Saturday, 28 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*



*اقتدار، ریاکاری اور فحاشی کا 'مہا' گٹھ جوڑ*
 *وسیم رضا خان* 
                              
*مہاراشٹر* کی سیاست اور سماجی ماحول میں پچھلے کچھ دنوں سے جو کچھ بھی رونما ہو رہا ہے، اس نے 'سنسکار' (تہذیب) اور 'ترقی' کے نعروں کو کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔ جب رکشک ہی بھکشک بن جائیں اور روحانی باباؤں کے لبادے میں چھپے درندے معصوموں کا استحصال کریں، تو معاشرے کے زوال کی رفتار کو بھانپنا مشکل نہیں رہ جاتا۔ ڈھونگی بابا اشوک کھرات کا معاملہ صرف ایک مجرمانہ واقعہ نہیں، بلکہ توہم پرستی اور استحصال کی انتہا ہے۔ 'اگھوری ودیا' اور کالے جادو کے نام پر خواتین کو ڈرانا، انہیں 'شراپ' (بددعا) کا خوف دکھا کر ان کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کرنا اور ان کرتوتوں کی فلم بندی کرنا یہ ایک سنگین جرم ہے۔ خبروں کے مطابق، سینکڑوں خواتین کی ویڈیوز کا سامنے آنا یہ بتاتا ہے کہ یہ کھیل برسوں سے اقتدار اور اثر و رسوخ کی سرپرستی میں چل رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ریاکاروں کے دربار میں بڑے بڑے سیاست دانوں کی حاضری کیوں لگتی ہے؟ جب لیڈر ایسے 'باباؤں' کے قدموں میں گرتے ہیں، تو وہ انجانے میں ہی معاشرے کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ مجرم قانون سے بالاتر ہیں۔
صرف ڈھونگی بابا ہی نہیں، بلکہ عوام کے منتخب کردہ نمائندے بھی اخلاقیات کی کسوٹی پر ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ محکمہ خوراک و ادویات کے وزیر نرہری جھروال کی حالیہ وائرل ویڈیو، جس میں وہ مبینہ طور پر ایک ٹرانس جینڈر کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں نظر آ رہے ہیں، سیاست کے گرتے ہوئے معیار کا ثبوت ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے؛ اس سے پہلے کریٹ سومیا جیسے سینئر لیڈروں کی ویڈیوز بھی عوامی بحث کا موضوع بن چکی ہیں۔ جب اقتدار کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ غیر فطری یا غیر اخلاقی کاموں میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھٹک جاتے ہیں۔ ان کی پوری توجہ عوامی خدمت کے بجائے اپنے 'عیاش' کارناموں کو چھپانے اور بلیک میلنگ سے بچنے میں لگی رہتی ہے۔
ان گندے کرتوتوں کا نتیجہ نہ صرف حال پر، بلکہ آنے والی نسل پر بھی بہت گہرا ہوگا۔ اگر مجرم اور بدکردار لوگ حکومت چلائیں گے، تو نوجوان نسل کے دلوں سے قانون اور اخلاقیات کا خوف اور احترام ختم ہو جائے گا۔ جو لیڈر اپنی راتوں کو رنگین کرنے میں مصروف ہیں، وہ ریاست کی صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کیسے حل کریں گے؟ جب حکومتیں اپنے 'داغی' وزیروں یا حمایت یافتہ باباؤں کا دفاع کرتی ہیں، تو وہ مجرموں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ اقتدار کی سرپرستی ہی سب سے بڑی ڈھال ہے۔
اب خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے، جمہوریت میں عوام ہی سب سے طاقتور ہیں۔ اگر عوام کے منتخب کردہ نمائندے ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو انہیں صرف انتخابات میں ہرانا کافی نہیں ہے۔ عوام کو متحد ہو کر ایسے لیڈروں کی فوری برطرفی اور سماجی بائیکاٹ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی حکومت اپنے کرپٹ اور بدکردار وزیروں کا سہارا بنتی ہے، تو اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ ملک کی ترقی کنکریٹ کی سڑکوں سے نہیں، بلکہ شہریوں اور ان کے لیڈروں کے مضبوط کردار سے ہوتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم 'عیاش' لیڈروں کے جال سے نکل کر ایک جوابدہ اور پاکیزہ سیاست کا مطالبہ کریں۔











جمعیتہ العلماء دفتر میں ممبئی ہائی کورٹ کے معروف وکیل نکھل ہیرے کی اہم ملاقات
مالیگاؤں — مورخہ ۲۸ مارچ کو ممبئی ہائی کورٹ کے معروف کریمنل کاؤنسل شری نکھل ہیرے نے جمعیتہ العلماء (مدنی روڈ، مالیگاؤں) کے دفتر کا خصوصی دورہ کیا اور جمعیت کے ذمہ داران سے ایک اہم ملاقات کی۔
یہ خوش آئند ملاقات ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ مومن بلال احمد کی کوششوں اور ایما پر عمل میں آئی، جنھوں نے جمعیت اور نکھل ہیرے جیسی اہم قانونی شخصیت کے درمیان یہ رابطہ استوار کیا۔
ملاقات کے دوران ایڈوکیٹ نکھل ہیرے نے جمعیتہ العلماء کی خدمات اور کارکردگی پر اطمینان و مسرت کا اظہار کیا۔ انھوں نے یقین دلایا کہ مالیگاؤں جمعیت جب بھی انھیں ضرورت کے وقت یاد کرے گی، وہ بھرپور قانونی تعاون فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
اس موقعہ پر محترم ایڈوکیٹ ریاض احمد، جناب انیس فہمی اور جناب طاہر صدیقی بھی موجود تھے۔ آخر میں جناب انیس فہمی نے ایڈوکیٹ نکھل ہیرے کا ان کی قیمتی مشوروں اور یقین دہانی پر، نیز ایڈوکیٹ مومن بلال احمد کا اس ملاقات کے اہتمام پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔











مضمون: قومی یکجہتی کی بہترین مثال
امبیکا مندر، دیویکا ملا کے مقدس مقام پر ایک نہایت دل کو چھو لینے والا منظر دیکھنے کو ملا، جہاں انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا خوبصورت اظہار کیا گیا۔ یہ انتظام صرف ایک خدمت نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی ایک شاندار مثال ہے جو ہمارے معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہے۔

انصاری نوشاد سیٹھ، مسعود مमता ڈیری، منّا بھائی بنارسی اور فیاض صاحب (مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن) جیسے ذمہ دار اور درد مند افراد کی مشترکہ کوششوں سے یہاں تقریباً 10,000 عقیدت مندوں کے لیے ناشتے، کھانے پینے اور طبی سہولیات کا بہترین انتظام کیا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی خدمت کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہے، مگر ان حضرات نے اپنی محنت، لگن اور خلوص سے اسے ممکن بنا دیا۔

یہ منظر واقعی قابلِ دید تھا کہ مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر خدمت انجام دے رہے تھے۔ کہیں بھی کسی قسم کا امتیاز یا تفریق نظر نہیں آئی بلکہ ہر طرف محبت، احترام اور انسانیت کا جذبہ نمایاں تھا۔

اس طرح کے اقدامات نہ صرف معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کرتے ہیں۔ یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو اور ارادے مضبوط ہوں تو ہر مشکل آسان ہو سکتی ہے اور ہر فرق کو مٹا کر ایک متحد قوم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

آخر میں، ہم ان تمام افراد کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی مصروفیات کے باوجود عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھا۔ یہ عمل یقیناً قومی یکجہتی، بھائی چارے اور انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کی محنت کو قبول فرمائے اور انہیں اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔

*🛑سیف نیوز اُردو*



برطانوی فوج کو مرنے کیلئے نہیں بھیجوں گا، وزیراعظم اسٹار نے ٹرمپ کو دکھائی ان کی اصلی جگہ، ایران میں ہار رہا ’سپرپاور‘ امریکہ
لندن : دنیا کی سیاست میں ایک بہت بڑا زلزلہ آ گیا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر نے امریکہ کو براہِ راست چیلنج دے دیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بہت کرارا جواب دیا ہے۔ اسٹارمر نے صاف کہا ہے کہ وہ برطانوی فوجیوں کو مغربی ایشیا میں ایران کے خلاف جاری جنگ میں مرنے کے لیے نہیں بھیجیں گے۔ ٹرمپ مسلسل برطانیہ پر فوج بھیجنے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔ اسی بات پر اسٹارمر شدید غصے میں آ گئے۔

انہوں نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا۔ کیر اسٹارمر نے کہا کہ آپ میرا جتنا چاہیں مذاق اُڑا سکتے ہیں، لیکن میں برطانوی بچوں کو آپ کی ہارتی ہوئی جنگ میں مرنے کے لیے بالکل نہیں بھیجوں گا۔ اس بیان کے بعد امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ پوری دنیا اس تلخ زبانی جنگ کو دیکھ کر حیران ہے۔غصے میں آئے برطانوی وزیراعظم اسٹارمر
امریکہ مسلسل اپنے اتحادیوں پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ برطانیہ بھی اس جنگ میں اپنی فوج بھیجے۔ لیکن کیر اسٹارمر نے اس مانگ کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کی جان کو سب سے اوپر رکھا ہے۔

ہارتی ہوئی جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گے
اسٹارمر کا یہ بیان بہت بڑا سیاسی معنی رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکی جنگ کو ایک ہارتی ہوئی جنگ بتا دیا ہے۔ یہ ٹرمپ کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی بے عزتی ہے۔ اسٹارمر نے صاف کر دیا کہ وہ آنکھیں بند کرکے امریکہ کے پیچھے نہیں چلیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخالفین کا مذاق اُڑانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اسٹارمر نے اسی بات کو لے کر اُن پر براہِ راست طنز کیا ہے۔ کیر اسٹارمر نے کہا : آپ میرا جتنا چاہیں مذاق اُڑا سکتے ہیں۔ میں کسی بھی قیمت پر برطانوی نوجوانوں کو مرنے کے لیے نہیں بھیجوں گا۔امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں تلخی
اس تلخ بیان بازی سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی خراب ہو گئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ ہمیشہ سے مضبوط اتحادی رہے ہیں۔ لیکن اب اس جنگ کو لے کر دونوں کے درمیان گہری دراڑ آ گئی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔








بنگلہ دیش کا دوہرا گیم! پہلے پاکستان کو دیا جھٹکا، اب فوجی سربراہ امریکہ روانہ، ایران جنگ کے درمیان کیا ہوگا کوئی بڑا کھیل؟
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے 25 مارچ کو ‘نسل کشی کا دن’ مناتے ہوئے پاکستان کو نشانہ بنایا تھا۔ 1971 میں پاکستان کی جانب سے بنگالی لوگوں پر کیے گئے مظالم کو انہوں نے سب سے شرمناک اور ظالمانہ دنوں میں سے ایک بتایا۔ یہ بات پاکستان کو پسند نہیں آئی۔ اب اسی دوران بنگلہ دیش امریکہ کے ساتھ قربت بڑھانے لگا ہے۔ بنگلہ دیش کے آرمی چیف وقار الزمان امریکہ کے دورے پر جا رہے ہیں۔ 29 مارچ سے وہ امریکہ کے پانچ روزہ دورے پر جائیں گے۔ آرمی چیف بننے کے بعد یہ ان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ اس دورے کی ٹائمنگ نہایت خاص ہے۔ وہ ایسے وقت میں امریکہ جا رہے ہیں، جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔

انتخابات کے بعد پہلا دورہاس دورے کی ٹائمنگ اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ حال ہی میں 12 فروری کو ہوئے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ جماعتِ اسلامی اپوزیشن کے کردار میں آئی ہے۔ دوسری طرف شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابات لڑنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی تھی، جس پر سابق عبوری حکومت نے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت پابند عائد کردی تھی ۔ جنرل وقار الزمان خود اس پورے سیاسی تبدیلی کے مرکز میں رہے ہیں۔ اگست 2024 میں شیخ حسینہ حکومت کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت تقریباً 18 ماہ تک اقتدار میں رہی۔امریکہ کیوں جا رہے ہیں بنگلہ دیش کے فوجی سربراہ؟
اب ایسے ماحول میں ان کا امریکہ کا دورہ کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ آفیشیل معلومات کے مطابق، انہیں جارجیا کے سینیٹر شیخ رحمان نے اسٹیٹ کیپیٹل آنے کی دعوت دی ہے۔ اس دورے میں ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور کئی سینئر فوجی افسران بھی شامل ہوں گے۔ یہ دورہ محض رسمی نہیں سمجھا جا رہا۔اس سے قبل اکتوبر 2024 میں بھی جنرل زمان امریکہ اور کینیڈا گئے تھے، جہاں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشن، دفاعی تعاون اور فوجی صلاحیت بڑھانے جیسے امور پر بات چیت کی تھی۔ اس دورے کا مقصد واضح طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔









اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اسرائیلی سفیر کی بے بسی، سائرن بجا کر اسرائیلی شہریوں کے خوف کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل کی بے بسی کا ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اچانک سائرن بجا کر اور 15 سیکنڈ کا ٹائمر چلا کر ارکان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ میزائل حملوں کے دوران شہری کس ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم اس اقدام پر تنقید بھی سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ اسی نوعیت کا بلکہ اس سے شدید خوف فلسطین اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی دیکھا جاچکا ہے۔اجلاس میں اچانک سائرن کی آواز

اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اچانک سائرن فعال کیا اور 15 سیکنڈ کا ٹائمر شروع کر دیا۔ ان کا مقصد اسرائیلی شہریوں کو درپیش ہنگامی صورتحال کو عالمی برادری کے سامنے واضح کرنا تھا۔ ڈینن نے کہا کہ بعض اوقات اسرائیل میں شہریوں کے پاس صرف 15 سیکنڈ ہوتے ہیں کہ وہ محفوظ مقام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہ وہ وقت ہے جس میں آپ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ پہلے کس بچے کو لے کر بھاگیں، کیا دوسروں کے لیے واپس جائیں یا کسی بزرگ والدین کی مدد کریں۔ کبھی کبھار یہ 15 سیکنڈ بھی ختم ہو جاتے ہیں اور آپ محفوظ مقام تک نہیں پہنچ پاتے۔‘‘

فلسطین میں خوف کی صورتحال

ناقدین کا کہنا ہے کہ جس خوف کا ذکر اسرائیلی سفیر نے کیا، اسی طرح کا بلکہ اس سے زیادہ شدید خوف فلسطینی علاقوں میں بھی طویل عرصے سے موجود رہا ہے۔ فرق یہ بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو اکثر ایسے سائرن یا بروقت انتباہی نظام بھی دستیاب نہیں ہوتے، جس سے ان کے لیے محفوظ مقام تک پہنچنا مزید مشکل ہو جاتا تھا۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال ایران میں بھی ہے، انہیں بھی حملے سے قبل کسی سائرن یا انتباہ کا کوئی موقع نہیں ملتا ہے۔

ایران-اسرائیل کشیدگی کا تناظر

اسرائیل پر ایران کے حملوں کے نئے دور نے اسرائیلی شہریوں کے لیے زندگی مشکل بنادی ہے۔ میزائل ڈیفنس سسٹم کی ناکامی اور بنکروں میں بھاگنے کی کوششوں نے ان کے ذہن ودماغ میں خوف اور بے بسی کی نئی لہر پیدا کردی ہے۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اس صورتحال کا اہم پہلو ہے۔ یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ جب رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے ردعمل میں جوابی کارروائی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور ایسی صورت میں ہر فریق کو ممکنہ نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر حملے کا آغاز کیا اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا تو اب اسے بھی جوابی کارروائی کو پورے صبر اور سکون کے ساتھ جھیلنا چاہئے۔ یواین میں اس طرح کی بے بسی کو دکھانا اور دنیا سے رحم طلب نظروں کی امید رکھنا اسرائیل کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

خطرے کو جڑ سے ختم کریں گے

اسرائیلی وفد کے مطابق سائرن کی آواز نے اجلاس میں موجود افراد کی فوری توجہ حاصل کی اور کچھ سفیروں کے چہروں پر واضح تناؤ دیکھا گیا۔ ٹائمر کے دوران ماحول سنجیدہ ہو گیا تھا۔ ڈینن نے اپنے خطاب میں کہا: ’’جب بھی ہم سے کہا گیا کہ رک جائیں اور سفارت کاری کو موقع دیں، دہشت گردی نے اس وقت کو دوبارہ مسلح ہونے کے لیے استعمال کیا۔ اسرائیل اب ایسے حل کی طرف واپس نہیں جائے گا جو اگلی جنگ کی ضمانت بنے۔ اس بار ہم خطرے کو اس کی جڑ سے ختم کریں گے۔‘‘









Friday, 27 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*ادارہ نثری ادب کی233 ویں ماہانہ ادبی نشست*
*ادارہ نثری ادب کی233 ویں ماہانہ ادبی نشست* 


*ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(233) بتاریخ 28 مارچ 2026ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں ہوگی- صدارت کے فرائض محترم ڈاکٹر مبین نذیر صاحب (معروف انشائیہ نگار و کہانی کار، اسسٹنٹ پروفیسر سٹی کالج)انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) ہارون اختر (افسانہ نگار) رشید آرٹسٹ و عظمت اقبال صاحبان اپنی تخلیقات پیش کریں گے- پیش کی گئی تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہوگی- نظامت کے فرائض محمد امین سر انجام دیں گے اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ، زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-*









امریکہ-اسرائیل اور ایران پر حملوں میں حوثی کی ’انٹری‘، ایرانی میڈیا کا بڑا دعویٰتہران: ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ 28 فروری سے شروع ہونے والے اس حملے کو تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے، لیکن دونوں فریقین کے درمیان اب تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اس دوران امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے خلاف حوثی باغیوں کی انٹری ممکن ہو سکتی ہے۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغی اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹ میں بغیر نام لیے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ حوثی، جنہیں یمنی انصار اللہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، باب المندب اسٹریٹ پر قبضہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پہلے کے اقدامات اور موجودہ صورتحال

اکتوبر 2023 سے یہ باغی گروپ پہلے ہی لال سمندر میں کشیدگی کی صورتحال پیدا کیے ہوئے ہے اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں کا بدلہ لینے کے لیے سیکڑوں اسرائیلی ٹھکانوں پر گولہ باری کر چکے ہیں۔ امریکی میڈیا سی این این کے مطابق، حوثی نے امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس سے دنیا بھر میں تجارتی راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی بحری افواج جہازوں کو اسکورٹ کر رہی ہیں، لیکن اگر حوثی باب المندب اسٹریٹ پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کے متبادل راستے مزید محدود ہو جائیں گے۔

کیا ہے باب المندب اسٹریٹ کی اہمیت؟

باب المندب اسٹریٹ بحیرہ روم اور عربی سمندر کے درمیان ایک اہم راستہ ہے، جو یورپ کو افریقہ اور وہاں سے آگے کے سمندروں میں ایشیا سے جوڑتا ہے۔ ان سب کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بھی باتیں چل رہی ہیں۔

ایران کا موقف اور ثالثی کے ذریعے پیغامات

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق، ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ حالانکہ، ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تیسرے فریق کے ذریعے ہلکا پھلکا پیغام رسانی ہوئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں ثالثوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان مختلف پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، لیکن گزشتہ ماہ کے آخر میں ملک پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے واشنگٹن کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے ہیں۔

انہوں نے سرکاری ٹی وی چینل آئی آر آئی بی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’کچھ دنوں سے امریکی فریق مختلف ثالثوں کے ذریعے الگ الگ پیغامات بھیج رہا ہے۔ جب دوست ممالک کے ذریعے ہمیں پیغام بھیجا جاتا ہے اور ہم جواب میں اپنی پوزیشن واضح کرتے ہیں یا ضروری انتباہ جاری کرتے ہیں تو اسے نہ مذاکرات کہا جاتا ہے اور نہ ہی مکالمہ۔ یہ صرف دوستوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہے، اور ہم نے اپنی نظریاتی پوزیشن دہرائی ہے۔‘‘








پھیپھڑوں کے کینسر کی چھ ایسی غیرمعمولی علامات جنہیں جاننا ضروری ہے
پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں سرطان سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تحت کام کرنے والی انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق سال 2022 میں پھیپھڑوں کا سرطان دنیا بھر میں سب سے زیادہ تشخیص کیا جانے والا کینسر رہا۔
ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے سرطان کی سب سے بڑی وجہ ہے اور تقریباً 85 فیصد کیسز اسی سے منسلک ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ زیادہ تر مریضوں میں اس بیماری کی تشخیص اُس وقت ہوتی ہے جب کینسر اپنی آخری یا ایڈوانس سٹیج میں داخل ہو چکا ہوتا ہے، جس کے باعث علاج محدود یا کم مؤثر رہ جاتا ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی علامات اکثر معمولی، غیر واضح یا پھیپھڑوں کے مسائل سے متعلق نہیں ہوتیں۔ ان علامات کو بروقت پہچان کر مریض جلد تشخیص اور بہتر علاج کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
1۔ فنگر کلبنگ
انگلیوں یا پاؤں کے سروں کا چوڑا ہونا اور ناخنوں کا اوپر کی جانب مڑے ہوئے چمچ جیسے انداز میں بدل جانا فنگر کلبنگ کہلاتا ہے۔ یہ کیفیت خون میں آکسیجن کی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے، جو پھیپھڑوں میں رسولی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ بالغ افراد میں کلبنگ کی بڑی وجہ پھیپھڑوں کا کینسر بتایا جاتا ہے۔
2۔ کندھے یا بازو میں درد
کندھے، بازو یا کلائی کی اندرونی جانب دیرپا درد پین کوسٹ ٹیومر کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک نایاب قسم ہے جو پھیپھڑے کے اوپری حصے میں بنتی ہے اور اعصاب پر دباؤ ڈالتی ہے۔
3۔ آواز میں بھاری پن
چند ہفتوں تک جاری رہنے والی بھاری آواز اس وقت پیدا ہوتی ہے جب رسولی آواز کی رگوں کو قابو کرنے والے اعصاب پر دباؤ ڈالتی ہے۔
4۔ بالائی جسم میں سوجن
چہرے، گردن یا بازو میں اچانک سوجن ہونا سپیریئر وینا کیوا کے دباؤ کی علامت ہے، جو عموماً پھیپھڑوں کے چھوٹے خلیوں والے سرطان میں دیکھا جاتا ہے۔
5۔ ہارنر سنڈروم
آنکھ کی پتلی کا سکڑ جانا، پلک کا لٹک جانا اور چہرے کے ایک جانب پسینہ نہ آنا اس سنڈروم کی اہم نشانیاں ہیں، جو اعصاب کو نقصان پہنچنے سے پیدا ہوتا ہے۔
6۔ حد سے زیادہ پیاس اور پیشاب
خون میں کیلشیئم کی زیادتی پھیپھڑوں کے کچھ سرطانوں میں دیکھی جاتی ہے، جس سے مریض غیر معمولی پیاس، بےچینی اور اُلجھن محسوس کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان علامات کو سنجیدگی سے لینا اور فوری تشخیص کروانا مریض کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔





پی ایم مودی کی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ،مغربی ایشیا کے بحران پرہوگی بات چیت،ممتا بنرجی نہیں کریں گی شرکت
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی فی الحال ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ہے حالانکہ مذاکرات کے دعوے اور اس کی تردید کی خبریں سرخیوں میں ہیں اور اس بیچ حملے بھی جاری ہیں ۔اس جنگ کے سبب پوری دنیا پریشان ہے ۔ بھارت بھی اچھوتا نہیں ہے۔جنگ سے پیداشدہ صورتحال اوراثرات پر پی ایم مودی آج ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات کریں گے۔

قابل غور بات ہے کہ اس اجلاس میں پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما پی ایم مودی کی میٹنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیوں؟ اس ورچوئل میٹنگ میں کچھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟یہ پہلا موقع ہے جب پی ایم مودی مغربی ایشیا کے تنازع کے حوالے سے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کریں گے۔ یہ تنازع 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملے سے شروع ہوا۔ ایران نے اپنے خلیجی پڑوسیوں اور اسرائیل پر حملہ کر کے جوابی کارروائی کی ہے۔

پی ایم مودی آج (جمعہ) شام 6 بجے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کریں گے تاکہ مغربی ایشیا کے تنازع کے لیے ریاست کی تیاریوں اور منصوبوں کا جائزہ لیا جا سکے۔جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں وہاں کے وزرائے اعلیٰ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کی وجہ سے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔
کابینہ سکریٹریٹ تمل ناڈو، مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری کےچیف سکریٹریوں کے ساتھ ایک میٹنگ الگ سے کرے گا۔پرائم منسٹر مودی نے گزشتہ پیر کو لوک سبھا میں کہا تھا کہ مغربی ایشیا میں تنازعات سے پیدا ہونے والے بے مثال بحران کے دیرپا اثرات مرتب ہوں گے اور حکومت اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور اس سے ہندوستان کو درپیش چیلنجوں پر توجہ دیتے ہوئے پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ شہریوں کو اس بحران کا اسی طرح سامنا کرنا پڑے گا جس طرح انھوں نے کووڈ وبا کا کیا تھا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*



بالین شاہ بنے نیپال کے وزیراعظم ، عہدے کا لیا حلف
نیپال میں جنریشن زیڈ نے گزشتہ سال اقتدار میں تبدیلی لانے کا جو عہد کیا تھا وہ آج پورا ہو گیا ہے۔ نیپال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما بالین شاہ نے ملک کے نئے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ نیپال کے 47ویں وزیر اعظم بنے۔ صدر رام چندر پوڈیل نے انہیں آئین کے آرٹیکل 76(1) کے تحت اس عہدے پر مقرر کیا۔

بالین شاہ نے جمعہ کو رام نومی کے موقع پر کھٹمنڈو میں ایک عظیم الشان تقریب میں وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا۔ انہوں نے کھٹمنڈو کے صدارتی محل شیتل نواس میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12:34 پر حلف لیا۔ اہم بات یہ ہے کہ حلف برداری کی تقریب ہندو رسومات کے مطابق منعقد کی گئی ۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد، ایک انتہائی جذباتی لمحے کا مشاہدہ کیا گیا جب انہوں نے عبوری وزیر اعظم سشیلا کارکی کو گلے لگایا۔ گزشتہ سال جنریشن زیڈ کے احتجاج کے بعد نیپالی سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کو عبوری وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔بالین شاہ نے سابق وزیراعظم کو دی شکست
بالین شاہ کے وزیر اعظم بننے کا راستہ اس وقت صاف ہو گیا جب ان کی پارٹی راشٹریہ سواتنتر پارٹی نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ جس کے بعد جمعرات کو انہیں پارٹی کا پارلیمانی لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس الیکشن میں بالین شاہ نے سابق وزیر اعظم کے پی کو شکست دی۔ انہوں نے جھپا-5 سیٹ پر 49,614 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ شاہ کو 68,348 ووٹ ملے جبکہ اولی کو صرف 18,734 ووٹ ملے۔ اس فتح کو 1991 کے بعد نیپال کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے بڑی فتح مانا جاتا ہے۔

کھٹمنڈو کے میئر رہ چکے ہیں بالین
بالین شاہ کی سیاست میں انٹری کافی دلچسپ رہی ہے۔ انہوں نے پہلی بار 2022 میں الیکشن لڑا اور کھٹمنڈو میٹروپولیٹن میونسپلٹی کے میئر بنے۔ وہ اس وقت ایک آزاد امیدوار کے طور پر جیتے، جس نے انہیں ملک بھر میں پہچان دی۔ 27 اپریل 1990 کو کھٹمنڈو میں پیدا ہونے والے بالین شاہ کا انجینئرنگ کا پس منظر ہے۔ انہوں نے بھارت میں Visvesvaraya ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے اسٹرکچرل انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انھوں نے پہلے کھٹمنڈو سے بیچلر کی ڈگری مکمل کی تھی۔بالین نے انجینئرنگ کی بھی حاصل کی تعلیم
ان کی انجینئرنگ کی تعلیم نے انہیں شہری ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے بارے میں گہری سمجھ دی، جو ان کے میئر کے دور میں واضح تھی۔ اب وزیر اعظم بننے کے بعد ان سے توقع ہے کہ وہ اس تجربے کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں گے۔ نیپال کی سیاست میں اس تبدیلی کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ایک نوجوان اور غیر روایتی رہنما براہ راست اقتدار کی چوٹی تک پہنچ گیا ہے۔









ایران کی ٹرمپ کے دعوے کی تردید، توانائی کی تنصیبات پرحملہ مؤخرکرنے کے لیے نہیں کی گئی درخواست
جنگ بندی کے دعوؤں اور بیان بازیوں کے بیچ جنگ جاری ہے۔اس دوران ،امریکی صدرٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے ہی سرخیوں میں ہیں۔ ٹرمپ نے ایک اور دعویٰ کیا ہے۔انھوں نے 6 اپریل تک ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ان سے حملہ ٹالنے کے لیے7 دنوں کی مہلت مانگی تھی۔

تاہم اب ایران نے ٹرمپ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امن مذاکرات کی سعی میں شامل ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ سے درخواست نہیں کی گئی۔ یہ بیان ٹرمپ کے دعوے کو چیلنج کرتا ہے۔ اگر ایران کی بات مانی جائے تو ٹرمپ دوسری بار حملہ کرنے سے پیچھے ہٹ گئےہیں اور فضیحت نہ ہو ایسا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جیسے ایران ان سے التجا کر رہا ہے۔ایران کی درخواست پرحملہ مؤخرکرنے کا اعلان

دراصل ، ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو 10 دن کے لیے مؤخرکر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایران کی درخواست پر کیا گیا ہے اور یہ کہ مذاکرات بہت اچھی طرح سے جاری ہیں ۔ ٹرمپ نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ایران نے سات دن کا وقت مانگا تھا لیکن انھوں نے 10 دن کی توسیع دے دی۔ تاہم ٹرمپ کے بیان کے چند گھنٹے بعد ہی ایران نے واضح کیا کہ اس نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو وہ 48 گھنٹوں کے اندر ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کر دیں گے۔ اس کے بعد انھوں نے ڈیڈ لائن میں پانچ دن کی توسیع کی اور اب اسے 10 دن تک بڑھا دیا ہے۔تہران کا مذاکرات سے انکار

تہران کا موقف بالکل واضح ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکہ کی 15 نکاتی امن تجویز پر تاحال کوئی حتمی جواب نہیں دیا ہے۔ اگرچہ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا گیا ہے، تاہم کئی شرائط کو انتہائی سخت قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔ ایران خاص طور پر اپنے میزائل پروگرام اور یورینیم کی افزودگی سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں کو مستقل طور پر ختم کرنے کا کوئی عہد نہیں کرے گا۔









پیٹرول۔ڈیزل کی ایکسائزڈیوٹی میں کمی، حکومت کا بڑا فیصلہ
مرکزی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) سے متعلق ٹیکس اور برآمدی ضوابط میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ پیٹرول پر ایکسائزڈیوٹی 13 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 3 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر سے کم کر کے صفر کر دی گئی ہے۔ تاہم، اس کے نتیجے میں خوردہ قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تمام نئے ضوابط فوری طور پر نافذ ہو گئے ہیں۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں ٹیکس کے ڈھانچے کو معقول بنانا اور برآمدات سے متعلقہ دفعات کو واضح کرنا ہے۔

حکومت نے پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) اور ATF پر ضوابط 18 اور 19 کی دفعات کو لاگو نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سینٹرل ایکسائز رولز، 2017 میں ترمیم کی ہے۔ تاہم، یہ تبدیلی پبلک سیکٹر آئل کمپنیوں (PSUs) کو راحت فراہم کرتی ہے۔ اگر یہ کمپنیاں نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو ایندھن برآمد کرتی ہیں تو پرانے ضوابط لاگو ہوں گے اور انہیں وہی رعایت ملتی رہے گی۔ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کیوں ؟
حکومت نے برآمد کے لیے بھیجے جانے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اسپیشل ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی (SAED) کی شرح 18.5 فی لیٹر مقرر کی ہے۔ اس خصوصی ڈیوٹی کو پٹرول (موٹر اسپرٹ) کی برآمد پر صفر کر دیا گیا ہے، جس سے پٹرول کی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید ، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی 3 فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ حکومت نے غیر ملکی ایئر لائنز کو برآمدات اور ایندھن کی فراہمی میں بھی راحت دی گئی ہے۔ اب، جب پیٹرول، ڈیزل، یا اے ٹی ایف غیر ملکی ایئر لائنز کو بطور ایندھن برآمد یا سپلائی کیا جاتا ہے، تو وہ بنیادی ایکسائز ڈیوٹی اور زرعی سیس (AIDC) کے تابع نہیں ہوں گے۔ اس سے بین الاقوامی ہوا بازی کے شعبے کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔

ایوی ایشن فیول پر ایکسائز ڈیوٹی
ہوا بازی کے ایندھن (ATF) کے معاملے میں، حکومت نے خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کو بڑھا کر 50 فی لیٹر کر دیا ہے۔ تاہم، مفاد عامہ میں، ایک مزید نوٹیفکیشن نے ریلیف فراہم کیا ہے، جس نے مؤثر شرح کو کم کر کے 29.5 فی لیٹر کر دیا ہے۔ مزید ، کچھ شرائط کے تحت اس خصوصی ڈیوٹی سے برآمد شدہ ATF کو مکمل طور پر مستثنیٰ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ حکومت نے درآمدی اے ٹی ایف پر بھی ریلیف دیا ہے۔ کسٹم ڈیوٹی جو کہ خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کے مساوی تھی ہٹا دی گئی ہے۔

اس فیصلے سے امپورٹڈ اے ٹی ایف کی لاگت کم ہو سکتی ہے اور ایئر لائن سیکٹر کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ ان حکومتی فیصلوں سے تیل اور ہوا بازی کے شعبوں میں ٹیکس کے ڈھانچے کو واضح کیا جائے گا اور توقع ہے کہ برآمدات کو فروغ ملے گا۔ تاہم، ان تبدیلیوں کا حتمی اثر تیل کی بین الاقوامی قیمتوں اور مارکیٹ کے حالات پر منحصر ہوگا۔ایکسائز ڈیوٹی میں کمی سے کمپنیوں کو فائدہ
جب حکومت پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کم کرتی ہے تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر پٹرول اور ڈیزل کی پمپ قیمتوں میں فوری کمی نہیں کی گئی تو یہ فائدہ براہ راست کمپنیوں کو پہنچتا ہے۔ کم اخراجات کمپنیوں کے منافع کے مارجن میں اضافہ کرتے ہیں، جو ان کی کمائی اور نقد بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں، ان کی بیلنس شیٹ کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس سے پہلے، جب خام تیل $120 فی بیرل تک پہنچ گیا تھا، تو کمپنیاں پیٹرول اور ڈیزل بیچنے میں نقصان اٹھا رہی تھیں، اس لیے بہت سے بروکریجز نے اپنے اسٹاک کو گھٹا دیا۔ اب ڈیوٹی میں کمی سے ریلیف ملتا ہے۔


Saturday, 21 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*





’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک ہے لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ ’خاموش قاتل‘ آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور دماغی ساخت کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ جس کا اندازہ اکثر بروقت نہیں ہو پاتا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طبی زبان میں ’ہائپر ٹینشن‘ کہلانے والا یہ مرض ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کی شریانوں پر دباؤ مسلسل زیادہ رہتا ہے۔
چونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے مریض برسوں تک اس سے بے خبر رہ سکتا ہے مگر اس دوران یہ جسم کے سب سے حساس حصے یعنی دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔
انسانی دماغ کا وزن پورے جسم کے کل وزن کا محض دو فیصد ہوتا ہے لیکن اسے کام کرنے کے لیے جسم کی کل آکسیجن اور خون کی فراہمی کا تقریباً 20 فیصد حصہ درکار ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خون کی گردش میں معمولی سی رکاوٹ بھی دماغی خلیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر دماغ پر درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے:
فالج کا خطرہ
بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں جسے ’ایتھیروسکلروسیس‘ کہا جاتا ہے۔ اگر خون کا کوئی لوتھڑا (Clot) دماغ کی کسی تنگ شریان میں پھنس جائے یا دباؤ کی وجہ سے شریان پھٹ جائے تو یہ فالج کا سبب بنتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مستقل معذوری یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
ذہنی صلاحیتوں میں کمی
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنے والے افراد میں آگے چل کر ’ڈیمنشیا‘ یا بھولنے کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون کی روانی متاثر ہونے سے ’واسکولر ڈیمنشیا‘ جنم لیتا ہے جس میں یادداشت، منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔
چھوٹے سٹروک
انہیں ’منی سٹروک‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتے ہیں جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی سپلائی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ اگرچہ یہ چند منٹوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن یہ اس بات کی علامت ہیں کہ مستقبل میں ایک بڑا فالج دستک دے رہا ہے۔
دماغ کا سکڑنا
طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہنے سے دماغ کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ خاص طور پر ’ہپوکیمپس‘ جو یادداشت کا مرکز ہے، تیزی سے سکڑنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کی گہرائی میں موجود باریک شریانیں متاثر ہوتی ہیں، جس سے ’وائٹ میٹر‘ کو نقصان پہنچتا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کے اثرات صرف سر تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے گردے اور آنکھیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ گردوں کی باریک شریانیں متاثر ہونے سے وہ خون صاف کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں جو ڈائلیسس کی نوبت لا سکتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر سے آنکھوں کے پردے کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں جس سے بینائی مستقل طور پر جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی میں چند سادہ تبدیلیوں سے اس ’خاموش قاتل‘ کو قابو کیا جا سکتا ہے۔
غذا میں نمک کا استعمال کم کریں اور پھل، سبزیاں اور اناج اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ پروسیس شدہ اور پیکٹ والے کھانوں سے پرہیز کریں۔
ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل ورزش (جیسے تیز چلنا یا تیراکی) بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں جادوئی اثر رکھتی ہے۔
ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے یوگا یا گہرے سانس لینے کی مشقیں کریں۔ موٹاپا بلڈ پریشر کا بڑا دشمن ہے۔
گھر پر بلڈ پریشر چیک کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ کسی بھی تبدیلی کا فوری علم ہو سکے۔اگر ڈاکٹر نے ادویات تجویز کی ہیں تو انہیں وقت پر لیں۔ بلڈ پریشر نارمل محسوس ہونے پر بھی خود سے دوا ترک نہ کریں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ آج اپنے بلڈ پریشر کو قابو کر لیتے ہیں تو آپ نہ صرف فالج بلکہ بڑھاپے میں یادداشت کھونے کے سنگین خطرات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔









پی ایم مودی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے کی بات، مغربی ایشیا میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کو عید اور نوروز کی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ تہوار کا موسم مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی لائے گا۔ ایرانی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں، وزیر اعظم مودی نے خطے میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی، جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ ہے اور عالمی سپلائی چین میں خلل پڑتا ہے۔ انہوں نے نیوی گیشن کی آزادی کے تحفظ کی اہمیت کا اعادہ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ شپنگ لین کھلی اور محفوظ رہیں۔

وزیر اعظم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا "صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے بات کی اور عید اور نوروز کی مبارکباد دی۔ ہم نے امید ظاہر کی کہ تہوار کا موسم مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی لائے گا،"۔ انہوں نے کہا، "ہم خطے میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، جو علاقائی استحکام کو خطرہ اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں۔" وزیر اعظم نے ایران میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لئے ایران کی مسلسل حمایت کی بھی تعریف کی۔موجودہ تنازع شروع ہونے کے بعد وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر کے درمیان یہ دوسری ٹیلی فون پر بات چیت تھی۔ 12 مارچ کو ایرانی صدر پیزشکیان نے وزیر اعظم مودی کو ایران کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور خطے میں حالیہ پیش رفت پر اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق، وزیر اعظم نے خطے میں سلامتی کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ہندوستان کے اس موقف کو دہرایا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے اپنے پڑوسیوں اور اسرائیل کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی۔

ایران آبنائے ہرمز کو بھی کنٹرول کرتا ہے، جو ایک اہم سمندری نقل و حمل کا راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کی توانائی کی مصنوعات کا 20 فیصد نقل و حمل کیا جاتا ہے۔ تنازع کے بعد سے، ایران نے بہت کم جہازوں کو اس کی نقل و حمل کی اجازت دی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے کئی ممالک کے رہنماؤں سے بھی بات کی ہے۔ ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، اردن، فرانس اور ملائیشیا کے رہنما شامل ہیں۔








عید پر بہترین اشعار: ان خوبصورت اشعار کے ساتھ دیں مبارک باد
حیدرآباد (نیوز ڈیسک): عید الفطر کے پُرمسرت موقعے پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینے، خوبصورت پیغامات لکھنے یا کسی سے اپنے دل کی بات کہنے کے لیے درج ذیل منتخب اشعار کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے مختلف شعراء کے چنندہ اشعار:

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے

محمد اسد اللہ

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

قمر بدایونی

وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو

ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو

مصحفی غلام ہمدانی

اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا

یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے

دلاور علی آزر

ہم نے تجھے دیکھا نہیں کیا عید منائیں

جس نے تجھے دیکھا ہو اسے عید مبارک

لیاقت علی عاصم

راس آ جاتیں ہمیں بھی عید کی خوشیاں تمام

کاش تو بھی پاس ہوتا عید کے لمحات میں

نامعلوم

اے ہوا تو ہی اسے عید مبارک کہیو

اور کہیو کہ کوئی یاد کیا کرتا ہے

تری پراری

عید اب کے بھی گئی یوں ہی کسی نے نہ کہا

کہ ترے یار کو ہم تجھ سے ملا دیتے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

جہاں نہ اپنے عزیزوں کی دید ہوتی ہے

زمین ہجر پہ بھی کوئی عید ہوتی ہے

عین تابش

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی

اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں

نامعلوم

*🛑سیف نیوز اُردو*


جے پور عیدگاہ میں انوکھی تصویر، نماز کے بعد پھولوں کی بارش، گنگا جمنی تہذیب کی نظر آئی مثال
 : راجستھان کی راجدھانی جے پور کی عیدگاہ میں عید الفطر کے موقع پر ایک بار پھر گنگا-جمنی تہذیب اور ہندو-مسلم اتحاد کی ایک انوکھی مثال دیکھنے کو ملی۔ ہزاروں کی تعداد میں مسلم برادری کے لوگوں نے یہاں جمع ہو کر عید کی نماز ادا کی۔ نماز کے دوران پورے علاقے میں جوش، خوشی اور عقیدت کا ماحول قائم رہا، لیکن اس بار کی عید خاص اس لیے رہی کیونکہ یہاں بھائی چارے کا ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے سب کا دل جیت لیا۔

عیدگاہ میں نماز کے دوران مختلف ہندو تنظیموں کے نمائندے بھی پہنچے۔ جیسے ہی نماز مکمل ہوئی، انہوں نے مسلم نمازیوں پر پھولوں کی بارش کی۔ پھولوں کی خوشبو کے ساتھ پورے احاطے میں محبت، ہم آہنگی اور باہمی احترام کا ماحول بن گیا۔ اس اقدام نے نہ صرف موجود لوگوں کو جذباتی کر دیا بلکہ سماج کو ایک مضبوط پیغام بھی دیا کہ مذاہب الگ ہو سکتے ہیں، لیکن انسانیت سب سے بڑھ کر ہے۔ہندو-مسلم ایکتا منچ کی جانب سے پہل
یہ پہل ہندو-مسلم ایکتا منچ کی جانب سے ہر سال کی طرح اس بار بھی کی گئی۔ اس منچ کے اراکین ہر مذہبی تہوار پر ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہو کر بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔ عید کے موقع پر کئی کوئنٹل پھول لے کر پہنچے لوگوں نے نماز کے بعد نمازیوں پر پھول برسائے اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔ دوسری جانب مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے بھی اس پہل کا خیرمقدم کیا اور سب کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔سماجی ہم آہنگی اور اعتماد کو مضبوط بنایا
قابل ذکر ہے کہ یہ روایت صرف عید تک محدود نہیں ہے۔ مسلم برادری کی جانب سے بھی رام نومی، ہولی اور دیوالی جیسے ہندو تہواروں پر اسی طرح پھولوں کی بارش کر کے مبارکباد دی جاتی رہی ہے۔ اس نے جے پور میں سماجی ہم آہنگی اور اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ جے پور میں ہندو-مسلم ایکتا منچ کی اس پہل نے باہمی محبت، احترام اور اتحاد کا پیغام دیا۔








’اب کوئی جنگ بندی نہیں، جنگ ہی صحیح‘، ایران کا بڑا بیان، ٹرمپ کو للکارا
تہران: امریکہ - ایران میں جاری جنگ اب اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ 22ویں دن بھی نہ تو امریکہ پیچھے ہٹنے کو تیار ہے اور نہ ہی ایران کسی جنگ بندی کے لیے راضی ہے۔ دونوں طرف سے آئے سخت بیانات نے صاف اشارہ دیا ہے کہ یہ ٹکراؤ اب طویل ہونے کے ساتھ اور جارحانہ ہونے والا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سیز فائر کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جبکہ ان کے اس بیان کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہا کہ تہران کسی بھی حالت میں سیز فائر قبول نہیں کرے گا۔

کیوڈو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ ‘ہم سیز فائر قبول نہیں کریں گے، کیونکہ ہم پچھلے سال جیسی صورتحال دہرانا نہیں چاہتے۔’ اس بیان سے یہ صاف اشارہ ملتا ہے کہ ایران اب کسی بھی طرح کی سفارتی چال میں پھننسنے سے بچنا چاہتا ہے اور مکمل طور پر سخت موقف اپنا چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا سیز فائر سے انکار
ایران کا یہ موقف ایسے وقت آیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی سیز فائر کو خارج کر چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جمعہ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘جب آپ دوسرے فریق کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہوں، تب سیز فائر نہیں کیا جاتا۔’ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی عسکری طاقت کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ایران کے پاس اب نہ بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی کوئی بڑی عسکری صلاحیت۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘ہم نے ان کی نیوی، ایئر فورس اور ایئر ڈیفنس سب ختم کر دیے ہیں۔’نیٹو پر بھی بھڑک اٹھے ٹرمپ
اس درمیان ٹرمپ نے اپنے شراکت داروں پر بھی نشانہ سادھا۔ انہوں نے نیٹو ممالک کو ‘ڈرپوک’ بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے بغیر یہ اتحاد صرف ‘کاغذی شیر’ ہے۔ یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ-ایران جنگ میں ٹرمپ کو اپنے روایتی شراکت داروں سے اتنا تعاون نہیں ملا، جتنا کہ انہیں توقع تھی۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان ٹکراؤ اور بڑھ گیا ہے۔ ایران نے صاف کہا ہے کہ یہ بحری راستہ صرف ‘دشمن جہازوں’ کے لیے بند کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2 مارچ کو ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اس اہم راستے کو بند کر دیا تھا۔











‘اللہ آپ کو آشیرواد دے’، عید کے موقع پر ممتا بنرجی کا پیغام، وہیں کالی گھاٹ پہنچے شوبھیندو ادھیکاری
کولکاتہ : مغربی بنگال میں جیسے جیسے اسمبلی انتخابات کی تاریخیں قریب آ رہی ہیں، دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ مندر–مسجد کی سیاست کا رنگ بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ عید کے موقع پر اس کی واضح جھلک نظر آئی۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی عید کی نماز میں شامل ہوئیں، تو دوسری طرف بی جے پی کے سینئر لیڈر شوبھیندو ادھیکاری کالی گھاٹ مندر جا کر پوجا ارچنا کی۔ اس طرح ریاست میں ووٹنگ سے پہلے بی جے پی اور برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس نے اپنا ایجنڈا صاف کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا نے عید کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری رضا اسی میں ہے کہ بی جے پی ہٹاؤ، دیش بچاؤ۔ وہیں بی جے پی رہنما شوبھندو ادھیکاری نے کالی گھاٹ میں پوجا کے بعد کہا کہ ریاست میں دراندازی کر کے بنگلہ دیشی دراندازوں نے بہت ظلم کیا ہے۔ بنگال انتخابات میں دراندازی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر کولکاتہ کے ریڈ روڈ پر منعقد ایک بڑے مذہبی پروگرام میں ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی مسائل پر کھل کر اپنی بات رکھی۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے نماز ادا کی اور پروگرام میں پُرجوش ماحول دیکھنے کو ملا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب کا آغاز سب کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بارش کو وہ اللہ کی برکت مانتی ہیں اور یہ لوگوں کی پریشانیوں کے ختم ہونے کی علامت ہے۔ انہوں نے ریاست اور ملک کی ترقی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور بنگال دونوں آگے بڑھیں۔بی جے پی پر براہِ راست حملہ
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی تقریر میں مرکزی حکومت اور بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ “ہمارا ایک ہی ارادہ ہے – بی جے پی کو ہٹانا اور ملک کی حفاظت کرنا۔” انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے دوران کئی لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں، جس کے خلاف وہ عدالتوں تک گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ “ہم اپنے حقوق کسی کو نہیں لینے دیں گے۔ ہم دہلی سے لے کر سپریم کورٹ تک لڑائی لڑیں گے۔” اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ “ہم ڈریں گے نہیں۔ جو ڈرتے ہیں وہ مرتے ہیں، لیکن جو لڑتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔” انہوں نے لوگوں سے متحد رہنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔کالی گھاٹ پہنچے شوبھیندو ادھیکاری
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی ماحول گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاست میں اپوزیشن کے لیڈر اور بی جے پی کے سینئر رہنما شوبھیندو ادھیکاری ہفتہ کے روز کالی گھاٹ مندر پہنچے اور پوجا ارچنا کر کے ماں کالی کا آشیرواد لیا۔ اس دوران انہوں نے ریاست میں سیاسی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماں سے طاقت مانگی ہے اور بنگال میں تبدیلی کی لہر چل رہی ہے۔

Friday, 20 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


پروٹین حاصل کرنے کے لیے کون کون سے پھل کھانے چاہییں؟
امرُود: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 4.2 گرام
امرُود گرم علاقوں کا پھل ہے جو میکسیکو، وسطی امریکہ، کیریبین اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ اس میں پروٹین کی مقدار انڈے کی سفیدی سے بھی تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔
امرُود میں مالٹے کے مقابلے میں وٹامن سی چار گنا زیادہ ہوتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت سے بھی زیادہ ہے۔
چونکہ امرود کی زیادہ تر غذائیت اس کے چھلکے میں ہوتی ہے، اس لیے آپ اسے چھیلے بغیر ثابت کھا سکتے ہیں۔
ایوکاڈو: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 3 گرام
ایوکاڈو کا شمار پروٹین سے بھرپور پھلوں میں ہوتا ہے۔ ایک کپ ایوکاڈو میں قریباً آدھی مقدار بادام کے برابر پروٹین موجود ہوتی ہے۔
اس میں 22 گرام صحت مند ’مونو اَن سیچوریٹڈ فیٹ‘ (غیر سیرشدہ چکنائی یا صحت مند چکنائی) ہوتی ہیں جو دل اور دماغ کے لیے مفید ہے۔
ایک کپ ایوکاڈو روزانہ کی فائبر کی ضرورت کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔
انار: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.9 گرام
انار کو تیار کرنے میں تھوڑی محنت درکار ہوتی ہے، لیکن اس کے بہت فائدے ہوتے ہیں۔ اس کے بیج کھانے کے قابل ہوتے ہیں جن میں کچھ مقدار میں پروٹین موجود ہوتی ہے۔
انار کو ’سُپرفوڈ‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ غذائی اجزاء سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔انار کھانے کے لیے بیجوں کو جِھلی اور چھلکے سے الگ کریں۔
خوبانی: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.3 گرام
خوبانی دیکھنے میں آڑو جیسی نظر آتی ہے۔ اس کا ذائقہ ہلکا سا کھٹا میٹھا ہوتا ہے، جسے کچھ لوگ آڑو اور آلو بخارے کے ملاپ جیسا کہتے ہیں۔
خوبانی میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، جو ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے اور اسے نارنجی رنگ دیتا ہے۔ بیٹا کیروٹین آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہے اور میکیولر ڈی جنریشن جیسی بیماری کے خلاف مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
خوبانی کا چھلکا کھانے کے قابل ہوتا ہے، اس لیے اسے چھیلنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اسے ثابت کھا سکتے ہیں۔
کیوی فروٹ: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.1 گرام
کیوی ایک چھوٹا مگر طاقتور پھل ہے جو وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن ای اور فولیٹ بھی ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام، نظامِ ہضم اور میٹابولزم کے لیے مفید ہیں۔
ایک کپ کیوی میں 5.4 گرام فائبر بھی ہوتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو اضافی فائبر کے لیے کیوی کو چھلکے سمیت کھا سکتے ہیں، ورنہ چھیل کر کاٹ لیں اور کھانے کا لُطف اٹھائیں۔









ایران-امریکہ جنگ میں شدت، 16 امریکی طیاروں کی تباہی کا دعویٰ،ایران نےکہا- F-35 بھی نشانے پر
نئی دہلی :ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تقریباً 20 دنوں سے جاری اس تنازع میں امریکہ کو بھاری فوجی نقصان اٹھانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک امریکی فوج کے کئی جدید طیارے اور ڈرون تباہ ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 لائٹننگ II کو بھی ایرانی حملے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔یہ جنگ 28 فروری 2026 کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان، ایران کی دفاعی طاقت برقرار

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کم از کم 16 امریکی فوجی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جن میں ڈرون اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ ان میں سے 10 MQ-9 ریپر ڈرون ایرانی فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ میں مار گرائے گئے، جن میں سے 9 فضا میں تباہ ہوئے جبکہ ایک ڈرون اردن کے ایک ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں نشانہ بنا۔ مزید دو ڈرون حادثات میں بھی تباہ ہوئے۔حادثات بھی نقصان کی بڑی وجہ بنے۔ کویت میں تین F-15 ایگل لڑاکا طیارے مبینہ طور پر اپنی ہی فوج کی فائرنگ (فرینڈلی فائر) کا شکار ہو گئے، جبکہ ایک KC-135 اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بھرنے کے دوران تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سعودی عرب کے ایک ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے میں پانچ KC-135 طیارے بھی متاثر ہوئے۔

ابتدائی کوششوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل ایران کے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے میں ناکام رہے ہیں اور ایران اب بھی مضبوط دفاعی پوزیشن میں ہے۔ ایک امریکی F-35 طیارہ بھی ایرانی حملے کے بعد ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔امریکی فوجی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکا۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے فوجی آپریشنز اور مسلسل پروازوں میں اضافہ بھی نقصانات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں کی حفاظت امریکہ کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں ایران کا فضائی دفاعی نظام مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔









نیتن یاہو نے کہا اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں نہیں گھسیٹا ، ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کا کیا دعویٰ
وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں نہیں گھسیٹا ہے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنگ میں ایران کو نقصان پہنچا ہے اس کے پاس یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے اور نہ ہی وہ بیلسٹک میزائل بناسکتا ہے۔تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔نیتن یاہو کے مطابق،ایران اتنا کمزورپہلے کبھی نہیں رہا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج ایران کے میزائل اور ڈرون کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہی ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق حملوں کا ہدف وہ فیکٹریاں ہیں جو میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے لیے پرزے تیار کرتی ہیں۔جمعرات کے روزتل ابیب میں پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران جنگ لوگوں کی سوچ سے بھی تیزی سے ختم ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پارس پر حملہ اسرائیل نے کیا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید حملوں سے روک دیا ہے۔

ایران میں حکومت کی تبدیلی انحصار عوام پر

ایران میں رجیم کی تبدیلی کے حوالے سے نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آسمان سے آپ انقلاب برپا نہیں کرسکتے۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔
’میں زندہ ہوں‘
نیتن یاہو نے میڈیا کے سامنے آکراپنی موت کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں اور آپ کے سامنے ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جب کہ میں نے اس فرضی خبر کو بے نقاب کر دیا ہے، میں آپ کو ایک اپ ڈیٹ دینا چاہتا ہوں۔ اس آپریشن کا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق خطرے کو ختم کرنا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*اقتدار، ریاکاری اور فحاشی کا 'مہا' گٹھ جوڑ*  *وسیم رضا خان*                                 *مہاراشٹر* کی س...