Thursday, 11 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مالیگاؤں کے اکابر سیاسی لیڈران کو نہیں بلکہ اعجاز بیگ اور جمیل کرانتی کو کوچنگ کی ضرورت : صابر گوہر 

دونوں کو معافی مانگنا چاہیئے، مالیگاؤں کے اکابر لیڈران کی بعد از مرگ توہین برداشت نہیں

مالیگاؤں (پریس ریلیز ) 11، ستمبر : مالیگاؤں شہر میں چل رہی الزام در الزام کی سیاست دھنک رنگ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ اس ضمن میں انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر سے منسلک صابر گوہر نے کانگریس پارٹی کی پریس کانفرنس میں مقامی سیاسی لیڈران کو کوچنگ کے مشورے سے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتلایا کہ گذشتہ دنوں سماجوادی پارٹی کے مستقیم ڈگنیٹی نے پوکسو معاملہ میں زیر حراست ڈاکٹر نوشین کے حوالے سے کانگریس کارگذار صدر اعجاز بیگ کا نام لیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہی اعجاز بیگ نے پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی اور شان ہند پر الزامات کی بوچھار کردی۔ ردعمل کے طور سماجوادی پارٹی میڈیا سیل نے پھر پریس کانفرنس لیکر اعجاز بیگ کو پندرہ دنوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے نہالی انداز میں تحریک، منہ کالا کرنے اور گوبر مارنے کی دھمکی دی۔ صابر گوہر نے کہا کہ اس دھمکی کے بعد کانگریس خیمہ میں گھبراہٹ پیدا ہوئی اور الحاج جمیل کرانتی صاحب کی سرپرستی میں کانگریس کمیٹی قدوائی روڈ پر کانگریس مجلس عاملہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اس پریس کانفرنس میں جمیل کرانتی نے کہا کہ شہر مالیگاؤں آگ کے ڈھیر پر ہے۔آدھار کارڈ، بنگلہ دیشی اور روہنگیائی مسئلہ، اوقاف کے مسائل، صنعت کی زبوں حالی کے علاوہ شہری ایم ایل اے کے ساتھیوں کا جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنے پر انہوں نے شک کیا۔ انہوں نے موجودہ حالات کا ذکر کرتے کہا کہ مستقیم ڈگنیٹی نے اعجاز بیگ کا نام لیکر ڈاکٹر محترمہ کے تعلق سے کسی پیپر کے حوالے سے اعجاز بیگ کی بیوی بتلایا ہے۔ جس پر چراغ پا ہوکر اعجاز بیگ نے مستقیم ڈگنیٹی اور شان ہند کے تعلق سے نازیبا کلمات ادا کئے۔

صابر گوہر کے مطابق جمیل کرانتی نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ یہ معاملہ اسمبلی الیکشن کے وقت بھی اٹھا تھا۔ اگرچہ وہ مخصوص حلقوں میں ہی تھا۔ سیاسی اکابرین اور ورکروں کے درمیان سے ہوتے ہوئے اعجاز بیگ کے گھر تک پہنچ چکا تھا۔ جمیل کرانتی نے کہا اس بات کے ہم لوگ گواہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت اعجاز بیگ کی خانگی زندگی بہت متاثر ہوئی تھی اور وہ ذہنی طور پر پریشان تھے۔ انہوں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سیاسی اکابرین کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیئے۔ فی الوقت یہ شہر آگ کے ڈھیر پر ہے۔ انہوں نے میڈیا کو جمہوریت کا تیسرا ستون کہتے ہوئے کہا۔ آپ لوگ اس میں شہر کا ساتھ دیجئے یہ گھڑی معاملہ کو ٹالنے اور شہر کو بچانے کی ہے۔ اسی درمیان میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شہر کے اکابر لیڈران کی بعد از مرگ توہین بھی کرڈالی۔ جمیل کرانتی نے کہا "میں جانتا ہوں سیاسی لیڈران گیارہ بارہ بجے کے بعد نشہ بھی کرتے تھے۔ کئی سیاسی لیڈران ہیں جو نشہ کرتے تھے لیکن کبھی کسی نے ان پر انگلی نہیں اٹھائی یہ ان کا ذاتی فعل تھا۔" صابر گوہر نے کہا جمیل کرانتی ایک تعلیم یافتہ اور سلجھی ہوئی شخصیت تسلیم کئے جاتے ہیں۔ انہیں حدیث کے اس مفہوم کا علم تو ہوگا کہ انتقال کے بعد ہر کسی کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ اکابر سیاسی لیڈران کو نشہ کرنے والا کہہ کر ان لیڈران کی خامیوں کو ظاہر کرکے کانگریس کے کارگذار صدر کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز بیگ کو اپنی دریدہ دہنی پر عام معافی تو مانگنا چاہیئے لیکن جمیل کرانتی نے مالیگاؤں کے اکابر لیڈران کی جو توہین کی ہے اس کیلئے جمیل کرانتی کو بھی معافی مانگنا چاہیئے۔ 

جمیل کرانتی نے میڈیا کے سامنے مقامی سیاسی لیڈران کو کوچنک کی ضرورت کا اظہار کیا جبکہ خود اعجاز بیگ کو اپنی دریدہ دہنی پر کوچنگ لینا چاہیئے صرف اعجاز بیگ کو ہی نہیں بلکہ جمیل کرانتی کو بھی کوچنگ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انہوں نے بعد از مرگ مالیگاؤں کے اکابر سیاسی لیڈران کی توہین کی ہے۔ آخر میں صابر گوہر نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن میں دو بھائیوں سے اپنی بیوی کے سامنے پیٹے جانے پر گاندھی نگر چوک میں گدھی کے دودھ کی باتیں شہری عوام کو یاد ہیں، مہاتما گاندھی مجسمہ پر چوڑی پہن کر احتجاج کرنے یا کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر شوبھا تائی بچھاؤ کو گالیاں دینے اور اس کا الزام سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید پر تھوپنے کی کوشش بھی کوئی بھول نہیں سکتا۔
*گداگروں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے*

یعنی پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک نہیں دینا چاہیے 

*از قلم مفتی محمد اسلم جامعی* 

(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں) 

اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جس نے دنیائے انسانیت کی فلاح و بہبود اور خیر و خوبی کے لیے ایسی جامع تعلیمات عطا فرمائی ہے جس میں زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط پنہاں ہے، ان ہی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم، کسی کے آگے دست درازی سے گُریز کرنا بھی ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الید العلیا خیر من الید السفلی (بخاری و مسلم) دستِ اعلیٰ دستِ اسفل سے بہتر ہے، یعنی سخاوت گداگری سے بہتر ہے، اس روایت میں گداگری کی قباحت اور مذمت بیان کی گئی، اور دست درازی سے گُریز کرنے کی تلقین کی گئی، بلکہ امام عزالی رح نے احیاء علوم الدین میں ایک روایت نقل کی، جس کو امام ترمذی رح نے الفاظ کے معمولی فرق سے اپنی سنن میں ذکر کیا اور اس کی اسنادی حالت کے متعلق فرمایا کہ اسنادہ حسن، (یعنی یہ روایت مستند ہے) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا من فتح علی نفسه بابا من السؤال فتح الله علیه سبعين بابا من الفقر (إحیاء علوم الدین) جو شخص اپنی ذات پر گداگری کا ایک دروازہ کھولتا ہے خداوند متعال اس پر فقر کے ستّر دروازے کھول دیتا ہے، اور تجربہ بھی اس کا شاہد ہے کہ بلاعُذرِ شدید دستِ درازی کرنے والے گداگری کے بھنور میں پھنستے چلے جاتے ہیں، بزرگوں کی کتابوں میں سیکڑوں اس طرح کے واقعات ثبت ہے، کہ ابتداء میں بطورِ حاجت و ضرورت یا مجبوری میں گداگری سے وابستگی اختیار کی، اور پھر بطورِ پیشہ اس مشغلے میں ترقی کرتے رہے، اور وہ عار، حجاب اور شرم و حیاء بھی ختم ہوگئی جو ایک انسان کا زیورِ حیات ہوتا ہے اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں دیگر اہم امور پر صحابہ کرام سے بیعت لی وہی اس بات پر بھی بیعت لی کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں یعنی لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کریں، صحابہ کرام نے پوری زندگی اس پر عمل کیا بعض روایات میں آتا ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ سے کوڑا گِر جاتا تھا تو گھوڑے سے اُتر کر اس کو اُٹھاتے مگر کسی کو اُٹھانے کے لیے سوال نہیں کرتے، یعنی پوری زندگی اس پر عمل پیرا رہے، اس لیے شریعتِ مطہرہ نے بھیک مانگنے سے منع کیا سیکڑوں احادیث اس بابت وارد ہوئی ہے کہ بطورِ پیشہ گداگری کو اختیار کرنے والے آخرت میں مختلف قسم کے عذابات میں مبتلا ہوگے، اس لیے شریعت نے بیکارگی اور گداگری کے مقابلہ میں کسبِ معاش کو اختیار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بیکاری پسند نہیں، میں اس شخص پر حیرت زدہ ہو جو نہ دنیا کے کام میں مصروف ہیں اور نہ دین کے کام میں، (إحیاء علوم الدین ) ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کو محبوب رکھتا ہے جو لوگوں سے بے نیاز ہونے کے لیے کوئی پیشہ اختیار کریں، (إحیاء علوم الدین ) اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ کوئی شخص رسّی لیکر اپنی پُست پر لکڑیاں لائیں یہ عمل اس شخص کے لیے اس سے بہتر ہے کہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالی نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہو، اس کے سامنے دستِ طلب دراز کرے وہ اس کو دے یا منع کردے، (بخاری و مسلم) اس روایت میں بھی کسبِ معاش اختیار کرنے کی فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی اور بلا وجہ دستِ سوال کو ناپسند کیا گیا، موجودہ زمانے میں چوک، چوراہے، گلی، محلے، مسجد، ہوٹل، تفریحی مقامات، سواریاں اور گاڑیوں کی آمد و رفت کی جگہوں پر گداگروں کا ایک غول نظر آتا ہے جو مختلف قسم کی صداؤں کے ذریعے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک پیسہ نہیں ملتا، ہٹتے نہیں، پیچھا نہیں چھوڑتے، اس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں مرد بھی عورتیں بھی نوجوان لڑکیاں بھی چھوٹے بجے بھی بلکہ نوجوان لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اکثر عورتیں برقعہ میں ملبوس ہوکر بھیک مانگتی ہے، حالانکہ بیشتر عورتیں برقعہ میں ملبوس غیر مسلم ہوتی ہے جو بھیک کے لیے برقعہ پہن لیتی ہے، اس سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں میں ایک غلط میسیج جاتا ہے، خود دارالعلوم محمدیہ کے گیٹ پر روزانہ ایک دو عورتیں برقعہ میں ملبوس ہوکر بھیک مانگتی اگر یہ واقعی ضرورتمند ہے تو کوئی ذریعۂ معاش اختیار کرنا چاہیے، یا اہلِ خیر حضرات کو ان ضرورت مند اور بے سہارا خواتین و افراد کا مستقبل آمدنی کا کوئی انتظام کردینا چاہیے تاکہ اس طرح سے مسلمانوں کی شبیہ خراب نہ ہو، اور اسلام نے کسی بھی صورت میں گداگری اور بھیک مانگنے کو پسند نہیں کیا، اس لیے مسلمانوں کو بھی ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ان کو بھیک نہیں دینی چاہیے تاکہ وہ اس پیشہ سے تہی دست ہوکر جائز ذریعۂ معاش کو اختیار کریں، خواتین اور بچوں کو بھی بھیک نہیں دینی چاہیے کیونکہ ان میں بیشتر ضرورت اور حاجت کے لیے نہیں بلکہ بطورِ پیشہ بھیک مانگتے ہیں،


*منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مالدہ شیوار مالیگاؤں*
بلوچستان پر گدھ کی طرح نظر جمائے بیٹھا ہے چین اور امریکہ، بلوچوں پر ستم ڈھارہی ہے پاکستانی فو ج

نئی دہلی۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستانی فوج کی زیادتیوں پر چیخ رہی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے نام پر بے گناہوں کے قتل کی سازش کو اعداد و شمار اور حقائق کے ساتھ بے نقاب کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبے میں 900 سے زائد افراد کے جبری گمشدگی کی بھی اطلاعات ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) فوج کے نشانے پر ہے کیونکہ وہ معدنی معاہدے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (CPEC) کی مخالفت کر رہی ہے۔ بی ایل اے کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں معدنیات اور دیگر وسائل کا استحصال کیا جاتا ہے، لیکن اصلاحات سے وہ اچھوتے ہیں۔
اب جبکہ امریکہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے، فوج اس تنظیم کے خلاف پوری طاقت جھونک دی ہے۔ تاہم انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف بی ایل اے کے ارکان ہی کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔ فوج بڑے پیمانے پر نسل کشی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کوشش میں کئی بے گناہ شہری مارے جا چکے ہیں۔

امریکہ اور چین دونوں کی خطے میں دلچسپی کے باعث پاکستان پر بلوچستان کو تشدد سے پاک رکھنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوج عوام کے تحفظات کو دور کرنے کے بجائے ان کے خلاف تشدد کا استعمال کر رہی ہے۔ فوج بلوچ عوام کو نشانہ بنانے کے لیے ہیلی کاپٹر، ڈرون اور زمینی اہلکار استعمال کر رہی ہے۔

اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو واضح طور پر کہا گیا تھا کہ چین CPEC-2 منصوبے میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ چین نے پاکستانیوں سے فنڈز اکٹھے کرنے کو کہا لیکن یہ بھی کہا کہ یہ منصوبہ جاری رہے گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان سیکورٹی کے محاذ پر بری طرح ناکام ہوا ہے۔ بی ایل اے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پرتشدد حملوں کی وجہ سے چین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے بہت سے لوگ مارے گئے ہیں اور انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔


اس کے علاوہ چین نے پاکستان سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے معدنیات کے معاہدے کے بارے میں بھی معلومات مانگی ہیں۔ چین نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ بلوچستان کی معدنیات میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بلوچستان کے حوالے سے دونوں بڑی طاقتوں کو کوئی یقین دہانی کرانے سے قاصر ہے۔ یہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی فوج کے لیے بہت طاقتور ثابت ہو رہے ہیں۔

مزید یہ کہ فوج بی ایل اے کے خلاف پوری طاقت سے نہیں چل سکتی کیونکہ ایسا کرنا اپنے ہی لوگوں کی جان لینے کے مترادف ہوگا۔ پاکستانی آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ میں ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بلوچستان آرمی (بی ایل اے) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ امریکہ کے یہ کام کرنے کے بعد فوج بلوچستان میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے نام پر لوگوں کو مارنے پر تل گئی۔
درحقیقت پاکستانی فوج خطے پر مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ یہ بھی نہیں چاہتا کہ بلوچستان کے لوگ وہاں موجود ہوں۔ بھارتی ایجنسیوں نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے دنوں میں شہریوں کے خلاف کارروائی میں شدت آنے والی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک مایوس کن صورتحال ہے۔ یہ علاقے کے لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں لا سکتا کیونکہ اسے ان پر اعتماد نہیں ہے۔ مزید یہ کہ چین پاکستان کو دیے گئے یکیورٹی اور قرضوں دونوں کے لحاظ سے اپنے حقوق چاہتا ہے، اس لیے فوج کے پاس جارحانہ موقف اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ معدنیات کا معاہدہ اس کی مالی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر یہ معاہدہ نہ ہوا تو اسے چین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اسلام آباد CPEC-2 کی ادائیگی نہیں کر سکے گا۔ اس الجھن کے درمیان بلوچستان کے سینکڑوں بے گناہ لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...