Thursday, 11 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


*گلی محلّوں کی صفائی میں عوام کا کردار!*

*مچھلی بازار، کمالپورہ بیت-الخلا پر گندگی کا انبار کون ہے ذمہ دار
???????? 
          *محمد عارف نوری* 
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں و ڈائریکٹر حفاظت میڈیا مالیگاؤں )* 

*شہر میں حفظانِ صحت و صاف صفائی کا نظام میونسپل کارپوریشن کے ذمہ ہوتا ہے مگر کارپوریشن کے ساتھ ہر شہری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گلی محلوں کی صفائی میں اپنا کردار ادا کرے سڑکوں ،گلیوں کی کُھدائی کرتے وقت لوگ اکثر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے پختہ گلیوں ،سڑکوں سے نل (پانی) کنکشن لیتے وقت لوگ اپنا کام تو نکال لیتے ہیں لیکن دیگر لوگوں کے لئے مسائل کھڑے کر دیتے ہیں مٹی اور اینٹوں کی ڈھیر ویسے ہی پڑی رہتے ہیں اسطرح کی کوتاہی کارپوریشن کی جانب سے بھی کی جارہی ہے بارش کے ایام میں کیچڑ اور گڑھوں سے حادثات ہوتے ہیں اور راہ گیروں کو بھی بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کام ہونے کے بعد جگہ کو صاف کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے آمد و رفت میں دشواری اور گلیوں کو تنگ نا کریں ہمارے یہاں ہر کوئی اپنی من مانی کرنے میں لگا ہوتا ہے جس کا جو دل چاہتا ہے وہ کرتا ہے یہ وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف گلی محلوں کا حُسن خراب ہوتا ہے بلکہ راہ گیروں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کب تک ہم اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کرتے رہیں گے ہم اگر مسائل حل کرنے کے لئے خود آگے نہیں بڑھیں گے تو یہ مسائل جُوں کے تُوں رہیں گے شہریان کو دیکھنا چاہیے کہ کہاں کہاں کون غفلت کا مظاہرہ کر رہا ہے دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں ان باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ہمارے یہاں قوانین تو موجود ہیں لیکن اِن پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا گلیوں و دیگر جگہوں پر تجاوزات کو ہٹانے کے لئے اگر کوئی آفیسر آتا ہے تو ہمارے بھائی مَرنے مارنے پر اُتارو ہوجاتے ہیں حالانکہ اکثر لوگوں کے گھر، دوکان، کارخانہ، آفس پوری زندگی اتی کرمن پر ہی گزر جاتی ہے اُنھیں اتی کَرمن کے تعلق سے شریعت کا مسئلہ جاننا چاہیے بقرعید کا تہوار آنے والا ہے عوام اپنے شہر اپنی محلّے اور گلیوں کو صاف ستھرا رکھیں اپنے اہلِ خانہ اور محلے میں رہنے والوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھیں "صفائی نِصف ایمان " کی برکات سے مالا مال ہوں۔*
*وارڈ نمبر 13 مچھلی بازار، کمالپورہ بیت-الخلا کے اطراف جس طرح سے گندگی کا انبار رہتا ہے تعفّن، مچھّر، بَدبو، کیڑے، کیڑوں اطراف کے لوگوں خصوصاً بچّے، برزگ، خواتین بیماروں کا شکار ہوتے ہیں نا خود کچرا پھینکیں اور نا دوسروں کو پھینکنے دیں انتظامیہ خاص طور پر بقرعید کے موقع پر صاف صفائی پر توجہ دیں۔*
____________________________
ممبئی کے شعرا کا سو سال کے بعد لکھا گیا تذکرہ تذکرہ شعرائے مہاراشٹر اول دوم)ادب گاہ ممبئی 
مصنف : خلیق الزماں نصرتؔ
جائزہ نگار : راشدجمال فاروقی ۔ آئی ڈی پی ایل ، ٹاؤن شپ، ویربھدرا، رشی کیش ، دوہرہ دون
 خلیق الزماں نصرتؔ تقریباً ایک درجن سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور نصف درجن اعزازات حاصل کرچکے ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’شعرائے مہاراشٹر‘‘ ممبئی، بھیونڈی اور ممبرا کے ۹۱؍شعراء کی تصاویر، ان کے سوانحی احوال، شعری سفر کی روداد، نمونہ کلام اور کلام کا غیرجانبدارانہ ، تفصیلی اور تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔ جلداول میں حروف تہجی کے حساب سے ’الف‘ سے لے کر ’نون‘ تک کے شعراء سما گئے ہیں۔ مواد جمع کرنے میں انھیں جو دشواریاں درپیش آئیں وہ تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ ایک شاعر نے تو ان سے کہا کہ ہمارا کلام پیش کر کے آپ مشہور ہوجائیں گے۔ ایک دوسرے شاعر نے ایک ماہ کی مہلت مانگی کہ تازہ کلام کہہ سکیں۔ اس سے قبل کا سارا کلام وہ کسی کو بیچ چکے تھے۔ ہاں عجلت کی صورت میں وہ اپنے دادا مرحوم کا کلام دینے کی پیشکش بھی فرمانے لگے۔ 
 ممبئی اردو کے لئے ہمیشہ سے فراخ دل شہر رہاہے۔ اس ضمن میں نصرتؔ فلموں اور ٹی وی سیریلوں نیز غزلوں، گیتوں کے گلوکاروں کا اردو کی طرف جھکاؤ دیکھتے آرہے ہیں۔ سکندرعلی وجدؔ نے مہاراشٹر کی شان ’’اجنتا‘‘ پر اور علی سردار جعفری نے ’’بمبئی‘‘ پر نظمیں لکھی۔ سیتومادھوراؤ پاگڑی ، مراٹھی صحافی ودیادھر گوکھلے، شری پدجوشی، وسنت پوتدار، کیشوٹی میشرام، زاراین سردے اور رام پنڈت نے مراٹھی زبان میں غالبؔ پر کتب لکھی۔شعراء کے تعلق سے دلچسپ واقعات کتاب کو خوشگوار بناتے ہیں۔
 کتاب کے سب سے پہلے شاعر صفدر آہ‘ بیوی کے انتقال کے بعد پنڈت بن کر ایک مندر میں رہنے لگے تھے اور مرنے کے بعد جلائے جانے کی وصیت کرچکے تھے لیکن مندر کے بڑے پنڈت نے ان کی لاش ان کے اعزا کو سونپ کر دفنانے کا انتظام کردیا۔ اعجازصدیقی کی وقت کی پابندی ایسی تھی کہ دوسروں سے بھی یہی امید رکھتے، ورنہ غصہ ہوجاتے۔ جاںنثار اختر فلموں میں رہتے ہوئے بھی فلمی دنیا سے متنفر ہی رہے۔ اعجازصدیقی ہندی تھے۔ ایک بار قیصرالجعفری سے ناراض ہوکر بگڑ گئے۔ قیصر خاموشی سے سنتے رہے اور بولے : ’’اچھا چلو پان کھاتے ہیں۔‘‘ اعجاز بولے : ’’میں پان نہیں جان کھاتا ہوں۔‘‘ قیصر مسکرائے اور کہا : ’’آپ جان ہی نہیں کان بھی کھاتے ہیں۔‘‘ ابراہیم اشک ادب کے علاوہ فلموں میں بھی کامیاب ہیں۔ باقرمہدی کی تنک مزاجی کے کئی قصے قارئین کی تفریح کا سبب بنیں گے۔ مثلاً باقر اپنے گھر آنے والے کے لئے جب دروازہ کھولتے تو جس کو چاہتے تھے اسی کو اندر آنے دیتے تھے ورنہ واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ ایک بار انورخاں ان سے ملے گئے۔ باقرمہدی انھیں اندر نہیں آنے دینا چاہتے تھے، لیکن وہ زبردستی اندر داخل ہوگئے۔ تو پھر باقر نے بھی برا نہ مانا اور ان کی خوب تواضع کی۔
 علی سردارجعفری نے جب اردو شعراء پر ٹی وی سیریل ’کہکشاں‘ بنایا تو ان کی کوشش کے باوجود اسے ہندی کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔
 شکیل بدایونی نے اپنے ایک جشن میں مسلسل تین گھنٹے تک کلام سنایا اور لوگ داد دیتے رہے۔
  شکیلہ بانو بھوپالی جب بھی ہوتیں تو ایک ہاتھ کی چوڑیاں نکال کر دوسرے میں اور دوسرے ہاتھ کی پہلے ہاتھ میں پہنتی رہتی تھیں۔
  نداؔفاضلی نے معصوم انصاری کو بتایا کہ ایک دن صبح سوکر اٹھے اور پردہ کھینچا تو سامنے کوہ نور مل کے مونوگرام (مرغے) پر نظر پڑ گئی اور یہ شعر ہوگیا ؎
سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہوگئی
 اس ضخیم کتاب میں موجود شعراء کے کلام کی خصوصیات اور زندگی کے تئیں ان کے رویے نیز دلچسپ واقعات نے مجموعی طور پر کتاب کو دستاویزی حیثیت عطا کردی ہے۔ سب سے آخر میں مصنف خلیق الزماں نصرتؔ نے اپنا پروفائل اور نمونہ کلام پیش کیا ہے۔ ممبئی اور مضافات کے شعراء پر مشتمل اس اہم کتاب نے عروس البلاد ممبئی کے دھنک رنگ شعری منظرنامے کو آئندہ کے محققین کے لئے محفوظ کردیا ہے۔ ممبئی جو اردو کا ایک بڑا مرکز رہا ہے وہاں منتشر شعراء کو ایک جلد میں سمیٹ کر نصرتؔ نے کارخیر انجام دیا ہے۔ یہ اکلوتی کتاب ہمیں جن مشاہیر شعراء کے بہت قریب پہنچا دیتی ہے، ان میں سے چند نام درج کئے جاتے ہیں : صفدر آہ ، اعجازصدیقی، جاں نثاراخترؔ، افتخار امام صدیقی، ابراہیم اشکؔ، باقرمہدی، لتاحیاؔ، شبیرراہی، راجیش ریڈی، علی سردارجعفری، ساحرؔلدھیانوی، احمدسوزؔ، عبدالاحدسازؔ، ساگرترپاٹھی، شکیل بدایونی، رفیعہ شبنم عابدی، شکیل بانو بھوپالی، شکیل اعظمی ، ظفرگورکھپوری، عزیزقیسی، عبداللہ کمال، مجروحؔ سلطان پوری ، میناکماری اور ندافاؔضلی وغیرہ۔
 خلیق الزماں نصرتؔ نے ’’شعرائے مہاراشٹر‘‘ جلددوم میں کوئی پیش لفظ شامل نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی جلد’الف‘ سے ’ن‘ تک حروف سے شروع ہونے والے تخلص رکھنے والے شعراء پر مشتمل تھی۔ جلددوم کو پھر ’الف‘ سے شروع کر کے ’ے‘ تک لے گئے ہیں۔ اس طرح جو لوگ پہلی جلد میں چھوٹ گئے تھے وہ بھی شامل ہوگئے لیکن نام بڑھ گیا۔
 اس جلد میں بھی فارمیٹ (format) وہی ہے۔ شاعر کی تصویر، حالاتِ زندگی، شعری رجحان، نمونہ کلام، کلام کی تحقیقی و تنقیدی جائزہ اور شاعر کی شخصیت کے تعلق سے اہم جانکاری۔ اس طرح بہت سارے دلچسپ واقعات قارئین کے مطالعے کو مزید پُرشوق بناتے ہیں۔ یہ جلد غلام احمد خاں آرزوؔ سے شروع ہوکر یوسف دیوان پر ختم ہوتی ہے اور ۱۴۴؍شعراء کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ آیئے چند مزیدار باتیں بانٹ لیں۔
 کتاب کے اولین شاعر غلام احمد خاں آرزوؔ اخبار ’’ہندوستان‘‘ نکالتے تھے۔ اخباری رپورٹ سب سے پہلے شائع کرنے کا انھیں جنون تھا۔ ایک بار جب روس کا ڈکٹیٹر اسٹالن کوما میں تھا تو ایک روز اچانک آرزوؔ نے اپنے اخبار کی سرخی جمائی: ’’اسٹالن کی موت‘‘ اور واقعی اس رات ہی کسی وقت وہ مربھی چکا تھا۔ 
 انورؔفرخ آبادی سے کوئی کلام سنانے کو کہتا تو منع کردیتے کہتے : ’’میں تو قوالیاں لکھتا ہوں۔‘‘ 
 اخترؔالایمان نظم اور نثر دونوں پر قدرت رکھتے تھے۔ جاویداختر کی اپنے والد جاںنثاراخترؔ سے کبھی نہیں بنی ، لیکن وہ ساحرؔلدھیانوی کا بہت احترام کرتے تھے۔ ساحرؔ کے انتقال پر جاویداختر ان کی میت اپنے گھر لے گئے۔ روتے جاتے اور تکفین کا انتظام کرتے جاتے تھے۔
  حسرتؔ جے پوری بس کنڈکٹر تھے۔ چلتی بس میں شعر سناتے رہتے تھے۔ ایک دن کسی پروڈیوسر کی نظر میں آگئے اور فلمی نغمہ نگار بن بیٹھے۔ 
 آغاخلش کاشمیری نے منٹو کو ابتدائی اردو سکھائی تھی۔ جب منٹو کو ’مصور‘ کی ایڈیٹری ملی تو انھوں نے شرط رکھی کہ آغاخلش کو بھی ملازمت دی جائے۔
  غرقابؔ نظام پوری نے کبھی مکتب کا منہ نہیں دیکھا۔ انھیں جب جب مکتب لے جایا جاتا انھیں تیز بخار آجاتاتھا۔
  قیصرالجعفری ممبئی سینٹرل پر بکنگ دفتر میں تھے۔ ایک بار علی سردار جعفری نے ٹکٹ لینے کے لئے جب کھڑکی میں ہاتھ ڈالا تو قیصر نے انھیں ٹکٹ کے ہمراہ اپنی کتاب بھی تھمادی اور اس پر کچھ لکھنے کی درخواست بھی کی لیکن سردار نے اس پر کبھی کچھ نہیں لکھا۔
  کیفی اعظمی حیدرآباد کے ویمنس کالج کی لڑکیوںکے پروگرام میں آتے۔ پسند کئے جاتے تھے کہ لڑکیاں ۳۰۔۲۵ روپے خرچ کر کے ان کی تصاویر حاصل کرتی تھیں۔ یہ رقم ان دنوں خاصی بڑی ہوتی تھی۔
  محموددرانی بس کنڈکٹر تھے اور ملازمت کے دوران بھی اکثر نشے میں رہتے تھے۔ روز شام کو حساب دیتے وقت کچھ روپیہ ہمیشہ کم نکلتا جو ان کی قلیل تنخواہ سے کاٹے جاتے ، پھر بھی وہ مست تھے۔ کرلا میں ان کے نام ایک چوک ہے۔
 اس جلد میں ایسے ایسے عظیم الشان شعراء کی شخصیت اور شعری پہچان مستحکم ہوئی ہے جن کے بارے میں اکثر قارئین کو تجسس رہتا ہے۔ مثلاً چند اہم نام درج کئے جاتے ہیں : اخترالایمان ، انجم رومانی، کفیل آزرؔ، فصیح اکمل، اشعرنجمی، جاویداختر، جاویدندیم، حسرتؔ جے پوری، حامد لطیف، حامداقبال صدیقی، دپتی مشرا، راجندرکرشن، کالی داس گپتا رضاؔ ، یعقوب راہیؔ، سعیدراہی، ممتازراشد، شمیم عباس، شمیم طارق، شاہد لطیف، صابردت، صباؔافغانی، گنیش بہاری طرزؔ، فضیل جعفری، قمرؔجلال آبادی، قیصرالجعفری، قمرؔصدیقی، کیفی اعظمی، حسن کمال، گلزار، عبدالمنان بجنوری، حسن نعیم، نقش لائل پوری، نظام الدین نظامؔ ، ندیم صدیقی، قاسم ندیم، عزیزنبیل اور احمدوصی وغیرہ۔ کتاب کی عظمت مندرجہ ذیل اقتباس سے ظاہر ہے :
 بقول پروفیسر مجاہد حسین حسینی : ’’جب میں نے سرسری طور پر پڑھا اور چاہا کہ اسے بک شیلف میں رکھ دوں، تو اس ظالم نے ہاتھوں کی گرفت اور نظروں کی توجہ سے ہٹنے سے یکسر انکار کردیا۔ علامہ آرزوؔ لکھنوی کی زبان میں گویا اس نے مجھ سے احتجاج کیا اور کہا ؎
جاتے کہاں ہیں آپ نظر مجھ سے موڑ کے
تصویر نکلی پڑتی ہے آئینہ توڑ کے
مصنّف کا موبائل نمبر 9923257606
____________________

Hafeez Tabassum 

مایوسی کا دیوتا
(ساحر شفیق کے لیے ایک نظم) 

برسوں پہلے
جب میں اس سے ملا تھا
وہ بے دھیانی میں لکھ دی گئی نظم کی طرح تھا
میں نے پہلی بار
ایک نظم کو سگریٹ پیتے
تھوڑا سا جھک کر چلتے
اور ناراض ہوتے دیکھا تھا 

وہ برے دنوں کی یاد میں زندہ رہنے والا شخص ہے
جو اکیلے لوگوں کے ہجوم میں
اپنی گمشدگی کا اشتہار بانٹتا پھرتا ہے
وہ اپنی گالیاں خود ایجاد کرتا ہے
وہ ان لوگوں کی طرح اوپر اٹھنے پر یقین نہیں رکھتا
جن کے پیروں تلے دوسروں نے ہاتھ رکھے ہوئے ہوں 

وہ اعلان لاتعلقی کا پلے کارڈ اٹھائے
آگ اور یادداشت کے جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا آسیب ہے
جسے دور سے دیکھا تو جا سکتا ہے
مگر چھوا نہیں جاسکتا
سب جانتے ہیں
وہ اچھے اور برے آدمی کے درمیان کی مخلوق ہے
لوگ اسے مایوسی اور اکتاہٹ کا دیوتا کہتے ہیں
اس نے ہر انسانی امید کو اپنی روح میں ختم کر دیا ہے
اس کے نزدیک خواب اور امید
مختصر سی تفریح ہے 

وہ ٹھیک ٹھاک آدمی نہیں ہے
اس کے باوجود
اپنے دوستوں کو چائے کی پیالی یا سگریٹ پیش کرنے پر
خداوند کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرتا 

وہ خودکشی کے دعوت نامے بانٹتا پھرتا ہے
مگر خود اسے
صرف کہانیوں میں مارے جانا پسند ہے
وہ کہتا ہے
اس کی نظمیں وقت کے ساتھ ساتھ
لڑکیوں کی طرح بڑی ہورہی ہیں 

وہ تمباکو نوشی کی تحریک سے الگ ہو گیا ہے
مگر اب بھی
تمباکو کے پودے کو مقدس قرار دیتا ہے 

زندگی اس کے تعاقب میں ہلکان ہو گئی ہے
اور لوگ اسے ڈھونڈتے ہوئے
برف کے پتلوں میں بدل گئے ہیں 

فرار کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے
اس نے خود کو ایک قلعے کی طرح اندر سے بند کرلیا ہے
اور قلعے کے باہر جاری جنگ کو
وہ Tom and Jerry کی لڑائی قرار دیتا ہے
خوف اور اندیشوں کی گٹھڑیاں اٹھائے ہوئے اس تک پہنچنے والے لوگ
ہمیشہ خالی ہاتھ لوٹتے ہیں
اسے اپنے جیسے لوگ بنانے کا ہنر آگیا ہے
اس لیے خدا کے بنائے ہوئے لوگوں سے دور بھاگتا ہے
لوگ اسے شہروں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں
حالانکہ اسے نثری نظم کی کسی بھی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے 

وہ کبھی پیدا نہیں ہوا
مگر ہر روز اس کا یوم وفات ہے 

حفیظ تبسم
___________

کاش بچے نہ مریں
نظم: غسان کنفانی
⭕ترجمہ: شگفتہ شاہ

’’ کاش بچے نہ مریں۔
کاش جنگ کے اختتام تک وہ عارضی طور پر آسمانوں کی جانب چلے جائیں۔
پھر جب وہ بحفاظت گھر لوٹیں، اور ان کے والدین ان سے پوچھیں:
آپ کہاں تھے؟
تو وہ کہیں:
ہم بادلوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔‘‘
"I wish children do not die.
I wish they would be temporarily elevated to the skies until the war ends.
Then they would return home safe, and when their parents ask them:
Where were you? They would say:
We were playing with the clouds."
Ghassan Kanafani
 بہ شکریہ Yasir Habib

*🛑سیف نیوز اُردو*

جموں  کشمیراسمبلی کابجٹ اجلاس:دوسرے مرحلے کی کارروائی کے پہلے دن این سی اور بی جے پی ارکان اسمبلی نے کیاہنگامہ جموں ...