لیاقت علی سے بے نظیر بھٹو تک : عمران خان کی خبروں کے پس منظر میں پاکستان کی بغاوتوں اور سیاسی قتل و غارت کی تاریک تاریخ
پاکستان کی بغاوتوں اور سیاسی قتل و غارت کی تاریک تاریخ :
پاکستان میں عمران خان کے متعلق گردش کرتی افواہیں شاید محض افسانہ ہوں، لیکن وہ ایک طویل اور خونی تاریخ کو چھوتی ہیں۔ایک ایسی تاریخ جس میں منتخب رہنماؤں کو قتل کیا جاتا رہا، پھانسیاں دی جاتی رہیں، معزول کیا جاتا رہا، یا پھر ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا جاتا رہا، جبکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ قانون سے بالاتر کھڑی رہیچند روز سے پھیلتی قیاس آرائیوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر اسی مانوس فضا میں گِھرا ہوا ہے۔سنسنی، خوف، رازداری اور افواہوں کی گردش۔ افغان میڈیا کے بعض دعووں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا گیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل کے اندر ’’پراسرار طور پر قتل‘‘ کر دیا گیا ہے، مبینہ طور پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے حکم پر۔ پاکستانی حکام نے ان افواہوں کی تردید تو کی ہے، مگر انہوں نے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت بھی پیش نہیں کیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر ان کی تین بہنوں کا دعویٰ ہے کہ جب وہ عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کرنے پہنچیں تو پولیس نے انہیں گھسیٹ کر نکال دیا۔ راولپنڈی سے آنے والی ویڈیوز میں خواتین کو دھکے کھاتے، چادریں کھینچی جاتی دکھایا جا رہا ہے۔ وہ بس ایک سوال پوچھ رہی تھیں :
’’عمران خان کہاں ہیں؟‘‘
ان کے اہلِ خانہ نے اب ’’ثبوتِ زندگی‘‘ اور باضابطہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ہزاروں حامی اڈیالہ کے باہر جمع ہو رہے ہیں، اور خان کی ہلاکت کی افواہیں پاکستان کے سختی سے کنٹرول کیے گئے اطلاعاتی ماحول میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
عمران خان کے اپنے بیانات نے بھی خوف بڑھایا
یہ بے چینی عمران خان کے خود دیے گئے بیانات سے بھی گہری ہو چکی ہے۔
جولائی میں انہوں نے اپنی جماعت سے کہا تھا :
’’اگر جیل میں میرے ساتھ کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار صرف آرمی چیف عاصم منیر ہوگا۔‘‘
انہوں نے فوج پر غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق چھیننے کا الزام لگایا۔ ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا :
’’اگر میرے یا میری اہلیہ کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار وہی ہوگا۔‘‘
افواہیں سچ ہوں یا جھوٹ، وہ پاکستان کی اس طویل تاریخ میں فٹ بیٹھتی ہیں جہاں منتخب رہنماؤں کو قتل، پھانسی، معزولی اور غائب کر دینے جیسے واقعات مسلسل دہرائے گئے، اور فوجی اداروں نے کسی جواب دہی کا سامنا نہیں کیا۔
ایک ایساملک جہاں وزیرِ اعظم پوری معیاد مکمل نہیں کرتے
1947 سے آج تک ایک بھی پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کی۔
کچھ کو قتل کر دیا گیا، کچھ کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے نکالا گیا، کچھ کو فوج نے ہٹا دیا، اور کچھ سیاسی چالوں کا شکار ہوئے۔
1958 میں جنرل ایوب خان نے ملک کی پہلی بڑی فوجی بغاوت کی۔مارشل لا نافذ کیا، سول حکومت کو ڈبو دیا اور گورنر جنرل اسکندر مرزا کو معزول کر کے ملک بدر کیا۔
1971 میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں پاکستان ٹوٹ گیا۔
1977 میں جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کو ختم کیا، آئین معطل کیا، سیاسی جماعتیں جواباً بینڈ کر دیں۔
1999 میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو ہٹا کر ایک اور فوجی بغاوت کی۔پاکستان میں پیٹرن ہمیشہ ایک سا رہا ہے :
جب بھی سول رہنما طاقتور ہوتے ہیں، بیرکس سے مداخلت شروع ہو جاتی ہے۔
اس فوجی ڈھانچے میں سیاسی قتل، ’’پراسرار‘‘ موتیں اور ناکام تفتیشیں معمول رہی ہیں۔
لیاقت علی خان : پہلا سیاسی قتل
پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم، لیاقت علی خان، اکتوبر 1951 میں راولپنڈی کے کمپنی باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران گولی مار کر قتل کر دیے گئے۔ قاتل سید اکبر کو پولیس نے موقع پر ہی مار دیا، اور یوں اصل منصوبہ ساز کبھی سامنے نہ آ سکے۔
آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس قتل کے پیچھے کون تھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا بڑا سیاسی قتل تھا، اور اس نے طاقت کے مراکز کو یہ پیغام دیا کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو ختم کرنا ممکن ہے اور سزا بھی نہیں ملے گی۔
ذوالفقار علی بھٹو : ’’عدالتی قتل**‘‘**
1977 کی بغاوت کے بعد جنرل ضیا الحق نے بھٹو کو ہٹا کر جیل میں ڈالا۔
1979 میں انہیں ایک انتہائی متنازع مقدمے کے بعد پھانسی دے دی گئی، جسے عالمی ماہرین ’’judicial murder‘‘ یعنی عدالتی قتل قرار دیتے ہیں۔
مقدمہ فوجی حکومت ہی کے زیر اثر تھا، اور فیصلہ وہی آیا جو ضیا چاہتے تھے۔ بھٹو کو راستے سے ہٹا کر ایک بار پھر پیغام دیا گیا کہ طاقت کے مقابلے میں عوامی حمایت بے معنی ہے۔
ضیاء الحق : C-130 طیارے کا وہ حادثہ جو آج تک حل نہ ہوا
اگست 1988 میں فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق بہاولپور کے قریب C-130 طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے۔
امریکی سفیر بھی اس طیارے میں موجود تھے۔
سرکاری طور پر آج تک حادثے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔
مختلف نظریات پھیلتے رہے :
آموں کے ڈبوں میں زہریلا گیس ڈیوائس
اندرونی دشمن
غیر ملکی ایجنسیاں
یا پھر کئی طاقتوں کا مشترکہ کھیل
آج تک ایک شفاف تحقیق سامنے نہ آ سکی۔بے نظیر بھٹو : فوجی اسٹیبلشمنٹ کے شہر میں قتل
27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو راولپنڈی (جہاں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول ہے) میں جلسے کے بعد قتل کر دی گئیں۔
انہیں پہلے گولیاں ماریں گئیں، پھر خودکش دھماکا ہوا۔
سیکڑوں لوگ بھی زخمی اور جاں بحق ہوئے۔ کراچی میں چند ماہ پہلے بھی ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں 130 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے مشرف حکومت پر تحقیق میں رکاوٹ ڈالنے اور ناکافی سیکورٹی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
جائے وقوع کو دھو دیا گیا، ثبوت مٹا دیے گئے۔ آج تک اصل منصوبہ سازوں کو کوئی سزا نہیں ملی۔
خون کی ایک وسیع پگڈنڈی
پاکستان کی سیاست میں لاتعداد رہنما دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ یا ’’نامعلوم ہاتھوں‘‘ کا نشانہ بنے :
اے این پی کے بشیر احمد بلور
ہارون بلور
مولانا سمیع الحق
ایم کیو ایم کے علی رضا عابدی
یہ فہرست طویل ہے۔
نومبر 2022 میں عمران خان خود قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے، جس میں ان کے ایک کارکن کی جان گئی۔ عمران خان نے فوراً اسے سیاسی حملہ قرار دیا اور اسٹیبلشمنٹ کے عناصر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
تقریباً ہر کیس میں تفتیش یا تو ’’سست‘‘ رہی، یا ’’متنازع‘‘، یا ’’غیر نتیجہ خیز‘‘۔
پیغام عوام تک یوں پہنچتا ہے :فوجی غلبہ اور عمران خان کا سوال
آج عمران خان ایک ایسی جیل میں بیٹھے ہیں جو مکمل طور پر سیکیورٹی اسٹیٹ کے کنٹرول میں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ’’غیر اعلانیہ مارشل لا‘‘ کے تحت چل رہا ہے، اور ISI ان کی قید کے ہر لمحے کو کنٹرول کرتی ہے۔
وہ فوج کے اسی سربراہ پر الزام لگاتے ہیں جسے انہوں نے 2019 میں ISI ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹایا تھا۔ وہی عاصم منیر، جو آج فیلڈ مارشل ہیں اور پورے ملک کے ’’سب سے طاقتور شخص‘‘ کہلاتے ہیں۔
خان مسلسل کہہ رہے ہیں :
’’میرے خلاف سب کچھ ایک ہی شخص کرا رہا ہے، اور اگر مجھے یا میری اہلیہ کو کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار وہی ہوگا۔‘‘
آج عمران خان کے بارے میں سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔۔۔ یہ اپنی جگہ ۔۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ افواہیں پاکستان کی اس تاریک تاریخ کے اندر پوری طرح فٹ بیٹھتی ہیں، ایک ایسی تاریخ جس میں :
بغاوتیں ہوتی رہتی ہیں
قتل ہوتے رہتے ہیں
طیارے گرتے رہتے ہیں
عدالتی قتل دہرائے جاتے ہیں
اور سچ ہمیشہ کہیں دفن رہتا ہے۔
یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں ادارے کمزور، منتخب رہنما کمزور تر، اور فوجی قوت سب سے بالاتر ہے۔
اسپیشل انٹینسیو ریویژن 2025 : این آر آئیز اور مائگرینٹس کیلئے آن لائن ووٹر رجسٹریشن فارم 6A مکمل گائیڈ،آپ کے لئے ہےفائدہ مند
Special Intensive Revision 2025 : این آر آئیز اور مائیگرینٹس کے لئے ووٹر رجسٹریشن کا نیا طریقہ
بھارت کے غیر مقیم شہریوں (NRIs) اور اندرونی مائگرینٹ کے لیے ووٹر رجسٹریشن کا عمل اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے Special Intensive Revision (SIR) کے تحت فارم 6A کے ذریعے آن لائن ووٹر رجسٹریشن کی سہولت شروع کر دی ہے۔ تاہم ووٹنگ اب بھی صرف اس حلقے میں جا کر ہی کی جا سکے گی جہاں ووٹر کا نام درج ہوگا۔الیکشن کمیشن نے حال ہی میں بہار کے انتخابات کے بعد وہاں کے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِثانی مکمل کی ہے۔ اب اسی طرز کی Special Intensive Revision ملک کی 12 دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھی جاری ہے، زیادہ تر وہ علاقے جہاں 2026 اور 2027 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔
SIR کے تحت جاری کیا جانے والا Enumerator Form اب مکمل طور پر آن لائن دستیاب ہے۔ اس پورے ڈیجیٹل عمل کی نگرانی براہِ راست الیکشن کمیشن آف انڈیا خود کر رہا ہے۔پہلے کے مقابلے میں یہ نظام بالکل مختلف ہے کیونکہ پہلے ووٹرز کو فارم ڈاؤن لوڈ کر کے آف لائن جمع کروانا پڑتا تھا۔ لیکن اب شہری محض ECI کی ویب سائٹ، مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفس کی ویب سائٹ، یا ECINET ایپ کے ذریعے اپنی معلومات آن لائن جمع کروا سکتے ہیں۔
غیر مقیم بھارتی (NRIs) اور وہ شہری جو اندرونی طور پر ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل ہوئے ہیں، SIR کے دوران Form 6A کے ذریعے آسانی سے اپنا اندراج کرا سکتے ہیں۔ این آر آئی ووٹر کا اندراج اسی حلقے میں ہوگا جس کا پتہ اس کے بھارتی پاسپورٹ میں درج ہے۔کون فارم 6****A جمع کرا سکتا ہے؟
کوئی بھی بھارتی شہری جو بیرون ملک مقیم ہو لیکن کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل نہ کی ہو، Form 6A کے ذریعے بطور ووٹر رجسٹریشن کے لیے اہل ہے۔
درخواست گزار کی عمر کم سے کم 18 سال ہونی چاہیے اور یہ عمر 1 جنوری کے ممکنہ سال کے مطابق شمار کی جائے گی۔
رجسٹریشن ہمیشہ اس حلقے میں ہوگی جس کا پتہ درخواست گزار کے بھارتی پاسپورٹ میں درج ہے۔
فارم 6A متعلقہ Electoral Registration Officer (ERO) کو ہی جمع کروایا جاتا ہے۔
مثال : اگر اہل تاریخ 1 جنوری 2011 ہے تو درخواست گزار کی عمر 1 جنوری 2011 یا اس سے پہلے 18 سال ہو جانی چاہیے۔
ضروری دستاویزات
درخواست کے ساتھ منسلک کئے جانے والے کاغذات :
پاسپورٹ سائز کی تازہ رنگین تصویر (ہلکے یا سفید پس منظر کے ساتھ)
فارم 6A کو مکمل طور پر صحیح معلومات کے ساتھ بھرا جائے ’بالکل وہی معلومات جو پاسپورٹ میں درج ہیں۔
اگر درخواست ڈاک کے ذریعے بھیجی جا رہی ہو :
پاسپورٹ کے مندرجہ ذیل صفحات کی تصدیق شدہ نقول منسلک کرنا لازمی ہیں :
تصویر والا صفحہ
ذاتی معلومات والا صفحہ
ویلیڈ ویزا کی توثیق والا صفحہ
تمام فوٹو کاپیاں بھارتی مشن (Embassy/Consulate) کے مجاز افسر سے تصدیق شدہ ہونی چاہئیں۔
اگر درخواست ERO کے سامنے خود جمع کروائی جائے :
وہی پاسپورٹ کی کاپیاں منسلک کریں جو ڈاک کے ذریعے بھی مطلوب ہیں۔
اصل پاسپورٹ تصدیق کے لیے ساتھ لائیں۔تصدیق کے بعد فوراً واپس کر دیا جاتا ہے۔
اگر کاپیاں attested نہ ہوں تو درخواست مسترد بھی ہو سکتی ہے۔
ووٹنگ کا طریقہ
ووٹنگ صرف اپنے حلقے کے پولنگ اسٹیشن پر جا کر ہی کی جا سکتی ہے۔
پولنگ والے دن اپنی اصل بھارتی پاسپورٹ ساتھ لانا لازمی ہے، کیونکہ یہی آپ کی شناخت کی تصدیق کا بنیادی ثبوت ہوگا۔
Special Intensive Revision کیوں ضروری ہے؟
بھارت میں ہر سال ووٹر لسٹوں کی اپ ڈیٹنگ معمول کا حصہ ہے، مگر انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن خصوصی طور پر Special Intensive Revision (SIR) کراتا ہے تاکہ :نئے ووٹرز کا اندراج ہو سکے
نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی تفصیلات اپڈیٹ ہوں
انتقال کر جانے والے افراد کے نام حذف کئے جا سکیں
جعلی یا ڈپلیکیٹ انٹریز ختم کی جا سکیں
بیرونِ ملک رہنے والے بھارتی شہریوں (NRIs) کو ووٹنگ نظام کا حصہ بنایا جا سکے
ڈیجیٹل طریقہ کار کی بدولت بہت سے این آر آئی اور مائگرینٹس شہری اب بنا کسی مشکل کے اپنے گھر بیٹھے ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کر سکتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کا 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کا دورہ
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، وہ صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کرناٹک کے اُڈپی میں واقع مشہور شری کرشنا مٹھ کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ شام تین بجکر پندرہ منٹ پر گوا پہنچیں گے جہاں وہ شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ کے 550 سالہ جشن میں شرکت کریں گے۔
اُڈپی میں وزیر اعظم مودی شری کرشن مٹھ میں منعقد ہونے والے “لکشا کانٹھا گیتا پرايَنا” پروگرام میں بھی حصہ لیں گے، جس میں ایک لاکھ سے زائد شرکا بشمول طلبہ، سنت، اسکالرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری بیک آواز بھگوت گیتا کی پاٹھ کریں گے۔ یہ روحانی اجتماع مٹھ کی قدیم روایت کا حصہ ہے جسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اسی موقع پر وزیر اعظم سورن تیرتھ منٹپ کا افتتاح بھی کریں گے جو کرشن کے دربار کے سامنے تعمیر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ شری کرشن مٹھ اُڈپی کو 800 سال قبل سری مادھواچاریہ نے قائم کیا تھا، جو دوئت ویدانت فلسفے کے بانی بھی ہیں۔ یہ مٹھ نہ صرف روحانی تربیت کا مرکز ہے بلکہ جنوبی ہند کی ویدانت روایت کا اہم ستون بھی ہے۔ وزیر اعظم مودی اپنے دورۂ گوا میں کنکونا کے علاقے میں واقع شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ بھی جائیں گے، جہاں 550 سالہ جشن کے سلسلے میں متعدد تقاریب منعقد ہوں گی۔ وزیر اعظم اس موقع پر 77 فٹ بلند مجسمے کی نقاب کشائی کریں گے، جو مٹھ کے احاطے میں نصب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ “رامائن تھیم پارک گارڈن” کا افتتاح بھی کریں گے، جسے مٹھ نے خصوصی طور پر تیار کیا ہے تاکہ رامائن کی روایات اور مناظر کو جدید انداز میں پیش کیا جا سکے۔
تقریب میں وزیر اعظم مودی خصوصی ڈاک ٹکٹ اور یادگاری سکے کا اجرا بھی کریں گے اور حاضرین سے خطاب کریں گے۔ شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ گؤڑ سرسوت برہمن برادری کا پہلا ویشنو مٹھ سمجھا جاتا ہے جو 13ویں صدی میں جگدگرو مادھواچاریہ کی قائم کردہ دوئت روایت کی پیروی کرتا ہے۔ یہ مٹھ جنوبی گوا کے شہر پرتگالی میں دریائے کشاوتی کے کنارے واقع ہے۔ وزیر اعظم کے اس دورے سے خطے میں مذہبی، ثقافتی اور تاریخی روایات کو فروغ ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔