Friday, 30 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *



*ٹکڑے ۔ ٹکڑے ہونے سے بچ گیا پاکستان ، کب تک عاصم منیر کو روک پائیں گے شہباز شریف؟*


پاکستان ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر تھا۔ آرمی چیف عاصم منیر نے ملک کو 20 حصوں میں تقسیم کرنے کی تلوار پہلے ہی اٹھا رکھی تھی۔ تاہم جیسے ہی یہ ‘فیلڈ مارشل’ کا خفیہ منصوبہ منظر عام پر آیا، حکومت اور اتحادیوں کے اندر کھلبلی مچ گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف جو کبھی صرف منیر کے ذکر پر کانپ جاتے تھے، شدید دباؤ میں اپنے ہی آرمی چیف کے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہوئے۔ بلاول بھٹو اور شہباز نے فی الحال منیر کے خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کے طاقتور ترین لیڈر بننے والے منیر کو کب تک روکا جا سکتا ہے؟

پاکستان ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر تھا۔ آرمی چیف عاصم منیر نے ملک کو 20 حصوں میں تقسیم کرنے کی تلوار پہلے ہی اٹھا رکھی تھی۔ تاہم جیسے ہی یہ ‘فیلڈ مارشل’ کا خفیہ منصوبہ منظر عام پر آیا، حکومت اور اتحادیوں کے اندر کھلبلی مچ گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف جو کبھی صرف منیر کے ذکر پر کانپ جاتے تھے، شدید دباؤ میں اپنے ہی آرمی چیف کے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہوئے۔ بلاول بھٹو اور شہباز نے فی الحال منیر کے خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کے طاقتور ترین لیڈر بننے والے منیر کو کب تک روکا جا سکتا ہے؟


 پوری کہانی 31 جولائی کو شروع ہوئی، جب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران ایک بڑا بیان دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کا موجودہ گورننس سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اسے “ری سیٹ” کرنے کا وقت آگیا ہے۔

نقوی کا بیان 25 کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک میں بڑے صوبوں کی طاقت کو کچلنے کے لیے راولپنڈی اور جنرل عاصم منیر کے درمیان خفیہ منصوبے کی طرف اشارہ تھا۔ فوجی حکمران سندھ اور پنجاب جیسے طاقتور صوبوں کو 12، 15، یا اس سے بھی 20 چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا چاہتے تھے، اس طرح صوبائی حکومتیں کمزور ہو ں گی اور پورے ملک پر راولپنڈی کا براہ راست کنٹرول مضبوط ہو گا۔

آئینی دیوار اور آرٹیکل 239(4) کا پینچ
اس پلان کو عملی جامہ پہنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود پاکستان کا آئین تھا۔ آرٹیکل 239(4) کے مطابق مرکزی حکومت متاثرہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر کسی بھی صوبے کی حدود تبدیل نہیں کر سکتی۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت اس مذموم منصوبے کی تکمیل کے لیے پارلیمنٹ میں 28ویں آئینی ترمیم لانے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ لیکن اس سے پہلے کہ فوج اپنا منصوبہ مکمل کرتی، ملک کے اندر سے بغاوت کی آوازیں اٹھنے لگیں۔

سندھ اسمبلی کا دو ٹوک انکار اور بلاول کا بڑا حملہ
محسن نقوی کے بیان کے بعد پہلا اور شدید دھچکا صوبہ سندھ سے آیا۔ 4 ستمبر کو سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں اعلان کیا گیا کہ سندھ کی علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

لیکن اصل دھچکا اس وقت لگا جب پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری میڈیا کے سامنے پیش ہوئے اور حکومتی مؤقف کو بے نقاب کیا۔ ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر بلاول نے غصے سے اعلان کیا کہ “نئے انتظامی یونٹس بنانے کی یہ بحث فوری طور پر ختم ہونی چاہیے، سندھ کے عوام اپنی قسمت کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔”

بلاول نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مرکزی حکومت نے ان کی پارٹی سے 28ویں ترمیم پر بات بھی نہیں کی۔ چونکہ شہباز شریف کی حکومت مکمل طور پر بلاول کی پارٹی (پی پی پی) پر منحصر ہے، اس لیے بلاول کے مضبوط مؤقف نے منیر اور شہباز کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔


وزیر داخلہ کی دھمکیاں اور اندرونی لڑائی
بلاول کی مخالفت کے باوجود وزیر داخلہ محسن نقوی باز آنے کو تیار نہیں تھے۔ 6 ستمبر کو اور پھر 3 اکتوبر کو نقوی نے پھر دھمکی دی کہ ملک کا نظام دوبارہ ترتیب دیا جائے گا اور نئی انتظامی اکائیاں بنائی جائیں گی۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ضد پاکستان کو خانہ جنگی یا سنگین نسلی تنازعہ کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نئے صوبے بنانے سے ملک ترقی نہیں کرے گا بلکہ بیوروکریسی پر بھاری بوجھ اور انتظامی عدم استحکام کا باعث بنے گا۔

شہباز شریف عاصم منیر کو کب تک روک پائیں گے؟
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے پاس کیا اختیار ہے؟ کیا وہ جنرل عاصم منیر کے ہر غلط فیصلے پر ڈٹ سکتے ہیں ؟ سچ تو یہ ہے کہ شہباز کی حکومت محض ایک کٹھ پتلی کی طرح کام کر رہی ہے، فوج کے احکامات ماننے پر مجبور ہے۔

جب بھی پاکستانی فوج نے سیاست میں مداخلت اور ملک کے منظر نامے کو بدلنے کی کوشش کی ہے، ملک مزید ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے۔ اس بار پھر 20 نئے صوبے بنانے کا خواب دیکھنے والی حکومت کو اپنے ہی اتحادیوں نے گھیر لیا ہے۔

اگرچہ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا یہ خطرناک منصوبہ شدید سیاسی مخالفت اور آئینی رکاوٹوں کی وجہ سے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، لیکن فوجی جرنیلوں اور سیاست دانوں کی سازشیں بے لگام ہیں۔ پاکستانی عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ ’’سسٹم ری سیٹ‘‘ کے نام پر ملک کو درحقیقت کھائیوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شہباز شریف آرمی چیف کی ہٹ دھرمی اور سازشوں کے سامنے کب تک ملک کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچا سکیں گے؟



*امت شاہ نے اترپردیش سے بھری ہنکار، یوپی ، اتراکھنڈ اور پنجاب میں بی جے پی کی جیت کا کیا دعویٰ*

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز پُراعتماد انداز میں پیش گوئی کی کہ بی جے پی اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب میں میں شاندار کامیابیاں حاصل کرے گی جہاں آنے والے مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

امت شاہ نے اتر پردیش میں بی جے پی کی گرفت کا موازنہ “Angad’s Foot” سے کیا اور کہا کہ اسے کوئی اپنی جگہ سے ہٹا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ایک بار پھر ریاست میں “بھاری اکثریت” کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے تیار ہے اور “پارٹی کارکنوں کو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے”۔

لکھنؤ میں شاہ نے کہا، “…یو پی میں بی جے پی کی حکومت Angad’s Footکی طرح مضبوطی سے جمی ہوئی ہے—کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا۔ ایک بار پھر، بی جے پی یہاں بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ ہماری پارٹی کے کارکنوں کو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔”



انہوں نے کہا کہ اتر پردیش جیسی اہم ریاست جہاں بی جے پی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں توقعات سے کم کارکردگی دکھائی تھی—اور پنجاب میں، جہاں وہ شرومنی اکالی دل کی جونیئر اتحادی کے طور پر اقتدار میں رہی ہے، بی جے پی کے انتخابی امکانات کے بارے میں کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، “دہلی کے ایوانوں میں بہت سی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں… لوگ پوچھتے رہتے ہیں کہ ‘کیا ہوگا؟’ جب وہ مجھ سے ملتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ ‘پنجاب میں بی جے پی کی حکومت بنے گی۔’ وہ جواب دیتے ہیں، ‘واقعی؟ اور کیا ہوگا؟’ میں انہیں بتاتا ہوں، ‘اتراکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت بنے گی۔’ وہ پھر پوچھتے ہیں، ‘اور کیا؟’ میں جواب دیتا ہوں، ‘آپ اور کیا جاننا چاہتے ہیں؟’ پھر وہ یو پی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تو آج میں آپ کو اس کا جواب دے دیتا ہوں…”

شاہ نے مزید کہا کہ 2022 کے پچھلے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی نے 41 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جو کہ “جادوئی ہندسے (اکثریت کے لیے درکار تعداد) سے کہیں زیادہ” ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ بی جے پی کے لیے ایک “شاندار اور بھاری” اکثریت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ ”یہاں تک کہ 2022 میں بھی، ہم نے 41 فیصد ووٹ حاصل کیے — جو کہ ’جادوئی ہندسے‘ سے کہیں زیادہ ہے — اور یہاں دوسری بار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تیسری بار بی جے پی کی حکومت تشکیل دی جائے۔

شاہ نے لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ورکنگ کمیٹی کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کی ، جس کی صدارت بھی انہوں نے کی۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ایک بھرپور نظریاتی اور تنظیمی مہم چلانے کا اشارہ دیا ہے۔




*بدری ناتھ دھام سے واپس آنے والا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ، 6 افراد ہلاک ، خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا حادثہ*


چمولی: اتراکھنڈ کے چمولی ضلع سے ایک افسوس ناک خبر سامنے آئی ہے۔ بدری ناتھ دھام سے واپس آنے والا ایک ہیلی کاپٹر کریش ہوگیا۔ بتایا جارہا ہےکہ خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر گر کر تبا ہ ہوگیا۔ اس حادثہ میں 6 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

30 اکتوبر کو، ایک ٹرانس کمپنی کا ایک ہیلی کاپٹر جو بدری ناتھ دھام سے چھ مسافروں کو لے کر جا رہا تھا، خراب موسم کی وجہ سے چھائے اور تھایانگ گاؤں کے اوپر گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز میں سوار تمام چھ افراد کے ہلاک ہوگئے۔ چمولی کے ضلع مجسٹریٹ گورو کمار نے بتایا کہ فوج نے انتظامیہ کو واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد انتظامیہ نے مقام کا پتہ لگایا اور ہیلی کاپٹر کے حادثے کی تصدیق کی۔


ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ چوکنا ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ موسم کی خرابی کی وجہ سے چھائے اور تھایانگ گاؤں میں پیش آیا۔ تازہ ترین معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں سوار تمام چھ افراد اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ فوج کی معلومات کی بنیاد پر انتظامیہ نے مقام کا پتہ لگایا اور حادثے کی تصدیق کی۔

سی ایم دھامی نے دکھ کا کیا اظہار
ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اس المناک حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے لکھا، “جوشی مٹھ کے قریب چھائی گاؤں کے قریب ہیلی کاپٹر کے حادثے کی افسوسناک خبر موصول ہوئی ہے۔ ضلع انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور ایس ڈی آر ایف کی طرف سے مشترکہ ریسکیو آپریشن کیا جا رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر پورے واقعے کی نگرانی کر رہا ہوں۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *


*امت شاہ نے اترپردیش سے بھری ہنکار، یوپی ، اتراکھنڈ اور پنجاب میں بی جے پی کی جیت کا کیا دعویٰ*



مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز پُراعتماد انداز میں پیش گوئی کی کہ بی جے پی اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب میں میں شاندار کامیابیاں حاصل کرے گی جہاں آنے والے مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

امت شاہ نے اتر پردیش میں بی جے پی کی گرفت کا موازنہ “Angad’s Foot” سے کیا اور کہا کہ اسے کوئی اپنی جگہ سے ہٹا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ایک بار پھر ریاست میں “بھاری اکثریت” کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے تیار ہے اور “پارٹی کارکنوں کو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے”۔

لکھنؤ میں شاہ نے کہا، “…یو پی میں بی جے پی کی حکومت Angad’s Footکی طرح مضبوطی سے جمی ہوئی ہے—کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا۔ ایک بار پھر، بی جے پی یہاں بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ ہماری پارٹی کے کارکنوں کو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔”


انہوں نے کہا کہ اتر پردیش جیسی اہم ریاست جہاں بی جے پی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں توقعات سے کم کارکردگی دکھائی تھی—اور پنجاب میں، جہاں وہ شرومنی اکالی دل کی جونیئر اتحادی کے طور پر اقتدار میں رہی ہے، بی جے پی کے انتخابی امکانات کے بارے میں کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، “دہلی کے ایوانوں میں بہت سی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں… لوگ پوچھتے رہتے ہیں کہ ‘کیا ہوگا؟’ جب وہ مجھ سے ملتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ ‘پنجاب میں بی جے پی کی حکومت بنے گی۔’ وہ جواب دیتے ہیں، ‘واقعی؟ اور کیا ہوگا؟’ میں انہیں بتاتا ہوں، ‘اتراکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت بنے گی۔’ وہ پھر پوچھتے ہیں، ‘اور کیا؟’ میں جواب دیتا ہوں، ‘آپ اور کیا جاننا چاہتے ہیں؟’ پھر وہ یو پی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تو آج میں آپ کو اس کا جواب دے دیتا ہوں…”

شاہ نے مزید کہا کہ 2022 کے پچھلے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی نے 41 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جو کہ “جادوئی ہندسے (اکثریت کے لیے درکار تعداد) سے کہیں زیادہ” ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ بی جے پی کے لیے ایک “شاندار اور بھاری” اکثریت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ ”یہاں تک کہ 2022 میں بھی، ہم نے 41 فیصد ووٹ حاصل کیے — جو کہ ’جادوئی ہندسے‘ سے کہیں زیادہ ہے — اور یہاں دوسری بار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تیسری بار بی جے پی کی حکومت تشکیل دی جائے۔

شاہ نے لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ورکنگ کمیٹی کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کی ، جس کی صدارت بھی انہوں نے کی۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ایک بھرپور نظریاتی اور تنظیمی مہم چلانے کا اشارہ دیا ہے۔



*مالیگاؤں کارپوریشن میں رشوت کا راج ختم کرو - مالیگاؤں میں ایماندار IAS کمشنر ضروری*

محمد عارف نوری 
(صدر حفاظت گروپ و ڈائریکٹر حفاظت میڈیا) 

مالیگاؤں شہر میں تقریباً 11 سو کروڑ کا جمبو بجٹ رکھنے والی میونسپل کارپوریشن ہے آج شرم سے سر جھکائے کھڑی ہے
حال ہی میں مالیگاؤں شہر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر رشوت خوری کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں یہ گرفتاری صرف ایک فرد کی گرفتاری نہیں، بلکہ اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے جو پچھلے کئی سالوں سے مالیگاؤں میں چل رہا تھا گزشتہ تقریباً 3 سال تک مالیگاؤں میں پرشاسک راج تھا کوئی کارپوریٹر نہیں، کوئی اسٹینڈنگ چیئرمین نہیں، کوئی میئر نہیں، کوئی ڈپٹی میئر نہیں مطلب عوام کا کوئی نمائندہ نہیں پورا کاروبار ایک ہی ہاتھ میں تھا کمشنر کے ہاتھ میں
سوچئے جب دیکھنے والا کوئی نہ ہو، پوچھنے والا کوئی نہ ہو، تو بدعنوانی کس حد تک بڑھے گی؟ ہزاروں کروڑ روپے کا بجٹ، ٹینڈر، ٹھیکے، نالی، سڑک، پانی، لائٹ کے کام سب کچھ ایک ہی شخص کی مرضی سے ہو رہا تھا آج جب وہی شخص رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ پچھلے 3 سالوں میں کتنا گھپلہ ہوا ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی بدعنوانی میں کیا صرف کمشنر شامل ہے یا اور.......؟
گرفتار کمشنر کی پوری مدت کی چوکسی (Enquiry) ہونی چاہیے اُن کے دور میں ہوئے تمام ٹینڈروں کی جانچ ہونی چاہیے ان کے ساتھ کون کون ملوث ہے سب پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے ہماری مہاراشٹر سرکار اور وزیر اعلیٰ سے گزارش ہیں کہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں فوری طور پر ایک ایماندار، باصلاحیت، اور بے داغ شبیہ والے IAS افسر کی تقرری کی جائے
ایسا افسر جو مالیگاؤں کو اپنا سمجھے جو پاور لوم کے شہر کے درد کو سمجھے جو غریبوں کی بستیوں میں جا کر کام دیکھے مالیگاؤں کو ایک ایماندار IAS کمشنر چاہیے۔


۔
*( وارڈ نمبر 15 ) حسن پورہ، ملت کالونی ،مسجد آفتاب سر کے بازو میں مفتی صاحب کی کوششوں سے ضلع نیوجن سمیتی کے خصوصی بجٹ سے پرائمری اسکول نمبر 64 کے تعمیر نو کی*

     *🪻:::: افتتاحـی تقــریب ::::🪻*

*معاون کارپوریٹر جمال ناصر، عتیق سر، خالد سکندر، فیضان منگل و دیگر افراد کی مسلسل محنت اور فالو اپ کے بعد کامیابی*

        *🤲🏽 افتتاح بدست 🤲🏽*
*حضرت مولانا مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی صاحب* (ایم ایل اے مالیگاؤں سینٹرل)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*31 اکتوبر بروز سنیچر دوپہر 12 بجے*
 
مالیگاؤں شہریان کو اور خاص طور سے ( وارڈ نمبر 15) کی عوام کے لئیے نہایت ہی خوشی و مسرت کا مقام ہیکہ حسن پورہ مسجد آفتاب سر کے بازو میں جاری اسکول نمبر 64 جو کہ کافی سالوں سے انتہائی خستہ حالی کا شکار تھی، تقریباً دو سو سے زائد معصوم طلبہ و طالبات اس اسکول میں زیر تعلیم ہیں جس کی تعمیر نو کیلئے معاون کارپوریٹر جمال ناصر ،عتیق سر و رفقاء مسلسل مفتی صاحب کی سرپرستی میں اسکول کی تعمیر نو کیلئے فالواپ لے رہے تھے ، الحمداللہ.. اسکول کی تعمیر نو یعنی اس اسکول کو توڑ کر وہاں پر ایک نہایت ہی شاندار اور تمام بنیادی سہولیات پر مبنی اسکول کی تعمیر کی شروعات کی جارہی ہے۔

لہٰذا مالیگاؤں کی عوام سے اور خاص طور سے وارڈ نمبر 15 کی عوام سے اس عظیم الشان تعمیر نو افتتاحی تقریب میں شرکت کی گزارش کی جاتی ہے

الداعیان:
 *کارپوریٹر ساجدہ رئیس (جمال ناصر) ، کارپوریٹر عارف سلوٹی، کارپوریٹر شاہد بیرنگ والا۔*
*مجلس اتحاد المسلمین مالیگاؤں*



Wednesday, 28 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *



*اصلاح معاشرہ مہم کے دوران یوم تاسیس اسلام پارٹی اور صغیر ماسٹر اسلام پورہ کے علاوہ کروڑوں کی بدعنوانی جیسا ہٹ دھرمی والا کھیل آخر کب تک ؟؟؟۔ ایک لمحہ فکریہ* ۔۔۔۔ 

✒️ *اعجاز شاہین مالیگاؤں* 

*کافی افسوس کہ ساتھ اس تحریر کو لکھنا پڑ گیا ہے کہ تاریخی شہر مالیگاؤں میں اب بدنامی لائن سے تاریخ مرتب کی جا رہی ہے آخر کیا وجہ ہے آج تک کسی کو بھی نہیں معلوم پڑتا دکھائی دے رہا ہے یا واقعی میں نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ جو کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے کافی خطرناک وقت ثابت ہو سکتا ہے پھر اس شعر کو بار بار یاد کیا جاتا ہے اور آئندہ بھی یاد کیا جاۓ گآ ۔۔۔ لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی* ۔۔۔ *شہر مالیگاؤں کا جائزہ لیا جائے تو چاہے گلی کی سڑکیں ہوں ، ڈی پی روڈ ہو یا پھر دنیا کی مہنگی ترین روڈ جسے شہر عزیز مالیگاؤں کی آگرہ روڈ کہا جاتا ہے بنانے کے بعد ہی کھودا جا رہا ہے*
*اور پھر انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی انڈر گراؤنڈ گٹریں کامیاب ہو گی یا نہیں* ۔۔۔ *مگر عوام سے ٹیکس وصول کر کے بل نکال کر اپنا اپنا الو ہمیشہ کی طرح سیدھا کرنا ہے* ۔۔۔
*شہر کے اکثر راستوں کو بند کر دیا گیا ہے ، سارے شہر میں دھول مٹی ، کچروں کے ڈھیر ، گٹروں کے گندے بدبودار پانی سڑکوں پر بہنے سے ہر کوئی شہری پریشان دکھائی دے رہا ہے چاہے وہ بزرگ ماں باپ ہوں ، دائمی مریض ہوں* ، *حاملہ عورتیں ہوں ، بچے بچیاں کے علاوہ نمازی حضرات ہوں ہر کوئی پریشان زندگی گزارنے پر مجبور ہے* ۔ *نوجوان لڑکے لڑکیوں کا حال دیکھ کر تو حیرت ہوتی ہے* *جیسے چالیس پچاس سال کے بوڑھے ماس پہنے* 
*رومال سے منہ ڈھانکے ہانپتے کانپتے نظر آ تے*
*اسی تاریخی ماحول میں شہر مالیگاؤں بدترین مندی کا بھی شکار ہے مگر بنکر حضرات کی اکائی کو دیکھتے ہوئے بھی ایک تاریخ مرتب کی گئی ہے اور فیصلہ لیا گیا کہ کہ شہر مالیگاؤں کے پاورلوم کاروبار کو مکمل طور سے چند دنوں کے لئے بند رکھیں گے مگر دوسرے ہی روز کاروبار چالو رکھتے ہوئے بنکروں کی اکائی و اتحاد کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے* ۔۔۔ *پھر ایسے تاریخی ماحول میں جب کہ تنظیم علماء ائمہ کرام شہر مالیگاؤں میں اصلاح معاشرہ کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ایسے ماحول میں اسلام پارٹی کی جانب سے یوم تاسیس کے موقع پر آتش بازی کرنا ، ہورڈنگ ، ڈیکوریشن کے نام پر لاکھوں روپے پھونک دینا ، متنازعہ تقاریر کر کے شہر عزیز مالیگاؤں کے سنجیدہ و مہذب افراد کو ٹھیس پہنچانا اور جن لوگوں کی وجہ سے اقتدار حاصل ہوا ان ہی لوگوں کو ، آن کے خاندان والوں کے کاندھوں پر کارپوریشن کے بھاری بھرکم ٹیکس لاگو کرنا بھی شہر مالیگاؤں کے لئے ایک تاریخی قدم ہے* ۔۔۔‌ 
*حالانکہ اصلاح معاشرہ پروگرام کے کنوینر حضرات کو بھی اس کا بخوبی علم اور تجربہ تھا کہ یوم تاسیس کے موقع پر بہت ساری خرافات ہونا طئے ہے* ، *نوجوانوں کا ٹولہ اسی وقت جوش میں رہتا ہے اور پھر چاہے اذان و جماعت ہو گھروں میں سالوں سے بستر پر لیٹے ہوئے مریض ہوں پردہ نشین مہذب ماں بہنیں بیٹیاں ہوں سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے آتش بازی ، پٹاخوں کی آواز ، جانوروں جیسا شور شرابہ اور اتنا بڑا جلوس کہ جلد ختم بھی نہیں ہو رہا ہے* ۔ *یہ تمام خرافات طئے تھے مگر ہٹ دھرمی کے آگے کون کسے سمجھائے اور نصیحت کرے حالانکہ ایسے بہترین موقع پر افہام وتفہیم کے ذریعے ایسے ماحول میں سادگی کے ساتھ یوم تاسیس منا کر ایک اچھی تاریخ مرتب کی جا سکتی تھی مگر*..... 
*اب جب کہ شہر مالیگاؤں میں اصلاح معاشرہ کے پروگرام کا اہتمام جاری ہے ایسے ماحول میں تاریخی شہر مالیگاؤں کے بدنام زمانہ صغیر ماسٹر جو کہ کئ دہائیوں سے سیکسی اسکینڈل جیسی نحوست میں خود بھی گرفتار ہیں اور دوسروں کو بھی ملوث رکھتے ہیں اور کئ مرتبہ عوام کے سامنے گرفتار و رہا بھی ہو چکے ہیں مگر آج بھی اسلام پورہ جیسے علاقے میں رہائش پذیر ہیں* *گذشتہ کئ ہفتوں سے کم عمر لڑکی کے ساتھ پکڑے جانے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئ اس کے بعد بھی اس صغیر ماسٹر کو اسلام پورہ سے نہیں نکالا گیا اور آخر گذشتہ روز جمعہ کے دن خود کی بیوی کے ساتھ ننگی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر کے گویا تاریخی کام انجام دیا گیا ہے چاہے وہ بدنامی لائن سے ہی کیوں نہ ہو* ۔۔۔۔ *شہر مالیگاؤں کا عجیب تماشہ یہی ہے کہ برائ ، کرپشن ، غنڈہ گردی وغیرہ جیسے جرائم کو شروع میں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور جڑیں مضبوط ہونے کے بعد ماتھا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں* 
*ان سارے معاملات میں آج بھی سویرا ہے کہ طاقت کے ذریعے سے اجتماعیت کے ساتھ مجرمین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالیں تا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کو صحیح معنوں میں زندگی گزارنے کے اسباب میسر ہو سکیں ورنہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی* ۔ *اللہ تعالیٰ ہماری ہر طریقے سے مدد فرمائے اور امت مسلمہ کے حالات کو ساز گار بناۓ ۔ آمین*



*جوہر یونیورسٹی کے 426.46 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط ، اعظم خان کے خلاف ED کی بڑی کارروائی*



رام پور: سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے 426.46 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کیے گئے ہیں۔ اٹیچ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 1,170 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں ایک بڑی کارروائی میں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے لکھنؤ زونل آفس نے اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو عارضی طور پر ضبط کر لیا ہے۔ اٹیچ جائیدادوں کی قیمت 426.46 کروڑ ہے، جب کہ ان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 1,170 کروڑ بتائی گئی ہے۔


کارروائی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ، اتر پردیش کے سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خان اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر کی گئی۔ یہ یونیورسٹی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق، اس ٹرسٹ کی بنیاد اعظم خان نے رکھی تھی، جو اسے کنٹرول کرتے ہیں اور اس کے اعزازی چانسلر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے رام پور کے عظیم نگر پولیس اسٹیشن میں درج 26 ایف آئی آر کی بنیاد پر پی ایم ایل اے کے تحت تحقیقات شروع کیں۔ ان مقدمات میں الزام لگایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے کسانوں کی زرعی زمین زبردستی حاصل کی گئی تھی۔ رام پور ضلع انتظامیہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سنگھانکھیڑا گاؤں میں دشمن کی تقریباً 34 ایکڑ زمین بھی مبینہ طور پر یونیورسٹی کے لیے حاصل کی گئی تھی۔ الزام ہے کہ ٹرسٹ کے حق میں زمین کا لیز منسوخ کر دیا گیا اور ٹرسٹ نے اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے باوجود یونیورسٹی کے لیے زمین کو برقرار رکھا۔ وزارت داخلہ کے تحت دشمن کی جائیداد کے متولی نے بعد میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے زمین پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

یونیورسٹی کے لیے سرکاری فنڈز اور تعمیراتی مواد استعمال کرنے کے الزامات
ای ڈی کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ سرکاری تعمیرات کے لیے فنڈز اور تعمیراتی مواد کا مبینہ طور پر یونیورسٹی کے پرائیویٹ کیمپس میں استعمال کیا گیا۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے والے کچھ ٹھیکیداروں نے سرکاری کام کے لیے فنڈز اور میٹریل کو یونیورسٹی کی تعمیر میں موڑ دیا۔ تحقیقات میں ایک کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کا بیان بھی سامنے آیا جس نے محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) سے تقریباً 186 کروڑ روپے کے ٹھیکے حاصل کیے تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ کنٹریکٹ کی کل رقم کا 30 سے 40 فیصد یونیورسٹی کے لیے تعمیراتی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیا گیا۔

ای ڈی کے مطابق، ایک اور فرم کے پارٹنر نے بھی اعتراف کیا کہ اس کی کمپنی نے اعظم خان کے اثر و رسوخ میں کام کیا اور ٹرسٹ کو 40 لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔ اس معاملے میں محکمہ انکم ٹیکس کے نتائج کے مطابق انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی دفعات کے تحت ٹرسٹ کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ایم ایل اے/ایم ایل سی فنڈز سے 6.60 کروڑ روپے کے کام انجام دینے کا الزام
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایم ایل اے/ایم ایل سی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی کے پرائیویٹ کیمپس میں تقریباً 6.60 کروڑ روپے کے مختلف کام کئے گئے۔ ای ڈی کے مطابق، یہ کام اتر پردیش جل نگم نے کیا تھا، جس کے اس وقت اعظم خان چیئرمین تھے۔ مزید برآں، تحقیقات میں میرٹھ کے دو تعلیمی اداروں سے ٹرسٹ کو موصول ہونے والے کل 6.24 کروڑ روپے کے عطیات کا بھی انکشاف ہوا۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ یہ چندہ سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔

سرکاری خرچ پر بنائے گئے پنڈال، ہاسٹل اور ہسپتال کے بلاک پر بھی سوالات اٹھے
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، اتر پردیش حکومت نے یونیورسٹی کے پرائیویٹ کیمپس میں ایک پنڈال، ایک او بی سی لڑکوں کے ہاسٹل، اور ایک ہسپتال بلاک کی تعمیر کے لیے کل 23.41 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ اس میں 2015 کے حکومتی حکم کے تحت پنڈال کی تعمیر کے لیے منظور شدہ 12.16 کروڑ روپے شامل ہیں۔ حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پنڈال محکمہ ثقافت کی ملکیت رہے گا، اسے فروخت یا منتقل نہیں کیا جا سکے گا، اور ریاستی حکومت کے استعمال کے لیے اسے مفت دستیاب کرایا جائے گا۔

تاہم، ای ڈی کے مطابق، ان شرائط کو 2016 میں جاری کردہ ایک اور حکم کے ذریعے تبدیل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد، پنڈال کی ملکیت جوہر یونیورسٹی کو منتقل کر دی گئی تھی، اور اسے ریاستی حکومت کے استعمال کے لیے دستیاب کرنے کی شرط کو ہٹا دیا گیا تھا۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ سرکاری فنڈز سے بنائی گئی اس پبلک پراپرٹی کو مبینہ طور پر یونیورسٹی کی پرائیویٹ پراپرٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ متعلقہ حکم نامہ کے اجراء کے وقت اعظم خان اتر پردیش حکومت میں شہری ترقی کے وزیر تھے، اور جل نگم بھی ان کے محکمے کے تحت کام کرتا تھا۔

499.09 کروڑ روپے کی لاگت ، جائز ذرائع سے صرف 72.63 کروڑ کا حساب
ای ڈی کی تحقیقات میں یونیورسٹی کیمپس میں 59 عمارتوں کی تعمیراتی لاگت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ویلیوایشن آفیسر کی 10 نومبر 2023 کی رپورٹ کے مطابق، ان عمارتوں کی تعمیراتی لاگت کا تخمینہ 10000 روپے لگایا گیا تھا۔ 494.46 کروڑ 114 سیل ڈیڈز کے ذریعے حاصل کی گئی اراضی کی قیمت روپے تھی۔ 4.63 کروڑ اس طرح یونیورسٹی کیمپس کی کل لاگت کا تخمینہ 100000 روپے لگایا گیا۔ 499.09 کروڑ۔ ای ڈی کے مطابق، ٹرسٹ نے صرف روپے دکھائے تھے۔ اس کے انکم ٹیکس گوشواروں میں سرمایہ خرچ کے طور پر 78.32 کروڑ دکھایا تھا۔ اس میں سے 12.29 کروڑ روپے غیر حقیقی پائے گئے۔

تعمیر اور اراضی کے حصول پر آنے والے اصل اخراجات بعد میں صرف 66.03 کروڑ روپے سامنے آئے۔دیگر جائز ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم کو زمین اور عمارتوں کی کل قیمت میں شامل کرنے کے بعد بھی صرف روپے 72.63 کروڑ کا حساب مل سکا۔ ای ڈی کے مطابق، ٹرسٹ کے اہلکار بقیہ 426.46 کروڑ روپے کے ماخذ کی تسلی بخش وضاحت فراہم نہیں کر سکے۔ ایجنسی کو شبہ ہے کہ یہ رقم غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔ اس کی بنیاد پر، 426.46 کروڑ روپے کے اثاثے عارضی طور پر اٹیچ کردئے گئے ہیں۔

اعظم خان کے خلاف دیگر ایف آئی آرکی تحقیقات
ای ڈی نے کہا کہ اعظم خان اور دیگر کے خلاف رام پور پولس میں درج 28 دیگر ایف آئی آر کو بھی جانچ کے لیے لیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ ان مقدمات میں الزام لگایا گیا ہے کہ 2016 کے دوران رام پور میں وقف املاک پر رہنے والے کئی خاندانوں کے مکانات کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا تھا۔ الزامات کے مطابق اعظم خان کی ہدایت پر اس وقت کے سرکل آفیسر اور دیگر ملوث تھے۔ متاثرہ خاندانوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا، جھوٹے مجرمانہ الزامات کی دھمکیاں دی گئیں، اور ان کی نقدی، زیورات اور مویشی لوٹ لیے گئے۔ ایف آئی آر اور چارج شیٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ رام پور میونسپل کارپوریشن کے لیے خریدی گئی صفائی کی مشینری کو یونیورسٹی کیمپس کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔

13 اکتوبر 2026 کو درج کی گئی ایف آئی آر بھی تفتیش کا حصہ ہے
ای ڈی نے پی ایم ایل اے کی دفعہ 66(2) کے تحت اتر پردیش پولیس کے ساتھ سرکاری مقاصد کے لیے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق معلومات شیئر کیں۔ اس کی بنیاد پر، ایف آئی آر نمبر 0224/2026 عظیم نگر پولیس اسٹیشن میں 13 اکتوبر 2026 کو درج کی گئی تھی۔ اس ایف آئی آر میں اعظم خان، ٹرسٹ اور دیگر پر تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 61 (3) (5) اور 318 (4) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے 1988۔ ای ڈی نے پہلے 19 اگست 2026 کو یونیورسٹی کیمپس اور متعلقہ احاطے میں تلاشی لی تھی، جس کے دوران الیکٹرانک آلات اور مجرمانہ دستاویزات ضبط کی گئی تھیں۔ مزید تفتیش جاری ہے






*پاکستانی فوج پر بی ایل اے کا قہر، ہفتے میں 27 جوانوں کو مارنے کا دعوی*

BLA Kills 27 Pakistani Soldiers: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرگرم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 20 سے 26 اکتوبر کے درمیان 15 کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے 27 سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ تنظیم کے مطابق ان حملوں میں کئی دیگر سیکورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا نے 27 اکتوبر کو یہ اطلاع دی۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے بتایا کہ تنظیم کا خفیہ شعبہ پاکستانی کوسٹ گارڈ کے لیفٹیننٹ کرنل بلال جلیب کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ 24 اکتوبر کو ان کی گاڑی کو ریموٹ سے چلائے جانے والے دھماکہ خیز آلے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں دو سیکورٹی اہلکار شدید زخمی ہوئے اور گاڑی کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔

فوجی قافلے پر حملوں کا دعویٰ
ترجمان کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 24 اکتوبر کو گیدار کے علاقے میں پاکستانی فورسز اور بی ایل اے کے جنگجوؤں کے درمیان چار گھنٹے سے زیادہ وقت تک جھڑپ جاری رہی۔ اس میں پانچ فوجیوں کی ہلاکت اور 11 سے زائد اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ کیچ ضلع کے چیر کنچیتی علاقے میں فوجی قافلے پر پہلے دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا اور پھر فائرنگ ہوئی۔ بی ایل اے کے مطابق، اس واقعے میں چار فوجی ہلاک ہوئے۔

تنظیم نے بتایا کہ 26 اکتوبر کو مستونگ ضلع کے گرگینہ علاقے میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں چار فوجی ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے۔ وہیں، دشت بابا کے علاقے میں 25 اکتوبر کو کی گئی کارروائی میں دو فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔

ان واقعات کی بھی ذمہ داری لی
بی ایل اے نے یہ بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو مستونگ کے سرگوز علاقے میں فوجی رسد لے جانے والے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، قلات ضلع کے چوٹانک علاقے میں 22 اکتوبر کو ہوئے حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ تنظیم نے اسی علاقے میں بعد میں کیے گئے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

ترجمان کے مطابق، قلات میں ہوئے دھماکے میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ خضدار میں 25 اکتوبر کو کیے گئے حملے میں تین فوجیوں کی موت ہوئی۔ نوشکی میں فوجی کیمپ اور سیکورٹی چوکیوں پر حملوں کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

بی ایل اے نے خضدار میں لیویز اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے مشترکہ تھانے کے مرکزی دروازے کو دھماکے سے نقصان پہنچانے اور کوئٹہ-کراچی تجارتی راستے پر واقع ایک پل کو آگ لگانے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *



*بھیونڈی میں ڈاکٹر سمیہ خالد کے چلڈرن کیئر سینٹر کا افتتاح*

بھیونڈی، ٢٦ اکتوبر : شہر کی معروف
 اور ہر دلعزیز چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر سمیہ محمد خالد (M.D, M.B.B.S, Paed) کے نئے کلینک "Dr Sumaiya's Children Care" کا افتتاح گزشتہ روز بروز اتوار، 25 اکتوبر 2026 کو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ عمل میں آیا۔
اس بابرکت تقریب کے مہمان خصوصی کے طور پر معروف عالم دین حضرت مولانا ابوظفر حسان ندوی ازہری نے کلینک کا فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کیا اور ڈاکٹر صاحبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دعا فرمائی۔
یہ نیا کلینک فرسٹ فلور، آر این آرکیڈ، نزد عارف گارڈن، ناسک روڈ، بھیونڈی پر واقع ہے۔ افتتاحی پروگرام شام 5:30 بجے سے رات 8:30 بجے تک جاری رہا، جس میں شہر کے ڈاکٹروں، سماجی کارکنوں اور معزز شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر سمیہ ایم خالد شہر بھیونڈی کے طبی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں ہیں۔ وہ کئی برسوں سے شہر میں جنرل فزیشن اور چائلڈ کیئر اسپیشلسٹ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بچوں کے تئیں ان کی شفقت، صبر و تحمل، وسیع علم اور کم خرچ میں بہترین علاج کی وجہ سے والدین میں وہ بے حد مقبول ہیں۔
اس موقع پر کانگریس کے سینئر رہنما اور معروف سوشل ورکر جناب پرویز خان (پی کے) کی جانب سے خصوصی مبارکباد پیش کی گئی۔
اس خوشی کے موقع پر کانگریس کے سینئر رہنما اور معروف سوشل ورکر پرویز خان (پی کے) اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کلینک پر پہنچے اور ڈاکٹر سمیہ محمد خالد کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ 
اس موقع پر پرویز خان (پی کے)، کلیم خان، ملیشیا سائزنگ والے ڈاکٹر اسلم انصاری، نعمان خان، طفیل فاروقی، جاوید فاروقی، اقبال احمد، ثاقب مرزا، طارق مومن (ڈپٹی میئر)، سریش ٹاورے (سابق ایم پی)، رشید طاہر مومن (سابق ایم ایل اے) ڈاکٹر سمیہ کے والدخالد بھائی انور بھائی سمیت شہر کے مقتدر حضرات بھی موجود تھے۔



* ٹیکنالوجی، اسمارٹ فونز اور اے آئی کی تازہ ترین اہم خبریں*


اوپن اے آئی (OpenAI) اب گوگل کی اے آئی چپس خریدے گا
رپورٹس کے مطابق OpenAI اپنے جدید AI ماڈلز اور ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے گوگل کی کسٹم AI چپس (TPUs) خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس سے وال اسٹریٹ اور ٹیک انڈسٹری میں بڑی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔
(ماخذ: Business Today)
ہندوستان کا اکتوبر 2028ء تک خالص 'دیسی اسمارٹ فون برانڈ' کا بڑا ہدف
مرکزی آئی ٹی منسٹر اشونی ویشنو نے اعلان کیا ہے کہ موبائل مینوفیکچرنگ اسکیم (MPMS) کے تحت 62,500 کروڑ روپے کی ترغیبات کے ذریعے بھارت اکتوبر 2028ء تک مکمل ہندوستانی ڈیزائن، مقامی پارٹس اور ہندوستانی برانڈڈ اسمارٹ فونز مارکیٹ میں لائے گا۔
(ماخذ: Light Reading)
بلیک بیری (BlackBerry) کی اے آئی روبوٹکس میں انٹری
کسی زمانے میں اسمارٹ فون مارکیٹ پر راج کرنے والی کمپنی بلیک بیری کے سی ای او نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی اب آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور خود مختار روبوٹکس سسٹمز پر بڑا داؤ لگا رہی ہے۔
(ماخذ: Times of India Tech)
ہندوستان میں اسپام کالز کی روک تھام کے لیے کالر آئی ڈی (CNAP) کا نفاذ
حکومتِ ہ


*’جیو آپ نے بنایا‘‘: لسٹنگ تقریب میں اننت اور ایشا کی باتیں سن کر جذباتی ہوگئے مکیش امبانی*



ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی بدھ کے روز جیو پلیٹ فارمز کی لسٹنگ تقریب کے دوران اس وقت جذباتی ہوگئے، جب ان کے بچوں اننت امبانی اور ایشا امبانی نے کمپنی کے سفر، اپنے والد کے وژن اور ٹیلی کام کی اس بڑی کمپنی کو بنانے میں ہندوستانیوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ جیو پلیٹ فارمز کی اسٹاک مارکیٹ میں انٹری سے قبل ممبئی میں نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) میں منعقدہ اس تقریب میں امبانی خاندان کی اگلی نسل نے کمپنی کی ترقی اور ریلائنس انڈسٹریز (آر آئی ایل) کی وراثت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنے والے لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

آر آئی ایل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اننت امبانی نے جیو کو ایک ایسا ایڈوینچر قرار دیا جس کی تشکیل ان لوگوں کی محبت اور حمایت سے ہوئی ہے جنہیں یہ خدمات فراہم کرتا ہے۔ برانڈ کو مختلف نسلوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اپنائے جانے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’جیو کو پورے ملک کی دعائیں ملیں۔ ماں نے کہا ’جیو میرے لال‘۔ دادی نے کہا ’جگ جگ جیو‘۔ اور دوستوں نے کہا ’جیو یار‘۔‘‘



انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پلیٹ فارم کی کامیابی پورے ملک کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جیو آپ نے بنایا۔ آپ کے خوابوں کو پورا کرنا ہمارا خواب ہے۔‘‘ اپنے بیٹے کے خطاب کے دوران مکیش امبانی واضح طور پر جذباتی ہوگئے اور انہیں اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے دیکھا گیا۔


اننت امبانی نے اپنے بہن بھائیوں آکاش اور ایشا کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کے بارے میں بھی بات کی اور ان کے مشترکہ مقصد کو ایک مشترکہ شناخت اور عزم سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تینوں ’’تین جسم لیکن ایک روح‘‘ ہیں، جو ہندوستانیوں کو ان کی امنگیں پوری کرنے میں مدد دینے کے عزم کے تحت ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔


اپنے خطاب کے آغاز میں اننت نے اس اہم سنگِ میل کے موقع پر اظہارِ تشکر کو مرکزی اہمیت دی اور ان لاکھوں لوگوں کا اعتراف کیا جن کے اعتماد نے جیو کو اس مقام تک پہنچانے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئیے، میں آج اس سب سے اہم لفظ سے اپنی بات شروع کروں جو تشکر ہے۔ ان لاکھوں لوگوں کے لیے جنہوں نے جیو پر یقین کیا اور اس دن کو ممکن بنایا۔‘‘

ایشا امبانی نے والد کے وژن کو سراہا
وہیں ریلائنس ریٹیل وینچرز لمیٹڈ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایشا امبانی نے بھی اس موقع پر ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے جیو کی ترقی میں تعاون کیا، ساتھ ہی اپنے خاندان اور بہن بھائیوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اپنے والد کی تبدیلیوں کا پہلے سے اندازہ لگانے اور بڑے عزائم پر مبنی خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنے والد کے وژن کو مختلف صنعتوں اور نسلوں کے ہندوستانیوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع سے جوڑا۔

انہوں نے کہا کہ ’’آخر میں، میرے والد جناب مکیش بھائی امبانی کے لیے۔ بار بار میرے والد نے ایسا مستقبل دیکھا ہے جسے دوسرے لوگ ابھی دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ بار بار میرے والد نے وہ کام کرنے کی ہمت دکھائی ہے جسے دوسرے لوگ ناممکن کہتے تھے۔ اور بار بار کروڑوں ہندوستانیوں نے ان کے وژن میں نئے امکانات اور بلند عزائم دیکھے ہیں۔ مختلف صنعتیں، مختلف دہائیاں، لیکن ہندوستان پر وہی یقین، وہی غیر متزلزل اعتماد کہ ہمارا بہترین وقت ابھی آنا باقی ہے، اور یہ تو محض شروعات ہے۔‘‘


ایشا نے اپنے بھائی آکاش امبانی کی جانب سے بھی برسوں کی محنت کو سراہا، جو ریلائنس جیو کے چیئرمین ہیں اور جنہوں نے پلیٹ فارم کی تیاری اور توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آکاش، اس سفر کے گزشتہ 13 برسوں میں، مجھے نہیں لگتا کہ تم ایک بھی رات آدھی رات سے پہلے گھر آئے ہو۔ مجھے تمہاری بہن ہونے پر اس سے زیادہ فخر نہیں ہوسکتا۔‘‘



جیو پلیٹ فارمز کی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار انٹری
یہ جذباتی خطابات ایسے وقت میں سامنے آئے جب بدھ کے روز جیو پلیٹ فارمز نے اسٹاک مارکیٹ میں قدم رکھا۔ کمپنی کے شیئرز انیشیل پبلک آفرنگ (آئی پی او) کی قیمت کے مقابلے 21.4 فیصد پریمیم پر لسٹ ہوئے، جو اسٹاک ایکسچینجز میں ایک مضبوط شروعات تھی۔ رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، لسٹنگ کے بعد جیو پلیٹ فارمز کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 12.6 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جس سے یہ ہندوستان کی دوسری سب سے زیادہ ویلیو ایبل لسٹڈ کمپنی بن گئی۔

Tuesday, 27 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *


*سعودی وزارت دفاع پر میزائل حملے کا دعویٰ ، حوثیوں نے کہا ، سیدھے نشانے پر لگا ، آئل ریفائنری بھی تباہ*


مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان یمن کے حوثی باغیوں نے کئی اہم سعودی اہداف پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق انہوں نے ریاض میں وزارت دفاع اور ملک کی بڑی آئل ریفائنری راس تنورا کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس دوران سعودی حکام نے کہا کہ انہوں نے ریاض کو نشانہ بنانے والے دو میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا۔ دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مکینوں کو انخلا ءکے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا۔ راس تنورہ کے علاقے میں بھی آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔




حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساری نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ ان کے گروپ نے ریاض میں سعودی وزارت دفاع پر ایک بیلسٹک میزائل حملہ کیا، جس نے براہ راست ہدف کو نشانہ بنایا۔ تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی طرف بڑھنے والے دو حوثی میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مکینوں کو انخلاء کے لیے موبائل فون الرٹ موصول ہوئے۔ دھماکے اتنے زور دار تھے کہ ان سے مرکزی شہر میں واقع دفاتر کی کھڑکیوں کے شیشے بھی لرز گئے۔ براہ راست حملے کے حوثی دعوے کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ دونوں طرف سے بیانات میں تضاد کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ میزائل کس اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور کتنا نقصان ہوا۔

سعودی آئل ریفائنری پر حملے کا دعویٰ
حوثیوں نے راس تنورا آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں خلیج فارس کے ساحل پر واقع یہ ریفائنری ملک کے توانائی کے اہم مراکز میں سے ایک ہے۔ حوثی ترجمان یحییٰ ساری کے مطابق ریفائنری پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا جس سے بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی۔ دریں اثنا، سعودی زیرقیادت فوجی اتحاد نے قبل ازیں کہا کہ مشرقی صوبے کی جانب داغے گئے تین میزائلوں کو مار گرایا گیا۔ راس تنورہ کے جنوب میں الخوبر کے ایک رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ صبح سویرے موبائل فون کی اطلاع ملنے کے بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی وینگارڈ نے بھی منگل کی صبح حملے کے بعد راس تنورا کے علاقے میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔ اطلاعات کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا۔ تاہم، ریفائنری کو پہنچنے والے نقصان کی پوری جانکاری د اور آیا تیل لوڈنگ آپریشنز متاثر ہوئے ہیں۔ راس تنورا کمپلیکس میں تیل صاف کرنے کی صلاحیت 550,000 بیرل یومیہ ہے۔ اس لیے وہاں کوئی بھی رکاوٹ سعودی عرب کے توانائی کے شعبے کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل مارچ کے اوائل میں ڈرون حملے کی وجہ سے ریفائنری کے کچھ حصے کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا جس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا تھا۔



*ہم جانچ کریں گے..." ابھیشیک منو سنگھوی نے الیکشن کمیشن پر کردی سوالات کی بوچھاڑ ، CJI نے ایک لائن میں کردیا صاف*


وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
"ہم جانچ کریں گے..." ابھیشیک منو سنگھوی نے الیکشن کمیشن پر کردی سوالات کی بوچھاڑ ، CJI نے ایک لائن میں کردیا صاف
CJI Surya Kant on Election Commission: سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ سازی کے عمل کے تمام پہلوؤں کی چھان بین کی جائے گی۔ سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے، راہل گاندھی اور انڈیا بلاک کے لیڈروں کی نمائندگی کرتے ہوئے، خصوصی الیکشن کمیشن (SIR) سے متعلق فائل نوٹس اور اندرونی مواصلات کو محفوظ رکھنے کی درخواست کی۔ CJI سوریہ کانت نے جواب دیا، “ہمیں سب پتہ ہے، ہم جانچ کریں گے۔”
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT

Last Updated : October 27, 2026, 11:00 pm IST
Published by : H.W. Karim
"ہم جانچ کریں گے..." ابھیشیک منو سنگھوی نے الیکشن کمیشن پر کردی سوالات کی بوچھاڑ ، CJI نے ایک لائن میں کردیا صاف
ADVERTISEMENT

متعلقہ ویڈیو
سیتا پور معاملے میں آلٹ نیوز کے Co Founder محمد زبیر کو ملی راحت
سیتا پور معاملے میں آلٹ نیوز کے Co Founder محمد زبیر کو ملی راحت

آلٹ نیوز کے Co-Founder محمد زبیرکو لکھیم پورسیشن کورٹ سے نہیں ملی راحت
آلٹ نیوز کے Co-Founder محمد زبیرکو لکھیم پورسیشن کورٹ سے نہیں ملی راحت

Sambhal Jama Masjid Case: سنبھل جامع مسجد کیس میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا
Sambhal Jama Masjid Case: سنبھل جامع مسجد کیس میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ کے ججوں نے اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت کو برقرار رکھا
سپریم کورٹ کے ججوں نے اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت کو برقرار رکھا

Kashmir News: حدبندی کے خلاف داخل عرضی پر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا
Kashmir News: حدبندی کے خلاف داخل عرضی پر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا

Maharashtra News: مہاراشٹر میں OBC میونسپل الیکشن میں ریزرویشن کا راستہ ہموار
Maharashtra News: مہاراشٹر میں OBC میونسپل الیکشن میں ریزرویشن کا راستہ ہموار

سیتا پور معاملے میں آلٹ نیوز کے Co Founder محمد زبیر کو ملی راحت
سیتا پور معاملے میں آلٹ نیوز کے Co Founder محمد زبیر کو ملی راحت

آلٹ نیوز کے Co-Founder محمد زبیرکو لکھیم پورسیشن کورٹ سے نہیں ملی راحت
آلٹ نیوز کے Co-Founder محمد زبیرکو لکھیم پورسیشن کورٹ سے نہیں ملی راحت

Sambhal Jama Masjid Case: سنبھل جامع مسجد کیس میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا
Sambhal Jama Masjid Case: سنبھل جامع مسجد کیس میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ کے ججوں نے اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت کو برقرار رکھا
سپریم کورٹ کے ججوں نے اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت کو برقرار رکھا

منگل کو سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی گیانیش کمار) کے کام کاج اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تنازعہ کو لے کر اہم تبصرہ کیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ عدالت الیکشن کمیشن کے فیصلہ سازی کے عمل کے تمام پہلوؤں کی چھان بین کرے گی، جس میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق اہم فیصلے تمام الیکشن کمشنروں نے متفقہ طور پر نہیں لیے تھے۔

سماعت کے دوران، چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ، جس میں جسٹس جویمالیہ باغچی اور وی موہنا بھی شامل تھے، نے کہا، “ہمیں سب پتہ ہے۔ ہم جانچ کریں گے۔” عدالت نے آئندہ سماعت 17 نومبر کو مقرر کی ہے، درخواست گزاروں کو الیکشن کمیشن کے جوابی حلف نامے پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا گیا ہے۔


یہ مقدمہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے کام کاج کو چیلنج کرنے والی عرضیوں سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ SIR سمیت کچھ اہم فیصلے دوسرے الیکشن کمشنرز کی رضامندی کے بغیر لیے گئے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامے میں ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فیصلے متفقہ طور پر لیے گئے۔

ابھیشیک منو سنگھوی نے کیا کہا؟
سماعت کے دوران، سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی، جو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا بلاک کے لیڈروں کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے عدالت پر زور دیا کہ وہ الیکشن کمیشن کو متعلقہ فائل نوٹس اور اندرونی مواصلات کو محفوظ رکھنے کی ہدایت کرے۔ سنگھوی نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ سازی کا عمل اس پورے تنازعہ کے مرکز میں ہے۔ ان فیصلوں سے پہلے ہونے والے مباحثوں کا جائزہ لینا ضروری ہے، آیا دوسرے الیکشن کمشنرز سے مشاورت کی گئی، اور کیا یہ فیصلے واقعی متفقہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ فائل نوٹنگز اور اندرونی مواصلات اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہو سکتے ہیں کہ آیا SIR کے احکامات متفقہ طور پر جاری کیے گئے تھے۔ اس تناظر میں، انہوں نے عدالت سے ان دستاویزات کو محفوظ کرنے کی ہدایت کی درخواست کی۔

سپریم کورٹ نے اگلی سماعت 17 نومبر کو مقرر کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو الیکشن کمیشن کے حلف نامے پر جواب داخل کرنے کا موقع دیا ہے۔ کمیشن کے دعوؤں اور درخواست گزاروں کے اعتراضات پر آئندہ سماعت میں مزید غور کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کا دعویٰ: فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے
پیر کو سپریم کورٹ میں دائر مشترکہ حلف نامہ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے ساتھ کہا کہ ایس آئی آر کے احکامات متفقہ طور پر جاری کیے گئے تھے۔ حلف نامے کے مطابق، 24 جون 2025 کو جاری کردہ ابتدائی حکم اور اس کے بعد 27 اکتوبر 2025 اور 14 مئی 2026 کو جاری کردہ احکامات نے دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کے انعقاد کا شیڈول قائم کیا۔ کمیشن نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام احکامات تینوں الیکشن کمشنروں کے متفقہ فیصلوں کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس کے فیصلے آئین کے آرٹیکل 324 اور چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، سروس کی شرائط اور مدت) ایکٹ 2023 کے سیکشن 18 کے مطابق تھے۔

اس سے قبل، کمیشن نے اپنے 248 صفحات کے حلف نامے میں SIR کے عمل کا دفاع کیا تھا۔ اس نے ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے قانونی فارم 6 میں تبدیلی کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فارم 6 میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور حلف نامہ داخل کرنے کی بھی تینوں الیکشن کمشنروں نے اتفاق رائے سے منظوری دی


سپریم کورٹ میں فارم 6 میں تبدیلی پر تنازع
سماعت کے دوران ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ڈولا سین کی طرف سے دائر عرضی کا مسئلہ بھی اٹھا۔ سین کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے دلیل دی کہ بہار میں ایس آئی آر کے دوران نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم-6 میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، اور الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ ان تبدیلیوں کو سپریم کورٹ کی منظوری مل گئی تھی۔

گروسوامی نے کمیشن کے دعوے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا حلف نامہ درخواست گزاروں کے اعتراضات کی تائید کرتا ہے۔ تاہم، الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ منیندر سنگھ نے ان کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “بیان بازی” قرار دیا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامے میں واضح طور پر کہا کہ قانونی فارم 6 میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس طرح فارم-6 کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے دعووں میں تضاد ہے۔ عدالت اب ان الزامات اور کمیشن کے جواب پر غور کرے گی۔

سپریم کورٹ نے ڈولا سین کی نئی درخواست پر الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ فریقین کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔ تاہم، نوٹس جاری کرنے سے الزامات کی قبولیت نہیں ہوتی۔ ان دعوؤں پر عدالت کا حتمی نتیجہ ابھی باقی ہے۔


انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد تنازعہ بڑھا
انڈین ایکسپریس اخبار میں ستمبر 2026 کی ایک رپورٹ الیکشن کمیشن کے کام کاج کے بارے میں دائر درخواستوں میں ایک اہم عنصر تھی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 10 مہینوں کے دوران الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے کم از کم 14 بار ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر اعتراض کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنرز نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ کچھ فیصلے ان کے علم یا رضامندی کے بغیر جاری کیے گئے تھے۔ ان دعوؤں کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بھی الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

تاہم کمیشن نے اپنے حلف نامے میں فیصلوں کو متفقہ قرار دیا۔ ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ متعلقہ احکامات جاری کرنے سے پہلے فیصلہ سازی کا عمل کیا تھا اور کیا تمام الیکشن کمشنرز کی منظو ری شامل تھی



*اویسی پر خاموش رہنے والے اکھلیش اب کیوں بول رہے ہیں؟ کیا مسلم ووٹ بینک میں لگ گیا سیندھ؟*


لکھنؤ۔ 2027 کے یوپی انتخابات میں مسلم ووٹ بینک کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ مسلم ووٹ بینک کو لے کر ایس پی اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان زبردست جنگ جاری ہے۔ جہاں AIMIM کے سربراہ اسد الدین اویسی مسلسل مغربی اتر پردیش سے پوروانچل کا دورہ کر رہے ہیں، وہیں سماج وادی پارٹی کے “PDA” (پسماندہ، دلت، اقلیت) فارمولے کی بنیادوں کو ہلانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے بھی اویسی کے بیان پر سخت اور طنزیہ جواب دیا ہے۔ اکھلیش یادو کا بیان، جس میں انہوں نے بالواسطہ طور پر اویسی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ڈوری ختم، کھیل ختم…‘‘ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ یہ بیان سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے۔


کچھ دن پہلے اویسی نے کہا تھا کہ ’اتحاد بناؤ ورنہ بعد میں رونا مت۔ حال ہی میں کیرانہ اور مرادآباد کے اپنے دوروں کے دوران اسد الدین اویسی نے کھل کر ایس پی اور اکھلیش یادو پر حملہ بولا۔ اویسی نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ سماج وادی پارٹی کو اب اپنا نام بدل کر ’’سماج وادی یادو پریوار‘‘ رکھ دینا چاہئے کیونکہ پارٹی صرف ایک خاندان اور ایک مخصوص ذات تک محدود ہو گئی ہے۔ بدایوں اور فیروز آباد جیسی سیٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں کبھی مسلم ممبران اسمبلی منتخب ہوتے تھے، اب ان پر ایس پی خاندان کے لوگ قابض ہیں۔

اتحاد کی آفر اور وارننگ
اویسی نے بی جے پی کو روکنے کے لیے ایس پی کو اتحاد کی تجویز پیش کی تھی اور ساتھ ہی انتباہ بھی دیا تھا کہ اگر اب معاملات ٹھیک نہیں ہوئے تو انتخابی نتائج کے بعد رونا مت۔ اب الیکشن قریب آتے ہی اکھلیش نے اویسی کا نام لیے بغیر ان پر بڑا حملہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک تقریب میں کہا، “ڈوری ختم، کھیل ختم…” اویسی کے تیز حملوں اور ان کے بڑھتے ہوئے دوروں کا جواب دیتے ہوئے، اکھلیش یادو نے اپنے معمول کے انداز میں مناسب جواب دیا۔

اکھلیش یادو نے اویسی کا نام لیے بغیر سیاسی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام جانتی ہے کہ کس کی ’اسٹرنگ‘ پر کس کا کنٹرول ہے اور پردے کے پیچھے کون کس کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ “اسٹرنگ ختم، گیم ختم” کا بیان دے کر اکھلیش یہ اشارہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عوام ان “باہر سے آنے والی” سیاسی جماعتوں کے کھیل کو مکمل طور پر ختم کر دے گی جو 2027 میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے میدان میں اتر رہی ہیں۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *


*طوفان Ornab ہوا مزید خطرناک، یوپی سے بہار تک مچائے گا تباہی، مرکز بھی الرٹ، محکمہ موسمیات کے ساتھ ہائی لیول میٹنگ*



خلیج بنگال میں اٹھنے والا سمندری طوفان ’ارنب‘ (Cyclone Ornab) خطرناک شکل اختیار کرتے ہوئے تیزی سے آندھرا پردیش کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس طوفان کے خدشے کے پیش نظر ساحلی ریاستوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق، یہ نظام پیر کی رات تک شدید سمندری طوفان اور منگل کو انتہائی شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد بدھ کی صبح تک آندھرا پردیش کے ساحل پر باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان یانم کے آس پاس اس کے ٹکرانے کا امکان ہے۔

اس طوفان کے زمین سے ٹکرانے کے دوران ہوا کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور ہوا کے جھکڑوں کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ آندھرا پردیش، اڈیشہ، تلنگانہ اور چھتیس گڑھ سمیت متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ نے تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ پڈوچیری میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے

مرکزی حکومت بھی الرٹ
اس سمندری طوفان سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ سکریٹری ڈاکٹر ٹی وی سومناتھن نے دہلی میں قومی بحران انتظامی کمیٹی (NCMC) کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں محکمہ موسمیات (IMD) نے طوفان کی صورت حال، اس کی ممکنہ سمت اور ساحلی علاقوں پر پڑنے والے اثرات کی معلومات فراہم کیں۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ پیر کی صبح 5:30 بجے سمندری طوفان خلیج بنگال کے مشرق وسطیٰ اور اس سے متصل مغربی وسطی حصے میں مرکوز تھا۔ یہ وشاکھاپٹنم سے تقریباً 650 کلومیٹر مشرق-جنوب مشرق میں تھا اور تقریباً 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مغرب کی جانب بڑھ رہا تھا۔

حاملہ خواتین کو اسپتال منتقل کرنے کی تیاری
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے افسران کو چوبیسوں گھنٹے الرٹ رہنے، ضلع سطح پر کنٹرول روم فعال کرنے اور ساحلی علاقوں میں باقاعدگی سے وارننگ جاری کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

انتظامیہ ان حاملہ خواتین کو بھی اسپتالوں میں منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہے جن کی زچگی کی تاریخ قریب ہے۔ اس طوفان سے متاثر ہونے والے علاقوں میں راحت اور بچاؤ کے انتظامات کو مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

اڈیشہ کے چھ اضلاع پر خصوصی نظر
اڈیشہ کے چھ جنوبی اضلاع گنجام، گجپتی، رائے گڑھ، ملکانگیری، کوراپٹ اور نبرنگ پور کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر بعض پہاڑی علاقوں، آبشاروں اور ڈیموں کے آس پاس سیاحوں کی آمد و رفت پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے روکنے کے لیے بھی احتیاط برتی جا رہی ہے۔

بنگال سے اتر پردیش تک بارش کا امکان
سمندری طوفان کے اثر سے مغربی بنگال، تلنگانہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، بہار اور مشرقی اتر پردیش کے بعض حصوں میں آنے والے دنوں میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے مغربی بنگال کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے خدشے کے پیش نظر ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔

وہیں، سمندری طوفان کے اثر سے ذیلی ہمالیائی مغربی بنگال کے دارجلنگ ضلع میں زمین کھسکنے کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسے میں پہاڑی اور حساس علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ کی وارننگ پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

فی الحال سب سے زیادہ نظر آندھرا پردیش کے ساحل پر ہے، جہاں بدھ کی صبح سمندری طوفان کے پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ طوفان کی سمت اور شدت میں تبدیلی ممکن ہے، اس لیے لوگوں کو تازہ سرکاری بلیٹن اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ (ایجنسی کی معلومات کے ساتھ)



*جموں و کشمیر: علی محمد سے شمیمہ فردوس تک، عمر عبداللہ کابینہ میں 4 نئے وزرا شامل*



جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 27 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت کے چار نئے وزراء کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ حلف لینے والے چار نئے وزراء میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کے سینئر رہنما اور سری نگر کے خان یار اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی علی محمد ساگر شامل ہیں۔ ساگر اب تک ریکارڈ سات مرتبہ اسمبلی انتخابات جیت چکے ہیں۔ سری نگر کے حبہ کدل اسمبلی حلقے سے دو مرتبہ رکن اسمبلی رہنے والی شمیمہ فردوس کو بھی کابینہ وزیر کے طور پر حلف دلایا گیا۔


اس کے علاوہ کپواڑہ ضلع کے ترہگام علاقے سے رکن اسمبلی میر سیف اللہ اور اننت ناگ ضلع کے پہلگام علاقے سے رکن اسمبلی الطاف احمد وانی عرف الطاف کالو نے بھی وزارت کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف لینے والے چاروں اراکین اسمبلی حکمراں نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن وزراء کو برقرار رکھا گیا ہے، ان میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، سکینہ ایتو، جاوید رانا اور جاوید احمد ڈار شامل ہیں


حلف برداری کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کابینہ میں وزیر اعلیٰ سمیت وزراء کی مجموعی تعداد نو ہو گئی ہے۔ تنظیمِ نو ایکٹ 2019 کے بعد کابینہ کی یہ زیادہ سے زیادہ تعداد ہے۔ جموں و کشمیر کابینہ میں 90 ارکان والی اسمبلی کی مجموعی تعداد کے زیادہ سے زیادہ 10 فیصد، یعنی نو وزراء ہو سکتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، کابینہ میں ردوبدل اور توسیع بہتر حکمرانی اور عوام تک رسائی یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے، تاکہ ان کی شکایات کا فوری اور جلد از جلد ازالہ ہو سکے۔ عمر عبداللہ نے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی مشاورت سے علی محمد ساگر، میر سیف اللہ اور شمیمہ فردوس جیسے سینئر رہنماؤں کی شمولیت کو یقینی بنایا ہے۔



حلف برداری کی تقریب سری نگر شہر کے چشمہ شاہی علاقے میں واقع لوک بھون آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ، کابینہ میں برقرار رکھے گئے وزراء، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی مبارک گل، سول اور پولیس افسران سمیت لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے مدعو کیے گئے کئی ممتاز شہری موجود تھے۔




*سعودی عرب نے تلاش کرلیا حوثیوں پر لگام کسنے کا طریقہ، طیارہ میں کیوں بھر کر پہنچا 1 بلین ڈالر؟ مسکرایا تہران*




مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے ایران کے دورے کو لے کر کئی اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔ خلیجی خطے کے سفارتی ذرائع کے مطابق، اچانک ہوئے اس دورے کا مقصد یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کی راہ تلاش کرنا تھا۔ اسرائیلی اخبار ہایوم کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے ایران کے ذریعے حوثی باغیوں کو ایک ارب ڈالر دینے کے ممکنہ معاہدے پر بات چیت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم، اس رقم کی ادائیگی کے دعوے کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی وزیر دفاع اپنے ساتھ فوجی طیارے میں یہ رقم بھر کر لے آئے تھے۔ اگرچہ سعودی حکام نے رقم دینے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے، لیکن دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت وہ ترکی کے انٹیلی جنس چیف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ اسی معاہدے کے لیے تہران پہنچے تھے۔ اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایران کی ایک بڑی سفارتی جیت ثابت ہوگی اور امریکہ کے لیے شرمندگی کی بات ہوگی۔

آخر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کیوں ہوا؟
تنازع کی جڑ تقریباً تین سال پہلے ہوئے معاہدوں سے جڑی بتائی جا رہی ہے۔ ان معاہدوں کے تحت سعودی عرب کو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد دینی تھی۔ اس کے بدلے حوثی باغیوں سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور سعودی عرب پر حملے روکنے کی توقع تھی۔

حالیہ مہینوں میں حوثیوں نے الزام لگایا کہ سعودی عرب نے ان معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ دوسری جانب سعودی عرب کا سرکاری موقف رہا ہے کہ وہ فوجی دباؤ میں آ کر کوئی نیا معاہدہ نہیں کرے گا اور پہلے زیرِ قبضہ علاقوں سے حوثیوں کی واپسی چاہتا ہے۔

کیا مکہ معاہدہ دفاع کرے گا یا سمجھوتہ کرائے گا؟
اس اجلاس میں ترکی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شامل ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، مکہ دفاعی معاہدے کے باوجود پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کو محدود مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے اضافی فوجی بھیجنے کے بجائے فوجی مشیر فراہم کیے۔ ایران کی جانب سے صدر مسعود پیزشکیان، سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر افسران نے بات چیت میں حصہ لیا۔ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ثالثی کرنے کی پیشکش بھی کی۔

ایران کی سفارتی جیت کیسے؟
سعودی عرب کے تیل کے ٹھکانوں پر حوثیوں کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں تیل کی نقل و حمل متاثر ہونے سے علاقائی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں جنگ بندی کی کوشش سعودی عرب کے لیے معاشی نقصان کم کرنے کا راستہ ہو سکتی ہے۔ ایران کے لیے یہ اجلاس ایک سفارتی موقع ہے۔ وہ علاقائی سلامتی کے نظام میں اپنا کردار بڑھانا اور امریکہ و اسرائیل کی مداخلت کو محدود کرنے کی بات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ امریکہ اب تک خود کو خلیجی ممالک کا محافظ بتاتا رہا ہے، لیکن جب سعودی عرب جیسے اتحادی پر پے در پے حملے ہونے لگے تو امریکہ کہیں نظر نہیں آیا۔ سعودی عرب کو خود ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرنا پڑا۔


Monday, 26 October 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *



*سید حسین اختر کی قیادت کا ایک سال، اردو کے نام کئی روشن باب*

*ڈاکٹر محمد مقیم جامعی بھیونڈی*

ادبی اداروں کی تاریخ میں بعض ادوار اپنی طوالت سے نہیں بلکہ اپنے اثرات اور کارناموں سے پہچانے جاتے ہیں۔ ایک سال بظاہر وقت کی وسیع بساط پر مختصر سی مدت ہے، لیکن جب قیادت کے ہاتھوں میں بصیرت، دل میں زبان و ادب کی محبت اور ارادوں میں خلوص کی حرارت موجود ہو تو یہی مختصر عرصہ کئی برسوں پر بھاری ثابت ہوتا ہے۔ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کی کارگزار صدارت سنبھالنے کے بعد سید حسین اختر نے جس فعالیت، سنجیدگی اور عملی جدوجہد کا مظاہرہ کیا، وہ اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔

30 اکتوبر 2025ء کو سید حسین اختر نے اکیڈمی کی کارگزار صدارت کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ اب جبکہ 30 اکتوبر 2026ء کو ان کی قیادت کا پہلا سال مکمل ہونے جا رہا ہے، گزشتہ بارہ مہینوں کی کارگزاری پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اس منصب کو محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کی خدمت کا ایک وسیع میدان تصور کیا۔ نصف صدی کی علمی و تہذیبی روایت رکھنے والے اس ادارے کو نئی توانائی عطا کرنے، ادبی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرنے اور اہلِ قلم کی عملی سرپرستی کے لیے ان کی کوششیں بجا طور پر تحسین کی مستحق ہیں۔

سید حسین اختر کی ایک نمایاں خوبی یہ رہی کہ انہوں نے اردو کی خدمت کو محض رسمی تقریبات اور روایتی نشستوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ زبان کے تہذیبی وقار کو عوامی سطح پر نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ ممبئی کے تاریخی گیٹ وے آف انڈیا پر اکیڈمی کے زیرِ اہتمام مشاعرے کا انعقاد اسی فکر کا خوب صورت مظہر تھا۔ ندیم فرخ، جوہر کانپوری اور دیگر شعرا کی شرکت نے اس محفل کو ادبی اعتبار عطا کیا۔ تاریخی فضاؤں میں اردو شاعری کی گونج دراصل اس زبان کی زندہ تہذیبی روایت کا اظہار تھی۔ اسی طرح اورنگ آباد میں مشاعرے کا انعقاد دکن کی دیرینہ ادبی روایت سے وابستگی کا خوش آئند ثبوت رہا۔

ان کے عہد کی ایک اہم خصوصیت علمی و عصری موضوعات کی جانب توجہ بھی ہے۔ مالیگاؤں میں ’’میڈیا کے ذریعے اردو کا فروغ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس اس اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ آج زبانوں کا مستقبل جدید ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل صحافت اور نئی نسل کی علمی ضروریات سے وابستہ ہو چکا ہے۔ امباجوگائی اور دھولیہ میں علمی و تعلیمی کانفرنسوں کا اہتمام بھی اس بات کا مظہر ہے کہ اکیڈمی کی سرگرمیوں کو چند مخصوص شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے ریاست کے مختلف علاقوں تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اردو کی اصل قوت ان چھوٹے بڑے مراکز میں بھی پوشیدہ ہے جہاں زبان کے خاموش خدمت گزار علم و ادب کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم سید حسین اختر کے ایک سالہ عہد کا سب سے قابلِ قدر پہلو اہلِ قلم کی عملی سرپرستی ہے۔ تقریباً 65 لاکھ روپے کی مالی معاونت محض ایک انتظامی کامیابی نہیں بلکہ ادیبوں، شاعروں اور تخلیق کاروں کے تئیں ادارہ جاتی احساسِ ذمہ داری کا خوش آئند اظہار ہے۔ ہمارے معاشرے میں اہلِ قلم کو داد و تحسین تو فراخ دلی سے ملتی ہے، لیکن ان کی عملی ضروریات اکثر نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ اقدام یقیناً غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سید حسین اختر نے اس کوشش کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ زبان کی خدمت کرنے والوں کو صرف پھول اور ستائشی کلمات نہیں بلکہ عملی تعاون بھی درکار ہے۔ بلاشبہ قلم کار کی سرپرستی دراصل آنے والی نسلوں کے علمی و ادبی سرمایے کی حفاظت ہے۔

اسی طرح آئندہ برسوں کے لیے ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے کی گرانٹ کی منظوری اکیڈمی کے مالی استحکام اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کامیابی میں سیاسی و انتظامی سطح پر حاصل ہونے والے تعاون کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ رکنِ قانون ساز کونسل ادریس نائیکواڑی کی کوششیں، آنجہانی اجیت دادا پوار کا تعاون، حکومتِ مہاراشٹر اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی سرپرستی نیز اکیڈمی کے انتظامی معاملات میں شعیب ہاشمی اور دیگر ذمہ داران کی معاونت قابلِ قدر ہے۔ اچھی قیادت کا وصف یہی ہے کہ وہ مختلف صلاحیتوں اور وسائل کو یکجا کرکے اجتماعی کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے۔

اس موقع پر یہ توقع بھی بے محل نہیں کہ آئندہ اکیڈمی اسکولوں، کالجوں، نوجوان قلم کاروں اور اردو اساتذہ کے لیے تربیتی منصوبوں کو مزید وسعت دے گی۔ خصوصاً بھیونڈی، مالیگاؤں، ناندیڑ، پونے، ناگپور، امراوتی اور دیگر اردو مراکز کی علمی صلاحیتوں کو مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اکیڈمی کے پچاس سالہ ادبی سفر کی دستاویز بندی بھی ایک یادگار علمی خدمت ثابت ہو سکتی ہے۔

سید حسین اختر کی ایک سالہ کارگزاری اس اعتبار سے لائقِ ستائش ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات سے آراستہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی فعالیت نے اہلِ اردو کے دلوں میں نئی توقعات اور ادارے کے مستقبل سے وابستہ امیدوں کو تقویت بخشی ہے۔

30 اکتوبر 2026ء کو ان کی کارگزار صدارت کا ایک سال مکمل ہونے پر انہیں دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے یہی دعا ہے کہ ان کی قیادت میں مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی ترقی کی مزید منزلیں طے کرے، اہلِ قلم کی امیدوں کا مرکز بنے اور نئی نسل کو اپنی زبان و تہذیب سے جوڑنے میں ایک مؤثر کردار ادا کرے۔

سید حسین اختر کا یہ ایک سال محض گزرے ہوئے وقت کا حساب نہیں، بلکہ روشن امکانات کی ایک ایسی تمہید ہے جس سے اردو کے آنے والے کل کی امیدیں وابستہ ہیں۔ دعا ہے کہ یہ چراغ یونہی روشن رہے اور اس کی ضیا سے مہاراشٹر کا ادبی افق مزید تاب ناک ہوتا رہے!

🛑*سیف نیوز بلاگر *

*ٹکڑے ۔ ٹکڑے ہونے سے بچ گیا پاکستان ، کب تک عاصم منیر کو روک پائیں گے شہباز شریف؟* پاکستان ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر تھا۔ آرمی چیف عا...