسے وہ اسکول جانے کی تیاری کرتی ہے ۔ اور ہم اسے بس اسٹاپ پر چھوڑ نے جاتے ہیں ۔ یہ تصویر ہم جیسے کروڑوں والدین کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

ہوائی جہاز کے اندر اکثر شور ہوتے ہیں، لوگ باتیں کرتے اور ہلچل ہوتی ہے ۔ لیکن ایران سے اسلام آباد جانے والی اس فلائٹ پر ایک گہری خاموشی ہے۔ یہ خاموشی ان معصوم خوابوں کی خاموشی ہے جو اب بکھر چکے ہیں۔ ایرانی وفد ان 168 لڑکیوں کی یادیں لے کر آیا ہے جن کی ہنسی 28 فروری کے حملے میں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھی۔مناب میں لڑکیوں کے اسکول پر مجرمانہ اور بزدلانہ بم دھماکے کی ذمہ داری نہ ڈونلڈ ٹرمپ نے لی اور نہ ہی بنجمن نیتن یاہو نے ۔ لیں بھی کیسے ؟ ایک لیڈر کہتا ہے کہ وہ ایرانی تہذیب کو ہی تباہ کر دیں گے، اور یہ زندہ ہی اس لئےبچے ہیں کہ بات چیت کرسکیں ۔ دوسرے کو غزہ میں قبریں کھودوانے کی عادت ہے۔ لیکن یہ صرف “اہداف” نہیں تھے۔ کسی کی پیاری بیٹیاں تھیں۔ انہیں ب پسند تھیں اور یہ کتابوں سے پیار کرتی تھیں ۔ ان کے والدین نے ان میں ان گنت خواب بُنے ہوں گے۔

اس تصویر کو غور سے دیکھئے ۔ کہیں ایک پھولوں والا بیگ ہے،تو کہیں ایک معصوم سی مسکراہٹ ۔ ایک سیٹ پر ایک گلاب کا پھول رکھا ہوا ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ایک مختصر پیغام: “اس پرواز میں میرے ساتھی۔ ایک تلخ سچائی ہے۔ جو چلے گئے وہ پیچھے نہیں چھوٹتے ۔ وہ ہمارے سفر اور ہمارے خیالات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ ہم سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں: کیوں؟”

ہندوستان ہو یا ایران، غم کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔ جب کسی ا سکول پر حملہ ہوتا ہے تو پوری انسانیت کا مستقبل دم توڑ جاتا ہے۔ ایران میں بیٹیوں کی لاشیں گریں لیکن یہ نقصان پوری دنیا کا ہے۔

یہ طیارہ صرف کاغذات لے کر نہیں آیا ۔ یہ اپنے ساتھ دنیا کا ضمیر لے کر آیا ہے ۔ یہ ایک اڑتی ہوئی یادگار ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری ترقی اس وقت تک بے معنی ہے جب تک کہ بچے اپنے کلاس رومز میں محفوظ نہ ہوں۔
دعا ہے کہ #Minab168 کی یادیں ہمیں ایک ایسی دنیا بنانے کی ترغیب دیں جہاں کسی بچے کو جنگ کا شکار نہ ہونا پڑے، کیونکہ سب سے چھوٹے تابوت سب سے بھاری ہوتے ہیں۔


*🛑سیف نیوز اُردو*






*درے گاؤں کے مسائل پر سنگھرش سمیتی کا وفد میئر سے ملا: بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ*
مالیگاؤں: (نامہ نگار)

درے گاؤں علاقے میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور زیرِ زمین ڈرینیج کے کام سے پیدا ہونے والی ابتر صورتحال پر ’درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی‘ کے ذمہ داران اور مقامی بنکروں کے ایک وفد نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں میئر نسرین شیخ اور گٹ نیتا خالد حاجی سے اہم ملاقات کی۔

اس وفد کی قیادت سنگھرش سمیتی کے اہم ذمہ داران عمیر انصاری اور سفیان انصاری نے کی۔ وفد میں علاقے کے معززین اور صنعتکار بڑی تعداد میں شامل تھے، جن میں ساجد سیٹھ، انجم سیٹھ، مزمل سیٹھ، ببلو سیٹھ، نعیم سیٹھ، ڈاکٹر قدیر، علیم ٹیکسٹائل، سفیان رحمت اللہ، زید بھائی اور انجمام کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

ملاقات کے دوران عمیر انصاری اور سفیان انصاری نے میئر کو بتایا کہ درے گاؤں کا علاقہ میونسپل انتظامیہ کی توجہ کا منتظر ہے۔ علاقے میں گٹر اور نالوں کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ مزید برآں، عوام نے اپنے ذاتی خرچ سے جو سڑکیں درست کروائی تھیں، انہیں انڈر گراؤنڈ ڈرینیج کا کام کرنے والوں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ سڑکوں پر موجود گڑھوں کی وجہ سے حمالوں، مزدوروں اور راہگیروں کو گزرنے میں شدید دشواری ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی پاور لوم صنعت اور کاروبار پر پڑ رہا ہے۔

میئر نسرین بانو نے وفد کی تمام باتوں کو توجہ سے سنا اور ہدایت دی کہ کارپوریٹر کے لیٹر ہیڈ پر ان تمام شکایات کو درج کروا کر دیا جائے تاکہ ان کا فوری تکنیکی و انتظامی حل نکالا جا سکے۔ اس موقع پر گٹ نیتا خالد حاجی نے بھی مظلوم بنکروں اور رہائشیوں کو یقین دلایا کہ سڑکوں کی مرمت اور دیگر بنیادی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیا جائے گا تاکہ عوام کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
درے گاؤں کے بنکروں اور رہائشیوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ملاقات کے بعد علاقے میں رکے ہوئے ترقیاتی کاموں کو جلد از جلد شروع کیا جائے گا۔








*ماریہ صدف محمد عارف نوری نے دینیات میں اوّل مقام حاصل کیا-*
(پریس ریلیز) ماریہ صدف بنت محمد عارف نوری طالبہ اِرم پرائمری اسکول مالیگاؤں متعلّم ابتدائی نصاب دینیات منعقدہ ماہ دسمبر 2025 امتحان میں شریک ہوکر کلاس میں اوّل مقام حاصل کرکے کامیابی حاصل کی ادارہ امتحان دینیات زیرِ اہتمام معہدِ ملّت مالیگاؤں ابتدائی نِصاب دینیات دوسری جماعت کی سَند حضرت مولانا ادریس عقیل مِلّی صاحب اور مفتی حامد ظفر ملّی رحمانی صاحب کی دستخط سے تفویض کی گئی الحمدللہ اسی سال قرآن باالتجوید میں بھی ماریہ صدف نے نمایاں مقام حاصل کیا تھا دوسری جماعت دینیات امتحان میں اوّل مقام حاصل کرنے پر ماریہ صدف محمد عارف نوری صاحب کو مبارکباد و نیک خواہشات پیش کرتے ہیں اللہ پاک اِس بچّی کو مزید ترقیات سے نوازے۔ 
منجانب: سابق اسٹینڈنگ چیئرمین امانت اللہ پیر محمد، عتیق سر پاٹودہ، وکیل قریشی ممبر، محترم آزاد انور، انور پہلوان، ڈاکٹر پروفیسر محمد رمضان مکّی سر، مولانا عبدالرشید مجدّدی، ریحان کاجل، مصطفیٰ برکتی سر، مولانا مجاہدُ الاسلام بَیتی، افضل خان، شکیل مقادم، صادق کپتان و احباب۔







*9273481470*
*کاوش قلم ۔حفظ الرحمن وفا۔تحریک(مالیگاٶں وکاس منچ)*
*شاید کہ اتر جاۓ کسی دل میں مری بات*
*ہم نے جب سے ہوش سمبھالا یہی سنتے آرہے ہیں کہ اتی کرمن آیا ہے یا آنے والا ہے اب سڑکیں کشادہ ہوں گی راستے ہموار ہوں گے ہم گلی محلے میں کرکٹ گلی ڈنڈا کھیلیں گے اب گراونڈ یا میدان میں جانے کی ضرورت نہیں۔وقت گزرتا رہا ۔جب جب کوٸ نیا کمیشنر یا بر سراقتدار صدر بلدیہ یا میٸر کرسی پر برا جمان ہوتا وہ یا تو پہلا نعرہ اتی کرمن کی صفاٸ کا دیتا یا وقتاً فوقتاً پریس کانفرنس میں اس کار خیر کی دہاٸ دیتا ۔یہاں تک کہ کچھ بر سر اقتدار افراد نے اس اہم موزوں کو اپنے الیکشن کے مینو فیسٹو میں شامل کر کے اقتدار کا مزہ بھی لیا۔مگراللہ بھلا کرے ان سب صاحب اقتدار و صاحب اختیار افراد کا جن کی بدولت اس جنگل کی آگ کیطرح پھیلنے والے اتی کرمن کے جال کی گانٹھیں مزید مضبوط ہوتی گیٸں۔ مگر کسی صاحب نقدونظر اود عقل و فہم رکھنے والے اس گرہ کو کسی اورطرح سے کھولنے کی کوشش بھی نہیں کی۔*
*کیا یہ تماشا ہمیشہ ہمیش اسی طرح چلتا رہے گا۔یا پھر کوٸ اللہ کا نیک بندہ اس جال کو مستقل طور سے ختم کرنے کی سعی کرے گا۔*
*شاید اگر میں غلط نہیں ہوں تو اس شہر کی مکمل آبادی بلکہ اس شہرکاہر فرد اس سے بیزار اور اس کے مخالف نظر آتا ہے مگر۔۔۔*
*خواہ وہ اس شہر کا بچہ جوان بوڑھا چاہے مرد ہو یا زن ہر کوٸ اس ناسور اور بدبخت اتی کرمن کی اپنے اپنے انداز میں مخالفت کرتا ہوا دہاٸ دیتا ہوا نظر آتا ہے*
*مالیگاٶ ں کا ہرشہری میری نظر میں اس کریح جال میں غیر محسوس طریقے سے بندھا ہوا دکھاٸ دیتا ہے۔*
*جس طرح اگر ہمارےخاندان میں کسی قسم کی ناچاکی یا نا اتفاقی ہو جاتی ہے تو ہم اس کو حل کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔اور پہلی کوشش یہی رہتی ہے کہ اس مسٸلے کو آپس میں گھر میں بیٹھ کر سلجھالیں۔*
*اسی پس منظر میں ہم سب شہریان مالیگاٶں مل کر پہلی کوشش میں ہم انشااللہ اتی کرمن جیسے ناسور کو مستقل طور پر اپنے گھر سے ختم کریں۔اپنے اہل خانہ رشتہ دار دوست احباب اقربہ گلی محلے اور شہر سے اس جنجال کوپاک کریں۔*
*ہر شہری خود اتی کرمن نہ کرے اور اپنے ماتحتین کو نہ کرنے دیں اور اگر کوٸ اپنا قریبی اتی کرمن پر روزگار کی سعی کر رہا ہے تو پہلے شرعی طور سے اسے سمجھاٸیں اور نہ سمجھے تو اتی کرمن پر دھندہ بیوپار کرنے والے سے ہرگز لین دین نہ کریں۔چاہے وہ امیر ہو درمیانی طبقے کا یا غریب ہر ایک سے کہیں بھاٸ پہلےآپ شرعی حدود میں رہ کر روزگار کریں دھیرے دھیرے دیر سے سہی مگر اس ناسور کو ہم از خود سارے شہریاں مل کرایک دن اکھاڑکر پھینکیں گے۔انشاُ اللہ*









*ترقی کے نام پر 'اکھاڑہ' بنی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن*
*کیا عوام کے بھروسے کے ساتھ غداری ہو رہی ہے؟*
✍️ *وسیم رضا خان*
                              ⏺️⏺️⏺️ 
*مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن* کی دہلیز پر شہر کی ترقی اور عوامی مفاد کے مسائل پر بحث ہونی چاہیے تھی، لیکن 2 اپریل کو جو کچھ ہوا، اس نے جمہوریت کے مندر کو 'میدانِ جنگ' میں تبدیل کر دیا۔ جب ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے لوگ ہی قانون اور مریاداؤں کو بالائے طاق رکھ دیں، تو شہر کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگنا فطری ہے۔
جنرل باڈی کا اجلاس شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن وہاں بحث نے ایسا متشدد رخ اختیار کیا کہ کارپوریٹرز کے درمیان ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ برسر اقتدار اسلام پارٹی اور اے آئی ایم آئی ایم جیسی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان یہ تصادم محض سیاسی برتری کی جنگ نہیں تھی، بلکہ ان نمائندوں کی اس ذہنیت کا ثبوت تھا جو عوامی مفاد سے زیادہ ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ تنازعہ کا مرکز وہ مسئلہ تھا جس کا براہِ راست تعلق میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار سے تھا ہی نہیں۔ ووٹرز کی میپنگ اور ایس آئی آر کا عمل الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اقتدار میں موجود پارٹی کی یہ تجویز کہ بی ایل او کی مدد کے لیے مقامی بے روزگار نوجوانوں کو مقرر کر کے انہیں اعزازیہ دیا جائے، بظاہر تو فلاحی لگ سکتی ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی منشا اور انتظامی طریقہ کار پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ اپوزیشن کا یہ الزام کہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اجلاس میں ایسی تجاویز لائی جا رہی ہیں، حکمران جماعت کے طریقہ کار پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ مالیگاؤں میں جس طرح میپنگ اور ایس آئی آر کو لے کر خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ افواہوں کا بازار اس قدر گرم ہے کہ اسے 'پاکستان ڈی پورٹ' (ملک بدری) جیسے تنگ نظر اور خوفناک پہلو سے جوڑا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظر ثانی اور میپنگ کا کام الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے ماتحت آتا ہے۔ الیکشن کمیشن اس کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے سرکاری ملازمین یا منظور شدہ نجی ایجنسیوں کو ٹھیکہ دیتا ہے۔ اس میں بلدیاتی ادارے (کارپوریشن) کا کردار صرف انتظامی تعاون تک محدود ہوتا ہے؛ وہ خود تقرریاں کرنے یا معاوضہ طے کرنے والی مرکزی ایجنسی نہیں ہوتی۔ جنوری 2026 سے ملک کی دیگر ریاستوں میں یہ عمل انتہائی شفاف اور پرامن طریقے سے مکمل ہوا ہے۔ مالیگاؤں میں اسے مسئلہ بنا کر جو انتشار پھیلایا جا رہا ہے، وہ یا تو انتظامی نظام میں غیر ضروری مداخلت ہے یا حکمران جماعت کا کوئی ذاتی مفاد۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مالیگاؤں کے لیڈروں نے پچھلے کچھ سالوں میں جو کام کیا ہے، اس سے وہ خود مخالفین کو موقع فراہم کر دیتے ہیں۔ یہ ہماری کمزوری ہے کہ ہم خود کہتے ہیں 'آؤ اور ہماری دکھتی رگ کو دبا دو'۔ جیسا کہ گزشتہ سالوں میں 'بنگلہ دیشیوں کو مالیگاؤں میں بسانے' والا بیان دے کر کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی کو یہاں کے لوگوں کو نشانہ بنانے کا موقع مل گیا۔ میونسپل کارپوریشن کا بنیادی کام شہر کی سڑکوں، صحت، صفائی، پانی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہے۔ ایک ایسا ادارہ جہاں کے کارپوریٹرز اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہاں ہاؤس کے پروٹوکول اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑنا شرمناک ہے۔ جب حکمران گروہ ان کاموں میں مداخلت کی کوشش کرتا ہے جو الیکشن کمیشن کے اختیار میں ہیں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کے پیچھے کوئی خاص سیاسی مقصد ہے یا اپنے کارکنوں کو فائدہ پہنچانے کی خواہش؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ ان کے ذریعے جو 'ڈمی ووٹرز' (فرضی رائے دہندگان) بھرے گئے ہیں، ان کی بھی میپنگ ہو جائے گی؟ جس شہر کے نمائندے اجلاس میں جاہلوں کی طرح لڑتے ہوں، وہاں کی عوام کو بھی خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ شہر کے خزانے اور ترقی کی ذمہ داری جن ہاتھوں میں سونپی گئی ہے، وہی آپس میں 'لوٹ کھسوٹ' جیسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں 2 اپریل کا واقعہ محض ایک ہاتھا پائی نہیں تھی، بلکہ یہ جمہوری اقدار کا قتل تھا۔ اگر پڑھے لکھے کارپوریٹرز بھی ایوان کے آداب نہیں سمجھتے، تو یہ مالیگاؤں کے عوام کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہے۔ شہر کو ترقی چاہیے، نہ کہ بے بنیاد مسائل پر سیاسی اکھاڑہ۔ وقت آگیا ہے کہ عوام اپنے نمائندوں سے کام کا حساب مانگیں، نہ کہ ان کے پھیلائے ہوئے ابہام اور تشدد کا حصہ بنیں۔

Wednesday, 1 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

اوڈا فون آئیڈیا فاۓ جی کی شروعات 
مالیگاؤں شہر میں آئیڈیا اوڈا فون کا فاۓ جی سسٹم لانچ ہوا ہے آپ اپنے قریبی سینٹر پر جاکر اس کا فایدہ حاصل کر سکتے ہیں ضرور استعمال کریں کئی سہولیات نہایت رواں و آسان ۔۔۔ شہریان کو اس کا کئی دنوں سے انتظار تھا اب الحمدللہ یہ سہولت شروع ہوچکی ہے اس سے ضرور مستفیض ہوں اس طرح کا اظہار کمپنی کے زمہ داران نے ہو الائچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں کیا

*🛑سیف نیوز اُردو*

ہرمز پر امریکی ناکہ بندی ناکام ! دندناتے ہوئے نکل رہے ایرانی جہاز ، دنیا کو بے وقوف بنارہے ٹرمپ تہران: آبنائے ہرمز م...