Wednesday, 15 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

صرف پانچ منٹ زیادہ نیند لیں اور زندگی کا ایک سال بڑھائیں: نئی تحقیق
ایک نئی تحقیق کے مطابق معمول سے صرف پانچ منٹ زیادہ نیند اور دو منٹ کی معتدل ورزش، جیسے سیڑھیاں چڑھنا اور تیز چہل قدمی، انسان کی زندگی میں ایک سال کا اضافہ کر سکتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق میگزین ’دی لینسٹ‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے سلسلے میں 60 ہزار افراد کے معمولات زندگی کا آٹھ برس تک جائزہ لیا گیا۔اسی تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ جن افراد کی نیند، جسمانی سرگرمی اور غذا کی عادات خراب ہیں، اگر وہ سبزی کی کچھ مقدار کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنا لیں تو اُن کی زندگی بھی ایک سال تک بڑھ سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند، 40 منٹ سے زیادہ معتدل سے سخت جسمانی سرگرمی، اور صحت مند غذا کے استعمال سے انسان کی عمر میں نو سال سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ 
مثال کے طور پر اگر غیر صحت مند نیند، ورزش اور غذا کھانے والے افراد صرف نیند کے ذریعے اپنی زندگی کا ایک سال بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں روزانہ 25 منٹ تک زیادہ سونا ہوگا، تاہم ایسے افراد کو ورزش اور غذا میں بھی کچھ بہتری لانا ہوگی۔
’دی لینسیٹ‘ میں ہی شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں ناروے، سپین اور آسٹریلیا کے محققین نے بتایا کہ ’روزانہ صرف پانچ منٹ تک اضافی چہل قدمی کرنے سے زیادہ تر بالغ افراد میں موت کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔‘
ایسے افراد جو چہل قدمی جیسی سرگرمی سے دُور رہتے ہیں، یہ معمول اپنانا اُن کے لیے بھی بھی فائدہ مند ہے۔ اِس سے اُن میں موت کا خطرہ قریباً چھ فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ 1 لاکھ 35 ہزار سے زائد بالغ افراد سے حاصل کیے گئے ڈیٹا پر مبنی اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روزانہ بے کار بیٹھے رہنے کا دورانیہ 30 منٹ تک کم کر دیا جائے تو اس کے بھی صحت پر مثبت اثرات مُرتب ہوں گے۔اس ڈیٹا سے سامنے آنے والے نتائج کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد (جو اوسطاً 10 گھنٹے تک فارغ بیٹھے رہتے ہیں) اگر وہ اس وقت کو 30 منٹ تک کم کر دیں تو اُن میں تمام وجوہات سے ہونے والی اموات قریباً سات فیصد تک کمی ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح ایسے افراد (جو روزانہ اوسطاً 12 گھنٹے غیرفعال رہتے ہیں یا بے کار بیٹھے رہتے ہیں) اگر وہ اس معمول کو اپنا لیں تو اُن کی اموات بھی قریباً تین فیصد کم ہو سکتی ہیں۔
ناروے کے سکول آف سپورٹ سائنسز اوسلو سے تعلق رکھنے والے مصنف پروفیسر ایلف ایکیلنڈ کا کہنا ہے کہ ’جسمانی سرگرمی میں معمولی اضافہ اور بے کار بیٹھنے کی عادت میں تھوڑی سی کمی سے انسان کی صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘
محققین کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کی صحت پر مجموعی اثرات پر تحقیق کے نتائج اہم ہیں، تاہم انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کے مشورے کے بجائے اپنی ذاتی صحت پر لاگو نہیں کرنا چاہیے، بلکہ یہ نتائج مجموعی آبادی کے لیے صحت کے ممکنہ فوائد کو اُجاگر کرتے ہیں جن پر مزید تحقیق ضروری ہے۔.







یوپی اسمبلی کی خاتون مارشل شاعری میں ماہر ہیں، معروف شاعروں کی طرح کرتی ہیں شاعری، مشاعروں کی خاص بات بن چکی ہیں
لکھنؤ (خورشید احمد): اتر پردیش اسمبلی میں وی وی آئی پی مارشل کے طور پر تعینات لکھنؤ کی رہنے والی سفلتا ترپاٹھی نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور اپنے کام سے خود کو ممتاز کیا ہے۔ اپنے فرائض کے ساتھ ساتھ، سفلتا ترپاٹھی شاعری اور غزلیں کمپوز اور لکھتی ہیں۔ وہ بڑے مشاعروں میں نامور شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ اسٹیج بھی شیئر کر چکی ہیں۔

ای ٹی وی بھارت کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، سفلتا ترپاٹھی نے انکشاف کیا کہ وہ 1992 سے شاعری کر رہی ہیں۔ انہیں 1999 میں ملازمت ملی، لیکن ان کی ملازمت نے کبھی بھی ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ وہ کہتی ہیں، ’’فرض اپنی جگہ ہے اور لکھنا بھی اپنی جگہ، لیکن شاعری میری جان ہے۔‘‘ سفلتا ترپاٹھی مختلف عوامی مسائل پر زور سے لکھتی ہیں، جن میں خواتین کے حقوق، مزدوروں کی آواز، کسانوں کے مسائل، تعلیم اور صحت شامل ہیں۔ اسے اپنی شاعری کی کتاب "شور کرتی چاندنی" کے لیے اتر پردیش حکومت کی طرف سے 100,000 کی ترغیب ملی۔رام بھجن کی پہچان

ایودھیا میں پران پرتیشتھا کی تقریب کے دوران، سفلتا ترپاٹھی کے بھجن میں سے ایک پر خاص طور پر بحث ہوئی۔ اس نے بھگوان شری رام کی بچپن کی شکل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے شاعری اور شاعری کے ذریعے ایک روح پرور پرفارمنس پیش کی، جسے سامعین نے خوب پذیرائی بخشی۔ ای ٹی وی بھارت کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران، سفلتا نے نظم کو گنگنایا۔ اسمبلی میں سکیورٹی ڈیوٹی کی ذمہ داریوں اور شاعری کے پلیٹ فارم دونوں میں توازن رکھتے ہوئے، سفلتا ترپاٹھی آج ان خواتین کے لیے ایک تحریک بن گئی ہیں جو اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔خواتین، مزدوروں اور کسانوں کی آواز

سفلتا ترپاٹھی کی شاعری صرف جذباتی یا روحانی موضوعات تک محدود نہیں ہے۔ وہ خواتین کے حقوق، مزدوروں کی آواز، کسانوں کے مسائل، تعلیم اور صحت جیسے عوامی مسائل پر فصاحت کے ساتھ لکھتی ہیں۔ سفلتا کا دعویٰ ہے کہ انہیں کسی بھی موضوع پر شاعری لکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ وہ 20 سے 25 منٹ میں کسی بھی موضوع پر مکمل نظم لکھ سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ فرض اپنی جگہ لیکن شاعری اس کی روح ہے۔

ممتاز شاعروں کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا








آج ویراٹ کوہلی کی ٹیم کا سامنا رشبھ پنت کی ٹیم سے، جانیں کون ہے مضبوط پوزیشن میں؟
آج (15 اپریل) کو انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کے 23 ویں میچ میں، دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کا مقابلہ لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ میچ بنگلورو کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں شام 7:30 بجے کھیلا جائے گا۔

رائل چیلنجرز بنگلورو اس میچ میں پانچ بار کی چیمپئن ممبئی انڈینس کے خلاف 57 رنز کی زبردست جیت کے بعد داخل ہوا ہے جب کہ لکھنؤ سپر جائنٹس کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر گجرات ٹائٹنز کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پوائنٹس ٹیبل میں، آر سی بی فی الحال چار میچوں میں تین میں جیت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اگر وہ ایل ایس جی کے خلاف جیت جاتے ہیں تو وہ سرفہرست دو مقامات پر پہنچ جائیں گے۔ اس دوران ایل ایس جی چار میچوں میں دو جیت کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔لکھنؤ سپر جائنٹس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کے بیرون ملک کھلاڑی - خاص طور پر مارش، مارکرم، اور نکولس پوران - نے ابھی تک صحیح معنوں میں اپنا جلوہ نہیں بکھیرا ہے۔ تاہم، ٹیم کو ایسے کھلاڑیوں نے خوشی دی ہے جس سے انھیں کبھی امید نہیں تھی، جیسے مکل چودھری۔ کاغذ پر، اسکواڈ کافی مضبوط ہے اس وجہ سے رائل چیلنجرز بنگلور انہیں ہلکے میں لینے کے لئے ایک سنگین غلطی نہیں کر سکتی۔ اب تک، مچل مارش (75 رنز؛ اوسط: 18.75) اور نکولس پوران (41 رنز؛ اوسط: 10.25) صرف معمولی ٹوٹل بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس، لکھنؤ کا باؤلنگ اٹیک غیر معمولی طور پر مضبوط دکھائی دیتا ہے، جس کی قیادت محمد شامی کر رہے ہیں۔ ایل ایس جی کے ہیڈ آف کرکٹ ٹام موڈی نے واضح کیا ہے کہ میانک یادو اور محسن خان دونوں مکمل فٹنس کے قریب ہیں اور ممکنہ طور پر آر سی بی کے خلاف میچ میں ٹیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے بلاشبہ ٹیم کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، اسکواڈ میں دیگر قابل باؤلرز جیسے اویش خان، پرنس یادو، اور دگویش راٹھی شامل ہیں۔

دوسری طرف آر سی بی اسکواڈ بھی کافی مضبوط نظر آرہا ہے۔ ان کی بیٹنگ لائن اپ میں زبردست فائر پاور ہے — جس کا ہم نے ان کے حالیہ میچوں میں مشاہدہ کیا ہے۔ جبکہ ویراٹ کوہلی بیٹنگ آرڈر میں اینکر نگ کا کردار ادا کرتے ہیں، دوسرے بلے باز جارحانہ، تیز رفتار کھیل کھیلنے پر توجہ دیتے ہیں۔ تاہم اس ٹیم کی بنیادی توجہ اس کے باؤلنگ اٹیک پر مرکوز ہوگی۔ اس سیزن میں، آر سی بی کے پاس لیگ میں دوسری سب سے خراب اکانومی ریٹ ہے — جسے صرف کولکاتہ نائٹ رائیڈرز نے پیچھے چھوڑ دیا۔ خاص طور پر، بھونیشور کمار کو چھوڑ کر، ڈیتھ اوورز کے دوران ان کی باؤلنگ کافی حد تک برابر رہی۔رائل چیلنجرز بنگلور کا مقابلہ لکھنؤ سپر جائنٹس : ہیڈ ٹو ہیڈ

اس مقابلے میں، رائل چیلنجرز بنگلورو کی پوزیشن کافی مضبوط ہے۔ اس نے لکھنؤ سپر جائنٹس کی دو فتوحات کے مقابلے میں چار میچ جیتے ہیں۔ آخری بار جب یہ دونوں ٹیمیں 2025 کے آئی پی ایل سیزن کے دوران آمنے سامنے ہوئیں، تو آر سی بی نے چھ وکٹوں سے آرام سے جیت حاصل کی، اس طرح حالیہ مقابلوں میں ان کا غلبہ مزید مضبوط ہوا۔ پچھلے چار سالوں میں - 2022 سے اب تک - آئی پی ایل میں آر سی بی اور ایل ایس جی چھ بار ٹکرا چکے ہیں۔ ان میچوں میں سے، آر سی بی نے چار میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ ایل ایس جی نے دو میں فتح حاصل کی ہے۔

آر سی بی بمقابلہ ایل ایس جی: ممکنہ پلیئنگ الیون

لکھنؤ سپر جائنٹس: ایڈن مارکرم، رشبھ پنت (کپتان)، آیوش بدونی، نکولس پوران، عبدالصمد، مکل چودھری، جارج لنڈے/انریچ نورٹجے، محمد شامی، اویش خان/محسن خان، دگویش سنگھ راٹھی، پرنس یادیو/میانک یادو۔

رائل چیلنجرز بنگلورو: فل سالٹ، ویراٹ کوہلی، رجت پاٹیدار (کپتان)، ٹم ڈیوڈ، جیتیش شرما، روماریو شیفرڈ، کرونل پانڈیا، بھونیشور کمار، رسیک سلام، جیکب ڈفی/جوش ہیزل ووڈ، سویاش شرما۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بس چند گھنٹوں میں ختم ہوجائے گی ایران امریکہ جنگ ! ٹرمپ نے کیا 'گرینڈ ڈیل' کا بڑا اعلان ، نیوکلیئر پر ہوا یہ معاہدہ
واشنگٹن: مغربی ایشیا میں 46 روز سے جاری امریکہ۔ ایران جنگ اب ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اہم اعلان کر دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق دونوں مخالفوں کے درمیان ایک عظیم ایٹمی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اس معاہدے پر ایک اپ ڈیٹ شیئر کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اگلے چند گھنٹوں میں ختم ہونے والی ہے۔ اب تک آبنائے ہرمز اور جوہری ہتھیار دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں۔

ایران امریکہ معاہدہ کب ہو سکتا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری شدید جنگ اب آخری مراحل میں ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں تاریخی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کل 16 اپریل کو پاکستان میں مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور اس دوران کوئی بڑا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ فاکس بزنس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی فوجی کارروائی نے ایران کی کمر توڑ دی ہے اور تہران اب “کسی حال میں " معاہدہ چاہتا ہے۔“جنگ ختم ہونے کے دہانے پر ہے”: ٹرمپ
انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے ایران جنگ کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا، “مجھے لگتا ہے کہ یہ ختم ہونے والی ہے۔ میں اسے ختم ہونے کے بہت قریب دیکھ رہا ہوں۔” ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اب معاہدے کے لیے پوری طرح تیار ہے کیونکہ امریکی ناکہ بندی اور حملوں نے اس کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔

ایٹمی پروگرام پر “20 سالہ” بریک!
ٹرمپ نے چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو اتنا نقصان پہنچا ہے کہ ایران کو دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے میں کم از کم 20 سال لگیں گے۔ ٹرمپ نے کہا، “اگر میں اب پیچھے ہٹ بھی جاؤں تو، “انہیں اس ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے۔ ہم نے انہیں جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مکمل طور پر روک دیا ہے۔”

16 اپریل: عظیم مذاکرات کی تاریخ؟
اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 16 اپریل 2026 کو اگلے چند گھنٹوں میں دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ مذاکرات 21 اپریل کو دو ہفتے کی جنگ بندی کے ختم ہونے سے عین قبل ہو رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر J.D Vance پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ ایک “عظیم ڈیل " چاہتے ہیں جس میں ایران کو اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ترک کرنا پڑے گا۔

ہرمز کی ناکہ بندی اور دباؤ کی سیاست
ٹرمپ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ایرانی جہاز نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی اسے فوری طور پر “تباہ” کر دیا جائے گا۔ اس بے پناہ دباؤ کے تحت ایران اب معاہدے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔









راگھو چڈھا کو مرکزی حکومت نے دی زیڈ زمرے کی سیکورٹی، پنجاب کی بھگونت مان حکومت نے واپس لی تھی سیکورٹی
نئی دہلی: پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے راگھوچڈھا کی سیکورٹی واپس لے لی ہے، جس کے بعد مرکزی حکومت نے انہیں زیڈ سیکورٹی فراہم کردی ہے۔ راگھوچڈھا کودہلی اور پنجاب میں زیڈ زمرے کی سیکورٹی ملے گی، جبکہ دیگر ریاستوں میں انہیں وائی پلس سیکورٹی ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ آئی بی کی تھریٹ پرسیپشن رپورٹ کی بنیاد پرکیا ہے۔عام آدمی پارٹی نے حال ہی میں راگھوچڈھا کوراجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹا دیا اورانہیں ایوان میں بولنے سے روک دیا۔ ان کی جگہ عام آدمی پارٹی نے اشوک متل کو راجیہ سبھا میں پارٹی کا ڈپٹی لیڈرمقررکیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آج اشوک متل کے جالندھرواقع رہائش گاہ پراوران کی نجی یونیورسٹی پرچھاپہ مارا ہے۔

مجھے خاموش کیا جاسکتا ہے، لیکن ہرایا نہیں: راگھو چڈھا

راگھو چڈھا اورعام آدمی پارٹی کے درمیان کافی وقت سے سب کچھ صحیح نہیں چل رہا تھا، جس کے بعد عام آدمی پارٹی نے ان سے ذمہ داری واپس لے لی تھی، لیکن اس کے بعد راگھو چڈھا نے بغاوتی تیوراپنا لئے اورپارٹی کی طرف سے مسلسل لگائے جا رہے الزامات کا ایک کے بعد ایک ویڈیو جاری کرکے جواب دیا۔ راگھو چڈھا نے راجیہ سبھا میں بولنے سے روکنے پرکہا تھا کہ انہیں خاموش کیا جاسکتا ہے، لیکن ہرایا نہیں گیا۔

عام آدمی پارٹی کی ٹاپ لیڈرشپ کوکیسے کیا ناراض؟

پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد 2022 میں راگھوچڈھا کوسیکورٹی مہیا کرائی گئی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل جاری رہی۔ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اورسنجے سنگھ جیسے بڑے لیڈران کے جیل جانے کے بعد جب راگھوچڈھا نے اس پرکوئی آوازنہیں اٹھائی توپارٹی کوان کی خاموشی کا احساس ہوا۔ حالانکہ تب یہ کہہ کربچاو کیا گیا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کا علاج کرانے کے لئے بیرون ملک گئے ہوئے تھے۔ جب کیجریوال اورمنیش سسودیا جیل سے چھوٹ کرآئے، اس کے بعد بھی راگھو چڈھا نے کوئی جوش نہیں دکھایا۔ راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اس بات کی قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ پنجاب حکومت سے ملی ان کی سیکورٹی واپس لے لی جائے گی اورآج اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔

زیڈ زمرے کی سیکورٹی میں کتنے جوان ہوتے ہیں تعینات؟

راگھو چڈھا کوجس زیڈ زمرے کی سیکورٹی ملنے کی بات سامنے آئی ہے، اس میں حکومت کے ذریعہ 22 سیکورٹی اہلکارتعینات کئے جاتے ہیں۔ اس سیکورٹی گھیرے میں عام طورپر 4 سے 6 نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) کمانڈو ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی دہلی پولیس، آئی ٹی بی پی یا سی آرپی ایف کے جوان اورمقامی پولیس اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایک اعلیٰ سطح کا حفاظتی دستہ ہے۔









سی بی ایس ای دسویں جماعت کا رزلٹ جاری، امنگ ایپ اور ڈیجی لاکر سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے کریں چیک
نئی دہلی: مرکزی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے دسویں جماعت کے بورڈ امتحان 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد لاکھوں طلبہ کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ اس سال تقریباً 25 لاکھ سے زائد طلبہ نے دسویں جماعت کے امتحانات میں شرکت کی تھی، جو 17 فروری سے 10 مارچ تک منعقد ہوئے تھے۔ رزلٹ جاری ہونے کے ساتھ ہی طلبہ اب اپنی مارک شیٹس مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بآسانی چیک کر سکتے ہیں۔ بورڈ کی جانب سے نتائج سرکاری ویب سائٹ results.cbse.nic.in سمیت دیگر ویب سائٹس پر بھی دستیاب کرائے گئے ہیں۔ طلبہ اپنے رول نمبر، اسکول نمبر، ایڈمٹ کارڈ آئی ڈی اور تاریخ پیدائش کی مدد سے اپنا اسکور کارڈ دیکھ سکتے ہیں۔سی بی ایس ای نے اس بار امتحانی نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے سال میں دو مرتبہ بورڈ امتحانات کا انعقاد شروع کیا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت پہلے مرحلے کے نتائج جلد جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے کے امتحانات مئی میں متوقع ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنا اور امتحانی دباؤ کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

بورڈ کے مطابق دسویں جماعت کے رزلٹ چیک کرنے کے لیے متعدد ویب سائٹس فراہم کی گئی ہیں، جن میں results.cbse.nic.in، cbse.gov.in، results.nic.in، results.digilocker.gov.in، umang.gov.in اور cbse.nic.in شامل ہیں۔ طلبہ ان میں سے کسی بھی پلیٹ فارم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی بی ایس ای نے نتائج دیکھنے کے پانچ مختلف طریقے بھی بتائے ہیں، جن میں سرکاری ویب سائٹس، ایس ایم ایس سروس، امنگ (UMANG) ایپ، فون کال سروس اور ڈیجی لاکر شامل ہیں۔ ان متبادل طریقوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ زیادہ ٹریفک کی صورت میں بھی طلبہ کو نتائج تک رسائی میں دشواری نہ ہو۔

امنگ ایپ پر نتیجہ دیکھنے کے لیے طلبہ کو سب سے پہلے ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے موبائل نمبر یا آدھار کے ذریعے لاگ ان کرنا ہوگا۔ اس کے بعد سی بی ایس ای سروس کا انتخاب کر کے آسانی سے اپنا نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ امنگ ایپ پر بھی نتائج باضابطہ طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بارہویں جماعت کے طلبہ کو ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا کیونکہ ان کی کاپیوں کی جانچ کا عمل جاری ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بارہویں کے نتائج بھی جلد جاری کیے جائیں گے۔ نتائج کے اعلان کے بعد طلبہ اور والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ کئی طلبہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے اگلے تعلیمی مرحلے کی تیاری میں مصروف ہو گئے ہیں۔

Tuesday, 14 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

ہرمز پر امریکی ناکہ بندی ناکام ! دندناتے ہوئے نکل رہے ایرانی جہاز ، دنیا کو بے وقوف بنارہے ٹرمپ
تہران: آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے درمیان ایسی خبریں منظر عام پر آئی ہیں جس نے سپر پاور امریکہ کی ساکھ پر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی بحریہ کی جانب سے ہرمز میں سخت ناکہ بندی کے اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد، دو بڑے ایرانی بحری جہازوں نے امریکی حفاظتی حصار کی خلاف ورزی کی اور بغیر کسی بچاؤ کے سفر کیا۔ سمندری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی فرم Kpler کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دو ایرانی بحری جہازوں نے ناکہ بندی کے چند گھنٹوں کے اندر اندر آبنائے کو عبور کیا جبکہ ایک چینی جہاز بھی راتوں رات وہاں سے گزرا۔

کیا امریکی ناکہ بندی ایک مذاق ہے؟ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی تیل کی سپلائی کو روکنے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بلند بانگ دعویٰ کیا، لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ امریکی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی کے باوجود ایرانی بحری جہازوں کا آبنائے ہرمز سے گزرنا یہ بتاتا ہے کہ یا تو ناکہ بندی میں اہم خامیاں ہیں یا پھر ایران کو اب امریکا سے خوف نہیں ہے۔

Kpler سے باخبر رہنے کے اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم تین جہازوں نے اس امریکی ناکہ بندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا سفر مکمل کیا۔

کیا ٹرمپ دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں؟
ماہرین اب سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ محض نفسیاتی جنگ کر رہی ہے؟ ایک طرف مذاکرات کی میز پر آنے کے اشارے مل رہے ہیں تو دوسری طرف ناکہ بندی کے دعوے ہو رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود ایرانی بحری جہازوں کے گزرنے کا انداز بتاتا ہے کہ پردے کے پیچھے کوئی بڑا معاہدہ ہو رہا ہے یا امریکہ کا کنٹرول کافی حد تک کمزور ہو گیا ہے۔

ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس سمندری راستے کی کنجی اس کے پاس ہے۔ جہازوں کی بحفاظت روانگی سے ایران کے دعوے کو تقویت ملتی ہے۔







بہار میں BJP کا چیف منسٹر : سمراٹ چودھری کا عروج ، بی جے پی کا نیا کاسٹ گیم، سینئرلیڈر دوڑمیں رہ گئے پیچھے
بہار کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ نتیش کمار کے طویل سیاسی دور کے بعد اب ریاست میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہونے والا ہے، جسے ’’سمراٹ دور‘‘ کہا جا رہا ہے۔ 15 اپریل 2026 کو سمراٹ چودھری بہار کے چیف منسٹر کے طور پر حلف لینے جا رہے ہیں۔

یہ صرف ایک حلف برداری نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس حکمتِ عملی کی جیت ہے جسے سیاسی حلقوں میں ’’کاسٹ انجینئرنگ‘‘ کہا جاتا ہے، اور جس نے بہار کی سیاست کے تمام تر توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

 نتیانند رائے سے آغاز، مگر انجام میں سب پر بھاریایک وقت تھا جب نتیانند رائے کو بہار بی جے پی کا سب سے مضبوط چہرہ اور چیف منسٹر کا بڑا دعویدار سمجھا جاتا تھا۔ انہی کی سرپرستی میں سمراٹ چودھری نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ حالات اس قدر بدلے کہ وہی سمراٹ، جنہیں پارٹی میں لایا گیا تھا، سب پر سبقت لے گئے۔

سمراٹ چودھری نے اپنی جارحانہ سیاست، تنظیمی صلاحیت اور عوامی رابطے کے ذریعے نہ صرف کارکنوں بلکہ پارٹی کی مرکزی قیادت کو بھی متاثر کیا۔بڑے بڑے لیڈر پیچھے رہ گئے
بی جے پی کے کئی تجربہ کار رہنما اس دوڑ میں شامل تھے، جن میں راجیو پرتاب روڈی، منگل پانڈے، پریم کمار،وجئے سنہا اور رینو دیوی جیسے نام شامل ہیں۔ ان سب کے پاس تجربہ، سینئرٹی اور تنظیمی مضبوطی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ سمراٹ چودھری کے سامنے پیچھے رہ گئے۔

 کاسٹ کارڈ : بی جے پی کی بڑی چال
سیاسی ماہرین کے مطابق، سمراٹ چودھری کے انتخاب کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ان کی ذات (کوئری/او بی سی) اور بہار کے سماجی مساوات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ بی جے پی نے ’’لو۔کش‘‘ اور او بی سی ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لیے سمراٹ کو بہترین چہرہ سمجھا۔

یہ فیصلہ اس بات کا واضح پیغام بھی ہے کہ بی جے پی اب صرف اعلیٰ ذات کی جماعت نہیں رہی، بلکہ پسماندہ طبقات کو بھی قیادت میں جگہ دے رہی ہے۔

 بند کمرے میں کیسے ہوا فیصلہ؟
ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت نے بہار میں ایک سروے کروایا جس میں سمراٹ چودھری سب سے زیادہ ’’جارحانہ اور عوامی مقبول‘‘ لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ پارٹی کو ایک ایسے چہرے کی تلاش تھی جو نتیش کمار کے ’’سوشاسن‘‘ ماڈل کو چیلنج کر سکے اور ساتھ ہی اپوزیشن کے ذات پر مبنی سیاست کو اسی کے میدان میں شکست دے سکے۔

سمراٹ چودھری اس کردار کے لیے مکمل طور پر موزوں ثابت ہوئے۔آر جے ڈی سے بی جے پی تک کا سفر
سمراٹ چودھری کا سیاسی سفر کافی دلچسپ اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا ہے۔ وہ پہلے لالوپرساد کی راشٹریہ جنتادل سے وابستہ تھے اور لا پرسادیادو کی سیاست کو قریب سے دیکھا۔ یہی تجربہ اب وہ بی جے پی میں رہ کر آر جے ڈی کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

 ’’پگڑی والے لیڈر‘‘ کی نئی پہچان
سمراٹ چودھری کی پگڑی (صافہ) والی شناخت انہیں ایک مضبوط، خوددار اور نہ جھکنے والے لیڈر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ان کی یہی امیج عوام کے درمیان ان کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہے۔

 نئی سیاست کا آغاز
سمراٹ چودھری کا چیف منسٹر بننا اس بات کی علامت ہے کہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہی ہے اور نوجوان، جارحانہ اور سماجی مساوات پر مبنی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا سمراٹ چودھری، نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو چیلنج کر کے بہار کو نئی سمت دے پائیں گے یا نہیں۔









لوک سبھا میں اب ہوں گے 850 اراکین پارلیمنٹ، مرکزی حکومت نے تیار کیا پلان، خواتین ریزرویشن بل میں ہوگا یہ التزام
نئی دہلی: حکومت نے ناری شکتی وندن ایکٹ کونافذ کرنے کے لئے 16 سے 18 اپریل تک پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ اس سیشن میں حکومت تین اہم بل پیش کرے گی، جو2029 کے لوک سبھا انتخابات سے لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن کونافذ کرے گی۔ آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں پارلیمانی امورکے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال پیش کریں گے۔ یہ اہم آئینی ترمیم ملک کے بدلتے ہوئے آبادیاتی ڈھانچے، ریاستوں کے درمیان آبادی کے عدم توازن، شہری کاری اورجمہوری نمائندگی کومزید جامع اورمتوازن بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
بل کا پس منظر
آئین کے آرٹیکل 82 اور170 ہرمردم شماری کے بعد لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں سیٹوں کی دوبارہ تقسیم کرنے کا التزام کرتے ہیں۔ تاہم، 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پرنشستوں کی الاٹمنٹ کوآئین (84ویں ترمیم) ایکٹ، 2001 کے ذریعہ 2026 کے بعد پہلی مردم شماری تک ملتوی کردیا گیا۔ سیٹوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ فی الحال، ملک کی آبادی کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں، ریاستوں کے درمیان آبادی میں اضافہ میں عدم برابری، اندرونی نقل مکانی اورتیزی سے شہری کاری نے بہت سے حلقوں میں نمائندگی کے توازن کودرہم برہم کردیا ہے۔ اس کوذہن میں رکھتے ہوئے یہ بل لایا گیا ہے۔
لوک سبھا کی تشکیل میں اہم تبدیلیاں
بل کے تحت لوک سبھا کی تشکیل میں اہم ترامیم مجوزہ ہیں۔ لوک سبھا میں اراکین کی کل تعداد کوبڑھا کر850 تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ 815 اراکین کوریاستوں سے منتخب کرنے کا فارمولہ ہے۔ جبکہ مرکزکے زیرانتظام ریاستوں سے 35 اراکین منتخب ہوں گے۔ اس اضافے کا مقصد ملک کی موجودہ آبادی کے مطابق نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔
عوامی آبادی کی نئی تعریف
اس بل میں واضح کیا گیا ہے کہ آبادی کا مطلب پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون کے ذریعہ طے شدہ مردم شماری سے ہوگا، جسے پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ مقررکرے گی اور جس کے باضابطہ اعدادوشمار شائع ہوچکے ہوں گے۔ یہ شق صدرارتی الیکشن (آرٹیکل 55)، لوک سبھا (آرٹیکل 81)، ریاستی قانون سازاسمبلیوں (آرٹیکل 170) اورریزرویشن کی دفعات (آرٹیکل 330 اور 332) پر یکساں طورپرلاگوہوگی۔
حد بندی کے عمل میں اصلاحات
سیٹیں مختص کرنے اورانتخابی حلقوں کودوبارہ ترتیب دینے کا کام اب واضح طورپرحد بندی کمیشن کوسونپا جائے گا۔ ہرمردم شماری کے بعد کے انتظام کوختم کرکے اس عمل کومزید لچکدار اوربروقت بنایا گیا ہے۔ سال 2026 کے بعد اگلی مردم شماری کا انتظارکرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ یہ دوبارہ ڈرائنگ کے عمل کوتیزتراورزیادہ موثربنائے گا۔ خواتین کے ریزرویشن کو پورا کیا جائے گا۔ یہ بل آئین (106ویں ترمیم) ایکٹ، 2023 (ناری شکتی وندن ایکٹ) کے نفاذ کوتیزکرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*



ایف ڈی او آفیس نیچے لاؤ ۔جنتا دل سیکولر مالیگاؤں کا مطالبہ (پریس نوٹ ) مالیگاؤں کی عوام راشن کارڈ کے متعلق جب کبھی ایف ڈی او آفیس جاتی ہے تو اُن کو بہت تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔خاص طور سے بزرگ مرد خواتین کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیوں کہ ایف ڈی او آفیس دوسرے فلور پر ہے بزرگوں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے مالیگاؤں جنتا دل سیکولر نے اس سے پہلے پرانت آفیسر کومیمورندم دے چکی ہے جس پر کہا گیا تھا کہ اِس کا اختیار ایڈیشنل کلکٹر کو ہے اس لیے 10. اپريل جمعہ کے دن ایڈیشنل کلکٹر کو پارٹی کی طرف سے میمورنڈم دے کر مطالبے کو یاد دلایا گیا جنتا دل سیکولر مالیگاؤں صدر عبدالخالق صدیقی کی ہدایت پر جنتا دل سیکولر مالیگاؤں سیکریٹری محمّد عارف ۔نائب صدر ۔کامران ۔محمد ابراہیم ۔اور علیم بھائی پر مشتمل ایک وفد نے ایڈشنل کلکٹر کو میمورنڈم دے کر ایف ڈی او آفیس کو پرانت آفیس کی گراونڈ فلور پر لانے کا مطالبہ کیا گیا ۔کلکٹر صاحب نے اس جانب توجہ دے کر بہت جلد عمل کرنے کا وعدہ کیا ہے اس تعلق سے جنتا دل سیکولر مالیگاؤں نے صاف کہا کہ اگر عوامی تکلیف کو جلد دور نہیں کیا گیا تو آگے پارٹی زبردست تحریک چلائے گی اِس طرح کی پریس نوٹ نائب صدر عبدالغفار نے دی ہے








مہاتما گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے اور ملیشیا یونیورسٹی میں تعلیمی قرار نامہ۔ 
طلباءکیلے تعلیمی ترقی اور نوکری ، سہولیات فراہم کرنا ہمارا نصب العین۔ ڈاکٹر اپورو ہیرے۔ 
مالیگاؤں/ کہتے ہیں کہ نیت اگر سچی ہو تو کامیابی خود قدم چومتی ہے۔ اس مثال کے مصداق مالیگاؤں کا یہ ادارہ اپنی کامیابی کی جانب مسلسل گامزن ہے۔۔ MGV تعلیمی ادارے کے کوآرڈینیٹر و سابقMLC ڈاکٹر اپورو پرشانت ہیرے نے بتایا کہ اب یہ ادارہ عالمی سطح پر اپنی کارکردگی انجام دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملیشیا کی یونیورسٹیINTI سے قرار نامہ ہوا ہے،۔ جس میں کیء اشتراکی معاہدہ طے ہوا ہے۔ جیسے تعلیم، LAW, ،Dentle، Farmecy..Administration, Service, . Commerce, Research. وغیرہ موضوعات شامل ہیں۔۔ وہیں ٹکنیکل تعلیم میں بھی یہ قرار اہم رول نبھانے گا۔ اس قرار نامہ پروگرام میںINTI یونیورسٹی ملیشیا کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر گوہ خانگ وین،پروفیسر ڈاکٹر اشوکن واسودیون، K ،کمریشن کرشناسامی،نے حصہ لیا۔وہیں گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے کی جانب سے سابقMLCڈاکٹر اپورو پرشانت ہیرے، ڈاکٹر VS مورے سر ڈاکٹر پردیپGL,ادارہ کے CEO ڈاکٹرBSیادو سر،ستین پاٹل سر،اور عالمی رابطہ کار مینجر ارپتا سونونے میڈم نے اہم رول نبھایا۔ڈاکٹر اپورو ہیرے نے مذید بتایا کہ گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارہ جسے کرم ویر بھاوء صاحب ہیرے نے1952 میں قائم کیا تھا۔ جس کی تقریبا250سے زائد تعلیمی شاخیں موجود ہیں۔ اور400ایکڑ سے زائد جگہ پر اپنی کارکردگی انجام دے رہا ہے۔ اب عالمی سطح پر بھی اپنی کارکردگی انجام دے گا۔ طلباء کی تعلیمی اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ مختلف سہولیات فراہم کرنا ہمارا نصب العین ہے۔۔ اس طرح کی گواہی بھی ڈاکٹر اپورو ہیرے نے دی ہے۔ اس طرح کی تفصیل دستگیر احمدMA نے فراہم کی ہے۔۔









صبح کافی سے پہلے برش دانتوں کی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے؟اگر آپ بھی صبح اٹھتے ہی ڈرامہ ’ٹو اینڈ اے ہاف مین‘ کے کردار چارلی ہارپر کی طرح فوراً کافی بنا کر پیتے ہیں تو ہو سکتا ہے آپ اپنے دانتوں کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ دندان ڈاکٹر مارک برہینی کا کہنا ہے کہ ’طریقہ یہ ہے کہ صبح کافی پینے سے پہلے برش کیا جائے کیونکہ اس سے دانتوں پر داغ پڑنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔‘
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’کافی کا پی ایچ لیول تقریباً پانچ ہوتا ہے جو دانتوں کی اوپری سطح (اینامل) کو نرم کر دیتا ہے۔‘ان کے مطابق ’ایسے میں اگر آپ کافی پینے کے فوراً بعد برش کرتے ہیں تو آپ دراصل دانت صاف نہیں کر رہے ہوتے بلکہ انہیں نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔‘
ڈاکٹر کے مطابق ’کافی کے بعد فوراً برش کرنا ایسا ہے جیسے آپ دانتوں کو رگڑ کر گھسا رہے ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اینامل کو دوبارہ سخت ہونے میں تقریباً 30 سے 40 منٹ لگتے ہیں اس لیے اس دوران برش کرنے سے دانتوں کی سطح مزید کمزور ہو سکتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کے دانت دن میں دو بار برش کرنے کے باوجود وقت کے ساتھ زیادہ پیلے نظر آنے لگتے ہیں۔‘
’اسی طرح اگر آپ برش کیے بغیر کافی پیتے ہیں تو رات بھر دانتوں پر بننے والی بیکٹیریا کی تہہ (بایوفلم) کافی اور دودھ کے اجزا کو زیادہ آسانی سے چپکنے دیتی ہے، جس سے داغ بڑھ سکتے ہیں۔‘اگر آپ کی عادت ہے کہ کافی کے بعد ہی برش کرتے ہیں تو ڈاکٹر نے اس کا حل بھی بتایا کہ ’پہلے تیل (ایم سی ٹی آئل) سے کلی کرنے سے بایوفلم کم ہو سکتی ہے، جبکہ کافی کے ساتھ پانی پینے سے تیزابیت کم ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مشورہ دیا کہ کافی پینے کے بعد کم از کم 30 سے 40 منٹ انتظار کریں، پھر دانت برش کریں۔ روزمرہ کی اس چھوٹی سی تبدیلی سے آپ اپنے دانتوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

Saturday, 11 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

ملبے میں ہی دبا رہے گا غزہ کیونکہ... ٹرمپ کے اربوں ڈالر والے منصوبے کی نکلی ہوا ، حماس کو ہٹانے والا پلان بھی فیل
نئی دہلی۔ غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے دنیا کے بڑے ۔ بڑے وعدے کھوکھلے ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ کو 17 بلین ڈالر دینے کا وعدہ ملا، لیکن زمینی حقیقت چونکا دینے والی ہے۔ 17 بلین ڈالر کو بھول جائیں، اسے ابھی تک 1 بلین ڈالر بھی نہیں ملے۔ خلیجی ممالک نے واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس میں اربوں ڈالر کی ہائی پروفائل فنڈنگ کا اعلان کیا تھا لیکن اب وہ پیچھے ہٹتے نظر آرہے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، مراکش اور ریاستہائے متحدہ کے استثناء کے ساتھ، باقی لوگ کم ہی نظر آرہے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ’’غزہ کی تعمیر نو‘‘ کا خواب فنڈنگ کی کمی کے باعث دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

سب سے بڑا دھچکا ایران کے ساتھ جنگ کو لگا ہے۔ اس تنازعہ نے منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ جو فنڈز غزہ کے لیے ہونے چاہیے تھے اب جنگ اور سلامتی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’ایران کے ساتھ جنگ نے ہر چیز کو متاثر کیا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ غزہ گلوبل پالیٹکس سے کھسک رہا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا نے بڑے بڑے وعدے کیے، لیکن جب ڈیلیور کرنے کی بات آئی تو پیچھے ہٹ گئی۔ غزہ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، اور “تعمیر نو” کاغذوں تک محدود ہے۔“ابھی پیسے نہیں ہیں”
فنڈنگ کے بحران نے غزہ کی قومی کمیٹی برائے انتظامیہ (NCAG) کو تعینات کرنے کے منصوبوں کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ یہ کمیٹی امریکی حمایت یافتہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس کا گروپ ہے جس کا مقصد حماس سے کنٹرول چھیننا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس معاملے سے واقف ایک اور فلسطینی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بورڈ نے حماس اور دیگر دھڑوں کو مطلع کیا ہے کہ غزہ کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی اس وقت فنڈز کی کمی کی وجہ سے علاقے میں داخل ہونے سے قاصر ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ ایلچی نکولے ملادینوف نے فلسطینی گروپوں کو بتایا، ’’اس وقت کوئی رقم دستیاب نہیں ہے۔‘‘

این سی اے جی، جس کی قیادت علی شاتھ نے کی تھی، کا تصور غزہ میں تنازعات کے بعد کی انتظامی اتھارٹی کے طور پر کیا گیا تھا۔ اسے حماس کے تخفیف اسلحہ اور اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء کے بعد وزارتیں چلانے اور پولیسنگ کی نگرانی کے لیے ذمہ دار ہونا تھا۔ تاہم، فنڈنگ کی کمی اور مسلسل سیکورٹی خدشات دونوں کی وجہ سے، کمیٹی کو ابھی تک تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

جنگ کے اثرات اور انسانی نقصانات
ذرائع نے بتایا کہ NCAG فنڈنگ اور سیکورٹی دونوں خدشات کی وجہ سے ابھی تک اس خطے میں داخل نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے باوجود، تشدد جاری ہے۔ مقامی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کم از کم 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی اندازوں کے مطابق، غزہ کی تعمیر نو پر، جہاں تقریباً 80 فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ یا تباہ ہو چکا ہے، پر تقریباً 70 بلین ڈالر لاگت آسکتی ہے۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق بعد ازاں اسرائیلی فوجی مہم میں 72000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

حماس کے تخفیف اسلحہ پر مصر کی میزبانی میں ہونے والی بات چیت میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے، کیونکہ دونوں فریق اپنے مطالبات پر ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا اصرار ہے کہ حماس کو اس کے فوجیوں کے انخلاء سے پہلے غیر مسلح کرنا چاہیے، جب کہ حماس نے اسرائیل کے مکمل انخلاء اور دشمنی کے خاتمے کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع نے ایجنسی کو بتایا کہ تعطل نے ایک اور بڑے پیمانے پر فوجی حملے کا خطرہ بڑھا دیا ہے، جس سے امن کی نازک کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔







اسرائیل نے جنگ بندی مذاکرات کو کردیا مسترد ، حزب اللہ پر کئے تابڑ توڑ حملے ، نیتن یاہو بگاڑ رہے ہیں کھیل
جب کہ ایران اور امریکہ جنگ کو روکنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیل نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے واشنگٹن میں لبنانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اس معاملے پر بات نہیں کرے گا اور اپنے حملے جاری رکھے گا۔ ادھر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں تازہ فضائی حملے شروع کر دیئے۔ یہ حملے اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوئے ہیں، جہاں کئی مہینوں سے لڑائی جاری ہے۔

مارکبہ بنی حیان کے علاقے میں زور دار دھماکہ ہوا، جب کہ شیبہ شہر کے مضافات میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا۔ فضائی حملے بنت جبیل اور شقرہ کے قصبوں پر بھی ہوئے۔ جعفہ میں ہونے والے حملوں کے بعد عمارتوں کو نشانہ بنانے اور ہوا سے گاڑھا دھواں اٹھنے کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ اسرائیل ان حملوں کو یہ واضح کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے کہ وہ اپنے مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔کیا اسرائیلی حملوں سے حالات مزید خراب ہوں گے؟
دریں اثنا، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد، اسرائیل نے بدھ کے روز وسطی بیروت میں بھیڑ تجارتی اور رہائشی علاقوں پر اچانک حملے شروع کر دیے۔ لبنان کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 182 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اسے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کا سب سے مہلک دن قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے کیونکہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ وہاں موجود ہے۔ انہوں نے لبنان میں جاری حملوں کو ایک الگ تنازعہ قرار دیا۔ تاہم ایران اور ثالث پاکستان کا اصرار ہے کہ جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک بھی ہونا چاہیے۔

اسرائیل حملے روکنے کو تیار نہیں
اسرائیلی فوج نے 10 منٹ کے اندر بیروت، جنوبی لبنان اور وادی بیکا میں حزب اللہ کے 100 سے زائد اہداف پر مربوط حملے کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے راستے آئل ٹینکروں کی آمدورفت کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے بند نہ کیے تو وہ جنگ بندی میں خلل ڈال سکتا ہے۔ ایران لبنان پر حملوں کو اپنی جنگ سمجھتا ہے لیکن اسرائیل اسے اپنے سے الگ سمجھتا ہے۔








حکومت کا بڑا فیصلہ، ڈیژل اور ہوائی ایندھن پر نمایاں ایکسپورٹ ڈیوٹی نافذ
مرکزی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی برآمد (ایکسپورٹ) سے متعلق ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نئے حکم نامے کے مطابق، ملک سے باہر بھیجے جانے والے ڈیژل اورایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) یعنی ہوائی ایندھن پرلگنے والے ایکسپورٹ ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ توانائی کے شعبے اورمعیشت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف تیل کمپنیوں کے منافع پراثر پڑے گا بلکہ مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی دستیابی کا بھی تعین ہوگا۔ڈیژل اورایوی ایشن فیول پرنئی قیمتوں کا نفاذ
حکومت کے ذریعہ دی گئی باضابطہ جانکاری کے مطابق، ڈیژل کے ایکسپورٹ ڈیوٹی کودوگنے سے بھی زیادہ کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ڈیژل کی ایکسپورٹ ڈیوٹی 21.5 روپئے فی لیٹر تھی، جسے اب بڑھا کر55.5 روپئے فی لیٹرکردیا گیا ہے۔ یہ ایک نمایاں اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ہوائی جہازمیں استعمال ہونے والے ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پرٹیکس کا بوجھ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ اے ٹی ایف پرایکسپورٹ ڈیوٹی 29.5 روپئے فی لیٹرسے بڑھا کر42 روپئے فی لیٹرکردی گئی ہے۔

کیوں اٹھایا یہ بڑا قدم؟

جب بھی کوئی ریفائنری کمپنی ہندوستان میں خام تیل (کچا تیل) درآمد (ایکسپورٹ) کرتی ہے اوراسے ریفائن کرتی ہے، اس کے پاس دواہم آپشن ہوتے ہیں: یا توتیارشدہ ایندھن کومقامی بازارمیں بیچے یا اسے غیرملکی مارکیٹ میں ایکسپورٹ کرے اورخاطر خواہ منافع کمائے۔ بعض اوقات جب بین الاقوامی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں توکمپنیاں ملکی طلب کونظراندازکر دیتی ہیں اورتیل بیرون ملک میں فروخت کرتی ہیں۔ اس صورتحال کوروکنے اورملک کے اندرڈیژل اوردیگر ایندھن کی مناسب فراہمی کویقینی بنانے کے لئے حکومت یہ ایکسپورٹ ڈیوٹی عائد کرتی ہے۔ ڈیوٹی میں اضافہ کمپنیوں کے لئے برآمدات کو مزید مہنگا بنا دیتا ہے، جس سے وہ اپنی مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے پرتوجہ مرکوزکرنے پرمجبورہوجاتی ہیں۔ اس طرح ملک میں تیل کی کمی نہیں ہوگی۔

پیٹرول سے متعلق ملی راحت

اس پورے عمل اورٹیکس میں اضافہ کے درمیان سب سے زیادہ اطمینان بخش خبرپٹرول کے محاذ پرہے۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پٹرول کی برآمدات پرکوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ پٹرول پرایکسپورٹ ڈیوٹی پہلے کی طرح صفررہے گی۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ فی الحال حکومت کومقامی بازارمیں پٹرول کی سپلائی کے حوالے سے کسی قسم کے بحران یا قلت کا خوف نہیں ہے۔

Saif News

कौशल्याला मिळणार शैक्षणिक मान्यता; जयहिंद लोकचळवळच्या उपक्रमातून रोजगाराच्या नव्या संधी — माजी आमदार डॉ. सुधीर तांबे
संगमनेर : कौशल्याधारित काम करणाऱ्या नागरिकांना त्यांच्या अनुभवाच्या आधारे अधिकृत शैक्षणिक प्रमाणपत्र मिळावे, यासाठी यशवंतराव चव्हाण मुक्त विद्यापीठ आणि जयहिंद लोकचळवळ यांच्या संयुक्त विद्यमाने पूर्व शिक्षण मान्यता मूल्यांकन केंद्राच्या माध्यमातून प्राथमिक बैठक सह्याद्री महाविद्यालय, संगमनेर येथे आयोजित करण्यात आली. या उपक्रमामुळे अनेकांना रोजगाराच्या नव्या संधी उपलब्ध होणार असल्याचा विश्वास माजी आमदार डॉ. सुधीर तांबे यांनी व्यक्त केला.

या बैठकीचे आयोजन जयहिंद लोकचळवळचे समन्वयक उबेदभाई शेख, सुनिता कांदळर, अंजुम बागवान यांनी केले. यावेळी जयहिंद लोकचळवळचे संस्थापक माजी आमदार डॉ. सुधीरजी तांबे, पूर्व शिक्षण मान्यता केंद्राचे संचालक डॉ. राम ठाकर, विद्यार्थी सेवा विभागाचे डॉ. प्रकाश देशमुख, जयहिंद महिला मंच अध्यक्षा सौ. दुर्गाताई तांबे, यशवंतराव चव्हाण मुक्त विद्यापीठाचे प्रशासकीय संयोजक अतिक शेख, नगरसेवक डॉ. दानीश शेख, ज्ञानेश्वर नाईक, फैजान तांबोळी, मोहसीन शेख, आवेज खान उपस्थित होते.

आर्थिक अडचणींमुळे अनेक तरुण-तरुणींना औपचारिक शिक्षण घेता येत नसले तरी ते इलेक्ट्रिशियन, फिटर, वेल्डर, मेकॅनिक, वायरमन, विणकाम, शिवणकाम, टेलरिंग अशा विविध क्षेत्रांत प्रवीणतेने काम करत असतात. मात्र, शैक्षणिक प्रमाणपत्रांच्या अभावामुळे त्यांना नोकरीच्या चांगल्या संधींपासून वंचित राहावे लागते.

या पार्श्वभूमीवर सुरू करण्यात आलेल्या या उपक्रमामुळे अशा कुशल नागरिकांना त्यांच्या कौशल्याचे अधिकृत प्रमाणपत्र मिळणार असून, त्यातून त्यांना रोजगार, प्रगती आणि सामाजिक सन्मान मिळण्याचा मार्ग मोकळा होणार आहे. जयहिंद लोकचळवळच्या या उपक्रमामुळे कौशल्याला मान्यता मिळून अनेकांच्या आयुष्याला नवी दिशा मिळेल, असा विश्वास यावेळी माजी आमदार डॉ. तांबे यांनी व्यक्त केला.

चौकट - 
जयहिंद लोकचळवळचे अधिकृत मासिक आता महाराष्ट्रभरात पोहोचत असून आपणही त्याचा लाभ घेऊ शकता. 
दिलेला क्यू आर कोड स्कॅन करा.

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے؟
انڈیا کی وزارت صحت نے وزن کم کرنے والی ادویات کے غیر منظم استعمال کے حوالے سے خبردار کیا ہے کیونکہ اوزیمپک جیسی معروف ذیابیطس ادویات کے سستے جنیرک متبادل پیٹنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد مارکیٹ میں آنا شروع ہو گئے ہیں۔
عرب نیوز پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سیماگلوٹائڈ، جو اوزیمپک اور ویگووی جیسی وزن کم کرنے والی ادویات کا فعال جزو ہے، کا پیٹنٹ 20 مارچ کو انڈیا میں ختم ہو گیا، جس کے بعد مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس کی اپنی تیار کردہ اقسام بنا کر کم قیمت پر فروخت کر سکتی ہیں۔متعدد کمپنیوں نے خون میں شوگر کی سطح اور بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمون سے منسوب جی ایل پی-1 ادویات کے جنیرک ورژن تیار کر کے انڈیا کی معروف فارمیسیز پر دستیاب کر دیے ہیں، جہاں ایک ہفتہ وار خوراک کی قیمت 15 ڈالر سے شروع ہو رہی ہے۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ ’جی ایل پی-1 پر مبنی وزن کم کرنے والی ادویات کے متعدد جنیرک متبادل حال ہی میں انڈین مارکیٹ میں متعارف کرائے گئے ہیں، جس کے بعد ریٹیل فارمیسیز، آن لائن پلیٹ فارمز، ہول سیلرز اور ویلنَس کلینکس کے ذریعے ان کی باآسانی دستیابی پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ’یہ ادویات اگر مناسب طبی نگرانی کے بغیر استعمال کی جائیں تو سنگین مضر اثرات اور صحت کے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔‘
ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی ’نووو نورڈسک‘ کی جانب سے 2017 میں تیار کی جانے والی دوا اوزیمپک ابتدائی طور پر ذیابیطس کے علاج کے لیے منظور کی گئی تھی تاہم بعد میں وزن کم کرنے میں موثر ثابت ہونے کے باعث عالمی سطح پر اس کی طلب میں اضافہ ہوا۔کئی برسوں تک نوو نورڈسک کے پاس اس دوا کا فعال جزو ’سیماگلوٹائڈ‘ کا پیٹنٹ موجود رہا جو گزشتہ ہفتے ختم ہو گیا۔
انڈیا میں، جہاں چین کے بعد دنیا میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کی دوسری بڑی تعداد موجود ہے اور موٹاپے کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، اوزیمپک کی اصل دوا کی ایک ہفتہ وار خوراک کی قیمت 20 سے 50 ڈالر کے درمیان ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں یہی قیمت تقریباً 220 ڈالر جبکہ یورپ میں لگ بھگ 30 ڈالر ہے۔
اگرچہ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس دوا کی منظوری اس شرط کے ساتھ دی گئی ہے کہ اسے صرف اینڈوکرائنولوجسٹ اور میڈیسن کے ماہرین کے نسخے پر استعمال کیا جائے جبکہ بعض صورتوں میں ماہر امراض قلب بھی اسے تجویز کر سکتے ہیں تاہم اس پر عمل درآمد کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
تیرونیلویلی میڈیکل کالج کے پروفیسر جے اے جے لال نے کہا کہ انڈیا میں فی الحال اس حوالے سے ’مجموعی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔‘انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہاکہ ’یہ ادویات آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے دستیاب ہیں، جو ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ اگر انہیں مناسب طبی نگرانی اور دیکھ بھال کے بغیر استعمال کیا گیا تو یہ متعدد پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔‘
تاہم انڈین حکام کے مطابق اس وقت فارماسیوٹیکل سپلائی چین میں ممکنہ بے ضابطگیوں کو روکنے اور غیر مجاز فروخت و استعمال کی روک تھام کے لیے ’ہدفی اقدامات کا ایک سلسلہ‘ شروع کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مریضوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ طبی نگرانی کے بغیر وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایسی ادویات صرف مستند طبی ماہرین کی رہنمائی میں استعمال کریں۔‘










سعودی عرب نے پاکستان کے لیے کھلو دئے اپنے خزانے ، قرض سے نجات کے لیے دے گا 46 کھڑب روپے سے زیادہ
پاکستان : مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خطرے نے پاکستان کی پہلے سے نازک صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں ریاض کا موقف پاکستان کے لیے خوش آئند ریلیف ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کے دہانے پر

اپریل پاکستان کے لیے ایک لٹمس ٹیسٹ رہا ہے۔ پاکستان کے قرضوں کے اعداد و شمار پر ایک نظر حیران کن ہیں :کل قرض ادا کرنا ہے: صرف اسی ماہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کی مد میں 5 بلین ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔

پاکستان پر متحدہ عرب امارات کا کتنا قرضہ ہے؟ پاکستان اپنے کل قرضوں کا ایک اہم حصہ، 3.5 بلین ڈالر، صرف متحدہ عرب امارات کا مقروض ہے۔

انتباہ: فوری مدد یا رول اوور کے بغیر (پرانے قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع)، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 11.5 بلین ڈالر تک گر سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملک کی لیکویڈیٹی مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب سے پاکستان کی اپیل: اس دباؤ کے درمیان، اسلام آباد نے ریاض سے 5 بلین ڈالر کے نئے قرضے کی درخواست کی ہے اور اس کی تیل کی مالی معاونت کی سہولت میں اگلے پانچ سال تک توسیع کی ہے۔

صرف ٹرسٹ کی ‘گارنٹی’
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں کسی نئے مالیاتی معاہدے یا قرض کی رقم کی باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھرپور تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کوئی ہنگامی بیل آؤٹ نہیں ہے بلکہ دو دیرینہ اتحادیوں کے درمیان جاری ہم آہنگی کا حصہ ہے۔ تاہم اس دورے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لیے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

معاشی امداد سے ہٹ کر سعودی وزیر خزانہ نے ایک اور اہم بیان دیا جس نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ریاض نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی صلاحیت پر گہرے اعتماد کا اظہار کیا۔ تاہم یہ صورت حال اتنا ہی چیلنج پیش کرتی ہے جتنا کہ یہ ایک سفارتی فتح دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے دونوں اطراف سے تعلقات ہیں۔ عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں اس کے حقیقی اثر و رسوخ کی حد تک ایک بڑا سوال ہے۔









کیونکہ سب سے چھوٹے تابوت سب سے بھاری ہوتے ہیں
آج صبح کی چائے گرم تھی، لیکن آنکھیں ٹھنڈی پڑ گئیں۔ موبائل سکرین پر اس تصویر نے دل کو چھلنی کردیا ۔ ہوائی جہاز کے اندر، خالی نیلی نشستیں اور مسکراتی ہوئی ا سکول کی لڑکیوں کی تصاویرایک چھوٹی سی لڑکی حجاب میں ،ایک لڑکا پیلے کرتے میں اور ان کے بغل میں سفید کی کلی جو دھیرے ۔ دھیرے مرجھا رہی تھی ۔ ذہن میں بیٹی کا چہرہ چمکا۔ کیسے وہ اسکول جانے کی تیاری کرتی ہے ۔ اور ہم اسے بس اسٹاپ پر چھوڑ نے جاتے ہیں ۔ یہ تصویر ہم جیسے کروڑوں والدین کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

ہوائی جہاز کے اندر اکثر شور ہوتے ہیں، لوگ باتیں کرتے اور ہلچل ہوتی ہے ۔ لیکن ایران سے اسلام آباد جانے والی اس فلائٹ پر ایک گہری خاموشی ہے۔ یہ خاموشی ان معصوم خوابوں کی خاموشی ہے جو اب بکھر چکے ہیں۔ ایرانی وفد ان 168 لڑکیوں کی یادیں لے کر آیا ہے جن کی ہنسی 28 فروری کے حملے میں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھی۔مناب میں لڑکیوں کے اسکول پر مجرمانہ اور بزدلانہ بم دھماکے کی ذمہ داری نہ ڈونلڈ ٹرمپ نے لی اور نہ ہی بنجمن نیتن یاہو نے ۔ لیں بھی کیسے ؟ ایک لیڈر کہتا ہے کہ وہ ایرانی تہذیب کو ہی تباہ کر دیں گے، اور یہ زندہ ہی اس لئےبچے ہیں کہ بات چیت کرسکیں ۔ دوسرے کو غزہ میں قبریں کھودوانے کی عادت ہے۔ لیکن یہ صرف “اہداف” نہیں تھے۔ کسی کی پیاری بیٹیاں تھیں۔ انہیں ب پسند تھیں اور یہ کتابوں سے پیار کرتی تھیں ۔ ان کے والدین نے ان میں ان گنت خواب بُنے ہوں گے۔

اس تصویر کو غور سے دیکھئے ۔ کہیں ایک پھولوں والا بیگ ہے،تو کہیں ایک معصوم سی مسکراہٹ ۔ ایک سیٹ پر ایک گلاب کا پھول رکھا ہوا ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ایک مختصر پیغام: “اس پرواز میں میرے ساتھی۔ ایک تلخ سچائی ہے۔ جو چلے گئے وہ پیچھے نہیں چھوٹتے ۔ وہ ہمارے سفر اور ہمارے خیالات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ ہم سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں: کیوں؟”

ہندوستان ہو یا ایران، غم کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔ جب کسی ا سکول پر حملہ ہوتا ہے تو پوری انسانیت کا مستقبل دم توڑ جاتا ہے۔ ایران میں بیٹیوں کی لاشیں گریں لیکن یہ نقصان پوری دنیا کا ہے۔

یہ طیارہ صرف کاغذات لے کر نہیں آیا ۔ یہ اپنے ساتھ دنیا کا ضمیر لے کر آیا ہے ۔ یہ ایک اڑتی ہوئی یادگار ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری ترقی اس وقت تک بے معنی ہے جب تک کہ بچے اپنے کلاس رومز میں محفوظ نہ ہوں۔
دعا ہے کہ #Minab168 کی یادیں ہمیں ایک ایسی دنیا بنانے کی ترغیب دیں جہاں کسی بچے کو جنگ کا شکار نہ ہونا پڑے، کیونکہ سب سے چھوٹے تابوت سب سے بھاری ہوتے ہیں۔


*🛑سیف نیوز اُردو*

صرف پانچ منٹ زیادہ نیند لیں اور زندگی کا ایک سال بڑھائیں: نئی تحقیق ایک نئی تحقیق کے مطابق معمول سے صرف پانچ منٹ زیا...