Wednesday, 15 October 2025
*تحریری مباحث اور آمنے سامنے کی گفتگو کا فرق*از: آصف جلیل احمد۔ مالیگاؤںانسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ اس کی بقا اور ارتقا کا انحصار مکالمے، بات چیت اور ایک دوسرے کے ساتھ فکری و جذباتی تبادلے پر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ مکالمہ کس سطح پر زیادہ نتیجہ خیز ہوتا ہے؟ کیا وہ جو دورِ جدید میں ٹائپ شدہ الفاظ کی صورت میں (چیٹ اور میسیجنگ کے ذریعے) ہمارے سامنے آتا ہے، یا وہ جو آمنے سامنے بیٹھ کر دل کی آنکھوں سے جھانکتا ہے؟نفسیات بتاتی ہے کہ تحریری گفتگو میں انسانی دماغ زیادہ تیزی سے ردعمل دیتا ہے۔۔۔ وجہ صاف ہے کہ ٹائپ شدہ الفاظ جامد اور بے لہجہ ہوتے ہیں۔ ان میں نہ مسکراہٹ کی گرمی شامل ہوتی ہے، نہ آواز کی نرمی اور نہ ہی آنکھوں کی چمک۔ قاری اپنی کیفیت اور مزاج کے مطابق ان الفاظ کو پڑھتا ہے اور کئی بار وہ خودبخود سختی یا طنز بھی محسوس کرتا ہے جس کا شاید لکھنے والے کے ذہن میں شائبہ بھی نہ ہو۔ یوں تحریری بحث و مباحثہ اکثر اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ انسان سامنے والے کی ذات پر اتر آتا ہے اور غیر محسوس طریقے سے غلط اور نامناسب الفاظ کا چناؤ کرتا چلا جاتا ہے۔ نتیجتاً چیٹنگ کے ذریعے بات بگڑتی اور اشتعال انگیزی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لیکن یہی شخص اگر سامنے آ جائے تو چہرے کا تاثر اور زبان کا لہجہ بالکل مختلف ہوتا ہے، بات میں نرمی آجاتی ہے اور وہی جملے جو تحریر میں تیروں کی مانند محسوس ہوتے ہیں، ملاقات میں نرم پھولوں کی طرح سنائی دیتے ہیں کیونکہ جب انسان آمنے سامنے گفتگو کرتا ہے تو وہاں صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ لہجہ، آواز، حرکات، تاثرات اور ماحول بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب عوامل مل کر سخت سے سخت بات کو بھی قابلِ برداشت بنا دیتے ہیں۔ چہرے کی مسکراہٹ، آنکھوں کی معصومیت اور ہاتھوں کی جنبش خود بخود غصے کو کم کر دیتی ہے۔ یوں بالمشافہ ملاقات انسانی نفسیات کو ایک متوازن راستہ فراہم کرتی ہے اور مکالمے کو نرمی عطا کرتی ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ تحریر اور کلام میں وہی فرق ہے جو تلوار اور پانی کی دھار میں ہے۔ دونوں میں کاٹ ہے، مگر ایک زخمی کرتا ہے اور دوسرا سیراب۔ ارسطو نے کہا تھا کہ انسان بولنے والا حیوان ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف بولنے والا نہیں بلکہ محسوس کروانے والا حیوان بھی ہے۔ تحریری الفاظ احساسات سے محروم ہو سکتے ہیں، لیکن کلام میں یہ کمی نہیں رہتی۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی نے مکالمے کو سہل ضرور بنایا ہے، مگر اس کی تاثیر اور دلکشی صرف بالمشافہ ملاقات میں ہے۔ اگر ہم اپنے تعلقات کو بگڑنے سے بچانا چاہتے ہیں اگر ہم اپنے الفاظ کو اشتعال انگیزی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں براہِ راست گفتگو کو زیادہ اہمیت دینی ہوگی۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹائپ شدہ الفاظ فاصلے بڑھاتے ہیں، جبکہ آمنے سامنے کے جملے دلوں کو قریب کر دیتے ہیں۔________عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)افسانہ نمبر 700 : دیولی کی رات کی ریل گاڑیتحریر : رسکن بونڈ (بھارت)مترجم : عبدالوحید خان (لاہور)جب میں کالج میں تھا، تو اپنی گرمیوں کی چھٹیاں دیہرہ میں، اپنی نانی کے گھر گزارتا تھا۔ میں مئی کے شروع میں میدانوں سے نکلتا اور جولائی کے آخر میں واپس آتا۔ دیولی، دیہرہ سے تقریباً تیس میل دور ایک چھوٹا سا اسٹیشن تھا؛ وہیں سے بھارتی تراۓ کے گہرے جنگلات کا آغاز ہوتا تھا۔ریل گاڑی صبح پانچ بجے کے قریب دیولی پہنچتی، جب اسٹیشن دھندلی سی بجلی کی بتیوں اور تیل کے دیوں کی روشنی میں جگمگا رہا ہوتا، اور پٹریوں کے پار جنگل مدھم صبح کے اجالے میں نظر آنے لگتا۔ دیولی میں صرف ایک پلیٹ فارم تھا، اسٹیشن ماسٹر کا دفتر اور ایک انتظار گاہ۔ پلیٹ فارم پر ایک چائے کی دکان، ایک پھل فروش، اور چند آوارہ کتے نظر آتے؛ اس کے علاوہ کچھ خاص نہ ہوتا کیونکہ ٹرین وہاں صرف دس منٹ کے لیے رکتی، پھر جنگلوں کی طرف روانہ ہو جاتی۔کیوں ریل گاڑی دیولی پر رکتی، یہ مجھے کبھی معلوم نہ ہوا۔ وہاں کبھی کچھ نہیں ہوتا تھا۔ نہ کوئی اترتا، نہ کوئی سوار ہوتا۔ پلیٹ فارم پر کبھی کوئی قلی بھی نظر نہیں آتا۔ مگر پھر بھی ٹرین پورے دس منٹ وہاں رکی رہتی، پھر گھنٹی بجتی، گارڈ سیٹی بجاتا، اور دیولی پیچھے چھوٹ جاتا، جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔میں اکثر سوچتا کہ دیولی میں، اسٹیشن کی دیواروں کے پیچھے کیا ہوتا ہو گا۔ مجھے اس تنہا چھوٹے سے پلیٹ فارم پر ترس آتا، اس جگہ پر جو کوئی دیکھنا نہ چاہتا۔ میں نے طے کیا کہ ایک دن میں دیولی پر ضرور اُتروں گا، اور ایک دن وہاں گزاروں گا، صرف اس قصبے کو خوش کرنے کے لیے۔میں اُس وقت اٹھارہ برس کا تھا، اپنی نانی کے پاس آیا ہوا تھا، جب ایک صبح رات کی ریل گاڑی دیولی پر رکی۔ ایک لڑکی پلیٹ فارم پر نیچے اتری، جو ٹوکریاں بیچ رہی تھی۔صبح سرد تھی اور اس نے اپنے کندھوں پر ایک شال ڈال رکھی تھی۔ اس کے پاؤں ننگے تھے اور کپڑے پرانے، لیکن وہ ایک نوجوان لڑکی تھی، جو وقار سے اور نفاست سے چل رہی تھی۔جب وہ میرے کھڑکی کے پاس آئی، تو رکی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ میں اسے غور سے دیکھ رہا ہوں، مگر پہلے پہل اس نے نظر انداز کرنے کی اداکاری کی۔ اس کی جلد سانولی تھی، جس پر اس کے چمکدار سیاہ بال خوب جچتے تھے، اور اس کی آنکھیں گہری اور اداس تھیں۔ پھر وہ آنکھیں، جو پُرمعنی اور بولتی ہوئی تھیں، میری آنکھوں سے ملیں۔وہ کچھ دیر تک میری کھڑکی کے پاس کھڑی رہی، ہم دونوں خاموش رہے۔ جب وہ آگے بڑھ گئی، تو میں اپنی سیٹ چھوڑ کر ڈبے کے دروازے پر چلا گیا اور دوسری طرف منہ کیے پلیٹ فارم پر کھڑا رہا۔ میں چائے کے اسٹال کی طرف چل پڑا۔ ایک کیتلی چھوٹی سی آگ پر اُبل رہی تھی، مگر دکان کا مالک کہیں ریل کے کسی ڈبے میں چائے دے رہا تھا۔ لڑکی اسٹال کے پیچھے میرے پیچھے آئی۔"کیا آپ کو ٹوکری خریدنی ہے؟" اُس نے پوچھا۔ "یہ بہت مضبوط ہیں، بہترین بانس سے بنی ہوئی …""نہیں،" میں نے کہا، "مجھے ٹوکری نہیں چاہیے۔"ہم دونوں ایک دوسرے کو کچھ دیر تک دیکھتے رہے، پھر اُس نے کہا، "کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کو ٹوکری نہیں چاہیے؟""اچھا، ایک دے دو،" میں نے کہا، اور اوپر والی ٹوکری لے کر اسے ایک روپیہ دیا، اس کے انگلیوں کو چھونے کی ہمت بھی نہ ہوئی۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، لیکن تبھی گارڈ نے سیٹی بجا دی؛ وہ کچھ بولی، مگر آواز گھنٹی کی آواز اور انجن کی سیٹی میں دب گئی۔ مجھے دوڑ کر اپنے ڈبے میں واپس جانا پڑا۔ گاڑی جھٹکے سے چل پڑی۔میں اسے دیکھتا رہا جب تک کہ پلیٹ فارم پیچھے چھوٹ نہ گیا۔ وہ پلیٹ فارم پر اکیلی کھڑی تھی اور ہلی نہیں، مگر وہ مجھے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی۔ میں اسے دیکھتا رہا، یہاں تک کہ سگنل باکس آڑے آ گیا، پھر جنگل نے اسٹیشن کو چھپا لیا، مگر میں اب بھی اُسے وہاں اکیلا کھڑا دیکھ رہا تھا …باقی سفر میں میں جاگتا رہا۔ اس لڑکی کے چہرے اور اس کی گہری، سلگتی آنکھوں کی تصویر میرے ذہن سے نکل ہی نہ سکی۔مگر جب میں دیہرہ پہنچا تو وہ منظر دھندلا سا ہو گیا، کیونکہ زندگی کے دوسرے کاموں نے مجھے گھیر لیا۔ تبھی میں نے اسے پھر یاد کیا جب دو مہینے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ریل گاڑی جیسے ہی دیولی پہنچی، میں اُسے دیکھنے لگا، اور دل میں ایک عجیب سی خوشی ہوئی جب میں نے اسے پلیٹ فارم پر آتے دیکھا۔ میں فوراً ڈبے سے کودا اور اُسے ہاتھ ہلایا۔اس نے مجھے دیکھ کر مسکراہٹ بھری۔ وہ خوش تھی کہ میں نے اُسے یاد رکھا۔ اور میں خوش تھا کہ اُس نے بھی مجھے یاد رکھا۔ ہم دونوں خوش تھے، جیسے پرانے دوست مل رہے ہوں۔اس بار وہ پلیٹ فارم پر ٹوکریاں بیچنے نہیں گئی، بلکہ سیدھا چائے کے اسٹال پر آئی؛ اس کی آنکھیں اچانک روشنی سے بھر گئیں۔ ہم نے کچھ دیر تک کچھ نہ کہا، مگر ہماری خاموشی بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی۔میں اُسے فوراً ساتھ لے جانا چاہتا تھا؛ یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ اسے پھر دور ہوتے دیکھوں۔ میں نے اس کے ہاتھ سے ٹوکریاں لے کر زمین پر رکھ دیں۔ اس نے ایک واپس لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔"مجھے دہلی جانا ہے،" میں نے کہا۔اس نے سر ہلایا۔ "مجھے کہیں نہیں جانا۔"گارڈ نے سیٹی بجائی، اور مجھے اس پر غصہ آیا۔"میں پھر آؤں گا،" میں نے کہا۔ "کیا تم یہاں ہو گی؟"اس نے پھر سر ہلایا، اور جیسے ہی اس نے سر ہلایا، گھنٹی بجی اور ریل چل پڑی۔ مجھے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے الگ کرنا پڑا اور دوڑ کر چلتی ہوئی گاڑی میں سوار ہونا پڑا۔اس بار میں اسے بھولا نہیں۔ وہ باقی سفر میں میرے ساتھ رہی، اور اس کے بعد بھی لمبے عرصے تک۔جب کالج ختم ہوا، تو میں جلدی جلدی سامان باندھ کر دیہرہ روانہ ہوا۔ نانی میرے جلد آنے سے خوش تھیں، مگر میں اندر سے بے چین اور پریشان تھا۔ ٹرین جب دیولی پہنچی، میں گھبراہٹ سے پلیٹ فارم پر نظریں دوڑانے لگا، مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔میں نیچے اُترا۔ مایوسی اور ایک عجیب سا خدشہ دل پر چھا گیا۔ میں دوڑتا ہوا اسٹیشن ماسٹر کے پاس گیا اور پوچھا، "وہ لڑکی جو ٹوکریاں بیچتی تھی، کیا آپ اُسے جانتے ہیں؟""نہیں،" اسٹیشن ماسٹر نے کہا، "اور اگر ٹرین نہیں چھوڑنی تو فوراً چڑھ جاؤ۔"مگر میں پلیٹ فارم پر چکر کاٹتا رہا، ریلنگ کے پار جھانکتا رہا؛ وہاں صرف ایک آم کا درخت اور گرد سے اَٹی ایک سڑک نظر آئی، جو جنگل کی طرف جا رہی تھی۔ وہ سڑک کہاں جاتی تھی؟ ریل گاڑی چل پڑی، مجھے دوڑ کر واپس ڈبے میں چڑھنا پڑا۔جیسے جیسے ریل جنگلوں میں داخل ہوئی، میں کھڑکی کے سامنے بیٹھا سوچوں میں ڈوبا رہا۔میں کیا کر سکتا تھا اُس لڑکی کے بارے میں جسے میں نے صرف دو بار دیکھا تھا، جس سے دو باتیں ہی ہوئی تھیں، اور جس کے بارے میں میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا — سوائے اس کے کہ میں اُس کے لیے ایک ایسی نرمی اور ذمہ داری محسوس کرتا تھا جو کبھی کسی کے لیے نہ کی۔نانی میرے مختصر قیام پر خوش نہ تھیں، کیونکہ میں وہاں صرف چند ہفتے ہی رکا۔ میں بے قرار تھا۔ پھر میں واپس میدانوں کی طرف روانہ ہو گیا، یہ ارادہ لے کر کہ دیولی کے اسٹیشن ماسٹر سے مزید سوال کروں گا۔مگر اب وہاں نیا اسٹیشن ماسٹر تھا۔ پچھلا تبادلہ ہو چکا تھا۔ نئے والے کو اُس لڑکی کے بارے میں کچھ پتا نہ تھا۔ میں نے چائے والے کو ڈھونڈا، ایک چھوٹا سا، سوکھا سا آدمی، چکنائی سے بھرے کپڑے پہنے ہوئے، اور اس سے پوچھا:"وہ لڑکی جو ٹوکریاں بیچتی تھی، کیا تم اُسے جانتے ہو؟""ہاں، یہاں ایسی ایک لڑکی تھی، یاد ہے،" اُس نے کہا۔ "مگر اب آنا چھوڑ دیا ہے۔""کیوں؟ کیا ہوا اُسے؟""مجھے کیا پتا؟" اُس نے کہا۔ "میرا اس سے کیا لینا دینا؟"اور ایک بار پھر مجھے دوڑ کر ریل گاڑی پکڑنی پڑی۔جب دیولی پلیٹ فارم پیچھے ہٹنے لگا، میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ ایک دن میں یہاں اتر کر ایک دن ضرور گزاروں گا، اس لڑکی کی تلاش میں جو صرف ایک نظر سے میرا دل چرا لے گئی تھی۔یہی خیال میرے کالج کے آخری سال میں میری ڈھارس بنا رہا۔ میں اگلی گرمیوں میں پھر دیہرہ آیا، اور جب رات کی ریل دیولی پہنچی، میں پھر اُسے تلاش کرتا رہا، یہ جانتے ہوئے کہ وہ نہیں ملے گی، مگر پھر بھی امید لگاۓ رکھتا۔مگر میں کبھی دیولی پر نہیں اُترا۔ (اگر یہ کوئی افسانہ ہوتا یا فلم، تو شاید میں اُتر جاتا، راز سلجھاتا، اور کسی مناسب انجام تک پہنچ جاتا)۔ لیکن میں ڈرا ہوا تھا۔ شاید میں سچ جاننے سے گھبرا رہا تھا۔ شاید وہ اب دیولی میں نہیں تھی، شاید اس کی شادی ہو گئی تھی، شاید وہ بیمار ہو گئی تھی …ان گزشتہ برسوں میں میں نے کئی بار دیولی سے گزر کیا ہے، اور ہر بار کھڑکی سے جھانک کر اس کے چہرے کو تلاش کرتا ہوں، جو شاید وہاں کھڑا ہو اور مسکرا رہا ہو۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ دیولی میں، اسٹیشن کی دیواروں کے پیچھے، کیا ہوتا ہو گا۔ مگر میں کبھی وہاں نہیں اُتروں گا۔کیونکہ شاید حقیقت میرے خواب کو توڑ دے۔میں صرف امید میں جینا چاہتا ہوں —اور کھڑکی سے جھانک کر اُس لڑکی کا انتظار کرتا ہوں …جو ٹوکریاں بیچتی تھی۔اصل عنوان: The Night Train at Deoliمصنف کا تعارف:رسکن بونڈ (پیدائش ۱۹۳۴ء) بھارتی انگریزی ادیب ہیں، جو مختصر کہانیوں اور بچوں کے ادب کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا پہلا ناول The Room on the Roof تھا جس پر انہیں انعام ملا۔ ان کی معروف تصانیف میں The Night Train at Deoli اور The Blue Umbrella شامل ہیں۔ حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری اور پدم بھوشن سے نوازا۔ وہ مسوری (بھارت) میں مقیم ہیں۔*مترجم: عبد الوحید خان لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج ہیں ۔ _______"غزل " (غیرمطبوعہ)بند ہے شہر کا بازار نہیںبس غمِ دل کا خریدار نہیںاک توجہ کے طلب گار ہیں ہمخواہشِ درہم و دینار نہیںگھر سہولت سے وہ آسکتا ہےرہ میں حائل کوئی دیوار نہیںبارہا سوچ کے رہ جاتا ہوںتذکرہ اب لب و رخسار نہیںانتخاب ایک کا کرنا ہے مجھےسر جو بچتا ہے تو دستار نہیںاب ادھر سنگ نہیں آتے ہیںکیا شجر کوئی ثمر دار نہیںسر پہ مدت سے کھڑا ہے سورجاور کہیں سایہء اشجار نہیںمجھ کو پہلے یہ غلط فہمی تھیبھول جانا اسے دشوار نہیںزخم ناقابلِ برداشت سلیماپنے ہی دیتے ہیں، اغیار نہیں.....................................🔴🔴.............. غزل............. ……………صغیر ملال…… . . . . . . . . . . . . . . . . . کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتےشہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتےان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلےپھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتےپہلے دیتے ہیں دلاسا کہ بہت کچھ ہے یہاںاور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتےکبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جوواپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتےسر پہ سورج لئے پھرتے ہیں یقینا کوئی اپنے اطراف جو سایہ نہیں رہنے دیتےدائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاںکوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتےجس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کادیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتےزندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملالکیوں مسیحاو ¿ں کو زندہ نہیں رہنے دیتےآرٹ۔۔۔۔۔۔فہیم شناس کاظمی
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل