اسپین کی سیمی فائنل میں انٹری سے میسی، ہیری کین اور ایمباپے کی راہ مشکل، کہ ماضی کا ریکارڈ بھی اس بار اسپین کے حق
نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اسپین نے بیلجیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ 2010 کے بعد پہلی مرتبہ آخری چار ٹیموں میں پہنچنے والی اسپین کی ٹیم شاندار فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔ موجودہ یورپی چیمپئن اسپین کو اب ٹائٹل جیتنے کا مضبوط ترین امیدوار قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث لیونل میسی، ہیری کین اور کیلیان ایمباپے جیسے عالمی ستاروں کے لیے بھی راستہ آسان نہیں رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی کا ریکارڈ بھی اس بار اسپین کے حق میں نظر آ رہا ہے۔اسپین کی کامیابی میں نوجوان کھلاڑیوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ 19 سالہ اسٹار فارورڈ لامین یامال پورے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے خلاف فتح کے بعد انہوں نے فرانس کو براہ راست چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ “اسپین کسی سے نہیں ڈرتا، اگر کسی کو ڈرنا چاہیے تو وہ فرانس ہے۔”
یامال کے علاوہ پیڈری اور روڈری جیسے مڈفیلڈر بھی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے خلاف اسپین نے 58 فیصد بال پوزیشن اپنے پاس رکھی اور پورے میچ میں کھیل پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، جس سے ٹیم کی حکمت عملی اور نظم و ضبط واضح طور پر نظر آیا۔اسپین کی مضبوط دفاعی لائن بھی اس کی بڑی طاقت بن کر سامنے آئی ہے۔ بیلجیم کے خلاف کوارٹر فائنل میں گول کھانے سے قبل اسپین نے پورے ٹورنامنٹ میں ایک بھی گول نہیں کھایا تھا۔ چھ میچوں میں صرف ایک گول کھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسپین کے دفاع کو توڑنا کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں۔صرف ابتدائی الیون ہی نہیں بلکہ اسپین کی بینچ اسٹرینتھ بھی متاثر کن رہی ہے۔ میکل میرینو نے پری کوارٹر فائنل اور کوارٹر فائنل دونوں میں بطور متبادل میدان میں آکر فیصلہ کن گول کیے، جس سے ٹیم کی گہرائی اور متبادل کھلاڑیوں کی صلاحیت بھی نمایاں ہوئی۔
سیمی فائنل میں اسپین کا مقابلہ فرانس سے ہوگا۔ حالیہ ریکارڈ اسپین کے حق میں ہے۔ یورو 2024 کے سیمی فائنل میں اسپین نے فرانس کو 1-2 سے شکست دی تھی، جب کہ نیشنز لیگ 2025 کے سیمی فائنل میں بھی 4-5 سے کامیابی حاصل کی تھی۔تاریخ بھی اسپین کے لیے نیک شگون سمجھی جا رہی ہے۔ 2010 میں اسپین پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا تھا اور اسی سال پہلی مرتبہ عالمی کپ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی اسپین کی سیمی فائنل میں رسائی صرف فرانس ہی نہیں بلکہ ارجنٹینا، انگلینڈ اور دیگر مضبوط ٹیموں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔
یمن کے صنعاء ہوائی اڈے پر بمباری کے بعد حوثیوں کا سعودی کے ابہا ایئرپورٹ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ
قاہرہ: یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا کہ پیر کو صنعاء ہوائی اڈے پر سعودی عرب کی فضائی بمباری کے جواب میں انہوں نے سعودی کے ابہا ہوائی اڈے کو میزائل اور ڈرون سے سے نشانہ بنایا۔
تاحال ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ سعودی عرب کے حکام نے یمن میں فضائی حملوں کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو بیان میں ایئر لائنز کو سعودی فضائی حدود سے پرواز کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان وارننگز کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی تب تک سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں ہیں۔
اس سے قبل یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ صنعا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقصد وہاں ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنا تھا۔
یمن کے صنعا میں فضائی حملوں کے بعد حوثیوں نے اس کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ ان واقعات سے کچھ سال نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان پہلی بار بڑے کشیدگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔سلامتی کونسل کا اظہار تشویش
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کی سہ پہر اس پیش رفت پر ایک ہنگامی اجلاس میں طلب کیا جس میں حکام نے وسیع پیمانے پر بڑھنے کے خطرے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور خالد خیری نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ یمن اور یہ پورا وسیع خطہ کشیدگی کے ایک اور دور کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ "ہم تمام فریقوں سے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات میں تعمیری طور پر شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"
حوثی ترجمان ساری نے پیر کے روز ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے فضائی حملے شروع کیے جس کو انہوں نے "کشیدگی کم کرنے" کے دور کا خاتمہ قرار دیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ "اس جارحیت کا جواب دیا جائے گا اور اس کی سزا دی جائے گی۔"
ٹیلیگرام کی تازہ ترین اپڈیٹ میں، ساری نے کہا کہ صنعاء میں ہونے والے حملوں کا مقصد "صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انسانی بنیادوں پر مریضوں اور پھنسے ہوئے افراد کو لے جانے والی پروازوں کے لیے بند کرنا تھا۔"
سعودی زیرقیادت اتحاد شمال میں حوثیوں کے خلاف محاذ آرا
قابل ذکر ہے کہ یمن کی خانہ جنگی سال 2014 میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا اور منظور شدہ حکومت کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں متحدہ عرب امارات سمیت سعودی زیرقیادت اتحاد نے حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے اگلے سال مداخلت کی۔
رواں سال کے شروع میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کی جنگ میں برسوں سے جاری شراکت داری ٹوٹنے کے بعد کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں یو اے ای یمن سے نکل گیا۔
حالیہ دنوں میں یمن میں حوثیوں کے خلاف مقامی سنی قبائلیوں کا اتحاد ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے اور کئی ایک مقامات پر حوثی جنگجوؤں کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
سعودی عرب کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی زیرقیادت اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے پیر کی شام کو ایکس پر فضائی حملوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی کے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ اس ماہ کے شروع میں دونوں فریق کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب حوثیوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی طیاروں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے گئے حوثی وفد کو واپس لا رہے ایرانی طیارے کو یمن میں لینڈ ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔خامنہ ای کے جنازے میں گئے حوثی وفد کی پرواز کو روکنے کا الزام
یمن کے وزیر دفاع، جنرل طاہر العقیلی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پیر کو ہوائی اڈے کے رن وے پر ایک ایرانی طیارے کو نشانہ بنایا گیا جو حوثی وفد کو خامنہ ای کے جنازے سے واپس لا رہا تھا۔ حملوں سے کچھ دیر پہلے جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں العقیلی نے ایرانی طیاروں اور یمنی فضائی حدود میں دراندازی کے خلاف خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ "ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق، ہم اس غداری اور وحشیانہ اقدام کا مناسب جواب دیں گے، اور ہم تمام دستیاب ذرائع سے یمن کی فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے دشمن طیاروں کا مقابلہ کریں گے اور ان سے نمٹیں گے۔"
حوثیوں کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد ایرانی طیارے کا رخ حدیدہ ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا تھا، جہاں اس نے لینڈنگ کیا۔ حوثیوں کے زیر کنٹرول المسیرہ نشریاتی ادارے کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک میزائل صنعا کے ہوائی اڈے کے رن وے سے ٹکرا رہا ہے جس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے۔
وہیں جنوبی یمن میں قائم سعودی حامی منظور شدہ حکومت 'صدارتی لیڈرشپ کونسل' نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ یمن کے تمام ہوائی اڈوں کو "فوری طور پر، اگلی نوٹس تک بند کر دیا گیا ہے۔" یمنی وزارت دفاع نے ہوائی اڈے اور آس پاس کے علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
صدارتی لیڈرشپ کونسل کی سربراہی کرنے والے رشاد العلیمی نے کہا کہ ایران نے حوثی وفد کی واپسی کے لیے ایرانی ایئرلائن ماہان ایئر کی تہران سے صنعا کے لیے پرواز چلانے کی درخواست کی تھی۔ کونسل نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے ایرانی پرواز کی لینڈنگ کرانے پر اصرار کیا جو کہ شہری ہوا بازی کو کنٹرول کرنے والے قانونی اور خودمختار فریم ورک سے باہر ہے"۔
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا دفتر یمن کی فضائی حدود میں ہونے والی پیش رفت پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے وسیع تر کشیدگی کے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقوں سے بات چیت میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔
(ایجنسی ان پٹ معمولی ترمیم کے ساتھ)
صحت مند زندگی کے لیے ’8، 8 اور 8‘ کا اصول کیا ہے؟
اگر آپ اپنی روزمرہ زندگی میں توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ماہرین صحت کے مطابق ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ کا اصول‘ ایک مؤثر رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
اس اصول کے تحت 24 گھنٹوں کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پورے دن میں آٹھ گھنٹے نیند، آٹھ گھنٹے کام اور آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، جس میں ورزش، متوازن غذا، آرام، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور مشاغل شامل ہیں۔
انڈیا کے ’فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ سے منسلک سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر امیتابھ پارتی کے مطابق ’یہ اصول صحت مند زندگی کے لیے ایک مفید رہنما ہے، تاہم اسے ہر فرد کو اپنی عمر، صحت، پیشے اور طرزِ زندگی کے مطابق اپنانا چاہیے۔‘ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معمول کا سب سے اہم حصہ مناسب نیند ہے۔ آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند جسم کو خود کو بحال کرنے، مدافعتی نظام مضبوط بنانے، ہارمونز کو متوازن رکھنے اور دماغی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ناکافی نیند موٹاپے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور ڈپریشن کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’صرف آٹھ گھنٹے سونا کافی نہیں بلکہ صحیح وقت پر سونا اور جاگنا بھی ضروری ہے۔‘
ماہرین کے مطابق روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنے کی حد مقرر کرنا بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ طویل اوقات تک مسلسل کام ذہنی دباؤ، ہائی بلڈ پریشر، بے چینی اور جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز، ایمرجنسی سروسز اور شفٹوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے مقررہ اوقات پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کے لیے مناسب آرام اور جسمانی بحالی زیادہ اہم ہے۔
دن کے آخری آٹھ گھنٹے جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے استعمال کیے جانے چاہییں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس وقت میں ورزش، متوازن غذا، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت، مطالعہ، مشاغل، مراقبہ، سماجی روابط اور کھلی فضا میں سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’ہر فرد کو اپنی صحت کے مطابق ان سرگرمیوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ‘ کا اصول کوئی سخت فارمولا یا جادوئی نسخہ نہیں بلکہ متوازن زندگی گزارنے کی یاد دہانی ہے۔ صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور طبی معائنہ بھی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
ان کے مطابق اصل کامیابی کسی اور کے معمول کی نقل کرنے میں نہیں بلکہ اپنی ضروریات کے مطابق ایسا متوازن معمول اپنانے میں ہے جس پر مستقل مزاجی سے عمل کیا جا سکے۔