Thursday, 23 October 2025
علی گڑھ تحریک ، مسلم یونیورسٹی اور مولانا آزاد تکلف برطرف : سعید حمید تاریخ ایک ایسا موضوع ہے جسے حقائق کی روشنی میں پیش کیا جانا چاہئے ، عقیدت یا جذبات کے زیر اثر نہیں ، اور ہمارا المیہ ہے کہ جہاں ہم اندھ بھکتی کا الزام دوسروں پر عائد کرتے ہیں ، ہماری قوم نے بھی کئی شخصیات کے متعلق ایسا اندھی عقیدت والا رویہ اختیار کیا ہے کہ اس عقیدہ کے برخلاف ہم کسی بھی سچائی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔اگر آج اکیسویں صدی کا بھارتی مسلمان اس بات سے متفق ہے کہ بیسیویں صدی کے مسلمانوں کا سب سے عظیم و تا ریخی کارنامہ آج سے سو سال قبل علی گڑھ میں ’’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ کا قیام تھا ۔ اگر آج کا مسلمان اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ گذشتہ سو سالوں میں علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی نے ’’ملتِ اسلامیۂ ہند ‘‘ کی عظیم الشان اور بے مثال خدمت کی ہے ۔ اگر آج کا مسلمان یہ سوچ کر ہی چکرا جاتا ہے کہ خدا نخواستہ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم نہیں ہو تی ، تو آج بھارت کے مسلمانوں کا ( اعلی تعلیم کے لحاظ سے ) کیا حال ہوتا ؟تو پھر آج کا مسلمان اس بات سے بھی اتفاق کرے گا کہ جو لوگ ایک زمانہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تحریک کے دشمن تھے ۔ وہ مسلمانوں کے بھی دشمن تھے ۔ جن لوگوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کی ، یا اس کے منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں حصہ لیا ، وہ بھی مسلمانوں کے دشمن ہی کہلائے جا سکتے ہیں ۔تو کیا آپ یہ اعتراف کریں گے کہ مولانا ابولکلام آزاد بھی مسلمانوں کے دشمنوں کی صفوں میں ہی تھے ؟ تار یخ گواہ ہے کہ مولانا ابو لکلام آزاد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تحریک کے کٹر ّدشمن تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیا م کے سخت مخالفین میں شامل تھے ۔اس سلسلہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہی ایک پروفیسر جناب عارف الاسلام کی کتاب ؛ ’’ مسیحا کون ؟ سر سید یا آزاد ‘‘ چشم کشا قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ کتاب تاریخ کے ان گوشوں کو روشن کرتی ہے جنہیں اندھی بھکتی اور شخصیت پرستی کی عینک لگانے والوں نے غفلت کی تاریکی میں پوشیدہ کر رکھا ہے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ اور تاریخی شخصیات کی تاریخ کا مطالعہ اندھ بھکتی ، اندھی عقیدت اور اسیٹیریو ٹائپ سوچ سے ہٹ کر حقائق کی روشنی میں کیا جائے ۔آج ہم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کے اقلیتی کردار ( مسلم کردار ) کے مخالفین کی گنتی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے دشمنوں کی فہرست میں کرتے ہیں ، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو جب آزادی کے بعد شب خون مار کر ختم کرنے کی کوشش کی گئی ، تب بھارت کے مسلمانوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کیلئے زبردست مہم چلائی ۔اسلئے آزادی کے بعد بھارت کے مسلمانوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہوچکا کہ جو کوئی شخص یا ادارہ ، یا اخبار ، یا تنظیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا دشمن ہے ، وہ بھارت کے مسلمانوں کا دشمن ہے ۔اور جو کوئی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مخالف ہے ، وہ بھارت کے مسلمانوں کا مخالف ہے ۔تو کیا یہ فارمولہ آزادی سے قبل کی تاریخ پر نافذ نہیں ہو سکتا ؟اور اس آئینہ میں اگر مولانا ابولکلام آزاد کا کردار پرکھا جائے ، تو کیا حقیقت سامنے آتی ہے ؟تو کیا ہم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہی ایک مصنف ، دانشور ، پروفیسر عارف الاسلام کی کتاب کو اندھ بھکتی یا اندھی تقلید کے جذبات کی رو میں نظر انداز کردیں ؟اس پر غور و فکر نہیں کریں ؟ ایک طرح سے اس کتاب میں پروفیسر عارف الاسلام نے مولانا ابولکلام آزاد اور ان کے جرائد کی علی گڑھ تحریک سے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے دشمنی کا پوسٹ مارٹم کر ڈالا ہے ۔اور جو حقائق پیش کئے انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اسلئے یہ کتاب بھی ہمارے مطالعہ اور اٹھائے گئے سوالات کے جوابات حاصل کرنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔انگریزوں کے ساتھ جو جدید تعلیم بھارت میں داخل ہو چکی تھی ، اس کے متعلق اس زمانہ کے دور اندیش لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ انگریز ایک دن چلے جائیں گے لیکن انہوں نےجو تعلیمی نظام قائم کردیا ، وہ آزاد بھارت میں بھی قائم رہے گا اور بھارت کی تمام اقوام کیلئے ترقی کی کنجی بھی اسی نظام کے ماتحت تعلیم میںہی ہوگی ۔ یہ بات سر سید ّاحمد خان نے بھی سمجھ لی تھی ، یہ بات بدرالدّین طیب جی اور ان کے رفقا ء بھی سمجھ چکے تھے ۔ یہی بات بہوجن عوام کے رہنما مہاتما جوتی با پھلے ، چھترپتی شاہو مہاراج ، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر بھی سمجھ رہے تھے ۔لیکن اسی عصری تعلیم کے متعلق مولانا ابولکلام آزاد کا نظریہ کیا تھا ؟ ( جو آزادی کے بعد اس ملک کے پہلے وزیر تعلیم بھی بن گئے ؟ ) پروفیسر عارف الاسلام اپنی کتاب ’’ مسیحا کون ؟ سر سید یاآزاد ‘‘ میں لکھتے ہیں ؛’’ مسلمانوں کی گمراہی ، تعلیم ، مسلم یونیورسٹی اور مسلم لیگ ‘‘الہلال ستمبر ۱۹۱۲ ء کی اشاعت میں ، مولانا نے ’بنیادی گمراہی ‘ کے عنوان سے ایک مضمون شایع کیا ۔ یہ مضمون مولانا آزاد کی فکر کا آئینہ دار ہے کہ اس زمانہ میں وہ کس انداز میں سوچتے تھے اور کن کن کاموں کو مسلمانوں کیلئے مضر سمجھتے تھے ۔تعلیم اور مسلم یونیورسٹی کو بھی مولانا مضرت رساں سیاست پر قربان کردینے کے حق میں تھے ۔ جس انداز سے اور جن الفاظ میں وہ اپنے خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے ، وہ ایک قابل توجہ بات ہے ۔مولانا ہندوؤں کو ملک میں کام کرنے والی اصلی جماعت سمجھتے تھے ۔سر سیدّ کی تعلیمی تحریک اور بعد میں مسلم یونیورسٹی تحریک ؛ دونوں مولانا کی نظر میں اس لئے شروع کی گئی تھی کہ مسلمان ہندوؤں سے علیحدہ رہیں ، یعنی مسلمان کانگریس میں شامل نہ ہوں ۔( گویا اگر ایک زمانہ میں اور آج بھی ایک فرقہ پرست طبقہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو مسلم لیگ اور پاکستان سے جوڑتا ہے ، اسلئے اینٹی نیشنل سمجھتا ہے ، تو کیا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مخالفت میں مولانا آزاد کے خیالات کچھ کم ایذا رساں رہے ہونگے ؟ بہر کیف ۔۔۔) مولانا آزاد مزید فرماتے ہیں : ’سب سے پہلے یہ ہوا کہ ملک میں کام کرنے والی اصلی جماعت یعنی ہندوؤں سے مسلمان الگ ہوگئے ۔اس طرح عرصہ تک کیلئے ملکی مطالبات کی فتحیابی سے گورنمنٹ مطمئن ہوگئی اور ساتھ ہی یہ بھی ضروری تھا کہ ان کو بیکار نہیں بیٹھنا چاہئے ورنہ بیکاری سے اکتا کرراستہ کی تلاش میں ضرور نکلیں گے ۔کوئی مشغلہ ایسا ہونا چاہئے جو عرصہ تک ان کو اپنے آپ میں الجھائے رکھے اور اصلی کاموں کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں دے ۔تعلیم کو مسلمان پہلے ہی سے لئے بیٹھے تھے ، اسی لئے اعلی تعلیم کے بال و پر پھیلا کر ایسا الف لیلہ کا عجیب الخلقت پرندہ بنایا جو اپنا پر کھول دے تو سورج کو زمین پر جھانکنے کیلئے کوئی سوراخ تک نہ ملے ۔‘( الہلال ، ستمبر ۱۹۱۲ ء صفحہ : ۸ ) ’’یعنی سر سید ّنے اعلی تعلیم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ، مسلمانوں کو اس طرف راغب کرنے کی جو کوشش کی اس کے پس پردہ یہ سازش تھی کہ مسلمان ہندوؤں سے علیحدہ ہوجائیں ، جو مولانا کی نظر میں کانگریس کے جھنڈے تلےحریت کی تحریک چلا رہے تھے ۔ مولانا نے خیال ظاہر کیا کہ جس وقت ملک کی جائز آزادی کے مطالبات میں ہندو اپنا وقت اور روپیہ خرچ کر رہے تھے ،مسلمان تعلیم کی ٹھنڈی لاش لئے پھر رہے تھے ۔ایسا لگتا ہے مولانا تعلیم کے معنی سے ہی نا واقف تھے ۔ورنہ تعلیم کو ٹھنڈی لاش سے تشبیہ دینا کسی نا سمجھ آدمی کا ہی کام ہو سکتا ہے ۔‘‘ ( صفحہ : ( 260 / 261 یہ اقتباس ان قارئین کیلئے انتہائی نا قابل یقین ہوسکتا ہے ، جو مولانا ابولکلام آزاد کو بھارت کے پہلے وزیر تعلیم کے طور پر ہی جانتے ہیں کہ جنہوں نے آزاد بھارت میں برٹش سرکار کے ہی قیام کردہ اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کے نظام کو ہی آگے بڑھایا، آئی آئی ٹی ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن وغیرہ کا قیام کیا ۔ بھارت کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہیں یہ تعلیمی نظام ’ٹھنڈی لاش ‘ کیوں نہیں لگا ؟ اور انہوں نے مدرسوں ، آشرم شالاؤں کا نظام کیوں رائج نہیں کیا ؟ اس ٹھنڈی لاش کوٹھکانے لگانے کی بجائے اسی کو زندہ لاش کیوں بنا دیا ؟ پروفیسر عارف الاسلام کی کتاب میں اس انکشاف کی روشنی میںیہ سوال اٹھائے جا سکتے ہیں ۔اس سے مولانا ابولکلام آزاد کی متضاد شخصیت کا بھی سراغ لگتا ہے ۔( ماخوذ ؛ کتاب ، تحریک خلافت یا تاریخی حماقت: مصنف ؛ سعید حمید )__________🔴🔴ادارہ نثری ادب کی 229 ویں ماہانہ ادبی نشست 25 اکتوبر سنیچر کو 22 سال مکمل ہونے پر سیف نیوز کی جانب سے صدر و اراکین کا استقبال اور ڈاکٹر اقبال برکی صاحب کی کہانی کی کتاب روبوٹ کا اجراء ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(229) 25 اکتوبر 2025ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس میں ہوگی صدارت کے فرائض شاعر و ادیب محمد رضا سر (چئیرمین ایم ایس ای) انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) رشید آرٹسٹ(افسانہ نگار) ہارون اختر(افسانہ نگار) عظمت اقبال (افسانہ نگار) منصور اکبر(سیف نیوز)اور عزیز اعجاز (معلم و ڈرامہ نگار) اپنی تخلیقات پیش کریں گے- پیش کی گئی تخلیقات پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہو گی- ادارہ نثری ادب کو 22 سال مکمل ہونے پر سیف نیوز کی جانب سے صدر و اراکین کا استقبال کیا جائے گا ساتھ ہی ڈاکٹر اقبال برکی صاحب کی کہانی کی کتاب روبوٹ کا اجراء بھی عمل میں آے گا- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر انجام دیں گے اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ ،زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-_____:_________🔴🔴 🔴 جون ایلیا کہیں دِکھائی نہیں دے رہا ہوں خُود کو بھی تمہــــاری حد سے نکل کر کدھر گیا ہوں میں تمام عمر یہی اِکـــــــــــــــــــ گِلہ رہا خُود سےتمـــــــام فیصلے عُجلت میں کر گیا ہوں میں سفر، سفر، کوئی رہتا تھا ساتھ ساتھ میـرے مگر یہ شام، کہ تنہـــــا ہی گھر گیا ہوں میں اُسے پُـــــــــــــــــکار رہا ہوں بڑے تسلسل سےیہ اور بات کہ بـے حـــــــد بِکھر گیا ہوں میں مجھے یقین ہے، شاید، نہـــــــیں یقین مجھے میں مر رہا ہوں، نہــــیں یار! مر گیا ہوں میں___________🔴"درد آئے گا دبے پاؤں"فیض احمد فیضاور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کوفکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرےدرد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغوہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرےشعلہء درد جو پہلو میں لپک اٹھے گادل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گاحلقہء زلف کہیں گوشہء رخسار کہیںہجر کا دشت کہیں گلشنِ دیدار کہیںلطف کی بات کہیں پیار کا اقرار کہیںدل سے پھر ہوگی مری بات کہ اے دل اے دلیہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کایہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا، چلا جائے گااس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہوگامشتعل ہو کے ابھی اٹھیں گے وحشی سائےیہ چلا جائے گا رہ جائیں گے باقی سائےرات بھر جن سے ترا خون خرابا ہوگاجنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دلدشمنِ جاں ہیں سبھی سارے کے سارے قاتلیہ کڑی رات بھی یہ سائے بھی تنہائی بھیدرد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دللاؤ سلگاؤ کوئی جوشِ غضب کا انگارطیش کی آتشِ جرار کہاں ہے لاؤوہ دہکتا ہوا گلزار کہاں ہے لاؤجس میں گرمی بھی ہے ، حرکت بھی توانائی بھیہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکرمنتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھران کو شعلوںکے رجز اپنا پتا تو دیںگےخیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی، صدا تو دیں گےدور کتنی ہے ابھی صبح، بتا تو دیں گے
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل