فضائی آلودگی دل کی بیماریوں کا شکار بچوں کی صحت کو زیادہ متاثر کر رہی ہے، ماہرین
انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی کے باعث ایئر کوالٹی کی سطح ہر گزرتے سال کے ساتھ بدتر ہوتی جا رہی ہے جس کے واضح اثرات بیماریوں کی صورت میں دکھائی دے رہے ہیں۔
انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آلودہ فضا بڑھتی ہوئی بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے جس سے نہ صرف پھیپھڑے بلکہ جسم کے دیگر اعضا بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
حالیہ رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی بالخصوص اُن بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے جو دل کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ہر سال سموگ میں اضافے اور ایئر کوالٹی کی سطح بدتر ہونے کے باعث بچوں کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ دل کی بیماریوں کا شکار بچوں کی صحت مزید خراب ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور جن کا جسم پی ایم 2.5، نائیٹروجن ڈائیکسائیڈ اور اوزون جیسے نقصان دہ مواد کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔
بڑھتی ہوئی آلودگی سے کم عمر مریضوں کو سانس لینے یا بیماریوں سے صحت یاب ہونے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
چائلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن (سی ایف ایچ) کے بانی، پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ، ڈاکٹر وکاس کوہلی کا کہنا ہے کہ جو بچے دل میں سوراخ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں یا جن کی اس حوالے سے سرجری ہو چکی ہوتی ہے، ان کے دل کو ایک عام آدمی کے مقابلے میں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور آب و ہوا کا معیار خراب ہونے کی صورت میں ان کے جسمانی نظام پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
پی ایم 2.5 کے باریک ذرات خون میں داخل ہو سکتے ہیں جو سوزش، خون کے گاڑھے پن، خون کی نالیوں کو متاثر کرنے اور آکسیجن کے بہاؤ میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’صحت مند بچے ماحولیاتی دباؤ کے ساتھ خود کو ڈھال لیتے ہیں، لیکن دل کے مسائل کا شکار بچوں کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔‘
لیکن بچوں کو ان خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈاکٹرز کی والدین کے لیے تجویز ہے کہ وہ انہیں اپنے علاقے میں آب و ہوا کے معیار سے متعلق باخبر رہیں۔
ڈاکٹر وکاس کوہلی کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس کی جانچ کرنا اب آسان ہو گیا ہے کیونکہ بہت سی ایپس اور ویب سائٹس ریئل ٹائم اپڈیٹس فراہم کرتی ہیں۔
تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس ریڈ زون کی سطح تک پہنچ جائے تو ایسے میں دل کی خرابیوں کا شکار بچوں کو گھر کے اندر ہی رہنا چاہیے۔
اسلام آباد پرحملے کی سازش کررہے ہیں عمران خان، وزیراعظم کے مشیرراناثنااللہ کا الزام
عمران خان کی صحت پرپاکستان میں وبال ہورہا ہے۔ اڈیالہ جیل انتظامیہ کی وضاحت کے باوجودیہ ہنگامہ ہنوز جاری ہے۔ عمران خان کے اہل خانہ اور پاکستان تحریک انصاف ملاقات پر مصرہے۔یہ معاملہ صرف ایک ملاقات سے ختم ہوسکتا ہے ۔شہبازشریف حکومت کے عمل میں شفافیت نہیں ہے ۔اس لیے یہ معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔
عمران خان کی ہمشیر نورین نیازی نے پاکستان کی موجودہ صورتحال کا موازنہ ہٹلر کے جرمنی سے کیا ہے۔انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوام کوڈرانے دھمکانے کے لیے سینسرشپ کا سہارا لے رہی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا میڈیا کواتنا دبایا جارہا ہے کہ رپورٹروں میں کھل کر بولنے کی ہمت نہیں وہیں پاکستان کے وزیراعظم کے مشیررانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان اسلام آباد پرحملے کی سازش کررہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ،پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور جیل میں انھیں مکمل سہولیات دی جا رہی ہیں۔عمران خان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی اجازت نہ دینے پر رانا ثنا اللہ نے بڑا الزام لگایا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ، عمران خان اسلام آباد پرحملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔اگر کوئی قیدی اسلام آباد پر چڑھائی کی سازش کررہا ہو تو ملاقاتیں کیسے کروائیں۔ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے بھی ملک کو نقصان پہنچایا ہے اس لیے اس بار سختی ضروری ہے۔ان کے اس بیان نے عمران خان کی حفاظت اور حکومت کی نیت پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔خیال رہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم نے سوشل میڈیا پوسٹ میں والدکی صحت و سلامتی کے تعلق سے تشویش کا اظہارکرچکے ہیں ۔انھوں نے لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم کو چھ ہفتوں سے قیدتنہائی میں رکھا گیا ہے۔اہل خانہ اور نہ ہی وکلاء کو ان تک رسائی دی جارہی ہے۔وہ زندہ اورمحفوظ ہیں اس کے ثبوت نہیں ہے۔انھوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق تنظیموں سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل بھی کی ہے۔
کینیڈا کا نیا شہریت قانون Bill C: بھارتی نژاد فیملیز کیلئے بڑی خوشخبری‘جنوری سے ہوگا نافذ
کینیڈا نے شہریت کے قوانین میں اصلاحات کرتے ہوئے ہزاروں متاثرہ افراد کے حقوق بحال کر دیے ۔۔۔۔
کینیڈا نے شہریت سے متعلق ایک اہم اور تاریخی قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے Bill C-3 منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد اُن والدین اور بچوں کے حقوق بحال کرنا ہے جو پرانے اور سخت قوانین کی وجہ سے شہریت سے محروم رہ گئے تھے۔ یہ بل 21 نومبر 2025 کو رائل اسینٹ (Royal Assent) حاصل کر گیا، جس کے بعد کینیڈا کا شہریت کا نظام مزید جامع، منصفانہ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔کینیڈا کی امیگریشن وزیر لینا میٹلائج دیاب (Lena Metlege Diab) کے مطابق :
’’Bill C-3 ہمارے شہریت کے قوانین کی پرانی خامیاں دور کرے گا۔ یہ بیرونِ ملک پیدا یا گود لیے گئے بچوں کے لیے انصاف بحال کرے گا اور ان لوگوں کو شہریت دے گا جنہیں پرانے قوانین نے ناانصافی کا نشانہ بنایا۔‘‘
First-Generation Limit کیا تھا؟
سال 2009 میں ایک قانون متعارف کیا گیا جسے First-Generation Limit کہا جاتا تھا۔ اس قانون کے تحت :
بیرونِ ملک پیدا ہونے والے بچے کو صرف اسی صورت میں شہریت مل سکتی تھی،
جب کم از کم ایک والدین خود کینیڈا میں پیدا ہوا ہو یا وہاں نیچرلائزڈ (Naturalized) ہوا ہو۔
اس قانون کا نتیجہ یہ نکلا کہ :
ہزاروں بچے، جن کے والدین کئی سال کینیڈا میں رہ چکے تھے
اور جو باہر کام، تعلیم یا شادی کی وجہ سے موجود تھے
کینیڈین شہریت حاصل نہیں کر سکے
متاثرین میں بھارتی نژاد کینیڈین خاندان سب سے زیادہ تھے، کیونکہ ان میں بیرون ملک کام یا عارضی رہائش رکھنا عام ہے۔
عدالت کا فیصلہ
دسمبر 2023 میں Ontario Superior Court نے اس قانون کے مرکزی حصے کو غیر آئینی قرار دیا، کیونکہ یہ پیدائش کی بنیاد پر امتیاز قائم کر رہا تھا۔
کینیڈا کی حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، جس کا مطلب تھا کہ وہ بھی اس قانون کی خامیوں سے متفق تھی۔
Bill C-3 میں کیا اہم تبدیلیاں کی گئیں؟
قانون کے نافذ ہونے کے بعد یہ اقدامات لاگو ہوں گے :
✔ 1. شہریت کی بحالی
وہ تمام بالغ افراد جو First-Generation Limit یا پرانے قوانین کی وجہ سے شہریت سے محروم تھے
اب خودکار طور پر شہریت کے اہل ہو جائیں گے۔
✔ 2. قانونی خلا (Legislative Gaps) بھرے جائیں گے
پرانی قانون سازی میں موجود خامیوں کے باعث جنہوں نے شہریت کھوئی ۔۔۔۔ ان سب کو بھی شہریت ملے گی۔
✔ 3. Substantial Connection Test
اب بیرونِ ملک مقیم کینیڈین شہری، اگر خود کینیڈا میں پیدا نہیں ہوئے تھے، تب بھی اپنے بچوں کو شہریت دے سکتے ہیں، اگر وہ یہ ثابت کریں کہ :انہوں نے بچے کی پیدائش یا گود لینے سے قبل
1,095 دن (تین سال) کینیڈا میں جسمانی طور پر رہائش اختیار کی۔
یہ اصول جدید، عالمی طور پر متحرک (globally mobile) خاندانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کیا گیا ہے۔
بھارتی نژاد کینیڈین خاندانوں کے لیے اس قانون کی اہمیت
بھارتی نژاد کینیڈین شہری دنیا بھر میں تعلیم، نوکری یا کاروبار کے سلسلے میں نقل و حرکت رکھتے ہیں
اس وجہ سے انہیں First-Generation Limit نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔
Bill C-3 کے بعد :
🔹 بچے کو شہریت دینے کے لیے والدین کو پیدائش سے پہلے کینیڈا دوڑ کر آنے کی ضرورت نہیں۔
🔹 بیرونِ ملک پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے میں رکاوٹ ختم۔
🔹 وہ رشتے دار جنہیں پرانے قوانین نے شہریت سے محروم کیا تھا، ان کے حقوق بحال۔
🔹 بیرونِ ملک رہنے والے بھارتی نژاد خاندانوں کے لیے شہریت کا عمل بے حد آسان۔
ڈان چیپ مین (Founder, Lost Canadians Network) نے اس قانون کو ’’انصاف کی بحالی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا :
’’حکومتِ کینیڈا نے جدید عالمی خاندانوں کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بالکل درست فیصلہ کیا ہے۔‘‘
نفاذ (Implementation Timeline)
بل منظور ہو چکا ہے لیکن ابھی نافذ نہیں ہوا
حکومت جلد ہی اس کی Effective Date کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی
جو توقع ہے کہ جنوری 2026 سے پہلے ہو جائے گا
تب تک “Interim Measures” جاری رہیں گی جو متاثرہ خاندانوں کی مدد کر رہی ہیں۔
امیگریشن ماہرین کے مطابق، بل نافذ ہوتے ہی درخواستوں میں بڑی تعداد میں اضافہ ہوگا۔