Thursday, 24 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’بھاگ سکتے ہو، بچ نہیں سکتے...‘ کشمیر میں لشکر طیبہ کو بڑا جھٹکا، آپریشن اشدر میں پاکستانی کمانڈر یاسر ڈھیر*
جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع بڈگام کے یوسمرگ علاقے میں ہفتے کے روز سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہوئی جھڑپ میں ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ کا ایک پاکستانی کمانڈر ہلاک ہوگیا۔ ہلاک ہوئے دہشت گرد کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کے مطابق یاسر پاکستان کا شہری تھا اور لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے یوسمرگ کے علاقے میں سرگرم تھا اور سیکورٹی ایجنسیوں کے نشانے پر تھا۔ پولیس نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری ’آپریشن اشدر‘ کے دوران یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ جموں و کشمیر پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ آپریشن کے دوران مارے گئے دہشت گرد کی شناخت پاکستان کے شہری اور لشکرِ طیبہ کے رکن یاسر کے طور پر ہوئی ہے۔پہلے سلیمان موسیٰ گروپ کا حصہ تھا یاسر
موصولہ اطلاعات کے مطابق یاسر اس سے قبل لشکرِ طیبہ کے بڑے سلیمان موسیٰ گروپ کا حصہ تھا۔ تقریباً ایک سال قبل وہ اس گروپ سے الگ ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ ایک الگ نیٹ ورک کے ساتھ سرگرم ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نے یوسمرگ کے علاقے میں لشکرِ طیبہ کے ایک اہم کمانڈر کے طور پر اپنی شناخت بنا لی تھی۔ سیکورٹی ایجنسیاں کافی عرصے سے اس کی نقل و حرکت اور اس کے نیٹ ورک پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔

طویل عرصے سے جاری تھی یاسر کی تلاش
رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کو یاسر کی سرگرمیوں کے بارے میں مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی تھیں، جبکہ اس کے ٹھکانوں اور رابطوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔ ہفتے کے روز جاری آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کا یاسر سے سامنا ہوگیا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں سیکورٹی فورسز نے پاکستانی دہشت گرد یاسر کو مار گرایا ۔ آپریشن کی کامیابی کے بعد پولیس نے واضح پیغام دیا کہ دہشت گردوں کے لیے سیکورٹی فورسز سے بچ نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

اب یاسر کے نیٹ ورک کی چھان بین جاری
یاسر کی ہلاکت کے بعد سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیاں اس کے پورے نیٹ ورک کی چھان بین میں مصروف ہیں۔ ایجنسیاں یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یاسر کے رابطے لشکرِ طیبہ کے کن دیگر دہشت گردوں سے تھے اور وہ جموں و کشمیر میں کن سرگرمیوں میں ملوث رہا تھا۔اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یاسر نے حالیہ دنوں میں کسی دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی، دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے یا کسی دوسری دہشت گردانہ سرگرمی میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ یوسمرگ میں ہونے والی یہ جھڑپ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف مسلسل جاری سیکورٹی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ سیکورٹی فورسز کی توجہ اب یاسر کے نیٹ ورک اور اس کے ممکنہ ساتھیوں تک پہنچنے پر مرکوز ہے۔









*🛑اسٹوڈنٹس اور انفراسٹرکچر کی کمی: بنگال حکومت دو سو پچاس مدرسوں کو بند کرے گی*
کولکاتا: بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی شدید کمی اور طلبہ کی گھٹتی ہوئی تعداد کے باعث 'نبانا' (ریاستی سیکریٹریٹ) کو ریاست کے مدرسوں کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سال کے آخر تک ریاستی حکومت تقریباً 300 مزید مدرسوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے والی ہے۔ کم از کم 250 سرکاری طور پر تسلیم شدہ پرائیویٹ مدرسے، جن میں مناسب انفراسٹرکچر اور اسٹوڈنٹس کی کمی ہے، اس آنے والے دسمبر تک بند ہونے والے ہیں۔

انتظامیہ نے پہلے ہی بے ضابطگیوں (گڑبڑیوں) کے الزامات میں سو مزید مدرسوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ان اداروں کو پوجا کی چھٹیوں سے پہلے اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامی ذرائع کے مطابق اس بات کا پورا امکان ہے کہ ان سو مدرسوں میں سے کم از کم پچاس مدرسے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔ مجموعی طور پر دسمبر تک تقریباً تین سو مدرسے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔'خارجی' مدرسوں کو ریاست میں چلنے نہیں دیا جائے گا

مدرسہ تعلیم میں شفافیت لانے اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے انتظامیہ کا رویہ طویل عرصے سے سخت رہا ہے۔ نبانا کے ذرائع نے صاف کہا ہے کہ 'خارجی' مدرسوں کو کسی بھی صورت میں ریاست میں چلنے نہیں دیا جائے گا۔ ساتھ ہی حکومت سے تسلیم شدہ پرائیویٹ مدرسے، جن میں پڑھانے کے لیے کم از کم ضروری انفراسٹرکچر کی کمی ہے، انہیں اب بخشا نہیں جائے گا۔

252 مدرسوں کو بند کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے

ریاست بھر میں 252 مدرسوں کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے پہلے ہی سخت اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ بند کیے گئے مدرسوں کی فہرست میں نارتھ بنگال (شمالی بنگال) سے لے کر ساؤتھ بنگال (جنوبی بنگال) تک کے کئی اضلاع شامل ہیں۔ یہ مدرسے—جن میں درست انفراسٹرکچر کی کمی تھی—کوچ بہار، جلپائی گوڑی، علی پور دوار، نارتھ اور ساؤتھ دینا جپور، اور مالدہ جیسے شمالی اضلاع کے ساتھ ساتھ مرشد آباد، نادیا، نارتھ اور ساؤتھ 24 پرگنہ، ہاوڑہ، ہوگلی، اور ایسٹ اور ویسٹ بردھوان جیسے اضلاع میں بند کر دیے گئے ہیں۔

انتظامی ذرائع کے مطابق، 100 مدرسوں کے خلاف کئی شکایتیں درج کی گئی تھیں، جنہیں اب نئے شو کاز (وجہ بتاؤ) نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ادارے قانون کے مطابق کام نہیں کر رہے تھے۔ حکام کو معائنے کے دوران کئی سنگین بے ضابطگیاں ملیں۔

فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی

اس لیے انہیں پوجا کے تہواروں سے پہلے جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ اگر تسلی بخش جواب نہ ملا تو فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کی بقیہ شناخت (منظوری) منسوخ کر دی جائے گی۔ تاہم اتنے سارے مدرسے ایک ساتھ بند ہونے کے باوجود حکومت طلبہ کے مستقبل کو دھیان میں رکھتے ہوئے بہت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

مدرسوں کو بند کرنے کا نوٹس جاری

ریاست کے اقلیتی امور کے وزیر کُشدی رام ٹوڈو نے اس معاملے پر حکومت کا موقف صاف کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت مدرسوں کو بیچ تعلیمی سال میں بند کرنے کے بجائے دسمبر تک بند کرنے کا انتظار کیوں کر رہی ہے۔ بنگال کے اقلیتی امور کے وزیر نے کہا، 'ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (محکمۂ تعلیم) کا تعلیمی سیشن دسمبر میں ختم ہو رہا ہے۔ ریاستی حکومت اس کے بعد ان مدرسوں کو بند کرنے کا نوٹس جاری کرنے والی ہے، کیونکہ ان میں اسٹوڈنٹس کی تعداد بہت کم ہے۔ تاہم انہیں بیچ میں بند کرنے سے ڈراپ آؤٹ ریٹ (پڑھائی چھوڑنے کی شرح) بڑھ سکتا ہے، اسی لیے اس عمل میں تاخیر کی جا رہی ہے۔'

دوسرے اداروں میں داخلہ لینے کا موقع

یہ ڈیڈ لائن اس لیے طے کی گئی ہے تاکہ جو چند طلبہ وہاں موجود ہیں، وہ اسکول نہ چھوڑیں اور تعلیمی سال مکمل کرنے کے بعد انہیں دوسرے اداروں میں داخلہ (ایڈمیشن) لینے کا موقع مل سکے۔ ریاست بھر میں چل رہے مدرسوں کی اصل صورتحال کا پتہ لگانے کے لیے سرکاری حکام نے پہلے ایک بڑا سروے کیا تھا۔

حکومت نے یہ بڑی صفائی مہم (کلین اپ ڈرائیو) بنیادی طور پر اسی سروے رپورٹ کے نتائج کی بنیاد پر شروع کی ہے۔ نبانا کے ذرائع نے بتایا کہ حکام جلد ہی مدرسوں کا ایک نیا سروے کریں گے تاکہ تعلیمی معیار کو برقرار رکھا جا سکے اور قوانین کو سختی سے نافذ کیا جا سکے۔









*🛑یو پی آئی سے غلط اکاؤنٹ میں بھیج دیے پیسے؟ گھبرائیں نہیں، فوراً کریں یہ کام؛ سو فیصد واپس آئے گا پیسہ*
نئی دہلی: بھارت میں یو پی آئی (Unified Payments Interface) آنے کے بعد سے پیسوں کا لین دین بے حد آسان ہو گیا ہے۔ آج چائے کے کھوکھے (ٹپری) سے لے کر بڑے شاپنگ مالز تک، لوگ اپنے فون کا استعمال کر کے پلک جھپکتے ہی پیسے ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔ ایک طرف جہاں یو پی آئی نے ملک کو ڈیجیٹل رفتار دی ہے، تو دوسری طرف اس نے ایک انجانے خطرے کو بھی جنم دے دیا ہے۔

اکثر جلد بازی یا ایک چھوٹی سی لاپرواہی کے باعث لوگ غلط نمبر یا غلط کیو آر (QR) کوڈ پر پیسے ٹرانسفر کر بیٹھتے ہیں۔ ایسے میں محنت کی کمائی کسی اور کے اکاؤنٹ میں چلی جاتی ہے اور لوگ گھبرا جاتے ہیں کہ اب یہ پیسہ کبھی واپس ملے گا یا نہیں۔ آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں کہ کیا غلط اکاؤنٹ میں گیا ہوا پیسہ واپس آ سکتا ہے اور اس کے لیے آپ کو کون سے اقدامات کرنے ہوں گے۔

کیا یو پی آئی سے بھیجا ہوا پیسہ فوراً واپس ہو سکتا ہے؟

اس سوال کا سیدھا اور صاف جواب ہے— جی نہیں۔ اگر آپ نے اپنے موبائل ایپ میں یو پی آئی پن (UPI PIN) درج کر کے ٹرانزیکشن مکمل کر دی ہے، تو اس ٹرانزیکشن کو فوراً کینسل یا ریورس (واپس) کرنے کا کوئی 'بٹن' ایپ میں موجود نہیں ہوتا۔ تکنیکی طور پر پیسہ فوراً سامنے والے کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہو جاتا ہے۔ لیکن، اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ آپ کا پیسہ ڈوب گیا۔ اگر آپ صحیح وقت پر درست طریقہ کار اپناتے ہیں، تو آپ کا پیسہ واپس ملنے کا امکان کافی زیادہ رہتا ہے۔

مرحلہ 1: سب سے پہلے یو پی آئی ایپ پر درج کریں 'تنازعہ' (Dispute)

غلط ٹرانزیکشن ہوتے ہی گھبرانے کے بجائے سب سے پہلے اسی یو پی آئی ایپ (جیسے Google Pay، PhonePe، Paytm یا BHIM) کو اوپن کریں جس سے آپ نے پیسے بھیجے ہیں۔

اپنے ٹرانزیکشن ہسٹری (Transaction History) میں جائیں۔

اس غلط لین دین کو سلیکٹ کریں۔

وہاں آپ کو 'Report a Problem' یا 'Raise a Dispute' کا آپشن نظر آئے گا، اس پر کلک کر کے اپنی شکایت درج کرائیں کہ پیسہ غلطی سے کسی اور کو ٹرانسفر ہو گیا ہے۔

مرحلہ 2: 72 گھنٹے کے اندر اپنے بینک کو اطلاع دیں

صرف ایپ پر شکایت کرنا کافی نہیں ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے قوانین کے مطابق، غلط ٹرانزیکشن کے 72 گھنٹوں کے اندر اپنے بینک سے رابطہ کرنا بے حد ضروری ہے۔

آپ بینک کے کسٹمر کیئر نمبر پر کال کر سکتے ہیں یا اپنے قریبی ہوم برانچ میں جا سکتے ہیں۔

بینک کو ٹرانزیکشن کی تاریخ، وقت اور سب سے اہم 12 ہندسوں کا یو ٹی آر (UTR) نمبر فراہم کریں۔

اگر رقم حاصل کرنے والے کا اکاؤنٹ بھی اسی بینک میں ہے، تو بینک فوراً کارروائی کر سکتا ہے۔ دوسرے بینک کا معاملہ ہونے کی صورت میں، آپ کا بینک اس متعلقہ بینک سے رابطہ کر کے فنڈز کو ہولڈ (روکنے) کرنے کی درخواست کرتا ہے۔

مرحلہ 3: NPCI پورٹل اور آر بی آئی لوک پال کا سہارا لیں

اگر ایپ اور بینک سے بات کرنے کے بعد بھی آپ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے، تو ملک میں یو پی آئی کو چلانے والے ادارے NPCI (نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا) کے آفیشل پورٹل پر جائیں۔ وہاں 'Dispute Redressal Mechanism' کے تحت 'Incorrectly transferred to another account' کا آپشن منتخب کر کے اپنی شکایت درج کریں۔ اگر 30 دنوں تک کوئی حل نہیں نکلتا، تو آپ آر بی آئی لوک پال (RBI Ombudsman) کے پاس اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

ایکسپرٹ ٹپ: ہمیشہ یہ احتیاطی تدابیر اپنائیں

ڈیجیٹل ماہرین کا ماننا ہے کہ علاج سے بہتر احتیاط ہے۔ کسی بھی انجان یا نئے نمبر پر بڑی رقم بھیجنے سے پہلے ہمیشہ ₹1 کا ٹیسٹ ٹرانسفر کر کے سامنے والے کا نام لازمی کنفرم کر لیں۔ جلد بازی میں کبھی بھی پیمنٹ نہ کریں اور عوامی مقامات پر کیو آر (QR) کوڈ کو اسکین کرتے وقت اسکرین پر ظاہر ہونے والے نام کی دوبارہ جانچ ضرور کریں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑شی جن پنگ کے استقبال کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایئرپورٹ پہنچے، 11 سال بعد امریکہ پہنچے چینی صدر*
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر خود ان کا استقبال کیا۔ شی جن پنگ 11 سال سے زائد عرصے بعد امریکہ کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔ شی جن پنگ کی آمد کے موقع پر صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ میری لینڈ کے فوجی اڈے پر موجود تھے۔ شی جن پنگ کی اہلیہ پینگ لی یوان بھی استقبال کی تقریب میں شریک ہوئیں۔ عام طور پر امریکی صدر کسی غیر ملکی لیڈر کا وائٹ ہاؤس پہنچنے پر استقبال کرتے ہیں، تاہم اس مرتبہ ٹرمپ خود ایئرپورٹ پہنچے۔ شی جن پنگ کے لیے کیے گئے اس خصوصی استقبال کو دونوں لیڈروں کے درمیان تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات

شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت، ایران اور تائیوان سمیت متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ تین روزہ دورے کے دوران اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کے علاوہ متعدد رسمی پروگرام بھی منعقد ہوں گے۔ ان میں جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والا خصوصی اسٹیٹ ڈنر بھی شامل ہے۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز پر کیسے ہوا استقبال؟

شی جن پنگ کی آمد سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ میرین ون کے ذریعے جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچے۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ اپنے قافلے کے ساتھ استقبال کی تقریب کے مقام پر پہنچے، جہاں فوجی اعزازی گارڈ، بینڈ اور دیگر فوجی دستے موجود تھے۔ ایئرپورٹ کے ٹارمک کے قریب سیاہ گاڑیاں اور لیموزین بھی موجود تھیں، جبکہ امریکی فضائیہ کا بینڈ مارچ کر رہا تھا۔ شی جن پنگ کی آمد سے قبل امریکی فوج کے مختلف اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔

میلانیا ٹرمپ استقبال کی تیاریوں میں خود شامل رہیں

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کا وائٹ ہاؤس میں انتظار کرنے کے بجائے خود ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے چینی صدر کے لیے خصوصی اور ذاتی نوعیت کا استقبال قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ رواں سال جب ٹرمپ چین گئے تھے تو وہاں بھی ان کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔ میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ ان کے شوہر نے ذاتی طور پر شی جن پنگ کا استقبال اس لیے کیا کیونکہ دونوں لیڈروں کے تعلقات اچھے ہیں۔ ان کے مطابق، ”وہ ہماری سرزمین پر آ رہے ہیں، اس لیے ہمیں پورے احترام کے ساتھ ان کا استقبال کرنا چاہیے۔“ میلانیا نے مزید بتایا کہ شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کے دورے کے پورے پروگرام کی منصوبہ بندی میں وہ خود بھی بہت زیادہ شامل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی تیاری کے دوران ہر چھوٹی بڑی بات میں ان کی شرکت رہی۔









*🛑نوئیڈا سے مہوبہ جا رہی سلیپر بس بنی آگ کا گولہ، یمنا ایکسپریس وے پر 9 مسافروں کی جل کر دردناک موت*
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جہاں نوئیڈا سے تقریباً 35 مسافروں کو لے کر مہوبا جا رہی ایک نجی ڈبل ڈیکر سلیپر اے سی بس اچانک آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ اس خوفناک حادثے میں 9 مسافروں کی زندہ جلنے اور دم گھٹنے سے موت ہو گئی، جبکہ متعدد مسافر جھلس گئے۔ حادثہ یمنا ایکسپریس وے پر گریٹر نوئیڈا سے آگرہ کی جانب جاتے ہوئے دَیانت پور گاؤں کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بس دَیانت پور کے قریب پہنچی تو اچانک اس سے دھواں اٹھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے بلند شعلوں نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے گولے میں تبدیل ہوئی بس

بس میں آگ لگنے کا احساس ہوتے ہی ڈرائیور نے فوری طور پر گاڑی کو ایکسپریس وے کے کنارے روک دیا۔ تاہم چند ہی لمحوں میں آگ نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسافروں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا اور بس کے اندر دھواں بھرنے سے افراتفری مچ گئی۔ بس میں موجود مسافروں نے اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ شدید دھوئیں کے باعث اندر موجود افراد کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس دوران کئی مسافر بس کے اندر ہی پھنس گئے اور باہر نہیں نکل سکے۔

’دم گھٹ رہا تھا، کسی طرح کود کر جان بچائی‘

حادثے میں بال بال بچنے والے ایک مسافر نے خوفناک منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بس میں سو رہا تھا کہ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آنکھ کھلی تو چاروں طرف دھواں ہی دھواں تھا اور مسافروں میں بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ مسافر کے مطابق، ”میں نے اپنا کوئی سامان یا جوتے تک نہیں اٹھائے، صرف فون ہاتھ میں لیا اور باہر کی طرف بھاگا۔ بس میں اتنا دھواں تھا کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ لوگ اندر ہی دم گھٹنے سے تڑپ رہے تھے۔ پیچھے کئی لوگ پھنسے رہ گئے جو باہر نہیں نکل سکے۔“

پولیس اور فائر بریگیڈ نے سنبھالا محاذ

حادثے کی اطلاع ملتے ہی یمنا ایکسپریس وے کے نجی حفاظتی اہلکار، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ریسکیو ٹیموں نے سخت مشقت کے بعد بس میں لگی آگ پر قابو پایا اور جھلسنے والے مسافروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں بس میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے حادثے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے لیا حادثے کا نوٹس

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یمنا ایکسپریس وے پر پیش آئے اس خوفناک حادثے کا نوٹس لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دفتر کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے حادثے میں ہونے والی جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کی ارواح کی تسکین اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی۔ وزیر اعلیٰ نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو فوری طور پر جائے حادثہ اور اسپتالوں میں پہنچ کر امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے میں زخمی تمام مسافروں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج میں کسی بھی قسم کی لاپروائی نہ برتی جائے۔

متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد کی ہدایت

وزیر اعلیٰ نے حکام کو جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے رابطہ قائم کرکے انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ دفتر کی جانب سے مقامی انتظامیہ اور پولیس سے ریسکیو آپریشن اور تحقیقات کے حوالے سے مسلسل معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے حادثے میں جھلسنے اور زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔









*🛑فیصلہ کرنے میں کتنا وقت لگے گا: چیف جسٹس سوریہ کانت کا الیکشن کمیشن سے سوال، ٹی ایم سی انتخابی نشان فریز کیس میں شیوسینا کا ذکر کیوں؟*
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے نام اور گھاس پھول والے انتخابی نشان پر شروع ہوا تنازع اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ جمعرات کو سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے الیکشن کمیشن سے براہِ راست سوال کیا کہ آخر فیصلہ کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ عدالت نے کمیشن سے کہا کہ وہ پیر تک بتائے کہ اس تنازع پر حتمی فیصلہ کب تک کیا جا سکتا ہے۔ بات صرف تاریخ بتانے کی نہیں ہے۔ عدالت نے واضح اشارہ دیا کہ فیصلہ جلد ہونا چاہیے۔ ضمنی انتخابات کا عمل جاری ہے۔ دونوں گروپ خود کو اصل ترنمول کانگریس قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں پارٹی کا نام اور انتخابی نشان فریز ہونے سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ اسی سماعت میں شیوسینا تنازع کا بھی ذکر آیا۔ جسٹس جائے مالیا باگچی نے جب تاخیر کی بات سنی تو کہا کہ ہم شیوسینا معاملہ میں تاخیر کے اثرات دیکھ چکے ہیں۔

یہ معاملہ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی بانی ممتا بنرجی کی درخواست سے متعلق ہے۔ ممتا گروپ نے الیکشن کمیشن کے 17 ستمبر کے عبوری حکم کو چیلنج کیا ہے۔ کمیشن نے گھاس پھول والے اصل نام اور انتخابی نشان کو فی الحال فریز کر دیا تھا۔ اس کے بعد ممتا گروپ کو ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور فٹبال کھلاڑی والا انتخابی نشان دیا گیا۔ وہیں رِت برت بنرجی گروپ کو ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام اور لفافے والا نشان دیا گیا۔ یہ انتظام مغربی بنگال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے کیا گیا ہے۔ ان انتخابات میں نندی گرام اور ریجی نگر بھی شامل ہیں۔ ممتا گروپ کی جانب سے کپل سبل نے جلد حتمی فیصلہ کرانے کا مطالبہ کیا۔ اب عدالت نے کمیشن سے وقت کی حد بتانے کو کہا ہے۔CJI سوریہ کانت نے الیکشن کمیشن سے پوچھا سیدھا سوال
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل داما شیشادری نائیڈو سے پوچھا کہ حتمی فیصلہ کرنے میں کمیشن کو کتنا وقت درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو مناسب موقع دیا جانا چاہیے۔ کمیشن کو معاملے پر غور کرنے کے لیے مناسب وقت بھی ملنا چاہیے، لیکن یہ عمل بہت طویل نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت کی تشویش یہ تھی کہ تنازع کو جلد حل کیا جائے تاکہ آگے کے انتخابی عمل پر اس کا اثر نہ پڑے۔

دونوں گروپوں کے امیدواروں نے کیا ہے دعویٰ
عدالت کے سامنے یہ حقیقت بھی رکھی گئی کہ ضمنی انتخابات کے لیے دونوں گروپوں کے امیدواروں نے نامزدگیاں داخل کی ہیں۔ دونوں نے خود کو اصل ترنمول کانگریس سے وابستہ قرار دیا ہے۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عدالت نے جلد فیصلہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ انتخابی پروگرام پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں ان انتخابات کے لیے کمیشن کی جانب سے بنائے گئے عبوری انتظام میں فی الحال مداخلت کرنا مشکل ہے۔

کپل سبل نے اٹھایا تاخیر کا سوال
ممتا بنرجی کی جانب سے پیش ہوئے کپل سبل نے کہا کہ تنازع جولائی میں ہی الیکشن کمیشن کے سامنے پہنچ چکا تھا۔ اس کے باوجود معاملہ کئی ماہ تک زیر التوا رہا۔ پھر ضمنی انتخابات کے دوران کمیشن نے عبوری حکم جاری کر دیا۔ سبل کا کہنا تھا کہ اگر فیصلہ پہلے آ جاتا تو ان کے پاس عدالت سے رجوع کرنے کا راستہ موجود رہتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے درمیان ایسا حکم آنے سے ان کے لیے مؤثر قانونی راستہ تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

’وجود کا سوال‘ بتا رہا ممتا گروپ
سماعت کے دوران ممتا گروپ کی جانب سے کہا گیا کہ پارٹی کے اصل نام اور گھاس پھول کے نشان کا معاملہ ان کے لیے وجود سے جڑا ہوا ہے۔ سبل نے کہا کہ وہ انتخابات روکنے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ پارٹی کے اصل نام اور انتخابی نشان کے حوالے سے مناسب حل نکالا جائے۔ انہوں نے عدالت سے مداخلت کی درخواست کی۔ تاہم عدالت نے اشارہ دیا کہ موجودہ انتخابی عمل کے دوران عبوری انتظام کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

عدالت نے بتایا حل کیا ہے
جسٹس جائے مالیا باگچی نے سماعت کے دوران کہا کہ اس کا راستہ یہی ہے کہ الیکشن کمیشن اس تنازع پر جلد فیصلہ کرے۔ اسی کے بعد عدالت نے کمیشن سے وقت کی حد بتانے کو کہا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فریقین کو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔ یعنی جلدی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طریقہ کار کو نظر انداز کر دیا جائے۔ کمیشن کو سماعت اور حقائق پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا۔

پھر شیوسینا تنازع کا ذکر کیوں آیا؟
معاملے کی سماعت میں شیوسینا کا ذکر خاص طور پر توجہ کھینچنے والا رہا۔ رِت برت بنرجی گروپ کی جانب سے پیش ہوئے مکل روہتگی نے کہا کہ الیکشن کمیشن پہلے بھی ایسے تنازعات میں عبوری احکامات جاری کرتا رہا ہے۔ انہوں نے شیوسینا تنازع کی مثال دی۔ اسی پر جسٹس باگچی نے تبصرہ کیا کہ شیوسینا معاملے میں تاخیر کے اثرات عدالت دیکھ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اشارہ دیا کہ موجودہ تنازع کو بھی غیر معینہ مدت تک زیر التوا رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

رِت برت گروپ نے مانگا مزید وقت
رِت برت بنرجی گروپ کی جانب سے دلیل دی گئی کہ اکتوبر کی وقت کی حد بہت کم ہوگی۔ مکل روہتگی نے کمیشن کو کچھ مزید وقت دینے کا مطالبہ کیا۔ سینئر وکیل نیرج کشن کول نے کہا کہ معاملے میں کئی پیچیدہ حقائق ہیں۔ ان کے لیے حلف نامے اور دیگر شواہد پیش کرنے ہوں گے۔ ان کے مطابق ایک ماہ کا وقت بھی کافی نہیں ہو سکتا ہے۔ یعنی ایک طرف جلد فیصلے کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف مکمل طریقہ کار کے لیے مناسب وقت دینے کی دلیل بھی سامنے آئی ہے۔

فی الحال کس کے پاس کون سا نام اور نشان؟
الیکشن کمیشن کے 17 ستمبر کے عبوری حکم کے بعد ممتا بنرجی گروپ کو ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ فٹبال کھلاڑی والا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ رِت برت بنرجی گروپ کو ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام اور لفافے والا نشان ملا ہے۔ یہ انتظام اگلے ضمنی انتخابات کے لیے ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے۔

اصل فیصلہ پیراگراف 15 کے تحت ہوگا
الیکشن کمیشن کے مطابق دونوں فریقوں کے اصل نام اور گھاس پھول کے نشان پر حتمی فیصلہ الگ طریقہ کار کے تحت ہوگا۔ یہ طریقہ کار الیکشن سمبلز آرڈر 1968 کے پیراگراف 15 سے متعلق ہے۔ فی الحال کمیشن نے ضمنی انتخابات کو دیکھتے ہوئے عبوری انتظام کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اب اگلی سماعت 28 ستمبر کو ہوگی۔ اس سے پہلے کمیشن کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ پورے تنازع پر حتمی فیصلہ لینے میں کتنا وقت لے گا۔ستمبر کو کیا ہوگا؟
اب اگلی تاریخ پر سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ الیکشن کمیشن کتنی وقت کی حد بتاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے فی الحال اصل انتخابی نشان سے متعلق عبوری انتظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ عدالت کا زور حتمی تنازع کو جلد نمٹانے پر ہے۔ دوسری جانب دونوں گروپ اپنی اپنی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ ایسے میں 28 ستمبر کی سماعت اس معاملے کی آئندہ سمت کے لحاظ سے اہم ہوگی۔

Wednesday, 23 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑پاکستان: جیل میں بند عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو بڑا احتجاج، 3 بہنیں بھی 30 دن کے لیے حراست میں*
پاکستان میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو لے کر سیاسی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، انہیں مناسب طبی سہولیات اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور آئین کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی صحت، خاص طور پر دائیں آنکھ کے علاج اور طبی سہولیات تک رسائی کو لے کر بھی پی ٹی آئی اور ان کے اہل خانہ تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اگست میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے انہیں اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انہیں مختصر طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

احتجاج سے پہلے عمران خان کی 3 بہنیں حراست میں

27 ستمبر کے احتجاج سے چند روز قبل عمران خان کی تین بہنوں کو 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے علیمہ خان کو 20 ستمبر کو لاہور میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد 21 ستمبر کو ان کی دیگر دو بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 دن کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ ان حراستوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حراست کے احکامات میں مخصوص الزامات واضح نہیں کیے گئے اور قانونی طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی اور حکومت آمنے سامنے

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج صرف عمران خان کی رہائی کا مطالبہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور آئین کی بالادستی کے لیے بھی ہے۔ پارٹی نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکومت نے احتجاج اور مارچ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ کسی گروہ کو 27 ستمبر کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

عمران خان کی صحت کا معاملہ بھی اہم

عمران خان کی صحت کو لے کر پی ٹی آئی مسلسل سوال اٹھاتی رہی ہے۔ اگست میں انہیں طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا تھا، لیکن چند گھنٹوں بعد ہی واپس جیل بھیج دیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اس اقدام پر اعتراض کیا تھا اور اسے سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی عمران خان کے خاندان کے افراد اور پی ٹی آئی کارکنوں کی حراست پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے پاکستانی حکام سے ان حراستوں اور پرامن اجتماع کے حق کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔

کیا 27 ستمبر کا احتجاج سیاسی بحران بڑھائے گا؟

27 ستمبر کا احتجاج پاکستان میں جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان ہو رہا ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور آئینی بالادستی کے مطالبے پر احتجاج کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت نے اسلام آباد میں مارچ روکنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایسے میں 27 ستمبر کی سیاسی سرگرمی ملک میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری تنازع کی ایک اہم کڑی بن سکتی ہے۔ تاہم اس احتجاج کے نتیجے میں حکومت کے مستقبل یا اقتدار میں کسی تبدیلی کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔










*🛑آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ایران تیار، امریکا کے سامنے رکھی صرف ایک شرط، 7 دن میں ختم ہو سکتا ہے بحران، دنیا کو ملے گی بڑی راحت*
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کا اثر پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے خاص طور پر ان ممالک کی مشکلات بڑھا دی ہیں جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے لے کر مہنگائی تک، عالمی سطح پر اس کشیدگی کے کئی اثرات سامنے آئے ہیں۔ اس پوری صورتحال کا ایک اہم مرکز آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اب ایران نے کہا ہے کہ یہ آبنائے دوبارہ کھولا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لیے امریکہ کو ایک شرط پوری کرنا ہوگی۔

ایران نے امریکہ کے سامنے کیا شرط رکھی؟

میڈیا رپورٹ میں ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرتا ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کردیتا ہے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے گا۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران چاہتا ہے کہ واشنگٹن باضابطہ طور پر یہ واضح کرے کہ وہ مسئلے کا سفارتی حل چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مقررہ مدت پر بھی اتفاق ہونا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز سے تجارتی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے اور حال ہی میں آبنائے عبور کرنے کے دوران دو بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر

ہرمز میں جاری کشیدگی کا براہ راست اثر تیل اور دیگر تجارتی سامان لے جانے والے جہازوں کی آمدورفت پر پڑا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار جہازوں کی تعداد ایک دن پہلے کے 10 کے مقابلے میں گھٹ کر صرف 2 رہ گئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے سے پہلے اس اہم سمندری راستے سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جن میں آئل ٹینکر، گیس کیریئر، بلک کیریئر اور کنٹینر جہاز شامل تھے۔ یہ راستہ دنیا کی یومیہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کے تقریباً 20 فیصد حصے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

کیا نیویارک میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے پیزشکیان؟

ایرانی حکام کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ایرانی وفد کو امریکہ کے ساتھ سفارت کاری دوبارہ شروع کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ تاہم، ایران کے صدر مسعود پیزشکیان، جو منگل کی صبح تہران سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ایرانی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ دشمنی ختم کرنے سے متعلق کسی معاہدے کی تفصیلات پر نیویارک میں ثالثوں کے ذریعے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق تہران اپنا تجویز کردہ منصوبہ 16 ستمبر کو ہی امریکہ کے حوالے کرچکا ہے۔ اگر امریکہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرتا ہے تو ایران اس کا خیرمقدم کرے گا۔

ایران نے امریکہ کو جوابی کارروائی کی وارننگ بھی دی

ایک طرف ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے شرط رکھی ہے، تو دوسری طرف ایرانی فوجی مرکزی کمان نے اتوار کو کہا تھا کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ امریکہ علاقائی ممالک کی حمایت سے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس طرح کا قدم اٹھایا تو تہران بغیر کسی حد یا پیشگی غور کے جوابی کارروائی کرے گا۔ ایسے میں آبنائے ہرمز کو لے کر جاری کشیدگی کا اثر عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ برقرار ہے۔









*🛑آپ کے بال کھردرے، چمک سے محروم یا ٹوٹ رہے ہیں تو کیا کرنا چاہیے؟*
بہت سے لوگ بالوں کے بے رونق ہونے کی وجہ کیمیکل والے شیمپو، آلودگی یا ہیئر سٹائلنگ کے لیے استعمال ہونے والی حرارت کو قرار دیتے ہیں۔ تاہم، نل کا پانی بھی آپ کے بالوں کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، آپ اگر مسلسل عام نل کے پانی سے بال دھوتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر بالوں پر پڑ سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پانی میں موجود آلودگی اور معدنی اجزا ہیں۔
کھارے پانی کے اثرات کا اندازہ اکثر نہانے کی بالٹی کی تہہ میں جمی سیاہی مائل تہہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس تہہ میں زیادہ تر میگنیشیم اور دیگر معدنی اجزا جمع ہوتے ہیں، جو بالوں کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نل کے پانی کی وجہ سے بالوں کے بے رونق ہونے کی ایک وجہ ان کی ساخت کو پہنچنے والا نقصان بھی ہو سکتی ہے، جسے صرف غذائیت سے بھرپور خوراک لینے اور مناسب مقدار میں معدنیات استعمال کرنے سے دور نہیں کیا جا سکتا۔
کھارا پانی بالوں کی صحت کے لیے نقصان دہ کیوں؟
کھارے پانی سے مراد ایسا پانی ہے جس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار زیادہ ہو اور اس میں شامل معدنیات بالوں پر تہہ کی صورت میں جم سکتی ہوں۔ آپ اگر مسلسل نل کے پانی سے بال دھوتے رہیں تو وقت کے ساتھ وہ بے رونق ہو سکتے ہیں اور ان کی قدرتی چمک بھی کم ہو سکتی ہے۔
یہ مسئلہ جے پور، احمد آباد، دہلی این سی آر، بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی، لکھنؤ، کانپور، جودھپور، سورت اور وڈودرا جیسے شہروں میں خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ آلودہ یا کھارا پانی اِن کے بالوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے۔ ایسے میں بالوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے باتھ روم میں واٹر فلٹر لگانا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
نل کا پانی آپ کے بالوں کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
 کھارے پانی میں موجود معدنی اجزا اگر بالوں پر مسلسل جمع ہوتے رہیں تو بال بے رونق ہو سکتے ہیں اور ان کا حجم کم محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس سے بالوں کی چمک اور نرمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔آپ کے بال اگر خشک اور الجھے ہوئے یا بے ترتیب رہنے لگے ہیں تو اپنے استعمال کے پانی کے معیار کی جانچ کروانا مناسب ہو سکتا ہے۔ آلودہ یا ناقص معیار کا پانی بالوں کی حالت مزید خراب کر سکتا ہے، یہاں تک کہ بال دھونے کے بعد بھی کھردرے اور اُلجھے ہوئے محسوس ہو سکتے ہیں۔
نل کے پانی کے بالوں کو نقصان پہنچانے کی علامات
کچھ علامات ایسی ہیں جن سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نل کا پانی بالوں کے معیار کو متاثر کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر باقاعدگی سے بال دھونے کے باوجود وہ بے رونق نظر آنے لگیں۔ دیگر علامات میں بالوں کا ضرورت سے زیادہ پھولنا اور بے ترتیب ہونا، سر کی جلد کا خشک ہونا، بالوں کا زیادہ ٹوٹنا اور شیمپو کا مناسب طریقے سے جھاگ نہ بنانا شامل ہیں۔
کیا روزانہ بال دھونے سے مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے؟
آپ اگر روزانہ بال دھوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بال چپچپے محسوس ہوتے ہیں تو اس کی ایک وجہ پانی کا ناقص معیار بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم، روزانہ بال دھونے اور ضرورت سے زیادہ بال دھونے میں واضح فرق ہے۔ روزانہ بال دھونے کا اثر ہر شخص کے بالوں کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
کیا کھردرا پانی بالوں کے جھڑنے کا سبب بن سکتا ہے؟
انٹرنیشنل جرنل آف ٹرائیکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کھردرے پانی کے مسلسل استعمال سے بال جھڑنے کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔کھردرا پانی بالوں کے ضرورت سے زیادہ ٹوٹنے اور مجموعی معیار میں خرابی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
اگرچہ روزانہ تقریباً 100 بالوں کا گرنا عام بات سمجھی جاتی ہے، لیکن اگر بال نل سے مسلسل عام یا کھردرے پانی کے اثر میں رہیں تو یہ مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔
کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟
اِن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے جو مسلسل ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پانی کھردرا ہو اور وہ روزمرہ استعمال میں اسی پانی کا سامنا کرتے ہوں۔
یہ اثر اِن لوگوں میں مزید نمایاں ہو سکتا ہے جن کے بال گھنگریالے، خشک یا رنگ کیے ہوئے ہوں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی کے شالیمار باغ میں 30 سال پرانی مسجد اور مکانات پر چلا بلڈوزر، امام بولے- قرآن تک نکالنے کی نہیں دی مہلت*
نئی دہلی : دارالحکومت دہلی کے شالیمار باغ علاقے میں میکس اسپتال روڈ کی توسیع کے تحت دیر رات انتظامیہ نے تجاوزات ہٹانے کی بڑی کارروائی کی۔ اس دوران مدینہ مسجد اور اس کے آس پاس بنے کئی مکانات سمیت سڑک پر موجود مبینہ غیر قانونی قبضے ہٹا دیے گئے۔ کارروائی کے دوران موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات رہی۔مدینہ مسجد کے خلاف کارروائی کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں کشیدگی کا ماحول بن گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اے آئی ایم آئی ایم کے دہلی ریاستی صدر شعیب جمائی رات تقریباً 11:30 بجے شالیمار باغ پہنچے۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے ملاقات کی اور کارروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔

مسجد سے قرآن نکالنے تک کی مہلت نہیں دی گئی: امام

شعیب جمائی نے کہا کہ شالیمار گاؤں میں مسجد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا، اس کے باوجود رات کے اندھیرے میں علاقے کی تمام لائٹس بند کرکے بلڈوزر سے کارروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مسجد کے امام اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مسجد کے اندر سے قرآن پاک اور دیگرمذہبی کتابیں نکالنے تک کا وقت نہیں دیا گیا۔ شعیب جمائی نے اس کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں لوگوں کو اطلاع دیے بغیر رات کے اندھیرے میں اس طرح کی کارروائی قابل مذمت ہے۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسی علاقے میں ہندو خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر کارروائی ہوئی تھی، تب بھی انہوں نے آوازاٹھائی تھی اوراب مسجد کے خلاف کارروائی پر بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے اپنے علاقے میں ان کی ہدایت پر بلڈوزر چلایا گیا۔امام نے انتظامیہ کے دعوے پر اٹھائے سوال

مدینہ مسجد کے امام ظریف الرحمن نے انتظامیہ کی جانب سے مسجد کو غیر قانونی قرار دیے جانے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ شالیمار میں تقریباً ہر گھر جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے) کی بنیاد پر بنا ہوا ہے اور پورا علاقہ اسی دستاویز کے سہارے آباد ہوا ہے، لیکن صرف مسجد کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔امام نے اسے امتیازی رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا اور تمام ضروری دستاویزات جمع کرائے تھے۔نوٹس کے ایک دن بعد میونسپل کارپوریشن کی کارروائیامام ظریف الرحمن کے مطابق عدالت میں معاملہ پیش کیے جانے کے بعد عدالت نے میونسپل کارپوریشن کو نوٹس بھیجا تھا۔ میونسپل کارپوریشن نے انہیں سماعت کے لیے بلایا، جہاں مسجد سے متعلق تمام دستاویزات اور اپنا موقف پیش کیا گیا۔ان کے مطابق سماعت کے اگلے ہی دن میونسپل کارپوریشن نے نوٹس جاری کرتے ہوئے مسجد کو 15 دن کے اندر خود ہٹانے یا بلدیاتی کارروائی کے لیے تیار رہنے کو کہا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ عدالت گئے، جہاں انہیں صرف گراؤنڈ فلور کے لیے حکمِ امتناع ملا، جب کہ اوپری منزلوں کے لیے کوئی راحت نہیں ملی۔

شالیمار باغ میں بھاری سکیورٹی، سوربھ بھاردواج بھی پہنچے

کارروائی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ احتجاج یا کشیدگی سے نمٹنے کے لیے پورے شالیمار باغ علاقے میں بھاری سکیورٹی تعینات کی گئی۔ دہلی پولیس کے ساتھ نیم فوجی دستوں کی کئی ٹکڑیاں بھی حساس علاقوں میں تعینات رہیں۔بلڈوزر کارروائی کے بعد دہلی کی سیاست بھی گرم ہوگئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی سوربھ بھاردواج دیر رات موقع پر پہنچے۔ انہوں نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی اور انتظامیہ کی اچانک کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آمریت قرار دیا۔








*🛑گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت*
نئی دہلی : ملک کی سب سے بڑی سگریٹ بنانے والی کمپنی آئی ٹی سی نے اپنے معروف برانڈ ’گولڈ فلیک‘ سگریٹ کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ کمپنی نے ’گولڈ فلیک پریمیم‘ اور اس سے جڑے دیگر ویریئنٹس کے دام بڑھائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت یعنی ایم آر پی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔قیمتوں میں اضافے کے بعد اب 10 سگریٹ والے پیکٹ کے لیے صارفین کو پہلے کے مقابلے زیادہ رقم خرچ کرنی ہوگی۔ گولڈ فلیک پریمیم کے 10 سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت 125 روپے سے بڑھ کر 135 روپے ہوگئی ہے۔رواں سال گولڈ فلیک پریمیم کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 17.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے جون میں بھی اس برانڈ کی قیمت میں 8.7 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، جب 10 سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت 115 روپے سے بڑھا کر 125 روپے کردی گئی تھی۔

گولڈ فلیک پریمیم کی نئی قیمت کیا ہے؟

10 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت 135 روپے ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے اسی پیکٹ کی قیمت 125 روپے تھی۔

ستمبر میں قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

جون میں قیمت 115 روپے سے بڑھ کر 125 روپے ہوئی تھی۔

دونوں اضافوں کے بعد رواں سال قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 17.4 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

کیوں بڑھ رہی ہیں سگریٹ کی قیمتیں؟

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا ٹیکس نظام بتایا جا رہا ہے۔ یکم فروری 2026 سے سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر 40 فیصد جی ایس ٹی کے ساتھ اضافی ایکسائز ڈیوٹی کا نیا نظام نافذ کیا گیا۔ تاہم اضافی محصول کی شرح سگریٹ کی لمبائی اور فلٹر سمیت مختلف زمروں کی بنیاد پر الگ الگ ہے۔اس کے بعد سگریٹ بنانے والی کمپنیوں نے مختلف برانڈز کی قیمتوں میں کئی زمروں میں تبدیلی کی ہے۔ اب قیمتوں میں اس اضافے کا اثر صارفین کی جیب پر بھی نظر آ رہا ہے۔

آئی ٹی سی کے دیگر سگریٹ برانڈز بھی ہوئے مہنگے

آئی ٹی سی نے صرف گولڈ فلیک پریمیم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا، بلکہ ستمبر کے آغاز میں کمپنی کے کچھ دیگر برانڈز کے دام بھی بڑھائے گئے ہیں۔’کلاسک کنیکٹ‘ کے 20 سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت 390 روپے سے بڑھ کر 428 روپے ہوگئی ہے۔ وہیں ’گولڈ فلیک سپر اسٹار‘ کے 10 سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت 79 روپے سے بڑھ کر 89 روپے ہوگئی ہے۔اس طرح کلاسک کنیکٹ کی قیمت میں تقریباً 9.74 فیصد جبکہ گولڈ فلیک سپر اسٹار کی قیمت میں تقریباً 12.66 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یوں 2026 میں آئی ٹی سی کے مختلف سگریٹ برانڈز کی قیمتوں میں کئی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔








*🛑عمران مسعود بمقابلہ اقرا حسن، 2027 انتخابات سے پہلے مغربی یوپی میں مسلم سیاست کے دو بڑے چہروں کی لفظی جنگ تیز*
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد کو لے کر جاری سیاسی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کے درمیان مغربی اتر پردیش کے دو نمایاں مسلم سیاسی چہرے عمران مسعود اور اقرا حسن بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں۔ یہ معاملہ سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور کیرانہ سے ایس پی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کے درمیان سیاسی بیان بازی کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

عمران مسعود کا سیٹوں کی تقسیم جلد طے کرنے پر زور

سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود مسلسل سماج وادی پارٹی پر تنقید کر رہے ہیں۔ وہ اکھلیش یادو کی مسلم سیاست پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ عمران مسعود کا کہنا ہے کہ اتحاد کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہونا ہے، اسے جلد حتمی شکل دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق تاخیر سے نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کانگریس کے بغیر بی جے پی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ عمران مسعود نے یہ مؤقف بھی ظاہر کیا کہ اگر اکھلیش یادو اتحاد میں بڑا دل نہیں دکھاتے تو کانگریس اکیلے انتخابی میدان میں اترنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے اپنے ضلع کی نشستوں پر کسی رعایت سے بھی انکار کیا ہے۔ ان کے اس موقف کو کانگریس کی اس حکمت عملی سے جوڑا جا رہا ہے جس کے تحت پارٹی مغربی اتر پردیش اور مسلم اکثریتی نشستوں پر سیٹوں کی تقسیم میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔

ایس پی نے اقرا حسن کو جواب دینے کے لیے آگے کیا

عمران مسعود کے بیانات کے جواب میں ایس پی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کہا کہ اتر پردیش میں اگر کوئی لیڈر بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ اکھلیش یادو ہیں۔ اقرا حسن نے کانگریس کی انتخابی پوزیشن پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس اپنے دم پر اکیلے انتخابات لڑتی ہے تو وہ کچھ نہیں کر پائے گی۔ ایس پی اور کانگریس کے اتحاد کے حوالے سے اقرا حسن نے کہا کہ اتحاد برقرار رہتا ہے تو بہتر ہے، ورنہ اس کا نقصان کانگریس کو ہوگا، سماج وادی پارٹی کو نہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ریاست میں دونوں جماعتوں کے تعلقات اور سیٹوں کی تقسیم کو لے کر سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔

عمران مسعود اور اقرا حسن آمنے سامنے کیوں؟

عمران مسعود اور اقرا حسن دونوں مغربی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے نمایاں مسلم سیاسی خاندانوں سے آتے ہیں۔ ان کے درمیان جاری بیان بازی کو ایس پی اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم اور سیاسی اثر و رسوخ کو لے کر جاری اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مغربی یوپی میں مسلم ووٹروں کے درمیان دونوں جماعتوں کی سیاسی رسائی بھی اس بحث کا ایک اہم پہلو ہے۔ اقرا حسن کو عمران مسعود کے بیانات کا جواب دینے کے لیے سامنے لانے کو ایس پی کی جانب سے اپنی سیاسی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سیٹوں کی تقسیم پر ایس پی اور کانگریس میں کشمکش

اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ایس پی اور کانگریس کے درمیان ممکنہ سیٹ شیئرنگ ہے۔ عمران مسعود چاہتے ہیں کہ سیٹوں کی تقسیم جلد طے ہو تاکہ پارٹی انتخابی تیاریوں کو آگے بڑھا سکے۔ دوسری جانب ایس پی اپنے تنظیمی اور زمینی سیاسی حساب کتاب کے مطابق سیٹوں کی تقسیم پر بات آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور بیانات میں سیاسی کشمکش دکھائی دے رہی ہے۔ عمران مسعود اور اقرا حسن کے درمیان حالیہ بیان بازی کو اسی وسیع تر سیاسی اختلاف کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 2027 کے انتخابات کے لیے اتحاد کی حتمی شکل، سیٹوں کی تقسیم اور دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی سمجھوتے سے متعلق مزید فیصلے ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔



Saturday, 12 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ہندوستان – چین کے درمیان براہ راست فلائٹ شروع، وزیراعظم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات سے پہلے بنا ماحول، 6 سال بعد فضائی خدمات بحال*
ہندوستان اور چین کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ ایک بار پھر بحال ہو گیا ہے۔ چائنا سدرن ایئرلائنز نے دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 6 سال کے طویل وقفے کے بعد براہِ راست پروازوں کی سروس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان پہنچنے سے محض چند گھنٹے قبل براہِ راست پروازوں کی بحالی کی یہ خبر سامنے آئی ہے۔ چائنا سدرن ایئرلائنز کے اس اقدام کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اسے ہندوستان اور چین کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ برکس سمٹ-2026 میں شرکت کے لیے ہندوستان آ رہے شی جن پنگ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے شام 5:45 بجے ملاقات متوقع ہے۔ اس دو طرفہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہونے کا امکان ہے۔

چائنا سدرن ایئرلائنز نے ہفتہ، 12 ستمبر 2026 کو اعلان کیا کہ وہ 21 ستمبر سے گوانگژو-نئی دہلی روٹ پر باقاعدہ مسافر پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔ ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق، یہ فضائی سروس تقریباً 6 سال کے وقفے کے بعد بحال کی جا رہی ہے۔ ایئرلائن نے کہا ہے کہ سروس بحال ہونے کے بعد وہ جنوبی ایشیا میں 8 راؤنڈ ٹرپ روٹس پر ہر ہفتے 100 سے زائد پروازیں چلائے گی۔چینی فضائی کمپنیوں کی جانب سے ہندوستان کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اپریل میں ایئر چائنا نے بیجنگ-دہلی کے درمیان براہِ راست پرواز سروس دوبارہ شروع کی تھی۔ یہ کسی چینی ایئرلائن کی جانب سے ہندوستان کے لیے بحال کی جانے والی دوسری براہِ راست فضائی سروس تھی۔ اس سے پہلے چائنا ایسٹرن ایئرلائنز نے 18 اپریل سے کنمنگ-کولکاتہ کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کی تھیں۔

کولکاتہ-شنگھائی کے درمیان براہِ راست پرواز
ہندوستانی ایئرلائن انڈیگو نے بھی 30 مارچ کو کولکاتہ اور شنگھائی کے درمیان روزانہ نان اسٹاپ پرواز سروس شروع کی تھی۔ اس اقدام سے ہندوستان اور چین کے درمیان فضائی رابطے کو مزید تقویت ملی۔ انڈیگو اس سے قبل کولکاتہ-گوانگژو پرواز سروس بھی بحال کر چکی ہے، جبکہ بعد میں دہلی سے چین کے لیے بھی پروازوں کا آپریشن شروع کر دیا گیا۔

ہندوستان اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں کووڈ-19 وبا کے دوران معطل کر دی گئی تھیں۔ اس کے بعد ڈوکلام اور گلوان تعطل کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں آئی کشیدگی کا بھی فضائی رابطے پر اثر پڑا تھا۔ تاہم اب دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ بہتری کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو عوامی رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات
اس دوران چینی صدر شی جن پنگ ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ سے نئی دہلی کے لیے روانہ ہو گئے۔ ژنہوا کے مطابق، شی جن پنگ ہفتہ ہی کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کریں گے۔

شی جن پنگ کے وفد میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو کی مستقل کمیٹی کے رکن اور مرکزی دفتر کے ڈائریکٹر کائی چی کے علاوہ چینی وزیر خارجہ اور پولٹ بیورو کے رکن وانگ یی بھی شامل ہیں۔

گلوبل ساؤتھ کو فروغ دینے پر زور
ژنہوا کے مطابق، شی جن پنگ برکس سربراہی اجلاس کے دوران گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون کو آگے بڑھانے سے متعلق تجاویز کو خصوصی اہمیت دے سکتے ہیں۔ برکس بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان اقتصادی اور پالیسی تعاون و ہم آہنگی کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔برکس کے ایجنڈے میں ترقی، مالیات، ٹیکنالوجی، تجارت اور عوام کے درمیان روابط سمیت متعدد اہم امور شامل ہیں۔ ایسے میں شی جن پنگ کا ہندوستان کا دورہ اور ہندوستان-چین کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کے ایک اہم اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








*🛑اب کیا کرنے جا رہے ہیں سونم وانگچک؟ ابھجیت دیپکے بھی ساتھ، کیا بڑا اعلان*
نئی دہلی :لداخ میں سونم وانگچک کی جانب سے 19 ستمبر سے ہونے والی پیدل یاترا کے اعلان پر کاکروچ جنتا پارٹی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو جاری کرکے تمام لوگوں، خاص طور پر ’کاکروچوں‘ سے اس مہم کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ اب سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔دیپکے نے ایکس پر سونم وانگچک کی ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’لداخ کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘ سونم وانگچک نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ لداخ کے مستقبل اور جمہوری نظام سے متعلق حکومت اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان ہوئی میٹنگ میں کوئی ٹھوس اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ نمائندہ وفد کا کہنا ہے کہ تقریباً 4 ماہ بعد ہونے والی میٹنگ میں بھی مجوزہ جمہوری ڈھانچے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی تحریری مسودہ پیش نہیں کیا گیا۔سونم وانگچک نے کہا کہ میٹنگ میں سوالات کی ایک فہرست دی گئی اور بتایا گیا کہ ان معاملات پر اگلی میٹنگ میں بات چیت کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی، براہ راست حد بندی اور انتخابات جیسے موضوعات پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، لیکن اس میٹنگ میں ان مسائل پر کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لداخ میں جمہوری ڈھانچے کا مطالبہ

سونم وانگچک نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ نمائندہ وفد کا بنیادی مطالبہ لداخ میں جلد از جلد جمہوری طریقے سے منتخب اسمبلی قائم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تجویز کو پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں پیش کیا جانا چاہیے، تاکہ آگے انتخابات کرانے اور جمہوری اداروں کے قیام کا عمل شروع کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر مل کر لداخ کے لیے بڑے فیصلے کر رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جمہوریت کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ سونم وانگچک کے مطابق وفد نے حکومت سے یقین دہانی مانگی تھی کہ جب تک لداخ میں جمہوری ڈھانچہ قائم نہیں ہو جاتا، مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جن سے لداخ کی شکل ہی تبدیل ہو جائے۔

’لداخ میں ایک بڑی پیدل یاترا ہوگی‘

سونم وانگچک نے اعلان کیا کہ 19 ستمبر سے 24 ستمبر تک لداخ میں ایک بڑی پیدل یاترا نکالی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر حکومت کی جانب سے یقین دہانی مل جاتی ہے تو اس یاترا کو شہیدوں کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک بڑے مارچ کی شکل دی جائے گی، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو اسے احتجاج میں تبدیل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ لداخ کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ سونم وانگچک نے مزید کہا کہ اس کے لیے پورے ہندوستان سے حمایت کی ضرورت ہے اور لداخ کو عوام کی حمایت درکار ہے۔








*🛑گلوکوما اور موتیا بن بینائی سے محرومی کی وجہ بن سکتے ہیں*
حیدرآباد: عام طور پر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں آنکھوں سے متعلق مسائل زیادہ دیکھے جاتے تھے، لیکن آج کل ہر عمر کے افراد آنکھوں کی مختلف پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر گلوکوما اور موتیا جیسی بیماریاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ دونوں آنکھوں کی سنگین بیماریاں ہیں۔ اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ شخص مکمل طور پر اپنی بینائی سے محروم ہو سکتا ہے۔

اگرچہ گلوکوما اور موتیا بظاہر ایک جیسے محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق دونوں بیماریوں میں کافی فرق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت معائنہ اور مناسب علاج کے ذریعے آنکھوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ آئیے، اس خبر میں ان دونوں بیماریوں کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔

گلوکوما کیا ہے؟

کلیولینڈ کلینک کے مطابق، گلوکوما آنکھوں کی ایک خطرناک بیماری ہے، جس کی علامات آسانی سے ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے لوگوں میں اس بیماری کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ کافی بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس وقت تک ان کی بینائی کافی متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوکوما کی بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ بتدریج بینائی کو ختم کرتا ہے اور مستقل اندھے پن کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسے آنکھوں کا خاموش قاتل یا خاموشی سے بینائی چھیننے والا‘ بھی کہا جاتا ہے۔

گلوکوما موتیا سے مختلف بیماری ہے، گلوکوما بنیادی طور پر آپٹک نرو کو نقصان پہنچاتا ہے، جو آنکھ سے دماغ تک بصری معلومات پہنچانے کا کام کرتی ہے۔

گلوکوما کی وجوہات

ماہرین کے مطابق گلوکوما کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں:

ہائی بلڈ پریشر

سگریٹ نوشی

کیفین کا استعمال

آنکھ کے ڈرینیج اینگل کو نقصان پہنچنا

آنکھ میں چوٹ لگنا

عمر میں اضافہ

جینیاتی عوامل

گلوکوما کی علامات

گلوکوما کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ ابتدائی مرحلے میں آنکھوں کے سامنے دھندلے دھبے بننے لگتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ دھبے پیری فیرل وژن یعنی آس پاس کی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ جن افراد کی آنکھوں کے اندر دباؤ یعنی انٹرا اوکیولر پریشر زیادہ ہوتا ہے، انہیں صبح کے وقت سر درد یا دھندلی نظر کی شکایت ہو سکتی ہے۔ بیماری کی حالت سنگین ہونے پر کچھ علامات واضح طور پر ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

آنکھوں میں شدید درد

آنکھوں کا سرخ ہونا

دھندلی نظر

سر درد

متلی

قے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متلی اور قے جیسی علامات کے ساتھ آنکھوں میں تکلیف ہو تو فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔

گلوکوما کا علاج

ماہرین کے مطابق گلوکوما کی جتنی جلد تشخیص ہو جائے اور علاج شروع کیا جائے، اتنا ہی بینائی کو محفوظ رکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بعض مریضوں میں سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی مستقل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے سال میں کم از کم ایک مرتبہ آنکھوں کا معمول کا معائنہ کروانا فائدہ مند ہے۔

گلوکوما کا خطرہ کن افراد کو زیادہ ہوتا ہے؟

40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں گلوکوما کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جن افراد کے خاندان میں گلوکوما کی ہسٹری رہی ہو، جن کی آنکھوں کا دباؤ یا بلڈ پریشر زیادہ ہو یا جو ذیابیطس میں مبتلا ہوں، ان میں بھی گلوکوما کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اسٹیرائڈز استعمال کرنے والے افراد، آنکھوں میں چوٹ لگنے کی ہسٹری رکھنے والے افراد، مائیگرین، خون کی خراب گردش، دیگر صحت کے مسائل، مایوپیا یعنی دور کی نظر کمزور ہونے یا ہائپروپیا (Hyperopia) یعنی قریب کی نظر کمزور ہونے والے افراد میں بھی اس بیماری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

موتیا بن کیا ہے؟

کلیولینڈ کلینک کے مطابق موتیا بن بھی اندھے پن کی ایک اہم وجہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر آنکھ کے لینس کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم ماہرینِ چشم کے مطابق اگر موتیا کی بروقت تشخیص ہو جائے تو معمول کی سرجری کے ذریعے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں بیماری کی شناخت اور مناسب علاج سے بینائی کے مکمل طور پر بہتر ہونے کے امکانات کافی زیادہ رہتے ہیں۔

موتیا کی وجوہات

موتیا مختلف وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جن میں:

گلوکوما

ذیابیطس

گردوں کی بیماری

آنکھوں میں چوٹ

سگریٹ نوشی

آنکھ کے اندر سوزش

بعض اقسام کی ادویات

آنکھوں میں انفیکشن

موتیا کی علامات اور پیچیدگیاں

موتیا ہونے کی صورت میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

ایک چیز کا دو نظر آنا

گاڑی چلانے میں دشواری

آنکھ کی پتلی میں دھندلا پن

دھندلی نظر

رات کے وقت کم نظر آنا

کم روشنی میں پڑھنے میں دشواری

آنکھ میں سفیدی نظر آنا

بھنوؤں کا غیر ارادی طور پر پھڑکنا

موتیا کا علاج

ماہرینِ صحت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں موتیا کی تشخیص اور علاج کرانے سے بینائی کے مکمل طور پر بہتر ہونے کے امکانات رہتے ہیں۔ تاہم، اگر موتیا زیادہ بڑھ جائے تو سرجری نسبتاً مشکل ہو سکتی ہے۔ سرجری کے بعد انفیکشن کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
اسی لیے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ موتیا کی بروقت تشخیص کی جائے اور بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ہی مناسب علاج کروایا جائے، تاکہ بینائی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑اللہ کو اپنا بنا کر دیکھ، پھر کامیابی تیرے قدم چومے گی!*
*از قلم: حافظ جمیل صاحب اشاعتی*
بانی و ناظم، مدرسہ ریاض الجنہ، مالیگاؤں، ناسک، مہاراشٹر، الہند
انسان ساری زندگی کسی نہ کسی کو اپنا بنانے میں لگا رہتا ہے۔ کبھی لوگوں کی محبت کا طلب گار ہوتا ہے، کبھی دولت و شہرت کا، کبھی عزت و مقام کا۔ کسی کی تعریف اسے خوش کردیتی ہے اور کسی کی بے رخی دل توڑ دیتی ہے۔
مگر کبھی تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوچا ہے:
جس ذات کے ہاتھ میں عزت و ذلت، نفع و نقصان اور کامیابی و ناکامی سب کچھ ہے، کیا ہم نے اسے اپنا بنایا؟
وہ ذات اللہ تعالیٰ ہے۔
وہ رب جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری ضرورتوں کا انتظام فرمایا، ہماری لغزشوں پر پردہ ڈالا اور ہماری بے شمار کوتاہیوں کے باوجود اپنی رحمت کا دروازہ کھلا رکھا۔
بس ایک بار اللہ کو اپنا بنا کر دیکھو، پھر دیکھو زندگی کا رخ کیسے بدلتا ہے!
🌿 اللہ سے محبت، ایمان کی روح ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ﴾
"اور ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔"
(سورۃ البقرۃ: 165)
اللہ کو اپنا بنانا صرف زبان سے محبت کا دعویٰ نہیں، بلکہ دل میں محبت اور زندگی میں اطاعت کا نام ہے۔
نماز میں اللہ کا حکم مقدم ہو، معاملات میں اس کا خوف ہو، نعمت میں شکر ہو، مصیبت میں اسی سے امید ہو اور تنہائی میں بھی یہ احساس زندہ ہو:
"میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔"
🌸 تم اللہ کو یاد کرو، اللہ تمہیں یاد کرے گا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾
"تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔"
(سورۃ البقرۃ: 152)
ذرا سوچو!
ایک کمزور بندہ اپنے رب کو یاد کرے اور رب العالمین فرمائے: میں تمہیں یاد کروں گا!
دنیا میں کسی بڑے شخص کی نظرِ عنایت انسان کے لیے باعثِ فخر ہوسکتی ہے، لیکن جس بندے کو اللہ یاد فرمائے، اس سے بڑھ کر خوش نصیب کون ہوسکتا ہے؟
دنیا کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ بندہ اللہ کو یاد کرے اور اللہ اسے یاد فرمائے۔
💔 دل ٹوٹ جائے تو اللہ کے پاس جاؤ
انسان کبھی لوگوں کے درمیان رہ کر بھی تنہا ہوجاتا ہے۔ دل میں بہت کچھ ہوتا ہے، مگر کسی سے کہہ نہیں پاتا۔
مگر اللہ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ﴾
"اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔"
(سورۃ البقرۃ: 186)
اور حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرماتے ہیں، اور جب بندہ اسے یاد کرتا ہے تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
(صحیح البخاری: 7405، صحیح مسلم: 2675)
تو پھر دل کی پریشانی لے کر ہر دروازے پر کیوں جاؤ؟ اپنے رب کے سامنے اپنا دل کھول کر دیکھو۔
🤲 اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاؤ
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل فرمایا:
"جب میرا بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں، اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔"
(صحیح البخاری: 7405، صحیح مسلم: 2675)
کتنی امید بھری بات ہے!
گناہوں میں زندگی گزر گئی ہو، پھر بھی واپسی کا راستہ باقی ہے۔ نماز میں کمزوری رہی ہو، آج سے سنبھلا جاسکتا ہے۔ قرآن سے دوری رہی ہو، آج سے تعلق جوڑا جاسکتا ہے۔
گناہوں کی طرف نہیں، اللہ کی طرف رخ بدلنے کی ضرورت ہے۔
❤️ اللہ سے محبت کی علامت اتباعِ رسول ﷺ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾
"اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔"
(سورۃ آل عمران: 31)
معلوم ہوا کہ اللہ کی محبت صرف جذبات کا نام نہیں؛ اتباعِ رسول ﷺ اس محبت کی عملی علامت ہے۔
نماز، اخلاق، معاملات، گھر، کاروبار اور زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ رسول ﷺ کو اپنانا ہی سچی محبت کا راستہ ہے۔
اللہ کی محبت کا دعویٰ ہو تو زندگی میں سنتِ رسول ﷺ کا رنگ بھی ہونا چاہیے۔
🌧️ گناہ ہوجائے تو واپس آؤ
انسان خطا کا پتلا ہے، مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ﴾
"بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"
(سورۃ البقرۃ: 222)
اس لیے گناہ کے بعد مایوس نہ ہو۔
گر گئے ہو تو اٹھو، بھٹک گئے ہو تو لوٹ آؤ، دور ہوگئے ہو تو اپنے رب کے قریب ہوجاؤ۔
گناہ تمہیں اللہ سے دور کرنے کا سبب نہ بنے؛ توبہ تمہیں اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو؛ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
🌍 اپنی خوشی لوگوں کے ہاتھ میں مت دو
ہم اپنی عزت، خوشی اور سکون لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ کسی نے تعریف کی تو خوش، کسی نے نظر انداز کیا تو پریشان؛ کسی نے ساتھ دیا تو مطمئن، کسی نے چھوڑا تو دل ٹوٹ گیا۔
مگر جب دل اللہ سے جڑ جاتا ہے تو انسان سمجھ لیتا ہے:
"میری اصل قدر لوگوں کی نظر میں نہیں، میرے رب کی نظر میں ہے۔"
قرآن کہتا ہے:
﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾
"عزت اللہ ہی کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور مؤمنوں کے لیے ہے۔"
(سورۃ المنافقون: 8)
اس لیے ہر دروازے پر اپنی قدر تلاش نہ کرو۔
اپنے رب کو راضی کرلو؛ لوگوں کی رضا خود بخود چھوٹی لگنے لگے گی۔
🏆 اصل کامیابی کیا ہے؟
دنیا نے کامیابی کا معیار مال، مکان، عہدہ، شہرت اور کاروبار کو بنا دیا ہے۔
مگر قرآن کہتا ہے:
﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾
"جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہی کامیاب ہوا۔"
(سورۃ آل عمران: 185)
دنیا کی کامیابی چند روزہ ہے، اللہ کی رضا ہمیشہ کی کامیابی ہے۔
دنیا تمہارے خلاف ہوجائے مگر اللہ تم سے راضی ہو تو تم کامیاب ہو؛ اور دنیا تمہیں کامیاب کہے مگر اللہ تم سے ناراض ہو تو پھر سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں۔
🌱 آج سے ایک نیا سفر شروع کرو
آج سے نماز سنوارو۔
قرآن سے تعلق جوڑو۔
گناہوں سے بچو۔
غلطی ہوجائے تو فوراً توبہ کرو۔
والدین اور بندوں کے حقوق ادا کرو۔
تنہائی میں بھی اللہ کو یاد رکھو۔
اور ہر کام سے پہلے اپنے دل سے پوچھو:
"کیا میرا اللہ اس کام سے راضی ہوگا؟"
یاد رکھو:
اللہ کو اپنا بنانے کے لیے دنیا چھوڑنا ضروری نہیں؛ دنیا کو دل کا مالک بننے سے روکنا ضروری ہے۔
ہاتھ میں دنیا ہو تو کوئی حرج نہیں، دل میں اللہ ہونا چاہیے۔
🌙 بس ایک بار کرکے دیکھو!
رات کی تنہائی میں وضو کرو، دو رکعت نماز پڑھو اور اپنے رب کے سامنے دل کھول کر دعا کرو۔
اپنی پریشانی اسے بتاؤ۔
اپنی کمزوری اسے بتاؤ۔
اپنا گناہ اسے بتاؤ۔
اپنی ضرورت اس سے مانگو۔
اور یقین رکھو:
وہ سن رہا ہے، وہ دیکھ رہا ہے، وہ جانتا ہے۔
ہر مشکل فوراً ختم ہوجائے، یہ ضروری نہیں؛ لیکن مشکل میں دل نہیں ٹوٹے گا۔
ہر دعا فوراً پوری ہوجائے، یہ ضروری نہیں؛ لیکن دعا سے امید نہیں ٹوٹے گی۔
ہر انسان ساتھ دے، یہ ضروری نہیں؛ لیکن دل کو یہ یقین رہے گا کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے اور میری حالت سے باخبر ہے۔
✨ بس ایک کام کرکے دیکھو!
اللہ کو اپنا بنا کر دیکھ…
اپنی نماز سنوار کر دیکھ۔
اپنا قرآن سنوار کر دیکھ۔
اپنا دل سنوار کر دیکھ۔
اپنی توبہ سچی کرکے دیکھ۔
اپنی زندگی اللہ کے حوالے کرکے دیکھ۔
پھر دیکھنا، دل کو وہ سکون ملے گا جو دولت نہیں دے سکتی،
وہ اطمینان ملے گا جو شہرت نہیں دے سکتی،
اور وہ عزت ملے گی جو دنیا کی تعریف نہیں دے سکتی۔
**اللہ کو اپنا بنا کر دیکھ،
پھر کامیابی تیرے قدم چومے گی، ان شاء اللہ!**
🤲 دعا
اے اللہ! ہمیں اپنا بنا لے، اپنی محبت عطا فرما، اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے زندہ فرما، اور جب دنیا سے رخصت فرما تو اس حال میں کہ تو ہم سے راضی ہو اور ہم تجھ سے راضی ہوں۔
آمین یا رب العالمین۔







*🛑راشٹروادی کانگریس پارٹی شرد چندر پوار صاحب کے غیر منظم کامگار سیل کے مہاراشٹر کے صدر غیاث الدین انصاری صاحب نے مالیگاؤں شہر کے لئے رئیس احمد محمد حفیظ انصاری صاحب کو مالیگاؤں شہر راشٹروادی وادی کانگریس پارٹی کے صدر کا لیٹر تفویض کیا۔*
ساتھ ہی ساتھ پارٹی کے کاموں کو اور پارٹی کی جانب سے کی جانے والی تحریک اور عوامی مفادات کے کاموں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انصاری غیاث الدین صاحب نے مالیگاؤں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے جاری انڈر گراونڈ گٹروں کے ٹھیکیدار کے خلاف چلائی جانے والی عوامی مفادات کی تحریک کے تعلق سے ستائیس کرتے ہوئے ضروری معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ جناب شرد چندر پوار صاحب سے ملاقات کرتے ہوئے انڈر گراونڈ گٹروں کی وجہ سے عوامی تکالیف اور خراب راستوں کی درستگی کے لیے نمائندگی کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت پر زور دیا 
لہذا مالیگاؤں شہر کہ تمام ھی دوست احباب ہمدردوں آور پارٹی کے کارکنوں سے معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہر کا یہ اہم مسئلہ حل ہو اس طرح کی گزارش سلیم رضوی صاحب صدر راشٹروادی کانگریس پارٹی شرد چندر پوار صاحب نے کی ہے۔








*🛑برکس سمٹ میں شرکت کیلئے شی جن پنگ پہنچے دہلی، 7 سال بعد ہندوستان کا دورہ*
برکس سمٹ 2026 کا آغاز ہو چکا ہے۔ ولادیمیر پوتن جمعہ کو ہی ہندوستان پہنچ گئے تھے۔ اب چین کے صدر شی جن پنگ بھی آج ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔ شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آج یعنی ہفتہ کو نئی دہلی پہنچے۔ شی جن پنگ کا طیارہ پالَم ایئرپورٹ پر اترا۔ سات سال میں ہندوستان کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ شی جن پنگ آخری مرتبہ 2019 میں ہندوستان آئے تھے۔ سال 2020 میں گلوان میں ہوئی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ آج ہی شی جن پنگ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات بھی ہوگی۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی سب سے اہم اعلیٰ سطحی ملاقات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ برکس سمٹ کی سب سے طاقتور تصویر دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

شی جن پنگ کچھ دیر میں بھارت منڈپم جائیں گے، جہاں وہ برکس سمٹ میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان کی ملاقات بھی آج شام ہوگی۔ شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 11 ارکان پر مشتمل اس گروپ کو مشکل عالمی حالات کا سامنا ہے۔ برکس سمٹ 12 ستمبر سے 13 ستمبر تک جاری رہے گا۔ دو روزہ اس سربراہی اجلاس میں مغربی ایشیا اور یوکرین میں جاری تنازعات، تجارت سے متعلق کشیدگی اور توانائی کی سلامتی جیسے امور پر خصوصی طور پر تبادلۂ خیال ہونے کی توقع ہے۔شی جن پنگ کا ہندوستان دورہ کیوں اہم ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ برکس سمٹ 2026 کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان دو طرفہ ملاقات بھی ہوگی۔ شی جن پنگ اور مودی کی ملاقات آج شام 5 بج کر 45 منٹ پر ہوگی۔ شی جن پنگ کا یہ ہندوستان دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان اور چین 2020 میں ہوئی مہلک گلوان جھڑپوں کے بعد اپنے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوستان بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی مسلسل ترقی اور پیش رفت کے لیے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنا ایک بنیادی شرط ہے۔آخری بار کہاں ہوئی تھی بات چیت؟
حال ہی میں بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان مختصر گفتگو ہوئی تھی۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ یہ دونوں رہنما نئی دہلی میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے دوران تفصیلی دو طرفہ بات چیت کریں گے۔

Wednesday, 9 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی*

مالیگاؤں:
مالیگاؤں میں بجلی کی فراہمی پر مامور پرائیویٹ فرینچائزی مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ (MPSL) کی 7 سالہ مسلسل نااہلی، خستہ حال انفراسٹرکچر اور بنکروں کے معاشی استحصال کے خلاف درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی کی جانب سے حکومتِ مہاراشٹرا کی اقلیتی کمیٹی کے نمائندے جناب ضیاء پیارے خان صاحب کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھرش سمیتی کے سیکریٹری محمد عمیر شمشاد علی (عمیر انصاری) نے کہا کہ ایم پی ایس ایل کو آئے 7 سال ہو چکے ہیں، لیکن کمپنی نے D.F.A. (فرینچائزی معاہدے) کی تمام شرطوں کو پامال کر دیا ہے۔

*اہم اعتراضات و حقائق:*
 * انفراسٹرکچر کی ناکامی: 7 سال میں نہ نئے سب اسٹیشنز بنے اور نہ انفراسٹرکچر سدھرا۔ تمام فیڈرز اوور لوڈ ہیں اور ٹرانسفارمرز کے نااہل نظام سے بنکروں کی موٹریں جل رہی ہیں۔

 * میٹروں کی بار بار تبدیلی و بلاوجہ کے کیسز: 7 سالوں میں 5 مرتبہ میٹر بدلے گئے۔ کوٹیشن اور فیس بھرنے کے باوجود مہینوں نیا میٹر نہیں دیا جاتا، اور پھر انہی جگہوں پر غیر قانونی چوری (Section 135) کے بھاری بل بنا کر بنکروں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔

 * 57 اموات و قانون کی خلاف ورزی: خستہ حال تاروں اور کھلے ٹرانسفارمرز کی وجہ سے 7 سال میں 57 افراد کرنٹ لگنے سے جان بحق ہوئے۔ الیکٹرسٹی ایکٹ کی دفعہ 56(1) کے تحت 15 دن کا نوٹس دیے بغیر بجلی کاٹنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
حکومت سے بنیادی مطالبات:

 * حکومت ایم پی ایس ایل انتظامیہ سے ان تمام ناکامیوں اور D.F.A. کی خلاف ورزیوں پر تحریری جواب (Written Response) طلب کرے۔

 * بنکروں کو بلوں میں کم از کم 50% جزوی ادائیگی اور 3 سے 4 اقساط کی سہولت دی جائے۔

 * اگر کمپنی تسلی بخش جواب نہ دے، تو حکومت اس فرینچائزی معاہدے (DFA) کو فوراً منسوخ (Terminate) کرے۔


محمد عمیر شمشاد علی (عمیر انصاری)
سیکریٹری: درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی، مالیگاؤں







*🛑سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، 24 قیراط سونا 1.52 لاکھ روپے فی 10 گرام*
حیدرآباد: بھارتی صرافہ بازار میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ عالمی بازاروں سے ملنے والے کمزور اشاروں اور گھریلو سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصولی کے باعث آج صبح ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج اور انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن دونوں پر قیمتی دھاتیں سرخ نشان کے ساتھ کھلیں۔

آئی بی جے اے کے مطابق آج 24 قیراط خالص سونے کی اسپاٹ قیمت 1,52,880 روپے فی 10 گرام ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 460 روپے کی کمی ہے۔ وہیں صنعتی طلب میں سست روی کے باعث چاندی کی قیمت پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔ بازار میں چاندی کی قیمت 2,36,770 روپے فی کلوگرام کی سطح پر کھلی، جس میں 400 روپے کی معمولی کمی درج کی گئی۔خالصیت کے لحاظ سے قیمتیں

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری صبح کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف خالصیت کے سونے کے بینچ مارک ریٹس یہ ہیں:

24 قیراط سونا (999 خالصیت): 1,52,880 روپے فی 10 گرام

22 قیراط سونا (916 خالصیت): 1,40,040 روپے فی 10 گرام

18 قیراط سونا (750 خالصیت): 1,14,660 روپے فی 10 گرام

فائن چاندی (999 خالصیت): 2,36,770 روپے فی کلوگرام

بڑے بھارتی شہروں میں آج سونے کی قیمت

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف بڑے شہروں میں 24 قیراط اور 22 قیراط سونے کی خوردہ قیمتیں درج ذیل رہیں۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کموڈیٹی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کی آئندہ میٹنگ پر ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث فیڈرل ریزرو شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں معمولی اضافے کے بعد دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کی رائے

مارکیٹ کے بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، لیکن طویل مدت میں ان میں مضبوطی برقرار رہ سکتی ہے۔ گولڈمین سیکس سے لے کر رابرٹ کیوساکی تک کئی ماہرین بھی سونے اور چاندی کے حوالے سے ایسی ہی پیش گوئیاں کر چکے ہیں۔







*🛑روزمرہ کی یہ عادتیں دماغ کو پہنچا سکتی ہیں نقصان، ماہرین نے بتائے بچاؤ کے طریقے*
ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادتیں ہمارے دماغ کی ساخت اور کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں سائنسی زبان میں اسے نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) کہا جاتا ہے، یعنی ہمارا دماغ ہمارے تجربات اور معمولات کے مطابق مسلسل خود کو ڈھالتا رہتا ہے۔ تاہم کئی عادتیں ایسی ہیں جو انجانے میں ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی تبدیلیوں کے ذریعے ان اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کون سی عادتیں دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور ان میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔

نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد قدرتی روشنی میں جائیں

ماہرین کے مطابق صبح کی قدرتی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی یعنی انٹرنل کلاک کو درست رکھنے اور دن بھر چوکنا رہنے میں مدد دیتی ہے۔ بیدار ہونے کے بعد پہلے گھنٹے میں اندھیرے یا مصنوعی روشنی میں گھر کے اندر رہنے سے دماغ کی قدرتی حیاتیاتی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سوچنے کی رفتار اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔

کیا کریں:

صبح اٹھنے کے فوراً بعد کچھ دیر چہل قدمی کے لیے باہر نکلیں یا 5 سے 10 منٹ تک دھوپ میں رہیں۔ ماہرین کے مطابق بادل چھائے ہونے کے باوجود قدرتی روشنی دماغ کو متحرک رکھنے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

فون پر مسلسل اسکرولنگ سے گریز کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار ایپس تبدیل کرنا اور مسلسل فون اسکرول کرتے رہنا دماغ کی توجہ کو محدود کر دیتا ہے۔ جب ہم چند سیکنڈز کے اندر مختلف ایپس یا مواد تبدیل کرتے رہتے ہیں تو دماغ کسی ایک کام پر گہری توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عادت یادداشت کو متاثر کرنے کے ساتھ ذہنی تھکن اور تناؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

کیا کریں: ماہرین ’بیچ اسکرولنگ‘ کا طریقہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دن بھر بار بار فون چیک کرنے کے بجائے سوشل میڈیا ایپس کو مخصوص اوقات میں، مثلاً ہر تین گھنٹے بعد، دیکھیں۔ اس طرح درمیان کے وقت میں دماغ کو پوری توجہ کے ساتھ کام کرنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔

رات دیر سے کھانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے

ماہرین کے مطابق رات دیر سے کھانا کھانے سے جسم کو اس وقت بھی ہاضمے کے عمل میں مصروف رہنا پڑتا ہے، جب دماغ اور جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے گہری نیند کے دوران دن بھر سیکھی گئی معلومات کو یادداشت میں تبدیل کرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور صبح اٹھنے پر ذہنی تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق رات دیر سے کھانے سے ڈوپامین کے قدرتی ردھم میں بھی خلل پڑ سکتا ہے۔

کیا کریں: ماہرین رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹے کا وقفہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سونے سے قبل کیمومائل چائے یا ہلدی والا دودھ جیسے گرم مشروبات ذہن کو پرسکون کرنے اور بہتر نیند میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تناؤ میں مبتلا رہنے کے بجائے وجہ سمجھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجہ کو سمجھے بغیر اسے مسلسل دبانے سے دماغ کے ’بقا کا نظام‘ طویل عرصے تک غیر ضروری طور پر متحرک رہ سکتا ہے۔ جب دماغ کسی مخصوص جذبات کو درست طور پر شناخت نہیں کر پاتا تو وہ اردگرد ہونے والے معمولی واقعات کو بھی خطرے کے طور پر دیکھ سکتا ہے، جس سے مسلسل بے چینی برقرار رہتی ہے۔

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق تناؤ کی صورت میں ایڈرینل غدود زیادہ مقدار میں کورٹیسول پیدا اور خارج کر سکتے ہیں، جس کا یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

کیا کریں:

ماہرین کے مطابق تناؤ کی اصل وجہ کو پہچاننا ضروری ہے، خواہ وہ غصہ، بے چینی یا احساسِ جرم ہو۔ اپنے جذبات کو واضح طور پر شناخت کرنے سے دماغ کے امیگڈالا حصے کی سرگرمی کو سمجھنے اور تناؤ کے ردعمل کو منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امیگڈالا دماغ کا وہ حصہ ہے جو خوف اور تناؤ کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کام کے دوران چھوٹے چھوٹے وقفے لیتے رہیں

ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، جس سے ذہنی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صحت مند افراد میں بھی مسلسل ایک گھنٹے تک بغیر حرکت کیے بیٹھنے سے ذہنی دھند یعنی ’برین فوگ‘ اور ذہنی الجھن محسوس ہو سکتی ہے۔

کیا کریں:

ہر گھنٹے کے بعد چند منٹ کے لیے اٹھیں، جسم کو اسٹریچ کریں یا تھوڑی دیر چہل قدمی کریں۔ معمولی سی جسمانی حرکت بھی جسم اور دماغ کو تازگی فراہم کرنے، توجہ بہتر بنانے اور ذہنی کارکردگی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’بھاگ سکتے ہو، بچ نہیں سکتے...‘ کشمیر میں لشکر طیبہ کو بڑا جھٹکا، آپریشن اشدر میں پاکستانی کمانڈر یاسر ڈھیر* جمو...