دارالسرور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، برہان پور کا دس سالہ جشنِ تکمیل
مالیگاؤں سے ڈاکٹر ایوبی معاذ، ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان و پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحبان کو "حضرت سعدی دکنی برہان پوری ایوارڈ" تفویض
دارالسرور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، برہان پور کا دس سالہ جشنِ تکمیل پروگرام ٢١ جون ٢٠٢٦ ء کی شب عبدالرحمن ہال، انصار نگر، برہان پور ایم پی میں ہوا جسمیں برہان پور کے بچوں کے ادب کا پہلا اردو ناول کمسن جاسوس (پروانہ برہان پوری) کا اجراء بھی معزز مہمانان کے ہاتھوں ہوا ساتھ ہی 19 اپریل 2026 کو منعقدہ مضمون نگاری مقابلے میں شرکت کرنے والے انعام یافتگان کو انعامات تقسیم کیے گئے۔ جیکہ ڈاکٹر عبدالکریم سالار صاحب(صدر اقراء ایجوکیشن سوسائٹی، جلگاؤں) محترم فیروز کمال صاحب(مالک کمال پبلکیشن، جبلپور)محترم مشیر احمد انصاری صاحب(مدیر ماہنامہ اردو آنگن، ممبئی) محترم پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحب(آنریری سیکریٹری اے ٹی ٹی ایجوکیشنل کیمپس، صدر سی سی آئی و صدر انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں)محترم ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان صاحب (معروف سنئیر وکیل مالیگاؤں کورٹ)محترم ڈاکٹر ایوبی معاذ احمد ڈاکٹر منظور حسن ایوبی صاحب (رکن انتظامیہ سٹیزن ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی، مالیگاؤں) صاحبان کی تعلیمی و سماجی خدمات جلیلہ کا اعتراف کرتے ہوئے "حضرت سعدی دکنی برہان پوری ایوارڈ" بھی تفویض کیا گیا- علاوہ ازیں مالیگاؤں سے بطور مہمان خاص مدعو ڈاکٹر آصف سلیم و رضوان ربانی صاحبان کو بھی اعزازی و اعترافی ٹرافیاں تفویض کی گئیں تمام ہی ایوارڈ و اعزاز یافتگان کو عمیق دل سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے-
پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شان میں گستاخانہ بیان کے خلاف SDPI کا احتجاج، نازیہ الٰہی خان کے خلاف FIR درج کرنے کا مطالبہ
مالیگاؤں (نامہ نگار):
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ اقدس میں مبینہ طور پر گستاخانہ اور اشتعال انگیز بیان دینے والی نازیہ الٰہی خان کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرکے سخت قانونی کارروائی کرنے کے مطالبے پر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے ایک وفد نے مالیگاؤں کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ASP) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DYSP) کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ نازیہ الٰہی خان کے مبینہ بیانات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ وفد کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت، اشتعال اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھی فروغ دے سکتے ہیں، جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ نازیہ الٰہی خان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارہ اور امن و امان برقرار رہے۔
اس موقع پر وفد نے مالیگاؤں سٹی پولیس اسٹیشن کے پولیس افسران سے بھی ملاقات کی اور میمورنڈم کی ایک نقل وہاں بھی پیش کی۔ وفد کے اراکین نے پولیس حکام کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات اور قانونی اصولوں کے مطابق مذہبی منافرت، اشتعال انگیزی اور عوامی امن کو متاثر کرنے والے معاملات میں پولیس کو از خود (Suo Motu) کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنی چاہیے اور شکایت کا انتظار کیے بغیر قانون کے مطابق فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
وفد کی نمائندگی SDPI کے ریاستی ورکنگ کمیٹی کے اراکین عبداللہ انجینئر اور مشتاق محاذ نے کی۔ اس موقع پر پولیس افسران سے گفتگو کرتے ہوئے مشتاق محاذ نے کہا کہ کسی بھی مذہب، مذہبی شخصیت یا مقدس ہستی کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں فوری اور مؤثر قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔
وفد میں SDPI کے ضلعی صدر مظہر الیاس، ابراہیم انقلابی، حافظ عمران شہباز، اظہر اسلم، جمیل شیخ سمیت متعدد ذمہ داران، کارکنان اور درجنوں عہدیداران شریک تھے۔ وفد نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی حساسیت اور سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی جرات نہ کر سکے۔
میمورنڈم کی نقول متعلقہ پولیس حکام اور دیگر ذمہ دار افسران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ SDPI قائدین نے اس موقع پر کہا کہ مذہبی احترام، آئینی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کے تحفظ کے لیے ان کی قانونی اور جمہوری جدوجہد آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس انتظامیہ اس معاملے میں فوری، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ کارروائی کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔
وزن کم کرنے کی کامیاب کہانیاں اکثر فٹنس کے شوقین افراد کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ اگرچہ ایسی تبدیلیاں بظاہر آسان دکھائی دیتی ہیں، لیکن درحقیقت یہ نظم و ضبط، مسلسل محنت اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
بعض اوقات کسی ایک شخص کی کامیابی دوسروں کے لیے بھی صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور اپنے اہداف کے حصول کی ترغیب بن جاتی ہے۔
فٹنس کانٹینٹ کریئیٹر کاجل کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔کاجل نے اپنی وزن کم کرنے کی پوری جدوجہد انسٹاگرام پر شیئر کی اور بتایا کہ وہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں 101 کلوگرام سے 65 کلوگرام تک پہنچ گئیں۔ ان کی ویڈیوز کے مطابق انہوں نے اگست 2025 میں اپنی فٹنس ٹرانسفارمیشن کا آغاز کیا اور صرف سات ماہ میں تقریباً 36 کلوگرام وزن کم کرنے میں کامیاب رہیں۔
اپنی تازہ ویڈیو میں کاجل نے اپنی فٹنس ٹرانسفارمیشن کی قبل اور بعد کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اپنی غذا کا معمول بھی بتایا۔
پہلا دن
کاجل کے مطابق ہفتے کا آغاز سادہ اور متوازن گھریلو کھانوں سے ہوتا ہے۔ صبح وہ ایک کپ زیرہ واٹر اور پانچ بھیگے ہوئے خشک میوے استعمال کرتی ہیں۔
ناشتے میں دو چھوٹے بیسن چیلے پودینے کی چٹنی کے ساتھ کھاتی ہیں۔ درمیانی وقت میں ایک پیالہ پھل، عموماً پپیتا، اور ایک کھانے کا چمچ سورج مکھی کے بیج استعمال کرتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں آدھا کپ براؤن رائس، چنے کی دال اور بھنڈی شامل ہوتی ہے۔ شام کو ہربل چائے کے ساتھ 20 گرام بھنا ہوا مکھانہ کھاتی ہیں، جبکہ رات کے کھانے میں ٹوفو بھرجی، فرائی کی ہوئی پھلیاں اور ایک باجرے کی روٹی شامل ہوتی ہے۔
دوسرا دن
دوسرے دن کاجل زیرہ واٹر کی جگہ نیم گرم لیموں پانی میں بھیگے ہوئے چیا سیڈز استعمال کرتی ہیں۔
ناشتے میں سویابین کے ٹکڑوں کے ساتھ ویجیٹیبل پوہا کھاتی ہیں۔ بعد ازاں ایک سیب اور ایک کھانے کا چمچ کدو کے بیج بطور سنیک لیتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں دو روٹیاں، مونگ کی دال، لوکی کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کو چھاچھ اور بھنے ہوئے چنے کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں 100 گرام پالک پنیر، ایک جوار کی روٹی اور کھیرے کا رائتہ شامل ہوتا ہے۔تیسرا دن
تیسرے دن کا آغاز ایلوویرا شاٹ اور نیم گرم پانی سے ہوتا ہے۔ ناشتے میں راگی ڈوسا، پروٹین سے بھرپور سامبر اور چٹنی شامل ہوتی ہے۔ درمیانی وقت میں ایک امرود اور ایک کھانے کا چمچ السی کے بیج کھاتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں ایک چھوٹی جوار کی روٹی، تور دال، پالک کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کے وقت بغیر چینی والا یونانی دہی چیا سیڈز اور بیریز یا انار کے ساتھ کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں ویجیٹیبل کوئنوا پلاؤ اور کھیرے، ٹماٹر کا سلاد شامل ہوتا ہے۔
چوتھا دن
چوتھے دن کا آغاز بھیگے ہوئے میتھی دانے کے پانی اور ویجیٹیبل اپما سے ہوتا ہے۔ بعد میں ایک ناشپاتی اور آٹھ سے 10 بھیگی ہوئی کشمش کھاتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں باجرے کی کھچڑی اور کچری شامل ہوتی ہے۔ شام کو لیموں پانی اور ہمس کے ساتھ دو رائس کیکس کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں سویا کری اور ایک روٹی شامل ہوتی ہے۔پانچواں دن
پانچویں دن صبح لیموں اور ادرک والا پانی، پانچ بھیگے ہوئے آخروٹ اور سبزیوں سے تیار اوٹس چیلا سبز چٹنی کے ساتھ کھاتی ہیں۔ بعد ازاں پھل اور مختلف بیج استعمال کرتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں دو باجرے کی روٹیاں، مسور کی دال، بھنڈی کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کو چھاچھ اور بھنی ہوئی مونگ پھلی کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں پنیر تکہ، ہلکی فرائی کی ہوئی زوکینی اور آدھا کپ براؤن رائس شامل ہوتا ہے۔
اگرچہ وزن کم کرنے کے نتائج ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم کاجل کی یہ کامیاب جدوجہد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقل مزاجی، مناسب مقدار میں غذا کا استعمال اور متوازن خوراک طویل المدتی فٹنس اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔