Monday, 27 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

سنجے کپور جائیداد تنازع سپریم کورٹ پہنچا، پریہ کپور سچدیو سمیت 22 افراد کو نوٹس جاری
نئی دہلی: صنعت کار سنجے کپور کی ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو لے کر جاری خاندانی تنازع اب سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ سنجے کپور کی والدہ رانی کپور کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے پریا کپور سچدیو سمیت 22 فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ رانی کپور نے اپنی عرضی میں عدالت سے اپیل کی ہے کہ سنجے کپور کی جائیداد، اسٹیٹ اور دیگر اثاثوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت پر فوری روک لگائی جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس وقت تک جائیداد کا محفوظ رہنا نہایت ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی یا نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو جائیداد کے بکھرنے یا غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے تمام قانونی فریقین کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کا نوٹس اور مصالحت کی تجویز

سپریم کورٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پریا کپور سچدیو سمیت 22 افراد کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے دونوں فریقین کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اس تنازع کو باہمی رضامندی اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ طویل قانونی جنگ سے بچا جا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، عدالت کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس حساس خاندانی معاملے کو جلد اور خوش اسلوبی سے حل ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج

رانی کپور نے اپنی عرضی میں دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کو بھی چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے اب تک جائیداد اور اسٹیٹ کے تحفظ کے لیے کوئی مضبوط اور واضح ہدایت جاری نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے واضح احکامات جاری کرے۔

اربوں کی جائیداد اور خاندانی اختلافات

یہ تنازع سنجے کپور کے انتقال کے بعد شروع ہوا۔ رپورٹس کے مطابق وہ اپنے پیچھے تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے کی بڑی جائیداد چھوڑ گئے ہیں۔ اسی جائیداد اور وصیت کو لے کر خاندان کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سنجے کپور کی بہن مندھیرا کپور نے دعویٰ کیا ہے کہ وصیت میں کئی بے ضابطگیاں ہیں اور اس میں خاندان کے کچھ افراد، خاص طور پر کرشمہ کپور اور ان کے بچوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پریا کپور سچدیو نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر قانونی دائرے میں رہ کر کام کر رہی ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمام قانونی تقاضوں کو پورا کر رہی ہیں اور عدالت میں اپنے موقف کا دفاع کریں گی۔

فلمی دنیا سے جڑا پس منظر

یہ تنازع اس لیے بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ سنجے کپور کا تعلق بالی ووڈ اداکارہ کرشمہ کپور سے بھی رہا ہے۔ سنجے کپور نے 2003 میں کرشمہ کپور سے شادی کی تھی اور ان کے دو بچے بھی ہیں، تاہم بعد میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد سنجے کپور نے پریا سچدیو سے شادی کر لی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ نہ صرف ایک بڑے مالی تنازع کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ اس میں خاندانی تعلقات، قانونی پیچیدگیاں اور وراثتی حقوق جیسے حساس معاملات بھی شامل ہیں۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں اس کیس کی مزید پیش رفت طے ہوگی۔








بھارت، نیوزی لینڈ فری ٹریڈ معاہدہ : سیب، وائن اور ڈیری سستی ، کیوی کو ڈیری سیکٹرمیں ہوگافائدہ، ویزا ملناہوا آسان
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ (Free Trade Agreement) دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت نہ صرف کئی درآمدی اشیاء سستی ہونے کا امکان ہے بلکہ پیشہ ور افراد اور طلبہ کے لیے ویزا کے حصول میں بھی آسانی متوقع ہے۔

یہ معاہدہ، جسے ابھی نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ دو طرفہ سیاسی حمایت کے ساتھ جلد منظور ہو جائے گا۔ اس کے نفاذ کے بعد مختلف شعبوں میں محصولات (ٹیکس) بتدریج کم کیے جائیں گے، جس سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔صارفین کے لیے خوشخبری : پھل اور وائن سستے
بھارتی صارفین کے لیے اس معاہدے کا سب سے فوری اثر روزمرہ کی اشیاء پر پڑ سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ سے درآمد کیے جانے والے سیب اور کیوی، جو پہلے ہی بھارت میں مقبول ہیں مگر مہنگے داموں دستیاب ہوتے ہیں، اب سستے ہونے کی توقع ہے کیونکہ ان پر عائد درآمدی ڈیوٹی کم کی جائے گی۔ اسی طرح وائن کی قیمتیں بھی اگلے 10 برسوں میں بتدریج کم ہو سکتی ہیں۔

صنعتی شعبے کے لیے بڑا فائدہ
اس معاہدے کے تحت بھارت کو لکڑی کے لٹھے (wooden logs)، کوکنگ کول (coking coal) اور دھاتی اسکریپ جیسے اہم صنعتی خام مال پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے نہ صرف مینوفیکچرنگ لاگت کم ہوگی بلکہ انفراسٹرکچر منصوبوں میں بھی تیزی آنے کی امید ہے۔نیوزی لینڈ کو ڈیری سیکٹر میں فائدہ
دوسری جانب نیوزی لینڈ کو بھارتی مارکیٹ میں اپنی ڈیری مصنوعات کے لیے بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ ری۔ایکسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والے فوڈ اجزاء کو فوری طور پر ڈیوٹی فری داخلہ ملے گا، جبکہ بچوں کے دودھ (infant formula) اور دیگر مہنگی ڈیری مصنوعات پر محصولات اگلے سات سالوں میں مرحلہ وار کم کیے جائیں گے۔ مخصوص کوٹہ کے تحت دودھ سے متعلق دیگر مصنوعات پر بھی ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔

دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ متوقع
نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت ٹوڈ میک کلے (Todd McClay) کے مطابق یہ معاہدہ ملک کی برآمدات کو اگلے عشرے میں دوگنا کرنے کے ہدف کی حمایت کرے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

وہیں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن (Christopher Luxon) نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی منڈیوں میں سے ایک، یعنی بھارت، کے دروازے کھولے گا اور تجارت و سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرے گا۔

بھارتی برآمد کنندگان کے لیے مواقع
اس معاہدے سے بھارتی برآمد کنندگان کو بھی فائدہ ہوگا، خاص طور پر ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ مصنوعات اور آٹو موبائل کے شعبوں میں۔ انہیں نیوزی لینڈ کی مارکیٹ تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔

موجودہ تجارت اور مستقبل کی صلاحیت
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم محدود ہے۔ مالی سال 2024-25 میں اشیاء کی تجارت تقریباً 1.3 ارب ڈالر رہی، جبکہ مجموعی تجارت (اشیاء اور خدمات) تقریباً 2.4 ارب ڈالر کے قریب تھی۔

حکام کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف اس تجارت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے بلکہ صارفین کو کم قیمتوں، بہتر مصنوعات کی دستیابی اور آسان سفری مواقع کی صورت میں براہ راست فائدہ پہنچائے گا۔

یہ مجوزہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک win-win صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جہاں ایک طرف صارفین کو سستی اشیاء ملیں گی تو دوسری جانب کاروبار اور صنعت کو نئی منڈیاں اور مواقع حاصل ہوں گے۔








وراٹ کوہلی 9 ہزار آئی پی ایل رنوں سے صرف 11 رن دور، ہدف کے تعاقب میں کوہلی کی غیر معمولی کارکردگی برقرار
نئی دہلی: بھارتی کرکٹ ٹیم اور رائل چیلنجرس بنگلورو کے اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں ایک تاریخی سنگ میل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ وہ 9 ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے صرف 11 رن دور ہیں اور اگر وہ یہ کارنامہ انجام دیتے ہیں تو لیگ کی تاریخ میں ایسا کرنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔ کوہلی نے اب تک 274 میچوں کی 266 اننگز میں 8989 رنز بنائے ہیں، جن کی اوسط 39.95 اور اسٹرائیک ریٹ 133.76 ہے۔ اس دوران انہوں نے 8 سنچریاں اور 66 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں، جبکہ ان کا بہترین اسکور 113 ناٹ آؤٹ ہے۔ موجودہ سیزن میں بھی وہ شاندار فارم میں ہیں اور 7 میچوں میں 328 رنز بنا چکے ہیں، جس میں تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ اس وقت اورنج کیپ کی دوڑ میں چھٹے نمبر پر ہیں۔’’کنگ آف چیزز‘‘ کی حیثیت برقرار

رنز کے تعاقب (چیز) میں کوہلی کی کارکردگی انہیں دیگر بلے بازوں سے ممتاز بناتی ہے۔ 2023 کے بعد سے وہ 21 اننگز میں صرف ایک بار سنگل ڈیجٹ پر آؤٹ ہوئے ہیں، جبکہ اس دوران انہوں نے 1087 رنز 72.46 کی شاندار اوسط سے بنائے ہیں۔ ان میں سے 14 اننگز کامیاب رن چیز پر ختم ہوئیں، جہاں انہوں نے 881 رنز 110.12 کی حیرت انگیز اوسط سے اسکور کیے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اب بھی ’’ایس آف چیزز‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ اپنی ٹیم کے لیے سب سے بڑے میچ ونر سمجھے جاتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 کے بعد جب بھی کوہلی نے نصف سنچری بنائی، آر سی بی کی جیت کا فیصد 91.67 رہا، جبکہ ان کے بغیر یہ شرح صرف 33.33 فیصد تک گر جاتی ہے۔

مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے باوجود مرکزی کردار

اگرچہ رائل چیلنجرس بنگلورو کی بیٹنگ لائن اپ اب کافی متوازن ہو چکی ہے، جس میں فل سالٹ جیسے پاور پلے ہٹر، کپتان رجت پاٹیدار، دیودت پڈیکل، جیتیش شرما اور کرونال پانڈیا جیسے کھلاڑی شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود کوہلی ٹیم کی امیدوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ٹم ڈیوڈ اور روماریو شیفرڈ جیسے فنشرز بھی ٹیم میں موجود ہیں، لیکن مشکل حالات میں اننگز کو سنبھالنے اور میچ جتوانے کی ذمہ داری اب بھی زیادہ تر کوہلی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔

ایک اور ریکارڈ کی جانب پیش قدمی

وراٹ کوہلی 2023 کے بعد سے مسلسل تین سیزن میں 600 سے زائد رنز بنا چکے ہیں اور اس سیزن میں بھی وہ اسی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ اس سیزن میں 400 رنز مکمل کرنے سے صرف 72 رنز دور ہیں، جو ان کے کیریئر میں 11ویں بار ہوگا یہ بھی ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔ آج آر سی بی کا اگلا مقابلہ دہلی کیپٹلز کے خلاف ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ دہلی کی ٹیم حالیہ شکست کے بعد دباؤ میں ہے، جبکہ آر سی بی اپنی جیت کے بعد پراعتماد نظر آرہی ہے۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا وراٹ کوہلی اس میچ میں 9000 رنز کا تاریخی سنگِ میل عبور کر پاتے ہیں یا نہیں، اور کیا وہ ایک بار پھر اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب ہوں گے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

خواتین میں شوگر زیادہ خطرناک کیوں ہوتی ہے؟
انڈیا میں ڈاکٹر خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور تشویش صرف تعداد تک محدود نہیں۔ ماہرین کو اس بات کی زیادہ فکر ہے کہ ذیابیطس خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ شدید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔
حیران کن صنفی فرق
ای ٹی وی بھارت ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ مردوں میں خواتین کے مقابلے میں ذیابیطس زیادہ ہوتی ہے۔
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں خواتین کے مقابلے میں 17.7 ملین زیادہ مرد ذیابیطس کا شکار ہیں۔لیکن جب خواتین میں ذیابیطس ہوتی ہے تو اس کے اثرات زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ذیابیطس خواتین میں دل کی بیماری، گردوں کے نقصان، ڈپریشن اور ہارمونل مسائل کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ریسرچ سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف ڈایابیٹیز ان انڈیا (RSSDI) کے ماہرین ایک اہم حقیقت بتاتے ہیں:
ذیابیطس کے شکار مردوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ ان مردوں کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے جنہیں یہ بیماری نہیں۔ جبکہ ذیابیطس والی خواتین میں یہ خطرہ حیران کن طور پر 150 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
یعنی خطرہ تین گنا زیادہ! اس لیے اگرچہ کم خواتین اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں، لیکن اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔
خواتین زیادہ متاثر کیوں ہوتی ہیں؟
خواتین زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہیں: بلوغت، حیض، حمل اور مینوپاز۔ ان تمام مراحل میں ہارمونز میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، اور ہارمونز خون میں شکر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین میٹابولک مسائل کے لیے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔
کچھ عوامل خواتین میں ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں:
پیٹ کے اردگرد موٹاپا
جسمانی سرگرمی کی کمی
مسلسل ذہنی دباؤ
خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ
غیر صحت مند خوراک (خاص طور پر پراسیسڈ فوڈ)
تاہم کچھ خطرات خاص طور پر خواتین سے متعلق ہوتے ہیں۔
حمل کے دوران ذیابیطس:
کچھ خواتین کو حمل کے دوران جیسٹیشنل ذیابیطس ہو جاتی ہے، جو ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے عارضی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ بچے کی پیدائش کے بعد خون میں شکر معمول پر آ سکتی ہے، لیکن معاملہ وہیں ختم نہیں ہوتا۔ جن خواتین کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو چکی ہو، ان میں بعد کی زندگی میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔








" ایران کے لیے سب کچھ کریں گے ،" عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد پوتن کا اعلان
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صدر پوتن نے ایران کو بڑی یقین دہانیوں کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ روس ایران اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مفاد میں سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔ روس خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق صدر پوتن نے عراقچی کو بتایا کہ ایرانی عوام اپنی خودمختاری کے لیے بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ TASS نے پوتن کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران اس مشکل دور پر قابو پانے کے بعد امن پائے گا۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات ایک اسٹریٹجک شراکت داری ہے جو مزید مضبوط ہوتی رہے گی۔ روسی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماسکو ایران کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کو جاری رکھے گا۔ عراقچی قطر، سعودی عرب، عمان اور پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد روس پہنچے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ معاہدے کی کچھ شرائط لے کر آئے ہیں اور پوتن کی حمایت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

یہ ملاقات کیوں اہم ہے؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پوتن سے ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور تزویراتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس اور ایران یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اپنی اپنی جنگوں میں براہ راست ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے حال ہی میں اہم انٹیلی جنس اور خاص طور پر شاہد پیٹرن والے مہلک ڈرونز کا تبادلہ کیا ہے۔

مسئلہ کہاں ہے؟
دریں اثناء امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ Axios نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس کے بعد تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنے کے لیے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی گئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کی ٹیم اور حکومت کے درمیان اختلافات ہیں۔ حکومت سے وابستہ افراد جنگ کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں لیکن سپریم لیڈر کی ٹیم بدلہ لینا چاہتی ہے۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کم جہاز
دریں اثنا، رائٹرز نے جہاز رانی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم سات بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کو منتقل کیا، جو حالیہ دنوں میں کم سرگرمی کے مطابق ہے۔ سینیکس کے کیپلر جہاز کے ٹریکنگ ڈیٹا اور سیٹلائٹ کے تجزیے کے مطابق، یہ جہاز بنیادی طور پر کارگو جہاز تھے، جن میں عراقی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے بحری جہاز اور ایک ایرانی بندرگاہ سے تھا۔ یہ ٹریفک 28 فروری کو ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے یومیہ 140 بحری جہازوں کی اوسط سے کافی کم ہے۔

ایران نے کہا ، معاہدے میں ناکامی کا ذمہ دار امریکہ ہے
سینٹ پیٹرزبرگ میں پوتن سے ملاقات سے قبل عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدہ اس لیے ناکام ہوا کیونکہ امریکہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک ایران کی تجاویز کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک امریکی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات معطل کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، کسی بھی فریق یا ثالث کی طرف سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسے کوئی جلدی نہیں ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفارت کاری کا دور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔







بنگال میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے بیچ کڑی ٹکر ، کچھ بھی ہوسکتا ہے ، اشوک گہلوت کا بیان
جے پور۔ مغربی بنگال میں انتخابی مہم چلانے کے بعد جے پور لوٹے کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت نے بڑا بیان دیا ہے۔ گہلوت نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان قریبی لڑائی ہے۔ اگر وہاں بی جے پی جیت جاتی ہے تو یہ الیکشن کمیشن کی جیت ہوگی۔ گہلوت نے سچن پائلٹ کے بارے میں یہ بھی کہا کہ وہ اب کانگریس چھوڑنے پر کبھی غور نہیں کریں گے۔ انہوں نے خود کو کانگریس سے دور کرنے کے نتائج کو جان لیا ہے۔ بی جے پی نے انہیں پچھلی بار گمراہ کیا۔

گہلوت نے کہا کہ بنگال انتخابات میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بی جے پی نے یہ الیکشن جنگ کی طرح لڑا ہے اور اس نے پہلے سے تیاری شروع کر دی تھی۔ اگر بنگال میں بی جے پی جیت جاتی ہے تو یہ ان کی نہیں الیکشن کمیشن کی جیت ہوگی۔ وہاں کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ گہلوت نے یہ بھی کہا کہ بنگال میں بی جے پی کے داخلے کے لیے ممتا بنرجی کی حکومت ذمہ دار ہے۔ گہلوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے مرکز میں سابقہ منموہن سنگھ حکومت اور راجستھان میں ان کی حکومت کو گرانے کی سازش کی۔ اگر بنگال میں بی جے پی جیت جاتی ہے تو یہ ان کی حکمت عملی اور الیکشن کمیشن کی جیت ہوگی۔گہلوت نے آگے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ بنگال میں بکتر بند گاڑیاں تشویش کا باعث ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور سابق ڈپٹی سی ایم سچن پائلٹ کے بارے میں گہلوت نے کہا، “وہ اب پوری طرح سے کانگریس کے ساتھ ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ کانگریس چھوڑنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچیں گے۔ وہ اب یہ سمجھ چکے ہیں اور زیادہ کمپوز ہو گئے ہیں۔” ان کے دونوں پاؤں اب کانگریس میں ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔

Saturday, 25 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا آبنائے ہرمز کی وجہ سے ملک میں کھاد کی کمی ہے ؟ حکومت نے کیا خلاصہ
نئی دہلی۔ محکمہ کھاد نے واضح کیا ہے کہ ایران اسرائیل امریکہ جنگ کی وجہ سے ملک میں کھاد کی قلت کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ محکمہ کے مطابق ہندوستان میں کھاد کی سپلائی مکمل طور پر مضبوط اور کنٹرول میں ہے اور تمام قسم کی کھادیں وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ اس لیے کسانوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں جتنی ضرورت ہو گی ، ا تنی ملے گی۔

ربیع 2025-26 کے سیزن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یوریا، ڈی اے پی، ایم او پی، این پی کے، اور ایس ایس پی سمیت تمام کھادوں کی دستیابی مانگ سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ صورتحال اپریل 2026 میں برقرار رہی، ہر کھاد کا ذخیرہ مطلوبہ مقدار سے کئی گنا زیادہ ہو گیا۔ حکومت آنے والے خریف سیزن 2026 کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ کھاد کی کل ضرورت کا تقریباً 46 فیصد پہلے سے ہی اسٹاک میں ہے، جو کہ معمول کی سطح سے زیادہ ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسانوں کو کھاد کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔حکومت نے ریاستوں کو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسانوں تک کھاد وقت پر پہنچ جائے۔ ایسی افواہوں کی وجہ سے کالا بازاری کرنے والے اکثر سرگرم ہو جاتے ہیں اور کسانوں کو مہنگے داموں کھاد فروخت کرتے ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں کھاد کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کسانوں کو یوریا انتہائی سستے نرخ پر فراہم کر رہی ہے۔ جب کہ بیرون ملک اس کی قیمت 4,000 فی بیگ سے زیادہ ہے، یہ بھارت میں 266.5 میں دستیاب ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں کھاد کی سپلائی مکمل طور پر محفوظ ہے اور کسانوں کو بغیر کسی پریشانی کے انہیں ملنا جاری رہے گا۔ جنگ نے سپلائی کو کسی بھی طرح متاثر نہیں کیا ہے۔









LPG کی خرید پر ہندوستان کی پالیسی میں بڑی تبدیلی ، اب کہیں نہیں ہوگی رسوئی کی قلت
LPG Gas Booking Update: مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے درمیان، بھارتی حکومت نے کھانا پکانے والی گیس (LPG) کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔ گھریلو اور تجارتی صارفین دونوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے، ہندوستان اب صرف روایتی ذرائع پر انحصار نہیں کرے گا، بلکہ اس کے بجائے دنیا بھر کے کئی ممالک سے اسپاٹ پرچیز کے ذریعے گیس حاصل کرے گا۔ ٹائمز آف انڈیا نے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سرکاری تیل کی کمپنیوں (OMCs) نے حالیہ ہفتوں میں امریکہ سمیت کئی ممالک سے ایل پی جی کے اضافی کارگو بک کیے ہیں۔ یہ کھیپ جون اور جولائی تک ہندوستان پہنچنے کی توقع ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ مارکیٹ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

سوجاتا شرما، جوائنٹ سکریٹری، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے مطابق، ہندوستان پہلے اپنی ایل پی جی کی تقریباً 60 فیصد ضروریات کو درآمدات کے ذریعے پورا کرتا تھا۔ تاہم اب ملکی پیداوار بڑھانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے جس سے درآمدات پر انحصار بتدریج کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے اندر گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے جہاں سے ممکن ہو گا وہاں سے گیس خریدی جائے گی۔ہندوستان کو روزانہ تقریباً 80,000 ٹن ایل پی جی کی ضرورت ہوتی ہے
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان کو روزانہ تقریباً 80,000 ٹن ایل پی جی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حال ہی میں، گھریلو پیداوار میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کر کے 46,000 ٹن یومیہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود باقی ماندہ کمی کو پورا کرنے کے لیے درآمدی اختیارات کو بڑھا دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے، ہندوستان کی تقریباً 90فیصد ایل پی جی سپلائی خلیجی ممالک سے آتی تھی۔ متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، کویت، بحرین اور عمان۔ تاہم، مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافے کے بعد، ہندوستان نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کر دیا ہے اور بڑے پیمانے پر امریکہ، ناروے، کینیڈا، الجیریا اور روس جیسے ممالک سے خریداری شروع کر دی ہے۔ اس نے سپلائی چین کو مزید محفوظ اور متنوع بنا دیا ہے۔

حکومت نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 800,000 ٹن ایل پی جی کی یقینی سپلائی پہلے ہی بک ہو چکی ہے اور ہندوستان پہنچ رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جنگ کے بعد سپلائی روٹس میں خلل پڑنے کے بعد بھی دس میں سے نو جہاز جو آبنائے ہرمز کو عبور کر کے ہندوستان پہنچے تھے وہ کھانا پکانے والی گیس لے کر آئے تھے ۔ یہ اس شعبے کے لیے حکومت کے فعال انداز کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسپاٹ خرید کی یہ پالیسی بحران سے نمٹنے کے لیے انتہائی مؤثر
ماہرین کا خیال ہے کہ اسپاٹ پرچیز پالیسی قلیل مدتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی مؤثر ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہندوستان کو فوری طور پر مطلوبہ گیس مل جائے اور قیمتوں کو کچھ حد تک کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ مزید برآں، مختلف ممالک سے سورسنگ کسی ایک خطے پر انحصار کم کرتی ہے، جو مستقبل میں فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ صارفین کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ ان نئے اقدامات کے بعد آنے والے مہینوں میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کے امکانات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ملک میں گیس کی فراہمی میں خلل نہیں ہونے دیا جائے گا۔








⭐️ *7 اسٹار کارپوریٹر حاجی کلیم دلاور صاحب کا عظیم کارنامہ* ⭐️
*وارڈ نمبر 13 کی عوام کے لیے دو بڑی خوشخبری!*
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
*(20/04/2026 کو مہا سبھا میں موضوع (وشئے) نمبر 28 ڈیلیوری ہاسپٹل اور موضوع (وشئے) نمبر 47 کو بجٹ دینے کے ساتھ منظور کیا گیا)*

   *عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے، ہر وقت لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے تیار رہنے والے 7 اسٹار کارپوریٹر حاجی کلیم دلاور صاحب نے ایک اور شاندار کامیابی حاصل کر لی ہے۔*
   *اب وارڈ نمبر 13 کی اسکول نمبر 1 میں محمدیہ مدرسے کے نام سے ڈیلیوری ہاسپٹل اور نمیرہ ہائٹس کے بازو سروے نمبر 10 میں مرحوم ساتھی نہال احمد شادی ہال کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ جو نہ صرف علاقے کی بنیادی ضرورت تھی بلکہ برسوں سے عوام کا ایک اہم مطالبہ بھی تھا۔*
   *محمدیہ مدرسے کے نام سے ڈیلیوری ہاسپٹل بننے سے خواتین کو بہتر اور قریبی طبی سہولیات میسر آئیں گی ایمرجنسی حالات میں فوری علاج ممکن ہوگا۔ غریب اور متوسط طبقے کو بڑی راحت ملے گی*
   *مرحوم ساتھی نہال احمد شادی ہال کی منظوری سے عوام کو کم خرچ میں تقریبات کے لیے بہتر جگہ ملے گی علاقے میں سہولت اور خوشحالی کا نیا دروازہ کھلے گا. یہ کارنامہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور جذبہ خدمت کا ہو، تو عوام کی فلاح کے لیے بڑے سے بڑا کام ممکن ہے۔*
   *دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور دعائیں. اللہ تعالیٰ 7 اسٹار کارپوریٹر حاجی کلیم دلاور صاحب کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح عوام کی خدمت کرنے کی طاقت و قوت دیں۔*

*عوام کی خدمت ہی اصل سیاست ہے!*
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

Thursday, 23 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

مغربی بنگال میں دوپہر 1 بجے تک 62.18 فیصد، تامل ناڈو میں 56.81 فیصد ووٹنگ، بنگال کے مرشد آباد میں ہوا جم کربوال 
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں جمعرات کی دوپہر 1 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 62.18 فیصد رہا، جب کہ تمل ناڈو میں 56.81 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے پہلے، جمعرات کی صبح 11 بجے تک ریکارڈ کی گئی ووٹنگ فیصد کو دیکھتے ہوئے، یہ اعداد و شمار مغربی بنگال میں 41.11 فیصد اور تمل ناڈو میں 37.56 فیصد تھے۔مغربی بنگال کے 16 اضلاع کی 152 اسمبلی سیٹوں کے لیے جمعرات کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ یہ ان اہم اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہے، جو دو مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات کے دوران ووٹرز میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا، کئی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

بھارت کی ریاست مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ جاری ہے۔ صبح سویرے ہی پولنگ اسٹیشنز کے باہر ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جہاں عوام جوش و خروش کے ساتھ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں 16 اضلاع کی 152 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ نشستیں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم معنی جا رہی ہیں اور ریاست بھر میں انتخابی ماحول اپنے عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔

دوسری جانب تمل ناڈو میں آج ایک ہی دن میں ریاست کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی پولنگ کی وجہ سے ریاست بھر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ووٹروں میں خاصا جوش پایا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے دونوں ریاستوں میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں، تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔ مرکزی فورسز اور مقامی پولیس کی بھاری نفری پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کی گئی ہے، جب کہ حساس علاقوں میں اضافی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صبح کے
اوقات میں ووٹنگ کا عمل پرامن انداز میں جاری ہے اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی خبر نہیں ملی۔ الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالیں۔








آبنائے ہرمز میں ایران کا حملہ، بھارت آنے والے جہاز کو بنایا نشانہ
نیویارک: ایران نے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں ایک ایسے جہاز پر حملہ کیا جو بھارت کے مندرا بندرگاہ جا رہا تھا۔ یہ حملہ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی بڑھانے کی بات کی تھی۔ایرانی بحریہ کی کارروائی
سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، یہ ان دو جہازوں میں شامل تھا جن پر اسلامک ریولوشنری گارڈ کور نیوی (آئی آر جی سی-این) نے حملہ کرنے اور انہیں اپنی تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ جہازوں کے نام ’ایم ایس سی فرانسسکا‘ اور ’ایپامینونڈاس‘ بتائے گئے ہیں۔

جہاز کا سفر اور ملکیت
شپنگ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق، لائبیریا کے پرچم والا جہاز “ایپامینونڈاس” دبئی کے جبل علی بندرگاہ سے گجرات کے مندرا بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا اور توقع تھی کہ وہ جمعرات تک اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز یونان کی کمپنی ’کالمار میری ٹائم ایل ایل سی‘ کی ملکیت ہے۔

پہلے بھی ہو چکے ہیں حملے
اس سے قبل ہفتہ کے روز بھی ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بھارتی جہازوں پر حملہ کیا تھا، حالانکہ انہیں وہاں سے گزرنے کی اجازت حاصل تھی۔ اس واقعے پر بھارت نے سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ آئی آر جی سی-این کے مطابق، ان جہازوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ “بغیر اجازت کام کر رہے تھے۔”

حملے کی وجہ اور نقصان

برطانیہ کی بحریہ سے منسلک ایک مانیٹرنگ ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی گن بوٹس نے دو جہازوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور وہ تقریباً ناکارہ ہو گیا، جبکہ دوسرا جہاز بھی متاثر ہوا۔ حالانکہ، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران نے ان جہازوں کو مکمل طور پر قبضے میں لیا یا نہیں۔

امریکی ردعمل اور کشیدگی
امریکی حکومت یا صدر ٹرمپ کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ امریکی بحریہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

عالمی اہمیت اور پس منظر
ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے اس ایرانی جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچایا اور اس پر فوجی دستے بھی سوار ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاز میں چین سے آیا کوئی ’تحفہ‘ موجود تھا۔ حالانکہ، چین نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔









داغ دہلوی کی 121ویں برسی، ایسا بڑا شاعر جس کے شاگرد تھے علامہ اقبالؒ
حیدرآباد، تلنگانہ: اردو کے معروف شاعر داغ دہلوی جن کا نام نواب مرزا خان اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 17 مارچ 1905 کو یعنی 74 برس کی عمر میں حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ دہلوی دہلی کے محلہ چاندنی چوک میں پیدا ہوئے تھے جب کہ اب اس کا نام کوچہ استاد داغ کے نام سے موسوم ہے۔ داغ دہلوی کا کلام دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہے۔ اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔

داغ کے زمانے میں زبان کی دو سطحیں تھیں ایک علمی اور دوسری عوامی، غالب علمی زبان کے نمائندے تھے اور داغ کی شاعری عوامی تھی، وہ عوام سے گفتگو کرتے تھے۔ داغ فطری شاعر تھے اور ان کے موضوعات میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ داغ کی حیدرآباد میں مقبولیت اور شہرت کا راز ان کی خوش اخلاقی، ملنساری، خودداری اور ہمدردی تھا۔ حیدرآباد آنے سے پہلے لوگ، داغ کو اچھی جانتے تھے۔داغ دہلوی کی 121ویں برسی

داغ کے حیدرآباد آنے سے پہلے ان کا دیوان، گلزار داغ حیدرآباد پہنچ چکا تھا۔ دکن حیدرآباد کے نظام نواب میر محبوب علی خاں بہادر بھی داغ کی شخصیت اور شاعری کے مداح تھے اور ریاست حیدرآباد دکن کے عوام داغ کی شاعری کے شیدائی تھے۔ حیدرآباد آنے کے بعد میر محبوب علی خاں بہادر نے داغ کو چار سو روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی۔ داغ دہلوی کو کئی اعزازات سے نوازا گیا اور 3 سال بعد داغ کی تنخواہ ایک ہزار روپے ماہانہ کردی گئی۔

داغ دہلوی کے انتقال پر حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان

حیدرآباد میں داغ کا مکان افضل گنج میں تھا۔ 74 سال کی عمر میں داغ دہلوی کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کی اطلاع پر بادشاہ وقت میر محبوب علی خاں بہادر نے غم کے اظہار کیا اور حیدرآباد دکن میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ داغ کی نماز جنازہ عیدالاضحیٰ کے روز تاریخی مکہ مسجد میں ادا کی گئی۔ ان کے جنازہ میں میر محبوب علی خاں بہادر کے علاوہ ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ داغ کی تدفین نامپلی میں واقع درگاہ حضرت یوسفینؒ کے احاطہ میں عمل میں آئی۔داغ دہلوی کے شاگردوں کی ہزاروں میں تعداد

داغ دہلوی کے تعلق سے یہ مشہور ہے کہ جس تعداد میں ان کو شاگرد میسر ہوئے۔ اتنے کسی اور شاعر کو نہیں مل سکے، ان کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے جس میں سے علامہ اقبالؒ، جگر مرادآبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی قابل ذکر ہیں۔

اردو کے معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل

ان معروف شعرا کو داغ دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ ان کے یوم وفات پر ای ٹی وی بھارت نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی سے خاص بات چیت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ داغ دہلوی اردو غزل کے پائے کے شاعر تھے، انہوں نے اردو غزل کو ایک نئی سمت بخشی ہے جس طرح سے ادبی اصول و ضوابط کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے عام فہم شاعری کی ہے اس کی مثال اب تک کے شعرا میں نہیں ملتی۔

داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے بھلا دیا

انہوں نے کہا تھا کہ المیہ یہ ہے کہ داغ دہلوی کو اردو داں طبقہ نے اپنے حوالہ جات و تحقیقی مضامین میں شامل کرنا کم کردیا ہے، جس کی وجہ سے نسل نو سے نہ صرف ایک بہترین شاعری اوجھل ہوتی جا رہی ہے بلکہ خود داغ دہلوی کی شخصیت بھی دور ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ داغ دہلوی سے علامہ اقبالؒ اپنی اصلاح کرواتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ علامہ اقبالؒ کی ابتدائی شاعری کو پڑھیں گے تو اس میں داغ دہلوی کی شاعری کی جھلک ملے گی۔ انہوں نے داغ دہلوی کے کچھ اشعار کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ صرف یہی اشعار نہیں بلکہ داغ دہلوی کے بیشتر اشعار معنی خیز اور پرمغز ہیں، جو نسل نو کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

آبنائے ہرمز، ایندھن اور فضائی ٹکٹوں کی قیمتیں: یہ ’بحران‘ کورونا دور سے زیادہ پیچیدہ کیوں؟
یورپ میں موسمِ گرما کی چھٹیوں کا آغاز قریب آتے ہی ہوائی اڈوں پر معمول کی چہل پہل کی توقع کی جا رہی تھی، مگر اس بار منظر کچھ مختلف ہے۔
ایئرلائنز اپنے شیڈول تبدیل کر رہی ہیں، مسافروں کو مہنگے ٹکٹوں کا سامنا ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایک ایسا بحران سر اٹھا رہا ہے جس کی جڑیں ہزاروں کلومیٹر دور خلیج میں واقع ہیں۔
اس بحران کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، ایک ایسا تنگ سمندری راستہ جسے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یہاں کشیدگی اور جہاز رانی میں رکاوٹوں نے نہ صرف تیل بلکہ جیٹ فیول کی سپلائی کو بھی شدید متاثر کیا ہے، اور یہی اثر اب یورپ کے فضائی نظام میں محسوس کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کی وارننگ: محدود ذخائر
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے 16 اپریل کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں خبردار کیا کہ یورپ کے پاس جیٹ فیول کے ذخائر شاید صرف چھ ہفتے کے لیے باقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو پروازوں کی منسوخی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ یہ بیان بعد ازاں مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں، جن میں روئٹرز اور عرب نیوز شامل ہیں، نے بھی نقل کیا اور اس خدشے کو مزید تقویت ملی کہ صورتحال محض عارضی دباؤ نہیں بلکہ ایک ممکنہ بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
جیٹ فیول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
اعداد و شمار بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یورپی نشریاتی ادارے یورو نیوز کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں تقریباً 95 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
اسی طرح انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اپریل کے وسط کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمت 1458 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں یورپ میں 106 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس اضافے کا براہ راست اثر ہوائی ٹکٹوں پر پڑ رہا ہے، اور ایئرلائنز اس بوجھ کو مسافروں تک منتقل کر رہی ہیں۔
ممکنہ شدت: 80 سال کا بڑا بحران؟
توانائی کے ماہر کلاڈیو گیلمبرٹی نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ کم از کم آٹھ دہائیوں کا سب سے شدید توانائی بحران بن سکتا ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو یورپ پانچ سے سات ہفتوں میں بڑے پیمانے پر قلت کا سامنا کر سکتا ہے۔
اسی طرح آئی این جی کے ماہر ریکو لیومین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک سے جیٹ فیول کی ترسیل کئی ہفتے پہلے ہی رک چکی ہے اور اب عالمی سطح پر اس ایندھن کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔

ایئرلائنز کے عملی اقدامات
یہ دباؤ اب ایئرلائنز کے عملی فیصلوں میں بھی نظر آنے لگا ہے۔ جرمنی کی ایئرلائن لفتھانزا نے 21 اپریل کو اعلان کیا کہ وہ موسمِ گرما کے دوران بیس ہزار کم شارٹ ہال پروازیں چلائے گی تاکہ ایندھن کی بچت کی جا سکے۔
اسی طرح کے ایل ایم اور سکینڈنیوین ایئرلائن نے بھی یورپ کے اندر اپنی پروازوں میں کمی کی ہے۔ اٹلی میں بعض ہوائی اڈوں پر صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ چھوٹے جہازوں جیسے بوئنگ 737 اور ایئربس A320 کے لیے فی پرواز ایندھن کی حد مقرر کی جا رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ جہاز محدود فاصلے تک ہی پرواز کر سکتے ہیں۔
یورپی ردعمل
یورپی کمیشن نے 17 اپریل کو ایک بیان میں کہا کہ فی الحال کسی بڑے پیمانے کے بحران کے شواہد نہیں ملے، تاہم اس نے یہ تسلیم کیا کہ مارکیٹ میں دباؤ بڑھ رہا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی رکن ممالک کے درمیان ایندھن کی تقسیم، ذخائر کی نگرانی اور ہنگامی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
صورتحال کورونا بحران سے زیادہ سنگین کیوں؟
اگر اس صورتحال کا موازنہ چند سال قبل کورونا کے دوران ہونے والے بحران سے کیا جائے تو ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ اُس وقت مسئلہ مسافروں کی کمی تھا، جبکہ آج مسئلہ ایندھن کی دستیابی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ جہاز بھرے ہوئے ہیں، مگر ان کے اڑنے کی صلاحیت خود ایندھن پر منحصر ہو گئی ہے، جو ایک مختلف نوعیت کا اور ممکنہ طور پر زیادہ پیچیدہ بحران ہے۔
اس تمام صورتحال کے اثرات پاکستان جیسے ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں، جہاں سے بڑی تعداد میں مسافر یورپ کا رخ کرتے ہیں۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران یورپ جانے والے ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری میں جو ٹکٹ 600 سے 800 یورو میں دستیاب تھے، وہ اب 700 سے 900 یورو یا اس سے بھی زیادہ میں فروخت ہو رہے ہیں۔
یہ اضافہ بظاہر چند سو یورو کا ہے، مگر پاکستانی روپے میں تبدیل ہونے پر یہ ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتا ہے۔
مزید پیچیدگی کنیکٹنگ فلائٹس میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پاکستانی مسافر عموماً خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں کے ذریعے یورپ جاتے ہیں، اور چونکہ یہ خطہ اس بحران کے مرکز کے قریب ہے، اس لیے یہاں سے چلنے والی پروازیں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ تاخیر، طویل قیام، اور آخری وقت میں روٹس کی تبدیلی جیسے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض صورتوں میں مسافروں کو ترکی یا وسطی ایشیا کے راستے سفر کرنا پڑ رہا ہے، جو نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ زیادہ مہنگا بھی ثابت ہو رہا ہے۔
اس بحران کا پاکستان پر کیا اثر ہو رہا ہے؟
پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے بھی اس عالمی رجحان سے الگ نہیں رہ سکتی۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اس کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں، جس کا اثر یا تو کرایوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے یا پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی کی شکل میں۔
یہ بحران ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی معیشت اور ہوا بازی کا نظام کس حد تک چند اہم جغرافیائی راستوں پر منحصر ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ان راستوں میں خلل پڑے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمت تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر کے مسافروں، معیشتوں اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
آنے والے ہفتے اس لحاظ سے اہم ہوں گے کہ آیا یہ بحران وقتی دباؤ ثابت ہوتا ہے یا ایک بڑے عالمی مسئلے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ فی الحال یورپ کے آسمانوں پر اڑتے جہاز اس غیر یقینی صورتحال کی علامت بن چکے ہیں، اور ان میں سفر کرنے والے مسافر اس بدلتی ہوئی دنیا کے براہِ راست گواہ ہیں۔








سعودی عرب حکومت نے بغیرلائسنس غذائی اشیاء کی تیاری پرعائد کی پابندی،قانون کی خلاف ورزی کرنے پرہوسکتی ہے 10سال قید
سعودی عرب کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے حج 2026 کے دوران بغیر لائسنس غذائی اشیاء تیار کرنے اور ذخیرہ کرنے پر سخت پابندی کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اتھارٹی کی جانب سے اس حوالے سے گائیڈلائن جاری کی گئی ہے۔ بغیر لائسنس غذائی اشیاء سے جڑی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو 10 سال تک قید اور 10ملین سعودی ریال تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی عرب کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی(SFDA) جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تمام فوڈ فیکٹریوں اور گوداموں کے لیے فوڈ قانون اور اس کے ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے اور عازمین کی صحت و سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے۔اتھارٹی نے واضح کیا کہ حج کے دوران کسی بھی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔اتھارٹی کے بیان کے مطابق بغیر اجازت اشیائے خوردونوش کی اسٹوریج ممنوع ہوگی ۔مزید غذائی اشیا کو اسی مقام پرا سٹور کرنے کی اجازت ہوگی جس کا لائسنس جاری کیا گیا ہو۔بند کیے گئے ادارے دوبارہ کام شروع نہیں کر سکیں گے جب تک اجازت نہ ملے

میڈیا رپورٹس کے مطابق،غیر معیاری مصنوعات کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔ گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں ہوسکتی ہیں۔ضوابط کی خلاف ورزی کا مریکب پائے جانے پر 10 ملین سعودی ریال جرمانہ یا دس برس قید کے علاوہ کاروباری سرگرمی کو 180 دن کے لیے بند کرنے یا لائسنس کو ایک برس کے لیے معطل بھی کیا جاسکتا ہے۔یہ اقدامات حج کے دوران عازمین کی صحت وسلامتی کو یقینی بنانے کے وسیع حکومتی منصوبے کا حصہ ہیں، جس میں دیگر سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔حج کے دوران فوڈ سیفٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے یہ اقدامات سعودی قیادت کی ہدایات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔اتھارٹی کی جانب سے تمام اداروں سے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔








مدھیہ پردیش کے داموہ میں دلت دلہا کوگھوڑے سے اتاردیا، شادی کی بارات پر حملہ ، دلہا اور باراتی زخمی
مدھیہ پردیش کے ضلع داموہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک 23 سالہ دلت دلہا کو اس کی اپنی شادی کی بارات کے دوران گھوڑے سے زبردستی اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ منگل کی شام اس وقت پیش آیا جب دلہا اپنی شادی کی رسم کے تحت گھوڑے پر سوار ہو کر بارات لے جا رہا تھا۔

دلت برادری سے تعلق رکھنے والا متاثرہ دلہا، گولو اہروار، جو جسمانی طور پر معذور بھی ہے، اپنی بارات کے ساتھ گاؤں کی ایک تنگ گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک چند مقامی افراد نے اس کا راستہ روک لیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق، ایک گاڑی جان بوجھ کر راستے میں کھڑی کی گئی تاکہ بارات کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔جب باراتیوں نے راستہ دینے کی درخواست کی تو صورتحال کشیدہ ہو گئی اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ حملہ آوروں نے دلہا کو گھوڑے سے نیچے گھسیٹ لیا اور ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔ واقعے کی ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بارات میں افراتفری پھیل گئی اور حملہ آور دلہا اور اس کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ گولو اہروار جسمانی معذوری کا شکار ہونے کے باوجود بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔

دلہا کی والدہ، ودیا اہروار، نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کی شادی کو برباد کر دیا گیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے ہمیں بارات نکالنے سے منع کیا، لیکن ہم نے کہا کہ آج شادی ہے، اور رسم گھوڑے پر سوار ہوئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد انہوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے میری بیٹی کو بھی مارا اور اس دوران اس کے کچھ سونے کے زیورات بھی غائب ہو گئے۔

دلہا کی بہن، منیشا اہروار، نے بھی الزام لگایا کہ جب اس نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے مطابق، حملہ آوروں نے کہا کہ ’’ایسی باراتیں تم جیسے لوگوں کے لیے نہیں ہوتیں۔‘‘

واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں SC/ST (Prevention of Atrocities) Act کی دفعات بھی شامل ہیں۔ تھانہ انچارج سدھیر کمار بیگی کے مطابق، ملزمان نے دلہا کے گھوڑے پر سوار ہونے پر اعتراض کیا اور زبردستی بارات کو روک کر حملہ کیا۔

Wednesday, 22 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

پہلگام دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی ، پی ایم مودی نے کہا بھارت دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا
پہلگام دہشت گردانہ حملے کی آج پہلی برسی ہے۔اس موقع پرپرائم منسٹر نریندرمودی نے اس حملے میں جان گنوانے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرپوسٹ میں انھوں نے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مضبوط مؤقف کا اعادہ بھی کیا۔

اپنے پوسٹ میں پرائم منسٹر نریندر مودی نے لکھا کہ گزشتہ سال آج کے دن پہلگام دہشت گرد حملے میں ضائع ہونے والی معصوم جانوں کو یاد کر رہے ہیں۔ انھیں کبھی بھلایا نہیں جائے گا۔اس نقصان کا سامنا کررہے غم زدہ خاندانوں کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں۔ پی ایم مودی نے اپنے پیغام میں ان خاندانوں کے رنج وغم اور تکلیف کو بھی تسلیم کیا جنھوں نے اس دہشت گردحملے میں اپنے عزیزوں کوکھودیا۔انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ ملک ان کے غم میں برابرکا شریک ہے۔دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک کے مشترکہ عزم کودہراتے ہوئے پرائم منسٹر نریندرمودی نے اتحاد اور ثابت قدمی کی اہمیت پرزوردیا۔اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ بطور قوم ہم غم اور عزم میں متحد ہیں۔ بھارت کبھی بھی دہشت گردی کی کسی بھی شکل کے سامنے نہیں جھکے گا۔

دہشت گردوں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پرائم منسٹر مودی کا یہ بیان دہشت گردی کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو مزید تقویت دیتا ہے اور دہشت گردی خلاف قومی عزم کو اجاگر کرتا ہے۔واضح رہے کہ جموں کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والے کی موت گئی تھی۔ ادھر،پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پرجموں کشمیر میں سکیورٹی سخت کر دی ہےجبکہ پہلگام اور اس کے گرد و نواح میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ سینئر حکام کے مطابق یادگاری تقریب کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں سیاسی لیڈران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت دیگرکی شرکت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے تین ماہ بعد سکیورٹی فورسز نے سری نگر کی پہاڑیوں میں ایک جھڑپ کے دوران حملے میں ملوث تین پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایاتھا۔تاہم اس کیس کی تحقیقات جاری رہیں۔








دھونی واپسی کے لیے تیار! وانکھیڈے میں کی نیٹ پریکٹس
واضح رہے کہ جموں کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والے کی موت گئی تھی۔ ادھر،پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پرجموں کشمیر میں سکیورٹی سخت کر دی ہےجبکہ پہلگام اور اس کے گرد و نواح میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ سینئر حکام کے مطابق یادگاری تقریب کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں سیاسی لیڈران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت دیگرکی شرکت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے تین ماہ بعد سکیورٹی فورسز نے سری نگر کی پہاڑیوں میں ایک جھڑپ کے دوران حملے میں ملوث تین پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایاتھا۔تاہم اس کیس کی تحقیقات جاری رہیں۔دھونی کی واپسی آئی پی ایل میں متوقع ہے۔اُن کی واپسی کا جتنی شدت سے شائقین کو انتظار ہے اتنی ہی شدت سے چنئی سپر کنگز کی ٹیم بھی تھالا کی واپسی کی منتظر ہے۔شائد اب یہ انتظار جلد ختم ہونے جارہا ہے۔ دھونی وانکھیڈے میں نیٹ میں پسینہ بہاتے دیکھے گئے۔

21 اپریل کو سابق کپتان کو وانکھیڈے اسٹیڈیم میں تقریباً 40 منٹ وکٹ کیپنگ کرتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے نیٹ میں تقریباً ایک گھنٹے تک بیٹنگ کی۔ دھونی نے سرفراز خان اور ارول پٹیل کی وکٹ کیپنگ کی ۔ آیوش مہاترے کے بقیہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد ارول کو موقع مل سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سرفراز کو بیٹنگ آرڈر میں ترقی ملتی ہے یا نہیں، یعنی انہیں نمبر 3 پر کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔دھونی سی ایس کے کے چھ میچوں سے باہررہے ہیں ۔ فی الحال، ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں آٹھویں نمبر پر ہے اور اس کا رن ریٹ منفی ہے۔ ان کا اگلا میچ ممبئی انڈینز کے خلاف ہے، جو اپنے چھ میں سے چار میچ ہار چکی ہے۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف 99 رن کی زبردست جیت کی بدولت ان کا NRR بہتر ہے۔ یہ فتح چار میچوں کی ہار کے بعد ملی ہے۔

سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف میچ میں چنئی کے پاس فنشر کی کمی تھی۔ میتھیو شارٹ کی سست اننگز نے بھی ٹیم کی پریشانیوں میں اضافہ کیا جس سے شیوم دوبے اور جیمی اوورٹن کے لیے ہدف کا تعاقب کرنا مشکل ہو گیا۔ اگر 44 سالہ دھونی آرڈر کے نیچے مختصر اننگز کھیلتے ہیں تو یہ ٹیم کے لیے ایک بڑا فائدہ ہوگا۔ممبئی انڈینز کے لیے راحت

ممبئی انڈینز کے انگلش کھلاڑی ول جیکس ٹیم میں شامل ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ 23 اپریل کو سی ایس کے کے خلاف میدان میں اتریں گے۔ جیکس ذاتی وجوہات کی بناء پر پہلے چھ میچز نہیں کھیل سکے۔ ان کی آمد سے ممبئی انڈینس کے کچھ مسائل حل ہو جائیں گے۔ اگر روہت شرما سی ایس کے کے خلاف نہیں کھیلتے ہیں تو جیکس کوئنٹن ڈی کاک کے ساتھ اننگز کا آغاز کر سکتے ہیں۔ انگلش کھلاڑی نیچے آرڈر پر بھی بیٹنگ کر سکتے تھے۔










مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ، چار ملزمین کو کیا بری
ممبئی: 2006 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں بمبئی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے چار ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے بدھ کے روز ان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر آزاد کر دیا۔ مالیگاؤں میں ہونے والے ان دھماکوں میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے۔عدالتی بینچ کا فیصلہ

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چندرشیکھر اور جسٹس شیام چاندک پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ملزمین کی جانب سے دائر اپیلوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ یہ اپیلیں ستمبر 2025 میں ایک خصوصی عدالت کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھیں، جس میں ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ اپیل میں ٹرائل کورٹ کے طریقۂ کار اور بعض شریک ملزمین کی رہائی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

بری ہونے والے کی تفصیل

جن چار ملزمین کو ہائی کورٹ نے بری کیا ہے ان میں راجندر چودھری، دھن سنگھ، منوہر رام سنگھ نرواریا اور لوکیش شرما شامل ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور جاری ٹرائل بھی بند کر دیا گیا ہے۔

اپیل میں تاخیر

عدالت نے اس سے قبل اپیل دائر کرنے میں 49 دن کی تاخیر کو بھی معاف کر دیا تھا۔ بینچ نے یہ رعایت اس بنیاد پر دی کہ یہ اپیل قومی تفتیشی ایجنسی ایکٹ (این آئی اے ایکٹ) کی دفعہ 21 کے تحت ایک قانونی اپیل تھی۔

کیس کا پس منظر

یہ معاملہ 8 ستمبر 2006 کا ہے، جب مالیگاؤں شہر میں یکے بعد دیگرے بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات مہاراشٹر اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کی تھیں، جس نے 12 ملزمین کو گرفتار کر کے دسمبر 2006 میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔

تحقیقات کی منتقلی

اس کے بعد فروری 2007 میں یہ کیس مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کر دیا گیا، اور پھر قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے اس کی ذمہ داری سنبھال لی۔ این آئی اے نے مزید تحقیقات کے بعد دیگر ملزمین کے ساتھ ان چاروں کو بھی ملزم قرار دیا اور ایک نئی چارج شیٹ عدالت میں پیش کی تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


ادارہ نثری ادب کی ٢٣٤ ویں ماہانہ ادبی نشست ٢٥ اپریل ٢٠٢٦ بروز سنیچر کو
مہاراشٹر اکیڈمی کے انعام یافتگان کا اعزاز اور کتاب "گُل افشانیاں" کا اجراء 
ادارہ نثری ادب مالیگاؤں کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(٢٣٤ ) بتاریخ 25 - اپریل 2026ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس کے مرکزی ہال میں ہوگی- صدارت کے فرائض ڈاکٹر احمد ایوبی صاحب(سابق پرنسپل جمہور) انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) ہارون اختر (افسانہ نگار ) مختار احمد انصاری (افسانہ نگار)اپنی تخلیقات پیش کریں گے- جس پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہوگی- ساتھ ہی گذشتہ دنوں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی نے شہر ِ عزیز مالیگاؤں کے آٹھ قلم کاروں کی کتابوں کو انعام سے نوازا ہے ـ ان تمام قلم کاروں کا اعزاز ادارۂ نثری ادب کی جانب سے کیا جائے گا ـ اسی نشست میں ڈاکٹر مبین نذیر کی طنز و مزاح کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ کتاب "گُل افشانیاں" کا اجراء بھی عمل میں آئے گا ـ کتاب کا اجراء ڈاکٹر اقبال برکی، سرورق کی رونمائی عمران جمیل اور صاحب ِ کتاب کا اعزاز و استقبال عتیق شعبان (صدر ادارہ نثری ادب) صاحبان کریں گے ـ صاحبان ِ اعزاز کا استقبال، شال و گُل پیشی امین مختار صاحب(نائب پرنسپل اے ٹی ٹی اسکول) کریں گے ـ مہمانوں میں پروفیسر عبدالمجید صدیقی، پروفیسر رضوان خان، ڈاکٹر سعید احمد فارانی اور حاجی نورالھدی عبدالحفیظ صاحبان ہوں گے ـ ڈاکٹر اقبال برکی صاحب اور عمران جمیل صاحب، "گُل افشانیاں" پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کریں گے ـ نظامت کے فرائض رضوان ربانی صاحب انجام دیں گے ـ اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ ،زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-






سیریل کھانے کا ’درست طریقہ‘ کیا ہے؟ برطانوی ایٹیکیٹ کوچ کی ویڈیو وائرل
آدابِ محفل کے برطانوی ایٹیکیٹ کوچ ولیم ہینسن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ سیریل کھانے کا ’درست طریقہ‘ بتا رہے ہیں۔
اس طریقے میں چمچ کے ساتھ کانٹے کا استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے جس پر انٹرنیٹ صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق ولیم ہینسن نے فروری کے آخر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ سیریل کھاتے وقت ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا ہونا چاہیے۔یہ ویڈیو ایک ہوٹل کے ناشتے کے بوفے پر ریکارڈ کی گئی تھی اور اسے پانچ ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔
ویڈیو میں ہینسن کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلے اپنی پسند کا دودھ شامل کریں۔ پھر ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا پکڑ کر سیریل کھائیں۔‘
ان کے مطابق کانٹے کی مدد سے سیریل کو چمچ پر رکھا جاتا ہے تاکہ کھانا زیادہ صاف اور ترتیب سے کھایا جا سکے۔
آسٹریلوی آدابِ محفل کی ماہر جو ہیز کے مطابق یہ طریقہ اگرچہ ’بہت خاص اور کم استعمال ہونے والا‘ ہے لیکن کانٹا استعمال کرنے سے سیریل کو چمچ پر رکھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پیالہ چوڑا اور کم گہرا ہو تو اضافی برتن کا استعمال کچھ حد تک مفید ہو سکتا ہے۔
جو ہیز نے کہا کہ وہ عمومی طور پر ہینسن کی بات سے متفق ہیں لیکن انہوں نے کبھی کسی کو سیریل کھاتے وقت کانٹا استعمال کرتے نہیں دیکھا۔
ان کے مطابق سیریل صرف چمچ سے بھی باادب انداز میں کھایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ چمچ پر سیریل رکھنے کے لیے انگلیاں استعمال نہ کریں اور نہ ہی پیالے کی طرف زیادہ جھکیں۔
برطانوی مصنفہ اور آدابِ محفل کی ماہر لورا ونڈسر کے مطابق ماضی میں بعض کھانوں کے لیے کھانے کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہوا کرتے تھے۔ ان کے مطابق روایتی طور پر چمچ غالب ہاتھ (جو کام کاج کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے) میں رکھا جاتا تھا جبکہ دوسرا برتن، کبھی چمچ اور کبھی کانٹا، سیریل اور دودھ کو سنبھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تاکہ وہ گرنے سے بچ سکے۔انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات خشک سیریل کو الگ پیالے میں موجود دودھ میں ڈبو کر بھی کھایا جاتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جدید دور کے زیادہ تر ناشتے کے لیے یہ طریقے کچھ زیادہ ہی پیچیدہ محسوس ہوتے ہیں۔
اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا صارفین دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ مذاق ہے یا واقعی سنجیدہ بات۔‘ جبکہ ایک اور صارف نے کہا، ’سیریل کھانے کے لیے کانٹا استعمال کرنا تو بالکل عجیب بات ہے۔‘
تاہم کچھ لوگ اس خیال کے حق میں بھی نظر آئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’میں تو صرف اپنے ناشتے میں تھوڑی سی شائستگی شامل کرنے کے لیے کانٹے کے ساتھ سیریل کھاؤں گا۔‘
امریکہ میں آدابِ محفل کی ماہر لیزا مرزا گروٹس نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق سیریل کھاتے وقت دو برتن استعمال کرنے کا کوئی خاص اصول موجود نہیں۔ ان کے مطابق مغربی کھانے کے آداب میں سیریل ہمیشہ چمچ سے ہی کھایا جاتا ہے۔نیو انگلینڈ سکول آف پروٹوکول کی بانی نکی ساونی نے بھی اسی رائے سے اتفاق کیا۔ ان کے مطابق اگرچہ بعض لوگ سہولت کے لیے کانٹا استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً گرینولا کے بڑے ٹکڑوں کو توڑنے کے لیے، لیکن عام حالات میں ایسا کرنا ضروری نہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ کھانے کے آداب کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنانے کے بجائے سادہ رکھنا بہتر ہے۔ ان کے مطابق ’زیادہ برتن یا اضافی مراحل شامل کرنے سے سادہ کھانا بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ ولیم ہینسن اس سے پہلے بھی کھانے کے آداب سے متعلق بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ چکے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے کہا تھا کہ کیلا کھانے کا ’واحد درست طریقہ‘ چاقو اور کانٹے کے ساتھ ہے۔ ان کی نئی سیریل والی ویڈیو اس قدر مشہور ہوئی کہ اس کا ذکر مشہور پروگرام ’سیٹرڈے نائٹ لائیو‘ میں بھی کیا گیا۔
بعد میں ہینسن نے فیس بک پر ایک پول میں پوچھا کہ ’کیا میں نے حد سے زیادہ بات کر دی؟‘ جس پر زیادہ تر لوگوں نے جواب دیا ’جی ہاں۔‘








آبنائے ہرمزمیں کنٹینرشپ پرفائرنگ ، ایران پرالزام ، کشیدگی میں مزید اضافہ
آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے ۔ صدر ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد کنٹینر شپ پر فائرنگ ہوئی ہے ۔ آئی آر جی سی پر فائرنگ کا الزام ہے۔ جس سے پہلے ہی کشیدہ صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں جہاز نقصان پہنچے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ تاہم کوئی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی تاحال اطلاع نہیں ہے۔ جہاز کس ملک کا تھا، اس بارے میں فوری طور پر معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب پاکستان میں متوقع جنگ بندی مذاکرات منعقد نہ ہو سکے، جس سے سفارتی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ دوسری جانب امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جاری ہے۔برطانیہ کی United Kingdom Maritime Trade Operations (UKMTO) کے مطابق حملہ صبح تقریباً 7 بج کر 55 منٹ پر مصروف بحری راستے میں پیش آیا، جہاں ایرانی گن بوٹ نے بغیر کسی پیشگی وارننگ یا رابطے کے جہاز پر فائرنگ کی۔نشانہ بننے والا جہاز ایک کنٹینر بردار بحری جہاز تھا جو عالمی تیل اور تجارتی ترسیل کے اہم راستے سے گزر رہا تھا۔ فائرنگ کے باوجود عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا تیل رساؤ یا ماحولیاتی نقصان رپورٹ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع اورناکہ بندی جاری رکھنے کااعلان، تہران نے کہادھمکی اوردباؤکے خلاف مزاحمت رہے گی جاری

واقعے پرایران کا کوئی ردعمل نہیں

ایران کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، جس سے صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں سمندری حدود میں ہونے والی کارروائیوں کے باعث ایران پر دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔حالیہ واقعات اور کشیدگی

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکہ نے ایک ایرانی کنٹینر جہاز کو فائرنگ کے بعد قبضے میں لیا تھا، جبکہ ایک اور کارروائی میں امریکی فورسز نے بحرِ ہند میں ایران سے منسلک ایک آئل ٹینکر پر بھی چڑھائی کی تھی۔ پاکستان میں مجوزہ مذاکرات کا نہ ہونا بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔



*🛑سیف نیوز اُردو*

سنجے کپور جائیداد تنازع سپریم کورٹ پہنچا، پریہ کپور سچدیو سمیت 22 افراد کو نوٹس جاری نئی دہلی: صنعت کار سنجے کپور کی...