Monday, 24 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑امریکہ سے جنگ کے درمیان ایران کو ملا اتنا بڑا گیس کا ذخیرہ، جان کر ٹرمپ ہوجائیں گے پریشان*
امریکہ کے ساتھ جاری جنگ اور سخت پابندیوں کے درمیان ایران کو توانائی کے محاذ پر بڑی کامیابی ملی ہے۔ ایران نے ملک کے جنوبی فارس صوبے میں قدرتی گیس کا ایک وسیع ذخیرہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد کے مطابق نئے گیس فیلڈ میں 7.5 ٹریلین کیوبک فٹ سے زیادہ قدرتی گیس موجود ہے۔ اس میں سے تقریباً 5.7 ٹریلین کیوبک فٹ گیس نکالی جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھی ایران کے پاس تقریباً 34 ٹریلین کیوبک میٹر گیس کا ذخیرہ ہے۔ روس کے بعد ایران گیس کے ذخائر کے معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ دریافت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران جنگ، امریکی پابندیوں اور سمندری ناکہ بندی میں پھنسا ہوا ہے۔ اس سے ایران کے توانائی کے شعبے پر بھاری دباؤ بنا ہوا ہے۔

گیس کا خزانہ لیکن نکالنا آسان نہیںکاغذ پر یہ دریافت ایران کے لیے بہت بڑی خبر ہے، لیکن اصل چیلنج گیس کو زمین سے نکال کر بازار تک پہنچانا ہے۔ اس کے لیے ایران کو بڑی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیوں اور جدید ٹیکنالوجی تک ایران کی رسائی پہلے ہی محدود ہے۔

ایران کے پاس تقریباً 34 ٹریلین کیوبک میٹر مصدقہ گیس کے ذخائر ہیں۔ اس معاملے میں وہ روس کے بعد دنیا میں دوسرے مقام پر ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا ذخیرہ ہونے کے باوجود ایران خود ہی اپنی زیادہ تر گیس استعمال کر لیتا ہے۔ ملک میں کئی بار گیس کی قلت، بجلی کی کٹوتی اور صنعتوں میں رکاوٹ جیسی مشکلات سامنے آتی رہی ہیں۔

جنگ نے توانائی کے بحران کو مزید بڑھا دیا
اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اس کے بعد ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی اثر پڑا۔ ایران نے جولائی میں دعویٰ کیا تھا کہ توانائی کے ٹھکانوں پر حملوں کے باعث ملک کی روزانہ گیس کی پیداوار تقریباً 23 کروڑ مکعب میٹر کم ہو گئی۔ ایسے وقت میں گیس کی نئی دریافت ایران کے لیے راحت کی امید ضرور جگاتی ہے۔

جنوبی ایران میں دوسری بڑی دریافت
یہ جنوبی ایران میں حالیہ برسوں میں ہونے والی دوسری بڑی گیس دریافت ہے۔ اکتوبر 2025 میں ایران نے پاجن گیس فیلڈ میں تقریباً 10 ٹریلین کیوبک فٹ گیس اور کم از کم 20 کروڑ بیرل خام تیل کی دریافت کا اعلان کیا تھا۔ ایران نے معلومات دی ہیں کہ اس علاقے سے تقریباً 7 ٹریلین کیوبک فٹ گیس نکالی جا سکتی ہے۔ اسے نکالنے میں تقریباً 40 ماہ لگ سکتے ہیں۔ یعنی ایران کے پاس زمین کے نیچے توانائی کا بڑا خزانہ ہے، لیکن اسے باہر نکالنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

قطر کے ساتھ مشترکہ گیس فیلڈ بھی جنگ کی زد میں
ایران اپنی گیس کی پیداوار کے لیے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر کافی انحصار کرتا ہے۔ یہ گیس فیلڈ قطر کے ساتھ مشترکہ ہے۔ جنگ کے دوران اس علاقے کو بھی نشانہ بنائے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس سے ایران کے لیے گیس کی پیداوار اور توانائی کی سپلائی کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

تیل سے ایران نے کمائے 7.5 ارب ڈالر
گیس کی نئی دریافت کے ساتھ ایران کے تیل کے کاروبار سے متعلق ایک اور بڑی معلومات سامنے آئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مارچ سے جولائی 2026 کے درمیان تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی تقریباً 7.5 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی ملک میں آئی تھی۔ یہ رقم 2025 کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ بتائی گئی ہے۔ لیکن اب ایران کی تیل سے ہونے والی آمدنی پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔آبنائے ہرمز بنا سب سے بڑا بحران
ایران کی تیل کی برآمدات کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز ہے۔ خلیج فارس سے دنیا کی منڈیوں تک تیل اور ایل این جی پہنچانے کے لیے یہ انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور ایل این جی اسی راستے سے گزرتا تھا۔ قطر بھی اپنی تقریباً پوری ایل این جی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔










*🛑یوپی انتخابات،مسلم اثروالے حلقوں پراویسی کی نظر،اتحاد نہ ہوا تو اکیلے میدان میں اترنے کی تیاری*
نئی دہلی: اترپردیش اسمبلی انتخابات 2027 کو لے کر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ اسی دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بھی ریاست میں اپنا سیاسی کھاتہ کھولنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ پارٹی کی پہلی ترجیح کسی سیاسی اتحاد کے ساتھ الیکشن لڑنا ہے، تاہم سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں اے آئی ایم آئی ایم اکیلے انتخابی میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی اترپردیش کی انتخابی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی ان اسمبلی حلقوں پر خاص توجہ دے رہی ہے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ مغربی اترپردیش سے لے کر ترائی علاقے کے بہرائچ تک اویسی خود دورہ کرکے پارٹی کے امکانات کا جائزہ لے چکے ہیں۔ پارٹی نے فی الحال پریاگ راج، بہرائچ، سہارنپور، مرادآباد، رام پور اور امروہہ کی کئی اسمبلی نشستوں پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ ان علاقوں میں تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

اتحاد نہ ہوا تو200سے250 نشستوں پر مقابلہ

پارٹی کی کوشش ہے کہ انتخابات سے پہلے ان علاقوں میں اپنا سیاسی بنیاد مضبوط کیا جائے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد انتخابی مساوات کو متاثر کرسکتی ہے۔ اتحاد کے حوالے سے ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، اس لیے اے آئی ایم آئی ایم نے اپنے تمام متبادل کھلے رکھے ہیں۔ پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق، اگر کسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں ہوتا تو اے آئی ایم آئی ایم اپنے دم پر تقریباً 200 سے 250 اسمبلی نشستوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کرسکتی ہے۔

بلدیاتی انتخابات کی کامیابی سے حوصلہ

سینئر سیاسی تجزیہ کار ویریندر سنگھ راوت کے مطابق، اے آئی ایم آئی ایم کو اترپردیش میں 2023 کے بلدیاتی انتخابات کی کارکردگی سے اپنا سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع ملا۔ پارٹی کے کئی امیدواروں نے مقامی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اپنی موجودگی درج کرائی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم اسی مقامی انتخابی کامیابی کو اسمبلی انتخابات تک لے جانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مغربی اترپردیش سے لے کر اودھ اور پوروانچل کے کئی علاقوں میں مسلم ووٹروں کا کردار انتخابی نتائج کے لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر اے آئی ایم آئی ایم ان علاقوں میں اپنا ووٹ بینک بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف اس کے ووٹ فیصد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سماج وادی پارٹی کے انتخابی مساوات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کی کارکردگی مؤثر نہیں رہی اور پارٹی اب تک اسمبلی میں اپنا کھاتہ نہیں کھول سکی ہے۔

اتحاد کی صورت میں بدل سکتا ہے انتخابی منظرنامہ

سینئر سیاسی تجزیہ کار حجت رضا کے مطابق، اگر اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم اتحاد سے باہر رہ کر الیکشن لڑتی ہے تو اس کا اثر بنیادی طور پر اپوزیشن ووٹوں کی تقسیم کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، جس کا فائدہ بی جے پی کو ملنے کا امکان رہے گا۔ وہیں اگر سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد میں اے آئی ایم آئی ایم کو شامل کیا جاتا ہے تو انتخابی صورتحال مختلف ہوسکتی ہے اور اپوزیشن کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔ چندرشیکھر آزاد اور پلّوی پٹیل جیسے لیڈروں اور جماعتوں کے ساتھ ممکنہ تال میل کو بھی ’بھیم-میم‘ مساوات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ستمبر تک تصویر صاف ہونے کی امید

اے آئی ایم آئی ایم سینٹرل زون کے صدر شیخ طاہر صدیقی نے کہا کہ پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں اپنا کھاتہ کھولنے کے ہدف کے ساتھ پوری تیاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی بی جے پی کو روکنے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ باعزت حصہ داری والے اتحاد کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ستمبر تک اتحاد کے حوالے سے تصویر صاف نہیں ہوئی تو اے آئی ایم آئی ایم اترپردیش کی 200 سے 250 نشستوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کرے گی۔ پارٹی کی بوتھ سطح تک تیاریاں جاری ہیں اور ریاست بھر سے الیکشن لڑنے کے خواہش مند امیدواروں کی درخواستیں مسلسل موصول ہورہی ہیں۔









*🛑دہلی میں 1,777 کیسز ،کرناٹک کے 32 اضلاع میں خطرناک انفلوئنزا پھیلا، حکومت نے جاری کیا ہائی الرٹ*
نئی دہلی : دہلی میں سوائن فلو (H1N1 انفلوئنزا وائرس) کے معاملات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دارالحکومت میں اب تک H1N1 کے 1,777 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اور اسپتالوں میں وائرل اور فلو جیسی علامات ظاہر کرنے والے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا H1N1 کا ایک نیا تناؤ دارالحکومت میں تباہی مچا رہا ہے؟ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے سائنسدانوں نے صورتحال کو واضح کیا ہے۔ICMR کے سائنسدانوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ملک میں اب تک H1N1 کا کوئی نیا تناؤ سامنے نہیں آیا ہے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں؛ اس وقت دہلی اور دیگر علاقوں میں پھیلنے والا وائرس وہی پرانا شکل ہے۔کرناٹک کے 32 اضلاع میں سوائن فلو (H1N1) اور موسمی انفلوئنزا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر ریاست بھر میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ رواں سال اب تک لیبارٹری سے تصدیق شدہ انفلوئنزا کے 4,212 معاملات سامنے آچکے ہیں، جس کے بعد محکمہ صحت کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی وزیر صحت یو ٹی قادر نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو الرٹ رہنے کی سخت ہدایت دی ہے۔وزیر صحت نے عوام سے اپیل کی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ریاست کے صحت نظام کے پاس ضروری ادویات، بنیادی ڈھانچہ اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص میں انفلوئنزا کی علامات ظاہر ہوں تو وہ بغیر تاخیر قریبی سرکاری اسپتال پہنچے۔ بیماری کی جلد تشخیص اور بروقت علاج انتہائی ضروری ہے۔ تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کو جانچ، ٹیسٹ اور علاج سے متعلق مقررہ اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسپتالوں میں ضروری سامان کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایت

ریاستی حکومت نے عالمی ادارہ صحت اور مرکزی وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق انفلوئنزا جیسی بیماری اور شدید سانس کے انفیکشن کی نگرانی مزید تیز کردی ہے۔ مریضوں کے نمونے جمع کرنے اور ان کی جانچ کا عمل ICMR-NCDC نیٹ ورک اور وائرل ریسرچ اینڈ ڈائیگناسٹک لیبارٹریز کے مقررہ مراکز کے ذریعے کیا جارہا ہے۔تمام صحت مراکز کو پی پی ای کٹس، این 95 ماسک، اوسلیٹامی ویر دوا اور لیبارٹری کے ضروری سامان کا وافر ذخیرہ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ صحت کارکنوں کو بیماری کی ابتدائی علامات کی شناخت، اس کے ممکنہ خطرات اور مریضوں کے مناسب علاج کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ نجی اسپتالوں اور کلینکس کو H1N1 کے معاملات کی اطلاع مربوط صحت معلومات پلیٹ فارم (IHIP) کے ذریعے متعلقہ نگرانی افسران کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ

محکمہ صحت نے اسپتالوں اور کلینکس میں انفیکشن کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے اقدامات مزید سخت کردیئے ہیں۔ ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔محکمہ صحت نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ کھانستے یا چھینکتے وقت ناک اور منہ کو رومال یا ٹشو سے ڈھانپیں اور صابن و صاف پانی سے ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں۔ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور وافر مقدار میں پانی، جوس اور دیگر مائعات استعمال کریں۔H1N1 سے متاثرہ افراد کو خاندان کے دیگر افراد سے الگ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنے، دوسروں سے ہاتھ ملانے سے بچنے اور بار بار آنکھ، ناک اور منہ کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی ہدایت کے بغیر خود سے کوئی دوا استعمال نہ کرنے اور استعمال شدہ ٹشو یا نیپکن دوبارہ استعمال نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

بنگلورو میں سب سے زیادہ کیس

IHIP کے اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک میں 2026 کے دوران اب تک انفلوئنزا کے 4,212 معاملات درج کیے گئے ہیں۔ 2025 میں یہ تعداد 4,583 اور 2024 میں 3,903 تھی۔ ایم ایس یو-گریٹر بنگلورو اتھارٹی میں سب سے زیادہ 2,070 معاملات سامنے آئے ہیں، جبکہ بنگلورو اربن میں 1,011 کیس درج کیے گئے ہیں۔ اڈوپی میں 300، میسورو میں 187، شیواموگا میں 91 اور جنوبی کنڑ میں 87 معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے مطابق H1N1 انفلوئنزا کے معاملات میں اضافہ معمول کی موسمی صورتحال کا حصہ ہے، جو خاص طور پر مون سون کے دوران دیکھا جاتا ہے۔ کرناٹک میں عام طور پر موسمی فلو سال میں دو مرتبہ زیادہ پھیلتا ہے، پہلی مرتبہ جنوری سے مارچ اور دوسری مرتبہ جولائی سے ستمبر کے درمیان۔ 

*🛑سیف نیوز اُردو*



*🛑شبیر رحمت علی کا انتقال کرگئے*
رسول پورہ کی مشہور شخصیت رحمت علی سیٹھ کے فرزند رمضان سائیکل والے کے والد شبیر مقادم کا 16 اگست اتوار کو انتقال پرملال ہوگیا اناللہ۔۔۔۔۔ مرحوم محنت کش اور افراد خانی کے مشفق بزرگ تھے اللہ سے بال بال مغفرت کی دعا 
شریکاں غم ۔۔۔۔۔۔۔ اہلیان محلہ و اقارب








*🛑مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے دھولیہ ضلع صدر کے عہدے پر انصاری حاجی غفران سیٹھ منتخب*
دھولیہ :مورخہ ۲۱؍اگست ۲۰۲۶ء بروز جمعہ کو شہر دھولیہ کے ۱۰۰؍فٹ روڈ پر واقع اسٹار میریج ہال پر ایک استقبالیہ پروگرام کا انعقاد کیاگیاتھا۔اس پروگرام کی صدارت دھولیہ شہر کے سابق آمدار ڈاکٹر فاروق شاہ صاحب نے انجام دی۔پروگرام کا افتتاح سابق کارپوریٹر شیخ فیروز لالہ صاحب کے ہاتھوں ہوا۔صاحب استقبالیہ مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے قومی صدر جناب سلیم سارنگ صاحب (ڈائریکٹرمولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن مہاراشٹر سرکار)کو خاص طور سے مدعو کیاگیاتھا۔پروگرام میں مہمانان خصوصی کے طور پرحاجی عرفان احمد عبدالخالق(پوپٹ فیبرکس)،ایڈوکیٹ نبی لال شیخ (ممبئی ہائی کورٹ)،ایڈوکیٹ رئیس ہندوستانی (دھولیہ کورٹ)،محمد ہارون ماسٹر(ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ایل۔ ایم ۔سردار اردو ہائی اسکول )، الیاس سر(صدر بزم حناء دھولیہ)حاضر تھے۔پروگرام میں نظامت کے فرائض نہال اختر نے انجام دی۔پروگرام کے افتتاحی موقع پر جناب فیروز لالہ شیخ انھوںنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس پروگرام میں عزت مآب صاحب استقبالیہ جناب سلیم سارنگ صاحب ان کا پرجوش خیر مقدم اور استقبال دھولیہ شہر کی ہر دلعزیز شخصیت جمیعت علماء دھولیہ کے نائب صدر اور مہانگر پالیکا شکشن منڈل کے سابق نائب چیئرمن الحاج انصاری غفران سیٹھ ان کے ہاتھوں کیاگیا۔جناب سلیم سارنگ صاحب کو حاجی انصاری غفران سیٹھ کے ہاتھوں شال ،ٹوپی،پھولوں کا ہار،اور ٹرافی وغیرہ دی گئی۔اس استقبالیہ پروگرام میں بطور خاص گیارہویں ،بارہویں میں نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کے علاوہ SIR کے لئے BLOحضرات جنہوں نے بڑی محنت وجدوجہد کے ساتھ ووٹنگ لسٹ ، میپنگ کے کاموں کو انجام دیا۔انھیں مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن دھولیہ ضلع شاخ کی اور سے رہنمائی وحوصلہ افزائی سرٹیفکیٹس جناب سلیم سارنگ صاحب ،سابق آمدار ڈاکٹر فاروق شاہ اور انصاری حاجی غفران سیٹھ کے ہاتھوں تقسیم کئے گئے۔اس پروگرام میں دھولیہ شہر کے مانی ہوئی معزز شخصیات کے علاوہ کارپوریٹرس وسابق کارپوریٹرس ، پترکار،تعلیمی اداروں کے ذمہ داران وطلبہ وطالبات کی بھی شرکت رہی۔طلبہ وطالبات اساتذہ حضرات کی بھی کارپوریٹرس کے ہاتھوں گُل پوشی کی گئی ۔اس پروگرام میں انصاری حاجی غفران سیٹھ ان کے کام کاجوں کو سوشل ورکنگ کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کے قومی صدر جناب سلیم سارنگ صاحب انھوںنے دھولیہ ضلع صدر کے عہدے پر منتخب کرکے گُل پوشی کرکے استقبال کیا۔اور مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن کو دھولیہ ضلع میں سماجی خدمات میں بطورخاص تعلیم، ریزرویشن کی جدوجہد بڑھانے کیلئے امید ظاہر کی۔اس پروگرام میں جناب سلیم سارنگ صاحب انھوں نے مسلم سماج میں بارہویں کے بعد ایسے بچے جو ہوشیارہونے کے بعد ان کے والدین پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے آگے کی تعلیم نہیں دے پاتے ۔ایسے بچوں کیلئے مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے ایجوکیشن قرض مہیا کرایاجائےگا۔جس سے یہ ہوشیار بچے اپنی آگے کی تعلیم مکمل کرکے بڑے بڑے عہدے پر فائز ہوں گے ایسی گواہی دیتے ہوئے مولانا آزاد کارپوریشن سے ایجوکیشن قرض منظور کرانے کی پوری پوری گواہی دی ہے۔اور سرپرست حضرات سے گذارش کی ہے کہ اپنے بچوں کو بارہویں کے بعد اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دینے کی کوشش کریں۔پروگرام میں سینکڑوں کی تعداد میں سامعین حضرات موجودتھے۔پروگرام کا انعقاد عابد شیخ(فائیو اسٹار)،محمد مصطفیٰ پپو مُلا(سابق کارپوریٹر)، سلیم شاہ عین الدین،ذاکر پٹیل (سابق دکشتا پروٹھا سمیتی رکن)، آصف عنایت منصوری، مصطفیٰ پہلوان ، ذاکر شیخ شیرپور، مختار غلام علی وغیرہ نے بہترین انداز میں کیاتھا۔








*🛑بلوچستان میں پل کیوں اڑا رہی ہےBLA؟ منیر کی گھبرائی فوج چپے۔چپے پر دے رہی ہے پہرہ*
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے منظم حملوں نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سڑکوں کے رابطے کو شدید متاثر کیا ہے۔ مستونگ کے علاقے میں کئی چھوٹے پل دھماکوں سے تباہ ہوگئے ہیں ۔ اس سے شہروں کے درمیان ٹریفک میں خلل پڑا اور مقامی راستے منقطع ہوگئے۔ صورتحال بتدریج اس حد تک بڑھ گئی کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بند کردی گئی۔ سیکورٹی فورسز اور بی ایل اے کے مسلح ارکان کے درمیان جھڑپوں نے اس اہم سڑک کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا۔ جس کی وجہ سے مسافروں اور ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

حکام نے کھڈکوچہ اور مستونگ کے کچھ حصوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز نہ صرف سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں بلکہ مزید حملوں کو روکنے اور باغیوں کو پکڑنے کے لیے آپریشن بھی کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے فوج چوکسی بڑھا رہی ہے، باغیوں کے حملے بڑھ رہے ہیں۔پلوں کو کیوں نشانہ بنایا؟
نقل و حمل اور مواصلاتی نظام کو درہم برہم کرنا بلوچستان میں ہمیشہ سے باغیوں کی حکمت عملی رہی ہے۔ بی ایل اے اس سے قبل ریلوے لائنوں، شاہراہوں، پلوں، سیکورٹی چوکیوں اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے کر چکی ہے۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ پلوں کو تباہ کرنے سے علاقے عارضی طور پر الگ تھلگ ہو جاتے ہیں، سپلائی کے راستوں میں خلل پڑتا ہے اور سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ علاقے پر قبضہ کیے بغیر ایک اہم اثر حاصل کیا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ باغی حکومت کو سننے پر مجبور کرنے کے لیے اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بناتے ہیں۔

کوئٹہ کراچی ہائی وے کا بند ہونا اہم
یہ شاہراہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو سندھ میں کراچی سے ملانے والا مرکزی راستہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو مسافر گاڑیاں اور ضروری سامان لے جانے والے ٹرک استعمال کرتے ہیں۔ صوبے کے دشوار گزار پہاڑی علاقے اور فاصلے کی وجہ سے متبادل راستے کم ہیں۔ طویل ناکہ بندی خوراک، ایندھن اور دیگر سامان میں خلل ڈال سکتی ہے۔ بی ایل اے سمیت کچھ بلوچ باغی پاکستانی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اسلام آباد بلوچستان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن صوبے کو مناسب سیاسی نمائندگی اور معاشی فوائد فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

Saturday, 22 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی میں H1N1 کے بڑھتے کیسز، مریضوں میں آکسیجن لیول گرنے کی شکایت، ڈینگی اور ملیریا نے بھی بڑھائی تشویش*
نئی دہلی :دہلی میں موسمی بیماریوں اور H1N1 انفلوئنزا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان صحت کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کی صدارت میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں دہلی حکومت کی تیاریوں، اسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور موسمی و مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں دہلی کے وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک دارالحکومت میں انفلوئنزا-اے کے 2,392 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ان میں H1N1 کے 1,777 معاملات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ H1 کے 37، H3 کے 138 اور دیگر اقسام کے 440 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض مریضوں میں بیماری کی شدت بڑھنے پر آکسیجن لیول گرنے اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔

مریضوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت

ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے دہلی کا صحت نظام پوری طرح تیار ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں میں بستروں، ڈاکٹروں، ادویات اور ضروری طبی آلات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مریضوں کو بروقت جانچ اور علاج فراہم کرنے کے لیے صحت کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔دہلی اسٹیٹ ہیلتھ مشن کے تحت انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام کے ذریعے ILI، SARI اور انفلوئنزا کے معاملات پر روزانہ نظر رکھی جارہی ہے۔ اسپتالوں اور ضلعی سطح کے صحت حکام کو اسکریننگ، رپورٹنگ اور مریضوں کی نگرانی کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کے کیسز بھی بڑھے

میٹنگ میں ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دہلی میں اب تک ڈینگی کے 246، ملیریا کے 80 اور چکن گنیا کے 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ان تینوں بیماریوں سے اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔صحت محکمہ کی جانب سے علاج، مریضوں کی درجہ بندی، وینٹی لیٹر مینجمنٹ، ماسک کے استعمال اور ہوم کیئر سے متعلق رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ طبی عملے کو علامات کی بروقت شناخت اور مریضوں کے فالو اَپ کے حوالے سے تربیت دی جارہی ہے۔

2.38 کروڑ گھروں کا سروے

مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے مقامی اداروں نے ویکٹر کنٹرول مہم کے تحت اب تک 2.38 کروڑ گھروں کا دورہ کیا ہے۔ تقریباً 3.20 لاکھ گھروں میں اسپرے کیا گیا، جبکہ 91,217 گھروں میں مچھروں کی موجودگی پائی گئی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر 74,591 قانونی نوٹس جاری کیے گئے اور 6,724 معاملات میں کارروائی کی گئی۔دہلی میں بیماریوں کی نگرانی کے لیے 35 سینٹینل سرویلنس اسپتال موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایمس اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول میں دو اعلیٰ سطحی ریفرل لیبارٹریز اور مولانا آزاد میڈیکل کالج میں ملیریا ریفرنس لیب کام کررہی ہے۔

H1N1 کی علامات کیا ہیں؟

H1N1 میں اچانک تیز بخار، خشک کھانسی، جسم میں درد، سر درد، گلے میں خراش، کپکپی اور شدید تھکن جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری اور آکسیجن لیول گرنے کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ سانس پھولنے، سینے میں درد، مسلسل تیز بخار، الجھن یا ہونٹ نیلے پڑنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔بزرگوں، چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور ذیابیطس، دل یا پھیپھڑوں کی دائمی بیماری یا کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد میں سنگین بیماری کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ حکام نے لوگوں سے گھبرانے کے بجائے احتیاط برتنے اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی مشورہ لینے کی اپیل کی ہے۔









*🛑وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کو سالگرہ پر پیش کی مبارکباد، وجے کا فلمی دنیا سے سیاست تک کا سفر*

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی طویل، خوشحال اورصحت مند زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں لکھا، “تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھروسی جوزف وجے کو سالگرہ کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ میں ان کی طویل اور صحت مند زندگی کے لیے دعاکرتا ہوں۔”

فلمی دنیا سے سیاست تک کا سفر

22 جون 1974 کو چنئی میں پیدا ہونے والے جوزف وجے چندرشیکھر، جنہیں مداح “تھلاپتی” کے نام سے جانتے ہیں، تمل سنیما کے مقبول ترین اداکاروں میں شمارہوتے تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ جنوبی ہندوستانی فلم انڈسٹری کے سب سے کامیاب اور بااثر ستاروں میں سے ایک رہے۔ وجے معروف فلم ساز ایس اے چندرشیکھر اور گلوکارہ شوبھا چندرشیکھر کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم “ویٹری” (1984) میں بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے فلمی کیریئرکا آغاز کیا تھا۔

سپر اسٹار سے عوامی رہنما تک

وجے نے تمل فلم انڈسٹری میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ “خوشی”، “تھیروملائی”، “گھلی”، “پوکری” اور “سرکار” جیسی بلاک بسٹرفلموں نے ان کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ابتدا میں رومانوی کرداروں سے شہرت حاصل کرنے والے وجے بعد میں ایکشن ہیرو کے طور پر ابھرے اورسماجی و سیاسی انصاف کے لیے لڑنے والے کرداروں کے باعث خاصی مقبولیت حاصل کی۔ان کی غیرمعمولی عوامی مقبولیت کے باعث اکثر ان کا موازنہ تمل ناڈو کے ان عظیم اداکاروں سے کیا جاتا تھا، جنہوں نے بعد میں سیاست میں کامیاب اننگز کھیلی۔ ان کی کئی فلموں میں سیاسی موضوعات کو ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم کا اشارہ سمجھا جاتا تھا۔

2024 میں سیاست میں باضابطہ داخلہ

سال 2024 میں وجے نے اپنی سیاسی پارٹی “تملگا ویٹری کڑگم” (ٹی وی کے) قائم کی اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ان کی جماعت نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کیا ۔ٹی وی کے نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں جیتیں۔ اگرچہ پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی، قابل ذکربات یہ ہےکہ کانگریس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرکے حکومت تشکیل دی گئی۔

10 مئی کو سنبھالا وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ

اتحادی حکومت کی تشکیل کے بعد سی جوزف وجے نے 10 مئی کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طورپرحلف لیا اور ریاست کی قیادت سنبھالی۔ ان کی سالگرہ کے موقع پرسیاسی و سماجی حلقوں سمیت لاکھوں مداحوں نے بھی انہیں مبارکباد پیش کی۔










*🛑اڑیسہ کی خاتون کے جسم کے ٹکڑے آگرہ میں سوٹ کیس سے برآمد، تمل ناڈو پولیس نے مشتبہ قاتلوں کا سراغ لگالیا*
چنئی : اڑیسہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے قتل کے انتہائی سنگین معاملے میں تمل ناڈو پولیس نے اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے ان افراد تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے جن پر خاتون کو قتل کرکے اس کی لاش کے حصے ایک سوٹ کیس میں رکھ کر ٹرین کے ذریعے آگرہ بھیجنے کا شبہ ہے۔ پولیس نے گڈووانچیری کے مسجد اسٹریٹ علاقے میں واقع اس مکان کا بھی سراغ لگا لیا ہے جہاں مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 5 اگست کو اترپردیش کے آگرہ ریلوے اسٹیشن پر ایک لاوارث سوٹ کیس سے بدبو آنے کی اطلاع پر پولیس نے اسے کھولا۔ سوٹ کیس کے اندر انسانی جسم کے اعضا ملنے کے بعد آگرہ پولیس اور گورنمنٹ ریلوے پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو شبہ ہوا کہ سوٹ کیس چنئی سے چلنے والی ٹرین میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد تفتیش کا دائرہ چنئی منتقل کیا گیا اور چنئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن سمیت اطراف کے علاقوں کی 350 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک مرد اور ایک خاتون کو سرخ رنگ کا سوٹ کیس لے کر چنئی سینٹرل اسٹیشن میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نے سوٹ کیس کو آگرہ جانے والی ٹرین میں چھوڑا اور خود چنئی پارک ریلوے اسٹیشن سے گڈووانچیری جانے والی دوسری ٹرین میں سوار ہوگئے۔ بعد ازاں گڈووانچیری ریلوے اسٹیشن اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے دونوں مشتبہ افراد کا راستہ تلاش کیا۔ فوٹیج میں انہیں اسی سوٹ کیس کے ساتھ ایک آٹو رکشا میں گڈووانچیری کے مسجد اسٹریٹ علاقے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

پولیس نے آٹو رکشا کا تعاقب کرتے ہوئے اس مکان کا پتہ لگایا جہاں مشتبہ افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکان کی تلاشی کے دوران پولیس کو ایسے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قتل اسی مکان میں کیا گیا اور بعد میں شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مقتولہ کے جسم کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے بعض حصے سوٹ کیس میں رکھے گئے اور انہیں ٹرین کے ذریعے آگرہ بھیج دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مکان میں باقی شواہد اور جسم کے دیگر حصوں کو ختم کرنے کی بھی مبینہ کوشش کی گئی۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ خاتون کے سر کی تلاش بھی جاری ہے۔ پڑوسیوں کے مطابق اس مکان میں دو خواتین اور ایک مرد رہتے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مرد اور ایک خاتون نے دوسری خاتون، جس کی شناخت حیات نِشا کے طور پر کی گئی ہے، کو قتل کیا۔ بتایا گیا ہے کہ حیات نِشا اڑیسہ کی رہنے والی تھیں اور تامبرم کے قریب ایک ایکسپورٹ کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں۔

مقتولہ کے بیٹے سے بھی پولیس پوچھ گچھ کررہی ہے تاکہ اس کی والدہ کی سرگرمیوں، رابطوں اور ان افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں جو اس کے ساتھ رابطے میں تھے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہی ہے۔ تفتیش کا ایک اہم رخ یہ بھی ہے کہ آیا مقتولہ اور مشتبہ افراد کے درمیان پہلے سے کوئی تعلق تھا یا قتل کے پیچھے زیورات اور نقد رقم حاصل کرنے کا مقصد کارفرما تھا۔پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف شواہد جمع کرنے اور معاملے میں مزید لوگوں کے ممکنہ کردار کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات تیز کردی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تصویر تفتیش آگے بڑھنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

ہرمز پر ٹرمپ کی داداگری ، پھر بتایا امریکہ کا حصہ، ایران نے دی سخت وارننگ
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تہران پر اب تک کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر لی ہے جب کہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ نئے امریکی دباؤ کا سختی سے جواب دے گا۔ آبنائے ہرمز اس تنازعے کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس سے دنیا کی تیل کی تجارت کا ایک اہم حصہ متاثر ہو رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی تفصیلات کا اعلان پیر کو کیا جائے گا۔ انہوں نے اسے “تاریخ کی سخت ترین پابندیاں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا۔

دریں اثنا، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی نیا خطرہ لاحق کیا تو زمینی، سمندری، فضائی، فضائی دفاع اور سائبر اسپیس پر جواب دیا جائے گا۔ ایرانی میڈیا نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ردعمل کو “کچلنے والا، اور تباہ کن” قرار دیا ہے۔ٹرمپ نے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا
اس پورے تنازع میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پورے علاقے پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ’’اب میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ مانتا ہوں۔‘‘ آبنائے ہرمز کوئی عام سمندری راستہ نہیں ہے۔ یہ دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں سے ایک ہے۔ جنگ سے پہلے، تیل اور توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار روزانہ اس سے گزرتی تھی۔ تاہم، تنازعہ کے بعد سے، شپنگ ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔ Kpler کے اعداد و شمار کے مطابق، حال ہی میں صرف سات کموڈٹی جہاز ایک ہی دن اس آبی گزرگاہ سے گزرے۔

کیا امریکہ ایران تنازعہ بڑھے گا؟
چین ایران کا سب سے بڑا معاشی معاون ہے۔ Kpler کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ایران کا 80 فیصد سے زیادہ تیل سمندر کے ذریعے چین کو گیا۔ امریکی دباؤ میں اضافے کے بعد چین نے واشنگٹن کی پالیسی پر اعتراض کیا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ پابندیوں اور دباؤ سے مسئلہ حل نہیں ہوتا اور اس کے لیے سفارت کاری کو اپنانا چاہیے۔ تجارت اور تزویراتی معدنیات پر دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کے پیش نظر اس معاملے پر امریکہ اور چین کے درمیان تنازعات میں اضافے کا امکان نمایاں ہے۔

ایران کے اندر سے اقتصادی بحران کی چیخیں
ایران امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اس کی اعلیٰ قیادت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پابندیوں کے معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ملک کو پابندیوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے ایک اہم نکتہ کو بھی تسلیم کیا: صرف فوجی طاقت ملک کو نہیں چلا سکتی۔ اگر لوگوں کے پاس کافی خوراک نہیں ہے، پیسہ گردش نہیں کرتا ہے، اور اقتصادی ترقی نہیں ہوتی ہے، تو کوئی ملک زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تہران کو نہ صرف میزائلوں اور فوجی صلاحیتوں بلکہ اپنی معیشت کو بچانے کے لیے بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔









مہنگی چینی کیلئے ایتھنول ذمہ داری نہیں، پھر کیوں بڑھے دام، حکومت نے بتادی وجہ
نئی دہلی : حالیہ ہفتوں میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 20 جولائی 2026 کو چینی کی قیمت 48.18 روپے فی کلوگرام تھی، جو 20 اگست 2026 کو بڑھ کر 55.70 روپے فی کلوگرام ہو گئی۔ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور صارفین کے لیے چینی کی مناسب دستیابی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو ایتھنول کی پیداوار کے لیے چینی کی منتقلی سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ دراصل، ایتھنول کی پیداوار کے لیے استعمال کی جانے والی چینی کا حصہ 23-2022 میں تقریباً 12 فیصد سے کم ہو کر 26-2025 میں تقریباً 9 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اب ملک میں پیدا ہونے والے ایتھنول کا تقریباً تین چوتھائی حصہ اناج، خاص طور پر مکئی سے تیار کیا جاتا ہے۔

چینی کی قیمتوں میں موجودہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں ملکی پیداوار کا اندازے سے کم رہنا، تہواروں کے موسم سے پہلے طلب میں اضافہ، موسمی حالات کے باعث گنے کی فصل کو نقصان، عالمی سطح پر چینی کی محدود ہوتی فراہمی، اور صنعت کے بعض حصوں کی جانب سے قیاس آرائی اور ذخیرہ اندوزی شامل ہیں۔چینی کی پیداوار ابتدائی اندازے سے کم
موجودہ سیزن میں چینی کی پیداوار تقریباً 306 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) رہنے کی توقع ہے، جبکہ گنا پیدا کرنے والی ریاستوں کی جانب سے ابتدائی اندازہ تقریباً 343 لاکھ میٹرک ٹن تھا۔

گنے کی فصل میں ریڈ روٹ اور ٹاپ بورر جیسی بیماریوں کے ساتھ ساتھ زیادہ بارش کے باعث پانی جمع ہونے سے بھی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

اگرچہ پیداوار اندازے سے کم رہی ہے، تاہم ملک میں چینی کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، جو اکتوبر میں نئے کرشنگ سیزن کے آغاز تک ملکی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

عالمی سطح پر بھی چینی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں
چینی کی فراہمی میں کمی صرف ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی سطح کا رجحان ہے۔ مالی سال 27-2026میں عالمی سطح پر چینی کی کمی تقریباً 33 لاکھ میٹرک ٹن رہنے کا اندازہ ہے۔ موسمی حالات سے متعلق خدشات نے بھی عالمی سطح پر چینی کی فراہمی کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔

اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 30 جون 2026 کو چینی کی قیمت 474 ڈالر فی ٹن تھی، جو 20 اگست 2026 کو بڑھ کر 552 ڈالر فی ٹن ہو گئی۔ یعنی دو ماہ سے بھی کم عرصے میں قیمت میں 16 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

ایتھنول پروگرام سے کسانوں کو فائدہ اور شوگر ملوں کی مالی حالت بہتر ہوئی
ہندوستان میں عام طور پر ہر سال تقریباً 320 سے 340 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہوتی ہے، جبکہ ملک میں چینی کی سالانہ کھپت تقریباً 280 سے 290 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ زیادہ پیداوار والے برسوں میں اضافی چینی کا ذخیرہ چینی ملوں کے سرمائے کو روک دیتا ہے، جس کے باعث گنے کے کسانوں کو ادائیگی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

اضافی چینی کو ایتھنول کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملی ہے اور چینی ملوں کی مالی حالت بھی بہتر ہوئی ہے۔ اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ 20 اگست 2026 تک 26-2025 کے شوگر سیزن کے گنے کے کسانوں کے 97 فیصد واجبات ادا کیے جا چکے ہیں۔

چینی ملوں کی بہتر مالی حالت کے باعث حکومت کی مالی مدد پر ان کا انحصار بھی کم ہوا ہے۔ 2014 سے 2021 کے درمیان چینی کی صنعت کو تقریباً 14,600 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی تھی، جبکہ 22-2021 کے بعد ایسی کوئی سبسڈی نہیں دی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، طویل مدت میں صارفین کے لیے چینی کی قیمتیں بھی بڑی حد تک مستحکم رہی ہیں۔ اگست 2024 سے جولائی 2026 کے درمیان چینی کی قیمتوں میں سالانہ اوسطاً صرف تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

حکومت ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور چینی کی فراہمی بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے
حکومت نے مشاہدہ کیا ہے کہ چینی کی کچھ ملوں اور تاجروں کی جانب سے قیاس آرائی اور ذخیرہ اندوزی نے بھی حالیہ قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں:

ملک بھر میں چینی کے تاجروں کے لیے 400 ٹن کی ذخیرہ حد مقرر کی گئی ہے، جو یکم اگست سے 30 نومبر 2026 تک نافذ رہے گی۔

 یکم ستمبر 2026 سے بڑی مقدار میں چینی استعمال کرنے والے صارفین کو 15 دن کی کھپت سے زیادہ چینی کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مرکزی اور ریاستی حکومت کے افسران کی مشترکہ ٹیمیں شوگر ملوں میں چینی کے ذخیرے کی موقع پر جانچ کر رہی ہیں، تاکہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔

احتیاطی اقدام کے طور پر حکومت نے ملکی سطح پر چینی کی دستیابی بڑھانے کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن خام چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاستوں اور چینی ملوں کو 15 اکتوبر 2026 سے گنے کی کرشنگ شروع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس سے اکتوبر میں چینی کی پیداوار معمول کی 3 سے 4 لاکھ میٹرک ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 10 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہونے کی توقع ہے، جس سے تہواروں کے موسم میں چینی کی دستیابی مزید بہتر ہوگی۔حکومت صارفین اور گنے کے کسانوں دونوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت چینی کے ذخیرے، قیمتوں اور مارکیٹ میں ہونے والی سرگرمیوں پر مسلسل کڑی نظر رکھے گی اور ذخیرہ اندوزی اور بلاجواز قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ ساتھ ہی گنے کے کسانوں کو ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی بھی یقینی بنائی جائے گی۔











کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ، عمر عبداللہ سے ملاقات کے دوران امریکی سفیر نے پاکستان کو کیسے دیا جھٹکہ؟
جموں و کشمیر کے اپنے پہلے دورے کے دوران، ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے خطے کو ہندوستان کا “اہم حصہ” قرار دیا۔ سری نگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد گور نے کہا، “یہاں ہر کوئی جانتا ہے کہ میں ہندوستان میں امریکی سفیر ہوں اور یہ ہندوستان کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہاں یہ میرا پہلا موقع ہے۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت جگہ ہے، اور مجھے یہاں آکر خوشی ہوئی ہے۔”

گور کے بیان کو کشمیر پر امریکہ کی عوامی زبان کے لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام طویل عرصے سے اس معاملے پر محتاط زبان استعمال کرتے رہے ہیں اور اس خطے کو متنازعہ بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد امریکی سفیر کا دوسرا دورہ
بھارتی حکومت کی جانب سے 2019 میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کسی امریکی سفیر کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس سے پہلے، اس وقت کے امریکی سفیر کینتھ جسٹر نے 2020 میں جموں و کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی بہتر صورتحال کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی اور ریاستی حکومتوں نے خطے کو پہلے سے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے “کئی اہم اقدامات” کیے ہیں۔

عمر عبداللہ سے کیا بات ہوئی؟
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امریکی سفیر سے اپنی ملاقات کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں ہندوستان امریکہ تعلقات اور جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے میں امریکی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عبداللہ نے کچھ “پرانے مسائل” کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے حل میں وقت لگے گا۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں تعاون کے نئے مواقع سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ پاکستان کو کیا پیغام دیتا ہے؟
سرجیو گور کا جموں و کشمیر کو “ہندوستان کا اہم حصہ” قرار دینے کو پاکستان کے لیے سفارتی طور پر ایک اہم اشارہ مانا جا سکتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اٹھاتا رہاہے۔ چنانچہ امریکی سفیر کا جموں و کشمیر کا دورہ اور ہندوستان کی علاقائی حقیقت کو تسلیم کرنے والے ان کے بیان کو نئی دہلی کے لیے ایک اہم سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

جب کہ امریکہ کی طرف سے کشمیر کے تنازع پر پالیسی میں کوئی باضابطہ تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، امریکی سفیر کا دورہ، سلامتی کی صورتحال کے بارے میں ان کا جائزہ اور سفری انتباہ کا ممکنہ جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن جموں و کشمیر کے ساتھ عملی اور براہ راست روابط بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔

Thursday, 13 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم*
مہاراشٹر کے ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے سربراہ اور پنجاب کے سابق نائب وزیراعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل پر جمعرات کو ایک گردوارے کے احاطے میں ایک نہنگ نے مبینہ طور پر حملہ کیا۔ ضلعی پولیس کے مطابق حملے میں سکھبیر سنگھ بادل کے ہاتھ پر چوٹ آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔

وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سکھبیر سنگھ بادل سے فون پر بات بھی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بادل نے فڑنویس کو اپنی حالت مستحکم ہونے کی اطلاع دی۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے ذرائع کے مطابق دیویندر فڑنویس نے ناندیڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے واقعے کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حملے کے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ نے حملے کے پس پردہ مقصد کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔

2024 میں بھی ہوا تھا سکھبیر بادل پر حملہ

سکھبیر سنگھ بادل کو دسمبر 2024 میں بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں ’سیوا‘ انجام دیتے ہوئے انہیں گولی مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حملہ آور نے مبینہ طور پر بادل پر فائرنگ کی کوشش کی، تاہم اسے قابو کر لیا گیا اور سکھبیر سنگھ بادل محفوظ رہے تھے۔ 2024 کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب اکال تخت نے 2007 سے 2017 کے درمیان ایس اے ڈی کی زیر قیادت پنجاب حکومت کے دوران لیے گئے فیصلوں پر سکھبیر سنگھ بادل کو مذہبی بدعنوانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ’تنکھائیا‘ قرار دیا تھا۔ اس کے بعد بادل گولڈن ٹیمپل میں ’سیوا‘ انجام دے رہے تھے۔ 2024 کے حملے کے بعد ایس اے ڈی رہنما بکرم سنگھ مجیٹھیا نے پنجاب پولیس پر تنقید کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے تھے۔ موجودہ حملے کے بعد بھی پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر واقعے کے محرکات کی جانچ شروع کر دی ہے۔








*🛑الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے راہل گاندھی، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟*
نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی نے اپنے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے الزامات سے متعلق معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ یہ الزامات کرناٹک کے بی جے پی کارکن ایس وگنیش ششر نے عائد کیے تھے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ 17 اگست کو راہل گاندھی کی عرضی پر سماعت کرے گی۔

سی بی آئی اور ای ڈی کو جانچ کی ہدایت

الہ آباد ہائی کورٹ نے مئی میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو الزامات کی جانچ اور تصدیق کرنے اور معاملے میں پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ راہل گاندھی نے ہائی کورٹ کی اس ہدایت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اس عمل پر سوال اٹھایا ہے، جو ششر کی شکایت کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ راہل گاندھی کے پاس ان کی معلوم آمدنی کے ذرائع سے زیادہ اثاثے ہیں۔

کارروائی دہلی ہائی کورٹ منتقل کرنے کی بھی درخواست

راہل گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں جاری کارروائی کو دہلی ہائی کورٹ منتقل کرنے کی الگ سے درخواست بھی دائر کی ہے۔ 20 جولائی کو معاملے کی سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے داخل حلف نامے کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اسے تازہ حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس میں تحقیقات کی موجودہ صورت حال کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔

ای ڈی کی کارروائی پر ہائی کورٹ کی وضاحت

ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ای ڈی نے اپنی جانب سے ضروری اقدامات کیے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر ایجنسی کی تحقیقات میں کوئی قابل کارروائی معلومات سامنے آتی ہیں تو اسے مناسب قانونی کارروائی شروع کرنے کی آزادی ہوگی۔ اس کے بعد معاملے کو مزید سماعت کے لیے 20 اگست کو فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔









*🛑جموں کشمیر، 54 سالہ آنگن واڑی ہیلپر ہائی کورٹ میں بھی ترقی کی جنگ ہار گئی*
سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے جمعرات کو ایک آنگن واڑی ہیلپر کی "آنگن واڑی ورکر کے عہدے پر ترقی" منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ کسی امیدوار کی اہلیت کا تعین اس تاریخ کو ہونا چاہیے جب پوسٹ ویکنٹ ہو، نہ کہ اس تاریخ کو جب امیدوار بعد میں مطلوبہ تجربہ مکمل کر لے۔

قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل عدالت کی ڈویژن بنچ نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کی 54 سالہ نازنینہ گوہر کی اپیل خارج کر دی۔ نازنینہ نے آنگن واڑی ورکر کے طور پر اپنی تقرری منسوخ کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب 2014 میں یہ اسامی پیدا ہوئی تو نازنینہ کے پاس آنگن واڑی ہیلپر کے طور پر لازمی 10 سالہ تجربہ نہیں تھا، اس لیے وہ اس عہدے پر تقرری یا ترقی کا قانونی حق نہیں رکھتی تھیں۔

یہ فیصلہ جموں و کشمیر میں آنگن واڑی مراکز میں تقرری اور ترقی سے متعلق سرکاری قواعد کی تشریح کو واضح کرتا ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ اہلیت کی شرائط اسامی پیدا ہونے کے وقت ہی پوری ہونی چاہئیں۔

معاملہ کیسے شروع ہوا؟
یہ معاملہ اننت ناگ ضلع کے آستان محلہ، سیر-بی میں آنگن واڑی ورکر کی ایک اسامی سے متعلق تھا۔ نازنینہ گوہر 8 فروری 2006 سے آنگن واڑی ہیلپر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔28 فروری 2014 کو اس وقت یہ آسامی پیدا ہوئی جب سابق آنگن واڑی ورکر سونیتا کماری کو سپروائزر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

اس اسامی کے لیے 2015 میں اشتہار جاری کیا گیا۔ نازنینہ نے اس اشتہار کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم ان کی عرضی 2017 میں خارج ہوگئی۔ اس کے بعد بھرتی کا عمل آگے بڑھا، لیکن 2018 میں اشتہار منسوخ کر دیا گیا۔

بعد ازاں نازنینہ نے خالی اسامی پر اپنی ترقی کا مطالبہ کیا۔ ایک الگ عرضی میں عدالت کی جانب سے جاری عبوری ہدایات کے بعد حکام نے ان کی درخواست پر غور کیا اور 18 فروری 2019 کو انہیں انگن واڑی ورکر کے طور پر ترقی دے دی۔ تاہم، مریم سلطان نے اس ترقی کو چیلنج کیا۔ معاملے کی انکوائری کے بعد حکام نے 17 اکتوبر 2023 کے حکم کے ذریعے نازنینہ کی تقرری منسوخ کر دی۔

جولائی 2026 میں ہائی کورٹ کے ایک سنگل جج نے بھی تقرری منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد نازنینہ نے ڈویژن بنچ کے سامنے موجودہ اپیل دائر کی۔

10 سالہ تجربہ کب ہونا ضروری تھا؟
معاملے کے مرکز میں حکومت کا 18 جنوری 2010 کا حکم نامہ نمبر 07-SW تھا، جس میں آنگن واڑی ورکر کی اسامیوں کو پُر کرنے کے طریقہ کار کا تعین کیا گیا ہے۔ قواعد کے مطابق اگر کسی گاؤں میں آنگن واڑی ورکر کی اسامی استعفیٰ، ترقی یا موت کے علاوہ کسی اور وجہ سے خالی ہو تو اسے اسی گاؤں کے ایسے آنگن واڑی ہیلپرز میں سے پُر کیا جائے گا جو میٹرک پاس ہوں اور "آسامی پیدا ہونے کے وقت کم از کم 10 سال کا تجربہ" بھی رکھتے ہوں۔

ڈویژن بنچ نے اس شق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آنگن واڑی ہیلپر کو آنگن واڑی ورکر کے عہدے پر تقرری یا ترقی کے لیے دو لازمی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ عدالت کے مطابق امیدوار کا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آسامی پیدا ہونے کے وقت کم از کم 10 سال کا تجربہ بھی ہونا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ 28 فروری 2014 کو جب مذکورہ آسامی پیدا ہوئی تو نازنینہ کو آنگن واڑی ہیلپر کے طور پر تقریباً آٹھ سال ہی مکمل ہوئے تھے۔ بنچ نے کہا" ”اپیل کنندہ نے بمشکل آٹھ سال کا تجربہ حاصل کیا تھا، اس لیے وہ آنگن واڑی ورکر کے طور پر تقرری یا ترقی کے لیے زیر غور آنے کی اہل نہیں تھیں۔“ عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ نازنینہ بعد میں 10 سال کا تجربہ مکمل کرنے کے بعد اہل ہوگئی تھیں۔عدالت نے کہا کہ بعد میں 10 سال کا تجربہ مکمل ہوجانے کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ اب وہ آنگن واڑی ورکر کی تقرری کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترتی ہیں، لیکن قواعد کے مطابق اہلیت کا فیصلہ اسامی پیدا ہونے کے وقت ہی ہونا تھا۔

پوسٹ دوبارہ مشتہر ہونی لازمی تھا
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ پہلے جاری کیا گیا بھرتی کا اشتہار انتخاب کے عمل تک نہیں پہنچ سکا اور بعد میں منسوخ ہوگیا، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ خالی اسامی خود بخود نازنینہ کو دی جاسکتی تھی۔ بنچ کے مطابق ایسی صورت میں اسامی کو دوبارہ مشتہر کیا جانا چاہیے تھا۔

مناسب سماعت کا موقع نہ ملنے کی دلیل مسترد
نازنینہ کی جانب سے یہ دلیل بھی دی گئی کہ ان کی تقرری منسوخ کرتے ہوئے قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی کیونکہ انہیں مناسب طور پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ڈویژن بنچ نے اس دلیل کو بھی مسترد کردیا۔

عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی انکوائری ہوئی تھی اور نازنینہ نے خود اس میں حصہ لیتے ہوئے تحریری جواب بھی جمع کرایا تھا۔ بنچ نے کہا: "اپیل کنندہ کو سنے بغیر فیصلہ کیے جانے کی دلیل کی حقائق میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔“

عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ حقائق پہلے ہی واضح اور تسلیم شدہ تھے، اس لیے مزید سماعت کے لیے دس مرتبہ بھی موقع دیا جاتا تو نتیجہ تبدیل نہیں ہوتا۔ بنچ نے کہا کہ جب حقائق واضح طور پر طے شدہ ہوں اور فریقین بھی ان بنیادی حقائق سے متفق ہوں تو دوبارہ سماعت کا موقع دینے پر اصرار محض ایک رسمی کارروائی بن جاتا ہے۔

عدالت کے مطابق اگر نازنینہ کو مزید ایک موقع دے کر اپنا موقف بیان کرنے کی اجازت بھی دی جاتی تو نتیجہ مختلف نہیں ہوسکتا تھا۔

اپیل خارج
ہائی کورٹ نے کہا کہ متعلقہ سرکاری ضابطہ بالکل واضح ہے اور اس کے تحت آنگن واڑی ہیلپر کے پاس اسامی پیدا ہونے کی تاریخ پر کم از کم 10 سال کا تجربہ ہونا ضروری تھا۔ چونکہ نازنینہ کے پاس 28 فروری 2014 کو صرف آٹھ سال کا تجربہ تھا، اس لیے بعد میں دی گئی ان کی ترقی متعلقہ قواعد کے خلاف تھی۔

ڈویژن بنچ نے قرار دیا کہ سنگل جج نے قواعد اور حقائق کی درست تشریح کی ہے اور اس فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ عدالت نے کہا، ”مذکورہ وجوہات کی بنا پر ہمیں اس اپیل میں کوئی میرٹ نظر نہیں آتا، لہٰذا اسے خارج کیا جاتا ہے۔“

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ایران نے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا ، عباس عراقچی نے CIA کو قرار دیا نااہل ، کہاڈ ہرمز کو لے کر جھوٹے دعوے کرے بند*
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی دعووں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے امریکی انٹیلی جنس کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ غلط انٹیلی جنس کی وجہ سے امریکہ اکثر صورتحال کا صحیح اندازہ لگانے میں ناکام رہا ہے۔ عراقچی کے مطابق ایران کے خلاف موجودہ جنگ اور ہرمز کے حوالے سے امریکہ کی حکمت عملی اس غلط حساب کتاب کی مثالیں ہیں۔ عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے انٹیلی جنس کی غلطیوں کی وجہ سے غلط فیصلے کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس سے بھی بڑی ا سٹریٹجک غلطی کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے جھوٹی یا من گھڑت انٹلی جنس کو فرضی خبروں سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے احتیاط کی تاکید کی۔ عراقچی کے تبصرے امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے مسلسل الفاظ کی جنگ کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ امریکہ اس اہم سمندری راستے پر کنٹرول کا دعویٰ کررہا ہے جبکہ ایران ان دعوؤں کی مسلسل تردید کررہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ اپنا کنٹرول برقرار کھیں گے ۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔کیا وال آف اسٹیل کا دعوی جھوٹ؟
ٹرمپ نے امریکی بحری ناکہ بندی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے بقول، لوگ اس ناکہ بندی کو “اسٹیل کی دیوار” قرار دے رہے ہیں اور ایران فی الحال اسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے لیکن اس سے گزرنے والے بحری جہازوں کو امریکی بحریہ کنٹرول کرتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی بحریہ اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ کن بحری جہاز وہاں سے گزر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن ایران جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امریکی ناکہ بندی کو مکمل طور پر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مضبوط دیوار کا کام کر رہی ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ خلیجی خطے سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار اس راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس لیے وہاں طویل تناؤ توانائی کی بین الاقوامی سپلائی، شپنگ اور تیل کی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ اور ایران کے دعووں میں خاصا تضاد ہے۔ امریکہ اپنا تسلط جما رہا ہے جبکہ ایران اسے امریکی غلط حساب کتاب کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ نتیجتاً، ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی آنے والے دنوں میں علاقائی سلامتی اور توانائی کی عالمی منڈی کے لیے ایک اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔








*🛑پاور لوم صنعت کے شدید بحران پر دَرے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی متحرک: بجلی بلوں کی وصولی میں نرمی اور پارٹ پیمنٹ کی بحالی کے لیے سی او او اور اعلیٰ حکام کو مکتوب*
مالیگاؤں (نمائندہ):
مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت پر چھائے شدید معاشی بحران، کپڑے کی فروخت ٹھپ ہونے اور خریداروں کی جانب سے پیمنٹس رک جانے کے سنگین حالات کے پیشِ نظر دَرے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی کے سیکریٹری عمیر سر (Omair Sir) نے مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ (MPSL) کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) اور کامرشل ہیڈ کو ایک تفصیلی اور اہم نمائندگی مکتوب پیش کیا ہے۔ یہ مکتوب بذریعہ ہینڈ پاور سپلائی آفس میں تسلیم کرایا گیا، جبکہ اس کی کاپیاں معزز وزیر اعلیٰ مہاراشٹر، وزیر توانائی، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، نَاشک رینج آئی جی پی اور نَاشک ایس پی سمیت تمام متعلقہ اعلیٰ حکام کو ای میل کے ذریعے ارسال کر دی گئی ہیں۔

مکتوب میں عمیر سر نے شہر کے صنعتی حالات کی حقیقت بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ مالیگاؤں کا تقریباً 80 فیصد خام کپڑا (Grey Fabric) راجستھان کے پروسیسنگ حب یعنی پالی، بالوترا اور جودھ پور بھیجا جاتا ہے، جہاں سے پروسیسنگ کے بعد کپڑا ملک اور بیرونِ ملک سپلائی ہوتا ہے۔ تاہم، پولوشن کنٹرول بورڈ کی کارروائیوں اور عدالتِ عالیہ میں زیرِ سماعت مقدمات کی وجہ سے راجستھان کے پروسیسنگ ہاؤسز مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت پر پڑا ہے، جس سے کپڑے کی روانگی اور خریداروں سے آنے والی تمام پیمنٹس مکمل طور پر جم (Freeze) ہو گئی ہیں۔

انہوں نے مکتوب کے ذریعے پاور سپلائی کمپنی اور انتظامیہ سے درج ذیل فوری مطالبات کیے ہیں:

 * پارٹ پیمنٹ (Part Payment) کی فوری بحالی: بنکروں پر یکمشت بجلی بل کا بوجھ ڈالنے کی بجائے پارٹ پیمنٹ کی سہولت کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

 * کنکشن کاٹنے پر فوری روک: معاشی تنگی اور کارخانے بند ہونے کے اس دور میں پاور لومز کے بجلی کنکشن کاٹنے کی سخت کارروائیوں پر مکمل روک لگائی جائے۔

 * تعاون اور نرمی کا رویہ: جب تک راجستھان کے پروسیسنگ ہاؤسز کے مسائل حل نہیں ہوتے اور مالیگاؤں کا روپیہ مارکیٹ میں واپس نہیں آتا، تب تک بجلی بورڈ بنکروں کے ساتھ نرم اور تعاون پر مبنی رویہ اختیار کرے۔


عمیر سر نے کہا کہ اگر ان نازک حالات میں بجلی بورڈ کی جانب سے سختی جاری رہی تو شہر میں ہزاروں پاور لومز دائمی بندش کا شکار ہو جائیں گے اور لاکھوں مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ اور حکومت اس سنگین معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے فوری اور مثبت اقدام فرمائے گی۔











*🛑میں حافظ سعید کا غلام ہوں... پاکستان کے سابق وزیر داخلہ کا بیان ، بھارت کو دی ایٹم بم کی دھمکی*
سابق پاکستانی وزیر شیخ رشید احمد تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ ایک عوامی تقریب میں، انہوں نے کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے سربراہ حافظ سعید کی حمایت میں بیان دیا اور بھارت کے خلاف دھمکی آمیز تبصرے بھی کیے۔ حافظ سعید کو اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے اور اسے ہندوستان میں کئی دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ مانا جاتا ہے۔ ان میں 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملے بھی شامل ہیں، جن میں 26/11 کے حملوں کے دوران بڑی تعداد میں جانیں گئیں۔ اس بیان پر شیخ رشید کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک عوامی تقریب میں کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے بارے میں نہ صرف تعریفی باتیں کیں بلکہ بھارت کے خلاف دھمکی آمیز بیانات بھی دیئے۔ حافظ سعید کو اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے اور ہندوستان میں کئی دہشت گردانہ حملوں سے اس کا تعلق رہا ہے۔ اس تقریب کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہے جس میں شیخ رشید کو مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ کچھ افراد کے ساتھ اسٹیج پر دکھایا گیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے حافظ سعید کی تعریف کی اور خود کو ان کا غلام بھی کہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعید کا فون نمبر ان کے موبائل فون پر ملنے کے بعد انہیں امریکہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔بھارت کے خلاف اشتعال انگیز بیانات
شیخ رشید نے نہ صرف حافظ سعید سے عقیدت کا اظہار کیا بلکہ بھارت کے خلاف انتہائی جارحانہ زبان بھی استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شیخ رشید کون ہیں ؟
ان کے اس بیان سے ایک بار پھر پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سیاسی حمایت اور اس طرح کے بیانات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ شیخ رشید عوامی مسلم لیگ کے بانی ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی حکومت میں 2020 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران انہوں نے بھارت ۔ پاکستان تعلقات اور دہشت گردی سے متعلق مسائل پر کئی تیکھے بیانات سامنے آتے رہےہیں ۔ اس نے ایک بار بھارت کو ایٹم بم کی دھمکی بھی دی تھی۔

Monday, 10 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال*
رانچی/دیوگھر: جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی اصلاحات کے سلسلے میں جاری طلباء کے احتجاج کے درمیان، 10 اگست کو قانون ساز اسمبلی کے مجوزہ محاصرے کی کال کا بڑے پیمانے پر اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ریاست بھر کے مختلف اضلاع سے طلباء بڑی تعداد میں ٹرینوں، بسوں اور نجی گاڑیوں کے ذریعے رانچی پہنچ رہے ہیں۔

رانچی میں 500 سے زائد طلباء کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان سب کو بس کے ذریعے کیمپ جیل لے جایا جا رہا ہے۔ پرانی اسمبلی کی عمارت کے قریب واقع سردار پٹیل کے مجسمے کے پاس بڑی تعداد میں طلباء سڑک پر جمع ہیں۔رانچی میں بی جے پی لیڈر پرتول شاہ دیو کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کی رہائش گاہ کے باہر صبح سے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ دریں اثنا، قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی نے کئی ایم ایل ایز بشمول آدتیہ ساہو، سی پی سنگھ، اور نوین جیسوال اور ان کے حامیوں کے ساتھ طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا۔

رانچی ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ اور شہر کے اہم علاقوں میں طلبہ کا ہجوم دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں طلباء ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔ رانچی ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر طلبہ کے کئی گروپوں نے احتجاجی مقام کی طرف بڑھنے سے پہلے نعرے لگائے۔طلباء کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات کے حوالے سے اصلاحات، شفافیت اور منصفانہ نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر 10 اگست کو قانون ساز اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کی کال دی گئی ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے ذریعے ان کا مقصد حکومت تک زبردستی اپنے مطالبات پہنچانا ہے۔

ریلوے اسٹیشن سے بس اسٹینڈ تک طلباء کا ہجوم

اتوار کو رانچی پہنچنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ریاست کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتی تھی۔ ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹینڈز پر طلبہ کے گروپ دیکھے گئے، جن میں بہت سے لوگ احتجاج سے متعلق بینرز اور پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے۔ پہنچنے پر انہیں احتجاجی مقام کی طرف جاتے دیکھا گیا۔

طلباء کی بڑھتی ہوئی آمد کے پیش نظر پولیس ہائی الرٹ موڈ میں چلی گئی ہے۔ شہر میں داخلے کے اہم مقامات بشمول رانچی ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ساتھ حساس علاقوں میں سخت حفاظتی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ مسافروں اور گاڑیوں کا مکمل معائنہ کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ شہر کے اندر طلباء کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
 اگست کو مجوزہ 'اسمبلی گھیراؤ' (قانون ساز اسمبلی کا محاصرہ) سے قبل دارلحکومت میں سیاسی اور انتظامی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ طلبہ گروپوں کی اپیلوں کے بعد مختلف اضلاع سے نوجوانوں کی رانچی آمد، واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ احتجاج کے لیے طلبہ کی تیاریاں زور پکڑ رہی ہیں۔ اب سب کی نظریں پیر کو ہونے والے مظاہرے کے دوران طلباء کے ٹرن آؤٹ اور انتظامیہ کی تیاریوں پر ہوں گی۔

سنتھل سے رانچی کے لیے روانگی

اتوار کی دیر شام، دیوگھر سے رانچی جانے والی ٹرینیں کاوڑیوں کے ساتھ طلباء سے بھری ہوئی تھیں۔ رانچی-دمکا-گوڈا ٹرین پر سینکڑوں طلباء رانچی کے لئے روانہ ہوئے۔ دریں اثنا، طلباء کی بڑی تعداد جسدیہ، جام تارا اور مادھو پور ریلوے اسٹیشنوں سے رانچی جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ رانچی جانے والے طلباء سرکاری مسابقتی امتحانات میں اکثر سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلباء کے مستقبل کے بارے میں کوئی سمجھوتہ جنہوں نے ان امتحانات کے لیے سخت محنت اور تندہی سے تیاری کی ہے ناقابل قبول ہے۔طلباء کا کہنا تھا کہ جب تک نوجوان اپنے حقوق اور مستقبل کے بارے میں چوکس نہیں رہیں گے، حکومت کی توجہ ان مسائل کی طرف مبذول کرانا مشکل ہوگا۔ اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے طلبہ کی ایک بڑی تعداد پیر کو قانون ساز اسمبلی کے گھیراؤ میں حصہ لینے کے لیے رانچی کی طرف روانہ ہو رہی ہے۔ رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج کئی دنوں سے جاری ہے۔











*🛑کیا آپ گھٹنوں کے درد سے پریشان ہیں؟ یہ آسان علاج ضرور آزمائیں*
حیدرآباد: جس لمحے سے ہم جاگتے ہیں اس وقت سے لے کر جب تک ہم بستر پر نہیں جاتے، ہمارے گھٹنے جسم کا سارا وزن برداشت کرتے ہیں اور مختلف حرکات کو سہولت فراہم کرتے ہیں جیسے بیٹھنا، کھڑا ہونا، دوڑنا، چھلانگ لگانا، پلٹنا اور وزن اٹھانا۔

تاہم آج کل ناقص طرز زندگی اور غذائی عادات کی وجہ سے بہت سے لوگ گھٹنوں کے درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ امداد کے لیے ادویات پر انحصار کرتے ہیں، دوسرے سرجری کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، ماہرین کا مشورہ ہے کہ گھٹنوں کے درد سے پریشان لوگ آسان اقدامات اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے آرام پا سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ احتیاطی تدابیر کیا ہیں...

وزن پر قابو: ماہرین کا کہنا ہے کہ گھٹنوں کے درد میں مبتلا افراد کے لیے صحت مند وزن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ زیادہ وزن ہونے سے جوڑوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے درد میں شدت آتی ہے۔

بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھیں:

متعدد مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جوڑوں کے انحطاط اور ذیابیطس دونوں میں مبتلا افراد کو شدید درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جب خون میں گلوکوز کی سطح زیادہ ہوتی ہے تو اضافی گلوکوز جسم میں پروٹین کے ساتھ مل کر ایڈوانس گلائکیشن اینڈ پروڈکس بناتا ہے۔ یہ مرکبات جوڑنے والے بافتوں میں سختی، لچک میں کمی اور سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان مرکبات کا جوڑوں کے ارد گرد کے ٹشوز میں جمع ہونا درد کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گھٹنوں کے درد اور ذیابیطس دونوں میں مبتلا افراد اوسطاً زیادہ شدید درد کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کمزور ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس جوڑوں کو خون کی فراہمی کم کرکے جوڑوں سے متعلق مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ نتیجتاً، معمولی چوٹوں سے بھی درد طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ خون میں گلوکوز کی بلند سطح اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس طرح درد کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ یہاں خطرہ یہ ہے کہ اس مسئلے کا اکثر پتہ نہیں چلتا جب تک کہ جوڑوں کو شدید نقصان نہ پہنچ جائے۔ میو کلینک نوٹ کرتا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد کو اوسٹیو ارتھرائٹس ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ورزش:

ماہرین باقاعدگی سے ورزش کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چہل قدمی اور تیراکی سے گھٹنوں کو مضبوط بنانے اور نقل و حرکت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ rush.edu کے مطابق گھٹنے کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کم اثر والی ایروبک مشقیں بہترین ہیں۔ ان میں فلیٹ سطحوں پر چلنا، بیضوی مشین کا استعمال، اسٹیشنری بائیک چلانا، تیراکی، اور واٹر ایروبکس شامل ہیں۔

سورج کی روشنی بہت ضروری ہے: ماہرین روزانہ کچھ وقت دھوپ میں گزارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر ضروری ہو تو، اپنے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹس لیں۔ یہ آپ کے جوڑوں کو مزید نقصان سے بچنے میں مدد کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ماہرین سوزش کو روکنے والی غذائیں جیسے مچھلی، تازہ پھل، سبزیاں، پتوں والی سبزیاں، گری دار میوے اور ہلدی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ انتہائی بہتر کاربوہائیڈریٹس، تلی ہوئی کھانوں اور ٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔









*🛑ٹرمپ کا پھر بڑا بیان: ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا امریکہ، بنایا جائے گا اقتصادی دباؤ*
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ نے مقامی وقت کے مطابق اتوار کو کہا کہ وہ اس وقت ایران کو کم اہم سمجھتے ہیں اور ان کا کسی فوجی حملے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ امریکی صدر نے یہ باتیں اتوار کو ایکسیوز (Axios) کو انٹرویو کے دوران کہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اب ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ اس نے ایران کے بارے میں زیادہ تحمل والا موقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال اور افراط زر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان کے ساتھ صرف آدھی ادھوری بات چیت میں مصروف ہیں۔ ہم صرف ایران کو اس کی زبردست مہنگائی (افراط زر) اور اس حقیقت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔

اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی اقتصادی حالت 'بہت خراب' ہے اور دعویٰ کیا کہ خلیج فارس کے اس ملک کے پاس اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی بحریہ (نیوی) کی ناکہ بندی نے ایرانی حکومت کی اقتصادی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے، جو 75 امریکی ڈالر فی بیرل سے تھوڑی ہی زیادہ ہیں، امریکی صارفین پر اس لڑائی کے اثرات کو کم کر دیا ہے۔ ایکسیوز (Axios) کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جاری حالات کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ "یہ کام کر جائے گا۔ یہ ہمیشہ کام کرتا ہے۔ یہ شطرنج کے کھیل جیسا ہے۔"

اب تہران نے رکھی نئی شرائط

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے آس پاس کی پیش رفت کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ برقرار ہے، جو دنیا بھر میں تیل کی شپنگ کا ایک اہم راستہ ہے۔ واضح رہے کہ ان کا یہ تبصرہ ایران، عمان اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مقصد سے رکی ہوئی بات چیت کے درمیان آیا ہے۔ تہران نے نئی شرائط رکھی ہیں، جن میں امریکی بحریہ کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے قریب تعینات امریکی فوج کو واپس بلانا شامل ہے۔

صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا لین دین: عراقچی

اس سے پہلے، امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق ضروری ہتھیاروں کی کمی کے خدشات کے درمیان امریکی دفاعی ٹھیکیداروں (Defense Contractors) سے ہتھیاروں کی پیداوار فوری طور پر بڑھانے اور ڈیلیوری میں تیزی لانے کو کہا تھا۔ ڈپٹی ڈیفنس سکریٹری اسٹیو فینبرگ نے بدھ کو انڈسٹری لیڈرز سے کہا کہ ان کے پاس ضروری صلاحیتوں کے لیے کافی تیز، زیادہ جارحانہ ڈیلیوری شیڈول یا زیادہ پیداوار کے منصوبے جمع کرانے کے لیے 21 دن تک کا وقت ہے۔ اسی دوران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران ابھی واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست بات چیت نہیں کر رہا ہے اور صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا لین دین کر رہا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑امریکہ سے جنگ کے درمیان ایران کو ملا اتنا بڑا گیس کا ذخیرہ، جان کر ٹرمپ ہوجائیں گے پریشان* امریکہ کے ساتھ جاری جن...