ہندوستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا
نئی دہلی: ہندوستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے ۔ کل 19 فروری بروز جمعرات کو پہلا روزہ ہوگا ۔ چاند نظر آنے کا اعلان مرکزی روہت ہلال کمیٹی ، جامع مسجد کی کیا ہے ۔
دہلی کی شاہی جامع مسجد کی مرکزی روہت ہلال کمیٹی کی پریس ریلیز کے مطابق آج 18 فروری بروز بدھ ماہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے ۔ لہذا مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم رمضان المبارک 19 فروری 2026 جمعرات کے روز ہے ۔بتادیں کہ سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک میں گزشتہ روز ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا تھا اور آج بدھ 18 فروری 2026 کو وہاں پہلا روزہ ہے ۔ سعودی سپریم کورٹ نے باضابطہ اعلان کیا تھا کہ رمضان المبارک کا چاند مملکت میں نظر آ گیا ہے، جس کے بعد مسلمانوں کے لیے روزہ رکھنے کا آغاز ہوگا۔
تروپرن کندرم پہاڑی درگاہ میں نماز پر پابندی برقرار،صرف رمضان اور بقرعید کے مواقع پر نمازکی اجازت :سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت تمل ناڈو کے ضلع مدورائی میں واقع تروپرن کندرم پہاڑی پر موجود درگاہ میں روزانہ نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر کہا کہ مسلمان اس مقام پر روزانہ نماز ادا کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک ’’متوازن حکم‘‘ قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی اس ہدایت کو بھی برقرار رکھا جس کے تحت درگاہ میں صرف رمضان اور بقرعید کے مواقع پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ احاطے میں جانوروں کی قربانی پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔یہ فیصلہ، امام حسین نام کے ایک ِشخص کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر سنایا گیا، جس میں مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
یہ معاملہ طویل عرصے سے جاری تروپرن کندرم دیپم تنازع سے جڑا ہوا ہے، جہاں مختلف مذہبی برادریاں اس پہاڑی مقام کو مقدس تصور کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مداخلت سے انکار کے بعد، مدراس ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی تمام پابندیاں بدستور نافذ العمل رہیں گی۔
یہ معاملہ دراصل مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم سے شروع ہوا تھا جس میں تروپرن کندرم پہاڑی پر دیپم (چراغ) جلانے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اس اجازت کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) اور پولیس کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی، جس میں درخواست گزار راما روی کمار نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ کا حکم سول عدالت کے حتمی فیصلوں کے منافی ہے، جن میں واضح طور پر ارلمگو سبرامنیا سوامی مندر کی پہاڑی پر ملکیت اور کنٹرول کو تسلیم کیا گیا ہے۔
راما روی کمار نے دعویٰ کیا کہ ہائی کورٹ نے مندر کے مذہبی حق کو تسلیم تو کیا، مگر اسے انتظامی اداروں کی اجازت سے مشروط کر کے اس حق کو کمزور کر دیا، جو کہ ایک غیر قانونی عدالتی مداخلت کے مترادف ہے۔
درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ دیپم جلانا مندر کا داخلی مذہبی عمل ہے اور جب تک کوئی واضح قانون موجود نہ ہو، اسے کسی سرکاری ادارے کی اجازت سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے امتیازی سلوک کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ جہاں دوسری برادریوں کے ماننے والوں کو نیلی تھوپے علاقے تک رسائی اور مذہبی سرگرمیوں کی اجازت ہے، وہیں ہندوؤں کی عبادت کو پہاڑی کی چوٹی پر متعدد انتظامی پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے، جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
واضح رہے کہ 23 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک علیحدہ عرضی پر مرکزی حکومت، تمل ناڈو حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا تھا، جس میں ASI کے مبینہ کنٹرول اور ڈیپاتھون (پتھریلا ستون) پر روزانہ چراغ جلانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ یہ عرضی ہندو دھرم پریشد نامی تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
اس سے قبل 6 جنوری کو مدراس ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے واضح طور پر کہا تھا کہ جس مقام پر پتھریلا ستون واقع ہے، وہ سری سبرامنیا سوامی مندر کی ملکیت ہے۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اپیل کنندگان کوئی ایسا مضبوط ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے، جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ سائیویت آگم شاستر کے مطابق، دیوتا کے مزار کے عین اوپر نہ ہونے والی جگہ پر چراغ جلانا ممنوع ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی ہدایت دی تھی کہ دیواستانم (مندر انتظامیہ) ہی ڈیپاتھون پر دیپم جلانے کی مجاز ہوگی۔
تروپرن کندرم پہاڑی تمل ناڈو کا ایک قدیم اور حساس مذہبی مقام ہے، جہاں ہندوؤں، مسلمانوں اور دیگر برادریوں کے عقائد جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں واقع ارلمگو سبرامنیا سوامی مندر اور درگاہ کے درمیان مذہبی رسومات، ملکیت اور عبادت کے حقوق کو لے کر برسوں سے تنازع جاری ہے۔ عدالتوں نے بارہا کوشش کی ہے کہ مختلف عقائد کے درمیان توازن قائم رکھا جائے، تاکہ مذہبی ہم آہنگی متاثر نہ ہو۔
جموں و کشمیر میں ’جیل بریک‘، پاکستانی قیدیوں کا تانڈو، پولیس اہلکاروں پر گولیا چلاکر ہوگئے فرار
جموں و کشمیر میں دو پاکستانی سمیت تین قیدی جیل سے فرار ہو گئے۔ آر ایس پورہ سیکٹر میں جیوینائل آبزرویشن ہوم (بچوں کا اصلاحی مرکز) میں پیر کی شام سزا کاٹ رہے تین نابالغ قیدیوں نے فلمی انداز میں فرار ہونے کا واقعہ انجام دیا۔ پیر کی شام تقریباً 17:05 بجے پیش آئے اس واقعے میں ملزمین نے نہ صرف ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر جان لیوا حملہ کیا بلکہ اندھادھند فائرنگ بھی کی، جس میں دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ فرار ہونے والے تین قیدیوں میں سے دو پاکستانی شہری ہیں اور تیسرا مقامی مجرم ہے۔ اس واقعے کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے، جس میں ایک قیدی گیلری میں کھڑے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک پولیس اہلکار بال بال بچتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ فائرنگ کے بعد وہ جیوینائل سینٹر سے فرار ہو جاتے ہیں۔فرار ہونے والے نابالغ مجرمین کی شناخت درج ذیل ہے:
احسان انور: ولد محمد انور، رہائشی ننکانہ صاحب، پنجاب (پاکستان)۔
محمد ثناء اللہ: ولد محمد، رہائشی پاکستان۔
کرنجیت سنگھ عرف گوگا: رہائشی آر ایس پورہ، جموں۔
فائرنگ سے دہل گیا جیوینائل سینٹر
عینی شاہدین اور سرکاری ذرائع کے مطابق فرار ہونے کے دوران ملزمین نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کی۔ اس حملے میں دو جوان شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر مقامی اسپتال لے جایا گیا۔ ابتدائی علاج کے بعد ان کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں جی ایم سی (GMC) جموں ریفر کر دیا گیا، جہاں وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔پورے علاقے میں ہائی الرٹ اور سرچ آپریشن
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس افسران بھاری پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ پورے آر ایس پورہ سیکٹر اور ہندوستان - پاکستان بین الاقوامی سرحد سے متصل علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ فرار قیدیوں کی تلاش میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔