Tuesday, 7 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*_ضروری و پُر درد اپیل - ہماری بیٹیوں، ہمارا مستقبل_*
*تائید و حمایت حفاظت گروپ مالیگاؤں ،بزم خلوص، مجددی فاؤنڈیشن*
*____________________________*

       *محمد عارف نوری* 
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں و ڈائریکٹر حفاظت میڈیا مالیگاؤں)*
8208152800 
*____________________________*

*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
*آج ہمارے گھروں میں "ارتداد، خودکشی، نشہ، غلط محبت اور دھوکے" کی خبریں عام ہو چکی ہیں۔* 
*ہماری معصوم بیٹیاں سوشل میڈیا اور غلط صحبت کا شکار ہو رہی ہیں۔*
*یہ صرف خبر نہیں، یہ ہر ماں باپ کا درد ہے۔*

*اسی درد کو مٹانے کے لیے مالیگاؤں کے مخلص سوشل ورکروں و دیگر تنظیموں نے مل کر ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔*

*_ایک خصوصی اصلاحی پروگرام برائے خواتین_*

*"گمراہی سے ہدایت کی طرف"*

*ان موضوعات پر کُھل کر بات ہوگی ارتداد ایمان کمزور کیوں ہو رہا ہے اور اس کی حفاظت کیسے کریں؟خودکشی و ڈپریشن مایوسی کا اسلامی علاج کیا ہے؟ عشق، محبت اور دھوکا ہماری بیٹیاں کس جال میں پھنس رہی ہیں؟ نشہ اور جرائم ایک غلطی پوری نسل تباہ کر دیتی ہے بد اخلاقی و بے حیائی اسلامی تہذیب کی طرف واپسی سوشل میڈیا کے فتنے موبائل ہمارا دوست یا دشمن؟ و دیگر سماجی برائیوں پر محترمہ نازیہ تسکین آپا مشہور داعیہ اور دیگر عالمہ آپا بھی خطاب فرمائیں گی۔*

*پروگرام کی مکمل تفصیل:*
*تاریخ : 12 جولائی 2026 بروز اتوار وقت : دوپہر 2:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک مقام : اسکول نمبر 1 گراؤنڈ، قدوائی روڈ، مالیگاؤں، صرف خواتین کے لیے* 

*اس پروگرام کی تائید و تائید و حمایت کردہ :* 
*حفاظت گروپ مالیگاؤں (محمد عارف نوری صاحب)* 
*بزمِ خلوص (صدر آزاد انور صاحب)*
*مجددی فاؤنڈیشن( صدر مولانا عبدالرشید مجددی صاحب)*

*آخر میں ہماری مؤدبانہ گزارش:*
*یہ پروگرام کسی ایک کا نہیں، پورے مالیگاؤں شہر کا ہے اپنی بہن، بیٹی، بھانجی ، بھتیجی سب کو لے کر آئیں ہو سکتا ہے آپ کا ایک قدم کسی گھر کو ٹوٹنے سے بچا لے*








مسلسل 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنے سے ’کینسر کا خطرہ‘، جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ہی نشست میں آدھے گھنٹے (30 منٹ) سے زیادہ بیٹھنا کینسر کے باعث موت کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق محققین نے 10 برس کے دوران 90 ہزار سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا اور یہ پایا کہ جاگتے ہوئے ایک ہی دورانیے میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا یا لیٹے رہنا کینسر سے موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔
نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ یہ خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔تاہم محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ 30 منٹ تک غیرمتحرک یا بیٹھے رہنے کے دوران اگر جسمانی سرگرمی انجام دی جائے تو یہ خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر آدھے گھنٹے بعد اُٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے چہل قدمی کرنا صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے چاہے یہ چہل قدمی دفتر کے اندر ہی کیوں نہ کی جائے۔
گلاسگو یونیورسٹی کے اس مطالعے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر فریڈرک ہو کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعدادوشمار سے یہ واضح ہوا ہے کہ ایک وقت میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا خاص طور پر کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جُڑا ہوا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہر نصف گھنٹے بعد مختصر چہل قدمی کی طرح کی سادہ سرگرمی کینسر کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صحت کے حوالے سے موجودہ رہنما اصول زیادہ تر درمیانی یا شدید ورزش پر زور دیتے ہیں، مگر ہماری تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہلکی پھلکی حرکت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آئندہ طبی آزمائشیں ہمیں عمومی ہدایات سے آگے بڑھنے اور ہر فرد کے لیے مخصوص حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دیں گی تاکہ بیٹھنے کے وقت کو بہتر انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔‘
یہ نتائج ایک طبی جریدے میں شائع ہوئے، جس میں روزمرہ کی بنیاد پر طویل عرصے تک غیر متحرک رہنے کے صحت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اگرچہ طویل وقت تک بیٹھے یا لیٹے رہنا پہلے ہی دل کی بیماریوں اور بعض اقسام کے کینسر کے بڑھتے خطرے سے جوڑا جا چکا ہے، لیکن محققین کے مطابق اس بات پر کم توجہ دی گئی ہے کہ یہ غیر متحرک وقت کس انداز میں جمع ہوتا ہے اور آیا اس کا بھی صحت پر اثر پڑتا ہے یا نہیں۔
تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ غیر متحرک وقت کو جسمانی سرگرمی سے بدلنے سے کینسر کے مختلف خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ مفید سرگرمیوں میں آہستہ چلنا اور گھریلو کام کاج وغیرہ شامل ہیں۔تحقیقی ٹیم نے برطانیہ کے ایک بڑے طبی ڈیٹا پروجیکٹ کے 90 ہزار سے زائد شرکا کے ایسے اعدادوشمار کا تجزیہ کیا جو پہننے کے قابل آلات کے ذریعے جمع کیے گئے تھے، اور ان کا اوسطاً 12 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف ہوا کہ 30 منٹ سے زیادہ دیر تک غیرمتحرک رہنا کینسر کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ روزانہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ کینسر سے موت کا خطرہ دس فیصد بڑھ جاتا ہے۔
تاہم کچھ دیر بعد حرکت کرنے سے یہ خطرہ کم ہوتا دکھائی دیا۔ روزانہ ایک گھنٹہ بیٹھنے کے وقت کو کپڑے استری کرنے یا برتن دھونے کی طرح کی ہلکی جسمانی سرگرمی سے تبدیل کرنے سے موت کا خطرہ بارہ فیصد کم ہوا۔
اسی طرح روزانہ 30 منٹ تک غیرمتحرک رہنے کی بجائے درمیانی درجے کی جسمانی سرگرمی جیسے معمول کی رفتار سے چہل قدمی کرنے سے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد کم ہوا۔ جبکہ روزانہ پانچ منٹ غیرمتحرک رہنے اور پھر پانچ منٹ کی تیز جسمانی سرگرمی انجام دینے پر یہ خطرہ 22 فیصد تک کم پایا گیا۔
تاہم اس تحقیق کی کچھ حدود بھی تھیں، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ مشاہداتی مطالعہ تھا اور اس میں شماریاتی تجزیہ کیا گیا، اس لیے براہِ راست کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
ایک ماہرِ شماریات پروفیسر کیون مک کانوی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ یہ نتائج دلچسپ ہیں مگر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔









شام کے دارالحکومت دمشق میں سلسلہ واردھماکے، فرانسیسی صدرمیکرون کے ہوٹل کے باہرگرا بم
دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کویکے بعد دیگرے 2 دھماکوں سے شہرلرزاٹھا۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب فرانس کے صدرایمینوئل میکرون شام کے دورے پرموجود تھے اورصدراحمد الشرع سے ملاقات کے لئے صدارتی محل پہنچ رہے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق، میکرون کے صدارتی محل روانہ ہونے کے فوراً بعد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک دھماکہ اس ہوٹل کے قریب بھی ہوا، جہاں فرانسیسی صدرقیام پذیرہیں۔ شامی میڈیا کے مطابق، دونوں دھماکے دمشق کے مرکزی علاقے میں ہوئے، جس کے بعد آگ کے شعلے اوردھوئیں کے گھنے بادل آسمان میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

فرانسیسی صدارتی دفترنے بتایا کہ صدرایمینوئل میکرون مکمل طورپرمحفوظ ہیں اورانہوں نے دھماکوں کی آوازبھی نہیں سنی۔ دھماکوں کے باوجود انہوں نے شام کے صدراحمد الشرع سے طے شدہ ملاقات بھی کی۔ حکام کے مطابق، ان دھماکوں میں کم ازکم 18 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں 4 پولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔ یہ دھماکے دمشق کے مصروف علاقوں، نیشنل میوزیم آف دمشق اوروزارتِ سیاحت کے قریب پیش آئے۔

صدارتی قافلے کے گزرنے کے فوراً بعد دھماکہ

رپورٹ کے مطابق پہلا دھماکہ میکرون کے قافلے کے صدارتی محل روانہ ہونے کے چند ہی لمحوں بعد ہوا۔ دھماکے کے بعد ایک کوڑے دان سے آگ اوردھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اس کے چند میٹرکے فاصلے پردوسرا دھماکہ بھی ہوا، جوجائے وقوع پرکھڑی ایک ایمبولینس کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً دودرجن افراد موجود تھے۔

چند روزقبل بھی کیفے میں ہوا تھا دھماکہ

واضح رہے کہ 2 جولائی کوبھی دمشق کے ایک کیفے میں بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 9 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ تازہ دھماکوں نے ایک بارپھردارالحکومت کی سکیورٹی پرسوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ شام کے صدراحمد الشرع 2024 میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدارمیں آئے تھے اورملک میں امن واستحکام بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حالانکہ پہلے سے بم دھماکوں میں کافی کمی آئی ہے، لیکن ایک ہفتے کے اندر دو بار دھماکہ ہونے سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

دہلی فسادات 2020: طاہر حسین سمیت 11 افراد کی قسمت کا فیصلہ ٹلا ، IB افسر انکت شرما کا ہوا تھا قتل
دہلی : ککڑڈوما کورٹ نے آئی بی افسر انکت شرما کے قتل کیس میں اپنا فیصلہ ٹال دیا ہے، جو 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران ہوا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ کی عدالت اب 13 جولائی کو اس مشہور زمانہ کیس میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس معاملے میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت کل 11 ملزمین کو مقدمے کا سامنا ہے۔ ان پر دہلی فسادات کے دوران ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل، فسادات بھڑکانے اور شواہد کو تباہ کرنے کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ مکمل سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جس سے سابق کونسلر کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس خوفناک دن کیا ہوا تھا ؟
اس معاملے میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت 11 لوگوں کو اہم ملزم نامزد کیا گیا ہے، جن پر قتل، فسادات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ انکیت شرما، جو انٹیلی جنس بیورو میں سیکورٹی اسسٹنٹ کے طور پر تعینات ہیں، شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے درمیان 25 فروری 2020 کو اپنے گھر سے نکلے، لیکن واپس نہیں آئے۔ اگلے دن 26 فروری کو ان کی مسخ شدہ لاش چاند باغ پل کے قریب کھجوری خاص نالے سے برآمد ہوئی تھی ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پوری دنیا کو چونکا دیا تھا ، ان کے جسم پر تیز دھار ہتھیاروں سے متعدد گہرے زخموں کی تصدیق ہوئی تھی ۔دہلی پولیس نے عدالت میں کیا کہا؟
دہلی پولیس کا الزام ہے کہ طاہر حسین کے گھر کے قریب جمع ایک پرتشدد اور پرجوش ہجوم نے انکت شرما کو نشانہ بنایا، انہیں بے دردی سے قتل کیا، اور ثبوت مٹانے کے لیے ان کی لاش کو نالے میں پھینک دیا۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ یہ سارا واقعہ ایک سوچی سمجھی اور گہری جڑوں والی سازش کا حصہ تھا۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اس معاملے میں طاہر حسین، ارون، گلفام، محمد ریان، عابد، قاسم، شاہ عالم، بلال، فیضان، محمد شاداب اور سلمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ 2020 کے فسادات میں 53 بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے ۔












بارش نہیں آفت برسے گی ! 8 جولائی کو بہار کے ان اضلاع کے لیےIMD کا بڑا الرٹ
بہار میں مانسون اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ کئی اضلاع میں پہلے ہی بارش ہو رہی ہے۔ اب، 8 جولائی کو بھی ریاست کے کئی حصوں میں موسلادھار سے بہت بھاری بارش کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات (IMD) نے کئی اضلاع کے لیے الرٹ جاری کیا ہے، جس میں لوگوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق تیز بارش کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔

شمالی بہار اور سیمانچل اضلاع میں سب سے زیادہ بارش متوقع ہے۔ ارریہ، کشن گنج، سپول، پورنیہ، کٹیہار، مدھے پورہ، سہرسہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، شیوہر، مشرقی چمپارن، اور مغربی چمپارن سمیت کئی اضلاع میں بھاری بارش کی توقع ہے۔ مسلسل بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ندیوں اور ندی نالوں کے پانی کی سطح میں اضافے کی بھی توقع ہے۔7 جولائی کو کہاں کہاں بارش ہوئی؟
مانسون 7 جولائی کو بہار میں پوری طرح سے سرگرم تھا۔ اورنگ آباد، گوپال گنج، ساسارام (روہتاس) اور سیوان سمیت کئی اضلاع میں شدید بارش ہوئی۔ لوگوں کو شدید گرمی اور اومس سے بڑی راحت ملی ۔ کسانوں کے چہروں پر بھی خوشیوں کے آثار نمودار ہوئے، وہیں کئی شہروں میں پانی جمع ہونے نے بلدیاتی اداروں کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ اورنگ آباد اور ساسارام میں سڑکیں اور سرکاری دفاتر کے احاطے میں پانی بھر گیا جس کی وجہ سے ٹریفک میں کافی مسائل پیدا ہوئے۔ اس دوران تیز بارش اور ٹھنڈی ہواؤں نے گوپال گنج اور سیوان میں موسم کو خوشگوار بنا دیا۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کئی اضلاع میں بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔








ای 20 پٹرول پر گھمسان تھما بھی نہیں اور ای 25 پرشروع ہوگئی بات، حکومت نے دیا بڑا اپ ڈیٹ
ایتھانول ملا ہوا پٹرول اس وقت پورے ملک میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ای-20 پٹرول یعنی ایسا پٹرول جس میں 20 فیصد ایتھانول ملایا جاتا ہے، اس پر جاری تنازع ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ اب ای-25 پر بات شروع ہو گئی ہے۔ تاہم، ای-20 کے حوالے سے جاری مخالفت کی وجہ سے حکومت نے ای-25 پٹرول کو لانچ کرنے میں جلدبازی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ حکومت پٹرول میں ایتھانول کی مقدار بڑھانے کے معاملے میں وقت لے سکتی ہے، کیونکہ ای-20 پر ظاہر کی جانے والی تشویشات کو حکومت بھی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس مسئلے کا مکمل حل نکلنے کے بعد ہی ای-25 کو لانچ کیا جا سکتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، حکومت سے وابستہ حکام کا ماننا ہے کہ ای-20 پٹرول پر ظاہر کی جا رہی تشویشات کی وجہ سے ای-25 کو لانچ کرنے میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت ای-20 پٹرول کے بعد ای-25 کو لانچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس میں 75 فیصد پٹرول اور 25 فیصد ایتھانول شامل ہوگا۔ فی الحال ای-25 پٹرول کو لانچ کرنے کے حوالے سے حکومت نے کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں دی ہے۔ تاہم، حالیہ صورتحال سے یہ ضرور لگ رہا ہے کہ حکومت اس کے نئے ورژن کو لانچ کرنے میں تاخیر کر سکتی ہے۔پٹرول پہلے ہی سستا کر دیا گیا ہے
اگرچہ حکومت نے ای-25 کو لانچ کرنے میں تاخیر کا اشارہ دیا ہے، لیکن اس ورژن کی قیمتیں پہلے ہی کم کر دی گئی تھیں۔ حکومت نے حال ہی میں 22 سے 30 فیصد تک ایتھانول ملا ہوا پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی یعنی پیداواری ٹیکس ختم کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (BIS) نے بھی اس زمرے کے پٹرول کی خصوصیات کو نوٹیفائی کر دیا تھا۔ اس اقدام سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ حکومت اپنی جانب سے ای-25 پٹرول کو لانچ کرنے کی مکمل تیاری کر چکی تھی۔

میٹنگ میں بدل گیا ای-25 کا ایجنڈا
ای-20 پٹرول پر تنازع کے بعد گزشتہ ہفتے حکومت کے سینئر حکام کی ایک میٹنگ میں ای-25 پٹرول پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ای-20 پٹرول کے گاڑیوں پر اثرات کے حوالے سے کیے جا رہے دعوؤں کی مکمل جانچ کے بعد ہی نیا ورژن لانچ کیا جائے گا۔ گاڑی مالکان نے اس ایندھن کی وجہ سے مائلیج کم ہونے اور انجن کی کارکردگی متاثر ہونے کی شکایت کی تھی۔ حکومت نے بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آلات تیار کرنے والی کمپنیوں اور ماہرین سے بھی اس بارے میں پہلے مشورہ کیا جائے گا۔اب حکومت کی کیا تیاری ہے؟
اس معاملے سے وابستہ ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ای-20 پٹرول پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے۔ اب ای-25 کو نافذ کرنے سے پہلے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ موجودہ گاڑیوں میں اس درجے کے پٹرول کے استعمال سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔ ویسے بھی حکومت نے ای-20 پٹرول کو سال 2030 تک پورے ملک میں نافذ کرنے کا ہدف رکھا تھا، لیکن اسے پانچ سال پہلے ہی نافذ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، بہت سے گاڑی چلانے والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ایندھن سے ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایتھانول کم کیلوریز والا ایندھن ہوتا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی مائلیج کم ہوئی ہے۔

Monday, 29 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟
ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت کے حوالے سے آگاہی دے رہے ہیں اور یہ بتا رہے ہیں کہ کون سی عام غذائیں اور گھریلو اشیاء وہ اپنے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں گے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق سان فرانسسکو کے دانتوں کے ڈاکٹر مارک برہن جو 40 سالہ تجربے کے حامل ہیں، نے انسٹاگرام پر بچوں کے لیے اپنی ’نو گو لسٹ‘ شیئر کی۔انہوں نے والدین کو بچوں کی ’مسکراہٹ کی حفاظت‘ کے لیے درج ذیل چیزوں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا۔
سونے سے پہلے دودھ پینا
بچوں کو سونے سے پہلے دودھ دینا ایک عام روایت ہے، لیکن ڈاکٹر مارک برہن نے خبردار کیا کہ یہ عادت دانتوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
’دودھ میں قدرتی شکر ہوتی ہے جو رات بھر دانتوں پر رہ جاتی ہے اور بیکٹیریا کے لیے غذا بن جاتی ہے۔ سونے سے پہلے دودھ دینا تو راحت بخش عادت معلوم ہوتی ہے لیکن یہ رات بھر دانتوں پر شکر کی تہہ بنا دیتا ہے۔ دودھ صرف کھانے کے وقت لیا جائے، اور برش کرنے، فلوس کرنے اور زبان صاف کرنے کے بعد صرف پانی پیا جائے۔بچوں کے لیے سپی کپ کا استعمال
بچوں کے لیے’سپی کپ‘ کو والدین ممکنہ طور پر دودھ کو گرنے سے بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر کے مطابق یہ عادت دانتوں کی نشوونما اور صفائی کے لیے مفید نہیں ہے۔
ان کے مطابق کُھلے کپ استعمال کریں کیونکہ یہ بہتر نگلنے کے طریقے سکھاتے ہیں اور دودھ کی تہہ کو دانتوں پر دیر تک نہیں رہنے دیتے۔
فلیورڈ پانی اور جوس
فلیورڈ یعنی مختلف ذائقوں کے پانی اور جوس کو والدین سودا کا صحت مند متبادل سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹر مارک برہن نے خبردار کیا کہ یہ مرکب جس میں تیزاب اور شکر دونوں شامل ہیں، کیویٹیز پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صرف پانی استعمال کریں۔خشک میوہ جات
خشک میوہ بظاہر صحت مند معلوم ہوتا ہے تاہم امریکی ڈاکٹر کے مطابق یہ ’چپچپا شکر بم‘ہوتا ہے۔ خشک میوہ دانتوں میں چپک جاتا ہے اور بیکٹیریا کئی گھنٹوں تک وہاں رہتے ہیں۔‘
پروسیس شدہ کریکرز
پروسسڈ کریکرز جیسے مشہور سنیکس بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق یہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس دانتوں کی سطح پر چپچپی تہہ بناتے ہیں جو مولرز کی دراڑوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کریکرز کے بجائے چیز، سیب یا کرنچی سبزیاں دیں۔
ڈاکٹر مارک برہن نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’مجھ پر بھروسہ کریں، دانتوں میں کیویٹیز کو روکنا بعد میں علاج کروانے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔‘








شمال مشرقی ہندوستان میں شدید بارش سے تباہی، پل اور سڑکیں تنکے کی طرح بہہ گئے، دہلی اور یوپی میں گرمی نے کیا بے حال
نئی دہلی: شمال مشرقی ہندوستان میں موسلادھار بارش نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ اروناچل پردیش اور آسام سمیت کئی ریاستوں میں سیلاب کے باعث سڑکیں اور پل بہہ گئے ،جب کہ ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب دہلی، اتر پردیش، راجستھان، پنجاب اور ہریانہ میں شدید گرمی اور لو کا سلسلہ برقرار ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے آئندہ چند روز میں مانسون کے مزید آگے بڑھنے اور کئی ریاستوں میں بھاری بارش کی پیش گوئی کی ہے۔پیر کے روز شمال مشرقی ریاستوں میں ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد حالات سنگین ہو گئے، جس پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اروناچل پردیش اور آسام کے وزرائے اعلیٰ سے فون پر رابطہ کرکے سیلاب سے ہونے والے نقصان اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ اروناچل پردیش کے کم از کم 12 اضلاع میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جبکہ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق ضلع دھیمجی کے چار ریونیو سرکلوں کے 69 دیہات میں تقریباً 16 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ پانچ دنوں کے دوران شمال مشرقی ہندوستان، سب ہمالیائی مغربی بنگال اور سکم میں شدید بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ دوسری جانب اگلے دو دنوں تک اتر پردیش اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید لو چلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ راجستھان، پنجاب، ہریانہ، دہلی اور اتر پردیش کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔دہلی میں گرمی کی شدت برقرار رہی اور بیشتر موسمی مراکز پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا۔ صفدر جنگ موسمی مرکز میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے پانچ ڈگری زیادہ تھا۔ تاہم شام کے وقت تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی اور لوگوں کو وقتی راحت ملی۔

راجستھان میں بھی شدید گرمی کا سلسلہ جاری ہے۔ سری گنگا نگر ریاست کا گرم ترین شہر رہا، جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جے پور میں پارہ 40.4 ڈگری سیلسیس تک پہنچا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی مانسون کے آگے بڑھنے کے لیے حالات سازگار ہیں اور اس ہفتے راجستھان کے کئی علاقوں میں درمیانی سے شدید بارش ہونے کی توقع ہے، جس سے گرمی کی شدت میں کمی آ سکتی ہے۔آئی ایم ڈی کے مطابق آئندہ دو سے تین دنوں کے دوران گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے بعض حصوں میں مانسون مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ اتراکھنڈ میں اگلے تین سے چار دنوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں 4 سے 6 ڈگری سیلسیس تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پوڑی، پتھورا گڑھ اور باگیشور اضلاع کے لیے بھاری بارش کا ییلو الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں آسمانی بجلی، تیز بارش اور 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ادھر پنجاب میں شدید گرمی اور نمی کے باعث بجلی کی طلب ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جس سے بجلی کے نظام پر غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی اتر پردیش، پنجاب، ہریانہ، اتراکھنڈ، مشرقی اتر پردیش اور ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں بھی درجہ حرارت معمول سے 3 سے 5 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں مانسون کی پیش رفت کے ساتھ موسم میں نمایاں تبدیلی کی توقع ہے۔









اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
پروگرام نظام الاوقات کے مطابق مختصر ہے اس لۓ عشاء کی نماز حبیب لانس کے قریب مسجد میں ادا کریں عین نوازش ہوگی پیشگی شکریہ
جزاک اللہ
پروگرام کے عشاٸیہ میں شرکت کریں

*🛑سیف نیوز اُردو*

اگر میں مسلمان ہوتا تو اب تک جیل میں ہوتا، سی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کے بیان پر نیا تنازع
نئی دہلی: جنتر منتر پر طلبہ کے مسائل، نیٹ (NEET) پیپر لیک، این ٹی اے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مختلف امتحانی گھوٹالوں کے خلاف جاری احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے کے ایک بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر پر دھرنا دے رہی ہے۔ اس احتجاج کو معروف سماجی کارکن اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھی حمایت حاصل ہے، جو نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل کے حل کے مطالبے پر جنتر منتر میں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

 ایک انٹرویو میں ابھیجیت دیپکے نے کہا، “اگر میں خالد ہوتا یا مسلمان ہوتا تو اب تک جیل میں ہوتا، مجھے اس حقیقت کا احساس ہے۔” ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے اور کئی یوزرنے دہلی فسادات کیس میں گزشتہ تقریباً پانچ برس سے جیل میں بند عمر خالد کا حوالہ دینا شروع کر دیا۔ عمر خالد کو سپریم کورٹ سے بھی اب تک ضمانت نہیں مل سکی ہے۔ابھیجیت دیپکے حال ہی میں امریکہ سے واپس آکر نیٹ پیپر لیک، ایس ایس سی امتحانی بے ضابطگیوں اور دیگر تعلیمی مسائل کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ ان کے احتجاج کو نوجوانوں، طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ اس احتجاج میں نیٹ پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ بھی شریک ہو رہے ہیں۔

دیپکے نے طلبہ کی خودکشی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دیپ میگھوال، آکانکشا چترویدی، امائرہ کمار اور کہان پٹیل جیسے طلبہ کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان آج بھی انصاف کے لیے دربدر ہیں، جبکہ حکومت کے کسی نمائندے نے ان سے ملاقات تک نہیں کی اور نہ ہی ان کے بچوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔

 ابھیجیت دیپکے نے کہا ، “میں سمجھ نہیں پاتا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ اتنے بے حس اور مغرور کیسے ہو سکتے ہیں کہ انہیں ان خاندانوں سے رابطہ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا ہے۔ آپ ان کے بچوں کو واپس نہیں لا سکتے، لیکن کم از کم ان سے مل کر افسوس اور معافی تو مانگ سکتے ہیں۔ کیا یہ بھی بہت بڑی بات ہے؟”ابھیجیت دیپکے کے متنازع بیان اور حکومت پر لگائے گئے الزامات کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔








یمنا ایکسپریس وے پر ولوو بس اور ٹریلر میں خوفناک تصادم، 4 افراد ہلاک، 20 مسافر زخمی
نئی دہلی: اتر پردیش کے متھرا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک بار پھر ہولناک سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں مسافروں سے بھری ایک ولوو بس تیز رفتاری کے باعث ٹریلر سے جا ٹکرائی۔ اس خوفناک حادثے میں 4 افراد جاں بحق ،جب کہ 20 مسافر زخمی ہوگئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق یہ حادثہ منگل کی علی الصبح تقریباً ساڑھے تین بجے یمنا ایکسپریس وے کے مائل اسٹون 112 اور 113 کے درمیان پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر امدادی و بچاؤ کارروائیاں شروع کر دیں۔ ریسکیو ٹیموں نے بس میں پھنسے تمام زخمیوں کو نکال کر ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کیا، جب کہ جاں بحق ہونے والے چار افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئیں۔پولیس کے مطابق حادثے کا شکار نجی ولوو بس بہار رجسٹریشن نمبرکی تھی، جو لکھنؤ سے دہلی جا رہی تھی۔ اسی دوران راجستھان رجسٹریشن نمبر کا بجری سے لدا ٹریلر ایکسپریس وے کی تیسری لین میں چل رہا تھا، تیز رفتار بس پیچھے سے اس سے جا ٹکرائی۔ تصادم اس قدر شدید تھا کہ بس کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور موقع پر افرا تفری مچ گئی۔حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے چاروں افراد کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس ان کے پاس سے ملنے والے دستاویزات اور دیگر سامان کی مدد سے شناخت کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کو جلد از جلد اطلاع دی جا سکے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ بس ڈرائیور کو نیند کا جھونکا آنا بتایا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے اور انہیں بہتر علاج فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔








ٹرمپ وزیر اعظم مودی کو اپنا اچھادوست مانتے ہیں، بھارت۔امریکہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں: امریکی سفیر سرجیو گور
نئی دہلی: بھارت میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا قریبی دوست سمجھتے ہیں اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی اعتماد اور قریبی تعلقات نے بھارت اور امریکہ کی اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی مضبوطی دی ہے۔امریکہ۔بھارت اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم (USISPF) لیڈرشپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے سرجیو گور نے کہا کہ صدر ٹرمپ بھارت کا بے حد احترام کرتے ہیں اور اکثر اپنے بھارتی دوروں کی خوشگوار یادوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا، “امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے پاس ایسے صدر ہیں جو اس تعلق کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام سے قبل میری واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے تقریباً دو گھنٹے ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے بھارت میں ہونے والی پیش رفت پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت سے ان کی بہت سی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔”امریکی سفیر نے امید ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران دوبارہ بھارت کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کے خواہش مند ہیں کہ صدر ٹرمپ مستقبل قریب میں بھارت آئیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں۔

سرجیو گور نے دونوں لیڈروں کے ذاتی تعلقات کی ایک دلچسپ مثال بھی پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل میامی میں ہونے والے الٹی میٹ فائٹنگ چیمپئن شپ (UFC) ایونٹ کے دوران صدر ٹرمپ نے اچانک کہا کہ “چلو وزیر اعظم مودی کو فون کرتے ہیں۔” گور نے جواب دیا کہ بھارت میں اس وقت صبح کے چھ بج رہے ہوں گے، مگر ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا، “وہ جاگ جائیں گے، وہ بھی میری طرح ہیں۔” اگرچہ بعد میں فون کال اگلے دن کے لیے طے کی گئی، لیکن اس واقعے سے دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان یہ مضبوط تعلقات ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت سے قائم ہیں، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں حکومتیں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) سمیت مختلف شعبوں میں عملی نتائج حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

سرجیو گور نے کہا کہ آنے والے دو برس بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے اور یہی مدت آئندہ کئی دہائیوں کے تعاون کی بنیاد رکھے گی۔ ان کے مطابق اس شراکت داری کو مختصر مدتی نہیں بلکہ طویل مدتی منصوبے کے طور پر دیکھنا چاہیے، کیونکہ آج کیے گئے اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو فائدہ پہنچائیں گے۔

انہوں نے ان تبصروں کو بھی مسترد کیا جن میں بھارت۔امریکہ تعلقات میں کمزوری کی بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تجارت، دفاع، عوامی روابط اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بھارت میں رہتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے بے شمار نئے مواقع دیکھے ہیں اور تقریباً ہر شعبے میں مشترکہ ترقی کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے تعلقات کو عالمی سطح پر خاصی توجہ ملی تھی۔ 2019 میں ہیوسٹن میں منعقد ہونے والا “ہاؤڈی مودی” پروگرام اور 2020 میں احمد آباد کا “نمستے ٹرمپ” ایونٹ دونوں رہنماؤں کی قریبی دوستی اور بھارت۔امریکہ تعلقات کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ انہی مضبوط ذاتی روابط کی بنیاد پر دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور ہند۔بحرالکاہل خطے کی سلامتی سمیت متعدد شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جنگ کے بعد مالال ہوا ایران، جلد ملیں گے اتنے ارب ڈالر، مسعود پزشکیان نے کیا یہ بڑا اعلان
ایران صدر کے مسعود پزشکیان نے پیر کے روز ایک اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر میں پھنسے ایران کے کل 12 ارب ڈالر میں سے پہلے مرحلے میں 6 ارب ڈالر جلد جاری کر دیے جائیں گے۔ شہر قم میں ایک تقریب کے دوران صدر پزشکیان نے یہ بات کہی۔ انہوں نے گرینڈ آیت اللہ شبیری زنجانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ صدر پزشکیان کے مطابق، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت اور اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت یہ رقم جاری کی جا رہی ہے۔ باقی 6 ارب ڈالر کی واپسی کے لیے بھی حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

پزشکیان نے بتایا کہ امن معاہدے کے تحت ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ انہوں نے اسے ایرانی عوام کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے خاتمے سے ملک کی معیشت کو بڑی راحت ملے گی۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے صدر کے بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ صدر پزشکیان نے حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے عوام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر، وزراء، فوجی کمانڈرز، دانشور اور عام شہری بھی بحران کے وقت متحد رہے۔ایرانی صدر نے عوام کی جیت بتایا
مسعود پزشکیان نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اقتصادی دباؤ ڈال کر ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی، لیکن ایرانی عوام کے صبر اور اتحاد کے سامنے وہ ناکام رہے۔ ایرانی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کا ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی ملک کے مرحوم سپریم لیڈر کی جانب سے طے کی گئی تھی اور موجودہ حکومت بھی اسی پر قائم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پُرامن ضروریات کے لیے ہے۔ پزشکیان نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کو امن معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا، اگرچہ بعض اپوزیشن عناصر اب بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔300 ارب ڈالر کون دے گا؟
صدر نے بتایا کہ تنازع کے بعد حکومت نے تعمیرِ نو کا کام شروع کر دیا ہے۔ عام لوگوں کو راحت دینے کے لیے خوراک پر سبسڈی بڑھانے اور اضافی مالی امداد فراہم کرنے کے منصوبے بھی نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ایران کے اس دعوے سے امید کی جا رہی ہے کہ ملک کی معیشت کو کچھ راحت ملے گی۔ قطر میں پھنسی رقم جاری ہونے سے تیل کی برآمدات اور دیگر شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایران کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی حکمتِ عملی میں نئی سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم اب تک ایران میں ہونے والی 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بارے میں کوئی بات واضح نہیں ہوئی ہے۔ یہ فنڈ کہاں سے آئے گا، اس بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔









مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کا تعزیتی پیغام
مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ سید سلمان حسینی ندوی صاحبؒ کے اچانک انتقال کی خبر سے گہرا صدمہ ہوا۔ وہ دور حاضر کے ممتاز عالم دین، معروف مصنف، ماہر تعلیم اور دانشور تھے۔ ان کا انتقال نہ صرف ان کے اہلِ خانہ اور شاگردوں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور عالمِ اسلام کے علمی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی پوری زندگی دین کے لیے وقف

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ نے اپنی پوری زندگی تعلیم، تحقیق، دعوتِ دین، فکری رہنمائی اور علمی و تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی کے ذریعے اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ قرآن، حدیث، سیرت رسولؐ اور اسلامی فقہ کے ایک ممتاز استاد کی حیثیت سے انہوں نے ہندوستان اور بیرونِ ملک ہزاروں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی۔ ان کی تصانیف، مقالات، خطبات اورعلمی خدمات ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جس سے امتِ مسلمہ طویل عرصے تک استفادہ کرتی رہے گی۔

متعدد تعلیمی و طبی اداروں کے قیام میں مولانا مرحوم کا کلیدی کردار

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء اور جامعہ سید احمد شہید سے ان کی طویل وابستگی، جمعیت شباب الاسلام کی قیادت اور متعدد تعلیمی و طبی اداروں کے قیام میں اپنے کلیدی کردار نیز علم دین کی اشاعت، کردار سازی اور سماجی خدمات میں اپنی سرگرمی کے لیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سید سلمان حسینی ندوی نے دینی علوم کی گہری بصیرت کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ہندوستان اور عالمی سطح پر اسلامی فکر و دانش کو نئی جہت عطا کی۔

سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ بڑے سے بڑا مفکر بھی غلطیوں اور لغزشوں سے مکمل پاک نہیں ہوسکتا۔مولانا سلمان ندوی صاحب کے بعض خیالات، مواقف اور بیانات سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے ان کی ہمہ جہت گراں قدر خدمات کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے میں ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، رفقائے کار، عقیدت مندوں اور پوری ملت اسلامیہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

ہم اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مولانا مرحوم کی لغزشوں کو معاف فرمائے، اسلام کے لیے ان کی تمام عمر کی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، انہیں صالحین کے اعلیٰ درجات میں جگہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب فرمائے۔ نیز اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو ایسے باکردار اور باصلاحیت علماء عطا فرمائے جو دین کی خدمت کے اس عظیم مشن کو آگے بڑھاتے رہیں۔










کیا شام میں احمد الشراع کی حکومت لبنان میں حزب اللہ کے خلاف نیا محاذ کھولنے جا رہی ہے؟
حزب اللہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے ’فریم ورک معاہدے‘ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سنیچر کے روز جاری بیان میں حزب اللہ کے رہنما شیخ نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل کیا جانا چاہیے اور اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رہنی چاہیے۔

ایسے میں شام کی حزب اللہ کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑتی نظر آرہی ہیں۔

ان قیاس آرائیوں کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا دی جانے والی یہ تجویز ہے کہ جہاں اسرائیل ’ناکام‘ رہا ہے وہاں دمشق مداخلت کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ کے شام کے صدر احمد الشراع کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ٹرمپ اور احمد الشراع کی پہلی ملاقات گذشتہ برس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کروائی تھی۔ اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے انھیں (احمد کو) ’نوجوان اور پرکشش‘ شخصیت قرار دیا۔

اس کے بعد نومبر میں وہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے شامی صدر بن گئے تھے۔
اوول آفس میں ٹرمپ نے اُن کا استقبال کیا۔ انھوں نے الشرع پر ٹرمپ برانڈ کا کولون چھڑکا اور پھر انھیں اُن کی بیوی کے لیے گھر لے جانے کے لیے کافی پرفیوم دیے۔
دسمبر میں بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ کیمروں کے لیے دکھاوا کرنے کے علاوہ بھی سعودی عرب اور مغربی حکومتیں آلشراع کو مشرق وسطیٰ کے دل میں واقع ملک شام کو مستحکم کرنے کے لیے بہترین راستہ سمجھتی ہیں۔

الشراع ایک سابق جہادی رہنما ہیں اور ان کی حکومت ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کی مخالف سمجھی جاتی ہے۔

ماضی میں حزب اللہ نے شام میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران بشار الاسد کی فورسز کے ساتھ مل کر باغی گروہوں کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔

اسد خاندان کے زیرِ اقتدار شام نے لبنان کی خانہ جنگی میں مداخلت کی اور کئی دہائیوں تک لبنان پر ان کا اثر و رسوخ قائم رہا۔ تاہم 2005 میں شام نے اپنی فوجیں لبنان سے واپس بُلا لی تھیں۔

حالیہ ہفتوں میں یہ قیاس آرائی زور پکڑ رہی ہے کہ شام میں لبنان کی سرحد پر فوج کی مبینہ تعیناتی کسی ممکنہ دراندازی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ دمشق اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ یہ نقل و حرکت دفاعی نوعیت کی ہے۔

شام اور لبنان کی سرحد سے متعلق اطلاعات کیا کہتی ہیں؟
شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کی جانب سے 24 جون کو جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حمص صوبے میں سرحد کے ساتھ شامی فوج کی نقل و حرکت جاری ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ فوج کی نقل و حرکت حمص کے سرحدی علاقوں میں ہو رہی ہے اور یہ دمشق کے نواحی علاقے ریف دمشق، طرطوس اور قلمون کے پہاڑی سلسلے تک پھیلی ہوئی ہے۔

ایس او ایچ آر کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت بھاری ہتھیار اور فوجی گاڑیاں حلب سے سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کر رہی ہے۔

تاہم یہ ادارہ گذشتہ کئی ماہ سے اس طرح کے دعوے کرتا آیا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے 17 جون کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگجو، جن میں ازبک شامل ہیں، لبنان میں دراندازی کی مشقیں کرتے رہے ہیں۔

24 جون کو ایک شامی سکیورٹی ذریعے نے لبنانی اخبار ’النهار‘ سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ سرحد پر کوئی غیر معمولی کمک نہیں پہنچائی گئی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے شامی سکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ نقل و حرکت معمول کی فوجی تعیناتی کا حصہ ہے اور اس سے کسی غیر معمولی تیاری کا اشارہ نہیں ملتا۔
آن لائن کیا دعوے کیے جا رہے ہیں؟
تاہم سرحد پر شامی فوج کی اضافی نفری پہچائے جانے سے متعلق دعوؤں اور ٹرمپ کے بیانات نے سوشل میڈیا پر افواہوں کی ایک لہر کو جنم دیا ہے۔ تاہم ان میں سے زیادہ تر افواہیں شامی حکومت مخالف اکاؤنٹس سے پھیلائی جا رہی ہیں۔

کرد حامی روزاوا نیٹ ورک نے ان دعوؤں کو اس بات کا ثبوت قرار دیا ہے کہ دمشق ایک حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس ہی طرح ایک علوی فیس بک پیج نے 23 جون کو دعویٰ کیا کہ الشراع حکومت کے حامی تقریباً پانچ ہزار جنگجو ممکنہ کارروائی سے پہلے سرحدی قصبے القصیر پہنچ چکے ہیں۔ فیس بک پیج پر جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک سابق جہادی کمانڈر اس فوجی نقل و حرکت کی قیادت کر رہا ہے۔

بعد ازاں شامی فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم ’کشاف‘ نے اس دعوے کو غلط قرار دیا۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ایک دروز اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ اس میں لبنانی سرحد کے نزدیک شامی فوج کی کمک بشمول توپخانے اور ٹینک دیکھے جا سکتے ہیں۔
تاہم آزاد شامی فیک چیکنگ پلیٹ فارم ’ویریفائے-سی‘ کے مطابق یہ ایک پرانی ویڈیو تھی جس میں عراق کی سرحد کے قریب فوجی تعیناتی دکھائی گئی تھی۔

اب افواہوں کی یہ لہر لبنان تک بھی پہنچ گئی ہے۔ کچھ لبنانی ایکس صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سرحد کے نزدیک شامی فوج کے جمع ہونے کے جواب میں مقامی قبائلیوں نے بھی نقل و حرکت شروع کر دی ہے۔

یہ قیاس آرائیاں کیوں جنم لے رہی ہیں؟
یہ قیاس آرائیاں زیادہ تر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد پیدا ہوئیں، جن میں انھوں نے بارہا کہا کہ شام لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے پہلی بار سات جون کو امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اس بارے میں بات کی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف ’زیادہ سرجیکل‘ کارروائیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے تجویز دی کہ امریکہ شام کو اس میں کردار ادا کرنے کی ’سفارش‘ کر سکتا ہے۔

16 جون کو فرانس میں جی-سیون کے موقع پر ٹرمپ نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ’شام کو حزب اللہ سے نمٹنے دیں‘ کیونکہ دمشق یہ کام ’بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔‘

21 جون کو فاکس نیوز نے خبر دی کہ ٹرمپ نے چینل کو بتایا ہے کہ انھیں اس بات پر ’مایوسی‘ ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو ختم نہیں کر سکا اور وہ اس معاملے کو ’شام کے حوالے کرنے‘ کے قریب ہیں۔

ٹرمپ کے ان بیانات سے پہلے امریکہ اس قسم کی تجویز سامنے رکھ چکا ہے۔

رواں سال مارچ میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی تھی کہ واشنگٹن نے دمشق کو کہا ہے کہ مشرقی لبنان میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کرے تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں مدد مل سکے۔

تاہم امریکی ایلچی ٹام بریک نے بعد میں اس خبر کی تردید کی تھی۔

لبنان میں مداخلت سے متعلق افواہیں اور شام کا مؤقف
شامی صدر احمد الشراع اور دیگر حکام بارہا اس بات کی تردےد کر چکے ہیں کہ شام لبنان میں فوجی مداخلت کی تیاری کر رہا ہے۔

13 جون کو صدر الشراع نے دمشق کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک وفد کو بتایا کہ لبنان میں مداخلت سے متعلق افواہیں ’غلط‘ ہیں۔

یو اے ای کے چینل ’المشہد‘ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں احمد الشراع نے ایک بار پھر اس معاملے پر بات کی۔

21 جون کو شائع ہونے والے اس انٹرویو میں انھوں نے معروف لبنانی صحافی ٹونی خلیفہ کو بتایا کہ ’اگر ہمارا کسی تصادم یا جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ ہوتا تو ہم واضح طور پر کہتے… ہم لبنان میں اپنے لوگوں کے لیے خیر کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شام لبنان میں کسی حل کے لیے ’محفوظ راستہ` تلاش کرنے میں مدد تو فراہم کر سکتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر اپنے پڑوسی پر اپنا اثرورسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔

شامی حکومت کے ترجمان نے بھی 11 جون کو سعودی چینل ’الحدث‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اسی طرز کا مؤقف اپنایا۔

نورالدین البابا کا کہنا تھا کہ دمشق لبنان کو اپنے حصے کی طرح نہیں سمجھتا اور لبنان میں شام کے کسی بھی کردار کے لیے لبنانی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔
لبنان اور حزب اللہ کا مؤقف کیا ہے؟
بیروت نے بھی ان قیاس آرائیوں کی اہمیت کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق لبنانی صدر جوزف عون نے 24 جون کو کہا کہ احمد الشراع کے حالیہ بیانات نے لبنان میں شامی فوجی کردار سے متعلق بار بار سامنے آنے والی افواہوں کو ’خاتمہ‘ کر دیا ہے۔

وزیراعظم نواف سلام نے بھی الشراع کی جانب سے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں اختیار کیے گئے مؤقف کو ’برادرانہ اور واضح‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے شام کے لبنان کے بارے میں عزائم سے متعلق گمراہ کن افواہوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے 19 جون کو ایک خطاب میں کہا کہ شامی مداخلت کا خیال دراصل امریکہ اور اسرائیل کی اس سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔

ان کے مطابق اس منصوبے میں ’شام پر دباؤ‘ ڈالنا بھی شامل ہے تاکہ وہ مشرق کی جانب سے لبنان مداخلت کرے اور اسرائیل کے ساتھ مل کر شمال سے گھیرا ڈالے۔

’خدا کا شکر ہے کہ شامی حکومت نے اس کا جواب نہیں دیا۔‘

*🛑سیف نیوز اُردو*


*اپیل برائے چندہ مدرسہ دارالقرآن امینیہ مسجد آزاد نگر* 
محترم ومکرم حاضرین کرام مدرسہ دارالقرآن واقع امینیہ مسجد آزاد نگر کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے *الحمدللہ 1100 ( گیارہ سو) طلباء و طالبات علم دین حاصل کر رہے ہیں اور 40 معلمین و معلمات دینی تعلیمی و تربیتی خدمات انجام دے رہے ہیں الحمدللہ اس سال 11 طلباء اور 7 طالبات نے حفظ قرآن کریم کی تکمیل کیے اور 72 طلباء و طالبات نے ناظرۂ قرآن کریم کی تکمیل کیے اور ایک بیٹھک میں 3 طلباء وطالبات نے مکمل قرآن کریم حفظ سنائیں* مدرسے کا ماہانہ بجٹ دو لاکھ روپئے ہے اور سالانہ بجٹ تقریبا 25 لاکھ روپئے ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ جیسے اہل خیر حضرات کے تعاون سے پورا ہوتا ہے ہر مہینے مدرسے پر قرض ہوجاتا ہے اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ اپنی طرف سے اور اپنے ماں باپ مرحومین رشتہ داروں کے ایصال ثواب کے لئے بڑھ چڑھ کر صرف عطیات کی شکل میں تعاون فرمائیں جو حضرات پاؤتی رسید بنانا چاہتے ہے وہ بناسکتے ہیں اللہ تعالی آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے
رابطے کے لئے 9325809744










*آؤ متحد ہو کر شہر مالیگاؤں سے تمام سماجی برائیوں کا خاتمہ کریں!*  
_اتحاد زندگی، انتشار موت_
ارتداد، جھوٹی محبت، نشہ اور خودکشی کے بڑھتے واقعات سے مالیگاؤں کو پاک کرنے کے لیے اتحاد ضروری ہے۔  
*بیٹی بچاؤ، بیٹا بچاؤ، خاندان کی عزت بچاؤ* - یہ مسئلہ اب ہر گھر کا ہے۔

*تربیتی کیمپ: جلسہ اصلاح معاشرہ برائے خواتین و بچیاں*

جب بھی مالیگاؤں یا امت مسلمہ پر کوئی آفت آتی ہے، ہماری مائیں بہنیں ہر تحریک میں پیش پیش رہی ہیں۔ آج پھر آپ کی ضرورت ہے۔

*مورخہ:* 12 جولائی 2026ء، بروز اتوار  
*وقت:* دوپہر 2 بجے تا شام 5 بجے  
*مقام:* اسکول نمبر ایک، قدوائی روڈ گراؤنڈ، مالیگاؤں

*موضوع:* شہر میں بڑھتی خودکشی اور 10 سے 20 سال کے بچوں میں شراب، سلیسن، پیٹرول، ایم ڈی پاؤڈر، گانجہ، چرس جیسے خطرناک نشے کا استعمال۔ ہماری نئی نسل تباہی کے دہانے پر ہے۔

انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پر محبت کے جال میں پھنسا کر کمسن بچیوں اور شادی شدہ خواتین کو ارتداد و دھوکے کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ شادی اور پیسے کا لالچ دے کر ان کی عزت سے کھیلا جا رہا ہے۔

ہم اعلیٰ تعلیم کے مخالف نہیں، مگر اس کی آڑ میں چند بچیاں ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات پردہ پوشی کی نذر ہو چکے۔

یہ برائیاں اب ہر گھر تک پہنچ رہی ہیں۔ اس لیے مالیگاؤں کی تعلیم یافتہ، عالمہ خواتین سے گذارش ہے کہ اپنے تربیتی بیانات و مشوروں سے نادان بچیوں اور خواتین کی اصلاح کریں۔ ماؤں کو ہوشیار کریں تاکہ معاشرے سے ان برائیوں کا خاتمہ ہو۔

*12 جولائی کو اسکول نمبر ایک کے گراؤنڈ پر کثیر تعداد میں شرکت فرما کر اس تحریک کو کامیاب بنائیں۔*  
- - - - - -









*نکاح کی مجلس سادگی کے ساتھ مسجد میں ہی ہونا بہتر ہے*

✒️ *اعجاز شاھین مالیگاؤں*

*جس شخص نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکریہ ادا نہیں کیا* ( الحدیث )
*الحمدللہ 28 جون 2026 بروز اتوار کو مجھ ناچیز اعجاز شاھین کی لڑکی کا نکاح مسجد آلامان ( صدیقہ یتیم خانہ)* *میں بحسن خوبی انجام پزیر ہوا میں تمام ہی شریک احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں خصوصا شہر عزیز مالیگاؤں کے علما، ائمہ اور مفتیان کرام کا ، سر کردہ شخصیات ، دینی و عصری اساتذہ کے علاوہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ، یوٹوبر ، سوشل ورکر حضرات کا جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر اس پروگرام میں شرکت کیا مجلس میں رونق بخشی ، زوجین کو خوب دعاؤں سے نوازا اور حوصلہ افزائی فرمائ ۔ ساتھ ہی ان احباب کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے پیشگی مبارک بادی دیا خصوصی طور پر علما ، ائمہ اور مفتیان کرام کا اور جو احباب چاہتے ہوۓ بھی کسی مجبوری کے تحت شریک نہ ہو سکے* ۔۔۔۔ *احسنتم جزاکم اللہ خیرا*

Sunday, 28 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*



وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں
صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پر گہرے مثبت اثرات ڈالتی ہے۔ صحت مند خوراک جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے، ہاضمہ بہتر بناتی ہے، موڈ کو خوشگوار رکھتی ہے اور جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔
یہی نہیں بلکہ متوازن غذا جسم کو جلد صحت یاب ہونے میں بھی مدد دیتی ہے، جو طویل المدتی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے تین ایسی غذاؤں کا ذکر کیا جو وہ روزانہ استعمال کرتی ہیں تاکہ ہارمونز، میٹابولزم اور خون میں شوگر کو متوازن رکھا جا سکے۔اس پوسٹ کا کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ ’وہ تین غذائیں جو میں بطور ڈاکٹر روزانہ استعمال کرتی ہوں۔‘
فروزن جنگلی بلیو بیریز
ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ کے مطابق جنگلی بلیو بیریز عام بلیو بیریز کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے چھلکے زیادہ ہوتے ہیں اور ان میں اینتھوسائننز کی مقدار بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔
یہ مرکبات انسولین کی حساسیت بہتر بناتے ہیں، دماغی صحت کو سپورٹ کرتے ہیں اور جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جنگلی بلیو بیریز کو ان کے عروجِ پختگی کے وقت فریز کیا جاتا ہے، جس سے ان کے غذائی اجزا محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ موسمی پھل نہ ہونے کے باوجود آسانی سے دستیاب بھی ہوتی ہیں۔
سرخ یا جامنی بند گوبھی
ڈاکٹر کے سرخ یا جامنی بند گوبھی مطابق آنتوں کی صحت انسولین ریزسٹنس اور وزن کو کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے سرخ بند گوبھی کو میٹابولزم کے لیے ایک کم قدر کی جانے والی مگر انتہائی مفید غذا قرار دیا۔ سرخ بند گوبھی میں فائبر، پولی فینولز اور ایسے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو آنتوں کی صحت بہتر بناتے ہیں، سوزش کم کرتے ہیں اور ہارمونز پر براہِ راست مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق یہ سبزی ایسٹروجن میٹابولزم کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انسولین کی حساسیت بھی بڑھاتی ہے۔
ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل
ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل بھی ڈاکٹر کی روزمرہ غذا کا لازمی حصہ ہے۔ان کے مطابق خاص طور پر جب اسے کھانے کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ انسولین لیول کم کرنے، انسولین کی حساسیت بہتر بنانے اور جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے ایک اہم مشورہ بھی دیا کہ زیتون کے تیل میں موجود صحت مند چکنائی خون میں شوگر کے اچانک اضافے کو سست کر دیتی ہے، جو بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کا ایک آسان مگر اکثر نظرانداز کیا جانے والا طریقہ ہے۔
اس حوالے سے ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ نے کہا ’یہ کوئی وقتی یا فیشن ایبل غذائیں نہیں بلکہ بلڈ شوگر کے توازن اور طویل المدتی صحت کے لیے بنیادی غذائی ذرائع ہیں جنہیں میں روزانہ استعمال کرتی ہوں۔‘
ایک اور انسٹاگرام پوسٹ میں ڈاکٹر نے وہ پانچ غذائیں بھی بتائیں جو وہ گروسری سٹور سے لازمی خریدتی ہیں۔ ان میں سرخ بند گوبھی، ایووکاڈو، بے بی سپینچ، فروزن جنگلی بلیوبیریز اور جنگلی طور پر پکڑی گئی الباکور ٹونا شامل ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق یہ غذائیں جسم میں سوزش کم کرنے، ہارمونز کو متوازن رکھنے اور بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔







نئی جھڑپیں، صدر ٹرمپ کی ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’فوجی آپریشن مکمل کرنے‘ کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کو جنگ دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کیا گیا تو ’اسلامی جمہوریہ باقی نہیں رہے گا۔‘  
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر تازہ حملے کیے ہیں اور نازک جنگ بندی اور امن مذاکرات مزید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے سنیچر کو ایران پر فضائی حملے کیے اور اس دوران ایران کے اندر 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی بیسز کو نشانہ بنایا ہے اور صورت حال نے دونوں ممالک کے درمیان عبوری معاہدے کو خدشات کا شکار کر دیا ہے۔
اسی طرح اتوار کی صبح کو کویت پر ہونے والا حملہ اس معاہدے کے بعد ہونے والا پہلا حملہ تھا جس کا مقصد لڑائی کو بند کرنا تھا۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب امریکہ افواج نے ایران کے متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
صدر ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ ’امریکی طیاروں نے جنگ بندی کے معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کرنے پر ایران کے میزائل اور ڈرونز ذخیرہ کرنے والے مقامات اور ساحلی ریڈار کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل سے کام لینا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ کام فوجی کارروائی کے ذریعے مکمل کرنا پڑے جس کا ہم نے کامیابی کے ساتھ آغاز کیا تھا، ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
تازہ جھڑپوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات پر ایک بار پھر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی بیسز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
یہ فوجی کشیدگی ایک ایسے نازک موڑ پر پیدا ہوئی ہے جب رواں ماہ جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی کے تحت دونوں ممالک کے مابین ایک اہم مفاہمت کی یادداشت طے پائی تھی جس کا مقصد خطے میں جاری جنگ کا پائیدار خاتمہ تھا۔
امریکہ اور ایران کے دستخط شدہ اس متن کے مطابق، دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی یا فوجی آپریشن کی ابتدا نہ کرنے اور طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کرنے کا عہد کیا تھا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں اور اب خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایران نے جمعرات کو بھی واضح کیا تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز نہیں گزرے گا جس کے بعد عمان نے، جو ایران کے مقابل ساحل پر واقع ہے، ایک متبادل بحری راستے کی نشاندہی کی تھی۔
اس وقت ایران کی جانب سے جہازوں کو صرف اپنے ساحل کے ساتھ واقع کوریڈور سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔









وینزویلا زلزلہ، ہلاکتیں 1400 سے بڑھ گئیں، ملبے تلے زندگی کے آثار معدوم
وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں مرنے والواں کی تعداد ایک ہزار چار سو 30 ہو گئی ہے جبکہ ملبے تلے مزید زندہ افراد کی امیدیں مدھم پڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے کا نشانہ بننے والے مختلف مقامات پر تیسرے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ اب بھی ہزاروں لاپتہ ہیں اور متعدد عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب وینزویلا پہلے ہی معاشی بحران اور سیاسی بے چینی کا شکار ہے۔
اس کی وجہ امریکی فوج کا وہ آپریشن تھا جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا تھا۔
اس کے بعد سے ملک کے حالات بہتر نہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو صاف پانی اور دوسری بنیادی ضروریات دستیاب نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت کے آنے کے بعد پہلے 72 گھنٹے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران ہی زیادہ سے زیادہ زندہ لوگوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے اور یہ وقت گزر جانے کے بعد لوگوں کے زندہ ملنے کی امیدیں کم ہوتی جاتی ہیں۔السواڈور سے تعلق رکھنے ایک امدادی کارکن جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے بتایا کہ ’اس مرحلے پر غالب امکان یہی ہے کہ ہمیں صرف لاشیں ملیں، اگر کچھ لوگ زندہ مل جائیں تو خدا کا بہت شکر ہو گا۔‘
ملک کے عبوری رہنما کا کہنا ہے کہ سنیچر کو رات گئے کیرابالیڈا کے علاقے میں ایک 11 سالہ لڑکے کو ملبے سے زندہ نکالا گیا۔
انہوں نے ایکس پر ایک ویڈیو بیان، جس میں وہ ریسکیو ورکروں کے ہمراہ تھے، کا کہنا تھا کہ ’ہر زندگی وینزویلا کے لیے امید کا ذریعہ ہے۔‘
دوسرے ممالک کی جانب سے امداد لینے پر مقامی حکام نے ناراضی کا اظہار کیا جبکہ امریکی حمایت روڈریگز نے مدد فراہم کرنے دوسرے ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ سائمن بولیوار بین الاقوقامی ہوائی اڈے کا ایک رن وے جزوی طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ طیارے امدادی سامان لے جا سکیں جبکہ امریکی بحریہ کا ایک جہاز وینزویلا کے ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
وینزویلا میں 24 جون کو خوفناک زلزلہ آیا تھا جس کے بعد 188 افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے ملبے تلے دبنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو لواحقین اور امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لیے بے تاب کوششیں کرتے رہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شب شمالی وینزویلا میں ایک منٹ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جن سے عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور ہزاروں افراد گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔
دارالحکومت کاراکاس کے شمال میں واقع ریاست لا گوائیرا سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں لوگ ملبے کے ڈھیروں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرتے اور ان کے نام پکارتے دکھائی دیے۔










*🛑سیف نیوز اُردو*

*_ضروری و پُر درد اپیل - ہماری بیٹیوں، ہمارا مستقبل_* *تائید و حمایت حفاظت گروپ مالیگاؤں ،بزم خلوص، مجددی فاؤنڈیشن* ...