مالیگاؤں کے ہیرے ناسک میں چمکے، نیم گاؤں میں شاندار استقبالیہ۔ الگ تحصیل کی کوشش کا اعادہ۔
مالیگاؤں/ گذشتہ دنوں ہوے عام چناوُ میں مالیگاؤں تعلقہ اور دابھاڑی کے سیاسی خانوادہ نے ناسک کارپوریشن کے چناوُ میں حصہ لیا۔ اور ڈاکٹر یوگیتا (بھابھی) اپورو ہیرے نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ اس تعلق سے انہیں جہاں شہری استقبالیہ دیا جارہا ہے وہیں ہیرے خاندان کی جنم بھومی نیم گاؤں میں بھی انہیں اور نو منتخب صدر بلدیہ ساگر مدن ہیرے کو شہری استقبالیہ دیا گیا۔ اس تعلق سے منعقدہ تقریب میں تعلقہ کے نوجوان لیڈر ڈاکٹر ادوے پرشانت ہیرے نے کہا کہ نیم گاؤں ان کا آبای' گاؤں ہے اور اس کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاے گی وہیں یہاں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے عظیم الشان پتلے کی تنصیب اور تزئین کاری کی بات کہی۔ اس موقع پر نو منتخب ناسک کی کارپوریٹر ڈاکٹر یوگیتا (بھابھی) اپورو ہیرے نے عوامی استقبالیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہیرے خاندان کی بہو ہونے کے ناطے اس گھرانے کی تعلیمی، سیاسی اور سماجی ترقیاتی کاموں کو مذید آگے بڑھانے کی کوشش کرنے کی باتیں بتایء۔ وہیں۔نو منتخب صدر بلدیہ ساگر مدن ہیرے نے شہر کی ترقیاتی کاموں میں ہمیشہ موجود رہنے کا اعادہ کیا۔ سابق ٹیچرزMLC ڈاکٹر اپورو ہیرے نے نیم گاؤں میں علحیدہ تحصیل کے مطالبے پر کہا کہ اس شہر کی ترقی کے لیے مذید تعلیمی ادارے قائم کر کے یہاں ترقیاتی رجحان کو بڑھاوا دیا جائے گا۔۔ اپنی صدارتی تقریر میں تعلقہ کے لیڈر بنڈو کاکا بچھاو نے ہیرے خاندان کی ضلع بھر میں کی گئی تعلیمی، سیاسی اور سماجی ترقیاتی کاموں کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق وزیر پشپا تایء ہیرے کے وقت سے ان کے ہر پروگرام میں تقریر کرنے کا شرف اور خدمات، کی تحریک انہیں سے ملنے کی بات بتایء۔ انہوں نے کرم ویر بھاوء صاحب ہیرے، لوک نیتے وینکٹ راو ہیرے، پشپا تایء ہیرے۔ ڈاکٹر پرشانت دادا ہیرے، اور ڈاکٹر اپورو ہیرے، کے سیاسی و تعلیمی خدمات کو اجاگر کرنے ہوےء شہریان کا شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر تشار شواڑے، نلیش کچوے، مدن گایکواڑ،پون ٹھاکرے،دیپک گایکواڑ،سندیپ پاٹل،سنجے نکم،اشوک اکھاڑے،منوج ہیرے، JD انا ہیرے وغیرہ موجود تھے۔پروگرام کی نظامت پروفیسر نروڑے سر نے کی۔
جس راستے سے آتا ہے ہندوستان کا تیل، پوتن نے وہاں سیکورٹی بڑھانے کیلئے کیوں کہا؟
ماسکو: روس اور یوکرین کی جنگ کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس تباہ کن جنگ میں دونوں ممالک کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگرچہ امن مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن امن ابھی دور نظر آتا ہے۔ اسی دوران روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اس جنگ کے حوالے سے بیان دیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ٹی وی پر آ کر ایسی بات کہی جس سے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی۔ پوتن نے اچانک اس سمندری راستے کی سیکورٹی بڑھانے کا حکم دیا ہے جہاں سے ہندوستان کے لیے تیل آتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں اس بڑے فیصلے کے پیچھے کیا وجہ ہے؟
کیا ہے پوتن کی منصوبہ بندی؟پوتن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحیرہ اسود کے نیچے بچھائی گئی روس کی توانائی پائپ لائنوں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر حکم جاری کیا ہے کہ ان تمام اہم مقامات پر انسدادِ دہشت گردی سیکورٹی کو کئی گنا بڑھا دیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو اضافی حفاظتی آلات بھی نصب کیے جائیں۔
پوتن کو کس بات کا خدشہ ہے؟
پوتن کا اشارہ واضح طور پر یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کی جانب ہے۔ روس کو خدشہ ہے کہ جس طرح پہلے نارڈ اسٹریم پائپ لائن کو نقصان پہنچایا گیا تھا، ویسا ہی کچھ بحیرہ اسود میں بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے پوتن نے نہ صرف پائپ لائنوں بلکہ عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ مراکز پر بھی زیادہ سے زیادہ سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ہندوستان پر کیا اثر ہوگا؟
بحیرہ اسود وہ علاقہ ہے جہاں سے ہندوستان آنے والا روسی تیل اور گیس گزرتے ہیں۔ روس اس وقت ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگر ان پائپ لائنوں یا جہازوں کے راستوں پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو ہندوستان کو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا براہِ راست اثر عوام پر پڑے گا، کیونکہ تیل کی کمی ہوتے ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
ٹرمپ کے جنگی جہازوں کا چورن بنائے گا چین، ایران سے ہوگئی خفیہ ڈیل، امریکہ کے سر پر پھٹے گا 250KG بارود
تہران: ٹرمپ کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اسی غرور میں وہ بار بار ایران کو دھمکاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مان لیا ہے کہ ہتھیاروں کے معاملے میں ایران ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن یہیں خامنہ ای نے انہیں مات دے دی ہے۔ حال ہی میں ایران نے چین کے ساتھ ایک خطرناک دفاعی معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت امریکہ کے جنگی جہازوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی مہلک سپر سونک اینٹی شپ میزائلوں کی کھیپ خریدی جائے گی۔ آئیے جانتے ہیں کہ خامنہ ای، شی جن پنگ سے کون سی میزائل خرید رہے ہیں اور یہ کتنی طاقتور ہیں؟
ایران اور چین کے درمیان کیا ڈیل ہوئی؟مشرق وسطیٰ میں اس وقت جنگ جیسے حالات ہیں۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ساحل کے قریب جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں، تو دوسری طرف ایران نے چین کے ساتھ مل کر ایک خفیہ معاہدہ فائنل کر لیا ہے جس نے پینٹاگون کی نیند اڑا دی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران چین سے CM-302 نامی انتہائی خطرناک سپر سونک اینٹی شپ میزائل خریدنے جا رہا ہے۔
کیا امریکی جنگی جہاز تباہ ہو جائیں گے؟
یہ میزائل اتنی تیز رفتار ہیں کہ دشمن کے ریڈار انہیں پکڑ بھی نہیں پاتے۔ ان کی رینج تقریباً 290 کلومیٹر ہے اور یہ سمندر کی لہروں کے بالکل قریب انتہائی رفتار سے پرواز کرتی ہیں۔ اسرائیل کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر کا کہنا ہے کہ اگر یہ میزائل ایران کے پاس آ گئیں تو اس علاقے میں موجود کسی بھی جہاز کو بچانا ناممکن ہو جائے گا۔ یہ میزائل براہ راست امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو ڈبونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
کافی عرصے سے رکی ہوئی تھی اینٹی شپ میزائل ڈیل
بتایا جا رہا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان یہ بات چیت گزشتہ دو سال سے جاری تھی، لیکن گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد اس میں تیزی آ گئی۔ ایران کے نائب وزیر دفاع خود چین گئے تھے تاکہ اس معاہدے کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ تاہم چین نے اب تک اس ڈیل پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر یہ سودا مکمل ہو جاتا ہے تو دہائیوں بعد ایسا ہوگا کہ چین نے ایران کو اتنا جدید ہتھیار فراہم کیا ہوگا جو براہ راست امریکی گھیراؤ کو توڑ سکتا ہے۔
چین کی CM-302 میزائل کتنی خطرناک ہے؟
چین کی CM-302 میزائل کو سمندر کا ’غیر مرئی شکاری‘ کہا جاتا ہے۔ یہ چین کی اپنی مہلک ترین میزائل YJ-12 کا برآمدی ورژن ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا کے جدید ترین جنگی جہازوں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں اس کی خصوصیات:
سپر سونک رفتار
یہ میزائل آواز کی رفتار سے تین گنا زیادہ (Mach 3) رفتار سے پرواز کرتی ہے۔ اتنی تیز رفتاری کے باعث دشمن کے دفاعی نظام کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ جب تک ریڈار اسے پکڑتا ہے، یہ جہاز کے بالکل قریب پہنچ چکی ہوتی ہے۔
سمندر کی سطح کے قریب پرواز
CM-302 کی سب سے بڑی خاصیت اس کی ’سی اسکیمنگ‘ ٹیکنالوجی ہے۔ یہ میزائل پانی کی سطح سے صرف 10 سے 15 میٹر کی بلندی پر پرواز کرتی ہے۔ اس وجہ سے یہ دشمن کے ریڈار کی نظروں سے بچ جاتی ہے کیونکہ ریڈار اتنی کم بلندی پر آنے والی چیزوں کو آسانی سے نہیں دیکھ پاتے۔
ذہین میزائل
چین کا دعویٰ ہے کہ اس میزائل کی درستگی 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے، یعنی اگر اسے داغا جائے تو 10 میں سے 9 بار یہ سیدھا ہدف پر لگے گی۔ اس میں جدید گائیڈڈ سسٹم نصب ہے جو اسے دورانِ پرواز بھی اپنا ہدف ایڈجسٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔
طاقتور دھماکہ
اس میں 250 کلوگرام وزنی وار ہیڈ نصب ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک CM-302 میزائل 5,000 ٹن وزنی گائیڈڈ میزائل جنگی جہاز کو مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ بنانے کے لیے کافی ہے۔’فائر اینڈ فارگیٹ‘ ٹیکنالوجی
اسے ایک بار لانچ کرنے کے بعد دوبارہ گائیڈ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ خود اپنا راستہ طے کرتی ہے۔ اسے زمین، بحری جہاز یا فائٹر جیٹ، کہیں سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔