Thursday, 19 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

پاکستان کی وہ کون سی میزائل، جس سے ڈر رہا ہے امریکہ؟ تلسی گبارڈ نے جو کہا، اس کی حقیقت جانئے
Which Pakistan Missile is Threat for US: امریکہ کے نشانے پر صرف ایران ہی نہیں بلکہ ہر وہ ملک ہے جس کی میزائل رینج امریکہ تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے اس حوالے سے کھل کر وارننگ دی ہے۔ چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ پاکستان کو بھی ان ممالک کی صف میں رکھا گیا ہے جن کے میزائل سسٹمز امریکی سرزمین کو براہِ راست نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بظاہر اچھے ہیں، لیکن سیکورٹی کے معاملے میں امریکہ پاکستان کو بھی اپنے لیے بڑا جوہری خطرہ سمجھتا ہے۔

خفیہ ادارے کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے کہا: “روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز تیار کر رہے ہیں، جن میں جوہری اور روایتی پے لوڈ شامل ہیں اور جو ہماری سرزمین تک پہنچ سکتے ہیں۔”تلسی گبارڈ ایران کی ٹیکنالوجی اور سال 2035 سے پہلے انٹرکونٹیننٹل بیلسٹک میزائل (ICBM) کی تیاری اور استعمال کی بات کر رہی تھیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائلوں کی طرف بھی توجہ دلائی، جو ICBM بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور جوہری وارہیڈ کے ساتھ امریکہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اب معاملہ صرف ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکہ کی نظر ان تمام ممالک پر ہے جو جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور ایسی میزائلوں کے ذریعے امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن اس میں پاکستان کا نام کیوں شامل ہے؟

پاکستان کی کون سی میزائل سے امریکہ کو خطرہ؟
امریکہ کے نزدیک سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائل ڈیولپمنٹ اب ICBM تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ شاہین-III میزائل کو تکنیکی طور پر تبدیل یا بڑھا کر ICBM بنایا جا سکتا ہے۔

شاہین-III اس وقت تقریباً 2750 کلومیٹر رینج کی میڈیم رینج بیلسٹک میزائل ہے، جو پورے ہندوستان کو کور کرتی ہے۔

بڑے راکٹ موٹرز اور زیادہ تھرو ویٹ کے ساتھ اس کی رینج کو 5500 کلومیٹر سے زیادہ تک بڑھایا جا سکتا ہے، یعنی امریکہ کے اہم حصوں تک۔ گبارڈ نے واضح کیا کہ پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائل ڈیولپمنٹ میں ICBM شامل ہو سکتے ہیں اور وہ امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

شاہین میزائل کی خصوصیات:
پاکستان کی بیلسٹک میزائل سیریز، جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے

نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس نے تیار کی

ٹھوس ایندھن سے چلتی ہے، تیزی سے لانچ ممکن

شاہین-I، شاہین-II، شاہین-III ورژنز

رینج تقریباً 750 کلومیٹر سے 2750 کلومیٹر تک

موبائل لانچر سے فائر کی جا سکتی ہے

اعلیٰ درستگی اور تیز رفتار اس کی خاصیت ہے

پاکستان کی جوہری دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ، باقاعدہ تجربات کے ذریعے اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاتا ہے

پاکستان پر امریکہ کی نظر کیوں ہے؟
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے عسکری معاہدے کے باعث خلیجی تنازع میں الجھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھی تو پاکستان کو دو محاذوں پر لڑنا پڑ سکتا ہے، اور ایسے میں ICBM کا آپشن امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا۔ شاہین-III کو ICBM میں تبدیل کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان اب صرف ہندوستان تک محدود جوہری ڈیٹیرنس سے آگے نکل چکا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ ایک ابھرتا ہوا خطرہ بن چکا ہے، اور تلسی گبارڈ نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کے میزائل پروگرام کی رفتار تیز ہے اور آنے والے چند سالوں میں یہ امریکہ تک پہنچنے کے قابل ہو سکتا ہے۔یہ بیان صرف ایک وارننگ نہیں بلکہ امریکی پالیسی میں ایک نیا موڑ بھی ہے۔ تلسی گبارڈ نے پاکستان کو چین کے برابر رکھ کر واضح اشارہ دیا ہے کہ اب واشنگٹن اسلام آباد کی میزائل خواہشات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اگر شاہین-III کو ICBM میں تبدیل کیا گیا تو عالمی نقشہ بدل سکتا ہے۔ تلسی گبارڈ کا پیغام واضح ہے کہ پاکستان اب صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک عالمی جوہری خطرہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔






دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست: فن لینڈ پہلے اور افغانستان آخری نمبر پر
ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 کے مطابق فن لینڈ مسلسل اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا ہے۔
اس بار درجہ بندی میں صرف نارڈک ممالک کی برتری ہی نہیں بلکہ کچھ غیر متوقع نتائج بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر خوشی کے تصور کو نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کوسٹا ریکا چوتھے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ میکسیکو بھی کئی امیر ممالک سے آگے نکل گیا ہے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ خوشی کا تعلق صرف آمدن سے نہیں بلکہ سماجی اعتماد، کمیونٹی اور روزمرہ زندگی کے معیار سے بھی ہے۔
رپورٹ میں نقشے کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں خوشی کی سطح کا موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
فن لینڈ 10 میں سے 7.8 سکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جو اس کی طویل عرصے سے جاری برتری کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب کوسٹا ریکا اور میکسیکو اس فہرست میں آئرلینڈ، آسٹریلیا اور جرمنی جیسے زیادہ آمدن والے ممالک سے بھی آگے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سماجی تعلقات، کمیونٹی اور طرز زندگی جیسے عوامل بھی خوشی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو صرف جی ڈی پی سے نہیں ناپے جا سکتے۔
یہ درجہ بندی کینٹرل لیڈر کے ذریعے کی گئی ہے، جس میں 0 سے 10 کے پیمانے پر افراد اپنی زندگی کا خود جائزہ دیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں 147 ممالک اور ایک لاکھ سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل ہے، جبکہ 2023 سے 2025 تک کے اوسط سکورز کو استعمال کیا گیا تاکہ زیادہ درست نتائج حاصل کیے جا سکیں اور سیمپلز کی غلطی کو کم کیا جا سکے۔امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور مغربی یورپ کے کئی ممالک 6.7 سے 6.9 کے محدود دائرے میں آ گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ممالک میں خوشی کی سطح ایک حد پر جا کر رک گئی ہے۔ دوسری جانب مشرقی یورپ کے ممالک جیسے پولینڈ اور ایسٹونیا مسلسل بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو بہتر ہوتے معیارِ زندگی اور سماجی حالات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایشیا میں تائیوان 26 ویں نمبر کے ساتھ خطے کا سب سے خوش ملک ہے، جبکہ جاپان 61ویں اور چین 65ویں نمبر پر ہیں۔ افریقہ میں ماریشس سرفہرست ہے، جہاں نسبتاً کم بدعنوانی اور زیادہ متوقع عمر جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برصغیر کا ذکر کیا جائے تو 104 نمبر پر پاکستان ہے جس کا ہیپی نیس سکور 4.9 ہے، جبکہ انڈیا 116ویں نمبر پر ہے اور اس کا سکور 4.5 ہے۔
ہیپی نیس انڈیکس کی فہرست کے 147ویں اور آخری نمبر پر افغانستان ہے جس کا سکور 1.4 ہے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں خوشی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے باعث۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر کی اس رپورٹ کے مطابق انگریزی بولنے والے ممالک اور مغربی یورپ میں نوجوان لڑکیوں پر اس کے اثرات زیادہ تشویشناک ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں 25 سال سے کم عمر افراد کی زندگی سے اطمینان کی سطح گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا ہے۔ کوسٹا ریکا اس سال چوتھے نمبر پر پہنچ گیا ہے، جو 2023 میں 23ویں نمبر پر تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس بہتری کی وجہ خاندانی تعلقات اور مضبوط سماجی روابط ہیں۔
آکسفورڈ کے ماہرِ معاشیات اور رپورٹ کے شریک مدیر جان-ایمانوئل ڈی نیو کے مطابق لاطینی امریکہ میں مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات موجود ہیں، جو دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ سماجی سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ فن لینڈ اور دیگر شمالی یورپی ممالک کی مسلسل کامیابی کی وجہ دولت، اس کی مساوی تقسیم، مضبوط فلاحی ریاست اور بہتر صحت مند زندگی کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق تنازعات کا شکار ممالک بدستور فہرست کے نچلے حصے میں ہیں، جہاں افغانستان ایک بار پھر سب سے ناخوش ملک قرار پایا، اس کے بعد سیرا لیون اور ملاوی کا نمبر آتا ہے۔ یہ درجہ بندی تقریباً 140 ممالک اور علاقوں کے ایک لاکھ افراد کے جوابات کی بنیاد پر کی گئی، جنہوں نے اپنی زندگی کو 0 سے 10 کے پیمانے پر درجہ دیا۔ یہ تحقیق گیلپ اور اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک کے تعاون سے کی گئی۔
دلچسپ طور پر مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے باوجود نوجوانوں کی خوشی میں کمی نہیں دیکھی گئی، جس کی وجہ مختلف سماجی اور ثقافتی عوامل قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 مسلسل دوسرا سال ہے جب کوئی بھی انگریزی بولنے والا ملک ٹاپ 10 میں شامل نہیں ہو سکا، جہاں امریکہ 23ویں، کینیڈا 25ویں اور برطانیہ 29ویں نمبر پر ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں کئی ممالک کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے یا اس پر غور کر رہے ہیں، جس سے اس مسئلے کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔







قطر کی ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد یورپ میں گیس قیمتیوں میں 30 فیصد اضافہ، 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا خام تیل
مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے قطر کی ایل این جی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی سطح پر سپلائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ قطر انرجی نے تصدیق کی ہے کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میزائل حملوں کا نشانہ بنا۔ ادارے کے مطابق پہلے حملے میں پرل جی ٹی ایل (گیس ٹو لیکوئڈز) پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ بعد میں کئی ایل این جی تنصیبات پر بھی حملے ہوئے جس سے آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت مئی ڈیلیوری کے لیے 6.3 فیصد بڑھ کر 114.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی، جہاں ڈچ ٹی ٹی ایف ہب (یورپی معیار) پر قیمت تقریباً 30 فیصد بڑھ کر 70.8 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ ہو گئی۔ برطانیہ میں بھی گیس کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قطر پہلے ہی 2 مارچ کو راس لفان اور میسعید انڈسٹریل سٹی پر ایرانی ڈرون حملوں کے بعد ایل این جی پیداوار روک چکا تھا۔ قطر دنیا کا دوسرا بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ہے اور عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، وہاں ٹینکرز کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے، جس سے سپلائی میں بڑے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ گلف آئل کے سینئر توانائی مشیرٹام کلوزا نے خبردار کیا کہ اگر تنازع خلیج سے باہر پھیل گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح ڈین پکرنگ نے کہا کہ صورتحال سپلائی چین کے مسئلے سے بڑھ کر حقیقی سپلائی بحران میں تبدیل ہو رہی ہے، جو کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

ایران کا ردعمل اور آپریشن

ایران کی پاسداران انقلاب آئی آر جی سی نے خطے میں امریکی مفادات سے جڑی تیل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ کارروائیاں ’’آپریشن ٹرو پرامس 4‘‘ کے تحت کی جا رہی ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں شروع کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور قطر کو ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قطر کی توانائی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو واشنگٹن سخت ردعمل سے گریز نہیں کرے گا، حتیٰ کہ تہران کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو عالمی سطح پر تیل و گیس کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور توانائی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔


*🛑سیف نیوز اُردو*

عید الفطر کا چاند 🌙 
نظر نہیں آیا
 
آج بروز جمعرات بتاریخ 29 رمضان المبارک 1447 ھ بمطابق 19 مارچ 2026 ء کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا گیا لیکن کہیں بھی چاند کی رؤیت نہیں ہوئی۔ لہذا جمعیت علماء ضلع ناسک (ارشد مدنی) رؤیت ہلال کمیٹی،ممبئی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اعلان کرتی ہے کہ بروز جمعہ 20 مارچ 2026 ء کو 30 رمضان المبارک 1447ھ ہوگا۔ اور 21 مارچ بروز سنیچر کو یکم شوال(عید الفطر ہوگی)، ان شاءاللہ
نوٹ: نماز عید الفطر لشکر والی عید گاہ پر ان شاء اللہ صبح ساڑھے آٹھ بجے حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی اقتدا میں ادا کی جائے گی۔
 عوام الناس سے گزارش ہے کہ وقت سے پہلے لشکر والی عید گاہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ 
  
 ائمہ کرام مساجد میں تاریخ درست لگا کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

فقط والسلام:
مفتی محمد یاسین صاحب ملی 
سکریٹری رؤیت ہلال کمیٹی
جمعیت علماء ضلع ناسک (ارشدمدنی)
مفتی و قاضی حسنین محفوظ ملی نعمانی
حضرت مولانا سراج احمد صاحب قاسمی
مولانا نثار احمد صاحب 
مفتی محمد مصطفیٰ صاحب جمالی
مولانا عبدالقیوم صاحب قاسمی 
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی
مفتی محمد خالد ملی
مفتی محمد مدثر ملی سیفی
مفتی عبدالمالک ملی قاسمی
مولانا سلمان صاحب قاسمی 
مولانا شیخ نعیم صاحب ملی
ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری
مولانا عبدالحمید قاسمی امبڑ
مولانا محمد ابراہیم ملی سٹانہ
جمیل خان چاندوڑ

*🛑سیف نیوز اُردو*




 _*خانقاہ رحمانیہ میں خطاب جمعہ اور مجلس بیعت*_ 
برادران اسلام کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ مورخہ30,رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ بمطابق 20/مارچ 2026ء بروز جمعہ نمازجمعہ سے قبل خانقاہ رحمانیہ(مسجد ہدایت الاسلام بسمﷲ باغ)میں شیخ طریقت حضرت مولانامحمّد عــــمـــرین مــحـفـــوظ رحــمــانی صاحب دامت برکاتہم (خلیفہ ارشد حضرت مولانا محمّد ولی رحمانی صاحب نورﷲمرقدہ) کاایمان افروزخطاب ہوگا،خطاب 1:00 بجے شروع ہوگا ان شاءﷲ
 نماز جمعہ کے بعد حضرت والاخواہش مندحضرات کو بیعت فرمائیں گے اورذکر و وظائف کی تعلیم دیں گے۔لہذا جو حضرات بیعت کے خواہش مند ہیں وہ نمازجمعہ مسجد ہدایت الاسلام ہی میں اداکریں۔

 *الداعیان: مریدین و متوسلین خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں۔* 

                            ٭٭٭
 _*Khanqah Rahmaniya mein Khitab E Juma aur majlis e bai'at*_ 

Biradraane Islam ko ye ittela di jaati hai ke batarikh 30,Ramzan ul mubarak 1447 ba mutabik 20/March2026 baroz juma namaz juma se Qabl Khanqah Rahmaniya (Masjid Hidayatul Islam Bismillah Baag) Mein Shaikh-E-Tareeqat HAZRAT MAULANA MUHAMMAD UMRAIN MAHFOOZ RAHMANI SAHAB DB (Khalifa Arshad Hazrat maulana Muhammad Wali Sahab Rahmani RH) ka Imaan afroz khitab hoga, Khitab 1:00 baje shuru hoga.INSHAALLAH
Namaz Juma ke baad HAZRAT DB khwahishmand hazraat ko bai'at farmayenge aur zikr wa wazaif ki taleem denge. Lehaza jo Hazraat Bai'at ke khwahishmand hain wo Namaze Juma Masjid Hidayatul Islam hi mein adaa karein.

 *Addaiyan:- Murideen wa Mutawassilin Khanqa Rahmaniya Malegaon.* 
                                  ٭٭٭
 _*खान्क़ाहे रहमानीया में खिताबे जुमा और मज्लिसे बै'अत में खिताबे जुमा और मज्लिसे बै'अत*_ 

बीरादराने ईस्लाम को ये इत्तेला दी जाती हैं के बतारिख 30, रमज़ानुल मुबारक़ 1447 बमुताबिक 20/मार्च 2026 बरोज़ जुमा नमाज़ जुमा क़ब्ल खान्क़ाहे रहमानीया (मस्जिद हिदायतुल इस्लाम बिस्मिल्लाह बाग) में शैखे तरीक़त हज़रत मौलाना मुहम्मद उम्रैन महफुज़ रहमानी साहब द ब (ख़लीफा अरशद हज़रत मौलाना मुहम्मद वली साहब रहमानी रह) के ईमान अफ्रोज़ खिताब होगा, खिताब 1 बजे शुरू होगा इंशाअल्लाह नमाज़े जुमा के बाद *हज़रत द ब`* ख्वहिश्मन्द हज़रात को बै'अत फरमाएंगे और ज़िक्र व वज़ाइफ की तालीम देंगे। लेहाज़ा जो ह्ज़रात बै'अत के ख्वहिश्मन्द है वो नमाज़े जुमा मस्जिद हिदायतुल इस्लाम बिस्मिल्लाह बाग ही में अदा करे।

 *अद्दाईयान:- मुरीदीन व मुतवस्सिलीन खानकाह रहमानीया मालेगाव।* 
                              ٭٭٭٭٭








آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے بل پر غور کر رہا ایران، جانئے دنیا پر کیا پڑے گا اثر
تہران: ایران نے اب پوری دنیا کی “نبض” یعنی آبنائے ہرمز کو معاشی ہتھیار بنانے کی تیاری کر لی ہے۔ جنگ کے دوران اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے ایران کی پارلیمنٹ اب ایک ایسا قانون لانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والے ہر غیر ملکی جہاز کو بھاری “ٹیکس” اور “ٹول” دینا ہوگا۔ اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو دنیا بھر میں تیل، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ-اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان یہی ہرمز ایران کی طاقت بنا ہوا ہے، جہاں ایران دنیا بھر کے ٹینکروں کو روک کر ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے۔

ہرمز کے حوالے سے ایران کا کیا منصوبہ ہے؟ہرمز پر ایران اس قدر طاقتور ہے کہ اس تنگ راستے پر IRGC کا مقابلہ کرنے میں امریکی بحریہ بھی ناکام رہی ہے۔ اب ایران اسی ہرمز کو اپنا معاشی ہتھیار بنانے جا رہا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ISNA) کے مطابق ایک ایرانی رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر “ٹرانزٹ فیس” لگانے کی تجویز تیار کر رہے ہیں۔ جو ممالک اس راستے کو شپنگ، توانائی کی فراہمی یا خوراک کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہیں اب ایران کو رقم ادا کرنی ہوگی۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے واضح کہا ہے کہ اس اسٹریٹجک پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے وہ ان مغربی ممالک پر “الٹی پابندیاں” لگائیں گے جنہوں نے ایران کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔

20 فیصد تیل والے راستے پر ٹیکس کا کیا اثر ہوگا؟
ایران کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہرمز کے لیے ایک نیا نظام بنایا جائے گا، جس سے ایران تیل کے اس راستے کا اصل “باس” بن کر ابھرے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم “چوک پوائنٹ” ہے۔ آبنائے ہرمز وہی راستہ ہے جہاں سے دنیا کا 20 فیصد ایندھن گزرتا ہے۔ عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع گیس اسی تنگ راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں، لیکن ایران کے اس نئے معاشی وار نے واشنگٹن کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔









آسام اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی نے اُمید واروں کی پہلی فہرست جاری کی
بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) نے آسام اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس میں کل 88 نام شامل ہیں۔ فہرست میں چیف منسٹر ہمنت بسوا سرما کا نام بھی ہے۔ پارٹی نے تجربہ اور تنظیمی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی سابق ایم پیز کو ٹکٹ بھی دیے ہیں۔

سی ایم ہمنت بسوا سرما کو جالوکباری سے امیدوار بنایا ہے۔ بھوپین بورا کو بہپوریا سے جبکہ بی جے پی میں کل شمولیت اختیار کرنے والے پردیوت بوردولوئی کو دسپور سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔

جاری کردہ فہرست کے مطابق دھوبری سے اتم پرساد، بیرسنگ جروا سے مادھبی داس، گولپارہ ویسٹ سے پبیتر رابھا اور دودھنئی سے تنکیشور رابھا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ابھئے پوری سے بھوپین رائے، بجنی سے اروپ کمار ڈے، بھوانی پور۔سوربھوگ سے رنجیت کمار داس، منڈیا سے بادل چندر آریہ، چمڑیا سے جیوتسنا کلیتا، اور بوکو چھائگاؤں سے راجو میچ کو پارٹی نے امیدواربنایا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے گوہپور سے اتپل بورا، رونگونڈی سے رشی راج ہزاریکا، لکھیم پور سے مناب ڈیکا، ڈھکوکھانہ سے نبا کمار ڈیلی، دھیماجی سے ڈاکٹر رنوج پیگو، جونئی سے بھوبن پیگو، سادیہ سے بالن چیٹیا، شرما سے بھاپے، شرما سے رونگی مارگریتا، ڈگبوئی سے سورین فوکن، ماکم سے سنجے کشن، تینسوکیا سے پلک گوہائی، چبوا-لاہووال سے بنود ہزاریکا، ڈبروگڑھ سے پرشانت پھوکن، کھوانگ سے چکرادھر گگوئی اور دولیاجن سے رامیشور تیلی اپنے امیدوار ہیں۔

بی جے پی نے لنگ کھونگ سے بمل بورا، نہرکٹیا سے ترنگ گگوئی، سوناری سے دھرمیشور کووار، مہمورہ سے سروج ڈھنگیا، ڈیمو سے سوشانت بارگوہین، نزیرہ سے میور بارگوہین، ماجولی سے بھوبن گام، جورہاٹ سے ہتیندر ناتھ گوسوامی، جورہاٹ سے ہتیندر ناتھ گوسوامی، ڈی روپی راجوانی سے امیدوار نامزد کیے ہیں۔

Wednesday, 18 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


گیس فیلڈ پر حملہ کے بعد ایران کا بدلہ، ایک ساتھ 5 ممالک پر داغی میزائلیں، دی یہ بڑی وارننگ
مشرقِ وسطیٰ میں چھڑی جنگ اب اپنی سب سے بھیانک تباہی کے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ بدھ، 18 مارچ 2026 کی رات خلیجی ممالک کے لیے کسی ‘قیامت کی رات’ سے کم ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ اپنے اعلیٰ رہنماؤں کے قتل اور گیس پائپ لائنوں پر حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ عرب ممالک ، سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور کویت پر ایک ساتھ میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔ ریاض سے لے کر دبئی تک آسمان دھماکوں سے گونج رہا ہے اور لوگ بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

خلیجی ممالک پر ایران کا حملہ
ایران نے اپنے ‘آپریشن ٹرو پرومس 4’ کے تحت خلیجی ممالک کے توانائی کے ٹھکانوں اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔سعودی عرب: ریاض میں وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ شہر کے اوپر ‘بیلسٹک خطرے’ کو انٹرسیپٹ کیا گیا ہے۔ پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب میزائل کا ملبہ گرا ہے۔ شہریوں کے موبائل پر پہلی بار ‘Hostile Aerial Threat’ کے ایمرجنسی الرٹس بھیجے گئے ہیں۔

یو اے ای (متحدہ عرب امارات): یو اے ای نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 13 بیلسٹک میزائلوں اور 27 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ تاہم، انٹرسیپشن کے ملبے سے دبئی اور ابوظہبی میں آگ لگنے کی خبریں ہیں۔

قطر: قطر نے اپنے سب سے بڑے گیس فیلڈ ‘راس لفان’ کو خالی کرانا شروع کر دیا ہے۔ دوحہ کے آسمان میں بھی تیز دھماکے سنے گئے ہیں۔

کویت اور بحرین: کویت نے اپنے فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کو مار گرایا ہے، جبکہ بحرین میں موجود امریکی 5ویں بیڑے (5th Fleet) کے قریب بھی حملے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایران کے ‘ساؤتھ پارس’ گیس فیلڈ پر حملہ: جنگ کی نئی آگ
اس بھیانک حملے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس (South Pars) گیس فیلڈ پر کیا گیا حملہ مانا جا رہا ہے۔

یو اے ای کی مذمت: یو اے ای نے ایران کے گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کو ‘خطرناک اشتعال انگیزی’ قرار دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب کسی عرب ملک نے اسرائیل کی اس طرح کھل کر عوامی سطح پر تنقید کی ہے۔

دنیا پر خطرہ: ساؤتھ پارس دنیا کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ ہے۔ اس پر حملے سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔آج کی رات کیوں ہے بھاری؟
ایران کے ریوولوشنری گارڈز (IRGC) نے خبردار کیا ہے کہ وہ آنے والے گھنٹوں میں ‘دشمن کے بنیادی ڈھانچے’ کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔ ادھر، امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر حملے نہیں رکے تو امریکہ براہِ راست ایرانی سرزمین پر بڑے ‘بنکر بسٹر’ بم گرا سکتا ہے۔







آئی پی ایل 206 : کمنز کی چوٹ نے بدلا سن رائزرس حیدرآباد کا گیم پلان، ایشان کشن کے ہاتھوں میں کپتانی، ابھیشیک شرما کو ملی بڑی ذمہ داری
Ishan Kishan named captain for Sunrisers Hyderabad: آئی پی ایل کے آئندہ سیزن سے پہلے وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن اور دھماکہ خیز اوپنر ابھیشیک شرما کے لیے خوشخبری ہے۔ ایشان کشن آئی پی ایل 2026 کے ابتدائی چند میچوں میں سن رائزرز حیدرآباد کی کپتانی کریں گے۔ وہ پیٹ کمنز کی جگہ لے رہے ہیں، جو ابھی تک کمر کی چوٹ سے مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو پائے ہیں۔ اس دوران ابھیشیک شرما نائب کپتان کی ذمہ داری نبھائیں گے۔

سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے قریبی ذرائع نے کرک بز کو بتایا ہے کہ یہ انتظام صرف عارضی ہے اور باقاعدہ کپتان پیٹ کمنز مکمل فٹ ہونے کے بعد کپتانی کی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔ جلد ہی آفیشیل اعلان ہونے کی امید ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کمنز کتنے میچ نہیں کھیل پائیں گے، لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ آسٹریلیا کے کپتان 23 مارچ کو ایس آر ایچ کیمپ میں پہنچیں گے۔ امید ہے کہ وہ ہندوستان میں فرنچائز کے ساتھ ریہیبلیٹیشن سے گزریں گے اور جیسا کہ ویب سائٹ نے کل بتایا تھا، وہ سیزن کے پہلے تین میچ نہیں کھیل پائیں گے۔ایس آر ایچ (SRH) آئی پی ایل میں اپنے مہم کا آغاز 28 مارچ کو بنگلورو کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں موجودہ چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف کرے گی۔ ان کا دوسرا میچ بھی باہر ہوگا، جو 2 اپریل کو کولکاتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف ہوگا۔ اس کے بعد وہ 5 اپریل کو لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ پر واپسی کریں گے۔

32 سالہ کمنز دسمبر سے کرکٹ سے باہر ہیں، جب انہوں نے ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے واحد ایشز ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا۔ کمر کی پرانی چوٹ کے باعث وہ اس میچ سے پہلے اور بعد میں بھی میدان سے باہر رہے۔ انہوں نے حال ہی میں ختم ہوئے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔ سن رائزرس حیدرآباد کے ذرائع نے کرک بز کو بتایا ہے کہ انہیں کرکٹ آسٹریلیا سے آئی پی ایل معاہدے کے تحت کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، انہیں میدان پر واپسی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

کمنز نے ایس آر ایچ کی کپتانی کرتے ہوئے 30 میچ کھیلے ہیں، جن میں سے 15 میں جیت اور 14 میں شکست ملی ہے، جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ 2024 میں انہوں نے ٹیم کو فائنل تک پہنچایا، جہاں انہیں کولکاتہ نائٹ رائیڈرز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے سیزن میں ایس آر ایچ چھٹے مقام پر رہی، جس میں چھ جیت اور سات ہار شامل تھیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایس آر ایچ مینجمنٹ ہمیشہ سے اس بات پر واضح تھی کہ کمنز کی غیر موجودگی میں ایشان ہی ٹیم کی کپتانی کریں گے، حالانکہ عبوری کپتانی کو لے کر کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ حال ہی میں ہوئے ٹی20 ورلڈ کپ میں ہندوستان کی کامیابی میں ایشان اور ابھیشیک دونوں نے اہم کردار ادا کیا، لیکن سینئر ہونے کی وجہ سے 27 سالہ ایشان کو موقع دیا گیا ہے۔ انہوں نے 119 آئی پی ایل میچ کھیلے ہیں، جبکہ 25 سالہ ابھیشیک نے 77 میچ کھیلے ہیں۔









_*خانقاہ رحمانیہ میں حضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی کی آمد اور مجلس اجازت حدیث شریف*_
 
 *از:(مولانا) محمد حامد رحمانی*
 
۲۴ ؍رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ بعد نماز تراویح رات ساڑھے گیارہ بجے مدرسہ معہد ملت کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس عقیلی ملی مدظلہ العالی خانقاہ رحمانیہ تشریف لائے ،آپ معمر عالم دین اور بافیض حامل دین ہیں ،آپ حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ العالی کے استاذ ہیں ،پوری زندگی تعلیم وتعلم اور دروس قرآن دیتے ہوئے ہی گذاری ہے ،آپ کا یہ معمول ہے کہ ہر سال عشرہ اخیرہ میں اپنے لائق وفائق شاگرد شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ العالی کی خانقاہ تشریف لاتے ہیں ،خانقاہ میں بڑی تعداد میں سالکین کا اجتماع اور یہاں کا روحانی ماحول دیکھ کر خوشی کا اظہار فرماتے ہیں اور اپنے ہونہار شاگرد کو ڈھیر ساری دعائوں سے نوازتے ہیں ۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی خانقاہ رحمانیہ میں متعدد ریاستوں اور شہروں سے بڑی تعداد میں علماء کرام حاضرہوئے ،چنانچہ حضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی مدظلہ کی آمد کو غنیمت جانتے ہوئے ان کی اجازت کے بعد یہاں اجازت حدیث کی مجلس بھی منعقد ہوئی ،جس میں حضرت مولانا کے سامنے مولانا عمار ازہری صاحب نے حدیث مسلسل بالاولیہ ،حدیث مسلسل بالمصافحہ اور حدیث مسلسل بالمحبۃ پڑھ کر سنائی ،پھر حضرت مولانا نے تمام علماء کو حدیث شریف کی اجازت دی ،اور اجازت دیتے وقت خاص طور سے یہ فرمایا کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں ،میں تو یہاں دعا کی درخواست کرنے آیا تھا اور یہاں کے روحانی ماحول سے فائدہ اٹھانے ،البتہ بڑوں سے ایک چیز مجھے ملی ہے جو اب آپ لوگوں میں منتقل کررہا ہوں ،پھر سب علماء کو حدیث شریف کی اجازت عطافرمائی ،حضرت مولانا نے اپنے خطاب میں یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بخاری شریف دو لوگوں سے پڑھی ہے ،ایک تو معہد ملت میں حضرت مولانا احمد جانؒ سے ،دوسرے دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحب ؒ سے !اور یہ دونوں حضرات شاگرد تھے حضرت شیخ الہند ؒ کے !حضرت مولانا نے اپنے خطاب میں بڑے اونچے الفاظ میں اپنے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ کا تذکرہ فرمایا اور انہیں خوب دعاوں سے نوازا۔
اس مجلس کے بعد حضرت مولانا کچھ دیر حضرت والاکے حجرے میں تشریف فرماہوئے، تنہائی میں کچھ دیر حضرت والاسے گفتگو فرمائی ،پھر اپنی مستجاب دعائوں کا تحفہ دیتے ہوئے رخصت ہوئے۔

💐💐💐💐💐💐💐

*🛑سیف نیوز اُردو*

سعودی عرب میں ماہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا، 20 مارچ بروز جمعہ کو ہوگی عید
Eid 2026 In Saudi Arabia : سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر نہ آنے کے باعث عید الفطر کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق مملکت میں اس سال عید الفطر جمعہ 20 مارچ کو منائی جائے گی۔ رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل ہوں گے۔

شوال کا چاند دیکھنے کے لیے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں قائم فلکیاتی مراکز اور آبزرویٹریوں میں خصوصی اجلاس منعقد کیے گئے۔ ان اجلاسوں میں ماہرین فلکیات اور متعلقہ حکام نے جدید آلات کی مدد سے چاند دیکھنے کی کوشش کی، تاہم کہیں سے بھی چاند نظر آنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس سے قبل سعودی سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شہریوں سے بھی اپیل کی تھی کہ اگر کسی کو چاند نظر آئے تو وہ اپنی شہادت قریبی عدالت میں جمع کروائے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی مستند اطلاع موصول نہیں ہوئی۔تمام موصول ہونے والی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ نے اعلان کیا کہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا، لہٰذا رمضان المبارک کے تیس روزے مکمل کیے جائیں گے۔ اسی بنیاد پر یکم شوال 1447 ہجری جمعہ 20 مارچ کو ہوگی اور اسی دن عید الفطر منائی جائے گی۔

یہ اعلان مملکت بھر کے مسلمانوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ سعودی عرب میں چاند کی رویت کے فیصلے کو دنیا کے کئی ممالک میں بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ عید الفطر اسلامی کیلنڈر کے اہم ترین تہواروں میں سے ایک ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام پر خوشی اور شکرانے کے طور پر منائی جاتی ہے۔چاند نظر نہ آنے کے بعد اب سعودی عرب میں عبادات کے ساتھ ساتھ عید کی تیاریوں کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ لوگ آخری روزے کے ساتھ زکوٰۃ الفطر ادا کرنے، خریداری کرنے اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ عید کی خوشیاں منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ یوں ایک ماہ کی عبادتوں کے بعد مسلمان عید کے دن خوشی، محبت اور بھائی چارے کا اظہار کریں گے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


امریکہ کا بڑا جھٹکا دینے کی تیاری میں سعودی عرب، ’اسلامک نیٹو‘ کی تیاری، اس بار پاکستان کو خبر تک نہیں
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک ہائی پروفائل میٹنگ ہوگی۔ وزارت کے مطابق اس اجلاس میں خطے کی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے طریقوں پر بات چیت اور باہمی ہم آہنگی کی جائے گی۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد ایران نے کئی بار میزائل اور ڈرون سے جوابی حملے کیے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

اب یہ ٹکراؤ 19ویں دن میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا اثر پورے خطے پر پڑ رہا ہے۔ خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے حالات کافی سنگین ہو گئے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر ٹرانسپورٹ اور تجارت پر بھی پڑا ہے۔ دبئی اور دوحہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو کئی بار بند کرنا پڑا، جس سے سفر، تجارت اور ضروری سامان کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ایسے میں اب خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے حوالے سے زیادہ محتاط ہو چکے ہیں اور ایک ایسے اتحاد کی تلاش میں ہیں جو ضرورت کے وقت واقعی مدد کر سکے۔خلیج کا ‘اسلامک نیٹو’
اجلاس سے پہلے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے متحدہ عرب امارات، مصر، عراق، شام، الجزائر اور بوسنیا کے وزرائے خارجہ سے فون پر بات کر کے تیاری کی۔ حمد بن جاسم بن جبر الثانی نے خلیجی ممالک سے موجودہ علاقائی تنازع کے دوران متحد ہو کر ایک مضبوط فوجی اور سیکورٹی اتحاد بنانے کی اپیل کی ہے۔

سابق قطری وزیر اعظم نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ یہ جنگ ایک دن ختم ہو جائے گی، لیکن اس نے خلیجی ممالک کی اتحاد کی ضرورت کو واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو نیٹو جیسے دفاعی اتحاد بنانا چاہیے، جس میں سعودی عرب اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے باعث اہم کردار ادا کرے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خلیجی ممالک کو مل کر فوجی اور الیکٹرانک دفاعی صنعت کو فروغ دینا چاہئے اور باہمی اختلافات کو ختم کرنا چاہئے تاکہ علاقائی استحکام اور مشترکہ مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ خلیجی ممالک کو ایران اور اسرائیل دونوں کے حوالے سے یکساں اور متوازن پالیسی اپنانی چاہئے، جس میں مکالمہ اور تعاون کو ترجیح دی جائے۔

پاکستان کو دعوت نہیں، امریکہ پر اعتماد نہیں
سعودی عرب میں ہونے والا یہ اجلاس خلیجی ممالک کی جنگی صورتحال سے متعلق ہے۔ جس طرح مسلسل سعودی عرب اور یو اے ای پر حملے ہو رہے ہیں، اس کے باعث سلامتی کا مسئلہ بڑا ہو چکا ہے اور یہ ممالک دیکھ چکے ہیں کہ امریکہ بھی انہیں مکمل ایئر ڈیفنس فراہم نہیں کر پا رہا ہے۔ ایسے میں وہ خود آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے اور ایک مضبوط حکمت عملی تیار کی جا سکے۔دوسری جانب پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کا پہلے سے دفاعی معاہدہ موجود تھا، لیکن اس سے اسے کوئی فائدہ نہیں ملا۔ جب سعودی عرب جنگ جیسی صورتحال میں ہے تو پاکستان خود افغانستان میں الجھا ہوا ہے۔ ایسے میں اس بار سعودی عرب اسے دعوت نہیں دے رہا۔ اس نے صرف اسی خطے کے ممالک کو اکٹھا کیا ہے جن کے مفادات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔








ایران کی جنگ میں ’زندہ شہید‘ کی انٹری، لاریجانی کی جگہ لیں گے جلیلی!، امریکہ کو 11 سال پہلے دکھا چکے ہیں تیور
Who will Take Place of Larijani : ایران کے دارالحکومت تہران میں ہوئے ایک فضائی حملے میں سینئر سیکورٹی افسر علی لاریجانی کی موت کے بعد ملک کی سیاسی اور سیکورٹی نظام میں بڑا بدلاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لاریجانی، ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ تھے اور اپنے بیٹے اور ایک ساتھی کے ساتھ مارے گئے۔ ان کی موت سے ایران کی قیادت میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر لاریجانی کی جگہ کون لے گا؟ خود لاریجانی ایران کی اقتدار میں ایسی مضبوط گرفت رکھتے تھے کہ ان کا جانا معمولی بات نہیں ہے، لیکن ایران وہ ملک ہے جو کسی بھی عہدے کے لیے جانشین پہلے سے طے کر کے رکھتا ہے۔

علی لاریجانی ایران کی فوجی اور سیکورٹی پالیسیوں کے اہم چہرے تھے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران حکمت عملی طے کرنے، جوہری مذاکرات، اندرونی احتجاج اور سیکورٹی معاملات کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ بحران کے وقت ان کی قیادت کو انتہائی اہم سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں لاریجانی کی موت سے ایران میں اقتدار کا توازن متاثر ہوا ہے۔ اب قیادت کے سامنے چیلنج ہے کہ ایسا شخص منتخب کیا جائے جو علاقائی تناؤ اور گھریلو سیاست دونوں کو سنبھال سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے سخت گیر رہنماؤں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے اور ایران کی خارجہ پالیسی مزید سخت ہو سکتی ہے۔کون لے گا لاریجانی کی جگہ؟
ایسا نہیں ہے کہ علی لاریجانی کی موت کے بعد ایران کے پاس کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جو سیکورٹی کونسل کی قیادت سنبھال سکے۔ ان کے بعد سب سے بڑا نام سعید جلیلی کا سامنے آ رہا ہے، جو ایران کے نمایاں رہنما اور سابق جوہری مذاکرات کار ہیں۔ انہوں نے 2007 سے 2013 تک صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی۔ وہ اپنے سخت اور غیر لچکدار مؤقف کے لیے جانے جاتے ہیں اور 2015 کے جوہری معاہدے کے مخالف رہے ہیں۔

جلیلی کی پیدائش 1965 میں مشہد میں ہوئی۔ انہوں نے امام صادق یونیورسٹی سے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی اور وہیں تدریس بھی کی۔

ایران عراق جنگ میں انہوں نے حصہ لیا، جہاں انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کھو دی، جس کے باعث انہیں “زندہ شہید” کہا جاتا ہے۔

انہوں نے 2013 کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا، جس میں وہ تیسرے نمبر پر رہے تھے۔ وہ قدامت پسند اور سخت گیر حلقوں میں کافی مقبول ہیں۔

چونکہ جلیلی ایک تجربہ کار اور سینئر رہنما ہیں، اس لیے انہیں سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ کے لیے ایک موزوں امیدوار مانا جا رہا ہے۔جلیلی کے آنے سے کتنی بدلے گی پالیسی؟
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جلیلی کو لاریجانی کی جگہ دی جا سکتی ہے، چاہے عارضی طور پر یا مستقل بنیادوں پر۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران کی پالیسیاں مزید سخت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر امریکہ اور علاقائی مخالفین کے حوالے سے۔ اس سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے 2007 سے 2013 کے دوران مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا تھا، لیکن ان کے سخت مؤقف سے واضح ہو گیا تھا کہ وہ نرم رویہ اختیار کرنے والوں میں شامل نہیں ہیں۔










کب نظر آئے گا شوال کا چاند؟ جانیے بھارت اور خلیجی ممالک میں کب منائی جائے گی ‘عید الفطر’
رمضان المبارک اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب دنیا بھر کے مسلمانوں کو ماہ رمضان کے وداع ہونے کا غم ہے وہیں رمضان کے روزے رکھنے کی خوشی میں عظیم تہوار ‘عید الفطر’ کا بھی انتظار ہے۔ جیسے جیسے روزے ختم ہونے کو ہیں، لوگوں کی عید کی تیاریوں سے متعلق مصروفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی عید کے چاند کے سلسلے میں گوگل پر بھی سب سے زیادہ یہی تلاش کیا جا رہا ہے کہ آخر اس بار عید کب منائی جائے گی؟ تو آئیے آپ کی اس الجھن کو دور کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آخر عید کب ہوگی۔چاند کا دیدار اور تاریخوں کا حساب

عید کی درست تاریخ مکمل طور پر نئے چاند کے نظر آنے پر منحصر ہوتی ہے۔ چونکہ اسلامی کیلنڈر چاند کی گردش (Lunar Cycle) پر مبنی ہے، اس لیے اس کی تاریخیں ہر سال بدلتی رہتی ہیں۔ جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے مختلف ممالک میں چاند نظر آنے کے وقت میں فرق ہوتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای جیسے خلیجی ممالک میں چاند بھارت سے ایک دن پہلے نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں عید اکثر خلیجی ممالک کے اگلے دن منائی جاتی ہے۔

اس بار کیا کہتے ہیں فلکیاتی اندازے؟

موجودہ فلکیاتی حساب کے مطابق اس بار سعودی عرب میں 19 مارچ (جمعرات) کی شام چاند نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔ اگر وہاں جمعرات کو چاند نظر آ جاتا ہے تو خلیجی ممالک میں 20 مارچ (جمعہ) کو عید منائی جائے گی۔

دوسری جانب بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے جنوبی ایشیائی ممالک میں 20 مارچ (جمعہ) کی شام چاند نظر آنے کی توقع ہے۔ ایسی صورت میں بھارت میں عید الفطر 21 مارچ 2026 (ہفتہ) کو منائی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ سب محض اندازے ہیں، حتمی فیصلہ مقامی رویتِ ہلال کمیٹیوں اور علمائے کرام کی گواہی کے بعد ہی کیا جائے گا۔

بھائی چارے اور مٹھاس کا پیغام

عید صرف روزہ ختم ہونے کا دن نہیں بلکہ شکرگزاری، غرباء و مساکین کی حال پرسی اور باہمی بھائی چارے کا خوبصورت مظہر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر ‘صدقۂ فطر’ کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرد اس خوشی میں شریک ہو سکے۔ نئے کپڑوں کی رونق اور گھروں میں بننے والی میٹھی سوئیوں کی خوشبو کے درمیان لوگ پرانے گلے شکوے بھلا کر ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں، جس سے رشتوں میں نئی مٹھاس اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام ملتا ہے۔

सैफ न्यूज

श्रीराम नवमीनिमित्त नागरी सुविधा पुरवण्याची रामभक्तांची मागणी..
महोदय,
आज 18 मार्च रोजी मालेगाव शहरातील रामभक्त बांधवांनी श्रीराम नवमी उत्सव समिती, मालेगावच्या वतीने महानगर पालिकेचे आयुक्त रवींद्र जाधव व अप्पर पोलीस अधीक्षक तेघवीर सिंग संधू यांना प्रत्यक्ष भेटून निवेदन सादर करून श्रीराम नवमी उत्सवाबाबत विविध मागण्यासाठी सोयी सुविधा पुरवण्याची मागणी केली.

श्रीराम नवमी उत्सवाच्या पार्श्वभूमीवर मिरवणूक मार्गावर स्वच्छता करून सुशोभीकरण करण्याबरोबर अतिक्रमण काढण्यात यावे व रस्त्यावरील खड्ड्यांची डागडुजी करण्यात यावी आणि श्रीराम जन्मोत्सवातील श्रीराम मूर्ती 18 फूट उंच असल्याने मिरवणूक मार्गावरील झाडांच्या फांद्याची छाटणी करून रस्त्यावरील इलेक्ट्रिक वायरिंग दूर करून मुबलक प्रकाशाची व्यवस्था करण्यात यावी व शोभायात्रा मिरवणुकीला उपस्थित असलेल्या रामभक्तांसाठी महानगरपालिकेतर्फे पिण्याच्या पाण्याची व्यवस्था करून आपत्कालीन परिस्थितीमध्ये रुग्णवाहिका व अग्निशामक दलाची व्यवस्था करण्यात यावी. अशा स्वरूपाच्या मागण्या करत श्रीराम नवमीच्या दिवशी मालेगाव शहरातील कत्तलखाने व मद्यविक्री दुकाने देखील बंद ठेवण्याबाबत सांगण्यात आले. 

श्रीराम नवमी उत्सवाच्या मालेगाव कॅम्प भागातून रामसेतू पुलापर्यंत नियोजित मिरवणूक मार्गावर मिरवणुकीच्या प्रसंगी मोठ्या प्रमाणावर वाहतूक कोंडी होते. यामुळे मिरवणूक विस्कळीत होऊन नागरिकांची गैरसोय होते. हे टाळण्यासाठी मोसम पूल सह मोची कॉर्नर, राष्ट्रीय एकात्मता चौक, महात्मा फुले रोड व रामसेतू पुल या ठिकाणी पर्यायी मार्गाने वाहतूक वळवण्यासाठी अप्पर पोलीस अधीक्षकांची भेट घेऊन मागणी करण्यात आली.

याप्रसंगी रामदास बोरसे, हरिप्रसाद गुप्ता, अजय वाघ, दीपक बच्छाव, सारंग बोरसे, मच्छिंद्र शिर्के, दिनेश सोनजे, विनोद निकम, शुभम पवार, निकेतन प्रमाणे आदी उपस्थित होते.

*🛑سیف نیوز اُردو*

پاکستان کی وہ کون سی میزائل، جس سے ڈر رہا ہے امریکہ؟ تلسی گبارڈ نے جو کہا، اس کی حقیقت جانئے Which Pakistan Missile is Threat fo...