Monday, 9 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



رنجی ٹرافی میں عاقب نبی نے مچائی تباہی ، مدھیہ پردیش کے خلاف جھٹکے 12 وکٹ ، جموں و کشمیر کو پہنچایا سیمی فائنل میں
نئی دہلی: جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی ڈومیسٹک کرکٹ میں وکٹ کی مشین بن گئے ہیں۔ رنجی ٹرافی کے ناک آؤٹ مرحلے میں مدھیہ پردیش کے خلاف ان کی تباہ کن گیند بازی نے سنسنی پیدا کردی۔ اندور میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میچ میں عاقب نبی نے مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی طاقتور گیند بازی کی بدولت جموں و کشمیر نے کوارٹر فائنل میچ میں مدھیہ پردیش کو 56 رنز سے شکست دے کر اگلے راؤنڈ میں جگہ پکی کرلی۔

جموں و کشمیر کی جیت کے ہیرو عاقب نبی نے میچ میں کل 12 وکٹیں حاصل کیں۔ نبی نے پہلی اننگز میں سات اور پھر دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح مجموعی طور پر عاقب نبی نے 12 وکٹیں حاصل کیں۔ عاقب کی زبردست کارکردگی کی بدولت جموں و کشمیر نے مدھیہ پردیش کو پورے میچ میں بیک فٹ پر رکھا اور آسانی سے جیت حاصل کی۔ایم پی اور جموں و کشمیر کے میچ میں کیا ہوا؟
وہیں اس میچ کی بات کریں تو جموں و کشمیر کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 67 اوورز میں 194 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ جواب میں مدھیہ پردیش کی بیٹنگ بھی ناقص رہی اور عاقب نبی کی جان لیوا باؤلنگ کے سامنے ٹیم صرف 152 رنز تک ہی محدود رہی۔ اس سے جموں و کشمیر کو پہلی اننگز میں 42 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔

پہلی اننگز میں سستے آؤٹ ہونے کے بعد جموں و کشمیر نے دوسری اننگز میں زیادہ محتاط کے ساتھ بیٹنگ کی۔ جموں و کشمیر نے دوسری اننگز میں 248 رنز بنا کر مدھیہ پردیش کو چوتھی اننگز میں 291 رنز کا ہدف دیا تھا۔ تاہم عاقب نے ایک بار پھر اپنی دمدار گیندبازی سے تباہی مچا دی۔ عاقب نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر ٹیم کو 234 رنز تک محدود کر دیا اور جموں و کشمیر نے یہ میچ 56 رنز سے جیت لیا۔









سپریم کورٹ نے بنگال میں ایس آئی آر جانچ کے لیے مزید وقت دے دیا، ڈی جی پی کو شو کاز نوٹس
سپریم کورٹ نے پیر کے روز مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت کی آخری تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے، جس کے بعد اب یہ فہرست 14 فروری کے بعد شائع کی جائے گی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ 14 فروری کو حتمی ووٹر لسٹ شائع نہیں کی جا سکتی، کیونکہ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر (CEC) کو خط لکھ کر سماعت کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت مانگ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ ووٹرز سے متعلق سماعت کے لیے دیے جانے والے وقت میں مزید توسیع کی جائے۔سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) سے ذاتی حلف نامہ طلب کرتے ہوئے انہیں شو کاز نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے اس حلف نامے کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ SIR کے دوران تعینات انتخابی اہلکاروں کو دھمکیاں دی گئیں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

الیکشن کمیشن کے الزامات پر سپریم کورٹ کی سختی
الیکشن کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران کئی مقامات پر اس کے اہلکاروں کو دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس سے آزاد اور منصفانہ ووٹر ریویژن کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ ان الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بنگال کے ڈی جی پی سے وضاحت طلب کی ہے۔

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت
اسی دن سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر بھی سماعت کی، جس میں انہوں نے آئندہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کو چیلنج کیا ہے۔

ممتا بنرجی نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جانبداری کے تحت کام کر رہا ہے اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا موجودہ طریقہ کار سماج کے پسماندہ طبقات کے لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے عدالت سے عبوری ہدایت کی مانگ کی ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کسی بھی ووٹر کا نام حذف نہ کیا جائے، خاص طور پر ان ووٹروں کا جنہیں “Logical Discrepancy” کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال میں رواں برس اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، ایسے میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ بن چکی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے غیر قانونی ووٹروں کو ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ حکمراں ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کو مخصوص طبقات کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی کی عرضی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا اور معاملے کی مزید سماعت پیر کے لیے مقرر کی تھی۔











دہلی کے 9 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، اسکولوں میں سیکورٹی سخت، سیکورٹی ایجنسیاں الرٹ
نئی دہلی :دہلی میں پیر کی صبح ایک بار پھر اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے سے ہلچل مچ گئی۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں واقع نو اسکولوں کو بم کی دھمکی آمیز کال موصول ہوئی، جس کے بعد دہلی پولیس، فائر بریگیڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آ گئیں۔پولیس کے مطابق یہ تمام دھمکی آمیز کالز صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان کی گئیں۔ ایک ہی وقت میں متعدد کالز آنے کے باعث سیکورٹی ایجنسیاں مکمل طور پر الرٹ ہو گئیں۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ اسکولوں کے اطراف سیکورٹی بڑھا دی گئی اور احتیاطی طور پر طلبہ اور عملے کی حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔جن نو اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے، ان میں دہلی کینٹ کا لوریٹو کانونٹ اسکول، سری نواس پوری کا کیمبرج اسکول، روہنی کا وینکٹیشور اسکول، نیو فرینڈز کالونی کا کیمبرج اسکول، صادق نگر کا انڈین اسکول، روہنی کا سی ایم شری اسکول، آئی این اے کا ڈی ٹی اے اسکول، روہنی کا بال بھارتی اسکول اور نیو راجندر نگر کا ونستھلی اسکول شامل ہیں۔ تمام اسکولوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فی الحال کسی بھی مشتبہ چیز کی اطلاع نہیں ملی ہے،قابل ذکر بات یہ ہےکہ مکمل تفتیش جاری ہے۔ ساتھ ہی دھمکی دینے والے شخص یا افراد کی شناخت کے لیے کال ڈیٹیلز اور تکنیکی شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جنوری سے فروری 2026 کے درمیان دہلی این سی آر میں اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 7 فروری کو ایک بڑے پیمانے پر بھیجے گئے ای میل کے بعد 50 سے زائد اسکولوں کو خالی کرایا گیا تھا، جسے بعد میں وزارت داخلہ نے فیک قرار دیا تھا۔اس سے قبل 28 اور 29 جنوری کو بھی سردار پٹیل ودیالیہ، لوریٹو کانونٹ اور ڈان بوسکو سمیت پانچ اسکولوں کو دھمکیاں ملی تھیں، تاہم تفتیش میں کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا اور چند گھنٹوں بعد تمام کیمپس کو محفوظ قرار دے دیا گیا تھا۔

*🔴سیف نیوز اردو*




*"آل انڈیا مشاعرہ بہ یادگار ارشد مینا نگری" * میں ہندوستان کی ہردلعزیز شاعرہ محترمہ ھمانشی بابرا کی خاص شرکت* 
*12 فروری بروز جمعرات* 
*2026______________*
*اسکس ہال مالیگاؤں میں* 
_______________________________
 ایک ایسی بابرکت ادبی محفل کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو یاد، عقیدت اور تخلیقی وقار کو یکجا کرتی ہے۔ *ارشد مینا نگری مرحوم کی شخصیت صرف ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک دبستان کی حیثیت رکھتی ہے، اور انہی کی یاد میں سجی یہ بزم دراصل اردو ادب کے تسلسل اور احترام کا روشن استعارہ ہے۔ اس موقع پر ان کی تازہ کتاب *“سلام مصطفیٰ”* کی پیشکش اس تقریب کو مزید معنویت عطا کرتی ہے _ ایک ایسا منفرد مجموعہ جو *اکسٹھ اصنافِ سخن* پر مشتمل سلاموں کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ کو ادبی پیرائے میں سمو دیتا ہے۔
*شمع فروزی ساجد نمبر ون اور اجو فٹر ،*
 کے ہاتھوں اس محفل کا آغاز گویا روشنی اور حرارتِ سخن کا اعلان ہوگا۔ 
*صدارت : *خلیل احمد انصاری صاحب*
 فرمائیں گے، جن کی موجودگی تقریب کو فکری وقار عطا کرے گی۔ 
شہر و بیرون شہر سے تشریف لانے والے منتخب شعرائے کرام اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گے ۔
*چیف گیسٹ: احمد ہاشم صاحب* کی شرکت اس ادبی جشن کی اہمیت کو دوچند کرتی ہے، 
جبکہ
 *نظامت کے فرائض ارشاد انجم صاحب* 
 انجام دیں گے، جو اپنی شستہ بیانی سے محفل کو باندھے رکھیں گے۔
 *کنوینر :صادق حسین اشرفی صاحب* 
کی مسلسل جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے اور اس کے خادم پوری دلجمعی سے سرگرم ہیں۔
اس مشاعرے کی ایک خاص دلکشی
 *ہندوستان کی*
 *ہر دلعزیز شاعرہ ھمانشی بابرا*
 کی آمد ہے، 
جن کی شرکت محفل کو ہمہ رنگ بنا دے گی۔ 12 فروری 2026 کو اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے سامنے اسکس ہال، مالیگاؤں میں سجنے والی یہ شام محض ایک پروگرام نہیں بلکہ اردو تہذیب کا جشن ہوگی _ جہاں لفظ چراغ بنیں گے، یادیں خوشبو بنیں گی، اور عقیدت ایک اجتماعی احساس میں ڈھل جائے گی۔
باذوق سامعین کی شرکت اس پروگرام کی کامیابی کا باعث ہو گی۔ 
*علیم طاہر*
_____________________
________________________













*’اوورلوڈ‘ سیاست: جب پانچویں منزل سے گری مالیگاؤں کا ’قیادت‘*
 *وسیم رضا خان*
                        
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ہفتہ کے روز جو کچھ ہوا، وہ محض ایک تکنیکی حادثہ نہیں تھا بلکہ شہر کے نام نہاد رہنماؤں کی لاپرواہی اور حد سے بڑھے جوش کی جیتی جاگتی مثال تھا۔ میئر کے انتخاب کی گہماگہمی ختم ہوتے ہی جس طرح ایک لفٹ میں اس کی گنجائش سے دوگنے سے بھی زیادہ لوگ سوار ہو گئے، وہ اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارے لیڈروں میں عام فہم بھی باقی نہیں رہی؟
ہر لفٹ کے اندر واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ وہ کتنے لوگوں کا وزن برداشت کر سکتی ہے۔ مالیگاؤں کارپوریشن کی لفٹ کی گنجائش 8 افراد کی تھی، لیکن اس میں 18 سے 20 لوگ ٹھونس ٹھونس کر بھر دیے گئے۔ ان میں سابق ایم ایل اے آصف شیخ، کئی کارپوریٹر اور ذمہ دار صحافی بھی شامل تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ شہر کی ترقی کی فائلیں پڑھنے اور قوانین بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، کیا انہیں لفٹ پر لکھی ہوئی ’گنجائش‘ کی وارننگ پڑھنا بھی ضروری نہیں لگا؟
یہ اسی کمزور ذہنیت کی عکاسی ہے جہاں ’قوانین‘ دوسروں کے لیے ہوتے ہیں اور اپنے لیے صرف ’سہولت‘۔ تنقید اس بات پر ہو رہی ہے کہ جو قیادت ایک لفٹ کی گنجائش کا اندازہ نہیں لگا سکتی، وہ ایک پیچیدہ شہر کے مسائل کا بوجھ کیسے اٹھائے گی؟ اگر قیادت دوراندیش ہوتی تو وہ خود لوگوں کو باہر رکنے کی ہدایت دیتے۔ کیا اقتدار کے نشے میں یا جیت کے جشن میں وہ اتنے اندھے ہو گئے تھے کہ اپنی جان خطرے میں ڈال دی؟
یہ حادثہ اس بات پر سوال کھڑا کرتا ہے کہ شہر کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ایک چھوٹی سی مشین کے اشاروں کو بھی سمجھ نہیں پائے۔ خوش قسمتی سے سیفٹی بریک لگ گئے اور لفٹ دوسری منزل پر رک گئی، ورنہ مہانگر پالیکا کی عمارت میں ایک بڑا ماتم چھا جاتا۔ دیوار توڑ کر لوگوں کو باہر نکالا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے نظام کو درست کرنے کے لیے اکثر ’سخت‘ اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ یہ واقعہ مالیگاؤں کے لیڈروں کے لیے ایک سبق ہونا چاہیے۔ شہر کی عوام کی ذمہ داری سنبھالنا، 8 افراد کی گنجائش والی لفٹ میں 20 لوگوں کو ٹھونسنے جتنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر آپ ’لفٹ‘ نہیں سنبھال سکتے تو ’شفٹ‘ (اقتدار کی تبدیلی) اور شہر کے نظام کو کیا خاک سنبھالیں گے؟ اگلی بار جب آپ کسی اونچے عہدے یا منزل کی طرف بڑھیں تو اپنی صلاحیت اور قوانین کا ضرور خیال رکھیں، کیونکہ ہر بار ’سیفٹی بریک‘ ساتھ نہیں دیتے۔
مبارک ہو مالیگاؤں! ہمارے پاس ایسے ’بھاری بھرکم‘ لیڈر ہیں کہ بیچاری لفٹ بھی ان کا وزن (اور عقل کا بوجھ) برداشت نہ کر سکی۔ جس لفٹ میں 8 لوگ آنا چاہیے تھے وہاں 20 لوگ گھس گئے۔ غنیمت رہی کہ دیوار ٹوٹی، ریکارڈ نہیں۔ جو لیڈر لفٹ کی وارننگ نہیں پڑھ سکتے، وہ شہر کے مسائل کے ’سائن بورڈ‘ کیا خاک پڑھیں گے؟ میونسپل کارپوریشن کی لفٹ کا پانچویں منزل سے گرنا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ قیادت کی سنگین لاپرواہی ہے۔ جب سابق ایم ایل اے، کارپوریٹر اور ذمہ دار لوگ خود ہی قوانین کی دھجیاں اڑائیں گے تو عوام سے نظم و ضبط کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ آج دیوار توڑ کر جان بچانی پڑی، کل شہر کے نظام کو بچانے کے لیے کیا توڑنا پڑے گا؟









مردوں میں دل کی بیماری خواتین سے سات سال پہلے ظاہر ہوتی ہے: نئی تحقیق
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مردوں میں دل کی بیماری خواتین کے مقابلے میں اوسطاً سات سال پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق دل اور خون کی نالیوں سے متعلق امراض دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ افراد ان بیماریوں کے باعث جان سے گئے، جن میں سے 85 فیصد اموات دل کے دورے اور فالج کی وجہ سے ہوئیں۔
یہ تحقیق ’کارڈیا‘ (کورونری آرٹری رسک ڈیولپمنٹ اِن ینگ ایڈلٹس) نامی طویل المدتی ریسرچ کے ڈیٹا پر مبنی ہے اور اس کے نتائج جرنل آف امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع کیے گئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مرد 50.5 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے دل کی بیماری کے 5 فیصد امکانات تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہی سطح اوسطاً 57.5 سال کی عمر میں سامنے آتی ہے۔ریسرچ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کورونری ہارٹ ڈیزیز دل کی بیماری کی سب سے عام قسم ہے اور مردوں میں یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے میں تقریباً 10 سال پہلے ظاہر ہو جاتا ہے۔ تاہم فالج اور ہارٹ فیل ہونے کے معاملات میں مرد و خواتین دونوں میں خطرات تقریباً ایک ہی عمر میں سامنے آتے ہیں۔ محققین کے مطابق مرد و خواتین کے درمیان دل کی بیماری کے خطرے میں فرق 35 سال کی عمر سے ہی نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے اور درمیانی عمر تک برقرار رہتا ہے۔
تحقیق کے لیے 18 سے 30 سال کی عمر کے پانچ ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن کا 30 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد پر مشتمل اس گروپ نے ابتدائی عمر میں دل کی بیماری کے اسباب کو سمجھنے میں مدد دی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں نہایت ضروری ہیں۔ تمباکو نوشی ترک کرنا، متوازن اور صحت بخش غذا کا استعمال، باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ میں کمی، مناسب نیند اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کی باقاعدہ جانچ دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے دل کی بیماری کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔



Friday, 6 February 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





کمر کو درد سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی؟
جیسے صحت مند غذا صحت مند جسم کے لیے ضروری ہے اسی طرح اچھی اور پُرسکون نیند بھی تندرست اور توانا جسم کے لیے بہت اہم ہے۔ مناسب نیند دماغ کو فعال رکھنے، جذباتی توازن کو برقرار رکھنے اور جسم کو تازہ دم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق مناسب نیند دماغ کی درست کارکردگی، جذباتی توازن اور جسمانی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہارمونز کو متوازن رکھنے، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔لیکن نیند کے دوران کچھ عوامل خلل پیدا کر سکتے ہیں اور مختلف مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان میں ایک عام مسئلہ غلط پوزیشن میں سونا ہے۔
غلط پوزیشن میں سونا نہ صرف نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ کمر میں درد کا بھی سبب بنتا ہے۔ جیسے کہ پیٹ کے بل سونے سے ریڑھ کی ہڈی اور گردن پر دباؤ پڑتا ہے۔
جب سوتے وقت ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا نہ ملے تو پٹھوں میں کھچاؤ اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ اور اس طرح پہلے سے موجود کمر کے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے یا نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی ہے آئیے جانتے ہیں۔
عام طور پر کمر کے بل یا کروٹ لے کر سونا سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔
کمر کے بل سونا
کمر کے بل سونے سے جسم کا وزن برابر تقسیم ہو جاتا ہے اور دباؤ کم پڑتا ہے۔
گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھنے سے ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی خم برقرار رہتا ہے اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔کروٹ لے کر سونا
کروٹ لے کر سونا بھی ریڑھ کی ہڈی کے لیے بہت مفید ہے۔ کروٹ لے کر سونے والوں کو گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھنا چاہیے تاکہ جسم سیدھا رہے اور کولہوں اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو۔
کروٹ لے کر ٹانگوں کو جسم کی طرف موڑ کر سونا۔
یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان جگہ پیدا کرتی ہے جو خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جنہیں ریڑھ کی ہڈی کے مسائل ہوں۔
اگر آپ اس پوزیشن کو زیادہ آرام دہ بنانا چاہتے ہیں تو سکڑ کر لیٹتے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے چند اضافی باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
درست گدّے کا انتخاب
درست گدے کا انتخاب بہت اہم ہے کیونکہ درمیانی سختی والا گدا جسم کو مناسب سہارا دیتا ہے اور آرام بھی فراہم کرتا ہے۔
اگر گدا پرانا ہو چکا ہو اور جسم کو سہارا نہ دیتا ہو تو اسے بدل دینا بہتر ہے۔
تکیے کا انتخاب
تکیے کا انتخاب بھی درست ہونا چاہیے تاکہ گردن سیدھی پوزیشن میں رہے۔
کمر کے بل سونے والوں کے لیے پتلا تکیہ بہتر ہوتا ہے جبکہ کروٹ لے کر سونے والوں کو قدرے موٹا تکیہ زیادہ فائدہ دیتا ہے۔
ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا
نیند کے معمولات کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسم کو بہت حالت میں رکھتا ہے۔
کمرے کا ماحول
سونے کے لیے کمرے کا ماحول آرام دہ ہونا چاہیے۔ کمرہ قدرے ٹھنڈا، تاریک اور پُرسکون ہو تو نیند بہتر آتی ہے۔سکرین کے استعمال سے گریز
سونے سے پہلے سکرین کے استعمال کو کم کرنا بھی مفید ہے۔
سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا دیگر سکرینوں کو دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ان کی روشنی نیند کے قدرتی نظام میں خلل ڈالتی ہے۔
پُرسکون سرگرمیاں
سونے سے پہلے خود کو پُرسکون کرنے والی سرگرمیاں اپنائیں۔
مطالعہ، مراقبہ یا ہلکی پھلکی سٹریچنگ ذہن کو سکون دیتی ہے اور جسم کو نیند کے لیے تیار کرتی ہے۔
دن بھر متحرک رہنا اور رات کو ہلکا کھانا کھانا بھی بہتر نیند میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے اپنی سونے کی پوزیشن پر توجہ دیں اور آرام دہ نیند کے لیے ان عادات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔












پاکستان کی ساکھ بچانے کے لئے ICC کا فیس سیونگ فارمولہ، بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میچ بچانے کی کوشش
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان متوقع میچ پر پیدا ہونے والے تنازع کو حل کیا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق آئی سی سی پاکستان کو ایسا ’’باعزت راستہ‘‘ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے پاکستان اپنی سخت پوزیشن سے پیچھے ہٹ سکے اور اسے داخلی یا عوامی سطح پر زیادہ تنقید کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔کرکٹ ویب سائٹ کریک بَز (Cricbuzz)کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم عالمی کرکٹ حلقوں میں محتاط امید پیدا ہو رہی ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا اور اہم کرکٹ مقابلہ شیڈول کے مطابق منعقد ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آئی سی سی کی جانب سے پیش کیا جانے والا حل کیا ہوگا اور کب تک اس حوالے سے پیش رفت سامنے آئے گی۔

میچ کے انعقاد میں صرف نو دن باقی رہ گئے ہیں اور اس غیر یقینی صورتحال سے تمام فریقین شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس تنازع کا اثر نہ صرف آئی سی سی، پی سی بی اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) پر پڑ رہا ہے بلکہ اس کے مالی نقصانات بھی کروڑوں روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے شائقین کرکٹ بھی اس صورتحال کے باعث بے یقینی کا شکار ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے خلاف کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ ٹیم کے اختیار میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا اور ٹیم اسی فیصلے پر عمل کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کو سیمی فائنل یا فائنل میں بھارت کا سامنا کرنا پڑا تو پھر بھی حکومت اور پی سی بی سے رہنمائی لی جائے گی۔

دوسری جانب بھارتی ٹیم کے کپتان سوریہ کمار یادیو نے واضح کیا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کی کولمبو کے لیے پروازیں پہلے ہی بک ہو چکی ہیں اور وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق سفر کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا فیصلہ ان کے اختیار میں نہیں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ مقابلے دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کھیلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دو طرفہ کرکٹ سیریز طویل عرصے سے معطل ہیں، جس کے باعث دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی یا ایشین کرکٹ کونسل کے عالمی ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ ایسے مقابلے نہ صرف کھیل بلکہ سفارتی اور معاشی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

ٹی20 ورلڈ کپ جیسے عالمی ٹورنامنٹ میں بھارت اور پاکستان کا میچ براڈکاسٹنگ رائٹس، اشتہارات اور ٹکٹ فروخت کے حوالے سے سب سے زیادہ منافع بخش تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میچ کی منسوخی عالمی کرکٹ اداروں اور منتظمین کے لیے بڑا مالی اور ساکھ کا نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔

اب نظریں آئی سی سی اور دونوں ممالک کے کرکٹ حکام پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس حساس معاملے کو حل کر کے دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ مقابلے کو ممکن بنا پاتے ہیں یا نہیں۔











میگھالیہ میں غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، 16 مزدور ہلاک، کئی کے پھنسے ہونے کا خدشہ
میگھالیہ کے ضلع ایسٹ جینتیا ہلز میں جمعرات کے روز ایک مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 مزدور ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد دیگر کے کان کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس بات کی تصدیق ریاست کی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) آئی نونگرینگ نے کی ہے۔

ڈی جی پی کے مطابق، واقعہ تھانگسکو (Thangsku) علاقے میں صبح کے وقت پیش آیا، جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو ٹیموں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا :’’اب تک 16 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ دھماکے کے وقت کان کے اندر موجود مزدوروں کی درست تعداد کا ابھی تعین نہیں ہو سکا ہے۔ اندیشہ ہے کہ مزید افراد کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘

ایسٹ جینتیا ہلز کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکاش کمار نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو پہلے سوتنگا پرائمری ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا، بعد ازاں اس کی حالت نازک ہونے پر اسے شیلانگ کے ایک بڑے اسپتال میں ریفر کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دھماکہ کوئلہ نکالنے کے دوران پیش آیا، اور جس مقام پر حادثہ ہوا، وہاں جاری کان کنی سرگرمیوں کو غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے۔

جب پولیس حکام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ کان غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا کہ تمام شواہد اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں، تاہم دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے باضابطہ انکوائری شروع کی جائے گی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل گرین ٹریبونل (NGT) نے سال 2014 میں میگھالیہ میں ریٹ ہول کوئلہ کان کنی (Rat-Hole Mining) اور دیگر غیر سائنسی کان کنی طریقوں پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کی وجہ شدید ماحولیاتی نقصان اور مزدوروں کی جان کو لاحق خطرات بتائے گئے تھے، جبکہ غیر قانونی طور پر نکالے گئے کوئلے کی ترسیل پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

ریٹ ہول مائننگ میں زمین کے اندر انتہائی تنگ سرنگیں کھودی جاتی ہیں، جن کی اونچائی عموماً 3 سے 4 فٹ ہوتی ہے۔ ان سرنگوں میں ایک وقت میں بمشکل ایک ہی مزدور داخل ہو سکتا ہے، اسی لیے انہیں ’’ریٹ ہول‘‘ یعنی چوہے کے بل جیسی سرنگیں کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ نہایت خطرناک اور جان لیوا ہے۔

اس کے باوجود، مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر یہ سرگرمیاں خفیہ انداز میں جاری ہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے المناک حادثات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔

(پی ٹی آئی کے تعاون سے)

*🔴سیف نیوز بلاگر*




اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ،31 اموات، 169 افراد زخمی، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں اب تک 30 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
اس وقت امام بارگاہ کے باہر شہری اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے منتظر ہیں کیونکہ انہیں تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ زخمیوں میں شامل ہیں یا مر چکے ہیں۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 169 افراد زخمی ہوئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک مختلف ہسپتالوں میں 31 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ہے۔
ترلائی کلاں کے ہی رہائشی 26 سالہ رفت حسین (فرضی نام) بھی اپنے والد کو تلاش کرنے کے لیے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ کے باہر موجود ہیں۔انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے والد صاحب کی موٹر سائیکل تو یہاں پر کھڑی ہے لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔
وہ اپنے والد کی شناخت کے لیے پہلے یہاں اور پھر وہاں سے ہسپتال جانے کا ابھی ارادہ رکھتے ہیں۔
ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ یہاں کی مرکزی امام بارگاہ ہے، جہاں نہ صرف مقامی بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی نمازی نماز ادا کرنے آتے ہیں۔
امام بارگاہ کے اندر داخلے کے لیے دو مقامات پر امام بارگاہ کی مقامی سکیورٹی تعینات تھی تاہم مبینہ طور پر پولیس کا کوئی اہلکار وہاں موجود نہیں تھا۔اردو نیوز کو واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ’حملہ آور نے سکیورٹی پر مامور امام بارگاہ کی سکیورٹی پر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ آگے بڑھا، دوسرا پوائنٹ بھی کراس کیا اور پھر تیسرے پوائنٹ پر، جو جمعہ کی نماز کی پچھلی صفوں کے قریب تھا، جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘اس وقت امام بارگاہ کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ قرب و جوار کی چھتوں پر بھی اسلام آباد پولیس کی ایلیٹ فورس کے جوان تعینات ہیں۔
موقع پر آئی جی اسلام آباد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینیئر حکام نے دورہ کیا، جبکہ دھماکے سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
امام بارگاہ کے اطراف اس وقت مقامی افراد بھی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امام بارگاہ سے کچھ میٹر کے فاصلے پر واقع لترار روڈ کی مرکزی مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے تاجروں نے بھی دھماکے کی آواز سنی۔ انہوں نے بتایا کہ ’اگرچہ امام بارگاہ کئی میٹر دور واقع ہے، لیکن ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے خدانخواستہ دھماکہ ہماری دکان کے باہر ہی ہوا ہو۔‘
یہاں کے مقامی افراد نے اردو نیوز کو یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد پولیس کا کوئی اہلکار آج امام بارگاہ کے باہر تعینات نہیں تھا، صرف امام بارگاہ کی مقامی سکیورٹی ہی وہاں پر مامور تھی۔
اب تک اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ موقف جاری نہیں کیا، تاہم ان کی جانب سے اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی مذمت
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔’حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے‘
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن دونوں کے دشمن ہیں۔ حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان اورطالبان کے گٹھ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں۔ سکیورٹی گارڈوں نے اس کو چیلنج کیا جس کے جواب میں اس نے فائرنگ کی اور نمازیوں کی آخری قطار میں اپنے کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔ ہندوستان عبرت ناک شکست کے بعد اپنی پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے۔ براہ راست جنگ لڑنے کی اب ہمت نہیں۔‘













مسلم ریزرویشن کو مستقل کریں گے، اگر دم ہے تو حکومت بنا کر دکھاؤ، ریونت ریڈی کا امت شاہ کو بڑا چیلنج
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے چیلنج دیا کہ اگر اس میں ہمت ہے تو ریاست میں حکومت بنا کر دکھائے۔ انہوں نے یہ بات مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ان پرانے بیانات کے حوالے سے کہی، جن میں کہا گیا تھا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر تلنگانہ میں اقلیتوں کو ملنے والا چار فیصد ریزرویشن ختم کر دیا جائے گا۔ہیٹ اسپیچ پر قانون

وزیرِ اعلیٰ نے اقلیتوں کی حمایت، ہیٹ اسپیچ پر قانون اور مسلم ریزرویشن جیسے معاملات پر براہِ راست مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مجوزہ قانون ریاستی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ملک میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہ بیان ریونت ریڈی نے حیدرآباد میں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام کے دوران دیا۔

امت شاہ کو کھلا انتخابی چیلنج

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو کھلا انتخابی چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی میں دم ہے تو امت شاہ خود انتخاب لڑ کر تلنگانہ میں اقتدار حاصل کر کے دکھائیں۔ وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی صرف بیان بازی کرتی ہے، جبکہ تلنگانہ کی عوام حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکاجگیری لوک سبھا انتخاب اور تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں جمعیۃ علماء ہند نے ان کی حمایت کی، جس کے لیے وہ تنظیم کے شکر گزار ہیں۔

مسلم ریزرویشن پر بڑا بیان

وزیر اعلیٰ نے مسلم ریزرویشن کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اقلیتوں کی حمایت سے بنی ہے اور ان کی حکومت اقلیتوں کے حقوق کی مکمل حفاظت کرے گی۔ ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو تلنگانہ حکومت سپریم کورٹ کو مسلم آبادی سے متعلق مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم آبادی سے متعلق تمام اعداد و شمار گزشتہ برس کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کے دوران جمع کیے گئے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ نے امت شاہ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ مسلمانوں کو ملنے والا 4 فیصد ریزرویشن ختم کر کے دکھائیں۔ اس دوران وزیرِ اعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی حکومت نفرت پھیلانے والی تقاریر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرتی رہے گی اور ریاست میں امن، بھائی چارہ اور قانون و نظم و نسق برقرار رکھنا اس کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔












’’وزیراعظم مودی نے روس کو یوکرین پر جوہری حملہ کرنے سے روکا…‘‘، پولینڈ کے وزیر کا بیان
نئی دہلی: پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ ولادیسلاو بارٹوشیفسکی نے عالمی سطح پر وزیراعظم نریندر مودی کے مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی ہے۔ آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے روس کو یوکرین پر جوہری حملہ کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بھارت اور پولینڈ کے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بارٹوشیفسکی نے کہا، “بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ہم دنیا میں بھارت کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔”روس-یوکرین جنگ میں بھارتی وزیراعظم کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، “جیسا کہ میں نے نئی دہلی میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا، وزیراعظم مودی نے 2022 کے آخر میں صدر ولادیمیر پوتن سے بات چیت کی تھی اور انہیں یوکرین میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر ڈیوائس کے استعمال کی کوشش سے روکا تھا۔ یہ ایک مثبت کردار تھا جو وزیراعظم مودی نے ادا کیا، اور یہی وہ کردار ہے جو بھارت عالمی معاملات میں نبھاتا آ رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔”

وزیراعظم مودی کے پولینڈ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے بارٹوشیفسکی نے کہا،“2024 میں ہم نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ وہ بھارت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے پولینڈ کا دورہ کرنے والے گزشتہ 45 برسوں میں پہلے بھارتی وزیراعظم تھے۔ یہ ایک انتہائی کامیاب اور مثبت دورہ تھا۔ اب ہم نے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) بھی کیا ہے، جس کا ہم بھی حصہ ہیں۔ میں ابھی وزارت خارجہ سے واپس آیا ہوں، جہاں ہم نے فوجی تعاون، ڈیجیٹل صنعت، سکیورٹی امور، ہائی ٹیک آئی ٹی سرمایہ کاری، خلائی تعاون اور دیگر کئی عملی اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔”

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت نے دیگر ممالک کے مقابلے امریکہ کے ساتھ زیادہ فائدہ مند تجارتی معاہدہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے کہ بھارت ایک بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ اس وقت آپ دنیا میں جی ڈی پی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہیں، اور وزیراعظم مودی نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کا ہدف بہت جلد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننا ہے۔ بھارت ایک بہت بڑی منڈی ہے جہاں تقریباً ڈیڑھ ارب لوگ رہتے ہیں، اور اسی وجہ سے یہ ایک نہایت ترقی یافتہ مارکیٹ بھی ہے۔ اتنی صلاحیت رکھنے والے ملک کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔”

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر بات کرتے ہوئے پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ نے کہا، “تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے مقابلے میں تجارتی معاہدہ ہونا بہتر ہے، کیونکہ عام طور پر ٹیرف خوشحالی کی ضمانت نہیں دیتے۔ جب کسی شے پر ٹیرف لگایا جاتا ہے تو آخرکار اس کا بوجھ صارف کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے میرا ماننا ہے کہ جتنے کم ٹیرف ہوں، اتنا ہی بہتر ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ بھارت اور امریکہ ایسے معاہدے پر پہنچے ہیں جس کے تحت ٹیرف میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔”

ادھر وزارت خارجہ (ایم ای اے) میں سکریٹری (مغربی) سبی جارج نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں ولادیسلاو بارٹوشیفسکی کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور 2024 تا 2028 کے ایکشن پلان کے اہم اہداف پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




جشن اردو ، ممبئی یونیورسٹی ، 31 جنوری 2026 ، افسانہ خوانی نشست میں اپنا افسانہ "انجیر کی مٹھائی '" پیش کرتے ہوئے ـ
اس پروگرام میں  دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر ذاکر فیضی   اور  ممبئی سے محتشم اکبر نے بھی اپنی تخلیقات کے پیش کی ـ اسلم پرویز صاحب مہمان خصوصی رہے ـ معروف سینئر فکشن رائٹر محترمہ نگار عظیم صاحبہ بطور صدر اسٹیج کی زینت بنیں ـ  الحمداللہ افسانہ " انجیر کی مٹھائی " سامعین ، مہمانان اور صدر موصوفہ  نے پسند فرمایا ـ











ایک شام بزرگ شعراء کے نام
بیاد جناب مرحوم ادیب حضرت مالیگانوی صاحب صدارت سلیم شہزاد صاحب
دعائیہ کلمات مولانا عمرین محفوظ رحمانی شمع فروزی: محمد رمضان فیمس ،پروفیسر عبد المجید صدیقی عبدالرشید آرٹسٹ نظامت جناب غلام مصطفی اثر صدیقی قرآت قاری زبیر عثمانی نعت پاک واحد انصاری خالد انور اظہار خیال خیال انصاری صاحبان اعزاز شعراء کرام ڈاکٹر اشفاق انجم انيس نئير ظہیر قدسی قطب الدین رابی مختار یوسفى اقبال نذیر احمد شناور پروفیسر سلیم قیصر ڈاکٹر نعيم اختر متین شہزاد عادل فاروقی اعظم علی ممنون نجمی ابن جاوید ادریس وارثی
 سات فروری بروز سینچر ٹھیک بعد نماز عشاء
زیر اہتمام سيف نيوز اردو
بمقام اسکس بال بالمقابل اے ٹی ٹی ہائی اسکول، مالیگاؤں
شہر کی ادبی شخصیات و ادبی ثقافتی تنظیمیں بطور مہمان مدعو ہیں آپ ے بزرگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے آپ سے شرکت کی پرخلوص گذارش ہے












*مسجد و مدرسہ ام المومنین حضرت سودہ کا افتتاح انشاءاللہ عنقریب
 اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آپکے اہل خانہ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
 مسجد و مدرسہ ام المومنین حضرت سودہ گلشن مجید سروے نمبر 2/ 104 پلاٹ نمبر 43 جس کا تعمیری کام الحمداللہ تیزی سے جاری ہے
 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ حضرات کے مسلسل تعاون سے مسجد کا تعمیر تقریباً 95٪ فیصد مکمل ہو چکی ہے مگر ابھی بھی کچھ اہم کام باقی ہیں 
جبکہ تعمیرات میں لگنے والےبلڈنگ مٹریل کے *علاوہ مزدوری کی نقد رقم کی اشد ضرورت ہے* فی الحال ساڑھے چار لاکھ روپے بطور قرض کچھ افراد سے لیا گیا ہے کیونکہ وقت کم ھونے کی وجہ اور رمضان المبارک سے پہلے پہلے مسجد کا افتتاح کرنا نہایت ضروری ہے وجہ صاف ہیکہ سروے نمبر 104 میں آبادی تو بہت بڑی ہو گئی ہے اور بستی دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی ہے مگر *گلشن مجید میں یہ پہلی مسجد ہو گی انشاءاللہ*
 ان حالات کے پیش نظر شہر عزیز و اہلیان محلہ سے ایک مرتبہ پھر سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اس کار خیر میں حصہ لے کر اجر عظیم کے مستحق بنے اللہ تعالیٰ تمام معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین 

==============
 رابطہ کیلئے 
👇👇👇
==============
  *محمد یعقوب انصاری 9270304700*
__________
 *محمد معروف محمد صدیق*
*8605811808*
---------------
 *مراد کرانہ والے 7385157467*












  رمضان المبارک سے قبل حجامہ کروانے کا سنہری موقع* 
  سنتِ نبوی ﷺ — شفا بھی، علاج بھی
الحمدللہ!
حجامہ کیمپ (𝐂𝐮𝐩𝐩𝐢𝐧𝐠 𝐓𝐡𝐞𝐫𝐚𝐩𝐲) کا باضابطہ اور منظم انعقاد کیا جا رہا ہے۔
تمام احباب سے گزارش ہے کہ مقررہ وقت پر تشریف لائیں اور اس بابرکت و مفید موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔
 *تاریخیں* 𝐃𝐚𝐭𝐞
 𝟎𝟖 فروری 𝟐𝟎𝟐𝟔ء — 𝟏𝟗 شعبان المعظم 
 𝟏𝟎 فروری 𝟐𝟎𝟐𝟔ء — 𝟐𝟏 شعبان المعظم 

 *اوقات :* صبح 𝟏𝟎 بجے سے دوپہر 𝟒 بجے تک. 

 *🌿 حجامہ کے نمایاں فوائد:* 
✅ جلدی امراض
✅ سردرد اور دردِ شقیقہ
✅ جوڑوں اور اعصابی درد
✅ فالج (لقوہ)
✅ دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض
✅ معدہ اور نظامِ ہضم کی کمزوریاں
✅ دانتوں اور آنکھوں کے امراض
✅ بلڈ پریشر۔ 
✅ خون کی صفائی اور جسم سے فاسد مادّوں کا اخراج۔ 

 *✨ حجامہ نہ صرف شفا کا ذریعہ ہے بلکہ* 
🌸 صحت مند زندگی کی ضمانت
🌸 جسمانی ہلکا پن اور تازگی کا احساس

 *👨‍⚕️ خدمات انجام دیں گے:* 
🔹 ڈاکٹر اقبال فارانی سر 
🔹 طلحہ، (طبی خدمات)

 *📍 کیمپ کا پتہ:* 
 مالیگاؤں، اردو لائبریری کے سامنے. 

 *📞📱 مزید تفصیلات کیلئے رابطہ کریں:* 
 *🔸 𝐂𝐚𝐥𝐥 /& 𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩* 
📲 9158635749

Tuesday, 3 February 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





آنکھوں میں اچانک سرخی آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟
آنکھوں کو انسان کی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ جسم کا بھی آئینہ کہا جاتا ہے جن کے ذریعے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔  
یہی وجہ ہے کہ آنکھوں کی رنگت سے بھی جسم میں ہونے والی بیماریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن کبھی کبھی نیند کی کمی کی وجہ سے بھی آنکھوں میں سرخی آجاتی ہے۔ یا کبھی الرجی کے باعث بھی آنکھیں سرخ دکھائی دیتی ہیں۔ 
الرجل میگزین کے مطابق بعض اوقات آنکھوں میں سرخی کا آنا کسی قسم کے وائرس کا حملہ بھی ہوسکتا ہے، علاوہ ازیں بیکٹریا کا بھی اچانک حملہ آنکھوں کی سرخی کا سبب ہوسکتا ہے۔  آنکھوں میں سرخی کا آنے کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ تاہم اس کے تدارک کے لیے اسباب کا جاننا اہم ہوتا ہے جس کے بعد ہی علاج کیا جاتا ہے۔
اگر نیند کی کمی سے آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں تو اس کے لیے مناسب حد تک نیند لینا ضروری ہے لیکن اگرسرخی کا سبب کوئی اور ہے تو اس صورت میں باقاعدہ علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔ 
آنکھوں کی سرخی کے اسباب: 
نیند کی کمی  
عام طور پرنیند کی قلت آنکھوں کی سرخی کا باعث ہوتی ہے، آنکھوں کی رگوں کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن میسر نہ آنا بھی سرخی کا سبب ہوتا ہے۔ 
نیند کی کمی کی وجہ سے آنکھیں طویل مدت تک کھلی رہتی ہیں جس کی وجہ سے آنکھ کی پتلی (قرنیہ) میں مطلوبہ رطوبت نہیں ہوتی اورآنکھ قدرے خشک ہو کر سرخ ہو جاتی ہے۔ 
اس حوالے سے سال 2022 میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی کمی سے آنکھوں کی خشکی بڑھ جاتی ہے جس سے آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں۔کانٹیکٹ لینس 
کانٹیکٹ لینس لگانے سے آنکھوں کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن میسرنہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ سرخ ہوجاتی ہیں۔ اگرلینس رات کو سوتے وقت بھی استعمال کیے جائیں تو ممکن ہے کہ آنکھوں میں انفیکشن ہو جائے۔ 
اس لیے ضروری ہے کہ لینس کا استعمال کثرت سے نہ کیا جائے اور اسے مطلوبہ طبی طریقے سے دھونے کے بعد لگایا جائے، سوتے وقت تو قطعی طور پر لینس نہ لگائیں۔ 
حساسیت یا الرجی
حساسیت یا الرجی دراصل عام مدافعتی ردعمل ہے، تاہم یہ کسیعمل کا محرک ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے آنکھوں میں الرجی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ 
الرجی کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں ادویات، گرد وغبار، فضائی آلودگی، بعض کیمیائی مواد مثلاً سویمنگ پولز میں کلورین کی زیادتی شامل ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو موسمی تبدیلی کی وجہ سے بھی آنکھوں کی الرجی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
نیلا پانی یا موتیا
وہ افراد جو موتیا یا نیلے پانی کے مرض میں مبتلا ہوتے ہوں ان کی آنکھیں بھی سرخ رہتی ہیں یا آنکھوں میں زیادہ دباؤ بھی سرخی کا باعث بنتا ہے۔ آنکھ پر دباؤ خطرے کا باعث بن سکتا ہے جس سے آنکھ کی شریان کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ وہ شریان ہوتی ہے جو آنکھ کے نیٹ ورک کودماغ کے مخصوص حصے تک پہنچاتی ہے۔ 
آنکھوں میں سرخی عام طورپر معمر افراد میں زیادہ ہوتی ہے جس سے زاویہ بصارت بھی متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ آنکھ اچانک سرخ ہوجانے کی صورت میں ضروری ہوتا ہے کہ فوری طور پر معالج سے رجوع کیا جائے بالخصوص آگر آنکھ کی سرخی کے ساتھ متلی کا احساس ہو، یا آنکھوں پر دباؤ پڑھے یا پھر سر میں درد ہو۔انفیکشن  
آنکھوں میں سرخی آنے کے اسباب میں وائرس کا حملہ بھی ایک اہم وجہ ہوتی ہے جس سے انفیکشن ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر باقاعدہ معائنہ کرنے کے بعد تشخیص کر کے ادویات جاری کرتے ہیں۔
کبھی کبھار نزلے یا شدید زکام کا شکار ہونے کی صورت میں بھی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔
جہاں تک بیکٹیریئل انفیکشن کا تعلق ہے تو یہ زیادہ تر بچوں میں عام ہوتی ہے جو اکثر آنکھوں کو رگڑنے سے بڑھ جاتی ہے اور یہ ایک سے دوسرے شخص کو بھی لگ سکتا ہے۔ اس لیے بیکٹیریئل انفیکشن کے دوران احتیاط برتنا بھی ضروری ہے۔ 
کیا آنکھوں میں سرخی متعدی ہے؟ 
اگرچہ محض آنکھوں میں سرخی ہونا ایک سے دوسرے میں منتقل ہونا ممکن نہیں ہوتا تاہم اس کےلیے وجوہات معلوم کرنا ہوتی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سرخی محض نیند کی کمی کی وجہ سے ہے یا کسی وائرس بیکٹریا یا کسی بیماری کے باعث ہوئی ہے جو متعدی ہوسکتی ہے۔ 
آنکھوں کی بیماری یا سرخی اس وقت تک متعدی ہوسکتی ہے جب تک اس میں وہ علاماتیں رہتی ہیں جو کسی وائرس یا بیکٹریا کی وجہ سے سامنے آتی ہیں۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ اسباب کومعلوم کیاجائے۔ 
آنکھوں کی سرخی کا علاج  
آنکھوں کی سرخی کے علاج کے لیے بنیادی طور پر اسکی وجہ دریافت کرنا ہوتی ہے، اس کے بعد ہی مناسب طریقہ علاج تجویز کیا جاتا ہے جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔
1. اینٹی بائیوٹک ڈراپس  
آنکھوں کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹک قطریں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ معالج آنکھوں کا معائنہ کرنے کے بعد بیماری کی تشخیص کریں اور اس کے بعد اینٹی بائیوٹک کی مقدار اور تناسب کا تعین کریں۔ آگرآنکھوں کی سرخی معمولی ہے تو یہ تین سے 5 دنوں میں از خود ختم ہوجاتی ہے جس کے لیے اینٹی بائیوٹک دوائی دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ 
اگر آنکھوں میں انفیکشن وائرل ہو یعنی کسی وائرس کی بنیاد پر ہو تو وہ 14 دن تک رہنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے جس کے لیے لازمی نہیں کہ اینٹی بائیوٹک استعمال کی جائیں۔ 
2 ۔ مصنوعی آنسو 
عام طور پر آنکھوں کی سرخی خشکی کی وجہ سے بھی ہوتی ہے جس کے لیے ’مصنوعی آنسو‘ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا مقصد آنکھوں کو مرطوب کرنا یعنی خشکی کو دور کرنا اور مطلوبہ مقدار میں آکسیجن کی فراہمی ہے۔ 
3۔ اینٹی ہسٹامائنز ( الرجی کی دوائی) 
الرجی کی وجہ سے سرخ ہونے والی آنکھ کے علاج کے لیے اینٹی ہسٹامائنز جو کہ الرجی کے لیے دی جاتی ہے مفید ہوتی ہے۔ اس صورت میں آنکھوں میں سرخی کے ساتھ خارش بھی ہوتی ہے۔بہتر ہی نہیں بلکہ لازمی ہے کہ آنکھوں کے لیے کوئی بھی دوائی از خود استعمال نہ کی جائے بلکہ معالج کے مشورے سے اسے استعمال کی جائے۔ 
آنکھوں کی سرخی میں احتیاطی تدابیر
آنکھوں کی سرخی سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے۔
۔ ہاتھوں کو صاف پانی اورصابن سے دھوتے رہیں۔
۔ آنکھوں کو رگڑا نہ جائے خاص کر جب آنکھوں میں سرخی ہو۔
۔ آنکھ کے ڈراپس یا مرہم استعمال کرنے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھویا جائے تاکہ ساتھی متاثر نہ ہوں۔
۔ زیادہ دیر تک کانٹیکٹ لینس استعمال نہ کیے جائیں۔
۔ کانٹیکٹ لینس کومخصوص دوائی سے دھوئیں۔ 














*مسجد و مدرسہ ام المومنین حضرت سودہ کا افتتاح انشاءاللہ عنقریب*
 اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آپکے اہل خانہ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
   مسجد و مدرسہ ام المومنین حضرت سودہ گلشن مجید سروے نمبر 2/ 104 پلاٹ نمبر 43 جس کا تعمیری کام الحمداللہ تیزی سے جاری ہے
 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ حضرات کے مسلسل تعاون سے مسجد کا تعمیر تقریباً 95٪ فیصد مکمل ہو چکی ہے مگر ابھی بھی کچھ اہم کام باقی ہیں 
جبکہ تعمیرات میں لگنے والےبلڈنگ مٹریل کے *علاوہ مزدوری کی نقد رقم کی اشد ضرورت ہے* فی الحال ساڑھے چار لاکھ روپے بطور قرض کچھ افراد سے لیا گیا ہے کیونکہ وقت کم ھونے کی وجہ اور رمضان المبارک سے پہلے پہلے مسجد کا افتتاح کرنا نہایت ضروری ہے وجہ صاف ہیکہ سروے نمبر 104 میں آبادی تو بہت بڑی ہو گئی ہے اور بستی دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی ہے مگر *گلشن مجید میں یہ پہلی مسجد ہو گی انشاءاللہ*
 ان حالات کے پیش نظر شہر عزیز و اہلیان محلہ سے ایک مرتبہ پھر سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اس کار خیر میں حصہ لے کر اجر عظیم کے مستحق بنے اللہ تعالیٰ تمام معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین 

==============
 رابطہ کیلئے 
👇👇👇
==============
  *محمد یعقوب انصاری 9270304700*
__________
 *محمد معروف محمد صدیق*
*8605811808*
---------------
 *مراد کرانہ والے 7385157467*










ممبئی یونیورسٹی نے اردو لائبریری مالیگاؤں کی 124 سالہ خدمات کا اعتراف کیا  
"اردو اور مالیگاؤں "پر کامیاب مذاکرہ 
ممبئی، 1 فروری 2026: ممبئی یونیورسٹی، اردو چینل اور روٹس آف کائنڈنس کے اشتراک سے فیروز شاہ مہتہ آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں اردو لائبریری مالیگاؤں (ناسک) کی 124 سالہ علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے "انوار اردو" ایوارڈ بشکل ٹرافی پیش کیا گیا۔ اس موقع پر اردو لائبریری کے تمام ٹرسٹیان کو اعزاز سے نوازا گیا۔  

تقریب میں معزز مہمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جن میں 
ڈاکٹر قاسم امام 
ڈاکٹر قمر صدیقی  
،ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا  
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر  
ودیگر ممتاز شخصیات بھی شریک رہیں

اس سے قبل "مالیگاؤں اور اردو" کے عنوان سے ایک کامیاب مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں جاوید انصاری (آکاش وانی)، مظہر معاذ شوقی، ڈاکٹر احتشام دانش، نہال احمد عبداللہ اور عبید الرحمٰن حکیم نے شرکت فرمائی۔ مذاکرہ میں مالیگاؤں کی شعری و ادبی روایت، دینی درسگاہوں،ادبی انجمنوں، میوزک کلب، ڈرامہ گروپ، خطاطی اور ادبِ اطفال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔  

جاوید انصاری نے شہر کی ادبی و ثقافتی تاریخ پر تحقیقی مضمون پیش کیا، مظہر معاذ شوقی نے عوامی کتب خانوں بالخصوص اردو لائبریری کا تعارف کرایا، جبکہ رمضان مکی نے عصری درسگاہوں کے اعداد و شمار اور معیار تعلیم پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر احتشام دانش نے رسمِ شکریہ ادا کیا۔  

اسی تقریب میں جاوید انصاری کی طویل نشریاتی خدمات کا بھی اعتراف کیا گیا اور انہیں ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی جانب سے"خادم اردو" ایوارڈ سے نوازا گیا۔  

 اردو لائبریری ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج خالد عمر صدیقی نے تمام شرکا اور ٹرسٹیان کو مبارکباد دی اور ممبئی یونیورسٹی، اردو چینل اور روٹس آف کائنڈنس کے ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا۔  

یہ تقریب اردو زبان و ادب کے فروغ اور مالیگاؤں کی علمی شناخت کے لیے سنگِ میل ثابت ہوئی۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*



لاکھ ٹکے کا سوال ! کیا اب غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی بازار میں کریں گے واپسی؟
نئی دہلی۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طویل انتظار کے تجارتی معاہدے کے بعد ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں نئی ​​توانائی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کار اس معاہدے کو نہ صرف تجارتی معاہدے کے طور پر دیکھ رہے ہیں بلکہ ایکویٹی مارکیٹ اور برآمدات سے متعلقہ شعبوں کے لیے ایک اہم مثبت علامت ہے۔ اس معاہدے سے مارکیٹ میں ریلیف آیا ہے، خاص طور پر غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FIIs) کی مسلسل فروخت کے بعد۔ معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی بازار مضبوطی سے کھلے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد واپس لوٹتا دکھائی دیا۔

مارکیٹ پر تجارتی معاہدے کا اثر
ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کی خبروں پر اسٹاک مارکیٹ نے زوردار ریئکشن دیا ۔ نفٹی 50 گیپ ۔ اپ اوپننگ کے ساتھ تیزی دکھائی ، جبکہ سینسیکس میں بھی شروعاتی کاروبار میں بڑی اچھال دیکھی گئی ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ محصولات کی وضاحت برآمدات کو فروغ دے گی، مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ دے گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو بہتر بنائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کی درمیانی مدت کی ترقی اور بیرونی اقتصادی استحکام کے لیے ساختی طور پر مثبت ہے۔ایف آئی آئی کی فروخت تشویش کا باعث ہے
پچھلے کچھ مہینوں سے، FII مسلسل ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سے فنڈز نکال رہے ہیں۔ NSDL کے اعداد و شمار کے مطابق، FIIs نے اگست 2025 سے اب تک 1 لاکھ کروڑ سے زیادہ کی رقم نکال لی ہے۔ اس کی بڑی وجہ امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر عائد اضافی محصولات اور تجارتی معاہدے کے ارد گرد کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ تاہم، فروری کے اوائل سے FII کی فروخت کی رفتار سست پڑ گئی ہے، اور محدود خریداری بھی دیکھی گئی ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ رجحان بدل سکتا ہے۔

DIIs مارکیٹ کے لیے ایک مضبوط ڈھال
جہاں FII کی فروخت نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا، وہیں گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (DIIs) نے توازن برقرار رکھا۔ DII ایکویٹی سرمایہ کاری 2025 میں ریکارڈ سطح پر رہی۔ بروکریج رپورٹس کے مطابق، گھریلو سرمایہ کاروں نے مسلسل خریداری کے ساتھ مارکیٹ کو برقرار رکھا، جس سے بڑی کمی کو روکا گیا۔ DII سپورٹ کے بغیر، مارکیٹ کی کارکردگی کمزور ہو سکتی تھی۔

کیا ایف آئی آئیز واپس آئیں گے؟
مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی معاہدے کے ارد گرد غیر یقینی صورتحال کم ہونے کے بعد FII کا اعتماد بتدریج واپس آ سکتا ہے۔ بہتر قدریں، مضبوط بنیادیں، اور پالیسی میں استحکام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے اور مضبوط اسٹاک سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔












بنگلہ دیش انتخابات 2026 : 127 ملین ووٹرز، 300 نشستیں اور 1971 کے بعد سب سے فیصلہ کن ووٹ
بنگلہ دیش میں ریفرینڈم اور عام انتخابات ایک ساتھ۔ساری دنیاکی ہے نظر
بنگلہ دیش چند ہی دنوں میں اپنی تاریخ کے سب سے اہم اور فیصلہ کن انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 12 فروری 2026 کو عوام ایک نئی پارلیمنٹ اور نئے وزیرِاعظم کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ یہ انتخاب محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے جمہوری مستقبل کے لیے ایک بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔یہ انتخابات اگست 2024 کی اس عوامی بغاوت کے پس منظر میں ہو رہے ہیں جس کی قیادت بڑی حد تک طلبہ نے کی تھی۔ اسی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی طویل عرصے سے قائم عوامی لیگ حکومت کا خاتمہ ہوا اور ملک میں ایک عبوری انتظامیہ قائم کی گئی۔

بنگلہ دیش میں اس تحریک کو اکثر ’’دوسری آزادی‘‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ اس نے حکمرانی، احتساب اور جمہوری legitimacy (عوامی قبولیت) سے متعلق بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب آنے والا الیکشن اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا یہ سیاسی منتقلی ملک میں استحکام اور عوامی اعتماد پیدا کر سکے گی یا نہیں۔

ووٹنگ کب اور کیسے ہوگی؟
بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ پولنگ کا دن 12 فروری 2026 ہوگا۔ انتخابی مہم کا آغاز 22 جنوری سے ہو چکا ہے اور یہ 10 فروری شام 4:30 بجے ختم ہوگی، جس کے بعد لازمی 48 گھنٹے کا ’’کولنگ آف پیریڈ‘‘ ہوگا۔

پولنگ کا وقت صبح 7:30 سے شام 4:30 تک ہوگا، جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں ایک گھنٹہ زیادہ ہے۔ اس اضافی وقت کا مقصد ایک پیچیدہ انتخابی عمل کو بہتر طریقے سے سنبھالنا ہے کیونکہ اس بار ووٹرز کو ایک ہی دن میں دو بیلٹ ڈالنے ہوں گے۔

ایک ووٹ پارلیمنٹ کے امیدوار کے لیے اور دوسرا ایک قومی آئینی ریفرنڈم کے لیے ہوگا۔

ووٹوں کی گنتی اسی دن ہوگی جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر ووٹنگ 13 فروری کو مکمل ہوگی۔

2026 کا انتخاب اتنا بڑا کیوں ہے؟
یہ انتخاب دنیا کے سب سے بڑے جمہوری عملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

کل رجسٹرڈ ووٹرز : 127,695,183

امیدواروں کی تعداد : 1,981

جنرل نشستیں : 300

خواتین کی مخصوص نشستیں : 50 (بعد میں پارٹی کارکردگی کے مطابق تقسیم)

ووٹنگ کے لیے :

42,761 پولنگ سینٹرز

تقریباً 245,000 پولنگ بوتھ

امن و امان کے لیے حکومت نے 92,500 فوجی اہلکار تعینات کرنے کی اجازت دی ہے، جو 1971 کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتی ہے۔ فوج کو مجسٹریٹ اختیارات بھی دیے گئے ہیں اور وہ پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین کے ساتھ کام کرے گی۔اس پورے عمل کی نگرانی چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر اے ایم ایم ناصرالدین کر رہے ہیں، جنہیں بنگلہ دیش کی تاریخ کے مشکل ترین عہدوں میں سے ایک پر فائز سمجھا جا رہا ہے۔

دو بیلٹ اور جولائی چارٹر ریفرنڈم
2026 کے انتخابات کو منفرد بنانے والی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پہلی بار دوہرا بیلٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔

پارلیمانی ووٹ کے ساتھ ساتھ عوام ایک آئینی اصلاحاتی پیکج پر بھی ووٹ دیں گے جسے ’’جولائی چارٹر‘‘ کہا جا رہا ہے۔

یہ چارٹر عبوری حکومت (محمد یونس کی قیادت میں) نے پیش کیا ہے جس میں بڑی آئینی تبدیلیاں شامل ہیں :

وزیرِاعظم کے لیے دو مدتوں کی حد

مستقل عدالتی تقرری کمیشن

متناسب نمائندگی کے لیے ایوانِ بالا

محتسب (Ombudsman) کے آئینی عہدے کی بحالی

الیکشن حکام کے مطابق ریفرنڈم اور عام انتخابات ایک ساتھ کرانا انتظامی طور پر مشکل ضرور ہے لیکن یہ اصلاحات 2024 کی تحریک کے بعد جمہوری منتقلی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

سیاسی میدان میں کون کون ہے؟
اس بار سیاسی منظرنامہ ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے کیونکہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کوانتخابی عمل سے باہرکردیاگیا ہے، جس نے مقابلے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)
بی این پی اس وقت سب سے مضبوط اور منظم جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان دسمبر 2025 میں 18 سالہ جلاوطنی کے بعد واپس آئے۔

بی این پی کی مہم “Bangladesh First” کے نعرے کے تحت چل رہی ہے اور اس کے اہم وعدے ہیں :

معاشی بحالی

کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ’’فیملی کارڈ پروگرام‘‘

فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام کا تسلسل

11 جماعتی اتحاد (NCP + Jamaat)
بی این پی کو سب سے بڑا چیلنج ایک 11 جماعتی اتحاد سے ہے جس میں شامل ہیں :

نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP)

بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی

این سی پی 2024 کی طلبہ تحریک سے ابھری ہے اور نوجوان قیادت پر مشتمل ہے :

ناہید اسلام

سرجیس عالم

حسنت عبداللہیہ اتحاد متناسب نمائندگی کے حق میں ہے اور بی این پی و عوامی لیگ کی ’’طاقت کی گردش‘‘ توڑنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

دیگر امیدوار

دیگر سیاسی قوتوں میں شامل ہیں :
جاتیہ پارٹی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ

بائیں بازو کا ڈیموکریٹک یونائیٹڈ فرنٹ

اسلامی اندولن بنگلہ دیش

گونو اودھیکار پریشد

2026 انتخابات کی نئی خصوصیات

یہ الیکشن کئی نئے تجربات کے ساتھ ہو رہا ہے :
پہلی بار بیرونِ ملک بنگلہ دیشیوں کے لیے پوسٹل ووٹنگ

تقریباً 300,000 افراد رجسٹرڈ

“No Vote” آپشن کی واپسی

اگر واحد امیدوار کے مقابلے میں No Vote جیت جائے تو دوبارہ الیکشن ہوگا

پلاسٹک پوسٹرز پر پابندی

یورپی یونین کا 150 رکنی مبصر مشن

کارٹر سینٹر کی تکنیکی معاونت

بھارت کو بھی بطور مبصر دعوت دی گئی

خواتین کی نمائندگی محدود
اگرچہ اس بار 78 خواتین امیدوار میدان میں ہیں (جو ایک ریکارڈ ہے) لیکن یہ مجموعی امیدواروں کا صرف 4 فیصد سے کم ہیں۔

زیادہ تر خواتین امیدواروں کے سیاسی خاندانوں سے تعلقات ہیں۔ بی این پی نے 10 خواتین کو ٹکٹ دیے ہیں اور وہ سب پارٹی قیادت سے جڑی ہوئی ہیں۔

قانون کے مطابق پارٹی کمیٹیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد کوٹہ مقرر ہے مگر عملدرآمد کمزور ہے اور اس کی ڈیڈ لائن 2030 تک بڑھا دی گئی ہے۔

ووٹرز کے لیے اہم مسائل

عوام کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ معاشی دباؤ ہے :
مہنگائی بلند سطح پر

تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری

کرپشن ایک بڑا مسئلہ

بنگلہ دیش 2024 میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 151ویں نمبر پر تھا۔

بھارت کے ساتھ تعلقات بھی انتخابی بحث کا حصہ ہیں۔ بی این پی حقیقت پسندانہ پالیسی کی بات کرتی ہے جبکہ 11 جماعتی اتحاد سخت ’’اینٹی ہیجیمونک‘‘ موقف رکھتا ہے۔

یہ کشیدگی دسمبر میں اس وقت نمایاں ہوئی جب وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر ڈھاکہ گئے اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کی۔

تین ممکنہ نتائج

تجزیہ کار تین بڑے امکانات بیان کرتے ہیں :
بی این پی کی واضح اکثریت اور واحد جماعتی حکومت

معلق پارلیمنٹ اور مخلوط حکومت

نوجوانوں کی mobilization سے NCP-Jamaat اتحاد کی غیر متوقع کامیابی

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیتے گا بلکہ یہ ہے کہ نتیجہ عوامی طور پر قابلِ قبول ہوگا یا نہیں۔شیخ حسینہ، جو نئی دہلی میں خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں، نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ای میل میں کہا :

’’ایک ایسی حکومت جو اخراج پر قائم ہو، تقسیم شدہ قوم کو متحد نہیں کر سکتی۔‘‘

 12 فروری صرف انتخاب نہیں، مستقبل کا امتحان ہے
بنگلہ دیش کے لیے 12 فروری کا دن محض حکومت منتخب کرنے کا موقع نہیں بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا 2024 کی سڑکوں پر پیدا ہونے والی تبدیلی کی امید ایک قابلِ اعتماد جمہوری مستقبل میں بدل سکے گی یا نہیں۔

یہ الیکشن ملک کے استحکام، اداروں کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔











پاکستان: 48 گھنٹوں میں 177 بلوچ عسکریت پسند ہلاک
کوئٹہ، پاکستان: افغانستان کی سرحد سے ملحقہ جنوب مغربی علاقے میں شورش زدہ علاقوں میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے راتوں رات تقریباً دو درجن عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ ان ہلاکتوں سے گزشتہ 48 گھنٹوں میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے پیر کو جانکاری دی کہ سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی باغیوں کے مربوط حملوں کی ایک لہر کے بعد کی جا رہی ہے جس میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

فوج کی حمایت سے پولیس ہفتے کے اوائل سے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ارکان کے خلاف کئی علاقوں میں یہ چھاپے مار رہی ہے، جب کہ چھوٹے گروپوں میں تقریباً 200 عسکریت پسندوں کی جانب سے صوبے بھر میں پولیس اسٹیشنوں، شہریوں کے گھروں اور سیکیورٹی تنصیبات پر بیک وقت خودکش بم حملے اور فائرنگ کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کا پیمانہ گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

ہفتے کے آخر میں بی ایل اے کی طرف سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 18 عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے 15 ارکان ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کی پاکستان بھر کے سیاسی رہنماؤں کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی، جن میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیرقیادت پارٹی کے اراکین بھی شامل ہیں۔

پیر کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں مزید 22 باغیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کو ’’ہندوستانی حمایت یافتہ دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔ تاہم، انھوں نے اس الزام سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، اور نئی دہلی کی طرف سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، بلوچستان ملک کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے۔ اس کا زیادہ جو زیادہ تر حصہ بلند پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ یہ ملک کی نسلی بلوچ اقلیت کا بھی ایک مرکز ہے۔ بلوچ اراکین کا الزام ہے کہ انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے امتیازی سلوک اور استحصال کا سامنا ہے۔ اس نے آزادی کا مطالبہ کرنے والی علیحدگی پسند شورش کو ہوا دی ہے۔ صوبے میں اسلامی عسکریت پسند بھی سرگرم ہیں۔

اگرچہ حکام نے کہا کہ پیر کو صوبے میں معمول کی صورتحال بڑی حد تک واپس آگئی ہے، تاہم بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان ٹرین سروس مسلسل تیسرے دن بھی معطل رہی۔ صوبائی حکام نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے حملوں کے بعد ٹرین سروس معطل کر دی تھی اور یہ معطلی بدستور برقرار ہے۔

مارچ میں، کم از کم 31 افراد اس وقت مارے گئے جب بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے بلوچستان میں سیکڑوں افراد کو لے جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملہ کر دیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے امدادی کارروائی شروع کرنے سے قبل مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس میں تمام 33 حملہ آور مارے گئے، اور مسافروں کو رہا کر دیا گیا۔

بی ایل اے پر پاکستان میں پابندی عائد ہے۔ اس نے حالیہ برسوں میں متعدد حملے کیے ہیں، جن میں اکثر سیکیورٹی فورسز، چینی مفادات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروپ پاکستانی طالبان کی حمایت سے کام کر رہا ہے، جسے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے، جو افغانستان کے طالبان حکمرانوں کے ساتھ منسلک ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

رنجی ٹرافی میں عاقب نبی نے مچائی تباہی ، مدھیہ پردیش کے خلاف جھٹکے 12 وکٹ ، جموں و کشمیر کو پہنچایا سیمی فائنل میں ن...