*اقتدار، ریاکاری اور فحاشی کا 'مہا' گٹھ جوڑ*
*وسیم رضا خان*
*مہاراشٹر* کی سیاست اور سماجی ماحول میں پچھلے کچھ دنوں سے جو کچھ بھی رونما ہو رہا ہے، اس نے 'سنسکار' (تہذیب) اور 'ترقی' کے نعروں کو کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔ جب رکشک ہی بھکشک بن جائیں اور روحانی باباؤں کے لبادے میں چھپے درندے معصوموں کا استحصال کریں، تو معاشرے کے زوال کی رفتار کو بھانپنا مشکل نہیں رہ جاتا۔ ڈھونگی بابا اشوک کھرات کا معاملہ صرف ایک مجرمانہ واقعہ نہیں، بلکہ توہم پرستی اور استحصال کی انتہا ہے۔ 'اگھوری ودیا' اور کالے جادو کے نام پر خواتین کو ڈرانا، انہیں 'شراپ' (بددعا) کا خوف دکھا کر ان کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کرنا اور ان کرتوتوں کی فلم بندی کرنا یہ ایک سنگین جرم ہے۔ خبروں کے مطابق، سینکڑوں خواتین کی ویڈیوز کا سامنے آنا یہ بتاتا ہے کہ یہ کھیل برسوں سے اقتدار اور اثر و رسوخ کی سرپرستی میں چل رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ریاکاروں کے دربار میں بڑے بڑے سیاست دانوں کی حاضری کیوں لگتی ہے؟ جب لیڈر ایسے 'باباؤں' کے قدموں میں گرتے ہیں، تو وہ انجانے میں ہی معاشرے کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ مجرم قانون سے بالاتر ہیں۔
صرف ڈھونگی بابا ہی نہیں، بلکہ عوام کے منتخب کردہ نمائندے بھی اخلاقیات کی کسوٹی پر ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ محکمہ خوراک و ادویات کے وزیر نرہری جھروال کی حالیہ وائرل ویڈیو، جس میں وہ مبینہ طور پر ایک ٹرانس جینڈر کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں نظر آ رہے ہیں، سیاست کے گرتے ہوئے معیار کا ثبوت ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے؛ اس سے پہلے کریٹ سومیا جیسے سینئر لیڈروں کی ویڈیوز بھی عوامی بحث کا موضوع بن چکی ہیں۔ جب اقتدار کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ غیر فطری یا غیر اخلاقی کاموں میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھٹک جاتے ہیں۔ ان کی پوری توجہ عوامی خدمت کے بجائے اپنے 'عیاش' کارناموں کو چھپانے اور بلیک میلنگ سے بچنے میں لگی رہتی ہے۔
ان گندے کرتوتوں کا نتیجہ نہ صرف حال پر، بلکہ آنے والی نسل پر بھی بہت گہرا ہوگا۔ اگر مجرم اور بدکردار لوگ حکومت چلائیں گے، تو نوجوان نسل کے دلوں سے قانون اور اخلاقیات کا خوف اور احترام ختم ہو جائے گا۔ جو لیڈر اپنی راتوں کو رنگین کرنے میں مصروف ہیں، وہ ریاست کی صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کیسے حل کریں گے؟ جب حکومتیں اپنے 'داغی' وزیروں یا حمایت یافتہ باباؤں کا دفاع کرتی ہیں، تو وہ مجرموں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ اقتدار کی سرپرستی ہی سب سے بڑی ڈھال ہے۔
اب خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے، جمہوریت میں عوام ہی سب سے طاقتور ہیں۔ اگر عوام کے منتخب کردہ نمائندے ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو انہیں صرف انتخابات میں ہرانا کافی نہیں ہے۔ عوام کو متحد ہو کر ایسے لیڈروں کی فوری برطرفی اور سماجی بائیکاٹ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی حکومت اپنے کرپٹ اور بدکردار وزیروں کا سہارا بنتی ہے، تو اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ ملک کی ترقی کنکریٹ کی سڑکوں سے نہیں، بلکہ شہریوں اور ان کے لیڈروں کے مضبوط کردار سے ہوتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم 'عیاش' لیڈروں کے جال سے نکل کر ایک جوابدہ اور پاکیزہ سیاست کا مطالبہ کریں۔
جمعیتہ العلماء دفتر میں ممبئی ہائی کورٹ کے معروف وکیل نکھل ہیرے کی اہم ملاقات
مالیگاؤں — مورخہ ۲۸ مارچ کو ممبئی ہائی کورٹ کے معروف کریمنل کاؤنسل شری نکھل ہیرے نے جمعیتہ العلماء (مدنی روڈ، مالیگاؤں) کے دفتر کا خصوصی دورہ کیا اور جمعیت کے ذمہ داران سے ایک اہم ملاقات کی۔
یہ خوش آئند ملاقات ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ مومن بلال احمد کی کوششوں اور ایما پر عمل میں آئی، جنھوں نے جمعیت اور نکھل ہیرے جیسی اہم قانونی شخصیت کے درمیان یہ رابطہ استوار کیا۔
ملاقات کے دوران ایڈوکیٹ نکھل ہیرے نے جمعیتہ العلماء کی خدمات اور کارکردگی پر اطمینان و مسرت کا اظہار کیا۔ انھوں نے یقین دلایا کہ مالیگاؤں جمعیت جب بھی انھیں ضرورت کے وقت یاد کرے گی، وہ بھرپور قانونی تعاون فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
اس موقعہ پر محترم ایڈوکیٹ ریاض احمد، جناب انیس فہمی اور جناب طاہر صدیقی بھی موجود تھے۔ آخر میں جناب انیس فہمی نے ایڈوکیٹ نکھل ہیرے کا ان کی قیمتی مشوروں اور یقین دہانی پر، نیز ایڈوکیٹ مومن بلال احمد کا اس ملاقات کے اہتمام پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
مضمون: قومی یکجہتی کی بہترین مثال
امبیکا مندر، دیویکا ملا کے مقدس مقام پر ایک نہایت دل کو چھو لینے والا منظر دیکھنے کو ملا، جہاں انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا خوبصورت اظہار کیا گیا۔ یہ انتظام صرف ایک خدمت نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی ایک شاندار مثال ہے جو ہمارے معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انصاری نوشاد سیٹھ، مسعود مमता ڈیری، منّا بھائی بنارسی اور فیاض صاحب (مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن) جیسے ذمہ دار اور درد مند افراد کی مشترکہ کوششوں سے یہاں تقریباً 10,000 عقیدت مندوں کے لیے ناشتے، کھانے پینے اور طبی سہولیات کا بہترین انتظام کیا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی خدمت کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہے، مگر ان حضرات نے اپنی محنت، لگن اور خلوص سے اسے ممکن بنا دیا۔
یہ منظر واقعی قابلِ دید تھا کہ مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر خدمت انجام دے رہے تھے۔ کہیں بھی کسی قسم کا امتیاز یا تفریق نظر نہیں آئی بلکہ ہر طرف محبت، احترام اور انسانیت کا جذبہ نمایاں تھا۔
اس طرح کے اقدامات نہ صرف معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کرتے ہیں۔ یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو اور ارادے مضبوط ہوں تو ہر مشکل آسان ہو سکتی ہے اور ہر فرق کو مٹا کر ایک متحد قوم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
آخر میں، ہم ان تمام افراد کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی مصروفیات کے باوجود عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھا۔ یہ عمل یقیناً قومی یکجہتی، بھائی چارے اور انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کی محنت کو قبول فرمائے اور انہیں اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔