Sunday, 26 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑آپ کو اپنے بالوں میں کتنی دیر تک تیل لگانا چاہیے اور کب لگانا چاہیے؟ ماہرین سے جانیں*
آلودگی اور کام سے متعلق تناؤ کی وجہ سے بالوں کا گرنا اور ٹوٹنا ان دنوں ایک عام مسئلہ بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے بالوں میں تیل لگانے کو ان مسائل کا موثر علاج سمجھتے ہیں۔ تاہم اس بارے میں رائے مختلف ہوتی ہے کہ تیل کب لگانا ہے اور اسے کب تک لگانا چاہیے۔ معروف ڈرماٹولوجسٹ اور ہیئر ٹرانسپلانٹ ماہر ڈاکٹر رام نے اس موضوع پر قیمتی رائے ٍشیئر کی ہیں، صحت مند بالوں کو یقینی بنانے کے لیے تیل لگانے کا صحیح طریقہ اور وقت بتاتے ہیں۔

ڈاکٹر کا کہنا ہیکہ ہمارے بال پروٹین کے خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں کیراٹین کہتے ہیں۔ یہ خلیات پانی کو جلدی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر رام بتاتے ہیں کہ جب ہم نہاتے ہیں تو بالوں کے خلیے پانی جذب کرتے ہیں اور پھول جاتے ہیں، خشک ہونے پر اپنی معمول کی حالت میں واپس آجاتے ہیں۔ بالوں کا یہ بار بار سوجن اور سکڑنا اس کی قدرتی طاقت کو کم کر دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس سے بالوں کا کمزور ہونا، ٹوٹنا یا پھٹ جانا جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہر امراض جلد ڈاکٹر رام نوٹ کرتے ہیں کہ جب لوگ اکثر راتوں رات اپنے بالوں میں تیل چھوڑنے کے روایتی عمل کی پیروی کرتے ہیں، تو ڈرمیٹولوجی بتاتی ہے کہ یہ عادت اچھے سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر رام کے مطابق نہانے سے پہلے تیل لگانا بالوں کی پرورش کے لیے فائدہ مند ہے۔

نہانے سے پہلے تیل کیوں لگانا چاہیے؟

نہانے سے پہلے کھوپڑی میں تیل لگانے سے حفاظتی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ تیل میں پانی سے بچنے والی خصوصیات ہیں جو بالوں کے خلیوں کو ضرورت سے زیادہ پانی جذب کرنے سے روکتی ہیں۔ یہ دھونے کے دوران سوجن کو کم کرتا ہے اور بالوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔

تیل بالوں کی جڑوں کو شیمپو میں موجود کیمیکلز سے ہونے والے براہ راست نقصان سے بھی بچاتا ہے۔ اس لیے دھونے سے پہلے تیل لگانے سے نہ صرف بال نرم رہتے ہیں بلکہ ان کی قدرتی ساخت کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

رات بھر تیل چھوڑنے کے نقصانات

بہت سے لوگ راتوں رات اپنے بالوں پر تیل چھوڑ دیتے ہیں، یہ مانتے ہیں کہ یہ اضافی غذائیت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل خاص طور پر تیل کی جلد والے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ کھوپڑی کے قدرتی تیل (سیبم) کے علاوہ، لگایا جانے والا تیل مالاسیزیا نامی فنگس کی افزائش کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ کوکیی انفیکشن خشکی، کھوپڑی میں خارش اور بالآخر بالوں کا زیادہ گرنا جیسے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

تیل کو کب تک چھوڑنا چاہیے؟

آپ کو اپنے بالوں میں تیل لگانے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہانے سے صرف 15 سے 30 منٹ پہلے لگانا کافی ہے۔ اس وقت کے دوران، تیل بالوں پر ایک حفاظتی تہہ بناتا ہے، نہانے کے دوران اسے پانی سے بچاتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تیل کو دھیرے دھیرے لگانا بہتر ہے، جڑوں سے سروں تک۔ تیل کو کھوپڑی پر لگانے کے بعد اپنی انگلیوں سے آہستہ سے مساج کرنے سے خون کی گردش کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔تیل کو کب تک چھوڑنا چاہیے؟

ایسے بالوں پر تیل نہ لگائیں جو پہلے ہی گرنے کا شکار ہوں

اپنے بالوں کی قسم کی بنیاد پر صحیح تیل کا انتخاب کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک غلط فہمی ہے کہ صرف تیل لگانے سے بال بڑھتے ہیں۔ مناسب غذائیت بالوں کی دیکھ بھال کی طرح ضروری ہے۔ ڈاکٹر رام کا مشورہ ہے کہ نہانے سے چند منٹ پہلے تیل لگانے اور پھر کم کیمیکل والے شیمپو سے دھونے سے بال نرم اور مضبوط ہوں گے۔ نہانے کے بعد اپنے بالوں کو رگڑنے کے بجائے نرم تولیے سے خشک کریں۔










*🛑جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں پہلی بار اناہت نے دلایا بھارت کو تاریخی گولڈ، کہا-’’مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں‘‘*
اونٹاریو: بھارت کی پہلی ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن بننے کے بعد اناہت سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں اب بھی ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ خواب دیکھ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب ان کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ جونیئر سرکٹ میں یہ ان کا آخری سال تھا۔ اس سے قبل مختلف ٹورنامنٹس میں کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل تک پہنچنے والی اناہت نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ 2005 میں جوشنا چنپا کے بعد ورلڈ جونیئر فائنل میں پہنچنے والی پہلی بھارتی کھلاڑی بنی تھیں۔ فتح کے بعد اناہت نے کہا ’’مجھے اب بھی ایسا لگ رہا ہے جیسے میں خواب دیکھ رہی ہوں۔ گزشتہ چار برسوں سے میں سیمی فائنل اور کوارٹر فائنل میں ہارتی رہی ہوں۔ جب بھی کوئی مجھ سے پوچھتا تھا تو میں ہمیشہ کہتی تھی کہ یہ ٹورنامنٹ میرے لیے کسی لعنت جیسا ہے اور میں اس ایونٹ میں کبھی اچھا نہیں کھیل پائی۔‘‘

مصر کی رقیہ سالم کو شکست دے کر جیتا عالمی خطاب

اناہت سنگھ نے مزید کہا کہ ’’یہ جونیئر کھلاڑی کے طور پر میرا آخری سال ہے اور یہ خطاب جیتنے کا میرے پاس واحد موقع تھا۔ یہ میرے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے مجھے معلوم تھا کہ اگر میں دباؤ میں رہی تو بہت خراب کھیلوں گی۔ اس لیے میں صرف کورٹ پر اتری اور اپنے شاٹس صحیح طریقے سے کھیلنے پر توجہ دی۔ میں ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں کھیلنے کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔‘‘ گزشتہ سیزن میں سیمی فائنل تک پہنچ کر کانسے کا تمغہ جیتنے والی بھارتی کھلاڑی نے اس بار فائنل میں مصر کی دوسری سیڈ یافتہ کھلاڑی رقیہ سالم کو 11-3، 11-7، 11-9 سے شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ اناہت سنگھ نے بھارتی اسکواش کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔

’بھارتی اسکواش کے لیے تاریخی لمحہ‘

اسکواش ریکٹس فیڈریشن آف انڈیا کے سکریٹری جنرل سائرس پونچا نے اناہت کی کامیابی کو بھارتی اسکواش کے لیے خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے جیسا لمحہ قرار دیا۔ پونچا نے کہا ’’یہ بھارتی اسکواش کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ اناہت میں بڑی بلندیوں کو حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘ پونچا نے مزید کہا کہ ایس آر ایف آئی کے سرپرست اور انڈین اسکواش اکیڈمی کے دوراندیش بانی مرحوم این. رام چندرن ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ان کا خواب تھا کہ بھارت انفرادی مقابلوں میں عالمی چیمپئن تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈبلز میں یہ کامیابی حاصل کی تھی، لیکن سنگلز میں بھی اسی کامیابی کو دہرانا واقعی خواب کے پورا ہونے جیسا ہے۔









*🛑’’ملک جواب مانگ رہا ہے‘‘ راہل گاندھی نے طلبہ کے خلاف ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال پر وزیرداخلہ امت شاہ سے کیا سوال*
نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے قومی راجدھانی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے اتوار کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال پر سخت سوالات کیے۔ مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد راہل گاندھی کا یہ بیان 20 جولائی کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں نکالی گئی ’سنسد چلو‘ ریلی کے دوران پولیس کارروائی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سوال کیا کہ کیا امت شاہ نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پیلیٹ گن اور آنسو گیس سمیت ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال کی ذاتی طور پر منظوری دی تھی؟

19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ

راہل گاندھی نے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچاب کے معاملے کا بھی ذکر کیا، جس کے بارے میں مبینہ طور پر پیلیٹ لگنے کے بعد ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن، لاٹھی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ میں 19 سالہ ساحل لوچاب سے ملا۔ پیلیٹ لگنے کے بعد اس کی ایک آنکھ ضائع ہو سکتی ہے۔ اس کا ’جرم‘ کیا تھا؟ پیپر لیک ختم کرنے اور طلبہ کے منصفانہ مستقبل کا مطالبہ کرنا۔‘‘

سادہ لباس میں موجود افراد پر بھی سوال

راہل گاندھی نے امت شاہ سے دو سوالات کرتے ہوئے کہا ’’کیا آپ نے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو پیٹنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی اجازت کس نے دی؟ ملک جواب مانگ رہا ہے۔‘‘

’کس نے طلبہ کو مارنے کا حکم دیا؟‘

راہل گاندھی نے امت شاہ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے طلبہ کے خلاف ’’بلاامتیاز طاقت‘‘ کا استعمال کیا اور خواتین مظاہرین کو بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے نشانہ بنا کر مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’’وحشیانہ حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’’طلبہ کو مارنے کا حکم کس نے دیا؟‘‘ راہل گاندھی نے خط میں وزیر داخلہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہلی میں تعینات سکیورٹی فورسز بالآخر وزیرداخلہ کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا امت شاہ نے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو پیٹنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی اجازت کس نے دی؟

’پرامن احتجاج ہر جمہوریت کے لیے ضروری‘

راہل گاندھی نے کہا کہ پرامن احتجاج کسی بھی جمہوریت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کی حفاظت کرے اور بات چیت کے ذریعے ان کی شکایات کا حل تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا وحشیانہ تشدد تمام جمہوری اصولوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اس سے ملک میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ ملک کا مستقبل نوجوان اور طلبہ جواب اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کی آواز سنی جائے گی۔

کئی ہفتوں سے جاری تھا طلبہ کا احتجاج

یہ معاملہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں کئی ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد اس احتجاج نے قومی توجہ حاصل کی تھی۔ 20 جولائی کو ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھ گئی، جب پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے مبینہ طور پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ مسلسل احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے مرکزی وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ اتوار کو پرہلاد جوشی نے مرکزی وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھال لیا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

13 دن بعد امریکہ نے اچانک ایران پر روک دئے حملے، بات چیت کو موقع یا کوئی نئی حکمت عملی؟ جانئے
مغربی ایشیا میں گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اچانک ایک بڑا موڑ آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز امریکی فوج کو ایران پر نئے فضائی حملے نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ مسلسل 13 دن تک ہر روز فوجی حملوں کی منظوری دے رہے تھے۔ ہندوستانی وقت کے مطابق ہر صبح 5 بجے سے پہلے امریکی سینٹرل کمانڈ ایکس پر پوسٹ کر کے بتاتی تھی کہ وہ حملے کر رہی ہے۔ لیکن 25 جولائی کو ایسی کوئی بھی پوسٹ سامنے نہیں آئی۔ تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا دوبارہ حملے شروع کر سکتا ہے، لیکن فی الحال ان کی ترجیح بات چیت کے ذریعے حل نکالنا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ چاہے تو حملے جاری رکھ سکتا ہے یا انہیں مزید تیز کر سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے اسے ’’معاہدے کا درست وقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور انہیں لگتا ہے کہ تہران اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ نظر آ رہا ہے۔ ایکسیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسی دوران عمان کا ایک وفد ایران پہنچا، جہاں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے پر بات چیت ہوئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔اسرائیل بھی بڑے حملے کی تیاری میں تھا
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے سیکورٹی نظام کو امید تھی کہ جمعہ کے روز امریکہ ایران پر ایک اور بڑا حملہ کرے گا۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج اور سیکورٹی کابینہ ہائی الرٹ پر تھیں۔ بعد میں انہیں اطلاع دی گئی کہ ٹرمپ نے نئے حملوں کی منظوری نہیں دی۔

پاسداران انقلاب کی اسرائیل کو وارننگ
ادھر ایران نے اسرائیل کو جنگ میں پھر سے کودنے کو لے کر سخت وارننگ دی ہے۔ پاسداران انقلاب ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل جانتا ہے کہ اگر وہ جنگ میں پھر سے شامل ہوا تو ایران اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا اور ایران کی توجہ اسی چیز پر مرکوز بھی ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اسرائیل جنگ میں پھر سے شامل ہوا تو آفت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

یوکرین پر برہم ہوا ایران
اسی دوران ایران نے ایک الگ محاذ پر یوکرین کے خلاف سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے الزام لگایا کہ بحیرۂ کیسپین، جو روس اور ایران کو آپس میں ملاتا ہے، وہاں ایک تجارتی جہاز پر یوکرین نے حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک ملاح ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔ ایران نے اس واقعے کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تہران میں یوکرین کے نگران سفارت کار کو طلب کیا۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ سے گفتگو میں بھی اس واقعے کی مذمت کرنے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب ایران سے وابستہ کئی ٹیلیگرام چینلز ایرانی میزائلوں کی رینج دکھاتے ہوئے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ یوکرین تک حملہ کر سکتے ہیں۔یوکرین کا کیا کہنا ہے؟
یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ان کی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک روسی جنگی جہاز اور ایران سے متعلق فوجی سامان لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ زیلینسکی نے یہ الزام بھی لگایا کہ روس خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصاویر ایران کو فراہم کر رہا ہے تاکہ ایران حملوں کی منصوبہ بندی کر سکے۔ ان الزامات پر روس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔










جنتر منتر سے PMO کے دفتر تک ، جانئے کیسے لکھی گئی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی اسکرپٹ
نئی دہلی: مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کو NEET-UG پیپر لیک تنازعہ کے تناظر میں استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ محض انتظامی فیصلہ نہیں ہے۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ ایک دانستہ سیاسی چال ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ طلبہ تحریک کو سیاسی رنگ دیا جائے، اسی لیے یہ بڑا قدم اٹھایا گیا۔ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ قومی سطح کے امتحان میں بڑی خامیاں تھیں۔ ان غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنا ضروری تھا۔ پردھان کا استعفیٰ اس کا ثبوت ہے۔ وزیر اعظم کا یہ بھی ماننا ہے کہ طلباء کے خدشات مکمل طور پر جائز ہیں۔ استعفیٰ دے کر، حکومت نے ڈیمیج کنٹرول میں ایک اہم کوشش کی ہے۔ یہ طلباء کے غصے کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اچانک نہیں لیا گیا۔ اس کے پیچھے ایک گہری حکمت عملی کام کر رہی ہے۔

پردھان کے استعفیٰ کی اصل وجہ کیا ہے؟
دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفیٰ کی وجہ خود بتائی۔ پردھان نے کہا، “گزشتہ 10 دنوں کے واقعات نے مجھے دکھی کر دیا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی عزت کا معاملہ نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ملک دشمن طاقتیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھائیں ۔ ملکی یکجہتی کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا۔
کیا نیا قانون پیپر لیک کے اس سیاہ کھیل کو روک پائے گا؟
استعفیٰ سے ٹھیک ایک دن پہلے مرکزی حکومت نے بڑے قدم اٹھائے۔ امتحانات میں خرابی کو روکنے کے لیے نئے اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ پیپر لیک میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا قانون متعارف کرایا جا رہا ہے۔ مقدمات کی جلد سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ حکومت کی توجہ اب طلباء کو ان کی تعلیم پر واپس لانے پر مرکوز ہے۔ تحریک کو طول دینے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

جنتر منتر پر ہونے والے اس مظاہرے کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کون ؟
پوری تحریک کی قیادت CJP نامی پلیٹ فارم سے کی جا رہی ہے۔ اس کی شروعات عام آدمی پارٹی کے سابق عہدیدار ابھیجیت دیپک نے کی تھی۔ اس کا آغاز مئی میں ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر ہوا تھا۔ اب یہ نوجوانوں کی سب سے بڑی تحریک بن چکی ہے۔

آگے کیا ہوگا اور حکومت کا نیا ایکشن پلان کیا ہے؟
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت طلبہ کو سافٹ ٹارگٹ نہیں بننے دے گی۔ سیاسی فائدے کے لیے طلبہ کے غصے کے استحصال کو روکنا ضروری ہے۔ حکومت اب امتحانی نظام کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ قومی امتحانات کو کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ (CBT) فارمیٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔ ادارہ جاتی نگرانی سخت کی جائے گی۔ نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے سی بی آئی جیسی ایجنسیوں سے مکمل مدد لی جائے گی۔










عوام سے احتراماً گزارش 
خدا کا فضل کرم ھیکہ جمیعت علماء کے صدر محترم عالی جناب الحاج مفتی قاسم جیلانی دامت برکاتہم اور جمیعت علماء کےناںٔب صدر محترم عالی جناب الحاج غفران سیٹھ پوپٹ والے ان دونوں صاحبان کی رہنمائی میں SIR کا کام کںٔی دنوں سے بہت عروج پر ھے۔
 مدرسہ جامعۃ الزاکرات مادھوپورہ میں بھی شام چھ بجے سے رات نو بجے تک تو کبھی اا بجے تک SIR کا فارم بھرنے اور جمع کرنے کا کام شروع ھے ۔ ابھی بھی جن حضرات کو فارم بھرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ھے۔ وہ تمام حضرات بلکل نہ گھبرائیں اور نہ شرماںیٔں ۔بلاجھجھک مدرسہ جامعۃ الزاکرات میں تشریف لاںیٔں گزارش ھےکہ وہ بھی مدرسہ جامعۃ الزاکرات مادھوپورہ میں تشریف لے آںیٔں ۔دوBLO جاوید تواب انصاری اور شیخ افروز میڈم آپ لوگوں کی خدمات کے لئے موجود ھیں۔ 
وقت شام چھ بجے سے رات نو بجے تک ۔ وقت کا خاص خیال رکھیں ۔
گزارش کردہ: جمیعت علماء کے نائب صدر الحاج غفران سیٹھ پوپٹ والے

Friday, 24 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑بنگلہ دیش میں بڑا الٹ پھیر، صدرمحمد شہاب الدین نے دیا استعفیٰ، شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے تعطل برقرار*
بنگلہ دیش کے صدرمحمد شہاب الدین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکرحافظ الدین احمد نے قبول کرلیا ہے۔ آئین کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک اسپیکرہی قائم مقام صدرکے طورپرذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اسپیکرحافظ الدین احمد نے بتایا کہ محمد شہاب الدین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے وہ جسمانی اورذہنی طورپر صدرجیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں رہے، اسی لئے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ کہا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی کے اعلان کے بعد سے تعطل برقرارہے اوریہی استعفیٰ کی سب سے بڑی وجہ رہی۔

مقامی اخبارپرتھم آلوکے مطابق، بنگلہ دیش کے آئین کے آرٹیکل 50(3) کے تحت صدر دستخط شدہ خط کے ذریعہ اسپیکرکواستعفیٰ پیش کرسکتے ہیں۔ جبکہ آرٹیکل 54 کے مطابق اگرصدرکا عہدہ خالی ہوجائے یا وہ بیماری، غیرحاضری یا کسی اوروجہ سے اپنے فرائض انجام نہ دے سکیں تونئے صدرکے انتخاب تک اسپیکرہی صدرکے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 123(2) کے مطابق، صدرکے انتقال، استعفیٰ یا عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں 90 دن کے اندرنئے صدرکا انتخاب ضروری ہے۔ آرٹیکل 48(1) کے مطابق صدرکا انتخاب پارلیمنٹ کے اراکین کے ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ میں بی این پی کو اکثریت

بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ پارٹی کا امیدوارہی ملک کا اگلا صدر منتخب ہوگا۔ گزشتہ کئی دنوں سے بی این پی کی اعلیٰ قیادت میں اس بات پرغورجاری تھا کہ محمد شہاب الدین کے بعد صدرکے عہدے کے لیے کس شخصیت کو نامزد کیا جائے۔ گزشتہ چند روز سے محمد شہاب الدین کے ممکنہ استعفیٰ کی خبریں سیاسی حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق، وہ ذہنی طورپراستعفیٰ دینے کے لیے تیارتھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعرات کوبنگ بھون کے سینئرحکام سے ملاقات کے دوران اپنے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔2023 میں صدر بنے تھے محمد شہاب الدین

محمد شہاب الدین نے 24 اپریل 2023 کوعوامی لیگ کی حکومت کے دورمیں بنگلہ دیش کے 22ویں صدرکی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ ان کی آئینی مدت اپریل 2028 تک تھی، تاہم انہوں نے مدت مکمل ہونے سے تقریباً ڈھائی سال پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ جولائی 2024 میں بڑے عوامی احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے سے ہی محمد شہاب الدین کے صدرکے عہدے پربرقراررہنے سے متعلق سیاسی بحث جاری تھی۔ بعد ازاں 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں مزید تیزہوگئی تھیں۔ اب ان کے استعفیٰ کے بعد ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے پرتبدیلی کی راہ ہموارہوگئی ہے۔









*🛑تین ریاستوں میں زبردست ووٹنگ، 5بجے تک آسام میں 84.42 فیصد، کیرلا میں 75.01 فیصد اورپڈوچیری میں 86.92 فیصد ووٹنگ*
کیرلا، آسام اورپڈوچیری میں ووٹنگ جاری ہے۔ ملک کی تینوں ریاستوں میں ووٹنگ جوش وخروش کے ساتھ ہو رہی ہے۔ شام 5 بجے تک آسام میں 84.42 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کیرلا میں 5 بجے تک 75.01 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں پڈوچیری میں 5 بجے تک 86.92 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس طرح سے تینوں ریاستوں میں کافی اچھی ووٹنگ ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں رائے دہندگان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔

اس سے قبل، دوپہرایک بجے کے اعدادوشمار کے مطابق، آسام میں 59.63 فیصد، کیرالہ میں 49.70 فیصد اور پڈوچیری میں 56.83 فیصد ووٹنگ ہوئی،صبح 11 بجے تک آسام میں 38.57 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دریں اثنا، کیرالہ میں صبح 11 بجے تک 33.13 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ پڈوچیری میں 36.90 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔صبح 9 بجے تک ووٹنگ کے رجحانات کی بات کریں تو آسام میں تقریباً 18 فیصد، کیرالہ میں 16.23 فیصد، اور پڈوچیری میں 17.41 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کیرالہ، آسام اورپڈوچیری اسمبلی انتخابات میں کئی نئی پہل شروع کی ہے۔ اسی سلسلے میں پڈوچیری میں جاری ووٹنگ کے دوران ایک پولنگ مرکزپرروبوٹ “نیلا” لوگوں کی توجہ کا مرکزبن گیا ہے۔ ووٹنگ مرکزپرووٹرزکی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے، جہاں وی اوسی گورنمنٹ اسکول میں ووٹ ڈالنے آنے والے ووٹرزکا استقبال روبوٹ “نیلا” کررہا ہے۔ یہ ایک ایونٹ بیسڈ روبوٹ ہے، جسے شادیوں، سرکاری تقریبات اورانتخابات جیسے مختلف پروگراموں کے لیے بک کیا جاتا ہے۔ روبوٹ “نیلا” میں کئی جدید خصوصیات شامل ہیں، جن میں وائس فیچربھی موجود ہے، جس کی مدد سے یہ خود بات چیت بھی کرسکتا ہے اورووٹرزکوخوش آمدید کہتا ہے۔

آسام، کیرالہ اورمرکزکے زیرانتظام خطہ پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے آج ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ صبح 7 بجے شروع ہونے والا ووٹنگ کا عمل شام 6 بجے تک جاری رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے تینوں علاقوں میں ووٹنگ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اورشفاف اورپرامن انتخابات کویقینی بنانے کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان انتخابات میں مجموعی طورپر296 نشستوں پر1995 امیدوارمیدان میں ہیں، جہاں این ڈی اے، انڈیا اتحاد اورلیفٹ محاذ کی سیاسی طاقت کا امتحان ہوگا۔ اسمبلی انتخابات کے ساتھ آج کرناٹک کی دونشستوں، ناگالینڈ کی ایک نشست اورتری پورہ کی ایک نشست پرضمنی انتخابات بھی ہوں گے۔ جبکہ گوا میں بھی ایک نشست پر ضمنی انتخاب ہونا تھا، قابل ذکر بات یہ ہےکہ ہائی کورٹ نے وہاں ہونے والے ضمنی انتخاب پر روک لگا دی ہے۔ انتخابی افسران کے مطابق آسام کی 126 نشستوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے 31,940 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ریاست کے 35 اضلاع میں پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ حساس پولنگ مراکز پر خصوصی نگرانی کے لیے مائیکرو آبزرورز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں جماعت اوراپوزیشن کے درمیان ہے اورلاکھوں ووٹرزپولنگ مراکزپر پہنچ کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کررہے ہیں۔

دوسری جانب، کیرلا کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پرایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے، جہاں 883 امیدوارمیدان میں ہیں۔ ریاست کے تقریباً 2.71 کروڑ ووٹر آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ بائیں بازو کا جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی کوشش کررہا ہے، جبکہ متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کرنے کی امید میں ہے۔ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) بھی ریاست میں اپنا کھاتہ کھولنے کی کوشش کررہا ہے۔ دوسری جانب پڈوچیری میں 9.50 لاکھ ووٹرز آج 294 امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے کریں گے۔ تینوں علاقوں میں ووٹنگ کے دوران سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات کو شفاف اورپرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔











*🛑دار چینی کا پانی لگاتار 30 دن پینے سے کیا ہوتا ہے؟ جانیں ماہرین کیا کہتے ہیں*
دار چینی کو شامل کرنے سے ٹماٹر چاول، پلاؤ، مسالہ دار سالن، اور نان ویجیٹیرین جیسے پکوانوں کے ذائقے اور خوشبو میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، فائبر، کیلشیم، پوٹاشیم اور کیروٹین کے ساتھ ساتھ وٹامن اے، بی، اور کے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ دار چینی اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات بھی رکھتی ہے۔ تو آئیے 30 دن تک روزانہ دارچینی کا پانی پینے کے فوائد کو جانیں۔

بلڈ شوگر کنٹرول:

ماہرین کا کہنا ہے کہ دار چینی بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ انسولین کے کام کو بہتر بنانے، ورزش کے دوران گلوکوز کی سطح کو کم کرنے اور کھانے کے بعد خون میں شوگر میں اچانک اضافے کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد کے لیے فائدہ مند ہے۔ ریسرچ گیٹ کے مطابق، دار چینی کا استعمال انسولین کے اثرات کو بڑھانے یا سیلولر گلوکوز میٹابولزم کو بڑھانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اسے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں منسلک تھراپی کے طور پر بھی انتہائی فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

بہتر ہاضمہ:

دار چینی روایتی طور پر ہاضمے کے مسائل کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپھارہ، بدہضمی اور تیزابیت جیسے مسائل سے نجات دلاتا ہے۔ نتیجتاً روزانہ دار چینی کا پانی پینے سے نظام ہاضمہ کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ScienceDirect کے مطابق، دار چینی میٹابولک سنڈروم اور عمر سے متعلق دماغی امراض پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

وزن پر قابو:

دار چینی کا پانی باقاعدگی سے پینا وزن میں فوری کمی کا باعث نہیں بنتا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ توانائی کی سطح کو بڑھاتا ہے اور بھوک کو دبانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، متوازن غذا اور ورزش کے ساتھ دار چینی کا استعمال وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دار چینی کے سپلیمنٹس لینے سے BMI اور جسمانی وزن میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات:

دار چینی میں پولیفینول شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جسم میں آکسیڈیٹیو تناؤ اور سوزش کو کم کرتا ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال دائمی بیماریوں سے بچانے میں مدد کرتا ہے اور مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔کولیسٹرول کنٹرول:

ماہرین کا خیال ہے کہ دار چینی نہ صرف برے کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہے بلکہ اچھے کولیسٹرول کو بھی بڑھاتی ہے۔

بالآخر 30 دنوں تک دار چینی کا پانی پینے سے کچھ ہلکے فوائد مل سکتے ہیں، جیسے کہ خون میں شکر کی سطح کو مستحکم کرنا، ہاضمہ کو بہتر بنانا، اور میٹابولزم کو بڑھانا۔ تاہم، یہ راتوں رات وزن میں کمی یا آپ کی صحت میں زبردست تبدیلیوں کا باعث نہیں بنے گا۔ اسے ہمیشہ اعتدال میں کھائیں، اور اگر آپ کو اپنی صحت پر اس کے اثرات کے بارے میں کوئی تشویش ہے تو صحت کی دیکھ بھال کرنے والے سے مشورہ کریں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے ذمہ داران نے NEET 2026 کامیاب طالب علم کی حوصلہ افزائی کی*


مالیگاؤں: مورخہ 20 جولائی 2026 بروز پیر بعد نماز مغرب مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے کارگزار چیئرمین جناب حسین اختر صاحب اور سی ای او ڈاکٹر سید شعیب ہاشمی صاحب نے شہر مالیگاؤں میں NEET 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علم حافظ عمرین عبداللہ مبین احمد کی حوصلہ افزائی کی۔

اکیڈمی کے ذمہ داران سینئر صحافی عبدالحلیم صدیقی اور سلیم خان سر پیلا پھیٹا کی رہنمائی میں اپنے احباب کے ہمراہ ڈاکٹر مبین نذیر کی رہائش گاہ "گلشن عائشہ" پہنچے۔ وہاں انہوں نے حافظ عمرین عبداللہ کو اس ممتاز کامیابی پر مبارکباد دی اور اپنے مفید مشوروں کے ساتھ دعاؤں سے بھی نوازا۔

اس پروقار تقریب کے انعقاد میں محمد آمین اور حافظ محمد یاسین صاحبان کی خصوصی کاوشیں شامل تھیں۔











*🛑ندی میں سیلابی کیفیت الرٹ*
از قلم *شعیب احمد محمدی*

_1. *جان کی حفاظت اسلام کی اولین تعلیم*_  
اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا:  
_"ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة"_  
_"اور اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو"_ _سورہ البقرہ: 195_

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جان بہت قیمتی ہے۔ پانی کا بہاؤ، سیلاب، ندی کا تیز دھارا یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں۔ احتیاط کرنا، الرٹ پر عمل کرنا یہ بھی عبادت ہے۔  
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: _" تداوی (پرہیز) اور احتیاط کرو"_۔ لہٰذا انتظامیہ کی بات ماننا، بچوں کو ندی سے دور رکھنا یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے۔

_2. *ذمہ دار شہری بنیں*_  
جب بھی ڈیم یا ندی سے پانی چھوڑا جاتا ہے تو سب سے زیادہ خطرہ بچوں، نوجوانوں اور غریب محنت کشوں کو ہوتا ہے جو روزی کے لیے کنارے جاتے ہیں۔  

_آج چھٹی کا دن ہے۔ والدین اپنے لخت جگر چھوٹے بچوں کی پوری نگرانی کریں۔_  
_*خاص تنبیہ*: آج جمعہ کا دن ہے اپنے بیٹے اور بہو کو تنبیہ کریں کہ آپکا بیٹا بہو کو میکے پہنچانے سے پہلے "پانی دکھانے" ندی کے کنارے ہرگز نہ لے جائیں۔ کیونکہ ایک لمحے کی غفلت پورے گھر پر بھاری پڑ سکتی ہے۔_

_ہمارا فرض ہے:_
_1. اپنے گھر، محلے میں سب کو خبر دیں_
_2. کسی کو سیلفی یا ویڈیو بنانے کے لیے ندی کے قریب نہ جانے دیں_  
_3. بزرگوں اور بچوں کا خاص خیال رکھیں_
_4. اگر کوئی پھنس جائے تو فوراً 112 یا مقامی انتظامیہ کو اطلاع دیں_

_ایک ذمہ دار معاشرہ وہی ہے جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنے۔_

_3. *ایک لمحے کی لاپرواہی*، پوری زندگی کا غم_
  
_*اے میرے مالیگاؤں کے بھائیو*!_  
پانی دیکھنے کا شوق، ایک تصویر، ایک ریل بنانے کا جنون... یہ چند سیکنڈ کی خوشی کسی ماں کی گود اجاڑ سکتی ہے۔  
کتنے گھر ایسے اجڑے ہیں جو صرف _"دیکھنے"_ گئے تھے۔ مگر حادثے کا شکار بن گئے ۔

_یاد رکھیں:_  
_ندی کا سکون دھوکہ ہے۔ اوپر سے پانی کم لگتا ہے لیکن اندر بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے۔_

_دعا:_  
_اللہ تعالی ہمارے شہر مالیگاؤں، ہمارے گھروں، ہماری ماؤں، بہنوں، بچوں سب کی حفاظت فرمائے۔_  
_*اللہ ہمیں قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین*۔_

_احتیاط کریں، محفوظ رہیں، دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں_

*نوٹ: اپنے موبائل کے ہر واٹسپ گروپ میں شئیر کریں نوازش ہوگی*











*🛑جنتر منتر پر طلباء پر لاٹھی چارج معاملے میں پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت، چیف جسٹس کریں گے سنوائی*
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر اب سخت موقف اختیار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کی پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے یہ مسئلہ سی جے آئی کے سامنے اٹھایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ طلباء کے احتجاج سے متعلق ایک درخواست دائر کی گئی ہے اور اس کے پاس ڈائری نمبر بھی ملا ہے۔ انہوں نے پولیس پر طلباء کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا الزام لگایا۔ سینئر وکیل نے عدالت سے فوری مداخلت کرنے کی استدعا کی۔ ان کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم پیر کو کیس کی سماعت کریں گے۔

CJI نے کیوں کی میڈیا کی سرزنش ؟
اس سے قبل چیف جسٹس سوریہ کانت نے میڈیا کی کچھ جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی۔ میڈیا نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے طلباء کے احتجاج سے متعلق ایک درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سی جے آئی نے کھلی عدالت میں واضح کیا کہ اس معاملے میں کوئی رٹ پٹیشن دائر نہیں کی گئی ہے۔ عدالت کو صرف ایک خط بھیجا گیا تھا۔ سی جے آئی نے کہا، “یہ مکمل طور پر غلط ہے کہ عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ صبح 10 بجے تک، عدالت میں کیس کا ایک صفحہ بھی داخل نہیں ہوا تھا۔”

انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا غیر ذمہ دارانہ خبریں چلا رہا ہے۔ یہ خط ایڈوکیٹ نریندر مشرا نے بھیجا ہے۔ انہوں نے NEET UG 2026 پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء پر لاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھایا۔ خط میں سپریم کورٹ سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وکیل کی درخواست پر سپریم کورٹ کے بینچ نے ابتدا میں مداخلت سے انکار کیوں کیا؟
اس ہفتے کے شروع میں ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا ۔ انہوں نے طلباء کے خلاف پولیس کی بربریت کا الزام لگایا اور فوری سماعت کا مطالبہ کیاتھا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم ہمارا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ وکیل نے NEET امتحان سے متعلق طلباء کے احتجاج اور پولیس کی کارروائی کے ویڈیوز کا حوالہ دیا۔

بنچ میں شامل جسٹس جویمالیہ باغچی اور وی موہن نے واضح طور پر کہا کہ انہیں ویڈیوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور عدالت کے پاس انہیں دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے فوری طور پر کیس کی سماعت سے صاف انکار کر دیا۔ تاہم اب درخواست دائر کر دی گئی ہے، عدالت پیر کو کیس کی سماعت کرے گی۔

پی ایم کی رہائش گاہ کے باہر اپوزیشن کے ہنگامے پر سینکڑوں وکلاء کا سپریم کورٹ سے مطالبہ ؟
جنتر منتر پر طلباء کے خلاف پولیس کی کارروائی کے بعد سیاست گرم ہو گئی ہے۔ 21 جولائی کو اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنا دیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سمیت کئی لیڈروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ ملک بھر سے سینکڑوں وکلاء نے اب چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ہائی سیکورٹی والے علاقوں میں غیر مجاز مظاہروں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ انتہائی حساس علاقہ ہے اور وہاں اس طرح کے احتجاج سے سیکورٹی اور امن و امان پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ وکلاء نے سپریم کورٹ سے معاملے کی تحقیقات کرنے اور سخت ہدایات جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔

Thursday, 23 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑مشترکہ خطاب جمعہ نمبر299عنوان : موجودہ آزمائشی حالات اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں*
 
*مورخہ،24،جولائی 2026ء بروز جمعہ نماز جمعہ سے قبل مالیگاؤں کی مندرجہ ذیل مساجد میں مذکورہ عنوان پر مشترکہ طور پر خطاب ہوگا ان شاء اللہ!*

1)آسمہ مسجد(نزد اسٹار ہوٹل)بارہ پچاس
مولانا علاءالدین ندوی 

2)نظامیہ مسجد (ساٹھ فٹی روڈ) ایک بجے
حافظ شاداب اختر عرفانیؔ

3) مسجد زینب حجن(گلشن زینب)ایک بجے
مولانا مفتی عبدالمالک کفلیتوی 

4)یوسفیہ مسجد (ہزار کھولی)ایک بجے 
مولانا مجاہد الاسلام ملی

5)محمّدی مسجد (سردارنگر)بارہ پچاس 
قاری وقّاص انجم انوریؔ

6)نذیریہ مسجد (رونق آباد) بارہ پچاس
مولانا عبدالوحید ندوی قاسمی

7)مسجد اشرف بی (باغِ حاجی یاسین)ایک بجے 
مفتی فیصل ملک عثمانی ملّی

8)یعقوب مسجد (نزد زری والا پیٹرول پمپ )ساڑھے بارہ 
مولانا محمد عمران کفلیتوی

9)مسجد زہرہ عبد الصمد (اکبر پورہ )ایک بجے 
ارشد ملک رحمانی

10)مسجد اسماعیل رمضان پورہ بارہ پچاس 
حافظ و ڈاکٹر احمد طلحہ عثمانی

11)مسجد الصادق الامین (دیانہ)ایک پانچ 
مولوی عبدالعزیز ندوی

12)مسجد محسنہ( نعمت باغ )بارہ پچاس 
مفتی محمد فرقان خالد قاسمی

13)نٸی مسجد (اسلامپورہ )ایک بجے 
مولانا عمر فاروق سلطان

14)مسجد عکرمہ (ہنگلاج نگر) ایک بجے 
مولانا ریحان رئیس ندوی

15)مسجد امیر حمزہ(مدنی نگر)ایک بجے 
جناب محمد زید انجینئر

16)مسجد ہاجرہ (محفوظ کالونی)ایک پانچ 
مفتی محمّد فیصل کفلیتوی

17)مسجد ام مختار( ہزار کھولی) بارہ پچاس
مولانا اسجد کمال ندوی

18)مسجد ناصرہ مبارک(سرسید نگر) بارہ تیس 
مولوی محمد سعد

19)مسجد اسماعیل (درے گاؤں)ایک بجے 
مفتی محمد علی ملی

20)مسجد زیتون محمد صادق (زیتون پورہ)بارہ پچاس
مفتی محمد عامر یاسین ملی 

21)مسجد عبداللہ بن مسعود(نیا بس اسٹینڈ)بارہ تیس
مفتی ابوذر بیتی

22)مسجد مریم حجن (رمضانپورہ) بارہ پچاس
مفتی محمدمدثرملی سیفی 

23)مسجد ھلال (ھلال پورہ )بارہ تیس 
مفتی محمد محسن عبدالشکور اشاعتی جامعی

24)جامع مسجد (گیارہ ہزار کالونی) ایک بجے 
مولانا عادل اشاعتی 

25)مسجد امینیہ (آزاد نگر)ایک دس
مفتی ارشد جمال ملی

26)مسجد ابراہیم دم(داتارنگر) بارہ پچاس 
مولانا جمال ناصر ایوبی

27)مسجد باغ گلاب(گلاب پارک)بارہ چالیس 
مفتی عبدالمحسن قاسمی

28)مسجد شعبان (شعبان پورہ)ایک پانچ 
مفتی محمد اسحاق ملی

29)مسجد انوارِ مصطفیٰ (ہزار کھولی)ایک بجے
مفتی عبدالرحیم ملی

30)مسجد سعیدہ حجن (عبداللّٰہ نگر)بارہ پچیس 
ارشد ملک رحمانی

31)نورانی مسجد مرکز (مالیگاؤں)ایک بجے
مولانا شفیق الرحمن فلاحی

32)جونی مسجد (اسلام پورہ)ایک بجے
مولانا محمد یاسین ندوی

33)مسجد عثمان زکریا (ثنا انکلیو) بارہ پچاس 
مفتی محمد اُسامہ انوری

34)مسجد آسمہ مرتضیٰ (پوارواڑی) بارہ پچاس 
مولانا نہال احمد قاسمی

35)الفلاح مسجد (پیپل نیر)ایک بجے
حافظ مبین احمد

36)مسجد ارقم (مہاڈا پلاٹ) بارہ پینتالیس 
مفتی محمد خالد شاہد ملی

37)مسجد بسم اللہ حجن (گلشن آباد)بارہ تیس 
 مولوی عبداللہ

38)مسجد عمر یوسف (گلشیر نگر) بارہ تیس
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی  

39) مسجد کوہ نور (یعقوب نگر) ساڑھے بارہ بجے 
مفتی محمد عامر عثمانی

40) مسجد عبدالرحمن بن عوف (رحمٰن پورہ) ایک بجے 
 حافظ ریحان فردوسی

41) مسجد مولانا محمدالیاس (عباس نگر) ایک دس
 قاری مصدق احمد تجویدی 

42) رابعہ مسجد (باغ محفوظ)
ساڑھے بارہ بجے سے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی

43) مسجد چشمۂ گلاب ( پوارواڑی) سوا بجے
مولانا محمد عمران اسجد ندوی

44) مسجد رابعہ عبدالغفور(مسلم پورہ)
ایک بیس
قاری نعیم الرحمن پریاگی

برادران اسلام سے گزارش ہے کہ وقت مقررہ پر مساجد میں پہنچ کر اہتمام کے ساتھ جمعہ کا بیان سماعت کریں۔
جاری کردہ: گلشن خطابت گروپ مالیگاؤں










*🛑ہائے یہ جان لیوا روڈ تیری بدقسمتی ہے اور اس سے گذرنے والی عوام کی سخت آزمائش*
گولڈن نگر بلیو برڈ سائزنگ سے رضاپورہ کیفی سوئٹ کارنر تک کا یہ روڈ تقریبا" سال بھر پہلے پرشاسک راج میں کانکریٹ طرز پر تعمیر کے لئے 1 کروڑ کا منظور ہوا تھا۔ مگر انڈر گراونڈ ڈرینج ہونے بعد آج 8 مہینہ گذر چکا اور یہ روڈ کی حالت بد سے بدتر ہوتے جارہی ہے ۔ 1 کروڑ کا فنڈ اللہ بہتر جانے کہاں گیا؟ دوبارہ خبروں کے مطابق معلوم ہوا کہ پھر سے 2 کروڑ سے کا فنڈ منظور ہوا ، اب سوال یہ ہیکہ شب برات گذر گئی ،ماہ رمضان المبارک کا مہینہ گذر گیا، عیدالفطر ، عیدالالضحی ، محرم گذر گیا ہر تہوار پر سننے میں آرہا تھا کہ تہوار بعد یہ روڈ کا کام چالو ہوگا۔ مگر اب تو سرکار مدینہ سرور کائنات حضور ﷺ کی جشن ولادت 12ربیع الاول کی آمد آمد ہے اور جلوس عیدمیلاالنبی رضا مسجد سے نکل کر اس روڈ سے بھی گذرتا ہے۔ کیا اب بھی یہ روڈ کی بدقسمتی ہی رہے گی کہ روڈ کی حالت اسی طرح سے بدتر رہے۔ اور اس روڈ سے گذرنے والی عوام کے لئے یہ سخت آزمائش ہی رہے گی۔ ذرا سوچو کہ اس روڈ سے روزآنہ اسکولی طلبہ و طالبات اور دینی مداراس کے بچے بچیاں اور معلم معلمات کیسے اس روڈ سے گذرتے ہونگے۔ کیا شہر کے تمام سیاسی قائدین کا ضمیر اب بھی اس روڈ کی حالت دیکھ کر جھجھوڑتا نہیں کہ اس روڈ کی پختہ تعمیر کی جائے۔ گولڈن نگر کی عوام اور بالخصوص اسکول و مداراس کے طلبا و طالبات شہر کے تمام سیاسی قائدین اور آس پاس کے وارڈ کے ہر نمائندوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ ذرا اس روڈ کے ایسے خطرناک منظر میں آپ لوگ اچھے اور صاف ستھرے کپڑوں میں اس روڈ سے چل کر بتائیں اور اسکولی و مدارس کے بچوں جیسا پیدل چل کر بتائیں۔ شائد ہوسکتا ہیکہ آپ کا ضمیر آپکو جھجھوڑ کر رکھ دے۔ 

خدارا ایکبار تمام سیاسی لیڈران اس روڈ کے منظر کو خود سفر کرکے دیکھیں اور جلد از جلد اس روڈ کی تعمیر کریں











*🛑برقعہ: اور فیشن* 
*دینی، اخلاقی، سماجی اور فکری پہلو*
*از قلم شعیب احمد محمدی 9284434542*

*1. دینی پہلو*
اسلام میں عورت کے لیے پردے کا حکم اللہ تعالی نے قرآن میں دیا ہے۔

*اللہ تعالی کا حکم:*
وقل للمؤمنات يغضضن من ابصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الا ما ظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن
سورہ النور: 31

*ترجمہ:* اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے۔ اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں۔

*برقعہ پردے کی ایک مکمل شکل ہے*  
اس کا مقصد عورت کے جسم اور زینت کو غیر محرم کی نظر سے بچانا ہے۔
برقعہ کوئی رواج نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔

*صحابیات کا فوری عمل:*
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اللہ رحم کرے انصار کی عورتوں پر۔ جب ولیضربن بخمرهن نازل ہوئی تو انہوں نے اپنے موٹے کپڑوں اور چادروں کے کنارے پھاڑے اور ان سے اپنے سر اور چہرے ڈھانپ لیے۔ گویا ان کے سروں پر کالے کوے بیٹھے ہوں
صحیح بخاری

*دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عورت کی عزت اس کے پردے میں ہے*  
برقعہ عورت کو اللہ سے قریب کرتا ہے اور تقوی کی علامت ہے۔

*2. اخلاقی پہلو*
برقعہ حیا کا لباس ہے۔ حیا ایمان کا حصہ ہے۔
برقعہ پہننے والی عورت معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ میری عزت، میرا وقار، میرا کردار سب سے اہم ہے۔
یہ لباس فحاشی، بے حیائی اور نظر بازی کو روکتا ہے۔ جب عورت پردے میں نکلے گی تو معاشرے میں پاکیزگی اور شرم و حیا کا ماحول بنے گا۔
برقعہ مردوں کو بھی اخلاق سکھاتا ہے کہ وہ عورت کو صرف اس کی ذات اور علم سے پہچانیں، اس کے جسم سے نہیں۔

*3. آج کے فیشن ایبل برقعے: دعوتِ نظارہ یا پردہ؟*

آج فیس بک، انسٹاگرام اور مارکیٹ میں جو برقعے نظر آتے ہیں وہ برقعہ کم اور ڈیزائنر گاؤن زیادہ لگتے ہیں۔

*کیا ہو رہا ہے؟*
*1. نقش و نگار، پھول بوٹے، نگ اور چمکدار اسٹون:* برقعہ جو نظر سے بچانے کے لیے تھا، خود نظروں کا مرکز بن گیا ہے۔

*2. ٹائٹ اور فٹنگ برقعے:* جسم کی ساخت واضح کرنے والے برقعے۔ ایسا برقعہ جسے دیکھ کر نا دیکھنے والا بھی ایک نظر ضرور ڈالتا ہے۔

*3. حد ہوگئی بے شرمی کی*
آج معاشرہ میں روزآنہ ماں ، بہنوں ، پہنے جانے والے لباس اتنی فٹ اور تنگ نہیں ہوتے جتنا کہ اب برقعہ ٹائٹ اور فٹنگ میں ہوتا ہے۔ گویا کہ عام لباس میں خواتین کے جسم کا ابھار فٹنگ میں نا ہونے کی وجہ سے اتنا ظاہر نہیں ہوتا جتنا کہ آج برقعہ پہن کر بے ہودگی کا تماشا دنیا کو دکھایا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ چہرے کی نقاب کی پٹی اتنی چھوٹی سی ہوتی ہے کہ ان کے سینے کا ابھار بالکل واضح دکھتا ہے اور جب کسی عالم، یا داڑھی ٹوپی والے کو یہ خواتین دیکھتی ہیں تو اپنی بے شرمی کو چھپانے کے لیے وہ اس چھوٹی سی پٹی سے اپنا سینہ چھپانے کے لیے نیچے کھینچتی ہیں مگر ناکام رہتی ہیں اللہ کی پناہ

*شعر*
تم شرم و حیا ڈھونڈ رہی ہو میری بہنوں
وہ فاطمۃ الزھراء کے دوپٹے میں ملے گی

*نتیجہ یہ نکلا کہ آج کا برقعہ اللہ اور رسول ﷺ کے حکم پر عمل نہیں رہا، بلکہ دعوتِ نظارہ بن گیا ہے۔*

*اصل برقعہ کیا تھا؟*
صحابیات رضی اللہ عنہا کا برقعہ سادہ، ڈھیلا ڈھالا تھا۔ مقصد صرف ایک تھا - خود کو چھپانا۔
حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا: عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی غیر مرد کو نہ دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اسے دیکھے۔

*غیرت مند مردوں سے ایک اپیل*
او غیرت مند مسلمان بھائی!
اللہ کے واسطے اپنی بیوی، بہن، ماں کو سمجھائیں:
بیٹی! بہن! تم محمد ﷺ کی امت ہو۔ تم فاطمہ الزہراء کی بیٹیاں ہو۔ سادہ برقعہ پہنو، ڈھیلا برقعہ پہنو، جس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو۔
خدارا ایساتنگ اور فٹنگ والا برقعہ شوہر اپنی بیوی کو بھائی اپنی بہن کو پہننے سے روکیں جسے دیکھ کر نواجوان طبقہ بیہودہ فقرے کہتے ہیں کہ دیکھ کیا م۔!!!!

*حل کیا ہے؟*
*1. سادگی اپنائیں:* کالا، ڈھیلا، بغیر ڈیزائن والا برقعہ۔
*2. نیت ٹھیک کریں:* برقعہ لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں، اللہ کو راضی کرنے کے لیے ہے۔
*3. گھر کے سربراہ کا کردار:* مرد گھر کا نگہبان ہے۔

*سبق:*
برقعہ صرف کپڑا نہیں، یہ اللہ کی رضا، حیا کا تاج اور مومن عورت کی پہچان ہے۔

*اللہ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو سچا پردہ نصیب فرمائے*  
اور ہمیں غیرت ایمانی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جموں کشمیر: رات بھر بارشوں کے سبب نچلے علاقوں میں پانی جمع، شاہراہیں بند، امرناتھ یاترا بدستور معطل*
جموں/سرینگر: (محمد اشرف گنائی/میر فرحت مقبول): جموں و کشمیر میں رات بھر جاری رہنے والی بارش کی وجہ سے سرینگر-جموں قومی شاہراہ بند ہو گئی ہے، جب کہ 20 جولائی سے معطل امرناتھ یاترا بدستور بند ہے، اور حکام نے لوگوں کو ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔

سرینگر جموں قومی شاہراہ بند

ٹریفک پولیس کے مطابق، پوری شاہراہ پر مسلسل بارش کی وجہ سے رام بن اور ادھم پور کے درمیان کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے باعث جموں-سرینگر قومی شاہراہ گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے بند ہے۔
پولیس نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم میں بہتری آنے اور شاہراہ کو ٹریفک کے لیے محفوظ اور صاف قرار دیے جانے تک اس پر سفر کرنے سے گریز کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشتواڑ-سنتھن-اننت ناگ (NH-244)، سرینگر-سونمرگ-لیہہ، اور مغل روڈ پر ٹریفک کی اجازت سڑک کی تعمیر و دیکھ بھال کرنے والی کمپنیاں سڑک اور موسم کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد دی جائے گی۔

پلیس نے کہا کہ "لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ٹریفک کنٹرول یونٹس سے سڑک کی تازہ ترین صورت حال کی تصدیق کرنے کے بعد ہی سفر کا آغاز کریں۔"
امرناتھ یاترا بدستور معطل

خراب موسم کی وجہ سے 20 جولائی سے امرناتھ یاترا اگلے احکامات تک بدستور معطل ہے۔ٹریفک پلیس کے مطابق، اسی امرناتھ یاتریوں کو لے جانے والی کسی بھی گاڑی کو جموں، ادھم پور، یا رام بن سے سرینگر کی طرف بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یاتریوں کو کشمیر کے بالتل، ننوان، پنتھہ چوک اور جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

اگرچہ مسلسل بارش کے باعث جموں و کشمیر کے متعدد مقامات پر ناگہانی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، تاہم کشمیر کے فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے وادی میں فی الحال سیلاب کے کسی بھی خطرے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دریائے جہلم میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے لیکن یہ خطرے کے نشان سے نیچے ہے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ جہلم میں پانی کی سطح بڑھ رہی تھی لیکن اس کے معاون ندی نالوں میں صورتحال مستحکم ہو رہی ہے۔
خطہ وار بارشوں کا ریکارڈ

سرینگر میں انڈین میٹرولوجیکل سینٹر (محکمہ موسمیات) نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش کٹھوعہ میں 153.4 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ سانبہ میں 133 ملی میٹر، ادھم پور میں 112.6 ملی میٹر، جموں میں 109.1 ملی میٹر، کٹرہ میں 149.9 ملی میٹر بارش ہوئی اسی طرح گلمرگ میں 90 ملی میٹر، بٹوت میں 81.7 ملی میٹر، پونچھ میں 51 ملی میٹر، رام بن میں 49 ملی میٹر، ریاسی میں 44.2 ملی میٹر اور راجوری میں 40.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی وادی کشمیر میں پہلگام میں 40.4 ملی میٹر، قاضی گنڈ میں 52.8 ملی میٹر، سری نگر میں 21.5 ملی میٹر اور گلمرگ میں 90 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔
نچلے علاقوں میں پانی جمع

گذشتہ تین روز سے جاری بارشوں کے باعث جہاں نچلے علاقوں میں پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، جب کہ درجہ حرارت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات مرکز سرینگر کے مطابق بارشوں کا سلسلہ جمعرات کی دوپہر تک جاری رہ سکتا ہے۔

مسلسل بارش کے باعث کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں سے دور رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

بارشوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں گراوٹ


بدھ کو جموں شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 8.7 ڈگری کم تھا، جب کہ کم سے کم درجہ حرارت 22.4 ڈگری سیلسیس رہا۔ بنی حال میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 17.2 اور کم سے کم 19.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ کٹرہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22.6 اور کم سے کم 21 ڈگری سیلسیس رہا۔

وہیں سرینگر میں زیادہ سے زیادہ 20 اور کم سے کم 17.7 ڈگری، پہلگام میں 17.6 اور 14.5 ڈگری، جب کہ گلمرگ میں زیادہ سے زیادہ 14.8 اور کم سے کم 11.4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔









*🛑مانسون کے موسم میں بالوں کی حفاظت کے لیے یہ 4 آسان طریقے اپنائیں*
حیدرآباد: مانسون موسم میں قدرت سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے، لیکن اس عرصے میں نزلہ، کھانسی اور وائرل بخار جیسی بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں ہمارے بال خشک اور بے جان ہو جاتے ہیں۔ اس دوران خشکی اور بالوں میں الجھنے جیسے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں۔ زیادہ نمی اور ہوا سے نکلنے والی دھول بالوں کو چپچپا بناتی ہے جس سے بالوں کے گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین اس موسم میں بالوں سے متعلق مسائل سے بچنے کے لیے طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بارش کے موسم میں بالوں کو صحت مند رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے بارے میں تفصیل سے جانیں۔

بارش کے موسم میں ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا یقینی بنائیں:

بہت زیادہ تیل لگانے سے گریز کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ مانسون کے موسم میں کھوپڑی میں ضرورت سے زیادہ تیل پیدا ہوتا ہے، اس لیے بہت زیادہ تیل لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اس موسم میں بالوں کو ہفتے میں دو یا تین بار کیمیکل فری شیمپو سے دھونا چاہیے۔ یہ کھوپڑی سے جمع گندگی اور اضافی تیل کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ماہرین بالوں کو نقصان سے بچانے کے لیے کنڈیشنر استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔

چوڑے دانت والی کنگھی کا استعمال کریں

مانسون کے موسم میں بال اکثر الجھ جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے موسم میں باقاعدہ کنگھی کا استعمال بالوں کے جھڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے بال دھونے کے بعد کنڈیشنر لگائیں۔ تاہم اگر آپ کو اسے استعمال کرنے کی عادت میں نہیں ہیں، تو آپ اس کو چھوڑ سکتے ہیں۔ اس کے بجائے چوڑے دانت والی کنگھی کا استعمال کریں۔ اگر کنگھی کرتے وقت بال الجھ جائیں تو اپنی انگلیوں سے اسے الگ کریں۔ ایک بار جب تمام الجھ جائیں تو بالوں کو دوبارہ اوپر سے نیچے تک کنگھی کریں۔

مائیکرو فائبر تولیہ استعمال کرنا بہتر ہے۔ بالوں کے گرنے کے بارے میں فکر مند افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ عام کے بجائے مائیکرو فائبر تولیے استعمال کریں۔ ماہرین نوٹ کرتے ہیں کہ معیاری سوتی تولیوں کی ساخت کھردری ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ بالوں کو رگڑنے سے قدرتی نمی ختم ہوجاتی ہے، بال کمزور ہوتے ہیں اور ٹوٹنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے برعکس، مائیکرو فائبر تولیے بہت نرم ہوتے ہیں اور رگڑنے کی ضرورت کے بغیر تیزی سے پانی جذب کرتے ہیں۔

2019 میں انٹرنیشنل جرنل آف کاسمیٹک ڈرماٹولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق محققین نے پایا کہ جو لوگ مائیکرو فائبر تولیے استعمال کرتے ہیں ان کے بالوں کے گرنے کا سامنا ان لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے جو باقاعدہ تولیے استعمال کرتے ہیں۔ اس تحقیق کی قیادت نیویارک یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ماہر امراض جلد ڈاکٹر جان اسمتھ نے کی، جن کا کہنا تھا کہ بالوں کے گرنے سے جدوجہد کرنے والے لوگ مائیکرو فائبر تولیوں کے استعمال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

آلات استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں۔ ایسے افراد کو کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ خاص طور پر اپنے بالوں کی حفاظت کے لیے ہیٹ پروٹیکٹنٹ کا استعمال ضروری ہے۔ دوسری صورت میں، بالوں کے follicles فولیسل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔بارش کے موسم میں بالوں کی دیکھ بھال کے لیے چند مفید مشورے:

بارش میں بھیگنے کے بعد گھر واپس آتے ہی صاف پانی سے نہائیں اور بالوں کو اچھی طرح خشک کرلیں۔

مانسون کے موسم میں بال بہت نازک ہوتے ہیں۔ گیلے بالوں کو کنگھی کرنے سے یہ آسانی سے الجھ جاتے ہیں، لہذا کنگھی کرنے سے پہلے اپنے بالوں کے خشک ہونے کا انتظار کریں۔

مانسون کے دوران اپنے بالوں کی حفاظت کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی کھوپڑی کو پسینے اور نمی سے پاک رکھیں۔









*🛑پیپر لیک معاملہ: پی ایم مودی کا 'فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان، کہا نوجوانوں کے مستقبل سے بڑھ کر کچھ نہیں...'*
نئی دہلی: قومی دارالحکومت میں طلبہ کے احتجاج کے بیچ ایک اہم پیش رفت میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اس معاملے پر ایک اہم عوامی بیان دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرکز نے پیپر لیک کرنے والوں کو فوری اور سخت سزا دینے کو یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ "ہمارے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور مستقبل سے بڑھ کر کچھ بھی اہم نہیں ہے! ہم نے پیپر لیک میں ملوث افراد کے لیے تیز رفتار اور سخت سزا کو یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متعلقہ حکام اور اہلکاروں کو اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ ہمارے اقدامات کے سلسلے کا تسلسل ہے۔ جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔"یہ بیان نئی دہلی میں پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ اور سماجی کارکنوں کے گروپ 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کی قیادت میں کئی دنوں سے جاری بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد سامنے آئے ہیں۔

پیپر لیک معاملوں پر سی جے پی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی ہے، جس کا اثر پارلیمنٹ کے جاریہ مانسون سیشن پر بھی پڑا ہے۔

نئی دہلی میں ہزاروں طلبہ اور نوجوان 20 جولائی کو سڑکوں پر نکل آئے اور تب سے وہ وہیں ڈٹے ہوئے ہیں۔ پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے درجنوں طلبہ اور سماجی کارکنان کے زخمی ہونے کے باوجود مظاہرین دہلی کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑پاور پلانٹس پر حملے کی ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران نے دی ایسی وارننگ، پورے خطے میں مچ گئی کھلبلی*
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایرانی انفراسٹرکچر پر بمباری کرتے ہیں، تو تہران پورے خطے میں پلوں اور توانائی کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے پر غور کرے گا۔ ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ ایرانی پلوں یا پاور پلانٹس پر حملہ کرتا ہے تو ایران بھی خطے میں موجود پلوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا، جن میں وہ توانائی کی تنصیبات بھی شامل ہوں گی جہاں امریکہ کے مفادات وابستہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دس دنوں کے بعد امریکیوں کو اب مکمل یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے ٹرمپ کی جانب سے ایسا کوئی بھی اقدام ایک بار پھر ان کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا استعمال جاری رکھے گا اور اس اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔یہ وارننگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکہ ہر بار ایک پل یا پاور پلانٹ کو بمباری کرکے تباہ کر دے گا۔

امریکہ کے حملے جاری، ہلاکتوں میں اضافہ
ادھر امریکی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل بارہویں رات بھی حملے کیے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد علاقائی سمندری راستوں میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

وہیں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے تہران کے “اینٹ کا جواب پتھر سے” کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت، بشمول ہمارے انفراسٹرکچر پر حملے، کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روک لیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایک ٹینکر میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی، جبکہ باقی دو نے اپنا رخ موڑ لیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔دھمکیوں کے اس تبادلے نے ایسے وقت میں خطے کی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے جب سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، جبکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستے، آبنائے ہرمز، کے گرد صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔









*🛑طلبا کے احتجاج پراب بیداری ہوئی دہلی حکومت، وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کا آیا پہلا بیان*
نئی دہلی: دہلی کے جنترمنترپرجاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج پراب جاکردہلی حکومت بیدارہوئی ہے۔ دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کا پہلا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے وزیراعظم مودی کے ٹوئٹ پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے طلبا کے مفاد کا تحفظ اوران کے مستقبل کومحفوظ کرنے سے متعلق اپنا پہلا بیان دیا ہے۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پرایک پوسٹ کے ذریعہ یہ باتیں کہی ہیں۔ انہوں نے لکھا، ”وزیراعظم مودی کی قیادت میں طلبا کے مفاد کا تحفظ اورنوجوانوں کے روشن مستقبل کو محفوظ رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا، ’’پیپرلیک کے معاملوں میں فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل اورقصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا یہ فیصلہ ہرمحنتی طلباء کوانصاف فراہم کرنے کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔ طلبا کے حقوق اوران کی محنت پرحملہ کرنے والوں کے خلاف قانون پوری سختی کے ساتھ اپنا کام کرے گا۔‘‘

کیا ہے پورا معاملہ؟

قابل ذکرہے کہ دہلی میں 20 جون سے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نیٹ پیپرلیک کے معاملے اوردھرمیندرپردھان کے استعفیٰ سے متعلق احتجاج کررہی ہے۔ یہ احتجاج (آندولن) 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے بعد اس وقت ہنگامے کی نذرہوگیا، جب طلبا پرلاٹھی چارج کیا گیا۔ اس میں بڑی تعداد میں طلبا وطالبات زخمی ہوگئے۔ ساتھ ہی بڑی تعداد میں پولیس افسران کے بھی زخمی ہونے کی بات سامنے آئی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا پربھی کئی سوال کھڑے کئے تھے اورتحریک پران کی خاموشی پرسوال اٹھایا گیا۔ اس کے علاوہ جس طرح سے طلبا پرپولیس کا لاٹھی چارج ہوا اورسخت کارروائی وئی، اس سے متعلق بھی دہلی حکومت کٹہرے میں ہے۔وزیراعظم مودی نے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کا کیا اعلان 

مظاہرین کے مشتعل ہونے کے بعد ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے پوسٹ کرکے طلبا کو اطمینان دلایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حال میں پیپرلیک کے قصورواروں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ انہوں نے جانکاری دی کہ پیپرلیک معاملے میں شامل قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کی جائے گی اوراس سمت میں مناسب اورسخت کارروائی کی جائے گی۔ حالانکہ اس سے پہلے این ڈی اے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں بھی وزیراعظم مودی نے پیپرلیک کوخطرناک جرم قراردیا تھا اورسخت کارروائی کی بات کہی تھی۔











*🛑اننت ناگ دہشت گردانہ حملے کے بعد بڑی کارروائی، لشکرِ طیبہ کے دو دہشت گردوں کے مکانات مسمار*
اننت ناگ، جموں و کشمیر (اشفاق احمد میر): اننت ناگ کے لال چوک میں جموں و کشمیر پولیس کے ایک اہلکار کی دہشت گردانہ حملے میں ہلاکت کے ایک روز بعد سکیورٹی ایجنسیوں اور انتظامیہ نے ضلع میں سرگرم لشکرِ طیبہ (LeT) کے دو دہشت گردوں کے مکانات مسمار کر دیے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مسمار کیے گئے مکانات عادل ٹھوکر ساکن گوری، بجبہاڑہ اور ہارون گنائی ساکن حسن پورہ، اننت ناگ کے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ضلع میں دہشت گردوں اور ان کے معاون نیٹ ورک کے خلاف جاری وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

یہ کارروائی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب انجام دی گئی، جس کے دوران گوری، بجبہاڑہ کے رہائشی عادل ٹھوکر اور حسن پورہ، بجبہاڑہ کے رہائشی ہارون گنائی کے مکانات کو مکمل طور پر مسمار کیا گیا۔ عادل ٹھوکر کا پرانا مکان گزشتہ برس 22 اپریل کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھی منہدم کیا گیا تھا، جب کہ اس بار اس کے نئے تعمیر شدہ مکان کو نشانہ بنایا گیا۔

متعدد مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں

یہ کارروائی لال چوک، اننت ناگ میں امرناتھ یاترا ڈیوٹی پر تعینات جموں و کشمیر پولیس کے اہلکار عاشق حسین، ساکن بڈگام، کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکت کے ایک روز بعد عمل میں لائی گئی۔ حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے وادی بھر میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں نمایاں تیزی لائی۔ اس سلسلے میں مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں انجام دی گئیں، جب کہ سینکڑوں افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، جن میں بعض مبینہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) بھی شامل ہیں۔ وہیں متعدد مقامات پر چھاپہ مار کارروائی انجام دی گئیں۔

امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر حفاظتی انتظامات مزید سخت
ادھر جاری شری امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر وادی بھر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ حساس مقامات پر اضافی پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ قومی شاہراہوں، اہم سڑکوں اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکوں اور چیکنگ پوائنٹس کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ گاڑیوں کی جامع تلاشی، شناختی جانچ، ایریا ڈومینیشن گشت اور مشترکہ نگرانی میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

محبوبہ مفتی نے کی شدید مذمت

وہیں محبوبہ مفتی نے عسکریت پسندوں کے گھروں کی مسماری کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ 'ڈیوٹی کے دوران ایک پولیس افسر کا قتل ایک گھناؤنا اور قابل مذمت فعل ہے۔ لیکن ایک ہزار سے زائد لوگوں کو حراست میں لینا اور دو مبینہ عسکریت پسندوں کے خاندانوں کے گھروں کو مسمار کرنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے، جس کی کسی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں۔ اگر حکومت ہند خود یہ دعویٰ کرتی ہے کہ عسکریت پسندی تقریباً ختم ہو چکی ہے، تو اسے پوری برادری سے بدلہ لینے کے بجائے معصوم شہریوں کے ساتھ زیادہ انسانی اور قانونی رویہ اپنانا چاہیے۔'دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ضروری

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر سمیت پوری وادی میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اور ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز پوری طرح متحرک ہیں۔حکام کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پولیس ہیڈ کانسٹیبل پر کی گئی تھی فائرنگ
واضح رہے کہ منگل کی دوپہر لال چوک اننت ناگ میں دہشت گردوں نے ایک پولیس اہلکار کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔ حملے کے فوراً بعد زخمی اہلکار کو تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔واقعے کے بعد پورے لال چوک اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ طور پر علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تلاشی اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ داخلی و خارجی راستوں پر اضافی ناکے قائم کیے گئے تھے جب کہ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد

پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے جائے وقوعہ اور اطراف کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور دیگر اہم معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں مختلف زاویوں سے معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں تاکہ حملے کے پس پردہ سازش کو بے نقاب کیا جا سکے۔

پولیس نے بتایا تھا کہ بدھ کے روز اننت ناگ کے لال چوک علاقے میں دہشت گردوں نے جموں و کشمیر پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل پر فائرنگ کی تھی، جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اس واقعے کے بعد پورے جنوبی کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں شروع کی گئیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑آپ کو اپنے بالوں میں کتنی دیر تک تیل لگانا چاہیے اور کب لگانا چاہیے؟ ماہرین سے جانیں* آلودگی اور کام سے متعلق تنا...