مغربی بنگال میں دوپہر 1 بجے تک 62.18 فیصد، تامل ناڈو میں 56.81 فیصد ووٹنگ، بنگال کے مرشد آباد میں ہوا جم کربوال
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں جمعرات کی دوپہر 1 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 62.18 فیصد رہا، جب کہ تمل ناڈو میں 56.81 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے پہلے، جمعرات کی صبح 11 بجے تک ریکارڈ کی گئی ووٹنگ فیصد کو دیکھتے ہوئے، یہ اعداد و شمار مغربی بنگال میں 41.11 فیصد اور تمل ناڈو میں 37.56 فیصد تھے۔مغربی بنگال کے 16 اضلاع کی 152 اسمبلی سیٹوں کے لیے جمعرات کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ یہ ان اہم اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہے، جو دو مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات کے دوران ووٹرز میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا، کئی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔
بھارت کی ریاست مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ جاری ہے۔ صبح سویرے ہی پولنگ اسٹیشنز کے باہر ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جہاں عوام جوش و خروش کے ساتھ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں 16 اضلاع کی 152 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ نشستیں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم معنی جا رہی ہیں اور ریاست بھر میں انتخابی ماحول اپنے عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔
دوسری جانب تمل ناڈو میں آج ایک ہی دن میں ریاست کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی پولنگ کی وجہ سے ریاست بھر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ووٹروں میں خاصا جوش پایا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے دونوں ریاستوں میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں، تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔ مرکزی فورسز اور مقامی پولیس کی بھاری نفری پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کی گئی ہے، جب کہ حساس علاقوں میں اضافی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صبح کے
اوقات میں ووٹنگ کا عمل پرامن انداز میں جاری ہے اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی خبر نہیں ملی۔ الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالیں۔
آبنائے ہرمز میں ایران کا حملہ، بھارت آنے والے جہاز کو بنایا نشانہ
نیویارک: ایران نے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں ایک ایسے جہاز پر حملہ کیا جو بھارت کے مندرا بندرگاہ جا رہا تھا۔ یہ حملہ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی بڑھانے کی بات کی تھی۔ایرانی بحریہ کی کارروائی
سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، یہ ان دو جہازوں میں شامل تھا جن پر اسلامک ریولوشنری گارڈ کور نیوی (آئی آر جی سی-این) نے حملہ کرنے اور انہیں اپنی تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ جہازوں کے نام ’ایم ایس سی فرانسسکا‘ اور ’ایپامینونڈاس‘ بتائے گئے ہیں۔
جہاز کا سفر اور ملکیت
شپنگ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق، لائبیریا کے پرچم والا جہاز “ایپامینونڈاس” دبئی کے جبل علی بندرگاہ سے گجرات کے مندرا بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا اور توقع تھی کہ وہ جمعرات تک اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز یونان کی کمپنی ’کالمار میری ٹائم ایل ایل سی‘ کی ملکیت ہے۔
پہلے بھی ہو چکے ہیں حملے
اس سے قبل ہفتہ کے روز بھی ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بھارتی جہازوں پر حملہ کیا تھا، حالانکہ انہیں وہاں سے گزرنے کی اجازت حاصل تھی۔ اس واقعے پر بھارت نے سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ آئی آر جی سی-این کے مطابق، ان جہازوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ “بغیر اجازت کام کر رہے تھے۔”
حملے کی وجہ اور نقصان
برطانیہ کی بحریہ سے منسلک ایک مانیٹرنگ ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی گن بوٹس نے دو جہازوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور وہ تقریباً ناکارہ ہو گیا، جبکہ دوسرا جہاز بھی متاثر ہوا۔ حالانکہ، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران نے ان جہازوں کو مکمل طور پر قبضے میں لیا یا نہیں۔
امریکی ردعمل اور کشیدگی
امریکی حکومت یا صدر ٹرمپ کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ امریکی بحریہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
عالمی اہمیت اور پس منظر
ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے اس ایرانی جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچایا اور اس پر فوجی دستے بھی سوار ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاز میں چین سے آیا کوئی ’تحفہ‘ موجود تھا۔ حالانکہ، چین نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔
داغ دہلوی کی 121ویں برسی، ایسا بڑا شاعر جس کے شاگرد تھے علامہ اقبالؒ
حیدرآباد، تلنگانہ: اردو کے معروف شاعر داغ دہلوی جن کا نام نواب مرزا خان اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 17 مارچ 1905 کو یعنی 74 برس کی عمر میں حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ دہلوی دہلی کے محلہ چاندنی چوک میں پیدا ہوئے تھے جب کہ اب اس کا نام کوچہ استاد داغ کے نام سے موسوم ہے۔ داغ دہلوی کا کلام دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہے۔ اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔
داغ کے زمانے میں زبان کی دو سطحیں تھیں ایک علمی اور دوسری عوامی، غالب علمی زبان کے نمائندے تھے اور داغ کی شاعری عوامی تھی، وہ عوام سے گفتگو کرتے تھے۔ داغ فطری شاعر تھے اور ان کے موضوعات میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ داغ کی حیدرآباد میں مقبولیت اور شہرت کا راز ان کی خوش اخلاقی، ملنساری، خودداری اور ہمدردی تھا۔ حیدرآباد آنے سے پہلے لوگ، داغ کو اچھی جانتے تھے۔داغ دہلوی کی 121ویں برسی
داغ کے حیدرآباد آنے سے پہلے ان کا دیوان، گلزار داغ حیدرآباد پہنچ چکا تھا۔ دکن حیدرآباد کے نظام نواب میر محبوب علی خاں بہادر بھی داغ کی شخصیت اور شاعری کے مداح تھے اور ریاست حیدرآباد دکن کے عوام داغ کی شاعری کے شیدائی تھے۔ حیدرآباد آنے کے بعد میر محبوب علی خاں بہادر نے داغ کو چار سو روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی۔ داغ دہلوی کو کئی اعزازات سے نوازا گیا اور 3 سال بعد داغ کی تنخواہ ایک ہزار روپے ماہانہ کردی گئی۔
داغ دہلوی کے انتقال پر حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان
حیدرآباد میں داغ کا مکان افضل گنج میں تھا۔ 74 سال کی عمر میں داغ دہلوی کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کی اطلاع پر بادشاہ وقت میر محبوب علی خاں بہادر نے غم کے اظہار کیا اور حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ داغ کی نماز جنازہ عیدالاضحیٰ کے روز تاریخی مکہ مسجد میں ادا کی گئی۔ ان کے جنازہ میں میر محبوب علی خاں بہادر کے علاوہ ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ داغ کی تدفین نامپلی میں واقع درگاہ حضرت یوسفینؒ کے احاطہ میں عمل میں آئی۔داغ دہلوی کے شاگردوں کی ہزاروں میں تعداد
داغ دہلوی کے تعلق سے یہ مشہور ہے کہ جس تعداد میں ان کو شاگرد میسر ہوئے۔ اتنے کسی اور شاعر کو نہیں مل سکے، ان کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے جس میں سے علامہ اقبالؒ، جگر مرادآبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی قابل ذکر ہیں۔
اردو کے معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل
ان معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ ان کے یوم وفات پر ای ٹی وی بھارت نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی سے خاص بات چیت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ داغ دہلوی اردو غزل کے پائے کے شاعر تھے، انہوں نے اردو غزل کو ایک نئی سمت بخشی ہے جس طرح سے ادبی اصول و ضوابط کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے عام فہم شاعری کی ہے اس کی مثال اب تک کے شعرا میں نہیں ملتی۔
داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے بھلا دیا
انہوں نے کہا تھا کہ المیہ یہ ہے کہ داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے اپنے حوالہ جات و تحقیقی مضامین میں شامل کرنا کم کردیا ہے، جس کی وجہ سے نسل نو سے نہ صرف ایک بہترین شاعری اوجھل ہوتی جا رہی ہے بلکہ خود داغ دہلوی کی شخصیت بھی دور ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ داغ دہلوی سے علامہ اقبالؒ اپنی اصلاح کرواتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ علامہ اقبالؒ کی ابتدائی شاعری کو پڑھیں گے تو اس میں داغ دہلوی کی شاعری کی جھلک ملے گی۔ انہوں نے داغ دہلوی کے کچھ اشعار کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ صرف یہی اشعار نہیں بلکہ داغ دہلوی کے بیشتر اشعار معنی خیز اور پرمغز ہیں، جو نسل نو کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔