Tuesday, 3 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *


تقریب اجراء کاروان شعور

معروف تعلیمی شخصیت ڈاکٹر اسد اللہ خان کے تعلیمی و فکری مضامین پر مشتمل کتاب کارواں شعور کی تقریب اجراء 7 نومبر بروز سنیچر اسکس ہال میں شب ساڑھے 9 بجے منعقد کی گئی ہے صدارت سید زاہد علی ممبر اجراء بدست محمد یاسین درگاہ ممبئی اظہار خیال محمد رضا سر جمیل کرانتی عمران جمیل نظامت منصور اکبر سیف نیوز باذوق ادبی احباب سے شرکت کی پر خلوص گزارش الداعی وائس آف اردو مالیگاؤں کا امتیاز جلیل اجراء کمیٹی





7/ نومبر2026ء کو مسجد زاہدہ اقبال کے پہلے سلیب (چھت) بھرائی۔


 الحمدللہ!

7/ نومبر 2026 ء بروز سنیچر صبح ساڑھے گیارہ بجے مدرسہ و مسجد زاہدہ اقبال اقصیٰ کالونی،مدینہ پارک، دیانہ کی پہلی چھت بھرائی کا کام شہر کے موقر علماء کرام کے دستہائے مبارک اور مخلصانہ دعاؤں سے رکھا جائے گا۔ اس میں 350 / عدد سیمنٹ بیگ،ایک ڈمپر ریتی،بارہ براس کھڑی،چار لاکھ روپے کی اسٹیل اور سلیب، کالم، بیم دونوں سائٹ زینے کی نقد مزدوری کے لیے ساڑھےتین لاکھ روپے کی اشد ضرورت ہے۔سلیب کا تقریباً خرچ مع مٹیریل و مزدوری آٹھ لاکھ روپے ہے ۔ رمضان المبارک سے قبل مسجد جاری کرنے کا عزم و ارادہ ہے۔ آپ اپنی طرف سے اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے تعاون فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔عمائدین و اہلیان شہر اور تمام دوست و احباب سے شرکت اور بھرپور تعاون کی اپیل ذمہ داران و تعمیری کمیٹی مسجد و مدرسہ زاہدہ اقبال اور اہلیان محلہ نے کی ہے  


نگراں : حافظ مختار احمد جمالی،مولانا عبدالقیوم قاسمی،عابد حسین پرفیکٹ،حامد حسین نیشنل موبائل ، شیخ انیس شیخ احمد ،ذاکر حسین نیشنل ،شاکر حسین نیشنل،


اشیاء اور رقومات دینے کیلئے ان نمبرات پر رابطہ فرمائیں:

 عابد حسین پرفیکٹ : 7058622815
حامد حسین : 9766207451
ذاکر حسین : 9028846711
حافظ شاکر حسین : 7020497159
ذاکر سر : 9072422152
شیخ انیس : 9890959381
حافظ مشتاق : 9422994652
غلام بھائی : 9326557944
الطاف بھائی دیشمکھ : 9637638901
ابراہیم بھائی : 9923092926


💌 ب کے بے شمار بکھیڑے!
_______________________
✒️ ڈاکٹر آصف فیضی (مالیگاؤں)
_______________________
🌷 اردو زبان کا حرف ’’ب‘‘ بڑا بااثر حرف ہے۔ اس کے بغیر نہ بات بنتی ہے، نہ بستر بچھتا ہے نہ بچھونا۔ نہ بازار آباد ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے بغیر گھر میں برکت آتی ہے۔ یہ ایسا حرف ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں بلا اجازت داخل ہو جاتا ہے۔ کبھی بوجھ بن جاتا ہے،کبھی بکری بن کر گھر میں گھس آتا ہے، کبھی بادل بن کر آسمان پر چھا جاتا ہے، کبھی بارش بن کر برس جاتا ہے اور کبھی بجلی کا بل بن کر جیب پر گرتا ہے۔
صبح بیدار ہوا تو بیگم نے بستر سے اٹھتے ہی ببانگِ دہل اعلان کیا کہ بازار سے بکرے کا گوشت، بچوں کے لیے بسکٹ اور بتاشے، باورچی خانے کے لیے برتن، باتھ روم کے لیے بالٹی لانی ہے اور بجلی کا بل بھی بھرنا ہے۔ میں نے بستر پر کروٹ بدلتے ہوئے کہا، ’’بیگم! بیک وقت اتنے بکھیڑے؟ ابھی تو میں بمشکل بیدار ہوا ہوں۔‘‘
بیگم نے بُری طرح گھورتے ہوئے کہا، ’’بہانے بند کرو، بس!‘‘
میں نے سوچا کہ بعض اوقات بیوی کے سامنے بہترین بہانہ بھی بدترین بے وقوفی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ بستر چھوڑا، بال سنوارے، بنیان بدلی، لباس تبدیل کیا اور بازار کی طرف روانہ ہوگیا۔
بازار میں داخل ہوا تو بکریاں، بکرے، بطخیں، بلیاں اور بچوں کی بھیڑ دیکھ کر بدحواسی طاری ہوگئی۔ ایک بکری نے میرے بٹوے کو منہ میں دبا لیا۔ میں نے بکری کو پکڑنے کی کوشش کی تو بکری نے ایسی بدتمیزی سے سینگ مارا کہ بٹوا بھی گیا اور بھرم بھی۔
بازار میں ایک بزرگ سے پوچھا، ’’بابا! بکری کا بھاؤ کیا ہے؟‘‘
بولے، ’’بیٹا! بھاؤ تو بکری کا ہے، مگر بکری کے ساتھ بکرا بھی خریدنا پڑے گا، ورنہ بکری بور ہو جائے گی۔‘‘
میں نے کہا، ’’بابا! بکری کی بوریت دور کرنے کے لیے میرے پاس بجلی کا بل کافی ہے۔ اسے دکھا دوں گا، ساری بوریت بھول جائے گی۔‘‘
بزرگ ہنسنے لگے۔
بازار سے واپس آیا تو بیگم بآواز بلند نے پوچھا، ’’گوشت کہاں ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا، ’’بالاتفاق بکری کے ساتھ ایک بحث ہوگئی تھی۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ بکری نے بٹوا چھین لیا اور میں تہی دست واپس آگیا۔‘‘
بیگم نے بے بسی سے سر پکڑ لیا۔ میں نے بات بدلنے کے لیے بچوں کو بلایا۔ بچے بستے لے کر آگئے۔ بڑے بیٹے نے کہا، ’’ابو! بائیولوجی کی بیاض چاہیے۔‘‘ چھوٹے نے کہا، ’’مجھے بیٹ چاہیے۔‘‘ بیٹی بولی، ’’میری باربی ڈول ٹوٹ گئی ہے۔‘‘
میں نے تینوں کو باری باری دیکھا اور سوچا کہ بچوں کی ضروریات بھی حرف ’’ب‘‘ کی طرح بے شمار ہیں۔ کسی کو بائیولوجی کی بیاض ، کسی کو بیٹ اور کسی کو باربی ڈال چاہیے۔ باپ کو صرف بجٹ چاہیے، جو کبھی درست ہوتا ہی نہیں۔
اسی دوران بادل گرجنے لگے، بجلی چمکی اور بارش شروع ہوگئی۔ بیگم نے بالکونی سے آواز دی، ’’باہر سے کپڑے اتار لاؤ!‘‘
میں نے کہا، ’’بیگم! باہر تو بارش ہے، کپڑے بھیگ جائیں گے۔‘‘
بولیں، ’’اسی لیے تو اتار لانے کے لئے کہہ رہی ہوں!‘‘
میں نے برآمدے سے بآسانی کپڑے اتارے، مگر ساتھ ہی بالکونی میں رکھی بالٹی نیچے گر گئی۔ نیچے سے پڑوسی کی آواز آئی، ’’بھائی صاحب! بالٹی بے‌کار میں باہر مت پھینکیے۔
میں باہر گیا اور شرمندگی سے بالٹی اٹھائی۔ زندگی میں بعض اوقات آدمی دوسروں کے لیے بوجھ نہیں بنتا، صرف بالٹی بن جاتا ہے۔
شام کو بجلی کا بل لے کر بیٹھا تو بیگم نے پوچھا، ’’کتنا آیا ہے؟‘‘
میں نے کہا، ’’بہت بڑا۔‘‘
بولیں، ’’کتنا بڑا؟‘‘
میں نے بل ان کے سامنے رکھ دیا۔ وہ اسے دیکھ کر بولیں، ’’اتنا بل کیسے آگیا؟‘‘
میں نے کہا، ’’ بیگم بختاور بادشاہ کی طرح بے تحاشا بجلی جو استعمال ہورہی ہے اور بآشائش زندگی جو گذر رہی ہے، تو بجلی بل تو بے تحاشا آنے والا ہی ہے ۔
بیگم نے کہا، بات کا بتنگڑ نہ بناؤ، بکواس بند کرو اور بل جلد بھر دو ۔
میں نے خاموشی اختیار کرلی۔ آخر گھر میں بولنے کا اختیار بھی ایک ایسا بنیادی حق ہے جو شادی کے بعد بتدریج بیوی کے قبضے میں چلا جاتاہے۔
رات کو بستر پر لیٹا تو دن بھر کے بکھیڑے یاد آنے لگے۔ بکری، بٹوا، بازار، بسکٹ، برتن، بالٹی، بادل، بجلی، بل، بچے، بیگم اور بے بسی!
مجھے محسوس ہوا کہ حرف ’’ب‘‘ محض ایک حرف نہیں بلکہ ہماری پوری زندگی کا بنیادی ڈھانچا ہے۔ بچپن بھی اسی سے شروع ہوتا ہے، بڑھاپا بھی اسی کے ساتھ آتا ہے۔ بندہ بھی اسی سے بنتا ہے اور بعض اوقات بندہ بے بندہ بھی اسی سے ہوتا ہے۔
اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ کسی ایسے حرف سے دوستی کروں گا جس سے کم از کم بجلی کا بل نہ بنتا ہو، بیوی کی بیزاری نہ بڑھے، بکری بٹوا نہ چھینے اور بازار جانے کی باری نہ آئے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اردو کے ہر حرف میں کوئی نہ کوئی بکھیڑا چھپا ہوا ہے۔
سوچتا ہوں، شاید ’’الف‘‘ بہتر ہو!
پھر خیال آتا ہے کہ الف سے افسانہ بھی ہے، افسوس بھی، افلاس بھی اور آخر میں آدمی کا انجام بھی!
خدا جانے اردو کے حروف تہجی میں ایسا کون سا حرف ہے جس سے زندگی کے بکھیڑے شروع نہ ہوتے ہوں!🍁



سمیع اللہ انصاری کا انتقال 

  شہر کے سماجی، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ خبر نہایت رنج و غم کیساتھ سنی جاےگی کہ شہر مالیگاوں مسلم لیگ کے صدر، ہفت روزہ ہاشمی آواز کے مالک ومدیر، بیباک رہنما، سمیع اللہ انصاری صاحب، اس دار فانی سے کوچ کر گےء، آپکی رحلت شہر کے سماجی و سیاسی، حلقوں کا عظیم نقصان ھے، 
  اس سانحہ پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعاے مغفرت کرتے ہوئے ایڈوکیٹ محمد ہاشم انصاری، ایڈوکیٹ عبداللہ، اور جملہ پسماندگان کے غم میں شریک رہکر صبر کی تلقین کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ، مرحوم کی عوامی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین، 
شریک غم، خیال انصاری، 
مدیر، خیر اندیش، مالیگاوں،

🛑*سیف نیوز بلاگر *


*ملک میں ہم سے بڑا کوئی غنڈہ نہیں ہے ،‘‘ جن ادھیکار ریلی میں او پی راج بھر کا غضب بیان*



باندہ : چاہے مختار انصاری ہو، برجیش سنگھ، دھننجے سنگھ، یا ابھے سنگھ، جودربار لگاتے ہیں، ان سے بڑا غنڈہ بھلا ہے کوئی ؟ ہم سے بڑا غنڈہ پورے ملک میں کوئی نہیں ہے۔‘‘ یہ بیان ریاستی کابینہ کے رکن اوم پرکاش راج بھر نے باندہ میں ایک جلسہ عام میں دیا۔

اوم پرکاش راج بھر نے، جو باندہ میں بھاگیداری پارٹی کی جن ادھیکار ریلی میں شرکت کر رہے تھے، کہا، “میں نے سنا ہے کہ باندہ میں بڑے غنڈے ہیں، تو جان لیں ک ہم سے بڑا غنڈہ کوئی نہیں ہے۔ اگر کوئی آنکھ دکھانے کی کوشش کرےگا تو اوم پرکاش راج بھر میں ان کی دوسری آنکھ نکالنے کی حیثیت رکھتا ہے۔” ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنا جھنڈا، اپنا ڈنڈا ،اپنی پارٹی کے لیے آپ کام کریں۔ اگر کوئی آپ کے پاس آتا ہے اور آپ سے اپنا جھنڈا پکڑنے کو کہتا ہے تو اسے بتائیں کہ وہ آپ کا جھنڈا پکڑے ہوئے ہیں۔

پنچایتی راج کے وزیر او پی راج بھر نے ببیرو قصبے کے نئے بازار میں منعقدہ جن ادھیکار ریلی میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ وزیر کا ان کی آمد پر بھگدڑی پارٹی کے قومی صدر سمیت دیگر عہدیداروں نے پرتپاک استقبال کیا۔ اسٹیج سے اپنے خطاب کے دوران اوم پرکاش راج بھر نے لوگوں سے بھاگیداری پارٹی کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔

او پی راج بھر نے کہا کہ پریم چند پرجاپتی جی نے بھاگیداری پارٹی بنائی اور اسے پوری ریاست میں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں جن ادھیکار ریلی کا اہتمام کیا۔ انہوں نے اس میں شرکت کی۔ آزادی کے بعد سے ہم دلتوں، محروموں، استحصال زدہ، پسماندہ اور دیگر لوگوں کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج یہاں بہت سے لوگوں نے ان سے اپنے مسائل شیئر کیے ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ جانکاری کی کمی کی وجہ سے لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں۔ ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی اور انہیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے بارے میں بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔




*احتجاج کےنام پر کسی جگہ پر قبضہ نہیں کرسکتے ، جنتر ۔منتر پروٹیسٹ پر بولے CJI سوریہ کانت ، سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس*




سپریم کورٹ نے رام لیلا میدان اور جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کے دھرنے کے خلاف دہلی کے تاجروں کی طرف سے دائر درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے احتجاج کے حق اور روزی روٹی کے حق کے درمیان آئینی توازن پر زور دیتے ہوئے ایک اہم ریمارک کیا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے نام پر کسی جگہ پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے یہ اہم ریمارک کرانہ کمیٹی، دہلی آئرن اینڈ ہارڈ ویئر مرچنٹس ایسوسی ایشن اور دہلی کے تاجروں اور کاروباری اداروں کی نمائندگی کرنے والی دیگر تجارتی تنظیموں کی طرف سے دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کیا۔ درخواست میں رام لیلا میدان اور جنتر منتر پر طویل، غیر معینہ مدت کے دھرنے اور احتجاج پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دونوں سائٹس دہلی کے اہم تجارتی علاقوں کے قریب واقع ہیں، اور وہاں کوئی بھی سرگرمی مارکیٹ اور کاروبار کو متاثر کرتی ہے۔تجارتی تنظیموں کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ جئے اننت دیہادرائی اور دیگر وکیل پیش ہوئے۔


عدالت نے کہا کہ احتجاج کا حق ہر ایک کو ہے لیکن یہ حق ایک مخصوص وقت اور جگہ تک محدود ہونا چاہیے تاکہ کسانوں، عام شہریوں اور تاجروں کو تکلیف نہ ہو۔

عدالت نے اس معاملے میں چھ نکات بنائے۔ سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر تشدد اور احتجاج سے متعلق شکایات کی سماعت کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ اب اگلی سماعت نومبر کے آخری ہفتے میں ہوگی۔

CJI نے کہا، “احتجاج کی جگہوں پر بھی غیر معینہ مدت تک قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔”
سماعت کے دوران، CJI سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے پرامن احتجاج کے بنیادی حق اور شہریوں کے اپنے پیشوں کو آگے بڑھانے اور اپنی روزی کمانے کے مساوی اہم حق کے درمیان آئینی توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر اہم ریمارک کیے۔

CJI سوریہ کانت نے کہا کہ احتجاج کی نامزد جگہوں پر بھی غیر معینہ مدت تک قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ احتجاج کا حق جمہوریت اور آئین کا ایک اہم حق ہے لیکن اسے لامحدود یا اس انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جس کے نتیجے میں دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کی غیر متضاد اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزی ہو۔

جمہوری حقوق کے استعمال کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں
عدالت نے نامزد احتجاجی مقامات کے منصفانہ اور مساوی استعمال کے حوالے سے بھی اہم ریمارک کیے۔ عدالت نے اشارہ کیا کہ کوئی ایک تنظیم یا گروہ کسی بھی عوامی جگہ پر اجارہ داری یا غیر معینہ مدت تک قبضے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ مختلف تنظیموں اور گروہوں کو پرامن احتجاج کے اپنے جمہوری حق کو استعمال کرنے کے لیے منصفانہ اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔




*غریبی ہٹاو" کے نعرے سے آگے نکلا ہندوستان ، وزیر اعظم مودی نے پونے میں رکھا میٹرو پروجیکٹس کا سنگ بنیاد*


وزیر اعظم نریندر مودی نے 3 نومبر کو پونے میٹرو پنک لائن کا افتتاح کیا۔ تقریب سے ورچوئلی خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تہواروں کی خوشی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب زندگی میں نئی سہولتیں شامل ہوتی ہیں۔ آج پونے کے لوگوں کے لیے ایک خوشی کا موقع ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج پونے میٹرو کی ایک اور لائن کا افتتاح ہو رہا ہے۔"

پی ایم مودی نے کہا، “10 سال پہلے، مجھے پونے میں پہلے مرحلے کے کام کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ اب ہنج وڑی اور شیواجی نگر کے درمیان میٹرو کے آغاز سے، پونے کے ایک بڑے آئی ٹی مرکز کو بہتر کنیکٹیویٹی ملے گی۔ نئی لائن، جس نے آج کام شروع کیا ہے، پرانے اور نئے علاقوں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط کرے گا۔ ایسی سوچ جنہوں نے قوم اور سماج کو نئی سمت دی ہے، آج پونے ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی نئی توانائی کو پروان چڑھا رہا ہے۔


انہوں نے کہا، “آئی ٹی، آٹوموبائل، فارماسیوٹیکل، اسٹارٹ اپس، اختراعات اور مینوفیکچرنگ سے، پونے ملک کے نوجوانوں کے خوابوں اور عزم کی جگہ ہے۔ یہاں میٹرو کنیکٹیوٹی کو مضبوط کرنا پونے کی ترقی کو نئی تحریک فراہم کرنے والا ہے۔ پونے میٹرو کا افتتاح اور توسیع اس بات کو دکھاتا ہے ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے ہم کس طرح شہروں کی تعمیر کررہےہیں۔پہلے کسی شہر کی پہچان اس کی انڈسٹری سے ہوتی تھی یا وہاں کسی مشہور کھان ۔ پان یا کسی پھل ،فصل سے ہوتی تھی ۔ آج شہروں کی پہچان کے ساتھ دو اور کسوٹیاں جڑ گئی ہیں ۔پہلا کوئی شہر کتنا کومپٹیٹو ہے اور دوسرا وہاں ایز آف لیونگ کی کیا سطح ہے؟ میٹرو پروجیکٹ ان دونوں کسوٹیوں میں کسی بھی شہر کو اور بہتر بناتا ہے۔

پی ایم نے کہا، “پونے میٹرو کی توسیع وقت کی بچت کر رہی ہے اور یہاں کے لوگوں کو زیادہ سہولت فراہم کر رہی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب کسی شہر میں وقت کی بچت ہوتی ہے تو پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ جب کسی شہر کی پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے تو ملک کی معیشت کو فروغ ملتا ہے، اور جب معیشت بڑھتی ہے تو غریب اور متوسط طبقے دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ آج کا یہ دن پرو۔پیپل، پروپیپل ایکٹو اور گڈ گورننس کی بھی ایک مثال ہے۔”

انہوں نے کہا، “2014 تک، میٹرو ملک کے صرف پانچ شہروں میں چل رہی تھی، اگر وہی پرانی سوچ، وہی پرانی حکومت اور وہی پرانا ورک کلچر برقرار رہتا تو میٹرو کو پونے تک پہنچنے میں مزید کئی دہائیاں لگ جاتیں۔ تاہم، 2014 میں، جب ملک نے این ڈی اے کو خدمت کا موقع دیا، ہم نے متوسط طبقے کے شہروں میں نقل و حمل کو یقینی بنانے اور نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے ایک عزم کے ساتھ قدم اٹھایا۔ آج ہم اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں، پچھلے 12 سالوں میں ملک میں میٹرو ٹرانسپورٹ باالکل بدل گئی ہے۔

پی ایم نے کہا، “اب، ہر روز 1 کروڑ سے زیادہ لوگ میٹرو سے سفر کرتے ہیں۔ آج ہندوستانی میٹرو نیٹ ورک کا شمار دنیا کے ٹاپ تین میٹرو نیٹ ورکس میں ہوتا ہے۔ آج ملک کا ہر شہری ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔ آج ہر کوئی اعتماد سے کہہ رہا ہے، ‘We Will Do It۔’ یہ جذبہ پورے ملک میں ہے، گزشتہ 12 سالوں میں، ملک کا توانائی کا شعبہ متعدد اسکیموں اور اختراعی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے، جن میں دیہی سڑکوں، ہائی ویز، ایکسپریس ویز، نئی ریلوے لائنوں کی برقی کاری، لمبی سرنگیں اور بلند و بالا پل شامل ہیں

پی ایم مودی نے کہا، “ملک کی کئی نسلیں ‘غریبی ہٹاؤ’ کے وعدوں اور دعوؤں کے درمیان پروان چڑھی ہیں۔” پہلے، غربت کے خلاف جنگ صرف نعروں تک محدود تھی۔ آج ہندوستان زمین پر غربت کو شکست دے رہا ہے۔ آج ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور تیزی سے غربت میں کمی آرہی ہے

🛑*سیف نیوز بلاگر *



*ایران نے ہندوستان کو کیوں کہا شکریہ؟ دوستی کو بتایا بے مثال، جانئے کیا ہے پورا معاملہ*




ہندوستانی بحریہ نے ایک بار پھر سمندر میں اپنی طاقت اور مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بحیرۂ عرب میں سمندری قزاقوں کے خطرے میں پھنسے ماہی گیری کے جہاز ’اجینی‘ کو بحفاظت بچانے کے لیے ہندوستانی فوج نے بڑا آپریشن کیا۔ اس کارروائی میں جہاز پر سوار تمام 20 ایرانی شہریوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ ہندوستان کی اس مدد کے بعد ایران نے کھل کر ہندوستانی بحریہ اور حکومت کی تعریف کی ہے۔ سفارت خانے نے اس آپریشن کو ہندوستان اور ایران کے درمیان دوستی اور باہمی تعاون کی علامت قرار دیا۔ ساتھ ہی ان تمام جوانوں اور افسران کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے عملے کے 20 ایرانی ارکان کو بحفاظت نکالنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

نئی دہلی میں واقع ایرانی سفارت خانے نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کرکے ہندوستان کا شکریہ ادا کیا۔ سفارت خانے نے کہا کہ ہندوستانی حکومت، بحریہ اور فضائیہ نے مل کر جس طرح ایرانی ملاحوں کی جان بچائی، وہ قابلِ ستائش ہے۔ ایرانی سفارت خانے کے مطابق، اس پورے آپریشن میں ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے بہترین تال میل، بہادری اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کیا۔ ایران نے کہا کہ ہندوستان کی یہ کارروائی صرف ایک ریسکیو آپریشن نہیں تھی، بلکہ ضرورت کے وقت دوسرے ملک کے شہریوں کی مدد کرنے کے اس کے عزم کی بھی مثال ہے۔

48 گھنٹے تک جاری رہا ریسکیو آپریشن
اطلاعات کے مطابق، ہندوستانی بحریہ نے 2 نومبر 2026 کو بحیرۂ عرب میں یہ آپریشن شروع کیا تھا۔ ممبئی سے 3000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر چلائے گئے اس آپریشن میں تقریباً 48 گھنٹے تک مسلسل کوششیں کی گئیں۔ اس آپریشن میں ہندوستانی فضائیہ نے بھی بحریہ کی مدد کی۔ سمندری قزاقوں کے خطرے کے درمیان جہاز اور اس میں موجود لوگوں کو بحفاظت نکالنا سیکورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس پورے آپریشن میں ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس کولکاتا نے اہم کردار ادا کیا۔ بحریہ اور فضائیہ کے درمیان بہتر تال میل کی وجہ سے تمام 20 افراد کو بحفاظت بچانے میں کامیابی ملی۔

وزیر دفاع نے بھی جوانوں کی تعریف کی
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی ہندوستانی سیکورٹی فورسز کے اس آپریشن کی ستائش کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ کارروائی بحر ہند کے خطے میں سمندری سیکورٹی کو مضبوط بنانے اور لوگوں کی جان بچانے کے تئیں ہندوستان کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کامیاب آپریشن سے بین الاقوامی سمندری علاقے میں ہندوستان کی ریسکیو صلاحیت اور سیکورٹی نظام کا مظاہرہ ہوا ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سمندر میں بحران کے وقت ہندوستانی بحریہ دوسرے ممالک کے شہریوں کی مدد کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایران کی جانب سے ظاہر کیا گیا شکریہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور تعلقات کے لحاظ سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔





*ایران پر نیوکلیئر حملہ کریں گے ٹرمپ‘، ٹکر کارلسن کی وارننگ سے مچی کھلبلی، کونسا بم گرا سکتا ہے امریکہ؟*



Iran Nuclear Attack News: کیا ایران کے پہاڑوں میں چھپے جوہری ٹھکانے کو تباہ کرنے کے لیے امریکہ ایٹم بم گرا سکتا ہے؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اس سوال کو لے کر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ ایران کے پک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) میں واقع زیرِ زمین ٹھکانے کو نشانہ بنانے کی بحث کے درمیان B61-11 جوہری بم اور ’مدر آف آل بمز‘ (MOAB) کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

وہیں امریکہ کے قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو، ٹرمپ پر ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ٹکر کارلسن کبھی ٹرمپ کے کٹر حامی ہوا کرتے تھے، لیکن اب دونوں کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔ کارلسن کے مطابق، امریکہ اسی ہفتے پِک ایکس ماؤنٹین میں موجود ایران کے زیرِ زمین ٹھکانے پر حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم، یہ ٹکر کارلسن کا دعویٰ ہے۔ اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کے پاس صرف ایک ایسا جوہری بم ہے جو زمین کے اندر دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ B61-11 بم ہے، جسے اس طرح کے حملے کے لیے ممکنہ متبادل سمجھا جا رہا ہے۔


پِک ایکس ماؤنٹین پر حملہ کرنا مشکل کیوں ہے؟
پِک ایکس ماؤنٹین ایران کے نطنز جوہری کمپلیکس کے جنوب میں واقع ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے اس پہاڑ کے نیچے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ایک انتہائی محفوظ ٹھکانہ تیار کر رکھا ہے۔ تاہم، ایران وہاں جوہری سرگرمیاں ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔ بی بی سی ویریفائی (BBC Verify) اور انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی کے جائزے کے مطابق، اس ٹھکانے کا اہم حصہ زمین سے کم از کم 100 میٹر نیچے ہو سکتا ہے۔ اس کے اوپر پہاڑ کی موٹی چٹانی تہہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام بموں سے اسے تباہ کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ پہلے ہی ایران کے نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع جوہری ٹھکانوں پر حملے کر چکا ہے، لیکن پِک ایکس ماؤنٹین اب تک اس کے نشانے پر نہیں آیا ہے۔

B61-11 بم کی کیا خاصیت ہے؟
B61-11 امریکہ کا ایک جوہری بم ہے، جسے زمین کے اندر موجود مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ B61 بموں کے خاندان کا حصہ ہے۔ اسے 1997 میں امریکی فوج میں شامل کیا گیا تھا۔ اس بم کا بیرونی ڈھانچہ انتہائی مضبوط بنایا گیا ہے۔ زمین سے ٹکرانے کے بعد یہ کچھ گہرائی تک اندر دھنس سکتا ہے اور پھر دھماکہ کرتا ہے۔ اس کا مقصد دھماکے سے پیدا ہونے والی توانائی کو زمین اور چٹانوں کے اندر پہنچانا ہے، تاکہ زیرِ زمین سرنگوں اور ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

اس بم کا وزن تقریباً 549 کلوگرام بتایا جاتا ہے۔ اس کی حقیقی دھماکہ خیز صلاحیت کو عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، اس کی طاقت کے حوالے سے مختلف اندازے موجود ہیں۔ بعض جائزوں میں اس کی صلاحیت 340 کلوٹن تک بتائی گئی ہے، جبکہ ایک دوسرے اندازے میں 400 کلوٹن کا ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم، یہ بم پہاڑ کے اندر 100 میٹر تک سرنگ بنا کر نہیں پہنچ سکتا۔ امریکی فضائیہ کے مطابق، اس کا ڈھانچہ اسے زمین میں تقریباً 15 سے 25 فٹ تک دھنسنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے بعد دھماکے سے پیدا ہونے والی شدید لہریں چٹانوں کے اندر پھیلتی ہیں اور زیرِ زمین ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

کیا جوہری بم کے بغیر بھی اس ٹھکانے کو تباہ کیا جا سکتا ہے؟
زیرِ زمین جنگ کی ماہر ڈافنے رچمنڈ براک نے فرسٹ پوسٹ (Firstpost) سے بات چیت میں کہا کہ پِک ایکس ماؤنٹین کو روایتی بموں سے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 2024 میں بیروت میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کے ٹھکانے پر اسرائیلی حملے کی مثال دی۔ ان کے مطابق، اسرائیل نے ایک ہی مقام پر مسلسل میزائل داغے تھے۔ اس کے ذریعے زمین اور کنکریٹ کی حفاظتی تہہ کو توڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔

براک کے مطابق، اس حملے میں 10 سیکنڈ کے اندر 80 ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ پِک ایکس ماؤنٹین کے معاملے میں بھی ممکنہ طور پر کئی بنکر تباہ کرنے والے بم یکے بعد دیگرے تقریباً ایک ہی مقام پر گرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔





*پہلے ارنب اور اب موراسو... ایک ہفتے میں دوسراطوفان، خلیج بنگال سے ہی کیوں اٹھ رہے اتنے طوفان؟*





29 اکتوبر کو کروا چوتھ کے دن شمالی ہندوستان کی لاکھوں خواتین اپنا ورت مکمل کرنے کے لیے رات کو چاند کا انتظار کر رہی تھیں۔ لیکن اچانک آسمان پر چھائے بادلوں کو دیکھ کر کئی خواتین کو اندازہ ہو گیا تھا کہ آج رات چاند کا نظر آنا مشکل ہے۔ ان بادلوں کی وجہ سمندری طوفان اَرنَب تھا، جو 28 اکتوبر کو آندھرا پردیش سے ٹکرایا تھا۔ (تصویر: اے پی)

ابھی ملک اَرنَب کی تباہی کا منظر دیکھ ہی رہا تھا کہ اب ’موراسو‘ نے دستک دے دی ہے۔ موراسو سمندری طوفان کی وجہ سے یکم نومبر سے ہی خلیج بنگال سے متصل ساحلی علاقوں میں تیز بارش اور طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات (IMD) نے آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں سمیت تمل ناڈو، تلنگانہ، جنوبی اوڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔ صرف بارش ہی نہیں، بلکہ اس سمندری طوفان کی وجہ سے ہندوستان کے کئی علاقوں میں اچانک سردی بھی بڑھ گئی ہے۔ (تصویر: رائٹرز)

خلیج بنگال میں ہی اتنے زیادہ طوفان کیوں آتے ہیں؟ یہ دونوں ہی طوفان خلیج بنگال سے اٹھے ہیں۔ دراصل ہندوستان میں 80 فیصد سمندری طوفان خلیج بنگال سے ہی جنم لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلیج بنگال تین اطراف سے خشکی سے گھرا ہوا ہے۔ خشکی سے گھرے ہونے کی وجہ سے اس کے پانی کا درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے۔ سمندر میں سمندری طوفان اس وقت بنتے ہیں جب پانی کا درجہ حرارت 26.5 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہو جاتا ہے، جبکہ دستیاب معلومات کے مطابق، اس وقت یہاں پانی کا درجہ حرارت 28 ڈگری سیلسیس برقرار ہے۔ اس کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ مانسون کے بعد ہندوستان میں چلنے والی ہوائیں سمندری طوفانوں کو مشرق سے مغرب کی جانب آگے بڑھاتی ہیں۔ (تصویر: اے پی)
یہی وجہ ہے کہ جب خلیج بنگال میں سمندری طوفان بنتا ہے تو وہ ہندوستان کی طرف بڑھتا ہے، جبکہ بحیرۂ عرب میں طوفان اٹھنے کی صورت میں وہ ہندوستان کے بجائے مغربی سمت میں عمان یا مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج بنگال میں اتنے کم وقت کے اندر دو سمندری طوفانوں کا جنم لینا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ (تصویر: اے پی)

کیا ایل نینو کی وجہ سے آ رہے ہیں یہ طوفان؟ ایل نینو اور لا نینا دونوں ہی بحرالکاہل میں رونما ہونے والے ایک دوسرے کے برعکس موسمیاتی مظاہر ہیں۔ ایل نینو اس صورت حال کو کہتے ہیں جب بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوستان اور آسٹریلیا جیسے علاقوں میں مانسون کمزور پڑ جاتا ہے، جبکہ خشک سالی اور گرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ (تصویر: اے پی)

جبکہ لا نینا اس کے برعکس صورت حال ہے۔ لا نینا کو ایل نینو کی ’چھوٹی بہن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کا درجہ حرارت معمول سے کافی کم ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان، انڈونیشیا اور آسٹریلیا میں بہت زیادہ بارش ہوتی ہے اور سیلاب جیسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ (تصویر: اے پی)

اس سال یعنی 2026 میں بحرالکاہل میں انتہائی طاقتور ایل نینو سرگرم ہے۔ اسی کی وجہ سے ہندوستان کے جنوب مغربی مانسون پر منفی اثر پڑا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) اور نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے مطابق، 2026 کے وسط میں موسمی حالات تیزی سے تبدیل ہوئے اور ایل نینو کافی مضبوط ہو گیا۔ اس کا اثر فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ (تصویر: اے پی)

چونکہ اس سال ایک سپر ایل نینو سرگرم ہے، اس لیے خلیج بنگال کی اوپری سطح کا پانی 28 سے 30 ڈگری تک گرم ہو گیا ہے۔ یہی گرمی ان سمندری طوفانوں کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے اور ان کی شدت کو چند ہی گھنٹوں میں کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ انڈین نیشنل سینٹر فار اوشن انفارمیشن سروسز اور آندھرا یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے 1995 سے 2019 کے دوران آنے والے سمندری طوفانوں پر تحقیق کی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، ایل نینو کے 9 برسوں میں 15 سمندری طوفان آئے، جبکہ لا نینا کے 11 برسوں میں 33 سمندری طوفان آئے۔ یعنی ایل نینو کے برسوں میں سمندری طوفانوں کی تعداد تو کافی کم رہی، لیکن ان کی رفتار اور اثرات لا نینا کے برسوں میں آنے والے طوفانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید تھے۔ (تصویر: رائٹرز)

🛑*سیف نیوز بلاگر *


💌 انقلاب کی چھ ٹانگیں
_______________________
✒️ ڈاکٹر آصف فیضی (مالیگاؤں)
_______________________
🌷 شہر کے سب سے بڑے کوڑے دان کے پیچھے ایک پرانی نالی تھی۔ نالی کے اوپر ایک ٹوٹا ہوا ڈھکن، ڈھکن کے نیچے اندھیرا، اور اندھیرے میں کاکروچوں کی ایک پوری بستی آباد تھی۔بستی میں بے روزگاری تھی۔پروں والے کاکروچ برسوں سے اڑنا چاہتے تھے، مگر آسمان پر پہلے ہی کبوتروں، چیلوں اور سرکاری مچھروں کا قبضہ تھا۔ بغیر پروں والے کاکروچوں کے پاس چھ ٹانگیں تو تھیں، لیکن چلنے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہر راستہ کسی نہ کسی جوتے کے نیچے ختم ہو جاتا تھا۔

ایک روز بستی کے سب سے بوڑھے کاکروچ نے اپنے مونچھ نما شاخچوں کو حرکت دیتے ہوئے اعلان کیا’’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی قسمت کے خول سے باہر نکلیں۔ ہم کاکروچ ہیں، کوئی معمولی رینگنے والی مخلوق نہیں۔ ہم نے صدیوں سے اندھیروں کو آباد رکھا ہے، گندگی کو سنبھالا ہے، زہریلی دواؤں کو برداشت کیا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے حصے میں صرف جوتے آئے ہیں۔‘‘
ایک نوجوان کاکروچ نے اپنی چھ ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے پوچھا:’’تو کیا ہم بھی کبھی کسی میز پر بیٹھ سکیں گے؟‘‘
بوڑھے کاکروچ نے جواب دیا:’’میز پر بیٹھنا ابھی ہمارا مطالبہ نہیں۔ فی الحال ہم میز کے نیچے سے نکل کر میز کے سامنے آنا چاہتے ہیں۔‘‘
یہ جملہ نالی کی چھت سے ٹکرایا اور پوری بستی میں گونجنے لگا۔
اسی رات "کاکروچ پارٹی" کی بنیاد رکھی گئی۔
پارٹی کا انتخابی نشان ایک ٹوٹی ہوئی چھ ٹانگوں والی کرسی تھا۔ منشور میں تین بنیادی مطالبات درج کیے گئے:
اوّل: ہر کاکروچ کو روزگار دیا جائے۔
دوم: ہر نالی میں روشنی کا انتظام کیا جائے۔
سوم: جوتوں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔
پارٹی کے پہلے اجلاس میں ایک کم عمر کاکروچ نے سوال اٹھایا’’ہم روزگار مانگیں گے، لیکن روزگار دے گا کون؟‘‘
کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
پھر ایک تجربہ کار کاکروچ نے تجویز پیش کی’’جواب نہ ہو تو سوال کو نعرے میں بدل دو۔ نعرہ جتنا بلند ہوگا، جواب کی ضرورت اتنی کم محسوس ہوگی۔‘‘
تجویز منظور کر لی گئی۔
اگلی صبح نالی کے ڈھکن پر سیاہ حروف میں لکھا تھا ’’چھ ٹانگیں، چھ مطالبے، ایک انقلاب!‘‘
حالاں کہ مطالبے صرف تین تھے، مگر نعرے میں چھ کا عدد زیادہ انقلابی معلوم ہوتا تھا۔

پہلا دھرنا شہر کے مرکزی چوراہے پر دیا گیا۔
کاکروچ قطار بنا کر بیٹھ گئے۔ ان کے پاس پلے کارڈ تھے، جن پر لکھا تھا:’’ہمیں بھی جینے دو!‘‘
’’گندگی ہماری، اختیار تمہارا کیوں؟‘‘
’’تعلیم یافتہ کاکروچ بے روزگار کیوں؟‘‘
’’نالی سے نکلے ہیں، تاریخ میں تاریخ لکھیں گے!‘‘
چوراہے کے ایک طرف کبوتر دانہ چگ رہے تھے۔ دوسری طرف مچھر ایک نئی اسکیم کے افتتاح کی تیاری کر رہے تھے۔ اوپر سے ایک بھاری جوتا گزرا۔ دھرنے کی پہلی قطار منتشر ہو گئی۔چند کاکروچ کچلے گئے، کچھ دیوار کی دراڑوں میں گھس گئے، مگر پارٹی کا ترجمان اپنی جگہ ڈٹا رہا۔
اس نے فوراً اعلان کیا’’یہ ہماری تحریک کی پہلی کامیابی ہے۔ آج شہر کی سب سے بڑی طاقت نے پہلی بار ہمیں محسوس کیا ہے۔‘‘

اگلے دن اخباروں میں پارٹی کی تصویر چھپی۔ تصویر میں کاکروچوں کا ہجوم تھا، مگر مرنے والوں کی تعداد درج نہیں تھی۔
سرخی تھی:
’’کاکروچ پارٹی کا تاریخی احتجاج!‘‘
نالی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
کسی نے پوچھا، ’’کیا ہماری مانگیں مان لی گئیں؟‘‘
جواب آیا، ’’ابھی نہیں۔‘‘
کاکروچوں یقین ہو گیا تھا کہ انقلاب کی ابتدا ہو چکی ہے۔

چند ہفتوں بعد دوسرا دھرنا سرکاری عمارت کے سامنے تھا۔ اس بار کاکروچوں نے اپنے مطالبات میں اضافہ کر دیا تھا۔
اب وہ روزگار کے ساتھ وظیفہ، وظیفے کے ساتھ رہائش، رہائش کے ساتھ تحفظ، اور تحفظ کے ساتھ ایک مستقل نالی کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔
پارٹی کا نعرہ بدل گیا:
’’نالی ہماری، راج ہمارا!‘‘
دھرنے کے دوران ایک موٹا کاکروچ، جس کے خول پر چمکدار دھبے تھے، ایک بلند جگہ پر چڑھ گیا اور بلند آواز میں تقریر شروع کی۔
’’ساتھیو! ’’ہمیں اس تحریک کو منظم کرنا ہوگا۔ تحریک کی کامیابی کے لئے اتحاد ضروری ہے ۔"
تمام کاکروچوں نے اتحاد زندہ باد ۔۔۔ انقلاب زندہ باد" کا نعرہ لگایا ۔

چند دن بعد پارٹی نے اپنے اندر انتخابات کا اعلان کیا۔ چھ ٹانگوں کی جمہوریت میں پہلی بار امیدواروں نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا۔
ایک امیدوار نے دوسرے کے بارے میں کہا:’’اس کی دو ٹانگیں مشکوک ہیں۔‘‘
دوسرے نے جواب دیا:’’کم از کم میری ٹانگیں اپنی جگہ تو ہیں۔ تم نے تو پوری پارٹی کو اپنی مونچھوں سے باندھ رکھا ہے۔‘‘
تیسرے نے دونوں کو بدعنوان قرار دے دیا۔
چوتھے نے اعلان کیا کہ وہ کسی گروہ کا حصہ نہیں، بلکہ کاکروچوں کے مفاد کے ساتھ ہے۔
انتخاب ہوا۔ نتیجہ آیا۔ جیتنے والا وہی تھا جس کے پاس سب سے زیادہ پلے کارڈ، سب سے اونچی آواز اور سب سے موٹا خول تھا۔
اس نے فتح کے بعد اعلان کیا:’’اب ہماری تحریک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔‘‘
کسی نے پوچھا، ’’وہ کون سا مرحلہ ہے؟‘‘
اس نے کہا، ’’پہلے مرحلے میں ہم مطالبات کر رہے تھے۔ دوسرے میں ہم مطالبات کو دہرا رہے تھے۔ تیسرے میں ہم اس بات پر غور کریں گے کہ مطالبات کیوں نہیں مانے گئے۔‘‘
بستی میں تالیاں بجنے لگیں۔

ایک رات نالی کے اندر عجیب واقعہ پیش آیا۔
کسی نے چپکے سے وہاں ایک چمکتا ہوا ڈبہ رکھ دیا تھا۔ اس پر لکھا تھا:’’خصوصی ترقیاتی خوراک ‘‘
ڈبے میں میٹھی تہہ لگی ہوئی تھی۔ اس کی خوشبو نے بھوکے کاکروچوں کو بے قرار کر دیا۔
پارٹی کے چند ذمہ داروں نے فوری اجلاس بلایا۔
ایک نے کہا، ’’یہ ہمارے مخالفین کی سازش ہے۔‘‘
دوسرے نے کہا، ’’ممکن ہے یہ ہمارے لیے تعاون ہو۔‘‘
تیسرے نے ڈبے کا ڈھکن اٹھاتے ہوئے کہا، ’’انقلاب کے راستے میں ہر چیز کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘
بالآخر فیصلہ ہوا کہ خوراک کو محفوظ رکھا جائے گا، تاکہ تحریک کے میں کام کرنے والے کاکروچوں کے کام آئے۔

اگلی صبح نالی کے عام کاکروچ پہلے سے زیادہ بھوکے تھے، لیکن کچھ کاکروچوں کے خول چمک رہے تھے۔
ایک چھوٹے کاکروچ نے اپنی ماں سے پوچھا:’’کیا انقلاب کے بعد سب کو کھانا ملے گا؟‘‘
ماں نے جواب دیا:’’ہاں، بیٹا۔‘‘
’’اور انقلاب کب آئے گا؟‘‘
ماں نے خالی پیٹ پر ٹانگیں سمیٹتے ہوئے کہا’’جس دن خوراک کا ڈبہ ہر ایک کو مل جائے گا۔‘‘

پھر ایک دن خبر آئی کہ شہر میں ایک نئی دوا چھڑکی جانے والی ہے۔کاکروچوں میں خوف پھیل گیا۔ ان کی چھ ٹانگیں ایک ساتھ کانپنے لگیں۔ کئی برسوں سے وہ جس نالی کو اپنا وطن سمجھتے تھے، اسی میں اب ان کے وجود کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔پارٹی نے ہنگامی اجلاس بلایا۔
ایک نے کہا، ’’ہم دھرنا دیں گے!‘‘
دوسرے نے کہا، ’’ہم جلوس نکالیں گے!‘‘
تیسرے نے کہا، ’’ہم شہر بند کر دیں گے!‘‘
آخر فیصلہ ہوا کہ اگلی صبح ایک تاریخی احتجاج ہوگا۔
رات بھر نعرے لکھے جاتے رہے۔ نئے پلے کارڈ تیار ہوئے۔ پرانی تصویروں سے پوسٹر بنائے گئے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ کاکروچ پارٹی اپنے حقوق کے لیے آخری حد تک جائے گی۔
مگر صبح ہونے سے پہلے دوا چھڑک دی گئی۔نالی میں بھگدڑ مچ گئی۔کچھ کاکروچ پتھروں کے نیچے دب گئے۔ کچھ بند راستوں میں پھنس گئے۔ کچھ دیواروں پر چڑھنے لگے، مگر زہریلی دوا نے ان کے قدموں کو روک لیا۔
پارٹی کے موٹے خول والے ذمہ دار ایک محفوظ دراڑ میں جا چھپے۔عام کاکروچ باہر نکلنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھتے رہے۔اسی افراتفری میں ایک نوجوان کاکروچ نے چیخ کر کہا:’’ہمیں بچانے کے لیے کوئی نعرہ لگاؤ!‘‘
ایک بوڑھے کاکروچ نے جواب دیا:’’نعرے تو بہت ہیں، بیٹا، راستہ کوئی نہیں۔‘‘
پھر وہ آواز بھی خاموش ہو گئی۔
اگلی شام دوا کا اثر کم ہوا تو زندہ بچ جانے والے کاکروچ دوبارہ جمع ہوئے۔نالی کا بڑا حصہ خالی ہو چکا تھا۔ دیواروں پر چپکے ہوئے پلے کارڈوں کے حروف دھندلا گئے تھے۔ ایک جگہ اب بھی لکھا تھا:’’نالی ہماری، راج ہمارا!‘‘
ایک نوجوان کاکروچ نے اسے پڑھا اور ہنسنے لگا۔
اس کی ہنسی میں خوشی نہیں تھی۔ وہ اتنا ہنسا کہ اس کی چھ ٹانگیں لرزنے لگیں۔
’’راج ہمارا!‘‘ اس نے دہرایا۔ ’’مگر نالی میں سانس لینے کا حق بھی ہمارا نہیں۔‘‘

اس بار کسی نے اسے خاموش نہیں کرایا۔
پارٹی کے ذمہ دار بھی اپنی دراڑ سے باہر آ گئے تھے۔ ان کے خولوں پر خوراک کی چمک باقی تھی، مگر آنکھوں میں پہلی بار خوف دکھائی دے رہا تھا۔
بوڑھے کاکروچ نے سب کو مخاطب کیا’’ساتھیو، ہم نے سمجھا تھا کہ ہماری تعداد ہماری طاقت ہے۔ پھر ہم نے سمجھا کہ ہمارے نعرے ہماری طاقت ہیں۔ پھر ہمیں یقین ہو گیا کہ ہماری تصویریں ہماری طاقت ہیں۔ مگر آج معلوم ہوا کہ ہم میں سے ہر ایک الگ الگ زندہ رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہم نے اپنے لیے چھ ٹانگیں مانگیں، مگر ایک دوسرے کے لیے راستہ نہیں بنایا۔‘‘
ایک کاکروچ نے پوچھا’’اب کیا ہوگا؟‘‘
بوڑھے نے کہا’’اب ہم پھر سے شروع کریں گے۔‘‘
’’کس چیز سے؟‘‘
’’اس سوال سے کہ ہم کس کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘‘
نالی میں خاموشی پھیل گئی۔
کسی نے پہلی بار اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا۔ کسی نے اپنے خول پر جمی گرد صاف کی۔ کسی نے پڑوسی کاکروچ کو سہارا دیا۔ کسی نے خوراک کے ڈبے کی طرف بڑھتے ہوئے اپنا قدم روک لیا۔
یہ بہت چھوٹی تبدیلیاں تھیں۔ ان سے نہ کوئی حکومت بدل سکتی تھی، نہ شہر کا نقشہ، نہ نالی کی تقدیر۔
مگر اسی رات پہلی بار کاکروچوں نے اپنے نعرے بلند کرنے سے پہلے ایک دوسرے کی آواز سننے کی کوشش کی۔

کچھ دن بعد شہر کے چوراہے پر پھر ایک دھرنا تھا۔
پلے کارڈ نیا تھا۔ اس پر لکھا تھا:’’ہمیں صرف زندہ رہنے کا حق نہیں، اپنی زندگی بدلنے کا اختیار چاہیے!‘‘
کاکروچ قطار میں بیٹھے تھے۔ ان کے پاس اب بھی چھ ٹانگیں تھیں، خول تھے، بھوک تھی اور بے روزگاری تھی۔ شہر بھی وہی تھا، نالی بھی وہی، اور اوپر سے گزرتے جوتے بھی وہی۔فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار جب ایک کاکروچ گر پڑا تو دوسرے نے نعرہ لگانا بند کر کے اسے اٹھایا۔
جب ایک کاکروچ نے خوراک کا ڈبہ چھپانے کی کوشش کی تو باقیوں نے اس سے سوال کیا۔
جب کسی نے اپنی آواز کو پوری تحریک کی آواز قرار دیا تو کئی کاکروچوں نے اپنی اپنی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔دھرنا ختم نہیں ہوا تھا۔ مطالبات بھی منظور نہیں ہوئے تھے۔مگر احتجاج کی قطار میں ایک چھوٹی سی جگہ خالی رہ گئی تھی۔ وہاں کوئی پلے کارڈ نہیں تھا، کوئی نعرہ نہیں تھا، کوئی ترجمان نہیں تھا۔اسے اچانک احساس ہوا کہ ان ٹانگوں سے صرف رینگا نہیں جا سکتا، راستہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
اس نے پہلی ٹانگ آگے بڑھائی۔پھر دوسری۔۔۔پھر تیسری۔۔۔
باقی تین ٹانگیں ابھی بھی پرانی سمت میں تھیں۔
وہ رکا، پلٹا، اور انہیں بھی ساتھ لے آیا۔

سورج اپنا سفر ختم کرتے ہوئے شفق پھیلا رہا تھا۔
نالی کے اندر کسی نے آہستہ سے نعرہ لگایا:’’انقلاب زندہ باد!‘‘
کسی دوسرے نے فوراً پوچھا:’’کون سا انقلاب؟‘‘
اس بار جواب دینے میں دیر لگی۔
پھر اندھیرے سے ایک آواز ابھری’’وہ انقلاب، جس میں کسی کاکروچ کو دوسرے کاکروچ کے نیچے کچل کر آگے نہ بڑھنا پڑے۔‘‘
اور پہلی بار نالی میں گونجنے والا نعرہ دیواروں سے ٹکرا کر واپس نہیں آیا۔وہ آگے بڑھ گیا۔شاید انقلاب یہی تھا۔۔۔۔یا شاید انقلاب ابھی شروع ہونا باقی تھا۔🍁




*نحوست سے شہر عزیز مالیگاؤں کو بچاؤ*

*آج عصر کی نماز کے فوراً بعد لال مسجد اقراء نگر میں ہمارے عزیز خالد اختر یوسفی صاحب کی دختر نیک اختر کے نکاح میں شامل ہوا نکاح سے قبل محترم قاری الطاف حسین ملی صاحب نے نکاح کے عنوان پر اور بھی کئی عنوان کو شامل کرتے ہوئے اپنا اصلاحی خطاب کیا*

*محترم قاری صاحب نے سودی نحوست پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیر کہ دن ایک شخص آیا اور کہا کہ میں بہت پریشان ہوں اور دل میں سکون نہیں ہے قاری صاحب نے وجہ پوچھی تو اس شخص نے کہا کہ میں نے سود پر بینک سے لون لیا ہے تو دل کا سکون ختم ہوگیا ہے تو قاری صاحب نے کہا بیوی کے زیور ہیں کیا تو اس نے کہا حضرت میری بیوی بھی کہتی ہے زیور بیچ پر قرض ادا کرو قاری صاحب نے کہا آپ یہی کرو منگل کے دن اس نے زیور بیچ کر بینک کا قرض ادا کر دیا اور بدھ کے دن میرے حلقہ ذکر میں آیا تو بہت خوش تھا اور کہا کہ حضرت قرض ادا کر دیا* 
*اسی دن ایک گاہک نے مجھے سے اتنا زیادہ سامان خریدا کہ وہ رقم دگنا تھی میں نے میری اہلیہ کے زیورات واپس خرید لیے اب اطمینان اور سکون ہیں قاری صاحب نے کہا کہ اس بات کہ کئی گواہ ہیں*

*آج مالیگاؤں کے بر سر اقتدار شہر کی تعمیر ترقی کے نام سے 1000کروڑ کا ورلڈ بینک سے لون لینا چاہتے ہیں بقول اعجاز بیگ میں جہاں بھی جاتا ہوں کہا جاتا ہے کہ 1000 کروڑ قرض لے رہے ہو اسکا مطلب یہی ہے کہ شہر بینک کے قرض لینے کے خلاف ہے*
*ہم بر سر اقتدار سے التماس کرنا چاہتے ہیں کہ وہ شہر عزیز کو سودی نحوست سے بچاتے ہوئے بینک سے قرض نہ لیں بلکہ اس کا کوئی اچھا حل نکالتے ہوئے عوام کو سودی نحوست سے بچائیں*

*محمد اسماعیل ہاکر*
*نائب صدر ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب ورکنگ کمیٹی*





*جمہوریت کے تحفظ اور ملک میں مثبت سیاسی تبدیلی کی امید*


پرویز خان (پی کے) کا راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے اور تمام اپوزیشن رہنماؤں کو مبارکباد کا پیغام
بھیونڈی :نئی دہلی میں اپوزیشن اتحاد کی تاریخی پیش قدمی جمہوری حقوق، آئینی اقدار اور عوامی آواز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما اور معروف سماجی کارکن پرویز خان (پی کے) نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں یکم نومبر کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی عظیم الشان ریلی اور مارچ پر راہل گاندھی، کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے اور انڈیا بلاک کے تمام اعلیٰ رہنماؤں کو مبارکباد پیش کی ہے۔پرویز خان (پی کے) نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج ملک کو ایسے وقت میں جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور اداروں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے سنجیدہ مکالمے اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونا اور عوامی مسائل کو قومی سطح پر اٹھانا جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے کردار اور ذمہ داری کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں منعقدہ اس احتجاج کا بنیادی موضوع انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر اٹھائے جانے والے سوالات ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان معاملات پر جواب دہی، شفافیت اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایسے اہم معاملات ہیں جن پر متعلقہ اداروں کو شفاف انداز میں عوام کے سوالات کا جواب دینا چاہیے تاکہ جمہوری نظام پر شہریوں کا اعتماد مضبوط ہو۔
پرویز خان نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ممتا بنرجی، تیجسوی یادو اور انڈیا بلاک کے دیگر تمام رہنماؤں کی مشترکہ شرکت اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر جمہوری مسائل پر آواز بلند کرنے کی کوشش کو قابلِ توجہ قرار دیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تحریک محض ایک احتجاج یا سیاسی سرگرمی بن کر محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک میں مثبت سیاسی اور سماجی تبدیلی کے لیے ایک نئی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ عوام کے بنیادی مسائل، روزگار، تعلیم، مہنگائی، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور آئینی حقوق کو قومی سیاست میں ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔
انھوںنے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا احترام اور باہمی بھائی چارہ ہے۔ ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب نفرت، تعصب اور مذہبی تفریق کی فضا ختم ہو اور ہر شہری کو بلا لحاظ مذہب و ملت یکساں عزت، تحفظ اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم اتحاد ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ ہمیں ایسا ہندوستان چاہیے جہاں مندر اور مسجد کے نام پر فاصلے پیدا کرنے کے بجائے انسانیت، محبت، رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں ترقی، تعلیم، روزگار اور خوشحالی کے مشترکہ ایجنڈے پر متحد کریں۔
 ہمارا خواب ایک ایسا ہندوستان ہے جہاں نفرت کی جگہ محبت، انتشار کی جگہ اتحاد، بے روزگاری کی جگہ روزگار اور پسماندگی کی جگہ ترقی لے۔ یہی ایک مضبوط، خوشحال اور متحد ہندوستان کی پہچان ہوگی۔


Monday, 2 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *



*2014 میں SIR نہیں ہوا تھا ، پھر بھی مودی جیتے ، امت شاہ کا حیدرآباد میں خطاب ، کہا، راہل کبھی نہیں بن پائیں گے پی ایم*




وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
2014 میں SIR نہیں ہوا تھا ، پھر بھی مودی جیتے ، امت شاہ کا حیدرآباد میں خطاب ، کہا، راہل کبھی نہیں بن پائیں گے پی ایم
Amit Shah in Hyderabad: امت شاہ نے کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت سیاسی حملہ کیا، دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ “ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ” ریلی کو “دراندازوں کو بچاؤ” کنونشن قرار دیا۔ امت شاہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایس آئی آر کی مخالفت کرکے کانگریس بنگلہ دیشی دراندازوں کو ووٹر لسٹ سے بچانا چاہتی ہے۔
Google Icon+ Follow usOn Google
ADVERTISEMENT

Last Updated : November 2, 2026, 6:30 pm IST
Published by : H.W. Karim
2014 میں SIR نہیں ہوا تھا ، پھر بھی مودی جیتے ، امت شاہ کا حیدرآباد میں خطاب ، کہا، راہل کبھی نہیں بن پائیں گے پی ایم
ADVERTISEMENT

متعلقہ ویڈیو
Delhi Elections 2025: کانگریس پارٹی کا انتخابات کے لیے دلت اور مسلم ووٹروں پر توجہ مرکوز
Delhi Elections 2025: کانگریس پارٹی کا انتخابات کے لیے دلت اور مسلم ووٹروں پر توجہ مرکوز

Delhi Elections: دہلی الیکشن سے پہلے کیجریوال نے راہل کو نشانہ بنایا
Delhi Elections: دہلی الیکشن سے پہلے کیجریوال نے راہل کو نشانہ بنایا

حیدرآباد میں 6 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر گئی، ماں نے بچا لیا
حیدرآباد میں 6 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر گئی، ماں نے بچا لیا

20 کلو کا وزن اٹھایا، پھر ڈمبل والی ایکسرسائز بھی... اسد الدین اویسی تو باڈی بلڈرز کو بھی دے رہے مات!.... دیکھئے ویڈیو
20 کلو کا وزن اٹھایا، پھر ڈمبل والی ایکسرسائز بھی... اسد الدین اویسی تو باڈی بلڈرز کو بھی دے رہے مات!.... دیکھئے ویڈیو

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

Delhi Election News : دہلی میں انتخابی تشہیر کے آخری دن امت شاہ کی ریلی
Delhi Election News : دہلی میں انتخابی تشہیر کے آخری دن امت شاہ کی ریلی

Delhi Elections 2025: کانگریس پارٹی کا انتخابات کے لیے دلت اور مسلم ووٹروں پر توجہ مرکوز
Delhi Elections 2025: کانگریس پارٹی کا انتخابات کے لیے دلت اور مسلم ووٹروں پر توجہ مرکوز

Delhi Elections: دہلی الیکشن سے پہلے کیجریوال نے راہل کو نشانہ بنایا
Delhi Elections: دہلی الیکشن سے پہلے کیجریوال نے راہل کو نشانہ بنایا

حیدرآباد میں 6 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر گئی، ماں نے بچا لیا
حیدرآباد میں 6 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر گئی، ماں نے بچا لیا

20 کلو کا وزن اٹھایا، پھر ڈمبل والی ایکسرسائز بھی... اسد الدین اویسی تو باڈی بلڈرز کو بھی دے رہے مات!.... دیکھئے ویڈیو
20 کلو کا وزن اٹھایا، پھر ڈمبل والی ایکسرسائز بھی... اسد الدین اویسی تو باڈی بلڈرز کو بھی دے رہے مات!.... دیکھئے ویڈیو

Amit Shah in Hyderabad: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے حیدرآباد، تلنگانہ میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت حملہ کیا۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہندوستانی اتحاد کی “ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ” ریلی کو نشانہ بناتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ “ووٹ بچاؤ” ریلی نہیں تھی، بلکہ “دراندازوں کو بچاؤ” ریلی تھی۔ امت شاہ نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کو بلاک کرکے کانگریس بنگلہ دیشی دراندازوں کو ملک کی ووٹر لسٹ سے بچانا چاہتی ہے۔

انہوں نے 2 ستمبر کو کہا کہ بی جے پی اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک کہ وہ ووٹر لسٹ اور ملک سے ہر ایک درانداز کو نہیں نکال دیتی۔ امت شاہ نے کہا کہ آج حیدرآباد کی سڑکوں پر ہزاروں لوگ موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے بعد بی جے پی نے مہاراشٹرا، ہریانہ، دہلی، بہار، مغربی بنگال اور آسام میں کامیابی حاصل کی ہے اور اب پارٹی تلنگانہ میں بھی جیت کے دہانے پر ہے۔

راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر داخلہ نے ان کے ذریعہ منعقدہ فرضی پارلیمنٹ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ راہل گاندھی کو اس فرضی پارلیمنٹ میں کم از کم ایک بار وزیر اعظم بن جاتے ، کیونکہ وہ اصلی پارلیمنٹ میں کبھی وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے۔ شاہ نے کہا کہ اس سے سونیا گاندھی کو کچھ سکون ملتا۔ انہوں نے راہل گاندھی کو مشورہ دیا کہ الیکشن جیتنے کے لیے ملک میں رہتے ہوئے سخت محنت کرنی چاہیے، عوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کے معاملے پر امت شاہ نے کہا کہ 2 کروڑ 80 لاکھ لوگ مر چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا فوت شدہ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جائیں۔ شاہ نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی فراڈ ووٹنگ کے ذریعہ الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔

اس دوران امت شاہ نے حیدرآباد کے ہندوستان کے ساتھ انضمام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سردار ولبھ بھائی پٹیل نے اس وقت نظام کو محکوم نہ بنایا ہوتا تو آج حیدرآباد ہندوستان کا حصہ نہ ہوتا۔ یہ سردار پٹیل ہی تھے جنہوں نے نظام کو زیر کیا اور حیدرآباد کو ہندوستان کا حصہ بنایا۔ شاہ نے حیدرآباد میں منعقدہ “جمہوریت بچاؤ، انارکی ہٹاؤ” ریلی میں بھیڑ کا خیرمقدم کیا۔

امت شاہ نے حیدرآباد میں بی جے پی کے ’’جمہوریت بچاؤ، انارکی ہٹاؤ‘‘ مارچ کی قیادت کی
قبل ازیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے حیدرآباد میں بی جے پی کے “جمہوریت کو بچائیں، انارکی کو ہٹائیں” مارچ کی قیادت کی تاکہ کانگریس کی زیرقیادت “انڈیا” اتحاد کی طرف سے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل سے متعلق مبینہ طور پر پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیے کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔ مارچ کے دوران شاہ نے قومی پرچم تھام رکھا تھا اور ان کے ساتھ مرکزی وزیر کوئلہ جی کشن ریڈی، مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بندی سنجے کمار، اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی تلنگانہ یونٹ کے دیگر قائدین تھے۔ مارچ بابو جگ جیون رام کے مجسمہ سے شروع ہوا اور معظم جاہی مارکیٹ پر اختتام پذیر ہوا۔ بی جے پی کے سینکڑوں کارکنان بھی مارچ میں شاہ کے ساتھ شامل ہوئے



*مڈ ٹرم تک کا انتظار، پھر ہوگا ایران پر بڑا حملہ ، نیتن یاہو ۔ ٹرمپ نے بنا لیا ہے" آپریشن " کا پلان*



امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے درمیان، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان اہم ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ اس گفتگو سے واقف اسرائیلی اور امریکی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے 31 اکتوبر کو ایران کے بارے میں براہ راست اور صاف بات چیت کی۔ اس دوران ایران کے ساتھ امریکہ کی جاری سفارتی کوششوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرے۔ انہیں خدشہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک ایسے معاہدے پر منتج ہو سکتے ہیں جس سے اسرائیل کے تحفظات دور نہ ہوں۔ دریں اثنا، ٹرمپ مذاکرات کو آگے بڑھنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ اسرائیل اس عمل میں مداخلت کرے۔ تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس اور نیتن یاہو کے دفتر نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

جہاں ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں وہ فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کر رہے ہیں۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ جون 2025 میں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر اور گزشتہ فروری میں آپریشن فیرس فیوری سے پہلے اسی طرح کے سفارتی اور فوجی آپشنز تلاش کیے گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے ایک اعلیٰ عہدیدار محسن رضائی کو ایک خط بھیجا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر روشنی ڈالی گئی۔ مبینہ طور پر یہ امریکہ کی طرف سے ایران کو کئی مہینوں میں بھیجا جانے والا اعلیٰ ترین پیغام ہے۔

ٹرمپ نے کہا ، ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے
31 اکتوبر کو صحافیوں کے ساتھ بریفنگ کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی جلدی نہیں ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے لیکن انہوں نے ایران کے اعتماد پر بھی سوال اٹھایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پہلے معاہدے پر آمادہ ہوا تھا لیکن بعد میں پیچھے ہٹ گیا۔ انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ایران کی بعض جوہری تنصیبات امریکہ کے لیے باعث تشویش ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ایک یا دو جوہری تنصیبات کا مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مختصر وقت میں کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے پہاڑ کے اندر واقع ایٹمی تنصیب کا بھی ذکر کیا۔

قطر کے ذریعے مذاکرات کو فروغ دینے کی کوشش
دریں اثنا، قطری ثالث مسلسل تیسرے دن ایران کے سینئر حکام سے رابطے میں ہیں، جو امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ قطر چاہتا ہے کہ دونوں ممالک وسط مدتی انتخابات کے بعد ایک اور فوجی تصادم کو روکنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ جائیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی سمت کا زیادہ تر انحصار ایران کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پر امریکہ کے جواب پر ہوگا۔

عراقچی نے کہا کہ ایران معاہدے تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ بھی فوجی کارروائی پر سفارتی کارروائی کو ترجیح دے گا۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا راستہ کھلا ہے تاہم جوہری پروگرام اور فوجی کارروائی کے حوالے سے اختلافات برقرار ہیں۔



*ہمارے ملک میں دہشت گردوں کے اڈے موجود ہیں"، شہباز شریف نے عمران خان کو گھیرنے کی کوشش میں کیا کہہ دیا؟*




پاکستان کو طویل عرصے سے دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے کے الزامات کا سامنا ہے۔ اب، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ایک بیان نے اس معاملے کو دوبارہ روشنی میں لایا ہے۔ انہوں نے خود اعتراف کیا کہ دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لا کر 2019 اور 2020 کے دوران پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں آباد کیا گیا۔شہباز کے بیان نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی پالیسی اور سیکورٹی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

تاہم وزیراعظم نے اس فیصلے کی ذمہ داری سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر ڈال دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی واپسی اور آبادکاری کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں دوبارہ بڑھنے لگیں۔ اس کے نتیجے میں ملک کے لیے جان و مال کا کافی نقصان ہوا۔ اس بیان کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم خود اپنے ملک میں دہشت گردوں کی واپسی اور آبادکاری کا اعتراف کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے دہشت گردوں کو واپس لایا گیا، انہیں کس کی منظوری ملی اور اس پورے عمل میں فوج یا انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کیا کردار ادا کیا۔

دہشت گردوں کو واپس لانے اور آباد کرنے کی بات کیوں کی؟
شہباز شریف نے یہ بیان 31 اکتوبر کو خیبر پختونخوا سے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے اراکین اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں دہشت گردی پر بڑی حد تک اجتماعی کوششوں سے قابو پایا گیا۔ 2017-18 تک ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی تھی لیکن 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کی واپسی اور آبادکاری کے بعد صورتحال پھر سے خراب ہونا شروع ہوگئی۔

عمران خان کی حکومت پر الزام
شہباز شریف نے دہشت گردوں کی واپسی کا ذمہ دار عمران خان کی اس وقت کی حکومت کو ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلی حکومت کے فیصلوں نے دہشت گردی کو اپنے قدم جمانے کی اجازت دی لیکن بہت سے سوالات باقی ہیں۔ دہشت گردوں کی واپسی کا فیصلہ ہوا تو کیا سکیورٹی ادارے اس سے باخبر تھے؟ کیا فوج اور خفیہ ادارے متفق تھے؟ پاکستانی سیاست میں فوج کا اثر و رسوخ بہت اہم مانا جاتا ہے۔ اس لیے دہشت گردوں کی واپسی جیسے حساس معاملے کا ذمہ دار صرف اس وقت کی منتخب حکومت کو ٹھہرانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

800 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود کیا سکیورٹی سسٹم اب بھی کمزور ؟
شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خرچ کیے گئے فنڈز پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2010 کے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبے کو ایک فیصد اضافی مالیاتی حصہ دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، اس انتظام کے تحت اب تک تقریباً 800 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اتنی بڑی رقم ملنے کے باوجود کتنے سیف سٹی پروجیکٹس شروع کیے گئے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو کتنا مضبوط کیا گیا ہے؟ پولیس کو جدید اسلحہ اور بہتر تربیت فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ شہباز شریف نے ہزاروں خالی پولیس پوسٹوں پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔

پاکستان نے دہشت گردی کی قیمت اپنی جانوں سے ادا کی
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لگ بھگ 80 ہزار افراد کو کھویا ہے۔ مزید برآں، ملک کو 150 سے 200 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کو ملکی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں شہریوں، پولیس اہلکاروں اور فوج کے جوانوں کی قربانیوں کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

عمران خان کی پارٹی نے جوابی وار کیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے شہباز شریف کے الزامات کا جواب دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس اپنی پارٹی کو جمہوریت اور گورننس پر لیکچر دینے کا اخلاقی اختیار نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے دور میں خیبرپختونخوا میں امن و استحکام بہتر رہا۔ پارٹی نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صوبائی انتظامیہ کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضروری وسائل اور آلات فراہم نہیں کر رہی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان نے ان کے ملک کے بارے میں سچائی کو بے نقاب کر دیا ہے، جو بھارت کئی سالوں سے کہتا آ رہا ہے۔ شہباز نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے مخصوص علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں، حالانکہ وہ اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔

Sunday, 1 November 2026

🛑*سیف نیوز بلاگر *


*کیا مڈ ٹرم الیکشن میں ہار مان چکے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ؟ ووٹنگ ہوئی بھی نہیں اور ویٹو کی کرنے لگے بات، آخر کیوں*



امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اب صرف 24 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، لیکن اس سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں، ان سے ایسا لگتا ہے کہ انہیں ان انتخابات سے زیادہ امیدیں نہیں ہیں۔ انتخابات سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اگلے سیاسی اقدامات کے حوالے سے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو وہ ان کے قانون سازی سے متعلق فیصلوں کو روکنے کے لیے صدر کے ویٹو کے اختیار کا استعمال کریں گے۔ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ کے اب تک کے کاموں کو اپوزیشن پارٹی کے ہاتھوں برباد نہیں ہونے دیں گے۔

ٹرمپ نے یہ بات نیویارک پوسٹ کی صحافی مرانڈا ڈیوائن کے پوڈکاسٹ ’پوڈ فورس ون‘ میں گفتگو کے دوران کہی۔ بات چیت کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ اب میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کو اپنے کام کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ٹرمپ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ یہ انتخابات ان کے حق میں نہیں بھی جا سکتے ہیں۔

’ڈیموکریٹس جیت بھی گئے تو ویٹو کر دوں گا‘
ٹرمپ کے مطابق اگر ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے، تب بھی وہ اپنی حکومت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے راستے تلاش کریں گے۔ اس کے لیے وہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلوں کو ویٹو کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں شروع میں دونوں پارٹیوں کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس اپنے منصوبوں سے متعلق تجاویز صدر کے پاس بھیجیں گے اور ٹرمپ انہیں ویٹو کر دیں گے۔ تاہم، ٹرمپ کا خیال ہے کہ مسلسل ایک دو ماہ تک ایسا ہونے کے بعد اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ بات چیت کے لیے آگے آ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ طویل عرصے تک قانون سازی کا عمل رکے رہنے سے دونوں فریقوں کا وقت ضائع ہوگا۔ ایسے میں بالآخر سمجھوتے اور بات چیت کا راستہ نکل سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسی صورتِ حال پیدا ہی نہ ہو۔

3 نومبر کو ہوں گے وسط مدتی انتخابات
امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے ہیں۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ انتخابی نتائج سے طے ہوگا کہ ٹرمپ کی صدارتی مدت کے آخری دو برسوں میں کانگریس کا کنٹرول کس پارٹی کے پاس رہے گا۔ فی الحال ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اس کے پاس ڈیموکریٹس کی 214 نشستوں کے مقابلے میں 218 نشستیں ہیں، جبکہ سینیٹ میں ریپبلکنز 47 کے مقابلے میں 53 نشستوں کے ساتھ آگے ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج ٹرمپ کی سیاسی طاقت اور آنے والے وقت میں ان کی حکومت کے فیصلوں کو کافی حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔

ریپبلکنز پر ڈیموکریٹس کیوں پڑ رہے ہیں بھاری؟
اب سوال یہ ہے کہ اکثریت میں رہنے والی ریپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹس سے خوف کیوں محسوس ہو رہا ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ماحول بنا ہوا ہے، جس کا ڈیموکریٹس کو بھرپور فائدہ مل رہا ہے۔ ایران جنگ میں امریکہ کو ہوئے نقصان کو لے کر عوام ناراض ہیں اور ٹرمپ کی مقبولیت میں مسلسل آ رہی گراوٹ نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ماحول مکمل طور پر ریپبلکن پارٹی کے حق میں نہیں ہے۔ لیکن جس طرح سابق صدر براک اوباما ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں میدان میں اترے، اس نے ماحول بدل دیا۔ انہوں نے ٹرمپ کی ہر ناکامی کو انتخابی مسئلہ بنایا اور خاص طور پر ایران جنگ کے حوالے سے ان کا جم کر مذاق اڑایا۔

ٹرمپ کی کون کون سی پالیسیاں پڑ رہی ہیں الٹی؟
اگر یہ بات کریں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کون سی پالیسیاں اقتدار میں آنے کے محض ڈیڑھ سال کے اندر اتنی غلط ثابت ہوئیں کہ وسط مدتی انتخابات میں ان کے خلاف ماحول بن گیا، تو ان کا جائزہ اس طرح لیا جا سکتا ہے:

ایران پر بغیر سوچے سمجھے حملہ: ایران پر حملہ کرنے اور آبنائے ہرمز کے بحران کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ خود امریکہ میں بھی مہنگائی اس وقت بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔

دوستانہ ممالک سے تعلقات خراب کرنا: کینیڈا، کیوبا، برازیل اور ہندوستان جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا، جو امریکہ کی روایتی خارجہ پالیسی سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی وجہ سے امریکی تجارت سے لے کر اسٹریٹجک سطح تک تبدیلیاں آئی ہیں۔

روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر دباؤ: روس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر سخت ٹیرف اور پابندیاں لگانے کی دھمکیوں اور بعد میں اپنے فیصلوں سے پیچھے ہٹنے جیسی پالیسیوں نے سفارتی سطح پر مسلسل الجھن کی صورتِ حال پیدا کی ہے۔

درآمدی اشیا پر بھاری ٹیرف : ٹرمپ کی جانب سے درآمد کی جانے والی اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی پالیسیوں پر بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی ہے۔ ناقدین نے ہی نہیں بلکہ عدالتی معاملات میں بھی ان پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی شراکت داروں کے ساتھ کشیدگی اور ملک کے اندر مہنگائی بڑھنے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔





*یوروپ میں Gen-Z کا غصہ پھوٹا، فرانس سے جرمنی تک مظاہرے، پولیس پر حملے اور لوٹ مار*

فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ہفتے کے روز ہوئے بڑے پیمانے کے مظاہروں کے دوران گزشتہ دو ہفتوں کے اختتام پر ہونے والے احتجاج کے مقابلے میں تشدد کے واقعات کم رہے، جس سے حکام نے راحت کی سانس لی۔ تاہم، پیر کے روز اسکول دوبارہ کھلنے کے بعد مزید مظاہرے ہونے کا خدشہ ہے۔ اس دوران جرمنی میں ہفتے کے روز ملک گیر مظاہروں کے بعد کچھ شہروں میں تشدد بھڑک اٹھا اور شرپسندوں نے پولیس پر حملے کرنے کے ساتھ دکانوں میں لوٹ مار بھی کی

یورپ کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں ہوئے احتجاجی مظاہروں میں ہفتے کے روز لاکھوں افراد نے حصہ لیا۔ کچھ مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے، تاہم زیادہ تر مقامات پر مظاہرے پُرامن رہے۔ پولیس نے بتایا کہ پیرس کے مشرقی حصے میں ہفتے کے روز مارچ ختم ہونے کے بعد بلوائیوں نے پولیس اہلکاروں پر پیٹرول بم پھینکے، جس سے تین افسران زخمی ہو گئے اور ایک کار میں آگ لگ گئی۔ شہر میں ایفل ٹاور کے سامنے واقع ایک سیاحتی مقام پر نقاب پوش افراد کے گروہوں نے پولیس اہلکاروں پر پٹاخے پھینکے۔ پولیس نے مظاہرین کے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی

تاہم، اس بار 17 اور 24 اکتوبر کو ہوئے مظاہروں کے مقابلے میں تشدد کم رہا۔ گزشتہ 17 اکتوبر کو مظاہرے کے دوران میونسپل کارپوریشن کی ایک عمارت میں آگ لگا دی گئی تھی اور 2,000 سے زائد دکانوں میں لوٹ مار کی گئی تھی۔ پیرس اور مارسی کی پولیس نے بتایا کہ کچھ دکانوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

جرمنی میں ہفتے کے روز ایک لاکھ سے زائد افراد نے پُرامن مظاہرے کیے۔ ان میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ مظاہرین نے حکومت سے تعلیم، رہائش اور ماحولیاتی تحفظ پر زیادہ رقم خرچ کرنے کے ساتھ روزمرہ زندگی کو مزید سستا اور قابلِ برداشت بنانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم، کچھ شہروں میں رات کے وقت مظاہرے پُرتشدد ہو گئے۔

فرینکفرٹ میں مظاہرے کے بعد بلوائیوں نے شہر کے مرکزی علاقے میں پولیس پر حملہ کیا اور دکانوں میں لوٹ مار کی۔ اس دوران کئی مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جبکہ 30 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے شہر کے مرکزی علاقے میں ایک حصے کی ناکہ بندی کر دی، جس کے بعد اتوار کی علی الصباح تک صورتِ حال پُرامن ہو گئی۔

فرینکفرٹ صوبہ ہیسے میں واقع ہے۔ صوبہ ہیسے کے گورنر بورس رائن نے کہا کہ ’’میں فرینکفرٹ میں پیش آئے پُرتشدد واقعات سے صدمے میں ہوں۔ اس کے ذمہ دار افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔‘

ہفتے کی رات کولون میں بھی تشدد بھڑک اٹھا، جہاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھاروں کا استعمال کیا۔ برلن میں مظاہرین نے پولیس پر بوتلوں اور آتش بازی میں استعمال ہونے والے سامان سے حملہ کیا۔ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کا اہتمام کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم ’جن زی ریگلٹ‘ نے انسٹاگرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اس کا کسی بھی قسم کے تشدد یا مظاہروں میں شامل نہ ہونے والے دیگر گروہوں اور افراد کی پُرتشدد سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں سستے مکانات کی فراہمی کے مطالبے کو لے کر ہونے والے مظاہروں کے بعد انسدادِ فسادات پولیس نے رات کے وقت ایک چوک پر جمع مظاہرین کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے وہاں سے ہٹا دیا۔




ورلڈ بینک سے 1000ہزار کروڑ کا قرض پر شہر ہر مکتب فکر ،ہر مسالک کے نامور شہرت یافتہ علماء کرام آخر اس پر خاموش کیوں ؟  

از 🖊️ محمد آصف بنداس 
9273019740

لمحہ فکریہ ! سماج و معاشرے میں جوا ، نشہ ،زنا، سود بیاذ کا لین دین حتی کے ہر برائی پر خطاب کرنے والے ہر مکتب فکر ہر مسالک کے علماء کرام آخر کیوں ورلڈ بینک سے 1000 ہزار کروڑ قرض جیسی ناسور نحوست پر خاموش کیوں ؟ کیوں ؟ کیوں ہے؟ 

کیا اسکا بوجھ ہر مکتب فکر ہر مسالک کے علماء کرام کی جیب پر نہیں ہوگا کیا؟ صرف عام عوام پر ہوگا اس لئے آپکی زبان بند ہے؟ 


مالیگاوءں کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 1100 کروڑ ہوچکا تو پھر کیوں شہر کی ترقی کے نام پر ورلڈ بینک سے قرض کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ اس نحوست ، لعنت پر شہرت یافتہ علماء کرام آخر کب لب کشائی کرینگے؟ 

شہر مالیگاوءں کی ترقی کے نام پر آج موجودہ کارپوریشن پر براجمان برسراقتدار ورلڈ بینک سے 1000ہزار کروڑ کا قرض جو لائے ہیں یا لایا جایا جارہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ معاشرے میں آج ہر جمعہ ہر روز کہیں نہ کہیں شہرت یافتہ علماء کرام بالخصوص تاریخ کا معزز مطالعہ رکھنے والے " مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب اس سود بیاذ کی نحوست و لعنت پر خطاب کررہے ہیں ۔ دیگر مکتب ہر مسالک علماء کرام ہیں تو عوام کو اس سے بچنے کے لئے خطاب کررہے ہیں ۔ حتی کے ہر مکتب فکر ہر مسالک کے علماء کرام سود بیاذ کی نحوست پر خطاب کررہے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہیکہ آخر کا شہر کے آج کے برسراقتدار کے ورلڈ بینک سے 1000ہزار کروڑ کے قرض لینے پر ان نامور شہرت یافتہ علماء کرام کیوں چپ ہیں کیوں ایک حوالہ بتانے کو تیار نہیں؟ گذشتہ ہفتہ ایک عالم ایک مفتی جو کہ پہلے حافظ عالم مفتی ہیں اور بعد میں شہر کے ایم ایل اے مگر یہ سود بیاذ کی نحوست کے خلاف سینکڑوں ہمدرد کو لیکر روڈ پر اتر کر جگہ جگہ احتجاج کئے مگر کیا آپ جیسے ہر مکتب فکر علماء روڈ پر آکر انکا ساتھ دئے۔ کیا احتجاج کئے جس طرح کے سرکاری نت نئے قانون کے خلاف جلسہ و احتجاج کرتے آئے۔ کیوں نہیں اس سود بیاذ کی نحوست پر روڈ پر آئے۔ اگر مولانا عمرین صاحب سمیت ، ہر دیگر اور ہر مکتب فکر ہر مسالک کے علماء اگر اس خطرناک نحوست پر چپ ہیں تو عام عوام یہ سمجھے گی کہ یہ بوجھ ہمارے جیب پر مستقبل میں ٹیکس کے اضافے کی شکل میں آئے گا تو ہر مکتب فکر علماء کرام کے جیب پر بھی یہ بوجھ آئے گا۔ یعنی عام عوام اس نحوست کا سود ادا کرینگے تو ہر مکتب ہر مسالک کے علماء بھی ادا کرینگے۔ اگر انکے لئے اب یہ نحوست سود بیاذ جائز ہوتا ہے تو عام عوام کے لئے بھی جائز ہوگا۔ اگر انکا منہ بند ہے تو مطلب صاف ہیکہ انکے ساتھ عام عوام بھی سود بیاذ کا لین دین کرسکتی ہے۔ ہم اور سارے شہریان لین دین کرسکتی ہے۔ 

آخری میں پھر یہی سوال ہیکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی ہر برائی جیسے مدعے پر اور سود بیاذ کی نحوست پر خطاب کرتے ہیں تو اس ہزار کروڑ ورلڈ بینک سے لئے جانے والے قرض پر منہ بند رہنا سود بیاذ سب کے لئے جائز ہوگیا ہم نے یہی سمجھنا آپ لوگوں کو جائز ہوگیا ہے تو اب عام عوام بھی اب سود بیاذ کا لین دین کرسکتی ہے۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *

*میرے لئے مذہب سے بڑی چیز ہندوستان کی آواز...‘ رام لیلا میدان ریلی سے راہل گاندھی کا بیان*


دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ریلی میں راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر براہِ راست حملہ کیا۔ راہل گاندھی نے انتباہی لہجے میں کہا کہ گیانیش کمار جیل جائے گا۔ انہوں نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر، ہریانہ، کرناٹک سے لے کر لوک سبھا انتخابات تک بڑے پیمانے پر ووٹوں کی چوری ہوئی ہے اور ووٹر لسٹ سے نام کاٹ کر عوامی مینڈیٹ کو چرایا گیا ہے۔

معاشی عدم مساوات کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی ساری دولت محض دو تین صنعت کاروں کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے۔ بڑے سرمایہ داروں کے ہزاروں کروڑ روپے کے قرض پلک جھپکتے ہی معاف کر دیے جاتے ہیں، لیکن جب کسی غریب مزدور کا بیٹا قرض مانگنے جاتا ہے تو اسے ذلیل کیا جاتا ہے۔ راہل نے واضح کر دیا کہ یہ لڑائی اب صرف انتخابات کی نہیں بلکہ ملک کے غریبوں کے حقوق اور جمہوریت کو بچانے کی ہے۔

راہل گاندھی نے جمہوریت اور بھائی چارے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے مذہب سے بھی بڑی چیز ہندوستان کی آواز ہے۔ انہوں نے مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’چاہے نریندر مودی ہوں، امت شاہ ہوں یا گیانیش کمار، ہم ان سے نفرت نہیں کریں گے اور نہ ہی تشدد کا راستہ اختیار کریں گے۔ ہمارا مذہب ہمیں سکھاتا ہے کہ کوئی دشمن نہیں ہوتا اور ہر کسی سے سیکھا جا سکتا ہے۔‘‘

راہل نے کہا کہ ملک کے آخری شخص کی آواز کی حفاظت کرنا ہی اصل مذہب ہے، خواہ وہ ہندو ہو، مسلمان ہو، خاتون ہو یا آدیواسی۔ آج پورا ملک چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اسے نفرت نہیں بلکہ بھائی چارہ چاہیے اور ’انڈیا‘ اتحاد ایسا کر کے دکھائے گا۔



*کیا ہے کرشک درگھٹنا کلیان یوجنا؟ کسانوں کو ملتی ہے 5 روپے کی مدد!، جانئے کیسے کریں اپلائی*

کھیتی باڑی کا کام جتنا محنت طلب ہے، اتنا ہی اس میں خطرہ بھی رہتا ہے۔ کبھی کھیت میں کام کرتے وقت سانپ کاٹ لیتا ہے، تو کبھی آسمانی بجلی گرنے یا مشین سے چوٹ لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسے حادثات میں اگر کسان کی جان چلی جائے یا وہ کام کرنے کے قابل نہ رہے، تو پورے خاندان کے سامنے روزی روٹی کا بحران کھڑا ہو سکتا ہے۔ اسی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش حکومت پردھان منتری درگھٹنا کلیان یوجنا چلا رہی ہے۔ اس کے تحت حادثے میں کسان کی موت یا معذوری کی صورت میں اہل خاندانوں کو 5 لاکھ روپے تک کی مالی مدد دی جاتی ہے

بتادیں کہ اتر پردیش حکومت نے سال 2020 میں اس اسکیم کی شروعات کی تھی۔ اس کا مقصد حادثے کا شکار ہونے والے کسانوں اور ان کے خاندانوں کو مالی سہارا دینا ہے۔ اس اسکیم میں کھیت کے مالک کسانوں کے ساتھ بٹائی پر کھیتی کرنے والے اور پٹے کی زمین پر کھیتی کرنے والے اہل کسانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کن کسانوں کو ملے گا فائدہ؟
اس اسکیم کا فائدہ اتر پردیش کے 18 سے 70 سال کی عمر کے اہل کسانوں کو مل سکتا ہے۔ اس میں کھتونی میں درج زمین کے مالک، مشترکہ کھاتہ دار اور کھیتی باڑی سے اپنے خاندان کا خرچ چلانے والے افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بٹائی دار اور پٹے پر کھیتی کرنے والے کسان بھی طے شدہ شرائط کے تحت فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

کتنی ملے گی مالی مدد؟
اسکیم کے تحت حادثے میں کسان کی موت ہونے پر اس کے اہل خانہ کو 5 لاکھ روپے تک کی مدد مل سکتی ہے۔ وہیں، حادثے میں دونوں ہاتھ، دونوں پیر یا دونوں آنکھیں کھو دینے جیسی سنگین مستقل معذوری کی صورت میں بھی 5 لاکھ روپے تک کی امداد دینے کا انتظام ہے۔ جزوی معذوری کی صورت میں نقصان کی سنگینی اور مقررہ زمرے کے مطابق 1.25 لاکھ سے 2.5 لاکھ روپے تک کی مدد مل سکتی ہے۔

کن حادثات میں ملے گا فائدہ؟
کھیت میں کام کرتے وقت سانپ کے کاٹنے، آسمانی بجلی گرنے، جانوروں کے حملے، زرعی مشین سے چوٹ لگنے، پانی میں ڈوبنے یا درخت سے گرنے جیسے حادثات اس اسکیم کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ تاہم، ہر معاملے میں حادثے اور اہلیت کی جانچ کی جاتی ہے۔

درخواست کیسے دیں؟
کسان یا ان کے اہل خانہ محکمۂ محصولات کے متعلقہ پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ لیکھ پال یا تحصیل دفتر سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

عام طور پر حادثے کے 45 دنوں کے اندر درخواست دینا ضروری ہوتا ہے۔

جانچ اور منظوری کے بعد امدادی رقم اہل شخص کے بینک کھاتے میں بھیج دی جاتی ہے۔

درخواست کے لیے کون سے دستاویزات درکار ہیں؟
کسانوں کو آدھار کارڈ، بینک پاس بک، کھتونی یا کھیتی باڑی سے متعلق دستاویزات جمع کرانی ہوں گی۔ موت کی صورت میں ضرورت کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس کے کاغذات طلب کیے جا سکتے ہیں۔ وہیں، معذوری کی صورت میں متعلقہ افسر کا سرٹیفکیٹ ضروری ہوگا۔


*اپوزیشن ملک کے لئے رکاوٹیں کھڑی کررہاہے ، پی ایم مودی نے کہا، "ذہنی نکسلیوں" سے عوام رہیں ہوشیار*


وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی اتحاد کے دن کے موقع پر اپوزیشن پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کرے لیکن بدقسمتی سے ملک میں اپوزیشن اب ’’رکاوٹ کرنے والی جماعت‘‘ بن چکی ہے۔ اپنی مایوسی سے اپوزیشن ملک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ یہ مخالفت نہیں بلکہ رکاوٹ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ لوگ آئین کو درکنار کرنے اور ملک کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہم وطنوں کو متحد ہو کر ایسی طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کون خفیہ طور پر بیرون ملک میٹنگ کر رہا ہے اور کون بھارت مخالف طاقتوں کی زبان بول رہا ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ملک سے ’’ذہنی نکسلیوں‘‘ کا خطرہ ٹل نہیں سکا ہے۔ ملک کو ان کے خلاف ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔

نکسل ازم کی کمر ٹوٹ چکی ہے
وزیر اعظم نے نکسل ازم کے خلاف ملک کی کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال سردار پٹیل کے 150ویں یوم پیدائش پر ان کے چرنوں کے سامنے کھڑے ہوکر یہ عزم کیا تھا کہ جب تک ملک کو نکسل ازم اور ماؤ نواز دہشت گردی سے مکمل طور پر نجات نہیں دلادیتا وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ٹھیک ایک سال بعد آج ملک کا عزم پورا ہوا ہے۔ نکسل ازم کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں ملک کے 126 اضلاع بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثر تھے، لیکن مارچ 2026 تک ملک کا کوئی بھی ایسا ضلع نہیں ہوگا جو اب بھی نکسل ازم سے متاثر ہو۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے تشدد اور خونریزی کا شکار یہ اضلاع اب ترقی کے دھارے کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان علاقوں میں سڑکیں پھیل رہی ہیں، موبائل نیٹ ورک پہنچ رہے ہیں، اور اسکول کی سہولیات بہتر ہو رہی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے نکسل متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو سلام پیش کیا جنہوں نے یوم اتحاد کی تقریبات میں حصہ لیا۔ انہوں نے ان بہادر سپاہیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ان علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔

سردار پٹیل نے 550 سے زیادہ ریاستوں کو متحد کیا
وزیر اعظم مودی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بغیر آج کے ہندوستان کا تصور کرنا مشکل ہے۔ سردار پٹیل نے ہندوستان کی موجودہ شکل کو تشکیل دیا اور، آزادی کے بعد، 550 سے زیادہ شاہی ریاستوں کو متحد کیا، ملک کو ایک دھاگے میں پرو دیا۔ انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل ہندوستان کے تنوع کو رکاوٹ نہیں بلکہ اتحاد کی حقیقی بنیاد سمجھتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف ملک کے جغرافیہ کو متحد کیا بلکہ جذباتی اتحاد کی بنیاد کو بھی مضبوط کیا۔ گجرات میں سومناتھ مندر کی تعمیر نو کے ذریعے، اس نے ملک کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ کا آغاز بھی کیا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ سومناتھ مندر کا جھنڈا 1000 سالوں سے فخر کے ساتھ لہرا رہا ہے۔

اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بدامنی کی آگ میں جل رہی ہے اور وسائل کا بحران بڑھ رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کا اتحاد ایک بہت بڑی طاقت ہے، جو ملک کو تمام طوفانوں سے نکالے گا۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک نے ڈیزل اور پیٹرول کی خریداری پر بھی حدیں لگا رکھی ہیں۔ اسی طرح کے خدشات بھارت کے بارے میں بھی ظاہر کیے گئے تھے اور بھارت مخالف قوتیں بھی سرگرم ہو چکی تھیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ آزادی کسی بھی ملک کے لیے ضروری ہے، کیونکہ آزادی حاصل کرنے کے بعد ملک اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرتا ہے۔ تاہم، آزادی کی رہنمائی ایک جمہوریہ کرتی ہے۔ آئین اپنی حدود میں فیصلوں کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اتحاد ملک کو بحیثیت قوم ترقی کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

یوم یکجہتی عوام کی شرکت سے عوامی فخر کا جشن بن گیا
وزیراعظم نے کہا کہ اس سال قومی یکجہتی کا دن صبح کے بجائے شام کو منایا گیا۔ ایکتا نگر نے ہندوستان کے اتحاد کا ایک شاندار مظاہرہ دیکھا۔ انہوں نے نیشنل یونٹی پریڈ کو قابل ذکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بہادری اور حوصلے کے لیے وقف تھی۔ پریڈ اور ٹیبلوکس نے قوم کے ورثے اور امنگوں کی نمائش کی۔ پی ایم مودی نے کہا کہ یوم یکجہتی اب صرف تقریبات تک محدود نہیں ہے، بلکہ عوامی شرکت کے ساتھ عوامی فخر کا جشن بن گیا ہے۔

🛑*سیف نیوز بلاگر *

تقریب اجراء کاروان شعور معروف تعلیمی شخصیت ڈاکٹر اسد اللہ خان کے تعلیمی و فکری مضامین پر مشتمل کتاب کارواں شعور کی تقریب اجراء 7...