Wednesday, 15 October 2025
*لاڈلی بہن اسکیم کی ’کے وائی سی‘ کیلئے خواتین کو مسائل کا سامنا*لاڈلی بہن اسکیم کیلئے کے وائی سی کروانے کیلئے خواتین کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔ بالخصوص دیہی علاقوں کی خواتین کیلئے یہ کام جوئے شیر لانے کے مترادف ثابت ہورہا ہے۔ اس کے لئے انہیں کہیں پہاڑی پر چڑھائی کرنی پڑرہی ہے، تو کہیں دوپہر کی تیز دھوپ میں او ٹی پی کے انتظار میں لمبی قطار میں کھڑا رہنا پڑرہا ہے۔ نندوبار ضلع کا ایک علاقہ تو ایسا ہے جہاں سب کی نظریں ایک درخت سے بندھے موبائل فون پر جمی ہیں، اس اُمید میں کہ کہیں سے نیٹ ورک مل جائے۔ یہ ہے نندربار ضلع کا قبائلی اکثریتی علاقہ، جہاں’ڈیجیٹل انڈیا‘ کا خواب کمزور نیٹ ورک کی حقیقت سے ٹکرا رہا ہے۔ سینکڑوں مستحق خواتین لاڈلی بہن اسکیم کی ماہانہ قسط حاصل کرنے کیلئے ’لازمی ای کے وائی سی ‘ کارروائی مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک طرف دھڑگاؤں تعلقہ کےکھاردے خورد گاؤں میں عورتیں موبائل سگنل کیلئے تقریباً۳۰؍ منٹ تک پہاڑی پر چڑھتی ہیں۔وہیں دوسری طرف بھامنہ گرام پنچایت کے ۵۰۰؍ سے زیادہ مستحقین دھوپ میں انتظار کرنے پر مجبور ہیں، اس امید میں کہ درخت پر بندھا ان کا فون کبھی نیٹ ورک پکڑ لے اور او ٹی پی آجائے۔ نوبھارت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر کایہ علاقہ۲؍ ریاستوں گجرات اور مدھیہ پردیش کی سرحد پر ہے۔ کبھی موبائل نیٹ ورک گجرات سے آتا ہے تو کبھی مدھیہ پردیش سے۔ نیٹ ورک کی کامیابی کی شرح صرف۵؍ فیصد سے بھی کم ہے۔ الگولان فاؤنڈیشن نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے شریک بانیراکیش پوار نے بتایا، ’’ہم نے یہاں ایک کیمپ لگایا ہے، یہی واحد جگہ ہے جہاں کبھی کبھار موبائل ڈیٹا کام کرتا ہے، لیکن زیادہ تر اوقات میں ویری فکیشن ناکام رہتی ہے۔‘‘۱۰۰؍ میں سے صرف ۵؍ خواتین کواوٹی پی مل رہا ہے لاڈلی بہن اسکیم کیلئے ریاستی حکومت کے ای-کے وائی سی لازمی کرنے کے فیصلے نے دور دراز علاقوں کی اہل خواتین کیلئے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ویب سائٹ آہستہ لوڈ ہوتی ہیں، او ٹی پی آنے میں کافی وقت لگتا ہے، اور آدھار سے منسلک ویری فکیشن کی کارروائی بار بار ناکام ہو جاتی ہے۔ ایک رضاکار نے بتایا: ’’سو سے زیادہ خواتین کوشش کرتی ہیں، لیکن ان میں سے صرف پانچ یا دس ہی کامیاب ہو پاتی ہیں۔‘‘۳۰۰؍روپے ٹرانسپورٹ کا خرچ اُوشا پوار جیسی خواتین کیلئے ہر کوشش ایک امتحان بن جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا، ’’دھڑگاؤں تعلقہ دفتر تک پہنچنے کے لیے ہمیں پیدل جانا پڑتا ہے، اور مجموعی طور پر۳۰۰؍ روپے آمد و رفت کا خرچ دینا پڑتا ہے ، جو ہمارے لیے ممکن نہیں۔‘‘موبائل ٹاور لگے ہیں مگر نیٹ ورک نہیں دھڑگاؤں کے تحصیلدار گیانیشور سپکالے نے مشکلات تسلیم کرتے ہوئے کہا،’’موبائل ٹاور چار پانچ ماہ پہلے لگ چکے ہیں، مگر کنیکٹیویٹی اب بھی کمزور ہے۔ ہم نے آپریٹرز سے مسئلہ حل کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہم خواتین کی مدد کے لیے عام سروس مراکز اور آدھار آپریٹرز کا تعاون لے رہے ہیں۔‘‘ریاستی وزیر ادِتی تٹکرے کا بیان خواتین و اطفال ترقیات کی وزیر ادِتی تٹکرے نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ستمبر کی قسط جاری ہو چکی ہے اور مستحقین کو یاد دلایا گیا ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر آفیشیل ویب سائٹ:ladkibahin.maharashtra.gov.in پر اپنی ای-کے وائی سی مکمل کریں۔تاہم، ان کے سوشل میڈیا پر آئے تبصروں سے عوامی پریشانی کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک صارف نے پوچھا، ’’ان خواتین کا کیا ہوگا جن کے شوہر یا والد کا انتقال ہو چکا ہے یا وہ علیحدہ رہتی ہیں، اور ان کے آدھار کارڈ نہیں ہیں؟‘‘پونے کی مایا ڈبلیو نے کہا، ’’مجھے ستمبر کی رقم تو مل گئی، لیکن او ٹی پی اب تک نہیں آیا۔‘‘ اس پر ادِیتی تٹکرے نے یقین دلایا کہ ان کا محکمہ او ٹی پی اور ڈیٹا سے متعلق مسائل کو حل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ خواتین کو ان مسائل کے حل ہونے کا بے صبری سے انتظار ہے۔_______________🔴*"نو گرل فرینڈ،نوجاب،نو پرابلم"**افسانہ نگار" رفیع حیدر انجم (ارریا, بہار (انڈیا )* رشتے میں وہ میرے ماموں لگتے تھے..... اقبال ماموں.... لیکن عمر میں ہم دونوں برابر تھے. سو رشتے کا تقاضا پیچھے رہ گیا تھا اور ہم آگے بڑھ کر شہر سے دور دریا کنارے ریت پر بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگایا کرتے تھے. یہاں دریا میں ڈبکی لگانے والی عورتیں اور لڑکیاں ہمارے لئے خصوصی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں. ساحل کے کنارے ان عورتوں کے رنگ برنگے ملبوسات ہوا میں لہراتے رہتے. اکثر آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا ہوتا اور بےشمار کوے شور مچایا کرتے. چند بندر بھی ریت پر گھوما کرتے تھے. انسانی تہزیب نے دریا کے کنارے اپنا پہلا مسکن بنایا تھا. لیکن یہ بندر ارتقا کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے. شاید ہماری طرح ان عورتوں کو گھورنے کے لئے............ لیکن عورتوں کو ان بندروں سے کوئی خوف نہیں تھا. ہم اپنا بقیہ وقت سنیما گھروں میں یا کینٹین میں بیٹھ کر چائے پینے میں گزار دیتے تھے. کبھی کبھی اقبال پر مجھے کسی دوسرے شخص کے ہونے کا گمان ہوتا تھا. یہ احساس تب ہوتا تھا جب وہ فلسفیانہ قسم کی باتیں کرنے لگتا تھا. ایک بار ہم اپنے شہر کے ایک پارک 'رینو کنج' میں بیٹھے تھے. اس نے پارک کا سرسری جائزہ لیا اور فنیشور ناتھ رینو کے اسٹیچو کی طرف دیکھ کر کہا. "اس پارک میں رینو کا کیا کام؟ یہاں تو لوگ گداز جسموں والی عورتوں کو گھورنے کے لئے آتے ہیں. " اس نے ایک قہقہ لگایا اور پھر ایک دم سے سنجیدہ ہوکر کہنے لگا. "کیا تم اپنا اسٹیچو لگوانا پسند کروگے ؟" مجھے لگتا ہے کسی شے کے چھوٹ جانے یا کسی اندیشے کی دھند میں لپٹے ہوئے ہونے کا احساس اسے خوشی کے موقع پر بھی اداس کر دیتی ہے. دوچار مہینوں کے وقفہ پر میں اس کے شہر یا وہ میرے شہر میں آجاتا تھا. دوچار دنوں کے لئے ہمارا ساتھ رہتا اور پھر دوچار مہینوں کے لئے ہم جدا ہو جاتے تھے. یہ سلسلہ گزشتہ کئی برس سے جاری تھا. جدائی کے دنوں میں ہم ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے کہ ان دنوں موبائل کا چلن عام نہیں ہوا تھا. اس کی اردو کمزور تھی لہٰذا خطوں میں املا کی بہت سی خامیاں ہوا کرتی تھیں. میں اپنے خط میں ان کی نشاندہی کردیا کرتا تھا. وہ میرا احسان مند تھا کہ اس طرح میں اس کی اصلاح کر رہا ہوں. لہذا اس کا اصرار ہوتا کہ میں اس کے ہر خط کا جواب ضرور دیا کروں. ہمارے رنج و مسرت تقریباً ایک جیسے تھے. ہم دونوں بےروزگار گریجویٹ تھے اور نوکری کے لئے اسٹرگل کر رہے تھے. میں نے اقبال کو کبھی ماموں نہیں سمجھا اور نہ ہی ہمارے تعلقات کے درمیان اس رشتے کا احترام کبھی حائل ہوا. ہاں,اقبال کے بڑے بھائی اشفاق احمد میرے لئے ہمیشہ ماموں ہی رہے اور انہوں نے ماموں ہونے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا. اشفاق ماموں سراپا مذہبی رنگ میں ڈوبے ہوئے تھے. ان کے کمرے میں اسلامی لٹریچر کی موٹی موٹی کتابیں بکھری رہتی تھیں. ان کتابوں سے مجھے وحشت ہوتی تھی. وہ محکمہ امداد باہمی میں ضلعی سطح کے افسر تھے. لیکن میں ان سے ملاقات کی کوشش نہیں کرتا تھا. ہاں, جب کبھی نا دانستہ طور پر میرا ان سے آمنا سامنا ہو جاتا تو ان کا پہلا سوال یہی ہوتا " تم نے نماز شروع کی یا نہیں ؟" ........... اس سوال پر نہ جانے کیوں میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ جاتی جو انہیں بےحد ناگوار لگتی اور وہ دفعتاً بھڑک جاتے .......... "جب تک تم نماز پڑھنا شروع نہیں کرتے تمہیں نوکری نہیں مل سکتی. " اس تنبیہ پر میں خاموش رہتا لیکن میری مسکراہٹ اپنی جگہ قائم رہتی اور دل ہی دل میں سوچا کرتا کہ ماموں جان پہلے اپنی روزی تو حلال کر لیجیے اور یہ نانی جان جو دن بھر ٹی وی دیکھتی رہتی ہیں انہیں راہ راست پر لاکر تو دکھائیں.............. دراصل میری نانی طبعی عمر سے نانی نہیں لگتی تھیں. نہ جانے کیوں میرے نانا نے عمر کی ڈھلان پر پھسلتے ہوئے دوسری شادی کر لی تھی اور یہ دونوں میرے سگے ماموں نہیں تھے. میں وہاں صرف اقبال سے ملنے جایا کرتا تھا. لیکن نہیں........... شاید ایک اور وجہ تھی جو مجھے وہاں جانے کے لئے اکسایا کرتی تھی. اشفاق ماموں شادی شدہ تھے اور ان کی بیوی بےحد حسین وجمیل... اتنی خوبصورت ممانی میں نے دوسری جگہ نہیں دیکھی. ایک بار ممانی نے مجھے بتایا تھا کہ تمہارے ماموں نے مجھے پچپن ہی میں پسند کر لیا تھا جب وہ چڈی اور فراک پہن کر اسکول جایا کرتی تھیں. ان دنوں میرے نانا ہزاری باغ میں پوسٹیڈ تھے. ممانی بے وجہ بھی ہنسا کرتی تھیں. ظاہر ہے, اشفاق ماموں کو ان کا یہ رویہ پسند نہیں تھا. ممانی ان کے سامنے محتاط رہا کرتی تھیں. ممانی سے مل کر اور ان سے باتیں کر کے میں ایک عجیب و غریب کیفیت سے گزرا کرتا تھا. اس کیفیت میں جذبہء رشک کے شعلوں کے ساتھ ساتھ جذبہء انتقام کی کوئی دبی ہوئی سی چنگاری بھی شامل تھی. حالانکہ میں اس چنگاری کو ندامت کی پھونک مار مار کر بجھاتا رہتا تھا. لیکن کبھی کبھی تنہائی میں اس ندامت کے بوجھ سے میرا سر جھک جاتا تھا اور میں سوچا کرتا کہ آخر میں اپنے ماموں سے یہ کیسا انتقام لے رہا ہوں ؟ اس انتقامی کارروائی میں ممانی کی معصومیت کا کیا قصور ہے ؟ اگر اشفاق ماموں مجھے راہ راست پر لانا چاہتے ہیں تو یقیناً اس میں میری ہی بہتری پوشیدہ ہے. نہیں......... ماموں سچ کہتے ہیں, جب تک میں نماز شروع نہیں کرتا, میرا کچھ نہیں ہو سکتا. لیکن اقبال؟ .......... اسے تو نوکری مل جانی چاہئے تھی. ووہ تو اشفاق ماموں کی نصیحت پر سو فیصد عمل کر رہا تھا. وہ پابندی سے نماز پڑھ رہا تھا. اس کے پینٹ کی جیب میں کشیدہ کی ہوئی سفید رنگ کی گول ٹوپی ہر وقت موجود رہتی تھی. کئی بار تو ایسا ہوا کہ اسے انٹرویو دینے کے لئے دوسرے شہر میں جانا ہے. گھر سے تیار ہوکر وہ اسٹیشن کے لئے نکلا ہے لیکن راستے میں اسے ظہر کی اذان سنائی دیتی ہے. وہ سیدھے مسجد کا رخ کرتا ہے. نماز سے فارغ ہو کر اسٹیشن کے لئے روانہ ہو جاتا ہے لیکن وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوتا ہے کہ دو بجے کی ٹرین جا چکی ہے اور اب اس روٹ کی دوسری ٹرین نہیں ہے. میں نے اس سے کئی بار کہا کہ اسلام میں قضا کی نماز پڑھنے کی سہولت ہے. اس کا فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے ؟ میرے پوچھنے پر اس کا جواب یوتا کہ زندگی میں جو اذن پہلے میسر آئے اسی کو فوقیت دینی چاہیے. اس کی دلیل کو حتمی طور پر رد کر دینے کا میں اہل نہیں تھا کہ چند عقائد کی ڈور سے اس کی زندگی بندھی ہوئی تھی اور میں تمام بندھن توڑ کر آوارگی کی صف میں شامل تھا. آوارگی بہرحال ضابطوں سے کمزور ہوتی ہے. اپنی بےضابطہ زندگی زندگی کا محاسبہ کرتے ہوئے مجھے لگتا تھا کہ اقبال کو ایک نہ ایک دن نوکری ضرور مل جاےءگی. اس کی ریاضت رائیگاں نہیں جا سکتی. آئندہ چند ماہ میں میرا اندازہ درست نکلا. اسے نوکری مل گئی. اس کے لئے اسے دوسرے شہر کا سفر طے کرنا تھا. لیکن رخت سفر باندھنے سے قبل اس کے اسباب میں ایک اور شے کا اضافہ ہو گیا. یہ وہ شے تھی جس کی آمد کا منتظر ہر نوجوان ہوا کرتا ہے. اقبال کو ایک لڑکی سے محبت ہو گئی تھی. یہ لڑکی اس کے پڑوس میں رہتی تھی. اقبال نے اس لڑکی سے پہلی ملاقات کی تفصیل بتائی تو مجھے لگا کہ یہ لڑکی اس کی زندگی میں اس طرح داخل ہو گئی ہے جیسے اس کی جیب میں رکھی سفید گول ٹوپی............. اچھی طرح سے تہ کی ہوئی, احتیاط اور حفاظت کے ساتھ خوشبوءں میں بسی ہوئی. اقبال نے اب ہر نماز کے بعد اپنی دعا میں اس لڑکی کی سلامتی کے لئے بھی گنجائش نکال لی تھی. جلدی ہی وہ دن قریب آگیا جب اسے نوکری جوائن کرنے کے لئے دوسرے شہر کے سفر پر نکلنا تھا. حسب پروگرام اقبال کو الوداع کہنے کے لئے میں اس کے ساتھ اسٹیشن تک گیا. اسٹیشن پہنچا تو ٹرین کے لئے تھوڑا انتظار کرنا پڑا. یوں بھی انتظار کی عادت میری فطرت میں شامل ہو چکی تھی. پلیٹ فارم پر کافی بھیڑ بھاڑ اور شور شرابا تھا. ہر کسی کو کہیں نہ کہیں جانا تھا. بہت سے لوگ ایسے تھے جنہیں کسی کے آنے کا انتظار تھا. ٹرین آئی تو پلیٹ فارم پر لوگوں کی نقل و حرکت بڑھ گئی. میں پلیٹ فارم پر ٹرین کی کھڑکی کے قریب کھڑا تھا. اقبال کے چہرے سے کسی شے کے چھوٹ جانے یا کسی اندیشے کی دھند میں لپٹے ہوئے ہونے کا احساس نمایاں تھا. میں نے الوداع کے اس سوگوار لمحے میں اسے اپنا خیال رکھنے جیسا کوئی رسمی سا جملہ کہنا چاہا تبھی ٹرین اپنی جگہ سے کھسکنے لگی. میں تھوڑا آگے بڑھ گیا اور چاہا کہ اس سے مصافحہ کر لوں کہ دفعتاً کسی سے ٹکرا جانے کے سبب میرے قدم لڑکھڑا گئے اور توازن برقرار نہ رکھ پانے کے سبب میں پلیٹ فارم پر تقریباً گر پڑا. میرے دونوں ہاتھ کی کہنیوں پر فرش کی رگڑ سے خراشیں آ گئیں. اسی ایک لمحے میں ایک دراز قد نوجوان نے مجھے سنبھالا اور کہنے لگا........ 'برادر, ٹرین کی رفتار سے آگے جانے کی کوشش خطرے سے خالی نہیں'. ...... میری نظر ان خراشوں پر گئی جہاں سے خون کی ننہی ننہی بوندیں چھلک آئی تھیں. میں نے اس نوجوان کا شکریہ ادا کرنا چاہا تو دیکھا کہ وہ تھوڑا آگے نکل گیا ہے اور اب اس کی پشت میرے سامنے ہے. اس نے نیلا جینس اور سفید رنگ کا ٹی شرٹ پہن رکھا تھا. ٹی شرٹ پر سرخ رنگ کے بڑے بڑے انگریزی حروف دور سے چمک رہے تھے. وہاں لکھا تھا........ ...... 'نو گرل فرینڈ, نو جاب, نو پرابلم'............. کہنیوں پر لگی ہوئی چوٹ کی تکلیف کے باوجود میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی..منزلِ شوق کے مسافر نے رختِ سفر باندھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مالیگاؤں( مہاراشٹر ) کے بزرگ شاعر جناب محمد ہارون اکسیر گزشتہ روز اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون ان کا دل عشقِ الہی اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منور تھا ۔ ان کی ذات پاور لوم کے کارخانوں کے بےہنگم شور کے درمیان جذبِ دروں کا اعلی' نمونہ تھی ۔ اپنے جذبات کے اظہار کے لئے انھوں نے شاعری کی راہ چنی اور حمد، نعت، منقبت، غزل اور قطعہ وغیرہ میں طبع آزمائی کی ۔ 09 نومبر 2018 ء کو ایک سو غزلوں پر مشتمل ان کے اولین شعری مجموعے کا اجراء مالیگاؤں میں ہوا تھا ۔ اس محفل میں ان کی بیشتر کتابیں فروخت ہو گئی تھیں ۔ ان کے بے حد عزیز نواسے مدنی مجاہد سلیم کے اصرار پر میں نے ان کی شاعری کے حوالے سے ایک مختصر مضمون قلمبند کیا تھا جو ' منزلِ شوق ' میں شامل ہے ۔اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے ،جنت الفردوس میں اعلی مقام سے نوازے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمونہء کلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے خداوندِ جہاں اے خالقِ کون و مکاں ناتواں اکسیر سے کیا حمد ہو تیری بیاں پاک تو بے عیب تو تعریف سب تیرے لئے ہے تو ہی رزّاقِ عالَم تو ہی خلّاقِ جہاں طائرانِ خوش نوا کے لب پہ تیرا نام ہے ہیں وحوش و جن و انساں و ملائک مدح خواں تو سدا سے ہے سدا تو ہی رہے گا اے خدا ذرّے ذرّے سے تری قدرت کا ملتا ہے نشاں تیرے دریا تیری ندیاں تیری بارش اور گھٹا کوہ تیرے ، تیرے صحرا ، تیرے دشت و گلستاں تو نے ہی کشتی بچائی نوح کی طوفان سے پیٹ میں مچھلی کے دی یونس کو تو نے ہی اماں تو محافظ چاہ میں تھا یوسفِ کنعان کا اور موسیٰ کو عطا تو نے کیا عزمِ جواں تو نے ابراہیم کو وہ جوشِ ایمانی دیا آتشِ نمرود کو جس نے بنایا گلستاں اے خدا ! اکسیر کو یہ شوق دے یہ ذوق دے رات دن کرتی رہے تیری ثنا اس کی زباں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعت پاک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارض ہی نہیں واعظ ہے سماء محمد کا یہ جہاں ہوا اسکا جو ہوا محمد کادیکھ کھول کر اسکو سیرت النبی کیا ہے ہے کلامِ ربّانی آئینہ محمد کادھول اس کے قدموں کی تاج و تختِ سلطانی ہو گیا بصدقِ دل جو گدا محمد کااب مجھے نہیں خطرہ آتشِ جہنم کا ہاتھ میں میرے دامن آ گیا محمد کاہے نثار جنت کی اس پہ ساری رعنائی بن کے عمر بھر شیدا جو رہا محمد کاکارگر مسیحا کی ہوگی کیا مسیحائی دردِ عشق ہوتا ہے لادوا محمد کامعصیت کے دلدل میں اے پھنسے ہوئے انساں واسطوں میں افضل ہے واسطہ محمد کااے بہشت کے طالب چل بشوق چل اِس پر اُس کی سمت جاتا ہے راستہ محمد کاشمعِ آرزو کی لو اور تیز کر اکسیر روشنی بتا دیگی خود پتہ محمد کا🖊 محمد ہارون اکسیر ادیب (علیگ) مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر___________🔴🔴
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل