دہلی بلاسٹ کیس : ڈاکٹر شاہین کے خفیہ نیٹ ورک کی NIA نے پرتیں کھول دیں ۔۔ جموں کشمیر نمبر کی تھار، اور چار مشتبہ ساتھیوں کی تلاش
ڈاکٹر شاہین کے خفیہ دورہ اور سرگرمیاں بے نقاب:
**کانپور:**دہلی بلاسٹ کیس کی تفتیش میں مصروف NIA اور ATS کی ٹیمیں گزشتہ دو دنوں سے ڈاکٹر شاہین کی سرگرمیوں کے سلسلے میں فریدآباد، کانپور، لکھنؤ اور وارانسی میں خفیہ چھاپہ مار کارروائیاں کر رہی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ تمام کارروائیاں اتنی خاموشی سے کی گئیں کہ مقامی سطح پر کسی کو بھی ان کی موجودگی کا علم نہ ہو سکا۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شاہین نے اگست 2025 میں کانپور کا دورہ کیا تھا اور اسی دوران انہوں نے کچھ اہم ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ این آئی اے نے شاہین کی نشاندہی پر کانپور سے تین افراد اور لکھنؤ سے مزید کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے، جنہیں بعد میں دہلی اسپیشل سیل کے حوالے کردیا گیا۔
دوستوں کے ساتھ کانپور آئی تھی شاہین
ایجنسیوں نے ایک ایسی ویڈیو فوٹیج حاصل کی ہے جس میں جموں و کشمیر نمبر پلیٹ والی ایک تھار جیپ دکھائی دیتی ہے۔ اسی فوٹیج میں ڈاکٹر شاہین کے ساتھ چار مشتبہ نوجوان بھی نظر آ رہے ہیں، جو بظاہر کشمیری نژاد لگ رہے ہیں۔دہلی بلاسٹ کیس میں جو نام سب سے زیادہ بار بار سامنے آ رہا ہے، وہ ڈاکٹر شاہین ہی ہے۔ یہ وہی شاہین ہیں جو ڈاکٹر مزمل کی اہلیہ ہیں۔ مزمل نے اپنی گرفتاری کے بعد ابتدائی پوچھ گچھ میں شاہین کے کئی خفیہ رابطوں کا اعتراف کیا تھا۔
گزشتہ جمعرات کو این آئی اے شاہین کو ساتھ لے کر فریدآباد کی الفلاح یونیورسٹی بھی پہنچی، جہاں سے مزید شواہد اور ڈیجیٹل ریکارڈ قبضے میں لیے گئے۔
تھار گاڑی کی تلاش میں تفتیش تیز
ایجنسیوں نے معلوم کیا ہے کہ اگست 2025 میں شاہین نے کانپور کا دورہ اسی تھار جیپ میں کیا تھا۔ اس گاڑی کی ملکیت کے حوالے سے حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ:گاڑی کسی اور شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے
فاسٹ ٹیگ کسی دوسرے فرد کے نام پر ہے
دونوں افراد کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے
اب ایجنسیاں اس بات کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہیں کہ اصل میں گاڑی کون چلا رہا تھا؟ گاڑی کس کے کہنے پر مہیا کی گئی؟ اور کس مقصد کے لیے استعمال کی گئی؟
خفیہ طریقے سے آئی تھی شاہین
ایجنسیوں کے مطابق شاہین بہت ہی خاموش اور خفیہ طریقے سے کانپور آئی تھی، اور یہی چیز شک کو مزید بڑھاتی ہے۔
شاہین کو اس پوری ٹیم کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں کئی ڈاکٹر، طلبہ اور دیگر افراد شامل ہیں جنہوں نے مختلف شہروں میں روابط قائم کر رکھے تھے۔
NIA کو شبہ ہے کہ دہلی دھماکے میں استعمال کیا جانے والا مواد، نیٹ ورک یا رابطے اسی وقت ترتیب دیے گئے جب شاہین کانپور اور دیگر شہروں کا دورہ کر رہی تھی۔تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دہلی بلاسٹ تفتیش میں متعدد نئے زاویے سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہین، دہشت گرد نیٹ ورک کی ایک کلیدی رکن بتائی جا رہی ہیں، گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف شہروں میں خفیہ سرگرمیوں میں مصروف تھیں۔ ان کے شوہر ڈاکٹر مزمل کی گرفتاری کے بعد کئی اہم نشاندہیوں نے NIA کو کانپور، لکھنؤ، فریدآباد اور وارانسی تک اپنی کارروائی بڑھانے پر مجبور کیا۔
جموں و کشمیر نمبر کی تھار کا ملنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ نیٹ ورک صرف دہلی یا شمالی بھارت تک محدود نہیں بلکہ ایک بین ریاستی نیٹ ورک کے طور پر سرگرم تھا۔ چار کشمیری نژاد افراد کی موجودگی نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
بھارت کی معیشت میں تیز رفتار اضافہ : Q2 FY26 میں جی ڈی پی 8.2 فیصد | مینوفیکچرنگ سیکٹر کی شاندار کارکردگی
India GDP Q2 FY26: Growth Hits 6-Quarter High at 8.2%
جی ڈی پی میں غیر متوقع اضافہ : بھارتی معیشت نے 2025–26 کی دوسری سہ ماہی میں %8.2 کی شاندار ترقی درج کی
بھارتی معیشت نے سال 2025–26 کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں غیر معمولی تیزی دکھاتے ہوئے 8.2 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے، جو گزشتہ چھ سہ ماہیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ جمعہ کے روز جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس مضبوط اقتصادی کارکردگی کے پیچھے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی نمایاں بہتری کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔یہ اضافہ ماہرین کی توقعات سے کافی زیادہ ہے، کیونکہ بیشتر اقتصادی تجزیہ کار 7 سے 7.5 فیصد کی ترقی کا اندازہ لگا رہے تھے۔ اس کارکردگی کے ساتھ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر اپنی برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی یعنی Q2 FY25 میں بھارتی معیشت کی ترقی 5.6 فیصد رہی تھی، جو سات سہ ماہیوں میں کم ترین تھی۔ اس سال Q1 FY26 میں یہ شرح 7.8 فیصد رہی، جس کے بعد موجودہ سہ ماہی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
قومی شماریاتی دفتر (NSO) کے مطابق، ’’حقیقی جی ڈی پی (مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی) Q2 FY26 میں 48.63 لاکھ کروڑ روپے رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 44.94 لاکھ کروڑ روپے تھی، اس طرح 8.2 فیصد ترقی کا اندراج ہوا۔‘‘
اس کے برعکس، نامیاتی جی ڈی پی (Nominal GDP) یعنی مہنگائی کو شامل کرکے شمار کی جانے والی جی ڈی پی میں 8.7 فیصد کی ترقی ریکارڈ کی گئی۔
حقیقی GVA (Gross Value Added)، جو معیشت کی اصل پیداواری صلاحیت ظاہر کرتا ہے، بھی 8.1 فیصد بڑھا اور یہ Q2 FY26 میں 44.77 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کا ردعمل
وزیراعظم نریندر مودی نے اس شاندار اقتصادی کارکردگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ :
’’8.2 فیصد جی ڈی پی ترقی بہت حوصلہ افزا ہے۔ یہ ہمارے ترقی پسند پالیسیوں، اصلاحات اور عوام کی محنت کا نتیجہ ہے۔ حکومت Ease of Living بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری رکھے گی۔‘‘
سیکٹر وار گروتھ (Sector-wise Growth)
مینوفیکچرنگ سیکٹر
مینوفیکچرنگ نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 9.1 فیصد کی ترقی حاصل کی۔جو اس سہ ماہی کی سب سے مضبوط پیش رفت رہی۔
زراعت
زراعت اور متعلقہ شعبوں نے 3.5 فیصد ترقی دکھائی، جو معتدل مگر مستحکم اضافہ ہے۔تجارت، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور براڈکاسٹنگ
اس سیکٹر نے 7.4 فیصد ترقی کی اور ملکی خدماتی شعبے کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
ثانوی سیکٹر
ثانوی (Secondary) سیکٹر کی ترقی 8.1 فیصد رہی۔
خدماتی (Tertiary) سیکٹر
یہ سہ ماہی میں سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والا شعبہ رہا، جس میں مجموعی ترقی 9.2 فیصد رہی۔
فائنانشل، رئیل اسٹیٹ اور پروفیشنل سروسز نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 10.2 فیصد کی شرح سے اضافہ درج کیا۔
اخراجات اور سرمایہ کاری (Expenditure & Investment Data)
سرکاری اخراجات (GFCE)
Q2 FY26 میں سرکاری خرچوں میں 2.7 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ پچھلے سال یہی شرح 4.3 فیصد تھی۔
نجی صارفین کے اخراجات (PFCE)
گھریلو کھپت میں 7.9 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے (6.4 فیصد) واضح بہتری ہے۔
سرمایہ کاری (GFCF)
سرمایہ کاری میں بھی مضبوط اضافہ دیکھا گیا، 7.3 فیصد کی شرح سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔
گزشتہ ایک دہائی میں بھارت نے شاندار اقتصادی سفر طے کیا ہے۔
2013-14 میں بھارت دنیا کی 11ویں بڑی معیشت تھا۔
آج بھارت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔
2013 میں بھارت کو ‘Fragile 5’ معیشتوں میں شامل کیا جاتا تھا، جو غیر مستحکم اور خطرے سے دوچار سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن ایک دہائی کے دوران بھارت نے مسلسل ترقی، معاشی اصلاحات، انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری، اور صارفین کی قوت خرید میں اضافے کے سبب عالمی معیشتوں میں اپنی جگہ مستحکم کی۔
عالمی بینک نے رواں سال کہا کہ ’وِکسِت بھارت 2047‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بھارت کو آئندہ دو دہائیوں تک اوسطاً 7.8 سے 8 فیصد سالانہ ترقی حاصل کرنا ہوگی۔
موجودہ سہ ماہی کی یہ شاندار کارکردگی اسی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔
کیا ایران نے سعودی کے ذریعے امریکہ کو خفیہ خط بھیجا؟ خامنہ ای کا انکشاف
ایران امریکہ تعلقات میں جاری کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران یہ افواہیں اٹھیں کہ ایران نے ان کے ذریعے امریکہ کو خفیہ پیغام بھیجا ہے۔ تاہم ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اب واضح طور پر ان دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔ جمعرات کی شب قومی ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ کچھ میڈیا ادارے غلط افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ایران نے یہ پیغام کسی تیسرے ملک کے ذریعے واشنگٹن کو بھیجا ہے۔ ان کے مطابق یہ دعویٰ نہ صرف جھوٹا ہے بلکہ دانستہ غلط معلومات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے ایسا کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔یہ افواہیں تھیں کہ ایرانی صدر مسعود پیزیشکیان کی جانب سے سعودی ولی عہد کو ان کے دورہ امریکا سے قبل جو پیغام بھیجا گیا تھا وہ امریکا کے لیے تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا کہنا ہیں کہ ’وہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ایرانی حکومت نے امریکا کو تیسرے ملک کے ذریعے پیغام بھیجا، جو سراسر جھوٹ ہے‘۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیزشکیان کے خط میں کہا گیا کہ ایران تنازع نہیں چاہتا۔ اس کا مقصد علاقائی تعاون کو گہرا کرنا ہے اور جوہری تنازع کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ اس کے حقوق کی ضمانت دی جائے۔خفیہ خط کے بارے میں ایران کا کیا کہنا ہے؟
اپنی تقریر کے دوران خامنہ ای نے اسرائیل کے حملوں اور جرائم کے لیے امریکہ کی حمایت پر کڑی تنقید کی۔ ایرانی سپریم لیڈر نے امریکہ پر اپنے اسٹریٹجک اور وسائل کے فائدے کے لیے تنازعات کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ دریں اثناء ایرانی حکام نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد کو پیش کیے گئے خط میں صرف دو طرفہ امور پر بات کی گئی ہے۔ تہران اور واشنگٹن نے اس سال اپریل اور جون کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں کے درمیان مذاکرات کیے تھے۔ عمان کی ثالثی میں فریقین کے درمیان مذاکرات کے پانچ دور ہوئے۔ مذاکرات کا چھٹا دور متوقع تھا لیکن اسرائیل نے اس سے پہلے ہی ایران میں کئی مقامات پر اچانک حملے شروع کر دیئے۔خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ جنگ کے بارے میں کیا کہا؟
اس حملے میں ایک ایرانی جوہری سائنسدان اور ایک سینئر کمانڈر مارے گئے تھے۔ اس کے بعد ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی کارروائی کی۔ 22 جون کو امریکی افواج نے نتنز، فردو اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔ ایران نے اگلے روز قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی بعد ازاں 24 جون کو عمل میں آئی۔جنگ 12 دن تک جاری رہی
خامنہ ای نے کہا، “اس بارہ روزہ جنگ میں امریکہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، بہت بھاری نقصان ہوا۔ اس نے اپنا جدید ترین اور جدید ترین جارحانہ اور دفاعی نظام استعمال کیا: اپنی آبدوزیں، اپنے لڑاکا طیارے، اور جدید ترین فضائی دفاعی نظام، پھر بھی وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔”