Tuesday, 17 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

بھارت کس-کس ملک سے پیٹرولیم کرتا ہے درآمد، کیوں اتنا خاص ہے آبنائے ہرمز؟
نئی دہلی: مشرق وسطی میں جاری شدید کشیدگی کا اثر دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ اگر ان حملوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس کے اثرات عالمی منڈی اور معیشت پر شدید طور پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت اپنی خفیہ سفارتی کوششوں سے توانائی کی سپلائی اور ملکی ضروریات پر اثر کم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے امریکہ کو نیٹو ممالک سے اپیل کرنی پڑ رہی ہے کہ وہ اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے امریکی بحری بیڑے کے ساتھ تعاون کریں۔ اس کے باوجود بھارت نے آبنائے ہرمز سے اپنی شپنگ کی محفوظ واپسی یقینی بنائی ہے۔ بھارت کے دو جہاز آبنائے ہرمز سے نکل کر بھارتی سمندری ساحل پر پہنچ چکے ہیں اور مزید کئی جہاز آنے کی توقع ہے۔

بھارت کی توانائی کی ضروریات
بھارت اپنی ضرورت کے تقریباً 85 سے 89 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ پہلے یہ تقریباً 55 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے آتا تھا، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 70 فیصد ہو گئی ہے۔ بھارت کی توانائی کی سپلائی محفوظ رہی ہے۔ بھارت کی یومیہ خام تیل کی کھپت تقریباً 55 لاکھ بیرل ہے اور یہ تقریباً 40 ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔ بھارت کی مجموعی قدرتی گیس کی کھپت تقریباً 189 ملین کیوبک میٹر یومیہ ہے، جس میں سے 97.5 ملین کیوبک میٹر یومیہ کی پیداوار ملکی سطح پر ہوتی ہے۔ غیر متوقع حالات کی وجہ سے تقریباً 47.4 ملین کیوبک میٹر یومیہ کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ رہائشی گیس یعنی ایل پی جی کے معاملے میں بھارت اپنی کل کھپت کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے اور اس میں سے تقریباً 90 فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے۔ موجودہ حالات کی وجہ سے اس پر اثر پڑا، تاہم حکومتی اقدامات کے بعد گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بھارت کے بڑے تیل اور گیس فراہم کنندگان
خام تیل کے لیے بھارت کے سب سے بڑے فراہم کنندگان میں روس، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ سے خام تیل کی درآمد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خلیج اور مڈل ایسٹ میں کویت، قطر، عمان اور مصر، افریقہ میں نائجیریا، انگولا، لیبیا اور الجیریا، امریکی براعظم میں کینیڈا، میکسیکو اور برازیل اور وسطی ایشیا میں قازقستان اور آذربائیجان سے بھی بھارت تیل درآمد کرتا ہے۔ قطر سے بھارت اپنی ایل این جی کی مجموعی درآمد کا تقریباً 47-50 فیصد حاصل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، عمان، نائجیریا، انگولا، آسٹریلیا اور امریکہ سے بھی ایل این جی درآمد کی جاتی ہے۔ کھانا پکانے والی گیس کے لیے بھارت بنیادی طور پر قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر انحصار کرتا ہے اور اب امریکہ بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اتنی اہمیت کیوں؟
آبنائے ہرمز کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار اس کے راستے سے گزرتی ہے۔ بھارت کی توانائی کی سلامتی کے لیے اس اسٹریٹ کی حفاظت اور متبادل ذرائع سے تیل و گیس کی درآمد کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ بھارت کی سفارتی کوششیں اور ملکی پیداوار میں اضافہ اس بات کی ضمانت ہے کہ عالمی کشیدگی کے باوجود توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔









داغ دہلوی کی 121ویں برسی، ایسا بڑا شاعر جس کے شاگرد تھے علامہ اقبالؒ
حیدرآباد، تلنگانہ: اردو کے معروف شاعر داغ دہلوی جن کا نام نواب مرزا خان اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 17 مارچ 1905 کو یعنی 74 برس کی عمر میں حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ دہلوی دہلی کے محلہ چاندنی چوک میں پیدا ہوئے تھے جب کہ اب اس کا نام کوچہ استاد داغ کے نام سے موسوم ہے۔ داغ دہلوی کا کلام دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہے۔ اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔

داغ کے زمانے میں زبان کی دو سطحیں تھیں ایک علمی اور دوسری عوامی، غالب علمی زبان کے نمائندے تھے اور داغ کی شاعری عوامی تھی، وہ عوام سے گفتگو کرتے تھے۔ داغ فطری شاعر تھے اور ان کے موضوعات میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ داغ کی حیدرآباد میں مقبولیت اور شہرت کا راز ان کی خوش اخلاقی، ملنساری، خودداری اور ہمدردی تھا۔ حیدرآباد آنے سے پہلے لوگ، داغ کو اچھی جانتے تھے۔داغ دہلوی کی 121ویں برسی

داغ کے حیدرآباد آنے سے پہلے ان کا دیوان، گلزار داغ حیدرآباد پہنچ چکا تھا۔ دکن حیدرآباد کے نظام نواب میر محبوب علی خاں بہادر بھی داغ کی شخصیت اور شاعری کے مداح تھے اور ریاست حیدرآباد دکن کے عوام داغ کی شاعری کے شیدائی تھے۔ حیدرآباد آنے کے بعد میر محبوب علی خاں بہادر نے داغ کو چار سو روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی۔ داغ دہلوی کو کئی اعزازات سے نوازا گیا اور 3 سال بعد داغ کی تنخواہ ایک ہزار روپے ماہانہ کردی گئی۔

داغ دہلوی کے انتقال پر حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان

حیدرآباد میں داغ کا مکان افضل گنج میں تھا۔ 74 سال کی عمر میں داغ دہلوی کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کی اطلاع پر بادشاہ وقت میر محبوب علی خاں بہادر نے غم کے اظہار کیا اور حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ داغ کی نماز جنازہ عیدالاضحیٰ کے روز تاریخی مکہ مسجد میں ادا کی گئی۔ ان کے جنازہ میں میر محبوب علی خاں بہادر کے علاوہ ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ داغ کی تدفین نامپلی میں واقع درگاہ حضرت یوسفینؒ کے احاطہ میں عمل میں آئی۔

داغ دہلوی کے شاگردوں کی ہزاروں میں تعداد

داغ دہلوی کے تعلق سے یہ مشہور ہے کہ جس تعداد میں ان کو شاگرد میسر ہوئے۔ اتنے کسی اور شاعر کو نہیں مل سکے، ان کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے جس میں سے علامہ اقبالؒ، جگر مرادآبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی قابل ذکر ہیں۔

اردو کے معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل

ان معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ ان کے یوم وفات پر ای ٹی وی بھارت نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی سے خاص بات چیت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ داغ دہلوی اردو غزل کے پائے کے شاعر تھے، انہوں نے اردو غزل کو ایک نئی سمت بخشی ہے جس طرح سے ادبی اصول و ضوابط کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے عام فہم شاعری کی ہے اس کی مثال اب تک کے شعرا میں نہیں ملتی۔

داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے بھلا دیا

انہوں نے کہا تھا کہ المیہ یہ ہے کہ داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے اپنے حوالہ جات و تحقیقی مضامین میں شامل کرنا کم کردیا ہے، جس کی وجہ سے نسل نو سے نہ صرف ایک بہترین شاعری اوجھل ہوتی جا رہی ہے بلکہ خود داغ دہلوی کی شخصیت بھی دور ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ داغ دہلوی سے علامہ اقبالؒ اپنی اصلاح کرواتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ علامہ اقبالؒ کی ابتدائی شاعری کو پڑھیں گے تو اس میں داغ دہلوی کی شاعری کی جھلک ملے گی۔ انہوں نے داغ دہلوی کے کچھ اشعار کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ صرف یہی اشعار نہیں بلکہ داغ دہلوی کے بیشتر اشعار معنی خیز اور پرمغز ہیں، جو نسل نو کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔










وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا بڑھتا استعمال صحت کے لیے خطرناک؟
انڈیا کے معروف ڈاکٹروں نے ’وزن کم کرنے والے‘ انجیکشنز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور اُن کے ممکنہ خطرناک اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انجیکشنز موٹاپے اور ذیابیطس کا کوئی جادوئی حل نہیں اور ان کا غیرمنظم استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق انڈیا میں ’مونجارو‘، ’ویگووی‘ اور ’اوزمپک‘ جیسے بھوک کم کرنے والے انجیکشنز کی طلب میں رواں برس غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف آٹھ ماہ میں ’مونجارو‘ انڈیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا بن گئی ہے جو اینٹی بائیوٹکس کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
اس کامیابی کے بعد دواساز کمپنی ’ایلی للی‘ نے اسی طرح کی ایک نئی میڈیسن پر تحقیق شروع کر دی ہے جو اگلے سال گولی (ٹیبلٹ) کی صورت میں دستیاب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب دواساز کمپنی ’نوو نورڈسک‘ نے بھی اوزمپک کو متعارف کرایا ہے تاہم ان دواؤں کی قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برس کئی دواؤں کے پیٹنٹ ختم ہو جائیں گے، جس کے بعد مقامی کمپنیاں سستے متبادل متعارف کرائیں گی اور مارکیٹ میں ان ادویات کی بھرمار ہو جائے گی۔
ڈاکٹروں کے مطابق انڈیا میں بعض شہریوں کو موٹاپے اور ذیابیطس کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 20 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ موٹاپے کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔سرجن ڈاکٹر موہت بھنڈاری اور دیگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان انجیکشنز کا بے جا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ادویات پٹھوں کی کمزوری، لبلبے کی سوزش، پتے میں پتھری اور بعض صورتوں میں بینائی کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان دواؤں کی فراہمی اور تجویز کو سخت ضابطوں کے تحت لایا جائے۔
کئی ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ انجیکشنز اب جمز اور بیوٹی کلینکس پر بھی بغیر مکمل طبی جانچ کے فروخت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان خطرناک ہے اور حکومت کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔
ماہرینِ صحت اس بات پر متفق ہیں کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز مددگار ہو سکتے ہیں مگر اصل حل صحت مند غذا، ورزش اور طرزِِ زندگی میں تبدیلی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادویات عارضی سہارا ہو سکتی ہیں لیکن مستقل صحت کے لیے زندگی گزارنے کے طریقے بدلنا ناگزیر ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*




’یو اے ای پر حملوں کی مذمت، آبنائے ہرمز فری ہو...‘، وزیراعظم مودی کی یو اے ای کے صدر سے گفتگو
نئی دہلی : مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے فون پر بات چیت کی ہے۔ دونوں اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان مغربی ایشیا کے موجودہ کشیدہ حالات، یو اے ای پر حالیہ حملوں اور آبنائے ہرمز کی سیکورٹی جیسے کئی سنگین مسائل پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ وزیرِ اعظم مودی نے خود ایکس پر اس کی معلومات شیئر کی ہیں۔

پی ایم مودی نے لکھا کہ یو اے ای کے صدر، میرے بھائی عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان سے بات کی اور انہیں عید کی پیشگی مبارکباد دی۔ ہم نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ یو اے ای پر ہونے والے تمام حملوں کی ہندوستان کی جانب سے سخت مذمت کو دہرایا، جن کے نتیجے میں بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر متفق ہوئے۔ ہم خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔یو اے ای پر حملوں کی مذمت
واضح ہے کہ فون کال کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یو اے ای پر ہونے والے تمام حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی، جن کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کی جانیں گئیں اور وہاں کے سول انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ہندوستان نے عالمی پلیٹ فارمز پر ہمیشہ دہشت گردی اور کسی بھی خودمختار ملک پر ہونے والے بلا جواز حملوں کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنے اسی واضح مؤقف کو دہراتے ہوئے یو اے ای کے صدر کو یقین دلایا کہ علاقائی عدم استحکام اور تشدد کے خلاف لڑائی میں ہندوستان پوری مضبوطی کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے ساتھ کھڑا ہے۔ہرمز پر بات رہی خاص
دونوں رہنماؤں کے درمیان آبنائے ہرمز کی سیکورٹی پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ اعظم مودی اور صدر النہیان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہرمز سے گزرنے والے سمندری راستے میں محفوظ اور آزادانہ نیویگیشن کو یقینی بنانا آج کے وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ آبنائے ہرمز اس وقت سب سے بڑے بحران کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ ہندوستان کے بھی کئی جہاز وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔







’ایران سے کوئی خطرہ نہیں تھا، میں جنگ کے خلاف...‘، ٹرمپ کی ٹیم میں پھوٹ! سینئر افسر کا استعفی
واشنگٹن: ایران-امریکہ جنگ کے درمیان امریکی انتظامیہ کے اندر سے ایک بہت بڑی بغاوت کی خبر سامنے آ رہی ہے۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر (NCTC) کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کینٹ نے یہ قدم ایسے وقت پر اٹھایا ہے جب ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے تحت ایران پر حملے تیز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے استعفیٰ دینے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں ٹرمپ کی خراب پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے اور ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

امریکی عہدیدار نے ضمیر کی آواز پر دیا استعفیٰ
جو کینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنا استعفیٰ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف جا کر اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے براہِ راست الزام لگایا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔ کینٹ کے مطابق، امریکہ نے یہ جنگ صرف اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ میں شروع کی ہے۔اسرائیل پر سنگین الزامات
استعفیٰ میں جو کینٹ نے اس جنگ کو ‘مینوفیکچرڈ’ یعنی زبردستی تیار کیا گیا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے پھیلائی گئی غلط معلومات اور دباؤ نے صدر ٹرمپ کو یہ یقین دلایا کہ ایران پر حملہ کرنا ضروری اور آسان ہے۔ کینٹ خود ایک سابق ‘گرین بیریٹ’ فوجی رہ چکے ہیں اور ان کی اہلیہ شینن کینٹ کی موت بھی جنگ کے دوران ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلی نسل کو ایسے جنگ میں مرنے کے لیے نہیں بھیج سکتے جس سے امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہ ہو۔ٹرمپ کے کیمپ میں مچی ہلچل
جو کینٹ، ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس (DNI) تلسی گبارڈ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ تلسی گبارڈ خود بھی غیر ملکی مداخلت اور جنگوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں، لیکن اس جنگ پر ان کی خاموشی نے بھی کئی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ کینٹ اس انتظامیہ کے اب تک کے سب سے بڑے عہدیدار ہیں جنہوں نے جنگ کے خلاف استعفیٰ دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اپوزیشن کیمپ میں اس کو لے کر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔









مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ: لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کی نظر بندی ختم، مہینوں بعد رہائی کے احکامات جاری
مرکزی حکومت نے ہفتے کے روز ایک اہم پیش رفت میں لداخ کے معروف موسمیاتی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کی ’نیشنل سیکیورٹی ایکٹ‘ (NSA) کے تحت جاری نظر بندی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امن اور مذاکرات کی جانب قدم
وزارت داخلہ کے مطابق، حکومت لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تعمیری اور بامقصد مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔ حکومت نے واضح کیا کہ اسی مقصد کے حصول اور گہرے غور و خوض کے بعد سونم وانگچک کی نظر بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے لداخ کے لیے تمام ضروری حفاظتی اقدامات فراہم کرنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔

ستمبر 2025 کی گرفتاریاں اور الزامات
یاد رہے کہ سونم وانگچک، جو کہ ایک انجینئر اور اصلاح پسند کے طور پر عالمی شناخت رکھتے ہیں، کو لداخ پولیس نے 26 ستمبر 2025 کو حراست میں لیا تھا۔ ان کی گرفتاری لیہہ میں ہونے والے ان پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران عمل میں آئی تھی جن میں لداخ کے لیے الگ ریاست اور آئینی تحفظات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

حکام نے ان پر بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (NSA) نافذ کیا تھا۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ تھا کہ وانگچک اس بے چینی کے ’مرکزی محرک‘ تھے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور تقریباً 90 زخمی ہوئے تھے۔ انہیں ایک پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا تھا۔

عدالتی جنگ اور جودھپور جیل میں نظربند
سونم وانگچک نے اپنی حراست کے 140 سے زائد دن جودھپور جیل میں گزارے۔ ان کی نظر بندی کو ان کی اہلیہ، تسیرنگ آنگمو نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا تھا، اور اب تک کئی بار سماعت ہوچکی ہے۔سونم وانگچک لداخ سے تعلق رکھنے والے ایک نامور انجینئر، ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن ہیں، جو لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور ریاست کے درجے کے مطالبے کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ستمبر 2025 میں لداخ کے دارالحکومت لیہہ میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے، جن میں لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور آئین کے چھٹے شیڈول (Sixth Schedule) کے تحت تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں اور بدامنی کے الزامات کے تحت وانگچک کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی اہلیہ نے بھارتی سپریم کورٹ میں اس نظر بندی کو چیلنج کیا تھا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*



*حضرت کلو شاہ عیدگاہ پر قاضیِ اہلِ سنت مفتی واجد علی یار علوی صاحب کو تاحیات امام بنایا جائے*
موجودہ دور فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے، جہاں اہلِ حق کو بارہا بے بنیاد الزامات اور بہتان تراشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی ایک باوقار، باعلم اور باعمل شخصیت قاضیِ اہلِ سنت *مفتی واجد علی یار علوی صاحب* بھی ان دنوں کچھ مفاد پرست اور سیاسی ذہن رکھنے والے افراد کی جانب سے ناحق تنقید اور بہتان کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔
*حضرت مفتی واجد علی یار علوی صاحب* کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، مسلکِ اہلِ سنت کی پاسداری، اور عوام کی اصلاح و رہنمائی میں گزری ہے۔ آپ کی علمی خدمات، خطابت، تقویٰ اور دیانت داری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ حضرت کلو شاہ عیدگاہ جیسے اہم مقام پر آپ کی امامت نہ صرف ایک اعزاز ہے بلکہ عوام کے لیے ایک مضبوط دینی رہنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔
یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ کچھ سیاسی عناصر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ایک نیک، مخلص اور دین دار بزرگ عالمِ دین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے الزامات نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہیں بلکہ پورے دینی نظام اور اہلِ سنت کے اتحاد کو کمزور کرنے کی سازش بھی ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا ہم *آل انڈیا سنی جمعیت العلماء* سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ حق و انصاف کا ساتھ دیتے ہوئے *مفتی واجد علی یار علوی صاحب* کوحضرت کلو شاہ عیدگاہ کا تاحیات امام مقرر کریں، تاکہ باطل قوتوں کو واضح پیغام ملے کہ اہلِ سنت اپنے علماء کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کی ناحق مہم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
ہم تمام اہلِ ایمان سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ افواہوں سے بچیں، تحقیق کو اپنا شعار بنائیں، اور اپنے علماء کا دفاع کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

*انجمن سرکار مفتئ اعظم*
رضا پورہ مالیگاؤں







*روزنامہ انقلاب کے مقامی نامہ نگار اور صحافی مختار عدیل کے والد محمد ایوب اشرفی اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔*
*مالیگاؤں: یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جاتی ہے کہ اسلامپورہ و مہاڈاپلاٹ ٹیپو سلطان چوک کی مشہور و معروف شخصیت، حاجی فہیم اشرفی ھوٹل والے کے پوتے، حاجی محمد اشرفی کے بھتیجے، عبدالعزیز پتنگ والے کے لڑکے، روزنامہ انقلاب ممبئی کے نامہ نگار مختار عدیل اور محمد یاسین کے والد، *محمد ایوب اشرفی* آج بروز منگل 17/مارچ 2026ء بمطابق 27/رمضان المبارک 1447ھ کو دوپہر 12 بجے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
واضح رہے کہ مرحوم کے صاحبزادے، روزنامہ انقلاب کے مقامی نامہ نگار جناب مختار عدیل ضروری کام کے سلسلے میں اپنے پیر خانہ کچھوچھہ شریف یوپی گئے ہوئے ہیں، والد کے انتقال کی خبر ملتے ہی وہ لکھنئو سے ممبئی کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ امید ہے کہ رات 12/1 بجے تک وہ مالیگاؤں پہنچ جائیں گے اور تبھی ان کے والد گرامی مرحوم محمد ایوب اشرفی کی تدفین عائشہ نگر قبرستان میں عمل میں آئے گی۔*
*رنج و غم کی اس گھڑی میں ہم مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اللہ کریم اپنے حبیب کریم علیہ السلام کے صدقے مرحوم کے سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے، قبر و حشر اور پل صراط کی منزلیں ان کے لیے آسان فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل و اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ آمین*
*شریکانِ غم: مفتی واجد علی یار علوی، مفتی نعیم رضا مصباحی، مفتی مدثر حسین ازہری، مولانا محمود الحسن رضوی، حاجی یوسف الیاس، حاجی ذلفقار سیٹھ جاوید انور، محمد عمران رضوی، صوفی نور العین صابری، رئیس احمد رضوی، اسلم رضوی، رفیق رضوی، صدر و اراکین ال انڈیا سنی جمعیتہ العلماء مالیگاوں*








کمر کو درد سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی؟
جیسے صحت مند غذا صحت مند جسم کے لیے ضروری ہے اسی طرح اچھی اور پُرسکون نیند بھی تندرست اور توانا جسم کے لیے بہت اہم ہے۔ مناسب نیند دماغ کو فعال رکھنے، جذباتی توازن کو برقرار رکھنے اور جسم کو تازہ دم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق مناسب نیند دماغ کی درست کارکردگی، جذباتی توازن اور جسمانی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہارمونز کو متوازن رکھنے، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔لیکن نیند کے دوران کچھ عوامل خلل پیدا کر سکتے ہیں اور مختلف مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان میں ایک عام مسئلہ غلط پوزیشن میں سونا ہے۔
غلط پوزیشن میں سونا نہ صرف نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ کمر میں درد کا بھی سبب بنتا ہے۔ جیسے کہ پیٹ کے بل سونے سے ریڑھ کی ہڈی اور گردن پر دباؤ پڑتا ہے۔
جب سوتے وقت ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا نہ ملے تو پٹھوں میں کھچاؤ اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ اور اس طرح پہلے سے موجود کمر کے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے یا نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی ہے آئیے جانتے ہیں۔
عام طور پر کمر کے بل یا کروٹ لے کر سونا سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔
کمر کے بل سونا
کمر کے بل سونے سے جسم کا وزن برابر تقسیم ہو جاتا ہے اور دباؤ کم پڑتا ہے۔
گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھنے سے ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی خم برقرار رہتا ہے اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔کروٹ لے کر سونا
کروٹ لے کر سونا بھی ریڑھ کی ہڈی کے لیے بہت مفید ہے۔ کروٹ لے کر سونے والوں کو گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھنا چاہیے تاکہ جسم سیدھا رہے اور کولہوں اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو۔
کروٹ لے کر ٹانگوں کو جسم کی طرف موڑ کر سونا۔
یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان جگہ پیدا کرتی ہے جو خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جنہیں ریڑھ کی ہڈی کے مسائل ہوں۔
اگر آپ اس پوزیشن کو زیادہ آرام دہ بنانا چاہتے ہیں تو سکڑ کر لیٹتے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے چند اضافی باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
درست گدّے کا انتخاب
درست گدے کا انتخاب بہت اہم ہے کیونکہ درمیانی سختی والا گدا جسم کو مناسب سہارا دیتا ہے اور آرام بھی فراہم کرتا ہے۔
اگر گدا پرانا ہو چکا ہو اور جسم کو سہارا نہ دیتا ہو تو اسے بدل دینا بہتر ہے۔
تکیے کا انتخاب
تکیے کا انتخاب بھی درست ہونا چاہیے تاکہ گردن سیدھی پوزیشن میں رہے۔
کمر کے بل سونے والوں کے لیے پتلا تکیہ بہتر ہوتا ہے جبکہ کروٹ لے کر سونے والوں کو قدرے موٹا تکیہ زیادہ فائدہ دیتا ہے۔
ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا
نیند کے معمولات کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسم کو بہت حالت میں رکھتا ہے۔
کمرے کا ماحول
سونے کے لیے کمرے کا ماحول آرام دہ ہونا چاہیے۔ کمرہ قدرے ٹھنڈا، تاریک اور پُرسکون ہو تو نیند بہتر آتی ہے۔سکرین کے استعمال سے گریز
سونے سے پہلے سکرین کے استعمال کو کم کرنا بھی مفید ہے۔
سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا دیگر سکرینوں کو دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ان کی روشنی نیند کے قدرتی نظام میں خلل ڈالتی ہے۔
پُرسکون سرگرمیاں
سونے سے پہلے خود کو پُرسکون کرنے والی سرگرمیاں اپنائیں۔
مطالعہ، مراقبہ یا ہلکی پھلکی سٹریچنگ ذہن کو سکون دیتی ہے اور جسم کو نیند کے لیے تیار کرتی ہے۔
دن بھر متحرک رہنا اور رات کو ہلکا کھانا کھانا بھی بہتر نیند میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے اپنی سونے کی پوزیشن پر توجہ دیں اور آرام دہ نیند کے لیے ان عادات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


اسرائیل کے وزیردفاع کا ایران کے سیکورٹی چیف علی لاریجانی کو قتل کرنے کا دعویٰ
تہران: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ فضائی حملوں میں ایران کے سیکورٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنایا گیا اور وہ اس کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کیا گیا جس میں علی لاریجانی کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا۔ تاہم ایران کی جانب سے اب تک اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے بھی اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا ہے، تاہم ان رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ وہ اس حملے میں جاں بحق ہوئے یا صرف زخمی ہوئے۔ اس حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس کے باعث صورتحال ابھی تک غیر واضح ہے۔ادھر اسرائیلی فوج نے ایک اور بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے پاسدارانِ انقلاب کی ذیلی پیراملٹری فورس بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو بھی ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں فضائیہ نے تہران کے مرکزی علاقے کو نشانہ بنایا۔اسرائیلی بیان کے مطابق غلام رضا سلیمانی گزشتہ چھ برس سے بسیج فورس کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور انہیں ایک اہم عسکری شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی بھی تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔









مہاراشٹراسمبلی میں فریڈم آف ریلیجن ایکٹ بل 2026 منظور، خلاف ورزی کرنے پر سخت سزا کی تجویز
مہاراشٹر اسمبلی نے فریڈم آف ریلیجن ایکٹ بل 2026 منظور ہوگیا ہے۔ بیتی شب (پیر،16 مارچ) اسمبلی میں یہ بل منظور ہوا۔ مجوزہ قانون کا مقصد دھوکہ دہی،بہلا پھسلا کر یا زور زبردستی، شادی یا کسی دوسرے فریب سے مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کو روکنا ہے۔

وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسی مخصوص مذہب کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد غیرقانونی تبدیلی مذہب کو روکنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل دستورہند کے آرٹیکل 25 کے تحت کسی شخص کے مذہب پر عمل کرنے کے آئینی حق پر پابندی نہیں لگاتا لیکن اس میں زبردستی یا دھوکے سےدوسروں کو مذہب تبدیل کرنے کا حق شامل نہیں ہے۔حکومت کے مطابق، قانون تمام مذاہب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تبدیلی مذہب کا عمل رضاکارانہ اور شفاف ہو۔ نئے قانون کی رو سےمتاثرہ شخص یا قریبی رشتہ دار شکایت درج کرا سکتے ہیں اور حکام یا پولیس مشتبہ غیر قانونی تبدیلیوں پر کارروائی کر سکتی ہے۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے پرسخت سزا کی تجویز

قانون کی خلاف ورزی کرنے پر تین سے پانچ سال کی قید اور50 ہزار سے1 لاکھ روپئے کے جرمانے کی تجویز ہے۔ اگر مذہب تبدیلی کا معاملہ کسی نابالغ، خاتون، ذہنی طور پر معذور شخص یا درج فہرست ذات/قبائل کے فرد سے متعلق ہو تو زیادہ سے زیادہ 7 سال قید اور2 لاکھ روپئے تک جُرمانے کی تجویز ہے۔

اگر معاملہ اجتماعی مذہب تبدیلی کا معاملہ ہو، تو اس کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت سزا کی تجویز ہے۔ اجتماعی مذہب تبدیلی کے کیس میں 10 سال قید اور5 لاکھ روپئے تک جُرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔ مجوزہ قانون کی رو سے ملزم کو ہی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے تبدیلی مذہب کے لیے دھوکہ دہی نہیں کی ہے۔مجوزہ قانون میں رضاکارانہ طور پر مذہب تبدیل کرنے کے عمل کے لیے بھی ایک طریقہ کار طے کیا گیا ہے ۔ اس کے تحت مذہب تبدیل کرنے سے قبل متعلقہ شخص کو مجاز اتھارٹی کوپیشگی اطلاع دینی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنما یا متعلقہ تنظیم کو بھی30 کا نوٹس دینا ہوگا اس کے علاوہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد متعلقہ شخص اور اس کا اہتمام کرنے والی تنظیم کو حلف نامہ بھی داخل کرنا ہوگا۔ بل کو اب منظوری کے کیے لیجسلیٹو اسمبلی میں پیش کیا گیا جائے گا۔








ایل پی جی لے کر گجرات کے واڈینار بندرگاہ پہنچا بھارتی جہاز ’نندا دیوی‘
بھج: بھارتی جہاز نندا دیوی منگل کے روز ایل پی جی لے کر گجرات کے واڈینار بندرگاہ پہنچ گیا۔ حکام کے مطابق یہ جہاز صبح تقریباً 11:25 بجے بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ اس ہفتے مغربی ساحل پر ایل پی جی لے کر پہنچنے والا یہ دوسرا جہاز ہے، اس سے قبل شوالک ایک دن پہلے مندرہ بندرگاہ پہنچا تھا۔آبنائے ہرمز کے راستے سفر

دونوں جہاز آبنائے ہرمز سے ہو کر بھارت پہنچے ہیں، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سمندری راستہ متاثر ہے۔ ایران کی اجازت کے بعد ہی ان جہازوں کو گزرنے دیا گیا۔ بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور انتباہات کے سبب فروری کے آخر سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

بندرگاہوں کو ہدایات جاری

پیر کے روز کانڈلا بندرگاہ کے حکام نے ہدایت جاری کی تھی کہ ایل پی جی لے جانے والے تمام جہازوں کو ترجیحی بنیاد پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی جائے، تاکہ مال اتارنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور تاخیر کم ہو۔

فراہمی یقینی بنانے کی کوشش

دین دیال پورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری سرکلر میں بتایا گیا کہ وزارتِ بندرگاہ، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں نے تمام بندرگاہوں کو ایل پی جی سے بھرے جہازوں کو ترجیح دینے کی ہدایت دی ہے، تاکہ ملک بھر میں گھریلو گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

شوالک کی آمد اور تیاری

قطر سے تقریباً 46 ہزار ٹن ایل پی جی لے کر آنے والا شوالک اپنی نو روزہ سفر مکمل کرنے کے بعد پیر کی شام مندرہ بندرگاہ پہنچا۔ بندرگاہ حکام نے پہلے ہی تمام دستاویزی اور ڈوکنگ انتظامات مکمل کر لیے تھے تاکہ بغیر کسی تاخیر کے مال اتارنے کا عمل شروع کیا جا سکے۔

توانائی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش

حکام کے مطابق یہ دونوں جہاز گھریلو اور صنعتی استعمال کے لیے ایل پی جی کی سپلائی بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، کیونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

راستے میں ہیں کئی جہاز

نندا دیوی کی آمد کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات سے تقریباً 81 ہزار ٹن خام تیل لے کر آنے والا ایک اور جہاز جگ لاڈکی بھی راستے میں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے مغرب میں 22 بھارتی پرچم والے جہاز موجود ہیں، جن میں مجموعی طور پر 611 ملاح سوار ہیں۔

Monday, 16 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


این ڈی اے نے بہار کے راجیہ سبھا انتخابات میں کلین سویپ کیا، تمام پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی
پٹنہ: بہار میں پانچ سیٹوں کے لیے ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں این ڈی اے نے تمام پانچ سیٹوں پر گرینڈ الائنس کو کلین سویپ کیا۔ گرینڈ الائنس کو اس وقت دھچکا لگا جب کانگریس اور آر جے ڈی کے کل چار ایم ایل ایز نے ووٹ نہیں دیا، جس سے اتحاد کے مجموعی حسابات میں خلل پڑا۔ بہار میں اس جیت نے بنگال کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کو ایک طاقتور پیغام دیا ہے۔

این ڈی اے کا کلین سویپ: بہار میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر ایک دن کی سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد، آخر کار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے تمام پانچ سیٹوں پر قبضہ کر لیا۔ ایک سنسنی خیز اور قریبی مقابلے میں گرینڈ الائنس کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ووٹنگ سے لے کر گنتی تک، دونوں کیمپوں نے مضبوط حکمت عملی اپنائی، لیکن آخر کار، این ڈی اے ہی غالب رہا۔

گرینڈ الائنس کے چار ایم ایل ایز نے ووٹنگ سے پرہیز کیا: دن کی سب سے بڑی بحث کچھ گرینڈ الائنس ایم ایل ایز کی غیر موجودگی پر مرکوز تھی۔ ذرائع کے مطابق گرینڈ الائنس کے تین کانگریس ایم ایل اے اور آر جے ڈی کے ایک ایم ایل اے نے ووٹ نہیں دیا۔ اس سے گرینڈ الائنس کے مجموعی حسابات میں خلل پڑ گیا۔ اپوزیشن کا ابتدائی متوقع ٹرن آؤٹ ووٹنگ کے وقت تک حاصل نہیں ہو سکا۔

تین قومی صدر میدان میں: این ڈی اے کے پانچ امیدواروں میں، بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین، جے ڈی یو کے قومی صدر اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار، راشٹریہ لوک مورچہ کے قومی صدر اوپیندر کشواہا، مرکزی وزیر رام ناتھ ٹھاکر، اور بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری شیویش رام میدان میں تھے۔ این ڈی اے کے تمام امیدوار جیت گئے ہیں، جب کہ آر جے ڈی کے اے ڈی سنگھ کو اپنے ہی لوگوں نے دھوکہ دیا اور الیکشن ہار گئے۔

راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر اسمبلی احاطے میں صبح سے ہی سرگرمیاں جاری تھیں۔ این ڈی اے اور گرینڈ الائنس دونوں نے اپنے ایم ایل ایز کو متحد رکھنے کے لیے وہپ جاری کیے تھے۔ اس کے باوجود سیاسی حلقے یہ قیاس آرائیاں کرتے رہے کہ شاید کچھ ایم ایل اے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے یا کراس ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ دونوں کیمپوں کے لیڈروں نے ووٹنگ کے دوران ہر ایم ایل اے کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی۔

این ڈی اے کی حکمت عملی: این ڈی اے نے اس الیکشن کے لیے پہلے سے ہی مکمل حکمت عملی تیار کر لی تھی۔ این ڈی اے قائدین نے اپنے ایم ایل ایز کو متحد رکھنے کے لئے متواتر میٹنگیں کیں۔ ذرائع کے مطابق ووٹنگ سے پہلے کئی دور کی بات چیت ہوئی اور ووٹنگ کے بارے میں ٹریننگ کے بعد ایم ایل اے کو واضح ہدایات دی گئیں۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں این ڈی اے نے تمام پانچ سیٹیں جیت لیں۔

گرینڈ الائنس کو بڑا جھٹکا: راجیہ سبھا انتخابی نتائج کو گرینڈ الائنس کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ امریندر دھاری سنگھ آر جے ڈی کے موجودہ راجیہ سبھا ممبر تھے، لیکن ان کی شکست نے انہیں ایوان میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ان کی چھ سالہ مدت کا آغاز 10 اپریل 2020 کو ہوا۔ اپوزیشن کو اس الیکشن میں کم از کم ایک سیٹ جیتنے کی امید تھی لیکن نتائج اس کے برعکس تھے۔ گرینڈ الائنس کے اندر اب ان کے غلط حساب کتاب کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے بات چیت شروع ہو گئی ہے۔

نتائج کے بعد این ڈی اے کیمپ میں جشن: نتائج کا اعلان ہوتے ہی این ڈی اے کیمپ کے اندر جشن کی لہر دوڑ گئی۔ رہنماؤں اور حامیوں نے مٹھائیاں بانٹ کر جیت کا جشن منایا۔ این ڈی اے لیڈروں نے اسے وزیر اعظم کی قیادت اور اتحاد کے اتحاد کی جیت قرار دیا۔

مستقبل کی سیاست پر اثر: راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج بہار کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملیوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ جب کہ این ڈی اے اس جیت کو اپنی مضبوط تنظیم اور اپنے اتحاد کی طاقت کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، عظیم اتحاد کے لیے یہ نتیجہ خود پر غور کرنے کا معاملہ بن گیا ہے۔






شوہر سے ناراض گھر بیٹھی بہن بیٹی یا مطلقہ اور یتیم بھتیجے بھتیجیاں
آپ کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں.
         عمران جمیل 
16/03/2026 
_________________________________________
اَب شائد دو چار روزے اور باقی ہیں.. ہم سبھی کی عید کی شاپنگ ہوچکی ہے الحمدللہ ...شاپنگ کے لئے ہم کئی شورومس اور دکانوں کو کھنگالے ہونگے....!
 شائد حج و عمرے کے کسی راونڈ میں خریدے گئے بہترین کپڑے بھی ہمارے پاس " سلّک" پڑے ہونگے...!
       اپنی نمازوں میں، تلاوت میں، تراویح اور دعاوں میں ہم سبھی نے اپنی توفیق کے مطابق اللہ سے خوب مانگا ہوگا.....
دنیا و آخرت کی بھلائی ہم نے مانگی ہوگی.....
 کاروبار میں اور رزق میں برکت کی دعائیں مانگی ہوگی...
بیماریوں اور آزمائشوں سے حفاظت مانگی ہوگی....
  بہ حیثیت مومن آخر ہم سبھی یہ ساری دعائیں کیوں نہ مانگیں ..!!
 اس مبارک مہینے میں اللہ کے بڑے بڑے وعدے ہیں....
  لیکن کیا ہم نے اپنی نمازوں اور دعاوں کے ساتھ ساتھ نظر گھما کر اپنے ہی گھر میں موجود یتیم بچوں کی طرف، غریب بھائی کی طرف،اور بالخصوص سسرال و شوہر سے ناراض گھر میں بیٹھی ہماری بہن بیٹی کی طرف بھی دھیان سے دیکھا ہے..؟ 
  اپنی مطلقہ بہن بیٹی کی ضرورتوں کی طرف ہمارا خیال بھی گیا ہے...؟ 
ان سب کی رمضان کی ضرورتیں اور عید کی خوشیوں کا کیا بنے گا...؟ 

      ہماری دعائیں تو جاری رہیں لیکن کیا ہم نے اپنی اُس ناراض بہن بیٹی کی بنیادی ضرورتوں کا خیال بھی کیا...؟؟ 

    اُنہیں ہر ہفتہ پاکٹ منی دیا بھی ہے کہ جس سے وہ بھی ہمارے بیوی بچوں کی طرح اس مہینے میں عبادتوں کے ساتھ کچھ اپنی ذات پر اور اپنے بچوں پر خرچ کرسکے...؟؟
کیا کوئی ایسی دکھیاری بہن، کوئی یتیم کی ماں جب تک ہمارے سامنے ہاتھ نہ پھیلاے تب ہی ہم "کچھ" کریں گے.....؟
کیا ہمیں اُنکی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھنا چاہیئے......؟ 
آخر ہم ہمارے ایسے متعلقین کی ضرورتیں اُن کے کہنے سے پہلے ہی کیوں نہیں پوری کردیتے....؟ 
 
    ہمیں اپنی اُس بہن کے چہرے کی طرف دیکھنا چاہیئے جہاں آج بے بسی ہے.. بیچارگی ہے.. ایک اَن دیکھا خوف ہے.... یہ وہی بہن ہے نا جو کبھی سب کی لاڈلی تھی.... جو کل بھی خوددار تھی اور آج بھی خوددار ہے.....

     چلئے اُٹھیں..!!! اور گھر بیٹھی بہن سے یا طلاق یافتہ بہن سے، اُسکے بچوں سے اور یتیم بھتیجے بھتیجیوں سے نہ صرف رمضان میں بلکہ پورا سال ایسا احسن سلوک کریں کہ اپنی دنیا اور آخرت کی کامیابی کی اللہ سے ضمانت لے لیں..... 
    دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کرتے ہوئے انکے لئے مارکیٹ سے وہی پسند کریں جو ہم نے اپنی بیوی اور بچوں کے لئے پسند کیا ہے....
  یقیناً بہت سے گھرانوں نے ان باتوں کی تکمیل اچھے ڈھنگ سے کی بھی ہوگی... اس سے مجھے انکار نہیں.. میرے مخاطب کس زمرے کے لوگ ہیں.. یہ ہم اور آپ جانتے ہی ہیں.. 

        بہرحال.. دوسروں کے رمضان وعید تو اچھے گذرتے ہی ہونگے.... لیکن اپنی دکھیاری بہن اور مرحوم بھائی کے بیوی بچوں کی خودداری کا خیال رکھتے ہوئے انکی بہترین کفالت کرنے پر عید کی سچی اور دلوں میں سکون بھر دینے والی خوشیوں کے اصل حقدار تو ہم ہونگے.. ان شاءاللہ....









’ہر سال 70 لاکھ اموات‘، فضائی آلودگی انسان کو کن مہلک بیماریوں کا شکار کر رہی ہے؟
شہروں پر چھائی ہوئی سموگ سے گھروں کے اندر موجود دھوئیں تک، فضائی آلودگی پوری دنیا میں انسان کی صحت اور ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق آلودہ ہوا میں موجود باریک ذرات کے باعث ہر سال قریباً 70 لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 
یہ آلودگی فالج، دل کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے کینسر، سانس کے انفیکشن اور دمے ایسی مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔یہ نزلہ، زکام، کھانسی، اور سانس کی نالیوں میں جلن بھی پیدا کرتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے۔ تیل، کوئلہ اور گیس ایسے فاسل فیولز کا جلنا، صنعتی اخراج اور گاڑیوں کا دھواں اس آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں۔ 
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر اور گھروں میں ٹھوس ایندھن کا استعمال بھی فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع ہیں۔
گھروں کے اندر فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع میں تمباکو کا دھواں اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے غیر مؤثر اور رسنے والے چولہوں کا دُھواں شامل ہے۔
فضائی آلودگی کے اہم اجزاء میں کاربن مونوآکسائیڈ، اوزون، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔ باہر کی ہوا کی آلودگی اور گھروں کے اندر کی آلودگی دونوں ہی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے، جن میں پالیسی سازوں اور عوام کو آلودگی کے قابلِ قبول معیار اور اس کے صحت پر اثرات سے آگاہ کرنا اور فضائی معیار کی نگرانی کرنا شامل ہیں۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی معیشت اور انسانوں کے معیارِ زندگی پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
کم عمر بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ افراد فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ فضائی آلودگی بچوں اور بڑوں میں صحت کے قلیل المدت اور طویل المدت دونوں طرح کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ جینیاتی عوامل، دیگر بیماریوں کی موجودگی، غذائیت اور سماجی و معاشی حالات بھی اس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ کوئی شخص فضائی آلودگی سے کتنا متاثر ہوگا۔فضائی آلودگی سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
فضائی آلودگی سے بچنے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ 
صاف سُتھری ٹرانسپورٹ، توانائی کی بچت والے مکانات، صنعتوں اور بجلی گھروں میں بہتر ایندھن کا استعمال اور کچرے کو بہتر انداز سے ٹھکانے لگا کر فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
جب آلودگی زیادہ ہو تو گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیں، ایئر پیوریفائر استعمال کریں اور زیادہ ٹریفک والے علاقوں سے دُور رہنے کی کوشش کریں۔
مصروف سڑکوں یا صنعتی علاقوں کے قریب چلنے پھرنے یا ورزش کرنے سے گریز کریں تاکہ گاڑیوں کے دُھوئیں سے براہِ راست متاثر نہ ہوں۔
گھروں کے اندر آلودگی کو کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی سے پرہیز کریں، کیمیائی صفائی کرنے والی اشیاء کا استعمال کم کریں اور کھانا پکاتے وقت مناسب وینٹیلیشن کو یقینی بنائیں۔
آپ پیدل چل کر یا سائیکل استعمال کر کے اور ذاتی گاڑی کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کر کے فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
گھروں کے اندر موم بتیاں، اگربتی اور ایروسول سپرے کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ یہ اشیا ہوا کو آلودہ کرتی ہیں۔
پتے، لکڑی یا کچرا جلانے سے گریز کریں کیونکہ ان اشیا کے جلنے سے فضا میں باریک ذرات کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


مسلم ممالک کے رویہ سے خفا ایران، علی لاریجانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام لکھا خط، یہاں پڑھئے
Iran - America War : امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران مسلم ممالک سے جس طرح کے تعاون کی امید کر رہا تھا، شاید اسے وہ نہیں مل رہا ہے۔ نہ تو کوئی ملک کھل کر اس کی حمایت میں بول رہا ہے اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کی کھل کر تنقید کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ کئی ممالک اس کے خلاف بھی ہو گئے ہیں۔ ان سب کے درمیان ایران کی سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اب پوری دنیا کے مسلمانوں کو براہِ راست ایک خط لکھا ہے۔خط کا متن
اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلامی ممالک کی حکومتوں کے نام۔

ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کا سامنا کرنا پڑا، جو مذاکرات کے دوران ایک دھوکے کے طور پر ہوا اور جس کا مقصد ایران کو کمزور کرنا تھا۔ اس حملے میں اسلامی انقلاب کے ایک بڑے رہنما اور کئی شہریوں اور فوجی کمانڈروں کی شہادت ہوئی۔ لیکن حملہ آوروں کو ایرانی عوام کی مضبوط ثابت قومی اور اسلامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ جانتے ہیں کہ چند استثناؤں کو چھوڑ کر زیادہ تر اسلامی ممالک نے صرف سیاسی بیانات دیے اور ایرانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود ایرانی عوام نے اپنی مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ حملہ آور دشمن کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ آج وہ اس اسٹریٹجک بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

ایران “بڑے شیطان” اور “چھوٹے شیطان” کے خلاف مزاحمت کے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے، یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف۔ لیکن کچھ اسلامی حکومتوں کا رویہ پیغمبر اسلام کی اس تعلیم کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے:

“جو شخص کسی کو پکارتے سنے کہ ‘اے مسلمانوں!’ اور اس کی مدد نہ کرے، وہ مسلمان نہیں ہے۔”

تو یہ کیسا اسلام ہے؟
کچھ ممالک اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ ایران ان کا دشمن بن گیا ہے، کیونکہ اس نے ان کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور امریکی-اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا۔ کیا ایران سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہے، جبکہ آپ کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو اس پر حملے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ یہ محض ایک ظاہری بہانہ ہے۔ آج مقابلہ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کا ہے اور دوسری طرف ایران اور مزاحمتی قوتوں کا۔ آپ کس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟

اسلامی دنیا کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ آپ جانتے ہیں کہ امریکہ آپ کا وفادار نہیں ہے اور اسرائیل آپ کا دشمن ہے۔ ایک لمحہ رک کر سوچیں اور اپنے اور اپنے خطے کے مستقبل پر غور کریں۔ ایران آپ کا خیرخواہ ہے اور وہ آپ پر غلبہ قائم کرنا نہیں چاہتا۔

اگر اسلامی امت کی وحدت پوری طاقت کے ساتھ قائم ہو جائے تو وہ تمام ممالک کے لیے سلامتی، ترقی اور آزادی کو یقینی بنا سکتی ہے۔آپ سب پر سلامتی ہو۔

اللہ کے بندوں میں سے ایک

علی لاریجانی










’یہ تو پرانے پٹاخے ہیں، نئے جھیل نہیں پاؤگے تم‘، 4 تھاڈ سسٹم اڑانے کے بعد ایران کا بڑا بیان، ابھی بھرا ہے ہمارا ذخیرہ
: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگ کے درمیان ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ابھی تک اپنے سب سے جدید ہتھیار استعمال نہیں کیے ہیں۔ یہ بات ایران اس وقت کہہ رہا ہے جب آپریشن ٹرو پرومس-4 کی ہر لہر میں وہ ایسی میزائلیں داغ رہا ہے جو اسرائیل اور امریکہ کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو تھکا رہی ہیں۔ ایران کے ریولوشنری گارڈز کے کمانڈر اِن چیف کے مشیر ابراہیم جباری کے مطابق تہران کے پاس میزائلوں کی نئی اور زیادہ جدید نسل موجود ہے جنہیں ابھی تک جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جن میزائلوں سے تہران تباہی مچا چکا ہے وہ نسبتاً پرانی ٹیکنالوجی کے ہیں۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز تک سنسنی پھیلانے کے بعد ایران کا کہنا ہے کہ یہ تو صرف پرانے ہتھیار تھے، تو پھر نئے کتنے خطرناک ہوں گے؟ جباری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران طویل عرصے تک جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی ڈھانچوں پر حملوں میں تقریباً 70 فیصد امریکی اڈوں اور ہیڈکوارٹرز کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔اب تک جنگ میں استعمال ہونے والی میزائلیں
سیجل - 2 میزائل: تقریباً 2000 کلومیٹر رینج، دو مرحلوں والی ٹھوس ایندھن کی بیلسٹک میزائل۔

فتاح - 1 میزائل: ایران کی ہائپر سونک بیلسٹک میزائل، تقریباً 1400 کلومیٹر رینج اور ایئر ڈیفنس سے بچنے کی صلاحیت۔

خیبر شکن میزائل : تقریباً 1450 کلومیٹر رینج، ٹھوس ایندھن والی درمیانی فاصلے کی بیلسٹک میزائل جو آخری مرحلے میں دفاعی نظام سے بچنے کے لیے راستہ بدل سکتی ہے۔

حاج قاسم: تقریباً 1400 کلومیٹر رینج، زیادہ درستگی کے لیے تیار کی گئی نئی نسل کی میزائل۔

Dezful: تقریباً 1000 کلومیٹر رینج، فتح خاندان کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل۔

Zolfaghar: تقریباً 700 کلومیٹر رینج، تیز ردِعمل اور کم وارننگ ٹائم والی میزائل۔

Qiam-1: تقریباً 800 کلومیٹر رینج، مائع ایندھن والی قلیل فاصلے کی بیلسٹک میزائل۔

شہاب میزائل: پرانے مگر اب بھی استعمال ہونے والے بیلسٹک نظام۔

عماد / غدر میزائل: درمیانی فاصلے کی طویل رینج بیلسٹک میزائلیں۔

پرویہ کروز میزائل: زمین سے داغی جانے والی کروز میزائلیں۔

ایران اب کن ہتھیاروں کی بات کر رہا ہے؟
ایران تکنیکی میدان میں کتنا آگے بڑھ چکا ہے، یہ دنیا دیکھ چکی ہے اور وہ اپنی صلاحیت کو مسلسل بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی اہم فوجی فورس آئی آر جی سی کے مطابق انہوں نے اپنی میزائل حملوں کی اسی لہر سے امریکہ کے طاقتور تھاڈ ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

سال 2025 میں ہونے والی بارہ دن کی لڑائی اور اس کے بعد 2026 کے تنازع کے دوران کئی امریکی اور مغربی ہتھیاروں کے ملبے ایران کے ہاتھ لگے۔ اب ایران ان ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ کر رہا ہے، یعنی ان کی ٹیکنالوجی کو سمجھ کر اسی جیسی یا اس سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ کے طاقتور بنکر بسٹر بموں میں سے ایک GBU-57 Massive Ordnance Penetrator کے کچھ حصے ایران کے جوہری مقامات پر بغیر پھٹے ملے۔ ایرانی ماہرین ان بموں کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ اگلی نسل کے وارہیڈ کی ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں اور مستقبل میں ایسے حملوں سے بچاؤ کی حکمت عملی بنا سکیں۔

اس کے علاوہ GBU-39B Small Diameter Bomb کے کچھ حصے بھی ایران تک پہنچے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دسمبر 2025 میں لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے گرائے گئے اس بم کے حصوں اور تصاویر کو ایران تک پہنچایا۔ اس سے ایرانی سائنس دانوں کو اس جدید ہتھیار کی ٹیکنالوجی سمجھنے کا موقع ملا۔ایران کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسے امریکہ کے جدید ریڈار سسٹم سے جڑے کچھ حصے بھی ملے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان میں THAAD میزائل ڈیفنس سسٹم سے متعلق آلات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان نظاموں کا مطالعہ کر کے ایران اپنے میزائل اور ریڈار سسٹم کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔








دبئی ایئرپورٹ کے قریب تیل ٹینکر پر ڈرون حملہ، فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل، سیکیورٹی اقدامات سخت
دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون کے ایک تیل ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد پیش آنے والے واقعے کے باعث تمام پروازوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر لیا گیا۔ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ دبئی ایئرپورٹ انتظامیہ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ڈی ایکس بی) پر تمام پروازوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ ترین معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے براہ راست رابطہ کریں۔دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی مسافروں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مسافر اپنی پروازوں کے شیڈول کے بارے میں تازہ اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے اپنی ایئرلائن سے رابطے میں رہیں۔ حکام کے مطابق صورتحال معمول پر آنے تک حفاظتی اقدامات برقرار رکھے جائیں گے۔ دبئی میڈیا آفس نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی، انہیں سرکاری ذرائع کے ذریعے عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر اعتماد کریں۔

اطلاعات کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک ڈرون ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرا گیا تھا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔ فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مختصر وقت میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ دبئی سول ڈیفنس کی ٹیموں کو فوری طور پر تعینات کیا گیا تھا تاکہ آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ حفاظتی اقدامات کے باعث قریبی علاقوں میں سیکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ادھر اس واقعے کے اثرات بین الاقوامی پروازوں پر بھی دیکھنے کو ملے۔ بھارت کے شہر کوچی سے دبئی جانے والی امارات ایئرلائن کی ایک پرواز کو راستے ہی سے واپس لوٹنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق پرواز کو دبئی ایئرپورٹ کی اچانک بندش کی اطلاع ملنے کے بعد واپس آنے کی ہدایت دی گئی۔ کوچین انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ کے ترجمان نے بتایا کہ امارات کی پرواز ای کے 533 صبح تقریباً ساڑھے چار بجے 325 مسافروں کو لے کر کوچی سے روانہ ہوئی تھی۔ تاہم راستے میں ہی اسے واپس لوٹنے کی ہدایت دی گئی جس کے بعد طیارہ بحفاظت کوچی واپس آ گیا۔ دریں اثنا متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں چار عام شہری اور دو فوجی اہلکار شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق دو فوجیوں کی موت ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہوئی جو تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا تھا۔ حکام نے صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

Saturday, 14 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


۔مومن بنکر فرنٹ نےاعجاز بیگ صاحب کو مبارکباد دی 

بروز جمعرات بعد نماز تراویح مومن بنکر فرنٹ کا ایک وفد اسٹینڈنگ کمیٹی کے نو منتخب چئیرمنمحترم اعجاز بیگ صاحب کی آفس پہنچ کر ان کو مبارکباد دی 
ساتھ ہی ساتھ شہری مسائل پر فرنٹ نے سیر حاصل گفتگو کی ۔
انتہائی خوشگوار اور مدلل گفتگو کے. بعد اعجاز بیگ صاحب نے کہا ۔ کہ موجودہ باڈی کام کاج کیلئے انتہائی سنجیدہ اور پرجوش ہے ۔
ان شاء اللہ عیدالفطر کے بعد موجودہ باڈی اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمن ہونے کی حیثیت سے ہم لوگ شہر کے مفاد میں بہترین کام کرینگیں 
آپ لوگ اور شہریان ہمارے اچھے کاموں کی نا صرف سراہنا کریں ۔بلکہ کہیں ضرورت پڑنے پر ہمارے شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں ۔
اس موقر وفد میں محترم جمیل کرانتی صدر مومن بنکر فرنٹ کے ساتھ پروفیسر عبدالمجید صدیقی سر۔ایڈوکیٹ عتیق الزماں زبیری ۔ اخلاق بالے مقادم ۔امتیاز قیصر ماسٹر ۔سہیل عبدالکریم ۔خورشید سیٹھ چمڑے والے ۔لقمان انصاری جنتابینک چئیرمن ۔امتیاز اجینئر ۔عمران انجینئر ۔انجم انجینئر وغیرہ حاضر تھے ۔







. *𖣔 اِنتقال پُر مَلال 𖣔*

*بَروز جمعرات، مورخہ 12 مارچ، ســ2026ـنہء*
*بمطابق 22 رمضانُ المبارک ســ1447ـنہ ھ*
یہ خبر انتہائى رنج و غم کے ساتھ دی جا رہی ہے کہ *عائشہ نگر* کی مشہور و معروف سیاسی، سماجی و طبی شخصیت، *مرحوم سلیم ساحل* کے لڑکے، *محمد شاداب* کے بھائی، *پارٹی اسلام سوشل میڈیا سیل* کے فعال رُکن *محمد شعیب* اس دارِ فانی سے دارِ بقاء و قرار کیجانب کوچ کرگئے....!
*( اِنّا ِللہِ وَاِنّا اِلَیهِ رَاجِعُون.....)*

اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائیں، اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطاء فرمائیں، قبر کے سوال و جواب کو آسان فرمائیں، سَیّات کو حَسنات سے مُبَدّل فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطاء فرمائیں ....!
*آمین ثُم آمین یا ربُّ العالمین….!*

*جنازہ :- دوپہر 3 بجے، عائشہ نگر نوری ھال کے بازو والی گلی سے عائشہ نگر قبرستان لے جایا جائے گا....!* 
*اِن شاء اللہ تعالیٰ*

*شریکانِ غم و دعاگو :-* 
*آصف شیخ رشید ( سابق رُکنِ اسمبلی، مالیگاؤں )* 
*کارپوریٹر انصاری محمد آمین محمد فاروق*
*کارپوریٹر شیخ جاوید شیخ انیس انجینئر*
*صدر و اراکین پارٹی اسلام سوشل میڈیا سیل*
*صدر و اراکین مہک فاؤنڈیشن، جعفرنگر*










*عید سے قبل صفائی کا خاص خیال رکھیں- کانگریس صدر اعجاز بیگ صاحب کی عوام سے اپیل*
*پاکیزگی ہے اسلام کی بنیاد، یہی پیغام ہے*
*صفائی اپناؤ، یہی تو جینے کا مقام ہے*

   *رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے 25ویں روزے کے موقع پر کانگریس پارٹی کے صدر اعجاز بیگ صاحب نے مالیگاؤں کی عوام سے خصوصی اپیل کی ہے کہ شہر کی صفائی اور خوبصورتی کا خاص خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالفطر کی آمد میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، ایسے میں ہر شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھے۔*
   *اعجاز بیگ صاحب نے عوام سے درخواست کی کہ کچرا، گندگی اور دیگر فضلہ ایسی جگہوں پر نہ پھینکا جائے جہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو تکلیف یا پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ کچرے کو صرف مقررہ جگہوں پر ڈالیں تاکہ شہر میں صفائی برقرار رہے اور بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہو۔*
   *انہوں نے مزید کہا کہ عید خوشیوں اور صفائی کا تہوار ہے، اس لیے ہم سب کو مل کر اپنے شہر کو صاف، خوبصورت اور مثالی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہر شہری اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور صفائی کا خیال رکھے تو مالیگاؤں ایک بہتر اور صحت مند شہر بن سکتا ہے۔*
   *آخر میں اعجاز بیگ صاحب نے مالیگاؤں کی تمام عوام سے اپیل کی کہ وہ عید کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی کو بھی اپنی ترجیح بنائیں تاکہ عید کی خوشیاں ایک صاف اور خوشگوار ماحول میں منائی جا سکیں۔*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

*🛑سیف نیوز اُردو*

بھارت کس-کس ملک سے پیٹرولیم کرتا ہے درآمد، کیوں اتنا خاص ہے آبنائے ہرمز؟ نئی دہلی: مشرق وسطی میں جاری شدید کشیدگی کا...