ڈھاکہ کی عدالت کا سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 3 کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا
ڈھاکہ: بنگلادیش کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو تین کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سناتے ہوئے ملک کی سیاست میں ایک بڑا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کے اسپیشل جج محمد عبداللہ نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ہر مقدمے میں سات سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ انہی الزامات سے متعلق باقی تین مقدمات کا فیصلہ یکم دسمبر کو سنایا جائے گا۔
انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے رواں سال جنوری میں شیخ حسینہ اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف سرکاری پلاٹس کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ پر چھ الگ مقدمات درج کیے تھے۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم کے بیٹے سجیب واجد جوئے کو پانچ سال قید اور ایک لاکھ ٹکا جرمانہ، جبکہ ان کی بیٹی سائمہ واجد پُتول کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
دوسری جانب شیخ حسینہ پہلے ہی بین الاقوامی جرائم ٹربیونل کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت پا چکی ہیں، جس کا تعلق جولائی 2024 میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے مبینہ کریک ڈاؤن سے جوڑا گیا ہے۔ شیخ حسینہ اور ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے ان مقدمات میں کوئی وکیل موجود نہیں تھا کیونکہ وہ ملک سے فرار ہو چکے تھے، تاہم انہوں نے مختلف بیانات میں بدعنوانی کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
اسی دوران بھارت کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز بتایا کہ بنگلادیش کی عبوری حکومت کی جانب سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی باضابطہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنی پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت بنگلادیش میں امن، استحکام، جمہوریت اور شمولیت کے فروغ کے لیے اپنے تعمیری کردار کو جاری رکھے گا اور متعلقہ تمام فریقوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے گا۔
جولائی 2024 میں بنگلادیش میں طلبہ کی قیادت میں ایک بڑا احتجاجی تحریک اٹھی تھی جس کے بعد ملک میں شدید سیاسی بحران پیدا ہوا۔ پانچ اگست کو شیخ حسینہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی آئیں جہاں انہوں نے پناہ لی۔ ان کے فرار کے بعد نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات پروفیسر محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی، جو اس وقت ملک کے سیاسی اور انتظامی امور سنبھال رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فیصلے ملک میں جاری طاقت کے توازن اور مستقبل منظرنامے پر اثرات مرتب کریں گے۔
پولیس نے سری نگر سمیت وادی کے کئی علاقوں میں مدارس، مساجد کی جانچ پڑتال کی
سری نگر: جموں و کشمیر میں دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر پولیس نے جمعرات کو سری نگر بھر میں مدارس اور مساجد کا معائنہ کیا تاکہ خطے میں دہشت گردی کی حمایت کے ماحولیاتی نظام کو ختم کیا جا سکے۔
10 نومبر کو دہلی میں لال قلعہ کے قریب ایک کار میں دھماکے اور "وائٹ کالر" دہشت گردی ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے بعد دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر پولیس نے وادی کے مختلف حصوں میں چھاپے مارے ہیں۔
اس معاملے میں شوپیاں سے مولوی مفتی عرفان احمد اور ہریانہ کے میوات سے مولوی اشتیاق کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سری نگر پولیس نے تمام زونوں میں مدارس اور مساجد کی شہر گیر جانچ پڑتال کی۔ سری نگر میں پولیس نے بک شاپ اور کالعدم جماعت اسلامی سے وابستہ اداروں پر بھی چھاپے مارے۔ جنوبی کشمیر کے دیگر اضلاع جیسے شوپیاں، بڈگام، کپواڑہ، اونتی پورہ اور اننت ناگ میں بھی اسی طرح کے چھاپے مارے گئے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ سرچ ٹیموں نے ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور آزاد گواہوں کے ہمراہ دہشت گردی سے منسلک یا بنیاد پرست سرگرمیوں سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کئی جگہوں کا معائنہ کیا جو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے خلاف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تلاشی کے دوران، پولیس نے ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر مواد کی جانچ پڑتال کی۔ترجمان نے کہا کہ تلاشیاں سری نگر میں دہشت گردی کی حمایت کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے اور امن و عامہ کو خراب کرنے کے مقصد سے کسی بھی سازشی یا غیر قانونی کارروائیوں کو روکنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں قانونی طریقہ کار کے مطابق سختی سے کی گئیں، ہر مرحلے پر شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا گیا اور یہ جاری رہیں گے۔ پولیس کے مطابق، جہاں بھی دہشت گردی یا بنیاد پرستی کی سرگرمیوں سے منسلک افراد یا مواد کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے ملک کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔
جموں و کشمیر پولیس نے کشمیر اور لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کے ایک بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے بعد کریک ڈاؤن میں شدت لائی ہے۔ پولیس نے گرفتار کیے گئے تین ڈاکٹروں ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عادل راتھر اور ڈاکٹر شاہین سعید سمیت سات افراد کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں لے لیا ہے۔ایجنسی دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عمر نبی نے کار میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ دہشت گردانہ دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے دو اہم ساتھیوں عامر رشید اور جاسر بلال وانی کو خودکش حملہ آور کو کار اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔
ان ڈاکٹروں کو فرید آباد اور اتر پردیش سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ الفلاح یونیورسٹی میں کام کر رہے تھے۔
امریکہ کی راہ پر آسٹریلیا، ایران کے سفیر کو نکالا، ’فوج‘ کو اعلان کیا دہشت گرد، جانئے کیوں؟
Australia Iran News: امریکہ میں ہوئے حملے کے بعد جس طرح ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان کے تئیں سخت رُخ دکھایا ہے، ٹھیک اسی طرح آسٹریلیا نے بھی ایک مسلم ملک کے خلاف ایسا قدم اٹھایا ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں ایران کی۔ آسٹریلیا کی حکومت نے نہ صرف ایران کے سفیر کو 7 دنوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے بلکہ ایران کی غیر رسمی مگر سب سے طاقتور عسکری تنظیم اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ آسٹریلیا نے کسی ملک کے سفیر کو ملک سے نکالا ہو۔ آسٹریلیا کی جانب سے IRGC پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب آسٹریلیائی خفیہ ایجنسیوں نے دعوی کیا کہ IRGC نے آسٹریلیا کی یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنا کر گزشتہ سال آگ زنی کے حملوں کی سازش رچی تھی۔
کن واقعات کے لیے IRGC کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟
آسٹریلیا میں اکتوبر 2024 میں سڈنی کے Lewis’ Continental Kitchen پر حملہ ہوا تھا اور پھر دسمبر 2024 میں میلبورن میں Adass Israel Synagogue پر حملہ ہوا تھا۔ آسٹریلیا نے ان واقعات کو دہشت گردانہ کارروائیاں بتایا تھا۔ خفیہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد نئے قانون کے تحت IRGC کو سرکاری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔
آسٹریلیا نے State Sponsors of Terrorism Act 2025 نافذ کیا، جس کے تحت IRGC وہ پہلا ادارہ بن گیا ہے جسے ریاستی سرپرستی والی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ اب اس تنظیم کے لیے کام کرنا، فنڈ دینا، بھرتی کرنا یا رابطہ رکھنا بھی جرم ہوگا۔ اس کی خلاف ورزی پر 25 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
IRGC کیا ہے؟
کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق اسلامک ریولوشنری گارڈ کور ایران کی سب سے بااثر تنظیم ہے، جو ملک کی فوج، داخلی سلامتی اور معیشت پر مضبوط گرفت رکھتی ہے۔ اسے 1979 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ باقاعدہ فوج کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر کو رپورٹ کرتی ہے اور قُدس فورس کو کمانڈ کرتی ہے۔ ایران کے میزائل پروگرام کی نگرانی بھی اسی کے پاس ہے ۔IRGC کو دہشت گرد قرار دینے کا مطلب ہے کہ ایران اور آسٹریلیا کے تعلقات تاریخ کے سب سے نچلے درجے پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ قدم امریکہ اور یورپ کی پالیسیوں کے مطابق ہے، کیونکہ امریکہ پہلے ہی IRGC کو Foreign Terrorist Organization (FTO) قرار دے چکا ہے۔