Wednesday, 11 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





حرمین شریفین میں رمضان کے پہلے 20 دنوں میں تقریباً 97 ملین زائرین کی آمد۔ زائرین نے عقیدت واحترام کے ساتھ عبادات کاشرف حاصل کیا
سعودی عرب کی جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے امورِ حرمین شریفین نے ایک اہم اعلان میں بتایا ہے کہ یکم رمضان سے 20 رمضان 1447ھ تک مسجد الحرام اور مسجد نبوی آنے والے زائرین کی کل تعداد 96,638,865 (9 کروڑ 66 لاکھ، 38 ہزار، 8 سو 65) تک پہنچ گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار نماز کے مقامات اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے داخل ہونے والے افراد کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ یہ غیر معمولی تعداد حرمین شریفین کی روحانی اور مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ ماہِ مقدس میں عبادت کے لیے مسلمانوں کے عظیم الشان اجتماع اور جوش و خروش کی عکاسی کرتی ہے۔مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) کے اعداد و شمار :
ڈائریکٹوریٹ کی رپورٹ کے مطابق، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام نے 57,595,401 ایسے زائرین کی میزبانی کی جنہوں نے پانچ وقت کی نمازیں اور نمازِ تراویح ادا کیں۔ اس کے علاوہ، 15,605,086 فرزندانِ اسلام نے اس عرصے کے دوران عمرہ کی سعادت حاصل کی۔

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے اعداد و شمار :
حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں نمازِ پنجگانہ اور قیامِ لیل ادا کرنے والے زائرین کی تعداد 21,143,259 رہی۔ ریاض الجنہ (جو کہ نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک اور منبر کے درمیان کا حصہ ہے) میں 579,191 زائرین نے حاضری دی، جبکہ 1,715,928 خوش نصیبوں نے نبی کریم ﷺ اور ان کے دو جلیل القدر صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

اعلیٰ درجے کی انتظامی خدمات :
سعودی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ زائرین کی یہ کثیر تعداد حرمین شریفین میں آپریشنل تیاریوں کے اعلیٰ معیار اور مربوط خدمات کے نظام کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام تر انتظامات اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ رمضان کے دوران رش کے باوجود زائرین کی نقل و حرکت میں روانی برقرار رہے اور انہیں عبادت کے لیے ایک محفوظ اور پرسکون ماحول میسر آ سکے۔

رمضان المبارک کا مہینہ عالمِ اسلام میں روحانیت اور عبادت کا عروج ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حرمین شریفین کا رخ کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت ہر سال زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں وسیع تر انتظامات کرتی ہے تاکہ عبادت گزاروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سال 1447ھ کے اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حرمین شریفین کی کشش اور وہاں فراہم کردہ سہولیات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے









ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو بڑی دھمکی ۔ بینکوں، اقتصادی مراکز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
مغربی ایشیا میں جاری ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھتی جا رہی ہے۔ جنگ کے بارہویں دن ایران کی فوج نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب خطے میں موجود ان کے اقتصادی مراکز، بینکوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ تہران میں ایک بینک پر ہونے والے رات کے حملے کے بعد کیا گیا، جس میں متعدد ملازمین ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے اسے جوابی کارروائی پر مجبور کر دیا ہے۔ایران کا کہنا ہے دشمن نے ہمیں کھلی چھوٹ دے دی

ایران کی فوج کے مرکزی آپریشنل کمانڈ خاتم الانبیاء کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دشمن کے حالیہ حملوں نے ایران کو اس بات کی کھلی اجازت دے دی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے اقتصادی مفادات کو نشانہ بنائے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مشترکہ فوجی کمانڈ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ اب امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ممکنہ اہداف تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ مستقبل میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ تہران میں ایک بینک پر اسرائیلی اور امریکی فضائی حملے میں عملے کے کئی افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد ایران نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر بھی ممکنہ ہدف
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خطے میں موجود دفاتر اور انفراسٹرکچر کو ممکنہ اہداف قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ اسی بنیاد پر ایران نے ان کمپنیوں سے وابستہ تنصیبات کو ’’نئے اہداف‘‘ قرار دیا ہے۔

جن کمپنیوں کا نام لیا گیا ان میں شامل ہیں :

Google

Microsoft

Palantir

IBM

Nvidia

Oracle

ایرانی میڈیا کے مطابق ان کمپنیوں کے دفاتر اور کلاؤڈ سروس انفراسٹرکچر اسرائیل کے مختلف شہروں کے علاوہ خلیجی ممالک میں بھی موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر خطے میں جنگ ’’انفراسٹرکچر وار‘‘ کی شکل اختیار کرتی ہے تو ایران کے اہداف کی فہرست مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

خلیجی خطے میں کشیدگی میں تیزی
بدھ کی صبح ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ ہوا جس سے پورے خلیجی خطے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

ایران نے تیل کی تنصیبات اور بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق :

دو ایرانی ڈرون دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب گرے جس میں چار افراد زخمی ہوئے، تاہم پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔

آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل کے پاس ایک کنٹینر شپ پر میزائل نما شے لگی جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔

کویت نے آٹھ ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والے پانچ ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر
ایرانی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں کارگو ٹریفک تقریباً رک گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ خلیج فارس سے نکلنے والے تقریباً 20 فیصد تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس راستے میں رکاوٹ طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔










آج اسٹاک مارکیٹ کیوں گری؟ ایران جنگ، کمزور روپیہ اور غیر ملکی فروخت سے سینسیکس و نفٹی میں بڑی گراوٹ
ایران جنگ کے سائے میں بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ
بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں بدھ، 11 مارچ کو نمایاں گراوٹ دیکھی گئی جب عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور اقتصادی خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔بینچ مارک انڈیکس سینسیکس دن کی بلند ترین سطح سے 1000 سے زیادہ پوائنٹس نیچے آ گیا جبکہ نفٹی 50 اہم نفسیاتی سطح 24,000 کے قریب پہنچ گیا۔

صبح 11:38 بجے کے قریب سینسیکس 878 پوائنٹس (%1.12) کی کمی کے ساتھ 77,327.86 پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ نفٹی 242 پوائنٹس (%1) گر کر 24,019.20 پر آ گیا۔

اگرچہ مرکزی انڈیکس نیچے آئے، لیکن مارکیٹ کی مجموعی صورتحال نسبتاً متوازن رہی۔ تقریباً 2,149 شیئرز میں اضافہ ہوا، 1,469 میں کمی دیکھی گئی جبکہ 179 شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

 مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی منڈیوں پر اثرات
گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں شدت آ چکی ہے اور امریکہ بھی اس تنازع میں براہ راست شامل نظر آ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات پر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے بھی اسرائیل اور خطے کے دیگر مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ جنگ طویل ہو گئی یا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر بھارت سمیت دنیا کی معیشتوں اور اسٹاک مارکیٹس پر پڑ سکتا ہے۔

آج اسٹاک مارکیٹ گرنے کی اہم وجوہات
1۔ ایران۔اسرائیل جنگ میں شدت

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کو جنگ کے آغاز کے بعد سب سے شدید کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی حکومت نے اپنے سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔

چونکہ دنیا کے بڑے حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اس سے عالمی مہنگائی اور اقتصادی سست روی بڑھ سکتی ہے۔۔ روپے کی قدر میں کمی

بدھ کو بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کمزور ہو گیا۔

روپیہ 0.14 فیصد کمی کے ساتھ 91.93 روپے فی ڈالر پر کھلا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 91.80 پر بند ہوا تھا۔

پیر کے روز روپیہ 92.35 فی ڈالر کی تاریخی کم ترین سطح کو بھی چھو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق روپے کی آئندہ سمت کا انحصار عالمی تیل کی قیمتوں اور ڈالر انڈیکس پر ہوگا۔

3۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت

مارکیٹ پر ایک اور بڑا دباؤ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FII) کی فروخت سے آیا۔

10 مارچ کو ایف آئی آئیز نے تقریباً 4,673 کروڑ روپے کے شیئر فروخت کیے جبکہ مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (DII) نے 6,333 کروڑ روپے سے زائد کے شیئر خریدے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے یہی رجحان جاری ہے جس میں غیر ملکی سرمایہ کار فروخت کرتے ہیں جبکہ مقامی فنڈز مارکیٹ کو سہارا دیتے ہیں۔

4۔ حالیہ تیزی کے بعد منافع وصولی

گزشتہ سیشن میں مارکیٹ میں اچھی خاصی تیزی دیکھی گئی تھی جس کے بعد بدھ کو سرمایہ کاروں نے منافع وصولی (Profit Booking) شروع کر دی۔

آٹو، آئی ٹی، فنانشل سروسز اور ایف ایم سی جی سیکٹر کے شیئرز میں 0.6 سے 1.3 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

نفٹی 50 میں سب سے زیادہ دباؤ مالیاتی کمپنیوں کے شیئرز پر رہا جن میں شامل ہیں :

کوٹک مہندرا بینک

ایس بی آئی لائف انشورنس

بجاج فِن سرو

بجاج فنانس

اسی طرح بھارتی ایئرٹیل اور ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس کے شیئرز میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟ ماہرین کی رائے

ٹیکنیکل تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دنوں میں نفٹی کی سمت اہم سپورٹ لیولز پر منحصر ہوگی۔

فوری سپورٹ : 24,100 – 24,000

اہم ریزسٹنس : 24,400 – 24,500

اگر نفٹی اس رینج کے اوپر بریک آؤٹ کرتا ہے تو انڈیکس 24,600 سے 24,700 تک جا سکتا ہے۔

لیکن اگر سپورٹ ٹوٹ گئی تو قلیل مدت میں مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ اور فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





والدین سے ایک دل کی بات…
اپنے بچوں کو صرف پڑھانا کافی نہیں—انہیں اچھا انسان اور اچھا مسلمان بنانا اصل تربیت ہے۔
انہیں یہ سکھائیں کہ دوسروں کی چیز کا احترام کریں۔
صرف کار، بائیک یا اسکوٹی نہیں…
کسی بھی انسان کی کسی بھی چیز کو نقصان پہنچانا غلط ہے، گناہ ہیں، اور بے ادبی ہیں ۔

اور سب سے اہم بات:
اگر کبھی آپ کے بچے کی وجہ سے کسی کا نقصان ہو جائے—چاہے معمولی ہو یا بڑا—
تو نقصان کی بھرپائی کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔
یہی وہ عمل ہے جو بچے کو سکھاتا ہے کہ غلطی چھپانی نہیں، اسے درست کرنا ہوتا ہے۔
اور یہی وہ تربیت ہے جو ایک بچے کو باشعور، باادب، اور سچا مسلمان بناتی ہے۔
بچے وہ نہیں بنتے جو آپ کہتے ہیں…
بچے وہ بنتے ہیں جو آپ انہیں کرکے دکھاتے ہیں۔
اللہ ہم سب کے بچوں کو نیک، شریف اور دوسروں کا حق پہچاننے والا بنائے۔ آمین..









*راجیہ سبھا کے ممبر عمران خان پرتاپ گڑھی صاحب نے اعجاز بیگ صاحب کو دی مبارکباد*
*اسٹینڈنگ کمیٹی کا بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہونے پر دونوں کے درمیان ہوئی بات چیت*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
   *کانگریس پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر عمران خان پرتاپ گڑھی صاحب نے مالیگاؤں کانگریس پارٹی کے صدر اعجاز بیگ صاحب کو اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہونے پر فون کے ذریعے مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔*

   *انہوں نے کہا کہ اعجاز بیگ صاحب کی یہ کامیابی ان کی محنت، لگن اور عوامی خدمت کا نتیجہ ہے۔ عمران خان پرتاپ گڑھی صاحب نے امید ظاہر کی کہ وہ اس اہم ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتے ہوئے شہر اور عوام کی خدمت میں مزید نمایاں کردار ادا کریں گے۔*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹








*یہ مسلم بزرگ کی لاوارث لاش کی شناخت کریں*
*ازقلم✏️....اعجاز ایم آئی سی بلڈ ڈونر گروپ مولانا کمپاؤنڈ مالیگاؤں*
*گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں*
🚨🚨🚨🚨🚨
*آج مورخہ 10 مارچ 2026 بروز پیر دوپہر 2 بجے سول ہاسپٹل دھولیہ میں یہ لاوارث مسلم بزرگ کا انتقال ہوگیا ہے*
*انا للہ وانا الیہ راجعون*
*مورخہ 9 جنوری 2026*
*کو یہ مسلم بزرگ کو اعجاز ایم آئی سی سفیان ایمبولینس والا اور ضیاء الرحمن مسکان وغیرہ نے شدید شردی اور شدید بیماری کی حالت میں تڑپتے بریج کے نیچے پیلا پیٹرول پمپ کے سامنے دیکھا تھا تو مالیگاؤں سول ہسپتال میں فوراً بھرتی کرواکر ان کی اللہ تعالیٰ کی مدد سے جان بچانے میں کامیابی حاصل کی تھی اس کے بعد سے یہ مسلم بزرگ سول ہسپتال مالیگاؤں میں ہی تھی مگر چند روز قبل ان کی حالت اور زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے ہائر سینٹر دھولیہ سول ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا مگر ضعیفی اور کمزوری و لاچاری مجبوری کی وجہ سے وہ اس دنیا سے رخصت ہوگے تصویر میں نظر آنے والے یہ مسلم بزرگ کی لاوارث لاش کی شناخت کریں اگر آپ ان کو پہچانتے ہو یا ان کے گھر والوں کے تعلق سے آپ کو کوئی معلومات ہوتو فورا ان نمبروں پر رابطہ کریں عین نوازش ہوگی شکریہ جزاک اللہ خیرا فی الدارین*
😢😢😢😢😢
*انصاری ضیاء الرحمن مسکان*
*موبائل 📱 نمبر 9270021180*
*اعجاز ایم آئی سی*
*موبائل 📱 نمبر 9272668733*
*محمد کامل النور فیبریک دیوی کا ملہ*
*موبائل 📱 نمبر 8999312553*
*اسامہ انصاری مدینہ آباد*
*موبائل 📱 نمبر 9545628362*
*برائے مہربانی فوراً اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ان کے گھر والوں کی تلاش ہوسکے*

Tuesday, 10 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا
ایران ۔ اسرائیل جنگ کے دوران بھارت میں ایل پی جی سپلائی یقینی بنانے کیلئے اقدامات۔ وزیراعظم مودی کا ہنگامی جائزہ اجلاسعالمی توانائی بحران کے خدشات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں خاص طور پر ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی کی صورتحال اور ایران جنگ کے باعث ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر تفصیلی غور کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی چین پر کس طرح پڑ سکتے ہیں اور بھارت میں گھریلو صارفین کو گیس کی مسلسل فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے۔اسی دوران مرکزی حکومت نے گھریلو ایندھن کی منڈی کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے ایسنشل کموڈیٹیز ایکٹ (Essential Commodities Act) کو نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو بھارت کے اندر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

پیٹرولیم وزارت کے مطابق اس ایکٹ کے تحت ایک کنٹرول آرڈر جاری کیا گیا ہے جس کے ذریعے ریفائنریوں اور پیٹرو کیمیکل یونٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (LPG) کی پیداوار میں اضافہ کریں۔ اس کے علاوہ مختلف ہائیڈرو کاربن ذرائع کو ایل پی جی کے ذخیرے میں شامل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں کھانا پکانے والی گیس کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھی جا سکے۔

وزارت نے مزید کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے قدرتی گیس کی تقسیم کے لیے ایک ترجیحی فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ موجودہ سپلائی کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ نئے رہنما اصولوں کے تحت گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (PNG) اور ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کو 100 فیصد یقینی سپلائی دی جائے گی۔

جبکہ دیگر صنعتی شعبوں کو گیس کی فراہمی ان کی گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے مطابق محدود یا منظم کی جا سکتی ہے تاکہ گھریلو اور ضروری خدمات کو ترجیح دی جا سکے۔

ملک کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) نے بھی عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر اضافی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کی جا سکے۔

ایک مشترکہ بیان میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (IOC)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن (BPCL) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن (HPCL) نے کہا کہ وزارت نے ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے اور مناسب ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث وزارت نے ایل پی جی کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس فراہم کی جا سکے۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ضروری غیر گھریلو شعبوں جیسے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر اہم خدمات کو بھی ضرورت کے مطابق ایل پی جی فراہم کی جائے گی۔

تاہم دیگر غیر گھریلو شعبوں کے لیے گیس کی فراہمی کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تین ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو درخواستوں کا جائزہ لے کر ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی کا فیصلہ کرے گی۔











 ’’ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے حکومت کی تبدیلی‘‘ اسرائیلی وزیراعظم نے ایرانیوں کو دیا مشورہ، ایران نے امریکہ کو دیا سخت جواب
یروشلم: اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران میں موجودہ حکومت کا مستقبل بالآخر ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے اور اگر وہاں نظام میں تبدیلی آتی ہے تو یہ ایرانی عوام کی مرضی اور اقدام سے ہی ممکن ہوگا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے دورے کے دوران کہا کہ اسرائیل کی خواہش ہے کہ ایرانی عوام اس نظام سے نجات حاصل کریں جسے انہوں نے جبر اور آمریت قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’ہماری خواہش ہے کہ ایرانی عوام ظلم کے اس بوجھ سے خود کو آزاد کریں، لیکن آخرکار یہ فیصلہ انہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں ان سے ہم ان کی طاقت کو کمزور کر رہے ہیں اور ہماری کارروائیاں جاری ہیں۔‘‘اسرائیل کی عالمی حیثیت میں تبدیلی کا دعویٰ

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل اور ایرانی عوام مشترکہ طور پر کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے بڑی تبدیلی آئے گی۔ ان کے مطابق اس عمل سے اسرائیل کی عالمی حیثیت میں بھی نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر صحت کے ساتھ نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا، جہاں وزارت صحت کے ڈائریکٹر نے جاری فوجی مہم کے دوران صحت کے نظام کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

ایران کا سخت ردعمل

دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے دشمنی کے خاتمے کا ذکر کیا تھا۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تہران ہی کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ اب ایرانی مسلح افواج کی حکمت عملی کے مطابق ہوگا، نہ کہ امریکہ کے اقدامات سے۔ آئی آر جی سی کے ترجمان نے امریکی صدر پر عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے ’’چالاکی اور فریب‘‘ استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔










بچوں میں نیند کی کمی، کیا والدین بچوں کو اندازے سے کم سلا رہے ہیں؟
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق جتنی نیند درکار ہوتی ہے وہ اکثر اس سے کم سوتے ہیں، جس کے سنگین نتائج پورے خاندان کی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی نیوز چیبل سی این این کے مطابق نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن نے کہا ہے نومولود بچوں کے لیے 14 سے 17 گھنٹے، شیرخوار بچوں کے لیے 12 سے 15، ٹوڈلرز کے لیے 11 سے 14، پری سکولرز کے لیے 10 سے 13 اور سکول جانے والے بچوں کے لیے 9 سے 11 گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔
تاہم ایک تازہ سروے کے مطابق44 فیصد امریکی بچے اپنی عمر کے مطابق مناسب نیند نہیں لے رہے، اور چھوٹے بچوں میں یہ کمی زیادہ پائی گئی ہے۔فاؤنڈیشن کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر جوزف جیرزیوسکی کے مطابق نیند صرف انفرادی عمل نہیں بلکہ سماجی رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن کی نیند ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بنیاد کا کام کرتی ہے اور آئندہ زندگی کے نیند کے معمولات پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ سروے 977 نگہداشت کرنے والوں کے درمیان کیا گیا جن میں 53 فیصد حقیقی مائیں، 33 فیصد حقیقی باپ جبکہ دیگر میں سوتیلے والدین، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر شامل تھے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ 95 فیصد والدین اس بات سے متفق ہیں کہ اچھی نیند خاندان کی مجموعی کارکردگی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ 80 فیصد نے بتایا کہ بچوں کی خراب نیند ان کی اپنی نیند کو متاثر کرتی ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ 74 فیصد والدین روزانہ اپنے بچوں کی نیند کے بارے میں سوچتے ہیں، مگر پھر بھی اکثر والدین بچوں کی اصل ضرورت کے مقابلے میں کم نیند کا اندازہ لگاتے ہیں۔ خاص طور پر 0 سے 3 ماہ کے بچوں کے والدین میں 78 فیصد اپنے بچوں کی نیند کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ تقریباً نصف والدین اپنے بچوں سے نیند کی اہمیت پر کبھی بات نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کو نیند کے فوائد سادہ الفاظ میں سمجھانا ضروری ہے، جیسے ذہنی اچھی حالت، جسمانی مضبوطی اور بہتر سیکھنے کی صلاحیت۔
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ مختصر نیند (نیپ) بچوں کے مجموعی نیند کے وقت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک سال سے کم عمر 93 فیصد بچے باقاعدگی سے نیپ لیتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نیپ روکنے سے رات کی نیند بہتر نہیں ہوتی بلکہ بچے مزید چڑچڑے ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق باقاعدہ سونے کا وقت، سونے سے پہلے پرسکون معمول، روشنی کم کرنا اور کہانیاں پڑھنا بچوں کی صحت مند نیند کے لیے بہترین طریقے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نیند بہتر بنانے کے لیے والدین کو خود بھی صحت مند نیند کی مثال قائم کرنا ہوگی، کیونکہ بچے ہمیشہ بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*




ایک اچھا سچا انسان اور ڈاکٹر ڈاکٹر رئیس احمد صدیقی ہم میں نہیں رہے 
ڈاکٹر رئیس احمد صدیقی کا پرسوں کے دن انتقال ہوا وہ ایک نہایت ہی اچھے سچے انسان تھے ساتھ ہی ساتھ ایک اچھے ڈاکٹر بھی تھے مالے گاؤں شہر میں آن کے جیسے بہت کم ڈاکٹر بچے ہیں جو کم قیمت میں اچھی کار آمد دوائیں دیتے رہے ہیں مخلص اِنسان مخلص ڈاکٹر کے جانے سے غریبِ مریضوں کو بہت دکھ ہوا یاد رہے کورونا کے وقت ڈاکٹر رئیس صدیقی جیسے ڈاکٹروں نے جو انسانی خدمات کیے تھے اسکو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ایک اچّھے ڈاکٹر اچّھے مخلص انسان سیاسی سماجی شخصیت کے جُدا ہونے پر جہاں افراد خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے وہیں عام لوگوں کو بھی صدمہ عظیم ہوا ہے ہم انکے غم میں برابر کے شریک رہتے ہوئے اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ یہ اللہ مرحوم کی کروٹ کروٹ مغفرت فرما اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماآمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شریکان غم۔۔عبدالخالق صدیقی صدر جنتا دل سیکولر مالے گاؤں عبدالعزیز محمد اسماعیل پترکار۔عبدالغفار عبدالستار۔عبدالودود اشرفی سالکی ۔محمد یوسف حاجی محمد الیاس۔صادق حسین اشرفی۔دوست احباب










ٹرمپ کی نکل گئی اکڑ۔ آبناے ہرمز بند ہونے پر عقل آگئی ٹھکانے ،ایران سے راست مذاکرات کے لئے تیار
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ کے گیارہویں دن ایک ایسا موڑ سامنے آیا ہے جس نے عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی پاسدارن انقلاب (IRGC) کی جانب سے دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی بلکہ امریکہ کے اندر بھی سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اشارہ دیا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے اور تیل کی سپلائی بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ موقف امریکی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی یا یو ٹرن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ
گزشتہ گیارہ دنوں سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت ایران نے امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے دنیا کے سب سے اہم تیل کے راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اقدام کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑنے والی ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

ایران کی جانب سے اس راستے کی بندش کے بعد عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کئی ممالک میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ بعض خطوں میں سپلائی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک جاری رہی تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

امریکہ کے اندر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ
جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ کے اندر بھی اس تنازع پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور ممکنہ معاشی اثرات کے باعث کانگریس کے بعض اراکین اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

اسی دباؤ کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاکہ تیل کی سپلائی بحال کی جا سکے اور جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ موجودہ بحران کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق آنے والے دن اس بحران کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے جنگ کے خاتمے یا کم از کم کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

فی الحال پوری دنیا کی نظریں تہران کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔







ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا
پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے جاری حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے سبب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات جنوبی ایشیا کے کئی ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں جہاں حکومتیں بجلی اور ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا نے توانائی کے استعمال کو کم کرنے اور شہریوں پر معاشی دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف فیصلوں کا اعلان کیا ہے، جن میں تعلیمی اداروں کی بندش، سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

بنگلہ دیش : جامعات بند، ایندھن کی فروخت محدود
بنگلہ دیش کی حکومت نے ملک بھر کی تمام سرکاری اور نجی جامعات کو پیر سے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکام نے عیدالفطر کی تعطیلات کو پہلے ہی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق جامعات کی بندش سے ہاسٹلز، کلاس رومز، لیبارٹریز اور ایئر کنڈیشننگ سسٹمز میں استعمال ہونے والی بجلی کی کھپت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا، جس سے ایندھن کی بچت ممکن ہو گی۔

وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک کے باعث ملک کے بیشتر اسکول پہلے ہی بند تھے، اس لیے تعلیمی ادارے اب ایک طویل عرصے تک بند رہیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ایندھن کی روزانہ فروخت پر بھی حد مقرر کر دی ہے کیونکہ کئی علاقوں میں گھبراہٹ کے باعث شہری بڑی مقدار میں ایندھن ذخیرہ کر رہے تھے۔

پاکستان : اسکول بند، سرکاری اخراجات میں کٹوتی
پاکستان میں بھی تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے توانائی کی بچت کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ملک کو معاشی استحکام دینے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

حکومت کے اعلان کے مطابق :

ملک بھر کے اسکول دو ہفتوں کے لیے بند رہیں گے

جامعات کو آن لائن کلاسز منتقل کیا جائے گا

سرکاری محکموں کے ایندھن الاؤنس میں دو ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی جائے گی

60 فیصد سرکاری گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا دی جائیں گی، تاہم بسوں اور ایمبولینسز کو استثنا حاصل ہوگا

سرکاری دفاتر میں صرف آدھا عملہ کام کرے گا

دفاتر ہفتے میں چار دن کھلے رہیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پاکستان کا کنٹرول نہیں ہے، تاہم حکومت کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر اس کے اثرات کم سے کم پڑیں۔

سری لنکا : ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
سری لنکا میں بھی بڑھتی ہوئی عالمی توانائی قیمتوں کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

سرکاری تیل کمپنی سیپٹکو (Ceypetco) کے مطابق نئی قیمتیں آج رات بارہ بجے سے نافذ ہوں گی۔

نئی قیمتوں کے مطابق :

آٹو ڈیزل : 22 روپے اضافے کے بعد 303 روپے فی لیٹر

سپر ڈیزل : 24 روپے اضافے کے بعد 353 روپے فی لیٹر

پیٹرول (اوکٹین 92) : 24 روپے اضافے کے بعد 317 روپے فی لیٹر

پیٹرول (اوکٹین 95) : 25 روپے اضافے کے بعد 365 روپے فی لیٹر

مٹی کا تیل : 13 روپے اضافے کے بعد 195 روپے فی لیٹر

حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے خدشات کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔

Monday, 9 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





علاقائی کشیدگی کے سائے میں متحدہ عرب امارات کے مسلمانوں کا لیلۃ القدر کی عبادات میں سکون کی تلاش
متحدہ عرب امارات میں آج رات سے مساجد میں خصوصی قیام اللیل اور لیلۃ القدر کی تلاش کے لیے طویل عبادات کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے، کیونکہ رمضان المبارک اپنے آخری اور سب سے اہم مرحلے یعنی آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے۔

مقدس رات کی اہمیت اور موجودہ حالاتاسلام میں اس مدت کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ لیلۃ القدر، وہ رات جب قرآن کی پہلی آیات نازل ہوئیں، اسی عشرے میں آتی ہے۔ اگرچہ اس کی قطعی تاریخ نامعلوم ہے، لیکن اہل ایمان اسے رمضان کے آخری ایام کی طاق راتوں میں تلاش کرتے ہیں۔ اس سال یہ آخری راتیں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری وسیع تر تنازع کے اثرات خلیج کے کچھ حصوں بشمول یو اے ای تک پہنچنے کی وجہ سے شہریوں کو ہنگامی الرٹس موصول ہوئے اور فضائی دفاعی کارروائیوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

مساجد میں سکون کا احساس
شارجہ کے رہائشی محمد الحمادی، جو النور مسجد میں عبادت کا ارادہ رکھتے ہیں، کہتے ہیں ’’جب لوگوں کو الرٹ ملتے ہیں یا وہ تنازعات کی خبریں دیکھتے ہیں تو قدرتی طور پر پریشان ہو جاتے ہیں، لیکن جب آپ ان راتوں میں مسجد آتے ہیں، تو سب کچھ بہت پرامن محسوس ہوتا ہے‘‘۔ ان راتوں میں مساجد میں عبادت کے اوقات بڑھا دیے جاتے ہیں، تلاوت قرآن کا سلسلہ دیر تک جاری رہتا ہے اور نمازی کئی گھنٹوں تک مسجد میں قیام کرتے ہیں۔انفرادی کہانیاں اور خاندانی روایات
دبئی کے رہائشی عمر احمد، جو لاجسٹکس کے شعبے سے وابستہ ہیں، بتاتے ہیں کہ رمضان کی یہ آخری دس راتیں ان کے لیے زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ وہ گزشتہ چند برسوں سے اپنی والدہ کو وہیل چیئر پر مسجد لاتے ہیں اور ہزاروں لوگوں کے ساتھ انہیں عبادت کرتے دیکھ کر ان کی تمام تھکن مٹ جاتی ہے۔

اسی طرح، کراچی سے تعلق رکھنے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ خالد مصطفیٰ، جو پہلے البرشا میں اپنے خاندان کے ساتھ یہ نمازیں ادا کرتے تھے، اس بار بزنس بے کی شیخ راشد بن محمد مسجد میں پہلی بار عبادت کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا خاندان اس سال پاکستان میں ہے، اس لیے وہ تنہا ہی مسجد جائیں گے۔ عجمان کے رہائشی عاصم علوی کے لیے الحمیدیہ کی مسجد تک کا راستہ اب ایک روایت بن چکا ہے جسے وہ اپنے 10 سالہ بیٹے موسیٰ کے ساتھ بانٹتے ہیں۔

مساجد میں بڑھتا ہوا رش
پورے یو اے ای میں ان راتوں کے دوران مساجد میں سال کا سب سے بڑا اجتماع دیکھا جاتا ہے۔ دبئی کی مشہور مساجد جیسے جمیرہ مسجد، الفاروق عمر بن الخطاب مسجد اور شیخ راشد بن محمد مسجد میں فرزندانِ اسلام کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔ شارجہ میں شیخ سعود القاسمی مسجد سب سے اہم مرکز ہے جہاں گزشتہ تین دہائیوں سے معروف قاری اور اماراتی تاجر صلاح بو خاطر نماز کی امامت کر رہے ہیں، جن کی تلاوت سننے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے ہیں۔

امن اور سلامتی کے لیے دعائیں
اگرچہ مساجد میں ہزاروں افراد کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن ان آخری راتوں میں رش اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ لوگ مسجد سے ملحقہ سڑکوں تک صفیں بچھا لیتے ہیں۔ لیلۃ القدر کے دوران نمازی رات بھر ’قیام‘ کی صورت میں طویل نمازیں ادا کرتے ہیں، تلاوت قرآن کرتے ہیں اور گڑگڑا کر مغفرت کی دعائیں مانگتے ہیں۔ بہت سے نمازیوں کا کہنا ہے کہ اس سال ان کی دعاؤں میں خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے خصوصی التجائیں شامل ہیں۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ’لیلۃ القدر‘ کہلاتی ہے، اسی رات قرآن پاک کے نزول کا آغاز ہوا۔ یہ رات ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے، جس میں مسلمان رات بھر جاگ کر عبادت، تلاوت اور دعائیں کرتے ہیں۔ اس سال یہ مقدس راتیں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات خلیجی خطے تک محسوس کیے جا رہے ہیں، جس سے عوامی سطح پر کچھ تشویش پائی جاتی ہے۔











رمضان المبارک میں اجمیر کی خاص روایت! توپ کی آواز سے جاگتے ہیں روزہ دار، اس خاتون کے ہاتھ میں ہے روایت
اجمیر: راجستھان کے شہر اجمیر میں مقدس مہینہ رمضان کے دوران ادا کی جانے والی ایک منفرد اور صدیوں پرانی روایت آج بھی زندہ ہے۔ جیسے ہی رات کا اندھیرا گہرا ہوتا ہے اور پورا شہر گہری نیند میں ڈوبا ہوتا ہے، اسی وقت اچانک بڑی پیر پہاڑی کی سمت سے ایک زوردار گرجتی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز کسی عام دھماکے کی نہیں بلکہ اس توپ کی ہوتی ہے جو روزہ داروں کو سحری کے لیے بیدار ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔ اس آواز کو سنتے ہی لوگ نیند سے بیدار ہو جاتے ہیں اور سحری کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔

یہ روایت اجمیر کی عالمی شہرت یافتہ اجمیر شریف درگاہ سے جڑی ہوئی ہے۔ درگاہ کے قریب واقع بڑی پیر پہاڑی سے رمضان کے پورے مہینے روزانہ توپ چلائی جاتی ہے۔ اس کی آواز شہر کے کئی علاقوں تک سنائی دیتی ہے اور لوگوں کے لیے ایک طرح کا الارم بن جاتی ہے کہ اب سحری کا وقت ہو گیا ہے۔اسی لیے شروع کی گئی تھی یہ روایت
اس تاریخی ذمہ داری کو فوزیہ خان نبھاتی ہیں، جنہیں شہر کے لوگ پیار سے “توپچی” کے نام سے جانتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ ذمہ داری ایک خاتون انجام دے رہی ہیں، جو اس روایت کو اور بھی خاص بنا دیتی ہے۔ فوزیہ خان بتاتی ہیں کہ رمضان کے پورے مہینے روزہ دار سورج نکلنے سے پہلے سحری کرتے ہیں اور پھر سورج غروب ہونے تک روزہ رکھتے ہیں۔ سحری کا وقت بہت محدود ہوتا ہے، اس لیے لوگوں کو جگانے کے لیے توپ چلانے کی روایت شروع کی گئی تھی۔فوزیہ 8 سال کی عمر سے یہ کام کر رہی ہیں
فوزیہ بتاتی ہیں کہ وہ 8 سال کی عمر سے ہی توپ چلانے کا کام کر رہی ہیں۔ یہ کام انہیں خاندانی روایت کے طور پر وراثت میں ملا ہے۔ فوزیہ مزید بتاتی ہیں کہ توپ چلانے کی یہ روایت مغل دور سے چلی آ رہی ہے۔ درگاہ کی کئی رسومات اور غریب نواز کے عرس کا آغاز بھی اسی توپ کے دھماکے کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ توپ سی آئی کی نگرانی میں چلائی جاتی ہے۔











آئی آر جی سی کا بڑا اعلان، امریکہ کے ساتھ 10 سال تک جنگ کیلئے تیار ہے ایران
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو 10 دن ہو چکے ہیں۔ اس دوران ایران میں بڑی سیاسی ہلچل کے بیچ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ اسمبلی آف ایکسپرٹس نے پیر کو یہ فیصلہ کیا۔ اس کے بعد ایران کے سیاسی اور عسکری ادارے تیزی سے ان کی حمایت میں کھڑے ہوتے نظر آئے ہیں۔ اسمبلی آف ایکسپرٹس نے اعلان کرتے ہوئے ایرانیوں سے نئے رہنما کے تئیں وفاداری ظاہر کرنے اور متحد رہنے کی اپیل کی۔ کونسل نے کہا کہ یہ فیصلہ بیرونی دباؤ اور سیکورٹی خطرات کے باوجود لیا گیا ہے۔

وہیں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ اسلامک ریولوشنری گارڈ کور کے کمانڈر اِن چیف کے سینئر مشیر، بریگیڈیئر جنرل سردار ابراہیم جباری نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ جباری نے پوری دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “ایک باخبر شخص کے طور پر میں یہ کہہ رہا ہوں: ہم امریکہ کے ساتھ کم از کم 10 سال کی جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔” ان کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ ایران طویل جنگ کے لیے ذہنی اور عسکری طور پر کمر کس چکا ہے۔ کلیش رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ ایسے وقت آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت کو لے کر ٹکراؤ عروج پر ہے۔وہیں ایران کے سینئر رہنما علی لاریجانی نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد دشمنوں کو لگا تھا کہ ایران سیاسی بحران میں پھنس جائے گا۔ لیکن قانونی عمل کے ذریعے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہنما منتخب کر لیا گیا۔ ان کے مطابق نیا سپریم لیڈر اس “حساس دور” میں ملک کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کی سب سے طاقتور عسکری تنظیم اسلامک ریولوشنری گارڈ کور یعنی IRGC نے بھی نئے رہنما کے تئیں مکمل وفاداری ظاہر کی ہے۔تنظیم نے بیان جاری کر کے کہا کہ وہ نئے سپریم لیڈر کے احکامات کی مکمل پیروی کرے گی اور ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ IRGC کی یہ حمایت اقتدار کی منتقلی کو مستحکم رکھنے کے اشارے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئے رہنما کی پیروی کرنا مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





*سنو کیا چل رہا ہے مالیگاؤں شہر میں ۔۔۔*
ایک طرف کارپوریشن کی زمین کو بیچ کر کھانے کی نیت ہے تو دوسری جانب سروے نمبر 16 کی سنڈاس کی دیوار کو توڑ کر ساپنگ سینٹر بنائے جانے کی گونج سنائی دے رہی ہے اور اس کے لیے وارڈ کے کارپوریٹروں کے ذریعے سات سات لاکھ روپے وصول کرنے کی بات بھی سنائی دے رہی ہے۔ وہیں قدوائی روڈ پر یا قدوائی روڈ سے لگ کر سینٹرل کھڈے کے بازو سے بڑی گٹر کے اوپر شاپنگ سینٹر بنا کر ہاکروں کو دینے کی بات بھی چل رہی ہے۔ اس میں وصولی وہ بھی چناؤ سے پہلے ہی ہو چکی ہے۔ ابھی تو صرف معمولی وصولی ہوئی ہے۔ یعنی 10 فیصد وصولی ہوئی ہے۔ آگے چل کر اور 90 فیصد وصولی ہونا باقی ہے۔ گالا بنے گا نہیں بنے گا یہ تو رب جانے اور بھی بہت سارے علاقوں میں کارپوریشن کی جگہوں جگہوں کی بندر بانٹ کے پلان جاری ہیں۔ شروع شروع میں ہی کچھ کارپوریٹر ایک اسکول گئے تھے جس کا ویڈیو بھی انہوں نے خود ہی وائرل کیا تھا کہ یہاں بچوں کو چارٹ کے مطابق مڈ ڈے میں یعنی کھانا نہیں مل رہا ہے۔ اب وہ بات کیا ہوئی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھچڑی کا ٹھیکہ دار کسی اور کو سمجھ کر وزٹ کیے تھے مگر وہ تو اپنا والا نکلا۔ یعنی اپنا والا کچھ بھی کرے ہم کچھ نہ بولیں گے اور دیگر پارٹی کا کچھ کرے گا تو ہم چیخ پکار کریں گے۔ بہرحال مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی نئی باڈی کب کیا کر ڈالے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ 
فقط عبدالخالق صدیقی موبائل نمبر،7066280899












[قسط نمبر: 01]
​کتاب: تجارتِ مصطفیٰ ﷺ اور جدید کاروباری اخلاقیات
​تحریر: حبیب رشید
​مقدمہ: معیشتِ انسانی اور اسلامی ضابطہ حیات
​انسانی زندگی کے قیام اور بقا کے لیے معیشت (Economy) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ، چاہے وہ قدیم ہو یا جدید، مادی وسائل اور لین دین کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معیشت کا مقصد صرف "زیادہ سے زیادہ دولت" جمع کرنا ہے؟ یا اس کا مقصد انسانیت کی فلاح ہے؟
​موجودہ دور کا سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) ہمیں سکھاتا ہے کہ "نفع" ہی اصل خدا ہے، چاہے وہ کسی کا حق مار کر حاصل کیا جائے یا دھوکہ دہی سے۔ اس کے برعکس، اسلام ہمیں ایک ایسا متوازن معاشی نظام دیتا ہے جہاں تجارت صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا راستہ ہے۔
​قرآنِ کریم کا معاشی فلسفہ:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا:
​"لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ"
(تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو۔) — سورہ البقرہ: 198
​مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں "فضل" سے مراد تجارت اور کسبِ معاش ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے رزق کی تلاش کو اپنا فضل قرار دیا ہے۔ اسلام میں ایک تاجر جب صبح دکان کھولتا ہے اور نیت یہ کرتا ہے کہ میں حلال کماؤں گا تاکہ اپنے بچوں کی پرورش کر سکوں اور معاشرے کی خدمت کر سکوں، تو اس کا وہ پورا دن "عبادت" میں شمار ہوتا ہے۔
​حلال رزق اور قبولیتِ دعا کا تعلق:
ایک مشہور حدیثِ مبارکہ میں ذکر ہے کہ ایک شخص طویل سفر کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر "یا رب! یا رب!" پکارتا ہے، مگر اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے اور اس کا لباس حرام کا ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے؟ (صحیح مسلم)۔
یہ نکتہ اس کتاب کی بنیاد ہے کہ اگر ہماری تجارت پاکیزہ ہوگی تو ہماری دعائیں اور زندگی بھی بابرکت ہوگی۔
​بابِ اول: طلوعِ اسلام سے قبل کی تجارتی منڈی اور نبوی ﷺ کردار
​نبوت کے منصب پر فائز ہونے سے قبل بھی مکہ کی وادی میں حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ایک روشن ستارے کی طرح تھی۔ عرب کا معاشرہ اس وقت اخلاقی پستی کا شکار تھا، لیکن تجارت ان کا خون اور زندگی تھی۔ مکہ ایک بین الاقوامی "ٹریڈ سنٹر" تھا جہاں یمن، شام اور حبشہ کے قافلے آتے جاتے تھے۔
​1. بچپن کے اسفار اور عالمی تجربات (Global Exposure)
​حضور ﷺ نے کم عمری میں ہی تجارت کی باریکیاں سمجھنا شروع کر دی تھیں۔ جب آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ شام کا سفر کیا، تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف مذاہب رکھنے والے تاجر کس طرح منڈیوں میں سودا بازی کرتے ہیں۔
​قدیم مثال: اس دور میں مال کی فروخت کے لیے جھوٹی قسمیں کھانا عام تھا۔ تاجر گاہک کو متاثر کرنے کے لیے کہتا تھا کہ "خدا کی قسم! یہ مال مجھے اتنے میں پڑا ہے" حالانکہ وہ جھوٹ بول رہا ہوتا تھا۔
​جدید مثال: آج کے دور میں اسے "فریبِ اشتہار" (Deceptive Advertising) کہا جاتا ہے۔ بڑی کمپنیاں ٹی وی پر ایسے دعوے کرتی ہیں جو حقیقت میں پروڈکٹ میں موجود نہیں ہوتے۔ آپ ﷺ نے اس زمانے میں بھی سچائی کو ترجیح دی اور ثابت کیا کہ نفع سچ بولنے میں زیادہ ہے۔
​2. دیانت داری کا عملی نمونہ: سائب بن ابی سائبؓ کا واقعہ
​حضرت سائب بن ابی سائبؓ مکہ کے ایک تاجر تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد فرمایا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ (نبوت سے پہلے) میرے شریکِ تجارت (Business Partner) تھے، آپ کتنے بہترین ساتھی تھے، نہ جھگڑا کرتے تھے اور نہ ہی کسی معاملے کو الجھاتے تھے۔"
​تجزیہ: آج کے دور میں پارٹنرشپ (Partnership) کا سب سے بڑا مسئلہ "ٹرسٹ ڈیفیسٹ" (Trust Deficit) یعنی اعتماد کی کمی ہے۔ پارٹنرز ایک دوسرے سے حساب چھپاتے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ کا اسوہ سکھاتا ہے کہ پارٹنرشپ کی کامیابی شفافیت (Transparency) میں ہے۔
​3. حضرت خدیجہؓ کی تجارت اور "مضاربت" کا اصول
​حضرت خدیجہؓ مکہ کی سب سے کامیاب بزنس ویمن تھیں۔ وہ اپنا مال دوسروں کو "مضاربت" (اس میں ایک کا پیسہ ہوتا ہے اور دوسرے کی محنت) پر دیتی تھیں۔ انہوں نے جب آپ ﷺ کی امانت و دیانت کے قصے سنے تو آپ ﷺ کو شام بھیجا۔
واپسی پر آپ ﷺ نے انہیں پائی پائی کا حساب دیا اور مال میں ایسی برکت ہوئی جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔
​قدیم نکتہ: اس زمانے میں لوگ دوسروں کا مال مار لینے یا حساب میں گڑبڑ کرنے کو "ہوشیاری" سمجھتے تھے۔
​جدید نکتہ: آج کی کارپوریٹ دنیا میں اسے "ایتھیکل انویسٹمنٹ" (Ethical Investment) کہا جاتا ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ ایسے شخص کی تلاش میں ہوتا ہے جو ایماندار ہو۔ حضرت خدیجہؓ کا آپ ﷺ پر اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ "کردار" (Character) ہی سب سے بڑی "کرنسی" ہے۔










مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی امداد کا اعلان

ممبئی (پریس ریلیز): مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ اکادمی نے اُردو زبان و ادب کی مختلف اصناف میں تخلیقی خدمات انجام دینے والے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کے پیشِ نظر ان کی کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اکادمی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق کیلنڈر سال ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء کے دوران اکادمی کو موصول ہونے والے مسودات کی ماہرین ادب کے ذریعے جانچ و پڑتال کے بعد مختلف ادبی زمروں میں متعدد مسودات کو مالی اعانت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
 اکادمی کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی مقصد اُردو زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ معیاری تخلیقات کی اشاعت کو ممکن بنانا اور نئے و باصلاحیت قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں منتخب کیے گئے مسودات کو اکادمی کے قواعد و ضوابط کے مطابق جزوی مالی اعانت فراہم کی گئی تاکہ یہ علمی و ادبی سرمایہ کتابی شکل میں قارئین تک پہنچ سکے۔
 اکادمی کے کارگزار صدر حسین اختر نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کی اسکیموں کے ذریعے اُردو زبان و ادب کے تخلیقی سرمائے میں اضافہ ہوگا اور اہلِ قلم کو اپنی تحقیقی و ادبی کاوشوں کو منظر عام پر لانے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ اکادمی نے تمام منتخب مصنفین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اُردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اس طرح کی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔
 2023 میں جن مسودوں کو مالی اعانت دی گئی ان کی تفصیل:
تحقیق اورتنقید :تفہیم کے دائرے میں(فردوس انجم)،اردو شاعری میں اخلاقی عناصر(ڈاکٹر تحسین کوثر)زیر نظر(ڈاکٹر محمد اسد اللہ)،بر محل اشعار کے تناظر میں سرقہ اور توارد(خلیق الزماں نصرت)
ادب اطفال:صبح نکلتا وہ سورج(علیم طاہر)،گلستاں(انصاری محمد جاوید)،مرچ شہزادی (انصاری مختار احمد)،تاروں بھرا آسمان(شاہ تاج خان)،افسانچہ اطفال(سراج فاروقی)
مضامین ترجمہ:وہ پھلوں کی ملکہ (ڈاکٹر سنمتر نوگھڑے)،ضیائے قلم(ضیاالرحمان قریشی)،مضامین محمدی (میر ذاکر علی)
سوانح ،سفرنامہ،سائنس:فکشن پر گفتگو(طاہر انجم صدیقی)،شعری کتابیات مالیگاوں(ڈاکٹر آصف فیضی)گلہائے ادب اپنے رنگ و بو میں(ڈاکٹر عبد العزیز عرفان)،نقش تحریر(وجاہت عبدالستار)،بت کہی (اشتیاق سعید)
شاعری: رنگ الفت(منظور فیض سبحانی)،یادرفتگاں (سید ہاشمی علی)،بساط سخن(عرفان قنوجی)،فسون شب (قدرت ناظم)،بچوں کا دل کھولاپوری(عبدالرزاق)نیرنگ نظر (راعنا حیدری)،دانائے سخن(عبدالرحمان سراج)
طنز و مزاح:پڑھتے پڑھتے مسکرانا(شکیل اعجاز)
 2024 میں جن مسودوں کو مالی اعانت دی گئی ان کی تفصیل:
تحقیق اورتنقید :نورالحسنین کی ڈراما نگاری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ(شیخ اظہر بشیر)،حسین الحق ناولوں کے آئینہ میں(رضوانہ رہبر)
ادب اطفال:آسیب کی گرفت میں(شعیب محمدمحسن)،معاشرتی کہانیاں (تبسم نازنین)
مضامین ترجمہ:کاوشیں (ڈاکٹر شیخ عمران)،عالمی لوک کہانیاں (عرفان عالم منشی)،سعادت حسن منٹو کی کہانیوںمیں سماجی شعور (ملک اکبر)
سوانح ،سفرنامہ،سائنس:پراگندہ کیمیات(ڈاکٹر رفیع الدین ناصر)،انڈا سیل سے بیوی کے نام خطوط(ڈاکٹر شیخ عبدالواحد)
شاعری:معراج رباعی(ابو سامہ ہارون رشید)،مہکتے لفظ (اظہر عاطف)،مدحت کے پھول (انیس عبدالرحمان پٹیل)،سخن کی خوشبو(حکم چند کوٹھاری)،گلہائے سخن (وجاہت حسین خان)، تنشق (شیخ مشتاق)
طنز و مزاح:آدھی دنیا کا مکمل آدمی(اظہر فاضل)
افسانہ،ناول:ستم ہائے روزگار(سہیم الدین صدیقی)،سن سکو گے(شاہ نواز اختر انصاری)،رات (رضوان نقی)

Sunday, 8 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر جموں و کشمیر میں غم و احتجاج بھڑک اٹھا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد جموں و کشمیر میں بھی غم اور احتجاج کا ماحول دیکھنے میں آ رہا ہے۔ وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے جبکہ کئی جگہوں پر مساجد اور امام باڑوں میں سوگ منایا گیا۔ سری نگر کے لال چوک سے لے کر بڈگام، بانڈی پورہ، کولگام اور گلمرگ تک لوگوں نے ماتم کیا اور احتجاجی مظاہرے کیے۔

سری نگر میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر پھیلتے ہی سوگ کی فضا قائم ہو گئی۔ لال چوک اور اطراف کے علاقوں میں لوگ جمع ہو کر ماتم کرتے رہے۔ کئی افراد کی آنکھیں اشکبار تھیں اور فضا غمزدہ نظر آئی۔ بعض مقامات پر لوگوں نے امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی اور حملے کی مذمت کی۔بڈگام میں بھی خامنہ ای کی وفات کی خبر کے بعد سوگ کا ماحول دیکھا گیا۔ بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور مرحوم کے لیے دعائیں کی گئیں۔ پورا علاقہ غم میں ڈوبا نظر آیا اور کئی لوگوں نے اسے مسلم دنیا کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔بانڈی پورہ میں خبر پہنچتے ہی بڑی تعداد میں لوگ مساجد میں جمع ہو گئے۔ مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز سے رونے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور خامنہ ای کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ پورا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا دکھائی دیا۔

بانڈی پورہ کے سوناواری اور سمبل علاقوں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے جلوس نکالا اور خامنہ ای کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ خواتین، بزرگ اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے دیوسر علاقے میں بھی احتجاج دیکھنے کو ملا۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اس واقعے کے خلاف آواز بلند کی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر بڑی بھیڑ جمع ہوتی دیکھی گئی۔

گلمرگ اور اطراف کے علاقوں میں بھی سوگ منایا گیا۔ مگام اور پٹن میں امام باڑوں سے اعلانات کیے گئے جس کے بعد لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ مرحوم کے لیے دعائیں مانگی گئیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کیا گیا۔

پلوامہ میں بھی بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر خامنہ ای کی موت پر غم کا اظہار کیا اور حملے کی مذمت کی۔ ریلی میں مقامی افراد کی بڑی تعداد شریک تھی۔

وادی کے مختلف علاقوں سے آنے والی تصاویر میں غم اور غصہ دونوں دکھائی دیے۔ کہیں لوگ روتے ہوئے نظر آئے تو کہیں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مساجد اور امام باڑوں میں دعائیں اور تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ اس خبر نے جموں و کشمیر کے کئی علاقوں کو سوگوار کر دیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر نے نہ صرف ایران بلکہ جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کو بھی غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ وادی میں ایک طرف لوگ سوگ منا رہے ہیں تو دوسری جانب کئی جگہ احتجاج بھی جاری ہے۔











امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے جوہری ذخیرے پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے پرغور، مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کا امکان
واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایکسيوس کی رپورٹ کے مطابق اس بارے میں دونوں ممالک کے درمیان خفیہ سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کی کارروائی جنگ کے بعد کے مرحلے میں کی جا سکتی ہے۔ چار ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری اثاثے اس وقت جاری تنازع میں ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک ہدف بن چکے ہیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسے مہلک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق: ’’اگر آپ امریکیوں کو قتل کریں گے یا دنیا میں کہیں بھی انہیں دھمکائیں گے تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ کو تلاش کرکے ختم کر دیں گے۔‘‘ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بحریہ کے 44 جہاز تباہ کیے گئے، فضائیہ کے بیشتر طیارے تباہ کر دیے گئے، بیشتر میزائل نظام اور لانچرز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت اب پہلے کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے۔

لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی ذمہ داری سے انکار

ایران میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر بمباری کی خبروں پر امریکی صدر نے امریکہ کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ ایرانی ہتھیاروں کی غلطی یا تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ اگرچہ سفارتی حل کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ایران یورینیم افزودگی کے حق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ

یہ تمام پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر داغے، جن میں اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔

اس دوران اسرائیلی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں سے ایران کی فوجی لاجسٹک اور انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔










پہلی ہی کوشش میں سی اے فاؤنڈیشن امتحان میں شاندار کامیابی
حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل نے تعلیمی میدان میں نمایاں کارنامہ انجام دیا
حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل نے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے ابتدائی مرحلے سی اے فاؤنڈیشن (C.A Foundation) کا امتحان پہلی ہی کوشش (First Attempt) میں کامیابی کے ساتھ پاس کر کے ایک قابلِ قدر تعلیمی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب اور تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل، نیو ارا انگلش میڈیم اسکول کے چیئرمن اظہر مہدی سر کے بھتیجے ہیں۔ ان کی اس کامیابی پر مختلف سماجی و تعلیمی شخصیات کی جانب سے مبارکباد پیش کی جا رہی ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سی اے فاؤنڈیشن چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے مشکل اور اہم مراحل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جسے پہلی ہی کوشش میں کامیابی کے ساتھ پاس کرنا بڑی محنت، لگن اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ حافظ تنزیل کی یہ کامیابی نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔

آخر میں اہلِ خانہ اور احباب نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ مراحل میں بھی کامیابی عطا فرمائے اور وہ قوم و ملت کا نام روشن کریں۔ آمین

*🔴سیف نیوز اردو*

حرمین شریفین میں رمضان کے پہلے 20 دنوں میں تقریباً 97 ملین زائرین کی آمد۔ زائرین نے عقیدت واحترام کے ساتھ عبادات کاشرف حاصل کیا ...