Saturday, 18 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

موٹاپا بہت سے خطرناک امراض کا سبب بنتا ہے
بیلی فیٹ سے جان چھڑانا بہت ضروری ہے . محض اس لیے نہیں کہ یہ آپ کو بد نما بناتی ہے اور اعتماد میں کمی کا سبب بنتی ہے بلکہ یہ آپکی صحت کے لیےبھی نقصان دہ ہے . جسم پر اضافی چربی ہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس ، ڈیمینشیا اور جگر کے امراض کا خطرہ بڑھا دیتی ہے . 2004 میں ذیابیطس کیئر کی ایک رپورٹ کے مطابق پیٹ پر موجود اضافی چربی کا ذیابیطس ٹائپ 2 سے گہرا تعلق ہے . 
2008 میں انٹرنیشنل جرنل آف کلینیکل پریکٹس میں شائع ہونے والی رپورٹ بھی موٹاپا اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے درمیان تعلق واضح کرتی ہے . 
2016 میں شائع ہونے والی ذیابیطس کیئررپورٹ میں بھی پیٹ کی اضافی چربی اور موٹاپا کو امراض قلب اور گردوں کے امراض کا سبب قراردیا گیا ہے .  
2014 میں جرنل آف امریکن کالج آف کارڈیولوجی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پیٹ کے گرد اضافی چربی باقی تمام جسم پر موجود چربی کے مقابلے میں زیادہ بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بنتی ہے . نہ صرف امراض قلب بلکہ یہ نیند میں خلل ، ڈیمینشیا ، ایلزائمر اور لو برین والیم کا سبب بھی بنتی ہے . لہذا بیلی فیٹ کو کنٹرول کرنا بہت اہم ہے . صحت مند رہنے اور خطرناک امراض سےبچنے کے لیے فٹ رہنے کی اہمیت اپنی جگہ مقدم ہے . 









پربھسمرن اور ائیر کی شاندار ہاف سنچری، پنجاب نے ممبئی کو بری طرح شکست دی، ڈی کاک کی سنچری گئی رائیگاں
وانکھیڑے اسٹیڈیم ممبئی: جمعرات کو ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے 24ویں میچ میں پنجاب کنگز نے ممبئی انڈینز کو سات وکٹوں سے شکست دے دی۔ پنجاب کنگز نے 196 کا ہدف پربھسمرن سنگھ اور شریس ائیر کی نصف سنچریوں اور تیسری وکٹ کے لیے 139 رنز کی شراکت کی بدولت صرف 16.3 اوورز میں حاصل کر لیا۔

196 رنز کا تعاقب پنجاب کنگز کے لیے ایک آسان کام ثابت ہوا کیونکہ انہوں نے اسے 21 گیندیں باقی رہتے ہوئے مکمل کر لیا۔ پربھسمرن سنگھ اور شریس ائیر نے تیسری وکٹ کے لیے 139 رنز کی میچ وننگ پارٹنرشپ بنائی اور دونوں کی ففٹی نے ٹیم کو ہدف آرام سے پورا کرنے میں مدد کی۔ اوپنر پربھسمرن نے صرف 39 گیندوں پر ناقابل شکست 80 رنز بنائے، کپتان شریس ائیر نے کریز پر قیام کے دوران 35 گیندوں پر 66 رنز بنائے۔ ممبئی انڈینز کی جانب سے اللہ غضنفر نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جسپریت بمراہ نے بغیر کسی وکٹ کے ایک اور اسپیل میں بولنگ کی اور ان کے بغیر وکٹ کے اسپیل کا سلسلہ اب اس آئی پی ایل سیزن میں پانچ میچوں میں چلا گیا ہے۔روہت شرما کی جگہ آئے ڈی کاک نے کمال کردیا

ممبئی نے روہت شرما کو پچھلے میچ میں لگی ہیم اسٹرنگ انجری کی وجہ سے آرام دینے کا فیصلہ کیا۔ کوئنٹن ڈی کاک نے اننگز کا آغاز کیا اور آئی پی ایل 2026 کی اپنی پہلی سنچری بنائی۔ انہوں نے 60 گیندوں پر 112 رنز (ناٹ آؤٹ) بنائے اور نمن دھیر کے 31 گیندوں پر 50 رنز کی بدولت ممبئی انڈینز تیسرے اوور میں 12/2 ہونے کے بعد 195/6 تک ہی پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن کوئنٹن ڈی کاک کی متاثر کن کارکردگی کو پربھسمرن اور شریس ائیر نے پھیکا کر دیا، جنہوں نے شاندار بلے بازی کی اور پی بی کے ایس (PBKS) کو فتح سے ہمکنار کیا۔پربھسمرن اور شریس ائیر کی شاندار کارکردگی

پربھسمرن اور شریس ائیر نے کچھ دن قبل سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف بھی نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔ پربھسمرن نے 39 گیندوں پر 80 رنز (ناٹ آؤٹ) بنائے اور شریس نے 35 گیندوں پر 66 رنز بنائے، جس سے پی بی کے ایس (PBKS) کو 16.3 اوورز میں 198/3 تک پہنچنے میں مدد ملی۔ممبئی انڈینز کے صرف دو ہی پوائنٹس

جہاں پربھسمرن نے آئی پی ایل 2026 میں اپنی دوسری نصف سنچری اسکور کی، ائیر نے ٹورنامنٹ کی اپنی مسلسل تیسری نصف سنچری مکمل کی۔ اس جیت کے ساتھ، پی بی کے ایس (PBKS) نو پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں سرفہرست ہے، جب کہ ممبئی انڈینز ایک جیت اور چار ہار کے ساتھ صرف دو ہی پوائنٹس پر برقرار ہے۔

ایم آئی بمقابلہ پنجاب کنگز مقابلے میں بنائے گئے ریکارڈس

آئی پی ایل میںپنجاب کنگز کے لیے سب سے زیادہ شراکت (کسی بھی وکٹ)

206 - گلکرسٹ اور شان مارش بمقابلہ آر سی بی، دھرم شالہ، 2011

183 - میانک اگروال اور کے ایل راہل بمقابلہ آر آر، شارجہ، 2021

148 - اظہر محمود اور شان مارش بمقابلہ ایم آئی، دھرم شالہ، 2013

139 - شریس ائیر اور پربھسمرن بمقابلہ ایم آئی، وانکھیڑے، 2026*

آئی پی ایل میں سب سے زیادہ جیت بمقابلہ ممبئی انڈینز

18 - PBKS (35 مقابلے)*

18 - CSK (39 مقابلے)

17 - DC (38 مقابلے)

16 - RCB (35 مقابلے)

15 - RR (31 مقابلے)

آئی پی ایل میں وانکھیڑے پر MI بمقابلہ سب سے زیادہ جیت

6 - PBKS (11 مقابلے)*

5 - CSK (13 مقابلے)

5 - RCB (13 مقابلے)

4 - RR (9 مقابلے)

آئی پی ایل میں سب سے زیادہ ہدف کا تعاقب بمقابلہ MI

204 بذریعہ PBKS، احمد آباد، 2025 Q2

196 بذریعہ PBKS، وانکھیڑے، 2026*

196 بذریعہ آر آر، ابوظہبی، 2020

195 بذریعہ ڈی ڈی، وانکھیڑے، 2018









کشمیری علیحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ تیس سال پرانے کیس میں دہلی میں گرفتار
سرینگر: حکام کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کو دہلی میں کشمیر کے بزرگ علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کو سال 1996 کے ایک مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے، یہ مقدمہ جموں و کشمیر میں درج ہے۔ شبیر شاہ کو گزشتہ ماہ ضمانت پر رہا کیا گیا تھا تاہم ضمانت میں بغیر کورٹ اجازت کے دہلی سے باہر جانے کی ممانعت تھی۔

شاہ کو جمعہ کی شام پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ایجنسی کو تین دن کا ٹرانزٹ ریمانڈ دیا، جس کے تحت انہیں مزید کارروائی کے لیے جموں و کشمیر لے جایا جائے گا۔ حکام نے بتایا کہ شاہ کو ہوائی جہاز کے ذریعے یونین ٹیریٹری منتقل کیا جائے گا اور پیر کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

علیحدگی پسند لیڈر کے اہل خانہ نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: "ہمیں کل عدالت میں اس کی اطلاع ملی، لیکن ہم ان سے بات نہیں کر پائے ہیں۔"

یہ مقدمہ 17 جولائی 1996 کو سرینگر کے شیرگڑھی پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر سے منسلک ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ہلاک کیے گئے ملی ٹنٹس کے جنازے کے جلوس کے دوران پیش آیا۔ جلوس کے دوران بلند کیے گئے نعروں کے باعث مبینہ طور پر کشیدگی پیدا ہوئی، جو بعد میں پرتشدد شکل اختیار کر گئی۔ سیکیورٹی ایجنسیز کا دعویٰ ہے کہ اس دوران مسلح عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی، جس میں کئی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

شاہ کی یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند ہفتے قبل شاہ کو کئی مقدمات میں قانونی راحت ملی اور 12 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک الگ این آئی اے کیس میں انہیں ضمانت دی تھی، جبکہ 28 مارچ کو منی لانڈرنگ کے ایک اور مقدمے میں بھی انہیں ضمانت مل گئی تھی، تاہم کورٹ نے انہیں دہلی سے باہر جانے سے منع کیا تھا اور طلب کیے جانے پر ایجنسیز کے سامنے پیش ہونے کی شرط پر ہی ضمانت دی تھی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جس بات کے لئے چین کو دی تھی دھمکی ، اسی بات کے لئے پھسلانے میں لگ گئے ٹرمپ ، ہرمز پر امریکہ کا ڈبل گیم شروع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سب کو حیران کر دیا ہے۔ چین جو پہلے آبنائے ہرمز پر امریکہ کو کھلم کھلا دھمکی دیتا تھا، اب چین کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کر رہا ہے۔ TruthSocial پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین بہت خوش ہے کہ میں ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں۔ میں یہ چین اور پوری دنیا کے لیے کر رہا ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان صرف دو دن بعد آیا ہے جب انہوں نے ایران کی مدد کرنے پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس پر چینی وزارت خارجہ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا لب و لہجہ بدلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر نے مزید لکھا کہ چینی صدر شی جن پنگ سے بیجنگ میں مل کر خوشی ہوگی۔ ان کا دورہ چین مئی 2026 میں طے شدہ ہے۔ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے دورے پر کوئی اثر نہ پڑے۔ انہوں نے پہلے ایران جنگ کے دوران اپنا سفر ملتوی کیا تھا، اور اب وہ اسے ملتوی نہیں کرنا چاہتے۔پہلے کیا ہوا؟
ابھی چند روز قبل ٹرمپ نے چین کو 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ چین ایران کو ہتھیار بھیج رہا ہے۔ چین نے اسے بے بنیاد قرار دیا اور واضح انتباہ جاری کیا: “اگر امریکہ نے محصولات عائد کیے تو ہم جوابی کارروائی کریں گے۔” چین نے بھی ہرمز کی ناکہ بندی پر امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ اب، ٹرمپ کا لہجہ اچانک بدل گیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ چین آبنائے ہرمز کے کھلنے سے بہت خوش ہے اور بیجنگ نے ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

موقف میں تبدیلی کیوں؟
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ 14-15 مئی کو چین کے اپنے تاریخی دورے سے قبل تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ہرمز کا معاملہ ابھی بھی حساس ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ چین کے بغیر پائیدار معاہدہ ناممکن ہے۔ اس لیے اب وہ میٹھی میٹھی باتوں کا سہارا لے رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چین اور امریکہ بہت اچھے طریقے سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ چین کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مئی میں بیجنگ کا دورہ ٹرمپ کی دوسری مدت کی اہم ترین سفارتی ملاقات ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ٹرمپ چین کو ہرمز، ایران اور تجارت جیسے مسائل پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اگر چین اپنی دھمکیوں کی پرانی لائن پر قائم رہتا ہے تو ٹرمپ کی گلے ملنے کی امیدیں ادھوری رہ سکتی ہیں۔ فی الحال ٹرمپ کی اس نئی حکمت عملی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چین کو کسی نہ کسی طرح اپنے کیمپ میں رکھنا چاہتے ہیں۔







آج رات 8.30 بجے قوم کے نام خطاب کریں گے وزیراعظم مودی، خواتین ریزرویشن پر کرسکتے ہیں بات
پہلے کیا ہوا؟
ابھی چند روز قبل ٹرمپ نے چین کو 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ چین ایران کو ہتھیار بھیج رہا ہے۔ چین نے اسے بے بنیاد قرار دیا اور واضح انتباہ جاری کیا: “اگر امریکہ نے محصولات عائد کیے تو ہم جوابی کارروائی کریں گے۔” چین نے بھی ہرمز کی ناکہ بندی پر امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ اب، ٹرمپ کا لہجہ اچانک بدل گیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ چین آبنائے ہرمز کے کھلنے سے بہت خوش ہے اور بیجنگ نے ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

موقف میں تبدیلی کیوں؟
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ 14-15 مئی کو چین کے اپنے تاریخی دورے سے قبل تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ہرمز کا معاملہ ابھی بھی حساس ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ چین کے بغیر پائیدار معاہدہ ناممکن ہے۔ اس لیے اب وہ میٹھی میٹھی باتوں کا سہارا لے رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چین اور امریکہ بہت اچھے طریقے سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ چین کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مئی میں بیجنگ کا دورہ ٹرمپ کی دوسری مدت کی اہم ترین سفارتی ملاقات ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ٹرمپ چین کو ہرمز، ایران اور تجارت جیسے مسائل پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اگر چین اپنی دھمکیوں کی پرانی لائن پر قائم رہتا ہے تو ٹرمپ کی گلے ملنے کی امیدیں ادھوری رہ سکتی ہیں۔ فی الحال ٹرمپ کی اس نئی حکمت عملی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چین کو کسی نہ کسی طرح اپنے کیمپ میں رکھنا چاہتے ہیں۔نئی دہلی: وزیرِ اعظم نریندر مودی آج رات 8:30 بجے قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ یہ خطاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کو روک دیا ہے۔ جمعہ کو لوک سبھا میں 131واں آئینی ترمیمی بل پاس نہیں ہو سکا۔ حکومت کو اس بل کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی، لیکن تعداد وہاں تک نہیں پہنچ سکی۔ کُل 528 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔ ان میں سے 298 نے بل کی حمایت کی، جبکہ 230 اراکین نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ اکثریت کے لیے 352 ووٹ درکار تھے، جو پورے نہیں ہو سکے۔ اب وزیرِ اعظم مودی اس مسئلے پر قوم کے سامنے اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔

اس بل کا مقصد 2029 سے مقننہ میں خواتین کو ریزرویشن دینا تھا۔ بل کے مسترد ہوتے ہی حکومت نے دو دیگر بلوں کو بھی آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں حد بندی بل 2026 اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے قانون میں ترمیمی بل شامل ہیں۔تجویز کے مطابق لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تیاری تھی۔ یہ توسیع 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہونے والی حد بندی سے جڑی ہوئی تھی۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ وزیرِ اعظم مودی اپنے خطاب میں کیا مؤقف اپناتے ہیں۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہے کہ وزیرِ اعظم مودی اس معاملے پر کوئی بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں۔ خواتین ریزرویشن کے حوالے سے حکومت کی اگلی حکمتِ عملی کیا ہوگی، اس کا انکشاف آج رات وزیرِ اعظم کے قوم سے خطاب میں ہو سکتا ہے۔ کیا اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان حکومت کوئی نیا آرڈیننس لائے گی؟









ایران نے آبنائے ہرمز کو پھر کیا بند، امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام، جانئے اب کیا ہے مطالبہ؟
مغربی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ ایران کی فوجی قیادت اور اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے اور صورتحال پھر سے ‘پہلے جیسی’ ہو گئی ہے۔ یعنی اس اسٹریٹجک سمندری راستے پر اب سخت کنٹرول نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایران نے یہ قدم امریکہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کے آس پاس ناکہ بندی جاری رکھی، جس سے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی۔

دراصل، جمعہ کو لبنان میں جنگ بندی کے بعد ایران نے اس اہم آبی راستے کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے امید پیدا ہوگئی تھی کہ تیل کی سپلائی اور شپنگ ٹریفک معمول پر آ جائے گا۔ لیکن حالات 24 گھنٹوں کے اندر ہی بدل گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا کہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ کوئی مستقل اور طویل مدتی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے حوالے سے جاری بیان میں IRGC نے امریکہ پر ‘سمندری ڈکیتی’ اور ‘سمندری چوری’ جیسے سنگین الزامات لگائے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نام نہاد ناکہ بندی کے تحت جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ آبنائے ہرمز میں کئی جہازوں نے یو ٹرن لے لیا ہے۔ایران کی کیا ہے مانگ؟
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق IRGC نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران سے آنے جانے والے جہازوں کو مکمل آزادی نہیں دی جاتی، تب تک آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول جاری رہے گا۔ یہی وہ آبی راستہ ہے جس سے دنیا کے بڑے حصے کا تیل اور گیس گزرتا ہے۔ ایسے میں اس فیصلے کا براہ راست اثر عالمی توانائی مارکیٹ اور شپنگ انڈسٹری پر پڑ سکتا ہے۔ اسی دوران ایران نے ایک اور بڑا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق IRGC نے ملک کے اندر مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔جاسوسی سیل کو تباہ کر دیا
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی انٹیلیجنس یونٹ نے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ سے وابستہ ‘جاسوسی سیل’ کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ نیٹ ورک جاسوسی، اندرونی نیٹ ورک بنانے اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش میں مصروف تھے۔ رپورٹس کے مطابق یہ مبینہ نیٹ ورک مشرقی آذربائیجان، کرمان اور مازندران صوبوں میں سرگرم تھے۔

Friday, 17 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


ایران کے پاس کتنا ہے یورینیم کا ذخیرہ ؟ کتنے تک بہت زیادہ کہلاتا ہے؟نئی دہلی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تناؤ ایک بار پھر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے فوری طور پر اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی تجویز نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ایران کے پاس کتنا یورینیم موجود ہے جس سے امریکی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بیان بازی میں تیزی آگئی ہے۔ جہاں امریکہ اسے ممکنہ معاہدے کی علامت قرار دے رہا ہے وہیں ایران نے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اس تضاد نے واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک اس مسئلے کو ا سٹریٹجک دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔افزودہ یورینیم کیا ہے؟
یورینیم اپنی قدرتی شکل میں براہ راست قابل استعمال نہیں ہے۔ اس میں یورینیم-235 (U-235) کی مقدار بڑھانے کے عمل کو افزودگی کہا جاتا ہے۔ قدرتی یورینیم صرف 0.7% U-235 پر مشتمل ہوتا ہے۔ سائنسدان گیس سینٹری فیوج جیسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اس مقدار میں اضافہ کرتے ہیں۔ 3-5 فیصد تک افزودہ یورینیم بجلی پیدا کرنے والے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں استعمال ہوتا ہے جبکہ 20 فیصد سے زیادہ یہ زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔

یہ ہتھیاروں کے لیے کب خطرناک ہو جاتا ہے؟
جب یورینیم کی افزودگی تقریباً 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے تو اسے ہتھیاروں کا درجہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 25 کلو گرام 90 فیصد افزودہ یورینیم جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ مزید برآں، 40-42 کلوگرام یورینیم جو 60 فیصد تک افزودہ ہے، کو بھی ہتھیاروں میں مزید پروسیس کیا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 60فیصد سے 90فیصد افزودگی تک پہنچنے کا عمل نسبتاً تیز ہے۔

ایران کے پاس کتنا ذخیرہ ہے؟
بین الاقوامی ایجنسیوں کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 400 سے 450 کلو گرام یورینیم افزودہ ہے جو 60 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ مزید برآں، اس میں کم افزودہ یورینیم کا ایک بڑا ذخیرہ ہے، جسے ضرورت پڑنے پر مزید افزودہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں محدود نگرانی نے ان اعداد و شمار کی مکمل تصدیق کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

عالمی خدشات کیوں بڑھے
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنازع صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اعتماد اور ارادوں کا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ ایران کا بڑھتا ہوا ذخیرہ اس کے “بریک آؤٹ ٹائم” کو کم کر سکتا ہے، یعنی ہتھیاروں کے درجے کی صلاحیت تک پہنچنے میں جو وقت لگتا ہے۔ دریں اثنا، ایران اس ذخیرے کو ایک اسٹریٹجک اثاثہ اور مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔ نتیجتاً دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل میں ہونے والی بات چیت کا نتیجہ پوری دنیا کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔








بھارت نے ڈیلیمیٹیشن بل پر پاکستان کے اعتراضات مسترد کر دیے، جموں کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے امور بھارت کا داخلی معاملہ
بھارت نے ڈیلیمیٹیشن بل 2026 پر پاکستان کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

جمعہ کے روز نئی دہلی میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کے ردِعمل پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی خودمختاری اور داخلی معاملات پر کسی قسم کی بیرونی رائے یا مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا :
’’ڈیلیمیٹیشن کے عمل کے حوالے سے بھارت کے داخلی معاملات صرف بھارت کے اپنے معاملات ہیں، اور ہم کسی بھی قسم کی مداخلت یا غیر ضروری تبصروں کو مسترد کرتے ہیں۔‘‘یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب پاکستان نے ڈیلیمیٹیشن بل 2026 کی بعض شقوں پر اعتراض اٹھایا تھا۔ اس بل کے تحت الیکشن کمیشن کو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں بھی حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کا اختیار دیا گیا ہے۔

یہ بل 16 اپریل کو لوک سبھا میں مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ جموں و کشمیر کی حلقہ بندی میں ان علاقوں کو بھی شامل کیا جائے جو اس وقت پاکستان کے قبضے میں ہیں، کیونکہ بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ خطہ اس کا اٹوٹ حصہ ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے اس تجویز پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد نے اس بل سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں اور وہ جموں و کشمیر میں بھارت کے نام نہاد ڈیلیمیٹیشن عمل کو تسلیم نہیں کرتا۔

انہوں نے اس اقدام کو ’’متنازع علاقے میں غیر قانونی سیاسی چال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو جموں و کشمیر کے کسی بھی حصے کی نئی حد بندی کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔

ڈیلیمیٹیشن بل 2026 کی ایک اور اہم تجویز کے مطابق لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد کو موجودہ 543 سے بڑھا کر تقریباً 850 تک کیا جا سکتا ہے، جس سے ملک میں نمائندگی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ڈیلیمیٹیشن ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کی جاتی ہے تاکہ ہر حلقہ تقریباً یکساں آبادی کی نمائندگی کرے۔ یہ عمل عام طور پر مردم شماری کے بعد ڈیلیمیٹیشن کمیشن کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے تاکہ منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بھارت میں آخری بار مکمل ڈیلیمیٹیشن کا عمل 2002 میں 2001 کی مردم شماری کی بنیاد پر کیا گیا تھا، جس کے بعد سے اس عمل کو منجمد رکھا گیا ہے۔












ہرمز کھولنے کے لئے شہزادہ محمد بن سلمان کی چال ، ٹرمپ بھی جھکے ، اب ایران پر ٹکی نظرلبنان اور اسرائیل کے درمیان اچانک 10 روزہ جنگ بندی کسی عام سفارتی عمل کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر زور دیں، جس سے وائٹ ہاؤس کو فعال طور پر مداخلت کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر جنگ بندی شروع کرنے اور حزب اللہ کو نشانہ بنانے والے حملوں کو روکنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔

سعودی عرب نے لبنان میں جنگ بندی کیوں شروع کی؟درحقیقت سعودی عرب کی سب سے بڑی تشویش تیل کی سپلائی اور توانائی کی عالمی منڈی کا استحکام ہے۔ ایران امریکہ جنگ نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ وہاں جاری کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ اس راستے کو جلد از جلد محفوظ اور مکمل طور پر کھول دیا جائے کیونکہ یہ جتنی دیر بند رہے گا اس کا نقصان سب کو ہوگا۔

آبنائے ہرمز کو کھولنے کے مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے سعودی عرب نے امریکہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنائے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔ ایران نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ جب تک لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہیں گے وہ امریکہ کے ساتھ کسی بڑے معاہدے پر رضامند نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ لبنان امریکہ ایران معاہدے سے براہ راست جڑا تھا۔

اسرائیل کو کیسے قائل کیا گیا؟
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے تیزی سے کام کیا، سب سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کی اور انہیں تنازعہ کو کم کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے بعد لبنانی قیادت سے رابطہ کیا گیا اور یقین دہانی کرائی گئی کہ تنازعہ کو روک دیا جائے گا۔ یہ سارا عمل اتنا تیز تھا کہ بہت سے اسرائیلی وزراء کو صرف ٹیلی ویژن کی خبروں کے ذریعے ہی اس فیصلے کے بارے میں معلوم ہوا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، حالانکہ یہ بہت نازک حالت میں ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود لبنان میں ایمبولینس پر حملہ کیا۔

سعودی عرب آبنائے ہرمز کو کھولنا چاہتا ہے
اس ساری پیش رفت میں سعودی عرب کی حکمت عملی دوہری لیکن واضح دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ اس نے پہلے امریکہ کو محدود مدد فراہم کی تھی لیکن اب اس نے جنگ کو طول دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کی توجہ واضح طور پر کشیدگی کو کم کرنے، توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستوں کو مسدود نہ ہونے کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگرچہ سعودی عرب کے پاس ایسٹ ویسٹ پائپ لائن جیسے آپشنز موجود ہیں جو اسے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن اس کے لیے عالمی منڈی کا استحکام بھی اتنا ہی اہم ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*پریس نوٹ: مالیگاؤں میں جونا آگرہ روڈ پر 'اپنا سوپر مارکیٹ تا نیشنل کمپاؤنڈ' پر مجوزہ غیر ضروری فلائی اوور کی قانونی مخالفت!*
مالیگاؤں کے بیدار شہریان اور متاثرین کی جانب سے جونا آگرہ روڈ پر مجوزہ نئے فلائی اوور برج کے خلاف ایک فیصلہ کن قانونی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کلیم یوسف عبداللہ'گرین مالیگاؤں ڈرائیو' کی جانب سے وزیر اعلیٰ مہاراشٹر سمیت تمام اعلیٰ حکام کو ایک تفصیلی احتجاجی خط روانہ کیا گیا ہے۔

*عوامی بیداری اور قانونی حقائق:*

*قانون کی کھلی خلاف ورزی (MRTP Act):* مہاراشٹر ریجنل اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایکٹ 1966 کی دفعہ 26 اور 28 کے تحت کسی بھی بڑے منصوبے سے پہلے عوامی سماعت (Public Hearing) اور اعتراضات طلب کرنا لازمی ہے۔ انتظامیہ عوام کو اندھیرے میں رکھ کر یہ منصوبہ نہیں تھوپ سکتی۔

*شہریان کی تجارت اور روزگار کا تحفظ (آرٹیکل 19):* آئینِ ہند کا آرٹیکل 19(1)(g) شہریوں کو تجارت کی آزادی دیتا ہے۔ اس غیر ضروری فلائ اوور پل سے 400 سے 500 دکانیں، گیریج، اسپئر پارٹس، فرنیچر شاپ، کرانہ، کمرشئیل و رہائشی کمپلیکس، ریسٹورنٹ، ہسپتال اور اسکول وغیرہ ماحولیاتی، جغرافیائی اور معاشی طور پر تباہ ہو جائیں گے، جو کہ بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔

*تکنیکی ضرورت کا فقدان (IRC گائیڈ لائنز):*'انڈین روڈ کانگریس' کے مطابق فلائ اوور برج وہیں بننا چاہیے جہاں ٹریفک کا دباؤ ایک مخصوص حد سے زیادہ ہو، جو یہاں بالکل بھی نظر نہیں آتا، بلکہ آگرہ روڈ کا اصل مسئلہ 'تجاوزات'(Encroachments)ہیں۔ انتظامیہ تجاوزات ایمانداری سے ہٹانے کے بجائے کروڑوں کا بجٹ فلائ اوور پل پر ضائع کرنا چاہتی ہے جو کہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

*عوامی فنڈز کی بربادی اور این جی ٹی (NGT) کے احکامات کی توہین:* نیشنل گرین ٹربیونل (National Green Tribunal) کے احکامات کے تحت شہر بھر کے ساتھ ساتھ جونا آگرہ روڈ پر حال ہی میں 30 سے 40 کروڑ روپوں کی لاگت سے سیمنٹ کنکریٹ روڈ بنائی گئی ہے۔ اب اس روڈ کو توڑ کر فلائی اوور پل بنانا عوامی و سرکاری پیسے کی کھلی لوٹ اور عدالتی احکامات کی توہین ہے۔

*ماضی کا تلخ تجربہ:* اِسی جونا اگرہ روڈ پر 2017 میں شروع ہونے والا 'خواجہ غریب نواز فلائی اوور' جو 18 ماہ میں مکمل ہونا تھا، وہ 8 سال بعد بھی تکنیکی طور پر نامکمل اور ناقص ہے اور اس کا بجٹ 22 کروڑ سے بڑھا کر 29 کروڑ کر دیا گیا۔ یہ تاخیر، عوامی پریشانی اور کرپشن ثابت کرتی ہے کہ نیا منصوبہ بھی صرف 'کمیشن خوری' کے لیے لایا جا رہا ہے۔

*انتظامیہ سے دو ٹوک مطالبات:*

1- مجوزہ پل کا ڈی پی آر (DPR) اور ٹریفک سروے رپورٹ فوری طور پر عام کی جائے۔

2- عوامی سماعت کے بغیر منصوبے کو کوئی انتظامی منظوری نہ دی جائے۔

3- سابقہ پل اور سیمنٹ روڈ کے کاموں میں ہونے والے مالی غبن کی اعلیٰ سطحی انکوائری کی جائے۔

4- پہلے سڑک سے تجاوزات ہٹا کر ٹریفک بحال کی جائے، اور غیر ضروری منصوبہ منسوخ کیا جائے۔

5- شہر کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے تمام اہم شاہراہوں پر ایک لاکھ درخت لگائے جائیں۔ 

انتباہ: اگر انتظامیہ نے ان جائز مطالبات کو نظر انداز کیا تو شہریانِ مالیگاؤں ممبئی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت (PIL) داخل کریں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔

جاری کردہ:
کلیم یوسف عبداللہ
(گرین مالیگاؤں ڈرائیو)
اور: متاثرین جونا آگرہ روڈ ویاپاری و ناگرک سمیتی، مالیگاؤں۔
۔🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳








انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے ذریعے وزن کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ (وقفے وقفے سے کھانے) نے پچھلے کچھ سالوں میں توجہ حاصل کی ہے۔ کھانے کی یہ عادت اس بات پر زیادہ فوکس کرتی ہے کہ کب کھانا ہے اس سے زیادہ کہ کیا کھائیں۔
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے کئی طریقے ہیں۔ زیادہ تر لوگ 16/8 طریقہ استعمال کرتے ہیں، جس میں وہ 16 گھنٹے روزہ رکھتے ہیں اور 8 گھنٹے کے وقفے سے کھاتے ہیں۔ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے پیچھے بنیادی اصول جسم کو روزے کی حالت میں رکھنا ہے جو چربی کو جلانے اور میٹابولک صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ سے آپ کو مجموعی طور پر کیلوری کی مقدار کو محدود کرنے میں مدد ملتی ہے جس سے وزن کم ہوتا ہے۔انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران جسم توانائی کے لیے چربی جلاتا ہے جس سے جسم کی چربی کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور میٹابولزم کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے جس کا مطلب ہے وزن میں کمی۔
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ جسم کے خلیوں کو زہریلے مادوں کو ہٹانے اور خود کو ٹھیک کرنے میں مدد کرتی ہے جس سے مجموعی میٹابولک صحت میں مدد ملتی ہے۔
صحیح طریقہ کا انتخاب کریں
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا ایک ایسا طریقہ منتخب کرنا بہت ضروری ہے جو آپ کے طرز زندگی اور ترجیحات کے مطابق ہو۔ چاہے یہ 16/8 کا شیڈول ہو یا 5:2 کا طریقہ ہو۔ یقینی بنائیں کہ یہ آپ کے روزمرہ کے معمولات کے مطابق ہے۔ دیکھیں کہ آپ کا جسم بغیر کسی مضر اثرات کے آپ کے منتخب کردہ طریقہ کے مطابق کیسے ڈھلتا ہے۔
اچھی طرح ہائیڈریٹڈ رہیں
مناسب ہائیڈریشن جسم کو مناسب طریقے سے کام کرنے کی اجازت دیتی ہے اور وزن میں کمی میں کرتی ہے۔ دن بھر وافر مقدار میں پانی پئیں، خاص کر انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران۔ ہربل چائے یا بلیک کافی بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ہائیڈریٹ رہنا بھوک کو دبانے اور خواہشات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
 زیادہ کھانے سے پرہیز کریں
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران سوچ سمجھ کر کھانے کی کوشش کریں اور بھوک کو پہچانیں۔ زیادہ کھانا انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے فائدے کو نقصان میں بدل سکتا ہے اور وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ورزش
اپنے معمولات میں باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو شامل کریں۔ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران ورزش کیلوریز جلانے اور پٹھوں کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے، جو وزن میں کمی کو تیز کر سکتی ہے۔ مزید برآں یہ میٹابولزم کو فروغ دے گی اور آپ کی مجموعی صحت کی حمایت کرے گی۔
متوازن کھانے کی منصوبہ بندی کریں
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران متوازن غذا کھائیں جس میں غذائیت سے بھرپور خوراک جیسے پروٹین، اناج، صحت مند چکنائی، پھل اور سبزیاں شامل ہوں۔








نیویارک کے میئرزہران ممدانی کی اہلیہ رما دواجی نے نوجوانی کے دوران کیے گئے سوشل میڈیا بیانات پر معافی مانگ لی
نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ رمادواجی (Rama Duwaji) نے اپنی نوجوانی کے دوران سوشل میڈیا پر کیے گئے متنازع اور نقصان دہ بیانات پر عوامی طور پر معذرت کر لی ہے۔

28 سالہ آرٹسٹ رما دواجی نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہوں نے ماضی میں ایسی زبان استعمال کی جو دوسروں کے لیے تکلیف دہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی پرانی سوشل میڈیا پوسٹس سامنے آئیں تو انہیں شدید شرمندگی محسوس ہوئی۔انہوں نے کہا :
’’جب میرے نوجوانی کے زمانے کے ٹویٹس دوبارہ سامنے آئے تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے ایسی زبان استعمال کی جو دوسروں کے لیے نقصان دہ تھی۔ 15 سال کی عمر اس کا جواز نہیں ہو سکتی۔ میں اس پر دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘‘

رپورٹس کے مطابق ان پرانے پوسٹس میں نسلی تعصب پر مبنی الفاظ، ہم جنس پرستوں کے خلاف توہین آمیز زبان، اسرائیل مخالف بیانات اور بعض فلسطینی گروہوں کی حمایت شامل تھی۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی میڈیا ادارے نے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لے کر ان پوسٹس کو منظرعام پر لایا۔

مزیدیہ کہ، حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں پر بھی تنقید کی گئی، جن میں بعض پوسٹس کو اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی حمایت کے طور پر دیکھا گیا۔

تاہم، رما دواجی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ اب اپنی زندگی اور کام کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتی ہیں اور بطور آرٹسٹ اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

دوسری جانب، میئر زہران ممدانی نے اپنی اہلیہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نجی شخصیت ہیں اور ان کا حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی اہلیہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں۔

رما دواجی ایک آرٹسٹ اور مصور ہیں ۔ ان کی پرانی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر اس وقت تنازع کھڑا ہوا جب میڈیا رپورٹس میں ان کے نوعمری کے دور کے بیانات سامنے آئے، جن میں نسلی اور سیاسی نوعیت کے حساس موضوعات شامل تھے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہو گیا کیونکہ میئر ممدانی کو نیویارک میں مختلف کمیونٹیز، خصوصاً یہودی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے دوران اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

Wednesday, 15 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

صرف پانچ منٹ زیادہ نیند لیں اور زندگی کا ایک سال بڑھائیں: نئی تحقیق
ایک نئی تحقیق کے مطابق معمول سے صرف پانچ منٹ زیادہ نیند اور دو منٹ کی معتدل ورزش، جیسے سیڑھیاں چڑھنا اور تیز چہل قدمی، انسان کی زندگی میں ایک سال کا اضافہ کر سکتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق میگزین ’دی لینسٹ‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے سلسلے میں 60 ہزار افراد کے معمولات زندگی کا آٹھ برس تک جائزہ لیا گیا۔اسی تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ جن افراد کی نیند، جسمانی سرگرمی اور غذا کی عادات خراب ہیں، اگر وہ سبزی کی کچھ مقدار کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنا لیں تو اُن کی زندگی بھی ایک سال تک بڑھ سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند، 40 منٹ سے زیادہ معتدل سے سخت جسمانی سرگرمی، اور صحت مند غذا کے استعمال سے انسان کی عمر میں نو سال سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ 
مثال کے طور پر اگر غیر صحت مند نیند، ورزش اور غذا کھانے والے افراد صرف نیند کے ذریعے اپنی زندگی کا ایک سال بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں روزانہ 25 منٹ تک زیادہ سونا ہوگا، تاہم ایسے افراد کو ورزش اور غذا میں بھی کچھ بہتری لانا ہوگی۔
’دی لینسیٹ‘ میں ہی شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں ناروے، سپین اور آسٹریلیا کے محققین نے بتایا کہ ’روزانہ صرف پانچ منٹ تک اضافی چہل قدمی کرنے سے زیادہ تر بالغ افراد میں موت کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔‘
ایسے افراد جو چہل قدمی جیسی سرگرمی سے دُور رہتے ہیں، یہ معمول اپنانا اُن کے لیے بھی بھی فائدہ مند ہے۔ اِس سے اُن میں موت کا خطرہ قریباً چھ فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ 1 لاکھ 35 ہزار سے زائد بالغ افراد سے حاصل کیے گئے ڈیٹا پر مبنی اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روزانہ بے کار بیٹھے رہنے کا دورانیہ 30 منٹ تک کم کر دیا جائے تو اس کے بھی صحت پر مثبت اثرات مُرتب ہوں گے۔اس ڈیٹا سے سامنے آنے والے نتائج کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد (جو اوسطاً 10 گھنٹے تک فارغ بیٹھے رہتے ہیں) اگر وہ اس وقت کو 30 منٹ تک کم کر دیں تو اُن میں تمام وجوہات سے ہونے والی اموات قریباً سات فیصد تک کمی ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح ایسے افراد (جو روزانہ اوسطاً 12 گھنٹے غیرفعال رہتے ہیں یا بے کار بیٹھے رہتے ہیں) اگر وہ اس معمول کو اپنا لیں تو اُن کی اموات بھی قریباً تین فیصد کم ہو سکتی ہیں۔
ناروے کے سکول آف سپورٹ سائنسز اوسلو سے تعلق رکھنے والے مصنف پروفیسر ایلف ایکیلنڈ کا کہنا ہے کہ ’جسمانی سرگرمی میں معمولی اضافہ اور بے کار بیٹھنے کی عادت میں تھوڑی سی کمی سے انسان کی صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘
محققین کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کی صحت پر مجموعی اثرات پر تحقیق کے نتائج اہم ہیں، تاہم انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کے مشورے کے بجائے اپنی ذاتی صحت پر لاگو نہیں کرنا چاہیے، بلکہ یہ نتائج مجموعی آبادی کے لیے صحت کے ممکنہ فوائد کو اُجاگر کرتے ہیں جن پر مزید تحقیق ضروری ہے۔.







یوپی اسمبلی کی خاتون مارشل شاعری میں ماہر ہیں، معروف شاعروں کی طرح کرتی ہیں شاعری، مشاعروں کی خاص بات بن چکی ہیں
لکھنؤ (خورشید احمد): اتر پردیش اسمبلی میں وی وی آئی پی مارشل کے طور پر تعینات لکھنؤ کی رہنے والی سفلتا ترپاٹھی نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور اپنے کام سے خود کو ممتاز کیا ہے۔ اپنے فرائض کے ساتھ ساتھ، سفلتا ترپاٹھی شاعری اور غزلیں کمپوز اور لکھتی ہیں۔ وہ بڑے مشاعروں میں نامور شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ اسٹیج بھی شیئر کر چکی ہیں۔

ای ٹی وی بھارت کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، سفلتا ترپاٹھی نے انکشاف کیا کہ وہ 1992 سے شاعری کر رہی ہیں۔ انہیں 1999 میں ملازمت ملی، لیکن ان کی ملازمت نے کبھی بھی ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ وہ کہتی ہیں، ’’فرض اپنی جگہ ہے اور لکھنا بھی اپنی جگہ، لیکن شاعری میری جان ہے۔‘‘ سفلتا ترپاٹھی مختلف عوامی مسائل پر زور سے لکھتی ہیں، جن میں خواتین کے حقوق، مزدوروں کی آواز، کسانوں کے مسائل، تعلیم اور صحت شامل ہیں۔ اسے اپنی شاعری کی کتاب "شور کرتی چاندنی" کے لیے اتر پردیش حکومت کی طرف سے 100,000 کی ترغیب ملی۔رام بھجن کی پہچان

ایودھیا میں پران پرتیشتھا کی تقریب کے دوران، سفلتا ترپاٹھی کے بھجن میں سے ایک پر خاص طور پر بحث ہوئی۔ اس نے بھگوان شری رام کی بچپن کی شکل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے شاعری اور شاعری کے ذریعے ایک روح پرور پرفارمنس پیش کی، جسے سامعین نے خوب پذیرائی بخشی۔ ای ٹی وی بھارت کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران، سفلتا نے نظم کو گنگنایا۔ اسمبلی میں سکیورٹی ڈیوٹی کی ذمہ داریوں اور شاعری کے پلیٹ فارم دونوں میں توازن رکھتے ہوئے، سفلتا ترپاٹھی آج ان خواتین کے لیے ایک تحریک بن گئی ہیں جو اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔خواتین، مزدوروں اور کسانوں کی آواز

سفلتا ترپاٹھی کی شاعری صرف جذباتی یا روحانی موضوعات تک محدود نہیں ہے۔ وہ خواتین کے حقوق، مزدوروں کی آواز، کسانوں کے مسائل، تعلیم اور صحت جیسے عوامی مسائل پر فصاحت کے ساتھ لکھتی ہیں۔ سفلتا کا دعویٰ ہے کہ انہیں کسی بھی موضوع پر شاعری لکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ وہ 20 سے 25 منٹ میں کسی بھی موضوع پر مکمل نظم لکھ سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ فرض اپنی جگہ لیکن شاعری اس کی روح ہے۔

ممتاز شاعروں کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا








آج ویراٹ کوہلی کی ٹیم کا سامنا رشبھ پنت کی ٹیم سے، جانیں کون ہے مضبوط پوزیشن میں؟
آج (15 اپریل) کو انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کے 23 ویں میچ میں، دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کا مقابلہ لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ میچ بنگلورو کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں شام 7:30 بجے کھیلا جائے گا۔

رائل چیلنجرز بنگلورو اس میچ میں پانچ بار کی چیمپئن ممبئی انڈینس کے خلاف 57 رنز کی زبردست جیت کے بعد داخل ہوا ہے جب کہ لکھنؤ سپر جائنٹس کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر گجرات ٹائٹنز کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پوائنٹس ٹیبل میں، آر سی بی فی الحال چار میچوں میں تین میں جیت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اگر وہ ایل ایس جی کے خلاف جیت جاتے ہیں تو وہ سرفہرست دو مقامات پر پہنچ جائیں گے۔ اس دوران ایل ایس جی چار میچوں میں دو جیت کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔لکھنؤ سپر جائنٹس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کے بیرون ملک کھلاڑی - خاص طور پر مارش، مارکرم، اور نکولس پوران - نے ابھی تک صحیح معنوں میں اپنا جلوہ نہیں بکھیرا ہے۔ تاہم، ٹیم کو ایسے کھلاڑیوں نے خوشی دی ہے جس سے انھیں کبھی امید نہیں تھی، جیسے مکل چودھری۔ کاغذ پر، اسکواڈ کافی مضبوط ہے اس وجہ سے رائل چیلنجرز بنگلور انہیں ہلکے میں لینے کے لئے ایک سنگین غلطی نہیں کر سکتی۔ اب تک، مچل مارش (75 رنز؛ اوسط: 18.75) اور نکولس پوران (41 رنز؛ اوسط: 10.25) صرف معمولی ٹوٹل بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس، لکھنؤ کا باؤلنگ اٹیک غیر معمولی طور پر مضبوط دکھائی دیتا ہے، جس کی قیادت محمد شامی کر رہے ہیں۔ ایل ایس جی کے ہیڈ آف کرکٹ ٹام موڈی نے واضح کیا ہے کہ میانک یادو اور محسن خان دونوں مکمل فٹنس کے قریب ہیں اور ممکنہ طور پر آر سی بی کے خلاف میچ میں ٹیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے بلاشبہ ٹیم کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، اسکواڈ میں دیگر قابل باؤلرز جیسے اویش خان، پرنس یادو، اور دگویش راٹھی شامل ہیں۔

دوسری طرف آر سی بی اسکواڈ بھی کافی مضبوط نظر آرہا ہے۔ ان کی بیٹنگ لائن اپ میں زبردست فائر پاور ہے — جس کا ہم نے ان کے حالیہ میچوں میں مشاہدہ کیا ہے۔ جبکہ ویراٹ کوہلی بیٹنگ آرڈر میں اینکر نگ کا کردار ادا کرتے ہیں، دوسرے بلے باز جارحانہ، تیز رفتار کھیل کھیلنے پر توجہ دیتے ہیں۔ تاہم اس ٹیم کی بنیادی توجہ اس کے باؤلنگ اٹیک پر مرکوز ہوگی۔ اس سیزن میں، آر سی بی کے پاس لیگ میں دوسری سب سے خراب اکانومی ریٹ ہے — جسے صرف کولکاتہ نائٹ رائیڈرز نے پیچھے چھوڑ دیا۔ خاص طور پر، بھونیشور کمار کو چھوڑ کر، ڈیتھ اوورز کے دوران ان کی باؤلنگ کافی حد تک برابر رہی۔رائل چیلنجرز بنگلور کا مقابلہ لکھنؤ سپر جائنٹس : ہیڈ ٹو ہیڈ

اس مقابلے میں، رائل چیلنجرز بنگلورو کی پوزیشن کافی مضبوط ہے۔ اس نے لکھنؤ سپر جائنٹس کی دو فتوحات کے مقابلے میں چار میچ جیتے ہیں۔ آخری بار جب یہ دونوں ٹیمیں 2025 کے آئی پی ایل سیزن کے دوران آمنے سامنے ہوئیں، تو آر سی بی نے چھ وکٹوں سے آرام سے جیت حاصل کی، اس طرح حالیہ مقابلوں میں ان کا غلبہ مزید مضبوط ہوا۔ پچھلے چار سالوں میں - 2022 سے اب تک - آئی پی ایل میں آر سی بی اور ایل ایس جی چھ بار ٹکرا چکے ہیں۔ ان میچوں میں سے، آر سی بی نے چار میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ ایل ایس جی نے دو میں فتح حاصل کی ہے۔

آر سی بی بمقابلہ ایل ایس جی: ممکنہ پلیئنگ الیون

لکھنؤ سپر جائنٹس: ایڈن مارکرم، رشبھ پنت (کپتان)، آیوش بدونی، نکولس پوران، عبدالصمد، مکل چودھری، جارج لنڈے/انریچ نورٹجے، محمد شامی، اویش خان/محسن خان، دگویش سنگھ راٹھی، پرنس یادیو/میانک یادو۔

رائل چیلنجرز بنگلورو: فل سالٹ، ویراٹ کوہلی، رجت پاٹیدار (کپتان)، ٹم ڈیوڈ، جیتیش شرما، روماریو شیفرڈ، کرونل پانڈیا، بھونیشور کمار، رسیک سلام، جیکب ڈفی/جوش ہیزل ووڈ، سویاش شرما۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بس چند گھنٹوں میں ختم ہوجائے گی ایران امریکہ جنگ ! ٹرمپ نے کیا 'گرینڈ ڈیل' کا بڑا اعلان ، نیوکلیئر پر ہوا یہ معاہدہ
واشنگٹن: مغربی ایشیا میں 46 روز سے جاری امریکہ۔ ایران جنگ اب ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اہم اعلان کر دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق دونوں مخالفوں کے درمیان ایک عظیم ایٹمی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اس معاہدے پر ایک اپ ڈیٹ شیئر کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اگلے چند گھنٹوں میں ختم ہونے والی ہے۔ اب تک آبنائے ہرمز اور جوہری ہتھیار دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں۔

ایران امریکہ معاہدہ کب ہو سکتا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری شدید جنگ اب آخری مراحل میں ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں تاریخی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کل 16 اپریل کو پاکستان میں مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور اس دوران کوئی بڑا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ فاکس بزنس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی فوجی کارروائی نے ایران کی کمر توڑ دی ہے اور تہران اب “کسی حال میں " معاہدہ چاہتا ہے۔“جنگ ختم ہونے کے دہانے پر ہے”: ٹرمپ
انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے ایران جنگ کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا، “مجھے لگتا ہے کہ یہ ختم ہونے والی ہے۔ میں اسے ختم ہونے کے بہت قریب دیکھ رہا ہوں۔” ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اب معاہدے کے لیے پوری طرح تیار ہے کیونکہ امریکی ناکہ بندی اور حملوں نے اس کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔

ایٹمی پروگرام پر “20 سالہ” بریک!
ٹرمپ نے چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو اتنا نقصان پہنچا ہے کہ ایران کو دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے میں کم از کم 20 سال لگیں گے۔ ٹرمپ نے کہا، “اگر میں اب پیچھے ہٹ بھی جاؤں تو، “انہیں اس ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے۔ ہم نے انہیں جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مکمل طور پر روک دیا ہے۔”

16 اپریل: عظیم مذاکرات کی تاریخ؟
اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 16 اپریل 2026 کو اگلے چند گھنٹوں میں دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ مذاکرات 21 اپریل کو دو ہفتے کی جنگ بندی کے ختم ہونے سے عین قبل ہو رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر J.D Vance پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ ایک “عظیم ڈیل " چاہتے ہیں جس میں ایران کو اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ترک کرنا پڑے گا۔

ہرمز کی ناکہ بندی اور دباؤ کی سیاست
ٹرمپ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ایرانی جہاز نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی اسے فوری طور پر “تباہ” کر دیا جائے گا۔ اس بے پناہ دباؤ کے تحت ایران اب معاہدے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔









راگھو چڈھا کو مرکزی حکومت نے دی زیڈ زمرے کی سیکورٹی، پنجاب کی بھگونت مان حکومت نے واپس لی تھی سیکورٹی
نئی دہلی: پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے راگھوچڈھا کی سیکورٹی واپس لے لی ہے، جس کے بعد مرکزی حکومت نے انہیں زیڈ سیکورٹی فراہم کردی ہے۔ راگھوچڈھا کودہلی اور پنجاب میں زیڈ زمرے کی سیکورٹی ملے گی، جبکہ دیگر ریاستوں میں انہیں وائی پلس سیکورٹی ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ آئی بی کی تھریٹ پرسیپشن رپورٹ کی بنیاد پرکیا ہے۔عام آدمی پارٹی نے حال ہی میں راگھوچڈھا کوراجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹا دیا اورانہیں ایوان میں بولنے سے روک دیا۔ ان کی جگہ عام آدمی پارٹی نے اشوک متل کو راجیہ سبھا میں پارٹی کا ڈپٹی لیڈرمقررکیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آج اشوک متل کے جالندھرواقع رہائش گاہ پراوران کی نجی یونیورسٹی پرچھاپہ مارا ہے۔

مجھے خاموش کیا جاسکتا ہے، لیکن ہرایا نہیں: راگھو چڈھا

راگھو چڈھا اورعام آدمی پارٹی کے درمیان کافی وقت سے سب کچھ صحیح نہیں چل رہا تھا، جس کے بعد عام آدمی پارٹی نے ان سے ذمہ داری واپس لے لی تھی، لیکن اس کے بعد راگھو چڈھا نے بغاوتی تیوراپنا لئے اورپارٹی کی طرف سے مسلسل لگائے جا رہے الزامات کا ایک کے بعد ایک ویڈیو جاری کرکے جواب دیا۔ راگھو چڈھا نے راجیہ سبھا میں بولنے سے روکنے پرکہا تھا کہ انہیں خاموش کیا جاسکتا ہے، لیکن ہرایا نہیں گیا۔

عام آدمی پارٹی کی ٹاپ لیڈرشپ کوکیسے کیا ناراض؟

پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد 2022 میں راگھوچڈھا کوسیکورٹی مہیا کرائی گئی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل جاری رہی۔ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اورسنجے سنگھ جیسے بڑے لیڈران کے جیل جانے کے بعد جب راگھوچڈھا نے اس پرکوئی آوازنہیں اٹھائی توپارٹی کوان کی خاموشی کا احساس ہوا۔ حالانکہ تب یہ کہہ کربچاو کیا گیا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کا علاج کرانے کے لئے بیرون ملک گئے ہوئے تھے۔ جب کیجریوال اورمنیش سسودیا جیل سے چھوٹ کرآئے، اس کے بعد بھی راگھو چڈھا نے کوئی جوش نہیں دکھایا۔ راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اس بات کی قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ پنجاب حکومت سے ملی ان کی سیکورٹی واپس لے لی جائے گی اورآج اس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔

زیڈ زمرے کی سیکورٹی میں کتنے جوان ہوتے ہیں تعینات؟

راگھو چڈھا کوجس زیڈ زمرے کی سیکورٹی ملنے کی بات سامنے آئی ہے، اس میں حکومت کے ذریعہ 22 سیکورٹی اہلکارتعینات کئے جاتے ہیں۔ اس سیکورٹی گھیرے میں عام طورپر 4 سے 6 نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) کمانڈو ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی دہلی پولیس، آئی ٹی بی پی یا سی آرپی ایف کے جوان اورمقامی پولیس اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایک اعلیٰ سطح کا حفاظتی دستہ ہے۔









سی بی ایس ای دسویں جماعت کا رزلٹ جاری، امنگ ایپ اور ڈیجی لاکر سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے کریں چیک
نئی دہلی: مرکزی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے دسویں جماعت کے بورڈ امتحان 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد لاکھوں طلبہ کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ اس سال تقریباً 25 لاکھ سے زائد طلبہ نے دسویں جماعت کے امتحانات میں شرکت کی تھی، جو 17 فروری سے 10 مارچ تک منعقد ہوئے تھے۔ رزلٹ جاری ہونے کے ساتھ ہی طلبہ اب اپنی مارک شیٹس مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بآسانی چیک کر سکتے ہیں۔ بورڈ کی جانب سے نتائج سرکاری ویب سائٹ results.cbse.nic.in سمیت دیگر ویب سائٹس پر بھی دستیاب کرائے گئے ہیں۔ طلبہ اپنے رول نمبر، اسکول نمبر، ایڈمٹ کارڈ آئی ڈی اور تاریخ پیدائش کی مدد سے اپنا اسکور کارڈ دیکھ سکتے ہیں۔سی بی ایس ای نے اس بار امتحانی نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے سال میں دو مرتبہ بورڈ امتحانات کا انعقاد شروع کیا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت پہلے مرحلے کے نتائج جلد جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے کے امتحانات مئی میں متوقع ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنا اور امتحانی دباؤ کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

بورڈ کے مطابق دسویں جماعت کے رزلٹ چیک کرنے کے لیے متعدد ویب سائٹس فراہم کی گئی ہیں، جن میں results.cbse.nic.in، cbse.gov.in، results.nic.in، results.digilocker.gov.in، umang.gov.in اور cbse.nic.in شامل ہیں۔ طلبہ ان میں سے کسی بھی پلیٹ فارم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی بی ایس ای نے نتائج دیکھنے کے پانچ مختلف طریقے بھی بتائے ہیں، جن میں سرکاری ویب سائٹس، ایس ایم ایس سروس، امنگ (UMANG) ایپ، فون کال سروس اور ڈیجی لاکر شامل ہیں۔ ان متبادل طریقوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ زیادہ ٹریفک کی صورت میں بھی طلبہ کو نتائج تک رسائی میں دشواری نہ ہو۔

امنگ ایپ پر نتیجہ دیکھنے کے لیے طلبہ کو سب سے پہلے ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے موبائل نمبر یا آدھار کے ذریعے لاگ ان کرنا ہوگا۔ اس کے بعد سی بی ایس ای سروس کا انتخاب کر کے آسانی سے اپنا نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ امنگ ایپ پر بھی نتائج باضابطہ طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بارہویں جماعت کے طلبہ کو ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا کیونکہ ان کی کاپیوں کی جانچ کا عمل جاری ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بارہویں کے نتائج بھی جلد جاری کیے جائیں گے۔ نتائج کے اعلان کے بعد طلبہ اور والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ کئی طلبہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے اگلے تعلیمی مرحلے کی تیاری میں مصروف ہو گئے ہیں۔

Tuesday, 14 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

ہرمز پر امریکی ناکہ بندی ناکام ! دندناتے ہوئے نکل رہے ایرانی جہاز ، دنیا کو بے وقوف بنارہے ٹرمپ
تہران: آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے درمیان ایسی خبریں منظر عام پر آئی ہیں جس نے سپر پاور امریکہ کی ساکھ پر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔ امریکی بحریہ کی جانب سے ہرمز میں سخت ناکہ بندی کے اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد، دو بڑے ایرانی بحری جہازوں نے امریکی حفاظتی حصار کی خلاف ورزی کی اور بغیر کسی بچاؤ کے سفر کیا۔ سمندری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی فرم Kpler کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ دو ایرانی بحری جہازوں نے ناکہ بندی کے چند گھنٹوں کے اندر اندر آبنائے کو عبور کیا جبکہ ایک چینی جہاز بھی راتوں رات وہاں سے گزرا۔

کیا امریکی ناکہ بندی ایک مذاق ہے؟ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی تیل کی سپلائی کو روکنے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بلند بانگ دعویٰ کیا، لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ امریکی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی کے باوجود ایرانی بحری جہازوں کا آبنائے ہرمز سے گزرنا یہ بتاتا ہے کہ یا تو ناکہ بندی میں اہم خامیاں ہیں یا پھر ایران کو اب امریکا سے خوف نہیں ہے۔

Kpler سے باخبر رہنے کے اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم تین جہازوں نے اس امریکی ناکہ بندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا سفر مکمل کیا۔

کیا ٹرمپ دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں؟
ماہرین اب سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ محض نفسیاتی جنگ کر رہی ہے؟ ایک طرف مذاکرات کی میز پر آنے کے اشارے مل رہے ہیں تو دوسری طرف ناکہ بندی کے دعوے ہو رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود ایرانی بحری جہازوں کے گزرنے کا انداز بتاتا ہے کہ پردے کے پیچھے کوئی بڑا معاہدہ ہو رہا ہے یا امریکہ کا کنٹرول کافی حد تک کمزور ہو گیا ہے۔

ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس سمندری راستے کی کنجی اس کے پاس ہے۔ جہازوں کی بحفاظت روانگی سے ایران کے دعوے کو تقویت ملتی ہے۔







بہار میں BJP کا چیف منسٹر : سمراٹ چودھری کا عروج ، بی جے پی کا نیا کاسٹ گیم، سینئرلیڈر دوڑمیں رہ گئے پیچھے
بہار کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ نتیش کمار کے طویل سیاسی دور کے بعد اب ریاست میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہونے والا ہے، جسے ’’سمراٹ دور‘‘ کہا جا رہا ہے۔ 15 اپریل 2026 کو سمراٹ چودھری بہار کے چیف منسٹر کے طور پر حلف لینے جا رہے ہیں۔

یہ صرف ایک حلف برداری نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس حکمتِ عملی کی جیت ہے جسے سیاسی حلقوں میں ’’کاسٹ انجینئرنگ‘‘ کہا جاتا ہے، اور جس نے بہار کی سیاست کے تمام تر توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

 نتیانند رائے سے آغاز، مگر انجام میں سب پر بھاریایک وقت تھا جب نتیانند رائے کو بہار بی جے پی کا سب سے مضبوط چہرہ اور چیف منسٹر کا بڑا دعویدار سمجھا جاتا تھا۔ انہی کی سرپرستی میں سمراٹ چودھری نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ حالات اس قدر بدلے کہ وہی سمراٹ، جنہیں پارٹی میں لایا گیا تھا، سب پر سبقت لے گئے۔

سمراٹ چودھری نے اپنی جارحانہ سیاست، تنظیمی صلاحیت اور عوامی رابطے کے ذریعے نہ صرف کارکنوں بلکہ پارٹی کی مرکزی قیادت کو بھی متاثر کیا۔بڑے بڑے لیڈر پیچھے رہ گئے
بی جے پی کے کئی تجربہ کار رہنما اس دوڑ میں شامل تھے، جن میں راجیو پرتاب روڈی، منگل پانڈے، پریم کمار،وجئے سنہا اور رینو دیوی جیسے نام شامل ہیں۔ ان سب کے پاس تجربہ، سینئرٹی اور تنظیمی مضبوطی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ سمراٹ چودھری کے سامنے پیچھے رہ گئے۔

 کاسٹ کارڈ : بی جے پی کی بڑی چال
سیاسی ماہرین کے مطابق، سمراٹ چودھری کے انتخاب کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ان کی ذات (کوئری/او بی سی) اور بہار کے سماجی مساوات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ بی جے پی نے ’’لو۔کش‘‘ اور او بی سی ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لیے سمراٹ کو بہترین چہرہ سمجھا۔

یہ فیصلہ اس بات کا واضح پیغام بھی ہے کہ بی جے پی اب صرف اعلیٰ ذات کی جماعت نہیں رہی، بلکہ پسماندہ طبقات کو بھی قیادت میں جگہ دے رہی ہے۔

 بند کمرے میں کیسے ہوا فیصلہ؟
ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت نے بہار میں ایک سروے کروایا جس میں سمراٹ چودھری سب سے زیادہ ’’جارحانہ اور عوامی مقبول‘‘ لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ پارٹی کو ایک ایسے چہرے کی تلاش تھی جو نتیش کمار کے ’’سوشاسن‘‘ ماڈل کو چیلنج کر سکے اور ساتھ ہی اپوزیشن کے ذات پر مبنی سیاست کو اسی کے میدان میں شکست دے سکے۔

سمراٹ چودھری اس کردار کے لیے مکمل طور پر موزوں ثابت ہوئے۔آر جے ڈی سے بی جے پی تک کا سفر
سمراٹ چودھری کا سیاسی سفر کافی دلچسپ اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا ہے۔ وہ پہلے لالوپرساد کی راشٹریہ جنتادل سے وابستہ تھے اور لا پرسادیادو کی سیاست کو قریب سے دیکھا۔ یہی تجربہ اب وہ بی جے پی میں رہ کر آر جے ڈی کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

 ’’پگڑی والے لیڈر‘‘ کی نئی پہچان
سمراٹ چودھری کی پگڑی (صافہ) والی شناخت انہیں ایک مضبوط، خوددار اور نہ جھکنے والے لیڈر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ان کی یہی امیج عوام کے درمیان ان کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہے۔

 نئی سیاست کا آغاز
سمراٹ چودھری کا چیف منسٹر بننا اس بات کی علامت ہے کہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہی ہے اور نوجوان، جارحانہ اور سماجی مساوات پر مبنی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا سمراٹ چودھری، نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو چیلنج کر کے بہار کو نئی سمت دے پائیں گے یا نہیں۔









لوک سبھا میں اب ہوں گے 850 اراکین پارلیمنٹ، مرکزی حکومت نے تیار کیا پلان، خواتین ریزرویشن بل میں ہوگا یہ التزام
نئی دہلی: حکومت نے ناری شکتی وندن ایکٹ کونافذ کرنے کے لئے 16 سے 18 اپریل تک پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ اس سیشن میں حکومت تین اہم بل پیش کرے گی، جو2029 کے لوک سبھا انتخابات سے لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن کونافذ کرے گی۔ آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں پارلیمانی امورکے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال پیش کریں گے۔ یہ اہم آئینی ترمیم ملک کے بدلتے ہوئے آبادیاتی ڈھانچے، ریاستوں کے درمیان آبادی کے عدم توازن، شہری کاری اورجمہوری نمائندگی کومزید جامع اورمتوازن بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
بل کا پس منظر
آئین کے آرٹیکل 82 اور170 ہرمردم شماری کے بعد لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں سیٹوں کی دوبارہ تقسیم کرنے کا التزام کرتے ہیں۔ تاہم، 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پرنشستوں کی الاٹمنٹ کوآئین (84ویں ترمیم) ایکٹ، 2001 کے ذریعہ 2026 کے بعد پہلی مردم شماری تک ملتوی کردیا گیا۔ سیٹوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ فی الحال، ملک کی آبادی کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں، ریاستوں کے درمیان آبادی میں اضافہ میں عدم برابری، اندرونی نقل مکانی اورتیزی سے شہری کاری نے بہت سے حلقوں میں نمائندگی کے توازن کودرہم برہم کردیا ہے۔ اس کوذہن میں رکھتے ہوئے یہ بل لایا گیا ہے۔
لوک سبھا کی تشکیل میں اہم تبدیلیاں
بل کے تحت لوک سبھا کی تشکیل میں اہم ترامیم مجوزہ ہیں۔ لوک سبھا میں اراکین کی کل تعداد کوبڑھا کر850 تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ 815 اراکین کوریاستوں سے منتخب کرنے کا فارمولہ ہے۔ جبکہ مرکزکے زیرانتظام ریاستوں سے 35 اراکین منتخب ہوں گے۔ اس اضافے کا مقصد ملک کی موجودہ آبادی کے مطابق نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔
عوامی آبادی کی نئی تعریف
اس بل میں واضح کیا گیا ہے کہ آبادی کا مطلب پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون کے ذریعہ طے شدہ مردم شماری سے ہوگا، جسے پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ مقررکرے گی اور جس کے باضابطہ اعدادوشمار شائع ہوچکے ہوں گے۔ یہ شق صدرارتی الیکشن (آرٹیکل 55)، لوک سبھا (آرٹیکل 81)، ریاستی قانون سازاسمبلیوں (آرٹیکل 170) اورریزرویشن کی دفعات (آرٹیکل 330 اور 332) پر یکساں طورپرلاگوہوگی۔
حد بندی کے عمل میں اصلاحات
سیٹیں مختص کرنے اورانتخابی حلقوں کودوبارہ ترتیب دینے کا کام اب واضح طورپرحد بندی کمیشن کوسونپا جائے گا۔ ہرمردم شماری کے بعد کے انتظام کوختم کرکے اس عمل کومزید لچکدار اوربروقت بنایا گیا ہے۔ سال 2026 کے بعد اگلی مردم شماری کا انتظارکرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ یہ دوبارہ ڈرائنگ کے عمل کوتیزتراورزیادہ موثربنائے گا۔ خواتین کے ریزرویشن کو پورا کیا جائے گا۔ یہ بل آئین (106ویں ترمیم) ایکٹ، 2023 (ناری شکتی وندن ایکٹ) کے نفاذ کوتیزکرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

موٹاپا بہت سے خطرناک امراض کا سبب بنتا ہے بیلی فیٹ سے جان چھڑانا بہت ضروری ہے . محض اس لیے نہیں کہ یہ آپ کو بد نما...