Friday, 28 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





سعودی پرو لیگ میں صرف رونالڈو کروڑوں ڈالر وصول کرنے کے مستحق ہیں: سابق سعودی وزیر کھیل
سعودی عرب کے سابق وزیر کھیل شہزادہ عبداللہ بن مساعد نے کہا ہے کہ ’کرسٹیانو رونالڈو سعودی پرو لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے واحد فٹ بالر ہیں جنہوں نے ثابت کیا ہے وہ کروڑوں ڈالر کے پیکج کے مستحق ہیں۔‘
یاد رہے کہ پرتگال سے تعلق رکھنے والے سٹار فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے 2022 کے آخر میں مانچسٹر یونائیٹڈ کو دوسری مرتبہ خیرباد کہنے کے بعد ’النصر کلب‘ میں شمولیت اختیار کی تھی۔اُن کی ’النصر کلب‘ میں شمولیت سے سعودی عرب میں فٹ بال کے سٹارز کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔
شہزادہ عبداللہ بن مساعد غیرملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کی سعودی پرولیگ میں شمولیت سے قبل 2014 سے 2017 تک سعودی عرب کے وزیر کھیل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’سعودی پرولیگ میں غیرملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد میں آمد سے مقامی ٹیلنٹ نظرانداز ہو رہا ہے اور یہ قومی ٹیم کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے۔‘
العربیہ کے ٹی وی پروگرام میں ایک انٹرویو کے دوران شہزادہ عبداللہ بن مساعد نے سعودی فٹ بالرز کے تحفظ اور مملکت میں 2034 کے ورلڈ کپ سے قبل مقابلے کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سابق سعودی وزیر کھیل نے کہا کہ ’رونالڈو واحد غیرملکی کھلاڑی ہیں جنہیں جو پیکج دیا جا رہا ہے وہ اس کے حق دار ہیں، وہ سعودی عرب اور لیگ کے لیے بین الاقوامی تجربہ لے کر آئے ہیں۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’دیگر کئی کھلاڑیوں کو جو پیسے دیے جا رہے ہیں وہ اس کے مستحق نہیں ہیں۔‘
شہزادہ عبداللہ بن مساعد نے کہا کہ ’لیگ کی ٹیموں میں غیرملکی کھلاڑیوں کی تعداد 8 تک جا پہنچی ہے جس کے بعد سعودی فٹ بالرز ’ایکسٹراز‘ بن گئے ہیں۔‘
انہوں نے یوتھ ڈویلپمنٹ پر مزید سرمایہ کاری کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت قومی ٹیم کی قیمت پر مضبوط لیگ بن رہی ہے، ہمیں ورلڈ کپ 2034 کے لیے ایک واضح لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔‘ 









 


سردیوں میں ایڑھیاں کیوں پھٹ جاتی ہیں اور اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے
سردیوں میں چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے بچوں میں پھٹے ہونٹ اور بڑوں میں پھٹی ایڑھیوں جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ پھٹی ایڑھیاں بظاہر ایک عام سا مسئلہ دکھائی دیتا ہے لیکن اگر اس کا حل نہ کیا جائے تو یہ شدید صورت اختیار کر کے تکلیف دہ بھی ہو جاتا ہے۔

جب سردی کی ٹھنڈی ہوا پھٹی ایڑھیوں سے ٹکراتی ہے تو درد مزید بڑھ جاتا ہے۔

لیکن پھٹی ایڑھیوں کا مسئلہ سردیوں میں ہی زیادہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں اور اس سے بچاؤ کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟

بی بی سی نے ماہر امراض جلد اور کاسمیٹولوجسٹ ڈاکٹر شاہینہ شفیق سے سردیوں میں ایڑھیاں پھٹنے کے مسئلے پر بات کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاؤں کی جلد میں تیل کے غدود کم ہوتے ہیں اور اس لیے وہ قدرتی طور پر خشک ہو جاتے ہیں۔ سردی کے باعث پاؤں کی جلد میں موجود یہ غدود اور بھی غیر فعال ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایڑھیاں پھٹ جاتی ہیں۔‘

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، انسانی جلد اپنی قدرتی لچک کھوتی جاتی ہے اور جسم میں تیل کی قدرتی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث جلد خشک ہو جاتی ہے اور اس کے پھٹنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے پورے جسم کا وزن پیروں اور ٹخنوں پر زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ایڑھیاں پھٹ سکتی ہیں۔‘ماہر امراض جلد ڈاکٹر آیانم ستیا نارائنا بتاتے ہیں کہ دیگر مسائل جیسا کہ چنبل، فنگل انفیکشن، ایگزیما، ذیابیطس اور تھائیرائیڈ کی بیماری بھی ایڑھیوں کے پھٹنے یا اس میں دراڑیں پیدا ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ڈاکٹر ستیا نارائن کے مطابق سردیوں کے موسم میں لوگ کم پانی پیتے ہیں جس کی وجہ سے جسم میں نمی کی کمی ہوتی ہے اور جلد پھٹنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ شاور کرتے وقت اپنی ایڑھیوں کو ٹھیک سے صاف نہیں کرتے ہیں، یا نہانے کے بعد انھیں باقاعدہ خشک نہیں کرتے، تو اس سے بھی دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔‘پھٹی ایڑھیوں میں بعض اوقات چھالے اور درد بھی ہو سکتا ہے۔

کئی بار اس مسئلے میں مبتلا لوگ دوسروں کے درمیان جانے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ستیا نارائن کہتے ہیں کہ ’جن لوگوں کو پہلے سے یہ مسئلہ ہوتا ہے وہ سردیوں میں اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ خواتین کو سردیوں میں پھٹی ایڑھیوں کی وجہ سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ یہ دراڑیں شاید کوئی بڑا مسئلہ نہ لگیں، لیکن ان سے پیروں میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔‘سردی کی وجہ سے لوگ گرم سے نہاتے ہیں اور زیادہ گرم پانی کے استعمال کی وجہ سے جلد کی قدرتی نمی ختم ہو جاتی ہے جو جلد میں مختلف مقامات پر دراڑیں پڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر ستیا نارائن ایسے افراد کو سردیوں میں زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ماحول کی ٹھنڈی ہوا جسم میں موجود نمی کو خشک کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جلد کمزور ہو جاتی ہے۔ جسم میں وٹامن اے، سی اور ڈی کی کمی کی وجہ سے جلد پھٹنے لگتی ہے۔‘

’جلد کے خشک ہونے سے خارش اور دانے بھی ہو سکتے ہیں۔ جب ہم خارش کی وجہ سے جلد کو مزید کھرچتے ہیں تو جلد کی اوپری تہہ نکل جاتی ہے اور اس مقام پر بعض اوقات زخم بھی بن جاتے ہیں۔ اس لیے سردیوں میں جلد کی دیکھ بھال پر توجہ دینا ضروری ہے۔‘

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر پھٹی ایڑھیوں کا خیال نہ رکھا گیا تو مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟
ڈاکٹر شاہینہ شفیق کا کہنا ہے کہ چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے پھٹی ایڑھیوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

وہ سردیوں کے دوران آپ کے پیروں کی حفاظت کے لیے کچھ تجاویز پیش کرتی ہیں، جیسا کہ:

اپنے پیروں کو روزانہ نیم گرم پانی سے دھوئیں۔ پیروں کو دھونے یا نہانے کے بعد اپنے پیروں پر لوشن، کریم یا ناریل کا تیل لگائیں کیونکہ یہ خشکی کی روک تھام کرتے ہیں اور جلد کو چکنا بناتے ہیں
سردیوں میں وافر مقدار میں پانی پینا ایک اچھا عمل ہے کیونکہ یہ خشک جلد کے عمل کو بڑھنے سے روک دے گا
دن میں دو بار اپنے پیروں پر اچھے کوالٹی کا موئسچرائزر لگائیں
عمر رسیدہ افراد اور شوگر کے مرض میں مبتلا افراد اپنے ٹخنوں کو ٹھنڈی ہواؤں سے بچانے کے لیے موزوں کا استعمال کریں
ڈاکٹر ستیا نارائن کہتے ہیں کہ سردیوں میں نیم گرم پانی سے نہانا اچھا ہے اور اومیگا فیٹی ایسڈ سے بھرپور بیج، گری دار میوے اور وٹامن سی سے بھرپور پھلوں اور کھانوں کو خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ اگر ایڑھیوں میں پڑی دراڑیں بڑھ چکی ہیں، ان سے خون بہہ رہا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیے جانا ضروری ہے۔












'غزل کنگ' جگجیت سنگھ اور چترا کی جوڑی نے موسیقی کو ایک نئی پہچان دی، بیٹے کی موت کا صدمہ آواز سے چھلکتا تھا

حیدرآباد: جگجیت سنگھ نے غزل کو عوام تک پہنچایا۔ ان کی سادہ زبان، سادہ موسیقی اور دلکش موسیقی نے انہیں "غزل کا بادشاہ" بنا دیا۔ انہوں نے روایتی اردو شاعری کو ایک نئی جہت دے کر اس کی نئی تعریف کی۔

ان کی مشہور غزلیں، جیسے "ہونٹو سے چھو لو تم،" "جھکی جھکی سی نظر"، "تمہیں دیکھا تو یہ خیال آیا،" "ہزاروں خواہشیں ایسی" اور "یہ کاغذ کی کشتی" آج بھی سننے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی غزلوں کی خاصیت یہ تھی کہ ہر سننے والے کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ صرف انہی کے لیے گا رہے ہوں۔

راجستھان کے سری گنگا نگر میں پیدا ہونے والے جگجیت سنگھ نے بالی ووڈ میں پلے بیک سنگر بننے کا خواب دیکھا۔ وہ 1965 میں ممبئی چلے گئے اور اپنے موسیقی کے سفر کا آغاز کیا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر ناکام رہے لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ بعد ازاں انہوں نے غزل کی صنف کو اپنایا اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔پانچ دہائیوں کا یادگار سفر

جگجیت سنگھ نے اپنے کیریئر کا آغاز 1961 میں 20 سال کی عمر میں کیا۔ پانچ دہائیوں تک انہوں نے موسیقی کی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی آواز، موسیقی اور حساسیت نے انہیں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں غزل کے شائقین کو پسند کیا۔ آج بھی ان کی آواز ہر عمر کے سننے والوں کے دلوں کو چھوتی ہے، جس طرح ان کی زندگی میں تھی۔

چترا سنگھ نے جگجیت سنگھ کے بارے میں یہ بات کہی

جگجیت سنگھ کی اہلیہ اور گلوکارہ چترا سنگھ نے ایک بار کہا تھا کہ"غزل کو کسی زمانے میں بزرگوں کی موسیقی سمجھا جاتا تھا، جسے بیگم اختر اور انگوری بائی جیسے گلوکاروں نے گایا تھا، لیکن جگجیت جی نے اسے آسان کر دیا، ان کی گائیکی اتنی جذباتی تھی کہ سننے والے رو پڑتے۔ سامعین کے درمیان میں نے بیٹھ کر دیکھا مجھے مرد اور عورتیں روتے ہوئے نظر آئیں۔ انہوں نے اس طرح محسوس کیا کہ اگر وہ ہر ایک کے لیے ایسا محسوس کر رہے تھے کہ وہ ان کے لیے گا رہے ہیں۔" جذبات دلوں کو چھو گئے۔

جگجیت سنگھ نے غزل کو نہ صرف عوام تک پہنچایا بلکہ اسے ایک نئی اور جدید شکل بھی دی۔ انہوں نے 12 تاروں والے گٹار اور باس گٹار جیسے نئے آلات کو اپنی غزلوں میں شامل کرکے اسے ایک نئی شناخت دی۔ ان کی آواز درد اور جذبات سے لبریز تھی کہ سننے والے ان کے گیتوں میں کھو جاتے تھے۔

جگجیت سنگھ کو بھلے ہی مین اسٹریم بالی ووڈ میں کامیابی نہ ملی ہو، لیکن انہوں نے اپنا راستہ خود بنا کر بے پناہ کامیابی حاصل کی۔ جیسا کہ چترا سنگھ نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا، "جگجیت جی ایک منفرد موسیقار تھے۔ وہ ہر کسی کی طرح امنگوں کے ساتھ ممبئی آئے تھے۔ لیکن ان کی آواز اس قدر مخصوص تھی کہ کسی ہیرو سے مماثلت نہیں رکھتی تھی۔جگجیت سنگھ کو بڑے بڑے گلوکاروں نے بھی سراہا تھا۔

ان کی گائیکی کو نامور گلوکاروں نے بھی سراہا ہے۔ لتا منگیشکر، جنہیں ہندوستان کی نائٹنگل کہا جاتا ہے، نے کہا، "جگجیت نے دل سے گایا، اس لیے وہ سب سے جڑ گئے۔" آشا بھوسلے نے کہا، "ان کی غزلیں سننا ایک سکون بخش تجربہ تھا۔" گلوکارہ اوشا اتھپ نے انہیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے عام لوگ بھی اچھی غزلوں سے لطف اندوز ہو سکے۔ان کے 1976 کے البم "ناقابل فراموش" سے لے کر فلم "ارتھ" اور ٹی وی سیریل "مرزا غالب" تک ان کی موسیقی ہر گھر میں گونجتی رہی۔ اس نے نہ صرف تجارتی کامیابی حاصل کی بلکہ تنقیدی پذیرائی بھی حاصل کی۔ انہیں 1998 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، 2003 میں پدم بھوشن اور 2007 میں پارلیمنٹ میں خصوصی پرفارمنس دینے کا اعزاز ملا، جہاں انہوں نے بہادر شاہ ظفر کی غزل "لگتا نہیں ہے دل میرا" پیش کیا۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




دہلی بلاسٹ کیس : ڈاکٹر شاہین کے خفیہ نیٹ ورک کی NIA نے پرتیں کھول دیں ۔۔ جموں کشمیر نمبر کی تھار، اور چار مشتبہ ساتھیوں کی تلاش
Delhi Blast: Shaheen’s Secret Movement from Faridabad to Kanpur

ڈاکٹر شاہین کے خفیہ دورہ اور سرگرمیاں بے نقاب:
**کانپور:**دہلی بلاسٹ کیس کی تفتیش میں مصروف NIA اور ATS کی ٹیمیں گزشتہ دو دنوں سے ڈاکٹر شاہین کی سرگرمیوں کے سلسلے میں فریدآباد، کانپور، لکھنؤ اور وارانسی میں خفیہ چھاپہ مار کارروائیاں کر رہی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ تمام کارروائیاں اتنی خاموشی سے کی گئیں کہ مقامی سطح پر کسی کو بھی ان کی موجودگی کا علم نہ ہو سکا۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شاہین نے اگست 2025 میں کانپور کا دورہ کیا تھا اور اسی دوران انہوں نے کچھ اہم ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ این آئی اے نے شاہین کی نشاندہی پر کانپور سے تین افراد اور لکھنؤ سے مزید کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے، جنہیں بعد میں دہلی اسپیشل سیل کے حوالے کردیا گیا۔
دوستوں کے ساتھ کانپور آئی تھی شاہین

ایجنسیوں نے ایک ایسی ویڈیو فوٹیج حاصل کی ہے جس میں جموں و کشمیر نمبر پلیٹ والی ایک تھار جیپ دکھائی دیتی ہے۔ اسی فوٹیج میں ڈاکٹر شاہین کے ساتھ چار مشتبہ نوجوان بھی نظر آ رہے ہیں، جو بظاہر کشمیری نژاد لگ رہے ہیں۔دہلی بلاسٹ کیس میں جو نام سب سے زیادہ بار بار سامنے آ رہا ہے، وہ ڈاکٹر شاہین ہی ہے۔ یہ وہی شاہین ہیں جو ڈاکٹر مزمل کی اہلیہ ہیں۔ مزمل نے اپنی گرفتاری کے بعد ابتدائی پوچھ گچھ میں شاہین کے کئی خفیہ رابطوں کا اعتراف کیا تھا۔

گزشتہ جمعرات کو این آئی اے شاہین کو ساتھ لے کر فریدآباد کی الفلاح یونیورسٹی بھی پہنچی، جہاں سے مزید شواہد اور ڈیجیٹل ریکارڈ قبضے میں لیے گئے۔

تھار گاڑی کی تلاش میں تفتیش تیز
ایجنسیوں نے معلوم کیا ہے کہ اگست 2025 میں شاہین نے کانپور کا دورہ اسی تھار جیپ میں کیا تھا۔ اس گاڑی کی ملکیت کے حوالے سے حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ:گاڑی کسی اور شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے

فاسٹ ٹیگ کسی دوسرے فرد کے نام پر ہے

دونوں افراد کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے

اب ایجنسیاں اس بات کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہیں کہ اصل میں گاڑی کون چلا رہا تھا؟ گاڑی کس کے کہنے پر مہیا کی گئی؟ اور کس مقصد کے لیے استعمال کی گئی؟
خفیہ طریقے سے آئی تھی شاہین

ایجنسیوں کے مطابق شاہین بہت ہی خاموش اور خفیہ طریقے سے کانپور آئی تھی، اور یہی چیز شک کو مزید بڑھاتی ہے۔
شاہین کو اس پوری ٹیم کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں کئی ڈاکٹر، طلبہ اور دیگر افراد شامل ہیں جنہوں نے مختلف شہروں میں روابط قائم کر رکھے تھے۔

NIA کو شبہ ہے کہ دہلی دھماکے میں استعمال کیا جانے والا مواد، نیٹ ورک یا رابطے اسی وقت ترتیب دیے گئے جب شاہین کانپور اور دیگر شہروں کا دورہ کر رہی تھی۔تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دہلی بلاسٹ تفتیش میں متعدد نئے زاویے سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہین، دہشت گرد نیٹ ورک کی ایک کلیدی رکن بتائی جا رہی ہیں، گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف شہروں میں خفیہ سرگرمیوں میں مصروف تھیں۔ ان کے شوہر ڈاکٹر مزمل کی گرفتاری کے بعد کئی اہم نشاندہیوں نے NIA کو کانپور، لکھنؤ، فریدآباد اور وارانسی تک اپنی کارروائی بڑھانے پر مجبور کیا۔
جموں و کشمیر نمبر کی تھار کا ملنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ نیٹ ورک صرف دہلی یا شمالی بھارت تک محدود نہیں بلکہ ایک بین ریاستی نیٹ ورک کے طور پر سرگرم تھا۔ چار کشمیری نژاد افراد کی موجودگی نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔










بھارت کی معیشت میں تیز رفتار اضافہ : Q2 FY26 میں جی ڈی پی 8.2 فیصد | مینوفیکچرنگ سیکٹر کی شاندار کارکردگی
India GDP Q2 FY26: Growth Hits 6-Quarter High at 8.2%

 جی ڈی پی میں غیر متوقع اضافہ : بھارتی معیشت نے 2025–26 کی دوسری سہ ماہی میں %8.2 کی شاندار ترقی درج کی
بھارتی معیشت نے سال 2025–26 کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں غیر معمولی تیزی دکھاتے ہوئے 8.2 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے، جو گزشتہ چھ سہ ماہیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ جمعہ کے روز جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس مضبوط اقتصادی کارکردگی کے پیچھے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی نمایاں بہتری کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔یہ اضافہ ماہرین کی توقعات سے کافی زیادہ ہے، کیونکہ بیشتر اقتصادی تجزیہ کار 7 سے 7.5 فیصد کی ترقی کا اندازہ لگا رہے تھے۔ اس کارکردگی کے ساتھ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر اپنی برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی یعنی Q2 FY25 میں بھارتی معیشت کی ترقی 5.6 فیصد رہی تھی، جو سات سہ ماہیوں میں کم ترین تھی۔ اس سال Q1 FY26 میں یہ شرح 7.8 فیصد رہی، جس کے بعد موجودہ سہ ماہی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

قومی شماریاتی دفتر (NSO) کے مطابق، ’’حقیقی جی ڈی پی (مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی) Q2 FY26 میں 48.63 لاکھ کروڑ روپے رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 44.94 لاکھ کروڑ روپے تھی، اس طرح 8.2 فیصد ترقی کا اندراج ہوا۔‘‘

اس کے برعکس، نامیاتی جی ڈی پی (Nominal GDP) یعنی مہنگائی کو شامل کرکے شمار کی جانے والی جی ڈی پی میں 8.7 فیصد کی ترقی ریکارڈ کی گئی۔

حقیقی GVA (Gross Value Added)، جو معیشت کی اصل پیداواری صلاحیت ظاہر کرتا ہے، بھی 8.1 فیصد بڑھا اور یہ Q2 FY26 میں 44.77 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

وزیراعظم نریندر مودی کا ردعمل
وزیراعظم نریندر مودی نے اس شاندار اقتصادی کارکردگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ :

’’8.2 فیصد جی ڈی پی ترقی بہت حوصلہ افزا ہے۔ یہ ہمارے ترقی پسند پالیسیوں، اصلاحات اور عوام کی محنت کا نتیجہ ہے۔ حکومت Ease of Living بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری رکھے گی۔‘‘

سیکٹر وار گروتھ (Sector-wise Growth)

مینوفیکچرنگ سیکٹر

مینوفیکچرنگ نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 9.1 فیصد کی ترقی حاصل کی۔جو اس سہ ماہی کی سب سے مضبوط پیش رفت رہی۔

زراعت

زراعت اور متعلقہ شعبوں نے 3.5 فیصد ترقی دکھائی، جو معتدل مگر مستحکم اضافہ ہے۔تجارت، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور براڈکاسٹنگ

اس سیکٹر نے 7.4 فیصد ترقی کی اور ملکی خدماتی شعبے کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔

ثانوی سیکٹر

ثانوی (Secondary) سیکٹر کی ترقی 8.1 فیصد رہی۔

خدماتی (Tertiary) سیکٹر

یہ سہ ماہی میں سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والا شعبہ رہا، جس میں مجموعی ترقی 9.2 فیصد رہی۔
فائنانشل، رئیل اسٹیٹ اور پروفیشنل سروسز نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 10.2 فیصد کی شرح سے اضافہ درج کیا۔

اخراجات اور سرمایہ کاری (Expenditure & Investment Data)

سرکاری اخراجات (GFCE)

Q2 FY26 میں سرکاری خرچوں میں 2.7 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ پچھلے سال یہی شرح 4.3 فیصد تھی۔

نجی صارفین کے اخراجات (PFCE)

گھریلو کھپت میں 7.9 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے (6.4 فیصد) واضح بہتری ہے۔

سرمایہ کاری (GFCF)

سرمایہ کاری میں بھی مضبوط اضافہ دیکھا گیا، 7.3 فیصد کی شرح سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔

گزشتہ ایک دہائی میں بھارت نے شاندار اقتصادی سفر طے کیا ہے۔

2013-14 میں بھارت دنیا کی 11ویں بڑی معیشت تھا۔

آج بھارت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔

2013 میں بھارت کو ‘Fragile 5’ معیشتوں میں شامل کیا جاتا تھا، جو غیر مستحکم اور خطرے سے دوچار سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن ایک دہائی کے دوران بھارت نے مسلسل ترقی، معاشی اصلاحات، انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری، اور صارفین کی قوت خرید میں اضافے کے سبب عالمی معیشتوں میں اپنی جگہ مستحکم کی۔

عالمی بینک نے رواں سال کہا کہ ’وِکسِت بھارت 2047‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بھارت کو آئندہ دو دہائیوں تک اوسطاً 7.8 سے 8 فیصد سالانہ ترقی حاصل کرنا ہوگی۔

موجودہ سہ ماہی کی یہ شاندار کارکردگی اسی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔











کیا ایران نے سعودی کے ذریعے امریکہ کو خفیہ خط بھیجا؟ خامنہ ای کا انکشاف
ایران امریکہ تعلقات میں جاری کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران یہ افواہیں اٹھیں کہ ایران نے ان کے ذریعے امریکہ کو خفیہ پیغام بھیجا ہے۔ تاہم ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اب واضح طور پر ان دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔ جمعرات کی شب قومی ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ کچھ میڈیا ادارے غلط افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ایران نے یہ پیغام کسی تیسرے ملک کے ذریعے واشنگٹن کو بھیجا ہے۔ ان کے مطابق یہ دعویٰ نہ صرف جھوٹا ہے بلکہ دانستہ غلط معلومات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے ایسا کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔یہ افواہیں تھیں کہ ایرانی صدر مسعود پیزیشکیان کی جانب سے سعودی ولی عہد کو ان کے دورہ امریکا سے قبل جو پیغام بھیجا گیا تھا وہ امریکا کے لیے تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا کہنا ہیں کہ ’وہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ایرانی حکومت نے امریکا کو تیسرے ملک کے ذریعے پیغام بھیجا، جو سراسر جھوٹ ہے‘۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیزشکیان کے خط میں کہا گیا کہ ایران تنازع نہیں چاہتا۔ اس کا مقصد علاقائی تعاون کو گہرا کرنا ہے اور جوہری تنازع کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ اس کے حقوق کی ضمانت دی جائے۔خفیہ خط کے بارے میں ایران کا کیا کہنا ہے؟
اپنی تقریر کے دوران خامنہ ای نے اسرائیل کے حملوں اور جرائم کے لیے امریکہ کی حمایت پر کڑی تنقید کی۔ ایرانی سپریم لیڈر نے امریکہ پر اپنے اسٹریٹجک اور وسائل کے فائدے کے لیے تنازعات کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ دریں اثناء ایرانی حکام نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد کو پیش کیے گئے خط میں صرف دو طرفہ امور پر بات کی گئی ہے۔ تہران اور واشنگٹن نے اس سال اپریل اور جون کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں کے درمیان مذاکرات کیے تھے۔ عمان کی ثالثی میں فریقین کے درمیان مذاکرات کے پانچ دور ہوئے۔ مذاکرات کا چھٹا دور متوقع تھا لیکن اسرائیل نے اس سے پہلے ہی ایران میں کئی مقامات پر اچانک حملے شروع کر دیئے۔خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ جنگ ​​کے بارے میں کیا کہا؟
اس حملے میں ایک ایرانی جوہری سائنسدان اور ایک سینئر کمانڈر مارے گئے تھے۔ اس کے بعد ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی کارروائی کی۔ 22 جون کو امریکی افواج نے نتنز، فردو اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔ ایران نے اگلے روز قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی بعد ازاں 24 جون کو عمل میں آئی۔جنگ 12 دن تک جاری رہی
خامنہ ای نے کہا، “اس بارہ روزہ جنگ میں امریکہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، بہت بھاری نقصان ہوا۔ اس نے اپنا جدید ترین اور جدید ترین جارحانہ اور دفاعی نظام استعمال کیا: اپنی آبدوزیں، اپنے لڑاکا طیارے، اور جدید ترین فضائی دفاعی نظام، پھر بھی وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔”

*🔴سیف نیوز بلاگر*




ہانگ کانگ آتشزدگی میں مرنے والوں کی تعداد 94 ہو گئی، تعمیراتی کمپنی کے تین افراد گرفتار
ہانگ کانگ : ہانگ کانگ کے تائی پو میں واقع وانگ فک کورٹ ہائی رائز کمپلیکس میں لگنے والی خوفناک آگ نے بدھ کی دوپہر سے جمعرات تک شہر کو لرزا کر رکھ دیا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 94 ہوگئی ہے۔ یہ واقعہ جدید دور میں ہانگ کانگ کی بدترین آتشزدگیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

جمعرات کی صبح بھی فائر بریگیڈ کے اہلکار متاثرہ عمارتوں میں آگ بجھانے اور باقی رہ جانے والے افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔ سات ٹاورز پر مشتمل اس کمپلیکس میں ہر سمت سے سیاہ دھواں اٹھتا رہا جبکہ کئی فلیٹس کی کھڑکیوں سے اب بھی شعلے جھانکتے دکھائی دیے۔

فائر سروسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز، ڈیریک آرمسٹرانگ چان کے مطابق، “ہمارا فائر فائٹنگ آپریشن تقریباً مکمل ہے، مگر ملبے میں موجود انگاروں کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنا سب سے اہم کام ہے۔ اب ہمارے اقدامات سرچ اینڈ ریسکیو پر مرکوز ہوں گے۔”تاحال اس بات کی واضح معلومات نہیں دی گئیں کہ کتنے افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جون لی نے بتایا کہ جمعرات کی صبح تک 279 افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، جبکہ حکام نے دن بھر میں لاپتہ افراد کی تازہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

آگ بدھ کی سہ پہر اس وقت لگی جب بانس کے اسکیفولڈنگ اور حفاظتی جالی میں اچانک شعلے بھڑکے اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے سات عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چان کے مطابق، آگ غیر معمولی رفتار سے پھیلی، جس سے اندر داخل ہونا انتہائی مشکل ہوگیا۔ “اوپری منزلوں سے ملبہ اور اسکیفولڈنگ گر رہی تھی، اندھیرا، شدید حرارت اور عمارت تک رسائی میں رکاوٹیں ہماری کوششوں میں بڑی رکاوٹ تھیں۔”

اس حادثے میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 11 فائر فائٹر بھی شامل ہیں۔ تقریباً 900 باشندوں کو رات بھر کے لیے عارضی شیلٹر منتقل کیا گیا۔ پولیس نے تعمیراتی کمپنی کے تین افراد دو ڈائریکٹر اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو غفلت برتنے و دیگر الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ عمارت کے بیرونی حصے میں استعمال ہونے والا کچھ مواد فائر سیفٹی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، جس سے آگ تیزی سے پھیلی۔پولیس نے پریسٹیج کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ کمپنی کے دفتر سے دستاویزات بھی قبضے میں لے لئے ہیں۔ جبکہ عمارت سے انتہائی آتش گیر پلاسٹک فوم پینلز بھی برآمد ہوئے ہیں جن کی تنصیب کے مقاصد تاحال واضح نہیں۔ حکام نے مزید تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔











ہندوستانی سینیما کے ’کنگ‘ دھرمیندر کو یاد رکھیں گی کئی نسلیں: اشوک پنڈت
ممبئی: بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار دھرمیندر کے انتقال نے پوری فلم انڈسٹری کو سوگواری میں ڈال دیا ہے۔ مداحوں سے لے کر فلمی دنیا کی نامور شخصیات تک سب نے سوشل میڈیا پر افسوس اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ فلم پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اشوک پنڈت نے بھی جذباتی انداز میں دھرمیندر کو “بھارتی سنیما کا کنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی یادیں آنے والی نسلوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔

اشوک پنڈت نے انسٹاگرام پر دھرمیندر کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “انڈین سنیما کے کنگ، جنہوں نے ہر کردار کو پوری ایمانداری اور شدت سے جیا۔ آپ نے دہائیوں تک ناظرین کو ہنسایا، رُلایا، نچایا اور تالیاں بجوانے پر مجبور کیا۔ اسکرین کے سامنے اور اس کے باہر آپ کی موجودگی ہمیشہ مثبت اور توانائی سے بھرپور رہی‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی مٹی دھرمیندر کے لہو میں بسی ہوئی تھی اور یہی تعلق آنے والی نسلوں کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔ اشوک پنڈت نے اداکار کی انسانیت اور سخاوت کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ ’’آپ کی مہربانی اور دریا دلی کے لیے شکریہ۔ کئی نسلیں آپ کو آپ کی محنت، سادگی اور بے مثال اداکاری کے باعث ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ آپ کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی سر… اوم شانتی‘‘۔
دھرمیندر نے اپنے تقریباً سات دہائیوں پر محیط شاندار کیریئر میں تین سو سے زائد فلموں میں اداکاری کی۔ ایکشن، رومانیت، کامیڈی اور ڈراما… ہر صنف میں وہ بے تاج بادشاہ ثابت ہوئے۔ ’شعلے‘ کے ویرو، ’چپکے چپکے‘ کے ڈاکٹر پریم چند پرکاش اور ’یملا پگلا دیوانہ‘ کے زندہ دل پنجابی بزرگ جیسے کرداروں میں انہوں نے اپنی اداکاری کا جادو ہمیشہ قائم رکھا۔

اشوک پنڈت نے ایک اور پوسٹ میں دھرمیندر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے لیے کوئی غمگین گانا نہیں لگانا چاہتے تھے، کیونکہ ان کی نظر میں دھرمیندر ہمیشہ وہی فنکار رہیں گے جو اسکرین پر نچاتے اور مسکراتے ہوئے خوشیاں بانٹتے تھے۔ ’’آج دل بھاری ہے مگر ان کی وہ گرجدار آواز — ‘کتے! میں تیرا خون پی…!’ — یاد آتے ہی ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے‘‘۔ فلمی شخصیات اور مداحوں کا سلسلہ تعزیت میں مسلسل جاری ہے۔ اشوک پنڈت کے علاوہ امیتابھ بچن، رندیپ ہڈا، کارتک آرین، رشبھ شیٹی، رام چرن، چرن جیوی، الو ارجن، ایکتا کپور، مہیش بابو، پرینکا چوپڑا، انوپم کھیر سمیت متعدد اداکاروں نے افسوس کا اظہار کیا۔










بچوں کے احساسات کو سمجھنا ضروری: بال ساہتیہ پرسکار یافتہ کشمیری مصنف اظہار مبشر
اننت ناگ (میر اشفاق) : اظہار مبشر، جن کا اصل نام مبشر احمد شاہ ہے، جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ علاقے واگہامہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک نامور، شاعر، مصنف، اور افسانہ نگار ہے۔ انہوں نے اپنے تخلیقی سفر اور علمی خدمات کی بدولت کشمیری ادب، خصوصاً بچوں کے ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ جس کے اعزاز میں حال ہی میں انہیں ’’ساہتیہ اکادمی بال ساہتیہ پرسکار‘‘ سے نوازا گیا، جو ان کی کشمیری زبان و ادب کے تئیں خدمات و کاوشوں کا اہم اعتراف ہے۔وہ اپنے گاؤں میں نجی اسکول چلاتے ہیں اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے کشمیر کی ایک معروف ادبی تنظیم ’’مراز ادبی سنگم‘‘ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کشمیری ثقافت اور ادبی ورثے کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔

ابتدا میں انہوں نے اردو اور انگریزی میں شاعری کی مگر 2015 کے بعد ان کی تمام تر توجہ کشمیری زبان پر مرکوز ہو گئی۔ 2021 میں بچوں کے ادب کی جانب ان کا جھکاؤ گہرا ہوا، اور یہیں سے ان کے ادبی سفر کو نئی سمت ملی۔

اظہار مبشر نے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے میر اشفاق کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت کے دوران بتایا کہ بچوں سے ان کی دلی محبت ہی وہ اصل جذبہ ہے جس نے انہیں بچوں کے ادب کی طرف متوجہ کیا۔ ’’بچوں کی بدولت ہی مجھے ایوارڈ ملا ہے، اس لئے میں اپنا ایوارڈ بچوں کے نام منوب کرتا ہوں۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ایوارڈ یافتہ کتاب ’’شُری تہء چُری گیوش‘‘ میں کل 13 کہانیاں شامل ہیں، جن کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ان کی ایک کہانی کو بین الاقوامی سطح پر شائع ہونے کی منظوری بھی مل چکی ہے، جسے وہ اپنی بڑی خوش قسمتی تصور کرتے ہیں۔

ای ٹی وی بھارت کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران مبشر نے بتایا کہ ’’بچوں کی فیلنگز کو سمجھنا، ان کے ساتھ محبت سے پیش آنا اور انہیں تحفظ کا احساس دینا والدین اور اساتذہ دونوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔‘‘ ان کے مطابق بچوں کی ذہنی اور جسمانی قوت کو مضبوط بنانے کے لئے بچوں کے ساتھ پیار اور اچھے رویے کا ہونا سب سے ضروری ہے۔مبشر کا دعویٰ ہے کہ ان کی تحریروں میں بچوں کی روزمرہ زندگی، رہن سہن، کھیل کود، احساسات اور مستقبل کے خوابوں کو دلچسپ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد بچوں کو کہانیوں کے ذریعے نہ صرف محظوظ کرنا ہے بلکہ بچوں کی شخصیت اور تخلیقی سوچ کو بھی ابھارنا ہے۔
اظہار مبشر کا پہلا کشمیری شعری مجموعہ 2007 میں شائع ہوا تھا جس میں 60 نظمیں ہیں۔ وہ اب تک تقریباً 20 تحقیقی و تنقیدی مقالات تحریر کر چکے ہیں، اور مختلف رسائل میں ان کی کہانیاں اور مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں بچوں کے ادب کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کی منفرد کوشش ہیں، جو نئی نسل کے لیے ادبی دنیا کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




فضائی آلودگی دل کی بیماریوں کا شکار بچوں کی صحت کو زیادہ متاثر کر رہی ہے، ماہرین
انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی کے باعث ایئر کوالٹی کی سطح ہر گزرتے سال کے ساتھ بدتر ہوتی جا رہی ہے جس کے واضح اثرات بیماریوں کی صورت میں دکھائی دے رہے ہیں۔
انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آلودہ فضا بڑھتی ہوئی بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے جس سے نہ صرف پھیپھڑے بلکہ جسم کے دیگر اعضا بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
حالیہ رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی بالخصوص اُن بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے جو دل کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ہر سال سموگ میں اضافے اور ایئر کوالٹی کی سطح بدتر ہونے کے باعث بچوں کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ دل کی بیماریوں کا شکار بچوں کی صحت مزید خراب ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور جن کا جسم پی ایم 2.5، نائیٹروجن ڈائیکسائیڈ اور اوزون جیسے نقصان دہ مواد کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔
بڑھتی ہوئی آلودگی سے کم عمر مریضوں کو سانس لینے یا بیماریوں سے صحت یاب ہونے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
چائلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن (سی ایف ایچ) کے بانی، پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ، ڈاکٹر وکاس کوہلی کا کہنا ہے کہ جو بچے دل میں سوراخ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں یا جن کی اس حوالے سے سرجری ہو چکی ہوتی ہے، ان کے دل کو ایک عام آدمی کے مقابلے میں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور آب و ہوا کا معیار خراب ہونے کی صورت میں ان کے جسمانی نظام پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
پی ایم 2.5 کے باریک ذرات خون میں داخل ہو سکتے ہیں جو سوزش، خون کے گاڑھے پن، خون کی نالیوں کو متاثر کرنے اور آکسیجن کے بہاؤ میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’صحت مند بچے ماحولیاتی دباؤ کے ساتھ خود کو ڈھال لیتے ہیں، لیکن دل کے مسائل کا شکار بچوں کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔‘
لیکن بچوں کو ان خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈاکٹرز کی والدین کے لیے تجویز ہے کہ وہ انہیں اپنے علاقے میں آب و ہوا کے معیار سے متعلق باخبر رہیں۔
ڈاکٹر وکاس کوہلی کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس کی جانچ کرنا اب آسان ہو گیا ہے کیونکہ بہت سی ایپس اور ویب سائٹس ریئل ٹائم اپڈیٹس فراہم کرتی ہیں۔
تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس ریڈ زون کی سطح تک پہنچ جائے تو ایسے میں دل کی خرابیوں کا شکار بچوں کو گھر کے اندر ہی رہنا چاہیے۔











اسلام آباد پرحملے کی سازش کررہے ہیں عمران خان، وزیراعظم کے مشیرراناثنااللہ کا الزام
عمران خان کی صحت پرپاکستان میں وبال ہورہا ہے۔ اڈیالہ جیل انتظامیہ کی وضاحت کے باوجودیہ ہنگامہ ہنوز جاری ہے۔ عمران خان کے اہل خانہ اور پاکستان تحریک انصاف ملاقات پر مصرہے۔یہ معاملہ صرف ایک ملاقات سے ختم ہوسکتا ہے ۔شہبازشریف حکومت کے عمل میں شفافیت نہیں ہے ۔اس لیے یہ معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔

عمران خان کی ہمشیر نورین نیازی نے پاکستان کی موجودہ صورتحال کا موازنہ ہٹلر کے جرمنی سے کیا ہے۔انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوام کوڈرانے دھمکانے کے لیے سینسرشپ کا سہارا لے رہی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا میڈیا کواتنا دبایا جارہا ہے کہ رپورٹروں میں کھل کر بولنے کی ہمت نہیں وہیں پاکستان کے وزیراعظم کے مشیررانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان اسلام آباد پرحملے کی سازش کررہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ،پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور جیل میں انھیں مکمل سہولیات دی جا رہی ہیں۔عمران خان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی اجازت نہ دینے پر رانا ثنا اللہ نے بڑا الزام لگایا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ، عمران خان اسلام آباد پرحملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔اگر کوئی قیدی اسلام آباد پر چڑھائی کی سازش کررہا ہو تو ملاقاتیں کیسے کروائیں۔ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے بھی ملک کو نقصان پہنچایا ہے اس لیے اس بار سختی ضروری ہے۔ان کے اس بیان نے عمران خان کی حفاظت اور حکومت کی نیت پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔خیال رہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم نے سوشل میڈیا پوسٹ میں والدکی صحت و سلامتی کے تعلق سے تشویش کا اظہارکرچکے ہیں ۔انھوں نے لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم کو چھ ہفتوں سے قیدتنہائی میں رکھا گیا ہے۔اہل خانہ اور نہ ہی وکلاء کو ان تک رسائی دی جارہی ہے۔وہ زندہ اورمحفوظ ہیں اس کے ثبوت نہیں ہے۔انھوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق تنظیموں سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل بھی کی ہے۔











کینیڈا کا نیا شہریت قانون Bill C: بھارتی نژاد فیملیز کیلئے بڑی خوشخبری‘جنوری سے ہوگا نافذ
Canada Restores Citizenship Rights for Overseas Families

کینیڈا نے شہریت کے قوانین میں اصلاحات کرتے ہوئے ہزاروں متاثرہ افراد کے حقوق بحال کر دیے ۔۔۔۔
کینیڈا نے شہریت سے متعلق ایک اہم اور تاریخی قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے Bill C-3 منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد اُن والدین اور بچوں کے حقوق بحال کرنا ہے جو پرانے اور سخت قوانین کی وجہ سے شہریت سے محروم رہ گئے تھے۔ یہ بل 21 نومبر 2025 کو رائل اسینٹ (Royal Assent) حاصل کر گیا، جس کے بعد کینیڈا کا شہریت کا نظام مزید جامع، منصفانہ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔کینیڈا کی امیگریشن وزیر لینا میٹلائج دیاب (Lena Metlege Diab) کے مطابق :
’’Bill C-3 ہمارے شہریت کے قوانین کی پرانی خامیاں دور کرے گا۔ یہ بیرونِ ملک پیدا یا گود لیے گئے بچوں کے لیے انصاف بحال کرے گا اور ان لوگوں کو شہریت دے گا جنہیں پرانے قوانین نے ناانصافی کا نشانہ بنایا۔‘‘
 First-Generation Limit کیا تھا؟

سال 2009 میں ایک قانون متعارف کیا گیا جسے First-Generation Limit کہا جاتا تھا۔ اس قانون کے تحت :

بیرونِ ملک پیدا ہونے والے بچے کو صرف اسی صورت میں شہریت مل سکتی تھی،
جب کم از کم ایک والدین خود کینیڈا میں پیدا ہوا ہو یا وہاں نیچرلائزڈ (Naturalized) ہوا ہو۔
اس قانون کا نتیجہ یہ نکلا کہ :

ہزاروں بچے، جن کے والدین کئی سال کینیڈا میں رہ چکے تھے

اور جو باہر کام، تعلیم یا شادی کی وجہ سے موجود تھے

کینیڈین شہریت حاصل نہیں کر سکے

متاثرین میں بھارتی نژاد کینیڈین خاندان سب سے زیادہ تھے، کیونکہ ان میں بیرون ملک کام یا عارضی رہائش رکھنا عام ہے۔

عدالت کا فیصلہ

دسمبر 2023 میں Ontario Superior Court نے اس قانون کے مرکزی حصے کو غیر آئینی قرار دیا، کیونکہ یہ پیدائش کی بنیاد پر امتیاز قائم کر رہا تھا۔
کینیڈا کی حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، جس کا مطلب تھا کہ وہ بھی اس قانون کی خامیوں سے متفق تھی۔

Bill C-3 میں کیا اہم تبدیلیاں کی گئیں؟

قانون کے نافذ ہونے کے بعد یہ اقدامات لاگو ہوں گے :

✔ 1. شہریت کی بحالی

وہ تمام بالغ افراد جو First-Generation Limit یا پرانے قوانین کی وجہ سے شہریت سے محروم تھے
اب خودکار طور پر شہریت کے اہل ہو جائیں گے۔

✔ 2. قانونی خلا (Legislative Gaps) بھرے جائیں گے

پرانی قانون سازی میں موجود خامیوں کے باعث جنہوں نے شہریت کھوئی ۔۔۔۔ ان سب کو بھی شہریت ملے گی۔

✔ 3. Substantial Connection Test

اب بیرونِ ملک مقیم کینیڈین شہری، اگر خود کینیڈا میں پیدا نہیں ہوئے تھے، تب بھی اپنے بچوں کو شہریت دے سکتے ہیں، اگر وہ یہ ثابت کریں کہ :انہوں نے بچے کی پیدائش یا گود لینے سے قبل

1,095 دن (تین سال) کینیڈا میں جسمانی طور پر رہائش اختیار کی۔

یہ اصول جدید، عالمی طور پر متحرک (globally mobile) خاندانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کیا گیا ہے۔

بھارتی نژاد کینیڈین خاندانوں کے لیے اس قانون کی اہمیت

بھارتی نژاد کینیڈین شہری دنیا بھر میں تعلیم، نوکری یا کاروبار کے سلسلے میں نقل و حرکت رکھتے ہیں
اس وجہ سے انہیں First-Generation Limit نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔

Bill C-3 کے بعد :

🔹 بچے کو شہریت دینے کے لیے والدین کو پیدائش سے پہلے کینیڈا دوڑ کر آنے کی ضرورت نہیں۔

🔹 بیرونِ ملک پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے میں رکاوٹ ختم۔

🔹 وہ رشتے دار جنہیں پرانے قوانین نے شہریت سے محروم کیا تھا، ان کے حقوق بحال۔

🔹 بیرونِ ملک رہنے والے بھارتی نژاد خاندانوں کے لیے شہریت کا عمل بے حد آسان۔

ڈان چیپ مین (Founder, Lost Canadians Network) نے اس قانون کو ’’انصاف کی بحالی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا :
’’حکومتِ کینیڈا نے جدید عالمی خاندانوں کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بالکل درست فیصلہ کیا ہے۔‘‘

نفاذ (Implementation Timeline)

بل منظور ہو چکا ہے لیکن ابھی نافذ نہیں ہوا

حکومت جلد ہی اس کی Effective Date کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی
جو توقع ہے کہ جنوری 2026 سے پہلے ہو جائے گا

تب تک “Interim Measures” جاری رہیں گی جو متاثرہ خاندانوں کی مدد کر رہی ہیں۔

امیگریشن ماہرین کے مطابق، بل نافذ ہوتے ہی درخواستوں میں بڑی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

Thursday, 27 November 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






ڈھاکہ کی عدالت کا سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 3 کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا
ڈھاکہ: بنگلادیش کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو تین کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سناتے ہوئے ملک کی سیاست میں ایک بڑا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کے اسپیشل جج محمد عبداللہ نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ہر مقدمے میں سات سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ انہی الزامات سے متعلق باقی تین مقدمات کا فیصلہ یکم دسمبر کو سنایا جائے گا۔

انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے رواں سال جنوری میں شیخ حسینہ اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف سرکاری پلاٹس کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ پر چھ الگ مقدمات درج کیے تھے۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم کے بیٹے سجیب واجد جوئے کو پانچ سال قید اور ایک لاکھ ٹکا جرمانہ، جبکہ ان کی بیٹی سائمہ واجد پُتول کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

دوسری جانب شیخ حسینہ پہلے ہی بین الاقوامی جرائم ٹربیونل کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت پا چکی ہیں، جس کا تعلق جولائی 2024 میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے مبینہ کریک ڈاؤن سے جوڑا گیا ہے۔ شیخ حسینہ اور ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے ان مقدمات میں کوئی وکیل موجود نہیں تھا کیونکہ وہ ملک سے فرار ہو چکے تھے، تاہم انہوں نے مختلف بیانات میں بدعنوانی کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

اسی دوران بھارت کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز بتایا کہ بنگلادیش کی عبوری حکومت کی جانب سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی باضابطہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنی پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت بنگلادیش میں امن، استحکام، جمہوریت اور شمولیت کے فروغ کے لیے اپنے تعمیری کردار کو جاری رکھے گا اور متعلقہ تمام فریقوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے گا۔

جولائی 2024 میں بنگلادیش میں طلبہ کی قیادت میں ایک بڑا احتجاجی تحریک اٹھی تھی جس کے بعد ملک میں شدید سیاسی بحران پیدا ہوا۔ پانچ اگست کو شیخ حسینہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی آئیں جہاں انہوں نے پناہ لی۔ ان کے فرار کے بعد نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات پروفیسر محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی، جو اس وقت ملک کے سیاسی اور انتظامی امور سنبھال رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فیصلے ملک میں جاری طاقت کے توازن اور مستقبل منظرنامے پر اثرات مرتب کریں گے۔










پولیس نے سری نگر سمیت وادی کے کئی علاقوں میں مدارس، مساجد کی جانچ پڑتال کی
سری نگر: جموں و کشمیر میں دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر پولیس نے جمعرات کو سری نگر بھر میں مدارس اور مساجد کا معائنہ کیا تاکہ خطے میں دہشت گردی کی حمایت کے ماحولیاتی نظام کو ختم کیا جا سکے۔

10 نومبر کو دہلی میں لال قلعہ کے قریب ایک کار میں دھماکے اور "وائٹ کالر" دہشت گردی ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے بعد دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر پولیس نے وادی کے مختلف حصوں میں چھاپے مارے ہیں۔

اس معاملے میں شوپیاں سے مولوی مفتی عرفان احمد اور ہریانہ کے میوات سے مولوی اشتیاق کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سری نگر پولیس نے تمام زونوں میں مدارس اور مساجد کی شہر گیر جانچ پڑتال کی۔ سری نگر میں پولیس نے بک شاپ اور کالعدم جماعت اسلامی سے وابستہ اداروں پر بھی چھاپے مارے۔ جنوبی کشمیر کے دیگر اضلاع جیسے شوپیاں، بڈگام، کپواڑہ، اونتی پورہ اور اننت ناگ میں بھی اسی طرح کے چھاپے مارے گئے۔

پولیس ترجمان نے کہا کہ سرچ ٹیموں نے ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور آزاد گواہوں کے ہمراہ دہشت گردی سے منسلک یا بنیاد پرست سرگرمیوں سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کئی جگہوں کا معائنہ کیا جو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے خلاف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تلاشی کے دوران، پولیس نے ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر مواد کی جانچ پڑتال کی۔ترجمان نے کہا کہ تلاشیاں سری نگر میں دہشت گردی کی حمایت کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے اور امن و عامہ کو خراب کرنے کے مقصد سے کسی بھی سازشی یا غیر قانونی کارروائیوں کو روکنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں قانونی طریقہ کار کے مطابق سختی سے کی گئیں، ہر مرحلے پر شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا گیا اور یہ جاری رہیں گے۔ پولیس کے مطابق، جہاں بھی دہشت گردی یا بنیاد پرستی کی سرگرمیوں سے منسلک افراد یا مواد کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے ملک کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔

جموں و کشمیر پولیس نے کشمیر اور لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کے ایک بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے بعد کریک ڈاؤن میں شدت لائی ہے۔ پولیس نے گرفتار کیے گئے تین ڈاکٹروں ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عادل راتھر اور ڈاکٹر شاہین سعید سمیت سات افراد کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں لے لیا ہے۔ایجنسی دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عمر نبی نے کار میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ دہشت گردانہ دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے دو اہم ساتھیوں عامر رشید اور جاسر بلال وانی کو خودکش حملہ آور کو کار اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ان ڈاکٹروں کو فرید آباد اور اتر پردیش سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ الفلاح یونیورسٹی میں کام کر رہے تھے۔













امریکہ کی راہ پر آسٹریلیا، ایران کے سفیر کو نکالا، ’فوج‘ کو اعلان کیا دہشت گرد، جانئے کیوں؟
Australia Iran News: امریکہ میں ہوئے حملے کے بعد جس طرح ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان کے تئیں سخت رُخ دکھایا ہے، ٹھیک اسی طرح آسٹریلیا نے بھی ایک مسلم ملک کے خلاف ایسا قدم اٹھایا ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں ایران کی۔ آسٹریلیا کی حکومت نے نہ صرف ایران کے سفیر کو 7 دنوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے بلکہ ایران کی غیر رسمی مگر سب سے طاقتور عسکری تنظیم اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ آسٹریلیا نے کسی ملک کے سفیر کو ملک سے نکالا ہو۔ آسٹریلیا کی جانب سے IRGC پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب آسٹریلیائی خفیہ ایجنسیوں نے دعوی کیا کہ IRGC نے آسٹریلیا کی یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنا کر گزشتہ سال آگ زنی کے حملوں کی سازش رچی تھی۔
کن واقعات کے لیے IRGC کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟
آسٹریلیا میں اکتوبر 2024 میں سڈنی کے Lewis’ Continental Kitchen پر حملہ ہوا تھا اور پھر دسمبر 2024 میں میلبورن میں Adass Israel Synagogue پر حملہ ہوا تھا۔ آسٹریلیا نے ان واقعات کو دہشت گردانہ کارروائیاں بتایا تھا۔ خفیہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد نئے قانون کے تحت IRGC کو سرکاری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا نے State Sponsors of Terrorism Act 2025 نافذ کیا، جس کے تحت IRGC وہ پہلا ادارہ بن گیا ہے جسے ریاستی سرپرستی والی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ اب اس تنظیم کے لیے کام کرنا، فنڈ دینا، بھرتی کرنا یا رابطہ رکھنا بھی جرم ہوگا۔ اس کی خلاف ورزی پر 25 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

IRGC کیا ہے؟
کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق اسلامک ریولوشنری گارڈ کور ایران کی سب سے بااثر تنظیم ہے، جو ملک کی فوج، داخلی سلامتی اور معیشت پر مضبوط گرفت رکھتی ہے۔ اسے 1979 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ باقاعدہ فوج کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر کو رپورٹ کرتی ہے اور قُدس فورس کو کمانڈ کرتی ہے۔ ایران کے میزائل پروگرام کی نگرانی بھی اسی کے پاس ہے ۔IRGC کو دہشت گرد قرار دینے کا مطلب ہے کہ ایران اور آسٹریلیا کے تعلقات تاریخ کے سب سے نچلے درجے پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ قدم امریکہ اور یورپ کی پالیسیوں کے مطابق ہے، کیونکہ امریکہ پہلے ہی IRGC کو Foreign Terrorist Organization (FTO) قرار دے چکا ہے۔


*🔴سیف نیوز بلاگر*




لیاقت علی سے بے نظیر بھٹو تک : عمران خان کی خبروں کے پس منظر میں پاکستان کی بغاوتوں اور سیاسی قتل و غارت کی تاریک تاریخ
Why Imran Khan’s Death Rumours Fit Pakistan’s Political Pattern

 پاکستان کی بغاوتوں اور سیاسی قتل و غارت کی تاریک تاریخ :
پاکستان میں عمران خان کے متعلق گردش کرتی افواہیں شاید محض افسانہ ہوں، لیکن وہ ایک طویل اور خونی تاریخ کو چھوتی ہیں۔ایک ایسی تاریخ جس میں منتخب رہنماؤں کو قتل کیا جاتا رہا، پھانسیاں دی جاتی رہیں، معزول کیا جاتا رہا، یا پھر ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا جاتا رہا، جبکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ قانون سے بالاتر کھڑی رہیچند روز سے پھیلتی قیاس آرائیوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر اسی مانوس فضا میں گِھرا ہوا ہے۔سنسنی، خوف، رازداری اور افواہوں کی گردش۔ افغان میڈیا کے بعض دعووں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا گیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل کے اندر ’’پراسرار طور پر قتل‘‘ کر دیا گیا ہے، مبینہ طور پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے حکم پر۔ پاکستانی حکام نے ان افواہوں کی تردید تو کی ہے، مگر انہوں نے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت بھی پیش نہیں کیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر ان کی تین بہنوں کا دعویٰ ہے کہ جب وہ عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کرنے پہنچیں تو پولیس نے انہیں گھسیٹ کر نکال دیا۔ راولپنڈی سے آنے والی ویڈیوز میں خواتین کو دھکے کھاتے، چادریں کھینچی جاتی دکھایا جا رہا ہے۔ وہ بس ایک سوال پوچھ رہی تھیں :
’’عمران خان کہاں ہیں؟‘‘

ان کے اہلِ خانہ نے اب ’’ثبوتِ زندگی‘‘ اور باضابطہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ہزاروں حامی اڈیالہ کے باہر جمع ہو رہے ہیں، اور خان کی ہلاکت کی افواہیں پاکستان کے سختی سے کنٹرول کیے گئے اطلاعاتی ماحول میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

عمران خان کے اپنے بیانات نے بھی خوف بڑھایا
یہ بے چینی عمران خان کے خود دیے گئے بیانات سے بھی گہری ہو چکی ہے۔
جولائی میں انہوں نے اپنی جماعت سے کہا تھا :

’’اگر جیل میں میرے ساتھ کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار صرف آرمی چیف عاصم منیر ہوگا۔‘‘
انہوں نے فوج پر غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق چھیننے کا الزام لگایا۔ ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا :
’’اگر میرے یا میری اہلیہ کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار وہی ہوگا۔‘‘

افواہیں سچ ہوں یا جھوٹ، وہ پاکستان کی اس طویل تاریخ میں فٹ بیٹھتی ہیں جہاں منتخب رہنماؤں کو قتل، پھانسی، معزولی اور غائب کر دینے جیسے واقعات مسلسل دہرائے گئے، اور فوجی اداروں نے کسی جواب دہی کا سامنا نہیں کیا۔

ایک ایساملک جہاں وزیرِ اعظم پوری معیاد مکمل نہیں کرتے
1947 سے آج تک ایک بھی پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کی۔
کچھ کو قتل کر دیا گیا، کچھ کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے نکالا گیا، کچھ کو فوج نے ہٹا دیا، اور کچھ سیاسی چالوں کا شکار ہوئے۔

1958 میں جنرل ایوب خان نے ملک کی پہلی بڑی فوجی بغاوت کی۔مارشل لا نافذ کیا، سول حکومت کو ڈبو دیا اور گورنر جنرل اسکندر مرزا کو معزول کر کے ملک بدر کیا۔
1971 میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں پاکستان ٹوٹ گیا۔

1977 میں جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کو ختم کیا، آئین معطل کیا، سیاسی جماعتیں جواباً بینڈ کر دیں۔
1999 میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو ہٹا کر ایک اور فوجی بغاوت کی۔پاکستان میں پیٹرن ہمیشہ ایک سا رہا ہے :
جب بھی سول رہنما طاقتور ہوتے ہیں، بیرکس سے مداخلت شروع ہو جاتی ہے۔

اس فوجی ڈھانچے میں سیاسی قتل، ’’پراسرار‘‘ موتیں اور ناکام تفتیشیں معمول رہی ہیں۔

لیاقت علی خان : پہلا سیاسی قتل

پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم، لیاقت علی خان، اکتوبر 1951 میں راولپنڈی کے کمپنی باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران گولی مار کر قتل کر دیے گئے۔ قاتل سید اکبر کو پولیس نے موقع پر ہی مار دیا، اور یوں اصل منصوبہ ساز کبھی سامنے نہ آ سکے۔

آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس قتل کے پیچھے کون تھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا بڑا سیاسی قتل تھا، اور اس نے طاقت کے مراکز کو یہ پیغام دیا کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو ختم کرنا ممکن ہے اور سزا بھی نہیں ملے گی۔

ذوالفقار علی بھٹو : ’’عدالتی قتل**‘‘**

1977 کی بغاوت کے بعد جنرل ضیا الحق نے بھٹو کو ہٹا کر جیل میں ڈالا۔
1979 میں انہیں ایک انتہائی متنازع مقدمے کے بعد پھانسی دے دی گئی، جسے عالمی ماہرین ’’judicial murder‘‘ یعنی عدالتی قتل قرار دیتے ہیں۔

مقدمہ فوجی حکومت ہی کے زیر اثر تھا، اور فیصلہ وہی آیا جو ضیا چاہتے تھے۔ بھٹو کو راستے سے ہٹا کر ایک بار پھر پیغام دیا گیا کہ طاقت کے مقابلے میں عوامی حمایت بے معنی ہے۔

ضیاء الحق : C-130 طیارے کا وہ حادثہ جو آج تک حل نہ ہوا

اگست 1988 میں فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق بہاولپور کے قریب C-130 طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے۔
امریکی سفیر بھی اس طیارے میں موجود تھے۔

سرکاری طور پر آج تک حادثے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔

مختلف نظریات پھیلتے رہے :

آموں کے ڈبوں میں زہریلا گیس ڈیوائس

اندرونی دشمن

غیر ملکی ایجنسیاں

یا پھر کئی طاقتوں کا مشترکہ کھیل

آج تک ایک شفاف تحقیق سامنے نہ آ سکی۔بے نظیر بھٹو : فوجی اسٹیبلشمنٹ کے شہر میں قتل

27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو راولپنڈی (جہاں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول ہے) میں جلسے کے بعد قتل کر دی گئیں۔
انہیں پہلے گولیاں ماریں گئیں، پھر خودکش دھماکا ہوا۔

سیکڑوں لوگ بھی زخمی اور جاں بحق ہوئے۔ کراچی میں چند ماہ پہلے بھی ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں 130 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے مشرف حکومت پر تحقیق میں رکاوٹ ڈالنے اور ناکافی سیکورٹی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
جائے وقوع کو دھو دیا گیا، ثبوت مٹا دیے گئے۔ آج تک اصل منصوبہ سازوں کو کوئی سزا نہیں ملی۔

خون کی ایک وسیع پگڈنڈی

پاکستان کی سیاست میں لاتعداد رہنما دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ یا ’’نامعلوم ہاتھوں‘‘ کا نشانہ بنے :

اے این پی کے بشیر احمد بلور

ہارون بلور

مولانا سمیع الحق

ایم کیو ایم کے علی رضا عابدی

یہ فہرست طویل ہے۔

نومبر 2022 میں عمران خان خود قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے، جس میں ان کے ایک کارکن کی جان گئی۔ عمران خان نے فوراً اسے سیاسی حملہ قرار دیا اور اسٹیبلشمنٹ کے عناصر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

تقریباً ہر کیس میں تفتیش یا تو ’’سست‘‘ رہی، یا ’’متنازع‘‘، یا ’’غیر نتیجہ خیز‘‘۔

پیغام عوام تک یوں پہنچتا ہے :فوجی غلبہ اور عمران خان کا سوال

آج عمران خان ایک ایسی جیل میں بیٹھے ہیں جو مکمل طور پر سیکیورٹی اسٹیٹ کے کنٹرول میں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ’’غیر اعلانیہ مارشل لا‘‘ کے تحت چل رہا ہے، اور ISI ان کی قید کے ہر لمحے کو کنٹرول کرتی ہے۔

وہ فوج کے اسی سربراہ پر الزام لگاتے ہیں جسے انہوں نے 2019 میں ISI ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹایا تھا۔ وہی عاصم منیر، جو آج فیلڈ مارشل ہیں اور پورے ملک کے ’’سب سے طاقتور شخص‘‘ کہلاتے ہیں۔

خان مسلسل کہہ رہے ہیں :

’’میرے خلاف سب کچھ ایک ہی شخص کرا رہا ہے، اور اگر مجھے یا میری اہلیہ کو کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار وہی ہوگا۔‘‘
آج عمران خان کے بارے میں سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔۔۔ یہ اپنی جگہ ۔۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ افواہیں پاکستان کی اس تاریک تاریخ کے اندر پوری طرح فٹ بیٹھتی ہیں، ایک ایسی تاریخ جس میں :

بغاوتیں ہوتی رہتی ہیں

قتل ہوتے رہتے ہیں

طیارے گرتے رہتے ہیں

عدالتی قتل دہرائے جاتے ہیں

اور سچ ہمیشہ کہیں دفن رہتا ہے۔

یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں ادارے کمزور، منتخب رہنما کمزور تر، اور فوجی قوت سب سے بالاتر ہے۔











اسپیشل انٹینسیو ریویژن 2025 : این آر آئیز اور مائگرینٹس کیلئے آن لائن ووٹر رجسٹریشن فارم 6A مکمل گائیڈ،آپ کے لئے ہےفائدہ مند
How NRIs Can Register Online Through Form 6A in 2025

Special Intensive Revision 2025 : این آر آئیز اور مائیگرینٹس کے لئے ووٹر رجسٹریشن کا نیا طریقہ
بھارت کے غیر مقیم شہریوں (NRIs) اور اندرونی مائگرینٹ کے لیے ووٹر رجسٹریشن کا عمل اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے Special Intensive Revision (SIR) کے تحت فارم 6A کے ذریعے آن لائن ووٹر رجسٹریشن کی سہولت شروع کر دی ہے۔ تاہم ووٹنگ اب بھی صرف اس حلقے میں جا کر ہی کی جا سکے گی جہاں ووٹر کا نام درج ہوگا۔الیکشن کمیشن نے حال ہی میں بہار کے انتخابات کے بعد وہاں کے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِثانی مکمل کی ہے۔ اب اسی طرز کی Special Intensive Revision ملک کی 12 دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھی جاری ہے، زیادہ تر وہ علاقے جہاں 2026 اور 2027 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

SIR کے تحت جاری کیا جانے والا Enumerator Form اب مکمل طور پر آن لائن دستیاب ہے۔ اس پورے ڈیجیٹل عمل کی نگرانی براہِ راست الیکشن کمیشن آف انڈیا خود کر رہا ہے۔پہلے کے مقابلے میں یہ نظام بالکل مختلف ہے کیونکہ پہلے ووٹرز کو فارم ڈاؤن لوڈ کر کے آف لائن جمع کروانا پڑتا تھا۔ لیکن اب شہری محض ECI کی ویب سائٹ، مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفس کی ویب سائٹ، یا ECINET ایپ کے ذریعے اپنی معلومات آن لائن جمع کروا سکتے ہیں۔

غیر مقیم بھارتی (NRIs) اور وہ شہری جو اندرونی طور پر ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل ہوئے ہیں، SIR کے دوران Form 6A کے ذریعے آسانی سے اپنا اندراج کرا سکتے ہیں۔ این آر آئی ووٹر کا اندراج اسی حلقے میں ہوگا جس کا پتہ اس کے بھارتی پاسپورٹ میں درج ہے۔کون فارم 6****A جمع کرا سکتا ہے؟

کوئی بھی بھارتی شہری جو بیرون ملک مقیم ہو لیکن کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل نہ کی ہو، Form 6A کے ذریعے بطور ووٹر رجسٹریشن کے لیے اہل ہے۔

درخواست گزار کی عمر کم سے کم 18 سال ہونی چاہیے اور یہ عمر 1 جنوری کے ممکنہ سال کے مطابق شمار کی جائے گی۔

رجسٹریشن ہمیشہ اس حلقے میں ہوگی جس کا پتہ درخواست گزار کے بھارتی پاسپورٹ میں درج ہے۔

فارم 6A متعلقہ Electoral Registration Officer (ERO) کو ہی جمع کروایا جاتا ہے۔

مثال : اگر اہل تاریخ 1 جنوری 2011 ہے تو درخواست گزار کی عمر 1 جنوری 2011 یا اس سے پہلے 18 سال ہو جانی چاہیے۔
ضروری دستاویزات

درخواست کے ساتھ منسلک کئے جانے والے کاغذات :

پاسپورٹ سائز کی تازہ رنگین تصویر (ہلکے یا سفید پس منظر کے ساتھ)

فارم 6A کو مکمل طور پر صحیح معلومات کے ساتھ بھرا جائے ’بالکل وہی معلومات جو پاسپورٹ میں درج ہیں۔

اگر درخواست ڈاک کے ذریعے بھیجی جا رہی ہو :

پاسپورٹ کے مندرجہ ذیل صفحات کی تصدیق شدہ نقول منسلک کرنا لازمی ہیں :

تصویر والا صفحہ

ذاتی معلومات والا صفحہ

ویلیڈ ویزا کی توثیق والا صفحہ

تمام فوٹو کاپیاں بھارتی مشن (Embassy/Consulate) کے مجاز افسر سے تصدیق شدہ ہونی چاہئیں۔

اگر درخواست ERO کے سامنے خود جمع کروائی جائے :

وہی پاسپورٹ کی کاپیاں منسلک کریں جو ڈاک کے ذریعے بھی مطلوب ہیں۔

اصل پاسپورٹ تصدیق کے لیے ساتھ لائیں۔تصدیق کے بعد فوراً واپس کر دیا جاتا ہے۔

اگر کاپیاں attested نہ ہوں تو درخواست مسترد بھی ہو سکتی ہے۔

ووٹنگ کا طریقہ

ووٹنگ صرف اپنے حلقے کے پولنگ اسٹیشن پر جا کر ہی کی جا سکتی ہے۔

پولنگ والے دن اپنی اصل بھارتی پاسپورٹ ساتھ لانا لازمی ہے، کیونکہ یہی آپ کی شناخت کی تصدیق کا بنیادی ثبوت ہوگا۔

 Special Intensive Revision کیوں ضروری ہے؟

بھارت میں ہر سال ووٹر لسٹوں کی اپ ڈیٹنگ معمول کا حصہ ہے، مگر انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن خصوصی طور پر Special Intensive Revision (SIR) کراتا ہے تاکہ :نئے ووٹرز کا اندراج ہو سکے

نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی تفصیلات اپڈیٹ ہوں

انتقال کر جانے والے افراد کے نام حذف کئے جا سکیں

جعلی یا ڈپلیکیٹ انٹریز ختم کی جا سکیں

بیرونِ ملک رہنے والے بھارتی شہریوں (NRIs) کو ووٹنگ نظام کا حصہ بنایا جا سکے

ڈیجیٹل طریقہ کار کی بدولت بہت سے این آر آئی اور مائگرینٹس شہری اب بنا کسی مشکل کے اپنے گھر بیٹھے ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کر سکتے ہیں۔













وزیرِ اعظم نریندر مودی کا 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کا دورہ
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، وہ صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کرناٹک کے اُڈپی میں واقع مشہور شری کرشنا مٹھ کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ شام تین بجکر پندرہ منٹ پر گوا پہنچیں گے جہاں وہ شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ کے 550 سالہ جشن میں شرکت کریں گے۔

اُڈپی میں وزیر اعظم مودی شری کرشن مٹھ میں منعقد ہونے والے “لکشا کانٹھا گیتا پرايَنا” پروگرام میں بھی حصہ لیں گے، جس میں ایک لاکھ سے زائد شرکا بشمول طلبہ، سنت، اسکالرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری بیک آواز بھگوت گیتا کی پاٹھ کریں گے۔ یہ روحانی اجتماع مٹھ کی قدیم روایت کا حصہ ہے جسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اسی موقع پر وزیر اعظم سورن تیرتھ منٹپ کا افتتاح بھی کریں گے جو کرشن کے دربار کے سامنے تعمیر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شری کرشن مٹھ اُڈپی کو 800 سال قبل سری مادھواچاریہ نے قائم کیا تھا، جو دوئت ویدانت فلسفے کے بانی بھی ہیں۔ یہ مٹھ نہ صرف روحانی تربیت کا مرکز ہے بلکہ جنوبی ہند کی ویدانت روایت کا اہم ستون بھی ہے۔ وزیر اعظم مودی اپنے دورۂ گوا میں کنکونا کے علاقے میں واقع شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ بھی جائیں گے، جہاں 550 سالہ جشن کے سلسلے میں متعدد تقاریب منعقد ہوں گی۔ وزیر اعظم اس موقع پر 77 فٹ بلند مجسمے کی نقاب کشائی کریں گے، جو مٹھ کے احاطے میں نصب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ “رامائن تھیم پارک گارڈن” کا افتتاح بھی کریں گے، جسے مٹھ نے خصوصی طور پر تیار کیا ہے تاکہ رامائن کی روایات اور مناظر کو جدید انداز میں پیش کیا جا سکے۔
تقریب میں وزیر اعظم مودی خصوصی ڈاک ٹکٹ اور یادگاری سکے کا اجرا بھی کریں گے اور حاضرین سے خطاب کریں گے۔ شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ گؤڑ سرسوت برہمن برادری کا پہلا ویشنو مٹھ سمجھا جاتا ہے جو 13ویں صدی میں جگدگرو مادھواچاریہ کی قائم کردہ دوئت روایت کی پیروی کرتا ہے۔ یہ مٹھ جنوبی گوا کے شہر پرتگالی میں دریائے کشاوتی کے کنارے واقع ہے۔ وزیر اعظم کے اس دورے سے خطے میں مذہبی، ثقافتی اور تاریخی روایات کو فروغ ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




لینڈنگ کے وقت جہاز کی کھڑکیوں کے پردے کیوں کھول دیے جاتے ہیں؟
آپ کو فضائی سفر کے دوران جہاز کی کھڑکیوں کے شیڈز کو کھلا رکھنا شاید تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے، لیکن بنیادی طور پر اس کا مقصد مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ 
این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق اگر آپ نے کبھی کمرشل فلائٹ پر سفر کیا ہے تو آپ نے طیارے کی لینڈنگ سے قبل فلائٹ اٹینڈنٹ کی شائستہ انداز میں ایک درخواست سُنی ہوگی کہ ’براہِ مہربانی اپنی اپنی کھڑکیوں کے شیڈز کُھلے رکھیں۔‘یہ سُن کر پہلے آپ کو لگتا ہے کہ یہ بلاوجہ کی ایک تکلیف ہے، جیسا کہ اگر کھڑکیوں کے شیڈز اُوپر ہوں یا نیچے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ تاہم جہاز کے عملے کی یہ چھوٹی سی ہدایت مسافروں کے آرام کے بارے میں نہیں ہے۔
اس ہدایت کے پیچھے ایک بڑی حفاظتی وجہ ہے۔ دراصل یہ ایک ایسی ہدایت ہے جس پر دنیا بھر کی ہر ایئرلائن عمل کرتی ہے، فلائٹ کا عملہ کھڑکی کے شیڈز کو اُوپر رکھنے کے بارے میں اتنا اِصرار کیوں کرتا ہے؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔
لینڈنگ کے دوران کھڑکی کے شیڈز کھلے رکھنے کی پانچ وجوہات ہیں
1۔ ہنگامی صورتِ حال کو جلدی سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے
ٹیک آف اور لینڈنگ، فلائٹ کے خطرناک ترین مراحل سمجھے جاتے ہیں۔ اگر کھڑکی کے شیڈز کھلے ہوتے ہیں تو مسافر اور فلائٹ کا عملہ دونوں ہی ہنگامی صورتِ حال جیسے دُھواں، چنگاریاں یا آگ دیکھ سکتے ہیں۔ 
اگر کوئی ہنگامی صورت پیدا ہو تو یہ معلوم کرنا کہ جہاز کے کس حصے سے محفوظ طریقے سے باہر نکلا جا سکتا ہے، یہ جاننے کی کوشش میں قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے اگر شیڈز کھلے ہوں تو ہر کوئی اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے جلدی تیار ہو سکتا ہے۔
2۔ طیارے کا عملہ اور مسافر الرٹ رہتے ہیں
جب جہاز کی کھڑکیوں کے شیڈز نیچے ہوتے ہیں، تو کیبن گہرا اور آرام دہ محسوس ہوتا ہے جس سے مسافر غنودگی یا بے دھیانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایئرلائنز کا عملہ شیڈز کو کھلا رکھتا ہے تاکہ پرواز کے اہم ترین مراحل کے دوران مسافر ذہنی طور پر چوکنا رہیں۔ 
فلائٹ اٹینڈنٹ کے لیے بھی کیبن کو چیک کرنا اور مسافروں کے ردِعمل کا جائزہ لینا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ عمل ہر ایک کو ’چوکنا رہنے کے موڈ‘ میں رکھتا ہے۔
3۔ اچانک روشنی کے لیے آنکھوں کو تیار رکھیں
ذرا تصور کریں کہ ایک طیارہ دن کی روشنی میں لینڈ کر رہا ہو اور اچانک کسی ہنگامی صورتِ حال میں فوری انخلا کی ضرورت پیش آجائے۔ اس دوران اگر کھڑکیوں کے شیڈز بند ہوں تو مسافروں کی آنکھوں کو باہر کی تیز روشنی سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگے گا۔
اسی طرح رات کے وقت کھڑکیوں کے شیڈز کھلے ہوں تو آنکھیں بیرونی ماحول سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ نظر کا فوری طور پر مطابقت اختیار کرنا انخلا کے دوران تیزی اور کم اُلجھن کے ساتھ حرکت کو ممکن بناتا ہے۔
4۔ دیکھیں کون سے اخراج کے راستے محفوظ ہیںکسی غیر معمولی ہنگامی لینڈنگ کی صورت میں اخراج کے تمام راستے محفوظ نہیں ہو سکتے۔ مثال کے طور پر طیارے کے ایک جانب آگ، دُھواں یا رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔ کھڑکیوں کے شیڈز کھلے ہونے سے عملے کو فوری طور پر اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس طرف سے انخلا محفوظ رہے گا۔ 
مسافر بھی باہر کا منظر واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں اور اعتماد کے ساتھ ہدایات پر عمل کر سکتے ہیں۔ 
5۔ بین الاقوامی ہوابازی کے قوانین پر عمل کریں
کھڑکیوں کے شیڈز کُھلے رکھنے کا اصول دنیا کی ہر ایئرلائن کے لیے مخصوص ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر ہوابازی کا ایک تسلیم شدہ ضابطہ ہے۔ 
ہوابازی کے ادارے اس عمل کو مجموعی حفاظتی اقدامات کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس ضابطے کو بین الاقوامی سطح پر رائج کر کے ایئرلائنز اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں سفر کریں، مسافر اور عملہ ایک جیسے حفاظتی اقدامات کے لیے تربیت یافتہ ہو۔












اننت ناگ ضلع کا ڈورو شاہ آباد، علم وادب، شاعری، سیاست اور ثقافت کا سنگم
اننت ناگ(میر اشفاق) : وادیٔ کشمیر کی تاریخ جب بھی رقم کی جاتی ہے، تو اس کے سبزہ زاروں، چشموں، جھیلوں اور برف پوش پہاڑوں کے ساتھ ساتھ اس خطے کی علمی و ادبی روایات کا ذکر بھی لازمی آتا ہے۔ انہیں علمی و فکری مراکز میں سے ایک ہے ڈورو شاہ آباد، جو ضلع اننت ناگ میں واقع ایک تاریخی قصبہ ہے۔ تقربا 2لاکھ کی آبادی والا یہ قصبہ نہ صرف اپنی فطری خوبصورتی کے لیے مشہور ہے بلکہ اسے بجا طور پر ’شاعروں کا قصبہ‘اور ’’دانش و بصیرت کی سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔

ڈورو شاہ آباد جسے "دی ٹاؤن آف پائٹس" کا لقب بھی حاصل ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ پرانے ادوار میں یہ قصبہ علمی و روحانی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہاں کی زمین نے وہ لوگ پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف کشمیری زبان و ادب کو نیا رنگ دیا بلکہ فارسی، اردو اور سنسکرت ادب میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔ اس بستی کے گلی کوچوں سے ایسی علمی و ادبی خوشبو اٹھتی ہے جو آج بھی اہلِ ذوق کے دلوں کو معطر کرتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ڈورو کی سرزمین نے قدآور سیاسی شخصیات کو بھی جنم دیا ہے جنہوں نے سیاست میں عروج پاکر ڈورو شاہ آباد کا نام روشن کیا ہے۔ڈورو شاہ آباد کی ادبی پہچان اس کے شعرا اور ادبا سے ہے۔ یہاں سے محمود گامی، رسول میر، اسد میر ،سعادت حسن منٹو، ثنا اللہ امرتسری، حمیداللہ شاہ آبادی، پیر مشکور، غلام احمد وانی، کشمیری پنڈت اسکالر دامودھر پنڈتا شاہ آبادی، مُلا محمد، میر سعداللہ، محمد یوسف قاضم و دیگر کئی عظیم شخصیات نے جنم لیا ہے، جنہوں نے کشمیری شاعری و ادب کو عالمی سطح تک پہنچایا ہے۔محمود گامی۔
محمود گامی جنہوں نے فارسی اور کشمیری دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ ان کی شاعری تصوف، اخلاقیات اور روحانیت سے لبریز ہے۔ محمود گامی سنہ 1765 میں ڈورو شاہ آباد کے محمود آباد گاؤں میں پیدا ہوئے۔ محمود گامی کو کشمیر میں انیسویں صدی کے ممتاز شاعر اور بنیادی طور پر کشمیری صوفی شاعری کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے گیارہ مثنویاں اور سینکڑوں نظمیں لکھی ہیں، جو کشمیری شاعری کی نمائندگی کرتی ہیں۔ جس کی پیروی ان کے بعد متعدد شعراء نے کی ہے۔ اگرچہ لل دید اور شیخ العالمؒ کی صوفیانہ اور نثری شاعری نے کشمیری شاعری کی بنیاد ڈالی تاہم محمود گامی کو پہلے ایسے حقیقی شاعر کے طور پر مانا جاتا ہے، جنہوں نے متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔

محمود گامی کی مشہور مثنویاں جیسے شیرین فرحد، لیلیٰ مجنوں، یوسف زلیخا دراصل فارسی مثنویاں ہیں۔ جسے محمود گامی نے کشمیری زبان میں متعارف کرایا۔ یہ مثنویاں ایران سے تعلق رکھنے والے نامور شاعر نظامی اور جامی کی تحریر کردہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری زبان میں انہیں تحریر کرنے کے بعد محمود گامی کو جامی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔رسول میر۔
رسول میر جنہیں "کشمیر کا جان کیٹس" بھی کہا جاتا ہے، کشمیری غزل کے بانیوں میں ایک قدآور شخصیت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں عشقِ مجازی اور حسنِ فطرت کی جلوہ گری نمایاں ہے، وہ سنہ 1840 میں ڈورو شاہ آباد کے میر میدان میں پیدا ہوئے اور 1870 میں وفات پاگئے۔ صرف تیس برس کی زندگی میں انہوں نے اپنی راغبانہ شاعری سے خوب نام کمایا ۔ رسول میر کی نظمیں زیادہ تر رومانوی کشمیری غزلیں ہیں، اُن غزلوں اور نظموں نے انہیں کشمیری ادب کی تاریخ میں ایک مستقل مقام دیا ہے۔ان کی لکھی ہوئی ایک کشمیری نظم 'گژہ تئہ وِسئے لال ما دورۓ مہ چھی مُورئے للوُن نار' کافی مشہور تھی اور آج بھی اسے مختلف ترنم میں گایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نظم 'عید آئی رسہ رسہ، عیدگاہ وسوائے' اور 'رندہ پوشہ مال گندنے درائی لُولُو' بھی لوگوں کی کافی پسندیدہ ہیں۔اسد میر.
اسد میر ایک کشمیری شاعر تھے جو اپنی غمگین اور غور و فکر سے بھرپور شاعری کے لیے مشہور ہیں۔ وہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں فعال رہے۔ کشمیری ادب میں ان کا شمار نمایاں شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں غم، جدائی، اور روحانی غور و فکر کے موضوعات نمایاں ہیں، جو اُس دور کے ثقافتی اور سیاسی انتشار کی عکاسی کرتے ہیں۔ان کی بعض تخلیقات زبانی روایت کے ذریعے آج تک محفوظ ہیں، اگرچہ عام ثقافتی حلقوں میں انہیں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اسد میر 1865 میں ڈورو میں پیدا ہوئے اور 1931 میں انتقال کر گئے ان کی کشمیری نظم" یلی جانان رلیم ،ادہ بالم دل بیمارو ۔۔داغ جگرس ژلم، ادہ بلم دل بیمارو ۔(جب، اے محبوب، ہم اکٹھے ہوئے، میرا دل درد سے بھر گیا۔میں نے تجھے وہ زخم دیا جو دل میں چھپا تھا،اور عشق کے لاانتہا دکھ میں رویا)۔حمیداللہ شاہ آبادی۔
انیسویں صدی کے نامور شاعر مولانا حمیداللہ شاہ آبادی کا تعلق بھی ڈورو شاہ آباد سے تھا۔حمیداللہ شاہ آبادی نے اہم تاریخی تصانیف تحریر کیں۔۔"چائے نامہ" ایک مثنوی ہے جسے مولانا حمیداللہ شاہ آبادی کشمیری نے فارسی زبان میں تحریر کیا۔ یہ مثنوی چائے اور اس کے آداب و رسوم کی تعریف و توصیف میں لکھی گئی ہے۔ اکبر نامہ اور بیبوج نامہ بھی ان تصانیف میں شامل ہیں۔ اور ظاہر ہے، ان ہی میں سے ان کا مشہور "چائے نامہ" معروف شاعر ظہوری کے "ساقی نامہ ،کے جواب میں لکھا گیا۔



سعادت حسن منٹو۔
سعادت حسن منٹو، برصغیر کے عظیم افسانہ نگار، کا تعلق بھی اسی خطے سے جوڑا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں نے برصغیر کی سماجی و نفسیاتی پیچیدگیوں کو بے نقاب کیا۔ سعادت حسن منٹو 11 مئی سنہ 1912ء کو پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک کشمیری تاجر گھرانے سے تھا جو ڈورو شاہ میں مقیم تھے ،بعد میں وہ انیسویں صدی کے اوائل میں امرتسر آ کر آباد ہوا۔۔اسلئے نسلی طور پر منٹو ایک کشمیری تھے، کہا جا رہا ہے کہ منٹو کو اپنے کشمیری پس منظر پر خاصا فخر تھا۔



ثنا اللہ امرتسری۔
ثنا اللہ امرتسری کے آباء و اجداد کا تعلق جموں و کشمیر کے قصبے ڈورو شاہ آباد سے تھا۔ وہ سنہ 1868ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد مستقل طور پر آباد ہو چکے تھے۔امرتسری نے اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز سنہ 1893ء میں اپنے مادرِ علمی مدرسہ تائید الاسلام امرتسر سے کیا، جہاں انہوں نے درسِ نظامی کی کتابیں پڑھائیں۔ اس کے بعد وہ مدرسہ اسلامیہ، مالیر کوٹلہ میں بطور ڈائریکٹرِ تعلیم مقرر ہوئے۔

انہوں نے 1903ء میں اہلِ حدیث پریس قائم کیا اور ہفت روزہ رسالہ "اہلِ حدیث" جاری کیا جو تقریباً 44 سال تک شائع ہوتا رہا۔وہ تحریکِ اہلِ حدیث کے سرکردہ رہنما تھے اور آل انڈیا جمعیت اہلِ حدیث کے 1906ء سے 1947ء تک جنرل سیکرٹری رہے۔انہوں نے جمعیت علمائے ہند کی بھی مشترکہ بنیاد رکھی اور جنودِ ربانیہ میں انہیں میجر جنرل کا درجہ حاصل تھا۔ وہ انجمن اہلِ حدیث پنجاب کے صدر بھی رہے۔انہیں پنجاب میں دینی خدمات پر شیرِ پنجاب کا لقب دیا گیا۔سنہ1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد وہ گوجرانوالہ (پاکستان) منتقل ہو گئے اور 15 مارچ 1948ء کو سرگودھا میں انتقال کر گئے۔

ڈورو شاہ آباد کا سیاسی پس منظر ۔
جموں کشمیر کے دوسرے وزیر اعلی سید میر قاسم بھی ڈورو شاہ آباد سے تعلق رکھتے تھے۔غلام محمد صادق کے انتقال کے بعد وہ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز برطانوی راج کے دوران ہوا، جب وہ غیر فرقہ وارانہ اور جمہوریت نواز تحریک "کشمیر چھوڑ دو"( کوئیٹ کشمیر) کے رہنما بنے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں جیل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
بھارت کی آزادی کے بعد وہ جموں و کشمیر کے آئین کی تدوین میں شامل رہے اور بعد ازاں مختلف ریاستی اور مرکزی عہدوں پر فائز ہوئے۔ میر قاسم نے وادی کشمیر میں انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی ہے ۔
سنہ 1975میں انہوں نے شیخ محمد عبداللہ کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے عہدۂ وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا، جب بھارتی حکومت نے اندرا۔شیخ معاہدہ کے تحت ان (شیخ) سے سمجھوتہ کیا۔

سید میر قاسم 12 دسمبر سنہ 2004 کو دلی میں 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی خواہش کے مطابق انہیں ڈورو شاہ آباد میں دفن کیا گیا تھا ۔انتقال کے بعد سنہ 2005 میں اس وقت کے صدر ہند ،اے پی جے عبدالکلام نے انہیں بعد از مرگ پدم بھوشن اعزاز سے نوازا ۔

غلام احمد میر ۔۔۔(جی اے میر )
غلام احمد میر جموں و کشمیر کے تجربہ کار سیاست دان ہیں، میر نے طویل وقت سے ڈورو اسمبلی حلقے کی نمائندگی کی ہے ، سنہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے حلقہ انتخاب ڈورو میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کی اور آج وہ حلقہ کے ایم ایل اے کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میر 2015 سے 2022 تک جموں و کشمیر پردیش کمیٹی کے صدر رہے۔ قانون ساز اسمبلی کے رکن سمیت وہ اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری ہیں اس کے علاوہ جھارکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کے اے آئی سی سی انچارج اور مغربی بنگال کانگریس کمیٹی کے ایڈیشنل انچارج بھی ہیں۔

سید حسین۔
سید حسین بھی اسی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے رکنِ اسمبلی، رکنِ قانون ساز کونسل، قانون ساز کونسل کے چیئرمین اور راجیہ سبھا کے رکن سمیت کئی اہم سرکاری و سیاسی عہدوں پر خدمات انجام دیا ہے۔

غلام احمد ایتو۔
ڈورو وہ مقام ہے جہاں سے غلام احمد ایتو کا تعلق تھا، جو ڈوگرہ دورِ حکومت میں کشمیری کسانوں کے اصلاح کار کے طور پر معروف ہوئے۔ ایتو اراضی اصلاحی تحریک (Land Reform Movement) کے بانیوں میں سے تھے، جس کا مقصد کشمیری کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔ ایتو کو ان سرگرمیوں کے باعث حکومت نے قید کر لیا تھا۔

مذہبی اہمیت.
زیارتوں اور خانقاہوں کی موجودگی سے ڈورو شاہ آباد مذہبی اہمیت کا بھی حامل ہے ،یہاں پر خانقاہ فیض پناہ موجود ہے، جس کی تعمیر میر محمد ہمدانی(رح) نے کی تھی، جو امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانی(رح) کے فرزند تھے۔ قصبے کی دیگر اہم زیارت گاہوں میں زیارت شاہ محمد اعظم صاحب، سید جعفر مدنی اور شاہ اسرار شامل ہیں۔
ہندو تیرتھ مقامات میں لُک باون (لوکا پونیا)، وِتستا اور گوسوانی گنڈ شامل ہیں۔

سیاحتی اہمیت.
مشہور چشمہ اور مغل باغ ویری ناگ، ڈورو شاہ آباد سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے دریائے جہلم کا ممبا بھی مانا جاتا ہے ،اس جگہ کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ علاقے کے دو دیگر چشمے، شہل ناگ اور سم ناگ، جڑواں چشمہ بھی اسی علاقہ میں موجود ہے۔وہیں اس علاقہ میں پیر پنچال کی پہاڑیوں میں موجود ،سربل ،ڈیڈی بل و دیگر کئی حسین سیاحتی مقام موجود ہیں جو ٹریکیرس کی پسندیدہ جگہوں میں سے ہیں۔

معروف مصنف راؤ فرمان علی کا کہنا ہے کہ ڈورو شاہ آباد محض ایک قصبہ نہیں بلکہ کشمیر کی فکری و تہذیبی روح کی علامت ہے۔ اس کی مٹی نے ایسے گوہر پیدا کیے جنہوں نے اپنے فن، علم اور کردار سے دنیا کو متاثر کیا ہے۔جن کے اثرات آج کے زمانہ میں بھی نمایاں ہیں،یہ پورا علاقہ علمی ،ادبی، سیاسی ،سماجی طور پر کافی زرخیر ہے بلکہ قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے بھی اس کا نمایاں کردار ہے ۔لیکن افسوس ہے کہ اتنی اہمیت ہونے کے باوجود بھی سرکار کی جانب سے اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ ڈورو شاہ آباد کو سرکاری طور پر علمی و ادبی مرکز کے طور پر ترقی دینی چاہئے۔












خلا میں پھنسے 3 چینی خلا بازوں کی واپسی کیلیے امید نظر آنے لگی
تفصیلات کے مطابق خلائی اسٹیشن تیانگونگ پر چین کے تین خلا باز ژانگ لو، وو فے اور ژانگ ہونگ ژانگ پھنسے ہوئے ہیں جن کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا تو چین نے واپسی کیلیے بغیر عملے والا مشن شینزو-22 فوری طور پر روانہ کیا ہے۔سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق لانگ مارچ-2 ایف راکٹ نے منگل کو مقامی وقت دوپہر کے بعد جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ اُڑان بھری اور دوپہر تین بجے کے وقت یہ اسٹیشن کے ساتھ کامیابی سے جڑ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے شینزو-22 کو اصل منصوبے کے مطابق 2026 میں انسانی مشن کے طور پر لانچ کرنا تھا تاہم موجودہ صورتحال کیوجہ سے اب اس مشن کو بغیر عملے کے ہنگامی متبادل جہاز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔
چین کے خلائی اسٹیشن تیانگونگ پر پھنسے ہوئے خلا باز ژانگ لو، وو فے اور ژانگ ہونگ ژانگ معمول کے مطابق سرگرمیوں میں مصروف ہیں، وقت مکمل ہونے کے باوجود وہ ایک نقصان کی وجہ سے زمین پر واپس آنے والی گاڑی سے محروم ہیں۔

چین کے 3 خلا باز اپریل میں 6 ماہ کے مشن پر گئے اور پھر وہ شینزو-21 استعمال کرکے واپس آگئے تھے، جس کے بعد اسٹیشن پر موجود دوسرے عملے کو واپس آنا تھا تاہم ہنگامی صورت حال کے باعث اُن کی واپسی ممکن نہیں ہوسکی تھی۔

چینی میڈیا رپورٹ کے مطابق شینزو-22 خلا میں پہنچنے کے بعد اسٹیشن سے جڑگیا جس کے بعد اب خلا بازوں کی واپسی ممکن ہوگی

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑جھارکھنڈ پیپر لیک احتجاج: رانچی میں کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال* ...