Thursday, 21 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم
ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ موجود ہے جس پر بات کرنا چاہ رہا ہوں: یہ ایک نوجوان کی کہانی ہے۔ وہ نوجوان طبعی طور پر خوش مزاج اور خوش اخلاق تھا۔ اس کے مزاج میں شگفتگی تھی۔ المیہ فلمیں، اداس گانے، اداسی طاری کر دینے والے ناول اور مناظر اسے ناپسند تھے۔ وہ ہنستا کھیلتا، گھروالوں اور دوستوں سے ہنسی مذاق کرتا رہتا۔ اس کی تمام خواہشات، احساسات اور ولولے بیدار تھے۔ ایک زندہ دل انسان جو دوستوں کی صحبت کو پسند کرتا، اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتا، اور اسے خوش کرنا چاہتا تھا۔ اپنی محبوبہ منگیتر اسے پسند تھی، وہ آنے والے خوش رنگ دنوں کے سپنے اس کے ساتھ بھی شیئر کرتا۔ اپنی ماں کو جب بھی ملتا، ایسی یگانگت اور الفت سے ملتا جیسے کئی دنوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔ کسی دوست کو دیکھتا تو سچی دوستی کے جذبے سے سرشار اس سے ملتا۔اسے یہ پریشانی تھی کہ کہیں ملازمت نہیں مل رہی۔ آخرکار اسے ایک بہت بڑی فیکٹری میں ملازمت مل گئی۔ اسے ایک بڑے ہال کمرے میں لے جایا گیا جہاں دھات کی بنی ہوئی ایک بڑی بیلٹ مسلسل متحرک تھی۔ یہ بیلٹ ہال کے ایک کونے سے آتی اور درمیان سے گزر کر ایک دوسری جگہ چلی جاتی جہاں دوسرے پرزوں کی اسمبلنگ کا کام ہوتا تھا۔ نوجوان کی ملازمت یہ تھی کہ وہ رینچ ہاتھ میں پکڑ کر مستعد کھڑا رہے اور اس متحرک بیلٹ پر دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے پیچ کو گھما دے۔ پھر اگلے دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے کو گھما کر کَس دے۔ یہ کام اسے متواتر کرنا تھا۔ دن کے دس گھنٹوں میں وہ یہی کام کرتا رہتا۔ اس کے ساتھ دائیں بائیں کچھ فاصلہ چھوڑ کر سات آٹھ اور مزدور بھی کھڑے اسی نوعیت کا کام کر رہے تھے۔ متحرک بیلٹ اس تیزی سے چلتی رہتی کہ ان تمام لوگوں کو آپس میں بات کرنے کا موقع بھی نہیں مل پاتا۔ اگر کوئی لمحے بھر کے لیے بھی چوکتا تو بیلٹ کا کوئی پیچ ان کسا رہ جاتا اور یوں پورا کارخانہ بند ہو جانے کا خطرہ تھا۔ اس کے ساتھ محنت کش پرانے اور تجربہ کار تھے، انہوں نے کبھی اس سے بات کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ اس کا نتیجہ جانتے تھے۔ یہ نوجوان البتہ ابھی ناتجربہ کار اور مشینوں کے ساتھ کام کر کے مشین نہیں بنا تھا۔ تاہم ملازمت اسے مشکل سے ملی تھی وہ پوری مستعدی سے اپنا کام سر انجام دیتا رہا۔
ایک دن اس کی زندگی میں عجب موڑ آیا۔ وہ کام میں مصروف تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ اس کا دوست اسے ملنے آیا ہے۔ وہ خوشدلی سے اسے دیکھ کر مسکرایا۔ اچانک اس کی نظر داخلی دروازے پر پڑی تو پتہ چلا کہ اس کی ماں اور منگیتر بھی اسے ملنے آئی ہیں۔ اس سے رہا نہ گیا۔ خوشی سے سرشار اس نے اپنا رینچ نیچے رکھا اور ان کی جانب سلام دعا کرنے کے لیے مڑا۔ ابھی وہ ان سے بات بھی نہیں کرنے پایا تھا کہ اچانک سرخ بتیاں جل اٹھیں،الارم بجنے لگے اور پولیس والے تیزی سے ہال میں داخل ہوئے۔ کارخانے کے کنٹرول سسٹم نے اطلاع دی تھی کہ ایک پیچ کسے بغیر رہ گیا یوں پورا سسٹم جام ہو گیا۔ پولیس والوں نے اسے حراست میں لے لیا کہ اس کی جرات کیسے ہوئی یہ کرنے کی۔ اسے سزا سنائی گئی۔ انسانی جذبات کے ایک لمحے نے اس پورے مشینی نظام کو جامد کر دیا۔۔۔ وہ مشینی نظام جسے تخلیق بھی اس طرح کیا گیا کہ اس میں کسی قسم کے انسانی جذبات اور محسوسات کا دخل نہ ہونے پائے۔سزا پانے کے بعد اس کی تربیت کی گئی، کارخانے والوں نے اس کی ایسی برین واشنگ کی کہ وہ خود کو ایک ’ذمہ دار‘ انسان بنائے اور ایک مشین ہی کی طرح مشینوں کے معاملات سنبھالے۔ اس تربیت اور ڈسپلنڈ لائف گزارنے کا نتیجہ کیا نکلا؟ وہ نوجوان ذہنی طور پر ایک ایسی مشین میں بدل گیا جو شام کو کارخانے سے شفٹ ختم ہونے کے بعد بھی اپنی مشینی عادات اور روٹین کو نہیں بھولتا۔ وہ پیچ گھمانے والا ایک ایسا پرزہ بن گیا جو دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے کو ہر حال میں کس دے گا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جب وہ کسی سڑک کنارے کھڑے پولیس والے کو دیکھتا جس کی وردی پر پیچوں سے مشابہ بٹن ہیں تو وہ فوراً اپنا رینچ نکال کر تیسرے بٹن کو کسنے کے لیے تیار ہو جاتا۔ جب وہ کوٹ میں ملبوس اور ہیٹ پہنے کسی خاتون کو دیکھتا تو اس کے ہیٹ پر لگے بٹن نما چیزوں میں سے تیسرے بٹن کو گھمانے کی کوشش کرتا۔ اس کے لیے دنیا صرف ایک ہی بات کا نام ہے کہ ’دو کو چھوڑ کر تیسرے کو گھماؤ۔‘
یہ کہانی دراصل ایک شاہکار انگریزی فلم ’ماڈرن ٹائمز‘ میں بیان کی گئی ہے۔ چارلی چپلن کی اس خاموش کامیڈی فلم کو لگ بھگ 90 برس قبل فلمایا گیا تھا اور آنے والے ماڈرن وقت کی نقشہ کشی کی گئی۔ یہ چارلی چپلن کی آخری خاموش کامیڈی فلم تھی۔ یہ فلم اُس زمانے میں ریلیز ہوئی جب ہالی وُڈ میں بولنے والی فلمیں (Talking Pictures) عام ہو چکی تھیں، مگر چپلن نے خاموش فلم کے انداز کو برقرار رکھا۔ فلم میں کچھ ڈائیلاگز اور آوازیں موجود ہیں، مگر چپلن کے کریکٹر کی زبان خاموش ہے صرف چہرے کے تاثرات، حرکات، اور موسیقی سے پیغام دیا گیا ہے۔ چارلی چپلن نے اس فلم میں خود موسیقی بھی کمپوز کی، جس میں مشہور دُھن“Smile’’ بعد میں ایک کلاسک گانا بنی۔ فلم میں صنعتی معاشرت، بے روزگاری، غربت، اور مشینوں پر انحصار جیسے مسائل پر طنز اور درد دونوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
چارلی چپلن نے اپنے مخصوص انداز سے اس فلم کا مرکزی کردار ’لٹل ٹریمپ‘ ادا کیا۔ لٹل ٹریمپ جو ماڈرن انڈسٹریلائزیشن کے عہد میں اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے۔ ماہرین اور ناقدین متفق ہیں کہ لٹل ٹریمپ کا کردار لیجنڈری حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایسا علامتی کردار ہے جس میں آنے والے کئی زمانوں کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ یونیسکو نے اس فلم کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے اور آج بھی فلم سکولوں میں یہ فلمی تعلیم کی کلاسک مثال کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔
اس حوالے سے ایک آدھ پہلے بھی کچھ لکھا، کئی بار دوستوں سے اس پر بحث بھی ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب بھی ایک خاص طرز کی مشینیں بن چکے ہیں۔ ایک میکانکی انداز ہر ایک میں در آیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی مشین نے یا مصنوعی ذہانت نے غیر محسوس انداز سے یوں پروگرام کر دیا ہے کہ ہم دانستہ نادانستہ ایک خاص پیٹرن کو فالو کرتے ہیں۔
اس کا تجربہ کرنا بہت آسان ہے۔ آپ لوگ کبھی کسی محفل میں بیٹھے لوگوں پر نظر ڈالیں، بے تکلف دوستوں کی محفل کا بھی جائزہ لیں۔ ہر ایک آپ کو ایک مشین بنا جذبات، احساسات سے عاری موبائل پر نظریں گاڑے نظر آئے گا۔ کئی دنوں، ہفتوں، مہینوں کے بعد بھی اکھٹے ہونے والے دوست اپنے موبائل اور سوشل میڈیا سٹیٹس، پوسٹوں سے نظر نہیں ہٹا سکتے۔ اپنے لمحہ موجود کو چھوڑ کر وہ سائبر دنیا، ورچوئل ورلڈ کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ پھر جیسے ہی کھانا آئے گا، ہر کوئی فٹافٹ تصاویر بنا کر اسے فوری پوسٹ بنا دے گا۔ کھانے کے درمیان ہی میں ویٹرز سے تصاویر بنوائی جائیں گی، بعد میں گروپ فوٹو بنے گا اور اس کا واحد مقصد سوشل میڈیا پوسٹ بنانا ہوتا ہے۔ مجھے تو کئی بار لگتا ہے کہ ہم اب اپنے دوستوں کے ساتھ ملاقاتوں کی حسین یاد اپنے اندر محفوظ کرنے، اپنے ذہن میں نقش کرنے کے بجائے اسے فوری سوشل پوسٹ بنا کر اپنے ذہن سے نکال دینا چاہتے ہیں۔
اگر آپ ایمانداری سے اپنے اردگرد اور خود اپنے معمولات کا جائزہ لیں گے تو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہم لوگ بھی چارلی چپلن کی اس فلم کے مرکزی کردار لٹل ٹریمپ کی طرح ایک مشین ہی بن چکے ہیں۔ ایسی مشین جو صبح اٹھنے سے رات سونے تک ایک میکانکی انداز سے سب کام کرتی ہے۔ ایسی مشین جس کی شعوری کوشش ہوتی ہے کہ انسانی جذبات اور محسوسات اس کے قریب تک نہ پھٹکنے پائیں کہ کہیں اس کی کارکردگی متاثر نہ ہو جائے۔ ایسی مشین جس کا منتہائے مقصود ہی کوئی ادنیٰ ٹاسک پورا کرنا ہے۔
آج کے عہد کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم خواب دیکھنا بھول گئے ہیں۔ وہ خواب جو زندگی کا حقیقی مفہوم مہیا کرتے ہیں۔ جو اسے عام روٹین میں رچی بسی ادنیٰ زندگی سے ماورا کرتے ہیں۔
کسی بڑے آدرش، بڑے مقصد کے لیے زندگی گزارنے کا تصور نایاب ہو گیا ہے۔ زیادہ پہلے کی بات نہیں، ہماری سیاست، علم و ادب اور مذہبی حلقوں میں ایسے بے شمار لوگ مل جاتے تھے جن کی آنکھوں میں سپنے سجے ہوتے۔ وہ اپنے بلند عزائم کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیتے، تبدیلی کی خواہش لیے زندگی بھر سرگرداں رہے۔ وہ نسل ناپید ہو چکی۔
آج المیہ یہ بھی ہوا کہ ان بلند عزائم، معاشرے میں تبدیلی لانے کے خواہشمند لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے ’’عبرت کے نشان‘‘ سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان ان کی زندگیوں کو دیکھتے اور ان کے پیروی نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ بھی اس راستے پر چل پڑے تو ان کی ذاتی وش لسٹ کا کچھ نہیں بنے سکے گا؟ مہنگے موبائل، آئی فون، عالیشان ہوٹلوں میں ڈنراور بڑی گاڑیاں، کچھ نہیں ملے گا۔
چارلی چپلن کی یہ خاموش فلم ماڈرن ٹآئمز صرف ایک فلم نہیں، بلکہ ایک فلسفیانہ بیانیہ ہے جو بتاتا ہے کہ ترقی کی اصل قیمت انسانی خوشی اور آزادی ہے، اور وہ قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سوں کے پاس شاید اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ ٹھہر کر چند منٹوں کے لیے غور کر لے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
کیا وہ خواب بھی دیکھتا ہے یا نہیں۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس کے خواب جانوروں کی طرح بہتر خوراک، بہتر ٹھکانے اور جنس سے متعلق ہیں یا ان میں اپنے سماج کو بدل ڈالنے اور کوئی عملی اقدام اٹھانے کی خواہش بھی موجود ہے؟
کہیں خدانخواستہ ہم لوگ بھی انسان نما مشین تو نہیں بن چکے؟








’کاکروچ جنتا پارٹی‘: انڈین چیف جسٹس کے بیان کے بعد شروع ہونے والی یہ تحریک کیا ہے؟
انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت کے نوجوانوں اور کاکروچ یعنی لال بیگ کے بارے میں دیے گئے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ خاصی زیرِ بحث ہے۔

تاہم جسٹس سوریہ کانت نے سنیچر کو اپنے بیان پر وضاحت بھی دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا کے ایک حصے نے ان کی باتوں کو غلط انداز میں پیش کیا۔

انڈیا میں جسٹس سوریہ کانت کے بیان کے بعد ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم زور پکڑ رہی ہے جس میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ یعنی ’سی جے پی‘ بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

انٹرنیٹ پر اس کے نام سے ایک ویب سائٹ بن چکی ہے اور انسٹاگرام پر اس کے 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ویب سائٹ پر اس کی رکنیت کے لیے خود کو رجسٹر بھی کر لیا۔سی جے پی کیا ہے اور اس کی شروعات کیسے ہوئی؟
کاکروچ جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر اس کے بانی اور کنوینر کی معلومات دی گئی ہیں اور ان کا نام ابھیجیت دیپکے ہے۔

ابھیجیت دیپکے سے بی بی سی نیوز مراٹھی نے تفصیل سے بات کی جس میں انھوں نے اس مہم کے شروع ہونے کی وجہ بتائی۔

جب ابھیجیت دیپکے سے یہ سوال کیا گیا کہ اس طرح کی سوشل میڈیا مہم کا خیال انھیں کیسے آیا؟ تو اس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایکس پر انڈین چیف جسٹس کا بیان دیکھا تھا جس میں وہ مُلکی نظام پر تنقید کرنے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے کر رہے تھے۔‘

’مجھے یہ بات انتہائی مضحکہ خیز لگی کیونکہ چیف جسٹس کو مُلک کے آئین کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ وہ آئین جو ہر کسی کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ اب ایک ایسا شخص جو اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت کرنے والا ہو، وہ کیسے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے کر سکتا ہے۔‘’بس اسی بات پر مجھے شدید غصّہ بھی آیا اور انتہائی مایوسی بھی ہوئی جس کے بعد میں نے ایکس کا سہارا لیا اور اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار پر زور انداز میں کیا۔ میں نے پوچھا کہ اگر سارے کاکروچ ایک ساتھ آ جائیں تو کیا ہوگا۔ مجھے جین زی اور 25 سال تک کے نوجوانوں کی جانب سے اس پر شاندار ردِ عمل ملا اور انھوں نے کہا کہ ہمیں ساتھ آنا چاہیے اور ایک پلیٹ فارم بنانا چاہیے۔‘

’اس کے بعد میں نے یہ سوچا کہ ہمیں آن لائن ایک پیروڈی پارٹی بنانی چاہیے جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ہو۔ اگر آپ ہمیں کاکروچ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہے، ہم کاکروچ جنتا پارٹی بناتے ہیں۔ اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے میں نے شرائط طے کیں، جیسے آپ کو سست ہونا ہوگا جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے آپ کو کہا، آپ بے روزگار ہوں اور آپ مسلسل آن لائن رہنے والے ہوں جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے آپ کو کہا۔‘

’انھوں نے (چیف جسٹس نے) جن بھی الفاظ کا استعمال نوجوانوں کو بے عزت کرنے کے لیے کیا، ہم نے انھیں اس پارٹی کا رکن بننے کی اہلیت بنا دیا یعنی وہ سب کی سب خصوصیات اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے اُمیدوار میں ہونی ضروری قرار دیں۔ بس پھر کیا تھا چند ہی گھنٹوں میں اس نے کمال کر دیا اور ہر کوئی اس پر ردِعمل دینے لگا اور خود کو اس پارٹی میں رجسٹر کرنے لگا۔‘

’اس کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ یہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں اور اب یہ بات مذاق سے آگے بڑھنے والی ہے کیونکہ لوگ مایوس ہو چکے تھے۔ پھر ہم نے ایک ویب سائٹ بنائی، پارٹی کا منشور تیار کیا۔ انسٹاگرام پر اب ہمارے چار ملین سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے خود کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے رکن کے طور پر رجسٹر کیا اور ایسا انڈین سیاست میں کافی عرصے بعد ہوا جو غیر معمولی بات ہے۔‘

کامیابی کی وجہ کیا بنی؟
کئی معروف شخصیات نے بھی ابھیجیت دیپکے کی اس مہم کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اس پر ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’سابق کرکٹر اور رکنِ پارلیمان کیرتی آزاد نے کہا کہ وہ اس پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ٹی ایم سی کی رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے بھی اس کی حمایت کی۔ ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا اور جس کی وجہ سے آج یہ موضوعِ بحث ہے۔ ساتھ ہی یہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔‘

جب ہم اس بارے میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل میڈیا میں ایک طرح کی بڑی تبدیلی ہے۔

سوشل میڈیا پر 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہونے کے پیچھے کیا کہانی نظر آتی ہے؟

اس سوال پر ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’نوجوانوں کے اندر کئی سال سے جو مایوسی اور غصہ پل رہا ہے، وہی اتنے بڑے ردِعمل کی وجہ بنا۔ حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے نوجوان بے روزگار ہیں۔ انھیں ایک پلیٹ فارم ملا جہاں وہ اپنی مایوسی اور غصہ نکال سکتے ہیں۔‘
ابھیجیت دیپکے کون ہیں؟
کسی بھی سیاسی جماعت یا تحریک کے لیے ایک لیڈر بہت ضروری ہوتا ہے۔ تو پھر ابھیجیت دیپکے آخر کون ہیں؟

ابھیجیت دیپکے نے اپنے بارے میں بتایا کہ ’میں مہاراشٹر کے چھترپتی سنبھاجی نگر سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے پونے سے گریجویشن کی۔ اس کے بعد مجھے کچھ سال تک عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جہاں میں ان کی کمیونیکیشن ٹیم میں تھا۔‘

’میں عام آدمی پارٹی کی صحت اور تعلیم سے متعلق پالیسی کی وجہ سے اُن کی جانب راغب ہوا تھا۔ جیسے آج کاکروچ جنتا پارٹی نئی ہے، ویسا ہی مجھے لگا کہ وہ بھی کوئی نیا نظام لانے یا کسی بڑی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے کچھ وقت ان کے ساتھ کام کیا پھر مجھے لگا کہ مجھے مزید پڑھنے کی ضرورت ہے اور میں گھر پر ماسٹرز کی تیاری کرنے لگا۔ مجھے بوسٹن یونیورسٹی جانے کا موقع ملا۔ میں دو سال سے یہاں ہوں اور اپنی گریجویشن مکمل کر چکا ہوں۔‘

ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس پارٹی کا منشور انڈیا کے موجودہ جمہوری نظام اور موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ وہ جج جنھیں غیر جانبدار رہنا چاہیے، جن کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت سے فائدے لے رہے ہیں۔ یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ عدلیہ کو آزاد رہنا ہوتا ہے۔ اگر عدلیہ بھی حکومت کی راہ پر چلے گی تو پھر باقی کیا رہ جائے گا؟ پھر جمہوریت کا کیا ہوگا اور اسے کون بچائے گا؟‘

’دوسری اہم بات خواتین کی نمائندگی کی ہے۔ میں بچپن سے سنتا آیا ہوں کہ جمہوری سیاسی نظام میں خواتین کی 33 فیصد مخصوص نشستیں ہوں گی لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا۔ اگر خواتین کو جمہوری سیاسی نظام میں شامل کرنا ہے تو انھیں 50 فیصد نشستیں دیں۔‘
انڈین ’جین زی‘ کیسے ہیں؟
نیپال اور سری لنکا میں جین زی کی جانب سے چلائی جانے والی تحریکوں نے دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔ نیپال میں احتجاج کے بعد حکومت کو استعفیٰ دینا پڑا۔ سری لنکا اور نیپال کی جین زی کا انڈیا کی جین زی سے موازنہ کرنے کے بارے میں ابھیجیت کیا سوچتے ہیں؟

اس پر وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کی جین زی کا موازنہ سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کی جین زی سے کرنا ’بڑا توہین آمیز عمل‘ ہوگا کیونکہ وہ انڈین جین زی تشدد کا سہارا لینے والے نہیں۔

ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’انڈین جین زی طنز کے ذریعے اپنی ناراضی ظاہر کر رہے ہیں۔ کاکروچ کا لباس پہن کر وہ مقدس دریا جمنا کو صاف کر رہے ہیں اور کچرا ہٹا رہے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے موجودہ نظام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وہ سڑکوں پر جا کر تشدد نہیں بھڑکا رہے اور اگر کل وہ سڑکوں پر نکلتے بھی ہیں تو وہ یہ کام جمہوری اور پُرامن طریقے سے کریں گے۔ ہماری جین زی ہماری کابینہ میں شامل افراد سے زیادہ پڑھی لکھی ہے۔ ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم پر ان پڑھ لوگ حکومت کیوں کر رہے ہیں۔‘

کاکروچ جنتا پارٹی کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ صرف ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم بن کر رہ جائے گی؟ ابھیجیت کہتے ہیں کہ یہ تو صرف شروعات ہے، کل مزید نوجوان تنظیمیں سامنے آئیں گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’نوجوان موجودہ سیاسی نظام سے تنگ آ چکا۔ آئندہ چند سال میں آپ دیکھیں گے کہ نوجوان تبدیلی کا مطالبہ کرے گا کیونکہ گذشتہ 10سے 12 سال میں نوجوانوں نے ’ہندو مسلم‘ کے بیانیے کے علاوہ کچھ نہیں سنا۔‘

’نوجوان اس سیاسی نظام کو بدلنا چاہتا ہے جہاں ہم تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہوں اور جہاں روزگار ملے۔ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں دنیا کے بہترین ممالک سے اپنا موازنہ کرنا چاہیے۔ ہم کب تک نیپال، پاکستان اور بنگلہ دیش سے اپنا موازنہ کرتے رہیں گے‘

جب ابھیجیت سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انڈیا واپس آئیں گے، تو انھوں نے کہا کہ وہ ضرور واپس آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے گذشتہ ہفتے ہی اپنی گریجویشن مکمل کی اور میں واپس آ کر اس تحریک کو آگے بڑھاؤں گا کیونکہ لوگ ایک ساتھ آ رہے ہیں اور وہ بہتر تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہماری تنظیم کے قیام کے چوتھے ہی دن ہمارے پاس دو لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ممبران تھے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جین زی اپنا علیحدہ اور آزاد سیاسی میدان چاہتی ہے۔‘







میں اعزاز کے لیے نہیں لکھتا، بلکہ لکھنا میرا شوق ہے: علی شیدا
اننت ناگ: (میر اشفاق) جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گاؤں نیپورہ سے تعلق رکھنے والے معروف کشمیری شاعر اور ادیب علی محمد ریشی، جو ادبی دنیا میں علی شیدا کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو ان کے کشمیری شعری مجموعے “نجداونیکی پُوت آلاو” پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔ ای ٹی وی بھارت کے نمائندے میر اشافاق کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علی شیدا نے کہا کہ وہ ایوارڈ کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی شوق کے تحت لکھتے ہیں۔

ان کے مطابق لکھنا ان کے لیے عبادت کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ اپنی مصروفیات کے باوجود ہمیشہ قلم اور کاغذ کے ساتھ جڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لکھائی میں اس قدر مگن ہو جاتے تھے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ گذشتہ پچپن برسوں سے شاعری سے وابستہ ہیں اور مسلسل محنت و لگن کے ذریعے اپنے شوق کو پروان چڑھاتے رہے، جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پرورش کرتی ہے۔ ان کے بقول ان کی تحریروں کا اصل معاوضہ قارئین کی محبت، پذیرائی اور حوصلہ افزائی ہے، جس نے انہیں ہمیشہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔قابل ذکر ہے کہ علی شیدا نہ صرف شاعر بلکہ نثر نگار، افسانہ نگار اور کالم نویس بھی ہیں۔ ان کی 76 نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے، جس سے ان کی ادبی پہنچ کو بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان ملی ہے۔

یکم اپریل 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ایک تقریب کے دوران کشمیری ادب میں 1970 سے جاری ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کے اعتراف میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا۔اس موقعے پر مختلف ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے علی شیدا کو مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس اعزاز پر وزارتِ ثقافت، ساہتیہ اکادمی، اساتذہ، ادبی رفقاء، دوستوں، میڈیا اور اپنے اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنے چاہنے والوں کے لیے باعث فخر قرار دیا۔

ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ہر سال ملک کی 24 تسلیم شدہ زبانوں میں نمایاں ادبی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، جس میں ایک لاکھ روپے نقد انعام، تانبے کی تختی اور شال شامل ہوتی ہے۔ علی شیدا کو کشمیری زبان کے زمرے میں ان کی مذکورہ کتاب پر یہ اعزاز دیا گیا، جسے روایت اور جدید اظہار کے حسین امتزاج، ادبی گہرائی اور ثقافتی حساسیت کے لیے بے حد سراہا گیا ہے۔علی شیدا کا ادبی سفر 1970 میں شروع ہوا، جبکہ 1971 میں کالج کے زمانے میں اساتذہ اور نامور ادیبوں کی رہنمائی نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ ان کی ابتدائی تخلیقات مقامی اخبارات میں شائع ہوئیں، بعد ازاں قومی سطح کے رسائل میں جگہ پائیں اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ذریعے وسیع حلقۂ قارئین و سامعین تک پہنچیں۔اب تک علی شیدا 10 کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں چھ کشمیری، اور چار اردو زبان میں شامل ہے، جبکہ مزید چار کتابوں کی اشاعت متوقع ہے۔ ان کا ایوارڈ یافتہ مجموعہ، جو 2022 میں شائع ہوا، کشمیری زبان میں ان کی چھٹی کتاب ہے۔ اس تصنیف میں نئے موضوعات، جدید اسالیب اور ادبی تجربات کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ روایتی شاعری کی روح کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں غزل، نظم، نثری شاعری، رباعیات اور نئی اصناف جیسے ستری نظم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

حمزہ برہان کو پاک مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم حملہ آور نے ماری گولی، موقع پر جاں بحق، پلوامہ دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام
پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے ماسٹرمائنڈ میں سے ایک اورپاکستان کے موسٹ وانٹیڈ مشتبہ دہشت گرد حمزہ برہان کا گولی مارکرقتل کردیا گیا ہے۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق، پاکستان کے مظفرآباد میں نامعلوم حملہ آورنے حمزہ برہان کوگولی ماردی، جس سے وہ موقع پرہی جاں بحق ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق، حمزہ کے قتل کے لئے حملہ آورنے اسے کئی گولیاں ماری ہیں۔

حمزہ البدرکا ٹاپ کمانڈرتھا اوراس کا پورا نام ارجمند گلزارڈارعرف ڈاکٹرتھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ لمبے وقت سے ہندوستان مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل تھا اور جنوبی کشمیرمیں نوجوانوں کوشدت پسندی کی طرف دھکیلنے والے اہم چہروں میں شمارکیا جاتا تھا۔ وہیں حمزہ کا قتل کرنے والے ملزم شخص کومقامی لوگوں نے پکڑکرپولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزم شخص سے متعلق ابھی کوئی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔

موسٹ وانٹیڈ فہرست میں شامل تھا حمزہ

ارجمند گلزاربنیادی طورپرجموں وکشمیرکے پلوامہ ضلع کے رتنی پورا علاقے کا رہنے والا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ تقریباً 7 سال پہلے قانونی دستاویزوں کے ذریعہ پاکستان گیا تھا، جہاں اس نے دہشت گرد تنظیم البدرمیں شمولیت اختیارکرلی۔ بعد میں وہ تنظیم کا آپریشنل کمانڈربن گیا اورپاکستان سے بیٹھ کرکشمیرمیں دہشت گردوں کی بھرتی، فنڈنگ اورہتھیاروں کی سپلائی کا نیٹ ورک چلانے لگا۔ بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں نے اسے طویل عرصے سے انتہائی مطلوب فہرست میں رکھا ہوا تھا۔ ہندوستانی وزارت داخلہ نے اسے 2022 میں باضابطہ طورپردہشت گرد نامزد کیا۔ وزارت کے مطابق، وہ پلوامہ اورجنوبی کشمیرمیں دہشت پھیلانے، نوجوانوں کودہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کرنے اوردہشت گردی کے لئے فنڈزاکٹھا کرنے میں سرگرم تھا۔

ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن ماڈل کا حصہ تھا حمزہ

پلوامہ وادی کشمیرمیں دہشت گردانہ سرگرمیوں کا حساس مرکزرہا ہے۔ اس علاقے سے کئی چہرے دہشت گرد کے طورپر سامنے آئے، جن میں برہان وانی کا نام بھی شامل رہا، جس نے سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کوشدت پسندی کی طرف سے متاثرکیا تھا۔ ارجمند گلزارکو بھی اسی ڈیجیٹل شدت پسند ماڈل کا حصہ مانا جاتا ہے، جس میں سوشل میڈیا اورمقامی نیٹ ورک کے ذریعہ نوجوانوں کو ہتھیاراٹھانے کے لئے اکسایا جاتا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق، ارجمند گلزارکا نیٹ ورک پلوامہ، شوپیاں اوراونتی پورہ علاقوں میں سرگرم تھا۔ اس پرالزام تھا کہ وہ پاکستان سے بیٹھ کرمقامی اوورگراونڈ ورکرس کے ذریعہ ہتھیار، فنڈنگ اوردہشت گردانہ احکامات پرپہنچاتا تھا۔ کئی معاملوں میں اس کا نام دھماکہ خیزاشیا کی برآمدگی، گرینیڈ حملوں اوردہشت گردانہ سرگرمیوں سے جڑا پایا گیا۔










گوندیا کے نیو بالاجی اسپتال میں ڈاکٹروں نے نومولود بچوں کی خرید و فروخت کی رچ دی گھناونی سازش، 1001 خواتین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ
گوندیا کے رام نگر علاقے میں واقع ’نیو بالاجی اسپتال‘ سے جڑا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ خدا کا درجہ پانے والے ڈاکٹروں نے چند پیسوں کی خاطر نومولود بچوں کی خرید و فروخت کی اور نابالغ لڑکیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ بھنڈارا پولیس کی تحقیقات کے مطابق، اس اسپتال کی آڑ میں غیر قانونی اسقاطِ حمل، نابالغ لڑکیوں کی ڈلیوری اور پھر ان نومولود بچوں کو لاکھوں روپے میں فروخت کرنے کا ایک گھناونا ریکیٹ چلایا جا رہا تھا۔ پولیس نے فروخت کیے گئے دو معصوم بچوں کو ریسکیو کرکے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔

غریب خواتین کو ایسے بنایا جاتا تھا شکار

اس گینگ کے حوصلے اس قدر بلند تھے کہ ’بائی گنگابائی سرکاری خواتین اسپتال‘ میں آنے والی غریب خواتین کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ دلال اور ملزم ڈاکٹر ان خواتین کو بہلا پھسلا کر نیو بالاجی اسپتال لے آتے تھے۔انہیں ڈرایا جاتا تھا کہ ان کے پیٹ میں پل رہے بچے کی حالت سنگین ہے اور کم خرچ میں اس نجی اسپتال میں ڈلیوری کرا دی جائے گی۔کچھ خواتین کی کمزور معاشی حالت دیکھ کر ان سے کہا جاتا تھا کہ ان کا بچہ کمزور ہے، اس لیے اسے کسی این جی او (NGO) کے حوالے کر دیا جائے۔ بعد میں انہی بچوں کو بھاری قیمتوں پر فروخت کر دیا جاتا تھا۔

1001 خواتین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ

تحقیقات آگے بڑھنے پر اسپتال کے ایک اور بڑے گھپلے کا انکشاف ہوا، جو غیر قانونی سونوگرافی سینٹر سے متعلق تھا۔ ستمبر 2025 میں مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی نے ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر خوشال گھوڈیسوار کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ سرکاری اسکیم کے تحت حاملہ خواتین کی سونوگرافی کی جا سکے۔ قواعد کے مطابق سونوگرافی صرف ڈاکٹر خوشال ہی کر سکتے تھے، جس کی اجازت ضلع سرجن ڈاکٹر پروشوتم پاٹل نے دی تھی۔لیکن ڈاکٹر نتیش باجپئی نے بڑی جعلسازی کرتے ہوئے ڈاکٹر خوشال کے سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر وویک ییلے کا نام شامل کر دیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر خوشال کو بلائے بغیر ہی گزشتہ 8 مہینوں میں سرکاری اسپتال سے بھیجی گئی 1001 حاملہ خواتین کی سونوگرافی خود ڈاکٹر نتیش باجپئی اور ڈاکٹر وویک ییلے نے انجام دی۔ طبی اصولوں کے مطابق ایک ماہرِ امراضِ نسواں تکنیکی طور پر پیچیدہ سونوگرافی نہیں کر سکتا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد 15 اپریل 2026 کو اس سونوگرافی سینٹر کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔

انسٹاگرام سے ملے پختہ ثبوت

ڈاکٹر وویک ییلے ’بائی گنگابائی سرکاری خواتین اسپتال‘ میں کنٹریکٹ بنیاد پر گائناکولوجسٹ کے طور پر تعینات تھے۔ سرکاری قوانین کے مطابق کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹر کسی نجی اسپتال میں پریکٹس یا خدمات نہیں دے سکتے، لیکن وہ نیو بالاجی اسپتال کے اس کالے دھندے میں شریک تھے۔رام نگر پولیس کی جانچ میں سامنے آیا کہ ایک نابالغ لڑکی کی ڈلیوری کے وقت مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی، ڈاکٹر وویک ییلے اور راجےگاؤں اسپتال سے ریٹائرڈ ڈاکٹر آشا اگروال موجود تھیں۔ ان لوگوں نے نہ صرف ڈلیوری کرائی بلکہ بچے کی فروخت میں بھی مدد کی اور پولیس سے یہ بات چھپائی۔ اس کے پختہ ڈیجیٹل ثبوت خود مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی نے اپنے انسٹاگرام پیج پر ڈال رکھے تھے، جہاں یہ ڈاکٹر اسپتال میں ڈلیوری کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

انتظامیہ کی سخت کارروائی

معاملہ بے نقاب ہونے کے بعد انتظامیہ نے سخت قدم اٹھائے ہیں۔ گوندیا میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر کُسماکر گھورپڑے نے ڈاکٹر وویک ییلے کو ملازمت سے معطل کر دیا ہے۔ ضلع سرجن ڈاکٹر پروشوتم پاٹل نے ’نیو بالاجی اسپتال‘ کا لائسنس ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا ہے۔گرفتاری کے خوف سے ڈاکٹر باجپئی نے اسپتال کی سونوگرافی اور ڈلیوری سے متعلق تمام ریکارڈ تباہ کر دیے تھے۔ فی الحال پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی سمیت 10 ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔









ایران اور پاکستان کے بیچ ہوئی 'انڈر دی ٹیبل ڈیل' ، اس بار دھکہ جھیل نہیں پائیں گے ٹرمپ
اسلام آباد: پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے ملک کی تذلیل میں تمام حدیں پار کر دیں۔ شہباز اور منیر اور اب محسن نقوی نے اپنا ضمیر بیچنے کا سہارا لیا ہے۔ اس ملک نے اب اپنی غربت کو دور کرنے کے لیے دو ملکوں کے درمیان ایک ‘مڈل مین’ کے کردار کو کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بار بار کی دھتکار کے باوجود پاکستان، ایران اور امریکہ کے معاملات میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے۔ اس بے چینی کے پیچھے ایک خفیہ معاہدہ ہے جو پاکستان نے ایران کے ساتھ “پیس ٹیبل کے نیچے” سے کرلیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان ۔ ایران کے درمیان کون سی خفیہ ڈیل ہوئی؟اسرائیلی میڈیا “C14” کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اس امن معاہدے کو جلد از جلد حاصل کرنا چاہتا ہے، عالمی امن کے کسی احساس سے نہیں بلکہ اپنے لالچ سے۔

پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان “انڈر دی ٹیبل” معاہدہ یہ ہے کہ پاکستان ایران کو امریکہ کے ساتھ سازگار جنگ بندی معاہدے کو حاصل کرنے میں مدد کرے گا۔ بدلے میں، جیسے ہی امریکہ کی طرف سے عائد کردہ معاہدے کے تحت ایران کے خلاف سخت بین الاقوامی پابندیاں ہٹائی جائیں گی اور اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کیے جائیں گے، ایران اس خطیر رقم کا ایک اہم حصہ پاکستان کو اپنے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں مدد کے لیے فراہم کرے گا۔

امریکہ۔ ایران امن معاہدہ ہائی وولٹیج ڈرامہ نہیں
یہ بات قابل غور ہے کہ مغربی ایشیا اس وقت ایک ہائی وولٹیج ڈرامے کا مشاہدہ کر رہا ہے، امن معاہدے کا نہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں بار بار امن کی نئی تجاویز مرتب کر رہے ہیں اور پھر انہیں مسترد کر رہے ہیں۔ کسی نہ کسی بہانے جنگ بندی میں توسیع کی جا رہی ہے لیکن انا کی جنگ بدستور جاری ہے۔ دریں اثناء آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور پوری دنیا کو تیل کی قلت کا سامنا ہے۔ جنگ سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود دنیا بھر میں عام لوگ تیل کی بے تحاشا قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔ ان سب کے اوپر سے پاکستان جیسا ناکام ملک ایران اور امریکہ کے بیچ امن معاہدے کروا نے کی کوشش کررہا ہے اور اس میں بار بار ناکام ہو رہا ہے۔

Wednesday, 20 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


محترم بنکر بھائیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
جیسا کہ آپ سب بخوبی واقف ہیں کہ اس وقت ہماری مالیگاؤں کی تاریخی پاور لوم صنعت انتہائی نازک اور سنگین دور سے گزر رہی ہے۔ حالات دن بدن دیگر گوں اور بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی ماحول نے خام تیل (Crude Oil)، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، جس کی وجہ سے امپورٹ اور ایکسپورٹ (درآمدات و برآمدات) بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
اس کا براہِ راست اور مہلک اثر ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پڑا ہے۔ یارن (سوت) کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف کپڑے کے دام گرتے جا رہے ہیں۔ لاگت زیادہ اور منافع نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے نقصان کا ریشو (تناسب) روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
انہی پریشان کن حالات کے پیشِ نظر، مالیگاؤں اور بالخصوص **تانبہ کانٹا** کے متعدد بنکر حضرات نے مجھ سے رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم رائے پیش کی کہ آنے والے مبارک تہوار **عید الاضحیٰ (بکر عید)** پر جو کاروبار بند رکھا جاتا ہے، اسے اس بار لمبا رکھا جائے تاکہ نقصان سے کچھ راحت مل سکے۔

**میری تمام بنکر حضرات سے مخلصانہ وضاحت اور اپیل ہے:**

> "میں تمام بنکر بھائیوں پر یہ بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ **بکر عید کے بند کو لمبا کرنے کی یہ رائے میری اپنی ذاتی رائے یا فیصلہ نہیں ہے**، بلکہ یہ شہر اور تانبہ کانٹا کے بہت سارے بنکروں کی جانب سے کثرت سے آئی ہوئی رائے ہے، جسے میں صرف آپ تمام حضرات کے سامنے غور و فکر کے لیے رکھ رہا ہوں۔ آپ تمام بنکر بھائی اس رائے سے **اتفاق کرنے یا اختلاف رکھنے کا پورا اختیار اور آزادی رکھتے ہیں**۔
> چونکہ حالات بہت خراب ہیں، اس لیے عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ تمام بنکروں سے گزارش ہے کہ کسی بھی دباؤ کے بغیر، **رضاکارانہ طور پر اور اپنی مرضی سے** (اگر آپ مناسب سمجھیں تو) بکر عید کے اس بند کو اپنے حساب سے لمبا لے جائیں، تاکہ ہم سب مل کر اس بڑے مالی نقصان سے بچ سکیں۔"
آئیں، اس کٹھن وقت میں سمجھداری، یکجہتی اور حکمتِ عملی سے کام لیں تاکہ ہم اپنی اس صنعت کو زندہ رکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام بنکروں کے کاروبار میں برکت عطا فرمائے اور اس بحران سے نکلنے کی راہ آسان کرے۔ (آمین)

**آپ کا مخلص،**
**محمد عمیر شمشاد علی (عمیر سر)**
مالیگاؤں، مہاراشٹرا






روزانہ صرف 45 منٹ کی واک سے آپ کیا ’حیرت انگیز‘ فائدے حاصل کر سکتے ہیں؟
پیدل چلنا یا واک انسان کے لیے نہایت بہترین اور قدرتی ورزش ہے جو مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بالغ افراد ہفتے میں کم سے کم 150 سے 300 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی ضرور کریں۔ 
ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ 45 منٹ کی چہل قدمی یا واک انسان کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اسی طرح اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ محض 5 ہزار قدم چلنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
پٹھوں کی مضبوطی
پیدل چلنے کی وجہ سے جسم کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ پٹھوں کے مضبوط ہونے سے چلنے پھرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور جسمانی اعضا بیماری سے بچے رہتے ہیں۔
نیند میں بہتری
جسمانی سرگرمیوں سے نیند بہتر ہوتی ہے اور تناؤ میں بھی کمی آتی ہے۔ بہترین نیند سے مجموعی طور پر انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
واک سے ذہنی تناؤ میں کمی
واک کے اثرات محض انسان کے جسم پر ہی مرتب نہیں ہوتے بلکہ اس کے نفسیاتی اور سماجی فوائد بھی ہیں۔ 
وہ افراد جو ذہنی تناؤ اور درمیانے درجے کے ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالیں اور روزانہ واک کرنے کی عادت اپنائیں۔
قوت مدافعت میں بہتری
باقاعدگی سے چہل قدم یا واک کرنے سے انسان کی قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے۔ پیدل چلنے سے بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔وزن قابو میں رہتا ہے
واک کرنے سے کیلوریز جلتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کا وزن بڑھنے سے رُکا رہتا ہے۔ واک کرنے سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے اور انسان کی کیلوریز جلانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، چہل قدمی سے جسم بھاری نہیں ہوتا اور فالتو چربی بھی کم ہوتی ہے۔
عمر طویل ہوتی ہے
باقاعدگی سے چہل قدمی یا واک کی عادت انسان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور جوانی میں طبعی موت کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ اس سے پیچیدہ بیماریوں کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے اور ذہنی صحت بہتر رہتی ہے۔
دل کے دورے کا خطرہ کم
ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ورزش انسان میں خون کی شریانیں کو فعال رکھتی ہے جس سے دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ 








اروند کیجریوال اوردیگرکوالیکشن لڑنے سے نا اہل قرار دینے کی مفاد عامہ کی عرضی خارج، دہلی ہائی کورٹ نے دیا بڑا فیصلہ
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے دائرمفاد عامہ کی عرضی (پی ایل آئی) کی سماعت کی، جس میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اوردرگیش پاٹھک کوالیکشن لڑنے سے نااہل قراردینے اورعام آدمی پارٹی کے رجسٹریشن کومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیویندراپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے پی آئی ایل کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ درخواست میں لگائے گئے الزامات میں قانونی میرٹ نہیں ہے۔ اس لئے درخواست پرکوئی حکم جاری کرنے کا کوئی جوازنہیں ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے پوچھا سوال

درخواست گزارکی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی کہ اروند کیجریوال اوردیگرعدالتی کارروائی کوبدنام کرنے اورمتنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن کمیشن کوسیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا حکم دیں؟ لیکن کیا سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی قانون میں کوئی شق موجود ہے؟ اگرایسا ہے تواس کا مکمل قانونی ڈھانچہ کیا ہے؟ عدالت کے اس سوال کے جواب میں وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ براہ راست سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ اس معاملے میں قانون واضح ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ کا فیصلہ تین غیرمعمولی حالات کا خاکہ پیش کرتا ہے، جن میں سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔ وکیل نے ان تین مستثنیات کا حوالہ دیا اورعدالت کوان حالات سے آگاہ کیا۔

یہ کیس پہلی دوشرائط پرپورا نہیں اترتا

اس پرعدالت نے کہا کہ یہ کیس پہلی دوشرائط پرپورا نہیں اترتا۔ تیسری شرط یہ ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن صرف اس صورت میں منسوخ کیا جا سکتا ہے، جب اسے یواے پی اے یا اسی طرح کے قانون کے تحت غیرقانونی تنظیم قراردے دیا گیا ہو۔ وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 29 اے (5) کے تحت فریق کوتحریری حلف نامہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ آئین اوراس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرے گی۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی فریق ان شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تواس کے خلاف کارروائی یا رجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس سورن کانتا شرما کے فیصلے کا حوالہ

عرضی گزار کے وکیل نے اس کے بعد جسٹس سورن کانتا شرما کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی ان کی عرضی کی بنیاد ہے۔ اس پرعدالت نے کہا کہ سب سے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کسی عدالت کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کوکسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیارہے؟ عدالت نے واضح کیا کہ صرف کسی فیصلے کا حوالہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی دکھانا ضروری ہے کہ قانون کے تحت عدالت کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے خلاف ایسا قدم اٹھاسکتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ اگرکسی شخص کوتعزیرات ہند پربھروسہ نہیں ہے تومیری رائے میں وہ الیکشن نہیں لڑسکتا۔ میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا وردرگیش پاٹھک کی بات کررہا ہوں۔ عدالت نے کہا کہ اس سے کسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن منسوخ کیسے ہوگا؟ اس پروکیل نے کہا،”میرا دوسرا مطالبہ بھی ہے کہ اروند کیجریوال اوردیگرکولوک سبھا اوراسمبلی الیکشن لڑنے سے نا اہل قراردیا جائے۔ کسی سیاسی پارٹی کا رکن ہوکرعدالت کی کارروائی کوبدنام نہیں کرسکتا۔”سیاسی پارٹیوں کے رجسٹریشن کا پورا عمل قانون میں طے: عدالت

عدالت نے کہا کہ اگرکسی لیڈرنے عدالت کے خلاف بیان دیا ہے تو اس کے لئے الگ قانونی عمل توہین عدالت کی کارروائی ہے۔ صرف اس بنیاد پرکسی سیاسی پارٹی کو ختم کرنا یا لیڈران کو الیکشن لڑنے سے روکنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے رجسٹریشن کا پورا عمل قانون میں طے ہے اوراس معاملے میں دائرعرضی اسی قانونی نظام کو صحیح طریقے سے سمجھے بغیر داخل کی گئی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے میں ہچکچاہٹ کیوں؟ مولانا ارشد مدنی نے حکومت سے پوچھے سوال
بدھ (20 مئی 2026) کو، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، بجائے اس کہ خوشی ہوگی کہ اس سے گائے کے نام پر ماب لنچنگ اور تشدد کے واقعات رک جائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ملک کی آبادی کی اکثریت گائے کو نہ صرف مقدس مانتی ہے بلکہ اسے ’’ماں‘‘ کا درجہ بھی دیتی ہے تو پھر ایسی کون سی سیاسی مجبوری ہے جو حکومت کو اسے قومی جانور قرار دینے سے روک رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ صرف ہم ہی نہیں کر رہے ہیں، بلکہ بہت سے سادھو سنت طویل عرصے سے یہ مطالبہ کررہے ہیں ۔ اس کے باوجود اگر حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی تو اس کے کیا معنی لگائے جائیں ؟گائے کے معاملے کو سیاسی اور جذباتی بنا دیا گیا: مولانا مدنی
مولانا مدنی نے کہا کہ گائے کے مسئلہ کو سیاسی اور جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا ہے، کچھ لوگ منظم طریقے سے گائے کے ذبیحہ کی افواہیں پھیلاتے ہیں یا مویشیوں کی اسمگلنگ کا نام لے کر معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ماب لنچنگ کی ایک بڑی وجہ یہی نفسیات ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد گائے پالتی تھی اور ان کے دودھ کی تجارت کرتی تھی۔ تاہم 2014 کے بعد ملک میں نفرت کی جو فضا پیدا ہوئی اس کے بعد مسلمانوں نے احتیاط برتنی شروع کی اور اب اکثر لوگ گائے کے بجائے بھینس پالنے کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

مختلف مذاہب کے لوگوں نے ایک ہو کر مطالبہ کیا: مولانا مدنی
مولانا مدنی نے کہا، “2014 میں ممبئی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں، سنتوں اور مختلف مذاہب کے لوگوں نے متحد ہو کر ملک میں امن اور اتحاد قائم کرنے کے مقصد سے گائے کو ‘قومی جانور’ قرار دینے کا مطالبہ اٹھایا تھا۔ جمیعت علمائے ہند، آزادی سے پہلے اور بعد میں، مسلمانوں کو یہ مسلسل بتا رہی ہے کہ کوئی ایسے کام نہ کئے جائیں جن سے کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں ۔

انہوں نے کہا، “جمعیۃ علماء ہند نے اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کو مسلسل یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے گریز کریں۔ ہر سال عید الاضحی کے موقع پر اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے۔”

گائے کے معاملے پر دوہرا معیار کیوں؟: مولانا مدنی
گائے کے معاملے پر دوہرے معیار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا، “یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے حق میں دلیل یہ ہے کہ جب ملک ایک ہے تو قانون بھی ایک ہونا چاہیے۔ تاہم، جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین تمام ریاستوں میں یکساں طور پر نافذ نہیں ہیں۔” انہوں نے کہا، “ملک کی کئی ریاستوں میں گائے کا گوشت کھلے عام کھایا جاتا ہے، اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک مرکزی وزیر نے بھی کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، “حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ریاستوں میں بھی، جہاں بی جے پی برسراقتدار ہے، گائے کے نام پر تشدد کرنے والے مکمل طور پر خاموش رہتے ہیں۔ اس دوہرے معیار کے خلاف کبھی کوئی سنجیدہ بحث یا احتجاج نہیں ہوتا ہے۔”

جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں امتیاز زیادہ ہے: مولانا مدنی
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا مدنی نے کہا، “کچھ عرصہ قبل جب یہ مسئلہ اٹھایا گیا تو بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے بیان دیا کہ ان ریاستوں میں گائے کا گوشت نہیں بلکہ متھن کا گوشت، جسے عام طور پر جرسی گائے کا گوشت کہا جاتا ہے، کھایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر گائے کے اندر بھی امتیاز پیدا کیا گیا ہے۔”

انہوں نے سوال کیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہاں صرف جرسی گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ قابل ذکر مسلم آبادی والی ریاستوں میں گائے کو مقدس بتا کر سیاست کی جاتی ہے، جب کہ زیادہ مسلم آبادی والی ریاستوں میں یا جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، گائے متھن بن جاتی ہے۔

ملک کی تمام ریاستوں میں قانون کا یکساں اطلاق ہونا چاہیے: مولانا مدنی
مولانا مدنی نے کہا، “یہ لوگ گائے کی حقیقی عقیدت نہیں رکھتے، بلکہ سیاست سے محبت کرتے ہیں۔ ایسی سیاست کے ذریعے لوگوں کو اکسایا جاتا ہے، مسلمانوں کے خلاف متحد کیا جاتا ہے اور ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ انتخابات کے دوران جان بوجھ کر کئی جذباتی اور سیاسی مسائل اٹھائے جاتے ہیں، جن میں گائے کی سیاست بھی شامل ہے۔”










ٹرمپ ختم کرنا چاہتے ہیں جنگ ، ایران نے للکارا ، ’’لڑاکا طیاروں کو مار گروانے کے لئے تیار رہے امریکہ ‘‘
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے ماضی کے تنازعات سے کافی فوجی تجربہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو دنیا کو نئے اور حیران کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے دو سے تین دن کا وقت دیا ہے۔ ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے تاہم ایران کی حتمی پوزیشن ابھی تک واضح نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ہاں-نہیں کنفیوژن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے فوری حل کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس میں قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ “ہم اس جنگ کو بہت جلد ختم کر دیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے کیونکہ وہ اس کشیدگی سے اکتا چکا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ذہن میں جوہری ہتھیار ہیں لیکن ہم انہیں حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے اب تک بہت اچھا کام کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ معاملہ جلد اور پرامن طریقے سے حل ہو جائے گا۔اسرائیل۔ لبنان کشیدگی میں اضافہ
اس دوران اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 9افراد ہلاک ہو گئے۔ 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 3,042 ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل سمد فلوٹیلا کے ایک اور جہاز کو بھی روک لیا۔ یہ اب تک روکا جانے والا 61 واں جہاز ہے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں اسرائیل پر تنقید بڑھ گئی ہے جس سے سینکڑوں کارکنوں کی حراست پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دریں اثنا، ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر نئے حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹے دور تھے ، لیکن تین خلیجی عرب ممالک کی درخواست پر انہوں نے حملہ ٹال دیا ۔








عبادت گاہوں کے قانون کی خلاف ورزی! بھوج شالہ معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا AIMPLB
نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالا-کمل مولا مسجد تنازعہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی، AIMPLB) نے اعلان کیا ہے کہ وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو چیلنج کرے گا۔ فیصلے کو "ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے بورڈ نے کہا کہ وہ جلد ہی اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ عدالت نے تاریخی دستاویزات، آثار قدیمہ کے شواہد اور دیرینہ مذہبی استعمال پر مناسب غور نہیں کیا۔

اے آئی ایم پی ایل بی (AIMPLB) کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ہائی کورٹ کا فیصلہ عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی روح کے خلاف جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد مذہبی مقامات کی حیثیت کو برقرار رکھنا تھا جیسا کہ وہ آزادی کے وقت موجود تھے، لیکن بھوج شالا کیس میں اس جذبے کو نظر انداز کر دیا گیا۔ بورڈ نے دعویٰ کیا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) نے طویل عرصے سے اس جگہ کو "بھوج شالہ/کمال مولا مسجد" کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

مذہبی مقام کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا

مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کہنا ہے کہ بھوج شالا معاملے میں عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی روح کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اس قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مذہبی مقام کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ 15 اگست 1947 کو تھا۔ بورڈ کا الزام ہے کہ بابری مسجد تنازعہ کے بعد بنائے گئے اس قانون کی روح کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اپنے بیان میں، بورڈ نے 2003 کے انتظامی انتظامات کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت ہندوؤں کو منگل اور مسلمانوں کو جمعہ کو عبادت کرنے کی اجازت تھی۔

مشترکہ مذہبی حقوق کی باضابطہ شناخت

اے آئی ایم پی ایل بی (AIMPLB) کا کہنا ہے کہ یہ انتظام دونوں برادریوں کے مشترکہ مذہبی حقوق کی باضابطہ شناخت تھی، جسے اب ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بورڈ نے مندر سے متعلق اے ایس آئی کے سروے کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا استدلال ہے کہ قرون وسطیٰ کے دور میں بہت سی اسلامی عمارتوں میں قدیم تعمیراتی باقیات کا استعمال عام تھا اور یہ کہ کسی جگہ کی مذہبی شناخت کا تعین صرف ستونوں یا نقش و نگار کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔

اے آئی ایم پی ایل بی (AIMPLB) نے الزام لگایا کہ عدالت نے "تہذیبی بیانیہ" کو ترجیح دیتے ہوئے، مسجد کے مسلسل مذہبی استعمال اور تاریخی آمدنی کے ریکارڈ کو کافی وزن نہیں دیا۔ دریں اثنا، سی پی آئی (ایم) نے بھی اس فیصلے کو بدقسمتی قرار دیا اور کہا کہ اسے امید ہے کہ سپریم کورٹ اس کیس میں دائر اپیلوں کی سماعت کرے گی اور فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گی۔

کیا ہے سارا معاملہ؟

درحقیقت، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے دھار میں بھوج شالا-کمال مولا مسجد کمپلیکس کے تاریخی تنازعہ میں گزشتہ جمعہ کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے، اس قرون وسطیٰ کی یادگار کی مذہبی نوعیت کو دیوی سرسوتی کے لیے وقف مندر کے طور پر مقرر کیا، جسے ہندو افسانوں میں "علم کی دیوی" کے طور پر پوجا جاتا ہے۔

متنازعہ کمپلیکس میں خصوصی ہندو عبادت

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ پرمار خاندان کے بادشاہ بھوج کی وراثت سے وابستہ اس مقام پر ہندو عبادت کا مسلسل رواج کبھی ختم نہیں ہوا۔ ہائی کورٹ نے متنازعہ کمپلیکس میں خصوصی ہندو عبادت کے حقوق کی درخواست کو قبول کر لیا اور 7 اپریل 2003 کے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے حکم کو بھی ایک طرف رکھ دیا، جس میں مسلمانوں کو ہر جمعہ کو یادگار پر نماز ادا کرنے کی اجازت تھی۔

آثار قدیمہ اور تاریخی حقائق

ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور آلوک اوستھی نے آثار قدیمہ اور تاریخی حقائق، اے ایس آئی کی اطلاعات اور اس کے سائنسی سروے اور قانونی دفعات کی روشنی میں اس معاملے سے متعلق پانچ عرضیوں اور ایک رٹ اپیل پر اپنا فیصلہ سنایا۔

Monday, 18 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

گابا چائے کیا ہے اور اس کے استعمال کے کیا فوائد ہیں؟
حالیہ دنوں میں ایک خاص قسم کی چائے گابا چائے عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ذہنی سکون، بہتر نیند اور حتیٰ کہ ہینگ اوور کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
گابا چائے کو استعمال کرنے کے اثرات اور فوائد جاننے سے قبل جان لیتے ہیں کہ آخر یہ ہے کیا؟
این ڈی ٹی وی کے مطابق گابا چائے دراصل چائے کی ایک خاص قسم ہے، جو عام طور پر لونگ، گرین یا بلیک ٹی سے تیار کی جاتی ہے۔اس میں گاما امینو بیوٹیرک ایسڈ (گابا) شامل کیا جاتا ہے، جو دماغ میں پایا جانے والا ایک قدرتی نیوروٹرانسمیٹر ہے اور اعصابی نظام کو پرسکون رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
گابا دماغی سرگرمی کو سست کرتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، بے چینی میں کمی آتی ہے اور نیند بہتر ہوتی ہے۔
یہ کیسے تیار کی جاتی ہے؟
اس چائے کی تیاری کا طریقہ عام چائے سے مختلف ہوتا ہے۔
اسے این ایروبک فرمنٹیشن کے عمل سے گزارا جاتا ہے، جہاں آکسیجن کے بغیر نائٹروجن ماحول میں چائے کے پتوں میں موجود گلوٹامک ایسڈ کو گابا میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ پہلی بار سنہ1984 میں جاپان میں متعارف کروایا گیا تھا۔
گابا چائے بننے کے لیے اس میں کم از کم 150 ملی گرام گابا فی 100 گرام ہونا ضروری ہے، جبکہ عام چائے میں یہ مقدار صرف پانچ سے 10 ملی گرام ہوتی ہے۔
یہ مقبول کیوں ہو رہی ہے؟
اس چائے کی مقبولیت کی بڑی وجہ اس کے ممکنہ طبی فوائد ہیں، جن میں ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی، بہتر نیند، بلڈ پریشر میں کمی، موڈ میں بہتری اور ہینگ اوور کے اثرات میں کمی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق گابا چائے اعصابی نظام کو پرسکون کر کے اور نیند کو بہتر بنا کر ہینگ اوور کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ کوئی مکمل علاج نہیں بلکہ ایک ہلکی معاون چیز ہے۔
سائنس کیا کہتی ہے؟
چند تحقیقات میں اس کے استعمال کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ سنہ 2019 کی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ گابا والی اولونگ چائے پینے سے طلبہ میں فوری ذہنی دباؤ کم ہوا اور دل کی دھڑکن کے نظام میں بہتری آئی۔ایک اور تحقیق میں 28 دن تک گابا چائے استعمال کرنے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دماغی سکون سے متعلق سرگرمی میں اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید بڑی اور طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ ان فوائد کی مکمل تصدیق کی جا سکے۔
گابا چائے کی اقسام
گابا چائے کی مختلف اقسام بھی موجود ہیں، جن میں تائیوان کی گابا اولونگ چائے سب سے زیادہ مشہور سمجھی جاتی ہے، جبکہ جاپانی گابارون گرین ٹی کی ایک خاص قسم ہے۔
اس کے علاوہ گابا بلیک ٹی بھی دستیاب ہے جو نسبتاً کم عام ہے مگر اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے۔
کیا یہ محفوظ ہے؟
عام مقدار میں گابا چائے کا استعمال زیادہ تر افراد کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ البتہ بعض افراد میں ہلکی غنودگی، بلڈ پریشر میں کمی یا معدے کی ہلکی تکلیف ہو سکتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ چائے بلڈ پریشر یا اعصابی امراض کی ادویات کے ساتھ ردعمل دے سکتی ہے، اس لیے ایسے افراد احتیاط کریں۔







احتجاج کررہے گرام پردھانوں کے درمیان پہنچے نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک، مطالبات پرغور کرنے کا دیا بھروسہ، مٹھائی بھی کھلائی
پیر(18 مئی) کے روزاترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک لکھنؤکے حضرت گنج میں گاندھی پرتیما استھل پراحتجاج کررہے سینکڑوں گاؤں کے سربراہوں کے درمیان اچانک پہنچے۔ نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک کا ایک منفرد اوردل کوچھولینے والا ویڈیوسامنے آیا ہے۔ انہوں نے گاؤں کے سربراہان کی خیریت دریافت کی، ذاتی طورپرانہیں پانی اورلڈوپیش کئے۔ اطلاعات کے مطابق، نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک وہاں سے گزررہے تھے، جب جی پی اوکے قریب دھرنے پر بیٹھے گرام پردھانوں کی بھیڑنظرآئی۔ فوراً گاڑی روک کر وہ وہاں اترے اور جہاں گرام پردھان دھرنا دے رہے تھے۔ وہاں پہنچ گئے۔

احتجاج کررہے گرام پردھانوں کو لڈو کھلایا

گرمی سے بے حال گرام پردھانوں کو دیکھ کربرجیش پاٹھک نے فوراً لڈو اورمٹھائی کے ڈبے اورپانی منگوایا، پھراپنے ہاتھوں سے ایک ایک کرکے گرام پردھانوں کو لڈوکھلایا۔ انہوں نے گرام پردھانوں کے د رمیان مٹھائی تقسیم کی اور پانی پلایا۔ اس دوران نائب وزیراعلیٰ نے گرام پردھانوں سے کہا کہ گرمی بہت ہے، پانی پیتے رہئے، صحت کا خیال رکھئے۔ انہوں نے ان کے مطالبات کو اعلیٰ قیادت (اعلیٰ کمان) تک پہنچانے کا بھروسہ بھی دیا۔نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک نے ایکس پرلکھا کہ آج لکھنومیں اپنی منزل کے لئے روانہ ہوتے ہوئے، میں نے حضرت گنج میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے جدوجہد کرنے والے اکھل بھارتیہ گرام پردھان سنگٹھن کے محنتی عہدیداروں اورکارکنوں کے ساتھ ایک خوشگوارملاقات اوربات چیت کی اوران کا مطالبہ نامہ حاصل کیا۔ انہوں نے لکھا کہ اکھل بھارتیہ گرام پردھان سنگٹھن کے قومی صدررام سیوک سنگھ اور ریاستی صدرگیانیندرسنگھ نے واقف کرایا کہ سنگٹھن پنچایت الیکشن سے کرائے جانے اورگرام پنچایتوں میں ایڈمنسٹریٹرکی تقرری کی جئے جانے کے معاملے سے متعلق احتجاج ہے۔ آرگنائزیشن کوبھروسہ دلایا گیا ہے کہ ان کے اس مطالبات کا مثبت حل نکالا جائے گا۔ گرام پردھان ہمارے ملک کی پنچایتی راج نظام کے مضبوط ستون ہیں۔ حکومت ہرقدم پران کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکرکھڑی ہے۔

جانئے کیا ہے گرام پردھانوں کا مطالبہ؟

گرام پردھانوں کی موجودہ مدت رواں ماہ ختم ہورہی ہے۔ حکومت کی جانب سے ایڈمنسٹریٹرکی تقرری کی باتیں سامنے آرہی ہیں اوراس کے خلاف اترپردیش کے مختلف اضلاع سے سینکڑوں گاؤں کے گرام پردھان احتجاج کرنے کے لئے لکھنؤ پہنچ گئے ہیں۔ وہ اپنی مدت میں توسیع کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سبھی گرام پردھان اپنی مدت کاربڑھانے کے مطالبہ پرقائم ہیں اورمختلف اضلاع کے سینکڑوں گاؤں کے سربراہ جی پی اوپارک میں گاندھی مجسمہ کے نیچے دھرنا اورمظاہرہ کررہے تھے۔ وہ ایڈمنسٹریٹرکی تقرری کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ اس دوران نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک نے ان سے ملاقات کی اوراحتجاج کرنے والے گرام پردھانوں کے سربراہان کویقین دہانی کرائی۔









نیٹ پیپر لیک معاملے میں 10ویں گرفتاری، سی بی آئی نے کوچنگ مالک پروفیسر شیوراج پولیس کو گرفتار کیا
سی بی آئی نے نیٹ-یوجی 2026 پیپرلیک معاملے میں بڑی کارروائی کی ہے۔ تفتیشی ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالک کوگرفتارکرلیا ہے۔ سی بی آئی نے اہم ملزم پروفیسرشیوراج موٹیگونکرکوگرفتارکرلیا ہے۔ وہ لاتورمیں آرسی سی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالک ہیں۔ وہ اس انسٹی ٹیوٹ کوچلاتا ہے، جو طلباء کونیٹ-یوجی امتحان کے لیے تیارکرتا ہے۔ اس کی 9 شاخیں ہیں، جن میں سب سے بڑا برانچ لاتورمیں ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ این ٹی اے سے وابستہ کیمسٹری کے لیکچررپی وی کے قریبی ہیں۔ ان کے انسٹی ٹیوٹ اوررہائش گاہ کی تلاشی کے دوران کیمسٹری کا سوال نامہ کا پرچہ برآمد ہوا۔ اس میں 3 مئی کو ہونے والے نیٹ امتحان میں پوچھے گئے سوالات سے ملتے جلتے سوالات تھے۔ اس معاملے میں اب تک 10 لوگوں کوگرفتارکیا جا چکا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سی بی آئی نے پانچ مختلف مقامات پرتلاشی مہم چلائی۔ کئی قابل اعتراض دستاویز، لیپ ٹاپ اورموبائل فون ضبط کئے۔ ضبط کی گئی چیزوں کی زبردست جانچ جاری ہے۔

12 مئی کو سی بی آئی نے درج کیا تھا معاملہ

محکمہ اعلیٰ تعلیم، وزارت تعلیم، حکومت ہند نے نیٹ-یوجی 2026 کے امتحان کے مبینہ پیپرلیک ہونے کے بارے میں ایک تحریری شکایت درج کرائی ہے۔ اس شکایت کی بنیاد پرسی بی آئی نے 12.05.2026 کو مقدمہ درج کیا۔ مقدمہ درج ہونے کے فوری بعد ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ملک بھرمیں مختلف مقامات پرسرچ آپریشن کئے گئے جس کے نتیجے میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کرپوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اب تک 10 افراد کو کیا جاچکا ہے گرفتار

اس معاملے میں دہلی، جے پور، گروگرام، ناسک، پونے، لاتوراوراہلیہ نگرسے 10 ملزمین کوگرفتارکیا گیا ہے۔ 9 ملزمان کوپہلے عدالت میں پیش کیا گیا تھا اورپولیس کی تحویل میں لیا گیا تھا۔ ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ دسویں ملزم کوعدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ خصوصی ٹیموں کی طرف سے تحقیقات جاری ہیں اوراب تک، امتحان سے قبل لیک ہونے والے کیمسٹری اور بائیلوجی کے سوالیہ پرچوں کے اصل ماخذ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ان بچولیوں کو بھی گرفتارکرلیا گیا ہے، جوان طلبا کوجمع کرنے میں شامل تھے، جنہوں نے نیٹ یوجی-2026 امتحان میں آنے والے سوالوں کوخصوصی کوچنگ کلاسیز میں پڑھانے اوران پربات چیت کرنے کے لئے لاکھوں روپئے کی ادائیگی کی تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

پی ایم مودی کو ناروے کا اعلیٰ ترین اعزاز ، گرینڈ کراس آف دی رائل نارویجن آرڈر آف میرٹ سے نوازا گیا
وزیر اعظم نریندر مودی کو ناروے کے بادشاہ نے ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز گرینڈ کراس آف رائل نارویجن آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ اس اعزاز کو ہندوستان اور ناروے کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔

ناروے یہ باوقار اعزاز ان غیر ملکی رہنماؤں اور افراد کو دیتا ہے جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو عالمی سطح پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار، بین الاقوامی سفارت کاری میں ان کی فعال شرکت اور ناروے کے ساتھ تعاون میں ان کی نئی سمت کے لیے اعزاز سے نوازا گیا۔تجارت پر بھی بات ہوئی
تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سبز توانائی، موسمیاتی تبدیلی اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اعزاز ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ اور وزیر اعظم مودی کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اعزاز کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ ہندوستان اور ناروے کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔








ایران پر پھر سے خوفناک حملے کی تیاری کررہا ہے امریکہ ، اسرائیل بھیج رہا ہے مہلک ہتھیار
ایران پر امریکی موقف مزید سخت ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے بہتر ڈیل کی پیشکش نہیں کی تو اسے مزید سخت حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم، جب ٹرمپ یہ دھمکی دے رہے تھے، متحدہ عرب امارات کے جوہری پلانٹ کے قریب ڈرون حملے کی خبر بریک ہوئی۔ سعودی عرب نے بھی تین ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹرمپ نے Axios کو بتایا، “گھڑی چل رہی ہے،” اور ایران کو فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “ہم ایک معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن وہ اس کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ انہیں ہم سے ایک بہتر معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ ان پر شدید حملہ کیا جائے گا، اور وہ ایسا نہیں چاہتے۔” ٹرمپ نے مزید سخت لہجے میں کہا، “گھڑی ٹک ٹک چل رہی ہے۔ انہیں بہت تیزی سے کام کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔”

کیا ٹرمپ ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں؟
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے خاتمے کے لیے ڈیل چاہتی ہے لیکن ایران کی جانب سے اس کے جوہری پروگرام پر ٹھوس رعایتوں کے فقدان نے فوجی آپشن کو دوبارہ سامنے لایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ منگل کو اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ سیچویشن روم میں ملاقات کریں گے۔ اس میں نائب صدر جے ڈی وینس، سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف شامل ہوں گے۔
نیتن یاہو سے بھی بات کی
اتوار کو ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے فون پر بات کی اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سے قبل ہفتہ کو انہوں نے ورجینیا میں اپنے گالف کلب میں اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹنگ کی۔

ماہرین نے اشارہ دیا ، جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی
ڈونلڈ ٹرمپ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ دوحہ انسٹی ٹیوٹ آف گریجویٹ اسٹڈیز کے میڈیا اسٹڈیز کے پروفیسر محمد الماسری نے کیا۔ الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے الماسری نے کہا کہ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی انتظامیہ کے سخت گیر حکام سمیت کئی حلقوں سے دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران کی طرف سے اس قسم کا جھکاؤ یا سمجھوتہ نہیں ملا جس کی انہیں امید تھی۔ ٹرمپ کا یہ بھی خیال تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ایک مختلف رخ اختیار کریں گے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات صورتحال کو ان کے حق میں کر دے گی۔

امریکہ نے تیاریاں کرلیں، کیا دوبارہ جنگ چھڑ جائے گی؟
خلیجی خطے میں ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے اب ایک ہائی ٹیک سٹیل کی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس میں لیزر توپوں سے لیس جنگی جہاز، ڈرون پکڑنے والی ٹیکنالوجی اور گھوسٹ جہازوں پر تعینات کمانڈوز شامل ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب ایران نے امریکہ سے خطے سے نکل جانے اور تقریباً ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کیے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں بکواس قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی اب لائف سپورٹ پر ہے۔

سعودی عرب پر ڈرون حملے کی مذمت، کویت اور قطر نے کہا، یہ براہ راست جارحیت ہے

سعودی عرب پر ڈرون حملے پر کویت اور قطر نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے الگ الگ بیانات جاری کرتے ہوئے اس حملے کو سعودی خودمختاری پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ کویت نے کہا کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کی اور سعودی حفاظتی اقدامات کی حمایت کی۔ قطر نے اسے ‘ناقابل قبول جارحیت’ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔









اترپردیش : ٹرک اور وین میں تصادم ، 8 افراد ہلاک، 4 زخمی
اترپردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع میں آج صبح ( پیر،18 مئی) ایک المناک سڑک حادثے میں 8 افراد ہلاک اور 4 دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ NH-730 پر عیسی ٰنگر علاقے میں اونچ گاؤں اور بھرہٹا کے درمیان پیش آیا، جہاں ایک میجک وین اور ٹرک کی آمنے سامنے ٹکر ہوئی۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلیٰ حکام کو فوراً جائے وقوع پر پہنچنے اور فوری مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔اطلاعات کے مطابق وین لکھیم پور سے سیسیّا جا رہی تھی، جب کہ ٹرک بہرائچ سے آ رہا تھا۔

شدید ٹکر کے سبب میجک گاڑی کے پرخچے اڑگئے ۔ حادثے کے بعد مقامی لوگوں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور پولیس کو اطلاع دی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سی او دھورہرا، کھمریہ اور عیسی نگر تھانوں کی پولیس کے ساتھ جائے وقو ع پر پہنچے۔ مقامی باشندوں کی مدد سے پولیس نے زخمیوں کو نکال کر علاج کے لیے سی ایچ سی کھمریا منتقل کیا۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ مہلوکین کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے حکام کو فوری طور پر راحت اور بچاؤ کاموں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ۔ ضلع مجسٹریٹ کو فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچنے اور صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انتظامی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر سطح پر چوکسی برقرار رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی کاموں میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ پولیس فی الحال حادثے کی وجہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔


*🛑سیف نیوز اُردو*

پہلوانی کی تاریخ ایوارڈ دنگل

سیف نیوز کی جانب سے ہمیشہ ادبی تقاریب فنکاروں کا اعزاز و استقبال کیا جاتا ہے وہیں صحت بیداری سے متعلق اسپورٹس کے پروگرام بھی منعقد کئے جاتے رہے ہیں اب مالیگاؤں شہر میں پہلوانی اکھاڑوں کی تاریخ لکھی جارہی ہے تین سو مرحوم حیات بزرگ و نوجوان پہلوانوں کو سند اور ایوارڈ سے نوازا جائے گا کشتی کا شاندار دنگل بھی ہوگا شہر میں صحت بیداری کی کوشش کی جائے گی تمام شعبوں سے معززین و عمائدین شہر بطور مہمان شریک ہوں گے تفصیل کچھ یوں ہے
کشتیوں کا شاندار دنگل 31 مئی بتاریخ کی چواسی بروز اتوار شام 4 بجے سے
ایوارڈ تقسیم سینٹرل مالیگاؤں 

2 جون بروز منگل شام 4 بجے سے حج کمیٹی ہال اسکول نمبر ایک قدوائی روڈ مالیگاؤں 


ایوارڈ تقسیم مالیگاؤں آؤٹر 
4جون بروز جمعرات شام چار بجے سے 
اسپائر کلب کروا ہاسپٹل مالو شو روم مالیگاؤں 
سہ روزہ تقاریب میں آپ سبھی سے شرکت کی پرخلوص گذارش آئیں حوصلہ افزائی کے لئے

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...