Sunday, 19 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑فیفا ورلڈ کپ فائنل سے قبل فٹبال کا جنون عروج پر، کیرالہ میں پیر کو اسکولوں اور کالجوں میں تعطیل، ریاست میں جشن کا ماحول*
ترواننت پورم: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے پیش نظر کیرالہ حکومت نے پیر کے روز ریاست کے تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ وی ڈی ستیسن کی ہدایت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ریاست کے طلبہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے پیر کو تعطیل کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ طلبہ اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فائنل رات دیر تک اطمینان سے دیکھ سکیں اور اگلی صبح کلاسوں میں حاضری کی فکر نہ ہو۔ فائنل پیر کو ہندوستانی وقت کے مطابق رات 12:30 بجے شروع ہونا ہے۔ حکومت کے فیصلے کے تحت جنرل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے تمام اسکولوں کے علاوہ ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے تحت آنے والے کالجوں، یونیورسٹیوں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں بھی تعطیل رہے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ فائنل جیسے بڑے کھیلوں کے مقابلے کو دیکھنے کا موقع طلبہ کے لیے بھی خاص ہوتا ہے، اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے رہیں گے بند

ہائر ایجوکیشن منسٹر روزی ایم جان نے بتایا کہ پیر کے روز تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے بند رہیں گے، تاکہ طلبہ کسی پریشانی کے بغیر فائنل میچ سے لطف اندوز ہو سکیں۔ وہیں جنرل ایجوکیشن منسٹر این شمسی الدین نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اسکولوں میں تعطیل کی تصدیق کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا، ’’اب خوش ہو، بچوں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلبہ کے جذبات اور ان کے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔

کیرالہ میں فٹبال کسی تہوار سے کم نہیں

کیرالہ میں فٹبال کی مقبولیت کسی تہوار سے کم نہیں ہے۔ ریاست کے کئی علاقوں میں سڑکوں، چوراہوں اور کھیل کے میدانوں پر اسپین اور ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کے بڑے بڑے کٹ آؤٹ لگائے گئے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے حامیوں نے جھنڈوں، بینروں اور سجاوٹی دروازوں کے ذریعے ماحول کو رنگین بنا دیا ہے۔ مقامی فین کلبوں نے بھی عوامی اسکریننگ، ریلیوں اور جشن کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، جس کے باعث پوری ریاست میں جشن کا ماحول ہے۔

کئی اضلاع میں پہلے ہی تعطیل کا اعلان

ریاستی حکومت کے اعلان سے قبل ایرناکولم سمیت کئی اضلاع کے بعض اسکولوں نے طلبہ اور والدین کے مطالبے پر اپنی سطح پر ہی تعطیل کا اعلان کردیا تھا۔ بعد میں ریاستی حکومت کے فیصلے سے پورے کیرالہ میں یکساں انتظام نافذ ہوگیا۔ اس فیصلے کے بعد طلبہ، اساتذہ اور والدین کے درمیان موجود کسی بھی طرح کی الجھن بھی ختم ہوگئی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ فائنل کو لے کر پورے کیرالہ میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ عوامی ویونگ سینٹرز، بڑی ایل ای ڈی اسکرینوں اور خصوصی پروگراموں کے درمیان لاکھوں فٹبال شائقین اپنی پسندیدہ ٹیم کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ کھیل کے تئیں کیرالہ کے لوگوں کا یہ گہرا لگاؤ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ریاست میں فٹبال محض ایک کھیل نہیں، بلکہ لوگوں کی ثقافت اور جنون کا ایک اہم حصہ ہے۔











*🛑وانگچک کی اسپتال منتقلی کے بعد ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کردی*
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رہے ہیں۔ دیپکے نے یہ اعلان کارکن سونم وانگچک کو دہلی پولیس کے ذریعہ جنتر منتر کے احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد کیا۔

ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "میں ابھی سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رہا ہوں۔

"پولیس نے طبی مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے سونم وانگچک کو ہفتہ کے اوائل میں اسپتال منتقل کیا ہے۔وانگچک گزشتہ 21 دنوں سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔
پولیس کی کارروائی کے بعد، دیپکے نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے اُن کے ساتھ مار پیٹ کی اور حراست میں لے لیا۔ انھوں نے اس پوری کارروائی کو جنتر منتر پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن قرار دیا۔ تاہم، پولیس نے کہا کہ وانگچک کو "ضروری طبی دیکھ بھال" کے لیے منتقل کیا گیا ہے اور مظاہرین سے پرامن طریقے سے جگہ خالی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود طلباء تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کے ارکان نیہا، امین اور منیش نے 21ویں دن بھی احتجاجی مقام پر بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔ اے آئی ایس اے کے مطابق مظاہرین نے ان کے گرد انسانی زنجیر بنائی اور پولیس کو زبردستی انہیں ہٹانے سے روک دیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق تین طلبہ کارکنوں کی صحت خراب ہوگئی ہے۔ منتظمین نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے انہیں احتجاج کے مقام سے حراست میں لینے کی کوشش کی۔

نیہا نے الزام لگایا کہ ہفتہ کی صبح تقریباً سات بجے، "سادہ کپڑوں میں کچھ لوگ اسٹیج ایریا میں داخل ہوئے"، جس کے بعد وانگچک کو طبی امداد فراہم کرنے کے نام پر پولیس زبردستی لے گئی۔

منتظمین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کارکنوں کی حمایت میں جنتر منتر پر جمع ہوں کیونکہ بھوک ہڑتال ہفتہ کو 21ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
وہیں، عام آدمی پارٹی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کی حمایت اور پولیس کارروائی کی مخالفت کی ہے۔

عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے ہفتہ کے روز کارکن سونم وانگچک کو دہلی پولیس کے ذریعہ اسپتال منتقل کرنے پر سخت تنقید کی۔ عآپ نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا الزام لگایا اور طلباء سے اپیل کی کہ وہ وانگچک کی تحریک کی حمایت جاری رکھیں۔

راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ وانگچک کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے انہیں زبردستی اسپتال منتقل کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز کے کسی نمائندے نے ان کے انشن کے دوران کارکن سے بات نہیں کی اور الزام لگایا کہ پولیس نے جنتر منتر پر جمع ہونے والے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔
سنگھ نے مزید الزام لگایا کہ یہ کارروائی 20 جولائی کو 'چلو سنسد' کے مجوزہ مارچ سے پہلے کی گئی ہے۔ عآپ لیڈر نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ وانگچک کے احتجاج کی حمایت جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس ایکشن کے ذریعے تحریک کو دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔












*🛑مسلسل لیپ ٹاپ پر کام کرنا یا دیر تک گردن جھکا کر موبائل دیکھنا ،اس بیماری کو دعوت دینا*
نئی دہلی : آج کی تیز رفتار زندگی میں ہماری روزمرہ کی عادات تیزی سے بدل رہی ہیں۔ دفتر میں گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کام کرنا، مسلسل موبائل فون استعمال کرنا اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی جیسی عادات صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ انہی مسائل میں ایک عام بیماری سروائیکل درد ہے، جو پہلے زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں دیکھی جاتی تھی، لیکن اب نوجوان بھی تیزی سے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق مسلسل لیپ ٹاپ پر کام کرنا یا دیر تک گردن جھکا کر موبائل دیکھنا گردن کے پٹھوں اور ہڈیوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ ابتدا میں معمولی درد، کھنچاؤ اور تھکن محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔گردن میں ریڑھ کی ہڈی کا ایک حصہ موجود ہوتا ہے جسے “سروائیکل اسپائن” کہا جاتا ہے۔ یہ حصہ گردن کو سہارا دیتا ہے اور اسے آسانی سے حرکت دینے میں مدد کرتا ہے۔ سروائیکل اسپائن سات چھوٹی ہڈیوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن کے درمیان موجود ڈسکس جھٹکوں کو برداشت کرتی ہیں اور گردن کی حرکت کو آسان بناتی ہیں۔ جب ان ہڈیوں، ڈسکس یا اعصاب پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو گردن میں درد، اکڑاؤ اور کھنچاؤ محسوس ہونے لگتا ہے، جسے عام زبان میں سروائیکل کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ درد کندھوں، بازوؤں اور انگلیوں تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط انداز میں بیٹھنا سروائیکل کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر کام کرتے وقت اگر گردن مسلسل آگے کی طرف جھکی رہے تو پٹھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتا ہے، کیونکہ دیر تک گردن نیچے رکھ کر فون دیکھنے سے گردن پر معمول سے کئی گنا زیادہ وزن پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک ہی جگہ پر طویل وقت تک بیٹھے رہنا، غلط انداز میں سونا، اونچا تکیہ استعمال کرنا، اچانک بھاری وزن اٹھانا یا گردن پر چوٹ لگنا بھی سروائیکل کی وجوہات بن سکتی ہیں۔سروائیکل کی ابتدائی علامات میں گردن کا ہلکا درد، اکڑاؤ اور حرکت میں دشواری شامل ہیں۔ بعض افراد کو صبح اٹھنے کے بعد گردن گھمانے میں مشکل پیش آتی ہے، جبکہ کندھوں میں درد، سر کا بھاری پن یا ہاتھوں میں سنسناہٹ بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ اگر درد مسلسل برقرار رہے یا ہاتھوں میں کمزوری آنے لگے تو اسے ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ماہرین کے مطابق سروائیکل سے بچاؤ کے لیے روزمرہ کی عادات میں معمولی تبدیلی کافی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ کام کرتے وقت سیدھا بیٹھیں، کمپیوٹر کی اسکرین کو آنکھوں کی سطح پر رکھیں، مسلسل بیٹھنے کے بجائے وقفے وقفے سے اٹھ کر چہل قدمی کریں اور گردن کو آرام دیں۔ موبائل استعمال کرتے وقت گردن زیادہ دیر تک نہ جھکائیں، روزانہ ہلکی ورزش کریں اور سوتے وقت ایسا تکیہ استعمال کریں جو گردن کو قدرتی اور آرام دہ حالت میں رکھ سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انتقال پر ملال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ خبر انتہائی دکھ و رنج غم کے ساتھ دی جاتی ھے کہ قدوائی روڑ شملہ فوٹ وئیر وگولڈن ایجنسی عبداللہ بھائی فیت والے کے لڑکے منیب بھائی و عاصم بھائی کے بڑے بھائی ندیم بھائی فیت والے کا انتقال ھو گیا ھے ۔۔۔۔۔۔انا نللہ وانا اللہ۔۔۔۔۔۔۔جنازہ کا وقت ابھی طے نہی ھوا ھے وقت طے ھونے کے بعد اطلاع کردی جائے گی 
۔۔۔۔سوگوار غم۔۔۔۔
عابد بھائی پرفیکٹ فوٹ وئیر
ذاکر بھائی نیشنل فوٹ وئیر
شاکر بھائی نیشنل فوٹ وئیر
ایم ایم کامپیلیکس قدوائی روڑ
خانواداہ حاجی سلیم اللہ فیمیلی۔۔۔۔عرفان پرتیما۔۔۔۔۔سفیان اپسرا۔۔۔۔فضل ھادی۔۔۔۔شفیق رفیع فوڈ وئیر۔۔۔۔۔اشفاق ناولٹی۔۔۔۔۔۔ابوبکر راج رانی۔۔۔۔۔انیس پا پولر ۔۔۔۔۔۔۔امجد بھائی چپل والے۔۔۔۔محی الدین بھائی۔۔۔۔۔پیش امام دارلعلوم محمدیہ مولانا یاسین صاحب
آپ لوگوں کے غم میں شریک ھیں
اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔۔۔۔آمین








*افتتاحی تقریب*
_*آفس نیو لائف ہیلپ اینڈ کونسلنگ سینٹر*_
_*نئی نسل (نیو جنریشن) میں دھیرے دھیرے بڑھتے ہوئے نشے کی لت سے اور دیگر سماجی برائیوں سے تباہ ہونے سے بچانے کے لیے اسباب کے درجے میں انکا برین واش... کانسلنگ... ذہن سازی کرنا ضروری....!*
*نئ نسل (نیو جنریشن) کےدماغ میں بڑھتی ہوئی خرافات اور بے راہ روی اور نشے کے نیکوٹین نامی جراثیم کو صاف کرنے کے لیے ہمارے بچوں کی زہن سازی کرنے کے لیے اتحاد و اتفاق ضروری ہے۔*

معاشرے میں پنپتی ہوئی نشے کی بُری لت اور تمام سماجی بُرائیوں کے خاتمے کے لیے ایک ادنیٰ سی کوشش۔  

*نشے کی بُری لت سے ہمارے بچوں کو بچانے کے لیے*
*بیٹی بچاؤ... بیٹا بچاؤ... خاندان کی عزت بچاؤ*

 *پیار عشق محبت کے نام پر دھوکہ، نشہ، خودکشی،* 
*اور انسٹاگرام فیس بک پر بڑھتے ہوئے خرافات سے پاک کرنے کے لیے۔*

*یہ ایک گھر کا نہیں ہر گھر کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے*
____________________
_الحمدللہ یہ خبر دیتے ہوئے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ_  
مورخہ *23 جولائی 2026 بروز جمعرات رات ساڑھے نو بجے*  
شاپنگ نمبر *122 {نمیرہ ہائیٹس للے چوک اسلامپورہ}* میں  
بنام *آفس نیو لائف ہیلپ اینڈ کونسلنگ سینٹر* آفس کی افتتاحی تقریب منعقد کی جارہی ہے۔

جس کا مقصد شہر عزیز مالیگاؤں میں بڑھتے ہوئے نشے اور کرائم و سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے کوش کرنا،  
لوگوں کی ذہن سازی کرنا اور حکمت عملی کے ذریعے شہر سے نشہ اور سنگین سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے کوشش کرنا ہے۔


_🔷... *افتتاح بدست*...🔷_
******************
_________________
 🌷 .... *مئیر نسرین شیخ خالد حاجی صاحبہ* {مالیگاؤں مہانگر پالیکا}
♾️➰♾️➰♾️➰♾️
_..... *زیر سرپرستی*....._ 
👁️‍🗨️👁️‍🗨️👁️‍🗨️👁️‍🗨️👁️‍🗨️👁️‍🗨️👁️‍🗨️
*🥀....عالی جناب سورج گنجال صاحب*
*مالیگاؤں شہر ایڈیشنل اے ایس پی*

🌻 .... *عالیجناب شیخ آصف صاحب* 
سابق ایم ایل اے مالیگاؤں

🌸 .... *عالی جناب ایڈوکیٹ فیض واصف صاحب*

*🌼... عالی جناب ایم ایم خان صاحب*
_=============_
_**************_
_....... *زیر نگرانی*......_
♾️➰♾️➰♾️➰♾️
🌷 .... *ضیاء الرحمن مسکان گروپ*
🔷 .... *ایم آئی سی بلڈ ڈونر گروپ*
👁️‍🗨️ .... *مدینہ آباد گروپ*
🟢 .... *قلعہ تیراک گروپ*
🌹 .... *مصطفی سلام چاچا گروپ*
🌺 .... *للّہ چیریٹیبل فاؤنڈیشن گروپ*
🌸 .... *الخدمت خواتین گروپ، باغ اسحاق*
🌷 .... *الیون اسٹار گروپ مالیگاؤں*
➰ .... *مالیگاؤں ہیلتھ آرگنائزیشن، مالیگاؤں*
🌺 .... *اسمٰعیل رحمانی گروپ {گلاب پارک}*
🌻 .... *رضوان بھانجہ گروپ سلامت آباد*
♾️ .... *ادارہ النسیم، ایوب نگر*
🍂 .... *عادل امان فاؤنڈیشن رمضانپورہ*
👁️‍🗨️ .... *نصر فاؤنڈیشن، مالیگاؤں*
🟢 .... *نعمان فاؤنڈیشن رمضانپورہ*
🔷 .... *ادارہ ستارہ ہند گولڈن نگر*
🌸 .... *نسیم قدسی کفن سینٹر گروپ*
🌹 .... *ہلال کفن سینٹر گروپ، مالیگاؤں*
🌸 .... *مسلم اننتی سیوا فاؤنڈیشن مالیگاؤں*
✅ .... *ایم رؤف سوسائٹی گاندھی نگر*
👁️‍🗨️ .... *عتیق موٹو گروپ سنجری چوک*
.... *معاون کارپوریٹر شفیق آرگن گروپ رمضانپورہ*
.... *عضباء ایجوکیشنل ویلفر سوسائٹی، رونق آباد*
🌻 .... *ادارہ پاسبان محمدیہ عبداللہ نگر*
🌹 .... *ادارہ ابرار مومن پورہ*
🌷 .... *فرینڈ سرکل گروپ بنارسی چوک*
🌺 .... *لڈو بلڈر کمالپورہ*
➰ .... *ہیلتھ کمیٹی فاطمہ آپا گروپ مدنی نگر*
🌷 .... *صابر نورانی گروپ، مدنی دربار مالیگاؤں*
🎋 .... *واجد کامریڈ گروپ سرسید نگر*
☘️ .... *محمد کامل النور فیبرک گروپ دیوی کا ملہ*
🌳 .... *سفیان ایمبولینس والا گروپ، مالیگاؤں*
🍀 .... *ادارہ سید شاہ داد مچھلی بازار*
*اعجاز شاہین مالیگاؤں گروپ*

 ̶ ̶ ̶ ̶ ̶ ̶̶








*🛑امریکہ سے جنگ ہوگی یا پھر امن مذاکرات، ایران میں کون کرتا ہے فیصلہ؟ عباس عراقچی نے کیا انکشاف*
اگرچہ ملک کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل پورے حالات کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن آخری منظوری سپریم لیڈر ہی دیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد معاہدے کے تحت یہ امن معاہدہ ہوا تھا، جسے گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ تاہم یہ امن زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکا اور اب دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر کھلی جنگ چھڑ گئی ہے۔

وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ اس معاہدے کے حوالے سے سیکورٹی کونسل کا اجلاس رات 9 بجے سے لے کر صبح 3 بجے تک، یعنی مسلسل 6 گھنٹے ہوا تھا۔ انہوں نے ایک اور حیران کن بات بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج تک نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو کبھی آمنے سامنے نہیں دیکھا۔ ایران میں صرف مٹھی بھر لوگوں کو ہی ان سے ذاتی طور پر ملاقات کی اجازت حاصل ہے۔

ایران نے دنیا کو دیا پیغام
عباس عراقچی نے بتایا کہ امریکہ نے ایک بار پھر ایران سے یورینیم کی افزودگی (یورینیم انرچمنٹ) مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔ اس کے بعد ایران نے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جا سکے کہ اس نے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

انہوں نے ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج تک سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے کبھی آمنے سامنے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ بہت کم لوگوں کو ان سے ملاقات کا موقع ملتا ہے۔خامنہ ای امریکہ کو پہلے ہی ’’عظیم شیطان‘‘ بتا چکے ہیں
دریں اثنا، خود سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آ کر امریکہ کے خلاف سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکہ کو ’’عظیم شیطان‘‘ بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ واشنگٹن نے اس معاہدے کی شرائط کو بار بار توڑا ہے۔ مجتبیٰ نے لکھا کہ امریکہ کے اس رویے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ان پر بالکل بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

Saturday, 18 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

نیند پوری نہ ہونے سے بچوں کی ذہنی صحت کیسے متاثر ہوتی ہے؟
سائنسدان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بچپن میں بھرپور نیند لینے سے دماغ کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ویب سائٹ این آئی ایچ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 سال سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو ہر روز 9 گھنٹوں تک سونا چاہیے تاہم ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آ سکی تھی کہ کم سونے سے دماغ پر کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس سوال کے جواب کے لیے یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ڈاکٹر زی وینگ اور اُن کی ریسرچ ٹیم نے کم نیند کی وجہ سے دماغ پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیق کی۔یہ تحقیق این آئی ایچ کی اڈولسنٹ برین کوگنیٹیوو ڈیلوپمنٹ (اے بی سی ڈی) پروگرام کے تحت کی گئی جس میں 9 سے 10 سال کی عمر کے 12000 بچوں نے حصہ لیا۔
ریسرچرز نے چار ہزار ایسے بچوں پر تحقیق کی جو دن میں 9 گھنٹے نیند پوری کرتے ہیں۔
اسی طرح اس گروپ کا موازنہ چار ہزار ایسے بچوں سے کیا گیا جو کے 9 گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔
یہ تحقیق دو سال کے عرصے تک جاری رہی جس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ جو بچے کم سوتے ہیں اُن کی ذہنی صحت اور رویے میں 9 گھنٹے نیند کرنے والے بچوں کی نسبت کافی مسائل سامنے آئے۔
ان مسائل میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی، جارحانہ رویہ اور سوچنے کی قابلیت پر پڑنے والے منفی اثرات شامل ہیں۔
ایسے بچے فیصلہ کرنے، معاملات کو سلجھانے، یاداشت رکھنے اور سیکھنے کے عمل میں بھی پیچھے ہیں۔
اس تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے نیند نہ پوری کرنے والے بچے سیکھنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اُن کے رویوں میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ اے بی سی ڈی تحقیق ابھی جاری ہے اور ریسرچرز سمجھتے ہیں کہ آگے آنے والے نتائج مزید ایسے مواقعے پیدا کریں گے جس سے نیند نہ پوری ہونے سے دماغ پر پڑنے والے اثرات کو دیکھا جائے گا۔











گاندھی سے سونم وانگچک تک، انڈیا میں بھوک ہڑتال سیاسی ہتھیار کیسے بنا؟
یہ تحقیق این آئی ایچ کی اڈولسنٹ برین کوگنیٹیوو ڈیلوپمنٹ (اے بی سی ڈی) پروگرام کے تحت کی گئی جس میں 9 سے 10 سال کی عمر کے 12000 بچوں نے حصہ لیا۔
ریسرچرز نے چار ہزار ایسے بچوں پر تحقیق کی جو دن میں 9 گھنٹے نیند پوری کرتے ہیں۔
اسی طرح اس گروپ کا موازنہ چار ہزار ایسے بچوں سے کیا گیا جو کے 9 گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔
یہ تحقیق دو سال کے عرصے تک جاری رہی جس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ جو بچے کم سوتے ہیں اُن کی ذہنی صحت اور رویے میں 9 گھنٹے نیند کرنے والے بچوں کی نسبت کافی مسائل سامنے آئے۔
ان مسائل میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی، جارحانہ رویہ اور سوچنے کی قابلیت پر پڑنے والے منفی اثرات شامل ہیں۔
ایسے بچے فیصلہ کرنے، معاملات کو سلجھانے، یاداشت رکھنے اور سیکھنے کے عمل میں بھی پیچھے ہیں۔
اس تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے نیند نہ پوری کرنے والے بچے سیکھنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اُن کے رویوں میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ اے بی سی ڈی تحقیق ابھی جاری ہے اور ریسرچرز سمجھتے ہیں کہ آگے آنے والے نتائج مزید ایسے مواقعے پیدا کریں گے جس سے نیند نہ پوری ہونے سے دماغ پر پڑنے والے اثرات کو دیکھا جائے گا۔انڈیا کا نقشہ بدلنے کے لیے ایک شخص کو 58 دن بغیر کھانا کھائے گزارنا پڑے تھے۔

جب پوٹی سری رامولو نے اکتوبر 1952 میں بھوک ہڑتال شروع کی تو وہ ایک ایسے مطالبے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے جس کی اُس وقت کے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو بار بار مخالفت کر چکے تھے: تیلگو بولنے والوں کے لیے ایک الگ ریاست۔

سری رامولو ایک خاموش مزاج گاندھی کے ماننے والے تھے جو اس سے پہلے سماجی مقاصد کے لیے کئی بھوک ہڑتالیں کر چکے تھے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ صرف ان کی قربانی ہی دہلی کو سننے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔

58ویں دن سری رامولو وفات پا گئے۔تیلگو بولنے والے علاقوں میں لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے، ریلوے لائنیں بند کر دی گئیں اور اس کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملیں۔

چند ہی دن بعد نہرو نے ریاست آندھرا کے قیام کا اعلان کر دیا۔

کچھ ہی برسوں میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کا کمیشن وجود میں آیا اور انڈیا کی نئی تشکیل لسانی بنیادوں پر ہوئی۔

انفرادی احتجاج کی بہت کم مثالیں ہیں جنھوں نے کسی ملک پر اتنا گہرا اثر چھوڑا ہو۔
مؤرخ رام چندر گہا نے لکھا ہے کہ ’سری رامولو آج ایک فراموش شدہ شخصیت ہیں۔ یہ افسوس ناک بات ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ملک کی تاریخ ہی نہیں بلکہ جغرافیے پر بھی کہیں زیادہ اثر ڈالا تھا۔‘

ایک شخص کا خالی پیٹ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سرحدیں نئے سرے سے متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوا تھا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی انڈیا میں لوگ فطری طور پر بھوک ہڑتال کا سہارا لیتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک ہیں، جن کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال نے ان کی تیزی سے بگڑتی صحت کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے۔

59 سالہ وانگچک صرف نمک والے پانی پر 19 دن گزار چکے ہیں۔ اس دوران ان کا وزن نو کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا ہے۔ وہ آن لائن طنزیہ تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی حمایت میں احتجاج کر رہے ہیں، جو تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ان کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے مطالبات بڑھنے کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ نے حکومت کو وانگچک کی صحت کی نگرانی کرنے اور ضرورت پڑنے پر علاج فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
کسی بھی ملک نے بھوک ہڑتال کو اپنی سیاست کا اس انداز میں حصہ نہیں بنایا جس طرح انڈیا نے بنایا ہے۔

دنیا کے دیگر حصوں میں مظاہرین سڑکیں بند کرتے ہیں یا جلوس نکالتے ہیں۔

انڈیا میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں لوگ کھانا بھی ترک کر دیتے ہیں۔

یہ روایت انڈیا کے قیام سے کئی صدیوں پہلے کی ہے۔

ہندو مت، بدھ مت اور جین مت سب رضاکارانہ ضبطِ نفس کو اخلاقی اہمیت دیتے ہیں۔

انڈیا کی تحریکِ آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی نے اس قدیم روایت کو جدید سیاست میں بدل دیا۔

ان کا اصرار تھا کہ بھوک ہڑتال بلیک میلنگ نہیں بلکہ تکلیف برداشت کرنے کا ایسا عمل ہے جس کا مقصد کسی کو مجبور کرنا نہیں بلکہ بیدار کرنا ہے۔

1918 سے لے کر 1948 میں اپنے قتل تک گاندھی نے مذہبی تشدد، ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور سیاسی اختلافات کے خلاف بارہا بھوک ہڑتالیں کیں اور اسے انڈیا میں آزادی کی جدوجہدِ کی بڑی نشانیوں میں شامل کر دیا۔

ایک اندازے کے مطابق گاندھی نے کم از کم 15 بڑی بھوک ہڑتالیں کیں۔

ان کی طویل ترین بھوک ہڑتال 21 دن جاری رہی جبکہ جنوری 1948 میں ان کی آخری بھوک ہڑتال پانچ دن جاری رہی اور اس نے دہلی میں فرقہ وارانہ امن بحال کرنے میں مدد دی۔

گاندھی نے 1948 میں اپنی آخری بھوک ہڑتال سے قبل لکھا تھا کہ ’بھوک ہڑتال تلوار کی جگہ آخری ہتھیار ہے۔‘

جب 1947 میں مذہبی فسادات روکنے کے لیے گاندھی نے کلکتہ (موجودہ کولکتہ) میں بھوک ہڑتال کی تو برطانوی ملکیت کے اخبار سٹیٹس مین نے لکھا کہ ’سیاسی ہتھیار کے طور پر بھوک ہڑتال کی اخلاقیات کے بارے میں ہم کئی برسوں سے انڈیا کے اس سب سے معروف عمل کرنے والے شخص سے اتفاق نہیں کر سکے۔۔

’لیکن ہمارے نزدیک اپنے طویل کیریئر میں مہاتما گاندھی نے کبھی بھی اس سے زیادہ سادہ اور زیادہ باوقار مقصد کے لیے بھوک ہڑتال نہیں کی۔ نہ ہی کسی ایسے مقصد کے لیے جس کا فوری اور مؤثر انداز میں عوامی ضمیر پر اثر ڈالنے کا حساب لگایا گیا ہو۔‘

آزاد انڈیا نے یہ روایت ورثے میں پائی ہے۔ کسانوں کے حقوق، مثبت امتیازی اقدامات، ماحولیاتی تحفظ، انسدادِ بدعنوانی قوانین اور متنازع سکیورٹی قانون سازی کے خاتمے کے مطالبات کے لیے بھوک ہڑتالیں کی جا چکی ہیں۔
2011 میں سماجی کارکن انا ہزارے کی 13 روزہ بھوک ہڑتال نے ملک میں انسدادِ بدعنوانی کی ایک مہم شروع کی۔

اروم شرمیلا نے انڈیا کے شمال مشرق میں آرمڈ فورسز (سپیشل پاورز) ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 16 برس تک کھانا کھانے سے انکار کیا۔ وہ صرف اس لیے زندہ رہ سکیں کیونکہ حکام زبردستی ناک کی نالی کے ذریعے انھیں خوراک دیتے رہے۔

نمایاں سماجی کارکن میدھا پاٹکر نے بڑے ڈیم منصوبوں سے بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے مناسب معاوضے اور بحالی کا مطالبہ کرنے کی خاطر بارہا طویل بھوک ہڑتالیں کی ہیں۔

یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ کے ماہرِ بشریات ساینتن ساہا رائے کی حالیہ تحقیق بھوک ہڑتال کی سیاست کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بھوک ہڑتال احتجاج کی ایک عالمی شکل ہے۔ یہ صرف انڈیا تک محدود نہیں۔‘

یقیناً برطانوی سلطنت بھر میں بھوک ہڑتال نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کی ایک مشترکہ زبان بن کر ابھری۔ اسے برطانیہ میں حقِ رائے دہی کی حامی خواتین اور آئرلینڈ و انڈیا کے قوم پرستوں نے اپنایا۔

ساہا رائے کہتے ہیں کہ ’لیکن انڈیا میں حکومتیں بڑی حد تک جواب دہ نہیں ہوتیں۔ یہاں مظاہرین اکثر سمجھتے ہیں کہ اقتدار میں موجود لوگوں کو اقدام پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ بھوک ہڑتال ہے۔‘

ان کے مطابق انڈیا میں بھوک ہڑتال کی خاص طور پر مضبوط روایت اس لیے موجود ہے کیونکہ گاندھی نے اسے ایک دیرپا اخلاقی اور سیاسی عمل میں بدل دیا تھا۔

’ذاتی مفاد پر مبنی سیاست کی دنیا میں قربانی کی یہ مثال نمایاں ہے۔ جیسے جیسے احتجاج کرنے والے کا جسم کمزور ہوتا ہے، اقتدار میں موجود لوگوں پر اخلاقی اور سیاسی دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔‘

تاہم یہ دباؤ سامعین پر منحصر ہوتا ہے۔

ساہا رائے کہتے ہیں کہ ’اثر پیدا کرنے کے لیے بھوک ہڑتالوں کا نمایشی ہونا ضروری ہے۔ ان کا ہدف صرف ریاست نہیں بلکہ عوام بھی ہوتے ہیں، جن کا غصہ اقتدار میں موجود لوگوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔‘

وہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں کی آئرش بھوک ہڑتالوں کی مثال دیتے ہیں۔

’یہ مظاہرین (آئرش ریپبلکن، جو مجرموں کے بجائے سیاسی قیدیوں کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے) اپنی تکلیف اور اپنی موت کو قبول کرنے کے ذریعے آئرش عوام کو متحرک کرنا چاہتے تھے۔ اس طرح بھوک ہڑتال کرنے والے کا جسم ریاست کی سختی کا ثبوت بن جاتا ہے۔

’لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ عوام ردِ عمل دیں گے اور یہی بات بھوک ہڑتال کو احتجاج کی ایک غیر یقینی شکل بناتی ہے۔‘
تاہم اپنی تمام اخلاقی طاقت کے باوجود بھوک ہڑتال تنقید سے کبھی بالاتر نہیں رہی۔

اگر گاندھی نے بھوک ہڑتال کو ایک اخلاقی ہتھیار کا درجہ دیا تو انڈیا کے عظیم رہنماؤں میں شمار ہونے والے بی آر امبیڈکر آزاد انڈیا میں اس کے بارے میں گہرا شکوک رکھتے تھے۔

1949 کی ایک اہم تقریر میں انھوں نے کہا کہ جب آئینی راستے موجود ہوں تو بھوک ہڑتال اور سول نافرمانی جیسے طریقوں کی جگہ جمہوری عمل کو اختیار کرنا چاہیے، ورنہ یہ انارکی میں بدل سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جتنا جلد انھیں ترک کر دیا جائے، ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔‘

یہ بحث کبھی ختم نہیں ہوئی۔

حالیہ برسوں میں ناقدین یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ کیا موت کا سبب بننے والی بھوک ہڑتال ایک آئینی جمہوریت میں جائز ہے؟

2011 میں انا ہزارے کی انسدادِ بدعنوانی بھوک ہڑتال کے دوران لکھتے ہوئے سیاسی فلسفی پرتاپ بھانو مہتا نے استدلال کیا کہ ایسے احتجاج ’شدید جبر آمیز‘ بن سکتے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ جب اسے ’بے مثال اخلاقی برتری‘ کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو ایسی بھوک ہڑتال ’بلیک میلنگ کے مترادف‘ ہو جاتی ہے۔

عوامی شکوک و شبہات بھی اسی مناسبت سے بڑھے ہیں۔

سوشل میڈیا ایسے لطیفوں سے بھرا ہوتا ہے جن میں سیاست دانوں کے بند دروازوں کے پیچھے کھانا کھانے یا اپنی ’بھوک ہڑتال‘ کا اختتام پُرتعیش ضیافتوں سے کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔

کچھ بھوک ہڑتالیں صرف چند گھنٹے جاری رہتی ہیں جبکہ بعض کو بینرز، سٹیج اور براہِ راست ٹی وی کوریج کے ساتھ منصوبہ بندی کے تحت میڈیا کے بڑے مظاہرے کی شکل دی جاتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں، ہر خالی پیٹ یکساں سیاسی وزن نہیں رکھتا اور تاریخ بھی اس کی تصدیق کرتی دکھائی دیتی ہے۔

سری رامولو کی موت نے خود وفاقی ڈھانچے کو نئی شکل دی۔

ہزارے کے احتجاج نے وقتی طور پر ملک گیر انسدادِ بدعنوانی تحریک کو متحرک کیا لیکن اس کی رفتار جلد ہی کم ہو گئی۔

شرمیلا مزاحمت کی ایک عالمی علامت بن گئیں تاہم جس قانون کی وہ مخالفت کر رہی تھیں، وہ برقرار رہا۔
دوسری جانب ڈاکٹر اکثر ان حالات سے غیر مطمئن ہوتے ہیں۔

دو ہفتے بغیر خوراک کے رہنے کے بعد جسم چربی کے ساتھ ساتھ پٹھوں کو بھی توڑنا شروع کر دیتا ہے۔

الیکٹرولائٹ کے توازن میں خرابی دل کی دھڑکن میں مہلک بے ترتیبی پیدا کر سکتی ہے۔

بہت جلد خوراک دوبارہ شروع کرنے سے بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

اس لیے ہر طویل بھوک ہڑتال ایک ہی وقت میں سیاسی احتجاج بھی ہوتی ہے اور طبی ایمرجنسی بھی۔

حکومتیں بھی یہ بات جانتی ہیں۔ بھوک ہڑتال کرنے والوں کو ہسپتال منتقل کر کے زبردستی خوراک دینا ایک عام عمل ہے۔

وانگچک کی جسمانی کمزوری نمایاں ہونے کے بعد اپوزیشن رہنما، کارکن، فنکار اور موسیقار پہلے ہی ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔

اس کے باوجود، شکوک و شبہات کے ماحول میں بھی انڈیا نے کبھی مکمل طور پر یہ خیال ترک نہیں کیا کہ رضاکارانہ تکلیف سیاست کو اس انداز میں متاثر کر سکتی ہے جس طرح تقاریر نہیں کر سکتیں۔

وانگچک کی بھوک ہڑتال بھی اسی روایت کی پیروی کرتی دکھائی دیتی ہے۔

ساہا رائے کہتے ہیں کہ ’اپنی تکلیف کے عوامی اظہار کے ذریعے وانگچک بظاہر گاندھی کے راستے پر چل رہے ہیں۔

’جیسے جیسے ان کی صحت بگڑتی ہے، ان کے احتجاج کو زیادہ توجہ ملتی ہے اور حکومت کے لیے سیاسی خطرات بڑھتے ہیں۔ یہ معاملہ آگے کیسے بڑھتا ہے، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔‘

وانگچک کا خالی معدہ آخرکار لوگوں کی رائے بدلتا ہے یا محض ان قربانیوں کی طویل فہرست میں شامل ہو جاتا ہے جو اپنا مقصد حاصل نہ کر سکیں، اس سے نہ صرف ان کے احتجاج کا مستقبل بلکہ انڈیا کی قدیم ترین سیاسی رسومات میں سے ایک کی دیرپا طاقت کا بھی تعین ہو سکتا ہے۔








بھارت میں ٹرمپ اور امریکہ پر اعتماد میں کمی، 51 فیصد بھارتیوں نے ولادیمیر پوتن پر سب سے زیادہ بھروسہ ظاہر کیا
نئی دہلی : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کے آغاز کے بعد بھارت میں امریکہ اور ٹرمپ کے بارے میں عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے پِیو ریسرچ سینٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتیوں کے درمیان امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ میں واضح کمی آئی ہے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن عالمی رہنماؤں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔پِیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق صرف 45 فیصد بھارتیوں نے امریکہ کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی، جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس میں نمایاں کمی درج کی گئی۔ دوسری جانب 31 فیصد بھارتیوں نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، خصوصاً ٹیرف سے متعلق فیصلوں نے بھارت میں ان کی مقبولیت کو متاثر کیا ۔ صرف 18 فیصد بھارتیوں نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی حمایت کی۔

سروے کے مطابق عالمی معاملات میں درست فیصلے لینے کے حوالے سے بھی بھارتی عوام کا ٹرمپ پر اعتماد کم ہوا ہے۔ گزشتہ سال 52 فیصد بھارتیوں کو ٹرمپ پر اعتماد تھا، جو اس سال گھٹ کر 39 فیصد رہ گیا، جب کہ 36 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں عالمی امور پر ٹرمپ کے فیصلوں پر اعتماد نہیں ہے۔اس کے برعکس روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھارتیوں نے سب سے زیادہ قابل اعتماد عالمی رہنما قرار دیا۔ سروے میں شامل 51 فیصد بھارتیوں نے پوتن پر اعتماد کا اظہار کیا۔ دیگر عالمی لیڈرو ں میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر 34 فیصد، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون پر 33 فیصد، چین کے صدر شی جن پنگ پر 25 فیصد اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی پر 20 فیصد بھارتیوں نے اعتماد ظاہر کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 47 فیصد بھارتیوں کا ماننا ہے کہ امریکہ دیگر ممالک کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرتا ہے، جب کہ 30 فیصد اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ سروے میں شامل کچھ افراد نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا، اسی لیے تمام اعداد و شمار کا مجموعہ 100 فیصد نہیں بنتا۔اگرچہ بھارت میں امریکہ کے بارے میں مثبت رائے میں کمی آئی ہے، اس کے باوجود 36 ممالک کے مجموعی اوسط کے مقابلے میں بھارت کا رویہ نسبتاً زیادہ مثبت رہا۔ خاص طور پر چین کے مقابلے میں امریکہ کے لیے بھارتیوں کا رجحان اب بھی بہتر پایا گیا۔پِیو ریسرچ سینٹر کے مطابق دنیا بھر میں بھی امریکہ کی شبیہ کمزور ہوئی ہے۔ 8 فروری سے 13 مئی کے درمیان 36 ممالک میں کیے گئے سروے میں اوسطاً 57 فیصد بالغ افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جبکہ امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ 49 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی۔سروے میں شامل 36 ممالک میں 76 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں کہ وہ عالمی معاملات میں درست فیصلے کریں گے، جبکہ صرف 23 فیصد نے ان پر اعتماد ظاہر کیا۔ بھارت میں ٹرمپ کی مختلف پالیسیوں کے حوالے سے منظوری کی شرح بھی محدود رہی۔ امیگریشن پالیسی کو 17 فیصد، ایران سے متعلق پالیسی کو 28 فیصد، یوکرین کے معاملے پر 26 فیصد، غزہ کے حوالے سے 18 فیصد اور گرین لینڈ سے متعلق پالیسی کو 23 فیصد بھارتیوں نے پسند کیا۔

رپورٹ میں پاکستان کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں 82 فیصد افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جب کہ 90 فیصد پاکستانیوں نے چین کے بارے میں مثبت رائے دی۔ اس کے برعکس بھارت میں چین کے بارے میں مثبت رائے گزشتہ سال کے 21 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد تک پہنچ گئی، لیکن امریکہ کے مقابلے میں چین کے لیے حمایت اب بھی محدود رہی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

"خون سے کھیلنا بند کرو،" عاصم منیر کو مظاہرین کی سخت وارننگ ، PoK میں ہوگا ہر موت کا حساب
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ مظاہرین نے پاکستانی فوج کو خبردار کیا ہے کہ وہ یہ خونی کھیل بند کرے۔ مظاہرین نے لاشوں کے ڈھیر پر بیٹھے منیر کو جواب دیا، اور مطالبہ کیا کہ پی او کے میں ہونے والی ہر موت کا حساب لیا جائے گا ۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رہنماؤں نے صاف طور پر کہا ہے کہ جب تک مقتول مظاہرین کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کی جاتیں ہڑتال جاری رہے گی۔ گرفتار افراد کو رہا کر نے کی وراننگ بھی دی ہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جے اے اے سی کے رہنما سردار عمر نذیر کشمیری نے پاک فوج اور پی او کے انتظامیہ پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا اور اس کارروائی کے ذمہ داروں کا ایک دن احتساب ہوگا۔لاش سونپنے اور رہائی کی مانگ
اب تحریک کا بنیادی مطالبہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کرنا ہے۔ گرفتار مظاہرین کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ ہے۔ پی او کے کے کئی علاقوں میں احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں۔

سردار عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ ان کے ساتھیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بہت سے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ابھی تک ان کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رہے گی۔

فوج اور انتظامیہ کو وارننگ
JAAC رہنما نے پاکستان آرمی اور PoK انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ خون سے کھیلنا بند کریں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طاقت کے ذریعے تحریک کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے بقول یہ لڑائی اب صرف احتجاج نہیں بلکہ ہلاک ہونے والوں کو انصاف دلانے کے لیے ہے۔ یہ حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کی لڑائی بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کا خون بہانے والوں کو ایک دن جواب دینا پڑے گا۔

ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان
احتجاجی رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد رہیں اور تحریک کو مضبوط کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مقتولین کو انصاف نہیں مل جاتا۔ انہوں نے تمام حراست میں لیے گئے افراد کی بحفاظت واپسی کی مانگ کی اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔











سونم وانگچک کو 20 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد پولیس لے گئی اسپتال ،مظاہرین سے جبراً جنتر منتر بھی کرایا خالی
قومی دارالحکومت دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ 20 دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو اتوار کی صبح دہلی پولیس نے احتجاجی مقام سے اسپتال منتقل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ان کی طبیعت مسلسل خراب ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرانا ضروری ہو گیا تھا۔

بھاری پولیس نفری کی تعیناتی

ذرائع کے مطابق اتوار کی علی الصبح دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری جنتر منتر پہنچی اور پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کی اچانک کارروائی کے باعث احتجاجی مقام پر افراتفری اور کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔

صحت بگڑنے پر اسپتال منتقل

پولیس حکام کے مطابق سونم وانگچک گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے سخت بھوک ہڑتال پر تھے، جس کی وجہ سے ان کی صحت انتہائی تشویشناک ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں یہ بھی معلوم ہوا کہ طویل بھوک ہڑتال کے سبب ان کا وزن 9 کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا تھا اور جسم کے کئی اہم اعضا متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

طبی ایمرجنسی کا حوالہ

طبی ایمرجنسی اور قانون و انتظام کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے صبح سویرے سونم وانگچک کو ایمبولینس کے ذریعے قریبی سرکاری اسپتال منتقل کر دیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا معائنہ اور علاج کر رہی ہے۔

جنتر منتر مکمل طور پر خالی

پولیس کی کارروائی صرف وانگچک کو اسپتال لے جانے تک محدود نہیں رہی۔ جیسے ہی انہیں احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا، وہاں موجود لداخ کے سیکڑوں حامیوں اور دیگر مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی شروع کر دی۔ حالات کشیدہ ہوتے دیکھ کرپولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا جبکہ دیگر کو موقع سے ہٹا کر جنتر منتر کو مکمل طور پر خالی کرا دیا۔

مظاہرین اور پولیس کے دعوے

مظاہرین کا الزام ہے کہ انتظامیہ ایک پرامن اور جمہوری احتجاج کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف عوامی سلامتی اور قانون و انتظام برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔











شوشل میڈیا کے ذریعے فروغ اردو کے امکانات

 مہاراشٹر اردو اکادمی کی جانب سے 21 جولائی بروز منگل صبح ساڑھے دس تا شام ساڑھے چار بجے تک
اردو گھر مالیگاؤں میں تین مختلف سیشن میں ایک صوبائی سینمار منعقد کیا گیا ہے جس میں بیرونی و مقامی مقررین سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ اردو کے امکانات اِس عنوان پر اظہار خیال فرمائیں گے
اردو اکادمی کے ذریعے ہمیشہ مقامی خادمین اردو کی پذیرائی کتابوں کی اشاعت و انعامات تقریبات کا انعقاد ودیگر سلسلہ جاری رہتا ہے ماضی میں شہر عزیز مالیگاؤں سے ہمیشہ ایک رکن بطور نمائندہ شامل رہا کرتا تھا اکاڈمی شہر میں مزید تقریبات کا انعقاد کرے اور ادباء کی اعانت تو اِس کے لیے اس تقریب میں پرُ جوش شرکت فرما کراس با مقصد پروگرام کا حصہ بنیں - اور فروغ اردو سے متعلق بیداری کا مظاہرہ کریں سینمار کے شرکا کو ریاستی حکومت کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا منتظمین نے شرکت کی پرُ خلوص گزارش کی ہے بالخصوص شعراء قلمکاران، صحافیوں، اردو اساتذہ محققین، طلباء باذوق اردو دانوں سے

Friday, 17 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی تیاری میں پاکستان ، POJK پر دشمن ملک کے نئی چال سے ہندوستان الرٹ
نئی دہلی: پاکستان نے گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک نئی چال چلی ہے ۔ وہاں کی اسمبلی نے اس خطے کو پاکستان کا عارضی صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کی ہے۔ اس اقدام سے پاکستان وہاں کے عوام کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی حقوق دینے کی کوشش کررہا ہے۔ اس قرارداد میں ایک چالاک حربہ بھی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے تنازعہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف پاکستان اسے اپنے نظام میں لا رہا ہے تو دوسری طرف وہ اپنی پرانی لائن کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت نے مسلسل کہا ہے کہ پورا جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، بشمول گلگت بلتستان۔ بھارت اس تجویز کو پاکستان کے غیر قانونی قبضے کے تحت علاقے کو تبدیل کرنے کی ایک اور سازش کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس دوران پاکستان اپنے ہی جال میں گہرا الجھا ہوا ہے۔ PoJK اور بلوچستان میں شورش پھوٹ پڑی ہے۔

PoJK میں پاکستان کے خلاف شورش پھوٹ پڑی
ایک طرف پاکستان گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ دوسری طرف، PoJK میں اس کے خلاف بڑے پیمانے پر شورش پھیل رہی ہے۔ راولکوٹ میں مسلسل چھٹے ہفتے بھی احتجاج جاری ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اب تک 12 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جے اے سی کے رہنما سردار عمان خان نے پاکستان پر علاقے پر زبردستی قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ عمان خان نے کہا کہ “یہ زبردستی قبضہ شدہ علاقہ ہے،” یہ صاف کرتے ہوئے کہ فتح حاصل کرنے تک تحریک جاری رہے گی۔پاکستانی فوج نے ہی کشمیریوں کے ہاتھ میں تھمائے تھے ہتھیار
PoJK میں اب براہ راست پاکستانی فوج کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ راولکوٹ کے عیدگاہ گراؤنڈ میں 80 ہزار لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ اس جلسہ عام میں سردار عمان خان نے پاکستانی فوج کو بے نقاب کیا۔ عمان خان نے کہا، ’’پاکستان آرمی نے خود کشمیریوں کو بندوقیں دی تھیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی فوج کشمیریوں کو دہشت گرد کہہ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے 38 مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہزاروں لوگ مظفرآباد کی طرف مارچ کریں گے۔ یہ تحریک اب PoJK کی پاکستان سے آزادی کا باعث بن سکتی ہے۔

پاکستانی فوج کو بلوچستان میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا
پاکستان کے مسائل صرف PoJK تک محدود نہیں ہیں۔ پاکستانی فوج پر بڑے دہشت گرد حملے بلوچستان میں بھی ہو رہے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی نے ضلع مستونگ میں پاکستانی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔ بی ایل اے کے ترجمان جیند بلوچ نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں 45 سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ انہوں نے اس حملے کو ایک منصوبہ بند کارروائی قرار دیا۔ دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں اور آئی ای ڈیز کا استعمال کیا۔ خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور لوئر دیر میں بھی پولیس پر حملے کیے گئے۔ پاکستان ہر طرف سے گھرا ہوا ہے۔











ٹرمپ کے بغل والے اس شخص کو ایران نے بھیجا پرائیویٹ میسیج، داماد کی کھولی پول! وہائٹ ہاوس میں مچا گھمسان
واشنگٹن: ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بیچ وائٹ ہاؤس کے اندر ہلچل مچ گئی ہے۔ خبر ہے کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اور امریکہ کے ایک بڑے رہنما کو پرائیویٹ پیغام بھیج رہا ہے۔ اس پیغام میں کچھ ایسا لکھا گیا ہے، جس کے بعد ٹرمپ کے سب سے قابلِ اعتماد حلقے میں اختلافات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے بھیجے گئے اس پیغام میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی حقیقت سامنے لانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے انتہائی قریبی ارب پتی دوست اسٹیو وٹکوف پر بھی حیران کن الزامات لگائے گئے ہیں۔

ایران نے ٹرمپ کے داماد کی پول کھولیمیڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے یہ پرائیویٹ پیغام امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کو بھیجا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کے قریبی دوست اسٹیو وٹکوف امن مذاکرات کی آڑ میں اربوں ڈالر کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایران نے براہِ راست جے ڈی وینس سے شکایت کی ہے کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کے دوست اسٹیو وٹکوف کو اس سنجیدہ گفتگو سے دور رکھا جائے۔

ایران کا الزام ہے کہ یہ دونوں افراد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری خفیہ امن مذاکرات سے متعلق نہایت حساس اور خفیہ معلومات کا استعمال کرتے ہوئے مالیاتی منڈیوں میں ہیرا پھیری کر رہے ہیں۔ ایران کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، اس ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے ذریعے ان دونوں نے مذاکرات کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 75 ہزار کروڑ روپے کا بھاری منافع کمایا ہے۔

اتنا ہی نہیں، ایران نے ایک ثالث ملک کے ذریعے تحریری دستاویزات بھی حوالے کی ہیں، جنہیں اس مالی ہیرا پھیری کا پختہ ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایران نے اس منافع میں سے اپنے لیے بھی حصہ مانگ لیا ہے۔ ایران نے تحریری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ 9 ارب ڈالر کے منافع میں سے 4.5 ارب ڈالر ایرانی فریق کو دیے جائیں۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ مطالبہ امریکی حکام تک پہنچا دیا ہے اور وقت آنے پر یہ دستاویزات تاریخ کا حصہ بنیں گی۔

کیا جیرڈ کشنر نے حساس معلومات لیک کیں؟
ایران نے صرف مالی ہیرا پھیری کا الزام ہی نہیں لگایا بلکہ قومی سلامتی سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ جیرڈ کشنر مسلسل ان خفیہ امن مذاکرات سے متعلق انتہائی حساس اور انٹیلی جنس معلومات اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید دشمنی ہے، اسی لیے ایران نے جے ڈی وینس کو خبردار کیا ہے کہ اگر کشنر اور وٹکوف مسلسل اس گفتگو کا حصہ بنتے رہے تو آئندہ مذاکرات ناممکن ہو جائیں گے۔امریکہ نے وضاحت دی
یہ حیران کن رپورٹ سامنے آتے ہی ٹرمپ انتظامیہ اور وائٹ ہاؤس فوری طور پر دفاعی انداز میں آ گئے۔ امریکی حکام نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کہا کہ امریکہ کو ایسا کوئی بھی خفیہ پیغام کبھی موصول نہیں ہوا۔ ٹرمپ کے قریبی حلقے کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے اور تنازع کو مزید بڑھانے کی ایک چال ہے۔








31 گیند میں سنچری، 5 گیندوں پرلگاتار 5 چھکے، صرف 1 گیند سے بچ گیا کرس گیل کا بڑا ریکارڈ
آکلینڈ: ویسٹ انڈیز کے طوفانی بلے باز نکولس پورن نے صرف 31 گیندوں میں سنچری بنا کر ٹی20 کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس بائیں ہاتھ کے بلے باز نے 33 گیندوں پر 106 رنز بنا کر آؤٹ ہونے سے پہلے 13 چھکے اور 5 چوکے لگائے، جو میجر لیگ کرکٹ (MLC 2026) میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بھی ہے۔ اس سیزن کے پہلے ایلیمنیٹر میں ایم آئی نیویارک (MI New York) کی جانب سے کھیلتے ہوئے واشنگٹن فریڈم (Washington Freedom) کے خلاف پورن کا خوفناک انداز دیکھنے کو ملا۔

پورن، گیل کا کون سا ریکارڈ توڑنے سے چوک گئے؟
فرنچائز ٹی20 کرکٹ میں سب سے تیز سنچری کرس گیل نے آئی پی ایل 2013 میں آر سی بی کی جانب سے پونے واریئرز کے خلاف صرف 30 گیندوں میں بنائی تھی۔ اگر اس میچ میں نکولس پورن ایک گیند پہلے سنچری مکمل کر لیتے تو وہ کرس گیل کے ریکارڈ کی برابری کر لیتے۔ اس طرح پورن چوک گئے اور گیل کا ریکارڈ بال بال بچ گیا۔ تاہم اگر اوور آل ٹی20 کرکٹ کے ریکارڈ کی بات کریں تو ایسٹونیا کے ساحل چوہان نے 2024 میں قبرص کے خلاف محض 27 گیندوں میں سنچری بنا دی تھی۔مسلسل پانچ گیندوں پر پانچ چھکوں سے اسٹیڈیم گونج اٹھا
پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد نکولس پورن دوسرے ہی اوور میں کریز پر آگئے اور آتے ہی پٹائی شروع کر دی۔ اپنی اننگز کی دوسری ہی گیند پر چھکا مارا، پھر میکسویل کے اسی اوور میں مسلسل تین چھکے اور ایک چوکا جڑ دیا۔

پانچویں اوور میں سوربھ نیتروالکر کی آخری تین گیندوں پر مسلسل تین چھکے لگانے کے بعد جب ساتویں اوور میں پورن کو دوبارہ اسٹرائیک ملی تو انہوں نے آصف محمد کو پہلے شارٹ تھرڈ اور پھر لانگ لیگ پر چھکا جڑ دیا۔ اس طرح انہوں نے مسلسل پانچ گیندوں پر پانچ چھکے بھی لگا دیے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

ڈاکٹر مبین نذیر : سنجیدہ ظرافت نگار
ڈاکٹر مبین نذیر سر ہمہ و صف شخصیت کے مالک ہیں ۔ درس و تدریس کے ساتھ مسلسل ادبی تحریکات میں متحرک رہتے ہیں ۔ بذلہ سنج مگر متین ۔ بھر پور وسائل کے باوجود سادگی اُن کا مزاج ۔ بااخلاق، دیندار، سلجھی طبیعت کے مالک ۔ تحریروں میں سادہ مگر گہری سوچ و فکر ۔ سارے عوامل ان کی نگارشات کو منفرد انداز عطا کرتے ہیں ۔ملنسار، مخلص، مفکر، فیاض، درد مند دل، انسانیت نواز شخصیت کے مالک ہیں ۔گل افشانیاں نظر سے گزری۔ دوران مطالعہ شگفتگی کا معاملہ رہا۔ اس مجموعہ میں پھلجھڑیاں، تبسّم، قہقہے، زندہ دلی، ہنسی، طنز و مزاح، کا حسین امتزاج ہے؛ جو اس کتاب کو بہتر بناتا ہے ۔ فی زمانہ ظریفانہ ادب معمولی سکوت کا شکار ہے۔ امید ہے کہ گل افشانیاں اس سکوت کو توڑے گی۔ وہیں مقامی ظریفانہ ادب میں ایک اساس ثابت ہوگی۔ بھائی مبین نذیر سر کو بہت مبارکباد، نیک خواہشات دعائیں اور امید کہ۔۔۔۔لکھتے رہیں گے ۔۔۔۔ جنوں کی حکایت خونچکاں 
 احقر، خاکسار و خیراندیش 
منصور اکبر سیف نیوز
سولہ جولائی 2026 جمعرات بھری مراد شب سات بجے

*🛑سیف نیوز اُردو*

*مشترکہ خطاب جمعہ نمبر298عنوان*
*موجودہ آزمائشی حالات اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں*
 
مورخہ،17،جولائی 2026ء بروز جمعہ نماز جمعہ سے قبل مالیگاؤں کی مندرجہ ذیل مساجد میں مذکورہ عنوان پر مشترکہ طور پر خطاب ہوگا ان شاء اللہ!

1)آسمہ مسجد(نزد اسٹار ہوٹل)بارہ پچاس
مفتی ارشد جمال ملی 

2)نذیریہ مسجد(رونق آباد)ایک بجے
مولانا کامران حسَّان انصاری

3)نئی مسجد(اسلام پورہ)ایک بجے
مولانا ریحان رئیس ندوی

4)نئی مسجد (بیل باغ)ایک پانچ 
مولوی سعود ندوی

5)مسجد محسنہ( نعمت باغ )بارہ پچاس 
مفتی محمد فرقان خالد قاسمی

6)حمیدیہ مسجد (بڑا قبرستان) بارہ پچاس
مولانا نہال احمد قاسمی 

7)مسجد ناصرہ مبارک ( ہارون انصاری نگر )بارہ پینتیس
ارشد ملک رحمانی 

8)مسجدِ شعبان ( شعبان پورا )ایک پانچ 
ارشد ملک رحمانی

9)محمّدی مسجد (سردارنگر)بارہ پچاس 
قاری وقّاص انجم انوریؔ

10)سلامت اللہ مسجد(رحمت آباد) ایک بجے 
حافظ شاداب اختر عرفانیؔ

11)مسجد حوّاعلیہاالسلام(بخاری باغ)ایک پانچ
جناب محمد زید انجینئر

12)مسجد حمید النیادی (نیااسلامپورہ)بارہ پچاس 
مولانا عمرفاروق سلطان

13)مسجد اسماعیل(رمضان پورہ)بارہ پچاس 
مولوی عبدالعزیز ندوی

14)مسجد امیر حمزہ(مدنی نگر)ایک پانچ 
مفتی محمّد فیصل کفلیتوی

15)مسجد بسم اللہ حجن (داؤد سیٹھ کمپاؤنڈ)ساڑھے بارہ بجے 
مفتی محمد اُسامہ انوری

16)مسجد مولانا اسحاق (نیا بس اسٹینڈ)بارہ تیس
مفتی عبدالمالک کفلیتوی

17)مسجد ابوبکر صدیق(ابوبکر صدیق نگر)ایک بجے 
مولانا مجاہد الاسلام ملی

18)ہلال مسجد (ہلال پورہ)بارہ بیس
مولانا عبدالوحید ندوی قاسمی

19)مسجد آصفہ ابراہیم (مالدہ شیوار)ایک بجے
مفتی محمد اسلم جامعی

20)مسجد رابعہ عبدالغفور (مسلم پورہ)ایک بیس
قاری نعیم الرحمن پریاگی

21)مسجدِ تقویٰ ( پوار واڑی ) ایک پانچ 
مفتی محمد فیضان ندوی 

22)مسجد باغ گلاب(گلاب پارک)بارہ چالیس 
مفتی سالک 

23)جامع مسجد (گیارہ ہزار کالونی)ایک بجے 
مفتی محمد محسن عبدالشکور اشاعتی جامعی

24)مسجد حجن زیب النساء (باغ محمود)ایک بجے
 مولانا عتیق احمد جمالی

25)نظامیہ مسجد (ساٹھ فٹی روڈ) ایک بجے 
مولوی محمد سعد

26)یعقوب مسجد (نزد زری والا پیٹرول پمپ )ساڑھے بارہ 
مولانا محمد عمران کفلیتوی

27)مسجد انوار نبوی (نور باغ) ساڑھے بارہ بجے 
مولانا محمد عمران اسجد ندوی

28)مسجد چشمہ گلاب (پوارواڑی) سوابجے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی


29)مسجد عمر یوسف (گلشیر نگر) بارہ تیس
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی  

30) مسجد کوہ نور (یعقوب نگر) ساڑھے بارہ بجے 
مفتی محمد عامر عثمانی

31) جونی مسجد (اسلام پورہ) بارہ پچاس 
مفتی محمد عامر یاسین ملی 

32) مسجد زینب حجن (گلشن زینب) ایک بجے
مولانا علاؤالدین ندوی
 
33) مسجد توکل آزاد نگر (آزاد نگر)دو بجے
مولانا علاؤالدین ندوی

34) مسجد مولانا محمد الیاس (عباس نگر) ایک پانچ
مفتی ابوذر قاسمی

35) مسجد ابوذر غفاری (نورانی نگر ) ایک بجے 
قاری عبدالجلیل جلیلی

36) مسجد باغ فردوس (سلیم نگر)ایک بجے
حافظ مزمل ملی

37) مسجد خدیجۃ الکبریٰ (شاہ پلاٹ) ایک پانچ 
مفتی محمد علی ملی

38) مسجد عبدالرحمن بن عوف(رحمٰن پورہ) ایک بجے
 مولانا سعد انوری

39) محمدیہ مسجد (کمہارباڑہ)
ایک بجے
مولانا شفیق الرحمن فلاحی

40) مسجد قمر النساء(نورنگ کالونی) ساڑھے بارہ بجے
مولوی محمد ابوذر کاشفی

41) مسجد حضرت عبداللہ بن مسعود (نیا بس اسٹینڈ) بارہ پچیس
مفتی محمد خالد شاہد ملی 

42) مسجد نظامیہ (ساٹھ فٹی روڈ) ایک بجے
مفتی محمد خالد شاہد ملی

 *برادران اسلام سے گزارش ہے کہ وقت مقررہ پر مساجد میں پہنچ کر اہتمام کے ساتھ جمعہ کا بیان سماعت کریں۔* 
 *جاری کردہ: گلشن خطابت گروپ مالیگاؤں*

*(رابطہ کے لیے: مفتی محمد عامر یاسین ملی)*
8446393682






ڈاکٹر مبین نذیر : سنجیدہ ظرافت نگار
ڈاکٹر مبین نذیر سر ہمہ و صف شخصیت کے مالک ہیں ۔ درس و تدریس کے ساتھ مسلسل ادبی تحریکات میں متحرک رہتے ہیں ۔ بذلہ سنج مگر متین ۔ بھر پور وسائل کے باوجود سادگی اُن کا مزاج ۔ بااخلاق، دیندار، سلجھی طبیعت کے مالک- 
 تحریروں میں سادہ مگر گہری سوچ و فکر ۔ سارے عوامل ان کی نگارشات کو منفرد انداز عطا کرتے ہیں ۔ملنسار، مخلص، مفکر، فیاض، درد مند دل، انسانیت نواز شخصیت کے مالک ہیں ۔گل افشانیاں نظر سے گزری۔ دوران مطالعہ شگفتگی کا معاملہ رہا۔ اس مجموعہ میں پھلجھڑیاں، تبسّم، قہقہے، زندہ دلی، ہنسی، طنز و مزاح، کا حسین امتزاج ہے؛ جو اس کتاب کو بہتر بناتا ہے ۔ فی زمانہ ظریفانہ ادب معمولی سکوت کا شکار ہے۔ امید ہے کہ گل افشانیاں اس سکوت کو توڑے گی۔ وہیں مقامی ظریفانہ ادب میں ایک اساس ثابت ہوگی۔ بھائی مبین نذیر سر کو بہت مبارکباد، نیک خواہشات دعائیں اور امید کہ۔۔۔۔لکھتے رہیں گے ۔۔۔۔ جنوں کی حکایت خونچکاں 
 احقر، خاکسار و خیراندیش 
منصور اکبر سیف نیوز
سولہ جولائی 2026 جمعرات بھری مراد شب سات بجے









امریکا-ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے اہم تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات، بحرین میں بھی ہائی الرٹ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے خطے کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق ایران کے متعدد اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس تناؤ کے باعث خلیجی ممالک میں بھی سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

ہوائی اڈوں، ریلوے اور پلوں کو نقصان

رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایران کے ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بعض پل، ریلوے تنصیبات اور ایک ہوائی اڈہ بھی شامل ہیں۔ جنوبی ایران کے کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بندر عباس اور ایرانشہر میں حملوں کی اطلاعات

ذرائع کے مطابق ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ایرانشہر ایئرپورٹ اور بندر عباس کے قریب ریلوے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ بعض مقامی رپورٹس میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

بحرین میں ایئر ریڈ سائرن

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج نے بحرین میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی دعوے کے مطابق سکھیر ایئربیس پر تعینات بعض فوجی اثاثوں کو ڈرون اور میزائل حملوں میں نقصان پہنچا، تاہم امریکا اور بحرین کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک بھر میں ایئر ریڈ سائرن بجا دیے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی۔

آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی

آبنائے ہرمز کے اطراف بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس علاقے کے قریب بھی حملوں اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور خام تیل کی قیمتوں پر اثرات کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

جنوبی ایران میں بجلی کا نظام متاثر

ایران کی وزارت توانائی کے مطابق جنوبی علاقوں میں بجلی کے بعض نظام متاثر ہوئے ہیں اور بحالی کا کام جاری ہے۔ حکام نے عوام سے بجلی کا محتاط استعمال کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔

عالمی منڈیوں پر اثرات کا خدشہ

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور خام تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑فیفا ورلڈ کپ فائنل سے قبل فٹبال کا جنون عروج پر، کیرالہ میں پیر کو اسکولوں اور کالجوں میں تعطیل، ریاست میں جشن کا ماحول* ...