Tuesday, 10 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




"پاکستانی ڈالروں کے لئے اپنی ماں تک کو بیچ سکتے ہیں " ، عمران خان نے دکھایا تھا آئینہ
اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے حالیہ موقف نے ایک بار پھر ملکی سیاست اور کھیلوں کی انتظامیہ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان جس نے پہلے بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا تھا، اب اچانک یو ٹرن لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس الٹ پھیر نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایک برسوں پرانے بیان کو دوبارہ روشنی میں لادیا ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ دراصل عمران خان نے کہا تھا کہ ’’پاکستانی ڈالروں کے عوض اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں‘‘۔

اس بیان کے زیر بحث آنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کر سکتا ہے۔ سیاسی کشیدگی اور بیان بازی کے درمیان پی سی بی نے سخت موقف اپنانے کی کوشش کی۔ تاہم جیسے ہی مالی نقصانات اور آئی سی سی کی آمدنی کا معاملہ سامنے آیا، صورتحال بدل گئی۔ اب پاکستان بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دے رہا ہے۔عمران خان کا برسوں پرانا بیان خبروں میں کیوں ہے؟
عمران خان کا ایک پرانا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ حامی اور ناقدین دونوں کہہ رہے ہیں کہ پی سی بی کا یہ یو ٹرن اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کے خلاف عمران خان تنبیہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی پالیسیاں اکثر اصولوں سے نہیں بلکہ ڈالروں کی ضرورت سے طے ہوتی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میں اپنے موقف پر ڈٹا رہتا تو اسے مالی نقصان برداشت کرنے کی ہمت دکھانی پڑتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈوبتی ہوئی معیشت اور زرمبادلہ کی کمی کے دور میں کرکٹ بھی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔

ضمیر کہاں گیا؟
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسپورٹس مین شپ سے زیادہ معاشی مجبوری سے ہوا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے میچز کو عالمی کرکٹ میں سب سے زیادہ کمانے والے میچوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان براڈکاسٹ رائٹس، ایڈورٹائزنگ اور اسپانسر شپ سے حاصل ہونے والی خاطر خواہ ریونیو سے خود کو الگ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ سری لنکا کے ساتھ بات چیت کے بعد شہباز کے فلپ فلاپ نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان کی عزت نفس واقعی ڈالروں پر منحصر ہے۔ چند روز قبل شہباز شریف نے خود کہا تھا کہ انہیں قرضے کے حصول کے لیے کس طرح سر جھکانا پڑا، اور اب یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ یہ بات سچ بھی ہے ۔











"ایک دن بی جے پی گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی": اسدالدین اویسی نے ساورکر کے لیے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کے مطالبے کی مذمت کی
محبوب نگر (تلنگانہ): اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پیر کے روز وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن سے نوازنے کے سنگھ سربراہ کے مطالبے پر بی جے پی-آر ایس ایس پر سخت حملہ کیا۔

1857 کی بغاوت میں اپنا حصہ ڈالنے والے مولوی علاؤالدین کو یاد کرتے ہوئے اویسی نے ساورکر کو اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازنے کے خیال پر تنقید کی۔انہوں نے کہا، "حیدرآباد میں مکہ مسجد کے اس وقت کے امام مولوی علاؤالدین نے انگریزوں کے خلاف احتجاج کیا کیونکہ کچھ آزادی پسند جنگجو اورنگ آباد میں پکڑے گئے تھے۔ مولوی علاؤالدین نے حیدرآباد میں انگریزوں کی ریزیڈینسی کے روبرو احتجاج کیا، حالانکہ اس وقت انگریز ہی نظام کی حفاظت کرتے تھے۔ ان پر حملہ کیا گیا، لیکن وہ فرار ہو گئے، بعد میں، وہ گرفتار ہو گئے۔ وہ 'کالا پانی' ( انڈومان جیل) میں پہلے قیدی تھے۔"

اویسی نے اپنے خطاب میں آر ایس ایس کو یاد دلایا کہ کالا پانی کی سزا پانے والا پہلا مسلمان تھا جس کا نام مولانا علاؤالدین تھا۔ انھوں نے کہا کہ، جب علاؤالدین بیمار ہوئے تو انگریزوں نے نظام سے انھیں لے جانے کو کہا، لیکن نظام نے انکار کر دیا اور مولانا علاؤ الدین کا انڈومان جیل میں انتقال ہوگیا۔

اے آئی ایم آئی ایم لیڈر نے مزید کہا، "آج، آر ایس ایس ایک ایسے شخص کو بھارت رتن دینے کے لیے اپیل کر رہا ہے جس نے انگریزوں کو چھ رحم کی درخواستیں لکھی تھیں۔ ایک وقت آئے گا جب بی جے پی ناتھورام گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی۔"

واضح رہے اویسی نے یہ معاملہ ایسے وقت اٹھایا ہے جب آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے 'سنگھ کے 100 سال - نیو ہورائزنز' پر دو روزہ لیکچر سیریز میں کہا کہ اگر ساورکر کو بھارت رتن دیا جائے گا تو اس (ایوارڈ) کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ بھاگوت نے کہا کہ وہ فیصلہ کرنے والی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں لیکن موقع ملنے پر وہ اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

بھاگوت نے کہا، "میں اس کمیٹی میں نہیں ہوں، لیکن اگر میں کسی ایسے شخص سے ملوں گا تو میں ان سے پوچھوں گا۔ اگر سواتنتر ویر ساورکر کو بھارت رتن سے نوازا جاتا ہے، تو ایوارڈ کا وقار بڑھ جائے گا۔ اس وقار کے بغیر بھی وہ کروڑوں دلوں کے شہنشاہ بن چکے ہیں۔"

اس سے پہلے آج کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے موہن بھاگوت کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت رتن ایوارڈ اور ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے مجاہدین آزادی کی 'توہین' ہوگی۔

ٹیگور نے اے این آئی کو بتایا، "اپمان ہوگا (توہین ہوگی)، اگر ہم ان لوگوں کو بھارت رتن دیتے رہیں جو انگریزوں سے معافی مانگتے رہے۔ یہ بی آر امبیڈکر، سردار پٹیل، مہاتما گاندھی سمیت ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے لوگوں کی توہین ہوگی۔"

تاہم، بی جے پی اور یہاں تک کہ انڈیا بلاک کی اتحادی، شیوسینا (یو بی ٹی) نے بھاگوت کے مطالبات کو درست قرار دیا۔

بی جے پی ایم پی مدن راٹھور نے اے این آئی کو بتایا کہ کچھ لوگ "مکمل تاریخ نہ پڑھنے" کی وجہ سے اس خیال کی مخالفت کر رہے ہیں، اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ ساورکر نے "بہت نقصان اٹھایا ہے" اور انہوں نے امید کھوئے بغیر ملک کے لیے لڑنا جاری رکھا ہے۔

جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن نہ دینے پر بی جے پی پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے اس ضمن میں سیدھے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھ گچھ کرنے کی اپیل کی۔














امریکہ-بنگلہ دیش تجارتی معاہدہ : ڈیری، بیف اور پولٹری مارکیٹ کھل گئیں، گارمنٹس پر ٹیرف میں نرمی
امریکہ نے بنگلہ دیش کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش نے امریکی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی کے اہم شعبے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکہ نے بنگلہ دیشی برآمدات پر عائد محصولات میں نمایاں نرمی کی ہے۔

اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے امریکی ڈیری مصنوعات، گائے کے گوشت (بیف) اور پولٹری مصنوعات کو اپنی منڈی میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ساختہ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، موٹر وہیکلز اور ان کے پرزہ جات، طبی آلات، مشینری، آئی سی ٹی آلات، توانائی سے متعلق مصنوعات اور سویا پر مبنی اشیا کو بھی بنگلہ دیش میں ترجیحی تجارتی رسائی دی جائے گی۔

اس کے بدلے میں بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ریڈی میڈ گارمنٹس (RMG) کو امریکی منڈی میں صفر ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہوگی، بشرطیکہ ان ملبوسات میں استعمال ہونے والا کپاس اور مصنوعی فائبرز امریکہ سے درآمد کیے گئے ہوں۔ برآمدات کا حجم اسی شرط سے منسلک ہوگا کہ بنگلہ دیش امریکہ سے کتنا ٹیکسٹائل خام مال درآمد کرتا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارت تجارت کے حکام کے مطابق، معاہدے میں امریکی گندم، سویا بین اور ایل این جی (Liquefied Natural Gas) کی درآمد، ای-کامرس پر ٹیرف نہ لگانے کی یقین دہانی، امریکی طے کردہ انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے معیارات پر عمل درآمد اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں امریکہ کی حمایت یافتہ اصلاحات کی تائید بھی شامل ہے۔

معاہدے کے ایک اہم حصے کے طور پر بنگلہ دیش نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مزدور حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ اس میں جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی، مزدور قوانین میں ترمیم کے ذریعے تنظیم سازی اور اجتماعی سودے بازی (Collective Bargaining) کی آزادی، اور لیبر قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔امریکہ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے گا، جس کے لیے یو ایس ایکسپورٹ-امپورٹ بینک (EXIM Bank) اور یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) جیسے ادارے امریکی نجی شعبے کے اشتراک سے مالی معاونت فراہم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ قوانین اور اہلیت کے تقاضے پورے ہوں۔

اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے تقریباً 3.5 ارب ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات جن میں گندم، سویا، کپاس اور مکئی شامل ہیں ،خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں تقریباً 15 ارب ڈالر کی درآمدات آئندہ 15 برسوں میں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ہوابازی کے شعبے میں بھی تعاون شامل ہے۔

اسی تناظر میں، بنگلہ دیش نے حال ہی میں امریکی کمپنی بوئنگ سے 25 طیارے خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار کروڑ ٹکہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ قدم بھی امریکی ٹیرف میں نرمی کے لیے کیے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔

بنگلہ دیش کے ایکسپورٹ پروموشن بیورو (EPB) کے مطابق، امریکہ بدستور بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ گزشتہ سال اگست میں امریکہ نے بنگلہ دیشی برآمدات پر مجوزہ 37 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 20 فیصد کر دیا تھا، تاہم بنگلہ دیشی پالیسی سازوں کی خواہش تھی کہ اسے 15 فیصد تک لایا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بنگلہ دیش کی ملبوسات کی صنعت کے لیے نہایت اہم ریلیف ثابت ہوگا، کیونکہ یہی شعبہ ملک کی 80 فیصد سے زائد برآمدات کا ذریعہ ہے، تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے ، جن میں اکثریت خواتین کی ہے اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 10 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش 12 فروری کو عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، جن کے ذریعے نئی قیادت کا انتخاب کیا جائے گا اور 18 ماہ سے قائم یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کا خاتمہ متوقع ہے، جو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد جولائی میں ہونے والی پرتشدد طلبہ تحریک کے نتیجے میں اقتدار میں آئی تھی۔

بنگلہ دیش کی معیشت طویل عرصے سے ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات پر انحصار کرتی رہی ہے، جبکہ امریکہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ حالیہ برسوں میں مزدور حقوق، سیاسی عدم استحکام اور عالمی تجارتی دباؤ کے باعث بنگلہ دیش کو امریکی منڈی میں سخت شرائط کا سامنا رہا۔ یہ نیا تجارتی معاہدہ نہ صرف معاشی ریلیف بلکہ آنے والے انتخابات سے قبل عبوری حکومت کے لیے ایک سفارتی کامیابی بھی سمجھا جا رہا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

بزرگ شعراء و ادبی اکابرین ایک ساتھ تاریخ ساز تقریب
  گزشتہ دنوں سات فروری سنچر کی شب اسکس ہال میں ادارہ "سیف نیوز" اردو کی جانب سے ایک شام بزرگ شعراء کے نام منعقد کی گئی جسمیں 25 بزرگ شاعروں ادبیوں کا اعزاز و استقبال کیا گیا، مومنٹیو گل شال و تحائف کے ذریعے تقریب میں "کریم آف دا سٹی" معزز مہمانوں کی کیثر تعداد موجود تھی ایک اسٹیج پر تمام بزرگوں کی موجودگی نے پروگرام کو تاریخی بنا دیا سا معین کے خلوص سے تقریب نہایت کامیاب رہی شہر کے خوش فکر افراد نے مبارکباد دی۔۔ 
 سیف نیوز اردو کی جانب سے تمام شرکاء کے لیے اظہار تشکر دعاؤں کی درخواست اللہ ان بزرگوں کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے آمین

*🔴سیف نیوز اردو*




شکیل مصطفی سر کو پیکر ِ تدریس ایوارڈ تفویض 
 مالیگاؤں؍ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو بہ اشتراک اردو چینل کے زیراہتمام جشن اردو سال 2026 بڑے ہی تزک و اہتمام سے فیروز شاہ مہتا بھون، ممبئی یونیورسٹی کالینہ میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں جناب شکیل مصطفی سر (مالیگاؤں) کو پیکر تدریس ایوارڈ تفویض کیا گیا۔ یہ ایوارڈ تعلیم کے میدان میں نمایاں اور قابل قدر خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ 
 محترم موصوف 18؍ سال سے یعقوب بیگ ہائی اسکول وجونیئر کالج پنویل میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ تدریس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بچّوں کے ادب پر مشتمل کئی کتابیں شائع کیں ہیں۔ 
 پیکر تدریس ایوارڈ سے سرفراز کئے جانے پر اُن کے خیر خواہوں، ادبی حلقہ بگوش اور تعلیم سے روابط رکھنے والے احباب نے انھیں پرخلوص مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔











"بیرون ممالک اور یوروپین کنٹریز میں فیزیو تھراپی کو اولیت دی جاتی ہے" ڈاکٹر سعید فارانی 
"رفا ہیلتھ کیئر" کا شاندار افتتاح و آغاز 

شہر عزیز مالیگاؤں میں ربانی فیمیلی کی علمی ادبی سماجی، طبی و فلاحی شش پہلوی ہمہ جہت خدمات اظہر من الشمس ہیں- مرحوم بقرعیدی سردار سے لیکر الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر و فرزندان ڈاکٹر راشد ربانی، ایڈوکیٹ رفیق ربانی، ریحان ربانی و رضوان ربانی کے بعد اب تیسری نسل عوام الناس کی خدمات کے لئے میدان عمل میں آچکی ہے اس طرح کے احساسات کا اظہار "رفا ہیلتھ کیئر" کے افتتاحی پروگرام میں حاضرین نے کیا- جو ٨ فروری ٢٠٢٦ء بروز اتوار کو عصر بعد، انصار کالونی، نزد فباء مسجد, منعقد ہوا- اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر سعید احمد فارانی صاحب نے ڈاکٹر محمد معظم (فیزیو تھراپسٹ)و ڈاکٹر شعیب انجم (جنرل فزیشن) صاحبان کو مبارکباد پیش کی اور بتایا کہ ایمانداری سے اس پیشے کو اپنایا تو لوگ اسے خدمت خلق کا نام دیں گے- آپ نے موجودہ دور میں فیزیو تھراپی اور یونانی پریکٹس کی اہمیت، افادیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یورپین کنٹریز میں فیزیو تھراپی کو اولیت دی جاتی ہے، قبل اسکے معروف مبصر و مقرر عمران جمیل، ڈاکٹر افتخار احمد و عبدالعزیز مقادم صاحبان نے بھی مختصراً اظہار خیال کرتے ہوئے پورے خانوادے کو مبارکباد پیش کی- تقریب کا آغاز حافظ محمد مدثر کی قرأت سے ہوا ایڈوکیٹ رفیق ربانی نے غرض و غایت بیان کی مفتی شارق کی دعا اور الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے دست مبارک سے رفا ہیلتھ کیئر، فیزیو تھراپی کنسلٹنگ، رفا جنرل فزیشن کنسلٹنگ، رفا میڈیکل اینڈ جنرل اسٹورس کا افتتاح و آغاز ہوا- اس موقعے پر معززین شہر کی کثیر تعداد کے علاوہ پانچ اضلاع سے ڈاکٹرس حضرات و مہمانان موجود تھے- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر نے بحسن و خوبی انجام دیئے- شب دس بجے تک لوگوں کی آمد کا سلسلہ دراز رہا -












خوبصورت مگر زہریلے: وہ پھول جن سے محتاط رہنا ضروری ہے
خوبصورت، رنگ برنگے اور خوشبودار پھول گھروں، باغات اور تقریبات کی رونق سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں محبت، خوشی اور احترام کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تاہم سائنسی تحقیق اور ماہرینِ نباتات کی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ ہر پھول صرف خوبصورتی ہی نہیں رکھتا بلکہ بعض پھول قدرتی طور پر ایسے زہریلے کیمیائی مادے پیدا کرتے ہیں جو مخصوص حالات میں انسانوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ لاعلمی میں ان پھولوں کو چھونا، چبانا یا نگلنا صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی نے ایک تحقیق کے حوالے لکھا ہے کہ پودے اپنی حفاظت کے لیے قدرتی دفاعی نظام رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ حرکت نہیں کر سکتے، اس لیے الکلائیڈز، گلائیکوسائیڈز اور دیگر ثانوی کیمیائی مرکبات پیدا کرتے ہیں تاکہ کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کو دور رکھا جا سکے۔یہی مادے اگر انسانی جسم میں داخل ہو جائیں تو متلی، قے، جلن، اعصابی مسائل حتیٰ کہ کہ دل اور دیگر اہم اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ذیل میں سات ایسے عام پھولوں کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے جن کے بارے میں ماہرین نے صحت کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
اولیئنڈر
اولیئنڈر ایک عام آرائشی جھاڑی ہے جو پارکوں اور سڑکوں کے کنارے بکثرت لگائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پودے کے تمام حصوں میں کارڈیک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر اس کے پتے یا پھول نگل لیے جائیں تو قے، چکر اور دل کی بے ترتیبی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور شدید صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
فاکس گلوو
فاکس گلوو کے خوبصورت گھنٹی نما پھول بظاہر بے ضرر نظر آتے ہیں، مگر ان میں ڈیجیٹالس نامی مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ یہ مادے دل کے خلیوں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں اور اگر زیادہ مقدار میں جسم میں داخل ہو جائیں تو دل کی دھڑکن خطرناک حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاکس گلوو کو طبی لحاظ سے نہایت حساس پودا سمجھا جاتا ہے۔اینجلز ٹرمپٹ / برگمانسیا
یہ بڑے اور خوشبودار پھول خاص طور پر رات کے وقت اپنی مہک کے باعث توجہ حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان میں سکوپولامین اور ہائیوسایامین جیسے الکلائیڈز پائے جاتے ہیں جو ذہنی انتشار، فریب نظر، اعصابی کمزوری اور شدید صورت میں سانس کی دشواری کا سبب بن سکتے ہیں۔
پوائزن ہیملک
اگرچہ یہ پودا عام گھریلو باغات میں کم پایا جاتا ہے، لیکن تاریخی طور پر اسے نہایت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود طاقتور زہریلے مادے اعصابی نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ معمولی مقدار بھی سانس کے نظام کو متاثر کر کے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
کولمبائن
کولمبائن کے نازک اور منفرد شکل کے پھول کئی باغات کی زینت بنتے ہیں۔ تاہم کچھ اقسام میں سائنوجینک گلائیکوسائیڈز پائے جاتے ہیں جو جسم میں جا کر سائنائیڈ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمزوری، چکر اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔کراؤن آف تھورنز
یہ کانٹے دار پودا زیادہ خطرناک تو نہیں، مگر اس کا دودھیا رس جلد اور آنکھوں میں شدید جلن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر غلطی سے نگل لیا جائے تو معدے میں تکلیف، قے اور بدہضمی ہو سکتی ہے۔ ماہرین اسے بچوں اور پالتو جانوروں سے دور رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
سیمبوکس
ایلڈر کے کچھ پھولوں اور پودوں میں بھی سائنوجینک مرکبات پائے جاتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں ان کا استعمال متلی، پیٹ درد اور کمزوری کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر انہیں بغیر مناسب تیاری کے استعمال کیا جائے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عام حالات میں صرف پھولوں کو دیکھنا یا مختصر وقت کے لیے سونگھنا زیادہ تر افراد کے لیے خطرناک نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب پودوں کو چبایا، نگلا یا طویل عرصے تک ننگے ہاتھوں سے سنبھالا جائے۔ بچوں، پالتو جانوروں، مالیوں اور پھول فروشوں کے لیے خطرات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔صحت کے ماہرین عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ پھولوں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ضرور ہوں، مگر احتیاط کے ساتھ۔ غیر معروف پودوں کو کھانے سے گریز کیا جائے، باغبانی کے دوران دستانے استعمال کیے جائیں، اور اگر کسی قسم کی جلن، متلی یا چکر محسوس ہوں تو فوری طبی مشورہ حاصل کیا جائے۔
فطرت کی یہ خوبصورتی اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب اس کے ساتھ شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔

Monday, 9 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



رنجی ٹرافی میں عاقب نبی نے مچائی تباہی ، مدھیہ پردیش کے خلاف جھٹکے 12 وکٹ ، جموں و کشمیر کو پہنچایا سیمی فائنل میں
نئی دہلی: جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی ڈومیسٹک کرکٹ میں وکٹ کی مشین بن گئے ہیں۔ رنجی ٹرافی کے ناک آؤٹ مرحلے میں مدھیہ پردیش کے خلاف ان کی تباہ کن گیند بازی نے سنسنی پیدا کردی۔ اندور میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میچ میں عاقب نبی نے مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی طاقتور گیند بازی کی بدولت جموں و کشمیر نے کوارٹر فائنل میچ میں مدھیہ پردیش کو 56 رنز سے شکست دے کر اگلے راؤنڈ میں جگہ پکی کرلی۔

جموں و کشمیر کی جیت کے ہیرو عاقب نبی نے میچ میں کل 12 وکٹیں حاصل کیں۔ نبی نے پہلی اننگز میں سات اور پھر دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح مجموعی طور پر عاقب نبی نے 12 وکٹیں حاصل کیں۔ عاقب کی زبردست کارکردگی کی بدولت جموں و کشمیر نے مدھیہ پردیش کو پورے میچ میں بیک فٹ پر رکھا اور آسانی سے جیت حاصل کی۔ایم پی اور جموں و کشمیر کے میچ میں کیا ہوا؟
وہیں اس میچ کی بات کریں تو جموں و کشمیر کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 67 اوورز میں 194 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ جواب میں مدھیہ پردیش کی بیٹنگ بھی ناقص رہی اور عاقب نبی کی جان لیوا باؤلنگ کے سامنے ٹیم صرف 152 رنز تک ہی محدود رہی۔ اس سے جموں و کشمیر کو پہلی اننگز میں 42 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔

پہلی اننگز میں سستے آؤٹ ہونے کے بعد جموں و کشمیر نے دوسری اننگز میں زیادہ محتاط کے ساتھ بیٹنگ کی۔ جموں و کشمیر نے دوسری اننگز میں 248 رنز بنا کر مدھیہ پردیش کو چوتھی اننگز میں 291 رنز کا ہدف دیا تھا۔ تاہم عاقب نے ایک بار پھر اپنی دمدار گیندبازی سے تباہی مچا دی۔ عاقب نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر ٹیم کو 234 رنز تک محدود کر دیا اور جموں و کشمیر نے یہ میچ 56 رنز سے جیت لیا۔









سپریم کورٹ نے بنگال میں ایس آئی آر جانچ کے لیے مزید وقت دے دیا، ڈی جی پی کو شو کاز نوٹس
سپریم کورٹ نے پیر کے روز مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت کی آخری تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے، جس کے بعد اب یہ فہرست 14 فروری کے بعد شائع کی جائے گی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ 14 فروری کو حتمی ووٹر لسٹ شائع نہیں کی جا سکتی، کیونکہ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر (CEC) کو خط لکھ کر سماعت کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت مانگ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ ووٹرز سے متعلق سماعت کے لیے دیے جانے والے وقت میں مزید توسیع کی جائے۔سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) سے ذاتی حلف نامہ طلب کرتے ہوئے انہیں شو کاز نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے اس حلف نامے کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ SIR کے دوران تعینات انتخابی اہلکاروں کو دھمکیاں دی گئیں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

الیکشن کمیشن کے الزامات پر سپریم کورٹ کی سختی
الیکشن کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران کئی مقامات پر اس کے اہلکاروں کو دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس سے آزاد اور منصفانہ ووٹر ریویژن کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ ان الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بنگال کے ڈی جی پی سے وضاحت طلب کی ہے۔

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت
اسی دن سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر بھی سماعت کی، جس میں انہوں نے آئندہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کو چیلنج کیا ہے۔

ممتا بنرجی نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جانبداری کے تحت کام کر رہا ہے اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا موجودہ طریقہ کار سماج کے پسماندہ طبقات کے لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے عدالت سے عبوری ہدایت کی مانگ کی ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کسی بھی ووٹر کا نام حذف نہ کیا جائے، خاص طور پر ان ووٹروں کا جنہیں “Logical Discrepancy” کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال میں رواں برس اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، ایسے میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ بن چکی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے غیر قانونی ووٹروں کو ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ حکمراں ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کو مخصوص طبقات کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی کی عرضی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا اور معاملے کی مزید سماعت پیر کے لیے مقرر کی تھی۔











دہلی کے 9 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، اسکولوں میں سیکورٹی سخت، سیکورٹی ایجنسیاں الرٹ
نئی دہلی :دہلی میں پیر کی صبح ایک بار پھر اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے سے ہلچل مچ گئی۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں واقع نو اسکولوں کو بم کی دھمکی آمیز کال موصول ہوئی، جس کے بعد دہلی پولیس، فائر بریگیڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آ گئیں۔پولیس کے مطابق یہ تمام دھمکی آمیز کالز صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان کی گئیں۔ ایک ہی وقت میں متعدد کالز آنے کے باعث سیکورٹی ایجنسیاں مکمل طور پر الرٹ ہو گئیں۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ اسکولوں کے اطراف سیکورٹی بڑھا دی گئی اور احتیاطی طور پر طلبہ اور عملے کی حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔جن نو اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے، ان میں دہلی کینٹ کا لوریٹو کانونٹ اسکول، سری نواس پوری کا کیمبرج اسکول، روہنی کا وینکٹیشور اسکول، نیو فرینڈز کالونی کا کیمبرج اسکول، صادق نگر کا انڈین اسکول، روہنی کا سی ایم شری اسکول، آئی این اے کا ڈی ٹی اے اسکول، روہنی کا بال بھارتی اسکول اور نیو راجندر نگر کا ونستھلی اسکول شامل ہیں۔ تمام اسکولوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فی الحال کسی بھی مشتبہ چیز کی اطلاع نہیں ملی ہے،قابل ذکر بات یہ ہےکہ مکمل تفتیش جاری ہے۔ ساتھ ہی دھمکی دینے والے شخص یا افراد کی شناخت کے لیے کال ڈیٹیلز اور تکنیکی شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جنوری سے فروری 2026 کے درمیان دہلی این سی آر میں اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 7 فروری کو ایک بڑے پیمانے پر بھیجے گئے ای میل کے بعد 50 سے زائد اسکولوں کو خالی کرایا گیا تھا، جسے بعد میں وزارت داخلہ نے فیک قرار دیا تھا۔اس سے قبل 28 اور 29 جنوری کو بھی سردار پٹیل ودیالیہ، لوریٹو کانونٹ اور ڈان بوسکو سمیت پانچ اسکولوں کو دھمکیاں ملی تھیں، تاہم تفتیش میں کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا اور چند گھنٹوں بعد تمام کیمپس کو محفوظ قرار دے دیا گیا تھا۔

*🔴سیف نیوز اردو*




*"آل انڈیا مشاعرہ بہ یادگار ارشد مینا نگری" * میں ہندوستان کی ہردلعزیز شاعرہ محترمہ ھمانشی بابرا کی خاص شرکت* 
*12 فروری بروز جمعرات* 
*2026______________*
*اسکس ہال مالیگاؤں میں* 
_______________________________
 ایک ایسی بابرکت ادبی محفل کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو یاد، عقیدت اور تخلیقی وقار کو یکجا کرتی ہے۔ *ارشد مینا نگری مرحوم کی شخصیت صرف ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک دبستان کی حیثیت رکھتی ہے، اور انہی کی یاد میں سجی یہ بزم دراصل اردو ادب کے تسلسل اور احترام کا روشن استعارہ ہے۔ اس موقع پر ان کی تازہ کتاب *“سلام مصطفیٰ”* کی پیشکش اس تقریب کو مزید معنویت عطا کرتی ہے _ ایک ایسا منفرد مجموعہ جو *اکسٹھ اصنافِ سخن* پر مشتمل سلاموں کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ کو ادبی پیرائے میں سمو دیتا ہے۔
*شمع فروزی ساجد نمبر ون اور اجو فٹر ،*
 کے ہاتھوں اس محفل کا آغاز گویا روشنی اور حرارتِ سخن کا اعلان ہوگا۔ 
*صدارت : *خلیل احمد انصاری صاحب*
 فرمائیں گے، جن کی موجودگی تقریب کو فکری وقار عطا کرے گی۔ 
شہر و بیرون شہر سے تشریف لانے والے منتخب شعرائے کرام اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گے ۔
*چیف گیسٹ: احمد ہاشم صاحب* کی شرکت اس ادبی جشن کی اہمیت کو دوچند کرتی ہے، 
جبکہ
 *نظامت کے فرائض ارشاد انجم صاحب* 
 انجام دیں گے، جو اپنی شستہ بیانی سے محفل کو باندھے رکھیں گے۔
 *کنوینر :صادق حسین اشرفی صاحب* 
کی مسلسل جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے اور اس کے خادم پوری دلجمعی سے سرگرم ہیں۔
اس مشاعرے کی ایک خاص دلکشی
 *ہندوستان کی*
 *ہر دلعزیز شاعرہ ھمانشی بابرا*
 کی آمد ہے، 
جن کی شرکت محفل کو ہمہ رنگ بنا دے گی۔ 12 فروری 2026 کو اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے سامنے اسکس ہال، مالیگاؤں میں سجنے والی یہ شام محض ایک پروگرام نہیں بلکہ اردو تہذیب کا جشن ہوگی _ جہاں لفظ چراغ بنیں گے، یادیں خوشبو بنیں گی، اور عقیدت ایک اجتماعی احساس میں ڈھل جائے گی۔
باذوق سامعین کی شرکت اس پروگرام کی کامیابی کا باعث ہو گی۔ 
*علیم طاہر*
_____________________
________________________













*’اوورلوڈ‘ سیاست: جب پانچویں منزل سے گری مالیگاؤں کا ’قیادت‘*
 *وسیم رضا خان*
                        
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ہفتہ کے روز جو کچھ ہوا، وہ محض ایک تکنیکی حادثہ نہیں تھا بلکہ شہر کے نام نہاد رہنماؤں کی لاپرواہی اور حد سے بڑھے جوش کی جیتی جاگتی مثال تھا۔ میئر کے انتخاب کی گہماگہمی ختم ہوتے ہی جس طرح ایک لفٹ میں اس کی گنجائش سے دوگنے سے بھی زیادہ لوگ سوار ہو گئے، وہ اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارے لیڈروں میں عام فہم بھی باقی نہیں رہی؟
ہر لفٹ کے اندر واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ وہ کتنے لوگوں کا وزن برداشت کر سکتی ہے۔ مالیگاؤں کارپوریشن کی لفٹ کی گنجائش 8 افراد کی تھی، لیکن اس میں 18 سے 20 لوگ ٹھونس ٹھونس کر بھر دیے گئے۔ ان میں سابق ایم ایل اے آصف شیخ، کئی کارپوریٹر اور ذمہ دار صحافی بھی شامل تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ شہر کی ترقی کی فائلیں پڑھنے اور قوانین بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، کیا انہیں لفٹ پر لکھی ہوئی ’گنجائش‘ کی وارننگ پڑھنا بھی ضروری نہیں لگا؟
یہ اسی کمزور ذہنیت کی عکاسی ہے جہاں ’قوانین‘ دوسروں کے لیے ہوتے ہیں اور اپنے لیے صرف ’سہولت‘۔ تنقید اس بات پر ہو رہی ہے کہ جو قیادت ایک لفٹ کی گنجائش کا اندازہ نہیں لگا سکتی، وہ ایک پیچیدہ شہر کے مسائل کا بوجھ کیسے اٹھائے گی؟ اگر قیادت دوراندیش ہوتی تو وہ خود لوگوں کو باہر رکنے کی ہدایت دیتے۔ کیا اقتدار کے نشے میں یا جیت کے جشن میں وہ اتنے اندھے ہو گئے تھے کہ اپنی جان خطرے میں ڈال دی؟
یہ حادثہ اس بات پر سوال کھڑا کرتا ہے کہ شہر کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ایک چھوٹی سی مشین کے اشاروں کو بھی سمجھ نہیں پائے۔ خوش قسمتی سے سیفٹی بریک لگ گئے اور لفٹ دوسری منزل پر رک گئی، ورنہ مہانگر پالیکا کی عمارت میں ایک بڑا ماتم چھا جاتا۔ دیوار توڑ کر لوگوں کو باہر نکالا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے نظام کو درست کرنے کے لیے اکثر ’سخت‘ اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ یہ واقعہ مالیگاؤں کے لیڈروں کے لیے ایک سبق ہونا چاہیے۔ شہر کی عوام کی ذمہ داری سنبھالنا، 8 افراد کی گنجائش والی لفٹ میں 20 لوگوں کو ٹھونسنے جتنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر آپ ’لفٹ‘ نہیں سنبھال سکتے تو ’شفٹ‘ (اقتدار کی تبدیلی) اور شہر کے نظام کو کیا خاک سنبھالیں گے؟ اگلی بار جب آپ کسی اونچے عہدے یا منزل کی طرف بڑھیں تو اپنی صلاحیت اور قوانین کا ضرور خیال رکھیں، کیونکہ ہر بار ’سیفٹی بریک‘ ساتھ نہیں دیتے۔
مبارک ہو مالیگاؤں! ہمارے پاس ایسے ’بھاری بھرکم‘ لیڈر ہیں کہ بیچاری لفٹ بھی ان کا وزن (اور عقل کا بوجھ) برداشت نہ کر سکی۔ جس لفٹ میں 8 لوگ آنا چاہیے تھے وہاں 20 لوگ گھس گئے۔ غنیمت رہی کہ دیوار ٹوٹی، ریکارڈ نہیں۔ جو لیڈر لفٹ کی وارننگ نہیں پڑھ سکتے، وہ شہر کے مسائل کے ’سائن بورڈ‘ کیا خاک پڑھیں گے؟ میونسپل کارپوریشن کی لفٹ کا پانچویں منزل سے گرنا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ قیادت کی سنگین لاپرواہی ہے۔ جب سابق ایم ایل اے، کارپوریٹر اور ذمہ دار لوگ خود ہی قوانین کی دھجیاں اڑائیں گے تو عوام سے نظم و ضبط کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ آج دیوار توڑ کر جان بچانی پڑی، کل شہر کے نظام کو بچانے کے لیے کیا توڑنا پڑے گا؟









مردوں میں دل کی بیماری خواتین سے سات سال پہلے ظاہر ہوتی ہے: نئی تحقیق
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مردوں میں دل کی بیماری خواتین کے مقابلے میں اوسطاً سات سال پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق دل اور خون کی نالیوں سے متعلق امراض دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ افراد ان بیماریوں کے باعث جان سے گئے، جن میں سے 85 فیصد اموات دل کے دورے اور فالج کی وجہ سے ہوئیں۔
یہ تحقیق ’کارڈیا‘ (کورونری آرٹری رسک ڈیولپمنٹ اِن ینگ ایڈلٹس) نامی طویل المدتی ریسرچ کے ڈیٹا پر مبنی ہے اور اس کے نتائج جرنل آف امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع کیے گئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مرد 50.5 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے دل کی بیماری کے 5 فیصد امکانات تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہی سطح اوسطاً 57.5 سال کی عمر میں سامنے آتی ہے۔ریسرچ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کورونری ہارٹ ڈیزیز دل کی بیماری کی سب سے عام قسم ہے اور مردوں میں یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے میں تقریباً 10 سال پہلے ظاہر ہو جاتا ہے۔ تاہم فالج اور ہارٹ فیل ہونے کے معاملات میں مرد و خواتین دونوں میں خطرات تقریباً ایک ہی عمر میں سامنے آتے ہیں۔ محققین کے مطابق مرد و خواتین کے درمیان دل کی بیماری کے خطرے میں فرق 35 سال کی عمر سے ہی نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے اور درمیانی عمر تک برقرار رہتا ہے۔
تحقیق کے لیے 18 سے 30 سال کی عمر کے پانچ ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن کا 30 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد پر مشتمل اس گروپ نے ابتدائی عمر میں دل کی بیماری کے اسباب کو سمجھنے میں مدد دی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں نہایت ضروری ہیں۔ تمباکو نوشی ترک کرنا، متوازن اور صحت بخش غذا کا استعمال، باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ میں کمی، مناسب نیند اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کی باقاعدہ جانچ دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے دل کی بیماری کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔



Friday, 6 February 2026

*🔴سیف نیوز بلاگر*





کمر کو درد سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی؟
جیسے صحت مند غذا صحت مند جسم کے لیے ضروری ہے اسی طرح اچھی اور پُرسکون نیند بھی تندرست اور توانا جسم کے لیے بہت اہم ہے۔ مناسب نیند دماغ کو فعال رکھنے، جذباتی توازن کو برقرار رکھنے اور جسم کو تازہ دم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق مناسب نیند دماغ کی درست کارکردگی، جذباتی توازن اور جسمانی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہارمونز کو متوازن رکھنے، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔لیکن نیند کے دوران کچھ عوامل خلل پیدا کر سکتے ہیں اور مختلف مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان میں ایک عام مسئلہ غلط پوزیشن میں سونا ہے۔
غلط پوزیشن میں سونا نہ صرف نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ کمر میں درد کا بھی سبب بنتا ہے۔ جیسے کہ پیٹ کے بل سونے سے ریڑھ کی ہڈی اور گردن پر دباؤ پڑتا ہے۔
جب سوتے وقت ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا نہ ملے تو پٹھوں میں کھچاؤ اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ اور اس طرح پہلے سے موجود کمر کے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے یا نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی ہے آئیے جانتے ہیں۔
عام طور پر کمر کے بل یا کروٹ لے کر سونا سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔
کمر کے بل سونا
کمر کے بل سونے سے جسم کا وزن برابر تقسیم ہو جاتا ہے اور دباؤ کم پڑتا ہے۔
گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھنے سے ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی خم برقرار رہتا ہے اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔کروٹ لے کر سونا
کروٹ لے کر سونا بھی ریڑھ کی ہڈی کے لیے بہت مفید ہے۔ کروٹ لے کر سونے والوں کو گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھنا چاہیے تاکہ جسم سیدھا رہے اور کولہوں اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو۔
کروٹ لے کر ٹانگوں کو جسم کی طرف موڑ کر سونا۔
یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان جگہ پیدا کرتی ہے جو خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جنہیں ریڑھ کی ہڈی کے مسائل ہوں۔
اگر آپ اس پوزیشن کو زیادہ آرام دہ بنانا چاہتے ہیں تو سکڑ کر لیٹتے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے چند اضافی باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
درست گدّے کا انتخاب
درست گدے کا انتخاب بہت اہم ہے کیونکہ درمیانی سختی والا گدا جسم کو مناسب سہارا دیتا ہے اور آرام بھی فراہم کرتا ہے۔
اگر گدا پرانا ہو چکا ہو اور جسم کو سہارا نہ دیتا ہو تو اسے بدل دینا بہتر ہے۔
تکیے کا انتخاب
تکیے کا انتخاب بھی درست ہونا چاہیے تاکہ گردن سیدھی پوزیشن میں رہے۔
کمر کے بل سونے والوں کے لیے پتلا تکیہ بہتر ہوتا ہے جبکہ کروٹ لے کر سونے والوں کو قدرے موٹا تکیہ زیادہ فائدہ دیتا ہے۔
ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا
نیند کے معمولات کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسم کو بہت حالت میں رکھتا ہے۔
کمرے کا ماحول
سونے کے لیے کمرے کا ماحول آرام دہ ہونا چاہیے۔ کمرہ قدرے ٹھنڈا، تاریک اور پُرسکون ہو تو نیند بہتر آتی ہے۔سکرین کے استعمال سے گریز
سونے سے پہلے سکرین کے استعمال کو کم کرنا بھی مفید ہے۔
سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا دیگر سکرینوں کو دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ان کی روشنی نیند کے قدرتی نظام میں خلل ڈالتی ہے۔
پُرسکون سرگرمیاں
سونے سے پہلے خود کو پُرسکون کرنے والی سرگرمیاں اپنائیں۔
مطالعہ، مراقبہ یا ہلکی پھلکی سٹریچنگ ذہن کو سکون دیتی ہے اور جسم کو نیند کے لیے تیار کرتی ہے۔
دن بھر متحرک رہنا اور رات کو ہلکا کھانا کھانا بھی بہتر نیند میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے اپنی سونے کی پوزیشن پر توجہ دیں اور آرام دہ نیند کے لیے ان عادات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔












پاکستان کی ساکھ بچانے کے لئے ICC کا فیس سیونگ فارمولہ، بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میچ بچانے کی کوشش
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان متوقع میچ پر پیدا ہونے والے تنازع کو حل کیا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق آئی سی سی پاکستان کو ایسا ’’باعزت راستہ‘‘ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے پاکستان اپنی سخت پوزیشن سے پیچھے ہٹ سکے اور اسے داخلی یا عوامی سطح پر زیادہ تنقید کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔کرکٹ ویب سائٹ کریک بَز (Cricbuzz)کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم عالمی کرکٹ حلقوں میں محتاط امید پیدا ہو رہی ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا اور اہم کرکٹ مقابلہ شیڈول کے مطابق منعقد ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آئی سی سی کی جانب سے پیش کیا جانے والا حل کیا ہوگا اور کب تک اس حوالے سے پیش رفت سامنے آئے گی۔

میچ کے انعقاد میں صرف نو دن باقی رہ گئے ہیں اور اس غیر یقینی صورتحال سے تمام فریقین شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس تنازع کا اثر نہ صرف آئی سی سی، پی سی بی اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) پر پڑ رہا ہے بلکہ اس کے مالی نقصانات بھی کروڑوں روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے شائقین کرکٹ بھی اس صورتحال کے باعث بے یقینی کا شکار ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے خلاف کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ ٹیم کے اختیار میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا اور ٹیم اسی فیصلے پر عمل کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کو سیمی فائنل یا فائنل میں بھارت کا سامنا کرنا پڑا تو پھر بھی حکومت اور پی سی بی سے رہنمائی لی جائے گی۔

دوسری جانب بھارتی ٹیم کے کپتان سوریہ کمار یادیو نے واضح کیا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کی کولمبو کے لیے پروازیں پہلے ہی بک ہو چکی ہیں اور وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق سفر کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا فیصلہ ان کے اختیار میں نہیں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ مقابلے دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کھیلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دو طرفہ کرکٹ سیریز طویل عرصے سے معطل ہیں، جس کے باعث دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی یا ایشین کرکٹ کونسل کے عالمی ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ ایسے مقابلے نہ صرف کھیل بلکہ سفارتی اور معاشی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

ٹی20 ورلڈ کپ جیسے عالمی ٹورنامنٹ میں بھارت اور پاکستان کا میچ براڈکاسٹنگ رائٹس، اشتہارات اور ٹکٹ فروخت کے حوالے سے سب سے زیادہ منافع بخش تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میچ کی منسوخی عالمی کرکٹ اداروں اور منتظمین کے لیے بڑا مالی اور ساکھ کا نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔

اب نظریں آئی سی سی اور دونوں ممالک کے کرکٹ حکام پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس حساس معاملے کو حل کر کے دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ مقابلے کو ممکن بنا پاتے ہیں یا نہیں۔











میگھالیہ میں غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، 16 مزدور ہلاک، کئی کے پھنسے ہونے کا خدشہ
میگھالیہ کے ضلع ایسٹ جینتیا ہلز میں جمعرات کے روز ایک مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 مزدور ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد دیگر کے کان کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس بات کی تصدیق ریاست کی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) آئی نونگرینگ نے کی ہے۔

ڈی جی پی کے مطابق، واقعہ تھانگسکو (Thangsku) علاقے میں صبح کے وقت پیش آیا، جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو ٹیموں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا :’’اب تک 16 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ دھماکے کے وقت کان کے اندر موجود مزدوروں کی درست تعداد کا ابھی تعین نہیں ہو سکا ہے۔ اندیشہ ہے کہ مزید افراد کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘

ایسٹ جینتیا ہلز کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکاش کمار نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو پہلے سوتنگا پرائمری ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا، بعد ازاں اس کی حالت نازک ہونے پر اسے شیلانگ کے ایک بڑے اسپتال میں ریفر کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دھماکہ کوئلہ نکالنے کے دوران پیش آیا، اور جس مقام پر حادثہ ہوا، وہاں جاری کان کنی سرگرمیوں کو غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے۔

جب پولیس حکام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ کان غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا کہ تمام شواہد اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں، تاہم دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے باضابطہ انکوائری شروع کی جائے گی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل گرین ٹریبونل (NGT) نے سال 2014 میں میگھالیہ میں ریٹ ہول کوئلہ کان کنی (Rat-Hole Mining) اور دیگر غیر سائنسی کان کنی طریقوں پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کی وجہ شدید ماحولیاتی نقصان اور مزدوروں کی جان کو لاحق خطرات بتائے گئے تھے، جبکہ غیر قانونی طور پر نکالے گئے کوئلے کی ترسیل پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

ریٹ ہول مائننگ میں زمین کے اندر انتہائی تنگ سرنگیں کھودی جاتی ہیں، جن کی اونچائی عموماً 3 سے 4 فٹ ہوتی ہے۔ ان سرنگوں میں ایک وقت میں بمشکل ایک ہی مزدور داخل ہو سکتا ہے، اسی لیے انہیں ’’ریٹ ہول‘‘ یعنی چوہے کے بل جیسی سرنگیں کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ نہایت خطرناک اور جان لیوا ہے۔

اس کے باوجود، مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر یہ سرگرمیاں خفیہ انداز میں جاری ہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے المناک حادثات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔

(پی ٹی آئی کے تعاون سے)

*🔴سیف نیوز بلاگر*




اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ،31 اموات، 169 افراد زخمی، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں اب تک 30 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
اس وقت امام بارگاہ کے باہر شہری اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے منتظر ہیں کیونکہ انہیں تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ زخمیوں میں شامل ہیں یا مر چکے ہیں۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 169 افراد زخمی ہوئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک مختلف ہسپتالوں میں 31 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ہے۔
ترلائی کلاں کے ہی رہائشی 26 سالہ رفت حسین (فرضی نام) بھی اپنے والد کو تلاش کرنے کے لیے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ کے باہر موجود ہیں۔انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے والد صاحب کی موٹر سائیکل تو یہاں پر کھڑی ہے لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔
وہ اپنے والد کی شناخت کے لیے پہلے یہاں اور پھر وہاں سے ہسپتال جانے کا ابھی ارادہ رکھتے ہیں۔
ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ یہاں کی مرکزی امام بارگاہ ہے، جہاں نہ صرف مقامی بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی نمازی نماز ادا کرنے آتے ہیں۔
امام بارگاہ کے اندر داخلے کے لیے دو مقامات پر امام بارگاہ کی مقامی سکیورٹی تعینات تھی تاہم مبینہ طور پر پولیس کا کوئی اہلکار وہاں موجود نہیں تھا۔اردو نیوز کو واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ’حملہ آور نے سکیورٹی پر مامور امام بارگاہ کی سکیورٹی پر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ آگے بڑھا، دوسرا پوائنٹ بھی کراس کیا اور پھر تیسرے پوائنٹ پر، جو جمعہ کی نماز کی پچھلی صفوں کے قریب تھا، جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘اس وقت امام بارگاہ کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ قرب و جوار کی چھتوں پر بھی اسلام آباد پولیس کی ایلیٹ فورس کے جوان تعینات ہیں۔
موقع پر آئی جی اسلام آباد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینیئر حکام نے دورہ کیا، جبکہ دھماکے سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
امام بارگاہ کے اطراف اس وقت مقامی افراد بھی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امام بارگاہ سے کچھ میٹر کے فاصلے پر واقع لترار روڈ کی مرکزی مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے تاجروں نے بھی دھماکے کی آواز سنی۔ انہوں نے بتایا کہ ’اگرچہ امام بارگاہ کئی میٹر دور واقع ہے، لیکن ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے خدانخواستہ دھماکہ ہماری دکان کے باہر ہی ہوا ہو۔‘
یہاں کے مقامی افراد نے اردو نیوز کو یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد پولیس کا کوئی اہلکار آج امام بارگاہ کے باہر تعینات نہیں تھا، صرف امام بارگاہ کی مقامی سکیورٹی ہی وہاں پر مامور تھی۔
اب تک اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ موقف جاری نہیں کیا، تاہم ان کی جانب سے اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی مذمت
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔’حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے‘
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن دونوں کے دشمن ہیں۔ حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان اورطالبان کے گٹھ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں۔ سکیورٹی گارڈوں نے اس کو چیلنج کیا جس کے جواب میں اس نے فائرنگ کی اور نمازیوں کی آخری قطار میں اپنے کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔ ہندوستان عبرت ناک شکست کے بعد اپنی پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے۔ براہ راست جنگ لڑنے کی اب ہمت نہیں۔‘













مسلم ریزرویشن کو مستقل کریں گے، اگر دم ہے تو حکومت بنا کر دکھاؤ، ریونت ریڈی کا امت شاہ کو بڑا چیلنج
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے چیلنج دیا کہ اگر اس میں ہمت ہے تو ریاست میں حکومت بنا کر دکھائے۔ انہوں نے یہ بات مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ان پرانے بیانات کے حوالے سے کہی، جن میں کہا گیا تھا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر تلنگانہ میں اقلیتوں کو ملنے والا چار فیصد ریزرویشن ختم کر دیا جائے گا۔ہیٹ اسپیچ پر قانون

وزیرِ اعلیٰ نے اقلیتوں کی حمایت، ہیٹ اسپیچ پر قانون اور مسلم ریزرویشن جیسے معاملات پر براہِ راست مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مجوزہ قانون ریاستی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ملک میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہ بیان ریونت ریڈی نے حیدرآباد میں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام کے دوران دیا۔

امت شاہ کو کھلا انتخابی چیلنج

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو کھلا انتخابی چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی میں دم ہے تو امت شاہ خود انتخاب لڑ کر تلنگانہ میں اقتدار حاصل کر کے دکھائیں۔ وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی صرف بیان بازی کرتی ہے، جبکہ تلنگانہ کی عوام حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکاجگیری لوک سبھا انتخاب اور تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں جمعیۃ علماء ہند نے ان کی حمایت کی، جس کے لیے وہ تنظیم کے شکر گزار ہیں۔

مسلم ریزرویشن پر بڑا بیان

وزیر اعلیٰ نے مسلم ریزرویشن کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اقلیتوں کی حمایت سے بنی ہے اور ان کی حکومت اقلیتوں کے حقوق کی مکمل حفاظت کرے گی۔ ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو تلنگانہ حکومت سپریم کورٹ کو مسلم آبادی سے متعلق مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم آبادی سے متعلق تمام اعداد و شمار گزشتہ برس کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کے دوران جمع کیے گئے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ نے امت شاہ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ مسلمانوں کو ملنے والا 4 فیصد ریزرویشن ختم کر کے دکھائیں۔ اس دوران وزیرِ اعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی حکومت نفرت پھیلانے والی تقاریر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرتی رہے گی اور ریاست میں امن، بھائی چارہ اور قانون و نظم و نسق برقرار رکھنا اس کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔












’’وزیراعظم مودی نے روس کو یوکرین پر جوہری حملہ کرنے سے روکا…‘‘، پولینڈ کے وزیر کا بیان
نئی دہلی: پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ ولادیسلاو بارٹوشیفسکی نے عالمی سطح پر وزیراعظم نریندر مودی کے مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی ہے۔ آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے روس کو یوکرین پر جوہری حملہ کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بھارت اور پولینڈ کے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بارٹوشیفسکی نے کہا، “بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ہم دنیا میں بھارت کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔”روس-یوکرین جنگ میں بھارتی وزیراعظم کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، “جیسا کہ میں نے نئی دہلی میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا، وزیراعظم مودی نے 2022 کے آخر میں صدر ولادیمیر پوتن سے بات چیت کی تھی اور انہیں یوکرین میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر ڈیوائس کے استعمال کی کوشش سے روکا تھا۔ یہ ایک مثبت کردار تھا جو وزیراعظم مودی نے ادا کیا، اور یہی وہ کردار ہے جو بھارت عالمی معاملات میں نبھاتا آ رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔”

وزیراعظم مودی کے پولینڈ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے بارٹوشیفسکی نے کہا،“2024 میں ہم نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ وہ بھارت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے پولینڈ کا دورہ کرنے والے گزشتہ 45 برسوں میں پہلے بھارتی وزیراعظم تھے۔ یہ ایک انتہائی کامیاب اور مثبت دورہ تھا۔ اب ہم نے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) بھی کیا ہے، جس کا ہم بھی حصہ ہیں۔ میں ابھی وزارت خارجہ سے واپس آیا ہوں، جہاں ہم نے فوجی تعاون، ڈیجیٹل صنعت، سکیورٹی امور، ہائی ٹیک آئی ٹی سرمایہ کاری، خلائی تعاون اور دیگر کئی عملی اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔”

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت نے دیگر ممالک کے مقابلے امریکہ کے ساتھ زیادہ فائدہ مند تجارتی معاہدہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے کہ بھارت ایک بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ اس وقت آپ دنیا میں جی ڈی پی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہیں، اور وزیراعظم مودی نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کا ہدف بہت جلد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننا ہے۔ بھارت ایک بہت بڑی منڈی ہے جہاں تقریباً ڈیڑھ ارب لوگ رہتے ہیں، اور اسی وجہ سے یہ ایک نہایت ترقی یافتہ مارکیٹ بھی ہے۔ اتنی صلاحیت رکھنے والے ملک کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔”

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر بات کرتے ہوئے پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ نے کہا، “تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے مقابلے میں تجارتی معاہدہ ہونا بہتر ہے، کیونکہ عام طور پر ٹیرف خوشحالی کی ضمانت نہیں دیتے۔ جب کسی شے پر ٹیرف لگایا جاتا ہے تو آخرکار اس کا بوجھ صارف کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے میرا ماننا ہے کہ جتنے کم ٹیرف ہوں، اتنا ہی بہتر ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ بھارت اور امریکہ ایسے معاہدے پر پہنچے ہیں جس کے تحت ٹیرف میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔”

ادھر وزارت خارجہ (ایم ای اے) میں سکریٹری (مغربی) سبی جارج نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں ولادیسلاو بارٹوشیفسکی کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور 2024 تا 2028 کے ایکشن پلان کے اہم اہداف پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

*🔴سیف نیوز اردو*

"پاکستانی ڈالروں کے لئے اپنی ماں تک کو بیچ سکتے ہیں " ، عمران خان نے دکھایا تھا آئینہ اسلام آباد: پاکستان ...