Saturday, 12 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ہندوستان – چین کے درمیان براہ راست فلائٹ شروع، وزیراعظم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات سے پہلے بنا ماحول، 6 سال بعد فضائی خدمات بحال*
ہندوستان اور چین کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ ایک بار پھر بحال ہو گیا ہے۔ چائنا سدرن ایئرلائنز نے دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 6 سال کے طویل وقفے کے بعد براہِ راست پروازوں کی سروس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان پہنچنے سے محض چند گھنٹے قبل براہِ راست پروازوں کی بحالی کی یہ خبر سامنے آئی ہے۔ چائنا سدرن ایئرلائنز کے اس اقدام کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اسے ہندوستان اور چین کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ برکس سمٹ-2026 میں شرکت کے لیے ہندوستان آ رہے شی جن پنگ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے شام 5:45 بجے ملاقات متوقع ہے۔ اس دو طرفہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہونے کا امکان ہے۔

چائنا سدرن ایئرلائنز نے ہفتہ، 12 ستمبر 2026 کو اعلان کیا کہ وہ 21 ستمبر سے گوانگژو-نئی دہلی روٹ پر باقاعدہ مسافر پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔ ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق، یہ فضائی سروس تقریباً 6 سال کے وقفے کے بعد بحال کی جا رہی ہے۔ ایئرلائن نے کہا ہے کہ سروس بحال ہونے کے بعد وہ جنوبی ایشیا میں 8 راؤنڈ ٹرپ روٹس پر ہر ہفتے 100 سے زائد پروازیں چلائے گی۔چینی فضائی کمپنیوں کی جانب سے ہندوستان کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اپریل میں ایئر چائنا نے بیجنگ-دہلی کے درمیان براہِ راست پرواز سروس دوبارہ شروع کی تھی۔ یہ کسی چینی ایئرلائن کی جانب سے ہندوستان کے لیے بحال کی جانے والی دوسری براہِ راست فضائی سروس تھی۔ اس سے پہلے چائنا ایسٹرن ایئرلائنز نے 18 اپریل سے کنمنگ-کولکاتہ کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کی تھیں۔

کولکاتہ-شنگھائی کے درمیان براہِ راست پرواز
ہندوستانی ایئرلائن انڈیگو نے بھی 30 مارچ کو کولکاتہ اور شنگھائی کے درمیان روزانہ نان اسٹاپ پرواز سروس شروع کی تھی۔ اس اقدام سے ہندوستان اور چین کے درمیان فضائی رابطے کو مزید تقویت ملی۔ انڈیگو اس سے قبل کولکاتہ-گوانگژو پرواز سروس بھی بحال کر چکی ہے، جبکہ بعد میں دہلی سے چین کے لیے بھی پروازوں کا آپریشن شروع کر دیا گیا۔

ہندوستان اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں کووڈ-19 وبا کے دوران معطل کر دی گئی تھیں۔ اس کے بعد ڈوکلام اور گلوان تعطل کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں آئی کشیدگی کا بھی فضائی رابطے پر اثر پڑا تھا۔ تاہم اب دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ بہتری کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو عوامی رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات
اس دوران چینی صدر شی جن پنگ ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ سے نئی دہلی کے لیے روانہ ہو گئے۔ ژنہوا کے مطابق، شی جن پنگ ہفتہ ہی کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کریں گے۔

شی جن پنگ کے وفد میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو کی مستقل کمیٹی کے رکن اور مرکزی دفتر کے ڈائریکٹر کائی چی کے علاوہ چینی وزیر خارجہ اور پولٹ بیورو کے رکن وانگ یی بھی شامل ہیں۔

گلوبل ساؤتھ کو فروغ دینے پر زور
ژنہوا کے مطابق، شی جن پنگ برکس سربراہی اجلاس کے دوران گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون کو آگے بڑھانے سے متعلق تجاویز کو خصوصی اہمیت دے سکتے ہیں۔ برکس بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان اقتصادی اور پالیسی تعاون و ہم آہنگی کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔برکس کے ایجنڈے میں ترقی، مالیات، ٹیکنالوجی، تجارت اور عوام کے درمیان روابط سمیت متعدد اہم امور شامل ہیں۔ ایسے میں شی جن پنگ کا ہندوستان کا دورہ اور ہندوستان-چین کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کے ایک اہم اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








*🛑اب کیا کرنے جا رہے ہیں سونم وانگچک؟ ابھجیت دیپکے بھی ساتھ، کیا بڑا اعلان*
نئی دہلی :لداخ میں سونم وانگچک کی جانب سے 19 ستمبر سے ہونے والی پیدل یاترا کے اعلان پر کاکروچ جنتا پارٹی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو جاری کرکے تمام لوگوں، خاص طور پر ’کاکروچوں‘ سے اس مہم کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ اب سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔دیپکے نے ایکس پر سونم وانگچک کی ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’لداخ کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘ سونم وانگچک نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ لداخ کے مستقبل اور جمہوری نظام سے متعلق حکومت اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان ہوئی میٹنگ میں کوئی ٹھوس اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ نمائندہ وفد کا کہنا ہے کہ تقریباً 4 ماہ بعد ہونے والی میٹنگ میں بھی مجوزہ جمہوری ڈھانچے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی تحریری مسودہ پیش نہیں کیا گیا۔سونم وانگچک نے کہا کہ میٹنگ میں سوالات کی ایک فہرست دی گئی اور بتایا گیا کہ ان معاملات پر اگلی میٹنگ میں بات چیت کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی، براہ راست حد بندی اور انتخابات جیسے موضوعات پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، لیکن اس میٹنگ میں ان مسائل پر کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لداخ میں جمہوری ڈھانچے کا مطالبہ

سونم وانگچک نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ نمائندہ وفد کا بنیادی مطالبہ لداخ میں جلد از جلد جمہوری طریقے سے منتخب اسمبلی قائم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تجویز کو پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں پیش کیا جانا چاہیے، تاکہ آگے انتخابات کرانے اور جمہوری اداروں کے قیام کا عمل شروع کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر مل کر لداخ کے لیے بڑے فیصلے کر رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جمہوریت کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ سونم وانگچک کے مطابق وفد نے حکومت سے یقین دہانی مانگی تھی کہ جب تک لداخ میں جمہوری ڈھانچہ قائم نہیں ہو جاتا، مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جن سے لداخ کی شکل ہی تبدیل ہو جائے۔

’لداخ میں ایک بڑی پیدل یاترا ہوگی‘

سونم وانگچک نے اعلان کیا کہ 19 ستمبر سے 24 ستمبر تک لداخ میں ایک بڑی پیدل یاترا نکالی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر حکومت کی جانب سے یقین دہانی مل جاتی ہے تو اس یاترا کو شہیدوں کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک بڑے مارچ کی شکل دی جائے گی، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو اسے احتجاج میں تبدیل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ لداخ کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ سونم وانگچک نے مزید کہا کہ اس کے لیے پورے ہندوستان سے حمایت کی ضرورت ہے اور لداخ کو عوام کی حمایت درکار ہے۔








*🛑گلوکوما اور موتیا بن بینائی سے محرومی کی وجہ بن سکتے ہیں*
حیدرآباد: عام طور پر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں آنکھوں سے متعلق مسائل زیادہ دیکھے جاتے تھے، لیکن آج کل ہر عمر کے افراد آنکھوں کی مختلف پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر گلوکوما اور موتیا جیسی بیماریاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ دونوں آنکھوں کی سنگین بیماریاں ہیں۔ اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ شخص مکمل طور پر اپنی بینائی سے محروم ہو سکتا ہے۔

اگرچہ گلوکوما اور موتیا بظاہر ایک جیسے محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق دونوں بیماریوں میں کافی فرق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت معائنہ اور مناسب علاج کے ذریعے آنکھوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ آئیے، اس خبر میں ان دونوں بیماریوں کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔

گلوکوما کیا ہے؟

کلیولینڈ کلینک کے مطابق، گلوکوما آنکھوں کی ایک خطرناک بیماری ہے، جس کی علامات آسانی سے ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے لوگوں میں اس بیماری کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ کافی بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس وقت تک ان کی بینائی کافی متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوکوما کی بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ بتدریج بینائی کو ختم کرتا ہے اور مستقل اندھے پن کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسے آنکھوں کا خاموش قاتل یا خاموشی سے بینائی چھیننے والا‘ بھی کہا جاتا ہے۔

گلوکوما موتیا سے مختلف بیماری ہے، گلوکوما بنیادی طور پر آپٹک نرو کو نقصان پہنچاتا ہے، جو آنکھ سے دماغ تک بصری معلومات پہنچانے کا کام کرتی ہے۔

گلوکوما کی وجوہات

ماہرین کے مطابق گلوکوما کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں:

ہائی بلڈ پریشر

سگریٹ نوشی

کیفین کا استعمال

آنکھ کے ڈرینیج اینگل کو نقصان پہنچنا

آنکھ میں چوٹ لگنا

عمر میں اضافہ

جینیاتی عوامل

گلوکوما کی علامات

گلوکوما کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ ابتدائی مرحلے میں آنکھوں کے سامنے دھندلے دھبے بننے لگتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ دھبے پیری فیرل وژن یعنی آس پاس کی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ جن افراد کی آنکھوں کے اندر دباؤ یعنی انٹرا اوکیولر پریشر زیادہ ہوتا ہے، انہیں صبح کے وقت سر درد یا دھندلی نظر کی شکایت ہو سکتی ہے۔ بیماری کی حالت سنگین ہونے پر کچھ علامات واضح طور پر ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

آنکھوں میں شدید درد

آنکھوں کا سرخ ہونا

دھندلی نظر

سر درد

متلی

قے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متلی اور قے جیسی علامات کے ساتھ آنکھوں میں تکلیف ہو تو فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔

گلوکوما کا علاج

ماہرین کے مطابق گلوکوما کی جتنی جلد تشخیص ہو جائے اور علاج شروع کیا جائے، اتنا ہی بینائی کو محفوظ رکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بعض مریضوں میں سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی مستقل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے سال میں کم از کم ایک مرتبہ آنکھوں کا معمول کا معائنہ کروانا فائدہ مند ہے۔

گلوکوما کا خطرہ کن افراد کو زیادہ ہوتا ہے؟

40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں گلوکوما کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جن افراد کے خاندان میں گلوکوما کی ہسٹری رہی ہو، جن کی آنکھوں کا دباؤ یا بلڈ پریشر زیادہ ہو یا جو ذیابیطس میں مبتلا ہوں، ان میں بھی گلوکوما کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اسٹیرائڈز استعمال کرنے والے افراد، آنکھوں میں چوٹ لگنے کی ہسٹری رکھنے والے افراد، مائیگرین، خون کی خراب گردش، دیگر صحت کے مسائل، مایوپیا یعنی دور کی نظر کمزور ہونے یا ہائپروپیا (Hyperopia) یعنی قریب کی نظر کمزور ہونے والے افراد میں بھی اس بیماری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

موتیا بن کیا ہے؟

کلیولینڈ کلینک کے مطابق موتیا بن بھی اندھے پن کی ایک اہم وجہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر آنکھ کے لینس کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم ماہرینِ چشم کے مطابق اگر موتیا کی بروقت تشخیص ہو جائے تو معمول کی سرجری کے ذریعے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں بیماری کی شناخت اور مناسب علاج سے بینائی کے مکمل طور پر بہتر ہونے کے امکانات کافی زیادہ رہتے ہیں۔

موتیا کی وجوہات

موتیا مختلف وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جن میں:

گلوکوما

ذیابیطس

گردوں کی بیماری

آنکھوں میں چوٹ

سگریٹ نوشی

آنکھ کے اندر سوزش

بعض اقسام کی ادویات

آنکھوں میں انفیکشن

موتیا کی علامات اور پیچیدگیاں

موتیا ہونے کی صورت میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

ایک چیز کا دو نظر آنا

گاڑی چلانے میں دشواری

آنکھ کی پتلی میں دھندلا پن

دھندلی نظر

رات کے وقت کم نظر آنا

کم روشنی میں پڑھنے میں دشواری

آنکھ میں سفیدی نظر آنا

بھنوؤں کا غیر ارادی طور پر پھڑکنا

موتیا کا علاج

ماہرینِ صحت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں موتیا کی تشخیص اور علاج کرانے سے بینائی کے مکمل طور پر بہتر ہونے کے امکانات رہتے ہیں۔ تاہم، اگر موتیا زیادہ بڑھ جائے تو سرجری نسبتاً مشکل ہو سکتی ہے۔ سرجری کے بعد انفیکشن کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
اسی لیے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ موتیا کی بروقت تشخیص کی جائے اور بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ہی مناسب علاج کروایا جائے، تاکہ بینائی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑اللہ کو اپنا بنا کر دیکھ، پھر کامیابی تیرے قدم چومے گی!*
*از قلم: حافظ جمیل صاحب اشاعتی*
بانی و ناظم، مدرسہ ریاض الجنہ، مالیگاؤں، ناسک، مہاراشٹر، الہند
انسان ساری زندگی کسی نہ کسی کو اپنا بنانے میں لگا رہتا ہے۔ کبھی لوگوں کی محبت کا طلب گار ہوتا ہے، کبھی دولت و شہرت کا، کبھی عزت و مقام کا۔ کسی کی تعریف اسے خوش کردیتی ہے اور کسی کی بے رخی دل توڑ دیتی ہے۔
مگر کبھی تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوچا ہے:
جس ذات کے ہاتھ میں عزت و ذلت، نفع و نقصان اور کامیابی و ناکامی سب کچھ ہے، کیا ہم نے اسے اپنا بنایا؟
وہ ذات اللہ تعالیٰ ہے۔
وہ رب جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری ضرورتوں کا انتظام فرمایا، ہماری لغزشوں پر پردہ ڈالا اور ہماری بے شمار کوتاہیوں کے باوجود اپنی رحمت کا دروازہ کھلا رکھا۔
بس ایک بار اللہ کو اپنا بنا کر دیکھو، پھر دیکھو زندگی کا رخ کیسے بدلتا ہے!
🌿 اللہ سے محبت، ایمان کی روح ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ﴾
"اور ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔"
(سورۃ البقرۃ: 165)
اللہ کو اپنا بنانا صرف زبان سے محبت کا دعویٰ نہیں، بلکہ دل میں محبت اور زندگی میں اطاعت کا نام ہے۔
نماز میں اللہ کا حکم مقدم ہو، معاملات میں اس کا خوف ہو، نعمت میں شکر ہو، مصیبت میں اسی سے امید ہو اور تنہائی میں بھی یہ احساس زندہ ہو:
"میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔"
🌸 تم اللہ کو یاد کرو، اللہ تمہیں یاد کرے گا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾
"تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔"
(سورۃ البقرۃ: 152)
ذرا سوچو!
ایک کمزور بندہ اپنے رب کو یاد کرے اور رب العالمین فرمائے: میں تمہیں یاد کروں گا!
دنیا میں کسی بڑے شخص کی نظرِ عنایت انسان کے لیے باعثِ فخر ہوسکتی ہے، لیکن جس بندے کو اللہ یاد فرمائے، اس سے بڑھ کر خوش نصیب کون ہوسکتا ہے؟
دنیا کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ بندہ اللہ کو یاد کرے اور اللہ اسے یاد فرمائے۔
💔 دل ٹوٹ جائے تو اللہ کے پاس جاؤ
انسان کبھی لوگوں کے درمیان رہ کر بھی تنہا ہوجاتا ہے۔ دل میں بہت کچھ ہوتا ہے، مگر کسی سے کہہ نہیں پاتا۔
مگر اللہ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ﴾
"اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔"
(سورۃ البقرۃ: 186)
اور حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرماتے ہیں، اور جب بندہ اسے یاد کرتا ہے تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
(صحیح البخاری: 7405، صحیح مسلم: 2675)
تو پھر دل کی پریشانی لے کر ہر دروازے پر کیوں جاؤ؟ اپنے رب کے سامنے اپنا دل کھول کر دیکھو۔
🤲 اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاؤ
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل فرمایا:
"جب میرا بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں، اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔"
(صحیح البخاری: 7405، صحیح مسلم: 2675)
کتنی امید بھری بات ہے!
گناہوں میں زندگی گزر گئی ہو، پھر بھی واپسی کا راستہ باقی ہے۔ نماز میں کمزوری رہی ہو، آج سے سنبھلا جاسکتا ہے۔ قرآن سے دوری رہی ہو، آج سے تعلق جوڑا جاسکتا ہے۔
گناہوں کی طرف نہیں، اللہ کی طرف رخ بدلنے کی ضرورت ہے۔
❤️ اللہ سے محبت کی علامت اتباعِ رسول ﷺ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾
"اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔"
(سورۃ آل عمران: 31)
معلوم ہوا کہ اللہ کی محبت صرف جذبات کا نام نہیں؛ اتباعِ رسول ﷺ اس محبت کی عملی علامت ہے۔
نماز، اخلاق، معاملات، گھر، کاروبار اور زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ رسول ﷺ کو اپنانا ہی سچی محبت کا راستہ ہے۔
اللہ کی محبت کا دعویٰ ہو تو زندگی میں سنتِ رسول ﷺ کا رنگ بھی ہونا چاہیے۔
🌧️ گناہ ہوجائے تو واپس آؤ
انسان خطا کا پتلا ہے، مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ﴾
"بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"
(سورۃ البقرۃ: 222)
اس لیے گناہ کے بعد مایوس نہ ہو۔
گر گئے ہو تو اٹھو، بھٹک گئے ہو تو لوٹ آؤ، دور ہوگئے ہو تو اپنے رب کے قریب ہوجاؤ۔
گناہ تمہیں اللہ سے دور کرنے کا سبب نہ بنے؛ توبہ تمہیں اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو؛ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
🌍 اپنی خوشی لوگوں کے ہاتھ میں مت دو
ہم اپنی عزت، خوشی اور سکون لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ کسی نے تعریف کی تو خوش، کسی نے نظر انداز کیا تو پریشان؛ کسی نے ساتھ دیا تو مطمئن، کسی نے چھوڑا تو دل ٹوٹ گیا۔
مگر جب دل اللہ سے جڑ جاتا ہے تو انسان سمجھ لیتا ہے:
"میری اصل قدر لوگوں کی نظر میں نہیں، میرے رب کی نظر میں ہے۔"
قرآن کہتا ہے:
﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾
"عزت اللہ ہی کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور مؤمنوں کے لیے ہے۔"
(سورۃ المنافقون: 8)
اس لیے ہر دروازے پر اپنی قدر تلاش نہ کرو۔
اپنے رب کو راضی کرلو؛ لوگوں کی رضا خود بخود چھوٹی لگنے لگے گی۔
🏆 اصل کامیابی کیا ہے؟
دنیا نے کامیابی کا معیار مال، مکان، عہدہ، شہرت اور کاروبار کو بنا دیا ہے۔
مگر قرآن کہتا ہے:
﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾
"جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہی کامیاب ہوا۔"
(سورۃ آل عمران: 185)
دنیا کی کامیابی چند روزہ ہے، اللہ کی رضا ہمیشہ کی کامیابی ہے۔
دنیا تمہارے خلاف ہوجائے مگر اللہ تم سے راضی ہو تو تم کامیاب ہو؛ اور دنیا تمہیں کامیاب کہے مگر اللہ تم سے ناراض ہو تو پھر سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں۔
🌱 آج سے ایک نیا سفر شروع کرو
آج سے نماز سنوارو۔
قرآن سے تعلق جوڑو۔
گناہوں سے بچو۔
غلطی ہوجائے تو فوراً توبہ کرو۔
والدین اور بندوں کے حقوق ادا کرو۔
تنہائی میں بھی اللہ کو یاد رکھو۔
اور ہر کام سے پہلے اپنے دل سے پوچھو:
"کیا میرا اللہ اس کام سے راضی ہوگا؟"
یاد رکھو:
اللہ کو اپنا بنانے کے لیے دنیا چھوڑنا ضروری نہیں؛ دنیا کو دل کا مالک بننے سے روکنا ضروری ہے۔
ہاتھ میں دنیا ہو تو کوئی حرج نہیں، دل میں اللہ ہونا چاہیے۔
🌙 بس ایک بار کرکے دیکھو!
رات کی تنہائی میں وضو کرو، دو رکعت نماز پڑھو اور اپنے رب کے سامنے دل کھول کر دعا کرو۔
اپنی پریشانی اسے بتاؤ۔
اپنی کمزوری اسے بتاؤ۔
اپنا گناہ اسے بتاؤ۔
اپنی ضرورت اس سے مانگو۔
اور یقین رکھو:
وہ سن رہا ہے، وہ دیکھ رہا ہے، وہ جانتا ہے۔
ہر مشکل فوراً ختم ہوجائے، یہ ضروری نہیں؛ لیکن مشکل میں دل نہیں ٹوٹے گا۔
ہر دعا فوراً پوری ہوجائے، یہ ضروری نہیں؛ لیکن دعا سے امید نہیں ٹوٹے گی۔
ہر انسان ساتھ دے، یہ ضروری نہیں؛ لیکن دل کو یہ یقین رہے گا کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے اور میری حالت سے باخبر ہے۔
✨ بس ایک کام کرکے دیکھو!
اللہ کو اپنا بنا کر دیکھ…
اپنی نماز سنوار کر دیکھ۔
اپنا قرآن سنوار کر دیکھ۔
اپنا دل سنوار کر دیکھ۔
اپنی توبہ سچی کرکے دیکھ۔
اپنی زندگی اللہ کے حوالے کرکے دیکھ۔
پھر دیکھنا، دل کو وہ سکون ملے گا جو دولت نہیں دے سکتی،
وہ اطمینان ملے گا جو شہرت نہیں دے سکتی،
اور وہ عزت ملے گی جو دنیا کی تعریف نہیں دے سکتی۔
**اللہ کو اپنا بنا کر دیکھ،
پھر کامیابی تیرے قدم چومے گی، ان شاء اللہ!**
🤲 دعا
اے اللہ! ہمیں اپنا بنا لے، اپنی محبت عطا فرما، اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے زندہ فرما، اور جب دنیا سے رخصت فرما تو اس حال میں کہ تو ہم سے راضی ہو اور ہم تجھ سے راضی ہوں۔
آمین یا رب العالمین۔







*🛑راشٹروادی کانگریس پارٹی شرد چندر پوار صاحب کے غیر منظم کامگار سیل کے مہاراشٹر کے صدر غیاث الدین انصاری صاحب نے مالیگاؤں شہر کے لئے رئیس احمد محمد حفیظ انصاری صاحب کو مالیگاؤں شہر راشٹروادی وادی کانگریس پارٹی کے صدر کا لیٹر تفویض کیا۔*
ساتھ ہی ساتھ پارٹی کے کاموں کو اور پارٹی کی جانب سے کی جانے والی تحریک اور عوامی مفادات کے کاموں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انصاری غیاث الدین صاحب نے مالیگاؤں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے جاری انڈر گراونڈ گٹروں کے ٹھیکیدار کے خلاف چلائی جانے والی عوامی مفادات کی تحریک کے تعلق سے ستائیس کرتے ہوئے ضروری معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ جناب شرد چندر پوار صاحب سے ملاقات کرتے ہوئے انڈر گراونڈ گٹروں کی وجہ سے عوامی تکالیف اور خراب راستوں کی درستگی کے لیے نمائندگی کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت پر زور دیا 
لہذا مالیگاؤں شہر کہ تمام ھی دوست احباب ہمدردوں آور پارٹی کے کارکنوں سے معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہر کا یہ اہم مسئلہ حل ہو اس طرح کی گزارش سلیم رضوی صاحب صدر راشٹروادی کانگریس پارٹی شرد چندر پوار صاحب نے کی ہے۔








*🛑برکس سمٹ میں شرکت کیلئے شی جن پنگ پہنچے دہلی، 7 سال بعد ہندوستان کا دورہ*
برکس سمٹ 2026 کا آغاز ہو چکا ہے۔ ولادیمیر پوتن جمعہ کو ہی ہندوستان پہنچ گئے تھے۔ اب چین کے صدر شی جن پنگ بھی آج ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔ شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آج یعنی ہفتہ کو نئی دہلی پہنچے۔ شی جن پنگ کا طیارہ پالَم ایئرپورٹ پر اترا۔ سات سال میں ہندوستان کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ شی جن پنگ آخری مرتبہ 2019 میں ہندوستان آئے تھے۔ سال 2020 میں گلوان میں ہوئی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ آج ہی شی جن پنگ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات بھی ہوگی۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی سب سے اہم اعلیٰ سطحی ملاقات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ برکس سمٹ کی سب سے طاقتور تصویر دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

شی جن پنگ کچھ دیر میں بھارت منڈپم جائیں گے، جہاں وہ برکس سمٹ میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان کی ملاقات بھی آج شام ہوگی۔ شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 11 ارکان پر مشتمل اس گروپ کو مشکل عالمی حالات کا سامنا ہے۔ برکس سمٹ 12 ستمبر سے 13 ستمبر تک جاری رہے گا۔ دو روزہ اس سربراہی اجلاس میں مغربی ایشیا اور یوکرین میں جاری تنازعات، تجارت سے متعلق کشیدگی اور توانائی کی سلامتی جیسے امور پر خصوصی طور پر تبادلۂ خیال ہونے کی توقع ہے۔شی جن پنگ کا ہندوستان دورہ کیوں اہم ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ برکس سمٹ 2026 کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان دو طرفہ ملاقات بھی ہوگی۔ شی جن پنگ اور مودی کی ملاقات آج شام 5 بج کر 45 منٹ پر ہوگی۔ شی جن پنگ کا یہ ہندوستان دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان اور چین 2020 میں ہوئی مہلک گلوان جھڑپوں کے بعد اپنے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوستان بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی مسلسل ترقی اور پیش رفت کے لیے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنا ایک بنیادی شرط ہے۔آخری بار کہاں ہوئی تھی بات چیت؟
حال ہی میں بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان مختصر گفتگو ہوئی تھی۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ یہ دونوں رہنما نئی دہلی میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے دوران تفصیلی دو طرفہ بات چیت کریں گے۔

Wednesday, 9 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی*

مالیگاؤں:
مالیگاؤں میں بجلی کی فراہمی پر مامور پرائیویٹ فرینچائزی مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ (MPSL) کی 7 سالہ مسلسل نااہلی، خستہ حال انفراسٹرکچر اور بنکروں کے معاشی استحصال کے خلاف درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی کی جانب سے حکومتِ مہاراشٹرا کی اقلیتی کمیٹی کے نمائندے جناب ضیاء پیارے خان صاحب کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھرش سمیتی کے سیکریٹری محمد عمیر شمشاد علی (عمیر انصاری) نے کہا کہ ایم پی ایس ایل کو آئے 7 سال ہو چکے ہیں، لیکن کمپنی نے D.F.A. (فرینچائزی معاہدے) کی تمام شرطوں کو پامال کر دیا ہے۔

*اہم اعتراضات و حقائق:*
 * انفراسٹرکچر کی ناکامی: 7 سال میں نہ نئے سب اسٹیشنز بنے اور نہ انفراسٹرکچر سدھرا۔ تمام فیڈرز اوور لوڈ ہیں اور ٹرانسفارمرز کے نااہل نظام سے بنکروں کی موٹریں جل رہی ہیں۔

 * میٹروں کی بار بار تبدیلی و بلاوجہ کے کیسز: 7 سالوں میں 5 مرتبہ میٹر بدلے گئے۔ کوٹیشن اور فیس بھرنے کے باوجود مہینوں نیا میٹر نہیں دیا جاتا، اور پھر انہی جگہوں پر غیر قانونی چوری (Section 135) کے بھاری بل بنا کر بنکروں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔

 * 57 اموات و قانون کی خلاف ورزی: خستہ حال تاروں اور کھلے ٹرانسفارمرز کی وجہ سے 7 سال میں 57 افراد کرنٹ لگنے سے جان بحق ہوئے۔ الیکٹرسٹی ایکٹ کی دفعہ 56(1) کے تحت 15 دن کا نوٹس دیے بغیر بجلی کاٹنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
حکومت سے بنیادی مطالبات:

 * حکومت ایم پی ایس ایل انتظامیہ سے ان تمام ناکامیوں اور D.F.A. کی خلاف ورزیوں پر تحریری جواب (Written Response) طلب کرے۔

 * بنکروں کو بلوں میں کم از کم 50% جزوی ادائیگی اور 3 سے 4 اقساط کی سہولت دی جائے۔

 * اگر کمپنی تسلی بخش جواب نہ دے، تو حکومت اس فرینچائزی معاہدے (DFA) کو فوراً منسوخ (Terminate) کرے۔


محمد عمیر شمشاد علی (عمیر انصاری)
سیکریٹری: درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی، مالیگاؤں







*🛑سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، 24 قیراط سونا 1.52 لاکھ روپے فی 10 گرام*
حیدرآباد: بھارتی صرافہ بازار میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ عالمی بازاروں سے ملنے والے کمزور اشاروں اور گھریلو سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصولی کے باعث آج صبح ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج اور انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن دونوں پر قیمتی دھاتیں سرخ نشان کے ساتھ کھلیں۔

آئی بی جے اے کے مطابق آج 24 قیراط خالص سونے کی اسپاٹ قیمت 1,52,880 روپے فی 10 گرام ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 460 روپے کی کمی ہے۔ وہیں صنعتی طلب میں سست روی کے باعث چاندی کی قیمت پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔ بازار میں چاندی کی قیمت 2,36,770 روپے فی کلوگرام کی سطح پر کھلی، جس میں 400 روپے کی معمولی کمی درج کی گئی۔خالصیت کے لحاظ سے قیمتیں

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری صبح کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف خالصیت کے سونے کے بینچ مارک ریٹس یہ ہیں:

24 قیراط سونا (999 خالصیت): 1,52,880 روپے فی 10 گرام

22 قیراط سونا (916 خالصیت): 1,40,040 روپے فی 10 گرام

18 قیراط سونا (750 خالصیت): 1,14,660 روپے فی 10 گرام

فائن چاندی (999 خالصیت): 2,36,770 روپے فی کلوگرام

بڑے بھارتی شہروں میں آج سونے کی قیمت

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف بڑے شہروں میں 24 قیراط اور 22 قیراط سونے کی خوردہ قیمتیں درج ذیل رہیں۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کموڈیٹی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کی آئندہ میٹنگ پر ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث فیڈرل ریزرو شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں معمولی اضافے کے بعد دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کی رائے

مارکیٹ کے بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، لیکن طویل مدت میں ان میں مضبوطی برقرار رہ سکتی ہے۔ گولڈمین سیکس سے لے کر رابرٹ کیوساکی تک کئی ماہرین بھی سونے اور چاندی کے حوالے سے ایسی ہی پیش گوئیاں کر چکے ہیں۔







*🛑روزمرہ کی یہ عادتیں دماغ کو پہنچا سکتی ہیں نقصان، ماہرین نے بتائے بچاؤ کے طریقے*
ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادتیں ہمارے دماغ کی ساخت اور کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں سائنسی زبان میں اسے نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) کہا جاتا ہے، یعنی ہمارا دماغ ہمارے تجربات اور معمولات کے مطابق مسلسل خود کو ڈھالتا رہتا ہے۔ تاہم کئی عادتیں ایسی ہیں جو انجانے میں ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی تبدیلیوں کے ذریعے ان اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کون سی عادتیں دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور ان میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔

نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد قدرتی روشنی میں جائیں

ماہرین کے مطابق صبح کی قدرتی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی یعنی انٹرنل کلاک کو درست رکھنے اور دن بھر چوکنا رہنے میں مدد دیتی ہے۔ بیدار ہونے کے بعد پہلے گھنٹے میں اندھیرے یا مصنوعی روشنی میں گھر کے اندر رہنے سے دماغ کی قدرتی حیاتیاتی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سوچنے کی رفتار اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔

کیا کریں:

صبح اٹھنے کے فوراً بعد کچھ دیر چہل قدمی کے لیے باہر نکلیں یا 5 سے 10 منٹ تک دھوپ میں رہیں۔ ماہرین کے مطابق بادل چھائے ہونے کے باوجود قدرتی روشنی دماغ کو متحرک رکھنے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

فون پر مسلسل اسکرولنگ سے گریز کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار ایپس تبدیل کرنا اور مسلسل فون اسکرول کرتے رہنا دماغ کی توجہ کو محدود کر دیتا ہے۔ جب ہم چند سیکنڈز کے اندر مختلف ایپس یا مواد تبدیل کرتے رہتے ہیں تو دماغ کسی ایک کام پر گہری توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عادت یادداشت کو متاثر کرنے کے ساتھ ذہنی تھکن اور تناؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

کیا کریں: ماہرین ’بیچ اسکرولنگ‘ کا طریقہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دن بھر بار بار فون چیک کرنے کے بجائے سوشل میڈیا ایپس کو مخصوص اوقات میں، مثلاً ہر تین گھنٹے بعد، دیکھیں۔ اس طرح درمیان کے وقت میں دماغ کو پوری توجہ کے ساتھ کام کرنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔

رات دیر سے کھانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے

ماہرین کے مطابق رات دیر سے کھانا کھانے سے جسم کو اس وقت بھی ہاضمے کے عمل میں مصروف رہنا پڑتا ہے، جب دماغ اور جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے گہری نیند کے دوران دن بھر سیکھی گئی معلومات کو یادداشت میں تبدیل کرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور صبح اٹھنے پر ذہنی تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق رات دیر سے کھانے سے ڈوپامین کے قدرتی ردھم میں بھی خلل پڑ سکتا ہے۔

کیا کریں: ماہرین رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹے کا وقفہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سونے سے قبل کیمومائل چائے یا ہلدی والا دودھ جیسے گرم مشروبات ذہن کو پرسکون کرنے اور بہتر نیند میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تناؤ میں مبتلا رہنے کے بجائے وجہ سمجھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجہ کو سمجھے بغیر اسے مسلسل دبانے سے دماغ کے ’بقا کا نظام‘ طویل عرصے تک غیر ضروری طور پر متحرک رہ سکتا ہے۔ جب دماغ کسی مخصوص جذبات کو درست طور پر شناخت نہیں کر پاتا تو وہ اردگرد ہونے والے معمولی واقعات کو بھی خطرے کے طور پر دیکھ سکتا ہے، جس سے مسلسل بے چینی برقرار رہتی ہے۔

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق تناؤ کی صورت میں ایڈرینل غدود زیادہ مقدار میں کورٹیسول پیدا اور خارج کر سکتے ہیں، جس کا یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

کیا کریں:

ماہرین کے مطابق تناؤ کی اصل وجہ کو پہچاننا ضروری ہے، خواہ وہ غصہ، بے چینی یا احساسِ جرم ہو۔ اپنے جذبات کو واضح طور پر شناخت کرنے سے دماغ کے امیگڈالا حصے کی سرگرمی کو سمجھنے اور تناؤ کے ردعمل کو منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امیگڈالا دماغ کا وہ حصہ ہے جو خوف اور تناؤ کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کام کے دوران چھوٹے چھوٹے وقفے لیتے رہیں

ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، جس سے ذہنی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صحت مند افراد میں بھی مسلسل ایک گھنٹے تک بغیر حرکت کیے بیٹھنے سے ذہنی دھند یعنی ’برین فوگ‘ اور ذہنی الجھن محسوس ہو سکتی ہے۔

کیا کریں:

ہر گھنٹے کے بعد چند منٹ کے لیے اٹھیں، جسم کو اسٹریچ کریں یا تھوڑی دیر چہل قدمی کریں۔ معمولی سی جسمانی حرکت بھی جسم اور دماغ کو تازگی فراہم کرنے، توجہ بہتر بنانے اور ذہنی کارکردگی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑تباہ ہوگئی پیٹریاٹ کی بیٹری، نہیں رک رہا ایران کا حملہ، میزائلوں نے امریکی ایئربیس کے اڑائے پڑخچے*
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران نے گزشتہ دو دنوں میں امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز پر دو مرتبہ بیلسٹک میزائل سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہاز نے دونوں حملوں کو ناکام بنا دیا اور کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کے خام تیل لے جانے والے پانچ ٹینکروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان میں سے چار جہاز خلیج عمان میں اور ایک خلیج فارس میں خارگ جزیرے کے قریب تھا۔ امریکہ کے مطابق کارروائی سے پہلے جہازوں کے عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ایران امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا، امریکہ اس کے تیل کے ٹینکروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ اس سے پہلے بھی امریکہ ایران کے تین تیل ٹینکروں پر حملہ کر چکا ہے۔ اس طرح تیل کی برآمدات کو نقصان پہنچانا ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ایران نے امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائی کرنے کی کوشش کی۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے امریکی اتحادی اردن میں موجود امریکی فوجیوں کے اڈے پر میزائلوں کے بڑے حملے کا دعویٰ کیا۔ ایران کی کوشش کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر فوجی دباؤ بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم ان حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو کتنا حقیقی نقصان ہوا، اس بارے میں مکمل معلومات موجود نہیں ہیں، لیکن اردن میں جس اڈے پر ایران نے حملہ کیا ہے، وہ بہت اہم ہے۔ ایران نے اس کے علاوہ بحرین اور کویت کی بندرگاہوں کے قریب موجود تیل کے ٹینکروں کو بھی خبردار کیا ہے۔ IRGC نے جہازوں کے عملے سے فوری طور پر جہاز چھوڑنے کو کہا اور دھمکی دی کہ ان علاقوں میں موجود جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران نے امریکی زیرِ آب ڈرون بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا
کشیدگی کے دوران ایران نے ایک امریکی فوجی زیرِ آب ڈرون کو قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا۔ ایران کے مطابق یہ ایک جدید بغیر پائلٹ کے پانی کے اندر چلنے والا آلہ تھا، جسے سمندر کی نگرانی، سمندر کی سطح کے نیچے نقشہ سازی، بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے کے ساتھ ساتھ سمندری کیبل اور پائپ لائنوں کی جانچ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس دعوے کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق ڈرون پہلے ہی خراب ہو چکا تھا۔ امریکہ نے اسے پرانے اینڈیورِل ڈائیو-LD ماڈل کا ڈرون بتایا اور کہا کہ اس میں کوئی حساس معلومات، خفیہ سونار یا ریڈار آلات موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق ڈرون کے ہاتھ سے نکل جانے سے ایران کے ہاتھ کوئی اہم فوجی راز نہیں لگا۔

پیٹریاٹ سسٹم اور میزائل حملوں کا دعویٰ
ایران اور امریکہ کے درمیان میزائل حملوں کو لے کر بھی الگ الگ دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی جانب سے امریکی ایئربیس اور اس کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے کی باتیں کہی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکی فضائی دفاعی نظام، خاص طور پر پیٹریاٹ میزائل بیٹریوں کے استعمال اور ان کی صلاحیت کے حوالے سے بھی بحث بڑھ گئی ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے میزائل امریکی فوجی اڈوں تک پہنچے اور نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب امریکہ اپنے فضائی دفاعی نظام اور فوجی اڈوں کی سلامتی کے حوالے سے الگ تصویر پیش کرتا ہے۔ اگرچہ نقصان کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اگر F-35 اور پیٹریاٹ جیسے جدید ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود ایران وہاں تک حملے کر رہا ہے، تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

نقصان کتنا ہوا؟
امریکہ نے ایران کے تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ایران کی تیل کی سپلائی اور برآمدات پر اقتصادی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران امریکی جنگی جہازوں اور خطے میں موجود امریکی اور اتحادی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز اس پورے تنازعے کا سب سے حساس علاقہ بن گیا ہے۔ دنیا کی تیل اور LNG تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہاں طویل عرصے تک فوجی تنازعہ یا ناکہ بندی جاری رہتی ہے، تو اس کا اثر صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت اور توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔فی الحال دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ صرف میزائل اور فوجی حملوں تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ ایران کی تیل کی برآمدات اور اقتصادی نظام پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران امریکی فوجی موجودگی اور اس کے اتحادیوں پر حملہ کرکے جواب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔








*🛑ایل پی جی گیس بکنگ کے نئے قوانین نافذ، فورا کرلیں چیک ورنہ نہیں ملے گا سلنڈر*
اگر آپ گھریلو ایل پی جی سلنڈر بک کروانے والے ہیں یا پھر دوبارہ ریفل کروانے کا سوچ رہے ہیں، تو پہلے موجودہ قوانین کی معلومات ضرور حاصل کر لیں۔ حکومت نے گھریلو گیس سلنڈر کی بکنگ کے حوالے سے کچھ قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ نئے قانون کے تحت ایک ریفل لینے کے بعد اگلا سلنڈر بک کروانے کے درمیان کے وقفے کو 45 دن سے کم کرکے 25 دن کر دیا گیا ہے۔ یہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں رہنے والے گھریلو ایل پی جی صارفین پر بھی لاگو کیا گیا ہے۔ یعنی اب سلنڈر ختم ہونے سے پہلے اس کی اگلی بکنگ کی منصوبہ بندی کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

تاہم، ایل پی جی سے متعلق تبدیلیاں صرف ریفل کی مدت تک محدود نہیں ہیں۔ سبسڈی، بکنگ، ڈیلیوری اور گھریلو کنکشن سے متعلق قوانین بھی صارفین کے لیے اہم ہیں۔ اس لیے سلنڈر بک کروانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کے لیے کون سا قانون لاگو ہے اور کہیں کسی شرط کی وجہ سے بکنگ میں دشواری تو نہیں آئے گی۔ علامتی تصویر۔
گیس سلنڈر سے متعلق e-KYC : اگر آپ نے ابھی تک گیس سلنڈر کے لیے ای-کے وائی سی نہیں کروائی ہے تو اب نئی آخری تاریخ جاننا بہت ضروری ہے۔ پہلے حکومت نے 7 ستمبر کی آخری تاریخ مقرر کی تھی، لیکن اسے ایک ہفتے کے لیے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ اب نئی آخری تاریخ 14 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔ علامتی تصویر۔
دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق، ای-کے وائی سی کا عمل مکمل نہ کرنے پر صارفین کو ایل پی جی سلنڈر کس قیمت پر دیا جائے گا، اس بارے میں معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ اگر ای-کے وائی سی کی آخری تاریخ گزر جاتی ہے تو صارفین کا کنکشن عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایل پی جی ای-کے وائی سی مکمل نہیں ہوتی ہے تو انڈین گیس، ایچ پی گیس اور بھارت گیس کے صارفین پر عمل مکمل ہونے تک عارضی طور پر اثر پڑے گا۔ علامتی تصویر۔

حکومت نے گھریلو پی این جی کنکشن کو فروغ دینے کے لیے یکم ستمبر سے ہی ترغیبی اسکیم نافذ کی ہے۔ محفوظ اور سستی پائپ لائن والی کھانا پکانے کی گیس لوگوں کے گھروں تک پہنچے، اسی مقصد کے ساتھ یہ پہل شروع کی گئی ہے۔ اس سے لوگوں کے لیے پی این جی گیس کنکشن کو جلد از جلد اپنانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ علامتی تصویر۔
ٹی پی ویری فکیشن نافذ : حکومت نے او ٹی پی ویری فکیشن بھی نافذ کر دیا ہے۔ سلنڈر بک کرنے کے بعد صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایک او ٹی پی آتا ہے۔ اسے ڈیلیوری کے وقت ہی ڈیلیوری بوائے کو بتانا ضروری ہے۔ بکنگ کی رسید نہ ہونے کی صورت میں، او ٹی پی ویری فکیشن کے بغیر گیس سلنڈر نہیں دیا جائے گا۔ علامتی تصویر
DAC ویری فکیشن : ایل پی جی سلنڈر کی ڈیلیوری کے وقت ڈی اے سی یعنی ڈیلیوری آتھرائزیشن کوڈ بتانا ضروری ہو گیا ہے۔ صارفین کو ڈیلیوری ایجنٹ کو ڈی اے سی دینا ہوگا اور ویری فکیشن کے بعد ہی ڈیلیوری مکمل سمجھی جائے گی۔ علامتی تصویر۔

گیس کے بل سے متعلق قانون : کچھ صارفین پی این جی گیس کا بل کئی مہینوں تک ادا نہیں کرتے، ایسی صورت میں کنکشن کاٹ دیا جائے گا۔ تمام بقایا رقم کی ادائیگی کرنے کے بعد ہی گیس سروس فراہم کی جائے گی۔ اگر پی این جی پائپ لائن یا والو کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا پایا جاتا ہے تو صارفین کو اسے درست کرنے کا خرچ بھی برداشت کرنا ہوگا۔ علامتی تصویر۔ فائل فوٹو ۔







*🛑حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات کو بنایا نشانہ، مکہ دفاعی معاہدہ کی آزمائش کا آگیا وقت، اب کیا کریں گے پاکستان اور ترکی؟*
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور کچھ آپریشنز عارضی طور پر بند کرنے پڑے۔ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان نے ابہا، خمیس، مشیط، جازان اور نجران صوبوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو خطرناک اشتعال انگیزی اور سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ حوثی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم اس سے قبل انہوں نے سعودی عرب پر ایک جیل پر فضائی حملہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ یمن میں اتنی کچھ ہو رہا ہے اور سعودی عرب کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سعودی عرب کے وہ مسلم دوست اس کی مدد کے لیے آگے آئیں گے، جن کے ساتھ اس نے حال ہی میں اتحاد کیا ہے؟

سال 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن میں ایک بار پھر لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، بحیرۂ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا۔ حکومت کی حمایت یافتہ افواج بھی جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق اگست کے اختتام سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔ جیسے جیسے یہ لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے، ویسے ویسے ان ممالک میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے جنہوں نے حال ہی میں ایک دوسرے پر حملے کی صورت میں ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا تھا۔
کیا مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ کی آزمائش کا وقت آ گیا؟
اگست 2026 میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسے ’مکہ پیکٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ اس میں نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ نیٹو جیسے اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حوثیوں کے حملوں کے بعد کیا پاکستان اور ترکی عملی طور پر سعودی عرب کی جنگ میں شامل ہوں گے؟ اس کے دونوں امکانات موجود ہیں۔

ایک طرف معاہدے کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ اگر سعودی عرب پر حملے جاری رہے اور اس کے اتحادی خاموش رہے تو یہ معاہدہ محض کاغذی ثابت ہوگا۔ اس سے قبل بھی بعض حملوں کے بعد ترکی اور پاکستان کی جانب سے کوئی واضح فوجی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

دوسری طرف دونوں ممالک کے اپنے مفادات اور حدود ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی تعاون کرتا آ رہا ہے۔ ہزاروں پاکستانی فوجی ماضی میں بھی سعودی عرب میں تعینات رہ چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور مذہبی تعلقات بھی مضبوط ہیں۔ ترکی کے پاس ڈرونز کی مضبوط صلاحیت، بحری طاقت اور دفاعی صنعت موجود ہے، لیکن وہ نیٹو کا رکن بھی ہے اور ایران کے ساتھ اس کے تجارتی اور سیاسی تعلقات بھی ہیں۔

پاکستان بھی ایران سے مکمل طور پر دوری اختیار نہیں کرنا چاہتا اور ترکی بھی ایسا نہیں چاہتا۔ ایسے میں حوثیوں سے نمٹنے کے لیے محدود فوجی شرکت اور وسیع تر دباؤ کا امتزاج اختیار کیا جا سکتا ہے۔ بڑے پیمانے پر براہِ راست زمینی فوج بھیجنا دونوں ممالک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یمن کا تنازع طویل، مہنگا اور پیچیدہ ہے۔

’اسلامی نیٹو‘ کیا کر سکتا ہے؟
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم کے پاس میزائل، ڈرون اور ساحلی علاقوں پر کنٹرول موجود ہے۔ ایسے میں پاکستان خفیہ معلومات کے تبادلے، فضائی دفاعی نظام یا محدود فضائی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ترکی اپنے ڈرونز یا الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیت شیئر کر سکتا ہے۔ بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کی سیکورٹی کے لیے سعودی عرب کی جانب سے تشکیل دیے جا رہے بحری اتحاد میں دونوں ممالک پہلے ہی شامل ہیں۔ اس سے بالواسطہ دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے اور سفارتی محاذ پر بھی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

تینوں ممالک مشترکہ طور پر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کر سکتے ہیں اور اقوام متحدہ کے ذریعے دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا اثر عالمی تیل کی منڈی پر پڑتا ہے، اس لیے مغربی ممالک بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ مکہ پیکٹ کو صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی اور اقتصادی اتحاد کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چیلنجز کئی ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ معاہدے میں فوجی ذمہ داریوں کی تفصیلی وضاحت عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہے۔

اتحاد کے ممالک کیوں فاصلہ اختیار کر رہے ہیں؟
ایران اس اتحاد کو اپنے خلاف سمجھ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اندرونِ ملک پاکستان اور ترکی اپنے عوام کو یمن جیسے دور دراز تنازع میں الجھانے سے گریز کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب خود بھی مکمل جنگ نہیں چاہتا۔ اس کی توجہ اقتصادی ترقی اور وژن 2030 پر مرکوز ہے۔

مجموعی طور پر مکہ پیکٹ میں شامل ممالک فی الحال مکمل جنگ میں کودنے کے بجائے محدود اور محتاط حمایت، بحری سیکورٹی اور سفارتی دباؤ کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر حوثیوں کے حملوں میں مزید اضافہ ہوا یا توانائی کی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا تو دباؤ بڑھ سکتا ہے اور محدود فوجی کردار کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔یہ معاہدہ فی الحال اپنی پہلی بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک کس حد تک اتحاد اور عملی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یمن کا تنازع اب صرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مسئلہ نہیں رہا۔ یہ خطے میں طاقت کے توازن اور نئے اتحادوں کی بھی آزمائش بن چکا ہے۔

Monday, 7 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی بلڈنگ حادثہ، ریکھا گپتا کا بڑا ایکشن، 5 منزلہ عمارتیں فوری سیل کرنے کا حکم، لاپرواہ افسران پر ہوگی سخت کارروائی*
نئی دہلی کے ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ عمارت کے اچانک منہدم ہونے کے بعد دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کی صبح جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ حادثے میں اب تک 6 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 12 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ علاقے میں سرچ اور ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے۔ ریکھا گپتا نے موقع پر پہنچ کر متعلقہ افسران سے حادثے اور امدادی کارروائیوں کی تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حادثے کے ذمہ دار افراد کو بخشا نہیں جائے گا اور غفلت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

عمارت کیسے منہدم ہوئی؟

وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی طور پر عمارت کے مالک کی لاپرواہی کو حادثے کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عمارت کافی پرانی تھی اور تہہ خانے میں پانی بھرنے کی وجہ سے اس کے ستون گر گئے، جس کے نتیجے میں پوری عمارت منہدم ہو گئی۔ ریکھا گپتا نے بتایا کہ حادثے کا شکار عمارت کے معاملے میں کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مالک کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ آس پاس موجود دیگر خطرناک عمارتوں کی بھی نشاندہی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر انہیں منہدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ زدہ عمارت کے بالکل پیچھے موجود عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے اور اسے بھی فوری طور پر منہدم کیا جائے گا۔

پی جی، نرسنگ ہوم اور اسکولوں کا اسٹرکچرل آڈٹ ضروری

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی تیار کر رہی ہے، جس کے تحت عوامی استعمال کی ہر عمارت، چاہے وہ پی جی، نرسنگ ہوم، اسکول یا کوئی دیگر سہولت ہو، اس کا وقتاً فوقتاً اسٹرکچرل آڈٹ اور سیفٹی سرٹیفکیشن لازمی ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن عمارتوں میں ضروری حفاظتی جانچ اور سرٹیفکیشن نہیں ہوگا، وہاں عوامی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔غیر محفوظ پی جی میں کسی کو رہنے نہیں دیں گے

ریکھا گپتا نے کہا کہ حکومت کسی کو بھی غیر محفوظ پی جی میں رہنے کی اجازت نہیں دے گی۔ عمارت سے نکالے گئے لوگوں کے لیے کالج ہاسٹل میں رہائش کا انتظام کیا گیا ہے اور حکومت ان کی ضروریات کا خیال رکھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے سے متاثرہ طلبہ کے والدین سے بھی حکومت رابطے میں ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن سرکاری افسران کی نگرانی میں کمی، لاپرواہی یا دیگر غلطیوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی، ان کے خلاف اسی دن سخت کارروائی کی جائے گی۔

پانچ منزلہ عمارتوں کو فوری سیل کرنے کا حکم

ستیہ نکیتن حادثے کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کئی سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ عمارت کے مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ ذمہ دار پائے جانے والے میونسپل کارپوریشن کے افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ دہلی میں پانچ منزلہ عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ آس پاس موجود پی جی اور دیگر عمارتوں کی بھی بڑے پیمانے پر جانچ کی جائے گی اور قواعد کی خلاف ورزی پائے جانے پر انہیں سیل کر دیا جائے گا۔









*🛑ٹائیفائڈ کیا ہے؟ ٹائیفائڈ میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے کریں پرہیز*
نئی دہلی : ٹائیفائڈ (Typhoid) سالمونیلا بیکٹیریا سے پھیلنے والی ایک سنگین بیماری ہے۔ ٹائیفائڈ نظامِ ہاضمہ اور خون کے بہاؤ میں بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آلودہ پانی، متاثرہ جوس یا دیگر مشروبات کے ذریعے سالمونیلا بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ٹائیفائڈ کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں اور مریض کو کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹائیفائڈ کن وجوہات سے ہو سکتا ہے؟ ٹائیفائڈ ہونے پر کون سی علامات ظاہر ہوتی ہیں، اس دوران کن چیزوں سے پرہیز ضروری ہے اور ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ آئیے جانتے ہیں۔

ٹائیفائڈ کیا ہے؟

عام طور پر آلودہ پانی پینا اور متاثرہ یا باسی کھانا کھانا ٹائیفائڈ کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ ٹائیفائڈ ایک متعدی بیماری ہے، اسی لیے گھر میں کسی ایک فرد کو ٹائیفائڈ ہونے کی صورت میں دیگر افراد کے بھی متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ٹائیفائڈ تیز بخار سے وابستہ بیماری ہے، جو سالمونیلا ٹائیفی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا آلودہ کھانے یا پانی کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچ سکتا ہے۔

ٹائیفائڈ میں نہانے کا طریقہ

نہانے سے جسم کو تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ ٹائیفائڈ کے دوران کمزوری یا تھکن محسوس ہونے کے باوجود اگر ممکن ہو تو نیم گرم پانی سے نہایا جا سکتا ہے۔ اگر مریض خود اٹھ کر نہانے کے قابل نہ ہو تو اس کے جسم کی اسپونجنگ کی جا سکتی ہے۔ نہانے یا اسپونجنگ کے لیے مناسب درجہ حرارت کے پانی کا استعمال کریں۔ تیز بخار کی صورت میں جسم کو بہت زیادہ گرم رکھنے یا جان بوجھ کر پسینہ لانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بخار کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق علاج اور مناسب آرام ضروری ہے۔

ٹائیفائڈ میں غذا میں تبدیلی

ٹائیفائڈ کے دوران غذا کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان چیزوں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے:

پیاز، لہسن اور تیز بو والی غذاؤں سے پرہیز کریں۔مرچ، ساس، سرکہ اور بہت زیادہ مصالحے دار چیزوں سے گریز کریں۔ایسی غذاؤں سے پرہیز کریں جو پیٹ میں گیس پیدا کرتی ہوں۔زیادہ فائبر والی غذاؤں، خصوصاً سخت یا ناقابلِ حل فائبر والی غذاؤں کے استعمال سے عارضی طور پر گریز کریں۔مکھن، گھی، پیسٹری، تلی ہوئی اشیا اور مٹھائیوں سے پرہیز کریں۔بازار میں تیار ہونے والی کھانے پینے کی اشیا سے گریز کریں۔بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والا کھانا نہ کھائیں۔ایک وقت میں پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا لیں۔ٹائیفائڈ کے دوران گوشت اور دیگر بھاری غیر سبزی خور غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ چائے، کافی، شراب اور سگریٹ کے استعمال سے گریز کریں۔

ٹائیفائڈ میں پھلوں کا رس اور سیال غذائیں

ٹائیفائڈ کے دوران پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ رہ سکتا ہے۔ اس لیے مریض کو وقفے وقفے سے مناسب مقدار میں سیال چیزیں دینی چاہئیں۔ پانی، تازہ پھلوں کا رس اور دیگر مناسب سیال اشیا استعمال کی جا سکتی ہیں۔پانی کو اچھی طرح ابال کر پینا بہتر ہے۔ کھانا بھی صاف ستھرا اور اچھی طرح پکا ہوا استعمال کریں اور باہر کا کھانا کھانے سے گریز کریں۔ مناسب مقدار میں سیال اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا کمزوری سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔اہم: ٹائیفائڈ ایک بیکٹیریا سے ہونے والا انفیکشن ہے، اس لیے صرف گھریلو تدابیر پر انحصار نہ کریں۔ تشخیص اور علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں، خصوصاً مسلسل تیز بخار، شدید کمزوری، الٹی، پانی کی شدید کمی یا حالت بگڑنے کی صورت میں۔







*🛑امریکہ میں کارگو طیارہ رن وے سے نکلتا ہوا گاڑیوں سے جا ٹکرایا، پانچ افراد ہلاک*
امریکہ میں ایمیزون کمپنی کے ایک کارگو طیارہ کے حادثے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حادثہ اتوار کو ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت پیش آیا جب ایمیزون کا مال بردار طیارہ رن پر اتر رہا تھا تاہم وہ مطلوبہ مقام پر نہیں رک پایا اور آگے نکلتے ہوئے گاڑیوں سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔میامی کے فائر ڈیپارٹمںٹ کے سربراہ رے جیڈالہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پانچ زخمیوں میں سے تین کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جن کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دو افرادکو مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ طیارے کی لپیٹ میں چند گاڑیاں آئیں جن میں سے کچھ میں موجود افراد گاڑیوں کے اندر ہی پھنس گئے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک مشکل آپریشن کے بعد دونوں پائلٹوں کو باہر نکالا گیا تاہم انہوں نے ان کی حالت میں نہیں بتایا جبکہ صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق طیارہ پورٹوریکو سے دوپہر کے وقت میامی پہنچا تھا جس کے فوراً بعد آگ بجھانے والی گاڑیاں رن وے کی طرف جاتی دیکھی گئیں۔
دور سے بنی ایک ویڈیو میں نیلے اور سفید رنگ کے جہاز سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکام کی جانب کہا گیا ہے کہ فی الوقت حادثے کی اصل وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے اور وفاقی ادارہ برائے ہوا بازی این ٹی ایس بی کی تحقیقات کے بعد اس بارے میں رپورٹ جاری کی جائے گی۔
آگ بجھانے والی ٹیم کے سربراہ نے اتوار کی شام کو ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ انجن میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فوم کا استعمال کیا گیا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ایک شخص نشانہ بنانے والی گاڑیوں میں سے ایک کے نیچے پھنس گیا تھا جس کو ریسکیو اہلکاروں نے نکالا جبکہ خطرناک مواد سے نمٹنے والی خصوصی ٹیم نے محفوظ طریقے سے انجن کو بند کیا اور ایندھن کے اخراج کو بھی روکا۔
اسی طرح حادثے کے بعد این ٹی ایس بی نے بھی ایکس پر بیان جاری کیا۔
جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایمیزون کی ترجمان کیلی نینٹل نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کی تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑بجلی کمپنی کیخلاف مختلف مسائل پر آل پارٹی بےمدت دھرنا*

( پریس نوٹ) بجلی کمپنی بنام mpsl کی بجلی گراہکوں پربیجا زیادتیوں کیخلاف باربار یاددہا نی کروانے کے باوجود بجلی کمپنی کی وہی بے ڈھنگی چال ۔بجلی صارفین دشمنی کیخلاف مورخہ 8.. ستمبر بروز منگل سے ایڈیشنل کلکٹر آفس ( جونی تحصیل) پر بےمدت دھرنا دیا جائیگا یادرہے یہ دھرنا مالیگاؤں شیو سیناUBT جنتادل سیکولر مالیگاؤں۔۔راشٹریہ جنتادل مالیگاؤں۔نیشنلشٹ کانگریس( شرد چندر پوار) اور دیگر تنظیموں پارٹیوں کا مشترکہ پروگرام ہوگا جن بجلی گراہکوں کو بجلی کمپنی سے کسی بھی قسم کی شکایت ہو۔نئے میٹر سے شکایت ہو ایسے تمام بجلی صارفین دھرنےمیں شریک ہوکر اپنی اپنی شکایت درج کرواکر مسلئے کو حل کروائیں اس طرح کی گذارش عبدالخالق صدیقی۔سلیم رضوی۔محمد شریف محمد فاروق فردوسی۔عبدالغفار عبدالسٹار عبدالوہاب شیخ۔عبدالودود سالکی اشرفی۔نے کی ہے









*🛑ڈاکٹر خلیل احمد انصاری کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ* 
*مالیگائوں ، ۵؍ ستمبر ، (عبدالحلیم صدیقی )*
 آج ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء بروز سنیچر کو دوپہر۲ بجے کے شمار میں مالیگائوں کی عظیم عبقری شخصیت ڈاکٹر خلیل احمد انصاری اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے(انا للہ وانا الیہ راجعون ) 
 انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً 98 برس تھی ۔ گذشتہ ایک سال سے موصوف صاحبِ فراش تھے ۔ان کے پوتوں میں ڈاکٹر شحیم اور معاذ احمد اور بہو(ڈاکٹر مقصود خلیل احمد کی اہلیہ) نے ڈاکٹر صاحب کی تیمار داری میں کوئی کسر نہ رکھی تھی ۔ لیکن ان کے سر سے یہ شجر سایہ دار ہمیشہ کیلئے اٹھ گیا۔ آج ہی مغرب کے بعد بڑا قبرستان میں تدفین طئے پائی ہے ۔
 ڈاکٹر خلیل احمد انصاری کی رحلت سے ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے ۔ ان کی خدمات نہ صرف طبابت میں جراحت میں معروف تھی بلکہ ڈاکٹر موصوف کی خدمات کے نقوش تعلیمی ، سماجی ، سیاسی و صنعتی و امداد باہمی شعبوں میں بھی اظہر من الشمس ہیں ۔ اللہ مرحوم کو غریق رحمت کرے ، کس بلند پائے کا انسان تھا ۔ وہ اسکالر بھی تھےمفکراور دانشور بھی ، ماہر تعلیم اور ماہر علاج و معالجہ بھی ۔ یقیناً ڈاکٹر خلیل احمد انصاری جیسی عظیم شخصیات صدیوں میں پید اہوا کرتی ہیں ۔ 
 آپ کی پیدائش اسلام پورہ مالیگائوں کے ایک بنکر گھرانے میں ۳ جنوری ۱۹۲۹ کو ہوئی ۔ آپ کے والد قاری محمد حسن قاسمی بیت العلوم سے فارغ تھے۔ ان کا شمار دارالعلوم دیوبند کے اولین مقامی فارغین میں ہوتا ہے ۔ وہ مولوی محمد عثمان ، مولاناعبدالحمید نعمانی کے ہم عصر تھے ۔ڈاکٹر خلیل کی نانی زینب بنت کمال مالیگائوں میونسپلٹی کی پہلی خاتون کونسلر تھیں(۱۹۳۹ سے ۱۹۵۰ -۳ ٹرم)  ڈاکٹر خلیل کے نانا کمال جئن 1921 کی خلافت تحریک میں2سال کی جیل کاٹے ہوئے تھے(آرتھر روڈ جیل ممبئی)۔ ایسے علمی ، صنعتی ، سماجی گھرانے کا چشم چراغ تھے ڈاکٹر خلیل ۔
 1946 میں اینگلو اُردو ہائی اسکول سے ساتویں فائنل پاس کرنے کے بعد آپ نے ممبئی کے اسمعیل یوسف کالج کا رُخ کیا ۔ 1949 میں جے جے اسپتال ممبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا اور MBBSکی ڈگری کے بعد ڈپلومہ ان پبلک ہیلتھ کی ڈگری حاصل کی ۔ 1955 میں مالیگائوں آتے ہی میڈیکل آفیسر اور اس کے بعد میونسپلٹی کے ہیلتھ آفیسر بنائے گئے ۔
 1955 سے اپنا ذاتی دواخانہ بھی نیاپورہ میں شروع کردیا ۔ اس وقت تک مالیگائوں میں صرف 3 مسلم ڈاکٹر پریکٹس کرتے تھے ۔
(۱)ڈاکٹر شیخ سلیم (۲) ڈاکٹر رحمانی (۳) ڈاکٹر محمود 
آپ کی تشخیص اور علاج و آپریشن کی مہارت نے آپ کو بے حد مقبول و محترم بنا یا۔ 1955 سے 2018 تک مسلسل 63 سال وہ اپنے دواخانہ مشاورت چوک میں پابندی سے بیٹھتے رہے ۔ اور علاج و معالجہ کے ساتھ چھوٹے موٹے آپریشن بھی خوب کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو درد مند دل اور دست شفا سے نوزا تھا ۔ 
 مالیگائوں ہائی اسکول جب 1956 میں شروع ہوا تو آپ اسی تعلیمی کاررواں کی صف اول میں شامل تھے ۔ انجمن معین الطلباء کے قدیم ممبر تھے ۔ آپ نے ہی مالیگائوں کا سب سے پہلا KGاسکول بنام تربیتی مرکز 1963 میں (دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڈ میں ) شروع میں کیا تھا ۔ 1965 سے 1978 تک آپ انڈسٹریل سوسائٹی کے ڈائریکٹر اور چیئرمن بھی رہے ۔
1973 میں جنتا بینک قائم کی،1970 سے اسپننگ مل کے قیام کی کوششیں شروع کیں اور بالآخر 1980 میں ہندوستان کے مسلم بنکروں کا پہلا کو آپریٹیو اسپننگ مل شروع ہوا تو اس کےھ قائدین ہارون انصاری اور شبیر سیٹھ نے بجا طور پر اعتراف کیا کہ روز اول سے اسپننفگ مل کے قیام کی کاغذی دستاویزی و قانونی کوششیں ڈاکٹر خلیل نے ہی کیں ۔
 آپ کی تعلیمی کاوشوں میں بچوں کے باغ کا بھی ذکر آتا ہے جو نور اسپتال کے پاس شروع ہوا تھا ۔ یہ بھی ایک KGاسکول تھا ۔ جے اے ٹی کیمپس شروع کرانے میں ہارون انصاری کے شانہ بشانہ رہے ۔ اور اپنے صدر بلدیہ کے دور میں جے اے ٹی کیمپس کیلئے موجودہ جگہ میونسپلٹی سے منظور کروا کرد ی ۔
 آپ کا سیاسی سفر بھی نہایت شاندار رہا ۔ ان دنوں مالیگائوں میں صرف دو پارٹیوں کا راج تھا ۔ نہال، احمد کی سوشلسٹ پارٹی اور ہارون انصاری و شبیر سیٹھ کی کانگریس پارٹی ۔ ڈاکٹر خلیل نے پہلی بار تھرڈ فرنٹ اور تیسرا محاذ کا تصور دیا ۔ اور عوامی محاذ کے نام سے الیکشن لڑ کر میونسپلٹی کی 42 میں سے 18 سیٹ جیت کر صدر بلدیہ چنے گئے ۔ ایک سال کے اپنے صدارتی دور میں آپ نے ان گنت معیاری و یادگار تعمیری کارنامے انجام دیئے ۔ قدوائی روڈ کی قدیم شہیدوں کی ایدگار عزیز کلو کرکٹ ، کبڈی اسٹیڈیم کیلئے قطعہ اراضی کی خریدی ۔ جے اے ٹی کیمپس کو جگہ دینا اور پہلی بار گائوں میں سیمنٹ کانکریٹ سڑکوں کی تعمیر کا آغاز اس کے ساتھ انھو ں نے ہی مالیگائوں میں فلٹر پلانٹ کا تصو ر دیا ۔ او راس کیلئے کاغذی کوششوں کا آغاز کیا ۔ چونکہ ان کی معیاد صدارت قلیل تھی ۔ اس لئے فلٹر پلانٹ کی تعمیر و تکمیل کا سہرا عائشہ حکیم کو ملا آپ ہی کی سیاسی حکمت عملی سے 1972 میں عائشہ حکیم نے MLAالیکشن جیتا۔ آپ کے ہی دور میں امن چوک والی کھنڈیل وال اسکول کی تعمیری منظوری ہوئی ۔ 
 1977 میں آپ کی کوششوں سے پاورلوم سروس سینٹرقدوائی روڈ مرکزی حکومت کی منظوری سے شروع ہوا۔ صدر بلدیہ رہتے آپ نے جامعۃ الصالحات روڈ پر بھی ایک اسکول قائم کیا تھا ۔ 
 بحیثیت ڈاکٹر آپ نے 1965 میں مشاورت چوک میں سٹی ہاسپٹل کی بنیاد ڈالی ۔ جہاں ڈاکٹر سید بھی اپنی خدمات انجام دیتے تھے ۔ یہ مالیگائوں کا پہلا پرائیوٹ اسپتال تھا ۔آپ نے اسی کی توسیع کیلئے موجودہ نور اسپتال بلڈنگ تعمیر کی تھی ۔ لیکن بحرانی حالات میں اس عمارت کو خلیل سیٹھ کے ہاتھوں فروخت کرنا پڑا ۔ ڈاکٹر خلیل احمد انصاری اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے ۔ بیحد مصروف بھی تھے اس کے باوجود وہ دینی ملی مذہبی کاموں میں پیش پیش رہتے ۔ مولانا عبدالحمید نعمانی کی قیادت میں آپ نے 1960 سے 2000 تک کی تمام ملی تحریکات میں قائدانہ کرادار ادا کیا ۔ وہ معہد ملت کے ٹرسٹی بھی رہے ، مسلم مجلس مشاورت کے پلیٹ فارم پر بھی گئے ۔ اور جب جب پاورلوم صنعت پر پابندی اور بحرانکی کیفیت آتی حکومت کے ساتھ خط و کتابت کرتے اور نمائندہ وفد کا ایک حصہ رہے ۔ لیڈران سے آفیسران سے بات کرنے کی ذمہ دار ی ان ہی کی ہوا کرتی تھی ۔ 
 آپ نے صنعتی تحفظ کیلئے پاورلوم اونرس ایسوسی ایشن بھی قائم کی ۔ پیڈکسل Pedxilکے قیام میں ریاستی سطح پر قیادت کی ۔ 
مالیگائوں سوسائٹی آف ایجوکیشن ممبئی سے بھی مربوط رہے ۔ مالیگائوں میں بڑی بڑی شخصیات کی آمد کے وقت جیسے اندرا گاندھی، دلیپ کمار ، محمد رفیع ، جارج فرنانڈیس ، دیوی گوڑا، شنکر رائو چوہان یا بڑے بڑے علمائے کرام کی آمد پر آپ ہمیشہ صفد اول کے قائدانہ کلیدی کردا رمیں رہے اور اس شہر کی ، یہاں کے بنکروں کی ، یہاں کے مزدوروں کی ، فساد متاثرین کی ہر ممکن ہر محاذ پر مدد کرتے رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لیٹر ڈرافٹنگ کے بہترین ہنر سے آراستہ کیا تھا ۔ چنانچہ آپ نے اپنی اس صلاحیت سے بھی قوم ملت کو ہمیشہ فیض پہنچایا ۔
 آج ایسا عبقری انسان ہم سے بچھڑ گیا۔ جس نے اپنی ذات سے ہمیشہ اس شہر کو اور ملت کو فیض ہی پہنچایا ۔ اپنے اثر و رسوخ ، اپنے تعلقات ، اپنی پوسٹ اور اپنے عہدے و منصب کا کبھی ناجائز تو چھوڑیئے جائز فائدہ بھی نہ اُٹھایا۔ اقرباء پروری ، بدعنوانی ،تعصب ،کینہ کپٹ سے کوسوں دور تھے ڈاکٹر خلیل۔ 
 اب ایسی ہمہ گیر شخصیت کہاں سے لائیں گے مالیگائوں والے ۔ یغفر اللہ لنا ولکم۔۔۔۔

حیات خلیل بہ یک نظر
نام : ڈاکٹر خلیل احمد قاری محمد حسن رمضان 
پیدائش :  ۳ جنوری ۱۹۲۹
وفات : ۵ ستمبر ۲۰۲۶
MBBS: ۱۹۵۴ 
میڈیکل و ہیلتھ آفیسر : ۱۹۵۵ سے ۱۹۷۳
صدر بلدیہ :  ۱۹۶۷(ایک سال) 
بانی و شریک بانی : مالیگائوں ہائی اسکول 
  تربیتی مرکز KGاسکول 
  پاورلوم اونرس ایسوسی ایشن 
  جنتا بینک :۱۹۷۳ سے ۱۹۷۹
  اسپننگ مل : ۱۹۷۰ سے ۱۹۸۵ 
  انڈسٹریل سوسائٹی : ۱۹۶۵سے ۱۹۷۸
اہم کارنامہ: عزیز کلو اسٹیڈیم کا میدان میونسپلٹی کیلئے خریدا









*🛑تم پوچھتے ہو مجھ سے میں استاد ہوں کیا ہوں؟*
*"ٹیچر ہوں سرِ راہ کھڑا راہ نما ہوں"*
جو چھوٹ گیا، ٹھیلے پہ اور ناند پہ پہنچا
میں نے ہی اُٹھایا تو کوئی چاند پہ پہنچا

جو سیکھے نہیں مجھ سے وہ برباد ہوئے ہیں
جو سیکھ گئے ہند کے آزاد ہوئے ہیں

دنیا کو جہاں گیری کا رستہ ہے دکھایا 
مجھ جیسے ارسطو نے سکندر کو بنایا

جو شخص مِرے راستے پہ آگے بڑھا ہے
وہ اپنے جہاں کے لیے اے پی جے بنا ہے

جو لوگ نہیں پڑھ سکے گمنام ہیں وہ سب
نیوٹن نے پڑھا مجھ سے "کشش" ڈھونڈ سکا تب

کرکٹ کا کپل اور سچن کس نے بنایا؟ 
رونالڈو، میسی کو بھلا کون ہے لایا؟ 

میں نے ہی تو تھا چارلس بیبِج کو پڑھایا
میں نے ہی تو بل گیٹس کو بل گیٹس بنایا 

نوبل جسے دو بار ملے دوستو وہ ہی
میں نے ہی پڑھایا تو بنی میری کیوی 

سلطانہ ہو رضیہ سی یا پھر رانی لکشمی
میرے ہی توسط سے ہے شہرت انھیں ملی 

شاگرد ہو گر شافعی، مالک ہو جو استاذ
کاغذ کو پلٹنے کی نہیں آئے گی آواز

اور قولِ علیؓ پڑھ کے یہ شاگرد کہے گا
استاد مجھے بیچنے کا حق بھی ہے رکھتا

استاد ہوں آجاؤ سکھا دوں میں تمہیں کچھ
خود کچھ نہ بنوں آؤ بنا دوں میں تمہیں کچھ

آجاؤ سکھا دوں تمہیں جینے کے قرینے
آجاؤ ترقی کے چڑھا دیتا ہوں زینے

آجاؤ ہنر ایسے سکھا دیتا ہوں تم کو
دنیا کرے سیلیوٹ جہاں دیکھے یہ تم کو

تم شکر کرو ساتھ تمہارے میں کھڑا ہوں
"ٹیچر ہوں سرِ راہ کھڑا راہ نما ہوں" 

بدلے میں خزانوں کو میں کب مانگ رہا ہوں
استاد ہوں طاہرؔ میں ادب مانگ رہا ہوں

Friday, 4 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مصر میں پیش آیا المناک حادثہ، بس پلٹنے سے 16 افراد جاں بحق، 28 زخمی*
قاہرہ: مصر کے جنوبی سینائی صوبے میں بدھ کے روز ایک بس پلٹنے کے حادثے میں 16 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوگئے۔ مقامی میڈیا نے مصر کی وزارت صحت و آبادی کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ ’ایجپٹ ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ السعدہ علاقے سے پہلے اس وقت پیش آیا جب بس دہاب-نویبعہ روٹ سے نویبعہ کی جانب جا رہی تھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی 20 ایمبولینسیں موقع پر روانہ کی گئیں۔ ایمبولینس عملے نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کیا۔

مصر کے وزیر صحت خالد عبدالغفار نے حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ وہیں، وزیر سماجی یکجہتی مایا مرسی نے حادثے سے متاثرہ افراد کے لیے فوری امدادی سامان اور ضروری مدد فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

مصر میں سڑک حادثات کا سلسلہ تشویشناک

مصر میں سڑک حادثات کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ اگست میں اسماعیلیہ صوبے میں مزدوروں کو لے جانے والی دو گاڑیوں کے درمیان تصادم میں 18 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے تھے۔ ’اہرام آن لائن‘ کے مطابق، یہ حادثہ الشباب بجلی گھر کے قریب الدواویس لنک روڈ پر پیش آیا تھا۔ حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز اور ایمبولینس ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں۔ زخمیوں کو علاج کے لیے قصاصین سینٹرل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کردی تھیں۔

2025 میں 5,829 افراد سڑک حادثات میں ہلاک

مصر میں سڑکوں کی حفاظت ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔ مرکزی ادارہ برائے عوامی نقل و حرکت و اعداد و شمار (CAPMAS) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کی تعداد 10.8 فیصد بڑھ کر 5,829 ہوگئی۔ اسی مدت کے دوران سڑک حادثات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 10.7 فیصد اضافے کے ساتھ 84,553 تک پہنچ گئی۔

15 سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی زیادہ

اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں 15 سال سے کم عمر بچوں میں سڑک حادثات کے باعث سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اس عمر کے 1,580 بچوں کی موت ہوئی، جبکہ 29,101 بچے زخمی ہوئے۔ جنوبی سینائی میں پیش آنے والے تازہ حادثے نے مصر میں سڑکوں کی حفاظت، ٹریفک قوانین کی پابندی اور حادثات کی روک تھام کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ہندوستان – چین کے درمیان براہ راست فلائٹ شروع، وزیراعظم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات سے پہلے بنا ماحول، 6 سال بعد فضائی خدمات...