Wednesday, 18 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




ہندوستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا
نئی دہلی: ہندوستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے ۔ کل 19 فروری بروز جمعرات کو پہلا روزہ ہوگا ۔ چاند نظر آنے کا اعلان مرکزی روہت ہلال کمیٹی ، جامع مسجد کی کیا ہے ۔

دہلی کی شاہی جامع مسجد کی مرکزی روہت ہلال کمیٹی کی پریس ریلیز کے مطابق آج 18 فروری بروز بدھ ماہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے ۔ لہذا مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم رمضان المبارک 19 فروری 2026 جمعرات کے روز ہے ۔بتادیں کہ سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک میں گزشتہ روز ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا تھا اور آج بدھ 18 فروری 2026 کو وہاں پہلا روزہ ہے ۔ سعودی سپریم کورٹ نے باضابطہ اعلان کیا تھا کہ رمضان المبارک کا چاند مملکت میں نظر آ گیا ہے، جس کے بعد مسلمانوں کے لیے روزہ رکھنے کا آغاز ہوگا۔










تروپرن کندرم پہاڑی درگاہ میں نماز پر پابندی برقرار،صرف رمضان اور بقرعید کے مواقع پر نمازکی اجازت :سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت تمل ناڈو کے ضلع مدورائی میں واقع تروپرن کندرم پہاڑی پر موجود درگاہ میں روزانہ نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر کہا کہ مسلمان اس مقام پر روزانہ نماز ادا کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک ’’متوازن حکم‘‘ قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی اس ہدایت کو بھی برقرار رکھا جس کے تحت درگاہ میں صرف رمضان اور بقرعید کے مواقع پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ احاطے میں جانوروں کی قربانی پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔یہ فیصلہ، امام حسین نام کے ایک ِشخص کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر سنایا گیا، جس میں مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ طویل عرصے سے جاری تروپرن کندرم دیپم تنازع سے جڑا ہوا ہے، جہاں مختلف مذہبی برادریاں اس پہاڑی مقام کو مقدس تصور کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مداخلت سے انکار کے بعد، مدراس ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی تمام پابندیاں بدستور نافذ العمل رہیں گی۔

یہ معاملہ دراصل مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم سے شروع ہوا تھا جس میں تروپرن کندرم پہاڑی پر دیپم (چراغ) جلانے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اس اجازت کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) اور پولیس کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی، جس میں درخواست گزار راما روی کمار نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ کا حکم سول عدالت کے حتمی فیصلوں کے منافی ہے، جن میں واضح طور پر ارلمگو سبرامنیا سوامی مندر کی پہاڑی پر ملکیت اور کنٹرول کو تسلیم کیا گیا ہے۔

راما روی کمار نے دعویٰ کیا کہ ہائی کورٹ نے مندر کے مذہبی حق کو تسلیم تو کیا، مگر اسے انتظامی اداروں کی اجازت سے مشروط کر کے اس حق کو کمزور کر دیا، جو کہ ایک غیر قانونی عدالتی مداخلت کے مترادف ہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ دیپم جلانا مندر کا داخلی مذہبی عمل ہے اور جب تک کوئی واضح قانون موجود نہ ہو، اسے کسی سرکاری ادارے کی اجازت سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے امتیازی سلوک کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ جہاں دوسری برادریوں کے ماننے والوں کو نیلی تھوپے علاقے تک رسائی اور مذہبی سرگرمیوں کی اجازت ہے، وہیں ہندوؤں کی عبادت کو پہاڑی کی چوٹی پر متعدد انتظامی پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے، جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔

واضح رہے کہ 23 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک علیحدہ عرضی پر مرکزی حکومت، تمل ناڈو حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا تھا، جس میں ASI کے مبینہ کنٹرول اور ڈیپاتھون (پتھریلا ستون) پر روزانہ چراغ جلانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ یہ عرضی ہندو دھرم پریشد نامی تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

اس سے قبل 6 جنوری کو مدراس ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے واضح طور پر کہا تھا کہ جس مقام پر پتھریلا ستون واقع ہے، وہ سری سبرامنیا سوامی مندر کی ملکیت ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اپیل کنندگان کوئی ایسا مضبوط ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے، جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ سائیویت آگم شاستر کے مطابق، دیوتا کے مزار کے عین اوپر نہ ہونے والی جگہ پر چراغ جلانا ممنوع ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی ہدایت دی تھی کہ دیواستانم (مندر انتظامیہ) ہی ڈیپاتھون پر دیپم جلانے کی مجاز ہوگی۔

تروپرن کندرم پہاڑی تمل ناڈو کا ایک قدیم اور حساس مذہبی مقام ہے، جہاں ہندوؤں، مسلمانوں اور دیگر برادریوں کے عقائد جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں واقع ارلمگو سبرامنیا سوامی مندر اور درگاہ کے درمیان مذہبی رسومات، ملکیت اور عبادت کے حقوق کو لے کر برسوں سے تنازع جاری ہے۔ عدالتوں نے بارہا کوشش کی ہے کہ مختلف عقائد کے درمیان توازن قائم رکھا جائے، تاکہ مذہبی ہم آہنگی متاثر نہ ہو۔










جموں و کشمیر میں ’جیل بریک‘، پاکستانی قیدیوں کا تانڈو، پولیس اہلکاروں پر گولیا چلاکر ہوگئے فرار
جموں و کشمیر میں دو پاکستانی سمیت تین قیدی جیل سے فرار ہو گئے۔ آر ایس پورہ سیکٹر میں جیوینائل آبزرویشن ہوم (بچوں کا اصلاحی مرکز) میں پیر کی شام سزا کاٹ رہے تین نابالغ قیدیوں نے فلمی انداز میں فرار ہونے کا واقعہ انجام دیا۔ پیر کی شام تقریباً 17:05 بجے پیش آئے اس واقعے میں ملزمین نے نہ صرف ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر جان لیوا حملہ کیا بلکہ اندھادھند فائرنگ بھی کی، جس میں دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ فرار ہونے والے تین قیدیوں میں سے دو پاکستانی شہری ہیں اور تیسرا مقامی مجرم ہے۔ اس واقعے کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے، جس میں ایک قیدی گیلری میں کھڑے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک پولیس اہلکار بال بال بچتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ فائرنگ کے بعد وہ جیوینائل سینٹر سے فرار ہو جاتے ہیں۔فرار ہونے والے نابالغ مجرمین کی شناخت درج ذیل ہے:
احسان انور: ولد محمد انور، رہائشی ننکانہ صاحب، پنجاب (پاکستان)۔

محمد ثناء اللہ: ولد محمد، رہائشی پاکستان۔

کرنجیت سنگھ عرف گوگا: رہائشی آر ایس پورہ، جموں۔

فائرنگ سے دہل گیا جیوینائل سینٹر
عینی شاہدین اور سرکاری ذرائع کے مطابق فرار ہونے کے دوران ملزمین نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کی۔ اس حملے میں دو جوان شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر مقامی اسپتال لے جایا گیا۔ ابتدائی علاج کے بعد ان کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں جی ایم سی (GMC) جموں ریفر کر دیا گیا، جہاں وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔پورے علاقے میں ہائی الرٹ اور سرچ آپریشن
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس افسران بھاری پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ پورے آر ایس پورہ سیکٹر اور ہندوستان - پاکستان بین الاقوامی سرحد سے متصل علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ فرار قیدیوں کی تلاش میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

*سیف نیوز ادبی پوسٹ*
 تاریخ قوموں کی زندگی ہوتی ہےتاریخ قوموں کو زندہ رکھتی ہے
تاریخ حوصلہ بخشی ہے
تاریخ وقت کا آئینہ ہوتی ہے


سیف نیوز اردو کے روح رواں محترم "منصور اکبر" نے "ایک شام بزرگ شعراء کے نام" سے ادبی تاریخ کے تینوں زمانوں کو یک جا کرکے باکمال اور بے مثال پروگرام تربیت دے کر ایک تاریخ رقم کر دی ہے
  *🔴بہی خواہاں*
*انصاری محمد ہارون*
*مسعود پینٹر*
*آصف سبحانی*
  گزشتہ دنوں سات فروری سنچر کی شب اسکس ہال میں ادارہ "سیف نیوز" اردو کی جانب سے ایک شام بزرگ شعراء کے نام منعقد کی گئی جسمیں 25 بزرگ شاعروں ادبیوں کا اعزاز و استقبال کیا گیا، مومنٹیو گل شال و تحائف کے ذریعے تقریب میں "کریم آف دا سٹی" معزز مہمانوں کی کیثر تعداد موجود تھی ایک اسٹیج پر تمام بزرگوں کی موجودگی نے پروگرام کو تاریخی بنا دیا سا معین کے خلوص سے تقریب نہایت کامیاب رہی شہر کے خوش فکر افراد نے مبارکباد دی۔۔ 
 سیف نیوز اردو کی جانب سے تمام شرکاء کے لیے اظہار تشکر دعاؤں کی درخواست اللہ ان بزرگوں کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے آمین
___

  جنون کا دوسرا نام منصور اکبر ہے منصور بھائی جو خواب دیکھتے ہیں وہ اس کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں یہی جنون کا سبب ہے کہ شہر کی تاریخ میں برسوں کے بعد تمام بزرگ شعراء ایک رنگ منچ پہ آے وہیں شہریان کی تعداد بھی کافی تھی بیشتر شہریان یہ کہتے ہوے نظر آے کہ برسوں کے بعد آج مالیگاؤں کی اصل جھلک دیکھنے کو ملی شوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی نے نوجوانوں و ادبیوں کو اپنی اپنی دنیا میں سمٹ دیا ہے، 
جس مقامی ادب تہذیب کم دیکھنے میں ملتی ہے لیکن یہ سیف نیوز پریوار نے تمام شہر کے بزرگوں کو ایک جگہ ایک منچ پہ لاکر سننے سنانے کا موقع دیا - ان کے اعزاز میں تحائف میمنٹو، گلدستہ پیش کرکے نہ صرف ان کی ادبی جدمات کی سراہنا کی جو کہ قابل مبارکباد ہے 
🔴موت ڈاٹ کام مالیگاؤں اس ادبی و تہذیبی کام کی "ادارہ سیف نیوز پریوار" کی سراہنا کرتا ہے اور تمام افراد کو مبارک باد پیش کرتا ہے
_____🌼🌼🌼

سیف نیوز اور منصور اکبر کو دلی مبارکباد ایک تاریخی پروگرام ترتیب دینے پر۔۔۔۔
منصور بھائی آخر تم نے اپنے بناۓ ہوۓ بت میں جان ڈال ہی دی سلامت رہیں
🔴نعیم صدیقی کافی ہاؤس
____________

سیف نیوز کی انفرادیت کا کون قائل نہیں منصور نام سے ہی نہیں کام سے بھی بڑا ہے یہ کام صرف وہ ہی کرسکتا ہے بہت مبارکباد 
🌸ماسٹر سعید پرویز
______
"جونے زمانے یاد آگئے جی خوش ہوا بہترین پروگرام رہا ۔۔۔"
🔴اثر صدیقی
________
پروگرام ہر پہلو باوقار وشاندار رہا کہیں سے کوئی کمی نہیں رہی آدعائیں ۔۔ 🔴عبد الرشید آرٹسٹ
______
میعاری پروگرام رہا منتظمین کو ڈھیر ساری مبارکباد 
🔴محمد رضا سر
حیرت ہے کم وسائل میں بھی اتنا بامقصد پروگرام اسلاف کی ستائش پر نیک خواہشات ۔۔۔ 🔴خیال۔انصاری
_______
الحمداللہ۔۔۔۔۔ایک منفرد، تاریخ ساز،یادگار اور کامیاب ترین پروگرام کے لۓ مبارک باد منصور اکبر سیف نیوز اردو اسٹاف کو
🔴سراج دلار سر
______
اتنے بزرگوں شعراء کو ایک اسٹیج پر اور اتنے احترام سے ان کو اعزاز سے نوازنا اور شہریان کی ایسی بروقت موجودگی میں نے شہر کے کسی بھی پروگرام میں نہیں دیکھی سیف نیوز پریوار '__ ہی یہ کام کرسکتا تھا
 🔴علی عمران (پینٹر)
_____بہت بڑا پروگرام ہوا ہے ہر لحاظ سے بہتر بہت مبارکباد اچھا لگا  
🔴احمد ایوبی سر
_______
"شہر کی تہذیبی روح کو تازہ کرتا ہوا منصور اکبر کے جنون سے سجا یہ مشاعرہ بے حد کامیاب رہا۔ بزرگ اہلِ علم و ادب کا ایسا باوقار اجتماع کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔"
  🔴صدیق اکبر (جدید شاعر) 
________
"شہر کی تہذیبی فضا میں منصور اکبر (سیف نیوز مالیگاؤں) کے جنون کی خوشبو گھل گئی اور مشاعرہ ایک یادگار محفل میں ڈھل گیا۔ بزرگوں کا ایسا باوقار اور پُراثر اجتماع مدتوں بعد دیکھنے کو ملا۔"
🔴تنویر اشرف (شاعر) 
بزرگ شعرا و اہلِ قلم کا اجتماع اس بات کی علامت ہے کہ ہماری روایت ابھی زندہ ہے۔ بزرگوں کی موجودگی محفل کو وقار دیتی ہے اور نوجوان نسل کے لیے رہنمائی کا سبب بنتی ہے۔
🔴ابن آدم (شاعر موسیقار، ادب اطفال وادیب) 
*🔴م*🔴ایسے مشاعرے صرف ادبی نشست نہیں ہوتے بلکہ شہر کی تہذیبی روح کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
🔴ابرار عظمت (ادب نواز) 
سیف نیوز کا یہ مشاعرہ واقعی یادگار ثابت ہوا—شعر و ادب کی محفل نے دل موہ لیے!
🔴منتظم عاصی (تصوف و صوفی شاعر) 
"سیف نیوز کی اس ادبی کاوش اور منصور اکبر کے جنون نے شہر کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے اکابرین کو ایک ہی جگہ دیکھ اور سن سکے۔"
🔴انصاری سہیل ایڈوکیٹ (ادب نواز) 

"سیف نیوز کی ادبی کاوش اور منصور اکبر کے والہانہ لگن نے شہر کو وہ یادگار لمحہ عطا کیا جب اس نے اپنے اکابرین کو ایک ہی چھت تلے دیکھا اور سنا۔"
🔴سعود انصاری سورج منڈپ
 (ڈرامہ آرٹسٹ سیتا ٹھیٹر گروپ )
سیف نیوز کی ادبی پیشکش اور منصور اکبر کے شوق نے شہر کو یہ سعادت بخشی کہ اس نے اپنے اکابرین کو ایک ہی چھت تلے دیکھا اور سنا۔انتظامیہ کی محنت بھی قابلِ احترام رہی
🔴عاکف نبیل (ڈرامہ آرٹسٹ سیتا گیتا تھیڑ گروپ)
___
شہر کے تہذیبی البم میں ایسے البم کم از کم بنتے ہیں یہ کارنامہ منصور اکبر و ان کے رفقاء نے کر دکھایا اپنے جنون اور لگن سے "سیف نیوز یوٹوب چینل و تمام منتظمین کو سیتا اور گیتا ڈرامہ گروپ کی جانب سے مبارک باد
🔴خالد قریشی (ڈرامہ ڈائریکٹر

___برادرِ محترم منصور اکبر اور سیف نیوز کی جانب سے ’’یادِِ رفتگاں‘‘ کا عظیم الشان مشاعرہ.. تاریخی و یادگار کامیابی سے ہمکنار ہوا .. 

مالیگاؤں کی ادبی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب اُس وقت رقم ہوا جب ادارہ سیف نیوز کے زیرِ اہتمام اور منصور اکبر کی سرپرستی میں ’’یارِ رفتگاں‘‘ کے عنوان سے ایک شاندار اور تاریخی مشاعرہ منعقد ہوا.. یہ مشاعرہ شہر کے بزرگ اور حیات شعرائے کرام کے نام معنون تھا.. یہ یادگار مشاعرہ ادیب الملک حضرت ادیب مالیگانوی سے موسوم کیا گیا.. جس نے اس تقریب کو ایک ادبی وقار عطا کیا۔.. 
مشاعرے کی صدارت شہر کی بزرگ معروف شخصیت رمضان عبدالشکور المعروف رمضان بھائی فیمس نے رباعیات سنا کر اور کچھ نصیحتیں کرکے سلیقے کے ساتھ انجام دی.. جب کہ نظامت کے فرائض شہر کے کہنہ مشق شاعر لفظوں کے جادوگر شہنشاہِ نظامت غلام مصطفیٰ اثر صدیقی صاحب نے بہ حُسن و خوبی انجام دی.. اُن کی دل نشیں نظامت نے شہر کے بزرگ شعراء شہر کی ادبی روایات اور تاریخی حوالوں کو اس خوبصورتی سے جوڑا کہ مجھے یقین ہیکہ حاضرین کے ذہنوں میں آپکی اثرانگیز، مربوط و دلنشیں نظامت تادیر نقش رہیگی.. 
مشاعرے میں بزرگ اور معتبر شعراء ڈاکٹر اشفاق انجم، ظہیر ابن قدسی ،انیس نیر، احمد شناور، قطب الدین راہی، انصاری محمد رضا ، واحد انصاری خالد انور اور متین شہزاد سمیت متعدد کہنہ مشق شعراء نے اپنا منتخب اور معیاری کلام پیش کرکے حاضرینِ محفل کا نہ صرف دل جیت لیا بلکہ اُنہیں ماضی میں ہونے والے مشاعرہ گاہوں کی یاد دلادی.. مجھے یقین ہیکہ شعر و سخن کی یہ یادگار محفل عرصے تک لوگوں کی گفتگو کا حصہ بنی رہیگی.. 
اس موقع پر منصور اکبر صاحب اور اُن کے مخلص معاونین کی جانب سے تقریباً پچیس بزرگ شعراء کی باوقار پذیرائی کی گئی... اُنہیں خوبصورت مومنٹو اور گلدستے پیش کرکے اُن کی خدمات کا اعتراف کیا گیا... منصور اکبر بھائی کا یہ مستحسن عمل نہ صرف ادبی روایت کی پاسداری تھا بلکہ ان بزرگ شعراء کی زندگی میں عزت افزائی کی ایک روشن مثال بھی بنا.... 
انتظامی کمیٹی میں معروف افسانہ نگار احمد نعیم، ادب کا ستھرا ذوق رکھنے والے نعیم احمد صدیقی، ڈراموں کے بہترین ہدایتکار اور اداکار خالد قریشی ، ڈرامہ آرٹسٹ عاکف نبیل ، مزمل بھائی سیف نیوز، رضوان ربانی سر ربانی دی اسکالر چینل، ڈرامہ آرٹسٹ سعود انصاری اور دیگر دوستوں نے پانی کی بوتل اور بہترین چائے پیش کرکے مہمان نوازی کی شاندار مثال قائم کی نیز اسکس ہال میں آنے ہوے سینکڑوں مہمانوں کو گل پیش کرکے اُن کا پرتپاک خیر مقدم کیا .. 
ہال میں موجود ہر شخص بلا شبہ اپنی ذات میں انجمن تھا.. 
اس یادگار موقع پر مجھ احقر کی بھی منصور اکبر صاحب اور اُن کے معاونین کی جانب سے شال پوشی اور گل دستہ پیش کرکے عزت افزائی کی گئی جو میرے لیے باعثِ افتخار اور خوش نصیبی ہے.. اس تقریب نے پرانے دوستوں سے ملاقات اور ادبی رشتوں کی تجدید کا حسین موقع بھی عنایت کیا.. خطبہ صدارت سے قبل مفتی شارق ندوی صاحب نے بھی خطاب کیا.. 
آخر میں اس کامیاب بامقصد اور تاریخی ادبی پروگرام کے انعقاد پر ادارہء سیف نیوز بالخصوص منصور اکبر بھائی اور اُن کے بے لوث محنتی رفقاء مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے ثابت کردیا کہ مالیگاؤں آج بھی ادب، تہذیب اور بزرگوں کے علمی و ادبی محترم وجود کی قدر کرنے کا مثالی مرکز ہے الحمدللہ...منصور اکبر صاحب اور رضوان ربانی سر نے شکریے کی رسم ادا کی.. 
   🌼عمران جمیل
________

ایک شام بزرگ شعرا کے نام — اعزازی و استقبالیہ تقریب   
مالیگاؤں شہر کے بزرگ اور استاد شعرا کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب نہایت کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔ اس باوقار ادبی نشست کا اہتمام سیف نیوز اور جناب منصور اکبر صاحب کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کا مقصد شہر کے سینئر شعرا کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔
تقریب میں شہر کی معزز ادبی شخصیات، اہلِ قلم اور ادب دوست حضرات کی بڑی تعداد شریک رہی۔ اس موقع پر بزرگ شعرا کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور ان کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔
کافی ہاؤس کی جانب سے احمد نعیم، نعیم صدیقی اور دیگر احباب نے نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کیا۔ ناچیز کو بھی اس ادبی محفل میں عزت و توقیر سے نوازا گیا، جس کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
تقریب کے دوران ادبی گفتگو، شعری نشست اور یادگار لمحات نے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ یہ تقریب نہ صرف بزرگ شعرا کے احترامc کا عملی اظہار تھی بلکہ مالیگاؤں کی ادبی روایت کو مضبوط کرنے کی ایک خوبصورت کوشش بھی ثابت ہوئی۔ 🔴عظمت اقبال

______

شہر کی مشہور سیف نیوز اور بہترین منتظم و ناظم منصور اکبر کی بھرپور کوششوں سے ایک انوکھا یادرفتگاں پروگرام رکھا گیا. شہر کی تمام ادبی شخصیات کی کوششوں سے یہ پروگرام اپنے آپ میں نا صرف کامیاب بلکہ ایک یادگار پروگرام ثابت ہوا.
ممبئی میں ہونے کی وجہ سے میں شرکت نہیں کرسکا لیکن آن لائن پروگرام دیکھا اور بہت افسوس ہوا کہ اتنے اہم پروگرام میں شریک کیوں نہیں ہوسکا؟
میں میرے عزیز محترم منصور اکبر کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ایک کامیاب نشست منعقد کی. 
امید ہے آئندہ بھی اس قسم کے پروگرام شہر کی زینت بنتے رہیں گے. سیف نیوز اور برادر منصور اکبر کے لیے نیک خواہشات اور دعائیں 🌹

🌸ڈاکٹر عمران امین ممبئی

*🔴سیف نیوز اردو*




یہ ہے اصلی تصویر شیر میسور ٹیپو سلطان کی۔۔فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑ کر کس کی مدد کیجا ئے گی
. . . . . . . . یہ ہے اصلی تصویر شیر میسور ٹیپو سلطان کی۔جن کا اصل نام فتح علی خان تھا ۔جنکو شیر میسور ٹیپو سلطان بھی کہا جاتا ہے۔انکی پیدأئش 1.دسمبر 1751 میں ہوئی تھی۔اور شہادت 4 مئی 1799 کو ہوئی تھی۔وہ پکے سچے مسلمان بادشاہ تھے چونکہ وہ ایک سچے مسلم حکمران تھے اس لئے اںصاف پسند بھی تھے اس دور میں دلت خواتین کو اپنی چھاتی کھلی رکھنے کا حکم ۔۔سورن۔۔ذات نے دیا ہوا تھا اور حکومت کسی کی بھی ہو اونچی ذأت کے بڑے چھاتی کی سأئز کے مطابق ٹیکس وصولتے تھے اس بات کا جب ٹیپو سلطان کو علم ہوا تو انہوں نے نچلی ذات کی خواتین سے اس ٹیکس کی وصولی پر پأبندی لگادیئے جس سے سورن ذات ان سے ناراض ہوگئی أور ٹیپو سلطأن کے خلاف بغاوت کردئیے بغاوت کو کچلنے کے لئیے ٹیپو سلطان نے سورنوں پر چڑھائی کردیئے جس سے بہت سارے سورن مأرے گئے۔أسی لیئے فرقہ پرست ٹیپو سلطان کو ہندو دشمن مانتے ہیں۔ہنڈوستان اور دنیا کی تأریخ بغاوت جنگ خونریزی سے بھری پڑی ہے مگر وأحد بھارت میں تاریخ کا حوالہ دیکر مسلمأنوں سے بدلے کی باتیں کیجاتی ہیں۔دراصل سورنوں کو جنگ ہارنے سے زیادہ أس چھاتی کو۔۔ڈھنکنے۔کے حکم اور چھاتی ٹیکس کے خأتمے کا دکھ ہے جو رہ رہ کر ابھرتے رہتی ہے اور فرقہ پرست اسکا استعمال کرتے رہتے ہیں اور اپنی تسکین کرتے رہتے ہیں۔
. . . . . مالیگاؤں کارپوریشن میں جس ڈپٹی میئر کی أفس میں ٹیپو سلطان کا نفلی فوٹو لگایا گیا تھا جس کے بعد فرقہ پرست طاقتوں کو فرقہ پرستی کرنے کا موقع ملا تھا اس ڈپٹی میئر اور اسکی حمایت میں أگے أنے والوں نے کبھی۔1 دسمبر کو ٹیپو سلطان کا جنم دن منایا ہے کیا میری معلومات میں کبھی نہیں پھر أج ٹیپو سلطان سے محبت کیوں جاگ گئی۔کہیں ایسا تو نہیں کہ محبت کے نام پر فرقہ پرستوں کو فرقہ پرستی کرنے کا موقع دیا جارہا ہے کیونکہ أج فرقہ وارانہ ماحول خراب کرکے اقتدار تک پہونچنے کا چلن عام گیا ہے أس لیئے ٹیپو سلطان کا نقلی فوٹو لگأنے سے پہلے ان باتوں پر دھیان دینا چاہئیے۔











` *17 فروری کـو مفـت معـــائنــــہ کیـمــپ* 
*مالیگاؤں میں فری ہومیوپیتھک و ایلوپیتھک میڈیکل کیمپ*
👨‍⚕️*ڈاکٹر محمد عامر جیلانی*
BHMS, CCMP

*ڈاکٹر محمد ثاقب*
*M.B.B.S. M. D. (MEDICINE)*

تجربہ کار اور پروفیشنل ہومیوپیتھک و ایلوپیتھک ڈاکٹرس

🩺 خصوصی علاج برائے:
✔ جوڑوں کا درد / آرتھرائٹس / کمر درد
✔ دمہ / الرجی 
✔ جلدی امراض (ایگزیما، سوریاسس)
✔ بالوں کا گرنا اور سر کی جلد کے مسائل✔ Acidity ہاضمے کے مسائل
✔ مائگرین / آدھا سر درد
✔ تھائرائیڈ اور شوگر، بلڈ پریشر 
✔ گردے کی پتھری 
✔ خواتین اور بچوں کےتمام مسائل
✔ ذہنی دباؤ / بے چینی / نیند کے مسائل
✔ سگریٹ نوشی / الکحل چھوڑنے میں مدد
شوگر کے مریضوں میں پیروں میں زخم
نہ بھرنے والے زخم 
دل کے امراض

💚 ہر مریض کے لیے انفرادی کیس اسٹڈی

📅 منگل | 17/02/2026
⏰ وقت: صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک 

*🏥 ان تمــام امـراض سـے مـتـاثـر حضـرات زیـادہ سـے زیـادہ فـائـدہ اُٹھـائیـں۔*

🌏 *`پتᷤــᷤــͤــͬــͩــͣہ بـرائـے مفـت معـــائنــــہ کیمــپ`*

*الفــلاح میـڈیکـل، جـونـا فـاران ہـاسپِٹـــل کـے بـازو میـں مــرزا غـالـب روڈ مـالیگـاؤں*

*`وقـت 🕰️ :`*

*صبح 11بجــے سـے شـام 4 بجــے تـک*

*`رابطــᷝــᷝᷝــͣــͨـــہ نمبــر :`*

*ڈاکٹــر عامر الفلاح*
📲 9273221186










*اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر پر دس روزہ تراویح*
مالیگاؤں : ماہ رمضان المبارک کی پاکیزہ ساعتیں قریب ہیں- اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر (نزد پرانی تاج ہوٹل نور باغ) میں دس روزہ تراویح کا اہتمام کیا گیا ہے- عشرۂ اول میں ختم قرآن پاک کی سعادت حاصل کی جائے گی- حافظ محمد شعبان رضا صاحب نماز تراویح میں قرآن پاک کی تلاوت کریں گے- عشا کی جماعت سوا آٹھ بجے ہوگی- یوں ہی ختم قرآن پاک کے بعد بھی پورے ماہ تراویح کی پابندی ضرور کریں- پابندی وقت کے ساتھ شرکت کی گزارش نوری مشن نے کی ہے-

Aa'laHazrat Research Center Noor Bagh Malegaon me'n 10 roza tarawih ho'gi. Hafiz Muhammad Shaban Raza Sahab Imamat Farmae'n ge. Isha ki Jama'at ka waqt 8:15 hai. Pabandi e waqt ke sath Shirkat ki Guzarish Noori Mission Malegaon ne ki hai.









*آج صوفئ ملّت صوفی غلام رسول صاحب قادری کا چھٹا یوم وصال*
 *پـھــر تـیـری کـہانـی یـاد آئـی*
*صوفئ ملت حضرت صوفی غلام رسول صاحب قادری علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت و ہمہ صفات شخصیت!!!!*

(*یوم وصال 29 شعبان المعظم*) 

*میں مسلک اعلی حضرت پر منضبط ایک ایسی تنظیم ہوں جس کی روش روش پر حضرت صوفی غلام رسول قادری صاحب علیہ الرحمہ نے اپنی کشت ریزی سے گلہائے رنگا رنگ رقصاں و بہاراں کئے ہیں. حضور صوفئ ملت نے ہی میرے سر پر اپنا دست شفقت رکھتے ہوئے مجھے جہان رنگ و بو سے آشنائی بخشی ہے. انھوں نے ہی میرے دھڑکتے سینے پر اپنے ہی ہاتھوں آل انڈیا سنی جمعیت الاسلام کی ایسی تختی آویزاں کی ہے جس کی بدولت سنیت کے چراغوں میں ضو فشانی ہی ضوفشانی ہے. مسلک اہلسنت کی یہی وہ تنظیم ہے جس نے بنتے بگڑتے حالات میں سنیت کو فروغ و استحکام عطا کیا ہے. ایسا نہیں ہے کہ صوفئ ملت نے صرف اور صرف سنیت کے فروغ و استحکام کیلئے اپنے عزم و ارادوں اور حوصلوں کو بروئے کار لایا ہے بلکہ جب جب جہاں جہاں انھیں آواز دی گئی وہ فورأ سے پیشتر وہاں پہنچے اور حلقۂ دیگراں کی تکالیف کا یوں ازالہ کیا کہ سارے گلے شکوے یوں دور ہوئے جیسے وہ جہاں بھی گئے وہ کوئی پرائے نہیں بلکہ ان کے اپنے ہی ہوں. قوم و ملت پر جب بھی ریشہ دوانیوں کا جال پھینکا گیا انھوں نے اپنی مساعئ جمیلہ سے ان کا سدباب یوں کیا کہ سبھی مخالفین انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے.صوفئ ملت کا انداز خطابت اور قد و قامت غضب کی اٹھان لئے ہوئے ایسا رہا تھا کہ جو بھی انھیں دیکھ لیتا یا ان سے ملاقات کر لیتا مرعوب ہو کر رہ جاتا تھا. 2006 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے بے گناہ مسلم نوجوانوں کی با عزت رہائی کے لئے گلی سے دلی تک ایک کر دینے والی مخلص و ملنسار شخصیت صوفئ ملت صاحب کے علاوہ آج تک دوسری منظر عام پر نہیں آئی ہے. غضب کا حافظہ رکھنے والے صوفئ ملّت صاحب اپنی پر جوش خطابت کی وجہ سے بھی ہر مکتبہ فکر کے افراد کے منظور نظر رہے تھے. بیک وقت کئی ایک سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کی تشہیر کا فریضہ جب وہ انجام دینے پر آتے تو انھیں دیکھنے اور سننے والا اس پریشانی میں مبتلا ہو جاتا تھا کہ وہ کس پارٹی کے امیدوار کی تشہیر کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں. اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی کی حیثیت سے بھی متحرک و فعال رہے تھے. ان کی اسی اختراعی ذہنیت کی غماز کل جماعتی تنظیم کی تشکیل بھی کہلاتی ہے. کل جماعتی تنظیم کے ذریعے صوفئ ملّت صاحب نے مختلف الخیال متعبر مسلکی نمائندوں کو مجتمع کرکے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ اتنے دھندلے اور آسان نہیں ہیں کہ انھیں آسانی سے فراموش کردیا جائے. موصوف کی ہمہ جہت و ہمہ صفات خدمات کا احاطہ کرنے کے لیے طویل وقت اور طویل عمر درکار ہے تو ان کی بے مثال و بےلوث خدمات کا چند لفظوں چند سطروں میں اظہار کردینا کاسے میں انا ساگر کو سیمٹ لینا کہلائے گا.مسلک اعلیٰ حضرت کے پیروکار اور سلسلہ قاردیہ چشتہ صابری و شطاریہ کے نقوش تابندہ کو اپنا مقصد حیات بنا لینے والے صوفی ملّت صاحب نے جب درگاہ حضرت معصوم شاہ کے آستانے کو نئے رنگ و روغن سے آشنائی بخشی تو پھر یوں ہوا کہ دارالعلوم اہلسنت فیض القران بینا و نابیناؤں کا مدرسہ کے علاوہ دختران ملت کو علوم دینیہ سے آشنا کرنے کے لیے مدرسہ اہلسنت عائشہ اللنبات کی نہ صرف بنیاد گزاری کی بلکہ ایسے معصوم یتیم خانہ کی داغ بیل بھی ڈالی جہاں نہ صرف طلباء بلکہ طالبات کے لیے بھی علوم دینیہ کی ہمراہی میں قیام و طعام کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے ان کی تمام تر کفالت کا بھی بار گراں یوں اٹھایا کہ اگر کوئی ان کی مخالفت پر آمادہ بھی ہوا تو اسے شرمندگی کا شکار ہونا پڑا .صوفئ ملت نے جب تحفظ مزارات کی جانب پیش رفت کی تو شہر مالیگاؤں ہی نہیں بلکہ قرب و جوار میں موجود بندگان خدا کے خستہ حال مزارات کی از سر نو تجدید و مرمت کا مخلصانہ فریضہ انجام دینے کی کوشش کی جیسے وہ اللہ کے ولیوں کے آستانے کی مرمت و درستی نہیں بلکہ اپنے ذاتی مکان کو رنگ و روغن اور مرمت و درستی سے آشنائی بخش رہے ہوں. شہریت ترمیمی ایکٹ کے احتجاج میں منعقدہ شاہین باغوں کے مظاہرین پر جب بھی قانون و عدلیہ نے یورش کرنے کی کوشش کی صوفئ ملت احتجاج پر آمادہ مظاہرین اور قانون و عدلیہ کے مابین کسی آہنی دیوار کی طرح یوں سینہ تانے آن موجود ہوئے کہ قانون و عدلیہ کو پسپائی اختیار کر کے پیچھے ہٹنا پڑا .شہر میں آنے والا ہر نیا پولیس آفیسر نہ صرف ان سے گفت و شنید اور ملاقات کا متلاشی رہا کرتا تھا بلکہ ان کے قائم کردہ دارالعلوم اہلسنت فیض القران بینا و نابیناؤں کا مدرسہ کے ساتھ ساتھ حضرت معصوم شاہ کے آستانے کے طواف کا بھی متمنی رہا کرتا تھا. مفلوک الحال بے بضاعتوں کی داد رسی کرنا صوفئ ملّت صاحب کا وطیرہ خاص رہا تھا. اخباری نمائندوں کی خبر گیری رکھنا ان سے اپنے تعلقات استوار رکھنا صوفئ ملت کا محبوب مشغلہ رہا تھا. مالیگاؤں شہر ہی نہیں بلکہ قرب و جوار اور دور دراز کے علاقوں میں بکھرے ہوئے ہزارہا مریدین صوفئ ملّت صاحب سے وابستہ رہنے کو ہمہ وقت تیار رہا کرتے ہیں. آج بھلے ہی انھوں نے اپنا مسکن خلد بریں میں تعمیر کر لیا ہو لیکن ان کی متحرک و فعال شخصیت آج بھی ہمارے اپنے درمیان اپنے تمام تر نظریات سمیت فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی یادوں کے چراغوں کو یوں ضوفشاں کئے ہوئے ہیں کہ آتی جاتی طوفانی ہوائیں بھی اس کی ضوفشاں لو کو بجھانا تو کجا مدھم کرنے سے عاجز و محروم ہے. چار برس بیتے صوفی ملّت صاحب کو خلد بریں کا مکیں ہوئے لیکن ان کا کاز ان کا مشن آج بھی اول دن کی طرح کامیابی سے جاری و ساری ہے کیونکہ آج ان کے قائم کردہ دارالعلوم اہلسنت فیض القران بینا و نابیناؤں کا مدرسہ اور مدرسہ عائشہ اللنبات کے ہمراہ معصوم یتیم خانہ بھی اپنی تمام تر آب و تاب کے ہمراہ اسی طرح کامیابی سے جاری ہے جیسے وہ اوپر آسمانوں سے دیکھ رہے ہوں کہ کہیں کسی سے کوئی لاپرواہی یا غفلت تو نہیں ہورہی ہے. ان کی یادیں تا ہنوز ہمارے قدم بہ قدم یہ کہنے پر مجبور کئے جارہی ہیں کہ.........*

*ایک یاد ہے کہ دامن دل چھوڑتی ہی نہیں* 
*ایک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر جاں کے ساتھ*

*.....خراج عقیدت منجانب......*

*آل انڈیا سنیّ جمعیت الاسلام مالیگاؤں*
*بینا نابیناوں کا مدرسہ دارالعلوم اہلسنت فیض القرآن*
*لڑکیوں کا مدرسہ عائشہ للبنات معصوم یتیم خانہ*
*درگاہ حضرت معصوم شاہ ٹرسٹ*
*درگاہ حضرت بھیکن شاہ ٹرسٹ*
*مرکز روحانیت خانقاہ امدادیہ*
*مخدوم صابر اکیڈمی مالیگاؤں*
*عباسیہ ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی مالیگاؤں*

*🔴سیف نیوز اردو*

ماہ رمضان المبارک کا چاند 🌙 
نظر آگیا
 
آج بروز بدھ بتاریخ 29 شعبان المعظم 1447 ھ بمطابق 18 فروری 2026 ء کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا گیا، مالیگاؤں شہر اور شہر کے اطراف میں اور ملک کے مختلف صوبوں میں چاند کی عام رؤیت ہوئی۔ لہذا جمعیت علماء ضلع ناسک (ارشد مدنی) رؤیت ہلال کمیٹی،ممبئی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اعلان کرتی ہے کہ بروز جمعرات 19 فروری 2026 ء کو یکم رمضان المبارک 1447ھ ہوگا۔ ان شاءاللہ 
لہذا عوام الناس سے گزارش ہے کہ رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے گناہوں سے اجتناب کریں۔ نیز نماز و تراویح اور روزوں کا اہتمام کریں۔
  
 ائمہ کرام مساجد میں تاریخ درست لگا کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

فقط والسلام:
مفتی محمد یاسین صاحب ملی 
سکریٹری رؤیت ہلال کمیٹی
جمعیت علماء ضلع ناسک (ارشدمدنی)
مفتی و قاضی حسنین محفوظ ملی نعمانی
حضرت مولانا سراج احمد صاحب قاسمی
مولانا نثار احمد صاحب 
مفتی محمد مصطفیٰ صاحب جمالی
مولانا عبدالقیوم صاحب قاسمی 
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی
مفتی محمد خالد ملی
مفتی محمد مدثر ملی سیفی
مفتی عبدالمالک ملی قاسمی
مولانا سلمان صاحب قاسمی 
مولانا شیخ نعیم صاحب ملی
ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری
مولانا عبدالحمید قاسمی امبڑ
مولانا محمد ابراہیم ملی سٹانہ
جمیل خان چاندوڑ

Tuesday, 17 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




یوپی میں کانگریس کا ہلہ بول! اسمبلی گھیراؤ کرنے پہنچے سیکڑوں کارکنوں پر لاٹھی چارج، متعدد گرفتار
اتر پردیش میں آج منریگا کے معاملے پر کانگریس کا احتجاجی مظاہرہ ہوا، اس دوران کئی بڑے لیڈروں کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آج اسمبلی کے گھیراؤ سے متعلق کانگریس نے بڑے احتجاج کی کال دی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر اجے رائے کی قیادت میں صبح کارکنان نے اسمبلی کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین پر پولیس سے لاٹھی چارج کی اور حراست میں لے لیا۔لکھنؤ میں کثیر تعداد میں کارکن پہنچے

مظاہرے میں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش انچارج اویناش پانڈے، کانگریس قانون ساز پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا مونا، رکن اسمبلی وریندر چودھری سمیت کئی ارکانِ پارلیمنٹ، سابق اراکین اسمبلی اور سینئر لیڈر شامل ہوئے۔ ریاست بھر سے بڑی تعداد میں کارکنوں نے لکھنؤ پہنچ کر بی جے پی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج شروع کیا تو پولیس اور کانگریسی کارکنان کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی، اس کے ساتھ ہی پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج بھی شروع کر دیا۔ جب مظاہرین پولیس کے روکنے سے رکے نہیں تو پولیس نے چن چن کر تمام مظاہرین کو حراست میں لیکر مظاہرے کے مقام سے ہٹا دیا۔

’بی جے پی حکومت میں بڑھ رہا ہے جرم‘

کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں جرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت ذات اور مذہب کی بنیاد پر دلتوں، اقلیتوں اور غریبوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

’کئی کانگریس کارکن نظر بند‘

پارٹی ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں کانگریس کارکنوں کو نظر بند کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں کارکن لکھنؤ واقع پارٹی دفتر پر موجود ہیں۔ فی الحال بڑی تعداد میں کانگریسی کارکن پولیس کی حراست میں ہیں۔









روہت شیٹی فائرنگ کیس میں بڑا انکشاف، جانئے واردات کے پیچھے بشنوئی گینگ کی سازش
نئی دہلی :مشہور فلم ڈائریکٹر روہت شیٹی کے ممبئی کے علاقے جوہو میں واقع گھر پر ہوئی فائرنگ کے معاملے میں ممبئی کرائم برانچ نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ اس حملے کے تانے بانے براہِ راست بدنام زمانہ بشنوئی گینگ سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ پوری سازش کی کمان مبینہ طور پر جیل کے اندر سے سنبھالی جا رہی تھی۔کرائم برانچ کے مطابق روہت شیٹی پر حملے کی مکمل منصوبہ بندی پروین لونکر اور اس کے بھائی شُبھم لونکر نے کی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شُبھم لونکر کو بشنوئی گینگ کا مہاراشٹر میں اہم ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ مزید چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پروین لونکر اس وقت بابا صدیقی قتل کیس میں جیل میں بند ہے، لیکن قید میں ہونے کے باوجود اس نے نہ صرف حملے کا خاکہ تیار کیا بلکہ مبینہ طور پر شوٹروں کو اسلحہ اور رقم بھی فراہم کی۔تحقیقات میں یہ سوال سب سے اہم بن گیا ہے کہ سخت سکیورٹی کے باوجود جیل کے اندر سے یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ پولیس اس بات کی چھان بین کر رہی ہے کہ آیا پروین لونکر کسی خفیہ میسنجر ایپ کا استعمال کر رہا تھا یا جیل کے کسی اندرونی ذریعے سے باہر اپنے ساتھیوں تک پیغامات پہنچا رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی اسے کرائم برانچ کی تحویل میں لے کر تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی تاکہ اس نیٹ ورک کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔اس معاملے میں اب تک ملک کے مختلف حصوں سے 12 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتاریوں کا دائرہ پونے سے لے کر ہریانہ اور اتر پردیش تک پھیلا ہوا ہے۔ گرفتار افراد میں مرکزی شوٹر بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور پستول کا انتظام بھی مبینہ طور پر پروین لونکر کے اشارے پر کیا گیا تھا۔

ممبئی کرائم برانچ کی 12 ٹیمیں دن رات اس کیس پر کام کر رہی ہیں تاکہ بشنوئی گینگ کے مبینہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر توڑا جا سکے۔ اس انکشاف کے بعد سکیورٹی نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ جیل کے اندر کون لوگ پروین کے رابطے میں تھے اور کیا کسی اندرونی ملی بھگت کا امکان موجود ہے۔ذرائع کا ماننا ہے کہ پروین لونکر سے سخت پوچھ گچھ کے بعد گینگ کی ممکنہ ہٹ لسٹ اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں اہم سراغ مل سکتے ہیں۔ فی الحال وہ عدالتی تحویل میں ہے، لیکن امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس میں مزید بڑے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔










ایپسٹین فائل پر ڈونالڈ ٹرمپ نے توڑی خاموشی، خود کو بتایا پاک صاف، کیا ہے نوبیل انعام کنکشن؟
مجرم جنسی جرائم کا مرتکب جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) سے متعلق دستاویزات کے عوامی ہونے کے بعد دنیا بھر میں مچے ہنگامے کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ ایپسٹین کے ساتھ نام جڑنے پر ٹرمپ نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے ایئر فورس ون (Air Force One) میں پریس کانفرنس کے دوران واضح کر دیا کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور انہیں اس معاملے میں ‘کلین چٹ’ مل چکی ہے۔’مجھے بے قصور ثابت کر دیا گیا‘

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ جیفری ایپسٹین سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس کو امید تھی کہ تفتیش میں ان کے خلاف کچھ غلط مل جائے گا، لیکن اس کے برعکس وہ بے قصور ثابت ہوئے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جیفری ایپسٹین دراصل ان کی سیاسی امنگوں کے مخالف تھے۔

’یہ ان کا مسئلہ ہے‘ (Bill Clinton Epstein files connection)

اپنی صفائی پیش کرنے کے ساتھ ہی ڈونالڈ ٹرمپ نے سابق صدر بل کلنٹن اور ہلیری کلنٹن پر سخت جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دلچسپ ہے کہ بل کلنٹن اور دیگر ڈیموکریٹس کو اس جانچ میں ’گھسیٹا‘ جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں گھسیٹا جا رہا ہے اور یہ ان کا مسئلہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ہلیری کو میونخ میں دیکھا تھا اور وہ واقعی ’ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم‘ کا شکار ہیں۔

فائلوں میں کیا ہے؟

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے دسمبر 2025 میں جاری کیے گئے ہزاروں دستاویزات میں ٹرمپ کا نام کئی بار آیا ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ایپسٹین کے نجی طیارے میں کم از کم آٹھ بار سفر کیا۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کو کسی بھی جنسی جرم یا غیر قانونی عمل میں ملزم نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ بعض دعوؤں کو ’غلط اور سنسنی خیز‘ قرار دیا گیا ہے۔

نوبیل انعام کا زاویہ (Epstein files Nobel Prize Connection)

فائلوں میں ایک دلچسپ انکشاف ٹرمپ کے ’نوبیل انعام‘ سے متعلق شوق کے بارے میں بھی سامنے آیا ہے۔ ایک ای میل کے مطابق، ایپسٹین نے ٹرمپ کے قریبی ساتھی اسٹیو بینن سے کہا تھا کہ اگر ٹرمپ کو معلوم ہو گیا کہ بینن اب ایسے شخص (ایپسٹین) کے دوست ہیں جو نوبیل انعام کا فیصلہ کرنے والوں کو جانتا ہے تو ٹرمپ کا ’سر پھٹ جائے گا‘۔ واضح رہے کہ جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں مقدمے کا انتظار کر رہے جیفری ایپسٹین کی 2019 میں وفاقی تحویل میں موت ہو گئی تھی۔

*🔴سیف نیوز اردو*




رات کو دیر سے سونے والوں کے لیے وزن کم کرنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟
اگر آپ رات کو اکثر دیر سے سو رہے ہیں تو وزن کم کرنے کی آپ کی تمام کوششیں بے اثر ہو سکتی ہیں، یا پھر ریورس بھی ہو سکتی ہیں، یعنی کم ہونے کے بجائے آپ کا وزن بڑھ سکتا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق وزن میں کمی کے بارے میں بات کرتے وقت زیادہ تر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بنیادی چیز ڈائیٹ یعنی غذا اور ورزش ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ ایک اور اہم عنصر کو نظر انداز کرتے ہیں، اور وہ ہے نیند۔ خاص طور پر اس کا وقت اور دورانیہ۔
ہو سکتا ہے آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہوں، اچھی اور مناسب غذا وقت پر کھا رہے ہوں اور کبھی ورزش ترک نہ کرتے ہوں، مگر پھر بھی آپ کا وزن کم ہونے سے انکاری ہے۔ یا اس کے اُلٹ ہے یعنی وزن بڑھ رہا ہے تو پھر آپ وہی غلطی کر رہے ہیں۔یہ غلطی خاموشی سے تمام کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
جوپیٹر ہسپتال کے انٹرنل میڈیسن کے ڈائریکٹر فزیشن ڈاکٹر امیت صاراف نے بتایا کہ کس طرح دیر سے سونا، خاص طور پر آدھی رات کے وقت بستر پر جانا، میٹابولزم، ہارمون کے توازن، ہاضمے، اور مجموعی وزن میں کمی کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔
یہ اُن لوگوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے جو خوراک اور ورزش کے معمولات پر نظم و ضبط کے تحت عمل کرتے ہیں۔
رات 11 بجے کے بعد سونے سے وزن کیوں متاثر ہوتا ہے؟
وزن میں کمی عام طور پر کیلوریز کو جلانے سے ہوتی ہے۔ دیر سے سونے سے جسم کے قدرتی حیاتیاتی نظام میں بہت زیادہ مداخلت ہوتی ہے۔
اس حیاتیاتی نظام کو وقت کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر امیت صاراف نے وضاحت کی کہ ’رات ساڑھے دس کے بعد یہ آہستہ آہستہ ایک قدرتی ہاضمے کی سست روی کے مرحلے میں چلا جاتا ہے۔‘ڈاکٹر کے مطابق اگر کوئی دیر تک جاگتا رہتا ہے تو جسم تناؤ کی حالت میں رہتا ہے جو کورٹیسول کو بڑھاتا ہے۔
کورٹیسول تناؤ کا ہارمون ہے۔ ہنگامی صورتحال میں یہ جسم کو توانائی محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے تاکہ فوری ردعمل ظاہر کر سکے۔ تاہم ایسا کرنے کے لیے یہ عارضی طور پر عام میٹابولک عمل میں خلل ڈالتا ہے۔
ڈاکٹر صاراف نے مزید کہا کہ ’جب رات کو کورٹیسول زیادہ رہتا ہے تو چربی کا ذخیرہ ہونا آسان ہو جاتا ہے اور چربی کو جلانے کا عمل آہستہ ہو جاتا ہے، چاہے کھانا کتنا ہی صحت بخش کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اچھی اور مناسب غذا بھی کھاتے ہیں وہ تب بھی وزن کم کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔‘











رمضان میں مسجد اقصیٰ کے گرد اسرائیلی پولیس کی تعیناتی، فلسطینیوں کا پابندیوں کا الزام
اسرائیلی پولیس کے حکام نے کہا ہے کہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے ارد گرد فورس تعینات کی جائے گی جبکہ فلسطینیوں نے اسرائیل پر احاطے میں پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگایا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں ہفتے شروع ہونے والے ماہِ مقدس کے دوران لاکھوں کی تعداد میں مسلمان روایتی طور پر مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں، مذہب اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام سمجھی جانے والی یہ مسجد یروشلم شہر کے مشرقی حصے میں واقع ہے جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا اور بعدازاں ساتھ ملا لیا تھا۔یروشلم پولیس کے سینیئر افسر اریڈ بریومین کا کہنا ہے کہ ’فوجیوں کو دن رات کمپاؤنڈ کے اندر تعینات کیا جائے گا جبکہ نماز کے وقت اضافی ہزاروں پولیس اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کے لیے 10 ہزار اجازت نامے جاری کرنے کی سفارش کی ہے جن کو یروشلم میں داخلے کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔
انہوں نے اجازت ناموں کے لیے عمر کی حد کے حوالے سے تفصیل نہیں بتائی اور یہ بھی بتایا کہ فائنل تعداد کے بارے میں فیصلہ حکومت کرے گی۔
دوسری جانب فلسطینی یروشلم گورنریٹ کا کہنا ہے کہ اسے بتایا گیا ہے کہ اجازت نامے 55 برس سے زائد عمر کے مردوں اور 50 برس سے زائد کی خواتین کے لیے ہوں گے اور پچھلے برس بھی ایسا ہی طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔
بیان میں اسرائیلی حکام پر الزام بھی لگایا گیا ہے کہ ان کی جانب سے سائٹ کے انتظامات دیکھنے والے اردن کے ادارے اسلامک وقف کو معمول کی تیاریوں سے روک دیا ہے جن میں سائبان کی تعمیر کے علاوہ طبی کلینکس کا قیام بھی شامل تھا۔
اسلامک وقف کے ذرائع کی جانب سے بھی پابندیوں کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا ہے کہ رمضان شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل اس کے 33 ملازمین کو کمپاؤنڈ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
طویل مدتی انتظامات کے تحت یہودی اس احاطے کا دورہ کر سکتے ہیں جو اس کو اپنے دوسرے مقدس ترین عبادت گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں تاہم دوسری جانب فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اس کو ختم کیا جا رہا ہے۔
اریڈ بریومین نے اپنے بیان میں بھی اسی عزم کو دوہرایا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران یہودی انتہاپسندوں کی بڑھتی تعداد نے عبادت پر پابندی کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جن میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اتمار بین گویر بھی شامل ہیں اور انہوں نے 2024 اور 2025 کے دوران سکیورٹی کے وزیر کی حیثیت سے یہاں پر عبادت کی تھی۔












بی این پی چیئرمین طارق رحمان کی آج بطور وزیراعظم حلف برداری ، بھارت سے اوم برلا شرکت کریں گے
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان آج بروز منگل منتخب اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیں گے۔ یہ سال 2024 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ڈھاکہ کی سیاست میں ایک نئی شروعات کی علامت ہے۔

بی این پی کے منتخب رکن پارلیمنٹ راشد الزمان ملت نے اے این آئی کو بتایا کہ “ارکان پارلیمنٹ کی حلف برداری کی تقریب ہمارے پارلیمنٹ ہاؤس میں صبح 9:30 بجے ہوگی۔” شام 4:00 بجے وزراء کی حلف برداری کے لیے ایک اور اجلاس ہوگا۔

واضح رہے کہ 12 فروری کو ہوئے انتخابات میں بی این پی نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ 300 نشستوں والی پارلیمنٹ میں بی این پی نے 151 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ جماعت اسلامی، جو پہلے بی این پی کی اتحادی تھی نے حزب اختلاف کی جماعت کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور دوسری سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ جماعت اسلامی نے حالیہ الیکشن میں خود کو ایک اہم اپوزیشن قوت کے طور پر مستحکم کر لیا ہے۔بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق، بی این پی کی قیادت والے اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ جماعت اسلامی کی قیادت والے بلاک نے 77 نشستوں پر جیت درج کی ہے۔ حسینہ واجد کی بنگلہ دیش عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔

بطور وزیر اعظم حلف لینے جا رہے طارق رحمان سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد 17 سال کی جلاوطنی ختم کر کے وطن واپسی کی اور عام انتخابات میں بی این پی کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی۔

بھارت کی طرف سے لوک سبھا اسپیکر کی شرکت

پی ایم مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شرکت نہیں کریں گے۔ وزارت خارجہ نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا بنگلہ دیش کی نو منتخب حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس اہم تقریب میں اسپیکر کی شرکت بھارت اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان گہری اور مضبوط دوستی اور دونوں ممالک کو باندھنے والی جمہوری اقدار کے تئیں بھارت کی غیر متزلزل وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





*کیا ٹیپو سلطان کریں گے مالیگاؤں کی ترقی؟*
✍️ *وسیم رضا خان* ✍️ 
مالیگاؤں کی سیاست ایک بار پھر اسی پرانے ڈھرے پر لوٹ آئی ہے، جہاں ترقی کے 'ویژن' سے زیادہ دیواروں پر ٹنگی تصویروں کا وزن معنی رکھنے لگا ہے۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر کھڑا ہوا تنازع محض ایک انتظامی بحث نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے اندھیرے کی علامت ہے جس میں شہر کو دھکیلا جا رہا ہے۔ ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد کے ذریعے تصویر ہٹا کر پھر سے لگانے کی وارننگ دینا یہ صاف کرتا ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی ترجیحات کیا ہیں۔ جب شہر کو بہتر سڑکوں، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے، تب اقتدار پر قابض پارٹیاں مذہبی علامتوں کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ مالیگاؤں نے جب جب شدت پسندی کی راہ چنی ہے، اس کا خمیازہ یہاں کی بھولی بھالی عوام اور شہر کے وقار نے بھگتا ہے۔ اسلام پارٹی کا اقتدار میں آنا اور پھر اس طرح کی متنازع سرگرمیوں میں شامل ہونا مخالفین کو موقع دینے جیسا ہے۔ لیکن سب سے بڑا نقصان اس 'سیکولر' ساکھ کا ہو رہا ہے، جس کا ثبوت ان مسلم لیڈروں کو دینا چاہیے تھا۔ عوام نے ترقی کے نام پر ووٹ دے کر جنہیں کرسی تک پہنچایا، وہ اب سیاست کی ایسی بے مطلب لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں جس کا انجام صرف شہر کی بدنامی میں ہوگا۔

اسلام پارٹی اپنی آئیڈیالوجی اور پارٹی کی توسیع کے نشے میں اس قدر چور ہے کہ اسے عوام کی بنیادی ضرورتیں نظر نہیں آ رہی ہیں۔ دوسری طرف سماجوادی پارٹی ممبئی میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے اور شدت پسندی کی دوڑ میں پچھڑنے کے ڈر سے بس تماشہ دیکھ رہی ہے۔ ان کے درمیان سب سے تکلیف دہ پہلو ان 'اندھ بھکتوں' کا ہے جو اپنے لیڈروں کی ان بچکانہ لیکن خطرناک حرکتوں پر تالیاں بجا رہے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ وہ خود اپنے مستقبل کے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔

یہ تنازع صرف ایک تصویر کا نہیں ہے، یہ سرمایہ کاری اور ترقی کے راستے میں کھڑا کیا گیا ایک روڑا ہے۔ کوئی بھی حکومت یا ادارہ ایسے شہر میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہے گا جو ہر دوسرے دن مذہبی تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہو۔ اقتدار والوں کے ہاتھ میں آخر کار نہ اقتدار بچے گا اور نہ ساکھ، صرف راکھ رہ جائے گی۔ مالیگاؤں کی عوام کو اب یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا انہوں نے ایسی ہی طاقت کو منتخب کیا تھا؟ اگر لیڈر ترقی کے بجائے تصویروں اور مذہبی جذبات کو ڈھال بنا کر سیاست کریں گے، تو مستقبل میں عوام کے ہاتھ خالی ہی رہیں گے۔

مالیگاؤں کو اندھیرے کی طرف دھکیلنے والے یہ لیڈر تو اپنی روٹیاں سینک لیں گے، لیکن عام شہری صرف ایک پسماندہ اور بدنام شہر کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔ وقت آگیا ہے کہ مالیگاؤں کے حکمراں اپنی ذمہ داری سمجھیں، ورنہ تاریخ انہیں ترقی کے 'قاتل' کے طور پر یاد رکھے گی۔ یاد رکھیں، مالیگاؤں کی ترقی کرنے کے لیے اب کوئی ٹیپو سلطان نہیں آنے والا۔

یہ کہانی تو مالیگاؤں شہر کی ہے، لیکن اس کہانی کے گرد گھومتی سچائی کو بھارت کے ہر اس شہر کے باشندوں کو سمجھنا ہوگا جسے لیڈر اپنے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں، یا یہ سمجھتے ہیں کہ انتخاب کے وقت عوام کو ان کے ووٹوں کی قیمت دے دی گئی ہے اور اب عوام ہمارے سامنے منہ نہیں کھول سکتی، پھر چاہے ہم اقتدار کے نشے میں شہر کو کیوں نہ بیچ ڈالیں۔ یاد رکھیں، عظیم ہستیوں کی تصویریں ایک اعزاز ہوتی ہیں، لیکن اگر کسی تصویر سے کسی اور کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچے گی، تو وہ عظیم شخصیت جس کی تصویر آپ نے لگائی ہے، کیا اس ٹھیس کو ختم کر پائے گی؟ یا کیا وہ عظیم شخصیت یہ دیکھ کر کہ آپ نے اس کی تصویر کو عزت دی ہے، آپ کے شہر کی ترقی کرے گی یا آپ کی ذمہ داریوں کو اپنی غیبی طاقت سے پورا کر دے گی؟ ایسے کئی سوالات ہیں...









*جعفر نگر وارڈ میں آوارہ کتوں کی بہتات: ایک سنگین مسئلہ*

​ہمارے محلے میں گزشتہ کچھ عرصے سے آوارہ کتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے، جو اب اہل محلہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ گلیوں اور چوراہوں پر کتوں کے جھنڈ نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کا گھر سے باہر نکلنا اور بزرگوں کا مسجد یا بازار جانا دشوار ہو گیا ہے۔

​انتظامیہ کی لاپرواہی
​اس سنگین صورتحال کی سب سے بڑی وجہ نگر سیوکوں اور بلدیاتی عملے کی لاپرواہی ہے۔ بار بار شکایات کے باوجود انتظامیہ خوابِ غفلت میں ہے:
​کتوں کی نس بندی (Sterilization) کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
​کوڑے دانوں کی بروقت صفائی نہ ہونے سے کتے وہاں خوراک کی تلاش میں جمع رہتے ہیں۔
​کتوں کو پکڑنے والی ٹیمیں مہینوں سے علاقے میں نظر نہیں آئیں۔
​انسانی جانوں کو خطرہ
​کتے اب نہ صرف راہگیروں پر بھونکتے ہیں بلکہ کئی معصوم بچوں اور بوڑھوں کو کاٹ کر زخمی کر چکے ہیں۔ پاگل کتوں کے کاٹنے سے ریبیج (Rabies) جیسی مہلک بیماری کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہوئے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔

​یہ نگر سیوکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر عوامی تحفظ کو ترجیح دیں۔ اگر فوری طور پر ان کتوں کی منتقلی یا ان کی تعداد کنٹرول کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اہل محلہ کو اس خوف زدہ ماحول سے نجات دلائے

*عمیر سر نورانیہ*











*مفتی سراج احمد ملی(مفتی شہر)کے مدلل فتویٰ کی روشنی میں*
*چھ روزہ نماز تراویح کا مشترکہ اعلان اور مصلیان کیلئے رہنما ہدایات*
*جو لوگ رمضان میں سفر وغیرہ کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے لیے ایک جگہ پورے رمضان میں قرآن کریم کا سننا ممکن نہ ہو، یا جو حضرات ایک سے زائد قرآن پاک سننے کا ذوق رکھتے ہوں، ایسے افراد کے لیے مندرجہ ذیل مقامات پر چھ روزہ نماز تراویح کا انعقاد کیا گیا ہے:*
*1) باغبان جماعت خانہ ، واقع نور باغ چوک ، ہزار کھولی*

*امام تراویح: مفتی محمد عامر یاسین ملی*

*(نوٹ: شیخ عثمان ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں ہونے والی تراویح جگہ کی سہولت کے پیش نظر یہاں ہوگی ۔*

*2)مدرسہ ثناء العلوم (ساٹھ فٹی روڈ ،داتارنگر)*

*امام : حافظ عبدالرحمن داعی و حافظ محمد عرفات*

*۲) قریش جماعت خانہ (عبد اللہ نگر)*

*امام:مفتی سالک زبیر ندوی*

*۳)محمڈن ہال (سردار نگر)*

*امام : حافظ محمد عمیس انعامی و حافظ نعیم احمد*
*-*-*
*مصلیان کے لیے رہنما ہدایات*

*(الف) جن حضرات کو واقعی سفری مجبوری درپیش ہو یا جو ایک سے زائد قرآن سننے کا ذوق رکھتے ہوں ، ایسے افراد اہتمام کے ساتھ شرکت کریں۔*

*(ب) نماز تراویح میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ شریک ہوجائیں ،چھ اور دس روزہ ہی نہیں سوا اور ڈیڑھ پارے والی تراویح میں بھی بعض حضرات امام کے رکوع میں جانے تک بیٹھے رہتے ہیں ،یہ قرآن کی بے ادبی ہے اور ایسے لوگوں کا قرآن ادھورا رہ جاتا ہے ۔*

*(ج)تراویح چھ اور دس دن کی ہو یا بیس اورستائیس دن کی ،تکمیل قرآن کے بعد بھی پورا رمضان نماز تراویح پڑھنا مسنون ہے ،لہذا تکمیل قرآن کے بعد بھی نماز تراویح کی ادائیگی کا اہتمام کرتے رہیں۔*
*جزاکم اللہ خیرا*
*جاری کردہ : انتظامی کمیٹی برائے چھ روزہ تراویح (مولانا عبدالرحمن جمالی ثناء العلوم للبنات، اسامہ ٹیلر نور باغ ، محمد مدثر محمڈن ہال، ابوبکر صدیق قریش جماعت خانہ و نوجوانان ہزار کھولی و نور باغ مالیگاؤں)*









*مالیگاؤں کا 'تصویر تماشہ' اور حجاب کی سیاست: ترقی کے 'جنازے' پر چڑھتی سیاست*
✍️*وسیم رضا خان* ✍️
مالیگاؤں مہانگر پالیکا میں گزشتہ دس دنوں سے جو سرکس چل رہا ہے، وہ جمہوریت کے لیے کوئی خوش آئند اشارہ نہیں ہے۔ میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد نے کرسیاں تو سنبھال لیں، لیکن ارادے 'عوامی خدمت' سے زیادہ 'جنگ' کے نظر آ رہے ہیں۔ جس شہر کو گڑھوں سے نجات، صاف پانی اور بہتر بنیادی ڈھانچے کی ضرورت تھی، وہاں کی اقتدار اب 'تصویر بنام تقدیر' کی لڑائی میں الجھ گئی ہے۔ مالیگاؤں کی سیاست میں حالیہ واقعات نہ صرف اقتدار کے مساوات کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ یہ شناخت کی سیاست اور ترقی کے ایجنڈے کے درمیان کشمکش کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ مالیگاؤں مہانگر پالیکا نے تاریخ تو رقم کی کہ دو اقلیتی خواتین—میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند—اقتدار کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھیں، لیکن افسوس کہ یہ تاریخ ترقی کی سیاہی سے کم اور تنازعات کے رنگ سے زیادہ لکھی جا رہی ہے۔ عہدہ سنبھالتے ہی جس توانائی کو شہر کی سڑکوں، پانی اور صحت کی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے تھا، اسے 'ٹیپو سلطان' کی تصویر اور 'حجاب' کے گرد سمیٹ دیا گیا ہے۔

ڈپٹی میئر شانِ ہند کی جانب سے اپنے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی 'پولیٹیکل برانڈنگ' نظر آتی ہے۔ جب اپوزیشن (شندے گروپ کی شیوسینا) اس پر جارحانہ رخ اختیار کرتی ہے، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شہر کے مسائل سے زیادہ ضروری دونوں فریقوں کے لیے اپنی 'نظریاتی زمین' بچانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی عظیم شخصیت کی تصویر لگانے سے ہی شہر کے عوام کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں گے؟ جدوجہدِ آزادی میں شراکت ایک تاریخی حقیقت ہو سکتی ہے، لیکن کیا موجودہ دور کی بدحال سڑکوں کا حل ماضی کی تصویروں میں چھپا ہے؟ اقتدار میں آتے ہی علامتوں کی سیاست کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی کے ایجنڈے پر آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ جب اپوزیشن اس پر حملہ آور ہوتی ہے، تو وہ بھی اسی پولرائزیشن (تفرقہ بازی) کی آگ میں گھی ڈالتی ہے جو مالیگاؤں کو دہائیوں سے پیچھے دھکیل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میئر اور ڈپٹی میئر نے عہدے کا حلف 'آئین' کا لیا تھا یا 'علامتوں' (Symbolism) کا؟

مالیگاؤں میں مسلم خواتین کا قیادت میں آنا خواتین کی خود مختاری کی علامت ہو سکتا تھا، لیکن یہاں بھی 'حجاب' اور 'پروٹوکول' کے سوال نے جگہ لے لی۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ انتظامی عہدوں پر بیٹھنے والے شخص کو مذہبی علامتوں سے بالاتر ہو کر عہدے کے پروٹوکول کی پاسداری کرنی چاہیے۔ جس طرح ایک وردی والے کے لیے قوانین سب سے مقدم ہوتے ہیں، کیا ایک عوامی عہدے پر فائز خاتون کو بھی 'یونیفارم پروٹوکول' پر عمل نہیں کرنا چاہیے؟ اگر حجاب ایک ذاتی پسند ہے، تو اس کا وقار تب اور بڑھتا جب یہ 'انتظامی غیر جانبداری' کے آڑے نہ آتا۔ لیکن جب ان علامتوں کو سیاسی ہتھیار بنایا جاتا ہے، تو سوال اٹھنا لازمی ہے۔

اکثر جب اقتدار والوں سے ان کے کام کا حساب مانگا جاتا ہے، تو 'اقلیت ہونے' یا 'ٹارگٹ کیے جانے' کا کارڈ کھیل دیا جاتا ہے۔ مالیگاؤں کے عوام نے میئر اور ڈپٹی میئر کو اس لیے نہیں چنا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کو ڈھال بنائیں، بلکہ اس لیے چنا کہ وہ شہر کی کایا پلٹ کریں۔ مالیگاؤں کی تنگ گلیوں اور گرد آلود راستوں کو نہ تو ٹیپو سلطان کی تصویر سے فرق پڑتا ہے اور نہ ہی حجاب پر ہونے والی بحث سے۔ انہیں فرق پڑتا ہے صاف پانی سے، روزگار سے اور ایک بہتر مستقبل سے۔

میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اب کسی خاص طبقے یا پارٹی کی نمائندہ محض نہیں ہیں، بلکہ پورے مالیگاؤں کی محافظ ہیں۔ تصویروں کی سیاست اور حجاب کے تنازعات میں الجھ کر وہ ان امیدوں کا گلا گھونٹ رہی ہیں جن کے دم پر وہ اس کرسی تک پہنچی ہیں۔ آئینی عہدوں کا اپنا ایک وقار اور ایک غیر اعلانیہ 'یونیفارم پروٹوکول' ہوتا ہے۔ جب آپ ایک پورے شہر کی نمائندگی کرتے ہیں، تو آپ کی شناخت آپ کے مذہبی عقائد سے اوپر اٹھ کر ایک 'عوامی خادم' (Public Servant) کی ہونی چاہیے۔ انتظامی دفاتر 'عجائب گھر' یا 'مذہبی اکھاڑے' نہیں ہوتے؛ وہ خدمت کے مراکز ہوتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سیاست کو دفتر کی دہلیز کے باہر چھوڑ کر، ترقی کی اس فائل کو کھولا جائے جو شاید دھول چاٹ رہی ہے۔

اقتدار کا نشہ جب علامتوں کی سیاست میں بدل جاتا ہے، تو عوام کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ میئر اور ڈپٹی میئر کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کسی مسجد یا مدرسے کی نہیں، بلکہ ایک سرکاری کارپوریشن کی سربراہ ہیں۔ اگر وہ اپنی توانائی تصویروں اور حجاب کے دفاع میں خرچ کریں گی، تو مالیگاؤں کی ترقی صرف کاغذوں اور تقریروں تک محدود رہ جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ مالیگاؤں کے یہ 'معززین' اپنی شناخت کی سیاست کو گھر چھوڑ کر آئیں اور ترقی کی اس فائل پر دستخط کریں جس کے لیے انہیں منتخب کیا گیا ہے۔ ورنہ تاریخ انہیں 'تاریخ بدلنے والوں' کے طور پر نہیں، بلکہ 'وقت برباد کرنے والوں' کے طور پر یاد رکھے گی۔

*🔴سیف نیوز اردو*

ہندوستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا نئی دہلی: ہندوستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے ۔ کل 19 فروری...