Wednesday, 9 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی*

مالیگاؤں:
مالیگاؤں میں بجلی کی فراہمی پر مامور پرائیویٹ فرینچائزی مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ (MPSL) کی 7 سالہ مسلسل نااہلی، خستہ حال انفراسٹرکچر اور بنکروں کے معاشی استحصال کے خلاف درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی کی جانب سے حکومتِ مہاراشٹرا کی اقلیتی کمیٹی کے نمائندے جناب ضیاء پیارے خان صاحب کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھرش سمیتی کے سیکریٹری محمد عمیر شمشاد علی (عمیر انصاری) نے کہا کہ ایم پی ایس ایل کو آئے 7 سال ہو چکے ہیں، لیکن کمپنی نے D.F.A. (فرینچائزی معاہدے) کی تمام شرطوں کو پامال کر دیا ہے۔

*اہم اعتراضات و حقائق:*
 * انفراسٹرکچر کی ناکامی: 7 سال میں نہ نئے سب اسٹیشنز بنے اور نہ انفراسٹرکچر سدھرا۔ تمام فیڈرز اوور لوڈ ہیں اور ٹرانسفارمرز کے نااہل نظام سے بنکروں کی موٹریں جل رہی ہیں۔

 * میٹروں کی بار بار تبدیلی و بلاوجہ کے کیسز: 7 سالوں میں 5 مرتبہ میٹر بدلے گئے۔ کوٹیشن اور فیس بھرنے کے باوجود مہینوں نیا میٹر نہیں دیا جاتا، اور پھر انہی جگہوں پر غیر قانونی چوری (Section 135) کے بھاری بل بنا کر بنکروں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔

 * 57 اموات و قانون کی خلاف ورزی: خستہ حال تاروں اور کھلے ٹرانسفارمرز کی وجہ سے 7 سال میں 57 افراد کرنٹ لگنے سے جان بحق ہوئے۔ الیکٹرسٹی ایکٹ کی دفعہ 56(1) کے تحت 15 دن کا نوٹس دیے بغیر بجلی کاٹنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
حکومت سے بنیادی مطالبات:

 * حکومت ایم پی ایس ایل انتظامیہ سے ان تمام ناکامیوں اور D.F.A. کی خلاف ورزیوں پر تحریری جواب (Written Response) طلب کرے۔

 * بنکروں کو بلوں میں کم از کم 50% جزوی ادائیگی اور 3 سے 4 اقساط کی سہولت دی جائے۔

 * اگر کمپنی تسلی بخش جواب نہ دے، تو حکومت اس فرینچائزی معاہدے (DFA) کو فوراً منسوخ (Terminate) کرے۔


محمد عمیر شمشاد علی (عمیر انصاری)
سیکریٹری: درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی، مالیگاؤں







*🛑سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، 24 قیراط سونا 1.52 لاکھ روپے فی 10 گرام*
حیدرآباد: بھارتی صرافہ بازار میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ عالمی بازاروں سے ملنے والے کمزور اشاروں اور گھریلو سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصولی کے باعث آج صبح ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج اور انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن دونوں پر قیمتی دھاتیں سرخ نشان کے ساتھ کھلیں۔

آئی بی جے اے کے مطابق آج 24 قیراط خالص سونے کی اسپاٹ قیمت 1,52,880 روپے فی 10 گرام ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 460 روپے کی کمی ہے۔ وہیں صنعتی طلب میں سست روی کے باعث چاندی کی قیمت پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔ بازار میں چاندی کی قیمت 2,36,770 روپے فی کلوگرام کی سطح پر کھلی، جس میں 400 روپے کی معمولی کمی درج کی گئی۔خالصیت کے لحاظ سے قیمتیں

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری صبح کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف خالصیت کے سونے کے بینچ مارک ریٹس یہ ہیں:

24 قیراط سونا (999 خالصیت): 1,52,880 روپے فی 10 گرام

22 قیراط سونا (916 خالصیت): 1,40,040 روپے فی 10 گرام

18 قیراط سونا (750 خالصیت): 1,14,660 روپے فی 10 گرام

فائن چاندی (999 خالصیت): 2,36,770 روپے فی کلوگرام

بڑے بھارتی شہروں میں آج سونے کی قیمت

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف بڑے شہروں میں 24 قیراط اور 22 قیراط سونے کی خوردہ قیمتیں درج ذیل رہیں۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کموڈیٹی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کی آئندہ میٹنگ پر ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث فیڈرل ریزرو شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں معمولی اضافے کے بعد دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کی رائے

مارکیٹ کے بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، لیکن طویل مدت میں ان میں مضبوطی برقرار رہ سکتی ہے۔ گولڈمین سیکس سے لے کر رابرٹ کیوساکی تک کئی ماہرین بھی سونے اور چاندی کے حوالے سے ایسی ہی پیش گوئیاں کر چکے ہیں۔







*🛑روزمرہ کی یہ عادتیں دماغ کو پہنچا سکتی ہیں نقصان، ماہرین نے بتائے بچاؤ کے طریقے*
ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادتیں ہمارے دماغ کی ساخت اور کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں سائنسی زبان میں اسے نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) کہا جاتا ہے، یعنی ہمارا دماغ ہمارے تجربات اور معمولات کے مطابق مسلسل خود کو ڈھالتا رہتا ہے۔ تاہم کئی عادتیں ایسی ہیں جو انجانے میں ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی تبدیلیوں کے ذریعے ان اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کون سی عادتیں دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور ان میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔

نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد قدرتی روشنی میں جائیں

ماہرین کے مطابق صبح کی قدرتی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی یعنی انٹرنل کلاک کو درست رکھنے اور دن بھر چوکنا رہنے میں مدد دیتی ہے۔ بیدار ہونے کے بعد پہلے گھنٹے میں اندھیرے یا مصنوعی روشنی میں گھر کے اندر رہنے سے دماغ کی قدرتی حیاتیاتی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سوچنے کی رفتار اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔

کیا کریں:

صبح اٹھنے کے فوراً بعد کچھ دیر چہل قدمی کے لیے باہر نکلیں یا 5 سے 10 منٹ تک دھوپ میں رہیں۔ ماہرین کے مطابق بادل چھائے ہونے کے باوجود قدرتی روشنی دماغ کو متحرک رکھنے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

فون پر مسلسل اسکرولنگ سے گریز کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار ایپس تبدیل کرنا اور مسلسل فون اسکرول کرتے رہنا دماغ کی توجہ کو محدود کر دیتا ہے۔ جب ہم چند سیکنڈز کے اندر مختلف ایپس یا مواد تبدیل کرتے رہتے ہیں تو دماغ کسی ایک کام پر گہری توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عادت یادداشت کو متاثر کرنے کے ساتھ ذہنی تھکن اور تناؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

کیا کریں: ماہرین ’بیچ اسکرولنگ‘ کا طریقہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دن بھر بار بار فون چیک کرنے کے بجائے سوشل میڈیا ایپس کو مخصوص اوقات میں، مثلاً ہر تین گھنٹے بعد، دیکھیں۔ اس طرح درمیان کے وقت میں دماغ کو پوری توجہ کے ساتھ کام کرنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔

رات دیر سے کھانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے

ماہرین کے مطابق رات دیر سے کھانا کھانے سے جسم کو اس وقت بھی ہاضمے کے عمل میں مصروف رہنا پڑتا ہے، جب دماغ اور جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے گہری نیند کے دوران دن بھر سیکھی گئی معلومات کو یادداشت میں تبدیل کرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور صبح اٹھنے پر ذہنی تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق رات دیر سے کھانے سے ڈوپامین کے قدرتی ردھم میں بھی خلل پڑ سکتا ہے۔

کیا کریں: ماہرین رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹے کا وقفہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سونے سے قبل کیمومائل چائے یا ہلدی والا دودھ جیسے گرم مشروبات ذہن کو پرسکون کرنے اور بہتر نیند میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تناؤ میں مبتلا رہنے کے بجائے وجہ سمجھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجہ کو سمجھے بغیر اسے مسلسل دبانے سے دماغ کے ’بقا کا نظام‘ طویل عرصے تک غیر ضروری طور پر متحرک رہ سکتا ہے۔ جب دماغ کسی مخصوص جذبات کو درست طور پر شناخت نہیں کر پاتا تو وہ اردگرد ہونے والے معمولی واقعات کو بھی خطرے کے طور پر دیکھ سکتا ہے، جس سے مسلسل بے چینی برقرار رہتی ہے۔

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق تناؤ کی صورت میں ایڈرینل غدود زیادہ مقدار میں کورٹیسول پیدا اور خارج کر سکتے ہیں، جس کا یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

کیا کریں:

ماہرین کے مطابق تناؤ کی اصل وجہ کو پہچاننا ضروری ہے، خواہ وہ غصہ، بے چینی یا احساسِ جرم ہو۔ اپنے جذبات کو واضح طور پر شناخت کرنے سے دماغ کے امیگڈالا حصے کی سرگرمی کو سمجھنے اور تناؤ کے ردعمل کو منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امیگڈالا دماغ کا وہ حصہ ہے جو خوف اور تناؤ کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کام کے دوران چھوٹے چھوٹے وقفے لیتے رہیں

ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، جس سے ذہنی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صحت مند افراد میں بھی مسلسل ایک گھنٹے تک بغیر حرکت کیے بیٹھنے سے ذہنی دھند یعنی ’برین فوگ‘ اور ذہنی الجھن محسوس ہو سکتی ہے۔

کیا کریں:

ہر گھنٹے کے بعد چند منٹ کے لیے اٹھیں، جسم کو اسٹریچ کریں یا تھوڑی دیر چہل قدمی کریں۔ معمولی سی جسمانی حرکت بھی جسم اور دماغ کو تازگی فراہم کرنے، توجہ بہتر بنانے اور ذہنی کارکردگی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑تباہ ہوگئی پیٹریاٹ کی بیٹری، نہیں رک رہا ایران کا حملہ، میزائلوں نے امریکی ایئربیس کے اڑائے پڑخچے*
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران نے گزشتہ دو دنوں میں امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز پر دو مرتبہ بیلسٹک میزائل سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہاز نے دونوں حملوں کو ناکام بنا دیا اور کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کے خام تیل لے جانے والے پانچ ٹینکروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان میں سے چار جہاز خلیج عمان میں اور ایک خلیج فارس میں خارگ جزیرے کے قریب تھا۔ امریکہ کے مطابق کارروائی سے پہلے جہازوں کے عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ایران امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا، امریکہ اس کے تیل کے ٹینکروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ اس سے پہلے بھی امریکہ ایران کے تین تیل ٹینکروں پر حملہ کر چکا ہے۔ اس طرح تیل کی برآمدات کو نقصان پہنچانا ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ایران نے امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائی کرنے کی کوشش کی۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے امریکی اتحادی اردن میں موجود امریکی فوجیوں کے اڈے پر میزائلوں کے بڑے حملے کا دعویٰ کیا۔ ایران کی کوشش کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر فوجی دباؤ بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم ان حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو کتنا حقیقی نقصان ہوا، اس بارے میں مکمل معلومات موجود نہیں ہیں، لیکن اردن میں جس اڈے پر ایران نے حملہ کیا ہے، وہ بہت اہم ہے۔ ایران نے اس کے علاوہ بحرین اور کویت کی بندرگاہوں کے قریب موجود تیل کے ٹینکروں کو بھی خبردار کیا ہے۔ IRGC نے جہازوں کے عملے سے فوری طور پر جہاز چھوڑنے کو کہا اور دھمکی دی کہ ان علاقوں میں موجود جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران نے امریکی زیرِ آب ڈرون بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا
کشیدگی کے دوران ایران نے ایک امریکی فوجی زیرِ آب ڈرون کو قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا۔ ایران کے مطابق یہ ایک جدید بغیر پائلٹ کے پانی کے اندر چلنے والا آلہ تھا، جسے سمندر کی نگرانی، سمندر کی سطح کے نیچے نقشہ سازی، بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے کے ساتھ ساتھ سمندری کیبل اور پائپ لائنوں کی جانچ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس دعوے کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق ڈرون پہلے ہی خراب ہو چکا تھا۔ امریکہ نے اسے پرانے اینڈیورِل ڈائیو-LD ماڈل کا ڈرون بتایا اور کہا کہ اس میں کوئی حساس معلومات، خفیہ سونار یا ریڈار آلات موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق ڈرون کے ہاتھ سے نکل جانے سے ایران کے ہاتھ کوئی اہم فوجی راز نہیں لگا۔

پیٹریاٹ سسٹم اور میزائل حملوں کا دعویٰ
ایران اور امریکہ کے درمیان میزائل حملوں کو لے کر بھی الگ الگ دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی جانب سے امریکی ایئربیس اور اس کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے کی باتیں کہی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکی فضائی دفاعی نظام، خاص طور پر پیٹریاٹ میزائل بیٹریوں کے استعمال اور ان کی صلاحیت کے حوالے سے بھی بحث بڑھ گئی ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے میزائل امریکی فوجی اڈوں تک پہنچے اور نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب امریکہ اپنے فضائی دفاعی نظام اور فوجی اڈوں کی سلامتی کے حوالے سے الگ تصویر پیش کرتا ہے۔ اگرچہ نقصان کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اگر F-35 اور پیٹریاٹ جیسے جدید ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود ایران وہاں تک حملے کر رہا ہے، تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

نقصان کتنا ہوا؟
امریکہ نے ایران کے تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ایران کی تیل کی سپلائی اور برآمدات پر اقتصادی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران امریکی جنگی جہازوں اور خطے میں موجود امریکی اور اتحادی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز اس پورے تنازعے کا سب سے حساس علاقہ بن گیا ہے۔ دنیا کی تیل اور LNG تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہاں طویل عرصے تک فوجی تنازعہ یا ناکہ بندی جاری رہتی ہے، تو اس کا اثر صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت اور توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔فی الحال دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ صرف میزائل اور فوجی حملوں تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ ایران کی تیل کی برآمدات اور اقتصادی نظام پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران امریکی فوجی موجودگی اور اس کے اتحادیوں پر حملہ کرکے جواب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔








*🛑ایل پی جی گیس بکنگ کے نئے قوانین نافذ، فورا کرلیں چیک ورنہ نہیں ملے گا سلنڈر*
اگر آپ گھریلو ایل پی جی سلنڈر بک کروانے والے ہیں یا پھر دوبارہ ریفل کروانے کا سوچ رہے ہیں، تو پہلے موجودہ قوانین کی معلومات ضرور حاصل کر لیں۔ حکومت نے گھریلو گیس سلنڈر کی بکنگ کے حوالے سے کچھ قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ نئے قانون کے تحت ایک ریفل لینے کے بعد اگلا سلنڈر بک کروانے کے درمیان کے وقفے کو 45 دن سے کم کرکے 25 دن کر دیا گیا ہے۔ یہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں رہنے والے گھریلو ایل پی جی صارفین پر بھی لاگو کیا گیا ہے۔ یعنی اب سلنڈر ختم ہونے سے پہلے اس کی اگلی بکنگ کی منصوبہ بندی کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

تاہم، ایل پی جی سے متعلق تبدیلیاں صرف ریفل کی مدت تک محدود نہیں ہیں۔ سبسڈی، بکنگ، ڈیلیوری اور گھریلو کنکشن سے متعلق قوانین بھی صارفین کے لیے اہم ہیں۔ اس لیے سلنڈر بک کروانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کے لیے کون سا قانون لاگو ہے اور کہیں کسی شرط کی وجہ سے بکنگ میں دشواری تو نہیں آئے گی۔ علامتی تصویر۔
گیس سلنڈر سے متعلق e-KYC : اگر آپ نے ابھی تک گیس سلنڈر کے لیے ای-کے وائی سی نہیں کروائی ہے تو اب نئی آخری تاریخ جاننا بہت ضروری ہے۔ پہلے حکومت نے 7 ستمبر کی آخری تاریخ مقرر کی تھی، لیکن اسے ایک ہفتے کے لیے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ اب نئی آخری تاریخ 14 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔ علامتی تصویر۔
دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق، ای-کے وائی سی کا عمل مکمل نہ کرنے پر صارفین کو ایل پی جی سلنڈر کس قیمت پر دیا جائے گا، اس بارے میں معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ اگر ای-کے وائی سی کی آخری تاریخ گزر جاتی ہے تو صارفین کا کنکشن عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایل پی جی ای-کے وائی سی مکمل نہیں ہوتی ہے تو انڈین گیس، ایچ پی گیس اور بھارت گیس کے صارفین پر عمل مکمل ہونے تک عارضی طور پر اثر پڑے گا۔ علامتی تصویر۔

حکومت نے گھریلو پی این جی کنکشن کو فروغ دینے کے لیے یکم ستمبر سے ہی ترغیبی اسکیم نافذ کی ہے۔ محفوظ اور سستی پائپ لائن والی کھانا پکانے کی گیس لوگوں کے گھروں تک پہنچے، اسی مقصد کے ساتھ یہ پہل شروع کی گئی ہے۔ اس سے لوگوں کے لیے پی این جی گیس کنکشن کو جلد از جلد اپنانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ علامتی تصویر۔
ٹی پی ویری فکیشن نافذ : حکومت نے او ٹی پی ویری فکیشن بھی نافذ کر دیا ہے۔ سلنڈر بک کرنے کے بعد صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایک او ٹی پی آتا ہے۔ اسے ڈیلیوری کے وقت ہی ڈیلیوری بوائے کو بتانا ضروری ہے۔ بکنگ کی رسید نہ ہونے کی صورت میں، او ٹی پی ویری فکیشن کے بغیر گیس سلنڈر نہیں دیا جائے گا۔ علامتی تصویر
DAC ویری فکیشن : ایل پی جی سلنڈر کی ڈیلیوری کے وقت ڈی اے سی یعنی ڈیلیوری آتھرائزیشن کوڈ بتانا ضروری ہو گیا ہے۔ صارفین کو ڈیلیوری ایجنٹ کو ڈی اے سی دینا ہوگا اور ویری فکیشن کے بعد ہی ڈیلیوری مکمل سمجھی جائے گی۔ علامتی تصویر۔

گیس کے بل سے متعلق قانون : کچھ صارفین پی این جی گیس کا بل کئی مہینوں تک ادا نہیں کرتے، ایسی صورت میں کنکشن کاٹ دیا جائے گا۔ تمام بقایا رقم کی ادائیگی کرنے کے بعد ہی گیس سروس فراہم کی جائے گی۔ اگر پی این جی پائپ لائن یا والو کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا پایا جاتا ہے تو صارفین کو اسے درست کرنے کا خرچ بھی برداشت کرنا ہوگا۔ علامتی تصویر۔ فائل فوٹو ۔







*🛑حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات کو بنایا نشانہ، مکہ دفاعی معاہدہ کی آزمائش کا آگیا وقت، اب کیا کریں گے پاکستان اور ترکی؟*
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور کچھ آپریشنز عارضی طور پر بند کرنے پڑے۔ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان نے ابہا، خمیس، مشیط، جازان اور نجران صوبوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو خطرناک اشتعال انگیزی اور سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ حوثی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم اس سے قبل انہوں نے سعودی عرب پر ایک جیل پر فضائی حملہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ یمن میں اتنی کچھ ہو رہا ہے اور سعودی عرب کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سعودی عرب کے وہ مسلم دوست اس کی مدد کے لیے آگے آئیں گے، جن کے ساتھ اس نے حال ہی میں اتحاد کیا ہے؟

سال 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن میں ایک بار پھر لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، بحیرۂ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا۔ حکومت کی حمایت یافتہ افواج بھی جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق اگست کے اختتام سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔ جیسے جیسے یہ لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے، ویسے ویسے ان ممالک میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے جنہوں نے حال ہی میں ایک دوسرے پر حملے کی صورت میں ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا تھا۔
کیا مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ کی آزمائش کا وقت آ گیا؟
اگست 2026 میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسے ’مکہ پیکٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ اس میں نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ نیٹو جیسے اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حوثیوں کے حملوں کے بعد کیا پاکستان اور ترکی عملی طور پر سعودی عرب کی جنگ میں شامل ہوں گے؟ اس کے دونوں امکانات موجود ہیں۔

ایک طرف معاہدے کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ اگر سعودی عرب پر حملے جاری رہے اور اس کے اتحادی خاموش رہے تو یہ معاہدہ محض کاغذی ثابت ہوگا۔ اس سے قبل بھی بعض حملوں کے بعد ترکی اور پاکستان کی جانب سے کوئی واضح فوجی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

دوسری طرف دونوں ممالک کے اپنے مفادات اور حدود ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی تعاون کرتا آ رہا ہے۔ ہزاروں پاکستانی فوجی ماضی میں بھی سعودی عرب میں تعینات رہ چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور مذہبی تعلقات بھی مضبوط ہیں۔ ترکی کے پاس ڈرونز کی مضبوط صلاحیت، بحری طاقت اور دفاعی صنعت موجود ہے، لیکن وہ نیٹو کا رکن بھی ہے اور ایران کے ساتھ اس کے تجارتی اور سیاسی تعلقات بھی ہیں۔

پاکستان بھی ایران سے مکمل طور پر دوری اختیار نہیں کرنا چاہتا اور ترکی بھی ایسا نہیں چاہتا۔ ایسے میں حوثیوں سے نمٹنے کے لیے محدود فوجی شرکت اور وسیع تر دباؤ کا امتزاج اختیار کیا جا سکتا ہے۔ بڑے پیمانے پر براہِ راست زمینی فوج بھیجنا دونوں ممالک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یمن کا تنازع طویل، مہنگا اور پیچیدہ ہے۔

’اسلامی نیٹو‘ کیا کر سکتا ہے؟
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم کے پاس میزائل، ڈرون اور ساحلی علاقوں پر کنٹرول موجود ہے۔ ایسے میں پاکستان خفیہ معلومات کے تبادلے، فضائی دفاعی نظام یا محدود فضائی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ترکی اپنے ڈرونز یا الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیت شیئر کر سکتا ہے۔ بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کی سیکورٹی کے لیے سعودی عرب کی جانب سے تشکیل دیے جا رہے بحری اتحاد میں دونوں ممالک پہلے ہی شامل ہیں۔ اس سے بالواسطہ دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے اور سفارتی محاذ پر بھی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

تینوں ممالک مشترکہ طور پر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کر سکتے ہیں اور اقوام متحدہ کے ذریعے دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا اثر عالمی تیل کی منڈی پر پڑتا ہے، اس لیے مغربی ممالک بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ مکہ پیکٹ کو صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی اور اقتصادی اتحاد کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چیلنجز کئی ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ معاہدے میں فوجی ذمہ داریوں کی تفصیلی وضاحت عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہے۔

اتحاد کے ممالک کیوں فاصلہ اختیار کر رہے ہیں؟
ایران اس اتحاد کو اپنے خلاف سمجھ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اندرونِ ملک پاکستان اور ترکی اپنے عوام کو یمن جیسے دور دراز تنازع میں الجھانے سے گریز کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب خود بھی مکمل جنگ نہیں چاہتا۔ اس کی توجہ اقتصادی ترقی اور وژن 2030 پر مرکوز ہے۔

مجموعی طور پر مکہ پیکٹ میں شامل ممالک فی الحال مکمل جنگ میں کودنے کے بجائے محدود اور محتاط حمایت، بحری سیکورٹی اور سفارتی دباؤ کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر حوثیوں کے حملوں میں مزید اضافہ ہوا یا توانائی کی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا تو دباؤ بڑھ سکتا ہے اور محدود فوجی کردار کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔یہ معاہدہ فی الحال اپنی پہلی بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک کس حد تک اتحاد اور عملی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یمن کا تنازع اب صرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مسئلہ نہیں رہا۔ یہ خطے میں طاقت کے توازن اور نئے اتحادوں کی بھی آزمائش بن چکا ہے۔

Monday, 7 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی بلڈنگ حادثہ، ریکھا گپتا کا بڑا ایکشن، 5 منزلہ عمارتیں فوری سیل کرنے کا حکم، لاپرواہ افسران پر ہوگی سخت کارروائی*
نئی دہلی کے ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ عمارت کے اچانک منہدم ہونے کے بعد دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کی صبح جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ حادثے میں اب تک 6 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 12 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ علاقے میں سرچ اور ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے۔ ریکھا گپتا نے موقع پر پہنچ کر متعلقہ افسران سے حادثے اور امدادی کارروائیوں کی تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حادثے کے ذمہ دار افراد کو بخشا نہیں جائے گا اور غفلت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

عمارت کیسے منہدم ہوئی؟

وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی طور پر عمارت کے مالک کی لاپرواہی کو حادثے کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عمارت کافی پرانی تھی اور تہہ خانے میں پانی بھرنے کی وجہ سے اس کے ستون گر گئے، جس کے نتیجے میں پوری عمارت منہدم ہو گئی۔ ریکھا گپتا نے بتایا کہ حادثے کا شکار عمارت کے معاملے میں کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مالک کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ آس پاس موجود دیگر خطرناک عمارتوں کی بھی نشاندہی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر انہیں منہدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ زدہ عمارت کے بالکل پیچھے موجود عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے اور اسے بھی فوری طور پر منہدم کیا جائے گا۔

پی جی، نرسنگ ہوم اور اسکولوں کا اسٹرکچرل آڈٹ ضروری

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت میونسپل کارپوریشن کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی تیار کر رہی ہے، جس کے تحت عوامی استعمال کی ہر عمارت، چاہے وہ پی جی، نرسنگ ہوم، اسکول یا کوئی دیگر سہولت ہو، اس کا وقتاً فوقتاً اسٹرکچرل آڈٹ اور سیفٹی سرٹیفکیشن لازمی ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن عمارتوں میں ضروری حفاظتی جانچ اور سرٹیفکیشن نہیں ہوگا، وہاں عوامی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔غیر محفوظ پی جی میں کسی کو رہنے نہیں دیں گے

ریکھا گپتا نے کہا کہ حکومت کسی کو بھی غیر محفوظ پی جی میں رہنے کی اجازت نہیں دے گی۔ عمارت سے نکالے گئے لوگوں کے لیے کالج ہاسٹل میں رہائش کا انتظام کیا گیا ہے اور حکومت ان کی ضروریات کا خیال رکھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے سے متاثرہ طلبہ کے والدین سے بھی حکومت رابطے میں ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن سرکاری افسران کی نگرانی میں کمی، لاپرواہی یا دیگر غلطیوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی، ان کے خلاف اسی دن سخت کارروائی کی جائے گی۔

پانچ منزلہ عمارتوں کو فوری سیل کرنے کا حکم

ستیہ نکیتن حادثے کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کئی سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ عمارت کے مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ ذمہ دار پائے جانے والے میونسپل کارپوریشن کے افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ دہلی میں پانچ منزلہ عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ آس پاس موجود پی جی اور دیگر عمارتوں کی بھی بڑے پیمانے پر جانچ کی جائے گی اور قواعد کی خلاف ورزی پائے جانے پر انہیں سیل کر دیا جائے گا۔









*🛑ٹائیفائڈ کیا ہے؟ ٹائیفائڈ میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے کریں پرہیز*
نئی دہلی : ٹائیفائڈ (Typhoid) سالمونیلا بیکٹیریا سے پھیلنے والی ایک سنگین بیماری ہے۔ ٹائیفائڈ نظامِ ہاضمہ اور خون کے بہاؤ میں بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آلودہ پانی، متاثرہ جوس یا دیگر مشروبات کے ذریعے سالمونیلا بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ٹائیفائڈ کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں اور مریض کو کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹائیفائڈ کن وجوہات سے ہو سکتا ہے؟ ٹائیفائڈ ہونے پر کون سی علامات ظاہر ہوتی ہیں، اس دوران کن چیزوں سے پرہیز ضروری ہے اور ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ آئیے جانتے ہیں۔

ٹائیفائڈ کیا ہے؟

عام طور پر آلودہ پانی پینا اور متاثرہ یا باسی کھانا کھانا ٹائیفائڈ کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ ٹائیفائڈ ایک متعدی بیماری ہے، اسی لیے گھر میں کسی ایک فرد کو ٹائیفائڈ ہونے کی صورت میں دیگر افراد کے بھی متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ٹائیفائڈ تیز بخار سے وابستہ بیماری ہے، جو سالمونیلا ٹائیفی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا آلودہ کھانے یا پانی کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچ سکتا ہے۔

ٹائیفائڈ میں نہانے کا طریقہ

نہانے سے جسم کو تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ ٹائیفائڈ کے دوران کمزوری یا تھکن محسوس ہونے کے باوجود اگر ممکن ہو تو نیم گرم پانی سے نہایا جا سکتا ہے۔ اگر مریض خود اٹھ کر نہانے کے قابل نہ ہو تو اس کے جسم کی اسپونجنگ کی جا سکتی ہے۔ نہانے یا اسپونجنگ کے لیے مناسب درجہ حرارت کے پانی کا استعمال کریں۔ تیز بخار کی صورت میں جسم کو بہت زیادہ گرم رکھنے یا جان بوجھ کر پسینہ لانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بخار کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق علاج اور مناسب آرام ضروری ہے۔

ٹائیفائڈ میں غذا میں تبدیلی

ٹائیفائڈ کے دوران غذا کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان چیزوں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے:

پیاز، لہسن اور تیز بو والی غذاؤں سے پرہیز کریں۔مرچ، ساس، سرکہ اور بہت زیادہ مصالحے دار چیزوں سے گریز کریں۔ایسی غذاؤں سے پرہیز کریں جو پیٹ میں گیس پیدا کرتی ہوں۔زیادہ فائبر والی غذاؤں، خصوصاً سخت یا ناقابلِ حل فائبر والی غذاؤں کے استعمال سے عارضی طور پر گریز کریں۔مکھن، گھی، پیسٹری، تلی ہوئی اشیا اور مٹھائیوں سے پرہیز کریں۔بازار میں تیار ہونے والی کھانے پینے کی اشیا سے گریز کریں۔بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والا کھانا نہ کھائیں۔ایک وقت میں پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا لیں۔ٹائیفائڈ کے دوران گوشت اور دیگر بھاری غیر سبزی خور غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ چائے، کافی، شراب اور سگریٹ کے استعمال سے گریز کریں۔

ٹائیفائڈ میں پھلوں کا رس اور سیال غذائیں

ٹائیفائڈ کے دوران پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ رہ سکتا ہے۔ اس لیے مریض کو وقفے وقفے سے مناسب مقدار میں سیال چیزیں دینی چاہئیں۔ پانی، تازہ پھلوں کا رس اور دیگر مناسب سیال اشیا استعمال کی جا سکتی ہیں۔پانی کو اچھی طرح ابال کر پینا بہتر ہے۔ کھانا بھی صاف ستھرا اور اچھی طرح پکا ہوا استعمال کریں اور باہر کا کھانا کھانے سے گریز کریں۔ مناسب مقدار میں سیال اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا کمزوری سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔اہم: ٹائیفائڈ ایک بیکٹیریا سے ہونے والا انفیکشن ہے، اس لیے صرف گھریلو تدابیر پر انحصار نہ کریں۔ تشخیص اور علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں، خصوصاً مسلسل تیز بخار، شدید کمزوری، الٹی، پانی کی شدید کمی یا حالت بگڑنے کی صورت میں۔







*🛑امریکہ میں کارگو طیارہ رن وے سے نکلتا ہوا گاڑیوں سے جا ٹکرایا، پانچ افراد ہلاک*
امریکہ میں ایمیزون کمپنی کے ایک کارگو طیارہ کے حادثے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حادثہ اتوار کو ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت پیش آیا جب ایمیزون کا مال بردار طیارہ رن پر اتر رہا تھا تاہم وہ مطلوبہ مقام پر نہیں رک پایا اور آگے نکلتے ہوئے گاڑیوں سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔میامی کے فائر ڈیپارٹمںٹ کے سربراہ رے جیڈالہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پانچ زخمیوں میں سے تین کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جن کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دو افرادکو مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ طیارے کی لپیٹ میں چند گاڑیاں آئیں جن میں سے کچھ میں موجود افراد گاڑیوں کے اندر ہی پھنس گئے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک مشکل آپریشن کے بعد دونوں پائلٹوں کو باہر نکالا گیا تاہم انہوں نے ان کی حالت میں نہیں بتایا جبکہ صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق طیارہ پورٹوریکو سے دوپہر کے وقت میامی پہنچا تھا جس کے فوراً بعد آگ بجھانے والی گاڑیاں رن وے کی طرف جاتی دیکھی گئیں۔
دور سے بنی ایک ویڈیو میں نیلے اور سفید رنگ کے جہاز سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکام کی جانب کہا گیا ہے کہ فی الوقت حادثے کی اصل وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے اور وفاقی ادارہ برائے ہوا بازی این ٹی ایس بی کی تحقیقات کے بعد اس بارے میں رپورٹ جاری کی جائے گی۔
آگ بجھانے والی ٹیم کے سربراہ نے اتوار کی شام کو ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ انجن میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فوم کا استعمال کیا گیا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ایک شخص نشانہ بنانے والی گاڑیوں میں سے ایک کے نیچے پھنس گیا تھا جس کو ریسکیو اہلکاروں نے نکالا جبکہ خطرناک مواد سے نمٹنے والی خصوصی ٹیم نے محفوظ طریقے سے انجن کو بند کیا اور ایندھن کے اخراج کو بھی روکا۔
اسی طرح حادثے کے بعد این ٹی ایس بی نے بھی ایکس پر بیان جاری کیا۔
جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایمیزون کی ترجمان کیلی نینٹل نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کی تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑بجلی کمپنی کیخلاف مختلف مسائل پر آل پارٹی بےمدت دھرنا*

( پریس نوٹ) بجلی کمپنی بنام mpsl کی بجلی گراہکوں پربیجا زیادتیوں کیخلاف باربار یاددہا نی کروانے کے باوجود بجلی کمپنی کی وہی بے ڈھنگی چال ۔بجلی صارفین دشمنی کیخلاف مورخہ 8.. ستمبر بروز منگل سے ایڈیشنل کلکٹر آفس ( جونی تحصیل) پر بےمدت دھرنا دیا جائیگا یادرہے یہ دھرنا مالیگاؤں شیو سیناUBT جنتادل سیکولر مالیگاؤں۔۔راشٹریہ جنتادل مالیگاؤں۔نیشنلشٹ کانگریس( شرد چندر پوار) اور دیگر تنظیموں پارٹیوں کا مشترکہ پروگرام ہوگا جن بجلی گراہکوں کو بجلی کمپنی سے کسی بھی قسم کی شکایت ہو۔نئے میٹر سے شکایت ہو ایسے تمام بجلی صارفین دھرنےمیں شریک ہوکر اپنی اپنی شکایت درج کرواکر مسلئے کو حل کروائیں اس طرح کی گذارش عبدالخالق صدیقی۔سلیم رضوی۔محمد شریف محمد فاروق فردوسی۔عبدالغفار عبدالسٹار عبدالوہاب شیخ۔عبدالودود سالکی اشرفی۔نے کی ہے









*🛑ڈاکٹر خلیل احمد انصاری کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ* 
*مالیگائوں ، ۵؍ ستمبر ، (عبدالحلیم صدیقی )*
 آج ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء بروز سنیچر کو دوپہر۲ بجے کے شمار میں مالیگائوں کی عظیم عبقری شخصیت ڈاکٹر خلیل احمد انصاری اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے(انا للہ وانا الیہ راجعون ) 
 انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً 98 برس تھی ۔ گذشتہ ایک سال سے موصوف صاحبِ فراش تھے ۔ان کے پوتوں میں ڈاکٹر شحیم اور معاذ احمد اور بہو(ڈاکٹر مقصود خلیل احمد کی اہلیہ) نے ڈاکٹر صاحب کی تیمار داری میں کوئی کسر نہ رکھی تھی ۔ لیکن ان کے سر سے یہ شجر سایہ دار ہمیشہ کیلئے اٹھ گیا۔ آج ہی مغرب کے بعد بڑا قبرستان میں تدفین طئے پائی ہے ۔
 ڈاکٹر خلیل احمد انصاری کی رحلت سے ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے ۔ ان کی خدمات نہ صرف طبابت میں جراحت میں معروف تھی بلکہ ڈاکٹر موصوف کی خدمات کے نقوش تعلیمی ، سماجی ، سیاسی و صنعتی و امداد باہمی شعبوں میں بھی اظہر من الشمس ہیں ۔ اللہ مرحوم کو غریق رحمت کرے ، کس بلند پائے کا انسان تھا ۔ وہ اسکالر بھی تھےمفکراور دانشور بھی ، ماہر تعلیم اور ماہر علاج و معالجہ بھی ۔ یقیناً ڈاکٹر خلیل احمد انصاری جیسی عظیم شخصیات صدیوں میں پید اہوا کرتی ہیں ۔ 
 آپ کی پیدائش اسلام پورہ مالیگائوں کے ایک بنکر گھرانے میں ۳ جنوری ۱۹۲۹ کو ہوئی ۔ آپ کے والد قاری محمد حسن قاسمی بیت العلوم سے فارغ تھے۔ ان کا شمار دارالعلوم دیوبند کے اولین مقامی فارغین میں ہوتا ہے ۔ وہ مولوی محمد عثمان ، مولاناعبدالحمید نعمانی کے ہم عصر تھے ۔ڈاکٹر خلیل کی نانی زینب بنت کمال مالیگائوں میونسپلٹی کی پہلی خاتون کونسلر تھیں(۱۹۳۹ سے ۱۹۵۰ -۳ ٹرم)  ڈاکٹر خلیل کے نانا کمال جئن 1921 کی خلافت تحریک میں2سال کی جیل کاٹے ہوئے تھے(آرتھر روڈ جیل ممبئی)۔ ایسے علمی ، صنعتی ، سماجی گھرانے کا چشم چراغ تھے ڈاکٹر خلیل ۔
 1946 میں اینگلو اُردو ہائی اسکول سے ساتویں فائنل پاس کرنے کے بعد آپ نے ممبئی کے اسمعیل یوسف کالج کا رُخ کیا ۔ 1949 میں جے جے اسپتال ممبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا اور MBBSکی ڈگری کے بعد ڈپلومہ ان پبلک ہیلتھ کی ڈگری حاصل کی ۔ 1955 میں مالیگائوں آتے ہی میڈیکل آفیسر اور اس کے بعد میونسپلٹی کے ہیلتھ آفیسر بنائے گئے ۔
 1955 سے اپنا ذاتی دواخانہ بھی نیاپورہ میں شروع کردیا ۔ اس وقت تک مالیگائوں میں صرف 3 مسلم ڈاکٹر پریکٹس کرتے تھے ۔
(۱)ڈاکٹر شیخ سلیم (۲) ڈاکٹر رحمانی (۳) ڈاکٹر محمود 
آپ کی تشخیص اور علاج و آپریشن کی مہارت نے آپ کو بے حد مقبول و محترم بنا یا۔ 1955 سے 2018 تک مسلسل 63 سال وہ اپنے دواخانہ مشاورت چوک میں پابندی سے بیٹھتے رہے ۔ اور علاج و معالجہ کے ساتھ چھوٹے موٹے آپریشن بھی خوب کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو درد مند دل اور دست شفا سے نوزا تھا ۔ 
 مالیگائوں ہائی اسکول جب 1956 میں شروع ہوا تو آپ اسی تعلیمی کاررواں کی صف اول میں شامل تھے ۔ انجمن معین الطلباء کے قدیم ممبر تھے ۔ آپ نے ہی مالیگائوں کا سب سے پہلا KGاسکول بنام تربیتی مرکز 1963 میں (دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڈ میں ) شروع میں کیا تھا ۔ 1965 سے 1978 تک آپ انڈسٹریل سوسائٹی کے ڈائریکٹر اور چیئرمن بھی رہے ۔
1973 میں جنتا بینک قائم کی،1970 سے اسپننگ مل کے قیام کی کوششیں شروع کیں اور بالآخر 1980 میں ہندوستان کے مسلم بنکروں کا پہلا کو آپریٹیو اسپننگ مل شروع ہوا تو اس کےھ قائدین ہارون انصاری اور شبیر سیٹھ نے بجا طور پر اعتراف کیا کہ روز اول سے اسپننفگ مل کے قیام کی کاغذی دستاویزی و قانونی کوششیں ڈاکٹر خلیل نے ہی کیں ۔
 آپ کی تعلیمی کاوشوں میں بچوں کے باغ کا بھی ذکر آتا ہے جو نور اسپتال کے پاس شروع ہوا تھا ۔ یہ بھی ایک KGاسکول تھا ۔ جے اے ٹی کیمپس شروع کرانے میں ہارون انصاری کے شانہ بشانہ رہے ۔ اور اپنے صدر بلدیہ کے دور میں جے اے ٹی کیمپس کیلئے موجودہ جگہ میونسپلٹی سے منظور کروا کرد ی ۔
 آپ کا سیاسی سفر بھی نہایت شاندار رہا ۔ ان دنوں مالیگائوں میں صرف دو پارٹیوں کا راج تھا ۔ نہال، احمد کی سوشلسٹ پارٹی اور ہارون انصاری و شبیر سیٹھ کی کانگریس پارٹی ۔ ڈاکٹر خلیل نے پہلی بار تھرڈ فرنٹ اور تیسرا محاذ کا تصور دیا ۔ اور عوامی محاذ کے نام سے الیکشن لڑ کر میونسپلٹی کی 42 میں سے 18 سیٹ جیت کر صدر بلدیہ چنے گئے ۔ ایک سال کے اپنے صدارتی دور میں آپ نے ان گنت معیاری و یادگار تعمیری کارنامے انجام دیئے ۔ قدوائی روڈ کی قدیم شہیدوں کی ایدگار عزیز کلو کرکٹ ، کبڈی اسٹیڈیم کیلئے قطعہ اراضی کی خریدی ۔ جے اے ٹی کیمپس کو جگہ دینا اور پہلی بار گائوں میں سیمنٹ کانکریٹ سڑکوں کی تعمیر کا آغاز اس کے ساتھ انھو ں نے ہی مالیگائوں میں فلٹر پلانٹ کا تصو ر دیا ۔ او راس کیلئے کاغذی کوششوں کا آغاز کیا ۔ چونکہ ان کی معیاد صدارت قلیل تھی ۔ اس لئے فلٹر پلانٹ کی تعمیر و تکمیل کا سہرا عائشہ حکیم کو ملا آپ ہی کی سیاسی حکمت عملی سے 1972 میں عائشہ حکیم نے MLAالیکشن جیتا۔ آپ کے ہی دور میں امن چوک والی کھنڈیل وال اسکول کی تعمیری منظوری ہوئی ۔ 
 1977 میں آپ کی کوششوں سے پاورلوم سروس سینٹرقدوائی روڈ مرکزی حکومت کی منظوری سے شروع ہوا۔ صدر بلدیہ رہتے آپ نے جامعۃ الصالحات روڈ پر بھی ایک اسکول قائم کیا تھا ۔ 
 بحیثیت ڈاکٹر آپ نے 1965 میں مشاورت چوک میں سٹی ہاسپٹل کی بنیاد ڈالی ۔ جہاں ڈاکٹر سید بھی اپنی خدمات انجام دیتے تھے ۔ یہ مالیگائوں کا پہلا پرائیوٹ اسپتال تھا ۔آپ نے اسی کی توسیع کیلئے موجودہ نور اسپتال بلڈنگ تعمیر کی تھی ۔ لیکن بحرانی حالات میں اس عمارت کو خلیل سیٹھ کے ہاتھوں فروخت کرنا پڑا ۔ ڈاکٹر خلیل احمد انصاری اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے ۔ بیحد مصروف بھی تھے اس کے باوجود وہ دینی ملی مذہبی کاموں میں پیش پیش رہتے ۔ مولانا عبدالحمید نعمانی کی قیادت میں آپ نے 1960 سے 2000 تک کی تمام ملی تحریکات میں قائدانہ کرادار ادا کیا ۔ وہ معہد ملت کے ٹرسٹی بھی رہے ، مسلم مجلس مشاورت کے پلیٹ فارم پر بھی گئے ۔ اور جب جب پاورلوم صنعت پر پابندی اور بحرانکی کیفیت آتی حکومت کے ساتھ خط و کتابت کرتے اور نمائندہ وفد کا ایک حصہ رہے ۔ لیڈران سے آفیسران سے بات کرنے کی ذمہ دار ی ان ہی کی ہوا کرتی تھی ۔ 
 آپ نے صنعتی تحفظ کیلئے پاورلوم اونرس ایسوسی ایشن بھی قائم کی ۔ پیڈکسل Pedxilکے قیام میں ریاستی سطح پر قیادت کی ۔ 
مالیگائوں سوسائٹی آف ایجوکیشن ممبئی سے بھی مربوط رہے ۔ مالیگائوں میں بڑی بڑی شخصیات کی آمد کے وقت جیسے اندرا گاندھی، دلیپ کمار ، محمد رفیع ، جارج فرنانڈیس ، دیوی گوڑا، شنکر رائو چوہان یا بڑے بڑے علمائے کرام کی آمد پر آپ ہمیشہ صفد اول کے قائدانہ کلیدی کردا رمیں رہے اور اس شہر کی ، یہاں کے بنکروں کی ، یہاں کے مزدوروں کی ، فساد متاثرین کی ہر ممکن ہر محاذ پر مدد کرتے رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لیٹر ڈرافٹنگ کے بہترین ہنر سے آراستہ کیا تھا ۔ چنانچہ آپ نے اپنی اس صلاحیت سے بھی قوم ملت کو ہمیشہ فیض پہنچایا ۔
 آج ایسا عبقری انسان ہم سے بچھڑ گیا۔ جس نے اپنی ذات سے ہمیشہ اس شہر کو اور ملت کو فیض ہی پہنچایا ۔ اپنے اثر و رسوخ ، اپنے تعلقات ، اپنی پوسٹ اور اپنے عہدے و منصب کا کبھی ناجائز تو چھوڑیئے جائز فائدہ بھی نہ اُٹھایا۔ اقرباء پروری ، بدعنوانی ،تعصب ،کینہ کپٹ سے کوسوں دور تھے ڈاکٹر خلیل۔ 
 اب ایسی ہمہ گیر شخصیت کہاں سے لائیں گے مالیگائوں والے ۔ یغفر اللہ لنا ولکم۔۔۔۔

حیات خلیل بہ یک نظر
نام : ڈاکٹر خلیل احمد قاری محمد حسن رمضان 
پیدائش :  ۳ جنوری ۱۹۲۹
وفات : ۵ ستمبر ۲۰۲۶
MBBS: ۱۹۵۴ 
میڈیکل و ہیلتھ آفیسر : ۱۹۵۵ سے ۱۹۷۳
صدر بلدیہ :  ۱۹۶۷(ایک سال) 
بانی و شریک بانی : مالیگائوں ہائی اسکول 
  تربیتی مرکز KGاسکول 
  پاورلوم اونرس ایسوسی ایشن 
  جنتا بینک :۱۹۷۳ سے ۱۹۷۹
  اسپننگ مل : ۱۹۷۰ سے ۱۹۸۵ 
  انڈسٹریل سوسائٹی : ۱۹۶۵سے ۱۹۷۸
اہم کارنامہ: عزیز کلو اسٹیڈیم کا میدان میونسپلٹی کیلئے خریدا









*🛑تم پوچھتے ہو مجھ سے میں استاد ہوں کیا ہوں؟*
*"ٹیچر ہوں سرِ راہ کھڑا راہ نما ہوں"*
جو چھوٹ گیا، ٹھیلے پہ اور ناند پہ پہنچا
میں نے ہی اُٹھایا تو کوئی چاند پہ پہنچا

جو سیکھے نہیں مجھ سے وہ برباد ہوئے ہیں
جو سیکھ گئے ہند کے آزاد ہوئے ہیں

دنیا کو جہاں گیری کا رستہ ہے دکھایا 
مجھ جیسے ارسطو نے سکندر کو بنایا

جو شخص مِرے راستے پہ آگے بڑھا ہے
وہ اپنے جہاں کے لیے اے پی جے بنا ہے

جو لوگ نہیں پڑھ سکے گمنام ہیں وہ سب
نیوٹن نے پڑھا مجھ سے "کشش" ڈھونڈ سکا تب

کرکٹ کا کپل اور سچن کس نے بنایا؟ 
رونالڈو، میسی کو بھلا کون ہے لایا؟ 

میں نے ہی تو تھا چارلس بیبِج کو پڑھایا
میں نے ہی تو بل گیٹس کو بل گیٹس بنایا 

نوبل جسے دو بار ملے دوستو وہ ہی
میں نے ہی پڑھایا تو بنی میری کیوی 

سلطانہ ہو رضیہ سی یا پھر رانی لکشمی
میرے ہی توسط سے ہے شہرت انھیں ملی 

شاگرد ہو گر شافعی، مالک ہو جو استاذ
کاغذ کو پلٹنے کی نہیں آئے گی آواز

اور قولِ علیؓ پڑھ کے یہ شاگرد کہے گا
استاد مجھے بیچنے کا حق بھی ہے رکھتا

استاد ہوں آجاؤ سکھا دوں میں تمہیں کچھ
خود کچھ نہ بنوں آؤ بنا دوں میں تمہیں کچھ

آجاؤ سکھا دوں تمہیں جینے کے قرینے
آجاؤ ترقی کے چڑھا دیتا ہوں زینے

آجاؤ ہنر ایسے سکھا دیتا ہوں تم کو
دنیا کرے سیلیوٹ جہاں دیکھے یہ تم کو

تم شکر کرو ساتھ تمہارے میں کھڑا ہوں
"ٹیچر ہوں سرِ راہ کھڑا راہ نما ہوں" 

بدلے میں خزانوں کو میں کب مانگ رہا ہوں
استاد ہوں طاہرؔ میں ادب مانگ رہا ہوں

Friday, 4 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑مصر میں پیش آیا المناک حادثہ، بس پلٹنے سے 16 افراد جاں بحق، 28 زخمی*
قاہرہ: مصر کے جنوبی سینائی صوبے میں بدھ کے روز ایک بس پلٹنے کے حادثے میں 16 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوگئے۔ مقامی میڈیا نے مصر کی وزارت صحت و آبادی کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ ’ایجپٹ ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ السعدہ علاقے سے پہلے اس وقت پیش آیا جب بس دہاب-نویبعہ روٹ سے نویبعہ کی جانب جا رہی تھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی 20 ایمبولینسیں موقع پر روانہ کی گئیں۔ ایمبولینس عملے نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کیا۔

مصر کے وزیر صحت خالد عبدالغفار نے حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ وہیں، وزیر سماجی یکجہتی مایا مرسی نے حادثے سے متاثرہ افراد کے لیے فوری امدادی سامان اور ضروری مدد فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

مصر میں سڑک حادثات کا سلسلہ تشویشناک

مصر میں سڑک حادثات کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ اگست میں اسماعیلیہ صوبے میں مزدوروں کو لے جانے والی دو گاڑیوں کے درمیان تصادم میں 18 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے تھے۔ ’اہرام آن لائن‘ کے مطابق، یہ حادثہ الشباب بجلی گھر کے قریب الدواویس لنک روڈ پر پیش آیا تھا۔ حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز اور ایمبولینس ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں۔ زخمیوں کو علاج کے لیے قصاصین سینٹرل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کردی تھیں۔

2025 میں 5,829 افراد سڑک حادثات میں ہلاک

مصر میں سڑکوں کی حفاظت ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔ مرکزی ادارہ برائے عوامی نقل و حرکت و اعداد و شمار (CAPMAS) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کی تعداد 10.8 فیصد بڑھ کر 5,829 ہوگئی۔ اسی مدت کے دوران سڑک حادثات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 10.7 فیصد اضافے کے ساتھ 84,553 تک پہنچ گئی۔

15 سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی زیادہ

اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں 15 سال سے کم عمر بچوں میں سڑک حادثات کے باعث سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اس عمر کے 1,580 بچوں کی موت ہوئی، جبکہ 29,101 بچے زخمی ہوئے۔ جنوبی سینائی میں پیش آنے والے تازہ حادثے نے مصر میں سڑکوں کی حفاظت، ٹریفک قوانین کی پابندی اور حادثات کی روک تھام کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑چچا چھپن.... ڈاکٹر مبین نذیر*
آپ نے نہیں تو آپ کے ممی پاپا نے چچا چھکن کے کارنامے ضرور پڑھے اور سنے ہوں گے ۔ کبھی موبائل سے فرصت ملے تو ان کے کارنامے ضرور سننا ۔ چچا چھکن اب رہے نہیں لیکن ان کی وراثت ان کے قابل بھتیجے چچا چھپن سنبھالے ہوئے ہیں ۔چچا چھکن کے بعد اگر کسی نے خاندان کی عزت بچائی ہے تو وہ ہمارے چچا چھپن ہیں ۔
چچا چھکن کی طرح چچا چھپن کا اصل نام بھی ان کے کارناموں کے نیچے اتنا دب دیا گیا کہ خود انھیں بھی اپنا نام یاد نہیں رہتا ۔ وہ پانچ بہنوں اور چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ ایک مرتبہ اسکول میں خاندانی معلومات کا فارم بھر کر لانے کے لیے دیا گیا تو چچا پانچ کے آگے چھ لکھ کر لے آئے ۔ ٹیچر نے چھپن کا عدد دیکھا تو حیرت سے پوچھا کہ
چھپن بھائی بہن ؟
نہیں، پانچ بہن اور چھ بھائی...
اتنا کہنا تھا کہ پوری کلاس قہقہوں سے گونج اٹھی ۔ اسی دن سے ان کا نام چھپن پڑ گیا ۔ کلاس تو کلاس، محلے میں بھی وہ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ چونکہ چچا چھکن کے بھتیجے تھے، اس لیے اپنے چچا کے ہم وزن نام کو خوش دلی سے قبول کر لیا ۔ کچھ اور بڑے ہوئے تو چچا چھپن کہلانے لگے اور ہر معاملے میں چھپن کو مقدم کرکے دکھا دیا ۔
چچا نے بہت کوشش کی کہ نکاح بھی چھپن تاریخ کو ہی کریں اور کسی چھپن سالہ دوشیزہ سے کریں مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا تو پانچ جون کو چچی کو ہی قبول کر لیا ۔بائک خریدی تو اس لکی نمبر کے لیے زائد پیسے ادا کیے ۔ موبائل نمبر بھی ایسا پسند کیا جو موبائل نمبر کم اور چھپن کی سیریز زیادہ معلوم ہوتا تھا ۔ ورزش شروع کی تاکہ سینہ چھپن انچ کا ہوسکے ۔ سینہ تو چھپن انچ کا نہیں ہوسکا البتہ وزن کم ہوکر چھپن کلو رہ گیا ۔وزن میں کمی بیشی نہ ہو اس لیے چچا ترازو لے آئے اور صبح شام وزن چیک کرنے لگے۔
جس دن وزن کم یا زیادہ ہوتا اس دن چچا کا پارہ چڑھ جاتا اور چچی سمیت بچوں کی شامت آجاتی ۔ کبھی وزن بڑھانے کے لئے ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں تو کبھی وزن کم کرنے کے لیے حکیم صاحب کے یہاں چکر لگارہے ہیں ۔ وزن کے چکر میں کمزوری بڑھنے لگی تو مزاج میں چڑ چڑا پن آگیا ۔ معمولی باتوں پر ان کا پارہ چھپن ڈگری اوپر چلا جاتا تو دوسرے ہی پل اتنا ہی نیچے جانے کے لیے بے تاب ہوجاتا ۔ مزاج اور یادداشت کے معاملے میں وہ چچا چھکن سے دو قدم آگے تھے ۔
اپنے جڑواں بچوں جمن اور اچھن کی بائک لینے کے لیے گھر سے نکلے اور دونوں کو لے کر سائیکل کی دکان پر پہنچ گئے ۔ بچوں کے یاد دلانے پر شوروم پہنچے تو بچوں کو نئی بائک دلادی لیکن گاڑی کے رجسٹریشن کے لیے خود تشریف لے گئے اور چھپن چھپن نمبر کے لیے زائد رقم ادا کی ۔
جب بچوں نے وہی گھسا پٹا نمبر دیکھا تو ناک بھوں سکوڑے ۔کیوں کہ کالج میں دوست انھیں اس خاص نمبر کے اہتمام کی وجہ سے تنگ کرتے تھے ۔ چچا چھپن نے اعلان کر دیا کہ گاڑی کا نمبرپسند نہیں ہے تو پیدل ہی کالج جائیں ۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق جمن اور اچھن نے بائک تو لے لی لیکن نمبر پلیٹ اس طرح بنوائی کہ چھپن بڑے غور سے دیکھنے پر دکھائی دیتا تھا ۔
چچا کو ترکہ ملا تو چچا چھپن نے پلاٹ خریدنے کی ٹھانی ۔ سارا کنبہ پلاٹ دیکھنے گیا مگر چچا کی نگاہ میں پلاٹ کے محل وقوع سے زیادہ اہمیت اس کے نمبر کی تھی۔ چچی اور بچوں کو لب ِ سڑک کا پلاٹ پسند آیا تو چچا نے نشیب میں واقع اپنے پسندیدہ نمبر کا پلاٹ پسند کیا ۔ چچی کا پسند فرمودہ پلاٹ کارنر کا پلاٹ تھا ۔لیکن چھپن کے کرشماتی نمبر کی وجہ سے چچا نے آخری پلاٹ کا سودا کرلیا ۔ جہاں ہر وقت بارش کا پانی اور گندگی جمع رہتی تھی ۔ چچا نے اس کی یہ فضیلت بیان کی کہ گندگی اور کیچڑ کی وجہ سے کوئی اس پلاٹ پر ناجائز قبضہ نہیں کرسکے گا اور نہ ہی کوئی ایسا پلاٹ خریدے گا اور ہم اسٹیٹ بروکرس کی دھوکہ دہی سے محفوظ رہیں گے ۔ چچا کی اس منطق پر اسٹیٹ بروکر جو اس پلاٹ کو دکھا رہا تھا ، صدمے کی وجہ سے گرتے گرتے بچا اور گھر والے مسکرا کر رہ گئے ۔ چچی کے دماغ پر بھی چھپن کا عدد کچھ اس طرح سے سوار تھا کہ وہ کبھی کبھی بے خیالی میں اچھن کے ابا کی بجائے چھپن کے ابا پکار اٹھتی تھیں اور چچا بجائے ناراض ہونے کے کھل اٹھتے تھے ۔ البتہ چچی چچا کے اس محبوب نمبر کو اپنی سوتن سمجھتی تھیں ۔ چچا کی چھپن دوستی پر کڑھ کر کہہ اٹھتیں، "آپ کو مجھ سے زیادہ تو یہ چھپن عزیز ہے۔
چچا مسکرا کر کہتے ، نہیں بیگم، ایسا نہیں ہے ۔ تم میری محبت ہو اور چھپن میری عقیدت اور چچی شرما کر رہ جاتیں ۔
جمن اور اچھن میں سے جس کو امتحان میں چھپن مارکس ملتے تھے چچا اسے زیادہ انعام دیتے تھے ۔ دونوں بھائیوں نے چچا سے پیسے اینٹھنے کا یہ طریقہ دھونڈ نکالا کہ جو چیز پسند آجاتی، اس کی قیمت چھپن روپے بتاتے اور چچا موم ہوجاتے ۔ البتہ چچا کا ساری زندگی یہ معمول رہا کہ مغرب کی اذان کے بعد کسی کو ایک روپیہ بھی نہیں دیتے تھے ۔ بچے بھی مغرب سے پہلے ہی وصولی کر لیتے تھے ۔
چچا چھپن کے کارناموں کی تعداد بھی چھپن ہے ۔ چھپن کارناموں کے بعد چچا نے کارناموں سے توبہ کرلی تاکہ یہ نمبر کہیں کھو نہ جائے ۔اگر ہم چچا چھپن کے چھپن کارناموں کو گنوانے بیٹھیں تو چھپن دفتر درکار ہوں گے ۔ اگر چچا چھکن زندہ ہوتے تو یقیناً اپنے بھتیجے کے کارناموں کو دیکھ کر یہی کہتے کہ تم نے نہ صرف ہمارے نام بلکہ کام کی بھی لاج رکھ لی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭







*🛑بہتر بلڈ پریشر کنٹرول کے لیے صرف نمک کم نہ کریں، پوٹاشیم بھی بڑھائیں*
ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے عام طور پر نمک یعنی سوڈیم کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق کے مطابق خوراک میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانا بھی بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیکل نیوز ٹوڈے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سوڈیم کے بجائے پوٹاشیم اور سوڈیم کا تناسب دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا زیادہ بہتر اشارہ ہو سکتا ہے۔
دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلڈ پریشر کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کے لیے سوڈیم کم کرنے کے ساتھ پوٹاشیم بڑھانا چاہیے۔
زیادہ تر امریکی روزانہ تقریباً 3,400 ملی گرام سوڈیم استعمال کرتے ہیں، جو تجویز کردہ 2,300 ملی گرام سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ اس کا تقریباً 70 فیصد حصہ ریستورانوں اور پراسیس شدہ غذاؤں سے آتا ہے۔ دوسری جانب 98 فیصد سے زیادہ امریکی بالغ افراد روزانہ پوٹاشیم کی تجویز کردہ مقدار بھی پوری نہیں کرتے۔
پوٹاشیم بلڈ پریشر کے لیے کیوں اہم ہے؟
حالیہ تحقیق کے مطابق زیادہ سوڈیم کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جبکہ پوٹاشیم جسم میں سوڈیم کے اثرات کو متوازن کرنے، اضافی سوڈیم خارج کرنے اور خون کی شریانوں کو پُرسکون رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ماہر غذائیت جین ہرنانڈیز کے مطابق 2025 کی ایک تحقیق کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد اگر روزانہ تقریباً 2,000 ملی گرام اضافی پوٹاشیم لیں تو سسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 5 mmHg اور ڈائسٹولک تقریباً 3 mmHg کم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف پوٹاشیم بڑھانا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن بلڈ پریشر کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ پوٹاشیم میں اضافہ اور کم سوڈیم والی خوراک دونوں کو اپنانا ہے۔ تاہم صرف غذائی تبدیلیوں کو مکمل علاج نہیں سمجھنا چاہیے؛ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اور دیگر اقدامات بھی ضروری ہیں۔
اثر کتنی جلد ظاہر ہوتا ہے؟
پوٹاشیم بڑھانے کا اثر فوری طور پر ظاہر ہونا ضروری نہیں۔ بعض افراد میں ایک ہفتے کے اندر تبدیلی آ سکتی ہے، جبکہ بعض کو زیادہ وقت لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ادویات، عمر اور جینیاتی عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
شروع میں سوڈیم کم کرنے سے جسم میں اضافی سیال کی مقدار کم ہوتی ہے، جس سے بلڈ پریشر میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے بعد پوٹاشیم خون کی شریانوں کو پُرسکون کرنے میں مدد دیتا ہے اور ایک سے دو ہفتوں کے دوران مزید بہتری آ سکتی ہے۔ اس دوران بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے نگرانی ضروری ہے۔
روزانہ کتنا سوڈیم اور پوٹاشیم؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 2,300 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم نہیں لینا چاہیے، جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں سمیت بیشتر بالغ افراد کے لیے تقریباً 1,500 ملی گرام کا ہدف زیادہ بہتر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف اوپر سے ڈالا جانے والا نمک نہیں بلکہ ریستورانوں کے کھانے، ڈبہ بند اور منجمد غذاؤں، پیک بریڈ اور سنیکس میں موجود چھپا ہوا سوڈیم بھی ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے روزانہ 3,500 سے 5,000 ملی گرام پوٹاشیم حاصل کرنے کا ہدف تجویز کرتی ہے۔
پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں
ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں اور دالیں پوٹاشیم کے اچھے ذرائع ہیں۔ کیلے کے علاوہ درج ذیل غذائیں بھی پوٹاشیم سے بھرپور ہیں:
چھلکے سمیت درمیانے سائز کا بیک کیا ہوا آلو: 919 ملی گرام
تازہ بیک کیا ہوا سالمن: 763 ملی گرام
آدھا کپ پکی ہوئی پالک: 591 ملی گرام
ایک کپ خربوزہ: 417 ملی گرام
8 اونس دودھ: 388 ملی گرام
آدھا کپ پکی ہوئی پنٹو بینز: 373 ملی گرام
ماہرین قدرتی غذاؤں کے ذریعے پوٹاشیم حاصل کرنے کو سپلیمنٹس پر ترجیح دیتے ہیں۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
گردوں کے دائمی مرض، دل کی کمزوری یا خون میں پہلے ہی زیادہ پوٹاشیم رکھنے والے افراد کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر پوٹاشیم کی مقدار نہیں بڑھانی چاہیے۔









*🛑تحریکِ تحفظ دستور و شریعت: انصاف کی آئینی بالادستی، مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ملک گیر عوامی تحریک*
نئی دہلی: ہندوستان کا دستور تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ، عزت و وقار اور قانون کے مساوی نفاذ کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے حالات مسلسل پیدا ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ملک کے کمزور ومحروم طبقات بالخصوص مسلمان، مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر شدید دباؤ، عدم تحفظ اور امتیازی رویوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ہجومی تشدد، ماورائے قانون بلڈوزر کارروائیاں، مساجد، مدارس اور درگاہوں کو نشانہ بنانا، اوقافی املاک اور قبرستانوں پر ناجائز قبضے، مسلم نوجوانوں کی بے بنیاد مقدمات کے تحت بے جا گرفتاریاں، مذہبی آزادی میں مداخلت، یو سی سی کے ذریعہ مسلم پرسنل لا کو بے اثر بنانے کی کوششیں، وندے ماترم کے لزوم کے ذریعہ اقلیتوں کے عقائد پر ضرب لگانے کی کوششیں، نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے چھیڑ چھاڑ اور تعلیمی اداروں میں ایسے اقدامات جن سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔

ہندوستان کا آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثہ

ان سب اقدامات نے نہ صرف ملک کی ایک بڑی آبادی میں احساس عدم تحفظ کو گہرا کیا ہے بلکہ دستور ہند، قانون کی حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ صورت حال محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثے کا معاملہ ہے۔
ان ہی حالات کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملک کے انصاف پسند، جمہوریت پسند ، امن پسند اور دستور پر یقین رکھنے والے تمام طبقات، مذہبی و سماجی تنظیموں، دانشوروں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے اشتراک سے تحریک تحفظ دستور و شریعت کے عنوان سے ایک ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز کر رہا ہے۔ اس تحریک کا مقصد دستور کی بالا دستی ، قانون کی حکمرانی ، عدل و انصاف، مذہبی آزادی ، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ تحریک مجلس عمل کے ذریعے درج ذیل منصوبے کے مطابق چلائی جائے گی۔
یو سی سی کے نفاذ اور وندے ماترم کے لزوم کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا۔
ظلم و نا انصافی کے متاثرین کو قانونی، سماجی اور عوامی تعاون فراہم کرنا۔
مسلمانوں کی جان و مال ، مذہبی آزادی اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا۔
انصاف پسند افراد، تنظیموں اور سول سوسائٹی کو ایک مشتر کہ قومی پلیٹ فارم پر متحد کرنا۔
نفرت ، فرقہ واریت اور تشدد کے مقابلے میں امن، اخوت، محبت اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنا۔
پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی تحریک

یہ تحریک مکمل طور پر آئینی، جمہوری، پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی۔ تحریک کا ہر پروگرام اس انداز سے ترتیب دیا جائے گا کہ کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی ، تشدد یا امن و امان میں خلل پیدا نہ ہو، بلکہ ملک میں امن، بھائی چارے، مکالمے اور دستور پسندی کو فروغ ملے۔
1 - عوامی اجتماعات اور احتجاج

ملک کے مختلف بڑے شہروں میں آئینی و پُرامن عوامی اجتماعات اور احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن سے ممتاز علماء مختلف مذاہب کے رہنما، دانشور، سماجی و سیاسی شخصیات خطاب کریں گی۔

2۔ وہائٹ پیپر کی اشاعت (White Paper)

مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات، آئینی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر مشتمل ایک جامع وہائٹ پیپر تیار کیا جائے گا، جسے میڈیا ، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں ، عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا۔

3- قانونی رہنما کتابچہ (Legal Booklet)

غیر قانونی انہدام، بلڈوزر کارروائیوں، اوقافی املاک ، قبرستانوں، مساجد اور مدارس کے تحفظ سے متعلق قانونی حقوق، عدالتی رہنمائی اور عملی اقدامات پر مشتمل ایک جامع قانونی رہنما کتابچہ شائع کیا جائے گا۔

4 ہجومی تشدد پر جامع اعلامیہ (Mob Lynching)

ہجومی تشدد کے مسئلے پر ایک جامع اعلامیہ جاری کیا جائے گا ، جس میں قانون کی بالا دستی ، ریاست و انتظامیہ کی ذمہ داریاں، متاثرین کے قانونی حقوق اور ملکی قوانین کے مطابق جان و مال کے تحفظ کے حق کو واضح کیا جائے گا۔

5۔ چارٹر آف ڈیمانڈ Charter of Demands

ہر ریاست میں گورنر اور ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند کو ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا، جس میں آئینی حقوق کے تحفظ ، نفرت انگیز جرائم کے خاتمے، مذہبی آزادی، غیر قانونی انہدام کی روک تھام، اوقافی املاک اور مذہبی مقامات کے تحفظ اور قانون کی مساوی عملداری سے متعلق مطالبات شامل ہوں گے۔

تحریک کے ہر مرحلے پر پریس کانفرنسوں ، میڈیا بریفنگ ، ویڈیوڈا کومنٹیشن ، سوشل میڈیا مہمات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس پر مربوط ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی۔

7۔ دہلی میں عظیم الشان قومی اجتماع

تحریک کے ایک اہم مرحلے پر نئی دہلی میں ایک بڑا عوامی اجتماع و احتجاج منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک بھر سے مختلف طبقات ، مذاہب اور مکاتب فکر کے نمائندوں کو شریک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی اجتماع میں تحریک کے آئندہ مرحلے کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
ہماری اپیل

تحریک برائے تحفظ ملک وملت کسی ایک طبقے یا برادری کی تحریک نہیں، بلکہ ہندوستان کے دستور ، جمہوریت کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، قومی یکجہتی اور امن واخوت کے تحفظ کی مشترکہ قومی جدو جہد ہے۔

سول سوسائٹی کے ہر فرد کو قومی تحریک میں شریک ہونے کی دعوت

ہمیں یقین ہے کہ انصاف، محبت، مکالمہ، باہمی احترام اور آئینی جدو جہد ہی ہندوستان کے روشن ، مضبوط اور پُرامن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہیں۔ اسی یقین کے ساتھ ہم ملک کے ہر انصاف پسند ، جمہوریت پسند اور امن پسند شہری ، ہر سماجی و مذہبی تنظیم اور سول سوسائٹی کے ہر ذمہ دار فرد کو اس قومی تحریک میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

اس پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے حضرات کے نام اس طرح ہیں:

نام عہدہ
جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند و نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد علی محسن تقوی نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا سید محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند
مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
جناب عارف مسعود ایم ایل اے رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا محمد ابو طالب رحمانی رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑دہلی میں موسلادھار بارش سے آئی جی آئی ایئرپورٹ بنا سوئمنگ پول، جگہ جگہ بھرا پانی، 3 پروازیں جے پور ڈائیورٹ*
نئی دہلی: جمعہ کو دہلی میں ہوئی موسلادھار بارش کے بعد اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کئی مقامات پر پانی جمع ہوگیا۔ ایئرپورٹ کے ٹرمینل اور احاطے میں پانی بھرنے سے مسافروں اور وہاں آنے جانے والے لوگوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ خراب موسم اور ایئرپورٹ کے حالات کا اثر فضائی آپریشن پر بھی پڑا، جس کے باعث دہلی میں لینڈ کرنے والی تین پروازوں کو جے پور ڈائیورٹ کرنا پڑا۔

دہلی میں 3 پروازیں نہیں کر سکیں لینڈنگ

موصولہ اطلاعات کے مطابق دہلی ایئرپورٹ پر انڈیگو کی دو اور ایئر انڈیا کی ایک پرواز لینڈ نہیں کر سکی۔ ان میں بنگلورو سے دہلی آنے والی انڈیگو کی پرواز 6E-869، پورنیہ سے دہلی آنے والی پرواز 6E-6560 اور سری نگر سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI-1818 شامل ہیں۔ دہلی میں لینڈنگ ممکن نہ ہونے کے بعد تینوں پروازوں کو جے پور ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں تمام طیاروں نے لینڈنگ کی۔ پروازوں کے ڈائیورژن کی وجہ سے مسافروں کو بھی اضافی انتظار کرنا پڑا۔بتایا گیا ہے کہ دہلی ایئرپورٹ کے حالات معمول پر آنے اور دہلی ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے کلیئرنس ملنے کے بعد تینوں پروازوں کو دوبارہ دہلی کے لیے روانہ کیا جائے گا۔ تیز بارش کے باعث دہلی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن متاثر ہوا ہے۔

مسافر نے کہا، ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا

ایئرپورٹ پر پانی جمع ہونے کی صورتحال کے حوالے سے ایک مسافر مانسی نے بتایا کہ انہوں نے اس سے پہلے ایئرپورٹ پر ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق ایئرپورٹ پر کافی زیادہ پانی جمع ہے اور وہ تقریباً آدھے گھنٹے سے وہیں کھڑی ہیں۔ مسافر نے بتایا کہ وہ پانی کی سطح کم ہونے کا انتظار کر رہی ہیں، تاکہ ارائیول گیٹ کی جانب جا سکیں۔ بارش کے باعث ایئرپورٹ پر پیدا ہونے والی اس صورتحال کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں مختلف مقامات پر پانی جمع دکھائی دے رہا ہے۔

بتا دیں کہ جمعہ کی دوپہر دہلی میں ہوئی موسلا دھار بارش کے بعد چند ہی گھنٹوں میں ایئرپورٹ کے ٹرمینل-3 پر پانی بھر گیا۔ پانی مسافروں کے بیٹھنے کی جگہ تک پہنچ گیا۔ ایئرپورٹ کا عملہ وائپر اور دیگر ذرائع کی مدد سے پانی نکالنے میں مصروف ہے۔ جس حصے میں پانی جمع ہوا ہے، اس کے نیچے زیرِ زمین میٹرو بھی چلتی ہے، اس لیے پانی کو نیچے جانے سے روکنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

دہلی میں بارش کا ریڈ الرٹ

ایئرپورٹ کے ایک ملازم نے بتایا کہ انہوں نے اس سے پہلے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔ عام طور پر بارش کے بعد پانی نکل جاتا تھا، لیکن تقریباً ایک گھنٹے کی بارش میں ہی حالات خراب ہوگئے۔ جمعہ کو دہلی-این سی آر کے کئی علاقوں میں موسلا دھار بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے دہلی کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ گڑگاؤں میں بارش کا اورنج الرٹ ہے۔ شدید بارش کے بعد دارالحکومت کی کئی سڑکوں پر بھی پانی بھر گیا، جس کے باعث لوگوں کو آمدورفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔








*🛑’غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام‘، ایرانی چیف جسٹس نے ان ممالک پر لگایا الزام*
ایران کے چیف جسٹس آیت اللہ غلام حسین محسنی اژئی (Ayatollah Gholam-Hossein Mohseni-Ejei) نے غزہ میں جاری تشدد کے معاملے پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کی جان گئی، لاکھوں افراد مارے گئے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ ایرانی چیف جسٹس نے بین الاقوامی تنظیموں اور دنیا کے ان ممالک پر بھی سوال اٹھایا جو ان واقعات کے دوران خاموش رہے۔

خاموشی نے حملہ آور طاقتوں کا حوصلہ بڑھایا: چیف جسٹس

محسنی اژئی نے کہا کہ اگر بین الاقوامی تنظیمیں اور آزادی پسند لوگ وقت رہتے غزہ میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تو شاید آج کچھ طاقتوں کو دوسرے ممالک پر غیر قانونی حملے کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ ان کے مطابق مسلسل خاموشی نے حملہ آور طاقتوں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔

’70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام ہوا‘

ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ غزہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ اس سے کئی گنا زیادہ افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’دہشت گرد قاتلوں نے غزہ میں 70,000 سے زائد خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا، لاکھوں لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ افراد کو زخمی کیا۔‘‘محسنی اژئی نے مزید کہا کہ ان واقعات کے باوجود کچھ لوگ اپنے کیے پر فخر کر رہے ہیں اور اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے ممالک سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام ممالک مل کر کام کریں اور ایک دوسرے کا تعاون کریں تو چند طاقتور ممالک اپنی من مانی نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک دن ایران، دوسرے دن افغانستان، پھر لبنان اور غزہ جیسے ممالک پر حملے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایسی طاقتوں کو وقت رہتے نہ روکا گیا تو مستقبل میں دوسرے ممالک بھی ان کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔

عالمی برادری کی خاموشی پر سوال

ایرانی چیف جسٹس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں طویل عرصے سے جاری تنازع اور انسانی بحران پر عالمی سطح پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے بیان نے ایک بار پھر غزہ میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور بین الاقوامی برادری کے کردار کو لے کر بحث تیز کر دی ہے۔









*🛑’’مجھ سے غلطی ہوئی…‘‘ ایران جنگ میں فوجیوں کی ہلاکت پر ٹرمپ کے وزیر کا بڑا اعتراف*
ایران میں جاری فوجی کارروائی کے درمیان امریکی انتظامیہ کے ایک بیان نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک (Howard Lutnick) نے ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان پر معذرت کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انٹرویو کے دوران ان سے بڑی غلطی ہوئی اور انہوں نے غلط معلومات دے دی تھیں۔ لوٹنک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں فوجی کارروائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے وقت ان سے غلطی سے غلط بات کہی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس تنازع میں امریکی فوج کے 18 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اس نقصان سے ان کا دل ٹوٹ گیا ہے اور انہیں خاندانوں کے دکھ پر بے حد افسوس ہے۔

وینزویلا مہم کی وجہ سے ہوا کنفیوژن

لوٹنک نے اپنی غلطی کی وجہ بھی بتائی۔ ان کے مطابق اس وقت ان کے ذہن میں وینزویلا میں چلایا گیا امریکی فوجی آپریشن تھا۔ اس مہم کے دوران کسی امریکی فوجی کی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے ایران سے متعلق سوال کا جواب دیتے وقت ان سے غلط تعداد بیان ہو گئی۔وزیر نے اپنے بیان میں 9/11 حملے کی 25ویں برسی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اور ملک کی خدمت کرنے والے فوجیوں کی قربانیوں کا وہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ لوٹنک نے بتایا کہ 9/11 حملے میں انہوں نے اپنے بھائی گیری، قریبی دوست ڈگ اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملے میں مارے گئے کئی دیگر جاننے والوں کو کھو دیا تھا۔

ٹرمپ کی پوسٹ کے بعد مانگی معافی

لوٹنک کا متنازع بیان بدھ کی صبح ایک انٹرویو کے دوران سامنے آیا تھا۔ ابتدا میں اس پر زیادہ بحث نہیں ہوئی، لیکن جمعرات کو یہ معاملہ تیزی سے سرخیوں میں آ گیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اس معاملے کی شدت کم کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ کی پوسٹ کے تقریباً 45 منٹ بعد لوٹنک نے عوامی طور پر معافی مانگ لی۔

پہلے بھی اٹھ چکے ہیں سوالات

ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے سے متعلق اعداد و شمار پر امریکی انتظامیہ پہلے بھی سوالات کی زد میں رہی ہے۔ جولائی میں محکمہ دفاع کی ویب سائٹ سے 4 ہلاکتوں اور درجنوں زخمیوں سے متعلق اعداد و شمار ہٹائے جانے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق میڈیا کی رپورٹنگ پر تنقید کر چکے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی* ...