Thursday, 18 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر
آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحانات کو ایک سال باقی ہے ـ ابھی سے کیوں ان کو نصیحت فضیحت کی جائے ؟ابھی مزید ایک سال انھیں مٹر گشتی ،کھیل کود اور موج مستی کرلینے دیں ـ یہی سوچ طلبہ اور سرپرستوں کی ہوتی ہے ـ چند برسوں پہلے تک ایسا معاملہ چل جاتا تھا لیکن فی زمانہ مقابلہ اتنازیادہ بڑھ چکا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی اور کامرانی کے لیے لانگ ٹرم منصوبہ بندی اور سنجیدگی ضروری ہے ـ اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں تو آپ کو برسوں پہلے سے پلاننگ کرنی ہوگی ـ اور اس کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوشش بھی کرنی ہوگی تب ہی آپ اور آپ کا بچہ عملی زندگی میں کامیاب ہوگا ـ
دسویں جماعت میں سرخرو ہونا ہے تو اس کے لیے کوشش آٹھویں، نویں جماعت سےشروع کرنی چاہیے ـ لیکن اگر آپ نے کئی برس گنوا دیے ہیں اور آپ اس وقت نویں جماعت میں زیر ِ تع


لیم ہیں تو ابھی سے دسویں جماعت کی تیاری شروع کردیں ـ دسویں کی تیاری کے لیے یہ موزوں ترین وقت ہے ـ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ـ روزانہ دو تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھائی کریں ـ تمام مضامین کی بنیادی باتیں سمجھیں ـ اپنا کانسپٹ کلیئر کریں ـ جو بات سمجھ میں نہ آئے بلا کسی تکلف و تردد کے اساتذۂ کرام سے بار بار پوچھیں ـ سوالات کرنے میں بالکل بھی جھجک محسوس نہ کریں ـ جو سوالات کرتا ہے وہ سیکھتا ہے ـ اسکول میں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو گھر پر اپنے والدین اور سرپرستوں سے پوچھیں ـ
کچھ بنیادی باتیں، ضابطے، پہاڑے، گرامر، مضمون نگاری ، مکتوب نگاری، اشتہار سازی، خاکے کی مدد سے کہانی لکھنا، اقتباس پڑھ کر سوالوں کے جوابات لکھنا، اشعار کی تشریح کرنا وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق یاد کرنے کی بجائے عملی مشق سے ہے ـ مذکورہ عناوین اور ان سے ملتے جلتے موضوعات کی تیاری آپ ابھی سے شروع کردیں ـ مشہور مصنفین،شعرا اور اصناف کی بنیادی معلومات کو جمع کریں اور یاد کریں ـ صنعتوں کی تعریف اور ان کی مثال کے لیے اشعار، محاوروں اور کہاوتوں کے معنی اور ان کا جملوں میں درست استعمال کرنے کی مشق کریں ـ پہاڑوں کے ساتھ کسوٹیاں اور ضابطے یاد کریں ـ انگریزی گرامر کی مشق کریں ـ غیر نصابی کتابیں، اخبارات اور رسائل کا بھی مطالعہ کریں ـ خوش خطی، زبانی امتحان ،انٹرویو اور پریکٹیکل وغیرہ کی تیاری پر ابھی سے توجہ دیں ـ 
نویں جماعت کے امتحانی پرچوں کو حل کریں ـ ان کا تجزیہ کریں کہ کس قسم کے سوالات پوچھے جاتے ہیں ـ ایک ہی سوال کو مختلف انداز سے کس طرح امتحان میں پوچھا جاتا ہے؟ اس کو نوٹ کریں ـ اپنے اساتذۂ کرام اور سرپرستوں کی رہنمائی میں آپ مصنوعی ذہانت کی بھی مدد لے سکتے ہیں اور اپنی تیاری کو بہتر بناسکتے ہیں ـ رہی بات موبائل کا استعمال اور اسکرین ٹائم کم کرنے کی ،تو اس کار ِ خیر کے لیے آپ کو کسی نصیحت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ـ اپنی صحت اور غذا پر بھی توجہ دیں ـ صحت بخش اور متوازن غذا استعمال کریں ـ ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتے رہیں ـ پڑھائی کے ایام میں بھرپور نیند لیں ـ اکثر طلبہ امتحان کے ایام میں بہت زیادہ جاگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہوجاتی ہے ـ 
دسویں جماعت میں آپ کتنے فیصد مارکس حاصل کرنے ہیں ، یہ نویں جماعت میں ہی طے کرلیں ـ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اپنا گول یعنی مقصد طے نہیں کرتے ـ بس دوستوں اور سہیلیوں کی دیکھا دیکھی اختیاری مضامین، کوچنگ کلاسز کا انتخاب اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ـ آپ کو دسویں جماعت کی بنیاد نویں کلاس میں ہی رکھنی ہے، تب ہی آپ دسویں جماعت میں نمایاں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، کیوں کہ ہر طالب علم کی صلاحیت ،حالات اور پسند و ناپسند مختلف ہوتی ہے ـ اسی کے مطابق ہمیں اسکول، مضمون اور کلاس کا انتخاب کرنا چاہیے ـ آپ نویں جماعت میں تو یہ سب تبدیل نہیں کرسکتے لیکن اگر ابھی سے محنت شروع کردیں اور مستقل مزاجی سے مسلسل محنت کرتے رہیں تو دسویں جماعت میں آپ کا تعلیمی معیار بلند ہوسکتا ہے ـ آپ کا دسویں جماعت کا رزلٹ بہتر ہوسکتا ہے اور مستقبل روشن ہوسکتا ہے ـ بس شرط یہ ہے کہ آپ نویں جماعت میں سستی اور دھینگا مستی کی بجائے ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھائی پر دھیان دیں ـ یاد رکھیں کہ ساری کوشش، محنت، بھاگ دوڑ اور تگ و دو ،نویں اور دسویں کے امتحان سے پہلے تک ہے ـ آپ امتحان سے پہلے جتنی محنت کریں گے اتنا ہی آپ کا رزلٹ بہتر ہوگا ـ ہر ہفتے یا مہینے اس بات کا جائزہ بھی لیں کہ آپ نے اپنی ہی کی ہوئی منصوبہ بندی پر کتنا عمل کیا؟ اور کہاں آپ کمزور پڑ رہے ہیں؟ اپنی کمزوریوں پر قابو پاتے ہوئے منصوبہ بندی اور ٹائم ٹیبل میں آپ مناسب تبدیلی بھی کرسکتے ہیں ـ
رزلٹ کے بعد کم مارکس ملنے پر آپ کے حیلے بہانے ، رونا دھونا اور بھاگ دوڑ آپ کے رزلٹ کو بہتر نہیں بناسکتی ـ اس لیے ابھی وقت ہے، ابھی سے پڑھائی اور اپنے مستقبل کو سنوارنے میں جٹ جائیں ـ یاد رکھیں کہ دسویں جماعت کا رزلٹ ایک سال میں یا صرف امتحان کے وقت تیار نہیں ہوتا بلکہ نویں جماعت کے ان ہی ایام میں تشکیل پاتا ہے ـ آج کی محنت کا پھل کل کامیابی کی صورت میں آپ کے سامنے ہوگا ـ







کسماگرج پرتسٹھان (ناسک) کی جانب سے ڈاکٹر بشیر بدر کو شاندار خراجِ عقیدت
ناسک (نامہ نگار):
۱۰ جون بروز بدھ شام ۶ بجے ناسک میں کسماگرج پرتسٹھان کے زیرِ اہتمام اردو کے عظیم شاعر، غزل کے معتبر اور مقبول ترین فنکار ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں ایک پُروقار تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرحوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اس تعزیتی تقریب کی صدارت جناب جاوید انصاری (آکاش وانی) نے فرمائی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا، ایڈوکیٹ ولاس لوناری (رکن و ٹرسٹی کسماگرج پرتسٹھان) سمیت دیگر معزز شخصیات اسٹیج پر موجود تھیں۔
صدرِ جلسہ جناب جاوید انصاری نے ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہد کے سب سے معتبر اور ہر دلعزیز غزل گو شاعر تھے۔ انہوں نے مالیگاؤں، جلگاؤں اور بھوپال میں ڈاکٹر بشیر بدر سے ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادبی سرمایہ سمجھے جانے والے بزرگوں کے آخری ایام میں ان سے جس طرح کی ہمدردی اور وابستگی کا اظہار ہونا چاہیے، وہ نظر نہیں آتا، جو ہم سب کے لیے ایک اہم سوال اور لمحۂ فکریہ ہے۔
محبِ اردو اور معروف قانون داں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان اور ادب سے ان کی محبت کا پہلا زینہ ڈاکٹر بشیر بدر کی شاعری رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مرحوم کے خوبصورت اور فکر انگیز اشعار سے بے حد متاثر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بشیر بدر کے متعدد اشعار سنائے اور کہا کہ ان کے کلام میں پوشیدہ پیغام کو عوام تک پہنچانا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔
ایڈوکیٹ بھتڑا نے کسماگرج پرتسٹھان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے مراٹھی ادب کے ساتھ ساتھ اردو کے اس عظیم شاعر کی یاد میں تعزیتی جلسہ منعقد کرکے قابلِ ستائش مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ادارے کی جانب سے اردو ادبی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا رہے۔
کسماگرج پرتسٹھان کے ٹرسٹی ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مراٹھی شعرا کے ساتھ ساتھ اردو اور ہندی کے ممتاز شعرا سے بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ڈاکٹر بشیر بدر کے کلام سے خصوصی طور پر متاثر رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مرحوم کے متعدد مقبول اشعار بھی سامعین کی نذر کیے۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر بشیر بدر کی اہلیہ محترمہ راحت بدر کا خصوصی پیغام بھی سنایا گیا، جس میں انہوں نے کسماگرج پرتسٹھان اور تمام منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ اس پروگرام کو سراہا۔
تقریب کے آخری مرحلے میں ناسک شہر کے غزل سنگر راجیش بھالے راؤ اور سنجئے باون کڑے نے ڈاکٹر بشیر بدر کے منتخب کلام کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
اس یادگار تعزیتی محفل کی نظامت ایڈوکیٹ زبیر سوداگر نے نہایت خوش اسلوبی اور مؤثر انداز میں انجام دی۔ پرتسٹھان کے آڈیٹوریم میں مراٹھی اور اردو ادب سے وابستہ شعراء، ادباء، دانشوروں اور ادب دوست حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جس میں ناسک بار کونسل کے صدر ایڈوکیٹ نتن ٹھاکرے،معروف مراٹھی شاعر ارون مہاترے،پرشانت کیندڑے،صنعتکار سنجے پٹیل، گلوکارہ راگینی کامٹھیکر،شاعر ارشاد وسیم و ریاض شیخ وغیرہ موجود تھے۔
آخر میں ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے رسمِ شکریہ ادا کی، جس کے ساتھ یہ باوقار اور یادگار تعزیتی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔





خلیل ہائی اسکول سے رضاپورہ تک روڈ آخر کب تعمیر ہوگی؟ روڈ ہے یا وبال جان ؟ کیا سیاسی لیڈران اس روڈ پر کسی انسانی جان جانے اور بڑے حادثے کے انتظار میں ہے؟ 
گذشتہ تین سالوں سے پرشاسک (کمشنر ) راج تھا کہیں نہ کہیں روڈ راستے تعمیر ہورہے تھے۔ اسی دوران تقریبا" آج سے 8 مہینہ پہلے کمشنر نے اس روڈ کی تعمیر کے لئے 1 کروڑ کا فنڈ منظور کیا تھا۔ مگر روڈ سے پہلے انڈر گراونڈ ڈرینج کا کام ہو اسکے لئے روڈ کی تعمیر رک گئی ۔ انڈر گراونڈ ڈرینج کے بعد ٹھیکدار کی ٹال مٹولی جاری تھی کہ کارپوریشن الیکشن کا اچار سہیتہ لگ گیا۔جس سے روڈ کا کام زیر التوا کا شکار ہوگیا۔ اب سوال یہ ہیکہ شہر بھر میں روڈ راستے کی تعمیر کا ٹھیکہ جو لوگ لیتے ہیں وہ کون ہے کسی کو بتانے کی ضروت نہیں یہ پورا شہر جانتا ہے۔ خیر الیکشن ہوگیا کارپوریشن اقتدار میں کون لوگ براجمان ہوئے یہ بھی شہر نے دیکھا۔ مگر اس روڈ کا سابقہ 1 کروڑ کا فنڈ زمین کھاگئی یا آسمان ، روڈ کاغذ پر بن گئی اور بل نکل گیا، کون مل بانٹ کر کھایا؟ اللہ کو حساب تو بحرحال دیگا۔ اس روڈ کے اطراف کے تمام ہی راہ گیروں کا سوال یہی رہا کہ آخر کہاں گیا عوام کی جیب سے نکلا ہوا ٹیکس کی شکل میں روپیہ پیسہ اور کہاں گیا اس روڈ کا فنڈ؟ کون کون مل بانٹ کر کھالئے؟ رہی بات آج کے برسراقتدار کی انہوں نے 122 کروڑ کے بجٹ میں اس روڈ کا دوبارہ 2 کروڑ کا فنڈ پھر سے منظور کئے۔ اللہ کی پناہ کہ روڈ پہلے بنی نہیں اور 1 کروڑ کا بل نکل گیا۔ اب دوبارہ 2 کروڑ منظور ہوا۔ مگر اب بھی ٹھیکدار ٹال مٹول اور جھوٹی باتیں کرریے ہیں۔ بس یہ سننے میں آتا کہ بقرعید بعد شروع ہوجائے گا۔ فلاں ہفتہ فلاں دن شروع ہوجائے گا۔ مگر انہیں یہ شرم نہیں آتی کہ یہ روڈ کی حالت کیا سے کیا ہورہی ہے۔ روڈ پر سواری تو کیا پیدل چلنا دوبھر ہوا ہے۔ مگر نہ آج کے برسراقتدار کو فکر ہے نہ ہی انکے مثیر خاص ٹھیکدار کو فکر ہے اور نہ ہی شہر کے ہر سیاسی لیڈران کو فکر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ روڈ اب وبال جان بن چکا ہے۔ یا پھر ہر سیاسی لیڈران اس اہم روڈ پر کسی انسانی جان جانے یا بڑے حادثے کے انتظار میں ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


اظہارِ تشکر
نشانِ ہند ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ "ایک شام مالیگاؤں کی محنت کش عوام کے نام" فری آل انڈیا مشاعرہ، مورخہ 12 جون 2026 بروز جمعہ، اسکس ہال مالیگاؤں میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
اس یادگار ادبی محفل میں شرکت فرما کر اسے کامیاب بنانے والے تمام معزز مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، سامعین، معزز شخصیات، میڈیا نمائندگان، سماجی کارکنان اور محنت کش عوام کا ہم دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
آپ حضرات کی بھرپور شرکت، محبت، حوصلہ افزائی اور تعاون نے اس مشاعرے کو ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب بنا دیا۔ بالخصوص ان تمام افراد اور اداروں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس پروگرام کے انعقاد میں کسی نہ کسی شکل میں تعاون فرمایا۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں آئندہ بھی ایسے ادبی، ثقافتی اور سماجی پروگراموں کے انعقاد کی توفیق عطا فرمائے۔

**قریشی مختار احمد**
سرپرست اعلیٰ :نشان ہند ٹرسٹ، مالیگاوں 

**یوسف رانا**
صدر، نشانِ ہند ٹرسٹ، مالیگاؤں
9004200983







عوامی حقوق کا محافظ اور تعلیم مافیا کے خلاف اعلان جنگ کرنے والا انجینئر شیخ جاوید انیس
*تحریر: اکرم صدیقی (صدر: انجمن ترقی فلاح و بہبود، دیانہ شیوار، مالیگاؤں)*
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 3 سے منتخب مقبول کارپوریٹر، محترم انجینئر شیخ جاوید انیس صاحب نے اپنے انتخاب کے پہلے ہی دن سے جس مخلصانہ اور عملی انداز میں عوامی خدمات کا بیڑا اٹھایا ہے، وہ پورے شہر کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ایک پڑھا لکھا اور مخلص نمائندہ جب اقتدار میں آتا ہے، تو وہ صرف سیاست نہیں کرتا بلکہ غریبوں کی طاقت بن جاتا ہے، جاوید انیس صاحب اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
*تعلیمی اور طبی میدان میں تاریخی خدمات:*
جاوید انیس صاحب نے ہمیشہ قومی مفاد اور تعلیمی نظام کی اصلاح کو ترجیح دی ہے۔ پچھلے دنوں جنرل بورڈ میٹنگ میں انہوں نے مالیگاؤں کے ان اساتذہ کا سنجیدہ معاملہ پوری قوت سے اٹھایا جو بیرونِ شہر برسرِ روزگار ہیں، اسی طرح دیانہ شیوار وارڈ نمبر 3 کے پسماندہ اور کچے علاقے کے غریب عوام کو ان کے گھر کے قریب ہی بہترین طبی امداد میسر ہو، اس کے لیے انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے *30 بیڈ کا سرکاری ہسپتال منظور کروایا*، جو اس علاقے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم ہے۔

*تعلیم مافیا کے خلاف اعلانِ جنگ اور حالیہ جرات مندانہ قدم:*
آج جاوید انیس صاحب نے ایک بار پھر غریبوں کے دل جیت لیے جب انہوں نے شہر کے "تعلیم مافیا" کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا۔ گورنمنٹ گرانٹیڈ (سرکاری امداد یافتہ) جونیئر کالجوں میں، جہاں غریب اور مزدور طبقے کے بچے پڑھتے ہیں اور جہاں سرکاری فیس محض چند سو روپے ہے، وہاں ایڈمیشن کے نام پر غریبوں سے5 ، 10 ،20 ہزار روپے کی غیر قانونی فیس لیکر غریب عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ،
جاوید انیس صاحب نے اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف نہ صرف شدید احتجاج کیا، بلکہ ایک نڈر لیڈر کی طرح کالج انتظامیہ اور ذمہ داران کو کھلی وارننگ دی ہے کہ یہ غیر قانونی کام فوراً بند کیا جائے اور غریبوں سے لیا گیا پیسہ واپس کیا جائے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو محکمہ جاتی سطح اور تعلیمی افسران (EO) سمیت وزیرِ تعلیم تک لے کر جائیں گے اور کسی بھی غریب بچوں کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ غریبوں، حمالوں اور پاورلوم مزدوروں کے بچوں کے مستقبل کے سچے محافظ ہیں۔
*ستائش و اعترافِ خدمات:*
ہم صدر و اراکین انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ بلا تفریق سیاست و نظریات کارپوریٹر انجینئر شیخ جاوید انیس صاحب کی اس عوامی، تعلیمی اور طبی بصیرت اور ان کے بے خوف جذبے کی دل کی گہرائیوں سے ستائش کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ وہ خلوص دل سے اسی طرح غریبوں مظلوموں کے حق کی لڑائی لڑتے رہے گے۔
انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ غریب عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں، ان کا یہ نمائندہ ان کے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ وہ جاوید انیس صاحب کو صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے، ان کی صلاحیتوں میں مزید برکت دے اور تعلیم مافیا کے خلاف شروع کی گئی اس مہم میں انہیں شاندار کامیابی عطا فرمائے۔ آمین!
منجانب : اکرم صدیقی ، ریاض منا ، جنید خان ، سہیل ماسٹر ، سمیر انصاری ، جنید جے ڈی ، بلال رچھ والا

ش ، ن ، الف 
انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ مالیگاؤں








*ٹی سی ایس کا ہوّا اور نوجوانوں میں ڈر*
*افواہوں سے بالاتر ہو کر ہنر کو بنائیں اپنی پہچان*
✍️ *وسیم رضا خان*
                              

حال ہی میں ناسک شہر کی ایک جانی مانی ملٹی نیشنل کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سے جڑا معاملہ کافی بحث میں رہا ہے۔ اس واقعے کو لے کر سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر کئی طرح کی باتیں کی گئیں، اسے الگ الگ رنگ دینے کی کوشش ہوئی اور کورٹ میں یہ معاملہ ابھی زیرِ سماعت ہے۔ اس دوران کچھ سماجی تنظیموں نے بھی قانونی اور اخلاقی طور پر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے، جسے معاشرے کا ایک سمجھدار طبقہ انصاف کی سمت میں اٹھائے گئے قدم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ لیکن اس پورے واقعے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس نے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک انجانا ڈر اور وہم پیدا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں کی وجہ سے کئی مسلم نوجوانوں کے دل میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا کارپوریٹ سیکٹر میں ان کے لیے راستے بند ہو رہے ہیں؟ کیا کمپنیاں اب کسی خاص نظریے سے ان کے ہنر کو پرکھیں گی؟
اگر ہم افواہوں کے بازار سے ہٹ کر ناسک اور ملک کی دیگر بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی زمینی حقیقت دیکھیں، تو تصویر بالکل الگ اور حوصلہ بڑھانے والی ہے۔ حال ہی میں مختلف کمپنیوں کے ایچ آر (HR) پروفیشنلز اور وہاں کام کر رہے نوجوانوں سے بات چیت میں یہ صاف ہوا ہے کہ کارپوریٹ دنیا آج بھی پوری طرح پروفیشنلزم پر چلتی ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں آج بھی صرف تین چیزیں اہمیت رکھتی ہیں—آپ کا تجربہ، کام کرنے کا طریقہ اور کام کو لے کر آپ کا جوش۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں کسی شخص کا مذہب، ذات یا پس منظر دیکھ کر نہیں، بلکہ اس کی اسکلز (Skills) دیکھ کر اسے نوکری دیتی ہیں۔ یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ کسی ایک تنازع کی وجہ سے پورے طبقے کے لیے مواقع ختم ہو جائیں گے۔ کمپنیوں کے دروازے ہر اس نوجوان کے لیے کھلے ہیں جس کے پاس ہنر ہے۔
کارپوریٹ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ہمت اور ہنر کے ساتھ ساتھ تھوڑی عملی سمجھ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں کو اپنے کام کی جگہ پر کچھ بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، تاکہ وہ کسی بھی طرح کی غلط فہمی یا تنازع سے بچے رہیں۔ آفس میں تمام ساتھیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ اور خوشگوار تعلقات رکھیں۔ حالانکہ، یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ آفس کی دوستی کا ایک دائرہ ہو۔ بہت زیادہ گہری دوستی یا خاندانی سطح تک رسائی کبھی کبھی انجانے میں پیشہ ورانہ مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ خاص طور پر خاتون ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کو ہمیشہ حد میں، باوقار اور پیشہ ورانہ بنائے رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی انہونی یا غلط فہمی کی گنجائش نہ رہے۔
دفتر صرف کام کے لیے ہوتا ہے۔ آفس کے ماحول میں مذہب، تہواروں، رسم و رواج یا مذہبی کتابوں سے جڑی حساس ابحاث سے پوری طرح دور رہیں۔ ہر کسی کا اپنا عقیدہ ہوتا ہے، اس لیے پیشہ ورانہ دائرے میں رہتے ہوئے صرف بزنس اور کام سے جڑی باتیں کرنا ہی سب سے محفوظ اور صحیح طریقہ ہے۔ اگر آپ کے جائے عمل یا اسٹاف میں دیگر خواتین ساتھی یا آپ کی کمیونٹی کی نوجوان لڑکیاں کام کر رہی ہیں، تو ایک ذمہ دار ساتھی کے ناطے ان کی حفاظت اور وقار کا احترام کریں۔ انہیں یہ بھروسہ دلائیں کہ اگر جائے عمل پر انہیں کسی بھی طرح کی بے چینی یا انہونی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ بلا جھجک بات کر سکتی ہیں اور اس کی شکایت ایچ آر یا مینجمنٹ سے کر سکتی ہیں۔
اس مضمون کے لکھنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ کسی بھی طرح کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنی ہمت اور اپنے ہنر کو ضائع نہ کرے۔ اگر آپ میں قابلیت ہے، تو ملک اور دنیا کی کوئی بھی بڑی کمپنی آپ کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ مایوسی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ جس بھی کمپنی میں آپ کام کرنا چاہتے ہیں، وہاں بلا جھجک اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی امیدواری درج کریں۔ اپنی توانائی کو افواہوں پر برباد کرنے کے بجائے اپنی اسکلز کو اپ گریڈ کرنے میں لگائیں۔ یاد رکھیں، آپ کی کامیابی ہی ہر اس طاقت کو سب سے بڑا جواب ہوگی جو نوجوانوں کو بے روزگار یا گمراہ دیکھنا چاہتی ہے۔ آپ کی محنت، آپ کی ایمانداری اور آپ کا ہنر ہی آپ کی اصل پہچان ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بارش میں نہانا بالوں اور جِلد کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟
جانے چارلی چیپلن سے یہ سوال کہ ’بارش میں نہانے کا کا فادہ ہے؟‘ پوچھا گیا تھا یا پھر اس شاعر سے، جس نے ان کے مشہور قول کو کچھ یوں اردو میں شعری شکل دی.
بارش میں بھیگتے ہوئے رونے کا فائدہ
آنسو میرے کسی کو دکھائی نہیں دیے
مگر ایک بات عیاں ہے کہ بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ کچھ لوگوں کا دل باہر نکل کر بھیگنے کو کرتا ہے جبکہ کچھ اندر کی طرف بھاگتے ہیں یعنی کہ بارش میں بھیگنے کا معاملہ بھی اپنی اپنی پسند کے مطابق ہے تاہم یہاں صرف اس بات کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ بارش کا پانی بالوں اور جلد کے لیے واقعی مفید ہے یا نقصان دہ یا یونہی باتیں بنی ہوئی ہیں۔اس بارے میں ویب سائٹ ہیلتھ شاٹس نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں ماہر جلد اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ سے بات کی ہے۔
جب ان سے یہی سوال پوچھا گیا تو ان کا کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارش کے پانی کے جلد اور بالوں پر اثرات کے حوالے سے تفصیل سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم گرما کی بارش میں نہانے سے جسم کو سکون ملتا ہے اور جلد اور بالوں پر اس کا خوشگوار اثر پڑتا ہے لیکن اگر آپ ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں بہت زیادہ آلودگی ہے تو پھر بارش کے پانی کی تاثیر مختلف ہو سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر آپ کی جلد حساس ہے اور ایسے ہی علاقے میں رہتے ہیں تو آپ کو بارش کے پانی میں نہانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جلد کو نقصان ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مون سون کی بارش کا پانی انہیں ٹھنڈک کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ خشکی اور ہلکی پھلکی خارش سے بھی نجات دے گا تاہم یہ تبھی ہوتا ہے جب بارش کسی پرفضا مقام پر برس رہی ہو، اگر معاملہ اس سے الٹ یعنی آلودگی والے مقام کا ہو تو یہ صورت حال اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور جلد و بالوں کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے بالوں اور جلد کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اس لیے بارش کے پانی بھی مختلف ہو سکتا ہے، ویسے زیادہ تر بارش کا پانی بالوں کو سخت اور کھردرا بناتا ہے، اس لیے بارش کے پانی میں نہانے کے بعد بالوں کو صابن سے دھونا یا شیمپو کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ مون سون کے موسم میں انسان کو بالوں سے متعلق زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں جن میں جوؤں کا مسئلہ بھی شامل ہے اور اس کی وجہ سے نمی ہوتی ہے۔
ان نکات کے بعد جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ مون سون میں ہونے والی بارش سے بچا جائے اور اس بھیگے موسم کا مزہ نہ لیا جائے؟اس کے جواب میں ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ نے کہا کہ اگر کسی خصوصاً خواتین کا بارش میں بھیگنے کا دل کر رہا ہے اور ان کو اپنے بالوں اور جلد کی بھی فکر ہو تو انہیں ایسا کر لینا چاہیے تاہم دو تین نکات ذہن میں رکھنے چاہییں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بارش میں بھیگنے کے بعد گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد نیم گرم پانی سے دوبارہ غسل ضرور کریں، اسی طرح چہرے کو بھی کسی اچھے صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
اسی طرح شیمپو کرنے کے بعد کنڈیشنر لگانا نہ بھولیں، اس سے بالوں میں نمی برقرار رہتی ہے اور بالوں کی شائن بھی بڑھتی ہے۔
اسی طرح نہانے کے بعد انفیکشن سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جسم کے اچھی طرح خشک ہونے کے بعد کپڑے پہنیں، ایسا تولیے سے کسی حد تک کیا جا سکتا ہے تاہم کوشش کریں کہ جسم ہوا سے خشک ہو۔








 ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے‘‘ اسدالدین اویسی کا شیوسینا اور ٹی ایم سی پر طنز، کہا-’’اپوزیشن کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت‘‘
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ان کی قیادت اپنی پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کو دوسری جماعتوں میں جانے سے کیوں نہیں روک پا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں اپوزیشن پر سوالات

اسدالدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے کئی ارکان پارلیمنٹ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید دو ’نمایاں‘ ارکان پارلیمنٹ کو بتانا چاہیے کہ آخر ان اراکین کو بی جے پی میں جانے کے لیے کس نے ’دھمکایا‘۔ اویسی نے مغربی بنگال کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے دیگر 19 ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ انہوں نے کہا کہ شاید اس کا الزام بھی کسی ایک شخص پر ڈالنے میں ایک مہینہ لگ جائے گا۔

قرآن پاک کا حوالہ، تنظیمی کمزوریوں کا ذکر

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ناقدین کو بے بنیاد الزامات سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا: ’’ہر طعنہ دینے والے اور عیب جو کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی تنظیمی ناکامیوں کا ذمہ دار کسی ایک شخصیت کو قرار نہیں دے سکتی۔ اویسی نے سوال کیا کہ آخر بی جے پی کے لیے دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی طرف راغب کرنا اتنا آسان کیوں ہے اور لوگ مسلسل اپنی جماعتیں کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے لکھا ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے۔‘‘

مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں سیاسی ہلچل

مہاراشٹر میں اس وقت ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے نام سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شیوسینا (یو بی ٹی) کے نو میں سے سات ارکان پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا سے رابطے میں ہیں اور ممکنہ طور پر پارٹی تبدیل کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، شیوسینا کے رکن قانون ساز کونسل چندرکانت رگھونشی نے دعویٰ کیا ہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے ایکناتھ شندے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے دھڑے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں 14 جون کو ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ نے اوم برلا سے ملاقات کرکے اپنے گروپ کے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام سے متعلق ایک خط بھی پیش کیا تھا۔









جیوڈ بیلنگھم کے نام بڑا ریکارڈ، ورلڈ کپ 2026 میں انگلینڈ کی جیت، کروشیا کے خلاف گول کر کے رقم کر دی تاریخ  
 نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 میں انگلینڈ نے شاندار آغاز کرتے ہوئے کروشیا کو 2-4 سے شکست دے دی۔ ہیری کین کی قیادت میں حاصل ہونے والی اس فتح کے دوران نوجوان مڈفیلڈر جیوڈ بیلنگھم نے ایک تاریخی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔گروپ ایل کے پہلے میچ میں بیلنگھم نے نہ صرف عمدہ کھیل پیش کیا بلکہ ایک اہم گول بھی اسکور کیا۔ 22 سالہ انگلش اسٹار اب دو فیفا ورلڈ کپ اور دو یورو کپ سمیت چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی فٹبالر بن گئے ہیں۔بیلنگھم نے یہ اعزاز جرمنی کے جمل موسیالا کو پیچھے چھوڑ کر حاصل کیا۔ انہوں نے پہلی بار یورو 2020 میں کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کی تھی، جس کے بعد وہ قطر ورلڈ کپ 2022، یورو 2024 اور اب ورلڈ کپ 2026 میں بھی انگلینڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

اس فہرست میں انگلینڈ کے سابق اسٹار مائیکل اوون کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے 1998 اور 2002 کے ورلڈ کپ کے علاوہ یورو 2000 اور یورو 2004 میں شرکت کی تھی۔ جیوڈ بیلنگھم انگلینڈ کے ان چند کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں ،جنہوں نے کم عمری میں ہی بین الاقوامی فٹبال میں اپنی جگہ بنا لی۔ انہوں نے محض 17 سال اور 136 دن کی عمر میں انگلینڈ کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ انگلینڈ کی تاریخ میں ان سے کم عمر میں صرف تھیو والکاٹ اور وین رونی نے قومی ٹیم کے لیے پہلا میچ کھیلا تھا۔کروشیا کے خلاف میچ میں انگلینڈ نے ابتدا سے ہی جارحانہ کھیل پیش کیا۔ کپتان ہیری کین نے دو گول اسکور کیے، جب کہ دوسرے ہاف میں جیوڈ بیلنگھم اور مارکس راشفورڈ کے گولز نے ٹیم کی فتح یقینی بنا دی۔

میچ کے بعد بیلنگھم نے کہا کہ ایک بار پھر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا اگلا ہدف انگلینڈ کے لیے 50 بین الاقوامی میچ مکمل کرنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میری ذمہ داری ہے کہ جب میں میدان میں اتروں تو اپنی ٹیم اور اپنے ملک کے لیے سو فیصد دوں۔ جب سینے پر انگلینڈ کا بیج اور پشت پر نمبر 10 ہو تو میں اپنی تمام تر صلاحیتیں ٹیم کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔‘‘بیلنگھم نے مزید کہا کہ یہ سیزن ان کے لیے انتہائی طویل اور تھکا دینے والا رہا، جس کے دوران وہ کئی مواقع پر ٹریننگ کیمپس سے بھی دور رہے، لیکن انہیں یقین تھا کہ بڑے مقابلوں میں وہ اپنی ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔

چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی کھلاڑی

جیوڈ بیلنگھم (انگلینڈ) — 22 سال 353 دن

جمال موسیالا (جرمنی) — 23 سال 108 دن

پیڈری (اسپین) — 23 سال 202 دن

جیریمی ڈوکو (بیلجیم) — 24 سال 19 دن

مائیکل اوون (انگلینڈ) — 24 سال 182 دن

لوکاس پوڈولسکی (جرمنی) — 25 سال 9 دن

جیوڈ بیلنگھم کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے شاندار کیریئر کا ایک اور سنگ میل ہے بلکہ انگلینڈ کے لیے ورلڈ کپ مہم کے آغاز پر ایک حوصلہ افزا اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

تمل ناڈو کی سیاست میں ہلچل، وجے کی طاقت میں ہوگا اضافہ، ڈی ایم کے کو لگے گا جھٹکا!
ایم ڈی ایم کے کے ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو الائنس (SPA) سے الگ ہونے کی قیاس آرائیاں شدت اختیار کررہی ہیں ۔ یہی نہیں، ایم ڈی ایم کے کے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی ٹی وی کے حکومت کے قریب آنے کی چہ مگوئیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، ایم ڈی ایم کے 27 جون کو ہونے والی اپنی جنرل کونسل میٹنگ میں ڈی ایم کے اتحاد سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کر سکتی ہے۔

وی سی کے، آئی یو ایم ایل، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) پہلے ہی ٹی وی کے حکومت کی حمایت کر چکے ہیں۔تاہم ایم ڈی ایم کے اب تک کھل کر حکومت کی حمایت نہیں کر سکی کیونکہ اس کے دو ارکانِ اسمبلی ڈی ایم کے کے انتخابی نشان رائزنگ سن پر کامیاب ہو کر اسمبلی پہنچے تھے۔پارٹی لیڈروں کا ماننا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے عملی راستہ یہی ہے کہ دونوں ارکانِ اسمبلی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں، ضمنی انتخابات میں حصہ لیں اور دوبارہ کامیاب ہونے کے بعد حکمران اتحاد کی حمایت کریں۔

ایم ڈی ایم کے کے سربراہ وائیکواور ان کے بیٹے، تروچیراپلی سے رکنِ پارلیمان دُرائی وائیکو دونوں عوامی طور پر ڈی ایم کے کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔حال ہی میں دُرائی وائیکو نے کہا تھا کہ ڈی ایم کے کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے کی وجہ سے ان کی جماعت ٹی وی کے حکومت کی حمایت نہیں کر پا رہی، جو ان کے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔

منگل کے روز وزیرِ تعمیرات عامہ آدھو ارجنا نے چنئی میں واقع وائیکو کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی تھی۔ اس کے اگلے روز وائیکو نے سیکریٹریٹ میں وزیر اعلیٰ وجے سے ملاقات کی۔اگرچہ وائیکو نے اتحاد تبدیل کرنے کی خبروں کو محض قیاس آرائیاں قرار دیا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسی دوران دورائی وائیکو نے ریاست میں خواتین کے خلاف حالیہ جرائم کے معاملے پر بھی ٹی وی کے حکومت کا دفاع کیا۔

انہوں نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کر دیا جن میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا اور اس نوعیت کے واقعات ڈی ایم کے کے دورِ حکومت میں بھی پیش آتے رہے تھے۔واضح رہے کہ اپریل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ایم ڈی ایم کے نے ڈی ایم کے کے انتخابی نشان پر چار نشستوں پر انتخاب لڑا تھا، جن میں سے دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔اگر پارٹی کے دونوں ارکانِ اسمبلی استعفیٰ دے دیتے ہیں تو اسمبلی میں خالی نشستوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو جائے گی۔ ان میں تروچیراپلی ایسٹ کی وہ نشست بھی شامل ہے جو وزیر اعلیٰ وجے کے عہدہ سنبھالنے کے بعد خالی ہوئی تھی۔








امریکہ۔ایران معاہدہ : خامنہ ای فاتح ، ماہرین نے بتائیں 6 نکات
امریکہ اور ایران کے بیچ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے پر ورچوئل طریقے سے دستخط کیے۔ ٹرمپ نے اسے اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔

معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل تجارت پر منڈلا رہا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ 14 نکاتی شرائط پر مشتمل اس معاہدے کے بعد ایک اہم سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ آخر اس معاہدے میں حقیقی فائدہ کسے ہوا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بظاہر دونوں فریق کامیاب دکھائی دیتے ہیں لیکن سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک بڑے سیاسی کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔امریکہ کو کیا حاصل ہوا؟

14 نکاتی معاہدے میں امریکہ کو سب سے بڑی راحت یہ ملی کہ جنگ فی الحال رک گئی ہے۔ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی دوبارہ معمول پر آنے جا رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ ایران نے اس معاہدے کے ذریعے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی شرط بھی قبول کر لی ہے، تاہم اس کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ دونوں ممالک آئندہ 60 دن تک مذاکرات جاری رکھیں گے اور اسی عرصے میں مستقل معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔

ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک کارکردگی پر مبنی معاہدہ (Performance-Based Deal) ہے۔ یعنی اگر ایران نے اپنی یقین دہانیاں پوری نہ کیں تو دی گئی رعایتیں واپس بھی لی جا سکتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس معاہدے کے تحت ایران کو کوئی نقد ادانہیں کرے گا۔

 ایران کو کیا ہوا حاصل؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے میں ایران کو دی گئی رعایتوں نے پوری تصویر بدل دی ہے۔

سب سے بڑا فائدہ ایران کے تیل کے کاروبار کو ہوا ہے۔ معاہدہ نافذ ہوتے ہی ایران کو تیل اور ایندھن فروخت کرنے کی اجازت ملنے لگی ہے۔ اس کے علاوہ بینکاری، بحری نقل و حمل اور انشورنس سے متعلق متعدد پابندیوں میں بھی نرمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

اس سے ایران کی معیشت کو دوبارہ سہارا مل سکتا ہے اور پابندیوں کے باعث عالمی سطح پر تنہا ہونے والا ایران ایک بار پھر بین الاقوامی اہمیت حاصل کر سکتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اگر ایران جنگ سے پہلے والی سطح پر تیل فروخت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے سالانہ 60 ارب ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔توانائی کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ صرف ابتدائی دو ماہ کے دوران ہی ایران کو تقریباً 8 ارب ڈالر اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے پاس پہلے سے 100 ملین بیرل سے زیادہ تیل ذخیرہ شدہ موجود ہے، جن میں سے تقریباً 60 ملین بیرل بیرونِ ملک رکھے گئے ہیں اور اب انہیں فوری طور پر عالمی منڈی میں فروخت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔

اگر مستقبل میں مستقل معاہدہ طے پا جاتا ہے تو بیرونِ ملک منجمد تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں تک رسائی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ایرانی میڈیا ابتدائی مرحلے میں 12 ارب ڈالر جاری ہونے کی توقع ظاہر کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جنگ سے متاثرہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی تجویز کو بھی معاہدے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین ایران کا پلڑا بھاری کیوں بتارہے ہیں؟

**1-**معاہدے کے نافذ ہوتے ہی ایران کے لیے تیل فروخت کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ بینکاری، شپنگ اور انشورنس سے متعلق کئی پابندیوں میں نرمی آنا شروع ہو گئی ہے۔اندازہ ہے کہ اس سے ایران ہر سال 60 ارب ڈالر سے زیادہ کما سکتا ہے، جبکہ امریکہ کو فی الحال صرف یہ یقین دہانی ملی ہے کہ ایران مذاکرات جاری رکھے گا اور معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا۔

**2-**امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا بتایا جا رہا تھا لیکن معاہدے میں نہ تو سینٹری فیوجز تباہ کرنے کی کوئی شرط شامل ہے اور نہ ہی اعلیٰ درجے کے یورینیم کو فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جوہری پروگرام سے متعلق سب سے پیچیدہ معاملات آئندہ 60 دن کے مذاکرات کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔

 **3۔**جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے رہے تھے، لیکن حتمی معاہدے میں نہ ہتھیار ڈالنے کی شرط شامل ہے، نہ حکومت کی تبدیلی کا ذکر ہے اور نہ ہی جوہری تنصیبات کے بنیادی ڈھانچے کو فوری طور پر ختم کرنے کی کوئی شق موجود ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے ابتدائی موقف سے پیچھے ہٹ گیا، حالانکہ یہی نکات جنگ کے آغاز کی بنیادی وجوہات میں شامل تھے۔

4۔ ایران مسلسل اشارے دے رہا تھا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو آبنائے ہرمز متاثر ہو سکتی ہے۔اس خدشے نے عالمی تیل منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی تھی۔ ناقدین کے مطابق عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو لاحق خطرات نے امریکہ کو معاہدے کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔۔ 110 دن تک جاری رہنے والی جنگ، وسیع فوجی کارروائیوں اور بڑے معاشی نقصانات کے باوجود ایران کی حکومت برقرار ہے۔اسی طرح ایران کا جوہری پروگرام بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یعنی جن مقاصد کے حصول کے لیے جنگ شروع کی گئی تھی، ان میں سے کئی اب بھی حاصل نہیں ہو سکے۔

 6۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو ایران کی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ بھی بڑھ سکتا ہے۔اسرائیل کے حامی حلقے اور متعدد ریپبلکن رہنما یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ امریکا نے اپنا سب سے طاقتور دباؤ کا ہتھیار، یعنی معاشی پابندیاں، کمزور کر دیا ہے۔ان کے مطابق اگر آئندہ 60 دن کے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو امریکا کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے مؤثر ذرائع پہلے کے مقابلے میں کم رہ جائیں گے۔








غزہ: جنگ بندی کے بعد بھی نہ تھم سکا ہلاکتوں کا سلسلہ،اسرائیلی حملوں میں 1000 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق
غزہ کی صورتحال میں جنگ بندی کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور فلسطینیوں کو ہنوز مشکلات کا سامنا ہے ۔ اکتوبر 2025 میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود محصور فلسطینی علاقے میں انسانی بحران ختم نہیں ہو سکا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے حوالے سے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1,005 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز،وزارت کے ذریعہ جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے باعث شہری آبادی مسلسل متاثر ہو رہی ہے اور انسانی صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔غزہ میں سرگرم تنظیم میڈیکل ایڈ فار فلسطینز (MAP) کی ڈائریکٹر فِکر شلتوت نے کہاکہ جنگ بندی سے صورتحال بدلنے کا خاکہ پیش کیا گیا تھا وہ کاغذ تک ہی محدود ہے۔بدترین وقت نہیں گزرا ہے، فلسطینی آج بھی اپنے پیاروں کو سپرد خاک کرنے پر مجبور ہیں۔اگرچہ جنگ بندی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جاری لڑائی رک گئی تھی، تاہم معاہدے کے دوسرے اور زیادہ حساس مرحلے پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ اس مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو اپنے ہتھیار ترک کرنا تھے لیکن دونوں نکات پر پیش رفت نہ ہو سکی۔

 غزہ کے 64 فیصد علاقے پر اسرائیل کا قبضہ 

رپورٹس کے مطابق اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے غزہ میں اپنی عسکری موجودگی مزید مستحکم کر لی ہے اور اس وقت غزہ کی تقریباً 64 فیصد اراضی اس کے کنٹرول میں ہے، جبکہ جنگ بندی معاہدے کے تحت یہ تناسب 53 فیصد تک محدود ہونا تھا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ جمعے کو غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں درجنوں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اسرائیلی افواج نے مغربی سمت میں نام نہاد ییلو لائن کی توسیع کے اشارے کے طور پر زرد رنگ کے سیمنٹ بلاکس نصب کیے، جس کے بعد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

حماس کا سخت موقف

دوسری جانب حماس کے موقف میں بھی کوئی نرمی نہیں آئی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تنظیم فی الحال اپنے ہتھیار ترک نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق حماس کے عسکری ذخیرے کے مستقبل کا فیصلہ دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ جامع مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

امداد اور علاج تک رسائی محدود

جنگ بندی کے اہم مقاصد میں غزہ اور اس کے تباہ حال صحت کے نظام کی بحالی بھی شامل تھی، تاہم اس حوالے سے پیش رفت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ OCHA کے مطابق غزہ میں موجود 37 اسپتالوں میں سے صرف 20 جزوی طور پر فعال ہیں، جبکہ پورے علاقے میں ایک بھی ایسا اسپتال موجود نہیں جو مکمل طور پر فعال ہو۔فِکر شلتوت نے عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بمباری کا سلسلہ جاری رہا اور غزہ تقریباً مکمل محاصرے میں رہا تو عالمی لیڈروں نے خود کو یہ یقین دلا لیا کہ محض ایک معاہدہ جوابدہی، محاصرے کے خاتمے اور ضرورت مندوں تک ادویات کی فراہمی کا متبادل بن سکتا ہے۔انسانی بحران بدستور سنگین

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی غزہ میں رسائی سخت پابندیوں کا شکار ہے، جبکہ امدادی سامان کو بھوکی اور ضرورت مند آبادی کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ 23 اکتوبر کو غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ مسلسل بمباری کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جبکہ تقریباً 19 لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری آبادی کو تحفظ، طبی سہولیات اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

Thursday, 21 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم
ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ موجود ہے جس پر بات کرنا چاہ رہا ہوں: یہ ایک نوجوان کی کہانی ہے۔ وہ نوجوان طبعی طور پر خوش مزاج اور خوش اخلاق تھا۔ اس کے مزاج میں شگفتگی تھی۔ المیہ فلمیں، اداس گانے، اداسی طاری کر دینے والے ناول اور مناظر اسے ناپسند تھے۔ وہ ہنستا کھیلتا، گھروالوں اور دوستوں سے ہنسی مذاق کرتا رہتا۔ اس کی تمام خواہشات، احساسات اور ولولے بیدار تھے۔ ایک زندہ دل انسان جو دوستوں کی صحبت کو پسند کرتا، اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتا، اور اسے خوش کرنا چاہتا تھا۔ اپنی محبوبہ منگیتر اسے پسند تھی، وہ آنے والے خوش رنگ دنوں کے سپنے اس کے ساتھ بھی شیئر کرتا۔ اپنی ماں کو جب بھی ملتا، ایسی یگانگت اور الفت سے ملتا جیسے کئی دنوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔ کسی دوست کو دیکھتا تو سچی دوستی کے جذبے سے سرشار اس سے ملتا۔اسے یہ پریشانی تھی کہ کہیں ملازمت نہیں مل رہی۔ آخرکار اسے ایک بہت بڑی فیکٹری میں ملازمت مل گئی۔ اسے ایک بڑے ہال کمرے میں لے جایا گیا جہاں دھات کی بنی ہوئی ایک بڑی بیلٹ مسلسل متحرک تھی۔ یہ بیلٹ ہال کے ایک کونے سے آتی اور درمیان سے گزر کر ایک دوسری جگہ چلی جاتی جہاں دوسرے پرزوں کی اسمبلنگ کا کام ہوتا تھا۔ نوجوان کی ملازمت یہ تھی کہ وہ رینچ ہاتھ میں پکڑ کر مستعد کھڑا رہے اور اس متحرک بیلٹ پر دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے پیچ کو گھما دے۔ پھر اگلے دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے کو گھما کر کَس دے۔ یہ کام اسے متواتر کرنا تھا۔ دن کے دس گھنٹوں میں وہ یہی کام کرتا رہتا۔ اس کے ساتھ دائیں بائیں کچھ فاصلہ چھوڑ کر سات آٹھ اور مزدور بھی کھڑے اسی نوعیت کا کام کر رہے تھے۔ متحرک بیلٹ اس تیزی سے چلتی رہتی کہ ان تمام لوگوں کو آپس میں بات کرنے کا موقع بھی نہیں مل پاتا۔ اگر کوئی لمحے بھر کے لیے بھی چوکتا تو بیلٹ کا کوئی پیچ ان کسا رہ جاتا اور یوں پورا کارخانہ بند ہو جانے کا خطرہ تھا۔ اس کے ساتھ محنت کش پرانے اور تجربہ کار تھے، انہوں نے کبھی اس سے بات کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ اس کا نتیجہ جانتے تھے۔ یہ نوجوان البتہ ابھی ناتجربہ کار اور مشینوں کے ساتھ کام کر کے مشین نہیں بنا تھا۔ تاہم ملازمت اسے مشکل سے ملی تھی وہ پوری مستعدی سے اپنا کام سر انجام دیتا رہا۔
ایک دن اس کی زندگی میں عجب موڑ آیا۔ وہ کام میں مصروف تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ اس کا دوست اسے ملنے آیا ہے۔ وہ خوشدلی سے اسے دیکھ کر مسکرایا۔ اچانک اس کی نظر داخلی دروازے پر پڑی تو پتہ چلا کہ اس کی ماں اور منگیتر بھی اسے ملنے آئی ہیں۔ اس سے رہا نہ گیا۔ خوشی سے سرشار اس نے اپنا رینچ نیچے رکھا اور ان کی جانب سلام دعا کرنے کے لیے مڑا۔ ابھی وہ ان سے بات بھی نہیں کرنے پایا تھا کہ اچانک سرخ بتیاں جل اٹھیں،الارم بجنے لگے اور پولیس والے تیزی سے ہال میں داخل ہوئے۔ کارخانے کے کنٹرول سسٹم نے اطلاع دی تھی کہ ایک پیچ کسے بغیر رہ گیا یوں پورا سسٹم جام ہو گیا۔ پولیس والوں نے اسے حراست میں لے لیا کہ اس کی جرات کیسے ہوئی یہ کرنے کی۔ اسے سزا سنائی گئی۔ انسانی جذبات کے ایک لمحے نے اس پورے مشینی نظام کو جامد کر دیا۔۔۔ وہ مشینی نظام جسے تخلیق بھی اس طرح کیا گیا کہ اس میں کسی قسم کے انسانی جذبات اور محسوسات کا دخل نہ ہونے پائے۔سزا پانے کے بعد اس کی تربیت کی گئی، کارخانے والوں نے اس کی ایسی برین واشنگ کی کہ وہ خود کو ایک ’ذمہ دار‘ انسان بنائے اور ایک مشین ہی کی طرح مشینوں کے معاملات سنبھالے۔ اس تربیت اور ڈسپلنڈ لائف گزارنے کا نتیجہ کیا نکلا؟ وہ نوجوان ذہنی طور پر ایک ایسی مشین میں بدل گیا جو شام کو کارخانے سے شفٹ ختم ہونے کے بعد بھی اپنی مشینی عادات اور روٹین کو نہیں بھولتا۔ وہ پیچ گھمانے والا ایک ایسا پرزہ بن گیا جو دو پیچوں کو چھوڑ کر تیسرے کو ہر حال میں کس دے گا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جب وہ کسی سڑک کنارے کھڑے پولیس والے کو دیکھتا جس کی وردی پر پیچوں سے مشابہ بٹن ہیں تو وہ فوراً اپنا رینچ نکال کر تیسرے بٹن کو کسنے کے لیے تیار ہو جاتا۔ جب وہ کوٹ میں ملبوس اور ہیٹ پہنے کسی خاتون کو دیکھتا تو اس کے ہیٹ پر لگے بٹن نما چیزوں میں سے تیسرے بٹن کو گھمانے کی کوشش کرتا۔ اس کے لیے دنیا صرف ایک ہی بات کا نام ہے کہ ’دو کو چھوڑ کر تیسرے کو گھماؤ۔‘
یہ کہانی دراصل ایک شاہکار انگریزی فلم ’ماڈرن ٹائمز‘ میں بیان کی گئی ہے۔ چارلی چپلن کی اس خاموش کامیڈی فلم کو لگ بھگ 90 برس قبل فلمایا گیا تھا اور آنے والے ماڈرن وقت کی نقشہ کشی کی گئی۔ یہ چارلی چپلن کی آخری خاموش کامیڈی فلم تھی۔ یہ فلم اُس زمانے میں ریلیز ہوئی جب ہالی وُڈ میں بولنے والی فلمیں (Talking Pictures) عام ہو چکی تھیں، مگر چپلن نے خاموش فلم کے انداز کو برقرار رکھا۔ فلم میں کچھ ڈائیلاگز اور آوازیں موجود ہیں، مگر چپلن کے کریکٹر کی زبان خاموش ہے صرف چہرے کے تاثرات، حرکات، اور موسیقی سے پیغام دیا گیا ہے۔ چارلی چپلن نے اس فلم میں خود موسیقی بھی کمپوز کی، جس میں مشہور دُھن“Smile’’ بعد میں ایک کلاسک گانا بنی۔ فلم میں صنعتی معاشرت، بے روزگاری، غربت، اور مشینوں پر انحصار جیسے مسائل پر طنز اور درد دونوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
چارلی چپلن نے اپنے مخصوص انداز سے اس فلم کا مرکزی کردار ’لٹل ٹریمپ‘ ادا کیا۔ لٹل ٹریمپ جو ماڈرن انڈسٹریلائزیشن کے عہد میں اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے۔ ماہرین اور ناقدین متفق ہیں کہ لٹل ٹریمپ کا کردار لیجنڈری حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایسا علامتی کردار ہے جس میں آنے والے کئی زمانوں کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ یونیسکو نے اس فلم کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے اور آج بھی فلم سکولوں میں یہ فلمی تعلیم کی کلاسک مثال کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔
اس حوالے سے ایک آدھ پہلے بھی کچھ لکھا، کئی بار دوستوں سے اس پر بحث بھی ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب بھی ایک خاص طرز کی مشینیں بن چکے ہیں۔ ایک میکانکی انداز ہر ایک میں در آیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی مشین نے یا مصنوعی ذہانت نے غیر محسوس انداز سے یوں پروگرام کر دیا ہے کہ ہم دانستہ نادانستہ ایک خاص پیٹرن کو فالو کرتے ہیں۔
اس کا تجربہ کرنا بہت آسان ہے۔ آپ لوگ کبھی کسی محفل میں بیٹھے لوگوں پر نظر ڈالیں، بے تکلف دوستوں کی محفل کا بھی جائزہ لیں۔ ہر ایک آپ کو ایک مشین بنا جذبات، احساسات سے عاری موبائل پر نظریں گاڑے نظر آئے گا۔ کئی دنوں، ہفتوں، مہینوں کے بعد بھی اکھٹے ہونے والے دوست اپنے موبائل اور سوشل میڈیا سٹیٹس، پوسٹوں سے نظر نہیں ہٹا سکتے۔ اپنے لمحہ موجود کو چھوڑ کر وہ سائبر دنیا، ورچوئل ورلڈ کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ پھر جیسے ہی کھانا آئے گا، ہر کوئی فٹافٹ تصاویر بنا کر اسے فوری پوسٹ بنا دے گا۔ کھانے کے درمیان ہی میں ویٹرز سے تصاویر بنوائی جائیں گی، بعد میں گروپ فوٹو بنے گا اور اس کا واحد مقصد سوشل میڈیا پوسٹ بنانا ہوتا ہے۔ مجھے تو کئی بار لگتا ہے کہ ہم اب اپنے دوستوں کے ساتھ ملاقاتوں کی حسین یاد اپنے اندر محفوظ کرنے، اپنے ذہن میں نقش کرنے کے بجائے اسے فوری سوشل پوسٹ بنا کر اپنے ذہن سے نکال دینا چاہتے ہیں۔
اگر آپ ایمانداری سے اپنے اردگرد اور خود اپنے معمولات کا جائزہ لیں گے تو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہم لوگ بھی چارلی چپلن کی اس فلم کے مرکزی کردار لٹل ٹریمپ کی طرح ایک مشین ہی بن چکے ہیں۔ ایسی مشین جو صبح اٹھنے سے رات سونے تک ایک میکانکی انداز سے سب کام کرتی ہے۔ ایسی مشین جس کی شعوری کوشش ہوتی ہے کہ انسانی جذبات اور محسوسات اس کے قریب تک نہ پھٹکنے پائیں کہ کہیں اس کی کارکردگی متاثر نہ ہو جائے۔ ایسی مشین جس کا منتہائے مقصود ہی کوئی ادنیٰ ٹاسک پورا کرنا ہے۔
آج کے عہد کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم خواب دیکھنا بھول گئے ہیں۔ وہ خواب جو زندگی کا حقیقی مفہوم مہیا کرتے ہیں۔ جو اسے عام روٹین میں رچی بسی ادنیٰ زندگی سے ماورا کرتے ہیں۔
کسی بڑے آدرش، بڑے مقصد کے لیے زندگی گزارنے کا تصور نایاب ہو گیا ہے۔ زیادہ پہلے کی بات نہیں، ہماری سیاست، علم و ادب اور مذہبی حلقوں میں ایسے بے شمار لوگ مل جاتے تھے جن کی آنکھوں میں سپنے سجے ہوتے۔ وہ اپنے بلند عزائم کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیتے، تبدیلی کی خواہش لیے زندگی بھر سرگرداں رہے۔ وہ نسل ناپید ہو چکی۔
آج المیہ یہ بھی ہوا کہ ان بلند عزائم، معاشرے میں تبدیلی لانے کے خواہشمند لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے ’’عبرت کے نشان‘‘ سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان ان کی زندگیوں کو دیکھتے اور ان کے پیروی نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ بھی اس راستے پر چل پڑے تو ان کی ذاتی وش لسٹ کا کچھ نہیں بنے سکے گا؟ مہنگے موبائل، آئی فون، عالیشان ہوٹلوں میں ڈنراور بڑی گاڑیاں، کچھ نہیں ملے گا۔
چارلی چپلن کی یہ خاموش فلم ماڈرن ٹآئمز صرف ایک فلم نہیں، بلکہ ایک فلسفیانہ بیانیہ ہے جو بتاتا ہے کہ ترقی کی اصل قیمت انسانی خوشی اور آزادی ہے، اور وہ قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سوں کے پاس شاید اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ ٹھہر کر چند منٹوں کے لیے غور کر لے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
کیا وہ خواب بھی دیکھتا ہے یا نہیں۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس کے خواب جانوروں کی طرح بہتر خوراک، بہتر ٹھکانے اور جنس سے متعلق ہیں یا ان میں اپنے سماج کو بدل ڈالنے اور کوئی عملی اقدام اٹھانے کی خواہش بھی موجود ہے؟
کہیں خدانخواستہ ہم لوگ بھی انسان نما مشین تو نہیں بن چکے؟








’کاکروچ جنتا پارٹی‘: انڈین چیف جسٹس کے بیان کے بعد شروع ہونے والی یہ تحریک کیا ہے؟
انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت کے نوجوانوں اور کاکروچ یعنی لال بیگ کے بارے میں دیے گئے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ خاصی زیرِ بحث ہے۔

تاہم جسٹس سوریہ کانت نے سنیچر کو اپنے بیان پر وضاحت بھی دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا کے ایک حصے نے ان کی باتوں کو غلط انداز میں پیش کیا۔

انڈیا میں جسٹس سوریہ کانت کے بیان کے بعد ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم زور پکڑ رہی ہے جس میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ یعنی ’سی جے پی‘ بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

انٹرنیٹ پر اس کے نام سے ایک ویب سائٹ بن چکی ہے اور انسٹاگرام پر اس کے 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ویب سائٹ پر اس کی رکنیت کے لیے خود کو رجسٹر بھی کر لیا۔سی جے پی کیا ہے اور اس کی شروعات کیسے ہوئی؟
کاکروچ جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر اس کے بانی اور کنوینر کی معلومات دی گئی ہیں اور ان کا نام ابھیجیت دیپکے ہے۔

ابھیجیت دیپکے سے بی بی سی نیوز مراٹھی نے تفصیل سے بات کی جس میں انھوں نے اس مہم کے شروع ہونے کی وجہ بتائی۔

جب ابھیجیت دیپکے سے یہ سوال کیا گیا کہ اس طرح کی سوشل میڈیا مہم کا خیال انھیں کیسے آیا؟ تو اس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایکس پر انڈین چیف جسٹس کا بیان دیکھا تھا جس میں وہ مُلکی نظام پر تنقید کرنے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے کر رہے تھے۔‘

’مجھے یہ بات انتہائی مضحکہ خیز لگی کیونکہ چیف جسٹس کو مُلک کے آئین کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ وہ آئین جو ہر کسی کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ اب ایک ایسا شخص جو اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت کرنے والا ہو، وہ کیسے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے کر سکتا ہے۔‘’بس اسی بات پر مجھے شدید غصّہ بھی آیا اور انتہائی مایوسی بھی ہوئی جس کے بعد میں نے ایکس کا سہارا لیا اور اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار پر زور انداز میں کیا۔ میں نے پوچھا کہ اگر سارے کاکروچ ایک ساتھ آ جائیں تو کیا ہوگا۔ مجھے جین زی اور 25 سال تک کے نوجوانوں کی جانب سے اس پر شاندار ردِ عمل ملا اور انھوں نے کہا کہ ہمیں ساتھ آنا چاہیے اور ایک پلیٹ فارم بنانا چاہیے۔‘

’اس کے بعد میں نے یہ سوچا کہ ہمیں آن لائن ایک پیروڈی پارٹی بنانی چاہیے جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ہو۔ اگر آپ ہمیں کاکروچ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہے، ہم کاکروچ جنتا پارٹی بناتے ہیں۔ اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے میں نے شرائط طے کیں، جیسے آپ کو سست ہونا ہوگا جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے آپ کو کہا، آپ بے روزگار ہوں اور آپ مسلسل آن لائن رہنے والے ہوں جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے آپ کو کہا۔‘

’انھوں نے (چیف جسٹس نے) جن بھی الفاظ کا استعمال نوجوانوں کو بے عزت کرنے کے لیے کیا، ہم نے انھیں اس پارٹی کا رکن بننے کی اہلیت بنا دیا یعنی وہ سب کی سب خصوصیات اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے اُمیدوار میں ہونی ضروری قرار دیں۔ بس پھر کیا تھا چند ہی گھنٹوں میں اس نے کمال کر دیا اور ہر کوئی اس پر ردِعمل دینے لگا اور خود کو اس پارٹی میں رجسٹر کرنے لگا۔‘

’اس کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ یہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں اور اب یہ بات مذاق سے آگے بڑھنے والی ہے کیونکہ لوگ مایوس ہو چکے تھے۔ پھر ہم نے ایک ویب سائٹ بنائی، پارٹی کا منشور تیار کیا۔ انسٹاگرام پر اب ہمارے چار ملین سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے خود کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے رکن کے طور پر رجسٹر کیا اور ایسا انڈین سیاست میں کافی عرصے بعد ہوا جو غیر معمولی بات ہے۔‘

کامیابی کی وجہ کیا بنی؟
کئی معروف شخصیات نے بھی ابھیجیت دیپکے کی اس مہم کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اس پر ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’سابق کرکٹر اور رکنِ پارلیمان کیرتی آزاد نے کہا کہ وہ اس پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ٹی ایم سی کی رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے بھی اس کی حمایت کی۔ ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا اور جس کی وجہ سے آج یہ موضوعِ بحث ہے۔ ساتھ ہی یہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔‘

جب ہم اس بارے میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل میڈیا میں ایک طرح کی بڑی تبدیلی ہے۔

سوشل میڈیا پر 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہونے کے پیچھے کیا کہانی نظر آتی ہے؟

اس سوال پر ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’نوجوانوں کے اندر کئی سال سے جو مایوسی اور غصہ پل رہا ہے، وہی اتنے بڑے ردِعمل کی وجہ بنا۔ حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے نوجوان بے روزگار ہیں۔ انھیں ایک پلیٹ فارم ملا جہاں وہ اپنی مایوسی اور غصہ نکال سکتے ہیں۔‘
ابھیجیت دیپکے کون ہیں؟
کسی بھی سیاسی جماعت یا تحریک کے لیے ایک لیڈر بہت ضروری ہوتا ہے۔ تو پھر ابھیجیت دیپکے آخر کون ہیں؟

ابھیجیت دیپکے نے اپنے بارے میں بتایا کہ ’میں مہاراشٹر کے چھترپتی سنبھاجی نگر سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے پونے سے گریجویشن کی۔ اس کے بعد مجھے کچھ سال تک عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جہاں میں ان کی کمیونیکیشن ٹیم میں تھا۔‘

’میں عام آدمی پارٹی کی صحت اور تعلیم سے متعلق پالیسی کی وجہ سے اُن کی جانب راغب ہوا تھا۔ جیسے آج کاکروچ جنتا پارٹی نئی ہے، ویسا ہی مجھے لگا کہ وہ بھی کوئی نیا نظام لانے یا کسی بڑی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے کچھ وقت ان کے ساتھ کام کیا پھر مجھے لگا کہ مجھے مزید پڑھنے کی ضرورت ہے اور میں گھر پر ماسٹرز کی تیاری کرنے لگا۔ مجھے بوسٹن یونیورسٹی جانے کا موقع ملا۔ میں دو سال سے یہاں ہوں اور اپنی گریجویشن مکمل کر چکا ہوں۔‘

ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس پارٹی کا منشور انڈیا کے موجودہ جمہوری نظام اور موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ وہ جج جنھیں غیر جانبدار رہنا چاہیے، جن کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت سے فائدے لے رہے ہیں۔ یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ عدلیہ کو آزاد رہنا ہوتا ہے۔ اگر عدلیہ بھی حکومت کی راہ پر چلے گی تو پھر باقی کیا رہ جائے گا؟ پھر جمہوریت کا کیا ہوگا اور اسے کون بچائے گا؟‘

’دوسری اہم بات خواتین کی نمائندگی کی ہے۔ میں بچپن سے سنتا آیا ہوں کہ جمہوری سیاسی نظام میں خواتین کی 33 فیصد مخصوص نشستیں ہوں گی لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا۔ اگر خواتین کو جمہوری سیاسی نظام میں شامل کرنا ہے تو انھیں 50 فیصد نشستیں دیں۔‘
انڈین ’جین زی‘ کیسے ہیں؟
نیپال اور سری لنکا میں جین زی کی جانب سے چلائی جانے والی تحریکوں نے دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔ نیپال میں احتجاج کے بعد حکومت کو استعفیٰ دینا پڑا۔ سری لنکا اور نیپال کی جین زی کا انڈیا کی جین زی سے موازنہ کرنے کے بارے میں ابھیجیت کیا سوچتے ہیں؟

اس پر وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کی جین زی کا موازنہ سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کی جین زی سے کرنا ’بڑا توہین آمیز عمل‘ ہوگا کیونکہ وہ انڈین جین زی تشدد کا سہارا لینے والے نہیں۔

ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’انڈین جین زی طنز کے ذریعے اپنی ناراضی ظاہر کر رہے ہیں۔ کاکروچ کا لباس پہن کر وہ مقدس دریا جمنا کو صاف کر رہے ہیں اور کچرا ہٹا رہے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے موجودہ نظام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وہ سڑکوں پر جا کر تشدد نہیں بھڑکا رہے اور اگر کل وہ سڑکوں پر نکلتے بھی ہیں تو وہ یہ کام جمہوری اور پُرامن طریقے سے کریں گے۔ ہماری جین زی ہماری کابینہ میں شامل افراد سے زیادہ پڑھی لکھی ہے۔ ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم پر ان پڑھ لوگ حکومت کیوں کر رہے ہیں۔‘

کاکروچ جنتا پارٹی کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ صرف ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم بن کر رہ جائے گی؟ ابھیجیت کہتے ہیں کہ یہ تو صرف شروعات ہے، کل مزید نوجوان تنظیمیں سامنے آئیں گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’نوجوان موجودہ سیاسی نظام سے تنگ آ چکا۔ آئندہ چند سال میں آپ دیکھیں گے کہ نوجوان تبدیلی کا مطالبہ کرے گا کیونکہ گذشتہ 10سے 12 سال میں نوجوانوں نے ’ہندو مسلم‘ کے بیانیے کے علاوہ کچھ نہیں سنا۔‘

’نوجوان اس سیاسی نظام کو بدلنا چاہتا ہے جہاں ہم تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہوں اور جہاں روزگار ملے۔ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں دنیا کے بہترین ممالک سے اپنا موازنہ کرنا چاہیے۔ ہم کب تک نیپال، پاکستان اور بنگلہ دیش سے اپنا موازنہ کرتے رہیں گے‘

جب ابھیجیت سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انڈیا واپس آئیں گے، تو انھوں نے کہا کہ وہ ضرور واپس آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے گذشتہ ہفتے ہی اپنی گریجویشن مکمل کی اور میں واپس آ کر اس تحریک کو آگے بڑھاؤں گا کیونکہ لوگ ایک ساتھ آ رہے ہیں اور وہ بہتر تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہماری تنظیم کے قیام کے چوتھے ہی دن ہمارے پاس دو لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ممبران تھے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جین زی اپنا علیحدہ اور آزاد سیاسی میدان چاہتی ہے۔‘







میں اعزاز کے لیے نہیں لکھتا، بلکہ لکھنا میرا شوق ہے: علی شیدا
اننت ناگ: (میر اشفاق) جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گاؤں نیپورہ سے تعلق رکھنے والے معروف کشمیری شاعر اور ادیب علی محمد ریشی، جو ادبی دنیا میں علی شیدا کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو ان کے کشمیری شعری مجموعے “نجداونیکی پُوت آلاو” پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔ ای ٹی وی بھارت کے نمائندے میر اشافاق کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علی شیدا نے کہا کہ وہ ایوارڈ کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی شوق کے تحت لکھتے ہیں۔

ان کے مطابق لکھنا ان کے لیے عبادت کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ اپنی مصروفیات کے باوجود ہمیشہ قلم اور کاغذ کے ساتھ جڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لکھائی میں اس قدر مگن ہو جاتے تھے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ گذشتہ پچپن برسوں سے شاعری سے وابستہ ہیں اور مسلسل محنت و لگن کے ذریعے اپنے شوق کو پروان چڑھاتے رہے، جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پرورش کرتی ہے۔ ان کے بقول ان کی تحریروں کا اصل معاوضہ قارئین کی محبت، پذیرائی اور حوصلہ افزائی ہے، جس نے انہیں ہمیشہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔قابل ذکر ہے کہ علی شیدا نہ صرف شاعر بلکہ نثر نگار، افسانہ نگار اور کالم نویس بھی ہیں۔ ان کی 76 نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے، جس سے ان کی ادبی پہنچ کو بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان ملی ہے۔

یکم اپریل 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ایک تقریب کے دوران کشمیری ادب میں 1970 سے جاری ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کے اعتراف میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا۔اس موقعے پر مختلف ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے علی شیدا کو مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس اعزاز پر وزارتِ ثقافت، ساہتیہ اکادمی، اساتذہ، ادبی رفقاء، دوستوں، میڈیا اور اپنے اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنے چاہنے والوں کے لیے باعث فخر قرار دیا۔

ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ہر سال ملک کی 24 تسلیم شدہ زبانوں میں نمایاں ادبی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، جس میں ایک لاکھ روپے نقد انعام، تانبے کی تختی اور شال شامل ہوتی ہے۔ علی شیدا کو کشمیری زبان کے زمرے میں ان کی مذکورہ کتاب پر یہ اعزاز دیا گیا، جسے روایت اور جدید اظہار کے حسین امتزاج، ادبی گہرائی اور ثقافتی حساسیت کے لیے بے حد سراہا گیا ہے۔علی شیدا کا ادبی سفر 1970 میں شروع ہوا، جبکہ 1971 میں کالج کے زمانے میں اساتذہ اور نامور ادیبوں کی رہنمائی نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ ان کی ابتدائی تخلیقات مقامی اخبارات میں شائع ہوئیں، بعد ازاں قومی سطح کے رسائل میں جگہ پائیں اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ذریعے وسیع حلقۂ قارئین و سامعین تک پہنچیں۔اب تک علی شیدا 10 کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں چھ کشمیری، اور چار اردو زبان میں شامل ہے، جبکہ مزید چار کتابوں کی اشاعت متوقع ہے۔ ان کا ایوارڈ یافتہ مجموعہ، جو 2022 میں شائع ہوا، کشمیری زبان میں ان کی چھٹی کتاب ہے۔ اس تصنیف میں نئے موضوعات، جدید اسالیب اور ادبی تجربات کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ روایتی شاعری کی روح کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں غزل، نظم، نثری شاعری، رباعیات اور نئی اصناف جیسے ستری نظم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

حمزہ برہان کو پاک مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم حملہ آور نے ماری گولی، موقع پر جاں بحق، پلوامہ دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام
پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے ماسٹرمائنڈ میں سے ایک اورپاکستان کے موسٹ وانٹیڈ مشتبہ دہشت گرد حمزہ برہان کا گولی مارکرقتل کردیا گیا ہے۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق، پاکستان کے مظفرآباد میں نامعلوم حملہ آورنے حمزہ برہان کوگولی ماردی، جس سے وہ موقع پرہی جاں بحق ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق، حمزہ کے قتل کے لئے حملہ آورنے اسے کئی گولیاں ماری ہیں۔

حمزہ البدرکا ٹاپ کمانڈرتھا اوراس کا پورا نام ارجمند گلزارڈارعرف ڈاکٹرتھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ لمبے وقت سے ہندوستان مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل تھا اور جنوبی کشمیرمیں نوجوانوں کوشدت پسندی کی طرف دھکیلنے والے اہم چہروں میں شمارکیا جاتا تھا۔ وہیں حمزہ کا قتل کرنے والے ملزم شخص کومقامی لوگوں نے پکڑکرپولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزم شخص سے متعلق ابھی کوئی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔

موسٹ وانٹیڈ فہرست میں شامل تھا حمزہ

ارجمند گلزاربنیادی طورپرجموں وکشمیرکے پلوامہ ضلع کے رتنی پورا علاقے کا رہنے والا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ تقریباً 7 سال پہلے قانونی دستاویزوں کے ذریعہ پاکستان گیا تھا، جہاں اس نے دہشت گرد تنظیم البدرمیں شمولیت اختیارکرلی۔ بعد میں وہ تنظیم کا آپریشنل کمانڈربن گیا اورپاکستان سے بیٹھ کرکشمیرمیں دہشت گردوں کی بھرتی، فنڈنگ اورہتھیاروں کی سپلائی کا نیٹ ورک چلانے لگا۔ بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں نے اسے طویل عرصے سے انتہائی مطلوب فہرست میں رکھا ہوا تھا۔ ہندوستانی وزارت داخلہ نے اسے 2022 میں باضابطہ طورپردہشت گرد نامزد کیا۔ وزارت کے مطابق، وہ پلوامہ اورجنوبی کشمیرمیں دہشت پھیلانے، نوجوانوں کودہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کرنے اوردہشت گردی کے لئے فنڈزاکٹھا کرنے میں سرگرم تھا۔

ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن ماڈل کا حصہ تھا حمزہ

پلوامہ وادی کشمیرمیں دہشت گردانہ سرگرمیوں کا حساس مرکزرہا ہے۔ اس علاقے سے کئی چہرے دہشت گرد کے طورپر سامنے آئے، جن میں برہان وانی کا نام بھی شامل رہا، جس نے سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کوشدت پسندی کی طرف سے متاثرکیا تھا۔ ارجمند گلزارکو بھی اسی ڈیجیٹل شدت پسند ماڈل کا حصہ مانا جاتا ہے، جس میں سوشل میڈیا اورمقامی نیٹ ورک کے ذریعہ نوجوانوں کو ہتھیاراٹھانے کے لئے اکسایا جاتا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق، ارجمند گلزارکا نیٹ ورک پلوامہ، شوپیاں اوراونتی پورہ علاقوں میں سرگرم تھا۔ اس پرالزام تھا کہ وہ پاکستان سے بیٹھ کرمقامی اوورگراونڈ ورکرس کے ذریعہ ہتھیار، فنڈنگ اوردہشت گردانہ احکامات پرپہنچاتا تھا۔ کئی معاملوں میں اس کا نام دھماکہ خیزاشیا کی برآمدگی، گرینیڈ حملوں اوردہشت گردانہ سرگرمیوں سے جڑا پایا گیا۔










گوندیا کے نیو بالاجی اسپتال میں ڈاکٹروں نے نومولود بچوں کی خرید و فروخت کی رچ دی گھناونی سازش، 1001 خواتین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ
گوندیا کے رام نگر علاقے میں واقع ’نیو بالاجی اسپتال‘ سے جڑا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ خدا کا درجہ پانے والے ڈاکٹروں نے چند پیسوں کی خاطر نومولود بچوں کی خرید و فروخت کی اور نابالغ لڑکیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ بھنڈارا پولیس کی تحقیقات کے مطابق، اس اسپتال کی آڑ میں غیر قانونی اسقاطِ حمل، نابالغ لڑکیوں کی ڈلیوری اور پھر ان نومولود بچوں کو لاکھوں روپے میں فروخت کرنے کا ایک گھناونا ریکیٹ چلایا جا رہا تھا۔ پولیس نے فروخت کیے گئے دو معصوم بچوں کو ریسکیو کرکے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔

غریب خواتین کو ایسے بنایا جاتا تھا شکار

اس گینگ کے حوصلے اس قدر بلند تھے کہ ’بائی گنگابائی سرکاری خواتین اسپتال‘ میں آنے والی غریب خواتین کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ دلال اور ملزم ڈاکٹر ان خواتین کو بہلا پھسلا کر نیو بالاجی اسپتال لے آتے تھے۔انہیں ڈرایا جاتا تھا کہ ان کے پیٹ میں پل رہے بچے کی حالت سنگین ہے اور کم خرچ میں اس نجی اسپتال میں ڈلیوری کرا دی جائے گی۔کچھ خواتین کی کمزور معاشی حالت دیکھ کر ان سے کہا جاتا تھا کہ ان کا بچہ کمزور ہے، اس لیے اسے کسی این جی او (NGO) کے حوالے کر دیا جائے۔ بعد میں انہی بچوں کو بھاری قیمتوں پر فروخت کر دیا جاتا تھا۔

1001 خواتین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ

تحقیقات آگے بڑھنے پر اسپتال کے ایک اور بڑے گھپلے کا انکشاف ہوا، جو غیر قانونی سونوگرافی سینٹر سے متعلق تھا۔ ستمبر 2025 میں مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی نے ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر خوشال گھوڈیسوار کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ سرکاری اسکیم کے تحت حاملہ خواتین کی سونوگرافی کی جا سکے۔ قواعد کے مطابق سونوگرافی صرف ڈاکٹر خوشال ہی کر سکتے تھے، جس کی اجازت ضلع سرجن ڈاکٹر پروشوتم پاٹل نے دی تھی۔لیکن ڈاکٹر نتیش باجپئی نے بڑی جعلسازی کرتے ہوئے ڈاکٹر خوشال کے سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر وویک ییلے کا نام شامل کر دیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر خوشال کو بلائے بغیر ہی گزشتہ 8 مہینوں میں سرکاری اسپتال سے بھیجی گئی 1001 حاملہ خواتین کی سونوگرافی خود ڈاکٹر نتیش باجپئی اور ڈاکٹر وویک ییلے نے انجام دی۔ طبی اصولوں کے مطابق ایک ماہرِ امراضِ نسواں تکنیکی طور پر پیچیدہ سونوگرافی نہیں کر سکتا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد 15 اپریل 2026 کو اس سونوگرافی سینٹر کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔

انسٹاگرام سے ملے پختہ ثبوت

ڈاکٹر وویک ییلے ’بائی گنگابائی سرکاری خواتین اسپتال‘ میں کنٹریکٹ بنیاد پر گائناکولوجسٹ کے طور پر تعینات تھے۔ سرکاری قوانین کے مطابق کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹر کسی نجی اسپتال میں پریکٹس یا خدمات نہیں دے سکتے، لیکن وہ نیو بالاجی اسپتال کے اس کالے دھندے میں شریک تھے۔رام نگر پولیس کی جانچ میں سامنے آیا کہ ایک نابالغ لڑکی کی ڈلیوری کے وقت مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی، ڈاکٹر وویک ییلے اور راجےگاؤں اسپتال سے ریٹائرڈ ڈاکٹر آشا اگروال موجود تھیں۔ ان لوگوں نے نہ صرف ڈلیوری کرائی بلکہ بچے کی فروخت میں بھی مدد کی اور پولیس سے یہ بات چھپائی۔ اس کے پختہ ڈیجیٹل ثبوت خود مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی نے اپنے انسٹاگرام پیج پر ڈال رکھے تھے، جہاں یہ ڈاکٹر اسپتال میں ڈلیوری کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

انتظامیہ کی سخت کارروائی

معاملہ بے نقاب ہونے کے بعد انتظامیہ نے سخت قدم اٹھائے ہیں۔ گوندیا میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر کُسماکر گھورپڑے نے ڈاکٹر وویک ییلے کو ملازمت سے معطل کر دیا ہے۔ ضلع سرجن ڈاکٹر پروشوتم پاٹل نے ’نیو بالاجی اسپتال‘ کا لائسنس ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا ہے۔گرفتاری کے خوف سے ڈاکٹر باجپئی نے اسپتال کی سونوگرافی اور ڈلیوری سے متعلق تمام ریکارڈ تباہ کر دیے تھے۔ فی الحال پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی سمیت 10 ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔









ایران اور پاکستان کے بیچ ہوئی 'انڈر دی ٹیبل ڈیل' ، اس بار دھکہ جھیل نہیں پائیں گے ٹرمپ
اسلام آباد: پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے ملک کی تذلیل میں تمام حدیں پار کر دیں۔ شہباز اور منیر اور اب محسن نقوی نے اپنا ضمیر بیچنے کا سہارا لیا ہے۔ اس ملک نے اب اپنی غربت کو دور کرنے کے لیے دو ملکوں کے درمیان ایک ‘مڈل مین’ کے کردار کو کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بار بار کی دھتکار کے باوجود پاکستان، ایران اور امریکہ کے معاملات میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے۔ اس بے چینی کے پیچھے ایک خفیہ معاہدہ ہے جو پاکستان نے ایران کے ساتھ “پیس ٹیبل کے نیچے” سے کرلیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان ۔ ایران کے درمیان کون سی خفیہ ڈیل ہوئی؟اسرائیلی میڈیا “C14” کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اس امن معاہدے کو جلد از جلد حاصل کرنا چاہتا ہے، عالمی امن کے کسی احساس سے نہیں بلکہ اپنے لالچ سے۔

پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان “انڈر دی ٹیبل” معاہدہ یہ ہے کہ پاکستان ایران کو امریکہ کے ساتھ سازگار جنگ بندی معاہدے کو حاصل کرنے میں مدد کرے گا۔ بدلے میں، جیسے ہی امریکہ کی طرف سے عائد کردہ معاہدے کے تحت ایران کے خلاف سخت بین الاقوامی پابندیاں ہٹائی جائیں گی اور اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کیے جائیں گے، ایران اس خطیر رقم کا ایک اہم حصہ پاکستان کو اپنے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں مدد کے لیے فراہم کرے گا۔

امریکہ۔ ایران امن معاہدہ ہائی وولٹیج ڈرامہ نہیں
یہ بات قابل غور ہے کہ مغربی ایشیا اس وقت ایک ہائی وولٹیج ڈرامے کا مشاہدہ کر رہا ہے، امن معاہدے کا نہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں بار بار امن کی نئی تجاویز مرتب کر رہے ہیں اور پھر انہیں مسترد کر رہے ہیں۔ کسی نہ کسی بہانے جنگ بندی میں توسیع کی جا رہی ہے لیکن انا کی جنگ بدستور جاری ہے۔ دریں اثناء آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور پوری دنیا کو تیل کی قلت کا سامنا ہے۔ جنگ سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود دنیا بھر میں عام لوگ تیل کی بے تحاشا قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔ ان سب کے اوپر سے پاکستان جیسا ناکام ملک ایران اور امریکہ کے بیچ امن معاہدے کروا نے کی کوشش کررہا ہے اور اس میں بار بار ناکام ہو رہا ہے۔

Wednesday, 20 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


محترم بنکر بھائیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
جیسا کہ آپ سب بخوبی واقف ہیں کہ اس وقت ہماری مالیگاؤں کی تاریخی پاور لوم صنعت انتہائی نازک اور سنگین دور سے گزر رہی ہے۔ حالات دن بدن دیگر گوں اور بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی ماحول نے خام تیل (Crude Oil)، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، جس کی وجہ سے امپورٹ اور ایکسپورٹ (درآمدات و برآمدات) بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
اس کا براہِ راست اور مہلک اثر ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پڑا ہے۔ یارن (سوت) کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف کپڑے کے دام گرتے جا رہے ہیں۔ لاگت زیادہ اور منافع نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے نقصان کا ریشو (تناسب) روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
انہی پریشان کن حالات کے پیشِ نظر، مالیگاؤں اور بالخصوص **تانبہ کانٹا** کے متعدد بنکر حضرات نے مجھ سے رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم رائے پیش کی کہ آنے والے مبارک تہوار **عید الاضحیٰ (بکر عید)** پر جو کاروبار بند رکھا جاتا ہے، اسے اس بار لمبا رکھا جائے تاکہ نقصان سے کچھ راحت مل سکے۔

**میری تمام بنکر حضرات سے مخلصانہ وضاحت اور اپیل ہے:**

> "میں تمام بنکر بھائیوں پر یہ بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ **بکر عید کے بند کو لمبا کرنے کی یہ رائے میری اپنی ذاتی رائے یا فیصلہ نہیں ہے**، بلکہ یہ شہر اور تانبہ کانٹا کے بہت سارے بنکروں کی جانب سے کثرت سے آئی ہوئی رائے ہے، جسے میں صرف آپ تمام حضرات کے سامنے غور و فکر کے لیے رکھ رہا ہوں۔ آپ تمام بنکر بھائی اس رائے سے **اتفاق کرنے یا اختلاف رکھنے کا پورا اختیار اور آزادی رکھتے ہیں**۔
> چونکہ حالات بہت خراب ہیں، اس لیے عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ تمام بنکروں سے گزارش ہے کہ کسی بھی دباؤ کے بغیر، **رضاکارانہ طور پر اور اپنی مرضی سے** (اگر آپ مناسب سمجھیں تو) بکر عید کے اس بند کو اپنے حساب سے لمبا لے جائیں، تاکہ ہم سب مل کر اس بڑے مالی نقصان سے بچ سکیں۔"
آئیں، اس کٹھن وقت میں سمجھداری، یکجہتی اور حکمتِ عملی سے کام لیں تاکہ ہم اپنی اس صنعت کو زندہ رکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام بنکروں کے کاروبار میں برکت عطا فرمائے اور اس بحران سے نکلنے کی راہ آسان کرے۔ (آمین)

**آپ کا مخلص،**
**محمد عمیر شمشاد علی (عمیر سر)**
مالیگاؤں، مہاراشٹرا






روزانہ صرف 45 منٹ کی واک سے آپ کیا ’حیرت انگیز‘ فائدے حاصل کر سکتے ہیں؟
پیدل چلنا یا واک انسان کے لیے نہایت بہترین اور قدرتی ورزش ہے جو مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بالغ افراد ہفتے میں کم سے کم 150 سے 300 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی ضرور کریں۔ 
ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ 45 منٹ کی چہل قدمی یا واک انسان کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اسی طرح اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ محض 5 ہزار قدم چلنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
پٹھوں کی مضبوطی
پیدل چلنے کی وجہ سے جسم کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ پٹھوں کے مضبوط ہونے سے چلنے پھرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور جسمانی اعضا بیماری سے بچے رہتے ہیں۔
نیند میں بہتری
جسمانی سرگرمیوں سے نیند بہتر ہوتی ہے اور تناؤ میں بھی کمی آتی ہے۔ بہترین نیند سے مجموعی طور پر انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
واک سے ذہنی تناؤ میں کمی
واک کے اثرات محض انسان کے جسم پر ہی مرتب نہیں ہوتے بلکہ اس کے نفسیاتی اور سماجی فوائد بھی ہیں۔ 
وہ افراد جو ذہنی تناؤ اور درمیانے درجے کے ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالیں اور روزانہ واک کرنے کی عادت اپنائیں۔
قوت مدافعت میں بہتری
باقاعدگی سے چہل قدم یا واک کرنے سے انسان کی قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے۔ پیدل چلنے سے بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔وزن قابو میں رہتا ہے
واک کرنے سے کیلوریز جلتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کا وزن بڑھنے سے رُکا رہتا ہے۔ واک کرنے سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے اور انسان کی کیلوریز جلانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، چہل قدمی سے جسم بھاری نہیں ہوتا اور فالتو چربی بھی کم ہوتی ہے۔
عمر طویل ہوتی ہے
باقاعدگی سے چہل قدمی یا واک کی عادت انسان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور جوانی میں طبعی موت کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ اس سے پیچیدہ بیماریوں کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے اور ذہنی صحت بہتر رہتی ہے۔
دل کے دورے کا خطرہ کم
ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ورزش انسان میں خون کی شریانیں کو فعال رکھتی ہے جس سے دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ 








اروند کیجریوال اوردیگرکوالیکشن لڑنے سے نا اہل قرار دینے کی مفاد عامہ کی عرضی خارج، دہلی ہائی کورٹ نے دیا بڑا فیصلہ
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے دائرمفاد عامہ کی عرضی (پی ایل آئی) کی سماعت کی، جس میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اوردرگیش پاٹھک کوالیکشن لڑنے سے نااہل قراردینے اورعام آدمی پارٹی کے رجسٹریشن کومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیویندراپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے پی آئی ایل کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ درخواست میں لگائے گئے الزامات میں قانونی میرٹ نہیں ہے۔ اس لئے درخواست پرکوئی حکم جاری کرنے کا کوئی جوازنہیں ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے پوچھا سوال

درخواست گزارکی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی کہ اروند کیجریوال اوردیگرعدالتی کارروائی کوبدنام کرنے اورمتنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن کمیشن کوسیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا حکم دیں؟ لیکن کیا سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی قانون میں کوئی شق موجود ہے؟ اگرایسا ہے تواس کا مکمل قانونی ڈھانچہ کیا ہے؟ عدالت کے اس سوال کے جواب میں وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ براہ راست سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ اس معاملے میں قانون واضح ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ کا فیصلہ تین غیرمعمولی حالات کا خاکہ پیش کرتا ہے، جن میں سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔ وکیل نے ان تین مستثنیات کا حوالہ دیا اورعدالت کوان حالات سے آگاہ کیا۔

یہ کیس پہلی دوشرائط پرپورا نہیں اترتا

اس پرعدالت نے کہا کہ یہ کیس پہلی دوشرائط پرپورا نہیں اترتا۔ تیسری شرط یہ ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن صرف اس صورت میں منسوخ کیا جا سکتا ہے، جب اسے یواے پی اے یا اسی طرح کے قانون کے تحت غیرقانونی تنظیم قراردے دیا گیا ہو۔ وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 29 اے (5) کے تحت فریق کوتحریری حلف نامہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ آئین اوراس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرے گی۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی فریق ان شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تواس کے خلاف کارروائی یا رجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس سورن کانتا شرما کے فیصلے کا حوالہ

عرضی گزار کے وکیل نے اس کے بعد جسٹس سورن کانتا شرما کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی ان کی عرضی کی بنیاد ہے۔ اس پرعدالت نے کہا کہ سب سے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کسی عدالت کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کوکسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیارہے؟ عدالت نے واضح کیا کہ صرف کسی فیصلے کا حوالہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی دکھانا ضروری ہے کہ قانون کے تحت عدالت کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے خلاف ایسا قدم اٹھاسکتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ اگرکسی شخص کوتعزیرات ہند پربھروسہ نہیں ہے تومیری رائے میں وہ الیکشن نہیں لڑسکتا۔ میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا وردرگیش پاٹھک کی بات کررہا ہوں۔ عدالت نے کہا کہ اس سے کسی سیاسی پارٹی کا رجسٹریشن منسوخ کیسے ہوگا؟ اس پروکیل نے کہا،”میرا دوسرا مطالبہ بھی ہے کہ اروند کیجریوال اوردیگرکولوک سبھا اوراسمبلی الیکشن لڑنے سے نا اہل قراردیا جائے۔ کسی سیاسی پارٹی کا رکن ہوکرعدالت کی کارروائی کوبدنام نہیں کرسکتا۔”سیاسی پارٹیوں کے رجسٹریشن کا پورا عمل قانون میں طے: عدالت

عدالت نے کہا کہ اگرکسی لیڈرنے عدالت کے خلاف بیان دیا ہے تو اس کے لئے الگ قانونی عمل توہین عدالت کی کارروائی ہے۔ صرف اس بنیاد پرکسی سیاسی پارٹی کو ختم کرنا یا لیڈران کو الیکشن لڑنے سے روکنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے رجسٹریشن کا پورا عمل قانون میں طے ہے اوراس معاملے میں دائرعرضی اسی قانونی نظام کو صحیح طریقے سے سمجھے بغیر داخل کی گئی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحا...