سوشل میڈیا پر تاریخ کے انوکھے قصے اکثر وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک شخص نے 1947 کی تقسیم کا ایک نایاب 1 روپے کا نوٹ شیئر کیا ہے، جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ اس نوٹ پر دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان کا ذکر ہے۔ شخص نے ویڈیو میں بتایا کہ تقسیم کے وقت پاکستان کو ادائیگی کرنے کے لیے ایسے ہی نوٹ استعمال کیے گئے تھے۔ اس نوٹ کی کہانی کافی دلچسپ ہے۔ نوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر ایک طرف “Government of India” اور دوسری طرف “Government of Pakistan” چھپا ہوا ہے۔ کچھ نوٹوں پر انگریزی کے ساتھ اردو میں “حکومتِ پاکستان” بھی درج تھا۔ یہ نوٹ اصل میں برٹش انڈیا کے زمانے کے تھے، جن پر بعد میں پاکستان کے لیے اوور پرنٹ کیا گیا۔
آزادی سے پہلے ایسے نوٹ چلتے تھےمیں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی چیزیں مشترک تھیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) دسمبر 1948 تک دونوں ممالک کے لیے مرکزی بینک کا کردار ادا کر رہا تھا۔ پاکستان کو اپنی الگ کرنسی شروع کرنے میں وقت لگا، اس لیے ابتدائی دنوں میں ہندوستانی روپے کے نوٹوں پر “Government of Pakistan” چھاپ کر استعمال کیا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین اس نوٹ کو دیکھ کر مختلف طرح کے کمنٹس کر رہے ہیں۔ ’’تقسیم کے وقت بھی ایک نوٹ پر دونوں ملک”، “ایک سال بعد یہ نوٹ ردی ہو گئے”، “تاریخ کتنی دلچسپ ہے”۔ بہت سے لوگ اسے شیئر کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ یہ نوٹ تقسیم کے اس ہنگامہ خیز دور کو یاد دلاتا ہے جب سرحدیں بن گئیں لیکن کرنسی ایک تھی۔تاریخی حقائق کے مطابق، پاکستان نے تقریباً ایک سال تک ہندوستانی کرنسی استعمال کی تھی۔ اپریل 1948 سے خصوصی نوٹ جاری کیے گئے، جو صرف پاکستان میں ہی قابلِ قبول تھے۔ یہ نوٹ ہندوستان میں کیش نہیں کیے جا سکتے تھے۔ 1، 2، 5، 10 اور 100 روپے کے نوٹ اس طرح جاری کیے گئے۔ بعد میں پاکستان نے اپنی الگ کرنسی جاری کر دی۔
انتہائی نایاب ہے یہ نوٹ
اس نوٹ کو دیکھ کر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ نوٹ اب بھی کلیکٹرز کے پاس موجود ہیں اور ان کی قیمت کتنی ہے؟ نوٹ کلیکٹرز کے مطابق ایسے نایاب اوور پرنٹ شدہ نوٹ کی قیمت ہزاروں میں ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر اس کی حالت اچھی ہو۔ یہ ویڈیو اور تصاویر دیکھ کر پرانے زمانے کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔ تقسیم کے دوران جائیداد، اثاثوں اور کرنسی کی تقسیم پر دونوں ممالک کے درمیان کافی بحث اور اختلاف ہوا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے سونے چاندی کے ذخائر کی تقسیم بھی تقریباً 70:30 یا 50:50 کے قریب طے ہوئی تھی۔آج جب ہم 1947 کے اس دور کو دیکھتے ہیں تو ایسے نوٹ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک ہی کرنسی، ایک ہی بینک اور کئی مشترک چیزوں کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ سب کچھ الگ ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کو لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔
بنگلہ دیش اور چین میں بڑھ رہی ہے قربت ۔ تیستا ریور پروجکٹ میں چین کی شمولیت ۔ بھارت کے اسٹریٹجک خدشات میں اضافہBangladesh Invites China Into Teesta Project
بنگلہ دیش کا تیستا منصوبے کیلئے چین سے تعاون، بھارت میں نئے اسٹریٹجک خدشات
بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے تیستا ریور کمپری ہینسو مینجمنٹ اینڈ ریسٹوریشن پروجیکٹ (TRCMRP) میں چین کی شمولیت کیلئے باضابطہ طور پر درخواست کردی ہے، جس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نئی کشیدگی اور اسٹریٹجک خدشات پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی ایشیا میں چین کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔یہ معاملہ بدھ کے روز بیجنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ملاقات میں زیر بحث آیا۔ بنگلہ دیشی خبر ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تیستا منصوبے سمیت کئی اہم علاقائی اور اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
تیستا دریا کی اہمیت کیا ہے؟
تیستا دریا بھارتی ریاست سکم اور مغربی بنگال سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ لاکھوں افراد کیلئے آبپاشی، زراعت اور روزگار کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک طویل عرصے سے تیستا کے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس مسئلے پر کئی برسوں سے مذاکرات جاری ہیں۔
یہ دریا بھارت کے حساس “سلی گوڑی کوریڈور” کے قریب واقع ہے، جو بھارت کے مرکزی حصے کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑنے والا انتہائی اہم زمینی راستہ ہے۔ اسی وجہ سے چین کی ممکنہ موجودگی بھارت کیلئے اسٹریٹجک تشویش کا باعث بن رہی ہے۔یہ معاملہ بدھ کے روز بیجنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ملاقات میں زیر بحث آیا۔ بنگلہ دیشی خبر ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تیستا منصوبے سمیت کئی اہم علاقائی اور اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
تیستا دریا کی اہمیت کیا ہے؟
تیستا دریا بھارتی ریاست سکم اور مغربی بنگال سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ لاکھوں افراد کیلئے آبپاشی، زراعت اور روزگار کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک طویل عرصے سے تیستا کے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس مسئلے پر کئی برسوں سے مذاکرات جاری ہیں۔
یہ دریا بھارت کے حساس “سلی گوڑی کوریڈور” کے قریب واقع ہے، جو بھارت کے مرکزی حصے کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑنے والا انتہائی اہم زمینی راستہ ہے۔ اسی وجہ سے چین کی ممکنہ موجودگی بھارت کیلئے اسٹریٹجک تشویش کا باعث بن رہی ہے۔چین کی حمایت اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ
ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چین، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت ڈھاکہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے تیار ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ:
“چین بنگلہ دیش کی قومی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ساتھ اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے اور معیشت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی روابط سمیت روایتی شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔”
چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں چین کے تعلقات کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں کسی دوسرے ملک کے اثر سے متاثر ہونا چاہیے۔
بھارت کیلئے کیوں اہم ہے یہ پیش رفت؟
تجزیہ کاروں کے مطابق تیستا منصوبے میں چین کی شمولیت بھارت کیلئے صرف ایک آبی معاملہ نہیں بلکہ ایک اہم جیوپولیٹیکل مسئلہ بن سکتا ہے۔ چین پہلے ہی سری لنکا، پاکستان، نیپال اور مالدیپ میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے ذریعے اپنے اثرات بڑھا چکا ہے۔
بھارت کو خدشہ ہے کہ اگر چین تیستا منصوبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس سے بنگلہ دیش میں بیجنگ کا سیاسی اور اسٹریٹجک اثر مزید مضبوط ہوسکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقے میں جو بھارت کی قومی سلامتی کیلئے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔
بھارت نے 2024 میں تیستا بیسن کی تکنیکی ترقی اور تحفظ کیلئے بنگلہ دیش کو تعاون کی پیشکش بھی کی تھی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم اب ڈھاکہ کی جانب سے چین کی طرف جھکاؤ کو نئی دہلی میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
شیخ حسینہ کے بعد نئی سفارتی سمت
یہ پیش رفت سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔ نئی حکومت کے سربراہ طارق رحمان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین اور پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے، جس پر بھارت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
خلیل الرحمان کا چین کا یہ دورہ فروری میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دورہ ان کے حالیہ دورۂ بھارت کے چند ہفتوں بعد ہوا، جسے بھی خطے میں بدلتی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
گنگا پانی معاہدہ بھی اختتام کے قریب
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 1996 میں ہونے والا ’’گنگا واٹر ٹریٹی‘‘ بھی اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے۔ اگر اس معاہدے کی تجدید نہ ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔
تائیوان کے معاملے پر بنگلہ دیش کی چین حمایت
بیجنگ ملاقات کے دوران بنگلہ دیش نے تائیوان کے معاملے پر بھی چین کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا۔ بنگلہ دیش نے کہا کہ :
’’تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے اور بنگلہ دیش کسی بھی قسم کی تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا۔‘‘
جواب میں چین نے بھی بنگلہ دیش کی ’’قومی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت‘‘ کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ بنگلہ دیش کے عوام کی منتخب ترقیاتی راہ کی حمایت جاری رکھے گا۔
تیستا دریا کی پانی تقسیم کا تنازع بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ 2011 میں دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ معاہدہ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی کی مخالفت کے باعث مکمل نہ ہوسکا تھا۔ اس کے بعد سے بنگلہ دیش مسلسل اس مسئلے کے مستقل حل کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
چین نے گزشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیش میں بندرگاہوں، سڑکوں، توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب تیستا منصوبے میں ممکنہ شمولیت کو بھی اسی وسیع جغرافیائی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بدل گئے 60 سال پرانے قوانین، سرکار نے کردیا ایسا انتظام، فورا نکلے گا 75 فیصد پیسہ
نئی دہلی: ایمپلائیز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (Employees’ Provident Fund Organisation – EPFO) اپنے کروڑوں کھاتہ داروں کے لیے اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کرنے جا رہا ہے۔ ای پی ایف او 3.0 نام کی اس نئی اسکیم کے آنے کے بعد پی ایف سے پیسہ نکالنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا جتنا بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکالنا ہوتا ہے۔ پچھلے تقریباً 60 سالوں سے پی ایف کا پیسہ نکالنے کے لیے لوگوں کو لمبی کاغذی کارروائی اور دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے، لیکن اب یہ سب ماضی کی بات ہونے والی ہے۔
ای پی ایف او 3.0 کے تحت سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اب آپ اپنے پی ایف کا پیسہ سیدھا اے ٹی ایم (ATM) یا یو پی آئی (UPI) کے ذریعے نکال سکیں گے۔ ابھی تک پی ایف نکالنے کے لیے آن لائن فارم بھرنا پڑتا تھا اور پھر کمپنی کی منظوری کا انتظار کرنا ہوتا تھا، جس میں کافی وقت لگ جاتا تھا۔ لیکن نئے نظام میں آپ اپنے پی ایف بیلنس کا 75 فیصد حصہ فوراً یو پی آئی کے ذریعے نکال سکیں گے۔اس کے لیے نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (National Payments Corporation of India) کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے، تاکہ گوگل پے (Google Pay) اور فون پے (PhonePe) جیسے ایپس کے ذریعے بھی یہ ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ، ای پی ایف او ہر ممبر کو ایک خاص پی ایف اے ٹی ایم کارڈ بھی دے گا، جس سے آپ کسی بھی مشین سے اپنے بیلنس کا 50 فیصد تک نقد نکال سکیں گے۔
ضابطے میں بڑی تبدیلی، اب صرف 3 کیٹیگری
اس نئے سسٹم میں صرف پیسہ نکالنے کا طریقہ ہی نہیں بدلا ہے، بلکہ پورے عمل کو چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ پہلے پی ایف نکالنے کے لیے 13 مختلف کیٹیگریز ہوتی تھیں، جنہیں اب گھٹا کر صرف 3 کر دیا جائے گا۔ سب سے بڑی راحت کی بات یہ ہے کہ اب آٹو سیٹلمنٹ (Auto-settlement) یعنی بغیر کسی انسانی مداخلت کے پیسہ ملنے کی حد کو بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ 5 لاکھ تک کے دعووں کا تصفیہ کمپیوٹر خود بخود کر دے گا۔ اب زیادہ تر معاملات میں آپ کو اپنی کمپنی سے منظوری لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔کتنا پیسہ PF اکاؤنٹ میں رکھنا ضروری ہوگا؟
پیسہ نکالنے کی اس دوڑ میں آپ کا ریٹائرمنٹ کا پیسہ ختم نہ ہو جائے، اس کے لیے ای پی ایف او نے ایک اہم اصول بنایا ہے۔ چاہے آپ اے ٹی ایم سے پیسے نکالیں یا یو پی آئی سے، آپ کو اپنے اکاؤنٹ میں کم از کم 25 فیصد بیلنس ہمیشہ برقرار رکھنا ہوگا۔ آپ اپنا پورا پی ایف اس طریقے سے نہیں نکال سکیں گے۔ سیکورٹی کے لیے آدھار (Aadhaar) پر مبنی او ٹی پی (OTP) سسٹم کا استعمال کیا جائے گا، جس سے پورا عمل 24 گھنٹوں کے اندر مکمل ہو جائے گا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2026 کے وسط تک اس پورے نظام کو نافذ کر دیا جائے۔ اس سے ان مزدوروں اور ملازمین کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا جو انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال نہیں جانتے یا جنہیں ایمرجنسی میں فوری نقدی کی ضرورت ہوتی ہے۔