Thursday, 18 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

بارش میں نہانا بالوں اور جِلد کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟
جانے چارلی چیپلن سے یہ سوال کہ ’بارش میں نہانے کا کا فادہ ہے؟‘ پوچھا گیا تھا یا پھر اس شاعر سے، جس نے ان کے مشہور قول کو کچھ یوں اردو میں شعری شکل دی.
بارش میں بھیگتے ہوئے رونے کا فائدہ
آنسو میرے کسی کو دکھائی نہیں دیے
مگر ایک بات عیاں ہے کہ بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ کچھ لوگوں کا دل باہر نکل کر بھیگنے کو کرتا ہے جبکہ کچھ اندر کی طرف بھاگتے ہیں یعنی کہ بارش میں بھیگنے کا معاملہ بھی اپنی اپنی پسند کے مطابق ہے تاہم یہاں صرف اس بات کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ بارش کا پانی بالوں اور جلد کے لیے واقعی مفید ہے یا نقصان دہ یا یونہی باتیں بنی ہوئی ہیں۔اس بارے میں ویب سائٹ ہیلتھ شاٹس نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں ماہر جلد اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ سے بات کی ہے۔
جب ان سے یہی سوال پوچھا گیا تو ان کا کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارش کے پانی کے جلد اور بالوں پر اثرات کے حوالے سے تفصیل سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم گرما کی بارش میں نہانے سے جسم کو سکون ملتا ہے اور جلد اور بالوں پر اس کا خوشگوار اثر پڑتا ہے لیکن اگر آپ ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں بہت زیادہ آلودگی ہے تو پھر بارش کے پانی کی تاثیر مختلف ہو سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر آپ کی جلد حساس ہے اور ایسے ہی علاقے میں رہتے ہیں تو آپ کو بارش کے پانی میں نہانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جلد کو نقصان ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مون سون کی بارش کا پانی انہیں ٹھنڈک کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ خشکی اور ہلکی پھلکی خارش سے بھی نجات دے گا تاہم یہ تبھی ہوتا ہے جب بارش کسی پرفضا مقام پر برس رہی ہو، اگر معاملہ اس سے الٹ یعنی آلودگی والے مقام کا ہو تو یہ صورت حال اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور جلد و بالوں کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے بالوں اور جلد کی ساخت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اس لیے بارش کے پانی بھی مختلف ہو سکتا ہے، ویسے زیادہ تر بارش کا پانی بالوں کو سخت اور کھردرا بناتا ہے، اس لیے بارش کے پانی میں نہانے کے بعد بالوں کو صابن سے دھونا یا شیمپو کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ مون سون کے موسم میں انسان کو بالوں سے متعلق زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں جن میں جوؤں کا مسئلہ بھی شامل ہے اور اس کی وجہ سے نمی ہوتی ہے۔
ان نکات کے بعد جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ مون سون میں ہونے والی بارش سے بچا جائے اور اس بھیگے موسم کا مزہ نہ لیا جائے؟اس کے جواب میں ڈاکٹر بی ایل جینگیڈ نے کہا کہ اگر کسی خصوصاً خواتین کا بارش میں بھیگنے کا دل کر رہا ہے اور ان کو اپنے بالوں اور جلد کی بھی فکر ہو تو انہیں ایسا کر لینا چاہیے تاہم دو تین نکات ذہن میں رکھنے چاہییں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بارش میں بھیگنے کے بعد گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد نیم گرم پانی سے دوبارہ غسل ضرور کریں، اسی طرح چہرے کو بھی کسی اچھے صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
اسی طرح شیمپو کرنے کے بعد کنڈیشنر لگانا نہ بھولیں، اس سے بالوں میں نمی برقرار رہتی ہے اور بالوں کی شائن بھی بڑھتی ہے۔
اسی طرح نہانے کے بعد انفیکشن سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جسم کے اچھی طرح خشک ہونے کے بعد کپڑے پہنیں، ایسا تولیے سے کسی حد تک کیا جا سکتا ہے تاہم کوشش کریں کہ جسم ہوا سے خشک ہو۔








 ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے‘‘ اسدالدین اویسی کا شیوسینا اور ٹی ایم سی پر طنز، کہا-’’اپوزیشن کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت‘‘
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ان کی قیادت اپنی پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کو دوسری جماعتوں میں جانے سے کیوں نہیں روک پا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں اپوزیشن پر سوالات

اسدالدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے کئی ارکان پارلیمنٹ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید دو ’نمایاں‘ ارکان پارلیمنٹ کو بتانا چاہیے کہ آخر ان اراکین کو بی جے پی میں جانے کے لیے کس نے ’دھمکایا‘۔ اویسی نے مغربی بنگال کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے دیگر 19 ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ انہوں نے کہا کہ شاید اس کا الزام بھی کسی ایک شخص پر ڈالنے میں ایک مہینہ لگ جائے گا۔

قرآن پاک کا حوالہ، تنظیمی کمزوریوں کا ذکر

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ناقدین کو بے بنیاد الزامات سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا: ’’ہر طعنہ دینے والے اور عیب جو کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی تنظیمی ناکامیوں کا ذمہ دار کسی ایک شخصیت کو قرار نہیں دے سکتی۔ اویسی نے سوال کیا کہ آخر بی جے پی کے لیے دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی طرف راغب کرنا اتنا آسان کیوں ہے اور لوگ مسلسل اپنی جماعتیں کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے لکھا ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے۔‘‘

مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں سیاسی ہلچل

مہاراشٹر میں اس وقت ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے نام سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شیوسینا (یو بی ٹی) کے نو میں سے سات ارکان پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا سے رابطے میں ہیں اور ممکنہ طور پر پارٹی تبدیل کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، شیوسینا کے رکن قانون ساز کونسل چندرکانت رگھونشی نے دعویٰ کیا ہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے ایکناتھ شندے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے دھڑے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں 14 جون کو ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ نے اوم برلا سے ملاقات کرکے اپنے گروپ کے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام سے متعلق ایک خط بھی پیش کیا تھا۔









جیوڈ بیلنگھم کے نام بڑا ریکارڈ، ورلڈ کپ 2026 میں انگلینڈ کی جیت، کروشیا کے خلاف گول کر کے رقم کر دی تاریخ  
 نئی دہلی : فیفا ورلڈ کپ 2026 میں انگلینڈ نے شاندار آغاز کرتے ہوئے کروشیا کو 2-4 سے شکست دے دی۔ ہیری کین کی قیادت میں حاصل ہونے والی اس فتح کے دوران نوجوان مڈفیلڈر جیوڈ بیلنگھم نے ایک تاریخی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔گروپ ایل کے پہلے میچ میں بیلنگھم نے نہ صرف عمدہ کھیل پیش کیا بلکہ ایک اہم گول بھی اسکور کیا۔ 22 سالہ انگلش اسٹار اب دو فیفا ورلڈ کپ اور دو یورو کپ سمیت چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی فٹبالر بن گئے ہیں۔بیلنگھم نے یہ اعزاز جرمنی کے جمل موسیالا کو پیچھے چھوڑ کر حاصل کیا۔ انہوں نے پہلی بار یورو 2020 میں کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کی تھی، جس کے بعد وہ قطر ورلڈ کپ 2022، یورو 2024 اور اب ورلڈ کپ 2026 میں بھی انگلینڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

اس فہرست میں انگلینڈ کے سابق اسٹار مائیکل اوون کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے 1998 اور 2002 کے ورلڈ کپ کے علاوہ یورو 2000 اور یورو 2004 میں شرکت کی تھی۔ جیوڈ بیلنگھم انگلینڈ کے ان چند کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں ،جنہوں نے کم عمری میں ہی بین الاقوامی فٹبال میں اپنی جگہ بنا لی۔ انہوں نے محض 17 سال اور 136 دن کی عمر میں انگلینڈ کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ انگلینڈ کی تاریخ میں ان سے کم عمر میں صرف تھیو والکاٹ اور وین رونی نے قومی ٹیم کے لیے پہلا میچ کھیلا تھا۔کروشیا کے خلاف میچ میں انگلینڈ نے ابتدا سے ہی جارحانہ کھیل پیش کیا۔ کپتان ہیری کین نے دو گول اسکور کیے، جب کہ دوسرے ہاف میں جیوڈ بیلنگھم اور مارکس راشفورڈ کے گولز نے ٹیم کی فتح یقینی بنا دی۔

میچ کے بعد بیلنگھم نے کہا کہ ایک بار پھر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا اگلا ہدف انگلینڈ کے لیے 50 بین الاقوامی میچ مکمل کرنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میری ذمہ داری ہے کہ جب میں میدان میں اتروں تو اپنی ٹیم اور اپنے ملک کے لیے سو فیصد دوں۔ جب سینے پر انگلینڈ کا بیج اور پشت پر نمبر 10 ہو تو میں اپنی تمام تر صلاحیتیں ٹیم کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔‘‘بیلنگھم نے مزید کہا کہ یہ سیزن ان کے لیے انتہائی طویل اور تھکا دینے والا رہا، جس کے دوران وہ کئی مواقع پر ٹریننگ کیمپس سے بھی دور رہے، لیکن انہیں یقین تھا کہ بڑے مقابلوں میں وہ اپنی ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔

چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی کھلاڑی

جیوڈ بیلنگھم (انگلینڈ) — 22 سال 353 دن

جمال موسیالا (جرمنی) — 23 سال 108 دن

پیڈری (اسپین) — 23 سال 202 دن

جیریمی ڈوکو (بیلجیم) — 24 سال 19 دن

مائیکل اوون (انگلینڈ) — 24 سال 182 دن

لوکاس پوڈولسکی (جرمنی) — 25 سال 9 دن

جیوڈ بیلنگھم کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے شاندار کیریئر کا ایک اور سنگ میل ہے بلکہ انگلینڈ کے لیے ورلڈ کپ مہم کے آغاز پر ایک حوصلہ افزا اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

تمل ناڈو کی سیاست میں ہلچل، وجے کی طاقت میں ہوگا اضافہ، ڈی ایم کے کو لگے گا جھٹکا!
ایم ڈی ایم کے کے ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو الائنس (SPA) سے الگ ہونے کی قیاس آرائیاں شدت اختیار کررہی ہیں ۔ یہی نہیں، ایم ڈی ایم کے کے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی ٹی وی کے حکومت کے قریب آنے کی چہ مگوئیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، ایم ڈی ایم کے 27 جون کو ہونے والی اپنی جنرل کونسل میٹنگ میں ڈی ایم کے اتحاد سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کر سکتی ہے۔

وی سی کے، آئی یو ایم ایل، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) پہلے ہی ٹی وی کے حکومت کی حمایت کر چکے ہیں۔تاہم ایم ڈی ایم کے اب تک کھل کر حکومت کی حمایت نہیں کر سکی کیونکہ اس کے دو ارکانِ اسمبلی ڈی ایم کے کے انتخابی نشان رائزنگ سن پر کامیاب ہو کر اسمبلی پہنچے تھے۔پارٹی لیڈروں کا ماننا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے عملی راستہ یہی ہے کہ دونوں ارکانِ اسمبلی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں، ضمنی انتخابات میں حصہ لیں اور دوبارہ کامیاب ہونے کے بعد حکمران اتحاد کی حمایت کریں۔

ایم ڈی ایم کے کے سربراہ وائیکواور ان کے بیٹے، تروچیراپلی سے رکنِ پارلیمان دُرائی وائیکو دونوں عوامی طور پر ڈی ایم کے کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔حال ہی میں دُرائی وائیکو نے کہا تھا کہ ڈی ایم کے کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے کی وجہ سے ان کی جماعت ٹی وی کے حکومت کی حمایت نہیں کر پا رہی، جو ان کے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔

منگل کے روز وزیرِ تعمیرات عامہ آدھو ارجنا نے چنئی میں واقع وائیکو کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی تھی۔ اس کے اگلے روز وائیکو نے سیکریٹریٹ میں وزیر اعلیٰ وجے سے ملاقات کی۔اگرچہ وائیکو نے اتحاد تبدیل کرنے کی خبروں کو محض قیاس آرائیاں قرار دیا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسی دوران دورائی وائیکو نے ریاست میں خواتین کے خلاف حالیہ جرائم کے معاملے پر بھی ٹی وی کے حکومت کا دفاع کیا۔

انہوں نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کر دیا جن میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا اور اس نوعیت کے واقعات ڈی ایم کے کے دورِ حکومت میں بھی پیش آتے رہے تھے۔واضح رہے کہ اپریل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ایم ڈی ایم کے نے ڈی ایم کے کے انتخابی نشان پر چار نشستوں پر انتخاب لڑا تھا، جن میں سے دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔اگر پارٹی کے دونوں ارکانِ اسمبلی استعفیٰ دے دیتے ہیں تو اسمبلی میں خالی نشستوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو جائے گی۔ ان میں تروچیراپلی ایسٹ کی وہ نشست بھی شامل ہے جو وزیر اعلیٰ وجے کے عہدہ سنبھالنے کے بعد خالی ہوئی تھی۔








امریکہ۔ایران معاہدہ : خامنہ ای فاتح ، ماہرین نے بتائیں 6 نکات
امریکہ اور ایران کے بیچ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے پر ورچوئل طریقے سے دستخط کیے۔ ٹرمپ نے اسے اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔

معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل تجارت پر منڈلا رہا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ 14 نکاتی شرائط پر مشتمل اس معاہدے کے بعد ایک اہم سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ آخر اس معاہدے میں حقیقی فائدہ کسے ہوا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بظاہر دونوں فریق کامیاب دکھائی دیتے ہیں لیکن سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک بڑے سیاسی کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔امریکہ کو کیا حاصل ہوا؟

14 نکاتی معاہدے میں امریکہ کو سب سے بڑی راحت یہ ملی کہ جنگ فی الحال رک گئی ہے۔ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی دوبارہ معمول پر آنے جا رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ ایران نے اس معاہدے کے ذریعے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی شرط بھی قبول کر لی ہے، تاہم اس کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ دونوں ممالک آئندہ 60 دن تک مذاکرات جاری رکھیں گے اور اسی عرصے میں مستقل معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔

ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک کارکردگی پر مبنی معاہدہ (Performance-Based Deal) ہے۔ یعنی اگر ایران نے اپنی یقین دہانیاں پوری نہ کیں تو دی گئی رعایتیں واپس بھی لی جا سکتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس معاہدے کے تحت ایران کو کوئی نقد ادانہیں کرے گا۔

 ایران کو کیا ہوا حاصل؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے میں ایران کو دی گئی رعایتوں نے پوری تصویر بدل دی ہے۔

سب سے بڑا فائدہ ایران کے تیل کے کاروبار کو ہوا ہے۔ معاہدہ نافذ ہوتے ہی ایران کو تیل اور ایندھن فروخت کرنے کی اجازت ملنے لگی ہے۔ اس کے علاوہ بینکاری، بحری نقل و حمل اور انشورنس سے متعلق متعدد پابندیوں میں بھی نرمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

اس سے ایران کی معیشت کو دوبارہ سہارا مل سکتا ہے اور پابندیوں کے باعث عالمی سطح پر تنہا ہونے والا ایران ایک بار پھر بین الاقوامی اہمیت حاصل کر سکتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اگر ایران جنگ سے پہلے والی سطح پر تیل فروخت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے سالانہ 60 ارب ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔توانائی کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ صرف ابتدائی دو ماہ کے دوران ہی ایران کو تقریباً 8 ارب ڈالر اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے پاس پہلے سے 100 ملین بیرل سے زیادہ تیل ذخیرہ شدہ موجود ہے، جن میں سے تقریباً 60 ملین بیرل بیرونِ ملک رکھے گئے ہیں اور اب انہیں فوری طور پر عالمی منڈی میں فروخت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔

اگر مستقبل میں مستقل معاہدہ طے پا جاتا ہے تو بیرونِ ملک منجمد تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں تک رسائی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ایرانی میڈیا ابتدائی مرحلے میں 12 ارب ڈالر جاری ہونے کی توقع ظاہر کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جنگ سے متاثرہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی تجویز کو بھی معاہدے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین ایران کا پلڑا بھاری کیوں بتارہے ہیں؟

**1-**معاہدے کے نافذ ہوتے ہی ایران کے لیے تیل فروخت کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ بینکاری، شپنگ اور انشورنس سے متعلق کئی پابندیوں میں نرمی آنا شروع ہو گئی ہے۔اندازہ ہے کہ اس سے ایران ہر سال 60 ارب ڈالر سے زیادہ کما سکتا ہے، جبکہ امریکہ کو فی الحال صرف یہ یقین دہانی ملی ہے کہ ایران مذاکرات جاری رکھے گا اور معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا۔

**2-**امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا بتایا جا رہا تھا لیکن معاہدے میں نہ تو سینٹری فیوجز تباہ کرنے کی کوئی شرط شامل ہے اور نہ ہی اعلیٰ درجے کے یورینیم کو فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جوہری پروگرام سے متعلق سب سے پیچیدہ معاملات آئندہ 60 دن کے مذاکرات کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔

 **3۔**جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے رہے تھے، لیکن حتمی معاہدے میں نہ ہتھیار ڈالنے کی شرط شامل ہے، نہ حکومت کی تبدیلی کا ذکر ہے اور نہ ہی جوہری تنصیبات کے بنیادی ڈھانچے کو فوری طور پر ختم کرنے کی کوئی شق موجود ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے ابتدائی موقف سے پیچھے ہٹ گیا، حالانکہ یہی نکات جنگ کے آغاز کی بنیادی وجوہات میں شامل تھے۔

4۔ ایران مسلسل اشارے دے رہا تھا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو آبنائے ہرمز متاثر ہو سکتی ہے۔اس خدشے نے عالمی تیل منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی تھی۔ ناقدین کے مطابق عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو لاحق خطرات نے امریکہ کو معاہدے کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔۔ 110 دن تک جاری رہنے والی جنگ، وسیع فوجی کارروائیوں اور بڑے معاشی نقصانات کے باوجود ایران کی حکومت برقرار ہے۔اسی طرح ایران کا جوہری پروگرام بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یعنی جن مقاصد کے حصول کے لیے جنگ شروع کی گئی تھی، ان میں سے کئی اب بھی حاصل نہیں ہو سکے۔

 6۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو ایران کی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ بھی بڑھ سکتا ہے۔اسرائیل کے حامی حلقے اور متعدد ریپبلکن رہنما یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ امریکا نے اپنا سب سے طاقتور دباؤ کا ہتھیار، یعنی معاشی پابندیاں، کمزور کر دیا ہے۔ان کے مطابق اگر آئندہ 60 دن کے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو امریکا کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے مؤثر ذرائع پہلے کے مقابلے میں کم رہ جائیں گے۔








غزہ: جنگ بندی کے بعد بھی نہ تھم سکا ہلاکتوں کا سلسلہ،اسرائیلی حملوں میں 1000 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق
غزہ کی صورتحال میں جنگ بندی کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور فلسطینیوں کو ہنوز مشکلات کا سامنا ہے ۔ اکتوبر 2025 میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود محصور فلسطینی علاقے میں انسانی بحران ختم نہیں ہو سکا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے حوالے سے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1,005 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز،وزارت کے ذریعہ جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے باعث شہری آبادی مسلسل متاثر ہو رہی ہے اور انسانی صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔غزہ میں سرگرم تنظیم میڈیکل ایڈ فار فلسطینز (MAP) کی ڈائریکٹر فِکر شلتوت نے کہاکہ جنگ بندی سے صورتحال بدلنے کا خاکہ پیش کیا گیا تھا وہ کاغذ تک ہی محدود ہے۔بدترین وقت نہیں گزرا ہے، فلسطینی آج بھی اپنے پیاروں کو سپرد خاک کرنے پر مجبور ہیں۔اگرچہ جنگ بندی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جاری لڑائی رک گئی تھی، تاہم معاہدے کے دوسرے اور زیادہ حساس مرحلے پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ اس مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو اپنے ہتھیار ترک کرنا تھے لیکن دونوں نکات پر پیش رفت نہ ہو سکی۔

 غزہ کے 64 فیصد علاقے پر اسرائیل کا قبضہ 

رپورٹس کے مطابق اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے غزہ میں اپنی عسکری موجودگی مزید مستحکم کر لی ہے اور اس وقت غزہ کی تقریباً 64 فیصد اراضی اس کے کنٹرول میں ہے، جبکہ جنگ بندی معاہدے کے تحت یہ تناسب 53 فیصد تک محدود ہونا تھا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ جمعے کو غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں درجنوں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اسرائیلی افواج نے مغربی سمت میں نام نہاد ییلو لائن کی توسیع کے اشارے کے طور پر زرد رنگ کے سیمنٹ بلاکس نصب کیے، جس کے بعد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

حماس کا سخت موقف

دوسری جانب حماس کے موقف میں بھی کوئی نرمی نہیں آئی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تنظیم فی الحال اپنے ہتھیار ترک نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق حماس کے عسکری ذخیرے کے مستقبل کا فیصلہ دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ جامع مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

امداد اور علاج تک رسائی محدود

جنگ بندی کے اہم مقاصد میں غزہ اور اس کے تباہ حال صحت کے نظام کی بحالی بھی شامل تھی، تاہم اس حوالے سے پیش رفت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ OCHA کے مطابق غزہ میں موجود 37 اسپتالوں میں سے صرف 20 جزوی طور پر فعال ہیں، جبکہ پورے علاقے میں ایک بھی ایسا اسپتال موجود نہیں جو مکمل طور پر فعال ہو۔فِکر شلتوت نے عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بمباری کا سلسلہ جاری رہا اور غزہ تقریباً مکمل محاصرے میں رہا تو عالمی لیڈروں نے خود کو یہ یقین دلا لیا کہ محض ایک معاہدہ جوابدہی، محاصرے کے خاتمے اور ضرورت مندوں تک ادویات کی فراہمی کا متبادل بن سکتا ہے۔انسانی بحران بدستور سنگین

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی غزہ میں رسائی سخت پابندیوں کا شکار ہے، جبکہ امدادی سامان کو بھوکی اور ضرورت مند آبادی کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ 23 اکتوبر کو غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ مسلسل بمباری کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جبکہ تقریباً 19 لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری آبادی کو تحفظ، طبی سہولیات اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بارش میں نہانا بالوں اور جِلد کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟ جانے چارلی چیپلن سے یہ سوال کہ ’بارش میں نہانے کا کا فادہ ...