Wednesday, 13 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*ڈاکٹر ذیشان احمد ریاض احمد عازم حج*
الحمدللہ رب العالمین، اللہ ربّ العزت کا بے پناہ کرم ہے کہ مجھ خاکسار کو رب العالمین امسال اپنا مہمان بنارہا ہے- میں اور میری اہلیہ حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہوں گے ان شاءاللہ بتاریخ 13 مئی 2026ء، بروز بدھ، بوقتِ بعد نمازِ عشاء میں اپنے مکان واقع ہزار کھولی، پہلی گلی(منشی کلینک)مالیگاؤں سے دعا کے بعد ممبئی کے لیے نکل رہا ہوں میں میرے تمام ہی رشتے داروں، دوست احباب، خویش و اقارب اور جان پہچان کے لوگوں سے معافی کا خواستگار ہوں کہ جانے انجانے میں مجھ سے گر کوئی خطا یا غلطی سرزد ہوئی ہو یا میری کسی بات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو خدا کے لئے مجھ ناچیز کو معاف کریں وقت کم ہے فرداً فرداً ملاقات مشکل ہے اس لیے خط کے ذریعے معافی کا طلبگار ہوں- اللہ پاک اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے و طفیل میں ہم سب کو معاف فرمائے آمین ثم آمین روانگی سے قبل ہونے والی دعا میں شرکت کی گزارش ہے- طالب دعا:- *ڈاکٹر ذیشان احمد ریاض احمد* (منشی کلینک، ہزار کھولی، مالیگاؤں)








ٹرمپ کی دھمکی پر ایران نے چھوڑے وہ ہتھیار ، جس سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے امریکہ ، بھاڑ میں گیا معاہدہ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تنازع کے درمیان صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ایران کے معاملے پر طویل بات چیت متوقع ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مرکز تجارت ہو گا۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں اب تک امریکہ کو تقریباً 29 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ تعداد دو ہفتے قبل پینٹاگون کی طرف سے کانگریس کو پیش کیے گئے 25 بلین ڈالر کے تخمینہ سے زیادہ ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات اور مسلسل تناؤ نے امریکہ کے اندر بھی تشویش کو جنم دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی انتہائی نازک حالت میں ہے۔ ان کے بعض قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اب سنجیدگی سے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس جنگ کو پرامن طریقے سے ختم کریں گے ورنہ نہیں۔

ایران جنگ میں اب تک کیا ہوا؟ادھر امریکہ میں جنگ کے معاشی اثرات عام لوگوں پر بھی محسوس ہونے لگے ہیں۔ امریکی محکمہ توانائی نے پٹرول کی قیمتوں کا ایک نیا تخمینہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال ایندھن کی اوسط قیمت 3.88 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ گزشتہ ماہ 3.70 ڈالر تھی۔ ٹرمپ سے جب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی معاشی مشکلات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے امریکیوں کی معاشی صورتحال کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس بیان پر امریکہ میں تنقید ہوئی ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر شدید حملے کیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ تنازع ایک قابل فخر قوم اور جھوٹ پھیلانے والوں کے درمیان جنگ ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر جنگ کے جواز کے لیے جھوٹی وجوہات گھڑنے کا الزام لگایا۔

مزید برآں، امریکی دھمکیوں کے بعد، ایران نے کہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو 90 فیصد تک بڑھا دے گا۔ اگر ایران ایسا کرتا ہے تو یہ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے منصوبوں کو ناکام بنا دے گا۔






کیا تیل کا بڑا بحران آنے والا ہے؟ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ
بھارت میں معاشی خطرات کی گھنٹیاں تیزی سے بجنے لگی ہیں کیونکہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ حکومتِ ہند پہلے ہی سونا، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں پر درآمدی ڈیوٹی بڑھا کر 15 فیصد کر چکی ہے تاکہ غیر ضروری درآمدات کو کم کیا جا سکے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب دنیا بھر کے سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طویل عدم استحکام کے خدشات کے باعث سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔اسی دوران دنیا بھر میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً پانچواں حصہ تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

بھارت کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ملک اپنی تقریباً 85 فیصد خام تیل کی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے۔ ایسے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست بھارتی معیشت، مہنگائی اور عوامی اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے آنے والے حالیہ اشارے بھی غیر معمولی سمجھے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایندھن کے استعمال میں کمی لانے کے لیے مختلف اقدامات اختیار کریں، جن میں ورک فرم ہوم، آن لائن میٹنگز، الیکٹرک گاڑیوں کا زیادہ استعمال اور حتیٰ کہ ممکنہ طور پر آن لائن کلاسز شامل ہیں۔

ادھر سرکاری آئل کمپنیاں روزانہ بھاری مالی نقصان برداشت کر رہی ہیں جبکہ سینئر وزراء عوام کو اس صورتحال کو ’’ویک اپ کال‘‘ یعنی خطرے کی گھنٹی سمجھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ملک کے بڑے مالیاتی ماہرین اور بینک کار بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مغربی ایشیا کا بحران طویل ہوا تو بھارت کو ایک بڑے معاشی جھٹکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان تمام عوامل نے اس خدشے کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ تقریباً ناگزیر بنتا جا رہا ہے۔

آئل کمپنیاں روزانہ ہزار کروڑ روپے کے نقصان میں
رپورٹس کے مطابق بھارت کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں روزانہ تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اب تک محدود تبدیلی کی گئی ہے۔

جب خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت یا آئل کمپنیاں دو راستے اختیار کرتی ہیں: یا تو اضافی بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے یا کمپنیاں خود نقصان برداشت کریں۔ اس وقت کمپنیاں بڑی حد تک یہی نقصان اپنے اوپر لے رہی ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*اقتدار کا انتخابی موہ اور لڑکھڑاتی معیشت*
*تقریروں کے شور میں دبتا معاشی بحران*
✍️ *وسیم رضا خان* 
                            ⏺️⏺️⏺️ 
بھارت جیسی عظیم جمہوریت میں جب ملک کی قیادت مستقبل کا معاشی ڈھانچہ تیار کرنے کے بجائے ماضی کی کھدائی اور انتخابی ریلیوں میں مصروف ہو جائے، تو بحران کی دستک سنائی دینے لگتی ہے۔ موجودہ تناظر میں یہ ایک ستم ظریفی ہی ہے کہ ایک طرف عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آزما ہے، اور دوسری طرف اقتدار کے گلیاروں سے ایسے بیانات آ رہے ہیں جو معیشت کی بنیادوں کو ہی چیلنج کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کی ریلیوں میں اپوزیشن پر طنز، نہرو گاندھی خاندان پر تنقید اور جذباتی مسائل کا غلبہ تو نظر آتا ہے، لیکن ملک کی 'بیلنس شیٹ' پر بحث اکثر غائب رہتی ہے۔ جب ملک کا 'پردھان سیوک' (اعلیٰ خادم) جھال مڑی کھانے یا مخالفین کو لتاڑنے میں اپنی توانائی صرف کرتا ہے، تو پالیسی سازی کے فیصلوں میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ الیکشن جیتنا کسی بھی جماعت کا ہدف ہو سکتا ہے، لیکن جب الیکشن جیتنے کی سفارت کاری ملک کی معیشت پر حاوی ہونے لگے، تو نتائج ہولناک ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سونا نہ خریدنے، ایندھن کے استعمال میں کٹوتی کرنے اور غیر ملکی دوروں سے بچنے جیسے جو 'مول منتر' دیے گئے ہیں، وہ معاشیات کے اصولوں کے برعکس معلوم ہوتے ہیں۔ بھارتی معیشت کا ایک بڑا حصہ گھریلو کھپت پر ٹکا ہوا ہے۔ اگر عوام خریداری بند کر دیں، تو بازار میں طلب (Demand) گر جائے گی۔ سونے اور ایندھن جیسے شعبوں سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایسے بیانات سے بازار میں غیر یقینی صورتحال پھیلتی ہے، جس کی وجہ سے تاجر سرمایہ کاری کرنے سے ڈر رہے ہیں اور ملازمین پر چھانٹی کی تلوار لٹک رہی ہے۔

معیشت ایک پہیے کی طرح ہے؛ جب لوگ خرچ کرتے ہیں، تب ہی پیداوار بڑھتی ہے اور نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ 'خرچ مت کرو' کا پیغام اس پہیے کو جام کر سکتا ہے۔ موجودہ وقت میں بھارتی معیشت کئی محاذوں پر جدوجہد کر رہی ہے، جسے محض نعروں سے نہیں سدھارا جا سکتا۔ نوجوانوں کے پاس ڈگریاں تو ہیں، لیکن روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ غیر منظم شعبے (Unorganized Sector) کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ عالمی منڈی میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت درآمدات کو مہنگا کر رہی ہے، جس سے بالآخر مہنگائی بڑھتی ہے۔

حکومت کے اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ بنے ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی سرمایہ کاری پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں اجرت کی شرح مستحکم ہے اور مہنگائی زیادہ، جس کی وجہ سے گاؤں والوں کی قوتِ خرید کم ہو گئی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معیشت کا نظام سیاسی تقریروں سے نہیں بلکہ معاشی ماہرین کے مشوروں سے چلنا چاہیے۔ نہرو، اندرا یا پرانی حکومتوں کی غلطیاں گنوا کر موجودہ ناکامی کو نہیں چھپایا جا سکتا۔

حکومت اپوزیشن اور معاشی ماہرین کے ساتھ مل کر ایک ٹھوس 'روڈ میپ' تیار کرے۔ انتخابی جیت کو ترقی کا واحد پیمانہ ماننا بند کیا جائے۔ بیان بازی کے بجائے ان پالیسیوں پر توجہ دی جائے جس سے بازار میں نقدی (Liquidity) اور اعتماد بحال ہو۔ اگر وقت رہتے اقتدار نے اپنی ترجیحات انتخاب سے ہٹا کر معیشت پر مرکوز نہیں کیں، تو اندھی عقیدت کے شور میں ملک ایک ایسے گہرے معاشی گڑھے میں گر سکتا ہے، جس سے نکلنا آنے والی کئی نسلوں کے لیے ناممکن ہوگا۔ معیشت کو بچانے کے لیے اب صرف سوال ہی نہیں، بلکہ فیصلہ کن اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا وقت ہے۔









**عالمی معاشی بحران اور پاورلوم صنعت کی زبوں حالی: عمیر انصاری کا حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ**
**مالیگاؤں:** مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع اور عالمی معاشی مندی کے بادل مالیگاؤں کی پاورلوم صنعت پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر **عمیر انصاری** (سیکرٹری، درے گاؤں پاورلوم سنگھرش سمیتی) نے وزیر اعلیٰ، وزیر توانائی اور پولیس انتظامیہ کو ایک ہنگامی مراسلہ روانہ کیا ہے جس میں بنکروں کو فوری راحت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

**عمیر انصاری** نے اپنے مراسلے میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بنکر پہلے ہی معاشی طور پر ٹوٹ چکے ہیں، اوپر سے بجلی بلوں میں "پاور فیکٹر" اور "اوور لوڈ" کے نام پر لگائی جانے والی بھاری پینلٹی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ بہت سے کنزیومرز کو "فالٹی" (غلط) بل موصول ہو رہے ہیں جو ان کی اصل کھپت سے کہیں زیادہ ہیں۔ **عمیر انصاری** نے مطالبہ کیا ہے کہ ان غلط بلوں کی فوری درستگی کی جائے اور کنزیومرز کو یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنے درست شدہ بلوں کی ادائیگی آسان اقساط میں کر سکیں، تاکہ صنعت کا پہیہ چلتا رہے۔

مضمون میں **عمیر انصاری** نے واضح طور پر یہ مطالبہ بھی رکھا ہے کہ بجلی کنکشن منقطع کرنے کی مہم میں پولیس فورس کا استعمال ہرگز نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنکر کوئی مجرم نہیں بلکہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ معاشی مجبوری کی وجہ سے بل ادا نہ کر پانے والے بنکروں کے خلاف پولیس فورس کا استعمال کرنا غیر اخلاقی اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے اے ایس پی (ASP) مالیگاؤں سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے کو سمجھیں اور انتظامیہ کو اس طرح کی کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکیں۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے خام تیل اور سوت (Yarn) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ سورت اور گجرات کی منڈیوں میں مالیگاؤں کے بنکروں کا کروڑوں روپیہ پھنسا ہوا ہے۔ **عمیر انصاری** نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت اور بجلی کمپنی نے فوری طور پر بلوں کی وصولی میں نرمی اور پینلٹی کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا، تو مالیگاؤں کی پاورلوم صنعت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔








انتقال پُر ملال 
تاریخ 13 مئی 2026 بروز بدھ 
_________________________________________
      یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جارہی ہیکہ شہر مالیگاوں کی مشہور و معروف دینی و صنعتی شخصیت امیر تبلیغی جماعت مالیگاوں ضلع ناسک ،حاجی نذیر احمد کے فرزند عزیزالرحمن چھوٹے حاجی 62 نمبر اور حفیظ الرحمن 62 نمبر کے برادرِ بزرگوار *حاجی عبدالرحمٰن 62 نمبر والے* کا انتقال ہوگیا ہے...... انا للہ وانا الیہ را جعون.....
اللہ غفور الرحیم مرحوم کی مغفرت فرمائے.. جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے.. درجات کو بلند فرمائے... اہلِ خانہ اور جملہ متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.. آمین یا رب العالمین.....
*تدفین عشاء کے فوراً بعد حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان میں ہوگی*

Tuesday, 12 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

پاکستان کی عیاری دنیا کے سامنے ہورہی ہے آشکار ، بری طرح پھنسے منیر ، بھگتنا پڑسکتا ہے خمیازہ
پاکستان ایک بار پھر اپنے ہی دوغلے پن کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بھارت کے حملوں سے لگنے والے زخموں پر پردہ ڈالنے کے لیے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جو حکمت عملی اختیار کی تھی وہ اب الٹی پڑ رہی ہے۔ نور خان ایئربیس پر ایرانی فوجی طیارے کے چھپنے کی اطلاعات نے پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ذرا تصور کریں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ اسی رن وے پر اترا جہاں ایرانی جیٹ طیارے چھپے ہوئے تھے۔ اگر یہ رپورٹ سچ نکلی تو یہ واقعہ پاکستان کو بہت بڑا غدار ثابت کرے گا۔ پاکستان پہلے بھی ایسی ہوشیاری اور چالاکی کر چکا ہے۔

سی بی ایس نیوز کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد ایران نے اپنے فوجی طیارے پاکستان میں چھپا رکھے تھے۔ پاکستان کے نور خان ایئربیس پر کھڑے طیارے میں RC-130 جاسوس طیارہ بھی شامل تھا۔ ایران اپنے اثاثوں کو امریکی یا اسرائیلی حملوں سے بچانا چاہتا تھا اور اس میں پاکستان نے اس کا ساتھ دیا۔ یہی پاکستان جو کبھی خود کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کرتا رہا ہے ، اور پردے کے پیچھے سے امریکہ کو ٹھینگا بھی دیکھا رہا ہے ۔پاکستان کی عیاری بے نقاب
پاکستانی حکام نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں وفد کی رسد سے منسوب کیا، لیکن حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ اس دوران عاصم منیر کی دوہری تصویر بھی خبروں میں رہی۔ ایرانی وفد کا استقبال کرتے وقت وہ جنگی سازوسامان میں تھے، جب کہ جے ڈی وینس جب پہنچے تو وہ سوٹ اور جوتے میں تھے۔ نور خان ایئر بیس، جسے گزشتہ سال بھارت کے آپریشن سندور کے دوران برہموس کے حملوں سے نقصان پہنچا تھا، ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ منیر نے اس بیس کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن یہ اب پاکستان کی کمزوری کی علامت بن چکا ہے۔ یہ پاکستان کے دوہرے معیار کی علامت بن چکا ہے، جو کسی بھی وقت اس کے گلے کی ہڈی بن سکتا ہے۔

امریکی سینیٹر نے اٹھائے سوال
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان کے کردار پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے ثالث کے طور پر ان کے کردار پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا اور پاکستان کی غیر جانبداری پر شکوک کا اظہار کیا۔ گراہم کے تبصروں نے واشنگٹن میں پاکستان کے خلاف بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی نشاندہی کی۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات طویل عرصے سے موجود ہیں - مشترکہ سرحد، توانائی کے تعاون اور علاقائی توازن کی بنیاد پر۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد بھی دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا لیکن امریکہ پاکستان کا کلیدی اتحادی رہا ہے۔ پاکستان نے اسے اربوں ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد، F-16 جیسے ہتھیار اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشنز فراہم کیے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان ایران کو پناہ دیتا ہے۔ اس سے اس کی نیتوں پر سوال اٹھتے ہیں۔

ڈپلومیسی یا دوغلا پن؟
پاکستان نہ تو مکمل طور پر امریکی بلاک میں ہے اور نہ ہی چین ایرانی محور میں۔ CPEC اور چین کے ساتھ فوجی تعاون، ایران کے ساتھ خفیہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی نظروں میں اسے ناقابل اعتبار بنا دیتا ہے۔

برہموس حملوں کے بعد پاکستان نے اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ایرانی جیٹ طیاروں کی چھپائی نے اس کی صلاحیت اور ساکھ دونوں پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

پاکستان اس وقت سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف اسے امریکہ سے مدد کی امید ہے تو دوسری طرف ایران اور چین کے ساتھ اس کے دیرینہ اتحاد نے اسے ایک مشکل میں ڈال دیا ہے۔ J.D Vance کا طیارہ اسی ایئربیس پر اترا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھی اس کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اس وقت پاکستان صرف اپنے مفادات کو دیکھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاہدے کے تحت ایران سے فوج نہ بھیجنے کا معاہدہ بھی کر لیا ہے، حالانکہ وہ امریکہ کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔








پیپر لیک اسکینڈل کے بعد 2026 NEET امتحان منسوخ، نئی تاریخ کاجلد ہوگااعلان ۔ طلبہ کو دوبارہ رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں
پیپر لیک اسکینڈل کے بعد نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ، سی بی آئی کرے گی تحقیقات

بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری امتحان نیٹ (NEET) یو جی 2026 کے حوالے سے مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے ایک بڑا اور غیر معمولی فیصلہ لیا ہے۔ تین مئی 2026 کو منعقدہ نیٹ امتحان اب باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور شفافیت پر اٹھنے والے سنگین سوالات کے بعد کیا گیا۔ حکومت نے معاملے کی مکمل تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے حوالے کر دی ہیں جبکہ این ٹی اے نے اعلان کیا ہے کہ امتحان دوبارہ منعقد کیا جائے گا اور اس کی نئی تاریخ جلد جاری کی جائے گی۔اس فیصلے سے ملک بھر کے دس لاکھ سے زیادہ طلبہ براہ راست متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے اس امتحان میں شرکت کی تھی۔ امتحان منسوخ ہونے کے بعد طلبہ اور والدین کے درمیان شدید بے چینی، مایوسی اور غصہ پایا جا رہا ہے کیونکہ اب انہیں دوبارہ امتحان کی تیاری کرنا ہوگی۔

پیپر لیک کے الزامات کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا
نیٹ امتحان کے گرد تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب راجستھان سمیت بعض ریاستوں میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ امتحان کا سوالیہ پرچہ امتحان سے پہلے ہی کچھ افراد تک پہنچ چکا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی متعدد دعوے کیے گئے جن میں کہا گیا کہ بعض گروہوں نے مبینہ طور پر بھاری رقم لے کر سوالیہ پرچے فروخت کیے۔

ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد امتحان کی ساکھ اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔ طلبہ تنظیموں اور والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر پیپر لیک ثابت ہو تو امتحان دوبارہ لیا جائے۔

این ٹی اے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ آٹھ مئی کو اس معاملے کو مرکزی ایجنسیوں کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ حقائق کی تصدیق کی جا سکے۔ ابتدائی تحقیقات اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا گیا کہ موجودہ امتحانی عمل کو برقرار رکھنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس سے لاکھوں طلبہ کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

این ٹی اے نے امتحان منسوخ کرنے کی وجہ بتا دی
این ٹی اے کے مطابق ملک کے قومی امتحانی نظام پر طلبہ کا اعتماد برقرار رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ادارے نے کہا کہ اگرچہ امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ انتہائی مشکل تھا، لیکن شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم ضروری سمجھا گیا۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ دوبارہ امتحان کے دوران سیکیورٹی کے مزید سخت انتظامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔سی بی آئی کو سونپی گئی مکمل تحقیقات
مرکزی حکومت نے پورے معاملے کی تحقیقات اب سی بی آئی کے حوالے کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق سی بی آئی اس بات کی چھان بین کرے گی کہ مبینہ پیپر لیک کا نیٹ ورک کتنا وسیع تھا، اس میں کون کون شامل تھا اور آیا امتحانی مراکز یا متعلقہ اداروں کے اندر سے بھی کسی نے تعاون کیا تھا یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق کئی ریاستوں میں مشتبہ افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔ تفتیش کار اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا منظم گروہوں نے طلبہ سے رقم لے کر سوالیہ پرچے فراہم کیے تھے۔

این ٹی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سی بی آئی کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور تمام ضروری دستاویزات، ریکارڈ اور تکنیکی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

طلبہ کو دوبارہ رجسٹریشن نہیں کرنا ہوگا
این ٹی اے نے طلبہ کو کچھ حد تک راحت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دوبارہ امتحان کے لیے نئے سرے سے رجسٹریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مئی 2026 کے دوران جمع کروایا گیا تمام ڈیٹا، امتحانی مرکز کا انتخاب اور امیدواروں کی تفصیلات خودکار طور پر محفوظ رہیں گی۔

اس کے علاوہ طلبہ سے کوئی اضافی امتحانی فیس بھی وصول نہیں کی جائے گی۔ پہلے جمع کروائی گئی فیس ہی قابل قبول ہوگی اور دوبارہ امتحان اسی بنیاد پر منعقد کیا جائے گا۔

نئی امتحانی تاریخ جلد جاری ہوگی
این ٹی اے نے کہا ہے کہ دوبارہ ہونے والے نیٹ امتحان کی نئی تاریخ، ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے کا شیڈول اور دیگر اہم ہدایات جلد سرکاری ویب سائٹ اور آفیشل چینلز کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔

ایجنسی نے طلبہ اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں سے بچیں۔ادھر تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے بھارت کے امتحانی نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور حکومت کو مستقبل میں شفاف اور محفوظ امتحانی نظام یقینی بنانے کے لیے سخت اصلاحات کرنا ہوں گی۔










خواتین میں شوگر زیادہ خطرناک کیوں ہوتی ہے؟
انڈیا میں ڈاکٹر خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور تشویش صرف تعداد تک محدود نہیں۔ ماہرین کو اس بات کی زیادہ فکر ہے کہ ذیابیطس خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ شدید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔
حیران کن صنفی فرق
ای ٹی وی بھارت ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ مردوں میں خواتین کے مقابلے میں ذیابیطس زیادہ ہوتی ہے۔
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں خواتین کے مقابلے میں 17.7 ملین زیادہ مرد ذیابیطس کا شکار ہیں۔لیکن جب خواتین میں ذیابیطس ہوتی ہے تو اس کے اثرات زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ذیابیطس خواتین میں دل کی بیماری، گردوں کے نقصان، ڈپریشن اور ہارمونل مسائل کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ریسرچ سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف ڈایابیٹیز ان انڈیا (RSSDI) کے ماہرین ایک اہم حقیقت بتاتے ہیں:
ذیابیطس کے شکار مردوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ ان مردوں کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے جنہیں یہ بیماری نہیں۔ جبکہ ذیابیطس والی خواتین میں یہ خطرہ حیران کن طور پر 150 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
یعنی خطرہ تین گنا زیادہ! اس لیے اگرچہ کم خواتین اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں، لیکن اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔
خواتین زیادہ متاثر کیوں ہوتی ہیں؟
خواتین زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہیں: بلوغت، حیض، حمل اور مینوپاز۔ ان تمام مراحل میں ہارمونز میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، اور ہارمونز خون میں شکر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین میٹابولک مسائل کے لیے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔
کچھ عوامل خواتین میں ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں:
پیٹ کے اردگرد موٹاپا
جسمانی سرگرمی کی کمی
مسلسل ذہنی دباؤ
خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ
غیر صحت مند خوراک (خاص طور پر پراسیسڈ فوڈ)
تاہم کچھ خطرات خاص طور پر خواتین سے متعلق ہوتے ہیں۔
حمل کے دوران ذیابیطس:
کچھ خواتین کو حمل کے دوران جیسٹیشنل ذیابیطس ہو جاتی ہے، جو ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے عارضی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ بچے کی پیدائش کے بعد خون میں شکر معمول پر آ سکتی ہے، لیکن معاملہ وہیں ختم نہیں ہوتا۔ جن خواتین کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو چکی ہو، ان میں بعد کی زندگی میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


انجمن محبانِ ادب کی افسانوی نشست کامیابی سے ہمکنار
مورخہ ۹ مئی ۲۰۲۶ء بروز سنیچر انجمن محبانِ ادب کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار افسانوی نشست کا انعقاد میڈیا سینٹر، مالیگاؤں میں کیا گیا۔ یہ نشست معروف قلمکار محترم لئیق انور صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی، جبکہ ممتاز ادیب محترم ڈاکٹر اقبال برکی صاحب نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی۔

پروگرام کا آغاز ہارون اختر صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں انجمن محبانِ ادب کی جانب سے صدرِ تقریب اور مہمانانِ کرام کا شاندار استقبال کیا گیا۔

اس موقع پر شہر اورنگ آباد سے تشریف لانے والی معروف افسانہ نگار، معلمہ و صحافی خان افراء تسکین صاحبہ نے ہارون اختر صاحب کو شال اور گل پیش کرکے انجمن کے صدر کی حیثیت سے ان کی برسوں پر محیط ادبی و تنظیمی خدمات کا اعتراف کیا۔

افسانہ خوانی کے سلسلے کا آغاز منصور اکبر صاحب نے اپنے مختصر مگر فکرانگیز افسانچے سے کیا۔ بعد ازاں ابنِ آدم صاحب، اشفاق عمر صاحب، خان افراء تسکین صاحبہ، صابر گوہر صاحب اور عزیز اعجاز صاحب نے اپنے بہترین افسانے پیش کیے، جنہیں حاضرینِ محفل نے بے حد سراہا۔

افسانوں کی اس عمدہ پیش کش پر ذاکر خان ذاکر صاحب، ڈاکٹر اقبال برکی صاحب، عمران جمیل صاحب، شہروز خاور صاحب، صادق اسد صاحب، احمد نعیم صاحب، انتخاب حسین صاحب اور عبدالرحمن اختر صاحبان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے تمام قلمکاروں کو بے پناہ داد و تحسین سے نوازا۔

نشست کے دوران سیف نیوز مالیگاؤں اور انجمن محبانِ ادب کی جانب سے خان افراء تسکین صاحبہ کی ادبی و تدریسی خدمات کے اعتراف میں میمنٹو، شال اور گلدستہ پیش کرکے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہ اعزاز ہارون اختر صاحب، لئیق انور صاحب، ڈاکٹر اقبال برکی صاحب، صابر گوہر صاحب، احمد ایوبی صاحب اور نعیم شاہین سر کے دستِ مبارک سے تفویض کیا گیا۔

خان افراء تسکین صاحبہ نے انجمن محبانِ ادب کی مسلسل ادبی و نثری خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی نشستوں کا تسلسل نہایت خوش آئند ہے بلاشبہ انجمن ادب کے فروغ میں قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہے۔
صدارتی خطبے میں لئیق انور صاحب نے اپنے زرّیں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انجمن محبانِ ادب کی افسانوی نشست میں پیش کیے گئے تمام افسانے معیاری اور فکرانگیز تھے۔ انہوں نے تمام قلمکاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا:
“آپ اردو زبان کے بھی وارث ہیں اور اردو کہانی کے بھی۔ میری دعا ہے کہ آپ فنِ افسانہ اور زبانِ اردو کو زندہ رکھنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”
نشست میں پرنس رحمن، خالد قریشی،سلیم جہانگیر، مصطفے برکتی صاحبان و دیگر ادب دوست حضرات نے شرکت کیں 
آخر میں شبیر انصاری صاحب نے رسمِ شکریہ ادا کیا، جبکہ نظامت کے فرائض عزیز اعجاز صاحب نے بحسن و خوبی انجام دیے، اور اس طرح یہ بامقصد ادبی نشست کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔








*گوشت کے داموں میں وحشیانہ اضافہ ، جانور کے دام بھی آسمان چھو رہے ہیں، قربانی کیسے ہوگی؟*
*عوام مہنگا گوشت نہ خریدیں ، یا گوشت کا استعمال کم کردیں*

مالیگاوں میں ایک بار پھر غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔ عید قربان سے پہلے گوشت کے داموں میں ہے رحمانہ اور بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ ایک بڑی گوشت کمپنی جانوروں کا فی کلو 315 روپے کا بھاؤ دے رہی ہے، جس کی وجہ سے عام ٹھیلہ گاڑیوں پر گوشت 280 سے 340 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

مالیگاوں غریب مزدوروں کا شہر ہے۔ یہاں کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اور اب گوشت تو ان کے لیے خواب بنتا جا رہا ہے۔

پچھلے الیکشن میں گوشت کے دام کم کرنے کے جھوٹے وعدوں اور واویلا کرنے والے لیڈران آج بالکل خاموش ہیں۔ کوئی ایک بھی عوام کے حق میں منہ کھولنے کو تیار نہیں۔ الٹا گوشت کمپنی نے مقامی قریش برادری کے ہزاروں غریب مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ کمپنی باہر کے مزدوروں کو نوکریاں دے رہی ہے جبکہ مقامی لوگوں کا خون پسینہ کا ایک پیسہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ مقامی مزدوروں کا دن رات استحصال کیا جا رہا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ گوشت مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ جانور بھی تیزی سے مہنگے ہو رہے ہیں۔ اگر یہی لوٹ مار جاری رہی تو اس سال غریب اور متوسط طبقہ کے لیے قربانی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔امیر لوگ تو آرام سے جانور خرید سکتے ھيں لیکن عام آدمی کو قربانی کے لیے قرض لینا پڑے گا یا پھر شرمندگی سے دیکھتے رہنا پڑے گا

ہم سیاسی لیڈران اور انتظامیہ سے سیدھا سوال کرتے ہیں:

کیا آپ غریبوں کا خون چوسنے والی اس کمپنی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے ہیں؟

کیا آپ مقامی مزدوروں کی بے روزگاری اور استحصال کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کیے رکھیں گے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ فوری طور پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ گوشت اور جانوروں کے بڑھتے دام روکے جائیں، مقامی قریش برادری کے مزدوروں کو ان کا حق دیا جائے اور کمپنی کے غیر منصفانہ طریقوں پر لگام لگائی جائے۔

بصورت دیگر عوام اب صبر کی آخری حد پر پہنچ چکی ہے۔ اگر فوری طور پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بنایا گیا تو زبردست عوامی تحریک اور شدید احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ہم شہر کی عوام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ مہنگا گوشت نہ خریدیں یا پھر گوشت کا استعمال کم کردیں ہم ایک دو مہینہ گوشت نہیں کھائیں گے تو کیا بگڑ جائے گا اس لئے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیدار رہیں۔

*محسن کرانہ والا*
وارڈ نمبر 3، مالیگاوں










خاموش خدمات پر مبارکباد 

سیف نیوز کر ذریعے تہذیبی، ادبی ثقافتی روایات کو فروغ دینے کے لیے مسلسل نمایاں خدمات انجام دی جا رہی ہیں ادارہ نثری ادب، انجمنِ محبانِ ادب، زندہ دلانِ مالیگاؤں، اسکس لائبریری، اردو لائبریری مقامی صاحبانِ کتاب وہیں علمی و ادبی اداروں کی حوصلہ افزائی بھی سیف نیوز کی جانب سے ہمیشہ مومینٹو شال گلدستہ و دیگر تحائف دیکر کی جاتی ہے 
اسی کے ساتھ بیرونِ شہر سے تعلق رکھنے والے ادباء، مثلاً افراء، تسکینِ جیسے اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی سیف نیوز کی جانب سے اسپورٹس پروگرام، کشتی، باسکٹ بال مقابلے، ادبی تقاریب، نشہ مکتی پروگرام اور مالیگاؤں سدھار کمیٹی کے اشتراک سے مختلف سماجی سرگرمیوں کا انعقاد بھی عمل میں آتا رہا ہے۔
علاوہ ازیں، روزانہ سیف نیوز ادبی بلاگ پر دنیا بھر کے ادبی، سماجی اور سیاسی مضامین کی اشاعت ایک منفرد اور قابلِ قدر خدمت ہے، جس نے مالیگاؤں میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔
آئندہ دنوں میں نوجوان قلمکاروں، شعراء اور مصنفین کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی ایوارڈز دیے جائیں گے، جبکہ ممتاز پہلوانوں کو بھی اعزازات سے نوازا جائے گا۔ اسی طرح مظاہرۂ تجوید و قرأت میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
بلاشبہ سیف نیوز پریوار کی یہ کاوشیں نہ صرف شہرِ مالیگاؤں کی نمائندگی کر رہی ہیں بلکہ اس کی عظیم تہذیب، ثقافت اور تمدنی ورثے کی بھی خوبصورت عکاسی کر رہی ہیں۔ ہمہ وصف شخصیت منصور اکبر خود ادبی تڑپ رکھتے ہیں ہر فنکار کی ستائش و مدد کرتے ہیں ہم کافی ہاؤس ممبران اس امر پر ادارہ سیف نیوز کو مبارکباد دعائیں نیک خواہشات

Monday, 11 May 2026

گوشت کے داموں میں وحشیانہ اضافہ ، جانور کے دام بھی آسمان چھو رہے ہیں، قربانی کیسے ہوگی؟

گوشت کے داموں میں وحشیانہ اضافہ ، جانور کے دام بھی آسمان چھو رہے ہیں، قربانی کیسے ہوگی؟

عوام مہنگا گوشت نہ خریدیں ، یا گوشت کا استعمال کم کردیں

مالیگاوں میں ایک بار پھر غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔ عید قربان سے پہلے گوشت کے داموں میں ہے رحمانہ اور بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ ایک بڑی گوشت کمپنی جانوروں کا فی کلو 315 روپے کا بھاؤ دے رہی ہے، جس کی وجہ سے عام ٹھیلہ گاڑیوں پر گوشت 280 سے 340 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

مالیگاوں غریب مزدوروں کا شہر ہے۔ یہاں کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اور اب گوشت تو ان کے لیے خواب بنتا جا رہا ہے۔

پچھلے الیکشن میں گوشت کے دام کم کرنے کے جھوٹے وعدوں اور واویلا کرنے والے لیڈران آج بالکل خاموش ہیں۔ کوئی ایک بھی عوام کے حق میں منہ کھولنے کو تیار نہیں۔ الٹا گوشت کمپنی نے مقامی قریش برادری کے ہزاروں غریب مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ کمپنی باہر کے مزدوروں کو نوکریاں دے رہی ہے جبکہ مقامی لوگوں کا خون پسینہ کا ایک پیسہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ مقامی مزدوروں کا دن رات استحصال کیا جا رہا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ گوشت مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ جانور بھی تیزی سے مہنگے ہو رہے ہیں۔ اگر یہی لوٹ مار جاری رہی تو اس سال غریب اور متوسط طبقہ کے لیے قربانی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔امیر لوگ تو آرام سے جانور خرید سکتے ھيں لیکن عام آدمی کو قربانی کے لیے قرض لینا پڑے گا یا پھر شرمندگی سے دیکھتے رہنا پڑے گا

ہم سیاسی لیڈران اور انتظامیہ سے سیدھا سوال کرتے ہیں:

کیا آپ غریبوں کا خون چوسنے والی اس کمپنی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے ہیں؟

کیا آپ مقامی مزدوروں کی بے روزگاری اور استحصال کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کیے رکھیں گے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ فوری طور پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ گوشت اور جانوروں کے بڑھتے دام روکے جائیں، مقامی قریش برادری کے مزدوروں کو ان کا حق دیا جائے اور کمپنی کے غیر منصفانہ طریقوں پر لگام لگائی جائے۔

بصورت دیگر عوام اب صبر کی آخری حد پر پہنچ چکی ہے۔ اگر فوری طور پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بنایا گیا تو زبردست عوامی تحریک اور شدید احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ہم شہر کی عوام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ مہنگا گوشت نہ خریدیں یا پھر گوشت کا استعمال کم کردیں ہم ایک دو مہینہ گوشت نہیں کھائیں گے تو کیا بگڑ جائے گا اس لئے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیدار رہیں۔

*محسن کرانہ والا*
وارڈ نمبر 3، مالیگاوں

Saturday, 9 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال
اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے کے برابر درجہ دینے کی مخالفت، کہا : ’ملک کوئی دیوی نہیں‘’ملک کوئی دیوی نہیں‘، اویسی نے ’وندے ماترم‘ کو ’جن گن من‘ کے برابر درجہ دینے پر اعتراض جتایا
مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے جس میں ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے ’جن گن من‘ کے مساوی قانونی تحفظ دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ اویسی نے کہا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب، دیوی یا دیوتا کے نام پر قائم نہیں ہے اور نہ ہی ملک کو کسی مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔مرکزی کابینہ نے حال ہی میں ایک تجویز کو منظوری دی ہے جس کے تحت ’وندے ماترم‘ کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہوگا جو اس وقت قومی ترانے ’جن گن من‘ کو حاصل ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ ’جن گن من‘ ہندوستان اور اس کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، نہ کہ کسی خاص مذہب کی۔ ان کے مطابق مذہب اور قوم ایک چیز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ ایک دیوی کی مدح میں لکھا گیا گیت ہے، اس لیے اسے قومی ترانے کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔

اویسی نے مزید کہا کہ ہندوستانی آئین کی تمہید ’’ہم، ہندوستان کے لوگ‘‘ سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ ’’بھارت ماتا‘’ کے نام سے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین ہر شہری کو سوچ، اظہار، عقیدے اور عبادت کی آزادی دیتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے جہاں کسی ایک مذہبی تصور کو قومیت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آزادی کی تحریک کے کئی بڑے رہنما، جن میں مہاتما گاندھی،جواہرلعل نہرو، رابندرناتھ ٹائیگور اور سبھاش چندرابوس شامل ہیں، ’وندے ماترم‘ کے بعض حصوں پر تحفظات رکھتے تھے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ اس گیت کے مصنف Bankim Chandra Chattopadhyay مسلمانوں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دستور ساز اسمبلی میں کچھ اراکین چاہتے تھے کہ آئین کا آغاز کسی دیوی یا خدا کے نام سے کیا جائے، لیکن ایسی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اویسی کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی بنیاد مذہبی قومیت پر نہیں بلکہ عوامی جمہوریت پر رکھی گئی تھی۔

دوسری جانب تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رامچندر راؤ نے اویسی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم ہر اس کوشش کی مخالفت کرتی ہے جس کا مقصد قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہو۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ اویسی صرف ’وندے ماترم‘ ہی نہیں بلکہ یکساں سول کوڈ، تین طلاق کے خاتمے اور دیگر قومی اصلاحات کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ’وندے ماترم‘ اور ’جن گن من‘ کے معاملے پر یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک طرف حکومت اسے قومی وقار اور ثقافتی شناخت کا معاملہ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اور مسلم تنظیمیں اسے مذہبی حساسیت اور آئینی سیکولرازم سے جوڑ رہی ہیں۔








کیا وجے۔ وی سی کے اتحاد طے پا گیا؟ ای پی ایس کے ٹوئٹ نے تمل ناڈو حکومت سازی پر نئی قیاس آرائیاں چھیڑ دیں
تمل ناڈو کی سیاست میں جاری سنسنی خیز رسہ کشی نے ہفتہ کے روز ایک نیا موڑ لے لیا، جب AIADMK جنرل سکریٹری ایڈاپڈی کے پلانی سوامی (ای پی ایس) کے ایک مختصر مگر معنی خیز مبارکبادی پیغام نے سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا۔ سیاسی مبصرین اب اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت ’’تملگا ویٹری کڑگم‘‘ (TVK) نے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کر لی ہے یا نہیں۔

ای پی ایس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں لکھا :
’’حال ہی میں منعقدہ 17ویں تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ میں تمل ناڈو میں حکومت بنانے والی جماعت کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘یہ پیغام بظاہر ایک رسمی مبارکباد معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے الفاظ اور وقت نے پورے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ اس وقت وجے کی پارٹی ٹی وی کے حکومت بنانے کے لیے اکثریت ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

وجے کی پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری
حالیہ اسمبلی انتخابات میں وجے کی جماعت TVK نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 107 نشستیں جیت لیں، جس کے بعد تمل ناڈو کی دہائیوں پر محیط ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی سیاسی اجارہ داری کو شدید دھچکا پہنچا۔ تاہم 234 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 118 نشستوں کی ضرورت ہے، جس کے باعث ٹی وی کے اکثریت سے ابھی بھی کچھ فاصلے پر ہے۔

کانگریس نے بعد میں وجے کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ سی پی آئی اور سی پی ایم نے بھی اس خدشے کے تحت ٹی وی کے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا کہ کہیں ریاست میں بی جے پی کی بالواسطہ حکومت قائم نہ ہو جائے۔

اب پوری سیاسی توجہ ’’ودوتھلئی چرُتھائیگل کچّی‘‘ (VCK) پر مرکوز ہے، جس کے پاس فیصلہ کن کردار موجود ہے۔ وی سی کے نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام 4 بجے اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کرے گی۔

ای پی ایس کے بیان نے کیوں بڑھائی بے چینی؟
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ای پی ایس نے اپنے پیغام میں ’’حکومت بنانے والی جماعت‘‘ کا ذکر کرکے دراصل یہ اشارہ دیا ہے کہ وجے نے مطلوبہ حمایت حاصل کر لی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ چند روز قبل AIADMK کے ایک رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’میرا لیڈر وزیر اعلیٰ بنے گا‘‘، جس کے بعد مختلف سیاسی فارمولوں اور پس پردہ مذاکرات کی افواہیں مزید تیز ہو گئی تھیں۔

ڈی ایم کے مخالف قوتیں متحرک
تمل ناڈو کی سیاست میں اس وقت ایک اہم مقصد یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ کسی بھی صورت ریاست میں صدر راج نافذ نہ ہونے دیا جائے۔ اسی لیے ڈی ایم کے مخالف جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آتی دکھائی دے رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وجے نے حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ راج بھون جا کر گورنر راجیندر وشواناتھ آرلیکر سے ملاقات کی ہے۔ گورنر نے واضح کیا ہے کہ حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے والی جماعت کو اسمبلی میں اکثریت کے ثبوت دینا ہوں گے۔

اسی دوران چھوٹی جماعتیں کنگ میکر بن چکی ہیں اور ان کی حمایت یا مخالفت ہی طے کرے گی کہ تمل ناڈو کا اگلا چیف منسٹر کون ہوگا۔

تمل ناڈو کی سیاست کئی دہائیوں سے DMK اور AIADMK کے گرد گھومتی رہی ہے۔ لیکن فلم اسٹار وجے کی سیاست میں آمد نے اس روایتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نوجوان ووٹرز، شہری طبقے اور ڈی ایم کے مخالف حلقوں میں وجے کو غیرمعمولی حمایت حاصل ہوئی۔

ٹی وی کے کی غیرمتوقع کامیابی نے نہ صرف ڈی ایم کے بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کو بھی نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر وجے واقعی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی تصور کی جائے گی۔








ٹرمپ کو ایران کے جواب کا انتظار، مغربی ایشیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لئےایران کامثبت جواب ضروری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران آج رات واشنگٹن کی اُس تجویز پر اپنا جواب دے گا جس کا مقصد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور تنازع کو ختم کرنا ہے۔

جمعہ کے روز ورجینیا کے شہر اسٹرلنگ میں واقع اپنے گالف کلب میں عشائیے کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،
’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ شاید آج رات ایران کی جانب سے جواب موصول ہو جائے گا۔‘‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران جان بوجھ کر مذاکراتی عمل کو سست کر رہا ہے، تو ٹرمپ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا،
’’ہم بہت جلد جان لیں گے۔‘‘

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مغربی ایشیا میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔اس سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کہا تھا کہ واشنگٹن جمعہ کے روز ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے اور امریکہ کو امید ہے کہ تہران کی طرف سے سنجیدہ پیشکش سامنے آئے گی۔

روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا،
’’ہمیں امید ہے کہ آج کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرور ہوگی۔‘‘

مارکو روبیو اس وقت اٹلی اور ویٹیکن کے دورے پر ہیں، جہاں وہ امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آخری اطلاعات تک ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے اندرونی سیاسی اور انتظامی مسائل بھی تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہو سکتے ہیں۔
روبیو کے مطابق :
’’ایران کا نظام اس وقت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے اور اس میں فیصلہ سازی کا عمل غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے، یہی صورتحال مذاکراتی پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایران کا جواب ایک ’’سنجیدہ اور بامعنی مذاکراتی عمل‘‘ کی راہ ہموار کرے گا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق امریکی منصوبے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کے بارے میں بھی اہم اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال میں بہتری نہ آئی تو امریکہ اس منصوبے کے ایک نئے اور زیادہ طاقتور ورژن پر دوبارہ غور کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا،
’’میرے خیال میں پروجیکٹ فریڈم ایک اچھا منصوبہ ہے، لیکن ہمارے پاس اس کے علاوہ بھی کئی راستے موجود ہیں۔ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو ہم پروجیکٹ فریڈم کی طرف واپس جا سکتے ہیں، مگر اس بار یہ پہلے سے زیادہ وسیع ہوگا۔‘‘۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ایران مثبت جواب دیتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام رہی تو خطے میں مزید کشیدگی، بحری خطرات اور اقتصادی بے یقینی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

اردو ہائ LVH اسکول رمضان پورہ دیانے کا روایتی100℅رزلٹ
مالیگاؤں/ مہاتما گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے کے زیر انصرام جاریLVH اردو ہایء اسکول رمضان پورہ دیانے مالیگاؤں جاری تعلیمی سال2026 کا SSC امتحان کا 100℅نتییجہ ظاہر ہوا۔ہر سال کی طرح امسال بھی اسکول نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ 
جس میں اسکول کے زیادہ تر طلباء نے امتیازی کامیابی حاصل کی۔اور کامیابی کی روایت کو برقرار رکھا۔اسی طرح (1)شاذ یہ تسنیم شیخ عمران 82.60℅ , (2) بشراح الطاف شاہ۔ 82.40℅ , (3) مزلفہ عقیل احمد80. 40℅ نمبرات کے ساتھ اول، دوم اور سوم مقام حاصل کر کے اسکول۔ والدین اور خاندان کا نام روشن کیا۔ اس شاندار کامیابی پر اسکول کے تمام ہی طلباء و طالبات اور اسٹاف کو مہاتما گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے کے جنرل سیکریٹری سابق وزیر ڈاکٹر پرشانت دادا ہیرے، سابق ٹیچر MLCڈاکٹر اپورو پرشانت ہیرے، ثقافتی محکمہ کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سمپدا ہیرے، یوا نیتا ڈاکٹر ادوے پرشانت ہیرے نے مبارک باد پیش کی۔ اور اس روایت کو قایم رکھنے اور مزید ترقی کے لیے نیک خواہشات پیش کی۔ اس طرح کی تفصیلی رپورٹ دستگیر احمدMA نے روانہ کی ہے۔








*گوشت کے داموں میں وحشیانہ اضافہ ، جانور کے دام بھی آسمان چھو رہے ہیں، قربانی کیسے ہوگی؟*
*عوام مہنگا گوشت نہ خریدیں ، یا گوشت کا استعمال کم کردیں*

مالیگاوں میں ایک بار پھر غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔ عید قربان سے پہلے گوشت کے داموں میں ہے رحمانہ اور بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ ایک بڑی گوشت کمپنی جانوروں کا فی کلو 315 روپے کا بھاؤ دے رہی ہے، جس کی وجہ سے عام ٹھیلہ گاڑیوں پر گوشت 280 سے 340 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

مالیگاوں غریب مزدوروں کا شہر ہے۔ یہاں کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اور اب گوشت تو ان کے لیے خواب بنتا جا رہا ہے۔

پچھلے الیکشن میں گوشت کے دام کم کرنے کے جھوٹے وعدوں اور واویلا کرنے والے لیڈران آج بالکل خاموش ہیں۔ کوئی ایک بھی عوام کے حق میں منہ کھولنے کو تیار نہیں۔ الٹا گوشت کمپنی نے مقامی قریش برادری کے ہزاروں غریب مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ کمپنی باہر کے مزدوروں کو نوکریاں دے رہی ہے جبکہ مقامی لوگوں کا خون پسینہ کا ایک پیسہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ مقامی مزدوروں کا دن رات استحصال کیا جا رہا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ گوشت مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ جانور بھی تیزی سے مہنگے ہو رہے ہیں۔ اگر یہی لوٹ مار جاری رہی تو اس سال غریب اور متوسط طبقہ کے لیے قربانی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔امیر لوگ تو آرام سے جانور خرید سکتے ھيں لیکن عام آدمی کو قربانی کے لیے قرض لینا پڑے گا یا پھر شرمندگی سے دیکھتے رہنا پڑے گا

ہم سیاسی لیڈران اور انتظامیہ سے سیدھا سوال کرتے ہیں:

کیا آپ غریبوں کا خون چوسنے والی اس کمپنی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے ہیں؟

کیا آپ مقامی مزدوروں کی بے روزگاری اور استحصال کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کیے رکھیں گے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ فوری طور پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ گوشت اور جانوروں کے بڑھتے دام روکے جائیں، مقامی قریش برادری کے مزدوروں کو ان کا حق دیا جائے اور کمپنی کے غیر منصفانہ طریقوں پر لگام لگائی جائے۔

بصورت دیگر عوام اب صبر کی آخری حد پر پہنچ چکی ہے۔ اگر فوری طور پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بنایا گیا تو زبردست عوامی تحریک اور شدید احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ہم شہر کی عوام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ مہنگا گوشت نہ خریدیں یا پھر گوشت کا استعمال کم کردیں ہم ایک دو مہینہ گوشت نہیں کھائیں گے تو کیا بگڑ جائے گا اس لئے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیدار رہیں۔

*محسن کرانہ والا*
وارڈ نمبر 3، مالیگاوں










محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
*ایچ ۔اے۔کے۔ہائی اسکول کی جانب سے تعزیتی پیغام*
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ اطلاع موصول ہوئی کہ محلہ آزاد نگر کی معروف علمی شخصیت جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال ہوگیا۔
ایچ ۔اے۔ کے۔ہائی اسکول ،منماڑ مرحومہ کے انتقال پر دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام اہل خانہ کو صبر جمیل اور اجر عظیم نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

شریکان غم :
صدر واراکین ،
ہیڈماسٹر واسٹاف 
HAK High School and Jr.College,
Manmad.

*🛑سیف نیوز اُردو*

*ڈاکٹر ذیشان احمد ریاض احمد عازم حج* الحمدللہ رب العالمین، اللہ ربّ العزت کا بے پناہ کرم ہے کہ مجھ خاکسار کو رب العا...