Friday, 10 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے…..جگرمراد آبادی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جگر مراد آبادی اردو شاعری کے ان شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل کو محض فنی اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ بنا دیا۔ ان کا اصل نام علی سکندر تھا، مگر اردو دنیا انہیں ان کے تخلص جگر کے ذریعے ہی جانتی اور پہچانتی ہے۔ وہ 6 اپریل 1890 کو مراد آباد، اترپردیش میں پیدا ہوئے اور 9 ستمبر 1960 کو گونڈہ میں وفات پا گئے۔

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے

سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

جگرمرادآبادیؔجگر کی شاعری میں تغزل، نغمگی، اور ترنم کا ایک دلنشین امتزاج ملتا ہے۔ وہ کلاسیکی روایت کے پاسدار ضرور تھے، لیکن ان کی غزلوں میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا بھی محسوس ہوتا ہے جو انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز بناتا ہے۔ ان کا اندازِ بیان نہایت نرم، سلیس اور پر اثر ہوتا تھا، جو دل میں اُترتا چلا جاتا ہے۔

ان کی شاعری کا مجموعہ شعلۂ طور اردو ادب میں خاص مقام رکھتا ہے۔ اسی تخلیقی گہرائی اور تاثیر کے اعتراف میں 1958 میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جگر نہ صرف ایک قادر الکلام شاعر تھے بلکہ ایک متاثر کن شخصیت بھی، جن کے کئی شاگرد اردو دنیا میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئے، جن میں راز مراد آبادی کا نام نمایاں ہے۔ جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔










بیلجیئم کو 2-1 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا اسپین
نئی دہلی :فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں اسپین نے بیلجیئم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2-1 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس کامیابی کے ساتھ اسپین نے ٹائٹل کی دوڑ میں اپنی مضبوط دعویداری برقرار رکھی، جب کہ بیلجیئم کا ورلڈ کپ کا سفر اختتام پذیر ہو گیا۔ میچ کے دوران نوجوان اسٹار لامین یامال نے متعدد خطرناک حملے کیے اور کئی مواقع پیدا کیے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔اسپین نے میچ کا پہلا گول 30ویں منٹ میں فابیان روئز کے ذریعے کیا۔ دانی اولمو کی جانب سے لگائی گئی شاٹ کو بیلجیئم کے گول کیپر نے ڈائیو لگا کر روک لیا، لیکن گیند ان کے ہاتھ سے ٹکرا کر سامنے آ گئی۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فابیان روئز نے تیزی سے آگے بڑھ کر گیند کو جال میں پہنچا دیا اور اسپین کو 1-0 کی برتری دلا دی۔

بیلجیئم نے 41ویں منٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ دائیں جانب سے کیے گئے کراس پر اسٹرائیکر چارلس ڈی کیٹیلیرے نے زبردست ہیڈر کے ذریعے گیند کو گول پوسٹ میں پہنچایا۔ اس گول کے ساتھ بیلجیئم اس ورلڈ کپ میں اسپین کے خلاف گول کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔ اس سے قبل ٹورنامنٹ میں کوئی بھی ٹیم اسپین کے دفاع کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز رہے۔ مقررہ وقت ختم ہونے میں صرف دو منٹ باقی تھے اور اضافی وقت ملنے والا تھا کہ اسپین نے فیصلہ کن حملہ کیا۔

اسپین کے ایک مڈفیلڈر نے دور سے شاٹ لگائی جسے بیلجیئم کے گول کیپر آسانی سے روک سکتے تھے، لیکن وہ گیند پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکے۔ گیند ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر سامنے آ گئی، جس پر متبادل کھلاڑی میکیل میرینو برق رفتاری سے پہنچے اور گیند کو گول میں ڈال کر اسپین کو 2-1 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔اس فتح کے ساتھ اسپین نے سیمی فائنل میں اپنی جگہ مستحکم کر لی، جب کہ بیلجیئم کی ٹیم بھرپور مقابلے کے باوجود ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ اسپین کی مضبوط دفاعی کارکردگی اور آخری لمحات میں کیے گئے فیصلہ کن گول نے ٹیم کو ایک اور یادگار کامیابی دلائی۔









جموں خطے میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کی پیش گوئی
جموں: (محمد اشرف گنائی) محکمۂ موسمیات نے جموں خطے میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کے پیش نظر اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ کے مطابق 11 اور 12 جولائی کو جموں ڈویژن، چناب ویلی اور پیر پنجال رینج کے متعدد علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے شدید جب کہ بعض مقامات پر انتہائی موسلادھار بارش ہونے کا امکان ہے۔

اس دوران آسمانی بجلی گرنے، اچانک سیلاب (فلیش فلڈ)، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبہ گرنے کے خطرات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق ہفتہ 11 جولائی کی صبح سے جموں میں موسم کا رخ بدلنے کی توقع ہے اور علی الصبح گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جو دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 35 ڈگری سینٹی گریڈ جب کہ کم سے کم 25 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 11 اور 12 جولائی کے دوران چناب ویلی اور پیر پنجال کے حساس علاقوں میں شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں سطح آب اچانک بلند ہو سکتی ہے۔
محکمہ نے مزید بتایا کہ 13 سے 16 جولائی تک جموں ڈویژن میں گرمی اور حبس برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم بعض مقامات پر ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ 17 سے 19 جولائی کے درمیان بارش کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جس کے دوران کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران پہاڑی علاقوں، چناب ویلی اور پیر پنجال رینج کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی کھڈوں سے دور رہیں، گرج چمک کے دوران کھلے میدانوں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے نیچے کھڑے نہ ہوں، جب کہ کسان فصلوں اور نکاسیٔ آب کے مناسب انتظامات کو یقینی بنائیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر گاڑی چلانے والوں کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایس ڈی آر ایف اور متعلقہ محکموں کی ٹیمیں الرٹ پر ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

ٹرمپ نے اب ایران کے سامنے رکھی نئی شرط، آبنائے ہرمز کھولنے کا کرے اعلان، تبھی ہوگا بھروسہ
ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے (نیوکلیئر ڈیل) کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، لیکن دوسری طرف آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے معاملے پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے سامنے ایسی شرط رکھ دی ہے جو پوری دنیا کے سامنے اس کی شبیہ کا سوال بن سکتی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران عوامی طور پر یہ تسلیم کرے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی رہے گی، وہاں سے گزرنے والے کسی بھی تجارتی جہاز پر حملہ نہیں ہوگا اور بالواسطہ طور پر یہ بھی مانے کہ حالیہ حملے اسی کی غلطی تھے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ پیغام ایران تک براہِ راست اور عمان سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے پہنچایا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ تین ہفتے پہلے ہونے والے معاہدے کے باوجود ایران نے آبنائے ہرمز میں کئی تجارتی جہازوں پر فائرنگ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہفتے دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر فوجی کارروائی ہوئی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جنگ بندی (سیز فائر) اب ختم ہو چکی ہے۔پہلے آبنائے ہرمز، پھر جوہری معاہدہ
امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران جہازوں کی محفوظ آمد و رفت جیسی آسان شرط بھی پوری نہیں کر سکتا، تو پھر جوہری پروگرام جیسے کہیں زیادہ پیچیدہ معاہدے پر اس پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب آبنائے ہرمز کے بحران کو جوہری معاہدے کی اگلی آزمائش مان رہی ہے۔

آج عمان میں اجلاس
ہفتہ کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ اس ملاقات کا سب سے بڑا موضوع آبنائے ہرمز اور سمندری سلامتی ہوگا۔ امریکہ کو امید ہے کہ اس ملاقات کے بعد ایران ایک عوامی بیان جاری کرے گا جس میں جہازوں پر حملے روکنے اور سمندری راستہ کھلا رکھنے کی یقین دہانی کرائے گا۔ایران کا دعویٰ :ہم نے مذاکرات کیلئے نہیں کہا
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد ایران نے خود مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی اور یہ تسلیم کیا کہ اس سے غلطی ہوئی۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، بلکہ قطر کے ثالثوں کی درخواست پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔









ویپ کا استعمال پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق
آسٹریلیا کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویپنگ (ای سگریٹ کا استعمال) پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد ماہرین نے ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ حتمی شواہد کا انتظار کرنے کے بجائے فوری اقدامات کریں۔
گارڈین کے مطابق سڈنی میں واقع یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ماہرین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں سنہ 2017 سے 2025 تک شائع ہونے والی مختلف سائنسی رپورٹس، جانوروں پر کیے گئے تجربات، انسانی کیس رپورٹس اور لیبارٹری تحقیق کا جائزہ لیا گیا۔
یہ اب تک کی تفصیلی تحقیقات میں سے ایک ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا نکوٹین ای سگریٹ کینسر کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں۔تحقیق کے مطابق ویپنگ جسم میں ایسے ابتدائی خطرناک اثرات پیدا کرتی ہے جو کینسر سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں، جیسے کہ ڈی این اے کو نقصان پہنچنا اور سوزش کا بڑھ جانا۔
مشہور جریدے ’کارسینوجینیسیس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ’ویپنگ ان ابتدائی کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔‘
ماہر برنارڈ سٹیورٹ کے مطابق ای سگریٹ کے دھوئیں کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے منہ اور پھیپھڑوں کے خُلیات اور بافتوں میں واضح تبدیلیاں آتی ہیں۔ تاہم چونکہ ای سگریٹس جدید دور میں یعنی 2000 کے بعد متعارف ہوئے، اس لیے طویل المدتی انسانی ڈیٹا ابھی محدود ہے، اور یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے افراد میں کینسر پیدا ہوا۔‘
تحقیق میں کچھ ایسے کیسز بھی شامل کیے گئے جن میں ایسے افراد میں منہ کے کینسر کی نشاندہی ہوئی جو صرف ویپنگ کرتے تھے اور کبھی سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ اس کے علاوہ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ای سگریٹ کے بخارات کے سامنے آنے والے چوہوں میں پھیپھڑوں کے ٹیومر زیادہ بنے، اگرچہ یہ نتائج براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں سگریٹ نوشی کے نقصانات کو تسلیم کرنے میں تقریباً 100 سال لگے تھے، اس لیے ویپنگ کے معاملے میں ابتدائی خبردار کرنے والے شواہد کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف فریڈی سیتاس کے مطابق ’یہ تاثر کہ ویپنگ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہے، درست نہیں ہو سکتا۔‘ ان کے مطابق ’فی الحال ویپنگ چھوڑنے کے مؤثر طریقوں کے حوالے سے شواہد بھی واضح نہیں ہیں۔‘
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں اور صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ خاص طور پر نوجوانوں کو ویپنگ کے نقصانات سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ ویپنگ سگریٹ جتنی نقصان دہ ہے، کیونکہ اس میں سگریٹ کی طرح جلنے والے کیمیائی مادے شامل نہیں ہوتے۔
مجموعی طور پر تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویپنگ کو محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں اور اس کے ممکنہ خطرات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔










مدھیہ پردیش میں نروتم مشرا کا ٹکٹ کٹنے پر ہزاروں حامیوں نے قومی شاہراہ این ایچ-44 کو بلاک کر دیا، پتھراؤ میں ایس پی سمیت 6 اہلکار زخمی
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے بعد شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے پر ان کے ہزاروں حامیوں نے قومی شاہراہ این ایچ-44 کو بلاک کر دیا، جس کے باعث تقریباً 15 کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ گیا اور آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔احتجاج نے رات کے دوران پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ پولیس کے مطابق علی الصبح مظاہرین نے پولیس ٹیم پر شدید پتھراؤ کیا، جس میں دتیا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) میور کھنڈیلوال، ایڈیشنل ایس پی سمیت چھ سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایس پی میور کھنڈیلوال نے بتایا کہ جمعہ کی شام تقریباً چھ بجے سے تین ہزار سے زائد افراد شہر میں احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے بازار بند کرائے اور این ایچ-44 پر چکہ جام کر دیا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کئی مرتبہ شاہراہ خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن مظاہرین نے انکار کر دیا۔ صبح تقریباً چار بجے اچانک پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا گیا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ایس پی کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے، اس کے باوجود پتھراؤ جاری رہا۔ بعد ازاں پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دوبارہ آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہلکا لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ دیگر کو خودسپردگی کی وارننگ دی گئی ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے ضلعی وزیر بھانو سنگھ نے پولیس پر زیادتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کارکنان پرامن انداز میں پارٹی قیادت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ دتیا کا ٹکٹ واپس لے کر ڈاکٹر نروتم مشرا کو دیا جائے۔ ان کے مطابق کارکنان پوری رات رام دھن گاتے ہوئے احتجاج کرتے رہے، لیکن پولیس نے مبینہ طور پر پارٹی کارکنوں کو دفتر میں بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نروتم مشرا کو ٹکٹ نہیں دیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔واضح رہے کہ بی جے پی نے دتیا ضمنی انتخاب کے لیے نروتم مشرا کے بجائے آشوتوش تیواری کو امیدوار بنایا ہے، جس کے بعد کارکنوں میں ناراضی پھیل گئی۔ آشوتوش تیواری نے کہا کہ نروتم مشرا ان کے سرپرست ہیں اور وہ ان کے لیے انتخابی مہم بھی چلائیں گے۔

دتیا اسمبلی نشست پر ضمنی انتخاب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہونے والے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو رواں سال اپریل میں دہلی کی ایک عدالت نے دھوکہ دہی کے مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد ان کی رکنیت منسوخ ہو گئی۔ اس نشست پر 30 جولائی کو ووٹنگ جب کہ 3 اگست کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*



برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی

برطانیہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے جا رہا ہے۔ وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ پابندی صرف فیس بک اور انسٹاگرام تک محدود نہیں ہوگی بلکہ گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز بھی اس میں شامل ہوں گے۔ تفصیل دیکھیں اس ڈیجیٹل رپورٹ میں 







دہلی ہائی کورٹ: اداکار راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے چیک باؤنس کیس میں بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ جسٹس سوارانا کانتا شرما کی قیادت والی بنچ نے یہ حکم جاری کیا۔ ہائی کورٹ نے 2 اپریل کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

سماعت کے دوران عدالت نے دونوں فریقین کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی۔ قابل ذکر ہے کہ 16 فروری کو عدالت نے راجپال یادو کو 18 مارچ تک عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔اس سے قبل 5 فروری کو ہائی کورٹ نے انہیں کوئی راحت دینے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں فوری طور پر خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے بعد انہوں نے خودسپردگی کر دی تھی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

راجپال یادو کو کرکڑڈوما کورٹ نے چیک باؤنس کیس میں قصوروار ٹھہرایا تھا اور سزا سنائی تھی۔ تاہم، جون 2024 میں، ہائی کورٹ نے سزا کو معطل کر دیا، یہ اس بنیاد پر کہ یادو چونکہ عادی مجرم نہیں تھا، اس لیے اس کی سزا کو معطل کیا جا رہا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ککڑڈوما کورٹ نے راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں مجرم قرار دینے کے بعد ان پر 1.6 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت نے ان کی بیوی رادھا پر فی کیس 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ دونوں کو سات چیک باؤنس کیسوں کے سلسلے میں سزا سنائی گئی تھی۔

شکایت کنندہ، مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ نے عدالت کو مطلع کیا کہ راجپال نے اپریل 2010 میں فلم اتہ پتہ لاپتہ* کو مکمل کرنے کے لیے کمپنی سے مالی مدد مانگی تھی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان 30 مئی 2010 کو ایک معاہدے پر دستخط ہوئے اور راجپال یادو کی کمپنی کو 5 کروڑ کا قرض دیا گیا۔

معاہدے کے تحت راجپال کو سود سمیت آٹھ کروڑ روپے واپس کرنے تھے۔ تاہم، وہ ابتدائی طور پر رقم ادا کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تین بار معاہدے کی تجدید ہوئی۔ 9 اگست 2012 کے حتمی معاہدے میں، ملزم راجپال یادو نے شکایت کنندہ کو 11,10,60,350 روپے کی رقم واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ راجپال یادو کی کمپنی بھی یہ ادائیگی کرنے میں ناکام رہی۔اپنے دفاع میں راجپال یادو نے عدالت کو بتایا کہ اس نے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے کوئی رقم ادھار نہیں لی تھی۔ اس کے بجائے، اس نے کمپنی میں فنڈز لگانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، ککڑڈوما کورٹ نے ان کی دلیل کو مسترد کر دیا اور انہیں چیک باؤنس کے جرم کا مجرم قرار دیا۔











یوپی اور بہار سمیت دیگر ریاستوں کے لیے موسلادھار بارش کا الرٹ؛ آج کے موسم کی کیا ہے پیش گوئی؟
نئی دہلی: ہندوستان کے محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے بدھ (8 جولائی) کو مہاراشٹر اور دہلی کے کچھ حصوں میں مسلسل بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ نے یہ بھی بتایا کہ جنوب مغربی مانسون کا اگلے دو سے تین دنوں میں پورے ملک پر چھا جانے کا امکان ہے۔ گجرات اور مدھیہ پردیش کے کچھ حصوں میں آج بہت بھاری بارش متوقع ہے۔

آئی ایم ڈی کے سائنسدان اکھل سریواستو نے واضح کیا کہ ملک کے شمالی علاقوں میں مانسون کے حالات انتہائی سازگار ہیں۔ مانسون پوری ریاست گجرات میں پھیل چکا ہے اور راجستھان کے کئی حصوں میں آگے بڑھ چکا ہے۔ اس سال بارش کی کیفیت الگ ہے۔
بارش سے خسارہ 12 فیصد تک کم، ال نینو کی قیاس آرائیاں

جولائی میں معمول سے زیادہ بارش نے خسارے کو 12 فیصد تک کم کر دیا۔ واضح رہے کہ جولائی اور اگست میں کمزور سے معتدل ال نینو متوقع ہے۔ دریں اثنا، مرکزی حکومت نے سپر ال نینو کی قیاس آرائیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں کہ اس سال کے دوران معمول سے کم بارش ہو۔

مانسون کی سرگرمی یا سائیکلونک گردش

خلیج بنگال کے اوپر ایک کم دباؤ کا علاقہ بنتا ہے، شدت سے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے اور اب یہ ایک سائیکلونک گردش میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس نے مشرقی اور وسطی ہندوستان کے ساتھ ساتھ مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ بالخصوص کونکن، مدھیہ مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور اڈیشہ میں بارش کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ مختلف عوامل بارش میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ مزید برآں، مانسون کی سرگرمی یا دیگر سائیکلونک گردشوں کی تشکیل بارش کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا باعث بنتی ہے۔
چوکس رہنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ

انہوں نے ذکر کیا کہ مہاراشٹر اور گجرات جیسے علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے۔ آئی ایم ڈی روزانہ موسم کی پیش گوئی اور انتباہات جاری کرتا ہے، جو پیلے، نارنجی اور سرخ جیسے رنگ کے کوڈز کے ذریعے صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو چوکس رہنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انہیں درختوں یا کمزور ڈھانچوں کے نیچے پناہ لینے سے گریز کرنا چاہیے، باہر نکلنے سے پہلے ٹریفک کے حالات کو چیک کرنا چاہیے اور آئی ایم ڈی کے مشوروں پر عمل کرنا چاہیے۔
عالمی سطح پر موسمی حالات کی پیش گوئی

موسمیاتی تبدیلی بھارت میں ضرورت سے زیادہ بارشوں کا سبب بن رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر موسمی حالات کی پیش گوئی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی شدید بارشوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، بھارت میں اکثر شدید بارشیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات رونما ہوئے۔ ملک میں مختصر دورانیے میں تیز شدت والی بارشیں بھی ہو رہی ہیں، جس سے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ال نینو کے مضبوط ہونے کا اندیشہ

مانسون کے موسم میں ال نینو کے مضبوط ہونے کا اندیشہ ہے اور آئی ایم ڈی نے معمول سے کم بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ ایک موسمی رجحان جو ال نینو کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔ انڈین اوشین ڈائپول (IOD) ہے۔ اس کا تعین مغربی بحر ہند (قریب مشرقی افریقہ) اور مشرقی بحر ہند (انڈونیشیا کے قریب) کے درمیان درجۂ حرارت کے فرق سے ہوتا ہے۔ ایک مثبت انڈین اوشین ڈائپول (IOD) — جو مغربی بحر ہند میں گرم پانیوں کی خصوصیت ہے — مضبوط ال نینو کے کچھ اثرات کو دور کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ تاہم، محکمۂ موسمیات نے اس سال کے لیے غیر جانبدار انڈین اوشین ڈائپول (IOD) حالات کی پیش گوئی کی ہے، صرف مانسون کے موسم کے اختتام پر مثبت انڈین اوشین ڈائپول (IOD) کی طرف منتقل ہونے کا امکان ہے۔
شمال مغربی ہندوستان

جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، ہریانہ، دہلی، اتر پردیش اور راجستھان میں مختلف اوقات میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ہماچل پردیش، مشرقی اتر پردیش اور مشرقی راجستھان میں بھی 11 جولائی تک بہت زیادہ بارش کا امکان ہے۔

جموں و کشمیر، اتر پردیش اور راجستھان میں گرج چمک اور گرج چمک کی توقع ہے، جب کہ اتراکھنڈ میں الگ تھلگ گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔ آئی ایم ڈی نے پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خاص طور پر شدید بارشوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ، فلڈ، سیلاب، مٹی کے تودے اور چٹانیں گرنے سے ہوشیار رہیں۔
وسطی ہندوستان

محکمۂ موسمیات کے مطابق مانسون آنے والے دنوں میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور ودربھ میں سرگرم رہے گا۔ اس خطے کے لیے وسیع بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور ودربھ کے کئی اضلاع میں بھاری بارش کا امکان ہے۔ ابتدائی طور پر، مدھیہ پردیش، ودربھ اور چھتیس گڑھ کے الگ تھلگ حصوں میں انتہائی بھاری بارش کا بھی امکان ہے۔ وسطی ہندوستان میں گرج چمک کے ساتھ طوفان کی توقع ہے، جب کہ کچھ علاقوں میں تیز بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔

ویسٹ کوسٹ

مہاراشٹر کے کئی اضلاع کے لیے ریڈ اور اورنج الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ مغربی ساحل ان خطوں میں رہے گا جہاں موجودہ مانسون سیزن کے دوران سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ محکمۂ موسمیات نے کونکن اور گوا میں بڑے پیمانے پر بارش کی پیش گوئی کی ہے اور آنے والے ہفتوں میں گجرات کے علاقے، مدھیہ مہاراشٹر، مراٹھواڑہ اور سوراشٹرا-کچھ میں مانسون کے فعال رہنے کی توقع ہے۔

شدید بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی

گجرات خطہ، کونکن اور گوا، مدھیہ مہاراشٹرا اور سوراشٹرا-کچھ میں بھاری سے بہت زیادہ بارش کا امکان ہے، گجرات، کونکن اور گوا اور مدھیہ مہاراشٹر میں الگ تھلگ مقامات پر انتہائی بھاری بارش کا امکان ہے۔ محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے، شہری سیلاب اور مقامی سطح پر رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

مشرقی اور شمال مشرقی ہندوستان

پورے ہفتے مشرقی اور شمال مشرقی ہندوستان میں مانسون کے فعال حالات برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مغربی بنگال، جھارکھنڈ، بہار، اڈیشہ اور سکم میں وسیع بارش کی توقع ہے، کچھ علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ سب ہمالیائی مغربی بنگال اور سکم میں انتہائی بھاری بارش کے الگ تھلگ واقعات ممکن ہیں۔

بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال کے کچھ حصوں اور جزائر انڈمان اور نکوبار میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ طوفان کا امکان ہے۔ شمال مشرق میں، اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں 14 جولائی تک وسیع پیمانے پر بارش متوقع ہے۔

پہاڑی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ

اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں میں کئی دنوں کے دوران بھاری سے بہت بھاری بارش کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی نے کہا کہ خطے میں مسلسل بارش سے ندیوں اور ندی نالوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر خطرناک پہاڑی اضلاع میں مقامی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بن سکتا ہے۔
جنوبی ہندوستان

مانسون کی سرگرمی جزیرہ نما ہندوستان کے تمام حصوں میں فعال رہنے کی توقع ہے۔ کیرالہ، ساحلی کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک کے اندرونی علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ وسیع بارش کا امکان ہے۔ کیرالہ، مہے اور ساحلی کرناٹک میں بڑے پیمانے پر بارش کی توقع ہے، جب کہ ساحلی آندھرا پردیش، رائلسیما، تلنگانہ، تمل ناڈو، پڈوچیری، کرائیکل اور شمالی اور جنوبی کرناٹک میں کافی حد تک بارش کا امکان ہے۔

گرج چمک کے ساتھ بجلی اور تیز ہواؤں کا امکان

کیرالہ، ماہے، ساحلی کرناٹک اور کرناٹک کے اندرونی حصوں میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ساحلی کرناٹک میں بہت بھاری سے انتہائی بھاری بارش کا امکان ہے، جب کہ کرناٹک اور تلنگانہ میں تیز ہواؤں کی توقع ہے۔ آندھرا پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ میں گرج چمک کے ساتھ بجلی چمکنے اور تیز ہواؤں کا بھی امکان ہے۔

ضلع وار وارننگ

محکمۂ موسمیات کے مطابق، اتر پردیش کے آگرہ، اٹاوہ اور جالون اضلاع میں آج موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح اتراکھنڈ کے چمپاوت، دہرادون، نینی تال، ٹہری گڑھوال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع میں بھی بھاری بارش کی توقع ہے۔ آئی ایم ڈی نے پالگھر (مہاراشٹرا) اور اراولی، دادرا اور نگر حویلی، دمن، نوساری، سابرکانٹھا اور ولساد (گجرات) کے لیے 'ریڈ الرٹ' جاری کیا ہے، جہاں بجلی گرنے اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔

ملک بھر کے لیے ایڈوائزری جاری

محکمۂ موسمیات نے ماہی گیروں اور ملک بھر کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ آئی ایم ڈی نے ماہی گیروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شمال مغربی، وسطی اور شمال مشرقی خلیج بنگال (بشمول اڈیشہ اور مغربی بنگال کے ساحل) میں سمندری حالات بہتر ہونے تک نہ جائیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


غفلت کرنے والوں کو جواب دینا ہوگا، عوام کو انصاف دینا ہوگا!" 
مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کی مسلسل لاپرواہی، عوامی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے
مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کی مسلسل غفلت، ناقص انتظامیہ اور عوام دشمن رویے کے باعث شہری شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کمپنی کی لاپرواہی کے نتیجے میں کئی معصوم افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن آج تک نہ کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی گئی اور نہ ہی عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے۔
کمپنی کے افسران اور ملازمین عوامی شکایات، تحریری درخواستوں اور متعدد یادداشتوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بقایا جات رکھنے والے صارفین کو بجلی منقطع کرنے، قانونی نوٹس بھیجنے اور عدالتی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ خود کمپنی اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کمپنی کی غفلت کے باعث کسی شہری کی جان یا مال کا مزید نقصان ہوا تو اس کی مکمل قانونی اور اخلاقی ذمہ داری مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ، اس کے متعلقہ افسران اور ذمہ دار حکام پر عائد ہوگی۔ ان کے خلاف مجاز عدالتوں میں قانونی کارروائی، ہرجانے (Compensation) کا دعویٰ، متعلقہ سرکاری محکموں میں شکایات اور دیگر تمام آئینی و قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
اگر عوام کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے اور بجلی کے نظام کو محفوظ بنانے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مورخہ 10 جولائی 2026 (جمعہ کو 2 بجے سے شام 5:00 بجے تک مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کے مرکزی گیٹ کے سامنے محمد احتشام محمد جمیل کی قیادت میں ایک روزہ پرامن دھرنا و احتجاج کیا جائے گا۔
یہ احتجاج صرف ایک آغاز ہوگا۔ اگر اس کے باوجود بھی انتظامیہ اور کمپنی نے اپنی روش نہ بدلی تو احتجاج کو مزید وسیع کیا جائے گا اور تمام قانونی، آئینی اور جمہوری ذرائع استعمال کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام کی جان و مال کے ساتھ مزید کھلواڑ کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔









امریکہ بھلے کندھے پر بٹھائے، یورپ نے پاکستان کو دھو ڈالا، دی ایسی دھمکی، ہو جائے گا کنگال
ایک طرف امریکہ متعدد تنازعات اور دہشت گردی کے الزامات کے باوجود پاکستان کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔ دوسری طرف یورپ نے پاکستان کی خوب سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ درحقیقت پاکستان میں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ ہندو اور عیسائی لڑکیوں کا اغوا اور تبدیلی کوئی نئی بات نہیں۔ ان مسائل کے حوالے سے یورپی پارلیمنٹ نے اب واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان GSPپلس پروگرام کے تحت تجارتی مراعات سے محروم ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت بالخصوص اس کی ٹیکسٹائل اور کپڑے کی صنعت شدید متاثر ہوگی۔

GSP+ کیا ہے؟
GSP+ یورپی یونین کی ایک خصوصی تجارتی اسکیم ہے۔ اس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈی میں کم یا صفر ٹیرف پر اشیاء فروخت کرنے کی اجازت ہے۔ پاکستان کو یہ درجہ 2014 میں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستان کی یورپ کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور آج یورپی یونین اس کی بڑی برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو واپس لینے سے نہ صرف سفارتی بلکہ ایک بڑا اقتصادی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے بھی 13 سالہ مسیحی لڑکی ماریہ شہباز کے کیس کو تشویش کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اس فیصلے پر سوال اٹھایا جس میں ایک پاکستانی عدالت نے مبینہ اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور بچوں کی شادی کو برقرار رکھا اور ماریہ کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دی۔ یورپی قانون سازوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی پر سختی سے پابندی لگائے، مجرموں کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور متاثرہ لڑکیوں کو محفوظ پناہ، قانونی امداد اور نفسیاتی مدد فراہم کرے۔

قرارداد میں پاکستان میں اقلیتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن کے خلاف توہین رسالت کے قوانین، دہشت گردی اور سائبر قوانین کے غلط استعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے من مانی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ماریہ شہباز کی عمر صرف 13 سال تھی جب اسے پاکستان میں اغوا کیا گیا، زبردستی اسلام قبول کیا گیا اور 30 سالہ شخص سے شادی کر لی گئی۔

ان معاملات کا بھی ذکر کیا
یورپی پارلیمنٹ نے بلوچ حقوق کارکن مہرنگ بلوچ، انسانی حقوق کے وکیل ایمان مزاری، علی وزیر، حنیف پشتین اور داد شاہ کے مقدمات کا بھی ذکر کیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ پرامن کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن ختم ہونا چاہیے اور ہر صورت میں عدالتی عمل کی پیروی ہونی چاہیے۔

یورپ اب باریک بینی سے نگرانی کرے گا
یورپی پارلیمنٹ نے یورپی کمیشن اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس (EEAS) سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اگلے GSP+ مانیٹرنگ مذاکرات میں ان مسائل کو ترجیح دیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے ساتھ پاکستان کی تعمیل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے، اور اس سے یہ طے ہو گا کہ آیا اسے GSP+ فوائد ملتے رہیں گے۔













’مسٹر جوڈیشل سرونٹ، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ اے ایس پی، لکھنؤ کے خلاف سائبر کرائم سنڈیکیٹ چلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں‘‘ اس جملے نے سپریم کورٹ میں مچادیا ہنگامہ……
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک درخواست گزار نے جو اپنا مقدمہ خود لڑ رہا تھا، سماعت کے دوران عدالت کا نظم درہم برہم کر دیا۔ چیف جسٹس کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا اور ججوں کے سامنے کاغذات اچھال دیے۔ تاہم عدالت نے اس کے خلاف توہین عدالت یا کسی دوسری کارروائی سے گریز کرتے ہوئے صرف اس کی درخواست مسترد کر دی۔

 ہنگامے کی کیا ہیں اصل وجوہات؟

یہ واقعہ جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش آیا، جہاں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو چیلنج کرنے والی خصوصی اپیل کی اجازت (SLP) کی سماعت جاری تھی۔ درخواست گزار پربل پرتاپ نے خود کو ’’خودمختار‘‘ (Sovereign) قرار دیتے ہوئے جج صاحبان کو ’’عدالتی ملازم‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’Mr judicial servant. I order you to order the registration of an FIR against the ACP … Lucknow‘‘ ’’مسٹر جوڈیشل سرونٹ، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ اے ایس پی، لکھنؤ کے خلاف سائبر کرائم سنڈیکیٹ چلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔‘‘ اس پر جسٹس وشواناتھن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: ’’آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں؟‘‘ درخواست گزار نے جواب دیا کہ جو کچھ کہنا تھا، وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔

چیف جسٹس کے خلاف بدزبانی، سکیورٹی نے باہر نکالا

چند ہی لمحوں بعد درخواست گزار نے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور عدالت میں موجود کاغذات ہوا میں اچھال دیے، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں خلل پڑا۔ اس کے بعد سکیورٹی اہلکار فوری طور پر متحرک ہوئے اور اسے عدالت سے باہر لے گئے۔ بعد ازاں اسے کچھ دیر کے لیے سپریم کورٹ کے احاطے میں واقع ڈی ایس پی کے دفتر میں رکھا گیا۔

عدالت نے کارروائی کرنے سے گریز کیا

ہنگامہ آرائی کے باوجود بنچ نے درخواست گزار کے خلاف توہینِ عدالت یا کسی اور تعزیری کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس کے وی وشواناتھن نے کہا: ’’ہم اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ مقدمے کے میرٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آئی، لہٰذا خصوصی اجازت اپیل مسترد کی جاتی ہے۔‘‘ سماعت کے بعد سینئر وکیل پی ایس پٹوَالیا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات جج کا منصب کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ ایسے مواقع پر واضح ہو جاتا ہے۔ اس پر جسٹس وشواناتھن نے کہا: ’’وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے۔ ہمیں اس سے صرف ہمدردی ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی؟

درخواست گزار نے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں اس کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ متعلقہ عدالتی حکم کے خلاف متبادل قانونی چارہ جوئی اختیار کرے۔ اصل معاملہ لکھنؤ کی اسپیشل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (کسٹمز) کی عدالت سے متعلق تھا، جہاں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کو نجی شکایت (Private Complaint) کے طور پر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

Thursday, 9 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

کون سی ورزش بزرگوں کے لیے موٹاپا گھٹانے اور پٹھے محفوظ رکھنے میں مؤثر ہو سکتی ہے؟
بڑھتی عمر کے ساتھ جسم میں کئی قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں، جن میں پٹھوں کی کمزوری اور جسمانی چربی میں اضافہ شامل ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف جسمانی طاقت اور توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور گرنے کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ تاہم ایک نئی تحقیق میں ایسی ورزش کی نشاندہی کی گئی ہے جو بزرگ افراد میں چربی کم کرنے کے ساتھ ساتھ پٹھوں کو بھی محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
آسٹریلیا کی ’یونیورسٹی آف دی سن شائن کوسٹ‘ کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق ’ہائی اِنٹینسٹی اِنٹرول ٹریننگ (ایچ آئی آئی ٹی) بزرگ افراد کے لیے چربی کم کرنے کا مؤثر طریقہ ثابت ہوئی، جبکہ اس دوران پٹھوں کے حجم میں کمی بھی نہیں دیکھی گئی۔تحقیق میں 65 سے 85 سال عمر کے ایک سو 23 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا، جن کی اوسط عمر 72 سال تھی۔
شرکاء کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں کم شدت، درمیانی شدت اور زیادہ شدت والی ورزشیں کروائی گئیں۔
تمام شرکاء نے چھ ماہ تک ہفتے میں تین بار، ہر بار 45 منٹ ورزش کی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ درمیانی اور زیادہ شدت والی ورزشوں سے جسمانی چربی میں کمی آئی، تاہم صرف ہائی اِنٹینسٹی اِنٹرول ٹریننگ کرنے والے افراد اپنے پٹھوں کا حجم برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
تحقیق کی سربراہ اور ماہر ورزش ڈاکٹر گریس روز کے مطابق تمام شدت کی ورزشوں سے کچھ حد تک چربی میں کمی دیکھی گئی، لیکن صرف ہائی اِنٹینسٹی اِنٹرول ٹریننگ ہی ایسی ورزش تھی جس نے پٹھوں کو محفوظ رکھا۔
ہائی اِنٹینسٹی اِنٹرول ٹریننگ یا ایچ آئی آئی ٹی میں مختصر وقت کے لیے انتہائی تیز رفتار ورزش کی جاتی ہے، جس کے بعد مختصر آرام یا ہلکی ورزش کا وقفہ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک منٹ تیز رفتار چہل قدمی، سائیکلنگ یا سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ایک منٹ آرام کیا جاتا ہے اور یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ورزش دل اور پٹھوں دونوں پر زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتی ہے، جس کی وجہ سے جسم چربی جلانے کے ساتھ پٹھوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وزن میں کمی سے زیادہ اہم جسمانی ساخت ہے۔ صرف وزن کم کرنا کافی نہیں بلکہ جسم میں پٹھوں کو برقرار رکھتے ہوئے چربی کم کرنا صحت مند بڑھاپے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ایچ آئی آئی ٹی کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم دل کے امراض، جوڑوں کے مسائل یا دیگر طبی پیچیدگیوں میں مبتلا افراد کو ایسی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہر قسم کی جسمانی سرگرمی فائدہ مند ہے، تاہم جو بزرگ افراد محفوظ طریقے سے زیادہ شدت والی ورزش کر سکتے ہیں، ان کے لیے ایچ آئی آئی ٹی چربی کم کرنے اور پٹھوں کو محفوظ رکھنے کا بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔








NEET UG امیدواروں کے لیے خوشخبری ! آن لائن ہوگا امتحان ، اتنے دل چلے گا امتحان
اگلے سال کے NEET UG امتحان کو لے کر بڑا اپڈیٹ ہے۔ امتحان 500 شہروں میں تقریباً 1000 مراکز پر کمپیوٹر پر مبنی موڈ (CBT) میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ پانچ سے چھ دنوں میں منعقد کیا جائے گا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، امتحانی مراکز بنیادی طور پر کیندریہ ودیالیہ جیسے سرکاری اداروں میں واقع ہوں گے۔ تقریباً پانچ لاکھ امیدوار ہر روز ملٹی ڈے امتحان میں شرکت کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت این ٹی اے میں بھی بڑی تبدیلیوں کی تیاری کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ NTA ایک خود مختار ادارہ ہے جو NEET-UG کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے کئی دوسرے داخلہ امتحانات بھی منعقد کرتا ہے۔ ایجنسی کی تنظیم، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، اور عمل میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔NTA کو اوپر سے نیچے تک تبدیل کرنا ہے
ذرائع کے مطابق این ٹی اے کی پوری تنظیم کو اوپر سے نیچے تک اوور ہال کیا جائے گا۔ یہ عمل اکتوبر سے پہلے مکمل ہونے کی امید ہے۔ NTA کے اندر تقریباً 150 عہدوں کی منظوری دی گئی ہے۔ وزارت تعلیم کی جانب سے یہ تجاویز پیپر لیک کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس سال 3 مئی کو منعقد ہوئے NEET-UG امتحان میں تقریباً 22 لاکھ امیدواروں نے شرکت کی تھی ، لیکن پیپر لیک ہونے کی وجہ سے اسے منسوخ کرنا پڑا تھا ۔ پیپر لیک نے بڑے پیمانے پر غصہ اور احتجاج کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے بعد، NEET-UG امتحان کا دوبارہ انعقاد کیا گیا۔

دھرمیندر پردھان نے کیا اعلان
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امتحان اور این ٹی اے میں تبدیلیاں سات رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہیں۔ اس کمیٹی کی سربراہی ISRO کے سابق چیئرمین کے رادھا کرشنن کر رہے ہیں، اور اس کی تشکیل مرکزی حکومت نے 2024 میں پیپر لیک کے واقعے کے بعد کی تھی۔

واضح رہے کہ NEET UG پیپر لیک ہونے کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے 15 مئی کو اعلان کیا تھا کہ اگلے سال سے امتحان کمپیوٹرائز ہوگا۔ پردھان نے کہا کہ یہ تبدیلی رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر کی جارہی ہے، لیکن اس تجویز پر ابھی تک عمل نہیں ہوا ہے۔

امتحانی مراکز کی نشاندہی شروع کر دی گئی
اطلاعات کے مطابق اگلے سال کے NEET UG کے امتحانی مراکز کی نشاندہی شروع ہو گئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر سرکاری ادارے ہیں جن میں کیندریہ ودیالیہ اور نوودیا ودیالیہ شامل ہیں۔ تاہم، کچھ معروف نجی اداروں کو بھی مراکز کے طور پر نامزد کیا جا سکتا ہے۔








معاہدہ کا آرٹیکل 5 کیا ہے، جس پر مرنے-مارنے کیلئے تیار ٹرمپ؟ ایران–امریکہ ڈیل میں کیوں بگڑی بات
سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سلسلہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اس دوران چند دنوں کے وقفے کے بعد امریکہ اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فروری کے آخری دنوں میں شروع ہوئی جنگ اب جولائی میں دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہوئی بات چیت اور اس کے بعد جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اب کھلم کھلا جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ امریکہ نے ایران پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کئی اہم مقامات پر فضائی حملے کیے۔ اب ان حملوں کے فوراً بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اب جنگ کی دوبارہ تیاریوں کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے آرٹیکل 5 پر بحث چھڑ گئی ہے۔ مفاہمتی یادداشت (MoU) کا آرٹیکل 5 آبنائے ہرمز اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی صورتحال سے متعلق ہے، جس پر دونوں ممالک اپنے اپنے دعوے کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “ہم نے بہت زیادہ وقت دے دیا اور اب جنگ بندی ختم کی جا رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ ایرانی جھوٹے اور دھوکے باز ہیں اور ان کی قیادت غلط ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ دوسری جانب ایران نے بھی واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ جو بھی امریکہ کا ساتھ دے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ بغیر کسی شرط کے ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت موقف رکھتے ہیں۔ امریکہ ان دونوں معاملات پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد ایک بار پھر شیئر مارکیٹ پر منفی اثرات دیکھنے کو ملے ہیں۔ جب 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے پہلی بار ایران پر حملہ کیا تھا، اس کے بعد سے سمندر کا یہ تنگ راستہ بند ہو گیا تھا۔ اب اگر دوبارہ جنگ شروع ہوتی ہے تو دنیا کو ایک بار پھر تیل، توانائی اور گیس کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

MoU میں آرٹیکل 5 کا معاملہ کیا ہے؟
اب اصل معاملے پر آتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں آرٹیکل 5 کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ جنگ کے دوران جو تجارتی جہاز مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے، ان کی آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) میں معاہدہ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 5 میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے فوری طور پر تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع کی جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی طے پایا تھا کہ ایران ان جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا اور کم از کم 60 دن یعنی دو ماہ تک ان سے کسی بھی قسم کی فیس وصول نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ 30 دن کے اندر سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس معاملے پر ایران اور امریکہ میں ٹکراؤ کیوں؟
اہم مسئلہ یہ ہے کہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے آرٹیکل 5 کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کے مطابق اس آرٹیکل کی تشریح کر رہے ہیں اور اب جہازوں کی آمدورفت کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی بات کی، تاہم امریکہ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ
اسی طرح ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے وہ اپنی مرضی کے مطابق انتظام چاہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب عمان کے ساحل کے قریب سے جہاز گزرنے لگے تو ایران نے امریکہ کی حکمت عملی کو سمجھتے ہوئے حملہ آور اقدام اٹھایا۔ دوسری طرف امریکہ چاہتا ہے کہ اس آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت اس کے طے کردہ نظام کے مطابق ہو۔ ٹرمپ کو معاہدے سے کسی اور معاملے پر اعتراض نہیں ہے۔

ایران کے لیے آبنائے ہرمز غیر معمولی تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ اس آبی گزرگاہ کو اپنی دفاعی ڈھال کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ امریکہ معاہدے کے آرٹیکل 5 کو اپنے مفاد کے مطابق نافذ کرنا چاہتا ہے۔ ایک اور اہم معاملہ جہازوں کے راستے سے متعلق بھی ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ جہاز پہلے والے راستے سے ہی گزریں، جبکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ جہاز عمان کے ساحل کے قریب سے نئے روٹ کے ذریعے گزریں۔

تیل کی تجارت کے لائسنس پر فل اسٹاپ
سوئٹزرلینڈ میں ہوئے معاہدے کے تحت امریکہ نے ایران کو تیل کی تجارت کے لیے عارضی رعایت دی تھی، جو اب واپس لے لی گئی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے تازہ فیصلے میں جنرل لائسنس ایکس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس لائسنس کے تحت 21 جون 2026 سے 21 اگست 2026 تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل کی محدود اجازت دی گئی تھی۔ اب لائسنس منسوخ ہونے کے بعد ایران کی تیل کی تجارت پر امریکی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو گئی ہیں۔
دراصل ایران اس وقت آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اسی دوران امریکہ کے حملوں اور ٹرمپ کے اعلان کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے جنوب مغربی ایران کے کئی مقامات پر حملے کیے، جن میں قشم جزیرہ، سیریک اور بندر عباس کے علاقے شامل ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

امریکہ-ایران کے درمیان خطرناک جنگ پھر شروع، کویت سے بحرین تک تباہی، دوبارہ جنگ شروع ہونے کی کیا ہے وجہ؟
امریکہ اورایران کے درمیان ایک بارپھرکشیدگی شدت اختیارکرگئی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف مسلسل حملے اورسخت بیانات دے رہے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف فوجی طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی ایک حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے، جسے بین الاقوامی سیاست کی اصطلاح میں “Coercive Diplomacy” اور “Brinkmanship” کا امتزاج قراردیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے حال ہی میں ایران کے آٹھ مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے بحرین اورکویت پرحملے کئے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا بھرمیں تشویش پائی جا رہی ہے اورعالمی معیشت پربھی اس کے اثرات ظاہرہونے لگے ہیں۔

طاقت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اورایران دونوں مذاکرات کی میزپرخود کوکمزوردکھانا نہیں چاہتے۔ اسی لئے وقتاً فوقتاً فوجی کارروائیاں اورسخت بیانات دے کرایک دوسرے پردباؤبڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طورپربند کردے، جبکہ ایران اپنے مؤقف پرقائم ہے اورکسی قسم کی پسپائی کے آثارنہیں دکھا رہا ہے۔

عالمی منڈیوں پراثرات

امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی بڑھتے ہی عالمی تیل اورشیئربازاروں میں اتارچڑھاؤدیکھنے کوملتا ہے۔ بڑے سیاسی اورعسکری واقعات سرمایہ کاروں کے اعتماد اورعالمی منڈیوں کی سمت پراثراندازہوتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ صرف بازاروں کومتاثرکرنے کے لئے نہیں ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کواپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قراردیتا رہا ہے۔ اسی لئے امریکہ کی ایران پالیسی پراسرائیلی خدشات کا اثرہونا فطری سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ امریکہ اپنے فیصلے قومی مفادات کی بنیاد پرکرنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری انتہائی مضبوط ہے۔

تیل کی قیمتوں کا معاملہ

ایران کی معیشت کا بڑا انحصارتیل کی برآمدات پرہے، اس لئے عالمی منڈی میں خام تیل کی بلند قیمتیں اس کے لئے معاشی طورپرفائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں کا تعین صرف ایران نہیں بلکہ مختلف ممالک کی پیداوار، رسد اورطلب سے بھی ہوتا ہے۔ بین الاقوامی امورکے ماہرین کے مطابق امریکہ اورایران کے درمیان ماضی میں بھی ایسے مواقع آئے ہیں، جب مذاکرات جاری رہنے کے باوجود کشیدگی برقراررہی۔ اس کا مقصد اپنے مؤقف کومضبوط ظاہرکرنا اورمخالف فریق کوزیادہ رعایتیں دینے پرمجبورکرنا ہوتا ہے۔ دونوں ممالک یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی داخلی سیاست میں کمزوری کا تاثرنہ جائے۔

آبنائے ہرمزاوریورینیم تنازعہ

ایران آبنائے ہرمزکواپنی اسٹریٹجک طاقت کا اہم مرکزسمجھتا ہے، کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ اوراس کے اتحادی نہیں چاہتے کہ اس اہم بحری راستے پرکسی ایک ملک کا غلبہ ہو۔ اس کے علاوہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام سے متعلق بھی کئی برسوں سے تنازعہ جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں انتخابی ماحول کے دوران قومی سلامتی کے مسائل ہمیشہ اہمیت اختیارکرجاتے ہیں۔ ایسے وقت میں کسی بھی صدرکے لئے مضبوط قیادت کا تاثردینا سیاسی طورپرفائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق طاقت اورامن، دونوں کا توازن قائم رکھنے کی کوشش بھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتی ہے۔










بہتی ندی میں بہہ گئے 3000 گیس سلینڈر، مہاراشٹر کے رائے گڑھ میں لوٹنے کے لئے لگ گئی لائن، ویڈیو وائرل ہونے پر انتظامیہ نے اٹھایا بڑا قدم
مہاراشٹرکے ضلع رائے گڑھ میں مسلسل موسلادھاربارش نے معمولاتِ زندگی کوبری طرح متاثرکردیا ہے۔ ندیوں میں طغیانی اورکئی علاقوں میں شدید پانی بھرنے سے ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پاتال گنگا ندی میں ہزاروں ایل پی جی گیس سلینڈرتیزبہاؤکے ساتھ تیرتے ہوئے نظرآئے۔ اس منظرکی ویڈیوسوشل میڈیا پرتیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ پین اورکھالاپورعلاقے کے قریب پیش آیا، جہاں مقامی لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کربہتے ہوئے سلینڈروں کونکالنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی دکھائی دیئے، جس کے بعد انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔

ایچ پی سی ایل کے پلانٹ سے بہہ گئے تقریباً 3 ہزارسلینڈر

سرکاری ذرائع کے مطابق، ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) کے کھالاپورواقع ایل پی جی باٹلنگ پلانٹ سے تقریباً 3 ہزارگیس سلنڈرسیلابی پانی میں بہہ گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں کچھ سلینڈربھرے ہوئے تھے، جبکہ کچھ خالی تھے۔ ابتدائی جانچ کے مطابق چاوَنے (پاتال گنگا) میں واقع مہاراشٹرانڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) کے پلاٹ نمبر ای-1/7 پرموجود گودام میں شدید بارش کے باعث اچانک پانی بھرگیا۔ پانی کے بہاوکی شدت اس قدرتیزتھی کہ حفاظتی دیوارکوپارکرکے سلینڈرپاتال گنگا ندی میں بہہ گئے۔

سلینڈر نکالنے کے لئے لوگوں کی بھیڑ

جیسے ہی مقامی لوگوں کودریا میں سلینڈربہنے کی اطلاع ملی، بڑی تعداد میں افراد موقع پرجمع ہوگئے۔ کئی لوگ رسّی، بانس اورلوہے کے ہک کی مدد سے پانی میں بہتے سلنڈروں کوباہر نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ بعض افراد خطرناک سیلابی بہاؤکے باوجود دریا کے قریب پہنچ گئے تاکہ بہتے ہوئے سلینڈروں پرقبضہ کرسکیں۔ سوشل میڈیا پراس واقعہ کی متعدد ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں، جنہیں دیکھ کرلوگ حیرت کا اظہارکررہے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں بھاری گیس سلنڈرپانی میں کیسے بہہ سکتے ہیں۔ضلع انتظامیہ کی شہریوں سے اپیل

واقعہ کے بعد رائے گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگرکسی کودریا سے ایل پی جی سلینڈرملے ہیں تووہ انہیں اپنے پاس رکھنے کے بجائے فوری طورپرمتعلقہ تحصیلدارکے دفتریا ایچ پی سی ایل کے مجازڈیلرکے حوالے کردیں۔ انتظامیہ نے خبردارکیا ہے کہ گیس سلینڈرانتہائی حساس اورآتش گیراشیا میں شامل ہیں، اس لئے انہیں گھروں میں رکھنا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ فی الحال پورے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اوربہہ جانے والے سلینڈروں کی بازیابی کے لئے خصوصی مہم شروع کر دی گئی ہے۔










بارش نہ روک سکی سی جے پی کا احتجاج: جنتر منتر دھرنا 20ویں دن بھی جاری، سونم وانگچک نے پارلیمنٹ مارچ کا عزم ظاہر کیا
نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں مسلسل بارش کے باوجود جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا دھرنا جمعرات کو 20ویں دن بھی جاری رہا۔ شدید بارش کے باوجود مظاہرین ترپالوں اور رین کوٹ کی مدد سے احتجاجی مقام پر موجود رہے اور اپنے مطالبات کے لیے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کا احتجاج کی حمایت میں غیر معینہ مدت کا انشن 12ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران بھوک ہڑتال کرنے والے طالب علم ہریکیش کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور طلباء کے مسائل پر ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بارش کے باوجود مظاہرین ثابت قدم ہیں

دہلی-این سی آر میں مسلسل بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے اور ٹریفک میں خلل پڑا ہے، لیکن اس سے جنتر منتر پر جاری احتجاج پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے درمیان مظاہرین صبح سے ہی احتجاجی مقام پر موجود ہیں۔ کئی احتجاجی ترپالوں کے نیچے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ موسم کوئی بھی ہو، جب تک حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتی جدوجہد جاری رہے گی۔فاسٹ توڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

سونم وانگچک نے فاسٹ کے دوران ملک بھر سے ملنے والی حمایت اور فاسٹ ختم کرنے کی اپیلوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ انہیں پیغامات بھیج رہے ہیں کہ وہ اب اپنا فاسٹ ختم کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل طور پر مضبوط محسوس کر رہے ہیں اور اس وقت ان کی حالت مستحکم ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر آج کا فاسٹ ختم ہو بھی جاتا ہے تو اس سے مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلباء کو انصاف نہیں ملے گا اور نہ ہی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ لاکھوں طلباء، تعلیمی نظام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے متعلق ہے۔ طلباء کے ساتھ سونم وانگچک نے بھی ماحولیاتی تحفظ کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر سنجیدہ پالیسی فیصلے نہ کیے گئے تو لداخ کے پہاڑوں، ہمالیہ اور ہندوستان کے دریاؤں کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ماحول دونوں ہی ملک کے مستقبل سے براہ راست جڑے ہوئے مسائل ہیں اور انہیں سیاسی نہیں بلکہ قومی مفاد کے نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔20 جولائی کو پارلیمنٹ تک پرامن مارچ کی اپیل

سونم وانگچک نے اپنے حامیوں سے 20 جولائی کو دہلی پہنچنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوگا اور وہ جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک پرامن مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ وہ جگہ ہے جہاں ملک کے لیے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں اور اگر شہری پرامن طریقے سے اپنے نمائندوں تک اپنی رائے پہنچائیں تو اس معاملے پر جامع بات چیت ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ صرف سوشل میڈیا پر پیغامات بھیجنے سے تبدیلی نہیں آئے گی۔ اگر لوگ واقعی اس تحریک اور ملک کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں تو انہیں دہلی آکر جمہوری طریقے سے حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے حامیوں سے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بڑی عوامی شرکت عوام کی آواز کو حکومت اور پارلیمنٹ تک مضبوطی سے پہنچائے گی۔

اگر میری فکر ہے تو میدان میں آؤ

وانگچک نے کہا کہ طبی طور پر اگلے چند دنوں تک صحت پر کسی سنگین اثرات کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم اس کے بعد ان کی صحت مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ صحیح معنوں میں صحت مند رہنا چاہتے ہیں اور تحریک کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو انہیں محض پیغامات بھیجنے کی بجائے اس مہم میں جمہوری طریقے سے حصہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے ہی تعلیم اور ماحولیات جیسے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ دھرنے میں شریک مظاہرین کا کہنا ہے کہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تعلیمی نظام سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے اور حکومت مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر کوئی فیصلہ نہیں لیتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی ایک تنظیم تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک بھر کے طلباء، نوجوانوں اور باشعور شہریوں کی آواز بن چکی ہے۔

Tuesday, 7 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*_ضروری و پُر درد اپیل - ہماری بیٹیوں، ہمارا مستقبل_*
*تائید و حمایت حفاظت گروپ مالیگاؤں ،بزم خلوص، مجددی فاؤنڈیشن*
*____________________________*

       *محمد عارف نوری* 
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں و ڈائریکٹر حفاظت میڈیا مالیگاؤں)*
8208152800 
*____________________________*

*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
*آج ہمارے گھروں میں "ارتداد، خودکشی، نشہ، غلط محبت اور دھوکے" کی خبریں عام ہو چکی ہیں۔* 
*ہماری معصوم بیٹیاں سوشل میڈیا اور غلط صحبت کا شکار ہو رہی ہیں۔*
*یہ صرف خبر نہیں، یہ ہر ماں باپ کا درد ہے۔*

*اسی درد کو مٹانے کے لیے مالیگاؤں کے مخلص سوشل ورکروں و دیگر تنظیموں نے مل کر ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔*

*_ایک خصوصی اصلاحی پروگرام برائے خواتین_*

*"گمراہی سے ہدایت کی طرف"*

*ان موضوعات پر کُھل کر بات ہوگی ارتداد ایمان کمزور کیوں ہو رہا ہے اور اس کی حفاظت کیسے کریں؟خودکشی و ڈپریشن مایوسی کا اسلامی علاج کیا ہے؟ عشق، محبت اور دھوکا ہماری بیٹیاں کس جال میں پھنس رہی ہیں؟ نشہ اور جرائم ایک غلطی پوری نسل تباہ کر دیتی ہے بد اخلاقی و بے حیائی اسلامی تہذیب کی طرف واپسی سوشل میڈیا کے فتنے موبائل ہمارا دوست یا دشمن؟ و دیگر سماجی برائیوں پر محترمہ نازیہ تسکین آپا مشہور داعیہ اور دیگر عالمہ آپا بھی خطاب فرمائیں گی۔*

*پروگرام کی مکمل تفصیل:*
*تاریخ : 12 جولائی 2026 بروز اتوار وقت : دوپہر 2:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک مقام : اسکول نمبر 1 گراؤنڈ، قدوائی روڈ، مالیگاؤں، صرف خواتین کے لیے* 

*اس پروگرام کی تائید و تائید و حمایت کردہ :* 
*حفاظت گروپ مالیگاؤں (محمد عارف نوری صاحب)* 
*بزمِ خلوص (صدر آزاد انور صاحب)*
*مجددی فاؤنڈیشن( صدر مولانا عبدالرشید مجددی صاحب)*

*آخر میں ہماری مؤدبانہ گزارش:*
*یہ پروگرام کسی ایک کا نہیں، پورے مالیگاؤں شہر کا ہے اپنی بہن، بیٹی، بھانجی ، بھتیجی سب کو لے کر آئیں ہو سکتا ہے آپ کا ایک قدم کسی گھر کو ٹوٹنے سے بچا لے*








مسلسل 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنے سے ’کینسر کا خطرہ‘، جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ہی نشست میں آدھے گھنٹے (30 منٹ) سے زیادہ بیٹھنا کینسر کے باعث موت کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق محققین نے 10 برس کے دوران 90 ہزار سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا اور یہ پایا کہ جاگتے ہوئے ایک ہی دورانیے میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا یا لیٹے رہنا کینسر سے موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔
نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ یہ خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔تاہم محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ 30 منٹ تک غیرمتحرک یا بیٹھے رہنے کے دوران اگر جسمانی سرگرمی انجام دی جائے تو یہ خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر آدھے گھنٹے بعد اُٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے چہل قدمی کرنا صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے چاہے یہ چہل قدمی دفتر کے اندر ہی کیوں نہ کی جائے۔
گلاسگو یونیورسٹی کے اس مطالعے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر فریڈرک ہو کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعدادوشمار سے یہ واضح ہوا ہے کہ ایک وقت میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا خاص طور پر کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جُڑا ہوا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہر نصف گھنٹے بعد مختصر چہل قدمی کی طرح کی سادہ سرگرمی کینسر کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صحت کے حوالے سے موجودہ رہنما اصول زیادہ تر درمیانی یا شدید ورزش پر زور دیتے ہیں، مگر ہماری تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہلکی پھلکی حرکت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آئندہ طبی آزمائشیں ہمیں عمومی ہدایات سے آگے بڑھنے اور ہر فرد کے لیے مخصوص حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دیں گی تاکہ بیٹھنے کے وقت کو بہتر انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔‘
یہ نتائج ایک طبی جریدے میں شائع ہوئے، جس میں روزمرہ کی بنیاد پر طویل عرصے تک غیر متحرک رہنے کے صحت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اگرچہ طویل وقت تک بیٹھے یا لیٹے رہنا پہلے ہی دل کی بیماریوں اور بعض اقسام کے کینسر کے بڑھتے خطرے سے جوڑا جا چکا ہے، لیکن محققین کے مطابق اس بات پر کم توجہ دی گئی ہے کہ یہ غیر متحرک وقت کس انداز میں جمع ہوتا ہے اور آیا اس کا بھی صحت پر اثر پڑتا ہے یا نہیں۔
تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ غیر متحرک وقت کو جسمانی سرگرمی سے بدلنے سے کینسر کے مختلف خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ مفید سرگرمیوں میں آہستہ چلنا اور گھریلو کام کاج وغیرہ شامل ہیں۔تحقیقی ٹیم نے برطانیہ کے ایک بڑے طبی ڈیٹا پروجیکٹ کے 90 ہزار سے زائد شرکا کے ایسے اعدادوشمار کا تجزیہ کیا جو پہننے کے قابل آلات کے ذریعے جمع کیے گئے تھے، اور ان کا اوسطاً 12 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف ہوا کہ 30 منٹ سے زیادہ دیر تک غیرمتحرک رہنا کینسر کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ روزانہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ کینسر سے موت کا خطرہ دس فیصد بڑھ جاتا ہے۔
تاہم کچھ دیر بعد حرکت کرنے سے یہ خطرہ کم ہوتا دکھائی دیا۔ روزانہ ایک گھنٹہ بیٹھنے کے وقت کو کپڑے استری کرنے یا برتن دھونے کی طرح کی ہلکی جسمانی سرگرمی سے تبدیل کرنے سے موت کا خطرہ بارہ فیصد کم ہوا۔
اسی طرح روزانہ 30 منٹ تک غیرمتحرک رہنے کی بجائے درمیانی درجے کی جسمانی سرگرمی جیسے معمول کی رفتار سے چہل قدمی کرنے سے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد کم ہوا۔ جبکہ روزانہ پانچ منٹ غیرمتحرک رہنے اور پھر پانچ منٹ کی تیز جسمانی سرگرمی انجام دینے پر یہ خطرہ 22 فیصد تک کم پایا گیا۔
تاہم اس تحقیق کی کچھ حدود بھی تھیں، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ مشاہداتی مطالعہ تھا اور اس میں شماریاتی تجزیہ کیا گیا، اس لیے براہِ راست کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
ایک ماہرِ شماریات پروفیسر کیون مک کانوی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ یہ نتائج دلچسپ ہیں مگر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔









شام کے دارالحکومت دمشق میں سلسلہ واردھماکے، فرانسیسی صدرمیکرون کے ہوٹل کے باہرگرا بم
دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کویکے بعد دیگرے 2 دھماکوں سے شہرلرزاٹھا۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب فرانس کے صدرایمینوئل میکرون شام کے دورے پرموجود تھے اورصدراحمد الشرع سے ملاقات کے لئے صدارتی محل پہنچ رہے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق، میکرون کے صدارتی محل روانہ ہونے کے فوراً بعد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک دھماکہ اس ہوٹل کے قریب بھی ہوا، جہاں فرانسیسی صدرقیام پذیرہیں۔ شامی میڈیا کے مطابق، دونوں دھماکے دمشق کے مرکزی علاقے میں ہوئے، جس کے بعد آگ کے شعلے اوردھوئیں کے گھنے بادل آسمان میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

فرانسیسی صدارتی دفترنے بتایا کہ صدرایمینوئل میکرون مکمل طورپرمحفوظ ہیں اورانہوں نے دھماکوں کی آوازبھی نہیں سنی۔ دھماکوں کے باوجود انہوں نے شام کے صدراحمد الشرع سے طے شدہ ملاقات بھی کی۔ حکام کے مطابق، ان دھماکوں میں کم ازکم 18 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں 4 پولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔ یہ دھماکے دمشق کے مصروف علاقوں، نیشنل میوزیم آف دمشق اوروزارتِ سیاحت کے قریب پیش آئے۔

صدارتی قافلے کے گزرنے کے فوراً بعد دھماکہ

رپورٹ کے مطابق پہلا دھماکہ میکرون کے قافلے کے صدارتی محل روانہ ہونے کے چند ہی لمحوں بعد ہوا۔ دھماکے کے بعد ایک کوڑے دان سے آگ اوردھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اس کے چند میٹرکے فاصلے پردوسرا دھماکہ بھی ہوا، جوجائے وقوع پرکھڑی ایک ایمبولینس کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً دودرجن افراد موجود تھے۔

چند روزقبل بھی کیفے میں ہوا تھا دھماکہ

واضح رہے کہ 2 جولائی کوبھی دمشق کے ایک کیفے میں بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 9 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ تازہ دھماکوں نے ایک بارپھردارالحکومت کی سکیورٹی پرسوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ شام کے صدراحمد الشرع 2024 میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدارمیں آئے تھے اورملک میں امن واستحکام بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حالانکہ پہلے سے بم دھماکوں میں کافی کمی آئی ہے، لیکن ایک ہفتے کے اندر دو بار دھماکہ ہونے سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے…..جگرمراد آبادی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں جگر مراد آبادی اردو شاعری کے ان شعرا...