Thursday, 7 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

ملک کی تقسیم کے وقت پاکستان کو دئے گئے تھے ایسے نوٹ....سال بھر بعد ہی ہوگئے ردی، جانئے کیوں؟
سوشل میڈیا پر تاریخ کے انوکھے قصے اکثر وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک شخص نے 1947 کی تقسیم کا ایک نایاب 1 روپے کا نوٹ شیئر کیا ہے، جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ اس نوٹ پر دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان کا ذکر ہے۔ شخص نے ویڈیو میں بتایا کہ تقسیم کے وقت پاکستان کو ادائیگی کرنے کے لیے ایسے ہی نوٹ استعمال کیے گئے تھے۔ اس نوٹ کی کہانی کافی دلچسپ ہے۔ نوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر ایک طرف “Government of India” اور دوسری طرف “Government of Pakistan” چھپا ہوا ہے۔ کچھ نوٹوں پر انگریزی کے ساتھ اردو میں “حکومتِ پاکستان” بھی درج تھا۔ یہ نوٹ اصل میں برٹش انڈیا کے زمانے کے تھے، جن پر بعد میں پاکستان کے لیے اوور پرنٹ کیا گیا۔

آزادی سے پہلے ایسے نوٹ چلتے تھےمیں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی چیزیں مشترک تھیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) دسمبر 1948 تک دونوں ممالک کے لیے مرکزی بینک کا کردار ادا کر رہا تھا۔ پاکستان کو اپنی الگ کرنسی شروع کرنے میں وقت لگا، اس لیے ابتدائی دنوں میں ہندوستانی روپے کے نوٹوں پر “Government of Pakistan” چھاپ کر استعمال کیا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین اس نوٹ کو دیکھ کر مختلف طرح کے کمنٹس کر رہے ہیں۔ ’’تقسیم کے وقت بھی ایک نوٹ پر دونوں ملک”، “ایک سال بعد یہ نوٹ ردی ہو گئے”، “تاریخ کتنی دلچسپ ہے”۔ بہت سے لوگ اسے شیئر کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ یہ نوٹ تقسیم کے اس ہنگامہ خیز دور کو یاد دلاتا ہے جب سرحدیں بن گئیں لیکن کرنسی ایک تھی۔تاریخی حقائق کے مطابق، پاکستان نے تقریباً ایک سال تک ہندوستانی کرنسی استعمال کی تھی۔ اپریل 1948 سے خصوصی نوٹ جاری کیے گئے، جو صرف پاکستان میں ہی قابلِ قبول تھے۔ یہ نوٹ ہندوستان میں کیش نہیں کیے جا سکتے تھے۔ 1، 2، 5، 10 اور 100 روپے کے نوٹ اس طرح جاری کیے گئے۔ بعد میں پاکستان نے اپنی الگ کرنسی جاری کر دی۔

انتہائی نایاب ہے یہ نوٹ
اس نوٹ کو دیکھ کر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ نوٹ اب بھی کلیکٹرز کے پاس موجود ہیں اور ان کی قیمت کتنی ہے؟ نوٹ کلیکٹرز کے مطابق ایسے نایاب اوور پرنٹ شدہ نوٹ کی قیمت ہزاروں میں ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر اس کی حالت اچھی ہو۔ یہ ویڈیو اور تصاویر دیکھ کر پرانے زمانے کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔ تقسیم کے دوران جائیداد، اثاثوں اور کرنسی کی تقسیم پر دونوں ممالک کے درمیان کافی بحث اور اختلاف ہوا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے سونے چاندی کے ذخائر کی تقسیم بھی تقریباً 70:30 یا 50:50 کے قریب طے ہوئی تھی۔آج جب ہم 1947 کے اس دور کو دیکھتے ہیں تو ایسے نوٹ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک ہی کرنسی، ایک ہی بینک اور کئی مشترک چیزوں کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ سب کچھ الگ ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کو لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔









بنگلہ دیش اور چین میں بڑھ رہی ہے قربت ۔ تیستا ریور پروجکٹ میں چین کی شمولیت ۔ بھارت کے اسٹریٹجک خدشات میں اضافہBangladesh Invites China Into Teesta Project

بنگلہ دیش کا تیستا منصوبے کیلئے چین سے تعاون، بھارت میں نئے اسٹریٹجک خدشات
بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے تیستا ریور کمپری ہینسو مینجمنٹ اینڈ ریسٹوریشن پروجیکٹ (TRCMRP) میں چین کی شمولیت کیلئے باضابطہ طور پر درخواست کردی ہے، جس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نئی کشیدگی اور اسٹریٹجک خدشات پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی ایشیا میں چین کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔یہ معاملہ بدھ کے روز بیجنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ملاقات میں زیر بحث آیا۔ بنگلہ دیشی خبر ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تیستا منصوبے سمیت کئی اہم علاقائی اور اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

تیستا دریا کی اہمیت کیا ہے؟

تیستا دریا بھارتی ریاست سکم اور مغربی بنگال سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ لاکھوں افراد کیلئے آبپاشی، زراعت اور روزگار کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک طویل عرصے سے تیستا کے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس مسئلے پر کئی برسوں سے مذاکرات جاری ہیں۔

یہ دریا بھارت کے حساس “سلی گوڑی کوریڈور” کے قریب واقع ہے، جو بھارت کے مرکزی حصے کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑنے والا انتہائی اہم زمینی راستہ ہے۔ اسی وجہ سے چین کی ممکنہ موجودگی بھارت کیلئے اسٹریٹجک تشویش کا باعث بن رہی ہے۔یہ معاملہ بدھ کے روز بیجنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ملاقات میں زیر بحث آیا۔ بنگلہ دیشی خبر ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تیستا منصوبے سمیت کئی اہم علاقائی اور اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

تیستا دریا کی اہمیت کیا ہے؟

تیستا دریا بھارتی ریاست سکم اور مغربی بنگال سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ لاکھوں افراد کیلئے آبپاشی، زراعت اور روزگار کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک طویل عرصے سے تیستا کے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس مسئلے پر کئی برسوں سے مذاکرات جاری ہیں۔

یہ دریا بھارت کے حساس “سلی گوڑی کوریڈور” کے قریب واقع ہے، جو بھارت کے مرکزی حصے کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑنے والا انتہائی اہم زمینی راستہ ہے۔ اسی وجہ سے چین کی ممکنہ موجودگی بھارت کیلئے اسٹریٹجک تشویش کا باعث بن رہی ہے۔چین کی حمایت اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ

ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چین، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت ڈھاکہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے تیار ہے۔

وانگ یی نے کہا کہ:

“چین بنگلہ دیش کی قومی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ساتھ اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے اور معیشت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی روابط سمیت روایتی شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔”

چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں چین کے تعلقات کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں کسی دوسرے ملک کے اثر سے متاثر ہونا چاہیے۔

بھارت کیلئے کیوں اہم ہے یہ پیش رفت؟

تجزیہ کاروں کے مطابق تیستا منصوبے میں چین کی شمولیت بھارت کیلئے صرف ایک آبی معاملہ نہیں بلکہ ایک اہم جیوپولیٹیکل مسئلہ بن سکتا ہے۔ چین پہلے ہی سری لنکا، پاکستان، نیپال اور مالدیپ میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے ذریعے اپنے اثرات بڑھا چکا ہے۔

بھارت کو خدشہ ہے کہ اگر چین تیستا منصوبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس سے بنگلہ دیش میں بیجنگ کا سیاسی اور اسٹریٹجک اثر مزید مضبوط ہوسکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقے میں جو بھارت کی قومی سلامتی کیلئے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔

بھارت نے 2024 میں تیستا بیسن کی تکنیکی ترقی اور تحفظ کیلئے بنگلہ دیش کو تعاون کی پیشکش بھی کی تھی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم اب ڈھاکہ کی جانب سے چین کی طرف جھکاؤ کو نئی دہلی میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

شیخ حسینہ کے بعد نئی سفارتی سمت
یہ پیش رفت سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔ نئی حکومت کے سربراہ طارق رحمان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین اور پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے، جس پر بھارت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

خلیل الرحمان کا چین کا یہ دورہ فروری میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دورہ ان کے حالیہ دورۂ بھارت کے چند ہفتوں بعد ہوا، جسے بھی خطے میں بدلتی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

گنگا پانی معاہدہ بھی اختتام کے قریب
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 1996 میں ہونے والا ’’گنگا واٹر ٹریٹی‘‘ بھی اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے۔ اگر اس معاہدے کی تجدید نہ ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔

تائیوان کے معاملے پر بنگلہ دیش کی چین حمایت
بیجنگ ملاقات کے دوران بنگلہ دیش نے تائیوان کے معاملے پر بھی چین کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا۔ بنگلہ دیش نے کہا کہ :

’’تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے اور بنگلہ دیش کسی بھی قسم کی تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا۔‘‘

جواب میں چین نے بھی بنگلہ دیش کی ’’قومی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت‘‘ کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ بنگلہ دیش کے عوام کی منتخب ترقیاتی راہ کی حمایت جاری رکھے گا۔

تیستا دریا کی پانی تقسیم کا تنازع بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ 2011 میں دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ معاہدہ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی کی مخالفت کے باعث مکمل نہ ہوسکا تھا۔ اس کے بعد سے بنگلہ دیش مسلسل اس مسئلے کے مستقل حل کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

چین نے گزشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیش میں بندرگاہوں، سڑکوں، توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب تیستا منصوبے میں ممکنہ شمولیت کو بھی اسی وسیع جغرافیائی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔










بدل گئے 60 سال پرانے قوانین، سرکار نے کردیا ایسا انتظام، فورا نکلے گا 75 فیصد پیسہ
نئی دہلی: ایمپلائیز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (Employees’ Provident Fund Organisation – EPFO) اپنے کروڑوں کھاتہ داروں کے لیے اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کرنے جا رہا ہے۔ ای پی ایف او 3.0 نام کی اس نئی اسکیم کے آنے کے بعد پی ایف سے پیسہ نکالنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا جتنا بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکالنا ہوتا ہے۔ پچھلے تقریباً 60 سالوں سے پی ایف کا پیسہ نکالنے کے لیے لوگوں کو لمبی کاغذی کارروائی اور دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے، لیکن اب یہ سب ماضی کی بات ہونے والی ہے۔

ای پی ایف او 3.0 کے تحت سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اب آپ اپنے پی ایف کا پیسہ سیدھا اے ٹی ایم (ATM) یا یو پی آئی (UPI) کے ذریعے نکال سکیں گے۔ ابھی تک پی ایف نکالنے کے لیے آن لائن فارم بھرنا پڑتا تھا اور پھر کمپنی کی منظوری کا انتظار کرنا ہوتا تھا، جس میں کافی وقت لگ جاتا تھا۔ لیکن نئے نظام میں آپ اپنے پی ایف بیلنس کا 75 فیصد حصہ فوراً یو پی آئی کے ذریعے نکال سکیں گے۔اس کے لیے نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (National Payments Corporation of India) کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے، تاکہ گوگل پے (Google Pay) اور فون پے (PhonePe) جیسے ایپس کے ذریعے بھی یہ ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ، ای پی ایف او ہر ممبر کو ایک خاص پی ایف اے ٹی ایم کارڈ بھی دے گا، جس سے آپ کسی بھی مشین سے اپنے بیلنس کا 50 فیصد تک نقد نکال سکیں گے۔

ضابطے میں بڑی تبدیلی، اب صرف 3 کیٹیگری
اس نئے سسٹم میں صرف پیسہ نکالنے کا طریقہ ہی نہیں بدلا ہے، بلکہ پورے عمل کو چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ پہلے پی ایف نکالنے کے لیے 13 مختلف کیٹیگریز ہوتی تھیں، جنہیں اب گھٹا کر صرف 3 کر دیا جائے گا۔ سب سے بڑی راحت کی بات یہ ہے کہ اب آٹو سیٹلمنٹ (Auto-settlement) یعنی بغیر کسی انسانی مداخلت کے پیسہ ملنے کی حد کو بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ 5 لاکھ تک کے دعووں کا تصفیہ کمپیوٹر خود بخود کر دے گا۔ اب زیادہ تر معاملات میں آپ کو اپنی کمپنی سے منظوری لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔کتنا پیسہ PF اکاؤنٹ میں رکھنا ضروری ہوگا؟
پیسہ نکالنے کی اس دوڑ میں آپ کا ریٹائرمنٹ کا پیسہ ختم نہ ہو جائے، اس کے لیے ای پی ایف او نے ایک اہم اصول بنایا ہے۔ چاہے آپ اے ٹی ایم سے پیسے نکالیں یا یو پی آئی سے، آپ کو اپنے اکاؤنٹ میں کم از کم 25 فیصد بیلنس ہمیشہ برقرار رکھنا ہوگا۔ آپ اپنا پورا پی ایف اس طریقے سے نہیں نکال سکیں گے۔ سیکورٹی کے لیے آدھار (Aadhaar) پر مبنی او ٹی پی (OTP) سسٹم کا استعمال کیا جائے گا، جس سے پورا عمل 24 گھنٹوں کے اندر مکمل ہو جائے گا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2026 کے وسط تک اس پورے نظام کو نافذ کر دیا جائے۔ اس سے ان مزدوروں اور ملازمین کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا جو انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال نہیں جانتے یا جنہیں ایمرجنسی میں فوری نقدی کی ضرورت ہوتی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


آصف ہارون سر کی 17ویں کتاب کی شاندار رسمِ رونمائی، تعلیمی حلقوں میں زبردست پذیرائی
نوجوان سائنسداں خطاب یافتہ ڈاکٹر تنویر خان اور ڈاکٹر غیاث الدین عثمانی کی خصوصی شرکت
جلگاؤں (شیخ زیّان احمد) شہر کی قدیم درس گاہ نیز اُمُّ المدارس،انجمن ِ تعلیم المسلمین،جلگاؤں کی زیر سرپرستی میں ایک پروقار اور شاندار تقریب میں 12ویں جماعت (مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ) کے طلبہ کے لیے تیار کردہ معروف معلم، جونیئرلیکچرر اور مصنف شیخ آصف ہارون سر کی 17ویں تصنیف ”A Compelete Solution of Chemistry Practicle for HSC Students“کی رسمِ رونمائی انجام پائی۔ اس تقریب میں تعلیمی، سماجی اور علمی میدان سے وابستہ معزز شخصیات، عمائدین شہر،اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت نیز کتاب کی رونمائی انجمن کے صدراعجاز احمد عبدالغفار ملک کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ اس موقع پرانجمن کے جنرل سیکریٹری امین الدین بادلی والا، نائب صدرسید چاند، نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہئ آئل ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر جی۔ اے۔ عثمانی نیز نوجوان سائنسدان ڈاکٹر تنویر خان (وائس پرنسپال: اقراء تھم کالج،مہرون،جلگاؤں) بطور مہمانانِ خصوصی موجود تھے۔ علاوہ ازیں پرنسپال ڈاکٹر بابو شیخ، وائس پرنسپال نعیم بشیر سر،سوپروائزر ناظم خان سر جملہ اساتذہ کرام اور دیگر معززین بھی شریک رہے۔ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا بعدازیں مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔شعبہئ کیمیاء کے صدر آصف خورشید سر نے اس پریکٹیکل بُک کی تصنیف وتالیف کا پس منظر،غرض غائیت اور موجود ہ دور میں اس کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں آصف ہارون سر کی علمی و تدریسی خدمات کوخوب تحسین پیش کی اور کہا کہ ایسی کتابیں خصوصاً اُردو میڈیم کے سائنس کے طلبہ کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دَور میں معیاری اور آسان فہم تعلیمی مواد کی اشد ضرورت ہے جسے آصف ہارون سر بخوبی پورا کر رہے ہیں۔
 مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے کیمسٹری پریکٹیکل ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے اور یہ نئی کتاب طلبہ کو نہ صرف تجربات کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ امتحان میں بہترین کارکردگی کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرے گی۔ اس کتاب کو جدید نصاب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں طلبہ کی سہولت کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔اللہ اسے تمام طلبہ کی تعلیمی تشنگی کو پورا کرنے کا ذریعہ بنائے۔اپنے خطاب میں آصف ہارون سر نے تمام شرکاء نیزمہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مقابلہ کے اس درو میں طلبہ کو آسان، معیاری اور مکمل تعلیمی رہنمائی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی 17ویں کتاب ہے اور آئندہ بھی وہ اسی جذبے کے ساتھ تعلیمی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ شرکاء نے آصف ہارون سر کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور اس کتاب کی مقبولیت نیز روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تقریب کی نظامت آصف مرزا سر نے بحسن وخوبی انجام دی جبکہ آئے ہوئے مہمانان کا شکریہ ادارہئ ہٰذا کے سوپروائزر ناظم خان سر نے ادا کیا۔اس موقع پر خوشی اور فخر کا ماحول دیکھنے میں آیا اور تعلیمی حلقوں نے اس کاوش کو بے حد سراہاجارہا ہے۔

تصویر میں: ۱) کتاب کی رونمائی میں دائیں سے ناظم خان سر،نعیم بشیر سر،اعجاز ملک صاحب،آصف ہارون سر،ڈاکٹر بابو شیخ،آصف خورشید سر،مختار خان سر اور رئیس غنی سر کو دیکھا جاسکتا ہے۔
 ۲) کتاب کی رونمائی میں دائیں سے ناظم خان سر،نعیم بشیر سر،ڈاکٹر غیا ث الدین عثمانی صاحب،آصف ہارون سر،ڈاکٹر بابو شیخ،سُہیل رحمانی سر، ڈاکٹر تنویر صاحب،مختار خان سر،آصف خورشید سر، اور رئیس غنی سر کو دیکھا جاسکتا ہے۔








اردو میڈیا سینٹر میں ۹ مئی کو افسانوی نشست
__________________________
ادب دراصل انسانی زندگی کی تہذیب و تطہیر کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ ایک اچھا شعر، ایک عمدہ افسانہ اور ایک معیاری تخلیق وہی ہوتی ہے جو انسان کے باطن کو سنوارے، اس کی پراگندہ سوچ کو سمیٹے اور اسے زندگی کے بیکراں سمندر سے ہم آہنگ کر دے۔ ایسی تخلیقات کے مطالعے کے بعد زندگی نہ صرف بامعنی محسوس ہوتی ہے بلکہ اس میں مقصدیت کی جھلک بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔
اسی ادبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے انجمن محبانِ ادب، مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام ایک پُر وقار افسانوی نشست کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
یہ نشست اردو میڈیا سینٹر میں، ۹ مئی بروز سنیچر منعقد ہوگی، جس کی صدارت محترم جناب لئیق انور صاحب فرمائیں گے، جبکہ نظامت کے فرائض عزیز اعجاز صاحب انجام دیں گے۔
اس نشست میں شہر کے ممتاز قلمکارانِ ادب اپنے افسانے پیش کریں گے، جن میں:
صابر گوہر صاحب
منصور اکبر صاحب
ابنِ آدم صاحب
اشفاق عمر صاحب
عزیز اعجاز صاحب
ہارون اختر صاحب (صدرِ انجمن)
شامل ہیں۔
تمام ادب نواز حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس بامقصد ادبی نشست میں شرکت فرما کر اسے کامیاب بنائیں۔
آپ کی آمد کے منتظر
صدر و اراکین
انجمن محبانِ ادب، مالیگاؤں







*نکاح کو آسان اور برکت والا بناؤ (الحدیث )*....... *21 جوڑوں کے اجتماعی نکاح کا ایک عظیم الشان پروگرام*
   *عوام الناس کو یہ اطلاع دیتے ہوئے نہایت ہی مسرت ہو رہی ہے کہ ایکتا سیوا بھاوی سنستھا مہاراشٹر کی جانب سے شہر مالیگاؤں میں اجتماعی نکاح کا تیسرا عظیم الشان پروگرام مورخہ 2 جون 2026ء بروز منگل کو فردوس لانس، لوٹس لانس کے بازو میں 80 فٹی روڈ ، مالیگاؤں میں منعقد ہوگا*۔ *اس پروگرام میں ہر مکتبہ فکر اور ہر برادری سے تعلق رکھنے والے 21 *جوڑوں کا اجتماعی نکاح ہوگا۔ یہ تقریب صبح 10 بجے منعقد ہوگی *اور ظہر سے قبل اختتام پذیر ہو جائے گی ۔ ان شاء اللہ* ۔۔۔۔ 
*اجتماعی نکاح کا پروگرام منعقد کرنے کا ہمارا مقصد نکاح کو آسان کرنا*، *دولہا اور دلہن کے والدین اور سرپرستوں کو بے جا رسم و رواج، بے جا اخراجات سے بچانا ہے کیونکہ آج کل نکاح اور شادی کے نام پر لاکھوں روپیوں کے اخراجات ہوتے ہیں جس کی بناء پر نکاح مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے*۔ *اجتماعی نکاح کی تقریب میں کم وقت، کم خرچ میں آسانی سے بچے اور بچیوں کا گھر بس جاتا ہے اور وہ تمام احباب ہمیں دعاؤں سے نوازتے ہیں*۔…..
*اجتماعی نکاح کے اس پروگرام میں گھر گرہستی میں لگنے والے تمام ضروری سامان دولہا دلہن سے لی گئی فیس اور سنستھا کی جانب سے دیئے جائیں گے۔ اس کے لئے فارم بھرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ فارم بھرنے کی آخری تاریخ 12 مئی 2026ء ہے۔ لہٰذا وقت کم ہونے کی بناء پر اس اجتماعی نکاح کے پروگرام میں اپنے بچے اور بچیوں کا نکاح کروانے کے خواہش مند ذمہ داران جلد از جلد رابطہ قائم کر کے فارم بھر دیں تاکہ آپ کا نام اس ہونے والے پروگرام میں شامل کیا جا سکے*۔...
*دیگر معلومات کے لئے حافظ طہ اور توصیف انجم صاحبان سے رابطہ قائم کریں*
۔
*فقط: *حافظ طہ*  
*8010618461*

*توصیف انجم*
*8983837588*

*مولانا شیخ افسر، مولانا جمیل، مولانا یاسین ، اعجاز شاھین سر ، عتیق فن گرافکس*

*آفس کا پتہ* : *نمیرہ ہائٹس ، شاپ نمبر 25 ، للے چوک ، اسلام پورہ ۔ مالیگاؤں*









شدت کی گرمی اور چاروں طرف پینے کے پانی کی ہاہاکار، موجودہ برسراقتدار ہر مسائل پر میڈیا پر بات کررہا ہے مگر پانی کے مسائل پر سب خاموش کیوں؟ کیا پانی کی کالابازاری، بلیک میلنگ، اور پانی چوری، یا پھر سابقہ کی طرح پانی بیچا جارہا ہے۔۔ 
بنداس 🖊️

آصف بنداس 
9273019740


مالیگاوءں ان دنوں موسم سرما و شدت کی دھوپ اور گرمی میں شہر کے چاروں طرف پینے کے پانی کی ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ حقیقت میں پانی کی اہمیت بنات حوا ہی جانتی ہے بیچاری بنات حوا پانی پینے کے پانی کے لئے کتنے جتن کرتی ہے تب کہیں پانی وافر ہوتا ہے۔ مگر آج تقریبا" ایک ماہ سے اور جاری شدت کی گرمی میں کارپوریشن واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر صرف یہ بولتا ہیکہ پانی سپلائی " اوپر سے بند ہے" ارے عقل کے اندھوں پانی تو پچھلے سال بارش میں " اوپر " سے یعنی رب تعالی نے 5 ماہ پانی دئے۔ اور اتنا پانی پانی پورا مہاراشٹر رہا۔ اور اسی بارش کے ایام میں مالیگاوءں کارپوریشن نے پانی کا ذخیرہ زیادہ ہونے سے 1 دن ناغے سے پانی دینے لگی۔ مگر کچھ تجربہ کار کھاوء بلے جو سالوں سال کارپوریشن کو اپنا گھر سمجھتے ہیں صبح ہوتی تو کارپوریشن تو شام تک کارپوریشن ہی میں ڈیرہ ڈالے رہتے ، ایسے کچھ لوگ کمشنر کو بول کر 1 دن ناغے سے پانی بند کروائے کہ یہ پانی گرمی میں دیا جائے۔ مگر آج تو حساب ایکدم الٹا 1 دن تو دور دو دن ناغے سے دیا جانے والا پانی شہر کے بیشتر علاقوں میں 6.8.10.12. گھنٹہ لیٹ بلکہ تیسرا دن بھی گیپ ہوکر پانی دیا جارہا ہے۔ اور اگر عوام واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کے کرسی توڑو اور پگار کھاوء لوگوں سے رابطہ کرتی تو یہ بولا جاتا کہ پمپنگ بار بار بند ہوجارہی ہے۔ اوپر سے آرڈر ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ 1100 کروڑ کا بجٹ رکھنے والی کارپوریشن انتظامیہ و برسراقتدار عوام کو سال میں با مشکل 50 سے 60 دن پانک دیتی ہے۔ اور پانی پٹی سال کے 365 دنوں کی لیتی ہے۔ اور ستم بلائے ستم واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کی نااہلی و نکمہ پن سے شہر کے چاروں طرف 8.10.12 گھنٹہ لیٹ اور کہیں تو چا دن پانچ دن لیٹ پانی ۔ اور جھوٹ پر جھوٹ بول کر عوام کو تسلی دی جارہی ہے۔ بنات حوا بھی برجستہ کہنے لگی کہ پانچ مہینہ بارش ہوئی اور 1 دن ناغے سے پانی دینے والی کارپوریشن گرمی کے ایام میں 3.4.5 دن ناغے سے پانی دے رہی ہے ۔ اور واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ چنگر چوٹی یہ کہتی ہیکہ پمپنگ بار بار بند ہوجاتی اوپر سے ایسا آرڈر ہوتا ہے ۔ تو بنات حوا کا بھی شک اب یہی ہیکہ کارپوریشن انتظامیہ و واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ یقینا" پانی کی کالا بازاری ، بلیک میلنگ، اور خرد برد و پانی بیچ رہی ہے۔ اسی لئے کارپوریشن موجودہ برسراقتدار ہر مسائل پر میڈیا پر بات کرتا ہے ۔ مگر پانی کے مسائل پر نہ کارپوریشن کمشنر و واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ، نہ موجودہ برسراقتدار عوام کو کچھ بتا نہیں رہا ہے۔ کیا سچ میں ایسا سب کچھ ہورہا ہے۔ 

کارپوریشن واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ و برسراقتدار کو چاہئے کہ پانی کے مسائل پر عوام کو میڈیا کے ذریعے بتائیں ورنہ پانی کے مسائل پر تمہاری خاموشی بنات حوا کا شک یقین میں بدلی ہوگا۔

Saturday, 2 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


وارڈ نمبر 15 گولڈن نگر شفاعت چوک سے خلیل ہائی اسکول تک نلوں میں گٹر کے پانی کا سدباب 
گذشتہ کئی دنوں سے گولڈن نگر شفاعت چوک سے خلیل ہائی اسکول تک نلوں میں گٹر کا پانی آرہا تھا ۔ الحمد اللہ واٹر سپلائی انجیئر اجئے کھیرنار کو مسلسل شکایت دی جارہی تھی۔ کہ گرمی کی شدت میں اس علاقے کی خواتین پانی کیسے بھرے اور عوام پیئے ۔ بنداس کی بار بار شکایت اور کارپوریٹر ببلو قریشی کی شکایت پر 30 اپریل کو خود اجئے کھیرنار ٹیم لیکر شفاعت چوک پہچ کر فالٹ دور کرنے کے لئے کھدائی کروائی۔ اب انشا اللہ گٹر کا پانی کا سدباب ہوگا۔ اور پانی کی تکلیف دور ہوگی۔ اس موقع پر ببلو قریشی، آصف بنداس، رفیق سیٹھ امراللہ ، محمد سلطان تانے ماما، اسلام کلن چاول والے، کلو مقادم، و دیگر احباب موجود تھے۔









سینکت (متحدہ) مہاراشٹر تحریک میں مالیگاؤں کے برادران وطن کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی مؤثر شمولیت
یومِ مہاراشٹر اور عالمی یومِ مزدور کے موقع پر اردو لائبریری ٹرسٹ کی شاندار تقریب
مالیگاؤں (نامہ نگار):
مالیگاؤں کی قدیم و معتبر اردو لائبریری ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام یکم مئی ٢٠٢٦ بروز جمعہ شام سات بجے، یومِ مہاراشٹر اور عالمی یومِ مزدور کی مناسبت سے ایک باوقار اور شاندار تقریب منعقد ہوئی، جو ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ تقریب کی صدارت بزرگ و تجربہ کار مراٹھی صحافی جناب مظفر شیخ نے فرمائی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں معروف سماجی خدمتگار شری دتو دگڑو بھوسے، وظیفہ یاب مدرس جناب عبدالرحیم شیخ، اور شہر کی معروف ادبی، سماجی و ثقافتی شخصیت عالیجناب محمد رمضان عبدالشکور (رمضان فیمس) شامل تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں جناب مظفر شیخ نے مالیگاؤں کی تاریخی، سیاسی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شہر ہمیشہ سے ایک تحریکی مرکز رہا ہے۔ جنگِ آزادی سے لے کر متحدہ مہاراشٹر تحریک تک، یہاں کے عوام—خصوصاً ہندو مسلم برادرانِ وطن—نے متحد ہو کر جدوجہد کی اور ممبئی کو شامل کرتے ہوئے ریاست مہاراشٹر کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونا جادھو کی قیادت میں مالیگاؤں کے عوام نے بھرپور حصہ لیا، اور آزادی سے قبل اس شہر نے پاکستان تحریک کو شکست دے کر سیکولر اقدار کی حمایت کی۔
انہوں نے اس حقیقت کی بھی نشاندہی کی کہ ممبئی میں متحدہ مہاراشٹر تحریک کے دوران تقریباً دو سو رضاکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور بالآخر عوامی جدوجہد کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا۔ مزدوروں، کسانوں اور خواتین کی مشترکہ قربانیوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
مہمانِ خصوصی شری دتو بھاؤ بھوسے نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کے والد اور خاندان کے دیگر افراد نے اس تحریک میں حصہ لیا۔ انہوں نے حاضرین کو باہمی بھائی چارہ، تعلیم اور ترقی کے لیے عہد کرنے کی تلقین کی، اور مالیگاؤں کے مسلم خاندانوں سے اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
جناب عبدالرحیم شیخ نے مہاراشٹر کی عظیم تہذیب و ثقافت کا دلنشین انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے تحریک کے پس منظر کو اجاگر کیا۔ عالیجناب رمضان فیمس نے مہاراشٹر کے صوفیاء و سنتوں کی تعلیمات پر مؤثر تبصرہ فرمایا اور مراٹھی زبان کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب کا آغاز لائبریرین جناب آصف احمد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ جناب جاوید انصاری نے یومِ مہاراشٹر اور عالمی یومِ مزدور کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر اردو لائبریری ٹرسٹ کی جانب سے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی محنت کش شخصیات کو شال اور گلدستہ پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان میں خالد قریشی (ڈراما نگار)، نفیس احمد (افسانہ نگار و خوشنویس)، نعیم صدیقی اور عاکف نبیل شامل تھے۔
تقریب کی نظامت جناب انیس صاحب نے نہایت خوبصورتی سے انجام دی، جبکہ رسمِ شکریہ ٹرسٹ کے سکریٹری جناب مظہر معاذ شوقی نے ادا کی۔ آخر میں جاوید انصاری نے مہاراشٹر گیت کا اردو ترجمہ پیش کیا۔
اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں آصف احمد، سمید صاحب (اسٹنٹ لائبریرین)، خالد قریشی اور سجاد شفق نے خصوصی محنت کی۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے مہمانانِ کرام سے مراٹھی زبان کی اہمیت و افادیت پر مزید تبادلۂ خیال کیا۔ شہر کی متعدد ادبی شخصیات، اساتذہ اور سنجیدہ حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس بامقصد تقریب میں شرکت کی۔
یہ تقریب نہ صرف تاریخی شعور کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ باہمی ہم آہنگی، ثقافتی شعور اور تعلیمی بیداری کا بھی ایک مؤثر پیغام دے گئی۔









ٹرمپ کا پلان ہوا کامیاب ، ایران کے نام پر کمارہا ہے امریکہ ! خلیجی ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کا طے پایا معاہدہ
US Weapon Sale News: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا فائدہ اب امریکہ کو ہو رہا ہے۔ اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ایران پر حملہ محض جنگ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جس سے بیک وقت متعدد مقاصد حاصل کیے گئے تھے۔ یہ جنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع ہوئی جس نے پورے مغربی ایشیا کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔ اب اس کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ خلیجی ممالک کو اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ ہتھیاروں کی فروخت امریکہ کا سب سے بڑا کاروبار ہے اور اس جنگ کے بعد وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے 1 مئی 2026 کو مشرق وسطیٰ کے اپنے قریبی اتحادیوں: اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو 8.6 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ بندی نافذ العمل ہے لیکن خوف اور غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ اس ساری پیش رفت کو سمجھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ نے امریکہ کو دوہرا فائدہ پہنچایا۔ ایک طرف اس کا دشمن ایران کمزور ہوا تو دوسری طرف اس کے اتحادی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے اور یہی وہ موقع ہے جہاں سے اسلحے کی منڈی شروع ہوتی ہے۔کس کو کیا بیچا؟
اس معاہدے میں مختلف ممالک کو ان کی ضروریات کے مطابق ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔

قطر کو تقریباً 4.01 بلین ڈالر مالیت کا پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم اور تقریباً 992 ملین ڈالر کا پریسی جن راکٹ ملے گا۔

کویت کو 2.5 بلین ڈالر کا انٹیگریٹڈ بیٹل کمانڈ سسٹم ملے گا۔

اسرائیل کو تقریباً 992 ملین ڈالر مالیت کے جدید ترین ہتھیار ملیں گے۔

متحدہ عرب امارات کو 147.6 ملین ڈالر کے گائیڈڈ راکٹ فروخت کیے گئے۔

ان تمام سودے فضائی دفاع، میزائلوں کو روکنے اور درست طریقے سے اسٹرائیک ٹیکنالوجی پر مرکوز ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ ان ممالک کا فضائی دفاعی نظام انتہائی کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون سسٹم نے ان ممالک کے اسٹریٹیجک مقامات پر حملے کیے۔

ایران کا خوف دلا کر بیچ رہا ہے ہتھیار
فروری-مارچ 2026 میں تنازع کے دوران ایران نے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ جواب میں، ان ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام، جیسے پیٹریاٹ کو بہت زیادہ استعمال کیا۔ نتیجے کے طور پر، ان ممالک کے ہتھیاروں کے ذخیرے تیزی سے ختم ہو گئے، جس سے سیکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوا۔ جس کے بعد امریکہ نے فوری طور پر ان ممالک کو اگلے حملے کی تیاری کے لیے نئے ہتھیار فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

خلاصہ یہ کہ یہ پورا کھیل ڈیٹرنس پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے بارے میں ہے۔ ایک طرف امریکہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے تو دوسری طرف وہ ایران سے لاحق خطرے کو اجاگر کر کے انہیں ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو صرف دفاعی تعاون کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اقتصادی اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

Thursday, 30 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*لو لگنا (ہیٹ اسٹروک)*
*لو لگنا ایک خطرناک حالت ہے جو شدید گرمی اور تیز دھوپ میں زیادہ دیر رہنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے اور جسم کا قدرتی ٹھنڈا رکھنے کا نظام (پسینہ وغیرہ) متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سر درد، چکر آنا، تیز بخار، کمزوری، متلی اور بعض اوقات بے ہوشی بھی ہو سکتی ہے۔*

*اگر بروقت احتیاط اور علاج نہ کیا جائے تو یہ حالت جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے گرمی کے موسم میں دھوپ سے بچاؤ، پانی کا زیادہ استعمال اور فوری طبی توجہ بہت ضروری ہے۔*

🌡️ *ہیٹ اسٹروک یعنی لُو لگنا ہومیوپیتھک پروٹوکول*

🔹 مرحلہ 1: ابتدائی (Mild to Moderate Heat Stroke)

✅ پہلی دوا (علامات کے مطابق منتخب کریں)

1. Glonoinum 30 / 200
شدید دھڑکتا ہوا سر درد
دھوپ سے حالت خراب
👉 خوراک:
30 potency: ہر 15 منٹ بعد 3-4 خوراک
بہتر ہونے پر بند کریں

2. Belladonna 30 / 200
اچانک تیز بخار
چہرہ سرخ، جسم گرم
👉 خوراک: ہر 30 منٹ بعد

3. Gelsemium 30
کمزوری، چکر، غنودگی
👉 خوراک: ہر 1 گھنٹے بعد
4. Natrum muriaticum 30
پانی کی کمی، پسینہ کے بعد کمزوری
👉 خوراک: دن میں 3 بار

🔴 مرحلہ 2: شدید حالت (Severe Heat Stroke)
🚨 خطرناک علامات:
بے ہوشی
جسم بہت گرم یا بالکل ٹھنڈا
سانس کمزور
الجھن / delirium

✅ ایمرجنسی دوا:
Carbo vegetabilis 30 / 200
👉 خوراک:
ہر 10–15 منٹ بعد دیں
حالت بہتر ہوتے ہی روک دیں

🧊 *ساتھ میں لازمی اقدامات (Very Important)*

✔ مریض کو فوراً ٹھنڈی جگہ پر لائیں
✔ کپڑے ڈھیلے کریں
✔ سر اور جسم پر ٹھنڈی پٹیاں
✔ ORS / نمکول / لیموں پانی دیں
✔ پنکھا یا ہوا دیں

⚠️ *اہم ہدایت (Critical Warning)*
❗ *اگر یہ علامات ہوں تو فوراً ہسپتال:*
*درجہ حرارت 104°F سے زیادہ*
*بار بار الٹی*
*دورے (fits)*
*مکمل بے ہوشی*
*👉 *ہومیوپیتھی صرف سپورٹ ہے، ایمرجنسی میں تاخیر نہ کریں*
*💊 پوٹینسی کا اصول (Golden Rule)*
*30 potency → عام کیسز*
*200 potency → تیز اور* *اچانک علامات*
*دوا بار بار نہ دیں، بہتری آتے ہی روک دیں.*

🔶 *اہم نوٹ*

*یہ آرٹیکل محض سماجی و طبی بیداری پیدا کرنے کیلئے ہے کسی بھی قسم کی علامت ظاہر ہونے پر فوراً ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں.*

✍️ *حافظ انیس اظہر*
*9511767376*








وارڈ نمبر 15گولڈن نگر خلیل ہائی اسکول سے لیکر بسم اللہ باغ تک اتی کرمن صاف کیا گیا۔ چیئرمن اسٹینڈنگ کمیٹی اعجاز بیگ صاحب کا بہت بہت شکریہ 
شہر بھر میں اتی کرمن مکت مہم جاری ہے اسی کے ساتھ وارڈ نمبر 15 گولڈن نگر خلیل ہائی اسکول سے لیکر بسم اللہ باغ تک کا اتی کرمن 28 اپریل کو کارپوریشن اتی کرمن عاملہ ضبطی گاڑی کے ساتھ صاف کیا۔ الحمد اللہ اس روڈ کی تعمیر بھی جلد ہی شروع ہونے والی ہے۔ اور اسی لئے چیئرمن اعجاز بیگ صاحب کو بار بار اس روڈ کے اتی کرمن صاف کرنے کی توجہ دلائی جارہی تھی جو آج اتی کرمن صاف کیا گیا۔ ایک بار پھر اعجاز بیگ صاحب کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔ اور بیگ صاحب سے گذارش کی جاتی ہیکہ اس روڈ کی دونوں جانب کی بڑی گٹر محکمہ صاف صفائی کو آرڈر کریں کہ JCB سے دونوں جانب کی گٹر جنگی پیمانے پر صاف کی جائے۔. اور کارپوریشن برسراقتدار سے بھی عاجزانہ گذارش ہیکہ اس روڈ کو سمینٹ کانکریٹ طرز پر جلد از جلد تعمیر کریں۔ تاکہ موسم برسات سے پہلے روڈ کی تعمیر مکمل ہوجائے۔ 

فقط ۔ محمد آصف بنداس 

9273019740








🌡️ *شدید گرمی کی وارننگ — سرپرستوں کے لیے اہم پیغام*

گرمی!
جو ہم اس وقت محسوس کر رہے ہیں وہ عام گرمی نہیں ہے۔ یہ ممکنہ طور پر ’ایل نینو‘ کے اثرات کا آغاز ہے — ایک ایسا موسمی خطرہ جو خاموشی سے انسانی صحت کو شدید متاثر کر سکتا ہے، اور خدانخواستہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

جیسے جیسے مئی اور جون کا مہینہ قریب آئے گا، درجہ حرارت میں مزید اضافہ اور حالات کی شدت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ابھی سے احتیاط بے حد ضروری ہے۔

😱 ایل نینو کیا ہے؟
سادہ الفاظ میں، بحرالکاہل (Pacific Ocean) کے پانی کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے موسموں کا نظام متاثر ہوتا ہے۔
ہمارے خطے میں اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ:
• مانسون میں تاخیر ہو سکتی ہے
• بارش کم ہو سکتی ہے
• گرمی کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے

یعنی جب بارش کی امید ہوتی ہے، اس وقت بھی شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

🏠🔥 یہ صورتحال کیوں خطرناک ہے؟
شدید گرمی نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں، بزرگوں اور حتیٰ کہ صحت مند افراد کے لیے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ہیٹ اسٹروک (Heat Stroke) اچانک ہو سکتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

👨‍👩‍👧‍👦 سرپرستوں کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر:

💧 پانی کا استعمال بڑھائیں
• پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں
• ہر 45 منٹ سے 1 گھنٹے میں پانی پئیں
• بچوں کو زبردستی بھی وقفے وقفے سے پانی پلائیں
• اسکول بیگ میں پانی کی بوتل لازمی رکھیں

☀️🚫 خطرناک اوقات (صبح 11 بجے سے دوپہر 4 بجے تک)
• اس دوران بچوں کو باہر جانے سے حتیٰ الامکان روکیں
• اسکول انتظامیہ بھی کھیل اور بیرونی سرگرمیوں میں احتیاط برتے
• اگر باہر جانا ضروری ہو تو سر ڈھانپ کر اور پانی ساتھ لے کر جائیں

👕 لباس کا انتخاب
• گہرے رنگ خاص طور پر کالا رنگ گرمی کو جذب کرتا ہے
• بچوں کو ہلکے رنگ کے ڈھیلے سوتی کپڑے پہنائیں
• سفید، ہلکا نیلا یا گلابی رنگ بہتر ہیں

🥭 خوراک میں احتیاط
• تازہ پھل، جوس، اور پانی والی غذائیں دیں
• بہت زیادہ تلی ہوئی اور مصالحہ دار اشیاء سے پرہیز کریں
• ORS (نمکیات والا محلول) کا استعمال مفید ہو سکتا ہے

⚠️ ہیٹ اسٹروک کی علامات پہچانیں:
• شدید سر درد
• چکر آنا یا بے ہوشی
• قے آنا
• جسم کا حد سے زیادہ گرم ہونا
• پسینہ رک جانا (خشک جلد)

🚑 فوری اقدامات:
• مریض کو فوراً ٹھنڈی یا سایہ دار جگہ پر لے جائیں
• ٹھنڈے پانی یا گیلے کپڑے سے جسم کو ٹھنڈا کریں
• پانی یا ORS پلانے کی کوشش کریں
• فوراً قریبی اسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کریں

🐾 انسانیت کا تقاضہ — جانوروں کا خیال رکھیں
• گھر کے باہر یا گلی میں پانی کا برتن رکھیں
• سایہ کا بندوبست کریں
• یہ چھوٹے اقدامات بھی بڑی نیکی ہیں

📢 اہم اپیل برائے سرپرستوں:
• اس پیغام کو سنجیدگی سے لیں
• اپنے بچوں، خاندان اور عزیز و اقارب کو آگاہ کریں
• اسکول اور معاشرے میں اس شعور کو پھیلائیں

🙏 یاد رکھیں:
احتیاط ہی سب سے بڑی حفاظت ہے۔
آپ کی تھوڑی سی توجہ کسی کی زندگی بچا سکتی ہے۔

📌 اپیل کنندہ:
نیوارا گروپ آف ایجوکیشن، مالیگاؤں

*🛑سیف نیوز اُردو*

ایران سے جنگ کی بھاری قیمت چکا رہا امریکہ ، اب تک 25 ارب ڈالر ہوئے خرچ
امریکہ ایران جنگ اب محض ایک فوجی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ بہت زیادہ معاشی بوجھ کی کہانی بنتی جا رہی ہے۔ پینٹاگون نے پہلی بار اس جنگ کی اخراجات کا انکشاف کیا ہے ۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ اب تک تقریباً 25 بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ تقریباً ناسا کے سالانہ بجٹ کے برابر ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے سینئر اہلکار جولس ہرسٹ نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ اس اخراجات کا بڑا حصہ ہتھیاروں اور گولہ بارود پر خرچ کیا گیا۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس میں مستقبل کے اخراجات جیسے نقصانات کا معاوضہ شامل ہے یا نہیں۔ اس انکشاف نے امریکی کانگریس میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس مین ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ہم کافی عرصے سے اس اعداد و شمار کا انتظار کر رہے تھے لیکن اب پہلی بار واضح تعداد سامنے آئی ہے۔وزیر دفاع نے پینٹاگون کا کیا دفاع
اس بیچ ، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ان اخراجات کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی سے منسلک کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہم ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا چاہتے ہیں تو اس کی قیمت کیا ہوگی؟ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ آپریشن ایپک فیوری نامی اس آپریشن کا مقصد واضح ہےاور یہ خرچ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

جنگ کی کیا قیمت چکا رہا ہے امریکہ؟
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور مشرق وسطیٰ میں کئی طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی نے لاگت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم امریکہ نے اپنے یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس بلا لیا ہے۔ یہ معاشی بوجھ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مہنگائی اور ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی امریکہ میں پریشانی کا باعث ہیں۔ ایک سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔ایران بھی متاثر
اس جنگ کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کی کرنسی ریال 1.8 ملین فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے دودھ، چاول اور کوکنگ آئل جیسی اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوگئی ہیں جس سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے تنازعے نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے عالمی منڈی میں ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ کئی ممالک نے اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی اپیل کی ہے۔








ایگزٹ پول:کانگریس کا جنوبی ریاستوں میں بہتر مظاہرہ، مشرق میں چیلنج برقرار ۔ کیاپارٹی قومی سطح پرواپسی کرسکتی ہے؟
کیا 2026 کے ایگزٹ پول کانگریس پارٹی کی واپسی کی نشاندہی کرتے ہیں یا پھر اس کے محدود ہوتے سیاسی دائرے کو مزید واضح کرتے ہیں؟ مختلف ریاستوں سے سامنے آنے والے اندازے ایک جانی پہچانی مگر غیر متوازن تصویر پیش کرتے ہیں جنوبی بھارت میں کچھ مضبوطی، خاص طور پر کیرالا میں، جبکہ آسام اور مغربی بنگال جیسے اہم میدانوں میں مسلسل جدوجہد۔پہلی نظر میں یہ اعداد و شمار کانگریس کے لیے کچھ اطمینان کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن گہرائی میں جائیں تو یہ کامیابیاں زیادہ تر مخصوص جغرافیائی علاقوں اور اتحادوں پر منحصر دکھائی دیتی ہیں۔ اس سے ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے : کیا کانگریس ان محدود کامیابیوں کو قومی سطح پر بحالی میں بدل سکتی ہے، یا پھر وہ ایک علاقائی پارٹی بن کر رہ جائے گی؟

دو خطوں کی الگ کہانی
ایگزٹ پول کے مطابق کیرالا میں کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف اتحاد کی واپسی ممکن دکھائی دیتی ہے، جہاں ایک سخت مقابلے کے بعد وہ بائیں بازو کے اتحاد کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کیرالا ان چند ریاستوں میں شامل ہے جہاں کانگریس کی تنظیمی بنیاد مضبوط ہے اور مقابلہ دو واضح فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، جس سے حکومت مخالف لہر اس کے حق میں جا سکتی ہے۔

مختلف ایجنسیوں جیسے VoteVibe، Matrize، JVC، People’s Pulse اور Axis My India کے اندازوں کے مطابق یو ڈی ایف 140 رکنی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔ اگرچہ بائیں بازو کا اتحاد پیچھے دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ مقابلے سے مکمل طور پر باہر نہیں ہوا۔

تمل ناڈو میں صورتحال قدرے مختلف ہے۔ یہاں زیادہ تر اندازے یہ بتاتے ہیں کہ حکمراں ڈی ایم کے اتحاد دوبارہ اقتدار میں آ سکتا ہے، جس میں کانگریس ایک چھوٹے اتحادی کے طور پر فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہے۔ تاہم، یہاں بھی کانگریس کی کامیابی اس کے اپنے ووٹ بینک کی توسیع کے بجائے اتحاد کی سیاست کا نتیجہ ہے۔

ڈی ایم کے کی جیت نہ صرف جنوبی بھارت میں کانگریس کے اثر کو برقرار رکھے گی بلکہ بی جے پی کو تمل ناڈو سے دور رکھنے میں بھی مدد دے گی، جو مرکزی قیادت کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی سمجھی جائے گی۔اہم میدانوں میں مشکلات برقرار
جنوب کے باہر کانگریس کی مشکلات زیادہ واضح نظر آتی ہیں۔

آسام میں تقریباً تمام ایگزٹ پول بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو واضح برتری دیتے ہیں، جس سے تیسری مرتبہ حکومت بنانے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔ سینئر کانگریسی رہنماؤں کی مہم کے باوجود پارٹی حکومت مخالف لہر کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

مختلف سرویز کے مطابق این ڈی اے کو 90 سے 100 کے درمیان نشستیں مل سکتی ہیں، جو 64 کی اکثریت سے کافی زیادہ ہیں، جبکہ انڈیا اتحاد کو صرف 22 سے 33 نشستوں تک محدود دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی یو ڈی ایف کی پوزیشن بھی کمزور نظر آ رہی ہے۔

مغربی بنگال میں صورتحال مزید واضح ہے، جہاں اصل مقابلہ ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس یہاں ایک ’’تیسرے متبادل‘‘ کے طور پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن زیادہ تر اندازوں کے مطابق اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل رہی۔ کئی سرویز تو اسے صفر نشستیں دیتے ہیں جبکہ کچھ معمولی اضافہ دکھاتے ہیں۔

وسیع تر رجحان کیا بتاتا ہے؟
مجموعی طور پر ایگزٹ پول ایک واضح پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کانگریس وہاں بہتر کارکردگی دکھاتی ہے جہاں سیدھا مقابلہ ہو، جیسے کیرالا۔ علاقائی مضبوط ریاستوں میں وہ اتحادیوں پر انحصار کرتی ہے، جیسے تمل ناڈو۔ جبکہ کثیر فریقی یا شدید پولرائزڈ مقابلوں میں، جیسے آسام اور بنگال، اسے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

اسی دوران بی جے پی نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ کئی اہم ریاستوں میں اپنا اثر بڑھاتی دکھائی دیتی ہے، جو قومی سطح پر طاقت کے توازن کو کانگریس کے خلاف رکھتا ہے۔یہ رجحانات صرف نشستوں تک محدود نہیں بلکہ تین بڑے مسائل کو بھی اجاگر کرتے ہیں :

جغرافیائی سکڑاؤ – کانگریس کی سیاست چند ریاستوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔اتحاد پر انحصار – پارٹی اکثر جونیئر پارٹنر کے طور پر کامیاب ہوتی ہے۔بیانیے کی کمی – اہم ریاستوں میں پارٹی مرکزی سیاسی بیانیہ قائم کرنے میں ناکام ہے۔

نتیجہ
اگرچہ 4 مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی حتمی تصویر واضح کرے گی، لیکن موجودہ رجحانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کانگریس کو جنوبی بھارت میں کچھ کامیابیاں مل سکتی ہیں، خاص طور پر کیرالا میں، مگر یہ کامیابیاں اس کی قومی سطح کی سیاست کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔








الور: دہلی- ممبئی ایکسپریس وے پرچلتی کارشعلہ پوش ، 5 افراد ہلاک
دہلی۔ممبئی ایکسپریس وے پر بیتی رات ایک المناک حادثہ ہوا ۔ الور ضلع کے لکشمن گڑھ تھانہ علاقے کے موج پور کے قریب ایک چلتی کار اچانک شعلہ پوش ہو گئی۔ آگ اتنی بھیانک تھی کہ گاڑی میں سوار افراد کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔

اس حادثے میں 5 افراد کی موت ہوگئی ۔ جیسے ہی گاڑی میں آگ لگی، چاروں طرف چیخ و پکار مچ گئی، لیکن جب تک مدد پہنچی، سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔

اطلاعات کے مطابق کار میں سوار تمام لوگ مدھیہ پردیش کے شیوپور ضلع کے رہنے والے تھے۔ وہ جموں کشمیر میں ماتا ویشنو دیوی کے درشن کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔لکشمن گڑھ کے قریب پہنچتے ہی خوشی کا سفر ماتم میں بدل گیا۔ مہلوکین کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی لکشمن گڑھ تھانے کی پولیس اور انتظامی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں۔ لواحقین کو اطلاع دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حادثے کے بعد ایکسپریس وے پر ٹریفک بھی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی۔ گاڑی میں آگ لگنے کی وجہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔

Monday, 27 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

سنجے کپور جائیداد تنازع سپریم کورٹ پہنچا، پریہ کپور سچدیو سمیت 22 افراد کو نوٹس جاری
نئی دہلی: صنعت کار سنجے کپور کی ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو لے کر جاری خاندانی تنازع اب سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ سنجے کپور کی والدہ رانی کپور کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے پریا کپور سچدیو سمیت 22 فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ رانی کپور نے اپنی عرضی میں عدالت سے اپیل کی ہے کہ سنجے کپور کی جائیداد، اسٹیٹ اور دیگر اثاثوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت پر فوری روک لگائی جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس وقت تک جائیداد کا محفوظ رہنا نہایت ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی یا نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو جائیداد کے بکھرنے یا غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے تمام قانونی فریقین کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کا نوٹس اور مصالحت کی تجویز

سپریم کورٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پریا کپور سچدیو سمیت 22 افراد کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے دونوں فریقین کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اس تنازع کو باہمی رضامندی اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ طویل قانونی جنگ سے بچا جا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، عدالت کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس حساس خاندانی معاملے کو جلد اور خوش اسلوبی سے حل ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج

رانی کپور نے اپنی عرضی میں دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کو بھی چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے اب تک جائیداد اور اسٹیٹ کے تحفظ کے لیے کوئی مضبوط اور واضح ہدایت جاری نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے واضح احکامات جاری کرے۔

اربوں کی جائیداد اور خاندانی اختلافات

یہ تنازع سنجے کپور کے انتقال کے بعد شروع ہوا۔ رپورٹس کے مطابق وہ اپنے پیچھے تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے کی بڑی جائیداد چھوڑ گئے ہیں۔ اسی جائیداد اور وصیت کو لے کر خاندان کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سنجے کپور کی بہن مندھیرا کپور نے دعویٰ کیا ہے کہ وصیت میں کئی بے ضابطگیاں ہیں اور اس میں خاندان کے کچھ افراد، خاص طور پر کرشمہ کپور اور ان کے بچوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پریا کپور سچدیو نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر قانونی دائرے میں رہ کر کام کر رہی ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمام قانونی تقاضوں کو پورا کر رہی ہیں اور عدالت میں اپنے موقف کا دفاع کریں گی۔

فلمی دنیا سے جڑا پس منظر

یہ تنازع اس لیے بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ سنجے کپور کا تعلق بالی ووڈ اداکارہ کرشمہ کپور سے بھی رہا ہے۔ سنجے کپور نے 2003 میں کرشمہ کپور سے شادی کی تھی اور ان کے دو بچے بھی ہیں، تاہم بعد میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد سنجے کپور نے پریا سچدیو سے شادی کر لی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ نہ صرف ایک بڑے مالی تنازع کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ اس میں خاندانی تعلقات، قانونی پیچیدگیاں اور وراثتی حقوق جیسے حساس معاملات بھی شامل ہیں۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں اس کیس کی مزید پیش رفت طے ہوگی۔








بھارت، نیوزی لینڈ فری ٹریڈ معاہدہ : سیب، وائن اور ڈیری سستی ، کیوی کو ڈیری سیکٹرمیں ہوگافائدہ، ویزا ملناہوا آسان
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ (Free Trade Agreement) دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت نہ صرف کئی درآمدی اشیاء سستی ہونے کا امکان ہے بلکہ پیشہ ور افراد اور طلبہ کے لیے ویزا کے حصول میں بھی آسانی متوقع ہے۔

یہ معاہدہ، جسے ابھی نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ دو طرفہ سیاسی حمایت کے ساتھ جلد منظور ہو جائے گا۔ اس کے نفاذ کے بعد مختلف شعبوں میں محصولات (ٹیکس) بتدریج کم کیے جائیں گے، جس سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔صارفین کے لیے خوشخبری : پھل اور وائن سستے
بھارتی صارفین کے لیے اس معاہدے کا سب سے فوری اثر روزمرہ کی اشیاء پر پڑ سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ سے درآمد کیے جانے والے سیب اور کیوی، جو پہلے ہی بھارت میں مقبول ہیں مگر مہنگے داموں دستیاب ہوتے ہیں، اب سستے ہونے کی توقع ہے کیونکہ ان پر عائد درآمدی ڈیوٹی کم کی جائے گی۔ اسی طرح وائن کی قیمتیں بھی اگلے 10 برسوں میں بتدریج کم ہو سکتی ہیں۔

صنعتی شعبے کے لیے بڑا فائدہ
اس معاہدے کے تحت بھارت کو لکڑی کے لٹھے (wooden logs)، کوکنگ کول (coking coal) اور دھاتی اسکریپ جیسے اہم صنعتی خام مال پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے نہ صرف مینوفیکچرنگ لاگت کم ہوگی بلکہ انفراسٹرکچر منصوبوں میں بھی تیزی آنے کی امید ہے۔نیوزی لینڈ کو ڈیری سیکٹر میں فائدہ
دوسری جانب نیوزی لینڈ کو بھارتی مارکیٹ میں اپنی ڈیری مصنوعات کے لیے بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ ری۔ایکسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والے فوڈ اجزاء کو فوری طور پر ڈیوٹی فری داخلہ ملے گا، جبکہ بچوں کے دودھ (infant formula) اور دیگر مہنگی ڈیری مصنوعات پر محصولات اگلے سات سالوں میں مرحلہ وار کم کیے جائیں گے۔ مخصوص کوٹہ کے تحت دودھ سے متعلق دیگر مصنوعات پر بھی ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔

دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ متوقع
نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت ٹوڈ میک کلے (Todd McClay) کے مطابق یہ معاہدہ ملک کی برآمدات کو اگلے عشرے میں دوگنا کرنے کے ہدف کی حمایت کرے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

وہیں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن (Christopher Luxon) نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی منڈیوں میں سے ایک، یعنی بھارت، کے دروازے کھولے گا اور تجارت و سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرے گا۔

بھارتی برآمد کنندگان کے لیے مواقع
اس معاہدے سے بھارتی برآمد کنندگان کو بھی فائدہ ہوگا، خاص طور پر ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ مصنوعات اور آٹو موبائل کے شعبوں میں۔ انہیں نیوزی لینڈ کی مارکیٹ تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔

موجودہ تجارت اور مستقبل کی صلاحیت
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم محدود ہے۔ مالی سال 2024-25 میں اشیاء کی تجارت تقریباً 1.3 ارب ڈالر رہی، جبکہ مجموعی تجارت (اشیاء اور خدمات) تقریباً 2.4 ارب ڈالر کے قریب تھی۔

حکام کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف اس تجارت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے بلکہ صارفین کو کم قیمتوں، بہتر مصنوعات کی دستیابی اور آسان سفری مواقع کی صورت میں براہ راست فائدہ پہنچائے گا۔

یہ مجوزہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک win-win صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جہاں ایک طرف صارفین کو سستی اشیاء ملیں گی تو دوسری جانب کاروبار اور صنعت کو نئی منڈیاں اور مواقع حاصل ہوں گے۔








وراٹ کوہلی 9 ہزار آئی پی ایل رنوں سے صرف 11 رن دور، ہدف کے تعاقب میں کوہلی کی غیر معمولی کارکردگی برقرار
نئی دہلی: بھارتی کرکٹ ٹیم اور رائل چیلنجرس بنگلورو کے اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں ایک تاریخی سنگ میل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ وہ 9 ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے صرف 11 رن دور ہیں اور اگر وہ یہ کارنامہ انجام دیتے ہیں تو لیگ کی تاریخ میں ایسا کرنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔ کوہلی نے اب تک 274 میچوں کی 266 اننگز میں 8989 رنز بنائے ہیں، جن کی اوسط 39.95 اور اسٹرائیک ریٹ 133.76 ہے۔ اس دوران انہوں نے 8 سنچریاں اور 66 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں، جبکہ ان کا بہترین اسکور 113 ناٹ آؤٹ ہے۔ موجودہ سیزن میں بھی وہ شاندار فارم میں ہیں اور 7 میچوں میں 328 رنز بنا چکے ہیں، جس میں تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ اس وقت اورنج کیپ کی دوڑ میں چھٹے نمبر پر ہیں۔’’کنگ آف چیزز‘‘ کی حیثیت برقرار

رنز کے تعاقب (چیز) میں کوہلی کی کارکردگی انہیں دیگر بلے بازوں سے ممتاز بناتی ہے۔ 2023 کے بعد سے وہ 21 اننگز میں صرف ایک بار سنگل ڈیجٹ پر آؤٹ ہوئے ہیں، جبکہ اس دوران انہوں نے 1087 رنز 72.46 کی شاندار اوسط سے بنائے ہیں۔ ان میں سے 14 اننگز کامیاب رن چیز پر ختم ہوئیں، جہاں انہوں نے 881 رنز 110.12 کی حیرت انگیز اوسط سے اسکور کیے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اب بھی ’’ایس آف چیزز‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ اپنی ٹیم کے لیے سب سے بڑے میچ ونر سمجھے جاتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 کے بعد جب بھی کوہلی نے نصف سنچری بنائی، آر سی بی کی جیت کا فیصد 91.67 رہا، جبکہ ان کے بغیر یہ شرح صرف 33.33 فیصد تک گر جاتی ہے۔

مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے باوجود مرکزی کردار

اگرچہ رائل چیلنجرس بنگلورو کی بیٹنگ لائن اپ اب کافی متوازن ہو چکی ہے، جس میں فل سالٹ جیسے پاور پلے ہٹر، کپتان رجت پاٹیدار، دیودت پڈیکل، جیتیش شرما اور کرونال پانڈیا جیسے کھلاڑی شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود کوہلی ٹیم کی امیدوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ٹم ڈیوڈ اور روماریو شیفرڈ جیسے فنشرز بھی ٹیم میں موجود ہیں، لیکن مشکل حالات میں اننگز کو سنبھالنے اور میچ جتوانے کی ذمہ داری اب بھی زیادہ تر کوہلی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔

ایک اور ریکارڈ کی جانب پیش قدمی

وراٹ کوہلی 2023 کے بعد سے مسلسل تین سیزن میں 600 سے زائد رنز بنا چکے ہیں اور اس سیزن میں بھی وہ اسی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ اس سیزن میں 400 رنز مکمل کرنے سے صرف 72 رنز دور ہیں، جو ان کے کیریئر میں 11ویں بار ہوگا یہ بھی ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔ آج آر سی بی کا اگلا مقابلہ دہلی کیپٹلز کے خلاف ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ دہلی کی ٹیم حالیہ شکست کے بعد دباؤ میں ہے، جبکہ آر سی بی اپنی جیت کے بعد پراعتماد نظر آرہی ہے۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا وراٹ کوہلی اس میچ میں 9000 رنز کا تاریخی سنگِ میل عبور کر پاتے ہیں یا نہیں، اور کیا وہ ایک بار پھر اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب ہوں گے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

خواتین میں شوگر زیادہ خطرناک کیوں ہوتی ہے؟
انڈیا میں ڈاکٹر خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور تشویش صرف تعداد تک محدود نہیں۔ ماہرین کو اس بات کی زیادہ فکر ہے کہ ذیابیطس خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ شدید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔
حیران کن صنفی فرق
ای ٹی وی بھارت ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ مردوں میں خواتین کے مقابلے میں ذیابیطس زیادہ ہوتی ہے۔
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں خواتین کے مقابلے میں 17.7 ملین زیادہ مرد ذیابیطس کا شکار ہیں۔لیکن جب خواتین میں ذیابیطس ہوتی ہے تو اس کے اثرات زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ذیابیطس خواتین میں دل کی بیماری، گردوں کے نقصان، ڈپریشن اور ہارمونل مسائل کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ریسرچ سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف ڈایابیٹیز ان انڈیا (RSSDI) کے ماہرین ایک اہم حقیقت بتاتے ہیں:
ذیابیطس کے شکار مردوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ ان مردوں کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے جنہیں یہ بیماری نہیں۔ جبکہ ذیابیطس والی خواتین میں یہ خطرہ حیران کن طور پر 150 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
یعنی خطرہ تین گنا زیادہ! اس لیے اگرچہ کم خواتین اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں، لیکن اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔
خواتین زیادہ متاثر کیوں ہوتی ہیں؟
خواتین زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہیں: بلوغت، حیض، حمل اور مینوپاز۔ ان تمام مراحل میں ہارمونز میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، اور ہارمونز خون میں شکر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین میٹابولک مسائل کے لیے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔
کچھ عوامل خواتین میں ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں:
پیٹ کے اردگرد موٹاپا
جسمانی سرگرمی کی کمی
مسلسل ذہنی دباؤ
خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ
غیر صحت مند خوراک (خاص طور پر پراسیسڈ فوڈ)
تاہم کچھ خطرات خاص طور پر خواتین سے متعلق ہوتے ہیں۔
حمل کے دوران ذیابیطس:
کچھ خواتین کو حمل کے دوران جیسٹیشنل ذیابیطس ہو جاتی ہے، جو ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے عارضی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ بچے کی پیدائش کے بعد خون میں شکر معمول پر آ سکتی ہے، لیکن معاملہ وہیں ختم نہیں ہوتا۔ جن خواتین کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو چکی ہو، ان میں بعد کی زندگی میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔








" ایران کے لیے سب کچھ کریں گے ،" عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد پوتن کا اعلان
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صدر پوتن نے ایران کو بڑی یقین دہانیوں کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ روس ایران اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مفاد میں سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔ روس خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق صدر پوتن نے عراقچی کو بتایا کہ ایرانی عوام اپنی خودمختاری کے لیے بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ TASS نے پوتن کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران اس مشکل دور پر قابو پانے کے بعد امن پائے گا۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات ایک اسٹریٹجک شراکت داری ہے جو مزید مضبوط ہوتی رہے گی۔ روسی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماسکو ایران کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کو جاری رکھے گا۔ عراقچی قطر، سعودی عرب، عمان اور پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد روس پہنچے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ معاہدے کی کچھ شرائط لے کر آئے ہیں اور پوتن کی حمایت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

یہ ملاقات کیوں اہم ہے؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پوتن سے ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور تزویراتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس اور ایران یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اپنی اپنی جنگوں میں براہ راست ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے حال ہی میں اہم انٹیلی جنس اور خاص طور پر شاہد پیٹرن والے مہلک ڈرونز کا تبادلہ کیا ہے۔

مسئلہ کہاں ہے؟
دریں اثناء امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ Axios نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس کے بعد تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنے کے لیے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی گئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کی ٹیم اور حکومت کے درمیان اختلافات ہیں۔ حکومت سے وابستہ افراد جنگ کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں لیکن سپریم لیڈر کی ٹیم بدلہ لینا چاہتی ہے۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کم جہاز
دریں اثنا، رائٹرز نے جہاز رانی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم سات بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کو منتقل کیا، جو حالیہ دنوں میں کم سرگرمی کے مطابق ہے۔ سینیکس کے کیپلر جہاز کے ٹریکنگ ڈیٹا اور سیٹلائٹ کے تجزیے کے مطابق، یہ جہاز بنیادی طور پر کارگو جہاز تھے، جن میں عراقی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے بحری جہاز اور ایک ایرانی بندرگاہ سے تھا۔ یہ ٹریفک 28 فروری کو ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے یومیہ 140 بحری جہازوں کی اوسط سے کافی کم ہے۔

ایران نے کہا ، معاہدے میں ناکامی کا ذمہ دار امریکہ ہے
سینٹ پیٹرزبرگ میں پوتن سے ملاقات سے قبل عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدہ اس لیے ناکام ہوا کیونکہ امریکہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک ایران کی تجاویز کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک امریکی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات معطل کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، کسی بھی فریق یا ثالث کی طرف سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسے کوئی جلدی نہیں ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفارت کاری کا دور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔







بنگال میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے بیچ کڑی ٹکر ، کچھ بھی ہوسکتا ہے ، اشوک گہلوت کا بیان
جے پور۔ مغربی بنگال میں انتخابی مہم چلانے کے بعد جے پور لوٹے کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت نے بڑا بیان دیا ہے۔ گہلوت نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان قریبی لڑائی ہے۔ اگر وہاں بی جے پی جیت جاتی ہے تو یہ الیکشن کمیشن کی جیت ہوگی۔ گہلوت نے سچن پائلٹ کے بارے میں یہ بھی کہا کہ وہ اب کانگریس چھوڑنے پر کبھی غور نہیں کریں گے۔ انہوں نے خود کو کانگریس سے دور کرنے کے نتائج کو جان لیا ہے۔ بی جے پی نے انہیں پچھلی بار گمراہ کیا۔

گہلوت نے کہا کہ بنگال انتخابات میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بی جے پی نے یہ الیکشن جنگ کی طرح لڑا ہے اور اس نے پہلے سے تیاری شروع کر دی تھی۔ اگر بنگال میں بی جے پی جیت جاتی ہے تو یہ ان کی نہیں الیکشن کمیشن کی جیت ہوگی۔ وہاں کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ گہلوت نے یہ بھی کہا کہ بنگال میں بی جے پی کے داخلے کے لیے ممتا بنرجی کی حکومت ذمہ دار ہے۔ گہلوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے مرکز میں سابقہ منموہن سنگھ حکومت اور راجستھان میں ان کی حکومت کو گرانے کی سازش کی۔ اگر بنگال میں بی جے پی جیت جاتی ہے تو یہ ان کی حکمت عملی اور الیکشن کمیشن کی جیت ہوگی۔گہلوت نے آگے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ بنگال میں بکتر بند گاڑیاں تشویش کا باعث ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور سابق ڈپٹی سی ایم سچن پائلٹ کے بارے میں گہلوت نے کہا، “وہ اب پوری طرح سے کانگریس کے ساتھ ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ کانگریس چھوڑنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچیں گے۔ وہ اب یہ سمجھ چکے ہیں اور زیادہ کمپوز ہو گئے ہیں۔” ان کے دونوں پاؤں اب کانگریس میں ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

ملک کی تقسیم کے وقت پاکستان کو دئے گئے تھے ایسے نوٹ....سال بھر بعد ہی ہوگئے ردی، جانئے کیوں؟ سوشل میڈیا پر تاریخ کے ...