بھارت کس-کس ملک سے پیٹرولیم کرتا ہے درآمد، کیوں اتنا خاص ہے آبنائے ہرمز؟
نئی دہلی: مشرق وسطی میں جاری شدید کشیدگی کا اثر دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ اگر ان حملوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس کے اثرات عالمی منڈی اور معیشت پر شدید طور پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت اپنی خفیہ سفارتی کوششوں سے توانائی کی سپلائی اور ملکی ضروریات پر اثر کم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے امریکہ کو نیٹو ممالک سے اپیل کرنی پڑ رہی ہے کہ وہ اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے امریکی بحری بیڑے کے ساتھ تعاون کریں۔ اس کے باوجود بھارت نے آبنائے ہرمز سے اپنی شپنگ کی محفوظ واپسی یقینی بنائی ہے۔ بھارت کے دو جہاز آبنائے ہرمز سے نکل کر بھارتی سمندری ساحل پر پہنچ چکے ہیں اور مزید کئی جہاز آنے کی توقع ہے۔
بھارت کی توانائی کی ضروریات
بھارت اپنی ضرورت کے تقریباً 85 سے 89 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ پہلے یہ تقریباً 55 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے آتا تھا، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 70 فیصد ہو گئی ہے۔ بھارت کی توانائی کی سپلائی محفوظ رہی ہے۔ بھارت کی یومیہ خام تیل کی کھپت تقریباً 55 لاکھ بیرل ہے اور یہ تقریباً 40 ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔ بھارت کی مجموعی قدرتی گیس کی کھپت تقریباً 189 ملین کیوبک میٹر یومیہ ہے، جس میں سے 97.5 ملین کیوبک میٹر یومیہ کی پیداوار ملکی سطح پر ہوتی ہے۔ غیر متوقع حالات کی وجہ سے تقریباً 47.4 ملین کیوبک میٹر یومیہ کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ رہائشی گیس یعنی ایل پی جی کے معاملے میں بھارت اپنی کل کھپت کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے اور اس میں سے تقریباً 90 فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے۔ موجودہ حالات کی وجہ سے اس پر اثر پڑا، تاہم حکومتی اقدامات کے بعد گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بھارت کے بڑے تیل اور گیس فراہم کنندگان
خام تیل کے لیے بھارت کے سب سے بڑے فراہم کنندگان میں روس، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ سے خام تیل کی درآمد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خلیج اور مڈل ایسٹ میں کویت، قطر، عمان اور مصر، افریقہ میں نائجیریا، انگولا، لیبیا اور الجیریا، امریکی براعظم میں کینیڈا، میکسیکو اور برازیل اور وسطی ایشیا میں قازقستان اور آذربائیجان سے بھی بھارت تیل درآمد کرتا ہے۔ قطر سے بھارت اپنی ایل این جی کی مجموعی درآمد کا تقریباً 47-50 فیصد حاصل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، عمان، نائجیریا، انگولا، آسٹریلیا اور امریکہ سے بھی ایل این جی درآمد کی جاتی ہے۔ کھانا پکانے والی گیس کے لیے بھارت بنیادی طور پر قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر انحصار کرتا ہے اور اب امریکہ بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اتنی اہمیت کیوں؟
آبنائے ہرمز کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار اس کے راستے سے گزرتی ہے۔ بھارت کی توانائی کی سلامتی کے لیے اس اسٹریٹ کی حفاظت اور متبادل ذرائع سے تیل و گیس کی درآمد کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ بھارت کی سفارتی کوششیں اور ملکی پیداوار میں اضافہ اس بات کی ضمانت ہے کہ عالمی کشیدگی کے باوجود توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
داغ دہلوی کی 121ویں برسی، ایسا بڑا شاعر جس کے شاگرد تھے علامہ اقبالؒ
حیدرآباد، تلنگانہ: اردو کے معروف شاعر داغ دہلوی جن کا نام نواب مرزا خان اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 17 مارچ 1905 کو یعنی 74 برس کی عمر میں حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ دہلوی دہلی کے محلہ چاندنی چوک میں پیدا ہوئے تھے جب کہ اب اس کا نام کوچہ استاد داغ کے نام سے موسوم ہے۔ داغ دہلوی کا کلام دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہے۔ اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔
حیدرآباد، تلنگانہ: اردو کے معروف شاعر داغ دہلوی جن کا نام نواب مرزا خان اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 17 مارچ 1905 کو یعنی 74 برس کی عمر میں حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ دہلوی دہلی کے محلہ چاندنی چوک میں پیدا ہوئے تھے جب کہ اب اس کا نام کوچہ استاد داغ کے نام سے موسوم ہے۔ داغ دہلوی کا کلام دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہے۔ اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔
داغ کے زمانے میں زبان کی دو سطحیں تھیں ایک علمی اور دوسری عوامی، غالب علمی زبان کے نمائندے تھے اور داغ کی شاعری عوامی تھی، وہ عوام سے گفتگو کرتے تھے۔ داغ فطری شاعر تھے اور ان کے موضوعات میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ داغ کی حیدرآباد میں مقبولیت اور شہرت کا راز ان کی خوش اخلاقی، ملنساری، خودداری اور ہمدردی تھا۔ حیدرآباد آنے سے پہلے لوگ، داغ کو اچھی جانتے تھے۔داغ دہلوی کی 121ویں برسی
داغ کے حیدرآباد آنے سے پہلے ان کا دیوان، گلزار داغ حیدرآباد پہنچ چکا تھا۔ دکن حیدرآباد کے نظام نواب میر محبوب علی خاں بہادر بھی داغ کی شخصیت اور شاعری کے مداح تھے اور ریاست حیدرآباد دکن کے عوام داغ کی شاعری کے شیدائی تھے۔ حیدرآباد آنے کے بعد میر محبوب علی خاں بہادر نے داغ کو چار سو روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی۔ داغ دہلوی کو کئی اعزازات سے نوازا گیا اور 3 سال بعد داغ کی تنخواہ ایک ہزار روپے ماہانہ کردی گئی۔
داغ دہلوی کے انتقال پر حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان
حیدرآباد میں داغ کا مکان افضل گنج میں تھا۔ 74 سال کی عمر میں داغ دہلوی کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کی اطلاع پر بادشاہ وقت میر محبوب علی خاں بہادر نے غم کے اظہار کیا اور حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ داغ کی نماز جنازہ عیدالاضحیٰ کے روز تاریخی مکہ مسجد میں ادا کی گئی۔ ان کے جنازہ میں میر محبوب علی خاں بہادر کے علاوہ ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ داغ کی تدفین نامپلی میں واقع درگاہ حضرت یوسفینؒ کے احاطہ میں عمل میں آئی۔
داغ دہلوی کے شاگردوں کی ہزاروں میں تعداد
داغ دہلوی کے تعلق سے یہ مشہور ہے کہ جس تعداد میں ان کو شاگرد میسر ہوئے۔ اتنے کسی اور شاعر کو نہیں مل سکے، ان کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے جس میں سے علامہ اقبالؒ، جگر مرادآبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی قابل ذکر ہیں۔
اردو کے معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل
ان معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ ان کے یوم وفات پر ای ٹی وی بھارت نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی سے خاص بات چیت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ داغ دہلوی اردو غزل کے پائے کے شاعر تھے، انہوں نے اردو غزل کو ایک نئی سمت بخشی ہے جس طرح سے ادبی اصول و ضوابط کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے عام فہم شاعری کی ہے اس کی مثال اب تک کے شعرا میں نہیں ملتی۔
داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے بھلا دیا
انہوں نے کہا تھا کہ المیہ یہ ہے کہ داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے اپنے حوالہ جات و تحقیقی مضامین میں شامل کرنا کم کردیا ہے، جس کی وجہ سے نسل نو سے نہ صرف ایک بہترین شاعری اوجھل ہوتی جا رہی ہے بلکہ خود داغ دہلوی کی شخصیت بھی دور ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ داغ دہلوی سے علامہ اقبالؒ اپنی اصلاح کرواتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ علامہ اقبالؒ کی ابتدائی شاعری کو پڑھیں گے تو اس میں داغ دہلوی کی شاعری کی جھلک ملے گی۔ انہوں نے داغ دہلوی کے کچھ اشعار کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ صرف یہی اشعار نہیں بلکہ داغ دہلوی کے بیشتر اشعار معنی خیز اور پرمغز ہیں، جو نسل نو کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا بڑھتا استعمال صحت کے لیے خطرناک؟
انڈیا کے معروف ڈاکٹروں نے ’وزن کم کرنے والے‘ انجیکشنز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور اُن کے ممکنہ خطرناک اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انجیکشنز موٹاپے اور ذیابیطس کا کوئی جادوئی حل نہیں اور ان کا غیرمنظم استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق انڈیا میں ’مونجارو‘، ’ویگووی‘ اور ’اوزمپک‘ جیسے بھوک کم کرنے والے انجیکشنز کی طلب میں رواں برس غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف آٹھ ماہ میں ’مونجارو‘ انڈیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا بن گئی ہے جو اینٹی بائیوٹکس کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
اس کامیابی کے بعد دواساز کمپنی ’ایلی للی‘ نے اسی طرح کی ایک نئی میڈیسن پر تحقیق شروع کر دی ہے جو اگلے سال گولی (ٹیبلٹ) کی صورت میں دستیاب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب دواساز کمپنی ’نوو نورڈسک‘ نے بھی اوزمپک کو متعارف کرایا ہے تاہم ان دواؤں کی قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برس کئی دواؤں کے پیٹنٹ ختم ہو جائیں گے، جس کے بعد مقامی کمپنیاں سستے متبادل متعارف کرائیں گی اور مارکیٹ میں ان ادویات کی بھرمار ہو جائے گی۔
ڈاکٹروں کے مطابق انڈیا میں بعض شہریوں کو موٹاپے اور ذیابیطس کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 20 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ موٹاپے کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔سرجن ڈاکٹر موہت بھنڈاری اور دیگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان انجیکشنز کا بے جا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ادویات پٹھوں کی کمزوری، لبلبے کی سوزش، پتے میں پتھری اور بعض صورتوں میں بینائی کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان دواؤں کی فراہمی اور تجویز کو سخت ضابطوں کے تحت لایا جائے۔
کئی ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ انجیکشنز اب جمز اور بیوٹی کلینکس پر بھی بغیر مکمل طبی جانچ کے فروخت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان خطرناک ہے اور حکومت کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔
ماہرینِ صحت اس بات پر متفق ہیں کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز مددگار ہو سکتے ہیں مگر اصل حل صحت مند غذا، ورزش اور طرزِِ زندگی میں تبدیلی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادویات عارضی سہارا ہو سکتی ہیں لیکن مستقل صحت کے لیے زندگی گزارنے کے طریقے بدلنا ناگزیر ہے۔