Saturday, 13 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

غزہ میں اسرائیل کی خو ن ریزی میں 2 لاکھ سے زائد فلسطینی مارے گئے؟ آئی ڈی ایف کے سابق آرمی چیف کا بڑا اعتراف، پھنس گیا اسرائیل !
تل ابیب: غزہ جنگ کے تقریباً دو سال مکمل ہونے سے قبل اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے سابق سربراہ ہرزی حلیوی نے چونکا دینے والا بیان دیا ہے۔ جنوبی اسرائیل میں ایک کمیونٹی تقریب میں حیلوی نے کہا کہ اس جنگ میں اب تک 2 لاکھ سے زائد فلسطینی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ حلیوی نے واضح طور پر کہا کہ غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے 10 فیصد سے زیادہ اس تنازعے سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارت صحت کی رپورٹ سے میل کھاتا ہے۔ وہی وزارت جسے اسرائیلی حکام اکثر ‘حماس کا پروپیگنڈہ’ کہہ کر مسترد کرتے رہے ہیں۔ لیکن بین الاقوامی انسانی ادارے ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ وزارت کے مطابق غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 64,718 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 1,63,859 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔ ہزاروں لاپتہ افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ کوئی عام جنگ نہیں ہے۔ ہم نے پہلے ہی منٹ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ بدقسمتی سے، پہلے نہیں.’ حلیوی یہاں یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے غزہ میں سخت موقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ سابق کمانڈر عین حبصور موشاو (زرعی کوآپریٹو) کے رہائشیوں سے بات کر رہے تھے، جو دو سال قبل حماس کے حملہ آوروں کو بھگانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کے تبصروں کی ریکارڈنگ بعد میں Ynet نیوز نے شائع کی۔ قانونی مشیر کارروائی کو جائز قرار دیتے ہیں۔
سابق فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم بین الاقوامی انسانی قوانین کے دائرے میں رہ کر کام کر رہے ہیں لیکن ‘کسی قانونی مشیر نے مجھے یا میرے افسران کو کبھی نہیں روکا’۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فوجی وکلاء کا کردار زیادہ تر ‘دنیا کے سامنے IDF کی کارروائی کی قانونی حیثیت کو ثابت کرنے’ تک محدود تھا۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ آئی ڈی ایف کے موجودہ سربراہ ایال ضمیر نے بھی حال ہی میں قانونی مشورے کو نظر انداز کیا ہے۔ اس سارے معاملے نے انسانی حقوق کے کارکنوں کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اسرائیلی انسانی حقوق کے وکیل مائیکل سفارڈ نے کہا ، ‘حلیوی کے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ فوجی وکلاء صرف رسمی کارروائیوں کو پورا کرنے کے لیے موجود ہیں، درحقیقت ان کے مشورے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔’
پاکستانی فوجی قافلے پر حملہ: 12 اہلکار ہلاک، ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی

پاکستان میں فوجی قافلے پر حملہ: ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی، کم از کم 12 فوجی ہلاک
پاکستان کے شمال مغرب میں ہفتے کی صبح حملہ آوروں نے فوجی قافلے پر ambush گھات لگا کرحملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے۔ واقعہ صبح تقریباً 4 بجے پیش آیا، جب فوجی قافلہ اپر ساؤتھ وزیرستان کے علاقے فاقِر سرائے سے گزر رہا تھا۔ حملہ آوروں نے دونوں طراف سے بھاری اسلحے سے فائرنگ کی۔ مقامی حکومت کے ایک عہدیدار نے AFP کو بتایا کہ اس حملے میں چار اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایک سکیورٹی افسر نے بھی تصدیق کی اور بتایا کہ حملہ آور نہ صرف فرار ہوگئے بلکہ قافلے کا اسلحہ بھی لے گئے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ واقعہ خیبر پختونخواہ صوبے کے اندر اب تک کے سب سے سنگین حملوں میں سے ایک ہے۔ وہاں TTP گزشتہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں دوبارہ سرگرم ہو گئی ہے، خاص کر افغانستان-پاکستان سرحد کے علاقوں میں۔

ایک مقامی اعلیٰ عہدیدار نے AFP کو بتایا کہ TTP کے جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور حملوں کی تعدد میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے

ادھر لاہور میں مقامی رہائشیوں نے شمال مغربی خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع میں دیواروں اور عمارتوں پر “TTP” کے نام اور نشانات بنے ہوئے دیکھے ہیں، جس سے لوگوں میں خدشہ ہے کہ ماضی کی طرح ان علاقوں میں ان کا دوبارہ اثرورسوخ بڑھ سکتا ہے۔

AFP ریکارڈ کے، ۱ جنوری سے اب تک خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں تقریباً 460 افراد مسلح گروپوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، مرنے والوں میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔

پچھلے سال، پاکستان کو تقریبا دس سالوں کی سب سے خونریز مدت کا سامنا کرنا پڑا، جب تقریباً 1600 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے نصف کے قریب فوجی اور پولیس تھے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (TTP): ایک مسلح گروپ ہے جو پاکستان کے شمالی قبائلی علاقوں اور سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں اپنی شرائط پر حکمرانی کرنا، سرکاری فورسز کو کمزور کرنا اور سرحد کے پار سے عناصر کی مدد حاصل کرنا شامل ہے۔

سرحدی امن اور افغانستان کا اثر**:** افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، سرحدی علاقوں میں TTP کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، جس پر پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کی حکومت دہشت گرد عناصر کو پاکستان میں حملے کرنے کی پناہ گاہ فراہم کر رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز کی سرگرمیاں**:** فوجی مہمات اور آپریشنز ہوتے رہے ہیں، مگر ایسے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ TTP ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ دوبارہ تنظیم سازی اور حملوں کی انجام دہی میں سرگرم ہے۔

بھارت،نیپال کے امن کے لئے پُرعزم ہے۔ وزیراعظم مودی نے نیپال کی عبوری وزیراعظم کو دی مبارکباد

نیپال کے امن کے لئے بھارت پرعزم ہے‘: وزیراعظم مودی نے ’سوشیلا کرکی‘ کو وزیرِاعظم بننے پر مبارکباد دی
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ’سوشیلا کرکی‘ کو نیپال کی عبوری حکومت کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کی
سابق چیف جسٹس ’سوشیلا کرکی‘ کو نیپال کے صدر رام چندر پاؤڈل نے وزیرِاعظم کے طور پر حلف دلایا۔ وہ نیپال کی پہلی خاتون ہیں جنہیں وزیرِاعظم کا عہدہ ملا ہے۔ ان کی تقرری اُس وقت عمل میں آئی جب پچھلے ہفتے ملک بھر میں ہونے والے عوامی احتجاج کے نتیجے میں ’ کے پی شرما اولی‘ کی حکومت گر گئی تھی۔

کے پی شرما اولی‘ نے طویل بدعنوانی مخالف احتجاج اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے دباؤ کے تحت استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد نیپال کی پارلیمان کو جمعہ کی شب تحلیل کر دیا گیا اور ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ 5 مارچ 2026 مقرر کی گئی۔


Back
وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
بھارت،نیپال کے امن کے لئے پُرعزم ہے۔ وزیراعظم مودی نے نیپال کی عبوری وزیراعظم کو دی مبارکباد
PM Modi Backs Nepal’s Peace, Congratulates Sushila Karki on Taking Office وزیراعظم مودی نے سوشیلا کرکی کو نیپال کی پہلی خاتون عبوری وزیراعظم بننے پر مبارکباد دی۔وزیراعظم مودی نے کہاکہ بھارت، نیپال کے عوام کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پُرعزم ہے۔
اشتہار

Last Updated : September 13, 2025, 12:42 pm IST
Published by : MM Sayeed
بھارت،نیپال کے امن کے لئے پُرعزم ہے۔ وزیراعظم مودی نے نیپال کی عبوری وزیراعظم کو دی مبارکباد
اشتہار

متعلقہ ویڈیو
 Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب

Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں

Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا
Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا

Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی

 Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب

Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا

Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان 
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں

Sushila Karki Becomes Nepal’s First Woman Interim PM, Modi Extends Congratulations

’نیپال کے امن کے لئے بھارت پرعزم ہے‘: وزیراعظم مودی نے ’سوشیلا کرکی‘ کو وزیرِاعظم بننے پر مبارکباد دی
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ’سوشیلا کرکی‘ کو نیپال کی عبوری حکومت کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کی۔

متعلقہ خبریں
PM Modi Manipur Visit: وزیر اعظم مودی سیدھا چورا چند پور ہی کیوں جا رہے ہیں؟
پی ایم مودی 13 ستمبر کو کریں گے منی پور کا دورہ ، تشدد پھوٹنے کے بعد مودی کا یہ پہلا دورہ
سی پی رادھا کرشنن نے نائب صدر کی حیثیت سے لیاحلف، ملک کے 15ویں نائب صدربنے
نیپال ، بنگلہ دیش... تین ممالک میں تختہ پلٹ، پیچھے کون سے ’خفیہ سازش‘
سابق چیف جسٹس ’سوشیلا کرکی‘ کو نیپال کے صدر رام چندر پاؤڈل نے وزیرِاعظم کے طور پر حلف دلایا۔ وہ نیپال کی پہلی خاتون ہیں جنہیں وزیرِاعظم کا عہدہ ملا ہے۔ ان کی تقرری اُس وقت عمل میں آئی جب پچھلے ہفتے ملک بھر میں ہونے والے عوامی احتجاج کے نتیجے میں ’ کے پی شرما اولی‘ کی حکومت گر گئی تھی۔

کے پی شرما اولی‘ نے طویل بدعنوانی مخالف احتجاج اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے دباؤ کے تحت استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد نیپال کی پارلیمان کو جمعہ کی شب تحلیل کر دیا گیا اور ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ 5 مارچ 2026 مقرر کی گئی۔

اشتہار
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشیلا کرکی‘ کی عبوری وزیراعظم کے طور پر تقرری ایک منفرد انداز میں ہوئی۔ نوجوان نسل (Gen Z) نے ایک آن لائن پلیٹ فارم ’ڈسکارڈ‘ پر عوامی ووٹ کے ذریعے انہیں منتخب کیا۔

وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:

’’میں معزز محترمہ سوشیلا کرکی کو نیپال کی عبوری حکومت کی وزیراعظم بننے پر نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ بھارت نیپال کے عوام کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پُرعزم ہے

بھارت-نیپال تعلقات کا پس منظر

بھارت اور نیپال کے درمیان 1,751 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے جو بھارت کی پانچ ریاستوں سکم، مغربی بنگال، بہار، اتر پردیش اور اتراکھنڈ سے گزرتی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو مذہب، زبان اور ثقافت کی یکسانیت نے مزید مضبوط بنایا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی مئی 2014 کے بعد سے اب تک پانچ مرتبہ نیپال کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ نیپال کے وزرائے اعظم بھی دس مرتبہ بھارت کے سرکاری دورے کر چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی اور ثقافتی روابط ہمیشہ سے جنوبی ایشیا کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
سوشیلا کرکی کا وزیراعظم کے طور پر تقرر نیپال کی تاریخ میں نہ صرف ایک بڑی تبدیلی ہے بلکہ یہ خواتین کی سیاسی شمولیت کے لئے بھی ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

ووٹوں کا توحساب لیا جائے گا !
اتواریہ : شکیل رشید
کانگریسی قائد راہل گاندھی نے ، جو لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے سربراہ بھی ہیں ، ’ ووٹ چوری ‘ کا ایٹم بم پھوڑ کر صرف الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے خیمے میں ہی ہلچل نہیں مچائی ، سارے ملک میں ہلچل مچائی ہے ، ایسی ہلچلکہ سوائے اندھ بھکتوں کے سبھی ہندوستانی ان کے ذریعے ووٹوں کی چوری کے ’ پریزینٹیشن ‘ کی واہ واہ کر رہے ہیں ۔ اور واہ واہ کیوں نہ کریں ! ہر الیکشن میں وہ شور مچاتے رہے ہیں کہ انہوں نے ووٹ کسی اور امیدوار کو دیے تھے ، مگر ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں چلے گئے۔
 لیکن کوئی ان کی فریاد سُننے کو تیار نہیں تھا ، الیکشن کمیشن ان کی شکایتیں ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے اڑا رہا تھا ۔ مبینہ ووٹ چوری کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے ، لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی سیاست داں نے سنجیدگی کے ساتھ ’ چھان بین ‘ کی اور ایسے ’ حقائق ‘ سامنے رکھے ، جن کے تشفی بخش جواب دیے بغیر ، الیکشن کمیشن کی ساکھ پر جو بٹّا لگا ہے ، وہ بحال نہیں ہو سکتا ۔ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کا الزام کوئی ہوا میں نہیں لگایا ہے ، انہوں نے باقاعدہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں ، ایسے نام گنوائے ہیں جنہوں نے کئی کئی بار ووٹ دیے ہیں ۔ راہل گاندھی نے ایک ایک نکتے کو اجاگر کیا ہے ، اور اس طرح کہ بھاجپائی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کس منھ سے اُن کے سوالوں کا جواب دیں ! اسی لیے وہ آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں ۔ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کو ہی دیکھ لیں ، اُن سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو کہنے لگے کہ راہل گاندھی کا دماغ چل گیا ہے ! راہل گاندھی نے جس سنجیدگی کے ساتھ اپنی دلیلیں پیش کی ہیں ، ممکن نہیں لگتا کہ بھاجپائی سیاست داں اُسی سنجیدگی سے ان کی دلیلوں کا رد کر سکیں گے ۔۔ وہ تو  وہی کریں گے ، بلکہ وہی کر رہے ہیں ، جو وہ ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں ؛ راہل گاندھی پر طنز کسنا ، ان کا مذاق اڑانا اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنا ۔ الیکشن کمیشن بھی کچھ یہی کر رہا ہے ۔ بھلا ایک ایسے سیاست داں سے ، جو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہے ، اور جس کا کام ہی سوال اٹھانا ہے ، الیکشن کمیشن کے ذریعے ’ حلف نامہ ‘ مانگنے کا کیا جواز ہے ! راہل گاندھی نے تو باقاعدہ آئین کا حلف لیا ہے ، وہ یونہی اپوزیشن لیڈر نہیں بن گیے ۔ یہ تو الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ اُن سنگین الزامات کا ، جو راہل گاندھی نے لگائے ہیں ، مناسب جواب دے ، بلکہ ’ حلف نامہ ‘ دے کر جواب دے ۔ ووٹ چوری کے الزام کا مطلب جمہوریت کو تباہ کرنا ہے ، اس کا مطلب عوام کے حقوق کو غصب کرنا ہے ، اس کا مطلب عوامی رائے سے کھلواڑ ہے ۔ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو کٹگھرے میں کھڑا کر دیا ہے ، یہ عوامی عدالت کا کٹگھرا ہے ، الیکشن کمیشن کو بھی اور بی جے پی بلکہ مودی حکومت کو بھی جواب دینا ہی ہوگا ۔ ویسے بات صرف مبینہ ووٹ چوری ہی کی نہیں ہے ، ہندوستانی عوام کا تو بہت کچھ چُرا لیا گیا ہے ، ان کا سکون اور چین ، ان کی روزی روٹی ، ان کی دولت ، ان کی شہریت ، ان کی زمینیں اور ملکیتیں۔ عوام تباہ و برباد ہے ، اور اِس کا بنیادی سبب ، مرکز کی اُس حکومت کی پالیسیاں اور اس کے اعمال و افعال ہیں ، جس پر یہ سنگین الزام ہے کہ وہ ووٹ چوری کرکے اقتدار پر متمکن ہوئی ہے ۔ اگر ووٹ چوری ہوئے ہیں تو یقیناً عوام اپنے ووٹوں کی چوری کا حساب لیں گے ۔
____________
(عالمی افسانہ فورم پر ایک سلسلہ ۔ اردو کے شاہکار افسانے۔ شروع کیا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے کا پہلا افسانہ پیش ہے)
آنندی - غلام عباس(1909ء - 1982ء)
انتخاب ۔ اسماء حسن ، ہانگ کانگ
بلديہ کا اجلاس زوروں پر تھا، ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلاف معمول ايک ممبر بھي غير حاضر نہ تھا، بلديہ کے زير بحث مسئلہ يہ تھا کہ زنان بازاري کو شہر بدر کر دياجائے، کيوں کہ ان کا وجود انسانيت، شرافت اور تہذيب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔
بلديہ کے ايک بھاري بھر کم رکن جو ملک و قوم کے سچے خير خواہ مانے جاتے تھے نہايت فصاحت سے تقرير کر رہے تھے “ اور پھر حضرات آپ يہ بھي جانتے ہیں کہ یہ بازار شہر کے وسط میں واقع ہے چنانچہ ہر شريف آدمي کو چار وناچار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے، علاوہ ازيں شرفا کي پاک دامن بہو بيٹياں بھی اس بازار کی تجارتي اہميت کي وجہ سے يہاں آنے اور خريد و فروخت کرنے پر مجبور ہيں ، صاحبان جب يہ شريف زادياں ان آبرو باختہ اور نيم عرياں بيواؤں کے بناؤ سنگھار کو ديکھتي ہيں تو قدرتي طور پر ان کے دل ميں بھي آرائش و دل ربائي کي نئي نئي امنگيں اور ولولے پيدا ہوتے ہيں اور اپنے غريب شوہروں سے طرح طرح کے غازوں لوِنڈروں زرق برق ساڑيوں اور قيمتي زيوروں کي فرمائشيں کرنے لگتي ہيں نتيجہ يہ ہوتا ہے کہ ان کا پر مسرت گھر ان کا راحت کدہ ہميشہ کيلئے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔
اور صاحبان پھر آپ يہ بھي خيال فرمائيے کہ نونہالان قوم جو درس گاہوں ميں تعليم پارہے ہيں، اور جن کي آئندہ ترقيوں سے قوم کي اميديں وابستہ ہيں اور قياس کہتا ہے کہ ايک نہ ايک دن قوم کي کشتي کو بھنور سے نکالنے کا سہرا ان ہي کے سر بندھے گا، انہيں بھي صبح و شام اسي بازار سے ہو کر جانا پڑتا ہے، يہ قحبائيں ہر وقت بارہ ابھرن سولہ سنگھار کئے ہر راہرو پر بےحجابانہ نگاہ و مژگاں کے تيروسنان برساقي رہتی ہیں، جواني کے نشے ميں سر شار سودوزياں سے بے پرواہ نونہالانِ قوم اپنے جذبات و خيالات اور اپني اعلي سيرت کو مصيبت کے مسموم اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہيں؟ صاحبان؟ کيا ان کا حسن زاہد شکن نونہالان قوم کو جادہ مستقيم سے بھٹکا کر ان کے دل ميں گناہ کي پر اسرار لذتوں کي تشنگي پيدا کر کے ايک بے کلي ايک اضطراب ايک ہيجان برپا نہ کرديتا ہوگا۔۔۔۔۔؟“
اسي موضوع پر ايک رکن بلديہ جو کسي زمانے ميں مدرس رہ چکے تھے اور اعداد شمار رکھتے تھے بول اٹھے۔
صاحبان واضع رہے کہ امتحانوں ميں ناکام رہنے والے طلبا کا تناسب پچھلے سال کي نسبت ڈيوڑھا سا ہوگيا ہے۔
ايک رکن جو چشمہ لگائے ہوئے تھے اور ايک ہفتہ وار اخبار کے مدير اعزازي تھے تقرير کرتے ہوئے حضرات ہمارے شہر سے روز بروز غيرت، شرافت، مردانگي، نکوکاري اور پرہيزگاري اٹھتي جارہي ہے، اس کے بجائے بے غيرتي، نامردي، بزدلي، بدمعاشي، چوري اور جعل سازي کا دور دورہ ہوتا ہے، منشيات کا استعمال بہت بڑھ گيا ہے، قتل و غارت، خود کشي اور ديواليہ نکلنے کے وارداتيں بڑھ رہي ہيں، اس کا سبب محض ان زنان بازاري کا ناپاک وجود ہے، کيوں کہ ہمارے بھولے بھالے شہري ان کي زلف گرہ گير کے اسير ہو کر ہوش و خرد کھو بيٹھتےہيں، اور ان کے ہار سنگار تک رسائي حاصل کرنے کيلئے زيادہ سے زيادہ قيمت ادا کرنے کيلئے ہر جائز و ناجائز طريق سے زر حاصل کرنے کی سعی میں نہايت قبيح افعال کا ارتکاب کر بيٹھتے ہيں نتيجہ يہ ہوتا ہے، کہ يا تو وہ جان عزيز ہي سے ہاتھ دھو بيٹھتے ہيں اور ياجيل خانوں ميں پڑے سڑتے ہيں۔
ايک پنشن يافتہ معمر رکن جو ايک وسيع خاندان کے سر پرست تھے اور دنيا کا سردو گرم ديکھ چکے تھے اور اب کش مکش حيات سے تھک کر باقي ماندہ عمر سستانے اور اپنے اہل و عيال کو اپنے سائے ميں پنپتا ہوا ديکھنے کے متمني تھے تقرير کرنے اٹھے، ان کي آواز لرزتي ہوئي اور لہجہ فرياد کا انداز ليے ہوئے تھا، بولے صاحبان رات بھر ان لوگوں کے طبلے کي تھاپ ان کی گلے بازياں ان کے عشاق کي دھينگا مشتي، گالي گلوچ ، شور و غل ہاہاہاہاہاہاہوہوہوہو سن کر آس پاس کے رہنے والے شرفا کے کان پک گئے ہيں، ناک ميں جان آگئي ہے رات کي نيند حرام ہےتو دن کا چين مفقود علاوہ ازيں ان کے قرب سے ہماري بہو، بيٹیوں کے اخلاق پر جو برا اثر پڑتا ہے اس کا اندازہ ہر صاحب اولاد کو ہو سکتا ہے، آخري فقرہ کہتے کہتے ان کي آواز بھرا گئي اور وہ اس سےزيادہ کچھ نہ کہہ سکے سب اراکين بلديہ کو ان سے ہمدردي تھي، کيوں کہ بدقسمتي سے انکا قديمي مکان اس بازار حسن کے عين وسط ميں واقع تھا۔
ان کےبعد ايک رکن بلديہ نےجو پراني تہذيب کے علم بردار تھے اور اسے اولاد سے زيادہ عزيز رکھتے تھے تقرير کرتے ہوئے کہا۔
حضرات باہرسے جو سياح اور ہمارے احباب اس مشہور اور تاريخ شہر کو ديکھنے آتے ہيں جب وہ اس بازار سے گزرتے اور اس کے متعلق استفسار کرتے ہيں تو يقين کیجیے کہ ہم پر گھڑوں پاني پڑ جاتا ہے۔
اب صدر بلديہ تقرير کرنے اٹھے گو قد ٹھنگنا تھا اور ہاتھ پاؤں چھوٹے چھوٹے تھے مگر سر بڑا تھا جس کي وجہ سے برد بار آدمي معلوم ہوتے تھے۔ لہجہ ميں حد درجہ متانت تھي بولے حضرات ميں اس امر ميں قطعي طور پر آپ سے متفق ہوں کہ اس طبقہ کا وجود ہمارے شہر اور ہمارے تہذيب و تمدن کيلئے باعثِ صد عار ہے ليکن مشکل يہ ہے اس کا تدارک کس طرح کيا جائے۔ اگر ان لوگوں کو مجبور کيا جائے کہ يہ اپنا ذليل پيشہ چھوڑديں تو سوال پيدا ہوتا ہے کہ يہ لوگ کھائيں گے کہاں سے؟
ايک صاحب بول اُٹھے يہ عورتيں شادي کيوں نہيں کرليتں؟
اس پر ايک طويل قہقہہ پڑا اور ہال کي ماتمي فضا ميں يک بارگي شگفتگي کے آثار پيدا ہو گئے۔ جب اجلاس ميں خاموشي ہوئي تو صاحب صدر بولے حضرات يہ تجويز ہزار بار ان لوگوں کے سامنے پيش کي جاچکي ہے۔ اس کا ان کي طرف سے يہ جواب ديا جاتا ہے۔ کہ آسودہ اور عزت دار خانداني، حرمت و ناموس کے خيال سے انہيں اپنے گھروں ميں نہ گھسنے ديں گے اور مفلس اور ادنٰي طبقے کے لوگوں کو جو محض ان کي دولت کيلئے ان سے شادي کرنے پر آمادہ ہوں گے يہ عورتيں خود منہ نہيں لگائيں گي۔
اس پر ايک صاحب بولے بلديہ کو ان کے نجي معاملوں ميں پڑنے کي ضرورت نہيں۔ بلديہ کے سامنے تو يہ مسئلہ ہے کہ يہ لوگ چاہے جہنم ميں جائيں مگر اس شہر کو خالي کرديں۔
صدر نے کہا صاحبان يہ بھي آسان کام نہيں ہے، ان کي تعداد دس بيس نہيں سينکڑوں پر پہنچتي ہے اور پھر ان ميں سے بہت سی عورتوں کے ذاتي مکانات بھي ہيں۔
يہ مسئلہ کوئي مہینہ بھر زير بحث رہا اور با لاآخر تمام اراکين کي اتفاق رائے سے يہ امر قرار پايا کہ زنان بازاري کے مملوکہ مکانوں کو خريد لينا چاہئيے اور انکو رہنے کيلئے شہر سے کافي دور کوئي الگ تھلگ علاقہ ديا جائے، ان عورتون نے بلديہ کے اس فيصلہ کے خلاف سخت احتجاج کيا، بعض نے نافرماني کرکے بھاري جرمانے اور قيديں تک بھگتيں۔ مگر بلديہ کي مرضي کے آگے کوئي پيش نہ چل سکي اور وہ نا چار صبر کرکے رہ گئيں۔
اس کے بعد ايک عرصہ تک ان زنان بازاري کے مملوکہ مکانوں کي فہرستيں اور نقشے تيار ہوئے اور مکانوں کے گاہک پيدا کئے جاتے رہے۔ پيشتر مکانوں کي بذريعہ نيلامي فروخت کرنے کا فيصلہ کيا گيا۔ ان عورتوں کو چھ مہينے تک شہر ميں اپنے پرانے مکانوں ہي ميں رہنے کي اجازت دے دي گئي تاکہ اس عرصہ ميں وہ نئے علاقہ ميں مکان بنواسکيں۔
ان عورتوں کيلئے جو علاقہ مختص کيا گیا وہ شہر سے چھ کوس دور تھا، پانچ کوس تک سڑک جاتي تھي اور اسکے آگے کوس بھر کا کچا رستہ تھا، کسي زمانے ميں وہاں کوئي بستي ہوگي مگر اب تو کھنڈروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا۔ جن ميں سانپوں اور چمگادڑوں کے مسکن تھے اور دن دھاڑے اُلو بولتے تھے، اس علاقے کے نواح ميں کچے گھروندوں والے کئي چھوٹے گاؤں تھے مگر کسي کا فاصلہ بھي يہاں سے دو ڈھائي ميل سے کم نہ تھا۔ ان گاؤں کے بسنے والے کسان دن کے وقت کھيتي باڑي کرتے يا يوں ہي پھرتے پھراتے ادھر نکل آتے تو نکل آتے ورنہ عام طور پر اس شہر خموشاں ميں آدم زاد کي صورت نظر نہ آتي تھي، بعض اوقات روز روشن ہي ميں گيدڑ اس علاقے ميں پھرتے ديکھے گئے تھے۔
پانسو سے کچھ اوپر بیسواؤں ميں سے صرف چودہ ايسی تھي جو اپنے عشاق کي وابستگي يا خود اپني دل بستگي يا کسي اور وجہ سے شہر کے قريب آزادانہ رہنے پر مجبور تھیں۔ اور اپنے دولت مند چاہنے والوں کي مستقل مالي سر پرستي کے بھروسے بادل ناخواستہ اسي شہر کے ہوٹلوں کو اپنا مسکن بنائيں گي۔ باقی ماندہ بظاہر پارسائي کا جامہ پہن کر شہر کے شريف محلوں کے کونوں کھدروں ميں جا چُھپيں گی يا پھر اس شہر کو چھوڑ ديں گي۔
يہ چودہ بيسوائيں اچھي خاصي مال دار تھيں، اس شہر ميں انکے جو مملوکہ مکان بِکے ان کے دام انہيں اچھے مل گئے اور اس علاقے ميں زمين کي قيمت برائے نام تھي اور سب سے بڑھ کر يہ کہ ان کے ملنے والے دل و جان سے ان کي مالي امداد کرنے کيلئے تيار تھے، چنانچہ انہوں نے اس علاقے ميں جي کھول کر بڑے عالي شان مکان بنوانے کي ٹھان لي، ايک اونچی اور ہوادار جگہ ٹوٹي پھوٹي قبروں سے ہٹ کر تھي منتخب کي گئي زمين کے قطعے صاف کرائے اور چابکدست نقشہ نویسوں سے مکان کے نقشے بنوائے گئے اور چند ہي روز ميں تعمير کا کام شروع ہوگيا۔
دن بھر اينٹ، مٹي، چونا، شہتير، گارڈر اور دوسرا عمارتي سامان لاريوں، چھکڑوں، خچروں، گدھوں، اور انسانوں پر لد کر اس بستي ميں آتا اور منشي حساب کتاب کي کاپياں بغلوں ميں دبائے انہيں گنواتے اور کاپيوں ميں درج کرتے مير عمارت معماروں کو کام کے متعلق ہدايت ديتے، معمار مزدوروں کو ڈانٹتے مزدور اور ادھر ادھر دوڑتے پھرتے، مزدور زينوں کو چلا چلا کر پکارتے اور اپنئے ساتھ کام کرنے کيلئے بلاتے، غرض سارا دن ايک شور ايک ہنگامہ رہتا سارا دن آس پاس کے گائوں کے ديہاتي اپنے کھيتوں ميں اور ديہاتوں ميں اپنے گھروں ميں ہوا کے جھونکوں کے ساتھ دور سے آتي ہوئي کھٹ کھٹ کي آوازيں سني رہتيں۔
اس بستي کے کھنڈروں ميں ايک جگہ مسجد کے آثار تھے اور اس کے پاس ہي ايک کنواں تھا جو بند پڑا تھا، راج مزدوروں نے کچھ تو پاني حاصل کرنے اور بيٹھ کر سستانے کي غرض سے کچھ ثواب کمانے اور اپنے نمازي بھائيوں کي عبادت گزاري کے خيال سے سب سے پہلے اس کي مرمت کی، چونکہ يہ فائدہ بخش اور ثواب کا کام تھا اس لئے کسي نے کچھ اعتراض نہ کيا، چنانچہ دو تين روز ميں مسجد تيار ہوگئي۔
دن کو بارہ بجے جيسے ہي کھانا کھانے کي چھٹي ہوتي دو ڈھائي سوراج مزدور مير عمارت، منشي اور ان بيسواؤں کے رشتہ دار يا کارندے جو تعمير کي نگراني پر مامور تھے اس مسجد کے آس پاس جمع ہو جاتے اور اچھا خاصا ميلہ سا لگ جا تا تھا۔
ايک دن ايک ديہاتي بڑھيا جو پاس کے گاؤں ميں رہتي تھي اس بستي کي خبر سن کر آگئي۔ اس کے ساتھ ايک خرد سال لڑکا تھا۔ دونوں نے مسجد کے قريب ايک درخت کے نيچے سگريٹ، بيڑي ، چنے اور گڑکي بني ہوئي مٹھائيوں کا خوانچہ لگا ديا۔ بڑھيا کو آئے ابھي دو دن نہ گزرے تھے کہ ايک بوڑھا کسان کہیں سے ايک مٹکا اٹھا لايا اور کنوئيں کے پاس ايٹنوں کا ايک چھوٹا سا چبوترہ بنا پيسے کے دو دو شکر شربت کے گلاس بيچنے لگا۔ ايک کجنڑے کو جو خبر ہوئي تو ايک ٹوکرے ميں خر بوزے بھر کر لے آيا۔ اور خوانچہ والي بڑھيا، کے پاس بيٹھ کر لے لو خربوزہ ، شہد سے ميٹھے خربوزے کي صدا لگانے لگا۔ اس شخص نے کيا کيا گھر سے سري پائے کي پکا ديگچي ميں رکھ خوانچہ ميں لگا کر تھوڑي سي روٹياں مٹي کے دو تين پيالے اور ٹين کا ايک گلاس لےکر آموجود ہوا اور اسي بستي کے کارکنوں کو جنگل ميں ہنڈيا کا مزا چکھانے لگا۔
ظہر اور عصر کے وقت مير عمارت معمار اور دوسرے مزدوروں سے کنويں سے پاني نکلوا کر وضو کرتے نظر آتے۔ ايک شخص مسجد ميں جا کر آذان ديتا۔ پھر ايک کو امام بنايا جاتا اور دوسرے لوگ اس کے پيچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے۔ کسي گاؤں کے ايک ملا کے کان ميں جو يہ بھنک پڑي کہ فلاں مسجد ميں امام کي ضرورت ہے وہ دوسرے ہي دن علي الصباح ايک سبز جزدان ميں قرآن شريف، پنچ سورہ، رحل اور مسئلے مسائل کے چند چھوٹے چھوٹے رسالے رکھ کر آموجود ہوا اور اس مسجد کي امامت باقاعدہ طور پر اسے سونپ دي گئي۔
ہر روز تيسرے پہر گاؤں کا ايک کبابي سر پر اپنے سامان کا ٹوکرا اٹھائے آجاتا اور خوانچہ والي بڑھيا کے پاس زمين پر چولھا بنا کر کباب، کليجي، دل اور گردے سيخوں پر چڑھا۔ بستي والوں کے ہاتھ بيچتا۔ ايک بھٹياري نے جو يہ حال ديکھا تو اپنے مياں کو ساتھ لے کر مسجد کے سامنے ميدان ميں دھوپ سے بچنے کيلئے پھوس کا ايک چھپرا ڈال تنور گرم کرنے لگي۔ کبھي کبھي ايک نوجوان ديہاتي نائي پھٹي پراني کسبت گلے ميں ڈالے جوتي کي ٹھوکروں سے راستے کے روڑوں کو لڑھکاتا ادھر ادھر کرتا گشت کرتا ديکھنے ميں آجاتا۔
ان بيسواؤں کے مکانوں کي تعمير کي نگراني انکے رشتے دار يا کارندے کرتے ہي تھے۔ کسي کسي دن وہ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر اپنے عشاق کے ہمراہ خود بھي اپنے اپنے مکانوں کو بنتا ديکھنے آجاتيں۔ اور غروب آفتاب سے پہلے يہاں سے نہ جاتيں۔ اس موقع پر فقيروں کي ٹولياں نہ جانے کہاں سے آجاتيں اور جب تک خيرات نہ لي جاتي اپني صداؤں سے برا بر شور مچاتي رہتيں اور انہيں بات کرنے نہ ديتيں۔ کبھي کبھي لفنگے اوباش بے کار عياش لڑکے شہر سے پيدل چل کر بيسواؤں کي اس نئي بستي کي سن گن لينے آجاتے اور اگر اس گھڑی بيسوائيں بھي آئي ہوتيں تو ان کي عيد ہو جاتي اور وہ ان سے ہٹ کر ان کے گرد چکر لگاتے رہتے فقرے کستے۔ بے تکے قہقہے لگاتے عجيب عجيب شکليں بناتے اور محبوبانہ حرکتيں کرتے۔ اس روز کبابي کي خوب بکري ہوتي۔
اس علاقے ميں جہاں تھوڑے ہي دن پہلے ہو کا عالم تھا اب ہر طرف گہما گہمي اور چہل پہل نظر آنے لگي، شروع شروع ميں اس علاقے کي ويراني سے ان بيسواؤں کو يہاں آکر رہنے کے خيال سے جو وحشت ہوتي وہ بڑي حد تک جاتي رہي تھي اور اب وہ ہر مرتبہ خوش خوش اپنے مکانوں کي آرائش اور اپنے مرغوب رنگوں کے متعلق معماروں کو تاکيد کر کےجاتي ہيں۔
بستي ميں ايک جگہ ٹوٹا پھوٹا مزار تھا جو قرائن سے کسي بزرگ کا معلوم ہوتا تھا۔ جب يہ مکان نصف سے زيادہ تعمير ہوچکے تو ايک دن بستي کے راج مزدوروں نے کيا ديکھا کہ مزار کے پاس سے دھواں اٹھ رہا ہے سرخ سرخ آنکھوں والا لمبا تڑنگا مست فقير لنگوٹ باندھے چار ابرو کا صفايا کرائے اس مزار کے ارد گرد کنکر پتھر اٹھا کہ پرے پھينک رہا تھا۔ دوپہر کو وہ فقير ايک گھڑا لے کے کنوئيں پر آيا اور پاني بھر کر اٹھا کر مزار پر لے جانے لگا اور اسے دھونے لگا۔ ايک دفعہ جو آيا تو کنوئيں پر دو تين راج مزدور کھڑے تھے ان سے کہنے لگا جانتے ہو يہ مزار کسکا ہے؟ کڑک شاہ پير بادشاہ کا۔ ميرے باپ دادا ان کے مجاور تھے۔ اس کے بعد اس نے ہنس ہنس کر اور آنکھوں ميں آنسو بھر بھر کے پير کڑک شاہ کي کچھ جلالي کرامت بھي ان راج مزدوروں سے بيان کيں۔ شام کو يہ فقير کہيں سے مانگ تانگ کر مٹي کے دو دئيے اور سرسوں کا تيل لے آيا اور پير کڑک شاہ کي قبر کے سرہانے اور پائتي چراغ روشن کر دئيے۔ رات کو پچھلے پہر کبھي کبھي اس مزار سے اللہ ہو کا مست نعرہ سنائي دے جاتا۔
چھ مہينے گزر نہ پائے کہ يہ چودہ مکان بن کر تيار ہوگئے، يہ سب دو منزلہ اور قريب قريب ايک ہي وضع کے تھے، سات ايک طرف اور سات دوسري طرف بيچ ميں چوڑي سڑک تھي اور ہر ايک مکان کے نيچے چار چار دکانيں تھيں، مکان کي بالائي منزل ميں سڑک کے رخ وسيع برآمدہ تھا۔ اس کے آگے بيٹھنے کيلئے کشتي نما شہ نشین بنائي گئي تھي۔ جس کے دونوں سروں پر يا تو سنگ مر مر کے مور رقص کرتے ہوئے دکھائے گئے تھے اور يا جل پريوں کے مجسمے تراشے گئے تھے جن کا آدھا دھڑ مچھلي کا اور آدھا انسان کا تھا۔ برآمدے کے پيچھے جو بڑا کمرہ تھا اس ميں سنگ مر مر کے نازک نازک ستون بنائے گئے تھے ديواروں پر خوش نما پچي کاري کی گئي تھي۔ فرش سبز چمک دار اور پتھروں کا بنايا گيا تھا۔ جب سنگ مر مر کے ستونوں کے عکس اس فرش پر پڑتے ہيں تو ايسا معلوم ہوتا گويا سفيد براق پروں والے راج ہنسوں نے اپني لمبي لمبي گردنيں جھيل ميں ڈبو دي ہيں۔
بدھ کا شبھ دن اس بستي ميں آنے کے لئے مقرر کيا گيا۔ اس روز بستي کي سب بيسواؤں نے مل کر بہت بھاري نياز دلوائي۔ بستي کے کھلے ميدان ميں زمين کو صاف کرکے شامیانے نصب کردئيے۔ ديگيں کھڑکنے کي آواز اور گوشت اور گھي کي خوشبو بيس بيس کوس سے فقيروں اور کتوں کو کھينچ لائي۔ دوپہر ہوتے ہوتے پير کڑک شاہ کے مزار کے پاس جہاں لنگر تقسيم کيا جانا تھا اس قدر فقير جمع ہوگئے کہ عيد کے روز کس بڑے شہر کي جامع مسجد کے پاس بھي نہ ہوئے ہوں گے۔ پير کڑک شاہ کے مزار کو خوب صاف کرايا اور دھلوايا گيا۔ اور اس پر پھولوں کي چادر چڑھائي گي اور اس مست فقير کو نيا جوڑا سلوا کر پہنا يا گيا جسے اس نے پہنتے ہي پھاڑ ديا۔
شام کو شاميانے کے نيچے دودھ سي اجلي چاندني کا فرش کرديا گيا تھا۔ گاؤ تکيے لگا دئے گئے، پان دان، پيک دان، پيچوان اور گلاب پاش رکھ دئيے گئے اور راگ رنگ کي محفل سجائي گئي۔ دور دور سے بہت سی بيسواؤں کو بلوايا گيا۔ جوان کي سہیلياں يا برادري کي تھيں ان کے ساتھ ان کے بہت سے ملنے والے آئے۔ جن کيلئے ايک الگ شامانے ميں کرسيوں کا انتظام کيا گيا تھا۔ اور ان کے سامنے کے رخ چقيں ڈال دي گئيں۔ بے شمار گيسوں کي روشني سے يہ جگہ بقعہ نور بني ہوئي تھي۔ ان بيسواؤں کے توندل سياہ فام سازندے زربفت اور کمخواب کي شيروانياں پہنے عطر ميں بسے ہوئے پھوئے کانوں ميں رکھے ادھر ادھر مونچھوں کو تاؤں ديتے پھرتے۔ اور زرق برق لباسوں اور تتلي کے پر سے بھي باريک ساڑيون ميں ملبوس، غازوں اور خوشبوؤں سے بسی ہوئي نازنين انکھيوں سے چلتيں۔ رات بھر رقص و سرور کا ہنگامہ برپا رہا اور جنگل ميں منگل ہوگيا۔
دو تين دن کے بعد اس جشن کي تھکاوٹ اتر گئي تو يہ بيسوائيں سازو سامان کي فراہمي اور مکانوں کي آرائش ميں مصروف ہوگئیں۔ جھاڑ، فانوس، ظروف، بلوري قد آدم آئينے، نواڑي پلنگ، تصويريں اور قطعات سنہري چوکھٹوں ميں جڑے ہوئے لائے گئے اور قرينے سے کمروں ميں لگائے گئے۔ اور کوئي آٹھ روز ميں جاکر يہ مکان کيل کانٹے سے ليس ہوئے۔ يہ عورتيں دن کا بيشتر حصہ تو استادوں سے رقص و سرور کي تعليم لينے غزليں ياد کرنے، دھنيں بٹھانے، سبق پڑھنے، تختي لکھنے ، سينے پرونے، کاڑھنے گراموفون سننے، استادوں سے تاش اور کیرم کھيلنے، ضلع جگت، نوک جھونک سے جي بہلانے يا سونے ميں گزارتيں اور تيسرے پہر غسل خانوں ميں نہانے جاتيں۔ جہاں ان کے ملازموں نے دستي پمپوں سے پاني نکال نکال کر ٹب ميں بھر رکھے ہوتے ہيں۔ اس کے بعد وہ بناؤ سنگھار ميں مصروف ہوجاتيں۔
جيسے ہي رات کا اندھيرا پھيلتا۔ يہ مکان گيسوں کي روشني سے جگمگا اٹھتے جو جا بجا سنگ مر مر کےآدھے کھلے ہوئے کنولوں ميں نہايت صفائي سے چھپائے گئے تھے اور ان مکانوں کي کھڑکيوں اور دروازوں کے کواڑوں کے شيشے جو پھول پتيوں کي وضع کے کاٹ کر جڑے گئے تھے ان کي قوس قزح کے رنگوں کي سي روشنياں دور سے جھل مل کرتي ہوئي نہايت بھلي معلوم ہوتي۔ يہ بیسوائيں بناؤ سنگھار کئے برآمدے ميں ٹہلتي آس پاس واليوں سے باتيں کرتيں ہنستيں کھلکھلاتيں۔
جب کھڑے کھڑے تھک جاتي تو اندر کمرے ميں چاندني کے فرش پر گاؤ تکيے سے لگ کر بيٹھ جاتيں۔ ان کے سازندے ساز ملاتے رہتے اور يہ چھاليا کترتي رہتيں۔ جب رات ذرا بھيگ جاتي تو ان کے ملنے والے ٹوکروں ميں شراب کي بوتليں اور پھل پھلاري ليے اپنے دوستوں کے ساتھ موٹروں يا تانگوں ميں بيٹھ کر آتے۔ اس بستي ميں ان کے قدم رکھتے ہي ايک خاص گہما گہمي اور چہل پہلے ہونے لگتي۔ نغمہ و سازسرور کے ساتھ رقص کرتي ہوئي نازنينوں کے گھنگھروؤں کي آواز قلقل مينا ميں مل کر ايک عجيب سرور کي کيفيت پيدا کرديتي ہے- عيش و مستي کے ان ہنگاموں ميں معلوم بھي نہ ہوتا اور رات بیت جاتي۔
ان بيسواؤں کو اس بستي ميں آئے چند ہي روز ہوئے تھے کہ دکانوں کے کرايہ دار پيدا ہونے شروع ہوگئے۔ جن کا کرايہ اس بستي کو آباد کرنے کے خيال سے بہت کم رکھا گھا تھا۔ سب سے پہلے جو دکان دار آيا وہ بڑھيا تھي۔ جس نے سب سے پہلے مسجد کے سامنے درخت کے نيچے خوانچہ لگايا تھا۔ دوکان کو پر کرنے کيلئے بڑھيا اور اس کا لڑکا سگرٹوں کے بہت سے خالي ڈبے اٹھالائے اور انہيں منبر کے طاقوں ميں سجا کر رکھ ديا۔ بوتلوں ميں رنگ دار پاني بھر ديا گيا تاکہ معلوم ہو شربت کي بوتليں ہيں۔ بڑھيانے اپني بساط کے مطابق کاغذي پھولوں اور سگريٹ کي خالي ڈبيوں سے بنائي ہوئي بيلوں سے دکان کي کچي آرائش بھي کي۔ بعض ايکٹروں اور ايکٹریسوں کي تصويريں پرانے فلمي رسالوں سے نکال کر لئی سے ديواروں سے چپکا ديں۔ دوکان کا اصل مال دو تين قسم کے سگريٹ تين تین چار چار پيکٹوں، بيڑي کے آٹھ دس بنڈلوں، ديا سلائي کے نصف درجن ڈبيوں، پانوں کي ايک ڈھولي، پينے کے تمباکو کي تين چار ٹکياں اور موم بتي کے نصف بنڈل سے زيادہ نہ تھا۔
دوسري دوکان ميں ايک بنيا۔ تیسری ميں حلوائي اور شير فروش، چوتھي ميں قصائي، پانچويں ميں کبابي اور چھٹي ميں کنجڑا آبسے۔ کنجڑا آس پاس کے ديہات سے سستي داموں چار پانچ قسم کي سبزياں لے آتا اور يہاں خاصے منافعے پر بيچ ديتا۔ ايک آدھ ٹوکرا پھلوں کا بھي رکھ ليتا چونکہ دوکان خاصي کھلي تھي ايک پھول والا اس کا ساجھي بن گيا، وہ دن بھر پھولوں کے ہار گجرے اور طرح طرح کے گہنے بناتا اور شام کو انہيں چنگير ميں ڈال کر ايک ايک مکان ميں لے جاتا اور نہ صرف پھول ہي بيچ آتا بلکہ ہر جگہ ايک ايک دو دو گھڑي بيٹھ کے سازندوں سے گپ شپ بھي ہانک ليتا۔ اور حقے کے دم بھي بھرتا۔ جس دن تماش بينوں کي کوئي ٹولي اس کي موجودگي ميں ميں کوٹھے پر چڑھ آتي اور گانا بجانا شروع ہوجاتا تو وہ سازندوں کے ناک بھوؤں چڑھانے کے باوجود بھي اٹھنے کا نام نہ ليتا۔ مزے سے گانے پر سردھنتا اور بيوقوفوں کي طرح ايک ايک کي صورت تکتا رہتا۔ جس دن رات زيادہ گزر جاتي اور کوئي ہار بچ جاتا تو اسے اپنے گلے ميں ڈال ليتا اور بستي کے باہر گلا پھاڑ پھاڑ کر گاتا پھرتا۔
ايک دکان ميں ايک بيسوا کا بھائي اور باپ جو درزيوں کا کام جانتے تھے سينے کي ايک مشين رکھ کر بيٹھ گئے۔ ہوتے ہوتے ايک حجام بھي آگيا اور اپنے ساتھ ايک رنگريز کو بھي ليتا آيا۔ اسکي دوکان کے باہر الگني پر لٹکے ہوئے اس طرح کے رنگوں کے لہريا دوپٹے ہوا ميں لہراتے ہوئے آنکھوں کو بہت بھلے معلوم ہونےلگے۔
چند ہي روز گزرے تھے کہ ايک ٹٹ پونجئيے بساطي جس کي دکان شہر ميں چلتي نہ تھي بلکہ اس دکان کا کرايہ نکالنا بھي مشکل ہوجاتا تھا نے شہر کو خيرباد کہہ کر اسي بستي کا رخ کي۔، يہاں اسےہاتھوں ہاتھ ليا گیا اور طرح طرح کے لوّنڈر، قسم قسم کے پاوڈر، صابن، کنگھياں بٹن سوئي دھاگا، ليس، فيتے، خوشبودار تيل رومال منجن وغيرہ کي خوب بکري ہونے لگي۔
اس بستي کے رہنے والوں کی سرپرستي اور ان کے مربيانہ سلوک کي وجہ سے اس طرح دوسرے تيسرے کوئي نہ کوئي ٹٹ پونچھيا دکان دار کوئي بزاز کوئي پنساري، کوئي نيچہ بند، کوئي نانبائي مندے کي وجہ سے يا شہر کے بڑھے ہوئے کرايوں سے گھبرا کر اس بستي ميں آ پناہ ليتا۔
ايک بڑے مياں عطار جو حکمت میں بھي کس قدر دخل رکھتے تھے۔ انکا جي شہر کي گنجان آبادي سے گھبرايا تو وہ اپنے شاگردوں کو ساتھ لے شہر سے اٹھ آئے اسي بستي ميں ايک دوکان کرائے پر لي۔ ہر روز صبح کو بيسواؤں کے ملازم گلاس لے لے کر۔ آموجود ہوتے اور شربت بزوري، شربت بنفشہ، شربت انار اور ويسے ہي فرحت بخش روح افزا شربت و عرق خمیرہ گاؤ زبان اور تقويت پہنچانے والے مربے مع ورق ہائے نقرہ لے جاتے۔
جو دکانيں بچ رہيں ان ميں بيسواؤں کے بھائي بندوں اور سازندوں نے اپني چار پائياں ڈال ديں۔ دن بھر يہ لوگ ان دکانوں ميں تاش چوسر اور شطرنج کھيلتے بدن پر تيل ملواتے۔ سبزي گھوٹتے، بٹیروں کي پالياں کراتے تيتروں سے سبحان تيري قدرت کي رٹ لگواتے اور گھڑا بجا بجا کر گاتے۔
ايک بيسوا کے سازندے نے ايک دوکان خالي ديکھ کر اپنے بھائي کو جو ساز بنانا جانتا تھا اس ميں لا بٹھايا۔ دوکان کي ديوار کے ساتھ ساتھ کيليں ٹھونک کر ٹوٹي پھوٹي مرمت طلب سارنگياں، ستار، طنبورے، دل ربا وغيرہ ٹانک کر لٹکا دئيے۔ يہ شخص ستار بجانے ميں بھي کمال رکھا تھا۔ شام کو وہ اپني دکان ميں ستاربجاتا جس کي ميٹھي آواز سن کر آس پاس کے دوکان دار آجاتے اور دير تک بت بنے سنتے رہتے۔ اس ستار نواز کا ايک شاگرد تھا جو ريلوے کے دفتر ميں کلرک تھا۔ اسے ستار سيکھنے کا بہت شوق تھا جيسے ہي دفتر سے چھٹي ہوتي سيدھا اڑتا ہوا اس بستي کا رخ کرتا اور گھنٹہ ڈيڑھ گھنٹہ بيٹھ کر مشق کيا کرتا۔ غرض اس ستار نواز کے دم سے بستي ميں خاصي رونق رہنے لگي۔
مسجد کے ملاجي جب تک يہ بستي زير تعمير ہي رات کو ديہات ميں اپنے گھر چلے جاتے رہے۔ مگر اب کہ انہيں دونوں وقت مرغن کھانا بافراط پہنچنے لگا تو وہ رات کو بھي يہيں رہنے لگے۔ رفتہ رفتہ بيسواؤں کے گھروں سے بچے بھي مسجد ميں آنے لگے جس سے ملا جي کو روپے پيسے کي آمدني ہونے لگي۔ ايک شہر شہر گھومنے والي گھٹيا درجہ کي تھيڑ يکل کمپني کو جب زمين کے چڑھے ہوئے کرائے اور اپني بے مانگي کے باعث شہر ميں کہيں جگہ نہ ملي تو اس نے اس بستي کا رخ کيا۔ اور بيسواؤں کے مکانوں کے کچھ فاصلے پر ميدان ميں تنبوں کھڑے کرکے ڈيرے ڈال دئيے۔ اس کے ايکٹر اداکاري کے فن سے نا بلد تھے۔ ان کے ڈريس پھٹے پرانے تھے۔ جن کے بہت سے ستارے جھڑ چکے تھے اور يہ لوگ تماشے بھي بہت پرانے اور دقيانوسي دکھاتے تھے۔ مگر اس کے باوجود کمپني چل نکلي۔ اس کي وجہ تھي کہ ٹکٹ کے دام بہت کم تھے۔ شہر کے مزدوري پيشہ لوگ کا رخانوں ميں کام کرنے والے غريب غربا جو دن بھر کي کڑي محنت و مشقت کي کسر شور و غل، خرمستيوں اور ادنٰي عياشيوں سے نکالنا چاہتے تھے۔ پانچ پانچ چھ چھ کي ٹولياں بناکر گلے ميں پھولوں کے ہار ڈالے ہنستے بولتے، بانسرياں اور الغوزہ بجاتے راہ چلتيوں پر آوازيں کستے ۔ گالي گلوچ کرتے شہر سے پيدل چل کر تھيڑ ديکھنے آتے اور لگے ہاتھون بازار حسن کي بھي سير کرجاتے۔ جب تک ناٹک شروع نہ ہوتا تھيڑ کا ایک مسخرہ تنبو کے باہر ايک اسٹول پر کھڑا کبھي سر ہلاتا ، کبھي منہ پھلاتا ، کبھي آنکھيں مٹکاتا، عجيب حيا سوز حرکتيں کرتا جنہيں ديکھ کر لوگ زور زور سے قہقہے لگاتے اور گاليوں کي صورت ميں داد ديتے۔
رفتہ رفتہ دوسرے لوگ بھي اس بستي ميں آنے لگے چناچہ شہر کے بڑے بڑے چوکوں ميں تانگے والے صدائيں لگانے لگے، آؤ کوئي نئي بستي کو شہر سے پانچ کوس تک جو پکي سڑک تھي۔ اس پر پہنچ کر تانگے والے سواريوں سے انعام حاصل کرنے کے لالچ ميں يا ان کي فرمائش پر تانگوں کي دوڑيں کراتے۔ منہ سے ہارن بجاتے۔ اس دوڑ ميں غريب گھوڑوں کا برا حال ہوجاتا ہے ان کے گلے ميں پڑے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے بجائے خوشبوؤں کے پسينے کي بدبو آنے لگتي۔ رکشا والے تانگوں والوں سے کيوں پيچھے رہتے۔ وہ ان سے کم داموں پر سوارياں بٹھا طرارے بھرتے اور گھنگھروں بجاتے اس بستي کو جانے لگے۔ علاوہ ازيں ہر ہفتے کي شام کو اسکولوں کالجوں کے طلبہ ايک ايک سائيکل پر دو دو لد جوق در جوق اس پر اسرار بازار کي سير کرنے آنے جس سے ان کے خيال کے مطابق ان کے بڑوں نے خواہ مخواہ محروم کرديا تھا۔
رفتہ رفتہ اس بستي کي شہرت چاروں طرف پھيلنے اور مکانوں اور دکانوں کي مانگ ہونے لگي۔ کئي عورتوں نےتو جھٹ زمين خريد کر ان بيسوائوں کے ساتھ ساتھ وضع قطع کے مکان بنوانے شروع کئيے، علاوہ ازيں شہر کے بعض مہاجنوں نے بھي اس بستي کے آس پاس سستے داموں زمنيں خريد خريد کر کرايہ پر اٹھانے کيلئے چھوٹے چھوٹے کئي مکان بنواڈالے نتيجہ يہ ہوا کہ وہ فاحشہ عورتيں جو ہوٹلوں ميں شريف محلوں ميں روپوش تھيں، مور ملخ کي طرح اپنے نہاں خانوں سے باہر نکل آئيں اور ان مکانوں ميں آباد ہوگئيں۔ چھوٹے مکانوں ميں اس بستي کے وہ دوکان دار آبسے جو عيال دار تھے اور رات کو دکان ميں سو نہ سکتے تھے۔
اس بستي ميں آبادي تو خاصي ہوگئي تھي مگر اب بھي بجلي کي روشني کا انتظام نہيں ہوا تھا۔ چنانچہ ان بيسواؤں اور بستي کے تمام رہنے والوں کي طرف سرکار کے پاس بجلي کيلئے درخواست بھيجي گئي تھي جو تھوڑے دنوں بعد منظور کرلي گئي۔ اس کے ساتھ ہي ايک ڈاک خانہ بھي کھول ديا گيا۔ ايک بڑے مياں ڈاک خانے کے پاس ايک صندوقچے ميں لفافے کارڈ اور قلم دوات رکھ کر بستي کے لوگوں کے خط پتر لکھنے لگے۔
ايک دفعہ بستي ميں شرابيوں کي دو ٹوليوں ميں فساد ہوگيا۔ اس ميں سو ڈا واٹر کي بوتليں چاقوں اور اينٹوں کا آزادانہ استعمال کيا گيا اور کئي لوگ سخت مجروح ہوئے اس پر سرکار کو خيال آيا کہ اس بستي ميں ايک تھانہ بھي کھول دنيا چاہئيے۔
تھيٹريکل کپمني دو مہينے تک رہي اور اپني بساط کے مطابق خاصا کمانے لگي۔ اس پر شہر کے ايک سنيما کے مالک نے سوچا کہ کيوں نہ اس بستي ميں سنيما کھول ديا جائے۔ يہ خيال آنے کي دير تھي کہ اس نے جھٹ ايک موقع کي جگہ چن کر خريد لي اور جلد از جلد تعمير کا کام شروع کراديا۔ چند ہي مہينوں ميں سنيما ہال تيار ہوگيا۔ اس کے باہر ايک چھوٹا سا باغيچہ بھي لگوايا گيا تاکہ تماشائي اگر بائيکسوپ شروع ہونے سے پہلے آجائيں تو آرام سے باغيچہ ميں بيٹھ سکيں۔ ان کے ساتھ بستي کے لوگ يوں ہي سستانے يا سیر ديکھنے کي غرض سے آکے بيٹھنے لگے۔ يہ باغيچہ خاصا سيرگاہ بن گيا۔ رفتہ رفتہ سقے کٹوار بجاتے اس باغيچے ميں آنے اور پياسوں کي پياس بھجانے لگے۔ سر کے تيل مالش والے نہاہت گھٹيا قسم کے تيز خوشبودار تيل کي شيشياں واسکٹ کي جيبيوں ميں ٹھونسے کاندھے پر ميلا کچيلا توليہ ڈالے، دل پسند بہار مالش کي صدا لگاتے درد سر کے مريضوں کو اپني خدمات پيش کرنے لگے۔ سنيما کے مالک نے سنيما ہال کي عمارت کي بيروني جانب دو ايک مکان اور کئي دوکانيں بھي بنوائيں، مکان ميں تو ہوٹل کھل گيا جس ميں رات کو قيام کرنے کيلئے کمرے بھي مل سکتے تھے، اور دکانوں ميں ايک سوڈا واٹر کي فيکٹري والا ايک فوٹو گرافر۔ ايک سائيکل مرمت والا، ايک لانڈري والا، دو پٹواري، ايک بوٹ شاپ والا، اور ايک ڈاکٹر مع اپنے دواخانہ کے آرہے، ہوتے ہوتے پاس ہي ايک دکان ميں کلال خانہ کھلنے کي اجازت مل گئي۔ فوٹو گرافر کي دکان کے باہر ايک کونے ميں ايک گھڑي ساز نے آڈيرا جمایا اور ہر وقت محب شيشہ آنکھ پر چڑھائے گھڑيوں کے کل پُرزوں پر غلطاں و پیچاں رہنے لگا۔
اس کے کچھ ہي دنوں بعد بستي ميں، نل، روشني اور صفائي کا باقاعدہ انتظام کي طرف توجہ کي جانے لگي۔ سرکاي کارندے، سرخ جھنڈياں، جريبيں اور اونچ نيچ ديکھنے والے لے لے کر آن پہنچے اور ناپ ناپ کر سڑکوں اور گلي کوچوں کي داغ بيل ڈالنے لگے اور بستي کي کچي سڑکوں پر سڑک کوٹنے والا انجن چلنے لگا۔
اس واقعہ کو بيس برس گزر چکے ہيں يہ بستي ايک بھرا ہوا شہر بن چکا ہے، جس کا اپنا ريلوے اسٹيشن اور ٹاؤن ہال بھي، کچہري بھي اور جيل خانے بھي آباي ڈھائي لاکھ کے لگ بھگ شہر ميں ايک کالج دوہائي اسکول ايک لڑکوں کيلئے ايک لڑکيوں کيلئے اور آٹھ پرائمري اسکول ہيں جن ميں ميونسپلٹي کي طرف مفت تعليم دي جاتي ہے، چھ سنيما ہيں اور چار بنک جن ميں سے دو دنيا کے بڑے بڑے بينکوں کي شاخیں ہيں۔
شہر سے دور روزانہ تين ہفتہ وار دس ماہانہ رسائل و جرائد شاع ہوتے ہيں ان ميں چار ادبي دو اخلاقي و معاشرتي و مذہبي، ايک صنعتي، ايک طبي ايک زنانہ ايک بچوں کي رسالہ ہے، شہر کے مختلف حصوں ميں دو مسجديں، پندرہ مندر اور دھرم شالے، چھ يتيم خانے، پانچ اناتھ آشرم اور تين بڑے سرکاري ہسپتال ہيں جن ميں ايک صرف عورتوں کيلئے مخصوص ہے۔
شروع شروع ميں کئي سال تک يہ شہر اپنے رہنے والوں کي مناسبت سے حُسن آباد، کے نام سے موسم کيا جاتا رہا مگر بعد ميں اسے نا مناسب سمجھ کر اس ميں تھوڑي سي ترميم کر دي گئي يعني بجائے حَسن آباد کہلانے لگا مگر يہ نام چل نہ سکا کيوں کہ عوام حُسن اور حَسن ميں کچھ امتياز نہ کرتے۔ آخر بڑي بڑي بوسيدہ کتابوں کي ورق گرداني اور پرانے نوشتوں کي چھان بين کے بعد اس کا اصلي نام دريافت کيا گيا جس سے يہ بستي آج سے سيکڑوں برس اجڑنے سے پہلے موسوم تھي اور وہ نام ہے آننندي۔
يوں تو سارا شہر بھر صاف ستھرا اور خوشنما ہے مگر سب سے بارونق اور تجارت کا سب سے بڑا مرکز وہي بازار ہے جس ميں زنان بازاري ہوتي ہے۔
آنندي کے بلديہ کا اجلاس زوروں پر ہے، ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے اور خلاف معمول ايک ممبر بھي غير حاضر نہیں بلديہ کے زير بحث مسئلہ يہ ہے کہ زنان بازار کو شہر بدر کرديا جائے۔ کيوں کہ ان کا وجود انسانيت اور شرافت اور تہذيب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔ ايک فصيح البيان مقرر تقریر کر رہے ہيں ،،معلوم نہيں وہ کيا مصلحت تھي جس کے زير اثر اس ناپاک طبقے کو ہمارے اس قديمي تاريخي شہر کے عين بيچوں بيچ رہنے کي اجازت دے دي گئي۔،،
اس مرتبہ ان عورتوں کے رہنے کيلئے جو علاقہ منتخب کيا گيا وہ شہر سے بارہ کوس دور تھا۔
____________

غزل

نیند کی گولی تھی کافی ساتھ تھی 
خواب بھی تھے  اور  رسی ساتھ تھی 

تم نہیں تھے ساتھ پر تم ساتھ تھے
جل رہا تھا موم بتی ساتھ تھی 

اشک تھے لیکن ہمارے دل میں تھے 
تیز بارش تھی سو چھتری ساتھ تھی 

یہ جو پتے اڑ رہے ہیں پارک میں
اس جگہ وہ سبز لڑکی ساتھ تھی 

رنگ میرے پاس تھا خوشبو بھی تھی
کچھ گھڑی پہلے بھی تتلی ساتھ تھی۔

نسیم خان
___________
غزل (غیرمطبوعہ)

ملبوسِ نو بدن سے اتارا ہوا لگا
مجھ کو ہرایک لمحہ گزارا ہوا لگا

لگتا تھا میرے بعد اجڑ جائے گا مگر
یہ شہر تو کچھ اور سنوارا ہوا لگا

دل سے نہیں تو مصلحتاً ہی سہی مگر
اب اس کو میرا ساتھ گوارا ہوا، لگا

دنیا کے مشورے پہ لگایا حسابِ عمر
کارِ جنوں میں کچھ تو خسارا ہوا، لگا

بستر سے چونک چونک کر اٹھنا تمام رات
یہ عشق کا مرض بھی دوبارا ہوا، لگا

دریا کی موج کھینچ رہی تھی تو چپ رہا
اب کے مرے خلاف کنارا ہوا، لگا

سوچا تھا میرے بعد وہ مرجھا ہی جائے گا
بادِ صبا سے وہ تو نکھارا ہوا لگا

کل شب جو کوئے دل زدَگاں میں گیا سلیم
ہراک مکاں سے کوئی اشارا ہوا، لگا
......................................

Friday, 12 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*نئے تعــــــزیہ گھر کا افتتـــــاح*

الحمدللہ مورخہ 12ستمبـــر بروز جمعہ بعد نماز جمعہ دوپہر میں ٹھیک ساڑھے تین بجے نئے تعــــــزیہ گھر کا افتتـــــاح مالیگاؤں مونسپل کارپوریشن کے کمشنر *سری روینــ۔۔۔۔۔در جادھو صاحب* کے ہاتھوں سے ہوگا 
اس پروگرام کی صدارت *محترم جناب مختـ۔۔۔۔۔ــار احمد صفوی* صاحب فرمائیں گے
مہمان خصوصی 
عبد المـــ۔۔۔۔۔۔۔ــاجــ۔۔۔۔ــد شکاری اشرفی صاحب 
پوار واری پولیس اسٹیشن کے پی آئے سری خطــ۔۔۔۔۔۔۔ــاڑ صاحب 

قلعہ پولیس اسٹیشن کے پی آئے سری سدھـ۔۔۔۔۔۔ــیر پاٹل صاحب 
جاوید سیٹھ زمین والے
صوفی اسمعیل قدیری صاحب 
صوفی مختار شمسی صاحب 
صوفی نفیس احمد شمشی صاحب 
صوفی رضوان چشتی صاحب 
بشـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــیراحمد نبی پہلوان ، کیول اپا اہیرے (امن کمیٹی)
دعائے بدست 
حافظ *شبـ۔۔۔۔۔۔۔ـیر احمد اشرفی صاحب (خطیب و امام امام حسین عیدگاہ)*

تمام *ہی عاشقان اہل بیت و تعزیہ* *دران سے گزارش ہے کہ وقت کا خاص خیال رکھتے ہوئے تعزیہ گھر پہنچنے کی کوشش کریں*
الداعی / *شہر تعزیہ کمیٹی مالیگاؤں*
جموں کشمیرکے سیلاب متاثرین کے لیے نیوز18 جے کے ایل ایچ کی خصوصی مہم ، حکومت تک پہنچے گی متاثرین کی آواز

بارش اور سیلاب سے مرکز کےزیرانتظام علاقےجموں کشمیرمیں بھاری تباہی ہوئی ہے۔ بادل پھٹنے،لینڈ سلائڈنگ اوربارش سے جڑے مختلف حادثات میں متعددہلاکتیں ہوئیں ہیں۔

کئ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔گھروں، مویشیوں کے شیلٹر س بھی تباہ ہوئے ہیں ۔ فصلوں اور زرعی اراضی کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے ۔

کاشت کار،باغبان اورزرعی شعبے سے وابستہ افراد پریشان ہیں ۔

متاثرین کی آواز ارباب اقتدارتک پہنچانے کی نیوز18 جے کے ایل ایچ نے مہم شروع کی ہے۔

اگر آپ بھی سیلاب متاثرہ ہیں اوراپنی بات NEWS18 JKLH کےتوسط حکومت تک پہنچانا چاہتے ہیں تو ہمیں فون کال ،میسیج اور وائس ایپ کریں ۔ہیلپ لائن نمبر 8588807143ہے۔
کیا کوئی بڑا خطرہ یا وبا آنے والی ہے؟ وزارت صحت نے ریاستوں کو کیوں کیاالرٹ ؟

ملک میں شدید بارش کے سبب کئی ریاستیں پہلے ہی سیلاب کی زد میں ہیں ۔ مرکزی حکومت کے علاوہ ریاستی حکومتیں بھی اس آفت سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔ تاہم اب ایک بار پھر وزارت صحت کی جانب سے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ایڈوائزری جاری کی گئی ہے اور انہیں ذاتی سطح پر بھی الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر کوئی بڑا خطرہ آنے والا ہے یا کورونا جیسی وبا پھیل رہی ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

جمعرات کو وزارت صحت نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ایک ایڈوائزری جاری کر کے آئندہ مہینوں میں الرٹ رہنے کو کہا ہے۔ اس دوران، تمام ریاستوں کو ڈینگو اور ملیریا کے خلاف احتیاطی تدابیر کرنے اور کمیونٹی سطح پر بیداری بڑھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یہ حکم 11 ستمبر کو وزیر صحت جے پی نڈا کے ذریعہ ملک میں ڈینگو ملیریا کے معاملات کی جائزہ میٹنگ کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ذاتی طور پر صورتحال کا معائنہ کرنے اور 20 دنوں کے اندر ایکشن پلان تیار کرنے کو کہا گیا ہے۔ بلدیاتی اداروں، میونسپل کارپوریشنوں اور نگر پنچایتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ عام لوگوں میں بیداری پھیلائیں۔ اتنا ہی نہیں ، مرکزی حکومت کے تحت تمام سرکاری اسپتالوں میں مناسب ادویات، جانچ کی سہولیات، بستر اور مچھروں سے پاک ماحول تیار کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

خاص طور پر دہلی۔این سی آر میں ڈینگو اور ملیریا کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہوئی ہےتاکہ آنے والے دنوں میں ان بیماریوں کی تباہ کاریوں کو روکا جا سکے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ بارش کے موسم میں پانی بھر جانے کی وجہ سے مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے۔ یہ مچھر ہر سال ڈینگو، ملیریا، چکن گنیا جیسی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں ۔ تاہم وزارت صحت نے کہا کہ ہندوستان نے ملیریا پر قابو پانے میں کافی پیش رفت کی ہے۔ سال 2015 اور 2024 کے درمیان ملک میں ملیریا کے کیسز میں 78 فیصد کمی آئی ہے، یہی نہیں ملیریا سے ہونے والی اموات میں بھی فرق آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2022 سے 2024 کے درمیان ملک کے 160 اضلاع میں ملیریا کا ایک بھی مریض نہیں ملا۔ جبکہ 33 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایک سے بھی کم معاملے سامنے آئے ہیں ۔ ہندوستان نے 2030 تک ملک کو ملیریا سے پاک بنانے کا ہدف طے کیا ہے۔
جموں و کشمیر : ڈوڈہ میں مسجد کے پاس دھماکہ، دو مشتبہ حراست میں، علاقہ میں خوف و ہراس

جموں و کشمیر کے ڈوڈا ضلع میں جمعرات کو ایک مشتبہ دھماکے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ۔ دھماکہ ڈوڈہ شہر کے علاقے ڈومری محلہ میں ہوا جو جامع مسجد کے قریب ہے ۔ پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور دو افراد کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق دھماکا جاوید احمد اور مظفر احمد کے گھر کے اندر ہوا ۔ اچانک دھماکے سے گھر میں افراتفری مچ گئی ۔ مقامی لوگوں نے خوفزدہ ہوکر فوری پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ممکنہ طور پر دھماکے میں خام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ پولیس نے فرانزک ٹیم کو موقع پر بلایا ہے جو جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ جانچ کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ دھماکے کی اصل وجہ کیا تھی

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈوڈہ پولیس کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کر دی۔ فرانزک ماہرین دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کی نوعیت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں اب تک دو افراد کو حراست میں لیا ہے ۔ دونوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جانچ مکمل ہونے تک کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا تاہم کیس کی تمام زاویوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔
دھماکہ مسجد کے قریب ہونے سے پورے علاقے میں خوف کی فضا ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ شاید یہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہو۔ تاہم پولیس نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

Thursday, 11 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

سی پی رادھا کرشنن نے نائب صدر کی حیثیت سے لیاحلف، صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے دلایا حلف ، ملک کے 15ویں نائب صدربنے
سی پی رادھا کرشنن نے نائب صدرجمہوریہ کے عہدے کا حلف لے لیا ہے۔اس طرح وہ15ویں نائب صدر بن گئےہیں۔راشٹرپتی بھون میں ، صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے رادھاکرشنن کو عہدے کا حلف دلایا۔

حلف برداری تقریب میں پرائم منسٹر نریندرمودی، وزیرداخلہ امت شاہ اور جے پی نڈا موجود تھے۔اس موقع پر ،سابق صدر رام ناتھ کووند کے ساتھ سابق نائب صدر وینکیا نائیڈو اور جگدیپ دھنکھر بھی موجود تھے۔جگدیپ دھنکھر جولائی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد پہلی بار کسی عوامی تقریب میں نظر آئے ہیں۔

منگل کے روز نائب صدر کے لئے ہوئے انتخاب میں این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن نے کامیابی حاصل کی۔ رادھاکرشنن نے 452 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف بی سدرشن ریڈی کو 300 ووٹ ملے۔

اس طرح انھوں نے مدمقابل حریف بی سدرشن ریڈی کوبڑے فرق سے زیر کیا۔

انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد عوامی سطح پر اپنی پہلی بات چیت میں نو منتخب نائب صدر نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے اس انتخاب کو نظریاتی جنگ قرار دیا تھا، لیکن ووٹنگ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوم پرستی کا نظریہ کامیاب ہوا ہے۔
معمولی سی بات پرامریکہ میں ہندوستانی نژاد چندرمولی ناگاملیا کا قتل ،خراب واشنگ مشین استعمال کرنے سے روکا توملزم کو آیا غصہ

امریکہ کے ڈلاس سے بُری خبر ہے۔یہاں ہندوستانی نژادچندرمولی ناگاملیا کا ایک موٹل میں قتل کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق 10 ستمبر کی صبح ہندوستانی نژاد 50 سالہ چندرمولی ناگاملیا کو ایک موٹل میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔اُن حملہ ان کے اہل خانہ کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ ناگاملیا کا تعلق کرناٹک سے بتایا جاتا ہے ۔

یہ واقعہ ڈلاس کے ڈاون ٹاؤن سویٹس موٹل میں پیش آیا، جو انٹر اسٹیٹ-30 ہائی وے کے قریب ٹینیسن گولف کورس کے قریب ہے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی ہے جس میں مقتول کا سر کار پارکنگ میں لڑھکتا ہوا دیکھا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق موٹل میں کام کرنے والے 37 سالہ یوردانس کونوس ماٹینیز کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وہ بغیر ضمانت کے جیل میں ہے۔ اس کے خلاف امیگریشن ڈیٹینر بھی جاری کیا گیا ہے۔

پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے سے کچھ وقت پہلے ناگاملیا نے ملزم اور اس کی خاتون ساتھی سے کہا تھا کہ وہ موٹل کی خراب واشنگ مشین استعمال نہ کریں۔ انھوں نے یہ بات خاتون ملازم کو بتائی اور اس کا ترجمہ کروایا۔ اس پر ملزم بھڑک گیا اور بحث بڑھتی چلی گی۔

بتایا جاتا ہے کہ ملزم اچانک کمرے سے باہر آیا اور ہتھیار سے ناگاملیا پر حملہ کر دیا۔ متاثرہ شخص مدد کے لیے باہر بھاگا لیکن ملزم نےپارکنگ تک اس کا پیچھا کیا۔ اس دوران ،ناگاملیا کی بیوی اور بیٹا بھی باہر آئے اور مداخلت کرنے کی کوشش کی لیکن ملزمین نے انہیں دھکیل دیا اور حملہ جاری رکھا۔
موقع پر موجود لوگ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ واقعے کے فوری بعد ڈیاس فائر ریسکیو ٹیم وہاں پہنچی اور خون میں لت پت ملزم کا پیچھا کیا۔ کچھ دیر بعد پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ حملہ منصوبہ بند تھا یا غصے میں کیا گیا۔
سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست دہلی کی عدالت نے مسترد کردی
سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست مسترد
دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو کانگریس کی سینئر رہنما اور سابق صدر سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ایک عرضی کو مسترد کر دیا۔ اس عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں دہلی کے ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، جبکہ اس وقت وہ بھارتی شہری نہیں تھیں۔

درخواست وکاس ترپاٹھی نامی شکایت گزار نے دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سونیا گاندھی کا نام جنوری 1980 میں نئی دہلی اسمبلی حلقہ کے ووٹر لسٹ میں درج ہوا، جبکہ وہ 1983 میں بھارتی شہریت حاصل کرنے کے بعد ہی اس کی اہل تھیں۔

شکایت گزار کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ پون نرنگ نے عدالت میں کہا کہ بھارتی شہریت حاصل کیے بغیر کوئی بھی شخص ووٹر نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ووٹر لسٹ میں سونیا گاندھی کا نام شامل ہونا جعلسازی اور عوامی اداروں کے ساتھ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا


پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، نرنگ نے عدالت میں یہ دلیل بھی دی کہ 1980 میں رہائش ثابت کرنے کے لیے راشن کارڈ یا پاسپورٹ جیسے دستاویزات درکار ہوتے تھے۔ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سونیا گاندھی کے نام کو کس بنیاد پر ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا، جبکہ اس وقت وہ شہری نہیں تھیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ 1982 میں الیکشن کمیشن نے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا تھا۔ اسی سال سنجے گاندھی کا نام بھی ان کی فضائی حادثے میں موت کے بعد حذف کیا گیا۔ نرنگ نے دلیل دی کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندراج میں کوئی بے ضابطگی موجود تھی۔ بعد ازاں 1983 میں بھارتی شہریت حاصل کرنے کے بعد سونیا گاندھی کا نام دوبارہ لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔

نرنگ نے کہا:
’’نام حذف کرنے کی وجہ کہیں درج نہیں۔ اس کی دو ہی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں: یا تو کسی نے دوسری ملک کی شہریت حاصل کر لی ہو، یا پھر فارم نمبر 8 جمع کرایا گیا ہو (جس کے تحت ووٹر لسٹ کی تفصیلات میں اصلاح کی جاتی ہے)، مگر اس کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ متعلقہ شخص بھارتی شہری ہو۔‘‘

انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ:
’’آخر 1980 میں جب سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تو الیکشن کمیشن کو کون سے دستاویزات جمع کرائے گئے تھے؟‘‘

یہ عرضی بھارتیہ نگریِک سرکشا سنہیتا (Bharatiya Nagarik Suraksha Sanhita) کی دفعہ 175(4) کے تحت دائر کی گئی تھی، جس کے مطابق مجسٹریٹ پولیس کو تحقیقات کا حکم دے سکتا ہے۔ شکایت گزار نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور مبینہ جعلسازی کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ج

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*سرمایہ داروں کی تنظیم کے خلاف مزدور یونین کا تھر نہ اندولن*

*12 ستمبر* 
*ں کی وز جمعہ کو کلیکٹر افس پہ مزدور یونین کا زبردست دھرنا*

مالیگاؤں شہر کے مزدوروں کےلے ھمیشہ لڑنے والی مزدور یونین 
مالیگاؤں تعلقہ سائزنگ اور جرنل کامگار یونین پچھلے دو سال سے سرمایہ داروں کی تنظیم کے خلاف۔ مالیگاؤں لیبر افس اور کلیکٹر افس میں پیپر کی لڑائی لڑ رہی تھی
جس کا مقصد تھا کہ مالیگاؤں شہر کے سرمایہ دار راؤنڈ ٹیبل میٹنگ میں بیٹھ کر مالیگاؤں کے مزدوروں کی مزدوری پر بات چیت کرے تاکہ ان کی مزدوری بڑھ سکے
لیکن کئی بار نوٹس بھیجنے کے بعد بھی تنظیم کے نمائندوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی میٹنگ میں حاضر ہوئے 
اس لیے اب یہ لڑائی مالیگاؤں تعلقہ سائزنگ کو جنرل کامگار یونین روڈ پر اتر کر لڑے گی 
پہلا اندولن 12 ستمبر بروز جمعہ صبح 10 بجے سے پانچ بجے تک کلیکٹر افس پر ہوں گا 
انشاءاللہ یہ دھرنا مزدوروں کی اواز بند کر انتظامیہ تک ان کے مسائل پہنچائے گا 
یونین کے صدر اشفاق سائزر نے مزدوروں کو اس اندولن کو اپنا اندولن سمجھ کر زبردست کامیاب کرنے کی گزارش کی ہیں 
یاد رہے جمہوریت میں تعداد کو دیکھا جاتا ہے
اس اندولن کو بھارت کی سب سے مضبوطی مزدور یونین سیٹو مزدور یونین نے حمایت دی ہے 
سیثو مزدور یونین کے تعلقہ سیکرٹری کامریڈ اظھر خان نے بتایا چونکہ یہ اندولن غیر سیاسی ہے اور کسی بھی سیاسی پارٹی سے اس اندولن کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور یہ اندولن صرف مزدوروں کے پلیٹ فارم سے مزدوروں کے لیے ہو رہا ہے اس لیے سیٹو یونین نے اسے حمایت دی ہے 
اخر میں اشفاق سائزر نے بتایا کہ اس اندولن میں کس وان کی مزدوری کتنی ہونی چاہیے تراسن والوں بکا کتنی ہونی چاہیے سائزنگ میں کام کرنے والے وار پر سائزر بھیگاری کی پکار کا کیا حساب ہوا گا
ان ساری باتوں پر کلیکٹر سے بات چیت کی جائے گی اور سرمایہ داروں کے اوپر پریشر بنانے کی مانگ کی جائے گی 
سیٹو یونین کے رمیش جگتاپ نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی لڑائی صرف مزدور یونین ہی لڑ سکتی ہے کوئی سیاسی پارٹی مزدوری کی لڑائی ایمانداری سے نہیں لڑی گی کیونکہ اسے سرمایہ داروں کی بھی ووٹ چاہیے ہوتی ہے 
اخر میں مالیگاؤں تعلقہ شائزنگ جرنل کامگار یونین کے ذمہ دار جنید شاہ اور اندولن کو حمایت دینے والے سب رنگ جابر یونین / امن کٹھنی سنگھٹنا اور سیٹو یونین نے مزدوروں سے اس اندولن میں بڑی تعداد میں شامل ہونے کی گزارش کی ہے یاد رہیے یہ اندرون آنے والے جمعہ 12 ستمبر صبح 10 بجے سے شام پانچ بجے تک ایڈیشنل کلیکٹر افس پر ہوگا
اپیل گردہ 
مالیگاؤں کی تمام غیر سیاسی مزدور
 یونین
*لو..... اب جمیل کرانتی و کانگریس مجلس عاملہ کو پھر سے پریس کانفرنس لیکر صفائی دینا پڑ سکتی ہے۔* 

*کانگریس کے اعجاز بیگ اور سماجوادی پارٹی کے ترجمان انیس مستری کے مابین گالی گلوچ اور ہنگامہ* 

*معاملہ رہبر کوچنگ کلاسیس مرزا غالب روڈ کے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید، سٹی پولیس اسٹیشن میں فریاد درج* 

*مالیگاؤں (احرار نیوز نیٹ ورک) 12، ستمبر :* مالیگاؤں شہر میں الزام در الزام کی سیاست پر ابھی تبصرے ہی چل رہے تھے۔ ابھی سماجوادی پارٹی کی جانب سے کانگریس کے کارگذار صدر اعجاز بیگ کیخلاف نہالی انداز میں تحریک اور منہ کالا کرنے کے الٹی میٹم کی مدت بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سماجوادی پارٹی کے ترجمان انیس شیخ حسین عمر 54، برس (رہائش مالدہ شیوار گٹ نمبر 82/01 پلاٹ نمبر 11 مالیگاؤں) نے اعجاز بیگ عزیز بیگ (رہائش :امن چوک مالیگاؤں) کیخلاف سٹی پولیس اسٹیشن میں فریاد درج کروا دی ہے۔ جس کا این سی آر نمبر 199/25 بتاریخ 11/09/2025 ہے۔

 انیس شیخ حسین عرف انیس مستری نے بتلایا کہ وہ سماجوادی پارٹی کے ترجمان ہیں۔ اور مذکورہ دن اور تاریخ کو شام تقریباً 4، بجے اپنے چھوٹے پوتے کے ہمراہ رہبر کوچنگ کلاسیس جونا فاران ہاسپٹل کے پاس مرزا غالب روڈ پر اپنے نواسے کو کوچنگ کلاس سے لینے کیلئے آئے تھے تب کانگریس صدر اعجاز بیگ رکشا کے ذریعہ وہاں آئے اور انہوں نے انیس مستری کو کہا "کیا رے بہت تحریک چلا رہے تم لوگ، کب آئیں گے گوبر مارنے۔" اس سے پہلے کہ انیس مستری اپنی بات کہتے اعجاز بیگ نے انہیں، سماجوادی پارٹی کی صدر شان ہند اور مستقیم ڈگنیٹی پر گالیوں کی بوچھار شروع کردی۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ مرزا غالب روڈ، رہبر کوچنگ کلاسیس اور جونا فاران ہاسپٹل کے اطراف میں بھیڑ جمع ہوگئی۔ انیس مستری کے مطابق پورا معاملہ اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس چپلقش کو برداشت کیا اور فوری طور پر سٹی پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپنی فریاد درج کروائی۔

واضح رہے کہ مالیگاؤں شہر میں چل رہی الزام در الزام کی سیاست دھنک رنگ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ اس درمیان کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے ذمہ داران ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ اعجاز بیگ کی جانب سے مستقیم ڈگنیٹی اور شان ہند پر الزامات کی بوچھار ہونے کے بعد ردعمل کے طور سماجوادی پارٹی میڈیا سیل نے بھی پریس کانفرنس لیکر اعجاز بیگ کو پندرہ دنوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے نہالی انداز میں تحریک، منہ کالا کرنے اور گوبر مارنے کی دھمکی دی تھی۔ ابھی الٹی میٹم کی مدت بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ اعجاز بیگ نے ایک مرتبہ پھر سماجوادی پارٹی کے ترجمان انیس مستری کیساتھ دریدہ دہنی کا مظاہرہ کردیا۔ 

کانگریس کارگذار صدر اعجاز بیگ کی اس حرکت کیخلاف انیس مستری نے سٹی پولیس اسٹیشن میں فریاد درج کرنے کے بعد میڈیا کے روبرو اپنا بیان بھی درج کروایا۔ ابھی کانگریس کمیٹی میں منعقدہ جمیل کرانتی اور کانگریس مجلس عاملہ کی پریس کانفرنس پر تبصرہ ہی چل رہا تھا کہ اعجاز بیگ کے ذریعہ گالی گلوچ کی گونج سنائی دینے لگی۔ اس سے قبل اسمبلی الیکشن کے ایام میں دھولیہ مالیگاؤں حلقہ کی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شوبھا تائی بچھاؤ کو ماں بہن کی گالیاں دینے پر ہنگامہ مچا تھا۔ تب بھی کانگریس کے نائب صدر اور مجلس عاملہ نے پریس کانفرنس لیکر اعجاز بیگ کیلئے صفائی پیش کی تھی۔ مستقیم ڈگنیٹی اور اعجاز بیگ کی چپلقش کے درمیان مستقیم اور شان ہند پر الزام تراشیوں کے بعد نہالی تحریک اور منہ کالا کرنے کے الٹی میٹم پر پھر سے قدوائی روڈ کانگریس کمیٹی پر پریس کانفرنس کا انعقاد کرنا پڑا۔ اب ایک بار پھر مرزا غالب روڈ پر رہبر کوچنگ کلاسیس کے پاس انیس مستری کو گالیاں دینے اور جان سے مارنے کی دھمکی کا معاملہ اجاگر ہوا ہے تو کیا اب پھر سے الحاج جمیل کرانتی اور کانگریس مجلس عاملہ پریس کانفرنس لیکر اعجاز بیگ کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ایسا سیاسی گلیاروں میں کہا اور سنا جارہا ہے۔
حیدرآباد: 6 سالہ بچی مین ہول میں گری، ماں نے بچایا:ویڈیو وائرل

حیدرآباد میں 6 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر گئی، ماں نے بروقت بچا لیا۔ویڈیو وائرل
حیدرآباد کے پرانے شہر میں 6 سالہ بچی اپنی ماں کے ساتھ چل رہی تھی کہ اچانک ایک کھلے نالی میں گر گئی، لیکن خوش قسمتی سے اسے فوراً بچا لیا گیا۔ بچی کے والدین نے شہری انتظامیہ کو لاپرواہی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

یہ واقعہ بدھ کے روز حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقے مولا کاچھلہ میں پیش آیا۔ بچی اپنی ماں کے ساتھ چل رہی تھی کہ وہ بغیر ڈھکے ہوئے ڈرین میں پھسل گئی، لیکن فوری طور پر اسے نکال کر محفوظ جگہ پر لایا گیا۔

یہ واقعہ علاقے کی CCTV کیمرا میں قید ہو گیا، جس میں دکھایا گیا کہ بچی چلتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی، اور اسی دوران وہ پھسل کر کھلے مین ہول میں گر گئی۔

بچی کے والدین نے شہری انتظامیہ کی لاپرواہی پر غصہ ظاہر کیا اور اس واقعے کا ذمہ دار مین ہول کے بغیر ڈھکن چھوڑنے کو ٹھہرایا۔

کی تحقیقات:

اس دوران، Hydraa کمشنر AV رنگناتھ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ پریس ریلیز کے مطابق، Hydraa بدھ سے جمعرات صبح تک مین ہول کھولے جانے کے CCTV فوٹیج کا مکمل جائزہ لے گا۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق، Hydraa کی MET ٹیم نے مقامی کارپورٹر کے حکم پر HMWSSB کی جیٹنگ مشینوں کا استعمال کرتے ہوئے جمع شدہ کیچڑ کو ہٹانے کے لیے مین ہول کھولا تھا، لیکن صفائی کے بعد مین ہول کو صحیح طریقے سے بند نہیں کیا گیا۔

ریلیز کے مطابق، “10 ستمبر کی شام، جب دوسری شفٹ کی MET ٹیم نے مین ہول بند کرنے کی کوشش کی، مقامی لوگوں نے اسے کھلا رکھنے پر اصرار کیا، جس سے بند کرنا ممکن نہیں ہوا۔ نتیجتاً کھلا مین ہول بچی کے گرنے کا سبب بنا۔”

Hydraa نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں بھی مین ہول کا ڈھکن کھلا چھوڑا گیا ہو تو فوری اطلاع درج ذیل نمبر پر دیں: 9000113667

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مالیگاؤں کے اکابر سیاسی لیڈران کو نہیں بلکہ اعجاز بیگ اور جمیل کرانتی کو کوچنگ کی ضرورت : صابر گوہر 

دونوں کو معافی مانگنا چاہیئے، مالیگاؤں کے اکابر لیڈران کی بعد از مرگ توہین برداشت نہیں

مالیگاؤں (پریس ریلیز ) 11، ستمبر : مالیگاؤں شہر میں چل رہی الزام در الزام کی سیاست دھنک رنگ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ اس ضمن میں انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر سے منسلک صابر گوہر نے کانگریس پارٹی کی پریس کانفرنس میں مقامی سیاسی لیڈران کو کوچنگ کے مشورے سے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتلایا کہ گذشتہ دنوں سماجوادی پارٹی کے مستقیم ڈگنیٹی نے پوکسو معاملہ میں زیر حراست ڈاکٹر نوشین کے حوالے سے کانگریس کارگذار صدر اعجاز بیگ کا نام لیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہی اعجاز بیگ نے پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی اور شان ہند پر الزامات کی بوچھار کردی۔ ردعمل کے طور سماجوادی پارٹی میڈیا سیل نے پھر پریس کانفرنس لیکر اعجاز بیگ کو پندرہ دنوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے نہالی انداز میں تحریک، منہ کالا کرنے اور گوبر مارنے کی دھمکی دی۔ صابر گوہر نے کہا کہ اس دھمکی کے بعد کانگریس خیمہ میں گھبراہٹ پیدا ہوئی اور الحاج جمیل کرانتی صاحب کی سرپرستی میں کانگریس کمیٹی قدوائی روڈ پر کانگریس مجلس عاملہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اس پریس کانفرنس میں جمیل کرانتی نے کہا کہ شہر مالیگاؤں آگ کے ڈھیر پر ہے۔آدھار کارڈ، بنگلہ دیشی اور روہنگیائی مسئلہ، اوقاف کے مسائل، صنعت کی زبوں حالی کے علاوہ شہری ایم ایل اے کے ساتھیوں کا جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنے پر انہوں نے شک کیا۔ انہوں نے موجودہ حالات کا ذکر کرتے کہا کہ مستقیم ڈگنیٹی نے اعجاز بیگ کا نام لیکر ڈاکٹر محترمہ کے تعلق سے کسی پیپر کے حوالے سے اعجاز بیگ کی بیوی بتلایا ہے۔ جس پر چراغ پا ہوکر اعجاز بیگ نے مستقیم ڈگنیٹی اور شان ہند کے تعلق سے نازیبا کلمات ادا کئے۔

صابر گوہر کے مطابق جمیل کرانتی نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ یہ معاملہ اسمبلی الیکشن کے وقت بھی اٹھا تھا۔ اگرچہ وہ مخصوص حلقوں میں ہی تھا۔ سیاسی اکابرین اور ورکروں کے درمیان سے ہوتے ہوئے اعجاز بیگ کے گھر تک پہنچ چکا تھا۔ جمیل کرانتی نے کہا اس بات کے ہم لوگ گواہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت اعجاز بیگ کی خانگی زندگی بہت متاثر ہوئی تھی اور وہ ذہنی طور پر پریشان تھے۔ انہوں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سیاسی اکابرین کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیئے۔ فی الوقت یہ شہر آگ کے ڈھیر پر ہے۔ انہوں نے میڈیا کو جمہوریت کا تیسرا ستون کہتے ہوئے کہا۔ آپ لوگ اس میں شہر کا ساتھ دیجئے یہ گھڑی معاملہ کو ٹالنے اور شہر کو بچانے کی ہے۔ اسی درمیان میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شہر کے اکابر لیڈران کی بعد از مرگ توہین بھی کرڈالی۔ جمیل کرانتی نے کہا "میں جانتا ہوں سیاسی لیڈران گیارہ بارہ بجے کے بعد نشہ بھی کرتے تھے۔ کئی سیاسی لیڈران ہیں جو نشہ کرتے تھے لیکن کبھی کسی نے ان پر انگلی نہیں اٹھائی یہ ان کا ذاتی فعل تھا۔" صابر گوہر نے کہا جمیل کرانتی ایک تعلیم یافتہ اور سلجھی ہوئی شخصیت تسلیم کئے جاتے ہیں۔ انہیں حدیث کے اس مفہوم کا علم تو ہوگا کہ انتقال کے بعد ہر کسی کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ اکابر سیاسی لیڈران کو نشہ کرنے والا کہہ کر ان لیڈران کی خامیوں کو ظاہر کرکے کانگریس کے کارگذار صدر کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز بیگ کو اپنی دریدہ دہنی پر عام معافی تو مانگنا چاہیئے لیکن جمیل کرانتی نے مالیگاؤں کے اکابر لیڈران کی جو توہین کی ہے اس کیلئے جمیل کرانتی کو بھی معافی مانگنا چاہیئے۔ 

جمیل کرانتی نے میڈیا کے سامنے مقامی سیاسی لیڈران کو کوچنک کی ضرورت کا اظہار کیا جبکہ خود اعجاز بیگ کو اپنی دریدہ دہنی پر کوچنگ لینا چاہیئے صرف اعجاز بیگ کو ہی نہیں بلکہ جمیل کرانتی کو بھی کوچنگ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انہوں نے بعد از مرگ مالیگاؤں کے اکابر سیاسی لیڈران کی توہین کی ہے۔ آخر میں صابر گوہر نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن میں دو بھائیوں سے اپنی بیوی کے سامنے پیٹے جانے پر گاندھی نگر چوک میں گدھی کے دودھ کی باتیں شہری عوام کو یاد ہیں، مہاتما گاندھی مجسمہ پر چوڑی پہن کر احتجاج کرنے یا کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر شوبھا تائی بچھاؤ کو گالیاں دینے اور اس کا الزام سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید پر تھوپنے کی کوشش بھی کوئی بھول نہیں سکتا۔
*گداگروں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے*

یعنی پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک نہیں دینا چاہیے 

*از قلم مفتی محمد اسلم جامعی* 

(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں) 

اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جس نے دنیائے انسانیت کی فلاح و بہبود اور خیر و خوبی کے لیے ایسی جامع تعلیمات عطا فرمائی ہے جس میں زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط پنہاں ہے، ان ہی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم، کسی کے آگے دست درازی سے گُریز کرنا بھی ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الید العلیا خیر من الید السفلی (بخاری و مسلم) دستِ اعلیٰ دستِ اسفل سے بہتر ہے، یعنی سخاوت گداگری سے بہتر ہے، اس روایت میں گداگری کی قباحت اور مذمت بیان کی گئی، اور دست درازی سے گُریز کرنے کی تلقین کی گئی، بلکہ امام عزالی رح نے احیاء علوم الدین میں ایک روایت نقل کی، جس کو امام ترمذی رح نے الفاظ کے معمولی فرق سے اپنی سنن میں ذکر کیا اور اس کی اسنادی حالت کے متعلق فرمایا کہ اسنادہ حسن، (یعنی یہ روایت مستند ہے) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا من فتح علی نفسه بابا من السؤال فتح الله علیه سبعين بابا من الفقر (إحیاء علوم الدین) جو شخص اپنی ذات پر گداگری کا ایک دروازہ کھولتا ہے خداوند متعال اس پر فقر کے ستّر دروازے کھول دیتا ہے، اور تجربہ بھی اس کا شاہد ہے کہ بلاعُذرِ شدید دستِ درازی کرنے والے گداگری کے بھنور میں پھنستے چلے جاتے ہیں، بزرگوں کی کتابوں میں سیکڑوں اس طرح کے واقعات ثبت ہے، کہ ابتداء میں بطورِ حاجت و ضرورت یا مجبوری میں گداگری سے وابستگی اختیار کی، اور پھر بطورِ پیشہ اس مشغلے میں ترقی کرتے رہے، اور وہ عار، حجاب اور شرم و حیاء بھی ختم ہوگئی جو ایک انسان کا زیورِ حیات ہوتا ہے اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں دیگر اہم امور پر صحابہ کرام سے بیعت لی وہی اس بات پر بھی بیعت لی کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں یعنی لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کریں، صحابہ کرام نے پوری زندگی اس پر عمل کیا بعض روایات میں آتا ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ سے کوڑا گِر جاتا تھا تو گھوڑے سے اُتر کر اس کو اُٹھاتے مگر کسی کو اُٹھانے کے لیے سوال نہیں کرتے، یعنی پوری زندگی اس پر عمل پیرا رہے، اس لیے شریعتِ مطہرہ نے بھیک مانگنے سے منع کیا سیکڑوں احادیث اس بابت وارد ہوئی ہے کہ بطورِ پیشہ گداگری کو اختیار کرنے والے آخرت میں مختلف قسم کے عذابات میں مبتلا ہوگے، اس لیے شریعت نے بیکارگی اور گداگری کے مقابلہ میں کسبِ معاش کو اختیار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بیکاری پسند نہیں، میں اس شخص پر حیرت زدہ ہو جو نہ دنیا کے کام میں مصروف ہیں اور نہ دین کے کام میں، (إحیاء علوم الدین ) ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کو محبوب رکھتا ہے جو لوگوں سے بے نیاز ہونے کے لیے کوئی پیشہ اختیار کریں، (إحیاء علوم الدین ) اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ کوئی شخص رسّی لیکر اپنی پُست پر لکڑیاں لائیں یہ عمل اس شخص کے لیے اس سے بہتر ہے کہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالی نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہو، اس کے سامنے دستِ طلب دراز کرے وہ اس کو دے یا منع کردے، (بخاری و مسلم) اس روایت میں بھی کسبِ معاش اختیار کرنے کی فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی اور بلا وجہ دستِ سوال کو ناپسند کیا گیا، موجودہ زمانے میں چوک، چوراہے، گلی، محلے، مسجد، ہوٹل، تفریحی مقامات، سواریاں اور گاڑیوں کی آمد و رفت کی جگہوں پر گداگروں کا ایک غول نظر آتا ہے جو مختلف قسم کی صداؤں کے ذریعے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک پیسہ نہیں ملتا، ہٹتے نہیں، پیچھا نہیں چھوڑتے، اس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں مرد بھی عورتیں بھی نوجوان لڑکیاں بھی چھوٹے بجے بھی بلکہ نوجوان لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اکثر عورتیں برقعہ میں ملبوس ہوکر بھیک مانگتی ہے، حالانکہ بیشتر عورتیں برقعہ میں ملبوس غیر مسلم ہوتی ہے جو بھیک کے لیے برقعہ پہن لیتی ہے، اس سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں میں ایک غلط میسیج جاتا ہے، خود دارالعلوم محمدیہ کے گیٹ پر روزانہ ایک دو عورتیں برقعہ میں ملبوس ہوکر بھیک مانگتی اگر یہ واقعی ضرورتمند ہے تو کوئی ذریعۂ معاش اختیار کرنا چاہیے، یا اہلِ خیر حضرات کو ان ضرورت مند اور بے سہارا خواتین و افراد کا مستقبل آمدنی کا کوئی انتظام کردینا چاہیے تاکہ اس طرح سے مسلمانوں کی شبیہ خراب نہ ہو، اور اسلام نے کسی بھی صورت میں گداگری اور بھیک مانگنے کو پسند نہیں کیا، اس لیے مسلمانوں کو بھی ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ان کو بھیک نہیں دینی چاہیے تاکہ وہ اس پیشہ سے تہی دست ہوکر جائز ذریعۂ معاش کو اختیار کریں، خواتین اور بچوں کو بھی بھیک نہیں دینی چاہیے کیونکہ ان میں بیشتر ضرورت اور حاجت کے لیے نہیں بلکہ بطورِ پیشہ بھیک مانگتے ہیں،


*منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مالدہ شیوار مالیگاؤں*
بلوچستان پر گدھ کی طرح نظر جمائے بیٹھا ہے چین اور امریکہ، بلوچوں پر ستم ڈھارہی ہے پاکستانی فو ج

نئی دہلی۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستانی فوج کی زیادتیوں پر چیخ رہی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے نام پر بے گناہوں کے قتل کی سازش کو اعداد و شمار اور حقائق کے ساتھ بے نقاب کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبے میں 900 سے زائد افراد کے جبری گمشدگی کی بھی اطلاعات ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) فوج کے نشانے پر ہے کیونکہ وہ معدنی معاہدے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (CPEC) کی مخالفت کر رہی ہے۔ بی ایل اے کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں معدنیات اور دیگر وسائل کا استحصال کیا جاتا ہے، لیکن اصلاحات سے وہ اچھوتے ہیں۔
اب جبکہ امریکہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے، فوج اس تنظیم کے خلاف پوری طاقت جھونک دی ہے۔ تاہم انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف بی ایل اے کے ارکان ہی کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔ فوج بڑے پیمانے پر نسل کشی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کوشش میں کئی بے گناہ شہری مارے جا چکے ہیں۔

امریکہ اور چین دونوں کی خطے میں دلچسپی کے باعث پاکستان پر بلوچستان کو تشدد سے پاک رکھنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوج عوام کے تحفظات کو دور کرنے کے بجائے ان کے خلاف تشدد کا استعمال کر رہی ہے۔ فوج بلوچ عوام کو نشانہ بنانے کے لیے ہیلی کاپٹر، ڈرون اور زمینی اہلکار استعمال کر رہی ہے۔

اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو واضح طور پر کہا گیا تھا کہ چین CPEC-2 منصوبے میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ چین نے پاکستانیوں سے فنڈز اکٹھے کرنے کو کہا لیکن یہ بھی کہا کہ یہ منصوبہ جاری رہے گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان سیکورٹی کے محاذ پر بری طرح ناکام ہوا ہے۔ بی ایل اے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پرتشدد حملوں کی وجہ سے چین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے بہت سے لوگ مارے گئے ہیں اور انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔


اس کے علاوہ چین نے پاکستان سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے معدنیات کے معاہدے کے بارے میں بھی معلومات مانگی ہیں۔ چین نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ بلوچستان کی معدنیات میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بلوچستان کے حوالے سے دونوں بڑی طاقتوں کو کوئی یقین دہانی کرانے سے قاصر ہے۔ یہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی فوج کے لیے بہت طاقتور ثابت ہو رہے ہیں۔

مزید یہ کہ فوج بی ایل اے کے خلاف پوری طاقت سے نہیں چل سکتی کیونکہ ایسا کرنا اپنے ہی لوگوں کی جان لینے کے مترادف ہوگا۔ پاکستانی آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ میں ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بلوچستان آرمی (بی ایل اے) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ امریکہ کے یہ کام کرنے کے بعد فوج بلوچستان میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے نام پر لوگوں کو مارنے پر تل گئی۔
درحقیقت پاکستانی فوج خطے پر مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ یہ بھی نہیں چاہتا کہ بلوچستان کے لوگ وہاں موجود ہوں۔ بھارتی ایجنسیوں نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے دنوں میں شہریوں کے خلاف کارروائی میں شدت آنے والی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک مایوس کن صورتحال ہے۔ یہ علاقے کے لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں لا سکتا کیونکہ اسے ان پر اعتماد نہیں ہے۔ مزید یہ کہ چین پاکستان کو دیے گئے یکیورٹی اور قرضوں دونوں کے لحاظ سے اپنے حقوق چاہتا ہے، اس لیے فوج کے پاس جارحانہ موقف اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ معدنیات کا معاہدہ اس کی مالی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر یہ معاہدہ نہ ہوا تو اسے چین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اسلام آباد CPEC-2 کی ادائیگی نہیں کر سکے گا۔ اس الجھن کے درمیان بلوچستان کے سینکڑوں بے گناہ لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*


*گلی محلّوں کی صفائی میں عوام کا کردار!*

*مچھلی بازار، کمالپورہ بیت-الخلا پر گندگی کا انبار کون ہے ذمہ دار
???????? 
          *محمد عارف نوری* 
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں و ڈائریکٹر حفاظت میڈیا مالیگاؤں )* 

*شہر میں حفظانِ صحت و صاف صفائی کا نظام میونسپل کارپوریشن کے ذمہ ہوتا ہے مگر کارپوریشن کے ساتھ ہر شہری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گلی محلوں کی صفائی میں اپنا کردار ادا کرے سڑکوں ،گلیوں کی کُھدائی کرتے وقت لوگ اکثر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے پختہ گلیوں ،سڑکوں سے نل (پانی) کنکشن لیتے وقت لوگ اپنا کام تو نکال لیتے ہیں لیکن دیگر لوگوں کے لئے مسائل کھڑے کر دیتے ہیں مٹی اور اینٹوں کی ڈھیر ویسے ہی پڑی رہتے ہیں اسطرح کی کوتاہی کارپوریشن کی جانب سے بھی کی جارہی ہے بارش کے ایام میں کیچڑ اور گڑھوں سے حادثات ہوتے ہیں اور راہ گیروں کو بھی بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کام ہونے کے بعد جگہ کو صاف کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے آمد و رفت میں دشواری اور گلیوں کو تنگ نا کریں ہمارے یہاں ہر کوئی اپنی من مانی کرنے میں لگا ہوتا ہے جس کا جو دل چاہتا ہے وہ کرتا ہے یہ وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف گلی محلوں کا حُسن خراب ہوتا ہے بلکہ راہ گیروں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کب تک ہم اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کرتے رہیں گے ہم اگر مسائل حل کرنے کے لئے خود آگے نہیں بڑھیں گے تو یہ مسائل جُوں کے تُوں رہیں گے شہریان کو دیکھنا چاہیے کہ کہاں کہاں کون غفلت کا مظاہرہ کر رہا ہے دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں ان باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ہمارے یہاں قوانین تو موجود ہیں لیکن اِن پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا گلیوں و دیگر جگہوں پر تجاوزات کو ہٹانے کے لئے اگر کوئی آفیسر آتا ہے تو ہمارے بھائی مَرنے مارنے پر اُتارو ہوجاتے ہیں حالانکہ اکثر لوگوں کے گھر، دوکان، کارخانہ، آفس پوری زندگی اتی کرمن پر ہی گزر جاتی ہے اُنھیں اتی کَرمن کے تعلق سے شریعت کا مسئلہ جاننا چاہیے بقرعید کا تہوار آنے والا ہے عوام اپنے شہر اپنی محلّے اور گلیوں کو صاف ستھرا رکھیں اپنے اہلِ خانہ اور محلے میں رہنے والوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھیں "صفائی نِصف ایمان " کی برکات سے مالا مال ہوں۔*
*وارڈ نمبر 13 مچھلی بازار، کمالپورہ بیت-الخلا کے اطراف جس طرح سے گندگی کا انبار رہتا ہے تعفّن، مچھّر، بَدبو، کیڑے، کیڑوں اطراف کے لوگوں خصوصاً بچّے، برزگ، خواتین بیماروں کا شکار ہوتے ہیں نا خود کچرا پھینکیں اور نا دوسروں کو پھینکنے دیں انتظامیہ خاص طور پر بقرعید کے موقع پر صاف صفائی پر توجہ دیں۔*
____________________________
ممبئی کے شعرا کا سو سال کے بعد لکھا گیا تذکرہ تذکرہ شعرائے مہاراشٹر اول دوم)ادب گاہ ممبئی 
مصنف : خلیق الزماں نصرتؔ
جائزہ نگار : راشدجمال فاروقی ۔ آئی ڈی پی ایل ، ٹاؤن شپ، ویربھدرا، رشی کیش ، دوہرہ دون
 خلیق الزماں نصرتؔ تقریباً ایک درجن سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور نصف درجن اعزازات حاصل کرچکے ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’شعرائے مہاراشٹر‘‘ ممبئی، بھیونڈی اور ممبرا کے ۹۱؍شعراء کی تصاویر، ان کے سوانحی احوال، شعری سفر کی روداد، نمونہ کلام اور کلام کا غیرجانبدارانہ ، تفصیلی اور تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔ جلداول میں حروف تہجی کے حساب سے ’الف‘ سے لے کر ’نون‘ تک کے شعراء سما گئے ہیں۔ مواد جمع کرنے میں انھیں جو دشواریاں درپیش آئیں وہ تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ ایک شاعر نے تو ان سے کہا کہ ہمارا کلام پیش کر کے آپ مشہور ہوجائیں گے۔ ایک دوسرے شاعر نے ایک ماہ کی مہلت مانگی کہ تازہ کلام کہہ سکیں۔ اس سے قبل کا سارا کلام وہ کسی کو بیچ چکے تھے۔ ہاں عجلت کی صورت میں وہ اپنے دادا مرحوم کا کلام دینے کی پیشکش بھی فرمانے لگے۔ 
 ممبئی اردو کے لئے ہمیشہ سے فراخ دل شہر رہاہے۔ اس ضمن میں نصرتؔ فلموں اور ٹی وی سیریلوں نیز غزلوں، گیتوں کے گلوکاروں کا اردو کی طرف جھکاؤ دیکھتے آرہے ہیں۔ سکندرعلی وجدؔ نے مہاراشٹر کی شان ’’اجنتا‘‘ پر اور علی سردار جعفری نے ’’بمبئی‘‘ پر نظمیں لکھی۔ سیتومادھوراؤ پاگڑی ، مراٹھی صحافی ودیادھر گوکھلے، شری پدجوشی، وسنت پوتدار، کیشوٹی میشرام، زاراین سردے اور رام پنڈت نے مراٹھی زبان میں غالبؔ پر کتب لکھی۔شعراء کے تعلق سے دلچسپ واقعات کتاب کو خوشگوار بناتے ہیں۔
 کتاب کے سب سے پہلے شاعر صفدر آہ‘ بیوی کے انتقال کے بعد پنڈت بن کر ایک مندر میں رہنے لگے تھے اور مرنے کے بعد جلائے جانے کی وصیت کرچکے تھے لیکن مندر کے بڑے پنڈت نے ان کی لاش ان کے اعزا کو سونپ کر دفنانے کا انتظام کردیا۔ اعجازصدیقی کی وقت کی پابندی ایسی تھی کہ دوسروں سے بھی یہی امید رکھتے، ورنہ غصہ ہوجاتے۔ جاںنثار اختر فلموں میں رہتے ہوئے بھی فلمی دنیا سے متنفر ہی رہے۔ اعجازصدیقی ہندی تھے۔ ایک بار قیصرالجعفری سے ناراض ہوکر بگڑ گئے۔ قیصر خاموشی سے سنتے رہے اور بولے : ’’اچھا چلو پان کھاتے ہیں۔‘‘ اعجاز بولے : ’’میں پان نہیں جان کھاتا ہوں۔‘‘ قیصر مسکرائے اور کہا : ’’آپ جان ہی نہیں کان بھی کھاتے ہیں۔‘‘ ابراہیم اشک ادب کے علاوہ فلموں میں بھی کامیاب ہیں۔ باقرمہدی کی تنک مزاجی کے کئی قصے قارئین کی تفریح کا سبب بنیں گے۔ مثلاً باقر اپنے گھر آنے والے کے لئے جب دروازہ کھولتے تو جس کو چاہتے تھے اسی کو اندر آنے دیتے تھے ورنہ واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ ایک بار انورخاں ان سے ملے گئے۔ باقرمہدی انھیں اندر نہیں آنے دینا چاہتے تھے، لیکن وہ زبردستی اندر داخل ہوگئے۔ تو پھر باقر نے بھی برا نہ مانا اور ان کی خوب تواضع کی۔
 علی سردارجعفری نے جب اردو شعراء پر ٹی وی سیریل ’کہکشاں‘ بنایا تو ان کی کوشش کے باوجود اسے ہندی کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔
 شکیل بدایونی نے اپنے ایک جشن میں مسلسل تین گھنٹے تک کلام سنایا اور لوگ داد دیتے رہے۔
  شکیلہ بانو بھوپالی جب بھی ہوتیں تو ایک ہاتھ کی چوڑیاں نکال کر دوسرے میں اور دوسرے ہاتھ کی پہلے ہاتھ میں پہنتی رہتی تھیں۔
  نداؔفاضلی نے معصوم انصاری کو بتایا کہ ایک دن صبح سوکر اٹھے اور پردہ کھینچا تو سامنے کوہ نور مل کے مونوگرام (مرغے) پر نظر پڑ گئی اور یہ شعر ہوگیا ؎
سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہوگئی
 اس ضخیم کتاب میں موجود شعراء کے کلام کی خصوصیات اور زندگی کے تئیں ان کے رویے نیز دلچسپ واقعات نے مجموعی طور پر کتاب کو دستاویزی حیثیت عطا کردی ہے۔ سب سے آخر میں مصنف خلیق الزماں نصرتؔ نے اپنا پروفائل اور نمونہ کلام پیش کیا ہے۔ ممبئی اور مضافات کے شعراء پر مشتمل اس اہم کتاب نے عروس البلاد ممبئی کے دھنک رنگ شعری منظرنامے کو آئندہ کے محققین کے لئے محفوظ کردیا ہے۔ ممبئی جو اردو کا ایک بڑا مرکز رہا ہے وہاں منتشر شعراء کو ایک جلد میں سمیٹ کر نصرتؔ نے کارخیر انجام دیا ہے۔ یہ اکلوتی کتاب ہمیں جن مشاہیر شعراء کے بہت قریب پہنچا دیتی ہے، ان میں سے چند نام درج کئے جاتے ہیں : صفدر آہ ، اعجازصدیقی، جاں نثاراخترؔ، افتخار امام صدیقی، ابراہیم اشکؔ، باقرمہدی، لتاحیاؔ، شبیرراہی، راجیش ریڈی، علی سردارجعفری، ساحرؔلدھیانوی، احمدسوزؔ، عبدالاحدسازؔ، ساگرترپاٹھی، شکیل بدایونی، رفیعہ شبنم عابدی، شکیل بانو بھوپالی، شکیل اعظمی ، ظفرگورکھپوری، عزیزقیسی، عبداللہ کمال، مجروحؔ سلطان پوری ، میناکماری اور ندافاؔضلی وغیرہ۔
 خلیق الزماں نصرتؔ نے ’’شعرائے مہاراشٹر‘‘ جلددوم میں کوئی پیش لفظ شامل نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی جلد’الف‘ سے ’ن‘ تک حروف سے شروع ہونے والے تخلص رکھنے والے شعراء پر مشتمل تھی۔ جلددوم کو پھر ’الف‘ سے شروع کر کے ’ے‘ تک لے گئے ہیں۔ اس طرح جو لوگ پہلی جلد میں چھوٹ گئے تھے وہ بھی شامل ہوگئے لیکن نام بڑھ گیا۔
 اس جلد میں بھی فارمیٹ (format) وہی ہے۔ شاعر کی تصویر، حالاتِ زندگی، شعری رجحان، نمونہ کلام، کلام کی تحقیقی و تنقیدی جائزہ اور شاعر کی شخصیت کے تعلق سے اہم جانکاری۔ اس طرح بہت سارے دلچسپ واقعات قارئین کے مطالعے کو مزید پُرشوق بناتے ہیں۔ یہ جلد غلام احمد خاں آرزوؔ سے شروع ہوکر یوسف دیوان پر ختم ہوتی ہے اور ۱۴۴؍شعراء کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ آیئے چند مزیدار باتیں بانٹ لیں۔
 کتاب کے اولین شاعر غلام احمد خاں آرزوؔ اخبار ’’ہندوستان‘‘ نکالتے تھے۔ اخباری رپورٹ سب سے پہلے شائع کرنے کا انھیں جنون تھا۔ ایک بار جب روس کا ڈکٹیٹر اسٹالن کوما میں تھا تو ایک روز اچانک آرزوؔ نے اپنے اخبار کی سرخی جمائی: ’’اسٹالن کی موت‘‘ اور واقعی اس رات ہی کسی وقت وہ مربھی چکا تھا۔ 
 انورؔفرخ آبادی سے کوئی کلام سنانے کو کہتا تو منع کردیتے کہتے : ’’میں تو قوالیاں لکھتا ہوں۔‘‘ 
 اخترؔالایمان نظم اور نثر دونوں پر قدرت رکھتے تھے۔ جاویداختر کی اپنے والد جاںنثاراخترؔ سے کبھی نہیں بنی ، لیکن وہ ساحرؔلدھیانوی کا بہت احترام کرتے تھے۔ ساحرؔ کے انتقال پر جاویداختر ان کی میت اپنے گھر لے گئے۔ روتے جاتے اور تکفین کا انتظام کرتے جاتے تھے۔
  حسرتؔ جے پوری بس کنڈکٹر تھے۔ چلتی بس میں شعر سناتے رہتے تھے۔ ایک دن کسی پروڈیوسر کی نظر میں آگئے اور فلمی نغمہ نگار بن بیٹھے۔ 
 آغاخلش کاشمیری نے منٹو کو ابتدائی اردو سکھائی تھی۔ جب منٹو کو ’مصور‘ کی ایڈیٹری ملی تو انھوں نے شرط رکھی کہ آغاخلش کو بھی ملازمت دی جائے۔
  غرقابؔ نظام پوری نے کبھی مکتب کا منہ نہیں دیکھا۔ انھیں جب جب مکتب لے جایا جاتا انھیں تیز بخار آجاتاتھا۔
  قیصرالجعفری ممبئی سینٹرل پر بکنگ دفتر میں تھے۔ ایک بار علی سردار جعفری نے ٹکٹ لینے کے لئے جب کھڑکی میں ہاتھ ڈالا تو قیصر نے انھیں ٹکٹ کے ہمراہ اپنی کتاب بھی تھمادی اور اس پر کچھ لکھنے کی درخواست بھی کی لیکن سردار نے اس پر کبھی کچھ نہیں لکھا۔
  کیفی اعظمی حیدرآباد کے ویمنس کالج کی لڑکیوںکے پروگرام میں آتے۔ پسند کئے جاتے تھے کہ لڑکیاں ۳۰۔۲۵ روپے خرچ کر کے ان کی تصاویر حاصل کرتی تھیں۔ یہ رقم ان دنوں خاصی بڑی ہوتی تھی۔
  محموددرانی بس کنڈکٹر تھے اور ملازمت کے دوران بھی اکثر نشے میں رہتے تھے۔ روز شام کو حساب دیتے وقت کچھ روپیہ ہمیشہ کم نکلتا جو ان کی قلیل تنخواہ سے کاٹے جاتے ، پھر بھی وہ مست تھے۔ کرلا میں ان کے نام ایک چوک ہے۔
 اس جلد میں ایسے ایسے عظیم الشان شعراء کی شخصیت اور شعری پہچان مستحکم ہوئی ہے جن کے بارے میں اکثر قارئین کو تجسس رہتا ہے۔ مثلاً چند اہم نام درج کئے جاتے ہیں : اخترالایمان ، انجم رومانی، کفیل آزرؔ، فصیح اکمل، اشعرنجمی، جاویداختر، جاویدندیم، حسرتؔ جے پوری، حامد لطیف، حامداقبال صدیقی، دپتی مشرا، راجندرکرشن، کالی داس گپتا رضاؔ ، یعقوب راہیؔ، سعیدراہی، ممتازراشد، شمیم عباس، شمیم طارق، شاہد لطیف، صابردت، صباؔافغانی، گنیش بہاری طرزؔ، فضیل جعفری، قمرؔجلال آبادی، قیصرالجعفری، قمرؔصدیقی، کیفی اعظمی، حسن کمال، گلزار، عبدالمنان بجنوری، حسن نعیم، نقش لائل پوری، نظام الدین نظامؔ ، ندیم صدیقی، قاسم ندیم، عزیزنبیل اور احمدوصی وغیرہ۔ کتاب کی عظمت مندرجہ ذیل اقتباس سے ظاہر ہے :
 بقول پروفیسر مجاہد حسین حسینی : ’’جب میں نے سرسری طور پر پڑھا اور چاہا کہ اسے بک شیلف میں رکھ دوں، تو اس ظالم نے ہاتھوں کی گرفت اور نظروں کی توجہ سے ہٹنے سے یکسر انکار کردیا۔ علامہ آرزوؔ لکھنوی کی زبان میں گویا اس نے مجھ سے احتجاج کیا اور کہا ؎
جاتے کہاں ہیں آپ نظر مجھ سے موڑ کے
تصویر نکلی پڑتی ہے آئینہ توڑ کے
مصنّف کا موبائل نمبر 9923257606
____________________

Hafeez Tabassum 

مایوسی کا دیوتا
(ساحر شفیق کے لیے ایک نظم) 

برسوں پہلے
جب میں اس سے ملا تھا
وہ بے دھیانی میں لکھ دی گئی نظم کی طرح تھا
میں نے پہلی بار
ایک نظم کو سگریٹ پیتے
تھوڑا سا جھک کر چلتے
اور ناراض ہوتے دیکھا تھا 

وہ برے دنوں کی یاد میں زندہ رہنے والا شخص ہے
جو اکیلے لوگوں کے ہجوم میں
اپنی گمشدگی کا اشتہار بانٹتا پھرتا ہے
وہ اپنی گالیاں خود ایجاد کرتا ہے
وہ ان لوگوں کی طرح اوپر اٹھنے پر یقین نہیں رکھتا
جن کے پیروں تلے دوسروں نے ہاتھ رکھے ہوئے ہوں 

وہ اعلان لاتعلقی کا پلے کارڈ اٹھائے
آگ اور یادداشت کے جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا آسیب ہے
جسے دور سے دیکھا تو جا سکتا ہے
مگر چھوا نہیں جاسکتا
سب جانتے ہیں
وہ اچھے اور برے آدمی کے درمیان کی مخلوق ہے
لوگ اسے مایوسی اور اکتاہٹ کا دیوتا کہتے ہیں
اس نے ہر انسانی امید کو اپنی روح میں ختم کر دیا ہے
اس کے نزدیک خواب اور امید
مختصر سی تفریح ہے 

وہ ٹھیک ٹھاک آدمی نہیں ہے
اس کے باوجود
اپنے دوستوں کو چائے کی پیالی یا سگریٹ پیش کرنے پر
خداوند کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرتا 

وہ خودکشی کے دعوت نامے بانٹتا پھرتا ہے
مگر خود اسے
صرف کہانیوں میں مارے جانا پسند ہے
وہ کہتا ہے
اس کی نظمیں وقت کے ساتھ ساتھ
لڑکیوں کی طرح بڑی ہورہی ہیں 

وہ تمباکو نوشی کی تحریک سے الگ ہو گیا ہے
مگر اب بھی
تمباکو کے پودے کو مقدس قرار دیتا ہے 

زندگی اس کے تعاقب میں ہلکان ہو گئی ہے
اور لوگ اسے ڈھونڈتے ہوئے
برف کے پتلوں میں بدل گئے ہیں 

فرار کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے
اس نے خود کو ایک قلعے کی طرح اندر سے بند کرلیا ہے
اور قلعے کے باہر جاری جنگ کو
وہ Tom and Jerry کی لڑائی قرار دیتا ہے
خوف اور اندیشوں کی گٹھڑیاں اٹھائے ہوئے اس تک پہنچنے والے لوگ
ہمیشہ خالی ہاتھ لوٹتے ہیں
اسے اپنے جیسے لوگ بنانے کا ہنر آگیا ہے
اس لیے خدا کے بنائے ہوئے لوگوں سے دور بھاگتا ہے
لوگ اسے شہروں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں
حالانکہ اسے نثری نظم کی کسی بھی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے 

وہ کبھی پیدا نہیں ہوا
مگر ہر روز اس کا یوم وفات ہے 

حفیظ تبسم
___________

کاش بچے نہ مریں
نظم: غسان کنفانی
⭕ترجمہ: شگفتہ شاہ

’’ کاش بچے نہ مریں۔
کاش جنگ کے اختتام تک وہ عارضی طور پر آسمانوں کی جانب چلے جائیں۔
پھر جب وہ بحفاظت گھر لوٹیں، اور ان کے والدین ان سے پوچھیں:
آپ کہاں تھے؟
تو وہ کہیں:
ہم بادلوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔‘‘
"I wish children do not die.
I wish they would be temporarily elevated to the skies until the war ends.
Then they would return home safe, and when their parents ask them:
Where were you? They would say:
We were playing with the clouds."
Ghassan Kanafani
 بہ شکریہ Yasir Habib

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑بنگلہ دیش میں بڑا الٹ پھیر، صدرمحمد شہاب الدین نے دیا استعفیٰ، شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے تعطل برقرار* بنگلہ ...