Tuesday, 10 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا
ایران ۔ اسرائیل جنگ کے دوران بھارت میں ایل پی جی سپلائی یقینی بنانے کیلئے اقدامات۔ وزیراعظم مودی کا ہنگامی جائزہ اجلاسعالمی توانائی بحران کے خدشات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں خاص طور پر ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی کی صورتحال اور ایران جنگ کے باعث ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر تفصیلی غور کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی چین پر کس طرح پڑ سکتے ہیں اور بھارت میں گھریلو صارفین کو گیس کی مسلسل فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے۔اسی دوران مرکزی حکومت نے گھریلو ایندھن کی منڈی کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے ایسنشل کموڈیٹیز ایکٹ (Essential Commodities Act) کو نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو بھارت کے اندر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

پیٹرولیم وزارت کے مطابق اس ایکٹ کے تحت ایک کنٹرول آرڈر جاری کیا گیا ہے جس کے ذریعے ریفائنریوں اور پیٹرو کیمیکل یونٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (LPG) کی پیداوار میں اضافہ کریں۔ اس کے علاوہ مختلف ہائیڈرو کاربن ذرائع کو ایل پی جی کے ذخیرے میں شامل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں کھانا پکانے والی گیس کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھی جا سکے۔

وزارت نے مزید کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے قدرتی گیس کی تقسیم کے لیے ایک ترجیحی فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ موجودہ سپلائی کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ نئے رہنما اصولوں کے تحت گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (PNG) اور ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کو 100 فیصد یقینی سپلائی دی جائے گی۔

جبکہ دیگر صنعتی شعبوں کو گیس کی فراہمی ان کی گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے مطابق محدود یا منظم کی جا سکتی ہے تاکہ گھریلو اور ضروری خدمات کو ترجیح دی جا سکے۔

ملک کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) نے بھی عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر اضافی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کی جا سکے۔

ایک مشترکہ بیان میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (IOC)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن (BPCL) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن (HPCL) نے کہا کہ وزارت نے ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے اور مناسب ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث وزارت نے ایل پی جی کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس فراہم کی جا سکے۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ضروری غیر گھریلو شعبوں جیسے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر اہم خدمات کو بھی ضرورت کے مطابق ایل پی جی فراہم کی جائے گی۔

تاہم دیگر غیر گھریلو شعبوں کے لیے گیس کی فراہمی کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تین ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو درخواستوں کا جائزہ لے کر ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی کا فیصلہ کرے گی۔











 ’’ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے حکومت کی تبدیلی‘‘ اسرائیلی وزیراعظم نے ایرانیوں کو دیا مشورہ، ایران نے امریکہ کو دیا سخت جواب
یروشلم: اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران میں موجودہ حکومت کا مستقبل بالآخر ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے اور اگر وہاں نظام میں تبدیلی آتی ہے تو یہ ایرانی عوام کی مرضی اور اقدام سے ہی ممکن ہوگا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے دورے کے دوران کہا کہ اسرائیل کی خواہش ہے کہ ایرانی عوام اس نظام سے نجات حاصل کریں جسے انہوں نے جبر اور آمریت قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’ہماری خواہش ہے کہ ایرانی عوام ظلم کے اس بوجھ سے خود کو آزاد کریں، لیکن آخرکار یہ فیصلہ انہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں ان سے ہم ان کی طاقت کو کمزور کر رہے ہیں اور ہماری کارروائیاں جاری ہیں۔‘‘اسرائیل کی عالمی حیثیت میں تبدیلی کا دعویٰ

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل اور ایرانی عوام مشترکہ طور پر کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے بڑی تبدیلی آئے گی۔ ان کے مطابق اس عمل سے اسرائیل کی عالمی حیثیت میں بھی نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر صحت کے ساتھ نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا، جہاں وزارت صحت کے ڈائریکٹر نے جاری فوجی مہم کے دوران صحت کے نظام کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

ایران کا سخت ردعمل

دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے دشمنی کے خاتمے کا ذکر کیا تھا۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تہران ہی کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ اب ایرانی مسلح افواج کی حکمت عملی کے مطابق ہوگا، نہ کہ امریکہ کے اقدامات سے۔ آئی آر جی سی کے ترجمان نے امریکی صدر پر عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے ’’چالاکی اور فریب‘‘ استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔










بچوں میں نیند کی کمی، کیا والدین بچوں کو اندازے سے کم سلا رہے ہیں؟
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق جتنی نیند درکار ہوتی ہے وہ اکثر اس سے کم سوتے ہیں، جس کے سنگین نتائج پورے خاندان کی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی نیوز چیبل سی این این کے مطابق نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن نے کہا ہے نومولود بچوں کے لیے 14 سے 17 گھنٹے، شیرخوار بچوں کے لیے 12 سے 15، ٹوڈلرز کے لیے 11 سے 14، پری سکولرز کے لیے 10 سے 13 اور سکول جانے والے بچوں کے لیے 9 سے 11 گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔
تاہم ایک تازہ سروے کے مطابق44 فیصد امریکی بچے اپنی عمر کے مطابق مناسب نیند نہیں لے رہے، اور چھوٹے بچوں میں یہ کمی زیادہ پائی گئی ہے۔فاؤنڈیشن کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر جوزف جیرزیوسکی کے مطابق نیند صرف انفرادی عمل نہیں بلکہ سماجی رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن کی نیند ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بنیاد کا کام کرتی ہے اور آئندہ زندگی کے نیند کے معمولات پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ سروے 977 نگہداشت کرنے والوں کے درمیان کیا گیا جن میں 53 فیصد حقیقی مائیں، 33 فیصد حقیقی باپ جبکہ دیگر میں سوتیلے والدین، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر شامل تھے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ 95 فیصد والدین اس بات سے متفق ہیں کہ اچھی نیند خاندان کی مجموعی کارکردگی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ 80 فیصد نے بتایا کہ بچوں کی خراب نیند ان کی اپنی نیند کو متاثر کرتی ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ 74 فیصد والدین روزانہ اپنے بچوں کی نیند کے بارے میں سوچتے ہیں، مگر پھر بھی اکثر والدین بچوں کی اصل ضرورت کے مقابلے میں کم نیند کا اندازہ لگاتے ہیں۔ خاص طور پر 0 سے 3 ماہ کے بچوں کے والدین میں 78 فیصد اپنے بچوں کی نیند کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ تقریباً نصف والدین اپنے بچوں سے نیند کی اہمیت پر کبھی بات نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کو نیند کے فوائد سادہ الفاظ میں سمجھانا ضروری ہے، جیسے ذہنی اچھی حالت، جسمانی مضبوطی اور بہتر سیکھنے کی صلاحیت۔
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ مختصر نیند (نیپ) بچوں کے مجموعی نیند کے وقت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک سال سے کم عمر 93 فیصد بچے باقاعدگی سے نیپ لیتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نیپ روکنے سے رات کی نیند بہتر نہیں ہوتی بلکہ بچے مزید چڑچڑے ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق باقاعدہ سونے کا وقت، سونے سے پہلے پرسکون معمول، روشنی کم کرنا اور کہانیاں پڑھنا بچوں کی صحت مند نیند کے لیے بہترین طریقے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نیند بہتر بنانے کے لیے والدین کو خود بھی صحت مند نیند کی مثال قائم کرنا ہوگی، کیونکہ بچے ہمیشہ بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*




ایک اچھا سچا انسان اور ڈاکٹر ڈاکٹر رئیس احمد صدیقی ہم میں نہیں رہے 
ڈاکٹر رئیس احمد صدیقی کا پرسوں کے دن انتقال ہوا وہ ایک نہایت ہی اچھے سچے انسان تھے ساتھ ہی ساتھ ایک اچھے ڈاکٹر بھی تھے مالے گاؤں شہر میں آن کے جیسے بہت کم ڈاکٹر بچے ہیں جو کم قیمت میں اچھی کار آمد دوائیں دیتے رہے ہیں مخلص اِنسان مخلص ڈاکٹر کے جانے سے غریبِ مریضوں کو بہت دکھ ہوا یاد رہے کورونا کے وقت ڈاکٹر رئیس صدیقی جیسے ڈاکٹروں نے جو انسانی خدمات کیے تھے اسکو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ایک اچّھے ڈاکٹر اچّھے مخلص انسان سیاسی سماجی شخصیت کے جُدا ہونے پر جہاں افراد خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے وہیں عام لوگوں کو بھی صدمہ عظیم ہوا ہے ہم انکے غم میں برابر کے شریک رہتے ہوئے اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ یہ اللہ مرحوم کی کروٹ کروٹ مغفرت فرما اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماآمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شریکان غم۔۔عبدالخالق صدیقی صدر جنتا دل سیکولر مالے گاؤں عبدالعزیز محمد اسماعیل پترکار۔عبدالغفار عبدالستار۔عبدالودود اشرفی سالکی ۔محمد یوسف حاجی محمد الیاس۔صادق حسین اشرفی۔دوست احباب










ٹرمپ کی نکل گئی اکڑ۔ آبناے ہرمز بند ہونے پر عقل آگئی ٹھکانے ،ایران سے راست مذاکرات کے لئے تیار
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ کے گیارہویں دن ایک ایسا موڑ سامنے آیا ہے جس نے عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی پاسدارن انقلاب (IRGC) کی جانب سے دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی بلکہ امریکہ کے اندر بھی سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اشارہ دیا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے اور تیل کی سپلائی بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ موقف امریکی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی یا یو ٹرن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ
گزشتہ گیارہ دنوں سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت ایران نے امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے دنیا کے سب سے اہم تیل کے راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اقدام کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑنے والی ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

ایران کی جانب سے اس راستے کی بندش کے بعد عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کئی ممالک میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ بعض خطوں میں سپلائی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک جاری رہی تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

امریکہ کے اندر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ
جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ کے اندر بھی اس تنازع پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور ممکنہ معاشی اثرات کے باعث کانگریس کے بعض اراکین اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

اسی دباؤ کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاکہ تیل کی سپلائی بحال کی جا سکے اور جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ موجودہ بحران کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق آنے والے دن اس بحران کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے جنگ کے خاتمے یا کم از کم کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

فی الحال پوری دنیا کی نظریں تہران کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔







ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا
پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے جاری حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے سبب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات جنوبی ایشیا کے کئی ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں جہاں حکومتیں بجلی اور ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا نے توانائی کے استعمال کو کم کرنے اور شہریوں پر معاشی دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف فیصلوں کا اعلان کیا ہے، جن میں تعلیمی اداروں کی بندش، سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

بنگلہ دیش : جامعات بند، ایندھن کی فروخت محدود
بنگلہ دیش کی حکومت نے ملک بھر کی تمام سرکاری اور نجی جامعات کو پیر سے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکام نے عیدالفطر کی تعطیلات کو پہلے ہی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق جامعات کی بندش سے ہاسٹلز، کلاس رومز، لیبارٹریز اور ایئر کنڈیشننگ سسٹمز میں استعمال ہونے والی بجلی کی کھپت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا، جس سے ایندھن کی بچت ممکن ہو گی۔

وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک کے باعث ملک کے بیشتر اسکول پہلے ہی بند تھے، اس لیے تعلیمی ادارے اب ایک طویل عرصے تک بند رہیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ایندھن کی روزانہ فروخت پر بھی حد مقرر کر دی ہے کیونکہ کئی علاقوں میں گھبراہٹ کے باعث شہری بڑی مقدار میں ایندھن ذخیرہ کر رہے تھے۔

پاکستان : اسکول بند، سرکاری اخراجات میں کٹوتی
پاکستان میں بھی تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے توانائی کی بچت کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ملک کو معاشی استحکام دینے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

حکومت کے اعلان کے مطابق :

ملک بھر کے اسکول دو ہفتوں کے لیے بند رہیں گے

جامعات کو آن لائن کلاسز منتقل کیا جائے گا

سرکاری محکموں کے ایندھن الاؤنس میں دو ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی جائے گی

60 فیصد سرکاری گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا دی جائیں گی، تاہم بسوں اور ایمبولینسز کو استثنا حاصل ہوگا

سرکاری دفاتر میں صرف آدھا عملہ کام کرے گا

دفاتر ہفتے میں چار دن کھلے رہیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پاکستان کا کنٹرول نہیں ہے، تاہم حکومت کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر اس کے اثرات کم سے کم پڑیں۔

سری لنکا : ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
سری لنکا میں بھی بڑھتی ہوئی عالمی توانائی قیمتوں کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

سرکاری تیل کمپنی سیپٹکو (Ceypetco) کے مطابق نئی قیمتیں آج رات بارہ بجے سے نافذ ہوں گی۔

نئی قیمتوں کے مطابق :

آٹو ڈیزل : 22 روپے اضافے کے بعد 303 روپے فی لیٹر

سپر ڈیزل : 24 روپے اضافے کے بعد 353 روپے فی لیٹر

پیٹرول (اوکٹین 92) : 24 روپے اضافے کے بعد 317 روپے فی لیٹر

پیٹرول (اوکٹین 95) : 25 روپے اضافے کے بعد 365 روپے فی لیٹر

مٹی کا تیل : 13 روپے اضافے کے بعد 195 روپے فی لیٹر

حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے خدشات کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔

Monday, 9 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





علاقائی کشیدگی کے سائے میں متحدہ عرب امارات کے مسلمانوں کا لیلۃ القدر کی عبادات میں سکون کی تلاش
متحدہ عرب امارات میں آج رات سے مساجد میں خصوصی قیام اللیل اور لیلۃ القدر کی تلاش کے لیے طویل عبادات کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے، کیونکہ رمضان المبارک اپنے آخری اور سب سے اہم مرحلے یعنی آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے۔

مقدس رات کی اہمیت اور موجودہ حالاتاسلام میں اس مدت کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ لیلۃ القدر، وہ رات جب قرآن کی پہلی آیات نازل ہوئیں، اسی عشرے میں آتی ہے۔ اگرچہ اس کی قطعی تاریخ نامعلوم ہے، لیکن اہل ایمان اسے رمضان کے آخری ایام کی طاق راتوں میں تلاش کرتے ہیں۔ اس سال یہ آخری راتیں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری وسیع تر تنازع کے اثرات خلیج کے کچھ حصوں بشمول یو اے ای تک پہنچنے کی وجہ سے شہریوں کو ہنگامی الرٹس موصول ہوئے اور فضائی دفاعی کارروائیوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

مساجد میں سکون کا احساس
شارجہ کے رہائشی محمد الحمادی، جو النور مسجد میں عبادت کا ارادہ رکھتے ہیں، کہتے ہیں ’’جب لوگوں کو الرٹ ملتے ہیں یا وہ تنازعات کی خبریں دیکھتے ہیں تو قدرتی طور پر پریشان ہو جاتے ہیں، لیکن جب آپ ان راتوں میں مسجد آتے ہیں، تو سب کچھ بہت پرامن محسوس ہوتا ہے‘‘۔ ان راتوں میں مساجد میں عبادت کے اوقات بڑھا دیے جاتے ہیں، تلاوت قرآن کا سلسلہ دیر تک جاری رہتا ہے اور نمازی کئی گھنٹوں تک مسجد میں قیام کرتے ہیں۔انفرادی کہانیاں اور خاندانی روایات
دبئی کے رہائشی عمر احمد، جو لاجسٹکس کے شعبے سے وابستہ ہیں، بتاتے ہیں کہ رمضان کی یہ آخری دس راتیں ان کے لیے زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ وہ گزشتہ چند برسوں سے اپنی والدہ کو وہیل چیئر پر مسجد لاتے ہیں اور ہزاروں لوگوں کے ساتھ انہیں عبادت کرتے دیکھ کر ان کی تمام تھکن مٹ جاتی ہے۔

اسی طرح، کراچی سے تعلق رکھنے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ خالد مصطفیٰ، جو پہلے البرشا میں اپنے خاندان کے ساتھ یہ نمازیں ادا کرتے تھے، اس بار بزنس بے کی شیخ راشد بن محمد مسجد میں پہلی بار عبادت کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا خاندان اس سال پاکستان میں ہے، اس لیے وہ تنہا ہی مسجد جائیں گے۔ عجمان کے رہائشی عاصم علوی کے لیے الحمیدیہ کی مسجد تک کا راستہ اب ایک روایت بن چکا ہے جسے وہ اپنے 10 سالہ بیٹے موسیٰ کے ساتھ بانٹتے ہیں۔

مساجد میں بڑھتا ہوا رش
پورے یو اے ای میں ان راتوں کے دوران مساجد میں سال کا سب سے بڑا اجتماع دیکھا جاتا ہے۔ دبئی کی مشہور مساجد جیسے جمیرہ مسجد، الفاروق عمر بن الخطاب مسجد اور شیخ راشد بن محمد مسجد میں فرزندانِ اسلام کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔ شارجہ میں شیخ سعود القاسمی مسجد سب سے اہم مرکز ہے جہاں گزشتہ تین دہائیوں سے معروف قاری اور اماراتی تاجر صلاح بو خاطر نماز کی امامت کر رہے ہیں، جن کی تلاوت سننے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے ہیں۔

امن اور سلامتی کے لیے دعائیں
اگرچہ مساجد میں ہزاروں افراد کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن ان آخری راتوں میں رش اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ لوگ مسجد سے ملحقہ سڑکوں تک صفیں بچھا لیتے ہیں۔ لیلۃ القدر کے دوران نمازی رات بھر ’قیام‘ کی صورت میں طویل نمازیں ادا کرتے ہیں، تلاوت قرآن کرتے ہیں اور گڑگڑا کر مغفرت کی دعائیں مانگتے ہیں۔ بہت سے نمازیوں کا کہنا ہے کہ اس سال ان کی دعاؤں میں خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے خصوصی التجائیں شامل ہیں۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ’لیلۃ القدر‘ کہلاتی ہے، اسی رات قرآن پاک کے نزول کا آغاز ہوا۔ یہ رات ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے، جس میں مسلمان رات بھر جاگ کر عبادت، تلاوت اور دعائیں کرتے ہیں۔ اس سال یہ مقدس راتیں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات خلیجی خطے تک محسوس کیے جا رہے ہیں، جس سے عوامی سطح پر کچھ تشویش پائی جاتی ہے۔











رمضان المبارک میں اجمیر کی خاص روایت! توپ کی آواز سے جاگتے ہیں روزہ دار، اس خاتون کے ہاتھ میں ہے روایت
اجمیر: راجستھان کے شہر اجمیر میں مقدس مہینہ رمضان کے دوران ادا کی جانے والی ایک منفرد اور صدیوں پرانی روایت آج بھی زندہ ہے۔ جیسے ہی رات کا اندھیرا گہرا ہوتا ہے اور پورا شہر گہری نیند میں ڈوبا ہوتا ہے، اسی وقت اچانک بڑی پیر پہاڑی کی سمت سے ایک زوردار گرجتی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز کسی عام دھماکے کی نہیں بلکہ اس توپ کی ہوتی ہے جو روزہ داروں کو سحری کے لیے بیدار ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔ اس آواز کو سنتے ہی لوگ نیند سے بیدار ہو جاتے ہیں اور سحری کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔

یہ روایت اجمیر کی عالمی شہرت یافتہ اجمیر شریف درگاہ سے جڑی ہوئی ہے۔ درگاہ کے قریب واقع بڑی پیر پہاڑی سے رمضان کے پورے مہینے روزانہ توپ چلائی جاتی ہے۔ اس کی آواز شہر کے کئی علاقوں تک سنائی دیتی ہے اور لوگوں کے لیے ایک طرح کا الارم بن جاتی ہے کہ اب سحری کا وقت ہو گیا ہے۔اسی لیے شروع کی گئی تھی یہ روایت
اس تاریخی ذمہ داری کو فوزیہ خان نبھاتی ہیں، جنہیں شہر کے لوگ پیار سے “توپچی” کے نام سے جانتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ ذمہ داری ایک خاتون انجام دے رہی ہیں، جو اس روایت کو اور بھی خاص بنا دیتی ہے۔ فوزیہ خان بتاتی ہیں کہ رمضان کے پورے مہینے روزہ دار سورج نکلنے سے پہلے سحری کرتے ہیں اور پھر سورج غروب ہونے تک روزہ رکھتے ہیں۔ سحری کا وقت بہت محدود ہوتا ہے، اس لیے لوگوں کو جگانے کے لیے توپ چلانے کی روایت شروع کی گئی تھی۔فوزیہ 8 سال کی عمر سے یہ کام کر رہی ہیں
فوزیہ بتاتی ہیں کہ وہ 8 سال کی عمر سے ہی توپ چلانے کا کام کر رہی ہیں۔ یہ کام انہیں خاندانی روایت کے طور پر وراثت میں ملا ہے۔ فوزیہ مزید بتاتی ہیں کہ توپ چلانے کی یہ روایت مغل دور سے چلی آ رہی ہے۔ درگاہ کی کئی رسومات اور غریب نواز کے عرس کا آغاز بھی اسی توپ کے دھماکے کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ توپ سی آئی کی نگرانی میں چلائی جاتی ہے۔











آئی آر جی سی کا بڑا اعلان، امریکہ کے ساتھ 10 سال تک جنگ کیلئے تیار ہے ایران
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو 10 دن ہو چکے ہیں۔ اس دوران ایران میں بڑی سیاسی ہلچل کے بیچ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ اسمبلی آف ایکسپرٹس نے پیر کو یہ فیصلہ کیا۔ اس کے بعد ایران کے سیاسی اور عسکری ادارے تیزی سے ان کی حمایت میں کھڑے ہوتے نظر آئے ہیں۔ اسمبلی آف ایکسپرٹس نے اعلان کرتے ہوئے ایرانیوں سے نئے رہنما کے تئیں وفاداری ظاہر کرنے اور متحد رہنے کی اپیل کی۔ کونسل نے کہا کہ یہ فیصلہ بیرونی دباؤ اور سیکورٹی خطرات کے باوجود لیا گیا ہے۔

وہیں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ اسلامک ریولوشنری گارڈ کور کے کمانڈر اِن چیف کے سینئر مشیر، بریگیڈیئر جنرل سردار ابراہیم جباری نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ جباری نے پوری دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “ایک باخبر شخص کے طور پر میں یہ کہہ رہا ہوں: ہم امریکہ کے ساتھ کم از کم 10 سال کی جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔” ان کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ ایران طویل جنگ کے لیے ذہنی اور عسکری طور پر کمر کس چکا ہے۔ کلیش رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ ایسے وقت آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت کو لے کر ٹکراؤ عروج پر ہے۔وہیں ایران کے سینئر رہنما علی لاریجانی نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد دشمنوں کو لگا تھا کہ ایران سیاسی بحران میں پھنس جائے گا۔ لیکن قانونی عمل کے ذریعے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہنما منتخب کر لیا گیا۔ ان کے مطابق نیا سپریم لیڈر اس “حساس دور” میں ملک کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کی سب سے طاقتور عسکری تنظیم اسلامک ریولوشنری گارڈ کور یعنی IRGC نے بھی نئے رہنما کے تئیں مکمل وفاداری ظاہر کی ہے۔تنظیم نے بیان جاری کر کے کہا کہ وہ نئے سپریم لیڈر کے احکامات کی مکمل پیروی کرے گی اور ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ IRGC کی یہ حمایت اقتدار کی منتقلی کو مستحکم رکھنے کے اشارے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئے رہنما کی پیروی کرنا مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





*سنو کیا چل رہا ہے مالیگاؤں شہر میں ۔۔۔*
ایک طرف کارپوریشن کی زمین کو بیچ کر کھانے کی نیت ہے تو دوسری جانب سروے نمبر 16 کی سنڈاس کی دیوار کو توڑ کر ساپنگ سینٹر بنائے جانے کی گونج سنائی دے رہی ہے اور اس کے لیے وارڈ کے کارپوریٹروں کے ذریعے سات سات لاکھ روپے وصول کرنے کی بات بھی سنائی دے رہی ہے۔ وہیں قدوائی روڈ پر یا قدوائی روڈ سے لگ کر سینٹرل کھڈے کے بازو سے بڑی گٹر کے اوپر شاپنگ سینٹر بنا کر ہاکروں کو دینے کی بات بھی چل رہی ہے۔ اس میں وصولی وہ بھی چناؤ سے پہلے ہی ہو چکی ہے۔ ابھی تو صرف معمولی وصولی ہوئی ہے۔ یعنی 10 فیصد وصولی ہوئی ہے۔ آگے چل کر اور 90 فیصد وصولی ہونا باقی ہے۔ گالا بنے گا نہیں بنے گا یہ تو رب جانے اور بھی بہت سارے علاقوں میں کارپوریشن کی جگہوں جگہوں کی بندر بانٹ کے پلان جاری ہیں۔ شروع شروع میں ہی کچھ کارپوریٹر ایک اسکول گئے تھے جس کا ویڈیو بھی انہوں نے خود ہی وائرل کیا تھا کہ یہاں بچوں کو چارٹ کے مطابق مڈ ڈے میں یعنی کھانا نہیں مل رہا ہے۔ اب وہ بات کیا ہوئی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھچڑی کا ٹھیکہ دار کسی اور کو سمجھ کر وزٹ کیے تھے مگر وہ تو اپنا والا نکلا۔ یعنی اپنا والا کچھ بھی کرے ہم کچھ نہ بولیں گے اور دیگر پارٹی کا کچھ کرے گا تو ہم چیخ پکار کریں گے۔ بہرحال مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی نئی باڈی کب کیا کر ڈالے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ 
فقط عبدالخالق صدیقی موبائل نمبر،7066280899












[قسط نمبر: 01]
​کتاب: تجارتِ مصطفیٰ ﷺ اور جدید کاروباری اخلاقیات
​تحریر: حبیب رشید
​مقدمہ: معیشتِ انسانی اور اسلامی ضابطہ حیات
​انسانی زندگی کے قیام اور بقا کے لیے معیشت (Economy) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ، چاہے وہ قدیم ہو یا جدید، مادی وسائل اور لین دین کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معیشت کا مقصد صرف "زیادہ سے زیادہ دولت" جمع کرنا ہے؟ یا اس کا مقصد انسانیت کی فلاح ہے؟
​موجودہ دور کا سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) ہمیں سکھاتا ہے کہ "نفع" ہی اصل خدا ہے، چاہے وہ کسی کا حق مار کر حاصل کیا جائے یا دھوکہ دہی سے۔ اس کے برعکس، اسلام ہمیں ایک ایسا متوازن معاشی نظام دیتا ہے جہاں تجارت صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا راستہ ہے۔
​قرآنِ کریم کا معاشی فلسفہ:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا:
​"لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ"
(تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو۔) — سورہ البقرہ: 198
​مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں "فضل" سے مراد تجارت اور کسبِ معاش ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے رزق کی تلاش کو اپنا فضل قرار دیا ہے۔ اسلام میں ایک تاجر جب صبح دکان کھولتا ہے اور نیت یہ کرتا ہے کہ میں حلال کماؤں گا تاکہ اپنے بچوں کی پرورش کر سکوں اور معاشرے کی خدمت کر سکوں، تو اس کا وہ پورا دن "عبادت" میں شمار ہوتا ہے۔
​حلال رزق اور قبولیتِ دعا کا تعلق:
ایک مشہور حدیثِ مبارکہ میں ذکر ہے کہ ایک شخص طویل سفر کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر "یا رب! یا رب!" پکارتا ہے، مگر اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے اور اس کا لباس حرام کا ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے؟ (صحیح مسلم)۔
یہ نکتہ اس کتاب کی بنیاد ہے کہ اگر ہماری تجارت پاکیزہ ہوگی تو ہماری دعائیں اور زندگی بھی بابرکت ہوگی۔
​بابِ اول: طلوعِ اسلام سے قبل کی تجارتی منڈی اور نبوی ﷺ کردار
​نبوت کے منصب پر فائز ہونے سے قبل بھی مکہ کی وادی میں حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ایک روشن ستارے کی طرح تھی۔ عرب کا معاشرہ اس وقت اخلاقی پستی کا شکار تھا، لیکن تجارت ان کا خون اور زندگی تھی۔ مکہ ایک بین الاقوامی "ٹریڈ سنٹر" تھا جہاں یمن، شام اور حبشہ کے قافلے آتے جاتے تھے۔
​1. بچپن کے اسفار اور عالمی تجربات (Global Exposure)
​حضور ﷺ نے کم عمری میں ہی تجارت کی باریکیاں سمجھنا شروع کر دی تھیں۔ جب آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ شام کا سفر کیا، تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف مذاہب رکھنے والے تاجر کس طرح منڈیوں میں سودا بازی کرتے ہیں۔
​قدیم مثال: اس دور میں مال کی فروخت کے لیے جھوٹی قسمیں کھانا عام تھا۔ تاجر گاہک کو متاثر کرنے کے لیے کہتا تھا کہ "خدا کی قسم! یہ مال مجھے اتنے میں پڑا ہے" حالانکہ وہ جھوٹ بول رہا ہوتا تھا۔
​جدید مثال: آج کے دور میں اسے "فریبِ اشتہار" (Deceptive Advertising) کہا جاتا ہے۔ بڑی کمپنیاں ٹی وی پر ایسے دعوے کرتی ہیں جو حقیقت میں پروڈکٹ میں موجود نہیں ہوتے۔ آپ ﷺ نے اس زمانے میں بھی سچائی کو ترجیح دی اور ثابت کیا کہ نفع سچ بولنے میں زیادہ ہے۔
​2. دیانت داری کا عملی نمونہ: سائب بن ابی سائبؓ کا واقعہ
​حضرت سائب بن ابی سائبؓ مکہ کے ایک تاجر تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد فرمایا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ (نبوت سے پہلے) میرے شریکِ تجارت (Business Partner) تھے، آپ کتنے بہترین ساتھی تھے، نہ جھگڑا کرتے تھے اور نہ ہی کسی معاملے کو الجھاتے تھے۔"
​تجزیہ: آج کے دور میں پارٹنرشپ (Partnership) کا سب سے بڑا مسئلہ "ٹرسٹ ڈیفیسٹ" (Trust Deficit) یعنی اعتماد کی کمی ہے۔ پارٹنرز ایک دوسرے سے حساب چھپاتے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ کا اسوہ سکھاتا ہے کہ پارٹنرشپ کی کامیابی شفافیت (Transparency) میں ہے۔
​3. حضرت خدیجہؓ کی تجارت اور "مضاربت" کا اصول
​حضرت خدیجہؓ مکہ کی سب سے کامیاب بزنس ویمن تھیں۔ وہ اپنا مال دوسروں کو "مضاربت" (اس میں ایک کا پیسہ ہوتا ہے اور دوسرے کی محنت) پر دیتی تھیں۔ انہوں نے جب آپ ﷺ کی امانت و دیانت کے قصے سنے تو آپ ﷺ کو شام بھیجا۔
واپسی پر آپ ﷺ نے انہیں پائی پائی کا حساب دیا اور مال میں ایسی برکت ہوئی جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔
​قدیم نکتہ: اس زمانے میں لوگ دوسروں کا مال مار لینے یا حساب میں گڑبڑ کرنے کو "ہوشیاری" سمجھتے تھے۔
​جدید نکتہ: آج کی کارپوریٹ دنیا میں اسے "ایتھیکل انویسٹمنٹ" (Ethical Investment) کہا جاتا ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ ایسے شخص کی تلاش میں ہوتا ہے جو ایماندار ہو۔ حضرت خدیجہؓ کا آپ ﷺ پر اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ "کردار" (Character) ہی سب سے بڑی "کرنسی" ہے۔










مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی امداد کا اعلان

ممبئی (پریس ریلیز): مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی نے اُردو زبان و ادب کی مختلف اصناف میں تخلیقی خدمات انجام دینے والے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کے پیشِ نظر ان کی کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اکادمی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق کیلنڈر سال ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء کے دوران اکادمی کو موصول ہونے والے مسودات کی ماہرین ادب کے ذریعے جانچ و پڑتال کے بعد مختلف ادبی زمروں میں متعدد مسودات کو مالی اعانت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
 اکادمی کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی مقصد اُردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ معیاری تخلیقات کی اشاعت کو ممکن بنانا اور نئے و باصلاحیت قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں منتخب کیے گئے مسودات کو اکادمی کے قواعد و ضوابط کے مطابق جزوی مالی اعانت فراہم کی گئی تاکہ یہ علمی و ادبی سرمایہ کتابی شکل میں قارئین تک پہنچ سکے۔
 اکادمی کے کارگزار صدر حسین اختر نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کی اسکیموں کے ذریعے اُردو زبان و ادب کے تخلیقی سرمائے میں اضافہ ہوگا اور اہلِ قلم کو اپنی تحقیقی و ادبی کاوشوں کو منظر عام پر لانے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ اکادمی نے تمام منتخب مصنفین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اُردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اس طرح کی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔
 2023 میں جن مسودوں کو مالی اعانت دی گئی ان کی تفصیل:
تحقیق اورتنقید :تفہیم کے دائرے میں(فردوس انجم)،اردو شاعری میں اخلاقی عناصر(ڈاکٹر تحسین کوثر)زیر نظر(ڈاکٹر محمد اسد اللہ)،بر محل اشعار کے تناظر میں سرقہ اور توارد(خلیق الزماں نصرت)
ادب اطفال:صبح نکلتا وہ سورج(علیم طاہر)،گلستاں(انصاری محمد جاوید)،مرچ شہزادی (انصاری مختار احمد)،تاروں بھرا آسمان(شاہ تاج خان)،افسانچہ اطفال(سراج فاروقی)
مضامین ترجمہ:وہ پھلوں کی ملکہ (ڈاکٹر سنمتر نوگھڑے)،ضیائے قلم(ضیاالرحمان قریشی)،مضامین محمدی (میر ذاکر علی)
سوانح ،سفرنامہ،سائنس:فکشن پر گفتگو(طاہر انجم صدیقی)،شعری کتابیات مالیگاوں(ڈاکٹر آصف فیضی)گلہائے ادب اپنے رنگ و بو میں(ڈاکٹر عبد العزیز عرفان)،نقش تحریر(وجاہت عبدالستار)،بت کہی (اشتیاق سعید)
شاعری: رنگ الفت(منظور فیض سبحانی)،یادرفتگاں (سید ہاشمی علی)،بساط سخن(عرفان قنوجی)،فسون شب (قدرت ناظم)،بچوں کا دل کھولاپوری(عبدالرزاق)نیرنگ نظر (راعنا حیدری)،دانائے سخن(عبدالرحمان سراج)
طنز و مزاح:پڑھتے پڑھتے مسکرانا(شکیل اعجاز)
 2024 میں جن مسودوں کو مالی اعانت دی گئی ان کی تفصیل:
تحقیق اورتنقید :نورالحسنین کی ڈراما نگاری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ(شیخ اظہر بشیر)،حسین الحق ناولوں کے آئینہ میں(رضوانہ رہبر)
ادب اطفال:آسیب کی گرفت میں(شعیب محمدمحسن)،معاشرتی کہانیاں (تبسم نازنین)
مضامین ترجمہ:کاوشیں (ڈاکٹر شیخ عمران)،عالمی لوک کہانیاں (عرفان عالم منشی)،سعادت حسن منٹو کی کہانیوںمیں سماجی شعور (ملک اکبر)
سوانح ،سفرنامہ،سائنس:پراگندہ کیمیات(ڈاکٹر رفیع الدین ناصر)،انڈا سیل سے بیوی کے نام خطوط(ڈاکٹر شیخ عبدالواحد)
شاعری:معراج رباعی(ابو سامہ ہارون رشید)،مہکتے لفظ (اظہر عاطف)،مدحت کے پھول (انیس عبدالرحمان پٹیل)،سخن کی خوشبو(حکم چند کوٹھاری)،گلہائے سخن (وجاہت حسین خان)، تنشق (شیخ مشتاق)
طنز و مزاح:آدھی دنیا کا مکمل آدمی(اظہر فاضل)
افسانہ،ناول:ستم ہائے روزگار(سہیم الدین صدیقی)،سن سکو گے(شاہ نواز اختر انصاری)،رات (رضوان نقی)

Sunday, 8 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر جموں و کشمیر میں غم و احتجاج بھڑک اٹھا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد جموں و کشمیر میں بھی غم اور احتجاج کا ماحول دیکھنے میں آ رہا ہے۔ وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے جبکہ کئی جگہوں پر مساجد اور امام باڑوں میں سوگ منایا گیا۔ سری نگر کے لال چوک سے لے کر بڈگام، بانڈی پورہ، کولگام اور گلمرگ تک لوگوں نے ماتم کیا اور احتجاجی مظاہرے کیے۔

سری نگر میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر پھیلتے ہی سوگ کی فضا قائم ہو گئی۔ لال چوک اور اطراف کے علاقوں میں لوگ جمع ہو کر ماتم کرتے رہے۔ کئی افراد کی آنکھیں اشکبار تھیں اور فضا غمزدہ نظر آئی۔ بعض مقامات پر لوگوں نے امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی اور حملے کی مذمت کی۔بڈگام میں بھی خامنہ ای کی وفات کی خبر کے بعد سوگ کا ماحول دیکھا گیا۔ بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور مرحوم کے لیے دعائیں کی گئیں۔ پورا علاقہ غم میں ڈوبا نظر آیا اور کئی لوگوں نے اسے مسلم دنیا کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔بانڈی پورہ میں خبر پہنچتے ہی بڑی تعداد میں لوگ مساجد میں جمع ہو گئے۔ مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز سے رونے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور خامنہ ای کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ پورا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا دکھائی دیا۔

بانڈی پورہ کے سوناواری اور سمبل علاقوں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے جلوس نکالا اور خامنہ ای کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ خواتین، بزرگ اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے دیوسر علاقے میں بھی احتجاج دیکھنے کو ملا۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اس واقعے کے خلاف آواز بلند کی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر بڑی بھیڑ جمع ہوتی دیکھی گئی۔

گلمرگ اور اطراف کے علاقوں میں بھی سوگ منایا گیا۔ مگام اور پٹن میں امام باڑوں سے اعلانات کیے گئے جس کے بعد لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ مرحوم کے لیے دعائیں مانگی گئیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کیا گیا۔

پلوامہ میں بھی بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر خامنہ ای کی موت پر غم کا اظہار کیا اور حملے کی مذمت کی۔ ریلی میں مقامی افراد کی بڑی تعداد شریک تھی۔

وادی کے مختلف علاقوں سے آنے والی تصاویر میں غم اور غصہ دونوں دکھائی دیے۔ کہیں لوگ روتے ہوئے نظر آئے تو کہیں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مساجد اور امام باڑوں میں دعائیں اور تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ اس خبر نے جموں و کشمیر کے کئی علاقوں کو سوگوار کر دیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر نے نہ صرف ایران بلکہ جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کو بھی غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ وادی میں ایک طرف لوگ سوگ منا رہے ہیں تو دوسری جانب کئی جگہ احتجاج بھی جاری ہے۔











امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے جوہری ذخیرے پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے پرغور، مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کا امکان
واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایکسيوس کی رپورٹ کے مطابق اس بارے میں دونوں ممالک کے درمیان خفیہ سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کی کارروائی جنگ کے بعد کے مرحلے میں کی جا سکتی ہے۔ چار ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری اثاثے اس وقت جاری تنازع میں ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک ہدف بن چکے ہیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسے مہلک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق: ’’اگر آپ امریکیوں کو قتل کریں گے یا دنیا میں کہیں بھی انہیں دھمکائیں گے تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ کو تلاش کرکے ختم کر دیں گے۔‘‘ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بحریہ کے 44 جہاز تباہ کیے گئے، فضائیہ کے بیشتر طیارے تباہ کر دیے گئے، بیشتر میزائل نظام اور لانچرز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت اب پہلے کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے۔

لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی ذمہ داری سے انکار

ایران میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر بمباری کی خبروں پر امریکی صدر نے امریکہ کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ ایرانی ہتھیاروں کی غلطی یا تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ اگرچہ سفارتی حل کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ایران یورینیم افزودگی کے حق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ

یہ تمام پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر داغے، جن میں اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔

اس دوران اسرائیلی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں سے ایران کی فوجی لاجسٹک اور انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔










پہلی ہی کوشش میں سی اے فاؤنڈیشن امتحان میں شاندار کامیابی
حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل نے تعلیمی میدان میں نمایاں کارنامہ انجام دیا
حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل نے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے ابتدائی مرحلے سی اے فاؤنڈیشن (C.A Foundation) کا امتحان پہلی ہی کوشش (First Attempt) میں کامیابی کے ساتھ پاس کر کے ایک قابلِ قدر تعلیمی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب اور تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل، نیو ارا انگلش میڈیم اسکول کے چیئرمن اظہر مہدی سر کے بھتیجے ہیں۔ ان کی اس کامیابی پر مختلف سماجی و تعلیمی شخصیات کی جانب سے مبارکباد پیش کی جا رہی ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سی اے فاؤنڈیشن چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے مشکل اور اہم مراحل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جسے پہلی ہی کوشش میں کامیابی کے ساتھ پاس کرنا بڑی محنت، لگن اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ حافظ تنزیل کی یہ کامیابی نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔

آخر میں اہلِ خانہ اور احباب نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ مراحل میں بھی کامیابی عطا فرمائے اور وہ قوم و ملت کا نام روشن کریں۔ آمین

*🔴سیف نیوز اردو*






ایران جنگ میں ہتھیارہی نہیں حربے بھی کررہاہے استعمال ، چین سے خریدے اسپیشل ہتھیار،امریکی فوج پریشان
ایران امریکہ جنگ کی خبریں نہ صرف مین اسٹریم میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پرچھائی ہیں ۔ حال ہی میں اسرائیلی ڈیفنس فورس نے ایران میں ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر پر حملے کی ویڈیو شیئر کی تھی جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئی ۔ اس ویڈیو میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ایرانی فوجی طیارے کو تباہ کر دیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا یوزر کا کہنا ہے کہ وہ پینٹ کیے ہوئے لگ رہے ہیں ۔ اب اسی طرح کے ایک اور حربے کی ایک ویڈیو وائرل ہے، جسے ایران اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

دراصل ، اس بحث کے دوران ایک اور دعویٰ سامنے آیا کہ ایران نے چین سے خصوصی ہتھیاروں کی پوری کھیپ منگوائی ہے، جسے امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جی پی ایکس پریس کی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے چین سے 900,000 سے زیادہ نقلی ہتھیار درآمد کیے ہیں، جن میں ٹینکوں، میزائل بردار جہازوں اور بیلسٹک میزائلوں کے ماڈل شامل ہیں۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں ہوا بھردینے کے بعدیہ دور سے بالکل اصلی ٹینکوں اور میزائلوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ آسمان میں اڑنے والے لڑاکا طیارے انہیں نشانہ بنانے کی غلطی کرتے ہیں لیکن ان کے مہنگے میزائل ضائع ہو جاتے ہیں۔

ٹینکرز، میزائل…اور الجھن
اس طرح کے کھلونے چین میں بڑے پیمانے پر تیار کیے جاتے ہیں اور مقبول ہوتے ہیں، ایران ان انفلٹیبل فرضی ہتھیاروں کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔ حالانکہ ہم جی پی ایکس پریس کی پوسٹ کی تصدیق نہیں کرتے،لیکن اگر ایران ایسا کر رہا ہے، تو یہ دو دشمنوں کو چکما دینےکی دلچسپ چال ہے۔ ہم جو معلومات فراہم کرتے ہیں وہ سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی ہے اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔سوشل میڈیا پر لوگ اس ویڈیو اور نقلی ہتھیاروں کی خبروں کا مذاق اڑا رہے ہیں اور بحث بھی کر رہے ہیں۔ ایک یوزرنے لکھا کہ تصور کریں کہ امریکی فضائیہ لاکھوں ڈالر مالیت کے میزائلوں کو صرف ایک غبارہ اڑانےکے لیے استعمال کر رہی ہے۔ 900,000 نقلی ماڈلز، ایک پوری ’ڈیکوائے انڈسٹری‘! ایک اوریوزرنے سوال کیا کہ ’ان 3000 حملوں میں کتنے حقیقی اہداف کو نشانہ بنایا گیا؟ اگر ایران واقعی اتنے نقلی ہتھیار لے کر آیا تو امریکہ 500 ڈالر کے غباروں پر کروڑوں ڈالر کے بم کیوں گرا رہا ہے؟ ایک تیسرے نے مذاق میں کہا’میں نے یہ دیکھنے کے لیے چیک کیا کہ آیا یہ ٹینک عوام کے لیے فروخت کے لیے دستیاب ہیں، اور ہاں، بہت سارے ماڈل موجود ہیں!مہنگے ہتھیاروں کے مقابلے سستی ترکیب ہٹ
اس سے قبل، اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے 4 مارچ کو ایک انفراریڈ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد سوالات اٹھائے گئے تھے، جس میں ایران میں دو مقامات پر دھماکے دکھائے گئے تھے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں ایرانی فوجی اثاثےاور عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔
سوشل میڈیا یوزر نے نوٹ کیا کہ دھماکے کے بعد ہیلی کاپٹر کے روٹر نہیں گھومے، اردگرد کا علاقہ متاثر نہیں ہوا، اور یہ ایک 3D anamorphic تصویر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ حقیقی طیارہ۔ کچھ یوزر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سیٹلائٹ کی تصاویر میں برسوں سے ایک ہی ہوائی جہاز کو دکھایا گیا ہے، جس سے لگتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی جہاز نہیں بلکہ پینٹنگ ہے۔










خلیجی جنگ کا دوسراہفتہ: دونوں جانب سے حملوں میں شدت، ایران کی قید میں کئی امریکی فوجی ،علی لاریجانی کا دعویٰ
خلیجی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے اور پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھلس رہا ہے بلکہ اس میں مزیدشدت آگئی ہے۔ ہفتے کے روز دونوں جانب سے مسلسل حملے جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔

تہران سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہیں ایران نے بھی ہمسایہ ممالک پر حملے کیے ہیں ۔ ایران نے یواے ی ، کویت،سعودی عرب اور بحرین سمیت دیگر مقامات پر حملے کیے ہیں ۔ادھر،اسرائیل نے لبنان پر بھی حملے کیے ۔

ایران کی تیل تنصیبات پربمبادی
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے آئل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ بیتی رات جنوبی تہران اور شمال مغربی تہران میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔حملوں کے بعد شعلے اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا ۔اسرائیل کا دعویٰ کیا کہ یہ فوجی انفراسٹرکچر کی معاونت اور فوجی اداروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

ایران کا کویت،دبئی اور بحرین پرحملہ

ادھر،ایران نے بھی خلیجی ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔دبئی کے مرینا ٹاور پرڈرون حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں عمارت آگ لگ گئی۔کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فیول ٹینک پربھی ایران کی جانب سے ڈورن حملہ کیا گیا۔سعودی عرب میں بھی امریکی فوجی اڈے پر دھماکے ہوئے ہیں۔ایران کی قید میں کئی امریکی فو جی:لاریجانی کا دعویٰ
اس بیچ،ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربڑا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کئی امریکی فوجی کے ایران کی قید میں ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ امریکہ دعویٰ کررہا ہے کہ وہ کارروائی میں مارے گئے ہیں ۔یہ لاحاصل سعی ہے۔سچائی زیادہ دیر تک وہ چھپا نہ سکیں گے۔












مغربی ایشیا میں کہرام کے درمیان اب تک بحفاظت لوٹے 52 ہزار ہندوستانی، ایئر اسپیس کھلتے ہی ریسکیو آپریشن شروع
نئی دہلی: مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں تیزی سے بدلتے حالات نے پوری دنیا کی تشویش بڑھا دی ہے۔ حکومتِ ہند وہاں کے حالات پر پل پل نظر رکھے ہوئے ہے۔ خاص طور پر اُن ہندوستانی شہریوں کی سلامتی سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہے جو ٹرانزٹ یا مختصر سفر پر وہاں گئے ہوئے تھے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت اس کی پہلی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے دہلی میں ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ یہ کنٹرول روم متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے مسائل کا فوری حل فراہم کر رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ ہند نے تمام سفارت خانوں کو الرٹ موڈ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق صورتحال کشیدہ ضرور ہے مگر قابو میں ہے۔

خلیجی ممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کے لیے نئی گائیڈ لائن کیا ہے؟حکومتِ ہند نے تمام شہریوں کے لیے ضروری ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وہاں موجود افراد کو مقامی حکام کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ ہندوستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں نے 24×7 ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔ ان ہیلپ لائنز کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد طلب کی جا سکتی ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفارت خانے کی ویب سائٹ پر مسلسل اپڈیٹس چیک کرتے رہیں، بلاوجہ ادھر اُدھر نہ گھومیں اور محفوظ مقامات پر ہی قیام کریں۔ حکومت ہر ہندوستانی شہری کی لوکیشن ٹریک کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد پہنچائی جا سکے۔52 ہزار ہندوستانی کیسے موت کے منہ سے نکل کر وطن واپس پہنچے؟
گزشتہ چند دنوں میں فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد ریسکیو آپریشن میں تیزی آ گئی ہے۔ 1 مارچ سے 7 مارچ 2026 کے درمیان 52,000 سے زائد ہندوستانی شہری بحفاظت ہندوستان واپس لوٹ چکے ہیں۔ ان میں سے 32,107 مسافروں نے ہندوستانی ایئرلائنز کے ذریعے سفر کیا، جبکہ باقی مسافر غیر ملکی کمرشیل پروازوں اور نان شیڈیولڈ فلائٹس کے ذریعے واپس آئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتِ ہند کتنی مستعدی سے کام کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید خصوصی پروازیں بھی منصوبہ بند کی گئی ہیں۔ جن ممالک میں ابھی کمرشیل پروازیں بند ہیں وہاں موجود لوگوں کو قریبی ایئرپورٹ تک پہنچنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔اگر آپ کی فلائٹ منسوخ ہو گئی ہے تو اب کیا کریں؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی رشتہ دار وہاں پھنس گیا ہے تو سب سے پہلے ہندوستانی سفارت خانے میں رجسٹریشن کروائیں۔ جن مقامات پر پروازیں دستیاب نہیں ہیں وہاں سفارت خانے متبادل راستوں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ ہند کی ویب سائٹ پر کنٹرول روم کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ حکومت خلیجی ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ہندوستانی شہری کو کاغذی کارروائی یا لاجسٹک مسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایئرلائنز کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پھنسے ہوئے مسافروں کو ترجیح دیں۔ جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، پروازوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

Saturday, 7 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




یو پی ایس سی میں کل 53 مسلم امیدوار کامیاب، یہاں دیکھیں فہرست
یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے جمعہ کو 2025 کے سول سروسز امتحان (سی ایس ای) کے حتمی نتائج کا اعلان کیا۔ انوج اگنی ہوتری نے امتحان میں ٹاپ کیا، راجیشوری سووے ایم اور اکانش دھول بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

کمیشن نے کہا کہ کل 958 امیدواروں نے امتحان کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور انہیں مختلف مرکزی سول خدمات میں تقرری کے لیے سفارش کی گئی ہے۔ سول سروسز کا امتحان ہر سال تین مرحلوں میں لیا جاتا ہے: پریلیمنری، مین اور انٹرویو۔ یو پی ایس سی کے ذریعے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (IAS)، انڈین فارن سروس (IFS) اور انڈین پولیس سروس (IPS) کے افسران کو منتخب کیا جاتا ہے۔

53 مسلم امیدوار کامیاب:

سول سروسز 2025 کے امتحانات میں مسلمانوں کے نتائج میں پچھلے سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔ سول سروسز 2025 کے امتحانات میں کامیاب ہونے والے 958 امیدواروں کی فہرست میں تقریباً 53 مسلم امیدوار شامل ہیں۔ ٹاپ 100 میں چار مسلم امیدواروں نے جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں اے آر راجہ محی الدین، عفرا شمس انصاری، نبیہ پرویز اور حسن خان کے نام شامل ہیں۔ واضح رہے یو پی ایس سی 2024 میں صرف 26 مسلم امیدوار ہی کامیابی حاصل کر پائے تھے۔ یو پی ایس سی 2025 کے نتائج یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ سول خدمات میں مسلم نوجوانوں کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ مسلسل اپنی محنت، عزم اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

کامیاب مسلم امیدواروں کی فہرست
سیریل نمبر نام رینک
1 اے آر راجہ محی الدین 7
2 عفراء شمس انصاری 24
3 نبیہ پرویز 29
4 حسن خان 95
5 عرفہ عثمانی 124
6 خان صائمہ سراج احمد 135
7 وسیم الرحمن 157
8 صوفیہ صدیقی 253
9 توصیف احمد گنائی 254
10 منتشا 307
11 اسد عقیل 321
12 محمد اشتیاق الرحمن 354
13 محمد اشمِل شاہ 382
14 شاہدہ بیگم ایس 411
15 شاداب علی خان 415
16 محمد صلوٰہ ٹی اے 429
17 شعیب 455
18 نازیہ پروین 478
19 شیخ محمد حبیب الدین ایس 485
20 شیخ محمد نشاط ایم 495
21 منہاج شکیل 513
22 گل فضا 535
23 ہاشمی محمد عمر 549
24 شاہ رخ خان 575
25 اثنا انور 576
26 منیب افضل پرہ 581
27 عظیم احمد 588
28 شائستہ پروین 614
29 نور عالم 625
30 محمد عرفان قیام خانی 646
31 محسنہ بانو 648
32 غلام محی الدین 663
33 دانش ربانی خان 665
34 محمد نایاب انجم 668
35 محمد ابوذر انصاری 671
36 انصا خان 678
37 عبد السفیان 695
38 فیروز فاطمہ ایم 708
39 محمد ہاشم 713
40 محمد سہیل 718
41 توصیف اللہ خان 741
42 کوہِ صفا 763
43 ثناء اعظمی 764
44 ریشما ایم 773
45 یاسر احمد بھٹی 811
46 غلام حیدر 832
47 محمد شیزن سی پی 860
48 محمد اعجاز الرحمٰن 869
49 اظہر آصف خان 886
50 محمد سرفراز چودھری 936
51 عبداللہ آفریدی اے 942
52 محمد شاہد رضا خان 955
53 عرفان احمد لون 957

مسلم امیدواروں کا ماضی کا ریکارڈ
سال کل کامیاب امیدوار کامیاب مسلم امیدوار
2009 791 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2010 875 امیدوار کامیاب 21 مسلم امیدوار
2011 920 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2012 998 امیدوار کامیاب 30 مسلم امیدوار
2013 1122 امیدوار کامیاب 34 مسلم امیدوار
2014 1236 امیدوار کامیاب 38 مسلم امیدوار
2015 1078 امیدوار کامیاب 34 مسلم امیدوار
2016 1099 امیدوار کامیاب 52 مسلم امیدوار
2017 990 امیدوار کامیاب 50 مسلم امیدوار
2018 759 امیدوار کامیاب 27 مسلم امیدوار
2019 829 امیدوار کامیاب 42 مسلم امیدوار
2020 761 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2021 685 امیدوار کامیاب 21 مسلم امیدوار
2022 933 امیدوار کامیاب 30 مسلم امیدوار
2023 1016 امیدوار کامیاب 51 مسلم امیدوار
2024 1009 امیدوار کامیاب 26 مسلم امیدوار
جموں کشمیر کے 17 امیدوار کامیاب:

جموں کشمیر کے 17 امیدواروں نے 2025 کے باوقار یو پی ایس سی سول سروسز امتحان میں کوالیفائی کیا ہے۔ آل انڈیا رینک 148 کے ساتھ سوون شرما یو ٹی میں سر فہرست ہیں۔ سوگندھا گپتا کو 207 واں، توصیف احمد گنائی کو 245 واں اور ریتیکا بھان کو 456واں رینک حاصل ہوا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رہائشی کوچنگ کے 48 امیدوار کامیاب

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رہائشی کوچنگ اکیڈمی (آر سی اے)،سینٹر فار کوچنگ اینڈ کیرئیر پلاننگ کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ یہاں کے 38 امیدواروں نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان 2025 کے نتائج میں امتیازی کامیابی حاصل کی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ چار امیدواروں نے ٹاپ 50 میں جگہ بنائی اور آل انڈیاسطح پر 7واں، 14واں، 24واں اور 29واں مقام حاصل کیا ہے۔








رام رحیم کو صحافی قتل کیس میں ہائی کورٹ نے بری کردیا: متاثرہ خاندان سپریم کورٹ جانے کا اعلان
پنچکولہ: گرمیت رام رحیم سنگھ، جو کہ ڈیرا سچا سودا کے سربراہ اور خود ساختہ مذہبی پیشوا ہیں، کو ہفتہ کے روز پنجاب اینڈ ہریانہ ہائیکورٹ نے 2002 میں سرسا کے صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل کے مقدمے میں بری کر دیا۔ تاہم وہ بدستور جیل میں رہیں گے کیونکہ انہیں اپنے دو پیروکاروں سے زیادتی کے مقدمے میں 20 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیل ناگو اور جسٹس وکرم اگروال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 2019 میں خصوصی سی بی آئی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے بعد رام رحیم کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے مقدمے کے شواہد، خصوصاً فائرنگ میں استعمال ہونے والی گولیوں سے متعلق تنازعے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تاہم عدالت نے اس مقدمے میں شامل دیگر ملزمان کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

یاد رہے کہ صحافی رام چندر چھترپتی، جو اخبار “پورا سچ” چلاتے تھے، کو 24 اکتوبر 2002 کی شام سرسا میں ان کے گھر کے باہر گولی مار دی گئی تھی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تقریباً ایک ماہ بعد 21 نومبر کو دم توڑ گئے۔

ابتدائی طور پر یہ مقدمہ سرسا پولیس نے درج کیا تھا، تاہم بعد میں چھترپتی کے بیٹے انشل چھترپتی کی درخواست پر ہائی کورٹ نے تفتیش سی بی آئی کے حوالے کر دی۔ سی بی آئی نے تحقیقات کے بعد رام رحیم سمیت چار افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی۔ جنوری 2019 میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے رام رحیم اور ان کے تین قریبی ساتھیوں کو قتل کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے انشول چھترپتی نے اسے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ خاندان اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہماری قانونی جدوجہد 2002 میں شروع ہوئی تھی اور ہم انصاف کے حصول تک یہ لڑائی جاری رکھیں گے۔









روزہ رکھنے والے افراد کیا کھائیں، کیا پئیں اور کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
رمضان کے دوران سماجی زندگی خاصی متحرک ہوتی ہے اور لوگ افطار کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کو افطار پر مدعو کرتے ہیں یا خود مدعو ہوتے ہیں۔
یہ دعوتیں افطار اور سحری کے دسترخوانوں پر ہوتی ہیں جو عمدہ اور متنوع کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دوران بعض افراد جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض غیر صحت مند غذائی عادات کی وجہ سے اپنی بیماری کو بہتر طور پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔
اس پس منظر میں عالمی ادارہ صحت نے رمضان کے لیے کچھ رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف وزن کم کیا جاسکتا ہے بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں بھی کمی لایا جاسکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی ہے کہ ان عادات کو روزوں کے بعد بھی برقرار رکھا جائے۔
عمومی ہدایات:
وافر مقدار میں پانی پئیں (کم از کم 10 گلاس) اور پانی سے بھرپور غذائیں جیسے سوپ، تربوز اور سبز سلاد استعمال کریں۔
کیفین والے مشروبات جیسے کافی، چائے اور کولا سے پرہیز کریں، کیونکہ کیفین پیشاب کی مقدار بڑھا کر جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ چینی والے مشروبات اضافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔
زیادہ درجہ حرارت میں دھوپ سے بچیں اور ٹھنڈی، سایہ دار جگہ پر رہیں۔
افطار میں کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں؟
توانائی بحال کرنے کے لیے متوازن اور صحت بخش افطار کریں۔ روزہ کھولنے کے لیے تین کھجوریں کھائیں، کھجور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔
افطار میں وافر مقدار میں سبزیاں شامل کریں تاکہ ضروری وٹامنز اور غذائی اجزا حاصل ہوں۔ ثابت اناج استعمال کریں جو توانائی اور فائبر فراہم کرتے ہیں۔گرل یا بیک کیا ہوا کم چکنائی والا گوشت، چکن اور مچھلی استعمال کریں تاکہ صحت مند پروٹین حاصل ہو۔
تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی یا چینی والی پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں۔ آہستہ کھائیں اور حد سے زیادہ کھانے سے بچیں۔
سحری میں کیا کھائیں؟
وہ افراد جو روزہ رکھتے ہیں خصوصاً بزرگ ، نوجوان، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین روزانہ ہلکی سحری ضرور کریں۔
سحری میں سبزیاں، ثابت گندم کی روٹی یا بن، پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے پنیر، دودھ یا انڈا شامل کریں۔
مٹھائیوں کا استعمال محدود رکھیں، کیونکہ رمضان میں استعمال ہونے والی اکثر مٹھائیاں چینی کے شیرے سے بھرپور ہوتی ہیں۔
میٹھے کے طور پر پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، خربوزہ یا موسمی پھل مثلاً آڑو یا نیکٹرین بہتر انتخاب ہیں۔زیادہ چکنائی والی غذاؤں خصوصاً چربی والے گوشت، پف پیسٹری یا مکھن/مارجرین والی اشیا سے پرہیز کریں۔
نمک اور چکنائی سے متعلق احتیاط:
تلنے کے بجائے اسٹیم میں پکانا، ہلکے تیل میں ہلکا فرائی کرنا، سالن میں پکانا یا بیک کرنا بہتر رہے گا۔
زیادہ نمک والی اشیا جیسے ساسیجز، پراسیسڈ اور نمکین گوشت یا مچھلی، زیتون، اچار، سنیکس، نمکین پنیر، تیار شدہ کریکرز، سپریڈز اور ساسز (مایونیز، مسٹرڈ، کیچپ) سے پرہیز کریں۔
کھانا بناتے وقت نمک کم سے کم استعمال کریں اور دسترخوان پر نمک دان نہ رکھیں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے مختلف جڑی بوٹیاں استعمال کریں۔
اپنی ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں کھائیں اور آہستہ کھائیں، کیونکہ زیادہ کھانا سینے کی جلن اور بے آرامی کا باعث بنتا ہے۔
شام کے اوقات میں باقاعدہ چہل قدمی جیسی ہلکی جسمانی سرگرمی اپنانے کی کوشش کریں۔

*🔴سیف نیوز اردو*

ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا ایران ۔ اسرائیل جنگ کے دوران بھا...