Tuesday, 14 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

اسپین کی سیمی فائنل میں انٹری سے میسی، ہیری کین اور ایمباپے کی راہ مشکل، کہ ماضی کا ریکارڈ بھی اس بار اسپین کے حق
نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اسپین نے بیلجیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ 2010 کے بعد پہلی مرتبہ آخری چار ٹیموں میں پہنچنے والی اسپین کی ٹیم شاندار فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔ موجودہ یورپی چیمپئن اسپین کو اب ٹائٹل جیتنے کا مضبوط ترین امیدوار قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث لیونل میسی، ہیری کین اور کیلیان ایمباپے جیسے عالمی ستاروں کے لیے بھی راستہ آسان نہیں رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی کا ریکارڈ بھی اس بار اسپین کے حق میں نظر آ رہا ہے۔اسپین کی کامیابی میں نوجوان کھلاڑیوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ 19 سالہ اسٹار فارورڈ لامین یامال پورے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے خلاف فتح کے بعد انہوں نے فرانس کو براہ راست چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ “اسپین کسی سے نہیں ڈرتا، اگر کسی کو ڈرنا چاہیے تو وہ فرانس ہے۔”

یامال کے علاوہ پیڈری اور روڈری جیسے مڈفیلڈر بھی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے خلاف اسپین نے 58 فیصد بال پوزیشن اپنے پاس رکھی اور پورے میچ میں کھیل پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، جس سے ٹیم کی حکمت عملی اور نظم و ضبط واضح طور پر نظر آیا۔اسپین کی مضبوط دفاعی لائن بھی اس کی بڑی طاقت بن کر سامنے آئی ہے۔ بیلجیم کے خلاف کوارٹر فائنل میں گول کھانے سے قبل اسپین نے پورے ٹورنامنٹ میں ایک بھی گول نہیں کھایا تھا۔ چھ میچوں میں صرف ایک گول کھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسپین کے دفاع کو توڑنا کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں۔صرف ابتدائی الیون ہی نہیں بلکہ اسپین کی بینچ اسٹرینتھ بھی متاثر کن رہی ہے۔ میکل میرینو نے پری کوارٹر فائنل اور کوارٹر فائنل دونوں میں بطور متبادل میدان میں آکر فیصلہ کن گول کیے، جس سے ٹیم کی گہرائی اور متبادل کھلاڑیوں کی صلاحیت بھی نمایاں ہوئی۔

سیمی فائنل میں اسپین کا مقابلہ فرانس سے ہوگا۔ حالیہ ریکارڈ اسپین کے حق میں ہے۔ یورو 2024 کے سیمی فائنل میں اسپین نے فرانس کو 1-2 سے شکست دی تھی، جب کہ نیشنز لیگ 2025 کے سیمی فائنل میں بھی 4-5 سے کامیابی حاصل کی تھی۔تاریخ بھی اسپین کے لیے نیک شگون سمجھی جا رہی ہے۔ 2010 میں اسپین پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا تھا اور اسی سال پہلی مرتبہ عالمی کپ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی اسپین کی سیمی فائنل میں رسائی صرف فرانس ہی نہیں بلکہ ارجنٹینا، انگلینڈ اور دیگر مضبوط ٹیموں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔










یمن کے صنعاء ہوائی اڈے پر بمباری کے بعد حوثیوں کا سعودی کے ابہا ایئرپورٹ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ
قاہرہ: یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا کہ پیر کو صنعاء ہوائی اڈے پر سعودی عرب کی فضائی بمباری کے جواب میں انہوں نے سعودی کے ابہا ہوائی اڈے کو میزائل اور ڈرون سے سے نشانہ بنایا۔

تاحال ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ سعودی عرب کے حکام نے یمن میں فضائی حملوں کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو بیان میں ایئر لائنز کو سعودی فضائی حدود سے پرواز کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان وارننگز کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی تب تک سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں ہیں۔

اس سے قبل یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ صنعا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقصد وہاں ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنا تھا۔

یمن کے صنعا میں فضائی حملوں کے بعد حوثیوں نے اس کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ ان واقعات سے کچھ سال نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان پہلی بار بڑے کشیدگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔سلامتی کونسل کا اظہار تشویش

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کی سہ پہر اس پیش رفت پر ایک ہنگامی اجلاس میں طلب کیا جس میں حکام نے وسیع پیمانے پر بڑھنے کے خطرے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور خالد خیری نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ یمن اور یہ پورا وسیع خطہ کشیدگی کے ایک اور دور کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ "ہم تمام فریقوں سے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات میں تعمیری طور پر شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

حوثی ترجمان ساری نے پیر کے روز ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے فضائی حملے شروع کیے جس کو انہوں نے "کشیدگی کم کرنے" کے دور کا خاتمہ قرار دیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ "اس جارحیت کا جواب دیا جائے گا اور اس کی سزا دی جائے گی۔"

ٹیلیگرام کی تازہ ترین اپڈیٹ میں، ساری نے کہا کہ صنعاء میں ہونے والے حملوں کا مقصد "صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انسانی بنیادوں پر مریضوں اور پھنسے ہوئے افراد کو لے جانے والی پروازوں کے لیے بند کرنا تھا۔"

سعودی زیرقیادت اتحاد شمال میں حوثیوں کے خلاف محاذ آرا

قابل ذکر ہے کہ یمن کی خانہ جنگی سال 2014 میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا اور منظور شدہ حکومت کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں متحدہ عرب امارات سمیت سعودی زیرقیادت اتحاد نے حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے اگلے سال مداخلت کی۔

رواں سال کے شروع میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کی جنگ میں برسوں سے جاری شراکت داری ٹوٹنے کے بعد کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں یو اے ای یمن سے نکل گیا۔

حالیہ دنوں میں یمن میں حوثیوں کے خلاف مقامی سنی قبائلیوں کا اتحاد ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے اور کئی ایک مقامات پر حوثی جنگجوؤں کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

سعودی عرب کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی زیرقیادت اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے پیر کی شام کو ایکس پر فضائی حملوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی کے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ اس ماہ کے شروع میں دونوں فریق کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب حوثیوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی طیاروں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے گئے حوثی وفد کو واپس لا رہے ایرانی طیارے کو یمن میں لینڈ ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔خامنہ ای کے جنازے میں گئے حوثی وفد کی پرواز کو روکنے کا الزام

یمن کے وزیر دفاع، جنرل طاہر العقیلی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پیر کو ہوائی اڈے کے رن وے پر ایک ایرانی طیارے کو نشانہ بنایا گیا جو حوثی وفد کو خامنہ ای کے جنازے سے واپس لا رہا تھا۔ حملوں سے کچھ دیر پہلے جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں العقیلی نے ایرانی طیاروں اور یمنی فضائی حدود میں دراندازی کے خلاف خبردار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق، ہم اس غداری اور وحشیانہ اقدام کا مناسب جواب دیں گے، اور ہم تمام دستیاب ذرائع سے یمن کی فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے دشمن طیاروں کا مقابلہ کریں گے اور ان سے نمٹیں گے۔"

حوثیوں کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد ایرانی طیارے کا رخ حدیدہ ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا تھا، جہاں اس نے لینڈنگ کیا۔ حوثیوں کے زیر کنٹرول المسیرہ نشریاتی ادارے کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک میزائل صنعا کے ہوائی اڈے کے رن وے سے ٹکرا رہا ہے جس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے۔

وہیں جنوبی یمن میں قائم سعودی حامی منظور شدہ حکومت 'صدارتی لیڈرشپ کونسل' نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ یمن کے تمام ہوائی اڈوں کو "فوری طور پر، اگلی نوٹس تک بند کر دیا گیا ہے۔" یمنی وزارت دفاع نے ہوائی اڈے اور آس پاس کے علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

صدارتی لیڈرشپ کونسل کی سربراہی کرنے والے رشاد العلیمی نے کہا کہ ایران نے حوثی وفد کی واپسی کے لیے ایرانی ایئرلائن ماہان ایئر کی تہران سے صنعا کے لیے پرواز چلانے کی درخواست کی تھی۔ کونسل نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے ایرانی پرواز کی لینڈنگ کرانے پر اصرار کیا جو کہ شہری ہوا بازی کو کنٹرول کرنے والے قانونی اور خودمختار فریم ورک سے باہر ہے"۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا دفتر یمن کی فضائی حدود میں ہونے والی پیش رفت پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے وسیع تر کشیدگی کے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقوں سے بات چیت میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔

(ایجنسی ان پٹ معمولی ترمیم کے ساتھ)











صحت مند زندگی کے لیے ’8، 8 اور 8‘ کا اصول کیا ہے؟
اگر آپ اپنی روزمرہ زندگی میں توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ماہرین صحت کے مطابق ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ کا اصول‘ ایک مؤثر رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
اس اصول کے تحت 24 گھنٹوں کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پورے دن میں آٹھ گھنٹے نیند، آٹھ گھنٹے کام اور آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، جس میں ورزش، متوازن غذا، آرام، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور مشاغل شامل ہیں۔
انڈیا کے ’فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ سے منسلک سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر امیتابھ پارتی کے مطابق ’یہ اصول صحت مند زندگی کے لیے ایک مفید رہنما ہے، تاہم اسے ہر فرد کو اپنی عمر، صحت، پیشے اور طرزِ زندگی کے مطابق اپنانا چاہیے۔‘ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معمول کا سب سے اہم حصہ مناسب نیند ہے۔ آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند جسم کو خود کو بحال کرنے، مدافعتی نظام مضبوط بنانے، ہارمونز کو متوازن رکھنے اور دماغی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ناکافی نیند موٹاپے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور ڈپریشن کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’صرف آٹھ گھنٹے سونا کافی نہیں بلکہ صحیح وقت پر سونا اور جاگنا بھی ضروری ہے۔‘
ماہرین کے مطابق روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنے کی حد مقرر کرنا بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ طویل اوقات تک مسلسل کام ذہنی دباؤ، ہائی بلڈ پریشر، بے چینی اور جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز، ایمرجنسی سروسز اور شفٹوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے مقررہ اوقات پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کے لیے مناسب آرام اور جسمانی بحالی زیادہ اہم ہے۔
دن کے آخری آٹھ گھنٹے جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے استعمال کیے جانے چاہییں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس وقت میں ورزش، متوازن غذا، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت، مطالعہ، مشاغل، مراقبہ، سماجی روابط اور کھلی فضا میں سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’ہر فرد کو اپنی صحت کے مطابق ان سرگرمیوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ‘ کا اصول کوئی سخت فارمولا یا جادوئی نسخہ نہیں بلکہ متوازن زندگی گزارنے کی یاد دہانی ہے۔ صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور طبی معائنہ بھی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
ان کے مطابق اصل کامیابی کسی اور کے معمول کی نقل کرنے میں نہیں بلکہ اپنی ضروریات کے مطابق ایسا متوازن معمول اپنانے میں ہے جس پر مستقل مزاجی سے عمل کیا جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

آبنائے ہرمز میں مزید 2 ٹینکروں پر حملہ، ہندوستانی کرو ممبر کی موت، 8 دیگر زخمی
ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں خونی کھیل جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک بار پھر دو آئل ٹینکروں پر حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں عملے میں شامل ایک ہندوستانی رکن کی موت ہو گئی، جبکہ آٹھ دیگر زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ زخمی عملے کے ارکان میں چھ ہندوستانی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔ ان میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس دوران امریکہ بھی آبنائے ہرمز میں اپنا دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل حملے کر رہا ہے۔ دو دن پہلے بھی ہندوستانی ملاحوں والے ایک جہاز پر حملہ ہوا تھا، جس میں ایک ہندوستانی ملاح لاپتہ ہو گیا تھا، جبکہ 10 دیگر نے سمندر میں چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی تھی۔

آئل ٹینکروں پر حملہ آبنائے ہرمز کے عمان کے زیرِ انتظام حصے میں ہوا۔ یہ ٹینکر متحدہ عرب امارات کے تھے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ اس حملے میں ایک عملے کے رکن کی جان گئی۔ یو اے ای کے ٹینکروں پر ہندوستانی ملاح تعینات تھے۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق قومی آئل ٹینکر “ممباسا” اور “البحیۃ” کو ایران کی دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ حملہ عمان کے سمندری علاقے میں آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں کیا گیا۔ میزائل لگتے ہی دونوں ٹینکروں میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ سے جہازوں کو کافی نقصان پہنچا، تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ دونوں ٹینکروں کو فی الحال محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ “ممباسا” پر تعینات عملے میں شامل ایک ہندوستانی رکن کی جان چلی گئی۔ تمام زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ مرنے والے ہندوستانی ملاح کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔ متحدہ عرب امارات نے اس حملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ ملک اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسے اس حملے کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے، اور اپنے شہریوں، سرزمین اور سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

دوسری جانب امریکہ نے بھی ایران کے خلاف اپنے حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی میڈیا نے بندر عباس، کیش، قشم اور ابو موسیٰ جزیرے پر دھماکوں کی اطلاعات دیں۔ ان علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں سے پہلے ہی اس کا عندیہ دے دیا تھا۔ انہوں نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ ایران پر انتہائی شدید حملہ کرے گا۔ اس کے بعد امریکی فوج نے نئی کارروائی شروع کر دی۔ امریکہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرے گا۔ یہ ناکہ بندی منگل کی شام امریکی وقت کے مطابق نافذ کی جائے گی۔









کرناٹک میں پکڑے گئے دو پاکستانی شہری... آخر کس نے بنائے ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ؟
کرناٹک کے ضلع چکبالاپور سے ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی پاکستانی شہریت چھپا کر غیر قانونی طریقے سے راشن کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ (Voter ID) حاصل کر لیے تھے۔ اس گرفتاری نے پوری ریاست میں سیکورٹی اور سرکاری دستاویزات کی جانچ کو لے کر ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔

پورا معاملہ کیا ہے؟
گرفتار کیے گئے ملزمین کی شناخت فرح ناز اور ان کے بیٹے محمد فردین کے طور پر ہوئی ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ باگے پلی کے رہنے والے محمد ایوب خان نے متحدہ عرب امارات (UAE) میں پاکستانی شہری فرح ناز سے شادی کی تھی۔ دونوں کے چار بچے ہیں۔ ان میں سے محمد فردین کی پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی۔ اس طرح فرح ناز اور فردین پاکستانی شہری ہیں، جبکہ ایوب خان ہندوستانی شہری ہیں۔ یہ خاندان کافی عرصے سے باگے پلی میں رہ رہا تھا۔شکایت کس نے کی؟
تحصیلدار منیشا این پاتری کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے فرح ناز اور محمد فردین کے خلاف بھارتیہ نیا ئے سنہتا (BNS)، فارنرز ایکٹ (Foreigners Act) اور عوامی نمائندگی ایکٹ (Representation of the People Act) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

انکشاف کیسے ہوا؟
اطلاع ملنے پر چکبالاپور پولیس چوکس ہو گئی۔ پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دستاویزات کی جانچ کی۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی ریکارڈ کی تصدیق کی۔ تحقیقات میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ فرح ناز اور ان کے بیٹے نے اپنی قومیت چھپا کر سرکاری دستاویزات بنوا لیے تھے۔

دھوکہ دہی سامنے آتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کی۔ اس کے بعد دونوں کے راشن کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ منسوخ کر دیے گئے۔ پولیس اب اس بات کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے کہ آخر اتنے حساس سرکاری دستاویزات انہیں کیسے جاری کیے گئے؟ کیا اس عمل میں کسی مقامی افسر یا کسی دلال کی ملی بھگت تھی؟ پولیس پورے نیٹ ورک کی چھان بین کر رہی ہے۔

سیاسی حلقوں میں بحث تیز
یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کرناٹک میں “مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ” (PRC) جاری کرنے کے اختیار کو لے کر سیاسی کشمکش جاری ہے۔ کرناٹک حکومت نے تحصیلداروں کو پی آر سی جاری کرنے کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے غیر قانونی دراندازوں کو سرکاری دستاویزات ملنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔دوسری جانب، اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے سی این این-نیوز 18 کو بتایا تھا کہ پی آر سی صرف تمام ضروری دستاویزات اور شناخت کی مکمل جانچ کے بعد ہی جاری کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام سے حکومت کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کرنے اور ان پر بہتر نگرانی رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔










انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں بھارت کے پانچوں طلبہ نے جیتے گولڈ میڈل، امت شاہ نے دی مبارکباد
نئی دہلی: بھارت نے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی سائنسی صلاحیتوں کا لوہا منوا دیا۔ کولمبیا کے شہر بوکارامانگا میں 4 سے 12 جولائی 2026 تک منعقدہ اس باوقار مقابلے میں بھارتی ٹیم کے پانچوں طلبہ نے گولڈ میڈل حاصل کیے، جس کے بعد بھارت نے چین، قازقستان، روس، جنوبی کوریا اور تائیوان کے ساتھ مشترکہ طور پر عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔اس مقابلے میں دنیا کے 87 ممالک کے 381 طلبہ نے حصہ لیا، جہاں بھارتی طلبہ نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ اس تاریخی کامیابی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی نوجوان صلاحیتیں سونے کی طرح چمک رہی ہیں۔

امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں لکھا، “56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں گولڈ میڈل جیتنے پر کنشک جین، ردھیش اننت بیندلے، رشیت گرگ، شریشٹھ سوریا اور سورت جوشی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ آپ کی کامیابی نہ صرف آپ کی محنت اور صلاحیت کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ بھارت کے نوجوان سائنس کے میدان میں دنیا کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔”بھارت کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والے طلبہ میں مہاراشٹر کے پونے سے کنشک جین، مدھیہ پردیش کے اندور سے ردھیش اننت بیندلے، نئی دہلی کے دوارکا سے رشیت گرگ، ممبئی سے شریشٹھ سوریا اور گجرات کے احمد آباد سے سورت جوشی شامل ہیں۔ ان پانچوں طلبہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو عالمی سطح پر سرفہرست مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بھارتی ٹیم کی تیاری ہومی بھابھا سینٹر فار سائنس ایجوکیشن (HBCSE) نے کرائی، جو ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ (TIFR) کے تحت قومی اولمپیاڈ پروگرام کا حصہ ہے۔ ٹیم کی رہنمائی پروفیسر انویش مجمدار اور ڈاکٹر لینا جوشی نے کی، جبکہ سائنسی مبصرین کے طور پر پروفیسر آنند داس گپتا اور نشا کیلکر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بھارت نے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں پانچوں طلائی تمغے اپنے نام کیے ہیں۔ اس سے قبل 2018 میں بھی بھارتی ٹیم نے یہی کارنامہ انجام دیا تھا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے تمام شرکاء مسلسل تمغے جیتتے آ رہے ہیں، جن میں تقریباً 62 فیصد طلائی اور 38 فیصد چاندی کے تمغے شامل ہیں۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر سائنس اور تحقیق کے میدان میں بھارت کی مضبوط ہوتی ہوئی پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے۔

Friday, 10 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے…..جگرمراد آبادی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جگر مراد آبادی اردو شاعری کے ان شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل کو محض فنی اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ بنا دیا۔ ان کا اصل نام علی سکندر تھا، مگر اردو دنیا انہیں ان کے تخلص جگر کے ذریعے ہی جانتی اور پہچانتی ہے۔ وہ 6 اپریل 1890 کو مراد آباد، اترپردیش میں پیدا ہوئے اور 9 ستمبر 1960 کو گونڈہ میں وفات پا گئے۔

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے

سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

جگرمرادآبادیؔجگر کی شاعری میں تغزل، نغمگی، اور ترنم کا ایک دلنشین امتزاج ملتا ہے۔ وہ کلاسیکی روایت کے پاسدار ضرور تھے، لیکن ان کی غزلوں میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا بھی محسوس ہوتا ہے جو انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز بناتا ہے۔ ان کا اندازِ بیان نہایت نرم، سلیس اور پر اثر ہوتا تھا، جو دل میں اُترتا چلا جاتا ہے۔

ان کی شاعری کا مجموعہ شعلۂ طور اردو ادب میں خاص مقام رکھتا ہے۔ اسی تخلیقی گہرائی اور تاثیر کے اعتراف میں 1958 میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جگر نہ صرف ایک قادر الکلام شاعر تھے بلکہ ایک متاثر کن شخصیت بھی، جن کے کئی شاگرد اردو دنیا میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئے، جن میں راز مراد آبادی کا نام نمایاں ہے۔ جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔










بیلجیئم کو 2-1 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا اسپین
نئی دہلی :فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں اسپین نے بیلجیئم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2-1 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس کامیابی کے ساتھ اسپین نے ٹائٹل کی دوڑ میں اپنی مضبوط دعویداری برقرار رکھی، جب کہ بیلجیئم کا ورلڈ کپ کا سفر اختتام پذیر ہو گیا۔ میچ کے دوران نوجوان اسٹار لامین یامال نے متعدد خطرناک حملے کیے اور کئی مواقع پیدا کیے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔اسپین نے میچ کا پہلا گول 30ویں منٹ میں فابیان روئز کے ذریعے کیا۔ دانی اولمو کی جانب سے لگائی گئی شاٹ کو بیلجیئم کے گول کیپر نے ڈائیو لگا کر روک لیا، لیکن گیند ان کے ہاتھ سے ٹکرا کر سامنے آ گئی۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فابیان روئز نے تیزی سے آگے بڑھ کر گیند کو جال میں پہنچا دیا اور اسپین کو 1-0 کی برتری دلا دی۔

بیلجیئم نے 41ویں منٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ دائیں جانب سے کیے گئے کراس پر اسٹرائیکر چارلس ڈی کیٹیلیرے نے زبردست ہیڈر کے ذریعے گیند کو گول پوسٹ میں پہنچایا۔ اس گول کے ساتھ بیلجیئم اس ورلڈ کپ میں اسپین کے خلاف گول کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔ اس سے قبل ٹورنامنٹ میں کوئی بھی ٹیم اسپین کے دفاع کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز رہے۔ مقررہ وقت ختم ہونے میں صرف دو منٹ باقی تھے اور اضافی وقت ملنے والا تھا کہ اسپین نے فیصلہ کن حملہ کیا۔

اسپین کے ایک مڈفیلڈر نے دور سے شاٹ لگائی جسے بیلجیئم کے گول کیپر آسانی سے روک سکتے تھے، لیکن وہ گیند پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکے۔ گیند ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر سامنے آ گئی، جس پر متبادل کھلاڑی میکیل میرینو برق رفتاری سے پہنچے اور گیند کو گول میں ڈال کر اسپین کو 2-1 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔اس فتح کے ساتھ اسپین نے سیمی فائنل میں اپنی جگہ مستحکم کر لی، جب کہ بیلجیئم کی ٹیم بھرپور مقابلے کے باوجود ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ اسپین کی مضبوط دفاعی کارکردگی اور آخری لمحات میں کیے گئے فیصلہ کن گول نے ٹیم کو ایک اور یادگار کامیابی دلائی۔









جموں خطے میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کی پیش گوئی
جموں: (محمد اشرف گنائی) محکمۂ موسمیات نے جموں خطے میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کے پیش نظر اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ کے مطابق 11 اور 12 جولائی کو جموں ڈویژن، چناب ویلی اور پیر پنجال رینج کے متعدد علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے شدید جب کہ بعض مقامات پر انتہائی موسلادھار بارش ہونے کا امکان ہے۔

اس دوران آسمانی بجلی گرنے، اچانک سیلاب (فلیش فلڈ)، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبہ گرنے کے خطرات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق ہفتہ 11 جولائی کی صبح سے جموں میں موسم کا رخ بدلنے کی توقع ہے اور علی الصبح گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جو دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 35 ڈگری سینٹی گریڈ جب کہ کم سے کم 25 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 11 اور 12 جولائی کے دوران چناب ویلی اور پیر پنجال کے حساس علاقوں میں شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں سطح آب اچانک بلند ہو سکتی ہے۔
محکمہ نے مزید بتایا کہ 13 سے 16 جولائی تک جموں ڈویژن میں گرمی اور حبس برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم بعض مقامات پر ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ 17 سے 19 جولائی کے درمیان بارش کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جس کے دوران کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران پہاڑی علاقوں، چناب ویلی اور پیر پنجال رینج کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی کھڈوں سے دور رہیں، گرج چمک کے دوران کھلے میدانوں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے نیچے کھڑے نہ ہوں، جب کہ کسان فصلوں اور نکاسیٔ آب کے مناسب انتظامات کو یقینی بنائیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر گاڑی چلانے والوں کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایس ڈی آر ایف اور متعلقہ محکموں کی ٹیمیں الرٹ پر ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

ٹرمپ نے اب ایران کے سامنے رکھی نئی شرط، آبنائے ہرمز کھولنے کا کرے اعلان، تبھی ہوگا بھروسہ
ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے (نیوکلیئر ڈیل) کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، لیکن دوسری طرف آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے معاملے پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے سامنے ایسی شرط رکھ دی ہے جو پوری دنیا کے سامنے اس کی شبیہ کا سوال بن سکتی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران عوامی طور پر یہ تسلیم کرے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی رہے گی، وہاں سے گزرنے والے کسی بھی تجارتی جہاز پر حملہ نہیں ہوگا اور بالواسطہ طور پر یہ بھی مانے کہ حالیہ حملے اسی کی غلطی تھے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ پیغام ایران تک براہِ راست اور عمان سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے پہنچایا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ تین ہفتے پہلے ہونے والے معاہدے کے باوجود ایران نے آبنائے ہرمز میں کئی تجارتی جہازوں پر فائرنگ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہفتے دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر فوجی کارروائی ہوئی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جنگ بندی (سیز فائر) اب ختم ہو چکی ہے۔پہلے آبنائے ہرمز، پھر جوہری معاہدہ
امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران جہازوں کی محفوظ آمد و رفت جیسی آسان شرط بھی پوری نہیں کر سکتا، تو پھر جوہری پروگرام جیسے کہیں زیادہ پیچیدہ معاہدے پر اس پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب آبنائے ہرمز کے بحران کو جوہری معاہدے کی اگلی آزمائش مان رہی ہے۔

آج عمان میں اجلاس
ہفتہ کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ اس ملاقات کا سب سے بڑا موضوع آبنائے ہرمز اور سمندری سلامتی ہوگا۔ امریکہ کو امید ہے کہ اس ملاقات کے بعد ایران ایک عوامی بیان جاری کرے گا جس میں جہازوں پر حملے روکنے اور سمندری راستہ کھلا رکھنے کی یقین دہانی کرائے گا۔ایران کا دعویٰ :ہم نے مذاکرات کیلئے نہیں کہا
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد ایران نے خود مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی اور یہ تسلیم کیا کہ اس سے غلطی ہوئی۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، بلکہ قطر کے ثالثوں کی درخواست پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔









ویپ کا استعمال پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق
آسٹریلیا کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویپنگ (ای سگریٹ کا استعمال) پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد ماہرین نے ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ حتمی شواہد کا انتظار کرنے کے بجائے فوری اقدامات کریں۔
گارڈین کے مطابق سڈنی میں واقع یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ماہرین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں سنہ 2017 سے 2025 تک شائع ہونے والی مختلف سائنسی رپورٹس، جانوروں پر کیے گئے تجربات، انسانی کیس رپورٹس اور لیبارٹری تحقیق کا جائزہ لیا گیا۔
یہ اب تک کی تفصیلی تحقیقات میں سے ایک ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا نکوٹین ای سگریٹ کینسر کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں۔تحقیق کے مطابق ویپنگ جسم میں ایسے ابتدائی خطرناک اثرات پیدا کرتی ہے جو کینسر سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں، جیسے کہ ڈی این اے کو نقصان پہنچنا اور سوزش کا بڑھ جانا۔
مشہور جریدے ’کارسینوجینیسیس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ’ویپنگ ان ابتدائی کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔‘
ماہر برنارڈ سٹیورٹ کے مطابق ای سگریٹ کے دھوئیں کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے منہ اور پھیپھڑوں کے خُلیات اور بافتوں میں واضح تبدیلیاں آتی ہیں۔ تاہم چونکہ ای سگریٹس جدید دور میں یعنی 2000 کے بعد متعارف ہوئے، اس لیے طویل المدتی انسانی ڈیٹا ابھی محدود ہے، اور یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے افراد میں کینسر پیدا ہوا۔‘
تحقیق میں کچھ ایسے کیسز بھی شامل کیے گئے جن میں ایسے افراد میں منہ کے کینسر کی نشاندہی ہوئی جو صرف ویپنگ کرتے تھے اور کبھی سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ اس کے علاوہ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ای سگریٹ کے بخارات کے سامنے آنے والے چوہوں میں پھیپھڑوں کے ٹیومر زیادہ بنے، اگرچہ یہ نتائج براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں سگریٹ نوشی کے نقصانات کو تسلیم کرنے میں تقریباً 100 سال لگے تھے، اس لیے ویپنگ کے معاملے میں ابتدائی خبردار کرنے والے شواہد کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف فریڈی سیتاس کے مطابق ’یہ تاثر کہ ویپنگ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہے، درست نہیں ہو سکتا۔‘ ان کے مطابق ’فی الحال ویپنگ چھوڑنے کے مؤثر طریقوں کے حوالے سے شواہد بھی واضح نہیں ہیں۔‘
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں اور صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ خاص طور پر نوجوانوں کو ویپنگ کے نقصانات سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ ویپنگ سگریٹ جتنی نقصان دہ ہے، کیونکہ اس میں سگریٹ کی طرح جلنے والے کیمیائی مادے شامل نہیں ہوتے۔
مجموعی طور پر تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویپنگ کو محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں اور اس کے ممکنہ خطرات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔










مدھیہ پردیش میں نروتم مشرا کا ٹکٹ کٹنے پر ہزاروں حامیوں نے قومی شاہراہ این ایچ-44 کو بلاک کر دیا، پتھراؤ میں ایس پی سمیت 6 اہلکار زخمی
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے بعد شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر نروتم مشرا کو ٹکٹ نہ ملنے پر ان کے ہزاروں حامیوں نے قومی شاہراہ این ایچ-44 کو بلاک کر دیا، جس کے باعث تقریباً 15 کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ گیا اور آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔احتجاج نے رات کے دوران پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ پولیس کے مطابق علی الصبح مظاہرین نے پولیس ٹیم پر شدید پتھراؤ کیا، جس میں دتیا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) میور کھنڈیلوال، ایڈیشنل ایس پی سمیت چھ سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایس پی میور کھنڈیلوال نے بتایا کہ جمعہ کی شام تقریباً چھ بجے سے تین ہزار سے زائد افراد شہر میں احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے بازار بند کرائے اور این ایچ-44 پر چکہ جام کر دیا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کئی مرتبہ شاہراہ خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن مظاہرین نے انکار کر دیا۔ صبح تقریباً چار بجے اچانک پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا گیا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ایس پی کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے، اس کے باوجود پتھراؤ جاری رہا۔ بعد ازاں پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دوبارہ آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہلکا لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ دیگر کو خودسپردگی کی وارننگ دی گئی ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے ضلعی وزیر بھانو سنگھ نے پولیس پر زیادتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کارکنان پرامن انداز میں پارٹی قیادت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ دتیا کا ٹکٹ واپس لے کر ڈاکٹر نروتم مشرا کو دیا جائے۔ ان کے مطابق کارکنان پوری رات رام دھن گاتے ہوئے احتجاج کرتے رہے، لیکن پولیس نے مبینہ طور پر پارٹی کارکنوں کو دفتر میں بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نروتم مشرا کو ٹکٹ نہیں دیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔واضح رہے کہ بی جے پی نے دتیا ضمنی انتخاب کے لیے نروتم مشرا کے بجائے آشوتوش تیواری کو امیدوار بنایا ہے، جس کے بعد کارکنوں میں ناراضی پھیل گئی۔ آشوتوش تیواری نے کہا کہ نروتم مشرا ان کے سرپرست ہیں اور وہ ان کے لیے انتخابی مہم بھی چلائیں گے۔

دتیا اسمبلی نشست پر ضمنی انتخاب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہونے والے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو رواں سال اپریل میں دہلی کی ایک عدالت نے دھوکہ دہی کے مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد ان کی رکنیت منسوخ ہو گئی۔ اس نشست پر 30 جولائی کو ووٹنگ جب کہ 3 اگست کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*



برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی

برطانیہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے جا رہا ہے۔ وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ پابندی صرف فیس بک اور انسٹاگرام تک محدود نہیں ہوگی بلکہ گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز بھی اس میں شامل ہوں گے۔ تفصیل دیکھیں اس ڈیجیٹل رپورٹ میں 







دہلی ہائی کورٹ: اداکار راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے چیک باؤنس کیس میں بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ جسٹس سوارانا کانتا شرما کی قیادت والی بنچ نے یہ حکم جاری کیا۔ ہائی کورٹ نے 2 اپریل کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

سماعت کے دوران عدالت نے دونوں فریقین کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی۔ قابل ذکر ہے کہ 16 فروری کو عدالت نے راجپال یادو کو 18 مارچ تک عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔اس سے قبل 5 فروری کو ہائی کورٹ نے انہیں کوئی راحت دینے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں فوری طور پر خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے بعد انہوں نے خودسپردگی کر دی تھی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

راجپال یادو کو کرکڑڈوما کورٹ نے چیک باؤنس کیس میں قصوروار ٹھہرایا تھا اور سزا سنائی تھی۔ تاہم، جون 2024 میں، ہائی کورٹ نے سزا کو معطل کر دیا، یہ اس بنیاد پر کہ یادو چونکہ عادی مجرم نہیں تھا، اس لیے اس کی سزا کو معطل کیا جا رہا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ککڑڈوما کورٹ نے راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں مجرم قرار دینے کے بعد ان پر 1.6 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت نے ان کی بیوی رادھا پر فی کیس 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ دونوں کو سات چیک باؤنس کیسوں کے سلسلے میں سزا سنائی گئی تھی۔

شکایت کنندہ، مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ نے عدالت کو مطلع کیا کہ راجپال نے اپریل 2010 میں فلم اتہ پتہ لاپتہ* کو مکمل کرنے کے لیے کمپنی سے مالی مدد مانگی تھی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان 30 مئی 2010 کو ایک معاہدے پر دستخط ہوئے اور راجپال یادو کی کمپنی کو 5 کروڑ کا قرض دیا گیا۔

معاہدے کے تحت راجپال کو سود سمیت آٹھ کروڑ روپے واپس کرنے تھے۔ تاہم، وہ ابتدائی طور پر رقم ادا کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تین بار معاہدے کی تجدید ہوئی۔ 9 اگست 2012 کے حتمی معاہدے میں، ملزم راجپال یادو نے شکایت کنندہ کو 11,10,60,350 روپے کی رقم واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ راجپال یادو کی کمپنی بھی یہ ادائیگی کرنے میں ناکام رہی۔اپنے دفاع میں راجپال یادو نے عدالت کو بتایا کہ اس نے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے کوئی رقم ادھار نہیں لی تھی۔ اس کے بجائے، اس نے کمپنی میں فنڈز لگانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، ککڑڈوما کورٹ نے ان کی دلیل کو مسترد کر دیا اور انہیں چیک باؤنس کے جرم کا مجرم قرار دیا۔











یوپی اور بہار سمیت دیگر ریاستوں کے لیے موسلادھار بارش کا الرٹ؛ آج کے موسم کی کیا ہے پیش گوئی؟
نئی دہلی: ہندوستان کے محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے بدھ (8 جولائی) کو مہاراشٹر اور دہلی کے کچھ حصوں میں مسلسل بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ نے یہ بھی بتایا کہ جنوب مغربی مانسون کا اگلے دو سے تین دنوں میں پورے ملک پر چھا جانے کا امکان ہے۔ گجرات اور مدھیہ پردیش کے کچھ حصوں میں آج بہت بھاری بارش متوقع ہے۔

آئی ایم ڈی کے سائنسدان اکھل سریواستو نے واضح کیا کہ ملک کے شمالی علاقوں میں مانسون کے حالات انتہائی سازگار ہیں۔ مانسون پوری ریاست گجرات میں پھیل چکا ہے اور راجستھان کے کئی حصوں میں آگے بڑھ چکا ہے۔ اس سال بارش کی کیفیت الگ ہے۔
بارش سے خسارہ 12 فیصد تک کم، ال نینو کی قیاس آرائیاں

جولائی میں معمول سے زیادہ بارش نے خسارے کو 12 فیصد تک کم کر دیا۔ واضح رہے کہ جولائی اور اگست میں کمزور سے معتدل ال نینو متوقع ہے۔ دریں اثنا، مرکزی حکومت نے سپر ال نینو کی قیاس آرائیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں کہ اس سال کے دوران معمول سے کم بارش ہو۔

مانسون کی سرگرمی یا سائیکلونک گردش

خلیج بنگال کے اوپر ایک کم دباؤ کا علاقہ بنتا ہے، شدت سے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے اور اب یہ ایک سائیکلونک گردش میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس نے مشرقی اور وسطی ہندوستان کے ساتھ ساتھ مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ بالخصوص کونکن، مدھیہ مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور اڈیشہ میں بارش کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ مختلف عوامل بارش میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ مزید برآں، مانسون کی سرگرمی یا دیگر سائیکلونک گردشوں کی تشکیل بارش کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا باعث بنتی ہے۔
چوکس رہنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ

انہوں نے ذکر کیا کہ مہاراشٹر اور گجرات جیسے علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے۔ آئی ایم ڈی روزانہ موسم کی پیش گوئی اور انتباہات جاری کرتا ہے، جو پیلے، نارنجی اور سرخ جیسے رنگ کے کوڈز کے ذریعے صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو چوکس رہنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انہیں درختوں یا کمزور ڈھانچوں کے نیچے پناہ لینے سے گریز کرنا چاہیے، باہر نکلنے سے پہلے ٹریفک کے حالات کو چیک کرنا چاہیے اور آئی ایم ڈی کے مشوروں پر عمل کرنا چاہیے۔
عالمی سطح پر موسمی حالات کی پیش گوئی

موسمیاتی تبدیلی بھارت میں ضرورت سے زیادہ بارشوں کا سبب بن رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر موسمی حالات کی پیش گوئی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی شدید بارشوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، بھارت میں اکثر شدید بارشیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات رونما ہوئے۔ ملک میں مختصر دورانیے میں تیز شدت والی بارشیں بھی ہو رہی ہیں، جس سے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ال نینو کے مضبوط ہونے کا اندیشہ

مانسون کے موسم میں ال نینو کے مضبوط ہونے کا اندیشہ ہے اور آئی ایم ڈی نے معمول سے کم بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ ایک موسمی رجحان جو ال نینو کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔ انڈین اوشین ڈائپول (IOD) ہے۔ اس کا تعین مغربی بحر ہند (قریب مشرقی افریقہ) اور مشرقی بحر ہند (انڈونیشیا کے قریب) کے درمیان درجۂ حرارت کے فرق سے ہوتا ہے۔ ایک مثبت انڈین اوشین ڈائپول (IOD) — جو مغربی بحر ہند میں گرم پانیوں کی خصوصیت ہے — مضبوط ال نینو کے کچھ اثرات کو دور کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ تاہم، محکمۂ موسمیات نے اس سال کے لیے غیر جانبدار انڈین اوشین ڈائپول (IOD) حالات کی پیش گوئی کی ہے، صرف مانسون کے موسم کے اختتام پر مثبت انڈین اوشین ڈائپول (IOD) کی طرف منتقل ہونے کا امکان ہے۔
شمال مغربی ہندوستان

جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، ہریانہ، دہلی، اتر پردیش اور راجستھان میں مختلف اوقات میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ہماچل پردیش، مشرقی اتر پردیش اور مشرقی راجستھان میں بھی 11 جولائی تک بہت زیادہ بارش کا امکان ہے۔

جموں و کشمیر، اتر پردیش اور راجستھان میں گرج چمک اور گرج چمک کی توقع ہے، جب کہ اتراکھنڈ میں الگ تھلگ گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔ آئی ایم ڈی نے پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خاص طور پر شدید بارشوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ، فلڈ، سیلاب، مٹی کے تودے اور چٹانیں گرنے سے ہوشیار رہیں۔
وسطی ہندوستان

محکمۂ موسمیات کے مطابق مانسون آنے والے دنوں میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور ودربھ میں سرگرم رہے گا۔ اس خطے کے لیے وسیع بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور ودربھ کے کئی اضلاع میں بھاری بارش کا امکان ہے۔ ابتدائی طور پر، مدھیہ پردیش، ودربھ اور چھتیس گڑھ کے الگ تھلگ حصوں میں انتہائی بھاری بارش کا بھی امکان ہے۔ وسطی ہندوستان میں گرج چمک کے ساتھ طوفان کی توقع ہے، جب کہ کچھ علاقوں میں تیز بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔

ویسٹ کوسٹ

مہاراشٹر کے کئی اضلاع کے لیے ریڈ اور اورنج الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ مغربی ساحل ان خطوں میں رہے گا جہاں موجودہ مانسون سیزن کے دوران سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ محکمۂ موسمیات نے کونکن اور گوا میں بڑے پیمانے پر بارش کی پیش گوئی کی ہے اور آنے والے ہفتوں میں گجرات کے علاقے، مدھیہ مہاراشٹر، مراٹھواڑہ اور سوراشٹرا-کچھ میں مانسون کے فعال رہنے کی توقع ہے۔

شدید بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی

گجرات خطہ، کونکن اور گوا، مدھیہ مہاراشٹرا اور سوراشٹرا-کچھ میں بھاری سے بہت زیادہ بارش کا امکان ہے، گجرات، کونکن اور گوا اور مدھیہ مہاراشٹر میں الگ تھلگ مقامات پر انتہائی بھاری بارش کا امکان ہے۔ محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے، شہری سیلاب اور مقامی سطح پر رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

مشرقی اور شمال مشرقی ہندوستان

پورے ہفتے مشرقی اور شمال مشرقی ہندوستان میں مانسون کے فعال حالات برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مغربی بنگال، جھارکھنڈ، بہار، اڈیشہ اور سکم میں وسیع بارش کی توقع ہے، کچھ علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ سب ہمالیائی مغربی بنگال اور سکم میں انتہائی بھاری بارش کے الگ تھلگ واقعات ممکن ہیں۔

بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال کے کچھ حصوں اور جزائر انڈمان اور نکوبار میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ طوفان کا امکان ہے۔ شمال مشرق میں، اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں 14 جولائی تک وسیع پیمانے پر بارش متوقع ہے۔

پہاڑی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ

اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں میں کئی دنوں کے دوران بھاری سے بہت بھاری بارش کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی نے کہا کہ خطے میں مسلسل بارش سے ندیوں اور ندی نالوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر خطرناک پہاڑی اضلاع میں مقامی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بن سکتا ہے۔
جنوبی ہندوستان

مانسون کی سرگرمی جزیرہ نما ہندوستان کے تمام حصوں میں فعال رہنے کی توقع ہے۔ کیرالہ، ساحلی کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک کے اندرونی علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ وسیع بارش کا امکان ہے۔ کیرالہ، مہے اور ساحلی کرناٹک میں بڑے پیمانے پر بارش کی توقع ہے، جب کہ ساحلی آندھرا پردیش، رائلسیما، تلنگانہ، تمل ناڈو، پڈوچیری، کرائیکل اور شمالی اور جنوبی کرناٹک میں کافی حد تک بارش کا امکان ہے۔

گرج چمک کے ساتھ بجلی اور تیز ہواؤں کا امکان

کیرالہ، ماہے، ساحلی کرناٹک اور کرناٹک کے اندرونی حصوں میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ساحلی کرناٹک میں بہت بھاری سے انتہائی بھاری بارش کا امکان ہے، جب کہ کرناٹک اور تلنگانہ میں تیز ہواؤں کی توقع ہے۔ آندھرا پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ میں گرج چمک کے ساتھ بجلی چمکنے اور تیز ہواؤں کا بھی امکان ہے۔

ضلع وار وارننگ

محکمۂ موسمیات کے مطابق، اتر پردیش کے آگرہ، اٹاوہ اور جالون اضلاع میں آج موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح اتراکھنڈ کے چمپاوت، دہرادون، نینی تال، ٹہری گڑھوال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع میں بھی بھاری بارش کی توقع ہے۔ آئی ایم ڈی نے پالگھر (مہاراشٹرا) اور اراولی، دادرا اور نگر حویلی، دمن، نوساری، سابرکانٹھا اور ولساد (گجرات) کے لیے 'ریڈ الرٹ' جاری کیا ہے، جہاں بجلی گرنے اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔

ملک بھر کے لیے ایڈوائزری جاری

محکمۂ موسمیات نے ماہی گیروں اور ملک بھر کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ آئی ایم ڈی نے ماہی گیروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شمال مغربی، وسطی اور شمال مشرقی خلیج بنگال (بشمول اڈیشہ اور مغربی بنگال کے ساحل) میں سمندری حالات بہتر ہونے تک نہ جائیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


غفلت کرنے والوں کو جواب دینا ہوگا، عوام کو انصاف دینا ہوگا!" 
مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کی مسلسل لاپرواہی، عوامی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے
مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کی مسلسل غفلت، ناقص انتظامیہ اور عوام دشمن رویے کے باعث شہری شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کمپنی کی لاپرواہی کے نتیجے میں کئی معصوم افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن آج تک نہ کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی گئی اور نہ ہی عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے۔
کمپنی کے افسران اور ملازمین عوامی شکایات، تحریری درخواستوں اور متعدد یادداشتوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بقایا جات رکھنے والے صارفین کو بجلی منقطع کرنے، قانونی نوٹس بھیجنے اور عدالتی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ خود کمپنی اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کمپنی کی غفلت کے باعث کسی شہری کی جان یا مال کا مزید نقصان ہوا تو اس کی مکمل قانونی اور اخلاقی ذمہ داری مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ، اس کے متعلقہ افسران اور ذمہ دار حکام پر عائد ہوگی۔ ان کے خلاف مجاز عدالتوں میں قانونی کارروائی، ہرجانے (Compensation) کا دعویٰ، متعلقہ سرکاری محکموں میں شکایات اور دیگر تمام آئینی و قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
اگر عوام کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے اور بجلی کے نظام کو محفوظ بنانے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مورخہ 10 جولائی 2026 (جمعہ کو 2 بجے سے شام 5:00 بجے تک مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ کے مرکزی گیٹ کے سامنے محمد احتشام محمد جمیل کی قیادت میں ایک روزہ پرامن دھرنا و احتجاج کیا جائے گا۔
یہ احتجاج صرف ایک آغاز ہوگا۔ اگر اس کے باوجود بھی انتظامیہ اور کمپنی نے اپنی روش نہ بدلی تو احتجاج کو مزید وسیع کیا جائے گا اور تمام قانونی، آئینی اور جمہوری ذرائع استعمال کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام کی جان و مال کے ساتھ مزید کھلواڑ کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔









امریکہ بھلے کندھے پر بٹھائے، یورپ نے پاکستان کو دھو ڈالا، دی ایسی دھمکی، ہو جائے گا کنگال
ایک طرف امریکہ متعدد تنازعات اور دہشت گردی کے الزامات کے باوجود پاکستان کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔ دوسری طرف یورپ نے پاکستان کی خوب سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ درحقیقت پاکستان میں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ ہندو اور عیسائی لڑکیوں کا اغوا اور تبدیلی کوئی نئی بات نہیں۔ ان مسائل کے حوالے سے یورپی پارلیمنٹ نے اب واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان GSPپلس پروگرام کے تحت تجارتی مراعات سے محروم ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت بالخصوص اس کی ٹیکسٹائل اور کپڑے کی صنعت شدید متاثر ہوگی۔

GSP+ کیا ہے؟
GSP+ یورپی یونین کی ایک خصوصی تجارتی اسکیم ہے۔ اس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈی میں کم یا صفر ٹیرف پر اشیاء فروخت کرنے کی اجازت ہے۔ پاکستان کو یہ درجہ 2014 میں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستان کی یورپ کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور آج یورپی یونین اس کی بڑی برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو واپس لینے سے نہ صرف سفارتی بلکہ ایک بڑا اقتصادی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے بھی 13 سالہ مسیحی لڑکی ماریہ شہباز کے کیس کو تشویش کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اس فیصلے پر سوال اٹھایا جس میں ایک پاکستانی عدالت نے مبینہ اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور بچوں کی شادی کو برقرار رکھا اور ماریہ کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دی۔ یورپی قانون سازوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی پر سختی سے پابندی لگائے، مجرموں کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور متاثرہ لڑکیوں کو محفوظ پناہ، قانونی امداد اور نفسیاتی مدد فراہم کرے۔

قرارداد میں پاکستان میں اقلیتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن کے خلاف توہین رسالت کے قوانین، دہشت گردی اور سائبر قوانین کے غلط استعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے من مانی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ماریہ شہباز کی عمر صرف 13 سال تھی جب اسے پاکستان میں اغوا کیا گیا، زبردستی اسلام قبول کیا گیا اور 30 سالہ شخص سے شادی کر لی گئی۔

ان معاملات کا بھی ذکر کیا
یورپی پارلیمنٹ نے بلوچ حقوق کارکن مہرنگ بلوچ، انسانی حقوق کے وکیل ایمان مزاری، علی وزیر، حنیف پشتین اور داد شاہ کے مقدمات کا بھی ذکر کیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ پرامن کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن ختم ہونا چاہیے اور ہر صورت میں عدالتی عمل کی پیروی ہونی چاہیے۔

یورپ اب باریک بینی سے نگرانی کرے گا
یورپی پارلیمنٹ نے یورپی کمیشن اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس (EEAS) سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اگلے GSP+ مانیٹرنگ مذاکرات میں ان مسائل کو ترجیح دیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے ساتھ پاکستان کی تعمیل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے، اور اس سے یہ طے ہو گا کہ آیا اسے GSP+ فوائد ملتے رہیں گے۔













’مسٹر جوڈیشل سرونٹ، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ اے ایس پی، لکھنؤ کے خلاف سائبر کرائم سنڈیکیٹ چلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں‘‘ اس جملے نے سپریم کورٹ میں مچادیا ہنگامہ……
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک درخواست گزار نے جو اپنا مقدمہ خود لڑ رہا تھا، سماعت کے دوران عدالت کا نظم درہم برہم کر دیا۔ چیف جسٹس کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا اور ججوں کے سامنے کاغذات اچھال دیے۔ تاہم عدالت نے اس کے خلاف توہین عدالت یا کسی دوسری کارروائی سے گریز کرتے ہوئے صرف اس کی درخواست مسترد کر دی۔

 ہنگامے کی کیا ہیں اصل وجوہات؟

یہ واقعہ جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش آیا، جہاں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو چیلنج کرنے والی خصوصی اپیل کی اجازت (SLP) کی سماعت جاری تھی۔ درخواست گزار پربل پرتاپ نے خود کو ’’خودمختار‘‘ (Sovereign) قرار دیتے ہوئے جج صاحبان کو ’’عدالتی ملازم‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’Mr judicial servant. I order you to order the registration of an FIR against the ACP … Lucknow‘‘ ’’مسٹر جوڈیشل سرونٹ، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ اے ایس پی، لکھنؤ کے خلاف سائبر کرائم سنڈیکیٹ چلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔‘‘ اس پر جسٹس وشواناتھن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: ’’آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں؟‘‘ درخواست گزار نے جواب دیا کہ جو کچھ کہنا تھا، وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔

چیف جسٹس کے خلاف بدزبانی، سکیورٹی نے باہر نکالا

چند ہی لمحوں بعد درخواست گزار نے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور عدالت میں موجود کاغذات ہوا میں اچھال دیے، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں خلل پڑا۔ اس کے بعد سکیورٹی اہلکار فوری طور پر متحرک ہوئے اور اسے عدالت سے باہر لے گئے۔ بعد ازاں اسے کچھ دیر کے لیے سپریم کورٹ کے احاطے میں واقع ڈی ایس پی کے دفتر میں رکھا گیا۔

عدالت نے کارروائی کرنے سے گریز کیا

ہنگامہ آرائی کے باوجود بنچ نے درخواست گزار کے خلاف توہینِ عدالت یا کسی اور تعزیری کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس کے وی وشواناتھن نے کہا: ’’ہم اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ مقدمے کے میرٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آئی، لہٰذا خصوصی اجازت اپیل مسترد کی جاتی ہے۔‘‘ سماعت کے بعد سینئر وکیل پی ایس پٹوَالیا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات جج کا منصب کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ ایسے مواقع پر واضح ہو جاتا ہے۔ اس پر جسٹس وشواناتھن نے کہا: ’’وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے۔ ہمیں اس سے صرف ہمدردی ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی؟

درخواست گزار نے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں اس کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ متعلقہ عدالتی حکم کے خلاف متبادل قانونی چارہ جوئی اختیار کرے۔ اصل معاملہ لکھنؤ کی اسپیشل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (کسٹمز) کی عدالت سے متعلق تھا، جہاں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کو نجی شکایت (Private Complaint) کے طور پر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

Thursday, 9 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

کون سی ورزش بزرگوں کے لیے موٹاپا گھٹانے اور پٹھے محفوظ رکھنے میں مؤثر ہو سکتی ہے؟
بڑھتی عمر کے ساتھ جسم میں کئی قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں، جن میں پٹھوں کی کمزوری اور جسمانی چربی میں اضافہ شامل ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف جسمانی طاقت اور توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور گرنے کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ تاہم ایک نئی تحقیق میں ایسی ورزش کی نشاندہی کی گئی ہے جو بزرگ افراد میں چربی کم کرنے کے ساتھ ساتھ پٹھوں کو بھی محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
آسٹریلیا کی ’یونیورسٹی آف دی سن شائن کوسٹ‘ کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق ’ہائی اِنٹینسٹی اِنٹرول ٹریننگ (ایچ آئی آئی ٹی) بزرگ افراد کے لیے چربی کم کرنے کا مؤثر طریقہ ثابت ہوئی، جبکہ اس دوران پٹھوں کے حجم میں کمی بھی نہیں دیکھی گئی۔تحقیق میں 65 سے 85 سال عمر کے ایک سو 23 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا، جن کی اوسط عمر 72 سال تھی۔
شرکاء کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں کم شدت، درمیانی شدت اور زیادہ شدت والی ورزشیں کروائی گئیں۔
تمام شرکاء نے چھ ماہ تک ہفتے میں تین بار، ہر بار 45 منٹ ورزش کی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ درمیانی اور زیادہ شدت والی ورزشوں سے جسمانی چربی میں کمی آئی، تاہم صرف ہائی اِنٹینسٹی اِنٹرول ٹریننگ کرنے والے افراد اپنے پٹھوں کا حجم برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
تحقیق کی سربراہ اور ماہر ورزش ڈاکٹر گریس روز کے مطابق تمام شدت کی ورزشوں سے کچھ حد تک چربی میں کمی دیکھی گئی، لیکن صرف ہائی اِنٹینسٹی اِنٹرول ٹریننگ ہی ایسی ورزش تھی جس نے پٹھوں کو محفوظ رکھا۔
ہائی اِنٹینسٹی اِنٹرول ٹریننگ یا ایچ آئی آئی ٹی میں مختصر وقت کے لیے انتہائی تیز رفتار ورزش کی جاتی ہے، جس کے بعد مختصر آرام یا ہلکی ورزش کا وقفہ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک منٹ تیز رفتار چہل قدمی، سائیکلنگ یا سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ایک منٹ آرام کیا جاتا ہے اور یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ورزش دل اور پٹھوں دونوں پر زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتی ہے، جس کی وجہ سے جسم چربی جلانے کے ساتھ پٹھوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وزن میں کمی سے زیادہ اہم جسمانی ساخت ہے۔ صرف وزن کم کرنا کافی نہیں بلکہ جسم میں پٹھوں کو برقرار رکھتے ہوئے چربی کم کرنا صحت مند بڑھاپے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ایچ آئی آئی ٹی کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم دل کے امراض، جوڑوں کے مسائل یا دیگر طبی پیچیدگیوں میں مبتلا افراد کو ایسی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہر قسم کی جسمانی سرگرمی فائدہ مند ہے، تاہم جو بزرگ افراد محفوظ طریقے سے زیادہ شدت والی ورزش کر سکتے ہیں، ان کے لیے ایچ آئی آئی ٹی چربی کم کرنے اور پٹھوں کو محفوظ رکھنے کا بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔








NEET UG امیدواروں کے لیے خوشخبری ! آن لائن ہوگا امتحان ، اتنے دل چلے گا امتحان
اگلے سال کے NEET UG امتحان کو لے کر بڑا اپڈیٹ ہے۔ امتحان 500 شہروں میں تقریباً 1000 مراکز پر کمپیوٹر پر مبنی موڈ (CBT) میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ پانچ سے چھ دنوں میں منعقد کیا جائے گا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، امتحانی مراکز بنیادی طور پر کیندریہ ودیالیہ جیسے سرکاری اداروں میں واقع ہوں گے۔ تقریباً پانچ لاکھ امیدوار ہر روز ملٹی ڈے امتحان میں شرکت کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت این ٹی اے میں بھی بڑی تبدیلیوں کی تیاری کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ NTA ایک خود مختار ادارہ ہے جو NEET-UG کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے کئی دوسرے داخلہ امتحانات بھی منعقد کرتا ہے۔ ایجنسی کی تنظیم، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، اور عمل میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔NTA کو اوپر سے نیچے تک تبدیل کرنا ہے
ذرائع کے مطابق این ٹی اے کی پوری تنظیم کو اوپر سے نیچے تک اوور ہال کیا جائے گا۔ یہ عمل اکتوبر سے پہلے مکمل ہونے کی امید ہے۔ NTA کے اندر تقریباً 150 عہدوں کی منظوری دی گئی ہے۔ وزارت تعلیم کی جانب سے یہ تجاویز پیپر لیک کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس سال 3 مئی کو منعقد ہوئے NEET-UG امتحان میں تقریباً 22 لاکھ امیدواروں نے شرکت کی تھی ، لیکن پیپر لیک ہونے کی وجہ سے اسے منسوخ کرنا پڑا تھا ۔ پیپر لیک نے بڑے پیمانے پر غصہ اور احتجاج کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے بعد، NEET-UG امتحان کا دوبارہ انعقاد کیا گیا۔

دھرمیندر پردھان نے کیا اعلان
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امتحان اور این ٹی اے میں تبدیلیاں سات رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہیں۔ اس کمیٹی کی سربراہی ISRO کے سابق چیئرمین کے رادھا کرشنن کر رہے ہیں، اور اس کی تشکیل مرکزی حکومت نے 2024 میں پیپر لیک کے واقعے کے بعد کی تھی۔

واضح رہے کہ NEET UG پیپر لیک ہونے کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے 15 مئی کو اعلان کیا تھا کہ اگلے سال سے امتحان کمپیوٹرائز ہوگا۔ پردھان نے کہا کہ یہ تبدیلی رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر کی جارہی ہے، لیکن اس تجویز پر ابھی تک عمل نہیں ہوا ہے۔

امتحانی مراکز کی نشاندہی شروع کر دی گئی
اطلاعات کے مطابق اگلے سال کے NEET UG کے امتحانی مراکز کی نشاندہی شروع ہو گئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر سرکاری ادارے ہیں جن میں کیندریہ ودیالیہ اور نوودیا ودیالیہ شامل ہیں۔ تاہم، کچھ معروف نجی اداروں کو بھی مراکز کے طور پر نامزد کیا جا سکتا ہے۔








معاہدہ کا آرٹیکل 5 کیا ہے، جس پر مرنے-مارنے کیلئے تیار ٹرمپ؟ ایران–امریکہ ڈیل میں کیوں بگڑی بات
سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سلسلہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اس دوران چند دنوں کے وقفے کے بعد امریکہ اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فروری کے آخری دنوں میں شروع ہوئی جنگ اب جولائی میں دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہوئی بات چیت اور اس کے بعد جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اب کھلم کھلا جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ امریکہ نے ایران پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کئی اہم مقامات پر فضائی حملے کیے۔ اب ان حملوں کے فوراً بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اب جنگ کی دوبارہ تیاریوں کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے آرٹیکل 5 پر بحث چھڑ گئی ہے۔ مفاہمتی یادداشت (MoU) کا آرٹیکل 5 آبنائے ہرمز اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی صورتحال سے متعلق ہے، جس پر دونوں ممالک اپنے اپنے دعوے کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “ہم نے بہت زیادہ وقت دے دیا اور اب جنگ بندی ختم کی جا رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ ایرانی جھوٹے اور دھوکے باز ہیں اور ان کی قیادت غلط ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ دوسری جانب ایران نے بھی واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ جو بھی امریکہ کا ساتھ دے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ بغیر کسی شرط کے ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت موقف رکھتے ہیں۔ امریکہ ان دونوں معاملات پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد ایک بار پھر شیئر مارکیٹ پر منفی اثرات دیکھنے کو ملے ہیں۔ جب 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے پہلی بار ایران پر حملہ کیا تھا، اس کے بعد سے سمندر کا یہ تنگ راستہ بند ہو گیا تھا۔ اب اگر دوبارہ جنگ شروع ہوتی ہے تو دنیا کو ایک بار پھر تیل، توانائی اور گیس کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

MoU میں آرٹیکل 5 کا معاملہ کیا ہے؟
اب اصل معاملے پر آتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں آرٹیکل 5 کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ جنگ کے دوران جو تجارتی جہاز مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے، ان کی آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) میں معاہدہ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 5 میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے فوری طور پر تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع کی جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی طے پایا تھا کہ ایران ان جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا اور کم از کم 60 دن یعنی دو ماہ تک ان سے کسی بھی قسم کی فیس وصول نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ 30 دن کے اندر سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس معاملے پر ایران اور امریکہ میں ٹکراؤ کیوں؟
اہم مسئلہ یہ ہے کہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے آرٹیکل 5 کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کے مطابق اس آرٹیکل کی تشریح کر رہے ہیں اور اب جہازوں کی آمدورفت کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی بات کی، تاہم امریکہ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ
اسی طرح ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے وہ اپنی مرضی کے مطابق انتظام چاہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب عمان کے ساحل کے قریب سے جہاز گزرنے لگے تو ایران نے امریکہ کی حکمت عملی کو سمجھتے ہوئے حملہ آور اقدام اٹھایا۔ دوسری طرف امریکہ چاہتا ہے کہ اس آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت اس کے طے کردہ نظام کے مطابق ہو۔ ٹرمپ کو معاہدے سے کسی اور معاملے پر اعتراض نہیں ہے۔

ایران کے لیے آبنائے ہرمز غیر معمولی تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ اس آبی گزرگاہ کو اپنی دفاعی ڈھال کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ امریکہ معاہدے کے آرٹیکل 5 کو اپنے مفاد کے مطابق نافذ کرنا چاہتا ہے۔ ایک اور اہم معاملہ جہازوں کے راستے سے متعلق بھی ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ جہاز پہلے والے راستے سے ہی گزریں، جبکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ جہاز عمان کے ساحل کے قریب سے نئے روٹ کے ذریعے گزریں۔

تیل کی تجارت کے لائسنس پر فل اسٹاپ
سوئٹزرلینڈ میں ہوئے معاہدے کے تحت امریکہ نے ایران کو تیل کی تجارت کے لیے عارضی رعایت دی تھی، جو اب واپس لے لی گئی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے تازہ فیصلے میں جنرل لائسنس ایکس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس لائسنس کے تحت 21 جون 2026 سے 21 اگست 2026 تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل کی محدود اجازت دی گئی تھی۔ اب لائسنس منسوخ ہونے کے بعد ایران کی تیل کی تجارت پر امریکی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو گئی ہیں۔
دراصل ایران اس وقت آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اسی دوران امریکہ کے حملوں اور ٹرمپ کے اعلان کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے جنوب مغربی ایران کے کئی مقامات پر حملے کیے، جن میں قشم جزیرہ، سیریک اور بندر عباس کے علاقے شامل ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

اسپین کی سیمی فائنل میں انٹری سے میسی، ہیری کین اور ایمباپے کی راہ مشکل، کہ ماضی کا ریکارڈ بھی اس بار اسپین کے حق نئ...