Saturday, 14 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


۔مومن بنکر فرنٹ نےاعجاز بیگ صاحب کو مبارکباد دی 

بروز جمعرات بعد نماز تراویح مومن بنکر فرنٹ کا ایک وفد اسٹینڈنگ کمیٹی کے نو منتخب چئیرمنمحترم اعجاز بیگ صاحب کی آفس پہنچ کر ان کو مبارکباد دی 
ساتھ ہی ساتھ شہری مسائل پر فرنٹ نے سیر حاصل گفتگو کی ۔
انتہائی خوشگوار اور مدلل گفتگو کے. بعد اعجاز بیگ صاحب نے کہا ۔ کہ موجودہ باڈی کام کاج کیلئے انتہائی سنجیدہ اور پرجوش ہے ۔
ان شاء اللہ عیدالفطر کے بعد موجودہ باڈی اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمن ہونے کی حیثیت سے ہم لوگ شہر کے مفاد میں بہترین کام کرینگیں 
آپ لوگ اور شہریان ہمارے اچھے کاموں کی نا صرف سراہنا کریں ۔بلکہ کہیں ضرورت پڑنے پر ہمارے شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں ۔
اس موقر وفد میں محترم جمیل کرانتی صدر مومن بنکر فرنٹ کے ساتھ پروفیسر عبدالمجید صدیقی سر۔ایڈوکیٹ عتیق الزماں زبیری ۔ اخلاق بالے مقادم ۔امتیاز قیصر ماسٹر ۔سہیل عبدالکریم ۔خورشید سیٹھ چمڑے والے ۔لقمان انصاری جنتابینک چئیرمن ۔امتیاز اجینئر ۔عمران انجینئر ۔انجم انجینئر وغیرہ حاضر تھے ۔







. *𖣔 اِنتقال پُر مَلال 𖣔*

*بَروز جمعرات، مورخہ 12 مارچ، ســ2026ـنہء*
*بمطابق 22 رمضانُ المبارک ســ1447ـنہ ھ*
یہ خبر انتہائى رنج و غم کے ساتھ دی جا رہی ہے کہ *عائشہ نگر* کی مشہور و معروف سیاسی، سماجی و طبی شخصیت، *مرحوم سلیم ساحل* کے لڑکے، *محمد شاداب* کے بھائی، *پارٹی اسلام سوشل میڈیا سیل* کے فعال رُکن *محمد شعیب* اس دارِ فانی سے دارِ بقاء و قرار کیجانب کوچ کرگئے....!
*( اِنّا ِللہِ وَاِنّا اِلَیهِ رَاجِعُون.....)*

اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائیں، اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطاء فرمائیں، قبر کے سوال و جواب کو آسان فرمائیں، سَیّات کو حَسنات سے مُبَدّل فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطاء فرمائیں ....!
*آمین ثُم آمین یا ربُّ العالمین….!*

*جنازہ :- دوپہر 3 بجے، عائشہ نگر نوری ھال کے بازو والی گلی سے عائشہ نگر قبرستان لے جایا جائے گا....!* 
*اِن شاء اللہ تعالیٰ*

*شریکانِ غم و دعاگو :-* 
*آصف شیخ رشید ( سابق رُکنِ اسمبلی، مالیگاؤں )* 
*کارپوریٹر انصاری محمد آمین محمد فاروق*
*کارپوریٹر شیخ جاوید شیخ انیس انجینئر*
*صدر و اراکین پارٹی اسلام سوشل میڈیا سیل*
*صدر و اراکین مہک فاؤنڈیشن، جعفرنگر*










*عید سے قبل صفائی کا خاص خیال رکھیں- کانگریس صدر اعجاز بیگ صاحب کی عوام سے اپیل*
*پاکیزگی ہے اسلام کی بنیاد، یہی پیغام ہے*
*صفائی اپناؤ، یہی تو جینے کا مقام ہے*

   *رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے 25ویں روزے کے موقع پر کانگریس پارٹی کے صدر اعجاز بیگ صاحب نے مالیگاؤں کی عوام سے خصوصی اپیل کی ہے کہ شہر کی صفائی اور خوبصورتی کا خاص خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالفطر کی آمد میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، ایسے میں ہر شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھے۔*
   *اعجاز بیگ صاحب نے عوام سے درخواست کی کہ کچرا، گندگی اور دیگر فضلہ ایسی جگہوں پر نہ پھینکا جائے جہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو تکلیف یا پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ کچرے کو صرف مقررہ جگہوں پر ڈالیں تاکہ شہر میں صفائی برقرار رہے اور بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہو۔*
   *انہوں نے مزید کہا کہ عید خوشیوں اور صفائی کا تہوار ہے، اس لیے ہم سب کو مل کر اپنے شہر کو صاف، خوبصورت اور مثالی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہر شہری اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور صفائی کا خیال رکھے تو مالیگاؤں ایک بہتر اور صحت مند شہر بن سکتا ہے۔*
   *آخر میں اعجاز بیگ صاحب نے مالیگاؤں کی تمام عوام سے اپیل کی کہ وہ عید کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی کو بھی اپنی ترجیح بنائیں تاکہ عید کی خوشیاں ایک صاف اور خوشگوار ماحول میں منائی جا سکیں۔*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

*🛑سیف نیوز اُردو*

سیف نیوز اُردو



مسجد اقصیٰ میں صرف 5 نمازی
رمضان المبارک کے آخری عشرے کی راتیں ہمیشہ سے بیت المقدس کی روحانی زندگی کا نقطۂ عروج رہی ہیں۔ ان مبارک ایام میں مسجد اقصیٰ کے وسیع صحن عبادت گزاروں سے بھر جاتے ہیں، قرآن کی تلاوت کی آوازیں فضاؤں میں گونجتی ہیں اور ہزاروں افراد اعتکاف، ذکر اور قیام اللیل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ مغرب سے فجر تک مسجد کے دروازوں پر لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور پرانے شہر کی گلیاں عبادت گزاروں، زائرین اور تاجروں سے آباد رہتی ہیں۔ مگر اس سال منظر بالکل مختلف ہے۔ رمضان کی سب سے بابرکت راتوں میں پہلی بار مسجد اقصیٰ کے دروازے بند ہیں، اس کے صحن خالی پڑے ہیں اور اس کے اندر صرف 5 نمازی نماز ادا کر رہے ہیں۔ 1967 میں مشرقی القدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں فلسطینیوں کو نہ صرف مسجد اقصیٰ بلکہ پورے پرانے شہر تک رسائی سے روک دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال مذہبی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اور تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔
رمضان کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ کا منظر عام طور پر روحانیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ ہزاروں فلسطینی خاندان مسجد کے صحنوں میں عبادت کرتے ہیں، نوجوان قرآن کی تلاوت میں مصروف ہوتے ہیں اور سینکڑوں افراد اعتکاف کرتے ہیں۔ مسجد کے دروازوں کے باہر بازار سج جاتے ہیں اور چھوٹے تاجر، ریڑھی فروش اور دکاندار عبادت گزاروں کی آمد سے اپنی روزی کماتے ہیں۔ مگر اس سال مسجد کے دروازے بند ہیں۔ وہ گلیاں جہاں عام طور پر عبادت گزاروں کا ہجوم ہوتا تھا اب خاموش ہیں، بازار سنسان ہیں اور دکانوں کے سامنے بیٹھے تاجر خالی راستوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک امام مسجد اقصیٰ، جو گزشتہ چھیالیس برسوں سے یہاں نماز پڑھاتے آئے ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں مسجد کو اس طرح ویران کبھی نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق رمضان کے آخری عشرے میں مسجد ہمیشہ ہزاروں نمازیوں سے بھری رہتی تھی مگر اس سال صحن خالی ہیں اور مسجد کی فضا غیر معمولی طور پر خاموش ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد مسجد میں نماز کا نظام انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔ مسجد کے اندر نماز ادا کرنے والوں میں عام طور پر ایک امام، ایک مؤذن، اقامت کہنے والا ایک شخص، منبر کا محافظ اور کبھی کبھار اوقاف کا کوئی ذمہ دار شامل ہوتا ہے۔ یوں اکثر اوقات مسجد میں صرف پانچ افراد ہی نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ امام کے مطابق جب وہ اذان دیتے ہیں اور حیّ علی الصلاۃ کی صدا بلند کرتے ہیں تو سامنے ہزاروں افراد کی صفیں نہیں بلکہ چند لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے بقول یہ منظر دل توڑ دینے والا ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ مسجد کو لوگوں سے بھرا ہوا دیکھا ہے۔
مسجد میں نماز تو ادا ہو رہی ہے لیکن اس کی آواز باہر تک نہیں پہنچتی۔ اذان اور نماز کی آواز کو صرف اندرونی اسپیکرز تک محدود رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے پرانے شہر کے رہائشی بھی مسجد کی آواز نہیں سن سکتے۔ قبة الصخرہ کا مصلیٰ بھی بند ہے اور وہاں نماز ادا نہیں کی جا رہی۔ اس صورتحال نے مسجد کی روحانی فضا کو مزید افسردہ بنا دیا ہے کیونکہ عام حالات میں اذان اور نماز کی آواز پورے پرانے شہر میں گونجتی ہے۔
مقدسی نوجوان مجد الہدمی، جو پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں مگر پچھلے 15 برس سے رضاکارانہ طور پر مسجد اقصیٰ میں اذان دیتے اور تہجد کی نماز پڑھاتے رہے ہیں، اس صورتحال کو ناقابل بیان محرومی قرار دیتے ہیں۔ رمضان کے آخری عشرے میں وہ عام طور پر اذان دیتے، نماز تہجد پڑھاتے، ذکر کی محفلوں میں شریک ہوتے اور اعتکاف کرنے والوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ مگر اس سال وہ مسجد سے دور ہیں۔ ان کے مطابق مسجد اقصیٰ میں رمضان کی راتوں کا جو روحانی ماحول ہوتا ہے وہ دنیا کے کسی اور مقام پر محسوس نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ فلسطینی معاشرے کا ایک اہم سماجی مرکز بھی ہے جہاں القدس، مغربی کنارے اور فلسطین کے دیگر علاقوں کے مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور مشترکہ شناخت کو مضبوط بناتے ہیں۔
مسجد اقصیٰ کو اس وقت بند کیا گیا جب اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی حملوں کے بعد ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔ اس کے بعد سے مسجد پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان پابندیوں میں مسجد کا مکمل بند ہونا، نماز جمعہ اور تراویح پر پابندی، اعتکاف کی اجازت نہ دینا اور نماز کے لیے آنے والے افراد کو روکنا شامل ہے۔ بعض مواقع پر اسلامی اوقاف کے اہلکاروں کو بھی مسجد میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق صرف اس سال کے آغاز سے اب تک پانچ سو تیس سے زیادہ افراد کو مسجد اقصیٰ سے دور رہنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں جن میں کارکنان، مرابطین، سابق فلسطینی قیدی اور اوقاف کے بعض ملازمین بھی شامل ہیں۔
1967 میں اسرائیلی قبضے کے بعد مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند کرنے کے واقعات بہت کم رہے ہیں۔ نو جون 1967 کو اسرائیلی قبضے کے فوراً بعد مسجد بند کی گئی تھی جب اسرائیلی فوج ابھی اس کے اندر موجود تھی۔ چودہ جولائی 2017 کو مسجد کے اندر فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد اسرائیل نے مسجد بند کر دی اور الیکٹرانک گیٹس نصب کرنے کی کوشش کی مگر عوامی احتجاج کے بعد اسے ہٹانا پڑا۔ جون 2025 میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران مسجد بند کی گئی اور پھر 6 مارچ کو موجودہ جنگ کے دوران دوبارہ اسے بند کر دیا گیا۔ تاہم رمضان کے آخری عشرے میں اس نوعیت کی مکمل بندش کو غیر معمولی اور تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی بندش کا اثر القدس کی معاشی زندگی پر بھی پڑ رہا ہے۔ رمضان کے دوران پرانے شہر کی معیشت کا بڑا حصہ مسجد کے زائرین پر منحصر ہوتا ہے۔ عام طور پر ہزاروں زائرین خریداری کرتے ہیں، کھانے پینے کی دکانیں رات بھر کھلی رہتی ہیں اور ریڑھی فروش اچھی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ مگر اس سال بازار تقریباً خالی ہیں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ رمضان کا سب سے اہم کاروباری موسم بھی تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کی بندش صرف سکیورٹی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے ممکنہ مقاصد میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور میں اسلامی اوقاف کے کردار کو کمزور کرنا، فلسطینیوں کی اجتماعی موجودگی کو محدود کرنا اور مستقبل میں مسجد کی حیثیت میں تبدیلی کے لیے زمین ہموار کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ بعض حکام کے مطابق یہ اقدامات دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ پر مکمل کنٹرول قائم کر سکتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے امام کے مطابق جب وہ مسجد سے باہر لوگوں سے ملتے ہیں تو تقریباً ہر شخص ایک ہی سوال پوچھتا ہے: “شیخ صاحب، مسجد اقصیٰ کب کھلے گا؟” مگر اس سوال کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔ رمضان کی بابرکت راتیں گزر رہی ہیں، عید الفطر قریب آ رہی ہے اور مسجد اقصیٰ کے صحن اب بھی خاموش ہیں۔ امام کہتے ہیں کہ انہوں نے عید کا خطبہ لکھنا شروع کر دیا ہے مگر دل میں ایک ہی دعا ہے کہ عید سے پہلے مسجد کے دروازے دوبارہ کھل جائیں اور وہ ہزاروں نمازیوں کے ساتھ خدا کے گھر میں نماز ادا کر سکیں۔ تب تک مسجد اقصیٰ کے وسیع صحن خاموش ہیں اور اس خاموشی میں ایک پوری قوم کی محرومی اور درد کی داستان سنائی دیتی ہے۔( ضیاء چترالی)










’بے قصور بچوں کا قتل ہورہا‘، ایران جنگ کے درمیان ٹرمپ کی واحد خاتون مسلم صلاح کار سمیرا منشی کا استعفی
واشنگٹن: ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنے پر تنقید کا سامنا کر رہی ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ریلیجس لبرٹی کمیشن (مذہبی آزادی کمیشن) کی واحد مسلم خاتون رکن سمیرا منشی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر ہلچل مچا دی ہے۔ یہ استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ سمیرا منشی کو سال 2025 میں خود ٹرمپ نے مقرر کیا تھا، لیکن اب انہوں نے انتظامیہ پر “ناانصافی اور ظلم” کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ سمیرا کا کہنا ہے کہ وہ اب اس حکومت کے ساتھ مزید کام نہیں کر سکتیں۔

سمیرا منشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا۔ سمیرا کے مطابق یہ جنگ امریکی آئین اور کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ملک کے اندر اور بیرون ملک دونوں جگہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے بے حد مایوس اور دکھی ہیں۔ایران میں بچوں کی موت کیلئے ٹرمپ انتظامیہ ذمہ دار: سمیرا
سمیرا منشی نے ٹرمپ انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایران میں ہو رہی شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی حملوں میں معصوم بچوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ سمیرا نے اسرائیل کو “نسل کشی کرنے والا ملک” قرار دیا اور کہا کہ امریکہ صرف اسرائیل کی حمایت کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی خوف یا دباؤ کے تحت استعفیٰ نہیں دے رہیں، بلکہ وہ کمیشن کے ارکان کی جانب سے ہونے والی ناانصافی کی گواہ رہی ہیں اور اب اس کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔

کمیشن کے اندر گندی سیاست جاری!
استعفے کی ایک بڑی وجہ کمیشن کی رکن کیری پریجین بولر کو ہٹایا جانا بھی بتایا جا رہا ہے۔ کیری سابق مس کیلیفورنیا رہ چکی ہیں اور انہیں فروری میں کمیشن سے نکال دیا گیا تھا۔ ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایک سماعت کے دوران اپنا ذاتی اور سیاسی ایجنڈا چلا رہی تھیں۔ تاہم سمیرا منشی کا ماننا ہے کہ کیری کو صرف ان کے مذہبی خیالات کی وجہ سے ہٹایا گیا۔ سمیرا نے کہا کہ انہوں نے عام لوگوں کی آواز بننے کے لیے یہ عہدہ قبول کیا تھا، لیکن اب وہاں صرف سیاست ہو رہی ہے۔سمیرا منشی نے اپنے بیان کے آخر میں سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظامیہ بدعنوان اور خطرناک ہو چکی ہے جسے امریکی شہریوں اور بے گناہوں کی جان کی کوئی پروا نہیں۔ سمیرا نے واضح الفاظ میں لکھا: “میں اسرائیل کے اوپر امریکہ کی حمایت کرتی ہوں۔” انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب ٹرمپ یا اس حکومت کی حمایت نہیں کر سکتیں۔










رسوئی گیس نہ ھونے سے ہوٹلوں کا کاروبار بند ھونے لگا ۔پہلوان ہوٹل بند
رسوئی گیس کی کمی کی وجہ سے ہوٹلوں کے کاروبار پر زبردست اثر پڑ رہا ہے آج جمعہ 13مارچ کو قدوائی روڈ کی مشہور پہلوان ہوٹل رسوئی گیس نہ ہوئے سے بند کر دی گئی ۔ہوٹل کب جاری ہو گی کہا نہیں جا سکتا ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے اثرات نظر آنے لگے ہیں ابھی تو ہوٹلوں پر اثرات نظر آ رہے ہیں آگے کچھ دن ایسے ہی رہیں گے تو شہر اور ملک کے کیا حالات ہوں گے کہا نہیں جا سکتا سرکار کِتنے بھی دعوے کرے مگر عوام کو ہر طرح کے حالات سے نبٹنے کی تیاری خود کرنا ہو گی جاگو عوام جاگو 
عبدالخالق صدیقی 7066180898

Wednesday, 11 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





حرمین شریفین میں رمضان کے پہلے 20 دنوں میں تقریباً 97 ملین زائرین کی آمد۔ زائرین نے عقیدت واحترام کے ساتھ عبادات کاشرف حاصل کیا
سعودی عرب کی جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے امورِ حرمین شریفین نے ایک اہم اعلان میں بتایا ہے کہ یکم رمضان سے 20 رمضان 1447ھ تک مسجد الحرام اور مسجد نبوی آنے والے زائرین کی کل تعداد 96,638,865 (9 کروڑ 66 لاکھ، 38 ہزار، 8 سو 65) تک پہنچ گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار نماز کے مقامات اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے داخل ہونے والے افراد کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ یہ غیر معمولی تعداد حرمین شریفین کی روحانی اور مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ ماہِ مقدس میں عبادت کے لیے مسلمانوں کے عظیم الشان اجتماع اور جوش و خروش کی عکاسی کرتی ہے۔مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) کے اعداد و شمار :
ڈائریکٹوریٹ کی رپورٹ کے مطابق، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام نے 57,595,401 ایسے زائرین کی میزبانی کی جنہوں نے پانچ وقت کی نمازیں اور نمازِ تراویح ادا کیں۔ اس کے علاوہ، 15,605,086 فرزندانِ اسلام نے اس عرصے کے دوران عمرہ کی سعادت حاصل کی۔

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے اعداد و شمار :
حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں نمازِ پنجگانہ اور قیامِ لیل ادا کرنے والے زائرین کی تعداد 21,143,259 رہی۔ ریاض الجنہ (جو کہ نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک اور منبر کے درمیان کا حصہ ہے) میں 579,191 زائرین نے حاضری دی، جبکہ 1,715,928 خوش نصیبوں نے نبی کریم ﷺ اور ان کے دو جلیل القدر صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

اعلیٰ درجے کی انتظامی خدمات :
سعودی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ زائرین کی یہ کثیر تعداد حرمین شریفین میں آپریشنل تیاریوں کے اعلیٰ معیار اور مربوط خدمات کے نظام کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام تر انتظامات اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ رمضان کے دوران رش کے باوجود زائرین کی نقل و حرکت میں روانی برقرار رہے اور انہیں عبادت کے لیے ایک محفوظ اور پرسکون ماحول میسر آ سکے۔

رمضان المبارک کا مہینہ عالمِ اسلام میں روحانیت اور عبادت کا عروج ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حرمین شریفین کا رخ کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت ہر سال زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں وسیع تر انتظامات کرتی ہے تاکہ عبادت گزاروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سال 1447ھ کے اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حرمین شریفین کی کشش اور وہاں فراہم کردہ سہولیات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے









ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو بڑی دھمکی ۔ بینکوں، اقتصادی مراکز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
مغربی ایشیا میں جاری ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھتی جا رہی ہے۔ جنگ کے بارہویں دن ایران کی فوج نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب خطے میں موجود ان کے اقتصادی مراکز، بینکوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ تہران میں ایک بینک پر ہونے والے رات کے حملے کے بعد کیا گیا، جس میں متعدد ملازمین ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے اسے جوابی کارروائی پر مجبور کر دیا ہے۔ایران کا کہنا ہے دشمن نے ہمیں کھلی چھوٹ دے دی

ایران کی فوج کے مرکزی آپریشنل کمانڈ خاتم الانبیاء کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دشمن کے حالیہ حملوں نے ایران کو اس بات کی کھلی اجازت دے دی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے اقتصادی مفادات کو نشانہ بنائے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مشترکہ فوجی کمانڈ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ اب امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ممکنہ اہداف تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ مستقبل میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ تہران میں ایک بینک پر اسرائیلی اور امریکی فضائی حملے میں عملے کے کئی افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد ایران نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر بھی ممکنہ ہدف
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خطے میں موجود دفاتر اور انفراسٹرکچر کو ممکنہ اہداف قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ اسی بنیاد پر ایران نے ان کمپنیوں سے وابستہ تنصیبات کو ’’نئے اہداف‘‘ قرار دیا ہے۔

جن کمپنیوں کا نام لیا گیا ان میں شامل ہیں :

Google

Microsoft

Palantir

IBM

Nvidia

Oracle

ایرانی میڈیا کے مطابق ان کمپنیوں کے دفاتر اور کلاؤڈ سروس انفراسٹرکچر اسرائیل کے مختلف شہروں کے علاوہ خلیجی ممالک میں بھی موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر خطے میں جنگ ’’انفراسٹرکچر وار‘‘ کی شکل اختیار کرتی ہے تو ایران کے اہداف کی فہرست مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

خلیجی خطے میں کشیدگی میں تیزی
بدھ کی صبح ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ ہوا جس سے پورے خلیجی خطے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

ایران نے تیل کی تنصیبات اور بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق :

دو ایرانی ڈرون دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب گرے جس میں چار افراد زخمی ہوئے، تاہم پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔

آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل کے پاس ایک کنٹینر شپ پر میزائل نما شے لگی جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔

کویت نے آٹھ ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والے پانچ ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر
ایرانی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں کارگو ٹریفک تقریباً رک گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ خلیج فارس سے نکلنے والے تقریباً 20 فیصد تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس راستے میں رکاوٹ طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔










آج اسٹاک مارکیٹ کیوں گری؟ ایران جنگ، کمزور روپیہ اور غیر ملکی فروخت سے سینسیکس و نفٹی میں بڑی گراوٹ
ایران جنگ کے سائے میں بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ
بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں بدھ، 11 مارچ کو نمایاں گراوٹ دیکھی گئی جب عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور اقتصادی خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔بینچ مارک انڈیکس سینسیکس دن کی بلند ترین سطح سے 1000 سے زیادہ پوائنٹس نیچے آ گیا جبکہ نفٹی 50 اہم نفسیاتی سطح 24,000 کے قریب پہنچ گیا۔

صبح 11:38 بجے کے قریب سینسیکس 878 پوائنٹس (%1.12) کی کمی کے ساتھ 77,327.86 پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ نفٹی 242 پوائنٹس (%1) گر کر 24,019.20 پر آ گیا۔

اگرچہ مرکزی انڈیکس نیچے آئے، لیکن مارکیٹ کی مجموعی صورتحال نسبتاً متوازن رہی۔ تقریباً 2,149 شیئرز میں اضافہ ہوا، 1,469 میں کمی دیکھی گئی جبکہ 179 شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

 مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی منڈیوں پر اثرات
گزشتہ کئی دنوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں شدت آ چکی ہے اور امریکہ بھی اس تنازع میں براہ راست شامل نظر آ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات پر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے بھی اسرائیل اور خطے کے دیگر مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ جنگ طویل ہو گئی یا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر بھارت سمیت دنیا کی معیشتوں اور اسٹاک مارکیٹس پر پڑ سکتا ہے۔

آج اسٹاک مارکیٹ گرنے کی اہم وجوہات
1۔ ایران۔اسرائیل جنگ میں شدت

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کو جنگ کے آغاز کے بعد سب سے شدید کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی حکومت نے اپنے سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔

چونکہ دنیا کے بڑے حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اس سے عالمی مہنگائی اور اقتصادی سست روی بڑھ سکتی ہے۔۔ روپے کی قدر میں کمی

بدھ کو بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کمزور ہو گیا۔

روپیہ 0.14 فیصد کمی کے ساتھ 91.93 روپے فی ڈالر پر کھلا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 91.80 پر بند ہوا تھا۔

پیر کے روز روپیہ 92.35 فی ڈالر کی تاریخی کم ترین سطح کو بھی چھو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق روپے کی آئندہ سمت کا انحصار عالمی تیل کی قیمتوں اور ڈالر انڈیکس پر ہوگا۔

3۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت

مارکیٹ پر ایک اور بڑا دباؤ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FII) کی فروخت سے آیا۔

10 مارچ کو ایف آئی آئیز نے تقریباً 4,673 کروڑ روپے کے شیئر فروخت کیے جبکہ مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (DII) نے 6,333 کروڑ روپے سے زائد کے شیئر خریدے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے یہی رجحان جاری ہے جس میں غیر ملکی سرمایہ کار فروخت کرتے ہیں جبکہ مقامی فنڈز مارکیٹ کو سہارا دیتے ہیں۔

4۔ حالیہ تیزی کے بعد منافع وصولی

گزشتہ سیشن میں مارکیٹ میں اچھی خاصی تیزی دیکھی گئی تھی جس کے بعد بدھ کو سرمایہ کاروں نے منافع وصولی (Profit Booking) شروع کر دی۔

آٹو، آئی ٹی، فنانشل سروسز اور ایف ایم سی جی سیکٹر کے شیئرز میں 0.6 سے 1.3 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

نفٹی 50 میں سب سے زیادہ دباؤ مالیاتی کمپنیوں کے شیئرز پر رہا جن میں شامل ہیں :

کوٹک مہندرا بینک

ایس بی آئی لائف انشورنس

بجاج فِن سرو

بجاج فنانس

اسی طرح بھارتی ایئرٹیل اور ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس کے شیئرز میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟ ماہرین کی رائے

ٹیکنیکل تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دنوں میں نفٹی کی سمت اہم سپورٹ لیولز پر منحصر ہوگی۔

فوری سپورٹ : 24,100 – 24,000

اہم ریزسٹنس : 24,400 – 24,500

اگر نفٹی اس رینج کے اوپر بریک آؤٹ کرتا ہے تو انڈیکس 24,600 سے 24,700 تک جا سکتا ہے۔

لیکن اگر سپورٹ ٹوٹ گئی تو قلیل مدت میں مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ اور فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





والدین سے ایک دل کی بات…
اپنے بچوں کو صرف پڑھانا کافی نہیں—انہیں اچھا انسان اور اچھا مسلمان بنانا اصل تربیت ہے۔
انہیں یہ سکھائیں کہ دوسروں کی چیز کا احترام کریں۔
صرف کار، بائیک یا اسکوٹی نہیں…
کسی بھی انسان کی کسی بھی چیز کو نقصان پہنچانا غلط ہے، گناہ ہیں، اور بے ادبی ہیں ۔

اور سب سے اہم بات:
اگر کبھی آپ کے بچے کی وجہ سے کسی کا نقصان ہو جائے—چاہے معمولی ہو یا بڑا—
تو نقصان کی بھرپائی کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔
یہی وہ عمل ہے جو بچے کو سکھاتا ہے کہ غلطی چھپانی نہیں، اسے درست کرنا ہوتا ہے۔
اور یہی وہ تربیت ہے جو ایک بچے کو باشعور، باادب، اور سچا مسلمان بناتی ہے۔
بچے وہ نہیں بنتے جو آپ کہتے ہیں…
بچے وہ بنتے ہیں جو آپ انہیں کرکے دکھاتے ہیں۔
اللہ ہم سب کے بچوں کو نیک، شریف اور دوسروں کا حق پہچاننے والا بنائے۔ آمین..









*راجیہ سبھا کے ممبر عمران خان پرتاپ گڑھی صاحب نے اعجاز بیگ صاحب کو دی مبارکباد*
*اسٹینڈنگ کمیٹی کا بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہونے پر دونوں کے درمیان ہوئی بات چیت*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
   *کانگریس پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر عمران خان پرتاپ گڑھی صاحب نے مالیگاؤں کانگریس پارٹی کے صدر اعجاز بیگ صاحب کو اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہونے پر فون کے ذریعے مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔*

   *انہوں نے کہا کہ اعجاز بیگ صاحب کی یہ کامیابی ان کی محنت، لگن اور عوامی خدمت کا نتیجہ ہے۔ عمران خان پرتاپ گڑھی صاحب نے امید ظاہر کی کہ وہ اس اہم ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتے ہوئے شہر اور عوام کی خدمت میں مزید نمایاں کردار ادا کریں گے۔*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹








*یہ مسلم بزرگ کی لاوارث لاش کی شناخت کریں*
*ازقلم✏️....اعجاز ایم آئی سی بلڈ ڈونر گروپ مولانا کمپاؤنڈ مالیگاؤں*
*گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں*
🚨🚨🚨🚨🚨
*آج مورخہ 10 مارچ 2026 بروز پیر دوپہر 2 بجے سول ہاسپٹل دھولیہ میں یہ لاوارث مسلم بزرگ کا انتقال ہوگیا ہے*
*انا للہ وانا الیہ راجعون*
*مورخہ 9 جنوری 2026*
*کو یہ مسلم بزرگ کو اعجاز ایم آئی سی سفیان ایمبولینس والا اور ضیاء الرحمن مسکان وغیرہ نے شدید شردی اور شدید بیماری کی حالت میں تڑپتے بریج کے نیچے پیلا پیٹرول پمپ کے سامنے دیکھا تھا تو مالیگاؤں سول ہسپتال میں فوراً بھرتی کرواکر ان کی اللہ تعالیٰ کی مدد سے جان بچانے میں کامیابی حاصل کی تھی اس کے بعد سے یہ مسلم بزرگ سول ہسپتال مالیگاؤں میں ہی تھی مگر چند روز قبل ان کی حالت اور زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے ہائر سینٹر دھولیہ سول ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا مگر ضعیفی اور کمزوری و لاچاری مجبوری کی وجہ سے وہ اس دنیا سے رخصت ہوگے تصویر میں نظر آنے والے یہ مسلم بزرگ کی لاوارث لاش کی شناخت کریں اگر آپ ان کو پہچانتے ہو یا ان کے گھر والوں کے تعلق سے آپ کو کوئی معلومات ہوتو فورا ان نمبروں پر رابطہ کریں عین نوازش ہوگی شکریہ جزاک اللہ خیرا فی الدارین*
😢😢😢😢😢
*انصاری ضیاء الرحمن مسکان*
*موبائل 📱 نمبر 9270021180*
*اعجاز ایم آئی سی*
*موبائل 📱 نمبر 9272668733*
*محمد کامل النور فیبریک دیوی کا ملہ*
*موبائل 📱 نمبر 8999312553*
*اسامہ انصاری مدینہ آباد*
*موبائل 📱 نمبر 9545628362*
*برائے مہربانی فوراً اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ان کے گھر والوں کی تلاش ہوسکے*

Tuesday, 10 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا
ایران ۔ اسرائیل جنگ کے دوران بھارت میں ایل پی جی سپلائی یقینی بنانے کیلئے اقدامات۔ وزیراعظم مودی کا ہنگامی جائزہ اجلاسعالمی توانائی بحران کے خدشات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں خاص طور پر ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی کی صورتحال اور ایران جنگ کے باعث ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر تفصیلی غور کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی چین پر کس طرح پڑ سکتے ہیں اور بھارت میں گھریلو صارفین کو گیس کی مسلسل فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے۔اسی دوران مرکزی حکومت نے گھریلو ایندھن کی منڈی کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے ایسنشل کموڈیٹیز ایکٹ (Essential Commodities Act) کو نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو بھارت کے اندر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

پیٹرولیم وزارت کے مطابق اس ایکٹ کے تحت ایک کنٹرول آرڈر جاری کیا گیا ہے جس کے ذریعے ریفائنریوں اور پیٹرو کیمیکل یونٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (LPG) کی پیداوار میں اضافہ کریں۔ اس کے علاوہ مختلف ہائیڈرو کاربن ذرائع کو ایل پی جی کے ذخیرے میں شامل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں کھانا پکانے والی گیس کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھی جا سکے۔

وزارت نے مزید کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے قدرتی گیس کی تقسیم کے لیے ایک ترجیحی فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ موجودہ سپلائی کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ نئے رہنما اصولوں کے تحت گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (PNG) اور ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کو 100 فیصد یقینی سپلائی دی جائے گی۔

جبکہ دیگر صنعتی شعبوں کو گیس کی فراہمی ان کی گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے مطابق محدود یا منظم کی جا سکتی ہے تاکہ گھریلو اور ضروری خدمات کو ترجیح دی جا سکے۔

ملک کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) نے بھی عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر اضافی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کی جا سکے۔

ایک مشترکہ بیان میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (IOC)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن (BPCL) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن (HPCL) نے کہا کہ وزارت نے ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے اور مناسب ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث وزارت نے ایل پی جی کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس فراہم کی جا سکے۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ضروری غیر گھریلو شعبوں جیسے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر اہم خدمات کو بھی ضرورت کے مطابق ایل پی جی فراہم کی جائے گی۔

تاہم دیگر غیر گھریلو شعبوں کے لیے گیس کی فراہمی کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تین ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو درخواستوں کا جائزہ لے کر ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی کا فیصلہ کرے گی۔











 ’’ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے حکومت کی تبدیلی‘‘ اسرائیلی وزیراعظم نے ایرانیوں کو دیا مشورہ، ایران نے امریکہ کو دیا سخت جواب
یروشلم: اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران میں موجودہ حکومت کا مستقبل بالآخر ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے اور اگر وہاں نظام میں تبدیلی آتی ہے تو یہ ایرانی عوام کی مرضی اور اقدام سے ہی ممکن ہوگا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے دورے کے دوران کہا کہ اسرائیل کی خواہش ہے کہ ایرانی عوام اس نظام سے نجات حاصل کریں جسے انہوں نے جبر اور آمریت قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’ہماری خواہش ہے کہ ایرانی عوام ظلم کے اس بوجھ سے خود کو آزاد کریں، لیکن آخرکار یہ فیصلہ انہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں ان سے ہم ان کی طاقت کو کمزور کر رہے ہیں اور ہماری کارروائیاں جاری ہیں۔‘‘اسرائیل کی عالمی حیثیت میں تبدیلی کا دعویٰ

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل اور ایرانی عوام مشترکہ طور پر کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے بڑی تبدیلی آئے گی۔ ان کے مطابق اس عمل سے اسرائیل کی عالمی حیثیت میں بھی نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر صحت کے ساتھ نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا، جہاں وزارت صحت کے ڈائریکٹر نے جاری فوجی مہم کے دوران صحت کے نظام کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

ایران کا سخت ردعمل

دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے دشمنی کے خاتمے کا ذکر کیا تھا۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تہران ہی کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ اب ایرانی مسلح افواج کی حکمت عملی کے مطابق ہوگا، نہ کہ امریکہ کے اقدامات سے۔ آئی آر جی سی کے ترجمان نے امریکی صدر پر عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے ’’چالاکی اور فریب‘‘ استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔










بچوں میں نیند کی کمی، کیا والدین بچوں کو اندازے سے کم سلا رہے ہیں؟
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق جتنی نیند درکار ہوتی ہے وہ اکثر اس سے کم سوتے ہیں، جس کے سنگین نتائج پورے خاندان کی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی نیوز چیبل سی این این کے مطابق نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن نے کہا ہے نومولود بچوں کے لیے 14 سے 17 گھنٹے، شیرخوار بچوں کے لیے 12 سے 15، ٹوڈلرز کے لیے 11 سے 14، پری سکولرز کے لیے 10 سے 13 اور سکول جانے والے بچوں کے لیے 9 سے 11 گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔
تاہم ایک تازہ سروے کے مطابق44 فیصد امریکی بچے اپنی عمر کے مطابق مناسب نیند نہیں لے رہے، اور چھوٹے بچوں میں یہ کمی زیادہ پائی گئی ہے۔فاؤنڈیشن کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر جوزف جیرزیوسکی کے مطابق نیند صرف انفرادی عمل نہیں بلکہ سماجی رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن کی نیند ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بنیاد کا کام کرتی ہے اور آئندہ زندگی کے نیند کے معمولات پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ سروے 977 نگہداشت کرنے والوں کے درمیان کیا گیا جن میں 53 فیصد حقیقی مائیں، 33 فیصد حقیقی باپ جبکہ دیگر میں سوتیلے والدین، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر شامل تھے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ 95 فیصد والدین اس بات سے متفق ہیں کہ اچھی نیند خاندان کی مجموعی کارکردگی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ 80 فیصد نے بتایا کہ بچوں کی خراب نیند ان کی اپنی نیند کو متاثر کرتی ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ 74 فیصد والدین روزانہ اپنے بچوں کی نیند کے بارے میں سوچتے ہیں، مگر پھر بھی اکثر والدین بچوں کی اصل ضرورت کے مقابلے میں کم نیند کا اندازہ لگاتے ہیں۔ خاص طور پر 0 سے 3 ماہ کے بچوں کے والدین میں 78 فیصد اپنے بچوں کی نیند کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ تقریباً نصف والدین اپنے بچوں سے نیند کی اہمیت پر کبھی بات نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کو نیند کے فوائد سادہ الفاظ میں سمجھانا ضروری ہے، جیسے ذہنی اچھی حالت، جسمانی مضبوطی اور بہتر سیکھنے کی صلاحیت۔
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ مختصر نیند (نیپ) بچوں کے مجموعی نیند کے وقت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک سال سے کم عمر 93 فیصد بچے باقاعدگی سے نیپ لیتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نیپ روکنے سے رات کی نیند بہتر نہیں ہوتی بلکہ بچے مزید چڑچڑے ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق باقاعدہ سونے کا وقت، سونے سے پہلے پرسکون معمول، روشنی کم کرنا اور کہانیاں پڑھنا بچوں کی صحت مند نیند کے لیے بہترین طریقے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نیند بہتر بنانے کے لیے والدین کو خود بھی صحت مند نیند کی مثال قائم کرنا ہوگی، کیونکہ بچے ہمیشہ بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*




ایک اچھا سچا انسان اور ڈاکٹر ڈاکٹر رئیس احمد صدیقی ہم میں نہیں رہے 
ڈاکٹر رئیس احمد صدیقی کا پرسوں کے دن انتقال ہوا وہ ایک نہایت ہی اچھے سچے انسان تھے ساتھ ہی ساتھ ایک اچھے ڈاکٹر بھی تھے مالے گاؤں شہر میں آن کے جیسے بہت کم ڈاکٹر بچے ہیں جو کم قیمت میں اچھی کار آمد دوائیں دیتے رہے ہیں مخلص اِنسان مخلص ڈاکٹر کے جانے سے غریبِ مریضوں کو بہت دکھ ہوا یاد رہے کورونا کے وقت ڈاکٹر رئیس صدیقی جیسے ڈاکٹروں نے جو انسانی خدمات کیے تھے اسکو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ایک اچّھے ڈاکٹر اچّھے مخلص انسان سیاسی سماجی شخصیت کے جُدا ہونے پر جہاں افراد خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے وہیں عام لوگوں کو بھی صدمہ عظیم ہوا ہے ہم انکے غم میں برابر کے شریک رہتے ہوئے اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ یہ اللہ مرحوم کی کروٹ کروٹ مغفرت فرما اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماآمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شریکان غم۔۔عبدالخالق صدیقی صدر جنتا دل سیکولر مالے گاؤں عبدالعزیز محمد اسماعیل پترکار۔عبدالغفار عبدالستار۔عبدالودود اشرفی سالکی ۔محمد یوسف حاجی محمد الیاس۔صادق حسین اشرفی۔دوست احباب










ٹرمپ کی نکل گئی اکڑ۔ آبناے ہرمز بند ہونے پر عقل آگئی ٹھکانے ،ایران سے راست مذاکرات کے لئے تیار
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ کے گیارہویں دن ایک ایسا موڑ سامنے آیا ہے جس نے عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی پاسدارن انقلاب (IRGC) کی جانب سے دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی بلکہ امریکہ کے اندر بھی سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اشارہ دیا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے اور تیل کی سپلائی بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ موقف امریکی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی یا یو ٹرن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ
گزشتہ گیارہ دنوں سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت ایران نے امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے دنیا کے سب سے اہم تیل کے راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اقدام کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑنے والی ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

ایران کی جانب سے اس راستے کی بندش کے بعد عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کئی ممالک میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ بعض خطوں میں سپلائی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک جاری رہی تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

امریکہ کے اندر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ
جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ کے اندر بھی اس تنازع پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور ممکنہ معاشی اثرات کے باعث کانگریس کے بعض اراکین اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

اسی دباؤ کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاکہ تیل کی سپلائی بحال کی جا سکے اور جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ موجودہ بحران کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق آنے والے دن اس بحران کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے جنگ کے خاتمے یا کم از کم کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

فی الحال پوری دنیا کی نظریں تہران کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔







ایران جنگ کے اثرات : بنگلہ دیش اور پاکستان میں اسکول بند، سری لنکا میں ایندھن مہنگا
پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے جاری حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے سبب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات جنوبی ایشیا کے کئی ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں جہاں حکومتیں بجلی اور ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا نے توانائی کے استعمال کو کم کرنے اور شہریوں پر معاشی دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف فیصلوں کا اعلان کیا ہے، جن میں تعلیمی اداروں کی بندش، سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

بنگلہ دیش : جامعات بند، ایندھن کی فروخت محدود
بنگلہ دیش کی حکومت نے ملک بھر کی تمام سرکاری اور نجی جامعات کو پیر سے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکام نے عیدالفطر کی تعطیلات کو پہلے ہی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق جامعات کی بندش سے ہاسٹلز، کلاس رومز، لیبارٹریز اور ایئر کنڈیشننگ سسٹمز میں استعمال ہونے والی بجلی کی کھپت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا، جس سے ایندھن کی بچت ممکن ہو گی۔

وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک کے باعث ملک کے بیشتر اسکول پہلے ہی بند تھے، اس لیے تعلیمی ادارے اب ایک طویل عرصے تک بند رہیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ایندھن کی روزانہ فروخت پر بھی حد مقرر کر دی ہے کیونکہ کئی علاقوں میں گھبراہٹ کے باعث شہری بڑی مقدار میں ایندھن ذخیرہ کر رہے تھے۔

پاکستان : اسکول بند، سرکاری اخراجات میں کٹوتی
پاکستان میں بھی تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے توانائی کی بچت کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ملک کو معاشی استحکام دینے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

حکومت کے اعلان کے مطابق :

ملک بھر کے اسکول دو ہفتوں کے لیے بند رہیں گے

جامعات کو آن لائن کلاسز منتقل کیا جائے گا

سرکاری محکموں کے ایندھن الاؤنس میں دو ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی جائے گی

60 فیصد سرکاری گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا دی جائیں گی، تاہم بسوں اور ایمبولینسز کو استثنا حاصل ہوگا

سرکاری دفاتر میں صرف آدھا عملہ کام کرے گا

دفاتر ہفتے میں چار دن کھلے رہیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پاکستان کا کنٹرول نہیں ہے، تاہم حکومت کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر اس کے اثرات کم سے کم پڑیں۔

سری لنکا : ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
سری لنکا میں بھی بڑھتی ہوئی عالمی توانائی قیمتوں کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

سرکاری تیل کمپنی سیپٹکو (Ceypetco) کے مطابق نئی قیمتیں آج رات بارہ بجے سے نافذ ہوں گی۔

نئی قیمتوں کے مطابق :

آٹو ڈیزل : 22 روپے اضافے کے بعد 303 روپے فی لیٹر

سپر ڈیزل : 24 روپے اضافے کے بعد 353 روپے فی لیٹر

پیٹرول (اوکٹین 92) : 24 روپے اضافے کے بعد 317 روپے فی لیٹر

پیٹرول (اوکٹین 95) : 25 روپے اضافے کے بعد 365 روپے فی لیٹر

مٹی کا تیل : 13 روپے اضافے کے بعد 195 روپے فی لیٹر

حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے خدشات کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

۔مومن بنکر فرنٹ نےاعجاز بیگ صاحب کو مبارکباد دی  بروز جمعرات بعد نماز تراویح مومن بنکر فرنٹ کا ایک وفد اسٹینڈنگ کمیٹ...