Friday, 17 October 2025
علی برادران ہمیشہ علی گڑھ کالج سے برگشتہ رہے : ڈاکٹر شیخ عبداللہ( قسط : ۲) تکلف برطرف : سعید حمید علی برادران ہمیشہ علی گڑھ کالج سے برگشتہ رہے ، یہ انکشاف مذکورہ کتاب میں کیا گیا اور اس کی وجہ بھی بیان کی گئی، جو آنکھیں کھولنے والی ہے ( یہ تنقیدی تذکرہ اے ایم یو ویمنس کالج ، علی گڑھ کے بانی ڈاکٹر شیخ عبداللہ ایڈوکیٹ ( پدم بھوشن ) کی کتاب ’’مشاہدات و تاثرات ‘‘ میں موجود ہے ، ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتاب ہذا میں ڈاکٹر شیخ عبداللہ لکھتے ہیں : : ’’ مولانا محمد علی اور شوکت علی ، دونوں کالج سے ہمیشہ برگشتہ رہے ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ صاحبزادہ آفتاب احمد خان ، ڈاکٹر سر ضیا ء الدین اورمیں ، جن کے مشورہ کے بغیر نواب وقار الملک صاحب مرحوم کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔ان سے مولانا محمد علی اور شوکت علی پرخاش رکھتے تھے ۔ہم اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ اگر کالج کا کوئی روپیہ ان دونوں بھائیوں کے قبضہ میں آجائے تو ہندوستان میں ہی اس روپئے کو برباد کردیں گے ۔اور ترکوں تک اس میں سے ایک روپیہ بھی نہیں پہنچے گا ۔ ‘‘ ( صفحہ : 288 ) خلافت تحریک کے ہر ہر قدم پر ’’ لاؤچندہ ، لاؤچندہ ‘‘ کا شور مچایا گیا لیکن عوام کو کبھی ان کے چندہ کا صحیح حساب کتاب نہیں ملا ، اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مالی معاملات میں خلافت کمیٹی شفاّف (TRANSPARENT )نہیں تھی ۔ آخر خلافت تحریک کے دوران کتنا روپیہ جمع کیا گیا ؟ اس سوال کا کوئی حتمی جواب بھی نہیں ملتا ہے ۔ مصنف نے اس سلسلہ میں لکھا ؛ ’’ یہ بات خلافت کے ارباب ِحل و عقد نے بھی خود تسلیم کی تھی کہ باون لاکھ روپیہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ترکوں کی امداد کیلئے دیا ہے ۔ دوسرے لوگ تو اس چندہ کا اندازہ بہت زیادہ کرتے تھے کہ کئی کروڑ جمع ہوا تھا ۔ لیکن ہم رقم کو تسلیم کئے لیتے ہیں جو خلافت کارکنان نے قبول کی تھی ۔ تحریک کا کام ابھی جاری تھا کہ لوگوں نے تقاضے کرنا شروع کردیا کہ بتاؤ روپیہ کیا ہوا ؟ ترکی بھیجا گیا یا نہیں ؟اس پر مولانا محمد علی اپنے اخبار ہمدرد میں جواب دیتے رہے ۔پہلے کہا کہ اٹلی کی کسی بنک کی معرفت روپیہ ٹرکی بھیجا گیا ہے ، اس پر لوگوں نے ’’ یہ بات خلافت کے ارباب ِحل و عقد نے بھی خود تسلیم کی تھی کہ باون لاکھ روپیہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ترکوں کی امداد کیلئے دیا ہے ۔ دوسرے لوگ تو اس چندہ کا اندازہ بہت زیادہ کرتے تھے کہ کئی کروڑ جمع ہوا تھا ۔ لیکن ہم رقم کو تسلیم کئے لیتے ہیں جو خلافت کارکنان نے قبول کی تھی ۔ تحریک کا کام ابھی جاری تھا کہ لوگوں نے تقاضے کرنا شروع کردیا کہ بتاؤ روپیہ کیا ہوا ؟ ترکی بھیجا گیا یا نہیں ؟اس پر مولانا محمد علی اپنے اخبار ہمدرد میں جواب دیتے رہے ۔پہلے کہا کہ اٹلی کی کسی بنک کی معرفت روپیہ ٹرکی بھیجا گیا ہے ، اس پر لوگوں نے کہا کہ مہربانی سے اٹلی کے بنک نے جو رسید آپ کو دی ہوگی ، وہ آ پ پیش کیجئے ۔ اس پر جواب دیا کہ اٹلی کے بنک نے ہمیں کوئی رسید نہیں دی کیونکہ یہ کام انگریزوں سے خفیہ طور پر کیا گیا ہے ۔لوگوں نے اس پر بہت زیادہ تقاضا کیا اور آمد و خرچ کا حساب کتاب طلب کیا ۔مولانا محمد علی نے کہا کہ حساب کتاب تو خدا کے یہاں چل کر ہی دیں گے ۔بعد میں یہ معلوم ہوا کہ سیٹھ میاںچھوٹانی کے لکڑی کے کارخانہ سے بھی کوئی بہت زیادہ رقم وصول نہیں ہوئی ( جن پر خلافت کا سولہ سترہ لاکھ روپیہ اپنے میں بزنس میں استعمال کرلینے کا الزام تھا اور انہوں نے ہرجانہ کے طور پر اپنے دو کارخانے خلافت کو دے دیئے تھے ) ۔ لیکن جو رقم وصولی ہوئی اس سے ایک مکان بمبئی میں دفتر خلافت کیلئے خریداگیا جو بعد میں مسٹر زاہد خلف مولانا شوکت علی کا مملوکہ ہوگیااور اس وقت وہی اس مکان میں رہتے ہیں اور وہی تمتع حاصل کرتے ہیں ، کسی دوسرے کا اس میںدخل نہیں ۔‘‘ ( صفحہ : 291-292 )(ماخوذ : کتاب ، تحریک خلافت یا تاریخی حماقت )_________________🔴🔴تم انڈین ہو؟محمد علم اللہبرطانیہ صبح کے سناٹے میں کچھ ایسی خامشی بسی تھی جو اجنبی دیار میں زیادہ گہری لگتی ہے۔ میں نے کھڑکی کے پردے ہٹا کر باہر جھانکا—بادلوں میں لپٹی ہوئی ایک نامانوس سی صبح۔ ایک ایسا شہر جہاں درختوں کے پتے بھی مجھ سے اجنبی لگتے تھے، اور جہاں ہوا کی سانسیں میرے لیے ترجمے کی محتاج تھیں۔کمرے کے ایک کونے میں میرا بیگ پڑا تھا، بےترتیب کپڑوں کا انبار، کتابوں کی وہی دو چار گرد آلود جلدیں، اور ایک نوٹ بک جس پر درج تھا: "پیسے ختم ہو رہے ہیں۔ انکل سے رابطہ کرنا ہے۔"انکل نے وعدہ کیا تھا کہ رقم ویسٹرن یونین کے ذریعے بھیج دیں گے۔ اب وہ رقم آ چکی تھی۔ ایک مسیج آیا تھا:“Western Union Transfer received. Collect with ID.”ایک پرائے شہر میں، شناخت کے کاغذ لے کر نکل پڑا۔ گوگل میپس پر پتہ ڈھونڈا، مگر دل میں تشویش تھی کہ کیا صرف پتہ جاننے سے منزل مل جاتی ہے؟فون پر دئیے گئے نمبر پر کال کی، دوسری طرف ایک تیز لہجہ سنائی دیا—تیلگو زبان میں۔"Hello? Mee peru enti?"میں ٹھٹکا۔"ہندی آتی ہے؟ انگلش؟"لیکن جواب میں ایک ایسی دیوار تھی جو زبانوں کے فرق سے نہیں، دلوں کی اجنبیت سے بنی تھی۔ رابطہ منقطع ہو گیا۔میرے ساتھ میرا ہم جماعت، شوئک، تھا۔ بنگالی، ہندو، سوشیالوجی کا طالبعلم، جس کی نظروں میں ہمیشہ کچھ سوچتی ہوئی خامشی رہتی تھی۔ ہم نے پیدل ہی ویسٹرن یونین کی طرف رخ کیا۔ دھوپ اب چہرے پر جھلسنے لگی تھی، لیکن ہمارے قدم سوالوں کی دھن پر رواں تھے۔جب وہاں پہنچے تو دفتر کی فضا میں ایک مضمحل سا سناٹا تھا۔ جیسے وقت تھک کر کرسی پر بیٹھ گیا ہو۔ اندر داخل ہوئے تو ایک درمیانی عمر کا شخص کاؤنٹر پر بیٹھا تھا۔ میں نے مودبانہ لہجے میں کہا:"ویسٹرن یونین سے رقم آئی ہے۔ یہ میرا شناختی کارڈ ہے۔"اس نے کارڈ ہاتھ میں لیا۔ کچھ دیر تک غور سے دیکھا، پھر ایک غیرمتوقع سوال کیا:"تم انڈین ہو؟"یہ سوال اس قدر اچانک اور غیر متوقع تھا کہ میرے ذہن میں جیسے کسی نے سائلنٹ بم پھوڑ دیا ہو۔ میں نے آنکھیں سکیڑیں، چہرے پر طنز اور تحیر کا امتزاج لایا:"جی نہیں، افغانستان کا کارڈ لایا ہوں… آپ کو اردو پڑھنے نہیں آتی؟"اس نے دوبارہ پوچھا، اس بار آنکھوں میں شک کی ایک شعلہ زن کرن تھی۔"یہ انڈیا کا کارڈ ہے؟"شوئک کی آنکھیں غصے سے دہک اٹھیں۔ اس نے ایک جھٹکے سے میز پر ہاتھ مارا:"ابے سالے! ایسا سوال پوچھا کیوں؟"سب چونک گئے۔ دفتر میں موجود دو تین اور افراد ہماری طرف دیکھنے لگے۔ لمحہ بھر میں فضا بوجھل ہو گئی۔ جیسے لفظوں نے گرد جھاڑ کر ہتھیار اٹھا لیے ہوں۔پھر ایک بوڑھا شخص اندر داخل ہوا، خاکی وردی میں ملبوس، شاید پوسٹ ماسٹر تھا۔ چہرے پر حیرت، آواز میں برہمی:"چارُو! ایمی چیساؤ؟" وہ تیلگو میں کچھ کہنے لگا، ہم کچھ نہ سمجھے لیکن لہجہ سمجھ آ گیا تھا۔پھر اس نے مجھے پاس بلا کر بیٹھایا۔ چپراسی سے پانی منگوایا۔ شوئک اب بھی کھولتا ہوا سا لگ رہا تھا۔پوسٹ ماسٹر نے نرمی سے کہا:"بیٹا، جانے دو۔ وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہے۔ شاید وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ تم کس اسٹیٹ کے ہو، زبان ٹھیک نہیں تھی، الفاظ الٹ گئے۔"میں خاموش رہا، جیسے کسی اندرونی طوفان کو قابو میں رکھ رہا ہوں۔شوئک بولا:"سر، یہ سوال غلط تھا۔ ایک شناختی کارڈ دیکھ کر کسی کی قومیت پر سوال کرنا… یہ تعصب ہے۔ اور یہ ہم برداشت نہیں کرتے۔"پوسٹ ماسٹر نے نرمی سے سر ہلایا، جیسے اعتراف کر رہا ہو۔"چلو، اگر تم کہتے ہو، تو میں اسے سوری کہنے کو کہتا ہوں۔"پکارا گیا:"چارُو، سر کو سوری بولو!"جھینپتے ہوئے، وہ آدمی سامنے آیا۔ نظریں جھکی ہوئی، زبان ہلکی:"سوری سر۔"میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ نہ احساس شرمندگی تھا، نہ تکلف۔ بس ایک رسمی معافی، جیسے نظام کا ایک فرض۔پیسے لے کر ہم باہر نکلے تو سورج کے سائے کچھ نرم ہو چکے تھے۔ لیکن میرے اندر کا آفتاب ابھی جل رہا تھا۔اسی رات، میں نے اپنی نوٹ بک کھولی۔ اس پر لکھا:"سوال یہ نہیں کہ میں انڈین ہوں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ تم مجھے انسان مانتے ہو یا نہیں؟"پھر میں نے مزید لکھا:"یہ ملک میرے اجداد کی قربانیوں سے بنا ہے۔ اس کی فضا میں میرے دادا کی اذانوں کی بازگشت ہے، میرے ابا کی تختی کی سیاہی ہے، اور میری ماں کے آنچل کا سایہ۔ مجھے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ میں کون ہوں۔ شاید تمہیں سیکھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کو قومیت سے پہلے پہچانا جاتا ہے۔"چند مہینے گزر گئے۔ شوئک نے کالج میگزین کے لیے میری لکھی گئی کہانی "تم انڈین ہو؟" کو شائع کروا دیا۔ اگلے دن ایک نوجوان، جو دفتر کے عملے میں نیا بھرتی ہوا تھا، میرے پاس آیا:"سر، آپ کی کہانی پڑھی۔ دل کو چھو گئی۔"میں نے مسکرا کر سر ہلایا۔"ایک بات پوچھنی ہے سر…" وہ رکا۔"پوچھو۔""یہ کہانی سچی تھی؟"میں نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی۔ پھر آہستہ سے کہا:"کبھی کبھی سچ اتنا دردناک ہوتا ہے کہ افسانہ لگتا ہے۔ اور کبھی افسانہ اتنا سچا ہوتا ہے کہ دل میں چھید کر جاتا ہے۔ تم جو سمجھو، وہی سچ ہے۔"دن، زبان، مذہب، شناخت اور ملک—یہ سب الفاظ ہیں۔ مگر جب دل میں دراڑ پڑتی ہے تو آوازیں بھی اجنبی لگتی ہیں۔ میرے لیے وہ سوال محض ایک جملہ نہیں تھا، ایک پوری تاریخ، ایک ثقافت، ایک شناخت کی تذلیل تھی۔لیکن میں نے معاف کیاکیونکہ میں جانتا ہوں، میرا ہونا خود ایک ثبوت ہے۔میں ہندوستانی ہوں، اور یہی میری سب سے بڑی پہچان ہے۔__________🔴🔴"پہلا قدم"پہلے چند قدم اٹھانے مشکل ہوتے ہیںپیدائش کے بعد بھیڑ کے بچے کی طرح گرتے ہوےننھے کچھووں کی طرح سمندر کی طرف پھسلتے ہوے محبوب نظروں کی طرحان کی طرف کھچتے ہوے پہلے چند قدم ہی مشکل ہیںکسی سوچ کی طرفجدائی کی طرفتنہائی کی طرف ہر چیز قوت رکھتی ہے ہمیں اپنا اسیر کرنے کیہر قوت کی طرف ہم جاتے ہیںرحم کی امید کے ساتھہر قوت شفقت سے ہمارے سر پہ ہاتھ پھیرتی ہےپہلا قدمہماری مرضی کاہماری خواہش کا جبلت کا ہماری مجبوری کا پہلا قدم ہی مشکل ہےکٹھن راستوں کی طرفتاریکی کی طرفخاموشی کی طرف پہلا قدم ہی مشکل ہےمحبت کی طرفہمدردی کی طرفزندگی کی طرفطاہر راجپوت_______🔴🔴نظم 🔴 احمد نعیم🎬"نئی سڑک پہ چلنے کا پہلا دن، اور تلووں میں چھپی مسرّت"🎬 اچانکایک صبح جب آپ سو کر اٹھ کر دیکھتے ہیںکہ روز روز انتظامیہ کو گالی دے کر اپنے کام کی شروعات پہ جانے والی سڑک بن گی تو ایک ایسی مسرت کا احساس ہوتا ہے جیسے گمشدہ پاسپورٹ یا راشن کارڈ کے مل جانے پہ ہوتا ہے نئی سڑک پہ چلنے کی مسرت وہی تلوے جانتے ہیںجو روندی ہوئی سڑک سے کئی مرتبہ اپنے انگوٹھے یا چپل تڑوا چکے ہیںیا کسی تیز بارش میںجن کے پیر کی انگلی کے ناخن اکھڑ چکے ہوںنئی سڑک پہ چلنے کی مسرت ایسی ہی ہےجیسے کسی کو اچانک الرجی سے نجات حاصل ہو گئی ہویا پھرایک ایسی مسرت جیسے برسوں سے دھول، گرد و غبار میں کسی کونے میںیا طاق کے اوپر ٹنگا آئینہ جس کی جگہ چمکیلے آئینہ میں اپنا عکس دیکھنا جیسی مسرتنئی سڑک پہ قدم قدم چلنے کی مسرت آپ کسی بھی عورتبچے بوڑھے کے لبوں پہ دیکھ سکتے ہیںایک پرانی اور کھنڈر، گرد غبار میں اٹی سڑکایک باسی صبح مرمت شدہ ملتی ہے تو آدمی کو احساس ہوتا ہے جیسے اُس نے آج بڑی فرصت سے اپنے جسم کی صفائی کی ہے نئی سڑک کا وجود ایک کچی بستی کے مکینوں کے لیے جیسے خواب آنکھوں میں انڈے دے دیتے ہیں اس سے کچھ موسم خوشگوار گزارتے ہیں مگرآنے والی بارش کی تیسری چوتھی بارش میںکچے میڑیل والی سڑک بہہ جاتی ہے دوسرے تیسرے ٹینڈر کے انتظار میں کچی سڑک سے اچھی سڑک اور اچھی سڑک سے اچانک تیز بارش میں بہہ جانے والی سڑک تبدیل کچھ نہیں ہوتا بس وقت بے وقت ہماری آنکھیں بدل جاتی ہیں چیزیں اپنی جگہ وہی رہتی ہیں،،احمد نعیم
*🛑سیف نیوز اُردو*
’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...
-
مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن 2017 میں تمام امیدواروں کو اپنے وارڈ میں کتنی ووٹ ملی مکمل تفصیل