Friday, 28 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’چونی سے روپیہ‘ والے بیان پر سنگیت سوم کا اکھلیش یادو پر سخت حملہ، بولے- ’ایکنی کا بھی نہیں چھوڑیں گے‘*
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی جانب سے راشٹریہ لوک دل کے سربراہ جینت چودھری پر کیے گئے ’چونی سے روپیہ‘ والے تبصرے پر بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم نے سخت جواب دیا ہے۔ سر دھنا سے سابق رکن اسمبلی سوم ان دنوں راشٹریہ لوک دل کے ساتھ کھل کر نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسے اکھلیش یادو ’چونی سے روپیہ‘ بتا رہے ہیں، وہی انہیں ’ایکنی کا بھی نہیں چھوڑیں گے‘۔

اکھلیش یادو پر نشانہ
سنگیت سوم نے کہا کہ اکھلیش یادو کے بیانات ان کی سمجھ سے باہر ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اکھلیش مسلسل لوگوں اور ذاتوں کی توہین کرنے والی باتیں کر رہے ہیں۔ سوم کا دعویٰ ہے کہ اس بار مغربی اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھلے گا۔

جینت چودھری کے کردار کا ذکر
سابق رکن اسمبلی نے یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو مغربی اتر پردیش میں جو نشستیں حاصل ہوئی تھیں، ان میں جینت چودھری کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اس بار اپنا ذہن بنا لیا ہے اور جس شخص کو اکھلیش یادو ’چونی سے روپیہ‘ کہہ رہے ہیں، وہی انہیں ’ایکنی کا بھی نہیں چھوڑیں گے‘۔

پوسٹر تنازع پر ردعمل
میرٹھ اور آس پاس لگائے گئے متنازع پوسٹروں پر سنگیت سوم نے کہا کہ لوگ اپنی بات رکھ رہے ہیں اور جمہوریت میں ہر شخص کو ایسا کرنے کا حق ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر لوگ سچائی سامنے لا رہے ہیں تو سماج وادی پارٹی کو اس سے پریشانی کیوں ہو رہی ہے۔

ریزرویشن پر خاموشی
ریزرویشن ختم کرنے کے مطالبے پر پوچھے گئے سوال کا سنگیت سوم نے کوئی جواب نہیں دیا۔







*🛑چائے سے مٹھائی تک سب کچھ مہنگا، یکم ستمبر سے ممبئی میں دودھ کی قیمتوں میں ہوگا بڑا اضافہ*
ممبئی میں تہواروں کا آغاز عام لوگوں کے لیے مہنگائی کے ایک بڑے جھٹکے کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ مسلسل بڑھتی مہنگائی کے درمیان اب دودھ کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا براہِ راست اثر ہر خاندان کے ماہانہ بجٹ پر پڑے گا۔ تہواروں کی تیاریوں کے دوران باورچی خانے کا خرچ مزید بڑھنے والا ہے۔

کب سے نئی قیمتیں نافذ ہوں گی؟

یکم ستمبر 2026 سے ممبئی میں دودھ کی قیمت میں براہِ راست 9 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پہلے جہاں دودھ 93 روپے فی لیٹر مل رہا تھا، اب صارفین کو اس کے لیے 102 روپے فی لیٹر ادا کرنے ہوں گے۔ دودھ پیدا کرنے والوں نے واضح کیا ہے کہ نئی قیمتیں 28 فروری 2027 تک نافذ رہیں گی۔ یعنی تہواروں اور سردیوں کے پورے موسم میں ممبئی کے لوگوں کو مہنگے دودھ کا بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔

چارے کی قیمتوں میں اضافے سے بڑھا بحران

دودھ مہنگا ہونے کی سب سے بڑی وجہ مویشیوں کے چارے کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ ڈیری مویشیوں کی پرورش کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ اناج، تور چھنی اور چنے کی چھنی جیسے چارے کی قیمتوں میں 25 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دودھ کی پیداوار کی مجموعی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

دودھ پیدا کرنے والوں کی مجبوری

دودھ پیدا کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی لاگت نے انہیں مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا تھا۔ کھل اور دیگر مویشیوں کی خوراک مہنگی ہونے سے ان کے روزانہ کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا۔ ایسے حالات میں مارکیٹ میں برقرار رہنے کے لیے دودھ کی قیمت بڑھانا ان کے لیے مجبوری بن گیا۔ تاہم اس فیصلے کا براہِ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا۔

عام لوگوں پر کیا ہوگا اثر؟

تہواروں کے موسم میں دودھ جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت بڑھنے سے ہر گھر کا بجٹ متاثر ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی مٹھائیوں اور دیگر پکوانوں کی تیاری کی لاگت بھی بڑھ جائے گی۔ ممبئی کے لوگوں کو اب تہواروں کی خوشیوں کے ساتھ مہنگائی کا اضافی بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا۔









*🛑کیا آپ بھی روزانہ اُبلے ہوئے انڈے کھاتے ہیں؟ پھرآپ کو یقینی طور پر یہ جاننے کی ضرورت ہے*
حیدرآباد: انڈے ان غذاؤں میں شامل ہیں جو کم قیمت پر اعلیٰ غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک انڈے میں عام طور پر 5 گرام چکنائی، 6-7 گرام پروٹین اور وٹامن اے، بی 12، بی6، ڈی اور ای جیسے غذائی اجزاء فولیٹ، سیلینیم، فاسفورس، کولین، زیکسینتھین اور لیوٹین ہوتے ہیں۔ لیوٹین آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ جانتے ہیں روزانہ انڈے کھانے کے فوائد...

کیا اس سے دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے؟

دل کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے، ماہرین عام طور پر س سیچوریسٹ چکنائی کی مقدار کو کم کرنے اور غیر سیر شدہ چکنائیوں کا استعمال بڑھانے کی تجویز کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ روزانہ انڈے کھانے سے جسم میں ’’اچھے‘‘ کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے جس سے دل کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔ دل کی صحت کے حوالے سے میو کلینک کا کہنا ہے کہ زیادہ تر صحت مند افراد ہفتے میں سات انڈے محفوظ طریقے سے کھا سکتے ہیں۔

پروٹین کا ایک بہترین ذریعہ

پروٹین صحت کے لیے ضروری ہے جو کہ پٹھوں اور ہڈیوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہارمونز پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انڈوں میں مکمل پروٹین ہوتا ہے، جو انہیں تمام ضروری امینو ایسڈز کا پاور ہاؤس بناتا ہے۔ تاہم بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پروٹین صرف انڈے کی سفیدی میں پایا جاتا ہے۔ حقیقت میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈے میں کل پروٹین کا تقریباً نصف زردی سے آتا ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق، انڈے پروٹین، مونو سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ، وٹامن ڈی، وٹامن بی 12، بایوٹین، ربوفلاوین، سیلینیم اور آیوڈین سے بھرپور ہوتے ہیں۔

وٹامن کی دستیابی کو بڑھاتا ہے: انڈے وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کو بہت سے ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتے ہیں۔ ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق انڈوں میں لیوٹین اور زیکسینتھین ہوتے ہیں جو آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، ساتھ ہی کولین دماغ اور اعصابی افعال کو سہارا دیتے ہیں۔

سیلینیم: تولیدی اور تھائیرائیڈ صحت کے لیے ضروری ہے۔

کولین: میٹابولزم اور سیل صحت کے لیے ضروری ہے۔

وٹامن B6: جسم کو سیل کی صحت اور میٹابولزم کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

وٹامن بی 12: صحت مند اعصابی خلیات اور خون کی صحت کو سپورٹ کرتا ہے۔

پینٹوتھینک ایسڈ: جسم کی چربی جلانے میں مدد کرتا ہے۔

وٹامن اے: ٹشوز، جلد، آنکھوں، مدافعتی نظام، اور تولیدی صحت کے لیے ضروری ہے۔

فاسفورس: ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔

فولیٹ: سیل کی صحت اور ڈی این اے اور دیگر جینیاتی مواد کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
ابلے ہوئے انڈے کیسے کھائیں؟

اس طرح کھائیں: ابلے ہوئے انڈے کو آدھا کاٹ لیں، اس پر تھوڑا سا نمک، کالی مرچ پاؤڈر، یا لال مرچ پاؤڈر چھڑکیں، اور اسنیک کے طور پر اس کا مزہ لیں۔

انڈے کا سلاد: آپ انڈوں کے ٹکڑوں کو پیاز، دھنیا، ٹماٹر اور لیموں کے رس یا زیتون کے تیل میں ملا کر صحت بخش ناشتہ بنا سکتے ہیں۔

بریڈ ٹوسٹ یا سینڈوچ: ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کے ٹکڑے ٹوسٹ شدہ بریڈ پر رکھیں اور تھوڑا سا پنیر یا مکھن ڈالیں۔

کری: آپ اُبلے ہوئے انڈے کاٹ کر مصالحے کے ساتھ بھون سکتے ہیں، یا چاول یا روٹی کے ساتھ پیش کرنے کے لیے انڈے کا سالن تیار کر سکتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مڈ ڈے میل میں 14 لاکھ کا گھوٹالہ ، Gen-Z نے گوگل سے DM کا پتہ کھوج کر کی شکایت*
اترپردیش کے بلیہ میں ایک کونسل اور انٹر کالج کے چھوٹے بچوں نے مڈ ڈے میل اسکیم میں گھپلے کا پردہ فاش کیا ہے۔ انہوں نے گوگل پر ضلع مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا اور اس کی شکایت کی، جس کے بعد تحقیقات میں اسکیم کے تحت بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا پردہ فاش ہوا۔ بچوں نے خود ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا اور ایک خط لکھا جس میں 14 لاکھ روپے کے گھپلے کا پردہ فاش کیا۔

یہ معاملہ بلیا کے بانسڈیہ میں تاج پور مداری انٹر کالج سے متعلق ہے۔ یہاں 6ویں سے 12ویں تک کی کلاسز ہوتی ہیں ۔ حکومت اسکول کے بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنے کے لیے دوپہر کے کھانے کی اسکیم چلاتی ہے۔ تاہم، اس کالج میں حقیقت بالکل مختلف تھی ۔ پچھلے دو سالوں سے طلباء کو ایک بار بھی دوپہر کا کھانا نہیں مل رہا تھا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بچوں کی پلیٹوں میں کھانا نہ پہنچنے کے باوجود اس اسکیم کے لیے ہر ماہ لاکھوں روپے نکالے جا رہے تھے۔بچوں نے گوگل پر ڈی ایم کا پتہ تلاش کیا
اسکول میں ہونے والی اس ناانصافی سے طلباء پریشان تھے۔ وہ اس بدعنوانی کی شکایت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے پاس براہ راست چینل یا ڈی ایم کا صحیح پتہ نہیں تھا۔ بے خوف، طلباء نے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ انہوں نے گوگل پر بلیا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا پتہ تلاش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک خفیہ خط تیار کیا اور اسے ڈی ایم کو بھیج دیا۔ خط میں طلباء نے مطالبہ کیا کہ ان کے نام عام نہ کیے جائیں اور پورے معاملے کی خفیہ تحقیقات کرائی جائیں۔

تحقیقات میں 14 لاکھ روپے کے گھپلے کا انکشاف ہوا
جب ضلع مجسٹریٹ منگلا پرساد سنگھ نے بچوں کے خط کو سنجیدگی سے لیا تو انہوں نے فوری طور پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا۔ ڈی ایم کی ہدایات کے بعد بلیا کے بنیادی تعلیم افسر منیش کمار سنگھ اور ضلع ترقیاتی افسر پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم نے جب کالج کی مالی حالت کا جائزہ لیا تو انتظامی اہلکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر رہ گئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسکول میں گزشتہ دو سالوں سے مڈ ڈے میل تیار نہیں کیا گیا تھا، اور اس فرضی اسکیم سے تقریباً 14 لاکھ روپے کا گھپلہ ہوا تھا۔

بی ایس اے منیش کمار سنگھ نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ کی ہدایات کے مطابق اب اس پورے گھوٹالے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اگر ان معصوم بچوں نے پہل نہ کی ہوتی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خط نہ لکھا ہوتا تو یہ بہت بڑا گھپلہ فائلوں میں دھنستا رہتا۔ بچوں کے اس جرات مندانہ عمل کی اب ضلع بھر میں ستائش ہو رہی ہے۔











*🛑تبت میں ٹوٹ گیا ڈیم ، چین نے روکا ریسکیو آپریشن، نیپال میں ہائی الرٹ*
نیپال۔ تبت سرحد پر بدھ کے اچانک سیلاب کے بعد، ایک اور بڑا خطرہ سامنے آیا ہے۔ گلیشیئر کی وجہ سے پہاڑو ں سے آئے ملبے نے دریا کا راستہ رو ک دیا تھا جس سے ایک جھیل بن گئی تھی ۔ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب اس کے بہہ جانے کی اطلاع ہے۔ تبت کی جانب ملبے سے بننے والا ڈیم بھی ٹوٹ گیا ہے۔ خطرہ اس قدر شدید ہو گیا ہے کہ چین نے تبت میں امدادی کارروائیاں روک دی ہیں اور اپنے امدادی کارکنوں اور گاڑیوں کو متاثرہ علاقے سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ پانی اگلے کچھ گھنٹوں کے اندر نیپال پہنچ جائے گا، جس سے نیپال میں دریا کے کنارے والے علاقوں کو بھی خالی کر دیا جائے گا۔ چند گھنٹے قبل صوبہ سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ نیپال پولیس نے تبت کی جانب ایک اور ڈیم کے ٹوٹنے کی اطلاع ملنے کے بعد رہائشیوں اور امدادی ٹیموں سے فوری طور پر انخلاء کی اپیل کی ہے۔

سیلاب کا ملبہ نیا خطرہ
26 اگست کو، پانی، برف، چٹانوں اور ملبے کا ایک اچانک، طاقتور طوفان نیپال-چین سرحد سے گزرا۔ اس عمل میں سڑکیں، پل، عمارتیں اور بستیاں بہہ گئیں۔ سینکڑوں لوگ مارے گئے، اور بڑی تعداد لاپتہ ہے۔ سیلاب کے بعد، بڑے پیمانے پر پہاڑی ملبہ دریا کے راستے میں جمع ہو گیا، جس سے پانی کے پیچھے ایک بڑی جھیل بن گئی۔ یہ جھیل اب ایک نئی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ چینی انجینئرنگ ٹیم کے مطابق جمعرات کو جھیل میں تقریباً 1.5 سے 2 ملین کیوبک میٹر پانی موجود تھا۔ اب، یہ 2.5 ملین کیوبک میٹر سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور پانی اوور فلو ہونے لگا ہے۔چین نے ریسکیو ٹیم کو واپس بلا لیا
جھیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر ملبے کا قدرتی بند اچانک ٹوٹ گیا تو جمع پانی نیچے کی طرف بہہ جائے گا۔ مزید یہ کہ آس پاس کی پہاڑیوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے۔ اس لیے چین نے اپنے تمام ریسکیو اہلکاروں اور گاڑیوں کو خطرے کے علاقے سے نکال کر محفوظ مقام پر اسٹینڈ بائی پر رکھ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ٹیمیں پہلے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچانا چاہتی تھیں اب انہیں خود سیلاب سے بچنے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔

جھیل کی نکاسی کی تیاریاں
چین نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی انجینئرنگ ٹیم تعینات کی ہے۔ ٹیم یہ سمجھنے کے لیے فضائی سروے اور 3D ماڈلنگ کا استعمال کر رہی ہے کہ جھیل کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور قدرتی ملبے کی دیوار کتنی مضبوط ہے۔ انجینئرز کا اس وقت سب سے اہم آپشن پانی کی نکاسی کے لیے ایک ڈرینیج چینل بنانا ہے۔ اس سے جھیل کا پانی آہستہ آہستہ نکل جائے گا اور اچانک سیلاب کا خطرہ کم ہو جائے گا۔

نیپال ایک بار پھر علاقہ خالی کر رہا ہے
تبت کی طرف ڈیم کی خلاف ورزی کی اطلاعات کے بعد، نیپال پولیس نے جمعہ کو ترشولی کے علاقے میں لوگوں کو نکالنا شروع کیا۔ پولیس نے سیکورٹی اہلکاروں، کارکنوں اور راحت اور بچاؤ کاموں میں مصروف عوام کو بھی چوکس رہنے کا مشورہ دیا۔ ایک پولیس افسر کے مطابق پانی کی سطح بڑھنے کے امکان کے پیش نظر علاقے میں جاری کام روک دیا گیا اور گاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سڑک کی تعمیر سے لے کر امدادی کارروائیوں تک بہت سی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔

سیچوان میں زلزلے کے بعد تشویش میں اضافہ
دریں اثنا، چین کے جنوب مغربی صوبہ سیچوان کے لونگ چانگ شہر میں 5.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد نیپال میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ اگرچہ زلزلہ سیلاب زدہ علاقے میں آیا، لیکن پہلے سے ہی غیر مستحکم پہاڑی علاقے اور پانی کی بڑھتی ہوئی سطح نے خدشات کو جنم دیا ہے۔








*🛑پی ایم مودی اور پوتن پھر آئیں گے ساتھ ...شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر نظر آئے گی ہندوستان روس کی اٹوٹ دوستی ، MEA کا اعلان*
جہاں بڑی طاقتیں عالمی سیاسی نقشے پر اپنی اپنی چالیں چل رہی ہیں، وسطی ایشیا سے آنے والی خبروں نے مغربی کیمپ میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزارت خارجہ (MEA) نے اعلان کیا ہے کہ PM نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان 26ویں SCO چوٹی کانفرنس کے دوران ایک انتہائی اہم دو طرفہ میٹنگ ہوگی۔ ایسے ماحول میں ان دو سرکردہ لیڈروں کے درمیان مصافحہ محض رسمی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کا ایک نیا باب ہے۔ پی ایم مودی 29 اگست سے یکم ستمبر کے درمیان ازبکستان اور کرغز جمہوریہ کا دورہ کریں گے۔

طاقتور کیمسٹری اور جیو پولیٹیکل ماسٹر اسٹروک
اس پورے سفر کی خاص بات پی ایم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوگی۔ عالمی دباؤ اور پابندیوں کے درمیان ہندوستان اور روس کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات ثابت کرتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد اگلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس اجلاس میں تجارت، توانائی کی سلامتی، دفاع اور عالمی امن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی 6 ویں عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے جو وسطی ایشیائی ثقافت کا ایک بڑا تہوار ہے۔تاشقند میں سجے گا ہندوستان-ازبکستان شراکت داری کا اسٹیج
پی ایم نریندر مودی کا وسطی ایشیا کا دورہ 29 اگست کو ازبکستان سے شروع ہوگا۔ صدر شوکت مرزیوئیف کی دعوت پر تاشقند پہنچنا، پی ایم مودی کا ازبکستان کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ڈیجیٹل رابطے اور توانائی جیسے اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی۔ “ترقی یافتہ ہندوستان @ 2047” اور “ازبکستان 2030” کے تصورات کو ہم آہنگ کرتے ہوئے دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاشقند میں شاستری جی اور باپو کو خراج عقیدت
سفارتی ملاقاتوں کے علاوہ تاشقند ہندوستان کی وراثت اور اقدار کو بھی خراج تحسین پیش کرے گا۔ اپنے سرکاری دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی یادگار پر جا کر انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے۔ مزید برآں، وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی میں مہاتما گاندھی سنٹر کا دورہ کریں گے تاکہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان عوام سے عوام کے روابط کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں سلامتی اور پیشرفت پر ہندوستان کی توجہ
31 اگست کو، اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں، پی ایم نریندر مودی جمہوریہ کرغزستان کے بشکیک پہنچیں گے۔ اس سال، 26 ویں ایس سی او سربراہی اجلاس، جس کی میزبانی صدر صدیر جاپاروف نے کی، ایک خاص ہے کیونکہ تنظیم اپنی 25 ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ ہندوستان، 2017 سے SCO کا فُل ٹائم رکن رہا ہےہے، ہمیشہ علاقائی استحکام کا حامی رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے، وزیر اعظم نریندر مودی دنیا کے سامنے اپنی تین اہم ترجیحات: سیکورٹی، کنیکٹیویٹی اور مواقع کا روڈ میپ پیش کریں گے۔

دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں سیکورٹی کے حوالے سے ہندوستان کا موقف واضح اور جارحانہ ہوگا۔ خارجہ سکریٹری (مغرب) سی بی جارج نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان دہشت گردی اور سرحد پار دہشت گردی پر صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ بشکیک کے پلیٹ فارم سے ہندوستان عالمی برادری کو ایک مضبوط پیغام دے گا کہ دہشت گردی کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔



Wednesday, 26 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑چینی کی قیمت کم ہوکر 55 روپے ہوئی ! ذخیرہ اندوزی کو روکنا اور درآمدات کی منظوری کا نظر آیا اثر*
نئی دہلی۔ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان مٹھائی کے تاجروں اور عوام کے لیے ریلیف کی خبر ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے چینی کی درآمدات کی منظوری اور ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد مل کی سطح پر چینی کی قیمتیں تیزی سے گر گئی ہیں۔ خوراک کے سکریٹری کے مطابق، ایکس مل کی قیمت اب تقریباً 55 روپے فی کلو ہے۔ پچھلے ہفتے ایکس مل کی قیمت 67 روپے فی کلو گرام کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں موجودہ قیمت تقریباً 18 فیصد کم ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتیں کچھ ملوں نے بڑھائی تھیں لیکن اب مارکیٹ میں سپلائی اور حکومتی کارروائی کی وجہ سے قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔

سیکرٹری خوراک کے مطابق حکومت چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ذخیرہ اندوزی کی جانچ کے لیے ملک بھر میں فلائنگ اسکواڈز تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ ٹیمیں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا تاجر ضرورت سے زیادہ اسٹاک جمع کر کے قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ حکومت نے چینی کی درآمد کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس کا مقصد مقامی مارکیٹ میں سپلائی کو بڑھانا اور قیمتوں پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اضافی سپلائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی سے چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔تہواروں سے پہلے مٹھائی کے تاجروں کے لیے ریلیف
تہوار کا سیزن شروع ہوتے ہی چینی کی قیمتوں میں کمی کی خبر نے راحت پہنچا دی ہے۔ رکشا بندھن اور جنم اشٹمی کے بعد، گنیش چترتھی اور دیوالی جیسے بڑے تہوار قریب آرہے ہیں۔ اس عرصہ میں، مٹھائیوں کی مانگ میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے چینی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں چینی کے ساتھ ساتھ دودھ، کھویا، پنیر اور دیسی گھی جیسے خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سے مٹھائی بنانے کی قیمت بڑھ گئی۔ کئی دکانداروں اور بڑے مٹھائی کے برانڈز نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مٹھائی کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ کر دیا، جب کہ کچھ تاجروں نے فروخت میں نقصان کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اپنے مارجن پر ڈال دیا۔

اب، چینی کی ایکس مل قیمت میں تقریباً 18 فیصد کی کمی مٹھائی کے تاجروں کو کچھ راحت فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم، مٹھائی کی خوردہ قیمتیں فوری طور پر کم ہوں گی یا نہیں اس کا انحصار دیگر اخراجات، جیسے دودھ، گھی، کھویا، پنیر، پیکیجنگ اور نقل و حمل میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔

حکومت اب ریٹیل مارکیٹ پر توجہ دے رہی ہے
ایکس مل کی قیمتوں میں کمی کے بعد، حکومت اب سپلائی چین کی اگلی سطح پر توجہ مرکوز کرے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ مل کی سطح پر سستی چینی کے فوائد ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ تک پہنچیں۔ اگر چینی کی قیمتیں موجودہ سطح پر رہیں تو آنے والے تہواروں کے دوران مٹھائیاں بنانے کی لاگت پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس سے تاجروں کو قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے اور تہواروں کے دوران صارفین کو ریلیف ملنے کی امید بڑھ جائے گی۔








*🛑مانسون میں جلد کے مسائل کو نظر انداز نہ کریں، سیلولائٹس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے*
مانسون کے موسم میں جلد سے متعلق مسائل کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ زیادہ نمی، پسینہ، بیکٹیریا اور آلودہ پانی جلد کے انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بارش کے موسم میں خارش، جلن، معمولی زخم اور جلد پر خراشیں عام ہوتی ہیں، تاہم بعض صورتوں میں یہی مسائل سنگین بیکٹیریل انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں، جسے سیلولائٹس کہا جاتا ہے۔

مانسون کے دوران زیادہ نمی کی وجہ سے پسینہ آسانی سے خشک نہیں ہوتا، جس سے جلد کی حفاظتی تہہ کمزور ہو سکتی ہے اور فنگل و بیکٹیریل انفیکشن تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آلودہ یا سیلابی پانی میں موجود بیکٹیریا جلد پر موجود معمولی کٹ، خراش، کیڑے کے کاٹنے یا دراڑ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔

سیلولائٹس کیا ہے؟

سیلولائٹس ایک سنگین بیکٹیریل انفیکشن ہے جو جلد کی گہری تہوں اور اس کے نیچے موجود بافتوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو انفیکشن خون یا لمف نوڈز تک پھیل سکتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ابتدائی طور پر سیلولائٹس جلد پر ایک چھوٹے سرخ نشان کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ متاثرہ حصے میں سوجن، گرمی اور درد بڑھ سکتا ہے اور لالی آس پاس کے حصوں تک پھیل سکتی ہے۔

سیلولائٹس کی اہم علامات

جلد کے کسی حصے میں لالی

متاثرہ جگہ کا لمس پر گرم محسوس ہونا

سوجن اور درد

جلن کا احساس

جلد میں کھنچاؤ یا جکڑن

لالی کا بتدریج پھیلنا

بخار اور سردی لگنا

کمزوری یا سستی محسوس ہونا

کون زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق کسی بھی عمر کے فرد کو سیلولائٹس ہو سکتا ہے، تاہم بعض افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں:

ذیابیطس کے مریض

کھلے زخم والے افراد

کیڑے یا جانور کے کاٹنے سے متاثرہ افراد

ایگزیما کے مریض

ٹانگوں میں دائمی سوجن والے افراد

کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد

عمر رسیدہ افراد

موٹاپے کا شکار افراد

وہ افراد بھی زیادہ احتیاط کریں جنہیں ماضی میں سیلولائٹس ہو چکا ہو، کیونکہ جلد پر ہونے والی معمولی چوٹ بھی انفیکشن کے دوبارہ پیدا ہونے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔بارش کے آلودہ پانی سے احتیاط ضروری

اگر بارش کا پانی سیوریج کے پانی میں شامل ہو جائے تو اس میں موجود بیکٹیریا جلد کے انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ایسے پانی میں چلنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ اگر اس پانی سے گزرنا ناگزیر ہو تو بعد میں پاؤں اور متاثرہ حصے کو صابن اور صاف پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔

معمولی زخم یا خراش کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسے صاف پانی سے دھو کر مناسب پٹی لگائیں اور گندے ہاتھوں سے زخم کو چھونے یا نوچنے سے گریز کریں۔

ڈاکٹر ویرا ریڈی، سپرنٹنڈنٹ، کریم نگر گورنمنٹ جنرل اسپتال کے مطابق، اگر چوٹ کے اردگرد نمایاں لالی، گرمی، سوجن یا درد محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ زخم کو دبانے یا چھیڑنے سے بھی گریز کریں۔ بخار، سردی لگنے یا غیر معمولی تھکن جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔

ہاتھوں اور پیروں کا خاص خیال رکھیں

ماہرین کے مطابق اگرچہ سیلولائٹس جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن یہ عموماً ٹانگوں اور بازوؤں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اگر چہرے یا آنکھوں کے اردگرد انفیکشن ظاہر ہو تو فوری طبی توجہ ضروری ہے۔

پاؤں پر خراشیں اور بعض فنگل انفیکشن جلد میں معمولی دراڑیں پیدا کر سکتے ہیں، جن کے ذریعے بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پاؤں سے متعلق معمولی مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ذیابیطس کے مریضوں کو خاص طور پر روزانہ اپنے پیروں کا معائنہ کرنا چاہیے اور انگلیوں کے درمیان، تلووں اور ایڑیوں کے قریب کسی بھی زخم، خراش یا دراڑ پر نظر رکھنی چاہیے۔

ضرورت سے زیادہ خشک جلد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دراڑیں بھی بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کا راستہ بن سکتی ہیں۔ اسی طرح جن افراد کو اکثر پیروں میں سوجن رہتی ہے، ان میں جلد کے مسائل کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

ذیابیطس کی وجہ سے بعض افراد کے پیروں کی حساسیت کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث انہیں معمولی چوٹ یا چھالہ فوری طور پر محسوس نہیں ہوتا۔ نتیجتاً ایسے زخموں کو بھرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ مانسون کے دوران جلد کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے، معمولی زخم کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے اور انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے پر خود علاج کرنے کے بجائے بروقت ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔








*🛑اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے ہلاک*
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بچوں کے وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً سات بجے آتشزدگی سے 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفافی سیکریٹری صحت کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ہسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کے تیسری فلور پر لگی اور اس کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک ہو گئے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں نصب ایئر کنڈینشر کے اندر دھماکے کے نتیجے میں آگ لگی۔ 
انھوں نے کہا کہ کیونکہ اس وارڈ میں بچوں کو آکسیجن پر رکھا جاتا ہے تووہاں موجود آکسیجن کے نظام کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔ 
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جیسے ہی دھماکہ ہوا تو سٹاف مدد کے لیے باہر گیا لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ ان کی معلومات کے مطابق صرف ایک بچے کو ہی بچایا جا سکا۔خیال رہے کہ پمز اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے جہاں دارالحکومت کے علاوہ قریبی علاقوں سے روزنہ بڑی تعداد میں مریض آتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پمز میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ پیش آنے والا ایسا سانحہ ناقابلِ تلافی ہے۔ اس واقعے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس واقعے کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*



*🛑مالیگاؤں پاور لوم صنعت کو بچانے کے لیے تاریخی فیصلہ:*
*پالئیےسٹر اور پی سی کے پاور لومز ۵ دن بند رہیں گے*
*یارن کی سٹہ بازاری اور کپڑے کے گھاٹے کے سودے کو روکنے کے لیے بنکروں کا اتحاد*
مالیگاؤں (خاص نمائندہ):
مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت پر چھائے شدید معاشی بحران، خام مال (سوت) کے بھاؤ میں مصنوعی اضافے اور راجستھان کے پروسیسنگ ہاؤسز کی بندش سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پالئیےسٹر اور پی سی (PC) بنکروں کی ایک ہنگامی اور اہم میٹنگ حبیب لانس (بسم اللہ باغ، 60 فٹی روڈ) میں منعقد ہوئی۔ اس اہم اجلاس کی صدارت معروف صنعتکار *ممتاز علی منور علی سیٹھ* نے کی۔
میٹنگ میں شہر کے سرکردہ بنکرز اور رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں عمیر سر نورانیہ (سیکریٹری، دَرے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی)، عبدالعلیم سیٹھ، امین کارپوریٹر، عبدالصمد سیٹھ، انجم سیٹھ، حاجی یوسف الیاس، ایڈوکیٹ ہدایت اللہ، شبیر بیگ والا، خالد معین، رئیس ماسٹر ، شہزاد بھائی ، عرفان سیٹھ ، شاہد سیٹھ ،طالب سیٹھ قصوا، اور نیاز سیٹھ (حینا فیبرک) مدثر سیٹھ ملٹی ڈیزائر۔ سلیم سوپر۔ اور معزز بنکر خصوصیت کے ساتھ موجود تھے۔

میٹنگ کے اہم فیصلے اور تجاویز میں سے *۵ دن لومز مکمل بند:* تمام بنکروں کے باہمی اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ پالئیےسٹر اور پی سی کے تمام کارخانے *26 اگست سے ۵ دن (بدھ، جمعرات، جمعہ، سنیچر اور اتوار) مکمل طور پر بند رہیں گے۔*
 :یارن/سوت کے تاجروں کی جانب سے کی جانے والی بے تحاشہ سٹہ بازی اور مصنوعی ناہمواری پر قابو پانے کے لیے پروڈکشن کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بنکر نقصان (گھاٹے) میں کپڑا بیچنے کے بجائے اپنے سرمائے کی حفاظت کریں تاکہ تیار کپڑے کو مارکیٹ میں اس کی واقعی اور مناسب قیمت مل سکے۔
"راجستھان میں گزشتہ تین ماہ سے پروسیسنگ ہاؤسز بند ہونے کی وجہ سے ہماری کروڑوں روپے کی پیمنٹس جمی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود اونچے بھاؤ میں سوت خرید کر نقصان میں کپڑا بیچنا اور کارخانے چلاتے رہنا ہمارے سرمائے کو ختم کر رہا ہے۔ اگر ہمارا سرمایہ ہی ختم ہو گیا تو ہم صنعت کو بچانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ لڑائی لمبی ہے، اور اس وقت بنکروں کا آپسی اتحاد اور یکجہتی ہی ہماری صنعت کا واحد حل ہے۔"

*تمام حاضرین نے اس فیصلے کی مکمل تائید کی اور شہر کے تمام پالئیےسٹر و پی سی بنکروں سے اپیل کی کہ وہ مقررہ ۵ ایام کی بندش پر سختی سے رضاکارنا طور پر عمل کرتے ہوئے صنعتی اتحاد کا ثبوت دیں۔*


*گزارش اپیل* 
کل بروز پیر 24 اگست دوپہر میں ساڑے تین بجے کارپوریشن میں تمام بنکر حضرات پی سی پولیسٹر پاپولین کے پہنچے ضلع کلیکٹر کی امد ہو رہی ہے وہاں پر انہیں میمورنڈم دینا ہے اور ہماری تقلیف سے حکومت کو آگاہ کرنا ہے









*🛑مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کا 7 برسوں کا آزادانہ آڈیٹ کروایا جائے۔مہاراشٹر سرکار سے جنتادل سیکولر مالیگاؤں کا مطالبہ*
 ( پریس نوٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کا _ گذشتہ 7 برسوں کا آزادانہ آڈٹ کروایا جاٰئے اسطرح کا مطالباتی خط جنتادل سیکولر مالیگاؤں نے وزیراعلئ مہاراشٹر ۔چیف سکریٹری نگر وکاس کو روانہ کیا ہے اپنے مطالباتی خط میں الزام لگایا گیا ہیکہ گذشتہ 7 برسوں میں کارپوریشن میں زبردست لوٹ مار کی گئی ہے خاص طور سے محکمہ عوامی تعمیرات۔صحت صفائی ۔واٹر سپلائی۔محکمہ لائٹ ۔گیرج محکمہ۔اور دیگر محکموں اور معاملات میں زبردست بدنظمی لوٹ مار پائی گئی ہے بغیر۔۔مارجینگ ڈسٹنٹ ۔۔والی عمارتوں میں پرائیویٹ ھاسپیٹلوں کو۔لائسنس دیۓ گئے جسکی وجہ سے شہر بھر میں اتی کرمن کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے زیادہ تر ھاسپٹلوں کے پاس سڑکوں پر سواریاں پارک کیجاتی ہیں اور بڑی بے شرمی سے ۔۔بورڈ لکھ دیا جاتا ہے کہ۔۔۔پارکنگ صرف مریضوں کے لئے۔اور دیگر جگہوں پر بھی۔۔صرف فلاں۔۔ڈھماں کے لیٰے پارکنگ کے بورڈ لکھے نظر آتے پیں جوکہ اتی کرمن کو بڑھاوا دینے کے برابر ہے۔محکمہ اتی کرمن ادھر اتی کرمن صاف کرتا ہے دو چار گھنٹوں بعد دوبارہ اتی کرمن ہوجاتا ہےمقامی سیاسی افراد ووٹ بینک کی خاطر۔۔ٹھیلہ گاڑیوں کو اتی کرمن نہیں مانتے جسکی وجہ سے ۔۔ٹھیلہ گاڑی اتی کرمن۔۔ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔مقامی صدر JDSاور دیگر عہدیداروں کی دستخط کیساتھ سرکار کو مطالباتی خطوط بذریعہ ای میل کیا گیا ہے خط موصول ہونے اور جلد کاروائی کا جواب بھی نائب صدور عبدالغفار عبدالستار۔عبدالودود اشرفی سالکی۔کو ملا ہے اسطرح کی پریس نوٹ شبیر حنیف نے دی ہے








*🛑نیپال میں بھیانک فلش فلڈ، بے پڑے پیمانے پر تباہی، متعدد گاؤوں صاف، 1000 افراد بہہ گئے*
ہمالیائی خطے میں ایک بار پھر گلیشیئر اور سیلاب نے تشویش بڑھا دی ہے۔ تبت سے متصل نیپال کے ضلع راسووا میں بدھ کو اچانک آئے شدید سیلاب نے دیہاتوں اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سیافروبیسی اور تیمورے کے علاقے سب سے زیادہ متاثر بتائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں بڑی تعداد میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ تقریباً ایک ہزار افراد کے بہہ جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم مقامی انتظامیہ نے ابھی تک اتنی بڑی تعداد کی آفیشیل طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔ حکام نے بھوٹے کوشی دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو فوری طور پر بلند اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اتنا شدید تھا کہ دریا کے کنارے واقع گاؤوں اور پروجیکٹوں کی جگہوں کو نقصان پہنچا۔ راسووا کے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر نریندر پریار نے رائٹرز کو بتایا کہ گاؤوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے بہہ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال جانی و مالی نقصان کے بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے خدشے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم بالن شاہ نے امدادی اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ پولیس اور فوج کو بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔راسووا میں بھوٹے کوشی نے مچائی تباہی
سیلاب کا سب سے زیادہ اثر سیافروبیسی اور تیمورے میں بتایا جا رہا ہے۔ یہ علاقے چین۔تبت کی سرحد کے قریب واقع ہیں اور بھوٹے کوشی دریا کے اطراف آباد ہیں۔ حکومت نے دریا کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریا کے کنارے رہنے والے افراد اضافی احتیاط برتیں اور حالات خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر بلند علاقوں کی جانب چلے جائیں۔

پن بجلی اور دیگر منصوبوں کو نقصان
اچانک آئے سیلاب نے دریا کے کنارے جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ حکام کو متعدد منصوبوں کی جگہوں کے بہہ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ راسووا کے علاقے میں پن بجلی کے منصوبوں کے علاوہ سڑکوں اور دیگر تعمیراتی سرگرمیوں پر بھی کام جاری رہتا ہے۔ ایسے میں سیلاب سے منصوبوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے، اس کا اندازہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

بھوٹے کوشی کا پانی ہندوستان تک پہنچتا ہے
اس واقعے کے اثرات صرف نیپال کی سرحد تک محدود نہیں ہیں۔ بھوٹے کوشی دریا کا سرچشمہ تبت میں ہے۔ نیپال میں آگے چل کر یہ دریا تریشولی دریا میں شامل ہو جاتا ہے اور تریشولی کا پانی ہندوستان میں گنڈک ندی کی شکل میں آگے بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیپال میں آئے اس طرح کے اچانک سیلاب پر ہندوستان، خاص طور پر بہار کے دریا کنارے آباد علاقوں میں بھی گہری نظر رکھی جاتی ہے۔

اگر پانی کا بہاؤ بڑے پیمانے پر نشیبی علاقوں کی جانب بڑھتا ہے تو بہار کے گنڈک دریا کے نظام پر اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ سیلاب کا کتنا پانی ہندوستان تک پہنچے گا اور اس کے اثرات کتنے سنگین ہوں گے۔

گزشتہ سال بھی آیا تھا ایسا ہی سیلاب
گزشتہ سال بھی بھوٹے کوشی دریا میں تباہ کن سیلاب آیا تھا۔ اس واقعے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 24 افراد لاپتہ ہو گئے تھے۔ سیلاب نیپال اور چین کو ملانے والے فرینڈشپ پل کو بھی بہا لے گیا تھا۔ جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل اور تجارت کئی ماہ تک متاثر رہی۔

علاقائی موسمیاتی نگرانی کے ادارے کے مطابق گزشتہ سال آئے سیلاب تبت میں ایک گلیشیئر کی سطح پر قائم جھیل کا پانی خارج ہونے کے باعث آیا تھا۔ اس بار بھی گلیشیائی جھیل یا اس سے وابستہ پانی کے بہاؤ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں، تاہم موجودہ واقعے کی اصل وجہ اور اس کے پیچھے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے یا پانی خارج ہونے کے کسی کردار کی آفیشیل تصدیق کا انتظار ہے۔

امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری، تشویش بڑھنے کا خدشہ
وزیر اعظم بالن شاہ نے کہا ہے کہ امدادی اور ریسکیو ٹیموں کے علاوہ پولیس اور فوج کو بھی کارروائی میں لگا دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی اولین ترجیح نشیبی علاقوں میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور لاپتہ افراد کی تلاش کرنا ہے۔ فی الحال سب سے بڑا چیلنج دشوار گزار پہاڑی علاقہ اور پانی کا تیز بہاؤ ہے۔حکام نے لوگوں سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ جیسے جیسے پانی کی سطح اور نقصان سے متعلق مزید معلومات سامنے آئیں گی، صورت حال واضح ہوتی جائے گی۔ فی الحال راسووا سے لے کر بھوٹے کوشی اور آگے تریشولی دریا کے پورے آبی نظام پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Monday, 24 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑امریکہ سے جنگ کے درمیان ایران کو ملا اتنا بڑا گیس کا ذخیرہ، جان کر ٹرمپ ہوجائیں گے پریشان*
امریکہ کے ساتھ جاری جنگ اور سخت پابندیوں کے درمیان ایران کو توانائی کے محاذ پر بڑی کامیابی ملی ہے۔ ایران نے ملک کے جنوبی فارس صوبے میں قدرتی گیس کا ایک وسیع ذخیرہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد کے مطابق نئے گیس فیلڈ میں 7.5 ٹریلین کیوبک فٹ سے زیادہ قدرتی گیس موجود ہے۔ اس میں سے تقریباً 5.7 ٹریلین کیوبک فٹ گیس نکالی جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھی ایران کے پاس تقریباً 34 ٹریلین کیوبک میٹر گیس کا ذخیرہ ہے۔ روس کے بعد ایران گیس کے ذخائر کے معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ دریافت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران جنگ، امریکی پابندیوں اور سمندری ناکہ بندی میں پھنسا ہوا ہے۔ اس سے ایران کے توانائی کے شعبے پر بھاری دباؤ بنا ہوا ہے۔

گیس کا خزانہ لیکن نکالنا آسان نہیںکاغذ پر یہ دریافت ایران کے لیے بہت بڑی خبر ہے، لیکن اصل چیلنج گیس کو زمین سے نکال کر بازار تک پہنچانا ہے۔ اس کے لیے ایران کو بڑی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیوں اور جدید ٹیکنالوجی تک ایران کی رسائی پہلے ہی محدود ہے۔

ایران کے پاس تقریباً 34 ٹریلین کیوبک میٹر مصدقہ گیس کے ذخائر ہیں۔ اس معاملے میں وہ روس کے بعد دنیا میں دوسرے مقام پر ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا ذخیرہ ہونے کے باوجود ایران خود ہی اپنی زیادہ تر گیس استعمال کر لیتا ہے۔ ملک میں کئی بار گیس کی قلت، بجلی کی کٹوتی اور صنعتوں میں رکاوٹ جیسی مشکلات سامنے آتی رہی ہیں۔

جنگ نے توانائی کے بحران کو مزید بڑھا دیا
اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اس کے بعد ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی اثر پڑا۔ ایران نے جولائی میں دعویٰ کیا تھا کہ توانائی کے ٹھکانوں پر حملوں کے باعث ملک کی روزانہ گیس کی پیداوار تقریباً 23 کروڑ مکعب میٹر کم ہو گئی۔ ایسے وقت میں گیس کی نئی دریافت ایران کے لیے راحت کی امید ضرور جگاتی ہے۔

جنوبی ایران میں دوسری بڑی دریافت
یہ جنوبی ایران میں حالیہ برسوں میں ہونے والی دوسری بڑی گیس دریافت ہے۔ اکتوبر 2025 میں ایران نے پاجن گیس فیلڈ میں تقریباً 10 ٹریلین کیوبک فٹ گیس اور کم از کم 20 کروڑ بیرل خام تیل کی دریافت کا اعلان کیا تھا۔ ایران نے معلومات دی ہیں کہ اس علاقے سے تقریباً 7 ٹریلین کیوبک فٹ گیس نکالی جا سکتی ہے۔ اسے نکالنے میں تقریباً 40 ماہ لگ سکتے ہیں۔ یعنی ایران کے پاس زمین کے نیچے توانائی کا بڑا خزانہ ہے، لیکن اسے باہر نکالنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

قطر کے ساتھ مشترکہ گیس فیلڈ بھی جنگ کی زد میں
ایران اپنی گیس کی پیداوار کے لیے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر کافی انحصار کرتا ہے۔ یہ گیس فیلڈ قطر کے ساتھ مشترکہ ہے۔ جنگ کے دوران اس علاقے کو بھی نشانہ بنائے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس سے ایران کے لیے گیس کی پیداوار اور توانائی کی سپلائی کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

تیل سے ایران نے کمائے 7.5 ارب ڈالر
گیس کی نئی دریافت کے ساتھ ایران کے تیل کے کاروبار سے متعلق ایک اور بڑی معلومات سامنے آئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مارچ سے جولائی 2026 کے درمیان تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی تقریباً 7.5 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی ملک میں آئی تھی۔ یہ رقم 2025 کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ بتائی گئی ہے۔ لیکن اب ایران کی تیل سے ہونے والی آمدنی پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔آبنائے ہرمز بنا سب سے بڑا بحران
ایران کی تیل کی برآمدات کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز ہے۔ خلیج فارس سے دنیا کی منڈیوں تک تیل اور ایل این جی پہنچانے کے لیے یہ انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور ایل این جی اسی راستے سے گزرتا تھا۔ قطر بھی اپنی تقریباً پوری ایل این جی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔










*🛑یوپی انتخابات،مسلم اثروالے حلقوں پراویسی کی نظر،اتحاد نہ ہوا تو اکیلے میدان میں اترنے کی تیاری*
نئی دہلی: اترپردیش اسمبلی انتخابات 2027 کو لے کر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ اسی دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بھی ریاست میں اپنا سیاسی کھاتہ کھولنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ پارٹی کی پہلی ترجیح کسی سیاسی اتحاد کے ساتھ الیکشن لڑنا ہے، تاہم سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں اے آئی ایم آئی ایم اکیلے انتخابی میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی اترپردیش کی انتخابی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی ان اسمبلی حلقوں پر خاص توجہ دے رہی ہے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ مغربی اترپردیش سے لے کر ترائی علاقے کے بہرائچ تک اویسی خود دورہ کرکے پارٹی کے امکانات کا جائزہ لے چکے ہیں۔ پارٹی نے فی الحال پریاگ راج، بہرائچ، سہارنپور، مرادآباد، رام پور اور امروہہ کی کئی اسمبلی نشستوں پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ ان علاقوں میں تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

اتحاد نہ ہوا تو200سے250 نشستوں پر مقابلہ

پارٹی کی کوشش ہے کہ انتخابات سے پہلے ان علاقوں میں اپنا سیاسی بنیاد مضبوط کیا جائے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد انتخابی مساوات کو متاثر کرسکتی ہے۔ اتحاد کے حوالے سے ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، اس لیے اے آئی ایم آئی ایم نے اپنے تمام متبادل کھلے رکھے ہیں۔ پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق، اگر کسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں ہوتا تو اے آئی ایم آئی ایم اپنے دم پر تقریباً 200 سے 250 اسمبلی نشستوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کرسکتی ہے۔

بلدیاتی انتخابات کی کامیابی سے حوصلہ

سینئر سیاسی تجزیہ کار ویریندر سنگھ راوت کے مطابق، اے آئی ایم آئی ایم کو اترپردیش میں 2023 کے بلدیاتی انتخابات کی کارکردگی سے اپنا سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع ملا۔ پارٹی کے کئی امیدواروں نے مقامی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اپنی موجودگی درج کرائی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم اسی مقامی انتخابی کامیابی کو اسمبلی انتخابات تک لے جانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مغربی اترپردیش سے لے کر اودھ اور پوروانچل کے کئی علاقوں میں مسلم ووٹروں کا کردار انتخابی نتائج کے لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر اے آئی ایم آئی ایم ان علاقوں میں اپنا ووٹ بینک بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف اس کے ووٹ فیصد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سماج وادی پارٹی کے انتخابی مساوات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کی کارکردگی مؤثر نہیں رہی اور پارٹی اب تک اسمبلی میں اپنا کھاتہ نہیں کھول سکی ہے۔

اتحاد کی صورت میں بدل سکتا ہے انتخابی منظرنامہ

سینئر سیاسی تجزیہ کار حجت رضا کے مطابق، اگر اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم اتحاد سے باہر رہ کر الیکشن لڑتی ہے تو اس کا اثر بنیادی طور پر اپوزیشن ووٹوں کی تقسیم کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، جس کا فائدہ بی جے پی کو ملنے کا امکان رہے گا۔ وہیں اگر سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد میں اے آئی ایم آئی ایم کو شامل کیا جاتا ہے تو انتخابی صورتحال مختلف ہوسکتی ہے اور اپوزیشن کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔ چندرشیکھر آزاد اور پلّوی پٹیل جیسے لیڈروں اور جماعتوں کے ساتھ ممکنہ تال میل کو بھی ’بھیم-میم‘ مساوات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ستمبر تک تصویر صاف ہونے کی امید

اے آئی ایم آئی ایم سینٹرل زون کے صدر شیخ طاہر صدیقی نے کہا کہ پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں اپنا کھاتہ کھولنے کے ہدف کے ساتھ پوری تیاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی بی جے پی کو روکنے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ باعزت حصہ داری والے اتحاد کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ستمبر تک اتحاد کے حوالے سے تصویر صاف نہیں ہوئی تو اے آئی ایم آئی ایم اترپردیش کی 200 سے 250 نشستوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کرے گی۔ پارٹی کی بوتھ سطح تک تیاریاں جاری ہیں اور ریاست بھر سے الیکشن لڑنے کے خواہش مند امیدواروں کی درخواستیں مسلسل موصول ہورہی ہیں۔









*🛑دہلی میں 1,777 کیسز ،کرناٹک کے 32 اضلاع میں خطرناک انفلوئنزا پھیلا، حکومت نے جاری کیا ہائی الرٹ*
نئی دہلی : دہلی میں سوائن فلو (H1N1 انفلوئنزا وائرس) کے معاملات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دارالحکومت میں اب تک H1N1 کے 1,777 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اور اسپتالوں میں وائرل اور فلو جیسی علامات ظاہر کرنے والے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا H1N1 کا ایک نیا تناؤ دارالحکومت میں تباہی مچا رہا ہے؟ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے سائنسدانوں نے صورتحال کو واضح کیا ہے۔ICMR کے سائنسدانوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ملک میں اب تک H1N1 کا کوئی نیا تناؤ سامنے نہیں آیا ہے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں؛ اس وقت دہلی اور دیگر علاقوں میں پھیلنے والا وائرس وہی پرانا شکل ہے۔کرناٹک کے 32 اضلاع میں سوائن فلو (H1N1) اور موسمی انفلوئنزا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر ریاست بھر میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ رواں سال اب تک لیبارٹری سے تصدیق شدہ انفلوئنزا کے 4,212 معاملات سامنے آچکے ہیں، جس کے بعد محکمہ صحت کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی وزیر صحت یو ٹی قادر نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو الرٹ رہنے کی سخت ہدایت دی ہے۔وزیر صحت نے عوام سے اپیل کی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ریاست کے صحت نظام کے پاس ضروری ادویات، بنیادی ڈھانچہ اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص میں انفلوئنزا کی علامات ظاہر ہوں تو وہ بغیر تاخیر قریبی سرکاری اسپتال پہنچے۔ بیماری کی جلد تشخیص اور بروقت علاج انتہائی ضروری ہے۔ تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کو جانچ، ٹیسٹ اور علاج سے متعلق مقررہ اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسپتالوں میں ضروری سامان کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایت

ریاستی حکومت نے عالمی ادارہ صحت اور مرکزی وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق انفلوئنزا جیسی بیماری اور شدید سانس کے انفیکشن کی نگرانی مزید تیز کردی ہے۔ مریضوں کے نمونے جمع کرنے اور ان کی جانچ کا عمل ICMR-NCDC نیٹ ورک اور وائرل ریسرچ اینڈ ڈائیگناسٹک لیبارٹریز کے مقررہ مراکز کے ذریعے کیا جارہا ہے۔تمام صحت مراکز کو پی پی ای کٹس، این 95 ماسک، اوسلیٹامی ویر دوا اور لیبارٹری کے ضروری سامان کا وافر ذخیرہ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ صحت کارکنوں کو بیماری کی ابتدائی علامات کی شناخت، اس کے ممکنہ خطرات اور مریضوں کے مناسب علاج کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ نجی اسپتالوں اور کلینکس کو H1N1 کے معاملات کی اطلاع مربوط صحت معلومات پلیٹ فارم (IHIP) کے ذریعے متعلقہ نگرانی افسران کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ

محکمہ صحت نے اسپتالوں اور کلینکس میں انفیکشن کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے اقدامات مزید سخت کردیئے ہیں۔ ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔محکمہ صحت نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ کھانستے یا چھینکتے وقت ناک اور منہ کو رومال یا ٹشو سے ڈھانپیں اور صابن و صاف پانی سے ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں۔ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور وافر مقدار میں پانی، جوس اور دیگر مائعات استعمال کریں۔H1N1 سے متاثرہ افراد کو خاندان کے دیگر افراد سے الگ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنے، دوسروں سے ہاتھ ملانے سے بچنے اور بار بار آنکھ، ناک اور منہ کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی ہدایت کے بغیر خود سے کوئی دوا استعمال نہ کرنے اور استعمال شدہ ٹشو یا نیپکن دوبارہ استعمال نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

بنگلورو میں سب سے زیادہ کیس

IHIP کے اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک میں 2026 کے دوران اب تک انفلوئنزا کے 4,212 معاملات درج کیے گئے ہیں۔ 2025 میں یہ تعداد 4,583 اور 2024 میں 3,903 تھی۔ ایم ایس یو-گریٹر بنگلورو اتھارٹی میں سب سے زیادہ 2,070 معاملات سامنے آئے ہیں، جبکہ بنگلورو اربن میں 1,011 کیس درج کیے گئے ہیں۔ اڈوپی میں 300، میسورو میں 187، شیواموگا میں 91 اور جنوبی کنڑ میں 87 معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے مطابق H1N1 انفلوئنزا کے معاملات میں اضافہ معمول کی موسمی صورتحال کا حصہ ہے، جو خاص طور پر مون سون کے دوران دیکھا جاتا ہے۔ کرناٹک میں عام طور پر موسمی فلو سال میں دو مرتبہ زیادہ پھیلتا ہے، پہلی مرتبہ جنوری سے مارچ اور دوسری مرتبہ جولائی سے ستمبر کے درمیان۔ 

*🛑سیف نیوز اُردو*



*🛑شبیر رحمت علی کا انتقال کرگئے*
رسول پورہ کی مشہور شخصیت رحمت علی سیٹھ کے فرزند رمضان سائیکل والے کے والد شبیر مقادم کا 16 اگست اتوار کو انتقال پرملال ہوگیا اناللہ۔۔۔۔۔ مرحوم محنت کش اور افراد خانی کے مشفق بزرگ تھے اللہ سے بال بال مغفرت کی دعا 
شریکاں غم ۔۔۔۔۔۔۔ اہلیان محلہ و اقارب








*🛑مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے دھولیہ ضلع صدر کے عہدے پر انصاری حاجی غفران سیٹھ منتخب*
دھولیہ :مورخہ ۲۱؍اگست ۲۰۲۶ء بروز جمعہ کو شہر دھولیہ کے ۱۰۰؍فٹ روڈ پر واقع اسٹار میریج ہال پر ایک استقبالیہ پروگرام کا انعقاد کیاگیاتھا۔اس پروگرام کی صدارت دھولیہ شہر کے سابق آمدار ڈاکٹر فاروق شاہ صاحب نے انجام دی۔پروگرام کا افتتاح سابق کارپوریٹر شیخ فیروز لالہ صاحب کے ہاتھوں ہوا۔صاحب استقبالیہ مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے قومی صدر جناب سلیم سارنگ صاحب (ڈائریکٹرمولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن مہاراشٹر سرکار)کو خاص طور سے مدعو کیاگیاتھا۔پروگرام میں مہمانان خصوصی کے طور پرحاجی عرفان احمد عبدالخالق(پوپٹ فیبرکس)،ایڈوکیٹ نبی لال شیخ (ممبئی ہائی کورٹ)،ایڈوکیٹ رئیس ہندوستانی (دھولیہ کورٹ)،محمد ہارون ماسٹر(ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ایل۔ ایم ۔سردار اردو ہائی اسکول )، الیاس سر(صدر بزم حناء دھولیہ)حاضر تھے۔پروگرام میں نظامت کے فرائض نہال اختر نے انجام دی۔پروگرام کے افتتاحی موقع پر جناب فیروز لالہ شیخ انھوںنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس پروگرام میں عزت مآب صاحب استقبالیہ جناب سلیم سارنگ صاحب ان کا پرجوش خیر مقدم اور استقبال دھولیہ شہر کی ہر دلعزیز شخصیت جمیعت علماء دھولیہ کے نائب صدر اور مہانگر پالیکا شکشن منڈل کے سابق نائب چیئرمن الحاج انصاری غفران سیٹھ ان کے ہاتھوں کیاگیا۔جناب سلیم سارنگ صاحب کو حاجی انصاری غفران سیٹھ کے ہاتھوں شال ،ٹوپی،پھولوں کا ہار،اور ٹرافی وغیرہ دی گئی۔اس استقبالیہ پروگرام میں بطور خاص گیارہویں ،بارہویں میں نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کے علاوہ SIR کے لئے BLOحضرات جنہوں نے بڑی محنت وجدوجہد کے ساتھ ووٹنگ لسٹ ، میپنگ کے کاموں کو انجام دیا۔انھیں مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن دھولیہ ضلع شاخ کی اور سے رہنمائی وحوصلہ افزائی سرٹیفکیٹس جناب سلیم سارنگ صاحب ،سابق آمدار ڈاکٹر فاروق شاہ اور انصاری حاجی غفران سیٹھ کے ہاتھوں تقسیم کئے گئے۔اس پروگرام میں دھولیہ شہر کے مانی ہوئی معزز شخصیات کے علاوہ کارپوریٹرس وسابق کارپوریٹرس ، پترکار،تعلیمی اداروں کے ذمہ داران وطلبہ وطالبات کی بھی شرکت رہی۔طلبہ وطالبات اساتذہ حضرات کی بھی کارپوریٹرس کے ہاتھوں گُل پوشی کی گئی ۔اس پروگرام میں انصاری حاجی غفران سیٹھ ان کے کام کاجوں کو سوشل ورکنگ کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے قومی صدر جناب سلیم سارنگ صاحب انھوںنے دھولیہ ضلع صدر کے عہدے پر منتخب کرکے گُل پوشی کرکے استقبال کیا۔اور مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کو دھولیہ ضلع میں سماجی خدمات میں بطورخاص تعلیم، ریزرویشن کی جدوجہد بڑھانے کیلئے امید ظاہر کی۔اس پروگرام میں جناب سلیم سارنگ صاحب انھوں نے مسلم سماج میں بارہویں کے بعد ایسے بچے جو ہوشیارہونے کے بعد ان کے والدین پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے آگے کی تعلیم نہیں دے پاتے ۔ایسے بچوں کیلئے مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے ایجوکیشن قرض مہیا کرایاجائےگا۔جس سے یہ ہوشیار بچے اپنی آگے کی تعلیم مکمل کرکے بڑے بڑے عہدے پر فائز ہوں گے ایسی گواہی دیتے ہوئے مولانا آزاد کارپوریشن سے ایجوکیشن قرض منظور کرانے کی پوری پوری گواہی دی ہے۔اور سرپرست حضرات سے گذارش کی ہے کہ اپنے بچوں کو بارہویں کے بعد اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دینے کی کوشش کریں۔پروگرام میں سینکڑوں کی تعداد میں سامعین حضرات موجودتھے۔پروگرام کا انعقاد عابد شیخ(فائیو اسٹار)،محمد مصطفیٰ پپو مُلا(سابق کارپوریٹر)، سلیم شاہ عین الدین،ذاکر پٹیل (سابق دکشتا پروٹھا سمیتی رکن)، آصف عنایت منصوری، مصطفیٰ پہلوان ، ذاکر شیخ شیرپور، مختار غلام علی وغیرہ نے بہترین انداز میں کیاتھا۔








*🛑بلوچستان میں پل کیوں اڑا رہی ہےBLA؟ منیر کی گھبرائی فوج چپے۔چپے پر دے رہی ہے پہرہ*
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے منظم حملوں نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سڑکوں کے رابطے کو شدید متاثر کیا ہے۔ مستونگ کے علاقے میں کئی چھوٹے پل دھماکوں سے تباہ ہوگئے ہیں ۔ اس سے شہروں کے درمیان ٹریفک میں خلل پڑا اور مقامی راستے منقطع ہوگئے۔ صورتحال بتدریج اس حد تک بڑھ گئی کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بند کردی گئی۔ سیکورٹی فورسز اور بی ایل اے کے مسلح ارکان کے درمیان جھڑپوں نے اس اہم سڑک کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا۔ جس کی وجہ سے مسافروں اور ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

حکام نے کھڈکوچہ اور مستونگ کے کچھ حصوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز نہ صرف سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں بلکہ مزید حملوں کو روکنے اور باغیوں کو پکڑنے کے لیے آپریشن بھی کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے فوج چوکسی بڑھا رہی ہے، باغیوں کے حملے بڑھ رہے ہیں۔پلوں کو کیوں نشانہ بنایا؟
نقل و حمل اور مواصلاتی نظام کو درہم برہم کرنا بلوچستان میں ہمیشہ سے باغیوں کی حکمت عملی رہی ہے۔ بی ایل اے اس سے قبل ریلوے لائنوں، شاہراہوں، پلوں، سیکورٹی چوکیوں اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے کر چکی ہے۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ پلوں کو تباہ کرنے سے علاقے عارضی طور پر الگ تھلگ ہو جاتے ہیں، سپلائی کے راستوں میں خلل پڑتا ہے اور سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ علاقے پر قبضہ کیے بغیر ایک اہم اثر حاصل کیا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ باغی حکومت کو سننے پر مجبور کرنے کے لیے اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بناتے ہیں۔

کوئٹہ کراچی ہائی وے کا بند ہونا اہم
یہ شاہراہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو سندھ میں کراچی سے ملانے والا مرکزی راستہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو مسافر گاڑیاں اور ضروری سامان لے جانے والے ٹرک استعمال کرتے ہیں۔ صوبے کے دشوار گزار پہاڑی علاقے اور فاصلے کی وجہ سے متبادل راستے کم ہیں۔ طویل ناکہ بندی خوراک، ایندھن اور دیگر سامان میں خلل ڈال سکتی ہے۔ بی ایل اے سمیت کچھ بلوچ باغی پاکستانی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اسلام آباد بلوچستان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن صوبے کو مناسب سیاسی نمائندگی اور معاشی فوائد فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

Saturday, 22 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی میں H1N1 کے بڑھتے کیسز، مریضوں میں آکسیجن لیول گرنے کی شکایت، ڈینگی اور ملیریا نے بھی بڑھائی تشویش*
نئی دہلی :دہلی میں موسمی بیماریوں اور H1N1 انفلوئنزا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان صحت کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کی صدارت میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں دہلی حکومت کی تیاریوں، اسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور موسمی و مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں دہلی کے وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک دارالحکومت میں انفلوئنزا-اے کے 2,392 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ان میں H1N1 کے 1,777 معاملات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ H1 کے 37، H3 کے 138 اور دیگر اقسام کے 440 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض مریضوں میں بیماری کی شدت بڑھنے پر آکسیجن لیول گرنے اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔

مریضوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت

ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے دہلی کا صحت نظام پوری طرح تیار ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں میں بستروں، ڈاکٹروں، ادویات اور ضروری طبی آلات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مریضوں کو بروقت جانچ اور علاج فراہم کرنے کے لیے صحت کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔دہلی اسٹیٹ ہیلتھ مشن کے تحت انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام کے ذریعے ILI، SARI اور انفلوئنزا کے معاملات پر روزانہ نظر رکھی جارہی ہے۔ اسپتالوں اور ضلعی سطح کے صحت حکام کو اسکریننگ، رپورٹنگ اور مریضوں کی نگرانی کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کے کیسز بھی بڑھے

میٹنگ میں ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دہلی میں اب تک ڈینگی کے 246، ملیریا کے 80 اور چکن گنیا کے 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ان تینوں بیماریوں سے اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔صحت محکمہ کی جانب سے علاج، مریضوں کی درجہ بندی، وینٹی لیٹر مینجمنٹ، ماسک کے استعمال اور ہوم کیئر سے متعلق رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ طبی عملے کو علامات کی بروقت شناخت اور مریضوں کے فالو اَپ کے حوالے سے تربیت دی جارہی ہے۔

2.38 کروڑ گھروں کا سروے

مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے مقامی اداروں نے ویکٹر کنٹرول مہم کے تحت اب تک 2.38 کروڑ گھروں کا دورہ کیا ہے۔ تقریباً 3.20 لاکھ گھروں میں اسپرے کیا گیا، جبکہ 91,217 گھروں میں مچھروں کی موجودگی پائی گئی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر 74,591 قانونی نوٹس جاری کیے گئے اور 6,724 معاملات میں کارروائی کی گئی۔دہلی میں بیماریوں کی نگرانی کے لیے 35 سینٹینل سرویلنس اسپتال موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایمس اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول میں دو اعلیٰ سطحی ریفرل لیبارٹریز اور مولانا آزاد میڈیکل کالج میں ملیریا ریفرنس لیب کام کررہی ہے۔

H1N1 کی علامات کیا ہیں؟

H1N1 میں اچانک تیز بخار، خشک کھانسی، جسم میں درد، سر درد، گلے میں خراش، کپکپی اور شدید تھکن جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری اور آکسیجن لیول گرنے کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ سانس پھولنے، سینے میں درد، مسلسل تیز بخار، الجھن یا ہونٹ نیلے پڑنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔بزرگوں، چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور ذیابیطس، دل یا پھیپھڑوں کی دائمی بیماری یا کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد میں سنگین بیماری کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ حکام نے لوگوں سے گھبرانے کے بجائے احتیاط برتنے اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی مشورہ لینے کی اپیل کی ہے۔









*🛑وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کو سالگرہ پر پیش کی مبارکباد، وجے کا فلمی دنیا سے سیاست تک کا سفر*

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی طویل، خوشحال اورصحت مند زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں لکھا، “تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھروسی جوزف وجے کو سالگرہ کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ میں ان کی طویل اور صحت مند زندگی کے لیے دعاکرتا ہوں۔”

فلمی دنیا سے سیاست تک کا سفر

22 جون 1974 کو چنئی میں پیدا ہونے والے جوزف وجے چندرشیکھر، جنہیں مداح “تھلاپتی” کے نام سے جانتے ہیں، تمل سنیما کے مقبول ترین اداکاروں میں شمارہوتے تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ جنوبی ہندوستانی فلم انڈسٹری کے سب سے کامیاب اور بااثر ستاروں میں سے ایک رہے۔ وجے معروف فلم ساز ایس اے چندرشیکھر اور گلوکارہ شوبھا چندرشیکھر کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم “ویٹری” (1984) میں بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے فلمی کیریئرکا آغاز کیا تھا۔

سپر اسٹار سے عوامی رہنما تک

وجے نے تمل فلم انڈسٹری میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ “خوشی”، “تھیروملائی”، “گھلی”، “پوکری” اور “سرکار” جیسی بلاک بسٹرفلموں نے ان کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ابتدا میں رومانوی کرداروں سے شہرت حاصل کرنے والے وجے بعد میں ایکشن ہیرو کے طور پر ابھرے اورسماجی و سیاسی انصاف کے لیے لڑنے والے کرداروں کے باعث خاصی مقبولیت حاصل کی۔ان کی غیرمعمولی عوامی مقبولیت کے باعث اکثر ان کا موازنہ تمل ناڈو کے ان عظیم اداکاروں سے کیا جاتا تھا، جنہوں نے بعد میں سیاست میں کامیاب اننگز کھیلی۔ ان کی کئی فلموں میں سیاسی موضوعات کو ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم کا اشارہ سمجھا جاتا تھا۔

2024 میں سیاست میں باضابطہ داخلہ

سال 2024 میں وجے نے اپنی سیاسی پارٹی “تملگا ویٹری کڑگم” (ٹی وی کے) قائم کی اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ان کی جماعت نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کیا ۔ٹی وی کے نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں جیتیں۔ اگرچہ پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی، قابل ذکربات یہ ہےکہ کانگریس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرکے حکومت تشکیل دی گئی۔

10 مئی کو سنبھالا وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ

اتحادی حکومت کی تشکیل کے بعد سی جوزف وجے نے 10 مئی کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طورپرحلف لیا اور ریاست کی قیادت سنبھالی۔ ان کی سالگرہ کے موقع پرسیاسی و سماجی حلقوں سمیت لاکھوں مداحوں نے بھی انہیں مبارکباد پیش کی۔










*🛑اڑیسہ کی خاتون کے جسم کے ٹکڑے آگرہ میں سوٹ کیس سے برآمد، تمل ناڈو پولیس نے مشتبہ قاتلوں کا سراغ لگالیا*
چنئی : اڑیسہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے قتل کے انتہائی سنگین معاملے میں تمل ناڈو پولیس نے اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے ان افراد تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے جن پر خاتون کو قتل کرکے اس کی لاش کے حصے ایک سوٹ کیس میں رکھ کر ٹرین کے ذریعے آگرہ بھیجنے کا شبہ ہے۔ پولیس نے گڈووانچیری کے مسجد اسٹریٹ علاقے میں واقع اس مکان کا بھی سراغ لگا لیا ہے جہاں مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 5 اگست کو اترپردیش کے آگرہ ریلوے اسٹیشن پر ایک لاوارث سوٹ کیس سے بدبو آنے کی اطلاع پر پولیس نے اسے کھولا۔ سوٹ کیس کے اندر انسانی جسم کے اعضا ملنے کے بعد آگرہ پولیس اور گورنمنٹ ریلوے پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو شبہ ہوا کہ سوٹ کیس چنئی سے چلنے والی ٹرین میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد تفتیش کا دائرہ چنئی منتقل کیا گیا اور چنئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن سمیت اطراف کے علاقوں کی 350 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک مرد اور ایک خاتون کو سرخ رنگ کا سوٹ کیس لے کر چنئی سینٹرل اسٹیشن میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نے سوٹ کیس کو آگرہ جانے والی ٹرین میں چھوڑا اور خود چنئی پارک ریلوے اسٹیشن سے گڈووانچیری جانے والی دوسری ٹرین میں سوار ہوگئے۔ بعد ازاں گڈووانچیری ریلوے اسٹیشن اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے دونوں مشتبہ افراد کا راستہ تلاش کیا۔ فوٹیج میں انہیں اسی سوٹ کیس کے ساتھ ایک آٹو رکشا میں گڈووانچیری کے مسجد اسٹریٹ علاقے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

پولیس نے آٹو رکشا کا تعاقب کرتے ہوئے اس مکان کا پتہ لگایا جہاں مشتبہ افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکان کی تلاشی کے دوران پولیس کو ایسے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قتل اسی مکان میں کیا گیا اور بعد میں شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مقتولہ کے جسم کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے بعض حصے سوٹ کیس میں رکھے گئے اور انہیں ٹرین کے ذریعے آگرہ بھیج دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مکان میں باقی شواہد اور جسم کے دیگر حصوں کو ختم کرنے کی بھی مبینہ کوشش کی گئی۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ خاتون کے سر کی تلاش بھی جاری ہے۔ پڑوسیوں کے مطابق اس مکان میں دو خواتین اور ایک مرد رہتے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مرد اور ایک خاتون نے دوسری خاتون، جس کی شناخت حیات نِشا کے طور پر کی گئی ہے، کو قتل کیا۔ بتایا گیا ہے کہ حیات نِشا اڑیسہ کی رہنے والی تھیں اور تامبرم کے قریب ایک ایکسپورٹ کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں۔

مقتولہ کے بیٹے سے بھی پولیس پوچھ گچھ کررہی ہے تاکہ اس کی والدہ کی سرگرمیوں، رابطوں اور ان افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں جو اس کے ساتھ رابطے میں تھے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہی ہے۔ تفتیش کا ایک اہم رخ یہ بھی ہے کہ آیا مقتولہ اور مشتبہ افراد کے درمیان پہلے سے کوئی تعلق تھا یا قتل کے پیچھے زیورات اور نقد رقم حاصل کرنے کا مقصد کارفرما تھا۔پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف شواہد جمع کرنے اور معاملے میں مزید لوگوں کے ممکنہ کردار کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات تیز کردی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تصویر تفتیش آگے بڑھنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑’چونی سے روپیہ‘ والے بیان پر سنگیت سوم کا اکھلیش یادو پر سخت حملہ، بولے- ’ایکنی کا بھی نہیں چھوڑیں گے‘* سماج وادی...