Saturday, 9 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال
اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے کے برابر درجہ دینے کی مخالفت، کہا : ’ملک کوئی دیوی نہیں‘’ملک کوئی دیوی نہیں‘، اویسی نے ’وندے ماترم‘ کو ’جن گن من‘ کے برابر درجہ دینے پر اعتراض جتایا
مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے جس میں ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے ’جن گن من‘ کے مساوی قانونی تحفظ دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ اویسی نے کہا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب، دیوی یا دیوتا کے نام پر قائم نہیں ہے اور نہ ہی ملک کو کسی مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔مرکزی کابینہ نے حال ہی میں ایک تجویز کو منظوری دی ہے جس کے تحت ’وندے ماترم‘ کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہوگا جو اس وقت قومی ترانے ’جن گن من‘ کو حاصل ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ ’جن گن من‘ ہندوستان اور اس کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، نہ کہ کسی خاص مذہب کی۔ ان کے مطابق مذہب اور قوم ایک چیز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ ایک دیوی کی مدح میں لکھا گیا گیت ہے، اس لیے اسے قومی ترانے کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔

اویسی نے مزید کہا کہ ہندوستانی آئین کی تمہید ’’ہم، ہندوستان کے لوگ‘‘ سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ ’’بھارت ماتا‘’ کے نام سے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین ہر شہری کو سوچ، اظہار، عقیدے اور عبادت کی آزادی دیتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے جہاں کسی ایک مذہبی تصور کو قومیت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آزادی کی تحریک کے کئی بڑے رہنما، جن میں مہاتما گاندھی،جواہرلعل نہرو، رابندرناتھ ٹائیگور اور سبھاش چندرابوس شامل ہیں، ’وندے ماترم‘ کے بعض حصوں پر تحفظات رکھتے تھے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ اس گیت کے مصنف Bankim Chandra Chattopadhyay مسلمانوں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دستور ساز اسمبلی میں کچھ اراکین چاہتے تھے کہ آئین کا آغاز کسی دیوی یا خدا کے نام سے کیا جائے، لیکن ایسی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اویسی کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی بنیاد مذہبی قومیت پر نہیں بلکہ عوامی جمہوریت پر رکھی گئی تھی۔

دوسری جانب تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رامچندر راؤ نے اویسی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم ہر اس کوشش کی مخالفت کرتی ہے جس کا مقصد قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہو۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ اویسی صرف ’وندے ماترم‘ ہی نہیں بلکہ یکساں سول کوڈ، تین طلاق کے خاتمے اور دیگر قومی اصلاحات کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ’وندے ماترم‘ اور ’جن گن من‘ کے معاملے پر یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک طرف حکومت اسے قومی وقار اور ثقافتی شناخت کا معاملہ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اور مسلم تنظیمیں اسے مذہبی حساسیت اور آئینی سیکولرازم سے جوڑ رہی ہیں۔








کیا وجے۔ وی سی کے اتحاد طے پا گیا؟ ای پی ایس کے ٹوئٹ نے تمل ناڈو حکومت سازی پر نئی قیاس آرائیاں چھیڑ دیں
تمل ناڈو کی سیاست میں جاری سنسنی خیز رسہ کشی نے ہفتہ کے روز ایک نیا موڑ لے لیا، جب AIADMK جنرل سکریٹری ایڈاپڈی کے پلانی سوامی (ای پی ایس) کے ایک مختصر مگر معنی خیز مبارکبادی پیغام نے سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا۔ سیاسی مبصرین اب اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت ’’تملگا ویٹری کڑگم‘‘ (TVK) نے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کر لی ہے یا نہیں۔

ای پی ایس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں لکھا :
’’حال ہی میں منعقدہ 17ویں تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ میں تمل ناڈو میں حکومت بنانے والی جماعت کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘یہ پیغام بظاہر ایک رسمی مبارکباد معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے الفاظ اور وقت نے پورے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ اس وقت وجے کی پارٹی ٹی وی کے حکومت بنانے کے لیے اکثریت ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

وجے کی پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری
حالیہ اسمبلی انتخابات میں وجے کی جماعت TVK نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 107 نشستیں جیت لیں، جس کے بعد تمل ناڈو کی دہائیوں پر محیط ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی سیاسی اجارہ داری کو شدید دھچکا پہنچا۔ تاہم 234 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 118 نشستوں کی ضرورت ہے، جس کے باعث ٹی وی کے اکثریت سے ابھی بھی کچھ فاصلے پر ہے۔

کانگریس نے بعد میں وجے کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ سی پی آئی اور سی پی ایم نے بھی اس خدشے کے تحت ٹی وی کے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا کہ کہیں ریاست میں بی جے پی کی بالواسطہ حکومت قائم نہ ہو جائے۔

اب پوری سیاسی توجہ ’’ودوتھلئی چرُتھائیگل کچّی‘‘ (VCK) پر مرکوز ہے، جس کے پاس فیصلہ کن کردار موجود ہے۔ وی سی کے نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام 4 بجے اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کرے گی۔

ای پی ایس کے بیان نے کیوں بڑھائی بے چینی؟
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ای پی ایس نے اپنے پیغام میں ’’حکومت بنانے والی جماعت‘‘ کا ذکر کرکے دراصل یہ اشارہ دیا ہے کہ وجے نے مطلوبہ حمایت حاصل کر لی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ چند روز قبل AIADMK کے ایک رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’میرا لیڈر وزیر اعلیٰ بنے گا‘‘، جس کے بعد مختلف سیاسی فارمولوں اور پس پردہ مذاکرات کی افواہیں مزید تیز ہو گئی تھیں۔

ڈی ایم کے مخالف قوتیں متحرک
تمل ناڈو کی سیاست میں اس وقت ایک اہم مقصد یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ کسی بھی صورت ریاست میں صدر راج نافذ نہ ہونے دیا جائے۔ اسی لیے ڈی ایم کے مخالف جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آتی دکھائی دے رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وجے نے حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ راج بھون جا کر گورنر راجیندر وشواناتھ آرلیکر سے ملاقات کی ہے۔ گورنر نے واضح کیا ہے کہ حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے والی جماعت کو اسمبلی میں اکثریت کے ثبوت دینا ہوں گے۔

اسی دوران چھوٹی جماعتیں کنگ میکر بن چکی ہیں اور ان کی حمایت یا مخالفت ہی طے کرے گی کہ تمل ناڈو کا اگلا چیف منسٹر کون ہوگا۔

تمل ناڈو کی سیاست کئی دہائیوں سے DMK اور AIADMK کے گرد گھومتی رہی ہے۔ لیکن فلم اسٹار وجے کی سیاست میں آمد نے اس روایتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نوجوان ووٹرز، شہری طبقے اور ڈی ایم کے مخالف حلقوں میں وجے کو غیرمعمولی حمایت حاصل ہوئی۔

ٹی وی کے کی غیرمتوقع کامیابی نے نہ صرف ڈی ایم کے بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کو بھی نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر وجے واقعی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی تصور کی جائے گی۔








ٹرمپ کو ایران کے جواب کا انتظار، مغربی ایشیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لئےایران کامثبت جواب ضروری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران آج رات واشنگٹن کی اُس تجویز پر اپنا جواب دے گا جس کا مقصد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور تنازع کو ختم کرنا ہے۔

جمعہ کے روز ورجینیا کے شہر اسٹرلنگ میں واقع اپنے گالف کلب میں عشائیے کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا،
’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ شاید آج رات ایران کی جانب سے جواب موصول ہو جائے گا۔‘‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران جان بوجھ کر مذاکراتی عمل کو سست کر رہا ہے، تو ٹرمپ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا،
’’ہم بہت جلد جان لیں گے۔‘‘

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مغربی ایشیا میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔اس سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کہا تھا کہ واشنگٹن جمعہ کے روز ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے اور امریکہ کو امید ہے کہ تہران کی طرف سے سنجیدہ پیشکش سامنے آئے گی۔

روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا،
’’ہمیں امید ہے کہ آج کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرور ہوگی۔‘‘

مارکو روبیو اس وقت اٹلی اور ویٹیکن کے دورے پر ہیں، جہاں وہ امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آخری اطلاعات تک ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے اندرونی سیاسی اور انتظامی مسائل بھی تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہو سکتے ہیں۔
روبیو کے مطابق :
’’ایران کا نظام اس وقت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے اور اس میں فیصلہ سازی کا عمل غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے، یہی صورتحال مذاکراتی پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایران کا جواب ایک ’’سنجیدہ اور بامعنی مذاکراتی عمل‘‘ کی راہ ہموار کرے گا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق امریکی منصوبے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کے بارے میں بھی اہم اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال میں بہتری نہ آئی تو امریکہ اس منصوبے کے ایک نئے اور زیادہ طاقتور ورژن پر دوبارہ غور کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا،
’’میرے خیال میں پروجیکٹ فریڈم ایک اچھا منصوبہ ہے، لیکن ہمارے پاس اس کے علاوہ بھی کئی راستے موجود ہیں۔ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو ہم پروجیکٹ فریڈم کی طرف واپس جا سکتے ہیں، مگر اس بار یہ پہلے سے زیادہ وسیع ہوگا۔‘‘۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ایران مثبت جواب دیتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام رہی تو خطے میں مزید کشیدگی، بحری خطرات اور اقتصادی بے یقینی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

اردو ہائ LVH اسکول رمضان پورہ دیانے کا روایتی100℅رزلٹ
مالیگاؤں/ مہاتما گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے کے زیر انصرام جاریLVH اردو ہایء اسکول رمضان پورہ دیانے مالیگاؤں جاری تعلیمی سال2026 کا SSC امتحان کا 100℅نتییجہ ظاہر ہوا۔ہر سال کی طرح امسال بھی اسکول نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ 
جس میں اسکول کے زیادہ تر طلباء نے امتیازی کامیابی حاصل کی۔اور کامیابی کی روایت کو برقرار رکھا۔اسی طرح (1)شاذ یہ تسنیم شیخ عمران 82.60℅ , (2) بشراح الطاف شاہ۔ 82.40℅ , (3) مزلفہ عقیل احمد80. 40℅ نمبرات کے ساتھ اول، دوم اور سوم مقام حاصل کر کے اسکول۔ والدین اور خاندان کا نام روشن کیا۔ اس شاندار کامیابی پر اسکول کے تمام ہی طلباء و طالبات اور اسٹاف کو مہاتما گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے کے جنرل سیکریٹری سابق وزیر ڈاکٹر پرشانت دادا ہیرے، سابق ٹیچر MLCڈاکٹر اپورو پرشانت ہیرے، ثقافتی محکمہ کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سمپدا ہیرے، یوا نیتا ڈاکٹر ادوے پرشانت ہیرے نے مبارک باد پیش کی۔ اور اس روایت کو قایم رکھنے اور مزید ترقی کے لیے نیک خواہشات پیش کی۔ اس طرح کی تفصیلی رپورٹ دستگیر احمدMA نے روانہ کی ہے۔








*گوشت کے داموں میں وحشیانہ اضافہ ، جانور کے دام بھی آسمان چھو رہے ہیں، قربانی کیسے ہوگی؟*
*عوام مہنگا گوشت نہ خریدیں ، یا گوشت کا استعمال کم کردیں*

مالیگاوں میں ایک بار پھر غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔ عید قربان سے پہلے گوشت کے داموں میں ہے رحمانہ اور بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ ایک بڑی گوشت کمپنی جانوروں کا فی کلو 315 روپے کا بھاؤ دے رہی ہے، جس کی وجہ سے عام ٹھیلہ گاڑیوں پر گوشت 280 سے 340 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

مالیگاوں غریب مزدوروں کا شہر ہے۔ یہاں کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اور اب گوشت تو ان کے لیے خواب بنتا جا رہا ہے۔

پچھلے الیکشن میں گوشت کے دام کم کرنے کے جھوٹے وعدوں اور واویلا کرنے والے لیڈران آج بالکل خاموش ہیں۔ کوئی ایک بھی عوام کے حق میں منہ کھولنے کو تیار نہیں۔ الٹا گوشت کمپنی نے مقامی قریش برادری کے ہزاروں غریب مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ کمپنی باہر کے مزدوروں کو نوکریاں دے رہی ہے جبکہ مقامی لوگوں کا خون پسینہ کا ایک پیسہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ مقامی مزدوروں کا دن رات استحصال کیا جا رہا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ گوشت مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ جانور بھی تیزی سے مہنگے ہو رہے ہیں۔ اگر یہی لوٹ مار جاری رہی تو اس سال غریب اور متوسط طبقہ کے لیے قربانی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔امیر لوگ تو آرام سے جانور خرید سکتے ھيں لیکن عام آدمی کو قربانی کے لیے قرض لینا پڑے گا یا پھر شرمندگی سے دیکھتے رہنا پڑے گا

ہم سیاسی لیڈران اور انتظامیہ سے سیدھا سوال کرتے ہیں:

کیا آپ غریبوں کا خون چوسنے والی اس کمپنی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے ہیں؟

کیا آپ مقامی مزدوروں کی بے روزگاری اور استحصال کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کیے رکھیں گے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ فوری طور پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ گوشت اور جانوروں کے بڑھتے دام روکے جائیں، مقامی قریش برادری کے مزدوروں کو ان کا حق دیا جائے اور کمپنی کے غیر منصفانہ طریقوں پر لگام لگائی جائے۔

بصورت دیگر عوام اب صبر کی آخری حد پر پہنچ چکی ہے۔ اگر فوری طور پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بنایا گیا تو زبردست عوامی تحریک اور شدید احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ہم شہر کی عوام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ مہنگا گوشت نہ خریدیں یا پھر گوشت کا استعمال کم کردیں ہم ایک دو مہینہ گوشت نہیں کھائیں گے تو کیا بگڑ جائے گا اس لئے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیدار رہیں۔

*محسن کرانہ والا*
وارڈ نمبر 3، مالیگاوں










محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
*ایچ ۔اے۔کے۔ہائی اسکول کی جانب سے تعزیتی پیغام*
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ اطلاع موصول ہوئی کہ محلہ آزاد نگر کی معروف علمی شخصیت جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال ہوگیا۔
ایچ ۔اے۔ کے۔ہائی اسکول ،منماڑ مرحومہ کے انتقال پر دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام اہل خانہ کو صبر جمیل اور اجر عظیم نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

شریکان غم :
صدر واراکین ،
ہیڈماسٹر واسٹاف 
HAK High School and Jr.College,
Manmad.

Thursday, 7 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

ملک کی تقسیم کے وقت پاکستان کو دئے گئے تھے ایسے نوٹ....سال بھر بعد ہی ہوگئے ردی، جانئے کیوں؟
سوشل میڈیا پر تاریخ کے انوکھے قصے اکثر وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک شخص نے 1947 کی تقسیم کا ایک نایاب 1 روپے کا نوٹ شیئر کیا ہے، جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ اس نوٹ پر دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان کا ذکر ہے۔ شخص نے ویڈیو میں بتایا کہ تقسیم کے وقت پاکستان کو ادائیگی کرنے کے لیے ایسے ہی نوٹ استعمال کیے گئے تھے۔ اس نوٹ کی کہانی کافی دلچسپ ہے۔ نوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر ایک طرف “Government of India” اور دوسری طرف “Government of Pakistan” چھپا ہوا ہے۔ کچھ نوٹوں پر انگریزی کے ساتھ اردو میں “حکومتِ پاکستان” بھی درج تھا۔ یہ نوٹ اصل میں برٹش انڈیا کے زمانے کے تھے، جن پر بعد میں پاکستان کے لیے اوور پرنٹ کیا گیا۔

آزادی سے پہلے ایسے نوٹ چلتے تھےمیں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی چیزیں مشترک تھیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) دسمبر 1948 تک دونوں ممالک کے لیے مرکزی بینک کا کردار ادا کر رہا تھا۔ پاکستان کو اپنی الگ کرنسی شروع کرنے میں وقت لگا، اس لیے ابتدائی دنوں میں ہندوستانی روپے کے نوٹوں پر “Government of Pakistan” چھاپ کر استعمال کیا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین اس نوٹ کو دیکھ کر مختلف طرح کے کمنٹس کر رہے ہیں۔ ’’تقسیم کے وقت بھی ایک نوٹ پر دونوں ملک”، “ایک سال بعد یہ نوٹ ردی ہو گئے”، “تاریخ کتنی دلچسپ ہے”۔ بہت سے لوگ اسے شیئر کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ یہ نوٹ تقسیم کے اس ہنگامہ خیز دور کو یاد دلاتا ہے جب سرحدیں بن گئیں لیکن کرنسی ایک تھی۔تاریخی حقائق کے مطابق، پاکستان نے تقریباً ایک سال تک ہندوستانی کرنسی استعمال کی تھی۔ اپریل 1948 سے خصوصی نوٹ جاری کیے گئے، جو صرف پاکستان میں ہی قابلِ قبول تھے۔ یہ نوٹ ہندوستان میں کیش نہیں کیے جا سکتے تھے۔ 1، 2، 5، 10 اور 100 روپے کے نوٹ اس طرح جاری کیے گئے۔ بعد میں پاکستان نے اپنی الگ کرنسی جاری کر دی۔

انتہائی نایاب ہے یہ نوٹ
اس نوٹ کو دیکھ کر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ نوٹ اب بھی کلیکٹرز کے پاس موجود ہیں اور ان کی قیمت کتنی ہے؟ نوٹ کلیکٹرز کے مطابق ایسے نایاب اوور پرنٹ شدہ نوٹ کی قیمت ہزاروں میں ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر اس کی حالت اچھی ہو۔ یہ ویڈیو اور تصاویر دیکھ کر پرانے زمانے کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔ تقسیم کے دوران جائیداد، اثاثوں اور کرنسی کی تقسیم پر دونوں ممالک کے درمیان کافی بحث اور اختلاف ہوا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے سونے چاندی کے ذخائر کی تقسیم بھی تقریباً 70:30 یا 50:50 کے قریب طے ہوئی تھی۔آج جب ہم 1947 کے اس دور کو دیکھتے ہیں تو ایسے نوٹ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک ہی کرنسی، ایک ہی بینک اور کئی مشترک چیزوں کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ سب کچھ الگ ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کو لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔









بنگلہ دیش اور چین میں بڑھ رہی ہے قربت ۔ تیستا ریور پروجکٹ میں چین کی شمولیت ۔ بھارت کے اسٹریٹجک خدشات میں اضافہBangladesh Invites China Into Teesta Project

بنگلہ دیش کا تیستا منصوبے کیلئے چین سے تعاون، بھارت میں نئے اسٹریٹجک خدشات
بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے تیستا ریور کمپری ہینسو مینجمنٹ اینڈ ریسٹوریشن پروجیکٹ (TRCMRP) میں چین کی شمولیت کیلئے باضابطہ طور پر درخواست کردی ہے، جس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نئی کشیدگی اور اسٹریٹجک خدشات پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی ایشیا میں چین کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔یہ معاملہ بدھ کے روز بیجنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ملاقات میں زیر بحث آیا۔ بنگلہ دیشی خبر ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تیستا منصوبے سمیت کئی اہم علاقائی اور اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

تیستا دریا کی اہمیت کیا ہے؟

تیستا دریا بھارتی ریاست سکم اور مغربی بنگال سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ لاکھوں افراد کیلئے آبپاشی، زراعت اور روزگار کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک طویل عرصے سے تیستا کے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس مسئلے پر کئی برسوں سے مذاکرات جاری ہیں۔

یہ دریا بھارت کے حساس “سلی گوڑی کوریڈور” کے قریب واقع ہے، جو بھارت کے مرکزی حصے کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑنے والا انتہائی اہم زمینی راستہ ہے۔ اسی وجہ سے چین کی ممکنہ موجودگی بھارت کیلئے اسٹریٹجک تشویش کا باعث بن رہی ہے۔یہ معاملہ بدھ کے روز بیجنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ملاقات میں زیر بحث آیا۔ بنگلہ دیشی خبر ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تیستا منصوبے سمیت کئی اہم علاقائی اور اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

تیستا دریا کی اہمیت کیا ہے؟

تیستا دریا بھارتی ریاست سکم اور مغربی بنگال سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ لاکھوں افراد کیلئے آبپاشی، زراعت اور روزگار کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک طویل عرصے سے تیستا کے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس مسئلے پر کئی برسوں سے مذاکرات جاری ہیں۔

یہ دریا بھارت کے حساس “سلی گوڑی کوریڈور” کے قریب واقع ہے، جو بھارت کے مرکزی حصے کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑنے والا انتہائی اہم زمینی راستہ ہے۔ اسی وجہ سے چین کی ممکنہ موجودگی بھارت کیلئے اسٹریٹجک تشویش کا باعث بن رہی ہے۔چین کی حمایت اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ

ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چین، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت ڈھاکہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے تیار ہے۔

وانگ یی نے کہا کہ:

“چین بنگلہ دیش کی قومی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ساتھ اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے اور معیشت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی روابط سمیت روایتی شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔”

چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں چین کے تعلقات کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں کسی دوسرے ملک کے اثر سے متاثر ہونا چاہیے۔

بھارت کیلئے کیوں اہم ہے یہ پیش رفت؟

تجزیہ کاروں کے مطابق تیستا منصوبے میں چین کی شمولیت بھارت کیلئے صرف ایک آبی معاملہ نہیں بلکہ ایک اہم جیوپولیٹیکل مسئلہ بن سکتا ہے۔ چین پہلے ہی سری لنکا، پاکستان، نیپال اور مالدیپ میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے ذریعے اپنے اثرات بڑھا چکا ہے۔

بھارت کو خدشہ ہے کہ اگر چین تیستا منصوبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس سے بنگلہ دیش میں بیجنگ کا سیاسی اور اسٹریٹجک اثر مزید مضبوط ہوسکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقے میں جو بھارت کی قومی سلامتی کیلئے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔

بھارت نے 2024 میں تیستا بیسن کی تکنیکی ترقی اور تحفظ کیلئے بنگلہ دیش کو تعاون کی پیشکش بھی کی تھی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم اب ڈھاکہ کی جانب سے چین کی طرف جھکاؤ کو نئی دہلی میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

شیخ حسینہ کے بعد نئی سفارتی سمت
یہ پیش رفت سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔ نئی حکومت کے سربراہ طارق رحمان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین اور پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے، جس پر بھارت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

خلیل الرحمان کا چین کا یہ دورہ فروری میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دورہ ان کے حالیہ دورۂ بھارت کے چند ہفتوں بعد ہوا، جسے بھی خطے میں بدلتی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

گنگا پانی معاہدہ بھی اختتام کے قریب
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 1996 میں ہونے والا ’’گنگا واٹر ٹریٹی‘‘ بھی اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے۔ اگر اس معاہدے کی تجدید نہ ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔

تائیوان کے معاملے پر بنگلہ دیش کی چین حمایت
بیجنگ ملاقات کے دوران بنگلہ دیش نے تائیوان کے معاملے پر بھی چین کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا۔ بنگلہ دیش نے کہا کہ :

’’تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے اور بنگلہ دیش کسی بھی قسم کی تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا۔‘‘

جواب میں چین نے بھی بنگلہ دیش کی ’’قومی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت‘‘ کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ بنگلہ دیش کے عوام کی منتخب ترقیاتی راہ کی حمایت جاری رکھے گا۔

تیستا دریا کی پانی تقسیم کا تنازع بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ 2011 میں دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ معاہدہ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی کی مخالفت کے باعث مکمل نہ ہوسکا تھا۔ اس کے بعد سے بنگلہ دیش مسلسل اس مسئلے کے مستقل حل کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

چین نے گزشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیش میں بندرگاہوں، سڑکوں، توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب تیستا منصوبے میں ممکنہ شمولیت کو بھی اسی وسیع جغرافیائی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔










بدل گئے 60 سال پرانے قوانین، سرکار نے کردیا ایسا انتظام، فورا نکلے گا 75 فیصد پیسہ
نئی دہلی: ایمپلائیز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (Employees’ Provident Fund Organisation – EPFO) اپنے کروڑوں کھاتہ داروں کے لیے اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کرنے جا رہا ہے۔ ای پی ایف او 3.0 نام کی اس نئی اسکیم کے آنے کے بعد پی ایف سے پیسہ نکالنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا جتنا بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکالنا ہوتا ہے۔ پچھلے تقریباً 60 سالوں سے پی ایف کا پیسہ نکالنے کے لیے لوگوں کو لمبی کاغذی کارروائی اور دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے، لیکن اب یہ سب ماضی کی بات ہونے والی ہے۔

ای پی ایف او 3.0 کے تحت سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اب آپ اپنے پی ایف کا پیسہ سیدھا اے ٹی ایم (ATM) یا یو پی آئی (UPI) کے ذریعے نکال سکیں گے۔ ابھی تک پی ایف نکالنے کے لیے آن لائن فارم بھرنا پڑتا تھا اور پھر کمپنی کی منظوری کا انتظار کرنا ہوتا تھا، جس میں کافی وقت لگ جاتا تھا۔ لیکن نئے نظام میں آپ اپنے پی ایف بیلنس کا 75 فیصد حصہ فوراً یو پی آئی کے ذریعے نکال سکیں گے۔اس کے لیے نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (National Payments Corporation of India) کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے، تاکہ گوگل پے (Google Pay) اور فون پے (PhonePe) جیسے ایپس کے ذریعے بھی یہ ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ، ای پی ایف او ہر ممبر کو ایک خاص پی ایف اے ٹی ایم کارڈ بھی دے گا، جس سے آپ کسی بھی مشین سے اپنے بیلنس کا 50 فیصد تک نقد نکال سکیں گے۔

ضابطے میں بڑی تبدیلی، اب صرف 3 کیٹیگری
اس نئے سسٹم میں صرف پیسہ نکالنے کا طریقہ ہی نہیں بدلا ہے، بلکہ پورے عمل کو چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ پہلے پی ایف نکالنے کے لیے 13 مختلف کیٹیگریز ہوتی تھیں، جنہیں اب گھٹا کر صرف 3 کر دیا جائے گا۔ سب سے بڑی راحت کی بات یہ ہے کہ اب آٹو سیٹلمنٹ (Auto-settlement) یعنی بغیر کسی انسانی مداخلت کے پیسہ ملنے کی حد کو بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ 5 لاکھ تک کے دعووں کا تصفیہ کمپیوٹر خود بخود کر دے گا۔ اب زیادہ تر معاملات میں آپ کو اپنی کمپنی سے منظوری لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔کتنا پیسہ PF اکاؤنٹ میں رکھنا ضروری ہوگا؟
پیسہ نکالنے کی اس دوڑ میں آپ کا ریٹائرمنٹ کا پیسہ ختم نہ ہو جائے، اس کے لیے ای پی ایف او نے ایک اہم اصول بنایا ہے۔ چاہے آپ اے ٹی ایم سے پیسے نکالیں یا یو پی آئی سے، آپ کو اپنے اکاؤنٹ میں کم از کم 25 فیصد بیلنس ہمیشہ برقرار رکھنا ہوگا۔ آپ اپنا پورا پی ایف اس طریقے سے نہیں نکال سکیں گے۔ سیکورٹی کے لیے آدھار (Aadhaar) پر مبنی او ٹی پی (OTP) سسٹم کا استعمال کیا جائے گا، جس سے پورا عمل 24 گھنٹوں کے اندر مکمل ہو جائے گا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2026 کے وسط تک اس پورے نظام کو نافذ کر دیا جائے۔ اس سے ان مزدوروں اور ملازمین کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا جو انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال نہیں جانتے یا جنہیں ایمرجنسی میں فوری نقدی کی ضرورت ہوتی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


آصف ہارون سر کی 17ویں کتاب کی شاندار رسمِ رونمائی، تعلیمی حلقوں میں زبردست پذیرائی
نوجوان سائنسداں خطاب یافتہ ڈاکٹر تنویر خان اور ڈاکٹر غیاث الدین عثمانی کی خصوصی شرکت
جلگاؤں (شیخ زیّان احمد) شہر کی قدیم درس گاہ نیز اُمُّ المدارس،انجمن ِ تعلیم المسلمین،جلگاؤں کی زیر سرپرستی میں ایک پروقار اور شاندار تقریب میں 12ویں جماعت (مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ) کے طلبہ کے لیے تیار کردہ معروف معلم، جونیئرلیکچرر اور مصنف شیخ آصف ہارون سر کی 17ویں تصنیف ”A Compelete Solution of Chemistry Practicle for HSC Students“کی رسمِ رونمائی انجام پائی۔ اس تقریب میں تعلیمی، سماجی اور علمی میدان سے وابستہ معزز شخصیات، عمائدین شہر،اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت نیز کتاب کی رونمائی انجمن کے صدراعجاز احمد عبدالغفار ملک کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ اس موقع پرانجمن کے جنرل سیکریٹری امین الدین بادلی والا، نائب صدرسید چاند، نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہئ آئل ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر جی۔ اے۔ عثمانی نیز نوجوان سائنسدان ڈاکٹر تنویر خان (وائس پرنسپال: اقراء تھم کالج،مہرون،جلگاؤں) بطور مہمانانِ خصوصی موجود تھے۔ علاوہ ازیں پرنسپال ڈاکٹر بابو شیخ، وائس پرنسپال نعیم بشیر سر،سوپروائزر ناظم خان سر جملہ اساتذہ کرام اور دیگر معززین بھی شریک رہے۔ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا بعدازیں مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔شعبہئ کیمیاء کے صدر آصف خورشید سر نے اس پریکٹیکل بُک کی تصنیف وتالیف کا پس منظر،غرض غائیت اور موجود ہ دور میں اس کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں آصف ہارون سر کی علمی و تدریسی خدمات کوخوب تحسین پیش کی اور کہا کہ ایسی کتابیں خصوصاً اُردو میڈیم کے سائنس کے طلبہ کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دَور میں معیاری اور آسان فہم تعلیمی مواد کی اشد ضرورت ہے جسے آصف ہارون سر بخوبی پورا کر رہے ہیں۔
 مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے کیمسٹری پریکٹیکل ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے اور یہ نئی کتاب طلبہ کو نہ صرف تجربات کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ امتحان میں بہترین کارکردگی کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرے گی۔ اس کتاب کو جدید نصاب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں طلبہ کی سہولت کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔اللہ اسے تمام طلبہ کی تعلیمی تشنگی کو پورا کرنے کا ذریعہ بنائے۔اپنے خطاب میں آصف ہارون سر نے تمام شرکاء نیزمہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مقابلہ کے اس درو میں طلبہ کو آسان، معیاری اور مکمل تعلیمی رہنمائی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی 17ویں کتاب ہے اور آئندہ بھی وہ اسی جذبے کے ساتھ تعلیمی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ شرکاء نے آصف ہارون سر کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور اس کتاب کی مقبولیت نیز روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تقریب کی نظامت آصف مرزا سر نے بحسن وخوبی انجام دی جبکہ آئے ہوئے مہمانان کا شکریہ ادارہئ ہٰذا کے سوپروائزر ناظم خان سر نے ادا کیا۔اس موقع پر خوشی اور فخر کا ماحول دیکھنے میں آیا اور تعلیمی حلقوں نے اس کاوش کو بے حد سراہاجارہا ہے۔

تصویر میں: ۱) کتاب کی رونمائی میں دائیں سے ناظم خان سر،نعیم بشیر سر،اعجاز ملک صاحب،آصف ہارون سر،ڈاکٹر بابو شیخ،آصف خورشید سر،مختار خان سر اور رئیس غنی سر کو دیکھا جاسکتا ہے۔
 ۲) کتاب کی رونمائی میں دائیں سے ناظم خان سر،نعیم بشیر سر،ڈاکٹر غیا ث الدین عثمانی صاحب،آصف ہارون سر،ڈاکٹر بابو شیخ،سُہیل رحمانی سر، ڈاکٹر تنویر صاحب،مختار خان سر،آصف خورشید سر، اور رئیس غنی سر کو دیکھا جاسکتا ہے۔








اردو میڈیا سینٹر میں ۹ مئی کو افسانوی نشست
__________________________
ادب دراصل انسانی زندگی کی تہذیب و تطہیر کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ ایک اچھا شعر، ایک عمدہ افسانہ اور ایک معیاری تخلیق وہی ہوتی ہے جو انسان کے باطن کو سنوارے، اس کی پراگندہ سوچ کو سمیٹے اور اسے زندگی کے بیکراں سمندر سے ہم آہنگ کر دے۔ ایسی تخلیقات کے مطالعے کے بعد زندگی نہ صرف بامعنی محسوس ہوتی ہے بلکہ اس میں مقصدیت کی جھلک بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔
اسی ادبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے انجمن محبانِ ادب، مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام ایک پُر وقار افسانوی نشست کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
یہ نشست اردو میڈیا سینٹر میں، ۹ مئی بروز سنیچر منعقد ہوگی، جس کی صدارت محترم جناب لئیق انور صاحب فرمائیں گے، جبکہ نظامت کے فرائض عزیز اعجاز صاحب انجام دیں گے۔
اس نشست میں شہر کے ممتاز قلمکارانِ ادب اپنے افسانے پیش کریں گے، جن میں:
صابر گوہر صاحب
منصور اکبر صاحب
ابنِ آدم صاحب
اشفاق عمر صاحب
عزیز اعجاز صاحب
ہارون اختر صاحب (صدرِ انجمن)
شامل ہیں۔
تمام ادب نواز حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس بامقصد ادبی نشست میں شرکت فرما کر اسے کامیاب بنائیں۔
آپ کی آمد کے منتظر
صدر و اراکین
انجمن محبانِ ادب، مالیگاؤں







*نکاح کو آسان اور برکت والا بناؤ (الحدیث )*....... *21 جوڑوں کے اجتماعی نکاح کا ایک عظیم الشان پروگرام*
   *عوام الناس کو یہ اطلاع دیتے ہوئے نہایت ہی مسرت ہو رہی ہے کہ ایکتا سیوا بھاوی سنستھا مہاراشٹر کی جانب سے شہر مالیگاؤں میں اجتماعی نکاح کا تیسرا عظیم الشان پروگرام مورخہ 2 جون 2026ء بروز منگل کو فردوس لانس، لوٹس لانس کے بازو میں 80 فٹی روڈ ، مالیگاؤں میں منعقد ہوگا*۔ *اس پروگرام میں ہر مکتبہ فکر اور ہر برادری سے تعلق رکھنے والے 21 *جوڑوں کا اجتماعی نکاح ہوگا۔ یہ تقریب صبح 10 بجے منعقد ہوگی *اور ظہر سے قبل اختتام پذیر ہو جائے گی ۔ ان شاء اللہ* ۔۔۔۔ 
*اجتماعی نکاح کا پروگرام منعقد کرنے کا ہمارا مقصد نکاح کو آسان کرنا*، *دولہا اور دلہن کے والدین اور سرپرستوں کو بے جا رسم و رواج، بے جا اخراجات سے بچانا ہے کیونکہ آج کل نکاح اور شادی کے نام پر لاکھوں روپیوں کے اخراجات ہوتے ہیں جس کی بناء پر نکاح مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے*۔ *اجتماعی نکاح کی تقریب میں کم وقت، کم خرچ میں آسانی سے بچے اور بچیوں کا گھر بس جاتا ہے اور وہ تمام احباب ہمیں دعاؤں سے نوازتے ہیں*۔…..
*اجتماعی نکاح کے اس پروگرام میں گھر گرہستی میں لگنے والے تمام ضروری سامان دولہا دلہن سے لی گئی فیس اور سنستھا کی جانب سے دیئے جائیں گے۔ اس کے لئے فارم بھرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ فارم بھرنے کی آخری تاریخ 12 مئی 2026ء ہے۔ لہٰذا وقت کم ہونے کی بناء پر اس اجتماعی نکاح کے پروگرام میں اپنے بچے اور بچیوں کا نکاح کروانے کے خواہش مند ذمہ داران جلد از جلد رابطہ قائم کر کے فارم بھر دیں تاکہ آپ کا نام اس ہونے والے پروگرام میں شامل کیا جا سکے*۔...
*دیگر معلومات کے لئے حافظ طہ اور توصیف انجم صاحبان سے رابطہ قائم کریں*
۔
*فقط: *حافظ طہ*  
*8010618461*

*توصیف انجم*
*8983837588*

*مولانا شیخ افسر، مولانا جمیل، مولانا یاسین ، اعجاز شاھین سر ، عتیق فن گرافکس*

*آفس کا پتہ* : *نمیرہ ہائٹس ، شاپ نمبر 25 ، للے چوک ، اسلام پورہ ۔ مالیگاؤں*









شدت کی گرمی اور چاروں طرف پینے کے پانی کی ہاہاکار، موجودہ برسراقتدار ہر مسائل پر میڈیا پر بات کررہا ہے مگر پانی کے مسائل پر سب خاموش کیوں؟ کیا پانی کی کالابازاری، بلیک میلنگ، اور پانی چوری، یا پھر سابقہ کی طرح پانی بیچا جارہا ہے۔۔ 
بنداس 🖊️

آصف بنداس 
9273019740


مالیگاوءں ان دنوں موسم سرما و شدت کی دھوپ اور گرمی میں شہر کے چاروں طرف پینے کے پانی کی ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ حقیقت میں پانی کی اہمیت بنات حوا ہی جانتی ہے بیچاری بنات حوا پانی پینے کے پانی کے لئے کتنے جتن کرتی ہے تب کہیں پانی وافر ہوتا ہے۔ مگر آج تقریبا" ایک ماہ سے اور جاری شدت کی گرمی میں کارپوریشن واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر صرف یہ بولتا ہیکہ پانی سپلائی " اوپر سے بند ہے" ارے عقل کے اندھوں پانی تو پچھلے سال بارش میں " اوپر " سے یعنی رب تعالی نے 5 ماہ پانی دئے۔ اور اتنا پانی پانی پورا مہاراشٹر رہا۔ اور اسی بارش کے ایام میں مالیگاوءں کارپوریشن نے پانی کا ذخیرہ زیادہ ہونے سے 1 دن ناغے سے پانی دینے لگی۔ مگر کچھ تجربہ کار کھاوء بلے جو سالوں سال کارپوریشن کو اپنا گھر سمجھتے ہیں صبح ہوتی تو کارپوریشن تو شام تک کارپوریشن ہی میں ڈیرہ ڈالے رہتے ، ایسے کچھ لوگ کمشنر کو بول کر 1 دن ناغے سے پانی بند کروائے کہ یہ پانی گرمی میں دیا جائے۔ مگر آج تو حساب ایکدم الٹا 1 دن تو دور دو دن ناغے سے دیا جانے والا پانی شہر کے بیشتر علاقوں میں 6.8.10.12. گھنٹہ لیٹ بلکہ تیسرا دن بھی گیپ ہوکر پانی دیا جارہا ہے۔ اور اگر عوام واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کے کرسی توڑو اور پگار کھاوء لوگوں سے رابطہ کرتی تو یہ بولا جاتا کہ پمپنگ بار بار بند ہوجارہی ہے۔ اوپر سے آرڈر ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ 1100 کروڑ کا بجٹ رکھنے والی کارپوریشن انتظامیہ و برسراقتدار عوام کو سال میں با مشکل 50 سے 60 دن پانک دیتی ہے۔ اور پانی پٹی سال کے 365 دنوں کی لیتی ہے۔ اور ستم بلائے ستم واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کی نااہلی و نکمہ پن سے شہر کے چاروں طرف 8.10.12 گھنٹہ لیٹ اور کہیں تو چا دن پانچ دن لیٹ پانی ۔ اور جھوٹ پر جھوٹ بول کر عوام کو تسلی دی جارہی ہے۔ بنات حوا بھی برجستہ کہنے لگی کہ پانچ مہینہ بارش ہوئی اور 1 دن ناغے سے پانی دینے والی کارپوریشن گرمی کے ایام میں 3.4.5 دن ناغے سے پانی دے رہی ہے ۔ اور واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ چنگر چوٹی یہ کہتی ہیکہ پمپنگ بار بار بند ہوجاتی اوپر سے ایسا آرڈر ہوتا ہے ۔ تو بنات حوا کا بھی شک اب یہی ہیکہ کارپوریشن انتظامیہ و واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ یقینا" پانی کی کالا بازاری ، بلیک میلنگ، اور خرد برد و پانی بیچ رہی ہے۔ اسی لئے کارپوریشن موجودہ برسراقتدار ہر مسائل پر میڈیا پر بات کرتا ہے ۔ مگر پانی کے مسائل پر نہ کارپوریشن کمشنر و واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ، نہ موجودہ برسراقتدار عوام کو کچھ بتا نہیں رہا ہے۔ کیا سچ میں ایسا سب کچھ ہورہا ہے۔ 

کارپوریشن واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ و برسراقتدار کو چاہئے کہ پانی کے مسائل پر عوام کو میڈیا کے ذریعے بتائیں ورنہ پانی کے مسائل پر تمہاری خاموشی بنات حوا کا شک یقین میں بدلی ہوگا۔

Saturday, 2 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


وارڈ نمبر 15 گولڈن نگر شفاعت چوک سے خلیل ہائی اسکول تک نلوں میں گٹر کے پانی کا سدباب 
گذشتہ کئی دنوں سے گولڈن نگر شفاعت چوک سے خلیل ہائی اسکول تک نلوں میں گٹر کا پانی آرہا تھا ۔ الحمد اللہ واٹر سپلائی انجیئر اجئے کھیرنار کو مسلسل شکایت دی جارہی تھی۔ کہ گرمی کی شدت میں اس علاقے کی خواتین پانی کیسے بھرے اور عوام پیئے ۔ بنداس کی بار بار شکایت اور کارپوریٹر ببلو قریشی کی شکایت پر 30 اپریل کو خود اجئے کھیرنار ٹیم لیکر شفاعت چوک پہچ کر فالٹ دور کرنے کے لئے کھدائی کروائی۔ اب انشا اللہ گٹر کا پانی کا سدباب ہوگا۔ اور پانی کی تکلیف دور ہوگی۔ اس موقع پر ببلو قریشی، آصف بنداس، رفیق سیٹھ امراللہ ، محمد سلطان تانے ماما، اسلام کلن چاول والے، کلو مقادم، و دیگر احباب موجود تھے۔









سینکت (متحدہ) مہاراشٹر تحریک میں مالیگاؤں کے برادران وطن کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی مؤثر شمولیت
یومِ مہاراشٹر اور عالمی یومِ مزدور کے موقع پر اردو لائبریری ٹرسٹ کی شاندار تقریب
مالیگاؤں (نامہ نگار):
مالیگاؤں کی قدیم و معتبر اردو لائبریری ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام یکم مئی ٢٠٢٦ بروز جمعہ شام سات بجے، یومِ مہاراشٹر اور عالمی یومِ مزدور کی مناسبت سے ایک باوقار اور شاندار تقریب منعقد ہوئی، جو ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ تقریب کی صدارت بزرگ و تجربہ کار مراٹھی صحافی جناب مظفر شیخ نے فرمائی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں معروف سماجی خدمتگار شری دتو دگڑو بھوسے، وظیفہ یاب مدرس جناب عبدالرحیم شیخ، اور شہر کی معروف ادبی، سماجی و ثقافتی شخصیت عالیجناب محمد رمضان عبدالشکور (رمضان فیمس) شامل تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں جناب مظفر شیخ نے مالیگاؤں کی تاریخی، سیاسی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شہر ہمیشہ سے ایک تحریکی مرکز رہا ہے۔ جنگِ آزادی سے لے کر متحدہ مہاراشٹر تحریک تک، یہاں کے عوام—خصوصاً ہندو مسلم برادرانِ وطن—نے متحد ہو کر جدوجہد کی اور ممبئی کو شامل کرتے ہوئے ریاست مہاراشٹر کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونا جادھو کی قیادت میں مالیگاؤں کے عوام نے بھرپور حصہ لیا، اور آزادی سے قبل اس شہر نے پاکستان تحریک کو شکست دے کر سیکولر اقدار کی حمایت کی۔
انہوں نے اس حقیقت کی بھی نشاندہی کی کہ ممبئی میں متحدہ مہاراشٹر تحریک کے دوران تقریباً دو سو رضاکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور بالآخر عوامی جدوجہد کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا۔ مزدوروں، کسانوں اور خواتین کی مشترکہ قربانیوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
مہمانِ خصوصی شری دتو بھاؤ بھوسے نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کے والد اور خاندان کے دیگر افراد نے اس تحریک میں حصہ لیا۔ انہوں نے حاضرین کو باہمی بھائی چارہ، تعلیم اور ترقی کے لیے عہد کرنے کی تلقین کی، اور مالیگاؤں کے مسلم خاندانوں سے اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
جناب عبدالرحیم شیخ نے مہاراشٹر کی عظیم تہذیب و ثقافت کا دلنشین انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے تحریک کے پس منظر کو اجاگر کیا۔ عالیجناب رمضان فیمس نے مہاراشٹر کے صوفیاء و سنتوں کی تعلیمات پر مؤثر تبصرہ فرمایا اور مراٹھی زبان کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب کا آغاز لائبریرین جناب آصف احمد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ جناب جاوید انصاری نے یومِ مہاراشٹر اور عالمی یومِ مزدور کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر اردو لائبریری ٹرسٹ کی جانب سے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی محنت کش شخصیات کو شال اور گلدستہ پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان میں خالد قریشی (ڈراما نگار)، نفیس احمد (افسانہ نگار و خوشنویس)، نعیم صدیقی اور عاکف نبیل شامل تھے۔
تقریب کی نظامت جناب انیس صاحب نے نہایت خوبصورتی سے انجام دی، جبکہ رسمِ شکریہ ٹرسٹ کے سکریٹری جناب مظہر معاذ شوقی نے ادا کی۔ آخر میں جاوید انصاری نے مہاراشٹر گیت کا اردو ترجمہ پیش کیا۔
اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں آصف احمد، سمید صاحب (اسٹنٹ لائبریرین)، خالد قریشی اور سجاد شفق نے خصوصی محنت کی۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے مہمانانِ کرام سے مراٹھی زبان کی اہمیت و افادیت پر مزید تبادلۂ خیال کیا۔ شہر کی متعدد ادبی شخصیات، اساتذہ اور سنجیدہ حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس بامقصد تقریب میں شرکت کی۔
یہ تقریب نہ صرف تاریخی شعور کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ باہمی ہم آہنگی، ثقافتی شعور اور تعلیمی بیداری کا بھی ایک مؤثر پیغام دے گئی۔









ٹرمپ کا پلان ہوا کامیاب ، ایران کے نام پر کمارہا ہے امریکہ ! خلیجی ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کا طے پایا معاہدہ
US Weapon Sale News: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا فائدہ اب امریکہ کو ہو رہا ہے۔ اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ایران پر حملہ محض جنگ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جس سے بیک وقت متعدد مقاصد حاصل کیے گئے تھے۔ یہ جنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع ہوئی جس نے پورے مغربی ایشیا کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔ اب اس کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ خلیجی ممالک کو اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ ہتھیاروں کی فروخت امریکہ کا سب سے بڑا کاروبار ہے اور اس جنگ کے بعد وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے 1 مئی 2026 کو مشرق وسطیٰ کے اپنے قریبی اتحادیوں: اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو 8.6 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ بندی نافذ العمل ہے لیکن خوف اور غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ اس ساری پیش رفت کو سمجھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ نے امریکہ کو دوہرا فائدہ پہنچایا۔ ایک طرف اس کا دشمن ایران کمزور ہوا تو دوسری طرف اس کے اتحادی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے اور یہی وہ موقع ہے جہاں سے اسلحے کی منڈی شروع ہوتی ہے۔کس کو کیا بیچا؟
اس معاہدے میں مختلف ممالک کو ان کی ضروریات کے مطابق ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔

قطر کو تقریباً 4.01 بلین ڈالر مالیت کا پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم اور تقریباً 992 ملین ڈالر کا پریسی جن راکٹ ملے گا۔

کویت کو 2.5 بلین ڈالر کا انٹیگریٹڈ بیٹل کمانڈ سسٹم ملے گا۔

اسرائیل کو تقریباً 992 ملین ڈالر مالیت کے جدید ترین ہتھیار ملیں گے۔

متحدہ عرب امارات کو 147.6 ملین ڈالر کے گائیڈڈ راکٹ فروخت کیے گئے۔

ان تمام سودے فضائی دفاع، میزائلوں کو روکنے اور درست طریقے سے اسٹرائیک ٹیکنالوجی پر مرکوز ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ ان ممالک کا فضائی دفاعی نظام انتہائی کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون سسٹم نے ان ممالک کے اسٹریٹیجک مقامات پر حملے کیے۔

ایران کا خوف دلا کر بیچ رہا ہے ہتھیار
فروری-مارچ 2026 میں تنازع کے دوران ایران نے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ جواب میں، ان ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام، جیسے پیٹریاٹ کو بہت زیادہ استعمال کیا۔ نتیجے کے طور پر، ان ممالک کے ہتھیاروں کے ذخیرے تیزی سے ختم ہو گئے، جس سے سیکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوا۔ جس کے بعد امریکہ نے فوری طور پر ان ممالک کو اگلے حملے کی تیاری کے لیے نئے ہتھیار فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

خلاصہ یہ کہ یہ پورا کھیل ڈیٹرنس پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے بارے میں ہے۔ ایک طرف امریکہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے تو دوسری طرف وہ ایران سے لاحق خطرے کو اجاگر کر کے انہیں ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو صرف دفاعی تعاون کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اقتصادی اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

Thursday, 30 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*لو لگنا (ہیٹ اسٹروک)*
*لو لگنا ایک خطرناک حالت ہے جو شدید گرمی اور تیز دھوپ میں زیادہ دیر رہنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے اور جسم کا قدرتی ٹھنڈا رکھنے کا نظام (پسینہ وغیرہ) متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سر درد، چکر آنا، تیز بخار، کمزوری، متلی اور بعض اوقات بے ہوشی بھی ہو سکتی ہے۔*

*اگر بروقت احتیاط اور علاج نہ کیا جائے تو یہ حالت جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے گرمی کے موسم میں دھوپ سے بچاؤ، پانی کا زیادہ استعمال اور فوری طبی توجہ بہت ضروری ہے۔*

🌡️ *ہیٹ اسٹروک یعنی لُو لگنا ہومیوپیتھک پروٹوکول*

🔹 مرحلہ 1: ابتدائی (Mild to Moderate Heat Stroke)

✅ پہلی دوا (علامات کے مطابق منتخب کریں)

1. Glonoinum 30 / 200
شدید دھڑکتا ہوا سر درد
دھوپ سے حالت خراب
👉 خوراک:
30 potency: ہر 15 منٹ بعد 3-4 خوراک
بہتر ہونے پر بند کریں

2. Belladonna 30 / 200
اچانک تیز بخار
چہرہ سرخ، جسم گرم
👉 خوراک: ہر 30 منٹ بعد

3. Gelsemium 30
کمزوری، چکر، غنودگی
👉 خوراک: ہر 1 گھنٹے بعد
4. Natrum muriaticum 30
پانی کی کمی، پسینہ کے بعد کمزوری
👉 خوراک: دن میں 3 بار

🔴 مرحلہ 2: شدید حالت (Severe Heat Stroke)
🚨 خطرناک علامات:
بے ہوشی
جسم بہت گرم یا بالکل ٹھنڈا
سانس کمزور
الجھن / delirium

✅ ایمرجنسی دوا:
Carbo vegetabilis 30 / 200
👉 خوراک:
ہر 10–15 منٹ بعد دیں
حالت بہتر ہوتے ہی روک دیں

🧊 *ساتھ میں لازمی اقدامات (Very Important)*

✔ مریض کو فوراً ٹھنڈی جگہ پر لائیں
✔ کپڑے ڈھیلے کریں
✔ سر اور جسم پر ٹھنڈی پٹیاں
✔ ORS / نمکول / لیموں پانی دیں
✔ پنکھا یا ہوا دیں

⚠️ *اہم ہدایت (Critical Warning)*
❗ *اگر یہ علامات ہوں تو فوراً ہسپتال:*
*درجہ حرارت 104°F سے زیادہ*
*بار بار الٹی*
*دورے (fits)*
*مکمل بے ہوشی*
*👉 *ہومیوپیتھی صرف سپورٹ ہے، ایمرجنسی میں تاخیر نہ کریں*
*💊 پوٹینسی کا اصول (Golden Rule)*
*30 potency → عام کیسز*
*200 potency → تیز اور* *اچانک علامات*
*دوا بار بار نہ دیں، بہتری آتے ہی روک دیں.*

🔶 *اہم نوٹ*

*یہ آرٹیکل محض سماجی و طبی بیداری پیدا کرنے کیلئے ہے کسی بھی قسم کی علامت ظاہر ہونے پر فوراً ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں.*

✍️ *حافظ انیس اظہر*
*9511767376*








وارڈ نمبر 15گولڈن نگر خلیل ہائی اسکول سے لیکر بسم اللہ باغ تک اتی کرمن صاف کیا گیا۔ چیئرمن اسٹینڈنگ کمیٹی اعجاز بیگ صاحب کا بہت بہت شکریہ 
شہر بھر میں اتی کرمن مکت مہم جاری ہے اسی کے ساتھ وارڈ نمبر 15 گولڈن نگر خلیل ہائی اسکول سے لیکر بسم اللہ باغ تک کا اتی کرمن 28 اپریل کو کارپوریشن اتی کرمن عاملہ ضبطی گاڑی کے ساتھ صاف کیا۔ الحمد اللہ اس روڈ کی تعمیر بھی جلد ہی شروع ہونے والی ہے۔ اور اسی لئے چیئرمن اعجاز بیگ صاحب کو بار بار اس روڈ کے اتی کرمن صاف کرنے کی توجہ دلائی جارہی تھی جو آج اتی کرمن صاف کیا گیا۔ ایک بار پھر اعجاز بیگ صاحب کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔ اور بیگ صاحب سے گذارش کی جاتی ہیکہ اس روڈ کی دونوں جانب کی بڑی گٹر محکمہ صاف صفائی کو آرڈر کریں کہ JCB سے دونوں جانب کی گٹر جنگی پیمانے پر صاف کی جائے۔. اور کارپوریشن برسراقتدار سے بھی عاجزانہ گذارش ہیکہ اس روڈ کو سمینٹ کانکریٹ طرز پر جلد از جلد تعمیر کریں۔ تاکہ موسم برسات سے پہلے روڈ کی تعمیر مکمل ہوجائے۔ 

فقط ۔ محمد آصف بنداس 

9273019740








🌡️ *شدید گرمی کی وارننگ — سرپرستوں کے لیے اہم پیغام*

گرمی!
جو ہم اس وقت محسوس کر رہے ہیں وہ عام گرمی نہیں ہے۔ یہ ممکنہ طور پر ’ایل نینو‘ کے اثرات کا آغاز ہے — ایک ایسا موسمی خطرہ جو خاموشی سے انسانی صحت کو شدید متاثر کر سکتا ہے، اور خدانخواستہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

جیسے جیسے مئی اور جون کا مہینہ قریب آئے گا، درجہ حرارت میں مزید اضافہ اور حالات کی شدت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ابھی سے احتیاط بے حد ضروری ہے۔

😱 ایل نینو کیا ہے؟
سادہ الفاظ میں، بحرالکاہل (Pacific Ocean) کے پانی کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے موسموں کا نظام متاثر ہوتا ہے۔
ہمارے خطے میں اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ:
• مانسون میں تاخیر ہو سکتی ہے
• بارش کم ہو سکتی ہے
• گرمی کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے

یعنی جب بارش کی امید ہوتی ہے، اس وقت بھی شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

🏠🔥 یہ صورتحال کیوں خطرناک ہے؟
شدید گرمی نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں، بزرگوں اور حتیٰ کہ صحت مند افراد کے لیے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ہیٹ اسٹروک (Heat Stroke) اچانک ہو سکتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

👨‍👩‍👧‍👦 سرپرستوں کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر:

💧 پانی کا استعمال بڑھائیں
• پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں
• ہر 45 منٹ سے 1 گھنٹے میں پانی پئیں
• بچوں کو زبردستی بھی وقفے وقفے سے پانی پلائیں
• اسکول بیگ میں پانی کی بوتل لازمی رکھیں

☀️🚫 خطرناک اوقات (صبح 11 بجے سے دوپہر 4 بجے تک)
• اس دوران بچوں کو باہر جانے سے حتیٰ الامکان روکیں
• اسکول انتظامیہ بھی کھیل اور بیرونی سرگرمیوں میں احتیاط برتے
• اگر باہر جانا ضروری ہو تو سر ڈھانپ کر اور پانی ساتھ لے کر جائیں

👕 لباس کا انتخاب
• گہرے رنگ خاص طور پر کالا رنگ گرمی کو جذب کرتا ہے
• بچوں کو ہلکے رنگ کے ڈھیلے سوتی کپڑے پہنائیں
• سفید، ہلکا نیلا یا گلابی رنگ بہتر ہیں

🥭 خوراک میں احتیاط
• تازہ پھل، جوس، اور پانی والی غذائیں دیں
• بہت زیادہ تلی ہوئی اور مصالحہ دار اشیاء سے پرہیز کریں
• ORS (نمکیات والا محلول) کا استعمال مفید ہو سکتا ہے

⚠️ ہیٹ اسٹروک کی علامات پہچانیں:
• شدید سر درد
• چکر آنا یا بے ہوشی
• قے آنا
• جسم کا حد سے زیادہ گرم ہونا
• پسینہ رک جانا (خشک جلد)

🚑 فوری اقدامات:
• مریض کو فوراً ٹھنڈی یا سایہ دار جگہ پر لے جائیں
• ٹھنڈے پانی یا گیلے کپڑے سے جسم کو ٹھنڈا کریں
• پانی یا ORS پلانے کی کوشش کریں
• فوراً قریبی اسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کریں

🐾 انسانیت کا تقاضہ — جانوروں کا خیال رکھیں
• گھر کے باہر یا گلی میں پانی کا برتن رکھیں
• سایہ کا بندوبست کریں
• یہ چھوٹے اقدامات بھی بڑی نیکی ہیں

📢 اہم اپیل برائے سرپرستوں:
• اس پیغام کو سنجیدگی سے لیں
• اپنے بچوں، خاندان اور عزیز و اقارب کو آگاہ کریں
• اسکول اور معاشرے میں اس شعور کو پھیلائیں

🙏 یاد رکھیں:
احتیاط ہی سب سے بڑی حفاظت ہے۔
آپ کی تھوڑی سی توجہ کسی کی زندگی بچا سکتی ہے۔

📌 اپیل کنندہ:
نیوارا گروپ آف ایجوکیشن، مالیگاؤں

*🛑سیف نیوز اُردو*

ایران سے جنگ کی بھاری قیمت چکا رہا امریکہ ، اب تک 25 ارب ڈالر ہوئے خرچ
امریکہ ایران جنگ اب محض ایک فوجی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ بہت زیادہ معاشی بوجھ کی کہانی بنتی جا رہی ہے۔ پینٹاگون نے پہلی بار اس جنگ کی اخراجات کا انکشاف کیا ہے ۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ اب تک تقریباً 25 بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ تقریباً ناسا کے سالانہ بجٹ کے برابر ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے سینئر اہلکار جولس ہرسٹ نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ اس اخراجات کا بڑا حصہ ہتھیاروں اور گولہ بارود پر خرچ کیا گیا۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس میں مستقبل کے اخراجات جیسے نقصانات کا معاوضہ شامل ہے یا نہیں۔ اس انکشاف نے امریکی کانگریس میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس مین ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ہم کافی عرصے سے اس اعداد و شمار کا انتظار کر رہے تھے لیکن اب پہلی بار واضح تعداد سامنے آئی ہے۔وزیر دفاع نے پینٹاگون کا کیا دفاع
اس بیچ ، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ان اخراجات کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی سے منسلک کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہم ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا چاہتے ہیں تو اس کی قیمت کیا ہوگی؟ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ آپریشن ایپک فیوری نامی اس آپریشن کا مقصد واضح ہےاور یہ خرچ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

جنگ کی کیا قیمت چکا رہا ہے امریکہ؟
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور مشرق وسطیٰ میں کئی طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی نے لاگت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم امریکہ نے اپنے یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس بلا لیا ہے۔ یہ معاشی بوجھ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مہنگائی اور ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی امریکہ میں پریشانی کا باعث ہیں۔ ایک سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔ایران بھی متاثر
اس جنگ کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کی کرنسی ریال 1.8 ملین فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے دودھ، چاول اور کوکنگ آئل جیسی اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوگئی ہیں جس سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے تنازعے نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے عالمی منڈی میں ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ کئی ممالک نے اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی اپیل کی ہے۔








ایگزٹ پول:کانگریس کا جنوبی ریاستوں میں بہتر مظاہرہ، مشرق میں چیلنج برقرار ۔ کیاپارٹی قومی سطح پرواپسی کرسکتی ہے؟
کیا 2026 کے ایگزٹ پول کانگریس پارٹی کی واپسی کی نشاندہی کرتے ہیں یا پھر اس کے محدود ہوتے سیاسی دائرے کو مزید واضح کرتے ہیں؟ مختلف ریاستوں سے سامنے آنے والے اندازے ایک جانی پہچانی مگر غیر متوازن تصویر پیش کرتے ہیں جنوبی بھارت میں کچھ مضبوطی، خاص طور پر کیرالا میں، جبکہ آسام اور مغربی بنگال جیسے اہم میدانوں میں مسلسل جدوجہد۔پہلی نظر میں یہ اعداد و شمار کانگریس کے لیے کچھ اطمینان کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن گہرائی میں جائیں تو یہ کامیابیاں زیادہ تر مخصوص جغرافیائی علاقوں اور اتحادوں پر منحصر دکھائی دیتی ہیں۔ اس سے ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے : کیا کانگریس ان محدود کامیابیوں کو قومی سطح پر بحالی میں بدل سکتی ہے، یا پھر وہ ایک علاقائی پارٹی بن کر رہ جائے گی؟

دو خطوں کی الگ کہانی
ایگزٹ پول کے مطابق کیرالا میں کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف اتحاد کی واپسی ممکن دکھائی دیتی ہے، جہاں ایک سخت مقابلے کے بعد وہ بائیں بازو کے اتحاد کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کیرالا ان چند ریاستوں میں شامل ہے جہاں کانگریس کی تنظیمی بنیاد مضبوط ہے اور مقابلہ دو واضح فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، جس سے حکومت مخالف لہر اس کے حق میں جا سکتی ہے۔

مختلف ایجنسیوں جیسے VoteVibe، Matrize، JVC، People’s Pulse اور Axis My India کے اندازوں کے مطابق یو ڈی ایف 140 رکنی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔ اگرچہ بائیں بازو کا اتحاد پیچھے دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ مقابلے سے مکمل طور پر باہر نہیں ہوا۔

تمل ناڈو میں صورتحال قدرے مختلف ہے۔ یہاں زیادہ تر اندازے یہ بتاتے ہیں کہ حکمراں ڈی ایم کے اتحاد دوبارہ اقتدار میں آ سکتا ہے، جس میں کانگریس ایک چھوٹے اتحادی کے طور پر فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہے۔ تاہم، یہاں بھی کانگریس کی کامیابی اس کے اپنے ووٹ بینک کی توسیع کے بجائے اتحاد کی سیاست کا نتیجہ ہے۔

ڈی ایم کے کی جیت نہ صرف جنوبی بھارت میں کانگریس کے اثر کو برقرار رکھے گی بلکہ بی جے پی کو تمل ناڈو سے دور رکھنے میں بھی مدد دے گی، جو مرکزی قیادت کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی سمجھی جائے گی۔اہم میدانوں میں مشکلات برقرار
جنوب کے باہر کانگریس کی مشکلات زیادہ واضح نظر آتی ہیں۔

آسام میں تقریباً تمام ایگزٹ پول بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو واضح برتری دیتے ہیں، جس سے تیسری مرتبہ حکومت بنانے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔ سینئر کانگریسی رہنماؤں کی مہم کے باوجود پارٹی حکومت مخالف لہر کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

مختلف سرویز کے مطابق این ڈی اے کو 90 سے 100 کے درمیان نشستیں مل سکتی ہیں، جو 64 کی اکثریت سے کافی زیادہ ہیں، جبکہ انڈیا اتحاد کو صرف 22 سے 33 نشستوں تک محدود دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی یو ڈی ایف کی پوزیشن بھی کمزور نظر آ رہی ہے۔

مغربی بنگال میں صورتحال مزید واضح ہے، جہاں اصل مقابلہ ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس یہاں ایک ’’تیسرے متبادل‘‘ کے طور پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن زیادہ تر اندازوں کے مطابق اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل رہی۔ کئی سرویز تو اسے صفر نشستیں دیتے ہیں جبکہ کچھ معمولی اضافہ دکھاتے ہیں۔

وسیع تر رجحان کیا بتاتا ہے؟
مجموعی طور پر ایگزٹ پول ایک واضح پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کانگریس وہاں بہتر کارکردگی دکھاتی ہے جہاں سیدھا مقابلہ ہو، جیسے کیرالا۔ علاقائی مضبوط ریاستوں میں وہ اتحادیوں پر انحصار کرتی ہے، جیسے تمل ناڈو۔ جبکہ کثیر فریقی یا شدید پولرائزڈ مقابلوں میں، جیسے آسام اور بنگال، اسے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

اسی دوران بی جے پی نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ کئی اہم ریاستوں میں اپنا اثر بڑھاتی دکھائی دیتی ہے، جو قومی سطح پر طاقت کے توازن کو کانگریس کے خلاف رکھتا ہے۔یہ رجحانات صرف نشستوں تک محدود نہیں بلکہ تین بڑے مسائل کو بھی اجاگر کرتے ہیں :

جغرافیائی سکڑاؤ – کانگریس کی سیاست چند ریاستوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔اتحاد پر انحصار – پارٹی اکثر جونیئر پارٹنر کے طور پر کامیاب ہوتی ہے۔بیانیے کی کمی – اہم ریاستوں میں پارٹی مرکزی سیاسی بیانیہ قائم کرنے میں ناکام ہے۔

نتیجہ
اگرچہ 4 مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی حتمی تصویر واضح کرے گی، لیکن موجودہ رجحانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کانگریس کو جنوبی بھارت میں کچھ کامیابیاں مل سکتی ہیں، خاص طور پر کیرالا میں، مگر یہ کامیابیاں اس کی قومی سطح کی سیاست کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔








الور: دہلی- ممبئی ایکسپریس وے پرچلتی کارشعلہ پوش ، 5 افراد ہلاک
دہلی۔ممبئی ایکسپریس وے پر بیتی رات ایک المناک حادثہ ہوا ۔ الور ضلع کے لکشمن گڑھ تھانہ علاقے کے موج پور کے قریب ایک چلتی کار اچانک شعلہ پوش ہو گئی۔ آگ اتنی بھیانک تھی کہ گاڑی میں سوار افراد کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔

اس حادثے میں 5 افراد کی موت ہوگئی ۔ جیسے ہی گاڑی میں آگ لگی، چاروں طرف چیخ و پکار مچ گئی، لیکن جب تک مدد پہنچی، سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔

اطلاعات کے مطابق کار میں سوار تمام لوگ مدھیہ پردیش کے شیوپور ضلع کے رہنے والے تھے۔ وہ جموں کشمیر میں ماتا ویشنو دیوی کے درشن کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔لکشمن گڑھ کے قریب پہنچتے ہی خوشی کا سفر ماتم میں بدل گیا۔ مہلوکین کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی لکشمن گڑھ تھانے کی پولیس اور انتظامی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں۔ لواحقین کو اطلاع دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حادثے کے بعد ایکسپریس وے پر ٹریفک بھی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی۔ گاڑی میں آگ لگنے کی وجہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...