Sunday, 8 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*





آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر جموں و کشمیر میں غم و احتجاج بھڑک اٹھا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد جموں و کشمیر میں بھی غم اور احتجاج کا ماحول دیکھنے میں آ رہا ہے۔ وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے جبکہ کئی جگہوں پر مساجد اور امام باڑوں میں سوگ منایا گیا۔ سری نگر کے لال چوک سے لے کر بڈگام، بانڈی پورہ، کولگام اور گلمرگ تک لوگوں نے ماتم کیا اور احتجاجی مظاہرے کیے۔

سری نگر میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر پھیلتے ہی سوگ کی فضا قائم ہو گئی۔ لال چوک اور اطراف کے علاقوں میں لوگ جمع ہو کر ماتم کرتے رہے۔ کئی افراد کی آنکھیں اشکبار تھیں اور فضا غمزدہ نظر آئی۔ بعض مقامات پر لوگوں نے امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی اور حملے کی مذمت کی۔بڈگام میں بھی خامنہ ای کی وفات کی خبر کے بعد سوگ کا ماحول دیکھا گیا۔ بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور مرحوم کے لیے دعائیں کی گئیں۔ پورا علاقہ غم میں ڈوبا نظر آیا اور کئی لوگوں نے اسے مسلم دنیا کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔بانڈی پورہ میں خبر پہنچتے ہی بڑی تعداد میں لوگ مساجد میں جمع ہو گئے۔ مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز سے رونے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور خامنہ ای کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ پورا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا دکھائی دیا۔

بانڈی پورہ کے سوناواری اور سمبل علاقوں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے جلوس نکالا اور خامنہ ای کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ خواتین، بزرگ اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے دیوسر علاقے میں بھی احتجاج دیکھنے کو ملا۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اس واقعے کے خلاف آواز بلند کی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر بڑی بھیڑ جمع ہوتی دیکھی گئی۔

گلمرگ اور اطراف کے علاقوں میں بھی سوگ منایا گیا۔ مگام اور پٹن میں امام باڑوں سے اعلانات کیے گئے جس کے بعد لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ مرحوم کے لیے دعائیں مانگی گئیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کیا گیا۔

پلوامہ میں بھی بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر خامنہ ای کی موت پر غم کا اظہار کیا اور حملے کی مذمت کی۔ ریلی میں مقامی افراد کی بڑی تعداد شریک تھی۔

وادی کے مختلف علاقوں سے آنے والی تصاویر میں غم اور غصہ دونوں دکھائی دیے۔ کہیں لوگ روتے ہوئے نظر آئے تو کہیں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مساجد اور امام باڑوں میں دعائیں اور تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ اس خبر نے جموں و کشمیر کے کئی علاقوں کو سوگوار کر دیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبر نے نہ صرف ایران بلکہ جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کو بھی غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ وادی میں ایک طرف لوگ سوگ منا رہے ہیں تو دوسری جانب کئی جگہ احتجاج بھی جاری ہے۔











امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے جوہری ذخیرے پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے پرغور، مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کا امکان
واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایکسيوس کی رپورٹ کے مطابق اس بارے میں دونوں ممالک کے درمیان خفیہ سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کی کارروائی جنگ کے بعد کے مرحلے میں کی جا سکتی ہے۔ چار ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری اثاثے اس وقت جاری تنازع میں ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک ہدف بن چکے ہیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسے مہلک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق: ’’اگر آپ امریکیوں کو قتل کریں گے یا دنیا میں کہیں بھی انہیں دھمکائیں گے تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ کو تلاش کرکے ختم کر دیں گے۔‘‘ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بحریہ کے 44 جہاز تباہ کیے گئے، فضائیہ کے بیشتر طیارے تباہ کر دیے گئے، بیشتر میزائل نظام اور لانچرز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت اب پہلے کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے۔

لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی ذمہ داری سے انکار

ایران میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر بمباری کی خبروں پر امریکی صدر نے امریکہ کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ ایرانی ہتھیاروں کی غلطی یا تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ اگرچہ سفارتی حل کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ایران یورینیم افزودگی کے حق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ

یہ تمام پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر داغے، جن میں اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔

اس دوران اسرائیلی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں سے ایران کی فوجی لاجسٹک اور انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔










پہلی ہی کوشش میں سی اے فاؤنڈیشن امتحان میں شاندار کامیابی
حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل نے تعلیمی میدان میں نمایاں کارنامہ انجام دیا
حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل نے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے ابتدائی مرحلے سی اے فاؤنڈیشن (C.A Foundation) کا امتحان پہلی ہی کوشش (First Attempt) میں کامیابی کے ساتھ پاس کر کے ایک قابلِ قدر تعلیمی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب اور تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حافظ تنزیل انجم مظہر جمیل، نیو ارا انگلش میڈیم اسکول کے چیئرمن اظہر مہدی سر کے بھتیجے ہیں۔ ان کی اس کامیابی پر مختلف سماجی و تعلیمی شخصیات کی جانب سے مبارکباد پیش کی جا رہی ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سی اے فاؤنڈیشن چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے مشکل اور اہم مراحل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جسے پہلی ہی کوشش میں کامیابی کے ساتھ پاس کرنا بڑی محنت، لگن اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ حافظ تنزیل کی یہ کامیابی نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔

آخر میں اہلِ خانہ اور احباب نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ مراحل میں بھی کامیابی عطا فرمائے اور وہ قوم و ملت کا نام روشن کریں۔ آمین

*🔴سیف نیوز اردو*






ایران جنگ میں ہتھیارہی نہیں حربے بھی کررہاہے استعمال ، چین سے خریدے اسپیشل ہتھیار،امریکی فوج پریشان
ایران امریکہ جنگ کی خبریں نہ صرف مین اسٹریم میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پرچھائی ہیں ۔ حال ہی میں اسرائیلی ڈیفنس فورس نے ایران میں ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر پر حملے کی ویڈیو شیئر کی تھی جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئی ۔ اس ویڈیو میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ایرانی فوجی طیارے کو تباہ کر دیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا یوزر کا کہنا ہے کہ وہ پینٹ کیے ہوئے لگ رہے ہیں ۔ اب اسی طرح کے ایک اور حربے کی ایک ویڈیو وائرل ہے، جسے ایران اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

دراصل ، اس بحث کے دوران ایک اور دعویٰ سامنے آیا کہ ایران نے چین سے خصوصی ہتھیاروں کی پوری کھیپ منگوائی ہے، جسے امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جی پی ایکس پریس کی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے چین سے 900,000 سے زیادہ نقلی ہتھیار درآمد کیے ہیں، جن میں ٹینکوں، میزائل بردار جہازوں اور بیلسٹک میزائلوں کے ماڈل شامل ہیں۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں ہوا بھردینے کے بعدیہ دور سے بالکل اصلی ٹینکوں اور میزائلوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ آسمان میں اڑنے والے لڑاکا طیارے انہیں نشانہ بنانے کی غلطی کرتے ہیں لیکن ان کے مہنگے میزائل ضائع ہو جاتے ہیں۔

ٹینکرز، میزائل…اور الجھن
اس طرح کے کھلونے چین میں بڑے پیمانے پر تیار کیے جاتے ہیں اور مقبول ہوتے ہیں، ایران ان انفلٹیبل فرضی ہتھیاروں کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔ حالانکہ ہم جی پی ایکس پریس کی پوسٹ کی تصدیق نہیں کرتے،لیکن اگر ایران ایسا کر رہا ہے، تو یہ دو دشمنوں کو چکما دینےکی دلچسپ چال ہے۔ ہم جو معلومات فراہم کرتے ہیں وہ سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی ہے اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔سوشل میڈیا پر لوگ اس ویڈیو اور نقلی ہتھیاروں کی خبروں کا مذاق اڑا رہے ہیں اور بحث بھی کر رہے ہیں۔ ایک یوزرنے لکھا کہ تصور کریں کہ امریکی فضائیہ لاکھوں ڈالر مالیت کے میزائلوں کو صرف ایک غبارہ اڑانےکے لیے استعمال کر رہی ہے۔ 900,000 نقلی ماڈلز، ایک پوری ’ڈیکوائے انڈسٹری‘! ایک اوریوزرنے سوال کیا کہ ’ان 3000 حملوں میں کتنے حقیقی اہداف کو نشانہ بنایا گیا؟ اگر ایران واقعی اتنے نقلی ہتھیار لے کر آیا تو امریکہ 500 ڈالر کے غباروں پر کروڑوں ڈالر کے بم کیوں گرا رہا ہے؟ ایک تیسرے نے مذاق میں کہا’میں نے یہ دیکھنے کے لیے چیک کیا کہ آیا یہ ٹینک عوام کے لیے فروخت کے لیے دستیاب ہیں، اور ہاں، بہت سارے ماڈل موجود ہیں!مہنگے ہتھیاروں کے مقابلے سستی ترکیب ہٹ
اس سے قبل، اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے 4 مارچ کو ایک انفراریڈ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد سوالات اٹھائے گئے تھے، جس میں ایران میں دو مقامات پر دھماکے دکھائے گئے تھے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں ایرانی فوجی اثاثےاور عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔
سوشل میڈیا یوزر نے نوٹ کیا کہ دھماکے کے بعد ہیلی کاپٹر کے روٹر نہیں گھومے، اردگرد کا علاقہ متاثر نہیں ہوا، اور یہ ایک 3D anamorphic تصویر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ حقیقی طیارہ۔ کچھ یوزر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سیٹلائٹ کی تصاویر میں برسوں سے ایک ہی ہوائی جہاز کو دکھایا گیا ہے، جس سے لگتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی جہاز نہیں بلکہ پینٹنگ ہے۔










خلیجی جنگ کا دوسراہفتہ: دونوں جانب سے حملوں میں شدت، ایران کی قید میں کئی امریکی فوجی ،علی لاریجانی کا دعویٰ
خلیجی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے اور پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھلس رہا ہے بلکہ اس میں مزیدشدت آگئی ہے۔ ہفتے کے روز دونوں جانب سے مسلسل حملے جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔

تہران سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہیں ایران نے بھی ہمسایہ ممالک پر حملے کیے ہیں ۔ ایران نے یواے ی ، کویت،سعودی عرب اور بحرین سمیت دیگر مقامات پر حملے کیے ہیں ۔ادھر،اسرائیل نے لبنان پر بھی حملے کیے ۔

ایران کی تیل تنصیبات پربمبادی
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے آئل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ بیتی رات جنوبی تہران اور شمال مغربی تہران میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔حملوں کے بعد شعلے اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا ۔اسرائیل کا دعویٰ کیا کہ یہ فوجی انفراسٹرکچر کی معاونت اور فوجی اداروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

ایران کا کویت،دبئی اور بحرین پرحملہ

ادھر،ایران نے بھی خلیجی ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔دبئی کے مرینا ٹاور پرڈرون حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں عمارت آگ لگ گئی۔کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فیول ٹینک پربھی ایران کی جانب سے ڈورن حملہ کیا گیا۔سعودی عرب میں بھی امریکی فوجی اڈے پر دھماکے ہوئے ہیں۔ایران کی قید میں کئی امریکی فو جی:لاریجانی کا دعویٰ
اس بیچ،ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربڑا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کئی امریکی فوجی کے ایران کی قید میں ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ امریکہ دعویٰ کررہا ہے کہ وہ کارروائی میں مارے گئے ہیں ۔یہ لاحاصل سعی ہے۔سچائی زیادہ دیر تک وہ چھپا نہ سکیں گے۔












مغربی ایشیا میں کہرام کے درمیان اب تک بحفاظت لوٹے 52 ہزار ہندوستانی، ایئر اسپیس کھلتے ہی ریسکیو آپریشن شروع
نئی دہلی: مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں تیزی سے بدلتے حالات نے پوری دنیا کی تشویش بڑھا دی ہے۔ حکومتِ ہند وہاں کے حالات پر پل پل نظر رکھے ہوئے ہے۔ خاص طور پر اُن ہندوستانی شہریوں کی سلامتی سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہے جو ٹرانزٹ یا مختصر سفر پر وہاں گئے ہوئے تھے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت اس کی پہلی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے دہلی میں ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ یہ کنٹرول روم متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے مسائل کا فوری حل فراہم کر رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ ہند نے تمام سفارت خانوں کو الرٹ موڈ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق صورتحال کشیدہ ضرور ہے مگر قابو میں ہے۔

خلیجی ممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کے لیے نئی گائیڈ لائن کیا ہے؟حکومتِ ہند نے تمام شہریوں کے لیے ضروری ایڈوائزری جاری کی ہے۔ وہاں موجود افراد کو مقامی حکام کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ ہندوستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں نے 24×7 ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔ ان ہیلپ لائنز کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد طلب کی جا سکتی ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفارت خانے کی ویب سائٹ پر مسلسل اپڈیٹس چیک کرتے رہیں، بلاوجہ ادھر اُدھر نہ گھومیں اور محفوظ مقامات پر ہی قیام کریں۔ حکومت ہر ہندوستانی شہری کی لوکیشن ٹریک کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد پہنچائی جا سکے۔52 ہزار ہندوستانی کیسے موت کے منہ سے نکل کر وطن واپس پہنچے؟
گزشتہ چند دنوں میں فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد ریسکیو آپریشن میں تیزی آ گئی ہے۔ 1 مارچ سے 7 مارچ 2026 کے درمیان 52,000 سے زائد ہندوستانی شہری بحفاظت ہندوستان واپس لوٹ چکے ہیں۔ ان میں سے 32,107 مسافروں نے ہندوستانی ایئرلائنز کے ذریعے سفر کیا، جبکہ باقی مسافر غیر ملکی کمرشیل پروازوں اور نان شیڈیولڈ فلائٹس کے ذریعے واپس آئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتِ ہند کتنی مستعدی سے کام کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید خصوصی پروازیں بھی منصوبہ بند کی گئی ہیں۔ جن ممالک میں ابھی کمرشیل پروازیں بند ہیں وہاں موجود لوگوں کو قریبی ایئرپورٹ تک پہنچنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔اگر آپ کی فلائٹ منسوخ ہو گئی ہے تو اب کیا کریں؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی رشتہ دار وہاں پھنس گیا ہے تو سب سے پہلے ہندوستانی سفارت خانے میں رجسٹریشن کروائیں۔ جن مقامات پر پروازیں دستیاب نہیں ہیں وہاں سفارت خانے متبادل راستوں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ ہند کی ویب سائٹ پر کنٹرول روم کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ حکومت خلیجی ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ہندوستانی شہری کو کاغذی کارروائی یا لاجسٹک مسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایئرلائنز کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پھنسے ہوئے مسافروں کو ترجیح دیں۔ جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، پروازوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

Saturday, 7 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




یو پی ایس سی میں کل 53 مسلم امیدوار کامیاب، یہاں دیکھیں فہرست
یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے جمعہ کو 2025 کے سول سروسز امتحان (سی ایس ای) کے حتمی نتائج کا اعلان کیا۔ انوج اگنی ہوتری نے امتحان میں ٹاپ کیا، راجیشوری سووے ایم اور اکانش دھول بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

کمیشن نے کہا کہ کل 958 امیدواروں نے امتحان کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور انہیں مختلف مرکزی سول خدمات میں تقرری کے لیے سفارش کی گئی ہے۔ سول سروسز کا امتحان ہر سال تین مرحلوں میں لیا جاتا ہے: پریلیمنری، مین اور انٹرویو۔ یو پی ایس سی کے ذریعے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (IAS)، انڈین فارن سروس (IFS) اور انڈین پولیس سروس (IPS) کے افسران کو منتخب کیا جاتا ہے۔

53 مسلم امیدوار کامیاب:

سول سروسز 2025 کے امتحانات میں مسلمانوں کے نتائج میں پچھلے سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔ سول سروسز 2025 کے امتحانات میں کامیاب ہونے والے 958 امیدواروں کی فہرست میں تقریباً 53 مسلم امیدوار شامل ہیں۔ ٹاپ 100 میں چار مسلم امیدواروں نے جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں اے آر راجہ محی الدین، عفرا شمس انصاری، نبیہ پرویز اور حسن خان کے نام شامل ہیں۔ واضح رہے یو پی ایس سی 2024 میں صرف 26 مسلم امیدوار ہی کامیابی حاصل کر پائے تھے۔ یو پی ایس سی 2025 کے نتائج یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ سول خدمات میں مسلم نوجوانوں کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ مسلسل اپنی محنت، عزم اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

کامیاب مسلم امیدواروں کی فہرست
سیریل نمبر نام رینک
1 اے آر راجہ محی الدین 7
2 عفراء شمس انصاری 24
3 نبیہ پرویز 29
4 حسن خان 95
5 عرفہ عثمانی 124
6 خان صائمہ سراج احمد 135
7 وسیم الرحمن 157
8 صوفیہ صدیقی 253
9 توصیف احمد گنائی 254
10 منتشا 307
11 اسد عقیل 321
12 محمد اشتیاق الرحمن 354
13 محمد اشمِل شاہ 382
14 شاہدہ بیگم ایس 411
15 شاداب علی خان 415
16 محمد صلوٰہ ٹی اے 429
17 شعیب 455
18 نازیہ پروین 478
19 شیخ محمد حبیب الدین ایس 485
20 شیخ محمد نشاط ایم 495
21 منہاج شکیل 513
22 گل فضا 535
23 ہاشمی محمد عمر 549
24 شاہ رخ خان 575
25 اثنا انور 576
26 منیب افضل پرہ 581
27 عظیم احمد 588
28 شائستہ پروین 614
29 نور عالم 625
30 محمد عرفان قیام خانی 646
31 محسنہ بانو 648
32 غلام محی الدین 663
33 دانش ربانی خان 665
34 محمد نایاب انجم 668
35 محمد ابوذر انصاری 671
36 انصا خان 678
37 عبد السفیان 695
38 فیروز فاطمہ ایم 708
39 محمد ہاشم 713
40 محمد سہیل 718
41 توصیف اللہ خان 741
42 کوہِ صفا 763
43 ثناء اعظمی 764
44 ریشما ایم 773
45 یاسر احمد بھٹی 811
46 غلام حیدر 832
47 محمد شیزن سی پی 860
48 محمد اعجاز الرحمٰن 869
49 اظہر آصف خان 886
50 محمد سرفراز چودھری 936
51 عبداللہ آفریدی اے 942
52 محمد شاہد رضا خان 955
53 عرفان احمد لون 957

مسلم امیدواروں کا ماضی کا ریکارڈ
سال کل کامیاب امیدوار کامیاب مسلم امیدوار
2009 791 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2010 875 امیدوار کامیاب 21 مسلم امیدوار
2011 920 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2012 998 امیدوار کامیاب 30 مسلم امیدوار
2013 1122 امیدوار کامیاب 34 مسلم امیدوار
2014 1236 امیدوار کامیاب 38 مسلم امیدوار
2015 1078 امیدوار کامیاب 34 مسلم امیدوار
2016 1099 امیدوار کامیاب 52 مسلم امیدوار
2017 990 امیدوار کامیاب 50 مسلم امیدوار
2018 759 امیدوار کامیاب 27 مسلم امیدوار
2019 829 امیدوار کامیاب 42 مسلم امیدوار
2020 761 امیدوار کامیاب 31 مسلم امیدوار
2021 685 امیدوار کامیاب 21 مسلم امیدوار
2022 933 امیدوار کامیاب 30 مسلم امیدوار
2023 1016 امیدوار کامیاب 51 مسلم امیدوار
2024 1009 امیدوار کامیاب 26 مسلم امیدوار
جموں کشمیر کے 17 امیدوار کامیاب:

جموں کشمیر کے 17 امیدواروں نے 2025 کے باوقار یو پی ایس سی سول سروسز امتحان میں کوالیفائی کیا ہے۔ آل انڈیا رینک 148 کے ساتھ سوون شرما یو ٹی میں سر فہرست ہیں۔ سوگندھا گپتا کو 207 واں، توصیف احمد گنائی کو 245 واں اور ریتیکا بھان کو 456واں رینک حاصل ہوا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رہائشی کوچنگ کے 48 امیدوار کامیاب

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رہائشی کوچنگ اکیڈمی (آر سی اے)،سینٹر فار کوچنگ اینڈ کیرئیر پلاننگ کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ یہاں کے 38 امیدواروں نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان 2025 کے نتائج میں امتیازی کامیابی حاصل کی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ چار امیدواروں نے ٹاپ 50 میں جگہ بنائی اور آل انڈیاسطح پر 7واں، 14واں، 24واں اور 29واں مقام حاصل کیا ہے۔








رام رحیم کو صحافی قتل کیس میں ہائی کورٹ نے بری کردیا: متاثرہ خاندان سپریم کورٹ جانے کا اعلان
پنچکولہ: گرمیت رام رحیم سنگھ، جو کہ ڈیرا سچا سودا کے سربراہ اور خود ساختہ مذہبی پیشوا ہیں، کو ہفتہ کے روز پنجاب اینڈ ہریانہ ہائیکورٹ نے 2002 میں سرسا کے صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل کے مقدمے میں بری کر دیا۔ تاہم وہ بدستور جیل میں رہیں گے کیونکہ انہیں اپنے دو پیروکاروں سے زیادتی کے مقدمے میں 20 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیل ناگو اور جسٹس وکرم اگروال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 2019 میں خصوصی سی بی آئی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے بعد رام رحیم کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے مقدمے کے شواہد، خصوصاً فائرنگ میں استعمال ہونے والی گولیوں سے متعلق تنازعے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تاہم عدالت نے اس مقدمے میں شامل دیگر ملزمان کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

یاد رہے کہ صحافی رام چندر چھترپتی، جو اخبار “پورا سچ” چلاتے تھے، کو 24 اکتوبر 2002 کی شام سرسا میں ان کے گھر کے باہر گولی مار دی گئی تھی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تقریباً ایک ماہ بعد 21 نومبر کو دم توڑ گئے۔

ابتدائی طور پر یہ مقدمہ سرسا پولیس نے درج کیا تھا، تاہم بعد میں چھترپتی کے بیٹے انشل چھترپتی کی درخواست پر ہائی کورٹ نے تفتیش سی بی آئی کے حوالے کر دی۔ سی بی آئی نے تحقیقات کے بعد رام رحیم سمیت چار افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی۔ جنوری 2019 میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے رام رحیم اور ان کے تین قریبی ساتھیوں کو قتل کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے انشول چھترپتی نے اسے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ خاندان اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہماری قانونی جدوجہد 2002 میں شروع ہوئی تھی اور ہم انصاف کے حصول تک یہ لڑائی جاری رکھیں گے۔









روزہ رکھنے والے افراد کیا کھائیں، کیا پئیں اور کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
رمضان کے دوران سماجی زندگی خاصی متحرک ہوتی ہے اور لوگ افطار کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کو افطار پر مدعو کرتے ہیں یا خود مدعو ہوتے ہیں۔
یہ دعوتیں افطار اور سحری کے دسترخوانوں پر ہوتی ہیں جو عمدہ اور متنوع کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دوران بعض افراد جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض غیر صحت مند غذائی عادات کی وجہ سے اپنی بیماری کو بہتر طور پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔
اس پس منظر میں عالمی ادارہ صحت نے رمضان کے لیے کچھ رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف وزن کم کیا جاسکتا ہے بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں بھی کمی لایا جاسکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی ہے کہ ان عادات کو روزوں کے بعد بھی برقرار رکھا جائے۔
عمومی ہدایات:
وافر مقدار میں پانی پئیں (کم از کم 10 گلاس) اور پانی سے بھرپور غذائیں جیسے سوپ، تربوز اور سبز سلاد استعمال کریں۔
کیفین والے مشروبات جیسے کافی، چائے اور کولا سے پرہیز کریں، کیونکہ کیفین پیشاب کی مقدار بڑھا کر جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ چینی والے مشروبات اضافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔
زیادہ درجہ حرارت میں دھوپ سے بچیں اور ٹھنڈی، سایہ دار جگہ پر رہیں۔
افطار میں کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں؟
توانائی بحال کرنے کے لیے متوازن اور صحت بخش افطار کریں۔ روزہ کھولنے کے لیے تین کھجوریں کھائیں، کھجور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔
افطار میں وافر مقدار میں سبزیاں شامل کریں تاکہ ضروری وٹامنز اور غذائی اجزا حاصل ہوں۔ ثابت اناج استعمال کریں جو توانائی اور فائبر فراہم کرتے ہیں۔گرل یا بیک کیا ہوا کم چکنائی والا گوشت، چکن اور مچھلی استعمال کریں تاکہ صحت مند پروٹین حاصل ہو۔
تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی یا چینی والی پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں۔ آہستہ کھائیں اور حد سے زیادہ کھانے سے بچیں۔
سحری میں کیا کھائیں؟
وہ افراد جو روزہ رکھتے ہیں خصوصاً بزرگ ، نوجوان، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین روزانہ ہلکی سحری ضرور کریں۔
سحری میں سبزیاں، ثابت گندم کی روٹی یا بن، پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے پنیر، دودھ یا انڈا شامل کریں۔
مٹھائیوں کا استعمال محدود رکھیں، کیونکہ رمضان میں استعمال ہونے والی اکثر مٹھائیاں چینی کے شیرے سے بھرپور ہوتی ہیں۔
میٹھے کے طور پر پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، خربوزہ یا موسمی پھل مثلاً آڑو یا نیکٹرین بہتر انتخاب ہیں۔زیادہ چکنائی والی غذاؤں خصوصاً چربی والے گوشت، پف پیسٹری یا مکھن/مارجرین والی اشیا سے پرہیز کریں۔
نمک اور چکنائی سے متعلق احتیاط:
تلنے کے بجائے اسٹیم میں پکانا، ہلکے تیل میں ہلکا فرائی کرنا، سالن میں پکانا یا بیک کرنا بہتر رہے گا۔
زیادہ نمک والی اشیا جیسے ساسیجز، پراسیسڈ اور نمکین گوشت یا مچھلی، زیتون، اچار، سنیکس، نمکین پنیر، تیار شدہ کریکرز، سپریڈز اور ساسز (مایونیز، مسٹرڈ، کیچپ) سے پرہیز کریں۔
کھانا بناتے وقت نمک کم سے کم استعمال کریں اور دسترخوان پر نمک دان نہ رکھیں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے مختلف جڑی بوٹیاں استعمال کریں۔
اپنی ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں کھائیں اور آہستہ کھائیں، کیونکہ زیادہ کھانا سینے کی جلن اور بے آرامی کا باعث بنتا ہے۔
شام کے اوقات میں باقاعدہ چہل قدمی جیسی ہلکی جسمانی سرگرمی اپنانے کی کوشش کریں۔

*🔴سیف نیوز اردو*




عاصم منیر کی افغانستان کو سخت وارننگ ، کہا، پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کا استعمال نہیں کیا جائے گا کسی بھی قیمت پر برداشت
اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دونوں جانب سے صرف بندوقوں کی آواز ہی سنائی دے رہی ہے۔ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں اور بھاری نقصانات کے درمیان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کہیں نظر نہیں آرہے تھے لیکن وہ اچانک نمودار ہوئے اور دہشت گردی کے بارے میں علم دیتے نظر آئے ۔

منیر پاکستان افغانستان جنگ پر بات کر رہے ہیں

سرحد پر طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں بری طرح مار کھانے اور اپنی پوسٹوں کو تباہ ہوتے دیکھ کر پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بالآخر خواب غفلت سے بیدار ہوئے ۔ جب پاکستانی فوجی اپنی جان بچا کر راہ فرار اختیار کررہے تھے تب ، منیر کہیں نظر نہیں آرہے تھے لیکن اب وہ اچانک سامنے آئے ہیں اور افغانستان کو دہشت گردی کے بارے میں “علم” دے رہے ہیں ۔ عاصم منیر کی فوج کو جب افغان فوج نے اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا تو انہیں ’’امن‘‘ اور ’’شرافت‘‘ یاد آنے لگی ہے۔پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر افغان فوجیوں سے خوفزدہ ہیں۔ پاکستانی فوجیوں کو سرحد پر آمنے سامنے لڑائی میں شکست کا سامنا کرتے دیکھ کر انہوں نے اپنی شکست کا نیا بہانہ نکالا۔ منیر کا خیال ہے کہ افغانستان کو ضرور مدد مل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پاکستانی فوجیوں کو افغانوں نے بری طرح مارا
افغان جنگجوؤں نے بھاری ہتھیاروں اور مارٹروں سے ان پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے سرحد پر تعینات پاکستانی فوجی اپنی پوسٹوں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ کئی مقامات پر پاکستانی فوج کی چوکیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، اور پاکستانی فوجی اپنی جان کی بازی ہار کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔ طالبان کی اس جوابی کارروائی نے پاکستان کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔

پاکستانی آرمی چیف کے سخت مؤقف کے پیچھے خوف
پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے وزیرستان کے دورے کے دوران سخت مؤقف اپنایا ہے، لیکن بنیادی خوف صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، جو کہ اب “ناقابل برداشت” ہے۔ منیر کہتے ہیں کہ جب تک افغانستان ان دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینا بند نہیں کرتا، امن کی امیدیں بے کار ہیں۔

پاکستانی فوج اب تحریک طالبان پاکستان (TTP) جیسے گروہوں کی وضاحت کے لیے “فتنہ الخوارج” کی اصطلاح استعمال کر رہی ہے۔ جنرل منیر نے خبردار کیا کہ پاکستان افغان طالبان کی جانب سے ان گروپوں کی حمایت کو کچلنے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔

پاکستان کا آپریشن بے سود
پاکستان نے 26 فروری کو “آپریشن غضب للحق” کا آغاز کیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں نے 53 سرحدی اہداف پر حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے افغانستان میں داخل ہو کر ننگرہار اور پکتیکا جیسے علاقوں میں فضائی حملے کیے۔ طالبان نے جوابی کارروائی کی جس سے سرحد پر جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔










ایران کو لے کر سری لنکا کو ڈرانے چلا تھا امریکہ ، کولمبو نے دیا ایسا کرارہ جواب ، ٹرمپ کی بولتی ہوگئی بند
ایرانی جنگی جہاز کو تارپیڈو حملے سے تباہ کرنے والے امریکہ کو سری لنکا نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ایسی اطلاعات تھیں کہ امریکہ کولمبو پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ IRIS دینا جنگی جہاز پر حملے میں بچ جانے والے زخمی ایرانی ملاحوں کو واپس ایران نہ جانے دے۔ تاہم سری لنکا کے وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے ان کا ملک ایرانی ملاح کے معاملے پر کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور ان کے تمام فیصلے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر ہوں گے۔

سری لنکا کی وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ رائسینا ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے دارالحکومت دہلی میں تھیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سری لنکا ایرانی جہاز کے عملے کو واپس ایران بھیجے گا یا امریکہ کی درخواست پر کوئی اور کارروائی کرے گا تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت اس پورے معاملے میں بین الاقوامی سمندری قانون اور انسانی اصولوں کی پاسداری کر رہی ہے۔کیا ہے پورا معاملہ؟
ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے جنوبی بندرگاہی شہر گالے سے تقریباً 19 ناٹیکل میل کے فاصلے پر بحر ہند میں ایرانی جنگی جہاز IRIS Dina کو ٹارپیڈو کرکے ڈبو دیا۔ اس حملے میں 87 ایرانی ملاح مارے گئے۔

یہ کارروائی مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی مہم کا حصہ ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس حملے کو “خاموش موت” قرار دیا۔

ایک دوسرا ایرانی جہاز بھی سری لنکا میں پناہ کی تلاش میں ہے
دریں اثنا، ایک اور ایرانی بحریہ کا معاون بحری جہاز، IRIS بوشہر، سری لنکا کے خصوصی اقتصادی زون میں گھس گیا۔ سری لنکا کے حکام نے جہاز کے عملے کے 208 ارکان کو بحفاظت اتارنا شروع کر دیا اور انہیں عارضی طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے کہا کہ ان کے ملک کی انسانی ذمہ داری ہے کہ وہ مصیبت میں پھنسے ملاحوں کو مدد فراہم کرے۔

امریکہ ڈال رہا ہے دباؤ
خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کی ایک اندرونی کیبل میں کہا گیا ہے کہ کولمبو میں امریکی سفارت خانے نے سری لنکا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ڈوبے ہوئے جنگی جہاز سے بچ جانے والے 32 ملاحوں اور دوسرے جہاز کے عملے کو ایران واپس نہ بھیجے۔

امریکہ نے یہ عندیہ بھی دیا کہ ان ملاحوں کو ایران واپس کرنے کے بجائے متبادل پر غور کیا جائے۔ کچھ عہدیداروں نے یہاں تک پوچھا کہ کیا ان ملاحوں کو “دل بدل " کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔

سری لنکا کا دوٹوک پیغام
اس سب کے درمیان سری لنکا نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی ملک کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں بین الاقوامی سمندری قانون اور دیگر عالمی اصولوں پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کسی فریق کی حمایت نہیں کر رہا ہے اور مستقبل کے تمام فیصلے بین الاقوامی قانون اور انسانی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی جنگی جہاز کو ڈوبنے کے امریکی اقدام اور اس کے نتیجے میں سری لنکا کو درپیش سفارتی بحران نے علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سری لنکا کی بحریہ اس وقت ایرانی بحری جہاز ISIS بوشہر کو ملک کے مشرقی ساحل پر ایک بندرگاہ پر لے جا رہی ہے، اور اس کے زیادہ تر عملے کو کولمبو کے قریب ایک بحری اڈے پر منتقل کیا جا رہا ہے۔










مشرق وسطیٰ جنگ میں روس کی انٹری! پوتن بنے ایران کی ”آنکھ اور کان“، واشنگٹن پوسٹ نے بتایا کیا چل رہا ہے؟
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران دنیا کے سب سے بڑے کھلاڑی روس نے باضابطہ طور پر میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ولادیمیر پوتن ایران کا شیلڈ بن کر کھڑے ہوگئے ہیں، جس نے واشنگٹن اور تل ابیب کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔پوتن اور ایران کا فون رابطہ
جنگ کے آغاز کے ایک ہفتے بعد کریملن کی جانب سے پہلی بار براہِ راست ایران سے رابطہ کیا گیا۔ صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے صدر مسعود پژشکیان کو فون کر کے آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر افسوس ظاہر کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک تعاون پر بھی بات چیت کی۔ پوتن نے عوامی سطح پر علاقے میں دشمنی ختم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا، مگر پردے کے پیچھے روس کی فعال شرکت کچھ اور کہانی بیان کر رہی ہے۔

روس ایران کی ”آنکھ اور کان“ بن گیا
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ایران کی بیلسٹک اور میزائل طاقت کی اصل طاقت اس کی تکنیک نہیں، بلکہ روس کی جدید سیٹلائٹ امیجری ہے۔ حالیہ کویت میں ہوئے ڈرون حملے میں چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے پیچھے روسی انٹیلی جنس کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ ایران کے پاس اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ امریکی عارضی فوجی ٹھکانوں کو ٹریک کر سکے، مگر روسی ٹیکنالوجی نے یہ کام آسان بنا دیا۔

” گِو اینڈ ٹیک“ کی پالیسی
روس اور ایران کے تعلقات لینے دینے پر مبنی ہیں۔ ایران یوکرین جنگ کے لیے شاہید ڈرون اور بیلسٹک میزائل فراہم کر رہا ہے، جبکہ بدلے میں پوتن ایران کے نیوکلئیر پروگرام اور ملٹری آپریشنز کے لیے حفاظتی شیلڈ مہیا کر رہے ہیں۔ امریکہ نے روس کی اس سرگرمی پر اوپر سے بے پرواہی دکھانے کی کوشش کی اور کہا کہ روسی معلومات ایران کے ملٹری آپریشنز پر اثرانداز نہیں ہوں گی۔

چین کی اقتصادی مدد
جہاں روس خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے، وہیں چین نے ایران کے لیے اقتصادی ڈھال تیار کر لی ہے۔ چین ایران کے تیل پر بہت انحصار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز محفوظ رہے تاکہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔ رپورٹس کے مطابق چین ایران کو میزائل کمپوننٹس اور اسپئر پارٹس فراہم کرنے کی تیاری میں ہے، مگر روس کی طرح براہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہو رہا۔

نیا عالمی توازن
مڈل ایسٹ کی یہ جنگ اب دو ممالک کی لڑائی نہیں رہی۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں، تو دوسری طرف روس اور ایران کا اتحاد۔ پوتن کی موجودگی نے یہ واضح کر دیا کہ روس اپنے دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پوتن کا فون اور روسی سیٹلائٹس کیا واقعی اس جنگ کا رخ امریکہ کے خلاف موڑنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔

تکنیکی مدد کے ذریعے ایران کا دائرہ وسیع
روس کی شمولیت نے ایران کی جنگی صلاحیت کو نہ صرف بڑھایا بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے خطرہ بھی بڑھایا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، روس کی سیٹلائٹ اور انٹیلی جنس سپورٹ نے ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو ایک نئی جہت دی ہے، جبکہ چین نے اقتصادی اور تکنیکی مدد کے ذریعے ایران کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ یہ جنگ اب عالمی طاقتوں کے درمیان نیا عالمی توازن طے کرنے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




*پریس نوٹ: مالیگاؤں بدعنوانی کیس؛ حکومت ہند سے لیٹر ملنے پر ممبئی منترالیہ نے میونسپل کارپوریشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی*
تاریخ: 6 مارچ، 2026
ممبئی/مالیگاؤں: مالیگاؤں میں مبینہ بدعنوانی اور فنڈز کے خرد برد کے معاملے میں حکومتِ مہاراشٹر نے تیزی دکھاتے ہوئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن (MMC) کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ 10 فروری 2026 کو منترالیہ (محکمہ شہری ترقی) سے جاری کردہ ایک سرکاری خط کے ذریعے کارپوریشن کو اس معاملے میں فوری جواب دہی کا حکم دیا گیا ہے۔

*منترالیہ کے خط کی اہم ہدایات:*
حکومتِ مہاراشٹر کے افسر محسن باغبان کی جانب سے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کو بھیجے گئے لیٹر میں درج ذیل ہدایات دی گئی ہیں:
*فوری کارروائی: کلیم یوسف عبداللہ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت پر قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔*
 
*تفصیلی رپورٹ کی طلبی:* جس معاملے میں ریاستی حکومت کی سطح پر کارروائی کی ضرورت ہے، اس کے لیے کارپوریشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے واضح تبصروں اور ضروری دستاویزات کے ساتھ ایک مکمل تجویز (Proposal) حکومت کو بھیجے۔

 قانونی تقاضے: رپورٹ تیار کرتے وقت مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے مختلف احکامات اور رہنما خطوط کو لازمی طور پر مدنظر رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
پس منظر:
یہ لیٹر اس شکایتی خط 2025-12-19 کے تسلسل میں بھیجا گیا ہے جو کلیم یوسف عبداللہ کی شکایت پر کابینہ سیکرٹریٹ، حکومتِ ہند کی جانب سے مہاراشٹر حکومت کو موصول ہوا تھا۔ اس میں مالیگاؤں میں 4000 کروڑ روپے کے مبینہ گھپلے کی SIT کے ذریعے تفتیش اور ساتھ ہی ٹینڈر نمبر MMC/PWB/TEN-6/24-25 میں بدعنوانی کی تحقیقات اور اکاؤنٹس کی فارینسک آڈٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

*شکایت کنندہ کا ردعمل:*
شکایت کنندہ کلیم یوسف عبداللہ کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے بعد اب ریاستی حکومت کا یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اور پی ڈبلیو ڈی میں بدعنوانی کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے، جس کے پریشر میں شہر میں بہت سے کام ہو پائے ورنہ بدعنوان سیاسی لیڈروں، ٹھیکیداروں اور ادھیکاریوں نے ماضی کی طرح کروڑوں روپے بِنا کام کئے ہڑپ کرنے کی پلاننگ کی ہوئ تھی۔ انہوں نے اس ضمن میں ریمائنڈر لیٹر دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ منترالیہ اور میونسپل کارپوریشن کے افسران حقائق کو چھپانے کے بجائے شفاف تحقیقات کریں اور عوامی خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ مفاد عامہ میں ہماری کوششیں جاری رہیں گی ان شاءاللہ۔


گرین مالیگاؤں ڈرائیو
۔🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳









*( غزوۂ بدر - 313)*
نیوارا پبلیکشنز کی کتابیں — اسلامی تعلیم اور شعورِ زندگی کا بہترین ذریعہ
 ✍️ مولانا محمد زید عمری
چیئرمین : الفرقان انگلش میڈیم اسکول پاچورہ ضلع جلگاؤں
----------------------------------------------

آج کے دور میں تعلیم صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ ایسی تربیت کا تقاضا کرتی ہے جو بچوں کی شخصیت، کردار اور شعورِ زندگی کو مضبوط بنائے۔ اسی مقصد کے تحت نیوارا پبلیکشنز کی کتابیں ایک منفرد اور با مقصد تعلیمی سلسلہ پیش کرتی ہیں جو بچوں کو علم کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار، اخلاق اور مثبت سوچ سے بھی روشناس کراتی ہیں۔

نیوارا پبلیکشنز کی کتابوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں مختلف اسباق اور موضوعات کو قرآنی حوالہ جات کے ساتھ مختصر اور دلنشین کہانیوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ انداز بچوں کی نفسیات کے عین مطابق ہے، کیونکہ بچے کہانیوں کے ذریعے نہ صرف جلد سیکھتے ہیں بلکہ اسباق کو یاد بھی رکھتے ہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے بچوں میں اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار، زندگی کے عملی اصول اور معاشرتی شعور کو بآسانی پروان چڑھایا جاتا ہے۔

ان کتابوں میں صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ شعورِ زندگی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہر سبق میں بچوں کو اچھے اخلاق، سچائی، ہمت، خدمتِ خلق، ذمہ داری اور اللہ پر توکل جیسے بنیادی اسلامی اصولوں کی طرف رہنمائی دی جاتی ہے۔ اس طرح طالب علم صرف ایک اچھا طالب علم ہی نہیں بلکہ ایک باکردار اور با شعور انسان بننے کی طرف بھی قدم بڑھاتا ہے۔

نیوارا پبلیکشنز کی ایک اور نمایاں اور بامقصد علامت عدد 313 ہے، جو تمام کتابوں کے سرورق پر بطور خاص شامل کیا گیا ہے۔ یہ عدد دراصل غزوۂ بدر کی یاد دلاتا ہے، وہ تاریخی معرکہ جس میں صرف 313 مخلص صحابہ نے اللہ کی مدد اور اپنے ایمان کی قوت سے باطل کے بڑے لشکر کو شکست دی۔

اس علامت کا مقصد یہ ہے کہ بچوں کے دل و دماغ میں اس عدد کے بارے میں تجسس اور اشتیاق پیدا ہو۔ جب بچے اس بارے میں اپنے اساتذہ یا والدین سے سوال کرتے ہیں تو انہیں غزوۂ بدر کی حقیقت، ایمان کی طاقت اور اللہ کی نصرت کے عظیم سبق سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ یوں ایک چھوٹی سی علامت بچوں کو تاریخِ اسلام کے ایک عظیم واقعہ اور اس کے پیغام سے جوڑ دیتی ہے۔

علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

یہ پیغام دراصل نوجوان نسل کو یہ احساس دلاتا ہے کہ جب ایمان، اخلاص اور حق کی حمایت موجود ہو تو اللہ کی مدد آج بھی حاصل ہو سکتی ہے۔

نیوارا پبلیکشنز کی کتابیں دراصل ایسی تعلیم کا پیغام دیتی ہیں جو علم، کردار اور ایمان — تینوں کو یکجا کر کے نئی نسل کو ایک روشن اور با مقصد مستقبل کی طرف لے جاتی ہیں۔

راقم مولوی زید عمری چیئرمین الفرقان انگلش میڈیم اسکول پاچورہ نے اپنی اسکول کیلئے ان کتابوں کو نصاب میں شامل کیا ہے الحمدللہ۔

میں اسکولوں کے منتظمین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سے پرخلوص اپیل کرتے ہیں کہ وہ نیوارا پبلیکشنز کی ان با مقصد اور کردار ساز کتابوں کو اپنے تعلیمی نصاب میں شامل کریں۔ اس سے نہ صرف طلبہ کی علمی صلاحیتیں بہتر ہوں گی بلکہ ان کی شخصیت میں اسلامی اقدار، مثبت سوچ اور اخلاقی مضبوطی بھی پیدا ہوگی۔

مولانا محمد زید عمری
چیئرمین : الفرقان انگلش میڈیم اسکول پاچورہ ضلع جلگاؤں










        _*خانقاہ رحمانیہ میں آخری عشرے کا اعتکاف کرنےوالے توجہ دیں*_ 
 _*खान्क़ाह रहमानीया में आखरी अशरे का एतेकाफ करने वाले हज़रात तवज्जह दें*_ 

 _*Khanqah Rahmaniya me Aakhri Ashre ka Etekaf karne wale tawajjah den*_ 


*اس سال خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں مہاراشٹر میں شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب(سجادہ نشین خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں ) کی نگرانی میں آخری عشرے کا اعتکاف ہوگا ان شاءاللہ!* 
 
*جو حضرات اعتکاف کرنے کےخواہشمند ہیں وہ مندرجہ ذیل ہدایات کو غور سے پڑھ لیں۔*

 _*(1) خانقاہ رحمانیہ میں اعتکاف کرنے والے حضرات پہلے سے اپنی آمد کی اطلاع نیچے لکھے ہوئے نمبرات پر دیں اور وقت سے پہلے اپنے ناموں کا اندراج کروالیں۔*_ 
 
 _*(2) مسنون اعتکاف کرنے والے بیس رمضان بروزمنگل کی عصر تک خانقاہ تشریف لے آئیں۔*_ 

 _*(3) اپنے ساتھ موسم کے اعتبار سے بستر ضرور لائیں۔*_ 

 _*(4) چھوٹے بچوں کو ساتھ نہ لائیں۔*_ 

 _*(5) اعتکاف کی شرائط و ضوابط اور انتظامی معاملات کا پورا خیال رکھیں.*_  

 _*(6) اعتکاف میں معزور اور ضعیف حضرات شرکت نہ فرمائیں۔*_ 

*اعتکاف میں شرکت کی اطلاع مندرجہ ذیل نمبرات پر دیں۔*

 *(1) محمد یوسف رحمانی* 9326288568

 *(2) شہزاد احمد رحمانی* 9372441133

 *(3) مولانا حمید الرحمٰن رحمانی* 9226844484

 *(4) محمد عزیر رحمانی* 7218983925

 *(5) مولانا ابوبکر رحمانی* 7030320073

 *فقط متوسلین:خانقاہ رحمانیہ بسم اللہ باغ٬مالیگاؤں۔*
                  *٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭*

 _*खान्क़ाह रहमानीया में आखरी अशरे का एतेकाफ करने वाले हज़रात तवज्जह दें*_ 

*इस साल खान्क़ाह रहमानीया मालेगाव महाराष्ट्र में*_*शैखे तरीक़त हज़रत मौलाना मुहम्म्द उम्रैन महफुज़ रहमानी साहब द ब*_
 *(सज्जादा नशीन खान्क़ाह रहमानीया मालेगाव) की निगरानी में आखरी अशरे का एतेकाफ होगा इंशाअल्लाह!*

*जो हज़रात एतेकाफ करने के ख्वहिश्मन्द हैं वो मंदरजह ज़ेल हिदायात को गौर से पढ़ लें*

 _*(१) खान्क़ाह रहमानीया में एतेकाफ करने वाले हज़रात पहले से अपनी आमद की इत्तेला नीचे लिखें हुए नंबरात पर दें।*_ 

 _*(२) मसनून एतेकाफ करने वाले 20 रमज़ान बरोज़ मंगल की असर तक खान्क़ाह तशरीफ़ ले आए।*_ 
 
  _*(३) अपने साथ मौसम के ऐतेबार से बिस्तर ज़रूर लाए।*_ 

 _*(४) छोटे बच्चों को साथ न लाए।*_ 

 _*(५) एतेकाफ की शराईत व ज़वाबित और इन्तेज़ामि मामलात के पूरा ख्याल रखे।*_ 

 _*(६) एतेकाफ में माज़ुर और ज़ईफ हज़रात शिर्कत न फरमाए।*_ 

*एतेकाफ में शिर्कत की इत्तेला मन्दर्जा ज़ेल नंबरात पर दें।*

*(१) मुहम्म्द युसूफ रहमानी*
9326288568

*(२) शेहज़ाद अहमद* रहमानी 9372441133

*(३) मौलाना हमिदुर्रहमान* रहमानी 9226844484

*(४) मुहम्म्द उज़ैर रहमानी* 7218983925

*(५) मौलाना अबूबकर* रहमानी 7030320073

फक़्त मुतवस्सिलीन:- खान्क़ाह रहमानीया बिस्मिल्लाह बाग़,मालेगाव।*
                            ٭٭٭٭٭٭٭

 _*Khanqah Rahmaniya me Aakhri Ashre ka Etekaf karne wale tawajjah de*_ 

*Is saal khanqah Rahmaniya malegaon Maharashtra me SHAIKHE TAREEQAT HAZRAT MAULANA MUHAMMAD UMRAIN MAHFOOZ RAHMANI SAHAB DB(Sajjada Nasheen Khanqah Rahmaniya Malegaon) ki nigrani me aakhri Ashre ka Etekaf hoga INSHAALLAH!*

*Jo hazraat Etekaf karne ke khwahishmand hain wo mandarjah zel hidayaat ko gaur se padh lein*

 _*(1) Khanqah Rahmaniya me Etekaf karne wale hazraat pehle se apni aamad ki ittela neeche likhe hue numbraat par dein.*_ 

 _*(2) Masnoon Etekaf karne wale 20 Ramzan baroz mangal ki Asr tak khanqah Tashreef le aaye.*_ 

 _*(3) Apne saath mausam ke aitebaar se bistar zarur laaye.*_ 

 _*(4) chote bachchon ko saath na laaye.*_ 

 _*(5) Etekaf ki sharait wa zawabit aur intezami maamlaat ka poora khayal rakhein.*_ 

 _*(6) Etekaf me mazoor or zaeef hazraat shirkat na farmaye.*_ 

*Etekaf me shirkat ki ittela mandarjah zel numbraat par dein.*

*(1) Mohd Yusuf Rahmani* 9326288568

*(2) Shehzad Ahmad Rahmani* 9372441133

*(3) M.Hamidurrahman Rahmani* 9226844484

*(4) Mohd Uzair Rahmani* 7218983925

*(5) M. Abubakar Rahmani* 7030320073

*Faqt Mutawassilin:- khanqah Rahmaniya Bismillah baug,Malegaon*

•••••••••••••••••

Friday, 6 March 2026

*🔴سیف نیوز اردو*


*انتہائی افسوسناک خبر*

شعبان نگر کی مشہور و معروف شخصیت،
محبِ اہلِ بیتؑ اور خادمِ تعزیہ داری
`نہال اجمیری صاحب` کا اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون 
جنازہ رات میں 11 بجے عائشہ نگر قبرستان لے جایا جائے گا
آپ کا شمارشعبان نگر کی ان شخصیات میں ہوتا تھا جو ہمیشہ مجالس، جلوس اور تعزیہ داری کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔ آپ کی دینی و سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال کی خبر سے پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
صدمے کی اس گھڑی میں مرحوم نہال اجمیری صاحب کے جملہ اہل خانہ کو تعزیت پیش کی جاتی ہے اور دعا کی جاتی ہے کہ مولاے کریم اپنے محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم و اہلِ بیتِ کےصدقے مرحوم کے درجات بلند فرمائے، کروٹ کروٹ جنت کی بہاریں نصیب فرمائے،جملہ پسماندگان کو صبرِ جمیل و اجرِ عظیم عطا فرمائے. آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ افضل الصلاۃ والتسلیم وعلینا معھم ولھم وبھم وفیھم اجمعین۔

تعزیت کنندگان:
*جاوید احمد معین الدین* *اشرفی شفیق رانا* *ایوب اشرفی صاحب* *قربان غلام رسول* *رئیس انصاری*
*ستار* جاوید صفوی۔ مختار صفوی۔ انیس چشتی ۔ مولانا سعید اشرفی آمین چشتی تصور علی سونو مختار برکاتی و دیگر اراکین *شھر تعزیہ کمیٹی مالیگاؤں*

*🔴سیف نیوز اردو*





کرناٹک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان ۔ کرناٹک بھارت کی پہلی ریاست بن گئی
ریاست کرناٹک کی حکومت نے بچوں کے ڈیجیٹل استعمال سے متعلق ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر ریاست بھر میں پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ اعلان چیف منسٹر سدا رامیا نے جمعہ کے روز ریاستی اسمبلی میں سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کیا۔

یہ فیصلہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل کسی بھی ریاست نے اتنی واضح اور مکمل پابندی کا اعلان نہیں کیا تھا۔چیف منسٹر سدارامیا نے اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد بچوں میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے منفی اثرات کو روکنا ہے۔

سدارامیا نے کہا :

’’بچوں میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے مضر اثرات کو روکنے کے مقصد سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔‘‘

حکومت کے مطابق حالیہ برسوں میں بچوں اور نوجوانوں میں اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی لت نے والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

طلباء میں سوشل میڈیاکی لت پر تشویش
کرناٹک حکومت کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین ٹائم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حد سے زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی، رویّے اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔حکام کے مطابق :

طلبہ کی توجہ تعلیم سے ہٹ رہی ہے

ذہنی دباؤ اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے

سوشل میڈیا کے ذریعے غیر مناسب مواد تک رسائی آسان ہو گئی ہے

بعض معاملات میں نوجوان منشیات کے نیٹ ورکس یا غیر قانونی سرگرمیوں کے رابطے میں بھی آ سکتے ہیں

اسی وجہ سے حکومت نے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔

کرناٹک بھارت کی پہلی ریاست
اس اعلان کے ساتھ کرناٹک بھارت کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل :

آندھرا پردیش

گوا

جیسی ریاستوں میں بھی اس طرح کے اقدامات پر غور کیا جا رہا تھا، لیکن کرناٹک نے اس حوالے سے سب سے واضح اور عملی قدم اٹھایا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ریاست بھارت کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی مرکز بنگلورو کا گھر بھی ہے، جہاں دنیا کی بڑی آئی ٹی کمپنیاں موجود ہیں۔

یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ چند ہفتوں سے اس پر حکومت کے اندر غور و خوض جاری تھا۔

گزشتہ ماہ سدارامیا نے سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ ایک اہم اجلاس بھی کیا تھا جس میں اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اس اجلاس میں چیف منسٹر نے کہا تھا کہ :
طلبہ میں سوشل میڈیا کی لت تیزی سے بڑھ رہی ہے

اس کا اثر ان کے رویّے اور تعلیم دونوں پر پڑ رہا ہے

کچھ نوجوان منشیات کے استعمال کی طرف بھی مائل ہو رہے ہیں

اسی لیے حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔

کئی ممالک سوشل میڈیا پرپابندی عائدکررہے ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بھی اب نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔

حال ہی میں آسٹریلیا نے بھی ایک قانون متعارف کرایا ہے جس کے تحت 16 سال سے کم عمر صارفین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

اس پابندی کا اطلاق جن پلیٹ فارمز پر ہو سکتا ہے ان میں شامل ہیں :

Instagram

TikTok

Snapchat

YouTube

X (سابقہ Twitter)

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ڈیجیٹل لت، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور نامناسب مواد تک رسائی جیسے مسائل نے حکومتوں کو اس سمت میں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں بھارت میں اسمارٹ فون کے استعمال میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق :

کروڑوں بھارتی بچے روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں

آن لائن گیمنگ اور شارٹ ویڈیو پلیٹ فارمز کی مقبولیت میں تیزی آئی ہے

ماہرین نفسیات بچوں میں ڈیجیٹل انحصار (Digital Dependency) کو ایک ابھرتا ہوا مسئلہ قرار دے رہے ہیں

اسی پس منظر میں کرناٹک حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ بچوں کی تعلیم، ذہنی صحت اور سماجی رویّوں کو بہتر بنایا جا سکے۔











یاد پر منتخب اشعار: یادوں کے عنوان پر اردو کی بہترین و خوبصورت شاعری
تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
بہادر شاہ ظفر

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے
جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا
جلیل مانک پوری

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
بشیر بدر

امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں
امیر مینائی

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
فیض احمد فیض

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
فیض احمد فیض

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
خمار بارہ بنکوی

ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
تو یاد رہے گا ہمیں ہاں یاد رہے گا
ابن انشا

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے اجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا
ساغر صدیقی

تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
قتیل شفائی

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے
رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا
ہجر ناظم علی خان

ہم اسے یاد بہت آئیں گے
جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا
قتیل شفائی

اک وہی شخص مجھ کو یاد رہا
جس کو سمجھا تھا بھول جاؤں گا
سلمان اختر

یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
ناصر کاظمی

یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
جمال احسانی









مشرق وسطیٰ میں جنگ نے حالات کو مزید خراب کر دیا، سی بی ایس ای نے 10ویں جماعت کے امتحانات منسوخ کر دیے
نئی دہلی: سی بی ایس ای (سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن) نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان ان ممالک میں 11 مارچ تک ہونے والے دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کو منسوخ کر دیا ہے۔ مزید برآں، 7 مارچ کو ہونے والے بارہویں جماعت کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ نئی تاریخوں کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔

سی بی ایس ای کے امتحانی کنٹرولر سنیام بھردواج نے کہا، "مشرق وسطی کے کچھ حصوں – بحرین، ایران، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے بورڈ نے 11 مارچ تک طے شدہ کلاس 10 کے امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔" انہوں نے کہا کہ سی بی ایس ای جلد ہی ان امیدواروں کے نتائج کے اعلان کے طریقہ کار کا اعلان کرے گا۔

سی بی ایس ای نے کہا کہ طلباء کی جان کو خطرے میں ڈال کر امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ یہ قدم متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک میں ایرانی حملوں کے خطرے کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

سی بی ایس ای نے تمام متاثرہ ممالک کے اسکولوں کو طلباء اور والدین سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں، کلاس 12 کے طلباء کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھیں اور کسی بھی افواہ پر دھیان نہ دیں۔

12ویں جماعت کے امتحانات ملتوی

کلاس 12 کے طلباء کے 7 مارچ کو ہونے والے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ وہ 7 مارچ کو صورتحال کا جائزہ لے گا اور 9 مارچ سے ہونے والے امتحانات کے حوالے سے مزید ہدایات جاری کرے گا۔ اس سے قبل بورڈ نے دونوں کلاسوں کے لیے 2، 5 اور 6 مارچ کو ہونے والے علاقائی امتحانات ملتوی کر دیے تھے۔

سی بی ایس ای نتائج کیسے تیار کرے گا؟

سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک الگ تشخیصی اسکیم تیار کرے گا کہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی ضائع نہ ہو۔ بورڈ جلد ہی دسویں جماعت کے طلباء کے لیے نتیجہ کی تیاری کا فارمولہ جاری کرے گا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حتمی نتائج ان مضامین میں حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر ہوں گے جن کے لیے امتحانات منعقد کیے گئے ہیں اور داخلی تشخیص یا پری بورڈ کے اسکور پر ہوں گے۔ CBSE کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ طلباء کو بغیر کسی امتیاز کے درست درجہ بندی حاصل ہو، جس سے وہ اگلی کلاس میں داخلہ حاصل کر سکیں۔واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فوجی حملہ کیا تھا جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے موت واقع ہو گئی۔ اس حملے کے بعد ایران نے خلیجی ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، اردن اور سعودی عرب میں اسرائیلی اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے شروع کردیئے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر جموں و کشمیر میں غم و احتجاج بھڑک اٹھا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ...