Wednesday, 24 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


دارالسرور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، برہان پور کا دس سالہ جشنِ تکمیل
مالیگاؤں سے ڈاکٹر ایوبی معاذ، ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان و پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحبان کو "حضرت سعدی دکنی برہان پوری ایوارڈ" تفویض 

دارالسرور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، برہان پور کا دس سالہ جشنِ تکمیل پروگرام ٢١ جون ٢٠٢٦ ء کی شب عبدالرحمن ہال، انصار نگر، برہان پور ایم پی میں ہوا جسمیں برہان پور کے بچوں کے ادب کا پہلا اردو ناول کمسن جاسوس (پروانہ برہان پوری) کا اجراء بھی معزز مہمانان کے ہاتھوں ہوا ساتھ ہی 19 اپریل 2026 کو منعقدہ مضمون نگاری مقابلے میں شرکت کرنے والے انعام یافتگان کو انعامات تقسیم کیے گئے۔ جیکہ ڈاکٹر عبدالکریم سالار صاحب(صدر اقراء ایجوکیشن سوسائٹی، جلگاؤں) محترم فیروز کمال صاحب(مالک کمال پبلکیشن، جبلپور)محترم مشیر احمد انصاری صاحب(مدیر ماہنامہ اردو آنگن، ممبئی) محترم پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحب(آنریری سیکریٹری اے ٹی ٹی ایجوکیشنل کیمپس، صدر سی سی آئی و صدر انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں)محترم ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان صاحب (معروف سنئیر وکیل مالیگاؤں کورٹ)محترم ڈاکٹر ایوبی معاذ احمد ڈاکٹر منظور حسن ایوبی صاحب (رکن انتظامیہ سٹیزن ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی، مالیگاؤں) صاحبان کی تعلیمی و سماجی خدمات جلیلہ کا اعتراف کرتے ہوئے "حضرت سعدی دکنی برہان پوری ایوارڈ" بھی تفویض کیا گیا- علاوہ ازیں مالیگاؤں سے بطور مہمان خاص مدعو ڈاکٹر آصف سلیم و رضوان ربانی صاحبان کو بھی اعزازی و اعترافی ٹرافیاں تفویض کی گئیں تمام ہی ایوارڈ و اعزاز یافتگان کو عمیق دل سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے-









پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شان میں گستاخانہ بیان کے خلاف SDPI کا احتجاج، نازیہ الٰہی خان کے خلاف FIR درج کرنے کا مطالبہ
مالیگاؤں (نامہ نگار):
پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ اقدس میں مبینہ طور پر گستاخانہ اور اشتعال انگیز بیان دینے والی نازیہ الٰہی خان کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرکے سخت قانونی کارروائی کرنے کے مطالبے پر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے ایک وفد نے مالیگاؤں کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ASP) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DYSP) کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا۔

میمورنڈم میں کہا گیا کہ نازیہ الٰہی خان کے مبینہ بیانات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ وفد کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت، اشتعال اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھی فروغ دے سکتے ہیں، جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

وفد نے مطالبہ کیا کہ نازیہ الٰہی خان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارہ اور امن و امان برقرار رہے۔

اس موقع پر وفد نے مالیگاؤں سٹی پولیس اسٹیشن کے پولیس افسران سے بھی ملاقات کی اور میمورنڈم کی ایک نقل وہاں بھی پیش کی۔ وفد کے اراکین نے پولیس حکام کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات اور قانونی اصولوں کے مطابق مذہبی منافرت، اشتعال انگیزی اور عوامی امن کو متاثر کرنے والے معاملات میں پولیس کو از خود (Suo Motu) کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنی چاہیے اور شکایت کا انتظار کیے بغیر قانون کے مطابق فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

وفد کی نمائندگی SDPI کے ریاستی ورکنگ کمیٹی کے اراکین عبداللہ انجینئر اور مشتاق محاذ نے کی۔ اس موقع پر پولیس افسران سے گفتگو کرتے ہوئے مشتاق محاذ نے کہا کہ کسی بھی مذہب، مذہبی شخصیت یا مقدس ہستی کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں فوری اور مؤثر قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔

وفد میں SDPI کے ضلعی صدر مظہر الیاس، ابراہیم انقلابی، حافظ عمران شہباز، اظہر اسلم، جمیل شیخ سمیت متعدد ذمہ داران، کارکنان اور درجنوں عہدیداران شریک تھے۔ وفد نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی حساسیت اور سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی جرات نہ کر سکے۔

میمورنڈم کی نقول متعلقہ پولیس حکام اور دیگر ذمہ دار افسران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ SDPI قائدین نے اس موقع پر کہا کہ مذہبی احترام، آئینی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کے تحفظ کے لیے ان کی قانونی اور جمہوری جدوجہد آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس انتظامیہ اس معاملے میں فوری، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ کارروائی کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔








101 سے 65 کلو تک: فٹنس انفلوئنسر نے سات ماہ میں 36 کلو وزن کیسے کم کیا؟
وزن کم کرنے کی کامیاب کہانیاں اکثر فٹنس کے شوقین افراد کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ اگرچہ ایسی تبدیلیاں بظاہر آسان دکھائی دیتی ہیں، لیکن درحقیقت یہ نظم و ضبط، مسلسل محنت اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
بعض اوقات کسی ایک شخص کی کامیابی دوسروں کے لیے بھی صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور اپنے اہداف کے حصول کی ترغیب بن جاتی ہے۔
فٹنس کانٹینٹ کریئیٹر کاجل کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔کاجل نے اپنی وزن کم کرنے کی پوری جدوجہد انسٹاگرام پر شیئر کی اور بتایا کہ وہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں 101 کلوگرام سے 65 کلوگرام تک پہنچ گئیں۔ ان کی ویڈیوز کے مطابق انہوں نے اگست 2025 میں اپنی فٹنس ٹرانسفارمیشن کا آغاز کیا اور صرف سات ماہ میں تقریباً 36 کلوگرام وزن کم کرنے میں کامیاب رہیں۔
اپنی تازہ ویڈیو میں کاجل نے اپنی فٹنس ٹرانسفارمیشن کی قبل اور بعد کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اپنی غذا کا معمول بھی بتایا۔
پہلا دن
کاجل کے مطابق ہفتے کا آغاز سادہ اور متوازن گھریلو کھانوں سے ہوتا ہے۔ صبح وہ ایک کپ زیرہ واٹر اور پانچ بھیگے ہوئے خشک میوے استعمال کرتی ہیں۔
ناشتے میں دو چھوٹے بیسن چیلے پودینے کی چٹنی کے ساتھ کھاتی ہیں۔ درمیانی وقت میں ایک پیالہ پھل، عموماً پپیتا، اور ایک کھانے کا چمچ سورج مکھی کے بیج استعمال کرتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں آدھا کپ براؤن رائس، چنے کی دال اور بھنڈی شامل ہوتی ہے۔ شام کو ہربل چائے کے ساتھ 20 گرام بھنا ہوا مکھانہ کھاتی ہیں، جبکہ رات کے کھانے میں ٹوفو بھرجی، فرائی کی ہوئی پھلیاں اور ایک باجرے کی روٹی شامل ہوتی ہے۔
دوسرا دن
دوسرے دن کاجل زیرہ واٹر کی جگہ نیم گرم لیموں پانی میں بھیگے ہوئے چیا سیڈز استعمال کرتی ہیں۔
ناشتے میں سویابین کے ٹکڑوں کے ساتھ ویجیٹیبل پوہا کھاتی ہیں۔ بعد ازاں ایک سیب اور ایک کھانے کا چمچ کدو کے بیج بطور سنیک لیتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں دو روٹیاں، مونگ کی دال، لوکی کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کو چھاچھ اور بھنے ہوئے چنے کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں 100 گرام پالک پنیر، ایک جوار کی روٹی اور کھیرے کا رائتہ شامل ہوتا ہے۔تیسرا دن
تیسرے دن کا آغاز ایلوویرا شاٹ اور نیم گرم پانی سے ہوتا ہے۔ ناشتے میں راگی ڈوسا، پروٹین سے بھرپور سامبر اور چٹنی شامل ہوتی ہے۔ درمیانی وقت میں ایک امرود اور ایک کھانے کا چمچ السی کے بیج کھاتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں ایک چھوٹی جوار کی روٹی، تور دال، پالک کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کے وقت بغیر چینی والا یونانی دہی چیا سیڈز اور بیریز یا انار کے ساتھ کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں ویجیٹیبل کوئنوا پلاؤ اور کھیرے، ٹماٹر کا سلاد شامل ہوتا ہے۔
چوتھا دن
چوتھے دن کا آغاز بھیگے ہوئے میتھی دانے کے پانی اور ویجیٹیبل اپما سے ہوتا ہے۔ بعد میں ایک ناشپاتی اور آٹھ سے 10 بھیگی ہوئی کشمش کھاتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں باجرے کی کھچڑی اور کچری شامل ہوتی ہے۔ شام کو لیموں پانی اور ہمس کے ساتھ دو رائس کیکس کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں سویا کری اور ایک روٹی شامل ہوتی ہے۔پانچواں دن
پانچویں دن صبح لیموں اور ادرک والا پانی، پانچ بھیگے ہوئے آخروٹ اور سبزیوں سے تیار اوٹس چیلا سبز چٹنی کے ساتھ کھاتی ہیں۔ بعد ازاں پھل اور مختلف بیج استعمال کرتی ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں دو باجرے کی روٹیاں، مسور کی دال، بھنڈی کی سبزی اور سلاد شامل ہوتا ہے۔ شام کو چھاچھ اور بھنی ہوئی مونگ پھلی کھاتی ہیں۔ رات کے کھانے میں پنیر تکہ، ہلکی فرائی کی ہوئی زوکینی اور آدھا کپ براؤن رائس شامل ہوتا ہے۔
اگرچہ وزن کم کرنے کے نتائج ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم کاجل کی یہ کامیاب جدوجہد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقل مزاجی، مناسب مقدار میں غذا کا استعمال اور متوازن خوراک طویل المدتی فٹنس اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

مالویہ نگر، لکھنؤ کے بعد اب دہلی کے ادیوگ بھون کے قریب آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو گئیں جھگیاں ، آخر کب تک معصوم زندگیاں ہوتی رہیں گی ناقص نظام کی ناکامی کا شکار؟
ملک کی راجدھانی دہلی سے لے کر اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ تک اس وقت شہروں میں لگنے والی آگ اور آتشزدگی کے واقعات کا ایک نہایت خوفناک اور تشویشناک سلسلہ سامنے آ رہا ہے۔ آج علی الصبح دہلی کے وی وی آئی پی اور انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے ادیوگ بھون کے قریب واقع مزدوروں کی جھگیوں میں اچانک بھیانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔آگ کے شعلے اتنے ہولناک تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں عارضی آشیانے جل کر خاکستر ہو گئے۔ موقع پر پہنچنے والی فائر بریگیڈ کی 20 گاڑیوں نے طویل جدوجہد کے بعد صبح تقریباً 5:30 بجے آگ پر قابو پایا، لیکن اس حادثے نے دہلی کے مالویہ نگر اور لکھنؤ میں پیش آنے والے حالیہ سانحات کی یاد تازہ کر دی۔

ادیوگ بھون کے قریب جھگیاں خاکستر

دہلی فائر سروس (DFS) کے حکام کے مطابق ابتدائی جانچ میں آگ لگنے کی وجہ ایک الیکٹرک پینل میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ بیشتر جھگیاں پلاسٹک، لکڑی اور دیگر عارضی مواد سے بنی ہوئی تھیں، اس لیے آگ نے چند ہی منٹوں میں خطرناک شکل اختیار کر لی۔اطمینان کی بات یہ رہی کہ علی الصبح مچی چیخ و پکار کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ فی الحال فائر ڈپارٹمنٹ نقصان کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔

والمیکی بستی سے مالویہ نگر تک خوف کی فضا

دہلی میں آگ کا یہ تباہ کن واقعہ کوئی پہلا حادثہ نہیں ہے۔ صرف دو روز قبل پیر کی رات مولانا آزاد میڈیکل کالج کے پیچھے واقع والمیکی بستی (تکیہ کالے خاں) میں بھی ایسی ہی ہولناک آگ لگی تھی، جہاں رہائشی جھگیوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے پلائی ووڈ اور لکڑی کے باعث 24 فائر ٹینڈروں کو آگ بجھانے کے لیے سخت مشقت کرنا پڑی تھی۔اتنا ہی نہیں، دارالحکومت کے لوگ ابھی تک مالویہ نگر کے اس مشہور آتشزدگی کے واقعے کو نہیں بھولے ہیں، جہاں تنگ گلیوں اور آتش گیر سامان کی موجودگی نے پورے علاقے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔

فائر این او سی پر ملک بھر میں ہنگامہ

ادیوگ بھون کے قریب پیش آنے والے اس واقعے نے حفاظتی معیارات پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ پیر کے روز ہی لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں ایک کوچنگ ادارے میں ہونے والے المناک آتشزدگی کے بعد پورے اتر پردیش اور دہلی میں فائر این او سی (Fire NOC) اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ اسی مہم کے تحت پریاگ راج میں خان سر کی کوچنگ تک سیل کی جا چکی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ چاہے لکھنؤ کا رہائشی و کوچنگ علاقہ ہو، دہلی کا مالویہ نگر ہو یا ادیوگ بھون کے قریب واقع مزدوروں کی یہ بستی، غیر قانونی برقی لوڈ، تنگ گلیاں اور فائر سیفٹی اصولوں کو نظرانداز کرنا ہی ایسے حادثات کی اصل وجوہات ہیں۔









امریکہ-ایران امن معاہدے پر منڈلانے لگے بحران کے بادل، ٹرمپ اور ایران کے درمیان لفظی جنگ کے بیچ کیا پھر بھڑک اٹھے گا مشرقِ وسطیٰ؟
مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) میں امن کی بحالی کی کوششوں کے دوران ایک بار پھر دنیا کے دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جاری انتہائی خفیہ اور اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے بیانات میں ایسا تضاد سامنے آیا ہے جس نے عالمی دفاعی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پنسلوانیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سخت اور طویل مدتی جوہری معائنے قبول کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب تہران نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جس کے بعد جاری مذاکرات کی کامیابی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران نے سخت جوہری معائنے مان لیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور ایک پریس کانفرنس میں جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے پسِ پردہ مذاکرات میں امریکی شرائط تسلیم کر لی ہیں اور جوہری تنصیبات کے سخت معائنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے بند کمرے کی بات چیت میں خود اس بات کی تصدیق کی تھی اور امریکہ کے پاس اس کے مکمل شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے موجودہ انکاری بیانات درست ہوتے تو وہ فوری طور پر مذاکرات ختم کر دیتے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران، مہنگائی اور غذائی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے، اس لیے اس کے پاس سمجھوتے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

تہران کا جواب: امریکہ گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہا ہے

دوسری جانب ایرانی حکام نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک منظم پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری معائنوں کے حوالے سے کوئی نئی شرط یا امریکی دباؤ قبول نہیں کیا۔ایرانی حکام کے مطابق ایران کا تعاون صرف پہلے سے طے شدہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے دائرے میں جاری رہے گا۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ بند کمرے میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں آخر کون سچ بول رہا ہے اور کون حقائق کو اپنے حق میں پیش کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز پر 60 روزہ مہلت برقرار

اس بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈیوں کے لیے ایک مثبت خبر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کسی قسم کی بحری ناکہ بندی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔تاہم امریکہ اور ایران نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک مستقل معاہدے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ لیکن جوہری معائنوں، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور یورینیم افزودگی کی حدود جیسے اہم معاملات پر دونوں ممالک کے سخت مؤقف کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی یہ چنگاری کسی بھی وقت دوبارہ بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔









حج پالیسی 2027 کا اعلان، آن لائن درخواستوں کا عمل شروع، 20 جولائی تک دے سکتے ہیں درخواست
لکھنؤ: حکومت ہند کی اقلیتی امور کی وزارت کے تحت حج کمیٹی آف انڈیا نے حج 2027 کے لیے آن لائن درخواست کا عمل شروع کر دیا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے عازمین کمیٹی کی سرکاری ویب سائٹ اور 'حج سہولت' موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ حج 2027 کے لیے درخواست کے وقت 22 جون 2026 سے 20 جولائی 2026 تک رات 11 بج کر 59 تک طے کیا گیا گا۔

حج کمیٹی کے مطابق ڈیجیٹل رینڈم سلیکشن پروسیس (قرہ) کے ذریعے منتخب ہونے والے عازمین کی فہرست جولائی 2026 کے آخری ہفتے میں جاری کی جائے گی۔ منتخب درخواست دہندگان کو 10 اگست 2026 تک 1,52,300 روپے کی ایڈوانس رقم جمع کرنی ہوگی۔

مطلوبہ دستاویزات:

درخواست کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات کی اسکین شدہ کاپیاں بھی اپ لوڈ کرنا لازمی ہے۔

ہندوستانی بین الاقوامی پاسپورٹ کے پہلے اور آخری صفحہ کی ایک کاپی۔

پاسپورٹ سائز کی تصویر۔

بینک پاس بک یا منسوخ شدہ چیک۔

پتے کا ثبوت۔

حج کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ درخواست کے وقت پاسپورٹ کی ویلیڈٹی 31 دسمبر سال 2027 تک ہونی چاہیے۔

سیٹ کینسل ہونے پر وارننگ

حج کمیٹی نے عازمین کو مشورہ دیا ہے سیٹ کینسل کرنے سے گریز کریں، کیوں کہ سیٹ رد ہونے سے آپریشنل اور انتظامی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اس لیے حج کے لیے مکمل عزم کے بعد ہی درخواست دیں۔ سیٹ کینسل ہونے کی صورت میں حج 2027 کے رہنما خطوط کے مطابق تعزیری دفعات لاگو کی جا سکتی ہیں۔حج پالیسی 2027 کا اعلان

نئی حج پالیسی کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان کوٹہ کی تقسیم 70:30 پر برقرار ہے، جس میں کمیٹی کے لیے 1,22,518 سیٹیں اور پرائیویٹ سیکٹر کے لیے 52,507 سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر رجیجو نے تمام اہل عازمین پر زور دیا کہ وہ مقررہ وقت کے اندر درخواست جمع کرائیں اور حج کمیٹی آف انڈیا اور متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ آرام دہ اور شفاف عمل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہر بھارتی عازمین کے لیے ایک محفوظ، آرام دہ، شفاف اور باوقار حج کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

رجیجو نے ایکس پر لکھا کہ "آج، میں نے حج پالیسی 2027 کا اعلان کیا اور حج کمیٹی آف انڈیا کے پورٹل اور حج سہولت ایپ کے ذریعے حج 2027 کے لیے درخواستیں کھولیں۔ حج 2026 کی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے، نئی پالیسی میں زیادہ سے زیادہ آرام، حفاظت، شفافیت اور وقار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ معاونت، مختصر حج پیکیج کا تسلسل، مضبوط میڈیکل اسکریننگ اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی خدمات، بشمول متعدد بھارتی زبانوں میں اے آئی سے چلنے والی مدد ہم ہر ہندوستانی عازم کے لیے حج کو مزید قابل رسائی، آرام دہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مجموعی کوٹہ بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، جو کہ گذشتہ سال 1,75,025 تھا۔ یہ اعلان 18 جون 2026 کو رجیجو کی زیر صدارت حج جائزہ اجلاس کے بعد ہوا، جہاں حج 2026 کے انعقاد کا جائزہ لیا گیا اور حج 2027 کے روڈ میپ کو حتمی شکل دی گئی۔

حج پالیسی 2027 حج 2026 کے دوران متعارف کرائے گئے اقدامات پر مبنی ہے، جس میں منیٰ میں صوفہ و بستر، مکہ اور مدینہ کے درمیان تیز رفتار ٹرین کا سفر، مکہ میں ہوٹل کی طرز کی رہائش، اور 20 روزہ مختصر حج پیکیج شامل ہیں۔ ہندوستانی حج مشن کو سعودی وزارت حج اور عمرہ کے ذریعہ حج 2026 کے لیے "بہترین حج کوآرڈینیشن اینڈ کمیونیکیشن" کے زمرے کے تحت دو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ہندوستان کو پہلی بار ایسا اعزاز حاصل ہوا۔

نئی حج پالیسی میں تبدیلیاں

اہم تبدیلیوں میں سے، پالیسی ریاستی حج انسپکٹر کے تناسب کو ہر 150 عازمین کے لیے ایک انسپکٹر سے ہر 135 کے لیے ایک کر دیا گیا ہے۔ ویٹنگ لسٹ کو منصفانہ طریقے سے حل کرنے کے لیے، حج 2026 کے آخری انتظار کی فہرست میں شامل درخواست دہندگان میں سے سب سے اوپر 20 فیصد کو ترجیح دی جائے گی، جو پہلے حج کی مانگ کے ساتھ جاری رہے گی۔ کولکاتا کو ایمبارکیشن پوائنٹ کے طور پر شامل کیا گیا۔

میڈیکل اسکریننگ کو سعودی رہنما خطوط کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دائمی طبی حالتوں میں مبتلا افراد کو سفر کے لیے کلیئر نہ کیا جائے، حجاج کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ مرکزی وزارت حجاج کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر بھی کام کر رہی ہے۔ ان میں اے آئی کی مدد سے ایپلی کیشن اور دستاویز کی تصدیق، فلائٹ ایلوکیشن کے لیے ڈیمانڈ ماڈلنگ، اور ریئل ٹائم شکایات کا پتہ لگانا شامل ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


بدھ کو نور باغ چوک میں 'ذکرِ تاجدارِ کربلا' اجتماع، مولانا سید امین القادری قبلہ کا خصوصی خطاب 

میئر و کمشنر کی ہدایت پر کارپوریشن کے اعلی افسران و کارپوریٹرس کا دورہ، خواتین کیلئے باپردہ انتظامات، ایل ای ڈی اسکرین کا بھی نظم 



مالیگاؤں : 23 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ)عالمی تحریک سنی دعوتِ اسلامی، شاخ مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی ذکرِ تاجدارِ کربلا کے عظیم الشان اور روح پرور اجتماعات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ وارث علی چوک اور آزاد نگر جیلانی چوک میں کامیاب اجتماعات کے انعقاد کے بعد، اب کل بروز بدھ کو اس سلسلے کا اگلا بڑا اجتماع نور باغ چوک میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس کے بعد جمعرات اور جمعہ کو اے ٹی ٹی ہائی اسکول گراؤنڈ پر آخری اجتماعات کے ساتھ یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔
ان اجتماعات میں ملک کے مایہ ناز اور شعلہ بیاں خطیب حضرت مولانا سید امین القادری قبلہ کا سلسلہ وار رقت انگیز اور علمی خطاب جاری ہے، جسے سننے کے لیے شہر بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول شرکت کر رہے ہیں۔اس طرح کی تفصیلات آج نور باغ چوک میں دورہ کے دوران نور باغ گروپ کے ذمہ داران میں رضوان میمن نے دی، انہوں نے بتایا کہ نور باغ چوک میں ہونے والے اجتماع کی اہمیت کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے افسران اور مختلف محکموں کے ذمہ داران نے اجتماع گاہ اور گرد و نواح کا تفصیلی دورہ کیا۔ میئر نسرین حاجی خالد شیخ رشید اور کمشنر کی خصوصی ہدایت پر کارپوریٹر شکیل بیگ، فقیر محمد، عرفان عابد علی، پربھاگ آفیسر عرفان تابانی، محکمہءِ صفائی کے سربراہ اقبال جان محمد، اور لائٹ و تجاوزات (اتیکرمن) ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر تیاریوں کا جائزہ لیا۔حکام نے یقین دلایا ہے کہ اجتماع سے قبل دو دنوں کے اندر نور باغ کے پورے علاقے کو ہنگامی طور پر مکمل صاف کر دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اجتماع کے پیش نظر پورے علاقے کی گہرائی سے صفائی، جھاڑو مارنا اور کچرے کی فوری نکاسی۔گٹروں کی صفائی اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ آمد و رفت میں رکاوٹ نہ ہو۔اسی طرح اسٹریٹ لائٹس اور بجلی کے نظام کو چاک و چوبند کرنا۔بارش اور وبائی امراض کے پیشِ نظر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ (فوارنی) اور سڑکوں کے دونوں جانب چونا/پاؤڈر کا بھی چھڑکاؤ کیا جائے گا۔سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آج شام پولس ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران بھی نور باغ چوک پہنچ کر حفاظتی انتظامات اور پولس بندوبست کا جائزہ لیں گے۔رضوان میمن گروپ نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے خصوصی باپردہ انتظام کیا گیا ہے، ایس ڈی آئی نور باغ گروپ کے متحرک ذمہ داران میں رضوان میمن، اقبال بھائی بکھار والے، شفیق انصاری اور ان کے تمام رفقاء گزشتہ کئی دنوں سے گھر گھر جا کر دعوت نامے تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہر کے برادرانِ اسلام اور خواتین سے کثیر تعداد میں اس دینی بزم میں شرکت کی مخلصانہ اپیل کی ہے۔
شرکاء کی سہولت کے لئے خواتین اسلام کے لیے باغبان جماعت خانہ کے گراؤنڈ پر مکمل باپردہ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کے لیے بڑی ایل ای ڈی (LED) اسکرین لگائی جا رہی ہیں تاکہ وہ پروگرام کو باآسانی دیکھ اور سن سکیں۔اسی طرح علماءِ کرام اور مشائخ عظام کے لیے ایک وسیع و عریض اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ پنڈال میں شرکاء کے بیٹھنے کے لیے صوفے، کرسیاں اور فرش کا بہترین انتظام رہے گا۔اس کے علاوہ گرمی اور موسم کی مناسبت سے زائرین کے لیے ٹھنڈے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی جا رہی ہیں۔پروگرام بروز بدھ کو بعد نمازِ مغرب شروع ہوگا، جس میں مولانا سید امین القادری صاحب کے مرکزی خطاب سے قبل دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوں گے۔اور پروگرام رات ٹھیک دس بجے اختتام پذیر ہوگا۔نمازِ عشاء: اجتماع کے فوری بعد رات دس بجے نمازِ عشاء باجماعت قاضی شرف الدین ہال میں ادا کی جائے گی۔اس پروگرام کی نظامت مسجد یارسول اللہ کے امام حافظ غفران اشرفی انجام دینگے۔شہر بھر سے آنے والے شرکاء کے لیے نور باغ چوک کی طرف آنے والے تمام راستوں کو صاف اور کشادہ اور روشن کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔







*پانی بچاؤ ،نلوں میں گندے پانی کی شکایت، کیا گرنا ڈیم کا پانی چوری ہو رہا ہے؟*
محمد عارف نوری 
(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں) 
(پریس ریلیز) پانی اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے لیکن مالیگاؤں کی قسمت دیکھیں ایک طرف عوام کو پینے کے لیے نلوں میں گندہ اور کم پانی مل رہا ہے کچھ علاقوں میں نل کھولو تو کیچڑ، بدبو اور مٹی والا پانی جو پینے اور استعمال کرنے کے لائق نہیں ہوتا گندہ پانی پلا کر کارپوریشن نے اسپتالوں کی کمائی بڑھا دی ہے اور ہم خود بھی پانی کو بے دردی سے ضائع کر رہے ہیں یہ دوہری مار ہے نل کُھلا چُھوڑ کر برتن دھونا، گاڑی دھونا، گلی دھونا وغیرہ عام بات ہے ٹینکی اوورفلو ہوتی رہتی ہے کوئی بند نہیں کرتا لیکیج والے نل مہینوں ٹپکتے رہتے ہیں ایک ٹپکتا نل دن میں 200 لیٹر پانی ضائع کرتا ہے آج ہم پانی بچائیں گے تو کل ہماری نسلوں کو پانی ملے گا "ہر قطرہ قیمتی ہے" ڈیم میں بھرپور پانی ہونے کے باوجود کیا گرنا ڈیم کا پانی چوری ہو رہا ہے؟ سب سے بڑا سوالیہ نشان یہ ہے گرنا ڈیم مالیگاؤں کی لائف لائن ہے لیکن الزام ہے کہ کیا رات کے اندھیرے میں بڑے پائپ ڈال کر کھیتوں اور فیکٹریوں کو غیر قانونی پانی دیا جا رہا ہے، وال توڑ کر اور میٹر بائی پاس کر کے پانی چوری ہو رہا ہے؟ کئ جگہوں پر لیکیج کی وجہ سے لاکھوں لیٹر پانی ضائع ہورہا ہے اگر یہ سچ ہے تو یہ صرف چوری نہیں عوام کے حق پر ڈاکہ ہے کارپوریشن کا پانی کم آنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے چوری روکنا کارپوریشن کا کام ہے چیکنگ، جرمانہ، ایف آئی آر کیوں نہیں ہوتی؟ کیا ملوث لوگ طاقتور ہیں؟ ڈیم کے پانی پر نظر رکھنا لیڈران کا فرض ہے اگر چوری ہو رہی ہے تو خاموش کیوں ہیں؟ ہم بھی دیکھ کر آنکھ بند کر لیتے ہیں چوری دیکھو تو شکایت کرو ہم دو محاذ پر لڑ رہے ہیں ایک طرف اپنا پانی بچانا ہے دوسری طرف چوری روکنی ہے عوام پانی کو عبادت سمجھ کر استعمال کریں بار بار پمپنگ اسٹیشن خراب ہوجاتا ہے مرمت کے نام پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں آخر بار بار خراب ہونے کی وجہ کیا ہے؟ شہریان ٹیکس دے، بل بھرے پھر بھی پیاسی مرے اور دوسری طرف کھیت والے سیراب ہوں یہ کونسا انصاف ہے عوام پانی کو ضائع کرنا بند کریں کارپوریشن گرنا ڈیم کی پائپ لائن کی فوری چیکنگ کریں چوری کرنے والوں پر سخت کارروائی ہونی چاہیے چاہے وہ کوئی بھی ہو
لیڈران عوام کا پانی بچائیں مافیا کو نہیں اگر آج نہیں جاگے تو وہ دن دور نہیں جب گرنا ڈیم ہوگا اور مالیگاؤں پیاسا رہے گا منماڑ شہر کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔








دسویں جماعت کے طلبہ سے....... ڈاکٹر مبین نذیر مالیگاؤں 
عزیز طلبہ! دسویں جماعت آپ کے تعلیمی سفر کا وہ سنگِ میل ہے، جہاں سے آپ کے مستقبل کی راہیں نکلتی ہیں۔
 چونکہ آپ زندگی میں پہلی بار بورڈ کے امتحان کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے تھوڑا بہت ذہنی دباؤ فطری ہے۔ تقریباً تیس برس گزر چکے ہیں، مگر دسویں جماعت کا پہلا پرچہ، امتحان ہال کا تناؤ بھرا ماحول ، دل کی تیز دھڑکنیں اور سپروائزر کی شکل و صورت ، آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہے ـ 
ہمارے معاشرے میں عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ دسویں کے طالب علم کو گوشہ نشین ہو کر صرف کتابوں میں گم رہنا چاہیے۔ یہ خیال درست نہیں۔ اعتدال اور مناسب منصوبہ بندی سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود، صحت اور سیر و تفریح کے لیے بھی باآسانی وقت نکالا جا سکتا ہے۔
کامیابی کا پہلا زینہ نظم و ضبط ہے۔ اپنے شب و روز کا ایک ایسا ٹائم ٹیبل بنائیں جس میں سال کے شروع میں روزانہ دو تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھائی کے لیے مختص ہوں۔ بعد میں اس میں بتدریج اضافہ کرتے جائیں ـ رٹا لگانے کی بجائے تمام مضامین کے کانسپٹ اور بنیادی باتوں کو سمجھنے پر زور دیں۔ جو بات سمجھ میں نہ آئے، بلا جھجک اپنے اساتذۂ کرام اور گھر پر والدین سے پوچھیں۔ یاد رکھیں، جو سوال کرتا ہے، وہی سیکھتا ہے۔
زبان اور ادب کی تیاری کے لیے مضمون نگاری، مکتوب نگاری، اشتہار سازی، خاکے کی مدد سے کہانی لکھنا اور اشعار کی تشریح جیسے امور محض یاد کرنے کے نہیں، بلکہ عملی مشق کے متقاضی ہیں۔ صنعتوں کی تعریفیں، محاوروں کا درست استعمال، ریاضی کے ضابطے، اور انگریزی گرامر پر ابھی سے توجہ مرکوز کریں۔ گزشتہ برسوں کے امتحانی پرچوں کو حل کریں اور تجزیہ کریں کہ ایک ہی سوال کو کس طرح مختلف انداز سے پوچھا جا سکتا ہے۔ 
 اپنے اساتذہ اور سرپرستوں کی نگرانی میں آپ مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لے سکتے ہیں تاکہ آپ کی تیاری مزید بہتر ہو۔ تاہم، اسکرین ٹائم کو صرف پڑھائی تک محدود رکھیں۔ انٹرنیٹ کا مواد آپ کی درسی کتابوں اور خود کی تیار کردہ نوٹس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے غیر ضروری طور پر موبائل کے استعمال سے گریز کریں۔ اپنی خوراک کا خیال رکھیں ـ امتحانات کے دوران راتوں کو بلاوجہ جاگنے کے بجائے بھرپور نیند لیں تاکہ آپ کا ذہن تروتازہ رہے۔ 
رزلٹ کے بعد آپ کو آگے کے مراحل میں کوئی پریشانی نہ ہو ،اس لیے امتحان کا فارم بھرتے وقت اپنے دستاویزات پر خاص توجہ دیں۔ اپنا اور والدین کا نام ، ایل سی کے مطابق لکھیں ۔ معمولی سی غلطی مستقبل میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔ آدھار کارڈ اپڈیٹ رکھیں ـ اس میں وہی موبائل نمبر لنک کرائیں جو مستقل جاری رہنے والا ہو ـ مختلف آن لائن فارم اور داخلے کے وقت او ٹی پی اسی نمبر پر آتا ہے ـ اس لیے درست اور جاری نمبر ہی ہر جگہ درج کریں ـ 
دسویں کے رزلٹ اور ایل سی کی اصل کاپیاں اور زیراکس تاحیات سنبھال کر رکھیں ـ دسویں کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کس شعبے میں اپنا کریئر بنانا ہے؟ حالانکہ یہ فیصلہ پہلے ہی ہوجانا چاہیے ـ آن لائن داخلے میں کٹ آف اور میرٹ کی بنیاد پر ایڈمیشن ملتا ہے، اس لیے اپنی پسند کے جونیئر کالج میں نشست پانے کے لیے ابھی سے کڑی محنت کریں۔ اپنا تعلیمی ہدف ابھی سے طے کرلیں اور جی جان سے اس کے حصول میں لگ جائیں ـ 
کریئر کے انتخاب میں بھیڑ چال کا حصہ نہ بنیں۔ اگر میڈیکل یا انجینئرنگ کا ارادہ ہے، تو یاد رکھیں کہ ان کے لیے سائنس، ریاضی اور انگریزی پر عبور لازمی ہے۔ ان مضامین میں کمزور ہونے کے باوجود محض شوقیہ طور پر یا دوستوں اور سہیلیوں کو دیکھ کر سائنس لینے والے اکثر طلبہ کا تعلیمی سفر آسان نہیں ہوتا۔ دوسری جانب، یہ غلط فہمی عام ہے کہ آرٹس میں کریئر کے مواقع نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہے ! قانون، صحافت، نفسیات، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سول سروسز اور گرافک ڈیزائننگ وغیرہ جیسے درجنوں شعبے آپ کے منتظر ہیں۔ بس آپ کے اندر اپنے شعبے کی مہارت ہونی چاہیے ـ کامرس کے توسط سے سی اے اور بینکنگ وغیرہ میں بھی کرئیر بنایا جا سکتا ہے۔
والدین بھی جان لیں کہ بچوں کا رزلٹ، سرپرستوں کی رہنمائی اور تربیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ بچوں کو بھرپور وقت دیں ـ انہیں اعتماد میں لیں اور ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ جس طرح ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اسی طرح ہر بچہ ڈاکٹر اور انجینئر نہیں بن سکتا۔ خالق ِ ارض و سماں نے ہر بچے کے اندر کوئی نہ کوئی منفرد صلاحیت رکھی ہے۔ آپ کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اپنے بچے کی اس خوبی اور صلاحیت کو پہچانیں اور اسی مخصوص شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔ اگر آپ نے ایسا کیا، تو یقیناً آپ کا بچہ ایک کامیاب انسان بن کر آپ کا نام روشن کرے گا۔  
عزیز طلبہ! نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے۔ ابھی سے اتنی لگن اور محنت سے پڑھائی کریں کہ جب دسویں جماعت کا رزلٹ آئے تو آپ کا اور آپ کے والدین کا دل خوشی سے جھوم اٹھے ـ آپ جس جونیئر کالج میں چاہیں وہاں آپ کا داخلہ ہوجائے ـ نمازوں ،دعاؤں اور سنتوں کا ساری زندگی اہتمام کریں ـ خاص مواقع پر نماز شکرانہ، صلاۃ التوبہ ،صلاۃ الحاجت کو بھی اپنا معمول بنائیں ـ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ، 
ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے 
 آپ کا مستقبل روشن اور تابناک ہو ـ ہماری دعائیں اور نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں ـ








Tuesday, 23 June 2026

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع 
بجاج فائنانس کی جانب سے ایک پرکشش اسکیم شروع کی گئی تھی جسمیں یکم اپریل سے جون تک بجاج فائنانس کے ذریعے موبائل کولر فریج واشنگ مشین و دیگر اشیاء کی خریدی کرنے والے تمام لوگوں کا کوپن بناکر ان کی قرعہ اندازی کی جاۓ گی اور ان کو کولر ٹرالی بیگ سیگڑی دیوار گھڑی ڈنر سیٹ ٹرے ودیگر انعامات دیئے جائیں گے 
جن لوگوں نے اس مدت کے درمیان بجاج فائنانس سے خریداری کی ہو وہ اس پروگرام میں ضرور شرکت کریں اور نام کھلنے پر انعامات حاصل کریں 
بتاریخ 25 جون بروز جمعرات شام پانچ بجے
بمقام شمشاد موبائل پوائنٹ اولڈ آگرہ روڈ گھوڑے والا کمپاونڈ مالیگاؤں 
الداعیان ۔۔۔ محمد یاسین شمشاد موبائل ۔ دیپک مالی سر ۔ یش پوار صاحب ۔ آدتیہ ہیرے صاحب واسٹاف
رابطہ نمبر ۔۔۔ 9326167000

Monday, 22 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا چینی کا استعمال واقعی کینسر کا سبب بنتا ہے؟
ڈاکٹر ورتیکا نے بتایا کہ ’بعض لوگ پی ای ٹی سکین کی تصاویر کا حوالہ دے کر دعویٰ کرتے ہیں کہ کینسر کے خلیات چینی استعمال کرتے ہیں، اس لیے چینی کینسر کی خوراک ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام فعال خلیات توانائی کے لیے گلوکوز استعمال کرتے ہیں۔ دماغ، گردے اور آنتیں بھی اسی وجہ سے اسکین میں نمایاں نظر آتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی شخص چینی یا کاربوہائیڈریٹس مکمل طور پر ترک کر دے تو جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے عضلات اور دیگر بافتوں کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ تصور درست نہیں کہ چینی چھوڑ دینے سے کینسر کے خلیات مر جائیں گے۔‘
ماہرِ کینسر کے مطابق کینسر کے خلیات تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فاقہ کشی یا انتہائی پرہیز کینسر کا علاج بن سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ مریض کی صحت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔ زیادہ چینی، موٹاپا اور میٹابولک بیماریاں صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض میٹابولک امراض مستقبل میں کینسر کے خطرے میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ خطرہ مجموعی طرزِ زندگی سے جڑا ہوتا ہے، نہ کہ صرف چینی کے استعمال سے۔‘
ڈاکٹر ورتیکا کا کہنا تھا کہ ’متوازن غذا، پھل، ثابت اناج اور گھریلو کھانوں کو ترک کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’صحت مند زندگی کا راز اعتدال اور متوازن غذائی عادات میں پوشیدہ ہے، نہ کہ کسی ایک غذا کو تمام بیماریوں کی جڑ قرار دینے میں۔‘







فیفا ورلڈ کپ 2026میں لیونل میسی نے کر دی تاریخ رقم، ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ انفرادی گول کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا
نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جے کے ایک اہم میچ میں ارجنٹینا کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی نے آسٹریا کے خلاف گول کرکے تاریخ رقم کر دی۔ ڈلاس اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں میسی نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی کے سب سے زیادہ انفرادی گول کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔اپنے 39ویں یومِ پیدائش سے صرف دو روز قبل میسی نے ورلڈ کپ میں اپنا 17واں گول اسکور کیا، جو 2026 کے ٹورنامنٹ میں ان کا چوتھا گول بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوزے کے 16 گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ اب میسی 17 گولوں کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہیں، جبکہ کلوزے 16 اور برازیل کے رونالڈو 15 گولوں کے ساتھ ان کے پیچھے ہیں۔

میسی نے ایک اور منفرد اعزاز بھی حاصل کیا۔ وہ فرانس کے جسٹ فونٹین اور برازیل کے جائرزینھو کے بعد مسلسل چھ ورلڈ کپ میچوں میں گول کرنے والے دنیا کے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔میچ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو آسٹریا کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم میسی نے اپنی شاندار کارکردگی سے ٹیم کی واپسی کی قیادت کی۔ گول کے موقع پر میسی نے گیند تھیاغو المادا کو پاس کی، جنہوں نے فوری طور پر ایک عمدہ ریٹرن پاس دیا۔ میسی نے گیند کو بہترین انداز میں کنٹرول کرتے ہوئے آسٹریا کے گول کیپر الیگزینڈر شلاگر کو چکمہ دیا اور زبردست شاٹ کے ذریعے گیند جال میں پہنچا دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ میسی اس سے چند منٹ قبل ہی یہ تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتے تھے، لیکن وہ ایک پینلٹی ضائع کر بیٹھے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے بعد میں گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔میچ کے ابتدائی لمحات میں ارجنٹینا کا غلبہ رہا، لیکن پینلٹی ضائع ہونے کے بعد ٹیم کی گرفت کچھ کمزور پڑ گئی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹریا نے ہائی پریسنگ کے ذریعے کھیل پر کنٹرول حاصل کیا اور ارجنٹینا کے حملوں کو روکنے کی کوشش کی۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ وہ اپنی برتری کو گول میں تبدیل نہ کر سکے۔بعد ازاں ارجنٹینا نے دوبارہ کھیل پر گرفت مضبوط کی اور میسی نے مڈفیلڈ سے ایک خوبصورت موو ترتیب دیتے ہوئے تھیاغو المادا کے ساتھ شاندار کمبینیشن بنایا، جس کا اختتام تاریخی گول پر ہوا۔ اس گول کے ساتھ نہ صرف ارجنٹینا کو 1-0 کی برتری ملی بلکہ میسی نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ انفرادی گول کرنے والے کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔







مانسون کی دستک، 22 ریاستوں میں گرج چمک اور موسلادھار بارش کا الرٹ، دہلی سمیت کئی علاقوں کو گرمی سے ملے گی راحت
 نئی دہلی :جون کے آخری ہفتے کے آغاز کے باوجود ملک کے کئی حصوں میں شدید گرمی اور حبس نے عوام کی مشکلات بڑھا رکھی ہیں، تاہم اب موسم کا مزاج بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات (IMD) نے آج ملک کی 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بارش، آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔ دہلی-این سی آر، اتر پردیش، بہار، راجستھان، جموں و کشمیر اور دیگر کئی علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے درجہ حرارت میں کمی اور گرمی سے راحت ملنے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی، اتر پردیش، بہار، راجستھان، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، ہریانہ، پنجاب، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر، کیرالہ، مغربی بنگال، اڈیشہ اور شمال مشرقی ریاستوں سمیت 22 علاقوں میں بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ بعض مقامات پر موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے اور موسمیاتی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دہلی-این سی آر میں موسم خوشگوار رہنے کا امکان

محکمہ موسمیات کے مطابق 23 سے 26 جون کے درمیان دہلی-این سی آر میں موسم نسبتاً خوشگوار رہ سکتا ہے۔ اس دوران آسمان پر بادل چھائے رہیں گے جبکہ بعض علاقوں میں ہلکی بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ 23 جون کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 اور کم سے کم 26 ڈگری سیلسیس رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ البتہ 26 جون کے بعد درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو سکتا ہے۔

شمالی ہندوستان میں آندھی اور بارش کا سلسلہ

اتر پردیش کے میرٹھ، نوئیڈا، آگرہ، متھرا، کانپور، جھانسی، ایودھیا، گورکھپور، پریاگ راج اور وارانسی سمیت کئی اضلاع میں ہلکی بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی چلنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ لکھنؤ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 اور کم سے کم 31 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔

بہار کے مختلف اضلاع میں شدید بارش کے ساتھ 50 سے 55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ پٹنہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 اور کم سے کم 29 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بھی بارش کی سرگرمیاں تیز

راجستھان کے جے پور، اجمیر، بیکانیر، ادے پور، کوٹا اور الور سمیت کئی اضلاع میں 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ جے پور میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 اور کم سے کم 28 ڈگری سیلسیس رہ سکتا ہے۔دوسری جانب مدھیہ پردیش کے اندور، ریوا، بیتول، چھندواڑہ اور دیواس سمیت کئی علاقوں میں بارش کی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، جس سے درجہ حرارت میں کمی اور شدید گرمی سے راحت ملنے کی امید ہے۔
جنوبی ہندوستان میں بارش مزید زور پکڑے گی

محکمہ موسمیات کے مطابق 23 سے 27 جون کے درمیان تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل کے مختلف علاقوں میں اچھی بارش متوقع ہے۔ نیلگری، کوئمبٹور، تھینی، ڈنڈیگل اور شیوگنگا اضلاع میں بھاری بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں گرج چمک، آسمانی بجلی اور 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔ کیرالہ اور تلنگانہ کے کئی علاقوں میں بھی بارش کی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے، جس سے عوام کو گرمی سے راحت مل سکتی ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں میں شدید بارش کا انتباہ

اروناچل پردیش کے مغربی کامینگ، مشرقی کامینگ، پاپم پارے، لوہت، نامسائی اور دیگر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خراب موسم کے دوران کھلے میدانوں، بلند درختوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔اسی طرح آسام اور میگھالیہ میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ 28 جون تک اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ 23 سے 26 جون کے درمیان گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے خدشے کے پیش نظر عوام کو موسمی انتباہات پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے کسانوں اور ماہی گیروں کو بھی تازہ موسمی معلومات پر نظر رکھنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

حماس اور فرانسیسی حکام کے درمیان خفیہ ملاقات ، 1967 کی سرحدی بنیادوں پر فلسطینی ریاست پرہوئی بات چیت 
مشرق وسطی میں تمام سیاسی ہلچل کے بیچ اسرائیل الگ تھلگ پڑتا نظر آرہا ہے ۔ ایران جنگ کے مستقل خاتمہ کے لیے امریکہ اور ایران کے بیچ مذاکراتی عمل جاری ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں حالیہ دنو ں میں تلخیاں درآئی ہیں ۔ لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں پرامریکی صدرٹرمپ برہمی کا اظہار کئی بار کرچکے ہیں ۔ دوسری جانب سے غزہ میں بھی اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس بیچ، حماس اور یورپی وفد کی خفیہ ملاقات کی خبرسامنے آئی ہے ۔

سعودی اخبار الشرق الاوسط کی پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سینئر رہنماؤں نے ایک فرانسیسی وفد کے ساتھ انتہائی خفیہ ملاقات کی۔رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات حال ہی میں مشرق وسطیٰ کے ایک نامعلوم ملک میں ہوئی۔ دو فلسطینی ذرائع نے اس ملاقات کو انتہائی خفیہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بعض فلسطینی دھڑوں کو اس ملاقات کے بارے میں صرف اس کے انعقاد سے کچھ دیر پہلے یا بعد میں آگاہ کیا گیا۔ ان دو ذرائع میں ایک فلسطینی سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیت اور دوسرا حماس کے قریب ایک فلسطینی تنظیم کا نمائندہ شامل تھا،رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب حماس کے رہنماؤں اور یورپی حکام کے درمیان کسی ملاقات کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق فرانسیسی وفد میں موجودہ اور سابق سفارت کاروں کے علاوہ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمان بھی شامل تھے۔

فلسطین کے داخلی امور پر فوکس

فلسطینی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ مذاکرات پر خصوصی توجہ فلسطینی داخلی امور، قومی مفاہمت کو بہتر بنانے اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر تھی۔

اس ذریعے نے مزید بتایا کہ گفتگو میں 1967 کی سرحدوں کے اندر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا موضوع بھی شامل تھا۔ 1967 کی سرحدوں سے مراد چھ روزہ جنگ سے قبل موجود جنگ بندی کی حد بندی ہے۔7 اکتوبر کے بعد سے فرانس دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔

اسرائیل۔فرانس کے تعلقات کشیدہ

یہ مبینہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل فرانس کے قومی انسداد دہشت گردی استغاثہ دفتر (PNAT) نے اسرائیل کے خلاف ابتدائی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ تحقیقات گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کے بعد شروع کی گئیں جن میں ان پر تشدد اور جنگی جرائم کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

تحقیقات کا آغاز فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بروٹ کی جانب سے استغاثہ کو بھیجی گئی باضابطہ درخواست کے بعد کیا گیا۔ یہ اقدام اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی جانب سے شائع کی گئی ایک ویڈیو کے بعد اٹھایا گیا، جس میں کارکنوں کو اشدود بندرگاہ لایا جاتا دکھایا گیا تھا۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق ابتدائی تحقیقات فرانس کے مرکزی دفتر برائے انسدادِ انسانیت مخالف جرائم اور نفرت پر مبنی جرائم (OCLCH) کے ذریعے کی جائیں گی۔فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں فرانس نے نیویارک میں منعقدہ ایک عالمی سربراہی اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ اس فیصلے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے یہود مخالف جذبات کو تقویت مل رہی ہے۔









ایرانی تیل کی بازار میں واپسی، عالمی منڈی میں ہلچل، کیا پٹرول اور ڈیزل سستے ہوں گے؟
امریکہ کی جانب سے ایران کو 21 اگست 2026 تک بین الاقوامی منڈی میں خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دینا عالمی تیل مارکیٹ کے لیے ایک بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور اس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ایران کا خام تیل ایک بار پھر عالمی منڈی میں واپسی کے لیے تیار ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔امریکہ نے ایران کے لیے 60 دن کا عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، نقل و حمل اور فروخت سے متعلق لین دین کی اجازت دے دی گئی ہے۔ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندیاں دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایرانی تیل کو باضابطہ طور پر عالمی منڈی میں واپسی کا موقع ملا ہے۔

 خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

ایرانی تیل کی اضافی سپلائی کی خبر سامنے آتے ہی بین عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل مارچ کے بعد پہلی مرتبہ 74 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا۔ عالمی معیار مانے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد کم ہو کر 78.29 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی واپسی سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا، جس سے رسد کا دباؤ کم ہوگا اور قیمتوں میں مزید نرمی آ سکتی ہے۔

کیا واقعی سستے ہوں گےپٹرول اور ڈیزل؟

ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کی عالمی منڈی میں واپسی کا راست فائدہ ایسے ممالک کو ہو سکتا ہے جو تیل درآمد کرتے ہیں، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔

بھارت اپنی ضرورت کا 80 فیصد سے زیادہ خام تیل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوتا ہے تو حکومت اور تیل کمپنیوں کے اخراجات کم ہوں گے۔اس کے نتیجے میں سرکاری تیل کمپنیاں جیسے آئی او سی، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے منافع میں بہتری آ سکتی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔اگر خام تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل یا اس سے نیچے برقرار رہتی ہے تو گھریلو بازار میں ایندھن سستا ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دنیا کے 12 فیصد تیل کے ذخائر ایران کے پاس

ایران کے پاس توانائی کے وسائل کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو عالمی منڈی پر نمایاں اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 ایران کے پاس تقریباً 208 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

 یہ دنیا کے مجموعی تیل ذخائر کا تقریباً 12 فیصد ہیں۔

اسی لیے جب بھی ایران عالمی تیل منڈی میں فعال کردار ادا کرتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ایران قدرتی گیس سے بھی ہے مالامال

صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ قدرتی گیس کے میدان میں بھی ایران ایک عالمی طاقت مانا جاتا ہے۔

 ایران کے پاس تقریباً 34 ٹریلین مکعب میٹر (TCM) قدرتی گیس کے ذخائر ہیں

 یہ دنیا کے مجموعی قدرتی گیس ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف عالمی توانائی منڈی کو استحکام مل سکتا ہے بلکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی امید بھی بڑھ سکتی ہے۔









لکھنؤ کوچنگ سینٹر آتشزدگی : 15 افراد ہلاک ، حکومت نے ایس آئی ٹی دی تشکیل ، 4 افسران معطل
لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں پیر کے روز ایک تین منزلہ عمارت میں آگ لگنے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 10 افراد زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں عمارت کے مالکان سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ غفلت برتنے کے الزام میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پرچار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

پرائم منسٹر نریندرمودی نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے لواحقین کو2-2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 50، 50 ہزار روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے متاثرہ خاندانوں کو 5-5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50، 50 ہزار روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔یہ حادثہ علی گنج تھانہ علاقے میں اوشا مہتا مارگ پر واقع ایک تین منزلہ کمرشیل بلڈنگ میں دوپہر تقریباً 3 بجے پیش آیا۔ یہ عمارت پورنیا بازار کے قریب ایک پوش رہائشی علاقے میں واقع ہے جہاں متعدد کوچنگ سینٹرز اور کیفے موجود ہیں۔اسپتال کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ساگر، نیلیش، انامیکا، سنیم، انوچھا، سکھمنی، آدتیہ شریواستو، جیوتی، بھوشیہ، عبدالرحمن، سورج شاہ، شاہ جہاں، جینل چکرورتی، محمد عمار اور سومالیا شامل ہیں۔

ایس آئی ٹی کی تشکیل

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر دو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں سیاحت، ثقافت اور مذہبی امور کے ایڈیشنل چیف سکریٹری امرت ابھیجات اور لکھنؤ زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس پروین کمار شامل ہیں۔ ٹیم کو سات دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اب کیا کی گئی کارروائی ؟

پولیس نے رات گئے چار افراد کو گرفتار کیا جن میں رام کرشن اپادھیائے، وریندر پرساد شکلا، تشار کرشن جائسوال اور سریش کمار ساہو شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق اپادھیائے، شکلا اور جائسوال عمارت کے مشترکہ مالکان ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے حکم پر بجلی محکمہ جانکی پورم کے افسر گورو کمار، فائر بریگیڈ کی اندرا نگر شاخ کے افسر کملیندر کمار سنگھ، لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ انجینئر انیل کماراور جونیئر انجینئر پرمود پانڈے کو فوری طور پر معطل کر دیا گیاہے۔

آگ لگنے کی وجہ کیا تھی؟

شہری ترقی اور توانائی کے وزیر اے کے شرما کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ عمارت کے اے سی ڈکٹ سے شروع ہوئی۔ مناسب ایمرجنسی راستے نہ ہونے کے باعث دھواں پوری عمارت میں پھیل گیا اور بیشتر افراد کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔مقامی بی جے پی رکن اسمبلی نیرج بورا کے مطابق زیادہ تر اموات جلنے سے نہیں بلکہ دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں باہر نکلنے کا مناسب راستہ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے حادثہ اتنا سنگین ثابت ہوا۔مقدمہ درج

علی گنج آتشزدگی کیس میں غیر ارادۃً قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ عمارت کے مالک وریندر پرساد شکلا، علی گنج پیٹ شاپ اینڈ کلینک کے مالک رام کرشن اپادھیائے اور عمارت میں قائم دیگر اداروں کے ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

Thursday, 18 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر
آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحانات کو ایک سال باقی ہے ـ ابھی سے کیوں ان کو نصیحت فضیحت کی جائے ؟ابھی مزید ایک سال انھیں مٹر گشتی ،کھیل کود اور موج مستی کرلینے دیں ـ یہی سوچ طلبہ اور سرپرستوں کی ہوتی ہے ـ چند برسوں پہلے تک ایسا معاملہ چل جاتا تھا لیکن فی زمانہ مقابلہ اتنازیادہ بڑھ چکا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی اور کامرانی کے لیے لانگ ٹرم منصوبہ بندی اور سنجیدگی ضروری ہے ـ اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں تو آپ کو برسوں پہلے سے پلاننگ کرنی ہوگی ـ اور اس کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوشش بھی کرنی ہوگی تب ہی آپ اور آپ کا بچہ عملی زندگی میں کامیاب ہوگا ـ
دسویں جماعت میں سرخرو ہونا ہے تو اس کے لیے کوشش آٹھویں، نویں جماعت سےشروع کرنی چاہیے ـ لیکن اگر آپ نے کئی برس گنوا دیے ہیں اور آپ اس وقت نویں جماعت میں زیر ِ تع


لیم ہیں تو ابھی سے دسویں جماعت کی تیاری شروع کردیں ـ دسویں کی تیاری کے لیے یہ موزوں ترین وقت ہے ـ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ـ روزانہ دو تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھائی کریں ـ تمام مضامین کی بنیادی باتیں سمجھیں ـ اپنا کانسپٹ کلیئر کریں ـ جو بات سمجھ میں نہ آئے بلا کسی تکلف و تردد کے اساتذۂ کرام سے بار بار پوچھیں ـ سوالات کرنے میں بالکل بھی جھجک محسوس نہ کریں ـ جو سوالات کرتا ہے وہ سیکھتا ہے ـ اسکول میں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو گھر پر اپنے والدین اور سرپرستوں سے پوچھیں ـ
کچھ بنیادی باتیں، ضابطے، پہاڑے، گرامر، مضمون نگاری ، مکتوب نگاری، اشتہار سازی، خاکے کی مدد سے کہانی لکھنا، اقتباس پڑھ کر سوالوں کے جوابات لکھنا، اشعار کی تشریح کرنا وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق یاد کرنے کی بجائے عملی مشق سے ہے ـ مذکورہ عناوین اور ان سے ملتے جلتے موضوعات کی تیاری آپ ابھی سے شروع کردیں ـ مشہور مصنفین،شعرا اور اصناف کی بنیادی معلومات کو جمع کریں اور یاد کریں ـ صنعتوں کی تعریف اور ان کی مثال کے لیے اشعار، محاوروں اور کہاوتوں کے معنی اور ان کا جملوں میں درست استعمال کرنے کی مشق کریں ـ پہاڑوں کے ساتھ کسوٹیاں اور ضابطے یاد کریں ـ انگریزی گرامر کی مشق کریں ـ غیر نصابی کتابیں، اخبارات اور رسائل کا بھی مطالعہ کریں ـ خوش خطی، زبانی امتحان ،انٹرویو اور پریکٹیکل وغیرہ کی تیاری پر ابھی سے توجہ دیں ـ 
نویں جماعت کے امتحانی پرچوں کو حل کریں ـ ان کا تجزیہ کریں کہ کس قسم کے سوالات پوچھے جاتے ہیں ـ ایک ہی سوال کو مختلف انداز سے کس طرح امتحان میں پوچھا جاتا ہے؟ اس کو نوٹ کریں ـ اپنے اساتذۂ کرام اور سرپرستوں کی رہنمائی میں آپ مصنوعی ذہانت کی بھی مدد لے سکتے ہیں اور اپنی تیاری کو بہتر بناسکتے ہیں ـ رہی بات موبائل کا استعمال اور اسکرین ٹائم کم کرنے کی ،تو اس کار ِ خیر کے لیے آپ کو کسی نصیحت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ـ اپنی صحت اور غذا پر بھی توجہ دیں ـ صحت بخش اور متوازن غذا استعمال کریں ـ ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتے رہیں ـ پڑھائی کے ایام میں بھرپور نیند لیں ـ اکثر طلبہ امتحان کے ایام میں بہت زیادہ جاگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہوجاتی ہے ـ 
دسویں جماعت میں آپ کتنے فیصد مارکس حاصل کرنے ہیں ، یہ نویں جماعت میں ہی طے کرلیں ـ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اپنا گول یعنی مقصد طے نہیں کرتے ـ بس دوستوں اور سہیلیوں کی دیکھا دیکھی اختیاری مضامین، کوچنگ کلاسز کا انتخاب اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ـ آپ کو دسویں جماعت کی بنیاد نویں کلاس میں ہی رکھنی ہے، تب ہی آپ دسویں جماعت میں نمایاں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، کیوں کہ ہر طالب علم کی صلاحیت ،حالات اور پسند و ناپسند مختلف ہوتی ہے ـ اسی کے مطابق ہمیں اسکول، مضمون اور کلاس کا انتخاب کرنا چاہیے ـ آپ نویں جماعت میں تو یہ سب تبدیل نہیں کرسکتے لیکن اگر ابھی سے محنت شروع کردیں اور مستقل مزاجی سے مسلسل محنت کرتے رہیں تو دسویں جماعت میں آپ کا تعلیمی معیار بلند ہوسکتا ہے ـ آپ کا دسویں جماعت کا رزلٹ بہتر ہوسکتا ہے اور مستقبل روشن ہوسکتا ہے ـ بس شرط یہ ہے کہ آپ نویں جماعت میں سستی اور دھینگا مستی کی بجائے ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھائی پر دھیان دیں ـ یاد رکھیں کہ ساری کوشش، محنت، بھاگ دوڑ اور تگ و دو ،نویں اور دسویں کے امتحان سے پہلے تک ہے ـ آپ امتحان سے پہلے جتنی محنت کریں گے اتنا ہی آپ کا رزلٹ بہتر ہوگا ـ ہر ہفتے یا مہینے اس بات کا جائزہ بھی لیں کہ آپ نے اپنی ہی کی ہوئی منصوبہ بندی پر کتنا عمل کیا؟ اور کہاں آپ کمزور پڑ رہے ہیں؟ اپنی کمزوریوں پر قابو پاتے ہوئے منصوبہ بندی اور ٹائم ٹیبل میں آپ مناسب تبدیلی بھی کرسکتے ہیں ـ
رزلٹ کے بعد کم مارکس ملنے پر آپ کے حیلے بہانے ، رونا دھونا اور بھاگ دوڑ آپ کے رزلٹ کو بہتر نہیں بناسکتی ـ اس لیے ابھی وقت ہے، ابھی سے پڑھائی اور اپنے مستقبل کو سنوارنے میں جٹ جائیں ـ یاد رکھیں کہ دسویں جماعت کا رزلٹ ایک سال میں یا صرف امتحان کے وقت تیار نہیں ہوتا بلکہ نویں جماعت کے ان ہی ایام میں تشکیل پاتا ہے ـ آج کی محنت کا پھل کل کامیابی کی صورت میں آپ کے سامنے ہوگا ـ







کسماگرج پرتسٹھان (ناسک) کی جانب سے ڈاکٹر بشیر بدر کو شاندار خراجِ عقیدت
ناسک (نامہ نگار):
۱۰ جون بروز بدھ شام ۶ بجے ناسک میں کسماگرج پرتسٹھان کے زیرِ اہتمام اردو کے عظیم شاعر، غزل کے معتبر اور مقبول ترین فنکار ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں ایک پُروقار تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرحوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اس تعزیتی تقریب کی صدارت جناب جاوید انصاری (آکاش وانی) نے فرمائی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا، ایڈوکیٹ ولاس لوناری (رکن و ٹرسٹی کسماگرج پرتسٹھان) سمیت دیگر معزز شخصیات اسٹیج پر موجود تھیں۔
صدرِ جلسہ جناب جاوید انصاری نے ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہد کے سب سے معتبر اور ہر دلعزیز غزل گو شاعر تھے۔ انہوں نے مالیگاؤں، جلگاؤں اور بھوپال میں ڈاکٹر بشیر بدر سے ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادبی سرمایہ سمجھے جانے والے بزرگوں کے آخری ایام میں ان سے جس طرح کی ہمدردی اور وابستگی کا اظہار ہونا چاہیے، وہ نظر نہیں آتا، جو ہم سب کے لیے ایک اہم سوال اور لمحۂ فکریہ ہے۔
محبِ اردو اور معروف قانون داں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان اور ادب سے ان کی محبت کا پہلا زینہ ڈاکٹر بشیر بدر کی شاعری رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مرحوم کے خوبصورت اور فکر انگیز اشعار سے بے حد متاثر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بشیر بدر کے متعدد اشعار سنائے اور کہا کہ ان کے کلام میں پوشیدہ پیغام کو عوام تک پہنچانا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔
ایڈوکیٹ بھتڑا نے کسماگرج پرتسٹھان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے مراٹھی ادب کے ساتھ ساتھ اردو کے اس عظیم شاعر کی یاد میں تعزیتی جلسہ منعقد کرکے قابلِ ستائش مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ادارے کی جانب سے اردو ادبی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا رہے۔
کسماگرج پرتسٹھان کے ٹرسٹی ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مراٹھی شعرا کے ساتھ ساتھ اردو اور ہندی کے ممتاز شعرا سے بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ڈاکٹر بشیر بدر کے کلام سے خصوصی طور پر متاثر رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مرحوم کے متعدد مقبول اشعار بھی سامعین کی نذر کیے۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر بشیر بدر کی اہلیہ محترمہ راحت بدر کا خصوصی پیغام بھی سنایا گیا، جس میں انہوں نے کسماگرج پرتسٹھان اور تمام منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ اس پروگرام کو سراہا۔
تقریب کے آخری مرحلے میں ناسک شہر کے غزل سنگر راجیش بھالے راؤ اور سنجئے باون کڑے نے ڈاکٹر بشیر بدر کے منتخب کلام کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
اس یادگار تعزیتی محفل کی نظامت ایڈوکیٹ زبیر سوداگر نے نہایت خوش اسلوبی اور مؤثر انداز میں انجام دی۔ پرتسٹھان کے آڈیٹوریم میں مراٹھی اور اردو ادب سے وابستہ شعراء، ادباء، دانشوروں اور ادب دوست حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جس میں ناسک بار کونسل کے صدر ایڈوکیٹ نتن ٹھاکرے،معروف مراٹھی شاعر ارون مہاترے،پرشانت کیندڑے،صنعتکار سنجے پٹیل، گلوکارہ راگینی کامٹھیکر،شاعر ارشاد وسیم و ریاض شیخ وغیرہ موجود تھے۔
آخر میں ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے رسمِ شکریہ ادا کی، جس کے ساتھ یہ باوقار اور یادگار تعزیتی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔





خلیل ہائی اسکول سے رضاپورہ تک روڈ آخر کب تعمیر ہوگی؟ روڈ ہے یا وبال جان ؟ کیا سیاسی لیڈران اس روڈ پر کسی انسانی جان جانے اور بڑے حادثے کے انتظار میں ہے؟ 
گذشتہ تین سالوں سے پرشاسک (کمشنر ) راج تھا کہیں نہ کہیں روڈ راستے تعمیر ہورہے تھے۔ اسی دوران تقریبا" آج سے 8 مہینہ پہلے کمشنر نے اس روڈ کی تعمیر کے لئے 1 کروڑ کا فنڈ منظور کیا تھا۔ مگر روڈ سے پہلے انڈر گراونڈ ڈرینج کا کام ہو اسکے لئے روڈ کی تعمیر رک گئی ۔ انڈر گراونڈ ڈرینج کے بعد ٹھیکدار کی ٹال مٹولی جاری تھی کہ کارپوریشن الیکشن کا اچار سہیتہ لگ گیا۔جس سے روڈ کا کام زیر التوا کا شکار ہوگیا۔ اب سوال یہ ہیکہ شہر بھر میں روڈ راستے کی تعمیر کا ٹھیکہ جو لوگ لیتے ہیں وہ کون ہے کسی کو بتانے کی ضروت نہیں یہ پورا شہر جانتا ہے۔ خیر الیکشن ہوگیا کارپوریشن اقتدار میں کون لوگ براجمان ہوئے یہ بھی شہر نے دیکھا۔ مگر اس روڈ کا سابقہ 1 کروڑ کا فنڈ زمین کھاگئی یا آسمان ، روڈ کاغذ پر بن گئی اور بل نکل گیا، کون مل بانٹ کر کھایا؟ اللہ کو حساب تو بحرحال دیگا۔ اس روڈ کے اطراف کے تمام ہی راہ گیروں کا سوال یہی رہا کہ آخر کہاں گیا عوام کی جیب سے نکلا ہوا ٹیکس کی شکل میں روپیہ پیسہ اور کہاں گیا اس روڈ کا فنڈ؟ کون کون مل بانٹ کر کھالئے؟ رہی بات آج کے برسراقتدار کی انہوں نے 122 کروڑ کے بجٹ میں اس روڈ کا دوبارہ 2 کروڑ کا فنڈ پھر سے منظور کئے۔ اللہ کی پناہ کہ روڈ پہلے بنی نہیں اور 1 کروڑ کا بل نکل گیا۔ اب دوبارہ 2 کروڑ منظور ہوا۔ مگر اب بھی ٹھیکدار ٹال مٹول اور جھوٹی باتیں کرریے ہیں۔ بس یہ سننے میں آتا کہ بقرعید بعد شروع ہوجائے گا۔ فلاں ہفتہ فلاں دن شروع ہوجائے گا۔ مگر انہیں یہ شرم نہیں آتی کہ یہ روڈ کی حالت کیا سے کیا ہورہی ہے۔ روڈ پر سواری تو کیا پیدل چلنا دوبھر ہوا ہے۔ مگر نہ آج کے برسراقتدار کو فکر ہے نہ ہی انکے مثیر خاص ٹھیکدار کو فکر ہے اور نہ ہی شہر کے ہر سیاسی لیڈران کو فکر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ روڈ اب وبال جان بن چکا ہے۔ یا پھر ہر سیاسی لیڈران اس اہم روڈ پر کسی انسانی جان جانے یا بڑے حادثے کے انتظار میں ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

دارالسرور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، برہان پور کا دس سالہ جشنِ تکمیل مالیگاؤں سے ڈاکٹر ایوبی معاذ، ایڈوکیٹ عبدا...