Wednesday, 4 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




کیا خامنہ ای ڈونلڈ ٹرمپ کو مروانا چاہتے تھے؟ امریکی صدر کے اس بیان کا مطلب کیا ؟ سمجھئے ڈر کی وجہ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکا اور اسرائیل کے حملے میں ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چونکا دینے والا دعویٰ کردیا۔ ٹرمپ نے کہا اس سے پہلے کہ وہ مجھے قتل کرواتے ، میں نے انہیں ختم کردیا ۔ انہوں نے دو بار کوشش کی تھی ۔ ٹرمپ کا یہ بیان بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہے ۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آیت اللہ خامنہ ای واقعی ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کروانا چاہتے تھے؟ کیا ایران کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ امریکہ میں گھس کر وہاں کے صدر کو قتل کرواسکے ؟ چلئے اس پورے معاملے کو تفصیل سے سمجھتے ہیں…

دراصل، ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر سابقہ ​​قتل کی سازشوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے 2024 میں جاری ہونے والی انٹیلی جنس تشخیص کا حوالہ دیا جس میں ایران کو ملوث کرنے کی سازش کا مشورہ دیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے پہلے الزام لگایا تھا کہ ایران نے 2020 اور 2024 کے امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی تھی تاکہ انہیں روکا جا سکے۔کیا ٹرمپ پر براہ راست حملہ ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق امریکی سرزمین پر امریکی صدر پر حملہ براہ راست اعلان جنگ کے مترادف ہوگا۔ ایران کے ماضی کے مؤقف کو دیکھتے ہوئے، وہ ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتا تھا۔

امریکی سیکرٹ سروس جو کہ امریکی صدر کی سکیورٹی کی ذمہ دار ہے، کو فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے۔ ایک نو فلائی زون ہمیشہ واشنگٹن، ڈی سی پر نافذ ہوتا ہے جہاں بھی صدر سفر کرتے ہیں، نو فلائی زون بھی مختصر مدت کے لیے نافذ کیے جاتے ہیں۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ سمندر کے اس پار بیٹھے خامنہ ای ٹرمپ کو قتل کروانے کی کوشش کیسے کر سکتے تھے؟

اصل خطرہ کہاں سے آیا؟
2024 میں، ڈونلڈ ٹرمپ پر دو حملوں کی کوشش کی اطلاعات تھیں۔ ان میں سے ایک حملہ پنسلوانیا کے بٹلر میں ایک ریلی کے دوران ہوا تھا ۔ حملہ آور کی شناخت 20 سالہ تھامس کروکس کے نام سے ہوئی تھی ۔ حملہ آور کے محرکات کے کئی پہلوؤں سے تفتیش کی گئی، لیکن ابتدائی رپورٹس میں اسے تنہا بھڑیئے کا فعل قرار دیا گیا۔ کوئی ایرانی تعلق ظاہر نہیں کیا گیا۔

اسی سال فرہاد شکیری نامی شخص کو ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی دینے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے الزام لگایا تھا کہ ان کا تعلق ایرانی اشرافیہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے تھا۔ تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

ٹرمپ کے بیان کی کیا اہمیت ہے؟
ٹرمپ اسی دھمکی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ انہوں نے خامنہ ای کو “تاریخ کے بدترین لوگوں میں سے ایک” قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام نہ صرف امریکہ بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے انصاف کی نمائندگی کرتا ہے جو ان کے خیال میں خامنہ ای کی پالیسیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر دنیا کے سب سے زیادہ تحفظ یافتہ افراد میں سے ایک ہیں۔ ملٹی لیئرڈ سیکیورٹی، ریئل ٹائم انٹیلی جنس نگرانی، نقل و حمل کا مضبوط نظام، اور فوری فوجی ردعمل کسی بھی براہ راست حملے کو انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔










روس جنگ میں اترا بھی نہیں ، مگر ایران کو بتادی امریکہ کی وہ کمزوری ، تلملا اٹھے ٹرمپ
تہران : آج کی جدید جنگ میں، ہتھیاروں کی قیمت اور تاثیر بہت اہم ہو گئی ہے۔ جہاں امریکہ جیسے ممالک اربوں ڈالر کی لاگت کے جدید ہتھیاروں پر انحصار کرتے ہیں، وہیں ایران جیسے ممالک ان مہنگے نظاموں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے سستے اور سادہ ڈرون استعمال کر رہے ہیں۔ ایران کا شاہد 136 ڈرون جس کی قیمت صرف 20,000 ڈالر ہے، امریکہ کے 4 ملین ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کو مؤثر طریقے سے بے اثر کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ایک بار ان ایرانی ڈرونز کی تعریف کی تھی، لیکن انہیں بہت کم معلوم تھا کہ یہ ان کے جنگی حسابات میں بھی خلل ڈالیں گے۔

ایرانی ڈرون پہلے ہی جنگ میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور اب یہ میزائل سسٹم جنگ کے نتائج کا تعین کر سکتا ہے۔ سستے ہتھیار مہنگے دفاعی نظام کو جلد ختم کر دیتے ہیں۔ یوکرین کے خلاف جنگ میں روس نے شاہد ڈرون کے ریپلیکا کا ہی کیا ۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ یہ کم قیمت پر بڑی تعداد میں تیار کیے جاسکتے ہیں اور دشمن کے مہنگے دفاعی نظام کو خاک میں ملا سکتے ہیں ۔ سیدھے الفاظ میں، ان کی لاگت لاکھوں میں ہے مگر کروڑوں کی مالیت کی چیز کو تباہ کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ روس اس سے پہلے ہی یوکرین میں کافی پریشانی پیدا کر چکا ہے اور اب ایران اس علم کو اپنی جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ایران کا چھوٹا برہمسترا کیا ہے؟
اس برہمسترا کو Shahed-136 کہا جاتا ہے، ایک طرفہ حملہ کرنے والا ڈرون۔ یہ ایک سادہ کروز میزائل کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ چھوٹا، کم پیچیدہ ہے، اور بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے.

ایران ان ڈرونز کو مشرق وسطیٰ میں اہداف پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جہاں وہ مسلسل حملوں سے دشمن کے دفاعی نظام کو تھکا دیتے ہیں۔ ان ڈرونز نے پیر کے روز بھی مشرق وسطیٰ میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا۔

ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ بڑی تعداد میں سستے ڈرون بھیجے جائیں، مہنگے میزائل شکن نظام کو ہر حملے پر ردعمل دینے پر مجبور کرتے ہوئے، ان کے گولہ بارود اور وسائل کو تیزی سے ختم کر دیں۔

یہ حکمت عملی نہ صرف سستی ہے بلکہ جنگ کی حرکیات کو بھی بدل رہی ہے۔ اگرچہ پیٹریاٹ جیسے نظام ایک ہی میزائل سے ڈرون کو تباہ کر سکتے ہیں، اگر ڈرونز کی تعداد زیادہ ہو تو دفاعی نظام جلد ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، جنگ کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس طرف کے ہتھیار زیادہ دیر تک چلتے ہیں۔

اسرائیل نے ایک حل تلاش کیا - آئرن بیم
اسرائیل نے جون میں ایران کے ساتھ لڑی گئی 12 روزہ جنگ کے دوران شاہد اور دیگر ایرانی لائٹ ڈرونز کی صلاحیتوں اور تباہ کن طاقت کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا۔ یہ اس کے آئرن ڈوم اور دیگر فضائی دفاعی نظاموں کے لیے تھکا دینے والے اور مہنگے ثابت ہو رہے تھے۔ تاہم بعد ازاں اسرائیلی فوج نے آئرن بیم نامی لیزر ہتھیار تیار کیا جو ان ڈرونز کو تباہ کرنے میں مؤثر ہے۔ اس کا مضبوط شہتیر ایرانی ڈرونز کو ہوا میں پگھلا دیتا ہے اور اس کی قیمت فضائی دفاعی نظام کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ بھارت نے اسرائیل سے اس سسٹم کی درخواست بھی کی ہے کیونکہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان ترکی کے فراہم کردہ ڈرونز کا استعمال کرکے ہمارے فضائی دفاعی نظام کو چیلنج کر رہا تھا۔










نتیش کمار راجیہ سبھا جائیں گے؟ نتیش کے بیٹے نشانت کمار ڈپٹی سی ایم بننے کی قیاس آرائیاں، پٹنہ میں این ڈی اے اجلاس
بہار کی سیاست میں بڑا موڑ:
بہار کی سیاست میں ایک بڑے سیاسی الٹ پھیر کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست کے چیف منسٹر نتیش کمار کو جنتا دل یونائیٹڈ (JD-U) کی جانب سے راجیہ سبھا بھیجے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاستی سیاست میں ایک نئی صف بندی سامنے آ سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق پٹنہ میں این ڈی اے (NDA) کے ارکان اسمبلی کی اہم میٹنگ طلب کی گئی ہے، جس میں ممکنہ سیاسی فارمولے پر حتمی مہر لگ سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نتیش کمار چیف منسٹر کا عہدہ چھوڑ کر قومی سیاست میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں جے ڈی یو کے کوٹے سے راجیہ سبھا بھیجا جا سکتا ہے۔

بہار میں راجیہ سبھا کی پانچ نشستوں پر انتخاب ہونا ہے۔ اگر نتیش کمار نامزد ہوتے ہیں تو وہ جلد ہی اپنا نامزدگی فارم داخل کر سکتے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قدم جے ڈی یو کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے تاکہ مرکز میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط کی جا سکے۔

نشانت کمار ڈپٹی چیف منسٹر ہونگے
نتیش کمار کے ممکنہ طور پر دہلی جانے کی صورت میں ان کے بیٹے نشانت کمار (Nishant Kumar) کو بہار کا ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

جے ڈی یو کے کئی سینئر رہنما پہلے ہی نشانت کمار کی سیاست میں آمد کا خیرمقدم کر چکے ہیں۔ اسے نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اگر یہ فارمولہ طے پاتا ہے تو بہار کی سیاست میں خاندانی جانشینی کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔

بی جے پی چیف منسٹر کاعہدہ چاہتی ہے
ذرائع کے مطابق اگر نتیش کمار دہلی منتقل ہوتے ہیں تو نئے اتحاد فارمولے کے تحت بی جے پی کو چیف منسٹر کا عہدہ مل سکتا ہے۔

بی جے پی پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے اپنے دو امیدواروں کا اعلان کر چکی ہے :

Nitin Nabin

Shivesh Kumar Ram

نیتن نبین پانچ بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں اور بانکی پور اسمبلی حلقے کی نمائندگی کرتے رہے ہیں، جبکہ شیوش کمار رام پارٹی کے جنرل سیکریٹری ہیں اور سماجی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں موقع دیا گیا ہے۔

سنجے جھا اور للن سنگھ کی سرگرمیاں
جے ڈی یو کے قومی کارگزار صدر سنجے جھا دہلی سے پٹنہ پہنچے اور انہوں نے نتیش کمار سے طویل ملاقات کی۔

اسی طرح مرکزی وزیرراجیو رنجن سنگھ (للن سنگھ) کی پٹنہ آمد کو بھی اس سیاسی عمل کو حتمی شکل دینے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت اس ’ایگزٹ پلان‘ پر اتفاق رائے قائم کر چکی ہے۔

 نتیش کمار اور بہار کی سیاست
نتیش کمار گزشتہ دو دہائیوں سے بہار کی سیاست کے مرکزی کردار رہے ہیں۔ انہیں اکثر ریاستی سیاست کا ’چانکیہ‘ کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے مختلف سیاسی اتحادوں کے ساتھ کامیاب حکمت عملی اپنائی ہے۔

2025 کے اسمبلی انتخابات کے بعد این ڈی اے نے بھاری اکثریت سے حکومت بنائی تھی۔ ایسے میں اگر نتیش کمار مرکز کا رخ کرتے ہیں تو یہ قدم جے ڈی یو کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور بی جے پی کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے۔ممکنہ سیاسی اثرات

اگر نتیش کمار راجیہ سبھا جاتے ہیں تو :

بہار میں قیادت کی نئی صف بندی ہوگی

بی جے پی کو ریاست میں مضبوط کردار مل سکتا ہے

جے ڈی یو میں نئی نسل کی قیادت سامنے آئے گی

2026 کے عام انتخابات سے قبل سیاسی توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے

فی الحال تمام نظریں جے ڈی یو کے باضابطہ اعلان اور ممکنہ نامزدگی پر مرکوز ہیں۔ آنے والے دن بہار کی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

*🔴سیف نیوز اردو*



*مہاراشٹر کا نظامِ تعلیم*
*’بدعنوانی کی دیمک‘ اور بچوں کا تاریک مستقبل*
*وسیم رضا خان* ✍️                      
مہاراشٹر، جسے ترقی پسند خیالات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، آج اس کا نظامِ تعلیم ایک گہرے بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں محکمۂ تعلیم میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے معاملات محض مالی گھوٹالے نہیں ہیں بلکہ یہ ریاست کے کروڑوں بچوں کے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں ’ٹی ای ٹی‘ گھوٹالے نے پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں نااہل امیدواروں کو رشوت لے کر کامیاب قرار دیا گیا، جبکہ اہل اور باصلاحیت امیدوار سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے۔ یہ بھارتی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب نااہل اساتذہ نظام میں داخل ہوتے ہیں تو تعلیم کے معیار کا گرنا یقینی ہو جاتا ہے۔ ضلع پریشد اور میونسپل اسکولوں میں بچوں کو دی جانے والی مڈ ڈے میل، یونیفارم اور وظائف میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی خبریں عام ہیں۔ کاغذوں پر اسکول ’ڈیجیٹل‘ بن رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کئی دیہات میں اسکولوں کی چھتیں ٹپک رہی ہیں اور پینے کے صاف پانی تک کا انتظام نہیں ہے۔ افسران اور ٹھیکیدار ملی بھگت کرکے بچوں کے حق کا پیسہ اپنی تجوریوں میں بھر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کو ملنے والی بنیادی سہولتوں میں بھاری کٹوتی ہو رہی ہے۔ ریاست کے ہر شہر اور گاؤں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ایک ہی استاد کو بیک وقت دو یا تین جماعتوں کی ذمہ داری سنبھالنی پڑ رہی ہے۔ اساتذہ کو مردم شماری، انتخابی ڈیوٹی اور دیگر سرکاری سرویز میں اس قدر مصروف رکھا جاتا ہے کہ ان کے پاس پڑھانے کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔
مقامی بلدیاتی اداروں میں محکمۂ تعلیم کو سب سے کم ترجیح دی جا رہی ہے۔ افسران کی بے عملی کے باعث اسکولوں کا معائنہ نہیں ہوتا اور شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے، جس سے بدعنوانی کو فروغ مل رہا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے میونسپلٹیوں اور میٹروپولیٹن کارپوریشنوں کے ’اسکول بورڈ‘ کو ختم کرنے کا فیصلہ خودکُش ثابت ہوا ہے۔ پہلے اسکول بورڈ خصوصی طور پر تعلیم پر توجہ دیتے تھے، مگر اب یہ ذمہ داری عام انتظامی افسران کے پاس ہے، جن کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ ہی تعلیمی امور کی باریکیوں کو سمجھنے کی مہارت۔ اس کے نتیجے میں فیصلوں میں تاخیر، بجٹ کا غلط استعمال اور نگرانی میں کمی آئی ہے۔ اسے فوری طور پر دوبارہ بحال کرنا ناگزیر ہے۔ حقِ تعلیم قانون 2009 کے تحت حکومت ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے، لیکن آر ٹی ای کے مقررہ تناسب پر عمل نہیں ہو رہا۔ بدعنوانی انسداد قانون کے تحت قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونا حکومت کی ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کوئی کاروبار نہیں بلکہ قوم سازی کی بنیاد ہے۔ اگر اساتذہ کی بھرتی میں شفافیت نہ لائی گئی، اسکول بورڈ کو بحال نہ کیا گیا اور اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں سے آزاد نہ کیا گیا تو مہاراشٹر کی آنے والی نسل ذہنی طور پر مفلوج ہو جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اور عدلیہ اس نظام کا احتساب کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ مہاراشٹر کا ’تعلیمی ماڈل‘ آج بدعنوانی، خالی آسامیوں اور انتظامی بے حسی کی نذر ہو چکا ہے۔ ایک طرف ہم ’وشو گرو‘ بننے کا خواب دیکھتے ہیں، دوسری طرف ہمارے ضلع پریشد اسکولوں میں ایک ہی استاد تین جماعتوں کو سنبھالنے پر مجبور ہے۔ تعلیمی نظام سے وابستہ سرکاری اہلکاروں، خصوصاً وزیرِ تعلیم، کو ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ بھارتی آئین کے تحت 6 سے 14 سال کے بچوں کو ’مفت اور لازمی تعلیم‘ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کیا خستہ حال عمارتیں، اساتذہ کی کمی اور مڈ ڈے میل میں بدعنوانی اس حق کا مذاق نہیں ہیں؟
’پوتر پورٹل‘ اور بھرتی کے عمل میں تاخیر اور بدعنوانی نے ہزاروں اہل نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔ کیا حکومت ان خالی آسامیوں کو شفاف طریقے سے پُر کرنے کا حوصلہ دکھائے گی؟ اساتذہ کو مردم شماری، انتخابات اور دیگر سرکاری سرویز کا ’کلرک‘ بنا دیا گیا ہے، حالانکہ آر ٹی ای قانون کی دفعہ 27 واضح طور پر اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں سے محفوظ رکھنے کی بات کرتی ہے، پھر بھی مہاراشٹر میں اس کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے؟ مقامی اداروں میں ’اسکول بورڈ‘ کو ختم کرکے تعلیم کے اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کو ختم کر دیا گیا ہے۔ کیا طلبہ کے مفاد میں اس ماہر بورڈ کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟ محکمۂ تعلیم میں جاری یہ بدعنوانی صرف ’مالی جرم‘ نہیں بلکہ ریاست کی آنے والی نسلوں کے ساتھ کیا جانے والا ’فکری جرم‘ ہے۔ افسران کی بھرتی ہوئی تجوریاں اور خالی ہوتے اسکول اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت بچوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ مطالبہ ہے کہ محکمۂ تعلیم میں بدعنوانی کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور ’تعلیم بچاؤ‘ مہم کے تحت جنگی بنیادوں پر اصلاحات نافذ کی جائیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ آپ کو ان بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کے لیے یاد رکھے گی جن کے پاس اپنی آواز بلند کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔










*ایران اسرائیل کشیدگی: پاور لوم انڈسٹری پر منڈلاتے خطرات*
​تحریر: [ *عمیر انصاری*]
​مشرقِ وسطیٰ میں ابھرتی ہوئی حالیہ کشیدگی، خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ محاذ آرائی نے عالمی معیشت کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کی تپش بھارت جیسی ٹیکسٹائل پر مبنی معیشتوں، بالخصوص ہماری پاور لوم انڈسٹری تک پہنچنے کا شدید خدشہ ہے۔
​ہماری پاور لوم انڈسٹری کا دارومدار 'یارن' (Yarn) پر ہے، اور اس وقت مارکیٹ میں PSF، POY اور دیگر سنتھیٹک دھاگوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ریلائنس (RIL) اور دیگر بڑے اداروں کی جانب سے قیمتوں میں 4 سے 6 روپے فی کلو کا اضافہ محض شروعات ہو سکتی ہے۔
​اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ لمبے عرصے جاری رہتی ہے تو خام تیل (Crude Oil) کی قیمتیں $100 فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ چونکہ پالئیےسٹر اور دیگر سنتھیٹک دھاگے پیٹرولیم کی ضمنی مصنوعات (PTA/MEG) سے بنتے ہیں، اس لیے یارن کی قیمتوں میں اچانک اور بڑا اضافہ ہماری پیداواری لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا سکتا ہے۔
 اس بحران کی صورت میں ہماری صنعت کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا:
*​پیداواری لاگت میں اضافہ:* نہ صرف یارن مہنگا ہوگا بلکہ پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ کپڑے کی فی میٹر لاگت (Cost of Production) بڑھ جائے گی۔
*​عالمی مانگ میں کمی:* جب دنیا بھر میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو عام آدمی کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔ بین الاقوامی خریدار (خصوصاً یورپ اور امریکہ) ٹیکسٹائل کے آرڈرز کم کر دیتے ہیں، جس سے تیار شدہ کپڑے کی فروخت میں مندی آ سکتی ہے

 پاور لوم مالکان موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی ضرورت کے مطابق یارن کا معقول اسٹاک رکھیں، تاکہ قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے کے اثرات سے بچا جا سکے۔ نئے آرڈرز بک کرتے وقت مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدِنظر رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ آرڈر پرانے ریٹ پر لیں اور مال تیار کرتے وقت لاگت بڑھ جائے۔

*جنگی حالات کسی کے بس میں نہیں ہوتے، لیکن بروقت منصوبہ بندی اور مارکیٹ کے حالات سے باخبر رہ کر ہم اپنے نقصان کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔ یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ متحد ہو کر اور سمجھداری سے فیصلے کرنے کا ہے۔*










رمضان میں بڑھتی گرمی کے درمیان روزہ دار کیسے رہیں ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ، ڈاکٹر نے دیا ضروری مشورہ
علی گڑھ: رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سایہ فگن ہے، جس میں روزہ دار روزہ رکھ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس دوران گرمی کی شدت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے خاص طور پر میدان یا دھوپ میں کام کرنے والے افراد کو ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں روزہ رکھتے ہوئے صحت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے علی گڑھ میڈیکل کالج کے شعبہ فارماکولوجی کے پروفیسر اور ہیڈ ڈاکٹر سید ضیاء الرحمٰن نے بتایا کہ روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور ہر سماجی و معاشی طبقے کے لوگ اسے عقیدت کے ساتھ رکھتے ہیں۔ تاہم جو لوگ دھوپ میں محنت مزدوری کرتے ہیں، انہیں اپنی صحت کے بارے میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔

مناسب مقدار میں پانی ضروریانہوں نے مشورہ دیا کہ روزہ داروں کو سحری ضرور کرنی چاہیے، کیونکہ سحری کرنا سنت بھی ہے اور پورے دن جسم کو توانائی فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سحری کے دوران ہلکی مگر غذائیت سے بھرپور غذا لینی چاہیے اور مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ کھجور، پھل یا جوس جیسی اشیا جسم میں توانائی برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ افطار کے وقت پورے دن کی گرمی اور تھکن کے بعد جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے شربت، جوس یا موسمی پھل لینا مفید رہتا ہے۔ اگر مہنگے مشروبات دستیاب نہ ہوں تو تربوز، خربوزہ، پپیتا جیسے رسیلے پھلوں کی چاٹ بنا کر کھانا بھی اچھا متبادل ہے۔

سلاد کا استعمال مفید
انہوں نے کہا کہ افطار ہلکا رکھنا چاہیے اور نماز کے بعد متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا لینا بہتر ہوتا ہے۔ افطار سے لے کر سحری تک وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا پانی پیتے رہنا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ ہری سبزیاں، سلاد اور پانی سے بھرپور غذائیں جیسے کھیرا، ٹماٹر، لیموں اور پتوں والی سبزیاں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ سلاد اور سبزیوں کا باقاعدہ استعمال ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ میں کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھاری اور زیادہ مسالے دار یا گوشت پر مشتمل غذا جسم میں پانی کی ضرورت بڑھا دیتی ہے، اس لیے روزہ داروں کو ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا اختیار کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی دھوپ میں کام کرنے والے افراد کو جہاں تک ممکن ہو براہ راست دھوپ سے بچنے اور سائے میں کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے روزہ دار بغیر ڈی ہائیڈریشن کے مسئلے کے اپنا روزہ بہتر انداز میں مکمل کر سکتے ہیں۔


Monday, 2 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





کیا آیت اللہ علی خامنہ ای کا پنڈت جواہر لال نہرو کا مداح ہونا وزیر اعظم مودی کی ناراضگی کی وجہ بنا؟شرد پوار کے بیان نے چھیڑی نئی سیاسی جنگ
مغربی ایشیا میں جاری ایران۔اسرائیل جنگ اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف عالمی سفارت کاری بلکہ بھارت کی داخلی سیاست میں بھی زبردست ہلچل پیدا کر دی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے ایک ایسا سوال اٹھا دیا ہے جس نے تاریخ اور موجودہ سیاست کے تعلق کو نئی بحث کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پوار کا سیدھا سوال ہے کہ کیا آیت اللہ علی خامنہ ای کا پنڈت جواہر لال نہرو کا مداح ہونا وزیر اعظم مودی کی ناراضگی کی وجہ بنا؟‘اگر عالمی لیڈر ہیں تو جنگ رکوا دیں وزیر اعظم مودی’

شرد پوار نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود کو ایک ’وشو گرو‘ اور عالمی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی اس ساکھ کو استعمال کرتے ہوئے ایران۔اسرائیل جنگ رکوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پوار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مودی جی کو اپنے دوست ممالک، یعنی اسرائیل اور امریکہ، سے کہنا چاہیے کہ یہ خونریزی بند کریں۔ ان کے مطابق پوری دنیا آیت اللہ علی خامنہ ای کا احترام کرتی ہے، سوائے اسرائیل کے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای بھارت کے سچے دوست تھے اور ہر مشکل وقت میں ہندوستان کا ساتھ دیتے رہے۔

نہرو کنکشن پر اٹھایا سوال

شرد پوار نے اس پورے معاملے کو تاریخی تناظر سے جوڑتے ہوئے ایک سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے نظریات کے بڑے مداح اور پیروکار تھے۔ پوار نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی بات وزیر اعظم مودی کی ناراضگی کی وجہ ہے؟ کیا نہرو سے وابستگی کے سبب ہی بھارتی حکومت ایک بڑے عالمی رہنما کی شہادت پر تعزیت ظاہر کرنے سے گریز کر رہی ہے؟ پوار نے مزید کہا کہ آخر بھارت کی صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کس بات سے خوفزدہ ہیں؟ کیا یہ خوف اسرائیل کا ہے یا پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا؟ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی دوست ملک کے اعلیٰ رہنما کو اس طرح قتل کیا جائے تو بھارت جیسے ملک کی قیادت کو اخلاقی بنیادوں پر افسوس کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔

سفارتی توازن کا چیلنج

موجودہ حالات میں بھارتی حکومت ایک نہایت مشکل سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک جانب اسرائیل کے ساتھ بھارت کے مضبوط اسٹریٹجک اور دفاعی تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ توانائی مفادات اور چاہ بہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبے وابستہ ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعظم مودی کی جانب سے بلائی گئی کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کی میٹنگ میں بھارت نے ’مذاکرات اور سفارت کاری‘ پر زور تو دیا، تاہم آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر کوئی باضابطہ تعزیتی بیان جاری نہ کرنے پر اپوزیشن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔









آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان میں حالات کشیدہ ، جگہ جگہ احتجاج ، صورتحال پر قابو پانا مشکل
ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑی ہوئی عالمی جنگ نہ صرف خلیجی ممالک میں بھڑک رہی ہے۔ اس کا اثر بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ایران میں میزائل دھماکے ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان میں اس کے مذہبی رہنما کی موت پر سوگ منایا جا رہا ہے۔ عاصم منیر بھلے ہی امریکہ کے قدموں پر گر گئے ہوں لیکن حالات ایسے ہیں کہ وہ امریکی سفارتخانے کے باہر ہونے والی افراتفری کو روکنے سے قاصر ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہ احتجاج پاکستان میں بھی پرتشدد رخ اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کے شہر کراچی میں امریکی قونصل خانے کے قریب پرتشدد مظاہروں کے دوران اتوار کو کم از کم ۹ افراد ہلاک ہو گئے۔ آج بھی صورتحال بہتر نہیں ہے ۔یہ مظاہرے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کی خبر کے بعد شروع ہوئے ہیں ۔اتوار کی صبح سینکڑوں ایرانی حامی مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کی عمارت کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ کراچی کے سول اسپتال کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا کہ اسپتال میں کم از کم 9 لاشیں لائی گئیں۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں لوگوں کو ایک زخمی شخص کو اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کچھ تصاویر میں مظاہرین کو مائی کولاچی روڈ پر واقع امریکی قونصلیٹ کی عمارت پر دھاوا بولنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس سے پاکستان کے دیگر شہروں میں احتجاج شروع ہوا۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ تحریک جعفریہ کی جانب سے امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کرنے کی کوشش کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔ حکام نے علاقے کو ریڈ زون قرار دے دیا گیا۔شیعہ اکثریتی گلگت بلتستان میں حالات قابو سے باہر ہوگئے، مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر کو آگ لگا دی۔ مقامی حکومت کے ترجمان شبیر میر کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر عمارت کو آگ لگا دی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اس کے علاوہ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہوئے لیکن تشدد کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ عینی شاہد عقیل رضا کے مطابق کچھ مظاہرین نے سیکیورٹی گیٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے طاقت کا استعمال کیے بغیر انہیں روک دیا۔

ایران میں افراتفری، پاکستان کی سڑکوں پر گولیاں برسیں۔

پاکستان میں یہ احتجاج کوئی نئی بات نہیں۔ وہاں کی شیعہ آبادی کو دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی یہ خدشات تھے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے پاکستان میں بدامنی پھیل جائے گی۔ چونکہ ایران اور پاکستان کی ایک طویل سرحد ہے، اس لیے خدشات ہیں کہ باغی اس بدامنی کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میں تباہی مچا سکتے ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے تشویش ناک ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی بلوچستان میں اندرونی کشمکش اور افغانستان میں بیرونی تنازعات سے دوچار ہے۔








ہر کھلاڑی پر 50۔50 لاکھ کا جرمانہ ، T20 ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد PCB کا بڑا ایکشن
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ناقص کارکردگی کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہونے والی پاکستان کرکٹ ٹیم پر 50 لاکھ پاکستانی روپے کا بھاری جرمانہ عائد کردیا۔ ہندوستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 12 لاکھ روپے بنتی ہے۔ اگرچہ آپ نے جیتنے پر انعامات وصول کرنے والی ٹیموں کے بارے میں سنا ہو گا، لیکن ہارنے کے بعد ہر ٹیم کے کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کرنے کا یہ ایک انوکھا اور غیر معمولی معاملہ ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کے خلاف شکست کے فوراً بعد لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آفیشلز نے واضح طور پر کھلاڑیوں کو بتایا ہے کہ کافی لاڈ ۔ پیار ہو چکا ہے۔ اب سے مالی فوائد صرف کارکردگی کی بنیاد پر دئے جائیں گے ۔

پاکستان سپر 8 سے باہرپاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میچ میں نیدرلینڈ کے خلاف شکست سے بال بال بچ گیا اور پھر امریکہ کے خلاف جیتنے میں کامیاب رہا۔ سری لنکا کی کنڈیشنز سے واقفیت اور معیاری اسپن باؤلرز کی موجودگی کے پیش نظر بھارت کے خلاف بہتر کارکردگی کی توقع تھی لیکن ایشیا کپ کے تین میچوں کی طرح اس بار بھی ٹیم ناکام رہی۔ نمیبیا کو شکست دینے کے بعد، پاکستان نے آسانی سے سپر 8 کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف اس کا پہلا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا، اور پھر وہ انگلینڈ سے ہار گیا، جس سے سیمی فائنل میں پہنچنے کی ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف انگلینڈ کی فتح نے پاکستان کی امیدوں کو زندہ کر دیا، لیکن سری لنکا کے خلاف ایک چھوٹی سی جیت بھی ان کے رن ریٹ میں خاطر خواہ بہتری لانے میں ناکام رہی۔ جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ بھی سیمی فائنل میں پہنچ گیا، اور پاکستان کا سفر ختم ہوگیا۔

پی سی بی بھارت سے ہارنے کے فوراً بعد حرکت میں آیا

شائقین کی طرح بورڈ حکام بھی ٹیم کی کارکردگی سے شدید نالاں ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ہر کھلاڑی پر 50 لاکھ روپے (50 لاکھ روپے) جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جہاں کھلاڑیوں کو اچھی کارکردگی پر انعامات ملتے ہیں وہیں انہیں خراب کارکردگی پر جرمانے بھی ادا کرنا ہوں گے۔ ٹیم کو اس فیصلے کی اطلاع ہندوستان سے ہارنے کے فوراً بعد دی گئی۔ پی سی بی اپنے A-کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو 45 لاکھ کی ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ICC کی آمدنی سے 27 لاکھ کا حصہ ادا کرتا ہے۔ کیٹیگری بی کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 30 لاکھ روپے اور آئی سی سی کا حصہ 15 لاکھ روپے ملتا ہے۔ کیٹیگری سی کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 10 لاکھ روپے کی تنخواہ اور 10 لاکھ روپے کا آئی سی سی کا حصہ ملتا ہے۔ کیٹیگری ڈی کے کھلاڑیوں کو 7 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور 7 لاکھ روپے کا ICC شیئر ملتا ہے۔ میچ کی فیس الگ ہے۔ یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک کیٹیگری اے کے کسی بھی کھلاڑی کو سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔

کاغذی شیر ثابت ہوئے پاکستانی کھلاڑی

رواں ورلڈ کپ میں صاحبزادہ فرحان پاکستان کی جانب سے 383 رنز کے ساتھ ٹاپ ا سکورر تھے۔ حیران کن طور پر دیگر ٹاپ بلے باز صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابر اعظم اور عثمان خان پورے ٹورنامنٹ میں انفرادی طور پر 100 رنز بھی بنانے میں ناکام رہے۔ باؤلرز میں 10 وکٹیں لینے والے اسپنر عثمان طارق کے علاوہ باقی ٹیم نے معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کوچ مائیک ہیسن کے قریبی سمجھے جانے والے کپتان سلمان علی آغا بلے سے بری طرح ناکام رہے اور بطور کپتان ان کے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگتا رہا ۔ پی سی بی آنے والے دنوں میں مزید سخت ایکشن لے سکتا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





ایران کررہا اس لمحہ کا انتظار، جب تھک جائے گا امریکہ – اسرائیل کا ڈیفنس سسٹم، پھر کرے گا سب سے بڑا حملہ
تہران : مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل نے شدید تباہی مچا رکھی ہے، لیکن ایران ابھی اپنی اصل طاقت چھپا کر بیٹھا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنی سب سے مہلک میزائلوں کا استعمال نہیں کیا۔ یہ ایران کی ایک بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ایران جان بوجھ کر چھوٹے اور کم مار کرنے والے ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اس کا اصل مقصد اسرائیل اور امریکہ کے جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز کو مکمل طور پر تھکا دینا ہے۔

جب آئرن ڈوم اور پیٹریاٹ جیسے سسٹمز اپنی مہنگی میزائلیں ختم کر لیں گے تو ایران اپنا سب سے بڑا اور تباہ کن حملہ کرے گا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک بڑا جال ثابت ہو سکتا ہے۔ جب اینٹی میزائل سسٹم مکمل طور پر تھک جائیں گے تو ایران کی فتح جیسی ہائپر سونک میزائلیں اصل تباہی مچائیں گی۔ اس سفارتی حکمتِ عملی نے پوری دنیا کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ڈیفنس سسٹم کو تھکانے کا منصوبہ
ایران اس ممکنہ جنگ میں بڑی چالاکی سے کام لے رہا ہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی نظام کی مسلسل جانچ کر رہا ہے۔ ایران جان بوجھ کر سستے ڈرونز اور پرانی میزائلیں داغ رہا ہے، جبکہ اسرائیل انہیں گرانے کے لیے اپنی مہنگی میزائلیں استعمال کر رہا ہے۔ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب اسرائیل کے پاس انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی ہو جائے گی۔ اسی کمی کا فائدہ اٹھا کر ایران اپنا سب سے خطرناک حملہ کرے گا۔

فتح اور خیبر میزائلیں مچائیں گی شدید تباہی
ایران کے پاس فتح جیسی خطرناک ہائپر سونک میزائل موجود ہے۔ اس کے علاوہ خیبر جیسی بھاری بیلسٹک میزائلیں بھی اس کے ذخیرے میں شامل ہیں۔ ایران نے ابھی تک ان ہتھیاروں کو محفوظ رکھا ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل کا ایئر ڈیفنس سسٹم کمزور پڑ جائے گا تو ایران ان مہلک میزائلوں سے انتہائی درست نشانہ لگائے گا۔ تھکے ہوئے دفاعی نظام کے لیے انہیں روکنا نہایت مشکل ہوگا۔

اسرائیل کے آئرن ڈوم پر منڈلاتا بڑا خطرہ
اسرائیل کا آئرن ڈوم اور ایرو سسٹم مسلسل کام کر رہے ہیں۔ امریکہ نے بھی اپنا پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم وہاں تعینات کر رکھا ہے۔ تاہم ان تمام سسٹمز کی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر ایران ایک ساتھ ہزاروں میزائل داغ دے تو کوئی بھی اینٹی میزائل نظام اوورلوڈ ہو کر ناکام ہو سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اسی اوورلوڈ اور تھکاوٹ کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی امریکہ اور اسرائیل کے لیے بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔

فتح ہائپر سونک میزائل: دشمن کے ہوش اڑا دے گی
فتح ایران کی پہلی اور سب سے مہلک ہائپر سونک میزائل ہے۔ یہ آواز کی رفتار سے 15 گنا زیادہ تیز چلتی ہے۔ اپنی تیز رفتار کی وجہ سے اسے ریڈار سے پکڑنا مشکل بتایا جاتا ہے۔ یہ کسی بھی جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کو چکما دے سکتی ہے۔ اس میزائل کی رینج تقریباً 1400 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جو اسرائیل کے کسی بھی شہر تک چند منٹوں میں پہنچ سکتی ہے۔خیبر بیلسٹک میزائل: 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت
خیبر ایران کی ایک جدید بیلسٹک میزائل ہے، جسے خرم شہر-4 بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی رینج تقریباً 2000 کلومیٹر تک ہے۔ یہ میزائل 1500 کلوگرام تک وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کی مہلک صلاحیت دشمنوں میں شدید خوف پیدا کرتی ہے۔











ضلع پریشد جلگاؤں کا ایک "مثالی اسکول اور مثالی بچے"
ضلع پریشد اردو اسکول، رانجن گاؤں، تعلقہ چالیس گاؤں ضلع جلگاؤں

چند روز قبل، رانجن گاؤں ضلع پریشد اردو اسکول کے بچوں کی دو تعلیمی ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا، خوشی ہوئی، میں نے ویڈیوز بھیجنے والے شکیل سبحانی سر سے اجازت چاہی کہ کیوں نا اسے "ربانی دی اسکالر یو ٹیوب چینل" پر نشر کردیا جائے موصوف نے شکریہ کے کلمات ادا کرتے ہوئے یہ گزارش کی کہ بہتر ہوگا آپ اس اسکول کی وزٹ کریں واٹس ایپ میسیج کے ذریعے ہوئی یہی گفتگو، رانجن گاؤں ضلع پریشد اردو اسکول پہنچنے کا سبب بنی، جب میں نے چھوٹے سے اک گاؤں میں پہنچ کر وہاں کے طلبا و طالبات کی تعلیمی کیفیت کا جائزہ لیا تو دل خوشیوں سے جھوم اٹھا، میرے تصور سے کہیں بڑھ کر یہاں کا تعلیمی نظام نظر آیا
اردو ہی کیا؟ انگریزی کی ہی بات کیوں؟ مراٹھی تو مراٹھی الجبرا اور جیومیٹری جیسے مضامین میں بھی اس اسکول کے بچے کسی بھی پرائیویٹ اسکولوں کے طلبا سے کمتر نہیں ہیں ان طلبہ کے اندر جو خود اعتمادی ہے، وہ اس بات کے اظہار کے لیے کافی ہے کہ ان کے اساتذہ نے بڑی محنت توجہ اور دیانت داری کے ساتھ انہیں علم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی ہے میں اس بات کے اظہار میں کوئی مبالغہ نہیں سمجھتا کہ ضلع پریشد جلگاؤں کا یہ اردو اسکول صرف چالیس گاؤں تعلقہ کا ہی نہیں بلکہ پورے ضلع جلگاؤں کا ایک مثالی اردو اسکول ہے اور یہاں کے طلبہ بھی مثالی ہیں، اس اسکول کے اساتذہ شکیل سبحانی سر، مشتاق احمد شفیع سر اور یوسف اقبال سر، اسی طرح ان اساتذہ کے ذریعے اسکول میں اپوائنٹ کی گئیں محترمہ کریمہ باجی کو میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا کہ ان سب نے مل کر اردو اسکول رانجن گاؤں کے طلبہ کی تعلیمی ترقی کو قابل رشک بنایا ہے، شکیل سبحانی سر نے بتایا کہ کیندر پرمکھ ناصر خان سر اور اردو اسکول رانجن گاؤں کے سابق اساتذہ عثمان جناب، لئیقہ میڈم، نوید سر، شبیر سر، خضر سر وغیرہ کی خدمات کو ہم نے آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں

محترم قارئین! نپون بھارت اور نپون مہاراشٹر کے لیے راجیہ اور کیندر سرکاریں، پانی کی طرح روپیہ بہا رہی ہیں، جس کا مقصد طلبہ کی تعلیمی ترقی ہے، جلگاؤں ضلع کی سی او میڈم محترمہ"مینل کرنوال" نے اس تعلق سے پورے جلگاؤں ضلع میں زبردست بیداری پیدا کی ہے، جس کے تحت چالیس گاؤں تعلقہ کے گٹ شکشن ادھیکاریَ شری ولاس بھوئی صاحب کی قیادت میں تعلقہ کی اسکولوں میں بہتر کام ہورہا ہے، میں سمجھتا ہوں، ضلع پریشد اردو اسکول رانجن گاؤں کے طلبہ کی یہ تعلیمی ترقی سی او میڈم صاحبہ کی کوششوں کا ہی ایک اہم حصہ ہے کہ ان کی رہنمائی میں اساتذہ محنت کر رہے ہیں اور ضلع پریشد جلگاؤں کا ایک اردو اسکول ایسا ہے، جہاں کے بچوں کی تعلیمی ترقی کو بڑی شان کے ساتھ پورے مہاراشٹر میں پیش کیا جاسکتا ہے میں نے جو تاثرات پیش کیے ہیں، اس کی تصدیق کے لیے آپ "ربانی د اسکالر یوٹیوب چینل" پر یکے بعد دیگرے آنے والی ویڈیو کلپس کو آپ دیکھیں اور بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے کمنٹس بھی درج کریں مجھے یقین ہے کہ آپ بھی اسے غیر معمولی اور مثالی کاوش قرار دیں گے-
رضوان ربانی،
 معاون مدرس سردار ہائی اسکول، مالیگاؤں









کیا اب جنگ ’ایٹمی‘ رخ اختیار کرے گی؟ ایران کے سب سے بڑے جوہری مرکز پر حملہ، تہران کا دعویٰ — خطرے میں ہے پوری دنیا
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ آج تیسرے دن میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ افواج ایران پر مسلسل فضائی حملے اور بمباری کر رہی ہیں، جبکہ ایران بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔اسی دوران ایران نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی افواج نے اس کے جوہری مرکز پر تباہ کن حملہ کیا ہے، جس کے باعث متعلقہ علاقے میں تابکاری (ریڈی ایشن) کی سطح بڑھنے کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے میں ایران کے سفیر رضی نجفی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ افواج نے ایران کے نطنز جوہری کمپلیکس پر حملہ کیا ہے۔

پرامن نگرانی میں چل رہی تھی جوہری تنصیب

ایرانی سفیر کی جانب سے یہ بیان انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے اجلاس کے دوران دیا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے اس جوہری مرکز کو نشانہ بنایا جو بین الاقوامی نگرانی میں پرامن مقاصد کے تحت کام کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ نطنز جوہری سائٹ ایران کا سب سے اہم یورینیم افزودگی مرکز ہے، جس پر اسرائیل اور مغربی ممالک کئی برسوں سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ نطنز کا علاقہ ایران کے وسطی حصے میں صوبہ اصفہان کے قریب واقع ہے۔

زیرِ زمین قائم ہے نطنز جوہری مرکز

نطنز جوہری سائٹ ایک زیرِ زمین افزودگی مرکز ہے، جسے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے زمین کے اندر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں یورینیم کو گیس کی شکل میں تبدیل کر کے اس کی افزودگی کی جاتی ہے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے ایران کے اس دعوے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ عالمی ایجنسی کے مطابق اگر واقعی جوہری تنصیب پر حملہ ہوا ہے تو تابکاری کے اخراج کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔گزشتہ تین دنوں سے جاری اس جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے ایک ہزار سے زائد مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان حملوں میں دو ہزار سے زیادہ بم گرائے گئے، جن کے نتیجے میں 550 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حملوں میں امریکہ کے تین فوجیوں کی ہلاکت کی بھی خبر سامنے آئی ہے۔

Sunday, 1 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر، عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض ںجام دے گی کونسل
آیت اللہ علی رضا اعرافی کو ایران کی قیادت کونسل کا فقیہ مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ ملک میں سپریم لیڈر کے فرائض سرانجام دینے والی عبوری قیادت کا حصہ بن گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کونسل عارضی طور پر اس وقت تک سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں ادا کرے گی جب تک نئے رہبر کا باقاعدہ انتخاب عمل میں نہیں آ جاتا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تین رکنی کونسل نہایت اہم آئینی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا قیام ہنگامی یا عبوری حالات میں نظامِ حکومت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی بطور فقیہ شامل ہیں، جبکہ دیگر دو اراکین میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ملک کے چیف جسٹس بھی شامل ہیں۔ تینوں شخصیات مل کر اجتماعی طور پر وہ اختیارات استعمال کریں گی جو عام طور پر سپریم لیڈر کے پاس ہوتے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس عبوری بندوبست کا مقصد ریاستی امور میں کسی بھی قسم کا خلل پیدا ہونے سے روکنا اور آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک نظام کو مستحکم رکھنا ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگانِ رہبری کی ذمہ داری ہے، جو ایک بااختیار ادارہ ہے اور ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے تقرر کا اختیار رکھتا ہے۔میڈیا رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مجلس خبرگانِ رہبری کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک یہی کونسل رہبر کے تمام آئینی اور انتظامی فرائض انجام دیتی رہے گی۔ اس پیش رفت کو ایران کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں آئینی تقاضوں کے مطابق قیادت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے عبوری انتظامات کو بروئے کار لایا گیا ہے۔










ایران نے اسرائیل، قطر اور بحرین پر میزائل داغے، خامنہ ای کی موت کے بعد بھارت میں احتجاج
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی حملے میں مارے گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اس بات کا اعلان کیا تھا جس کی اب ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی ہے۔ اس خبر نے دنیا بھر میں ملے جلے ردعمل کو جنم دیا ہے، جس میں کچھ نے خوشی کا اظہار کیا اور دوسروں نے غم کا اظہار کیا۔

جموں و کشمیر کے لال چوک پر شیعہ مسلمان بھی سیاہ لباس پہن کر جمع ہوئے۔ خامنہ ای کی حمایت اور امریکا کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے خامنہ ای کو تاریخ کے خطرناک ترین لیڈروں میں سے ایک قرار دیا اور ان کی موت کو ایرانی عوام اور دنیا کے لیے “انصاف” قرار دیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای جدید ترین انٹیلی جنس اور ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکتے اور یہ آپریشن اسرائیل کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک پر دوبارہ دعویٰ کرنے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوج اور سیکورٹی فورسز کے بہت سے ارکان اب لڑنا نہیں چاہتے اور استثنیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق اگر وہ ابھی ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو انہیں ریلیف مل سکتا ہے ورنہ بعد میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بمباری جاری رہ سکتی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو پورا ایک ہفتہ جاری رہ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مہم کا مقصد مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن قائم کرنا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے، اور ایران کی جانب سے سرکاری ردعمل کا انتظار ہے۔

ہفتے کی صبح امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائی شروع کی۔ اس بڑے حملے کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کا ایک بیراج فائر کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے تنازع کو دو سے تین دن میں ختم کر سکتے ہیں یا اسے طول بھی دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو امریکہ اسرائیل حملوں سے باز آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری مذاکرات میں مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران معاہدے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

دبئی، قطر اور بحرین جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹ سمیت کئی بین الاقوامی راستے بند ہو گئے۔ تہران میں لڑکیوں کے اسکول میں بم دھماکے میں 108 طالبات کی ہلاکت کی خبر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق یہ حملہ مہینوں کی ’’قریبی اور مربوط منصوبہ بندی‘‘ کا نتیجہ تھا۔اس سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، صدر اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے دفاتر کو حملوں کا ایک سلسلہ نشانہ بنایا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کو “بڑے پیمانے پر اور پائیدار” قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے کھلے عام زور دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہ ایران میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے لوگوں کے لیے نسلوں میں آخری موقع ہے۔










ناگپور کی ایس بی ایل انرجی فیکٹری میں زوردار دھماکہ، 15 مزدور ہلاک، متعدد شدید زخمی
ممبئی: ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناگپور کی کٹول تحصیل کے راؤل گاؤں میں قائم ایس بی ایل انرجی لمیٹڈ کے صنعتی و کانکنی دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والے کارخانے میں اتوار کی صبح زوردار دھماکہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ متعدد کارکن شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق حادثہ صبح کے وقت اس وقت پیش آیا جب فیکٹری میں معمول کے مطابق کام جاری تھا اور تقریباً 20 سے 25 مزدور مختلف شعبوں میں مصروف تھے۔ اچانک ہونے والے شدید دھماکے نے پوری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا جس کے باعث فیکٹری کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی جس سے قریبی دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد آگ کا بڑا گولا اور گھنا دھواں فضا میں بلند ہوا جس کے بعد مزدوروں اور مقامی افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے کم از کم 18 افراد کو فوری طور پر ناگپور کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق متعدد افراد شدید جھلسنے اور دھماکے کے اثرات کے باعث گہرے زخموں کا شکار ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ انتظامیہ متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کر رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی مزید حادثے سے بچا جا سکے۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔ حکام کے مطابق فیکٹری کے حساس حصوں کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی غلط ہینڈلنگ یا حفاظتی اصولوں میں کوتاہی حادثے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ فیکٹری انتظامیہ اور ذمہ دار افسران سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ لائسنس، حفاظتی آلات اور آپریشنل معیار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اور آتش گیر سامان تیار کرنے والی فیکٹریوں میں معمولی لاپرواہی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہاراشٹر سمیت مختلف ریاستوں میں اس نوعیت کے کئی حادثات پیش آ چکے ہیں جنہوں نے صنعتی حفاظتی نظام پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔


*🔴سیف نیوز اردو*


مالیگاؤں میں بجلی کمپنی کی لاپرواہی، 11KV لائن زمین پر گرنے سے زمین پگھل کر لاوا بن گئی*
(​مالیگاؤں درے گاؤں): *عمیر انصاری*
شہر کے نواحی علاقے درے گاؤں میں بجلی کمپنی کی سنگین لاپرواہی اور حفاظتی نظام کی مکمل ناکامی کا ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 11,000 وولٹ (11KV) کی ہائی ٹینشن لائن پوری رات زمین سے ٹچ رہی، جس کے نتیجے میں زمین کی مٹی پگھل کر لاوے میں تبدیل ہو گئی۔

​عمیر انصاری کے مطابق، بجلی کا پول ہائی ٹینشن تاروں کی زد میں تھا جس سے کرنٹ زمین میں اترتا رہا۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اتنی بڑی خرابی (Fault) کے باوجود مالیگاؤں پاور سپلائے لمیٹیڈ کا خودکار حفاظتی نظام (Circuit Breaker) ٹرپ نہیں ہوا، جس سے بجلی کی سپلائی جاری رہی۔

​زمین بن گئی دہکتا ہوا تندور رات بھر ہائی وولٹیج کرنٹ زمین میں اترنے کی وجہ سے وہاں پیدا ہونے والی شدید حرارت نے مٹی اور ریت کو پگھلا کر شیشے نما سیاہ لاوے (Fulgurite) میں تبدیل کر دیا۔ ماہرین کے مطابق، یہ درجہ حرارت 1500 ڈگری سے زائد رہا ہوگا۔
​عوام کی جان و مال کو شدید خطرہ
اس واقعے نے "اسٹیپ پوٹینشل" (Step Potential) کے باعث وہاں سے گزرنے والے انسانوں یا مویشیوں کے لیے فوری موت کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ اگر اس لاوے کے قریب کوئی خشک گھاس یا املاک ہوتی تو شہر میں ہولناک آگ لگ سکتی تھی۔


​حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
عمیر انصاری نے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے کہ آخر حفاظتی نظام کیوں ناکام ہوا؟ کیا مالیگاؤں پاور سپلائے لمیٹیڈ کے ملازمین عوامی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ذمہ داران اور لائن اسٹاف کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پورے علاقے کا سیفٹی آڈٹ کیا جائے











*جالنہ میں ’21ویں صدی کا خواتین ادب‘ پر ایک روزہ قومی کانفرنس کا شاندار انعقاد*
*اردو نے ہمیشہ خواتین ادب کو عزت و احترام دیا ہے: سید حسین اختر*
*خواتین قلم کاروں کی ادبی خدمات پر سنجیدہ مکالمہ، مختلف زبانوں کے ماہرین کی شرکت*
جالنہ (نامہ نگار):اردو ادب کی روشن روایت اور اس کے وسیع و ہمہ گیر مزاج کو اجاگر کرتی ہوئی ایک روزہ قومی کانفرنس بعنوان “21ویں صدی کا خواتین ادب” کا شاندار انعقاد راشٹرماتا اندرا گاندھی آرٹس کامرس اینڈ سائنس کالج میں عمل میں آیا۔ اس قومی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے کہا کہ اردو ادب نے ہمیشہ خواتین قلم کاروں کو عزت، وقار اور مساوی مقام عطا کیا ہے۔انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اردو کا ادبی سرمایہ صرف مرد قلم کاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین اہلِ قلم نے بھی ہر دور میں اردو ادب کو فکری، تخلیقی اور تحقیقی سطح پر مضبوط کیا ہے۔ سید حسین اختر نے کہا کہ مہاراشٹر میں اردو ادب کے فروغ کے لیے جو سہولتیں مردوں کو فراہم کی جاتی ہیں، وہی سہولتیں خواتین قلم کاروں کے لیے بھی دستیاب ہیں، کیونکہ اردو ادب کی ترقی صنفی تفریق کے بغیر ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 21ویں صدی میں خواتین ادب کو درپیش مسائل، امکانات اور نئے رجحانات پر غور و فکر وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسی کانفرنسیں نہ صرف خواتین قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو ادبی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتی ہیں۔اس اجلاس کی صدارت ادارے کے ذمہ دار ست سنگ منڈے نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ان کا ادارہ تمام زبانوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے، اسی فکر کے تحت اردو، مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں خواتین ادب کے موضوع پر یہ قومی کانفرنس منعقد کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد 21ویں صدی میں خواتین کے ادبی کردار کو نمایاں کرنا ہے۔استقبالیہ خطاب میں کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سنندہ تڑکے نے کہا کہ ان کا ادارہ بلا لحاظ مذہب و ملت اور زبان، سبھی کو مساوی تعلیمی و ادبی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ریاست کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے ادبا، محققین اور دانشوروں کا تہہ دل سے استقبال کیا۔کانفرنس کی کنوینیر ڈاکٹر عالیہ کوثر نے کانفرنس کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ادب کو عصری تناظر میں سمجھنا اور اس کی فکری جہتوں کو اجاگر کرنا ہی اس علمی نشست کا بنیادی مقصد ہے۔اردو سیشن میں ڈاکٹر سلیم محی الدین نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے تانیثیت اور تانیسی ادب پر مفصل روشنی ڈالی اور مختلف ادوار میں خواتین کی ادبی خدمات کو حوالوں کے ساتھ پیش کیا۔ اسی طرح مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں کے ماہرین نے بھی اپنے اپنے کلیدی خطبات میں خواتین ادب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔اردو تحقیقی سیشن کی صدارت ڈاکٹر اسلم مرزا نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر مسرت فردوس نے تانیسی ادب میں خواتین قلم کاروں کی نمایاں خدمات پر اظہارِ خیال کیا اور ملک کی مختلف خواتین ادیباؤں کے حوالوں سے ان کی فکری و تخلیقی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر ڈاکٹر رفیع الدین ناصر نے اورنگ آباد کی خواتین قلم کاروں کی اردو سائنسی خدمات پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جب کہ دیگر محققین نے بھی خواتین ادب سے متعلق مختلف عنوانات پر اپنے مقالہ جات پیش کر کے کانفرنس کو علمی وقار بخشا۔پورے پروگرام کی نظامت و کوآرڈینیشن شعبۂ اردو کی صدر ڈاکٹر عالیہ کوثر نے انجام دی۔ انہوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور اظہارِ تشکر کے ساتھ اس عظیم الشان ایک روزہ قومی کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔










رمضان کا دوسرا عشرہ: مغفرت، توبہ اور دل کی اصلاح کا پیغام
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ، جو 11ویں روزے سے شروع ہو کر 20ویں روزے تک جاری رہتا ہے، مغفرت کا عشرہ کہلاتا ہے۔ یہ وہ بابرکت ایام ہیں جب بندہ اپنے گناہوں کی معافی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور سچی توبہ کے ذریعے اپنی زندگی کا رخ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر پہلا عشرہ رحمت کا پیغام لاتا ہے تو دوسرا عشرہ اس رحمت کو مغفرت میں تبدیل کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان خطا کا پتلا ہے، لیکن بہترین وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کر لے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگی جائے اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کا عزم کیا جائے۔ توبہ صرف زبان سے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے ندامت محسوس کرنا اور گناہ کو چھوڑ دینے کا پختہ ارادہ کرنا ہی اصل توبہ ہے۔اس عشرے میں کثرت سے استغفار کی تاکید کی جاتی ہے۔ معروف دعا ہے: اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ یعنی میں اللہ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔علمائے کرام کہتے ہیں کہ استغفار دل کو نرم کرتا ہے، روح کو پاکیزگی بخشتا ہے اور انسان کے اندر مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں نہ صرف اپنے اور اللہ کے درمیان تعلق مضبوط کرنا چاہیے بلکہ لوگوں کے حقوق بھی ادا کرنے چاہئیں۔ اگر کسی کا حق مارا ہو تو واپس کیا جائے، اگر کسی سے ناراضی ہو تو صلح کی جائے، اور اگر دل میں کینہ ہو تو اسے نکال دیا جائے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں سماجی اصلاح کا بھی درس دیتا ہے۔ معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب افراد ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔ جو بندہ دوسروں کو معاف کرتا ہے، اللہ بھی اس کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ اس لیے یہ عشرہ صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے۔ آج کے مصروف اور مادی دور میں انسان گناہوں اور غفلت میں الجھ جاتا ہے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی مصروفیات کے باوجود اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔ سچی توبہ انسان کو نہ صرف آخرت میں کامیابی دیتی ہے بلکہ دنیا میں بھی دل کا سکون عطا کرتی ہے۔یہ ایام ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، قرآن مجید کی تلاوت میں اضافہ کریں، نوافل ادا کریں، اور دل سے اللہ کی بارگاہ میں جھک جائیں۔ کیونکہ شاید یہی وہ لمحہ ہو جب اللہ تعالیٰ ہماری سچی پکار سن کر ہمیں معاف فرما دے اور ہماری تقدیر بدل دے۔ رمضان کا دوسرا عشرہ دراصل امید کا پیغام ہے — یہ یقین کہ اللہ کی رحمت ہر گناہ سے بڑی ہے، اور جو سچے دل سے لوٹ آئے، اس کے لیے مغفرت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

Friday, 27 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




بچوں کے دل کی صحت کو سکرین ٹائم کیسے متاثر کرتا ہے؟
ڈیجیٹل دور میں سمارٹ فون، آن لائن کلاسز، ویڈیو گیمز اور سٹریمنگ بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں لیکن حالیہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ حد سے زیادہ سکرین ٹائم صرف بچوں کی توجہ یا مزاج ہی نہیں بلکہ ان کے دل کی صحت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔’جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق بچوں اور نوعمروں میں تفریحی سکرین ٹائم کا ہر اضافی گھنٹہ دل سے متعلق میٹابولک خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز اور طویل سکرین استعمال بچوں میں موٹاپے، بلڈ پریشر اور شوگر جیسے مسائل سے جُڑا ہوا ہے۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
اس مطالعے میں ڈنمارک کے دو طویل المدتی تحقیقی گروپس کے ایک ہزار سے زائد بچوں اور نوعمروں کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔
سکرین ٹائم کی معلومات والدین یا بچوں سے لی گئیں جبکہ نیند اور جسمانی سرگرمی کو جدید آلات کے ذریعے ناپا گیا۔ دل کی صحت کا جائزہ کمر کے گھیراؤ، بلڈ پریشر، اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل)، ٹرائی گلسرائیڈز اور بلڈ شوگر جیسے عوامل سے لیا گیا۔
نتائج
اس تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج کے مطابق چھ سے 10 سال کے بچوں میں سکرین ٹائم کا ہر اضافی گھنٹہ دل کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔اسی طرح سے 18 سال کے نوعمروں میں یہ خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا جبکہ نیند کا دورانیہ ایک اہم عنصر ثابت ہوا، کم یا دیر سے سونے والے بچوں میں دل کی بیمایوں کے خطرات زیادہ دیکھے گئے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہتر نیند سکرین ٹائم کے کچھ منفی اثرات کو کم کر سکتی ہے۔
پاکستان اور خطے کے لیے اہمیت
اگرچہ یہ تحقیق یورپ میں کی گئی ہے مگر ماہرین کے مطابق اس کے نتائج پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
آن لائن تعلیم، موبائل فون کا بڑھتا استعمال اور جسمانی سرگرمی کی کمی کے باعث بچوں میں موٹاپا اور دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کے سکرین ٹائم کو محدود کریں، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کریں اور جسمانی سرگرمیوں کو روزمرہ معمول کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق آج کی چھوٹی تبدیلیاں مستقبل میں بچوں کے دل کو بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔










کیا بھارتی طلبہ امریکہ سے دور ہو رہے ہیں؟ امریکی یونیورسٹیوں میں داخلوں میں 45 فیصد کمی، بھارتی بی اسکولز میں درخواستوں میں 25 فیصد اضافہ
گریجویٹ مینجمنٹ ایڈمیشن کونسل (GMAC) کی ایک نئی وائٹ پیپر رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں امریکی یونیورسٹیوں میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں 45 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسی عرصے کے دوران بھارتی مینجمنٹ پروگرامز میں بین الاقوامی درخواستوں میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس تبدیلی کو عالمی بزنس ایجوکیشن کے رجحانات میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ، جو GMAC کے 2025 ایپلیکیشن ٹرینڈز سروے پر مبنی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طویل عرصے سے عالمی تعلیم کے میدان میں غالب رہنے والا شمالی امریکہ اب اپنی کشش کھو رہا ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ نئی ترجیحات کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ویزا پالیسی میں تبدیلیاں، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی تعلیمی لاگت طلبہ کے فیصلوں پر اہم اثر ڈال رہی ہیں۔امریکہ کی مقبولیت میں کمی، یورپ اور ایشیا کا بڑھتا رجحان
رپورٹ کے مطابق 2025 میں یورپ (برطانیہ کے علاوہ) اور ایشیا میں بین الاقوامی درخواستوں میں اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں کمی دیکھی گئی۔ شمالی امریکہ میں غیر ملکی طلبہ کی کم ہوتی دلچسپی کو مقامی درخواستوں میں اضافے سے پورا نہیں کیا جا سکا۔

GMAC کے ایک سروے کے مطابق امریکہ کو ترجیح دینے والے غیر امریکی طلبہ کا تناسب 2019 کے 57 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 42 فیصد رہ گیا۔ اس کے برعکس مغربی یورپ کی مقبولیت 63 فیصد پر برقرار رہی جبکہ ایشیا اور مشرقی یورپ میں دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

وسطی اور جنوبی ایشیا کے طلبہ کی جانب سے اپنے ہی خطے کے تعلیمی اداروں میں درخواستوں میں اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی مینجمنٹ تعلیم میں ریجنلائزیشن کا رجحان تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔

عالمی تعلیمی نقل و حرکت میں بھارت کا دوہرا کردار
اس بدلتے منظرنامے میں بھارت ایک منفرد کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف اب بھی بھارتی بزنس اسکولز میں سے دو پانچویں ادارے امریکہ کو بین الاقوامی طلبہ کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن دوسری جانب بھارتی مینجمنٹ پروگرامز میں بیرون ملک سے درخواستوں میں 25 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اب صرف طلبہ بھیجنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی تعلیمی مرکز کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

361 بزنس اسکولز پر مشتمل ایک GMAC سروے کے مطابق ایشیا پیسیفک خطے کے 54 فیصد پروگرامز میں 2025 کے فال سیشن میں بین الاقوامی داخلوں میں اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ کے دو تہائی اداروں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

ویزا مسائل بھارتی طلبہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ
رپورٹ کے مطابق امریکی جامعات میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں 45 فیصد کمی کی سب سے بڑی وجہ ویزا سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ مئی 2025 میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ ویزا انٹرویوز کو عارضی طور پر معطل کرنے سے درخواستوں کے عمل میں شدید تاخیر پیدا ہوئی۔

متعدد بھارتی طلبہ، جنہوں نے داخلہ حاصل کرنے کے بعد فیس بھی جمع کرا دی تھی، ویزا انٹرویوز اور منظوری میں تاخیر کے باعث مقررہ وقت پر اپنی تعلیم شروع نہ کر سکے۔

GMAC کے مطابق امریکہ کے 90 فیصد تعلیمی اداروں نے بتایا کہ فیس جمع کرانے کے باوجود داخلہ نہ لینے والے طلبہ میں سب سے زیادہ تعداد بھارت سے تھی، جس کی بنیادی وجہ ویزا تاخیر، انکار اور انٹرویو مسائل تھے۔

سیاسی ماحول نے بھی طلبہ کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 کے بعد امریکی تعلیمی پروگرامز میں بین الاقوامی دلچسپی مسلسل کم ہوئی، اور دسمبر 2025 تک 40 فیصد طلبہ نے کہا کہ وہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات کم سمجھتے ہیں۔

پوسٹ اسٹڈی ورک اور کرنسی بحران کا اثر
ویزا مسائل کے علاوہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے مواقع سے متعلق غیر یقینی صورتحال بھی اہم عنصر بن گئی ہے۔ بھارتی طلبہ عام طور پر مہنگی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پوسٹ اسٹڈی ورک پر انحصار کرتے ہیں، لیکن H-1B ویزا پالیسی اور امیگریشن قوانین کے ممکنہ سخت ہونے کی اطلاعات نے طلبہ کو محتاط بنا دیا ہے۔اسی طرح OPT پروگرام، جو F-1 ویزا پر تعلیم مکمل کرنے کے بعد 12 ماہ کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

مزید یہ کہ ستمبر 2025 میں بھارتی روپے کی قدر میں تاریخی کمی نے بیرون ملک تعلیم کی لاگت مزید بڑھا دی، جس کے نتیجے میں طلبہ اب مہنگے مغربی اداروں کے بجائے کم خرچ متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں سے امریکہ بھارتی طلبہ کے لیے سب سے پسندیدہ تعلیمی مقام رہا ہے، خاص طور پر انجینئرنگ اور بزنس مینجمنٹ کے شعبوں میں۔ تاہم حالیہ برسوں میں سخت امیگریشن قوانین، بڑھتی ہوئی ٹیوشن فیس، عالمی معاشی دباؤ اور ایشیائی تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری نے عالمی تعلیمی رجحانات کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

بھارت میں آئی آئی ایمز اور دیگر نجی بزنس اسکولز کی عالمی درجہ بندی میں بہتری، نسبتاً کم فیس اور بڑھتے صنعتی مواقع نے بھی ملکی اداروں کو زیادہ پرکشش بنا دیا ہے۔










کولکتہ میں ہوئی بارش تو کون کھیلے گا تو سیمی فائنل ؟ ٹیم انڈیا یا ویسٹ انڈیز ، اتوار کو کیسا رہے گا ایڈن گارڈنز کا موسم ؟ کس ٹیم کو زیادہ خطرہ ؟
India vs West indies: نئی دہلی۔ اتوار، 1 مارچ 2026 کو، کولکتہ کے تاریخی ایڈن گارڈنز میں T20 ورلڈ کپ کا ایک ایسا میچ ہونے جارہا ہے جسے “ورچوئل کوارٹر فائنل” کہنا غلط نہیں ہوگا ۔ دفاعی چیمپئن بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والا یہ میچ اس بات کا تعین کرے گی کہ کون سی ٹیم سیمی فائنل میں جگہ پانے میں کامیاب ہوگی ۔ ہندوستانی شائقین صرف بلے بازوں کے چھکوں پر ہی نہیں بلکہ کولکتہ کی اسکائی لائن پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں کیونکہ بارش کھیل کے پوری مساوات کو بگاڑ سکتی ہے۔

سپر 8 مرحلے کے دلچسپ موڑ پر، ہندوستان اور ویسٹ انڈیز دونوں کے پاس 2-2 پوائنٹس ہیں۔ جنوبی افریقہ اس گروپ سے پہلے ہی سیمی فائنل میں جگہ بنا چکا ہے۔ اب دوسری پوزیشن کا مقابلہ سیدھا ہے۔ اگر ہندوستان جیت جاتا ہے، تو وہ 4 پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا، اور نیٹ رن ریٹ (NRR) کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔ اگر ویسٹ انڈیز جیت جاتا ہے تو کیریبین ٹیم 4 پوائنٹس کے ساتھ آگے بڑھ جائے گی، اور بھارت ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا۔بارش ہوئی تو کون جیتے گا؟
شائقین کرکٹ کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر کولکتہ میں بارش ہوئی اور میچ واش آؤٹ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق سپر 8 میچوں کے لیے کوئی ریزرو ڈے نہیں ہے۔ اگر میچ نہیں ہوتا ہے، تو دونوں ٹیموں کو ایک ۔ ایک پوائنٹ ملے گا، اور ہر دونوں ٹیموں کے تین ۔ تین پوائنٹس ہو جائیں گے۔ ایسی صورتحال میں فیصلہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ویسٹ انڈیز کا NRR +1.791 ہے، اور ہندوستان کا NRR -0.100 ہے۔ واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز کا رن ریٹ ہندوستان کے مقابلے بہت بہتر ہے۔ لہذا، اگر میچ واش آؤٹ ہوجاتا ہے تو ویسٹ انڈیز سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرے گا، اور ٹیم انڈیا کا ورلڈ کپ سفر ختم ہو جائے گا۔

ایڈن گارڈنز ویدر اینڈ پچ رپورٹ
اچھی خبر یہ ہے کہ اتوار کو کولکتہ میں بارش کا بہت کم امکان ہے۔ محکمہ موسمیات اور مختلف رپورٹس کے مطابق بارش کا امکان 0فیصد ہے۔ اتوار کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت دن کے دوران 34 ° C اور میچ کے دوران 25-26 ° C کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ ایڈن گارڈنز کی پچ کو بلے بازوں کے لئے بہتر مانی جاتی ہے ، لیکن شام کے وقت اسپنرز کو بھی مدد مل سکتی ہے۔

ٹیم انڈیا کا شاندار فارم
ہندوستان نے زمبابوے کے خلاف 256/4 کا بڑا اسکور بنا کر اپنی فارم کا مظاہرہ کیا۔ ابھیشیک شرما (55)، ہاردک پانڈیا (50 ناٹ آؤٹ)، اور تلک ورما (44) کی بیٹنگ پرفارمنس نے شائقین کی توقعات کو بڑھا دیا ہے۔ کپتان سوریہ کمار یادو اور کوچ گمبھیر کی حکمت عملی اب ویسٹ انڈیز کے پاور ہٹرز پر قابو پانے کی ہوگی۔ ایک بات تو صاف ہے کہ اتوار کا دن ٹیم انڈیا کے لیے کرو یا مرو کا دن ہے، انہیں صرف اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔

*🔴سیف نیوز اردو*

کیا خامنہ ای ڈونلڈ ٹرمپ کو مروانا چاہتے تھے؟ امریکی صدر کے اس بیان کا مطلب کیا ؟ سمجھئے ڈر کی وجہ ایران کے سپریم لیڈ...