’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک ہے لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ ’خاموش قاتل‘ آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور دماغی ساخت کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ جس کا اندازہ اکثر بروقت نہیں ہو پاتا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طبی زبان میں ’ہائپر ٹینشن‘ کہلانے والا یہ مرض ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کی شریانوں پر دباؤ مسلسل زیادہ رہتا ہے۔
چونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے مریض برسوں تک اس سے بے خبر رہ سکتا ہے مگر اس دوران یہ جسم کے سب سے حساس حصے یعنی دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔
انسانی دماغ کا وزن پورے جسم کے کل وزن کا محض دو فیصد ہوتا ہے لیکن اسے کام کرنے کے لیے جسم کی کل آکسیجن اور خون کی فراہمی کا تقریباً 20 فیصد حصہ درکار ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خون کی گردش میں معمولی سی رکاوٹ بھی دماغی خلیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر دماغ پر درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے:
فالج کا خطرہ
بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں جسے ’ایتھیروسکلروسیس‘ کہا جاتا ہے۔ اگر خون کا کوئی لوتھڑا (Clot) دماغ کی کسی تنگ شریان میں پھنس جائے یا دباؤ کی وجہ سے شریان پھٹ جائے تو یہ فالج کا سبب بنتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مستقل معذوری یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
ذہنی صلاحیتوں میں کمی
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنے والے افراد میں آگے چل کر ’ڈیمنشیا‘ یا بھولنے کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون کی روانی متاثر ہونے سے ’واسکولر ڈیمنشیا‘ جنم لیتا ہے جس میں یادداشت، منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔
چھوٹے سٹروک
انہیں ’منی سٹروک‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتے ہیں جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی سپلائی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ اگرچہ یہ چند منٹوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن یہ اس بات کی علامت ہیں کہ مستقبل میں ایک بڑا فالج دستک دے رہا ہے۔
دماغ کا سکڑنا
طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہنے سے دماغ کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ خاص طور پر ’ہپوکیمپس‘ جو یادداشت کا مرکز ہے، تیزی سے سکڑنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کی گہرائی میں موجود باریک شریانیں متاثر ہوتی ہیں، جس سے ’وائٹ میٹر‘ کو نقصان پہنچتا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کے اثرات صرف سر تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے گردے اور آنکھیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ گردوں کی باریک شریانیں متاثر ہونے سے وہ خون صاف کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں جو ڈائلیسس کی نوبت لا سکتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر سے آنکھوں کے پردے کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں جس سے بینائی مستقل طور پر جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی میں چند سادہ تبدیلیوں سے اس ’خاموش قاتل‘ کو قابو کیا جا سکتا ہے۔
غذا میں نمک کا استعمال کم کریں اور پھل، سبزیاں اور اناج اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ پروسیس شدہ اور پیکٹ والے کھانوں سے پرہیز کریں۔
ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل ورزش (جیسے تیز چلنا یا تیراکی) بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں جادوئی اثر رکھتی ہے۔
ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے یوگا یا گہرے سانس لینے کی مشقیں کریں۔ موٹاپا بلڈ پریشر کا بڑا دشمن ہے۔
گھر پر بلڈ پریشر چیک کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ کسی بھی تبدیلی کا فوری علم ہو سکے۔اگر ڈاکٹر نے ادویات تجویز کی ہیں تو انہیں وقت پر لیں۔ بلڈ پریشر نارمل محسوس ہونے پر بھی خود سے دوا ترک نہ کریں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ آج اپنے بلڈ پریشر کو قابو کر لیتے ہیں تو آپ نہ صرف فالج بلکہ بڑھاپے میں یادداشت کھونے کے سنگین خطرات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔
پی ایم مودی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے کی بات، مغربی ایشیا میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کو عید اور نوروز کی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ تہوار کا موسم مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی لائے گا۔ ایرانی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں، وزیر اعظم مودی نے خطے میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی، جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ ہے اور عالمی سپلائی چین میں خلل پڑتا ہے۔ انہوں نے نیوی گیشن کی آزادی کے تحفظ کی اہمیت کا اعادہ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ شپنگ لین کھلی اور محفوظ رہیں۔
وزیر اعظم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا "صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے بات کی اور عید اور نوروز کی مبارکباد دی۔ ہم نے امید ظاہر کی کہ تہوار کا موسم مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی لائے گا،"۔ انہوں نے کہا، "ہم خطے میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، جو علاقائی استحکام کو خطرہ اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں۔" وزیر اعظم نے ایران میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لئے ایران کی مسلسل حمایت کی بھی تعریف کی۔موجودہ تنازع شروع ہونے کے بعد وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر کے درمیان یہ دوسری ٹیلی فون پر بات چیت تھی۔ 12 مارچ کو ایرانی صدر پیزشکیان نے وزیر اعظم مودی کو ایران کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور خطے میں حالیہ پیش رفت پر اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق، وزیر اعظم نے خطے میں سلامتی کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ہندوستان کے اس موقف کو دہرایا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے اپنے پڑوسیوں اور اسرائیل کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی۔
ایران آبنائے ہرمز کو بھی کنٹرول کرتا ہے، جو ایک اہم سمندری نقل و حمل کا راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کی توانائی کی مصنوعات کا 20 فیصد نقل و حمل کیا جاتا ہے۔ تنازع کے بعد سے، ایران نے بہت کم جہازوں کو اس کی نقل و حمل کی اجازت دی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے کئی ممالک کے رہنماؤں سے بھی بات کی ہے۔ ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، اردن، فرانس اور ملائیشیا کے رہنما شامل ہیں۔
عید پر بہترین اشعار: ان خوبصورت اشعار کے ساتھ دیں مبارک باد
حیدرآباد (نیوز ڈیسک): عید الفطر کے پُرمسرت موقعے پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینے، خوبصورت پیغامات لکھنے یا کسی سے اپنے دل کی بات کہنے کے لیے درج ذیل منتخب اشعار کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے مختلف شعراء کے چنندہ اشعار:
مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے
چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے
محمد اسد اللہ
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے
قمر بدایونی
وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو
ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو
مصحفی غلام ہمدانی
اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے
دلاور علی آزر
ہم نے تجھے دیکھا نہیں کیا عید منائیں
جس نے تجھے دیکھا ہو اسے عید مبارک
لیاقت علی عاصم
راس آ جاتیں ہمیں بھی عید کی خوشیاں تمام
کاش تو بھی پاس ہوتا عید کے لمحات میں
نامعلوم
اے ہوا تو ہی اسے عید مبارک کہیو
اور کہیو کہ کوئی یاد کیا کرتا ہے
تری پراری
عید اب کے بھی گئی یوں ہی کسی نے نہ کہا
کہ ترے یار کو ہم تجھ سے ملا دیتے ہیں
مصحفی غلام ہمدانی
جہاں نہ اپنے عزیزوں کی دید ہوتی ہے
زمین ہجر پہ بھی کوئی عید ہوتی ہے
عین تابش
مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی
اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں
نامعلوم