Monday, 27 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑کیرالہ میں امیبک میننگوئنسفلائٹس نے 41 لوگوں کی لی جان، نظر آئیں یہ علامات تو ڈاکٹر سے فوری کریں رجوع*
کوزی کوڈ (کیرالہ): کیرالہ کے کوزی کوڈ میڈیکل کالج اسپتال میں امیبک میننگو انسیفلائٹس کا علاج کروا رہے ایک 49 سالہ شخص کا پیر کی صبح انتقال ہوگیا۔ متوفی جس کی شناخت بیجو کے طور پر کی گئی تھی، کوئی لینڈی نادری کے تھیٹککنو سے23 جولائی کو انفیکشن کے مثبت ٹیسٹ کے بعد انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا گیا تھا۔

بیجو کولم شہر میں آٹورکشہ ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا۔ ان کے پسماندگان میں ان کے والدین بھاسکرن اور ولاسنی، بیوی رامیا، اور بچے ادویت اور ابھیرام ہیں۔

نادری کے 21 ویں وارڈ میں انفیکشن کی اطلاع ملی۔ ابتدائی تحقیقات میں بیجو کے اپنے گھر سے نہانے یا عوامی آبی ذخائر میں تیرنے کی کوئی بات سامنے نہیں آئی، جو امیبا کے معمول کے ذرائع ہیں۔ محکمہ صحت ان کے انفیکشن کے آس پاس کے حالات کی تفصیلی جانچ کر رہا ہے۔ اس کے تحت ان کی رہائش گاہ اور قریبی علاقوں کے کنوؤں سے پانی کے نمونے جانچ کے لیے جمع کیے گئے ہیں۔ کوزی کوڈ کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ایل ٹی سریتھا کماری نے بتایا کہ کنویں کے پانی سے انفیکشن ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے، اور جمع کیے گئے نمونوں کا فی الحال جامع تجزیہ جاری ہے۔

موت کے بعد محکمہ صحت نے خوف و ہراس سے بچنے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے علاقے میں حفاظتی اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔ حکام نے نادری اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پینے کے پانی کے تمام ذرائع کی کلورینیشن مکمل کر لی ہے۔ مقامی باشندوں میں امیبک مینینجوئنسفلائٹس اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے کی اہمیت کے حوالے سے وسیع بیداری مہم چلائی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت نے آلودہ پانی میں غوطہ لگانے یا نہانے کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے اور پینے کے پانی کے ذرائع کی باقاعدگی سے کلورینیشن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ریاستی محکمہ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کیرالہ میں جنوری اور جولائی 2026 کے درمیان امیبک میننگوئنسفلائٹس کے 155 تصدیق شدہ کیسز اور 41 متعلقہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ امیبک میننگوئنسفلائٹس کی عام علامات میں شدید سر درد، بخار، متلی، الٹی، گردن کی اکڑن اور روشنی کی حساسیت شامل ہیں۔ بچوں میں، انفیکشن کھانے میں ہچکچاہٹ، سستی، اور غیر معمولی ردعمل کے طور پر ظاہر ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے بیماری ایک نازک مرحلے کی طرف بڑھتی ہے، مریضوں کو دورے پڑ سکتے ہیں، ہوش میں کمی، یادداشت کی کمزوری، اور سونگھنے کی حس ختم ہو سکتی ہے۔

یہ بیماری بنیادی طور پر نائگلیریا فاؤلیری اور اکانتھامیبا کی نسل سے تعلق رکھنے والے امیبی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ خوردبینی جاندار ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں اور بعد ازاں دماغ پر حملہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مہلک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کسی بھی علامات کو محسوس کرنے پر فوری علاج کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور ٹھہرے ہوئے پانی کے کسی بھی حالیہ نمائش کے بارے میں ڈاکٹر کو مطلع کرتے ہیں۔ ریاست میں پہلے بھی اسی طرح کی اموات کی اطلاع کے ساتھ، محکمہ صحت ہائی الرٹ پر ہے۔ سب سے مؤثر حفاظتی اقدام ایسے حالات سے بچنا ہے جہاں پانی ناک میں داخل ہو سکتا ہے اور حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے میں منتقل نہیں ہوتی۔









*🛑کڈنی فیل ہونے سے پہلے جسم میں ظاہر ہوتی ہیں یہ سنگین علامات، ان کو نظر انداز کرنا ہو سکتا ہے مہلک*
حیدرآباد، تلنگانہ: گردے (یعنی کڈنی) خون سے فضلہ نکالنے اور جسم میں سیال کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے گردے آپ کے جسم کا قدرتی فلٹریشن سسٹم ہیں۔ ہر روز، وہ تقریباً 200 لیٹر خون کو فلٹر کرتے ہیں، زہریلے مادوں، فضلہ کی مصنوعات اور اضافی سیالوں کو نکالتے ہیں، جو پھر پیشاب کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔ ان کے فلٹریشن فنکشن کے علاوہ، گردے الیکٹرولائٹس کو منظم کرنے، بلڈ پریشر کو منظم کرنے اور مضبوط ہڈیوں کے لیے وٹامن ڈی کو فعال کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

گردے مختلف بیماریوں سے متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں گردے کی دائمی بیماری (کرونک کڈنی ڈیسیز CKD) گردے کی پتھری، انفیکشن اور ہائی بلڈ پریشر شامل ہیں۔ مناسب دیکھ بھال کے بغیر، یہ مسائل بگاڑ سکتے ہیں اور گردے کی خرابی کا باعث بن سکتے ہیں، جس میں ڈائیلاسز یا ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ حالات جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم، گردے کے مسائل کا جلد پتہ لگانے سے ایسے مہلک نتائج کو روکا جا سکتا ہے۔ آئیے اس مضمون میں گردے کی بیماری کی انتباہی علامات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
گردے کی بیماری ایک خاموش قاتل

گردے کی بیماری کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گردے کی دائمی بیماری (طویل مدتی گردے کی بیماری) بغیر کسی واضح انتباہی علامات کے گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ چونکہ ابتدائی علامات اکثر ہلکی ہوتی ہیں، بہت سے لوگ اس بیماری سے لاعلم رہتے ہیں جب تک کہ یہ شدید نہ ہو جائے اور اسے ڈائیلاسز یا گردے کی پیوند کاری کی ضرورت ہو۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور طرز زندگی سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے گردے کی بیماری کا عالمی بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا، جلد پتہ لگانا بہت ضروری ہے اور ماہرین باقاعدگی سے اسکریننگ ٹیسٹ کی سفارش کرتے ہیں۔یہ ہیں گردے کی بیماری کی انتباہی علامات...

رات کو بار بار پیشاب کرنا: مشہور ویب سائٹ این ایچ ایس، یو کے (NHS.uk) کثرت سے پیشاب کو گردے کی بیماری کی ابتدائی علامات میں سے ایک کے طور پر شناخت کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشاب کرنے کے لیے رات کو کثرت سے اٹھنا اس کیفیت کی علامت ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب گردوں میں فلٹر خراب ہو جاتے ہیں تو پیشاب کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر، ایک شخص کو رات کو پیشاب کرنے کے لیے کثرت سے اٹھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔پیروں یا ٹانگوں میں سوجن: کلیولینڈ کلینک کا کہنا ہے کہ ہاتھوں، ٹخنوں یا چہرے کے گرد سوجن گردے کی خرابی کی علامت ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جب گردے صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے تو وہ اضافی سوڈیم اور پانی کو فلٹر نہیں کر پاتے جس سے جسم میں سیال جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاؤں یا ٹانگوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر، اگر نیچے کی ٹانگیں معمول سے زیادہ تنگ محسوس ہوتی ہیں (خاص طور پر جہاں جوتے یا موزے پہنے جاتے ہیں) تو یہ گردے کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔پیشاب میں خون: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پیشاب میں خون گردوں کے خراب ہونے کی سنگین علامت ہے۔ پیشاب میں خون پیشاب کی نالی کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ گردے کی پتھری، انفیکشن یا گردے کی سنگین بیماری کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اگر آپ کو گلابی، سرخ یا بھورا پیشاب نظر آتا ہے یا خون کے جمے ٹکڑے نظر آتے ہیں، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ پیشاب میں خون گردے کی بیماری کی سب سے زیادہ تشویشناک انتباہی علامات میں سے ایک ہے۔

جھاگ دار پیشاب: جھاگ دار پیشاب ایک ایسی حالت ہے جسے پروٹینوریا کہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب گردے پروٹین کو صحیح طریقے سے فلٹر کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، البومین جیسے پروٹین پیشاب میں لیک ہوتے ہیں، جس سے زیادہ جھاگ پیدا ہوتا ہے۔

سانس لینے میں دشواری: ماہرین کا کہنا ہے کہ گردے کی بیماری پھیپھڑوں میں سیال جمع ہونے کا باعث بنتی ہے جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ گردے کی بیماری کے اعلیٰ درجے کے مراحل میں زیادہ عام ہے، لیکن یہ ابتدائی مراحل میں کچھ لوگوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ میو کلینک کا کہنا ہے کہ اگر جسم فضلہ اور اضافی سیال کو فلٹر نہیں کر سکتا تو وہ پھیپھڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں، جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر آرام کرتے ہوئے یا لیٹتے وقت، تو ایسی حالت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے۔

مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری: تھکاوٹ صحت کے بہت سے مسائل کی ایک عام علامت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب گردے صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے ہیں تو جسم میں ضرورت سے زیادہ فضلہ اور زہریلے مادے جمع ہو جاتے ہیں جس سے توانائی کی کمی اور تھکاوٹ ہوتی ہے۔ اگر آپ کافی آرام کرنے کے بعد بھی مسلسل تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ کے گردے فضلہ کو ٹھیک طرح سے فلٹر نہیں کر رہے ہیں۔

(اعلان دستبرداری نوٹ: یہاں فراہم کردہ صحت سے متعلق معلومات اور تجاویز صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ ہم یہ معلومات سائنسی تحقیق، مطالعات اور طبی اور صحت کے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر فراہم کر رہے ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ذاتی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔)









*🛑کامن ویلتھ گیمز 2026: ویٹ لفٹنگ میں راجا متھوپانڈی نے بھارت کو دلایا سلور، شاندار کارکردگی جاری*
گلاسگو (اسکاٹ لینڈ): کامن ویلتھ گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے بہار کے جھنڈو کمار نے پاور لفٹنگ میں کانسے کا میڈل جیتا، اس کے بعد میرابائی چانو نے گولڈ اور ریشیکانتا سنگھ نے سلور میڈل اپنے نام کیے۔ تازہ ترین جانکاری کے مطابق، اب راجا متھوپانڈی نے سلور میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔

واضح رہے کہ راجا متھوپانڈی نے اتوار (مقامی وقت) کو کامن ویلتھ گیمز 2026 میں مردوں کے 65 کلوگرام ویٹ لفٹنگ ایونٹ میں سلور میڈل جیتا۔ اس سے ملک کو دن کا تیسرا میڈل ملا اور بھارتی ویٹ لفٹنگ ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری رہی۔ 26 سالہ کھلاڑی نے مجموعی طور پر 286 کلوگرام وزن اٹھایا، جس میں انہوں نے اسنیچ میں 126 کلوگرام اور کلین اینڈ جرک میں 160 کلوگرام وزن اٹھا کر دوسرا مقام حاصل کیا۔

ملائیشیا کے ازنیل بن بدین محمد نے کامن ویلتھ گیمز کے ریکارڈ مجموعی 299 کلوگرام وزن کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا، اور گولڈ کوسٹ سال 2018 اور برمنگھم سال 2022 میں جیت کے بعد مسلسل تیسرا کامن ویلتھ گیمز ٹائٹل اپنے نام کیا۔ راجا نے اپنی مہم کا آغاز شاندار انداز میں کیا اور اپنی دوسری کوشش میں اسنیچ میں 126 کلوگرام کی بہترین لفٹ ریکارڈ کی۔ اس کے بعد انہوں نے کلین اینڈ جرک میں بھی اپنی دوسری کوشش میں 160 کلوگرام کا وزن کامیابی سے اٹھایا، اور مجموعی طور پر 286 کلوگرام کے ساتھ گلاسگو میں بھارت کے لیے نیا میڈل جیتا۔

راجا کی شاندار واپسی

سلور میڈل جیتنا راجا کے لیے ایک شاندار واپسی تھی، جن کا کریئر سال 2019 میں کہنی میں شدید چوٹ کے باعث تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے ان کی صحت یابی کے عمل میں مزید رکاوٹیں آئیں، جب کہ جیریمی لالرینونگا کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی زیادہ ویٹ کیٹیگری میں تبدیلیاں ہوئیں، جس کی وجہ سے راجا برمنگھم سلا 2022 کامن ویلتھ گیمز کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ 65 کلوگرام کیٹیگری شروع ہونے کے بعد انہوں نے نیشنل سیٹ اپ میں واپسی کی اور انٹرنیشنل لیول پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس میں سال 2025 ورلڈ چیمپئن شپ میں 299 کلوگرام کے پرسنل بیسٹ ٹوٹل کے ساتھ نواں نمبر حاصل کرنا بھی شامل ہے۔

اتوار کے روز ویٹ لفٹنگ میں بھارت کی جیت کے کھاتے میں سلور میڈل کے اضافے سے قبل، اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے خواتین کی 48 کلوگرام کیٹیگری میں کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا، جبکہ چنبم ریشیکانتا سنگھ نے مردوں کے 60 کلوگرام ایونٹ میں سلور میڈل اپنے نام کیا۔ راجا کے پوڈیم (کامیابی کے اسٹیج) پر آنے کے ساتھ ہی بھارت کو دن کا تیسرا میڈل ملا، اور یہ تمام میڈلز ویٹ لفٹنگ سے آئے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی کامن ویلتھ گیمز مہم میں اس کھیل کا مسلسل اہم تعاون رہا ہے۔

دوسری طرف، بھارت کی باکسنگ مہم کو ان کھیلوں میں پہلا دھچکا اس وقت لگا جب آدتیہ پرتاپ یادو مردوں کے مقابلے سے باہر ہو گئے۔ بھارتی باکسر اپنا پری کوارٹر فائنل مقابلہ یوگنڈا کے نوہو بٹے سے 3-2 کے قریبی فرق سے ہار گئے، جو گلاسگو 2026 میں بھارت کی باکسنگ میں پہلی ہار تھی۔

والدین کو میڈل وقف کیا

ویٹ لفٹر راجا متھوپانڈی نے اپنا کامن ویلتھ گیمز 2026 کا سلور میڈل اپنے والدین اور کوچ وجے شرما کے نام کیا، ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ گلاسگو میں مردوں کے 65 کلوگرام ایونٹ میں گولڈ میڈل سے محروم ہونے پر وہ مایوس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں یقیناً مایوس ہوں کیونکہ میرے کوچ نے مجھ پر بھروسہ کیا تھا، یہ مانتے ہوئے کہ ہم گولڈ جیتنے کے لیے پوری کوشش کریں گے۔ تاہم، میں نے (امید کے مطابق) پرفارم نہیں کیا۔ میں یہ جیت اپنے والدین اور اپنے کوچ وجے شرما کو وقف کرتا ہوں۔ میں یہاں سیکھی گئی باتوں پر توجہ دوں گا اور اپنی ٹریننگ پر دھیان دوں گا۔ میں اپنے کوچ کی ہدایات کے مطابق ٹریننگ کروں گا اور آگے مزید سخت محنت کروں گا۔"

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑حزب اللہ کی حمایت میں کھل کر آئے خامنہ ای ، ایران نے ٹرمپ کے سامنے رکھی نئی شرط ، پھنس گیا اسرائیل*
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات کی بحالی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ایران نے اپنی اہم ترین شرط کو عام کر دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیاد اسی صورت میں رکھی جا سکتی ہے جب اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند کر دے اور پیچھے ہٹ جائے۔ یہ خبر اسرائیل کے لیے ایک نیا درد سر بن سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری کردہ ایک بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ لبنان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ اور اسرائیلی فوجی کارروائی کا مکمل اور غیر مشروط خاتمہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے کے لیے پہلی اور اہم شرائط ہیں۔ ان کے مطابق اس کے بغیر امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ
خامنہ ای نے اپنے بیان میں ایران کی طرف سے حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے تنظیم کے سابق سربراہ حسن نصراللہ اور جنوبی لبنان کے عوام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ان کی حمایت کو ایک اسٹریٹجک ذمہ داری سمجھتا ہے۔ خامنہ ای کا بیان اسرائیل کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر خامنہ ای برقرار رہے تو ٹرمپ اسرائیل پر ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔پہلے بھی سامنے آچکی تھی یہ مانگ
اطلاعات کے مطابق جون میں امریکہ ور ایران کے درمیان ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے دوران تہران نے لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور حملوں کو روکنے کو اہم شرط قرار دیا تھا ۔ تاہم آبنائے ہرمز پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بڑھنے کے بعد یہ پیشرفت آگے بڑھنے میں ناکام رہی تھی۔

لبنان معاہدے پر بھی تنازعہ برقرار
لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی کے تحت ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا، جس میں اسرائیلی فوجیوں کے مرحلہ وار انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم، اس نے کوئی مخصوص ٹائم فریم فراہم نہیں کیا۔ مزید برآں، اسرائیلی انخلاء کا تعلق حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے کرنے سے تھا، ایک شرط جسے ایران اور حزب اللہ نے قبول نہیں کیا۔

زمینی صورتحال بدستور کشیدہ
لبنانی فوج کا الزام ہے کہ اسرائیلی افواج معاہدے کے ابتدائی مرحلے پر عمل درآمد کو روک رہی ہیں اور مقررہ علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں۔ لبنانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں اور گولہ باری جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے سابقہ اعداد و شمار کے مطابق حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل پر ہزاروں کی تعداد میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس تنازعے میں لبنان میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اسرائیل نے بھی اپنے فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔










*🛑اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے درمیان لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پیش، جانئے کتنا سخت ہے یہ بل؟*
نئی دہلی : حکومت نے پیر کو سوالات لیک ہونے اور امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع کے استعمال سے متعلق جرائم کے خلاف سخت دفعات والا بل لوک سبھا میں پیش کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے ایوان میں اپوزیشن اراکین کے ہنگامے کے درمیان عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پیش کیا۔ اپوزیشن اراکین دہلی میں 20 جولائی کو مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کی کارروائی پر جواب دہی طے کرنے اور وزیر داخلہ امت شاہ کے جواب کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کر رہے تھے۔

اسی دوران اپوزیشن کی نعرے بازی اور ہنگامہ جاری رہا۔ اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن اراکین سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پر بولنے کے لیے آپ (اپوزیشن اراکین) کو مناسب وقت دیا جائے گا۔ ایوان کی جتنی رضامندی ہوگی، اتنا وقت اس بل پر بحث کے لیے دیا جائے گا۔ میری درخواست ہے کہ اس اہم بل پر ایوان کا تعاون کریں اور بحث کریں۔انہوں نے اپوزیشن اراکین سے کہا کہ آپ کئی دنوں سے اس موضوع پر بحث کا مطالبہ کر رہے تھے۔ آج اس پر بحث ہو رہی ہے۔ بل کے علاوہ آپ جو بھی تجاویز دیں گے، حکومت یقینی طور پر ان تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہی جمہوریت ہے، جہاں سب کی رائے اور خیالات سامنے آئیں۔ جمہوریت کے اس عمل میں میری ایوان سے توقع ہے کہ نعرے بازی اور تختیاں دکھانے کے بجائے بحث کریں۔ اسپیکر اوم برلا کی بار بار درخواست کے باوجود اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ جاری رکھا۔ اس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

10 سال تک کی جیل اور 10 کروڑ روپے تک کا جرمانہ
لوک سبھا اراکین کو تقسیم کی گئی بل کی کاپی کے مطابق، امتحانات میں سوالات لیک کرنے یا غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے والے افراد کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ 10 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ عوامی امتحان (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024 میں ترمیم سے متعلق اس بل میں منظم جرائم کے لیے کم از کم سات سال قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

دو ماہ میں مکمل کرنی ہوگی جانچ
مجوزہ ترامیم کے تحت تمام تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنی ہوں گی۔ بل میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو فوری عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ عدالتیں چارج شیٹ داخل کیے جانے کے تین ماہ کے اندر مقدمے کی کارروائی مکمل کریں گی۔نیٹ پیپر لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر کیے گئے احتجاج اور اس کے بعد وزیر تعلیم کے عہدے سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے بعد حکومت یہ بل لے کر آئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحان کے نظام میں اصلاحات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔











*🛑اسدالدین اویسی سے یوپی میں اتحاد کرے گی سماجوادی پارٹی؟ اکھلیش یادو کا کیا ہے پلان؟ کانگریس نے اے آئی ایم آئی ایم کو دیا بڑا مشورہ*
نئی دہلی: اترپردیش اسمبلی الیکشن سے متعلق آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈراسدالدین اویسی نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی ہلچل تیزہوگئی ہیں۔ سماجوادی پارٹی-کانگریس جہاں ان پربی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگا رہی ہیں تووہیں اب اس موضوع پرسماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادوکا بھی ردعمل آیا ہے۔

ایم آئی ایم آئی ایم کے لیڈراسدالدین اویسی کی پیشکش سے متعلق جب سماجوادی پارٹی کے صدراکھلیش یادوسے سوال کیا گیا توانہوں نے اس پربہت محتاط ہوکرجواب دیا ہے۔ اکھلیش یادونے اویسی کے سوال پرکہا کہ ’’یوپی میں ابھی الیکشن دورہیں۔ ابھی لوک سبھا میں ہم سب لوگ ایک ساتھ ہیں۔‘‘

اویسی کی پیشکش پرسماجوادی پارٹی ایم پی نے دیا بڑا بیان

وہیں دوسری طرف، گھوسی سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راجیورائے نے کہا کہ اسدالدین اویسی کو بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جیسے جیسے الیکشن آئے گا، ان سے بہت ساری باتیں کہلوائی جائیں گی اوروہ بہت ساری باتیں کہیں گے۔‘‘

انڈیا الائنس میں سماجوادی پارٹی کی اتحادی کانگریس کی طرف سے بھی یوپی میں اے آئی ایم آئی ایم سے اتحاد سے متعلق سخت ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ کانگریس کے قومی ترجمان سریندرراجپوت نے کہا- ’’اسدالدین اویسی صاحب ماتھے (پیشانی) پربندوق لگاکراتحاد نہیں ہوتا ہے۔ آپ صرف اور صرف مسلمانوں کی بات کرتے ہیں اور بی جے پی صرف اورصرف ہندووں کی بات کرتی ہے، دونوں ہی پارٹیاں ملک سے غداری جیسا کام کرتی ہیں، کیونکہ دونوں ہندوستانیوں کی بات نہیں کرتی ہیں۔‘‘

کانگریس نے بی جے پی سے اتحاد کا دیا مشورہ

کانگریس ترجمان نے کہا کہ اتحاد جولوگ یہاں کی عوام کوہندوستانی سمجھتے ہیں۔ ہندو-مسلمان نہیں سمجھتے، ان کا ہوتا ہے، جس طرح سے آپ اکھلیش یادواورکانگریس کے خلاف دھمکی آمیزالفاظ کا استعمال کرتے ہیں، اس دھمکی آمیززبان کے بعد کہتے ہیں کہ ہمیں اتحاد کرنا ہے، وہ کسی بھی پارٹی کوقبول نہیں ہے۔ آپ جائیے، بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرلیجئے۔ قابل ذکرہے کہ اسدالدین اویسی نے گزشتہ 10 دنوں میں دوسری بارسماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی کھلی پیشکش کی ہے۔ اویسی نے کہا کہ ان کی پارٹی کا صرف ایک ہی ہدف ہے بی جے پی کو یوپی کے اقتدارسے روکنا۔ ہم اس کے لئے پوری طرح تیارہیں اوریہ آپسی بات چیت کے لئے بالکل صحیح وقت ہے۔

Sunday, 26 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑آپ کو اپنے بالوں میں کتنی دیر تک تیل لگانا چاہیے اور کب لگانا چاہیے؟ ماہرین سے جانیں*
آلودگی اور کام سے متعلق تناؤ کی وجہ سے بالوں کا گرنا اور ٹوٹنا ان دنوں ایک عام مسئلہ بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے بالوں میں تیل لگانے کو ان مسائل کا موثر علاج سمجھتے ہیں۔ تاہم اس بارے میں رائے مختلف ہوتی ہے کہ تیل کب لگانا ہے اور اسے کب تک لگانا چاہیے۔ معروف ڈرماٹولوجسٹ اور ہیئر ٹرانسپلانٹ ماہر ڈاکٹر رام نے اس موضوع پر قیمتی رائے ٍشیئر کی ہیں، صحت مند بالوں کو یقینی بنانے کے لیے تیل لگانے کا صحیح طریقہ اور وقت بتاتے ہیں۔

ڈاکٹر کا کہنا ہیکہ ہمارے بال پروٹین کے خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں کیراٹین کہتے ہیں۔ یہ خلیات پانی کو جلدی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر رام بتاتے ہیں کہ جب ہم نہاتے ہیں تو بالوں کے خلیے پانی جذب کرتے ہیں اور پھول جاتے ہیں، خشک ہونے پر اپنی معمول کی حالت میں واپس آجاتے ہیں۔ بالوں کا یہ بار بار سوجن اور سکڑنا اس کی قدرتی طاقت کو کم کر دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس سے بالوں کا کمزور ہونا، ٹوٹنا یا پھٹ جانا جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہر امراض جلد ڈاکٹر رام نوٹ کرتے ہیں کہ جب لوگ اکثر راتوں رات اپنے بالوں میں تیل چھوڑنے کے روایتی عمل کی پیروی کرتے ہیں، تو ڈرمیٹولوجی بتاتی ہے کہ یہ عادت اچھے سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر رام کے مطابق نہانے سے پہلے تیل لگانا بالوں کی پرورش کے لیے فائدہ مند ہے۔

نہانے سے پہلے تیل کیوں لگانا چاہیے؟

نہانے سے پہلے کھوپڑی میں تیل لگانے سے حفاظتی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ تیل میں پانی سے بچنے والی خصوصیات ہیں جو بالوں کے خلیوں کو ضرورت سے زیادہ پانی جذب کرنے سے روکتی ہیں۔ یہ دھونے کے دوران سوجن کو کم کرتا ہے اور بالوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔

تیل بالوں کی جڑوں کو شیمپو میں موجود کیمیکلز سے ہونے والے براہ راست نقصان سے بھی بچاتا ہے۔ اس لیے دھونے سے پہلے تیل لگانے سے نہ صرف بال نرم رہتے ہیں بلکہ ان کی قدرتی ساخت کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

رات بھر تیل چھوڑنے کے نقصانات

بہت سے لوگ راتوں رات اپنے بالوں پر تیل چھوڑ دیتے ہیں، یہ مانتے ہیں کہ یہ اضافی غذائیت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل خاص طور پر تیل کی جلد والے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ کھوپڑی کے قدرتی تیل (سیبم) کے علاوہ، لگایا جانے والا تیل مالاسیزیا نامی فنگس کی افزائش کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ کوکیی انفیکشن خشکی، کھوپڑی میں خارش اور بالآخر بالوں کا زیادہ گرنا جیسے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

تیل کو کب تک چھوڑنا چاہیے؟

آپ کو اپنے بالوں میں تیل لگانے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہانے سے صرف 15 سے 30 منٹ پہلے لگانا کافی ہے۔ اس وقت کے دوران، تیل بالوں پر ایک حفاظتی تہہ بناتا ہے، نہانے کے دوران اسے پانی سے بچاتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تیل کو دھیرے دھیرے لگانا بہتر ہے، جڑوں سے سروں تک۔ تیل کو کھوپڑی پر لگانے کے بعد اپنی انگلیوں سے آہستہ سے مساج کرنے سے خون کی گردش کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔تیل کو کب تک چھوڑنا چاہیے؟

ایسے بالوں پر تیل نہ لگائیں جو پہلے ہی گرنے کا شکار ہوں

اپنے بالوں کی قسم کی بنیاد پر صحیح تیل کا انتخاب کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک غلط فہمی ہے کہ صرف تیل لگانے سے بال بڑھتے ہیں۔ مناسب غذائیت بالوں کی دیکھ بھال کی طرح ضروری ہے۔ ڈاکٹر رام کا مشورہ ہے کہ نہانے سے چند منٹ پہلے تیل لگانے اور پھر کم کیمیکل والے شیمپو سے دھونے سے بال نرم اور مضبوط ہوں گے۔ نہانے کے بعد اپنے بالوں کو رگڑنے کے بجائے نرم تولیے سے خشک کریں۔










*🛑جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں پہلی بار اناہت نے دلایا بھارت کو تاریخی گولڈ، کہا-’’مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں‘‘*
اونٹاریو: بھارت کی پہلی ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن بننے کے بعد اناہت سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں اب بھی ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ خواب دیکھ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب ان کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ جونیئر سرکٹ میں یہ ان کا آخری سال تھا۔ اس سے قبل مختلف ٹورنامنٹس میں کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل تک پہنچنے والی اناہت نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ 2005 میں جوشنا چنپا کے بعد ورلڈ جونیئر فائنل میں پہنچنے والی پہلی بھارتی کھلاڑی بنی تھیں۔ فتح کے بعد اناہت نے کہا ’’مجھے اب بھی ایسا لگ رہا ہے جیسے میں خواب دیکھ رہی ہوں۔ گزشتہ چار برسوں سے میں سیمی فائنل اور کوارٹر فائنل میں ہارتی رہی ہوں۔ جب بھی کوئی مجھ سے پوچھتا تھا تو میں ہمیشہ کہتی تھی کہ یہ ٹورنامنٹ میرے لیے کسی لعنت جیسا ہے اور میں اس ایونٹ میں کبھی اچھا نہیں کھیل پائی۔‘‘

مصر کی رقیہ سالم کو شکست دے کر جیتا عالمی خطاب

اناہت سنگھ نے مزید کہا کہ ’’یہ جونیئر کھلاڑی کے طور پر میرا آخری سال ہے اور یہ خطاب جیتنے کا میرے پاس واحد موقع تھا۔ یہ میرے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے مجھے معلوم تھا کہ اگر میں دباؤ میں رہی تو بہت خراب کھیلوں گی۔ اس لیے میں صرف کورٹ پر اتری اور اپنے شاٹس صحیح طریقے سے کھیلنے پر توجہ دی۔ میں ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں کھیلنے کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔‘‘ گزشتہ سیزن میں سیمی فائنل تک پہنچ کر کانسے کا تمغہ جیتنے والی بھارتی کھلاڑی نے اس بار فائنل میں مصر کی دوسری سیڈ یافتہ کھلاڑی رقیہ سالم کو 11-3، 11-7، 11-9 سے شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ اناہت سنگھ نے بھارتی اسکواش کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔

’بھارتی اسکواش کے لیے تاریخی لمحہ‘

اسکواش ریکٹس فیڈریشن آف انڈیا کے سکریٹری جنرل سائرس پونچا نے اناہت کی کامیابی کو بھارتی اسکواش کے لیے خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے جیسا لمحہ قرار دیا۔ پونچا نے کہا ’’یہ بھارتی اسکواش کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ اناہت میں بڑی بلندیوں کو حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘ پونچا نے مزید کہا کہ ایس آر ایف آئی کے سرپرست اور انڈین اسکواش اکیڈمی کے دوراندیش بانی مرحوم این. رام چندرن ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ان کا خواب تھا کہ بھارت انفرادی مقابلوں میں عالمی چیمپئن تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈبلز میں یہ کامیابی حاصل کی تھی، لیکن سنگلز میں بھی اسی کامیابی کو دہرانا واقعی خواب کے پورا ہونے جیسا ہے۔









*🛑’’ملک جواب مانگ رہا ہے‘‘ راہل گاندھی نے طلبہ کے خلاف ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال پر وزیرداخلہ امت شاہ سے کیا سوال*
نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے قومی راجدھانی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے اتوار کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال پر سخت سوالات کیے۔ مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد راہل گاندھی کا یہ بیان 20 جولائی کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں نکالی گئی ’سنسد چلو‘ ریلی کے دوران پولیس کارروائی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سوال کیا کہ کیا امت شاہ نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پیلیٹ گن اور آنسو گیس سمیت ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال کی ذاتی طور پر منظوری دی تھی؟

19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ

راہل گاندھی نے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچاب کے معاملے کا بھی ذکر کیا، جس کے بارے میں مبینہ طور پر پیلیٹ لگنے کے بعد ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن، لاٹھی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ میں 19 سالہ ساحل لوچاب سے ملا۔ پیلیٹ لگنے کے بعد اس کی ایک آنکھ ضائع ہو سکتی ہے۔ اس کا ’جرم‘ کیا تھا؟ پیپر لیک ختم کرنے اور طلبہ کے منصفانہ مستقبل کا مطالبہ کرنا۔‘‘

سادہ لباس میں موجود افراد پر بھی سوال

راہل گاندھی نے امت شاہ سے دو سوالات کرتے ہوئے کہا ’’کیا آپ نے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو پیٹنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی اجازت کس نے دی؟ ملک جواب مانگ رہا ہے۔‘‘

’کس نے طلبہ کو مارنے کا حکم دیا؟‘

راہل گاندھی نے امت شاہ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے طلبہ کے خلاف ’’بلاامتیاز طاقت‘‘ کا استعمال کیا اور خواتین مظاہرین کو بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے نشانہ بنا کر مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’’وحشیانہ حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’’طلبہ کو مارنے کا حکم کس نے دیا؟‘‘ راہل گاندھی نے خط میں وزیر داخلہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہلی میں تعینات سکیورٹی فورسز بالآخر وزیرداخلہ کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا امت شاہ نے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو پیٹنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی اجازت کس نے دی؟

’پرامن احتجاج ہر جمہوریت کے لیے ضروری‘

راہل گاندھی نے کہا کہ پرامن احتجاج کسی بھی جمہوریت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کی حفاظت کرے اور بات چیت کے ذریعے ان کی شکایات کا حل تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا وحشیانہ تشدد تمام جمہوری اصولوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اس سے ملک میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ ملک کا مستقبل نوجوان اور طلبہ جواب اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کی آواز سنی جائے گی۔

کئی ہفتوں سے جاری تھا طلبہ کا احتجاج

یہ معاملہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں کئی ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد اس احتجاج نے قومی توجہ حاصل کی تھی۔ 20 جولائی کو ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھ گئی، جب پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے مبینہ طور پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ مسلسل احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے مرکزی وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ اتوار کو پرہلاد جوشی نے مرکزی وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھال لیا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

13 دن بعد امریکہ نے اچانک ایران پر روک دئے حملے، بات چیت کو موقع یا کوئی نئی حکمت عملی؟ جانئے
مغربی ایشیا میں گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اچانک ایک بڑا موڑ آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز امریکی فوج کو ایران پر نئے فضائی حملے نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ مسلسل 13 دن تک ہر روز فوجی حملوں کی منظوری دے رہے تھے۔ ہندوستانی وقت کے مطابق ہر صبح 5 بجے سے پہلے امریکی سینٹرل کمانڈ ایکس پر پوسٹ کر کے بتاتی تھی کہ وہ حملے کر رہی ہے۔ لیکن 25 جولائی کو ایسی کوئی بھی پوسٹ سامنے نہیں آئی۔ تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا دوبارہ حملے شروع کر سکتا ہے، لیکن فی الحال ان کی ترجیح بات چیت کے ذریعے حل نکالنا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ چاہے تو حملے جاری رکھ سکتا ہے یا انہیں مزید تیز کر سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے اسے ’’معاہدے کا درست وقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور انہیں لگتا ہے کہ تہران اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ نظر آ رہا ہے۔ ایکسیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسی دوران عمان کا ایک وفد ایران پہنچا، جہاں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے پر بات چیت ہوئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔اسرائیل بھی بڑے حملے کی تیاری میں تھا
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے سیکورٹی نظام کو امید تھی کہ جمعہ کے روز امریکہ ایران پر ایک اور بڑا حملہ کرے گا۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج اور سیکورٹی کابینہ ہائی الرٹ پر تھیں۔ بعد میں انہیں اطلاع دی گئی کہ ٹرمپ نے نئے حملوں کی منظوری نہیں دی۔

پاسداران انقلاب کی اسرائیل کو وارننگ
ادھر ایران نے اسرائیل کو جنگ میں پھر سے کودنے کو لے کر سخت وارننگ دی ہے۔ پاسداران انقلاب ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل جانتا ہے کہ اگر وہ جنگ میں پھر سے شامل ہوا تو ایران اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا اور ایران کی توجہ اسی چیز پر مرکوز بھی ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اسرائیل جنگ میں پھر سے شامل ہوا تو آفت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

یوکرین پر برہم ہوا ایران
اسی دوران ایران نے ایک الگ محاذ پر یوکرین کے خلاف سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے الزام لگایا کہ بحیرۂ کیسپین، جو روس اور ایران کو آپس میں ملاتا ہے، وہاں ایک تجارتی جہاز پر یوکرین نے حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک ملاح ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔ ایران نے اس واقعے کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تہران میں یوکرین کے نگران سفارت کار کو طلب کیا۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ سے گفتگو میں بھی اس واقعے کی مذمت کرنے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب ایران سے وابستہ کئی ٹیلیگرام چینلز ایرانی میزائلوں کی رینج دکھاتے ہوئے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ یوکرین تک حملہ کر سکتے ہیں۔یوکرین کا کیا کہنا ہے؟
یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ان کی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک روسی جنگی جہاز اور ایران سے متعلق فوجی سامان لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ زیلینسکی نے یہ الزام بھی لگایا کہ روس خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصاویر ایران کو فراہم کر رہا ہے تاکہ ایران حملوں کی منصوبہ بندی کر سکے۔ ان الزامات پر روس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔










جنتر منتر سے PMO کے دفتر تک ، جانئے کیسے لکھی گئی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی اسکرپٹ
نئی دہلی: مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کو NEET-UG پیپر لیک تنازعہ کے تناظر میں استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ محض انتظامی فیصلہ نہیں ہے۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ ایک دانستہ سیاسی چال ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ طلبہ تحریک کو سیاسی رنگ دیا جائے، اسی لیے یہ بڑا قدم اٹھایا گیا۔ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ قومی سطح کے امتحان میں بڑی خامیاں تھیں۔ ان غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنا ضروری تھا۔ پردھان کا استعفیٰ اس کا ثبوت ہے۔ وزیر اعظم کا یہ بھی ماننا ہے کہ طلباء کے خدشات مکمل طور پر جائز ہیں۔ استعفیٰ دے کر، حکومت نے ڈیمیج کنٹرول میں ایک اہم کوشش کی ہے۔ یہ طلباء کے غصے کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اچانک نہیں لیا گیا۔ اس کے پیچھے ایک گہری حکمت عملی کام کر رہی ہے۔

پردھان کے استعفیٰ کی اصل وجہ کیا ہے؟
دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفیٰ کی وجہ خود بتائی۔ پردھان نے کہا، “گزشتہ 10 دنوں کے واقعات نے مجھے دکھی کر دیا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی عزت کا معاملہ نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ملک دشمن طاقتیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھائیں ۔ ملکی یکجہتی کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا۔
کیا نیا قانون پیپر لیک کے اس سیاہ کھیل کو روک پائے گا؟
استعفیٰ سے ٹھیک ایک دن پہلے مرکزی حکومت نے بڑے قدم اٹھائے۔ امتحانات میں خرابی کو روکنے کے لیے نئے اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ پیپر لیک میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا قانون متعارف کرایا جا رہا ہے۔ مقدمات کی جلد سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ حکومت کی توجہ اب طلباء کو ان کی تعلیم پر واپس لانے پر مرکوز ہے۔ تحریک کو طول دینے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

جنتر منتر پر ہونے والے اس مظاہرے کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کون ؟
پوری تحریک کی قیادت CJP نامی پلیٹ فارم سے کی جا رہی ہے۔ اس کی شروعات عام آدمی پارٹی کے سابق عہدیدار ابھیجیت دیپک نے کی تھی۔ اس کا آغاز مئی میں ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر ہوا تھا۔ اب یہ نوجوانوں کی سب سے بڑی تحریک بن چکی ہے۔

آگے کیا ہوگا اور حکومت کا نیا ایکشن پلان کیا ہے؟
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت طلبہ کو سافٹ ٹارگٹ نہیں بننے دے گی۔ سیاسی فائدے کے لیے طلبہ کے غصے کے استحصال کو روکنا ضروری ہے۔ حکومت اب امتحانی نظام کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ قومی امتحانات کو کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ (CBT) فارمیٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔ ادارہ جاتی نگرانی سخت کی جائے گی۔ نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے سی بی آئی جیسی ایجنسیوں سے مکمل مدد لی جائے گی۔










عوام سے احتراماً گزارش 
خدا کا فضل کرم ھیکہ جمیعت علماء کے صدر محترم عالی جناب الحاج مفتی قاسم جیلانی دامت برکاتہم اور جمیعت علماء کےناںٔب صدر محترم عالی جناب الحاج غفران سیٹھ پوپٹ والے ان دونوں صاحبان کی رہنمائی میں SIR کا کام کںٔی دنوں سے بہت عروج پر ھے۔
 مدرسہ جامعۃ الزاکرات مادھوپورہ میں بھی شام چھ بجے سے رات نو بجے تک تو کبھی اا بجے تک SIR کا فارم بھرنے اور جمع کرنے کا کام شروع ھے ۔ ابھی بھی جن حضرات کو فارم بھرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ھے۔ وہ تمام حضرات بلکل نہ گھبرائیں اور نہ شرماںیٔں ۔بلاجھجھک مدرسہ جامعۃ الزاکرات میں تشریف لاںیٔں گزارش ھےکہ وہ بھی مدرسہ جامعۃ الزاکرات مادھوپورہ میں تشریف لے آںیٔں ۔دوBLO جاوید تواب انصاری اور شیخ افروز میڈم آپ لوگوں کی خدمات کے لئے موجود ھیں۔ 
وقت شام چھ بجے سے رات نو بجے تک ۔ وقت کا خاص خیال رکھیں ۔
گزارش کردہ: جمیعت علماء کے نائب صدر الحاج غفران سیٹھ پوپٹ والے

Friday, 24 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑بنگلہ دیش میں بڑا الٹ پھیر، صدرمحمد شہاب الدین نے دیا استعفیٰ، شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے تعطل برقرار*
بنگلہ دیش کے صدرمحمد شہاب الدین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکرحافظ الدین احمد نے قبول کرلیا ہے۔ آئین کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک اسپیکرہی قائم مقام صدرکے طورپرذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اسپیکرحافظ الدین احمد نے بتایا کہ محمد شہاب الدین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے وہ جسمانی اورذہنی طورپر صدرجیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں رہے، اسی لئے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ کہا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی کے اعلان کے بعد سے تعطل برقرارہے اوریہی استعفیٰ کی سب سے بڑی وجہ رہی۔

مقامی اخبارپرتھم آلوکے مطابق، بنگلہ دیش کے آئین کے آرٹیکل 50(3) کے تحت صدر دستخط شدہ خط کے ذریعہ اسپیکرکواستعفیٰ پیش کرسکتے ہیں۔ جبکہ آرٹیکل 54 کے مطابق اگرصدرکا عہدہ خالی ہوجائے یا وہ بیماری، غیرحاضری یا کسی اوروجہ سے اپنے فرائض انجام نہ دے سکیں تونئے صدرکے انتخاب تک اسپیکرہی صدرکے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 123(2) کے مطابق، صدرکے انتقال، استعفیٰ یا عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں 90 دن کے اندرنئے صدرکا انتخاب ضروری ہے۔ آرٹیکل 48(1) کے مطابق صدرکا انتخاب پارلیمنٹ کے اراکین کے ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ میں بی این پی کو اکثریت

بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ پارٹی کا امیدوارہی ملک کا اگلا صدر منتخب ہوگا۔ گزشتہ کئی دنوں سے بی این پی کی اعلیٰ قیادت میں اس بات پرغورجاری تھا کہ محمد شہاب الدین کے بعد صدرکے عہدے کے لیے کس شخصیت کو نامزد کیا جائے۔ گزشتہ چند روز سے محمد شہاب الدین کے ممکنہ استعفیٰ کی خبریں سیاسی حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق، وہ ذہنی طورپراستعفیٰ دینے کے لیے تیارتھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعرات کوبنگ بھون کے سینئرحکام سے ملاقات کے دوران اپنے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔2023 میں صدر بنے تھے محمد شہاب الدین

محمد شہاب الدین نے 24 اپریل 2023 کوعوامی لیگ کی حکومت کے دورمیں بنگلہ دیش کے 22ویں صدرکی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ ان کی آئینی مدت اپریل 2028 تک تھی، تاہم انہوں نے مدت مکمل ہونے سے تقریباً ڈھائی سال پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ جولائی 2024 میں بڑے عوامی احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے سے ہی محمد شہاب الدین کے صدرکے عہدے پربرقراررہنے سے متعلق سیاسی بحث جاری تھی۔ بعد ازاں 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں مزید تیزہوگئی تھیں۔ اب ان کے استعفیٰ کے بعد ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے پرتبدیلی کی راہ ہموارہوگئی ہے۔









*🛑تین ریاستوں میں زبردست ووٹنگ، 5بجے تک آسام میں 84.42 فیصد، کیرلا میں 75.01 فیصد اورپڈوچیری میں 86.92 فیصد ووٹنگ*
کیرلا، آسام اورپڈوچیری میں ووٹنگ جاری ہے۔ ملک کی تینوں ریاستوں میں ووٹنگ جوش وخروش کے ساتھ ہو رہی ہے۔ شام 5 بجے تک آسام میں 84.42 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کیرلا میں 5 بجے تک 75.01 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں پڈوچیری میں 5 بجے تک 86.92 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس طرح سے تینوں ریاستوں میں کافی اچھی ووٹنگ ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں رائے دہندگان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔

اس سے قبل، دوپہرایک بجے کے اعدادوشمار کے مطابق، آسام میں 59.63 فیصد، کیرالہ میں 49.70 فیصد اور پڈوچیری میں 56.83 فیصد ووٹنگ ہوئی،صبح 11 بجے تک آسام میں 38.57 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دریں اثنا، کیرالہ میں صبح 11 بجے تک 33.13 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ پڈوچیری میں 36.90 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔صبح 9 بجے تک ووٹنگ کے رجحانات کی بات کریں تو آسام میں تقریباً 18 فیصد، کیرالہ میں 16.23 فیصد، اور پڈوچیری میں 17.41 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کیرالہ، آسام اورپڈوچیری اسمبلی انتخابات میں کئی نئی پہل شروع کی ہے۔ اسی سلسلے میں پڈوچیری میں جاری ووٹنگ کے دوران ایک پولنگ مرکزپرروبوٹ “نیلا” لوگوں کی توجہ کا مرکزبن گیا ہے۔ ووٹنگ مرکزپرووٹرزکی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے، جہاں وی اوسی گورنمنٹ اسکول میں ووٹ ڈالنے آنے والے ووٹرزکا استقبال روبوٹ “نیلا” کررہا ہے۔ یہ ایک ایونٹ بیسڈ روبوٹ ہے، جسے شادیوں، سرکاری تقریبات اورانتخابات جیسے مختلف پروگراموں کے لیے بک کیا جاتا ہے۔ روبوٹ “نیلا” میں کئی جدید خصوصیات شامل ہیں، جن میں وائس فیچربھی موجود ہے، جس کی مدد سے یہ خود بات چیت بھی کرسکتا ہے اورووٹرزکوخوش آمدید کہتا ہے۔

آسام، کیرالہ اورمرکزکے زیرانتظام خطہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے آج ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ صبح 7 بجے شروع ہونے والا ووٹنگ کا عمل شام 6 بجے تک جاری رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے تینوں علاقوں میں ووٹنگ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اورشفاف اورپرامن انتخابات کویقینی بنانے کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان انتخابات میں مجموعی طورپر296 نشستوں پر1995 امیدوارمیدان میں ہیں، جہاں این ڈی اے، انڈیا اتحاد اورلیفٹ محاذ کی سیاسی طاقت کا امتحان ہوگا۔ اسمبلی انتخابات کے ساتھ آج کرناٹک کی دونشستوں، ناگالینڈ کی ایک نشست اورتری پورہ کی ایک نشست پرضمنی انتخابات بھی ہوں گے۔ جبکہ گوا میں بھی ایک نشست پر ضمنی انتخاب ہونا تھا، قابل ذکر بات یہ ہےکہ ہائی کورٹ نے وہاں ہونے والے ضمنی انتخاب پر روک لگا دی ہے۔ انتخابی افسران کے مطابق آسام کی 126 نشستوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے 31,940 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ریاست کے 35 اضلاع میں پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ حساس پولنگ مراکز پر خصوصی نگرانی کے لیے مائیکرو آبزرورز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں جماعت اوراپوزیشن کے درمیان ہے اورلاکھوں ووٹرزپولنگ مراکزپر پہنچ کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کررہے ہیں۔

دوسری جانب، کیرلا کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پرایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے، جہاں 883 امیدوارمیدان میں ہیں۔ ریاست کے تقریباً 2.71 کروڑ ووٹر آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ بائیں بازو کا جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی کوشش کررہا ہے، جبکہ متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کرنے کی امید میں ہے۔ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) بھی ریاست میں اپنا کھاتہ کھولنے کی کوشش کررہا ہے۔ دوسری جانب پڈوچیری میں 9.50 لاکھ ووٹرز آج 294 امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے کریں گے۔ تینوں علاقوں میں ووٹنگ کے دوران سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات کو شفاف اورپرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔











*🛑دار چینی کا پانی لگاتار 30 دن پینے سے کیا ہوتا ہے؟ جانیں ماہرین کیا کہتے ہیں*
دار چینی کو شامل کرنے سے ٹماٹر چاول، پلاؤ، مسالہ دار سالن، اور نان ویجیٹیرین جیسے پکوانوں کے ذائقے اور خوشبو میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، فائبر، کیلشیم، پوٹاشیم اور کیروٹین کے ساتھ ساتھ وٹامن اے، بی، اور کے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ دار چینی اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات بھی رکھتی ہے۔ تو آئیے 30 دن تک روزانہ دارچینی کا پانی پینے کے فوائد کو جانیں۔

بلڈ شوگر کنٹرول:

ماہرین کا کہنا ہے کہ دار چینی بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ انسولین کے کام کو بہتر بنانے، ورزش کے دوران گلوکوز کی سطح کو کم کرنے اور کھانے کے بعد خون میں شوگر میں اچانک اضافے کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد کے لیے فائدہ مند ہے۔ ریسرچ گیٹ کے مطابق، دار چینی کا استعمال انسولین کے اثرات کو بڑھانے یا سیلولر گلوکوز میٹابولزم کو بڑھانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اسے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں منسلک تھراپی کے طور پر بھی انتہائی فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

بہتر ہاضمہ:

دار چینی روایتی طور پر ہاضمے کے مسائل کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپھارہ، بدہضمی اور تیزابیت جیسے مسائل سے نجات دلاتا ہے۔ نتیجتاً روزانہ دار چینی کا پانی پینے سے نظام ہاضمہ کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ScienceDirect کے مطابق، دار چینی میٹابولک سنڈروم اور عمر سے متعلق دماغی امراض پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

وزن پر قابو:

دار چینی کا پانی باقاعدگی سے پینا وزن میں فوری کمی کا باعث نہیں بنتا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ توانائی کی سطح کو بڑھاتا ہے اور بھوک کو دبانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، متوازن غذا اور ورزش کے ساتھ دار چینی کا استعمال وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دار چینی کے سپلیمنٹس لینے سے BMI اور جسمانی وزن میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات:

دار چینی میں پولیفینول شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جسم میں آکسیڈیٹیو تناؤ اور سوزش کو کم کرتا ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال دائمی بیماریوں سے بچانے میں مدد کرتا ہے اور مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔کولیسٹرول کنٹرول:

ماہرین کا خیال ہے کہ دار چینی نہ صرف برے کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہے بلکہ اچھے کولیسٹرول کو بھی بڑھاتی ہے۔

بالآخر 30 دنوں تک دار چینی کا پانی پینے سے کچھ ہلکے فوائد مل سکتے ہیں، جیسے کہ خون میں شکر کی سطح کو مستحکم کرنا، ہاضمہ کو بہتر بنانا، اور میٹابولزم کو بڑھانا۔ تاہم، یہ راتوں رات وزن میں کمی یا آپ کی صحت میں زبردست تبدیلیوں کا باعث نہیں بنے گا۔ اسے ہمیشہ اعتدال میں کھائیں، اور اگر آپ کو اپنی صحت پر اس کے اثرات کے بارے میں کوئی تشویش ہے تو صحت کی دیکھ بھال کرنے والے سے مشورہ کریں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے ذمہ داران نے NEET 2026 کامیاب طالب علم کی حوصلہ افزائی کی*


مالیگاؤں: مورخہ 20 جولائی 2026 بروز پیر بعد نماز مغرب مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے کارگزار چیئرمین جناب حسین اختر صاحب اور سی ای او ڈاکٹر سید شعیب ہاشمی صاحب نے شہر مالیگاؤں میں NEET 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علم حافظ عمرین عبداللہ مبین احمد کی حوصلہ افزائی کی۔

اکیڈمی کے ذمہ داران سینئر صحافی عبدالحلیم صدیقی اور سلیم خان سر پیلا پھیٹا کی رہنمائی میں اپنے احباب کے ہمراہ ڈاکٹر مبین نذیر کی رہائش گاہ "گلشن عائشہ" پہنچے۔ وہاں انہوں نے حافظ عمرین عبداللہ کو اس ممتاز کامیابی پر مبارکباد دی اور اپنے مفید مشوروں کے ساتھ دعاؤں سے بھی نوازا۔

اس پروقار تقریب کے انعقاد میں محمد آمین اور حافظ محمد یاسین صاحبان کی خصوصی کاوشیں شامل تھیں۔











*🛑ندی میں سیلابی کیفیت الرٹ*
از قلم *شعیب احمد محمدی*

_1. *جان کی حفاظت اسلام کی اولین تعلیم*_  
اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا:  
_"ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة"_  
_"اور اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو"_ _سورہ البقرہ: 195_

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جان بہت قیمتی ہے۔ پانی کا بہاؤ، سیلاب، ندی کا تیز دھارا یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں۔ احتیاط کرنا، الرٹ پر عمل کرنا یہ بھی عبادت ہے۔  
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: _" تداوی (پرہیز) اور احتیاط کرو"_۔ لہٰذا انتظامیہ کی بات ماننا، بچوں کو ندی سے دور رکھنا یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے۔

_2. *ذمہ دار شہری بنیں*_  
جب بھی ڈیم یا ندی سے پانی چھوڑا جاتا ہے تو سب سے زیادہ خطرہ بچوں، نوجوانوں اور غریب محنت کشوں کو ہوتا ہے جو روزی کے لیے کنارے جاتے ہیں۔  

_آج چھٹی کا دن ہے۔ والدین اپنے لخت جگر چھوٹے بچوں کی پوری نگرانی کریں۔_  
_*خاص تنبیہ*: آج جمعہ کا دن ہے اپنے بیٹے اور بہو کو تنبیہ کریں کہ آپکا بیٹا بہو کو میکے پہنچانے سے پہلے "پانی دکھانے" ندی کے کنارے ہرگز نہ لے جائیں۔ کیونکہ ایک لمحے کی غفلت پورے گھر پر بھاری پڑ سکتی ہے۔_

_ہمارا فرض ہے:_
_1. اپنے گھر، محلے میں سب کو خبر دیں_
_2. کسی کو سیلفی یا ویڈیو بنانے کے لیے ندی کے قریب نہ جانے دیں_  
_3. بزرگوں اور بچوں کا خاص خیال رکھیں_
_4. اگر کوئی پھنس جائے تو فوراً 112 یا مقامی انتظامیہ کو اطلاع دیں_

_ایک ذمہ دار معاشرہ وہی ہے جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنے۔_

_3. *ایک لمحے کی لاپرواہی*، پوری زندگی کا غم_
  
_*اے میرے مالیگاؤں کے بھائیو*!_  
پانی دیکھنے کا شوق، ایک تصویر، ایک ریل بنانے کا جنون... یہ چند سیکنڈ کی خوشی کسی ماں کی گود اجاڑ سکتی ہے۔  
کتنے گھر ایسے اجڑے ہیں جو صرف _"دیکھنے"_ گئے تھے۔ مگر حادثے کا شکار بن گئے ۔

_یاد رکھیں:_  
_ندی کا سکون دھوکہ ہے۔ اوپر سے پانی کم لگتا ہے لیکن اندر بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے۔_

_دعا:_  
_اللہ تعالی ہمارے شہر مالیگاؤں، ہمارے گھروں، ہماری ماؤں، بہنوں، بچوں سب کی حفاظت فرمائے۔_  
_*اللہ ہمیں قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین*۔_

_احتیاط کریں، محفوظ رہیں، دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں_

*نوٹ: اپنے موبائل کے ہر واٹسپ گروپ میں شئیر کریں نوازش ہوگی*











*🛑جنتر منتر پر طلباء پر لاٹھی چارج معاملے میں پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت، چیف جسٹس کریں گے سنوائی*
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر اب سخت موقف اختیار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کی پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے یہ مسئلہ سی جے آئی کے سامنے اٹھایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ طلباء کے احتجاج سے متعلق ایک درخواست دائر کی گئی ہے اور اس کے پاس ڈائری نمبر بھی ملا ہے۔ انہوں نے پولیس پر طلباء کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا الزام لگایا۔ سینئر وکیل نے عدالت سے فوری مداخلت کرنے کی استدعا کی۔ ان کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم پیر کو کیس کی سماعت کریں گے۔

CJI نے کیوں کی میڈیا کی سرزنش ؟
اس سے قبل چیف جسٹس سوریہ کانت نے میڈیا کی کچھ جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی۔ میڈیا نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے طلباء کے احتجاج سے متعلق ایک درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سی جے آئی نے کھلی عدالت میں واضح کیا کہ اس معاملے میں کوئی رٹ پٹیشن دائر نہیں کی گئی ہے۔ عدالت کو صرف ایک خط بھیجا گیا تھا۔ سی جے آئی نے کہا، “یہ مکمل طور پر غلط ہے کہ عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ صبح 10 بجے تک، عدالت میں کیس کا ایک صفحہ بھی داخل نہیں ہوا تھا۔”

انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا غیر ذمہ دارانہ خبریں چلا رہا ہے۔ یہ خط ایڈوکیٹ نریندر مشرا نے بھیجا ہے۔ انہوں نے NEET UG 2026 پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء پر لاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھایا۔ خط میں سپریم کورٹ سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وکیل کی درخواست پر سپریم کورٹ کے بینچ نے ابتدا میں مداخلت سے انکار کیوں کیا؟
اس ہفتے کے شروع میں ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا ۔ انہوں نے طلباء کے خلاف پولیس کی بربریت کا الزام لگایا اور فوری سماعت کا مطالبہ کیاتھا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم ہمارا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ وکیل نے NEET امتحان سے متعلق طلباء کے احتجاج اور پولیس کی کارروائی کے ویڈیوز کا حوالہ دیا۔

بنچ میں شامل جسٹس جویمالیہ باغچی اور وی موہن نے واضح طور پر کہا کہ انہیں ویڈیوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور عدالت کے پاس انہیں دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے فوری طور پر کیس کی سماعت سے صاف انکار کر دیا۔ تاہم اب درخواست دائر کر دی گئی ہے، عدالت پیر کو کیس کی سماعت کرے گی۔

پی ایم کی رہائش گاہ کے باہر اپوزیشن کے ہنگامے پر سینکڑوں وکلاء کا سپریم کورٹ سے مطالبہ ؟
جنتر منتر پر طلباء کے خلاف پولیس کی کارروائی کے بعد سیاست گرم ہو گئی ہے۔ 21 جولائی کو اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنا دیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سمیت کئی لیڈروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ ملک بھر سے سینکڑوں وکلاء نے اب چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ہائی سیکورٹی والے علاقوں میں غیر مجاز مظاہروں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ انتہائی حساس علاقہ ہے اور وہاں اس طرح کے احتجاج سے سیکورٹی اور امن و امان پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ وکلاء نے سپریم کورٹ سے معاملے کی تحقیقات کرنے اور سخت ہدایات جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔

Thursday, 23 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑مشترکہ خطاب جمعہ نمبر299عنوان : موجودہ آزمائشی حالات اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں*
 
*مورخہ،24،جولائی 2026ء بروز جمعہ نماز جمعہ سے قبل مالیگاؤں کی مندرجہ ذیل مساجد میں مذکورہ عنوان پر مشترکہ طور پر خطاب ہوگا ان شاء اللہ!*

1)آسمہ مسجد(نزد اسٹار ہوٹل)بارہ پچاس
مولانا علاءالدین ندوی 

2)نظامیہ مسجد (ساٹھ فٹی روڈ) ایک بجے
حافظ شاداب اختر عرفانیؔ

3) مسجد زینب حجن(گلشن زینب)ایک بجے
مولانا مفتی عبدالمالک کفلیتوی 

4)یوسفیہ مسجد (ہزار کھولی)ایک بجے 
مولانا مجاہد الاسلام ملی

5)محمّدی مسجد (سردارنگر)بارہ پچاس 
قاری وقّاص انجم انوریؔ

6)نذیریہ مسجد (رونق آباد) بارہ پچاس
مولانا عبدالوحید ندوی قاسمی

7)مسجد اشرف بی (باغِ حاجی یاسین)ایک بجے 
مفتی فیصل ملک عثمانی ملّی

8)یعقوب مسجد (نزد زری والا پیٹرول پمپ )ساڑھے بارہ 
مولانا محمد عمران کفلیتوی

9)مسجد زہرہ عبد الصمد (اکبر پورہ )ایک بجے 
ارشد ملک رحمانی

10)مسجد اسماعیل رمضان پورہ بارہ پچاس 
حافظ و ڈاکٹر احمد طلحہ عثمانی

11)مسجد الصادق الامین (دیانہ)ایک پانچ 
مولوی عبدالعزیز ندوی

12)مسجد محسنہ( نعمت باغ )بارہ پچاس 
مفتی محمد فرقان خالد قاسمی

13)نٸی مسجد (اسلامپورہ )ایک بجے 
مولانا عمر فاروق سلطان

14)مسجد عکرمہ (ہنگلاج نگر) ایک بجے 
مولانا ریحان رئیس ندوی

15)مسجد امیر حمزہ(مدنی نگر)ایک بجے 
جناب محمد زید انجینئر

16)مسجد ہاجرہ (محفوظ کالونی)ایک پانچ 
مفتی محمّد فیصل کفلیتوی

17)مسجد ام مختار( ہزار کھولی) بارہ پچاس
مولانا اسجد کمال ندوی

18)مسجد ناصرہ مبارک(سرسید نگر) بارہ تیس 
مولوی محمد سعد

19)مسجد اسماعیل (درے گاؤں)ایک بجے 
مفتی محمد علی ملی

20)مسجد زیتون محمد صادق (زیتون پورہ)بارہ پچاس
مفتی محمد عامر یاسین ملی 

21)مسجد عبداللہ بن مسعود(نیا بس اسٹینڈ)بارہ تیس
مفتی ابوذر بیتی

22)مسجد مریم حجن (رمضانپورہ) بارہ پچاس
مفتی محمدمدثرملی سیفی 

23)مسجد ھلال (ھلال پورہ )بارہ تیس 
مفتی محمد محسن عبدالشکور اشاعتی جامعی

24)جامع مسجد (گیارہ ہزار کالونی) ایک بجے 
مولانا عادل اشاعتی 

25)مسجد امینیہ (آزاد نگر)ایک دس
مفتی ارشد جمال ملی

26)مسجد ابراہیم دم(داتارنگر) بارہ پچاس 
مولانا جمال ناصر ایوبی

27)مسجد باغ گلاب(گلاب پارک)بارہ چالیس 
مفتی عبدالمحسن قاسمی

28)مسجد شعبان (شعبان پورہ)ایک پانچ 
مفتی محمد اسحاق ملی

29)مسجد انوارِ مصطفیٰ (ہزار کھولی)ایک بجے
مفتی عبدالرحیم ملی

30)مسجد سعیدہ حجن (عبداللّٰہ نگر)بارہ پچیس 
ارشد ملک رحمانی

31)نورانی مسجد مرکز (مالیگاؤں)ایک بجے
مولانا شفیق الرحمن فلاحی

32)جونی مسجد (اسلام پورہ)ایک بجے
مولانا محمد یاسین ندوی

33)مسجد عثمان زکریا (ثنا انکلیو) بارہ پچاس 
مفتی محمد اُسامہ انوری

34)مسجد آسمہ مرتضیٰ (پوارواڑی) بارہ پچاس 
مولانا نہال احمد قاسمی

35)الفلاح مسجد (پیپل نیر)ایک بجے
حافظ مبین احمد

36)مسجد ارقم (مہاڈا پلاٹ) بارہ پینتالیس 
مفتی محمد خالد شاہد ملی

37)مسجد بسم اللہ حجن (گلشن آباد)بارہ تیس 
 مولوی عبداللہ

38)مسجد عمر یوسف (گلشیر نگر) بارہ تیس
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی  

39) مسجد کوہ نور (یعقوب نگر) ساڑھے بارہ بجے 
مفتی محمد عامر عثمانی

40) مسجد عبدالرحمن بن عوف (رحمٰن پورہ) ایک بجے 
 حافظ ریحان فردوسی

41) مسجد مولانا محمدالیاس (عباس نگر) ایک دس
 قاری مصدق احمد تجویدی 

42) رابعہ مسجد (باغ محفوظ)
ساڑھے بارہ بجے سے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی

43) مسجد چشمۂ گلاب ( پوارواڑی) سوا بجے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی

44) مسجد رابعہ عبدالغفور(مسلم پورہ)
ایک بیس
قاری نعیم الرحمن پریاگی

برادران اسلام سے گزارش ہے کہ وقت مقررہ پر مساجد میں پہنچ کر اہتمام کے ساتھ جمعہ کا بیان سماعت کریں۔
جاری کردہ: گلشن خطابت گروپ مالیگاؤں










*🛑ہائے یہ جان لیوا روڈ تیری بدقسمتی ہے اور اس سے گذرنے والی عوام کی سخت آزمائش*
گولڈن نگر بلیو برڈ سائزنگ سے رضاپورہ کیفی سوئٹ کارنر تک کا یہ روڈ تقریبا" سال بھر پہلے پرشاسک راج میں کانکریٹ طرز پر تعمیر کے لئے 1 کروڑ کا منظور ہوا تھا۔ مگر انڈر گراونڈ ڈرینج ہونے بعد آج 8 مہینہ گذر چکا اور یہ روڈ کی حالت بد سے بدتر ہوتے جارہی ہے ۔ 1 کروڑ کا فنڈ اللہ بہتر جانے کہاں گیا؟ دوبارہ خبروں کے مطابق معلوم ہوا کہ پھر سے 2 کروڑ سے کا فنڈ منظور ہوا ، اب سوال یہ ہیکہ شب برات گذر گئی ،ماہ رمضان المبارک کا مہینہ گذر گیا، عیدالفطر ، عیدالالضحی ، محرم گذر گیا ہر تہوار پر سننے میں آرہا تھا کہ تہوار بعد یہ روڈ کا کام چالو ہوگا۔ مگر اب تو سرکار مدینہ سرور کائنات حضور ﷺ کی جشن ولادت 12ربیع الاول کی آمد آمد ہے اور جلوس عیدمیلاالنبی رضا مسجد سے نکل کر اس روڈ سے بھی گذرتا ہے۔ کیا اب بھی یہ روڈ کی بدقسمتی ہی رہے گی کہ روڈ کی حالت اسی طرح سے بدتر رہے۔ اور اس روڈ سے گذرنے والی عوام کے لئے یہ سخت آزمائش ہی رہے گی۔ ذرا سوچو کہ اس روڈ سے روزآنہ اسکولی طلبہ و طالبات اور دینی مداراس کے بچے بچیاں اور معلم معلمات کیسے اس روڈ سے گذرتے ہونگے۔ کیا شہر کے تمام سیاسی قائدین کا ضمیر اب بھی اس روڈ کی حالت دیکھ کر جھجھوڑتا نہیں کہ اس روڈ کی پختہ تعمیر کی جائے۔ گولڈن نگر کی عوام اور بالخصوص اسکول و مداراس کے طلبا و طالبات شہر کے تمام سیاسی قائدین اور آس پاس کے وارڈ کے ہر نمائندوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ ذرا اس روڈ کے ایسے خطرناک منظر میں آپ لوگ اچھے اور صاف ستھرے کپڑوں میں اس روڈ سے چل کر بتائیں اور اسکولی و مدارس کے بچوں جیسا پیدل چل کر بتائیں۔ شائد ہوسکتا ہیکہ آپ کا ضمیر آپکو جھجھوڑ کر رکھ دے۔ 

خدارا ایکبار تمام سیاسی لیڈران اس روڈ کے منظر کو خود سفر کرکے دیکھیں اور جلد از جلد اس روڈ کی تعمیر کریں











*🛑برقعہ: اور فیشن* 
*دینی، اخلاقی، سماجی اور فکری پہلو*
*از قلم شعیب احمد محمدی 9284434542*

*1. دینی پہلو*
اسلام میں عورت کے لیے پردے کا حکم اللہ تعالی نے قرآن میں دیا ہے۔

*اللہ تعالی کا حکم:*
وقل للمؤمنات يغضضن من ابصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الا ما ظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن
سورہ النور: 31

*ترجمہ:* اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے۔ اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں۔

*برقعہ پردے کی ایک مکمل شکل ہے*  
اس کا مقصد عورت کے جسم اور زینت کو غیر محرم کی نظر سے بچانا ہے۔
برقعہ کوئی رواج نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔

*صحابیات کا فوری عمل:*
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اللہ رحم کرے انصار کی عورتوں پر۔ جب ولیضربن بخمرهن نازل ہوئی تو انہوں نے اپنے موٹے کپڑوں اور چادروں کے کنارے پھاڑے اور ان سے اپنے سر اور چہرے ڈھانپ لیے۔ گویا ان کے سروں پر کالے کوے بیٹھے ہوں
صحیح بخاری

*دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عورت کی عزت اس کے پردے میں ہے*  
برقعہ عورت کو اللہ سے قریب کرتا ہے اور تقوی کی علامت ہے۔

*2. اخلاقی پہلو*
برقعہ حیا کا لباس ہے۔ حیا ایمان کا حصہ ہے۔
برقعہ پہننے والی عورت معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ میری عزت، میرا وقار، میرا کردار سب سے اہم ہے۔
یہ لباس فحاشی، بے حیائی اور نظر بازی کو روکتا ہے۔ جب عورت پردے میں نکلے گی تو معاشرے میں پاکیزگی اور شرم و حیا کا ماحول بنے گا۔
برقعہ مردوں کو بھی اخلاق سکھاتا ہے کہ وہ عورت کو صرف اس کی ذات اور علم سے پہچانیں، اس کے جسم سے نہیں۔

*3. آج کے فیشن ایبل برقعے: دعوتِ نظارہ یا پردہ؟*

آج فیس بک، انسٹاگرام اور مارکیٹ میں جو برقعے نظر آتے ہیں وہ برقعہ کم اور ڈیزائنر گاؤن زیادہ لگتے ہیں۔

*کیا ہو رہا ہے؟*
*1. نقش و نگار، پھول بوٹے، نگ اور چمکدار اسٹون:* برقعہ جو نظر سے بچانے کے لیے تھا، خود نظروں کا مرکز بن گیا ہے۔

*2. ٹائٹ اور فٹنگ برقعے:* جسم کی ساخت واضح کرنے والے برقعے۔ ایسا برقعہ جسے دیکھ کر نا دیکھنے والا بھی ایک نظر ضرور ڈالتا ہے۔

*3. حد ہوگئی بے شرمی کی*
آج معاشرہ میں روزآنہ ماں ، بہنوں ، پہنے جانے والے لباس اتنی فٹ اور تنگ نہیں ہوتے جتنا کہ اب برقعہ ٹائٹ اور فٹنگ میں ہوتا ہے۔ گویا کہ عام لباس میں خواتین کے جسم کا ابھار فٹنگ میں نا ہونے کی وجہ سے اتنا ظاہر نہیں ہوتا جتنا کہ آج برقعہ پہن کر بے ہودگی کا تماشا دنیا کو دکھایا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ چہرے کی نقاب کی پٹی اتنی چھوٹی سی ہوتی ہے کہ ان کے سینے کا ابھار بالکل واضح دکھتا ہے اور جب کسی عالم، یا داڑھی ٹوپی والے کو یہ خواتین دیکھتی ہیں تو اپنی بے شرمی کو چھپانے کے لیے وہ اس چھوٹی سی پٹی سے اپنا سینہ چھپانے کے لیے نیچے کھینچتی ہیں مگر ناکام رہتی ہیں اللہ کی پناہ

*شعر*
تم شرم و حیا ڈھونڈ رہی ہو میری بہنوں
وہ فاطمۃ الزھراء کے دوپٹے میں ملے گی

*نتیجہ یہ نکلا کہ آج کا برقعہ اللہ اور رسول ﷺ کے حکم پر عمل نہیں رہا، بلکہ دعوتِ نظارہ بن گیا ہے۔*

*اصل برقعہ کیا تھا؟*
صحابیات رضی اللہ عنہا کا برقعہ سادہ، ڈھیلا ڈھالا تھا۔ مقصد صرف ایک تھا - خود کو چھپانا۔
حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا: عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی غیر مرد کو نہ دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اسے دیکھے۔

*غیرت مند مردوں سے ایک اپیل*
او غیرت مند مسلمان بھائی!
اللہ کے واسطے اپنی بیوی، بہن، ماں کو سمجھائیں:
بیٹی! بہن! تم محمد ﷺ کی امت ہو۔ تم فاطمہ الزہراء کی بیٹیاں ہو۔ سادہ برقعہ پہنو، ڈھیلا برقعہ پہنو، جس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو۔
خدارا ایساتنگ اور فٹنگ والا برقعہ شوہر اپنی بیوی کو بھائی اپنی بہن کو پہننے سے روکیں جسے دیکھ کر نواجوان طبقہ بیہودہ فقرے کہتے ہیں کہ دیکھ کیا م۔!!!!

*حل کیا ہے؟*
*1. سادگی اپنائیں:* کالا، ڈھیلا، بغیر ڈیزائن والا برقعہ۔
*2. نیت ٹھیک کریں:* برقعہ لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں، اللہ کو راضی کرنے کے لیے ہے۔
*3. گھر کے سربراہ کا کردار:* مرد گھر کا نگہبان ہے۔

*سبق:*
برقعہ صرف کپڑا نہیں، یہ اللہ کی رضا، حیا کا تاج اور مومن عورت کی پہچان ہے۔

*اللہ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو سچا پردہ نصیب فرمائے*  
اور ہمیں غیرت ایمانی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑کیرالہ میں امیبک میننگوئنسفلائٹس نے 41 لوگوں کی لی جان، نظر آئیں یہ علامات تو ڈاکٹر سے فوری کریں رجوع* کوزی کوڈ ...