Wednesday, 25 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



اسرائیل کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم مودی کا خطاب، کہا: ’ہندوستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے‘

PM Modi’s Israel Visit : وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے دو روزہ دورے پر تل ابیب پہنچ چکے ہیں ۔ اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset میں خطاب کیا ۔ پی ایم مودی نے کہا کہ میں اسی دن پیدا ہوا تھا جب ہندوستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان پوری شدت کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے حماس کے حملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معصوموں کا قتل کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت نے بھی دہشت گردی کا سامنا کیا ہے اور طویل عرصے سے کر رہا ہے۔ 26/11 میں کئی معصوم جانیں گئیں، جن میں کئی اسرائیلی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری پالیسی زیرو ٹالیرنس (Zero-Tolerance) ہے۔ انہوں نے ابراہم اکارڈ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ہندوستان امن کی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ امن کا راستہ آسان نہیں ہے، لیکن ہندوستان یہاں امن لانے کے لیے آپ کا ساتھ دے گا۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ “عالمی جنگ میں 4 ہزار ہندوستانی فوجیوں نے اسرائیل کے لیے جان دی۔” انہوں نے “ہائفہ کے ہیرو” میجر دلپت سنگھ کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے پہلی عالمی جنگ (World War I) کے دوران اسرائیل کے لیے لڑائی لڑی۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا کہ جلد ہی ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہا ہے اور ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔








جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو بڑا جھٹکا : سات خطرناک دہشت گرد ہلاک، فوج کا دعویٰ
کشتواڑ کے پہاڑی علاقوں میں طویل آپریشن کے بعد بڑی کامیابی
فوج نے پیر کے روز کہا کہ اس نے Jammu and Kashmir میں دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سیکیورٹی فورسز نے ضلع کشتواڑ میں ایک انکاؤنٹر کے دوران پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم Jaish-e-Mohammed کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں انتہائی مطلوب کمانڈر سیف اللہ بھی شامل تھا۔

فوج کے مطابق یہ کارروائی چترو (Chatroo) کے پاس پاسرکٹ علاقے میں ’’ٹراشی۔I‘‘ آپریشن کے دوران انجام دی گئی، جہاں دہشت گردوں کے قبضے سے دو اے کے-47 رائفلیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
326 دن جاری رہنے والا ہائی آلٹیٹیوڈ مشترکہ آپریشن
White Knight Corps نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا کہ کشتواڑ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں 326 دن تک مسلسل مشترکہ آپریشن چلایا گیا۔ اس کارروائی میں Jammu and Kashmir Police اور Central Reserve Police Force نے بھی حصہ لیا۔

فوج کے مطابق دہشت گردوں کو شدید سردی، برفباری اور مشکل جغرافیائی حالات میں مسلسل ٹریک کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی بار فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان رابطہ ہوا اور بالآخر تمام سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی جیسے FPV ڈرونز، سیٹلائٹ تصاویر اور UAVs کا استعمال کیا گیا، جس سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر مؤثر نگرانی ممکن ہو سکی۔

سیف اللہ : کئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ
فوج کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد کمانڈر سیف اللہ تقریباً پانچ سال قبل دراندازی کر کے جموں و کشمیر میں داخل ہوا تھا اور تب سے علاقے میں سرگرم تھا۔

اطلاعات کے مطابق وہ سیکیورٹی فورسز پر کئی مہلک حملوں میں ملوث تھا، جن میں جولائی 2024 کا وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں چار فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ سیف اللہ اس سے قبل متعدد انکاؤنٹرز میں فرار ہونے میں کامیاب رہا تھا۔اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے فورسز کو خراجِ تحسین
شمالی کمان کے کمانڈر Pratik Sharma نے وائٹ نائٹ کور کے اہلکاروں کی ’’تیز اور درست‘‘ کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان مضبوط تال میل کا نتیجہ ہے۔

فوج کے مطابق رواں سال جموں خطے میں مختلف انکاؤنٹرز میں اب تک جیشِ محمد کے سات دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جن میں :

4 فروری کو ادھم پور کے رام نگر جنگلات میں دو دہشت گرد

23 جنوری کو کٹھوعہ کے پارہتار گاؤں میں ایک دہشت گرد

اور حالیہ کشتواڑ آپریشن میں تین دہشت گرد شامل ہیں۔










اب سرکاری دفاتر میں نماز ادا کرنا بھی جرم؟ نماز کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سیاسی بیانات میں شدت، معاملہ وزیراعلیٰ تک پہنچا
مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں سرکاری دفتر کے اندر نماز ادا کرنا بھی شاید اب جرم بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مالے گاؤں میونسپل کارپوریشن کے بجلی شعبے کے دفتر میں اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد سیاسی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔دفتر میں نماز پڑھنے کا معاملہ

معلومات کے مطابق، متعلقہ وارڈ میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث کئی افراد شکایت لے کر بجلی شعبے کے دفتر پہنچے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ شام تک بجلی بحال نہ ہونے پر ناراض لوگوں نے دفتر کے احاطے میں اثر کی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ بڑھ گیا۔

حکومت میں وزیر نے اٹھائے سنگین سوالات

اس مسئلے پر مہاراشٹر حکومت میں وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن یا کسی بھی سرکاری دفتر میں نماز پڑھنے کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری ادارے عوام کی خدمت اور ترقیاتی کاموں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے۔ رانے نے کہا کہ اگر کسی سرکاری دفتر میں مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ رانے نے انتظامی نظم و ضبط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات انتظامیہ کی سنجیدگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مدارس کے حوالے سے بھی بیان دیا اور کہا کہ ریاست میں ان کی ضرورت اور کام کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سی ایم فڈنویس کو شکایت نامہ

بی جے پی لیڈر کریت سومیا نے الزام لگایا کہ کچھ میونسپل ملازمین اور دیگر افراد نے کھلے عام بجلی شعبے کے دفتر میں نماز ادا کی۔ انہوں نے اس معاملے کی شکایت وزیراعلیٰ دیوینڈر فڈنویس سے کی۔ سومیا نے متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ملازمین کو معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو خط بھی بھیجا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*


ربانی فیمیلی کے چار درخشاں ستاروں کی شعبہ طب میں بلند پرواز 
گورنمنٹ کوٹے سے فری سیٹ پر ایڈمیشن 
الحمدللہ رب العالمین، شہر عزیز مالیگاؤں کے مشہور و معروف سماجی و علمی خانوادے مرحوم الحاج بقرعیدی سردار و الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر فیمیلی کے چار بچوں نے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم میں فری سیٹ حاصل کر کے ثابت کردیا کہ محنت اور جہد مسلسل ہی کامیابی کی کلید ہے- الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے پسرزادے ڈاکٹر راشد ربانی کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد کاشف اور ان کی انکی اہلیہ ڈاکٹر لائبہ نے گذشتہ سال ایس ایم بی ٹی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ سینٹر (دھامن گاؤں، اگت پوری) کالج سے ایم بی بی ایس میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے مالیگاؤں سول ہاسپیٹل اور مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن ہیلتھ سینٹر میں خدمات پیش کرتے ہوئے اپنی اسٹڈی جاری رکھی، ڈاکٹر محمد کاشف ڈاکٹر راشد ربانی نے ایم-ڈی (مائیکرو بایولوجی) کے لئے گورنمنٹ کوٹے سے "فری سیٹ" پر ڈاکٹر وی ایم گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، شولا پور، میں داخلہ حاصل کیا جبکہ ڈاکٹر لائبہ کاشف نے گورنمنٹ میڈیکل کالج، میرج (سانگلی) میں ایم-ڈی (پی ایس ایم) کی پوسٹ پر گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" حاصل کی- اسی طرح الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے دوسرے صاحبزادے ایڈوکیٹ رفیق ربانی کی صاحبزادی درخشاں فردوس ایڈوکیٹ رفیق ربانی نے نیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" پر ضلع دھولیہ کی اجمیرا میڈیکل کالج آف آیوروید میں بی اے ایم ایس میں داخلہ حاصل کیا- اسی طرح ربانی ماسٹر کے تیسرے صاحبزادے ریحان ربانی کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ریحان ربانی نے گذشتہ سال رائل کالج آف فیزیو تھراپی سے بیچلر میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے پی جی کے لئے گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" حاصل کرتے ہوئے اندو تائی گائیکواڑ پاٹل کالج آف فیزیو تھراپی، دھوٹی، ناگپور میں داخلہ حاصل کیا جبکہ دوسری صاحبزادی جویریہ ریحان ربانی بھی فری سیٹ پر احمد غریب یونانی میڈیکل کالج، اکل کنواں سے بی یو ایم ایس کر رہی ہے مزید برآں کہ محمد ناصر ڈاکٹر راشد ربانی و محمد مصدق رضوان ربانی ایم بی بی ایس، کر رہے ہیں ڈاکٹر محمد معظم ایڈوکیٹ رفیق ربانی "رفا ہیلتھ کیئر" میں اپنی خدمات دراز کیے ہوئے ہیں ان تمام کامیابیوں میں ربانی فیمیلی کی مرحومہ حجن رضیہ ربانی و ریاض الدین ربانی ماسٹر کی لافانی دعائیں شاملِ حال ہیں- ربانی فیمیلی کے لیے رضوان ربانی نے مزید دعاؤں کی درخواست کی ہے-












رمضان المبارک: روحانی تربیت، صدقہ و خیرات اور خود احتسابی کی تاکید
رمضان المبارک اسلامی سال کا سب سے بابرکت اور مقدس مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ روحانی تربیت، اخلاقی اصلاح اور سماجی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے معمولات کا جائزہ لیں اور خود کو بہتر انسان بنانے کی کوشش کریں۔

رمضان میں سب سے اہم عمل روزہ رکھنا ہے، جو انسان کو صبر، برداشت اور تقویٰ سکھاتا ہے۔ روزے کے ساتھ پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور باجماعت نماز کا اہتمام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تراویح کی نماز بھی اسی مہینے کا خاص تحفہ ہے، جس میں قرآنِ مجید سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ علما کے مطابق رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اس لیے تلاوت کے ساتھ اس کے ترجمے اور مفہوم پر غور کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اس کی تعلیمات عملی زندگی میں شامل کی جا سکیں۔اس مہینے میں صدقہ و خیرات کی بھی خاص تاکید کی گئی ہے۔ صاحبِ استطاعت افراد کو چاہیے کہ وہ مستحق خاندانوں کی مدد کریں، راشن تقسیم کریں اور افطار کا اہتمام کریں۔ اس سے نہ صرف ضرورت مندوں کی مدد ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں ہمدردی اور بھائی چارہ بھی فروغ پاتا ہے۔ اسی طرح دعا اور استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ رمضان رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔

دوسری جانب کچھ امور ایسے ہیں جن سے رمضان میں خاص طور پر بچنے کی ضرورت ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، بدزبانی اور لڑائی جھگڑا روزے کی روح کے منافی ہیں۔ ماہرینِ دین کا کہنا ہے کہ اگر انسان برے اخلاق ترک نہیں کرتا تو صرف بھوکا پیاسا رہنا مقصدِ روزہ حاصل نہیں کرتا۔ اسی طرح سحری اور افطار میں اسراف سے گریز کرنا چاہیے اور سادگی کو اختیار کرنا چاہیے۔

جدید دور میں ایک اور اہم پہلو وقت کا درست استعمال ہے۔ سوشل میڈیا اور غیر ضروری مشاغل میں وقت ضائع کرنے کے بجائے عبادت، مطالعہ اور اہلِ خانہ کے ساتھ مثبت وقت گزارنا زیادہ فائدہ مند ہے۔رمضان خود احتسابی اور اصلاح کا مہینہ ہے۔ اگر اس مہینے میں ہم اپنی عادات سنوار لیں اور نیکی کو معمول بنا لیں تو یہی تبدیلی ہماری پوری زندگی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔










"ہاں، میرے روس کی لڑکیوں کے ساتھ افیئر تھا ،" بل گیٹس نے آفس میٹنگ میں کیا اعتراف ، اسٹاف سے مانگی معافی
واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین بزنس ٹائیکون بل گیٹس ’ایپسٹین فائلز‘ کی تازہ ترین بیچ میں بری طرح پھنس گئے تھے ۔ ان کو لے کر ایسے راز کھلے کہ سننے والے حیران رہ گئے۔ کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے، جن میں روسی خواتین کے ساتھ تعلقات، مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ دوستی اور پھر دشمنی، اور جنسی بیماری شامل ہیں۔ مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس نے حال ہی میں ان تمام الزامات پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔ انہوں نے اپنے ملازمین کے سامنے آفس میٹنگ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور سب سے معافی مانگی۔ گیٹس نے کھلے عام روسی خواتین کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعتراف کیا۔

بل گیٹس نے ٹاؤن ہال میٹنگ میں اپنے جرم کا اعتراف کیابل گیٹس نے حال ہی میں ٹاؤن ہال میٹنگ کی اور اپنی فاؤنڈیشن کے ملازمین سے کھل کر بات کی، اپنی غلطیوں پر معافی مانگی۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق گیٹس نے ملاقات کے دوران اعتراف کیا کہ ان کے روسی خواتین کے ساتھ تعلقات تھے اور جیفری ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

گیٹس نے دو روسی خواتین کے ساتھ تعلقات کا اعتراف کیا۔ ایک پل پلیئر تھا جس سے اس کی ملاقات ایک تقریب میں ہوئی تھی، اور دوسرا جوہری طبیعیات دان تھا جس سے وہ کام پر ملے تھے ۔ تاہم گیٹس کا کہنا ہے کہ یہ خواتین ایپسٹین کے چنگل کا شکار نہیں تھیں۔

گیٹس نے اعتراف کیا کہ ایپسٹین جیسے مجرم سے ملنا اور اسے اپنے فاؤنڈیشن کے عہدیداروں سے ملوانا ایک سنگین غلطی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی ہے۔

بیوی نے سمجھانے کی کوشش کی
جنسی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کے تحت جیل میں انتقال کر جانے والے جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق کی وجہ سے گیٹس کی شبیہہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ ان کی سابقہ ​​بیوی میلنڈا کو 2013 کے اوائل میں ایپسٹین پر شک ہو گیا تھا۔ انہوں نے گیٹس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن گیٹس نے اس وقت انہیں نظر انداز کر دیا۔

گیٹس نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ نجی جیٹ پر سفر کیا اور نیویارک، پیرس اور واشنگٹن میں ان سے ملاقات کی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی بھی ایپسٹین کے بدنام زمانہ “پریسٹ آئی لینڈ” کا دورہ نہیں کیا۔ ایپسٹین نے گیٹس کو دنیا بھر کے ارب پتیوں سے اپنی فاؤنڈیشن کے لیے فنڈز دینے کا وعدہ کر کے لالچ دیا تھا۔ گیٹس نے کہا کہ وہاں موجود دیگر اہم شخصیات کو دیکھ کر انہیں لگتا ہے کہ سب کچھ “معمول” ہے۔

جیفری ایپسٹین کا 2019 میں جیل میں انتقال ہو گیا تھا، اس کے بعد سے اب تک کئی نامور عالمی رہنماؤں اور بزنس ٹائیکونز کے نام اس سے جوڑے جا چکے ہیں۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے ان کی فاؤنڈیشن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل پہنچنے پر شاندار استقبال ۔ وزیراعظم کے اسرائیل دورے نے بھارت۔اسرائیل تعلقات کو نئی جہت دی
 وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر Israel پہنچے، جہاں Benjamin Netanyahu اور ان کی اہلیہ Sara Netanyahu نے Ben Gurion Airport پر ان کا پرتپاک اور شاندار سرکاری استقبال کیا۔

وزیر اعظم مودی تقریباً نو برس بعد اسرائیل کے دورے پر پہنچے ہیں۔ ان کا طیارہ Tel Aviv کے بن گوریون ایئرپورٹ پر اترا جہاں اسرائیلی فوج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر خیرمقدم کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔اس دورے کو بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی، تکنیکی اور اسٹریٹجک تعاون کے مزید فروغ کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

دفاع، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر اہم مذاکرات
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران اسرائیلی قیادت کے ساتھ مصنوعی ذہانت (AI)، دفاعی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق، زرعی ٹیکنالوجی اور آبی انتظام جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کریں گے۔

اسرائیل اس وقت اپنی دفاعی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے جبکہ بھارت جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے حصول پر خاص توجہ دے رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

وزیر اعظم مودی شام کو اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب کریں گے اور بعد میں ایک ٹیکنالوجی و انوویشن نمائش کا دورہ بھی کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو ان کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ دیں گے۔

یاد واشیم میموریل کا دورہ اور تاریخی اہمیت
دورے کے دوسرے دن وزیر اعظم مودی Yad Vashem جائیں گے، جو ہولوکاسٹ میں قتل کیے گئے تقریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کی یاد میں قائم اسرائیل کی سرکاری یادگار ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور انسانی ہمدردی کے تعلقات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔بھارت۔اسرائیل تعلقات کا پس منظر
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر وزیر اعظم مودی کے دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور انوویشن کے شعبوں میں تیزی سے تعاون بڑھا ہے۔

سال 2017 میں وزیر اعظم مودی کا تاریخی اسرائیل دورہ اس حوالے سے ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔ اس کے بعد 2018 میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نئی دہلی کا دورہ کیا جس سے اسٹریٹجک شراکت مزید مستحکم ہوئی۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے درمیان دورے کی اہمیت
وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔

تاہم بھارتی حکام کے مطابق یہ دورہ مکمل طور پر دوطرفہ تعاون پر مرکوز ہے اور اس کا مقصد بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو مزید وسعت دینا ہے۔









پھلوں پر چوہے مار دوا لگانے کے الزام میں مہاراشٹر میں دو پھل فروش منوج کمار اور بپن گرفتار، دکان سیل
مہاراشٹر کے ممبئی کے شمالی نواحی علاقے ملاڈ میں پھلوں کی فروخت سے متعلق ایک سنگین اور چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ملزمین منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی پھلوں پر چوہے مار دوا لگا کر انہیں بازار میں فروخت کر رہے تھے۔ اس واقعے کی شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی اور فروخت کنندگان کی دکان سیل کر دی۔ پولیس نے ملزمین منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی کو حراست میں لے لیا ہے۔منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی پھلوں پر ریٹینول نامی دوا لگا رہے تھے

بتایا گیا ہے کہ فروخت کنندگان پھلوں پر ریٹینول نامی دوا لگا رہے تھے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی شہری کنال سالنکے نے پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت میں کہا گیا کہ دو پھل فروش پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے بہانے ان پر زہریلا مادہ لگا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پورا واقعہ کیمروں میں بھی ریکارڈ ہوا، جسے ثبوت کے طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملاڈ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور فوری طور پر موقع پر پہنچ کر تحقیقات کیں۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزمان نے قبول کیا کہ وہ پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے لیے ان پر چوہا مار دوا لگاتے تھے۔ پولیس افسران نے کہا کہ اس طرح کا کام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے انتہائی خطرناک بھی ہے۔

افسران نے کیا کہا؟

بتایا گیا ہے کہ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن کی شناخت منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 125، 274، 275 اور 286 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان کی دکان سیل کر دی ہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ خوراک کے ساتھ اس قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر تحقیقات میں مزید حقائق سامنے آتے ہیں تو متعلقہ محکموں کو کارروائی کے لیے مطلع کیا جائے گا۔ ایسے میں لوگوں میں اس بات کو لیکر بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے کہ رمضان المبارک جیسے مبارک مہینے میں روزے دار پھلوں کا غذا کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں، اب وہ کس طرح پھلوں کی تحقیق کریں؟












لوگ نئے سال پر ’ورزش کرنے کا عہد‘ جلدی کیوں بھول جاتے ہیں؟
ہر سال لاکھوں افراد نئے برس آغاز پر اپنے ساتھ کچھ عہد یا وعدے کرتے ہیں کہ وہ ان کو نبھانے کی کوشش کریں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سال کا آدھ ماہ گزرنے کے بعد بہت کم لوگ خود کو ان وعدوں پر پابند رکھنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
سنہ 2024 کے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 28 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنے ساتھ کیے وعدوں میں سے متعدد کو جنوری کے آخر تک برقرار نہیں رکھ پاتے جبکہ 13 فیصد تمام ’ریزولوشنز‘ کو پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں۔
نئے سال کے لیے خود کے ساتھ کیے ان وعدوں میں سب سے زیادہ لوگوں نے صحت برقرار رکھنے کے لیے ورزش پر زور دیا ہوتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے نارک سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک سروے کے مطابق صحت سے متعلق سالانہ ریزولوشنز میں زیادہ ورزش کرنے کو معمول بنانے کی خواہش دیگر تمام پر حاوی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر شخص جانتا ہے کہ صحت ہی سب کچھ ہے مگر اس کے باوجود زیادہ تر لوگ ورزش کے حوالے سے اپنے عزم کو برقرار نہیں رکھ پاتے۔
حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں سی این این کے چیف میڈیکل نمائندے ڈاکٹر سنجے گپتا نے ماہر نفسیات ڈیانا ہل سے پوچھا کہ ’لوگ اپنے جسم کو حرکت کیوں نہیں دیتے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ورزش ان کے لیے اچھی ہے؟‘
انہوں نے جواب میں بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے جسمانی طور پر اچھا ہے۔ اموات کی شرح کم ہو رہی ہے، کینسر کی شرح کم ہو رہی ہے۔ لیکن ہم میں سے صرف ایک چوتھائی حقیقت میں ایسا کر رہے ہیں۔‘
ڈیانا ہل کے مطابق ’جب ورزش شروع کرنے کی بات آتی ہے تو بہت سے لوگ نہ کرنے کی کافی وجوہات کے ساتھ سامنے آنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ان میں ایک سب سے عام سی وجہ کہ ’میرے پاس کافی وقت نہیں ہے‘ یا پھر یہ کہ ’میں تو ویسے ہی سارا دن چلتا پھرتا رہتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے اپنے جسم کو حرکت دینے میں بہت سی اندرونی رکاوٹیں ہیں، نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔‘
ڈیانا ہل کا کہنا تھا کہ ’موٹیویشن ایک مستقل چیز سے زیادہ ایک وقتی لہر ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جس طرح جو لوگ ہمارا یہ پوڈ کاسٹ اس وقت سُن رہے ہیں وہ ورزش کی کلاس کے لیے سائن اَپ کر دیں گے لیکن جب کلاس شروع ہو جائے گی، تو بہت سے لوگوں کی موٹیویشن آغاز پر ہی ختم ہو چکی ہو گی۔‘
ماہرین نفسیات کے مطابق انسان اپنی عادات کو مشکل سے بدلتا ہے اور عموما ورزشن کرنے کے مناسب موسمی صورتحال کا اتنظار کرتا ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہو پاتا۔

*🔴سیف نیوز اردو*



*کارپوریٹر حاجی کلیم دلاور نے ٹوٹے سلیپ کا کام مکمل کروا دیا*
   *قصاب باڑہ مسجد کے سامنے کافی دنوں سے سلیب ٹوٹا ہوا تھا، جس کی وجہ سے نمازیوں اور عام عوام کو آنے جانے میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ بزرگ افراد، خواتین اور بچوں کے لیے یہ مسئلہ خاص طور پر تکلیف دہ بن گیا تھا۔*
   *الحمدللہ! کارپوریٹر حاجی کلیم دلاور صاحب کی سرپرستی اور نعیم دلاور کی نگرانی میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سلیب کی مرمت کا کام مکمل کروا دیا گیا۔ اب راستہ ہموار ہو چکا ہے اور عوام کو بڑی راحت نصیب ہوئی ہے۔*
*عوامی خدمت کا یہی جذبہ اصل قیادت کی پہچان ہوتا ہے۔*












خانقاہ رحمانیہ(مسجدہدایت الاسلام،مالیگاؤں) میں اعتکاف
Khanqah E Rahmaniya (Masjid Hidayatul Islam, Malegaon) Mein Etekaf

 _खान्क़ाह ए रहमानीया (मस्जिद हिदायतुल इस्लाम,मालेगाव) मे एतेकाफ

گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی خانقاہ رحمانیہ،مسجد ہدایت الاسلام بسم ﷲباغ میں رمضان المبارک کے آخری عشرے(دس دن) کا مسنون اعتکاف شیخ طریقت حضرت مولانامحمدعمرین محفوظ رحمانی صاحب کی نگرانی میں ہوگا ان شاءﷲ
لہٰذا جو احباب اعتکاف کرنا چاہتے ہوں وہ بعد نماز ظہر مولانا شکیل احمد صاحب(نائب امام مسجد ہدایت الاسلام،بسمﷲباغ) سے ملاقات کر کے اپنا نام لکھوادیں یا درج ذیل نمبرات پر رابطہ قائم فرمائیں۔

(1) محمدیوسف رحمانی 
9326288568                       
(2) مولوی حمیدالرحمان رحمانی
9226844484
3) مولانا ابوبکر رحمانی
 7030320073

 منجانب: متوسلین خانقاہ رحمانیہ،بسمﷲباغ،مالیگاؤں
                            ٭٭٭٭
 Khanqah E Rahmaniya (Masjid Hidayatul Islam, Malegaon) Mein Etekaf

Guzishta saalo ki tarah imsaal bhi khanqah Rahmaniya, Masjid Hidayatul Islam Bismillah baag me Ramzanul Mubarak ke Aakhri Ashre (10 din) ka masnoon Etekaf Shakhe Tareeqat Hazrat Maulana Muhammad Umrain Mahfooz Rahmani Sahab DB ki nigrani me honga Inshaallah.

Lehaza jo ahbab Etekaf karna chahte ho wo baad namaze zohar Maulana Shakeel Ahmad Sahab (Nayab Imaam Masjid Hidayatul Islam, Bismillah baag) se mulaqaat kar ke apna naam likhwa dein ya darja zel numbraat par raabta qayam farmaye.

1) Muhammad Yusuf Rahmani 9326288568
2) Maulana Hamidurrahman Rahmani 9226844484
3) Maulana Abubakar Rahmani 7030320073

                                ٭٭٭٭
 खान्क़ाह ए रहमानीया (मस्जिद हिदायतुल इस्लाम,मालेगाव) मे एतेकाफ

गुज़िश्ता सालों की तरह इम्साल भी खान्क़ाह ए रहमानीया, मस्जिद हिदायतुल इस्लाम बिस्मिल्लाह बाग में रमज़ानुल मुबारक़ की आखरी अशरे (१० दिन) का मसनून एतेकाफ शैखे तरीक़त हज़रत मौलाना मुहम्मद उम्रैन महफुज़ रहमानी साहब की नीगरानि में होगा इंशाअल्लाह

लेहाज़ा जो अह्बाब एतेकाफ करना चाहते हो वो बाद नमाज़े ज़ोहर मौलाना शकील अहमद साहब (नायब इमाम मस्जिद हिदायतुल इस्लाम, बिस्मिल्लाह बाग) से मुलाकात कर के अपना नाम लिखवा दें या दर्जा ज़ेल नंबरात पर राब्ता क़ायम फरमाए।

1) मुहम्म्द युसुफ रहमानी।9326288568
2) मौलवी हमिदुर्रहमान रहमानी। 9226844484
3) मौलाना अबूबकर रहमानी। 7030320073

 मिनजानिब:-मुतवस्सिलीन खानकाह ए रहमानिया, बिस्मिल्लाह बाग, मालेगाव।
                               ••••••••••••••••











سحری کے وقت کی روحانیت، ماہرینِ دین نے عبادت کی اہمیت اجاگر کی
رمضان المبارک میں سحری کا وقت روحانی طور پر نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ماہرینِ دین کے مطابق اس وقت اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے اور دعائیں قبول ہونے کا خاص موقع ہوتا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سحری کے وقت کو صرف کھانے پینے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عبادت اور ذکر و اذکار میں بھی گزاریں۔

سب سے پہلے سحری بروقت کرنا سنت ہے۔ حدیث مبارکہ کے مطابق سحری میں برکت ہے، اس لیے اسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ سحری میں ہلکی اور متوازن غذا استعمال کرنی چاہیے تاکہ دن بھر توانائی برقرار رہے اور عبادات میں سستی نہ ہو۔سحری کے وقت تہجد کی نماز ادا کرنا بہت فضیلت رکھتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو چند رکعت نفل ادا کر کے اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگنی چاہیے۔ یہ وقت استغفار کا بھی بہترین موقع ہے، اس لیے کثرت سے استغفار پڑھنا چاہیے۔

قرآنِ پاک کی تلاوت بھی سحری کے وقت کرنا انتہائی مفید ہے۔ چند آیات ہی کیوں نہ ہوں، باقاعدگی سے تلاوت دل کو سکون اور روح کو تازگی دیتی ہے۔ اسی طرح درود شریف اور دیگر مسنون اذکار پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

سحری کے وقت نیت کی تجدید بھی ضروری ہے۔ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہر برائی سے بچنے کا عہد ہے۔ اس لیے دل میں پختہ ارادہ کرنا چاہیے کہ آج کا دن صبر، حسنِ اخلاق اور نیکیوں کے ساتھ گزاریں گے۔سحری کا وقت صرف کھانے کا نہیں بلکہ عبادت، دعا اور خود احتسابی کا بہترین موقع ہے۔ جو لوگ اس وقت کو صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہیں، وہ رمضان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سحری کے وقت کو صرف کھانے پینے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عبادت اور ذکر و اذکار میں بھی گزاریں۔

Tuesday, 24 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




مالیگاؤں کے ہیرے ناسک میں چمکے، نیم گاؤں میں شاندار استقبالیہ۔ الگ تحصیل کی کوشش کا اعادہ۔ 
مالیگاؤں/ گذشتہ دنوں ہوے عام چناوُ میں مالیگاؤں تعلقہ اور دابھاڑی کے سیاسی خانوادہ نے ناسک کارپوریشن کے چناوُ میں حصہ لیا۔ اور ڈاکٹر یوگیتا (بھابھی) اپورو ہیرے نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ اس تعلق سے انہیں جہاں شہری استقبالیہ دیا جارہا ہے وہیں ہیرے خاندان کی جنم بھومی نیم گاؤں میں بھی انہیں اور نو منتخب صدر بلدیہ ساگر مدن ہیرے کو شہری استقبالیہ دیا گیا۔ اس تعلق سے منعقدہ تقریب میں تعلقہ کے نوجوان لیڈر ڈاکٹر ادوے پرشانت ہیرے نے کہا کہ نیم گاؤں ان کا آبای' گاؤں ہے اور اس کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاے گی وہیں یہاں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے عظیم الشان پتلے کی تنصیب اور تزئین کاری کی بات کہی۔ اس موقع پر نو منتخب ناسک کی کارپوریٹر ڈاکٹر یوگیتا (بھابھی) اپورو ہیرے نے عوامی استقبالیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہیرے خاندان کی بہو ہونے کے ناطے اس گھرانے کی تعلیمی، سیاسی اور سماجی ترقیاتی کاموں کو مذید آگے بڑھانے کی کوشش کرنے کی باتیں بتایء۔ وہیں۔نو منتخب صدر بلدیہ ساگر مدن ہیرے نے شہر کی ترقیاتی کاموں میں ہمیشہ موجود رہنے کا اعادہ کیا۔ سابق ٹیچرزMLC ڈاکٹر اپورو ہیرے نے نیم گاؤں میں علحیدہ تحصیل کے مطالبے پر کہا کہ اس شہر کی ترقی کے لیے مذید تعلیمی ادارے قائم کر کے یہاں ترقیاتی رجحان کو بڑھاوا دیا جائے گا۔۔ اپنی صدارتی تقریر میں تعلقہ کے لیڈر بنڈو کاکا بچھاو نے ہیرے خاندان کی ضلع بھر میں کی گئی تعلیمی، سیاسی اور سماجی ترقیاتی کاموں کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق وزیر پشپا تایء ہیرے کے وقت سے ان کے ہر پروگرام میں تقریر کرنے کا شرف اور خدمات، کی تحریک انہیں سے ملنے کی بات بتایء۔ انہوں نے کرم ویر بھاوء صاحب ہیرے، لوک نیتے وینکٹ راو ہیرے، پشپا تایء ہیرے۔ ڈاکٹر پرشانت دادا ہیرے، اور ڈاکٹر اپورو ہیرے، کے سیاسی و تعلیمی خدمات کو اجاگر کرنے ہوےء شہریان کا شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر تشار شواڑے، نلیش کچوے، مدن گایکواڑ،پون ٹھاکرے،دیپک گایکواڑ،سندیپ پاٹل،سنجے نکم،اشوک اکھاڑے،منوج ہیرے، JD انا ہیرے وغیرہ موجود تھے۔پروگرام کی نظامت پروفیسر نروڑے سر نے کی۔











جس راستے سے آتا ہے ہندوستان کا تیل، پوتن نے وہاں سیکورٹی بڑھانے کیلئے کیوں کہا؟
ماسکو: روس اور یوکرین کی جنگ کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس تباہ کن جنگ میں دونوں ممالک کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگرچہ امن مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن امن ابھی دور نظر آتا ہے۔ اسی دوران روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اس جنگ کے حوالے سے بیان دیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ٹی وی پر آ کر ایسی بات کہی جس سے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی۔ پوتن نے اچانک اس سمندری راستے کی سیکورٹی بڑھانے کا حکم دیا ہے جہاں سے ہندوستان کے لیے تیل آتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں اس بڑے فیصلے کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

کیا ہے پوتن کی منصوبہ بندی؟پوتن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحیرہ اسود کے نیچے بچھائی گئی روس کی توانائی پائپ لائنوں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر حکم جاری کیا ہے کہ ان تمام اہم مقامات پر انسدادِ دہشت گردی سیکورٹی کو کئی گنا بڑھا دیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو اضافی حفاظتی آلات بھی نصب کیے جائیں۔

پوتن کو کس بات کا خدشہ ہے؟
پوتن کا اشارہ واضح طور پر یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کی جانب ہے۔ روس کو خدشہ ہے کہ جس طرح پہلے نارڈ اسٹریم پائپ لائن کو نقصان پہنچایا گیا تھا، ویسا ہی کچھ بحیرہ اسود میں بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے پوتن نے نہ صرف پائپ لائنوں بلکہ عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ مراکز پر بھی زیادہ سے زیادہ سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ہندوستان پر کیا اثر ہوگا؟
بحیرہ اسود وہ علاقہ ہے جہاں سے ہندوستان آنے والا روسی تیل اور گیس گزرتے ہیں۔ روس اس وقت ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگر ان پائپ لائنوں یا جہازوں کے راستوں پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو ہندوستان کو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا براہِ راست اثر عوام پر پڑے گا، کیونکہ تیل کی کمی ہوتے ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔













ٹرمپ کے جنگی جہازوں کا چورن بنائے گا چین، ایران سے ہوگئی خفیہ ڈیل، امریکہ کے سر پر پھٹے گا 250KG بارود
تہران: ٹرمپ کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اسی غرور میں وہ بار بار ایران کو دھمکاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مان لیا ہے کہ ہتھیاروں کے معاملے میں ایران ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن یہیں خامنہ ای نے انہیں مات دے دی ہے۔ حال ہی میں ایران نے چین کے ساتھ ایک خطرناک دفاعی معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت امریکہ کے جنگی جہازوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی مہلک سپر سونک اینٹی شپ میزائلوں کی کھیپ خریدی جائے گی۔ آئیے جانتے ہیں کہ خامنہ ای، شی جن پنگ سے کون سی میزائل خرید رہے ہیں اور یہ کتنی طاقتور ہیں؟

ایران اور چین کے درمیان کیا ڈیل ہوئی؟مشرق وسطیٰ میں اس وقت جنگ جیسے حالات ہیں۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ساحل کے قریب جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں، تو دوسری طرف ایران نے چین کے ساتھ مل کر ایک خفیہ معاہدہ فائنل کر لیا ہے جس نے پینٹاگون کی نیند اڑا دی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران چین سے CM-302 نامی انتہائی خطرناک سپر سونک اینٹی شپ میزائل خریدنے جا رہا ہے۔

کیا امریکی جنگی جہاز تباہ ہو جائیں گے؟
یہ میزائل اتنی تیز رفتار ہیں کہ دشمن کے ریڈار انہیں پکڑ بھی نہیں پاتے۔ ان کی رینج تقریباً 290 کلومیٹر ہے اور یہ سمندر کی لہروں کے بالکل قریب انتہائی رفتار سے پرواز کرتی ہیں۔ اسرائیل کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر کا کہنا ہے کہ اگر یہ میزائل ایران کے پاس آ گئیں تو اس علاقے میں موجود کسی بھی جہاز کو بچانا ناممکن ہو جائے گا۔ یہ میزائل براہ راست امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو ڈبونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

کافی عرصے سے رکی ہوئی تھی اینٹی شپ میزائل ڈیل
بتایا جا رہا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان یہ بات چیت گزشتہ دو سال سے جاری تھی، لیکن گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد اس میں تیزی آ گئی۔ ایران کے نائب وزیر دفاع خود چین گئے تھے تاکہ اس معاہدے کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ تاہم چین نے اب تک اس ڈیل پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر یہ سودا مکمل ہو جاتا ہے تو دہائیوں بعد ایسا ہوگا کہ چین نے ایران کو اتنا جدید ہتھیار فراہم کیا ہوگا جو براہ راست امریکی گھیراؤ کو توڑ سکتا ہے۔

چین کی CM-302 میزائل کتنی خطرناک ہے؟
چین کی CM-302 میزائل کو سمندر کا ’غیر مرئی شکاری‘ کہا جاتا ہے۔ یہ چین کی اپنی مہلک ترین میزائل YJ-12 کا برآمدی ورژن ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا کے جدید ترین جنگی جہازوں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں اس کی خصوصیات:

سپر سونک رفتار
یہ میزائل آواز کی رفتار سے تین گنا زیادہ (Mach 3) رفتار سے پرواز کرتی ہے۔ اتنی تیز رفتاری کے باعث دشمن کے دفاعی نظام کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ جب تک ریڈار اسے پکڑتا ہے، یہ جہاز کے بالکل قریب پہنچ چکی ہوتی ہے۔

سمندر کی سطح کے قریب پرواز
CM-302 کی سب سے بڑی خاصیت اس کی ’سی اسکیمنگ‘ ٹیکنالوجی ہے۔ یہ میزائل پانی کی سطح سے صرف 10 سے 15 میٹر کی بلندی پر پرواز کرتی ہے۔ اس وجہ سے یہ دشمن کے ریڈار کی نظروں سے بچ جاتی ہے کیونکہ ریڈار اتنی کم بلندی پر آنے والی چیزوں کو آسانی سے نہیں دیکھ پاتے۔

ذہین میزائل
چین کا دعویٰ ہے کہ اس میزائل کی درستگی 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے، یعنی اگر اسے داغا جائے تو 10 میں سے 9 بار یہ سیدھا ہدف پر لگے گی۔ اس میں جدید گائیڈڈ سسٹم نصب ہے جو اسے دورانِ پرواز بھی اپنا ہدف ایڈجسٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

طاقتور دھماکہ
اس میں 250 کلوگرام وزنی وار ہیڈ نصب ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک CM-302 میزائل 5,000 ٹن وزنی گائیڈڈ میزائل جنگی جہاز کو مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ بنانے کے لیے کافی ہے۔’فائر اینڈ فارگیٹ‘ ٹیکنالوجی
اسے ایک بار لانچ کرنے کے بعد دوبارہ گائیڈ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ خود اپنا راستہ طے کرتی ہے۔ اسے زمین، بحری جہاز یا فائٹر جیٹ، کہیں سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔









*🔴سیف نیوز اردو*




انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر کی گرفتاری پر سیاست گرم، ’اقتدار کو سچ کا آئینہ دکھانا کوئی جرم نہیں بلکہ حب الوطنی ہے‘: راہل گاندھی
نئی دہلی: اے آئی سمٹ احتجاج معاملے میں انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر اور دیگر کارکنان کی گرفتاری کے بعد ملکی سیاست میں ایک بار پھر شدید ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے اس کارروائی کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ اقتدار کو سچ کا آئینہ دکھانا کوئی جرم نہیں بلکہ اصل حب الوطنی ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پرامن احتجاج ہندوستان کی تاریخی روایت رہی ہے اور یہ ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یوتھ کانگریس کے ان کارکنان پر فخر ہے جنہوں نے بے خوف ہوکر ملک کے مفاد میں آواز بلند کی۔ انہوں نے وزیر اعظم پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر سچ کو قید نہیں کیا جا سکتا۔کانگریس لیڈر نے امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس معاہدے میں قومی مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس ڈیل سے ملک کے کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ انہی معاملات کو عوام کے سامنے لانے کی وجہ سے یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب سمیت کئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا، جو جمہوری نظام کے لیے تشویشناک اشارہ ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے جہاں نوجوانوں کو پرامن احتجاج پر جیل بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اس معاملے کو عدالت، سڑک اور پارلیمنٹ ہر سطح پر اٹھائے گی اور گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ جاری رکھے گی۔

اسی دوران کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھڑگے نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا نوجوان روزگار کے بحران سے پریشان ہے جبکہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوام میں ناراضی بڑھ رہی ہے اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نہ کبھی ڈری ہے اور نہ ہی دباؤ میں آنے والی جماعت ہے۔ پارٹی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق نوجوان قیادت کو خوفزدہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور ملک کے مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت جاری رہے گی۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اے آئی سمٹ احتجاج کے بعد شروع ہونے والا یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ اپوزیشن اسے اظہارِ رائے کی آزادی کا مسئلہ قرار دے رہی ہے جبکہ حکومت قانون و نظم کی پاسداری کو ضروری بتا رہی ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر ملک میں احتجاج، جمہوری حقوق اور حکومتی کارروائیوں کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فی الحال گرفتار یوتھ کانگریس کارکنان کی رہائی کو لے کر سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ عدالتوں اور پارلیمنٹ دونوں میں زور و شور سے اٹھایا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو جمہوری حقوق کی لڑائی کے طور پر پیش کریں گی، جبکہ حکومت کی جانب سے ابھی مزید باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔











نالے میں گر گئیں عمران خان کی بہن ، اڈیالہ جیل کے باہر بڑا ہنگامہ
اسلام آباد: پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی آنکھوں کی بینائی کافی کم ہوگئی ہے ۔ جیل سے یہ خبر سامنے آئی تو دنیا بھر میں شہباز اور منیر کی شدید مذمت کی گئی۔ اب عمران خان کی بہن کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے جس سے ایک بار پھر پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی یقینی ہے۔ عمران خان کی بہن نورین نیازی ناقص سڑکوں اور پولیس ناکہ بندی کے باعث اڈیالہ جیل کے باہر گہرے نالے میں گر گئیں۔ وہ اپنے بھائی سے ملنے اور ان کی خیریت دریافت کرنے جیل گئی تھیں جہاں یہ حادثہ پیش آیا۔

اڈیالہ جیل کے باہر اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب عمران خان کی بہن نورین نیازی جاتے ہوئے توازن کھو بیٹھیں اور سیدھی نالے میں گر گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے جیل کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بند کر دیا تھا جس سے پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا تھا ۔ نورین اپنے بھائی کی خیریت دریافت کرنے کے لیے وہاں گئی تھیں لیکن ناقص انتظامات کے باعث وہ خود حادثے کا شکار ہو گئی۔عمران خان کی دوسری بہن علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔ علیمہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں جیل کے گیٹ تک پہنچنے سے روکا۔ انہوں نے پمز ہسپتال کی رپورٹ پر بھی شکوک کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کو آدھی رات کو اپنی دوسری آنکھ میں انجکشن لگایا گیا تھا۔ علیمہ نے سوال کیا کہ “اگر حکومت کچھ نہیں چھپا رہی تو رات گئے علاج کی ضرورت کیوں تھی؟ اور فیملی ڈاکٹروں کو خان ​​سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟”

علیمہ خان نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو گزشتہ 4 ماہ سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف 20 منٹ کے لیے ان سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی طبیعت خراب ہو رہی ہے اور انہیں فوری طور پر اسلام آباد کے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کے ذاتی ڈاکٹر ان کا معائنہ کر سکیں۔












بہار سیاست میں ہلچل : بہار کے راجیہ سبھا انتخابات سے پہلے نیا موڑ،اویسی نے کردیا گیم۔اب کیاکرینگے تیجسوی
بہار کے راجیہ سبھا انتخابات سے پہلے نیا موڑ
بہار کی پانچ راجیہ سبھا نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اتحادوں کے اندر نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج اس وقت سامنے آیا جب AIMIM نے مہاگٹھ بندھن سے ایک نشست کا مطالبہ کر دیا، جس سے RJD کی حکمت عملی متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق آر جے ڈی کو امید تھی کہ اے آئی ایم آئی ایم کے پانچوں اراکین اسمبلی اس کے امیدوار کی حمایت کریں گے، مگر پارٹی کے نئے مؤقف نے سیاسی حساب کتاب کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اویسی کی پارٹی کا مطالبہ، اپوزیشن کے لیے نئی مشکل
اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان نے واضح طور پر کہا کہ اگر مہاگٹھ بندھن دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو اپوزیشن کم از کم ایک نشست جیت سکتی ہے، لیکن اس کے لیے اے آئی ایم آئی ایم کو موقع دینا ہوگا۔ انہوں نے پارٹی سربراہ Asaduddin Owaisi کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوان بالا میں پارٹی کی نمائندگی ضروری ہے۔

اس بیان کے بعد اپوزیشن اتحاد میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور اب سب کی نظریں آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کے فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔

حنا شہاب کے نام پر بھی بحث تیز
آر جے ڈی کے رکن اسمبلی بھائی وریندر نے حنا شہاب کو راجیہ سبھا امیدوار بنانے کی کھل کر حمایت کی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس قدم سے کئی سیاسی فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، تاہم اصل مسئلہ نمبروں کا ہے کیونکہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود نہیں۔

مہاگٹھ بندھن کو اضافی حمایت کی ضرورت ہے، خاص طور پر چھوٹی پارٹیوں اور اے آئی ایم آئی ایم جیسے اتحادیوں کی۔

اسمبلی کا نمبر گیم : این ڈی اے مضبوط پوزیشن میں
بہار اسمبلی میں NDA کے پاس تقریباً 202 ارکان اسمبلی ہیں، جس سے وہ چار نشستیں آسانی سے جیتنے کی پوزیشن میں ہے جبکہ پانچویں نشست پر بھی دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔

اتحاد کے اندر نشستوں کی تقسیم کو لے کر کشمکش جاری ہے :

JD(U) دو نشستوں کا مطالبہ کر رہی ہے

BJP اپنے 89 اراکین کی بنیاد پر دو نشستوں کی مضبوط دعویدار ہے

باقی ایک نشست پر اتحادی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری ہے

انتخابی شیڈول کا اعلان

Election Commission of India نے بہار کی پانچ راجیہ سبھا نشستوں کے لیے انتخابی پروگرام جاری کر دیا ہے :

26 فروری : نوٹیفکیشن جاری

5 مارچ : نامزدگی کی آخری تاریخ

6 مارچ : کاغذات کی جانچ

9 مارچ : نام واپسی کی آخری تاریخ

16 مارچ : ووٹنگ

ان نشستوں پر موجودہ اراکین کی مدت 9 اپریل 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔

مہاگٹھ بندھن کی کمزور پوزیشن
اپوزیشن اتحاد میں آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کو ملا کر تقریباً 35 اراکین اسمبلی ہیں، جو ایک نشست جیتنے کے لیے درکار کوٹے سے کم ہیں۔ اس لیے اپوزیشن کو یا تو اضافی حمایت حاصل کرنا ہوگی یا کراس ووٹنگ پر انحصار کرنا پڑے گا۔

 بہار میں راجیہ سبھا انتخابات کی اہمیت
بہار میں راجیہ سبھا انتخابات ہمیشہ سے اتحاد کی سیاست کا امتحان رہے ہیں۔ چونکہ راجیہ سبھا کے ارکان کا انتخاب ریاستی اسمبلی کے ارکان کرتے ہیں، اس لیے اسمبلی میں عددی طاقت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں این ڈی اے مضبوط دکھائی دیتی ہے جبکہ اپوزیشن کو اندرونی اتحاد برقرار رکھنے اور نئے سیاسی ساتھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کی جانب سے نشست کا مطالبہ اسی سیاسی پس منظر میں ایک اہم موڑ بن کر سامنے آیا ہے، جس سے مہاگٹھ بندھن کی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





کوہاٹ میں پولیس وین پر حملہ: ڈی ایس پی سمیت پانچ اہلکار اور دو شہری ہلاک
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس وین پر شدت پسندوں کے حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے۔
منگل کو خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کوہاٹ کے نواحی علاقے شکردرہ روڈ پر پولیس وین پر شدت پسندوں کے حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ’حملے میں ایک ڈی ایس پی اسد محمود بھی جان سے گئے۔ دہشتگرد پولیس موبائل کو آگ لگا کر فرار ہو گئے۔‘علاقے میں پولیس کی بھاری نفری طلب کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لکیر ہے اور ان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’صوبائی حکومت شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور دونوں اہلکاروں نے اپنا آج قوم کے کل پر قربان کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ دکھ کی گھڑی میں شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور شہداءکے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
پیر کو ضلع کرک میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر شدت پسندوں نے کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا تھا اور بعد میں زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین اہلکار جان سے گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک ایمبولینس کو آگ لگا کے مریضوں سمیت جلا دیا گیا جبکہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔











رمضان المبارک میں پھلوں کے دام میں زبردست اضافہ، دکاندار نے کہا: 15 سال میں پہلی بار اتنی مہنگائی
علی گڑھ: رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی بازاروں میں پھلوں کی مانگ میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ روزہ رکھنے والے لوگ افطار میں پھلوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پھلوں کی قیمتوں میں بھی تیز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پھل فروش افضل خان بتاتے ہیں کہ رمضان کے شروع ہوتے ہی تقریباً ہر پھل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور اس بار مہنگائی پہلے کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

افضل خان کے مطابق پہلے جو چیکو 50 روپے فی کلو بیچ رہا تھا، وہ اب 80 روپے فی کلو ہو گیا ہے۔ سیب کی قیمت 100 روپے سے بڑھ کر 180 روپے فی کلو پہنچ گئی ہے، جبکہ سنترہ 100 روپے سے بڑھ کر 160 روپے فی کلو بک رہا ہے۔ پپیتا پہلے 30 روپے فی کلو تھا، جو اب 50 روپے فی کلو ہو گیا ہے۔ اسی طرح امرود 50 روپے سے براہِ راست 100 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔‘پہلے کبھی نہیں دیکھی اتنی مہنگائی’
ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر پھل کی قیمت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور مال بھی مہنگا آ رہا ہے، اس لیے دکان داروں کے پاس دام کم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ افضل گزشتہ تقریباً 15 سالوں سے پھلوں کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اتنے سالوں میں انہوں نے پھلوں پر اتنی مہنگائی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ان کے مطابق سپلائی اور بازار کی سیاست بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے، جہاں مال کو روک کر آہستہ آہستہ بازار میں ڈالا جاتا ہے، جس سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔گاہکوں پر مہنگائی کا اثر
انہوں نے بتایا کہ پہلے کے رمضان میں تربوز 20 روپے فی کلو تک بیچتا تھا، لیکن اس بار اس کی قیمت 50 سے 60 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ مہنگائی کا اثر نہ صرف گاہکوں پر بلکہ دکان داروں پر بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ افضل بتاتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں فروخت میں زمین و آسمان کا فرق آ گیا ہے۔ مہنگے نرخوں کی وجہ سے کئی غریب گاہک پھل خرید نہیں پا رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ یہی ان کی روزی روٹی ہے اور گزشتہ 15 سالوں سے اسی کام سے جڑے ہیں۔ اس لیے کمائی کم ہو یا زیادہ، انہیں یہ کام جاری رکھنا ہی پڑے گا۔










پاکستان کے لئے غضب کا اتفاق، کیا 1992...2009 اور 2017 والا کارنامہ دہراپائے گی پاکستان کی ٹیم
نئی دہلی۔ اس سال کا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آسٹریلیا کے لیے شرمناک ثابت ہوا۔ ٹیم گروپ مرحلے میں شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ آسٹریلیا کے جلد اخراج نے سوشل میڈیا پر ایک اہم بحث کو جنم دیا۔ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ جب بھی آسٹریلیا کی ٹیم آئی سی سی کے کسی ایونٹ سے اس انداز سے باہر ہوئی ہے، پاکستان چیمپئن بن کر سامنے آیا ہے۔ پاکستانی شائقین بہت خوش ہیں اور انہیں یقین ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے۔ کیا یہ دعوی صحیح ہے ہم آپ کو اس کے بارےمیں بتائیں گے ۔

بہت سے شائقین کے لیے، یہ صرف ایک آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا پیٹرن ہے جو پہلے آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس میں دیکھا گیا ہے۔ جب بھی آسٹریلیا کسی بڑے آئی سی سی ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے سے باہر ہوتا ہے تو پاکستان کسی نہ کسی طرح ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو شائقین میں بے پناہ جذبہ پیدا کرتا ہے۔ جہاں جنون ہے وہاں توہم پرستی بھی ہو جاتی ۔ اسے اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ جب بھی پاکستان نے آئی سی سی کا ٹائٹل جیتا آسٹریلیا پہلے راؤنڈ میں ہی باہر ہو گیا تھا۔: پاکستان نے پہلا ورلڈ کپ جیتا
1992 میں، آسٹریلیا ٹورنامنٹ کے اپنے پہلے دو میچ ہار گیا۔ انہوں نے زبردست واپسی کرتے ہوئے بقیہ چھ میں سے چار میں کامیابی حاصل کی، لیکن پھر بھی سیمی فائنل میں جگہ بنانے سے محروم رہا۔اس وقت، فارمیٹ ایک راؤنڈ رابن فارمیٹ تھا، جس میں تمام ٹیمیں ایک دوسرے سے ایک بار کھیلتی تھیں، اور ٹاپ چار سیمی فائنل تک پہنچ جاتی تھیں۔ تو، ہاں، تکنیکی طور پر، وہ گروپ مرحلے میں ہی باہر ہو گئے۔ عمران خان کی کپتانی میں پاکستان نے کرکٹ کی عظیم ترین کہانی لکھی۔ انہوں نے فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر پہلی بار ورلڈ کپ جیتا اور تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا۔

2009 T20 ورلڈ کپ
یہ پیٹرن 2009 میں دوبارہ سامنے آیا۔ آسٹریلیا گروپ مرحلے میں اس وقت باہر ہو گیا جب سری لنکا نے انہیں چھ وکٹوں سے شکست دی۔ پاکستان نے دونوں ہاتھوں سے موقع غنیمت جانا۔ وہ فائنل میں پہنچے اور کپتان یونس خان کی قیادت میں سری لنکا کو شکست دے کر اپنا پہلا T20 ورلڈ کپ جیتا۔ ایک بار پھر، آسٹریلیا کے جلد باہر ہونے کے بعد، پاکستان نے آئی سی سی کی ایک بڑی ٹرافی جیت لی۔

2017 چیمپئنز ٹرافی
پھر 2017 آیا۔ آسٹریلیا گروپ مرحلے میں ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہا اور باہر ہو گیا۔ دوسری سب سے بڑی ٹیم جنوبی افریقہ بھی جلد ہی باہر ہو گئی۔ پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے فائنل میں بھارت کو 180 رنز سے شکست دی، چیمپئنز ٹرافی کی تاریخ کے یادگار ترین میچوں میں سے ایک۔ سرفراز احمد کپتان تھے۔ تین بڑے ٹورنامنٹ۔ تین بار آسٹریلیا گروپ مرحلے سے باہر ہوا۔ تین بار پاکستان نے ٹائٹل اپنے نام کیا۔

2013 میں تاریخ بدل گئی
آسٹریلیا 2013 کی چیمپئنز ٹرافی میں بھی گروپ مرحلے سے باہر ہو گیا تھا۔ اس بار آئی سی سی کے دیگر ایونٹس میں پیٹرن ٹوٹ گیا۔ مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی میں ہندوستانی ٹیم نے فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔

*🔴سیف نیوز اردو*

اسرائیل کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم مودی کا خطاب، کہا: ’ہندوستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے‘ PM Modi’s Israel Visit : ...