پہلگام دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی ، پی ایم مودی نے کہا بھارت دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا
پہلگام دہشت گردانہ حملے کی آج پہلی برسی ہے۔اس موقع پرپرائم منسٹر نریندرمودی نے اس حملے میں جان گنوانے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرپوسٹ میں انھوں نے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مضبوط مؤقف کا اعادہ بھی کیا۔
اپنے پوسٹ میں پرائم منسٹر نریندر مودی نے لکھا کہ گزشتہ سال آج کے دن پہلگام دہشت گرد حملے میں ضائع ہونے والی معصوم جانوں کو یاد کر رہے ہیں۔ انھیں کبھی بھلایا نہیں جائے گا۔اس نقصان کا سامنا کررہے غم زدہ خاندانوں کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں۔ پی ایم مودی نے اپنے پیغام میں ان خاندانوں کے رنج وغم اور تکلیف کو بھی تسلیم کیا جنھوں نے اس دہشت گردحملے میں اپنے عزیزوں کوکھودیا۔انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ ملک ان کے غم میں برابرکا شریک ہے۔دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک کے مشترکہ عزم کودہراتے ہوئے پرائم منسٹر نریندرمودی نے اتحاد اور ثابت قدمی کی اہمیت پرزوردیا۔اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ بطور قوم ہم غم اور عزم میں متحد ہیں۔ بھارت کبھی بھی دہشت گردی کی کسی بھی شکل کے سامنے نہیں جھکے گا۔
دہشت گردوں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پرائم منسٹر مودی کا یہ بیان دہشت گردی کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو مزید تقویت دیتا ہے اور دہشت گردی خلاف قومی عزم کو اجاگر کرتا ہے۔واضح رہے کہ جموں کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والے کی موت گئی تھی۔ ادھر،پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پرجموں کشمیر میں سکیورٹی سخت کر دی ہےجبکہ پہلگام اور اس کے گرد و نواح میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ سینئر حکام کے مطابق یادگاری تقریب کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں سیاسی لیڈران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت دیگرکی شرکت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے تین ماہ بعد سکیورٹی فورسز نے سری نگر کی پہاڑیوں میں ایک جھڑپ کے دوران حملے میں ملوث تین پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایاتھا۔تاہم اس کیس کی تحقیقات جاری رہیں۔
دھونی واپسی کے لیے تیار! وانکھیڈے میں کی نیٹ پریکٹس
واضح رہے کہ جموں کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والے کی موت گئی تھی۔ ادھر،پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پرجموں کشمیر میں سکیورٹی سخت کر دی ہےجبکہ پہلگام اور اس کے گرد و نواح میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ سینئر حکام کے مطابق یادگاری تقریب کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں سیاسی لیڈران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت دیگرکی شرکت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے تین ماہ بعد سکیورٹی فورسز نے سری نگر کی پہاڑیوں میں ایک جھڑپ کے دوران حملے میں ملوث تین پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایاتھا۔تاہم اس کیس کی تحقیقات جاری رہیں۔دھونی کی واپسی آئی پی ایل میں متوقع ہے۔اُن کی واپسی کا جتنی شدت سے شائقین کو انتظار ہے اتنی ہی شدت سے چنئی سپر کنگز کی ٹیم بھی تھالا کی واپسی کی منتظر ہے۔شائد اب یہ انتظار جلد ختم ہونے جارہا ہے۔ دھونی وانکھیڈے میں نیٹ میں پسینہ بہاتے دیکھے گئے۔
21 اپریل کو سابق کپتان کو وانکھیڈے اسٹیڈیم میں تقریباً 40 منٹ وکٹ کیپنگ کرتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے نیٹ میں تقریباً ایک گھنٹے تک بیٹنگ کی۔ دھونی نے سرفراز خان اور ارول پٹیل کی وکٹ کیپنگ کی ۔ آیوش مہاترے کے بقیہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد ارول کو موقع مل سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سرفراز کو بیٹنگ آرڈر میں ترقی ملتی ہے یا نہیں، یعنی انہیں نمبر 3 پر کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔دھونی سی ایس کے کے چھ میچوں سے باہررہے ہیں ۔ فی الحال، ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں آٹھویں نمبر پر ہے اور اس کا رن ریٹ منفی ہے۔ ان کا اگلا میچ ممبئی انڈینز کے خلاف ہے، جو اپنے چھ میں سے چار میچ ہار چکی ہے۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف 99 رن کی زبردست جیت کی بدولت ان کا NRR بہتر ہے۔ یہ فتح چار میچوں کی ہار کے بعد ملی ہے۔
سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف میچ میں چنئی کے پاس فنشر کی کمی تھی۔ میتھیو شارٹ کی سست اننگز نے بھی ٹیم کی پریشانیوں میں اضافہ کیا جس سے شیوم دوبے اور جیمی اوورٹن کے لیے ہدف کا تعاقب کرنا مشکل ہو گیا۔ اگر 44 سالہ دھونی آرڈر کے نیچے مختصر اننگز کھیلتے ہیں تو یہ ٹیم کے لیے ایک بڑا فائدہ ہوگا۔ممبئی انڈینز کے لیے راحت
ممبئی انڈینز کے انگلش کھلاڑی ول جیکس ٹیم میں شامل ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ 23 اپریل کو سی ایس کے کے خلاف میدان میں اتریں گے۔ جیکس ذاتی وجوہات کی بناء پر پہلے چھ میچز نہیں کھیل سکے۔ ان کی آمد سے ممبئی انڈینس کے کچھ مسائل حل ہو جائیں گے۔ اگر روہت شرما سی ایس کے کے خلاف نہیں کھیلتے ہیں تو جیکس کوئنٹن ڈی کاک کے ساتھ اننگز کا آغاز کر سکتے ہیں۔ انگلش کھلاڑی نیچے آرڈر پر بھی بیٹنگ کر سکتے تھے۔
مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ، چار ملزمین کو کیا بری
ممبئی: 2006 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں بمبئی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے چار ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے بدھ کے روز ان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر آزاد کر دیا۔ مالیگاؤں میں ہونے والے ان دھماکوں میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے۔عدالتی بینچ کا فیصلہ
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چندرشیکھر اور جسٹس شیام چاندک پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ملزمین کی جانب سے دائر اپیلوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ یہ اپیلیں ستمبر 2025 میں ایک خصوصی عدالت کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھیں، جس میں ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ اپیل میں ٹرائل کورٹ کے طریقۂ کار اور بعض شریک ملزمین کی رہائی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
بری ہونے والے کی تفصیل
جن چار ملزمین کو ہائی کورٹ نے بری کیا ہے ان میں راجندر چودھری، دھن سنگھ، منوہر رام سنگھ نرواریا اور لوکیش شرما شامل ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور جاری ٹرائل بھی بند کر دیا گیا ہے۔
اپیل میں تاخیر
عدالت نے اس سے قبل اپیل دائر کرنے میں 49 دن کی تاخیر کو بھی معاف کر دیا تھا۔ بینچ نے یہ رعایت اس بنیاد پر دی کہ یہ اپیل قومی تفتیشی ایجنسی ایکٹ (این آئی اے ایکٹ) کی دفعہ 21 کے تحت ایک قانونی اپیل تھی۔
کیس کا پس منظر
یہ معاملہ 8 ستمبر 2006 کا ہے، جب مالیگاؤں شہر میں یکے بعد دیگرے بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات مہاراشٹر اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کی تھیں، جس نے 12 ملزمین کو گرفتار کر کے دسمبر 2006 میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔
تحقیقات کی منتقلی
اس کے بعد فروری 2007 میں یہ کیس مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کر دیا گیا، اور پھر قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے اس کی ذمہ داری سنبھال لی۔ این آئی اے نے مزید تحقیقات کے بعد دیگر ملزمین کے ساتھ ان چاروں کو بھی ملزم قرار دیا اور ایک نئی چارج شیٹ عدالت میں پیش کی تھی۔