Tuesday, 23 June 2026

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع 
بجاج فائنانس کی جانب سے ایک پرکشش اسکیم شروع کی گئی تھی جسمیں یکم اپریل سے جون تک بجاج فائنانس کے ذریعے موبائل کولر فریج واشنگ مشین و دیگر اشیاء کی خریدی کرنے والے تمام لوگوں کا کوپن بناکر ان کی قرعہ اندازی کی جاۓ گی اور ان کو کولر ٹرالی بیگ سیگڑی دیوار گھڑی ڈنر سیٹ ٹرے ودیگر انعامات دیئے جائیں گے 
جن لوگوں نے اس مدت کے درمیان بجاج فائنانس سے خریداری کی ہو وہ اس پروگرام میں ضرور شرکت کریں اور نام کھلنے پر انعامات حاصل کریں 
بتاریخ 25 جون بروز جمعرات شام پانچ بجے
بمقام شمشاد موبائل پوائنٹ اولڈ آگرہ روڈ گھوڑے والا کمپاونڈ مالیگاؤں 
الداعیان ۔۔۔ محمد یاسین شمشاد موبائل ۔ دیپک مالی سر ۔ یش پوار صاحب ۔ آدتیہ ہیرے صاحب واسٹاف
رابطہ نمبر ۔۔۔ 9326167000

Monday, 22 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا چینی کا استعمال واقعی کینسر کا سبب بنتا ہے؟
ڈاکٹر ورتیکا نے بتایا کہ ’بعض لوگ پی ای ٹی سکین کی تصاویر کا حوالہ دے کر دعویٰ کرتے ہیں کہ کینسر کے خلیات چینی استعمال کرتے ہیں، اس لیے چینی کینسر کی خوراک ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام فعال خلیات توانائی کے لیے گلوکوز استعمال کرتے ہیں۔ دماغ، گردے اور آنتیں بھی اسی وجہ سے اسکین میں نمایاں نظر آتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی شخص چینی یا کاربوہائیڈریٹس مکمل طور پر ترک کر دے تو جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے عضلات اور دیگر بافتوں کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ تصور درست نہیں کہ چینی چھوڑ دینے سے کینسر کے خلیات مر جائیں گے۔‘
ماہرِ کینسر کے مطابق کینسر کے خلیات تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فاقہ کشی یا انتہائی پرہیز کینسر کا علاج بن سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ مریض کی صحت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔ زیادہ چینی، موٹاپا اور میٹابولک بیماریاں صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض میٹابولک امراض مستقبل میں کینسر کے خطرے میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ خطرہ مجموعی طرزِ زندگی سے جڑا ہوتا ہے، نہ کہ صرف چینی کے استعمال سے۔‘
ڈاکٹر ورتیکا کا کہنا تھا کہ ’متوازن غذا، پھل، ثابت اناج اور گھریلو کھانوں کو ترک کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’صحت مند زندگی کا راز اعتدال اور متوازن غذائی عادات میں پوشیدہ ہے، نہ کہ کسی ایک غذا کو تمام بیماریوں کی جڑ قرار دینے میں۔‘







فیفا ورلڈ کپ 2026میں لیونل میسی نے کر دی تاریخ رقم، ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ انفرادی گول کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا
نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جے کے ایک اہم میچ میں ارجنٹینا کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی نے آسٹریا کے خلاف گول کرکے تاریخ رقم کر دی۔ ڈلاس اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں میسی نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی کے سب سے زیادہ انفرادی گول کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔اپنے 39ویں یومِ پیدائش سے صرف دو روز قبل میسی نے ورلڈ کپ میں اپنا 17واں گول اسکور کیا، جو 2026 کے ٹورنامنٹ میں ان کا چوتھا گول بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوزے کے 16 گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ اب میسی 17 گولوں کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہیں، جبکہ کلوزے 16 اور برازیل کے رونالڈو 15 گولوں کے ساتھ ان کے پیچھے ہیں۔

میسی نے ایک اور منفرد اعزاز بھی حاصل کیا۔ وہ فرانس کے جسٹ فونٹین اور برازیل کے جائرزینھو کے بعد مسلسل چھ ورلڈ کپ میچوں میں گول کرنے والے دنیا کے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔میچ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو آسٹریا کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم میسی نے اپنی شاندار کارکردگی سے ٹیم کی واپسی کی قیادت کی۔ گول کے موقع پر میسی نے گیند تھیاغو المادا کو پاس کی، جنہوں نے فوری طور پر ایک عمدہ ریٹرن پاس دیا۔ میسی نے گیند کو بہترین انداز میں کنٹرول کرتے ہوئے آسٹریا کے گول کیپر الیگزینڈر شلاگر کو چکمہ دیا اور زبردست شاٹ کے ذریعے گیند جال میں پہنچا دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ میسی اس سے چند منٹ قبل ہی یہ تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتے تھے، لیکن وہ ایک پینلٹی ضائع کر بیٹھے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے بعد میں گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔میچ کے ابتدائی لمحات میں ارجنٹینا کا غلبہ رہا، لیکن پینلٹی ضائع ہونے کے بعد ٹیم کی گرفت کچھ کمزور پڑ گئی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹریا نے ہائی پریسنگ کے ذریعے کھیل پر کنٹرول حاصل کیا اور ارجنٹینا کے حملوں کو روکنے کی کوشش کی۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ وہ اپنی برتری کو گول میں تبدیل نہ کر سکے۔بعد ازاں ارجنٹینا نے دوبارہ کھیل پر گرفت مضبوط کی اور میسی نے مڈفیلڈ سے ایک خوبصورت موو ترتیب دیتے ہوئے تھیاغو المادا کے ساتھ شاندار کمبینیشن بنایا، جس کا اختتام تاریخی گول پر ہوا۔ اس گول کے ساتھ نہ صرف ارجنٹینا کو 1-0 کی برتری ملی بلکہ میسی نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ انفرادی گول کرنے والے کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔







مانسون کی دستک، 22 ریاستوں میں گرج چمک اور موسلادھار بارش کا الرٹ، دہلی سمیت کئی علاقوں کو گرمی سے ملے گی راحت
 نئی دہلی :جون کے آخری ہفتے کے آغاز کے باوجود ملک کے کئی حصوں میں شدید گرمی اور حبس نے عوام کی مشکلات بڑھا رکھی ہیں، تاہم اب موسم کا مزاج بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات (IMD) نے آج ملک کی 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بارش، آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔ دہلی-این سی آر، اتر پردیش، بہار، راجستھان، جموں و کشمیر اور دیگر کئی علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے درجہ حرارت میں کمی اور گرمی سے راحت ملنے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی، اتر پردیش، بہار، راجستھان، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، ہریانہ، پنجاب، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر، کیرالہ، مغربی بنگال، اڈیشہ اور شمال مشرقی ریاستوں سمیت 22 علاقوں میں بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ بعض مقامات پر موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے اور موسمیاتی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دہلی-این سی آر میں موسم خوشگوار رہنے کا امکان

محکمہ موسمیات کے مطابق 23 سے 26 جون کے درمیان دہلی-این سی آر میں موسم نسبتاً خوشگوار رہ سکتا ہے۔ اس دوران آسمان پر بادل چھائے رہیں گے جبکہ بعض علاقوں میں ہلکی بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ 23 جون کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 اور کم سے کم 26 ڈگری سیلسیس رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ البتہ 26 جون کے بعد درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو سکتا ہے۔

شمالی ہندوستان میں آندھی اور بارش کا سلسلہ

اتر پردیش کے میرٹھ، نوئیڈا، آگرہ، متھرا، کانپور، جھانسی، ایودھیا، گورکھپور، پریاگ راج اور وارانسی سمیت کئی اضلاع میں ہلکی بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی چلنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ لکھنؤ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 اور کم سے کم 31 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔

بہار کے مختلف اضلاع میں شدید بارش کے ساتھ 50 سے 55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ پٹنہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 اور کم سے کم 29 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بھی بارش کی سرگرمیاں تیز

راجستھان کے جے پور، اجمیر، بیکانیر، ادے پور، کوٹا اور الور سمیت کئی اضلاع میں 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ جے پور میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 اور کم سے کم 28 ڈگری سیلسیس رہ سکتا ہے۔دوسری جانب مدھیہ پردیش کے اندور، ریوا، بیتول، چھندواڑہ اور دیواس سمیت کئی علاقوں میں بارش کی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، جس سے درجہ حرارت میں کمی اور شدید گرمی سے راحت ملنے کی امید ہے۔
جنوبی ہندوستان میں بارش مزید زور پکڑے گی

محکمہ موسمیات کے مطابق 23 سے 27 جون کے درمیان تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل کے مختلف علاقوں میں اچھی بارش متوقع ہے۔ نیلگری، کوئمبٹور، تھینی، ڈنڈیگل اور شیوگنگا اضلاع میں بھاری بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں گرج چمک، آسمانی بجلی اور 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔ کیرالہ اور تلنگانہ کے کئی علاقوں میں بھی بارش کی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے، جس سے عوام کو گرمی سے راحت مل سکتی ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں میں شدید بارش کا انتباہ

اروناچل پردیش کے مغربی کامینگ، مشرقی کامینگ، پاپم پارے، لوہت، نامسائی اور دیگر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خراب موسم کے دوران کھلے میدانوں، بلند درختوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔اسی طرح آسام اور میگھالیہ میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ 28 جون تک اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ 23 سے 26 جون کے درمیان گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے خدشے کے پیش نظر عوام کو موسمی انتباہات پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے کسانوں اور ماہی گیروں کو بھی تازہ موسمی معلومات پر نظر رکھنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

حماس اور فرانسیسی حکام کے درمیان خفیہ ملاقات ، 1967 کی سرحدی بنیادوں پر فلسطینی ریاست پرہوئی بات چیت 
مشرق وسطی میں تمام سیاسی ہلچل کے بیچ اسرائیل الگ تھلگ پڑتا نظر آرہا ہے ۔ ایران جنگ کے مستقل خاتمہ کے لیے امریکہ اور ایران کے بیچ مذاکراتی عمل جاری ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں حالیہ دنو ں میں تلخیاں درآئی ہیں ۔ لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں پرامریکی صدرٹرمپ برہمی کا اظہار کئی بار کرچکے ہیں ۔ دوسری جانب سے غزہ میں بھی اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس بیچ، حماس اور یورپی وفد کی خفیہ ملاقات کی خبرسامنے آئی ہے ۔

سعودی اخبار الشرق الاوسط کی پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سینئر رہنماؤں نے ایک فرانسیسی وفد کے ساتھ انتہائی خفیہ ملاقات کی۔رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات حال ہی میں مشرق وسطیٰ کے ایک نامعلوم ملک میں ہوئی۔ دو فلسطینی ذرائع نے اس ملاقات کو انتہائی خفیہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بعض فلسطینی دھڑوں کو اس ملاقات کے بارے میں صرف اس کے انعقاد سے کچھ دیر پہلے یا بعد میں آگاہ کیا گیا۔ ان دو ذرائع میں ایک فلسطینی سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیت اور دوسرا حماس کے قریب ایک فلسطینی تنظیم کا نمائندہ شامل تھا،رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب حماس کے رہنماؤں اور یورپی حکام کے درمیان کسی ملاقات کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق فرانسیسی وفد میں موجودہ اور سابق سفارت کاروں کے علاوہ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمان بھی شامل تھے۔

فلسطین کے داخلی امور پر فوکس

فلسطینی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ مذاکرات پر خصوصی توجہ فلسطینی داخلی امور، قومی مفاہمت کو بہتر بنانے اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر تھی۔

اس ذریعے نے مزید بتایا کہ گفتگو میں 1967 کی سرحدوں کے اندر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا موضوع بھی شامل تھا۔ 1967 کی سرحدوں سے مراد چھ روزہ جنگ سے قبل موجود جنگ بندی کی حد بندی ہے۔7 اکتوبر کے بعد سے فرانس دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔

اسرائیل۔فرانس کے تعلقات کشیدہ

یہ مبینہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل فرانس کے قومی انسداد دہشت گردی استغاثہ دفتر (PNAT) نے اسرائیل کے خلاف ابتدائی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ تحقیقات گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کے بعد شروع کی گئیں جن میں ان پر تشدد اور جنگی جرائم کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

تحقیقات کا آغاز فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بروٹ کی جانب سے استغاثہ کو بھیجی گئی باضابطہ درخواست کے بعد کیا گیا۔ یہ اقدام اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی جانب سے شائع کی گئی ایک ویڈیو کے بعد اٹھایا گیا، جس میں کارکنوں کو اشدود بندرگاہ لایا جاتا دکھایا گیا تھا۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق ابتدائی تحقیقات فرانس کے مرکزی دفتر برائے انسدادِ انسانیت مخالف جرائم اور نفرت پر مبنی جرائم (OCLCH) کے ذریعے کی جائیں گی۔فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں فرانس نے نیویارک میں منعقدہ ایک عالمی سربراہی اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ اس فیصلے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے یہود مخالف جذبات کو تقویت مل رہی ہے۔









ایرانی تیل کی بازار میں واپسی، عالمی منڈی میں ہلچل، کیا پٹرول اور ڈیزل سستے ہوں گے؟
امریکہ کی جانب سے ایران کو 21 اگست 2026 تک بین الاقوامی منڈی میں خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دینا عالمی تیل مارکیٹ کے لیے ایک بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور اس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ایران کا خام تیل ایک بار پھر عالمی منڈی میں واپسی کے لیے تیار ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔امریکہ نے ایران کے لیے 60 دن کا عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، نقل و حمل اور فروخت سے متعلق لین دین کی اجازت دے دی گئی ہے۔ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندیاں دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایرانی تیل کو باضابطہ طور پر عالمی منڈی میں واپسی کا موقع ملا ہے۔

 خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

ایرانی تیل کی اضافی سپلائی کی خبر سامنے آتے ہی بین عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل مارچ کے بعد پہلی مرتبہ 74 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا۔ عالمی معیار مانے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد کم ہو کر 78.29 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی واپسی سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا، جس سے رسد کا دباؤ کم ہوگا اور قیمتوں میں مزید نرمی آ سکتی ہے۔

کیا واقعی سستے ہوں گےپٹرول اور ڈیزل؟

ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کی عالمی منڈی میں واپسی کا راست فائدہ ایسے ممالک کو ہو سکتا ہے جو تیل درآمد کرتے ہیں، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔

بھارت اپنی ضرورت کا 80 فیصد سے زیادہ خام تیل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوتا ہے تو حکومت اور تیل کمپنیوں کے اخراجات کم ہوں گے۔اس کے نتیجے میں سرکاری تیل کمپنیاں جیسے آئی او سی، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے منافع میں بہتری آ سکتی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔اگر خام تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل یا اس سے نیچے برقرار رہتی ہے تو گھریلو بازار میں ایندھن سستا ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دنیا کے 12 فیصد تیل کے ذخائر ایران کے پاس

ایران کے پاس توانائی کے وسائل کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو عالمی منڈی پر نمایاں اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 ایران کے پاس تقریباً 208 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

 یہ دنیا کے مجموعی تیل ذخائر کا تقریباً 12 فیصد ہیں۔

اسی لیے جب بھی ایران عالمی تیل منڈی میں فعال کردار ادا کرتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ایران قدرتی گیس سے بھی ہے مالامال

صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ قدرتی گیس کے میدان میں بھی ایران ایک عالمی طاقت مانا جاتا ہے۔

 ایران کے پاس تقریباً 34 ٹریلین مکعب میٹر (TCM) قدرتی گیس کے ذخائر ہیں

 یہ دنیا کے مجموعی قدرتی گیس ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف عالمی توانائی منڈی کو استحکام مل سکتا ہے بلکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی امید بھی بڑھ سکتی ہے۔









لکھنؤ کوچنگ سینٹر آتشزدگی : 15 افراد ہلاک ، حکومت نے ایس آئی ٹی دی تشکیل ، 4 افسران معطل
لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں پیر کے روز ایک تین منزلہ عمارت میں آگ لگنے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 10 افراد زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں عمارت کے مالکان سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ غفلت برتنے کے الزام میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پرچار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

پرائم منسٹر نریندرمودی نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے لواحقین کو2-2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 50، 50 ہزار روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے متاثرہ خاندانوں کو 5-5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50، 50 ہزار روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔یہ حادثہ علی گنج تھانہ علاقے میں اوشا مہتا مارگ پر واقع ایک تین منزلہ کمرشیل بلڈنگ میں دوپہر تقریباً 3 بجے پیش آیا۔ یہ عمارت پورنیا بازار کے قریب ایک پوش رہائشی علاقے میں واقع ہے جہاں متعدد کوچنگ سینٹرز اور کیفے موجود ہیں۔اسپتال کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ساگر، نیلیش، انامیکا، سنیم، انوچھا، سکھمنی، آدتیہ شریواستو، جیوتی، بھوشیہ، عبدالرحمن، سورج شاہ، شاہ جہاں، جینل چکرورتی، محمد عمار اور سومالیا شامل ہیں۔

ایس آئی ٹی کی تشکیل

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر دو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں سیاحت، ثقافت اور مذہبی امور کے ایڈیشنل چیف سکریٹری امرت ابھیجات اور لکھنؤ زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس پروین کمار شامل ہیں۔ ٹیم کو سات دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اب کیا کی گئی کارروائی ؟

پولیس نے رات گئے چار افراد کو گرفتار کیا جن میں رام کرشن اپادھیائے، وریندر پرساد شکلا، تشار کرشن جائسوال اور سریش کمار ساہو شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق اپادھیائے، شکلا اور جائسوال عمارت کے مشترکہ مالکان ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے حکم پر بجلی محکمہ جانکی پورم کے افسر گورو کمار، فائر بریگیڈ کی اندرا نگر شاخ کے افسر کملیندر کمار سنگھ، لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ انجینئر انیل کماراور جونیئر انجینئر پرمود پانڈے کو فوری طور پر معطل کر دیا گیاہے۔

آگ لگنے کی وجہ کیا تھی؟

شہری ترقی اور توانائی کے وزیر اے کے شرما کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ عمارت کے اے سی ڈکٹ سے شروع ہوئی۔ مناسب ایمرجنسی راستے نہ ہونے کے باعث دھواں پوری عمارت میں پھیل گیا اور بیشتر افراد کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔مقامی بی جے پی رکن اسمبلی نیرج بورا کے مطابق زیادہ تر اموات جلنے سے نہیں بلکہ دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں باہر نکلنے کا مناسب راستہ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے حادثہ اتنا سنگین ثابت ہوا۔مقدمہ درج

علی گنج آتشزدگی کیس میں غیر ارادۃً قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ عمارت کے مالک وریندر پرساد شکلا، علی گنج پیٹ شاپ اینڈ کلینک کے مالک رام کرشن اپادھیائے اور عمارت میں قائم دیگر اداروں کے ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

Thursday, 18 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر
آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحانات کو ایک سال باقی ہے ـ ابھی سے کیوں ان کو نصیحت فضیحت کی جائے ؟ابھی مزید ایک سال انھیں مٹر گشتی ،کھیل کود اور موج مستی کرلینے دیں ـ یہی سوچ طلبہ اور سرپرستوں کی ہوتی ہے ـ چند برسوں پہلے تک ایسا معاملہ چل جاتا تھا لیکن فی زمانہ مقابلہ اتنازیادہ بڑھ چکا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی اور کامرانی کے لیے لانگ ٹرم منصوبہ بندی اور سنجیدگی ضروری ہے ـ اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں تو آپ کو برسوں پہلے سے پلاننگ کرنی ہوگی ـ اور اس کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوشش بھی کرنی ہوگی تب ہی آپ اور آپ کا بچہ عملی زندگی میں کامیاب ہوگا ـ
دسویں جماعت میں سرخرو ہونا ہے تو اس کے لیے کوشش آٹھویں، نویں جماعت سےشروع کرنی چاہیے ـ لیکن اگر آپ نے کئی برس گنوا دیے ہیں اور آپ اس وقت نویں جماعت میں زیر ِ تع


لیم ہیں تو ابھی سے دسویں جماعت کی تیاری شروع کردیں ـ دسویں کی تیاری کے لیے یہ موزوں ترین وقت ہے ـ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ـ روزانہ دو تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھائی کریں ـ تمام مضامین کی بنیادی باتیں سمجھیں ـ اپنا کانسپٹ کلیئر کریں ـ جو بات سمجھ میں نہ آئے بلا کسی تکلف و تردد کے اساتذۂ کرام سے بار بار پوچھیں ـ سوالات کرنے میں بالکل بھی جھجک محسوس نہ کریں ـ جو سوالات کرتا ہے وہ سیکھتا ہے ـ اسکول میں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو گھر پر اپنے والدین اور سرپرستوں سے پوچھیں ـ
کچھ بنیادی باتیں، ضابطے، پہاڑے، گرامر، مضمون نگاری ، مکتوب نگاری، اشتہار سازی، خاکے کی مدد سے کہانی لکھنا، اقتباس پڑھ کر سوالوں کے جوابات لکھنا، اشعار کی تشریح کرنا وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق یاد کرنے کی بجائے عملی مشق سے ہے ـ مذکورہ عناوین اور ان سے ملتے جلتے موضوعات کی تیاری آپ ابھی سے شروع کردیں ـ مشہور مصنفین،شعرا اور اصناف کی بنیادی معلومات کو جمع کریں اور یاد کریں ـ صنعتوں کی تعریف اور ان کی مثال کے لیے اشعار، محاوروں اور کہاوتوں کے معنی اور ان کا جملوں میں درست استعمال کرنے کی مشق کریں ـ پہاڑوں کے ساتھ کسوٹیاں اور ضابطے یاد کریں ـ انگریزی گرامر کی مشق کریں ـ غیر نصابی کتابیں، اخبارات اور رسائل کا بھی مطالعہ کریں ـ خوش خطی، زبانی امتحان ،انٹرویو اور پریکٹیکل وغیرہ کی تیاری پر ابھی سے توجہ دیں ـ 
نویں جماعت کے امتحانی پرچوں کو حل کریں ـ ان کا تجزیہ کریں کہ کس قسم کے سوالات پوچھے جاتے ہیں ـ ایک ہی سوال کو مختلف انداز سے کس طرح امتحان میں پوچھا جاتا ہے؟ اس کو نوٹ کریں ـ اپنے اساتذۂ کرام اور سرپرستوں کی رہنمائی میں آپ مصنوعی ذہانت کی بھی مدد لے سکتے ہیں اور اپنی تیاری کو بہتر بناسکتے ہیں ـ رہی بات موبائل کا استعمال اور اسکرین ٹائم کم کرنے کی ،تو اس کار ِ خیر کے لیے آپ کو کسی نصیحت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ـ اپنی صحت اور غذا پر بھی توجہ دیں ـ صحت بخش اور متوازن غذا استعمال کریں ـ ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتے رہیں ـ پڑھائی کے ایام میں بھرپور نیند لیں ـ اکثر طلبہ امتحان کے ایام میں بہت زیادہ جاگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہوجاتی ہے ـ 
دسویں جماعت میں آپ کتنے فیصد مارکس حاصل کرنے ہیں ، یہ نویں جماعت میں ہی طے کرلیں ـ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اپنا گول یعنی مقصد طے نہیں کرتے ـ بس دوستوں اور سہیلیوں کی دیکھا دیکھی اختیاری مضامین، کوچنگ کلاسز کا انتخاب اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ـ آپ کو دسویں جماعت کی بنیاد نویں کلاس میں ہی رکھنی ہے، تب ہی آپ دسویں جماعت میں نمایاں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، کیوں کہ ہر طالب علم کی صلاحیت ،حالات اور پسند و ناپسند مختلف ہوتی ہے ـ اسی کے مطابق ہمیں اسکول، مضمون اور کلاس کا انتخاب کرنا چاہیے ـ آپ نویں جماعت میں تو یہ سب تبدیل نہیں کرسکتے لیکن اگر ابھی سے محنت شروع کردیں اور مستقل مزاجی سے مسلسل محنت کرتے رہیں تو دسویں جماعت میں آپ کا تعلیمی معیار بلند ہوسکتا ہے ـ آپ کا دسویں جماعت کا رزلٹ بہتر ہوسکتا ہے اور مستقبل روشن ہوسکتا ہے ـ بس شرط یہ ہے کہ آپ نویں جماعت میں سستی اور دھینگا مستی کی بجائے ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھائی پر دھیان دیں ـ یاد رکھیں کہ ساری کوشش، محنت، بھاگ دوڑ اور تگ و دو ،نویں اور دسویں کے امتحان سے پہلے تک ہے ـ آپ امتحان سے پہلے جتنی محنت کریں گے اتنا ہی آپ کا رزلٹ بہتر ہوگا ـ ہر ہفتے یا مہینے اس بات کا جائزہ بھی لیں کہ آپ نے اپنی ہی کی ہوئی منصوبہ بندی پر کتنا عمل کیا؟ اور کہاں آپ کمزور پڑ رہے ہیں؟ اپنی کمزوریوں پر قابو پاتے ہوئے منصوبہ بندی اور ٹائم ٹیبل میں آپ مناسب تبدیلی بھی کرسکتے ہیں ـ
رزلٹ کے بعد کم مارکس ملنے پر آپ کے حیلے بہانے ، رونا دھونا اور بھاگ دوڑ آپ کے رزلٹ کو بہتر نہیں بناسکتی ـ اس لیے ابھی وقت ہے، ابھی سے پڑھائی اور اپنے مستقبل کو سنوارنے میں جٹ جائیں ـ یاد رکھیں کہ دسویں جماعت کا رزلٹ ایک سال میں یا صرف امتحان کے وقت تیار نہیں ہوتا بلکہ نویں جماعت کے ان ہی ایام میں تشکیل پاتا ہے ـ آج کی محنت کا پھل کل کامیابی کی صورت میں آپ کے سامنے ہوگا ـ







کسماگرج پرتسٹھان (ناسک) کی جانب سے ڈاکٹر بشیر بدر کو شاندار خراجِ عقیدت
ناسک (نامہ نگار):
۱۰ جون بروز بدھ شام ۶ بجے ناسک میں کسماگرج پرتسٹھان کے زیرِ اہتمام اردو کے عظیم شاعر، غزل کے معتبر اور مقبول ترین فنکار ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں ایک پُروقار تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرحوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اس تعزیتی تقریب کی صدارت جناب جاوید انصاری (آکاش وانی) نے فرمائی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا، ایڈوکیٹ ولاس لوناری (رکن و ٹرسٹی کسماگرج پرتسٹھان) سمیت دیگر معزز شخصیات اسٹیج پر موجود تھیں۔
صدرِ جلسہ جناب جاوید انصاری نے ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہد کے سب سے معتبر اور ہر دلعزیز غزل گو شاعر تھے۔ انہوں نے مالیگاؤں، جلگاؤں اور بھوپال میں ڈاکٹر بشیر بدر سے ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادبی سرمایہ سمجھے جانے والے بزرگوں کے آخری ایام میں ان سے جس طرح کی ہمدردی اور وابستگی کا اظہار ہونا چاہیے، وہ نظر نہیں آتا، جو ہم سب کے لیے ایک اہم سوال اور لمحۂ فکریہ ہے۔
محبِ اردو اور معروف قانون داں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان اور ادب سے ان کی محبت کا پہلا زینہ ڈاکٹر بشیر بدر کی شاعری رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مرحوم کے خوبصورت اور فکر انگیز اشعار سے بے حد متاثر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بشیر بدر کے متعدد اشعار سنائے اور کہا کہ ان کے کلام میں پوشیدہ پیغام کو عوام تک پہنچانا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔
ایڈوکیٹ بھتڑا نے کسماگرج پرتسٹھان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے مراٹھی ادب کے ساتھ ساتھ اردو کے اس عظیم شاعر کی یاد میں تعزیتی جلسہ منعقد کرکے قابلِ ستائش مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ادارے کی جانب سے اردو ادبی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا رہے۔
کسماگرج پرتسٹھان کے ٹرسٹی ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مراٹھی شعرا کے ساتھ ساتھ اردو اور ہندی کے ممتاز شعرا سے بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ڈاکٹر بشیر بدر کے کلام سے خصوصی طور پر متاثر رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مرحوم کے متعدد مقبول اشعار بھی سامعین کی نذر کیے۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر بشیر بدر کی اہلیہ محترمہ راحت بدر کا خصوصی پیغام بھی سنایا گیا، جس میں انہوں نے کسماگرج پرتسٹھان اور تمام منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ اس پروگرام کو سراہا۔
تقریب کے آخری مرحلے میں ناسک شہر کے غزل سنگر راجیش بھالے راؤ اور سنجئے باون کڑے نے ڈاکٹر بشیر بدر کے منتخب کلام کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
اس یادگار تعزیتی محفل کی نظامت ایڈوکیٹ زبیر سوداگر نے نہایت خوش اسلوبی اور مؤثر انداز میں انجام دی۔ پرتسٹھان کے آڈیٹوریم میں مراٹھی اور اردو ادب سے وابستہ شعراء، ادباء، دانشوروں اور ادب دوست حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جس میں ناسک بار کونسل کے صدر ایڈوکیٹ نتن ٹھاکرے،معروف مراٹھی شاعر ارون مہاترے،پرشانت کیندڑے،صنعتکار سنجے پٹیل، گلوکارہ راگینی کامٹھیکر،شاعر ارشاد وسیم و ریاض شیخ وغیرہ موجود تھے۔
آخر میں ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے رسمِ شکریہ ادا کی، جس کے ساتھ یہ باوقار اور یادگار تعزیتی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔





خلیل ہائی اسکول سے رضاپورہ تک روڈ آخر کب تعمیر ہوگی؟ روڈ ہے یا وبال جان ؟ کیا سیاسی لیڈران اس روڈ پر کسی انسانی جان جانے اور بڑے حادثے کے انتظار میں ہے؟ 
گذشتہ تین سالوں سے پرشاسک (کمشنر ) راج تھا کہیں نہ کہیں روڈ راستے تعمیر ہورہے تھے۔ اسی دوران تقریبا" آج سے 8 مہینہ پہلے کمشنر نے اس روڈ کی تعمیر کے لئے 1 کروڑ کا فنڈ منظور کیا تھا۔ مگر روڈ سے پہلے انڈر گراونڈ ڈرینج کا کام ہو اسکے لئے روڈ کی تعمیر رک گئی ۔ انڈر گراونڈ ڈرینج کے بعد ٹھیکدار کی ٹال مٹولی جاری تھی کہ کارپوریشن الیکشن کا اچار سہیتہ لگ گیا۔جس سے روڈ کا کام زیر التوا کا شکار ہوگیا۔ اب سوال یہ ہیکہ شہر بھر میں روڈ راستے کی تعمیر کا ٹھیکہ جو لوگ لیتے ہیں وہ کون ہے کسی کو بتانے کی ضروت نہیں یہ پورا شہر جانتا ہے۔ خیر الیکشن ہوگیا کارپوریشن اقتدار میں کون لوگ براجمان ہوئے یہ بھی شہر نے دیکھا۔ مگر اس روڈ کا سابقہ 1 کروڑ کا فنڈ زمین کھاگئی یا آسمان ، روڈ کاغذ پر بن گئی اور بل نکل گیا، کون مل بانٹ کر کھایا؟ اللہ کو حساب تو بحرحال دیگا۔ اس روڈ کے اطراف کے تمام ہی راہ گیروں کا سوال یہی رہا کہ آخر کہاں گیا عوام کی جیب سے نکلا ہوا ٹیکس کی شکل میں روپیہ پیسہ اور کہاں گیا اس روڈ کا فنڈ؟ کون کون مل بانٹ کر کھالئے؟ رہی بات آج کے برسراقتدار کی انہوں نے 122 کروڑ کے بجٹ میں اس روڈ کا دوبارہ 2 کروڑ کا فنڈ پھر سے منظور کئے۔ اللہ کی پناہ کہ روڈ پہلے بنی نہیں اور 1 کروڑ کا بل نکل گیا۔ اب دوبارہ 2 کروڑ منظور ہوا۔ مگر اب بھی ٹھیکدار ٹال مٹول اور جھوٹی باتیں کرریے ہیں۔ بس یہ سننے میں آتا کہ بقرعید بعد شروع ہوجائے گا۔ فلاں ہفتہ فلاں دن شروع ہوجائے گا۔ مگر انہیں یہ شرم نہیں آتی کہ یہ روڈ کی حالت کیا سے کیا ہورہی ہے۔ روڈ پر سواری تو کیا پیدل چلنا دوبھر ہوا ہے۔ مگر نہ آج کے برسراقتدار کو فکر ہے نہ ہی انکے مثیر خاص ٹھیکدار کو فکر ہے اور نہ ہی شہر کے ہر سیاسی لیڈران کو فکر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ روڈ اب وبال جان بن چکا ہے۔ یا پھر ہر سیاسی لیڈران اس اہم روڈ پر کسی انسانی جان جانے یا بڑے حادثے کے انتظار میں ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


اظہارِ تشکر
نشانِ ہند ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ "ایک شام مالیگاؤں کی محنت کش عوام کے نام" فری آل انڈیا مشاعرہ، مورخہ 12 جون 2026 بروز جمعہ، اسکس ہال مالیگاؤں میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
اس یادگار ادبی محفل میں شرکت فرما کر اسے کامیاب بنانے والے تمام معزز مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، سامعین، معزز شخصیات، میڈیا نمائندگان، سماجی کارکنان اور محنت کش عوام کا ہم دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
آپ حضرات کی بھرپور شرکت، محبت، حوصلہ افزائی اور تعاون نے اس مشاعرے کو ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب بنا دیا۔ بالخصوص ان تمام افراد اور اداروں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس پروگرام کے انعقاد میں کسی نہ کسی شکل میں تعاون فرمایا۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں آئندہ بھی ایسے ادبی، ثقافتی اور سماجی پروگراموں کے انعقاد کی توفیق عطا فرمائے۔

**قریشی مختار احمد**
سرپرست اعلیٰ :نشان ہند ٹرسٹ، مالیگاوں 

**یوسف رانا**
صدر، نشانِ ہند ٹرسٹ، مالیگاؤں
9004200983







عوامی حقوق کا محافظ اور تعلیم مافیا کے خلاف اعلان جنگ کرنے والا انجینئر شیخ جاوید انیس
*تحریر: اکرم صدیقی (صدر: انجمن ترقی فلاح و بہبود، دیانہ شیوار، مالیگاؤں)*
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 3 سے منتخب مقبول کارپوریٹر، محترم انجینئر شیخ جاوید انیس صاحب نے اپنے انتخاب کے پہلے ہی دن سے جس مخلصانہ اور عملی انداز میں عوامی خدمات کا بیڑا اٹھایا ہے، وہ پورے شہر کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ایک پڑھا لکھا اور مخلص نمائندہ جب اقتدار میں آتا ہے، تو وہ صرف سیاست نہیں کرتا بلکہ غریبوں کی طاقت بن جاتا ہے، جاوید انیس صاحب اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
*تعلیمی اور طبی میدان میں تاریخی خدمات:*
جاوید انیس صاحب نے ہمیشہ قومی مفاد اور تعلیمی نظام کی اصلاح کو ترجیح دی ہے۔ پچھلے دنوں جنرل بورڈ میٹنگ میں انہوں نے مالیگاؤں کے ان اساتذہ کا سنجیدہ معاملہ پوری قوت سے اٹھایا جو بیرونِ شہر برسرِ روزگار ہیں، اسی طرح دیانہ شیوار وارڈ نمبر 3 کے پسماندہ اور کچے علاقے کے غریب عوام کو ان کے گھر کے قریب ہی بہترین طبی امداد میسر ہو، اس کے لیے انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے *30 بیڈ کا سرکاری ہسپتال منظور کروایا*، جو اس علاقے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم ہے۔

*تعلیم مافیا کے خلاف اعلانِ جنگ اور حالیہ جرات مندانہ قدم:*
آج جاوید انیس صاحب نے ایک بار پھر غریبوں کے دل جیت لیے جب انہوں نے شہر کے "تعلیم مافیا" کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا۔ گورنمنٹ گرانٹیڈ (سرکاری امداد یافتہ) جونیئر کالجوں میں، جہاں غریب اور مزدور طبقے کے بچے پڑھتے ہیں اور جہاں سرکاری فیس محض چند سو روپے ہے، وہاں ایڈمیشن کے نام پر غریبوں سے5 ، 10 ،20 ہزار روپے کی غیر قانونی فیس لیکر غریب عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ،
جاوید انیس صاحب نے اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف نہ صرف شدید احتجاج کیا، بلکہ ایک نڈر لیڈر کی طرح کالج انتظامیہ اور ذمہ داران کو کھلی وارننگ دی ہے کہ یہ غیر قانونی کام فوراً بند کیا جائے اور غریبوں سے لیا گیا پیسہ واپس کیا جائے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو محکمہ جاتی سطح اور تعلیمی افسران (EO) سمیت وزیرِ تعلیم تک لے کر جائیں گے اور کسی بھی غریب بچوں کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ غریبوں، حمالوں اور پاورلوم مزدوروں کے بچوں کے مستقبل کے سچے محافظ ہیں۔
*ستائش و اعترافِ خدمات:*
ہم صدر و اراکین انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ بلا تفریق سیاست و نظریات کارپوریٹر انجینئر شیخ جاوید انیس صاحب کی اس عوامی، تعلیمی اور طبی بصیرت اور ان کے بے خوف جذبے کی دل کی گہرائیوں سے ستائش کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ وہ خلوص دل سے اسی طرح غریبوں مظلوموں کے حق کی لڑائی لڑتے رہے گے۔
انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ غریب عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں، ان کا یہ نمائندہ ان کے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ وہ جاوید انیس صاحب کو صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے، ان کی صلاحیتوں میں مزید برکت دے اور تعلیم مافیا کے خلاف شروع کی گئی اس مہم میں انہیں شاندار کامیابی عطا فرمائے۔ آمین!
منجانب : اکرم صدیقی ، ریاض منا ، جنید خان ، سہیل ماسٹر ، سمیر انصاری ، جنید جے ڈی ، بلال رچھ والا

ش ، ن ، الف 
انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ مالیگاؤں








*ٹی سی ایس کا ہوّا اور نوجوانوں میں ڈر*
*افواہوں سے بالاتر ہو کر ہنر کو بنائیں اپنی پہچان*
✍️ *وسیم رضا خان*
                              

حال ہی میں ناسک شہر کی ایک جانی مانی ملٹی نیشنل کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سے جڑا معاملہ کافی بحث میں رہا ہے۔ اس واقعے کو لے کر سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر کئی طرح کی باتیں کی گئیں، اسے الگ الگ رنگ دینے کی کوشش ہوئی اور کورٹ میں یہ معاملہ ابھی زیرِ سماعت ہے۔ اس دوران کچھ سماجی تنظیموں نے بھی قانونی اور اخلاقی طور پر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے، جسے معاشرے کا ایک سمجھدار طبقہ انصاف کی سمت میں اٹھائے گئے قدم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ لیکن اس پورے واقعے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس نے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک انجانا ڈر اور وہم پیدا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں کی وجہ سے کئی مسلم نوجوانوں کے دل میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا کارپوریٹ سیکٹر میں ان کے لیے راستے بند ہو رہے ہیں؟ کیا کمپنیاں اب کسی خاص نظریے سے ان کے ہنر کو پرکھیں گی؟
اگر ہم افواہوں کے بازار سے ہٹ کر ناسک اور ملک کی دیگر بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی زمینی حقیقت دیکھیں، تو تصویر بالکل الگ اور حوصلہ بڑھانے والی ہے۔ حال ہی میں مختلف کمپنیوں کے ایچ آر (HR) پروفیشنلز اور وہاں کام کر رہے نوجوانوں سے بات چیت میں یہ صاف ہوا ہے کہ کارپوریٹ دنیا آج بھی پوری طرح پروفیشنلزم پر چلتی ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں آج بھی صرف تین چیزیں اہمیت رکھتی ہیں—آپ کا تجربہ، کام کرنے کا طریقہ اور کام کو لے کر آپ کا جوش۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں کسی شخص کا مذہب، ذات یا پس منظر دیکھ کر نہیں، بلکہ اس کی اسکلز (Skills) دیکھ کر اسے نوکری دیتی ہیں۔ یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ کسی ایک تنازع کی وجہ سے پورے طبقے کے لیے مواقع ختم ہو جائیں گے۔ کمپنیوں کے دروازے ہر اس نوجوان کے لیے کھلے ہیں جس کے پاس ہنر ہے۔
کارپوریٹ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ہمت اور ہنر کے ساتھ ساتھ تھوڑی عملی سمجھ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں کو اپنے کام کی جگہ پر کچھ بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، تاکہ وہ کسی بھی طرح کی غلط فہمی یا تنازع سے بچے رہیں۔ آفس میں تمام ساتھیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ اور خوشگوار تعلقات رکھیں۔ حالانکہ، یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ آفس کی دوستی کا ایک دائرہ ہو۔ بہت زیادہ گہری دوستی یا خاندانی سطح تک رسائی کبھی کبھی انجانے میں پیشہ ورانہ مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ خاص طور پر خاتون ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کو ہمیشہ حد میں، باوقار اور پیشہ ورانہ بنائے رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی انہونی یا غلط فہمی کی گنجائش نہ رہے۔
دفتر صرف کام کے لیے ہوتا ہے۔ آفس کے ماحول میں مذہب، تہواروں، رسم و رواج یا مذہبی کتابوں سے جڑی حساس ابحاث سے پوری طرح دور رہیں۔ ہر کسی کا اپنا عقیدہ ہوتا ہے، اس لیے پیشہ ورانہ دائرے میں رہتے ہوئے صرف بزنس اور کام سے جڑی باتیں کرنا ہی سب سے محفوظ اور صحیح طریقہ ہے۔ اگر آپ کے جائے عمل یا اسٹاف میں دیگر خواتین ساتھی یا آپ کی کمیونٹی کی نوجوان لڑکیاں کام کر رہی ہیں، تو ایک ذمہ دار ساتھی کے ناطے ان کی حفاظت اور وقار کا احترام کریں۔ انہیں یہ بھروسہ دلائیں کہ اگر جائے عمل پر انہیں کسی بھی طرح کی بے چینی یا انہونی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ بلا جھجک بات کر سکتی ہیں اور اس کی شکایت ایچ آر یا مینجمنٹ سے کر سکتی ہیں۔
اس مضمون کے لکھنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ کسی بھی طرح کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنی ہمت اور اپنے ہنر کو ضائع نہ کرے۔ اگر آپ میں قابلیت ہے، تو ملک اور دنیا کی کوئی بھی بڑی کمپنی آپ کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ مایوسی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ جس بھی کمپنی میں آپ کام کرنا چاہتے ہیں، وہاں بلا جھجک اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی امیدواری درج کریں۔ اپنی توانائی کو افواہوں پر برباد کرنے کے بجائے اپنی اسکلز کو اپ گریڈ کرنے میں لگائیں۔ یاد رکھیں، آپ کی کامیابی ہی ہر اس طاقت کو سب سے بڑا جواب ہوگی جو نوجوانوں کو بے روزگار یا گمراہ دیکھنا چاہتی ہے۔ آپ کی محنت، آپ کی ایمانداری اور آپ کا ہنر ہی آپ کی اصل پہچان ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بارش میں نہانا بالوں اور جِلد کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟
جانے چارلی چیپلن سے یہ سوال کہ ’بارش میں نہانے کا کا فادہ ہے؟‘ پوچھا گیا تھا یا پھر اس شاعر سے، جس نے ان کے مشہور قول کو کچھ یوں اردو میں شعری شکل دی.
بارش میں بھیگتے ہوئے رونے کا فائدہ
آنسو میرے کسی کو دکھائی نہیں دیے
مگر ایک بات عیاں ہے کہ بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ کچھ لوگوں کا دل باہر نکل کر بھیگنے کو کرتا ہے جبکہ کچھ اندر کی طرف بھاگتے ہیں یعنی کہ بارش میں بھیگنے کا معاملہ بھی اپنی اپنی پسند کے مطابق ہے تاہم یہاں صرف اس بات کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ بارش کا پانی بالوں اور جلد کے لیے واقعی مفید ہے یا نقصان دہ یا یونہی باتیں بنی ہوئی ہیں۔اس بارے میں ویب سائٹ ہیلتھ شاٹس نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں ماہر جلد اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ سے بات کی ہے۔
جب ان سے یہی سوال پوچھا گیا تو ان کا کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارش کے پانی کے جلد اور بالوں پر اثرات کے حوالے سے تفصیل سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم گرما کی بارش میں نہانے سے جسم کو سکون ملتا ہے اور جلد اور بالوں پر اس کا خوشگوار اثر پڑتا ہے لیکن اگر آپ ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں بہت زیادہ آلودگی ہے تو پھر بارش کے پانی کی تاثیر مختلف ہو سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر آپ کی جلد حساس ہے اور ایسے ہی علاقے میں رہتے ہیں تو آپ کو بارش کے پانی میں نہانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جلد کو نقصان ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مون سون کی بارش کا پانی انہیں ٹھنڈک کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ خشکی اور ہلکی پھلکی خارش سے بھی نجات دے گا تاہم یہ تبھی ہوتا ہے جب بارش کسی پرفضا مقام پر برس رہی ہو، اگر معاملہ اس سے الٹ یعنی آلودگی والے مقام کا ہو تو یہ صورت حال اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور جلد و بالوں کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے بالوں اور جلد کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اس لیے بارش کے پانی بھی مختلف ہو سکتا ہے، ویسے زیادہ تر بارش کا پانی بالوں کو سخت اور کھردرا بناتا ہے، اس لیے بارش کے پانی میں نہانے کے بعد بالوں کو صابن سے دھونا یا شیمپو کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ مون سون کے موسم میں انسان کو بالوں سے متعلق زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں جن میں جوؤں کا مسئلہ بھی شامل ہے اور اس کی وجہ سے نمی ہوتی ہے۔
ان نکات کے بعد جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ مون سون میں ہونے والی بارش سے بچا جائے اور اس بھیگے موسم کا مزہ نہ لیا جائے؟اس کے جواب میں ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ نے کہا کہ اگر کسی خصوصاً خواتین کا بارش میں بھیگنے کا دل کر رہا ہے اور ان کو اپنے بالوں اور جلد کی بھی فکر ہو تو انہیں ایسا کر لینا چاہیے تاہم دو تین نکات ذہن میں رکھنے چاہییں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بارش میں بھیگنے کے بعد گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد نیم گرم پانی سے دوبارہ غسل ضرور کریں، اسی طرح چہرے کو بھی کسی اچھے صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
اسی طرح شیمپو کرنے کے بعد کنڈیشنر لگانا نہ بھولیں، اس سے بالوں میں نمی برقرار رہتی ہے اور بالوں کی شائن بھی بڑھتی ہے۔
اسی طرح نہانے کے بعد انفیکشن سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جسم کے اچھی طرح خشک ہونے کے بعد کپڑے پہنیں، ایسا تولیے سے کسی حد تک کیا جا سکتا ہے تاہم کوشش کریں کہ جسم ہوا سے خشک ہو۔








 ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے‘‘ اسدالدین اویسی کا شیوسینا اور ٹی ایم سی پر طنز، کہا-’’اپوزیشن کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت‘‘
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ان کی قیادت اپنی پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کو دوسری جماعتوں میں جانے سے کیوں نہیں روک پا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں اپوزیشن پر سوالات

اسدالدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے کئی ارکان پارلیمنٹ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید دو ’نمایاں‘ ارکان پارلیمنٹ کو بتانا چاہیے کہ آخر ان اراکین کو بی جے پی میں جانے کے لیے کس نے ’دھمکایا‘۔ اویسی نے مغربی بنگال کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے دیگر 19 ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ انہوں نے کہا کہ شاید اس کا الزام بھی کسی ایک شخص پر ڈالنے میں ایک مہینہ لگ جائے گا۔

قرآن پاک کا حوالہ، تنظیمی کمزوریوں کا ذکر

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ناقدین کو بے بنیاد الزامات سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا: ’’ہر طعنہ دینے والے اور عیب جو کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی تنظیمی ناکامیوں کا ذمہ دار کسی ایک شخصیت کو قرار نہیں دے سکتی۔ اویسی نے سوال کیا کہ آخر بی جے پی کے لیے دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی طرف راغب کرنا اتنا آسان کیوں ہے اور لوگ مسلسل اپنی جماعتیں کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے لکھا ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے۔‘‘

مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں سیاسی ہلچل

مہاراشٹر میں اس وقت ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے نام سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شیوسینا (یو بی ٹی) کے نو میں سے سات ارکان پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا سے رابطے میں ہیں اور ممکنہ طور پر پارٹی تبدیل کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، شیوسینا کے رکن قانون ساز کونسل چندرکانت رگھونشی نے دعویٰ کیا ہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے ایکناتھ شندے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے دھڑے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں 14 جون کو ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ نے اوم برلا سے ملاقات کرکے اپنے گروپ کے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام سے متعلق ایک خط بھی پیش کیا تھا۔









جیوڈ بیلنگھم کے نام بڑا ریکارڈ، ورلڈ کپ 2026 میں انگلینڈ کی جیت، کروشیا کے خلاف گول کر کے رقم کر دی تاریخ  
 نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 میں انگلینڈ نے شاندار آغاز کرتے ہوئے کروشیا کو 2-4 سے شکست دے دی۔ ہیری کین کی قیادت میں حاصل ہونے والی اس فتح کے دوران نوجوان مڈفیلڈر جیوڈ بیلنگھم نے ایک تاریخی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔گروپ ایل کے پہلے میچ میں بیلنگھم نے نہ صرف عمدہ کھیل پیش کیا بلکہ ایک اہم گول بھی اسکور کیا۔ 22 سالہ انگلش اسٹار اب دو فیفا ورلڈ کپ اور دو یورو کپ سمیت چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی فٹبالر بن گئے ہیں۔بیلنگھم نے یہ اعزاز جرمنی کے جمل موسیالا کو پیچھے چھوڑ کر حاصل کیا۔ انہوں نے پہلی بار یورو 2020 میں کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کی تھی، جس کے بعد وہ قطر ورلڈ کپ 2022، یورو 2024 اور اب ورلڈ کپ 2026 میں بھی انگلینڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

اس فہرست میں انگلینڈ کے سابق اسٹار مائیکل اوون کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے 1998 اور 2002 کے ورلڈ کپ کے علاوہ یورو 2000 اور یورو 2004 میں شرکت کی تھی۔ جیوڈ بیلنگھم انگلینڈ کے ان چند کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں ،جنہوں نے کم عمری میں ہی بین الاقوامی فٹبال میں اپنی جگہ بنا لی۔ انہوں نے محض 17 سال اور 136 دن کی عمر میں انگلینڈ کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ انگلینڈ کی تاریخ میں ان سے کم عمر میں صرف تھیو والکاٹ اور وین رونی نے قومی ٹیم کے لیے پہلا میچ کھیلا تھا۔کروشیا کے خلاف میچ میں انگلینڈ نے ابتدا سے ہی جارحانہ کھیل پیش کیا۔ کپتان ہیری کین نے دو گول اسکور کیے، جب کہ دوسرے ہاف میں جیوڈ بیلنگھم اور مارکس راشفورڈ کے گولز نے ٹیم کی فتح یقینی بنا دی۔

میچ کے بعد بیلنگھم نے کہا کہ ایک بار پھر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا اگلا ہدف انگلینڈ کے لیے 50 بین الاقوامی میچ مکمل کرنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میری ذمہ داری ہے کہ جب میں میدان میں اتروں تو اپنی ٹیم اور اپنے ملک کے لیے سو فیصد دوں۔ جب سینے پر انگلینڈ کا بیج اور پشت پر نمبر 10 ہو تو میں اپنی تمام تر صلاحیتیں ٹیم کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔‘‘بیلنگھم نے مزید کہا کہ یہ سیزن ان کے لیے انتہائی طویل اور تھکا دینے والا رہا، جس کے دوران وہ کئی مواقع پر ٹریننگ کیمپس سے بھی دور رہے، لیکن انہیں یقین تھا کہ بڑے مقابلوں میں وہ اپنی ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔

چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی کھلاڑی

جیوڈ بیلنگھم (انگلینڈ) — 22 سال 353 دن

جمال موسیالا (جرمنی) — 23 سال 108 دن

پیڈری (اسپین) — 23 سال 202 دن

جیریمی ڈوکو (بیلجیم) — 24 سال 19 دن

مائیکل اوون (انگلینڈ) — 24 سال 182 دن

لوکاس پوڈولسکی (جرمنی) — 25 سال 9 دن

جیوڈ بیلنگھم کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے شاندار کیریئر کا ایک اور سنگ میل ہے بلکہ انگلینڈ کے لیے ورلڈ کپ مہم کے آغاز پر ایک حوصلہ افزا اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

تمل ناڈو کی سیاست میں ہلچل، وجے کی طاقت میں ہوگا اضافہ، ڈی ایم کے کو لگے گا جھٹکا!
ایم ڈی ایم کے کے ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو الائنس (SPA) سے الگ ہونے کی قیاس آرائیاں شدت اختیار کررہی ہیں ۔ یہی نہیں، ایم ڈی ایم کے کے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی ٹی وی کے حکومت کے قریب آنے کی چہ مگوئیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، ایم ڈی ایم کے 27 جون کو ہونے والی اپنی جنرل کونسل میٹنگ میں ڈی ایم کے اتحاد سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کر سکتی ہے۔

وی سی کے، آئی یو ایم ایل، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) پہلے ہی ٹی وی کے حکومت کی حمایت کر چکے ہیں۔تاہم ایم ڈی ایم کے اب تک کھل کر حکومت کی حمایت نہیں کر سکی کیونکہ اس کے دو ارکانِ اسمبلی ڈی ایم کے کے انتخابی نشان رائزنگ سن پر کامیاب ہو کر اسمبلی پہنچے تھے۔پارٹی لیڈروں کا ماننا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے عملی راستہ یہی ہے کہ دونوں ارکانِ اسمبلی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں، ضمنی انتخابات میں حصہ لیں اور دوبارہ کامیاب ہونے کے بعد حکمران اتحاد کی حمایت کریں۔

ایم ڈی ایم کے کے سربراہ وائیکواور ان کے بیٹے، تروچیراپلی سے رکنِ پارلیمان دُرائی وائیکو دونوں عوامی طور پر ڈی ایم کے کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔حال ہی میں دُرائی وائیکو نے کہا تھا کہ ڈی ایم کے کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے کی وجہ سے ان کی جماعت ٹی وی کے حکومت کی حمایت نہیں کر پا رہی، جو ان کے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔

منگل کے روز وزیرِ تعمیرات عامہ آدھو ارجنا نے چنئی میں واقع وائیکو کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی تھی۔ اس کے اگلے روز وائیکو نے سیکریٹریٹ میں وزیر اعلیٰ وجے سے ملاقات کی۔اگرچہ وائیکو نے اتحاد تبدیل کرنے کی خبروں کو محض قیاس آرائیاں قرار دیا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسی دوران دورائی وائیکو نے ریاست میں خواتین کے خلاف حالیہ جرائم کے معاملے پر بھی ٹی وی کے حکومت کا دفاع کیا۔

انہوں نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کر دیا جن میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا اور اس نوعیت کے واقعات ڈی ایم کے کے دورِ حکومت میں بھی پیش آتے رہے تھے۔واضح رہے کہ اپریل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ایم ڈی ایم کے نے ڈی ایم کے کے انتخابی نشان پر چار نشستوں پر انتخاب لڑا تھا، جن میں سے دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔اگر پارٹی کے دونوں ارکانِ اسمبلی استعفیٰ دے دیتے ہیں تو اسمبلی میں خالی نشستوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو جائے گی۔ ان میں تروچیراپلی ایسٹ کی وہ نشست بھی شامل ہے جو وزیر اعلیٰ وجے کے عہدہ سنبھالنے کے بعد خالی ہوئی تھی۔








امریکہ۔ایران معاہدہ : خامنہ ای فاتح ، ماہرین نے بتائیں 6 نکات
امریکہ اور ایران کے بیچ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے پر ورچوئل طریقے سے دستخط کیے۔ ٹرمپ نے اسے اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔

معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل تجارت پر منڈلا رہا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ 14 نکاتی شرائط پر مشتمل اس معاہدے کے بعد ایک اہم سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ آخر اس معاہدے میں حقیقی فائدہ کسے ہوا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بظاہر دونوں فریق کامیاب دکھائی دیتے ہیں لیکن سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک بڑے سیاسی کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔امریکہ کو کیا حاصل ہوا؟

14 نکاتی معاہدے میں امریکہ کو سب سے بڑی راحت یہ ملی کہ جنگ فی الحال رک گئی ہے۔ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی دوبارہ معمول پر آنے جا رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ ایران نے اس معاہدے کے ذریعے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی شرط بھی قبول کر لی ہے، تاہم اس کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ دونوں ممالک آئندہ 60 دن تک مذاکرات جاری رکھیں گے اور اسی عرصے میں مستقل معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔

ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک کارکردگی پر مبنی معاہدہ (Performance-Based Deal) ہے۔ یعنی اگر ایران نے اپنی یقین دہانیاں پوری نہ کیں تو دی گئی رعایتیں واپس بھی لی جا سکتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس معاہدے کے تحت ایران کو کوئی نقد ادانہیں کرے گا۔

 ایران کو کیا ہوا حاصل؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے میں ایران کو دی گئی رعایتوں نے پوری تصویر بدل دی ہے۔

سب سے بڑا فائدہ ایران کے تیل کے کاروبار کو ہوا ہے۔ معاہدہ نافذ ہوتے ہی ایران کو تیل اور ایندھن فروخت کرنے کی اجازت ملنے لگی ہے۔ اس کے علاوہ بینکاری، بحری نقل و حمل اور انشورنس سے متعلق متعدد پابندیوں میں بھی نرمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

اس سے ایران کی معیشت کو دوبارہ سہارا مل سکتا ہے اور پابندیوں کے باعث عالمی سطح پر تنہا ہونے والا ایران ایک بار پھر بین الاقوامی اہمیت حاصل کر سکتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اگر ایران جنگ سے پہلے والی سطح پر تیل فروخت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے سالانہ 60 ارب ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔توانائی کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ صرف ابتدائی دو ماہ کے دوران ہی ایران کو تقریباً 8 ارب ڈالر اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے پاس پہلے سے 100 ملین بیرل سے زیادہ تیل ذخیرہ شدہ موجود ہے، جن میں سے تقریباً 60 ملین بیرل بیرونِ ملک رکھے گئے ہیں اور اب انہیں فوری طور پر عالمی منڈی میں فروخت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔

اگر مستقبل میں مستقل معاہدہ طے پا جاتا ہے تو بیرونِ ملک منجمد تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں تک رسائی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ایرانی میڈیا ابتدائی مرحلے میں 12 ارب ڈالر جاری ہونے کی توقع ظاہر کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جنگ سے متاثرہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی تجویز کو بھی معاہدے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین ایران کا پلڑا بھاری کیوں بتارہے ہیں؟

**1-**معاہدے کے نافذ ہوتے ہی ایران کے لیے تیل فروخت کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ بینکاری، شپنگ اور انشورنس سے متعلق کئی پابندیوں میں نرمی آنا شروع ہو گئی ہے۔اندازہ ہے کہ اس سے ایران ہر سال 60 ارب ڈالر سے زیادہ کما سکتا ہے، جبکہ امریکہ کو فی الحال صرف یہ یقین دہانی ملی ہے کہ ایران مذاکرات جاری رکھے گا اور معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا۔

**2-**امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا بتایا جا رہا تھا لیکن معاہدے میں نہ تو سینٹری فیوجز تباہ کرنے کی کوئی شرط شامل ہے اور نہ ہی اعلیٰ درجے کے یورینیم کو فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جوہری پروگرام سے متعلق سب سے پیچیدہ معاملات آئندہ 60 دن کے مذاکرات کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔

 **3۔**جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے رہے تھے، لیکن حتمی معاہدے میں نہ ہتھیار ڈالنے کی شرط شامل ہے، نہ حکومت کی تبدیلی کا ذکر ہے اور نہ ہی جوہری تنصیبات کے بنیادی ڈھانچے کو فوری طور پر ختم کرنے کی کوئی شق موجود ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے ابتدائی موقف سے پیچھے ہٹ گیا، حالانکہ یہی نکات جنگ کے آغاز کی بنیادی وجوہات میں شامل تھے۔

4۔ ایران مسلسل اشارے دے رہا تھا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو آبنائے ہرمز متاثر ہو سکتی ہے۔اس خدشے نے عالمی تیل منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی تھی۔ ناقدین کے مطابق عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو لاحق خطرات نے امریکہ کو معاہدے کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔۔ 110 دن تک جاری رہنے والی جنگ، وسیع فوجی کارروائیوں اور بڑے معاشی نقصانات کے باوجود ایران کی حکومت برقرار ہے۔اسی طرح ایران کا جوہری پروگرام بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یعنی جن مقاصد کے حصول کے لیے جنگ شروع کی گئی تھی، ان میں سے کئی اب بھی حاصل نہیں ہو سکے۔

 6۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو ایران کی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ بھی بڑھ سکتا ہے۔اسرائیل کے حامی حلقے اور متعدد ریپبلکن رہنما یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ امریکا نے اپنا سب سے طاقتور دباؤ کا ہتھیار، یعنی معاشی پابندیاں، کمزور کر دیا ہے۔ان کے مطابق اگر آئندہ 60 دن کے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو امریکا کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے مؤثر ذرائع پہلے کے مقابلے میں کم رہ جائیں گے۔








غزہ: جنگ بندی کے بعد بھی نہ تھم سکا ہلاکتوں کا سلسلہ،اسرائیلی حملوں میں 1000 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق
غزہ کی صورتحال میں جنگ بندی کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور فلسطینیوں کو ہنوز مشکلات کا سامنا ہے ۔ اکتوبر 2025 میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود محصور فلسطینی علاقے میں انسانی بحران ختم نہیں ہو سکا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے حوالے سے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1,005 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز،وزارت کے ذریعہ جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے باعث شہری آبادی مسلسل متاثر ہو رہی ہے اور انسانی صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔غزہ میں سرگرم تنظیم میڈیکل ایڈ فار فلسطینز (MAP) کی ڈائریکٹر فِکر شلتوت نے کہاکہ جنگ بندی سے صورتحال بدلنے کا خاکہ پیش کیا گیا تھا وہ کاغذ تک ہی محدود ہے۔بدترین وقت نہیں گزرا ہے، فلسطینی آج بھی اپنے پیاروں کو سپرد خاک کرنے پر مجبور ہیں۔اگرچہ جنگ بندی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جاری لڑائی رک گئی تھی، تاہم معاہدے کے دوسرے اور زیادہ حساس مرحلے پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ اس مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو اپنے ہتھیار ترک کرنا تھے لیکن دونوں نکات پر پیش رفت نہ ہو سکی۔

 غزہ کے 64 فیصد علاقے پر اسرائیل کا قبضہ 

رپورٹس کے مطابق اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے غزہ میں اپنی عسکری موجودگی مزید مستحکم کر لی ہے اور اس وقت غزہ کی تقریباً 64 فیصد اراضی اس کے کنٹرول میں ہے، جبکہ جنگ بندی معاہدے کے تحت یہ تناسب 53 فیصد تک محدود ہونا تھا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ جمعے کو غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں درجنوں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اسرائیلی افواج نے مغربی سمت میں نام نہاد ییلو لائن کی توسیع کے اشارے کے طور پر زرد رنگ کے سیمنٹ بلاکس نصب کیے، جس کے بعد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

حماس کا سخت موقف

دوسری جانب حماس کے موقف میں بھی کوئی نرمی نہیں آئی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تنظیم فی الحال اپنے ہتھیار ترک نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق حماس کے عسکری ذخیرے کے مستقبل کا فیصلہ دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ جامع مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

امداد اور علاج تک رسائی محدود

جنگ بندی کے اہم مقاصد میں غزہ اور اس کے تباہ حال صحت کے نظام کی بحالی بھی شامل تھی، تاہم اس حوالے سے پیش رفت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ OCHA کے مطابق غزہ میں موجود 37 اسپتالوں میں سے صرف 20 جزوی طور پر فعال ہیں، جبکہ پورے علاقے میں ایک بھی ایسا اسپتال موجود نہیں جو مکمل طور پر فعال ہو۔فِکر شلتوت نے عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بمباری کا سلسلہ جاری رہا اور غزہ تقریباً مکمل محاصرے میں رہا تو عالمی لیڈروں نے خود کو یہ یقین دلا لیا کہ محض ایک معاہدہ جوابدہی، محاصرے کے خاتمے اور ضرورت مندوں تک ادویات کی فراہمی کا متبادل بن سکتا ہے۔انسانی بحران بدستور سنگین

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی غزہ میں رسائی سخت پابندیوں کا شکار ہے، جبکہ امدادی سامان کو بھوکی اور ضرورت مند آبادی کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ 23 اکتوبر کو غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ مسلسل بمباری کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جبکہ تقریباً 19 لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری آبادی کو تحفظ، طبی سہولیات اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع  بجاج فائنانس کی جانب سے ایک پرکشش اسکیم شروع کی گئی تھی جسمیں یکم اپریل سے جون تک بجاج فائنان...