*🛑ذیابیطس کے مریضوں کو کن پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے*
ذیابیطس کا مسئلہ ان دنوں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہ دن گئے جب ٹائپ 2 ذیابیطس صرف 40 سال سے زیادہ عمر والوں کو متاثر کرتی تھی۔ بھارت میں یہ بیماری اب 20 سے 30 سال کی عمر کے لوگوں کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔ ذیابیطس ملک میں ایک بڑی وبا بننے کے دہانے پر ہے، موٹاپا اس بیماری کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ مزید برآں ناقص طرز زندگی، غیر صحت بخش غذائی عادات، اور جسمانی ورزش کی کمی اہم خطرے کے عوامل ہیں۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ذیابیطس کا کوئی حتمی علاج نہیں ہے۔ اس کے انتظام کے لیے مختلف غذائی اور طرز زندگی کی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنا مریضوں کے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ بلند سطح متعدد پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اس وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ شوگر اور بعض مخصوص پھلوں سے پرہیز کریں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو کن پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے، یہ جاننے کے لیے مکمل رپورٹ پڑھیں۔
آم
آم کو 'پھلوں کا بادشاہ' کہا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں اور خاص طور پر بچے اسے کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ذائقے میں میٹھے، یہ پھل قدرتی شکر سے بھرپور ہوتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق ایک درمیانے سائز کے آم میں تقریباً 45 گرام چینی ہوتی ہے۔ شوگر کی اس مقدار کا استعمال بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کا باعث بنتا ہے، جو صحت کے مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ان افراد کے لیے جو پہلے ہی ہائی بلڈ شوگر یا ذیابیطس میں مبتلا ہیں، آم کھانے سے اس حالت سے وابستہ خطرات بڑھ سکتے ہیں۔انگور بہت سے لوگوں کے لیے پسندیدہ پھل ہیں اور بڑے پیمانے پر کھائے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ صحت کے لیے بہترین ہیں کیونکہ یہ وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ قوت مدافعت بڑھانے میں مدد کرتے ہیں اور خاص طور پر ہاضمے کو بہتر بنانے کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔تاہم اپنے بے شمار فوائد کے باوجود، انگور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان میں فریکٹوز کی اعلی سطح ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق انگور کے ایک کپ میں تقریباً 23 گرام چینی ہوتی ہے۔ ان کا استعمال خون میں شکر کی سطح کو بڑھاتا ہے، جو ذیابیطس کی علامات کو بڑھا سکتا ہے۔
*🛑UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان، تین مضامین کے لیے ستمبر میں ہوں گے دوبارہ امتحانات*
نئی دہلی: نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ این ٹی اے نے تین مضامین کو چھوڑ کر بقیہ 84 مضامین کے نتائج جاری کیے۔ این ٹی اے کے مطابق، 9 سے 10 ستمبر تک تین مضامین— انگلش (انگریزی)، کامرس اور سوشیالوجی (عمرانیات) کے لیے UGC-NET جون 2026ء کا امتحان دوبارہ منعقد کرایا جائے گا۔ ایجنسی نے بتایا کہ ان تینوں مضامین کے نتائج اور اسکور کارڈز دوبارہ امتحان کے بعد ہی جاری کیے جائیں گے۔
این ٹی اے نے جمعہ کے روز 84 مضامین کے لیے UGC-NET جون 2026ء کے نتائج کا اعلان کیا۔ امیدوار اپنے نتائج اور اسکور کارڈز UGC-NET کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ کینڈیڈیٹس لاگ ان کر کے اپنے اسکور کارڈز دیکھ، ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کر سکتے ہیں۔معاملے کی جانچ کے لیے کمیٹی تشکیل
اس سے پہلے، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے جونیئر ریسرچ فیلوشپ (JRF) دینے، اسسٹنٹ پروفیسر کی اہلیت کا جائزہ لینے اور PhD پروگرام میں ایڈمیشن شروع کرنے کے لیے 22 سے 30 جون تک 87 مضامین میں UGC-NET جون 2026ء امتحان منعقد کیا تھا۔ لیکن، ان پیپرز میں غلطیوں کی کئی شکایات کے بعد، ایجنسی نے معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنائی۔
سوالیہ پرچوں میں کئی طرح کی خامیاں و غلطیاں
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے مطابق، کمیٹی نے پایا کہ تین مضامین کے سوالیہ پرچوں میں کئی تہذیبی/تکنیکی (تھیاٹمک)، ٹائپنگ اور ترجمے سے متعلق غلطیاں تھیں، جن میں نامور ماہرین (اسکالرز) کے ناموں کے غلط ہجے (اسپیلنگ)، کتابوں کے عنوانات (ٹائٹلز) میں گڑبڑ، سوال کے اصل الفاظ میں خامیاں، قواعد (گرامر) کی غلطیاں اور جنس/تعداد کی مطابقت کی غلطیاں شامل تھیں۔ ساتھ ہی پہلے سے پوچھے گئے کئی سوالات بھی دہرائے گئے تھے۔
تین مضامین کے لیے دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ
کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے ان تین مضامین کے لیے دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ لیا، جس میں انگلش (انگریزی)، کامرس اور سوشیالوجی (عمرانیات) شامل ہیں۔ دوبارہ امتحان کے لیے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، انگلش کا پیپر 9 ستمبر کو شفٹ 1 (صبح 9:00 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک)، کامرس کا پیپر 9 ستمبر کو شفٹ 2 (دوپہر 3:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک) اور سوشیالوجی کا پیپر 10 ستمبر کو شفٹ 1 (صبح 9:00 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک) میں ہوگا۔
*🛑جنگ سے ایران کی معیشت دباؤ کا شکار، امریکہ کی پابندیاں مزید سخت*
امریکہ کے ساتھ جنگ کے باعث ایران کی معیشت پر پڑنے والے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں جبکہ ایرانی قیادت نے بھی معاشی مشکلات کا اعتراف کر لیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ’مہنگائی، بے روزگاری اور اشیا و خدمات کی قیمتوں سمیت عوام کو درپیش معاشی مشکلات سے نمٹا جائے۔‘
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ’امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات اور درآمدات میں قریباً 35 فیصد کمی آئی ہے۔‘ایرانی صدر کے مطابق ’جُون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مختصر مدت کے مفاہمتی یادداشت کے دوران، جب واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی، ایران تقریباً نو کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔‘
دوسری جانب امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن نے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ’وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے چین اور انڈیا جیسے ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے خلاف تاحال پابندیاں عائد نہیں کیں، کیونکہ اس کے عالمی اور امریکی معیشت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ نے مصر کے ’بینک مصر‘ پر بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ’بینک مصر‘ کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں کے ڈالر میں لین دین پر بھی پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مصر کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ ’وہ اور وزارت خارجہ اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں اور یہ اقدام صرف بینک مصر یو اے ای کے امریکی ڈالر میں متعلقہ بینکوں کے ساتھ لین دین تک محدود ہے۔‘
امریکی محکمہ خزانہ نے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بینک ملی سے منسلک ایک شخص پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی پابندیوں کے ساتھ جنگ نے ایران کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جہاں گذشتہ ماہ سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔
اُدھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے جبکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اسی دوران دیگر رہنماؤں کی جانب سے امریکہ کو فوجی کارروائی کے ذریعے جواب دینے کی دھمکیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جنگ سے قبل کی طرح بحری آمدورفت بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو قطری وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کو ’تخلیقی‘ قرار دیا۔
امریکہ کے اتحادی اور ایران کے ہمسائہ ملک قطر نے پاکستان کے ساتھ مل کر جون کے مفاہمتی معاہدے میں ثالثی کی تھی، جس کے نتیجے میں مختصر جنگ بندی ہوئی تاہم آبنائے ہرمز پر اختلافات کے باعث یہ جنگ بندی ختم ہوگئی۔
امریکی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ’امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز سے ان سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا ہے جو کئی ماہ قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے بچھائی تھیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل کہتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، تاہم پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اپنے بیان میں ان دعوؤں کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت بدستور بند ہے۔
جمعے کو جاری ہونے والے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف سات تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گذشتہ 10 دن کی اوسط 15 جہاز روزانہ تھی۔