Tuesday, 7 July 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*_ضروری و پُر درد اپیل - ہماری بیٹیوں، ہمارا مستقبل_*
*تائید و حمایت حفاظت گروپ مالیگاؤں ،بزم خلوص، مجددی فاؤنڈیشن*
*____________________________*

       *محمد عارف نوری* 
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں و ڈائریکٹر حفاظت میڈیا مالیگاؤں)*
8208152800 
*____________________________*

*کیا آپ کو معلوم ہے؟*
*آج ہمارے گھروں میں "ارتداد، خودکشی، نشہ، غلط محبت اور دھوکے" کی خبریں عام ہو چکی ہیں۔* 
*ہماری معصوم بیٹیاں سوشل میڈیا اور غلط صحبت کا شکار ہو رہی ہیں۔*
*یہ صرف خبر نہیں، یہ ہر ماں باپ کا درد ہے۔*

*اسی درد کو مٹانے کے لیے مالیگاؤں کے مخلص سوشل ورکروں و دیگر تنظیموں نے مل کر ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔*

*_ایک خصوصی اصلاحی پروگرام برائے خواتین_*

*"گمراہی سے ہدایت کی طرف"*

*ان موضوعات پر کُھل کر بات ہوگی ارتداد ایمان کمزور کیوں ہو رہا ہے اور اس کی حفاظت کیسے کریں؟خودکشی و ڈپریشن مایوسی کا اسلامی علاج کیا ہے؟ عشق، محبت اور دھوکا ہماری بیٹیاں کس جال میں پھنس رہی ہیں؟ نشہ اور جرائم ایک غلطی پوری نسل تباہ کر دیتی ہے بد اخلاقی و بے حیائی اسلامی تہذیب کی طرف واپسی سوشل میڈیا کے فتنے موبائل ہمارا دوست یا دشمن؟ و دیگر سماجی برائیوں پر محترمہ نازیہ تسکین آپا مشہور داعیہ اور دیگر عالمہ آپا بھی خطاب فرمائیں گی۔*

*پروگرام کی مکمل تفصیل:*
*تاریخ : 12 جولائی 2026 بروز اتوار وقت : دوپہر 2:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک مقام : اسکول نمبر 1 گراؤنڈ، قدوائی روڈ، مالیگاؤں، صرف خواتین کے لیے* 

*اس پروگرام کی تائید و تائید و حمایت کردہ :* 
*حفاظت گروپ مالیگاؤں (محمد عارف نوری صاحب)* 
*بزمِ خلوص (صدر آزاد انور صاحب)*
*مجددی فاؤنڈیشن( صدر مولانا عبدالرشید مجددی صاحب)*

*آخر میں ہماری مؤدبانہ گزارش:*
*یہ پروگرام کسی ایک کا نہیں، پورے مالیگاؤں شہر کا ہے اپنی بہن، بیٹی، بھانجی ، بھتیجی سب کو لے کر آئیں ہو سکتا ہے آپ کا ایک قدم کسی گھر کو ٹوٹنے سے بچا لے*








مسلسل 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنے سے ’کینسر کا خطرہ‘، جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ہی نشست میں آدھے گھنٹے (30 منٹ) سے زیادہ بیٹھنا کینسر کے باعث موت کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق محققین نے 10 برس کے دوران 90 ہزار سے زیادہ افراد کا جائزہ لیا اور یہ پایا کہ جاگتے ہوئے ایک ہی دورانیے میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا یا لیٹے رہنا کینسر سے موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔
نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ یہ خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔تاہم محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ 30 منٹ تک غیرمتحرک یا بیٹھے رہنے کے دوران اگر جسمانی سرگرمی انجام دی جائے تو یہ خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر آدھے گھنٹے بعد اُٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے چہل قدمی کرنا صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے چاہے یہ چہل قدمی دفتر کے اندر ہی کیوں نہ کی جائے۔
گلاسگو یونیورسٹی کے اس مطالعے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر فریڈرک ہو کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعدادوشمار سے یہ واضح ہوا ہے کہ ایک وقت میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنا خاص طور پر کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جُڑا ہوا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہر نصف گھنٹے بعد مختصر چہل قدمی کی طرح کی سادہ سرگرمی کینسر کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صحت کے حوالے سے موجودہ رہنما اصول زیادہ تر درمیانی یا شدید ورزش پر زور دیتے ہیں، مگر ہماری تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہلکی پھلکی حرکت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آئندہ طبی آزمائشیں ہمیں عمومی ہدایات سے آگے بڑھنے اور ہر فرد کے لیے مخصوص حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دیں گی تاکہ بیٹھنے کے وقت کو بہتر انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔‘
یہ نتائج ایک طبی جریدے میں شائع ہوئے، جس میں روزمرہ کی بنیاد پر طویل عرصے تک غیر متحرک رہنے کے صحت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اگرچہ طویل وقت تک بیٹھے یا لیٹے رہنا پہلے ہی دل کی بیماریوں اور بعض اقسام کے کینسر کے بڑھتے خطرے سے جوڑا جا چکا ہے، لیکن محققین کے مطابق اس بات پر کم توجہ دی گئی ہے کہ یہ غیر متحرک وقت کس انداز میں جمع ہوتا ہے اور آیا اس کا بھی صحت پر اثر پڑتا ہے یا نہیں۔
تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ غیر متحرک وقت کو جسمانی سرگرمی سے بدلنے سے کینسر کے مختلف خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ مفید سرگرمیوں میں آہستہ چلنا اور گھریلو کام کاج وغیرہ شامل ہیں۔تحقیقی ٹیم نے برطانیہ کے ایک بڑے طبی ڈیٹا پروجیکٹ کے 90 ہزار سے زائد شرکا کے ایسے اعدادوشمار کا تجزیہ کیا جو پہننے کے قابل آلات کے ذریعے جمع کیے گئے تھے، اور ان کا اوسطاً 12 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف ہوا کہ 30 منٹ سے زیادہ دیر تک غیرمتحرک رہنا کینسر کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ روزانہ مسلسل غیر متحرک رہنے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ کینسر سے موت کا خطرہ دس فیصد بڑھ جاتا ہے۔
تاہم کچھ دیر بعد حرکت کرنے سے یہ خطرہ کم ہوتا دکھائی دیا۔ روزانہ ایک گھنٹہ بیٹھنے کے وقت کو کپڑے استری کرنے یا برتن دھونے کی طرح کی ہلکی جسمانی سرگرمی سے تبدیل کرنے سے موت کا خطرہ بارہ فیصد کم ہوا۔
اسی طرح روزانہ 30 منٹ تک غیرمتحرک رہنے کی بجائے درمیانی درجے کی جسمانی سرگرمی جیسے معمول کی رفتار سے چہل قدمی کرنے سے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد کم ہوا۔ جبکہ روزانہ پانچ منٹ غیرمتحرک رہنے اور پھر پانچ منٹ کی تیز جسمانی سرگرمی انجام دینے پر یہ خطرہ 22 فیصد تک کم پایا گیا۔
تاہم اس تحقیق کی کچھ حدود بھی تھیں، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ مشاہداتی مطالعہ تھا اور اس میں شماریاتی تجزیہ کیا گیا، اس لیے براہِ راست کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
ایک ماہرِ شماریات پروفیسر کیون مک کانوی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ یہ نتائج دلچسپ ہیں مگر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔









شام کے دارالحکومت دمشق میں سلسلہ واردھماکے، فرانسیسی صدرمیکرون کے ہوٹل کے باہرگرا بم
دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کویکے بعد دیگرے 2 دھماکوں سے شہرلرزاٹھا۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب فرانس کے صدرایمینوئل میکرون شام کے دورے پرموجود تھے اورصدراحمد الشرع سے ملاقات کے لئے صدارتی محل پہنچ رہے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق، میکرون کے صدارتی محل روانہ ہونے کے فوراً بعد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک دھماکہ اس ہوٹل کے قریب بھی ہوا، جہاں فرانسیسی صدرقیام پذیرہیں۔ شامی میڈیا کے مطابق، دونوں دھماکے دمشق کے مرکزی علاقے میں ہوئے، جس کے بعد آگ کے شعلے اوردھوئیں کے گھنے بادل آسمان میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

فرانسیسی صدارتی دفترنے بتایا کہ صدرایمینوئل میکرون مکمل طورپرمحفوظ ہیں اورانہوں نے دھماکوں کی آوازبھی نہیں سنی۔ دھماکوں کے باوجود انہوں نے شام کے صدراحمد الشرع سے طے شدہ ملاقات بھی کی۔ حکام کے مطابق، ان دھماکوں میں کم ازکم 18 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں 4 پولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔ یہ دھماکے دمشق کے مصروف علاقوں، نیشنل میوزیم آف دمشق اوروزارتِ سیاحت کے قریب پیش آئے۔

صدارتی قافلے کے گزرنے کے فوراً بعد دھماکہ

رپورٹ کے مطابق پہلا دھماکہ میکرون کے قافلے کے صدارتی محل روانہ ہونے کے چند ہی لمحوں بعد ہوا۔ دھماکے کے بعد ایک کوڑے دان سے آگ اوردھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اس کے چند میٹرکے فاصلے پردوسرا دھماکہ بھی ہوا، جوجائے وقوع پرکھڑی ایک ایمبولینس کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً دودرجن افراد موجود تھے۔

چند روزقبل بھی کیفے میں ہوا تھا دھماکہ

واضح رہے کہ 2 جولائی کوبھی دمشق کے ایک کیفے میں بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 9 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ تازہ دھماکوں نے ایک بارپھردارالحکومت کی سکیورٹی پرسوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ شام کے صدراحمد الشرع 2024 میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدارمیں آئے تھے اورملک میں امن واستحکام بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حالانکہ پہلے سے بم دھماکوں میں کافی کمی آئی ہے، لیکن ایک ہفتے کے اندر دو بار دھماکہ ہونے سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

دہلی فسادات 2020: طاہر حسین سمیت 11 افراد کی قسمت کا فیصلہ ٹلا ، IB افسر انکت شرما کا ہوا تھا قتل
دہلی : ککڑڈوما کورٹ نے آئی بی افسر انکت شرما کے قتل کیس میں اپنا فیصلہ ٹال دیا ہے، جو 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران ہوا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ کی عدالت اب 13 جولائی کو اس مشہور زمانہ کیس میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس معاملے میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت کل 11 ملزمین کو مقدمے کا سامنا ہے۔ ان پر دہلی فسادات کے دوران ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل، فسادات بھڑکانے اور شواہد کو تباہ کرنے کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ مکمل سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جس سے سابق کونسلر کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس خوفناک دن کیا ہوا تھا ؟
اس معاملے میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت 11 لوگوں کو اہم ملزم نامزد کیا گیا ہے، جن پر قتل، فسادات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ انکیت شرما، جو انٹیلی جنس بیورو میں سیکورٹی اسسٹنٹ کے طور پر تعینات ہیں، شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے درمیان 25 فروری 2020 کو اپنے گھر سے نکلے، لیکن واپس نہیں آئے۔ اگلے دن 26 فروری کو ان کی مسخ شدہ لاش چاند باغ پل کے قریب کھجوری خاص نالے سے برآمد ہوئی تھی ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پوری دنیا کو چونکا دیا تھا ، ان کے جسم پر تیز دھار ہتھیاروں سے متعدد گہرے زخموں کی تصدیق ہوئی تھی ۔دہلی پولیس نے عدالت میں کیا کہا؟
دہلی پولیس کا الزام ہے کہ طاہر حسین کے گھر کے قریب جمع ایک پرتشدد اور پرجوش ہجوم نے انکت شرما کو نشانہ بنایا، انہیں بے دردی سے قتل کیا، اور ثبوت مٹانے کے لیے ان کی لاش کو نالے میں پھینک دیا۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ یہ سارا واقعہ ایک سوچی سمجھی اور گہری جڑوں والی سازش کا حصہ تھا۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اس معاملے میں طاہر حسین، ارون، گلفام، محمد ریان، عابد، قاسم، شاہ عالم، بلال، فیضان، محمد شاداب اور سلمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ 2020 کے فسادات میں 53 بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے ۔












بارش نہیں آفت برسے گی ! 8 جولائی کو بہار کے ان اضلاع کے لیےIMD کا بڑا الرٹ
بہار میں مانسون اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ کئی اضلاع میں پہلے ہی بارش ہو رہی ہے۔ اب، 8 جولائی کو بھی ریاست کے کئی حصوں میں موسلادھار سے بہت بھاری بارش کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات (IMD) نے کئی اضلاع کے لیے الرٹ جاری کیا ہے، جس میں لوگوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق تیز بارش کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔

شمالی بہار اور سیمانچل اضلاع میں سب سے زیادہ بارش متوقع ہے۔ ارریہ، کشن گنج، سپول، پورنیہ، کٹیہار، مدھے پورہ، سہرسہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، شیوہر، مشرقی چمپارن، اور مغربی چمپارن سمیت کئی اضلاع میں بھاری بارش کی توقع ہے۔ مسلسل بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ندیوں اور ندی نالوں کے پانی کی سطح میں اضافے کی بھی توقع ہے۔7 جولائی کو کہاں کہاں بارش ہوئی؟
مانسون 7 جولائی کو بہار میں پوری طرح سے سرگرم تھا۔ اورنگ آباد، گوپال گنج، ساسارام (روہتاس) اور سیوان سمیت کئی اضلاع میں شدید بارش ہوئی۔ لوگوں کو شدید گرمی اور اومس سے بڑی راحت ملی ۔ کسانوں کے چہروں پر بھی خوشیوں کے آثار نمودار ہوئے، وہیں کئی شہروں میں پانی جمع ہونے نے بلدیاتی اداروں کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ اورنگ آباد اور ساسارام میں سڑکیں اور سرکاری دفاتر کے احاطے میں پانی بھر گیا جس کی وجہ سے ٹریفک میں کافی مسائل پیدا ہوئے۔ اس دوران تیز بارش اور ٹھنڈی ہواؤں نے گوپال گنج اور سیوان میں موسم کو خوشگوار بنا دیا۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کئی اضلاع میں بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔








ای 20 پٹرول پر گھمسان تھما بھی نہیں اور ای 25 پرشروع ہوگئی بات، حکومت نے دیا بڑا اپ ڈیٹ
ایتھانول ملا ہوا پٹرول اس وقت پورے ملک میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ای-20 پٹرول یعنی ایسا پٹرول جس میں 20 فیصد ایتھانول ملایا جاتا ہے، اس پر جاری تنازع ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ اب ای-25 پر بات شروع ہو گئی ہے۔ تاہم، ای-20 کے حوالے سے جاری مخالفت کی وجہ سے حکومت نے ای-25 پٹرول کو لانچ کرنے میں جلدبازی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ حکومت پٹرول میں ایتھانول کی مقدار بڑھانے کے معاملے میں وقت لے سکتی ہے، کیونکہ ای-20 پر ظاہر کی جانے والی تشویشات کو حکومت بھی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس مسئلے کا مکمل حل نکلنے کے بعد ہی ای-25 کو لانچ کیا جا سکتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، حکومت سے وابستہ حکام کا ماننا ہے کہ ای-20 پٹرول پر ظاہر کی جا رہی تشویشات کی وجہ سے ای-25 کو لانچ کرنے میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت ای-20 پٹرول کے بعد ای-25 کو لانچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس میں 75 فیصد پٹرول اور 25 فیصد ایتھانول شامل ہوگا۔ فی الحال ای-25 پٹرول کو لانچ کرنے کے حوالے سے حکومت نے کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں دی ہے۔ تاہم، حالیہ صورتحال سے یہ ضرور لگ رہا ہے کہ حکومت اس کے نئے ورژن کو لانچ کرنے میں تاخیر کر سکتی ہے۔پٹرول پہلے ہی سستا کر دیا گیا ہے
اگرچہ حکومت نے ای-25 کو لانچ کرنے میں تاخیر کا اشارہ دیا ہے، لیکن اس ورژن کی قیمتیں پہلے ہی کم کر دی گئی تھیں۔ حکومت نے حال ہی میں 22 سے 30 فیصد تک ایتھانول ملا ہوا پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی یعنی پیداواری ٹیکس ختم کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (BIS) نے بھی اس زمرے کے پٹرول کی خصوصیات کو نوٹیفائی کر دیا تھا۔ اس اقدام سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ حکومت اپنی جانب سے ای-25 پٹرول کو لانچ کرنے کی مکمل تیاری کر چکی تھی۔

میٹنگ میں بدل گیا ای-25 کا ایجنڈا
ای-20 پٹرول پر تنازع کے بعد گزشتہ ہفتے حکومت کے سینئر حکام کی ایک میٹنگ میں ای-25 پٹرول پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ای-20 پٹرول کے گاڑیوں پر اثرات کے حوالے سے کیے جا رہے دعوؤں کی مکمل جانچ کے بعد ہی نیا ورژن لانچ کیا جائے گا۔ گاڑی مالکان نے اس ایندھن کی وجہ سے مائلیج کم ہونے اور انجن کی کارکردگی متاثر ہونے کی شکایت کی تھی۔ حکومت نے بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آلات تیار کرنے والی کمپنیوں اور ماہرین سے بھی اس بارے میں پہلے مشورہ کیا جائے گا۔اب حکومت کی کیا تیاری ہے؟
اس معاملے سے وابستہ ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ای-20 پٹرول پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے۔ اب ای-25 کو نافذ کرنے سے پہلے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ موجودہ گاڑیوں میں اس درجے کے پٹرول کے استعمال سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔ ویسے بھی حکومت نے ای-20 پٹرول کو سال 2030 تک پورے ملک میں نافذ کرنے کا ہدف رکھا تھا، لیکن اسے پانچ سال پہلے ہی نافذ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، بہت سے گاڑی چلانے والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ایندھن سے ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایتھانول کم کیلوریز والا ایندھن ہوتا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی مائلیج کم ہوئی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*_ضروری و پُر درد اپیل - ہماری بیٹیوں، ہمارا مستقبل_* *تائید و حمایت حفاظت گروپ مالیگاؤں ،بزم خلوص، مجددی فاؤنڈیشن* ...