کیا آیت اللہ علی خامنہ ای کا پنڈت جواہر لال نہرو کا مداح ہونا وزیر اعظم مودی کی ناراضگی کی وجہ بنا؟شرد پوار کے بیان نے چھیڑی نئی سیاسی جنگ
مغربی ایشیا میں جاری ایران۔اسرائیل جنگ اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف عالمی سفارت کاری بلکہ بھارت کی داخلی سیاست میں بھی زبردست ہلچل پیدا کر دی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے ایک ایسا سوال اٹھا دیا ہے جس نے تاریخ اور موجودہ سیاست کے تعلق کو نئی بحث کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پوار کا سیدھا سوال ہے کہ کیا آیت اللہ علی خامنہ ای کا پنڈت جواہر لال نہرو کا مداح ہونا وزیر اعظم مودی کی ناراضگی کی وجہ بنا؟‘اگر عالمی لیڈر ہیں تو جنگ رکوا دیں وزیر اعظم مودی’
شرد پوار نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود کو ایک ’وشو گرو‘ اور عالمی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی اس ساکھ کو استعمال کرتے ہوئے ایران۔اسرائیل جنگ رکوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پوار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مودی جی کو اپنے دوست ممالک، یعنی اسرائیل اور امریکہ، سے کہنا چاہیے کہ یہ خونریزی بند کریں۔ ان کے مطابق پوری دنیا آیت اللہ علی خامنہ ای کا احترام کرتی ہے، سوائے اسرائیل کے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای بھارت کے سچے دوست تھے اور ہر مشکل وقت میں ہندوستان کا ساتھ دیتے رہے۔
نہرو کنکشن پر اٹھایا سوال
شرد پوار نے اس پورے معاملے کو تاریخی تناظر سے جوڑتے ہوئے ایک سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے نظریات کے بڑے مداح اور پیروکار تھے۔ پوار نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی بات وزیر اعظم مودی کی ناراضگی کی وجہ ہے؟ کیا نہرو سے وابستگی کے سبب ہی بھارتی حکومت ایک بڑے عالمی رہنما کی شہادت پر تعزیت ظاہر کرنے سے گریز کر رہی ہے؟ پوار نے مزید کہا کہ آخر بھارت کی صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کس بات سے خوفزدہ ہیں؟ کیا یہ خوف اسرائیل کا ہے یا پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا؟ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی دوست ملک کے اعلیٰ رہنما کو اس طرح قتل کیا جائے تو بھارت جیسے ملک کی قیادت کو اخلاقی بنیادوں پر افسوس کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔
سفارتی توازن کا چیلنج
موجودہ حالات میں بھارتی حکومت ایک نہایت مشکل سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک جانب اسرائیل کے ساتھ بھارت کے مضبوط اسٹریٹجک اور دفاعی تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ توانائی مفادات اور چاہ بہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبے وابستہ ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعظم مودی کی جانب سے بلائی گئی کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کی میٹنگ میں بھارت نے ’مذاکرات اور سفارت کاری‘ پر زور تو دیا، تاہم آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر کوئی باضابطہ تعزیتی بیان جاری نہ کرنے پر اپوزیشن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان میں حالات کشیدہ ، جگہ جگہ احتجاج ، صورتحال پر قابو پانا مشکل
ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑی ہوئی عالمی جنگ نہ صرف خلیجی ممالک میں بھڑک رہی ہے۔ اس کا اثر بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ایران میں میزائل دھماکے ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان میں اس کے مذہبی رہنما کی موت پر سوگ منایا جا رہا ہے۔ عاصم منیر بھلے ہی امریکہ کے قدموں پر گر گئے ہوں لیکن حالات ایسے ہیں کہ وہ امریکی سفارتخانے کے باہر ہونے والی افراتفری کو روکنے سے قاصر ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہ احتجاج پاکستان میں بھی پرتشدد رخ اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کے شہر کراچی میں امریکی قونصل خانے کے قریب پرتشدد مظاہروں کے دوران اتوار کو کم از کم ۹ افراد ہلاک ہو گئے۔ آج بھی صورتحال بہتر نہیں ہے ۔یہ مظاہرے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کی خبر کے بعد شروع ہوئے ہیں ۔اتوار کی صبح سینکڑوں ایرانی حامی مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کی عمارت کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ کراچی کے سول اسپتال کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا کہ اسپتال میں کم از کم 9 لاشیں لائی گئیں۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں لوگوں کو ایک زخمی شخص کو اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کچھ تصاویر میں مظاہرین کو مائی کولاچی روڈ پر واقع امریکی قونصلیٹ کی عمارت پر دھاوا بولنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس سے پاکستان کے دیگر شہروں میں احتجاج شروع ہوا۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ تحریک جعفریہ کی جانب سے امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کرنے کی کوشش کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔ حکام نے علاقے کو ریڈ زون قرار دے دیا گیا۔شیعہ اکثریتی گلگت بلتستان میں حالات قابو سے باہر ہوگئے، مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر کو آگ لگا دی۔ مقامی حکومت کے ترجمان شبیر میر کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر عمارت کو آگ لگا دی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اس کے علاوہ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہوئے لیکن تشدد کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ عینی شاہد عقیل رضا کے مطابق کچھ مظاہرین نے سیکیورٹی گیٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے طاقت کا استعمال کیے بغیر انہیں روک دیا۔
ایران میں افراتفری، پاکستان کی سڑکوں پر گولیاں برسیں۔
پاکستان میں یہ احتجاج کوئی نئی بات نہیں۔ وہاں کی شیعہ آبادی کو دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی یہ خدشات تھے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے پاکستان میں بدامنی پھیل جائے گی۔ چونکہ ایران اور پاکستان کی ایک طویل سرحد ہے، اس لیے خدشات ہیں کہ باغی اس بدامنی کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میں تباہی مچا سکتے ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے تشویش ناک ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی بلوچستان میں اندرونی کشمکش اور افغانستان میں بیرونی تنازعات سے دوچار ہے۔
ہر کھلاڑی پر 50۔50 لاکھ کا جرمانہ ، T20 ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد PCB کا بڑا ایکشن
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ناقص کارکردگی کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہونے والی پاکستان کرکٹ ٹیم پر 50 لاکھ پاکستانی روپے کا بھاری جرمانہ عائد کردیا۔ ہندوستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 12 لاکھ روپے بنتی ہے۔ اگرچہ آپ نے جیتنے پر انعامات وصول کرنے والی ٹیموں کے بارے میں سنا ہو گا، لیکن ہارنے کے بعد ہر ٹیم کے کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کرنے کا یہ ایک انوکھا اور غیر معمولی معاملہ ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کے خلاف شکست کے فوراً بعد لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آفیشلز نے واضح طور پر کھلاڑیوں کو بتایا ہے کہ کافی لاڈ ۔ پیار ہو چکا ہے۔ اب سے مالی فوائد صرف کارکردگی کی بنیاد پر دئے جائیں گے ۔
پاکستان سپر 8 سے باہرپاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میچ میں نیدرلینڈ کے خلاف شکست سے بال بال بچ گیا اور پھر امریکہ کے خلاف جیتنے میں کامیاب رہا۔ سری لنکا کی کنڈیشنز سے واقفیت اور معیاری اسپن باؤلرز کی موجودگی کے پیش نظر بھارت کے خلاف بہتر کارکردگی کی توقع تھی لیکن ایشیا کپ کے تین میچوں کی طرح اس بار بھی ٹیم ناکام رہی۔ نمیبیا کو شکست دینے کے بعد، پاکستان نے آسانی سے سپر 8 کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف اس کا پہلا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا، اور پھر وہ انگلینڈ سے ہار گیا، جس سے سیمی فائنل میں پہنچنے کی ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف انگلینڈ کی فتح نے پاکستان کی امیدوں کو زندہ کر دیا، لیکن سری لنکا کے خلاف ایک چھوٹی سی جیت بھی ان کے رن ریٹ میں خاطر خواہ بہتری لانے میں ناکام رہی۔ جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ بھی سیمی فائنل میں پہنچ گیا، اور پاکستان کا سفر ختم ہوگیا۔
پی سی بی بھارت سے ہارنے کے فوراً بعد حرکت میں آیا
شائقین کی طرح بورڈ حکام بھی ٹیم کی کارکردگی سے شدید نالاں ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ہر کھلاڑی پر 50 لاکھ روپے (50 لاکھ روپے) جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جہاں کھلاڑیوں کو اچھی کارکردگی پر انعامات ملتے ہیں وہیں انہیں خراب کارکردگی پر جرمانے بھی ادا کرنا ہوں گے۔ ٹیم کو اس فیصلے کی اطلاع ہندوستان سے ہارنے کے فوراً بعد دی گئی۔ پی سی بی اپنے A-کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو 45 لاکھ کی ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ICC کی آمدنی سے 27 لاکھ کا حصہ ادا کرتا ہے۔ کیٹیگری بی کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 30 لاکھ روپے اور آئی سی سی کا حصہ 15 لاکھ روپے ملتا ہے۔ کیٹیگری سی کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 10 لاکھ روپے کی تنخواہ اور 10 لاکھ روپے کا آئی سی سی کا حصہ ملتا ہے۔ کیٹیگری ڈی کے کھلاڑیوں کو 7 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور 7 لاکھ روپے کا ICC شیئر ملتا ہے۔ میچ کی فیس الگ ہے۔ یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک کیٹیگری اے کے کسی بھی کھلاڑی کو سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔
کاغذی شیر ثابت ہوئے پاکستانی کھلاڑی
رواں ورلڈ کپ میں صاحبزادہ فرحان پاکستان کی جانب سے 383 رنز کے ساتھ ٹاپ ا سکورر تھے۔ حیران کن طور پر دیگر ٹاپ بلے باز صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابر اعظم اور عثمان خان پورے ٹورنامنٹ میں انفرادی طور پر 100 رنز بھی بنانے میں ناکام رہے۔ باؤلرز میں 10 وکٹیں لینے والے اسپنر عثمان طارق کے علاوہ باقی ٹیم نے معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کوچ مائیک ہیسن کے قریبی سمجھے جانے والے کپتان سلمان علی آغا بلے سے بری طرح ناکام رہے اور بطور کپتان ان کے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگتا رہا ۔ پی سی بی آنے والے دنوں میں مزید سخت ایکشن لے سکتا ہے۔