نائجیریا میں بندوق برداروں کےحملے میں کم سے کم 32 افراد ہلاک
نائجیریا میں بندوق برداروں کے حملے میں کم سے کم32 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ، موٹرسائیکل سوار بندوق برداروں نے تین گاؤں میں دھاوا بولا اور وہاں کے لوگوں کو نشانہ بنایا۔انھوں نے گھروں کوشعلوں کے حوالے کردیا ۔حملہ ہفتے کی صبح کیا کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں اس طرح کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔
عالمی خبررساں ادارے رائٹرزکے حوالےسے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ، کونکوسو گاؤں میں ہوئے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کو سکیورٹی اہلکاروں کا کوئی خوف نہ تھا ۔
انھوں نےپولیس اسٹیشن کوبھی پھونک ڈالا۔ کونکوسو گاؤں میں قتل و غارت مچانے کے بعد حملہ آوروں نے پِسا گاؤں کا رخ کیا۔جہاں انھوں نے ایک شخص کو گولی مارکرہلاک کردیا۔حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشن کو بھی نذرآتش کردیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹونگا۔مکیری گاؤں میں بندوق بردار حملہ آوروں نے چھ افراد کو گولی مار کرہلاک کردیا جبکہ انھوں نے کئی گھروں میں آگ لگا دی ۔خبررساں ایحنسی رائٹرز کے مطابق ، ان گاؤں میں مہلوکین کی تعداد32 ہے جبکہ اے ایف پی نے یہ تعداد 46 افراد کی بات کہی گئی ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور 41موٹر سائیکل پر سوارتھے اور ایک موٹرسائیکل پر دو سے تین حملہ آورسوار تھے۔
نائجیریا میں بندوق برداروں کے بڑھتے حملوں پر روک لگانے میں حکومت ناکام رہی ہے۔
فرانسیسی صدرمیکروں کا سہ روزہ بھارت دورہ، مختلف پروگراموں میں کرینگے شرکت
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اپنی اہلیہ کے ساتھ 16 فروری کو ممبئی پہنچیں گے۔ وزارت خارجہ نے فرانسیسی صدر کے شیڈول کے حوالے سے تفصیلات شیئر کی ہیں۔ میکروں 16 فروری کو 11:30 بجے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچیں گے، اور ان کا سرکاری دورہ 17 فروری کو شروع ہوگا۔
اس کے بعد، منگل، 17 فروری، 3:15 بجے، وہ لوک بھون میں پرائم منسٹر نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔اس ملاقات کے دوران دونوں لیڈران یادداشت مفاہمت کا تبادلہ کریں گے اور مشترکہ بیان جاری کریں گے۔ ہند۔فرانس انوویشن فورم ہوٹل تاج محل پیلس میں شام 5:20 بجے منعقد ہوگا۔ اس کے بعد، 8:15 بجے، وہ گیٹ وے آف انڈیا پر ہند۔ فرانس اختراع کا سال تقریب میں شرکت کریں گے۔اگلے دن، بدھ، 18 فروری، دوپہر 1 بجے، صدر میکروں نئی دہلی میں بھارت منڈپم پہنچیں گے
صبح 10:40 بجے، وہ پھر کنٹری پویلین کا دورہ کریں گے۔ صبح 11:30 بجے HOSS/HOGS وزراء کے ساتھ ایک تصویر لی جائے گی، 12:00 بجے، فرانسیسی صدر لیڈرز پلینری اور ورکنگ لنچ میں بھی شرکت کریں گے۔ وہ سہ پہر 3:45 پر فرانس کے لیے روانہ ہوں گے۔
ہورائزن 2047 روڈ میپ
اس سے قبل ، وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ دورے کے دوران دونوں لیڈر ہورائزن 2047 کے روڈ میپ میں بیان کردہ متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مزید ، قائدین ہند۔بحرالکاہل میں تعاون سمیت باہمی فائدے کے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
صدر میکرون 19 فروری کو نئی دہلی میں AI امپیکٹ سمٹ میں شرکت کریں گے۔
یہ دورہ پی ایم مودی کے دورہ فرانس کے بعد ہورہا ہے اور یہ ہند۔فرانس اسٹریٹجک شراکت داری کے باہمی اعتماد اور گہرائی کے ساتھ ساتھ اسے مزید گہرا کرنے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انڈیااے آئی امپیکٹ سمٹ 16 سے 20 فروری تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہوگی۔ اس سمٹ میں دنیا بھر کے ممالک کے مندوبین شرکت کریں گے، جو گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہونے والی پہلی AI سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوگا۔پی ایم نریندر مودی اس سمٹ کا افتتاح کریں گے۔مصنوعی ذہانت (AI) ہندوستان کی ترقی کے سفر، حکمرانی کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر، جامع ترقی کی حمایت کرتا ہے اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہندوستان کا لسانی اور ثقافتی تنوع اسے AI نظام تیار کرنے کے لیے منفرد مقام دیتا ہے جو متنوع آبادی کی ضروریات کے مطابق متعدد زبانوں اور متعدد ماڈلز کو شامل کرتا ہے۔
اس مسلم ملک میں قتلِ عام، تین دنوں میں 6 ہزار افراد ہلاک، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، افریقی ملک سوڈان میں تین دنوں کے اندر 6000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے آخری ہفتے میں دارفور کے علاقے الفشر کے قصبے پر ہونے والے شدید حملوں میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی۔ یہ معلومات گواہوں کے بیانات پر مبنی ہے۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ دارفور میں الفشر فوج کا آخری بڑا اڈہ تھا۔ 18 ماہ کے محاصرے کے بعد، RSF نے 26 اکتوبر کو شہر پر ایک بڑا حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 25 سے 27 اکتوبر کے درمیان شہر کے اندر کم از کم 4,400 افراد مارے گئے۔ مزید برآں، فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے 1,600 سے زیادہ مارے گئے۔ اس سے صرف تین دنوں میں مرنے والوں کی تعداد 6000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
کس قسم کا تشدد ہوا؟رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں بڑے پیمانے پر فائرنگ، گھروں پر حملے، قتل، خواتین کے خلاف جنسی تشدد، بچوں سمیت اغوا، تشدد اور بغیر مقدمہ چلائے پھانسی دینا شامل ہیں۔ بہت سے معاملات میں، حملے نسلی شناخت کی بنیاد پر کیے گئے۔ ایک واقعے میں، تقریباً 1,000 لوگوں نے یونیورسٹی کے ہاسٹل میں پناہ لینے کی اطلاع دی تھی۔ وہاں بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 500 لوگ مارے گئے۔ ایک اور واقعے میں تقریباً 600 افراد کو پکڑ کر ہلاک کیا گیا جن میں 50 بچے بھی شامل تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 28 اکتوبر کو ایک ہسپتال پر ہونے والے حملے میں بھی سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔صورتحال کتنی سنگین ہے؟
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری لڑائی نے سوڈان کو دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران میں ڈال دیا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اور کئی علاقوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مجرموں کے خلاف کارروائی نہ ہونا تشدد کے چکر کو ہوا دیتا ہے۔