بچوں کے دل کی صحت کو سکرین ٹائم کیسے متاثر کرتا ہے؟
ڈیجیٹل دور میں سمارٹ فون، آن لائن کلاسز، ویڈیو گیمز اور سٹریمنگ بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں لیکن حالیہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ حد سے زیادہ سکرین ٹائم صرف بچوں کی توجہ یا مزاج ہی نہیں بلکہ ان کے دل کی صحت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔’جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق بچوں اور نوعمروں میں تفریحی سکرین ٹائم کا ہر اضافی گھنٹہ دل سے متعلق میٹابولک خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز اور طویل سکرین استعمال بچوں میں موٹاپے، بلڈ پریشر اور شوگر جیسے مسائل سے جُڑا ہوا ہے۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
اس مطالعے میں ڈنمارک کے دو طویل المدتی تحقیقی گروپس کے ایک ہزار سے زائد بچوں اور نوعمروں کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔
سکرین ٹائم کی معلومات والدین یا بچوں سے لی گئیں جبکہ نیند اور جسمانی سرگرمی کو جدید آلات کے ذریعے ناپا گیا۔ دل کی صحت کا جائزہ کمر کے گھیراؤ، بلڈ پریشر، اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل)، ٹرائی گلسرائیڈز اور بلڈ شوگر جیسے عوامل سے لیا گیا۔
نتائج
اس تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج کے مطابق چھ سے 10 سال کے بچوں میں سکرین ٹائم کا ہر اضافی گھنٹہ دل کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔اسی طرح سے 18 سال کے نوعمروں میں یہ خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا جبکہ نیند کا دورانیہ ایک اہم عنصر ثابت ہوا، کم یا دیر سے سونے والے بچوں میں دل کی بیمایوں کے خطرات زیادہ دیکھے گئے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہتر نیند سکرین ٹائم کے کچھ منفی اثرات کو کم کر سکتی ہے۔
پاکستان اور خطے کے لیے اہمیت
اگرچہ یہ تحقیق یورپ میں کی گئی ہے مگر ماہرین کے مطابق اس کے نتائج پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
آن لائن تعلیم، موبائل فون کا بڑھتا استعمال اور جسمانی سرگرمی کی کمی کے باعث بچوں میں موٹاپا اور دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کے سکرین ٹائم کو محدود کریں، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کریں اور جسمانی سرگرمیوں کو روزمرہ معمول کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق آج کی چھوٹی تبدیلیاں مستقبل میں بچوں کے دل کو بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
کیا بھارتی طلبہ امریکہ سے دور ہو رہے ہیں؟ امریکی یونیورسٹیوں میں داخلوں میں 45 فیصد کمی، بھارتی بی اسکولز میں درخواستوں میں 25 فیصد اضافہ
گریجویٹ مینجمنٹ ایڈمیشن کونسل (GMAC) کی ایک نئی وائٹ پیپر رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں امریکی یونیورسٹیوں میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں 45 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسی عرصے کے دوران بھارتی مینجمنٹ پروگرامز میں بین الاقوامی درخواستوں میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس تبدیلی کو عالمی بزنس ایجوکیشن کے رجحانات میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ، جو GMAC کے 2025 ایپلیکیشن ٹرینڈز سروے پر مبنی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طویل عرصے سے عالمی تعلیم کے میدان میں غالب رہنے والا شمالی امریکہ اب اپنی کشش کھو رہا ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ نئی ترجیحات کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ویزا پالیسی میں تبدیلیاں، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی تعلیمی لاگت طلبہ کے فیصلوں پر اہم اثر ڈال رہی ہیں۔امریکہ کی مقبولیت میں کمی، یورپ اور ایشیا کا بڑھتا رجحان
رپورٹ کے مطابق 2025 میں یورپ (برطانیہ کے علاوہ) اور ایشیا میں بین الاقوامی درخواستوں میں اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں کمی دیکھی گئی۔ شمالی امریکہ میں غیر ملکی طلبہ کی کم ہوتی دلچسپی کو مقامی درخواستوں میں اضافے سے پورا نہیں کیا جا سکا۔
GMAC کے ایک سروے کے مطابق امریکہ کو ترجیح دینے والے غیر امریکی طلبہ کا تناسب 2019 کے 57 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 42 فیصد رہ گیا۔ اس کے برعکس مغربی یورپ کی مقبولیت 63 فیصد پر برقرار رہی جبکہ ایشیا اور مشرقی یورپ میں دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
وسطی اور جنوبی ایشیا کے طلبہ کی جانب سے اپنے ہی خطے کے تعلیمی اداروں میں درخواستوں میں اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی مینجمنٹ تعلیم میں ریجنلائزیشن کا رجحان تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔
عالمی تعلیمی نقل و حرکت میں بھارت کا دوہرا کردار
اس بدلتے منظرنامے میں بھارت ایک منفرد کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف اب بھی بھارتی بزنس اسکولز میں سے دو پانچویں ادارے امریکہ کو بین الاقوامی طلبہ کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن دوسری جانب بھارتی مینجمنٹ پروگرامز میں بیرون ملک سے درخواستوں میں 25 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اب صرف طلبہ بھیجنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی تعلیمی مرکز کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔
361 بزنس اسکولز پر مشتمل ایک GMAC سروے کے مطابق ایشیا پیسیفک خطے کے 54 فیصد پروگرامز میں 2025 کے فال سیشن میں بین الاقوامی داخلوں میں اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ کے دو تہائی اداروں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ویزا مسائل بھارتی طلبہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ
رپورٹ کے مطابق امریکی جامعات میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں 45 فیصد کمی کی سب سے بڑی وجہ ویزا سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ مئی 2025 میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ ویزا انٹرویوز کو عارضی طور پر معطل کرنے سے درخواستوں کے عمل میں شدید تاخیر پیدا ہوئی۔
متعدد بھارتی طلبہ، جنہوں نے داخلہ حاصل کرنے کے بعد فیس بھی جمع کرا دی تھی، ویزا انٹرویوز اور منظوری میں تاخیر کے باعث مقررہ وقت پر اپنی تعلیم شروع نہ کر سکے۔
GMAC کے مطابق امریکہ کے 90 فیصد تعلیمی اداروں نے بتایا کہ فیس جمع کرانے کے باوجود داخلہ نہ لینے والے طلبہ میں سب سے زیادہ تعداد بھارت سے تھی، جس کی بنیادی وجہ ویزا تاخیر، انکار اور انٹرویو مسائل تھے۔
سیاسی ماحول نے بھی طلبہ کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 کے بعد امریکی تعلیمی پروگرامز میں بین الاقوامی دلچسپی مسلسل کم ہوئی، اور دسمبر 2025 تک 40 فیصد طلبہ نے کہا کہ وہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات کم سمجھتے ہیں۔
پوسٹ اسٹڈی ورک اور کرنسی بحران کا اثر
ویزا مسائل کے علاوہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے مواقع سے متعلق غیر یقینی صورتحال بھی اہم عنصر بن گئی ہے۔ بھارتی طلبہ عام طور پر مہنگی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پوسٹ اسٹڈی ورک پر انحصار کرتے ہیں، لیکن H-1B ویزا پالیسی اور امیگریشن قوانین کے ممکنہ سخت ہونے کی اطلاعات نے طلبہ کو محتاط بنا دیا ہے۔اسی طرح OPT پروگرام، جو F-1 ویزا پر تعلیم مکمل کرنے کے بعد 12 ماہ کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔
مزید یہ کہ ستمبر 2025 میں بھارتی روپے کی قدر میں تاریخی کمی نے بیرون ملک تعلیم کی لاگت مزید بڑھا دی، جس کے نتیجے میں طلبہ اب مہنگے مغربی اداروں کے بجائے کم خرچ متبادل تلاش کر رہے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں سے امریکہ بھارتی طلبہ کے لیے سب سے پسندیدہ تعلیمی مقام رہا ہے، خاص طور پر انجینئرنگ اور بزنس مینجمنٹ کے شعبوں میں۔ تاہم حالیہ برسوں میں سخت امیگریشن قوانین، بڑھتی ہوئی ٹیوشن فیس، عالمی معاشی دباؤ اور ایشیائی تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری نے عالمی تعلیمی رجحانات کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
بھارت میں آئی آئی ایمز اور دیگر نجی بزنس اسکولز کی عالمی درجہ بندی میں بہتری، نسبتاً کم فیس اور بڑھتے صنعتی مواقع نے بھی ملکی اداروں کو زیادہ پرکشش بنا دیا ہے۔
کولکتہ میں ہوئی بارش تو کون کھیلے گا تو سیمی فائنل ؟ ٹیم انڈیا یا ویسٹ انڈیز ، اتوار کو کیسا رہے گا ایڈن گارڈنز کا موسم ؟ کس ٹیم کو زیادہ خطرہ ؟
India vs West indies: نئی دہلی۔ اتوار، 1 مارچ 2026 کو، کولکتہ کے تاریخی ایڈن گارڈنز میں T20 ورلڈ کپ کا ایک ایسا میچ ہونے جارہا ہے جسے “ورچوئل کوارٹر فائنل” کہنا غلط نہیں ہوگا ۔ دفاعی چیمپئن بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والا یہ میچ اس بات کا تعین کرے گی کہ کون سی ٹیم سیمی فائنل میں جگہ پانے میں کامیاب ہوگی ۔ ہندوستانی شائقین صرف بلے بازوں کے چھکوں پر ہی نہیں بلکہ کولکتہ کی اسکائی لائن پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں کیونکہ بارش کھیل کے پوری مساوات کو بگاڑ سکتی ہے۔
سپر 8 مرحلے کے دلچسپ موڑ پر، ہندوستان اور ویسٹ انڈیز دونوں کے پاس 2-2 پوائنٹس ہیں۔ جنوبی افریقہ اس گروپ سے پہلے ہی سیمی فائنل میں جگہ بنا چکا ہے۔ اب دوسری پوزیشن کا مقابلہ سیدھا ہے۔ اگر ہندوستان جیت جاتا ہے، تو وہ 4 پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا، اور نیٹ رن ریٹ (NRR) کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔ اگر ویسٹ انڈیز جیت جاتا ہے تو کیریبین ٹیم 4 پوائنٹس کے ساتھ آگے بڑھ جائے گی، اور بھارت ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا۔بارش ہوئی تو کون جیتے گا؟
شائقین کرکٹ کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر کولکتہ میں بارش ہوئی اور میچ واش آؤٹ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق سپر 8 میچوں کے لیے کوئی ریزرو ڈے نہیں ہے۔ اگر میچ نہیں ہوتا ہے، تو دونوں ٹیموں کو ایک ۔ ایک پوائنٹ ملے گا، اور ہر دونوں ٹیموں کے تین ۔ تین پوائنٹس ہو جائیں گے۔ ایسی صورتحال میں فیصلہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ویسٹ انڈیز کا NRR +1.791 ہے، اور ہندوستان کا NRR -0.100 ہے۔ واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز کا رن ریٹ ہندوستان کے مقابلے بہت بہتر ہے۔ لہذا، اگر میچ واش آؤٹ ہوجاتا ہے تو ویسٹ انڈیز سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرے گا، اور ٹیم انڈیا کا ورلڈ کپ سفر ختم ہو جائے گا۔
ایڈن گارڈنز ویدر اینڈ پچ رپورٹ
اچھی خبر یہ ہے کہ اتوار کو کولکتہ میں بارش کا بہت کم امکان ہے۔ محکمہ موسمیات اور مختلف رپورٹس کے مطابق بارش کا امکان 0فیصد ہے۔ اتوار کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت دن کے دوران 34 ° C اور میچ کے دوران 25-26 ° C کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ ایڈن گارڈنز کی پچ کو بلے بازوں کے لئے بہتر مانی جاتی ہے ، لیکن شام کے وقت اسپنرز کو بھی مدد مل سکتی ہے۔
ٹیم انڈیا کا شاندار فارم
ہندوستان نے زمبابوے کے خلاف 256/4 کا بڑا اسکور بنا کر اپنی فارم کا مظاہرہ کیا۔ ابھیشیک شرما (55)، ہاردک پانڈیا (50 ناٹ آؤٹ)، اور تلک ورما (44) کی بیٹنگ پرفارمنس نے شائقین کی توقعات کو بڑھا دیا ہے۔ کپتان سوریہ کمار یادو اور کوچ گمبھیر کی حکمت عملی اب ویسٹ انڈیز کے پاور ہٹرز پر قابو پانے کی ہوگی۔ ایک بات تو صاف ہے کہ اتوار کا دن ٹیم انڈیا کے لیے کرو یا مرو کا دن ہے، انہیں صرف اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔