Monday, 23 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





رانچی سے دہلی کیلئے اڑی ایئرایمبولینس حادثہ کا شکار، طیارے میں سوار سبھی 7 افراد کی موت
Jharkhand Charter Plane Crash : رانچی سے دہلی جا رہی ایک ایئر ایمبولینس جھارکھنڈ کے ضلع چترا کے سمریا کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس میں سات افراد سوار تھے۔ رانچی ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر ونود کمار نے یہ معلومات دی۔ افسر نے بتایا کہ یہ حادثہ رانچی ہوائی اڈے سے ایئر ایمبولینس کے شام تقریباً سات بج کر 10 منٹ پر اڑان بھرنے کے بعد پیش آیا۔

ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر کمار نے ‘پی ٹی آئی-بھاشا’ کو بتایا کہ ‘رانچی سے سات لوگوں کو لے کر جا رہی ایک ایئر ایمبولینس چترا ضلع کے سمریا کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی۔ حادثے کی اطلاع ریاستی انتظامیہ سے موصول ہوئی ہے۔’ انہوں نے بتایا کہ ایمبولینس کا فضائی ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ایئر ایمبولینس میں سوار افراد کی معلومات بھی سامنے آ گئی ہیں۔ چارٹر طیارہ دو پائلٹ اڑا رہے تھے، جن کے نام کیپٹن وویک وکاس بھگت اور کیپٹن سوراج دیپ سنگھ تھے۔ اس کے علاوہ مریض سنجے کمار، ان کے ساتھ بطور اٹینڈنٹ ارچنا دیوی اور دھرو کمار سوار تھے۔ علاوہ ازیں ایئر ایمبولینس میں ڈاکٹر وکاس کمار گپتا اور پیرا میڈک سچیو کمار مشرا بھی سوار تھے۔

بتایا جا رہا ہے کہ مریض سنجے کمار بری طرح جھلس گئے تھے۔ ان کے جسم کا 65 فیصد حصہ جل چکا تھا۔ وہ 16 فروری کو اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ رانچی کے Devkam Hospital and Research Center میں 41 سالہ سنجے کمار کو شدید جھلسنے کی حالت میں علاج کے بعد اعلیٰ مرکز ریفر کیا گیا تھا۔اسپتال کی جانب سے جاری ڈسچارج سمری کے مطابق مریض 16 فروری 2026 کو پیٹرولیم مادے سے لگی آگ میں 63 فیصد تک جھلسنے کے بعد داخل ہوا تھا۔










ایرانی شہریوں کے فون اچانک چمکنے لگے، ٹرمپ نے بھیجا ’خفیہ پیغام‘، پڑھ کر آگ ببولہ ہوجائیں گے خامنہ ای
تہران: ڈونلڈ ٹرمپ خود اپنے ملک میں ٹیرف کے معاملے پر بیک لیش کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی منظوری کی درجہ بندی گر چکی ہے، لیکن ان حالات میں بھی وہ ایران پر حملے کی ضد نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ امریکہ پہلے ہی ایران کو ڈرانے کے لیے جنگی بیڑہ تعینات کر چکا ہے۔ اس دوران انہوں نے علی خامنہ ای کو پریشان کرنے کے لیے ایک نئی چال چلی ہے۔ آج اچانک ایرانی شہریوں کے موبائل فون چمکنے لگے اور سب کے پاس ایک گمنام پیغام آنے لگا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لکھا تھا۔ اس پیغام میں امریکی صدر کی تعریف اور خامنہ ای کے لیے ایک خطرناک وارننگ تھی۔

ایرانیوں کو آنے لگے خفیہ پیغاماتپیر کو لاکھوں ایرانی شہریوں کے موبائل فون پر جو گمنام پیغام آیا، اس نے پورے ملک میں خوف پیدا کر دیا۔ اس پیغام میں لکھا تھا: ’’امریکی صدر (ڈونلڈ ٹرمپ) باتوں کے نہیں، کام کے آدمی ہیں۔ بس انتظار کرو اور دیکھو۔‘‘ یہ پیغام ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ پہلے ہی ایران کو 10 دن کا الٹی میٹم دے چکے ہیں۔ تاہم یہ پیغامات کیسے اور کہاں سے بھیجے گئے، اس بارے میں ابھی تک زیادہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ایران میں اس پیغام نے جنگ کے خطرے کو اور بڑھا دیا ہے۔ خامنہ ای کے ملک میں اس وقت ایک طرف خلیج میں امریکی جنگی جہازوں کا اجتماع بڑھ رہا ہے، دوسری طرف خود ایران کے اندر طلبہ اور عام لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ حالات اتنے سنگین ہیں کہ امریکہ نے لبنان سے اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے کو فوری طور پر نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔ ہندوستان نے بھی اپنے شہریوں کو کسی بھی صورت میں جلد از جلد ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

‘ٹرمپ نے شروع کی نفسیاتی جنگ’
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، پورے ملک میں لوگوں کو ڈرانے کے لیے یہ نفسیاتی جنگ شروع کی گئی ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر اگلے 10 دنوں کے اندر کوئی “ڈیل” نہ ہوئی تو “بری چیزیں ہونے والی ہیں۔” جنیوا میں جمعرات کو ہونے والی بات چیت سے پہلے ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جھکنے والے نہیں ہیں۔

امریکی ایڈمرل باب ہارورڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس علاقے میں اتنی طاقت ہے کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں ایران کے پورے پاور اسٹرکچر کو تباہ کر سکتا ہے۔جھکنے کو تیار نہیں خامنہ ای
ادھر ایران بھی جھکنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ خامنہ ای نے بھی مڈل ایسٹ میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر ہتھیار تان دیے ہیں اور جنگی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کے لیے اب بھی موقع موجود ہے، لیکن ایران دباؤ میں آ کر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔












'بھارت اسرائیل کے ساتھ دوستی کی بہت قدر کرتا ہے'، اسرائیل دورے سے قبل پی ایم مودی کا بیان
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 25 فروری کو (بروز بدھ) اسرائیل کا دو روزہ دورہ کرنے والے ہیں۔ اپنے دورے سے پہلے پی ایم مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے تہنیتی پیغام کے جواب میں اتوار کو کہا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی کی قدر کرتا ہے، جو اعتماد، اختراع، امن اور ترقی کے لیے مشترکہ عزم پر قائم ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ خوشگوار بات چیت کے منتظر ہیں۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں پی ایم مودی نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات کی تعریف کی اور متنوع تعلقات پر زور دیا۔پی ایم مودی نے لکھا کہ "میرے دوست، وزیر اعظم نیتن یاہو کا شکریہ۔ میں بھارت اور اسرائیل کے بیچ رشتوں اور ہمارے آپسی تعلقات کے کثیر جہتی نوعیت پر آپ سے پوری طرح متفق ہوں۔ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنی مضبوط اور پائیدار دوستی کی بڑی قدر کرتا ہے، یہ دوستی باہمی اعتماد، اختراع اور امن اور ترقی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔ اپنے متوقع اسرائیل دورے کے دوران بات چیت اور ہماری میٹنگ کا انتظار رہے گا۔

وزیر اعظم مودی کو اپنا "پیارا دوست" قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے آنے والے دورے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت جدت، سلامتی اور علاقائی تعاون میں نئی ​​بلندیوں پر پہنچ رہی ہے۔

اس سے قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ میں اپنی تقریر سے متعلق ایک بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس میں نیتن یاہو نے بھارت اسرائیل اتحاد کی طاقت پر زور دیا اور مشرق وسطیٰ میں استحکام اور ترقی کے لیے پرعزم قوموں کا محور بنانے کے اپنے وژن کا خاکہ پیش کیا۔

نتن یاہو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "ہماری کابینہ کی میٹنگ کے آغاز میں، میں نے اپنے پیارے دوست وزیر اعظم نریندر مودی کے آنے والے بدھ کو اسرائیل کے تاریخی دورے کے بارے میں بات کی۔ اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعلقات دو عالمی رہنماؤں کے درمیان ایک مضبوط اتحاد ہے۔

ہم جدت، سلامتی، اور مشترکہ اسٹریٹجک وژن میں شراکت دار ہیں۔ ہم مل کر استحکام اور ترقی کے لیے پرعزم ممالک کی ایک مربوط قوم کی تعمیر کر رہے ہیں۔" انھوں نے مزید کہا کہ "اے آئی سے لے کر علاقائی تعاون تک، ہماری شراکت داری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ پی ایم مودی، میں یروشلم میں آپ سے ملاقات کا منتظر ہوں!

*🔴سیف نیوز اردو*







*بـنیا و نـابـیناؤں کـا مـدرســہ آپ کی امداد کا مستحق*
*بانئ دارالعلوم صوفئ ملّت حضرت*
 *صوفی غلام رسول صاحب قادری*
*-------------------------------------*
 *درگاه حضرت معصوم شاہ کٹی کے احاطے میں جاری بینا و نابیناؤں کا مدرسہ دارالعلوم فیض القرآن - لڑکیوں کا مدرسہ عائشہ للبنات معصوم یتیم خانہ - لڑکیوں کے لیے خدیجہ حجن زوجہ حاجی محمد الیاس فری سلائی کلاس جسمیں قیام و طعام کے ساتھ 100 غریب، یتیم، مستحق نابینا و بینا طلباء و طالبات دینی و عصری تعلیم حاصل کررہے ہیں. ان بجے اور بچیوں سے کسی بھی قسم کی فیس نہیں لی جاتی داخلہ سے لے کر ہر شعبہ کی تعلیم مفت میں دی جاتی ہے۔ بچے اور بچیوں کی تعلیم قابل معلم و معلمات کے زیرِ نگرانی ہوتی ہے۔ بچے اور بچیاں ابتدائی تعلیم سے لے کر آخری تک علم دین حاصل کررہے ہیں۔ کثیر تعداد میں نابینا و بینا بچے حفظ جسے عظیم سعادت سے سرفراز ہوچکے ہیں وہیں طالبات جو یتیم غریب ہیں عالمیت کی فراغت حاصل کررہی ہیں۔ لڑکیوں کے لیے حفظ کلاس بھی شروع ہے۔ صبح اور دوپہر کے شفٹ میں رہائشی بچے اور بچیاں کثیر تعداد میں علم دین حاصل کرنے آتے ہیں یہ سارا نظم آپ کے تعاؤن سے ہوتا ہے آپ اہل خیر حضرات سے گزارش ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں آپ اپنے ادارہ کا زکوٰۃ، صدقات و عطیات سے امداد و عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔*

*آپ کے ایک کال پر ہمارے نمائندہ و ذمہ داران آپ تک حاضر آئیں گے۔*

*درگاہ آفس پر رابطہ کے لیے :-ناظم اعلیٰ صوفی جمیل احمد قادری ٹیلر*
📲 9175001472

*چئیرمین صوفی نورالعین صابری*
📲 8485891177
*الحاج صوفی سعید احمد سعدی*
📲9272766322
*مولانا محمد یوسف چشتی* 
📲9823077169
*صوفی بلال احمد صابری*
📲 8788568801
*حافظ محمد اسماعیل اشرفی*
📲 8830111535
*مولانا مختار اشرفی*  
📲8421066113
*حافظ عرفان رضا*
📲 8669102157
*صوفی اسلم صابری*
📲9028487172
*حکیم محمد عابد کاملی*
📲 9284147554
*حافظ ذاکر فیضی*
📲8087773328
*حافظ یاسین فیضی* 
📲9011407836
*حافظ فیصل نجمی*
📲7620166882
*شفیق احمد رضوی* 
📲7620233599
*انصاری نصیر احمد رضوی* 
📲8999458002
*محمد اعظم چشتی*
📲9860973955
*الحاج خلیل احمد پھنی والے* 
📲9270056597
*برکتی محمد مصطفیٰ سر*
📲8149365737
*مولانا امتیاز قدیری*
📲8793786917












*مالیگاؤں: بجلی کے سنگین مسائل اور ایم پی ایس ایل کی من مانی کے خلاف عمیر انصاری کا محاذ*
​مالیگاؤں (نامہ نگار):
شہر مالیگاؤں میں بجلی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ (MPSL) کی مبینہ لاپروائی کے خلاف درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمتی کے سیکریٹری اور معروف سماجی کارکن عمیر انصاری نے ایک بار پھر آواز بلند کی ہے۔ شہر کے بجلی صارفین کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہنے والے عمیر انصاری نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکامِ بالا کو ایک احتجاجی مکتوب روانہ کیا ہے۔
​عمیر انصاری کے مطابق، شہر میں سینکڑوں صارفین ایسے ہیں جنہوں نے نئے بجلی کنکشن کے لیے قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے 'میٹر کوٹیشن' کی رقم بھی جمع کر دی ہے۔ لیکن طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود MPSL انتظامیہ انہیں نئے کنکشن فراہم کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ اس سے نہ صرف نئے گھروں میں رہنے والے پریشان ہیں بلکہ پاور لوم صنعت سے وابستہ افراد کا کاروبار بھی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
​مکتوب میں اس بات پر سخت ناراضگی جتائی گئی ہے کہ:
​شہر میں غیر اعلانیہ اور بے ترتیب لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ دراز ہو گیا ہے۔
​انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی کئی فیڈر گھنٹوں بند رہے، جس سے روزہ داروں کو سحر و افطار اور عبادت کے اوقات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
​بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بجلی کی کٹوتی نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

​اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عمیر انصاری نے کہا:
​"عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے بجلی کے بل اور کوٹیشن بھرتے ہیں، لیکن بدلے میں انہیں صرف پریشانی مل رہی ہے۔ ایم پی ایس ایل اپنی ذمہ داریوں سے پلہ جھاڑ رہی ہے۔ اگر فوری طور پر نئے کنکشنز کی فراہمی شروع نہیں کی گئی اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم عوامی احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔"

​عمیر انصاری نے محکمہ بجلی کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ وزراء کو بھیجے گئے مکتوب میں مطالبہ کیا ہے کہ مالیگاؤں کی پاور سپلائی کی صورتحال کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور کمپنی کی من مانی پر لگام کسی جائے۔

​رابطہ برائے مزید تفصیلات:
عمیر انصاری
سیکریٹری: درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمتی، مالیگاؤں











رمضان المبارک میں روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت اور فائدے
رمضان المبارک میں کسی روزے دار کو افطار کرانے کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ یہ صرف کھانے کی تقسیم نہیں بلکہ محبت، خیرخواہی اور اجرِ عظیم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ افطار کے وقت روزے دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی کو افطار کراتے ہیں، تو وہ آپ کے لیے دعا کرے گا، جو آپ کے حق میں باعثِ رحمت بنے گی۔

نبی اکرم ﷺ خود روزے داروں کو افطار کراتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ جو شخص کسی روزے دار کو افطار کرائے، اسے بھی روزے کا برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔اللہ کی رضا اور مغفرت ہوتی ہے حاصل:
افطار کرانا ایک نیکی ہے، اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اس سے گناہوں کی بخشش ہوتی ہے اور آخرت میں بلند درجات ملتے ہیں۔ یہ دعا لینے کا موقع ہے افطار کے وقت روزے دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی کو افطار کراتے ہیں، تو وہ آپ کے لیے دعا کرے گا، جو آپ کے حق میں باعثِ رحمت بنے گی۔

جنت کی بشارت: 
جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اللہ اسے جنت میں پانی پلائے گا، جہاں پی کر وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ افطار کرانے سے غریب اور ضرورت مند افراد بھی عزت و احترام کے ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں، جو ان کے لیے بڑی خوشی اور راحت کا باعث بنتا ہے۔

روزے کا اجر دوگنا ہو جاتا ہے:
اگر آپ خود روزہ رکھتے ہیں اور کسی دوسرے کو بھی افطار کراتے ہیں، تو آپ کو دوہرے اجر کا مستحق بنا دیا جاتا ہے۔ اس سے گھر میں برکت آتی ہے افطار میں دوسروں کو شامل کرنے سے اللہ تعالیٰ کھانے میں برکت عطا فرماتا ہے، اور گھر میں سکون اور محبت بڑھتی ہے۔ افطار کرانے سے رشتہ داروں، دوستوں، ہمسایوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ محبت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے۔

دل کو خوشی اور اطمینان ملتا ہے:
جب ہم کسی کو کھلا کر خوشی دیتے ہیں، تو اس سے ہمارے دل کو بھی سکون اور روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے۔قیامت کے دن سایہ نصیب ہوگا قیامت کے دن جب سورج سروں پر ہوگا، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا جو دنیا میں دوسروں کو کھلاتے اور ان کی مدد کرتے رہے۔افطار کرانے کے چند آسان طریقے:
مسجد میں روزے داروں کے لیے پانی اور کھجور کا انتظام کریں۔ کسی غریب یا ضرورت مند کے گھر افطار بھجوا دیں۔ اپنے محلے یا دفتر میں لوگوں کو افطار میں شامل کریں۔ کسی یتیم خانے یا مسافر کے لیے کھانے کا بندوبست کریں۔


*🔴سیف نیوز اردو*




رمضان المبارک کا اصل مقصد صرف روزہ رکھنا نہیں بلکہ قرآن سے اپنا تعلق جوڑنا ہے
رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مہینوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ یہی وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا، جو انسانیت کے لیے ہدایت، روشنی اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔ رمضان دراصل قرآن سے تعلق مضبوط کرنے، اپنے نفس کی اصلاح اور اللہ کے قریب ہونے کا بہترین موقع ہے۔

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو قیامت تک آنے والی پوری انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں عقائد، عبادات، اخلاق اور معاشرت کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔رمضان کے مہینے میں ہی قرآن نازل ہوا۔ اس مہینے میں قرآن کی تلاوت کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے مساجد میں تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ پورا قرآن سنا اور سمجھا جا سکے۔ یہ مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم قرآن کو صرف رسم نہ بنائیں بلکہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔کیو کہ قرآن دلوں کو سکون دیتا ہے اور روح کو تازگی بخشتا ہے۔یہ گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے۔

قیامت کے دن قرآن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرے گا۔ قرآن پر عمل انسان کو بہترین اخلاق اور مضبوط کردار عطا کرتا ہے۔ رمضان کا اصل مقصد صرف روزہ رکھنا نہیں بلکہ قرآن سے اپنا تعلق جوڑنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ: روزانہ قرآن کی تلاوت کریں۔ ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔اپنی زندگی میں اس کی تعلیمات کو نافذ کریں۔رمضان مبارک کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قرآن ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔ آئیے اس رمضان ہم عہد کریں کہ قرآن کو اپنا رہنما بنائیں گے، اس پر عمل کریں گے اور اپنی زندگیوں کو اس کی روشنی سے منور کریں گے۔














شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام: کم جونگ کو دوبارہ اعلیٰ عہدے کے لیے منتخب کیا گیا، جوہری پروگرام کی، کی گئی تعریف
سیئول، شمالی کوریا: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو حکمراں ورکرز پارٹی میں اعلیٰ عہدے کے لیے دوبارہ منتخب کر لیا گیا۔ سرکاری میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ پارٹی لیڈران اور مندوبین نے اسے ملک کے جوہری ہتھیاروں کو مضبوط کرنے اور خطے میں اس کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا سہرا دیا۔

پارٹی کانگریس کے لیے ایک رپورٹ، جس میں کم جونگ سے اگلے پانچ سالوں کے لیے اپنے مخصوص سیاسی اور فوجی اہداف کا خاکہ پیش کرنے کی توقع ہے، کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فوجی جوہری پروگرام کو مزید تیز کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے، جس میں پہلے ہی ایسے میزائل موجود ہیں جو ایشیائی امریکی اتحادیوں اور امریکی سرزمین کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔مشترکہ جنگی کوششوں کے ذریعے روس سے قریبی تعلقات

گزشتہ جمعرات کو شروع ہونے والی کانگریس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کم جونگ اپنے جوہری ہتھیاروں کو تیزی سے پھیلانے اور یوکرین میں اپنی مشترکہ جنگی کوششوں کے ذریعے روس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کے بعد علاقائی سیاست میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر رہے ہیں۔ ان عوامل نے واشنگٹن اور سیئول کے ساتھ ان کے اختلافات کو بڑھا دیا ہے۔

روس کو ہتھیاروں کی برآمدات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کِم جونگ ممکنہ طور پر اس ملاقات کو نئے فوجی اہداف سے پردہ اٹھانے کے لیے استعمال کریں گے، جن میں روایتی افواج کو مضبوط کرنا اور انھیں جوہری صلاحیتوں کے ساتھ مربوط کرنا شامل ہے۔ وہ چین کے ساتھ تجارت میں وبائی امراض کے بعد کی بحالی اور روس کو ہتھیاروں کی برآمدات سے بتدریج فوائد کے بعد معاشی خود انحصاری کے لیے اپنی مہم کو بحال کرنے کے لیے بڑے ہجوم کو بھی متحرک کرے گا۔

دوبارہ پارٹی کا جنرل سیکرٹری منتخب

شمالی کوریا کی سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے کہا کہ اجلاس کے چوتھے دن اتوار کو ہزاروں مندوبین کی متفقہ رضامندی سے کِم جونگ کو دوبارہ پارٹی کا جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا گیا۔ پارٹی کے قوانین کے تحت، کانگریس، جسے کم جونگ نے 2016 سے ہر پانچ سال بعد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی کے اعلیٰ نمائندے اور رہنما کے طور پر کام کرنے کے لیے جنرل سکریٹری کا انتخاب کرتی ہے۔

کسی بھی قسم کی جنگ کے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت

42 سالہ کِم جونگ اپنے پورے دورِ اقتدار میں پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں، حالانکہ اُن کا لقب 2016 کی کانگریس میں فرسٹ سیکریٹری سے چیئرمین اور پھر 2021 کی کانگریس میں جنرل سیکریٹری بنا دیا گیا تھا۔ پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ جوہری قوت بنا کر کم جونگ نے ایک ایسی فوج بنائی ہے جو کسی بھی حملے اور کسی بھی قسم کی جنگ کے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جنوبی کوریا کے تئیں سخت موقف

انہوں نے اپنی قیادت کو ملک کے مستقبل کی قابل اعتماد ضمانت دینے اور شمالی کوریا کے لوگوں کے فخر اور عزت نفس کو بڑھانے کا سہرا دیا۔ کے سی این اے نے کہا کہ کانگریس نے اتوار کی میٹنگ کے دوران پارٹی قوانین میں تبدیلیاں کیں، لیکن تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ماہرین توقع کرتے ہیں کہ کِم جونگ کانگریس کو جنوبی کوریا کے تئیں اپنے سخت موقف کو مزید مستحکم کرنے کے لیے استعمال کریں گے اور شاید بین کوریائی تعلقات کو دو دشمن ممالک کے درمیان پیش کرنے کے لیے پارٹی قواعد کو دوبارہ لکھیں گے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ سفارت کاری معطل

ریاستی میڈیا نے ابھی تک واشنگٹن اور سیئول کے ساتھ تعلقات پر کانگریس میں کم جونگ یا دیگر سینئر رہنماؤں کی طرف سے براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ کم جونگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 2019 میں ہونے والی ملاقات کی ناکامی کے بعد سے شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ تمام ضروری سفارت کاری کو معطل کر دیا ہے، جو کم جونگ کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو روکنے کے بدلے میں پابندیوں کی چھوٹ پر منعقد ہوئی تھی۔

ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش مسترد

جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا دوسرا دور شروع کیا ہے، کم جونگ کی حکومت نے ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور واشنگٹن سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے پیشگی شرط کے طور پر شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مطالبے کو ترک کرے۔

جنوبی کوریا ایک حلیف دشمن

دونوں کوریاؤں (شمالی کوریا اور جنوبی کوریا) کے درمیان تعلقات 2024 میں اس وقت مزید خراب ہوئے، جب کم جونگ نے شمالی کوریا کے پرامن دوبارہ اتحاد کے دیرینہ مقصد کو ترک کر دیا اور جنگ زدہ جنوبی کوریا کو ایک حلیف دشمن قرار دیا۔












نماز تراویح کی وہ خاص دعا، جو ہر چار رکعت کے بعد پڑھی جاتی ہے، کیا جانتے ہیں آپ؟
Ramadan 2026 : نماز تراویح کا پڑھنا مرد و عورت سب کے لئے سنت مؤکدہ ہے۔ اس کا چھوڑنا جائز نہیں اور تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر تمام لوگ باجماعت نہ پڑھیں تو گناہگار ہوں گے اور اگر کچھ لوگ باجماعت ادا کر لیں تو گناہ نہیں۔قیامِ رمضان کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو رمضان کی راتوں میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔

تسبیح تراویح
نمازِ تروایح میں ہر چار رکعت ادا کرنے کے بعد کچھ توقف کیا جاتا ہے، جس میں تسبیح تراویح، اَذکار اور صلوٰۃ و سلام پڑھا جاتا ہے۔ تسبیح تراویح یہ ہے

سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ ط سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْهَيْبَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْکِبْرِيَآئِ وَالْجَبَرُوْتِ ط سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَيِ الَّذِی لَا يَنَامُ وَلَا يَمُوْتُ سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوْحِ ط اَللّٰهُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْر۔

’’پاک ہے (وہ اﷲ) زمین و آسمان کی بادشاہی والا۔ پاک ہے (وہ اﷲ) عزت و بزرگی، ہیبت و قدرت اور عظمت و رُعب والا۔ پاک ہے بادشاہ (حقیقی، جو) زندہ ہے، سوتا نہیں اور نہ مرے گا۔ بہت ہی پاک (اور) بہت ہی مقدس ہے ہمارا پروردگار اور فرشتوں اور روح کا پروردگار۔ اِلٰہی ہم کو دوزخ سے پناہ دے۔ اے پناہ دینے والے! اے پناہ دینے والے! اے پناہ دینے والے!‘‘بتادیں کہ نماز تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد وتر سے پہلے ہوتاہے اور رات کے آخری حصے میں پڑھنا افضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جس نے رمضان المبارک میں حصول ثواب کی نیت اور حالتِ ایمان کے ساتھ قیام کیا تو اس کے سابقہ (تمام) گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

(بخاری، الصحيح، کتاب الايمان، باب تطوع قيام رمضان من الايمان، 1:22، رقم: 37)

*🔴سیف نیوز اردو*



ٹیم انڈیا کے کئی کھلاڑیوں پر لٹکی تلوار ! جنوبی افریقہ سے شکست کے بعد ٹیم انڈیا میں ہونے والی ہے بڑی تبدیلیاں
احمد آباد: ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بھلے ہی ٹیم انڈیا کو صرف ایک ہی میچ میں شکست ہوئی ہو لیکن اس ایک ہار نے پوری صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ہندوستان کی شکست نے ٹیم مینجمنٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پلیئنگ الیون میں ایک بڑی سرجری ہونے والی ہے۔ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کے اسسٹنٹ ریان ٹین ڈوشیٹ اور سیتانشو کوٹک اس کا اشارہ دے رہے ہیں۔

احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں اتوار کی شب سپر 8 راؤنڈ کے میچ میں جنوبی افریقہ نے بھارت کو 76 رنز سے شکست دی۔ ہندوستان کو اب اپنے اگلے دونوں میچ جیتنے کی ضرورت ہے، اس لیے ٹیم انتظامیہ کو ابھیشیک شرما (چار میچوں میں 15 رنز) اور تلک ورما (پانچ میچوں میں 107 رنز) کی کارکردگی پر غور کرنا ہوگا۔ رنکو سنگھ بھی فنشر کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے، انہوں نے 82.75 کے اسٹرائیک ریٹ سے 29 گیندوں میں 24 رنز بنائے۔ بیٹنگ کوچ کوٹک نے کہا:اگر ہیڈ کوچ اور ٹیم مینجمنٹ کو لگتا ہے کہ ہمیں کچھ مختلف کرنے کی ضرورت ہے تو ہم کریں گے۔ اب ہم غور کر رہے ہیں کہ ہم کیا تبدیلیاں لائیں اور کون سی حکمت عملی اپنائیں ۔ ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں اس بات پر غور کرنا ہے کہ کیا کچھ مختلف کرنے کی کوشش کرنی ہے یا اسی امتزاج کے ساتھ کام کرنا ہے۔

ٹین ڈوشیٹ نے اعتراف کیا کہ ٹیم میں اسپیشلسٹ بیک اپ بلے بازوں کی کمی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا، “یا تو آپ ایسے کھلاڑیوں کو منتخب کریں جو آپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے اچھا کھیل رہے ہیں، چاہے وہ اس وقت اسکور کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں، یا آپ تبدیلی کریں اور سنجو سیمسن کو لے آئیں، جو ایک لاجواب کھلاڑی ہے۔” کہا:

سیمسن کی شمولیت پر اگلے چند دنوں میں اگلے دو اہم میچوں سے قبل بات کی جائے گی۔ ٹاپ آرڈر میں دائیں ہاتھ کے بلے باز کا ہونا بھی ٹیم کو مدد دے گا۔ میں ابھیشیک یا تلک کا بہانہ نہیں بناؤں گا۔ انہیں بہانوں کی ضرورت نہیں ہے. مجھے لگتا ہے کہ پیٹ کے انفیکشن نے ابھیشیک کی تیاریوں کو خاصا متاثر کیا ہے اور وہ ویسے نہیں کھیل پارہے ہیں جیسا کھیلنا چاہیے تھا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ وہ انہیں کیا مشورہ دیں گے، کوٹک نے کہا، “ایک بیٹنگ کوچ کے طور پر، میرا ماننا ہے کہ انہیں زیادہ مشورے دینے کے بجائے ان کو پُرسکون رہنے دیں ۔ آپ دو دن میں کچھ نہیں بدل سکتے، لیکن زیادہ مشورے دینے سے ان کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ انہیں ابھی گیند کو دیکھ کر اپنی اننگز کو بہتر بنانا ہوگا۔”










ہندوستانی شہری جلد از جلد ایران چھوڑ دیں، بھارت نے ایڈوائزری جاری کی، کیا جلد ہونے والا ہے حملہ؟
نئی دہلی: ایران کی صورت حال کی روشنی میں، ہندوستان نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تجارتی پروازوں سمیت ٹرانسپورٹ کے تمام دستیاب طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیں۔

تہران میں نئے احتجاج اور ایران پر امریکی فوجی حملے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے جواب میں ایران میں ہندوستانی سفارت خانے نے ہندوستانی شہریوں کے لیے ایک نئی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایران کی متعدد یونیورسٹیوں کے طلباء نے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے ہیں، جو گزشتہ ماہ مظاہرین کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن کے بعد اس طرح کا پہلا احتجاج ہے۔ جنوری میں سرکاری اندازوں کے مطابق، 10,000 سے زیادہ ہندوستانی، بشمول طلباء، ایران میں رہ رہے تھے۔سفارت خانے نے کہا، "حکومت ہند کی طرف سے 5 جنوری کو جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق اور ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، ایران میں موجود ہندوستانی شہریوں (طلباء، زائرین، تاجروں اور سیاحوں) کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تجارتی پروازوں سمیت دستیاب نقل و حمل کے طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایران چھوڑ دیں۔"

سفارت خانے نے یہ بھی اعادہ کیا کہ تمام ہندوستانی شہری اور ہندوستانی نژاد افراد مناسب احتیاط برتیں، احتجاجی مظاہروں یا ریلیوں کے علاقوں سے گریز کریں، اور ہندوستانی سفارت خانے سے رابطے میں رہیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے، "ایران میں تمام ہندوستانی شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے سفری اور امیگریشن دستاویزات بشمول پاسپورٹ اور شناختی کارڈ اپنے ساتھ رکھیں۔" انہوں نے مزید کہا، "ان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی بھی مدد کے لیے ہندوستانی سفارت خانے سے رابطہ کریں۔"










پھیپھڑوں کے کینسر کی چھ ایسی غیرمعمولی علامات جنہیں جاننا ضروری ہے
پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں سرطان سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تحت کام کرنے والی انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق سال 2022 میں پھیپھڑوں کا سرطان دنیا بھر میں سب سے زیادہ تشخیص کیا جانے والا کینسر رہا۔
ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے سرطان کی سب سے بڑی وجہ ہے اور تقریباً 85 فیصد کیسز اسی سے منسلک ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ زیادہ تر مریضوں میں اس بیماری کی تشخیص اُس وقت ہوتی ہے جب کینسر اپنی آخری یا ایڈوانس سٹیج میں داخل ہو چکا ہوتا ہے، جس کے باعث علاج محدود یا کم مؤثر رہ جاتا ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی علامات اکثر معمولی، غیر واضح یا پھیپھڑوں کے مسائل سے متعلق نہیں ہوتیں۔ ان علامات کو بروقت پہچان کر مریض جلد تشخیص اور بہتر علاج کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
1۔ فنگر کلبنگ
انگلیوں یا پاؤں کے سروں کا چوڑا ہونا اور ناخنوں کا اوپر کی جانب مڑے ہوئے چمچ جیسے انداز میں بدل جانا فنگر کلبنگ کہلاتا ہے۔ یہ کیفیت خون میں آکسیجن کی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے، جو پھیپھڑوں میں رسولی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ بالغ افراد میں کلبنگ کی بڑی وجہ پھیپھڑوں کا کینسر بتایا جاتا ہے۔
2۔ کندھے یا بازو میں درد
کندھے، بازو یا کلائی کی اندرونی جانب دیرپا درد پین کوسٹ ٹیومر کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک نایاب قسم ہے جو پھیپھڑے کے اوپری حصے میں بنتی ہے اور اعصاب پر دباؤ ڈالتی ہے۔
3۔ آواز میں بھاری پنچند ہفتوں تک جاری رہنے والی بھاری آواز اس وقت پیدا ہوتی ہے جب رسولی آواز کی رگوں کو قابو کرنے والے اعصاب پر دباؤ ڈالتی ہے۔
4۔ بالائی جسم میں سوجن
چہرے، گردن یا بازو میں اچانک سوجن ہونا سپیریئر وینا کیوا کے دباؤ کی علامت ہے، جو عموماً پھیپھڑوں کے چھوٹے خلیوں والے سرطان میں دیکھا جاتا ہے۔
5۔ ہارنر سنڈروم
آنکھ کی پتلی کا سکڑ جانا، پلک کا لٹک جانا اور چہرے کے ایک جانب پسینہ نہ آنا اس سنڈروم کی اہم نشانیاں ہیں، جو اعصاب کو نقصان پہنچنے سے پیدا ہوتا ہے۔6۔ حد سے زیادہ پیاس اور پیشاب
خون میں کیلشیئم کی زیادتی پھیپھڑوں کے کچھ سرطانوں میں دیکھی جاتی ہے، جس سے مریض غیر معمولی پیاس، بےچینی اور اُلجھن محسوس کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان علامات کو سنجیدگی سے لینا اور فوری تشخیص کروانا مریض کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Sunday, 22 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





ٹیم انڈیا کی بلے بازی پوری طرح فلاپ، جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 76 رنز سے ہرایا
India vs South Africa : جنوبی افریقہ نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 میں ہندوستان کے جیت کے سلسلے کو روک کر کروڑوں ہندوستانی شائقین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ احمد آباد کی پچ پر جہاں ہندوستانی گیندبازوں کی کارکردگی بے اثر نظر آئی، وہیں “دھماکہ خیز” بیٹنگ لائن بھی پتے کی طرح بکھر گئی۔ اس شکست نے نہ صرف ہندوستان کی خود اعتمادی کو جھٹکا دیا ہے بلکہ سیمی فائنل کی راہ بھی کانٹوں سے بھری نظر آ رہی ہے۔ اس کراری شکست کے بعد اب ہندوستان کی تقدیر صرف اپنے نہیں، بلکہ حسابات کی مہربانی پر بھی منحصر ہو گئی ہے۔ ہندوستانی ٹیم سپر 8 کے اپنے دوسرے میچ میں زمبابوے سے اور تیسرے میچ میں ویسٹ انڈیز سے مقابلہ کرے گی۔ ہندوستان کی 76 رنز سے یہ شکست ٹی20 ورلڈ کپ میں دوسری سب سے بڑی شکست ہے۔ اس سے پہلے نیوزی لینڈ نے 2019 میں ہندوستان کو 80 رنز سے ہرایا تھا۔

جب رنز کی ضرورت تھی اور عزت داؤ پر لگی تھی، تب جنوبی افریقی گیندبازوں کی تیز گیندوں کے سامنے ہندوستانی بیٹسمین بے بس نظر آئے۔ پروٹیز ٹیم کے گیندبازوں نے اپنی رفتار اور صحیح لائن-لینتھ سے ہندوستانی بیٹنگ کی بنیاد ہلا دی، جس کی وجہ سے کریز پر بڑے بڑے کھلاڑی بھی زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکے۔ اس مایوس کن شکست میں صرف شیوم دوبے نے اپنی فولادی عزم کا مظاہرہ کیا اور ہار نہ ماننے والا جذبہ دکھایا۔ جہاں ایک طرف وکٹوں کی جھڑک جاری تھی، وہیں دوبے نے اکیلے ہی محاذ سنبھال کر جوابی حملے کیے، لیکن ان کا یہ بہادرانہ مقابلہ ٹیم کو شکست سے بچانے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ہندوستانی بیٹسمینوں نے سرنڈر کیا
جنوبی افریقہ کی طرف سے دیے گئے 188 رنز کے ہدف کا پیچھا کرنے اتری ہندوستانی ٹیم 18.5 اوورز میں 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ شیوم دوبے نے 37 گیندوں پر سب سے زیادہ 42 رنز بنائے۔ ہندوستان کی شروعات بہت خراب رہی۔ ہندوستان نے پہلے اوور کی چوتھی گیند پر ایشان کشن کا وکٹ گنوا دیا۔ اس وقت ٹیم کا کھاتا بھی نہیں کھلا تھا۔ ایشان نے 4 گیندیں کھیلنے کے باوجود کوئی رن نہیں بنایا۔ پچھلے تین میچوں میں ڈک کا شکار ہونے والے ابھیشیک شرما نے اس میچ میں کھاتا کھولا مگر وہ بھی 15 رنز بنا کر چلتے بنے۔ تلک ورما ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ کپتان سوریہ کمار یادو 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جب کہ واشنگٹن سندر 11 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ہاردک پانڈیا 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جب کہ رنکو سنگھ کا کھاتہ بھی نہیں کھلا۔ ارشدیپ سنگھ ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے لیے کیشو مہاراج نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ مارکو یانسن نے چار وکٹیں اپنے نام کیں۔ کاربن بوش کے کھاتے میں دو وکٹیں آئیں، اور ایک وکٹ لونگی اینگڈی نے حاصل کیا۔

اس سے پہلے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے اتری جنوبی افریقہ کی ٹیم کو پہلا بڑا جھٹکالگا اس وقت لگا جب جسپریت بمراہ نے اننگز کے دوسرے اوور میں کوئنٹن ڈی کوک کو بولڈ کر دیا۔ اس طرح ٹیم انڈیا کو 10 رنز کے اسکور پر پہلی کامیابی حاصل ہوئی۔ ڈی کوک 7 گیندوں پر 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کوئنٹن ڈی کوک کے بعد ارشدیپ سنگھ نے ایڈن مارکرَم کا شکار کیا۔ مارکرَم 7 گیندوں پر 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ارشدیپ سنگھ نے ٹی20 میں مارکرَم کو ساتویں بار آؤٹ کیا ہے۔

کوئنٹن ڈی کوک کے بعد جسپریت بمراہ نے رائن ریکلٹن کو آؤٹ کر کے ٹیم انڈیا کو تیسری کامیابی دلا دی۔ ریکلٹن 7 گیندوں پر 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد ڈیوالڈ بریوس اور ڈیوڈ ملر نے جنوبی افریقہ کی اننگز کو سنبھالا اور شاندار اننگز کھیلی ۔ تاہم بریوس نصف سنچری سے چوک گئے اور 45 رنز بناکر آوٹ ہوئے ۔ جبکہ ڈیوڈ ملر نے 35 گیندون پر 63 رنز کی اننگز کیلئے ۔ آخر میں ٹرسٹن اسٹبس نے 24 گیندوں پر 44 رنز کی ناٹ آوٹ اننگز کھیل کر ٹیم کے اسکور کو 187 رنز تک پہنچادیا ۔ اسٹبس کے علاوہ مارکو یانسن نے دو رنزجبکہ کاربن بوش نے پانچ رنزبنائے ۔ٹیم انڈیا کیلئے جسپریت بمراہ نے سب سے شاندار گیند بازی کی اور چار اوورز میں صرف 15 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں ۔ ان کے علاوہ ارشدیپ نے دو، ورون چکرورتی نے ایک اور شیوم دیوبے نے ایک وکٹ حاصل کی ۔











ٹرمپ کے فلوریڈا ریسورٹ میں آدھی رات کو بندوق لے کر داخل ہوا شخص، پھر تابڑتوڑ چلی گولیاں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا میں واقع پرائیویٹ ریسورٹ ‘مار ای لاگو’ کی سیکورٹی میں نقب لگانے کی ایک بڑی اور جان لیوا کوشش کو سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا ہے۔ اتوار کی صبح تقریباً 1:30 بجے ایک نوجوان نے مار ای لاگو کے محفوظ علاقے میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد سکریٹ سروس اور مقامی پولیس کی جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا۔ سکریٹ سروس کے ایجنٹس نے اس نوجوان کو اسلحہ ڈالنے کی وارننگ کی، اس نے کین تو نیچے رکھ دیا لیکن اپنی بندوق کو براہ راست حکام کی طرف تان لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ ٹریگر دبائے، پام بیچ کاؤنٹی شیرف دفتر کے ایک ڈپٹی نے اسے موقع پر ہی گولی مار دی۔

راحت کی بات یہ رہی کہ واقعے کے وقت ٹرمپ فلوریڈا میں موجود نہیں تھے۔ وہ ہفتہ کی رات واشنگٹن ڈی سی میں گورنرز ڈنر میں شریک ہونے گئے تھے اور رات وہیں رکے تھے۔ سکریٹ سروس نے ایک باضابطہ بیان جاری کرکے تصدیق کی ہے کہ واقعے کے وقت مار ای لاگو میں کوئی بھی وی آئی پی یا سیکورٹی حاصل شخص موجود نہیں تھا۔ اس تصادم میں کسی بھی ایجنٹ یا پولیس افسر کو چوٹ نہیں آئی ہے۔حملہ آور کون تھا؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مارا گیا حملہ آور سفید فام ہے اور اس کی عمر تقریباً 20 سال کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ حکام نے ابھی تک اس کی شناخت عام نہیں کی ہے کیونکہ اس کے اہل خانہ کو اطلاع دینا باقی ہے۔ تحقیقات ایجنسیاں اب یہ معلوم کر رہی ہیں کہ آیا اس نوجوان کا کسی انتہاپسند گروہ سے تعلق تھا یا اس نے یہ حملہ اکیلے ہی منصوبہ بندی کی تھی۔سیکورٹی خدشات میں اضافہ
ٹرمپ پر حملے یا ان کی سیکورٹی میں نقب لگانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اسی ماہ کی 4 تاریخ کو راین روتھ (59) کو ٹرمپ کے قتل کی سازش رچنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل نومبر میں واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کے رہائش گاہ کے قریب دو فوجیوں کو گولی مار دی گئی تھی۔ بار بار ہونے والے ان واقعات نے امریکی سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔











’خامنہ ای نہیں جھکیں گے‘، قتل ہوا تو بیٹا نہیں یہ شخص چلائے گا ملک، ٹرانسفر کردی عسکری طاقت
تہران: ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود خامنہ ای نے جھکنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خامنہ ای نے اپنی موت یا قتل کی صورت حال کے لیے بھی ایک ‘خفیہ منصوبہ’ تیار کر لیا ہے، جس کی وجہ سے اگر ٹرمپ خامنہ ای کو راستے سے ہٹا بھی دے، تب بھی امریکہ جیت نہیں پائے گا۔ خامنہ ای نے اپنی کرسی اپنے بیٹے مجتبیٰ کو نہیں بلکہ ایک اہل اور قابل اعتماد ساتھی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس شخص کو خامنہ ای نے اپنی عسکری طاقت ابھی سے منتقل کر دی ہے۔

خامنہ ای کی جگہ کون لے گا؟دنیا کی سب سے طاقتور فوج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ نے ایران کے خلاف کئی منصوبے بنا لیے ہیں، جن میں سے ایک خامنہ ای کا قتل بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ نہیں جھکیں گے اور ہر صورت حال کے لیے تیار رہیں گے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خامنہ ای اپنے قتل کی صورت حال کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ان کے جانشینوں کی فہرست شامل ہے۔ اس منصوبے میں انہوں نے ملک کی کرسی اپنے بیٹے کو نہیں بلکہ ایک ایسے قابل اعتماد ساتھی کو سونپی ہے جو بحران کے وقت ملک کو سنبھال سکے۔ یہ شخص اور کوئی نہیں بلکہ علی لاریجانی ہیں۔

علی لاریجانی کون ہیں؟
وہ ریولوشنری گارڈز (IRGC) کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں اور سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ لاریجانی اس وقت مظاہروں کو دبانے، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات اور روس جیسے اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرنے کا کام دیکھ رہے ہیں۔

ایران کے اگلے سپریم لیڈر وہ نہیں بن سکتے کیونکہ وہ بڑے مذہبی رہنما نہیں ہیں، لیکن خامنہ ای نے انہیں اپنا سب سے خاص ‘بحران مینیجر’ بنایا ہے۔

ملٹی لیئر جانشینی منصوبہ: جانشینوں کی لمبی فہرست
خامنہ ای نے صرف ایک شخص پر اعتماد نہیں کیا۔ انہوں نے فوجی اور سیاسی عہدوں کے لیے کئی پرتوں میں جانشین تیار کیے ہیں۔

خفیہ کمانڈ چین: اگر کسی حملے میں خامنہ ای قتل کردئے جاتے ہیں یا ان سے رابطہ ختم ہو جاتا ہے، تو فیصلے کے لیے ایک چھوٹا ‘انر سرکل’ بنایا گیا ہے جو فوری طور پر کمان سنبھال لے گا۔جنگ کی تیاری: ایران نے فارس کی خلیج اور عراق کے نزدیک اپنی میزائل تنصیبات تعینات کر دی ہیں اور فوج کو ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




ٹرمپ کے ریزورٹ میں مسلح شخص نے کی داخل ہونے کی کوشش، سیکریٹ سروس نے کر دیا ہلاک
واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر ڈولنڈ ٹرمپ کے فلوریڈا میں واقع مار-اے-لاگو ریزورٹ میں اسلحہ لے کر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو امریکی سیکریٹ سروس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس میں سیکریٹ سروس کے حوالے سے اس واقعے کی تصدیق کی گئی ہے۔سکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی ماردی گولی

موصولہ اطلاعات کے مطابق مسلح شخص ریزورٹ کے انتہائی محفوظ حصے میں غیر قانونی طور پر داخل ہو گیا تھا۔ ٹرمپ عموماً ہفتہ وار تعطیلات اسی سمندری ریزورٹ میں گزارتے ہیں۔ حالانکہ، واقعے کے وقت وہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ امریکی سیکریٹ سروس کے مطابق اتوار کی علی الصبح فلوریڈا میں صدارتی رہائش گاہ مار-اے-لاگو اسٹیٹ میں داخل ہونے والے مسلح گھس پیٹھیے کو سکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی گولی مار دی۔

تقریباً 20 سال کا جوان تھا ہلاک ہونے والا شخص

سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص ایک نوجوان تھا جس کی عمر تقریباً 20 سال یا اس سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ڈیڑھ بجے ویسٹ پام بیچ میں واقع پراپرٹی کے نارتھ گیٹ کی جانب ایک شاٹ گن اور فیول کین کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔ اس دوران سیکریٹ سروس کے ایجنٹس اور پام بیچ کاؤنٹی شیرف آفس کے اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گولی مار دی۔

پہلے بھی ہو چکی ہے ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فلوریڈا میں ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ ستمبر 2024 میں بھی ایک مشتبہ شخص نے اس وقت حملے کی ناکام کوشش کی تھی جب ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے۔ سیکریٹ سروس اہلکاروں نے جھاڑیوں کے پیچھے رائفل لیے ایک شخص کو دیکھ کر اسے پکڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ ایک ایس یو وی گاڑی میں فرار ہو گیا تھا۔ اس کے بعد موقع سے رائفل، دو بیگ، ایک اسکوپ اور گو پرو کیمرا برآمد کیا گیا تھا۔

ملزم کو قریبی علاقے سے کر لیا گیا تھا گرفتار

پام بیچ کاؤنٹی کے شیرف رک بریڈشا کے مطابق بعد میں ملزم کو قریبی علاقے سے گرفتار کر لیا گیا تھا، جس کی شناخت ریان روتھ کے طور پر ہوئی تھی۔ رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ وہ پہلے ٹرمپ کی دوبارہ صدارتی کامیابی کا حامی تھا، لیکن بعد میں اس کے سیاسی خیالات تبدیل ہو گئے تھے۔

اہلکاروں کو تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی چھٹی

حالیہ واقعے میں مارے گئے حملہ آور کی شناخت، پس منظر یا ممکنہ محرکات کے بارے میں فی الحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی، سیکریٹ سروس اور مقامی پولیس مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔ ادارے کی پالیسی کے مطابق فائرنگ میں شامل سیکریٹ سروس اہلکاروں کو تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔










رمضان اور لینٹ: مسیحی برادری اور مسلمانوں کے روزوں میں کیا فرق ہے؟
اس سال مسلمانوں اور مسیحی برادری کے روزوں کا آغاز تقریباً ایک ہی وقت میں ہو رہا ہے۔ مسیحی برادری کا ’لینٹ سیزن‘ یا ’الصوم الاربعین‘ پانچ مارچ سے شروع ہو کر 17 اپریل کو ختم ہو گا۔ جبکہ دنیا بھر میں ماہ صیام آج شب یا کل شب سے شروع ہو کر آئندہ 29 یا 30 دن تک جاری رہے گا۔ (ماہ رمضان کا دارومدار چاند کی پیدائش پر ہو گا۔)

مسیحیوں میں روزے رکھنے کا سلسلہ 40 دن تک جاری رہتا ہے جس کے دوران مسیحی برادری حضرت عیسیٰ کے اس دنیا سے جانے سے پہلے کے واقعات کو یاد کرتے ہیں۔ مسیحی مانتے ہیں کہ ’لینٹ سیزن‘ اُس قربانی کی نمائندگی کرتا ہے جو حضرت عیسیٰ نے اپنے مصلوب ہونے سے پہلے 40 دن تک صحرا میں جا کر روزے رکھنے اور عبادت کرتے ہوئے کی تھی۔

مسیحی برادری میں یہ معافی مانگنے کا وقت سمجھا جاتا ہے اور ’ایسٹر‘ لینٹ کے اختتام پر منایا جاتا ہے۔دوسری جانب اسلامی کیلینڈر میں رمضان نواں مہینہ ہے اور اس کی مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت ہے۔

مذہب اسلام کے مطابق قرآن کے نزول کا سلسلہ اسی ماہ میں شروع ہوا تھا۔ روزہ اسلام کا چوتھا ستون ہے جبکہ مسلمانوں کے لیے قرآن میں ماہِ رمضان کے روزے رکھنا فرض قرار دیا گیا ہے۔

لینٹ کے دوران مسیحی 40 روز تک کھانے کو محدود کرتے ہیں اور جمعہ کے دن گوشت کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اُن کے لیے صرف ’ایش ویڈنسڈے‘ اور ’گڈ فرائی ڈے‘ کو روزہ رکھنا لازمی ہوتا ہے اور جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ دن میں ایک مرتبہ کھانا کھا سکتے ہیں۔

ایش ویڈنسڈے اور گڈ فرائی ڈے کے بعد انھیں ہر جمعہ کو روزہ رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے لیے روزے کے قواعد کے مطابق وہ اُس روز مچھلی کے علاوہ کسی بھی دوسرے جانور کا گوشت نہیں کھا سکتے۔

لینٹ کے باقی دنوں میں مسیحی مقدس کتاب پڑھنے، مذہبی محفلوں میں شریک ہونے، غریبوں کی امداد کرنے، بیماروں کی تیمارداری کرنے اور قیدیوں سے ملنے کے علاوہ مسیحی مذہب کی تعلیمات بھی لوگوں تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔اسی طرح رمضان کے دوران مسلمان صبح سے شام تک کھانے پینے اور بہت سے دیگر باتوں سے گریز کرتے ہیں۔

تاہم اس دوران کچھ مسلمانوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت بھی ہوتی ہے جیسے حاملہ خواتین یا ایسی خواتین جو بچے کو دودھ پلا رہی ہوں، ایسی خواتین جو ماہواری کے دنوں سے گزر رہی ہوں، بیمار افراد یا ایسے افراد جن کی صحت روزے کے باعث خراب ہو سکتی ہو اور مسافر۔

تاہم رمضان کے بعد یا تو انھیں چھوٹے ہوئے روزوں کے برابر روزے رکھنے ہوتے ہیں یا پھر اس دورانیے کا فدیہ غریب افراد کو دینا ہوتا ہے۔

مسلمان اور مسیحی دونوں ہی روزوں کے ماہ کو گناہوں سے معافی مانگنے کا اہم موقع قرار دیتے ہیں۔ دونوں برادیاں ضرورت مندوں کو رقوم عطیہ کرتی ہیں اور معاشرے میں موجود غریبوں کی امداد کی جاتی ہے۔

لینٹ اور رمضان دونوں کے ہی ان مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مختلف معنی ہیں۔ لینٹ دراصل ان 40 روز کے روزوں کی یاد میں رکھے جاتے ہیں جو حضرت عیسیٰ نے مصلوب ہونے سے قبل جنگل بیابان میں جا کر رکھے تھے۔

جبکہ قرآن سورۃ بقرۃ کی آیت 183 کے مطابق ’روزے تم پر فرض کیے گئے ہیں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘

رمضان کے بعد عید الفطر کا تہوار جبکہ لینٹ کے بعد ایسٹر کا تہوار آتا ہے جس میں مختلف قسم کے کھانے بنائے جاتے ہیں اور ان تہواروں کی خوشیاں دوبالا کی جاتی ہیں۔











سعودی عرب: تین صدیوں کی داستان بیان کرتی یومِ تاسیس کی پانچ علامتیں
سعودی عرب آج اپنا 299 واں یومِ تاسیس منا رہا ہے جس کی بِنا امام محمد بن سعود نے 1727 میں رکھی تھی۔ یہ دن متقاضی ہے کہ نہ صرف سعودی عرب کی تاریخ پر نگاہِ بازگشت ڈالی جائے بلکہ اُن علامتوں پر کا بھی ذکر کیا جائے جو طویل سعودی تاریخ کو ملحض کر کے دیرپا معانی دیتی ہیں۔
تقاریب اور خوشیاں ایک طرف، مملکت کے سرکاری یومِ تاسیس سے متعلق علامات کی ایک طویل کہانی ہے۔ یہ کہانی سخت منظر نامے، ناموافق حالات میں خود کو بچانا، ریاست کو قائم کرنا اور تین سو برس تک اپنی اقدار کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے۔ یہ سب باتیں مل کر ایک ایسی وژوئل زبان کو جنم دیتی ہیں جو ماضی کا رشتہ حال سے جوڑ دیتی ہے اور اعتماد سے بھرپور مستقبل کی نوید سناتی ہے۔یومِ تاسیس کی وہ پانچ علامتیں جن کی بات کی جا رہی ہے اُن میں سبز پرچم، کھجور کا درخت، عربی النسل گھوڑے، بازار یا سُوق اور فالکن (باز یا شکرہ) شامل ہیں۔ مگر یہ علامتیں صرف خوشیوں کی تقریب کے لیے نہیں ہیں۔
اسماعیل عبداللہ ھجلس روایتی فنِ تعمیر میں ریسرچ کرتے ہیں۔ انھوں نے عرب نیوز سے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ یہ علامتیں ایک فکری اور ثقافتی کردار کی حامل ہیں جو معاشرے کو اس کی اصل سے جوڑ دیتا ہے۔
’وہ اقوام جنھوں نے اپنی علامتوں کو اچھی طرح سمجھا ہے اور ان کی شناخت کی ہے اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں اور اپنے سفر کو اعتماد اور توازن کے ساتھ جاری رکھنے کے ضروری لوازمات سے لیس ہیں۔‘
سبز سعودی پرچم اور یومِ تاسیس میں اس کی اہمیت
سعودی پرچم، اتحاد اور خود مختاری کا نمائندہ ہے اور اُن اقدار کو مجسم کرتا ہے جن پر سعودی ریاست قائم ہوئی تھی۔ یہ مملکت کے تسلسل کا بھی اظہار ہے۔
اس پرچم کا موجودہ ڈیزائن سنہ 1937 میں اختیار کیا گیا تھا جس کا مقصد پہلی اور دوسری سعودی ریاست کے تاریخی پرچموں کو بہتر شکل دینی تھی۔
الشہادہ جو اسلام میں ایمان کے اقرار کا کلمہ ہے، اس بات کی علامت ہے کہ مملکت کی بنیاد اسلامی اقدار پر ہوگی۔ تلوار وہ علامت ہے جو شاہ عبدالعزیز آل سعود مرحوم کے دور سے مملکت کے اتحاد کی نمائندہ ہے اور ممکت میں انصاف اور محفاظت کی علامت ہے۔سعودی پرچم کا سبز رنگ روایتی طور پر اسلام سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ سعودی ریاست میں ایمان کے تسلسل کا مرکزی ستون ہے۔ یوں مل کر یہ علامتیں طاقت، نظامِ انصاف اور اتحاد کی حفاظت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اسماعیل ھجلس کے مطابق ’علامتوں کا انتخاب کسی کی مرضی سے نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے گہری سوچ کار فرما ہے۔ تلوار اصل میں طاقت کو ظاہر کرتی ہے جبکہ کھجور کا درخت زندگی اور پائیداری کا اظہار ہے۔ ان علامتوں سے محتاط انداز میں قائم کیا گیا توازن اور فیاضی دونوں ظاہر ہوتے ہیں۔‘
کھجور کا درخت، اس کے پتے اور شاخیں
کھجور کے درخت کا علامتی وجود، موجودہ جدید ریاست سے پہلے کا ہے۔ یہ جزیرہ نمائے عرب کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔
’اس سادہ نخلستان میں، کھجور کا درخت زندگی کا عکاس تھا اور تلوار وقار اور شان کی آئینہ دار تھی۔ کجھور کے درخت سے سائے اور سستانے کا کام لیا جاتا تھا جبکہ تلوار کو اپنے نام اور اپنی زمین کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لہٰذا سعودی ریاست کی داستان، تلوار کی دھار سے کھجور کے درخت میں ملنے والی چھاؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔‘
کھجور کے درخت سے طرح طرح کے کام لیے جاتے تھے جو تہذیب کے پائیدار ہونے کے لیے لازمی تھے۔ کھجور غذائیت سے بھرپور خوراک کا کام دیتی تھی، اس کے بڑے بڑے پتوں سے گھروں کی چھتیں بنائی جاتی تھیں، اس کے تنے سے دیواریں بنتی تھیں اور اس میں موجود فائبر سے رسی تیار کی جاتی تھی۔ علاوہ ازایں، کھجور کی شاخوں اور تنوں کو ایندھن، اور لوگوں کو سایہ دینے کے کام لایا جاتا تھا۔ھجلسں نے بتایا کہ القطیف اور الاحسا میں، کھجور کے تنے سے زندگی کا نظام چلایا جاتا تھا۔ یہ محض زراعتی علامت نہیں بلکہ پائیداری کے لفظ کے استعمال سے پہلے سے ہی پائیداری کا ایک اصل ماڈل تھا۔
قرآنِ پاک میں 20 سے زیادہ مرتبہ کھجور کا ذکر ہوا ہے جہاں اس کا مفہوم فیاضی اور کثرت پر منتج ہوتا ہے۔ کھجور کا درخت عرب کے مشرقی حصوں کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثییت رکھتا تھا۔
یومِ تاسیس پر سُوق کس چیز کی علامت ہے
عبداللہ ھجلس کہتے ہیں ’سوق (جسے روایتی طور پر مارکیٹ کہتے ہیں) صرف کاروبار کی جگہ نہیں تھی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں لوگ آپس میں ملتے جلتے تھے، ان میں سماجی رشتے قائم ہوتے تھے، معلومات کا تبادلہ اور یگانگت بھی سُوق ہی سے موجودہ تصورات میں ڈھلے ہیں۔ سوق سے معاشی سرگرمیوں نے نمو پائی اور اِسی کے باعث کمیونیٹیوں کے مابین تعلق نے جنم لینا شروع کیا اور نظام کو مضبوط بنایا۔
اسلام سے کئی سو سال قبل سُوق ایک تہذیبی تصور کے طور پر ابھرا۔ یہ ایک سادہ انسانی ضرورت یعنی تبادلے) رقم یا اجناس دے کر بدلے میں چیزیں لینے کا تصور)۔ اس تبادلے نے سماجی تحرک کو جِلا بخشی اور کشادگی کے اس کلچر کو شروع کیا جو بعد میں شہروں میں اضافے کا باعث بن گیا۔
اسلام سے پہلے کے زمانے میں موسم کے لحاظ سے لگائی جانے والی مارکیٹیں جن میں سُوقِ عکاظ، سُوقِ مجنّہ اور سُوقِ المجاز اہم حیثیت کی حامل ہیں، صرف کاروباری مراکز کا کام نہیں دیتی تھیں بلکہ یہ ادبی فورم بھی تھے، یہاں سیاست پر بات ہوتی تھی اور اِنہی مقامات پر تنازعات میں صلح صفائی اور ثالثی ہوا کرتی تھی۔
جب سرزمینِ حجاز کو اسلام نے اپنے دامن میں لے لیا تب سُوق المدینہ کا آغاز ہوا جہاں اجارہ داری کو روک دیا گیا، دھوکہ دہی پر ممانعت کا حکم آگیا اور انصاف کی تلقین اور اس کے قیام پر آیاتِ مقدسہ نازل ہوئیں۔آج سعودی ریاست میں سُوق، اپنی مٹی اور لکڑی سے راویتی طور پر ڈھکے ہوئے بازار سے جدید شاپنگ سینٹرز اور بڑے بڑے تجارتی کمپلیکسوں میں بدل چکا ہے۔
ھجلس کے بقول ’پھر بھی اس کا تصور وہی قدیم ہی رہا ہے یعنی یہاں پہلے لوگ آمنے سامنے ہوتے ہیں (سماجی طور پر ملتے اور علیک سلیک کرتے ہیں) اور بعد میں یہ خرید و فروخت کی جگہ بن جاتی ہے۔‘
گھوڑا اور اس کی علامتی توجیہ
عربی النسل گھوڑا بھی یومِ تاسیس کی ایک علامت ہے اور اس کا تعلق اصلی ہونے اور حوصلے سے پیوست ہے۔ جب ریاست کا قیام ابتدائی مراحل میں تھا تو گھوڑا بہت کام آتا تھا۔ اسے سفر تو کبھی دفاع کے لیے استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے عرب کی میراث میں گھوڑا، قوت اور فخر کی ایک علامت بن گیا۔
عرب میں جنم جنم کا ساتھی، عربی النسل گھوڑا دنیا میں سب سے قدیم اور سب سے خالص نوع ہے۔ اس کی پرورش جزیرہ نمائے عرب میں کی جاتی تھی تاکہ یہ ہر قسم کے دشوار حالات اور سختیوں کو جھیلنے کا عادی ہو جائے۔ یہ برق رفتار بھی ہو اور چُست اور پُھرتیلا بھی۔
اپنی زبردست قوتِ برداشت، قوی پھیپھڑوں، طاقتور ٹانگوں اور مضبوط ہڈیوں کی وجہ سے یہ گھوڑے سخت موسمی حالات میں صحرا کے طویل فاصلے طے کرتے تھے اور انتہائی محدوود وسائل کے باوجود زندہ رہتے تھے۔ کبھی کبھی تو ان کی خوراک صرف کھجور اور اونٹنی کا دودھ ہوتا تھا۔موسموں کی شدت اور چوری سے بچانے کے لیے، گھوڑوں کو بعض اوقات خاندانی خیمے کے اندر ہی باندھ دیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے رفتہ رفتہ گھوڑے اپنے مالکوں سے مانوس ہونے لگے۔ عربی گھوڑے بے خوف، وفادار اور جنگوں میں اپنے سوار کو بچانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ان گھوڑوں میں جنگوں کا احساس بھی ہوتا تھا چنانچہ میدانِ جنگ میں گھوڑے ذہانت کے ساتھ متحرک ہوتے اور اُن میں لڑائی کا جذبہ بھی تیز ہو ہوتا تھا۔
سعودی عرب میں عربی گھوڑے سفر، کاروبار و تجارت، اور جنگ وجدل کے لیے انتہائی ضروری سمجھے جاتے تھے۔ آج یہ فخر، نجابت، جرآت اور عزت کی علامت ہیں اور جدید مملکت کی اس پرانی روایت کو گھڑ دوڑ کی صورت میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یومِ تاسیس کی ایک علامت فالکنری بھی ہے
فالکن جسے چھوٹا باز یا شکرہ بھی کہہ دیتے ہیں، چوکس رہنے، چیزوں کو جانچنے کی فطری صلاحیت اور بلند عزم رکھنے کے نمائندے کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔
ھجلس بتاتے ہیں ’اس پرندے کا تعلق فالکنری سے جڑا ہوا ہے جس میں صبر اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ آج یہ سعودی ورثے کے تسلسل اور بلند ہمت اور چیزوں کے حصول کی علامت ہے۔ ‘
فالکنری محض ایک شوق نہیں تھا بلکہ صحرا کے مشکل ترین ماحول میں شکار کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ صحرا نشیں عربوں کا ساتھی اور طاقت، نشانے کو ٹھیک ٹھیک ہدف بنانے اور صبر کا نمائندہ تھا۔ فالکن کا ماہر بننے کے لیے طویل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے سکھانے والوں میں نظم و ضبط اور مضبوط قیادت بھی پروان چڑھتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، فالکن، وسیلۂ عزت اور شہرت کا درجہ اختیار کر چکا ہے جو صحرا نشیں عربوں کی شناخت ہوتی تھی۔ فالکن کو اس زمانے کے باوقار شخصیات پالا کرتی تھیں اور عرب داستانیں اور شاعری اس کے ذکر سے بھری پڑی ہیں۔نسل در نسل منتقل ہونے والا یہ مشغلہ یعنی فالکنری اب یونیسکو کی اس نمائندہ فہرست میں درج ہو چکا ہے جو ’انسانی میراث کی غیر محسوس فہرست کہلاتی ہے۔‘
اس فہرست میں سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک ہیں جس سے فالکنری کی عالمی اور ثقافتی حثییت ممتاز ہو گئی ہے۔
اسماعیل عبداللہ الھجلس نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ تمام علامتیں اپنی ظاہری دلکشی کی وجہ سے نہیں چُنی گئیں۔ انھیں اس لیے اختیار کیا گیا کیونکہ صدیوں پر محیط عرصے کے دوران ان کا تجربہ ہوتا رہا ہے اور یہ طرح طرح کی آزمائشوں سے گزری ہیں۔‘
اپنے انفرادی تصور سے کہیں بڑھ کر یہ علامتیں مشترکہ طور پر ایک سعودی شہری کے اپنی زمین، اپنے ماحول، اپنے وقار اور اپنی کمیونیٹی کے ساتھ رابطے اور تعلق کا ایک اظہار ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*




’انسولین رزیسٹینس‘ کیا ہے اور کیا روزہ رکھ کر اس طبی پیچیدگی پر قابو پایا جا سکتا ہے؟
گذشتہ دو برسوں کے دوران میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ’انسولین رزیسٹینس‘ (انسولین کے خلاف جسمانی اعضا کی مزاحمت) کے حوالے سے بہت بات کی جا رہی ہے۔ اس موضوع پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جبکہ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر ورزش اور مخصوص غذاؤں کا احاطہ کرتی ہزاروں ایسی ویڈیوز موجود ہیں جنھیں بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ مخصوص غذائیں یا ورزش کر کے انسولین رزیسٹینس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے یا اس کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اس اصطلاح کے مقبول عام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسولین رزیسٹینس انسانی جسم میں پیچیدہ طبی مسائل بشمول ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ’انسولین رزیسٹینس‘ آخر ہے کیا، اس کی عمومی علامات کیا ہوتی ہیں اور کیا روزہ رکھ کر اس پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے؟انسولین کیا ہے؟
انسولین انسانی جسم میں موجود ہارمونز میں سے ایک انتہائی اہم ہارمون ہے۔ ہمارے جسم میں موجود ایک اہم عضو لبلبہ ہے جس کا بنیادی کام ہمارے جسم کو درکار انسولین بنانا ہے۔انسولین کا بنیادی کام ہمارے جسم میں بلڈ شوگر کو منظم یا ریگولیٹ کرنا ہے۔ ہمارا جسم توانائی کے ذریعے کے طور پر انسولین کو سٹور کرتا ہے۔

اگر لبلبہ انسانی جسم کو درکار مطوبہ مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا یا بہت کم کرتا ہے یا جسم لبلبے کی جانب سے بنائی گئی انسولین کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے سے قاصر رہتا ہے تو صحت کے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ہمارے جسم میں انسولین کیسے کام کرتی ہے:

جو بھی کھانا ہم کھاتے ہیں ہمارا جسم اس کو گلوکوز میں تبدیل کر دیتا، اور یہ گلوکوز ہمارے جسم کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے
اگلے مرحلے میں یہ گلوکوز ہمارے خون کے نظام میں شامل ہوتی ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمارا لبلبہ جسم کے لیے درکار انسولین کا اخراج کرتا ہے
یہ انسولین خون کے نظام میں موجود گلوکوز کو ہمارے پٹھوں اور جگر کے خلیوں میں داخل کرنے میں مدد کرتی ہے تاکہ اسے توانائی کے ذریعے کے طور پر فی الفور استعمال کیا جا سکے یا بعد کے استعمال کے لیے ذخیرہ کیا جا سکے
جب گلوکوز ہمارے جسم کے خلیوں میں داخل ہوتا ہے اور خون میں اس کی سطح کم ہو جاتی ہے، تو یہ لبلبے کے لیے اشارہ ہوتا ہے کہ وہ مزید انسولین کا اخراج بند کر دےانسولین رزیسٹنس یا انسولین کے خلاف مزاحمت کیا ہے؟
’انسولین رزیسٹنس‘ ایک پیچیدہ عمل ہے جو اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا جگر اور عضلات انسولین کو استعمال کرنے کے بجائے اس کے خلاف مزاحمت کرنے لگتے ہیں جس کے باعث ہمارے جسم کے اعضا ہمارے خون میں موجود گلوکوز کو مؤثر طریقے سے جذب یا ذخیرہ کرنا بند کر دیتے ہیں۔اس صورتحال کے باعث لبلبہ کنفیوزن کا شکار ہو جاتا ہے اور ہمارے خون میں موجود گلوکوز کی اضافی سطح پر قابو پانے کے لیے اضافی انسولین پیدا کرتا اور اس کا اخراج کرتا ہے۔ جسم کو درپیش یہ حالت ’ہائپر انسولینمیا‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

جب جسم کے خلیات اور اعضا کی انسولین کے خلاف مزاحمت مزید بڑھتی ہے تو یہ خون میں گلوکوز کی زیادتی کا باعث بنتی ہے۔ اور یہ صورتحال ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

تاہم، اگر انسولین کے خلاف خلیوں کی مزاحمت بڑھ جاتی ہے، تو یہ خون میں گلوکوز کی بلند سطح کا باعث بنتی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ٹائپ 2 ذیابیطس اور دیگر طبی حالات کا باعث بن سکتی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس میں بطور کنسلٹنٹ فزیشن کام کرنے والے فرینکلن جوزف کہتے ہیں کہ جسم کی انسولین کے خلاف مزاحمت ایک پیچیدہ صورتحال ہے جس کا تعلق ہمارے طرز زندگی، ماحولیاتی عوامل اور جینیٹکس سے ہے۔

اس عارضے کے لاحق ہونے کی وجہ ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کسی انسان میں انسولین کے خلاف مزاحمت کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:

موٹاپہ یا جسم میں موجود اضافی چربی (خاص کر پیٹ میں موجود چربی) جسم میں انسولین رزیسٹینس کی بڑی وجہ ہو سکتا ہے
جسمانی طور پر غیرفعال رہنا: ہمارے طرز زندگی میں جسمانی سرگرمی کا شامل نہ ہونا بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے
جینیاتی عوامل: کچھ لوگ جینیاتی طور پر انسولین کے خلاف مزاحمت کا شکار ہوتے ہیں
ناقص خوراک: پراسیسڈ فوڈز، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، اور شکر والی غذائیں انسولین کے خلاف ہمارے جسم کی مزاحمت میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔ یہ غذائیں بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے وقت کے ساتھ ساتھ لبلبے سے انسولین کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے
• دائمی تناؤ: ہمارے جسم میں تناؤ کے ہارمونز (جیسا کہ کورٹیسول) انسولین کی بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت میں مداخلت کر سکتے ہیں
نیند میں خلل: نیند کی کمی یا نیند کا معیار بہتر نہ ہوتا ہمارے جسم میں انسولین کی حساسیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ نیند کی کمی جسمانی ہارمونز کی سطح میں خلل ڈال سکتی ہے اور انسولین کے خلاف مزاحمت کا باعث بنتی ہے
طبی پیچیدگیاں: پولی سسٹک اووری سنڈروم اور فیٹی لیور جیسی بیماریاں انسولین کے خلاف مزاحمت کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں
بڑھتی عمر: جیسے جیسے عمر ڈھلتی جاتی ہے ویسے ویسے ہمارے اعضا اور ان کے خلیے انسولین کے لیے بہتر ریسپانس دینے کی صلاحیت کھوتے جاتے ہیں اور اس کے باعث بتدریج انسولین رزیسٹنس پیدا ہوتی ہے
رمضان کے روزے
آج کل رمضان کا مہینہ چل رہا ہے اور بہت سے مسلمان باقاعدگی سے اس مہینے میں روزہ رکھتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا مشورہ ہے کہ وہ افراد جو کسی بیماری یا عارضے کا شکار ہیں انھیں روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے لازمی مشورہ کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی ہاسپیٹل برمنگھم سے منسلک ماہر ذیابیطس پروفیسر وسیم حنیف کہتے ہیں کہ خاص کر وہ افراد جو ذیابیطس کا شکار ہیں انھیں روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو ذیابیطس ہے تو روزے رکھنا آپ کے لیے خطرناک بھی سکتا ہے اور یہ دیگر طبی پیچیدگیوں کو جنم بھی دے سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق چند طبی تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ روزہ رکھنا انسولین سینسیٹیویٹی کو بہتر کر سکتا ہے خاص کر ان افراد میں جو ٹائپ ٹو ذیابیطس یا انسولین رزیسٹینس کا شکار ہیں۔

مزید برآں، کچھ افراد ماہ صیام میں وزن میں کمی یا جسم میں موجود اضافی چربی کی کمی سامنا بھی کر سکتے ہیں اور یہ تبدیلیاں انسولین کے لیے ہمارے جسم کی حساسیت اور میٹابولزم پر اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو موٹاپے کا شکار ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ رمضان کے دوران روزے رکھنے کا انسولین رزیسٹینس پر اثر ہر شخص میں مختلف ہو سکتا ہے اور اس کا تعین کسی بھی شحص کی عمر، جنس، صحت کو درپیش مسائل، کھانے پینے کی عادات اور جسمانی سرگرمی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

’رمضان میں روزے رکھنے والے افراد، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت پر نظر رکھیں اور اس ضمن میں اپنے معالج سے رابطے میں رہیں تاکہ وہ صحت میں بہتری کے ساتھ اور محفوظ انداز میں روزے رکھ سکیں۔‘

عمان میں مقیم ماہر غذائیت ریم العبداللط کا کہنا ہے کہ چاہے آپ وقفے وقفے سے روزے رکھ رہے ہوں یا رمضان کے دوران باقاعدگی سے روزے رکھ رہے ہیں صحت کو بہتر رکھنے کے لیے صحت مند کھانے کی عادات کو اپنانا ضروری ہے۔

کیا ’انٹرمٹنٹ فاسٹنگ‘ ایک حل ہے؟
آج کل انٹرمٹنٹ فاسٹِنگ یا وقفے وقفے سے بھوکے رہنا کا چلن عام ہے اور یہ کرنے کا بنیادی مقصد وزن کم کرنا ہوتا ہے۔ وقفے وقفے سے بھوکے رہنا یا روزہ رکھنے نے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں خاصی توجہ حاصل کی ہے اور بہت سے ڈاکٹر اور ماہرین غذائیت اس کے صحت سے متعلق فوائد کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ سے مراد کسی مخصوص دن یا ہفتے کے دوران کھانے سے پرہیز کرنا ہے۔

ڈاکٹر نتن کپور انڈین ریاست تامل ناڈو کے کرسچن میڈیکل کالج یونیورسٹی ہسپتال میں اینڈو کرائنولوجی (ہارمونل عوارض جیسا کہ ذیابیطس، موٹاپا اور تھائرائیڈ) کے پروفیسر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کچھ طبی ریسرچ ظاہر کرتی ہے کہ کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے طبی فوائد ہوتے ہیں، تاہم وہ ساتھ ساتھ متنبہ کرتے ہیں کہ یہ سب کے لیے موزوں نہیں ہے۔

وہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا آپ پوری زندگی انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کر سکتے ہیں؟ ’ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ ایسے کرنے سے آپ اپنا وزن کسی حد تک کم کر لیں مگر جیسے ہی آپ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ ختم کریں گے تو وزن کا اضافہ پہلے سے کہیں زیادہ ہو گا۔‘

دوسری جانب پروفیسر جوزف کا کہنا ہے وقفے وقفے سے روزہ رکھنا یا بھوکا رہنے کے معاملے پر اب بھی طبی تحقیق جاری ہے مگر دستیاب ریسرچ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایسا کرنا جسم کی انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔انسولین رزیسٹینس کی علامات کیا ہیں؟
انسولین کے خلاف ہمارے جسم کی مزاحمت کی ابتدائی علامات کچھ زیادہ نمایاں نہیں ہوتی ہیں۔

تاہم کچھ علامات ایسی ہیں جو آپ کے جسم میں اس مسئلے کی موجودگی کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔

پروفیسر جوزف کے مطابق ان علامات میں بھوک میں اضافہ، تھکاوٹ، جسم کا اضافی وزن کم کرنے میں دشواری، جلد پر سیاہ دھبے (خاص طور پر گردن، بغل یا کمر پر)، ہائی بلڈ پریشر، گڈ کولیسٹرول میں کمی اور بیڈ کولیسٹرول میں اضافہ اور پولی سسٹک اووری سنڈروم۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر انسولین رزیسٹنس ٹائپ ٹو ذیابیطس اور خون میں گلوکوز کی سطح میں نمایاں اضافے کا باعث بنتی ہے تو دیگر علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ بار بار پیشاب آنا، پیاس میں اضافہ اور نظر کا دھندلا پن وغیرہ۔

پروفیسر جوزف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ علامات ہر شخص میں دوسرے شخص سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی علامات جسم میں کسی دوسری طبی پیچیدگی یا بیماری کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں چنانچہ ایسی علامات ظاہر ہونے پر اپنے معالج سے لازمی رابطہ کریں تاکہ مسئلے کا پتہ لگایا جا سکے۔

پروفیسر جوزف کے مطابق تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ انسولین رزیسٹینس کے شکار 70 سے 80 فیصد افراد بالآخر ٹائپ ٹو ذیابیطس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اگر وقت پر علاج نہ کیا جائے تو یہ مسئلہ مزید سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔کیا انسولین رزیسٹینس سے چھٹکارا پانا ممکن ہے؟
پروفیسر جوزف کہتے ہیں کہ ’طرز زندگی میں تبدیلی اور بعض صورتوں میں ادویات کے ذریعے انسولین رزیسٹنس کے مسئلے سے چھٹکارا یا اسے کسی حد تک بہتر کیا جا سکتا ہے۔

ماہر غذائیت ریم العبداللط انسولین رزیسٹین کے شکار افراد کو مشورہ دیتی ہیں کہ ’اپنی خوراک پر پوری توجہ دیں، میٹھا کھانے سے گریز کریں اور نشاستے والی غذائیں کم سے کم کھائیں۔‘

پروفیسر جوزف اور ریم دونوں کا مشورہ ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کو اپنی زندگی میں شامل کریں جبکہ وزن میں کمی، خاص طور پر پیٹ کے گرد موجود چربی میں کمی، انسولین کی حساسیت کو بہتر بنا سکتی ہے۔

پروفیسر جوزف کہتے ہیں کہ دائمی تناؤ سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی اہم ہے۔ ’مراقبہ، یوگا، گہری سانس لینے کی مشقیں، یا قدرتی نظاروں کے قریب وقت گزارنے جیسی تکنیکوں کے ذریعے تناؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

مناسب نیند لینا بھی ایسی صورتحال میں انتہائی ضروری ہے۔

تاہم آخر میں تمام افراد کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنے معالج سے رابطہ کریں، طبی مشورہ لیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کا بہتر طریقہ کار کیا ہو سکتا ہے۔











ایران امریکہ کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، صدرمسعود پزشکیان کا بیان
بڑھتی کشیدگی اور محدود امریکی حملے کے خدشات کے بیچ صدر مسعود پزشکیان نے واضح کردیا ہے کہ ایران کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ،ایرانی پیرا اولمپک ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ تمام مشکلوں کے باوجود ہم سر نہیں جھکائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے صف آراء ہیں، مگر تمام آزمائش اورمسائل کے باوجود، ہم سر نہیں جھکائیں گے۔مسعود پزشکیان نے زور دیا کہ دشمن ایران کے خلاف مسائل پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، تاہم حکومت اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کا دوسرابحری بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں پہنچ گیا ہے۔فورڈ دنیا کا سب سے بڑا کیریئر ہے۔یہ تین ڈسٹرائیر کے ہمراہ ہے۔جیرالڈ فورڈ اور یو ایس ایس ابراہیم لنکن کا ایک ساتھ مشرق وسطی میں ہونا ممکنہ کارروائی کا اشارہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کیریئرز پر موجود طیاروں کے علاوہ، امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں درجنوں دیگر لڑاکا طیارے بھی بھیجے ہیں۔جن میں ایف ۔22، ایف ۔35، ایف۔15، ایف ۔16 لڑکا طیارے شامل ہیں۔ان کےساتھ ساتھ ایریل ریفیولنگ طیارہ شامل ہیں جو ان کے آپریشنز کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ اردن کے ایئربیس پر کم از کم 60 لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ایران اور امریکہ کے بیچ لفظی جنگ

واضح رہے کہ ، گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے معاہدہ نہ ہونےکی صورت میں قدم آگے بڑھانے کی بات کہی تھی ۔انھوں نے کہا تھا کہ ہم بامعنی معاہدے کے خواہاں ہیں اگرمعاہدہ نہ ہوا تو نتائج برے ہوں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد ایران نے بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کی بات کہی تھی ۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتریز کو لکھے خط میں ایران نے متنبہ کیا تھا کہ ،حملےکی صورت میں خطے میں دشمن طاقت سے تعلق رکھنے والے تمام اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔








وزیر اعظم مودی نے میرٹھ میٹرو اور نمو بھارت ٹرین کو دکھائی ہری جھنڈی، طلبہ کے ساتھ کیا سفر
میرٹھ: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز شتابدی نگر نمو بھارت اسٹیشن پر میرٹھ میٹرو اور نمو بھارت ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس) ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس اقدام کو قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) میں علاقائی رابطے اور جدید شہری ٹرانسپورٹ نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے میرٹھ پہنچنے پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر پنکج چودھری نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم شتابدی نگر اسٹیشن پہنچے جہاں انہوں نے جدید میٹرو اور نمو بھارت ٹرین سروس کا باضابطہ افتتاح کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے 82 کلو میٹر طویل دہلی–میرٹھ نمو بھارت کوریڈور قوم کے نام وقف کیا۔ اس کے ساتھ ہی آر آر ٹی ایس کے باقی حصوں کا بھی افتتاح کیا گیا، جن میں دہلی کے سرائے کالے خاں سے نیو اشوک نگر تک پانچ کلو میٹر اور اتر پردیش میں میرٹھ ساؤتھ سے مودی پورم تک تقریباً 21 کلو میٹر طویل راستہ شامل ہے۔

افتتاح کے بعد وزیر اعظم نے میرٹھ ساؤتھ اسٹیشن تک میٹرو میں سفر بھی کیا۔ اس دوران انہوں نے مسافروں اور طلبہ سے گفتگو کی اور ان کے تجربات کے بارے میں دریافت کیا۔ سفر کے دوران چند طلبہ نے وزیر اعظم کو اپنی بنائی ہوئی تصاویر بھی دکھائیں، جس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ نمو بھارت ٹرین 180 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ بھارت کا پہلا علاقائی تیز رفتار ٹرانزٹ نظام ہے، جس کے ذریعے صاحب آباد، غازی آباد، مودی نگر اور میرٹھ جیسے اہم شہری مراکز دہلی سے زیادہ تیزی سے منسلک ہو سکیں گے۔

سرائے کالے خاں اسٹیشن کو ایک بڑے ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ حب کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن، دہلی میٹرو کی پنک لائن، ویر حقیقت رائے آئی ایس بی ٹی اور رنگ روڈ سے آسان رابطہ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ شتابدی نگر، بیگم پل اور مودی پورم بھی نئے نمو بھارت اسٹیشنوں میں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک ہی بنیادی ڈھانچے پر نمو بھارت اور میرٹھ میٹرو کا انضمام بین شہری تیز رفتار سفر اور شہر کے اندر آسان آمد و رفت کو فروغ دے گا، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

رانچی سے دہلی کیلئے اڑی ایئرایمبولینس حادثہ کا شکار، طیارے میں سوار سبھی 7 افراد کی موت Jharkhand Charter Plane Cras...