*🛑فیفا ورلڈ کپ فائنل سے قبل فٹبال کا جنون عروج پر، کیرالہ میں پیر کو اسکولوں اور کالجوں میں تعطیل، ریاست میں جشن کا ماحول*
ترواننت پورم: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے پیش نظر کیرالہ حکومت نے پیر کے روز ریاست کے تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ وی ڈی ستیسن کی ہدایت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ریاست کے طلبہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے پیر کو تعطیل کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ طلبہ اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فائنل رات دیر تک اطمینان سے دیکھ سکیں اور اگلی صبح کلاسوں میں حاضری کی فکر نہ ہو۔ فائنل پیر کو ہندوستانی وقت کے مطابق رات 12:30 بجے شروع ہونا ہے۔ حکومت کے فیصلے کے تحت جنرل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے تمام اسکولوں کے علاوہ ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے تحت آنے والے کالجوں، یونیورسٹیوں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں بھی تعطیل رہے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ فائنل جیسے بڑے کھیلوں کے مقابلے کو دیکھنے کا موقع طلبہ کے لیے بھی خاص ہوتا ہے، اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے رہیں گے بند
ہائر ایجوکیشن منسٹر روزی ایم جان نے بتایا کہ پیر کے روز تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے بند رہیں گے، تاکہ طلبہ کسی پریشانی کے بغیر فائنل میچ سے لطف اندوز ہو سکیں۔ وہیں جنرل ایجوکیشن منسٹر این شمسی الدین نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اسکولوں میں تعطیل کی تصدیق کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا، ’’اب خوش ہو، بچوں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلبہ کے جذبات اور ان کے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔
کیرالہ میں فٹبال کسی تہوار سے کم نہیں
کیرالہ میں فٹبال کی مقبولیت کسی تہوار سے کم نہیں ہے۔ ریاست کے کئی علاقوں میں سڑکوں، چوراہوں اور کھیل کے میدانوں پر اسپین اور ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کے بڑے بڑے کٹ آؤٹ لگائے گئے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے حامیوں نے جھنڈوں، بینروں اور سجاوٹی دروازوں کے ذریعے ماحول کو رنگین بنا دیا ہے۔ مقامی فین کلبوں نے بھی عوامی اسکریننگ، ریلیوں اور جشن کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، جس کے باعث پوری ریاست میں جشن کا ماحول ہے۔
کئی اضلاع میں پہلے ہی تعطیل کا اعلان
ریاستی حکومت کے اعلان سے قبل ایرناکولم سمیت کئی اضلاع کے بعض اسکولوں نے طلبہ اور والدین کے مطالبے پر اپنی سطح پر ہی تعطیل کا اعلان کردیا تھا۔ بعد میں ریاستی حکومت کے فیصلے سے پورے کیرالہ میں یکساں انتظام نافذ ہوگیا۔ اس فیصلے کے بعد طلبہ، اساتذہ اور والدین کے درمیان موجود کسی بھی طرح کی الجھن بھی ختم ہوگئی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ فائنل کو لے کر پورے کیرالہ میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ عوامی ویونگ سینٹرز، بڑی ایل ای ڈی اسکرینوں اور خصوصی پروگراموں کے درمیان لاکھوں فٹبال شائقین اپنی پسندیدہ ٹیم کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ کھیل کے تئیں کیرالہ کے لوگوں کا یہ گہرا لگاؤ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ریاست میں فٹبال محض ایک کھیل نہیں، بلکہ لوگوں کی ثقافت اور جنون کا ایک اہم حصہ ہے۔
*🛑وانگچک کی اسپتال منتقلی کے بعد ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کردی*
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رہے ہیں۔ دیپکے نے یہ اعلان کارکن سونم وانگچک کو دہلی پولیس کے ذریعہ جنتر منتر کے احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد کیا۔
ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "میں ابھی سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رہا ہوں۔
"پولیس نے طبی مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے سونم وانگچک کو ہفتہ کے اوائل میں اسپتال منتقل کیا ہے۔وانگچک گزشتہ 21 دنوں سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔
پولیس کی کارروائی کے بعد، دیپکے نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے اُن کے ساتھ مار پیٹ کی اور حراست میں لے لیا۔ انھوں نے اس پوری کارروائی کو جنتر منتر پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن قرار دیا۔ تاہم، پولیس نے کہا کہ وانگچک کو "ضروری طبی دیکھ بھال" کے لیے منتقل کیا گیا ہے اور مظاہرین سے پرامن طریقے سے جگہ خالی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود طلباء تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کے ارکان نیہا، امین اور منیش نے 21ویں دن بھی احتجاجی مقام پر بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔ اے آئی ایس اے کے مطابق مظاہرین نے ان کے گرد انسانی زنجیر بنائی اور پولیس کو زبردستی انہیں ہٹانے سے روک دیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق تین طلبہ کارکنوں کی صحت خراب ہوگئی ہے۔ منتظمین نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے انہیں احتجاج کے مقام سے حراست میں لینے کی کوشش کی۔
نیہا نے الزام لگایا کہ ہفتہ کی صبح تقریباً سات بجے، "سادہ کپڑوں میں کچھ لوگ اسٹیج ایریا میں داخل ہوئے"، جس کے بعد وانگچک کو طبی امداد فراہم کرنے کے نام پر پولیس زبردستی لے گئی۔
منتظمین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کارکنوں کی حمایت میں جنتر منتر پر جمع ہوں کیونکہ بھوک ہڑتال ہفتہ کو 21ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
وہیں، عام آدمی پارٹی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کی حمایت اور پولیس کارروائی کی مخالفت کی ہے۔
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے ہفتہ کے روز کارکن سونم وانگچک کو دہلی پولیس کے ذریعہ اسپتال منتقل کرنے پر سخت تنقید کی۔ عآپ نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا الزام لگایا اور طلباء سے اپیل کی کہ وہ وانگچک کی تحریک کی حمایت جاری رکھیں۔
راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ وانگچک کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے انہیں زبردستی اسپتال منتقل کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز کے کسی نمائندے نے ان کے انشن کے دوران کارکن سے بات نہیں کی اور الزام لگایا کہ پولیس نے جنتر منتر پر جمع ہونے والے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔
سنگھ نے مزید الزام لگایا کہ یہ کارروائی 20 جولائی کو 'چلو سنسد' کے مجوزہ مارچ سے پہلے کی گئی ہے۔ عآپ لیڈر نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ وانگچک کے احتجاج کی حمایت جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس ایکشن کے ذریعے تحریک کو دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
*🛑مسلسل لیپ ٹاپ پر کام کرنا یا دیر تک گردن جھکا کر موبائل دیکھنا ،اس بیماری کو دعوت دینا*
نئی دہلی : آج کی تیز رفتار زندگی میں ہماری روزمرہ کی عادات تیزی سے بدل رہی ہیں۔ دفتر میں گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کام کرنا، مسلسل موبائل فون استعمال کرنا اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی جیسی عادات صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ انہی مسائل میں ایک عام بیماری سروائیکل درد ہے، جو پہلے زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں دیکھی جاتی تھی، لیکن اب نوجوان بھی تیزی سے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق مسلسل لیپ ٹاپ پر کام کرنا یا دیر تک گردن جھکا کر موبائل دیکھنا گردن کے پٹھوں اور ہڈیوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ ابتدا میں معمولی درد، کھنچاؤ اور تھکن محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔گردن میں ریڑھ کی ہڈی کا ایک حصہ موجود ہوتا ہے جسے “سروائیکل اسپائن” کہا جاتا ہے۔ یہ حصہ گردن کو سہارا دیتا ہے اور اسے آسانی سے حرکت دینے میں مدد کرتا ہے۔ سروائیکل اسپائن سات چھوٹی ہڈیوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن کے درمیان موجود ڈسکس جھٹکوں کو برداشت کرتی ہیں اور گردن کی حرکت کو آسان بناتی ہیں۔ جب ان ہڈیوں، ڈسکس یا اعصاب پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو گردن میں درد، اکڑاؤ اور کھنچاؤ محسوس ہونے لگتا ہے، جسے عام زبان میں سروائیکل کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ درد کندھوں، بازوؤں اور انگلیوں تک بھی پہنچ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط انداز میں بیٹھنا سروائیکل کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر کام کرتے وقت اگر گردن مسلسل آگے کی طرف جھکی رہے تو پٹھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتا ہے، کیونکہ دیر تک گردن نیچے رکھ کر فون دیکھنے سے گردن پر معمول سے کئی گنا زیادہ وزن پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک ہی جگہ پر طویل وقت تک بیٹھے رہنا، غلط انداز میں سونا، اونچا تکیہ استعمال کرنا، اچانک بھاری وزن اٹھانا یا گردن پر چوٹ لگنا بھی سروائیکل کی وجوہات بن سکتی ہیں۔سروائیکل کی ابتدائی علامات میں گردن کا ہلکا درد، اکڑاؤ اور حرکت میں دشواری شامل ہیں۔ بعض افراد کو صبح اٹھنے کے بعد گردن گھمانے میں مشکل پیش آتی ہے، جبکہ کندھوں میں درد، سر کا بھاری پن یا ہاتھوں میں سنسناہٹ بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ اگر درد مسلسل برقرار رہے یا ہاتھوں میں کمزوری آنے لگے تو اسے ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ماہرین کے مطابق سروائیکل سے بچاؤ کے لیے روزمرہ کی عادات میں معمولی تبدیلی کافی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ کام کرتے وقت سیدھا بیٹھیں، کمپیوٹر کی اسکرین کو آنکھوں کی سطح پر رکھیں، مسلسل بیٹھنے کے بجائے وقفے وقفے سے اٹھ کر چہل قدمی کریں اور گردن کو آرام دیں۔ موبائل استعمال کرتے وقت گردن زیادہ دیر تک نہ جھکائیں، روزانہ ہلکی ورزش کریں اور سوتے وقت ایسا تکیہ استعمال کریں جو گردن کو قدرتی اور آرام دہ حالت میں رکھ سکے۔