Friday, 15 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*ایندھن کی بچت بنی سیاسی سرکس*
✍️ *وسیم رضا خان* 
                          

بھارتی سیاست میں اپیل اور عمل کے درمیان کی خلیج ہمیشہ سے ہی بحث کا موضوع رہی ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایندھن بچانے کی اپیل کے بعد ملک نے جو منظر دیکھا، وہ سنجیدگی سے زیادہ کسی مزاحیہ ڈرامے جیسا معلوم ہوا۔ ایک طرف ملک کے مفاد میں وسائل کے تحفظ کی پکار تھی، تو دوسری طرف سڑکوں پر وی آئی پی کلچر اور دکھاوے کی وہ انتہا نظر آئی، جس نے اصل مقصد کی دھجیاں اڑا دیں۔
خود ساختہ رہنماؤں کے ایثار و قربانی کی تصاویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئیں، لیکن ان تصویروں کے پیچھے کی حقیقت مضحکہ خیز اور تشویشناک دونوں ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس جب بائیک پر سوار ہو کر ودھان بھون پہنچے، تو شاید ان کا ارادہ سادگی کا پیغام دینا تھا۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے، اس ایک بائیک کے پیچھے درجنوں سیکورٹی اہلکاروں اور حامیوں کی پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلیں قطار در قطار تھیں۔ کیا ایک وزیر اعلیٰ کی بائیک سے بچایا گیا 500 ملی لیٹر پیٹرول، ان پیچھے چلنے والی 50 گاڑیوں کے ذریعے پھونکے گئے درجنوں لیٹر ایندھن کی تلافی کر سکتا ہے؟
نتن گڈکری کا بس میں سفر کرنا ایک اچھی سرخی تو بنا، لیکن بس کے آگے پیچھے دوڑتی افسران اور سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کی لمبی فوج نے اس ایکو فرینڈلی سفر کو ایک مہنگے انتظامی ڈرامے میں تبدیل کر دیا۔ ایک لیڈر کو الیکٹرک کار میں بیٹھتے دیکھا گیا، جو ماحول دوستی کی علامت مانی جاتی ہے۔ مگر ان کے پیچھے سیکورٹی کے نام پر چلنے والی 20 روایتی ایندھن والی گاڑیاں اس دعوے کا مذاق اڑا رہی تھیں۔
سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ یہ پورا واقعہ محض ایک دن کی نمائش بن کر رہ گیا۔ وزیر اعظم کی اپیل پر عمل کرنے کا یہ طریقہ صرف کیمروں کی چمک تک محدود رہا۔ جب تحفظ کا عزم صرف فوٹو شوٹ تک محدود ہو جائے، تو وہ قومی پالیسی نہیں بلکہ سیاست بن جاتا ہے۔ کیا واقعی ایک دن کی اس علامتی قربانی سے ملک کی معیشت کا گراف اوپر چڑھ سکتا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ان علامتی دوروں کے انعقاد میں جتنا سرکاری عملہ، حفاظتی انتظامات اور وسائل خرچ ہوئے، اس نے بچائے گئے ایندھن کے مقابلے ملکی خزانے پر کہیں زیادہ بوجھ ڈالا ہوگا۔
ملک کی عوام اب اتنی ناسمجھ نہیں ہے کہ وہ سادگی کے ڈھونگ اور حقیقی اصلاحات کے درمیان فرق نہ سمجھ سکے۔ اگر وزیر اعظم کی اپیل کے تئیں رہنما سنجیدہ ہوتے، تو وہ تام جھام کم کرنے کی شروعات کرتے، نہ کہ سائیکل یا بس کو ایک ایونٹ کی طرح استعمال کرتے۔ ایندھن بچانا قومی مفاد کا معاملہ ہے، لیکن اسے ایک سماجی اور سیاسی ڈرامے میں بدل کر لیڈروں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے لیے عوامی مفاد سے بڑا 'دکھاوا' ہے۔ جب تک پالیسی سازوں کے طرز عمل میں تسلسل اور ایمانداری نہیں آئے گی، تب تک ایسی اپیلیں صرف انتخابی تقریروں اور ایک دن کے تماشے تک ہی محدود رہیں گی۔









مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں جواب مل گیااکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ مچھر دوسرے لوگوں کو نظرانداز اور ان پر کچھ زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں، کیا واقعی ایسا ہے کہ مچھر کچھ لوگوں کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں اس بارے میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق فرانس کے انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ فار ڈویلپمنٹ سے وابستہ فریڈرک سیمرڈ نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’یہ محض خام خیال نہیں ہے بلکہ مچھر واقعی کچھ لوگوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے مچھر کچھ لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں ان میں جسم سے خارج ہونے والی بو، حرارت اور وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو ہم سانس کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔‘ریسرچ کے مطابق مادہ مچھر ان چیزوں کو تیزی سے محسوس کرتے ہیں اور پھر ان کی مناسبت سے ہی اپنے شکار کی طرف جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سانس کے ذریعے خارج ہونے والا کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ پہلی چیز ہے جو مچھر کو درجنوں میٹر دور سے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
انہوں نے حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق جس میں وہ خود بھی شامل تھے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’تقریباً 10 میٹر کے فاصلے سے ہی وہ ہمارے جسم کی بو کو محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جب یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ملتی ہے تو مچھروں کے لیے کشش بڑھ جاتی ہے۔‘ان کے مطابق ’جیسے جیسے وہ قریب آتے ہیں تو جسمانی حرارت اور نمی ان کو مزید کھینچتی لاتی ہے۔‘
انہوں نے اس معاملے میں کسی خاص خون کے گروپ کے تاثر کے حوالے سے کہا کہ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی اور اس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ملی جبکہ نہ اس کا تعلق جلد، بالوں یا آنکھوں کے رنگ سے ہے۔
ان کے مطابق اس سارے معاملے میں جسم کی بو سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا تحقیقی سے پتہ چلتا ہے انسانی جسم 300 سے ایک ہزار تک مختلف قسم کی بو پیدا کرنے والے مرکبات خارج کرتا ہے تاہم ابھی سائنس دان اس معاملے میں ابتدائی مرحلے میں ہیں کہ ان میں سے کون سے مچھروں کے لیے زیادہ کشش رکھتے ہیں اور ابھی تک چند ایک کا پتہ ہی لگ پایا ہے۔ریکر ایگنل کے ایک حالیہ مطالعے میں محققین نے مچھروں کو ایک ایسے کمرے میں چھوڑا جہاں 42 خواتین موجود تھیں تاکہ پتہ چل سکے کن کی طرف مچھر زیادہ جاتے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ جن خواتین کی طرف زیادہ مچھر گئے ان کے جسموں میں ایسے 27 مرکبات کی شناخت ہوئی جو دوسری خواتین کے جسموں میں کم تھے۔
جن خواتین کو زیادہ کاٹنے کی کوشش کی گئی ان میں تین ماہ کی حاملہ خواتین بھی شامل تھیں اور ان کے جسم میں ایک ایسا مرکب پایا جاتا ہے جس جلد کے آئل سیبم کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔











مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: کمال مولا مسجد کو مندر قرار دیا، فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا مسلم فریق
دھار، مدھیہ پردیش: دھار، اندور، مدھیہ پردیش: ریاست مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں انتہائی متنازعہ کمال مولا مسجد-بھوج شالا تنازعہ کیس میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے دھار بھوج شالہ کو مندر قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ اب بھوج شالہ کے اندر روزانہ پوجا کی جائے گی اور وہاں کوئی نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ عدالت نے مسلم فریق کو کلکٹر کو درخواست دینے اور کسی اور جگہ زمین دینے کی بھی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ کافی عرصے سے پورے ملک اور ریاست کی نظریں ہائی کورٹ کے فیصلے پر تھیں۔ اس سے پہلے اندور ہائی کورٹ نے 12 مئی کو آخری سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اندور ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے 15 مئی کو فیصلہ سنایا تھا۔

خبر کے مطابق ہائی کورٹ نے 12 مئی کو حتمی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ہندو برادری دھار کی بھوج شالا کو دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندر مانتی ہے، جب کہ مسلمان اس یادگار کو کمال مولا مسجد کہتے ہیں۔ یہ تنازعہ کا موضوع ہے، جس پر عدالت آج اپنا فیصلہ سنائے گی۔ فیصلے پر سب کی گہری نظر ہے۔ پولیس نے مزید کشیدگی کو روکنے اور عدالتی کارروائی کی نگرانی کے لیے بھوج شالہ کمپلیکس اور آس پاس کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ ای ٹی وی بھارت (ETV Bharat) پر دھار بھوج شالا کے بارے میں ہر منٹ کی تازہ کاری پڑھیں۔ہندو فریق کے مطالبے پر ہائی کورٹ کا فیصلہ

ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کمپلیکس کو ہندو مندر قرار دیا۔ ہائی کورٹ نے یہ حکم ہندو فریق کی طرف سے دائر درخواست پر جاری کیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بھوج شالا کی اصل شکل سنسکرت کی تعلیم کا مرکز تھی۔ عدالت نے اپنا فیصلہ ای ایس آئی سروے (ASI Survey) اور سائنسی مطالعات پر مبنی کیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ آثار قدیمہ ایک سائنس ہے اور عدالت سائنسی نتائج پر بھروسہ کر سکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخی اور آثار قدیمہ کی اہمیت کے حامل ڈھانچوں کو محفوظ رکھے۔کورٹ نے مسجد کو واگ دیوی مندر کے طور پر تسلیم کیا، ہندوؤں کو پوجا کرنے کا حق

مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالہ کے بارے میں، جو طویل عرصے سے تنازعہ میں گھری ہوئی ہے، ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ بھوج شالہ ایک محفوظ یادگار ہے اور اسے واگ دیوی مندر تصور کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد ہندو فریق میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جب کہ انتظامیہ نے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔
عدالت نے ہندوستانی حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ برطانیہ کے ایک میوزیم میں رکھے دیوی واگ دیوی کے مجسمے کی ہندوستان واپسی کے حوالے سے نمائندگی پر غور کرے۔ یہ مسئلہ ہندو تنظیموں کی جانب سے طویل عرصے سے اٹھایا جا رہا ہے۔

دھار میں 12 پرتوں کی سکیورٹی

اس فیصلے کے بعد دھار اور اندور میں انتظامیہ چوکس ہے۔ جمعہ کے روز حساسیت مزید بڑھ گئی، کیونکہ مسلم کمیونٹی عام طور پر اس دن جمعہ کی نماز ادا کرتی ہے۔ انتظامیہ نے دونوں برادریوں سے امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ فیصلے کے پیش نظر اندور اور دھار ضلعی انتظامیہ چوکس ہے۔ دھار میں 12 پرتوں کا سکیورٹی سسٹم لگایا گیا ہے، جس میں 1200 سے زیادہ اہلکار تعینات ہیں۔ اندور سمیت آس پاس کے تمام شہروں میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔حتمی سماعت کے بعد 12 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا

قبل ازیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ دھار بھوج شالہ – کمال مولا مسجد تنازعہ کے سلسلے میں آج جمعہ 15 مئی کو اپنا فیصلہ سنانے کا کہا تھا۔ ہائی کورٹ نے حتمی سماعت کے بعد 12 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ہندو کمیونٹی دھار میں بھوج شالا کو واگ دیوی (دیوی سرسوتی) کے لیے وقف ایک مندر مانتی ہے، جب کہ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ کمال مولا مسجد ہے۔ اسی معاملے پر تنازعہ چل رہا ہے، جس پر عدالت آج فیصلہ سنائے گی۔ سب کی نظریں اس فیصلے پر جمی ہوئی ہیں۔ عدالتی کارروائی کے ہموار انعقاد کو یقینی بنانے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے، پولس نے بھوج شالہ کمپلیکس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات کو کافی سخت کر دیا ہے۔بھوج شالہ کے بارے میں مسلم فریق کے دلائل

مسلم فریق کی نمائندگی کرتے ہوئے، مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ توصیف وارثی نے عدالت میں دلیل دی کہ، "متعلقہ جگہ پر کسی مندر، یا خاص طور پر سرسوتی مندر کے وجود کے بارے میں کبھی کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ مزید برآں، مسجد کی مسماری یا اس کے مساوی جگہ کی تعمیر کے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے قطعی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے۔" انہوں نے مختلف دستاویزات پیش کیں جن میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹیں اور مورخین کے تحریری دلائل شامل ہیں۔ لندن یونیورسٹی سمیت دیگر غیر ملکی محققین کی رپورٹس اس میں شامل ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مولانا کمال الدین چشتی (رحمۃ اللہ علیہ) نے 1305 میں مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا، یہ منصوبہ بالآخر 1360 میں مکمل ہوا۔

جین فریق کی جانب سے کئی سوالات!

"اے ایس آئی کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ سائٹ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کریں اور برآمد ہونے والے نمونے اور مواد پر کاربن ڈیٹنگ کریں؛ تاہم، اے ایس آئی اس کاربن ڈیٹنگ کو انجام دینے میں ناکام رہا- ایک ایسی غلطی جو مکمل طور پر ناقابل جواز ہے۔" ایڈووکیٹ نے بھوج شالا کمپلیکس کے اندر موجود مختلف ڈھانچوں اور خصوصیات کے بارے میں بھی کئی متعلقہ سوالات اٹھائے، بشمول وضو خانہ۔ علاوہ ازیں مسلم فریق کی جانب سے ایڈووکیٹ نور محمد نے بھی عدالت میں اپنے دلائل پیش کیے۔دھار بھوج شالا کیس میں جین فریق دلائل

اندور میں ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ کے سامنے فی الحال دھار بھوج شالا کیس سے متعلق مسلسل سماعت جاری ہے۔ اس عمل کو جاری رکھتے ہوئے بدھ کو بھی عدالت میں سماعت جاری رہی۔ اس دوران ہندو فرنٹ فار جسٹس کی عرضی کے ساتھ مل کر دائر کی گئی ایک اور درخواست پر سماعت ہوئی۔ اس سماعت کے دوران جین فریق نے عدالت کے سامنے اپنے دعوے اور دلائل پیش کیے۔ اپنے دلائل میں، جین فریق نے زور دے کر کہا کہ بھوج شالہ درحقیقت ایک قدیم جین گروکل (اسکول) اور دیوی امبیکا کے لیے وقف ایک مندر تھا۔جین عقیدے کے مطابق کیا ہے پورا معاملہ؟

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ پریا جین نے کہا کہ تاریخی طور پر مغلوں نے موجودہ جین مندروں کو منہدم کرنے کے بعد ہی اپنے مذہبی مقامات کی تعمیر کی۔ انھوں نے کہا کہ، راجہ بھوج دھار بھوج شالا علاقے کے حکمران تھے۔ ان کے دربار میں ہمارے آچاریہ (روحانی پیروکار) تعلیم دینے کے لیے مقیم تھے۔ ان سے خوش ہو کر، راجہ بھوج نے وہ زمین انھیں عطیہ کر دی جہاں دھار بھوج شالہ کھڑی ہے۔ اس وقت، متنازعہ مقام کو گروکل کہا جاتا تھا۔ دھار بھوج شالا کمپلیکس کے اندر، جین آچاریوں نے دیوی سرسوتی اور دیوی امبیکا کی مورتیاں نصب کیں۔ اس کے بعد انگریز ان بتوں کو لندن لے گئے۔ وہ آج تک وہاں کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہیں، ان کی صداقت کے ساتھ ایک نوشتہ بھی محفوظ ہے۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ، یہ نوشتہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ زیر بحث بت واگ دیوی کا ہے اور یہ 1034 عیسوی کا ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ، ہم نے عدالت کے سامنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت جمع کرائے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


پاکستان میں TTP کا بڑا حملہ، 18 فوجی ہلاک، کیمپ میں گھس کر برسائی گولیاں
Pakistan Attack News: پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر پاکستان کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف مقامات پر حملوں میں کم از کم 18 پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے پیچھے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے۔ سب سے بڑا حملہ ضلع باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اسکاؤٹس کیمپ پر ہوا۔ حکام کے مطابق حملہ انتہائی منصوبہ بند تھا۔ سب سے پہلے ایک خودکش حملہ آور نے کیمپ کے مرکزی دروازے پر دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا جس کے بعد 20 سے زائد بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی۔

سیکورٹی فورسز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں رات بھر تصادم ہوا۔ کم از کم 9 حملہ آور مارے گئے، لیکن 14 سیکورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عینی قلعہ اور ماموند کے علاقوں میں بھی حملے ہوئے، جہاں مبینہ طور پر چار پولیس اہلکار مارے گئے۔ مینا کے علاقے میں سیکورٹی پوزیشنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک مربوط آپریشن کا اشارہ ملتا ہے۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے حملے
ان حملوں سے پہلے بھی خیبرپختونخوا میں تشدد میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ نورنگ بازار میں حالیہ دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوئے۔ مزید برآں، ضلع بنوں میں ایک کار بم اور گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ پاکستانی حکام نے ان حملوں کے لیے افغانستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور کابل میں طالبان حکومت سے شدید احتجاج درج کرایا ہے۔








ایل پی جی پر بڑی خبر، پی ایم مودی کے UAE پہنچتے ہی ہوگئی ڈیل
India-UAE LPG Deal: ایران۔امریکہ جنگ دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا کر رہی ہے۔ بھارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اسی کی روشنی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات (UAE ) کا مختصر لیکن اہم دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران، ہندوستان اور متحدہ عرب امارات نے ایل پی جی کی سپلائی پر ایک بڑا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک میں کھانا پکانے والی گیس کی کوئی کمی نہ ہو۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنگ کا براہ راست عالمی تیل اور گیس کی سپلائی پر اثر پڑ رہا ہے۔

ہندوستان ایل پی جی کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، اور اس معاہدے کو ملک کی توانائی کی حفاظت، دفاع اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ مزید برآں، ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری پر اتفاق کیا گیا، اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے حوالے سے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔ گجرات کے وڈینار میں جہاز کی مرمت کا کلسٹر قائم کرنے کے لیے بھی ایک معاہدہ طے پایا۔ مزید برآں، ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کے شعبے، آر بی ایل بینک، اور سمن کیپٹل میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔پی ایم مودی کا یو اے ای پہنچنے پر خصوصی استقبال کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے F-16 لڑاکا طیاروں نے ان کے طیارے کی حفاظت کی، اور انہیں ابوظہبی میں گارڈ آف آنر دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دورے کی خاص بات معاہدوں کی طویل فہرست تھی۔ ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سٹریٹجک دفاعی شراکت داری پر ایک بڑا معاہدہ طے پایا، جو دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو ایک نئی سمت فراہم کرے گا۔ مزید برآں، اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے حوالے سے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے، جس سے ہندوستان کی توانائی کی حفاظت کو تقویت ملے گی۔









دوبارہ امتحان 21 جون کوہوگا، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کا اعلاننیٹ یو جی 2026 کے دوبارہ انعقاد کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے آج (جمعہ،15 مئی ) بتایا کہ NEET (UG) 2026 کا دوبارہ امتحان اب 21 جون 2026 بروز اتوار منعقد ہوگا۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب این ٹی اے نے پیپر لیک تنازع کے بعد منعقد ہونے والا امتحان منسوخ کر دیا تھا۔ امتحان کی منسوخی کے بعد لاکھوں طلبہ اور والدین نئی تاریخ کے اعلان کے منتظر تھے۔

این ٹی اے نے سوشل میڈیا ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت کی منظوری کے بعد نیٹ یو جی 2026 کا دوبارہ امتحان 21 جون کو لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے طلبہ اور والدین کو ہدایت کی کہ امتحان سے متعلق تمام معلومات اور اپ ڈیٹس صرف این ٹی اے کے ذرائع سے حاصل کریں ۔

ادھر جمعرات کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں نیٹ کے دوبارہ امتحان کے انتظامات اور سکیورٹی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

نیٹ امتحان پراس وقت تنازع کھڑا ہوا جب تحقیقاتی اداروں کو ٹیسٹ سے قبل ایک مبینہ گس پیپرملا، جس کے متعدد سوالات اصل امتحانی پرچے سے مماثلت رکھتے تھے۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 120 سے 140 سوالات اصل پیپر سے ملتے جلتے تھے۔

ابتدا میں این ٹی اے نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو افواہ قرار دیا، تاہم بعدمیں مختلف ریاستوں کی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں نے کوچنگ سینٹروں اور مبینہ دلالوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔تحقیقاتی حکام کے مطابق سوالیہ پرچے راجستھان، مہاراشٹر، ہریانہ، بہار اور کیرل سمیت کئی ریاستوں میں کورئیر نیٹ ورکس، خفیہ میسجنگ ایپس اور کوچنگ حلقوں کے ذریعے پھیلائے گئے۔این ٹی اے نے 12 مئی کو باضابطہ طور پر 3 مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امتحانی عمل کی شفافیت متاثر ہوئی ہے۔ اس کے بعد، مرکزی حکومت نے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کیں۔اس فیصلے سے تقریباً 23 لاکھ امیدوار متاثر ہوئے اور اسے بھارت کی میڈیکل داخلہ تاریخ کے بڑے امتحانی بحرانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

Thursday, 14 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


جنریشن زی، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت فٹنس کے مستقبل کو کیسے بدل رہی ہے؟
ویک اینڈ یا اس سے قبل کی رات کی محفلوں کو تو بھول ہی جائیے کیونکہ برطانیہ میں نوجوانوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے اب جم ہی وہ جگہ بن چکی ہے جہاں وہ صرف آن لائن ہی نہیں بلکہ حقیقی دنیا میں بھی نظر آنا چاہتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ملک بھر میں جمز کا ماحول، مشینوں کی آوازیں اور روشنیوں کی چمک اب ایک متحرک سماجی مرکز کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں جنریشن زی جم ممبرشپ میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔
رات کی تفریح کے بجائے سخت ورزش کو ترجیح دینے کے علاوہ جنریشن زی ایک اور تبدیلی بھی لائی ہے جو اپنی ورزش کے معمول کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا شوق ہے، چاہے اس میں ناکام کوششیں ہی شامل کیوں نہ ہوں۔یہ صرف شہرت کے لیے نہیں بلکہ اس طرح ایک ایسی کمیونٹی تخلیق پاتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہیں، چیلنجز میں شامل کرتے ہیں اور کھلے عام ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، اپنی پیش رفت کو ریکارڈ کرنا بھی تربیت کا حصہ بن چکا ہے۔
ایسی ویڈیوز اور تصاویر اس قدر دلچسپ کیوں ہیں جن میں جم میں لی گئی سیلفیاں یا ذاتی ریکارڈ شامل ہے؟ اور وہ کون سے ٹولز ہیں جو لوگوں کو نہ صرف جمز میں بلکہ آن لائن بھی بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں؟
ورزش کو ریکارڈ کرنے کے لیے بہترین اے آئی ٹولز
ٹیکنالوجی ہمیشہ سے فٹنس کے ساتھ جڑی رہی ہے، جیسے سمارٹ گھڑیاں یا نیند کو مانیٹر کرنے والی ڈیوائسز۔ اب مصنوعی ذہانت اس عمل کو مزید آگے لے جا رہی ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ ورزش کو کیسے ریکارڈ اور شیئر کیا جائے۔
آج 77 فیصد جنریشن زی ایتھلیٹس یہ کہتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر دوستوں کی سرگرمیاں دیکھ کر خود کو زیادہ جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوسٹ کرنا صرف دکھاوا نہیں بلکہ ایک اجتماعی عمل ہے۔لیکن حقیقت میں جم کا ماحول اکثر اس قدر پرکشش نہیں ہوتا جیسا ویڈیوز میں نظر آتا ہے مثال کے طور پر تیز روشنیاں، بکھرا ہوا پس منظر اور مسلسل حرکت۔
اس پورے منظرنامے میں جدید فونز کے فیچرز مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک فیچر کے ذریعے صارف غیر ضروری چیزیں جیسے جم بیگز یا پس منظر میں آنے والے لوگوں کو تصویر سے ہٹا سکتے ہیں تاکہ توجہ صرف ورزش پر مرکوز رہے۔ اسی طرح ویڈیوز میں غیر ضروری شور کو کم کرنے والے ٹولز بھی دستیاب ہیں تاکہ آواز صاف اور واضح رہے۔
جمز میں ٹرائی پوڈ کا استعمال کبھی عجیب لگتا تھا، لیکن جنریشن زی کے لیے یہ ایک عملی ضرورت ہے جس سے نہ صرف وہ اپنی تکنیک بہتر کرتے ہیں، اپنی سرگرمیوں میں پیش رفت دیکھتے ہیں اور چوٹ لگنے کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ رش والے جم میں ویڈیو بنانا مشکل ہو سکتا ہے، مگر جدید ٹولز ویڈیو کو بعد میں ایڈٹ کر کے بہتر بنا دیتے ہیں، جس سے زیادہ جگہ گھیرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
فٹنس اہداف اور مصنوعی ذہانت
ایک رپورٹ کے مطابق، فٹنس کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایتھلیٹس کی تقریباً نصف تعداد اب مصنوعی ذہانت کو ایک ’سمارٹ کوچ‘ کے طور پر اپنانے کے لیے تیار ہے اور اس رجحان میں جنریشن زی سب سے آگے ہے۔
اس کی وجہ بھی واضح ہے: کھیلوں کی بکنگ، کلاسز کا شیڈول اور گروپ سرگرمیوں کو منظم کرنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے اور تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔یہاں مصنوعی ذہانت ایک مددگار معاون کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ آپ کے پیغامات اور شیڈول کو دیکھ کر خود ہی ورزش کے لیے وقت مختص کرنے کی تجویز دے سکتی ہے، جس سے معمول بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح آپ کو صرف جم بیگ تیار کرنا ہوتا ہے، ہیڈفون لگانے ہوتے ہیں اور اپنی پسند کی موسیقی کے ساتھ ورزش شروع کرنی ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت جب تینوں یعنی کوچ، ایڈیٹر اور منیجر کے کردار ادا کرتی ہے، تو جنریشن زی بھی یہ ثابت کر رہی ہے کہ اصل محنت اگرچہ جسمانی دنیا میں ہوتی ہے، لیکن اس کی رفتار ڈیجیٹل دنیا میں بھی برقرار رہتی ہے۔ اور جب ترقی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کیا جائے تو ذمہ داری اور کمیونٹی دونوں مضبوط ہوتے ہیں۔











الیکشن کمیشن کا بڑا اعلان: کرناٹک سمیت 16 ریاستوں اور 3 مرکز زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر
نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹر فہرستوں کی ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس مرحلے میں کرناٹک، تلنگانہ، مہاراشٹر، پنجاب، دہلی، آندھرا پردیش، جھارکھنڈ، ہریانہ، اتراکھنڈ، منی پور، سکم، ناگالینڈ، تریپورہ، میگھالیہ، اڈیشہ، اروناچل پردیش، میزورم اور چندی گڑھ شامل ہیں۔ ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کا آغاز 20 مئی سے ہوگا اور اس کے تحت 16 ریاستوں اور 3 مرکز زیر انتظام علاقوں میں ووٹر فہرستوں کی گھر گھر جا کر جانچ کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس تیسرے مرحلے میں 16 ریاستوں اور 3 مرکز زیر انتظام علاقوں کے تقریباً 36.73 کروڑ ووٹروں کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس کام کے لیے 3.94 لاکھ سے زیادہ بوتھ لیول افسران گھر گھر جا کر معلومات جمع کریں گے، جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مقرر کردہ 3.42 لاکھ بوتھ لیول ایجنٹس بھی اس عمل میں معاونت کریں گے۔ کمیشن نے بتایا کہ پہلے دو مرحلوں میں 13 ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کے تقریباً 59 کروڑ ووٹروں کا احاطہ کیا جا چکا ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ ایس آئی آر ایک شفاف اور اشتراکی عمل ہے جس میں ووٹرز، سیاسی جماعتیں اور انتخابی اہلکار سب شامل ہیں۔ اسی لیے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر پولنگ بوتھ پر اپنے نمائندے مقرر کریں تاکہ عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام پائے۔ اب تیسرے مرحلے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں صرف اہل ووٹروں کے نام شامل رہیں اور غیر اہل یا غلط اندراجات کو درست کیا جا سکے۔ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ کو فی الحال اس مرحلے سے باہر رکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان علاقوں کے لیے الگ شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا، کیونکہ وہاں مردم شماری کے دوسرے مرحلے، دشوار گزار علاقوں، موسم اور برفباری جیسے مسائل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے میں سرگرمی سے حصہ لیں اور اپنے انومیریشن فارم (Enumeration Forms) جمع کرائیں تاکہ ووٹر فہرستیں زیادہ شفاف، درست اور قابل اعتماد بن سکیں۔









عید الاضحیٰ سے پہلے بنگال حکومت کا فرمان، قربانی کے لیے سخت قوانین نافذ
عید الاضحیٰ سے پہلے مغربی بنگال حکومت نے جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق نئے قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ اب کسی بھی عوامی مقام یا سڑک کنارے جانور ذبح کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ذبیحہ صرف منظور شدہ مذبح خانوں میں ہی کیا جا سکے گا۔

قربانی کے لیے سرٹیفکیٹ لازمی

گائے، بھینس، بیل اور بچھڑے کی قربانی کے لیے اب ایک خصوصی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ میونسپلٹی یا پنچایت کمیٹی کے صدر اور سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کی مشترکہ منظوری سے جاری کیا جائے گا۔ اگر کوئی افسر سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کرتا ہے تو 15 دن کے اندر ریاستی حکومت سے شکایت کی جا سکتی ہے۔

قواعد توڑنے پر سزا

حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے چھ ماہ تک کی جیل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار روپے تک جرمانہ یا پھر جیل اور جرمانہ دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔

سویندو ادھیکاری کے فیصلے

وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سویندو ادھیکاری مسلسل بڑے فیصلے لے رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ بنگال میں اب کٹ منی اور تولے بازی نہیں چلے گی۔ بدعنوانی روکنے کے لیے ہر ماہ ضلع مجسٹریٹس اور اراکینِ اسمبلی کی مشترکہ میٹنگ ہوگی۔

وزیرِ اعلیٰ کا اہم قدم

سی ایم نے یکم جون سے ’انّپورنا یوجنا‘ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ وہیں چندر ناتھ رتھ قتل کیس کی جانچ کے لیے حکومت نے سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ واضح رہے کہ بنگال میں پہلی بار بی جے پی کی حکومت بنی ہے اور سویندو ادھیکاری نے 9 مئی کو وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ ان کے ساتھ پانچ اراکین اسمبلی بھی وزیر بنے ہیں۔

عید الاضحیٰ سے پہلے جاری کیے گئے ان نئے قوانین سے واضح ہو گیا ہے کہ بنگال حکومت جانوروں کے ذبیحہ متعلقہ مقامات پر کرائےجانے کے معاملے میں سختی برتنے کے موڈ میں ہے۔ ساتھ ہی سویندو ادھیکاری مسلسل ایسے فیصلے لے رہے ہیں جو ریاست کی سیاست اور انتظامیہ پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


رمضان پورہ،دیانہ اس بستی کو بستے ہوئے تقریباً 20 سے 25 سال ہو چکے ہیں۔ دن بہ دن یہاں کی آبادی اور کاروبار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے رمضان پورہ وکاس کمیٹی نے جنتا بینک کے چیئرمین محترم محمد لقمان صاحب سے دایانہ رمضان پورہ میں بینک شروع کرنے کی گزارش کی ہے۔
عرضی کا لیٹر دیتے ہوئے چیئرمین محترم محمد لقمان صاحب، ڈائریکٹر مشتاق صاحب، CEO امتیاز صاحب اور شرجیل صاحب کے علاوہ رمضان پورہ وکاس کمیٹی کے صدر ماجد کرانہ والا، نائب صدر نور الہدیٰ ٹیلر، سفیان احمد، دین محمد، شفیق احمد اور راجو دیکھے جا سکتے ہیں۔









*نکاح کو آسان اور برکت والا بناؤ (الحدیث )*....... *تقریبا 21 جوڑوں کا اجتماعی نکاح و عظیم الشان ترغیٻی پروگرام* 
   *عوام الناس کو یہ اطلاع دیتے ہوئے نہایت ہی مسرت ہو رہی ہے کہ ایکتا سیوا بھاوی سنستھا مہاراشٹر کی جانب سے شہر مالیگاؤں میں اجتماعی نکاح کا تیسرا عظیم الشان پروگرام مورخہ 14 جون 2026ء بروز اتوار کو فردوس لانس، لوٹس لانس کے بازو ، 80 فٹی روڈ ، مالیگاؤں میں منعقد ہوگا*۔ *اس پروگرام میں ہر مکتبہ فکر اور ہر برادری سے تعلق رکھنے والے تقریبا 21 *جوڑوں کا اجتماعی نکاح ہوگا۔ یہ تقریب صبح 10 بجے منعقد ہوگی اورظہر سے قبل اختتام پذیر ہو جائے گی ۔ ان شاء اللہ* ۔
*اس اجتماعی نکاح کے پروگرام کو منعقد کرنے کا ہمارا خاص مقصد نکاح کو آسان کرنا*، *دولہا ، دلہن اور سرپرستوں کو بے جا رسم و رواج، خرافات اور بے جا اخراجات سے بچانا ہے کیونکہ آج کل نکاح ، منگنی ، ہلدی اور شادی کے نام پر لاکھوں روپے صرف کر دیے جاتے ہیں جس کی بناء پر نکاح مشکل سے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے*۔۔۔ *اجتماعی نکاح کی تقریب میں کم وقت، کم خرچ میں آسانی سے بچے اور بچیوں کا گھر بس جاتا ہے اور تمام متعلقہ احباب و رشتہ دار ہمیں دعاؤں سے نوازتے ہیں اور حوصلہ افزائی فرما تے ہیں*۔…..
*اجتماعی نکاح کے اس پروگرام میں گھر گرہستی میں لگنے والے تمام ضروری سامان دولہا دلہن سے لی گئی مناسب فیس اور سنستھا کی جانب سے دیئے جائیں گے۔ اس کے لئے فارم بھرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ فارم بھرنے کی آخری تاریخ 25 مئی 2026ء ہے۔ لہٰذا وقت کم ہونے کی بناء پر اس اجتماعی نکاح کے پروگرام میں اپنے بچے اور بچیوں کا نکاح کروانے کے خواہش مند ذمہ داران جلد از جلد رابطہ قائم کر کے فارم بھر دیں تاکہ آپ کا نام اس ہونے والے پروگرام میں شامل کیا جا سکے*۔...
*دیگر معلومات کے لئے حافظ طہ اور توصیف انجم صاحبان سے رابطہ قائم کریں*
۔
*فقط: *حافظ طہ*
( *خطیب و امام مسجد فاطمہ ، جعفر نگر* )
*8010618461*

*توصیف انجم*
*8983837588*

*دیگر ذمہ داران*۔۔۔
*مولانا شیخ افسر، مولانا جمیل، مولانا یاسین ، اعجاز شاھین سر ، عتیق فن گرافکس*

*آفس کا پتہ* : *مولانا عمرین چوک بتول اٻراہیم مسجد کے پاس ، افضل ٹیلر کے شاپنگ میں۔ مالیگاؤں ، ضلع ناسک* ۔۔۔









ایرانی وزیر خارجہ بھارت میں ، ٹرمپ چین میں ، امریکی قانون سازوں نے دی بڑی وارننگ
امریکہ اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر اضافی فیس یا ٹول عائد نہیں کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ معاملہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان بات چیت کے دوران اٹھایا گیا۔ یہ بات چیت صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات سے قبل ہوئی۔ ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔ دریں اثنا، سید عباس عراقچی بھی برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی میں ہیں۔

ایران کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ بحال
دریں اثنا، مشرق وسطیٰ کے تنازع کے دوران انٹرنیٹ کی طویل بندش سے متاثر ہونے والے لاکھوں ایرانیوں کو اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایرانی ٹیک ورکر امیر حسن نے کہا کہ وہ کئی مہینوں کے بعد انٹرنیٹ سے منسلک ہونے میں کامیاب ہوئے لیکن صرف ایک خصوصی سروس کے ذریعے۔ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے کے بعد سے ملک میں انٹرنیٹ خدمات شدید متاثر ہیں۔ اس سے آن لائن کاروبار اور فری لانس ورکرز بھی متاثر ہوئے ہیں۔امریکی سینیٹرز کی وارننگ ، کچھ ہفتوں میں ایران بن جائے گا ایٹمی طاقت
امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے ہونے والی سماعت کے دوران حکام نے خبردار کیا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو اس سطح تک پہنچانے سے صرف چند ہفتوں کے فاصلے پر ہے جسے ہتھیار کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ توانائی کے سکریٹری کرس رائٹ نے قانون سازوں کو بتایا کہ ایران پہلے ہی 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر چکا ہے، جسے تکنیکی طور پر ہتھیاروں کے قابل سطح کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے، جس سے صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔

اسرائیل ۔متحدہ عرب امارات کے تعاون کے دعوے
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اعلیٰ عہدیدار نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اسے تاریخی دورہ قرار دیا۔ تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ نیتن یاہو نے ایسی معلومات عام کی تھیں جن کے بارے میں ایرانی سیکورٹی ایجنسیوں کو پہلے سے علم تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کا تعاون برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داروں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لبنان میں حملے جاری
ادھر لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ بدھ کے حملوں میں ایک خاتون اور اس کے دو بچوں سمیت کم از کم 20 افراد مارے گئے۔ کئی حملوں میں مرکزی شاہراہ پر سفر کرنے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 2 مارچ سے لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 2,896 افراد ہلاک اور 8,824 زخمی ہو چکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے قریب جہاز پکڑا گیا
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مشرقی ساحل پر نامعلوم افراد نے ایک بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق جہاز کو ایرانی پانیوں کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا جسے دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مبینہ طور پر یہ جہاز فجیرہ کی بندرگاہ سے 38 ناٹیکل میل شمال مشرق میں تھا۔

Wednesday, 13 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*ڈاکٹر ذیشان احمد ریاض احمد عازم حج*
الحمدللہ رب العالمین، اللہ ربّ العزت کا بے پناہ کرم ہے کہ مجھ خاکسار کو رب العالمین امسال اپنا مہمان بنارہا ہے- میں اور میری اہلیہ حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہوں گے ان شاءاللہ بتاریخ 13 مئی 2026ء، بروز بدھ، بوقتِ بعد نمازِ عشاء میں اپنے مکان واقع ہزار کھولی، پہلی گلی(منشی کلینک)مالیگاؤں سے دعا کے بعد ممبئی کے لیے نکل رہا ہوں میں میرے تمام ہی رشتے داروں، دوست احباب، خویش و اقارب اور جان پہچان کے لوگوں سے معافی کا خواستگار ہوں کہ جانے انجانے میں مجھ سے گر کوئی خطا یا غلطی سرزد ہوئی ہو یا میری کسی بات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو خدا کے لئے مجھ ناچیز کو معاف کریں وقت کم ہے فرداً فرداً ملاقات مشکل ہے اس لیے خط کے ذریعے معافی کا طلبگار ہوں- اللہ پاک اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے و طفیل میں ہم سب کو معاف فرمائے آمین ثم آمین روانگی سے قبل ہونے والی دعا میں شرکت کی گزارش ہے- طالب دعا:- *ڈاکٹر ذیشان احمد ریاض احمد* (منشی کلینک، ہزار کھولی، مالیگاؤں)








ٹرمپ کی دھمکی پر ایران نے چھوڑے وہ ہتھیار ، جس سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے امریکہ ، بھاڑ میں گیا معاہدہ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تنازع کے درمیان صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ایران کے معاملے پر طویل بات چیت متوقع ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مرکز تجارت ہو گا۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں اب تک امریکہ کو تقریباً 29 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ تعداد دو ہفتے قبل پینٹاگون کی طرف سے کانگریس کو پیش کیے گئے 25 بلین ڈالر کے تخمینہ سے زیادہ ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات اور مسلسل تناؤ نے امریکہ کے اندر بھی تشویش کو جنم دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی انتہائی نازک حالت میں ہے۔ ان کے بعض قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اب سنجیدگی سے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس جنگ کو پرامن طریقے سے ختم کریں گے ورنہ نہیں۔

ایران جنگ میں اب تک کیا ہوا؟ادھر امریکہ میں جنگ کے معاشی اثرات عام لوگوں پر بھی محسوس ہونے لگے ہیں۔ امریکی محکمہ توانائی نے پٹرول کی قیمتوں کا ایک نیا تخمینہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال ایندھن کی اوسط قیمت 3.88 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ گزشتہ ماہ 3.70 ڈالر تھی۔ ٹرمپ سے جب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی معاشی مشکلات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے امریکیوں کی معاشی صورتحال کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس بیان پر امریکہ میں تنقید ہوئی ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر شدید حملے کیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ تنازع ایک قابل فخر قوم اور جھوٹ پھیلانے والوں کے درمیان جنگ ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر جنگ کے جواز کے لیے جھوٹی وجوہات گھڑنے کا الزام لگایا۔

مزید برآں، امریکی دھمکیوں کے بعد، ایران نے کہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو 90 فیصد تک بڑھا دے گا۔ اگر ایران ایسا کرتا ہے تو یہ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے منصوبوں کو ناکام بنا دے گا۔






کیا تیل کا بڑا بحران آنے والا ہے؟ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ
بھارت میں معاشی خطرات کی گھنٹیاں تیزی سے بجنے لگی ہیں کیونکہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ حکومتِ ہند پہلے ہی سونا، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں پر درآمدی ڈیوٹی بڑھا کر 15 فیصد کر چکی ہے تاکہ غیر ضروری درآمدات کو کم کیا جا سکے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب دنیا بھر کے سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طویل عدم استحکام کے خدشات کے باعث سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔اسی دوران دنیا بھر میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً پانچواں حصہ تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

بھارت کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ملک اپنی تقریباً 85 فیصد خام تیل کی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے۔ ایسے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست بھارتی معیشت، مہنگائی اور عوامی اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے آنے والے حالیہ اشارے بھی غیر معمولی سمجھے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایندھن کے استعمال میں کمی لانے کے لیے مختلف اقدامات اختیار کریں، جن میں ورک فرم ہوم، آن لائن میٹنگز، الیکٹرک گاڑیوں کا زیادہ استعمال اور حتیٰ کہ ممکنہ طور پر آن لائن کلاسز شامل ہیں۔

ادھر سرکاری آئل کمپنیاں روزانہ بھاری مالی نقصان برداشت کر رہی ہیں جبکہ سینئر وزراء عوام کو اس صورتحال کو ’’ویک اپ کال‘‘ یعنی خطرے کی گھنٹی سمجھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ملک کے بڑے مالیاتی ماہرین اور بینک کار بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مغربی ایشیا کا بحران طویل ہوا تو بھارت کو ایک بڑے معاشی جھٹکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان تمام عوامل نے اس خدشے کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ تقریباً ناگزیر بنتا جا رہا ہے۔

آئل کمپنیاں روزانہ ہزار کروڑ روپے کے نقصان میں
رپورٹس کے مطابق بھارت کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں روزانہ تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اب تک محدود تبدیلی کی گئی ہے۔

جب خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت یا آئل کمپنیاں دو راستے اختیار کرتی ہیں: یا تو اضافی بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے یا کمپنیاں خود نقصان برداشت کریں۔ اس وقت کمپنیاں بڑی حد تک یہی نقصان اپنے اوپر لے رہی ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*اقتدار کا انتخابی موہ اور لڑکھڑاتی معیشت*
*تقریروں کے شور میں دبتا معاشی بحران*
✍️ *وسیم رضا خان* 
                            ⏺️⏺️⏺️ 
بھارت جیسی عظیم جمہوریت میں جب ملک کی قیادت مستقبل کا معاشی ڈھانچہ تیار کرنے کے بجائے ماضی کی کھدائی اور انتخابی ریلیوں میں مصروف ہو جائے، تو بحران کی دستک سنائی دینے لگتی ہے۔ موجودہ تناظر میں یہ ایک ستم ظریفی ہی ہے کہ ایک طرف عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آزما ہے، اور دوسری طرف اقتدار کے گلیاروں سے ایسے بیانات آ رہے ہیں جو معیشت کی بنیادوں کو ہی چیلنج کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کی ریلیوں میں اپوزیشن پر طنز، نہرو گاندھی خاندان پر تنقید اور جذباتی مسائل کا غلبہ تو نظر آتا ہے، لیکن ملک کی 'بیلنس شیٹ' پر بحث اکثر غائب رہتی ہے۔ جب ملک کا 'پردھان سیوک' (اعلیٰ خادم) جھال مڑی کھانے یا مخالفین کو لتاڑنے میں اپنی توانائی صرف کرتا ہے، تو پالیسی سازی کے فیصلوں میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ الیکشن جیتنا کسی بھی جماعت کا ہدف ہو سکتا ہے، لیکن جب الیکشن جیتنے کی سفارت کاری ملک کی معیشت پر حاوی ہونے لگے، تو نتائج ہولناک ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سونا نہ خریدنے، ایندھن کے استعمال میں کٹوتی کرنے اور غیر ملکی دوروں سے بچنے جیسے جو 'مول منتر' دیے گئے ہیں، وہ معاشیات کے اصولوں کے برعکس معلوم ہوتے ہیں۔ بھارتی معیشت کا ایک بڑا حصہ گھریلو کھپت پر ٹکا ہوا ہے۔ اگر عوام خریداری بند کر دیں، تو بازار میں طلب (Demand) گر جائے گی۔ سونے اور ایندھن جیسے شعبوں سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایسے بیانات سے بازار میں غیر یقینی صورتحال پھیلتی ہے، جس کی وجہ سے تاجر سرمایہ کاری کرنے سے ڈر رہے ہیں اور ملازمین پر چھانٹی کی تلوار لٹک رہی ہے۔

معیشت ایک پہیے کی طرح ہے؛ جب لوگ خرچ کرتے ہیں، تب ہی پیداوار بڑھتی ہے اور نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ 'خرچ مت کرو' کا پیغام اس پہیے کو جام کر سکتا ہے۔ موجودہ وقت میں بھارتی معیشت کئی محاذوں پر جدوجہد کر رہی ہے، جسے محض نعروں سے نہیں سدھارا جا سکتا۔ نوجوانوں کے پاس ڈگریاں تو ہیں، لیکن روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ غیر منظم شعبے (Unorganized Sector) کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ عالمی منڈی میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت درآمدات کو مہنگا کر رہی ہے، جس سے بالآخر مہنگائی بڑھتی ہے۔

حکومت کے اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ بنے ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی سرمایہ کاری پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں اجرت کی شرح مستحکم ہے اور مہنگائی زیادہ، جس کی وجہ سے گاؤں والوں کی قوتِ خرید کم ہو گئی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معیشت کا نظام سیاسی تقریروں سے نہیں بلکہ معاشی ماہرین کے مشوروں سے چلنا چاہیے۔ نہرو، اندرا یا پرانی حکومتوں کی غلطیاں گنوا کر موجودہ ناکامی کو نہیں چھپایا جا سکتا۔

حکومت اپوزیشن اور معاشی ماہرین کے ساتھ مل کر ایک ٹھوس 'روڈ میپ' تیار کرے۔ انتخابی جیت کو ترقی کا واحد پیمانہ ماننا بند کیا جائے۔ بیان بازی کے بجائے ان پالیسیوں پر توجہ دی جائے جس سے بازار میں نقدی (Liquidity) اور اعتماد بحال ہو۔ اگر وقت رہتے اقتدار نے اپنی ترجیحات انتخاب سے ہٹا کر معیشت پر مرکوز نہیں کیں، تو اندھی عقیدت کے شور میں ملک ایک ایسے گہرے معاشی گڑھے میں گر سکتا ہے، جس سے نکلنا آنے والی کئی نسلوں کے لیے ناممکن ہوگا۔ معیشت کو بچانے کے لیے اب صرف سوال ہی نہیں، بلکہ فیصلہ کن اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا وقت ہے۔









**عالمی معاشی بحران اور پاورلوم صنعت کی زبوں حالی: عمیر انصاری کا حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ**
**مالیگاؤں:** مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع اور عالمی معاشی مندی کے بادل مالیگاؤں کی پاورلوم صنعت پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر **عمیر انصاری** (سیکرٹری، درے گاؤں پاورلوم سنگھرش سمیتی) نے وزیر اعلیٰ، وزیر توانائی اور پولیس انتظامیہ کو ایک ہنگامی مراسلہ روانہ کیا ہے جس میں بنکروں کو فوری راحت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

**عمیر انصاری** نے اپنے مراسلے میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بنکر پہلے ہی معاشی طور پر ٹوٹ چکے ہیں، اوپر سے بجلی بلوں میں "پاور فیکٹر" اور "اوور لوڈ" کے نام پر لگائی جانے والی بھاری پینلٹی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ بہت سے کنزیومرز کو "فالٹی" (غلط) بل موصول ہو رہے ہیں جو ان کی اصل کھپت سے کہیں زیادہ ہیں۔ **عمیر انصاری** نے مطالبہ کیا ہے کہ ان غلط بلوں کی فوری درستگی کی جائے اور کنزیومرز کو یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنے درست شدہ بلوں کی ادائیگی آسان اقساط میں کر سکیں، تاکہ صنعت کا پہیہ چلتا رہے۔

مضمون میں **عمیر انصاری** نے واضح طور پر یہ مطالبہ بھی رکھا ہے کہ بجلی کنکشن منقطع کرنے کی مہم میں پولیس فورس کا استعمال ہرگز نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنکر کوئی مجرم نہیں بلکہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ معاشی مجبوری کی وجہ سے بل ادا نہ کر پانے والے بنکروں کے خلاف پولیس فورس کا استعمال کرنا غیر اخلاقی اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے اے ایس پی (ASP) مالیگاؤں سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے کو سمجھیں اور انتظامیہ کو اس طرح کی کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکیں۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے خام تیل اور سوت (Yarn) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ سورت اور گجرات کی منڈیوں میں مالیگاؤں کے بنکروں کا کروڑوں روپیہ پھنسا ہوا ہے۔ **عمیر انصاری** نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت اور بجلی کمپنی نے فوری طور پر بلوں کی وصولی میں نرمی اور پینلٹی کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا، تو مالیگاؤں کی پاورلوم صنعت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔








انتقال پُر ملال 
تاریخ 13 مئی 2026 بروز بدھ 
_________________________________________
      یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جارہی ہیکہ شہر مالیگاوں کی مشہور و معروف دینی و صنعتی شخصیت امیر تبلیغی جماعت مالیگاوں ضلع ناسک ،حاجی نذیر احمد کے فرزند عزیزالرحمن چھوٹے حاجی 62 نمبر اور حفیظ الرحمن 62 نمبر کے برادرِ بزرگوار *حاجی عبدالرحمٰن 62 نمبر والے* کا انتقال ہوگیا ہے...... انا للہ وانا الیہ را جعون.....
اللہ غفور الرحیم مرحوم کی مغفرت فرمائے.. جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے.. درجات کو بلند فرمائے... اہلِ خانہ اور جملہ متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.. آمین یا رب العالمین.....
*تدفین عشاء کے فوراً بعد حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان میں ہوگی*

Tuesday, 12 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

پاکستان کی عیاری دنیا کے سامنے ہورہی ہے آشکار ، بری طرح پھنسے منیر ، بھگتنا پڑسکتا ہے خمیازہ
پاکستان ایک بار پھر اپنے ہی دوغلے پن کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بھارت کے حملوں سے لگنے والے زخموں پر پردہ ڈالنے کے لیے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جو حکمت عملی اختیار کی تھی وہ اب الٹی پڑ رہی ہے۔ نور خان ایئربیس پر ایرانی فوجی طیارے کے چھپنے کی اطلاعات نے پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ذرا تصور کریں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ اسی رن وے پر اترا جہاں ایرانی جیٹ طیارے چھپے ہوئے تھے۔ اگر یہ رپورٹ سچ نکلی تو یہ واقعہ پاکستان کو بہت بڑا غدار ثابت کرے گا۔ پاکستان پہلے بھی ایسی ہوشیاری اور چالاکی کر چکا ہے۔

سی بی ایس نیوز کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد ایران نے اپنے فوجی طیارے پاکستان میں چھپا رکھے تھے۔ پاکستان کے نور خان ایئربیس پر کھڑے طیارے میں RC-130 جاسوس طیارہ بھی شامل تھا۔ ایران اپنے اثاثوں کو امریکی یا اسرائیلی حملوں سے بچانا چاہتا تھا اور اس میں پاکستان نے اس کا ساتھ دیا۔ یہی پاکستان جو کبھی خود کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کرتا رہا ہے ، اور پردے کے پیچھے سے امریکہ کو ٹھینگا بھی دیکھا رہا ہے ۔پاکستان کی عیاری بے نقاب
پاکستانی حکام نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں وفد کی رسد سے منسوب کیا، لیکن حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ اس دوران عاصم منیر کی دوہری تصویر بھی خبروں میں رہی۔ ایرانی وفد کا استقبال کرتے وقت وہ جنگی سازوسامان میں تھے، جب کہ جے ڈی وینس جب پہنچے تو وہ سوٹ اور جوتے میں تھے۔ نور خان ایئر بیس، جسے گزشتہ سال بھارت کے آپریشن سندور کے دوران برہموس کے حملوں سے نقصان پہنچا تھا، ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ منیر نے اس بیس کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن یہ اب پاکستان کی کمزوری کی علامت بن چکا ہے۔ یہ پاکستان کے دوہرے معیار کی علامت بن چکا ہے، جو کسی بھی وقت اس کے گلے کی ہڈی بن سکتا ہے۔

امریکی سینیٹر نے اٹھائے سوال
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان کے کردار پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے ثالث کے طور پر ان کے کردار پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا اور پاکستان کی غیر جانبداری پر شکوک کا اظہار کیا۔ گراہم کے تبصروں نے واشنگٹن میں پاکستان کے خلاف بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی نشاندہی کی۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات طویل عرصے سے موجود ہیں - مشترکہ سرحد، توانائی کے تعاون اور علاقائی توازن کی بنیاد پر۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد بھی دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا لیکن امریکہ پاکستان کا کلیدی اتحادی رہا ہے۔ پاکستان نے اسے اربوں ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد، F-16 جیسے ہتھیار اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشنز فراہم کیے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان ایران کو پناہ دیتا ہے۔ اس سے اس کی نیتوں پر سوال اٹھتے ہیں۔

ڈپلومیسی یا دوغلا پن؟
پاکستان نہ تو مکمل طور پر امریکی بلاک میں ہے اور نہ ہی چین ایرانی محور میں۔ CPEC اور چین کے ساتھ فوجی تعاون، ایران کے ساتھ خفیہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی نظروں میں اسے ناقابل اعتبار بنا دیتا ہے۔

برہموس حملوں کے بعد پاکستان نے اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ایرانی جیٹ طیاروں کی چھپائی نے اس کی صلاحیت اور ساکھ دونوں پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

پاکستان اس وقت سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف اسے امریکہ سے مدد کی امید ہے تو دوسری طرف ایران اور چین کے ساتھ اس کے دیرینہ اتحاد نے اسے ایک مشکل میں ڈال دیا ہے۔ J.D Vance کا طیارہ اسی ایئربیس پر اترا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھی اس کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اس وقت پاکستان صرف اپنے مفادات کو دیکھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاہدے کے تحت ایران سے فوج نہ بھیجنے کا معاہدہ بھی کر لیا ہے، حالانکہ وہ امریکہ کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔








پیپر لیک اسکینڈل کے بعد 2026 NEET امتحان منسوخ، نئی تاریخ کاجلد ہوگااعلان ۔ طلبہ کو دوبارہ رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں
پیپر لیک اسکینڈل کے بعد نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ، سی بی آئی کرے گی تحقیقات

بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری امتحان نیٹ (NEET) یو جی 2026 کے حوالے سے مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے ایک بڑا اور غیر معمولی فیصلہ لیا ہے۔ تین مئی 2026 کو منعقدہ نیٹ امتحان اب باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور شفافیت پر اٹھنے والے سنگین سوالات کے بعد کیا گیا۔ حکومت نے معاملے کی مکمل تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے حوالے کر دی ہیں جبکہ این ٹی اے نے اعلان کیا ہے کہ امتحان دوبارہ منعقد کیا جائے گا اور اس کی نئی تاریخ جلد جاری کی جائے گی۔اس فیصلے سے ملک بھر کے دس لاکھ سے زیادہ طلبہ براہ راست متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے اس امتحان میں شرکت کی تھی۔ امتحان منسوخ ہونے کے بعد طلبہ اور والدین کے درمیان شدید بے چینی، مایوسی اور غصہ پایا جا رہا ہے کیونکہ اب انہیں دوبارہ امتحان کی تیاری کرنا ہوگی۔

پیپر لیک کے الزامات کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا
نیٹ امتحان کے گرد تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب راجستھان سمیت بعض ریاستوں میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ امتحان کا سوالیہ پرچہ امتحان سے پہلے ہی کچھ افراد تک پہنچ چکا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی متعدد دعوے کیے گئے جن میں کہا گیا کہ بعض گروہوں نے مبینہ طور پر بھاری رقم لے کر سوالیہ پرچے فروخت کیے۔

ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد امتحان کی ساکھ اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔ طلبہ تنظیموں اور والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر پیپر لیک ثابت ہو تو امتحان دوبارہ لیا جائے۔

این ٹی اے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ آٹھ مئی کو اس معاملے کو مرکزی ایجنسیوں کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ حقائق کی تصدیق کی جا سکے۔ ابتدائی تحقیقات اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا گیا کہ موجودہ امتحانی عمل کو برقرار رکھنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس سے لاکھوں طلبہ کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

این ٹی اے نے امتحان منسوخ کرنے کی وجہ بتا دی
این ٹی اے کے مطابق ملک کے قومی امتحانی نظام پر طلبہ کا اعتماد برقرار رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ادارے نے کہا کہ اگرچہ امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ انتہائی مشکل تھا، لیکن شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم ضروری سمجھا گیا۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ دوبارہ امتحان کے دوران سیکیورٹی کے مزید سخت انتظامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔سی بی آئی کو سونپی گئی مکمل تحقیقات
مرکزی حکومت نے پورے معاملے کی تحقیقات اب سی بی آئی کے حوالے کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق سی بی آئی اس بات کی چھان بین کرے گی کہ مبینہ پیپر لیک کا نیٹ ورک کتنا وسیع تھا، اس میں کون کون شامل تھا اور آیا امتحانی مراکز یا متعلقہ اداروں کے اندر سے بھی کسی نے تعاون کیا تھا یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق کئی ریاستوں میں مشتبہ افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔ تفتیش کار اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا منظم گروہوں نے طلبہ سے رقم لے کر سوالیہ پرچے فراہم کیے تھے۔

این ٹی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سی بی آئی کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور تمام ضروری دستاویزات، ریکارڈ اور تکنیکی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

طلبہ کو دوبارہ رجسٹریشن نہیں کرنا ہوگا
این ٹی اے نے طلبہ کو کچھ حد تک راحت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دوبارہ امتحان کے لیے نئے سرے سے رجسٹریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مئی 2026 کے دوران جمع کروایا گیا تمام ڈیٹا، امتحانی مرکز کا انتخاب اور امیدواروں کی تفصیلات خودکار طور پر محفوظ رہیں گی۔

اس کے علاوہ طلبہ سے کوئی اضافی امتحانی فیس بھی وصول نہیں کی جائے گی۔ پہلے جمع کروائی گئی فیس ہی قابل قبول ہوگی اور دوبارہ امتحان اسی بنیاد پر منعقد کیا جائے گا۔

نئی امتحانی تاریخ جلد جاری ہوگی
این ٹی اے نے کہا ہے کہ دوبارہ ہونے والے نیٹ امتحان کی نئی تاریخ، ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے کا شیڈول اور دیگر اہم ہدایات جلد سرکاری ویب سائٹ اور آفیشل چینلز کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔

ایجنسی نے طلبہ اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں سے بچیں۔ادھر تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے بھارت کے امتحانی نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور حکومت کو مستقبل میں شفاف اور محفوظ امتحانی نظام یقینی بنانے کے لیے سخت اصلاحات کرنا ہوں گی۔










خواتین میں شوگر زیادہ خطرناک کیوں ہوتی ہے؟
انڈیا میں ڈاکٹر خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور تشویش صرف تعداد تک محدود نہیں۔ ماہرین کو اس بات کی زیادہ فکر ہے کہ ذیابیطس خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ شدید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔
حیران کن صنفی فرق
ای ٹی وی بھارت ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ مردوں میں خواتین کے مقابلے میں ذیابیطس زیادہ ہوتی ہے۔
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں خواتین کے مقابلے میں 17.7 ملین زیادہ مرد ذیابیطس کا شکار ہیں۔لیکن جب خواتین میں ذیابیطس ہوتی ہے تو اس کے اثرات زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ذیابیطس خواتین میں دل کی بیماری، گردوں کے نقصان، ڈپریشن اور ہارمونل مسائل کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ریسرچ سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف ڈایابیٹیز ان انڈیا (RSSDI) کے ماہرین ایک اہم حقیقت بتاتے ہیں:
ذیابیطس کے شکار مردوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ ان مردوں کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے جنہیں یہ بیماری نہیں۔ جبکہ ذیابیطس والی خواتین میں یہ خطرہ حیران کن طور پر 150 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
یعنی خطرہ تین گنا زیادہ! اس لیے اگرچہ کم خواتین اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں، لیکن اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔
خواتین زیادہ متاثر کیوں ہوتی ہیں؟
خواتین زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہیں: بلوغت، حیض، حمل اور مینوپاز۔ ان تمام مراحل میں ہارمونز میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، اور ہارمونز خون میں شکر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین میٹابولک مسائل کے لیے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔
کچھ عوامل خواتین میں ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں:
پیٹ کے اردگرد موٹاپا
جسمانی سرگرمی کی کمی
مسلسل ذہنی دباؤ
خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ
غیر صحت مند خوراک (خاص طور پر پراسیسڈ فوڈ)
تاہم کچھ خطرات خاص طور پر خواتین سے متعلق ہوتے ہیں۔
حمل کے دوران ذیابیطس:
کچھ خواتین کو حمل کے دوران جیسٹیشنل ذیابیطس ہو جاتی ہے، جو ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے عارضی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ بچے کی پیدائش کے بعد خون میں شکر معمول پر آ سکتی ہے، لیکن معاملہ وہیں ختم نہیں ہوتا۔ جن خواتین کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو چکی ہو، ان میں بعد کی زندگی میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*ایندھن کی بچت بنی سیاسی سرکس* ✍️ *وسیم رضا خان*                             بھارتی سیاست میں اپیل اور عمل کے درمیان...