*🛑چینی کی قیمت کم ہوکر 55 روپے ہوئی ! ذخیرہ اندوزی کو روکنا اور درآمدات کی منظوری کا نظر آیا اثر*
نئی دہلی۔ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان مٹھائی کے تاجروں اور عوام کے لیے ریلیف کی خبر ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے چینی کی درآمدات کی منظوری اور ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد مل کی سطح پر چینی کی قیمتیں تیزی سے گر گئی ہیں۔ خوراک کے سکریٹری کے مطابق، ایکس مل کی قیمت اب تقریباً 55 روپے فی کلو ہے۔ پچھلے ہفتے ایکس مل کی قیمت 67 روپے فی کلو گرام کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں موجودہ قیمت تقریباً 18 فیصد کم ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتیں کچھ ملوں نے بڑھائی تھیں لیکن اب مارکیٹ میں سپلائی اور حکومتی کارروائی کی وجہ سے قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔
سیکرٹری خوراک کے مطابق حکومت چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ذخیرہ اندوزی کی جانچ کے لیے ملک بھر میں فلائنگ اسکواڈز تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ ٹیمیں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا تاجر ضرورت سے زیادہ اسٹاک جمع کر کے قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ حکومت نے چینی کی درآمد کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس کا مقصد مقامی مارکیٹ میں سپلائی کو بڑھانا اور قیمتوں پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اضافی سپلائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی سے چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔تہواروں سے پہلے مٹھائی کے تاجروں کے لیے ریلیف
تہوار کا سیزن شروع ہوتے ہی چینی کی قیمتوں میں کمی کی خبر نے راحت پہنچا دی ہے۔ رکشا بندھن اور جنم اشٹمی کے بعد، گنیش چترتھی اور دیوالی جیسے بڑے تہوار قریب آرہے ہیں۔ اس عرصہ میں، مٹھائیوں کی مانگ میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے چینی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں چینی کے ساتھ ساتھ دودھ، کھویا، پنیر اور دیسی گھی جیسے خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سے مٹھائی بنانے کی قیمت بڑھ گئی۔ کئی دکانداروں اور بڑے مٹھائی کے برانڈز نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مٹھائی کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ کر دیا، جب کہ کچھ تاجروں نے فروخت میں نقصان کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اپنے مارجن پر ڈال دیا۔
اب، چینی کی ایکس مل قیمت میں تقریباً 18 فیصد کی کمی مٹھائی کے تاجروں کو کچھ راحت فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم، مٹھائی کی خوردہ قیمتیں فوری طور پر کم ہوں گی یا نہیں اس کا انحصار دیگر اخراجات، جیسے دودھ، گھی، کھویا، پنیر، پیکیجنگ اور نقل و حمل میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔
حکومت اب ریٹیل مارکیٹ پر توجہ دے رہی ہے
ایکس مل کی قیمتوں میں کمی کے بعد، حکومت اب سپلائی چین کی اگلی سطح پر توجہ مرکوز کرے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ مل کی سطح پر سستی چینی کے فوائد ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ تک پہنچیں۔ اگر چینی کی قیمتیں موجودہ سطح پر رہیں تو آنے والے تہواروں کے دوران مٹھائیاں بنانے کی لاگت پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس سے تاجروں کو قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے اور تہواروں کے دوران صارفین کو ریلیف ملنے کی امید بڑھ جائے گی۔
*🛑مانسون میں جلد کے مسائل کو نظر انداز نہ کریں، سیلولائٹس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے*
مانسون کے موسم میں جلد سے متعلق مسائل کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ زیادہ نمی، پسینہ، بیکٹیریا اور آلودہ پانی جلد کے انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بارش کے موسم میں خارش، جلن، معمولی زخم اور جلد پر خراشیں عام ہوتی ہیں، تاہم بعض صورتوں میں یہی مسائل سنگین بیکٹیریل انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں، جسے سیلولائٹس کہا جاتا ہے۔
مانسون کے دوران زیادہ نمی کی وجہ سے پسینہ آسانی سے خشک نہیں ہوتا، جس سے جلد کی حفاظتی تہہ کمزور ہو سکتی ہے اور فنگل و بیکٹیریل انفیکشن تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آلودہ یا سیلابی پانی میں موجود بیکٹیریا جلد پر موجود معمولی کٹ، خراش، کیڑے کے کاٹنے یا دراڑ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
سیلولائٹس کیا ہے؟
سیلولائٹس ایک سنگین بیکٹیریل انفیکشن ہے جو جلد کی گہری تہوں اور اس کے نیچے موجود بافتوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو انفیکشن خون یا لمف نوڈز تک پھیل سکتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر سیلولائٹس جلد پر ایک چھوٹے سرخ نشان کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ متاثرہ حصے میں سوجن، گرمی اور درد بڑھ سکتا ہے اور لالی آس پاس کے حصوں تک پھیل سکتی ہے۔
سیلولائٹس کی اہم علامات
جلد کے کسی حصے میں لالی
متاثرہ جگہ کا لمس پر گرم محسوس ہونا
سوجن اور درد
جلن کا احساس
جلد میں کھنچاؤ یا جکڑن
لالی کا بتدریج پھیلنا
بخار اور سردی لگنا
کمزوری یا سستی محسوس ہونا
کون زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق کسی بھی عمر کے فرد کو سیلولائٹس ہو سکتا ہے، تاہم بعض افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں:
ذیابیطس کے مریض
کھلے زخم والے افراد
کیڑے یا جانور کے کاٹنے سے متاثرہ افراد
ایگزیما کے مریض
ٹانگوں میں دائمی سوجن والے افراد
کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد
عمر رسیدہ افراد
موٹاپے کا شکار افراد
وہ افراد بھی زیادہ احتیاط کریں جنہیں ماضی میں سیلولائٹس ہو چکا ہو، کیونکہ جلد پر ہونے والی معمولی چوٹ بھی انفیکشن کے دوبارہ پیدا ہونے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔بارش کے آلودہ پانی سے احتیاط ضروری
اگر بارش کا پانی سیوریج کے پانی میں شامل ہو جائے تو اس میں موجود بیکٹیریا جلد کے انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ایسے پانی میں چلنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ اگر اس پانی سے گزرنا ناگزیر ہو تو بعد میں پاؤں اور متاثرہ حصے کو صابن اور صاف پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔
معمولی زخم یا خراش کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسے صاف پانی سے دھو کر مناسب پٹی لگائیں اور گندے ہاتھوں سے زخم کو چھونے یا نوچنے سے گریز کریں۔
ڈاکٹر ویرا ریڈی، سپرنٹنڈنٹ، کریم نگر گورنمنٹ جنرل اسپتال کے مطابق، اگر چوٹ کے اردگرد نمایاں لالی، گرمی، سوجن یا درد محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ زخم کو دبانے یا چھیڑنے سے بھی گریز کریں۔ بخار، سردی لگنے یا غیر معمولی تھکن جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔
ہاتھوں اور پیروں کا خاص خیال رکھیں
ماہرین کے مطابق اگرچہ سیلولائٹس جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن یہ عموماً ٹانگوں اور بازوؤں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اگر چہرے یا آنکھوں کے اردگرد انفیکشن ظاہر ہو تو فوری طبی توجہ ضروری ہے۔
پاؤں پر خراشیں اور بعض فنگل انفیکشن جلد میں معمولی دراڑیں پیدا کر سکتے ہیں، جن کے ذریعے بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پاؤں سے متعلق معمولی مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو خاص طور پر روزانہ اپنے پیروں کا معائنہ کرنا چاہیے اور انگلیوں کے درمیان، تلووں اور ایڑیوں کے قریب کسی بھی زخم، خراش یا دراڑ پر نظر رکھنی چاہیے۔
ضرورت سے زیادہ خشک جلد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دراڑیں بھی بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کا راستہ بن سکتی ہیں۔ اسی طرح جن افراد کو اکثر پیروں میں سوجن رہتی ہے، ان میں جلد کے مسائل کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔
ذیابیطس کی وجہ سے بعض افراد کے پیروں کی حساسیت کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث انہیں معمولی چوٹ یا چھالہ فوری طور پر محسوس نہیں ہوتا۔ نتیجتاً ایسے زخموں کو بھرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ مانسون کے دوران جلد کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے، معمولی زخم کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے اور انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے پر خود علاج کرنے کے بجائے بروقت ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
*🛑اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے ہلاک*
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بچوں کے وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً سات بجے آتشزدگی سے 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفافی سیکریٹری صحت کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ہسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کے تیسری فلور پر لگی اور اس کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک ہو گئے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں نصب ایئر کنڈینشر کے اندر دھماکے کے نتیجے میں آگ لگی۔
انھوں نے کہا کہ کیونکہ اس وارڈ میں بچوں کو آکسیجن پر رکھا جاتا ہے تووہاں موجود آکسیجن کے نظام کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جیسے ہی دھماکہ ہوا تو سٹاف مدد کے لیے باہر گیا لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ ان کی معلومات کے مطابق صرف ایک بچے کو ہی بچایا جا سکا۔خیال رہے کہ پمز اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے جہاں دارالحکومت کے علاوہ قریبی علاقوں سے روزنہ بڑی تعداد میں مریض آتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پمز میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ پیش آنے والا ایسا سانحہ ناقابلِ تلافی ہے۔ اس واقعے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس واقعے کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔