لینڈنگ کے وقت جہاز کی کھڑکیوں کے پردے کیوں کھول دیے جاتے ہیں؟
آپ کو فضائی سفر کے دوران جہاز کی کھڑکیوں کے شیڈز کو کھلا رکھنا شاید تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے، لیکن بنیادی طور پر اس کا مقصد مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق اگر آپ نے کبھی کمرشل فلائٹ پر سفر کیا ہے تو آپ نے طیارے کی لینڈنگ سے قبل فلائٹ اٹینڈنٹ کی شائستہ انداز میں ایک درخواست سُنی ہوگی کہ ’براہِ مہربانی اپنی اپنی کھڑکیوں کے شیڈز کُھلے رکھیں۔‘یہ سُن کر پہلے آپ کو لگتا ہے کہ یہ بلاوجہ کی ایک تکلیف ہے، جیسا کہ اگر کھڑکیوں کے شیڈز اُوپر ہوں یا نیچے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ تاہم جہاز کے عملے کی یہ چھوٹی سی ہدایت مسافروں کے آرام کے بارے میں نہیں ہے۔
اس ہدایت کے پیچھے ایک بڑی حفاظتی وجہ ہے۔ دراصل یہ ایک ایسی ہدایت ہے جس پر دنیا بھر کی ہر ایئرلائن عمل کرتی ہے، فلائٹ کا عملہ کھڑکی کے شیڈز کو اُوپر رکھنے کے بارے میں اتنا اِصرار کیوں کرتا ہے؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔
لینڈنگ کے دوران کھڑکی کے شیڈز کھلے رکھنے کی پانچ وجوہات ہیں
ٹیک آف اور لینڈنگ، فلائٹ کے خطرناک ترین مراحل سمجھے جاتے ہیں۔ اگر کھڑکی کے شیڈز کھلے ہوتے ہیں تو مسافر اور فلائٹ کا عملہ دونوں ہی ہنگامی صورتِ حال جیسے دُھواں، چنگاریاں یا آگ دیکھ سکتے ہیں۔
اگر کوئی ہنگامی صورت پیدا ہو تو یہ معلوم کرنا کہ جہاز کے کس حصے سے محفوظ طریقے سے باہر نکلا جا سکتا ہے، یہ جاننے کی کوشش میں قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے اگر شیڈز کھلے ہوں تو ہر کوئی اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے جلدی تیار ہو سکتا ہے۔
2۔ طیارے کا عملہ اور مسافر الرٹ رہتے ہیں
جب جہاز کی کھڑکیوں کے شیڈز نیچے ہوتے ہیں، تو کیبن گہرا اور آرام دہ محسوس ہوتا ہے جس سے مسافر غنودگی یا بے دھیانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایئرلائنز کا عملہ شیڈز کو کھلا رکھتا ہے تاکہ پرواز کے اہم ترین مراحل کے دوران مسافر ذہنی طور پر چوکنا رہیں۔
فلائٹ اٹینڈنٹ کے لیے بھی کیبن کو چیک کرنا اور مسافروں کے ردِعمل کا جائزہ لینا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ عمل ہر ایک کو ’چوکنا رہنے کے موڈ‘ میں رکھتا ہے۔
3۔ اچانک روشنی کے لیے آنکھوں کو تیار رکھیں
ذرا تصور کریں کہ ایک طیارہ دن کی روشنی میں لینڈ کر رہا ہو اور اچانک کسی ہنگامی صورتِ حال میں فوری انخلا کی ضرورت پیش آجائے۔ اس دوران اگر کھڑکیوں کے شیڈز بند ہوں تو مسافروں کی آنکھوں کو باہر کی تیز روشنی سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگے گا۔
اسی طرح رات کے وقت کھڑکیوں کے شیڈز کھلے ہوں تو آنکھیں بیرونی ماحول سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ نظر کا فوری طور پر مطابقت اختیار کرنا انخلا کے دوران تیزی اور کم اُلجھن کے ساتھ حرکت کو ممکن بناتا ہے۔
4۔ دیکھیں کون سے اخراج کے راستے محفوظ ہیںکسی غیر معمولی ہنگامی لینڈنگ کی صورت میں اخراج کے تمام راستے محفوظ نہیں ہو سکتے۔ مثال کے طور پر طیارے کے ایک جانب آگ، دُھواں یا رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔ کھڑکیوں کے شیڈز کھلے ہونے سے عملے کو فوری طور پر اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس طرف سے انخلا محفوظ رہے گا۔
مسافر بھی باہر کا منظر واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں اور اعتماد کے ساتھ ہدایات پر عمل کر سکتے ہیں۔
5۔ بین الاقوامی ہوابازی کے قوانین پر عمل کریں
کھڑکیوں کے شیڈز کُھلے رکھنے کا اصول دنیا کی ہر ایئرلائن کے لیے مخصوص ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر ہوابازی کا ایک تسلیم شدہ ضابطہ ہے۔
ہوابازی کے ادارے اس عمل کو مجموعی حفاظتی اقدامات کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس ضابطے کو بین الاقوامی سطح پر رائج کر کے ایئرلائنز اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں سفر کریں، مسافر اور عملہ ایک جیسے حفاظتی اقدامات کے لیے تربیت یافتہ ہو۔
اننت ناگ ضلع کا ڈورو شاہ آباد، علم وادب، شاعری، سیاست اور ثقافت کا سنگم
اننت ناگ(میر اشفاق) : وادیٔ کشمیر کی تاریخ جب بھی رقم کی جاتی ہے، تو اس کے سبزہ زاروں، چشموں، جھیلوں اور برف پوش پہاڑوں کے ساتھ ساتھ اس خطے کی علمی و ادبی روایات کا ذکر بھی لازمی آتا ہے۔ انہیں علمی و فکری مراکز میں سے ایک ہے ڈورو شاہ آباد، جو ضلع اننت ناگ میں واقع ایک تاریخی قصبہ ہے۔ تقربا 2لاکھ کی آبادی والا یہ قصبہ نہ صرف اپنی فطری خوبصورتی کے لیے مشہور ہے بلکہ اسے بجا طور پر ’شاعروں کا قصبہ‘اور ’’دانش و بصیرت کی سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔
ڈورو شاہ آباد جسے "دی ٹاؤن آف پائٹس" کا لقب بھی حاصل ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ پرانے ادوار میں یہ قصبہ علمی و روحانی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہاں کی زمین نے وہ لوگ پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف کشمیری زبان و ادب کو نیا رنگ دیا بلکہ فارسی، اردو اور سنسکرت ادب میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔ اس بستی کے گلی کوچوں سے ایسی علمی و ادبی خوشبو اٹھتی ہے جو آج بھی اہلِ ذوق کے دلوں کو معطر کرتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ڈورو کی سرزمین نے قدآور سیاسی شخصیات کو بھی جنم دیا ہے جنہوں نے سیاست میں عروج پاکر ڈورو شاہ آباد کا نام روشن کیا ہے۔ڈورو شاہ آباد کی ادبی پہچان اس کے شعرا اور ادبا سے ہے۔ یہاں سے محمود گامی، رسول میر، اسد میر ،سعادت حسن منٹو، ثنا اللہ امرتسری، حمیداللہ شاہ آبادی، پیر مشکور، غلام احمد وانی، کشمیری پنڈت اسکالر دامودھر پنڈتا شاہ آبادی، مُلا محمد، میر سعداللہ، محمد یوسف قاضم و دیگر کئی عظیم شخصیات نے جنم لیا ہے، جنہوں نے کشمیری شاعری و ادب کو عالمی سطح تک پہنچایا ہے۔محمود گامی۔
محمود گامی جنہوں نے فارسی اور کشمیری دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ ان کی شاعری تصوف، اخلاقیات اور روحانیت سے لبریز ہے۔ محمود گامی سنہ 1765 میں ڈورو شاہ آباد کے محمود آباد گاؤں میں پیدا ہوئے۔ محمود گامی کو کشمیر میں انیسویں صدی کے ممتاز شاعر اور بنیادی طور پر کشمیری صوفی شاعری کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے گیارہ مثنویاں اور سینکڑوں نظمیں لکھی ہیں، جو کشمیری شاعری کی نمائندگی کرتی ہیں۔ جس کی پیروی ان کے بعد متعدد شعراء نے کی ہے۔ اگرچہ لل دید اور شیخ العالمؒ کی صوفیانہ اور نثری شاعری نے کشمیری شاعری کی بنیاد ڈالی تاہم محمود گامی کو پہلے ایسے حقیقی شاعر کے طور پر مانا جاتا ہے، جنہوں نے متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔
محمود گامی کی مشہور مثنویاں جیسے شیرین فرحد، لیلیٰ مجنوں، یوسف زلیخا دراصل فارسی مثنویاں ہیں۔ جسے محمود گامی نے کشمیری زبان میں متعارف کرایا۔ یہ مثنویاں ایران سے تعلق رکھنے والے نامور شاعر نظامی اور جامی کی تحریر کردہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری زبان میں انہیں تحریر کرنے کے بعد محمود گامی کو جامی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔رسول میر۔
رسول میر جنہیں "کشمیر کا جان کیٹس" بھی کہا جاتا ہے، کشمیری غزل کے بانیوں میں ایک قدآور شخصیت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں عشقِ مجازی اور حسنِ فطرت کی جلوہ گری نمایاں ہے، وہ سنہ 1840 میں ڈورو شاہ آباد کے میر میدان میں پیدا ہوئے اور 1870 میں وفات پاگئے۔ صرف تیس برس کی زندگی میں انہوں نے اپنی راغبانہ شاعری سے خوب نام کمایا ۔ رسول میر کی نظمیں زیادہ تر رومانوی کشمیری غزلیں ہیں، اُن غزلوں اور نظموں نے انہیں کشمیری ادب کی تاریخ میں ایک مستقل مقام دیا ہے۔ان کی لکھی ہوئی ایک کشمیری نظم 'گژہ تئہ وِسئے لال ما دورۓ مہ چھی مُورئے للوُن نار' کافی مشہور تھی اور آج بھی اسے مختلف ترنم میں گایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نظم 'عید آئی رسہ رسہ، عیدگاہ وسوائے' اور 'رندہ پوشہ مال گندنے درائی لُولُو' بھی لوگوں کی کافی پسندیدہ ہیں۔اسد میر.
اسد میر ایک کشمیری شاعر تھے جو اپنی غمگین اور غور و فکر سے بھرپور شاعری کے لیے مشہور ہیں۔ وہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں فعال رہے۔ کشمیری ادب میں ان کا شمار نمایاں شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں غم، جدائی، اور روحانی غور و فکر کے موضوعات نمایاں ہیں، جو اُس دور کے ثقافتی اور سیاسی انتشار کی عکاسی کرتے ہیں۔ان کی بعض تخلیقات زبانی روایت کے ذریعے آج تک محفوظ ہیں، اگرچہ عام ثقافتی حلقوں میں انہیں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اسد میر 1865 میں ڈورو میں پیدا ہوئے اور 1931 میں انتقال کر گئے ان کی کشمیری نظم" یلی جانان رلیم ،ادہ بالم دل بیمارو ۔۔داغ جگرس ژلم، ادہ بلم دل بیمارو ۔(جب، اے محبوب، ہم اکٹھے ہوئے، میرا دل درد سے بھر گیا۔میں نے تجھے وہ زخم دیا جو دل میں چھپا تھا،اور عشق کے لاانتہا دکھ میں رویا)۔حمیداللہ شاہ آبادی۔
انیسویں صدی کے نامور شاعر مولانا حمیداللہ شاہ آبادی کا تعلق بھی ڈورو شاہ آباد سے تھا۔حمیداللہ شاہ آبادی نے اہم تاریخی تصانیف تحریر کیں۔۔"چائے نامہ" ایک مثنوی ہے جسے مولانا حمیداللہ شاہ آبادی کشمیری نے فارسی زبان میں تحریر کیا۔ یہ مثنوی چائے اور اس کے آداب و رسوم کی تعریف و توصیف میں لکھی گئی ہے۔ اکبر نامہ اور بیبوج نامہ بھی ان تصانیف میں شامل ہیں۔ اور ظاہر ہے، ان ہی میں سے ان کا مشہور "چائے نامہ" معروف شاعر ظہوری کے "ساقی نامہ ،کے جواب میں لکھا گیا۔
سعادت حسن منٹو۔
سعادت حسن منٹو، برصغیر کے عظیم افسانہ نگار، کا تعلق بھی اسی خطے سے جوڑا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں نے برصغیر کی سماجی و نفسیاتی پیچیدگیوں کو بے نقاب کیا۔ سعادت حسن منٹو 11 مئی سنہ 1912ء کو پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک کشمیری تاجر گھرانے سے تھا جو ڈورو شاہ میں مقیم تھے ،بعد میں وہ انیسویں صدی کے اوائل میں امرتسر آ کر آباد ہوا۔۔اسلئے نسلی طور پر منٹو ایک کشمیری تھے، کہا جا رہا ہے کہ منٹو کو اپنے کشمیری پس منظر پر خاصا فخر تھا۔
ثنا اللہ امرتسری۔
ثنا اللہ امرتسری کے آباء و اجداد کا تعلق جموں و کشمیر کے قصبے ڈورو شاہ آباد سے تھا۔ وہ سنہ 1868ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد مستقل طور پر آباد ہو چکے تھے۔امرتسری نے اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز سنہ 1893ء میں اپنے مادرِ علمی مدرسہ تائید الاسلام امرتسر سے کیا، جہاں انہوں نے درسِ نظامی کی کتابیں پڑھائیں۔ اس کے بعد وہ مدرسہ اسلامیہ، مالیر کوٹلہ میں بطور ڈائریکٹرِ تعلیم مقرر ہوئے۔
انہوں نے 1903ء میں اہلِ حدیث پریس قائم کیا اور ہفت روزہ رسالہ "اہلِ حدیث" جاری کیا جو تقریباً 44 سال تک شائع ہوتا رہا۔وہ تحریکِ اہلِ حدیث کے سرکردہ رہنما تھے اور آل انڈیا جمعیت اہلِ حدیث کے 1906ء سے 1947ء تک جنرل سیکرٹری رہے۔انہوں نے جمعیت علمائے ہند کی بھی مشترکہ بنیاد رکھی اور جنودِ ربانیہ میں انہیں میجر جنرل کا درجہ حاصل تھا۔ وہ انجمن اہلِ حدیث پنجاب کے صدر بھی رہے۔انہیں پنجاب میں دینی خدمات پر شیرِ پنجاب کا لقب دیا گیا۔سنہ1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد وہ گوجرانوالہ (پاکستان) منتقل ہو گئے اور 15 مارچ 1948ء کو سرگودھا میں انتقال کر گئے۔
ڈورو شاہ آباد کا سیاسی پس منظر ۔
جموں کشمیر کے دوسرے وزیر اعلی سید میر قاسم بھی ڈورو شاہ آباد سے تعلق رکھتے تھے۔غلام محمد صادق کے انتقال کے بعد وہ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز برطانوی راج کے دوران ہوا، جب وہ غیر فرقہ وارانہ اور جمہوریت نواز تحریک "کشمیر چھوڑ دو"( کوئیٹ کشمیر) کے رہنما بنے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں جیل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
بھارت کی آزادی کے بعد وہ جموں و کشمیر کے آئین کی تدوین میں شامل رہے اور بعد ازاں مختلف ریاستی اور مرکزی عہدوں پر فائز ہوئے۔ میر قاسم نے وادی کشمیر میں انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی ہے ۔
سنہ 1975میں انہوں نے شیخ محمد عبداللہ کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے عہدۂ وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا، جب بھارتی حکومت نے اندرا۔شیخ معاہدہ کے تحت ان (شیخ) سے سمجھوتہ کیا۔
سید میر قاسم 12 دسمبر سنہ 2004 کو دلی میں 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی خواہش کے مطابق انہیں ڈورو شاہ آباد میں دفن کیا گیا تھا ۔انتقال کے بعد سنہ 2005 میں اس وقت کے صدر ہند ،اے پی جے عبدالکلام نے انہیں بعد از مرگ پدم بھوشن اعزاز سے نوازا ۔
غلام احمد میر ۔۔۔(جی اے میر )
غلام احمد میر جموں و کشمیر کے تجربہ کار سیاست دان ہیں، میر نے طویل وقت سے ڈورو اسمبلی حلقے کی نمائندگی کی ہے ، سنہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے حلقہ انتخاب ڈورو میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کی اور آج وہ حلقہ کے ایم ایل اے کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میر 2015 سے 2022 تک جموں و کشمیر پردیش کمیٹی کے صدر رہے۔ قانون ساز اسمبلی کے رکن سمیت وہ اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری ہیں اس کے علاوہ جھارکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کے اے آئی سی سی انچارج اور مغربی بنگال کانگریس کمیٹی کے ایڈیشنل انچارج بھی ہیں۔
سید حسین۔
سید حسین بھی اسی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے رکنِ اسمبلی، رکنِ قانون ساز کونسل، قانون ساز کونسل کے چیئرمین اور راجیہ سبھا کے رکن سمیت کئی اہم سرکاری و سیاسی عہدوں پر خدمات انجام دیا ہے۔
غلام احمد ایتو۔
ڈورو وہ مقام ہے جہاں سے غلام احمد ایتو کا تعلق تھا، جو ڈوگرہ دورِ حکومت میں کشمیری کسانوں کے اصلاح کار کے طور پر معروف ہوئے۔ ایتو اراضی اصلاحی تحریک (Land Reform Movement) کے بانیوں میں سے تھے، جس کا مقصد کشمیری کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔ ایتو کو ان سرگرمیوں کے باعث حکومت نے قید کر لیا تھا۔
مذہبی اہمیت.
زیارتوں اور خانقاہوں کی موجودگی سے ڈورو شاہ آباد مذہبی اہمیت کا بھی حامل ہے ،یہاں پر خانقاہ فیض پناہ موجود ہے، جس کی تعمیر میر محمد ہمدانی(رح) نے کی تھی، جو امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانی(رح) کے فرزند تھے۔ قصبے کی دیگر اہم زیارت گاہوں میں زیارت شاہ محمد اعظم صاحب، سید جعفر مدنی اور شاہ اسرار شامل ہیں۔
ہندو تیرتھ مقامات میں لُک باون (لوکا پونیا)، وِتستا اور گوسوانی گنڈ شامل ہیں۔
سیاحتی اہمیت.
مشہور چشمہ اور مغل باغ ویری ناگ، ڈورو شاہ آباد سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے دریائے جہلم کا ممبا بھی مانا جاتا ہے ،اس جگہ کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ علاقے کے دو دیگر چشمے، شہل ناگ اور سم ناگ، جڑواں چشمہ بھی اسی علاقہ میں موجود ہے۔وہیں اس علاقہ میں پیر پنچال کی پہاڑیوں میں موجود ،سربل ،ڈیڈی بل و دیگر کئی حسین سیاحتی مقام موجود ہیں جو ٹریکیرس کی پسندیدہ جگہوں میں سے ہیں۔
معروف مصنف راؤ فرمان علی کا کہنا ہے کہ ڈورو شاہ آباد محض ایک قصبہ نہیں بلکہ کشمیر کی فکری و تہذیبی روح کی علامت ہے۔ اس کی مٹی نے ایسے گوہر پیدا کیے جنہوں نے اپنے فن، علم اور کردار سے دنیا کو متاثر کیا ہے۔جن کے اثرات آج کے زمانہ میں بھی نمایاں ہیں،یہ پورا علاقہ علمی ،ادبی، سیاسی ،سماجی طور پر کافی زرخیر ہے بلکہ قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے بھی اس کا نمایاں کردار ہے ۔لیکن افسوس ہے کہ اتنی اہمیت ہونے کے باوجود بھی سرکار کی جانب سے اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ ڈورو شاہ آباد کو سرکاری طور پر علمی و ادبی مرکز کے طور پر ترقی دینی چاہئے۔
خلا میں پھنسے 3 چینی خلا بازوں کی واپسی کیلیے امید نظر آنے لگی
تفصیلات کے مطابق خلائی اسٹیشن تیانگونگ پر چین کے تین خلا باز ژانگ لو، وو فے اور ژانگ ہونگ ژانگ پھنسے ہوئے ہیں جن کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا تو چین نے واپسی کیلیے بغیر عملے والا مشن شینزو-22 فوری طور پر روانہ کیا ہے۔سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق لانگ مارچ-2 ایف راکٹ نے منگل کو مقامی وقت دوپہر کے بعد جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ اُڑان بھری اور دوپہر تین بجے کے وقت یہ اسٹیشن کے ساتھ کامیابی سے جڑ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نے شینزو-22 کو اصل منصوبے کے مطابق 2026 میں انسانی مشن کے طور پر لانچ کرنا تھا تاہم موجودہ صورتحال کیوجہ سے اب اس مشن کو بغیر عملے کے ہنگامی متبادل جہاز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔
چین کے خلائی اسٹیشن تیانگونگ پر پھنسے ہوئے خلا باز ژانگ لو، وو فے اور ژانگ ہونگ ژانگ معمول کے مطابق سرگرمیوں میں مصروف ہیں، وقت مکمل ہونے کے باوجود وہ ایک نقصان کی وجہ سے زمین پر واپس آنے والی گاڑی سے محروم ہیں۔
چین کے 3 خلا باز اپریل میں 6 ماہ کے مشن پر گئے اور پھر وہ شینزو-21 استعمال کرکے واپس آگئے تھے، جس کے بعد اسٹیشن پر موجود دوسرے عملے کو واپس آنا تھا تاہم ہنگامی صورت حال کے باعث اُن کی واپسی ممکن نہیں ہوسکی تھی۔
چینی میڈیا رپورٹ کے مطابق شینزو-22 خلا میں پہنچنے کے بعد اسٹیشن سے جڑگیا جس کے بعد اب خلا بازوں کی واپسی ممکن ہوگی