Friday, 4 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مصر میں پیش آیا المناک حادثہ، بس پلٹنے سے 16 افراد جاں بحق، 28 زخمی*
قاہرہ: مصر کے جنوبی سینائی صوبے میں بدھ کے روز ایک بس پلٹنے کے حادثے میں 16 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوگئے۔ مقامی میڈیا نے مصر کی وزارت صحت و آبادی کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ ’ایجپٹ ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ السعدہ علاقے سے پہلے اس وقت پیش آیا جب بس دہاب-نویبعہ روٹ سے نویبعہ کی جانب جا رہی تھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی 20 ایمبولینسیں موقع پر روانہ کی گئیں۔ ایمبولینس عملے نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کیا۔

مصر کے وزیر صحت خالد عبدالغفار نے حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ وہیں، وزیر سماجی یکجہتی مایا مرسی نے حادثے سے متاثرہ افراد کے لیے فوری امدادی سامان اور ضروری مدد فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

مصر میں سڑک حادثات کا سلسلہ تشویشناک

مصر میں سڑک حادثات کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ اگست میں اسماعیلیہ صوبے میں مزدوروں کو لے جانے والی دو گاڑیوں کے درمیان تصادم میں 18 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے تھے۔ ’اہرام آن لائن‘ کے مطابق، یہ حادثہ الشباب بجلی گھر کے قریب الدواویس لنک روڈ پر پیش آیا تھا۔ حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز اور ایمبولینس ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں۔ زخمیوں کو علاج کے لیے قصاصین سینٹرل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کردی تھیں۔

2025 میں 5,829 افراد سڑک حادثات میں ہلاک

مصر میں سڑکوں کی حفاظت ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔ مرکزی ادارہ برائے عوامی نقل و حرکت و اعداد و شمار (CAPMAS) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کی تعداد 10.8 فیصد بڑھ کر 5,829 ہوگئی۔ اسی مدت کے دوران سڑک حادثات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 10.7 فیصد اضافے کے ساتھ 84,553 تک پہنچ گئی۔

15 سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی زیادہ

اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں 15 سال سے کم عمر بچوں میں سڑک حادثات کے باعث سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اس عمر کے 1,580 بچوں کی موت ہوئی، جبکہ 29,101 بچے زخمی ہوئے۔ جنوبی سینائی میں پیش آنے والے تازہ حادثے نے مصر میں سڑکوں کی حفاظت، ٹریفک قوانین کی پابندی اور حادثات کی روک تھام کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑چچا چھپن.... ڈاکٹر مبین نذیر*
آپ نے نہیں تو آپ کے ممی پاپا نے چچا چھکن کے کارنامے ضرور پڑھے اور سنے ہوں گے ۔ کبھی موبائل سے فرصت ملے تو ان کے کارنامے ضرور سننا ۔ چچا چھکن اب رہے نہیں لیکن ان کی وراثت ان کے قابل بھتیجے چچا چھپن سنبھالے ہوئے ہیں ۔چچا چھکن کے بعد اگر کسی نے خاندان کی عزت بچائی ہے تو وہ ہمارے چچا چھپن ہیں ۔
چچا چھکن کی طرح چچا چھپن کا اصل نام بھی ان کے کارناموں کے نیچے اتنا دب دیا گیا کہ خود انھیں بھی اپنا نام یاد نہیں رہتا ۔ وہ پانچ بہنوں اور چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ ایک مرتبہ اسکول میں خاندانی معلومات کا فارم بھر کر لانے کے لیے دیا گیا تو چچا پانچ کے آگے چھ لکھ کر لے آئے ۔ ٹیچر نے چھپن کا عدد دیکھا تو حیرت سے پوچھا کہ
چھپن بھائی بہن ؟
نہیں، پانچ بہن اور چھ بھائی...
اتنا کہنا تھا کہ پوری کلاس قہقہوں سے گونج اٹھی ۔ اسی دن سے ان کا نام چھپن پڑ گیا ۔ کلاس تو کلاس، محلے میں بھی وہ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ چونکہ چچا چھکن کے بھتیجے تھے، اس لیے اپنے چچا کے ہم وزن نام کو خوش دلی سے قبول کر لیا ۔ کچھ اور بڑے ہوئے تو چچا چھپن کہلانے لگے اور ہر معاملے میں چھپن کو مقدم کرکے دکھا دیا ۔
چچا نے بہت کوشش کی کہ نکاح بھی چھپن تاریخ کو ہی کریں اور کسی چھپن سالہ دوشیزہ سے کریں مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا تو پانچ جون کو چچی کو ہی قبول کر لیا ۔بائک خریدی تو اس لکی نمبر کے لیے زائد پیسے ادا کیے ۔ موبائل نمبر بھی ایسا پسند کیا جو موبائل نمبر کم اور چھپن کی سیریز زیادہ معلوم ہوتا تھا ۔ ورزش شروع کی تاکہ سینہ چھپن انچ کا ہوسکے ۔ سینہ تو چھپن انچ کا نہیں ہوسکا البتہ وزن کم ہوکر چھپن کلو رہ گیا ۔وزن میں کمی بیشی نہ ہو اس لیے چچا ترازو لے آئے اور صبح شام وزن چیک کرنے لگے۔
جس دن وزن کم یا زیادہ ہوتا اس دن چچا کا پارہ چڑھ جاتا اور چچی سمیت بچوں کی شامت آجاتی ۔ کبھی وزن بڑھانے کے لئے ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں تو کبھی وزن کم کرنے کے لیے حکیم صاحب کے یہاں چکر لگارہے ہیں ۔ وزن کے چکر میں کمزوری بڑھنے لگی تو مزاج میں چڑ چڑا پن آگیا ۔ معمولی باتوں پر ان کا پارہ چھپن ڈگری اوپر چلا جاتا تو دوسرے ہی پل اتنا ہی نیچے جانے کے لیے بے تاب ہوجاتا ۔ مزاج اور یادداشت کے معاملے میں وہ چچا چھکن سے دو قدم آگے تھے ۔
اپنے جڑواں بچوں جمن اور اچھن کی بائک لینے کے لیے گھر سے نکلے اور دونوں کو لے کر سائیکل کی دکان پر پہنچ گئے ۔ بچوں کے یاد دلانے پر شوروم پہنچے تو بچوں کو نئی بائک دلادی لیکن گاڑی کے رجسٹریشن کے لیے خود تشریف لے گئے اور چھپن چھپن نمبر کے لیے زائد رقم ادا کی ۔
جب بچوں نے وہی گھسا پٹا نمبر دیکھا تو ناک بھوں سکوڑے ۔کیوں کہ کالج میں دوست انھیں اس خاص نمبر کے اہتمام کی وجہ سے تنگ کرتے تھے ۔ چچا چھپن نے اعلان کر دیا کہ گاڑی کا نمبرپسند نہیں ہے تو پیدل ہی کالج جائیں ۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق جمن اور اچھن نے بائک تو لے لی لیکن نمبر پلیٹ اس طرح بنوائی کہ چھپن بڑے غور سے دیکھنے پر دکھائی دیتا تھا ۔
چچا کو ترکہ ملا تو چچا چھپن نے پلاٹ خریدنے کی ٹھانی ۔ سارا کنبہ پلاٹ دیکھنے گیا مگر چچا کی نگاہ میں پلاٹ کے محل وقوع سے زیادہ اہمیت اس کے نمبر کی تھی۔ چچی اور بچوں کو لب ِ سڑک کا پلاٹ پسند آیا تو چچا نے نشیب میں واقع اپنے پسندیدہ نمبر کا پلاٹ پسند کیا ۔ چچی کا پسند فرمودہ پلاٹ کارنر کا پلاٹ تھا ۔لیکن چھپن کے کرشماتی نمبر کی وجہ سے چچا نے آخری پلاٹ کا سودا کرلیا ۔ جہاں ہر وقت بارش کا پانی اور گندگی جمع رہتی تھی ۔ چچا نے اس کی یہ فضیلت بیان کی کہ گندگی اور کیچڑ کی وجہ سے کوئی اس پلاٹ پر ناجائز قبضہ نہیں کرسکے گا اور نہ ہی کوئی ایسا پلاٹ خریدے گا اور ہم اسٹیٹ بروکرس کی دھوکہ دہی سے محفوظ رہیں گے ۔ چچا کی اس منطق پر اسٹیٹ بروکر جو اس پلاٹ کو دکھا رہا تھا ، صدمے کی وجہ سے گرتے گرتے بچا اور گھر والے مسکرا کر رہ گئے ۔ چچی کے دماغ پر بھی چھپن کا عدد کچھ اس طرح سے سوار تھا کہ وہ کبھی کبھی بے خیالی میں اچھن کے ابا کی بجائے چھپن کے ابا پکار اٹھتی تھیں اور چچا بجائے ناراض ہونے کے کھل اٹھتے تھے ۔ البتہ چچی چچا کے اس محبوب نمبر کو اپنی سوتن سمجھتی تھیں ۔ چچا کی چھپن دوستی پر کڑھ کر کہہ اٹھتیں، "آپ کو مجھ سے زیادہ تو یہ چھپن عزیز ہے۔
چچا مسکرا کر کہتے ، نہیں بیگم، ایسا نہیں ہے ۔ تم میری محبت ہو اور چھپن میری عقیدت اور چچی شرما کر رہ جاتیں ۔
جمن اور اچھن میں سے جس کو امتحان میں چھپن مارکس ملتے تھے چچا اسے زیادہ انعام دیتے تھے ۔ دونوں بھائیوں نے چچا سے پیسے اینٹھنے کا یہ طریقہ دھونڈ نکالا کہ جو چیز پسند آجاتی، اس کی قیمت چھپن روپے بتاتے اور چچا موم ہوجاتے ۔ البتہ چچا کا ساری زندگی یہ معمول رہا کہ مغرب کی اذان کے بعد کسی کو ایک روپیہ بھی نہیں دیتے تھے ۔ بچے بھی مغرب سے پہلے ہی وصولی کر لیتے تھے ۔
چچا چھپن کے کارناموں کی تعداد بھی چھپن ہے ۔ چھپن کارناموں کے بعد چچا نے کارناموں سے توبہ کرلی تاکہ یہ نمبر کہیں کھو نہ جائے ۔اگر ہم چچا چھپن کے چھپن کارناموں کو گنوانے بیٹھیں تو چھپن دفتر درکار ہوں گے ۔ اگر چچا چھکن زندہ ہوتے تو یقیناً اپنے بھتیجے کے کارناموں کو دیکھ کر یہی کہتے کہ تم نے نہ صرف ہمارے نام بلکہ کام کی بھی لاج رکھ لی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭







*🛑بہتر بلڈ پریشر کنٹرول کے لیے صرف نمک کم نہ کریں، پوٹاشیم بھی بڑھائیں*
ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے عام طور پر نمک یعنی سوڈیم کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق کے مطابق خوراک میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانا بھی بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیکل نیوز ٹوڈے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سوڈیم کے بجائے پوٹاشیم اور سوڈیم کا تناسب دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا زیادہ بہتر اشارہ ہو سکتا ہے۔
دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلڈ پریشر کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کے لیے سوڈیم کم کرنے کے ساتھ پوٹاشیم بڑھانا چاہیے۔
زیادہ تر امریکی روزانہ تقریباً 3,400 ملی گرام سوڈیم استعمال کرتے ہیں، جو تجویز کردہ 2,300 ملی گرام سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ اس کا تقریباً 70 فیصد حصہ ریستورانوں اور پراسیس شدہ غذاؤں سے آتا ہے۔ دوسری جانب 98 فیصد سے زیادہ امریکی بالغ افراد روزانہ پوٹاشیم کی تجویز کردہ مقدار بھی پوری نہیں کرتے۔
پوٹاشیم بلڈ پریشر کے لیے کیوں اہم ہے؟
حالیہ تحقیق کے مطابق زیادہ سوڈیم کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جبکہ پوٹاشیم جسم میں سوڈیم کے اثرات کو متوازن کرنے، اضافی سوڈیم خارج کرنے اور خون کی شریانوں کو پُرسکون رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ماہر غذائیت جین ہرنانڈیز کے مطابق 2025 کی ایک تحقیق کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد اگر روزانہ تقریباً 2,000 ملی گرام اضافی پوٹاشیم لیں تو سسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 5 mmHg اور ڈائسٹولک تقریباً 3 mmHg کم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف پوٹاشیم بڑھانا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن بلڈ پریشر کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ پوٹاشیم میں اضافہ اور کم سوڈیم والی خوراک دونوں کو اپنانا ہے۔ تاہم صرف غذائی تبدیلیوں کو مکمل علاج نہیں سمجھنا چاہیے؛ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اور دیگر اقدامات بھی ضروری ہیں۔
اثر کتنی جلد ظاہر ہوتا ہے؟
پوٹاشیم بڑھانے کا اثر فوری طور پر ظاہر ہونا ضروری نہیں۔ بعض افراد میں ایک ہفتے کے اندر تبدیلی آ سکتی ہے، جبکہ بعض کو زیادہ وقت لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ادویات، عمر اور جینیاتی عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
شروع میں سوڈیم کم کرنے سے جسم میں اضافی سیال کی مقدار کم ہوتی ہے، جس سے بلڈ پریشر میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے بعد پوٹاشیم خون کی شریانوں کو پُرسکون کرنے میں مدد دیتا ہے اور ایک سے دو ہفتوں کے دوران مزید بہتری آ سکتی ہے۔ اس دوران بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے نگرانی ضروری ہے۔
روزانہ کتنا سوڈیم اور پوٹاشیم؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 2,300 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم نہیں لینا چاہیے، جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں سمیت بیشتر بالغ افراد کے لیے تقریباً 1,500 ملی گرام کا ہدف زیادہ بہتر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف اوپر سے ڈالا جانے والا نمک نہیں بلکہ ریستورانوں کے کھانے، ڈبہ بند اور منجمد غذاؤں، پیک بریڈ اور سنیکس میں موجود چھپا ہوا سوڈیم بھی ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے روزانہ 3,500 سے 5,000 ملی گرام پوٹاشیم حاصل کرنے کا ہدف تجویز کرتی ہے۔
پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں
ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں اور دالیں پوٹاشیم کے اچھے ذرائع ہیں۔ کیلے کے علاوہ درج ذیل غذائیں بھی پوٹاشیم سے بھرپور ہیں:
چھلکے سمیت درمیانے سائز کا بیک کیا ہوا آلو: 919 ملی گرام
تازہ بیک کیا ہوا سالمن: 763 ملی گرام
آدھا کپ پکی ہوئی پالک: 591 ملی گرام
ایک کپ خربوزہ: 417 ملی گرام
8 اونس دودھ: 388 ملی گرام
آدھا کپ پکی ہوئی پنٹو بینز: 373 ملی گرام
ماہرین قدرتی غذاؤں کے ذریعے پوٹاشیم حاصل کرنے کو سپلیمنٹس پر ترجیح دیتے ہیں۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
گردوں کے دائمی مرض، دل کی کمزوری یا خون میں پہلے ہی زیادہ پوٹاشیم رکھنے والے افراد کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر پوٹاشیم کی مقدار نہیں بڑھانی چاہیے۔









*🛑تحریکِ تحفظ دستور و شریعت: انصاف کی آئینی بالادستی، مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ملک گیر عوامی تحریک*
نئی دہلی: ہندوستان کا دستور تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ، عزت و وقار اور قانون کے مساوی نفاذ کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے حالات مسلسل پیدا ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ملک کے کمزور ومحروم طبقات بالخصوص مسلمان، مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر شدید دباؤ، عدم تحفظ اور امتیازی رویوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ہجومی تشدد، ماورائے قانون بلڈوزر کارروائیاں، مساجد، مدارس اور درگاہوں کو نشانہ بنانا، اوقافی املاک اور قبرستانوں پر ناجائز قبضے، مسلم نوجوانوں کی بے بنیاد مقدمات کے تحت بے جا گرفتاریاں، مذہبی آزادی میں مداخلت، یو سی سی کے ذریعہ مسلم پرسنل لا کو بے اثر بنانے کی کوششیں، وندے ماترم کے لزوم کے ذریعہ اقلیتوں کے عقائد پر ضرب لگانے کی کوششیں، نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے چھیڑ چھاڑ اور تعلیمی اداروں میں ایسے اقدامات جن سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔

ہندوستان کا آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثہ

ان سب اقدامات نے نہ صرف ملک کی ایک بڑی آبادی میں احساس عدم تحفظ کو گہرا کیا ہے بلکہ دستور ہند، قانون کی حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ صورت حال محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثے کا معاملہ ہے۔
ان ہی حالات کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملک کے انصاف پسند، جمہوریت پسند ، امن پسند اور دستور پر یقین رکھنے والے تمام طبقات، مذہبی و سماجی تنظیموں، دانشوروں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے اشتراک سے تحریک تحفظ دستور و شریعت کے عنوان سے ایک ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز کر رہا ہے۔ اس تحریک کا مقصد دستور کی بالا دستی ، قانون کی حکمرانی ، عدل و انصاف، مذہبی آزادی ، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ تحریک مجلس عمل کے ذریعے درج ذیل منصوبے کے مطابق چلائی جائے گی۔
یو سی سی کے نفاذ اور وندے ماترم کے لزوم کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا۔
ظلم و نا انصافی کے متاثرین کو قانونی، سماجی اور عوامی تعاون فراہم کرنا۔
مسلمانوں کی جان و مال ، مذہبی آزادی اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا۔
انصاف پسند افراد، تنظیموں اور سول سوسائٹی کو ایک مشتر کہ قومی پلیٹ فارم پر متحد کرنا۔
نفرت ، فرقہ واریت اور تشدد کے مقابلے میں امن، اخوت، محبت اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنا۔
پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی تحریک

یہ تحریک مکمل طور پر آئینی، جمہوری، پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی۔ تحریک کا ہر پروگرام اس انداز سے ترتیب دیا جائے گا کہ کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی ، تشدد یا امن و امان میں خلل پیدا نہ ہو، بلکہ ملک میں امن، بھائی چارے، مکالمے اور دستور پسندی کو فروغ ملے۔
1 - عوامی اجتماعات اور احتجاج

ملک کے مختلف بڑے شہروں میں آئینی و پُرامن عوامی اجتماعات اور احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن سے ممتاز علماء مختلف مذاہب کے رہنما، دانشور، سماجی و سیاسی شخصیات خطاب کریں گی۔

2۔ وہائٹ پیپر کی اشاعت (White Paper)

مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات، آئینی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر مشتمل ایک جامع وہائٹ پیپر تیار کیا جائے گا، جسے میڈیا ، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں ، عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا۔

3- قانونی رہنما کتابچہ (Legal Booklet)

غیر قانونی انہدام، بلڈوزر کارروائیوں، اوقافی املاک ، قبرستانوں، مساجد اور مدارس کے تحفظ سے متعلق قانونی حقوق، عدالتی رہنمائی اور عملی اقدامات پر مشتمل ایک جامع قانونی رہنما کتابچہ شائع کیا جائے گا۔

4 ہجومی تشدد پر جامع اعلامیہ (Mob Lynching)

ہجومی تشدد کے مسئلے پر ایک جامع اعلامیہ جاری کیا جائے گا ، جس میں قانون کی بالا دستی ، ریاست و انتظامیہ کی ذمہ داریاں، متاثرین کے قانونی حقوق اور ملکی قوانین کے مطابق جان و مال کے تحفظ کے حق کو واضح کیا جائے گا۔

5۔ چارٹر آف ڈیمانڈ Charter of Demands

ہر ریاست میں گورنر اور ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند کو ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا، جس میں آئینی حقوق کے تحفظ ، نفرت انگیز جرائم کے خاتمے، مذہبی آزادی، غیر قانونی انہدام کی روک تھام، اوقافی املاک اور مذہبی مقامات کے تحفظ اور قانون کی مساوی عملداری سے متعلق مطالبات شامل ہوں گے۔

تحریک کے ہر مرحلے پر پریس کانفرنسوں ، میڈیا بریفنگ ، ویڈیوڈا کومنٹیشن ، سوشل میڈیا مہمات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس پر مربوط ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی۔

7۔ دہلی میں عظیم الشان قومی اجتماع

تحریک کے ایک اہم مرحلے پر نئی دہلی میں ایک بڑا عوامی اجتماع و احتجاج منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک بھر سے مختلف طبقات ، مذاہب اور مکاتب فکر کے نمائندوں کو شریک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی اجتماع میں تحریک کے آئندہ مرحلے کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
ہماری اپیل

تحریک برائے تحفظ ملک وملت کسی ایک طبقے یا برادری کی تحریک نہیں، بلکہ ہندوستان کے دستور ، جمہوریت کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، قومی یکجہتی اور امن واخوت کے تحفظ کی مشترکہ قومی جدو جہد ہے۔

سول سوسائٹی کے ہر فرد کو قومی تحریک میں شریک ہونے کی دعوت

ہمیں یقین ہے کہ انصاف، محبت، مکالمہ، باہمی احترام اور آئینی جدو جہد ہی ہندوستان کے روشن ، مضبوط اور پُرامن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہیں۔ اسی یقین کے ساتھ ہم ملک کے ہر انصاف پسند ، جمہوریت پسند اور امن پسند شہری ، ہر سماجی و مذہبی تنظیم اور سول سوسائٹی کے ہر ذمہ دار فرد کو اس قومی تحریک میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

اس پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے حضرات کے نام اس طرح ہیں:

نام عہدہ
جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند و نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد علی محسن تقوی نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا سید محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند
مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
جناب عارف مسعود ایم ایل اے رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد ابو طالب رحمانی رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی میں موسلادھار بارش سے آئی جی آئی ایئرپورٹ بنا سوئمنگ پول، جگہ جگہ بھرا پانی، 3 پروازیں جے پور ڈائیورٹ*
نئی دہلی: جمعہ کو دہلی میں ہوئی موسلادھار بارش کے بعد اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کئی مقامات پر پانی جمع ہوگیا۔ ایئرپورٹ کے ٹرمینل اور احاطے میں پانی بھرنے سے مسافروں اور وہاں آنے جانے والے لوگوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ خراب موسم اور ایئرپورٹ کے حالات کا اثر فضائی آپریشن پر بھی پڑا، جس کے باعث دہلی میں لینڈ کرنے والی تین پروازوں کو جے پور ڈائیورٹ کرنا پڑا۔

دہلی میں 3 پروازیں نہیں کر سکیں لینڈنگ

موصولہ اطلاعات کے مطابق دہلی ایئرپورٹ پر انڈیگو کی دو اور ایئر انڈیا کی ایک پرواز لینڈ نہیں کر سکی۔ ان میں بنگلورو سے دہلی آنے والی انڈیگو کی پرواز 6E-869، پورنیہ سے دہلی آنے والی پرواز 6E-6560 اور سری نگر سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI-1818 شامل ہیں۔ دہلی میں لینڈنگ ممکن نہ ہونے کے بعد تینوں پروازوں کو جے پور ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں تمام طیاروں نے لینڈنگ کی۔ پروازوں کے ڈائیورژن کی وجہ سے مسافروں کو بھی اضافی انتظار کرنا پڑا۔بتایا گیا ہے کہ دہلی ایئرپورٹ کے حالات معمول پر آنے اور دہلی ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے کلیئرنس ملنے کے بعد تینوں پروازوں کو دوبارہ دہلی کے لیے روانہ کیا جائے گا۔ تیز بارش کے باعث دہلی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن متاثر ہوا ہے۔

مسافر نے کہا، ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا

ایئرپورٹ پر پانی جمع ہونے کی صورتحال کے حوالے سے ایک مسافر مانسی نے بتایا کہ انہوں نے اس سے پہلے ایئرپورٹ پر ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق ایئرپورٹ پر کافی زیادہ پانی جمع ہے اور وہ تقریباً آدھے گھنٹے سے وہیں کھڑی ہیں۔ مسافر نے بتایا کہ وہ پانی کی سطح کم ہونے کا انتظار کر رہی ہیں، تاکہ ارائیول گیٹ کی جانب جا سکیں۔ بارش کے باعث ایئرپورٹ پر پیدا ہونے والی اس صورتحال کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں مختلف مقامات پر پانی جمع دکھائی دے رہا ہے۔

بتا دیں کہ جمعہ کی دوپہر دہلی میں ہوئی موسلا دھار بارش کے بعد چند ہی گھنٹوں میں ایئرپورٹ کے ٹرمینل-3 پر پانی بھر گیا۔ پانی مسافروں کے بیٹھنے کی جگہ تک پہنچ گیا۔ ایئرپورٹ کا عملہ وائپر اور دیگر ذرائع کی مدد سے پانی نکالنے میں مصروف ہے۔ جس حصے میں پانی جمع ہوا ہے، اس کے نیچے زیرِ زمین میٹرو بھی چلتی ہے، اس لیے پانی کو نیچے جانے سے روکنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

دہلی میں بارش کا ریڈ الرٹ

ایئرپورٹ کے ایک ملازم نے بتایا کہ انہوں نے اس سے پہلے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔ عام طور پر بارش کے بعد پانی نکل جاتا تھا، لیکن تقریباً ایک گھنٹے کی بارش میں ہی حالات خراب ہوگئے۔ جمعہ کو دہلی-این سی آر کے کئی علاقوں میں موسلا دھار بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے دہلی کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ گڑگاؤں میں بارش کا اورنج الرٹ ہے۔ شدید بارش کے بعد دارالحکومت کی کئی سڑکوں پر بھی پانی بھر گیا، جس کے باعث لوگوں کو آمدورفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔








*🛑’غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام‘، ایرانی چیف جسٹس نے ان ممالک پر لگایا الزام*
ایران کے چیف جسٹس آیت اللہ غلام حسین محسنی اژئی (Ayatollah Gholam-Hossein Mohseni-Ejei) نے غزہ میں جاری تشدد کے معاملے پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کی جان گئی، لاکھوں افراد مارے گئے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ ایرانی چیف جسٹس نے بین الاقوامی تنظیموں اور دنیا کے ان ممالک پر بھی سوال اٹھایا جو ان واقعات کے دوران خاموش رہے۔

خاموشی نے حملہ آور طاقتوں کا حوصلہ بڑھایا: چیف جسٹس

محسنی اژئی نے کہا کہ اگر بین الاقوامی تنظیمیں اور آزادی پسند لوگ وقت رہتے غزہ میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تو شاید آج کچھ طاقتوں کو دوسرے ممالک پر غیر قانونی حملے کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ ان کے مطابق مسلسل خاموشی نے حملہ آور طاقتوں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔

’70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام ہوا‘

ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ غزہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ اس سے کئی گنا زیادہ افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’دہشت گرد قاتلوں نے غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا، لاکھوں لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ افراد کو زخمی کیا۔‘‘محسنی اژئی نے مزید کہا کہ ان واقعات کے باوجود کچھ لوگ اپنے کیے پر فخر کر رہے ہیں اور اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے ممالک سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام ممالک مل کر کام کریں اور ایک دوسرے کا تعاون کریں تو چند طاقتور ممالک اپنی من مانی نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک دن ایران، دوسرے دن افغانستان، پھر لبنان اور غزہ جیسے ممالک پر حملے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایسی طاقتوں کو وقت رہتے نہ روکا گیا تو مستقبل میں دوسرے ممالک بھی ان کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔

عالمی برادری کی خاموشی پر سوال

ایرانی چیف جسٹس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں طویل عرصے سے جاری تنازع اور انسانی بحران پر عالمی سطح پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے بیان نے ایک بار پھر غزہ میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور بین الاقوامی برادری کے کردار کو لے کر بحث تیز کر دی ہے۔









*🛑’’مجھ سے غلطی ہوئی…‘‘ ایران جنگ میں فوجیوں کی ہلاکت پر ٹرمپ کے وزیر کا بڑا اعتراف*
ایران میں جاری فوجی کارروائی کے درمیان امریکی انتظامیہ کے ایک بیان نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک (Howard Lutnick) نے ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان پر معذرت کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انٹرویو کے دوران ان سے بڑی غلطی ہوئی اور انہوں نے غلط معلومات دے دی تھیں۔ لوٹنک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں فوجی کارروائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے وقت ان سے غلطی سے غلط بات کہی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس تنازع میں امریکی فوج کے 18 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اس نقصان سے ان کا دل ٹوٹ گیا ہے اور انہیں خاندانوں کے دکھ پر بے حد افسوس ہے۔

وینزویلا مہم کی وجہ سے ہوا کنفیوژن

لوٹنک نے اپنی غلطی کی وجہ بھی بتائی۔ ان کے مطابق اس وقت ان کے ذہن میں وینزویلا میں چلایا گیا امریکی فوجی آپریشن تھا۔ اس مہم کے دوران کسی امریکی فوجی کی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے ایران سے متعلق سوال کا جواب دیتے وقت ان سے غلط تعداد بیان ہو گئی۔وزیر نے اپنے بیان میں 9/11 حملے کی 25ویں برسی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اور ملک کی خدمت کرنے والے فوجیوں کی قربانیوں کا وہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ لوٹنک نے بتایا کہ 9/11 حملے میں انہوں نے اپنے بھائی گیری، قریبی دوست ڈگ اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملے میں مارے گئے کئی دیگر جاننے والوں کو کھو دیا تھا۔

ٹرمپ کی پوسٹ کے بعد مانگی معافی

لوٹنک کا متنازع بیان بدھ کی صبح ایک انٹرویو کے دوران سامنے آیا تھا۔ ابتدا میں اس پر زیادہ بحث نہیں ہوئی، لیکن جمعرات کو یہ معاملہ تیزی سے سرخیوں میں آ گیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اس معاملے کی شدت کم کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ کی پوسٹ کے تقریباً 45 منٹ بعد لوٹنک نے عوامی طور پر معافی مانگ لی۔

پہلے بھی اٹھ چکے ہیں سوالات

ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے سے متعلق اعداد و شمار پر امریکی انتظامیہ پہلے بھی سوالات کی زد میں رہی ہے۔ جولائی میں محکمہ دفاع کی ویب سائٹ سے 4 ہلاکتوں اور درجنوں زخمیوں سے متعلق اعداد و شمار ہٹائے جانے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق میڈیا کی رپورٹنگ پر تنقید کر چکے ہیں۔

Thursday, 3 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑مالیگاؤں میں بڑی گاڑیوں کے خلاف ہندو-مسلم جن آندولن کا اعلان*
*میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن میدان میں - اب اکیلے نہیں، پورا گاؤں ساتھ ہے*

مالیگاؤں: لینڈانا میں ہوئے دل دہلا دینے والے ایکسیڈنٹ اور دوسرے دن بریج کے نیچے ایک بزرگ خاتون کی حادثے میں موت کے بعد میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن کے ذمہ داروں نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔

*اب متاثرین کی مالی مدد:*
 میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن کے ذمہ دار سب سے پہلے لینڈانا گاؤں اس بچی کے گھر پہنچے اور اہل خانہ کو تسلی دی کہ "یہ بچی صرف آپ کی نہیں، پورے مالیگاؤں کی بچی ہے، پورا شہر آپ کے دکھ میں کھڑا ہے"۔ اہل خانہ نے کہا ہم مالی طور پر مضبوط ہیں، آپ کا آنا ہی ہمارے لیے بڑی بات ہے۔
اس کے بعد ٹیم ٹنگری گاؤں پہنچی، بزرگ خاتون کے گھر والوں کو تسلی دی اور انہیں ایک *خطیر رقم کا چیک* بطور مدد دیا۔

*ہائی وے اتھارٹی کو اسٹائل میں جواب:*
موقع پر ہی *رضوان بیٹری والا* نے ہائی وے اتھارٹی کے ذمہ داروں کو اسپاٹ پر بلایا۔ چھوٹا اور ناکارہ اسپیڈ بریکر دیکھ کر رضوان بیٹری والا نے اپنے ہی انداز میں بریکر کو اکھاڑ پھینکا اور کہا:
*"تین سال میں اسی جگہ پر 40 سے زیادہ لوگ مر چکے ہیں، آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟"*
افسران ہاتھ جوڑے کھڑے رہے، لیکن فاؤنڈیشن نے ایک نہ سنی۔

وہیں ڈونگرالے ٹول ناکہ کے ٹھیکے دار کو بھی بلوا کر پوچھا گیا کہ ان تمام اموات کا ذمہ دار کون ہے؟ دن دہاڑے بڑی گاڑیاں اژدہے کی طرح کیوں چھوڑی جا رہی ہیں؟ گاؤں والوں اور فاؤنڈیشن نے موقع پر ہی کئی بڑی گاڑیوں کو روکا اور دن میں شہر میں ان کی انٹری بند کرنے کا الٹی میٹم دیا۔

*ہندو-مسلم ایک آواز:*
اس موقع پر *لینڈانا، گرجگوان، ٹنگری، گالنہ* کے تمام سرپنچ، پولیس پاٹل اور گاؤں کی عوام نے میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

تمام ہندو بھائیوں نے ایک آواز میں کہا:
> "ہم رضوان بیٹری والے کو جانتے ہیں، جو عوام کے لیے گندے پانی اور کھڈے میں بھی بیٹھ جاتا ہے۔ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ اب آپ کو اکیلے کہیں اترنے کی ضرورت نہیں، پورا گاؤں آپ کے ساتھ ہے۔ آپ نے انسانیت کا جو ثبوت دیا ہے، وہ ہمارے لئے قابلِ رشک ہے ہم اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔"


میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن نے ان تمام گاؤں کی عوام کے ساتھ مل کر بڑی گاڑیوں کے خلاف *ہندو-مسلم جن آندولن* کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ مالیگاؤں میں *"چوہا بھاگ بلی آئی"* کا یہ کھیل ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔

گاؤں کے وطنی بھائیوں نے اس قدم کی دل کھول کر سراہنا کی ہے۔ اور میکس اسٹپس فاؤنڈیشن کے ساتھ جڑنے کا یقین دلایا ۔






*🛑کافی پینے سے انسان کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟*
کافی دنیا بھر میں صبح کے وقت سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے مشروبات میں شامل ہے۔
عام طور پر اسے جسم میں تازگی اور چُستی پیدا کرنے کے لیے پیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق کافی کے استعمال کے جگر کی صحت پر بھی ممکنہ مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق ماہرِ معدہ ڈاکٹر سوربھ سیٹھی نے بتایا کہ وہ ہر صبح کافی کیوں پیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 10 ہزار سے زائد جگر کے سکینز کا جائزہ لیا ہے۔ڈاکٹر سوربھ سیٹھی کے مطابق ’قریباً پانچ لاکھ افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں کافی پینے والوں میں دائمی جگر کی بیماری سے موت کا خطرہ کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں 49 فیصد کم دیکھا گیا۔‘
ایک اور تجزیے میں چار لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق روزانہ دو اضافی کپ کافی پینے کا تعلق جگر کے سیروسس کے خطرے میں 44 فیصد کمی سے تھا۔
اسی طرح 22 لاکھ سے زائد افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں جگر کے کینسر کی عام ترین قسم ہیپاٹو سیلولر کارسینوما کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق روزانہ دو اضافی کپ کافی پینے والوں میں اس بیماری کا خطرہ 35 فیصد کم پایا گیا۔ماہر کے مطابق کافی کے ممکنہ فوائد صرف کیفین تک محدود نہیں۔ کیفین والی اور بغیر کیفین کی کافی، دونوں کو جگر کے بہتر نتائج سے جوڑا گیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کافی میں موجود دیگر اجزا بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سوربھ سیٹھی نے بتایا کہ ’ایک بڑی برطانوی تحقیق میں روزانہ تین سے چار کپ کافی کا استعمال بہتر نتائج سے منسلک تھا، تاہم ہر فرد کے لیے اتنی کافی ضروری نہیں۔ کافی کے استعمال میں فرد کی برداشت کو مدنظر رکھنا چاہیے جبکہ زیادہ چینی یا کریم شامل کرنے سے اس کے مجموعی غذائی فوائد متاثر ہو سکتے ہیں۔‘









*🛑نیویارک کے اسکولوں میں طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر پابندی، بچوں کی تعلیم اور ذہنی صحت کے تحفظ کا فیصلہ*
بچوں کی تعلیم اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے مقصد سے امریکی شہر نیویارک میں اسکولوں کے اندر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ نئے ضابطے کے تحت ہائی اسکول سے کم عمر طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی، جبکہ ہائی اسکول کے طلبہ کو محدود پائلٹ پروگراموں کے تحت اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت دی جائے گی۔ اس فیصلے سے شہر کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ متاثر ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کی تعلیم میں انسانی رابطے، اساتذہ کی رہنمائی اور ساتھی طلبہ کے ساتھ براہِ راست میل جول کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

ہائی اسکول کے طلبہ کو محدود اجازت

نئے ضابطے کے مطابق کم عمر طلبہ کے لیے اسکولوں میں اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم 14 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہائی اسکول طلبہ کو کچھ مخصوص پائلٹ پروگراموں میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ان طلبہ کے لیے سال میں دو مرتبہ اے آئی سے متعلق خواندگی کی کلاسیں بھی منعقد کی جائیں گی، تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا سیکھیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو جذباتی یا ذہنی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیے گئے اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر تمام جماعتوں میں مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اساتذہ کا انسانی رابطہ ضروری قرار

نیویارک کے میئر نے اے آئی پر پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی صنعت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ابتدائی تعلیم میں اے آئی کا استعمال نہ صرف ناگزیر بلکہ ضروری بھی ہے، لیکن انتظامیہ اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتی۔ ان کے مطابق بچوں کی بہتر تعلیم اور شخصیت سازی کے لیے اساتذہ اور انسانی رابطہ انتہائی اہم ہیں۔ بچوں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہ کر مختلف مہارتیں سیکھنے، اساتذہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور مشکل مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اساتذہ کو سبق کی منصوبہ بندی اور انتظامی نوعیت کے کاموں کے لیے اے آئی استعمال کرنے کی اجازت برقرار رہے گی۔

پابندی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ٹاسک فورس

تعلیمی سال 27-2026 کے دوران طلبہ، اساتذہ، والدین، منتخب نمائندوں اور ٹیکنالوجی صنعت کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ یہ ٹیم اے آئی پر عائد پابندی کے اثرات کا جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ نیویارک کی گورنر نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کے لیے مددگار ثابت ہو۔

پہلے نرم پالیسی پر والدین اور اساتذہ نے اٹھائے تھے سوال

اس سے قبل مارچ میں اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک ابتدائی فریم ورک جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت طلبہ کو تحقیق اور تخلیقی منصوبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم متعدد والدین اور اساتذہ نے اس پالیسی کو حد سے زیادہ نرم قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان اعتراضات کے بعد نیویارک کے اسکول انتظامیہ نے اپنے ضابطوں میں تبدیلی کرتے ہوئے کم عمر طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر مزید سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مقصد ٹیکنالوجی کی مکمل مخالفت کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بچوں کی تعلیم، ذہنی نشوونما اور انسانی تعلقات پر اس کے منفی اثرات نہ پڑیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑"وجے کو وزیر اعظم بنانا ایم ایل اے کی خواہش ، پارٹی کی نہیں ، " TVK وزیر نے دی صفائی*
ے لوک سبھا انتخابات نے تمل ناڈو کی سیاست میں ہلچل مچانا شروع کر دی ہے۔ TVK کے کچھ ایم ایل اے بار بار اپنے لیڈر اور وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے پروجیکٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سے پارٹی کی حلیف کانگریس کے ساتھ سیاسی منظر نامے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ کانگریس نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ راہل گاندھی 2029 کے انتخابات میں اس کے وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔ نتیجتاً، ٹی وی کے کی جانب سے وجے کی نامزدگی اتحادی سیاست میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ اب پارٹی کے خزانچی اور فوڈ اینڈ سیول سپلائیز کے وزیر پی وینکٹرامن نے اس معاملے پر صفائی دیتے ہوئے وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔

وینکٹرامنن نے کہا کہ وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنا TVK کا آفیشل اسٹینڈ نہیں ہے بلکہ پارٹی کے کچھ ایم ایل ایز کی ذاتی خواہشات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی اپنی خواہشات کا اظہار کرنے کا حق ہے۔ 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں ابھی کافی وقت ہے، اس لیے وزیر اعظم کے امیدوار کے بارے میں حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ نہ تو TVK کی اعلیٰ قیادت اور نہ ہی پارٹی کے کسی وزیر نے وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر اعلان کیا ہے۔ ان کے اس بیان کو کانگریس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔وجے کو پی ایم بنانے کے مطالبے پر وزیر کی صفائی
TVK کے کچھ ایم ایل ایز نے مسلسل وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے کے تحت وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ اس جذبے کے مطابق وہ وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم پارٹی کے وزیر پی وینکٹرامنن نے اسے آفیشیل لائن ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے اپنی خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے خیالات کو پارٹی کا فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہئے۔

وزیر نے کہا کہ 2029 تک ابھی بھی وقت ہے۔ جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات قریب آتے ہیں، چیف منسٹر سی جوزف وجے کی قیادت والی حکومت اس مسئلہ پر مناسب فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ پارٹی کی موجودہ توجہ وزارت عظمیٰ کی امیدواری کی بجائے تمل ناڈو میں اپنی حکمرانی کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

ایم ایل اے کے خیالات کو پارٹی لائن نہ سمجھیں
وینکٹرامنن نے واضح طور پر کہا کہ TVK کے کسی بھی اعلیٰ لیڈر یا وزیر نے وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر تجویز نہیں کیا۔ ان کے مطابق، یہ محض کچھ ایم ایل ایز کی ذاتی رائے ہے اور یہ فی الحال پارٹی کا آفیشیل مؤقف نہیں ہے۔

TVK گورننس ماڈل کو ملک بھر میں لے جانے کی خواہش
وزیر کے مطابق، ایم ایل اے کا مطالبہ وجے کی قیادت میں ملک بھر میں شفاف اور بدعنوانی سے پاک حکمرانی کو نافذ کرنے کے خیال سے پیدا ہواہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم ایل ایز چاہتے ہیں کہ جس طرز حکمرانی کا تمل ناڈو میں وعدہ کیا جا رہا ہے اسے دوسری ریاستوں اور بالآخر پورے ملک تک پھیلایا جائے۔

فی الحال، توجہ تمل ناڈو پر ہے
وینکٹرامنن نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح تمل ناڈو کو شفاف اور بدعنوانی سے پاک بنانا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو وہ وزیر اعلیٰ وجے اور TVK کے جنرل سکریٹری این آنند سے رہنمائی لیں گے۔ اس کے بعد ہی وہ اس ماڈل کو دیگر ریاستوں میں پھیلانے پر غور کریں گے ۔








*🛑دہلی کے رہائشیوں کو بڑا تحفہ ، اب زمین کے نیچے بنے گا کوریڈور ، چاندنی چوک سے شروع ہوگا پروجیکٹ*
نئی دہلی: دہلی والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ شہر میں بار بار سڑکوں کی کھدائی کا دیرینہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دہلی کے بنیادی ڈھانچے کو لے کر ایک تاریخی فیصلہ لیا ہے۔ سڑکوں کے نیچے ملٹی یوٹیلیٹی ڈکٹ سسٹم بنایا جائے گا۔ یہ ایک جدید زیر زمین کوریڈور ہوگا جو بیک وقت تمام خدمات فراہم کرے گا۔ اس میں بجلی کی تاریں، پانی کی پائپ لائنیں اور گیس کی لائنیں ایک ہی جگہ رکھی جائیں گی۔ یہ جدید نظام بھاری ٹریفک جام سے خاصی ریلیف فراہم کرے گا۔ مختلف ایجنسیوں کی جانب سے سڑک کی کھدائی کا عمل اب مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔ حکومت چاندنی چوک میں اس میگا پروجیکٹ کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر دو سڑکوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ قدم دہلی کی سڑکوں کی طویل مدتی مضبوطی کو یقینی بنائے گا۔

ملٹی یوٹیلیٹی ڈکٹ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرے گا؟اس سسٹم کے تحت سڑک کے نیچے ایک محفوظ ٹنل یا ڈکٹ بنایا جائے گا۔ یہ وینٹیلیشن اور آگ کی حفاظت کو بھی مدنظر رکھے گا۔ دیکھ بھال اور ہنگامی رسائی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے جلد ہی ایک ماہر ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کمیٹی میں پی ڈبلیو ڈی کے ساتھ ڈسکامس اور دہلی جل بورڈ کے افسران شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کام کرے گی۔

پائلٹ پروجیکٹ کے لیے چاندنی چوک کو کیوں چنا گیا؟
چاندنی چوک کو دہلی کا بہت مصروف علاقہ مانا جاتا ہے۔ ایسپلینیڈ روڈ پر 310 میٹر اور مور سرائے روڈ پر 560 میٹر اسٹریچ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ وقف یوٹیلیٹی کوریڈور سب سے پہلے ان دو سڑکوں پر بنایا جائے گا۔ پروجیکٹ کے تجربے کی بنیاد پر، اس کے بعد اسے پوری دہلی میں لاگو کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا، “دہلی کی ترقی آج کی ضرورتوں تک محدود نہیں ہے۔” حکومت ایک ایسا انفراسٹرکچر چاہتی ہے جو مستقبل کے لیے مکمل طور پر محفوظ اور منظم ہو۔

سڑک کی بار بار کھدائی سے ہونے والے نقصان کو کیسے کم کیا جائے گا؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ایجنسی سڑک بناتی ہے اور دوسری اسے کھودتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کو ٹریفک جام کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، “ملٹی یوٹیلیٹی ڈکٹ مختلف خدمات کے لیے ایک مشترکہ راستہ فراہم کرے گا۔” اس کی تعمیر سے مستقبل میں نئی خدمات کی توسیع بھی آسان ہو جائے گی۔ سڑک کے نیچے مشترکہ نیٹ ورک ہونے سے دیکھ بھال کا کام بغیر کسی کھدائی کے مکمل ہو سکے گا۔ اس بڑے فیصلے سے دہلی کے لوگوں کو درپیش روزمرہ کی پریشانیوں کے دور کرنے کی امید ہے۔










*🛑ایران کا دعویٰ: حالیہ امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک، 108 زخمی، خلیجی ممالک پر تہران کے جوابی حملے*
دبئی: ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، گذشتہ رات بھر جاری رہنے والی امریکی بمباری، جس میں ایک شادی کی تقریب پر مہلک حملہ بھی شامل تھا، کے بعد ایران نے بدھ کی صبح خلیج میں امریکی اتحادیوں پر جوابی حملے کیے۔

کویت کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ملک میں سائرن بجنے لگے جہاں فضائی دفاعی نظام "ایران کی واضح جارحیت" کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کو روک رہا تھا۔

امریکہ کی جانب سے ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز کے ایک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچروں کو نشانہ بنانے کے بعد سے لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا تھا کہ ایران انہیں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایران نے جواب میں اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے جنہیں فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے ایک طرف امریکی فوجی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور واشنگٹن میں سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ بدھ کے روز ایرانی کرنسی ایک بار پھر ریکارڈ سطح پر گر گئی، جہاں تہران میں تاجروں نے ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 22 لاکھ ریال کا تبادلہ کیا، جو کہ پچھلے ہفتے کے ریکارڈ سے 10 فیصد زیادہ ہے۔

بین الاقوامی تھنک ٹینک 'کرائسز گروپ' کے سینئر ایرانی تجزیہ کار حمید رضا عزیزی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فریق مکمل جنگ اور جنگ بندی کے درمیان اس صورت حال کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتا۔

انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ "کسی نہ کسی موڑ پر، کوئی ایک فریق اس چکر کو توڑنے کے لیے کشیدگی کو مزید بڑھانے کی ضرورت محسوس کر سکتا ہے۔ اس طرح دونوں فریق اس نہج پر پہنچ سکتے ہیں جس سے وہ اب تک بچنے کی کوشش کر رہے تھے، یعنی ایک مکمل جنگ۔"ٹرمپ اور یو اے ای کے صدر کا فون پر خطے کے حالات پر تبادلہ خیال

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوئی۔ اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعاون اور اپنے مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی۔ یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق، اس بات چیت میں باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے "تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں" پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جنگ کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران، ایران نے کسی بھی دوسرے خلیجی ملک کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کو اپنی جوابی کارروائیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنایا، جس کے تحت اس نے 530 سے زائد بیلسٹک میزائل، درجنوں کروز میزائل اور 2,200 ڈرون ان ٹھکانوں پر داغے جنہیں اس نے "امریکی اثاثے" قرار دیا۔

ایران جنگ کی وجہ سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور طویل مدتی ٹریژری بانڈز کے منافع میں اضافے کے باعث امریکی اسٹاک مارکیٹ مندی کے ساتھ بند ہوئی۔

ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.70 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جب کہ ایس اینڈ پی 500 0.33 فیصد اور نصدق کمپوزٹ 0.12 فیصد گر گیا۔ مارکیٹ کی ان تازہ ترین اتار چڑھاؤ نے مہنگائی کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے کیونکہ سرمایہ کار جاری ایران جنگ کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

حالیہ کشیدگی ہرمز اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز

بحرین میں 'انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز' کے مڈل ایسٹ آفس کے تجزیہ کار ساشا بروخ مین کا کہنا ہے کہ تشدد میں یہ حالیہ تیزی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب تعطل کی صورت حال تھوڑی بہت امریکہ کے حق میں بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی، کیونکہ گزشتہ ماہ تیل کی قیمت تقریباً 80 ڈالر فی بیرل پر آگئی تھی اور ایرانی رہنما بڑھتی ہوئی اقتصادی مشکلات کا ذکر کر رہے تھے۔

بروخ مین نے کہا کہ "امریکہ عالمی تیل کی منڈیوں میں ایک بار پھر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایرانیوں کو اس کے جواب میں دوبارہ عدم تحفظ اور شکوک و شبہات پیدا کرنے پڑے۔"

جب سے ہفتے کے آخر میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی ہے، بین الاقوامی معیار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 95 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ کے نئے آغاز سے اب تک 30 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران امریکہ کی طرف سے اس وقت تک "دباؤ محسوس کرتا رہے گا" جب تک کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو ترک نہیں کر دیتا اور مشرق وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم نہیں کر دیتا۔ دوسری طرف ایران نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

ایرانی ادارے نے 11 مزید بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا

ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی (پی جی ایس اے) نے ایرانی پروٹوکول کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید 11 بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے، جس کے بعد اس تزویراتی طور پر اہم آبی گزرگاہ سے روکنے جانے والے جہازوں کی کل تعداد 56 ہو گئی ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں، پی جی ایس اے نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔

امریکہ ایران پر مزید حملوں کے لیے تیار: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ سے متعلق اپنے تازہ بیان میں کہا کہ امریکی فوج جب بھی چاہے ایران پر مزید حملے کرنے کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "گزشتہ رات یہ ایک بہت بڑا حملہ تھا، اور ہم جب بھی چاہیں ایسا دوسرا حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔" ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج نے "وہ تمام نئے آلات اور تنصیبات تباہ کر دیں جنہیں انہوں نے آبنائے ہرمز کے ساتھ تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی۔"

آبنائے ہرمز کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھنے کے منصوبوں کی تردید

جب بدھ کی سہ پہر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کر کے اپنے نام پر رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ٹرمپ نے کہا کہ "نہیں، نہیں... یہ بات بس ایسے ہی سامنے آ گئی تھی۔" ٹرمپ نے بدھ کے اوائل میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ کا نام تبدیل کرنے کا خیال ظاہر کیا تھا، جو کہ ان کے اس صدارتی حکم نامے پر دستخط کرنے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد سامنے آیا جس کے تحت کینیڈا کے ساتھ ٹیرف کے تنازعات پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر "لیک امریکہ" رکھ دیا گیا۔

امریکی اتحادیوں کا ایرانی حملوں کو پسپا کرنے کا دعویٰ

اردن پر ہونے والے حملوں کے بعد، امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کویت اور بحرین نے بھی جانکاری دی کہ ان پر ایران کی جانب سے حملے ہوئے ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایران کی طاقتور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے حال ہی میں مقرر ہونے والے سربراہ، محسن رضائی نے ایکس پر کہا کہ "آپ جلد ہی دیکھیں گے کہ میدانِ جنگ، سفارت کاری اور اقتصادی ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کی نئی حکمتِ عملی آپ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔"

عراق میں، جہاں ایران کی حمایت یافتہ فورسز سرگرم ہیں، کرد حکام نے بتایا کہ انہوں نے اربیل کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد سے لادے ہوئے 10 ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر ناکارہ بنا دیا۔ دوسری جانب ایرانی ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ اربیل میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے بھی کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اس کے فوجیوں پر دھماکہ خیز مواد سے لادے دو ڈرون فائر کیے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ منگل کے روز کیے جانے والے حملوں کا مرکز ایرانی فوجی اہداف تھے، جن میں فضائی دفاعی تنصیبات، راڈار سسٹم اور بحری اثاثے شامل ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق، شادی کی تقریب پر ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایک امریکی حملہ کوہستک میں ایک ایسے گھر پر ہوا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی، یہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایک چھوٹا سا ساحلی قصبہ ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی ارنا اور سرکاری ٹی وی نے بدھ کے روز بتایا کہ چار افراد ہلاک ہوئے — جن میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں، جن کی عمریں چار اور 16 سال تھیں — اور کم از کم 68 افراد زخمی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد، صوبے کے ڈپٹی گورنر احمد نفیسی نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا تھا کہ پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اس تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس کی جانب سے نشر کی گئی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج کے مطابق، کئی شدید دھماکوں نے کوہستک کو ہلا کر رکھ دیا، اور آگ کے شعلوں نے رات کے آسمان کو روشن کر دیا۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کی جاری کردہ تصاویر میں قریبی قصبے میناب کے ایک اسپتال میں زخمی بچوں کا علاج ہوتے ہوئے دکھایا گیا، جہاں اس جنگ کی شروعات کے پہلے دن ایک امریکی میزائل حملے میں پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 100 سے زائد بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

ایرانی ہلالِ احمر کی فوٹیج میں امدادی کارکنوں کو حملے کے بعد ایک تباہ شدہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس فوٹیج میں گھنے آباد مکانات کے ایک محلے میں واقع ایک گھر کی چھت میں بڑا سوراخ دکھائی دیا۔

'میزائل کے ٹکڑے امریکی ہتھیار کی طرف اشارہ کرتے ہیں'

ایک ہتھیاروں کے ماہر نے خبر رساں ادارے 'دی ایسوسی ایٹڈ پریس' (اے پی) کو بتایا کہ گولہ بارود کے ٹکڑوں کی تصاویر، جن کے بارے میں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ ملاہی کے گھر پر حملے میں استعمال ہوا تھا، ظاہر کرتی ہیں کہ یہ ایک "امریکی ساختہ، فضا سے مار کرنے والا گائیڈڈ ہتھیار" تھا۔

آرمامنٹ ریسرچ سروسز کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز نے ابتدائی طور پر اس ہتھیار کی شناخت سلام-ای آر کروز میزائل کے طور پر کی، جو فضا سے داغے جانے والا ایک ایسا میزائل ہے جسے پرواز کے دوران بھی ایک انسانی آپریٹر کے ذریعے دوبارہ ہدف پر سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مزید تصاویر کا معائنہ کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ جے ایس او ڈبلیو تھا، جو کہ ایک قسم کا گائیڈڈ بم ہے، تاہم انہوں نے سلام-ای آر کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا اور کہا کہ ممکنہ طور پر اس جگہ پر متعدد ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا ہو۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے تجزیہ کار کے ان نتائج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی فوج "ان رپورٹوں سے باخبر ہے، جن کا ماخذ ایرانی سرکاری میڈیا ہے، اور ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔" انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا سینٹکام نے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی ہیں یا نہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے ایکس پر کہا کہ "کوئی شک نہ رکھیں: ان جرائم کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔"

ایران نے کہا ہے کہ امریکی حملوں میں اس کی نیم فوجی پاسدارانِ انقلاب (انقلاب گارڈز) کے چار ارکان اور گارڈز کی رضا کار فورس بسیج کے 10 ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے 'اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ' نے ملک کے وزیرِ صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حملوں کے اس تازہ ترین مرحلے میں مجموعی طور پر 108 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز کا بیشتر حصہ بدستور بند

گزشتہ ماہ لڑائی میں آنے والے وقفے کے دوران، امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھا دیا تھا کیونکہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی روزانہ صرف چند بحری جہاز ہی یہاں سے گزر رہے ہیں اور ایران باقاعدگی سے ان جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔

بدھ کے روز، سعودی شپنگ کمپنی بحری نے بتایا کہ پیر کی رات دیر گئے ایک حملے میں دو فلپائنی ملاح ایرانی حملے میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کا بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔

جون میں طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ اسی مہینے کے دوران دونوں طرف سے ہونے والے حملوں کے تبادلے کے باعث تیزی سے ناکام ہو گیا۔ ثالث کا کردار ادا کرنے والا ملک پاکستان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ دریں اثنا، منگل کی رات دیر گئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور نہیں کریں گے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "مجھے اس بات کی بالکل پرواہ نہیں ہے کہ آیا وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں جو ان کے لیے بے وقعت ہو۔ مجھے اب ہماری پوزیشن بہت بہتر لگ رہی ہے، جس میں آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول ہے اور ان کی معیشت پوری طرح تباہ ہو رہی ہے۔ وہ صرف ناگزیر نتیجے کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"


Tuesday, 1 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑تعزیتی نشست براۓ ادریس وارثی*
آج بروز منگل بعد نماز عشاء خالد بن ولید ہال امن پورہ نانڈیڑی اسکول کے پیچھے ایک تعزیتی دعائیہ نشست مشہور نعت گو شاعر مرحوم ادریس وارثی صاحب کے لئے منعقد کی جارہی ہے متعلقین و احباب سے شرکت کی درخواست اللہ شاعر اسلام مرحوم وارثی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے آمین 
سیف نیوز اردو






*🛑گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ کتنا پانی پینا چاہیے؟ ماہرین نے بتائی اہم بات*
مناسب مقدار میں پانی پینے سے گردے کی پتھری اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTI) سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پینا گردوں کے لیے نقصان دہ نہیں، بلکہ جسم میں پانی کی کمی کئی طرح کے صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ کتنی مقدار میں پانی پینا ضروری ہے:

جسم میں پانی کی کمی ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق تیز دھوپ یا شدید گرمی والی جگہوں پر طویل عرصے تک کام کرنے سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی تیزی سے ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جب جسم میں پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے تو گردوں پر کام کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

اس حوالے سے دی لینسیٹ ریجنل ہیلتھ، ساؤتھ ایسٹ ایشیا جرنل میں شائع ہونے والی معلومات کے مطابق، شدید گرمی اور جسمانی مشقت میں کام کرنے والے کسانوں اور مزدوروں میں گردوں کی دائمی خرابی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین گردوں کے مسائل اور خون میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھنے سے بچنے کے لیے طرزِ زندگی اور خوراک میں تبدیلی کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ تربوز، کھیرے اور پالک جیسی پانی سے بھرپور غذائیں کھانے کی بھی تجویز دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ناریل پانی جسم میں پانی کی کمی کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ ورزش کرنے، وزن کو متوازن رکھنے اور گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے شراب نوشی اور تمباکو نوشی سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے کتنا پانی ضروری ہے؟

مناسب مقدار میں پانی پینے سے گردوں کے فلٹریشن کے عمل کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے گردے کی پتھری اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

kidney research.uk کی ایک تحقیق کے مطابق، عام طور پر روزانہ 6 سے 8 گلاس پانی پینے کی صلاح دی جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کے لیے پانی کی ضرورت یکساں نہیں ہوتی۔ جسم کو کتنے پانی کی ضرورت ہے، اس کا انحصار صحت، موسم، درجہ حرارت، جسمانی سرگرمی اور کام کی نوعیت پر بھی ہوتا ہے۔

جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے میں مددگار

ماہرین کے مطابق پانی پیشاب، پسینے اور فضلے کے ذریعے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے، جوڑوں کی حرکت کو آسان بنانے اور حساس ٹشوز کو نقصان سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جب جسم میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو یہ تمام عمل متاثر ہونے لگتے ہیں۔ پانی گردوں کے ذریعے جسم سے فاضل اور زہریلے مادوں کو قدرتی طور پر خارج کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کم پانی پینے سے خون میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ چونکہ یورک ایسڈ گردوں کے ذریعے جسم سے خارج ہوتا ہے، اس لیے پانی کی کمی کی صورت میں گردے کی پتھری بننے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جسم میں پانی کی معمولی کمی بھی گردوں کے فلٹریشن کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق شدید ڈی ہائیڈریشن گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے سخت جسمانی مشقت یا ورزش کے دوران، خاص طور پر گرم اور مرطوب موسم میں جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا ضروری ہے۔









*🛑ایران کے ساتھ جنگ کے درمیان امریکہ کو دھچکا، امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے دیا استعفیٰ*
امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز ان کے استعفے کی تصدیق کی، تاہم استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ تقریباً 18 ماہ تک اس اہم عہدے پر رہنے والے ڈرِسکول کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ان کے اختلافات اور امریکی فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی خبریں مسلسل آتی رہی ہیں۔ ایک امریکی فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈرِسکول نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے امریکی فوج کی صورتحال کے حوالے سے بات چیت کی تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ڈرِسکول نے امریکی فوج میں صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے، فوجی تیاری اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ میں فوج سے متعلق تیسرا بڑا استعفیٰ

ڈین ڈرِسکول کے استعفے کے دوران امریکی فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپریل میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین افسر جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد جون میں یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈوناہو بھی اچانک اپنے عہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ اب ڈین ڈرِسکول کا استعفیٰ ٹرمپ انتظامیہ میں فوج سے متعلق تیسرا بڑا استعفیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈرِسکول کو جنرل رینڈی جارج کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ جنرل جارج کو عہدے سے ہٹائے جانے پر ڈرِسکول نے مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔ اپریل میں کانگریس کے سامنے پیشی کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ استعفے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ جنرل جارج کے گھر گئے تھے۔

ڈرون پروگرام کی حمایت بھی اختلاف کی وجہ بنی؟

اسی دوران امریکی فوج نے ڈرون کی جدید کاری کے ایک پروگرام کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی ڈین ڈرِسکول حمایت کرتے تھے۔ یورپ میں امریکی فوج کی ایک یونٹ کو اپنے ڈرون تیار کرنے کا کام روک کر دوبارہ روایتی انفنٹری بٹالین کے طور پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ڈرِسکول فوج میں ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دینے کے حامی تھے۔ انہوں نے فوجی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے قواعد کو آسان بنانے کی کوشش بھی کی تھی تاکہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی تیاری میں تیزی لائی جا سکے۔ ڈین ڈرِسکول عراق جنگ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری بھی کر چکے ہیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سابق مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ دونوں کی ملاقات ییل لاء اسکول میں ہوئی تھی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2024 میں ڈرِسکول کو آرمی سیکریٹری کے عہدے کے لیے نامزد کرتے وقت انہیں تبدیلی لانے والا رہنما قرار دیا تھا۔

روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں بھی کردار

آرمی سیکریٹری کی حیثیت سے ڈرِسکول کو روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم کرانے کے لیے مذاکرات میں بھی اہم ذمہ داری دی گئی تھی۔ وہ امریکی فوج کی جدید کاری اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کر رہے تھے۔ ان کے اچانک استعفے نے ٹرمپ انتظامیہ میں امریکی فوج کی پالیسی، اعلیٰ سطحی تقرریوں اور دفاعی اداروں میں جاری تبدیلیوں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ڈرِسکول نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ آخر کیوں کیا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں‘: دہشت گردی کی مالی معاونت پر وزیراعظم مودی کا SCO میں سخت پیغام، شہباز شریف بھی تھے موجود*
INSTALL APP
’دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں‘: دہشت گردی کی مالی معاونت پر وزیراعظم مودی کا SCO میں سخت پیغام، شہباز شریف بھی تھے موجود
SCO Summit: شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گروپ کو دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ اس میں دہشت گردی کی مالی معاونت، بھرتی کے نیٹ ورک، انتہا پسندی کو فروغ دینے کے عمل اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT
Last Updated : September 1, 2026, 1:44 pm IST
Published by : Imtiyaz Saqibe
(Image: @narendramodi)(Image: @narendramodi)
ADVERTISEMENT
متعلقہ ویڈیو
 Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب

Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں

Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا
Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

 Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب

Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں

SCO Summit: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر متحد ہو کر کارروائی کرنے کی پُرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس لعنت سے نمٹنے کے معاملے میں ’’دوہرے معیار‘‘ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی، جس کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گروپ کو دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ اس میں دہشت گردی کی مالی معاونت، بھرتی کے نیٹ ورک، انتہا پسندی کو فروغ دینے کے عمل اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی شامل ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ’’ہمیں دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنا ہوگا، جس میں اس کی مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندی اور محفوظ پناہ گاہیں شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں ایک آواز میں کہنا ہوگا کہ دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے SCO کے حوالے سے بھارت کے وژن کے تین بنیادی ستون بھی پیش کیے، جن میں سلامتی، رابطہ کاری اور مواقع شامل ہیں۔ سلامتی کے معاملے پر وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی تنازعات کو طاقت کی بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی بھی اپیل کی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’جنگ کے میدان میں کوئی حل نہیں ہوتا؛ تمام جنگوں اور تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔‘‘

رابطہ کاری کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن سے منڈیوں کو آپس میں جوڑا جا سکے، تجارت کو فروغ ملے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ ایسے تمام منصوبوں میں ہر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو منڈیوں کو آپس میں جوڑیں، تجارت کو فروغ دیں اور ترقی کے نئے راستے کھولیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’رابطہ کاری سے متعلق ان تمام کوششوں میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘

SCO کو مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور نظریات کے سنگم سے تعبیر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آئندہ 25 برسوں کے دوران تنظیم کو عوام سے عوام کے روابط کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کے لیے SCO عظیم تہذیبوں، ثقافتوں اور نظریات کا سنگم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگلے 25 برسوں کے دوران SCO کو اپنے باہمی تعاون کے مرکز میں عوام سے عوام کے روابط کو رکھنا چاہیے۔‘‘وزیر اعظم مودی نے SCO کے رکن ممالک کے نوجوانوں کے درمیان روابط اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے اسٹارٹ اَپ فورم، ینگ آتھرز کانکلیو اور ینگ سائنٹسٹس فورم جیسی پہل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔







*🛑چین کے سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ، نیپال میں تازہ سیلاب کا الرٹ، ریسکیو آپریشن روک دیا گیا*
ترشولی، نیپال: چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے زلزلے کے بعد نیپال میں سیلاب کی تازہ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ نیپال پولیس نے اطلاع دی ہے کہ ترشولی کے علاقے کو دوبارہ سے خالی کرایا جا رہا ہے۔ نیچے کی طرف بہنے والے پانی کے زبردست اضافے کی وجہ سے دریا کے پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سی جی ٹی این کی ایک رپورٹ کے مطابق، چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر نے بتایا کہ زلزلے نے جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے لونگ چانگ شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔

الرٹ جاری کرتے ہوئے نیپال پولیس نے کہا کہ تبت کی جانب ایک ڈیم دوبارہ ٹوٹ گیا ہے۔نیپال پولیس نے ایکس پر پوسٹ کیا، "اطلاع موصول ہوئی ہے کہ تبت کی طرف پانی کا ایک ڈیم دوبارہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس لیے تمام سیکورٹی اہلکاروں، ریسکیو اور ریلیف ورکرز اور عام لوگوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر چوکس رہیں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور دوسروں کو مطلع کریں۔"

ترشولی سے رسووا تک سڑک پر تعمیراتی کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ تمام جے سی بی مشینوں کو واپس بلا لیا گیا ہے، اور سڑک کی تعمیر کی تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں شامل ایک اہلکار نے اے این آئی کو بتایا، "ہم کھٹمنڈو سے یہاں آئے ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہاں سے سڑک رسووا کی طرف جاتی ہے۔ رسووا تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہ، سب کچھ تباہ ہوچکا ہے۔ مقامی اور قومی حکومتوں کو ملبہ ہٹانا ہوگا۔"

ایک جے سی بی ڈرائیور نے کہا، "یہاں کام روک دیا گیا ہے۔ پانی کی سطح پھر سے بڑھ رہی ہے۔"

مکینوں نے اپنی املاک کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ کیچڑ میں پھنسنے کے بعد کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہونے کے تجربے کو سناتے ہوئے، ایک مقامی رہائشی نے کہا، "ہر کوئی بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا، ہم گہری کیچڑ میں پھنس گئے، ہم نے اپنا سب کچھ کھو دیا — اپنے گھر، دکانیں اور سامان۔۔۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے، ہم اپنے کام میں مصروف تھے۔ترشولی اور دھوبی ندیوں سے ہم نے بھاگنا شروع کر دیا، پورا بازار بہہ گیا۔۔۔اس وقت ہم کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

نیپال پولیس نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کو نیپال کے رسووا ضلع میں تباہ کن سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جب کہ 1,545 لوگ زخمی ہیں۔

نیپال پولیس کے مطابق، سب سے زیادہ اموات چتوان ضلع میں ہوئیں ہیں، جہاں سے 178 لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس کے بعد این پی ایسٹ میں 110، گورکھا میں 44، نوواکوٹ میں 37، دھاڈنگ میں 33، تناہون میں 28، این پی ویسٹ میں 27، اور رسووا میں 12 ہلاکتیں ہوئیں۔

حکام نے رسووا سے 644، نواکوٹ سے 898 اور دھاڈنگ سے تین افراد کو ریسکیو کیا ہے۔

ایوان نمائندگان میں قائد حزب اختلاف بھیشم راج انگڈمبے نے کہا کہ نیپالی فوج جغرافیائی چیلنجوں کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے ترشولی میں نامہ نگاروں کو بتایا، "یہاں جغرافیائی خطوں کی وجہ سے، موسمی حالات امدادی کارروائیوں کے لیے سازگار نہیں ہیں، اس کے باوجود، ہماری فوج اور ہماری تمام ہیلی کاپٹر ٹیمیں اس کوشش میں پوری طرح مصروف ہیں۔ ہم بالائی علاقوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کر رہے ہیں- وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں سب مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ، "اس آپریشن کے لیے فوج کے دو ہیلی کاپٹر اور نجی شعبے کے دیگر ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے ہیں۔ ہم اپنے اختیار میں ہر وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہم سب کو آگاہ کر رہے ہیں، اور ہماری سیکورٹی ایجنسیاں لوگوں کو محفوظ رہنے کی تلقین کرنے کے لیے ایڈوائزری جاری کر رہی ہیں۔"









*🛑مہینے کے پہلے دن مہنگائی کا جھٹکا، ایل پی جی، سی این جی، پی این جی، اے ٹی ایف کی قیمتوں میں اضافہ*
نئی دہلی: سرکاری تیل کمپنیوں نے ستمبر کے پہلے دن ایل پی جی کی قیمتوں میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ آج سے 19 کلو کے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، عام لوگوں کے لیے راحت کی خبر یہ ہے کہ 14.2 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

فروری کے آخر میں مغربی ایشیا بحران شروع ہونے کے بعد، کمرشل ایل پی جی کی قیمت میں 1,373 روپے فی 19 کلوگرام سلنڈر بڑھا دی گئیں تھیں – جو فروری میں 1,740.50 روپے سے جون میں 3,113.50 روپے تک پہنچ گئیں۔

19 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت میں یکم اگست کو 192 روپے اور یکم جولائی کو 183.5 روپے کی کمی کی گئی تھی۔ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے جون میں قیمتیں ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جس کے بعد کمرشل ایل پی جی کی قیمتوں میں دو بار کمی کی گئی تھی۔

اے ٹی ایف کی قیمتوں میں اضافہ:

منگل کو ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں 5.46 فیصد اضافہ کیا گیا۔ جیٹ فیول یا اے ٹی ایف کی قیمت 6.28 روپے فی لیٹر یا 5.46 فیصد بڑھا کر گھریلو ایئر لائنز کے لیے 121.28 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

یہ اضافہ یکم اگست کو قیمتوں میں پانچ روپے فی لیٹر اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

دونوں اضافے سے ایئر لائنز کے مالی بوجھ میں اضافہ ہو جائے گا، جن کے لیے اے ٹی ایف آپریٹنگ اخراجات کا 40 فیصد بناتا ہے۔

سی این جی اور پی این جی کی قیمتوں میں اضافہ

مہانگر گیس نے پیر کو سی این جی کی قیمتوں میں دو روپے فی کلو اور گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) میں ایک روپے فی معیاری مکعب میٹر (ایس سی ایم) کے اضافے کا اعلان کیا۔کمپنی نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کی وجہ سے ان پٹ لاگت میں اضافہ کا حوالہ دیا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی نئی قیمت ممبئی اور اس کے آس پاس 88 روپے فی کلوگرام ہوگی، جو یکم ستمبر کی آدھی رات سے لاگو ہوگی۔

ممبئی، تھانے، رائے گڑھ، رتناگیری، لاتور اور مہاراشٹر میں دھاراشیو اور کرناٹک میں چتردرگا اور داونگیرے میں تقریباً 13 لاکھ سی این جی گاڑیاں ایم جی ایل کے سپلائی نیٹ ورک پر منحصر ہیں۔

گھریلو پی این جی محاذ پر، ان پٹ لاگت میں اسی اضافے کے نتیجے میں 30 لاکھ گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فی ایس سی ایم میں ایک روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ اعلان قومی دارالحکومت کے علاقے اور آس پاس کے علاقوں میں خدمات انجام دینے والی اندرا پرستھ گیس کی جانب سے سی این جی کی قیمتوں میں 3.89 روپے فی کلوگرام اضافے کے بعد آیا ہے۔

بڑے شہروں میں کمرشل سلنڈر کی نئی قیمتیں:

قیمتوں میں اس اضافے کے بعد ملک کے بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں آج سے نئی قیمتیں نافذ ہو گئی ہیں:

دہلی: قومی راجدھانی میں تجارتی سلنڈر کی قیمت میں 9.50 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس سے نئی شرح 2,747.50 روپے ہو گئی ہے۔

ممبئی: ملک کی صنعتی راجدھانی میں صارفین کو اب سلنڈر کے لیے 2,701 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

چنئی: اس جنوبی شہر میں، نئی قیمت 2,916.50 روپے تک بڑھ گئی ہے۔

دیگر شہر: کولکاتہ، حیدرآباد، اور بھونیشور جیسے شہروں میں مقامی ٹیکسوں کی وجہ سے قیمتوں میں 11.50 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ سے عام لوگوں اور کاروباری اداروں پر اثرات

یہ لگاتار دو ماہ جولائی اور اگست میں کمی کے بعد کمرشل گیس کی قیمتوں میں پہلا اضافہ ہے۔ اس تبدیلی کے بعد مارکیٹ پر درج ذیل اثرات ہوں گے:

گھریلو بجٹ محفوظ: 14.2 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت مستحکم رہنے سے، تہوار کے موسم میں عام خاندانوں کے بجٹ میں خلل نہیں پڑے گا۔
چھوٹے کاروباروں پر دباؤ: چھوٹے کاروباری مالکان جیسے کہ ہوٹل، ریستوراں، ڈھابے، اور چائے/ناشتہ کے اسٹالز چلانے والوں کو آپریٹنگ اخراجات میں معمولی اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مہنگائی کا کم امکان: مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ اضافہ معمولی ہے۔ لہذا، گھر سے باہر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا امکان نہیں ہے۔

گیس کی قیمتوں میں تبدیلی کیوں؟

تیل کمپنیاں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ایل پی جی کے نئی قیمتوں کا اعلان کرتی ہیں۔ یہ ایڈجسٹمنٹ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کے موقف پر غور کرنے کے بعد کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث آج کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس تہوار کے موسم میں گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مصر میں پیش آیا المناک حادثہ، بس پلٹنے سے 16 افراد جاں بحق، 28 زخمی* قاہرہ: مصر کے جنوبی سینائی صوبے میں بدھ کے روز ایک بس پ...