سعودی پرو لیگ میں صرف رونالڈو کروڑوں ڈالر وصول کرنے کے مستحق ہیں: سابق سعودی وزیر کھیل
سعودی عرب کے سابق وزیر کھیل شہزادہ عبداللہ بن مساعد نے کہا ہے کہ ’کرسٹیانو رونالڈو سعودی پرو لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے واحد فٹ بالر ہیں جنہوں نے ثابت کیا ہے وہ کروڑوں ڈالر کے پیکج کے مستحق ہیں۔‘
یاد رہے کہ پرتگال سے تعلق رکھنے والے سٹار فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے 2022 کے آخر میں مانچسٹر یونائیٹڈ کو دوسری مرتبہ خیرباد کہنے کے بعد ’النصر کلب‘ میں شمولیت اختیار کی تھی۔اُن کی ’النصر کلب‘ میں شمولیت سے سعودی عرب میں فٹ بال کے سٹارز کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔
شہزادہ عبداللہ بن مساعد غیرملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کی سعودی پرولیگ میں شمولیت سے قبل 2014 سے 2017 تک سعودی عرب کے وزیر کھیل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’سعودی پرولیگ میں غیرملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد میں آمد سے مقامی ٹیلنٹ نظرانداز ہو رہا ہے اور یہ قومی ٹیم کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے۔‘
العربیہ کے ٹی وی پروگرام میں ایک انٹرویو کے دوران شہزادہ عبداللہ بن مساعد نے سعودی فٹ بالرز کے تحفظ اور مملکت میں 2034 کے ورلڈ کپ سے قبل مقابلے کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سابق سعودی وزیر کھیل نے کہا کہ ’رونالڈو واحد غیرملکی کھلاڑی ہیں جنہیں جو پیکج دیا جا رہا ہے وہ اس کے حق دار ہیں، وہ سعودی عرب اور لیگ کے لیے بین الاقوامی تجربہ لے کر آئے ہیں۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’دیگر کئی کھلاڑیوں کو جو پیسے دیے جا رہے ہیں وہ اس کے مستحق نہیں ہیں۔‘
شہزادہ عبداللہ بن مساعد نے کہا کہ ’لیگ کی ٹیموں میں غیرملکی کھلاڑیوں کی تعداد 8 تک جا پہنچی ہے جس کے بعد سعودی فٹ بالرز ’ایکسٹراز‘ بن گئے ہیں۔‘
انہوں نے یوتھ ڈویلپمنٹ پر مزید سرمایہ کاری کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت قومی ٹیم کی قیمت پر مضبوط لیگ بن رہی ہے، ہمیں ورلڈ کپ 2034 کے لیے ایک واضح لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔‘
سردیوں میں ایڑھیاں کیوں پھٹ جاتی ہیں اور اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے
سردیوں میں چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے بچوں میں پھٹے ہونٹ اور بڑوں میں پھٹی ایڑھیوں جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ پھٹی ایڑھیاں بظاہر ایک عام سا مسئلہ دکھائی دیتا ہے لیکن اگر اس کا حل نہ کیا جائے تو یہ شدید صورت اختیار کر کے تکلیف دہ بھی ہو جاتا ہے۔
جب سردی کی ٹھنڈی ہوا پھٹی ایڑھیوں سے ٹکراتی ہے تو درد مزید بڑھ جاتا ہے۔
لیکن پھٹی ایڑھیوں کا مسئلہ سردیوں میں ہی زیادہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں اور اس سے بچاؤ کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟
بی بی سی نے ماہر امراض جلد اور کاسمیٹولوجسٹ ڈاکٹر شاہینہ شفیق سے سردیوں میں ایڑھیاں پھٹنے کے مسئلے پر بات کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاؤں کی جلد میں تیل کے غدود کم ہوتے ہیں اور اس لیے وہ قدرتی طور پر خشک ہو جاتے ہیں۔ سردی کے باعث پاؤں کی جلد میں موجود یہ غدود اور بھی غیر فعال ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایڑھیاں پھٹ جاتی ہیں۔‘
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، انسانی جلد اپنی قدرتی لچک کھوتی جاتی ہے اور جسم میں تیل کی قدرتی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث جلد خشک ہو جاتی ہے اور اس کے پھٹنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے پورے جسم کا وزن پیروں اور ٹخنوں پر زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ایڑھیاں پھٹ سکتی ہیں۔‘ماہر امراض جلد ڈاکٹر آیانم ستیا نارائنا بتاتے ہیں کہ دیگر مسائل جیسا کہ چنبل، فنگل انفیکشن، ایگزیما، ذیابیطس اور تھائیرائیڈ کی بیماری بھی ایڑھیوں کے پھٹنے یا اس میں دراڑیں پیدا ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ڈاکٹر ستیا نارائن کے مطابق سردیوں کے موسم میں لوگ کم پانی پیتے ہیں جس کی وجہ سے جسم میں نمی کی کمی ہوتی ہے اور جلد پھٹنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ شاور کرتے وقت اپنی ایڑھیوں کو ٹھیک سے صاف نہیں کرتے ہیں، یا نہانے کے بعد انھیں باقاعدہ خشک نہیں کرتے، تو اس سے بھی دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔‘پھٹی ایڑھیوں میں بعض اوقات چھالے اور درد بھی ہو سکتا ہے۔
کئی بار اس مسئلے میں مبتلا لوگ دوسروں کے درمیان جانے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ستیا نارائن کہتے ہیں کہ ’جن لوگوں کو پہلے سے یہ مسئلہ ہوتا ہے وہ سردیوں میں اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ خواتین کو سردیوں میں پھٹی ایڑھیوں کی وجہ سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ یہ دراڑیں شاید کوئی بڑا مسئلہ نہ لگیں، لیکن ان سے پیروں میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔‘سردی کی وجہ سے لوگ گرم سے نہاتے ہیں اور زیادہ گرم پانی کے استعمال کی وجہ سے جلد کی قدرتی نمی ختم ہو جاتی ہے جو جلد میں مختلف مقامات پر دراڑیں پڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر ستیا نارائن ایسے افراد کو سردیوں میں زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’ماحول کی ٹھنڈی ہوا جسم میں موجود نمی کو خشک کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جلد کمزور ہو جاتی ہے۔ جسم میں وٹامن اے، سی اور ڈی کی کمی کی وجہ سے جلد پھٹنے لگتی ہے۔‘
’جلد کے خشک ہونے سے خارش اور دانے بھی ہو سکتے ہیں۔ جب ہم خارش کی وجہ سے جلد کو مزید کھرچتے ہیں تو جلد کی اوپری تہہ نکل جاتی ہے اور اس مقام پر بعض اوقات زخم بھی بن جاتے ہیں۔ اس لیے سردیوں میں جلد کی دیکھ بھال پر توجہ دینا ضروری ہے۔‘
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر پھٹی ایڑھیوں کا خیال نہ رکھا گیا تو مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟
ڈاکٹر شاہینہ شفیق کا کہنا ہے کہ چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے پھٹی ایڑھیوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
وہ سردیوں کے دوران آپ کے پیروں کی حفاظت کے لیے کچھ تجاویز پیش کرتی ہیں، جیسا کہ:
اپنے پیروں کو روزانہ نیم گرم پانی سے دھوئیں۔ پیروں کو دھونے یا نہانے کے بعد اپنے پیروں پر لوشن، کریم یا ناریل کا تیل لگائیں کیونکہ یہ خشکی کی روک تھام کرتے ہیں اور جلد کو چکنا بناتے ہیں
سردیوں میں وافر مقدار میں پانی پینا ایک اچھا عمل ہے کیونکہ یہ خشک جلد کے عمل کو بڑھنے سے روک دے گا
دن میں دو بار اپنے پیروں پر اچھے کوالٹی کا موئسچرائزر لگائیں
عمر رسیدہ افراد اور شوگر کے مرض میں مبتلا افراد اپنے ٹخنوں کو ٹھنڈی ہواؤں سے بچانے کے لیے موزوں کا استعمال کریں
ڈاکٹر ستیا نارائن کہتے ہیں کہ سردیوں میں نیم گرم پانی سے نہانا اچھا ہے اور اومیگا فیٹی ایسڈ سے بھرپور بیج، گری دار میوے اور وٹامن سی سے بھرپور پھلوں اور کھانوں کو خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ اگر ایڑھیوں میں پڑی دراڑیں بڑھ چکی ہیں، ان سے خون بہہ رہا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیے جانا ضروری ہے۔
'غزل کنگ' جگجیت سنگھ اور چترا کی جوڑی نے موسیقی کو ایک نئی پہچان دی، بیٹے کی موت کا صدمہ آواز سے چھلکتا تھا
حیدرآباد: جگجیت سنگھ نے غزل کو عوام تک پہنچایا۔ ان کی سادہ زبان، سادہ موسیقی اور دلکش موسیقی نے انہیں "غزل کا بادشاہ" بنا دیا۔ انہوں نے روایتی اردو شاعری کو ایک نئی جہت دے کر اس کی نئی تعریف کی۔
ان کی مشہور غزلیں، جیسے "ہونٹو سے چھو لو تم،" "جھکی جھکی سی نظر"، "تمہیں دیکھا تو یہ خیال آیا،" "ہزاروں خواہشیں ایسی" اور "یہ کاغذ کی کشتی" آج بھی سننے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی غزلوں کی خاصیت یہ تھی کہ ہر سننے والے کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ صرف انہی کے لیے گا رہے ہوں۔
راجستھان کے سری گنگا نگر میں پیدا ہونے والے جگجیت سنگھ نے بالی ووڈ میں پلے بیک سنگر بننے کا خواب دیکھا۔ وہ 1965 میں ممبئی چلے گئے اور اپنے موسیقی کے سفر کا آغاز کیا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر ناکام رہے لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ بعد ازاں انہوں نے غزل کی صنف کو اپنایا اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔پانچ دہائیوں کا یادگار سفر
جگجیت سنگھ نے اپنے کیریئر کا آغاز 1961 میں 20 سال کی عمر میں کیا۔ پانچ دہائیوں تک انہوں نے موسیقی کی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی آواز، موسیقی اور حساسیت نے انہیں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں غزل کے شائقین کو پسند کیا۔ آج بھی ان کی آواز ہر عمر کے سننے والوں کے دلوں کو چھوتی ہے، جس طرح ان کی زندگی میں تھی۔
چترا سنگھ نے جگجیت سنگھ کے بارے میں یہ بات کہی
جگجیت سنگھ کی اہلیہ اور گلوکارہ چترا سنگھ نے ایک بار کہا تھا کہ"غزل کو کسی زمانے میں بزرگوں کی موسیقی سمجھا جاتا تھا، جسے بیگم اختر اور انگوری بائی جیسے گلوکاروں نے گایا تھا، لیکن جگجیت جی نے اسے آسان کر دیا، ان کی گائیکی اتنی جذباتی تھی کہ سننے والے رو پڑتے۔ سامعین کے درمیان میں نے بیٹھ کر دیکھا مجھے مرد اور عورتیں روتے ہوئے نظر آئیں۔ انہوں نے اس طرح محسوس کیا کہ اگر وہ ہر ایک کے لیے ایسا محسوس کر رہے تھے کہ وہ ان کے لیے گا رہے ہیں۔" جذبات دلوں کو چھو گئے۔
جگجیت سنگھ نے غزل کو نہ صرف عوام تک پہنچایا بلکہ اسے ایک نئی اور جدید شکل بھی دی۔ انہوں نے 12 تاروں والے گٹار اور باس گٹار جیسے نئے آلات کو اپنی غزلوں میں شامل کرکے اسے ایک نئی شناخت دی۔ ان کی آواز درد اور جذبات سے لبریز تھی کہ سننے والے ان کے گیتوں میں کھو جاتے تھے۔
جگجیت سنگھ کو بھلے ہی مین اسٹریم بالی ووڈ میں کامیابی نہ ملی ہو، لیکن انہوں نے اپنا راستہ خود بنا کر بے پناہ کامیابی حاصل کی۔ جیسا کہ چترا سنگھ نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا، "جگجیت جی ایک منفرد موسیقار تھے۔ وہ ہر کسی کی طرح امنگوں کے ساتھ ممبئی آئے تھے۔ لیکن ان کی آواز اس قدر مخصوص تھی کہ کسی ہیرو سے مماثلت نہیں رکھتی تھی۔جگجیت سنگھ کو بڑے بڑے گلوکاروں نے بھی سراہا تھا۔
ان کی گائیکی کو نامور گلوکاروں نے بھی سراہا ہے۔ لتا منگیشکر، جنہیں ہندوستان کی نائٹنگل کہا جاتا ہے، نے کہا، "جگجیت نے دل سے گایا، اس لیے وہ سب سے جڑ گئے۔" آشا بھوسلے نے کہا، "ان کی غزلیں سننا ایک سکون بخش تجربہ تھا۔" گلوکارہ اوشا اتھپ نے انہیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے عام لوگ بھی اچھی غزلوں سے لطف اندوز ہو سکے۔ان کے 1976 کے البم "ناقابل فراموش" سے لے کر فلم "ارتھ" اور ٹی وی سیریل "مرزا غالب" تک ان کی موسیقی ہر گھر میں گونجتی رہی۔ اس نے نہ صرف تجارتی کامیابی حاصل کی بلکہ تنقیدی پذیرائی بھی حاصل کی۔ انہیں 1998 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، 2003 میں پدم بھوشن اور 2007 میں پارلیمنٹ میں خصوصی پرفارمنس دینے کا اعزاز ملا، جہاں انہوں نے بہادر شاہ ظفر کی غزل "لگتا نہیں ہے دل میرا" پیش کیا۔