Thursday, 26 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



چنئی میں جیت، مگر کولکاتہ میں ہوگی ’اگنی پریکشا‘، کیا ویسٹ ونڈیز کا ’قلع‘ فتح کرپائے گی ٹیم انڈیا؟ سیمی فائنل کا ٹکٹ داو پر
نئی دہلی : ہندوستان اور زمبابوے کے درمیان چنئی کے چیپاک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مقابلے نے سیمی فائنل کی دوڑ کو نہایت سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ سوریہ کمار یادو کی قیادت میں ٹیم انڈیا نے زمبابوے کو 72 رنز کے بھاری فرق سے شکست تو دے دی، لیکن اس بڑی جیت کے باوجود ہندوستانی ٹیم کی راہ اب بھی کانٹوں بھری ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ 256 رنز کا بڑا اسکور بنانے کے باوجود ہندوستان کی قسمت اب کولکاتہ کے ایڈن گارڈنز میں ہونے والے آخری میچ پر کیوں ٹکی ہوئی ہے۔

ٹاس ہار کر پہلے بیٹنگ کرنے اتری ہندوستانی ٹیم نے زمبابوے کے گیندبازوں کی خوب دھلائی کی۔ مقررہ 20 اوورز میں ہندوستان نے 256/4 کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کیا۔ چنئی کی پچ پر رنز کی اس برسات سے لگ رہا تھا کہ ہندوستان اپنے نیٹ رن ریٹ (NRR) میں بڑا اضافہ کرے گا۔ جواب میں زمبابوے کے لیے برائن بینیٹ نے 97 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس کی بدولت زمبابوے نے 184/6 کا اسکور بنایا۔ ہندوستان نے میچ تو 72 رنز سے جیت لیا، لیکن سیمی فائنل کی حساب کتاب میں ایک الجھن باقی رہ گئی۔









مغربی بنگال میں ہاسٹل کے کمرے سے میڈیکل کی طالبہ کی بوسیدہ لاش برآمد، حرکت میں آئی پولیس
کولکتہ: مغربی بنگال کے ضلع نادیہ میں واقع کلیانی جواہر لال نہرو میموریل اسپتال اینڈ میڈیکل کالج کے ہاسٹل کے ایک کمرے سے میڈیکل کے آخری سال کے طالب علم کی سڑی ہوئی لاش برآمد ہونے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور موت کی اصل وجہ جاننے کی کوشش جاری ہے۔پولیس کے مطابق مہلوک طالب علم کی شناخت پلک ہلدر کے طور پر ہوئی ہے، جو جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے موگراہاٹ علاقے کی رہنے والی تھی اور مذکورہ میڈیکل کالج میں فائنل ایئر کی طالب علم تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اسے آخری مرتبہ 20 فروری کو ہاسٹل کینٹین کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ کسی کو نظر نہیں آئی۔

کمرے میں طالب علم کی سڑی ہوئی لاش ملی

ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز طالبات نے ہاسٹل کے ایک کمرے سے شدید بدبو محسوس کی۔ بار بار آواز دینے کے باوجود اندر سے کوئی جواب نہ ملنے پر ہاسٹل انتظامیہ کو اطلاع دی گئی۔ اس کے بعد دروازہ توڑ کر کمرے کو کھولا گیا تو اندر طالب علم کی سڑی ہوئی لاش پڑی ملی۔

فی الحال موت کی وجہ پتہ کر رہی ہی پولیس

واقعے کی اطلاع ملتے ہی کلیانی پولیس اسٹیشن کی ٹیم موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال موت کی وجوہات واضح نہیں ہو سکی ہیں اور یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ معاملہ خودکشی، قتل یا کسی دیگر سبب کا نتیجہ ہے۔

پولیس نے مہلوک کے اہل خانہ کو دی اطلاع

پولیس نے مہلوک کے اہل خانہ کو واقعے کی اطلاع دے دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ طالب علم ہاسٹل کے کمرے میں اکیلی رہتی تھی، جس کی وجہ سے کئی دن تک اس کی موت کا علم نہیں ہو سکا۔

پلک کو ذہنی دباؤ کا کرنا پڑ رہا تھا سامنا

غیر مصدقہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دنوں میں آر جی کر اسپتال سے متعلق پیش آئے مبینہ زیادتی اور قتل کیس کے خلاف طلبہ احتجاج کے دوران پلک ہلدر کو بعض ساتھی طلبہ کی جانب سے ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ حالانکہ، پولیس نے ان دعوؤں کی دفتری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

میڈیکل کالج اور ہاسٹل انتظامیہ پر اٹھے سوال

طالب علم کی پراسرار موت کے بعد میڈیکل کالج اور ہاسٹل انتظامیہ پر کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسپتال اور ہاسٹل احاطے میں احتیاطی طور پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

اسپتال کے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سوم جیوتی بنرجی نے بتایا کہ طالب علم کی جانب سے دروازہ نہ کھولنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد دروازہ توڑ کر اندر سے لاش برآمد کی گئی۔ ان کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔













’پی او کے خالی کرو، تم حقیقت سے دور ہو‘، ہندوستان نے یو این میں پاکستان کو لگائی لتاڑ، چناب برج کا کیوں کیا ذکر؟
: بین الاقوامی اسٹیج پر ہندوستان کے سامنے پاکستان کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی۔ اقوامِ متحدہ (یو این) میں ہندوستان نے پاکستان کو سخت جواب دیا۔ ہندوستان کی سفارتکار انوپما سنگھ نے پاکستان کے مبینہ جھوٹے الزامات کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے پی او کو خالی کرنے کی وارننگ دی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کو پی او کے یعنی پاکستان مقبوضہ کشمیر خالی کرنا چاہیے، کیونکہ اس نے ہندوستان کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جموں و کشمیر میں تعمیر ہونے والے دنیا کے سب سے اونچے Chenab Rail Bridge کا بھی ذکر کیا۔ اقوامِ متحدہ میں ہندوستان کی نمائندہ انوپما سنگھ نے پاکستان کے الزامات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں تعمیر ہونے والا دنیا کا سب سے اونچا چناب ریل برج پاکستان کو نقلی لگتا ہے تو شاید وہ حقیقت سے دور ہے۔

دراصل یہ پورا واقعہ اقوام متحدہ کی ایک میٹنگ کے دوران پیش آیا، جہاں پاکستان نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کا معاملہ اٹھایا۔ جب ہندوستان کی باری آئی تو اس نے پاکستان کو دو ٹوک جواب دیا اور الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جموں و کشمیر کا ترقیاتی بجٹ پاکستان کے حالیہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج سے دوگنا ہے، جس سے شاید پاکستان کو جلن ہو رہی ہے۔جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ‘
یو این میں ہندوستان نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرایا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ اور لازمی حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ 1947 کے انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ اور بین الاقوامی قانون کے تحت اس کا ہندوستان میں الحاق مکمل طور پر قانونی اور حتمی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے انوپما سنگھ نے یہ بھی کہا کہ اصل مسئلہ پاکستان کی جانب سے ہندوستانی زمین پر کیا گیا غیر قانونی قبضہ ہے، جس کو اسے خالی کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو پی او کے خالی کرنا ہوگا۔پاکستان کو نصیحت بھی دی
انوپما سنگھ نے پاکستان کو جمہوریت پر لیکچر دینے سے بھی روکا اور کہا کہ جہاں حکومتیں اپنی مدت پوری نہیں کر پاتیں، وہاں سے جمہوریت پر خطاب دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ریکارڈ ووٹنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کے عوام دہشت گردی اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں اور ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ آخر میں ہندوستان نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی فورمز پر بیان بازی کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




*ایسے ہوتا ہے شہر کا وکاس*
 *وسیم رضا خان* 
شہروں کی ترقی نعروں، پوسٹروں اور مذہبی و سیاسی علامتوں سے نہیں ہوتی۔ ترقی ٹھوس فیصلوں سے، منصوبوں کی منظوری سے، بجٹ کے درست استعمال سے اور عوام کے روزمرہ مسائل کے حل سے ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے کئی بلدیاتی ادارے آج ترقی کے بجائے صرف سیاست کا اکھاڑا بن کر رہ گئے ہیں۔

حال ہی میں ناسک ضلع کی سٹانہ نگر پریشد کی عام سبھا نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو چند گھنٹوں میں بھی شہر کی سمت بدلی جا سکتی ہے۔ سٹانہ کی صدر بلدیہ ہرشدا پاٹل نے صرف 7 گھنٹوں کی میٹنگ میں 111 تجاویز منظور کر کے ایک مثال قائم کی۔ یہ تجاویز شہر کی بنیادی ضروریات—سڑک، پانی، صفائی، روشنی کے انتظام اور دیگر ترقیاتی کاموں—سے متعلق تھیں۔ یہی ہے انتظامی چستی، یہی ہے عوامی نمائندوں کی جوابدہی۔

اس کے برعکس، ناسک ضلع کے ہی مالیگاؤں کی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن ان دنوں جن وجوہات سے خبروں میں ہے، وہ ترقی سے کوسوں دور ہیں۔ کبھی ٹیپو سلطان کی تصویر پر تنازع کھڑا کیا جاتا ہے، تو کبھی میونسپل دفتر میں نماز پڑھنے کے معاملے پر سیاست گرمائی جاتی ہے۔ ان معاملات پر حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے سیاسی مفادات کی روٹیاں سینکتے ہیں، لیکن شہر کی ٹوٹی سڑکوں، گندے نالوں، پانی کی قلت اور بے روزگاری جیسے مسائل پر اتنی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔

واضح ہے کہ اس طرح کے واقعات صرف جذبات بھڑکانے اور ووٹ بینک مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ چاہے ٹیپو سلطان کی تصویر ہو یا کوئی مذہبی تقریب—ان پر بحث کرنے سے نہ نالیاں صاف ہوتی ہیں، نہ سڑکیں بنتی ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے۔ الٹا شہر فرقہ وارانہ کشیدگی اور ’تیری میری‘ کی سیاست میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کا نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

نگر پریشد اور میونسپل کارپوریشنوں کا بنیادی کام مقامی ترقی ہے۔ لیکن آج کئی جگہوں پر عام سبھا ترقیاتی منصوبہ بندی کا پلیٹ فارم بننے کے بجائے سیاسی طاقت کے مظاہرے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ تجاویز پر سنجیدہ بحث کم اور الزام تراشی زیادہ ہوتی ہے۔ نتیجتاً بجٹ خرچ نہیں ہو پاتا، منصوبے لٹکے رہتے ہیں اور عوام کو صرف وعدے ہی ملتے ہیں۔

سٹانہ نگر پریشد نے یہ دکھایا کہ اگر نمائندے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر شہر کے مفاد میں کام کریں تو ریکارڈ وقت میں بھی تاریخی فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔ 111 تجاویز کی منظوری صرف ایک عدد نہیں، بلکہ یہ پیغام ہے کہ ترقی کے لیے نہ برسوں کا انتظار ضروری ہے اور نہ ہی تنازعات کی سیاست۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر نگر پالیکائیں اور میونسپل کارپوریشنیں بھی اس ماڈل سے سبق سیکھیں۔ ترقی کا مطلب ہے—صاف پانی، بہتر سڑکیں، مضبوط صحت کا نظام، معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع۔ اگر عوامی نمائندے صرف مذہبی اور تاریخی علامتوں پر سیاست کرتے رہیں گے تو شہر آگے نہیں بڑھے گا بلکہ باہمی دشمنی میں پیچھے چلا جائے گا۔

شہر کی ترقی جذبات بھڑکانے سے نہیں بلکہ فیصلوں کو نافذ کرنے سے ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے ترقی کا راستہ اختیار کریں گے یا سستی سیاست کا؟ عوام اب باشعور ہو چکی ہے—وہ دکھاوے اور حقیقی کام میں فرق جانتی ہے۔ آنے والے وقت میں وہی بلدیاتی ادارے کامیاب ہوں گے جو سیاست سے اوپر اٹھ کر شہر کے مفاد کو اولین ترجیح دیں گے۔













افغانستان کا پاکستان پر خو فناک حملہ ، شہریوں کی ہلاکتوں کا انتقام لینے کے لیے جنگ شروع
کابل: 22 فروری کو پاکستان نے فضائی حملہ کیا تھا جس میں بے گناہ افغان شہری مارے گئے تھے ۔ چار دن بعد 26 فروری کو افغانستان نے پاکستان پر حملہ کیا۔ افغانستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستانی فضائی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے بھرپور حملہ کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کی رات سے شروع ہونے والی شدید گولہ باری نے سرحد کے ساتھ رہنے والے لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ ننگرہار اور پکتیا صوبوں میں حالیہ حملوں کے بعد افغان فوج کا یہ ردعمل پاکستان کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

افغانستان نے کیا پاکستان پر جوابی حملہ
العربیہ، سعودی عرب کے سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ، اور ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، افغانستان کی ایسٹرن آرمی کور نے ایک سرکاری بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اس کی افواج نے پاکستانی علاقوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ یہ کارروائی چند روز قبل ننگرہار اور پکتیا صوبوں میں کیے گئے پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ افغان فوج کے مطابق یہ شدید جھڑپیں جمعرات کی شب شروع ہوئیں اور تاحال جاری ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان کے اقدامات کا نتیجہ
پاکستان کا دعویٰ: گزشتہ اتوار کو پاکستانی فوج نے سرحد کے قریب فضائی حملہ کیا تھا۔ انہوں نے 70 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

افغانستان کا جوابی حملہ: افغانستان نے پاکستان کے ان دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں کوئی دہشت گرد ہلاک نہیں ہوا بلکہ درجنوں بے گناہ شہری ہلاک ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
جوابی کارروائی: معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے افغان فوج نے اب پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ماضی میں ڈیورنڈ لائن پر معمولی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس بار صورتحال فضائی حملوں اور شدید گولہ باری تک بڑھ گئی ہے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی بحران اور اندرونی خلفشار سے دوچار ہے اور افغانستان کے ساتھ نیا محاذ کھولنا ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے۔













ٹرمپ سے اس شرط پر دوستی کرنے کو تیار کم جونگ ان ، چین دورے سے پہلے دی آفر
پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے آمر کم جونگ اُن نے ٹرمپ کی مراد سن لی ہے ۔ انہوں نے پہلی بار عندیہ دیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوستی کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی شرائط بہت سخت ہیں۔ کم نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ شمالی کوریا کا دوست بنانا چاہتا ہے تو وہ ان کی شرائط پر ہو گا۔ ٹرمپ کی غنڈہ گردی یہاں نہیں چلے گی۔ کم نے کچھ شرائط کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے جس طرح ٹرمپ چند ماہ میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر نے اپنی شرائط درج کرکے ٹرمپ کو سخت پیشکش کی ہے۔

کم جونگ ان نے ٹرمپ کے سامنے رکھی شرط
ٹرمپ دنیا کے سب سے خوفزدہ آمروں میں سے ایک سمجھے جانے والے کم جونگ اُن سے دوستی کے خواہشمند ہیں اور بارہا ان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ دریں اثناء پیانگ یانگ میں تاریخی نویں پارٹی کانگریس کی حالیہ اختتامی تقریب کے دوران ٹرمپ کو اچھی خبر ملی۔ کم جونگ ان نے ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن ایک مضبوط شرط کے ساتھ۔ کم کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ شمالی کوریا کو “جوہری طاقت” کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور اپنی “دشمنانہ پالیسی” ترک کر دیتا ہے تو انہیں ٹرمپ سے ہاتھ ملانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔چین میں کیا ہو نے والاہے؟
شمالی کوریا کے آمر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ٹرمپ اور کم کے درمیان اس دورے کے دوران ایک اور “سپر سمٹ” ہو سکتی ہے، لیکن کہانی میں ایک بڑا ٹوئسٹ ہے: کِم نے اپنے پڑوسی جنوبی کوریا کو “غدار” قرار دیتے ہوئے، ایشیا میں کشیدگی کا ایک نیا محاذ کھولتے ہوئے بات چیت کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*




جموں کشمیر کانگریس کا ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کاشتکاروں تک پہنچنے کا اعلان
جموں (عامر تانترے): جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے آج ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر سخت نوٹ لیتے ہوئے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے مفادات کے لیے بہت زیادہ نقصاندہ ہے۔

اس سلسلے میں جمعرات کو انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز میں کانگریس کے قانون سازوں، سابق وزراء، سینئر لیڈروں، ضلعی صدور اور دیگر کی میٹنگ طلب کی گئی اور اس معاہدے سے جموں و کشمیر کے کاشتکاروں پر پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

تجارتی معاہدے کے اثرات پر تفصیلی بحث کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر باغبانی والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی لیڈروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ اس تجارتی معاہدے کی وجہ سے کاشتکار تباہ ہو جائیں گے۔

میٹنگ کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی سی سی کے صدر طارق حمید قرہ نے بتایا کہ اس معاہدے کے بعد فروری کو نئی دہلی میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جموں و کشمیر سمیت سات ریاستوں کی میٹنگ بلائی، جس میں اس ڈیل کے اثرات کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔

قرہ نے مزید کہا کہ، "اس معاہدے کے اثرات کے بارے میں لوگوں، خاص طور پر کاشتکاروں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک تکنیکی چیز ہے جس کے بارے میں عام آدمی نہیں جانتا ہے لیکن کاشتکار اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ، اس موضوع پر ہم نے یہاں ایک میٹنگ بلائی اور کئی لیڈروں نے اس کے بارے میں بات کی۔"

جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نے کہا کہ "ہم ہر ضلع کا دورہ کریں گے، جہاں مختلف قسمیں اگائی جاتی ہیں جیسے کہ چند ضلعوں میں سیب، کچھ میں اخروٹ، کچھ جگہوں پر زعفران، کچھ علاقوں میں باسمتی اور دیگر چیزیں۔ ہم زراعت، باغبانی اور ماہی پروری کے شعبوں کے کاشتکاروں سے ملنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ انہیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام معلوماتی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد کانگریس پارٹی بھی احتجاج کے موڈ میں آسکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ہندوستان کی فلسطین حامی پالیسی ہے اور ہندوستان کی اس پالیسی کی چیمپئن سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ، کانگریس اس پالیسی کو بدلنے نہیں دے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان فلسطین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔"

"بھارت کی فلپ فلاپ پالیسی ہر پہلو سے نقصان دہ رہی ہے۔ یہ فلپ فلاپ پالیسی صرف فلسطین اور جنوب مشرقی ایشیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ سارک کے ساتھ بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ، ہماری خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر جواب دیتے ہوئے، قرہ نے کہا، "ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں نہیں بلکہ انسانی حقوق اور ان مسائل پر بات کر رہے ہیں جن پر ہماری فلسطین حامی پالیسی کی بنیاد ہے، اور ان پیرامیٹرز پر جن پر اندرا گاندھی اور یاسر عرفات نے تعلقات کو آگے بڑھایا تھا۔"









سام سنگ گلیکسی ایس 26 سیریز: مکمل سپیکس، نئے فیچرز، پرائیویسی ڈسپلے اور قیمتیں
موبائل ورلڈ کانگریس 2026 سے چند دن پہلے سام سنگ نے نئی گلیکسی ایس 26 سیریز متعارف کرا دی ہے۔ ایک سال تک جاری رہنے والی لیکس اور افواہوں کے بعد گلیکسی ایس 26 پلس ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جبکہ بظاہر گلیکسی ایس 26 ایج کے منصوبے کو فی الحال ترک کر دیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ جی ایس ایم ارینا کے مطابق حسبِ روایت سب سے زیادہ توجہ گلیکسی ایس 26 الٹرا کو مل رہی ہے۔ اس فون میں چند اپگریڈز ضرور دیے گئے ہیں، مگر واضح ہے کہ اس سال سام سنگ کی توجہ زیادہ ورسٹائل اور فیچر سے بھرپور اے آئی ایکو سسٹم بنانے پر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی انقلابی ہارڈ ویئر اپگریڈ کی توقع نہ رکھیں۔ سام سنگ نے اس سال بنیادی فارمولہ تبدیل نہیں کیا بلکہ سافٹ ویئر اور اے آئی کے ذریعے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ بہتری گلیکسی اے آئی، کارکردگی اور کیمرا آپٹیمائزیشن میں کی گئی ہے۔ اور اس سال کی ہائی لائٹ میں سام سنگ کی جانب سے متعارف کروایا جانے والا پرائویسی ڈسپلے ہے۔
گلیکسی ایس 26 الٹرا
گلیکسی ایس 26 الٹرا میں سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 فار گلیکسی کے علاوہ کوئی بڑی ہارڈ ویئر تبدیلی نہیں ہے۔ فار گلیکسی کا مطلب زیادہ سی پی یو اور جی پی یو کلاک سپیڈز ہیں۔ کوالکوم اور سام سنگ نے مل کر سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جین 5 کا ایک بہتر ورژن تیار کیا ہے جو سام سنگ کے لیے مخصوص ہے۔
دیگر نمایاں تبدیلیوں میں پہلے سے زیادہ باریک اور ہلکی باڈی، تیز وائرڈ چارجنگ، اور مین کیمرے اور 5 ایکس ٹیلی فوٹو کیمروں میں زیادہ وسیع اپرچر شامل ہیں تاکہ کم روشنی میں بہتر کارکردگی حاصل ہو سکے۔گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس
گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس مجموعی طور پر پچھلے سال جیسے ہی ہیں۔ بیس ایس 26 میں چند معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو آسانی سے نظر سے اوجھل ہو سکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار سام سنگ نے مکمل طور پر سنیپ ڈریگن پر انحصار نہیں کیا۔ شمالی امریکہ، چین اور جاپان کے علاوہ دیگر مارکیٹس میں یہ دونوں ماڈلز سام سنگ کے نئے فلیگ شپ ایگزینوس 2600 کے ساتھ دستیاب ہوں گے۔
ایگزینوس 2600 دو نینو میٹر ٹیکنالوجی پر تیار کیا گیا جدید چِپ سیٹ ہے جس کا فوکس اے آئی ٹاسکس کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ اس میں جدید آرم سی پی یو کورز استعمال کیے گئے ہیں۔ روایتی بڑے، درمیانے اور چھوٹے کور کلسٹر کے بجائے چھوٹے کورز کو درمیانے درجے کے کورز میں اپگریڈ کیا گیا ہے تاکہ ہائی ایفیشنسی ٹاسکس بہتر انجام دیے جا سکیں۔
کمپنی کے مطابق سی پی یو کارکردگی میں 39 فیصد تک اضافہ، این پی یو میں 113 فیصد زیادہ اے آئی پرفارمنس، کم پاور کنزمپشن اور کم لیٹنسی حاصل ہوگی۔
ایکس کلپس 960 جی پی یو میں دو گنا کمپیوٹنگ پرفارمنس اور 50 فیصد بہتر رے ٹریسنگ کی صلاحیت بتائی گئی ہے۔
اے آئی بیسڈ ویژول پرسیپشن سسٹم (وی پی ایس) آئی ایس پی کو تصاویر اور ویڈیوز میں تفصیلات حتیٰ کہ پلک جھپکنا بھی پہچاننے اور انہیں حقیقی وقت میں پراسیس کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ پاور کنزمپشن میں 50 فیصد تک کمی لاتا ہے۔ ڈیپ لرننگ ویڈیو نوائز ریڈکشن (ڈی وی این آر) کم روشنی میں ویڈیو کو بہتر بناتی ہے اور کم توانائی استعمال کرتی ہے۔
بیس ماڈل گلیکسی ایس 26
چِپ سیٹ کے علاوہ، بیس گلیکسی ایس 26 میں اس سال 6.3 انچ ڈسپلے (پہلے 6.2 انچ)، 4300 ملی ایمپیئر آور بیٹری، اور اہم طور پر 256 جی بی بیس سٹوریج دی گئی ہے۔ تاہم اس کی قیمت گلیکسی ایس 25 کے 256 جی بی ورژن سے زیادہ ہے۔
سام سنگ نے اس سال تینوں ڈیوائسز کے ڈیزائن اور رنگوں کو یکساں کر دیا ہے۔ اب گلیکسی ایس 26 بھی منی سائز ایس 26 الٹرا جیسا لگتا ہے، جبکہ الٹرا کے کونے پچھلے سال سے زیادہ گول ہو گئے ہیں۔
گلیکسی ایس 26 الٹرا کے فیچرزڈیزائن کے لحاظ سے گلیکسی ایس 26 الٹرا، ایس 25 الٹرا سے بہت مختلف نہیں۔ فلیٹ فرنٹ اور بیک گلاس پینلز، قدرے گول کونے اور فلیٹ میٹل فریم برقرار ہیں۔
البتہ کیمرا آئی لینڈ اب کچھ ابھرا ہوا ہے اور پچھلے سال کے ایس 25 ایج جیسا دکھائی دیتا ہے۔ سابقہ ڈیزائن زیادہ صاف ستھرا محسوس ہوتا تھا۔
فرنٹ پر کورننگ گوریلا آرمر 2 گلاس اور آرمر ایلومینیم 2 فریم استعمال کیا گیا ہے۔ پچھلے سال ٹائٹینیم فریم تھا، مگر سام سنگ کے مطابق ایلومینیم زیادہ لچکدار ہونے کی وجہ سے جھٹکوں کو بہتر جذب کرتا ہے، خاص طور پر باریک باڈی میں۔ ممکن ہے اس کا تعلق پتلے چیسیس سے ہو، یا اس حقیقت سے کہ آئی فونز بھی اب ٹائٹینیم استعمال نہیں کر رہے۔
فون آئی پی 68 سرٹیفکیشن کے ساتھ پانی اور گردوغبار سے محفوظ ہے، اگرچہ کچھ چینی ہائی اینڈ فونز آئی پی 69 بھی پیش کر رہے ہیں۔نئے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے امتزاج سے سکرین پرائیویسی ڈسپلے موڈ میں جا سکتی ہے، جو سائیڈ اینگل سے نظر محدود کر دیتی ہے، تاکہ صرف سامنے سے دیکھنے والا ہی مواد دیکھ سکے۔رنگوں میں کوبالٹ وائیلٹ (مرکزی رنگ)، سکائی بلیو، بلیک اور وائٹ شامل ہیں۔ آن لائن خصوصی رنگوں میں سلور شیڈو اور پنک گولڈ بھی دستیاب ہیں۔
فون کی موٹائی 8.2 ملی میٹر سے کم ہو کر 7.9 ملی میٹر ہو گئی ہے۔ وزن صرف 4 گرام کم ہوا ہے، مگر باریکی واضح محسوس ہوتی ہے۔
اندرونی تبدیلیاں محدود ہیں۔ سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 ایس او سی نمایاں اپگریڈ ہے۔ سپر فاسٹ چارجنگ 3.0 اب 60 واٹ کی ہے اور 30 منٹ میں 70 فیصد چارج کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیٹری اب بھی 5000 ملی ایمپیئر آور ہے، حالانکہ مارکیٹ میں سلیکن کاربن (ایس آئی/سی) بیٹریز کے ساتھ 7000 ملی ایمپیئر آور تک کی صلاحیت والے فونز دستیاب ہیں۔
گلیکسی ایس 26 اور ایس 26 پلس کے فیچرزتینوں ماڈلز کا ڈیزائن تقریباً ایک جیسا ہے۔ فلیٹ فرنٹ، فلیٹ سائیڈز اور آئی پی 68 پروٹیکشن برقرار ہے۔
ایس 26 اور ایس 26 پلس میں گوریلا گلاس وکٹَس 2 فرنٹ گلاس استعمال کیا گیا ہے، جبکہ الٹرا میں گوریلا آرمر 2 ہے۔
ایس 26 قدرے چوڑا ہے مگر عملی طور پر فرق محسوس نہیں ہوتا۔ وزن میں اضافہ بیٹری بڑھنے کی وجہ سے ہے، جو اب 4300 ملی ایمپیئر آور ہے۔
ان ماڈلز کی بیس سٹوریج 256 جی بی کر دی گئی ہے۔
ایس 26 پلس کو اس سال تقریباً کوئی اپگریڈ نہیں ملا۔ وہی ڈسپلے، وہی بیٹری، وہی چارجنگ، وہی کیمرا۔ چوتھے سال بھی کیمرا ہارڈ ویئر تبدیل نہیں ہوا، اور الٹرا وائیڈ میں اب بھی آٹو فوکس موجود نہیں۔
ون یو آئی 8.5 اور بہتر گلیکسی اے آئی
ون یو آئی 8.5 اینڈرائیڈ 16 پر مبنی ہے۔ انٹرفیس میں بڑی تبدیلی نہیں، مگر موجودہ اے آئی فیچرز بہتر کیے گئے ہیں۔
نئے اے پی میں پرو سکیلر اور ایم ڈی این آئی ای شامل ہیں۔ پرو سکیلر تصاویر اور متن میں شارپنس اور کانٹراسٹ بہتر کرتا ہے، جبکہ ایم ڈی این آئی ای کلر گریڈینٹس کو ہموار بناتا ہے۔
پرائیویسی ڈسپلے صرف الٹرا میں دستیاب ہے۔ او ایل ای ڈی پینل نیرو اور وائیڈ پکسلز کو آن یا آف کر کے زاویہ محدود کرتا ہے۔ اسے مخصوص ایپس یا صرف نوٹیفکیشنز کے لیے بھی فعال کیا جا سکتا ہے۔
فوٹو اسسٹ اب نیچرل لینگویج کے ذریعے ایڈیٹنگ کی اجازت دیتا ہے۔ کری ایٹو سٹوڈیو سے ڈرائنگ اور سٹیکرز بنائے جا سکتے ہیں۔ گیلری میں ڈاکیومنٹ سکینر شامل ہے۔ سکرین شاٹ سرچ مواد کے مطابق تلاش ممکن بناتا ہے۔آڈیو ایریزر اب یوٹیوب، انسٹاگرام، نیٹ فلکس سمیت تھرڈ پارٹی ایپس میں بھی کام کرے گا۔ ناؤ نج کانٹیکسچوئل تجاویز دیتا ہے۔ ناؤ بریف مزید ذاتی معلومات فراہم کرتا ہے۔
سرکل ٹو سرچ بیک وقت متعدد اشیاء پہچان سکتا ہے۔
بکسبی کو زیادہ ذہین بنایا گیا ہے۔ پرپلیکسیٹی کے ساتھ گہرا انٹیگریشن شامل ہے، جسے ہیے پلیکس کہہ کر بلایا جا سکتا ہے۔ دونوں سسٹم ملٹی سٹیپ ورک فلو انجام دے سکتے ہیں۔
حساس فیچرز آن بورڈ اے آئی کمپیوٹنگ پر چلتے ہیں تاکہ ڈیٹا سام سنگ کے سرورز پر اپ لوڈ نہ ہو۔
کارکردگی
ایگزینوس 2600 (یورپی ورژن) اور سنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جن 5 فار گلیکسی (امریکی ورژن) کے ابتدائی بینچ مارک نتائج کے مطابق ایگزینوس سنگل کور میں کمزور مگر ملٹی کور میں تقریباً برابر ہے۔ سنیپ ڈریگن ورژن مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
کیمرا فیچرزایس 26 الٹرا میں 200 میگا پکسل مین کیمرا ایف 1.4 اپرچر کے ساتھ ہے (پہلے ایف 1.7 تھا)۔ 5 ایکس ٹیلی فوٹو اب ایف 2.9 ہے (پہلے ایف 3.4 تھا)۔ کمپنی کے مطابق مین کیمرا 47 فیصد اور ٹیلی فوٹو 37 فیصد زیادہ روشن نتائج دے گا۔
کم روشنی میں بہتر ویڈیو کے لیے امیج پراسیسنگ کو بہتر بنایا گیا ہے۔
سپر سٹیڈی ویڈیو میں 360 ڈگری سٹیبلائزیشن اور ہورائزن لاک شامل ہے۔ پہلی بار اے پی وی (ایڈوانسڈ پروفیشنل ویڈیو) سٹینڈرڈ شامل کیا گیا ہے، جو 8k ریزولوشن پر 30 فریم فی سیکنڈ تک لاس لیس کوالٹی فراہم کرتا ہے۔ ویڈیو براہ راست ایکسٹرنل سٹوریج پر ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔
سیلفی کے لیے نیا آبجیکٹ اویئر انجن اور بہتر اے آئی آئی ایس پی شامل کیا گیا ہے۔
ایس 26 اور ایس 26 پلس میں چوتھے سال بھی وہی کیمرا ہارڈ ویئر برقرار ہے، صرف پراسیسنگ میں معمولی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں قیمتوں کا اعلان
گلیکسی ایس 26، گلیکسی ایس 26 پلس اور پریمیم گلیکسی ایس 26 کی عالمی سطح پر قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اب پاکستان کے لیے بھی سرکاری قیمتیں جاری کر دی گئی ہیں جبکہ پری آرڈرز کا آغاز ہو چکا ہے۔










غذا میں فائبر کا زیادہ استعمال آپ کے معدے کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
فائبر کو طویل عرصے سے نظامِ ہاضمہ سے متعلق کئی مسائل کا حل سمجھا جاتا رہا ہے۔ طبی ماہرین اور غذائی ماہرین اکثر ایک ہی مشورہ دہراتے رہے ہیں: ریشے دار غذا میں اضافہ کریں، زیادہ سبزیاں کھائیں اور فائبر کی مقدار بڑھائیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق فائبر کو آنتوں کی صحت بہتر بنانے، قبض سے بچاؤ اور ہاضمے میں مدد کے لیے مؤثر مانا جاتا ہے۔ تاہم غذائی ماہر راشی چودھری کا کہنا ہے کہ فائبر کی مقدار بڑھانا ہر صورت میں ہاضمے کے مسائل کا بہترین حل نہیں ہوتا۔
انسٹاگرام پر ایک حالیہ پوسٹ میں راشی چودھری نے نشاندہی کی کہ لوگ عموماً یہ اندازہ زیادہ لگا لیتے ہیں کہ انہیں صرف سلاد سے ہی کافی فائبر مل رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص 30 گرام فائبر حاصل کرنا چاہے تو اسے 15 سے زیادہ پیالے سلاد کے کھانے ہوں گے۔اس کے برعکس، اتنی ہی مقدار میں فائبر صرف ایک ایووکاڈو، دو چائے کے چمچ السی کے بیج اور دو کھانے کے چمچ چیا سیڈز سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر روزانہ ایووکاڈو کھانا ممکن نہ ہو تو وہ ناشپاتی یا امرود کے ساتھ چنے کھانے کا مشورہ دیتی ہیں۔
زیادہ فائبر الٹا نقصان کیوں پہنچا سکتا ہے
راشی چودھری کا کہنا ہے کہ پروٹین کی طرح فائبر بھی ہر وقت فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق یہ بات نئی نہیں ہے، مگر آنتوں سے متعلق یہ ’پرانا دانائی بھرا اصول‘ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اپھارہ، گیس، قبض اور بھاری پن جیسے عام ہاضمے کے مسائل کے لیے برسوں سے زیادہ فائبر، سبزیاں اور ریشے دار غذا کو بنیادی علاج سمجھا جاتا رہا ہے۔
تاہم اس مشورے پر عمل کے باوجود بہت سے لوگ بدستور مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ معدہ مقدار سے نہیں بلکہ ترتیب سے صحت یاب ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ’معدہ حجم سے نہیں، ترتیب سے ٹھیک ہوتا ہے۔‘غذائی ماہر کے مطابق زیادہ مقدار میں ناقابلِ حل فائبر (انسولیوبل فائبر) بعض صورتوں میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایس آئی بی او (چھوٹی آنت میں بیکٹیریا کی زیادتی)، مستقل قبض، یا سست اور حساس نظامِ ہاضمہ کی صورت میں۔ یہ درد اور اپھارہ بڑھا سکتا ہے، آنتوں کی حرکت کو سست کر سکتا ہے، معدے میں خمیر بننے کے عمل میں اضافہ کر سکتا ہے اور ہاضمے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ اسی لیے آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے فائبر کی بڑی مقدار شامل کرنا پہلا قدم نہیں ہونا چاہیے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




’تنازعے کی وجہ سے انسانیت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے‘:وزیراعظم مودی نے غزہ امن منصوبہ کی حمایت کی نتین یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس
وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ دنیا میں کسی بھی تنازعے کی وجہ سے انسانیت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات Jerusalem میں اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھارت کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ غزہ امن منصوبے کے ذریعے خطے میں امن کی ایک نئی راہ ہموار ہوئی ہے اور بھارت نے ہمیشہ ایسی کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے کہا :
’’بھارت کا وژن بالکل واضح ہے کہ انسانیت کو کبھی بھی تنازعات کا شکار نہیں بننا چاہیے۔ غزہ امن منصوبے نے امن کی سمت ایک راستہ کھولا ہے اور بھارت نے اس طرح کی تمام کوششوں کی حمایت کی ہے۔ مستقبل میں بھی بھارت تمام ممالک کے ساتھ تعاون اور مکالمہ جاری رکھے گا۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کے خلاف اپنے مؤقف میں مکمل طور پر متحد ہیں۔وزیراعظم نے کہا :
’’بھارت اور اسرائیل دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں۔ ہم دہشت گردی اور اس کی حمایت کرنے والوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

وزیراعظم مودی نے امریکہ کی قیادت میں جاری غزہ امن اقدام کی بھی حمایت کا اعادہ کیا۔ بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس منصوبے کو خطے میں ’’منصفانہ اور پائیدار امن‘‘ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

یہ 2014 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم مودی کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2017 میں اسرائیل گئے تھے، جبکہ اس کے اگلے سال وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک، دفاعی اور تکنیکی تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جبکہ غزہ کی صورتحال پر دونوں ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔









دھمکیوں،پابندیوں اور جنگ کے خدشات کے بیچ جنیوا میں مذاکرات ، سفارت کاری کا امتحان!
مشرق وسطیٰ میں آنے والے دنوں میں کیا ہوگا یہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے نتائج پر منحصر ہے ۔ جوہری مذاکرات کا تیسرا دور ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ چکے ہیں ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ،عباس عراقچی نے جنیوا میں اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسیدی سے ملاقات کی۔عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات ہورہے ہیں ۔دوسری جانب امریکی ٹیم میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی نمائندہ جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔

دھمکیوں،پابندیوں اور ممکنہ فوج کشی کی تیاریوں کے درمیان ہورہی اس بات چیت پر دنیا بھر کی نگاہیں ٹکی ہیں ۔مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور نگرانی کے نظام جیسے حساس معاملات زیر بحث آئیں گے۔بات چیت سے مثبت نتائج کی اُمید

جنیوا روانہ ہونے سے قبل عباس عراقچی نے کہا کہ منصفانہ، متوازن اور مساوی معاہدہ نگاہ میں ہے اور اس تک پہنچا جاسکتا ہے۔انھوں نے ایک بار پھردہرایا کہ ایران جوہری بم نہیں بنا چاہتا اور نہ ہی پُرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے دستبردارےہونے کو تیار ہے۔
امریکہ سفارت کاری کو ترجیح تو دے رہا ہے لیکن وہ ساتھ ہی ساتھ ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے ۔یعنی امریکہ کے مطابق اگر مسئلہ بات چیت سے حل نہیں ہوتا ہے تو ا س پاس دیگر آپشنز موجودہیں ۔

ایران پرامریکہ کا الزام

امریکی صدر ٹرمپ نے کل یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران لمبی دوری تک مار کرنے والی میزائل بنا رہ ہے جوامریکہ تک پہنچ سکتی ہیں۔انھوں نے ایرانی میزائل کو یورپ اور امریکی اڈوں کے لیے خطر ہ بھی قراردیا تھا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری پروگرام پردوبارہ کام کررہا ہے۔انہی خطوط پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی باتیں کررہے ہیں ۔انھوں نےایران پر جوہری پروگرام کو دوبارہ بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔وینس نے متنبہ کیا کہ تہران کو واشنگٹن کی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔امریکی نائب صدر کے مطابق،اصول بہت آسان ہے اور یہ کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ہمارے لیے مسائل کا سبب ہوگا۔جے ڈی وینس نے ثبوت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، ہم نے ثبوت دیکھا ہے کہ انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔متضاد بیانات
ایران کے جوہری پروگرام اور جوہری انفراسٹرکچر کے حوالے سے تصویر واضح نہیں۔ گزشتہ سال امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو ناکارہ بنادیا گیاہےلیکن بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اس بات کی تصدیق کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے کہ فردو، نتانز اور اصفہان میں نشانہ بنائے گئے مقامات پر کیا کچھ باقی ہے۔جنیوا مذاکرات انتہائی اہم ہیں ۔بات چیت میں مثبت پیش رفت خطے پر منڈلاتے جنگ کے خطرےکوٹال سکتی ہے۔ایک طرح سے یہ سفارت کاری کا امتحان ہے۔









پی ٹی آئی لیڈران نے اب چیف جسٹس سے مانگا عمران خان کے لیے انصاف
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے انصاف کی اپیل ملک کے چیف جسٹس سے کی گئی ہے۔ یہ مطالبہ جیل میں قید پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈران نے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھ کر کیا ہے، جس میں ان سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔ مقامی میڈیا نے اس خبر کو رپورٹ کیا ہے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں عمران خان کو آنکھ کا دوسرا انجیکشن لگنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔جیو نیوز کے مطابق خط میں عمران خان کو طبی اور قانونی سہولیات کی فراہمی میں مبینہ رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور چیف جسٹس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ علاج کے معاملے میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔

وکیل شاہ محمود قریشی کے ذریعے جاری کیے گئے خط میں ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید نے ان مسائل کو اجاگر کیا ہے جن کا ذکر عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کے دیگر لیڈران پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو ذاتی معالج تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی انہیں خاندان کے افراد اور قانونی مشیروں سے مناسب ملاقات کی سہولت دی جا رہی ہے۔

آنکھوں کی سنگین بیماری میں میں مبتلا ہیں عمران

اگست 2023 سے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان آنکھوں کی ایک سنگین بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (سی آر وی او) میں مبتلا ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک طبی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔

خط میں نواز شریف کو ملی طبی سہولیات کا موازنہ

خط میں پی ٹی آئی لیڈران نے 2019 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو فراہم کی گئی طبی سہولیات کا حوالہ دیتے ہوئے موازنہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پلیٹ لیٹس کی کمی کے باعث نواز شریف کو لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور حکومت نے ان کے مکمل طبی علاج کو یقینی بنایا تھا۔

نواز کو علاج کے لیے برطانیہ جانے کی ملی اجازت

لیڈران کے مطابق نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان میڈیکل بورڈ کے تمام اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے جبکہ ان کے اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں کو بھی مکمل ملاقات کی اجازت حاصل تھی۔ اس کے بعد انہیں دل کے علاج کے لیے برطانیہ جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

حکومت کا عمران کے معاملے میں ’پراسرار‘ رویہ

پی ٹی آئی لیڈران نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عمران خان کی بیماری کے معاملے میں ’’پراسرار‘‘ رویہ اختیار کیا۔ ابتدا میں بیماری سے انکار کیا گیا اور بعد میں سی آر وی او کی تشخیص سامنے آنے پر بیان جاری کیا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے علاج سے متعلق بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، ان کے طبی ماہرین تک رسائی محدود کی جا رہی ہے اور خاندان کے علاوہ نجی وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

لیڈران نے الزام لگایا کہ حکومت سیاسی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے دانستہ طور پر رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے اور عوامی مینڈیٹ کی کمی کے باعث سیاسی عدم استحکام سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خط کے اختتام پر چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اپنے ذاتی ڈاکٹروں، قانونی مشیروں اور اہلِ خانہ سے مناسب ملاقات کی مکمل سہولت فراہم کی جائے۔

Wednesday, 25 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*



اسرائیل کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم مودی کا خطاب، کہا: ’ہندوستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے‘

PM Modi’s Israel Visit : وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے دو روزہ دورے پر تل ابیب پہنچ چکے ہیں ۔ اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset میں خطاب کیا ۔ پی ایم مودی نے کہا کہ میں اسی دن پیدا ہوا تھا جب ہندوستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان پوری شدت کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے حماس کے حملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معصوموں کا قتل کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت نے بھی دہشت گردی کا سامنا کیا ہے اور طویل عرصے سے کر رہا ہے۔ 26/11 میں کئی معصوم جانیں گئیں، جن میں کئی اسرائیلی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری پالیسی زیرو ٹالیرنس (Zero-Tolerance) ہے۔ انہوں نے ابراہم اکارڈ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ہندوستان امن کی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ امن کا راستہ آسان نہیں ہے، لیکن ہندوستان یہاں امن لانے کے لیے آپ کا ساتھ دے گا۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ “عالمی جنگ میں 4 ہزار ہندوستانی فوجیوں نے اسرائیل کے لیے جان دی۔” انہوں نے “ہائفہ کے ہیرو” میجر دلپت سنگھ کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے پہلی عالمی جنگ (World War I) کے دوران اسرائیل کے لیے لڑائی لڑی۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا کہ جلد ہی ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہا ہے اور ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔








جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو بڑا جھٹکا : سات خطرناک دہشت گرد ہلاک، فوج کا دعویٰ
کشتواڑ کے پہاڑی علاقوں میں طویل آپریشن کے بعد بڑی کامیابی
فوج نے پیر کے روز کہا کہ اس نے Jammu and Kashmir میں دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سیکیورٹی فورسز نے ضلع کشتواڑ میں ایک انکاؤنٹر کے دوران پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم Jaish-e-Mohammed کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں انتہائی مطلوب کمانڈر سیف اللہ بھی شامل تھا۔

فوج کے مطابق یہ کارروائی چترو (Chatroo) کے پاس پاسرکٹ علاقے میں ’’ٹراشی۔I‘‘ آپریشن کے دوران انجام دی گئی، جہاں دہشت گردوں کے قبضے سے دو اے کے-47 رائفلیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
326 دن جاری رہنے والا ہائی آلٹیٹیوڈ مشترکہ آپریشن
White Knight Corps نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا کہ کشتواڑ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں 326 دن تک مسلسل مشترکہ آپریشن چلایا گیا۔ اس کارروائی میں Jammu and Kashmir Police اور Central Reserve Police Force نے بھی حصہ لیا۔

فوج کے مطابق دہشت گردوں کو شدید سردی، برفباری اور مشکل جغرافیائی حالات میں مسلسل ٹریک کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی بار فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان رابطہ ہوا اور بالآخر تمام سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی جیسے FPV ڈرونز، سیٹلائٹ تصاویر اور UAVs کا استعمال کیا گیا، جس سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر مؤثر نگرانی ممکن ہو سکی۔

سیف اللہ : کئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ
فوج کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد کمانڈر سیف اللہ تقریباً پانچ سال قبل دراندازی کر کے جموں و کشمیر میں داخل ہوا تھا اور تب سے علاقے میں سرگرم تھا۔

اطلاعات کے مطابق وہ سیکیورٹی فورسز پر کئی مہلک حملوں میں ملوث تھا، جن میں جولائی 2024 کا وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں چار فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ سیف اللہ اس سے قبل متعدد انکاؤنٹرز میں فرار ہونے میں کامیاب رہا تھا۔اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے فورسز کو خراجِ تحسین
شمالی کمان کے کمانڈر Pratik Sharma نے وائٹ نائٹ کور کے اہلکاروں کی ’’تیز اور درست‘‘ کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان مضبوط تال میل کا نتیجہ ہے۔

فوج کے مطابق رواں سال جموں خطے میں مختلف انکاؤنٹرز میں اب تک جیشِ محمد کے سات دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جن میں :

4 فروری کو ادھم پور کے رام نگر جنگلات میں دو دہشت گرد

23 جنوری کو کٹھوعہ کے پارہتار گاؤں میں ایک دہشت گرد

اور حالیہ کشتواڑ آپریشن میں تین دہشت گرد شامل ہیں۔










اب سرکاری دفاتر میں نماز ادا کرنا بھی جرم؟ نماز کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سیاسی بیانات میں شدت، معاملہ وزیراعلیٰ تک پہنچا
مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں سرکاری دفتر کے اندر نماز ادا کرنا بھی شاید اب جرم بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مالے گاؤں میونسپل کارپوریشن کے بجلی شعبے کے دفتر میں اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد سیاسی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔دفتر میں نماز پڑھنے کا معاملہ

معلومات کے مطابق، متعلقہ وارڈ میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث کئی افراد شکایت لے کر بجلی شعبے کے دفتر پہنچے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ شام تک بجلی بحال نہ ہونے پر ناراض لوگوں نے دفتر کے احاطے میں اثر کی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ بڑھ گیا۔

حکومت میں وزیر نے اٹھائے سنگین سوالات

اس مسئلے پر مہاراشٹر حکومت میں وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن یا کسی بھی سرکاری دفتر میں نماز پڑھنے کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری ادارے عوام کی خدمت اور ترقیاتی کاموں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے۔ رانے نے کہا کہ اگر کسی سرکاری دفتر میں مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ رانے نے انتظامی نظم و ضبط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات انتظامیہ کی سنجیدگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مدارس کے حوالے سے بھی بیان دیا اور کہا کہ ریاست میں ان کی ضرورت اور کام کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سی ایم فڈنویس کو شکایت نامہ

بی جے پی لیڈر کریت سومیا نے الزام لگایا کہ کچھ میونسپل ملازمین اور دیگر افراد نے کھلے عام بجلی شعبے کے دفتر میں نماز ادا کی۔ انہوں نے اس معاملے کی شکایت وزیراعلیٰ دیوینڈر فڈنویس سے کی۔ سومیا نے متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ملازمین کو معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو خط بھی بھیجا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*


ربانی فیمیلی کے چار درخشاں ستاروں کی شعبہ طب میں بلند پرواز 
گورنمنٹ کوٹے سے فری سیٹ پر ایڈمیشن 
الحمدللہ رب العالمین، شہر عزیز مالیگاؤں کے مشہور و معروف سماجی و علمی خانوادے مرحوم الحاج بقرعیدی سردار و الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر فیمیلی کے چار بچوں نے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم میں فری سیٹ حاصل کر کے ثابت کردیا کہ محنت اور جہد مسلسل ہی کامیابی کی کلید ہے- الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے پسرزادے ڈاکٹر راشد ربانی کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد کاشف اور ان کی انکی اہلیہ ڈاکٹر لائبہ نے گذشتہ سال ایس ایم بی ٹی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ سینٹر (دھامن گاؤں، اگت پوری) کالج سے ایم بی بی ایس میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے مالیگاؤں سول ہاسپیٹل اور مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن ہیلتھ سینٹر میں خدمات پیش کرتے ہوئے اپنی اسٹڈی جاری رکھی، ڈاکٹر محمد کاشف ڈاکٹر راشد ربانی نے ایم-ڈی (مائیکرو بایولوجی) کے لئے گورنمنٹ کوٹے سے "فری سیٹ" پر ڈاکٹر وی ایم گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، شولا پور، میں داخلہ حاصل کیا جبکہ ڈاکٹر لائبہ کاشف نے گورنمنٹ میڈیکل کالج، میرج (سانگلی) میں ایم-ڈی (پی ایس ایم) کی پوسٹ پر گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" حاصل کی- اسی طرح الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر کے دوسرے صاحبزادے ایڈوکیٹ رفیق ربانی کی صاحبزادی درخشاں فردوس ایڈوکیٹ رفیق ربانی نے نیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" پر ضلع دھولیہ کی اجمیرا میڈیکل کالج آف آیوروید میں بی اے ایم ایس میں داخلہ حاصل کیا- اسی طرح ربانی ماسٹر کے تیسرے صاحبزادے ریحان ربانی کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ریحان ربانی نے گذشتہ سال رائل کالج آف فیزیو تھراپی سے بیچلر میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے پی جی کے لئے گورنمنٹ کوٹے سے"فری سیٹ" حاصل کرتے ہوئے اندو تائی گائیکواڑ پاٹل کالج آف فیزیو تھراپی، دھوٹی، ناگپور میں داخلہ حاصل کیا جبکہ دوسری صاحبزادی جویریہ ریحان ربانی بھی فری سیٹ پر احمد غریب یونانی میڈیکل کالج، اکل کنواں سے بی یو ایم ایس کر رہی ہے مزید برآں کہ محمد ناصر ڈاکٹر راشد ربانی و محمد مصدق رضوان ربانی ایم بی بی ایس، کر رہے ہیں ڈاکٹر محمد معظم ایڈوکیٹ رفیق ربانی "رفا ہیلتھ کیئر" میں اپنی خدمات دراز کیے ہوئے ہیں ان تمام کامیابیوں میں ربانی فیمیلی کی مرحومہ حجن رضیہ ربانی و ریاض الدین ربانی ماسٹر کی لافانی دعائیں شاملِ حال ہیں- ربانی فیمیلی کے لیے رضوان ربانی نے مزید دعاؤں کی درخواست کی ہے-












رمضان المبارک: روحانی تربیت، صدقہ و خیرات اور خود احتسابی کی تاکید
رمضان المبارک اسلامی سال کا سب سے بابرکت اور مقدس مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ روحانی تربیت، اخلاقی اصلاح اور سماجی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے معمولات کا جائزہ لیں اور خود کو بہتر انسان بنانے کی کوشش کریں۔

رمضان میں سب سے اہم عمل روزہ رکھنا ہے، جو انسان کو صبر، برداشت اور تقویٰ سکھاتا ہے۔ روزے کے ساتھ پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور باجماعت نماز کا اہتمام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تراویح کی نماز بھی اسی مہینے کا خاص تحفہ ہے، جس میں قرآنِ مجید سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ علما کے مطابق رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اس لیے تلاوت کے ساتھ اس کے ترجمے اور مفہوم پر غور کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اس کی تعلیمات عملی زندگی میں شامل کی جا سکیں۔اس مہینے میں صدقہ و خیرات کی بھی خاص تاکید کی گئی ہے۔ صاحبِ استطاعت افراد کو چاہیے کہ وہ مستحق خاندانوں کی مدد کریں، راشن تقسیم کریں اور افطار کا اہتمام کریں۔ اس سے نہ صرف ضرورت مندوں کی مدد ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں ہمدردی اور بھائی چارہ بھی فروغ پاتا ہے۔ اسی طرح دعا اور استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ رمضان رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔

دوسری جانب کچھ امور ایسے ہیں جن سے رمضان میں خاص طور پر بچنے کی ضرورت ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، بدزبانی اور لڑائی جھگڑا روزے کی روح کے منافی ہیں۔ ماہرینِ دین کا کہنا ہے کہ اگر انسان برے اخلاق ترک نہیں کرتا تو صرف بھوکا پیاسا رہنا مقصدِ روزہ حاصل نہیں کرتا۔ اسی طرح سحری اور افطار میں اسراف سے گریز کرنا چاہیے اور سادگی کو اختیار کرنا چاہیے۔

جدید دور میں ایک اور اہم پہلو وقت کا درست استعمال ہے۔ سوشل میڈیا اور غیر ضروری مشاغل میں وقت ضائع کرنے کے بجائے عبادت، مطالعہ اور اہلِ خانہ کے ساتھ مثبت وقت گزارنا زیادہ فائدہ مند ہے۔رمضان خود احتسابی اور اصلاح کا مہینہ ہے۔ اگر اس مہینے میں ہم اپنی عادات سنوار لیں اور نیکی کو معمول بنا لیں تو یہی تبدیلی ہماری پوری زندگی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔










"ہاں، میرے روس کی لڑکیوں کے ساتھ افیئر تھا ،" بل گیٹس نے آفس میٹنگ میں کیا اعتراف ، اسٹاف سے مانگی معافی
واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین بزنس ٹائیکون بل گیٹس ’ایپسٹین فائلز‘ کی تازہ ترین بیچ میں بری طرح پھنس گئے تھے ۔ ان کو لے کر ایسے راز کھلے کہ سننے والے حیران رہ گئے۔ کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے، جن میں روسی خواتین کے ساتھ تعلقات، مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ دوستی اور پھر دشمنی، اور جنسی بیماری شامل ہیں۔ مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس نے حال ہی میں ان تمام الزامات پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔ انہوں نے اپنے ملازمین کے سامنے آفس میٹنگ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور سب سے معافی مانگی۔ گیٹس نے کھلے عام روسی خواتین کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعتراف کیا۔

بل گیٹس نے ٹاؤن ہال میٹنگ میں اپنے جرم کا اعتراف کیابل گیٹس نے حال ہی میں ٹاؤن ہال میٹنگ کی اور اپنی فاؤنڈیشن کے ملازمین سے کھل کر بات کی، اپنی غلطیوں پر معافی مانگی۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق گیٹس نے ملاقات کے دوران اعتراف کیا کہ ان کے روسی خواتین کے ساتھ تعلقات تھے اور جیفری ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

گیٹس نے دو روسی خواتین کے ساتھ تعلقات کا اعتراف کیا۔ ایک پل پلیئر تھا جس سے اس کی ملاقات ایک تقریب میں ہوئی تھی، اور دوسرا جوہری طبیعیات دان تھا جس سے وہ کام پر ملے تھے ۔ تاہم گیٹس کا کہنا ہے کہ یہ خواتین ایپسٹین کے چنگل کا شکار نہیں تھیں۔

گیٹس نے اعتراف کیا کہ ایپسٹین جیسے مجرم سے ملنا اور اسے اپنے فاؤنڈیشن کے عہدیداروں سے ملوانا ایک سنگین غلطی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی ہے۔

بیوی نے سمجھانے کی کوشش کی
جنسی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کے تحت جیل میں انتقال کر جانے والے جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق کی وجہ سے گیٹس کی شبیہہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ ان کی سابقہ ​​بیوی میلنڈا کو 2013 کے اوائل میں ایپسٹین پر شک ہو گیا تھا۔ انہوں نے گیٹس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن گیٹس نے اس وقت انہیں نظر انداز کر دیا۔

گیٹس نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ نجی جیٹ پر سفر کیا اور نیویارک، پیرس اور واشنگٹن میں ان سے ملاقات کی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی بھی ایپسٹین کے بدنام زمانہ “پریسٹ آئی لینڈ” کا دورہ نہیں کیا۔ ایپسٹین نے گیٹس کو دنیا بھر کے ارب پتیوں سے اپنی فاؤنڈیشن کے لیے فنڈز دینے کا وعدہ کر کے لالچ دیا تھا۔ گیٹس نے کہا کہ وہاں موجود دیگر اہم شخصیات کو دیکھ کر انہیں لگتا ہے کہ سب کچھ “معمول” ہے۔

جیفری ایپسٹین کا 2019 میں جیل میں انتقال ہو گیا تھا، اس کے بعد سے اب تک کئی نامور عالمی رہنماؤں اور بزنس ٹائیکونز کے نام اس سے جوڑے جا چکے ہیں۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے ان کی فاؤنڈیشن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل پہنچنے پر شاندار استقبال ۔ وزیراعظم کے اسرائیل دورے نے بھارت۔اسرائیل تعلقات کو نئی جہت دی
 وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر Israel پہنچے، جہاں Benjamin Netanyahu اور ان کی اہلیہ Sara Netanyahu نے Ben Gurion Airport پر ان کا پرتپاک اور شاندار سرکاری استقبال کیا۔

وزیر اعظم مودی تقریباً نو برس بعد اسرائیل کے دورے پر پہنچے ہیں۔ ان کا طیارہ Tel Aviv کے بن گوریون ایئرپورٹ پر اترا جہاں اسرائیلی فوج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر خیرمقدم کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔اس دورے کو بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی، تکنیکی اور اسٹریٹجک تعاون کے مزید فروغ کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

دفاع، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر اہم مذاکرات
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران اسرائیلی قیادت کے ساتھ مصنوعی ذہانت (AI)، دفاعی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق، زرعی ٹیکنالوجی اور آبی انتظام جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کریں گے۔

اسرائیل اس وقت اپنی دفاعی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے جبکہ بھارت جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے حصول پر خاص توجہ دے رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

وزیر اعظم مودی شام کو اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب کریں گے اور بعد میں ایک ٹیکنالوجی و انوویشن نمائش کا دورہ بھی کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو ان کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ دیں گے۔

یاد واشیم میموریل کا دورہ اور تاریخی اہمیت
دورے کے دوسرے دن وزیر اعظم مودی Yad Vashem جائیں گے، جو ہولوکاسٹ میں قتل کیے گئے تقریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کی یاد میں قائم اسرائیل کی سرکاری یادگار ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور انسانی ہمدردی کے تعلقات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔بھارت۔اسرائیل تعلقات کا پس منظر
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر وزیر اعظم مودی کے دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور انوویشن کے شعبوں میں تیزی سے تعاون بڑھا ہے۔

سال 2017 میں وزیر اعظم مودی کا تاریخی اسرائیل دورہ اس حوالے سے ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔ اس کے بعد 2018 میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نئی دہلی کا دورہ کیا جس سے اسٹریٹجک شراکت مزید مستحکم ہوئی۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے درمیان دورے کی اہمیت
وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔

تاہم بھارتی حکام کے مطابق یہ دورہ مکمل طور پر دوطرفہ تعاون پر مرکوز ہے اور اس کا مقصد بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو مزید وسعت دینا ہے۔









پھلوں پر چوہے مار دوا لگانے کے الزام میں مہاراشٹر میں دو پھل فروش منوج کمار اور بپن گرفتار، دکان سیل
مہاراشٹر کے ممبئی کے شمالی نواحی علاقے ملاڈ میں پھلوں کی فروخت سے متعلق ایک سنگین اور چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ملزمین منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی پھلوں پر چوہے مار دوا لگا کر انہیں بازار میں فروخت کر رہے تھے۔ اس واقعے کی شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی اور فروخت کنندگان کی دکان سیل کر دی۔ پولیس نے ملزمین منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی کو حراست میں لے لیا ہے۔منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی پھلوں پر ریٹینول نامی دوا لگا رہے تھے

بتایا گیا ہے کہ فروخت کنندگان پھلوں پر ریٹینول نامی دوا لگا رہے تھے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی شہری کنال سالنکے نے پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت میں کہا گیا کہ دو پھل فروش پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے بہانے ان پر زہریلا مادہ لگا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پورا واقعہ کیمروں میں بھی ریکارڈ ہوا، جسے ثبوت کے طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملاڈ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور فوری طور پر موقع پر پہنچ کر تحقیقات کیں۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزمان نے قبول کیا کہ وہ پھلوں کو چوہوں سے بچانے کے لیے ان پر چوہا مار دوا لگاتے تھے۔ پولیس افسران نے کہا کہ اس طرح کا کام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے انتہائی خطرناک بھی ہے۔

افسران نے کیا کہا؟

بتایا گیا ہے کہ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن کی شناخت منوج کمار کیسروانی اور بپن کیسروانی کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 125، 274، 275 اور 286 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان کی دکان سیل کر دی ہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ خوراک کے ساتھ اس قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر تحقیقات میں مزید حقائق سامنے آتے ہیں تو متعلقہ محکموں کو کارروائی کے لیے مطلع کیا جائے گا۔ ایسے میں لوگوں میں اس بات کو لیکر بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے کہ رمضان المبارک جیسے مبارک مہینے میں روزے دار پھلوں کا غذا کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں، اب وہ کس طرح پھلوں کی تحقیق کریں؟












لوگ نئے سال پر ’ورزش کرنے کا عہد‘ جلدی کیوں بھول جاتے ہیں؟
ہر سال لاکھوں افراد نئے برس آغاز پر اپنے ساتھ کچھ عہد یا وعدے کرتے ہیں کہ وہ ان کو نبھانے کی کوشش کریں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سال کا آدھ ماہ گزرنے کے بعد بہت کم لوگ خود کو ان وعدوں پر پابند رکھنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
سنہ 2024 کے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 28 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنے ساتھ کیے وعدوں میں سے متعدد کو جنوری کے آخر تک برقرار نہیں رکھ پاتے جبکہ 13 فیصد تمام ’ریزولوشنز‘ کو پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں۔
نئے سال کے لیے خود کے ساتھ کیے ان وعدوں میں سب سے زیادہ لوگوں نے صحت برقرار رکھنے کے لیے ورزش پر زور دیا ہوتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے نارک سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک سروے کے مطابق صحت سے متعلق سالانہ ریزولوشنز میں زیادہ ورزش کرنے کو معمول بنانے کی خواہش دیگر تمام پر حاوی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر شخص جانتا ہے کہ صحت ہی سب کچھ ہے مگر اس کے باوجود زیادہ تر لوگ ورزش کے حوالے سے اپنے عزم کو برقرار نہیں رکھ پاتے۔
حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں سی این این کے چیف میڈیکل نمائندے ڈاکٹر سنجے گپتا نے ماہر نفسیات ڈیانا ہل سے پوچھا کہ ’لوگ اپنے جسم کو حرکت کیوں نہیں دیتے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ورزش ان کے لیے اچھی ہے؟‘
انہوں نے جواب میں بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے جسمانی طور پر اچھا ہے۔ اموات کی شرح کم ہو رہی ہے، کینسر کی شرح کم ہو رہی ہے۔ لیکن ہم میں سے صرف ایک چوتھائی حقیقت میں ایسا کر رہے ہیں۔‘
ڈیانا ہل کے مطابق ’جب ورزش شروع کرنے کی بات آتی ہے تو بہت سے لوگ نہ کرنے کی کافی وجوہات کے ساتھ سامنے آنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ان میں ایک سب سے عام سی وجہ کہ ’میرے پاس کافی وقت نہیں ہے‘ یا پھر یہ کہ ’میں تو ویسے ہی سارا دن چلتا پھرتا رہتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے اپنے جسم کو حرکت دینے میں بہت سی اندرونی رکاوٹیں ہیں، نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔‘
ڈیانا ہل کا کہنا تھا کہ ’موٹیویشن ایک مستقل چیز سے زیادہ ایک وقتی لہر ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جس طرح جو لوگ ہمارا یہ پوڈ کاسٹ اس وقت سُن رہے ہیں وہ ورزش کی کلاس کے لیے سائن اَپ کر دیں گے لیکن جب کلاس شروع ہو جائے گی، تو بہت سے لوگوں کی موٹیویشن آغاز پر ہی ختم ہو چکی ہو گی۔‘
ماہرین نفسیات کے مطابق انسان اپنی عادات کو مشکل سے بدلتا ہے اور عموما ورزشن کرنے کے مناسب موسمی صورتحال کا اتنظار کرتا ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہو پاتا۔

*🔴سیف نیوز اردو*

چنئی میں جیت، مگر کولکاتہ میں ہوگی ’اگنی پریکشا‘، کیا ویسٹ ونڈیز کا ’قلع‘ فتح کرپائے گی ٹیم انڈیا؟ سیمی فائنل کا ٹکٹ داو پر ...