Thursday, 3 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑مالیگاؤں میں بڑی گاڑیوں کے خلاف ہندو-مسلم جن آندولن کا اعلان*
*میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن میدان میں - اب اکیلے نہیں، پورا گاؤں ساتھ ہے*

مالیگاؤں: لینڈانا میں ہوئے دل دہلا دینے والے ایکسیڈنٹ اور دوسرے دن بریج کے نیچے ایک بزرگ خاتون کی حادثے میں موت کے بعد میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن کے ذمہ داروں نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔

*اب متاثرین کی مالی مدد:*
 میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن کے ذمہ دار سب سے پہلے لینڈانا گاؤں اس بچی کے گھر پہنچے اور اہل خانہ کو تسلی دی کہ "یہ بچی صرف آپ کی نہیں، پورے مالیگاؤں کی بچی ہے، پورا شہر آپ کے دکھ میں کھڑا ہے"۔ اہل خانہ نے کہا ہم مالی طور پر مضبوط ہیں، آپ کا آنا ہی ہمارے لیے بڑی بات ہے۔
اس کے بعد ٹیم ٹنگری گاؤں پہنچی، بزرگ خاتون کے گھر والوں کو تسلی دی اور انہیں ایک *خطیر رقم کا چیک* بطور مدد دیا۔

*ہائی وے اتھارٹی کو اسٹائل میں جواب:*
موقع پر ہی *رضوان بیٹری والا* نے ہائی وے اتھارٹی کے ذمہ داروں کو اسپاٹ پر بلایا۔ چھوٹا اور ناکارہ اسپیڈ بریکر دیکھ کر رضوان بیٹری والا نے اپنے ہی انداز میں بریکر کو اکھاڑ پھینکا اور کہا:
*"تین سال میں اسی جگہ پر 40 سے زیادہ لوگ مر چکے ہیں، آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟"*
افسران ہاتھ جوڑے کھڑے رہے، لیکن فاؤنڈیشن نے ایک نہ سنی۔

وہیں ڈونگرالے ٹول ناکہ کے ٹھیکے دار کو بھی بلوا کر پوچھا گیا کہ ان تمام اموات کا ذمہ دار کون ہے؟ دن دہاڑے بڑی گاڑیاں اژدہے کی طرح کیوں چھوڑی جا رہی ہیں؟ گاؤں والوں اور فاؤنڈیشن نے موقع پر ہی کئی بڑی گاڑیوں کو روکا اور دن میں شہر میں ان کی انٹری بند کرنے کا الٹی میٹم دیا۔

*ہندو-مسلم ایک آواز:*
اس موقع پر *لینڈانا، گرجگوان، ٹنگری، گالنہ* کے تمام سرپنچ، پولیس پاٹل اور گاؤں کی عوام نے میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

تمام ہندو بھائیوں نے ایک آواز میں کہا:
> "ہم رضوان بیٹری والے کو جانتے ہیں، جو عوام کے لیے گندے پانی اور کھڈے میں بھی بیٹھ جاتا ہے۔ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ اب آپ کو اکیلے کہیں اترنے کی ضرورت نہیں، پورا گاؤں آپ کے ساتھ ہے۔ آپ نے انسانیت کا جو ثبوت دیا ہے، وہ ہمارے لئے قابلِ رشک ہے ہم اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔"


میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن نے ان تمام گاؤں کی عوام کے ساتھ مل کر بڑی گاڑیوں کے خلاف *ہندو-مسلم جن آندولن* کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ مالیگاؤں میں *"چوہا بھاگ بلی آئی"* کا یہ کھیل ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔

گاؤں کے وطنی بھائیوں نے اس قدم کی دل کھول کر سراہنا کی ہے۔ اور میکس اسٹپس فاؤنڈیشن کے ساتھ جڑنے کا یقین دلایا ۔






*🛑کافی پینے سے انسان کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟*
کافی دنیا بھر میں صبح کے وقت سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے مشروبات میں شامل ہے۔
عام طور پر اسے جسم میں تازگی اور چُستی پیدا کرنے کے لیے پیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق کافی کے استعمال کے جگر کی صحت پر بھی ممکنہ مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق ماہرِ معدہ ڈاکٹر سوربھ سیٹھی نے بتایا کہ وہ ہر صبح کافی کیوں پیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 10 ہزار سے زائد جگر کے سکینز کا جائزہ لیا ہے۔ڈاکٹر سوربھ سیٹھی کے مطابق ’قریباً پانچ لاکھ افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں کافی پینے والوں میں دائمی جگر کی بیماری سے موت کا خطرہ کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں 49 فیصد کم دیکھا گیا۔‘
ایک اور تجزیے میں چار لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق روزانہ دو اضافی کپ کافی پینے کا تعلق جگر کے سیروسس کے خطرے میں 44 فیصد کمی سے تھا۔
اسی طرح 22 لاکھ سے زائد افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں جگر کے کینسر کی عام ترین قسم ہیپاٹو سیلولر کارسینوما کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق روزانہ دو اضافی کپ کافی پینے والوں میں اس بیماری کا خطرہ 35 فیصد کم پایا گیا۔ماہر کے مطابق کافی کے ممکنہ فوائد صرف کیفین تک محدود نہیں۔ کیفین والی اور بغیر کیفین کی کافی، دونوں کو جگر کے بہتر نتائج سے جوڑا گیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کافی میں موجود دیگر اجزا بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سوربھ سیٹھی نے بتایا کہ ’ایک بڑی برطانوی تحقیق میں روزانہ تین سے چار کپ کافی کا استعمال بہتر نتائج سے منسلک تھا، تاہم ہر فرد کے لیے اتنی کافی ضروری نہیں۔ کافی کے استعمال میں فرد کی برداشت کو مدنظر رکھنا چاہیے جبکہ زیادہ چینی یا کریم شامل کرنے سے اس کے مجموعی غذائی فوائد متاثر ہو سکتے ہیں۔‘









*🛑نیویارک کے اسکولوں میں طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر پابندی، بچوں کی تعلیم اور ذہنی صحت کے تحفظ کا فیصلہ*
بچوں کی تعلیم اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے مقصد سے امریکی شہر نیویارک میں اسکولوں کے اندر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ نئے ضابطے کے تحت ہائی اسکول سے کم عمر طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی، جبکہ ہائی اسکول کے طلبہ کو محدود پائلٹ پروگراموں کے تحت اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت دی جائے گی۔ اس فیصلے سے شہر کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ متاثر ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کی تعلیم میں انسانی رابطے، اساتذہ کی رہنمائی اور ساتھی طلبہ کے ساتھ براہِ راست میل جول کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

ہائی اسکول کے طلبہ کو محدود اجازت

نئے ضابطے کے مطابق کم عمر طلبہ کے لیے اسکولوں میں اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم 14 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہائی اسکول طلبہ کو کچھ مخصوص پائلٹ پروگراموں میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ان طلبہ کے لیے سال میں دو مرتبہ اے آئی سے متعلق خواندگی کی کلاسیں بھی منعقد کی جائیں گی، تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا سیکھیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو جذباتی یا ذہنی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیے گئے اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر تمام جماعتوں میں مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اساتذہ کا انسانی رابطہ ضروری قرار

نیویارک کے میئر نے اے آئی پر پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی صنعت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ابتدائی تعلیم میں اے آئی کا استعمال نہ صرف ناگزیر بلکہ ضروری بھی ہے، لیکن انتظامیہ اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتی۔ ان کے مطابق بچوں کی بہتر تعلیم اور شخصیت سازی کے لیے اساتذہ اور انسانی رابطہ انتہائی اہم ہیں۔ بچوں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہ کر مختلف مہارتیں سیکھنے، اساتذہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور مشکل مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اساتذہ کو سبق کی منصوبہ بندی اور انتظامی نوعیت کے کاموں کے لیے اے آئی استعمال کرنے کی اجازت برقرار رہے گی۔

پابندی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ٹاسک فورس

تعلیمی سال 27-2026 کے دوران طلبہ، اساتذہ، والدین، منتخب نمائندوں اور ٹیکنالوجی صنعت کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ یہ ٹیم اے آئی پر عائد پابندی کے اثرات کا جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ نیویارک کی گورنر نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کے لیے مددگار ثابت ہو۔

پہلے نرم پالیسی پر والدین اور اساتذہ نے اٹھائے تھے سوال

اس سے قبل مارچ میں اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک ابتدائی فریم ورک جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت طلبہ کو تحقیق اور تخلیقی منصوبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم متعدد والدین اور اساتذہ نے اس پالیسی کو حد سے زیادہ نرم قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان اعتراضات کے بعد نیویارک کے اسکول انتظامیہ نے اپنے ضابطوں میں تبدیلی کرتے ہوئے کم عمر طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر مزید سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مقصد ٹیکنالوجی کی مکمل مخالفت کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بچوں کی تعلیم، ذہنی نشوونما اور انسانی تعلقات پر اس کے منفی اثرات نہ پڑیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑"وجے کو وزیر اعظم بنانا ایم ایل اے کی خواہش ، پارٹی کی نہیں ، " TVK وزیر نے دی صفائی*
ے لوک سبھا انتخابات نے تمل ناڈو کی سیاست میں ہلچل مچانا شروع کر دی ہے۔ TVK کے کچھ ایم ایل اے بار بار اپنے لیڈر اور وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے پروجیکٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سے پارٹی کی حلیف کانگریس کے ساتھ سیاسی منظر نامے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ کانگریس نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ راہل گاندھی 2029 کے انتخابات میں اس کے وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔ نتیجتاً، ٹی وی کے کی جانب سے وجے کی نامزدگی اتحادی سیاست میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ اب پارٹی کے خزانچی اور فوڈ اینڈ سیول سپلائیز کے وزیر پی وینکٹرامن نے اس معاملے پر صفائی دیتے ہوئے وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔

وینکٹرامنن نے کہا کہ وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنا TVK کا آفیشل اسٹینڈ نہیں ہے بلکہ پارٹی کے کچھ ایم ایل ایز کی ذاتی خواہشات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی اپنی خواہشات کا اظہار کرنے کا حق ہے۔ 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں ابھی کافی وقت ہے، اس لیے وزیر اعظم کے امیدوار کے بارے میں حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ نہ تو TVK کی اعلیٰ قیادت اور نہ ہی پارٹی کے کسی وزیر نے وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر اعلان کیا ہے۔ ان کے اس بیان کو کانگریس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔وجے کو پی ایم بنانے کے مطالبے پر وزیر کی صفائی
TVK کے کچھ ایم ایل ایز نے مسلسل وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے کے تحت وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ اس جذبے کے مطابق وہ وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم پارٹی کے وزیر پی وینکٹرامنن نے اسے آفیشیل لائن ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے اپنی خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے خیالات کو پارٹی کا فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہئے۔

وزیر نے کہا کہ 2029 تک ابھی بھی وقت ہے۔ جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات قریب آتے ہیں، چیف منسٹر سی جوزف وجے کی قیادت والی حکومت اس مسئلہ پر مناسب فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ پارٹی کی موجودہ توجہ وزارت عظمیٰ کی امیدواری کی بجائے تمل ناڈو میں اپنی حکمرانی کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

ایم ایل اے کے خیالات کو پارٹی لائن نہ سمجھیں
وینکٹرامنن نے واضح طور پر کہا کہ TVK کے کسی بھی اعلیٰ لیڈر یا وزیر نے وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر تجویز نہیں کیا۔ ان کے مطابق، یہ محض کچھ ایم ایل ایز کی ذاتی رائے ہے اور یہ فی الحال پارٹی کا آفیشیل مؤقف نہیں ہے۔

TVK گورننس ماڈل کو ملک بھر میں لے جانے کی خواہش
وزیر کے مطابق، ایم ایل اے کا مطالبہ وجے کی قیادت میں ملک بھر میں شفاف اور بدعنوانی سے پاک حکمرانی کو نافذ کرنے کے خیال سے پیدا ہواہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم ایل ایز چاہتے ہیں کہ جس طرز حکمرانی کا تمل ناڈو میں وعدہ کیا جا رہا ہے اسے دوسری ریاستوں اور بالآخر پورے ملک تک پھیلایا جائے۔

فی الحال، توجہ تمل ناڈو پر ہے
وینکٹرامنن نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح تمل ناڈو کو شفاف اور بدعنوانی سے پاک بنانا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو وہ وزیر اعلیٰ وجے اور TVK کے جنرل سکریٹری این آنند سے رہنمائی لیں گے۔ اس کے بعد ہی وہ اس ماڈل کو دیگر ریاستوں میں پھیلانے پر غور کریں گے ۔








*🛑دہلی کے رہائشیوں کو بڑا تحفہ ، اب زمین کے نیچے بنے گا کوریڈور ، چاندنی چوک سے شروع ہوگا پروجیکٹ*
نئی دہلی: دہلی والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ شہر میں بار بار سڑکوں کی کھدائی کا دیرینہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دہلی کے بنیادی ڈھانچے کو لے کر ایک تاریخی فیصلہ لیا ہے۔ سڑکوں کے نیچے ملٹی یوٹیلیٹی ڈکٹ سسٹم بنایا جائے گا۔ یہ ایک جدید زیر زمین کوریڈور ہوگا جو بیک وقت تمام خدمات فراہم کرے گا۔ اس میں بجلی کی تاریں، پانی کی پائپ لائنیں اور گیس کی لائنیں ایک ہی جگہ رکھی جائیں گی۔ یہ جدید نظام بھاری ٹریفک جام سے خاصی ریلیف فراہم کرے گا۔ مختلف ایجنسیوں کی جانب سے سڑک کی کھدائی کا عمل اب مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔ حکومت چاندنی چوک میں اس میگا پروجیکٹ کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر دو سڑکوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ قدم دہلی کی سڑکوں کی طویل مدتی مضبوطی کو یقینی بنائے گا۔

ملٹی یوٹیلیٹی ڈکٹ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرے گا؟اس سسٹم کے تحت سڑک کے نیچے ایک محفوظ ٹنل یا ڈکٹ بنایا جائے گا۔ یہ وینٹیلیشن اور آگ کی حفاظت کو بھی مدنظر رکھے گا۔ دیکھ بھال اور ہنگامی رسائی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے جلد ہی ایک ماہر ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کمیٹی میں پی ڈبلیو ڈی کے ساتھ ڈسکامس اور دہلی جل بورڈ کے افسران شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کام کرے گی۔

پائلٹ پروجیکٹ کے لیے چاندنی چوک کو کیوں چنا گیا؟
چاندنی چوک کو دہلی کا بہت مصروف علاقہ مانا جاتا ہے۔ ایسپلینیڈ روڈ پر 310 میٹر اور مور سرائے روڈ پر 560 میٹر اسٹریچ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ وقف یوٹیلیٹی کوریڈور سب سے پہلے ان دو سڑکوں پر بنایا جائے گا۔ پروجیکٹ کے تجربے کی بنیاد پر، اس کے بعد اسے پوری دہلی میں لاگو کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا، “دہلی کی ترقی آج کی ضرورتوں تک محدود نہیں ہے۔” حکومت ایک ایسا انفراسٹرکچر چاہتی ہے جو مستقبل کے لیے مکمل طور پر محفوظ اور منظم ہو۔

سڑک کی بار بار کھدائی سے ہونے والے نقصان کو کیسے کم کیا جائے گا؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ایجنسی سڑک بناتی ہے اور دوسری اسے کھودتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کو ٹریفک جام کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، “ملٹی یوٹیلیٹی ڈکٹ مختلف خدمات کے لیے ایک مشترکہ راستہ فراہم کرے گا۔” اس کی تعمیر سے مستقبل میں نئی خدمات کی توسیع بھی آسان ہو جائے گی۔ سڑک کے نیچے مشترکہ نیٹ ورک ہونے سے دیکھ بھال کا کام بغیر کسی کھدائی کے مکمل ہو سکے گا۔ اس بڑے فیصلے سے دہلی کے لوگوں کو درپیش روزمرہ کی پریشانیوں کے دور کرنے کی امید ہے۔










*🛑ایران کا دعویٰ: حالیہ امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک، 108 زخمی، خلیجی ممالک پر تہران کے جوابی حملے*
دبئی: ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، گذشتہ رات بھر جاری رہنے والی امریکی بمباری، جس میں ایک شادی کی تقریب پر مہلک حملہ بھی شامل تھا، کے بعد ایران نے بدھ کی صبح خلیج میں امریکی اتحادیوں پر جوابی حملے کیے۔

کویت کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ملک میں سائرن بجنے لگے جہاں فضائی دفاعی نظام "ایران کی واضح جارحیت" کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کو روک رہا تھا۔

امریکہ کی جانب سے ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز کے ایک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچروں کو نشانہ بنانے کے بعد سے لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا تھا کہ ایران انہیں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایران نے جواب میں اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے جنہیں فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے ایک طرف امریکی فوجی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور واشنگٹن میں سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ بدھ کے روز ایرانی کرنسی ایک بار پھر ریکارڈ سطح پر گر گئی، جہاں تہران میں تاجروں نے ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 22 لاکھ ریال کا تبادلہ کیا، جو کہ پچھلے ہفتے کے ریکارڈ سے 10 فیصد زیادہ ہے۔

بین الاقوامی تھنک ٹینک 'کرائسز گروپ' کے سینئر ایرانی تجزیہ کار حمید رضا عزیزی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فریق مکمل جنگ اور جنگ بندی کے درمیان اس صورت حال کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتا۔

انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ "کسی نہ کسی موڑ پر، کوئی ایک فریق اس چکر کو توڑنے کے لیے کشیدگی کو مزید بڑھانے کی ضرورت محسوس کر سکتا ہے۔ اس طرح دونوں فریق اس نہج پر پہنچ سکتے ہیں جس سے وہ اب تک بچنے کی کوشش کر رہے تھے، یعنی ایک مکمل جنگ۔"ٹرمپ اور یو اے ای کے صدر کا فون پر خطے کے حالات پر تبادلہ خیال

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوئی۔ اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعاون اور اپنے مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی۔ یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق، اس بات چیت میں باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے "تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں" پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جنگ کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران، ایران نے کسی بھی دوسرے خلیجی ملک کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کو اپنی جوابی کارروائیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنایا، جس کے تحت اس نے 530 سے زائد بیلسٹک میزائل، درجنوں کروز میزائل اور 2,200 ڈرون ان ٹھکانوں پر داغے جنہیں اس نے "امریکی اثاثے" قرار دیا۔

ایران جنگ کی وجہ سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور طویل مدتی ٹریژری بانڈز کے منافع میں اضافے کے باعث امریکی اسٹاک مارکیٹ مندی کے ساتھ بند ہوئی۔

ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.70 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جب کہ ایس اینڈ پی 500 0.33 فیصد اور نصدق کمپوزٹ 0.12 فیصد گر گیا۔ مارکیٹ کی ان تازہ ترین اتار چڑھاؤ نے مہنگائی کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے کیونکہ سرمایہ کار جاری ایران جنگ کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

حالیہ کشیدگی ہرمز اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز

بحرین میں 'انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز' کے مڈل ایسٹ آفس کے تجزیہ کار ساشا بروخ مین کا کہنا ہے کہ تشدد میں یہ حالیہ تیزی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب تعطل کی صورت حال تھوڑی بہت امریکہ کے حق میں بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی، کیونکہ گزشتہ ماہ تیل کی قیمت تقریباً 80 ڈالر فی بیرل پر آگئی تھی اور ایرانی رہنما بڑھتی ہوئی اقتصادی مشکلات کا ذکر کر رہے تھے۔

بروخ مین نے کہا کہ "امریکہ عالمی تیل کی منڈیوں میں ایک بار پھر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایرانیوں کو اس کے جواب میں دوبارہ عدم تحفظ اور شکوک و شبہات پیدا کرنے پڑے۔"

جب سے ہفتے کے آخر میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی ہے، بین الاقوامی معیار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 95 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ کے نئے آغاز سے اب تک 30 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران امریکہ کی طرف سے اس وقت تک "دباؤ محسوس کرتا رہے گا" جب تک کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو ترک نہیں کر دیتا اور مشرق وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم نہیں کر دیتا۔ دوسری طرف ایران نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

ایرانی ادارے نے 11 مزید بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا

ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی (پی جی ایس اے) نے ایرانی پروٹوکول کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید 11 بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے، جس کے بعد اس تزویراتی طور پر اہم آبی گزرگاہ سے روکنے جانے والے جہازوں کی کل تعداد 56 ہو گئی ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں، پی جی ایس اے نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔

امریکہ ایران پر مزید حملوں کے لیے تیار: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ سے متعلق اپنے تازہ بیان میں کہا کہ امریکی فوج جب بھی چاہے ایران پر مزید حملے کرنے کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "گزشتہ رات یہ ایک بہت بڑا حملہ تھا، اور ہم جب بھی چاہیں ایسا دوسرا حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔" ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج نے "وہ تمام نئے آلات اور تنصیبات تباہ کر دیں جنہیں انہوں نے آبنائے ہرمز کے ساتھ تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی۔"

آبنائے ہرمز کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھنے کے منصوبوں کی تردید

جب بدھ کی سہ پہر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کر کے اپنے نام پر رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ٹرمپ نے کہا کہ "نہیں، نہیں... یہ بات بس ایسے ہی سامنے آ گئی تھی۔" ٹرمپ نے بدھ کے اوائل میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ کا نام تبدیل کرنے کا خیال ظاہر کیا تھا، جو کہ ان کے اس صدارتی حکم نامے پر دستخط کرنے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد سامنے آیا جس کے تحت کینیڈا کے ساتھ ٹیرف کے تنازعات پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر "لیک امریکہ" رکھ دیا گیا۔

امریکی اتحادیوں کا ایرانی حملوں کو پسپا کرنے کا دعویٰ

اردن پر ہونے والے حملوں کے بعد، امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کویت اور بحرین نے بھی جانکاری دی کہ ان پر ایران کی جانب سے حملے ہوئے ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایران کی طاقتور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے حال ہی میں مقرر ہونے والے سربراہ، محسن رضائی نے ایکس پر کہا کہ "آپ جلد ہی دیکھیں گے کہ میدانِ جنگ، سفارت کاری اور اقتصادی ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کی نئی حکمتِ عملی آپ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔"

عراق میں، جہاں ایران کی حمایت یافتہ فورسز سرگرم ہیں، کرد حکام نے بتایا کہ انہوں نے اربیل کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد سے لادے ہوئے 10 ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر ناکارہ بنا دیا۔ دوسری جانب ایرانی ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ اربیل میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے بھی کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اس کے فوجیوں پر دھماکہ خیز مواد سے لادے دو ڈرون فائر کیے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ منگل کے روز کیے جانے والے حملوں کا مرکز ایرانی فوجی اہداف تھے، جن میں فضائی دفاعی تنصیبات، راڈار سسٹم اور بحری اثاثے شامل ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق، شادی کی تقریب پر ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایک امریکی حملہ کوہستک میں ایک ایسے گھر پر ہوا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی، یہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایک چھوٹا سا ساحلی قصبہ ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی ارنا اور سرکاری ٹی وی نے بدھ کے روز بتایا کہ چار افراد ہلاک ہوئے — جن میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں، جن کی عمریں چار اور 16 سال تھیں — اور کم از کم 68 افراد زخمی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد، صوبے کے ڈپٹی گورنر احمد نفیسی نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا تھا کہ پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اس تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس کی جانب سے نشر کی گئی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج کے مطابق، کئی شدید دھماکوں نے کوہستک کو ہلا کر رکھ دیا، اور آگ کے شعلوں نے رات کے آسمان کو روشن کر دیا۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کی جاری کردہ تصاویر میں قریبی قصبے میناب کے ایک اسپتال میں زخمی بچوں کا علاج ہوتے ہوئے دکھایا گیا، جہاں اس جنگ کی شروعات کے پہلے دن ایک امریکی میزائل حملے میں پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 100 سے زائد بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

ایرانی ہلالِ احمر کی فوٹیج میں امدادی کارکنوں کو حملے کے بعد ایک تباہ شدہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس فوٹیج میں گھنے آباد مکانات کے ایک محلے میں واقع ایک گھر کی چھت میں بڑا سوراخ دکھائی دیا۔

'میزائل کے ٹکڑے امریکی ہتھیار کی طرف اشارہ کرتے ہیں'

ایک ہتھیاروں کے ماہر نے خبر رساں ادارے 'دی ایسوسی ایٹڈ پریس' (اے پی) کو بتایا کہ گولہ بارود کے ٹکڑوں کی تصاویر، جن کے بارے میں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ ملاہی کے گھر پر حملے میں استعمال ہوا تھا، ظاہر کرتی ہیں کہ یہ ایک "امریکی ساختہ، فضا سے مار کرنے والا گائیڈڈ ہتھیار" تھا۔

آرمامنٹ ریسرچ سروسز کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز نے ابتدائی طور پر اس ہتھیار کی شناخت سلام-ای آر کروز میزائل کے طور پر کی، جو فضا سے داغے جانے والا ایک ایسا میزائل ہے جسے پرواز کے دوران بھی ایک انسانی آپریٹر کے ذریعے دوبارہ ہدف پر سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مزید تصاویر کا معائنہ کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ جے ایس او ڈبلیو تھا، جو کہ ایک قسم کا گائیڈڈ بم ہے، تاہم انہوں نے سلام-ای آر کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا اور کہا کہ ممکنہ طور پر اس جگہ پر متعدد ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا ہو۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے تجزیہ کار کے ان نتائج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی فوج "ان رپورٹوں سے باخبر ہے، جن کا ماخذ ایرانی سرکاری میڈیا ہے، اور ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔" انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا سینٹکام نے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی ہیں یا نہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے ایکس پر کہا کہ "کوئی شک نہ رکھیں: ان جرائم کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔"

ایران نے کہا ہے کہ امریکی حملوں میں اس کی نیم فوجی پاسدارانِ انقلاب (انقلاب گارڈز) کے چار ارکان اور گارڈز کی رضا کار فورس بسیج کے 10 ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے 'اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ' نے ملک کے وزیرِ صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حملوں کے اس تازہ ترین مرحلے میں مجموعی طور پر 108 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز کا بیشتر حصہ بدستور بند

گزشتہ ماہ لڑائی میں آنے والے وقفے کے دوران، امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھا دیا تھا کیونکہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی روزانہ صرف چند بحری جہاز ہی یہاں سے گزر رہے ہیں اور ایران باقاعدگی سے ان جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔

بدھ کے روز، سعودی شپنگ کمپنی بحری نے بتایا کہ پیر کی رات دیر گئے ایک حملے میں دو فلپائنی ملاح ایرانی حملے میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کا بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔

جون میں طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ اسی مہینے کے دوران دونوں طرف سے ہونے والے حملوں کے تبادلے کے باعث تیزی سے ناکام ہو گیا۔ ثالث کا کردار ادا کرنے والا ملک پاکستان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ دریں اثنا، منگل کی رات دیر گئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور نہیں کریں گے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "مجھے اس بات کی بالکل پرواہ نہیں ہے کہ آیا وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں جو ان کے لیے بے وقعت ہو۔ مجھے اب ہماری پوزیشن بہت بہتر لگ رہی ہے، جس میں آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول ہے اور ان کی معیشت پوری طرح تباہ ہو رہی ہے۔ وہ صرف ناگزیر نتیجے کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"


Tuesday, 1 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑تعزیتی نشست براۓ ادریس وارثی*
آج بروز منگل بعد نماز عشاء خالد بن ولید ہال امن پورہ نانڈیڑی اسکول کے پیچھے ایک تعزیتی دعائیہ نشست مشہور نعت گو شاعر مرحوم ادریس وارثی صاحب کے لئے منعقد کی جارہی ہے متعلقین و احباب سے شرکت کی درخواست اللہ شاعر اسلام مرحوم وارثی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے آمین 
سیف نیوز اردو






*🛑گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ کتنا پانی پینا چاہیے؟ ماہرین نے بتائی اہم بات*
مناسب مقدار میں پانی پینے سے گردے کی پتھری اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTI) سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پینا گردوں کے لیے نقصان دہ نہیں، بلکہ جسم میں پانی کی کمی کئی طرح کے صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ کتنی مقدار میں پانی پینا ضروری ہے:

جسم میں پانی کی کمی ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق تیز دھوپ یا شدید گرمی والی جگہوں پر طویل عرصے تک کام کرنے سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی تیزی سے ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جب جسم میں پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے تو گردوں پر کام کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

اس حوالے سے دی لینسیٹ ریجنل ہیلتھ، ساؤتھ ایسٹ ایشیا جرنل میں شائع ہونے والی معلومات کے مطابق، شدید گرمی اور جسمانی مشقت میں کام کرنے والے کسانوں اور مزدوروں میں گردوں کی دائمی خرابی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین گردوں کے مسائل اور خون میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھنے سے بچنے کے لیے طرزِ زندگی اور خوراک میں تبدیلی کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ تربوز، کھیرے اور پالک جیسی پانی سے بھرپور غذائیں کھانے کی بھی تجویز دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ناریل پانی جسم میں پانی کی کمی کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ ورزش کرنے، وزن کو متوازن رکھنے اور گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے شراب نوشی اور تمباکو نوشی سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے کتنا پانی ضروری ہے؟

مناسب مقدار میں پانی پینے سے گردوں کے فلٹریشن کے عمل کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے گردے کی پتھری اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

kidney research.uk کی ایک تحقیق کے مطابق، عام طور پر روزانہ 6 سے 8 گلاس پانی پینے کی صلاح دی جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کے لیے پانی کی ضرورت یکساں نہیں ہوتی۔ جسم کو کتنے پانی کی ضرورت ہے، اس کا انحصار صحت، موسم، درجہ حرارت، جسمانی سرگرمی اور کام کی نوعیت پر بھی ہوتا ہے۔

جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے میں مددگار

ماہرین کے مطابق پانی پیشاب، پسینے اور فضلے کے ذریعے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے، جوڑوں کی حرکت کو آسان بنانے اور حساس ٹشوز کو نقصان سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جب جسم میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو یہ تمام عمل متاثر ہونے لگتے ہیں۔ پانی گردوں کے ذریعے جسم سے فاضل اور زہریلے مادوں کو قدرتی طور پر خارج کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کم پانی پینے سے خون میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ چونکہ یورک ایسڈ گردوں کے ذریعے جسم سے خارج ہوتا ہے، اس لیے پانی کی کمی کی صورت میں گردے کی پتھری بننے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جسم میں پانی کی معمولی کمی بھی گردوں کے فلٹریشن کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق شدید ڈی ہائیڈریشن گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے سخت جسمانی مشقت یا ورزش کے دوران، خاص طور پر گرم اور مرطوب موسم میں جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا ضروری ہے۔









*🛑ایران کے ساتھ جنگ کے درمیان امریکہ کو دھچکا، امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے دیا استعفیٰ*
امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز ان کے استعفے کی تصدیق کی، تاہم استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ تقریباً 18 ماہ تک اس اہم عہدے پر رہنے والے ڈرِسکول کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ان کے اختلافات اور امریکی فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی خبریں مسلسل آتی رہی ہیں۔ ایک امریکی فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈرِسکول نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے امریکی فوج کی صورتحال کے حوالے سے بات چیت کی تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ڈرِسکول نے امریکی فوج میں صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے، فوجی تیاری اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ میں فوج سے متعلق تیسرا بڑا استعفیٰ

ڈین ڈرِسکول کے استعفے کے دوران امریکی فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپریل میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین افسر جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد جون میں یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈوناہو بھی اچانک اپنے عہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ اب ڈین ڈرِسکول کا استعفیٰ ٹرمپ انتظامیہ میں فوج سے متعلق تیسرا بڑا استعفیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈرِسکول کو جنرل رینڈی جارج کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ جنرل جارج کو عہدے سے ہٹائے جانے پر ڈرِسکول نے مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔ اپریل میں کانگریس کے سامنے پیشی کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ استعفے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ جنرل جارج کے گھر گئے تھے۔

ڈرون پروگرام کی حمایت بھی اختلاف کی وجہ بنی؟

اسی دوران امریکی فوج نے ڈرون کی جدید کاری کے ایک پروگرام کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی ڈین ڈرِسکول حمایت کرتے تھے۔ یورپ میں امریکی فوج کی ایک یونٹ کو اپنے ڈرون تیار کرنے کا کام روک کر دوبارہ روایتی انفنٹری بٹالین کے طور پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ڈرِسکول فوج میں ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دینے کے حامی تھے۔ انہوں نے فوجی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے قواعد کو آسان بنانے کی کوشش بھی کی تھی تاکہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی تیاری میں تیزی لائی جا سکے۔ ڈین ڈرِسکول عراق جنگ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری بھی کر چکے ہیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سابق مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ دونوں کی ملاقات ییل لاء اسکول میں ہوئی تھی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2024 میں ڈرِسکول کو آرمی سیکریٹری کے عہدے کے لیے نامزد کرتے وقت انہیں تبدیلی لانے والا رہنما قرار دیا تھا۔

روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں بھی کردار

آرمی سیکریٹری کی حیثیت سے ڈرِسکول کو روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم کرانے کے لیے مذاکرات میں بھی اہم ذمہ داری دی گئی تھی۔ وہ امریکی فوج کی جدید کاری اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کر رہے تھے۔ ان کے اچانک استعفے نے ٹرمپ انتظامیہ میں امریکی فوج کی پالیسی، اعلیٰ سطحی تقرریوں اور دفاعی اداروں میں جاری تبدیلیوں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ڈرِسکول نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ آخر کیوں کیا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں‘: دہشت گردی کی مالی معاونت پر وزیراعظم مودی کا SCO میں سخت پیغام، شہباز شریف بھی تھے موجود*
INSTALL APP
’دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں‘: دہشت گردی کی مالی معاونت پر وزیراعظم مودی کا SCO میں سخت پیغام، شہباز شریف بھی تھے موجود
SCO Summit: شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گروپ کو دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ اس میں دہشت گردی کی مالی معاونت، بھرتی کے نیٹ ورک، انتہا پسندی کو فروغ دینے کے عمل اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT
Last Updated : September 1, 2026, 1:44 pm IST
Published by : Imtiyaz Saqibe
(Image: @narendramodi)(Image: @narendramodi)
ADVERTISEMENT
متعلقہ ویڈیو
 Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب

Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں

Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا
Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

 Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب

Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں

SCO Summit: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر متحد ہو کر کارروائی کرنے کی پُرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس لعنت سے نمٹنے کے معاملے میں ’’دوہرے معیار‘‘ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی، جس کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گروپ کو دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ اس میں دہشت گردی کی مالی معاونت، بھرتی کے نیٹ ورک، انتہا پسندی کو فروغ دینے کے عمل اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی شامل ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ’’ہمیں دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنا ہوگا، جس میں اس کی مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندی اور محفوظ پناہ گاہیں شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں ایک آواز میں کہنا ہوگا کہ دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے SCO کے حوالے سے بھارت کے وژن کے تین بنیادی ستون بھی پیش کیے، جن میں سلامتی، رابطہ کاری اور مواقع شامل ہیں۔ سلامتی کے معاملے پر وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی تنازعات کو طاقت کی بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی بھی اپیل کی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’جنگ کے میدان میں کوئی حل نہیں ہوتا؛ تمام جنگوں اور تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔‘‘

رابطہ کاری کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن سے منڈیوں کو آپس میں جوڑا جا سکے، تجارت کو فروغ ملے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ ایسے تمام منصوبوں میں ہر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو منڈیوں کو آپس میں جوڑیں، تجارت کو فروغ دیں اور ترقی کے نئے راستے کھولیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’رابطہ کاری سے متعلق ان تمام کوششوں میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘

SCO کو مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور نظریات کے سنگم سے تعبیر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آئندہ 25 برسوں کے دوران تنظیم کو عوام سے عوام کے روابط کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کے لیے SCO عظیم تہذیبوں، ثقافتوں اور نظریات کا سنگم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگلے 25 برسوں کے دوران SCO کو اپنے باہمی تعاون کے مرکز میں عوام سے عوام کے روابط کو رکھنا چاہیے۔‘‘وزیر اعظم مودی نے SCO کے رکن ممالک کے نوجوانوں کے درمیان روابط اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے اسٹارٹ اَپ فورم، ینگ آتھرز کانکلیو اور ینگ سائنٹسٹس فورم جیسی پہل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔







*🛑چین کے سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ، نیپال میں تازہ سیلاب کا الرٹ، ریسکیو آپریشن روک دیا گیا*
ترشولی، نیپال: چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے زلزلے کے بعد نیپال میں سیلاب کی تازہ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ نیپال پولیس نے اطلاع دی ہے کہ ترشولی کے علاقے کو دوبارہ سے خالی کرایا جا رہا ہے۔ نیچے کی طرف بہنے والے پانی کے زبردست اضافے کی وجہ سے دریا کے پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سی جی ٹی این کی ایک رپورٹ کے مطابق، چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر نے بتایا کہ زلزلے نے جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے لونگ چانگ شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔

الرٹ جاری کرتے ہوئے نیپال پولیس نے کہا کہ تبت کی جانب ایک ڈیم دوبارہ ٹوٹ گیا ہے۔نیپال پولیس نے ایکس پر پوسٹ کیا، "اطلاع موصول ہوئی ہے کہ تبت کی طرف پانی کا ایک ڈیم دوبارہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس لیے تمام سیکورٹی اہلکاروں، ریسکیو اور ریلیف ورکرز اور عام لوگوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر چوکس رہیں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور دوسروں کو مطلع کریں۔"

ترشولی سے رسووا تک سڑک پر تعمیراتی کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ تمام جے سی بی مشینوں کو واپس بلا لیا گیا ہے، اور سڑک کی تعمیر کی تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں شامل ایک اہلکار نے اے این آئی کو بتایا، "ہم کھٹمنڈو سے یہاں آئے ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہاں سے سڑک رسووا کی طرف جاتی ہے۔ رسووا تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہ، سب کچھ تباہ ہوچکا ہے۔ مقامی اور قومی حکومتوں کو ملبہ ہٹانا ہوگا۔"

ایک جے سی بی ڈرائیور نے کہا، "یہاں کام روک دیا گیا ہے۔ پانی کی سطح پھر سے بڑھ رہی ہے۔"

مکینوں نے اپنی املاک کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ کیچڑ میں پھنسنے کے بعد کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہونے کے تجربے کو سناتے ہوئے، ایک مقامی رہائشی نے کہا، "ہر کوئی بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا، ہم گہری کیچڑ میں پھنس گئے، ہم نے اپنا سب کچھ کھو دیا — اپنے گھر، دکانیں اور سامان۔۔۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے، ہم اپنے کام میں مصروف تھے۔ترشولی اور دھوبی ندیوں سے ہم نے بھاگنا شروع کر دیا، پورا بازار بہہ گیا۔۔۔اس وقت ہم کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

نیپال پولیس نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کو نیپال کے رسووا ضلع میں تباہ کن سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جب کہ 1,545 لوگ زخمی ہیں۔

نیپال پولیس کے مطابق، سب سے زیادہ اموات چتوان ضلع میں ہوئیں ہیں، جہاں سے 178 لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس کے بعد این پی ایسٹ میں 110، گورکھا میں 44، نوواکوٹ میں 37، دھاڈنگ میں 33، تناہون میں 28، این پی ویسٹ میں 27، اور رسووا میں 12 ہلاکتیں ہوئیں۔

حکام نے رسووا سے 644، نواکوٹ سے 898 اور دھاڈنگ سے تین افراد کو ریسکیو کیا ہے۔

ایوان نمائندگان میں قائد حزب اختلاف بھیشم راج انگڈمبے نے کہا کہ نیپالی فوج جغرافیائی چیلنجوں کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے ترشولی میں نامہ نگاروں کو بتایا، "یہاں جغرافیائی خطوں کی وجہ سے، موسمی حالات امدادی کارروائیوں کے لیے سازگار نہیں ہیں، اس کے باوجود، ہماری فوج اور ہماری تمام ہیلی کاپٹر ٹیمیں اس کوشش میں پوری طرح مصروف ہیں۔ ہم بالائی علاقوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کر رہے ہیں- وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں سب مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ، "اس آپریشن کے لیے فوج کے دو ہیلی کاپٹر اور نجی شعبے کے دیگر ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے ہیں۔ ہم اپنے اختیار میں ہر وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہم سب کو آگاہ کر رہے ہیں، اور ہماری سیکورٹی ایجنسیاں لوگوں کو محفوظ رہنے کی تلقین کرنے کے لیے ایڈوائزری جاری کر رہی ہیں۔"









*🛑مہینے کے پہلے دن مہنگائی کا جھٹکا، ایل پی جی، سی این جی، پی این جی، اے ٹی ایف کی قیمتوں میں اضافہ*
نئی دہلی: سرکاری تیل کمپنیوں نے ستمبر کے پہلے دن ایل پی جی کی قیمتوں میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ آج سے 19 کلو کے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، عام لوگوں کے لیے راحت کی خبر یہ ہے کہ 14.2 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

فروری کے آخر میں مغربی ایشیا بحران شروع ہونے کے بعد، کمرشل ایل پی جی کی قیمت میں 1,373 روپے فی 19 کلوگرام سلنڈر بڑھا دی گئیں تھیں – جو فروری میں 1,740.50 روپے سے جون میں 3,113.50 روپے تک پہنچ گئیں۔

19 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت میں یکم اگست کو 192 روپے اور یکم جولائی کو 183.5 روپے کی کمی کی گئی تھی۔ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے جون میں قیمتیں ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جس کے بعد کمرشل ایل پی جی کی قیمتوں میں دو بار کمی کی گئی تھی۔

اے ٹی ایف کی قیمتوں میں اضافہ:

منگل کو ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں 5.46 فیصد اضافہ کیا گیا۔ جیٹ فیول یا اے ٹی ایف کی قیمت 6.28 روپے فی لیٹر یا 5.46 فیصد بڑھا کر گھریلو ایئر لائنز کے لیے 121.28 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

یہ اضافہ یکم اگست کو قیمتوں میں پانچ روپے فی لیٹر اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

دونوں اضافے سے ایئر لائنز کے مالی بوجھ میں اضافہ ہو جائے گا، جن کے لیے اے ٹی ایف آپریٹنگ اخراجات کا 40 فیصد بناتا ہے۔

سی این جی اور پی این جی کی قیمتوں میں اضافہ

مہانگر گیس نے پیر کو سی این جی کی قیمتوں میں دو روپے فی کلو اور گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) میں ایک روپے فی معیاری مکعب میٹر (ایس سی ایم) کے اضافے کا اعلان کیا۔کمپنی نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کی وجہ سے ان پٹ لاگت میں اضافہ کا حوالہ دیا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی نئی قیمت ممبئی اور اس کے آس پاس 88 روپے فی کلوگرام ہوگی، جو یکم ستمبر کی آدھی رات سے لاگو ہوگی۔

ممبئی، تھانے، رائے گڑھ، رتناگیری، لاتور اور مہاراشٹر میں دھاراشیو اور کرناٹک میں چتردرگا اور داونگیرے میں تقریباً 13 لاکھ سی این جی گاڑیاں ایم جی ایل کے سپلائی نیٹ ورک پر منحصر ہیں۔

گھریلو پی این جی محاذ پر، ان پٹ لاگت میں اسی اضافے کے نتیجے میں 30 لاکھ گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فی ایس سی ایم میں ایک روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ اعلان قومی دارالحکومت کے علاقے اور آس پاس کے علاقوں میں خدمات انجام دینے والی اندرا پرستھ گیس کی جانب سے سی این جی کی قیمتوں میں 3.89 روپے فی کلوگرام اضافے کے بعد آیا ہے۔

بڑے شہروں میں کمرشل سلنڈر کی نئی قیمتیں:

قیمتوں میں اس اضافے کے بعد ملک کے بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں آج سے نئی قیمتیں نافذ ہو گئی ہیں:

دہلی: قومی راجدھانی میں تجارتی سلنڈر کی قیمت میں 9.50 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس سے نئی شرح 2,747.50 روپے ہو گئی ہے۔

ممبئی: ملک کی صنعتی راجدھانی میں صارفین کو اب سلنڈر کے لیے 2,701 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

چنئی: اس جنوبی شہر میں، نئی قیمت 2,916.50 روپے تک بڑھ گئی ہے۔

دیگر شہر: کولکاتہ، حیدرآباد، اور بھونیشور جیسے شہروں میں مقامی ٹیکسوں کی وجہ سے قیمتوں میں 11.50 روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ سے عام لوگوں اور کاروباری اداروں پر اثرات

یہ لگاتار دو ماہ جولائی اور اگست میں کمی کے بعد کمرشل گیس کی قیمتوں میں پہلا اضافہ ہے۔ اس تبدیلی کے بعد مارکیٹ پر درج ذیل اثرات ہوں گے:

گھریلو بجٹ محفوظ: 14.2 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت مستحکم رہنے سے، تہوار کے موسم میں عام خاندانوں کے بجٹ میں خلل نہیں پڑے گا۔
چھوٹے کاروباروں پر دباؤ: چھوٹے کاروباری مالکان جیسے کہ ہوٹل، ریستوراں، ڈھابے، اور چائے/ناشتہ کے اسٹالز چلانے والوں کو آپریٹنگ اخراجات میں معمولی اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مہنگائی کا کم امکان: مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ اضافہ معمولی ہے۔ لہذا، گھر سے باہر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا امکان نہیں ہے۔

گیس کی قیمتوں میں تبدیلی کیوں؟

تیل کمپنیاں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ایل پی جی کے نئی قیمتوں کا اعلان کرتی ہیں۔ یہ ایڈجسٹمنٹ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کے موقف پر غور کرنے کے بعد کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث آج کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس تہوار کے موسم میں گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

Monday, 31 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑انعام الرحمٰن کی ایک اور نمایاں کامیابی، انگلش میڈیم میں پولیٹیکل سائنس سے نیٹ کوالیفائی کرنے والے شہر عزیز کے پہلے طالب علم*
شہر عزیز کے ہونہار نوجوان انعام الرحمٰن حفیظ الرحمٰن نے انگلش میڈیم میں پولیٹیکل سائنس مضمون سے نیٹ کوالیفائی کر کے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا۔ وہ شہر عزیز کے پولیٹیکل سائنس میں انگلش میڈیم سے نیٹ کوالیفائی کرنے والے پہلے طالب علم (Male) جبکہ مجموعی طور پر شہر میں دوسرے پولیٹیکل سائنس میں انگلش میڈیم سے نیٹ کوالیفائیڈ امیدوار ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر علمی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
انعام الرحمٰن معروف سماجی شخصیت حفیظ الرحمٰن المعروف پپو سیٹھ پھلکے والے کے فرزند ہیں۔ انعام الرحمٰن نے اپنی تعلیمی زندگی میں مسلسل محنت، لگن اور عزم کے ذریعے ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کی ہے، جو ان کے روشن مستقبل کی واضح علامت ہے۔
انعام الرحمٰن کی تعلیمی کامیابیوں کا سلسلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ سال 2024 میں انعام الرحمٰن نے پہلی ہی کوشش میں پولیٹیکل سائنس میں انگلش میڈیم سے سیٹ کوالیفائی کیا اور شہر عزیز کے پہلے طالب علم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 
اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے فروری 2026 میں انعام الرحمٰن نے پہلی ہی کوشش میں CTET سوشل اسٹڈیز انگلش میڈیم سے کامیاب کیا۔ اس کے بعد پولیٹیکل سائنس کے مضمون میں انگلش میڈیم سے نیٹ کوالیفائی کرنا انعام الرحمٰن کی علمی استعداد، مستقل مزاجی اور محنت کا واضح ثبوت ہے۔
انعام الرحمٰن کی یہ کامیابی صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ شہر عزیز کے تعلیمی منظرنامے کے لیے بھی ایک قابل فخر اور حوصلہ افزا لمحہ ہے۔
انعام الرحمٰن کی اس نمایاں کامیابی پر اہل خانہ، اساتذہ، دوست احباب اور شہر کے علمی و سماجی حلقوں کی جانب سے مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 
دعا ہے کہ اللّه تعالیٰ انعام الرحمٰن کو مستقبل میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور وہ اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے میدان میں اپنے خاندان، اساتذہ اور شہر کا نام مزید روشن کریں۔







*🛑نشہ میں ملوث افراد کے اہل خانہ متوجہ ہوں*
*از قلم: شعیب احمد محمدی*

انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا، اسے عقل، شعور اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت دی۔ لیکن جب یہی انسان نشے کی اندھیری وادی میں قدم رکھتا ہے تو وہ اپنی اسی عقل اور انسانیت کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیتا ہے۔

آج ہمارا مالیگاؤں شہر، جو علم و ادب اور محنت کشوں کا شہر کہلاتا تھا، نشے جیسی لعنت کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے۔ گانجا، چرس، شراب، گٹکا، اور اب تو خطرناک انجیکشن اور گولیاں تک عام ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ صرف ایک نشہ نہیں، یہ پورے گھر کی بربادی کا سامان ہے۔

*نشہ کیا تباہ کرتا ہے؟*

1. *صحت کی تباہی:* نشہ سب سے پہلے انسان کے جسم کو کھوکھلا کرتا ہے۔ جگر، گردے، دل اور دماغ سب ختم ہو جاتے ہیں۔
2. *کردار کی تباہی:* نشئی انسان جھوٹا، چور اور بے بس بن جاتا ہے۔ وہ اپنی ماں کے زیور، بہن کے پیسے اور بچوں کا رزق بھی نشے میں اڑا دیتا ہے۔
3. *خاندان کی تباہی:* ایک نشئی کے ساتھ صرف وہ اکیلا نہیں روتا، اس کی ماں، اس کی بیوی، اس کے معصوم بچے سب روتے ہیں۔ گھر میں لڑائی، فاقہ اور ذلت آ جاتی ہے۔
4. *نوجوان نسل کی تباہی:* سب سے بڑا حملہ ہماری نوجوان نسل پر ہے۔ اسکول اور کالج جانے والا بچہ جب نشے میں پڑ جاتا ہے تو اس کی تعلیم، اس کا مستقبل اور اس کے والدین کے سارے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔

*ہماری ذمہ داری کیا ہے؟*

یہ کہہ دینا آسان ہے کہ "وہ نشئی ہے، اس سے دور رہو"۔ لیکن اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا۔ اسلام نفرت سے نہیں، محبت سے اصلاح سکھاتا ہے۔

1. *والدین کا کردار:* اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ وہ کہاں جاتا ہے، کس کے ساتھ بیٹھتا ہے، اس کا موبائل اور اس کے دوست کیسے ہیں؟ اسے وقت دیں، اس سے محبت سے بات کریں۔ بچہ ڈانٹ سے نہیں، محبت سے سدھرتا ہے۔
2. *اساتذہ اور علماء کا کردار:* اسکول اور مسجد میں نشے کے نقصانات پر کھل کر بات کریں۔
3. *معاشرے کا کردار:* نشہ بیچنے والوں کا بائیکاٹ کریں۔ ان کی حوصلہ شکنی کریں۔

اور جو بھائی اس دلدل میں پھنس چکے ہیں، ان سے نفرت مت کریں۔ ان کو گلے لگائیں۔ انہیں سمجھائیں کہ یہ راستہ موت کا راستہ ہے۔ انہیں علاج کی طرف لائیں۔

*الحمدللہ، مالیگاؤں میں امید کی کرن باقی ہے*

اللہ کا شکر ہے کہ مالیگاؤں میں اب بھی ایسے درد مند دل رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو اس فتنے کے خلاف دن رات کام کر رہے ہیں۔

• ایم رؤف ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی،
• میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن (قدوائی روڈ، رضوان بیٹری والے کی آفس) 
• اور نیو لائف ہیلپ اینڈ کونسلنگ سینٹر (نمیرہ ہائٹس، شاپ نمبر 111، للے چوک) 
 الحمدللہ یہ ادارے خاموشی سے اس قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ آپ ایک مرتبہ انکے پاس ضرور تشریف لائیں انشاءاللہ یہ آپکے لیے اور آپکے اہل وعیال کے بہتر مستقبل کیلئے نشہ میں ملوث افراد کا نشہ چھڑانے میں بہت اچھا رول ادا کررہے ہیں آپکی آمد انکے لیے باعث فخر اور نشہ سے نجات کا ذریعہ بنے گی۔

*میری مالیگاؤں کی تمام ماؤں، بہنوں، اور بھائیوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے:*

اگر آپ کے گھر میں، آپ کے محلے میں کوئی بھی نوجوان نشے کی لپیٹ میں ہے تو اسے اس کے حال پر مت چھوڑیں۔ یہ نہ سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ آج شرمائیں گے تو کل ساری زندگی روئیں گے۔

اسے محبت سے سمجھائیں، اور فوراً ان نمبروں پر رابطہ کریں۔ آپ کا ایک فون، آپ کی ایک کوشش کسی کی جان بچا سکتی ہے، کسی کا گھر ٹوٹنے سے بچا سکتی ہے۔

نشہ چھڑوانے یا کسی بھی قسم کی طبی امداد کے لیے رابطہ کریں:


یاد رکھیں! آپ کی تھوڑی سی توجہ کسی کے لیے نئی زندگی بن سکتی ہے۔

آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے شہر مالیگاؤں کو نشہ سے پاک، صاف اور روشن شہر بنائیں گے۔

نشے سے پاک نوجوان ہی قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔

اللہ ان اداروں کو اس نیک عمل کا بہترین اجر عطا فرمائے اور ذخیرہ آخرت بناۓ آمین






*🛑بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*شہر کے کاروباری حالات کے پیش نظر آیت کریمہ کا ورد اور دعائیہ مجلس*
 شہر کے کاروباری حالات کا سب لوگوں کو بخوبی علم ہے، کاروباری مندی سے اس وقت لوگ پریشان ہیں، ایسے وقت میں اللہ تعالی کی طرف رجوع، توبہ و استغفاراوردعا کا اہتمام کرنا چاہیے_
 آیت کریمہ کےورد سے بھی مشکلات دور ہوتی ہے اور رزق کی وسعت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے، اسی کے پیش نظر خانقاہ رحمانیہ، مالیگاؤں کے زیر اہتمام بروز اتوار مورخہ 30/ اگست بعد نماز عشاء فورا مسجد ہدایت الاسلام( بسم اللہ باغ ) میں ایک دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں آیت کریمہ کا ورد ہوگا اور شہری حالات کے پیش نظر شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب( سجادہ نشین خانقاہ رحمانیہ) خصوصی دعا فرمائیں گے_
 واضح رہے کہ آیت کریمہ کا ورد ٹھیک9:00 نو بجے سے شروع ہو جائے گا اس لیے وقت پر مسجد ہدایت الاسلام( بسم اللہ باغ ) پہونچ جائیں_

 منجانب: مریدین و متوسلین خانقاہ رحمانیہ، مالیگاؤں

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑تصویروں کا سیاہ کھیل اور ٹھپ ہوتا ترقیاتی کام*
*آخر کب جاگے گی مالیگاؤں کی عوام؟*
✍️ *وسیم رضا خان*

مالیگاؤں کی تاریخ صرف کپڑے کے تانے بانے تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ یہ شہر جدوجہد اور صبر کی علامت رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، آج یہ شہر سیاست کے اس خوفناک چوراہے پر کھڑا ہے جہاں اصل مسائل پر دھول جم چکی ہے اور فضول کے تنازعات کو چمکایا جا رہا ہے۔ ایک شہری اور صحافی ہونے کے ناطے میرا مقصد کسی سیاسی جماعت، رہنما، اقتدار میں شامل افراد یا اپوزیشن پر ذاتی حملہ کرنا بالکل نہیں ہے۔ میری دشمنی کسی سیاسی شخص یا لیڈر سے نہیں، بلکہ اس ناکارہ انتظامی نظام اور ان غلط پالیسیوں سے ہے جنہوں نے شہر کی ترقی راستے بند کر رکھے ہیں. جب جب سسٹم اپنی ذمہ داریوں سے بھٹکتا ہے، تب تب ایک غیر جانبدار آواز کا اٹھنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے تاکہ عوام کو ان کے سوئے ہوئے شعور کا احساس دلایا جا سکے۔ آج مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اور یہاں کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوامی سہولیات کی جگہ علامتی لڑائیوں نے لے لی ہے۔ دفاتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگانے یا ہٹانے کا معاملہ نہ تو شہر کی ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کسی غریب کے گھر کا چولہا جل سکتا ہے۔ صرف ایک تصویر کے ارد گرد پورے شہر کی ترقی کو روک دینا کسی دور اندیش عوامی نمائندے کی نشانی نہیں ہو سکتی۔ سچا رہنما وہ ہوتا ہے جو نفرت اور تقسیم کی بھدی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر صرف سڑک، پانی، صحت، تعلیم اور انتظامی امور جیسے بنیادی مسائل پر بات کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے کھوکھلے تنازعات کے ذریعے مالیگاؤں کے عکس کو خراب کرنے اور ایک مخصوص برادری کو اوروں کی نظر میں نشانہ بنانے کا راستہ اپنایا جا رہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اگر خود کو کسی فکر یا برادری کا رہبر کہتے ہیں، تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کے جذبات کو مجروح کر کے سیاست کرنا ہرگز قیادت نہیں ہے۔ کرسی ملنے کے بعد رہنما پورے شہر کا نمائندہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی خاص گروہ کا۔ ایک بہترین منتظم اور سچا نمائندہ وہی ہے جو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے یا اس کے جائز اعتراضات کا مثبت جواب دے۔ اگر اپوزیشن تقسیم اور جذبات سے کھیلنے والی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہی ہے، تو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان بحث کا دائرہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ میونسپل کارپوریشن کے نظام میں بہتری کیسے لائی جائے، ٹوٹاہوا انفراسٹرکچر کیسے ٹھیک ہو اور پینے کا صاف پانی ہر گھر تک کیسے پہنچے—نہ کہ اس بات پر کہ دفتر کی دیواروں پر کس کی تصویر رہے گی اور کس کی نہیں۔ گدی نشین نمائندے اگر اپنے مخالف گروہ کو سنبھال نہیں سکتے تو یقینا وہ انتظامی امور کے بھی لایق نہیں ہو سکتے. 
مالیگاؤں کی عوام کو اب یہ تلخ سچائی سمجھنی ہوگی۔ جب تک آپ اپنے رہنماؤں سے ترقی کا حساب نہیں مانگیں گے، تب تک وہ آپ کو جذبات کے جال میں الجھا کر اپنی کرسیاں بچاتے رہیں گے۔ میونسپل کارپوریشن آپ کی ہے، یہ شہر آپ کا ہے اور اس کی ترقی پر پہلا حق آپ کا ہے۔ تصویروں اور علامتوں کے فریب سے باہر نکلئے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد ہو کر نظام اور انتظامیہ سے سوال کیجیے، کیونکہ جب عوام بیدار ہوتی ہے، تبھی نظام سدھرتا ہے۔








*🛑جمعیۃ علماء کے تربیتی اجلاس میں ہندو مسلم اتحاد اور باہمی اخوت کے فروغ پر زور*
 ملک کی مسموم فضا کو تبدیل کرنے کے لئے جمعیۃعلماء کے کارکنان آگے آئیں: مولانا سید اسجد مدنی
ممبئی: جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے زیر اہتمام منعقدہ تربیتی اجلاس میں باہمی اخوت، ہندو مسلم اتحاد، سماجی خدمت اور مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اجلاس میں ریاست بھر سے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران، اراکین اور نمائندہ افراد نے شرکت کی۔
تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں ناظمِ تربیتی اجلاس مفتی محمد یوسف قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر، نے اجلاس کے اغراض و مقاصد اور اس کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کی۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے منعقد کیا جارہا ہے۔ صدرِ محترم مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ کی ہدایت پر مرکزی مجلسِ عاملہ کے چار ارکان پر مشتمل کمیٹی برائے ہندو مسلم اتحاد و باہمی اخوت تشکیل دی گئی ہے، جس کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ہیں۔
مولاناسید اشہد رشیدی مدظلہ نے کمیٹی کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم کے تحت منعقد ہونے والے پروگراموں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی مؤثر شرکت ضروری ہے۔ اگر کسی پروگرام میں سو افراد ہوں تو کم از کم پچاس افراد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی شریک ہوں، تاکہ باہمی تعارف، مکالمے اور اخوت کا ماحول پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام بڑے میدانوں یا وسیع اجتماعات کی شکل میں منعقد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ہندو مسلم اتفاقِ رائے سے منعقد کیے جائیں۔ پروگرام کے اسٹیج پر سیاسی شخصیات کو مدعو نہ کیا جائے، جبکہ برادرانِ وطن میں سنجیدہ، باشعور اور سماجی میدان میں فعال افراد کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی جائے۔
کمیٹی کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نائب صدر جمعیۃعلماء ہند و کنوینر تحریک ہندو مسلم اتحاد نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی اور جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران اور نمائندہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
اپنے خطاب میں مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے تاریخی موقف ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں، مذاہب سے نہیں‘‘ کو عصرِ حاضر کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی دلنشیں تشریح کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اس لیے بلا تفریقِ مذہب و ملت مظلوموں، مجبوروں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا جمعیۃ علماء کا روزِ اول سے بنیادی مشن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء کے اسی مشن پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوئے دلوں کو جیتا جاسکتا ہے اور ملک کی مسموم فضا کو محبت، اعتماد اور باہمی اخوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی جمعیتوں کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ ضلعی اور ریاستی سطح کی جمعیتوں کا کام نگرانی، رہنمائی اور سرپرستی فراہم کرنا ہے۔
مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء کے دستورِ اساسی کی روشنی میں مقامی جمعیتوں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ مقامی جمعیت کے علاوہ دیگر سطحوں کی جمعیتیں ایک مقررہ مدت کے لیے تشکیل دی جاتی ہیں، جبکہ مقامی جمعیۃ کی تشکیل کے لیے کوئی متعین مدت نہیں رکھی گئی۔ دستور میں ہر سال کم از کم دو مقامی جمعیتیں قائم کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے، جس سے مقامی سطح پر تنظیمی و سماجی کام کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
مولانامدنی کی ہدایت پر اجلاس کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے تمام شرکائے اجلاس سے عہد لیا کہ وہ اپنی اپنی مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کے بینر تلے برادرانہ اخوت، ہندو مسلم اتحاد، باہمی اعتماد اور خدمتِ خلق کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
آخر میں مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ کی دعا کے ساتھ تربیتی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ بعد ازاں شرکائے اجلاس نے نمازِ ظہر ادا کی اور ظہرانے میں شرکت کی۔








*🛑اف یہ موبائل!*
*ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت* 
*احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات*
از قلم: شعیب احمد محمدی - 9284434542

وہ زمانہ یاد کیجیے جب شام کو گھروں میں چراغ جلتے ہی قرآن کی تلاوت کی آوازیں آتی تھیں، مائیں بچوں کو سیرت النبی ﷺ کے قصے سناتی تھیں، ناول اور اصلاحی کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔ آج اسی گھر میں ہر فرد کے ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی اسکرین ہے، اور ہر فرد تنہا ہے۔

موبائل نے سہولت تو دی، لیکن ہماری زندگی سے برکت، توجہ اور حیاء چھین لی ہے۔

1. تعلیم کی بربادی
آج نہ اسکول کے طالب علم کا دل پڑھائی میں لگتا ہے، نہ مدرسے کے طالب علم کا۔ استاد سبق پڑھا رہا ہے اور طالب علم کا دماغ موبائل کی خرافاتی ریلز میں الجھا ہوا ہے۔

2. نوجوان ہنر سیکھیں، وقت نہ گنوائیں
آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ اور نئے ہنر کا دور ہے۔ افسوس کہ ہمارا نوجوان اپنا قیمتی وقت ٹک ٹاک اور ریلز پر برباد کر رہا ہے، جبکہ دنیا کا نوجوان اسی موبائل سے ہزاروں کما رہا ہے۔ یاد رکھو! جس قوم کے نوجوان ہنر مند ہوتے ہیں وہ قوم ترقی کرتی ہے، اور جس قوم کے نوجوان صرف اسکرین کے غلام بن جائیں وہ پیچھے رہ جاتی ہے۔ اس لیے اے نوجوانو! اپنے وقت کی قدر کرو، کوئی ہنر سیکھو، اپنی تخلیقی صلاحیت کو جگاؤ، تاکہ تم خود بھی کما سکو، اپنے والدین کا سہارا بن سکو اور اس ملک و ملت کے لیے کچھ کر سکو۔

3. گھروں کا سکون برباد
کل تک جو خواتین پنج وقتہ نماز کے بعد قرآن کی تلاوت کرتی تھیں، آج وہی مائیں اور بہنیں سارا دن ڈراموں، ریلوں اور بے حیاء کلپس میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں۔ بچے کی تربیت، شوہر کا خیال، گھر کی صفائی، سب اسکرین کی نذر ہو گئی۔

4. تربیت کا جنازہ
آج تربیت کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی موبائل بن گیا ہے - نہ لڑکے محفوظ ہیں نہ لڑکیاں، نہ شوہر نہ بیوی۔ لڑکا مدرسے اور اسکول میں ہے تو اس کا ذہن کلاس میں نہیں بلکہ چیٹ میں ہے، لڑکی گھر میں ہے تو اس کی نظریں کتاب پر نہیں اسکرین پر ہیں، شوہر کما کر آتا ہے تو بیوی سے بات کرنے کے بجائے موبائل میں مصروف ہے، اور بیوی شوہر کی خدمت کے بجائے ڈراموں میں الجھی ہے۔ جب تربیت کا یہ رشتہ موبائل کی نظر ہو جائے تو حیا ختم ہو جاتی ہے، اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور گھر میں رہ کر بھی سب اجنبی بن جاتے ہیں۔

5. بچپن کا قتل
آج ہر گھر میں معاشی تنگی کا رونا ہے، خرچہ پورا نہیں ہوتا، لیکن ہر بچے کے ہاتھ میں 10-15 ہزار کا موبائل اور ہر مہینے اس کا ریچارج وقت پر ہوتا ہے۔ اس موبائل نے بچوں کو ضدی اور چڑچڑا بنا دیا ہے۔ موبائل نہ ملے تو گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں، ماں باپ کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔

6. عزتوں کا جنازہ
اور اللہ خیر کرے! اس موبائل نے ہماری نوجوان نسل کو عشق بازی اور فحاشی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر موبائل پر سات تالے لگے ہوتے ہیں، جیسے اس میں ہیرے موتی چھپے ہوں۔

ہمارے یہاں ایک رسم ہے، شادی میں دلہن والے دولہے کا جوتا چراتے ہیں اور 2000-3000 مانگتے ہیں، لیکن دولہا ہنسی میں 500 روپے دے کر جوتا لے لیتا ہے۔ میں کہتا ہوں، اگر شادی والے دن دولہے کا جوتا نہیں بلکہ اس کا موبائل چھپا لیا جائے تو وہ منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہو جائے گا۔ اب اس سے آگے لکھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ ایسا کیوں کرے گا۔!!

لہذا: اپنے اوقات کا سہی استعمال کریں، اسکول مدرسہ میں اچھے نمبرات حاصل کرنے کی اور ہنر مند بننے بنانے کی فکر کریں، رشتوں کو مضبوط کریں ہر ایک کو وقت اور عزت دیں۔

اللہ ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے اور موبائل کو دین و دنیا کی بھلائی اور علماء کرام کے بیانات، نعت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Saturday, 29 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ذیابیطس کے مریضوں کو کن پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے*
ذیابیطس کا مسئلہ ان دنوں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہ دن گئے جب ٹائپ 2 ذیابیطس صرف 40 سال سے زیادہ عمر والوں کو متاثر کرتی تھی۔ بھارت میں یہ بیماری اب 20 سے 30 سال کی عمر کے لوگوں کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔ ذیابیطس ملک میں ایک بڑی وبا بننے کے دہانے پر ہے، موٹاپا اس بیماری کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ مزید برآں ناقص طرز زندگی، غیر صحت بخش غذائی عادات، اور جسمانی ورزش کی کمی اہم خطرے کے عوامل ہیں۔

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ذیابیطس کا کوئی حتمی علاج نہیں ہے۔ اس کے انتظام کے لیے مختلف غذائی اور طرز زندگی کی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنا مریضوں کے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ بلند سطح متعدد پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اس وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ شوگر اور بعض مخصوص پھلوں سے پرہیز کریں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو کن پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے، یہ جاننے کے لیے مکمل رپورٹ پڑھیں۔

آم

آم کو 'پھلوں کا بادشاہ' کہا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں اور خاص طور پر بچے اسے کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ذائقے میں میٹھے، یہ پھل قدرتی شکر سے بھرپور ہوتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق ایک درمیانے سائز کے آم میں تقریباً 45 گرام چینی ہوتی ہے۔ شوگر کی اس مقدار کا استعمال بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کا باعث بنتا ہے، جو صحت کے مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ان افراد کے لیے جو پہلے ہی ہائی بلڈ شوگر یا ذیابیطس میں مبتلا ہیں، آم کھانے سے اس حالت سے وابستہ خطرات بڑھ سکتے ہیں۔انگور بہت سے لوگوں کے لیے پسندیدہ پھل ہیں اور بڑے پیمانے پر کھائے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ صحت کے لیے بہترین ہیں کیونکہ یہ وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ قوت مدافعت بڑھانے میں مدد کرتے ہیں اور خاص طور پر ہاضمے کو بہتر بنانے کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔تاہم اپنے بے شمار فوائد کے باوجود، انگور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان میں فریکٹوز کی اعلی سطح ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق انگور کے ایک کپ میں تقریباً 23 گرام چینی ہوتی ہے۔ ان کا استعمال خون میں شکر کی سطح کو بڑھاتا ہے، جو ذیابیطس کی علامات کو بڑھا سکتا ہے۔







*🛑UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان، تین مضامین کے لیے ستمبر میں ہوں گے دوبارہ امتحانات*
نئی دہلی: نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ این ٹی اے نے تین مضامین کو چھوڑ کر بقیہ 84 مضامین کے نتائج جاری کیے۔ این ٹی اے کے مطابق، 9 سے 10 ستمبر تک تین مضامین— انگلش (انگریزی)، کامرس اور سوشیالوجی (عمرانیات) کے لیے UGC-NET جون 2026ء کا امتحان دوبارہ منعقد کرایا جائے گا۔ ایجنسی نے بتایا کہ ان تینوں مضامین کے نتائج اور اسکور کارڈز دوبارہ امتحان کے بعد ہی جاری کیے جائیں گے۔

این ٹی اے نے جمعہ کے روز 84 مضامین کے لیے UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان کیا۔ امیدوار اپنے نتائج اور اسکور کارڈز UGC-NET کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ کینڈیڈیٹس لاگ ان کر کے اپنے اسکور کارڈز دیکھ، ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کر سکتے ہیں۔معاملے کی جانچ کے لیے کمیٹی تشکیل

اس سے پہلے، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے جونیئر ریسرچ فیلوشپ (JRF) دینے، اسسٹنٹ پروفیسر کی اہلیت کا جائزہ لینے اور PhD پروگرام میں ایڈمیشن شروع کرنے کے لیے 22 سے 30 جون تک 87 مضامین میں UGC-NET جون 2026ء امتحان منعقد کیا تھا۔ لیکن، ان پیپرز میں غلطیوں کی کئی شکایات کے بعد، ایجنسی نے معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنائی۔

سوالیہ پرچوں میں کئی طرح کی خامیاں و غلطیاں

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے مطابق، کمیٹی نے پایا کہ تین مضامین کے سوالیہ پرچوں میں کئی تہذیبی/تکنیکی (تھیاٹمک)، ٹائپنگ اور ترجمے سے متعلق غلطیاں تھیں، جن میں نامور ماہرین (اسکالرز) کے ناموں کے غلط ہجے (اسپیلنگ)، کتابوں کے عنوانات (ٹائٹلز) میں گڑبڑ، سوال کے اصل الفاظ میں خامیاں، قواعد (گرامر) کی غلطیاں اور جنس/تعداد کی مطابقت کی غلطیاں شامل تھیں۔ ساتھ ہی پہلے سے پوچھے گئے کئی سوالات بھی دہرائے گئے تھے۔

تین مضامین کے لیے دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ

کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے ان تین مضامین کے لیے دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ لیا، جس میں انگلش (انگریزی)، کامرس اور سوشیالوجی (عمرانیات) شامل ہیں۔ دوبارہ امتحان کے لیے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، انگلش کا پیپر 9 ستمبر کو شفٹ 1 (صبح 9:00 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک)، کامرس کا پیپر 9 ستمبر کو شفٹ 2 (دوپہر 3:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک) اور سوشیالوجی کا پیپر 10 ستمبر کو شفٹ 1 (صبح 9:00 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک) میں ہوگا۔








*🛑جنگ سے ایران کی معیشت دباؤ کا شکار، امریکہ کی پابندیاں مزید سخت*
امریکہ کے ساتھ جنگ کے باعث ایران کی معیشت پر پڑنے والے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں جبکہ ایرانی قیادت نے بھی معاشی مشکلات کا اعتراف کر لیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ’مہنگائی، بے روزگاری اور اشیا و خدمات کی قیمتوں سمیت عوام کو درپیش معاشی مشکلات سے نمٹا جائے۔‘
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ’امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات اور درآمدات میں قریباً 35 فیصد کمی آئی ہے۔‘ایرانی صدر کے مطابق ’جُون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مختصر مدت کے مفاہمتی یادداشت کے دوران، جب واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی، ایران تقریباً نو کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔‘
دوسری جانب امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن نے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ’وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے چین اور انڈیا جیسے ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے خلاف تاحال پابندیاں عائد نہیں کیں، کیونکہ اس کے عالمی اور امریکی معیشت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ نے مصر کے ’بینک مصر‘ پر بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ’بینک مصر‘ کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں کے ڈالر میں لین دین پر بھی پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مصر کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ ’وہ اور وزارت خارجہ اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں اور یہ اقدام صرف بینک مصر یو اے ای کے امریکی ڈالر میں متعلقہ بینکوں کے ساتھ لین دین تک محدود ہے۔‘
امریکی محکمہ خزانہ نے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بینک ملی سے منسلک ایک شخص پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی پابندیوں کے ساتھ جنگ نے ایران کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جہاں گذشتہ ماہ سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔
اُدھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے جبکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اسی دوران دیگر رہنماؤں کی جانب سے امریکہ کو فوجی کارروائی کے ذریعے جواب دینے کی دھمکیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جنگ سے قبل کی طرح بحری آمدورفت بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو قطری وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کو ’تخلیقی‘ قرار دیا۔
امریکہ کے اتحادی اور ایران کے ہمسائہ ملک قطر نے پاکستان کے ساتھ مل کر جون کے مفاہمتی معاہدے میں ثالثی کی تھی، جس کے نتیجے میں مختصر جنگ بندی ہوئی تاہم آبنائے ہرمز پر اختلافات کے باعث یہ جنگ بندی ختم ہوگئی۔
امریکی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ’امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز سے ان سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا ہے جو کئی ماہ قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے بچھائی تھیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل کہتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، تاہم پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اپنے بیان میں ان دعوؤں کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت بدستور بند ہے۔
جمعے کو جاری ہونے والے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف سات تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گذشتہ 10 دن کی اوسط 15 جہاز روزانہ تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مالیگاؤں میں بڑی گاڑیوں کے خلاف ہندو-مسلم جن آندولن کا اعلان* *میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن میدان میں - اب اکیلے نہیں، پو...