Friday, 20 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


پروٹین حاصل کرنے کے لیے کون کون سے پھل کھانے چاہییں؟
امرُود: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 4.2 گرام
امرُود گرم علاقوں کا پھل ہے جو میکسیکو، وسطی امریکہ، کیریبین اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ اس میں پروٹین کی مقدار انڈے کی سفیدی سے بھی تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔
امرُود میں مالٹے کے مقابلے میں وٹامن سی چار گنا زیادہ ہوتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت سے بھی زیادہ ہے۔
چونکہ امرود کی زیادہ تر غذائیت اس کے چھلکے میں ہوتی ہے، اس لیے آپ اسے چھیلے بغیر ثابت کھا سکتے ہیں۔
ایوکاڈو: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 3 گرام
ایوکاڈو کا شمار پروٹین سے بھرپور پھلوں میں ہوتا ہے۔ ایک کپ ایوکاڈو میں قریباً آدھی مقدار بادام کے برابر پروٹین موجود ہوتی ہے۔
اس میں 22 گرام صحت مند ’مونو اَن سیچوریٹڈ فیٹ‘ (غیر سیرشدہ چکنائی یا صحت مند چکنائی) ہوتی ہیں جو دل اور دماغ کے لیے مفید ہے۔
ایک کپ ایوکاڈو روزانہ کی فائبر کی ضرورت کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔
انار: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.9 گرام
انار کو تیار کرنے میں تھوڑی محنت درکار ہوتی ہے، لیکن اس کے بہت فائدے ہوتے ہیں۔ اس کے بیج کھانے کے قابل ہوتے ہیں جن میں کچھ مقدار میں پروٹین موجود ہوتی ہے۔
انار کو ’سُپرفوڈ‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ غذائی اجزاء سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔انار کھانے کے لیے بیجوں کو جِھلی اور چھلکے سے الگ کریں۔
خوبانی: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.3 گرام
خوبانی دیکھنے میں آڑو جیسی نظر آتی ہے۔ اس کا ذائقہ ہلکا سا کھٹا میٹھا ہوتا ہے، جسے کچھ لوگ آڑو اور آلو بخارے کے ملاپ جیسا کہتے ہیں۔
خوبانی میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، جو ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے اور اسے نارنجی رنگ دیتا ہے۔ بیٹا کیروٹین آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہے اور میکیولر ڈی جنریشن جیسی بیماری کے خلاف مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
خوبانی کا چھلکا کھانے کے قابل ہوتا ہے، اس لیے اسے چھیلنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اسے ثابت کھا سکتے ہیں۔
کیوی فروٹ: 
پروٹین کی مقدار: فی کپ 2.1 گرام
کیوی ایک چھوٹا مگر طاقتور پھل ہے جو وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن ای اور فولیٹ بھی ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام، نظامِ ہضم اور میٹابولزم کے لیے مفید ہیں۔
ایک کپ کیوی میں 5.4 گرام فائبر بھی ہوتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو اضافی فائبر کے لیے کیوی کو چھلکے سمیت کھا سکتے ہیں، ورنہ چھیل کر کاٹ لیں اور کھانے کا لُطف اٹھائیں۔









ایران-امریکہ جنگ میں شدت، 16 امریکی طیاروں کی تباہی کا دعویٰ،ایران نےکہا- F-35 بھی نشانے پر
نئی دہلی :ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تقریباً 20 دنوں سے جاری اس تنازع میں امریکہ کو بھاری فوجی نقصان اٹھانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک امریکی فوج کے کئی جدید طیارے اور ڈرون تباہ ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 لائٹننگ II کو بھی ایرانی حملے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔یہ جنگ 28 فروری 2026 کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان، ایران کی دفاعی طاقت برقرار

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کم از کم 16 امریکی فوجی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جن میں ڈرون اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ ان میں سے 10 MQ-9 ریپر ڈرون ایرانی فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ میں مار گرائے گئے، جن میں سے 9 فضا میں تباہ ہوئے جبکہ ایک ڈرون اردن کے ایک ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں نشانہ بنا۔ مزید دو ڈرون حادثات میں بھی تباہ ہوئے۔حادثات بھی نقصان کی بڑی وجہ بنے۔ کویت میں تین F-15 ایگل لڑاکا طیارے مبینہ طور پر اپنی ہی فوج کی فائرنگ (فرینڈلی فائر) کا شکار ہو گئے، جبکہ ایک KC-135 اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بھرنے کے دوران تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سعودی عرب کے ایک ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے میں پانچ KC-135 طیارے بھی متاثر ہوئے۔

ابتدائی کوششوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل ایران کے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے میں ناکام رہے ہیں اور ایران اب بھی مضبوط دفاعی پوزیشن میں ہے۔ ایک امریکی F-35 طیارہ بھی ایرانی حملے کے بعد ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔امریکی فوجی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکا۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے فوجی آپریشنز اور مسلسل پروازوں میں اضافہ بھی نقصانات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں کی حفاظت امریکہ کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں ایران کا فضائی دفاعی نظام مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔









نیتن یاہو نے کہا اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں نہیں گھسیٹا ، ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کا کیا دعویٰ
وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں نہیں گھسیٹا ہے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنگ میں ایران کو نقصان پہنچا ہے اس کے پاس یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے اور نہ ہی وہ بیلسٹک میزائل بناسکتا ہے۔تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔نیتن یاہو کے مطابق،ایران اتنا کمزورپہلے کبھی نہیں رہا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج ایران کے میزائل اور ڈرون کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہی ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق حملوں کا ہدف وہ فیکٹریاں ہیں جو میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے لیے پرزے تیار کرتی ہیں۔جمعرات کے روزتل ابیب میں پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران جنگ لوگوں کی سوچ سے بھی تیزی سے ختم ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پارس پر حملہ اسرائیل نے کیا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید حملوں سے روک دیا ہے۔

ایران میں حکومت کی تبدیلی انحصار عوام پر

ایران میں رجیم کی تبدیلی کے حوالے سے نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آسمان سے آپ انقلاب برپا نہیں کرسکتے۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔
’میں زندہ ہوں‘
نیتن یاہو نے میڈیا کے سامنے آکراپنی موت کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں اور آپ کے سامنے ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جب کہ میں نے اس فرضی خبر کو بے نقاب کر دیا ہے، میں آپ کو ایک اپ ڈیٹ دینا چاہتا ہوں۔ اس آپریشن کا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق خطرے کو ختم کرنا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*




*راہ گیروں کو چلنا ہوا آسان، مصلیوں کو ملی راحت*
*کلیم دلاور، ونعیم دلاور کی کاوشیں ہوئی کامیاب*
مالیگاؤں ،آگرہ روڑ،فیمس ہوٹل کے آگے، مدینہ مسجد کی گلی کے کارنر پر، ایم، ڈی ہوم اپلائنسس کے سامنے، ایک دیو ہیکل وائر تقریباًچار سال کے عرصے سے راستے سے لگ کر پڑا ہوا تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ فلاے اور بریج کی طویل مدتی ہوا اسے بھی چھو کر گزر گئی ہے، کارپوریشن وایم پی سی ایل خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی، آے دن بوڑھے، نوجوان بائیک سوار اور طلبہ وطالبات حادثات کا شکار ہورہے تھے۔اہلیان محلہ مدینہ آباد و مصلیانِ مسجد کو انتہائی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،لیکن اہل اقتدار کو جیسے سانپ سونگ گیا تھا۔ چار سال کے عرصے میں وہ وائر دھوپ کی شدت وبارش کے پانی سے بالکل سخت ہوگیا تھا، مختلف ڈپارٹمنٹ میں کئی عرضیاں داخل کرنے کے بعد بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی، بالآخر رمضان المقدس کے مہینے میں شیخ کلیم دلاور، اور ان کے لائق فرزند شیخ نعیم دلاور نے بوقت افطار لوگوں کی آمد ورفت کی دقتوں کا
بنظرِخود جائزہ لیا، اور دسویں ،بارہویں کے بورڈ کے ایگزام کے لیے جاتے ہوئے طلبہ وطالبات کی پریشانیوں کو محسوس کیا، فوراً راہ گیروں واہلیانِ محلہ کو یقین دلایا، کہ ہم اس جان لیوا وائر کو ہٹانے کی بھر پور کوشش کریں گے، چند دنوں کا وقت لیا، پھر کیا تھا! آپ کی بار بار حاضری وفکر مندی سے ایم پی سی ایل ڈپارٹمنٹ،وکارپوریشن لرز اٹھے، اور بالآخر 15 /مارچ بروز اتوار بعد نمازِ ظہر وہ دیو ہیکل وائر کو راستے سےہٹا کر دم لیا۔اس طرح راہ گیروں ومصلیانِ مسجد نے چار سال کے لمبے عرصے کے بعد راحت کا سانس لیا، شیخ کلیم دلاور، ونعیم دلاور کی اس پرزور وپُر اثر قیادت کی کافی سراہنا کی جارہی ہے، اور دعاؤں سے نوازا جارہا ہے۔









سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں منائی جارہی ہےعید الفطر
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں آج(جمعہ) عیدالفطر مذہبی جوش و جذبے سے منائی جارہی ہے ۔سعودی عرب میں مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ میں نماز عید کے بڑے اور روح پرور اجتماعات ہوئے جن میں لاکھوں افراد نےنماز ادا کی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو عیدالفطر کی مبارکباد دی۔ شاہ سلمان نے عالمی امن واستحکام کیلئےکوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، امت مسلمہ کےلیے امن، سلامتی اور استحکام کی دعا کی۔

دبئی، قطر، بحرین،یمن، کویت، لبنان ،فلسطین،عراق ، ترکیہ اور روس میں بھی آج عید منائی جا رہی ہے۔
مغربی ممالک برطانیہ، فرانس، اسپین،جرمنی سمیت دیگر ممالک میں بھی آج عیدالفطر منائی جارہی ہے۔امریکہ ،کینیڈا اور آسٹریلیا میں آج عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ مراکش اور مصر سمیت افریقی ممالک کے مسلمان بھی آج عید الفطر مذہبی جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔وہیں ہندوستان،پاکستان،بنگلہ دیش، سری لنکا، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں عیدالفطر کل ہو گی۔ ان ممالک میں شوال کا چاند29 رمضان المبارک کو نظر نہیں آیا لہذا ان ممالک میں آج (جمعہ) 30 روزے مکمل کیے جارہے ہیں ۔









مغربی ایشیامیں کشیدگی کے درمیان حکومت نے جاری کیا احکام، تیل اور گیس استعمال کرنے والوں کمپنیوں کودینا ہوگا حساب
مغربی ایشیا میں کشیدگی کے سبب توانائی کے بحران کے درمیان، حکومت نے ملک میں ضروری اشیاء ایکٹ نافذ کیا ہے۔ اس قانون کے تحت پیٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس کی پیداوار، پروسیسنگ، ریفائننگ، اسٹوریج، نقل و حمل، درآمد، برآمد، مارکیٹنگ، تقسیم اور استعمال میں شامل تمام اداروں کو اب اپنا ڈیٹا شیئر کرنا ہوگا۔ ان کمپنیوں کو تمام ڈیٹا پٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (PPAC) کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

اس معاملے سے واقف ایک اہلکار نے بتایا کہ حکومت نے ضروری اشیاء ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت ایک گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پی پی اے سی کو معلومات کو جمع کرنے، تالیف کرنے، دیکھ بھال کرنے اور تجزیہ کرنے کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے وضاحت کی کہ پی پی اے سی وزارت تیل کے لیے ڈیٹا کا محافظ ہے، اور اب تمام کمپنیوں کو اپنے استعمال یا برآمد کے بارے میں معلومات شیئر کرنے کی ضرورت ہوگی۔ایسا حکم کیوں جاری کیا گیا؟
پی پی اے سی کا مینڈیٹ تیل اور گیس کے شعبے سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنا ہےلیکن ایک حالیہ نوٹیفکیشن کے بعد، اب اسے حقیقی وقت میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اعداد و شمار ہنگامی حالات کے لیے حکومت کی منصوبہ بندی میں مدد کرے گا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کے ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت جاری حکم کی کسی بھی خلاف ورزی کو مجرمانہ جرم سمجھا جائے گا اور اس کے نتیجے میں قید ہو سکتی ہے۔

پی این جی میں شفٹ ہو رہے ہیں صارفین
وزارت پٹرولیم کے جوائنٹ سیکرٹری نے بتایا کہ پائپڈ نیچرل گیس اور کمپریسڈ نیچرل گیس کی سپلائی 100 فیصد بے روک ٹوک جاری ہے۔ کمرشل ایل پی جی صارفین کو سی جی ڈی (سٹی گیس ڈسٹری بیوشن) کمپنیوں کے ذریعے مراعات اور تیز رفتار کنکشن فراہم کرکے پی این جی کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 125,000 نئے گھریلو اور کمرشل پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ پچھلے تین دنوں میں 5,600 سے زیادہ ایل پی جی صارفین پی این جی میں شفٹ ہو چکے ہیں۔قطر پر حملہ اور بحران
قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایران کے حملے سے ہندوستان کی مشکلات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ہندوستان کے قطر کے ساتھ بڑے اور طویل مدتی ایل این جی اور ایل پی جی کی فراہمی کے معاہدے ہیں۔ ہندوستان اپنی قدرتی گیس کی کل درآمدات کا تقریباً 47 فیصد قطر سے کرتا ہے۔ ہندوستان بنیادی طور پر مغربی ایشیا سے اپنی توانائی کی فراہمی کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ فی الحال، یہ وینزویلا، روس اور امریکہ سمیت تقریباً 40 ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔ بھارت امریکہ، آسٹریلیا، ناروے اور روس سے قدرتی گیس بھی درآمد کرتا ہے۔ جوائنٹ سکریٹری نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ریاستوں اور مقامی حکام کو شامل کیا گیا ہے۔ ریاستوں نے کنٹرول رومز کو فعال کر دیا ہے اور چھاپوں کو تیز کر دیا ہے۔

Thursday, 19 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

پاکستان کی وہ کون سی میزائل، جس سے ڈر رہا ہے امریکہ؟ تلسی گبارڈ نے جو کہا، اس کی حقیقت جانئے
Which Pakistan Missile is Threat for US: امریکہ کے نشانے پر صرف ایران ہی نہیں بلکہ ہر وہ ملک ہے جس کی میزائل رینج امریکہ تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے اس حوالے سے کھل کر وارننگ دی ہے۔ چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ پاکستان کو بھی ان ممالک کی صف میں رکھا گیا ہے جن کے میزائل سسٹمز امریکی سرزمین کو براہِ راست نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بظاہر اچھے ہیں، لیکن سیکورٹی کے معاملے میں امریکہ پاکستان کو بھی اپنے لیے بڑا جوہری خطرہ سمجھتا ہے۔

خفیہ ادارے کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے کہا: “روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز تیار کر رہے ہیں، جن میں جوہری اور روایتی پے لوڈ شامل ہیں اور جو ہماری سرزمین تک پہنچ سکتے ہیں۔”تلسی گبارڈ ایران کی ٹیکنالوجی اور سال 2035 سے پہلے انٹرکونٹیننٹل بیلسٹک میزائل (ICBM) کی تیاری اور استعمال کی بات کر رہی تھیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائلوں کی طرف بھی توجہ دلائی، جو ICBM بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور جوہری وارہیڈ کے ساتھ امریکہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اب معاملہ صرف ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکہ کی نظر ان تمام ممالک پر ہے جو جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور ایسی میزائلوں کے ذریعے امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن اس میں پاکستان کا نام کیوں شامل ہے؟

پاکستان کی کون سی میزائل سے امریکہ کو خطرہ؟
امریکہ کے نزدیک سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائل ڈیولپمنٹ اب ICBM تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ شاہین-III میزائل کو تکنیکی طور پر تبدیل یا بڑھا کر ICBM بنایا جا سکتا ہے۔

شاہین-III اس وقت تقریباً 2750 کلومیٹر رینج کی میڈیم رینج بیلسٹک میزائل ہے، جو پورے ہندوستان کو کور کرتی ہے۔

بڑے راکٹ موٹرز اور زیادہ تھرو ویٹ کے ساتھ اس کی رینج کو 5500 کلومیٹر سے زیادہ تک بڑھایا جا سکتا ہے، یعنی امریکہ کے اہم حصوں تک۔ گبارڈ نے واضح کیا کہ پاکستان کی لانگ رینج بیلسٹک میزائل ڈیولپمنٹ میں ICBM شامل ہو سکتے ہیں اور وہ امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

شاہین میزائل کی خصوصیات:
پاکستان کی بیلسٹک میزائل سیریز، جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے

نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس نے تیار کی

ٹھوس ایندھن سے چلتی ہے، تیزی سے لانچ ممکن

شاہین-I، شاہین-II، شاہین-III ورژنز

رینج تقریباً 750 کلومیٹر سے 2750 کلومیٹر تک

موبائل لانچر سے فائر کی جا سکتی ہے

اعلیٰ درستگی اور تیز رفتار اس کی خاصیت ہے

پاکستان کی جوہری دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ، باقاعدہ تجربات کے ذریعے اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاتا ہے

پاکستان پر امریکہ کی نظر کیوں ہے؟
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے عسکری معاہدے کے باعث خلیجی تنازع میں الجھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھی تو پاکستان کو دو محاذوں پر لڑنا پڑ سکتا ہے، اور ایسے میں ICBM کا آپشن امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا۔ شاہین-III کو ICBM میں تبدیل کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان اب صرف ہندوستان تک محدود جوہری ڈیٹیرنس سے آگے نکل چکا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ ایک ابھرتا ہوا خطرہ بن چکا ہے، اور تلسی گبارڈ نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کے میزائل پروگرام کی رفتار تیز ہے اور آنے والے چند سالوں میں یہ امریکہ تک پہنچنے کے قابل ہو سکتا ہے۔یہ بیان صرف ایک وارننگ نہیں بلکہ امریکی پالیسی میں ایک نیا موڑ بھی ہے۔ تلسی گبارڈ نے پاکستان کو چین کے برابر رکھ کر واضح اشارہ دیا ہے کہ اب واشنگٹن اسلام آباد کی میزائل خواہشات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اگر شاہین-III کو ICBM میں تبدیل کیا گیا تو عالمی نقشہ بدل سکتا ہے۔ تلسی گبارڈ کا پیغام واضح ہے کہ پاکستان اب صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک عالمی جوہری خطرہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔






دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست: فن لینڈ پہلے اور افغانستان آخری نمبر پر
ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 کے مطابق فن لینڈ مسلسل اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا ہے۔
اس بار درجہ بندی میں صرف نارڈک ممالک کی برتری ہی نہیں بلکہ کچھ غیر متوقع نتائج بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر خوشی کے تصور کو نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کوسٹا ریکا چوتھے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ میکسیکو بھی کئی امیر ممالک سے آگے نکل گیا ہے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ خوشی کا تعلق صرف آمدن سے نہیں بلکہ سماجی اعتماد، کمیونٹی اور روزمرہ زندگی کے معیار سے بھی ہے۔
رپورٹ میں نقشے کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں خوشی کی سطح کا موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
فن لینڈ 10 میں سے 7.8 سکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جو اس کی طویل عرصے سے جاری برتری کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب کوسٹا ریکا اور میکسیکو اس فہرست میں آئرلینڈ، آسٹریلیا اور جرمنی جیسے زیادہ آمدن والے ممالک سے بھی آگے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سماجی تعلقات، کمیونٹی اور طرز زندگی جیسے عوامل بھی خوشی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو صرف جی ڈی پی سے نہیں ناپے جا سکتے۔
یہ درجہ بندی کینٹرل لیڈر کے ذریعے کی گئی ہے، جس میں 0 سے 10 کے پیمانے پر افراد اپنی زندگی کا خود جائزہ دیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں 147 ممالک اور ایک لاکھ سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل ہے، جبکہ 2023 سے 2025 تک کے اوسط سکورز کو استعمال کیا گیا تاکہ زیادہ درست نتائج حاصل کیے جا سکیں اور سیمپلز کی غلطی کو کم کیا جا سکے۔امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور مغربی یورپ کے کئی ممالک 6.7 سے 6.9 کے محدود دائرے میں آ گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ممالک میں خوشی کی سطح ایک حد پر جا کر رک گئی ہے۔ دوسری جانب مشرقی یورپ کے ممالک جیسے پولینڈ اور ایسٹونیا مسلسل بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو بہتر ہوتے معیارِ زندگی اور سماجی حالات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایشیا میں تائیوان 26 ویں نمبر کے ساتھ خطے کا سب سے خوش ملک ہے، جبکہ جاپان 61ویں اور چین 65ویں نمبر پر ہیں۔ افریقہ میں ماریشس سرفہرست ہے، جہاں نسبتاً کم بدعنوانی اور زیادہ متوقع عمر جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برصغیر کا ذکر کیا جائے تو 104 نمبر پر پاکستان ہے جس کا ہیپی نیس سکور 4.9 ہے، جبکہ انڈیا 116ویں نمبر پر ہے اور اس کا سکور 4.5 ہے۔
ہیپی نیس انڈیکس کی فہرست کے 147ویں اور آخری نمبر پر افغانستان ہے جس کا سکور 1.4 ہے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں خوشی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے باعث۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر کی اس رپورٹ کے مطابق انگریزی بولنے والے ممالک اور مغربی یورپ میں نوجوان لڑکیوں پر اس کے اثرات زیادہ تشویشناک ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں 25 سال سے کم عمر افراد کی زندگی سے اطمینان کی سطح گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا ہے۔ کوسٹا ریکا اس سال چوتھے نمبر پر پہنچ گیا ہے، جو 2023 میں 23ویں نمبر پر تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس بہتری کی وجہ خاندانی تعلقات اور مضبوط سماجی روابط ہیں۔
آکسفورڈ کے ماہرِ معاشیات اور رپورٹ کے شریک مدیر جان-ایمانوئل ڈی نیو کے مطابق لاطینی امریکہ میں مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات موجود ہیں، جو دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ سماجی سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ فن لینڈ اور دیگر شمالی یورپی ممالک کی مسلسل کامیابی کی وجہ دولت، اس کی مساوی تقسیم، مضبوط فلاحی ریاست اور بہتر صحت مند زندگی کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق تنازعات کا شکار ممالک بدستور فہرست کے نچلے حصے میں ہیں، جہاں افغانستان ایک بار پھر سب سے ناخوش ملک قرار پایا، اس کے بعد سیرا لیون اور ملاوی کا نمبر آتا ہے۔ یہ درجہ بندی تقریباً 140 ممالک اور علاقوں کے ایک لاکھ افراد کے جوابات کی بنیاد پر کی گئی، جنہوں نے اپنی زندگی کو 0 سے 10 کے پیمانے پر درجہ دیا۔ یہ تحقیق گیلپ اور اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک کے تعاون سے کی گئی۔
دلچسپ طور پر مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے باوجود نوجوانوں کی خوشی میں کمی نہیں دیکھی گئی، جس کی وجہ مختلف سماجی اور ثقافتی عوامل قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 مسلسل دوسرا سال ہے جب کوئی بھی انگریزی بولنے والا ملک ٹاپ 10 میں شامل نہیں ہو سکا، جہاں امریکہ 23ویں، کینیڈا 25ویں اور برطانیہ 29ویں نمبر پر ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں کئی ممالک کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے یا اس پر غور کر رہے ہیں، جس سے اس مسئلے کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔







قطر کی ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد یورپ میں گیس قیمتیوں میں 30 فیصد اضافہ، 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا خام تیل
مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے قطر کی ایل این جی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی سطح پر سپلائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ قطر انرجی نے تصدیق کی ہے کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میزائل حملوں کا نشانہ بنا۔ ادارے کے مطابق پہلے حملے میں پرل جی ٹی ایل (گیس ٹو لیکوئڈز) پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ بعد میں کئی ایل این جی تنصیبات پر بھی حملے ہوئے جس سے آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت مئی ڈیلیوری کے لیے 6.3 فیصد بڑھ کر 114.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی، جہاں ڈچ ٹی ٹی ایف ہب (یورپی معیار) پر قیمت تقریباً 30 فیصد بڑھ کر 70.8 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ ہو گئی۔ برطانیہ میں بھی گیس کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قطر پہلے ہی 2 مارچ کو راس لفان اور میسعید انڈسٹریل سٹی پر ایرانی ڈرون حملوں کے بعد ایل این جی پیداوار روک چکا تھا۔ قطر دنیا کا دوسرا بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ہے اور عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، وہاں ٹینکرز کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے، جس سے سپلائی میں بڑے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ گلف آئل کے سینئر توانائی مشیرٹام کلوزا نے خبردار کیا کہ اگر تنازع خلیج سے باہر پھیل گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح ڈین پکرنگ نے کہا کہ صورتحال سپلائی چین کے مسئلے سے بڑھ کر حقیقی سپلائی بحران میں تبدیل ہو رہی ہے، جو کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

ایران کا ردعمل اور آپریشن

ایران کی پاسداران انقلاب آئی آر جی سی نے خطے میں امریکی مفادات سے جڑی تیل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ کارروائیاں ’’آپریشن ٹرو پرامس 4‘‘ کے تحت کی جا رہی ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں شروع کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور قطر کو ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قطر کی توانائی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو واشنگٹن سخت ردعمل سے گریز نہیں کرے گا، حتیٰ کہ تہران کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو عالمی سطح پر تیل و گیس کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور توانائی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔


*🛑سیف نیوز اُردو*

عید الفطر کا چاند 🌙 
نظر نہیں آیا
 
آج بروز جمعرات بتاریخ 29 رمضان المبارک 1447 ھ بمطابق 19 مارچ 2026 ء کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا گیا لیکن کہیں بھی چاند کی رؤیت نہیں ہوئی۔ لہذا جمعیت علماء ضلع ناسک (ارشد مدنی) رؤیت ہلال کمیٹی،ممبئی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اعلان کرتی ہے کہ بروز جمعہ 20 مارچ 2026 ء کو 30 رمضان المبارک 1447ھ ہوگا۔ اور 21 مارچ بروز سنیچر کو یکم شوال(عید الفطر ہوگی)، ان شاءاللہ
نوٹ: نماز عید الفطر لشکر والی عید گاہ پر ان شاء اللہ صبح ساڑھے آٹھ بجے حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی اقتدا میں ادا کی جائے گی۔
 عوام الناس سے گزارش ہے کہ وقت سے پہلے لشکر والی عید گاہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ 
  
 ائمہ کرام مساجد میں تاریخ درست لگا کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

فقط والسلام:
مفتی محمد یاسین صاحب ملی 
سکریٹری رؤیت ہلال کمیٹی
جمعیت علماء ضلع ناسک (ارشدمدنی)
مفتی و قاضی حسنین محفوظ ملی نعمانی
حضرت مولانا سراج احمد صاحب قاسمی
مولانا نثار احمد صاحب 
مفتی محمد مصطفیٰ صاحب جمالی
مولانا عبدالقیوم صاحب قاسمی 
مفتی خالد اقبال ملی رحمانی
مفتی محمد خالد ملی
مفتی محمد مدثر ملی سیفی
مفتی عبدالمالک ملی قاسمی
مولانا سلمان صاحب قاسمی 
مولانا شیخ نعیم صاحب ملی
ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری
مولانا عبدالحمید قاسمی امبڑ
مولانا محمد ابراہیم ملی سٹانہ
جمیل خان چاندوڑ

*🛑سیف نیوز اُردو*




 _*خانقاہ رحمانیہ میں خطاب جمعہ اور مجلس بیعت*_ 
برادران اسلام کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ مورخہ30,رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ بمطابق 20/مارچ 2026ء بروز جمعہ نمازجمعہ سے قبل خانقاہ رحمانیہ(مسجد ہدایت الاسلام بسمﷲ باغ)میں شیخ طریقت حضرت مولانامحمّد عــــمـــرین مــحـفـــوظ رحــمــانی صاحب دامت برکاتہم (خلیفہ ارشد حضرت مولانا محمّد ولی رحمانی صاحب نورﷲمرقدہ) کاایمان افروزخطاب ہوگا،خطاب 1:00 بجے شروع ہوگا ان شاءﷲ
 نماز جمعہ کے بعد حضرت والاخواہش مندحضرات کو بیعت فرمائیں گے اورذکر و وظائف کی تعلیم دیں گے۔لہذا جو حضرات بیعت کے خواہش مند ہیں وہ نمازجمعہ مسجد ہدایت الاسلام ہی میں اداکریں۔

 *الداعیان: مریدین و متوسلین خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں۔* 

                            ٭٭٭
 _*Khanqah Rahmaniya mein Khitab E Juma aur majlis e bai'at*_ 

Biradraane Islam ko ye ittela di jaati hai ke batarikh 30,Ramzan ul mubarak 1447 ba mutabik 20/March2026 baroz juma namaz juma se Qabl Khanqah Rahmaniya (Masjid Hidayatul Islam Bismillah Baag) Mein Shaikh-E-Tareeqat HAZRAT MAULANA MUHAMMAD UMRAIN MAHFOOZ RAHMANI SAHAB DB (Khalifa Arshad Hazrat maulana Muhammad Wali Sahab Rahmani RH) ka Imaan afroz khitab hoga, Khitab 1:00 baje shuru hoga.INSHAALLAH
Namaz Juma ke baad HAZRAT DB khwahishmand hazraat ko bai'at farmayenge aur zikr wa wazaif ki taleem denge. Lehaza jo Hazraat Bai'at ke khwahishmand hain wo Namaze Juma Masjid Hidayatul Islam hi mein adaa karein.

 *Addaiyan:- Murideen wa Mutawassilin Khanqa Rahmaniya Malegaon.* 
                                  ٭٭٭
 _*खान्क़ाहे रहमानीया में खिताबे जुमा और मज्लिसे बै'अत में खिताबे जुमा और मज्लिसे बै'अत*_ 

बीरादराने ईस्लाम को ये इत्तेला दी जाती हैं के बतारिख 30, रमज़ानुल मुबारक़ 1447 बमुताबिक 20/मार्च 2026 बरोज़ जुमा नमाज़ जुमा क़ब्ल खान्क़ाहे रहमानीया (मस्जिद हिदायतुल इस्लाम बिस्मिल्लाह बाग) में शैखे तरीक़त हज़रत मौलाना मुहम्मद उम्रैन महफुज़ रहमानी साहब द ब (ख़लीफा अरशद हज़रत मौलाना मुहम्मद वली साहब रहमानी रह) के ईमान अफ्रोज़ खिताब होगा, खिताब 1 बजे शुरू होगा इंशाअल्लाह नमाज़े जुमा के बाद *हज़रत द ब`* ख्वहिश्मन्द हज़रात को बै'अत फरमाएंगे और ज़िक्र व वज़ाइफ की तालीम देंगे। लेहाज़ा जो ह्ज़रात बै'अत के ख्वहिश्मन्द है वो नमाज़े जुमा मस्जिद हिदायतुल इस्लाम बिस्मिल्लाह बाग ही में अदा करे।

 *अद्दाईयान:- मुरीदीन व मुतवस्सिलीन खानकाह रहमानीया मालेगाव।* 
                              ٭٭٭٭٭








آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے بل پر غور کر رہا ایران، جانئے دنیا پر کیا پڑے گا اثر
تہران: ایران نے اب پوری دنیا کی “نبض” یعنی آبنائے ہرمز کو معاشی ہتھیار بنانے کی تیاری کر لی ہے۔ جنگ کے دوران اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے ایران کی پارلیمنٹ اب ایک ایسا قانون لانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والے ہر غیر ملکی جہاز کو بھاری “ٹیکس” اور “ٹول” دینا ہوگا۔ اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو دنیا بھر میں تیل، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ-اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان یہی ہرمز ایران کی طاقت بنا ہوا ہے، جہاں ایران دنیا بھر کے ٹینکروں کو روک کر ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے۔

ہرمز کے حوالے سے ایران کا کیا منصوبہ ہے؟ہرمز پر ایران اس قدر طاقتور ہے کہ اس تنگ راستے پر IRGC کا مقابلہ کرنے میں امریکی بحریہ بھی ناکام رہی ہے۔ اب ایران اسی ہرمز کو اپنا معاشی ہتھیار بنانے جا رہا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ISNA) کے مطابق ایک ایرانی رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر “ٹرانزٹ فیس” لگانے کی تجویز تیار کر رہے ہیں۔ جو ممالک اس راستے کو شپنگ، توانائی کی فراہمی یا خوراک کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہیں اب ایران کو رقم ادا کرنی ہوگی۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے واضح کہا ہے کہ اس اسٹریٹجک پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے وہ ان مغربی ممالک پر “الٹی پابندیاں” لگائیں گے جنہوں نے ایران کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔

20 فیصد تیل والے راستے پر ٹیکس کا کیا اثر ہوگا؟
ایران کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہرمز کے لیے ایک نیا نظام بنایا جائے گا، جس سے ایران تیل کے اس راستے کا اصل “باس” بن کر ابھرے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم “چوک پوائنٹ” ہے۔ آبنائے ہرمز وہی راستہ ہے جہاں سے دنیا کا 20 فیصد ایندھن گزرتا ہے۔ عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع گیس اسی تنگ راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں، لیکن ایران کے اس نئے معاشی وار نے واشنگٹن کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔









آسام اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی نے اُمید واروں کی پہلی فہرست جاری کی
بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) نے آسام اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس میں کل 88 نام شامل ہیں۔ فہرست میں چیف منسٹر ہمنت بسوا سرما کا نام بھی ہے۔ پارٹی نے تجربہ اور تنظیمی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی سابق ایم پیز کو ٹکٹ بھی دیے ہیں۔

سی ایم ہمنت بسوا سرما کو جالوکباری سے امیدوار بنایا ہے۔ بھوپین بورا کو بہپوریا سے جبکہ بی جے پی میں کل شمولیت اختیار کرنے والے پردیوت بوردولوئی کو دسپور سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔

جاری کردہ فہرست کے مطابق دھوبری سے اتم پرساد، بیرسنگ جروا سے مادھبی داس، گولپارہ ویسٹ سے پبیتر رابھا اور دودھنئی سے تنکیشور رابھا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ابھئے پوری سے بھوپین رائے، بجنی سے اروپ کمار ڈے، بھوانی پور۔سوربھوگ سے رنجیت کمار داس، منڈیا سے بادل چندر آریہ، چمڑیا سے جیوتسنا کلیتا، اور بوکو چھائگاؤں سے راجو میچ کو پارٹی نے امیدواربنایا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے گوہپور سے اتپل بورا، رونگونڈی سے رشی راج ہزاریکا، لکھیم پور سے مناب ڈیکا، ڈھکوکھانہ سے نبا کمار ڈیلی، دھیماجی سے ڈاکٹر رنوج پیگو، جونئی سے بھوبن پیگو، سادیہ سے بالن چیٹیا، شرما سے بھاپے، شرما سے رونگی مارگریتا، ڈگبوئی سے سورین فوکن، ماکم سے سنجے کشن، تینسوکیا سے پلک گوہائی، چبوا-لاہووال سے بنود ہزاریکا، ڈبروگڑھ سے پرشانت پھوکن، کھوانگ سے چکرادھر گگوئی اور دولیاجن سے رامیشور تیلی اپنے امیدوار ہیں۔

بی جے پی نے لنگ کھونگ سے بمل بورا، نہرکٹیا سے ترنگ گگوئی، سوناری سے دھرمیشور کووار، مہمورہ سے سروج ڈھنگیا، ڈیمو سے سوشانت بارگوہین، نزیرہ سے میور بارگوہین، ماجولی سے بھوبن گام، جورہاٹ سے ہتیندر ناتھ گوسوامی، جورہاٹ سے ہتیندر ناتھ گوسوامی، ڈی روپی راجوانی سے امیدوار نامزد کیے ہیں۔

Wednesday, 18 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


گیس فیلڈ پر حملہ کے بعد ایران کا بدلہ، ایک ساتھ 5 ممالک پر داغی میزائلیں، دی یہ بڑی وارننگ
مشرقِ وسطیٰ میں چھڑی جنگ اب اپنی سب سے بھیانک تباہی کے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ بدھ، 18 مارچ 2026 کی رات خلیجی ممالک کے لیے کسی ‘قیامت کی رات’ سے کم ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ اپنے اعلیٰ رہنماؤں کے قتل اور گیس پائپ لائنوں پر حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ عرب ممالک ، سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور کویت پر ایک ساتھ میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔ ریاض سے لے کر دبئی تک آسمان دھماکوں سے گونج رہا ہے اور لوگ بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

خلیجی ممالک پر ایران کا حملہ
ایران نے اپنے ‘آپریشن ٹرو پرومس 4’ کے تحت خلیجی ممالک کے توانائی کے ٹھکانوں اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔سعودی عرب: ریاض میں وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ شہر کے اوپر ‘بیلسٹک خطرے’ کو انٹرسیپٹ کیا گیا ہے۔ پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب میزائل کا ملبہ گرا ہے۔ شہریوں کے موبائل پر پہلی بار ‘Hostile Aerial Threat’ کے ایمرجنسی الرٹس بھیجے گئے ہیں۔

یو اے ای (متحدہ عرب امارات): یو اے ای نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 13 بیلسٹک میزائلوں اور 27 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ تاہم، انٹرسیپشن کے ملبے سے دبئی اور ابوظہبی میں آگ لگنے کی خبریں ہیں۔

قطر: قطر نے اپنے سب سے بڑے گیس فیلڈ ‘راس لفان’ کو خالی کرانا شروع کر دیا ہے۔ دوحہ کے آسمان میں بھی تیز دھماکے سنے گئے ہیں۔

کویت اور بحرین: کویت نے اپنے فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کو مار گرایا ہے، جبکہ بحرین میں موجود امریکی 5ویں بیڑے (5th Fleet) کے قریب بھی حملے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایران کے ‘ساؤتھ پارس’ گیس فیلڈ پر حملہ: جنگ کی نئی آگ
اس بھیانک حملے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس (South Pars) گیس فیلڈ پر کیا گیا حملہ مانا جا رہا ہے۔

یو اے ای کی مذمت: یو اے ای نے ایران کے گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کو ‘خطرناک اشتعال انگیزی’ قرار دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب کسی عرب ملک نے اسرائیل کی اس طرح کھل کر عوامی سطح پر تنقید کی ہے۔

دنیا پر خطرہ: ساؤتھ پارس دنیا کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ ہے۔ اس پر حملے سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔آج کی رات کیوں ہے بھاری؟
ایران کے ریوولوشنری گارڈز (IRGC) نے خبردار کیا ہے کہ وہ آنے والے گھنٹوں میں ‘دشمن کے بنیادی ڈھانچے’ کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔ ادھر، امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر حملے نہیں رکے تو امریکہ براہِ راست ایرانی سرزمین پر بڑے ‘بنکر بسٹر’ بم گرا سکتا ہے۔







آئی پی ایل 206 : کمنز کی چوٹ نے بدلا سن رائزرس حیدرآباد کا گیم پلان، ایشان کشن کے ہاتھوں میں کپتانی، ابھیشیک شرما کو ملی بڑی ذمہ داری
Ishan Kishan named captain for Sunrisers Hyderabad: آئی پی ایل کے آئندہ سیزن سے پہلے وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن اور دھماکہ خیز اوپنر ابھیشیک شرما کے لیے خوشخبری ہے۔ ایشان کشن آئی پی ایل 2026 کے ابتدائی چند میچوں میں سن رائزرز حیدرآباد کی کپتانی کریں گے۔ وہ پیٹ کمنز کی جگہ لے رہے ہیں، جو ابھی تک کمر کی چوٹ سے مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو پائے ہیں۔ اس دوران ابھیشیک شرما نائب کپتان کی ذمہ داری نبھائیں گے۔

سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے قریبی ذرائع نے کرک بز کو بتایا ہے کہ یہ انتظام صرف عارضی ہے اور باقاعدہ کپتان پیٹ کمنز مکمل فٹ ہونے کے بعد کپتانی کی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔ جلد ہی آفیشیل اعلان ہونے کی امید ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کمنز کتنے میچ نہیں کھیل پائیں گے، لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ آسٹریلیا کے کپتان 23 مارچ کو ایس آر ایچ کیمپ میں پہنچیں گے۔ امید ہے کہ وہ ہندوستان میں فرنچائز کے ساتھ ریہیبلیٹیشن سے گزریں گے اور جیسا کہ ویب سائٹ نے کل بتایا تھا، وہ سیزن کے پہلے تین میچ نہیں کھیل پائیں گے۔ایس آر ایچ (SRH) آئی پی ایل میں اپنے مہم کا آغاز 28 مارچ کو بنگلورو کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں موجودہ چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف کرے گی۔ ان کا دوسرا میچ بھی باہر ہوگا، جو 2 اپریل کو کولکاتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف ہوگا۔ اس کے بعد وہ 5 اپریل کو لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ پر واپسی کریں گے۔

32 سالہ کمنز دسمبر سے کرکٹ سے باہر ہیں، جب انہوں نے ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے واحد ایشز ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا۔ کمر کی پرانی چوٹ کے باعث وہ اس میچ سے پہلے اور بعد میں بھی میدان سے باہر رہے۔ انہوں نے حال ہی میں ختم ہوئے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔ سن رائزرس حیدرآباد کے ذرائع نے کرک بز کو بتایا ہے کہ انہیں کرکٹ آسٹریلیا سے آئی پی ایل معاہدے کے تحت کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، انہیں میدان پر واپسی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

کمنز نے ایس آر ایچ کی کپتانی کرتے ہوئے 30 میچ کھیلے ہیں، جن میں سے 15 میں جیت اور 14 میں شکست ملی ہے، جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ 2024 میں انہوں نے ٹیم کو فائنل تک پہنچایا، جہاں انہیں کولکاتہ نائٹ رائیڈرز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے سیزن میں ایس آر ایچ چھٹے مقام پر رہی، جس میں چھ جیت اور سات ہار شامل تھیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایس آر ایچ مینجمنٹ ہمیشہ سے اس بات پر واضح تھی کہ کمنز کی غیر موجودگی میں ایشان ہی ٹیم کی کپتانی کریں گے، حالانکہ عبوری کپتانی کو لے کر کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ حال ہی میں ہوئے ٹی20 ورلڈ کپ میں ہندوستان کی کامیابی میں ایشان اور ابھیشیک دونوں نے اہم کردار ادا کیا، لیکن سینئر ہونے کی وجہ سے 27 سالہ ایشان کو موقع دیا گیا ہے۔ انہوں نے 119 آئی پی ایل میچ کھیلے ہیں، جبکہ 25 سالہ ابھیشیک نے 77 میچ کھیلے ہیں۔









_*خانقاہ رحمانیہ میں حضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی کی آمد اور مجلس اجازت حدیث شریف*_
 
 *از:(مولانا) محمد حامد رحمانی*
 
۲۴ ؍رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ بعد نماز تراویح رات ساڑھے گیارہ بجے مدرسہ معہد ملت کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس عقیلی ملی مدظلہ العالی خانقاہ رحمانیہ تشریف لائے ،آپ معمر عالم دین اور بافیض حامل دین ہیں ،آپ حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ العالی کے استاذ ہیں ،پوری زندگی تعلیم وتعلم اور دروس قرآن دیتے ہوئے ہی گذاری ہے ،آپ کا یہ معمول ہے کہ ہر سال عشرہ اخیرہ میں اپنے لائق وفائق شاگرد شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ العالی کی خانقاہ تشریف لاتے ہیں ،خانقاہ میں بڑی تعداد میں سالکین کا اجتماع اور یہاں کا روحانی ماحول دیکھ کر خوشی کا اظہار فرماتے ہیں اور اپنے ہونہار شاگرد کو ڈھیر ساری دعائوں سے نوازتے ہیں ۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی خانقاہ رحمانیہ میں متعدد ریاستوں اور شہروں سے بڑی تعداد میں علماء کرام حاضرہوئے ،چنانچہ حضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی مدظلہ کی آمد کو غنیمت جانتے ہوئے ان کی اجازت کے بعد یہاں اجازت حدیث کی مجلس بھی منعقد ہوئی ،جس میں حضرت مولانا کے سامنے مولانا عمار ازہری صاحب نے حدیث مسلسل بالاولیہ ،حدیث مسلسل بالمصافحہ اور حدیث مسلسل بالمحبۃ پڑھ کر سنائی ،پھر حضرت مولانا نے تمام علماء کو حدیث شریف کی اجازت دی ،اور اجازت دیتے وقت خاص طور سے یہ فرمایا کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں ،میں تو یہاں دعا کی درخواست کرنے آیا تھا اور یہاں کے روحانی ماحول سے فائدہ اٹھانے ،البتہ بڑوں سے ایک چیز مجھے ملی ہے جو اب آپ لوگوں میں منتقل کررہا ہوں ،پھر سب علماء کو حدیث شریف کی اجازت عطافرمائی ،حضرت مولانا نے اپنے خطاب میں یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بخاری شریف دو لوگوں سے پڑھی ہے ،ایک تو معہد ملت میں حضرت مولانا احمد جانؒ سے ،دوسرے دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحب ؒ سے !اور یہ دونوں حضرات شاگرد تھے حضرت شیخ الہند ؒ کے !حضرت مولانا نے اپنے خطاب میں بڑے اونچے الفاظ میں اپنے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ کا تذکرہ فرمایا اور انہیں خوب دعاوں سے نوازا۔
اس مجلس کے بعد حضرت مولانا کچھ دیر حضرت والاکے حجرے میں تشریف فرماہوئے، تنہائی میں کچھ دیر حضرت والاسے گفتگو فرمائی ،پھر اپنی مستجاب دعائوں کا تحفہ دیتے ہوئے رخصت ہوئے۔

💐💐💐💐💐💐💐

*🛑سیف نیوز اُردو*

سعودی عرب میں ماہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا، 20 مارچ بروز جمعہ کو ہوگی عید
Eid 2026 In Saudi Arabia : سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر نہ آنے کے باعث عید الفطر کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق مملکت میں اس سال عید الفطر جمعہ 20 مارچ کو منائی جائے گی۔ رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل ہوں گے۔

شوال کا چاند دیکھنے کے لیے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں قائم فلکیاتی مراکز اور آبزرویٹریوں میں خصوصی اجلاس منعقد کیے گئے۔ ان اجلاسوں میں ماہرین فلکیات اور متعلقہ حکام نے جدید آلات کی مدد سے چاند دیکھنے کی کوشش کی، تاہم کہیں سے بھی چاند نظر آنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس سے قبل سعودی سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شہریوں سے بھی اپیل کی تھی کہ اگر کسی کو چاند نظر آئے تو وہ اپنی شہادت قریبی عدالت میں جمع کروائے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی مستند اطلاع موصول نہیں ہوئی۔تمام موصول ہونے والی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ نے اعلان کیا کہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا، لہٰذا رمضان المبارک کے تیس روزے مکمل کیے جائیں گے۔ اسی بنیاد پر یکم شوال 1447 ہجری جمعہ 20 مارچ کو ہوگی اور اسی دن عید الفطر منائی جائے گی۔

یہ اعلان مملکت بھر کے مسلمانوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ سعودی عرب میں چاند کی رویت کے فیصلے کو دنیا کے کئی ممالک میں بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ عید الفطر اسلامی کیلنڈر کے اہم ترین تہواروں میں سے ایک ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام پر خوشی اور شکرانے کے طور پر منائی جاتی ہے۔چاند نظر نہ آنے کے بعد اب سعودی عرب میں عبادات کے ساتھ ساتھ عید کی تیاریوں کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ لوگ آخری روزے کے ساتھ زکوٰۃ الفطر ادا کرنے، خریداری کرنے اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ عید کی خوشیاں منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ یوں ایک ماہ کی عبادتوں کے بعد مسلمان عید کے دن خوشی، محبت اور بھائی چارے کا اظہار کریں گے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

پروٹین حاصل کرنے کے لیے کون کون سے پھل کھانے چاہییں؟ امرُود:  پروٹین کی مقدار: فی کپ 4.2 گرام امرُود گرم علاقوں کا پ...