Thursday, 16 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

سکرین ٹائم اور سکرولنگ، نوجوانوں میں نیند کی کمی سے جُڑے صحت کے مسائل
نوجوانی کے دوران جسم میں نمایاں جسمانی، جذباتی اور ذہنی تبدیلیاں آتی ہیں جس کے لیے مستقل نیند کا معمول ہونا ضروری ہے۔
تاہم تعلیمی دباؤ، سکرین ٹائم اور ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے نوجوانوں کو اکثر نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مناسب نیند کا معمول باڈی کلاک کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے، موڈ کو بہتر بناتا ہے، دماغ کی نشوونما میں مدد کرتا ہے اور مجموعی صحت کو بڑھاتا ہے۔
نوجوانوں میں مناسب نیند کا معمول کیوں ضروری ہے اس کی وجوہات درج ذیل ہیں۔1. مناسب نیند جسمانی نشوونما کے لیے ضروری
نوجوانوں کی جسمانی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے اور یہ زیادہ تر گہری نیند کے دوران ہوتی ہے جب گروتھ ہارمون خارج ہوتا ہے۔ نیند کا ایک مستقل معمول اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ نوجوانوں کو اس گہری نیند سے کافی فائدہ ہو۔ نیند کے دوران ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت مند نشوونما میں مدد ملتی ہے۔
2. تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے
نیند دماغی افعال جیسے میموری، توجہ اور مسئلہ حل کرنے پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ مستقل نیند کے شیڈول کے ساتھ نوعمر افراد تعلیمی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیونکہ ان کے دماغ کو وہ آرام ملتا ہے جس کی انہیں معلومات کو مؤثر طریقے سے پروسیس کرنے اور برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
3. جذباتی بہبود کو بڑھاتی ہے
نیند کی کمی کا تعلق موڈ میں تبدیلی، چڑچڑاپن اور یہاں تک کہ بے چینی اور افسردگی سے ہے۔ مناسب نیند کا معمول جذبات کو مستحکم کرنے میں مدد کرتا ہے اور ذہنی لچک کو بڑھاتا ہے، جو خاص طور پر نوجوانوں کے لیے سماجی اور جذباتی تبدیلیوں کے لیے اہم ہے۔
4. قوت مدافعت کو بڑھاتی ہےنیند جسم کو انفیکشن سے لڑنے کے قابل بنا کر کر مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔ مون سون اور موسمی تبدیلیوں کے دوران جب نوجوانوں میں بیمار ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، مستقل نیند کا معمول ان کی قوت مدافعت کو مضبوط رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
5. موٹاپے کے خطرے کو کم کرتی ہے
بے قاعدہ نیند کے پیٹرن بھوک ہارمونز کے توازن میں خلل ڈال سکتے ہیں جس کے نتیجے میں کھانے کے ناقص انتخاب اور زیادہ کھانے کی عادت بنتی ہے۔ وہ نوجوان جو اچھی طرح سے سوتے ہیں ان میں وزن برقرار رکھنے اور بھوک پر بہتر کنٹرول رکھنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔
6. جلد کی صحت کو بہتر بناتی ہے
نوعمر اکثر مہاسوں اور جلد کے دیگر مسائل سے متاثر ہوتے ہیں۔ مستقل نیند جلد کی دیکھ بھال میں مدد فراہم کرتی ہے۔
7. توانائی اور جسمانی کارکردگی کو بڑھاتی ہے
نیند جسم کو ری چارج کرتی ہے۔ کھیلوں یا جسمانی سرگرمیوں میں ملوث نوجوانوں کو پٹھوں کی طاقت، برداشت اور توانائی کے لیے معیاری نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔8. ہارمونز کو متوازن کرتی ہے
نیند ہارمونل توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے، خاص طور پر بلوغت کے دوران، نیند میں خلل میلاٹونن، کورٹیسول اور انسولین جیسے ہارمونز کو متاثر کر سکتا ہے جو ممکنہ طور پر موڈ، نشوونما اور یہاں تک کہ میٹابولزم کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
9. فیصلہ سازی اور خطرے کی تشخیص کو بہتر بناتی ہے
نوجوان جذباتی رویے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ نیند کی باقاعدگی واضح سوچ اور بہتر فیصلہ سازی کو فروغ دیتی ہے۔









سونم وانگچک کی 19ویں روز بھی ہنگر اسٹرائک جاری، نو کلو سے زیادہ وزن ہوا کم، ہیلتھ بلیٹن جاری
نئی دہلی: راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا پرامن احتجاج جمعرات کو اپنے 27ویں دن میں داخل ہو گیا، تعلیمی اصلاحات کے کارکن سونم وانگچک کی ہنگر اسٹرائک 19ویں دن میں داخل ہو گیا۔

جمعرات کو جاری ہونے والے ایک میڈیکل بلیٹن کے مطابق، ان کا وزن 56.90 کلوگرام تک گر گیا ہے، فاسٹ کے آغاز کے بعد سے ان کا وزن 9 کلو سے زیادہ کم ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس وقت ان کی حالت طبی لحاظ سے مستحکم ہے تاہم انتہائی کمزوری کے باعث وہ 24 گھنٹے طبی نگرانی میں ہیں۔میڈیکل ٹیم نے ہیلتھ بلیٹن جاری کیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق ڈاکٹروں نے آج سونم وانگچک کا معمول کی صحت کا معائنہ کیا۔ میڈیکل رپورٹ میں ان کا بلڈ پریشر (بی پی) 101/65 ایم ایم ایچ جی، نبض کی شرح 72 دھڑکن فی منٹ، آکسیجن سیچوریشن 98 فیصد اور بے ترتیب خون میں شکر کی سطح 89 ملی گرام فی ڈی ایل ہونے کا انکشاف ہوا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر ہوش میں، ذہنی طور پر چوکنا اور طبی لحاظ سے مستحکم ہیں۔ تاہم مسلسل 19 دنوں کے فاسٹ رکھنے کی وجہ سے ان کی جسمانی حالت کافی کمزور ہو گئی ہے۔ طبی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ صحت کی کسی بھی ممکنہ پیچیدگی کو روکنے کے لیے 24 گھنٹے نگرانی میں ہیں۔سی جے پی کا سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار

کاکروچ جنتا پارٹی نے سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی جسمانی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ فاسٹ کا ہر گزرتا دن ان کی صحت کے لیے خطرہ بڑھا رہا ہے۔ سی جے پی (CJP) نے الزام لگایا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن طریقے سے جاری ہے، اس کے باوجود مرکزی حکومت نے ابھی تک مظاہرین کے ساتھ کسی بھی سطح پر بامعنی بات چیت شروع نہیں کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت بات چیت شروع نہیں کی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ سی جے پی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر مثبت انداز اپنائے اور بات چیت کے ذریعے حل نکالے۔تعلیمی اصلاحات اور احتساب کا مطالبہ دہرایا

سی جے پی نے ایک بار پھر امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے پیپر لیک اور امتحانی بے قاعدگیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ ایسے معاملات میں احتساب ضروری ہے اور شفاف امتحانی نظام کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو بھی دہرایا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کو تعلیمی نظام سے متعلق سنگین مسائل کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور طلبہ کے خدشات کو دور کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔

20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کی تیاریاں

کاکروچ جنتا پارٹی نے ملک بھر کے طلباء، اساتذہ، والدین اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ 20 جولائی کو مجوزہ پرامن پارلیمنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت کریں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ مارچ تعلیمی اصلاحات، شفاف امتحانی نظام اور طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ سی جے پی نے کہا کہ تحریک مکمل طور پر جمہوری اور غیر متشدد طریقے سے جاری رہے گی۔ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت امتحانی اصلاحات، احتساب اور تعلیمی نظام میں تبدیلی سے متعلق مطالبات پر ٹھوس اقدام نہیں کرتی۔












کمشنریٹ گوتم بدھ نگر پولیس نے سائبر جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن 'سائی وجرا' شروع کیا، ایک بڑے نیٹ ورک کو ختم کیا۔
نوئیڈا: نوئیڈا میں پولیس نے ایک بڑے سائبر نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا۔ اس سلسلے میں 50 مجرموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کمشنریٹ گوتم بدھ نگر پولیس نے آپریشن 'سائی وجرا' شروع کیا، جو سائبر جرائم پیشہ افراد کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا آپریشن ہے۔

پولیس کے مطابق ڈیجیٹل اور دستی انٹیلی جنس پر مبنی اس گہرے چھاپے کے نتیجے میں 60 کروڑ سے زیادہ مالیت کے سائبر فراڈ کا پتہ چلا ہے۔ اس کے تحت پولیس نے نوئیڈا میں چل رہے آٹھ غیر قانونی کال سینٹروں کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس سلسلے میں 700 سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، جس کے نتیجے میں 49 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔سائبر جرائم پیشہ افراد

بتایا گیا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد 'میول بینک اکاؤنٹس' فروخت کر رہے تھے اور فراڈ نیٹ ورک کی حمایت کر رہے تھے۔ ان میں ایک نائجیرین شہری بھی شامل ہے۔ اس آپریشن کے دوران 67 موبائل فون، 19 لیپ ٹاپ، 76 سم کارڈ، 81 ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈ اور 5 لاکھ روپے سے زائد کی نقدی برآمد کی گئی۔

سائبر کرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی

پسماندہ روابط کی بنیاد پر، پولیس نے نائجیریا کے ایک شہری کو بھی گرفتار کیا، جس کے ڈیجیٹل ثبوت نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (NCRP) پر کئی شکایات سے منسلک پائے گئے۔ سائبر کرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی جاری رہے گی۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

نوئیڈا کے چھجارسی میں 11 کے وی بجلی کا تار ٹوٹ کر گرنے سے پانچ افراد جھلسے، ایک کی حالت تشویشناک
نئی دہلی: اتر پردیش کے نوئیڈا کے چھجارسی گاؤں میں جمعرات کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا، جہاں سڑک کے اوپر سے گزرنے والی 11 کے وی ہائی ٹینشن بجلی لائن کا تار اچانک ٹوٹ کر نیچے گر گیا۔ اس حادثے میں پانچ افراد بری طرح جھلس گئے، جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ ایک اسکوٹی مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی۔یہ واقعہ نوئیڈا کے سیکٹر-63 تھانہ علاقے میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق لوگ معمول کے مطابق سڑک سے گزر رہے تھے کہ اچانک ہائی ٹینشن لائن کا تار ٹوٹ کر زمین پر آ گرا۔ تار کے زمین پر گرتے ہی اس میں دوڑنے والے کرنٹ کی زد میں آ کر کئی افراد شدید زخمی ہو گئے، جب کہ علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل
کیا اور پولیس و ایمبولینس کو اطلاع دی، جس کے بعد زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ایک شخص کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔حادثے کے بعد مقامی باشندوں نے بجلی محکمہ پر سنگین لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی کی لائنوں کی مناسب دیکھ بھال اور وقتاً فوقتاً معائنہ نہیں کیا جاتا، جس کے باعث اس طرح کے حادثات پیش آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت مرمت اور بڑھتے ہوئے بوجھ کے مطابق نظام کو مضبوط بنایا جاتا تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ جب یہ بجلی کی لائنیں نصب کی گئی تھیں، اس وقت علاقے کی آبادی بہت کم تھی، لیکن اب آبادی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ بجلی کے نظام اور تاروں کی گنجائش میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مقامی شہری سونو نے کہا کہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، لیکن مستقل حل کی جانب کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

 لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر بار شکایات کے باوجود محکمہ صرف عارضی مرمت کر کے معاملہ ختم کر دیتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر 11 کے وی جیسی ہائی ٹینشن لائن کا تار اچانک کیسے ٹوٹ گیا؟ کیا بجلی کی لائنوں کے معائنے اور دیکھ بھال میں غفلت برتی گئی؟فی الحال پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے، جبکہ مقامی باشندوں نے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی اور بجلی کے نظام میں مستقل اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔










ایران نے بحرین میں امریکی اڈوں پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، مزید کارروائی کی دھمکی
نئی دہلی:ایران کے حملے نے پوری دنیا میں ایک نئی اور انتہائی خطرناک جنگ جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایران نے یہ سخت قدم بدھ کو امریکہ کی طرف سے کیے گئے دو بڑے، بیک ٹو بیک فضائی حملوں کے جواب میں اٹھایا۔ جمعرات کو ایران نے بحرین میں واقع بڑے امریکی فوجی اڈوں پر اب تک کا سب سے خوفناک حملہ کیا۔ اس خوفناک اور اچانک انتقامی حملے نے پورے مشرق وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، تناؤ کو ابلتے ہوئے مقام پر دھکیل دیا ہے۔ایران کی سب سے طاقتور فوجی تنظیم IRGC کے ترجمان نے امریکہ کو ایک سخت، کھلا انتباہ جاری کیا ہے۔ بریگیڈیئر جنرل محبی نے واضح کیا کہ یہ ان کی جوابی فوجی مہم کا محض ابتدائی مرحلہ ہے۔ ان کا بنیادی مقصد خلیجی خطے میں امریکی جارحانہ فوجی انفراسٹرکچر کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔

ایک بار جب یہ تباہ کن کام مکمل ہو جائے گا، ایران اگلا، کہیں زیادہ خطرناک مرحلہ شروع کر دے گا، جو یقینی طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہے۔دوسری جانب ایرانی بری فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایران کی تین بنیادی شرائط تسلیم نہیں کرتا۔ ان شرائط میں دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عمل درآمد، تمام جارحانہ سرگرمیوں کا خاتمہ اور ایران کے مقرر کردہ ضوابط کی پابندی شامل ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی بحری اور فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے ایرانی اہداف پر حملے جاری ہیں، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے پورے خطے میں ایک وسیع تر تصادم کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔











پاکستان نے ابھی ایران امریکہ مفاہمت سے ہاتھ نہیں اٹھائے: دفتر خارجہ
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہ ہے کہ موجود صورتحال میں امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں، امن عمل کی کبھی موت نہیں ہوتی اور پاکستان نے ابھی ایران امریکہ مفاہمت سے ہاتھ نہیں اٹھائے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ برگن سٹاخ بات چیت امن عمل کے ایک ٹیمپلیٹ کے طور پر سامنے آیا، جب بھی فریقین تناؤ میں کمی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں وہ دوبارہ اس امن عمل کے ٹیمپلیٹ میں شریک ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد مفاہمت ابھی بھی ایک جاری عمل ہے، اور ہمارا موقف واضح ہے کہ مذاکرات ہونے چاہییں اور امن عمل کو ایک موقع ملنا چاہیے، اسلام اباد مفاہمت میں ہم اعلی ترین سطح پر رابطے میں ہے۔‘ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 8 جولائی کو خطے میں جاری کشیدگی کی مذمت کی، پاکستان یقین رکھتا ہے کہ ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کا کوئی نعمل بدل نہیں۔
ان کے بقول اسلام آباد ایم او کو کو چیلنجز کا سامنا ہے اور پاکستان فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے کہ مسائل کا پر امن حل نکلا جائے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ وزیراعظم نے اس بابت امیر قطر سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کی، اسی دن وزیراعظم نے ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، اور انہوں نے کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
12 جولائی کو اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ رابطہ کیا، اور 13 جولائی کو اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔

Wednesday, 15 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

گجرات میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیلز کا آغاز، خفیہ ایس او پی پر فرقہ وارانہ پروفائلنگ کے الزامات، حقوق انسانی کے کارکنوں نے کہا مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ہورہی ہے سازش
احمد آباد: گجرات حکومت نے ریاست بھر کے اضلاع اور پولیس کمشنریٹوں میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیلز (ARC) کو فعال کر دیا ہے۔ ریاستی انٹیلی جنس بیورو (SIB) کی جانب سے جاری ایک خفیہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کے تحت پولیس کو سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس، مذہبی تنظیموں اور بعض رویوں کی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کی ’’ادارہ جاتی فرقہ وارانہ پروفائلنگ‘‘ قرار دیا ہے۔ تقریباً دو ماہ قبل جاری کیے گئے خفیہ ایس او پی کے بعد جام نگر پولیس نے سب سے پہلے ضلع میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل کو باضابطہ طور پر فعال کیا ہے۔ پولیس سب انسپکٹر ایم وی مودھواڈیا کو اس سیل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر روی موہن سینی اس کی نگرانی کریں گے۔ دستاویز کے مطابق ریاست کے تمام اضلاع میں ایسے سیلز قائم کیے جائیں گے اور ہر ماہ ان کی کارکردگی کی رپورٹ ریاستی انٹیلی جنس بیورو کو ارسال کرنا لازمی ہوگی۔ایس او پی میں نگرانی کے وسیع اختیارات

ایس او پی میں پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، آن لائن فورمز، ٹیلی گرام، سگنل، ایلیمنٹ جیسی انکرپٹڈ ایپس، وی پی این کے استعمال اور بعض مذہبی و سماجی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ دستاویز میں بعض رویوں کو ممکنہ انتہاپسندی کی علامات قرار دیا گیا ہے، جن میں اچانک داڑھی رکھنا، نقاب پہننا، عربی الفاظ کا زیادہ استعمال، خاندان اور دوستوں سے دوری، دنیا بھر میں مسلمانوں سے متعلق واقعات پر شدید ردعمل، شدت پسند تنظیموں کی تعریف اور بیرونِ ملک سفر کے بعد رویوں میں تبدیلی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بعض کیمیکلز کی خریداری، کرپٹو کرنسی کا استعمال، افغانستان یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود افراد سے انکرپٹڈ رابطے اور مخصوص مذہبی سرگرمیوں کو بھی نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔

حقوقِ انسانی تنظیموں کا سخت اعتراض

سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے ایس او پی کو آئین کی بنیادی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عام مسلم مذہبی شناخت اور مذہبی معمولات کو بھی مشتبہ سرگرمیوں سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق داڑھی، نقاب، عربی سلام، اعتکاف یا مسلمانوں کے مسائل پر اظہارِ رائے کو انتہاپسندی کی علامت قرار دینا آئین میں دی گئی مساوات، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے اور رازداری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر انتہاپسندی کی نگرانی مقصود ہے تو گئو رکشا کے نام پر تشدد، دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقاریر اور دیگر شدت پسند سرگرمیوں کا ایس او پی میں کوئی ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔

آئینی جانچ اور رول بیک کا مطالبہ

اقلیتی رابطہ کمیٹی (Minority Coordination Committee) کے کنوینر مجاہد نفیس نے بھی حکومت سے اس ایس او پی کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ریڈیکل‘‘ اور ’’ریڈیکل تنظیم‘‘ جیسی اصطلاحات کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں، جس کے باعث ان کا غلط استعمال ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مناسب جواب نہ دیا تو معاملہ گجرات ہائی کورٹ میں اٹھایا جائے گا۔ دوسری جانب سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے بھی گجرات کے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر اس ایس او پی پر عمل درآمد روکنے اور اس کا آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کے انتخابی وعدے پر عمل

واضح رہے کہ اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل کے قیام کا وعدہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2022 کے گجرات اسمبلی انتخابات کے منشور میں کیا تھا۔ پارٹی نے اقتدار میں واپسی پر انتہاپسندی، دہشت گردی، سلیپر سیلز اور ملک مخالف سرگرمیوں کے خلاف خصوصی نظام قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے 2026 میں اس منصوبے کے لیے 139 نئی اسامیوں کی منظوری دی، جبکہ جون 2026 میں خفیہ ایس او پی جاری کرکے اس پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا۔ تاہم اس پالیسی نے قومی سلامتی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔











بھوک ہڑتال ہوگی ختم یا احتجاج رہے گا جاری؟ کیا راکھی ساونت کی پیشکش پر آمادہ ہوں گے سونم وانگچک؟
مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت نے تشویش بڑھا دی ہے۔ ایک طرف اس معاملے پر عدالت سے مداخلت کی درخواست کی جا رہی ہے، تو دوسری جانب اداکارہ راکھی ساونت کے بیان نے بھی اس معاملے کو نئی بحث میں لا کھڑا کیا ہے۔ نیٹ (NEET) امتحان تنازع کے خلاف 28 جون سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسی دوران راکھی ساونت نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ان سے جذباتی انداز میں اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود دہلی جا کر اپنے ہاتھوں سے انہیں آم کا رس یا لیموں پانی پلا کر ان کا انشن ختم کرائیں گی۔

راکھی ساونت کی ویڈیو وائرل

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں راکھی ساونت نے سونم وانگچک کی صحت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دوسروں کے لیے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنی چاہیے کیونکہ ان کی زندگی بے حد قیمتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جنتر منتر پہنچ کر ذاتی طور پر ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کریں گی۔

عدالت میں بھی مداخلت کی درخواست

دوسری جانب سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا آج 18واں دن ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا وزن تقریباً 8.5 کلوگرام کم ہو چکا ہے۔ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں فوری طور پر سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر طبی نگرانی میں خوراک دی جائے۔ درخواست گزار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بروقت مداخلت نہ ہونے کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

مطالبات پر قائم ہیں وانگچک

سونم وانگچک مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اسی مطالبے کے حق میں بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ راکھی ساونت سے قبل اداکار نصیرالدین شاہ اور مصنفہ اروندھتی رائے بھی وانگچک سے صحت کے پیش نظر اپنا انشن ختم کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔












اسپین نے فرانس کو دو-صفر سے شکست دے کر فیفا عالمی کپ کے فائنل میں بنائی جگہ، ایمباپے کا خواب چکنا چور
نئی دہلی: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں اسپین نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانس کو دو-صفر سے شکست دے کر فائنل میں اپنی جگہ پکی کر لی۔ اس شکست کے بعد فرانس کی ٹیم اب تیسری پوزیشن کے لیے دوسرے سیمی فائنل میں شکست کھانے والی ٹیم کے خلاف میدان میں اترے گی۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب اسپین فائنل میں پہنچا ہے۔ اس سے قبل 2010 میں اسپین نے نہ صرف فائنل تک رسائی حاصل کی تھی بلکہ عالمی خطاب بھی اپنے نام کیا تھا۔ اب ایک بار پھر ہسپانوی ٹیم کے پاس عالمی چیمپئن بننے کا سنہری موقع ہے۔

پہلے ہاف میں اویارزابال نے پنالٹی پر دلائی برتری

میچ کے آغاز میں فرانس نے جارحانہ انداز اپنایا اور کِیلیان ایمباپے نے اسپین کے دفاع پر مسلسل دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن پہلا گول اسپین کے حصے میں آیا۔ 19 سالہ لامین یامال کو روکنے کی کوشش میں فرانسیسی مدافع لوکاس ڈینے نے فاؤل کیا، جس پر اسپین کو پنالٹی ملی۔ میچ کے 22ویں منٹ میں میکل اویارزابال نے پنالٹی کو کامیابی سے گول میں تبدیل کرتے ہوئے اسپین کو 1-0 کی برتری دلا دی۔ اس کے بعد فرانس نے برابر کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر اسپین کا مضبوط دفاع اس کے راستے میں دیوار بن گیا۔

دوسرے ہاف میں اسپین کا مکمل غلبہ

وقفے کے بعد اسپین نے کھیل پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ میچ کے 58ویں منٹ میں پیڈرو پورو نے شاندار گول اسکور کرکے اسپین کی برتری دو-صفر کر دی۔ دو گول سے پیچھے ہونے کے بعد فرانس نے واپسی کی کوشش میں ڈیزائرے دوئے اور ریان چرکی کو میدان میں اتارا، تاہم یہ تبدیلیاں بھی ٹیم کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں۔ کیلین ایمباپے نے متعدد مواقع پر اسپین کے دفاع کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار اسپین کے گول کیپر اونائی سیمون نے عمدہ سیوز کرتے ہوئے فرانس کو گول کرنے سے روک دیا۔ مقررہ 90 منٹ کے اختتام تک فرانس کوئی گول نہ کر سکا اور اسپین نے دو-صفر کی کامیابی کے ساتھ فائنل کا ٹکٹ حاصل کر لیا۔ اسپین اب عالمی اعزاز کے لیے فائنل میں ارجنٹینا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے سیمی فائنل کے فاتح کا سامنا کرے گا، جبکہ فرانس تیسری پوزیشن کے لیے ایک بار پھراپنی قسمت آزمائے گا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*اقتدار کے نشے میں چور اختر آباد 80 فٹی روڈ عوام کی چِیخ و پُکار پر بھی خاموشی*
مالیگاؤں شہر کی مشہور اختر آباد 80 فٹی روڈ آج عوام کے لیے زحمت بن چکی ہے "قوم کا درد" اور "وکاس" کے بڑے بڑے نعرے لگانے والے نمائندے اقتدار کے نشے میں مَست ہیں مگر عوام بارش کے گھڑوں اور کیچڑ میں ڈُوب رہی ہے بارش ہوتے ہی پوری سڑک تالاب بن جاتی ہے جگہ جگہ بڑے بڑے گھڑے ہیں ٹووہیلر، رکشا ،گاڑی والے روز گر کر زخمی ہو رہے ہیں کیچڑ اور پِھسلن کی وجہ سے روزانہ چھوٹے بڑے حادثات ہو رہے ہیں اسکول جانے والے بچے، بوڑھے اور خواتین سب سے زیادہ پریشان ہیں کارپوریشن پر اقتدار ہونے کے باوجود ایک مہینے سے اختر آباد کی عوام اخبارات اور سوشل میڈیا پر گزارش کررہی ہے مگر کوئی سننے والا نہیں کم از کم عارضی طور پر گھڑوں میں مٹی یا مورم ہی ڈلوا دیں تاکہ لوگوں کو راحت ملے مگر "وِکاس" کا نعرہ لگانے والوں نے اس طرف پَلٹ کر بھی نہیں دیکھا جن کو عوام نے خِدمت کے لیے چُنا تھا وہ آج فوٹو سیشن اور جَلسوں میں مصروف ہیں زمینی حقائق سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہم ہر سال پراپرٹی ٹیکس، پانی کا بل دیتے ہیں بدلے میں ہمیں ٹوٹی پھوٹی سڑک اور کیچڑ ملتا ہے؟ جب ووٹ مانگنے آئیں گے تو بڑے بڑے وعدے ہوں گے آج جب ضرورت ہے تو نمائندے غائب ہیں کیا کارپوریشن کے افسران اور منتخب نمائندوں کو اس روڈ پر چلنے والے عوام کی تکلیف نظر نہیں آ رہی؟ اختر آباد کی عوام کا کارپوریشن اور کارپوریٹر اور لیڈران سے مطالبہ ہے کہ انتظامیہ سے فوری طور پر روڈ کے گھڑوں کو مورم وغیرہ سے بھرا جائے روڈ کی جلد سے جلد تعمیر کی جائے جائے۔










چناب اور جہلم کا پانی ہو جائے سرخ ، منیر نے PoK میں کرلی قتل عام کی تیاری ، خفیہ رپورٹ میں دعویٰ
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری عوامی احتجاج اب بے قابو ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس نے پاکستانی حکومت بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بے چین کر دیا ہے۔ 5 جون سے پاکستانی فوج ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔ پولیس اور فوج کی بربریت سے اب تک 24 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب فوج کا منصوبہ انتہائی خطرناک ہے۔ منیر کی ایکشن بریگیڈ نے دریائے چناب اور جہلم کو خون سے سرخ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے ذریعے حاصل کردہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق عاصم منیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے رہنماؤں کو اپنے لیے کانٹا سمجھتے ہیں۔ چنانچہ وہ تحریک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اس اعلیٰ قیادت کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں ۔ JAAC پاکستانی نظام کے خلاف PoK کے لوگوں کی جانب سے سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ مہنگائی، سیاسی امتیاز، اقلیتوں کے خلاف مظالم اور انتظامی نظر اندازی جیسے مسائل کو حل کرنے والی یہ تحریک مسلسل زور پکڑ رہی ہے اور بین الاقوامی سرخیاں حاصل کرنے لگی ہے۔ یہی بات عاصم منیر کے درد کی وجہ بن رہی ہے۔منیر احتجاج سے پریشان

JAAC رہنما بار بار کی وارننگ اور دھمکیوں کے باوجود پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ وہ پاکستانی حکومت پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ JAAC کے کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہ کرے۔ منیر خود بھی اس معاملے سے کافی پریشان ہیں، کیونکہ یہ بین الاقوامی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ جب کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ PoK میں سب کچھ نارمل ہے۔

JAAC کی اعلیٰ قیادت کو ختم کرنے کا منصوبہ

گزشتہ ملاقاتوں میں منیر نے سیکورٹی فورسز کو تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنے کی سخت ہدایات دی تھیں۔ اب، انٹیلی جنس یہ بھی بتارہی ہیں کہ پورے معاملے کو ختم کرنے کے لیے JAAC کے سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور مارنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ پاکستانی فوج پہلے بھی ایسا کر چکی ہے اور اس بار بھی کشمیریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ JAAC لیڈر اس خطرے سے بخوبی واقف ہیں۔ ایسے میں انہوں نے عوام سے جذباتی اپیل کی ہے کہ تمام رہنما مارے جائیں تب بھی تحریک نہیں رکنی چاہیے۔










برطانیہ کے ساتھ ہندوستان کا بڑا داو! پاکستان کے 38 ملین ڈالر کے ایکسپورٹ پر چھایا خطرہ
برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) آج 15 جولائی سے نافذ ہو گیا ہے۔ اس سے ہندوستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بڑا فائدہ ملنے کی امید ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کی 1,143 ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات اب برطانیہ کی مارکیٹ میں بغیر کسی ڈیوٹی کے پہنچ سکیں گی۔ پہلے ہندوستانی برآمد کنندگان کو 12 فیصد تک ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی تھی، جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کو پہلے ہی ڈیوٹی فری سہولت حاصل تھی۔ اب ہندوستان کو بھی یہی فائدہ ملنے سے مارکیٹ میں مقابلے کی صورتحال بدل سکتی ہے۔

کئی مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا اثر صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی برآمدات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل، ہوم ٹیکسٹائل اور چاول جیسے شعبوں میں ہندوستان کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے کا امکان ہے۔برطانیہ کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مارکیٹ تقریباً 28.8 ارب ڈالر کی ہے، جبکہ ہندوستان کی عالمی ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 37 ارب ڈالر ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ہندوستانی کمپنیاں بہتر معیار، بروقت سپلائی اور مسابقتی قیمت برقرار رکھتی ہیں تو ہندوستان برطانیہ کی مارکیٹ میں اپنا حصہ تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔

Tuesday, 14 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

اسپین کی سیمی فائنل میں انٹری سے میسی، ہیری کین اور ایمباپے کی راہ مشکل، کہ ماضی کا ریکارڈ بھی اس بار اسپین کے حق
نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اسپین نے بیلجیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ 2010 کے بعد پہلی مرتبہ آخری چار ٹیموں میں پہنچنے والی اسپین کی ٹیم شاندار فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔ موجودہ یورپی چیمپئن اسپین کو اب ٹائٹل جیتنے کا مضبوط ترین امیدوار قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث لیونل میسی، ہیری کین اور کیلیان ایمباپے جیسے عالمی ستاروں کے لیے بھی راستہ آسان نہیں رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی کا ریکارڈ بھی اس بار اسپین کے حق میں نظر آ رہا ہے۔اسپین کی کامیابی میں نوجوان کھلاڑیوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ 19 سالہ اسٹار فارورڈ لامین یامال پورے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے خلاف فتح کے بعد انہوں نے فرانس کو براہ راست چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ “اسپین کسی سے نہیں ڈرتا، اگر کسی کو ڈرنا چاہیے تو وہ فرانس ہے۔”

یامال کے علاوہ پیڈری اور روڈری جیسے مڈفیلڈر بھی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے خلاف اسپین نے 58 فیصد بال پوزیشن اپنے پاس رکھی اور پورے میچ میں کھیل پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، جس سے ٹیم کی حکمت عملی اور نظم و ضبط واضح طور پر نظر آیا۔اسپین کی مضبوط دفاعی لائن بھی اس کی بڑی طاقت بن کر سامنے آئی ہے۔ بیلجیم کے خلاف کوارٹر فائنل میں گول کھانے سے قبل اسپین نے پورے ٹورنامنٹ میں ایک بھی گول نہیں کھایا تھا۔ چھ میچوں میں صرف ایک گول کھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسپین کے دفاع کو توڑنا کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں۔صرف ابتدائی الیون ہی نہیں بلکہ اسپین کی بینچ اسٹرینتھ بھی متاثر کن رہی ہے۔ میکل میرینو نے پری کوارٹر فائنل اور کوارٹر فائنل دونوں میں بطور متبادل میدان میں آکر فیصلہ کن گول کیے، جس سے ٹیم کی گہرائی اور متبادل کھلاڑیوں کی صلاحیت بھی نمایاں ہوئی۔

سیمی فائنل میں اسپین کا مقابلہ فرانس سے ہوگا۔ حالیہ ریکارڈ اسپین کے حق میں ہے۔ یورو 2024 کے سیمی فائنل میں اسپین نے فرانس کو 1-2 سے شکست دی تھی، جب کہ نیشنز لیگ 2025 کے سیمی فائنل میں بھی 4-5 سے کامیابی حاصل کی تھی۔تاریخ بھی اسپین کے لیے نیک شگون سمجھی جا رہی ہے۔ 2010 میں اسپین پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا تھا اور اسی سال پہلی مرتبہ عالمی کپ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی اسپین کی سیمی فائنل میں رسائی صرف فرانس ہی نہیں بلکہ ارجنٹینا، انگلینڈ اور دیگر مضبوط ٹیموں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔










یمن کے صنعاء ہوائی اڈے پر بمباری کے بعد حوثیوں کا سعودی کے ابہا ایئرپورٹ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ
قاہرہ: یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا کہ پیر کو صنعاء ہوائی اڈے پر سعودی عرب کی فضائی بمباری کے جواب میں انہوں نے سعودی کے ابہا ہوائی اڈے کو میزائل اور ڈرون سے سے نشانہ بنایا۔

تاحال ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ سعودی عرب کے حکام نے یمن میں فضائی حملوں کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو بیان میں ایئر لائنز کو سعودی فضائی حدود سے پرواز کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان وارننگز کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی تب تک سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں ہیں۔

اس سے قبل یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ صنعا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقصد وہاں ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنا تھا۔

یمن کے صنعا میں فضائی حملوں کے بعد حوثیوں نے اس کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ ان واقعات سے کچھ سال نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان پہلی بار بڑے کشیدگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔سلامتی کونسل کا اظہار تشویش

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کی سہ پہر اس پیش رفت پر ایک ہنگامی اجلاس میں طلب کیا جس میں حکام نے وسیع پیمانے پر بڑھنے کے خطرے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور خالد خیری نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ یمن اور یہ پورا وسیع خطہ کشیدگی کے ایک اور دور کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ "ہم تمام فریقوں سے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات میں تعمیری طور پر شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

حوثی ترجمان ساری نے پیر کے روز ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے فضائی حملے شروع کیے جس کو انہوں نے "کشیدگی کم کرنے" کے دور کا خاتمہ قرار دیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ "اس جارحیت کا جواب دیا جائے گا اور اس کی سزا دی جائے گی۔"

ٹیلیگرام کی تازہ ترین اپڈیٹ میں، ساری نے کہا کہ صنعاء میں ہونے والے حملوں کا مقصد "صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انسانی بنیادوں پر مریضوں اور پھنسے ہوئے افراد کو لے جانے والی پروازوں کے لیے بند کرنا تھا۔"

سعودی زیرقیادت اتحاد شمال میں حوثیوں کے خلاف محاذ آرا

قابل ذکر ہے کہ یمن کی خانہ جنگی سال 2014 میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا اور منظور شدہ حکومت کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں متحدہ عرب امارات سمیت سعودی زیرقیادت اتحاد نے حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے اگلے سال مداخلت کی۔

رواں سال کے شروع میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کی جنگ میں برسوں سے جاری شراکت داری ٹوٹنے کے بعد کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں یو اے ای یمن سے نکل گیا۔

حالیہ دنوں میں یمن میں حوثیوں کے خلاف مقامی سنی قبائلیوں کا اتحاد ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے اور کئی ایک مقامات پر حوثی جنگجوؤں کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

سعودی عرب کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی زیرقیادت اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے پیر کی شام کو ایکس پر فضائی حملوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی کے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ اس ماہ کے شروع میں دونوں فریق کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب حوثیوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی طیاروں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے گئے حوثی وفد کو واپس لا رہے ایرانی طیارے کو یمن میں لینڈ ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔خامنہ ای کے جنازے میں گئے حوثی وفد کی پرواز کو روکنے کا الزام

یمن کے وزیر دفاع، جنرل طاہر العقیلی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پیر کو ہوائی اڈے کے رن وے پر ایک ایرانی طیارے کو نشانہ بنایا گیا جو حوثی وفد کو خامنہ ای کے جنازے سے واپس لا رہا تھا۔ حملوں سے کچھ دیر پہلے جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں العقیلی نے ایرانی طیاروں اور یمنی فضائی حدود میں دراندازی کے خلاف خبردار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق، ہم اس غداری اور وحشیانہ اقدام کا مناسب جواب دیں گے، اور ہم تمام دستیاب ذرائع سے یمن کی فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے دشمن طیاروں کا مقابلہ کریں گے اور ان سے نمٹیں گے۔"

حوثیوں کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد ایرانی طیارے کا رخ حدیدہ ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا تھا، جہاں اس نے لینڈنگ کیا۔ حوثیوں کے زیر کنٹرول المسیرہ نشریاتی ادارے کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک میزائل صنعا کے ہوائی اڈے کے رن وے سے ٹکرا رہا ہے جس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے۔

وہیں جنوبی یمن میں قائم سعودی حامی منظور شدہ حکومت 'صدارتی لیڈرشپ کونسل' نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ یمن کے تمام ہوائی اڈوں کو "فوری طور پر، اگلی نوٹس تک بند کر دیا گیا ہے۔" یمنی وزارت دفاع نے ہوائی اڈے اور آس پاس کے علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

صدارتی لیڈرشپ کونسل کی سربراہی کرنے والے رشاد العلیمی نے کہا کہ ایران نے حوثی وفد کی واپسی کے لیے ایرانی ایئرلائن ماہان ایئر کی تہران سے صنعا کے لیے پرواز چلانے کی درخواست کی تھی۔ کونسل نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے ایرانی پرواز کی لینڈنگ کرانے پر اصرار کیا جو کہ شہری ہوا بازی کو کنٹرول کرنے والے قانونی اور خودمختار فریم ورک سے باہر ہے"۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا دفتر یمن کی فضائی حدود میں ہونے والی پیش رفت پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے وسیع تر کشیدگی کے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقوں سے بات چیت میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔

(ایجنسی ان پٹ معمولی ترمیم کے ساتھ)











صحت مند زندگی کے لیے ’8، 8 اور 8‘ کا اصول کیا ہے؟
اگر آپ اپنی روزمرہ زندگی میں توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ماہرین صحت کے مطابق ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ کا اصول‘ ایک مؤثر رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
اس اصول کے تحت 24 گھنٹوں کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پورے دن میں آٹھ گھنٹے نیند، آٹھ گھنٹے کام اور آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، جس میں ورزش، متوازن غذا، آرام، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور مشاغل شامل ہیں۔
انڈیا کے ’فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ سے منسلک سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر امیتابھ پارتی کے مطابق ’یہ اصول صحت مند زندگی کے لیے ایک مفید رہنما ہے، تاہم اسے ہر فرد کو اپنی عمر، صحت، پیشے اور طرزِ زندگی کے مطابق اپنانا چاہیے۔‘ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معمول کا سب سے اہم حصہ مناسب نیند ہے۔ آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند جسم کو خود کو بحال کرنے، مدافعتی نظام مضبوط بنانے، ہارمونز کو متوازن رکھنے اور دماغی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ناکافی نیند موٹاپے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور ڈپریشن کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’صرف آٹھ گھنٹے سونا کافی نہیں بلکہ صحیح وقت پر سونا اور جاگنا بھی ضروری ہے۔‘
ماہرین کے مطابق روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنے کی حد مقرر کرنا بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ طویل اوقات تک مسلسل کام ذہنی دباؤ، ہائی بلڈ پریشر، بے چینی اور جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز، ایمرجنسی سروسز اور شفٹوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے مقررہ اوقات پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کے لیے مناسب آرام اور جسمانی بحالی زیادہ اہم ہے۔
دن کے آخری آٹھ گھنٹے جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے استعمال کیے جانے چاہییں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس وقت میں ورزش، متوازن غذا، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت، مطالعہ، مشاغل، مراقبہ، سماجی روابط اور کھلی فضا میں سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’ہر فرد کو اپنی صحت کے مطابق ان سرگرمیوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ‘ کا اصول کوئی سخت فارمولا یا جادوئی نسخہ نہیں بلکہ متوازن زندگی گزارنے کی یاد دہانی ہے۔ صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور طبی معائنہ بھی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
ان کے مطابق اصل کامیابی کسی اور کے معمول کی نقل کرنے میں نہیں بلکہ اپنی ضروریات کے مطابق ایسا متوازن معمول اپنانے میں ہے جس پر مستقل مزاجی سے عمل کیا جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

آبنائے ہرمز میں مزید 2 ٹینکروں پر حملہ، ہندوستانی کرو ممبر کی موت، 8 دیگر زخمی
ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں خونی کھیل جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک بار پھر دو آئل ٹینکروں پر حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں عملے میں شامل ایک ہندوستانی رکن کی موت ہو گئی، جبکہ آٹھ دیگر زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ زخمی عملے کے ارکان میں چھ ہندوستانی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔ ان میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس دوران امریکہ بھی آبنائے ہرمز میں اپنا دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل حملے کر رہا ہے۔ دو دن پہلے بھی ہندوستانی ملاحوں والے ایک جہاز پر حملہ ہوا تھا، جس میں ایک ہندوستانی ملاح لاپتہ ہو گیا تھا، جبکہ 10 دیگر نے سمندر میں چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی تھی۔

آئل ٹینکروں پر حملہ آبنائے ہرمز کے عمان کے زیرِ انتظام حصے میں ہوا۔ یہ ٹینکر متحدہ عرب امارات کے تھے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ اس حملے میں ایک عملے کے رکن کی جان گئی۔ یو اے ای کے ٹینکروں پر ہندوستانی ملاح تعینات تھے۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق قومی آئل ٹینکر “ممباسا” اور “البحیۃ” کو ایران کی دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ حملہ عمان کے سمندری علاقے میں آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں کیا گیا۔ میزائل لگتے ہی دونوں ٹینکروں میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ سے جہازوں کو کافی نقصان پہنچا، تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ دونوں ٹینکروں کو فی الحال محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ “ممباسا” پر تعینات عملے میں شامل ایک ہندوستانی رکن کی جان چلی گئی۔ تمام زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ مرنے والے ہندوستانی ملاح کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔ متحدہ عرب امارات نے اس حملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ ملک اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسے اس حملے کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے، اور اپنے شہریوں، سرزمین اور سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

دوسری جانب امریکہ نے بھی ایران کے خلاف اپنے حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی میڈیا نے بندر عباس، کیش، قشم اور ابو موسیٰ جزیرے پر دھماکوں کی اطلاعات دیں۔ ان علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں سے پہلے ہی اس کا عندیہ دے دیا تھا۔ انہوں نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ ایران پر انتہائی شدید حملہ کرے گا۔ اس کے بعد امریکی فوج نے نئی کارروائی شروع کر دی۔ امریکہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرے گا۔ یہ ناکہ بندی منگل کی شام امریکی وقت کے مطابق نافذ کی جائے گی۔









کرناٹک میں پکڑے گئے دو پاکستانی شہری... آخر کس نے بنائے ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ؟
کرناٹک کے ضلع چکبالاپور سے ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی پاکستانی شہریت چھپا کر غیر قانونی طریقے سے راشن کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ (Voter ID) حاصل کر لیے تھے۔ اس گرفتاری نے پوری ریاست میں سیکورٹی اور سرکاری دستاویزات کی جانچ کو لے کر ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔

پورا معاملہ کیا ہے؟
گرفتار کیے گئے ملزمین کی شناخت فرح ناز اور ان کے بیٹے محمد فردین کے طور پر ہوئی ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ باگے پلی کے رہنے والے محمد ایوب خان نے متحدہ عرب امارات (UAE) میں پاکستانی شہری فرح ناز سے شادی کی تھی۔ دونوں کے چار بچے ہیں۔ ان میں سے محمد فردین کی پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی۔ اس طرح فرح ناز اور فردین پاکستانی شہری ہیں، جبکہ ایوب خان ہندوستانی شہری ہیں۔ یہ خاندان کافی عرصے سے باگے پلی میں رہ رہا تھا۔شکایت کس نے کی؟
تحصیلدار منیشا این پاتری کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے فرح ناز اور محمد فردین کے خلاف بھارتیہ نیا ئے سنہتا (BNS)، فارنرز ایکٹ (Foreigners Act) اور عوامی نمائندگی ایکٹ (Representation of the People Act) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

انکشاف کیسے ہوا؟
اطلاع ملنے پر چکبالاپور پولیس چوکس ہو گئی۔ پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دستاویزات کی جانچ کی۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی ریکارڈ کی تصدیق کی۔ تحقیقات میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ فرح ناز اور ان کے بیٹے نے اپنی قومیت چھپا کر سرکاری دستاویزات بنوا لیے تھے۔

دھوکہ دہی سامنے آتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کی۔ اس کے بعد دونوں کے راشن کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ منسوخ کر دیے گئے۔ پولیس اب اس بات کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے کہ آخر اتنے حساس سرکاری دستاویزات انہیں کیسے جاری کیے گئے؟ کیا اس عمل میں کسی مقامی افسر یا کسی دلال کی ملی بھگت تھی؟ پولیس پورے نیٹ ورک کی چھان بین کر رہی ہے۔

سیاسی حلقوں میں بحث تیز
یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کرناٹک میں “مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ” (PRC) جاری کرنے کے اختیار کو لے کر سیاسی کشمکش جاری ہے۔ کرناٹک حکومت نے تحصیلداروں کو پی آر سی جاری کرنے کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے غیر قانونی دراندازوں کو سرکاری دستاویزات ملنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔دوسری جانب، اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے سی این این-نیوز 18 کو بتایا تھا کہ پی آر سی صرف تمام ضروری دستاویزات اور شناخت کی مکمل جانچ کے بعد ہی جاری کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام سے حکومت کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کرنے اور ان پر بہتر نگرانی رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔










انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں بھارت کے پانچوں طلبہ نے جیتے گولڈ میڈل، امت شاہ نے دی مبارکباد
نئی دہلی: بھارت نے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی سائنسی صلاحیتوں کا لوہا منوا دیا۔ کولمبیا کے شہر بوکارامانگا میں 4 سے 12 جولائی 2026 تک منعقدہ اس باوقار مقابلے میں بھارتی ٹیم کے پانچوں طلبہ نے گولڈ میڈل حاصل کیے، جس کے بعد بھارت نے چین، قازقستان، روس، جنوبی کوریا اور تائیوان کے ساتھ مشترکہ طور پر عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔اس مقابلے میں دنیا کے 87 ممالک کے 381 طلبہ نے حصہ لیا، جہاں بھارتی طلبہ نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ اس تاریخی کامیابی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی نوجوان صلاحیتیں سونے کی طرح چمک رہی ہیں۔

امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں لکھا، “56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں گولڈ میڈل جیتنے پر کنشک جین، ردھیش اننت بیندلے، رشیت گرگ، شریشٹھ سوریا اور سورت جوشی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ آپ کی کامیابی نہ صرف آپ کی محنت اور صلاحیت کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ بھارت کے نوجوان سائنس کے میدان میں دنیا کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔”بھارت کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والے طلبہ میں مہاراشٹر کے پونے سے کنشک جین، مدھیہ پردیش کے اندور سے ردھیش اننت بیندلے، نئی دہلی کے دوارکا سے رشیت گرگ، ممبئی سے شریشٹھ سوریا اور گجرات کے احمد آباد سے سورت جوشی شامل ہیں۔ ان پانچوں طلبہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو عالمی سطح پر سرفہرست مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بھارتی ٹیم کی تیاری ہومی بھابھا سینٹر فار سائنس ایجوکیشن (HBCSE) نے کرائی، جو ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ (TIFR) کے تحت قومی اولمپیاڈ پروگرام کا حصہ ہے۔ ٹیم کی رہنمائی پروفیسر انویش مجمدار اور ڈاکٹر لینا جوشی نے کی، جبکہ سائنسی مبصرین کے طور پر پروفیسر آنند داس گپتا اور نشا کیلکر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بھارت نے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں پانچوں طلائی تمغے اپنے نام کیے ہیں۔ اس سے قبل 2018 میں بھی بھارتی ٹیم نے یہی کارنامہ انجام دیا تھا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے تمام شرکاء مسلسل تمغے جیتتے آ رہے ہیں، جن میں تقریباً 62 فیصد طلائی اور 38 فیصد چاندی کے تمغے شامل ہیں۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر سائنس اور تحقیق کے میدان میں بھارت کی مضبوط ہوتی ہوئی پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے۔

Friday, 10 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے…..جگرمراد آبادی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جگر مراد آبادی اردو شاعری کے ان شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل کو محض فنی اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ بنا دیا۔ ان کا اصل نام علی سکندر تھا، مگر اردو دنیا انہیں ان کے تخلص جگر کے ذریعے ہی جانتی اور پہچانتی ہے۔ وہ 6 اپریل 1890 کو مراد آباد، اترپردیش میں پیدا ہوئے اور 9 ستمبر 1960 کو گونڈہ میں وفات پا گئے۔

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے

سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

جگرمرادآبادیؔجگر کی شاعری میں تغزل، نغمگی، اور ترنم کا ایک دلنشین امتزاج ملتا ہے۔ وہ کلاسیکی روایت کے پاسدار ضرور تھے، لیکن ان کی غزلوں میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا بھی محسوس ہوتا ہے جو انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز بناتا ہے۔ ان کا اندازِ بیان نہایت نرم، سلیس اور پر اثر ہوتا تھا، جو دل میں اُترتا چلا جاتا ہے۔

ان کی شاعری کا مجموعہ شعلۂ طور اردو ادب میں خاص مقام رکھتا ہے۔ اسی تخلیقی گہرائی اور تاثیر کے اعتراف میں 1958 میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جگر نہ صرف ایک قادر الکلام شاعر تھے بلکہ ایک متاثر کن شخصیت بھی، جن کے کئی شاگرد اردو دنیا میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئے، جن میں راز مراد آبادی کا نام نمایاں ہے۔ جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔










بیلجیئم کو 2-1 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا اسپین
نئی دہلی :فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں اسپین نے بیلجیئم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2-1 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس کامیابی کے ساتھ اسپین نے ٹائٹل کی دوڑ میں اپنی مضبوط دعویداری برقرار رکھی، جب کہ بیلجیئم کا ورلڈ کپ کا سفر اختتام پذیر ہو گیا۔ میچ کے دوران نوجوان اسٹار لامین یامال نے متعدد خطرناک حملے کیے اور کئی مواقع پیدا کیے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔اسپین نے میچ کا پہلا گول 30ویں منٹ میں فابیان روئز کے ذریعے کیا۔ دانی اولمو کی جانب سے لگائی گئی شاٹ کو بیلجیئم کے گول کیپر نے ڈائیو لگا کر روک لیا، لیکن گیند ان کے ہاتھ سے ٹکرا کر سامنے آ گئی۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فابیان روئز نے تیزی سے آگے بڑھ کر گیند کو جال میں پہنچا دیا اور اسپین کو 1-0 کی برتری دلا دی۔

بیلجیئم نے 41ویں منٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ دائیں جانب سے کیے گئے کراس پر اسٹرائیکر چارلس ڈی کیٹیلیرے نے زبردست ہیڈر کے ذریعے گیند کو گول پوسٹ میں پہنچایا۔ اس گول کے ساتھ بیلجیئم اس ورلڈ کپ میں اسپین کے خلاف گول کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔ اس سے قبل ٹورنامنٹ میں کوئی بھی ٹیم اسپین کے دفاع کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز رہے۔ مقررہ وقت ختم ہونے میں صرف دو منٹ باقی تھے اور اضافی وقت ملنے والا تھا کہ اسپین نے فیصلہ کن حملہ کیا۔

اسپین کے ایک مڈفیلڈر نے دور سے شاٹ لگائی جسے بیلجیئم کے گول کیپر آسانی سے روک سکتے تھے، لیکن وہ گیند پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکے۔ گیند ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر سامنے آ گئی، جس پر متبادل کھلاڑی میکیل میرینو برق رفتاری سے پہنچے اور گیند کو گول میں ڈال کر اسپین کو 2-1 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔اس فتح کے ساتھ اسپین نے سیمی فائنل میں اپنی جگہ مستحکم کر لی، جب کہ بیلجیئم کی ٹیم بھرپور مقابلے کے باوجود ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ اسپین کی مضبوط دفاعی کارکردگی اور آخری لمحات میں کیے گئے فیصلہ کن گول نے ٹیم کو ایک اور یادگار کامیابی دلائی۔









جموں خطے میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کی پیش گوئی
جموں: (محمد اشرف گنائی) محکمۂ موسمیات نے جموں خطے میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کے پیش نظر اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ کے مطابق 11 اور 12 جولائی کو جموں ڈویژن، چناب ویلی اور پیر پنجال رینج کے متعدد علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے شدید جب کہ بعض مقامات پر انتہائی موسلادھار بارش ہونے کا امکان ہے۔

اس دوران آسمانی بجلی گرنے، اچانک سیلاب (فلیش فلڈ)، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبہ گرنے کے خطرات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق ہفتہ 11 جولائی کی صبح سے جموں میں موسم کا رخ بدلنے کی توقع ہے اور علی الصبح گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جو دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 35 ڈگری سینٹی گریڈ جب کہ کم سے کم 25 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 11 اور 12 جولائی کے دوران چناب ویلی اور پیر پنجال کے حساس علاقوں میں شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں سطح آب اچانک بلند ہو سکتی ہے۔
محکمہ نے مزید بتایا کہ 13 سے 16 جولائی تک جموں ڈویژن میں گرمی اور حبس برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم بعض مقامات پر ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ 17 سے 19 جولائی کے درمیان بارش کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جس کے دوران کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران پہاڑی علاقوں، چناب ویلی اور پیر پنجال رینج کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی کھڈوں سے دور رہیں، گرج چمک کے دوران کھلے میدانوں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے نیچے کھڑے نہ ہوں، جب کہ کسان فصلوں اور نکاسیٔ آب کے مناسب انتظامات کو یقینی بنائیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر گاڑی چلانے والوں کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایس ڈی آر ایف اور متعلقہ محکموں کی ٹیمیں الرٹ پر ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

سکرین ٹائم اور سکرولنگ، نوجوانوں میں نیند کی کمی سے جُڑے صحت کے مسائل نوجوانی کے دوران جسم میں نمایاں جسمانی، جذباتی...