Thursday, 13 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم*
مہاراشٹر کے ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے سربراہ اور پنجاب کے سابق نائب وزیراعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل پر جمعرات کو ایک گردوارے کے احاطے میں ایک نہنگ نے مبینہ طور پر حملہ کیا۔ ضلعی پولیس کے مطابق حملے میں سکھبیر سنگھ بادل کے ہاتھ پر چوٹ آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔

وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سکھبیر سنگھ بادل سے فون پر بات بھی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بادل نے فڑنویس کو اپنی حالت مستحکم ہونے کی اطلاع دی۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے ذرائع کے مطابق دیویندر فڑنویس نے ناندیڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے واقعے کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حملے کے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ نے حملے کے پس پردہ مقصد کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔

2024 میں بھی ہوا تھا سکھبیر بادل پر حملہ

سکھبیر سنگھ بادل کو دسمبر 2024 میں بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں ’سیوا‘ انجام دیتے ہوئے انہیں گولی مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حملہ آور نے مبینہ طور پر بادل پر فائرنگ کی کوشش کی، تاہم اسے قابو کر لیا گیا اور سکھبیر سنگھ بادل محفوظ رہے تھے۔ 2024 کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب اکال تخت نے 2007 سے 2017 کے درمیان ایس اے ڈی کی زیر قیادت پنجاب حکومت کے دوران لیے گئے فیصلوں پر سکھبیر سنگھ بادل کو مذہبی بدعنوانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ’تنکھائیا‘ قرار دیا تھا۔ اس کے بعد بادل گولڈن ٹیمپل میں ’سیوا‘ انجام دے رہے تھے۔ 2024 کے حملے کے بعد ایس اے ڈی رہنما بکرم سنگھ مجیٹھیا نے پنجاب پولیس پر تنقید کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے تھے۔ موجودہ حملے کے بعد بھی پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر واقعے کے محرکات کی جانچ شروع کر دی ہے۔








*🛑الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے راہل گاندھی، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟*
نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی نے اپنے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے الزامات سے متعلق معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ یہ الزامات کرناٹک کے بی جے پی کارکن ایس وگنیش ششر نے عائد کیے تھے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ 17 اگست کو راہل گاندھی کی عرضی پر سماعت کرے گی۔

سی بی آئی اور ای ڈی کو جانچ کی ہدایت

الہ آباد ہائی کورٹ نے مئی میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو الزامات کی جانچ اور تصدیق کرنے اور معاملے میں پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ راہل گاندھی نے ہائی کورٹ کی اس ہدایت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اس عمل پر سوال اٹھایا ہے، جو ششر کی شکایت کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ راہل گاندھی کے پاس ان کی معلوم آمدنی کے ذرائع سے زیادہ اثاثے ہیں۔

کارروائی دہلی ہائی کورٹ منتقل کرنے کی بھی درخواست

راہل گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں جاری کارروائی کو دہلی ہائی کورٹ منتقل کرنے کی الگ سے درخواست بھی دائر کی ہے۔ 20 جولائی کو معاملے کی سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے داخل حلف نامے کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اسے تازہ حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس میں تحقیقات کی موجودہ صورت حال کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔

ای ڈی کی کارروائی پر ہائی کورٹ کی وضاحت

ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ای ڈی نے اپنی جانب سے ضروری اقدامات کیے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر ایجنسی کی تحقیقات میں کوئی قابل کارروائی معلومات سامنے آتی ہیں تو اسے مناسب قانونی کارروائی شروع کرنے کی آزادی ہوگی۔ اس کے بعد معاملے کو مزید سماعت کے لیے 20 اگست کو فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔









*🛑جموں کشمیر، 54 سالہ آنگن واڑی ہیلپر ہائی کورٹ میں بھی ترقی کی جنگ ہار گئی*
سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے جمعرات کو ایک آنگن واڑی ہیلپر کی "آنگن واڑی ورکر کے عہدے پر ترقی" منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ کسی امیدوار کی اہلیت کا تعین اس تاریخ کو ہونا چاہیے جب پوسٹ ویکنٹ ہو، نہ کہ اس تاریخ کو جب امیدوار بعد میں مطلوبہ تجربہ مکمل کر لے۔

قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل عدالت کی ڈویژن بنچ نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کی 54 سالہ نازنینہ گوہر کی اپیل خارج کر دی۔ نازنینہ نے آنگن واڑی ورکر کے طور پر اپنی تقرری منسوخ کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب 2014 میں یہ اسامی پیدا ہوئی تو نازنینہ کے پاس آنگن واڑی ہیلپر کے طور پر لازمی 10 سالہ تجربہ نہیں تھا، اس لیے وہ اس عہدے پر تقرری یا ترقی کا قانونی حق نہیں رکھتی تھیں۔

یہ فیصلہ جموں و کشمیر میں آنگن واڑی مراکز میں تقرری اور ترقی سے متعلق سرکاری قواعد کی تشریح کو واضح کرتا ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ اہلیت کی شرائط اسامی پیدا ہونے کے وقت ہی پوری ہونی چاہئیں۔

معاملہ کیسے شروع ہوا؟
یہ معاملہ اننت ناگ ضلع کے آستان محلہ، سیر-بی میں آنگن واڑی ورکر کی ایک اسامی سے متعلق تھا۔ نازنینہ گوہر 8 فروری 2006 سے آنگن واڑی ہیلپر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔28 فروری 2014 کو اس وقت یہ آسامی پیدا ہوئی جب سابق آنگن واڑی ورکر سونیتا کماری کو سپروائزر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

اس اسامی کے لیے 2015 میں اشتہار جاری کیا گیا۔ نازنینہ نے اس اشتہار کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم ان کی عرضی 2017 میں خارج ہوگئی۔ اس کے بعد بھرتی کا عمل آگے بڑھا، لیکن 2018 میں اشتہار منسوخ کر دیا گیا۔

بعد ازاں نازنینہ نے خالی اسامی پر اپنی ترقی کا مطالبہ کیا۔ ایک الگ عرضی میں عدالت کی جانب سے جاری عبوری ہدایات کے بعد حکام نے ان کی درخواست پر غور کیا اور 18 فروری 2019 کو انہیں انگن واڑی ورکر کے طور پر ترقی دے دی۔ تاہم، مریم سلطان نے اس ترقی کو چیلنج کیا۔ معاملے کی انکوائری کے بعد حکام نے 17 اکتوبر 2023 کے حکم کے ذریعے نازنینہ کی تقرری منسوخ کر دی۔

جولائی 2026 میں ہائی کورٹ کے ایک سنگل جج نے بھی تقرری منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد نازنینہ نے ڈویژن بنچ کے سامنے موجودہ اپیل دائر کی۔

10 سالہ تجربہ کب ہونا ضروری تھا؟
معاملے کے مرکز میں حکومت کا 18 جنوری 2010 کا حکم نامہ نمبر 07-SW تھا، جس میں آنگن واڑی ورکر کی اسامیوں کو پُر کرنے کے طریقہ کار کا تعین کیا گیا ہے۔ قواعد کے مطابق اگر کسی گاؤں میں آنگن واڑی ورکر کی اسامی استعفیٰ، ترقی یا موت کے علاوہ کسی اور وجہ سے خالی ہو تو اسے اسی گاؤں کے ایسے آنگن واڑی ہیلپرز میں سے پُر کیا جائے گا جو میٹرک پاس ہوں اور "آسامی پیدا ہونے کے وقت کم از کم 10 سال کا تجربہ" بھی رکھتے ہوں۔

ڈویژن بنچ نے اس شق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آنگن واڑی ہیلپر کو آنگن واڑی ورکر کے عہدے پر تقرری یا ترقی کے لیے دو لازمی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ عدالت کے مطابق امیدوار کا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آسامی پیدا ہونے کے وقت کم از کم 10 سال کا تجربہ بھی ہونا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ 28 فروری 2014 کو جب مذکورہ آسامی پیدا ہوئی تو نازنینہ کو آنگن واڑی ہیلپر کے طور پر تقریباً آٹھ سال ہی مکمل ہوئے تھے۔ بنچ نے کہا" ”اپیل کنندہ نے بمشکل آٹھ سال کا تجربہ حاصل کیا تھا، اس لیے وہ آنگن واڑی ورکر کے طور پر تقرری یا ترقی کے لیے زیر غور آنے کی اہل نہیں تھیں۔“ عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ نازنینہ بعد میں 10 سال کا تجربہ مکمل کرنے کے بعد اہل ہوگئی تھیں۔عدالت نے کہا کہ بعد میں 10 سال کا تجربہ مکمل ہوجانے کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ اب وہ آنگن واڑی ورکر کی تقرری کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترتی ہیں، لیکن قواعد کے مطابق اہلیت کا فیصلہ اسامی پیدا ہونے کے وقت ہی ہونا تھا۔

پوسٹ دوبارہ مشتہر ہونی لازمی تھا
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ پہلے جاری کیا گیا بھرتی کا اشتہار انتخاب کے عمل تک نہیں پہنچ سکا اور بعد میں منسوخ ہوگیا، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ خالی اسامی خود بخود نازنینہ کو دی جاسکتی تھی۔ بنچ کے مطابق ایسی صورت میں اسامی کو دوبارہ مشتہر کیا جانا چاہیے تھا۔

مناسب سماعت کا موقع نہ ملنے کی دلیل مسترد
نازنینہ کی جانب سے یہ دلیل بھی دی گئی کہ ان کی تقرری منسوخ کرتے ہوئے قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی کیونکہ انہیں مناسب طور پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ڈویژن بنچ نے اس دلیل کو بھی مسترد کردیا۔

عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی انکوائری ہوئی تھی اور نازنینہ نے خود اس میں حصہ لیتے ہوئے تحریری جواب بھی جمع کرایا تھا۔ بنچ نے کہا: "اپیل کنندہ کو سنے بغیر فیصلہ کیے جانے کی دلیل کی حقائق میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔“

عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ حقائق پہلے ہی واضح اور تسلیم شدہ تھے، اس لیے مزید سماعت کے لیے دس مرتبہ بھی موقع دیا جاتا تو نتیجہ تبدیل نہیں ہوتا۔ بنچ نے کہا کہ جب حقائق واضح طور پر طے شدہ ہوں اور فریقین بھی ان بنیادی حقائق سے متفق ہوں تو دوبارہ سماعت کا موقع دینے پر اصرار محض ایک رسمی کارروائی بن جاتا ہے۔

عدالت کے مطابق اگر نازنینہ کو مزید ایک موقع دے کر اپنا موقف بیان کرنے کی اجازت بھی دی جاتی تو نتیجہ مختلف نہیں ہوسکتا تھا۔

اپیل خارج
ہائی کورٹ نے کہا کہ متعلقہ سرکاری ضابطہ بالکل واضح ہے اور اس کے تحت آنگن واڑی ہیلپر کے پاس اسامی پیدا ہونے کی تاریخ پر کم از کم 10 سال کا تجربہ ہونا ضروری تھا۔ چونکہ نازنینہ کے پاس 28 فروری 2014 کو صرف آٹھ سال کا تجربہ تھا، اس لیے بعد میں دی گئی ان کی ترقی متعلقہ قواعد کے خلاف تھی۔

ڈویژن بنچ نے قرار دیا کہ سنگل جج نے قواعد اور حقائق کی درست تشریح کی ہے اور اس فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ عدالت نے کہا، ”مذکورہ وجوہات کی بنا پر ہمیں اس اپیل میں کوئی میرٹ نظر نہیں آتا، لہٰذا اسے خارج کیا جاتا ہے۔“

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ایران نے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا ، عباس عراقچی نے CIA کو قرار دیا نااہل ، کہاڈ ہرمز کو لے کر جھوٹے دعوے کرے بند*
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی دعووں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے امریکی انٹیلی جنس کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ غلط انٹیلی جنس کی وجہ سے امریکہ اکثر صورتحال کا صحیح اندازہ لگانے میں ناکام رہا ہے۔ عراقچی کے مطابق ایران کے خلاف موجودہ جنگ اور ہرمز کے حوالے سے امریکہ کی حکمت عملی اس غلط حساب کتاب کی مثالیں ہیں۔ عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے انٹیلی جنس کی غلطیوں کی وجہ سے غلط فیصلے کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس سے بھی بڑی ا سٹریٹجک غلطی کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے جھوٹی یا من گھڑت انٹلی جنس کو فرضی خبروں سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے احتیاط کی تاکید کی۔ عراقچی کے تبصرے امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے مسلسل الفاظ کی جنگ کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ امریکہ اس اہم سمندری راستے پر کنٹرول کا دعویٰ کررہا ہے جبکہ ایران ان دعوؤں کی مسلسل تردید کررہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ اپنا کنٹرول برقرار کھیں گے ۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔کیا وال آف اسٹیل کا دعوی جھوٹ؟
ٹرمپ نے امریکی بحری ناکہ بندی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے بقول، لوگ اس ناکہ بندی کو “اسٹیل کی دیوار” قرار دے رہے ہیں اور ایران فی الحال اسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے لیکن اس سے گزرنے والے بحری جہازوں کو امریکی بحریہ کنٹرول کرتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی بحریہ اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ کن بحری جہاز وہاں سے گزر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن ایران جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امریکی ناکہ بندی کو مکمل طور پر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مضبوط دیوار کا کام کر رہی ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ خلیجی خطے سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار اس راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس لیے وہاں طویل تناؤ توانائی کی بین الاقوامی سپلائی، شپنگ اور تیل کی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ اور ایران کے دعووں میں خاصا تضاد ہے۔ امریکہ اپنا تسلط جما رہا ہے جبکہ ایران اسے امریکی غلط حساب کتاب کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ نتیجتاً، ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی آنے والے دنوں میں علاقائی سلامتی اور توانائی کی عالمی منڈی کے لیے ایک اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔








*🛑پاور لوم صنعت کے شدید بحران پر دَرے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی متحرک: بجلی بلوں کی وصولی میں نرمی اور پارٹ پیمنٹ کی بحالی کے لیے سی او او اور اعلیٰ حکام کو مکتوب*
مالیگاؤں (نمائندہ):
مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت پر چھائے شدید معاشی بحران، کپڑے کی فروخت ٹھپ ہونے اور خریداروں کی جانب سے پیمنٹس رک جانے کے سنگین حالات کے پیشِ نظر دَرے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی کے سیکریٹری عمیر سر (Omair Sir) نے مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ (MPSL) کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) اور کامرشل ہیڈ کو ایک تفصیلی اور اہم نمائندگی مکتوب پیش کیا ہے۔ یہ مکتوب بذریعہ ہینڈ پاور سپلائی آفس میں تسلیم کرایا گیا، جبکہ اس کی کاپیاں معزز وزیر اعلیٰ مہاراشٹر، وزیر توانائی، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، نَاشک رینج آئی جی پی اور نَاشک ایس پی سمیت تمام متعلقہ اعلیٰ حکام کو ای میل کے ذریعے ارسال کر دی گئی ہیں۔

مکتوب میں عمیر سر نے شہر کے صنعتی حالات کی حقیقت بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ مالیگاؤں کا تقریباً 80 فیصد خام کپڑا (Grey Fabric) راجستھان کے پروسیسنگ حب یعنی پالی، بالوترا اور جودھ پور بھیجا جاتا ہے، جہاں سے پروسیسنگ کے بعد کپڑا ملک اور بیرونِ ملک سپلائی ہوتا ہے۔ تاہم، پولوشن کنٹرول بورڈ کی کارروائیوں اور عدالتِ عالیہ میں زیرِ سماعت مقدمات کی وجہ سے راجستھان کے پروسیسنگ ہاؤسز مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت پر پڑا ہے، جس سے کپڑے کی روانگی اور خریداروں سے آنے والی تمام پیمنٹس مکمل طور پر جم (Freeze) ہو گئی ہیں۔

انہوں نے مکتوب کے ذریعے پاور سپلائی کمپنی اور انتظامیہ سے درج ذیل فوری مطالبات کیے ہیں:

 * پارٹ پیمنٹ (Part Payment) کی فوری بحالی: بنکروں پر یکمشت بجلی بل کا بوجھ ڈالنے کی بجائے پارٹ پیمنٹ کی سہولت کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

 * کنکشن کاٹنے پر فوری روک: معاشی تنگی اور کارخانے بند ہونے کے اس دور میں پاور لومز کے بجلی کنکشن کاٹنے کی سخت کارروائیوں پر مکمل روک لگائی جائے۔

 * تعاون اور نرمی کا رویہ: جب تک راجستھان کے پروسیسنگ ہاؤسز کے مسائل حل نہیں ہوتے اور مالیگاؤں کا روپیہ مارکیٹ میں واپس نہیں آتا، تب تک بجلی بورڈ بنکروں کے ساتھ نرم اور تعاون پر مبنی رویہ اختیار کرے۔


عمیر سر نے کہا کہ اگر ان نازک حالات میں بجلی بورڈ کی جانب سے سختی جاری رہی تو شہر میں ہزاروں پاور لومز دائمی بندش کا شکار ہو جائیں گے اور لاکھوں مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ اور حکومت اس سنگین معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے فوری اور مثبت اقدام فرمائے گی۔











*🛑میں حافظ سعید کا غلام ہوں... پاکستان کے سابق وزیر داخلہ کا بیان ، بھارت کو دی ایٹم بم کی دھمکی*
سابق پاکستانی وزیر شیخ رشید احمد تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ ایک عوامی تقریب میں، انہوں نے کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے سربراہ حافظ سعید کی حمایت میں بیان دیا اور بھارت کے خلاف دھمکی آمیز تبصرے بھی کیے۔ حافظ سعید کو اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے اور اسے ہندوستان میں کئی دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ مانا جاتا ہے۔ ان میں 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملے بھی شامل ہیں، جن میں 26/11 کے حملوں کے دوران بڑی تعداد میں جانیں گئیں۔ اس بیان پر شیخ رشید کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک عوامی تقریب میں کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے بارے میں نہ صرف تعریفی باتیں کیں بلکہ بھارت کے خلاف دھمکی آمیز بیانات بھی دیئے۔ حافظ سعید کو اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے اور ہندوستان میں کئی دہشت گردانہ حملوں سے اس کا تعلق رہا ہے۔ اس تقریب کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہے جس میں شیخ رشید کو مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ کچھ افراد کے ساتھ اسٹیج پر دکھایا گیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے حافظ سعید کی تعریف کی اور خود کو ان کا غلام بھی کہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعید کا فون نمبر ان کے موبائل فون پر ملنے کے بعد انہیں امریکہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔بھارت کے خلاف اشتعال انگیز بیانات
شیخ رشید نے نہ صرف حافظ سعید سے عقیدت کا اظہار کیا بلکہ بھارت کے خلاف انتہائی جارحانہ زبان بھی استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شیخ رشید کون ہیں ؟
ان کے اس بیان سے ایک بار پھر پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سیاسی حمایت اور اس طرح کے بیانات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ شیخ رشید عوامی مسلم لیگ کے بانی ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی حکومت میں 2020 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران انہوں نے بھارت ۔ پاکستان تعلقات اور دہشت گردی سے متعلق مسائل پر کئی تیکھے بیانات سامنے آتے رہےہیں ۔ اس نے ایک بار بھارت کو ایٹم بم کی دھمکی بھی دی تھی۔

Monday, 10 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال*
رانچی/دیوگھر: جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی اصلاحات کے سلسلے میں جاری طلباء کے احتجاج کے درمیان، 10 اگست کو قانون ساز اسمبلی کے مجوزہ محاصرے کی کال کا بڑے پیمانے پر اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ریاست بھر کے مختلف اضلاع سے طلباء بڑی تعداد میں ٹرینوں، بسوں اور نجی گاڑیوں کے ذریعے رانچی پہنچ رہے ہیں۔

رانچی میں 500 سے زائد طلباء کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان سب کو بس کے ذریعے کیمپ جیل لے جایا جا رہا ہے۔ پرانی اسمبلی کی عمارت کے قریب واقع سردار پٹیل کے مجسمے کے پاس بڑی تعداد میں طلباء سڑک پر جمع ہیں۔رانچی میں بی جے پی لیڈر پرتول شاہ دیو کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کی رہائش گاہ کے باہر صبح سے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ دریں اثنا، قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی نے کئی ایم ایل ایز بشمول آدتیہ ساہو، سی پی سنگھ، اور نوین جیسوال اور ان کے حامیوں کے ساتھ طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا۔

رانچی ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ اور شہر کے اہم علاقوں میں طلبہ کا ہجوم دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں طلباء ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔ رانچی ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر طلبہ کے کئی گروپوں نے احتجاجی مقام کی طرف بڑھنے سے پہلے نعرے لگائے۔طلباء کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات کے حوالے سے اصلاحات، شفافیت اور منصفانہ نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر 10 اگست کو قانون ساز اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کی کال دی گئی ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے ذریعے ان کا مقصد حکومت تک زبردستی اپنے مطالبات پہنچانا ہے۔

ریلوے اسٹیشن سے بس اسٹینڈ تک طلباء کا ہجوم

اتوار کو رانچی پہنچنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ریاست کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتی تھی۔ ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹینڈز پر طلبہ کے گروپ دیکھے گئے، جن میں بہت سے لوگ احتجاج سے متعلق بینرز اور پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے۔ پہنچنے پر انہیں احتجاجی مقام کی طرف جاتے دیکھا گیا۔

طلباء کی بڑھتی ہوئی آمد کے پیش نظر پولیس ہائی الرٹ موڈ میں چلی گئی ہے۔ شہر میں داخلے کے اہم مقامات بشمول رانچی ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ساتھ حساس علاقوں میں سخت حفاظتی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ مسافروں اور گاڑیوں کا مکمل معائنہ کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ شہر کے اندر طلباء کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
 اگست کو مجوزہ 'اسمبلی گھیراؤ' (قانون ساز اسمبلی کا محاصرہ) سے قبل دارلحکومت میں سیاسی اور انتظامی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ طلبہ گروپوں کی اپیلوں کے بعد مختلف اضلاع سے نوجوانوں کی رانچی آمد، واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ احتجاج کے لیے طلبہ کی تیاریاں زور پکڑ رہی ہیں۔ اب سب کی نظریں پیر کو ہونے والے مظاہرے کے دوران طلباء کے ٹرن آؤٹ اور انتظامیہ کی تیاریوں پر ہوں گی۔

سنتھل سے رانچی کے لیے روانگی

اتوار کی دیر شام، دیوگھر سے رانچی جانے والی ٹرینیں کاوڑیوں کے ساتھ طلباء سے بھری ہوئی تھیں۔ رانچی-دمکا-گوڈا ٹرین پر سینکڑوں طلباء رانچی کے لئے روانہ ہوئے۔ دریں اثنا، طلباء کی بڑی تعداد جسدیہ، جام تارا اور مادھو پور ریلوے اسٹیشنوں سے رانچی جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ رانچی جانے والے طلباء سرکاری مسابقتی امتحانات میں اکثر سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلباء کے مستقبل کے بارے میں کوئی سمجھوتہ جنہوں نے ان امتحانات کے لیے سخت محنت اور تندہی سے تیاری کی ہے ناقابل قبول ہے۔طلباء کا کہنا تھا کہ جب تک نوجوان اپنے حقوق اور مستقبل کے بارے میں چوکس نہیں رہیں گے، حکومت کی توجہ ان مسائل کی طرف مبذول کرانا مشکل ہوگا۔ اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے طلبہ کی ایک بڑی تعداد پیر کو قانون ساز اسمبلی کے گھیراؤ میں حصہ لینے کے لیے رانچی کی طرف روانہ ہو رہی ہے۔ رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج کئی دنوں سے جاری ہے۔











*🛑کیا آپ گھٹنوں کے درد سے پریشان ہیں؟ یہ آسان علاج ضرور آزمائیں*
حیدرآباد: جس لمحے سے ہم جاگتے ہیں اس وقت سے لے کر جب تک ہم بستر پر نہیں جاتے، ہمارے گھٹنے جسم کا سارا وزن برداشت کرتے ہیں اور مختلف حرکات کو سہولت فراہم کرتے ہیں جیسے بیٹھنا، کھڑا ہونا، دوڑنا، چھلانگ لگانا، پلٹنا اور وزن اٹھانا۔

تاہم آج کل ناقص طرز زندگی اور غذائی عادات کی وجہ سے بہت سے لوگ گھٹنوں کے درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ امداد کے لیے ادویات پر انحصار کرتے ہیں، دوسرے سرجری کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، ماہرین کا مشورہ ہے کہ گھٹنوں کے درد سے پریشان لوگ آسان اقدامات اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے آرام پا سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ احتیاطی تدابیر کیا ہیں...

وزن پر قابو: ماہرین کا کہنا ہے کہ گھٹنوں کے درد میں مبتلا افراد کے لیے صحت مند وزن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ زیادہ وزن ہونے سے جوڑوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے درد میں شدت آتی ہے۔

بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھیں:

متعدد مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جوڑوں کے انحطاط اور ذیابیطس دونوں میں مبتلا افراد کو شدید درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جب خون میں گلوکوز کی سطح زیادہ ہوتی ہے تو اضافی گلوکوز جسم میں پروٹین کے ساتھ مل کر ایڈوانس گلائکیشن اینڈ پروڈکس بناتا ہے۔ یہ مرکبات جوڑنے والے بافتوں میں سختی، لچک میں کمی اور سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان مرکبات کا جوڑوں کے ارد گرد کے ٹشوز میں جمع ہونا درد کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گھٹنوں کے درد اور ذیابیطس دونوں میں مبتلا افراد اوسطاً زیادہ شدید درد کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کمزور ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس جوڑوں کو خون کی فراہمی کم کرکے جوڑوں سے متعلق مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ نتیجتاً، معمولی چوٹوں سے بھی درد طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ خون میں گلوکوز کی بلند سطح اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس طرح درد کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ یہاں خطرہ یہ ہے کہ اس مسئلے کا اکثر پتہ نہیں چلتا جب تک کہ جوڑوں کو شدید نقصان نہ پہنچ جائے۔ میو کلینک نوٹ کرتا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد کو اوسٹیو ارتھرائٹس ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ورزش:

ماہرین باقاعدگی سے ورزش کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چہل قدمی اور تیراکی سے گھٹنوں کو مضبوط بنانے اور نقل و حرکت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ rush.edu کے مطابق گھٹنے کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کم اثر والی ایروبک مشقیں بہترین ہیں۔ ان میں فلیٹ سطحوں پر چلنا، بیضوی مشین کا استعمال، اسٹیشنری بائیک چلانا، تیراکی، اور واٹر ایروبکس شامل ہیں۔

سورج کی روشنی بہت ضروری ہے: ماہرین روزانہ کچھ وقت دھوپ میں گزارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر ضروری ہو تو، اپنے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹس لیں۔ یہ آپ کے جوڑوں کو مزید نقصان سے بچنے میں مدد کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ماہرین سوزش کو روکنے والی غذائیں جیسے مچھلی، تازہ پھل، سبزیاں، پتوں والی سبزیاں، گری دار میوے اور ہلدی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ انتہائی بہتر کاربوہائیڈریٹس، تلی ہوئی کھانوں اور ٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔









*🛑ٹرمپ کا پھر بڑا بیان: ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا امریکہ، بنایا جائے گا اقتصادی دباؤ*
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ نے مقامی وقت کے مطابق اتوار کو کہا کہ وہ اس وقت ایران کو کم اہم سمجھتے ہیں اور ان کا کسی فوجی حملے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ امریکی صدر نے یہ باتیں اتوار کو ایکسیوز (Axios) کو انٹرویو کے دوران کہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اب ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ اس نے ایران کے بارے میں زیادہ تحمل والا موقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال اور افراط زر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان کے ساتھ صرف آدھی ادھوری بات چیت میں مصروف ہیں۔ ہم صرف ایران کو اس کی زبردست مہنگائی (افراط زر) اور اس حقیقت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔

اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی اقتصادی حالت 'بہت خراب' ہے اور دعویٰ کیا کہ خلیج فارس کے اس ملک کے پاس اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی بحریہ (نیوی) کی ناکہ بندی نے ایرانی حکومت کی اقتصادی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے، جو 75 امریکی ڈالر فی بیرل سے تھوڑی ہی زیادہ ہیں، امریکی صارفین پر اس لڑائی کے اثرات کو کم کر دیا ہے۔ ایکسیوز (Axios) کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جاری حالات کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ "یہ کام کر جائے گا۔ یہ ہمیشہ کام کرتا ہے۔ یہ شطرنج کے کھیل جیسا ہے۔"

اب تہران نے رکھی نئی شرائط

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے آس پاس کی پیش رفت کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ برقرار ہے، جو دنیا بھر میں تیل کی شپنگ کا ایک اہم راستہ ہے۔ واضح رہے کہ ان کا یہ تبصرہ ایران، عمان اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مقصد سے رکی ہوئی بات چیت کے درمیان آیا ہے۔ تہران نے نئی شرائط رکھی ہیں، جن میں امریکی بحریہ کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے قریب تعینات امریکی فوج کو واپس بلانا شامل ہے۔

صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا لین دین: عراقچی

اس سے پہلے، امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق ضروری ہتھیاروں کی کمی کے خدشات کے درمیان امریکی دفاعی ٹھیکیداروں (Defense Contractors) سے ہتھیاروں کی پیداوار فوری طور پر بڑھانے اور ڈیلیوری میں تیزی لانے کو کہا تھا۔ ڈپٹی ڈیفنس سکریٹری اسٹیو فینبرگ نے بدھ کو انڈسٹری لیڈرز سے کہا کہ ان کے پاس ضروری صلاحیتوں کے لیے کافی تیز، زیادہ جارحانہ ڈیلیوری شیڈول یا زیادہ پیداوار کے منصوبے جمع کرانے کے لیے 21 دن تک کا وقت ہے۔ اسی دوران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران ابھی واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست بات چیت نہیں کر رہا ہے اور صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا لین دین کر رہا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

ہرمز کے گیٹ پر لگی آگ ، آئل ٹینکر جلا ، آسمان بھی خون سے سرخ
آبنائے ہرمز کے منہ پر حالات اچانک خراب ہو گئے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنی جنوبی بندرگاہ سرک سے ایک اینٹی شپ کروز میزائل داغا، جو عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر سے ٹکرا گیا۔ تصادم کے بعد، ٹینکر میں آگ لگ گئی، جس سے دھواں اور آگ کے شعلے سمندر میں پھیل گئے۔ واقعے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ کمزار ساحل کے قریب سمندر میں اٹھنے والے شعلے اتنے شدید تھے کہ دور دراز کے ساحلی علاقوں سے بھی آسمان نارنجی رنگ میں چمکنے لگا۔ مقامی لوگوں نے اس کی ویڈیو ریکارڈ کی۔

یو کے ایم ٹی او نے بھی وارننگ جاری کی
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشن ایجنسی UKMTO نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں خطرہ بدستور “سنگین” ہے۔ ایجنسی کے مطابق، IRGC، یا ایران کے پاسداران انقلاب، تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون نگرانی، بحری جہازوں کی ریڈیو انٹرسیپشن اور براہ راست حملے جاری ہیں۔ عمان کے جنوبی سمندری راستوں میں بھی پروجیکٹائل حملے اور قریب قریب دھماکے دیکھے گئے ہیں۔شپنگ پر براہ راست اثر
تیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق، جہاز کی نقل و حرکت ایک ہندسے تک گر گئی ہے، جس سے دنیا کے تیل کی سپلائی کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک عملی طور پر مفلوج ہو گیا ہے۔ مزید برآں، بارودی سرنگوں کے بہنے کے خطرے کی اطلاع دی گئی ہے، جو اس خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے۔

عمان کے قریب کیا ہوا
عمان کے جزیرہ نما مسندم کے علاقے کمزار کے قریب ایک بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ مقام آبنائے ہرمز کے داخلی مقام پر واقع ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی حساس چینل ہے۔ اطلاعات کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ سمندر کے اوپر کا آسمان نارنجی رنگ کی چمک سے جگمگا اٹھا۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے دور سے یہ منظر دیکھا اور ویڈیوز شیئر کیں۔

مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکہ ہے
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو بیرونی قوتوں کی ضرورت نہیں اور امریکہ سے سکیورٹی مانگنے کا خیال غلط ہے۔ بقائی کے مطابق امریکہ خود خطے میں عدم تحفظ کا سبب ہے اور اسرائیل کو بغیر کسی روک ٹوک کے جنگ چھیڑنے کی سہلوت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل کی سیاسی اور سیکورٹی دونوں سطحوں پر حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل ایسی فوجی کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ بقائی کے مطابق اس حمایت سے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا یا اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔









 ’’کچھ باتیں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی ہیں‘‘ دولت مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والی چانو نے شیئر کیا وزیراعظم مودی سے ملاقات کا خاص لمحہ
نئی دہلی: بھارت کی دولتِ مشترکہ کھیلوں 2026 کی طلائی تمغہ فاتح اور اولمپک تمغہ جیتنے والی ویٹ لفٹر میرابائی چانو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر دولتِ مشترکہ کھیلوں 2026 میں تمغے جیتنے والے بھارتی کھلاڑیوں کی میزبانی کی تھی۔ میرابائی چانو نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ باتیں صرف کہے گئے الفاظ کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے مفہوم اور جذبات کی وجہ سے ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔ چانو نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دل کی باتیں شیئر کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان کے سفر، ملک سے محبت اور ایک کھلاڑی کی حیثیت سے ان کے کردار کو سراہا، جس پر وہ خود کو خوش نصیب سمجھتی ہیں۔ گلاسگو میں چانو نے 48 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیت کر دولتِ مشترکہ کھیلوں میں اپنا تیسرا طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس سے قبل انہوں نے 2018 میں 48 کلوگرام اور 2022 کے برمنگھم دولتِ مشترکہ کھیلوں میں 49 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔’’پوڈیم پر کھڑی تھی تو آنسو خود نکل آئے‘‘

ویڈیو میں وزیر اعظم مودی نے چانو سے پوچھا کہ گلاسگو میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد ان کی آنکھوں میں آنسو کیوں آ گئے تھے۔ اس پر چانو نے بتایا کہ تمغہ جیتنے سے قبل انہیں مسلسل چوٹوں، خاندانی مسائل اور دیگر کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے پیرس اولمپکس میں صرف ایک کلوگرام کے فرق سے تمغہ نہ جیت پانے کا دکھ بھی ان کے ذہن میں موجود تھا۔ چانو نے کہا کہ گلاسگو میں پوڈیم پر کھڑے ہو کر جب بھارتی پرچم لہرایا گیا اور قومی ترانہ بجایا گیا تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو خود بخود نکل آئے۔

پیرس اولمپکس کا ایک کلو کا فرق آج بھی یاد ہے

میرابائی چانو نے کہا کہ ٹوکیو اولمپکس میں تمغہ حاصل کرنے سے ایک کلوگرام کی کمی سے محروم رہنے کے بعد ان کے لیے گزشتہ چار سال انتہائی مشکل رہے۔ اس دوران انہیں مسلسل چوٹوں اور خاندانی مسائل سمیت کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام مشکلات سے گزرنے کے بعد جب وہ گلاسگو میں پوڈیم پر کھڑی ہوئیں تو طلائی تمغہ جیتنے کی خوشی اور قومی پرچم کو بلند ہوتے دیکھنے کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ وہ جذباتی ہو گئیں۔ میرابائی چانو کے کیریئر میں اولمپکس کا چاندی کا تمغہ، عالمی چیمپئن شپ کے تین تمغے، جن میں 2017 کا طلائی تمغہ بھی شامل ہے اور ایشین چیمپئن شپ کا کانسے کا تمغہ شامل ہے۔ ان کا شمار بھارت کی عظیم ترین ویٹ لفٹرز میں ہوتا ہے۔ اب ایشین گیمز کا تمغہ ان کے شاندار تمغوں میں اہم اضافہ ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ بڑے کثیر کھیل مقابلوں میں تقریباً ہر اہم ایونٹ میں تمغہ جیت چکی ہیں۔

بھارت نے 39 تمغوں کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی

2026 کے دولتِ مشترکہ کھیل نسبتاً مختصر فارمیٹ میں منعقد کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں شوٹنگ، کشتی اور بیڈمنٹن جیسے بھارت کے لیے اہم تمغہ جیتنے والے کھیل شامل نہیں کیے گئے۔ اس کے باوجود بھارت نے گلاسگو دولتِ مشترکہ کھیلوں میں مجموعی طور پر 39 تمغے جیت کر تمغوں کی فہرست میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ ان میں 13 طلائی، 17 چاندی اور 9 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ گلاسگو 2026 کی اختتامی تقریب کے دوران دولتِ مشترکہ کھیلوں کا پرچم باضابطہ طور پر بھارت کے حوالے کیا گیا، جس کے ساتھ بھارت نے 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کی جانب باضابطہ سفر شروع کر دیا۔ 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیل احمدآباد میں منعقد کیے جائیں گے۔ یہ 2010 میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے بعد دولتِ مشترکہ کھیلوں کی بھارت میں واپسی ہوگی اور پہلی مرتبہ گجرات ان کھیلوں کی میزبانی کرے گا۔ نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت کا مقصد روایتی کھیلوں کو دوبارہ شامل کرنے کے ساتھ عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہے، تاکہ 2030 کے کھیلوں میں بھارت بڑی تعداد میں تمغے حاصل کر سکے۔










لوک سبھا میں اپوزیشن کے حملوں کا جواب دینے کے لئے تیارہوگئے وزیرداخلہ امت شاہ، کرن رجیجو نے اپوزیشن کو کردیا چیلنج
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی کارروائی میں مسلسل رکاوٹ آرہی ہے۔ فی الحال گزشتہ کئی دن مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ اب خبرہے کہ وزیرداخلہ لاٹھی چارج کے موضوع پرجواب دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ اب خبرہے کہ وزیرداخلہ لاٹھی چارج کے موضوع پرجواب دینے کوتیارہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ مانا جا رہا ہے کہ اسپیکرجلد ہی وزیرداخلہ کے جواب کا وقت طے کریں گے۔

پارلیمنٹ سیشن کے بارباررخنہ اندازی کرنے کے لئے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ پرنشانہ سادھتے ہوئے مرکزی وزیرکرن رجیجونے آج پیرکوکہا، ”حکومت کی طرف سے بہت ہی واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ طلبا کا احتجاج اوراس سے متعلق جوبھی چیزیں ہیں، اس پرحکومت تفصیل سے تبادلہ خیال کرنے کے لئے تیارہے۔“

بحث کے دوران آپ ہنگامہ نہیں کریں گے: کرن رجیجو

انہوں نے کہا، “میں اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ چونکہ حکومت طلبا کی تحریک پربات چیت کے لئے تیارہے، اس لئے آپ بحث کے دوران کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے اوروزیرداخلہ اورحکومت کے جوابات کومکمل طورپرپُرامن طریقے سے سنیں گے۔” کرن رجیجونے یہ بھی کہا کہ حکومت طلبا تحریک پربات چیت کے لئے تیارہے۔ تاہم کانگریس، سماج وادی پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان کچھ اختلافات ہیں۔ اس سے قبل، کانگریس کے قومی صدرملیکا ارجن کھڑگے نے آج پھر سے امت شاہ کے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ امت شاہ ایوان میں آئے اوروہ اپنی بات رکھیں۔ ہم 17 دنوں سے پوری کوشش کررہے ہیں کہ وہ ایوان میں آکرمیں بچوں کے ساتھ جونا انصافی ہوئی ہے، اس پربیان دیں۔‘‘

Saturday, 8 August 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑احمد رضا بریلوی کے 108ویں عرس رضوی کا شاندار آغاز، ملک اور دنیا بھر سے آتے ہیں زائرین*
بریلی(اتر پردیش): اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کے 108ویں عرس رضوی کا آغاز ہوگیا۔ تقریب کے ایک حصے کے طور پر، ایک نعتیہ مشاعرہ (ایک شعری سمپوزیم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں وقف ہے) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک اور بیرون ملک کے نامور شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔

اس موقع پر درگاہ اعلیٰ حضرت کے مہتمم حضرت مولانا سبحان رضا خان اور سجادہ نشین بدروشریہ مفتی احسن رضا قادری نے ملک اور بیرون ملک سے آئے ہوئے زائرین اور مریدین کے نام اہم پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام احمد رضا بریلوی کی پوری زندگی علم، عمل اور عقیدت کا ایک مثالی نمونہ ہے اور ان کی تعلیمات آج تک لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سنوار رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے علم، کردار اور معاشرے کے لیے لگن سے نئی مثال قائم کرنے والے ہی تاریخ میں امر ہوتے ہیں۔ امام احمد رضا نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام لوگوں تک پہنچایا اور اپنے علمی وظائف کے ذریعے امت مسلمہ کے اندر بیداری اور نظریاتی تبدیلی کی مضبوط بنیاد رکھی۔

انہوں نے کہا کہ صرف وہی لوگ تاریخ میں امر ہوتے ہیں جو اپنے علم، کردار اور معاشرے کے لیے لگن کے ذریعے نئی مثال قائم کرتے ہیں۔ درگاہ کے سربراہ اور سجادہ نشین نے تمام زائرین سے اپیل کی کہ وہ اسلام کی تعلیمات پر ثابت قدمی سے عمل کریں، روحانی احکامات کے درمیان باہمی اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط کریں اور ان احکامات کے بزرگوں کی قائم کردہ اخوت و ہم آہنگی کی روایات کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلک اہلسنت کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی ترقی، امن اور خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا کو ذمہ داری اور صحیح طریقے سے استعمال کریں۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ معاشرتی برائیوں سے خود کو دور رکھیں، اپنے عقیدے اور ملک کے ساتھ وفادار رہیں اور انسانیت، محبت اور بھلائی کے راستے پر چل کر معاشرے کی خدمت کریں۔

امام احمد رضا نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو عوام تک پہنچایا اور اپنے علمی وظائف کے ذریعے امت مسلمہ کے اندر بیداری اور نظریاتی تبدیلی کی مضبوط بنیاد رکھی۔











*🛑ہارٹ اٹیک کی ان مخصوص ابتدائی علامات کو نظر انداز نہ کریں*
حیدرآباد: آج کل ہر عمر اور جنس کے لوگ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ تاہم دل کا دورہ اچانک نہیں آتا؛ کچھ علامات گھنٹے، دن، یا یہاں تک کہ ہفتوں پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ ان علامات کو نظر انداز کرتے ہیں، انہیں محض تناؤ، تھکاوٹ، یا بدہضمی کے طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علامات کو بروقت پہچاننا زندگیوں کو بچا سکتا ہے۔ آئیے اب دل کا دورہ پڑنے سے پہلے ظاہر ہونے والی علامات کو دیکھتے ہیں۔

اگر آپ کو یہ علامات نظر آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں...

خون کا بہاؤ کم: ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے پہلے دل میں خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب کورونری شریانوں میں جمع کولیسٹرول کی تختیاں غیر مستحکم ہو جاتی ہیں۔ اگر یہ تختیاں پھٹ جائیں تو جسم ان کے ارد گرد خون کے لوتھڑے بن جاتا ہے۔ یہ شریان کو مزید تنگ کرتے ہیں، جس سے دل کے پٹھوں کو آکسیجن کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بار بار سینے میں درد: کلیولینڈ کلینک کے مطابق، دل کا دورہ پڑنے سے پہلے سینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ، جکڑن، یا سینے کے بیچ میں ہلکی جلن کے احساس کے طور پر ظاہر ہو سکتا ہے۔ یہ تکلیف چند منٹوں تک رہتی ہے، کم ہو جاتی ہے اور پھر دوبارہ ہو جاتی ہے۔ لہذا، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ان علامات کو نظر انداز نہ کریں.

غیر واضح تھکاوٹ: ماہرین کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ محسوس کرنا ہارٹ اٹیک سے پہلے کی ایک عام علامت ہے۔ وہ نوٹ کرتے ہیں کہ کافی آرام کرنے کے بعد بھی یہ تھکن برقرار رہ سکتی ہے۔ سادہ سرگرمیاں، جیسے گھومنا پھرنا، سیڑھیاں چڑھنا، یا بیگ اٹھانا ،

معمول سے زیادہ مشکل محسوس کر سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ خواتین میں یہ علامت زیادہ پائی جاتی ہے۔

سانس کی قلت: ماہرین بتاتے ہیں کہ دل میں خون کا بہاؤ کم ہونا پورے جسم میں آکسیجن کی سپلائی میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ یہ روزانہ کی معمول کی سرگرمیوں کے دوران بھی سانس لینے میں دشواری کا سبب بن سکتا ہے۔ وہ نوٹ کرتے ہیں کہ کچھ افراد کو تھوڑے فاصلے پر چلنے یا چند قدموں پر چڑھنے کے بعد سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جسم کے دوسرے حصوں میں درد:

دل کا دورہ پڑنے سے پہلے آپ کو سینے کے علاوہ جسم کے دیگر حصوں میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ میو کلینک کے مطابق کندھوں، بازوؤں، کمر، گردن، جبڑے، دانت یا پیٹ کے اوپری حصے میں درد یا تکلیف ہو سکتی ہے۔ بہت سے لوگ ان علامات کو پٹھوں میں درد، گردن میں درد، یا گیس سے متعلق مسائل کے لیے غلطی کرتے ہیں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پسینہ آنا، متلی، چکر آنا، یا بے ہوشی جیسی علامات بھی ابتدائی انتباہی علامات ہیں۔ اگر یہ علامات پانی کی کمی، بدہضمی، یا سانس لینے میں دشواری کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی ہیں تو وہ فوری طبی امداد حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ایک عام احساس کہ کچھ غلط ہے: ماہرین نوٹ کرتے ہیں کہ کچھ لوگ اکثر ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے ان کے جسم میں کچھ غلط ہے۔ وہ بے چینی یا پریشانی کے اس مبہم احساس کو نظر انداز کرنے کے خلاف تنبیہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر، وہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، یا ہائی کولیسٹرول والے افراد کو اضافی احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ڈاکٹر سے کب مشورہ کریں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سینے میں جکڑن، پسینہ آنا، بازوؤں میں درد اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات پانچ منٹ سے زیادہ برقرار رہیں تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے جان لیوا حالات کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

(ڈسکلیمر: یہاں فراہم کی گئی تمام صحت سے متعلق معلومات اور مشورے عام فہم کے لیے ہیں۔ یہ معلومات سائنسی تحقیق، مطالعات اور طبی اور صحت کے ماہرین کے مشورے پر مبنی ہیں۔ بہتر ہے کہ ان ہدایات پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔)













*🛑کیا ڈیزل میں ایتھنول کی ملاوٹ کا منصوبہ ہے؟ کیا امریکہ سے درآمد ہوگا ایتھنول؟ حکومت نے دیا جواب*
نئی دہلی: حکومت ہند نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی معاہدے بات چیت کے دوران ایندھن کی ملاوٹ کے لیے امریکی ایتھنول کی درآمد کے حوالے سے کوئی وعدہ یا رعایت نہیں کی گئی ہے۔ ایک سرکاری بیان میں، تجارت اور صنعت کی وزارت نے میڈیا رپورٹس اور دعووں کو بیان کیا ہے جن میں امریکی ایتھنول کی بڑے پیمانے پر درآمدات کی تجویز کو مکمل طور پر "بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی" قرار دیا گیا ہے۔

خریداری صرف گھریلو پالیسی پر عمل کرنے کے لیے

وزارت نے واضح کیا کہ ہندوستان کا ایندھن کی ملاوٹ کا پروگرام اور ایتھنول کی خریداری پوری طرح سے گھریلو پالیسی کی ضروریات کے مطابق ہے۔ ہندوستان کے 'ایتھنول بلینڈڈ پیٹرول' (EBP) پروگرام کے تحت استعمال ہونے والا تمام ایتھنول خصوصی طور پر گھریلو پروڈیوسروں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ فی الحال، ایندھن کی ملاوٹ کے مقاصد کے لیے امریکہ سے کوئی ایتھنول درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے کہا کہ امریکہ سے فیول گریڈ ایتھنول کی بڑے پیمانے پر درآمدات کی اجازت دینے کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی کوئی بھی تجویز گمراہ کن ہے۔

اپوزیشن کے دعوؤں پر حکومت کا جواب

یہ سرکاری وضاحت عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کے الزامات کے بعد آئی ہے۔ کیجریوال نے دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی حکومت ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) میں ایتھنول کو ملانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ کیجریوال نے عوام سے فی الحال نئی پٹرول اور ڈیزل گاڑیاں خریدنے سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔ حکومت کے بیان میں ان دعوؤں کی دوٹوک تردید کی گئی ہے۔ فی الحال، ای 20 ایندھن (80 فیصد پیٹرول اور 20 فیصد ایتھنول) کا استعمال ہندوستان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس سے خوردہ ایندھن کی مارکیٹ بدل رہی ہے۔

بھارت-امریکہ تجارتی مذاکرات کی صورتحال

ہندوستان اور امریکہ اس سال مارچ سے ایک بڑے تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اب تک دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے آٹھ دور مکمل ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل فروری میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کے لیے فریم ورک کو حتمی شکل دی تھی۔ حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے باوجود ملک کے گھریلو کسانوں اور ایتھنول پیدا کرنے والوں کے مفادات سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑حکومت اور طلبا کے درمیان بات چیت بے نتیجہ، جاری رہے گا احتجاج*
رانچی کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں حکومت اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں کے درمیان ہفتہ کو ہوئی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ طلبہ اپنی مانگوں پر قائم ہیں، جس کے باعث جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں اصلاحات اور شفافیت کے مطالبے کو لے کر احتجاج جاری رہے گا۔ رانچی: جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانی نظام میں اصلاحات، شفافیت اور دیگر مطالبات کو لے کر طلبہ کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔

ہفتہ، 8 اگست کومورہ آبادی واقع اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے نمائندہ وفد اورجے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امیدوارنیائے منچ (دیویندرناتھ مہتوگروپ) کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی، لیکن اس دوران کسی ٹھوس حل پراتفاق نہیں ہوسکا۔ بات چیت کے بے نتیجہ رہنے کے بعد طلبہ نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبا جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں اپنے مطالبات سے متعلق مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جے ایل کے ایم کی جانب سے جاری احتجاج بھی جاری رہے گا۔

دور دراز کے طلبہ ای میل کے ذریعے بھیج سکیں گے شکایات

اس دوران حکومت کی جانب سے ایک ای میل ایڈریس Jpsc.jssc.feedback@gmail.com بھی جاری کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جو طلبہ دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں اور رانچی نہیں پہنچ سکتے، وہ اپنی شکایات اور تجاویز اس ای میل کے ذریعے حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بات چیت میں وزیر دیپیکا پانڈے سنگھ، سدیویہ کمار سونو اور سنجے کمار یادو شامل ہوئے۔ وہیں طلبہ کی جانب سے دین بندھو منڈل، پوجا کماری، چندن کمار، بمل کمار، پریم کمار، روی شنکر، امیت کمار شرما اور رام اوتار مہتو نے نمائندگی کی۔

دیویندر ناتھ مہتو 6 دن سے بھوک ہڑتال پر

اس سے قبل جمعہ کو بھی حکومت کے نمائندہ وفد نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے دوسرے گروپ کے نمائندوں سے بات چیت کی تھی، لیکن اس ملاقات میں بھی کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکا تھا۔ ہفتہ کو ایک بار پھر بات چیت ہوئی، تاہم اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اگرچہ حکومت اور طلبہ کے درمیان بات چیت کے تمام راستے اب بھی کھلے ہوئے ہیں، لیکن طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ طلبہ کی حمایت میں جے ایل کے ایم لیڈر دیویندر ناتھ مہتو گزشتہ 6 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

کیا ہیں طلبا کے مطالبات؟

طلبہ جے پی ایس سی اورجے ایس ایس سی کے امتحانی نظام میں اصلاحات اورمکمل شفافیت سمیت کئی مطالبات کررہے ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ 14ویں جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات صرف سی آئی ڈی سے نہیں بلکہ سی بی آئی اورانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے بھی کرائی جانی چاہئے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سی آئی ڈی کی تحقیقات پراعتماد نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے اورمبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ کیس کو تیز کرنے کے لیے ایک خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت بنائی جائے، مقررہ مدت میں سماعت مکمل کرکے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ٹی ڈی پی ایل کے ذریعہ منعقد ہونے والے امتحانات کو منسوخ کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متنازعہ ایجنسی TSR ڈیٹا پروسیسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے منعقد کیے جانے والے تمام امتحانات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ TDPL کو بلیک لسٹ کیا جانا چاہیے، اور مستقبل کے تمام مسابقتی امتحانات شفاف اور قابل اعتماد کمپنیوں کے ذریعے کرائے جائیں۔ مزید برآں، طلباء مطالبہ کرتے ہیں کہ بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے تمام JPSC-JSSC عہدیداروں کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے اور ان کی جگہ صاف ستھری شہرت والے عہدیداروں کو تعینات کیا جائے۔










*🛑پاکستان کےلوگ ہندوستان کے لوگوں کے دشمن نہیں ، آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا بیان ، بولے مستقل دشمنی کوئی حل نہیں*
ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کی بات آتے ہی عام طور پر کشیدگی، سرحدی تنازعات اور دشمنی کی تصویر سامنے آتی ہے۔ تاہم، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت کا ایک بیان خبروں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام دل سے بھارتیوں کے دشمن نہیں ہیں اور مستقل نفرت یا دشمنی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ممبئی میں انڈین انٹرنیشنل موومنٹ ٹو یونائیٹڈ نیشنز (IIMUN) کے 15 ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، بھاگوت نے تنازعات کے بارے میں ہندوستان کے نقطہ نظر کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا پیغام سیدھا تھا: تنازعات کے دوران حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے، لیکن تنازع ختم ہونے کے بعد مستقل طور پر تعلقات منقطع کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کا نقطہ نظر کبھی کسی کو فتح کرنے یا مٹانے کا نہیں رہا۔ ہندوستانی حل بات چیت، رابطہ کاری اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے ۔ انہوں نے پاک بھارت تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور بین الاقوامی سرحدوں کی اپنی جگہ ہے۔ جب کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو کسی ملک کو اپنی حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں طرف کے لوگوں کے درمیان مستقل دشمنی ہو۔ بھاگوت کے اس بیان کو ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے ایک جامع نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔موہن بھاگوت نے پاک بھارت تعلقات پر کیا کہا؟
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ تنازعہ کے دوران حکومت جو بھی قدم اٹھاتی ہے اس کی حمایت کی جانی چاہئے۔ لیکن یہ موجودہ تعلقات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کرنا چاہئے. انہوں نے مزید کہا کہ چین کے لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ ہندوستان نے انہیں تقریباً 2000 سالوں سے کچھ قدریں دی ہیں۔ دریں اثناء پاکستان کی بھارت سے علیحدگی کے 100 سال بھی مکمل نہیں ہوئے۔

بھاگوت نے کہا کہ تنازعہ کے دوران تعلقات میں خلل پڑ سکتا ہے۔ بات چیت بند ہو سکتی ہے لیکن انہیں مستقل طور پر منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تنازعہ حل ہونے کے بعد تعلقات وہیں سے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں جہاں سے رکی تھی۔

’دائمی نفرت اور دشمنی مسائل کا حل نہیں‘
موہن بھاگوت نے واضح طور پر کہا کہ مستقل نفرت اور دشمنی حل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ تصادم کے بعد بھی دونوں فریقوں کو آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بھارت کا راستہ ایک دوسرے کو تباہ کرنے کا نہیں بلکہ بات چیت اور ہم آہنگی کے ذریعے آگے بڑھنا ہے۔









*🛑ایران جنگ پر مسعود پزشکیان کا بڑا بیان- ’’ہم نے شروع نہیں کیا، 48 گھنٹے میں…‘‘*
 ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے امریکہ اوراسرائیل پرجنگ شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق، مخالفین نے فوجی دباؤکے ذریعہ ایران کوکمزورکرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے ایران، اسرائیل اورامریکہ کے درمیان جاری طویل تنازع پربڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تھا اورتنازعہ کوبات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن حالات بتدریج جنگ کی طرف بڑھتے چلے گئے۔

مسعود پزشکیان نے جمعہ، 7 اگست کوایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پرنشرہونے والے ایک انٹرویومیں کہا کہ ان کے مخالفین کوامید تھی کہ فوجی دباؤاورملک کے اندرپیدا ہونے والے حالات کے باعث ایران بکھرجائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ایران آج بھی ایک مضبوط ملک کے طورپرکھڑا ہے اورمستقبل میں مزید مضبوط ہوکرابھرے گا۔

48 گھنٹے میں ایران پر قبضے کا منصوبہ تھا

ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخالفین نے شام کی طرزپر48 گھنٹے کے اندرایران پرقبضہ کرنے کا مکمل منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم ایران نے اپنی طاقت اورصلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کوناکام بنا دیا۔ پزشکیان کے مطابق موجودہ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ ایران کواتنی آسانی سے کمزوریا غیرمستحکم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے راستے پرمضبوطی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔

مسلم ممالک سے متحد ہونے کی اپیل

ایرانی صدرنے مسلم ممالک سے متحد ہونے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلمان متحد ہوتے ہیں تووہ بیرونی طاقتوں کی سازشوں اورچیلنجزکا زیادہ مضبوطی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ مسعود پزشکیان نے ایران کے نئے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اب ان سے بات چیت کرنا کافی مشکل ہے، تاہم ان کی موجودگی ایران کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈربننے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر بہت کم نظرآئے ہیں۔ ان کی کم موجودگی کی وجہ سکیورٹی اور صحت سے متعلق وجوہات بتائی جاتی رہی ہیں۔

علی خامنہ ای کی موت کے بعد مجتبیٰ بنے سپریم لیڈر

امریکہ اوراسرائیل کے ایران پرحملوں کے دوران اس وقت کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کوایران کا سپریم لیڈرمقررکیا گیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے عوامی سطح پر کم نظرآنے کے حوالے سے سکیورٹی سے متعلق سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔ پزشکیان نے اسی تناظرمیں ان کی موجودگی کوایران کے لیے اہم قراردیا۔ پزشکیان نے امریکہ اوراسرائیل پربراہ راست جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن دوسری جانب سے مسلسل کشیدگی بڑھائی جا رہی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تھا، لیکن حالات ایسے بنتے چلے گئے کہ تنازع ایک بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ ٹرمپ نے بھی جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہرکی تھی۔

 دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اگست کو کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ امریکی فوج کوبعض ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ پزشکیان کا یہ تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی برقرارہے۔ ایرانی صدرنے اپنے بیان کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ فوجی دباؤاورمختلف چیلنجزکے باوجود ایران پیچھے ہٹنے کے بجائے خود کومزید مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

Monday, 27 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑کیرالہ میں امیبک میننگوئنسفلائٹس نے 41 لوگوں کی لی جان، نظر آئیں یہ علامات تو ڈاکٹر سے فوری کریں رجوع*
کوزی کوڈ (کیرالہ): کیرالہ کے کوزی کوڈ میڈیکل کالج اسپتال میں امیبک میننگو انسیفلائٹس کا علاج کروا رہے ایک 49 سالہ شخص کا پیر کی صبح انتقال ہوگیا۔ متوفی جس کی شناخت بیجو کے طور پر کی گئی تھی، کوئی لینڈی نادری کے تھیٹککنو سے23 جولائی کو انفیکشن کے مثبت ٹیسٹ کے بعد انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا گیا تھا۔

بیجو کولم شہر میں آٹورکشہ ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا۔ ان کے پسماندگان میں ان کے والدین بھاسکرن اور ولاسنی، بیوی رامیا، اور بچے ادویت اور ابھیرام ہیں۔

نادری کے 21 ویں وارڈ میں انفیکشن کی اطلاع ملی۔ ابتدائی تحقیقات میں بیجو کے اپنے گھر سے نہانے یا عوامی آبی ذخائر میں تیرنے کی کوئی بات سامنے نہیں آئی، جو امیبا کے معمول کے ذرائع ہیں۔ محکمہ صحت ان کے انفیکشن کے آس پاس کے حالات کی تفصیلی جانچ کر رہا ہے۔ اس کے تحت ان کی رہائش گاہ اور قریبی علاقوں کے کنوؤں سے پانی کے نمونے جانچ کے لیے جمع کیے گئے ہیں۔ کوزی کوڈ کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ایل ٹی سریتھا کماری نے بتایا کہ کنویں کے پانی سے انفیکشن ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے، اور جمع کیے گئے نمونوں کا فی الحال جامع تجزیہ جاری ہے۔

موت کے بعد محکمہ صحت نے خوف و ہراس سے بچنے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے علاقے میں حفاظتی اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔ حکام نے نادری اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پینے کے پانی کے تمام ذرائع کی کلورینیشن مکمل کر لی ہے۔ مقامی باشندوں میں امیبک مینینجوئنسفلائٹس اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے کی اہمیت کے حوالے سے وسیع بیداری مہم چلائی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت نے آلودہ پانی میں غوطہ لگانے یا نہانے کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے اور پینے کے پانی کے ذرائع کی باقاعدگی سے کلورینیشن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ریاستی محکمہ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کیرالہ میں جنوری اور جولائی 2026 کے درمیان امیبک میننگوئنسفلائٹس کے 155 تصدیق شدہ کیسز اور 41 متعلقہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ امیبک میننگوئنسفلائٹس کی عام علامات میں شدید سر درد، بخار، متلی، الٹی، گردن کی اکڑن اور روشنی کی حساسیت شامل ہیں۔ بچوں میں، انفیکشن کھانے میں ہچکچاہٹ، سستی، اور غیر معمولی ردعمل کے طور پر ظاہر ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے بیماری ایک نازک مرحلے کی طرف بڑھتی ہے، مریضوں کو دورے پڑ سکتے ہیں، ہوش میں کمی، یادداشت کی کمزوری، اور سونگھنے کی حس ختم ہو سکتی ہے۔

یہ بیماری بنیادی طور پر نائگلیریا فاؤلیری اور اکانتھامیبا کی نسل سے تعلق رکھنے والے امیبی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ خوردبینی جاندار ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں اور بعد ازاں دماغ پر حملہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مہلک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کسی بھی علامات کو محسوس کرنے پر فوری علاج کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور ٹھہرے ہوئے پانی کے کسی بھی حالیہ نمائش کے بارے میں ڈاکٹر کو مطلع کرتے ہیں۔ ریاست میں پہلے بھی اسی طرح کی اموات کی اطلاع کے ساتھ، محکمہ صحت ہائی الرٹ پر ہے۔ سب سے مؤثر حفاظتی اقدام ایسے حالات سے بچنا ہے جہاں پانی ناک میں داخل ہو سکتا ہے اور حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے میں منتقل نہیں ہوتی۔









*🛑کڈنی فیل ہونے سے پہلے جسم میں ظاہر ہوتی ہیں یہ سنگین علامات، ان کو نظر انداز کرنا ہو سکتا ہے مہلک*
حیدرآباد، تلنگانہ: گردے (یعنی کڈنی) خون سے فضلہ نکالنے اور جسم میں سیال کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے گردے آپ کے جسم کا قدرتی فلٹریشن سسٹم ہیں۔ ہر روز، وہ تقریباً 200 لیٹر خون کو فلٹر کرتے ہیں، زہریلے مادوں، فضلہ کی مصنوعات اور اضافی سیالوں کو نکالتے ہیں، جو پھر پیشاب کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔ ان کے فلٹریشن فنکشن کے علاوہ، گردے الیکٹرولائٹس کو منظم کرنے، بلڈ پریشر کو منظم کرنے اور مضبوط ہڈیوں کے لیے وٹامن ڈی کو فعال کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

گردے مختلف بیماریوں سے متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں گردے کی دائمی بیماری (کرونک کڈنی ڈیسیز CKD) گردے کی پتھری، انفیکشن اور ہائی بلڈ پریشر شامل ہیں۔ مناسب دیکھ بھال کے بغیر، یہ مسائل بگاڑ سکتے ہیں اور گردے کی خرابی کا باعث بن سکتے ہیں، جس میں ڈائیلاسز یا ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ حالات جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم، گردے کے مسائل کا جلد پتہ لگانے سے ایسے مہلک نتائج کو روکا جا سکتا ہے۔ آئیے اس مضمون میں گردے کی بیماری کی انتباہی علامات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
گردے کی بیماری ایک خاموش قاتل

گردے کی بیماری کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گردے کی دائمی بیماری (طویل مدتی گردے کی بیماری) بغیر کسی واضح انتباہی علامات کے گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ چونکہ ابتدائی علامات اکثر ہلکی ہوتی ہیں، بہت سے لوگ اس بیماری سے لاعلم رہتے ہیں جب تک کہ یہ شدید نہ ہو جائے اور اسے ڈائیلاسز یا گردے کی پیوند کاری کی ضرورت ہو۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور طرز زندگی سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے گردے کی بیماری کا عالمی بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا، جلد پتہ لگانا بہت ضروری ہے اور ماہرین باقاعدگی سے اسکریننگ ٹیسٹ کی سفارش کرتے ہیں۔یہ ہیں گردے کی بیماری کی انتباہی علامات...

رات کو بار بار پیشاب کرنا: مشہور ویب سائٹ این ایچ ایس، یو کے (NHS.uk) کثرت سے پیشاب کو گردے کی بیماری کی ابتدائی علامات میں سے ایک کے طور پر شناخت کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشاب کرنے کے لیے رات کو کثرت سے اٹھنا اس کیفیت کی علامت ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب گردوں میں فلٹر خراب ہو جاتے ہیں تو پیشاب کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر، ایک شخص کو رات کو پیشاب کرنے کے لیے کثرت سے اٹھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔پیروں یا ٹانگوں میں سوجن: کلیولینڈ کلینک کا کہنا ہے کہ ہاتھوں، ٹخنوں یا چہرے کے گرد سوجن گردے کی خرابی کی علامت ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جب گردے صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے تو وہ اضافی سوڈیم اور پانی کو فلٹر نہیں کر پاتے جس سے جسم میں سیال جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاؤں یا ٹانگوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر، اگر نیچے کی ٹانگیں معمول سے زیادہ تنگ محسوس ہوتی ہیں (خاص طور پر جہاں جوتے یا موزے پہنے جاتے ہیں) تو یہ گردے کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔پیشاب میں خون: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پیشاب میں خون گردوں کے خراب ہونے کی سنگین علامت ہے۔ پیشاب میں خون پیشاب کی نالی کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ گردے کی پتھری، انفیکشن یا گردے کی سنگین بیماری کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اگر آپ کو گلابی، سرخ یا بھورا پیشاب نظر آتا ہے یا خون کے جمے ٹکڑے نظر آتے ہیں، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ پیشاب میں خون گردے کی بیماری کی سب سے زیادہ تشویشناک انتباہی علامات میں سے ایک ہے۔

جھاگ دار پیشاب: جھاگ دار پیشاب ایک ایسی حالت ہے جسے پروٹینوریا کہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب گردے پروٹین کو صحیح طریقے سے فلٹر کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، البومین جیسے پروٹین پیشاب میں لیک ہوتے ہیں، جس سے زیادہ جھاگ پیدا ہوتا ہے۔

سانس لینے میں دشواری: ماہرین کا کہنا ہے کہ گردے کی بیماری پھیپھڑوں میں سیال جمع ہونے کا باعث بنتی ہے جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ گردے کی بیماری کے اعلیٰ درجے کے مراحل میں زیادہ عام ہے، لیکن یہ ابتدائی مراحل میں کچھ لوگوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ میو کلینک کا کہنا ہے کہ اگر جسم فضلہ اور اضافی سیال کو فلٹر نہیں کر سکتا تو وہ پھیپھڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں، جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر آرام کرتے ہوئے یا لیٹتے وقت، تو ایسی حالت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے۔

مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری: تھکاوٹ صحت کے بہت سے مسائل کی ایک عام علامت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب گردے صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے ہیں تو جسم میں ضرورت سے زیادہ فضلہ اور زہریلے مادے جمع ہو جاتے ہیں جس سے توانائی کی کمی اور تھکاوٹ ہوتی ہے۔ اگر آپ کافی آرام کرنے کے بعد بھی مسلسل تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ کے گردے فضلہ کو ٹھیک طرح سے فلٹر نہیں کر رہے ہیں۔

(اعلان دستبرداری نوٹ: یہاں فراہم کردہ صحت سے متعلق معلومات اور تجاویز صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ ہم یہ معلومات سائنسی تحقیق، مطالعات اور طبی اور صحت کے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر فراہم کر رہے ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ذاتی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔)









*🛑کامن ویلتھ گیمز 2026: ویٹ لفٹنگ میں راجا متھوپانڈی نے بھارت کو دلایا سلور، شاندار کارکردگی جاری*
گلاسگو (اسکاٹ لینڈ): کامن ویلتھ گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے بہار کے جھنڈو کمار نے پاور لفٹنگ میں کانسے کا میڈل جیتا، اس کے بعد میرابائی چانو نے گولڈ اور ریشیکانتا سنگھ نے سلور میڈل اپنے نام کیے۔ تازہ ترین جانکاری کے مطابق، اب راجا متھوپانڈی نے سلور میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔

واضح رہے کہ راجا متھوپانڈی نے اتوار (مقامی وقت) کو کامن ویلتھ گیمز 2026 میں مردوں کے 65 کلوگرام ویٹ لفٹنگ ایونٹ میں سلور میڈل جیتا۔ اس سے ملک کو دن کا تیسرا میڈل ملا اور بھارتی ویٹ لفٹنگ ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری رہی۔ 26 سالہ کھلاڑی نے مجموعی طور پر 286 کلوگرام وزن اٹھایا، جس میں انہوں نے اسنیچ میں 126 کلوگرام اور کلین اینڈ جرک میں 160 کلوگرام وزن اٹھا کر دوسرا مقام حاصل کیا۔

ملائیشیا کے ازنیل بن بدین محمد نے کامن ویلتھ گیمز کے ریکارڈ مجموعی 299 کلوگرام وزن کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا، اور گولڈ کوسٹ سال 2018 اور برمنگھم سال 2022 میں جیت کے بعد مسلسل تیسرا کامن ویلتھ گیمز ٹائٹل اپنے نام کیا۔ راجا نے اپنی مہم کا آغاز شاندار انداز میں کیا اور اپنی دوسری کوشش میں اسنیچ میں 126 کلوگرام کی بہترین لفٹ ریکارڈ کی۔ اس کے بعد انہوں نے کلین اینڈ جرک میں بھی اپنی دوسری کوشش میں 160 کلوگرام کا وزن کامیابی سے اٹھایا، اور مجموعی طور پر 286 کلوگرام کے ساتھ گلاسگو میں بھارت کے لیے نیا میڈل جیتا۔

راجا کی شاندار واپسی

سلور میڈل جیتنا راجا کے لیے ایک شاندار واپسی تھی، جن کا کریئر سال 2019 میں کہنی میں شدید چوٹ کے باعث تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے ان کی صحت یابی کے عمل میں مزید رکاوٹیں آئیں، جب کہ جیریمی لالرینونگا کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی زیادہ ویٹ کیٹیگری میں تبدیلیاں ہوئیں، جس کی وجہ سے راجا برمنگھم سلا 2022 کامن ویلتھ گیمز کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ 65 کلوگرام کیٹیگری شروع ہونے کے بعد انہوں نے نیشنل سیٹ اپ میں واپسی کی اور انٹرنیشنل لیول پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس میں سال 2025 ورلڈ چیمپئن شپ میں 299 کلوگرام کے پرسنل بیسٹ ٹوٹل کے ساتھ نواں نمبر حاصل کرنا بھی شامل ہے۔

اتوار کے روز ویٹ لفٹنگ میں بھارت کی جیت کے کھاتے میں سلور میڈل کے اضافے سے قبل، اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے خواتین کی 48 کلوگرام کیٹیگری میں کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا، جبکہ چنبم ریشیکانتا سنگھ نے مردوں کے 60 کلوگرام ایونٹ میں سلور میڈل اپنے نام کیا۔ راجا کے پوڈیم (کامیابی کے اسٹیج) پر آنے کے ساتھ ہی بھارت کو دن کا تیسرا میڈل ملا، اور یہ تمام میڈلز ویٹ لفٹنگ سے آئے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی کامن ویلتھ گیمز مہم میں اس کھیل کا مسلسل اہم تعاون رہا ہے۔

دوسری طرف، بھارت کی باکسنگ مہم کو ان کھیلوں میں پہلا دھچکا اس وقت لگا جب آدتیہ پرتاپ یادو مردوں کے مقابلے سے باہر ہو گئے۔ بھارتی باکسر اپنا پری کوارٹر فائنل مقابلہ یوگنڈا کے نوہو بٹے سے 3-2 کے قریبی فرق سے ہار گئے، جو گلاسگو 2026 میں بھارت کی باکسنگ میں پہلی ہار تھی۔

والدین کو میڈل وقف کیا

ویٹ لفٹر راجا متھوپانڈی نے اپنا کامن ویلتھ گیمز 2026 کا سلور میڈل اپنے والدین اور کوچ وجے شرما کے نام کیا، ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ گلاسگو میں مردوں کے 65 کلوگرام ایونٹ میں گولڈ میڈل سے محروم ہونے پر وہ مایوس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں یقیناً مایوس ہوں کیونکہ میرے کوچ نے مجھ پر بھروسہ کیا تھا، یہ مانتے ہوئے کہ ہم گولڈ جیتنے کے لیے پوری کوشش کریں گے۔ تاہم، میں نے (امید کے مطابق) پرفارم نہیں کیا۔ میں یہ جیت اپنے والدین اور اپنے کوچ وجے شرما کو وقف کرتا ہوں۔ میں یہاں سیکھی گئی باتوں پر توجہ دوں گا اور اپنی ٹریننگ پر دھیان دوں گا۔ میں اپنے کوچ کی ہدایات کے مطابق ٹریننگ کروں گا اور آگے مزید سخت محنت کروں گا۔"

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم* ...