Sunday, 27 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناگالینڈ میں زہریلی شراب پینے سے 19 افراد ہلاک، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل*
موکوکچنگ،ناگالینڈ: ناگالینڈ میں مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد، پولیس نے مشتبہ غیر قانونی شراب کی سپلائی چین کا پتہ لگانے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ ناگالینڈ میں 1990 سے شراب پر مکمل پابندی عائد ہے۔

پولیس نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران موکوکچنگ ضلع میں آٹھ اور ٹوینسانگ ضلع میں 11 افراد مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہوئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ویسوپرا کیزو نے ہفتے کے روز کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے اور غیر قانونی شراب کے ماخذ اور سپلائی چین کی نشاندہی کرنے کے لیے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آئی بنگلانگ چانگ کی قیادت میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موت کی اصل وجہ کا تعین کرنے کے لیے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے گوہاٹی بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ سراغ ملے ہیں، لیکن اس مرحلے پر تفصیلات ظاہر کرنا قبل از وقت ہوگا۔

قابلِ ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل پونے اور آس پاس کے علاقوں میں زہریلی شراب پینے سے ایک ہی دن میں 17 افراد کی ہلاکت نے ہلچل مچا دی تھی۔ وہ واقعہ ہڈاپسر، ڈاپوڈی اور پھوگے واڑی میں پیش آیا تھا، جس میں کئی دیگر افراد کی حالت تشویشناک تھی۔

ملک کے مختلف حصوں سے زہریلی شراب کے بارے میں اطلاعات اکثر سامنے آتی رہتی ہیں، اس لیے لوگوں کا چوکس رہنا ضروری ہے۔ بہرصورت، شراب صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور لوگوں کو نشہ آور اشیاء کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔








*🛑بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق*
آکسفورڈ یونیورسٹی نے حال ہی میں کینسر سے متعلق ایک اہم تحقیق کی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بہت زیادہ گرم چائے اور کافی جیسے مشروبات کا باقاعدگی سے استعمال غذائی نالی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس حصے میں کینسر، جسے غذائی نالی کا کینسر کہا جاتا ہے، ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 لاکھ افراد پر کی گئی یہ تحقیق، اس تعلق کی تصدیق کرنے والی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔

تحقیق میں پایا گیا کہ جو لوگ بہت گرم مشروبات پیتے تھے، ان میں نیم گرم چائے یا کافی پینے والوں کے مقابلے میں کینسر کا خطرہ تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کینسر کے ہونے کا مجموعی امکان اب بھی کم رہتا ہے۔

بہت زیادہ گرم مشروبات معدے تک جاتے ہوئے غذائی نالی کی اندرونی تہہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی یہ تحقیق ’’انٹرنیشنل جرنل آف کینسر‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق میں 65 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر پئے جانے والے کسی بھی مشروب کو بہت گرم اور ممکنہ طور پر نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

اس تحقیق میں درمیانی عمر کے 9 لاکھ 77 ہزار 282 مرد و خواتین شامل تھے۔ تحقیق میں پایا گیا کہ بہت گرم چائے یا کافی پینے والوں میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ ہلکے گرم یا نیم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دن میں چھ یا اس سے زیادہ گرم مشروبات پینے سے بھی کینسر کا خطرہ کافی بڑھ سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ چائے یا کافی میں دودھ ملانے سے درجہ حرارت کچھ کم ضرور ہو جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود مشروب اتنا گرم ہو سکتا ہے کہ زبان یا منہ جل جائے اور کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

کیٹل میں پانی مکمل طور پر ابلنے کے فوراً بعد چائے کا درجہ حرارت تقریباً 100 ڈگری سیلسیس یا 212 ڈگری فارن ہائیٹ کے قریب ہوتا ہے۔ جب اسے کپ میں ڈالا جاتا ہے تو درجہ حرارت کم ہو کر تقریباً 90 سے 95 ڈگری سیلسیس تک رہ جاتا ہے۔ اس لیے چائے یا کافی پینے سے پہلے چند منٹ انتظار کرنا بہتر ہے۔

کینسر ریسرچ یو کے کے مطابق کوئی بھی گرم مشروب اس وقت پینا چاہیے جب اس کا درجہ حرارت پینے کے لیے آرام دہ ہو۔ مشورہ دیا جاتا ہے کہ مشروب کو چند منٹ ٹھنڈا ہونے دیا جائے تاکہ وہ محفوظ درجہ حرارت تک پہنچ سکے۔

کینسر ریسرچ یو کے کا کہنا ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ گرم مشروب کو بالکل کتنی دیر تک ٹھنڈا ہونے دینا چاہیے۔ تاہم ماہرین کے مطابق چلتے پھرتے پینے والی گرم کافی کا مناسب درجہ حرارت 49 سے 60 ڈگری سیلسیس کے درمیان ہوتا ہے۔ گرم مشروبات سے بڑھنے والے خطرے کے لیے درست درجہ حرارت کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ بہت گرم مشروبات پینا چھوڑ دیں تو غذائی نالی کے کینسر کے ہر 10 میں سے تقریباً ایک یا دو کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔

اسکواومس سیل غذائی نالی کا کینسر نسبتا کم پایا جاتا ہے اور ہر سال چند ہزار افراد کو متاثر کرتا ہے۔ اگرچہ بہت زیادہ گرم مشروبات پینے سے اس کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، لیکن کینسر ہونے کا مجموعی امکان اب بھی کم رہتا ہے۔غذائی نالی کے کینسر کے لیے سگریٹ نوشی سمیت کئی دیگر بڑے خطرے کے عوامل بھی موجود ہیں۔ اس کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے اہم طریقوں میں سگریٹ نوشی سے پرہیز اور شراب نوشی کو محدود کرنا شامل ہے۔غذائی نالی کے کینسر کی علامات میں سینے میں جلن، بدہضمی، گلے یا سینے میں درد اور وزن میں کمی شامل ہو سکتی ہیں۔







*🛑تین روزہ بینک ہڑتال کے دوران ایس بی آئی کا اے ٹی ایم چارجز معاف کرنے کا اعلان*
نئی دہلی: اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے کروڑوں صارفین کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 سے 30 ستمبر (پیر تا بدھ) تک مجوزہ ملک گیر بینک ہڑتال کے تین دنوں کے دوران اے ٹی ایم ٹرانزیکشن چارجز معاف کر دے گا۔ ایس بی آئی نے اپنے آفیشل 'ایکس' اکاؤنٹ پر اس اہم فیصلے کا اعلان کیا۔ سرکاری بینک نے یقین دہانی کرائی کہ 28 سے 30 ستمبر کے دوران مجوزہ ہڑتال کے باوجود صارفین کو ضروری بینکنگ خدمات حاصل ہوتی رہیں گی۔

مجوزہ تین روزہ ہڑتال کے پیشِ نظر ایس بی آئی نے بتایا کہ اے ٹی ایم، یونو، انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ، واٹس ایپ بینکنگ اور 24/7 کانٹیکٹ سینٹر کے ذریعے ضروری بینکنگ خدمات جاری رکھی جائیں گی۔ بینک نے اپنے صارفین کے لیے ٹول فری نمبرز 18001234 اور 18002100 بھی جاری کیے ہیں۔ دریں اثنا، ایس بی آئی سمیت تمام سرکاری بینک 27 ستمبر 2026 (اتوار) کو کھلے رہیں گے۔

ایس بی آئی نے اپنے 'ایکس' اکاؤنٹ پر لکھاکہ "کیا اس اتوار آپ کو بینک کا کوئی کام ہے؟ ہم آپ کی خدمت کے لیے کھلے ہیں! ایس بی آئی کی تمام شاخیں اتوار، 27 ستمبر 2026 کو کھلی رہیں گی تاکہ آپ کی سہولت کے لیے ضروری بینکنگ خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اپنی قریبی ایس بی آئی برانچ تشریف لائیں اور اپنی بینکنگ ضروریات پوری کریں۔" ایس بی آئی نے مزید درخواست کی کہ صارفین اس کی 'یونو' ایپ سروس کا استعمال کریں، کیونکہ ہڑتال کے دوران بھی یہ بلا تعطل کام کرتی رہے گی۔

بینک کے مطابق 'یونو بزنس' کے ذریعے صارفین اپنی ضروری بینکنگ خدمات ڈیجیٹل طور پر منظم کر سکتے ہیں اور اپنے مالیات اور ادائیگیوں سے منسلک رہ سکتے ہیں۔ سرکاری بینک نے اپنے صارفین کو ایس بی آئی واٹس ایپ بینکنگ استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیا جو 24/7 دستیاب ہے۔ اس کے لیے ایس بی آئی صارفین کو اپنے رجسٹرڈ موبائل نمبر سے 9022690226 پر 'Hi' لکھ کر بھیجنا ہوگا۔

مزید برآں، بینک نے صارفین سے قریبی ایس بی آئی کسٹمر سروس پوائنٹ سے رجوع کرنے کی اپیل کی ہے جہاں ضروری بینکنگ خدمات دستیاب ہوں گی۔ ملک بھر میں ایس بی آئی کے 79,000 کسٹمر سروس پوائنٹس قائم ہیں۔دوسری جانب یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 ستمبر سے شروع ہونے والی تین روزہ ملک گیر ہڑتال کے فیصلے پر قائم رہے گی، کیونکہ ڈپٹی چیف لیبر کمشنر کے ساتھ ان کی میٹنگ بے نتیجہ ختم ہوئی۔ یہ میٹنگ مرکزی وزارتِ خزانہ کی اس اپیل کے ایک دن بعد ہوئی تھی جس میں بینک ملازمین سے ہڑتال میں شامل نہ ہونے اور اپنے بقایا مطالبات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑روس نے نبھائی ہندوستان سے دوستی، UNSC کے پلیٹ فارم کی حمایت، کہا: ’اب مزید مغربی ملک نہیں‘*
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں ہندوستان کو مستقل رکن بنائے جانے کے مطالبے کی ایک بار پھر حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے دوران ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے خطوں کو زیادہ نمائندگی ملنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران لاوروف نے کہا کہ سلامتی کونسل کی توسیع میں مغربی ممالک کے لیے اضافی مستقل نشستیں نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے خاص طور پر جرمنی اور جاپان کو مستقل رکن بنانے کی تجویز کی مخالفت کی۔

لاوروف نے کہا کہ روس سلامتی کونسل میں ہندوستان اور برازیل کو مستقل رکن بنائے جانے کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کا موجودہ نظام آج کے عالمی حالات اور دنیا کے مختلف خطوں کی حقیقی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ روس طویل عرصے سے ہندوستان کی مستقل رکنیت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ ہندوستان بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں طویل عرصے سے اصلاحات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ہندوستان کو اور کس نے حمایت دی؟
ہندوستان کا کہنا ہے کہ موجودہ کونسل کا ڈھانچہ کافی پرانا ہے اور اس میں آج کے عالمی حالات کے مطابق تبدیلی ہونی چاہئے۔ ہندوستان کو روس کے علاوہ کچھ دیگر ممالک سے بھی حمایت مل رہی ہے۔ پرتگال کے وزیر اعظم لوئس مونٹی نیگرو نے سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندگی پر مبنی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہندوستان کی مستقل رکنیت کی حمایت کی۔ وہیں ماریشس کے وزیر خارجہ دھننجے رام پھُل نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کی دعویداری کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی امور میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر بھی کیا۔

سلامتی کونسل میں کتنے مستقل ارکان ہیں؟
فی الحال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مجموعی طور پر 15 ارکان ہیں۔ ان میں پانچ مستقل ارکان ہیں—امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس۔ ان پانچوں ممالک کے پاس ویٹو پاور ہے۔ اس کے علاوہ 10 غیر مستقل ارکان ہوتے ہیں، جنہیں دو سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے دو تہائی رکن ممالک کو اصلاحات کی توثیق کرنا ہوتی ہے۔ اس میں موجودہ پانچوں مستقل ارکان کی منظوری بھی ضروری ہے۔







*🛑سی ای سی گیانیش کمار پر غلام نبی آزاد کا بیان، اپوزیشن کا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ غلط نہیں*
 نئی دہلی : اننت ناگ میں ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (DPAP) کے صدر غلام نبی آزاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن سے متعلق جاری تنازع پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں سے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق اب صورتحال مختلف ہے، کیونکہ دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے بعض فیصلوں پر اعتراضات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔یہ بیان 27 ستمبر 2026 کو سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض اقدامات اور فیصلوں پر باضابطہ اعتراضات درج کیے۔

دو الیکشن کمشنروں نے کئی بار سوال اٹھائے

غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے متعدد مرتبہ سوال اٹھائے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں کوئی غلط عمل تو نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق دونوں کمشنروں نے اپنی تشویش سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا۔رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے، نئے ووٹروں کے نام شامل کرنے، فارم-6 میں تبدیلی اور ووٹر ڈیٹا کے انتظام سے متعلق معاملات شامل تھے۔آزاد نے کہا کہ اب یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جن ناموں کو ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کے بعد انتخابات کرائے گئے، کیا ایسے انتخابات کی قانونی حیثیت پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے یا دوبارہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔اپوزیشن کا مطالبہ غلط نہیں‘

ڈی پی اے پی صدر نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اپوزیشن کی جانب سے دوبارہ انتخابات کرانے کے مطالبے کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو ارکان کسی معاملے پر سوال اٹھا رہے ہیں تو ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔تاہم الیکشن کمیشن نے ان رپورٹوں کے بعد کہا ہے کہ کمشنروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تجاویز فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ تھے۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر سمیت اس کے تمام فیصلے تینوں ارکان کی منظوری سے متفقہ طور پر لیے گئے۔

ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے پر تنازع

غلام نبی آزاد کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کو لے کر الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔’انڈین ایکسپریس‘ کی تحقیق کے مطابق سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے اور شامل کرنے، نئے ووٹروں کے اندراج، فارم-6 میں تبدیلی اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام سے متعلق معاملات شامل تھے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کے حکام نے واضح کیا ہے کہ مختلف ارکان کی جانب سے کسی معاملے پر سوال اٹھانا یا رائے دینا ادارے میں مشاورت کے معمول کے عمل کا حصہ ہے اور حتمی فیصلے متفقہ طور پر لیے گئے ہیں۔







*🛑غزہ نسل کشی کے الزامات پر اقوام متحدہ میں نیتن یاہو برہم، ممدانی نے نیتن یاہو کے دعووں کو کیا مسترد، اسرائیلی حکومت کوقرار دیا جنگی جرائم کا ملزم* 
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ نیتن یاہو نے ممدانی پر اسرائیل کے خلاف ’جھوٹا پروپیگنڈا‘ پھیلانے اور یہود مخالف جذبات کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ممدانی کی اہلیہ راما دواجی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا بھی حوالہ دیا۔

نیتن یاہو نے ممدانی پر کیا الزامات لگائے؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریباً 37 منٹ کی تقریر کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ ممدانی کے میئر بننے کے بعد نیویارک میں بہت سے یہودی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے ممدانی پر ایسے لوگوں سے قربت رکھنے کا الزام بھی لگایا جنہیں اسرائیل مخالف خیالات کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔نیتن یاہو نے ممدانی کی اہلیہ راما دواجی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملے کی تعریف کرنے والی ایک پوسٹ کو پسند کیا تھا اور ایک دوسری پوسٹ بھی پسند کی تھی جس میں تل ابیب کے وجود پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ یہ الزامات نیتن یاہو کی تقریر میں کیے گئے تھے۔

غزہ میں نسل کشی کے الزام پر کیا کہا؟

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو نسل کشی قرار دینے والے الزامات پر نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے اس الزام کو ’’21ویں صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی فوجی کارروائی کا دفاع کیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے نسل کشی نہیں کی بلکہ ان کے بقول اسرائیل نے نسل کشی کو روکا۔ انہوں نے غزہ میں انسانی امداد اور ویکسین کی فراہمی کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا۔ یہ معاملہ عالمی سطح پر شدید متنازع ہے۔ نیتن یاہو اور اسرائیلی حکومت غزہ میں نسل کشی کے الزام کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ ممدانی سمیت اسرائیل کے ناقدین اسرائیلی کارروائیوں پر شدید اعتراضات کرتے رہے ہیں۔

ممدانی نے نیتن یاہو کو کیا جواب دیا؟

نیتن یاہو کی تقریر کے بعد زوہران ممدانی نے ان کے الزامات کو مسترد کردیا۔ ممدانی نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بار پھر ایسے دعوے کر رہے ہیں جنہیں وہ بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ممدانی نے نیتن یاہو پر فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کو ’صاف کرنے‘ کے لیے جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کوئی بھی دعویٰ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر رکھا ہے، جس میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات شامل ہیں۔

نیتن یاہو کی تقریر کے دوران کئی وفود باہر نکلے

نیتن یاہو کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے متعدد ممالک کے وفود کے واک آؤٹ کرنے کی بھی خبریں سامنے آئیں۔ ایران، قطر، سعودی عرب اور فلسطینی اتھارٹی کے نمائندوں سمیت کئی وفود کے ارکان ہال سے باہر چلے گئے۔ نیتن یاہو نے واک آؤٹ کرنے والے نمائندوں پر بھی تنقید کی۔

ممدانی تنازع اسرائیلی سیاست میں بھی زیر بحث

نیتن یاہو اور ممدانی کے درمیان یہ تنازع پہلے سے جاری ہے۔ ممدانی نے ماضی میں نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا ملزم قرار دیا تھا اور ان کی گرفتاری کی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے تسلیم کیا کہ نیویارک کے میئر کی حیثیت سے انہیں اسرائیلی وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اسرائیل میں جاری سیاسی کشمکش کے دوران نیتن یاہو پہلے بھی ممدانی کو اپنی سیاسی مہم میں تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ حالیہ اقوام متحدہ کی تقریر میں بھی ممدانی پر براہ راست حملہ اسی وسیع سیاسی تنازع کا حصہ بن گیا ہے۔

Saturday, 26 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جانیں، بھارتیوں میں کم عمری میں دل کی بیماریاں کیوں بڑھ رہی ہیں؟*
آج کل سینے میں معمولی سی بھی بے چینی یا تکلیف پر فوری توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ دل کی بیماری اور ہارٹ اٹیک کی علامات میں واضح تبدیلی آرہی ہے، اب یہ علامات اتنی سادہ یا نمایاں نہیں رہیں جتنی پہلے ہوا کرتی تھیں۔ طبی سائنس کے مطابق غیر روایتی علامات اور 'سائلنٹ ہارٹ اٹیک' (خاموش ہارٹ اٹیک) کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سردیوں کے موسم میں لوگ اکثر سینے میں بوجھ، تھکاوٹ یا جسم میں درد جیسی کیفیات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ تاہم بظاہر معمولی لگنے والی ان علامات کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ دل کی طرف خون کی روانی میں کمی کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔

جے پور کے سی کے برلا ہسپتالوں میں کارڈیالوجی کے کنسلٹنٹ، ڈاکٹر شبھم کمار شرما کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی کے عوامل جیسے شدید ذہنی دباؤ، طویل وقت تک بیٹھے رہنا، ناکافی نیند، کم عمری میں کولیسٹرول کا بڑھ جانا اور بڑھتی ہوئی آلودگی کا سامنا دل کی بیماری کی علامات کے ظاہر ہونے کے انداز کو تبدیل کر دیا ہے۔ ماضی میں خطرے کی علامات زیادہ نمایاں اور شدید ہوتی تھیں۔ لیکن آج کل دل کے پوشیدہ مسائل کی علامات میں سینے پر ہلکا دباؤ، جلن کا معمولی احساس، شدید تھکاوٹ، یا بائیں بازو، کمر یا جبڑے میں تکلیف شامل ہو سکتی ہے۔ چونکہ ہارٹ اٹیک کے تقریباً 30 سے 40 فیصد واقعات میں ابتدائی مرحلے پر سینے میں شدید درد جیسی روایتی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے ڈاکٹر معمولی علامات پر بھی توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

کسی بھی عام علامت کو نظر انداز نہ کریں

ڈاکٹر شبھم کمار شرما کا کہنا ہے کہ بھارت میں دل کی بیماری کے تقریباً ہر چار میں سے ایک کیس کا تعلق 40 سال سے کم عمر افراد سے ہوتا ہے۔ اس رجحان کی وجہ موروثی عوامل، جسمانی ساخت اور جدید طرزِ زندگی کی عادات کا ایک خاص امتزاج ہے۔ بہت سے مریض ایسی بے چینی یا تکلیف کی شکایت کرتے ہیں جو اگرچہ مختصر وقت کے لیے ہوتی ہے، مگر ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔ درحقیقت، جب کسی شخص کو تھوڑی ہی دیر کے لیےسینے میں ناقابلِ برداشت درد، بوجھ یا بے چینی محسوس ہو، تو یہ اکثر 'انجائنا' یا 'ٹرانزینٹ اسکیمیا کی علامت ہوتی ہے۔ مریض اکثر اسے محض گیس یا بدہضمی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ درد چند منٹوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم جب تک وہ ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں اور طبی معائنے (جیسے ای سی جی، ٹروپونن ٹیسٹ یا انجیوگرافی) کرواتے ہیں، تب تک اکثر دل کے پٹھوں کو مستقل نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔
کیا کیا جائے؟

ڈاکٹر شبھم کمار شرما کا مشورہ ہے کہ سینے میں ہونے والی نئی یا مسلسل تکلیف کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ اگر یہ تکلیف چند منٹوں سے زیادہ رہے، جسمانی مشقت کے دوران ہو، یا اس کے ساتھ متلی، پسینہ آنا، چکر آنا یا سانس پھولنے جیسی علامات بھی ظاہر ہوں تو اسے خطرے کی علامت سمجھیں۔ معائنے کے لیے ہسپتال جائیں اور ای سی جی (ECG) اور کارڈیک انزائم ٹیسٹ کروائیں۔ بروقت جانچ (اسکریننگ) دل کے کسی بڑے سنگین واقعے سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ آج، یہ فرض کر لینے کے بجائے کہ سب ٹھیک ہے، بہتر ہے کہ اپنا معائنہ کروائیں اور ذہنی اطمینان حاصل کریں۔ اپنے دل کی بات جلد سنیں، کیونکہ دل اکثر چیخنے سے پہلے سرگوشی کرتا ہے۔








*🛑سی بی ایس ای کی تین زبانوں کی پالیسی اور کتابوں میں تاخیر سے نویں جماعت کے طلبہ پر اس کا کیا اثر پڑے گا ؟*
دسمبر 2025 میں سی بی ایس ای کی گورننگ باڈی نے قومی نصابی فریم ورک برائے اسکولی تعلیم 2023 میں تجویز کردہ نویں اور دسویں جماعت کے لیے تین زبانوں کے فارمولے، یعنی آر 1، آر 2 اور آر 3، کے نفاذ پر غور کرتے ہوئے اس کا تعلق این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں کی دستیابی سے جوڑا تھا۔میٹنگ کی کارروائی میں درج کیا گیا تھا کہ مختلف سطحوں پر درکار علاقائی زبانوں کی نصابی کتابیں ابھی مرکزی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے تجویز دی گئی تھی کہ این سی ای آر ٹی کی جانب سے درجہ وار نصابی کتابیں جاری کیے جانے تک اسکول موجودہ نظام تعلیم، خاص طور پر زبانوں کے حوالے سے، جاری رکھیں۔ بعد میں گورننگ باڈی نے نصابی کمیٹی کی سفارش کی توثیق بھی کردی۔

دسمبر کا یہ فیصلہ زبانوں کی نصابی کتابوں سے متعلق تھا، نہ کہ بعد میں نویں جماعت کی ریاضی اور سماجی علوم کی کتابوں کی دستیابی میں ہونے والی تاخیر سے۔ تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصاب میں تبدیلی نافذ کرتے وقت سی بی ایس ای نے خود نصابی کتابوں کی دستیابی کو ایک اہم معاملہ تسلیم کیا تھا۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب کتابوں کی دستیابی کو پہلے ہی نصاب میں تبدیلی کے نفاذ کے لیے اہم قرار دیا جاچکا تھا، تو ستمبر تک نویں جماعت کے طلبہ کو 2 بنیادی مضامین کی پارٹ 2 کی کتابوں کا انتظار کیوں کرنا پڑا؟







*🛑کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک*
نئی دہلی : کانگو میں 25 ستمبر 2026 کو ایک طیارہ حادثے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوگئے۔ مرنے والوں میں فوج کے 2 اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ جنوب مغربی شہر کک وٹ سے دارالحکومت کنشاسا واپس آ رہا تھا۔کانگو کی فوج کے ترجمان میجر جنرل ایفومی ایکینجے نے بتایا کہ حادثے میں ملٹری کورٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل موتومبو کاتالی تیاندے اور مسلح افواج کے آڈیٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل باکومی لیکولیا بھی ہلاک ہوگئے۔

وفد کے ارکان اور طیارے کے عملے کی بھی موت

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان اور طیارے کے عملے کے افراد بھی حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مقامی حکام نے بتایا کہ طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہونے کے بعد وہ کک وٹ سے دارالحکومت کنشاسا کی جانب واپس آ رہا تھا۔ اسی دوران کینجے کے علاقے میں طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔حادثے کی تحقیقات شروع

کانگو کی فوج نے حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ حادثے کے اصل سبب کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے بورڈ کے چیئرمین ٹرائیفون کن کیے مولومبا نے بھی کہا کہ فی الحال حادثے کی درست وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کی وجوہات کے بارے میں واضح معلومات سامنے آسکیں گی۔

کانگو میں باغی گروپوں کے خلاف جنگ جاری

کانگو کی فوج طویل عرصے سے ملک کے مختلف علاقوں میں باغی گروپوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ مشرقی کانگو میں روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغی گروپ کے ساتھ بھی تنازع جاری ہے۔گزشتہ کچھ عرصے کے دوران باغی گروپوں نے کئی حملے کیے ہیں اور مشرقی علاقے کے بعض اہم شہروں پر قبضہ بھی کیا ہے۔ ایسے حالات میں فوج کے 2 اعلیٰ افسران کی طیارہ حادثے میں ہلاکت کو کانگو کے لیے ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’سعودی عرب میں جاکر لڑو، ہم پر مت کرو فضائی حملہ‘، طالبان نے کھولا پاکستان کا ڈبل گیم*
افغانستان میں طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے جاری ہیں اور مکہ معاہدے میں پھنسے پاکستان نے وہاں جانے کی بجائے ایک الگ محاذ کھول لیا ہے۔ عاصم منیر اور شہباز شریف کی یہ حکمت عملی اب افغانستان کی طالبان حکومت کو بھی سمجھ میں آ گئی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر افغانستان پر حملے کر رہا ہے تاکہ اسے سعودی عرب کی جانب سے لڑنے کے لیے نہ جانا پڑے۔

پاکستان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے طالبان حکومت نے کہا ہے کہ اسلام آباد جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہے تاکہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ کیے گئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے نکلنے کا بہانہ بنایا جا سکے۔ قندھار میں ایک مذہبی مدرسے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجاہد نے پاکستان پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان بار بار افغانستان پر حملے کرکے ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے وہ خود کو جنگ میں پھنسا ہوا ظاہر کر سکے اور مکہ معاہدے کی ذمہ داریوں سے بچ سکے۔پاکستان کا ’ڈبل گیم‘ بے نقاب؟
مجاہد نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تنازع کو مسلسل بڑھا کر ایک طرح کا کھیل کھیل رہا ہے۔ ان کے مطابق، ان حملوں کا ایک مقصد پاکستان کے داخلی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کے حملوں کے معاملے میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تال میل کیا جا رہا ہے۔ تاہم مجاہد نے اپنے اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی حکمت عملی چاہے جو بھی ہو، افغانستان ان حملوں کا جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

مکہ معاہدے میں پھنس گیا پاکستان؟
7 اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دفاعی تعاون بڑھانے کی بات کہی گئی ہے۔ طالبان اب اسی معاہدے کو لے کر پاکستان سے سوال کر رہا ہے اور الزام عائد کر رہا ہے کہ افغانستان میں فوجی کارروائی کے ذریعے اسلام آباد اپنی الگ حکمت عملی بنا رہا ہے۔افغانستان پر پاکستان کے حملے
طالبان کے مطابق پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں میں قندھار، پکتیا اور خوست صوبوں کو نشانہ بنایا گیا اور چار شہری ہلاک ہوئے۔ قندھار خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ یہیں طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ کا اثر و رسوخ مرکوز ہے۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان میں 10 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردانہ سرگرمیاں اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ان حملوں کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری کارروائی قرار دے رہا ہے، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ اس پورے واقعے نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔









*🛑جموئی کے بعد سمستی پور میں بھی شرمناک واقعہ! دن دہاڑے لڑکی سے مبینہ بدسلوکی، ویڈیو نے مچائی ہلچل*
بہار کے جموئی میں پیش آئے نابالغ لڑکی سے متعلق واقعے کے بعد اب سمستی پور سے بھی ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے علاقے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ضلع کے کرپوری گرام تھانہ علاقے کے جگت سنگھ پور گاؤں میں سڑک پر ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور چھیڑ چھاڑ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تصویر بنا رہی تھی لڑکی، اچانک نوجوانوں نے گھیرا

معلومات کے مطابق یہ واقعہ بدھ، 23 ستمبر کی شام جگت سنگھ پور گاؤں کی باندھ بائی پاس روڈ پر پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکی اپنے ایک ساتھی کے ساتھ وہاں سے گزر رہی تھی۔ اسی دوران وہ راستے میں رک کر اپنے موبائل فون سے تصویر بنا رہی تھی۔ الزام ہے کہ اسی وقت وہاں موجود کچھ مقامی نوجوان لڑکی اور اس کے ساتھی کے قریب پہنچ گئے اور دونوں کو گھیر لیا۔ اس کے بعد مبینہ طور پر لڑکی اور اس کے ساتھی کے ساتھ گالی گلوج اور بدتمیزی شروع کر دی گئی۔

گالی گلوج کے بعد ’بیڈ ٹچ‘ کی مبینہ کوشش

مقامی اطلاعات کے مطابق نوجوانوں نے مبینہ طور پر لڑکی کو زبردستی چھونے اور اس کے ساتھ ’بیڈ ٹچ‘ کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران کسی شخص نے پورے واقعے کی ویڈیو اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کر لی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقے میں لوگوں میں ناراضی پائی جا رہی ہے۔ تاہم وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت اور واقعے کی تمام تفصیلات کی باضابطہ طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

مقامی نوجوانوں پر شبہ

مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والے نوجوان جگت سنگھ پور گاؤں کے ہی رہنے والے ہیں۔ تاہم سمستی پور پولیس نے اب تک کسی بھی ملزم کے نام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق وائرل ویڈیو کی تکنیکی جانچ کی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کے بعد ممکنہ ٹھکانوں پر کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

واقعے کے بعد خواتین کی سلامتی پر پھر سوال

سمستی پور کے اس واقعے نے بہار میں خواتین کی سلامتی اور عوامی مقامات پر ان کے تحفظ سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ فی الحال پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور مقامی افراد مبینہ ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کی شناخت اور واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والے افراد کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔









*🛑ہندوستانی نشاۃ ثانیہ کے بانی راجہ رام موہن رائے، جنہوں نے ستی کی تاریکی مٹا کر جدید ہندوستان کی بنیاد رکھی*
نئی دہلی : 27 ستمبر 1833 کو جدید ہندوستان کے بانی راجہ رام موہن رائے نے اس دنیا کو الوداع کہا تھا۔ ان کی برسی کے موقع پر ملک اس عظیم سماجی مصلح کو یاد کر رہا ہے، جنہوں نے بیک وقت 2 محاذوں پر جدوجہد کی، ایک طرف برطانوی حکومت کے خلاف اور دوسری طرف اپنے ہی معاشرے میں پھیلی سماجی برائیوں اور توہمات کے خلاف۔راجہ رام موہن رائے کی پیدائش 22 مئی 1772 کو بنگال کے ایک برہمن خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام رام کانت رائے اور والدہ کا نام تارینی دیوی تھا۔ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک رام موہن رائے نے محض 15 سال کی عمر تک بنگالی، سنسکرت، عربی اور فارسی جیسی زبانوں میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ نوجوانی میں انہوں نے ملک کے مختلف حصوں کا سفر کیا، جس سے انہیں معاشرے کی حقیقت کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔1809 سے 1814 تک انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے کام کیا، لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر خود کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ یہیں سے ان کی زندگی کا سب سے اہم باب شروع ہوا۔

ستی کی رسم کے خلاف بڑی جدوجہد

اس دور میں ہندوستانی معاشرہ کم عمری کی شادی، ستی کی رسم، ذات پات، مذہبی رسومات اور پردہ جیسی سماجی برائیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب سے بڑی خدمات میں ستی کی رسم کے خاتمے کی جدوجہد کو شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے اس غیر انسانی رسم کے خلاف مسلسل تحریک چلائی، جس کے نتیجے میں 1829 میں اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹنک نے ستی کی رسم کو قانونی طور پر جرم قرار دے دیا۔ اس جرات مندانہ اقدام کے لیے راجہ رام موہن رائے کو شدید مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

برہمو سماج کی بنیاد رکھی

1828 میں انہوں نے برہمو سماج کی بنیاد رکھی، جو وحدانیت پر مبنی تھا اور مورتی پوجا کی مخالفت کرتا تھا۔ وہ ہندوستانی زبانوں کی صحافت کے بھی اہم علم بردار تھے۔1825 میں انہوں نے ویدانت کالج قائم کیا اور انگریزی تعلیم، جدید طب اور سائنس کی تعلیم کو فروغ دینے پر زور دیا۔ ان کے نمایاں پیروکاروں میں دیویندر ناتھ ٹیگور بھی شامل تھے۔

بے باک صحافی بھی تھے راجہ رام موہن رائے

راجہ رام موہن رائے صرف سماجی مصلح ہی نہیں بلکہ ایک بے باک صحافی بھی تھے۔ انہوں نے ’برہمنیکل میگزین‘، ’سَمباد کومودی‘، ’میرات الاخـبار‘ اور ’بنگ دوت‘ جیسے معیاری اخبارات و رسائل کی ادارت اور اشاعت کی۔’بنگ دوت‘ ایک منفرد اخبار تھا، جس میں بنگالی، ہندی اور فارسی 3 زبانوں کا بیک وقت استعمال کیا جاتا تھا۔ان کی جدوجہد کا اندازہ اس واقعے سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 1821 میں جب ایک انگریز جج نے پرتاپ نارائن داس نامی ایک ہندوستانی کو کوڑوں کی سزا سنائی اور اس کی موت ہوگئی تو راجہ رام موہن رائے نے اس بربریت کے خلاف بے باک مضمون لکھا۔ انہوں نے ہندوستانی آزادی کی جدوجہد اور صحافت کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے دونوں کو نئی سمت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

مغل بادشاہ نے ’راجہ‘ کا خطاب دیا

مغل بادشاہ ان کے کاموں سے متاثر تھے اور انہیں ’راجہ‘ کا خطاب دیا تھا۔ وہ ان اولین ہندوستانیوں میں شامل تھے جنہوں نے انگلینڈ اور فرانس کا سفر کیا۔راجہ رام موہن رائے نے 27 ستمبر 1833 کو انگلینڈ کے شہر برسٹل میں آخری سانس لی۔آج بھی جب جدید، سائنسی اور مساوات پر مبنی ہندوستان کی بات کی جاتی ہے تو اس کی بنیاد میں راجہ رام موہن رائے کے خیالات نمایاں نظر آتے ہیں۔ سماجی اصلاح، جدید تعلیم، صحافت اور خواتین کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد نے ہندوستانی معاشرے میں تبدیلی کی ایک نئی راہ ہموار کی۔

Thursday, 24 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’بھاگ سکتے ہو، بچ نہیں سکتے...‘ کشمیر میں لشکر طیبہ کو بڑا جھٹکا، آپریشن اشدر میں پاکستانی کمانڈر یاسر ڈھیر*
جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع بڈگام کے یوسمرگ علاقے میں ہفتے کے روز سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہوئی جھڑپ میں ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ کا ایک پاکستانی کمانڈر ہلاک ہوگیا۔ ہلاک ہوئے دہشت گرد کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کے مطابق یاسر پاکستان کا شہری تھا اور لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے یوسمرگ کے علاقے میں سرگرم تھا اور سیکورٹی ایجنسیوں کے نشانے پر تھا۔ پولیس نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری ’آپریشن اشدر‘ کے دوران یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ جموں و کشمیر پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ آپریشن کے دوران مارے گئے دہشت گرد کی شناخت پاکستان کے شہری اور لشکرِ طیبہ کے رکن یاسر کے طور پر ہوئی ہے۔پہلے سلیمان موسیٰ گروپ کا حصہ تھا یاسر
موصولہ اطلاعات کے مطابق یاسر اس سے قبل لشکرِ طیبہ کے بڑے سلیمان موسیٰ گروپ کا حصہ تھا۔ تقریباً ایک سال قبل وہ اس گروپ سے الگ ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ ایک الگ نیٹ ورک کے ساتھ سرگرم ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نے یوسمرگ کے علاقے میں لشکرِ طیبہ کے ایک اہم کمانڈر کے طور پر اپنی شناخت بنا لی تھی۔ سیکورٹی ایجنسیاں کافی عرصے سے اس کی نقل و حرکت اور اس کے نیٹ ورک پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔

طویل عرصے سے جاری تھی یاسر کی تلاش
رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کو یاسر کی سرگرمیوں کے بارے میں مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی تھیں، جبکہ اس کے ٹھکانوں اور رابطوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔ ہفتے کے روز جاری آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کا یاسر سے سامنا ہوگیا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں سیکورٹی فورسز نے پاکستانی دہشت گرد یاسر کو مار گرایا ۔ آپریشن کی کامیابی کے بعد پولیس نے واضح پیغام دیا کہ دہشت گردوں کے لیے سیکورٹی فورسز سے بچ نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

اب یاسر کے نیٹ ورک کی چھان بین جاری
یاسر کی ہلاکت کے بعد سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیاں اس کے پورے نیٹ ورک کی چھان بین میں مصروف ہیں۔ ایجنسیاں یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یاسر کے رابطے لشکرِ طیبہ کے کن دیگر دہشت گردوں سے تھے اور وہ جموں و کشمیر میں کن سرگرمیوں میں ملوث رہا تھا۔اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یاسر نے حالیہ دنوں میں کسی دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی، دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے یا کسی دوسری دہشت گردانہ سرگرمی میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ یوسمرگ میں ہونے والی یہ جھڑپ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف مسلسل جاری سیکورٹی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ سیکورٹی فورسز کی توجہ اب یاسر کے نیٹ ورک اور اس کے ممکنہ ساتھیوں تک پہنچنے پر مرکوز ہے۔









*🛑اسٹوڈنٹس اور انفراسٹرکچر کی کمی: بنگال حکومت دو سو پچاس مدرسوں کو بند کرے گی*
کولکاتا: بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی شدید کمی اور طلبہ کی گھٹتی ہوئی تعداد کے باعث 'نبانا' (ریاستی سیکریٹریٹ) کو ریاست کے مدرسوں کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سال کے آخر تک ریاستی حکومت تقریباً 300 مزید مدرسوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے والی ہے۔ کم از کم 250 سرکاری طور پر تسلیم شدہ پرائیویٹ مدرسے، جن میں مناسب انفراسٹرکچر اور اسٹوڈنٹس کی کمی ہے، اس آنے والے دسمبر تک بند ہونے والے ہیں۔

انتظامیہ نے پہلے ہی بے ضابطگیوں (گڑبڑیوں) کے الزامات میں سو مزید مدرسوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ان اداروں کو پوجا کی چھٹیوں سے پہلے اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامی ذرائع کے مطابق اس بات کا پورا امکان ہے کہ ان سو مدرسوں میں سے کم از کم پچاس مدرسے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔ مجموعی طور پر دسمبر تک تقریباً تین سو مدرسے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔'خارجی' مدرسوں کو ریاست میں چلنے نہیں دیا جائے گا

مدرسہ تعلیم میں شفافیت لانے اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے انتظامیہ کا رویہ طویل عرصے سے سخت رہا ہے۔ نبانا کے ذرائع نے صاف کہا ہے کہ 'خارجی' مدرسوں کو کسی بھی صورت میں ریاست میں چلنے نہیں دیا جائے گا۔ ساتھ ہی حکومت سے تسلیم شدہ پرائیویٹ مدرسے، جن میں پڑھانے کے لیے کم از کم ضروری انفراسٹرکچر کی کمی ہے، انہیں اب بخشا نہیں جائے گا۔

252 مدرسوں کو بند کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے

ریاست بھر میں 252 مدرسوں کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے پہلے ہی سخت اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ بند کیے گئے مدرسوں کی فہرست میں نارتھ بنگال (شمالی بنگال) سے لے کر ساؤتھ بنگال (جنوبی بنگال) تک کے کئی اضلاع شامل ہیں۔ یہ مدرسے—جن میں درست انفراسٹرکچر کی کمی تھی—کوچ بہار، جلپائی گوڑی، علی پور دوار، نارتھ اور ساؤتھ دینا جپور، اور مالدہ جیسے شمالی اضلاع کے ساتھ ساتھ مرشد آباد، نادیا، نارتھ اور ساؤتھ 24 پرگنہ، ہاوڑہ، ہوگلی، اور ایسٹ اور ویسٹ بردھوان جیسے اضلاع میں بند کر دیے گئے ہیں۔

انتظامی ذرائع کے مطابق، 100 مدرسوں کے خلاف کئی شکایتیں درج کی گئی تھیں، جنہیں اب نئے شو کاز (وجہ بتاؤ) نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ادارے قانون کے مطابق کام نہیں کر رہے تھے۔ حکام کو معائنے کے دوران کئی سنگین بے ضابطگیاں ملیں۔

فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی

اس لیے انہیں پوجا کے تہواروں سے پہلے جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ اگر تسلی بخش جواب نہ ملا تو فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کی بقیہ شناخت (منظوری) منسوخ کر دی جائے گی۔ تاہم اتنے سارے مدرسے ایک ساتھ بند ہونے کے باوجود حکومت طلبہ کے مستقبل کو دھیان میں رکھتے ہوئے بہت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

مدرسوں کو بند کرنے کا نوٹس جاری

ریاست کے اقلیتی امور کے وزیر کُشدی رام ٹوڈو نے اس معاملے پر حکومت کا موقف صاف کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت مدرسوں کو بیچ تعلیمی سال میں بند کرنے کے بجائے دسمبر تک بند کرنے کا انتظار کیوں کر رہی ہے۔ بنگال کے اقلیتی امور کے وزیر نے کہا، 'ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (محکمۂ تعلیم) کا تعلیمی سیشن دسمبر میں ختم ہو رہا ہے۔ ریاستی حکومت اس کے بعد ان مدرسوں کو بند کرنے کا نوٹس جاری کرنے والی ہے، کیونکہ ان میں اسٹوڈنٹس کی تعداد بہت کم ہے۔ تاہم انہیں بیچ میں بند کرنے سے ڈراپ آؤٹ ریٹ (پڑھائی چھوڑنے کی شرح) بڑھ سکتا ہے، اسی لیے اس عمل میں تاخیر کی جا رہی ہے۔'

دوسرے اداروں میں داخلہ لینے کا موقع

یہ ڈیڈ لائن اس لیے طے کی گئی ہے تاکہ جو چند طلبہ وہاں موجود ہیں، وہ اسکول نہ چھوڑیں اور تعلیمی سال مکمل کرنے کے بعد انہیں دوسرے اداروں میں داخلہ (ایڈمیشن) لینے کا موقع مل سکے۔ ریاست بھر میں چل رہے مدرسوں کی اصل صورتحال کا پتہ لگانے کے لیے سرکاری حکام نے پہلے ایک بڑا سروے کیا تھا۔

حکومت نے یہ بڑی صفائی مہم (کلین اپ ڈرائیو) بنیادی طور پر اسی سروے رپورٹ کے نتائج کی بنیاد پر شروع کی ہے۔ نبانا کے ذرائع نے بتایا کہ حکام جلد ہی مدرسوں کا ایک نیا سروے کریں گے تاکہ تعلیمی معیار کو برقرار رکھا جا سکے اور قوانین کو سختی سے نافذ کیا جا سکے۔









*🛑یو پی آئی سے غلط اکاؤنٹ میں بھیج دیے پیسے؟ گھبرائیں نہیں، فوراً کریں یہ کام؛ سو فیصد واپس آئے گا پیسہ*
نئی دہلی: بھارت میں یو پی آئی (Unified Payments Interface) آنے کے بعد سے پیسوں کا لین دین بے حد آسان ہو گیا ہے۔ آج چائے کے کھوکھے (ٹپری) سے لے کر بڑے شاپنگ مالز تک، لوگ اپنے فون کا استعمال کر کے پلک جھپکتے ہی پیسے ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔ ایک طرف جہاں یو پی آئی نے ملک کو ڈیجیٹل رفتار دی ہے، تو دوسری طرف اس نے ایک انجانے خطرے کو بھی جنم دے دیا ہے۔

اکثر جلد بازی یا ایک چھوٹی سی لاپرواہی کے باعث لوگ غلط نمبر یا غلط کیو آر (QR) کوڈ پر پیسے ٹرانسفر کر بیٹھتے ہیں۔ ایسے میں محنت کی کمائی کسی اور کے اکاؤنٹ میں چلی جاتی ہے اور لوگ گھبرا جاتے ہیں کہ اب یہ پیسہ کبھی واپس ملے گا یا نہیں۔ آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں کہ کیا غلط اکاؤنٹ میں گیا ہوا پیسہ واپس آ سکتا ہے اور اس کے لیے آپ کو کون سے اقدامات کرنے ہوں گے۔

کیا یو پی آئی سے بھیجا ہوا پیسہ فوراً واپس ہو سکتا ہے؟

اس سوال کا سیدھا اور صاف جواب ہے— جی نہیں۔ اگر آپ نے اپنے موبائل ایپ میں یو پی آئی پن (UPI PIN) درج کر کے ٹرانزیکشن مکمل کر دی ہے، تو اس ٹرانزیکشن کو فوراً کینسل یا ریورس (واپس) کرنے کا کوئی 'بٹن' ایپ میں موجود نہیں ہوتا۔ تکنیکی طور پر پیسہ فوراً سامنے والے کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہو جاتا ہے۔ لیکن، اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ آپ کا پیسہ ڈوب گیا۔ اگر آپ صحیح وقت پر درست طریقہ کار اپناتے ہیں، تو آپ کا پیسہ واپس ملنے کا امکان کافی زیادہ رہتا ہے۔

مرحلہ 1: سب سے پہلے یو پی آئی ایپ پر درج کریں 'تنازعہ' (Dispute)

غلط ٹرانزیکشن ہوتے ہی گھبرانے کے بجائے سب سے پہلے اسی یو پی آئی ایپ (جیسے Google Pay، PhonePe، Paytm یا BHIM) کو اوپن کریں جس سے آپ نے پیسے بھیجے ہیں۔

اپنے ٹرانزیکشن ہسٹری (Transaction History) میں جائیں۔

اس غلط لین دین کو سلیکٹ کریں۔

وہاں آپ کو 'Report a Problem' یا 'Raise a Dispute' کا آپشن نظر آئے گا، اس پر کلک کر کے اپنی شکایت درج کرائیں کہ پیسہ غلطی سے کسی اور کو ٹرانسفر ہو گیا ہے۔

مرحلہ 2: 72 گھنٹے کے اندر اپنے بینک کو اطلاع دیں

صرف ایپ پر شکایت کرنا کافی نہیں ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے قوانین کے مطابق، غلط ٹرانزیکشن کے 72 گھنٹوں کے اندر اپنے بینک سے رابطہ کرنا بے حد ضروری ہے۔

آپ بینک کے کسٹمر کیئر نمبر پر کال کر سکتے ہیں یا اپنے قریبی ہوم برانچ میں جا سکتے ہیں۔

بینک کو ٹرانزیکشن کی تاریخ، وقت اور سب سے اہم 12 ہندسوں کا یو ٹی آر (UTR) نمبر فراہم کریں۔

اگر رقم حاصل کرنے والے کا اکاؤنٹ بھی اسی بینک میں ہے، تو بینک فوراً کارروائی کر سکتا ہے۔ دوسرے بینک کا معاملہ ہونے کی صورت میں، آپ کا بینک اس متعلقہ بینک سے رابطہ کر کے فنڈز کو ہولڈ (روکنے) کرنے کی درخواست کرتا ہے۔

مرحلہ 3: NPCI پورٹل اور آر بی آئی لوک پال کا سہارا لیں

اگر ایپ اور بینک سے بات کرنے کے بعد بھی آپ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے، تو ملک میں یو پی آئی کو چلانے والے ادارے NPCI (نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا) کے آفیشل پورٹل پر جائیں۔ وہاں 'Dispute Redressal Mechanism' کے تحت 'Incorrectly transferred to another account' کا آپشن منتخب کر کے اپنی شکایت درج کریں۔ اگر 30 دنوں تک کوئی حل نہیں نکلتا، تو آپ آر بی آئی لوک پال (RBI Ombudsman) کے پاس اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

ایکسپرٹ ٹپ: ہمیشہ یہ احتیاطی تدابیر اپنائیں

ڈیجیٹل ماہرین کا ماننا ہے کہ علاج سے بہتر احتیاط ہے۔ کسی بھی انجان یا نئے نمبر پر بڑی رقم بھیجنے سے پہلے ہمیشہ ₹1 کا ٹیسٹ ٹرانسفر کر کے سامنے والے کا نام لازمی کنفرم کر لیں۔ جلد بازی میں کبھی بھی پیمنٹ نہ کریں اور عوامی مقامات پر کیو آر (QR) کوڈ کو اسکین کرتے وقت اسکرین پر ظاہر ہونے والے نام کی دوبارہ جانچ ضرور کریں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑شی جن پنگ کے استقبال کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایئرپورٹ پہنچے، 11 سال بعد امریکہ پہنچے چینی صدر*
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر خود ان کا استقبال کیا۔ شی جن پنگ 11 سال سے زائد عرصے بعد امریکہ کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔ شی جن پنگ کی آمد کے موقع پر صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ میری لینڈ کے فوجی اڈے پر موجود تھے۔ شی جن پنگ کی اہلیہ پینگ لی یوان بھی استقبال کی تقریب میں شریک ہوئیں۔ عام طور پر امریکی صدر کسی غیر ملکی لیڈر کا وائٹ ہاؤس پہنچنے پر استقبال کرتے ہیں، تاہم اس مرتبہ ٹرمپ خود ایئرپورٹ پہنچے۔ شی جن پنگ کے لیے کیے گئے اس خصوصی استقبال کو دونوں لیڈروں کے درمیان تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات

شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت، ایران اور تائیوان سمیت متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ تین روزہ دورے کے دوران اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کے علاوہ متعدد رسمی پروگرام بھی منعقد ہوں گے۔ ان میں جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والا خصوصی اسٹیٹ ڈنر بھی شامل ہے۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز پر کیسے ہوا استقبال؟

شی جن پنگ کی آمد سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ میرین ون کے ذریعے جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچے۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ اپنے قافلے کے ساتھ استقبال کی تقریب کے مقام پر پہنچے، جہاں فوجی اعزازی گارڈ، بینڈ اور دیگر فوجی دستے موجود تھے۔ ایئرپورٹ کے ٹارمک کے قریب سیاہ گاڑیاں اور لیموزین بھی موجود تھیں، جبکہ امریکی فضائیہ کا بینڈ مارچ کر رہا تھا۔ شی جن پنگ کی آمد سے قبل امریکی فوج کے مختلف اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔

میلانیا ٹرمپ استقبال کی تیاریوں میں خود شامل رہیں

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کا وائٹ ہاؤس میں انتظار کرنے کے بجائے خود ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے چینی صدر کے لیے خصوصی اور ذاتی نوعیت کا استقبال قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ رواں سال جب ٹرمپ چین گئے تھے تو وہاں بھی ان کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔ میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ ان کے شوہر نے ذاتی طور پر شی جن پنگ کا استقبال اس لیے کیا کیونکہ دونوں لیڈروں کے تعلقات اچھے ہیں۔ ان کے مطابق، ”وہ ہماری سرزمین پر آ رہے ہیں، اس لیے ہمیں پورے احترام کے ساتھ ان کا استقبال کرنا چاہیے۔“ میلانیا نے مزید بتایا کہ شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کے دورے کے پورے پروگرام کی منصوبہ بندی میں وہ خود بھی بہت زیادہ شامل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی تیاری کے دوران ہر چھوٹی بڑی بات میں ان کی شرکت رہی۔









*🛑نوئیڈا سے مہوبہ جا رہی سلیپر بس بنی آگ کا گولہ، یمنا ایکسپریس وے پر 9 مسافروں کی جل کر دردناک موت*
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جہاں نوئیڈا سے تقریباً 35 مسافروں کو لے کر مہوبا جا رہی ایک نجی ڈبل ڈیکر سلیپر اے سی بس اچانک آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ اس خوفناک حادثے میں 9 مسافروں کی زندہ جلنے اور دم گھٹنے سے موت ہو گئی، جبکہ متعدد مسافر جھلس گئے۔ حادثہ یمنا ایکسپریس وے پر گریٹر نوئیڈا سے آگرہ کی جانب جاتے ہوئے دَیانت پور گاؤں کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بس دَیانت پور کے قریب پہنچی تو اچانک اس سے دھواں اٹھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے بلند شعلوں نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے گولے میں تبدیل ہوئی بس

بس میں آگ لگنے کا احساس ہوتے ہی ڈرائیور نے فوری طور پر گاڑی کو ایکسپریس وے کے کنارے روک دیا۔ تاہم چند ہی لمحوں میں آگ نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسافروں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا اور بس کے اندر دھواں بھرنے سے افراتفری مچ گئی۔ بس میں موجود مسافروں نے اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ شدید دھوئیں کے باعث اندر موجود افراد کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس دوران کئی مسافر بس کے اندر ہی پھنس گئے اور باہر نہیں نکل سکے۔

’دم گھٹ رہا تھا، کسی طرح کود کر جان بچائی‘

حادثے میں بال بال بچنے والے ایک مسافر نے خوفناک منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بس میں سو رہا تھا کہ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آنکھ کھلی تو چاروں طرف دھواں ہی دھواں تھا اور مسافروں میں بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ مسافر کے مطابق، ”میں نے اپنا کوئی سامان یا جوتے تک نہیں اٹھائے، صرف فون ہاتھ میں لیا اور باہر کی طرف بھاگا۔ بس میں اتنا دھواں تھا کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ لوگ اندر ہی دم گھٹنے سے تڑپ رہے تھے۔ پیچھے کئی لوگ پھنسے رہ گئے جو باہر نہیں نکل سکے۔“

پولیس اور فائر بریگیڈ نے سنبھالا محاذ

حادثے کی اطلاع ملتے ہی یمنا ایکسپریس وے کے نجی حفاظتی اہلکار، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ریسکیو ٹیموں نے سخت مشقت کے بعد بس میں لگی آگ پر قابو پایا اور جھلسنے والے مسافروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں بس میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے حادثے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے لیا حادثے کا نوٹس

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یمنا ایکسپریس وے پر پیش آئے اس خوفناک حادثے کا نوٹس لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دفتر کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے حادثے میں ہونے والی جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کی ارواح کی تسکین اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی۔ وزیر اعلیٰ نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو فوری طور پر جائے حادثہ اور اسپتالوں میں پہنچ کر امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے میں زخمی تمام مسافروں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے علاج میں کسی بھی قسم کی لاپروائی نہ برتی جائے۔

متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد کی ہدایت

وزیر اعلیٰ نے حکام کو جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے رابطہ قائم کرکے انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ دفتر کی جانب سے مقامی انتظامیہ اور پولیس سے ریسکیو آپریشن اور تحقیقات کے حوالے سے مسلسل معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے حادثے میں جھلسنے اور زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔









*🛑فیصلہ کرنے میں کتنا وقت لگے گا: چیف جسٹس سوریہ کانت کا الیکشن کمیشن سے سوال، ٹی ایم سی انتخابی نشان فریز کیس میں شیوسینا کا ذکر کیوں؟*
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے نام اور گھاس پھول والے انتخابی نشان پر شروع ہوا تنازع اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ جمعرات کو سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے الیکشن کمیشن سے براہِ راست سوال کیا کہ آخر فیصلہ کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ عدالت نے کمیشن سے کہا کہ وہ پیر تک بتائے کہ اس تنازع پر حتمی فیصلہ کب تک کیا جا سکتا ہے۔ بات صرف تاریخ بتانے کی نہیں ہے۔ عدالت نے واضح اشارہ دیا کہ فیصلہ جلد ہونا چاہیے۔ ضمنی انتخابات کا عمل جاری ہے۔ دونوں گروپ خود کو اصل ترنمول کانگریس قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں پارٹی کا نام اور انتخابی نشان فریز ہونے سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ اسی سماعت میں شیوسینا تنازع کا بھی ذکر آیا۔ جسٹس جائے مالیا باگچی نے جب تاخیر کی بات سنی تو کہا کہ ہم شیوسینا معاملہ میں تاخیر کے اثرات دیکھ چکے ہیں۔

یہ معاملہ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی بانی ممتا بنرجی کی درخواست سے متعلق ہے۔ ممتا گروپ نے الیکشن کمیشن کے 17 ستمبر کے عبوری حکم کو چیلنج کیا ہے۔ کمیشن نے گھاس پھول والے اصل نام اور انتخابی نشان کو فی الحال فریز کر دیا تھا۔ اس کے بعد ممتا گروپ کو ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور فٹبال کھلاڑی والا انتخابی نشان دیا گیا۔ وہیں رِت برت بنرجی گروپ کو ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام اور لفافے والا نشان دیا گیا۔ یہ انتظام مغربی بنگال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے کیا گیا ہے۔ ان انتخابات میں نندی گرام اور ریجی نگر بھی شامل ہیں۔ ممتا گروپ کی جانب سے کپل سبل نے جلد حتمی فیصلہ کرانے کا مطالبہ کیا۔ اب عدالت نے کمیشن سے وقت کی حد بتانے کو کہا ہے۔CJI سوریہ کانت نے الیکشن کمیشن سے پوچھا سیدھا سوال
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل داما شیشادری نائیڈو سے پوچھا کہ حتمی فیصلہ کرنے میں کمیشن کو کتنا وقت درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو مناسب موقع دیا جانا چاہیے۔ کمیشن کو معاملے پر غور کرنے کے لیے مناسب وقت بھی ملنا چاہیے، لیکن یہ عمل بہت طویل نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت کی تشویش یہ تھی کہ تنازع کو جلد حل کیا جائے تاکہ آگے کے انتخابی عمل پر اس کا اثر نہ پڑے۔

دونوں گروپوں کے امیدواروں نے کیا ہے دعویٰ
عدالت کے سامنے یہ حقیقت بھی رکھی گئی کہ ضمنی انتخابات کے لیے دونوں گروپوں کے امیدواروں نے نامزدگیاں داخل کی ہیں۔ دونوں نے خود کو اصل ترنمول کانگریس سے وابستہ قرار دیا ہے۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عدالت نے جلد فیصلہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ انتخابی پروگرام پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں ان انتخابات کے لیے کمیشن کی جانب سے بنائے گئے عبوری انتظام میں فی الحال مداخلت کرنا مشکل ہے۔

کپل سبل نے اٹھایا تاخیر کا سوال
ممتا بنرجی کی جانب سے پیش ہوئے کپل سبل نے کہا کہ تنازع جولائی میں ہی الیکشن کمیشن کے سامنے پہنچ چکا تھا۔ اس کے باوجود معاملہ کئی ماہ تک زیر التوا رہا۔ پھر ضمنی انتخابات کے دوران کمیشن نے عبوری حکم جاری کر دیا۔ سبل کا کہنا تھا کہ اگر فیصلہ پہلے آ جاتا تو ان کے پاس عدالت سے رجوع کرنے کا راستہ موجود رہتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے درمیان ایسا حکم آنے سے ان کے لیے مؤثر قانونی راستہ تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

’وجود کا سوال‘ بتا رہا ممتا گروپ
سماعت کے دوران ممتا گروپ کی جانب سے کہا گیا کہ پارٹی کے اصل نام اور گھاس پھول کے نشان کا معاملہ ان کے لیے وجود سے جڑا ہوا ہے۔ سبل نے کہا کہ وہ انتخابات روکنے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ پارٹی کے اصل نام اور انتخابی نشان کے حوالے سے مناسب حل نکالا جائے۔ انہوں نے عدالت سے مداخلت کی درخواست کی۔ تاہم عدالت نے اشارہ دیا کہ موجودہ انتخابی عمل کے دوران عبوری انتظام کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

عدالت نے بتایا حل کیا ہے
جسٹس جائے مالیا باگچی نے سماعت کے دوران کہا کہ اس کا راستہ یہی ہے کہ الیکشن کمیشن اس تنازع پر جلد فیصلہ کرے۔ اسی کے بعد عدالت نے کمیشن سے وقت کی حد بتانے کو کہا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فریقین کو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔ یعنی جلدی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طریقہ کار کو نظر انداز کر دیا جائے۔ کمیشن کو سماعت اور حقائق پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا۔

پھر شیوسینا تنازع کا ذکر کیوں آیا؟
معاملے کی سماعت میں شیوسینا کا ذکر خاص طور پر توجہ کھینچنے والا رہا۔ رِت برت بنرجی گروپ کی جانب سے پیش ہوئے مکل روہتگی نے کہا کہ الیکشن کمیشن پہلے بھی ایسے تنازعات میں عبوری احکامات جاری کرتا رہا ہے۔ انہوں نے شیوسینا تنازع کی مثال دی۔ اسی پر جسٹس باگچی نے تبصرہ کیا کہ شیوسینا معاملے میں تاخیر کے اثرات عدالت دیکھ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اشارہ دیا کہ موجودہ تنازع کو بھی غیر معینہ مدت تک زیر التوا رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

رِت برت گروپ نے مانگا مزید وقت
رِت برت بنرجی گروپ کی جانب سے دلیل دی گئی کہ اکتوبر کی وقت کی حد بہت کم ہوگی۔ مکل روہتگی نے کمیشن کو کچھ مزید وقت دینے کا مطالبہ کیا۔ سینئر وکیل نیرج کشن کول نے کہا کہ معاملے میں کئی پیچیدہ حقائق ہیں۔ ان کے لیے حلف نامے اور دیگر شواہد پیش کرنے ہوں گے۔ ان کے مطابق ایک ماہ کا وقت بھی کافی نہیں ہو سکتا ہے۔ یعنی ایک طرف جلد فیصلے کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف مکمل طریقہ کار کے لیے مناسب وقت دینے کی دلیل بھی سامنے آئی ہے۔

فی الحال کس کے پاس کون سا نام اور نشان؟
الیکشن کمیشن کے 17 ستمبر کے عبوری حکم کے بعد ممتا بنرجی گروپ کو ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ فٹبال کھلاڑی والا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ رِت برت بنرجی گروپ کو ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام اور لفافے والا نشان ملا ہے۔ یہ انتظام اگلے ضمنی انتخابات کے لیے ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے۔

اصل فیصلہ پیراگراف 15 کے تحت ہوگا
الیکشن کمیشن کے مطابق دونوں فریقوں کے اصل نام اور گھاس پھول کے نشان پر حتمی فیصلہ الگ طریقہ کار کے تحت ہوگا۔ یہ طریقہ کار الیکشن سمبلز آرڈر 1968 کے پیراگراف 15 سے متعلق ہے۔ فی الحال کمیشن نے ضمنی انتخابات کو دیکھتے ہوئے عبوری انتظام کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اب اگلی سماعت 28 ستمبر کو ہوگی۔ اس سے پہلے کمیشن کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ پورے تنازع پر حتمی فیصلہ لینے میں کتنا وقت لے گا۔ستمبر کو کیا ہوگا؟
اب اگلی تاریخ پر سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ الیکشن کمیشن کتنی وقت کی حد بتاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے فی الحال اصل انتخابی نشان سے متعلق عبوری انتظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ عدالت کا زور حتمی تنازع کو جلد نمٹانے پر ہے۔ دوسری جانب دونوں گروپ اپنی اپنی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ ایسے میں 28 ستمبر کی سماعت اس معاملے کی آئندہ سمت کے لحاظ سے اہم ہوگی۔

Wednesday, 23 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑پاکستان: جیل میں بند عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو بڑا احتجاج، 3 بہنیں بھی 30 دن کے لیے حراست میں*
پاکستان میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو لے کر سیاسی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، انہیں مناسب طبی سہولیات اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور آئین کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی صحت، خاص طور پر دائیں آنکھ کے علاج اور طبی سہولیات تک رسائی کو لے کر بھی پی ٹی آئی اور ان کے اہل خانہ تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اگست میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے انہیں اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انہیں مختصر طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

احتجاج سے پہلے عمران خان کی 3 بہنیں حراست میں

27 ستمبر کے احتجاج سے چند روز قبل عمران خان کی تین بہنوں کو 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے علیمہ خان کو 20 ستمبر کو لاہور میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد 21 ستمبر کو ان کی دیگر دو بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 دن کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ ان حراستوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حراست کے احکامات میں مخصوص الزامات واضح نہیں کیے گئے اور قانونی طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی اور حکومت آمنے سامنے

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج صرف عمران خان کی رہائی کا مطالبہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور آئین کی بالادستی کے لیے بھی ہے۔ پارٹی نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکومت نے احتجاج اور مارچ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ کسی گروہ کو 27 ستمبر کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

عمران خان کی صحت کا معاملہ بھی اہم

عمران خان کی صحت کو لے کر پی ٹی آئی مسلسل سوال اٹھاتی رہی ہے۔ اگست میں انہیں طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا تھا، لیکن چند گھنٹوں بعد ہی واپس جیل بھیج دیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اس اقدام پر اعتراض کیا تھا اور اسے سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی عمران خان کے خاندان کے افراد اور پی ٹی آئی کارکنوں کی حراست پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے پاکستانی حکام سے ان حراستوں اور پرامن اجتماع کے حق کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔

کیا 27 ستمبر کا احتجاج سیاسی بحران بڑھائے گا؟

27 ستمبر کا احتجاج پاکستان میں جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان ہو رہا ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور آئینی بالادستی کے مطالبے پر احتجاج کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت نے اسلام آباد میں مارچ روکنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایسے میں 27 ستمبر کی سیاسی سرگرمی ملک میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری تنازع کی ایک اہم کڑی بن سکتی ہے۔ تاہم اس احتجاج کے نتیجے میں حکومت کے مستقبل یا اقتدار میں کسی تبدیلی کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔










*🛑آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ایران تیار، امریکا کے سامنے رکھی صرف ایک شرط، 7 دن میں ختم ہو سکتا ہے بحران، دنیا کو ملے گی بڑی راحت*
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کا اثر پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے خاص طور پر ان ممالک کی مشکلات بڑھا دی ہیں جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے لے کر مہنگائی تک، عالمی سطح پر اس کشیدگی کے کئی اثرات سامنے آئے ہیں۔ اس پوری صورتحال کا ایک اہم مرکز آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اب ایران نے کہا ہے کہ یہ آبنائے دوبارہ کھولا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لیے امریکہ کو ایک شرط پوری کرنا ہوگی۔

ایران نے امریکہ کے سامنے کیا شرط رکھی؟

میڈیا رپورٹ میں ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرتا ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کردیتا ہے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے گا۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران چاہتا ہے کہ واشنگٹن باضابطہ طور پر یہ واضح کرے کہ وہ مسئلے کا سفارتی حل چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مقررہ مدت پر بھی اتفاق ہونا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز سے تجارتی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے اور حال ہی میں آبنائے عبور کرنے کے دوران دو بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر

ہرمز میں جاری کشیدگی کا براہ راست اثر تیل اور دیگر تجارتی سامان لے جانے والے جہازوں کی آمدورفت پر پڑا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار جہازوں کی تعداد ایک دن پہلے کے 10 کے مقابلے میں گھٹ کر صرف 2 رہ گئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے سے پہلے اس اہم سمندری راستے سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جن میں آئل ٹینکر، گیس کیریئر، بلک کیریئر اور کنٹینر جہاز شامل تھے۔ یہ راستہ دنیا کی یومیہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کے تقریباً 20 فیصد حصے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

کیا نیویارک میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے پیزشکیان؟

ایرانی حکام کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ایرانی وفد کو امریکہ کے ساتھ سفارت کاری دوبارہ شروع کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ تاہم، ایران کے صدر مسعود پیزشکیان، جو منگل کی صبح تہران سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ایرانی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ دشمنی ختم کرنے سے متعلق کسی معاہدے کی تفصیلات پر نیویارک میں ثالثوں کے ذریعے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق تہران اپنا تجویز کردہ منصوبہ 16 ستمبر کو ہی امریکہ کے حوالے کرچکا ہے۔ اگر امریکہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرتا ہے تو ایران اس کا خیرمقدم کرے گا۔

ایران نے امریکہ کو جوابی کارروائی کی وارننگ بھی دی

ایک طرف ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے شرط رکھی ہے، تو دوسری طرف ایرانی فوجی مرکزی کمان نے اتوار کو کہا تھا کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ امریکہ علاقائی ممالک کی حمایت سے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس طرح کا قدم اٹھایا تو تہران بغیر کسی حد یا پیشگی غور کے جوابی کارروائی کرے گا۔ ایسے میں آبنائے ہرمز کو لے کر جاری کشیدگی کا اثر عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ برقرار ہے۔









*🛑آپ کے بال کھردرے، چمک سے محروم یا ٹوٹ رہے ہیں تو کیا کرنا چاہیے؟*
بہت سے لوگ بالوں کے بے رونق ہونے کی وجہ کیمیکل والے شیمپو، آلودگی یا ہیئر سٹائلنگ کے لیے استعمال ہونے والی حرارت کو قرار دیتے ہیں۔ تاہم، نل کا پانی بھی آپ کے بالوں کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، آپ اگر مسلسل عام نل کے پانی سے بال دھوتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر بالوں پر پڑ سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پانی میں موجود آلودگی اور معدنی اجزا ہیں۔
کھارے پانی کے اثرات کا اندازہ اکثر نہانے کی بالٹی کی تہہ میں جمی سیاہی مائل تہہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس تہہ میں زیادہ تر میگنیشیم اور دیگر معدنی اجزا جمع ہوتے ہیں، جو بالوں کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نل کے پانی کی وجہ سے بالوں کے بے رونق ہونے کی ایک وجہ ان کی ساخت کو پہنچنے والا نقصان بھی ہو سکتی ہے، جسے صرف غذائیت سے بھرپور خوراک لینے اور مناسب مقدار میں معدنیات استعمال کرنے سے دور نہیں کیا جا سکتا۔
کھارا پانی بالوں کی صحت کے لیے نقصان دہ کیوں؟
کھارے پانی سے مراد ایسا پانی ہے جس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار زیادہ ہو اور اس میں شامل معدنیات بالوں پر تہہ کی صورت میں جم سکتی ہوں۔ آپ اگر مسلسل نل کے پانی سے بال دھوتے رہیں تو وقت کے ساتھ وہ بے رونق ہو سکتے ہیں اور ان کی قدرتی چمک بھی کم ہو سکتی ہے۔
یہ مسئلہ جے پور، احمد آباد، دہلی این سی آر، بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی، لکھنؤ، کانپور، جودھپور، سورت اور وڈودرا جیسے شہروں میں خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ آلودہ یا کھارا پانی اِن کے بالوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے۔ ایسے میں بالوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے باتھ روم میں واٹر فلٹر لگانا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
نل کا پانی آپ کے بالوں کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
 کھارے پانی میں موجود معدنی اجزا اگر بالوں پر مسلسل جمع ہوتے رہیں تو بال بے رونق ہو سکتے ہیں اور ان کا حجم کم محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس سے بالوں کی چمک اور نرمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔آپ کے بال اگر خشک اور الجھے ہوئے یا بے ترتیب رہنے لگے ہیں تو اپنے استعمال کے پانی کے معیار کی جانچ کروانا مناسب ہو سکتا ہے۔ آلودہ یا ناقص معیار کا پانی بالوں کی حالت مزید خراب کر سکتا ہے، یہاں تک کہ بال دھونے کے بعد بھی کھردرے اور اُلجھے ہوئے محسوس ہو سکتے ہیں۔
نل کے پانی کے بالوں کو نقصان پہنچانے کی علامات
کچھ علامات ایسی ہیں جن سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نل کا پانی بالوں کے معیار کو متاثر کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر باقاعدگی سے بال دھونے کے باوجود وہ بے رونق نظر آنے لگیں۔ دیگر علامات میں بالوں کا ضرورت سے زیادہ پھولنا اور بے ترتیب ہونا، سر کی جلد کا خشک ہونا، بالوں کا زیادہ ٹوٹنا اور شیمپو کا مناسب طریقے سے جھاگ نہ بنانا شامل ہیں۔
کیا روزانہ بال دھونے سے مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے؟
آپ اگر روزانہ بال دھوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بال چپچپے محسوس ہوتے ہیں تو اس کی ایک وجہ پانی کا ناقص معیار بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم، روزانہ بال دھونے اور ضرورت سے زیادہ بال دھونے میں واضح فرق ہے۔ روزانہ بال دھونے کا اثر ہر شخص کے بالوں کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
کیا کھردرا پانی بالوں کے جھڑنے کا سبب بن سکتا ہے؟
انٹرنیشنل جرنل آف ٹرائیکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کھردرے پانی کے مسلسل استعمال سے بال جھڑنے کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔کھردرا پانی بالوں کے ضرورت سے زیادہ ٹوٹنے اور مجموعی معیار میں خرابی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
اگرچہ روزانہ تقریباً 100 بالوں کا گرنا عام بات سمجھی جاتی ہے، لیکن اگر بال نل سے مسلسل عام یا کھردرے پانی کے اثر میں رہیں تو یہ مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔
کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟
اِن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے جو مسلسل ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پانی کھردرا ہو اور وہ روزمرہ استعمال میں اسی پانی کا سامنا کرتے ہوں۔
یہ اثر اِن لوگوں میں مزید نمایاں ہو سکتا ہے جن کے بال گھنگریالے، خشک یا رنگ کیے ہوئے ہوں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناگالینڈ میں زہریلی شراب پینے سے 19 افراد ہلاک، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل* موکوکچنگ،ناگالینڈ: ناگالینڈ میں م...