ہانگ کانگ آتشزدگی میں مرنے والوں کی تعداد 94 ہو گئی، تعمیراتی کمپنی کے تین افراد گرفتار
ہانگ کانگ : ہانگ کانگ کے تائی پو میں واقع وانگ فک کورٹ ہائی رائز کمپلیکس میں لگنے والی خوفناک آگ نے بدھ کی دوپہر سے جمعرات تک شہر کو لرزا کر رکھ دیا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 94 ہوگئی ہے۔ یہ واقعہ جدید دور میں ہانگ کانگ کی بدترین آتشزدگیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعرات کی صبح بھی فائر بریگیڈ کے اہلکار متاثرہ عمارتوں میں آگ بجھانے اور باقی رہ جانے والے افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔ سات ٹاورز پر مشتمل اس کمپلیکس میں ہر سمت سے سیاہ دھواں اٹھتا رہا جبکہ کئی فلیٹس کی کھڑکیوں سے اب بھی شعلے جھانکتے دکھائی دیے۔
فائر سروسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز، ڈیریک آرمسٹرانگ چان کے مطابق، “ہمارا فائر فائٹنگ آپریشن تقریباً مکمل ہے، مگر ملبے میں موجود انگاروں کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنا سب سے اہم کام ہے۔ اب ہمارے اقدامات سرچ اینڈ ریسکیو پر مرکوز ہوں گے۔”تاحال اس بات کی واضح معلومات نہیں دی گئیں کہ کتنے افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جون لی نے بتایا کہ جمعرات کی صبح تک 279 افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، جبکہ حکام نے دن بھر میں لاپتہ افراد کی تازہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آگ بدھ کی سہ پہر اس وقت لگی جب بانس کے اسکیفولڈنگ اور حفاظتی جالی میں اچانک شعلے بھڑکے اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے سات عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چان کے مطابق، آگ غیر معمولی رفتار سے پھیلی، جس سے اندر داخل ہونا انتہائی مشکل ہوگیا۔ “اوپری منزلوں سے ملبہ اور اسکیفولڈنگ گر رہی تھی، اندھیرا، شدید حرارت اور عمارت تک رسائی میں رکاوٹیں ہماری کوششوں میں بڑی رکاوٹ تھیں۔”
اس حادثے میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 11 فائر فائٹر بھی شامل ہیں۔ تقریباً 900 باشندوں کو رات بھر کے لیے عارضی شیلٹر منتقل کیا گیا۔ پولیس نے تعمیراتی کمپنی کے تین افراد دو ڈائریکٹر اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو غفلت برتنے و دیگر الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ عمارت کے بیرونی حصے میں استعمال ہونے والا کچھ مواد فائر سیفٹی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، جس سے آگ تیزی سے پھیلی۔پولیس نے پریسٹیج کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ کمپنی کے دفتر سے دستاویزات بھی قبضے میں لے لئے ہیں۔ جبکہ عمارت سے انتہائی آتش گیر پلاسٹک فوم پینلز بھی برآمد ہوئے ہیں جن کی تنصیب کے مقاصد تاحال واضح نہیں۔ حکام نے مزید تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
ہندوستانی سینیما کے ’کنگ‘ دھرمیندر کو یاد رکھیں گی کئی نسلیں: اشوک پنڈت
ممبئی: بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار دھرمیندر کے انتقال نے پوری فلم انڈسٹری کو سوگواری میں ڈال دیا ہے۔ مداحوں سے لے کر فلمی دنیا کی نامور شخصیات تک سب نے سوشل میڈیا پر افسوس اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ فلم پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اشوک پنڈت نے بھی جذباتی انداز میں دھرمیندر کو “بھارتی سنیما کا کنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی یادیں آنے والی نسلوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
اشوک پنڈت نے انسٹاگرام پر دھرمیندر کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “انڈین سنیما کے کنگ، جنہوں نے ہر کردار کو پوری ایمانداری اور شدت سے جیا۔ آپ نے دہائیوں تک ناظرین کو ہنسایا، رُلایا، نچایا اور تالیاں بجوانے پر مجبور کیا۔ اسکرین کے سامنے اور اس کے باہر آپ کی موجودگی ہمیشہ مثبت اور توانائی سے بھرپور رہی‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی مٹی دھرمیندر کے لہو میں بسی ہوئی تھی اور یہی تعلق آنے والی نسلوں کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔ اشوک پنڈت نے اداکار کی انسانیت اور سخاوت کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ ’’آپ کی مہربانی اور دریا دلی کے لیے شکریہ۔ کئی نسلیں آپ کو آپ کی محنت، سادگی اور بے مثال اداکاری کے باعث ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ آپ کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی سر… اوم شانتی‘‘۔
دھرمیندر نے اپنے تقریباً سات دہائیوں پر محیط شاندار کیریئر میں تین سو سے زائد فلموں میں اداکاری کی۔ ایکشن، رومانیت، کامیڈی اور ڈراما… ہر صنف میں وہ بے تاج بادشاہ ثابت ہوئے۔ ’شعلے‘ کے ویرو، ’چپکے چپکے‘ کے ڈاکٹر پریم چند پرکاش اور ’یملا پگلا دیوانہ‘ کے زندہ دل پنجابی بزرگ جیسے کرداروں میں انہوں نے اپنی اداکاری کا جادو ہمیشہ قائم رکھا۔
اشوک پنڈت نے ایک اور پوسٹ میں دھرمیندر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے لیے کوئی غمگین گانا نہیں لگانا چاہتے تھے، کیونکہ ان کی نظر میں دھرمیندر ہمیشہ وہی فنکار رہیں گے جو اسکرین پر نچاتے اور مسکراتے ہوئے خوشیاں بانٹتے تھے۔ ’’آج دل بھاری ہے مگر ان کی وہ گرجدار آواز — ‘کتے! میں تیرا خون پی…!’ — یاد آتے ہی ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے‘‘۔ فلمی شخصیات اور مداحوں کا سلسلہ تعزیت میں مسلسل جاری ہے۔ اشوک پنڈت کے علاوہ امیتابھ بچن، رندیپ ہڈا، کارتک آرین، رشبھ شیٹی، رام چرن، چرن جیوی، الو ارجن، ایکتا کپور، مہیش بابو، پرینکا چوپڑا، انوپم کھیر سمیت متعدد اداکاروں نے افسوس کا اظہار کیا۔
بچوں کے احساسات کو سمجھنا ضروری: بال ساہتیہ پرسکار یافتہ کشمیری مصنف اظہار مبشر
اننت ناگ (میر اشفاق) : اظہار مبشر، جن کا اصل نام مبشر احمد شاہ ہے، جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ علاقے واگہامہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک نامور، شاعر، مصنف، اور افسانہ نگار ہے۔ انہوں نے اپنے تخلیقی سفر اور علمی خدمات کی بدولت کشمیری ادب، خصوصاً بچوں کے ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ جس کے اعزاز میں حال ہی میں انہیں ’’ساہتیہ اکادمی بال ساہتیہ پرسکار‘‘ سے نوازا گیا، جو ان کی کشمیری زبان و ادب کے تئیں خدمات و کاوشوں کا اہم اعتراف ہے۔وہ اپنے گاؤں میں نجی اسکول چلاتے ہیں اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے کشمیر کی ایک معروف ادبی تنظیم ’’مراز ادبی سنگم‘‘ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کشمیری ثقافت اور ادبی ورثے کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔
ابتدا میں انہوں نے اردو اور انگریزی میں شاعری کی مگر 2015 کے بعد ان کی تمام تر توجہ کشمیری زبان پر مرکوز ہو گئی۔ 2021 میں بچوں کے ادب کی جانب ان کا جھکاؤ گہرا ہوا، اور یہیں سے ان کے ادبی سفر کو نئی سمت ملی۔
اظہار مبشر نے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے میر اشفاق کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت کے دوران بتایا کہ بچوں سے ان کی دلی محبت ہی وہ اصل جذبہ ہے جس نے انہیں بچوں کے ادب کی طرف متوجہ کیا۔ ’’بچوں کی بدولت ہی مجھے ایوارڈ ملا ہے، اس لئے میں اپنا ایوارڈ بچوں کے نام منوب کرتا ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ایوارڈ یافتہ کتاب ’’شُری تہء چُری گیوش‘‘ میں کل 13 کہانیاں شامل ہیں، جن کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ان کی ایک کہانی کو بین الاقوامی سطح پر شائع ہونے کی منظوری بھی مل چکی ہے، جسے وہ اپنی بڑی خوش قسمتی تصور کرتے ہیں۔
ای ٹی وی بھارت کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران مبشر نے بتایا کہ ’’بچوں کی فیلنگز کو سمجھنا، ان کے ساتھ محبت سے پیش آنا اور انہیں تحفظ کا احساس دینا والدین اور اساتذہ دونوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔‘‘ ان کے مطابق بچوں کی ذہنی اور جسمانی قوت کو مضبوط بنانے کے لئے بچوں کے ساتھ پیار اور اچھے رویے کا ہونا سب سے ضروری ہے۔مبشر کا دعویٰ ہے کہ ان کی تحریروں میں بچوں کی روزمرہ زندگی، رہن سہن، کھیل کود، احساسات اور مستقبل کے خوابوں کو دلچسپ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد بچوں کو کہانیوں کے ذریعے نہ صرف محظوظ کرنا ہے بلکہ بچوں کی شخصیت اور تخلیقی سوچ کو بھی ابھارنا ہے۔
اظہار مبشر کا پہلا کشمیری شعری مجموعہ 2007 میں شائع ہوا تھا جس میں 60 نظمیں ہیں۔ وہ اب تک تقریباً 20 تحقیقی و تنقیدی مقالات تحریر کر چکے ہیں، اور مختلف رسائل میں ان کی کہانیاں اور مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں بچوں کے ادب کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کی منفرد کوشش ہیں، جو نئی نسل کے لیے ادبی دنیا کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔