Thursday, 23 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

مغربی بنگال میں دوپہر 1 بجے تک 62.18 فیصد، تامل ناڈو میں 56.81 فیصد ووٹنگ، بنگال کے مرشد آباد میں ہوا جم کربوال 
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں جمعرات کی دوپہر 1 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 62.18 فیصد رہا، جب کہ تمل ناڈو میں 56.81 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے پہلے، جمعرات کی صبح 11 بجے تک ریکارڈ کی گئی ووٹنگ فیصد کو دیکھتے ہوئے، یہ اعداد و شمار مغربی بنگال میں 41.11 فیصد اور تمل ناڈو میں 37.56 فیصد تھے۔مغربی بنگال کے 16 اضلاع کی 152 اسمبلی سیٹوں کے لیے جمعرات کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ یہ ان اہم اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہے، جو دو مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات کے دوران ووٹرز میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا، کئی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

بھارت کی ریاست مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ جاری ہے۔ صبح سویرے ہی پولنگ اسٹیشنز کے باہر ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جہاں عوام جوش و خروش کے ساتھ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں 16 اضلاع کی 152 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ نشستیں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم معنی جا رہی ہیں اور ریاست بھر میں انتخابی ماحول اپنے عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔

دوسری جانب تمل ناڈو میں آج ایک ہی دن میں ریاست کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی پولنگ کی وجہ سے ریاست بھر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ووٹروں میں خاصا جوش پایا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے دونوں ریاستوں میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں، تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔ مرکزی فورسز اور مقامی پولیس کی بھاری نفری پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کی گئی ہے، جب کہ حساس علاقوں میں اضافی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صبح کے
اوقات میں ووٹنگ کا عمل پرامن انداز میں جاری ہے اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی خبر نہیں ملی۔ الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالیں۔








آبنائے ہرمز میں ایران کا حملہ، بھارت آنے والے جہاز کو بنایا نشانہ
نیویارک: ایران نے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں ایک ایسے جہاز پر حملہ کیا جو بھارت کے مندرا بندرگاہ جا رہا تھا۔ یہ حملہ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی بڑھانے کی بات کی تھی۔ایرانی بحریہ کی کارروائی
سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، یہ ان دو جہازوں میں شامل تھا جن پر اسلامک ریولوشنری گارڈ کور نیوی (آئی آر جی سی-این) نے حملہ کرنے اور انہیں اپنی تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ جہازوں کے نام ’ایم ایس سی فرانسسکا‘ اور ’ایپامینونڈاس‘ بتائے گئے ہیں۔

جہاز کا سفر اور ملکیت
شپنگ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق، لائبیریا کے پرچم والا جہاز “ایپامینونڈاس” دبئی کے جبل علی بندرگاہ سے گجرات کے مندرا بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا اور توقع تھی کہ وہ جمعرات تک اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز یونان کی کمپنی ’کالمار میری ٹائم ایل ایل سی‘ کی ملکیت ہے۔

پہلے بھی ہو چکے ہیں حملے
اس سے قبل ہفتہ کے روز بھی ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بھارتی جہازوں پر حملہ کیا تھا، حالانکہ انہیں وہاں سے گزرنے کی اجازت حاصل تھی۔ اس واقعے پر بھارت نے سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ آئی آر جی سی-این کے مطابق، ان جہازوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ “بغیر اجازت کام کر رہے تھے۔”

حملے کی وجہ اور نقصان

برطانیہ کی بحریہ سے منسلک ایک مانیٹرنگ ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی گن بوٹس نے دو جہازوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور وہ تقریباً ناکارہ ہو گیا، جبکہ دوسرا جہاز بھی متاثر ہوا۔ حالانکہ، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران نے ان جہازوں کو مکمل طور پر قبضے میں لیا یا نہیں۔

امریکی ردعمل اور کشیدگی
امریکی حکومت یا صدر ٹرمپ کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ امریکی بحریہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

عالمی اہمیت اور پس منظر
ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے اس ایرانی جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچایا اور اس پر فوجی دستے بھی سوار ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاز میں چین سے آیا کوئی ’تحفہ‘ موجود تھا۔ حالانکہ، چین نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔









داغ دہلوی کی 121ویں برسی، ایسا بڑا شاعر جس کے شاگرد تھے علامہ اقبالؒ
حیدرآباد، تلنگانہ: اردو کے معروف شاعر داغ دہلوی جن کا نام نواب مرزا خان اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 17 مارچ 1905 کو یعنی 74 برس کی عمر میں حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ دہلوی دہلی کے محلہ چاندنی چوک میں پیدا ہوئے تھے جب کہ اب اس کا نام کوچہ استاد داغ کے نام سے موسوم ہے۔ داغ دہلوی کا کلام دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہے۔ اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔

داغ کے زمانے میں زبان کی دو سطحیں تھیں ایک علمی اور دوسری عوامی، غالب علمی زبان کے نمائندے تھے اور داغ کی شاعری عوامی تھی، وہ عوام سے گفتگو کرتے تھے۔ داغ فطری شاعر تھے اور ان کے موضوعات میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ داغ کی حیدرآباد میں مقبولیت اور شہرت کا راز ان کی خوش اخلاقی، ملنساری، خودداری اور ہمدردی تھا۔ حیدرآباد آنے سے پہلے لوگ، داغ کو اچھی جانتے تھے۔داغ دہلوی کی 121ویں برسی

داغ کے حیدرآباد آنے سے پہلے ان کا دیوان، گلزار داغ حیدرآباد پہنچ چکا تھا۔ دکن حیدرآباد کے نظام نواب میر محبوب علی خاں بہادر بھی داغ کی شخصیت اور شاعری کے مداح تھے اور ریاست حیدرآباد دکن کے عوام داغ کی شاعری کے شیدائی تھے۔ حیدرآباد آنے کے بعد میر محبوب علی خاں بہادر نے داغ کو چار سو روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی۔ داغ دہلوی کو کئی اعزازات سے نوازا گیا اور 3 سال بعد داغ کی تنخواہ ایک ہزار روپے ماہانہ کردی گئی۔

داغ دہلوی کے انتقال پر حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان

حیدرآباد میں داغ کا مکان افضل گنج میں تھا۔ 74 سال کی عمر میں داغ دہلوی کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کی اطلاع پر بادشاہ وقت میر محبوب علی خاں بہادر نے غم کے اظہار کیا اور حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ داغ کی نماز جنازہ عیدالاضحیٰ کے روز تاریخی مکہ مسجد میں ادا کی گئی۔ ان کے جنازہ میں میر محبوب علی خاں بہادر کے علاوہ ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ داغ کی تدفین نامپلی میں واقع درگاہ حضرت یوسفینؒ کے احاطہ میں عمل میں آئی۔داغ دہلوی کے شاگردوں کی ہزاروں میں تعداد

داغ دہلوی کے تعلق سے یہ مشہور ہے کہ جس تعداد میں ان کو شاگرد میسر ہوئے۔ اتنے کسی اور شاعر کو نہیں مل سکے، ان کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے جس میں سے علامہ اقبالؒ، جگر مرادآبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی قابل ذکر ہیں۔

اردو کے معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل

ان معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ ان کے یوم وفات پر ای ٹی وی بھارت نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی سے خاص بات چیت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ داغ دہلوی اردو غزل کے پائے کے شاعر تھے، انہوں نے اردو غزل کو ایک نئی سمت بخشی ہے جس طرح سے ادبی اصول و ضوابط کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے عام فہم شاعری کی ہے اس کی مثال اب تک کے شعرا میں نہیں ملتی۔

داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے بھلا دیا

انہوں نے کہا تھا کہ المیہ یہ ہے کہ داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے اپنے حوالہ جات و تحقیقی مضامین میں شامل کرنا کم کردیا ہے، جس کی وجہ سے نسل نو سے نہ صرف ایک بہترین شاعری اوجھل ہوتی جا رہی ہے بلکہ خود داغ دہلوی کی شخصیت بھی دور ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ داغ دہلوی سے علامہ اقبالؒ اپنی اصلاح کرواتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ علامہ اقبالؒ کی ابتدائی شاعری کو پڑھیں گے تو اس میں داغ دہلوی کی شاعری کی جھلک ملے گی۔ انہوں نے داغ دہلوی کے کچھ اشعار کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ صرف یہی اشعار نہیں بلکہ داغ دہلوی کے بیشتر اشعار معنی خیز اور پرمغز ہیں، جو نسل نو کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

آبنائے ہرمز، ایندھن اور فضائی ٹکٹوں کی قیمتیں: یہ ’بحران‘ کورونا دور سے زیادہ پیچیدہ کیوں؟
یورپ میں موسمِ گرما کی چھٹیوں کا آغاز قریب آتے ہی ہوائی اڈوں پر معمول کی چہل پہل کی توقع کی جا رہی تھی، مگر اس بار منظر کچھ مختلف ہے۔
ایئرلائنز اپنے شیڈول تبدیل کر رہی ہیں، مسافروں کو مہنگے ٹکٹوں کا سامنا ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایک ایسا بحران سر اٹھا رہا ہے جس کی جڑیں ہزاروں کلومیٹر دور خلیج میں واقع ہیں۔
اس بحران کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، ایک ایسا تنگ سمندری راستہ جسے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یہاں کشیدگی اور جہاز رانی میں رکاوٹوں نے نہ صرف تیل بلکہ جیٹ فیول کی سپلائی کو بھی شدید متاثر کیا ہے، اور یہی اثر اب یورپ کے فضائی نظام میں محسوس کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کی وارننگ: محدود ذخائر
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے 16 اپریل کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں خبردار کیا کہ یورپ کے پاس جیٹ فیول کے ذخائر شاید صرف چھ ہفتے کے لیے باقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو پروازوں کی منسوخی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ یہ بیان بعد ازاں مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں، جن میں روئٹرز اور عرب نیوز شامل ہیں، نے بھی نقل کیا اور اس خدشے کو مزید تقویت ملی کہ صورتحال محض عارضی دباؤ نہیں بلکہ ایک ممکنہ بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
جیٹ فیول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
اعداد و شمار بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یورپی نشریاتی ادارے یورو نیوز کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں تقریباً 95 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
اسی طرح انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اپریل کے وسط کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمت 1458 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں یورپ میں 106 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس اضافے کا براہ راست اثر ہوائی ٹکٹوں پر پڑ رہا ہے، اور ایئرلائنز اس بوجھ کو مسافروں تک منتقل کر رہی ہیں۔
ممکنہ شدت: 80 سال کا بڑا بحران؟
توانائی کے ماہر کلاڈیو گیلمبرٹی نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ کم از کم آٹھ دہائیوں کا سب سے شدید توانائی بحران بن سکتا ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو یورپ پانچ سے سات ہفتوں میں بڑے پیمانے پر قلت کا سامنا کر سکتا ہے۔
اسی طرح آئی این جی کے ماہر ریکو لیومین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک سے جیٹ فیول کی ترسیل کئی ہفتے پہلے ہی رک چکی ہے اور اب عالمی سطح پر اس ایندھن کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔

ایئرلائنز کے عملی اقدامات
یہ دباؤ اب ایئرلائنز کے عملی فیصلوں میں بھی نظر آنے لگا ہے۔ جرمنی کی ایئرلائن لفتھانزا نے 21 اپریل کو اعلان کیا کہ وہ موسمِ گرما کے دوران بیس ہزار کم شارٹ ہال پروازیں چلائے گی تاکہ ایندھن کی بچت کی جا سکے۔
اسی طرح کے ایل ایم اور سکینڈنیوین ایئرلائن نے بھی یورپ کے اندر اپنی پروازوں میں کمی کی ہے۔ اٹلی میں بعض ہوائی اڈوں پر صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ چھوٹے جہازوں جیسے بوئنگ 737 اور ایئربس A320 کے لیے فی پرواز ایندھن کی حد مقرر کی جا رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ جہاز محدود فاصلے تک ہی پرواز کر سکتے ہیں۔
یورپی ردعمل
یورپی کمیشن نے 17 اپریل کو ایک بیان میں کہا کہ فی الحال کسی بڑے پیمانے کے بحران کے شواہد نہیں ملے، تاہم اس نے یہ تسلیم کیا کہ مارکیٹ میں دباؤ بڑھ رہا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی رکن ممالک کے درمیان ایندھن کی تقسیم، ذخائر کی نگرانی اور ہنگامی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
صورتحال کورونا بحران سے زیادہ سنگین کیوں؟
اگر اس صورتحال کا موازنہ چند سال قبل کورونا کے دوران ہونے والے بحران سے کیا جائے تو ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ اُس وقت مسئلہ مسافروں کی کمی تھا، جبکہ آج مسئلہ ایندھن کی دستیابی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ جہاز بھرے ہوئے ہیں، مگر ان کے اڑنے کی صلاحیت خود ایندھن پر منحصر ہو گئی ہے، جو ایک مختلف نوعیت کا اور ممکنہ طور پر زیادہ پیچیدہ بحران ہے۔
اس تمام صورتحال کے اثرات پاکستان جیسے ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں، جہاں سے بڑی تعداد میں مسافر یورپ کا رخ کرتے ہیں۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران یورپ جانے والے ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری میں جو ٹکٹ 600 سے 800 یورو میں دستیاب تھے، وہ اب 700 سے 900 یورو یا اس سے بھی زیادہ میں فروخت ہو رہے ہیں۔
یہ اضافہ بظاہر چند سو یورو کا ہے، مگر پاکستانی روپے میں تبدیل ہونے پر یہ ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتا ہے۔
مزید پیچیدگی کنیکٹنگ فلائٹس میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پاکستانی مسافر عموماً خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں کے ذریعے یورپ جاتے ہیں، اور چونکہ یہ خطہ اس بحران کے مرکز کے قریب ہے، اس لیے یہاں سے چلنے والی پروازیں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ تاخیر، طویل قیام، اور آخری وقت میں روٹس کی تبدیلی جیسے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض صورتوں میں مسافروں کو ترکی یا وسطی ایشیا کے راستے سفر کرنا پڑ رہا ہے، جو نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ زیادہ مہنگا بھی ثابت ہو رہا ہے۔
اس بحران کا پاکستان پر کیا اثر ہو رہا ہے؟
پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے بھی اس عالمی رجحان سے الگ نہیں رہ سکتی۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اس کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں، جس کا اثر یا تو کرایوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے یا پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی کی شکل میں۔
یہ بحران ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی معیشت اور ہوا بازی کا نظام کس حد تک چند اہم جغرافیائی راستوں پر منحصر ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ان راستوں میں خلل پڑے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمت تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر کے مسافروں، معیشتوں اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
آنے والے ہفتے اس لحاظ سے اہم ہوں گے کہ آیا یہ بحران وقتی دباؤ ثابت ہوتا ہے یا ایک بڑے عالمی مسئلے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ فی الحال یورپ کے آسمانوں پر اڑتے جہاز اس غیر یقینی صورتحال کی علامت بن چکے ہیں، اور ان میں سفر کرنے والے مسافر اس بدلتی ہوئی دنیا کے براہِ راست گواہ ہیں۔








سعودی عرب حکومت نے بغیرلائسنس غذائی اشیاء کی تیاری پرعائد کی پابندی،قانون کی خلاف ورزی کرنے پرہوسکتی ہے 10سال قید
سعودی عرب کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے حج 2026 کے دوران بغیر لائسنس غذائی اشیاء تیار کرنے اور ذخیرہ کرنے پر سخت پابندی کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اتھارٹی کی جانب سے اس حوالے سے گائیڈلائن جاری کی گئی ہے۔ بغیر لائسنس غذائی اشیاء سے جڑی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو 10 سال تک قید اور 10ملین سعودی ریال تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی عرب کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی(SFDA) جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تمام فوڈ فیکٹریوں اور گوداموں کے لیے فوڈ قانون اور اس کے ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے اور عازمین کی صحت و سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے۔اتھارٹی نے واضح کیا کہ حج کے دوران کسی بھی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔اتھارٹی کے بیان کے مطابق بغیر اجازت اشیائے خوردونوش کی اسٹوریج ممنوع ہوگی ۔مزید غذائی اشیا کو اسی مقام پرا سٹور کرنے کی اجازت ہوگی جس کا لائسنس جاری کیا گیا ہو۔بند کیے گئے ادارے دوبارہ کام شروع نہیں کر سکیں گے جب تک اجازت نہ ملے

میڈیا رپورٹس کے مطابق،غیر معیاری مصنوعات کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔ گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں ہوسکتی ہیں۔ضوابط کی خلاف ورزی کا مریکب پائے جانے پر 10 ملین سعودی ریال جرمانہ یا دس برس قید کے علاوہ کاروباری سرگرمی کو 180 دن کے لیے بند کرنے یا لائسنس کو ایک برس کے لیے معطل بھی کیا جاسکتا ہے۔یہ اقدامات حج کے دوران عازمین کی صحت وسلامتی کو یقینی بنانے کے وسیع حکومتی منصوبے کا حصہ ہیں، جس میں دیگر سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔حج کے دوران فوڈ سیفٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے یہ اقدامات سعودی قیادت کی ہدایات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔اتھارٹی کی جانب سے تمام اداروں سے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔








مدھیہ پردیش کے داموہ میں دلت دلہا کوگھوڑے سے اتاردیا، شادی کی بارات پر حملہ ، دلہا اور باراتی زخمی
مدھیہ پردیش کے ضلع داموہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک 23 سالہ دلت دلہا کو اس کی اپنی شادی کی بارات کے دوران گھوڑے سے زبردستی اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ منگل کی شام اس وقت پیش آیا جب دلہا اپنی شادی کی رسم کے تحت گھوڑے پر سوار ہو کر بارات لے جا رہا تھا۔

دلت برادری سے تعلق رکھنے والا متاثرہ دلہا، گولو اہروار، جو جسمانی طور پر معذور بھی ہے، اپنی بارات کے ساتھ گاؤں کی ایک تنگ گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک چند مقامی افراد نے اس کا راستہ روک لیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق، ایک گاڑی جان بوجھ کر راستے میں کھڑی کی گئی تاکہ بارات کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔جب باراتیوں نے راستہ دینے کی درخواست کی تو صورتحال کشیدہ ہو گئی اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ حملہ آوروں نے دلہا کو گھوڑے سے نیچے گھسیٹ لیا اور ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔ واقعے کی ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بارات میں افراتفری پھیل گئی اور حملہ آور دلہا اور اس کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ گولو اہروار جسمانی معذوری کا شکار ہونے کے باوجود بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔

دلہا کی والدہ، ودیا اہروار، نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کی شادی کو برباد کر دیا گیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے ہمیں بارات نکالنے سے منع کیا، لیکن ہم نے کہا کہ آج شادی ہے، اور رسم گھوڑے پر سوار ہوئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد انہوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے میری بیٹی کو بھی مارا اور اس دوران اس کے کچھ سونے کے زیورات بھی غائب ہو گئے۔

دلہا کی بہن، منیشا اہروار، نے بھی الزام لگایا کہ جب اس نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے مطابق، حملہ آوروں نے کہا کہ ’’ایسی باراتیں تم جیسے لوگوں کے لیے نہیں ہوتیں۔‘‘

واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں SC/ST (Prevention of Atrocities) Act کی دفعات بھی شامل ہیں۔ تھانہ انچارج سدھیر کمار بیگی کے مطابق، ملزمان نے دلہا کے گھوڑے پر سوار ہونے پر اعتراض کیا اور زبردستی بارات کو روک کر حملہ کیا۔

Wednesday, 22 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

پہلگام دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی ، پی ایم مودی نے کہا بھارت دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا
پہلگام دہشت گردانہ حملے کی آج پہلی برسی ہے۔اس موقع پرپرائم منسٹر نریندرمودی نے اس حملے میں جان گنوانے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرپوسٹ میں انھوں نے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مضبوط مؤقف کا اعادہ بھی کیا۔

اپنے پوسٹ میں پرائم منسٹر نریندر مودی نے لکھا کہ گزشتہ سال آج کے دن پہلگام دہشت گرد حملے میں ضائع ہونے والی معصوم جانوں کو یاد کر رہے ہیں۔ انھیں کبھی بھلایا نہیں جائے گا۔اس نقصان کا سامنا کررہے غم زدہ خاندانوں کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں۔ پی ایم مودی نے اپنے پیغام میں ان خاندانوں کے رنج وغم اور تکلیف کو بھی تسلیم کیا جنھوں نے اس دہشت گردحملے میں اپنے عزیزوں کوکھودیا۔انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ ملک ان کے غم میں برابرکا شریک ہے۔دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک کے مشترکہ عزم کودہراتے ہوئے پرائم منسٹر نریندرمودی نے اتحاد اور ثابت قدمی کی اہمیت پرزوردیا۔اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ بطور قوم ہم غم اور عزم میں متحد ہیں۔ بھارت کبھی بھی دہشت گردی کی کسی بھی شکل کے سامنے نہیں جھکے گا۔

دہشت گردوں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پرائم منسٹر مودی کا یہ بیان دہشت گردی کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو مزید تقویت دیتا ہے اور دہشت گردی خلاف قومی عزم کو اجاگر کرتا ہے۔واضح رہے کہ جموں کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والے کی موت گئی تھی۔ ادھر،پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پرجموں کشمیر میں سکیورٹی سخت کر دی ہےجبکہ پہلگام اور اس کے گرد و نواح میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ سینئر حکام کے مطابق یادگاری تقریب کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں سیاسی لیڈران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت دیگرکی شرکت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے تین ماہ بعد سکیورٹی فورسز نے سری نگر کی پہاڑیوں میں ایک جھڑپ کے دوران حملے میں ملوث تین پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایاتھا۔تاہم اس کیس کی تحقیقات جاری رہیں۔








دھونی واپسی کے لیے تیار! وانکھیڈے میں کی نیٹ پریکٹس
واضح رہے کہ جموں کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والے کی موت گئی تھی۔ ادھر،پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پرجموں کشمیر میں سکیورٹی سخت کر دی ہےجبکہ پہلگام اور اس کے گرد و نواح میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ سینئر حکام کے مطابق یادگاری تقریب کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں سیاسی لیڈران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت دیگرکی شرکت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے تین ماہ بعد سکیورٹی فورسز نے سری نگر کی پہاڑیوں میں ایک جھڑپ کے دوران حملے میں ملوث تین پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایاتھا۔تاہم اس کیس کی تحقیقات جاری رہیں۔دھونی کی واپسی آئی پی ایل میں متوقع ہے۔اُن کی واپسی کا جتنی شدت سے شائقین کو انتظار ہے اتنی ہی شدت سے چنئی سپر کنگز کی ٹیم بھی تھالا کی واپسی کی منتظر ہے۔شائد اب یہ انتظار جلد ختم ہونے جارہا ہے۔ دھونی وانکھیڈے میں نیٹ میں پسینہ بہاتے دیکھے گئے۔

21 اپریل کو سابق کپتان کو وانکھیڈے اسٹیڈیم میں تقریباً 40 منٹ وکٹ کیپنگ کرتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے نیٹ میں تقریباً ایک گھنٹے تک بیٹنگ کی۔ دھونی نے سرفراز خان اور ارول پٹیل کی وکٹ کیپنگ کی ۔ آیوش مہاترے کے بقیہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد ارول کو موقع مل سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سرفراز کو بیٹنگ آرڈر میں ترقی ملتی ہے یا نہیں، یعنی انہیں نمبر 3 پر کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔دھونی سی ایس کے کے چھ میچوں سے باہررہے ہیں ۔ فی الحال، ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں آٹھویں نمبر پر ہے اور اس کا رن ریٹ منفی ہے۔ ان کا اگلا میچ ممبئی انڈینز کے خلاف ہے، جو اپنے چھ میں سے چار میچ ہار چکی ہے۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف 99 رن کی زبردست جیت کی بدولت ان کا NRR بہتر ہے۔ یہ فتح چار میچوں کی ہار کے بعد ملی ہے۔

سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف میچ میں چنئی کے پاس فنشر کی کمی تھی۔ میتھیو شارٹ کی سست اننگز نے بھی ٹیم کی پریشانیوں میں اضافہ کیا جس سے شیوم دوبے اور جیمی اوورٹن کے لیے ہدف کا تعاقب کرنا مشکل ہو گیا۔ اگر 44 سالہ دھونی آرڈر کے نیچے مختصر اننگز کھیلتے ہیں تو یہ ٹیم کے لیے ایک بڑا فائدہ ہوگا۔ممبئی انڈینز کے لیے راحت

ممبئی انڈینز کے انگلش کھلاڑی ول جیکس ٹیم میں شامل ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ 23 اپریل کو سی ایس کے کے خلاف میدان میں اتریں گے۔ جیکس ذاتی وجوہات کی بناء پر پہلے چھ میچز نہیں کھیل سکے۔ ان کی آمد سے ممبئی انڈینس کے کچھ مسائل حل ہو جائیں گے۔ اگر روہت شرما سی ایس کے کے خلاف نہیں کھیلتے ہیں تو جیکس کوئنٹن ڈی کاک کے ساتھ اننگز کا آغاز کر سکتے ہیں۔ انگلش کھلاڑی نیچے آرڈر پر بھی بیٹنگ کر سکتے تھے۔










مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ، چار ملزمین کو کیا بری
ممبئی: 2006 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں بمبئی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے چار ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے بدھ کے روز ان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر آزاد کر دیا۔ مالیگاؤں میں ہونے والے ان دھماکوں میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے۔عدالتی بینچ کا فیصلہ

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چندرشیکھر اور جسٹس شیام چاندک پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ملزمین کی جانب سے دائر اپیلوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ یہ اپیلیں ستمبر 2025 میں ایک خصوصی عدالت کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھیں، جس میں ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ اپیل میں ٹرائل کورٹ کے طریقۂ کار اور بعض شریک ملزمین کی رہائی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

بری ہونے والے کی تفصیل

جن چار ملزمین کو ہائی کورٹ نے بری کیا ہے ان میں راجندر چودھری، دھن سنگھ، منوہر رام سنگھ نرواریا اور لوکیش شرما شامل ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور جاری ٹرائل بھی بند کر دیا گیا ہے۔

اپیل میں تاخیر

عدالت نے اس سے قبل اپیل دائر کرنے میں 49 دن کی تاخیر کو بھی معاف کر دیا تھا۔ بینچ نے یہ رعایت اس بنیاد پر دی کہ یہ اپیل قومی تفتیشی ایجنسی ایکٹ (این آئی اے ایکٹ) کی دفعہ 21 کے تحت ایک قانونی اپیل تھی۔

کیس کا پس منظر

یہ معاملہ 8 ستمبر 2006 کا ہے، جب مالیگاؤں شہر میں یکے بعد دیگرے بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات مہاراشٹر اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کی تھیں، جس نے 12 ملزمین کو گرفتار کر کے دسمبر 2006 میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔

تحقیقات کی منتقلی

اس کے بعد فروری 2007 میں یہ کیس مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کر دیا گیا، اور پھر قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے اس کی ذمہ داری سنبھال لی۔ این آئی اے نے مزید تحقیقات کے بعد دیگر ملزمین کے ساتھ ان چاروں کو بھی ملزم قرار دیا اور ایک نئی چارج شیٹ عدالت میں پیش کی تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


ادارہ نثری ادب کی ٢٣٤ ویں ماہانہ ادبی نشست ٢٥ اپریل ٢٠٢٦ بروز سنیچر کو
مہاراشٹر اکیڈمی کے انعام یافتگان کا اعزاز اور کتاب "گُل افشانیاں" کا اجراء 
ادارہ نثری ادب مالیگاؤں کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(٢٣٤ ) بتاریخ 25 - اپریل 2026ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس کے مرکزی ہال میں ہوگی- صدارت کے فرائض ڈاکٹر احمد ایوبی صاحب(سابق پرنسپل جمہور) انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) ہارون اختر (افسانہ نگار ) مختار احمد انصاری (افسانہ نگار)اپنی تخلیقات پیش کریں گے- جس پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہوگی- ساتھ ہی گذشتہ دنوں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی نے شہر ِ عزیز مالیگاؤں کے آٹھ قلم کاروں کی کتابوں کو انعام سے نوازا ہے ـ ان تمام قلم کاروں کا اعزاز ادارۂ نثری ادب کی جانب سے کیا جائے گا ـ اسی نشست میں ڈاکٹر مبین نذیر کی طنز و مزاح کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ کتاب "گُل افشانیاں" کا اجراء بھی عمل میں آئے گا ـ کتاب کا اجراء ڈاکٹر اقبال برکی، سرورق کی رونمائی عمران جمیل اور صاحب ِ کتاب کا اعزاز و استقبال عتیق شعبان (صدر ادارہ نثری ادب) صاحبان کریں گے ـ صاحبان ِ اعزاز کا استقبال، شال و گُل پیشی امین مختار صاحب(نائب پرنسپل اے ٹی ٹی اسکول) کریں گے ـ مہمانوں میں پروفیسر عبدالمجید صدیقی، پروفیسر رضوان خان، ڈاکٹر سعید احمد فارانی اور حاجی نورالھدی عبدالحفیظ صاحبان ہوں گے ـ ڈاکٹر اقبال برکی صاحب اور عمران جمیل صاحب، "گُل افشانیاں" پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کریں گے ـ نظامت کے فرائض رضوان ربانی صاحب انجام دیں گے ـ اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ ،زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-






سیریل کھانے کا ’درست طریقہ‘ کیا ہے؟ برطانوی ایٹیکیٹ کوچ کی ویڈیو وائرل
آدابِ محفل کے برطانوی ایٹیکیٹ کوچ ولیم ہینسن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ سیریل کھانے کا ’درست طریقہ‘ بتا رہے ہیں۔
اس طریقے میں چمچ کے ساتھ کانٹے کا استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے جس پر انٹرنیٹ صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق ولیم ہینسن نے فروری کے آخر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ سیریل کھاتے وقت ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا ہونا چاہیے۔یہ ویڈیو ایک ہوٹل کے ناشتے کے بوفے پر ریکارڈ کی گئی تھی اور اسے پانچ ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔
ویڈیو میں ہینسن کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلے اپنی پسند کا دودھ شامل کریں۔ پھر ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا پکڑ کر سیریل کھائیں۔‘
ان کے مطابق کانٹے کی مدد سے سیریل کو چمچ پر رکھا جاتا ہے تاکہ کھانا زیادہ صاف اور ترتیب سے کھایا جا سکے۔
آسٹریلوی آدابِ محفل کی ماہر جو ہیز کے مطابق یہ طریقہ اگرچہ ’بہت خاص اور کم استعمال ہونے والا‘ ہے لیکن کانٹا استعمال کرنے سے سیریل کو چمچ پر رکھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پیالہ چوڑا اور کم گہرا ہو تو اضافی برتن کا استعمال کچھ حد تک مفید ہو سکتا ہے۔
جو ہیز نے کہا کہ وہ عمومی طور پر ہینسن کی بات سے متفق ہیں لیکن انہوں نے کبھی کسی کو سیریل کھاتے وقت کانٹا استعمال کرتے نہیں دیکھا۔
ان کے مطابق سیریل صرف چمچ سے بھی باادب انداز میں کھایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ چمچ پر سیریل رکھنے کے لیے انگلیاں استعمال نہ کریں اور نہ ہی پیالے کی طرف زیادہ جھکیں۔
برطانوی مصنفہ اور آدابِ محفل کی ماہر لورا ونڈسر کے مطابق ماضی میں بعض کھانوں کے لیے کھانے کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہوا کرتے تھے۔ ان کے مطابق روایتی طور پر چمچ غالب ہاتھ (جو کام کاج کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے) میں رکھا جاتا تھا جبکہ دوسرا برتن، کبھی چمچ اور کبھی کانٹا، سیریل اور دودھ کو سنبھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تاکہ وہ گرنے سے بچ سکے۔انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات خشک سیریل کو الگ پیالے میں موجود دودھ میں ڈبو کر بھی کھایا جاتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جدید دور کے زیادہ تر ناشتے کے لیے یہ طریقے کچھ زیادہ ہی پیچیدہ محسوس ہوتے ہیں۔
اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا صارفین دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ مذاق ہے یا واقعی سنجیدہ بات۔‘ جبکہ ایک اور صارف نے کہا، ’سیریل کھانے کے لیے کانٹا استعمال کرنا تو بالکل عجیب بات ہے۔‘
تاہم کچھ لوگ اس خیال کے حق میں بھی نظر آئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’میں تو صرف اپنے ناشتے میں تھوڑی سی شائستگی شامل کرنے کے لیے کانٹے کے ساتھ سیریل کھاؤں گا۔‘
امریکہ میں آدابِ محفل کی ماہر لیزا مرزا گروٹس نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق سیریل کھاتے وقت دو برتن استعمال کرنے کا کوئی خاص اصول موجود نہیں۔ ان کے مطابق مغربی کھانے کے آداب میں سیریل ہمیشہ چمچ سے ہی کھایا جاتا ہے۔نیو انگلینڈ سکول آف پروٹوکول کی بانی نکی ساونی نے بھی اسی رائے سے اتفاق کیا۔ ان کے مطابق اگرچہ بعض لوگ سہولت کے لیے کانٹا استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً گرینولا کے بڑے ٹکڑوں کو توڑنے کے لیے، لیکن عام حالات میں ایسا کرنا ضروری نہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ کھانے کے آداب کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنانے کے بجائے سادہ رکھنا بہتر ہے۔ ان کے مطابق ’زیادہ برتن یا اضافی مراحل شامل کرنے سے سادہ کھانا بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ ولیم ہینسن اس سے پہلے بھی کھانے کے آداب سے متعلق بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ چکے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے کہا تھا کہ کیلا کھانے کا ’واحد درست طریقہ‘ چاقو اور کانٹے کے ساتھ ہے۔ ان کی نئی سیریل والی ویڈیو اس قدر مشہور ہوئی کہ اس کا ذکر مشہور پروگرام ’سیٹرڈے نائٹ لائیو‘ میں بھی کیا گیا۔
بعد میں ہینسن نے فیس بک پر ایک پول میں پوچھا کہ ’کیا میں نے حد سے زیادہ بات کر دی؟‘ جس پر زیادہ تر لوگوں نے جواب دیا ’جی ہاں۔‘








آبنائے ہرمزمیں کنٹینرشپ پرفائرنگ ، ایران پرالزام ، کشیدگی میں مزید اضافہ
آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے ۔ صدر ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد کنٹینر شپ پر فائرنگ ہوئی ہے ۔ آئی آر جی سی پر فائرنگ کا الزام ہے۔ جس سے پہلے ہی کشیدہ صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں جہاز نقصان پہنچے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ تاہم کوئی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی تاحال اطلاع نہیں ہے۔ جہاز کس ملک کا تھا، اس بارے میں فوری طور پر معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب پاکستان میں متوقع جنگ بندی مذاکرات منعقد نہ ہو سکے، جس سے سفارتی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ دوسری جانب امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جاری ہے۔برطانیہ کی United Kingdom Maritime Trade Operations (UKMTO) کے مطابق حملہ صبح تقریباً 7 بج کر 55 منٹ پر مصروف بحری راستے میں پیش آیا، جہاں ایرانی گن بوٹ نے بغیر کسی پیشگی وارننگ یا رابطے کے جہاز پر فائرنگ کی۔نشانہ بننے والا جہاز ایک کنٹینر بردار بحری جہاز تھا جو عالمی تیل اور تجارتی ترسیل کے اہم راستے سے گزر رہا تھا۔ فائرنگ کے باوجود عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا تیل رساؤ یا ماحولیاتی نقصان رپورٹ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع اورناکہ بندی جاری رکھنے کااعلان، تہران نے کہادھمکی اوردباؤکے خلاف مزاحمت رہے گی جاری

واقعے پرایران کا کوئی ردعمل نہیں

ایران کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، جس سے صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں سمندری حدود میں ہونے والی کارروائیوں کے باعث ایران پر دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔حالیہ واقعات اور کشیدگی

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکہ نے ایک ایرانی کنٹینر جہاز کو فائرنگ کے بعد قبضے میں لیا تھا، جبکہ ایک اور کارروائی میں امریکی فورسز نے بحرِ ہند میں ایران سے منسلک ایک آئل ٹینکر پر بھی چڑھائی کی تھی۔ پاکستان میں مجوزہ مذاکرات کا نہ ہونا بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔



Saturday, 18 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

موٹاپا بہت سے خطرناک امراض کا سبب بنتا ہے
بیلی فیٹ سے جان چھڑانا بہت ضروری ہے . محض اس لیے نہیں کہ یہ آپ کو بد نما بناتی ہے اور اعتماد میں کمی کا سبب بنتی ہے بلکہ یہ آپکی صحت کے لیےبھی نقصان دہ ہے . جسم پر اضافی چربی ہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس ، ڈیمینشیا اور جگر کے امراض کا خطرہ بڑھا دیتی ہے . 2004 میں ذیابیطس کیئر کی ایک رپورٹ کے مطابق پیٹ پر موجود اضافی چربی کا ذیابیطس ٹائپ 2 سے گہرا تعلق ہے . 
2008 میں انٹرنیشنل جرنل آف کلینیکل پریکٹس میں شائع ہونے والی رپورٹ بھی موٹاپا اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے درمیان تعلق واضح کرتی ہے . 
2016 میں شائع ہونے والی ذیابیطس کیئررپورٹ میں بھی پیٹ کی اضافی چربی اور موٹاپا کو امراض قلب اور گردوں کے امراض کا سبب قراردیا گیا ہے .  
2014 میں جرنل آف امریکن کالج آف کارڈیولوجی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پیٹ کے گرد اضافی چربی باقی تمام جسم پر موجود چربی کے مقابلے میں زیادہ بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بنتی ہے . نہ صرف امراض قلب بلکہ یہ نیند میں خلل ، ڈیمینشیا ، ایلزائمر اور لو برین والیم کا سبب بھی بنتی ہے . لہذا بیلی فیٹ کو کنٹرول کرنا بہت اہم ہے . صحت مند رہنے اور خطرناک امراض سےبچنے کے لیے فٹ رہنے کی اہمیت اپنی جگہ مقدم ہے . 









پربھسمرن اور ائیر کی شاندار ہاف سنچری، پنجاب نے ممبئی کو بری طرح شکست دی، ڈی کاک کی سنچری گئی رائیگاں
وانکھیڑے اسٹیڈیم ممبئی: جمعرات کو ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے 24ویں میچ میں پنجاب کنگز نے ممبئی انڈینز کو سات وکٹوں سے شکست دے دی۔ پنجاب کنگز نے 196 کا ہدف پربھسمرن سنگھ اور شریس ائیر کی نصف سنچریوں اور تیسری وکٹ کے لیے 139 رنز کی شراکت کی بدولت صرف 16.3 اوورز میں حاصل کر لیا۔

196 رنز کا تعاقب پنجاب کنگز کے لیے ایک آسان کام ثابت ہوا کیونکہ انہوں نے اسے 21 گیندیں باقی رہتے ہوئے مکمل کر لیا۔ پربھسمرن سنگھ اور شریس ائیر نے تیسری وکٹ کے لیے 139 رنز کی میچ وننگ پارٹنرشپ بنائی اور دونوں کی ففٹی نے ٹیم کو ہدف آرام سے پورا کرنے میں مدد کی۔ اوپنر پربھسمرن نے صرف 39 گیندوں پر ناقابل شکست 80 رنز بنائے، کپتان شریس ائیر نے کریز پر قیام کے دوران 35 گیندوں پر 66 رنز بنائے۔ ممبئی انڈینز کی جانب سے اللہ غضنفر نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جسپریت بمراہ نے بغیر کسی وکٹ کے ایک اور اسپیل میں بولنگ کی اور ان کے بغیر وکٹ کے اسپیل کا سلسلہ اب اس آئی پی ایل سیزن میں پانچ میچوں میں چلا گیا ہے۔روہت شرما کی جگہ آئے ڈی کاک نے کمال کردیا

ممبئی نے روہت شرما کو پچھلے میچ میں لگی ہیم اسٹرنگ انجری کی وجہ سے آرام دینے کا فیصلہ کیا۔ کوئنٹن ڈی کاک نے اننگز کا آغاز کیا اور آئی پی ایل 2026 کی اپنی پہلی سنچری بنائی۔ انہوں نے 60 گیندوں پر 112 رنز (ناٹ آؤٹ) بنائے اور نمن دھیر کے 31 گیندوں پر 50 رنز کی بدولت ممبئی انڈینز تیسرے اوور میں 12/2 ہونے کے بعد 195/6 تک ہی پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن کوئنٹن ڈی کاک کی متاثر کن کارکردگی کو پربھسمرن اور شریس ائیر نے پھیکا کر دیا، جنہوں نے شاندار بلے بازی کی اور پی بی کے ایس (PBKS) کو فتح سے ہمکنار کیا۔پربھسمرن اور شریس ائیر کی شاندار کارکردگی

پربھسمرن اور شریس ائیر نے کچھ دن قبل سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف بھی نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔ پربھسمرن نے 39 گیندوں پر 80 رنز (ناٹ آؤٹ) بنائے اور شریس نے 35 گیندوں پر 66 رنز بنائے، جس سے پی بی کے ایس (PBKS) کو 16.3 اوورز میں 198/3 تک پہنچنے میں مدد ملی۔ممبئی انڈینز کے صرف دو ہی پوائنٹس

جہاں پربھسمرن نے آئی پی ایل 2026 میں اپنی دوسری نصف سنچری اسکور کی، ائیر نے ٹورنامنٹ کی اپنی مسلسل تیسری نصف سنچری مکمل کی۔ اس جیت کے ساتھ، پی بی کے ایس (PBKS) نو پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں سرفہرست ہے، جب کہ ممبئی انڈینز ایک جیت اور چار ہار کے ساتھ صرف دو ہی پوائنٹس پر برقرار ہے۔

ایم آئی بمقابلہ پنجاب کنگز مقابلے میں بنائے گئے ریکارڈس

آئی پی ایل میںپنجاب کنگز کے لیے سب سے زیادہ شراکت (کسی بھی وکٹ)

206 - گلکرسٹ اور شان مارش بمقابلہ آر سی بی، دھرم شالہ، 2011

183 - میانک اگروال اور کے ایل راہل بمقابلہ آر آر، شارجہ، 2021

148 - اظہر محمود اور شان مارش بمقابلہ ایم آئی، دھرم شالہ، 2013

139 - شریس ائیر اور پربھسمرن بمقابلہ ایم آئی، وانکھیڑے، 2026*

آئی پی ایل میں سب سے زیادہ جیت بمقابلہ ممبئی انڈینز

18 - PBKS (35 مقابلے)*

18 - CSK (39 مقابلے)

17 - DC (38 مقابلے)

16 - RCB (35 مقابلے)

15 - RR (31 مقابلے)

آئی پی ایل میں وانکھیڑے پر MI بمقابلہ سب سے زیادہ جیت

6 - PBKS (11 مقابلے)*

5 - CSK (13 مقابلے)

5 - RCB (13 مقابلے)

4 - RR (9 مقابلے)

آئی پی ایل میں سب سے زیادہ ہدف کا تعاقب بمقابلہ MI

204 بذریعہ PBKS، احمد آباد، 2025 Q2

196 بذریعہ PBKS، وانکھیڑے، 2026*

196 بذریعہ آر آر، ابوظہبی، 2020

195 بذریعہ ڈی ڈی، وانکھیڑے، 2018









کشمیری علیحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ تیس سال پرانے کیس میں دہلی میں گرفتار
سرینگر: حکام کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کو دہلی میں کشمیر کے بزرگ علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کو سال 1996 کے ایک مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے، یہ مقدمہ جموں و کشمیر میں درج ہے۔ شبیر شاہ کو گزشتہ ماہ ضمانت پر رہا کیا گیا تھا تاہم ضمانت میں بغیر کورٹ اجازت کے دہلی سے باہر جانے کی ممانعت تھی۔

شاہ کو جمعہ کی شام پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ایجنسی کو تین دن کا ٹرانزٹ ریمانڈ دیا، جس کے تحت انہیں مزید کارروائی کے لیے جموں و کشمیر لے جایا جائے گا۔ حکام نے بتایا کہ شاہ کو ہوائی جہاز کے ذریعے یونین ٹیریٹری منتقل کیا جائے گا اور پیر کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

علیحدگی پسند لیڈر کے اہل خانہ نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: "ہمیں کل عدالت میں اس کی اطلاع ملی، لیکن ہم ان سے بات نہیں کر پائے ہیں۔"

یہ مقدمہ 17 جولائی 1996 کو سرینگر کے شیرگڑھی پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر سے منسلک ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ہلاک کیے گئے ملی ٹنٹس کے جنازے کے جلوس کے دوران پیش آیا۔ جلوس کے دوران بلند کیے گئے نعروں کے باعث مبینہ طور پر کشیدگی پیدا ہوئی، جو بعد میں پرتشدد شکل اختیار کر گئی۔ سیکیورٹی ایجنسیز کا دعویٰ ہے کہ اس دوران مسلح عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی، جس میں کئی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

شاہ کی یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند ہفتے قبل شاہ کو کئی مقدمات میں قانونی راحت ملی اور 12 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک الگ این آئی اے کیس میں انہیں ضمانت دی تھی، جبکہ 28 مارچ کو منی لانڈرنگ کے ایک اور مقدمے میں بھی انہیں ضمانت مل گئی تھی، تاہم کورٹ نے انہیں دہلی سے باہر جانے سے منع کیا تھا اور طلب کیے جانے پر ایجنسیز کے سامنے پیش ہونے کی شرط پر ہی ضمانت دی تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جس بات کے لئے چین کو دی تھی دھمکی ، اسی بات کے لئے پھسلانے میں لگ گئے ٹرمپ ، ہرمز پر امریکہ کا ڈبل گیم شروع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سب کو حیران کر دیا ہے۔ چین جو پہلے آبنائے ہرمز پر امریکہ کو کھلم کھلا دھمکی دیتا تھا، اب چین کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کر رہا ہے۔ TruthSocial پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین بہت خوش ہے کہ میں ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں۔ میں یہ چین اور پوری دنیا کے لیے کر رہا ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان صرف دو دن بعد آیا ہے جب انہوں نے ایران کی مدد کرنے پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس پر چینی وزارت خارجہ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا لب و لہجہ بدلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر نے مزید لکھا کہ چینی صدر شی جن پنگ سے بیجنگ میں مل کر خوشی ہوگی۔ ان کا دورہ چین مئی 2026 میں طے شدہ ہے۔ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے دورے پر کوئی اثر نہ پڑے۔ انہوں نے پہلے ایران جنگ کے دوران اپنا سفر ملتوی کیا تھا، اور اب وہ اسے ملتوی نہیں کرنا چاہتے۔پہلے کیا ہوا؟
ابھی چند روز قبل ٹرمپ نے چین کو 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ چین ایران کو ہتھیار بھیج رہا ہے۔ چین نے اسے بے بنیاد قرار دیا اور واضح انتباہ جاری کیا: “اگر امریکہ نے محصولات عائد کیے تو ہم جوابی کارروائی کریں گے۔” چین نے بھی ہرمز کی ناکہ بندی پر امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ اب، ٹرمپ کا لہجہ اچانک بدل گیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ چین آبنائے ہرمز کے کھلنے سے بہت خوش ہے اور بیجنگ نے ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

موقف میں تبدیلی کیوں؟
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ 14-15 مئی کو چین کے اپنے تاریخی دورے سے قبل تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ہرمز کا معاملہ ابھی بھی حساس ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ چین کے بغیر پائیدار معاہدہ ناممکن ہے۔ اس لیے اب وہ میٹھی میٹھی باتوں کا سہارا لے رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چین اور امریکہ بہت اچھے طریقے سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ چین کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مئی میں بیجنگ کا دورہ ٹرمپ کی دوسری مدت کی اہم ترین سفارتی ملاقات ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ٹرمپ چین کو ہرمز، ایران اور تجارت جیسے مسائل پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اگر چین اپنی دھمکیوں کی پرانی لائن پر قائم رہتا ہے تو ٹرمپ کی گلے ملنے کی امیدیں ادھوری رہ سکتی ہیں۔ فی الحال ٹرمپ کی اس نئی حکمت عملی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چین کو کسی نہ کسی طرح اپنے کیمپ میں رکھنا چاہتے ہیں۔







آج رات 8.30 بجے قوم کے نام خطاب کریں گے وزیراعظم مودی، خواتین ریزرویشن پر کرسکتے ہیں بات
پہلے کیا ہوا؟
ابھی چند روز قبل ٹرمپ نے چین کو 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ چین ایران کو ہتھیار بھیج رہا ہے۔ چین نے اسے بے بنیاد قرار دیا اور واضح انتباہ جاری کیا: “اگر امریکہ نے محصولات عائد کیے تو ہم جوابی کارروائی کریں گے۔” چین نے بھی ہرمز کی ناکہ بندی پر امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ اب، ٹرمپ کا لہجہ اچانک بدل گیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ چین آبنائے ہرمز کے کھلنے سے بہت خوش ہے اور بیجنگ نے ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

موقف میں تبدیلی کیوں؟
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ 14-15 مئی کو چین کے اپنے تاریخی دورے سے قبل تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ہرمز کا معاملہ ابھی بھی حساس ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ چین کے بغیر پائیدار معاہدہ ناممکن ہے۔ اس لیے اب وہ میٹھی میٹھی باتوں کا سہارا لے رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چین اور امریکہ بہت اچھے طریقے سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ چین کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مئی میں بیجنگ کا دورہ ٹرمپ کی دوسری مدت کی اہم ترین سفارتی ملاقات ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ٹرمپ چین کو ہرمز، ایران اور تجارت جیسے مسائل پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اگر چین اپنی دھمکیوں کی پرانی لائن پر قائم رہتا ہے تو ٹرمپ کی گلے ملنے کی امیدیں ادھوری رہ سکتی ہیں۔ فی الحال ٹرمپ کی اس نئی حکمت عملی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چین کو کسی نہ کسی طرح اپنے کیمپ میں رکھنا چاہتے ہیں۔نئی دہلی: وزیرِ اعظم نریندر مودی آج رات 8:30 بجے قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ یہ خطاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کو روک دیا ہے۔ جمعہ کو لوک سبھا میں 131واں آئینی ترمیمی بل پاس نہیں ہو سکا۔ حکومت کو اس بل کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی، لیکن تعداد وہاں تک نہیں پہنچ سکی۔ کُل 528 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔ ان میں سے 298 نے بل کی حمایت کی، جبکہ 230 اراکین نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ اکثریت کے لیے 352 ووٹ درکار تھے، جو پورے نہیں ہو سکے۔ اب وزیرِ اعظم مودی اس مسئلے پر قوم کے سامنے اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔

اس بل کا مقصد 2029 سے مقننہ میں خواتین کو ریزرویشن دینا تھا۔ بل کے مسترد ہوتے ہی حکومت نے دو دیگر بلوں کو بھی آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں حد بندی بل 2026 اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے قانون میں ترمیمی بل شامل ہیں۔تجویز کے مطابق لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تیاری تھی۔ یہ توسیع 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہونے والی حد بندی سے جڑی ہوئی تھی۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ وزیرِ اعظم مودی اپنے خطاب میں کیا مؤقف اپناتے ہیں۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہے کہ وزیرِ اعظم مودی اس معاملے پر کوئی بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں۔ خواتین ریزرویشن کے حوالے سے حکومت کی اگلی حکمتِ عملی کیا ہوگی، اس کا انکشاف آج رات وزیرِ اعظم کے قوم سے خطاب میں ہو سکتا ہے۔ کیا اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان حکومت کوئی نیا آرڈیننس لائے گی؟









ایران نے آبنائے ہرمز کو پھر کیا بند، امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام، جانئے اب کیا ہے مطالبہ؟
مغربی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ ایران کی فوجی قیادت اور اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے اور صورتحال پھر سے ‘پہلے جیسی’ ہو گئی ہے۔ یعنی اس اسٹریٹجک سمندری راستے پر اب سخت کنٹرول نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایران نے یہ قدم امریکہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کے آس پاس ناکہ بندی جاری رکھی، جس سے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی۔

دراصل، جمعہ کو لبنان میں جنگ بندی کے بعد ایران نے اس اہم آبی راستے کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے امید پیدا ہوگئی تھی کہ تیل کی سپلائی اور شپنگ ٹریفک معمول پر آ جائے گا۔ لیکن حالات 24 گھنٹوں کے اندر ہی بدل گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا کہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ کوئی مستقل اور طویل مدتی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے حوالے سے جاری بیان میں IRGC نے امریکہ پر ‘سمندری ڈکیتی’ اور ‘سمندری چوری’ جیسے سنگین الزامات لگائے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نام نہاد ناکہ بندی کے تحت جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ آبنائے ہرمز میں کئی جہازوں نے یو ٹرن لے لیا ہے۔ایران کی کیا ہے مانگ؟
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق IRGC نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران سے آنے جانے والے جہازوں کو مکمل آزادی نہیں دی جاتی، تب تک آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول جاری رہے گا۔ یہی وہ آبی راستہ ہے جس سے دنیا کے بڑے حصے کا تیل اور گیس گزرتا ہے۔ ایسے میں اس فیصلے کا براہ راست اثر عالمی توانائی مارکیٹ اور شپنگ انڈسٹری پر پڑ سکتا ہے۔ اسی دوران ایران نے ایک اور بڑا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق IRGC نے ملک کے اندر مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔جاسوسی سیل کو تباہ کر دیا
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی انٹیلیجنس یونٹ نے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ سے وابستہ ‘جاسوسی سیل’ کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ نیٹ ورک جاسوسی، اندرونی نیٹ ورک بنانے اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش میں مصروف تھے۔ رپورٹس کے مطابق یہ مبینہ نیٹ ورک مشرقی آذربائیجان، کرمان اور مازندران صوبوں میں سرگرم تھے۔

Friday, 17 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


ایران کے پاس کتنا ہے یورینیم کا ذخیرہ ؟ کتنے تک بہت زیادہ کہلاتا ہے؟نئی دہلی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تناؤ ایک بار پھر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے فوری طور پر اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی تجویز نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ایران کے پاس کتنا یورینیم موجود ہے جس سے امریکی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بیان بازی میں تیزی آگئی ہے۔ جہاں امریکہ اسے ممکنہ معاہدے کی علامت قرار دے رہا ہے وہیں ایران نے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اس تضاد نے واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک اس مسئلے کو ا سٹریٹجک دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔افزودہ یورینیم کیا ہے؟
یورینیم اپنی قدرتی شکل میں براہ راست قابل استعمال نہیں ہے۔ اس میں یورینیم-235 (U-235) کی مقدار بڑھانے کے عمل کو افزودگی کہا جاتا ہے۔ قدرتی یورینیم صرف 0.7% U-235 پر مشتمل ہوتا ہے۔ سائنسدان گیس سینٹری فیوج جیسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اس مقدار میں اضافہ کرتے ہیں۔ 3-5 فیصد تک افزودہ یورینیم بجلی پیدا کرنے والے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں استعمال ہوتا ہے جبکہ 20 فیصد سے زیادہ یہ زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔

یہ ہتھیاروں کے لیے کب خطرناک ہو جاتا ہے؟
جب یورینیم کی افزودگی تقریباً 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے تو اسے ہتھیاروں کا درجہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 25 کلو گرام 90 فیصد افزودہ یورینیم جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ مزید برآں، 40-42 کلوگرام یورینیم جو 60 فیصد تک افزودہ ہے، کو بھی ہتھیاروں میں مزید پروسیس کیا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 60فیصد سے 90فیصد افزودگی تک پہنچنے کا عمل نسبتاً تیز ہے۔

ایران کے پاس کتنا ذخیرہ ہے؟
بین الاقوامی ایجنسیوں کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 400 سے 450 کلو گرام یورینیم افزودہ ہے جو 60 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ مزید برآں، اس میں کم افزودہ یورینیم کا ایک بڑا ذخیرہ ہے، جسے ضرورت پڑنے پر مزید افزودہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں محدود نگرانی نے ان اعداد و شمار کی مکمل تصدیق کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

عالمی خدشات کیوں بڑھے
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنازع صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اعتماد اور ارادوں کا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ ایران کا بڑھتا ہوا ذخیرہ اس کے “بریک آؤٹ ٹائم” کو کم کر سکتا ہے، یعنی ہتھیاروں کے درجے کی صلاحیت تک پہنچنے میں جو وقت لگتا ہے۔ دریں اثنا، ایران اس ذخیرے کو ایک اسٹریٹجک اثاثہ اور مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔ نتیجتاً دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل میں ہونے والی بات چیت کا نتیجہ پوری دنیا کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔








بھارت نے ڈیلیمیٹیشن بل پر پاکستان کے اعتراضات مسترد کر دیے، جموں کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے امور بھارت کا داخلی معاملہ
بھارت نے ڈیلیمیٹیشن بل 2026 پر پاکستان کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

جمعہ کے روز نئی دہلی میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کے ردِعمل پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی خودمختاری اور داخلی معاملات پر کسی قسم کی بیرونی رائے یا مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا :
’’ڈیلیمیٹیشن کے عمل کے حوالے سے بھارت کے داخلی معاملات صرف بھارت کے اپنے معاملات ہیں، اور ہم کسی بھی قسم کی مداخلت یا غیر ضروری تبصروں کو مسترد کرتے ہیں۔‘‘یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب پاکستان نے ڈیلیمیٹیشن بل 2026 کی بعض شقوں پر اعتراض اٹھایا تھا۔ اس بل کے تحت الیکشن کمیشن کو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں بھی حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کا اختیار دیا گیا ہے۔

یہ بل 16 اپریل کو لوک سبھا میں مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ جموں و کشمیر کی حلقہ بندی میں ان علاقوں کو بھی شامل کیا جائے جو اس وقت پاکستان کے قبضے میں ہیں، کیونکہ بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ خطہ اس کا اٹوٹ حصہ ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے اس تجویز پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد نے اس بل سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں اور وہ جموں و کشمیر میں بھارت کے نام نہاد ڈیلیمیٹیشن عمل کو تسلیم نہیں کرتا۔

انہوں نے اس اقدام کو ’’متنازع علاقے میں غیر قانونی سیاسی چال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو جموں و کشمیر کے کسی بھی حصے کی نئی حد بندی کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔

ڈیلیمیٹیشن بل 2026 کی ایک اور اہم تجویز کے مطابق لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد کو موجودہ 543 سے بڑھا کر تقریباً 850 تک کیا جا سکتا ہے، جس سے ملک میں نمائندگی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ڈیلیمیٹیشن ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کی جاتی ہے تاکہ ہر حلقہ تقریباً یکساں آبادی کی نمائندگی کرے۔ یہ عمل عام طور پر مردم شماری کے بعد ڈیلیمیٹیشن کمیشن کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے تاکہ منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بھارت میں آخری بار مکمل ڈیلیمیٹیشن کا عمل 2002 میں 2001 کی مردم شماری کی بنیاد پر کیا گیا تھا، جس کے بعد سے اس عمل کو منجمد رکھا گیا ہے۔












ہرمز کھولنے کے لئے شہزادہ محمد بن سلمان کی چال ، ٹرمپ بھی جھکے ، اب ایران پر ٹکی نظرلبنان اور اسرائیل کے درمیان اچانک 10 روزہ جنگ بندی کسی عام سفارتی عمل کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر زور دیں، جس سے وائٹ ہاؤس کو فعال طور پر مداخلت کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر جنگ بندی شروع کرنے اور حزب اللہ کو نشانہ بنانے والے حملوں کو روکنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔

سعودی عرب نے لبنان میں جنگ بندی کیوں شروع کی؟درحقیقت سعودی عرب کی سب سے بڑی تشویش تیل کی سپلائی اور توانائی کی عالمی منڈی کا استحکام ہے۔ ایران امریکہ جنگ نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ وہاں جاری کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ اس راستے کو جلد از جلد محفوظ اور مکمل طور پر کھول دیا جائے کیونکہ یہ جتنی دیر بند رہے گا اس کا نقصان سب کو ہوگا۔

آبنائے ہرمز کو کھولنے کے مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے سعودی عرب نے امریکہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنائے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔ ایران نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ جب تک لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہیں گے وہ امریکہ کے ساتھ کسی بڑے معاہدے پر رضامند نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ لبنان امریکہ ایران معاہدے سے براہ راست جڑا تھا۔

اسرائیل کو کیسے قائل کیا گیا؟
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے تیزی سے کام کیا، سب سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کی اور انہیں تنازعہ کو کم کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے بعد لبنانی قیادت سے رابطہ کیا گیا اور یقین دہانی کرائی گئی کہ تنازعہ کو روک دیا جائے گا۔ یہ سارا عمل اتنا تیز تھا کہ بہت سے اسرائیلی وزراء کو صرف ٹیلی ویژن کی خبروں کے ذریعے ہی اس فیصلے کے بارے میں معلوم ہوا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، حالانکہ یہ بہت نازک حالت میں ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود لبنان میں ایمبولینس پر حملہ کیا۔

سعودی عرب آبنائے ہرمز کو کھولنا چاہتا ہے
اس ساری پیش رفت میں سعودی عرب کی حکمت عملی دوہری لیکن واضح دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ اس نے پہلے امریکہ کو محدود مدد فراہم کی تھی لیکن اب اس نے جنگ کو طول دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کی توجہ واضح طور پر کشیدگی کو کم کرنے، توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستوں کو مسدود نہ ہونے کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگرچہ سعودی عرب کے پاس ایسٹ ویسٹ پائپ لائن جیسے آپشنز موجود ہیں جو اسے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن اس کے لیے عالمی منڈی کا استحکام بھی اتنا ہی اہم ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

مغربی بنگال میں دوپہر 1 بجے تک 62.18 فیصد، تامل ناڈو میں 56.81 فیصد ووٹنگ، بنگال کے مرشد آباد میں ہوا جم کربوال  الی...