Tuesday, 17 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




یوپی میں کانگریس کا ہلہ بول! اسمبلی گھیراؤ کرنے پہنچے سیکڑوں کارکنوں پر لاٹھی چارج، متعدد گرفتار
اتر پردیش میں آج منریگا کے معاملے پر کانگریس کا احتجاجی مظاہرہ ہوا، اس دوران کئی بڑے لیڈروں کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آج اسمبلی کے گھیراؤ سے متعلق کانگریس نے بڑے احتجاج کی کال دی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر اجے رائے کی قیادت میں صبح کارکنان نے اسمبلی کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین پر پولیس سے لاٹھی چارج کی اور حراست میں لے لیا۔لکھنؤ میں کثیر تعداد میں کارکن پہنچے

مظاہرے میں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش انچارج اویناش پانڈے، کانگریس قانون ساز پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا مونا، رکن اسمبلی وریندر چودھری سمیت کئی ارکانِ پارلیمنٹ، سابق اراکین اسمبلی اور سینئر لیڈر شامل ہوئے۔ ریاست بھر سے بڑی تعداد میں کارکنوں نے لکھنؤ پہنچ کر بی جے پی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج شروع کیا تو پولیس اور کانگریسی کارکنان کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی، اس کے ساتھ ہی پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج بھی شروع کر دیا۔ جب مظاہرین پولیس کے روکنے سے رکے نہیں تو پولیس نے چن چن کر تمام مظاہرین کو حراست میں لیکر مظاہرے کے مقام سے ہٹا دیا۔

’بی جے پی حکومت میں بڑھ رہا ہے جرم‘

کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں جرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت ذات اور مذہب کی بنیاد پر دلتوں، اقلیتوں اور غریبوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

’کئی کانگریس کارکن نظر بند‘

پارٹی ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں کانگریس کارکنوں کو نظر بند کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں کارکن لکھنؤ واقع پارٹی دفتر پر موجود ہیں۔ فی الحال بڑی تعداد میں کانگریسی کارکن پولیس کی حراست میں ہیں۔









روہت شیٹی فائرنگ کیس میں بڑا انکشاف، جانئے واردات کے پیچھے بشنوئی گینگ کی سازش
نئی دہلی :مشہور فلم ڈائریکٹر روہت شیٹی کے ممبئی کے علاقے جوہو میں واقع گھر پر ہوئی فائرنگ کے معاملے میں ممبئی کرائم برانچ نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ اس حملے کے تانے بانے براہِ راست بدنام زمانہ بشنوئی گینگ سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ پوری سازش کی کمان مبینہ طور پر جیل کے اندر سے سنبھالی جا رہی تھی۔کرائم برانچ کے مطابق روہت شیٹی پر حملے کی مکمل منصوبہ بندی پروین لونکر اور اس کے بھائی شُبھم لونکر نے کی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شُبھم لونکر کو بشنوئی گینگ کا مہاراشٹر میں اہم ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ مزید چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پروین لونکر اس وقت بابا صدیقی قتل کیس میں جیل میں بند ہے، لیکن قید میں ہونے کے باوجود اس نے نہ صرف حملے کا خاکہ تیار کیا بلکہ مبینہ طور پر شوٹروں کو اسلحہ اور رقم بھی فراہم کی۔تحقیقات میں یہ سوال سب سے اہم بن گیا ہے کہ سخت سکیورٹی کے باوجود جیل کے اندر سے یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ پولیس اس بات کی چھان بین کر رہی ہے کہ آیا پروین لونکر کسی خفیہ میسنجر ایپ کا استعمال کر رہا تھا یا جیل کے کسی اندرونی ذریعے سے باہر اپنے ساتھیوں تک پیغامات پہنچا رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی اسے کرائم برانچ کی تحویل میں لے کر تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی تاکہ اس نیٹ ورک کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔اس معاملے میں اب تک ملک کے مختلف حصوں سے 12 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتاریوں کا دائرہ پونے سے لے کر ہریانہ اور اتر پردیش تک پھیلا ہوا ہے۔ گرفتار افراد میں مرکزی شوٹر بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور پستول کا انتظام بھی مبینہ طور پر پروین لونکر کے اشارے پر کیا گیا تھا۔

ممبئی کرائم برانچ کی 12 ٹیمیں دن رات اس کیس پر کام کر رہی ہیں تاکہ بشنوئی گینگ کے مبینہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر توڑا جا سکے۔ اس انکشاف کے بعد سکیورٹی نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ جیل کے اندر کون لوگ پروین کے رابطے میں تھے اور کیا کسی اندرونی ملی بھگت کا امکان موجود ہے۔ذرائع کا ماننا ہے کہ پروین لونکر سے سخت پوچھ گچھ کے بعد گینگ کی ممکنہ ہٹ لسٹ اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں اہم سراغ مل سکتے ہیں۔ فی الحال وہ عدالتی تحویل میں ہے، لیکن امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس میں مزید بڑے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔










ایپسٹین فائل پر ڈونالڈ ٹرمپ نے توڑی خاموشی، خود کو بتایا پاک صاف، کیا ہے نوبیل انعام کنکشن؟
مجرم جنسی جرائم کا مرتکب جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) سے متعلق دستاویزات کے عوامی ہونے کے بعد دنیا بھر میں مچے ہنگامے کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ ایپسٹین کے ساتھ نام جڑنے پر ٹرمپ نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے ایئر فورس ون (Air Force One) میں پریس کانفرنس کے دوران واضح کر دیا کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور انہیں اس معاملے میں ‘کلین چٹ’ مل چکی ہے۔’مجھے بے قصور ثابت کر دیا گیا‘

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ جیفری ایپسٹین سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس کو امید تھی کہ تفتیش میں ان کے خلاف کچھ غلط مل جائے گا، لیکن اس کے برعکس وہ بے قصور ثابت ہوئے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جیفری ایپسٹین دراصل ان کی سیاسی امنگوں کے مخالف تھے۔

’یہ ان کا مسئلہ ہے‘ (Bill Clinton Epstein files connection)

اپنی صفائی پیش کرنے کے ساتھ ہی ڈونالڈ ٹرمپ نے سابق صدر بل کلنٹن اور ہلیری کلنٹن پر سخت جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دلچسپ ہے کہ بل کلنٹن اور دیگر ڈیموکریٹس کو اس جانچ میں ’گھسیٹا‘ جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں گھسیٹا جا رہا ہے اور یہ ان کا مسئلہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ہلیری کو میونخ میں دیکھا تھا اور وہ واقعی ’ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم‘ کا شکار ہیں۔

فائلوں میں کیا ہے؟

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے دسمبر 2025 میں جاری کیے گئے ہزاروں دستاویزات میں ٹرمپ کا نام کئی بار آیا ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ایپسٹین کے نجی طیارے میں کم از کم آٹھ بار سفر کیا۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کو کسی بھی جنسی جرم یا غیر قانونی عمل میں ملزم نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ بعض دعوؤں کو ’غلط اور سنسنی خیز‘ قرار دیا گیا ہے۔

نوبیل انعام کا زاویہ (Epstein files Nobel Prize Connection)

فائلوں میں ایک دلچسپ انکشاف ٹرمپ کے ’نوبیل انعام‘ سے متعلق شوق کے بارے میں بھی سامنے آیا ہے۔ ایک ای میل کے مطابق، ایپسٹین نے ٹرمپ کے قریبی ساتھی اسٹیو بینن سے کہا تھا کہ اگر ٹرمپ کو معلوم ہو گیا کہ بینن اب ایسے شخص (ایپسٹین) کے دوست ہیں جو نوبیل انعام کا فیصلہ کرنے والوں کو جانتا ہے تو ٹرمپ کا ’سر پھٹ جائے گا‘۔ واضح رہے کہ جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں مقدمے کا انتظار کر رہے جیفری ایپسٹین کی 2019 میں وفاقی تحویل میں موت ہو گئی تھی۔

*🔴سیف نیوز اردو*




رات کو دیر سے سونے والوں کے لیے وزن کم کرنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟
اگر آپ رات کو اکثر دیر سے سو رہے ہیں تو وزن کم کرنے کی آپ کی تمام کوششیں بے اثر ہو سکتی ہیں، یا پھر ریورس بھی ہو سکتی ہیں، یعنی کم ہونے کے بجائے آپ کا وزن بڑھ سکتا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق وزن میں کمی کے بارے میں بات کرتے وقت زیادہ تر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بنیادی چیز ڈائیٹ یعنی غذا اور ورزش ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ ایک اور اہم عنصر کو نظر انداز کرتے ہیں، اور وہ ہے نیند۔ خاص طور پر اس کا وقت اور دورانیہ۔
ہو سکتا ہے آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہوں، اچھی اور مناسب غذا وقت پر کھا رہے ہوں اور کبھی ورزش ترک نہ کرتے ہوں، مگر پھر بھی آپ کا وزن کم ہونے سے انکاری ہے۔ یا اس کے اُلٹ ہے یعنی وزن بڑھ رہا ہے تو پھر آپ وہی غلطی کر رہے ہیں۔یہ غلطی خاموشی سے تمام کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
جوپیٹر ہسپتال کے انٹرنل میڈیسن کے ڈائریکٹر فزیشن ڈاکٹر امیت صاراف نے بتایا کہ کس طرح دیر سے سونا، خاص طور پر آدھی رات کے وقت بستر پر جانا، میٹابولزم، ہارمون کے توازن، ہاضمے، اور مجموعی وزن میں کمی کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔
یہ اُن لوگوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے جو خوراک اور ورزش کے معمولات پر نظم و ضبط کے تحت عمل کرتے ہیں۔
رات 11 بجے کے بعد سونے سے وزن کیوں متاثر ہوتا ہے؟
وزن میں کمی عام طور پر کیلوریز کو جلانے سے ہوتی ہے۔ دیر سے سونے سے جسم کے قدرتی حیاتیاتی نظام میں بہت زیادہ مداخلت ہوتی ہے۔
اس حیاتیاتی نظام کو وقت کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر امیت صاراف نے وضاحت کی کہ ’رات ساڑھے دس کے بعد یہ آہستہ آہستہ ایک قدرتی ہاضمے کی سست روی کے مرحلے میں چلا جاتا ہے۔‘ڈاکٹر کے مطابق اگر کوئی دیر تک جاگتا رہتا ہے تو جسم تناؤ کی حالت میں رہتا ہے جو کورٹیسول کو بڑھاتا ہے۔
کورٹیسول تناؤ کا ہارمون ہے۔ ہنگامی صورتحال میں یہ جسم کو توانائی محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے تاکہ فوری ردعمل ظاہر کر سکے۔ تاہم ایسا کرنے کے لیے یہ عارضی طور پر عام میٹابولک عمل میں خلل ڈالتا ہے۔
ڈاکٹر صاراف نے مزید کہا کہ ’جب رات کو کورٹیسول زیادہ رہتا ہے تو چربی کا ذخیرہ ہونا آسان ہو جاتا ہے اور چربی کو جلانے کا عمل آہستہ ہو جاتا ہے، چاہے کھانا کتنا ہی صحت بخش کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اچھی اور مناسب غذا بھی کھاتے ہیں وہ تب بھی وزن کم کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔‘











رمضان میں مسجد اقصیٰ کے گرد اسرائیلی پولیس کی تعیناتی، فلسطینیوں کا پابندیوں کا الزام
اسرائیلی پولیس کے حکام نے کہا ہے کہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے ارد گرد فورس تعینات کی جائے گی جبکہ فلسطینیوں نے اسرائیل پر احاطے میں پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگایا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں ہفتے شروع ہونے والے ماہِ مقدس کے دوران لاکھوں کی تعداد میں مسلمان روایتی طور پر مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں، مذہب اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام سمجھی جانے والی یہ مسجد یروشلم شہر کے مشرقی حصے میں واقع ہے جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا اور بعدازاں ساتھ ملا لیا تھا۔یروشلم پولیس کے سینیئر افسر اریڈ بریومین کا کہنا ہے کہ ’فوجیوں کو دن رات کمپاؤنڈ کے اندر تعینات کیا جائے گا جبکہ نماز کے وقت اضافی ہزاروں پولیس اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کے لیے 10 ہزار اجازت نامے جاری کرنے کی سفارش کی ہے جن کو یروشلم میں داخلے کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔
انہوں نے اجازت ناموں کے لیے عمر کی حد کے حوالے سے تفصیل نہیں بتائی اور یہ بھی بتایا کہ فائنل تعداد کے بارے میں فیصلہ حکومت کرے گی۔
دوسری جانب فلسطینی یروشلم گورنریٹ کا کہنا ہے کہ اسے بتایا گیا ہے کہ اجازت نامے 55 برس سے زائد عمر کے مردوں اور 50 برس سے زائد کی خواتین کے لیے ہوں گے اور پچھلے برس بھی ایسا ہی طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔
بیان میں اسرائیلی حکام پر الزام بھی لگایا گیا ہے کہ ان کی جانب سے سائٹ کے انتظامات دیکھنے والے اردن کے ادارے اسلامک وقف کو معمول کی تیاریوں سے روک دیا ہے جن میں سائبان کی تعمیر کے علاوہ طبی کلینکس کا قیام بھی شامل تھا۔
اسلامک وقف کے ذرائع کی جانب سے بھی پابندیوں کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا ہے کہ رمضان شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل اس کے 33 ملازمین کو کمپاؤنڈ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
طویل مدتی انتظامات کے تحت یہودی اس احاطے کا دورہ کر سکتے ہیں جو اس کو اپنے دوسرے مقدس ترین عبادت گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں تاہم دوسری جانب فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اس کو ختم کیا جا رہا ہے۔
اریڈ بریومین نے اپنے بیان میں بھی اسی عزم کو دوہرایا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران یہودی انتہاپسندوں کی بڑھتی تعداد نے عبادت پر پابندی کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جن میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اتمار بین گویر بھی شامل ہیں اور انہوں نے 2024 اور 2025 کے دوران سکیورٹی کے وزیر کی حیثیت سے یہاں پر عبادت کی تھی۔












بی این پی چیئرمین طارق رحمان کی آج بطور وزیراعظم حلف برداری ، بھارت سے اوم برلا شرکت کریں گے
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان آج بروز منگل منتخب اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیں گے۔ یہ سال 2024 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ڈھاکہ کی سیاست میں ایک نئی شروعات کی علامت ہے۔

بی این پی کے منتخب رکن پارلیمنٹ راشد الزمان ملت نے اے این آئی کو بتایا کہ “ارکان پارلیمنٹ کی حلف برداری کی تقریب ہمارے پارلیمنٹ ہاؤس میں صبح 9:30 بجے ہوگی۔” شام 4:00 بجے وزراء کی حلف برداری کے لیے ایک اور اجلاس ہوگا۔

واضح رہے کہ 12 فروری کو ہوئے انتخابات میں بی این پی نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ 300 نشستوں والی پارلیمنٹ میں بی این پی نے 151 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ جماعت اسلامی، جو پہلے بی این پی کی اتحادی تھی نے حزب اختلاف کی جماعت کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور دوسری سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ جماعت اسلامی نے حالیہ الیکشن میں خود کو ایک اہم اپوزیشن قوت کے طور پر مستحکم کر لیا ہے۔بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق، بی این پی کی قیادت والے اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ جماعت اسلامی کی قیادت والے بلاک نے 77 نشستوں پر جیت درج کی ہے۔ حسینہ واجد کی بنگلہ دیش عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔

بطور وزیر اعظم حلف لینے جا رہے طارق رحمان سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد 17 سال کی جلاوطنی ختم کر کے وطن واپسی کی اور عام انتخابات میں بی این پی کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی۔

بھارت کی طرف سے لوک سبھا اسپیکر کی شرکت

پی ایم مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شرکت نہیں کریں گے۔ وزارت خارجہ نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا بنگلہ دیش کی نو منتخب حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس اہم تقریب میں اسپیکر کی شرکت بھارت اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان گہری اور مضبوط دوستی اور دونوں ممالک کو باندھنے والی جمہوری اقدار کے تئیں بھارت کی غیر متزلزل وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*





*کیا ٹیپو سلطان کریں گے مالیگاؤں کی ترقی؟*
✍️ *وسیم رضا خان* ✍️ 
مالیگاؤں کی سیاست ایک بار پھر اسی پرانے ڈھرے پر لوٹ آئی ہے، جہاں ترقی کے 'ویژن' سے زیادہ دیواروں پر ٹنگی تصویروں کا وزن معنی رکھنے لگا ہے۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر کھڑا ہوا تنازع محض ایک انتظامی بحث نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے اندھیرے کی علامت ہے جس میں شہر کو دھکیلا جا رہا ہے۔ ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد کے ذریعے تصویر ہٹا کر پھر سے لگانے کی وارننگ دینا یہ صاف کرتا ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی ترجیحات کیا ہیں۔ جب شہر کو بہتر سڑکوں، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے، تب اقتدار پر قابض پارٹیاں مذہبی علامتوں کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ مالیگاؤں نے جب جب شدت پسندی کی راہ چنی ہے، اس کا خمیازہ یہاں کی بھولی بھالی عوام اور شہر کے وقار نے بھگتا ہے۔ اسلام پارٹی کا اقتدار میں آنا اور پھر اس طرح کی متنازع سرگرمیوں میں شامل ہونا مخالفین کو موقع دینے جیسا ہے۔ لیکن سب سے بڑا نقصان اس 'سیکولر' ساکھ کا ہو رہا ہے، جس کا ثبوت ان مسلم لیڈروں کو دینا چاہیے تھا۔ عوام نے ترقی کے نام پر ووٹ دے کر جنہیں کرسی تک پہنچایا، وہ اب سیاست کی ایسی بے مطلب لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں جس کا انجام صرف شہر کی بدنامی میں ہوگا۔

اسلام پارٹی اپنی آئیڈیالوجی اور پارٹی کی توسیع کے نشے میں اس قدر چور ہے کہ اسے عوام کی بنیادی ضرورتیں نظر نہیں آ رہی ہیں۔ دوسری طرف سماجوادی پارٹی ممبئی میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے اور شدت پسندی کی دوڑ میں پچھڑنے کے ڈر سے بس تماشہ دیکھ رہی ہے۔ ان کے درمیان سب سے تکلیف دہ پہلو ان 'اندھ بھکتوں' کا ہے جو اپنے لیڈروں کی ان بچکانہ لیکن خطرناک حرکتوں پر تالیاں بجا رہے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ وہ خود اپنے مستقبل کے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔

یہ تنازع صرف ایک تصویر کا نہیں ہے، یہ سرمایہ کاری اور ترقی کے راستے میں کھڑا کیا گیا ایک روڑا ہے۔ کوئی بھی حکومت یا ادارہ ایسے شہر میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہے گا جو ہر دوسرے دن مذہبی تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہو۔ اقتدار والوں کے ہاتھ میں آخر کار نہ اقتدار بچے گا اور نہ ساکھ، صرف راکھ رہ جائے گی۔ مالیگاؤں کی عوام کو اب یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا انہوں نے ایسی ہی طاقت کو منتخب کیا تھا؟ اگر لیڈر ترقی کے بجائے تصویروں اور مذہبی جذبات کو ڈھال بنا کر سیاست کریں گے، تو مستقبل میں عوام کے ہاتھ خالی ہی رہیں گے۔

مالیگاؤں کو اندھیرے کی طرف دھکیلنے والے یہ لیڈر تو اپنی روٹیاں سینک لیں گے، لیکن عام شہری صرف ایک پسماندہ اور بدنام شہر کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔ وقت آگیا ہے کہ مالیگاؤں کے حکمراں اپنی ذمہ داری سمجھیں، ورنہ تاریخ انہیں ترقی کے 'قاتل' کے طور پر یاد رکھے گی۔ یاد رکھیں، مالیگاؤں کی ترقی کرنے کے لیے اب کوئی ٹیپو سلطان نہیں آنے والا۔

یہ کہانی تو مالیگاؤں شہر کی ہے، لیکن اس کہانی کے گرد گھومتی سچائی کو بھارت کے ہر اس شہر کے باشندوں کو سمجھنا ہوگا جسے لیڈر اپنے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں، یا یہ سمجھتے ہیں کہ انتخاب کے وقت عوام کو ان کے ووٹوں کی قیمت دے دی گئی ہے اور اب عوام ہمارے سامنے منہ نہیں کھول سکتی، پھر چاہے ہم اقتدار کے نشے میں شہر کو کیوں نہ بیچ ڈالیں۔ یاد رکھیں، عظیم ہستیوں کی تصویریں ایک اعزاز ہوتی ہیں، لیکن اگر کسی تصویر سے کسی اور کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچے گی، تو وہ عظیم شخصیت جس کی تصویر آپ نے لگائی ہے، کیا اس ٹھیس کو ختم کر پائے گی؟ یا کیا وہ عظیم شخصیت یہ دیکھ کر کہ آپ نے اس کی تصویر کو عزت دی ہے، آپ کے شہر کی ترقی کرے گی یا آپ کی ذمہ داریوں کو اپنی غیبی طاقت سے پورا کر دے گی؟ ایسے کئی سوالات ہیں...









*جعفر نگر وارڈ میں آوارہ کتوں کی بہتات: ایک سنگین مسئلہ*

​ہمارے محلے میں گزشتہ کچھ عرصے سے آوارہ کتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے، جو اب اہل محلہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ گلیوں اور چوراہوں پر کتوں کے جھنڈ نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کا گھر سے باہر نکلنا اور بزرگوں کا مسجد یا بازار جانا دشوار ہو گیا ہے۔

​انتظامیہ کی لاپرواہی
​اس سنگین صورتحال کی سب سے بڑی وجہ نگر سیوکوں اور بلدیاتی عملے کی لاپرواہی ہے۔ بار بار شکایات کے باوجود انتظامیہ خوابِ غفلت میں ہے:
​کتوں کی نس بندی (Sterilization) کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
​کوڑے دانوں کی بروقت صفائی نہ ہونے سے کتے وہاں خوراک کی تلاش میں جمع رہتے ہیں۔
​کتوں کو پکڑنے والی ٹیمیں مہینوں سے علاقے میں نظر نہیں آئیں۔
​انسانی جانوں کو خطرہ
​کتے اب نہ صرف راہگیروں پر بھونکتے ہیں بلکہ کئی معصوم بچوں اور بوڑھوں کو کاٹ کر زخمی کر چکے ہیں۔ پاگل کتوں کے کاٹنے سے ریبیج (Rabies) جیسی مہلک بیماری کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہوئے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔

​یہ نگر سیوکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر عوامی تحفظ کو ترجیح دیں۔ اگر فوری طور پر ان کتوں کی منتقلی یا ان کی تعداد کنٹرول کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اہل محلہ کو اس خوف زدہ ماحول سے نجات دلائے

*عمیر سر نورانیہ*











*مفتی سراج احمد ملی(مفتی شہر)کے مدلل فتویٰ کی روشنی میں*
*چھ روزہ نماز تراویح کا مشترکہ اعلان اور مصلیان کیلئے رہنما ہدایات*
*جو لوگ رمضان میں سفر وغیرہ کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے لیے ایک جگہ پورے رمضان میں قرآن کریم کا سننا ممکن نہ ہو، یا جو حضرات ایک سے زائد قرآن پاک سننے کا ذوق رکھتے ہوں، ایسے افراد کے لیے مندرجہ ذیل مقامات پر چھ روزہ نماز تراویح کا انعقاد کیا گیا ہے:*
*1) باغبان جماعت خانہ ، واقع نور باغ چوک ، ہزار کھولی*

*امام تراویح: مفتی محمد عامر یاسین ملی*

*(نوٹ: شیخ عثمان ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں ہونے والی تراویح جگہ کی سہولت کے پیش نظر یہاں ہوگی ۔*

*2)مدرسہ ثناء العلوم (ساٹھ فٹی روڈ ،داتارنگر)*

*امام : حافظ عبدالرحمن داعی و حافظ محمد عرفات*

*۲) قریش جماعت خانہ (عبد اللہ نگر)*

*امام:مفتی سالک زبیر ندوی*

*۳)محمڈن ہال (سردار نگر)*

*امام : حافظ محمد عمیس انعامی و حافظ نعیم احمد*
*-*-*
*مصلیان کے لیے رہنما ہدایات*

*(الف) جن حضرات کو واقعی سفری مجبوری درپیش ہو یا جو ایک سے زائد قرآن سننے کا ذوق رکھتے ہوں ، ایسے افراد اہتمام کے ساتھ شرکت کریں۔*

*(ب) نماز تراویح میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ شریک ہوجائیں ،چھ اور دس روزہ ہی نہیں سوا اور ڈیڑھ پارے والی تراویح میں بھی بعض حضرات امام کے رکوع میں جانے تک بیٹھے رہتے ہیں ،یہ قرآن کی بے ادبی ہے اور ایسے لوگوں کا قرآن ادھورا رہ جاتا ہے ۔*

*(ج)تراویح چھ اور دس دن کی ہو یا بیس اورستائیس دن کی ،تکمیل قرآن کے بعد بھی پورا رمضان نماز تراویح پڑھنا مسنون ہے ،لہذا تکمیل قرآن کے بعد بھی نماز تراویح کی ادائیگی کا اہتمام کرتے رہیں۔*
*جزاکم اللہ خیرا*
*جاری کردہ : انتظامی کمیٹی برائے چھ روزہ تراویح (مولانا عبدالرحمن جمالی ثناء العلوم للبنات، اسامہ ٹیلر نور باغ ، محمد مدثر محمڈن ہال، ابوبکر صدیق قریش جماعت خانہ و نوجوانان ہزار کھولی و نور باغ مالیگاؤں)*









*مالیگاؤں کا 'تصویر تماشہ' اور حجاب کی سیاست: ترقی کے 'جنازے' پر چڑھتی سیاست*
✍️*وسیم رضا خان* ✍️
مالیگاؤں مہانگر پالیکا میں گزشتہ دس دنوں سے جو سرکس چل رہا ہے، وہ جمہوریت کے لیے کوئی خوش آئند اشارہ نہیں ہے۔ میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد نے کرسیاں تو سنبھال لیں، لیکن ارادے 'عوامی خدمت' سے زیادہ 'جنگ' کے نظر آ رہے ہیں۔ جس شہر کو گڑھوں سے نجات، صاف پانی اور بہتر بنیادی ڈھانچے کی ضرورت تھی، وہاں کی اقتدار اب 'تصویر بنام تقدیر' کی لڑائی میں الجھ گئی ہے۔ مالیگاؤں کی سیاست میں حالیہ واقعات نہ صرف اقتدار کے مساوات کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ یہ شناخت کی سیاست اور ترقی کے ایجنڈے کے درمیان کشمکش کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ مالیگاؤں مہانگر پالیکا نے تاریخ تو رقم کی کہ دو اقلیتی خواتین—میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند—اقتدار کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھیں، لیکن افسوس کہ یہ تاریخ ترقی کی سیاہی سے کم اور تنازعات کے رنگ سے زیادہ لکھی جا رہی ہے۔ عہدہ سنبھالتے ہی جس توانائی کو شہر کی سڑکوں، پانی اور صحت کی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے تھا، اسے 'ٹیپو سلطان' کی تصویر اور 'حجاب' کے گرد سمیٹ دیا گیا ہے۔

ڈپٹی میئر شانِ ہند کی جانب سے اپنے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی 'پولیٹیکل برانڈنگ' نظر آتی ہے۔ جب اپوزیشن (شندے گروپ کی شیوسینا) اس پر جارحانہ رخ اختیار کرتی ہے، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شہر کے مسائل سے زیادہ ضروری دونوں فریقوں کے لیے اپنی 'نظریاتی زمین' بچانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی عظیم شخصیت کی تصویر لگانے سے ہی شہر کے عوام کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں گے؟ جدوجہدِ آزادی میں شراکت ایک تاریخی حقیقت ہو سکتی ہے، لیکن کیا موجودہ دور کی بدحال سڑکوں کا حل ماضی کی تصویروں میں چھپا ہے؟ اقتدار میں آتے ہی علامتوں کی سیاست کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی کے ایجنڈے پر آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ جب اپوزیشن اس پر حملہ آور ہوتی ہے، تو وہ بھی اسی پولرائزیشن (تفرقہ بازی) کی آگ میں گھی ڈالتی ہے جو مالیگاؤں کو دہائیوں سے پیچھے دھکیل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میئر اور ڈپٹی میئر نے عہدے کا حلف 'آئین' کا لیا تھا یا 'علامتوں' (Symbolism) کا؟

مالیگاؤں میں مسلم خواتین کا قیادت میں آنا خواتین کی خود مختاری کی علامت ہو سکتا تھا، لیکن یہاں بھی 'حجاب' اور 'پروٹوکول' کے سوال نے جگہ لے لی۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ انتظامی عہدوں پر بیٹھنے والے شخص کو مذہبی علامتوں سے بالاتر ہو کر عہدے کے پروٹوکول کی پاسداری کرنی چاہیے۔ جس طرح ایک وردی والے کے لیے قوانین سب سے مقدم ہوتے ہیں، کیا ایک عوامی عہدے پر فائز خاتون کو بھی 'یونیفارم پروٹوکول' پر عمل نہیں کرنا چاہیے؟ اگر حجاب ایک ذاتی پسند ہے، تو اس کا وقار تب اور بڑھتا جب یہ 'انتظامی غیر جانبداری' کے آڑے نہ آتا۔ لیکن جب ان علامتوں کو سیاسی ہتھیار بنایا جاتا ہے، تو سوال اٹھنا لازمی ہے۔

اکثر جب اقتدار والوں سے ان کے کام کا حساب مانگا جاتا ہے، تو 'اقلیت ہونے' یا 'ٹارگٹ کیے جانے' کا کارڈ کھیل دیا جاتا ہے۔ مالیگاؤں کے عوام نے میئر اور ڈپٹی میئر کو اس لیے نہیں چنا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کو ڈھال بنائیں، بلکہ اس لیے چنا کہ وہ شہر کی کایا پلٹ کریں۔ مالیگاؤں کی تنگ گلیوں اور گرد آلود راستوں کو نہ تو ٹیپو سلطان کی تصویر سے فرق پڑتا ہے اور نہ ہی حجاب پر ہونے والی بحث سے۔ انہیں فرق پڑتا ہے صاف پانی سے، روزگار سے اور ایک بہتر مستقبل سے۔

میئر نسرین شیخ اور ڈپٹی میئر شانِ ہند کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اب کسی خاص طبقے یا پارٹی کی نمائندہ محض نہیں ہیں، بلکہ پورے مالیگاؤں کی محافظ ہیں۔ تصویروں کی سیاست اور حجاب کے تنازعات میں الجھ کر وہ ان امیدوں کا گلا گھونٹ رہی ہیں جن کے دم پر وہ اس کرسی تک پہنچی ہیں۔ آئینی عہدوں کا اپنا ایک وقار اور ایک غیر اعلانیہ 'یونیفارم پروٹوکول' ہوتا ہے۔ جب آپ ایک پورے شہر کی نمائندگی کرتے ہیں، تو آپ کی شناخت آپ کے مذہبی عقائد سے اوپر اٹھ کر ایک 'عوامی خادم' (Public Servant) کی ہونی چاہیے۔ انتظامی دفاتر 'عجائب گھر' یا 'مذہبی اکھاڑے' نہیں ہوتے؛ وہ خدمت کے مراکز ہوتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سیاست کو دفتر کی دہلیز کے باہر چھوڑ کر، ترقی کی اس فائل کو کھولا جائے جو شاید دھول چاٹ رہی ہے۔

اقتدار کا نشہ جب علامتوں کی سیاست میں بدل جاتا ہے، تو عوام کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ میئر اور ڈپٹی میئر کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کسی مسجد یا مدرسے کی نہیں، بلکہ ایک سرکاری کارپوریشن کی سربراہ ہیں۔ اگر وہ اپنی توانائی تصویروں اور حجاب کے دفاع میں خرچ کریں گی، تو مالیگاؤں کی ترقی صرف کاغذوں اور تقریروں تک محدود رہ جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ مالیگاؤں کے یہ 'معززین' اپنی شناخت کی سیاست کو گھر چھوڑ کر آئیں اور ترقی کی اس فائل پر دستخط کریں جس کے لیے انہیں منتخب کیا گیا ہے۔ ورنہ تاریخ انہیں 'تاریخ بدلنے والوں' کے طور پر نہیں، بلکہ 'وقت برباد کرنے والوں' کے طور پر یاد رکھے گی۔

Sunday, 15 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




نائجیریا میں بندوق برداروں کےحملے میں کم سے کم 32 افراد ہلاک
نائجیریا میں بندوق برداروں کے حملے میں کم سے کم32 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ، موٹرسائیکل سوار بندوق برداروں نے تین گاؤں میں دھاوا بولا اور وہاں کے لوگوں کو نشانہ بنایا۔انھوں نے گھروں کوشعلوں کے حوالے کردیا ۔حملہ ہفتے کی صبح کیا کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں اس طرح کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرزکے حوالےسے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ، کونکوسو گاؤں میں ہوئے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کو سکیورٹی اہلکاروں کا کوئی خوف نہ تھا ۔

انھوں نےپولیس اسٹیشن کوبھی پھونک ڈالا۔ کونکوسو گاؤں میں قتل و غارت مچانے کے بعد حملہ آوروں نے پِسا گاؤں کا رخ کیا۔جہاں انھوں نے ایک شخص کو گولی مارکرہلاک کردیا۔حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشن کو بھی نذرآتش کردیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹونگا۔مکیری گاؤں میں بندوق بردار حملہ آوروں نے چھ افراد کو گولی مار کرہلاک کردیا جبکہ انھوں نے کئی گھروں میں آگ لگا دی ۔خبررساں ایحنسی رائٹرز کے مطابق ، ان گاؤں میں مہلوکین کی تعداد32 ہے جبکہ اے ایف پی نے یہ تعداد 46 افراد کی بات کہی گئی ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور 41موٹر سائیکل پر سوارتھے اور ایک موٹرسائیکل پر دو سے تین حملہ آورسوار تھے۔
نائجیریا میں بندوق برداروں کے بڑھتے حملوں پر روک لگانے میں حکومت ناکام رہی ہے۔












فرانسیسی صدرمیکروں کا سہ روزہ بھارت دورہ، مختلف پروگراموں میں کرینگے شرکت
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اپنی اہلیہ کے ساتھ 16 فروری کو ممبئی پہنچیں گے۔ وزارت خارجہ نے فرانسیسی صدر کے شیڈول کے حوالے سے تفصیلات شیئر کی ہیں۔ میکروں 16 فروری کو 11:30 بجے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچیں گے، اور ان کا سرکاری دورہ 17 فروری کو شروع ہوگا۔

اس کے بعد، منگل، 17 فروری، 3:15 بجے، وہ لوک بھون میں پرائم منسٹر نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔اس ملاقات کے دوران دونوں لیڈران یادداشت مفاہمت کا تبادلہ کریں گے اور مشترکہ بیان جاری کریں گے۔ ہند۔فرانس انوویشن فورم ہوٹل تاج محل پیلس میں شام 5:20 بجے منعقد ہوگا۔ اس کے بعد، 8:15 بجے، وہ گیٹ وے آف انڈیا پر ہند۔ فرانس اختراع کا سال تقریب میں شرکت کریں گے۔اگلے دن، بدھ، 18 فروری، دوپہر 1 بجے، صدر میکروں نئی دہلی میں بھارت منڈپم پہنچیں گے

صبح 10:40 بجے، وہ پھر کنٹری پویلین کا دورہ کریں گے۔ صبح 11:30 بجے HOSS/HOGS وزراء کے ساتھ ایک تصویر لی جائے گی، 12:00 بجے، فرانسیسی صدر لیڈرز پلینری اور ورکنگ لنچ میں بھی شرکت کریں گے۔ وہ سہ پہر 3:45 پر فرانس کے لیے روانہ ہوں گے۔

ہورائزن 2047 روڈ میپ
اس سے قبل ، وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ دورے کے دوران دونوں لیڈر ہورائزن 2047 کے روڈ میپ میں بیان کردہ متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مزید ، قائدین ہند۔بحرالکاہل میں تعاون سمیت باہمی فائدے کے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

صدر میکرون 19 فروری کو نئی دہلی میں AI امپیکٹ سمٹ میں شرکت کریں گے۔
یہ دورہ پی ایم مودی کے دورہ فرانس کے بعد ہورہا ہے اور یہ ہند۔فرانس اسٹریٹجک شراکت داری کے باہمی اعتماد اور گہرائی کے ساتھ ساتھ اسے مزید گہرا کرنے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انڈیااے آئی امپیکٹ سمٹ 16 سے 20 فروری تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہوگی۔ اس سمٹ میں دنیا بھر کے ممالک کے مندوبین شرکت کریں گے، جو گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہونے والی پہلی AI سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوگا۔پی ایم نریندر مودی اس سمٹ کا افتتاح کریں گے۔مصنوعی ذہانت (AI) ہندوستان کی ترقی کے سفر، حکمرانی کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر، جامع ترقی کی حمایت کرتا ہے اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہندوستان کا لسانی اور ثقافتی تنوع اسے AI نظام تیار کرنے کے لیے منفرد مقام دیتا ہے جو متنوع آبادی کی ضروریات کے مطابق متعدد زبانوں اور متعدد ماڈلز کو شامل کرتا ہے۔











اس مسلم ملک میں قتلِ عام، تین دنوں میں 6 ہزار افراد ہلاک، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، افریقی ملک سوڈان میں تین دنوں کے اندر 6000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے آخری ہفتے میں دارفور کے علاقے الفشر کے قصبے پر ہونے والے شدید حملوں میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی۔ یہ معلومات گواہوں کے بیانات پر مبنی ہے۔

سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ دارفور میں الفشر فوج کا آخری بڑا اڈہ تھا۔ 18 ماہ کے محاصرے کے بعد، RSF نے 26 اکتوبر کو شہر پر ایک بڑا حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 25 سے 27 اکتوبر کے درمیان شہر کے اندر کم از کم 4,400 افراد مارے گئے۔ مزید برآں، فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے 1,600 سے زیادہ مارے گئے۔ اس سے صرف تین دنوں میں مرنے والوں کی تعداد 6000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

کس قسم کا تشدد ہوا؟رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں بڑے پیمانے پر فائرنگ، گھروں پر حملے، قتل، خواتین کے خلاف جنسی تشدد، بچوں سمیت اغوا، تشدد اور بغیر مقدمہ چلائے پھانسی دینا شامل ہیں۔ بہت سے معاملات میں، حملے نسلی شناخت کی بنیاد پر کیے گئے۔ ایک واقعے میں، تقریباً 1,000 لوگوں نے یونیورسٹی کے ہاسٹل میں پناہ لینے کی اطلاع دی تھی۔ وہاں بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 500 لوگ مارے گئے۔ ایک اور واقعے میں تقریباً 600 افراد کو پکڑ کر ہلاک کیا گیا جن میں 50 بچے بھی شامل تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 28 اکتوبر کو ایک ہسپتال پر ہونے والے حملے میں بھی سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔صورتحال کتنی سنگین ہے؟
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری لڑائی نے سوڈان کو دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران میں ڈال دیا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اور کئی علاقوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مجرموں کے خلاف کارروائی نہ ہونا تشدد کے چکر کو ہوا دیتا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*




*اور ملا سوم انعام*
*اسکول شیخ امام*
*_ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے*
 *جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے*_ 
         اللہ پاک کا بہت ہی بڑا کرم ہے کہ جاری تعلیمی سال کے آخری اسکولی مقابلے میں ایک مرتبہ پھر *شیخ امام پرائمری اسکول مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر* نے کامیابی کا عَلَم تھامے رکھا۔
آج بروز بدھ 11 فروری 2026 مالیگاؤں کی جامعتہ الہدی ہائی اسکول کیمپس میں *آل مالیگاؤں قصہ گوئی* کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں شہر عزیز کی 23 اسکولوں نے اپنے ہونہار طلبہ کے ساتھ شرکت کی اور مقابلے کو دلچسپ مفید پُراثر اور مزیدار بنایا ۔۔
      الحمداللہ! رب العزت نے اس مسابقے میں ایک بار پھر *شیخ امام پرائمری اسکول* کے جماعت *چہارم* کے طالب علم *محمد سعدین محمد اسماعیل* نے اپنے دلنشین انداز اور لب ولہجہ کی بنیاد پر *سوم انعام* کے حق سے نوازا۔ ۔طالب علم محمد سعدین محمد اسماعیل نے *مُناظرہ* عنوان سے اپنا قصہ پیش کرکے جج صاحبان کے ساتھ ہی ساتھ حاظرین و ناظرین کو متاثر بھی کیا۔اس طالب علم کو تیار کئے ہیں اسکول ہذا کے معلم *زاہد امین سر* اور قصے کا انتخاب کیا تھا *آصف اقبال سر* نے۔۔
انعام میں ایک خوبصورت *ٹرافی،بورڈ، رائٹنگ پیڈ،پیالے کا سیٹ، ایک باکس،ایک دعا کی کتاب ،ایک قصے کی کتاب فاتح اور شرکت کا سرٹیفکیٹ* جیسی چیزیں حاصل کی۔۔
اس عظیم کامیابی پر ہم اسکول کے ہیڈ ماسٹر شیخ تنویر سر ،معلیمن زاہد امین سر اور آصف اقبال سر طالب علم محمد سعدین محمد اسماعیل اور تمام اسٹاف کو ڈھیر ساری مبارکباد پیش کرتے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی کامیابی کے سفر کو یونہی آگے آگے بڑھتے رہنے کی تمنا اور دعائیں پیش کرتے ہیں کہ
*کوششیں لاکھ کرو دوستو لیکن سن لو*
*کامیابی کا سہرا تو خدا دیتا ہے*









*مصنوعی رنگت کا فریب اور مٹتی ہوئی فطری پہچان*
از: آصف جلیل احمد (چونابھٹّی، مالیگاؤں)

عصرِ حاضر میں انسانی معاشرت جن فکری اور سماجی تضادات سے دوچار ہے ان میں ایک سنگین المیہ ظاہری رنگ و روپ کی وہ اندھی دوڑ ہے جس نے انسانی شعور کو مادیت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران بازار و مارکیٹ میں رنگ گورا کرنے والی کریموں، فیس واش اور صابن کی جس تیزی سے بھرمار ہوئی ہے وہ محض ایک تجارتی رجحان نہیں بلکہ ایک گہرے نفسیاتی بحران کی علامت ہے۔ چکاچوند اشتہارات کے ذریعے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ سماجی قبولیت، اعتماد اور کامیابی کا واحد راستہ "گوری رنگت" سے ہو کر گزرتا ہے۔
اسی فریبِ نظر میں مبتلا ہو کر ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی مصنوعات استعمال کر رہی ہے جو وقتی طور پر نکھار کا دھوکا تو دیتی ہیں مگر بعد میں جلد کی قدرتی ساخت کو تباہ کر دیتی ہیں۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق ان غیر معیاری اور سستی مصنوعات میں پارہ (Mercury)، اسٹیرائڈز (Steroids) اور ہائیڈروکوئنون (Hydroquinone) جیسے خطرناک اجزاء پائے جاتے ہیں جو جلد کی حفاظتی تہہ کو مستقل نقصان پہنچاتے ہیں۔ نتیجتاً چند سالوں کے بعد چہرہ غیر معمولی حساس ہو جاتا ہے، سورج کی روشنی برداشت نہیں کر پاتا اور سرخی، خارش، سوزش اور قبل از وقت جھریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ اس بگاڑ کو بڑھاوا دینے میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ انسٹاگرام اور فیس بک پر نظر آنے والے وہ چہرے جو فلٹرز اور ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کے ذریعے غیر فطری چمک حاصل کر لیتے ہیں، نوجوان ذہنوں کے لیے حسن کا نیا معیار بن چکے ہیں۔
اس نقالی کے انجام نے ہمارے شہروں میں ایک خاموش مگر بھیانک المیہ جنم دیا ہے۔ وہ چہرے جو کبھی فطری تازگی رکھتے تھے، آج جھلسے ہوئے، کھردرے اور بے رونق نظر آتے ہیں۔ بے شمار نوجوان ماہرینِ جلد کے کلینکوں کے چکر کاٹ رہے ہیں، مگر افسوس کہ جلد کو پہنچنے والا یہ بگاڑ اکثر ناقابلِ تلافی ثابت ہو رہا ہے۔ ممبئی اور پونے جیسے بڑے شہروں میں گورا بدن گورا چہرہ کرنے کے لیے مہنگے انجکشن لگوانے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ عارضی سفیدی چند دن میں ماند پڑ جاتی ہے، جبکہ اندرونی طور پر گردوں اور جگر جیسے حساس اعضا متاثر ہونے لگتے ہیں۔
یہاں یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ مسئلہ زیبائش یا حسن کو بہتر بنانے کا نہیں، بلکہ اس کے غلط، نقصان دہ اور افراطی طریقوں کا ہے۔ اسلام فطری حسن کو سنوارنے اور پاکیزہ انداز میں زیبائش اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے، مگر نمائش، فریب اور خود کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ چہرے کی صفائی، مناسب نگہداشت، خوشبو، سلیقہ اور اعتدال کے ساتھ حسن میں اضافہ شریعت کے مزاج کے خلاف نہیں۔ اس لیے ہر کریم یا ہر فروش کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی انصاف نہیں۔ اصل خرابی وہاں جنم لیتی ہے جہاں حسن بڑھانے کے نام پر جلد کو تجربہ گاہ بنا دیا جائے، ناجائز اور مضر اجزاء استعمال کیے جائیں اور قدرتی رنگت کو احساسِ کمتری کی بنیاد بنا کر برباد کر دیا جائے۔
حسن کو بڑھانا جرم نہیں، مگر اسے جائز، محفوظ اور فطری طریقوں سے بڑھانا ضروری ہے۔ بدن ایک امانت ہے، جس کی حفاظت لازم ہے، نہ کہ وقتی چمک کے لیے اسے دائمی بگاڑ کے حوالے کر دیا جائے۔ زیبائش اگر وقار اور اعتدال کے ساتھ ہو تو بہتر ہے، اور جب وہ خود کو گورا دکھانے کی نمائش اور خود فریبی میں بدل جائے تو بعد میں خود اذیتی کا سبب بن جاتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس تلخ حقیقت کو تسلیم کریں کہ حقیقی کشش کسی مصنوعی نسخے یا مہنگے علاج کی مرہونِ منت نہیں۔ اصل جاذبیت اس نور سے پھوٹتی ہے جو باطنی پاکیزگی اور نیک اعمال کا ثمر ہوتی ہے۔ قدرت کا اٹل اصول ہے کہ جن چہروں پر تقویٰ کی چھاپ ہوتی ہے، وہاں خودبخود ایک ایسی وقار آمیز روشنی ہوتی ہے جو کسی ظاہری ملمع کی محتاج نہیں۔ وضو کی برکت سے حاصل ہونے والی طہارت چہرے پر وہ تازگی بکھیر دیتی ہے جو دیکھنے والوں کے دل میں بے ساختہ احترام اور محبت پیدا کرتی ہے۔
سانولی رنگت والا انسان بھی اگر سیرت میں مضبوط ہو تو اس کے چہرے پر ایسا وقار اُنسیت جاذبیت اور عشق جھلکتا ہے کہ لوگ اس کی صورت کے نہیں بلکہ اس کے کردار کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم اس مصنوعی حسن کے بت کو پاش پاش کریں اور فطرت کی طرف لوٹ آئیں، اور اپنی نئی نسل کو یہ شعور دیں کہ دائمی چمک کسی بوتل یا انجکشن میں نہیں بلکہ اس بندگی میں ہے جو ربِ کریم کو راضی کر دے۔
رابطہ: 9225747141











ابلا ہوا انڈا یا آملیٹ، وزن کم کرنے کے لیے کس کا استعمال بہتر ہے؟
انڈے ناشتے کا لازمی جزو ہیں جن میں بھرپور غذائی خصوصیات ہوتی ہیں۔ چاہے آپ انہیں اُبال کر کھائیں یا آملیٹ کی صورت میں، دونوں انداز اپنے اپنے فوائد رکھتے ہیں۔ تاہم پروٹین کی مقدار اور وزن کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے ان دونوں کے درمیان فرق آپ کی توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق کچھ لوگ آملیٹ کو زیادہ پسند کرتے ہیں، جبکہ کچھ اُبلے انڈے پر انحصار کرتے ہیں۔ تیاری کے طریقے اور اضافی اجزا غذائیت کو کس طرح بدلتے ہیں، یہ جاننا آپ کو ایسا انتخاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو واقعی آپ کے صحت کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ذیل میں دونوں کے سائنسی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ آپ فیصلہ کر سکیں کہ آپ کی پلیٹ پر مستقل جگہ کس کو ملنی چاہیے۔
اُبلا ہوا انڈا: سادہ، صاف اور پروٹین سے بھرپور
اُبلا ہوا انڈا انڈے کھانے کا سب سے سادہ طریقہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں پکانے کے دوران کوئی اضافی چیز شامل نہیں کی جاتی۔ نہ تیل، نہ دودھ اور نہ ہی مصالحہ، اس لیے اس کی کیلوریز صرف انڈے تک محدود رہتی ہیں۔ ایک بڑے اُبلے ہوئے انڈے میں تقریباً 6 سے 6.3 گرام مکمل پروٹین ہوتا ہے، جو جسم کے لیے تمام ضروری امینو ایسڈز فراہم کرتا ہے۔
جرنل آف دی امریکن کالج آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جو افراد ناشتے میں انڈے کھاتے ہیں وہ زیادہ دیر تک پیٹ بھرا محسوس کرتے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں میں کم کیلوریز استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھوک پر قابو پانے یا وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے اُبلے انڈے ایک قابلِ اعتماد انتخاب ہیں۔
پروٹین کے ساتھ ساتھ، اُبلے انڈے اہم غذائی اجزا بھی فراہم کرتے ہیں، جن میں وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور کولین شامل ہیں۔
اُبلے انڈے کو ترجیح دینے کی وجوہات
کیلوریز کی واضح اور کم مقدار
اضافی چکنائی شامل نہیں ہوتی
مقدار پر آسان کنٹرولآملیٹ: لذیذ، بھرپور اور حسبِ ضرورت
آملیٹ میں زیادہ ذائقے اور تنوع ہوتا ہے۔ بنیادی پروٹین وہی رہتا ہے، تقریباً 6 گرام فی انڈا۔ لیکن غذائیت کا مجموعی توازن استعمال ہونے والے اجزا کے مطابق بدل سکتا ہے۔ یہی چیز آملیٹ کو مختلف غذائی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
تیاری کا طریقہ غذائیت کو کیسے بدلتا ہے؟
سادہ آملیٹ ہلکا اور صحت بخش رہ سکتا ہے، مگر کچھ اضافے اس کی کیلوریز تیزی سے بڑھا دیتے ہیں:
1 چائے کا چمچ تیل: تقریباً 40 اضافی کیلوریز
پنیر: چکنائی اور نمک میں اضافہ
پراسیسڈ گوشت: سیر شدہ چکنائی میں نمایاں اضافہ
سبزیاں: حجم، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہیں
اگر آملیٹ کو کم سے کم تیل میں پکایا جائے اور اس میں پالک، شملہ مرچ، پیاز یا مشروم جیسی سبزیاں شامل کی جائیں تو یہ ایک متوازن غذا بن سکتا ہے، جو پروٹین کے ساتھ فائبر اور اہم مائیکرونیوٹرینٹس بھی فراہم کرتی ہے۔وزن کم کرنے کے لیے کون سا بہتر ہے؟
اگر آپ کیلوریز کا سخت حساب رکھتے ہیں تو اُبلا ہوا انڈا فطری طور پر بہتر انتخاب ہے۔ یہ سادہ، مقدار میں واضح اور پوشیدہ چکنائی سے پاک ہوتا ہے۔ تاہم ایک اچھی طرح تیار کیا گیا آملیٹ ایک اور فائدہ فراہم کرتا ہے: حجم۔ سبزیوں سے بھرا دو انڈوں کا آملیٹ زیادہ بھرپور محسوس ہوتا ہے، جس سے بھوک کم ہوتی ہے اور غی ضروری سنیکس سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرینِ غذائیت دونوں طریقوں کو ضرورت کے مطابق باری باری استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔


*🔴سیف نیوز اردو*




*سیف ٹرپس*
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.shariztech.saiftrips.app
*سیف نیوز جہاں یوٹیوب انسٹاگرام بلاگر فیس بک پیج پر خبریں و دیگر مواد لگاۓ جاتے ہیں وہیں اب الحمدللہ سیف ٹرپس ایپ بھی شروع کیا گیا ہے جہاں آپ کو ایک ہی کلک پر ہر نیوز یوٹیوب انسٹاگرام بلاگر کی مل جاۓ گی مختلف پلیٹ فارم پر تلاش ختم ۔۔۔ وہیں اس میں آپ کو سواریوں زمین ہوٹل وغیرہ کی بھی جانکاری ہوگی وہیں سے آپ بکنگ بھی کرسکیں گے پورے ملک میں کہیں بھی لہذا سیف ٹرپس ضرور ڈاؤن لوڈ کریں اور شکریہ کا موقع دیں*

*پلے اسٹور پر saif trips ٹائپ کریں انسٹال کریں اوپن ہونے پر allow دبائیں گیٹ اسٹارٹ کریں چھ سہولیات میں سے کوئی بھی سہولت سامنے آۓ وہاں کلک کریں موبائل نمبر ٹائپ کریں ویری فائی دبائیں ایپ شروع ہوجاۓ گا نہایت آسانی سے وہ بھی کم ایم بی لے گا*
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.shariztech.saiftrips.app










مالیگاوءں کارپوریشن برسر اقتدار سیکولر فرنٹ متوجہ ہوں۔
پہلی مہا سبھا میں ان تمام عنوانات کو لایا جائے۔
پریس نوٹ: از قلم آصف بنداس، 
9273019740
مالیگاوءں سیکولر فرنٹ کو تاریخی اقتدار نصیب ہوا۔ اور روز اول سے یہ چرچا رہی کہ کارپوریشن پر میئر اور ڈپٹی میئر سیکولر فرنٹ کا ہوگا۔ الحمد اللہ شہر کی تاریخ میں کارپوریشن میں پہلا اقتدار ایسا براجمان ہوا کہ اب یک مشت شہر کی ترقی ہوگی۔ 

لہذا بہت زیادہ گہرائی میں نہ جاتے ہوئے سیکولر فرنٹ کو ان عنوانات کی جانب توجہ دلائی جارہی ہے۔ جو شہر کے لئے بہت اہم اور سنگین مسلہ ہے۔ لہذا ان تمام عنوانات کو پہلی مہا سبھا جو کہ ماہ رمضان المبارک سے ایک روز قبل 18فروری کو ہونے جارہی ہے ۔ اس مہا سبھا میں ان عنوانات کو منظور کیا جائے بلکہ منظوری کے بعد فورا" اس پر عمل بجاونی مستقل کے لئے کی جائے۔ 


1)پورے شہر کی اہم اہم شاہراوں سے مستقل و ہمیشہ کے لئے اتی کرمن صاف کیا جائے۔ کیونکہ اتی کرمن کی وجہ سے ایک تو نالوں اور گٹروں کی مکمل صفائی نہیں ہوتی۔ دوسری وجہ اتی کرمن سے راستہ چلنا دشوار ہوگیا ہے۔ اس پر فورا" عملی کام سے شہریان جو راحت ملے گی۔


2) پورے شہر میں جہاں جہاں پرشاسک راج میں انڈر ڈرینج کا کام کرکے روڈ کو کھنڈر چھوڑ دیا گیا ایسے تمام روڈ راستوں کو جلد از جلد کانکریٹ تعمیر کیا جائے۔ 

3) ماہ رمضان المبارک کے پورے ایام میں ہر دن گندگی و کچرا اٹھایا جائے اور کورناک کمپنی کو باور کرایا جائے کہ افطاری کے بعد بھی گندگی و کچرا اٹھایا جائے تاکہ تعفن نہ ہو۔ 

4) پورے شہر میں مچھروں کی بہتات پروان چڑھی ہے۔ لہذا مچھر مار دواوءں کا کڑک چھڑکاوء علاقہ وائز مسلسل ہو۔

5) پورے ماہ رمضان المبارک میں پینے کے پانی کی فراہمی پابندی سے کی جائے۔ بلاوجہ ٹیکنیکل میسٹیک کے نام سے مزید پانی کٹوتی بالکل برادشت نہیں کی جائے گی۔ 

6) پورے رمضان المبارک میں مالیگاوءں پاور سپلائی کمپنی کو یہ باور کرایا جائے. کہ جان بوجھ کر لوڈ شیڈنگ براشت نہیں کی جائے گی۔



7) رمضان المبارک اور عید الفطر کے پیش نظر جہاں خراب راستے ہیں وہاں فورا" پیچ ورک کیا جائے۔ 

امید ہیکہ سیکولر فرنٹ اپنی پہلی مہا سبھا میں جتنے بھی عنوان ہیں ان میں یہ تمام عنوانات بھی شامل کریگا۔ اور شہریان کو شکریہ کا موقع دیگا












مالیگاؤں میں اے ایچ سی اکیڈمی ٹیلنٹ ہنٹ کا شاندار انعقاد   
مالیگاؤں میں اے ایچ سی اکیڈمی کے زیر اہتمام "ٹیلنٹ ہنٹ" پروگرام سنگمیشور کے وسیع و عریض لان میں نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں شہر کے طلباء، اساتذہ اور سرپرستوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔  

تقریب کے صدر حافظ ولی احمد خان (احمد آباد) نے نوجوانوں کو قوم و ملت کی امیدوں پر مزید محنت اور تعلیم پر توجہ دینے کی تلقین کی۔ کارپوریشن میئر نسرین شیخ نے شہر کے فلاحی کاموں اور بنیادی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اے ایچ سی اکیڈمی کے ڈائریکٹر عبدالحکیم شیخ نے ادارے کی کارکردگی اور بہترین نتائج پر روشنی ڈالی۔ اور طلباء کے تعلیمی مستقبل پر مفید مشوروں سے نوازا ۔

معروف وکیل و سماجی کارکن محترمہ جیوتی تائی بھوسلے نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی علم و تحقیق سے وابستہ ہے، نہ کہ صرف عمارتوں یا راستوں سے۔  

پروگرام میں رویندر پوار، سلیم اپسرا، کیتن دتانی، وجے کلکرنی، مستقیم ڈگنیٹی، چاند خان سر سمیت کئی معزز مہمان شریک ہوئے۔  

 انعام یافتہ طلباء کے نام  
- دسویں جماعت: دنیش پاٹل (اول)، تنوشری بھاسکر پاٹل (دوم)، رتوژہ سندیپ نکم (سوم)، زرین صدف (چہارم)  
- نویں جماعت: زرین فاطمہ سلیم احمد اپسرا (اول)، ڈیوک نوناتھ چتے (دوم)، تن مئے بال کرشن ٹھوکے (سوم)  
- آٹھویں جماعت: سائی ستیش بھوسلے (اول)، محمد اشہل عاصم (دوم)، محمد عمرین ساجد (سوم)، سیم سندیپ رسے (تیسرا)  
- ساتویں جماعت: دھرو نلیش لوہیا (اول)، وید منوج بھاری (دوم)، صالحہ شہباز مومن (سوم)  

کامیاب طلباء کو ٹرافی، سند، نقد رقم اور اسپورٹس سائیکل سے نوازا گیا۔  

یہ پروگرام نہ صرف طلباء کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ شہر میں تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی ایک روشن مثال بھی قائم کی۔











Tuesday, 10 February 2026

*🔴سیف نیوز اردو*




"پاکستانی ڈالروں کے لئے اپنی ماں تک کو بیچ سکتے ہیں " ، عمران خان نے دکھایا تھا آئینہ
اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے حالیہ موقف نے ایک بار پھر ملکی سیاست اور کھیلوں کی انتظامیہ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان جس نے پہلے بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا تھا، اب اچانک یو ٹرن لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس الٹ پھیر نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایک برسوں پرانے بیان کو دوبارہ روشنی میں لادیا ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ دراصل عمران خان نے کہا تھا کہ ’’پاکستانی ڈالروں کے عوض اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں‘‘۔

اس بیان کے زیر بحث آنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کر سکتا ہے۔ سیاسی کشیدگی اور بیان بازی کے درمیان پی سی بی نے سخت موقف اپنانے کی کوشش کی۔ تاہم جیسے ہی مالی نقصانات اور آئی سی سی کی آمدنی کا معاملہ سامنے آیا، صورتحال بدل گئی۔ اب پاکستان بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دے رہا ہے۔عمران خان کا برسوں پرانا بیان خبروں میں کیوں ہے؟
عمران خان کا ایک پرانا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ حامی اور ناقدین دونوں کہہ رہے ہیں کہ پی سی بی کا یہ یو ٹرن اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کے خلاف عمران خان تنبیہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی پالیسیاں اکثر اصولوں سے نہیں بلکہ ڈالروں کی ضرورت سے طے ہوتی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میں اپنے موقف پر ڈٹا رہتا تو اسے مالی نقصان برداشت کرنے کی ہمت دکھانی پڑتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈوبتی ہوئی معیشت اور زرمبادلہ کی کمی کے دور میں کرکٹ بھی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔

ضمیر کہاں گیا؟
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسپورٹس مین شپ سے زیادہ معاشی مجبوری سے ہوا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے میچز کو عالمی کرکٹ میں سب سے زیادہ کمانے والے میچوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان براڈکاسٹ رائٹس، ایڈورٹائزنگ اور اسپانسر شپ سے حاصل ہونے والی خاطر خواہ ریونیو سے خود کو الگ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ سری لنکا کے ساتھ بات چیت کے بعد شہباز کے فلپ فلاپ نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان کی عزت نفس واقعی ڈالروں پر منحصر ہے۔ چند روز قبل شہباز شریف نے خود کہا تھا کہ انہیں قرضے کے حصول کے لیے کس طرح سر جھکانا پڑا، اور اب یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ یہ بات سچ بھی ہے ۔











"ایک دن بی جے پی گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی": اسدالدین اویسی نے ساورکر کے لیے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کے مطالبے کی مذمت کی
محبوب نگر (تلنگانہ): اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پیر کے روز وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن سے نوازنے کے سنگھ سربراہ کے مطالبے پر بی جے پی-آر ایس ایس پر سخت حملہ کیا۔

1857 کی بغاوت میں اپنا حصہ ڈالنے والے مولوی علاؤالدین کو یاد کرتے ہوئے اویسی نے ساورکر کو اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازنے کے خیال پر تنقید کی۔انہوں نے کہا، "حیدرآباد میں مکہ مسجد کے اس وقت کے امام مولوی علاؤالدین نے انگریزوں کے خلاف احتجاج کیا کیونکہ کچھ آزادی پسند جنگجو اورنگ آباد میں پکڑے گئے تھے۔ مولوی علاؤالدین نے حیدرآباد میں انگریزوں کی ریزیڈینسی کے روبرو احتجاج کیا، حالانکہ اس وقت انگریز ہی نظام کی حفاظت کرتے تھے۔ ان پر حملہ کیا گیا، لیکن وہ فرار ہو گئے، بعد میں، وہ گرفتار ہو گئے۔ وہ 'کالا پانی' ( انڈومان جیل) میں پہلے قیدی تھے۔"

اویسی نے اپنے خطاب میں آر ایس ایس کو یاد دلایا کہ کالا پانی کی سزا پانے والا پہلا مسلمان تھا جس کا نام مولانا علاؤالدین تھا۔ انھوں نے کہا کہ، جب علاؤالدین بیمار ہوئے تو انگریزوں نے نظام سے انھیں لے جانے کو کہا، لیکن نظام نے انکار کر دیا اور مولانا علاؤ الدین کا انڈومان جیل میں انتقال ہوگیا۔

اے آئی ایم آئی ایم لیڈر نے مزید کہا، "آج، آر ایس ایس ایک ایسے شخص کو بھارت رتن دینے کے لیے اپیل کر رہا ہے جس نے انگریزوں کو چھ رحم کی درخواستیں لکھی تھیں۔ ایک وقت آئے گا جب بی جے پی ناتھورام گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی۔"

واضح رہے اویسی نے یہ معاملہ ایسے وقت اٹھایا ہے جب آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے 'سنگھ کے 100 سال - نیو ہورائزنز' پر دو روزہ لیکچر سیریز میں کہا کہ اگر ساورکر کو بھارت رتن دیا جائے گا تو اس (ایوارڈ) کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ بھاگوت نے کہا کہ وہ فیصلہ کرنے والی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں لیکن موقع ملنے پر وہ اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

بھاگوت نے کہا، "میں اس کمیٹی میں نہیں ہوں، لیکن اگر میں کسی ایسے شخص سے ملوں گا تو میں ان سے پوچھوں گا۔ اگر سواتنتر ویر ساورکر کو بھارت رتن سے نوازا جاتا ہے، تو ایوارڈ کا وقار بڑھ جائے گا۔ اس وقار کے بغیر بھی وہ کروڑوں دلوں کے شہنشاہ بن چکے ہیں۔"

اس سے پہلے آج کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے موہن بھاگوت کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت رتن ایوارڈ اور ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے مجاہدین آزادی کی 'توہین' ہوگی۔

ٹیگور نے اے این آئی کو بتایا، "اپمان ہوگا (توہین ہوگی)، اگر ہم ان لوگوں کو بھارت رتن دیتے رہیں جو انگریزوں سے معافی مانگتے رہے۔ یہ بی آر امبیڈکر، سردار پٹیل، مہاتما گاندھی سمیت ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے لوگوں کی توہین ہوگی۔"

تاہم، بی جے پی اور یہاں تک کہ انڈیا بلاک کی اتحادی، شیوسینا (یو بی ٹی) نے بھاگوت کے مطالبات کو درست قرار دیا۔

بی جے پی ایم پی مدن راٹھور نے اے این آئی کو بتایا کہ کچھ لوگ "مکمل تاریخ نہ پڑھنے" کی وجہ سے اس خیال کی مخالفت کر رہے ہیں، اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ ساورکر نے "بہت نقصان اٹھایا ہے" اور انہوں نے امید کھوئے بغیر ملک کے لیے لڑنا جاری رکھا ہے۔

جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن نہ دینے پر بی جے پی پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے اس ضمن میں سیدھے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھ گچھ کرنے کی اپیل کی۔














امریکہ-بنگلہ دیش تجارتی معاہدہ : ڈیری، بیف اور پولٹری مارکیٹ کھل گئیں، گارمنٹس پر ٹیرف میں نرمی
امریکہ نے بنگلہ دیش کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش نے امریکی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی کے اہم شعبے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکہ نے بنگلہ دیشی برآمدات پر عائد محصولات میں نمایاں نرمی کی ہے۔

اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے امریکی ڈیری مصنوعات، گائے کے گوشت (بیف) اور پولٹری مصنوعات کو اپنی منڈی میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ساختہ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، موٹر وہیکلز اور ان کے پرزہ جات، طبی آلات، مشینری، آئی سی ٹی آلات، توانائی سے متعلق مصنوعات اور سویا پر مبنی اشیا کو بھی بنگلہ دیش میں ترجیحی تجارتی رسائی دی جائے گی۔

اس کے بدلے میں بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ریڈی میڈ گارمنٹس (RMG) کو امریکی منڈی میں صفر ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہوگی، بشرطیکہ ان ملبوسات میں استعمال ہونے والا کپاس اور مصنوعی فائبرز امریکہ سے درآمد کیے گئے ہوں۔ برآمدات کا حجم اسی شرط سے منسلک ہوگا کہ بنگلہ دیش امریکہ سے کتنا ٹیکسٹائل خام مال درآمد کرتا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارت تجارت کے حکام کے مطابق، معاہدے میں امریکی گندم، سویا بین اور ایل این جی (Liquefied Natural Gas) کی درآمد، ای-کامرس پر ٹیرف نہ لگانے کی یقین دہانی، امریکی طے کردہ انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے معیارات پر عمل درآمد اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں امریکہ کی حمایت یافتہ اصلاحات کی تائید بھی شامل ہے۔

معاہدے کے ایک اہم حصے کے طور پر بنگلہ دیش نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مزدور حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ اس میں جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی، مزدور قوانین میں ترمیم کے ذریعے تنظیم سازی اور اجتماعی سودے بازی (Collective Bargaining) کی آزادی، اور لیبر قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔امریکہ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے گا، جس کے لیے یو ایس ایکسپورٹ-امپورٹ بینک (EXIM Bank) اور یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) جیسے ادارے امریکی نجی شعبے کے اشتراک سے مالی معاونت فراہم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ قوانین اور اہلیت کے تقاضے پورے ہوں۔

اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش نے تقریباً 3.5 ارب ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات جن میں گندم، سویا، کپاس اور مکئی شامل ہیں ،خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں تقریباً 15 ارب ڈالر کی درآمدات آئندہ 15 برسوں میں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ہوابازی کے شعبے میں بھی تعاون شامل ہے۔

اسی تناظر میں، بنگلہ دیش نے حال ہی میں امریکی کمپنی بوئنگ سے 25 طیارے خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار کروڑ ٹکہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ قدم بھی امریکی ٹیرف میں نرمی کے لیے کیے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔

بنگلہ دیش کے ایکسپورٹ پروموشن بیورو (EPB) کے مطابق، امریکہ بدستور بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ گزشتہ سال اگست میں امریکہ نے بنگلہ دیشی برآمدات پر مجوزہ 37 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 20 فیصد کر دیا تھا، تاہم بنگلہ دیشی پالیسی سازوں کی خواہش تھی کہ اسے 15 فیصد تک لایا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بنگلہ دیش کی ملبوسات کی صنعت کے لیے نہایت اہم ریلیف ثابت ہوگا، کیونکہ یہی شعبہ ملک کی 80 فیصد سے زائد برآمدات کا ذریعہ ہے، تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے ، جن میں اکثریت خواتین کی ہے اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 10 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش 12 فروری کو عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، جن کے ذریعے نئی قیادت کا انتخاب کیا جائے گا اور 18 ماہ سے قائم یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کا خاتمہ متوقع ہے، جو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد جولائی میں ہونے والی پرتشدد طلبہ تحریک کے نتیجے میں اقتدار میں آئی تھی۔

بنگلہ دیش کی معیشت طویل عرصے سے ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات پر انحصار کرتی رہی ہے، جبکہ امریکہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ حالیہ برسوں میں مزدور حقوق، سیاسی عدم استحکام اور عالمی تجارتی دباؤ کے باعث بنگلہ دیش کو امریکی منڈی میں سخت شرائط کا سامنا رہا۔ یہ نیا تجارتی معاہدہ نہ صرف معاشی ریلیف بلکہ آنے والے انتخابات سے قبل عبوری حکومت کے لیے ایک سفارتی کامیابی بھی سمجھا جا رہا ہے۔

*🔴سیف نیوز اردو*

یوپی میں کانگریس کا ہلہ بول! اسمبلی گھیراؤ کرنے پہنچے سیکڑوں کارکنوں پر لاٹھی چارج، متعدد گرفتار اتر پردیش میں آج من...