Sunday, 22 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





ٹیم انڈیا کی بلے بازی پوری طرح فلاپ، جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 76 رنز سے ہرایا
India vs South Africa : جنوبی افریقہ نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 میں ہندوستان کے جیت کے سلسلے کو روک کر کروڑوں ہندوستانی شائقین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ احمد آباد کی پچ پر جہاں ہندوستانی گیندبازوں کی کارکردگی بے اثر نظر آئی، وہیں “دھماکہ خیز” بیٹنگ لائن بھی پتے کی طرح بکھر گئی۔ اس شکست نے نہ صرف ہندوستان کی خود اعتمادی کو جھٹکا دیا ہے بلکہ سیمی فائنل کی راہ بھی کانٹوں سے بھری نظر آ رہی ہے۔ اس کراری شکست کے بعد اب ہندوستان کی تقدیر صرف اپنے نہیں، بلکہ حسابات کی مہربانی پر بھی منحصر ہو گئی ہے۔ ہندوستانی ٹیم سپر 8 کے اپنے دوسرے میچ میں زمبابوے سے اور تیسرے میچ میں ویسٹ انڈیز سے مقابلہ کرے گی۔ ہندوستان کی 76 رنز سے یہ شکست ٹی20 ورلڈ کپ میں دوسری سب سے بڑی شکست ہے۔ اس سے پہلے نیوزی لینڈ نے 2019 میں ہندوستان کو 80 رنز سے ہرایا تھا۔

جب رنز کی ضرورت تھی اور عزت داؤ پر لگی تھی، تب جنوبی افریقی گیندبازوں کی تیز گیندوں کے سامنے ہندوستانی بیٹسمین بے بس نظر آئے۔ پروٹیز ٹیم کے گیندبازوں نے اپنی رفتار اور صحیح لائن-لینتھ سے ہندوستانی بیٹنگ کی بنیاد ہلا دی، جس کی وجہ سے کریز پر بڑے بڑے کھلاڑی بھی زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکے۔ اس مایوس کن شکست میں صرف شیوم دوبے نے اپنی فولادی عزم کا مظاہرہ کیا اور ہار نہ ماننے والا جذبہ دکھایا۔ جہاں ایک طرف وکٹوں کی جھڑک جاری تھی، وہیں دوبے نے اکیلے ہی محاذ سنبھال کر جوابی حملے کیے، لیکن ان کا یہ بہادرانہ مقابلہ ٹیم کو شکست سے بچانے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ہندوستانی بیٹسمینوں نے سرنڈر کیا
جنوبی افریقہ کی طرف سے دیے گئے 188 رنز کے ہدف کا پیچھا کرنے اتری ہندوستانی ٹیم 18.5 اوورز میں 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ شیوم دوبے نے 37 گیندوں پر سب سے زیادہ 42 رنز بنائے۔ ہندوستان کی شروعات بہت خراب رہی۔ ہندوستان نے پہلے اوور کی چوتھی گیند پر ایشان کشن کا وکٹ گنوا دیا۔ اس وقت ٹیم کا کھاتا بھی نہیں کھلا تھا۔ ایشان نے 4 گیندیں کھیلنے کے باوجود کوئی رن نہیں بنایا۔ پچھلے تین میچوں میں ڈک کا شکار ہونے والے ابھیشیک شرما نے اس میچ میں کھاتا کھولا مگر وہ بھی 15 رنز بنا کر چلتے بنے۔ تلک ورما ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ کپتان سوریہ کمار یادو 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جب کہ واشنگٹن سندر 11 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ہاردک پانڈیا 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جب کہ رنکو سنگھ کا کھاتہ بھی نہیں کھلا۔ ارشدیپ سنگھ ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے لیے کیشو مہاراج نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ مارکو یانسن نے چار وکٹیں اپنے نام کیں۔ کاربن بوش کے کھاتے میں دو وکٹیں آئیں، اور ایک وکٹ لونگی اینگڈی نے حاصل کیا۔

اس سے پہلے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے اتری جنوبی افریقہ کی ٹیم کو پہلا بڑا جھٹکالگا اس وقت لگا جب جسپریت بمراہ نے اننگز کے دوسرے اوور میں کوئنٹن ڈی کوک کو بولڈ کر دیا۔ اس طرح ٹیم انڈیا کو 10 رنز کے اسکور پر پہلی کامیابی حاصل ہوئی۔ ڈی کوک 7 گیندوں پر 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کوئنٹن ڈی کوک کے بعد ارشدیپ سنگھ نے ایڈن مارکرَم کا شکار کیا۔ مارکرَم 7 گیندوں پر 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ارشدیپ سنگھ نے ٹی20 میں مارکرَم کو ساتویں بار آؤٹ کیا ہے۔

کوئنٹن ڈی کوک کے بعد جسپریت بمراہ نے رائن ریکلٹن کو آؤٹ کر کے ٹیم انڈیا کو تیسری کامیابی دلا دی۔ ریکلٹن 7 گیندوں پر 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد ڈیوالڈ بریوس اور ڈیوڈ ملر نے جنوبی افریقہ کی اننگز کو سنبھالا اور شاندار اننگز کھیلی ۔ تاہم بریوس نصف سنچری سے چوک گئے اور 45 رنز بناکر آوٹ ہوئے ۔ جبکہ ڈیوڈ ملر نے 35 گیندون پر 63 رنز کی اننگز کیلئے ۔ آخر میں ٹرسٹن اسٹبس نے 24 گیندوں پر 44 رنز کی ناٹ آوٹ اننگز کھیل کر ٹیم کے اسکور کو 187 رنز تک پہنچادیا ۔ اسٹبس کے علاوہ مارکو یانسن نے دو رنزجبکہ کاربن بوش نے پانچ رنزبنائے ۔ٹیم انڈیا کیلئے جسپریت بمراہ نے سب سے شاندار گیند بازی کی اور چار اوورز میں صرف 15 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں ۔ ان کے علاوہ ارشدیپ نے دو، ورون چکرورتی نے ایک اور شیوم دیوبے نے ایک وکٹ حاصل کی ۔











ٹرمپ کے فلوریڈا ریسورٹ میں آدھی رات کو بندوق لے کر داخل ہوا شخص، پھر تابڑتوڑ چلی گولیاں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا میں واقع پرائیویٹ ریسورٹ ‘مار ای لاگو’ کی سیکورٹی میں نقب لگانے کی ایک بڑی اور جان لیوا کوشش کو سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا ہے۔ اتوار کی صبح تقریباً 1:30 بجے ایک نوجوان نے مار ای لاگو کے محفوظ علاقے میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد سکریٹ سروس اور مقامی پولیس کی جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا۔ سکریٹ سروس کے ایجنٹس نے اس نوجوان کو اسلحہ ڈالنے کی وارننگ کی، اس نے کین تو نیچے رکھ دیا لیکن اپنی بندوق کو براہ راست حکام کی طرف تان لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ ٹریگر دبائے، پام بیچ کاؤنٹی شیرف دفتر کے ایک ڈپٹی نے اسے موقع پر ہی گولی مار دی۔

راحت کی بات یہ رہی کہ واقعے کے وقت ٹرمپ فلوریڈا میں موجود نہیں تھے۔ وہ ہفتہ کی رات واشنگٹن ڈی سی میں گورنرز ڈنر میں شریک ہونے گئے تھے اور رات وہیں رکے تھے۔ سکریٹ سروس نے ایک باضابطہ بیان جاری کرکے تصدیق کی ہے کہ واقعے کے وقت مار ای لاگو میں کوئی بھی وی آئی پی یا سیکورٹی حاصل شخص موجود نہیں تھا۔ اس تصادم میں کسی بھی ایجنٹ یا پولیس افسر کو چوٹ نہیں آئی ہے۔حملہ آور کون تھا؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مارا گیا حملہ آور سفید فام ہے اور اس کی عمر تقریباً 20 سال کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ حکام نے ابھی تک اس کی شناخت عام نہیں کی ہے کیونکہ اس کے اہل خانہ کو اطلاع دینا باقی ہے۔ تحقیقات ایجنسیاں اب یہ معلوم کر رہی ہیں کہ آیا اس نوجوان کا کسی انتہاپسند گروہ سے تعلق تھا یا اس نے یہ حملہ اکیلے ہی منصوبہ بندی کی تھی۔سیکورٹی خدشات میں اضافہ
ٹرمپ پر حملے یا ان کی سیکورٹی میں نقب لگانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اسی ماہ کی 4 تاریخ کو راین روتھ (59) کو ٹرمپ کے قتل کی سازش رچنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل نومبر میں واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کے رہائش گاہ کے قریب دو فوجیوں کو گولی مار دی گئی تھی۔ بار بار ہونے والے ان واقعات نے امریکی سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔











’خامنہ ای نہیں جھکیں گے‘، قتل ہوا تو بیٹا نہیں یہ شخص چلائے گا ملک، ٹرانسفر کردی عسکری طاقت
تہران: ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود خامنہ ای نے جھکنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خامنہ ای نے اپنی موت یا قتل کی صورت حال کے لیے بھی ایک ‘خفیہ منصوبہ’ تیار کر لیا ہے، جس کی وجہ سے اگر ٹرمپ خامنہ ای کو راستے سے ہٹا بھی دے، تب بھی امریکہ جیت نہیں پائے گا۔ خامنہ ای نے اپنی کرسی اپنے بیٹے مجتبیٰ کو نہیں بلکہ ایک اہل اور قابل اعتماد ساتھی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس شخص کو خامنہ ای نے اپنی عسکری طاقت ابھی سے منتقل کر دی ہے۔

خامنہ ای کی جگہ کون لے گا؟دنیا کی سب سے طاقتور فوج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ نے ایران کے خلاف کئی منصوبے بنا لیے ہیں، جن میں سے ایک خامنہ ای کا قتل بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ نہیں جھکیں گے اور ہر صورت حال کے لیے تیار رہیں گے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خامنہ ای اپنے قتل کی صورت حال کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ان کے جانشینوں کی فہرست شامل ہے۔ اس منصوبے میں انہوں نے ملک کی کرسی اپنے بیٹے کو نہیں بلکہ ایک ایسے قابل اعتماد ساتھی کو سونپی ہے جو بحران کے وقت ملک کو سنبھال سکے۔ یہ شخص اور کوئی نہیں بلکہ علی لاریجانی ہیں۔

علی لاریجانی کون ہیں؟
وہ ریولوشنری گارڈز (IRGC) کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں اور سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ لاریجانی اس وقت مظاہروں کو دبانے، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات اور روس جیسے اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرنے کا کام دیکھ رہے ہیں۔

ایران کے اگلے سپریم لیڈر وہ نہیں بن سکتے کیونکہ وہ بڑے مذہبی رہنما نہیں ہیں، لیکن خامنہ ای نے انہیں اپنا سب سے خاص ‘بحران مینیجر’ بنایا ہے۔

ملٹی لیئر جانشینی منصوبہ: جانشینوں کی لمبی فہرست
خامنہ ای نے صرف ایک شخص پر اعتماد نہیں کیا۔ انہوں نے فوجی اور سیاسی عہدوں کے لیے کئی پرتوں میں جانشین تیار کیے ہیں۔

خفیہ کمانڈ چین: اگر کسی حملے میں خامنہ ای قتل کردئے جاتے ہیں یا ان سے رابطہ ختم ہو جاتا ہے، تو فیصلے کے لیے ایک چھوٹا ‘انر سرکل’ بنایا گیا ہے جو فوری طور پر کمان سنبھال لے گا۔جنگ کی تیاری: ایران نے فارس کی خلیج اور عراق کے نزدیک اپنی میزائل تنصیبات تعینات کر دی ہیں اور فوج کو ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




ٹرمپ کے ریزورٹ میں مسلح شخص نے کی داخل ہونے کی کوشش، سیکریٹ سروس نے کر دیا ہلاک
واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر ڈولنڈ ٹرمپ کے فلوریڈا میں واقع مار-اے-لاگو ریزورٹ میں اسلحہ لے کر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو امریکی سیکریٹ سروس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس میں سیکریٹ سروس کے حوالے سے اس واقعے کی تصدیق کی گئی ہے۔سکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی ماردی گولی

موصولہ اطلاعات کے مطابق مسلح شخص ریزورٹ کے انتہائی محفوظ حصے میں غیر قانونی طور پر داخل ہو گیا تھا۔ ٹرمپ عموماً ہفتہ وار تعطیلات اسی سمندری ریزورٹ میں گزارتے ہیں۔ حالانکہ، واقعے کے وقت وہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ امریکی سیکریٹ سروس کے مطابق اتوار کی علی الصبح فلوریڈا میں صدارتی رہائش گاہ مار-اے-لاگو اسٹیٹ میں داخل ہونے والے مسلح گھس پیٹھیے کو سکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی گولی مار دی۔

تقریباً 20 سال کا جوان تھا ہلاک ہونے والا شخص

سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص ایک نوجوان تھا جس کی عمر تقریباً 20 سال یا اس سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ڈیڑھ بجے ویسٹ پام بیچ میں واقع پراپرٹی کے نارتھ گیٹ کی جانب ایک شاٹ گن اور فیول کین کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔ اس دوران سیکریٹ سروس کے ایجنٹس اور پام بیچ کاؤنٹی شیرف آفس کے اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گولی مار دی۔

پہلے بھی ہو چکی ہے ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فلوریڈا میں ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ ستمبر 2024 میں بھی ایک مشتبہ شخص نے اس وقت حملے کی ناکام کوشش کی تھی جب ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے۔ سیکریٹ سروس اہلکاروں نے جھاڑیوں کے پیچھے رائفل لیے ایک شخص کو دیکھ کر اسے پکڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ ایک ایس یو وی گاڑی میں فرار ہو گیا تھا۔ اس کے بعد موقع سے رائفل، دو بیگ، ایک اسکوپ اور گو پرو کیمرا برآمد کیا گیا تھا۔

ملزم کو قریبی علاقے سے کر لیا گیا تھا گرفتار

پام بیچ کاؤنٹی کے شیرف رک بریڈشا کے مطابق بعد میں ملزم کو قریبی علاقے سے گرفتار کر لیا گیا تھا، جس کی شناخت ریان روتھ کے طور پر ہوئی تھی۔ رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ وہ پہلے ٹرمپ کی دوبارہ صدارتی کامیابی کا حامی تھا، لیکن بعد میں اس کے سیاسی خیالات تبدیل ہو گئے تھے۔

اہلکاروں کو تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی چھٹی

حالیہ واقعے میں مارے گئے حملہ آور کی شناخت، پس منظر یا ممکنہ محرکات کے بارے میں فی الحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی، سیکریٹ سروس اور مقامی پولیس مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔ ادارے کی پالیسی کے مطابق فائرنگ میں شامل سیکریٹ سروس اہلکاروں کو تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔










رمضان اور لینٹ: مسیحی برادری اور مسلمانوں کے روزوں میں کیا فرق ہے؟
اس سال مسلمانوں اور مسیحی برادری کے روزوں کا آغاز تقریباً ایک ہی وقت میں ہو رہا ہے۔ مسیحی برادری کا ’لینٹ سیزن‘ یا ’الصوم الاربعین‘ پانچ مارچ سے شروع ہو کر 17 اپریل کو ختم ہو گا۔ جبکہ دنیا بھر میں ماہ صیام آج شب یا کل شب سے شروع ہو کر آئندہ 29 یا 30 دن تک جاری رہے گا۔ (ماہ رمضان کا دارومدار چاند کی پیدائش پر ہو گا۔)

مسیحیوں میں روزے رکھنے کا سلسلہ 40 دن تک جاری رہتا ہے جس کے دوران مسیحی برادری حضرت عیسیٰ کے اس دنیا سے جانے سے پہلے کے واقعات کو یاد کرتے ہیں۔ مسیحی مانتے ہیں کہ ’لینٹ سیزن‘ اُس قربانی کی نمائندگی کرتا ہے جو حضرت عیسیٰ نے اپنے مصلوب ہونے سے پہلے 40 دن تک صحرا میں جا کر روزے رکھنے اور عبادت کرتے ہوئے کی تھی۔

مسیحی برادری میں یہ معافی مانگنے کا وقت سمجھا جاتا ہے اور ’ایسٹر‘ لینٹ کے اختتام پر منایا جاتا ہے۔دوسری جانب اسلامی کیلینڈر میں رمضان نواں مہینہ ہے اور اس کی مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت ہے۔

مذہب اسلام کے مطابق قرآن کے نزول کا سلسلہ اسی ماہ میں شروع ہوا تھا۔ روزہ اسلام کا چوتھا ستون ہے جبکہ مسلمانوں کے لیے قرآن میں ماہِ رمضان کے روزے رکھنا فرض قرار دیا گیا ہے۔

لینٹ کے دوران مسیحی 40 روز تک کھانے کو محدود کرتے ہیں اور جمعہ کے دن گوشت کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اُن کے لیے صرف ’ایش ویڈنسڈے‘ اور ’گڈ فرائی ڈے‘ کو روزہ رکھنا لازمی ہوتا ہے اور جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ دن میں ایک مرتبہ کھانا کھا سکتے ہیں۔

ایش ویڈنسڈے اور گڈ فرائی ڈے کے بعد انھیں ہر جمعہ کو روزہ رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے لیے روزے کے قواعد کے مطابق وہ اُس روز مچھلی کے علاوہ کسی بھی دوسرے جانور کا گوشت نہیں کھا سکتے۔

لینٹ کے باقی دنوں میں مسیحی مقدس کتاب پڑھنے، مذہبی محفلوں میں شریک ہونے، غریبوں کی امداد کرنے، بیماروں کی تیمارداری کرنے اور قیدیوں سے ملنے کے علاوہ مسیحی مذہب کی تعلیمات بھی لوگوں تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔اسی طرح رمضان کے دوران مسلمان صبح سے شام تک کھانے پینے اور بہت سے دیگر باتوں سے گریز کرتے ہیں۔

تاہم اس دوران کچھ مسلمانوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت بھی ہوتی ہے جیسے حاملہ خواتین یا ایسی خواتین جو بچے کو دودھ پلا رہی ہوں، ایسی خواتین جو ماہواری کے دنوں سے گزر رہی ہوں، بیمار افراد یا ایسے افراد جن کی صحت روزے کے باعث خراب ہو سکتی ہو اور مسافر۔

تاہم رمضان کے بعد یا تو انھیں چھوٹے ہوئے روزوں کے برابر روزے رکھنے ہوتے ہیں یا پھر اس دورانیے کا فدیہ غریب افراد کو دینا ہوتا ہے۔

مسلمان اور مسیحی دونوں ہی روزوں کے ماہ کو گناہوں سے معافی مانگنے کا اہم موقع قرار دیتے ہیں۔ دونوں برادیاں ضرورت مندوں کو رقوم عطیہ کرتی ہیں اور معاشرے میں موجود غریبوں کی امداد کی جاتی ہے۔

لینٹ اور رمضان دونوں کے ہی ان مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مختلف معنی ہیں۔ لینٹ دراصل ان 40 روز کے روزوں کی یاد میں رکھے جاتے ہیں جو حضرت عیسیٰ نے مصلوب ہونے سے قبل جنگل بیابان میں جا کر رکھے تھے۔

جبکہ قرآن سورۃ بقرۃ کی آیت 183 کے مطابق ’روزے تم پر فرض کیے گئے ہیں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘

رمضان کے بعد عید الفطر کا تہوار جبکہ لینٹ کے بعد ایسٹر کا تہوار آتا ہے جس میں مختلف قسم کے کھانے بنائے جاتے ہیں اور ان تہواروں کی خوشیاں دوبالا کی جاتی ہیں۔











سعودی عرب: تین صدیوں کی داستان بیان کرتی یومِ تاسیس کی پانچ علامتیں
سعودی عرب آج اپنا 299 واں یومِ تاسیس منا رہا ہے جس کی بِنا امام محمد بن سعود نے 1727 میں رکھی تھی۔ یہ دن متقاضی ہے کہ نہ صرف سعودی عرب کی تاریخ پر نگاہِ بازگشت ڈالی جائے بلکہ اُن علامتوں پر کا بھی ذکر کیا جائے جو طویل سعودی تاریخ کو ملحض کر کے دیرپا معانی دیتی ہیں۔
تقاریب اور خوشیاں ایک طرف، مملکت کے سرکاری یومِ تاسیس سے متعلق علامات کی ایک طویل کہانی ہے۔ یہ کہانی سخت منظر نامے، ناموافق حالات میں خود کو بچانا، ریاست کو قائم کرنا اور تین سو برس تک اپنی اقدار کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے۔ یہ سب باتیں مل کر ایک ایسی وژوئل زبان کو جنم دیتی ہیں جو ماضی کا رشتہ حال سے جوڑ دیتی ہے اور اعتماد سے بھرپور مستقبل کی نوید سناتی ہے۔یومِ تاسیس کی وہ پانچ علامتیں جن کی بات کی جا رہی ہے اُن میں سبز پرچم، کھجور کا درخت، عربی النسل گھوڑے، بازار یا سُوق اور فالکن (باز یا شکرہ) شامل ہیں۔ مگر یہ علامتیں صرف خوشیوں کی تقریب کے لیے نہیں ہیں۔
اسماعیل عبداللہ ھجلس روایتی فنِ تعمیر میں ریسرچ کرتے ہیں۔ انھوں نے عرب نیوز سے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ یہ علامتیں ایک فکری اور ثقافتی کردار کی حامل ہیں جو معاشرے کو اس کی اصل سے جوڑ دیتا ہے۔
’وہ اقوام جنھوں نے اپنی علامتوں کو اچھی طرح سمجھا ہے اور ان کی شناخت کی ہے اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں اور اپنے سفر کو اعتماد اور توازن کے ساتھ جاری رکھنے کے ضروری لوازمات سے لیس ہیں۔‘
سبز سعودی پرچم اور یومِ تاسیس میں اس کی اہمیت
سعودی پرچم، اتحاد اور خود مختاری کا نمائندہ ہے اور اُن اقدار کو مجسم کرتا ہے جن پر سعودی ریاست قائم ہوئی تھی۔ یہ مملکت کے تسلسل کا بھی اظہار ہے۔
اس پرچم کا موجودہ ڈیزائن سنہ 1937 میں اختیار کیا گیا تھا جس کا مقصد پہلی اور دوسری سعودی ریاست کے تاریخی پرچموں کو بہتر شکل دینی تھی۔
الشہادہ جو اسلام میں ایمان کے اقرار کا کلمہ ہے، اس بات کی علامت ہے کہ مملکت کی بنیاد اسلامی اقدار پر ہوگی۔ تلوار وہ علامت ہے جو شاہ عبدالعزیز آل سعود مرحوم کے دور سے مملکت کے اتحاد کی نمائندہ ہے اور ممکت میں انصاف اور محفاظت کی علامت ہے۔سعودی پرچم کا سبز رنگ روایتی طور پر اسلام سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ سعودی ریاست میں ایمان کے تسلسل کا مرکزی ستون ہے۔ یوں مل کر یہ علامتیں طاقت، نظامِ انصاف اور اتحاد کی حفاظت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اسماعیل ھجلس کے مطابق ’علامتوں کا انتخاب کسی کی مرضی سے نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے گہری سوچ کار فرما ہے۔ تلوار اصل میں طاقت کو ظاہر کرتی ہے جبکہ کھجور کا درخت زندگی اور پائیداری کا اظہار ہے۔ ان علامتوں سے محتاط انداز میں قائم کیا گیا توازن اور فیاضی دونوں ظاہر ہوتے ہیں۔‘
کھجور کا درخت، اس کے پتے اور شاخیں
کھجور کے درخت کا علامتی وجود، موجودہ جدید ریاست سے پہلے کا ہے۔ یہ جزیرہ نمائے عرب کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔
’اس سادہ نخلستان میں، کھجور کا درخت زندگی کا عکاس تھا اور تلوار وقار اور شان کی آئینہ دار تھی۔ کجھور کے درخت سے سائے اور سستانے کا کام لیا جاتا تھا جبکہ تلوار کو اپنے نام اور اپنی زمین کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لہٰذا سعودی ریاست کی داستان، تلوار کی دھار سے کھجور کے درخت میں ملنے والی چھاؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔‘
کھجور کے درخت سے طرح طرح کے کام لیے جاتے تھے جو تہذیب کے پائیدار ہونے کے لیے لازمی تھے۔ کھجور غذائیت سے بھرپور خوراک کا کام دیتی تھی، اس کے بڑے بڑے پتوں سے گھروں کی چھتیں بنائی جاتی تھیں، اس کے تنے سے دیواریں بنتی تھیں اور اس میں موجود فائبر سے رسی تیار کی جاتی تھی۔ علاوہ ازایں، کھجور کی شاخوں اور تنوں کو ایندھن، اور لوگوں کو سایہ دینے کے کام لایا جاتا تھا۔ھجلسں نے بتایا کہ القطیف اور الاحسا میں، کھجور کے تنے سے زندگی کا نظام چلایا جاتا تھا۔ یہ محض زراعتی علامت نہیں بلکہ پائیداری کے لفظ کے استعمال سے پہلے سے ہی پائیداری کا ایک اصل ماڈل تھا۔
قرآنِ پاک میں 20 سے زیادہ مرتبہ کھجور کا ذکر ہوا ہے جہاں اس کا مفہوم فیاضی اور کثرت پر منتج ہوتا ہے۔ کھجور کا درخت عرب کے مشرقی حصوں کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثییت رکھتا تھا۔
یومِ تاسیس پر سُوق کس چیز کی علامت ہے
عبداللہ ھجلس کہتے ہیں ’سوق (جسے روایتی طور پر مارکیٹ کہتے ہیں) صرف کاروبار کی جگہ نہیں تھی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں لوگ آپس میں ملتے جلتے تھے، ان میں سماجی رشتے قائم ہوتے تھے، معلومات کا تبادلہ اور یگانگت بھی سُوق ہی سے موجودہ تصورات میں ڈھلے ہیں۔ سوق سے معاشی سرگرمیوں نے نمو پائی اور اِسی کے باعث کمیونیٹیوں کے مابین تعلق نے جنم لینا شروع کیا اور نظام کو مضبوط بنایا۔
اسلام سے کئی سو سال قبل سُوق ایک تہذیبی تصور کے طور پر ابھرا۔ یہ ایک سادہ انسانی ضرورت یعنی تبادلے) رقم یا اجناس دے کر بدلے میں چیزیں لینے کا تصور)۔ اس تبادلے نے سماجی تحرک کو جِلا بخشی اور کشادگی کے اس کلچر کو شروع کیا جو بعد میں شہروں میں اضافے کا باعث بن گیا۔
اسلام سے پہلے کے زمانے میں موسم کے لحاظ سے لگائی جانے والی مارکیٹیں جن میں سُوقِ عکاظ، سُوقِ مجنّہ اور سُوقِ المجاز اہم حیثیت کی حامل ہیں، صرف کاروباری مراکز کا کام نہیں دیتی تھیں بلکہ یہ ادبی فورم بھی تھے، یہاں سیاست پر بات ہوتی تھی اور اِنہی مقامات پر تنازعات میں صلح صفائی اور ثالثی ہوا کرتی تھی۔
جب سرزمینِ حجاز کو اسلام نے اپنے دامن میں لے لیا تب سُوق المدینہ کا آغاز ہوا جہاں اجارہ داری کو روک دیا گیا، دھوکہ دہی پر ممانعت کا حکم آگیا اور انصاف کی تلقین اور اس کے قیام پر آیاتِ مقدسہ نازل ہوئیں۔آج سعودی ریاست میں سُوق، اپنی مٹی اور لکڑی سے راویتی طور پر ڈھکے ہوئے بازار سے جدید شاپنگ سینٹرز اور بڑے بڑے تجارتی کمپلیکسوں میں بدل چکا ہے۔
ھجلس کے بقول ’پھر بھی اس کا تصور وہی قدیم ہی رہا ہے یعنی یہاں پہلے لوگ آمنے سامنے ہوتے ہیں (سماجی طور پر ملتے اور علیک سلیک کرتے ہیں) اور بعد میں یہ خرید و فروخت کی جگہ بن جاتی ہے۔‘
گھوڑا اور اس کی علامتی توجیہ
عربی النسل گھوڑا بھی یومِ تاسیس کی ایک علامت ہے اور اس کا تعلق اصلی ہونے اور حوصلے سے پیوست ہے۔ جب ریاست کا قیام ابتدائی مراحل میں تھا تو گھوڑا بہت کام آتا تھا۔ اسے سفر تو کبھی دفاع کے لیے استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے عرب کی میراث میں گھوڑا، قوت اور فخر کی ایک علامت بن گیا۔
عرب میں جنم جنم کا ساتھی، عربی النسل گھوڑا دنیا میں سب سے قدیم اور سب سے خالص نوع ہے۔ اس کی پرورش جزیرہ نمائے عرب میں کی جاتی تھی تاکہ یہ ہر قسم کے دشوار حالات اور سختیوں کو جھیلنے کا عادی ہو جائے۔ یہ برق رفتار بھی ہو اور چُست اور پُھرتیلا بھی۔
اپنی زبردست قوتِ برداشت، قوی پھیپھڑوں، طاقتور ٹانگوں اور مضبوط ہڈیوں کی وجہ سے یہ گھوڑے سخت موسمی حالات میں صحرا کے طویل فاصلے طے کرتے تھے اور انتہائی محدوود وسائل کے باوجود زندہ رہتے تھے۔ کبھی کبھی تو ان کی خوراک صرف کھجور اور اونٹنی کا دودھ ہوتا تھا۔موسموں کی شدت اور چوری سے بچانے کے لیے، گھوڑوں کو بعض اوقات خاندانی خیمے کے اندر ہی باندھ دیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے رفتہ رفتہ گھوڑے اپنے مالکوں سے مانوس ہونے لگے۔ عربی گھوڑے بے خوف، وفادار اور جنگوں میں اپنے سوار کو بچانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ان گھوڑوں میں جنگوں کا احساس بھی ہوتا تھا چنانچہ میدانِ جنگ میں گھوڑے ذہانت کے ساتھ متحرک ہوتے اور اُن میں لڑائی کا جذبہ بھی تیز ہو ہوتا تھا۔
سعودی عرب میں عربی گھوڑے سفر، کاروبار و تجارت، اور جنگ وجدل کے لیے انتہائی ضروری سمجھے جاتے تھے۔ آج یہ فخر، نجابت، جرآت اور عزت کی علامت ہیں اور جدید مملکت کی اس پرانی روایت کو گھڑ دوڑ کی صورت میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یومِ تاسیس کی ایک علامت فالکنری بھی ہے
فالکن جسے چھوٹا باز یا شکرہ بھی کہہ دیتے ہیں، چوکس رہنے، چیزوں کو جانچنے کی فطری صلاحیت اور بلند عزم رکھنے کے نمائندے کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔
ھجلس بتاتے ہیں ’اس پرندے کا تعلق فالکنری سے جڑا ہوا ہے جس میں صبر اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ آج یہ سعودی ورثے کے تسلسل اور بلند ہمت اور چیزوں کے حصول کی علامت ہے۔ ‘
فالکنری محض ایک شوق نہیں تھا بلکہ صحرا کے مشکل ترین ماحول میں شکار کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ صحرا نشیں عربوں کا ساتھی اور طاقت، نشانے کو ٹھیک ٹھیک ہدف بنانے اور صبر کا نمائندہ تھا۔ فالکن کا ماہر بننے کے لیے طویل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے سکھانے والوں میں نظم و ضبط اور مضبوط قیادت بھی پروان چڑھتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، فالکن، وسیلۂ عزت اور شہرت کا درجہ اختیار کر چکا ہے جو صحرا نشیں عربوں کی شناخت ہوتی تھی۔ فالکن کو اس زمانے کے باوقار شخصیات پالا کرتی تھیں اور عرب داستانیں اور شاعری اس کے ذکر سے بھری پڑی ہیں۔نسل در نسل منتقل ہونے والا یہ مشغلہ یعنی فالکنری اب یونیسکو کی اس نمائندہ فہرست میں درج ہو چکا ہے جو ’انسانی میراث کی غیر محسوس فہرست کہلاتی ہے۔‘
اس فہرست میں سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک ہیں جس سے فالکنری کی عالمی اور ثقافتی حثییت ممتاز ہو گئی ہے۔
اسماعیل عبداللہ الھجلس نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ تمام علامتیں اپنی ظاہری دلکشی کی وجہ سے نہیں چُنی گئیں۔ انھیں اس لیے اختیار کیا گیا کیونکہ صدیوں پر محیط عرصے کے دوران ان کا تجربہ ہوتا رہا ہے اور یہ طرح طرح کی آزمائشوں سے گزری ہیں۔‘
اپنے انفرادی تصور سے کہیں بڑھ کر یہ علامتیں مشترکہ طور پر ایک سعودی شہری کے اپنی زمین، اپنے ماحول، اپنے وقار اور اپنی کمیونیٹی کے ساتھ رابطے اور تعلق کا ایک اظہار ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*




’انسولین رزیسٹینس‘ کیا ہے اور کیا روزہ رکھ کر اس طبی پیچیدگی پر قابو پایا جا سکتا ہے؟
گذشتہ دو برسوں کے دوران میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ’انسولین رزیسٹینس‘ (انسولین کے خلاف جسمانی اعضا کی مزاحمت) کے حوالے سے بہت بات کی جا رہی ہے۔ اس موضوع پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جبکہ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر ورزش اور مخصوص غذاؤں کا احاطہ کرتی ہزاروں ایسی ویڈیوز موجود ہیں جنھیں بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ مخصوص غذائیں یا ورزش کر کے انسولین رزیسٹینس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے یا اس کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اس اصطلاح کے مقبول عام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسولین رزیسٹینس انسانی جسم میں پیچیدہ طبی مسائل بشمول ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ’انسولین رزیسٹینس‘ آخر ہے کیا، اس کی عمومی علامات کیا ہوتی ہیں اور کیا روزہ رکھ کر اس پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے؟انسولین کیا ہے؟
انسولین انسانی جسم میں موجود ہارمونز میں سے ایک انتہائی اہم ہارمون ہے۔ ہمارے جسم میں موجود ایک اہم عضو لبلبہ ہے جس کا بنیادی کام ہمارے جسم کو درکار انسولین بنانا ہے۔انسولین کا بنیادی کام ہمارے جسم میں بلڈ شوگر کو منظم یا ریگولیٹ کرنا ہے۔ ہمارا جسم توانائی کے ذریعے کے طور پر انسولین کو سٹور کرتا ہے۔

اگر لبلبہ انسانی جسم کو درکار مطوبہ مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا یا بہت کم کرتا ہے یا جسم لبلبے کی جانب سے بنائی گئی انسولین کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے سے قاصر رہتا ہے تو صحت کے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ہمارے جسم میں انسولین کیسے کام کرتی ہے:

جو بھی کھانا ہم کھاتے ہیں ہمارا جسم اس کو گلوکوز میں تبدیل کر دیتا، اور یہ گلوکوز ہمارے جسم کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے
اگلے مرحلے میں یہ گلوکوز ہمارے خون کے نظام میں شامل ہوتی ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمارا لبلبہ جسم کے لیے درکار انسولین کا اخراج کرتا ہے
یہ انسولین خون کے نظام میں موجود گلوکوز کو ہمارے پٹھوں اور جگر کے خلیوں میں داخل کرنے میں مدد کرتی ہے تاکہ اسے توانائی کے ذریعے کے طور پر فی الفور استعمال کیا جا سکے یا بعد کے استعمال کے لیے ذخیرہ کیا جا سکے
جب گلوکوز ہمارے جسم کے خلیوں میں داخل ہوتا ہے اور خون میں اس کی سطح کم ہو جاتی ہے، تو یہ لبلبے کے لیے اشارہ ہوتا ہے کہ وہ مزید انسولین کا اخراج بند کر دےانسولین رزیسٹنس یا انسولین کے خلاف مزاحمت کیا ہے؟
’انسولین رزیسٹنس‘ ایک پیچیدہ عمل ہے جو اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا جگر اور عضلات انسولین کو استعمال کرنے کے بجائے اس کے خلاف مزاحمت کرنے لگتے ہیں جس کے باعث ہمارے جسم کے اعضا ہمارے خون میں موجود گلوکوز کو مؤثر طریقے سے جذب یا ذخیرہ کرنا بند کر دیتے ہیں۔اس صورتحال کے باعث لبلبہ کنفیوزن کا شکار ہو جاتا ہے اور ہمارے خون میں موجود گلوکوز کی اضافی سطح پر قابو پانے کے لیے اضافی انسولین پیدا کرتا اور اس کا اخراج کرتا ہے۔ جسم کو درپیش یہ حالت ’ہائپر انسولینمیا‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

جب جسم کے خلیات اور اعضا کی انسولین کے خلاف مزاحمت مزید بڑھتی ہے تو یہ خون میں گلوکوز کی زیادتی کا باعث بنتی ہے۔ اور یہ صورتحال ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

تاہم، اگر انسولین کے خلاف خلیوں کی مزاحمت بڑھ جاتی ہے، تو یہ خون میں گلوکوز کی بلند سطح کا باعث بنتی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ٹائپ 2 ذیابیطس اور دیگر طبی حالات کا باعث بن سکتی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس میں بطور کنسلٹنٹ فزیشن کام کرنے والے فرینکلن جوزف کہتے ہیں کہ جسم کی انسولین کے خلاف مزاحمت ایک پیچیدہ صورتحال ہے جس کا تعلق ہمارے طرز زندگی، ماحولیاتی عوامل اور جینیٹکس سے ہے۔

اس عارضے کے لاحق ہونے کی وجہ ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کسی انسان میں انسولین کے خلاف مزاحمت کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:

موٹاپہ یا جسم میں موجود اضافی چربی (خاص کر پیٹ میں موجود چربی) جسم میں انسولین رزیسٹینس کی بڑی وجہ ہو سکتا ہے
جسمانی طور پر غیرفعال رہنا: ہمارے طرز زندگی میں جسمانی سرگرمی کا شامل نہ ہونا بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے
جینیاتی عوامل: کچھ لوگ جینیاتی طور پر انسولین کے خلاف مزاحمت کا شکار ہوتے ہیں
ناقص خوراک: پراسیسڈ فوڈز، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، اور شکر والی غذائیں انسولین کے خلاف ہمارے جسم کی مزاحمت میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔ یہ غذائیں بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے وقت کے ساتھ ساتھ لبلبے سے انسولین کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے
• دائمی تناؤ: ہمارے جسم میں تناؤ کے ہارمونز (جیسا کہ کورٹیسول) انسولین کی بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت میں مداخلت کر سکتے ہیں
نیند میں خلل: نیند کی کمی یا نیند کا معیار بہتر نہ ہوتا ہمارے جسم میں انسولین کی حساسیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ نیند کی کمی جسمانی ہارمونز کی سطح میں خلل ڈال سکتی ہے اور انسولین کے خلاف مزاحمت کا باعث بنتی ہے
طبی پیچیدگیاں: پولی سسٹک اووری سنڈروم اور فیٹی لیور جیسی بیماریاں انسولین کے خلاف مزاحمت کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں
بڑھتی عمر: جیسے جیسے عمر ڈھلتی جاتی ہے ویسے ویسے ہمارے اعضا اور ان کے خلیے انسولین کے لیے بہتر ریسپانس دینے کی صلاحیت کھوتے جاتے ہیں اور اس کے باعث بتدریج انسولین رزیسٹنس پیدا ہوتی ہے
رمضان کے روزے
آج کل رمضان کا مہینہ چل رہا ہے اور بہت سے مسلمان باقاعدگی سے اس مہینے میں روزہ رکھتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا مشورہ ہے کہ وہ افراد جو کسی بیماری یا عارضے کا شکار ہیں انھیں روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے لازمی مشورہ کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی ہاسپیٹل برمنگھم سے منسلک ماہر ذیابیطس پروفیسر وسیم حنیف کہتے ہیں کہ خاص کر وہ افراد جو ذیابیطس کا شکار ہیں انھیں روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو ذیابیطس ہے تو روزے رکھنا آپ کے لیے خطرناک بھی سکتا ہے اور یہ دیگر طبی پیچیدگیوں کو جنم بھی دے سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق چند طبی تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ روزہ رکھنا انسولین سینسیٹیویٹی کو بہتر کر سکتا ہے خاص کر ان افراد میں جو ٹائپ ٹو ذیابیطس یا انسولین رزیسٹینس کا شکار ہیں۔

مزید برآں، کچھ افراد ماہ صیام میں وزن میں کمی یا جسم میں موجود اضافی چربی کی کمی سامنا بھی کر سکتے ہیں اور یہ تبدیلیاں انسولین کے لیے ہمارے جسم کی حساسیت اور میٹابولزم پر اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو موٹاپے کا شکار ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ رمضان کے دوران روزے رکھنے کا انسولین رزیسٹینس پر اثر ہر شخص میں مختلف ہو سکتا ہے اور اس کا تعین کسی بھی شحص کی عمر، جنس، صحت کو درپیش مسائل، کھانے پینے کی عادات اور جسمانی سرگرمی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

’رمضان میں روزے رکھنے والے افراد، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت پر نظر رکھیں اور اس ضمن میں اپنے معالج سے رابطے میں رہیں تاکہ وہ صحت میں بہتری کے ساتھ اور محفوظ انداز میں روزے رکھ سکیں۔‘

عمان میں مقیم ماہر غذائیت ریم العبداللط کا کہنا ہے کہ چاہے آپ وقفے وقفے سے روزے رکھ رہے ہوں یا رمضان کے دوران باقاعدگی سے روزے رکھ رہے ہیں صحت کو بہتر رکھنے کے لیے صحت مند کھانے کی عادات کو اپنانا ضروری ہے۔

کیا ’انٹرمٹنٹ فاسٹنگ‘ ایک حل ہے؟
آج کل انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ یا وقفے وقفے سے بھوکے رہنا کا چلن عام ہے اور یہ کرنے کا بنیادی مقصد وزن کم کرنا ہوتا ہے۔ وقفے وقفے سے بھوکے رہنا یا روزہ رکھنے نے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں خاصی توجہ حاصل کی ہے اور بہت سے ڈاکٹر اور ماہرین غذائیت اس کے صحت سے متعلق فوائد کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ سے مراد کسی مخصوص دن یا ہفتے کے دوران کھانے سے پرہیز کرنا ہے۔

ڈاکٹر نتن کپور انڈین ریاست تامل ناڈو کے کرسچن میڈیکل کالج یونیورسٹی ہسپتال میں اینڈو کرائنولوجی (ہارمونل عوارض جیسا کہ ذیابیطس، موٹاپا اور تھائرائیڈ) کے پروفیسر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کچھ طبی ریسرچ ظاہر کرتی ہے کہ کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے طبی فوائد ہوتے ہیں، تاہم وہ ساتھ ساتھ متنبہ کرتے ہیں کہ یہ سب کے لیے موزوں نہیں ہے۔

وہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا آپ پوری زندگی انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کر سکتے ہیں؟ ’ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ ایسے کرنے سے آپ اپنا وزن کسی حد تک کم کر لیں مگر جیسے ہی آپ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ ختم کریں گے تو وزن کا اضافہ پہلے سے کہیں زیادہ ہو گا۔‘

دوسری جانب پروفیسر جوزف کا کہنا ہے وقفے وقفے سے روزہ رکھنا یا بھوکا رہنے کے معاملے پر اب بھی طبی تحقیق جاری ہے مگر دستیاب ریسرچ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایسا کرنا جسم کی انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔انسولین رزیسٹینس کی علامات کیا ہیں؟
انسولین کے خلاف ہمارے جسم کی مزاحمت کی ابتدائی علامات کچھ زیادہ نمایاں نہیں ہوتی ہیں۔

تاہم کچھ علامات ایسی ہیں جو آپ کے جسم میں اس مسئلے کی موجودگی کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔

پروفیسر جوزف کے مطابق ان علامات میں بھوک میں اضافہ، تھکاوٹ، جسم کا اضافی وزن کم کرنے میں دشواری، جلد پر سیاہ دھبے (خاص طور پر گردن، بغل یا کمر پر)، ہائی بلڈ پریشر، گڈ کولیسٹرول میں کمی اور بیڈ کولیسٹرول میں اضافہ اور پولی سسٹک اووری سنڈروم۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر انسولین رزیسٹنس ٹائپ ٹو ذیابیطس اور خون میں گلوکوز کی سطح میں نمایاں اضافے کا باعث بنتی ہے تو دیگر علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ بار بار پیشاب آنا، پیاس میں اضافہ اور نظر کا دھندلا پن وغیرہ۔

پروفیسر جوزف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ علامات ہر شخص میں دوسرے شخص سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی علامات جسم میں کسی دوسری طبی پیچیدگی یا بیماری کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں چنانچہ ایسی علامات ظاہر ہونے پر اپنے معالج سے لازمی رابطہ کریں تاکہ مسئلے کا پتہ لگایا جا سکے۔

پروفیسر جوزف کے مطابق تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ انسولین رزیسٹینس کے شکار 70 سے 80 فیصد افراد بالآخر ٹائپ ٹو ذیابیطس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اگر وقت پر علاج نہ کیا جائے تو یہ مسئلہ مزید سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔کیا انسولین رزیسٹینس سے چھٹکارا پانا ممکن ہے؟
پروفیسر جوزف کہتے ہیں کہ ’طرز زندگی میں تبدیلی اور بعض صورتوں میں ادویات کے ذریعے انسولین رزیسٹنس کے مسئلے سے چھٹکارا یا اسے کسی حد تک بہتر کیا جا سکتا ہے۔

ماہر غذائیت ریم العبداللط انسولین رزیسٹین کے شکار افراد کو مشورہ دیتی ہیں کہ ’اپنی خوراک پر پوری توجہ دیں، میٹھا کھانے سے گریز کریں اور نشاستے والی غذائیں کم سے کم کھائیں۔‘

پروفیسر جوزف اور ریم دونوں کا مشورہ ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کو اپنی زندگی میں شامل کریں جبکہ وزن میں کمی، خاص طور پر پیٹ کے گرد موجود چربی میں کمی، انسولین کی حساسیت کو بہتر بنا سکتی ہے۔

پروفیسر جوزف کہتے ہیں کہ دائمی تناؤ سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی اہم ہے۔ ’مراقبہ، یوگا، گہری سانس لینے کی مشقیں، یا قدرتی نظاروں کے قریب وقت گزارنے جیسی تکنیکوں کے ذریعے تناؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

مناسب نیند لینا بھی ایسی صورتحال میں انتہائی ضروری ہے۔

تاہم آخر میں تمام افراد کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنے معالج سے رابطہ کریں، طبی مشورہ لیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کا بہتر طریقہ کار کیا ہو سکتا ہے۔











ایران امریکہ کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، صدرمسعود پزشکیان کا بیان
بڑھتی کشیدگی اور محدود امریکی حملے کے خدشات کے بیچ صدر مسعود پزشکیان نے واضح کردیا ہے کہ ایران کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ،ایرانی پیرا اولمپک ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ تمام مشکلوں کے باوجود ہم سر نہیں جھکائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے صف آراء ہیں، مگر تمام آزمائش اورمسائل کے باوجود، ہم سر نہیں جھکائیں گے۔مسعود پزشکیان نے زور دیا کہ دشمن ایران کے خلاف مسائل پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، تاہم حکومت اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کا دوسرابحری بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں پہنچ گیا ہے۔فورڈ دنیا کا سب سے بڑا کیریئر ہے۔یہ تین ڈسٹرائیر کے ہمراہ ہے۔جیرالڈ فورڈ اور یو ایس ایس ابراہیم لنکن کا ایک ساتھ مشرق وسطی میں ہونا ممکنہ کارروائی کا اشارہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کیریئرز پر موجود طیاروں کے علاوہ، امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں درجنوں دیگر لڑاکا طیارے بھی بھیجے ہیں۔جن میں ایف ۔22، ایف ۔35، ایف۔15، ایف ۔16 لڑکا طیارے شامل ہیں۔ان کےساتھ ساتھ ایریل ریفیولنگ طیارہ شامل ہیں جو ان کے آپریشنز کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ اردن کے ایئربیس پر کم از کم 60 لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ایران اور امریکہ کے بیچ لفظی جنگ

واضح رہے کہ ، گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے معاہدہ نہ ہونےکی صورت میں قدم آگے بڑھانے کی بات کہی تھی ۔انھوں نے کہا تھا کہ ہم بامعنی معاہدے کے خواہاں ہیں اگرمعاہدہ نہ ہوا تو نتائج برے ہوں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد ایران نے بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کی بات کہی تھی ۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتریز کو لکھے خط میں ایران نے متنبہ کیا تھا کہ ،حملےکی صورت میں خطے میں دشمن طاقت سے تعلق رکھنے والے تمام اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔








وزیر اعظم مودی نے میرٹھ میٹرو اور نمو بھارت ٹرین کو دکھائی ہری جھنڈی، طلبہ کے ساتھ کیا سفر
میرٹھ: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز شتابدی نگر نمو بھارت اسٹیشن پر میرٹھ میٹرو اور نمو بھارت ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس) ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس اقدام کو قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) میں علاقائی رابطے اور جدید شہری ٹرانسپورٹ نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے میرٹھ پہنچنے پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر پنکج چودھری نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم شتابدی نگر اسٹیشن پہنچے جہاں انہوں نے جدید میٹرو اور نمو بھارت ٹرین سروس کا باضابطہ افتتاح کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے 82 کلو میٹر طویل دہلی–میرٹھ نمو بھارت کوریڈور قوم کے نام وقف کیا۔ اس کے ساتھ ہی آر آر ٹی ایس کے باقی حصوں کا بھی افتتاح کیا گیا، جن میں دہلی کے سرائے کالے خاں سے نیو اشوک نگر تک پانچ کلو میٹر اور اتر پردیش میں میرٹھ ساؤتھ سے مودی پورم تک تقریباً 21 کلو میٹر طویل راستہ شامل ہے۔

افتتاح کے بعد وزیر اعظم نے میرٹھ ساؤتھ اسٹیشن تک میٹرو میں سفر بھی کیا۔ اس دوران انہوں نے مسافروں اور طلبہ سے گفتگو کی اور ان کے تجربات کے بارے میں دریافت کیا۔ سفر کے دوران چند طلبہ نے وزیر اعظم کو اپنی بنائی ہوئی تصاویر بھی دکھائیں، جس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ نمو بھارت ٹرین 180 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ بھارت کا پہلا علاقائی تیز رفتار ٹرانزٹ نظام ہے، جس کے ذریعے صاحب آباد، غازی آباد، مودی نگر اور میرٹھ جیسے اہم شہری مراکز دہلی سے زیادہ تیزی سے منسلک ہو سکیں گے۔

سرائے کالے خاں اسٹیشن کو ایک بڑے ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ حب کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن، دہلی میٹرو کی پنک لائن، ویر حقیقت رائے آئی ایس بی ٹی اور رنگ روڈ سے آسان رابطہ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ شتابدی نگر، بیگم پل اور مودی پورم بھی نئے نمو بھارت اسٹیشنوں میں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک ہی بنیادی ڈھانچے پر نمو بھارت اور میرٹھ میٹرو کا انضمام بین شہری تیز رفتار سفر اور شہر کے اندر آسان آمد و رفت کو فروغ دے گا، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





سحری میں ایسا کیا پئیں، جس سے روزہ کے دوران نہ لگے پیاس؟ ڈائٹیشین کے ٹپس رکھیں گے تازہ اور توانا
رمضان کے مقدس مہینے میں کروڑوں مسلمان روزہ رکھتے ہیں، جو ایمان اور روحانیت کا اہم حصہ ہے۔ روزہ کے دوران بغیر کھانے پینے کے طویل وقت گزارنا جسم کے لیے چیلنج ہو سکتا ہے، خاص طور پر پانی کی کمی سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے سحری کے وقت صحیح غذائیت اور مشروبات کا استعمال نہایت ضروری ہے تاکہ جسم دن بھر ہائیڈریٹ اور توانائی سے بھرپور رہے۔

نوئیڈا کے مانس اسپتال کی ڈائٹیشن کامنی سنہا کے مطابق سحری میں 1-2 گلاس سادہ پانی پینا بہت اہم ہے، کیونکہ رات بھر سونے سے جسم پانی کھو دیتا ہے۔ اچانک بڑی مقدار میں پانی پینے کی بجائے تھوڑا تھوڑا پانی پئیں، اور سحری میں 2-3 گلاس پانی آہستہ آہستہ پینا بہتر ہے۔ ناریل پانی ایک بہترین انتخاب ہے کیونکہ اس میں قدرتی الیکٹرولائٹس جیسے پوٹاشیم اور سوڈیم موجود ہوتے ہیں، جو جسم میں مائع کا توازن برقرار رکھنے اور دن بھر ڈی ہائیڈریشن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ڈائٹیشن کے مطابق دودھ یا کم چکنائی والے دہی سے بنی اسموتھی سحری میں شامل کرنے سے دن بھر توانائی اور پیاس پر قابو رہتا ہے۔ دودھ میں موجود پروٹین اور قدرتی شکر آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتی ہے، اور دہی میں موجود پروبائیوٹکس ہاضمہ بہتر رکھتی ہیں اور پیٹ کو طویل عرصے تک بھرا محسوس کرواتی ہیں۔ اسموتھی میں کیلا، کھجور یا بھیگے ہوئے چیا سیڈز شامل کرنا فائدہ مند ہے۔ چیا سیڈز پانی جذب کر کے جیل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے جسم میں نمی دیر تک برقرار رہتی ہے۔ تاہم بہت زیادہ میٹھے مشروبات سے بچیں کیونکہ زیادہ شکر پیاس بڑھا سکتی ہے۔

لیموں پانی یا سادہ لسی دن بھر ہائیڈریٹ رہنے کے لیے مفید ہیں، لیکن شکر کی مقدار متوازن ہونی چاہیے۔ ہلکا سا نمک ملا لیموں پانی جسم میں الیکٹرولائٹ بیلنس قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ پودینہ یا تلسی کے پتے ملا کر ہربل ڈرنک بھی بنایا جا سکتا ہے، جو جسم کو ٹھنڈک اور تازگی دیتی ہے۔ سحری میں چائے یا کافی سے بچنا چاہیے کیونکہ کیفین پانی خارج کرنے کا باعث بنتی ہے اور دن بھر پیاس بڑھ سکتی ہے۔سحری میں کھانے کا انتخاب بھی اہم ہے۔ زیادہ نمکین، تلا بھنا یا مصالحہ دار کھانا دن میں پیاس بڑھا سکتا ہے۔ اس کے بجائے اوٹس، دلیہ، مکمل اناج، انڈے، پھل اور سبزیاں شامل کریں۔ تربوز، کھیرا، سنترا جیسے پانی سے بھرپور پھل جسم کو اضافی ہائیڈریشن فراہم کرتے ہیں۔ پروٹین اور فائبر سے بھرپور خوراک توانائی آہستہ آہستہ جاری کرتی ہے، جس سے دن بھر تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔ تاہم اگر آپ کو پہلے سے کوئی طبی مسئلہ ہے تو روزہ رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ صحت اور توانائی برقرار رہے۔










مریم نوازکے طیارہ خریدنے پر تنازع ، کتنی امیر ہیں نواز شریف کی بیٹی؟
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز اس وقت لگژری طیارہ خریدنے کے معاملے پرسرخیوں میں ہیں۔ اس طیارے کو گلف اسٹریم جی 500 کہا جاتا ہے اور اسے ریاستی حکومت نے تقریباً 10 ارب پاکستانی روپے میں خریدا ہے۔ اس لگژری جیٹ کی خریداری نے پاکستان میں بحث چھیڑ دی ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پاکستان کے عوام فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں تو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اتنا مہنگا طیارہ خریدنا مناسب نہیں ہے۔ قابل غوربات یہ ہے کہ نواز شریف خاندان کا شمار پاکستان کے دولت مند گھرانوں میں ہوتا ہے۔ مریم نواز کے پاس بھی پیسوں کی کمی نہیں ہے۔گزشتہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اپنے حلف نامے میں مریم نواز نے اپنے کل اثاثوں کی مالیت 84.2 کروڑ پاکستانی روپے ظاہر کی تھی۔ مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر کی جانب سے پاکستان کے حلقہ این اے 119 کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق، مریم لاہور میں 1500 کنال (188 ایکڑ) زمین کی مالک ہیں۔

دولت مندمریم کے پاس نہیں ہے کار
انگریزی ادب میں پوسٹ گریجویٹ مریم کے پاس کار نہیں ہے۔ نامزدگی فارم میں دی گئی معلومات کے مطابق انہوں نے اپنے بھائی حسن نواز سے تقریباً 2.9 کروڑ روپے کا قرض لےرکھا ہے۔ ان کے پاس ۱7.5 لاکھ پاکستانی روپے کا سونا ہے۔ ان کے پاس مختلف بینک کھاتوں میں 1 کروڑ پاکستانی روپئے بھی جمع ہیں۔ وہ کئی کمپنیوں میں 12.2 ملین پاکستانی روپے کے شیئرز کی بھی مالک ہیں۔آرمی کیپٹن سے ہوئی ہے شادی
مریم کے شوہر محمد صفدر اعوان ہیں جن کی عمر 59 سال ہے۔ صفدر اب پاکستانی سیاست میں سرگرم ہیں۔ تاہم سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے پاک فوج میں خدمات انجام دیں۔ مریم نواز اور صفدر کے تین بچے ہیں۔












رمضان میں خود کو مذہبی، جسمانی اور مالی طور پر کیسے منظم کیا جائے؟
دُنیا بھر میں رہنے والے مسلمان رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اس کی اپنے اپنے انداز میں تیاری کرتے ہیں۔ کُچھ لوگ رمضان کو ایک ایسے مہینے کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں وہ مذہبی طور پر اپنے اندر بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں، کُچھ لوگ اس مہینے کا انتطار اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اس ماہ میں وہ اپنا بڑھا ہوا وزن کم کرنے کی کوشش کریں گے اور کُچھ لوگ نفسیاتی طور پر بھی اپنے اندر بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بس یوں سمجھ لیجیے کہ ہر فرد اس مہینے کو اپنے اپنے انداز میں گُزارنے کی کوشش کرتا۔

’روح کی پاکیزگی‘
دنیا بھر کے مسلمان اسلامی سال کے اس نویں مہینے یعنی ’رمضان‘ کے مہینے میں روزہ رکھتے ہیں۔ روزہ دین اسلام کے اہم اراکین میں سے ایک ہے اور اس پورے ایک مہینے تک طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کھانے پینے سے پرہیز کرنا ضروری ہوتا ہے۔

محقق ڈاکٹر ابراہیم الجرمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے مہینے کے بے شمار فوائد ہیں۔ مسلمانوں کو اس مہینے کی تیاری ایسے ہی کرنی چاہیے کہ جیسے کسی باوقار اور انتہائی شاندار یونیورسٹی میں داخلے کے لیے طالب علم اپنے آپ کو نصابی و تدریسی لحاظ سے ایک اچھا امیدوار ثابت کرنے کے لیے تیاری کرتا ہے۔‘انھوں اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن نازل ہوا اور مسلمانوں کو اس مہینے میں اس مقدس کتاب کے ساتھ قریبی تعلق رکھنا چاہیے وہ اس کا دور مکمل کریں یا پھر نمازِ تراویح میں با غور اس کی تلاوت سُنیں۔‘الجرمی مزید کہتے ہیں کہ ’اس مہینے میں مسلمانوں کو دعا اور توبہ کرتے ہوئے اپنے خدا کے قریب آنا چاہیے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’روزے کا مطلب بس یہی نہیں کہ کھانے پینے اور دیگر خواہشات سے دور رہا جائے بلکہ روزے کی حالت میں تو انسانی جسم کے ’اعضا کو بھی روزہ رکھنا چاہیے‘، اور وہ ایسے کہ اُن کی زبان سے جھوٹ نہ نکلے یعنی وہ جھوٹ نہ بولیں، اسی طرح اُن کی آنکھیں اور کان بھی جھوٹ اور دیگر بُرائیوں سے دور رہیں۔‘

الجرمی نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ ’انسان رمضان میں اپنے آپ کو نکھارنے کی کوشش کرے تاکہ وہ صبر و تحمل سے کام لے اور اس مہینے کی روحانیت کو پا سکے۔‘ماہر نفسیات اور نشے کے عادی افراد کا علاج کرنے والی ڈاکٹر شازہ ابو حمدیہ نے بی بی سی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں ڈاکٹر ابراہیم الجرمی سے اتفاق کرتے ہویے کہا کہ ’ایک مسلمان کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اس مہینے کی فضیلت کو جان کر ماہ رمضان کے آغاز کے لیے خود کو تیار کرنا شروع کر دے اور یہ کہ یہ مہینہ اپنے آپ کو بُرائیوں سے دور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے خدا سے اُن تمام تر مسائل اور تکالیف کے دور کرنے کے لیے دعا مانگ سکتا ہے کہ جن کا اُسے سامنا ہے۔'ان کا مزید کہنا ہے کہ 'رمضان بہت سے لوگوں کے لیے غلط اور منفی رویوں کو ترک کرنے کا ایک موقع سمجھا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان لوگوں کے لیے بھی جو نشے میں مبتلا ہیں۔'

ابو حمدیہ کے مطابق یہ اس مہینے میں ایک فرد اپنے اندر موجود بُرائیوں سے اس طرح سے دور رہ سکتا ہے کیونکہ اس مہینے کے دوران مذہبی جذبات کمال عروج پر ہوتے ہیں، اس مہینے میں ایک شخص کی قوت ارادی اُسے مشکلات کو برداشت کرنے کی ہمت دیتی ہے۔ جو خاص طور پر نفسیاتی علاج اور عام طور پر ایک شخص کی ذہنی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

'وزن کم کرنے کا ایک موقع'روزے کے صحت پر پڑنے والے فوائد کے باوجود کچھ لوگوں کو اس مہینے کے دوران اپنے کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ نسبتاً طویل وقت تک کے لیے کھانے پینے سے پرہیز کرنے کے نتیجے میں تھکاوٹ اور کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے ماہر غذائیت لیان البغدادی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کا مہینہ ہر اس شخص کے لیے ایک موقع ہے جو اپنی صحت کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ خاص طور پر اگر وہ چند کلو گرام وزن کم کرنا چاہتا ہے، بشرطیکہ وہ ایسا کرنے کے لیے صحیح طریقہ کار پر عمل کرے اُن کے پٹھے کمزور نا پڑیں بلکہ اُن کے جسم پر سے چربی کم ہو۔

البغدادی نے جسم کی ضروریات کے مطابق مناسب مقدار میں کھانا کھانے کی اہمیت کی نشاندہی کی ہے کیونکہ جسم نسبتاً طویل وقت کے روزے کی وجہ سے ’بھوک‘ کی کیفیت اور حالت کا شکار ہوتا ہے۔ نتیجتاً جسم چربی کو برقرار رکھتا ہے اور پٹھوں اور جسم میں موجود فلوئڈ کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ لہذا ماہرین چربی کم کرنے اور پٹھوں کو کمزوری سے بچانے اور فلوئڈز کی مناسب مقدار کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

رمضان کے مہینے میں مناسب غذا کے بارے میں بغدادی کہتی ہیں کہ ’روزہ افطار کرنے اور سحر تک کے وقت کے درمیان متوازن خوراک پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے سحری کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ جسم کو توانائی فراہم کرنے اور جسم کی روزمرہ توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا اور اس کی وجہ سے انسانی جسم سستی یا تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔‘وہ بتاتی ہیں کہ سحری کے کھانے میں ’پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس‘ جیسے دودھ، پنیر اور انڈوں کے علاوہ کھجور، سوپ اور ایک کپ سلاد شامل ہونا چاہیے۔ بشرطیکہ ان اجزاء کو آہستہ آہستہ کھایا جائے، جس سے انسان کے کھانے کی مقدار کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

البغدادی کے مطابق اس مہینے کے دوران بہت سے لوگوں میں رمضان کے مشہور مشروبات کا استعمال عام ہے کیونکہ ان میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ کیلوریز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر فرد کو ہی ان زیادہ میٹھے مشروبات سے دور رہنا چاہیے تاہم ان کے مقابلے میں لیموں اور پودینہ کا رس زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ ان سے تیار کیے جانے والا جوس یا مشروب روزے کی حالت میں انسانی جسم سے ضائع ہو جانے والے فلیوئڈ اور غذائی اجزا کی کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘

البغدادی نے زیادہ مگر مناسب مقدار میں پانی پینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

رمضان کے دوران کس وقت پر ورزش کی جا سکتی ہے؟
رمضان کے مہینے میں ورزش کرنا ایک صحت مند عادت سمجھی جاتی ہے جس پر کچھ لوگ عمل کرتے ہیں اس کے بہت سے فوائد ہیں جو انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

سپورٹس ٹرینر مائی القادری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے دوران ورزش انسانی جسم کے لیے ضروری ہے لیکن افطاری سے قبل ورزش کرتے وقت جسم پر دباؤ نہ ڈالنا بہتر ہے۔ افطار سے آدھے گھنٹے قبل ہلکی پھلکی ورزشیں جیسے چہل قدمی، جاگنگ اور سائیکلنگ کی جائے تاکہ جسم کو جلد از جلد اس میں سے کم ہو جانے والے فلوئیڈز اور نمکیات سے بھرا جاسکے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’افطار سے پہلے ورزش وزن میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔‘

جو لوگ افطار کے بعد ورزش کرنا چاہتے ہیں ان کے بارے میں قادری کا کہنا ہے کہ ’افطار کرنے کے کم از کم دو یا تین گھنٹے بعد ورزش کرنا ضروری ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران کھانا موثر اور آرام سے ہضم ہوتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی توانائی سے جسم کے اہم اعضا کو ری چارج کیا جا سکے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ افطار سے پہلے یا بعد میں کب ورزش کرنی ہے تو فٹنس ٹرینر نے جواب دیا: 'بہترین وقت جیسی کوئی چیز نہیں ہے اگر ہے تو بس یہ کہ ہر فرد اپنی صحت کے مطابق ورزش کرے۔ ہاں بس اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ورزش بھی اعتدال کے ساتھ کی جائے تاکہ جسم کو صحت کی ان علامات سے بچایا جا سکے جو روزے کے طویل گھنٹوں کے دوران سامنے آسکتی ہیں۔‘

کیا ہمیں رمضان کے دوران زیادہ بجٹ مختص کرنے کی ضرورت ہے؟
رمضان سے پہلے بازاروں میں اکثر بھیڑ لگی دکھائی دیتی ہے کیونکہ ہر شخص کو ہی اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ افطاری کے وقت ٹیبل پر ہر چیز ہونی چاہیے جس کی انھیں خواہش اور ضرورت ہے، اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہ کسی چیز کی کمی نہ ہو۔

معاشی تجزیہ کار مازن ارشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'کچھ خاندانوں کے اس ماہ میں خرچ کے رجحان کی عکاسی یا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کی اکثر وہ اشیا بھی زیادہ مقدار میں خرید لی جاتی ہیں کہ جن کی کم مقدار سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی بھی چیز کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔'کچھ لوگ اس مہینے کو گُزارے کے لیے باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اضافی خرید وفروخت کے لیے بجٹ مختص کرتے ہیں۔

ایسے خاندانوں کے بارے میں ارشاد کہتے ہیں ’کچھ خاندان رمضان سے چند ماہ قبل ماہانہ کٹوتی کے ذریعے کچھ پیسے بچانا شروع کر دیتے ہیں۔‘

معاشی تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ ’جب کوئی روزہ دار روزہ افطار کرنے سے پہلے خریداری کرتا ہے تو وہ جذباتی حالت اور کیفیت میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ پیسے خرچ کر دیتے ہیں اور اس بات کا اندازہ انھیں جلد ہی ہو جاتا ہے کہ انھوں نے جو خریداری کی ہے وہ ضرورت سے زیادہ ہے اور اضافی چیزیں یا تو ضائع ہو جائیں گی یا پھر اگر کھانے پینے کی ہیں تو بہت جلد خراب ہو جائیں گی۔‘

ارشاد نے اس بات پر زور دیا کہ ’خاص طور پر اس مہینے کے دوران خریداری کا عمل ضرورت پر مبنی ہونا چاہیے نہ کہ خواہش پر اور لوگوں کو اس مہینے کے دوران ہر گھر میں افطار کی بڑی دعوتوں کا اہتمام کیے بغیر ایک ہی جگہ پر کھانا اکٹھا کرنے اور اسے تقسیم کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔‘

رمضان کے مہینے کی تیاریاں کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہوں ان سب کے درمیان تعلق یہ ہے کہ یہ ایک مہینہ ہے جو ہر سال آتا ہے اور مسلمان اسے بھرپور انداز میں گزارنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔



Saturday, 21 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





روزہ رکھنے والے افراد کیا کھائیں، کیا پئیں اور کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
رمضان کے دوران سماجی زندگی خاصی متحرک ہوتی ہے اور لوگ افطار کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کو افطار پر مدعو کرتے ہیں یا خود مدعو ہوتے ہیں۔
یہ دعوتیں افطار اور سحری کے دسترخوانوں پر ہوتی ہیں جو عمدہ اور متنوع کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دوران بعض افراد جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض غیر صحت مند غذائی عادات کی وجہ سے اپنی بیماری کو بہتر طور پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔
اس پس منظر میں عالمی ادارہ صحت نے رمضان کے لیے کچھ رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف وزن کم کیا جاسکتا ہے بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں بھی کمی لایا جاسکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی ہے کہ ان عادات کو روزوں کے بعد بھی برقرار رکھا جائے۔
عمومی ہدایات:
وافر مقدار میں پانی پئیں (کم از کم 10 گلاس) اور پانی سے بھرپور غذائیں جیسے سوپ، تربوز اور سبز سلاد استعمال کریں۔
کیفین والے مشروبات جیسے کافی، چائے اور کولا سے پرہیز کریں، کیونکہ کیفین پیشاب کی مقدار بڑھا کر جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ چینی والے مشروبات اضافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔
زیادہ درجہ حرارت میں دھوپ سے بچیں اور ٹھنڈی، سایہ دار جگہ پر رہیں۔
افطار میں کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں؟
توانائی بحال کرنے کے لیے متوازن اور صحت بخش افطار کریں۔ روزہ کھولنے کے لیے تین کھجوریں کھائیں، کھجور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔
افطار میں وافر مقدار میں سبزیاں شامل کریں تاکہ ضروری وٹامنز اور غذائی اجزا حاصل ہوں۔ ثابت اناج استعمال کریں جو توانائی اور فائبر فراہم کرتے ہیں۔گرل یا بیک کیا ہوا کم چکنائی والا گوشت، چکن اور مچھلی استعمال کریں تاکہ صحت مند پروٹین حاصل ہو۔
تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی یا چینی والی پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں۔ آہستہ کھائیں اور حد سے زیادہ کھانے سے بچیں۔
سحری میں کیا کھائیں؟
وہ افراد جو روزہ رکھتے ہیں خصوصاً بزرگ ، نوجوان، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین روزانہ ہلکی سحری ضرور کریں۔
سحری میں سبزیاں، ثابت گندم کی روٹی یا بن، پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے پنیر، دودھ یا انڈا شامل کریں۔
مٹھائیوں کا استعمال محدود رکھیں، کیونکہ رمضان میں استعمال ہونے والی اکثر مٹھائیاں چینی کے شیرے سے بھرپور ہوتی ہیں۔
میٹھے کے طور پر پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، خربوزہ یا موسمی پھل مثلاً آڑو یا نیکٹرین بہتر انتخاب ہیں۔زیادہ چکنائی والی غذاؤں خصوصاً چربی والے گوشت، پف پیسٹری یا مکھن/مارجرین والی اشیا سے پرہیز کریں۔
نمک اور چکنائی سے متعلق احتیاط:
تلنے کے بجائے اسٹیم میں پکانا، ہلکے تیل میں ہلکا فرائی کرنا، سالن میں پکانا یا بیک کرنا بہتر رہے گا۔
زیادہ نمک والی اشیا جیسے ساسیجز، پراسیسڈ اور نمکین گوشت یا مچھلی، زیتون، اچار، سنیکس، نمکین پنیر، تیار شدہ کریکرز، سپریڈز اور ساسز (مایونیز، مسٹرڈ، کیچپ) سے پرہیز کریں۔
کھانا بناتے وقت نمک کم سے کم استعمال کریں اور دسترخوان پر نمک دان نہ رکھیں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے مختلف جڑی بوٹیاں استعمال کریں۔
اپنی ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں کھائیں اور آہستہ کھائیں، کیونکہ زیادہ کھانا سینے کی جلن اور بے آرامی کا باعث بنتا ہے۔
شام کے اوقات میں باقاعدہ چہل قدمی جیسی ہلکی جسمانی سرگرمی اپنانے کی کوشش کریں۔











پاکستان کے خیبر پختونخوا میں خودکش حملہ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو اہلکار جاں بحق، ’فتنہ الخوارج‘ پر عائد کی گئی حملے کی ذمہ داری
راولپنڈی: پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کی تصدیق پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز )آئی ایس پی آر) نے کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے ایک آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کی موت ہو گئی، جبکہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش

فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں دہشت گردوں اور ایک خودکش بمبار کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ کارروائی کے دوران بارودی مواد سے بھری گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو ٹکر مار کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں دونوں اہلکار شہید ہو گئے۔

فتنہ الخوارج پر عائد حملے کی ذمہ داری

آئی ایس پی آر نے حملے کی ذمہ داری ’’فتنہ الخوارج‘‘ پر عائد کی، جو پاکستان حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔

آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ کچھ اور حملہ آور بھی موجود تھے۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو مار گرایا۔

رمضان کا احترام نہیں کر رہے دہشت گرد

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا بھی احترام نہیں کر رہے۔ یہ کارروائیاں پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے جاری انسداد دہشت گردی مہم ’عزمِ استحکام‘ کے تحت کی جا رہی ہیں۔

فتنہ الخوارج کے خلاف بلا امتیاز کارروائی

اس دوران، پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ دہشت گردی قرار دیا اور شہداء کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف بلا امتیاز اور پوری قوت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور مقدس مہینے کی حرمت پامال کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔









پی ایم مودی- لولا کے ساتھ حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ مذاکرات کا آغاز، راشٹرپتی بھون میں برازیل کے صدر لولا دا سلوا کا شاندار استقبال
نئی دہلی :برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کا ہفتہ کے روز نئی دہلی میں واقع راشٹرپتی بھون میں باضابطہ سرکاری استقبال کیا گیا۔ بھارت کی صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے معزز مہمان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد وزیر اعظم مودی اور برازیلی صدر کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ مذاکرات کا آغاز ہوا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور گلوبل ساؤتھ ممالک کے تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔تجارت، ٹیکنالوجی اور عالمی امور پر تعاون بڑھانے پر گفتگو

صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کا یہ سرکاری دورہ 18 سے 22 فروری تک جاری رہے گا۔ اپنے دورۂ بھارت کے دوران وہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر دروپدی مرمو برازیلی صدر کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ بھی منعقد کریں گی۔ برازیلی صدر کے ہمراہ تقریباً 14 وزراء اور بڑی برازیلی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران پر مشتمل وفد بھی بھارت پہنچا ہے۔ وفد میں شامل وزراء اپنے بھارتی ہم منصبوں سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، جب کہ ایک خصوصی بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے، جس میں دونوں ممالک کے صنعت کار اور سرمایہ کار شرکت کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ بھارت اور برازیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صدر لولا کا بھارت کا چھٹا دورہ ہے۔

دورے کے دوران بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی برازیلی صدر سے ملاقات کی اور دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی اور صدر لولا عالمی و علاقائی امور، کثیرالجہتی اداروں میں تعاون، عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ سے متعلق اہم مسائل پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اعلیٰ سطحی ملاقات سے بھارت اور برازیل کے تعلقات کو نئی رفتار ملے گی اور دونوں ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی سطح پر مشترکہ کردار ادا کرنے کی سمت مزید آگے بڑھیں گی۔

*🔴سیف نیوز اردو*





امریکہ اور ایران کی کشیدگی کی جانب پیش رفت، جوہری مذاکرات پس منظر میں چلے گئے
تہران کے جوہری پروگرام پر جاری تعطل کے بعد امریکہ اور ایران تیزی سے ممکنہ فوجی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں، جبکہ سفارتی حل کی امیدیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خلیجی ممالک اور اسرائیل، جو برسوں سے ایران کو اپنا بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں، اب سمجھتے ہیں کہ کسی تصفیے کے بجائے تصادم کا امکان کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں 2003 کی عراق جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتیوں میں سے ایک کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی حکومت بھی امریکہ کے ساتھ ممکنہ مشترکہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اگرچہ ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔یہ گزشتہ ایک سال کے اندر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوسری ممکنہ کارروائی ہو گی۔ اس سے قبل گزشتہ جون میں بھی ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات کو ہدف بنا کر مشترکہ فضائی حملے کیے گئے تھے۔
خلیجی حکام کے مطابق تیل پیدا کرنے والے ممالک ممکنہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی محدود تصادم تیزی سے پھیل کر پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ دو اسرائیلی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ انہیں حل ممکن نہیں رہا، اور فوجی کشیدگی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
کچھ علاقائی حکام کا خیال ہے کہ ایران امریکی دباؤ کو کم سمجھ کر خطرناک غلطی کر رہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہی فوجی دباؤ کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ سابق امریکی سفارتکار ایلن آئر کے مطابق دونوں ممالک ’اپنی اپنی ریڈ لائنز پر ڈٹے ہوئے ہیں‘ اور اس وقت کوئی پیش رفت ممکن دکھائی نہیں دیتی۔دو راؤنڈز میں ہونے والے مذاکرات بھی یورینیم افزودگی، میزائل پروگرام اور پابندیوں میں نرمی جیسے بنیادی معاملات پر کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ عمانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے امریکی تجاویز پر مبنی لفافے کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کھولنے سے بھی انکار کر دیا۔
امریکی افسران کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی طاقت کے استعمال پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے محدود حملے کا امکان رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے جلد کوئی معاہدہ نہ کیا تو ’بہت بُرے نتائج‘ سامنے آ سکتے ہیں۔ ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کی ایران امریکہ کشیدگی پر گہری تشویش
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے جمعے کو بتایا کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور سخت بیانات کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔روئٹرز کے مطابق سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے کہا کہ ’ہم خطے میں بڑھتے ہوئے سخت بیانات، بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی میں اضافے پر بہت زیادہ فکر مند ہیں۔ ہم امریکہ اور ایران دونوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری جاری رکھیں۔‘
یہ اپیل اس خط کے بعد سامنے آئی ہے جو جمعرات کو ایران کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب، امیر سعید ایروانی، نے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ارسال کیا۔
ایروانی نے اپنے خط میں زور دیا کہ ایران اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے بنیادی حقِ دفاع کے استعمال کے لیے تیار ہے، اور کسی بھی فوجی جارحیت کا ’ٹھوس اور متناسب‘ جواب دیا جائے گا۔










رمضان کا پہلا عشرہ: رحمت، تربیت اور روحانی بیداری کا آغاز
ماہِ رمضان اسلامی سال کا سب سے بابرکت مہینہ ہے، جس کے بارے میں قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق رمضان کو تین عشروں میں تقسیم کیا جاتا ہے. پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔

پہلا عشرہ درحقیقت پورے رمضان کی بنیاد اور روحانی تیاری کا مرحلہ ہوتا ہے۔ پہلا عشرہ جو رحمت کا ہے؛رحمت کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت، شفقت اور مہربانی۔ رمضان کے ابتدائی دس دن بندے کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اُس کا رب اس پر بے حد مہربان ہے اور اسے اپنی طرف پلٹنے کا موقع دے رہا ہے۔ یہ عشرہ ہمیں مایوسی سے نکال کر امید، اصلاح اور قربِ الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔علمائے کرام کے مطابق جو شخص پہلے عشرے میں اپنی عبادات کو سنجیدگی سے منظم کر لیتا ہے، اس کے لیے باقی رمضان زیادہ آسان اور بابرکت ہو جاتا ہے۔ پہلا عشرہ دراصل تربیت کا زمانہ ہے۔ اس میں مسلمان: اپنی نیت کو خالص کرتے ہیں، عبادت کا مستقل معمول بناتے ہیں، گناہوں سے بچنے کی عملی کوشش شروع کرتے ہیں، دنیاوی مصروفیات میں اعتدال پیدا کرتے ہیں یہ دن ہمیں خود احتسابی کا موقع دیتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں کہیں ہم نماز، حقوق العباد یا اخلاقیات میں کوتاہی تو نہیں کر رہے؟ رمضان کو قرآن کا مہینہ کہا جاتا ہے۔پہلا عشرہ قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کا بہترین وقت ہے۔ بہتر یہ ہے کہ: روزانہ باقاعدہ تلاوت کا ہدف مقرر کیا جائے، ترجمہ اور تفسیر کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جائے، قرآن کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا عزم کیا جائے یہی وہ عشرہ ہے جو ہمیں قرآن کے ساتھ سال بھر کا تعلق مضبوط کرنے کا موقع دیتا ہے۔

پہلے عشرے کی معروف دعا یہ ہے: رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ**اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ اگرچہ پورے رمضان میں دعا کی اہمیت ہے، مگر پہلے عشرے میں خصوصی طور پر اللہ کی رحمت طلب کی جاتی ہے۔ سحر اور افطار کے اوقات دعاؤں کی قبولیت کے خاص لمحات ہیں۔ پہلا عشرہ صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کا بھی پیغام دیتا ہے: جس میں مستحق افراد کی مدد کرنا۔ ہمسایوں کا خیال رکھنا، دل آزاری سے اجتناب کرنا، روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ ہے۔پہلا عشرہ: تبدیلی کی بنیاد ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا چاہتا ہے تو رمضان کا پہلا عشرہ بہترین آغاز ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب دل نرم ہوتے ہیں، آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور بندہ اپنے رب کے قریب محسوس کرتا ہے۔ رمضان کا پہلا عشرہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت ہر وقت ہمارے لیے موجود ہے ضرورت صرف اخلاص، نیت اور عملی کوشش کی ہے۔










ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوگا ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل، سابق کرکٹر نے کی پیشین گوئی
Ind vs Pak: آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گروپ اسٹیج میں مقابلہ ہو چکا ہے۔ اب شائقین دونوں کے درمیان ایک اور ٹکراؤ دیکھنا چاہتے ہیں۔ سابق پاکستانی بلے باز باسط علی نے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے دو فائنلسٹس کے بارے میں بڑا دعویٰ کیا ہے۔ 55 سالہ باسط علی کے مطابق سلمان علی آغا کی قیادت میں ٹیم فائنل میں ہندوستانی ٹیم کے خلاف کھیلے گی۔ یہ فائنل 8 مارچ کو ہونا ہے۔

باسط علی نے یہ پیشگوئی ایک پاکستانی ٹی وی شو کے دوران کی۔ جب شو کے میزبان شعیب ملک نے باسط سے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے چار سیمی فائنلسٹس منتخب کرنے کو کہا تو باسط نے کہا کہ “انڈیا، پاکستان۔ میں یہ دو ٹیمیں بتا رہا ہوں فائنل کھیلیں گی۔”اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں پہنچیں گے۔ اس شو میں سابق پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل بھی موجود تھے۔ انہوں نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے چار سیمی فائنلسٹس کے طور پر ہندوستان، پاکستان، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کو منتخب کیا۔ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں ہندوستان، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے ایک گروپ میں ہیں، جبکہ دوسرے گروپ میں پاکستان، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا شامل ہیں۔

ٹی20 ورلڈ کپ میں ہندوستان۔پاکستان کا شیڈول
پاکستان اپنا پہلا سپر 8 میچ نیوزی لینڈ کے خلاف ہفتہ (21 فروری) کو کھیلے گا۔ یہ مقابلہ کولمبو کے آر پریم داسا اسٹیڈیم میں ہوگا۔ پاکستان کا دوسرا سپر 8 میچ منگل (24 فروری) کو پالی کیلے میں انگلینڈ کے خلاف ہوگا اور 28 فروری کو سلمان علی آغا کی ٹیم اسی میدان میں سری لنکا سے مقابلہ کرے گی۔ہندوستان اپنا پہلا سپر 8 میچ جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گا۔ یہ ہائی وولٹیج مقابلہ 2024 ٹی20 ورلڈ کپ کے دو فائنلسٹس کے درمیان اتوار (22 فروری) کو احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ ٹیم انڈیا اس کے بعد اپنا دوسرا میچ زمبابوے کے خلاف جمعرات (26 فروری) کو چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔ ہندوستان کا تیسرا سپر 8 میچ دو بار کی چیمپئن ویسٹ انڈیز کے خلاف اتوار (1 مارچ) کو کولکاتہ کے ایڈن گارڈنز میں ہوگا۔



Friday, 20 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





ٹرمپ ٹیرف منسوخ ہونے سے کیا ہندوستان کو ہوگا فائدہ ؟ جانیں
نئی دہلی۔ امریکی سپریم کورٹ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ عالمی تجارت کی حرکیات کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے، جس کا ہندوستانی معیشت پر براہ راست اور وسیع اثر پڑے گا۔ جمعرات (20 فروری 2026) کو اس تاریخی 6-3 فیصلے میں، عدالت نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت ٹیرف لگا کر اپنے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

اس فیصلے نے تقریباً 175 بلین ڈالر (14.5 لاکھ کروڑ) روپے کے ٹیرف کی واپسی کا امکان پیدا کر دیا ہے، جسے ہندوستان جیسے بڑے برآمد کنندگان کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ خبر ہندوستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکہ اس کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے دس مہینوں میں، ہندوستان نے امریکہ کو 72.46 بلین ڈالر کی برآمدات کیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے لگائے گئے محصولات نے ہندوستان کی کل امریکی برآمدات کے تقریباً 55فیصد کو براہ راست متاثر کیا، جس سے امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی اشیاء زیادہ مہنگی ہو گئیں اور ان کی مسابقت میں کمی آئی۔ نتیجتاً، الیکٹرانکس، ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس، اور کیمیکل جیسے اہم شعبوں میں بہت سے بڑے آرڈرز کو ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے مسابقتی ممالک کی طرف موڑ دیا گیا۔کلیدی شعبوں پر اثر اور متوقع بہتری
سیکٹر کے لیے مخصوص ریلیف: ریاستہائے متحدہ نے اسٹیل، ایلومینیم اور کاپر پر 50فیصد تک، اور آٹو پرزوں پر 25فیصد تک ٹیرف عائد کیے تھے۔ ان ٹیرف کے خاتمے کے ساتھ، ٹاٹا اسٹیل، جے ایس ڈبلیو اسٹیل، اور بھارت فورج جیسی بڑی کمپنیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

روزگار اور معیشت: ماہرین نے اندازہ لگایا کہ ان محصولات سے ہندوستان میں تقریباً 2 ملین ملازمتوں کو خطرہ ہے۔ اب، برآمدات میں اضافے سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔

تجارتی توازن: ہندوستان کا امریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس ہے، اور محصولات کے خاتمے سے ہندوستان کا تجارتی توازن مزید مضبوط ہو سکتا ہے کیونکہ برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے۔

مستقبل کے چیلنجز اور خطرات
اگرچہ یہ فیصلہ بھارت کے لیے ایک بڑی فتح ہے، ماہرین احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ IEEPA کے تحت عائد ٹیرف تک محدود ہے۔ امریکی انتظامیہ کے پاس اب بھی سیکشن 232 اور سیکشن 301 جیسی قانونی دفعات موجود ہیں، جنہیں وہ نئے ٹیرف لگانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ مزید برآں، عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کے ساتھ مسابقت تیز ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک سنہری موقع پیش کرتا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی فوائد کا انحصار امریکی حکومت کی مستقبل کی تجارتی پالیسیوں پر ہوگا۔











طالب علم نے سپریم کورٹ میں اپنامقدمہ خود لڑا۔ جیتاکیس ،حاصل کیاMBBS سیٹ
عام طور پر فلموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب وکیل ساتھ نہ دیں تو ہیرو خود عدالت میں اپنا مقدمہ لڑتا ہے، لیکن حقیقی زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے شہر Jabalpur سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ اتھرو چترویدی(Atharva Chaturvedi) نے یہ کارنامہ حقیقت میں کر دکھایا۔ اس نوجوان نے سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ خود لڑا اور آخرکار ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کر لیا۔

اچھے نمبر کے باوجود داخلہ نہیں ملااتھرو نے NEET 2024–25 امتحان میں 720 میں سے 530 نمبر حاصل کیے۔ اس سے قبل بھی وہ نیٹ امتحان پاس کر چکا تھا، جس سے اس کی تعلیمی صلاحیت واضح ہوتی ہے۔
اس کے باوجود اسے اکنامکلی ویکر سیکشن (EWS) کوٹہ کے تحت داخلہ نہیں دیا گیا۔

اس کی وجہ کم نمبر نہیں بلکہ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے نجی میڈیکل کالجوں میں 10 فیصد EWS ریزرویشن کو صحیح طریقے سے نافذ نہ کرنا تھا۔

بھارتی آئین کی 103ویں ترمیم کے تحت آرٹیکل 15(6) اور 16(6) میں معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے ریزرویشن کا انتظام کیا گیا ہے، لیکن پالیسی کے ناقص نفاذ کے باعث اتھرو اپنی سیٹ سے محروم ہوگیا۔قانون پڑھ کر عدالت پہنچنے والا طالب علم
اکثر طلبہ ایسی صورتحال میں مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن اتھرو نے ہمت نہیں ہاری۔ اس کا کوئی قانونی پس منظر نہیں تھا، مگر اس نے خود قانون پڑھنا شروع کیا۔

اس نے عدالتی فیصلوں اور آئینی دفعات کا تفصیل سے مطالعہ کیا اور سب سے پہلے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ایک سال کے اندر EWS ریزرویشن نافذ کرنے کا حکم دیا، لیکن اگلے داخلہ سیشن میں بھی پالیسی پر مکمل عمل نہیں ہوا۔

NEET 2025–26 میں اتھرو نے EWS کیٹیگری میں 164 رینک حاصل کیا، مگر پھر بھی اسے داخلہ نہیں ملا۔ اس کے بعد اس نے خود آن لائن پٹیشن دائر کرکے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

سپریم کورٹ میں تنہا قانونی جدوجہد
اتھرو کا مقدمہ چیف جسٹس Surya Kant کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے آیا۔

سینئر وکلاء کے درمیان ایک 19 سالہ طالب علم کا خود کھڑا ہونا غیر معمولی منظر تھا۔ جب بینچ اٹھنے ہی والا تھا تو اس نے ہمت کرکے درخواست کی :

“My Lords, I need just 10 minutes.”
اس نے عدالت کو بتایا کہ کس طرح ریاستی حکومت نے پہلے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا اور اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔

بعد میں اس نے کہا کہ ابتدا میں وہ گھبرا گیا تھا، لیکن اسے یقین تھا کہ قانون اس کے ساتھ ہے۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اتھرو کا داخلہ ریاستی حکام کی پالیسی پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے رکا، جو اس کے اختیار سے باہر تھا۔

عدالت نے National Medical Commission اور مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ اسے نجی میڈیکل کالج میں MBBS کورس میں داخلہ دیا جائے۔

عدالت کے حکم کے بعد اسے پروویژنل سیٹ فراہم کر دی گئی۔

ڈاکٹر بننے کا خواب برقرار
عدالت میں مضبوط دلائل دینے کے بعد کئی لوگوں نے مذاق میں کہا کہ اتھرو کو وکیل بن جانا چاہیے، مگر اس کا ہدف واضح ہے۔

وہ مسلسل NEET کی تیاری کرتا رہا اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا اصل خواب ڈاکٹر بننا ہے۔

 EWS ریزرویشن اور قانونی اہمیت
بھارت میں 2019 میں آئین کی 103ویں ترمیم کے ذریعے معاشی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے لیے 10 فیصد ریزرویشن متعارف کرایا گیا تھا۔

یہ ریزرویشن ان طلبہ کے لیے ہے جو روایتی ریزرو کیٹیگری میں شامل نہیں ہوتے مگر مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔

اس کیس نے ایک اہم قانونی سوال کو اجاگر کیا کہ اگر ریاستی حکومتیں آئینی ریزرویشن کو نافذ نہ کریں تو متاثرہ طلبہ کے حقوق کیسے محفوظ کیے جائیں۔

اتھرو چترویدی کا مقدمہ اس حوالے سے ایک مثال بن گیا ہے کہ آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے عام شہری بھی عدالت سے رجوع کرکے انصاف حاصل کر سکتے ہیں۔













’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک ہے لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ ’خاموش قاتل‘ آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور دماغی ساخت کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ جس کا اندازہ اکثر بروقت نہیں ہو پاتا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طبی زبان میں ’ہائپر ٹینشن‘ کہلانے والا یہ مرض ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کی شریانوں پر دباؤ مسلسل زیادہ رہتا ہے۔
چونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے مریض برسوں تک اس سے بے خبر رہ سکتا ہے مگر اس دوران یہ جسم کے سب سے حساس حصے یعنی دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔انسانی دماغ کا وزن پورے جسم کے کل وزن کا محض دو فیصد ہوتا ہے لیکن اسے کام کرنے کے لیے جسم کی کل آکسیجن اور خون کی فراہمی کا تقریباً 20 فیصد حصہ درکار ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خون کی گردش میں معمولی سی رکاوٹ بھی دماغی خلیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر دماغ پر درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے:
فالج کا خطرہ
بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں جسے ’ایتھیروسکلروسیس‘ کہا جاتا ہے۔ اگر خون کا کوئی لوتھڑا (Clot) دماغ کی کسی تنگ شریان میں پھنس جائے یا دباؤ کی وجہ سے شریان پھٹ جائے تو یہ فالج کا سبب بنتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مستقل معذوری یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
ذہنی صلاحیتوں میں کمی
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنے والے افراد میں آگے چل کر ’ڈیمنشیا‘ یا بھولنے کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون کی روانی متاثر ہونے سے ’واسکولر ڈیمنشیا‘ جنم لیتا ہے جس میں یادداشت، منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔
چھوٹے سٹروک
انہیں ’منی سٹروک‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتے ہیں جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی سپلائی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ اگرچہ یہ چند منٹوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن یہ اس بات کی علامت ہیں کہ مستقبل میں ایک بڑا فالج دستک دے رہا ہے۔
دماغ کا سکڑنا
طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہنے سے دماغ کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ خاص طور پر ’ہپوکیمپس‘ جو یادداشت کا مرکز ہے، تیزی سے سکڑنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کی گہرائی میں موجود باریک شریانیں متاثر ہوتی ہیں، جس سے ’وائٹ میٹر‘ کو نقصان پہنچتا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر کے اثرات صرف سر تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے گردے اور آنکھیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ گردوں کی باریک شریانیں متاثر ہونے سے وہ خون صاف کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں جو ڈائلیسس کی نوبت لا سکتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر سے آنکھوں کے پردے کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں جس سے بینائی مستقل طور پر جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی میں چند سادہ تبدیلیوں سے اس ’خاموش قاتل‘ کو قابو کیا جا سکتا ہے۔غذا میں نمک کا استعمال کم کریں اور پھل، سبزیاں اور اناج اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ پروسیس شدہ اور پیکٹ والے کھانوں سے پرہیز کریں۔
ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل ورزش (جیسے تیز چلنا یا تیراکی) بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں جادوئی اثر رکھتی ہے۔
ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے یوگا یا گہرے سانس لینے کی مشقیں کریں۔ موٹاپا بلڈ پریشر کا بڑا دشمن ہے۔
گھر پر بلڈ پریشر چیک کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ کسی بھی تبدیلی کا فوری علم ہو سکے۔اگر ڈاکٹر نے ادویات تجویز کی ہیں تو انہیں وقت پر لیں۔ بلڈ پریشر نارمل محسوس ہونے پر بھی خود سے دوا ترک نہ کریں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ آج اپنے بلڈ پریشر کو قابو کر لیتے ہیں تو آپ نہ صرف فالج بلکہ بڑھاپے میں یادداشت کھونے کے سنگین خطرات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*

ٹیم انڈیا کی بلے بازی پوری طرح فلاپ، جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 76 رنز سے ہرایا India vs South Africa : جنوبی افریق...