یوپی میں کانگریس کا ہلہ بول! اسمبلی گھیراؤ کرنے پہنچے سیکڑوں کارکنوں پر لاٹھی چارج، متعدد گرفتار
اتر پردیش میں آج منریگا کے معاملے پر کانگریس کا احتجاجی مظاہرہ ہوا، اس دوران کئی بڑے لیڈروں کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آج اسمبلی کے گھیراؤ سے متعلق کانگریس نے بڑے احتجاج کی کال دی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر اجے رائے کی قیادت میں صبح کارکنان نے اسمبلی کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین پر پولیس سے لاٹھی چارج کی اور حراست میں لے لیا۔لکھنؤ میں کثیر تعداد میں کارکن پہنچے
مظاہرے میں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش انچارج اویناش پانڈے، کانگریس قانون ساز پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا مونا، رکن اسمبلی وریندر چودھری سمیت کئی ارکانِ پارلیمنٹ، سابق اراکین اسمبلی اور سینئر لیڈر شامل ہوئے۔ ریاست بھر سے بڑی تعداد میں کارکنوں نے لکھنؤ پہنچ کر بی جے پی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج شروع کیا تو پولیس اور کانگریسی کارکنان کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی، اس کے ساتھ ہی پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج بھی شروع کر دیا۔ جب مظاہرین پولیس کے روکنے سے رکے نہیں تو پولیس نے چن چن کر تمام مظاہرین کو حراست میں لیکر مظاہرے کے مقام سے ہٹا دیا۔
’بی جے پی حکومت میں بڑھ رہا ہے جرم‘
کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں جرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت ذات اور مذہب کی بنیاد پر دلتوں، اقلیتوں اور غریبوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
’کئی کانگریس کارکن نظر بند‘
پارٹی ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں کانگریس کارکنوں کو نظر بند کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں کارکن لکھنؤ واقع پارٹی دفتر پر موجود ہیں۔ فی الحال بڑی تعداد میں کانگریسی کارکن پولیس کی حراست میں ہیں۔
روہت شیٹی فائرنگ کیس میں بڑا انکشاف، جانئے واردات کے پیچھے بشنوئی گینگ کی سازش
نئی دہلی :مشہور فلم ڈائریکٹر روہت شیٹی کے ممبئی کے علاقے جوہو میں واقع گھر پر ہوئی فائرنگ کے معاملے میں ممبئی کرائم برانچ نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ اس حملے کے تانے بانے براہِ راست بدنام زمانہ بشنوئی گینگ سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ پوری سازش کی کمان مبینہ طور پر جیل کے اندر سے سنبھالی جا رہی تھی۔کرائم برانچ کے مطابق روہت شیٹی پر حملے کی مکمل منصوبہ بندی پروین لونکر اور اس کے بھائی شُبھم لونکر نے کی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شُبھم لونکر کو بشنوئی گینگ کا مہاراشٹر میں اہم ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ مزید چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پروین لونکر اس وقت بابا صدیقی قتل کیس میں جیل میں بند ہے، لیکن قید میں ہونے کے باوجود اس نے نہ صرف حملے کا خاکہ تیار کیا بلکہ مبینہ طور پر شوٹروں کو اسلحہ اور رقم بھی فراہم کی۔تحقیقات میں یہ سوال سب سے اہم بن گیا ہے کہ سخت سکیورٹی کے باوجود جیل کے اندر سے یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ پولیس اس بات کی چھان بین کر رہی ہے کہ آیا پروین لونکر کسی خفیہ میسنجر ایپ کا استعمال کر رہا تھا یا جیل کے کسی اندرونی ذریعے سے باہر اپنے ساتھیوں تک پیغامات پہنچا رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی اسے کرائم برانچ کی تحویل میں لے کر تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی تاکہ اس نیٹ ورک کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔اس معاملے میں اب تک ملک کے مختلف حصوں سے 12 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتاریوں کا دائرہ پونے سے لے کر ہریانہ اور اتر پردیش تک پھیلا ہوا ہے۔ گرفتار افراد میں مرکزی شوٹر بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور پستول کا انتظام بھی مبینہ طور پر پروین لونکر کے اشارے پر کیا گیا تھا۔
ممبئی کرائم برانچ کی 12 ٹیمیں دن رات اس کیس پر کام کر رہی ہیں تاکہ بشنوئی گینگ کے مبینہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر توڑا جا سکے۔ اس انکشاف کے بعد سکیورٹی نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ جیل کے اندر کون لوگ پروین کے رابطے میں تھے اور کیا کسی اندرونی ملی بھگت کا امکان موجود ہے۔ذرائع کا ماننا ہے کہ پروین لونکر سے سخت پوچھ گچھ کے بعد گینگ کی ممکنہ ہٹ لسٹ اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں اہم سراغ مل سکتے ہیں۔ فی الحال وہ عدالتی تحویل میں ہے، لیکن امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس میں مزید بڑے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔
ایپسٹین فائل پر ڈونالڈ ٹرمپ نے توڑی خاموشی، خود کو بتایا پاک صاف، کیا ہے نوبیل انعام کنکشن؟
مجرم جنسی جرائم کا مرتکب جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) سے متعلق دستاویزات کے عوامی ہونے کے بعد دنیا بھر میں مچے ہنگامے کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ ایپسٹین کے ساتھ نام جڑنے پر ٹرمپ نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے ایئر فورس ون (Air Force One) میں پریس کانفرنس کے دوران واضح کر دیا کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور انہیں اس معاملے میں ‘کلین چٹ’ مل چکی ہے۔’مجھے بے قصور ثابت کر دیا گیا‘
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ جیفری ایپسٹین سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس کو امید تھی کہ تفتیش میں ان کے خلاف کچھ غلط مل جائے گا، لیکن اس کے برعکس وہ بے قصور ثابت ہوئے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جیفری ایپسٹین دراصل ان کی سیاسی امنگوں کے مخالف تھے۔
’یہ ان کا مسئلہ ہے‘ (Bill Clinton Epstein files connection)
اپنی صفائی پیش کرنے کے ساتھ ہی ڈونالڈ ٹرمپ نے سابق صدر بل کلنٹن اور ہلیری کلنٹن پر سخت جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دلچسپ ہے کہ بل کلنٹن اور دیگر ڈیموکریٹس کو اس جانچ میں ’گھسیٹا‘ جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں گھسیٹا جا رہا ہے اور یہ ان کا مسئلہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ہلیری کو میونخ میں دیکھا تھا اور وہ واقعی ’ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم‘ کا شکار ہیں۔
فائلوں میں کیا ہے؟
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے دسمبر 2025 میں جاری کیے گئے ہزاروں دستاویزات میں ٹرمپ کا نام کئی بار آیا ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ایپسٹین کے نجی طیارے میں کم از کم آٹھ بار سفر کیا۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کو کسی بھی جنسی جرم یا غیر قانونی عمل میں ملزم نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ بعض دعوؤں کو ’غلط اور سنسنی خیز‘ قرار دیا گیا ہے۔
نوبیل انعام کا زاویہ (Epstein files Nobel Prize Connection)
فائلوں میں ایک دلچسپ انکشاف ٹرمپ کے ’نوبیل انعام‘ سے متعلق شوق کے بارے میں بھی سامنے آیا ہے۔ ایک ای میل کے مطابق، ایپسٹین نے ٹرمپ کے قریبی ساتھی اسٹیو بینن سے کہا تھا کہ اگر ٹرمپ کو معلوم ہو گیا کہ بینن اب ایسے شخص (ایپسٹین) کے دوست ہیں جو نوبیل انعام کا فیصلہ کرنے والوں کو جانتا ہے تو ٹرمپ کا ’سر پھٹ جائے گا‘۔ واضح رہے کہ جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں مقدمے کا انتظار کر رہے جیفری ایپسٹین کی 2019 میں وفاقی تحویل میں موت ہو گئی تھی۔