آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر، عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض ںجام دے گی کونسل
آیت اللہ علی رضا اعرافی کو ایران کی قیادت کونسل کا فقیہ مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ ملک میں سپریم لیڈر کے فرائض سرانجام دینے والی عبوری قیادت کا حصہ بن گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کونسل عارضی طور پر اس وقت تک سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں ادا کرے گی جب تک نئے رہبر کا باقاعدہ انتخاب عمل میں نہیں آ جاتا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تین رکنی کونسل نہایت اہم آئینی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا قیام ہنگامی یا عبوری حالات میں نظامِ حکومت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی بطور فقیہ شامل ہیں، جبکہ دیگر دو اراکین میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ملک کے چیف جسٹس بھی شامل ہیں۔ تینوں شخصیات مل کر اجتماعی طور پر وہ اختیارات استعمال کریں گی جو عام طور پر سپریم لیڈر کے پاس ہوتے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس عبوری بندوبست کا مقصد ریاستی امور میں کسی بھی قسم کا خلل پیدا ہونے سے روکنا اور آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک نظام کو مستحکم رکھنا ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگانِ رہبری کی ذمہ داری ہے، جو ایک بااختیار ادارہ ہے اور ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے تقرر کا اختیار رکھتا ہے۔میڈیا رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مجلس خبرگانِ رہبری کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک یہی کونسل رہبر کے تمام آئینی اور انتظامی فرائض انجام دیتی رہے گی۔ اس پیش رفت کو ایران کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں آئینی تقاضوں کے مطابق قیادت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے عبوری انتظامات کو بروئے کار لایا گیا ہے۔
ایران نے اسرائیل، قطر اور بحرین پر میزائل داغے، خامنہ ای کی موت کے بعد بھارت میں احتجاج
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی حملے میں مارے گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اس بات کا اعلان کیا تھا جس کی اب ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی ہے۔ اس خبر نے دنیا بھر میں ملے جلے ردعمل کو جنم دیا ہے، جس میں کچھ نے خوشی کا اظہار کیا اور دوسروں نے غم کا اظہار کیا۔
جموں و کشمیر کے لال چوک پر شیعہ مسلمان بھی سیاہ لباس پہن کر جمع ہوئے۔ خامنہ ای کی حمایت اور امریکا کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے خامنہ ای کو تاریخ کے خطرناک ترین لیڈروں میں سے ایک قرار دیا اور ان کی موت کو ایرانی عوام اور دنیا کے لیے “انصاف” قرار دیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای جدید ترین انٹیلی جنس اور ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکتے اور یہ آپریشن اسرائیل کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک پر دوبارہ دعویٰ کرنے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوج اور سیکورٹی فورسز کے بہت سے ارکان اب لڑنا نہیں چاہتے اور استثنیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق اگر وہ ابھی ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو انہیں ریلیف مل سکتا ہے ورنہ بعد میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بمباری جاری رہ سکتی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو پورا ایک ہفتہ جاری رہ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مہم کا مقصد مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن قائم کرنا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے، اور ایران کی جانب سے سرکاری ردعمل کا انتظار ہے۔
ہفتے کی صبح امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائی شروع کی۔ اس بڑے حملے کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کا ایک بیراج فائر کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے تنازع کو دو سے تین دن میں ختم کر سکتے ہیں یا اسے طول بھی دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو امریکہ اسرائیل حملوں سے باز آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری مذاکرات میں مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران معاہدے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
دبئی، قطر اور بحرین جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹ سمیت کئی بین الاقوامی راستے بند ہو گئے۔ تہران میں لڑکیوں کے اسکول میں بم دھماکے میں 108 طالبات کی ہلاکت کی خبر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق یہ حملہ مہینوں کی ’’قریبی اور مربوط منصوبہ بندی‘‘ کا نتیجہ تھا۔اس سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، صدر اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے دفاتر کو حملوں کا ایک سلسلہ نشانہ بنایا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کو “بڑے پیمانے پر اور پائیدار” قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے کھلے عام زور دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہ ایران میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے لوگوں کے لیے نسلوں میں آخری موقع ہے۔
ناگپور کی ایس بی ایل انرجی فیکٹری میں زوردار دھماکہ، 15 مزدور ہلاک، متعدد شدید زخمی
ممبئی: ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناگپور کی کٹول تحصیل کے راؤل گاؤں میں قائم ایس بی ایل انرجی لمیٹڈ کے صنعتی و کانکنی دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والے کارخانے میں اتوار کی صبح زوردار دھماکہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ متعدد کارکن شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق حادثہ صبح کے وقت اس وقت پیش آیا جب فیکٹری میں معمول کے مطابق کام جاری تھا اور تقریباً 20 سے 25 مزدور مختلف شعبوں میں مصروف تھے۔ اچانک ہونے والے شدید دھماکے نے پوری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا جس کے باعث فیکٹری کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی جس سے قریبی دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد آگ کا بڑا گولا اور گھنا دھواں فضا میں بلند ہوا جس کے بعد مزدوروں اور مقامی افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے کم از کم 18 افراد کو فوری طور پر ناگپور کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق متعدد افراد شدید جھلسنے اور دھماکے کے اثرات کے باعث گہرے زخموں کا شکار ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ انتظامیہ متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کر رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی مزید حادثے سے بچا جا سکے۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔ حکام کے مطابق فیکٹری کے حساس حصوں کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی غلط ہینڈلنگ یا حفاظتی اصولوں میں کوتاہی حادثے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ فیکٹری انتظامیہ اور ذمہ دار افسران سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ لائسنس، حفاظتی آلات اور آپریشنل معیار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اور آتش گیر سامان تیار کرنے والی فیکٹریوں میں معمولی لاپرواہی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہاراشٹر سمیت مختلف ریاستوں میں اس نوعیت کے کئی حادثات پیش آ چکے ہیں جنہوں نے صنعتی حفاظتی نظام پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔