Thursday, 11 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*سرمایہ داروں کی تنظیم کے خلاف مزدور یونین کا تھر نہ اندولن*

*12 ستمبر* 
*ں کی وز جمعہ کو کلیکٹر افس پہ مزدور یونین کا زبردست دھرنا*

مالیگاؤں شہر کے مزدوروں کےلے ھمیشہ لڑنے والی مزدور یونین 
مالیگاؤں تعلقہ سائزنگ اور جرنل کامگار یونین پچھلے دو سال سے سرمایہ داروں کی تنظیم کے خلاف۔ مالیگاؤں لیبر افس اور کلیکٹر افس میں پیپر کی لڑائی لڑ رہی تھی
جس کا مقصد تھا کہ مالیگاؤں شہر کے سرمایہ دار راؤنڈ ٹیبل میٹنگ میں بیٹھ کر مالیگاؤں کے مزدوروں کی مزدوری پر بات چیت کرے تاکہ ان کی مزدوری بڑھ سکے
لیکن کئی بار نوٹس بھیجنے کے بعد بھی تنظیم کے نمائندوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی میٹنگ میں حاضر ہوئے 
اس لیے اب یہ لڑائی مالیگاؤں تعلقہ سائزنگ کو جنرل کامگار یونین روڈ پر اتر کر لڑے گی 
پہلا اندولن 12 ستمبر بروز جمعہ صبح 10 بجے سے پانچ بجے تک کلیکٹر افس پر ہوں گا 
انشاءاللہ یہ دھرنا مزدوروں کی اواز بند کر انتظامیہ تک ان کے مسائل پہنچائے گا 
یونین کے صدر اشفاق سائزر نے مزدوروں کو اس اندولن کو اپنا اندولن سمجھ کر زبردست کامیاب کرنے کی گزارش کی ہیں 
یاد رہے جمہوریت میں تعداد کو دیکھا جاتا ہے
اس اندولن کو بھارت کی سب سے مضبوطی مزدور یونین سیٹو مزدور یونین نے حمایت دی ہے 
سیثو مزدور یونین کے تعلقہ سیکرٹری کامریڈ اظھر خان نے بتایا چونکہ یہ اندولن غیر سیاسی ہے اور کسی بھی سیاسی پارٹی سے اس اندولن کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور یہ اندولن صرف مزدوروں کے پلیٹ فارم سے مزدوروں کے لیے ہو رہا ہے اس لیے سیٹو یونین نے اسے حمایت دی ہے 
اخر میں اشفاق سائزر نے بتایا کہ اس اندولن میں کس وان کی مزدوری کتنی ہونی چاہیے تراسن والوں بکا کتنی ہونی چاہیے سائزنگ میں کام کرنے والے وار پر سائزر بھیگاری کی پکار کا کیا حساب ہوا گا
ان ساری باتوں پر کلیکٹر سے بات چیت کی جائے گی اور سرمایہ داروں کے اوپر پریشر بنانے کی مانگ کی جائے گی 
سیٹو یونین کے رمیش جگتاپ نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی لڑائی صرف مزدور یونین ہی لڑ سکتی ہے کوئی سیاسی پارٹی مزدوری کی لڑائی ایمانداری سے نہیں لڑی گی کیونکہ اسے سرمایہ داروں کی بھی ووٹ چاہیے ہوتی ہے 
اخر میں مالیگاؤں تعلقہ شائزنگ جرنل کامگار یونین کے ذمہ دار جنید شاہ اور اندولن کو حمایت دینے والے سب رنگ جابر یونین / امن کٹھنی سنگھٹنا اور سیٹو یونین نے مزدوروں سے اس اندولن میں بڑی تعداد میں شامل ہونے کی گزارش کی ہے یاد رہیے یہ اندرون آنے والے جمعہ 12 ستمبر صبح 10 بجے سے شام پانچ بجے تک ایڈیشنل کلیکٹر افس پر ہوگا
اپیل گردہ 
مالیگاؤں کی تمام غیر سیاسی مزدور
 یونین
*لو..... اب جمیل کرانتی و کانگریس مجلس عاملہ کو پھر سے پریس کانفرنس لیکر صفائی دینا پڑ سکتی ہے۔* 

*کانگریس کے اعجاز بیگ اور سماجوادی پارٹی کے ترجمان انیس مستری کے مابین گالی گلوچ اور ہنگامہ* 

*معاملہ رہبر کوچنگ کلاسیس مرزا غالب روڈ کے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید، سٹی پولیس اسٹیشن میں فریاد درج* 

*مالیگاؤں (احرار نیوز نیٹ ورک) 12، ستمبر :* مالیگاؤں شہر میں الزام در الزام کی سیاست پر ابھی تبصرے ہی چل رہے تھے۔ ابھی سماجوادی پارٹی کی جانب سے کانگریس کے کارگذار صدر اعجاز بیگ کیخلاف نہالی انداز میں تحریک اور منہ کالا کرنے کے الٹی میٹم کی مدت بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سماجوادی پارٹی کے ترجمان انیس شیخ حسین عمر 54، برس (رہائش مالدہ شیوار گٹ نمبر 82/01 پلاٹ نمبر 11 مالیگاؤں) نے اعجاز بیگ عزیز بیگ (رہائش :امن چوک مالیگاؤں) کیخلاف سٹی پولیس اسٹیشن میں فریاد درج کروا دی ہے۔ جس کا این سی آر نمبر 199/25 بتاریخ 11/09/2025 ہے۔

 انیس شیخ حسین عرف انیس مستری نے بتلایا کہ وہ سماجوادی پارٹی کے ترجمان ہیں۔ اور مذکورہ دن اور تاریخ کو شام تقریباً 4، بجے اپنے چھوٹے پوتے کے ہمراہ رہبر کوچنگ کلاسیس جونا فاران ہاسپٹل کے پاس مرزا غالب روڈ پر اپنے نواسے کو کوچنگ کلاس سے لینے کیلئے آئے تھے تب کانگریس صدر اعجاز بیگ رکشا کے ذریعہ وہاں آئے اور انہوں نے انیس مستری کو کہا "کیا رے بہت تحریک چلا رہے تم لوگ، کب آئیں گے گوبر مارنے۔" اس سے پہلے کہ انیس مستری اپنی بات کہتے اعجاز بیگ نے انہیں، سماجوادی پارٹی کی صدر شان ہند اور مستقیم ڈگنیٹی پر گالیوں کی بوچھار شروع کردی۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ مرزا غالب روڈ، رہبر کوچنگ کلاسیس اور جونا فاران ہاسپٹل کے اطراف میں بھیڑ جمع ہوگئی۔ انیس مستری کے مطابق پورا معاملہ اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس چپلقش کو برداشت کیا اور فوری طور پر سٹی پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپنی فریاد درج کروائی۔

واضح رہے کہ مالیگاؤں شہر میں چل رہی الزام در الزام کی سیاست دھنک رنگ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ اس درمیان کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے ذمہ داران ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ اعجاز بیگ کی جانب سے مستقیم ڈگنیٹی اور شان ہند پر الزامات کی بوچھار ہونے کے بعد ردعمل کے طور سماجوادی پارٹی میڈیا سیل نے بھی پریس کانفرنس لیکر اعجاز بیگ کو پندرہ دنوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے نہالی انداز میں تحریک، منہ کالا کرنے اور گوبر مارنے کی دھمکی دی تھی۔ ابھی الٹی میٹم کی مدت بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ اعجاز بیگ نے ایک مرتبہ پھر سماجوادی پارٹی کے ترجمان انیس مستری کیساتھ دریدہ دہنی کا مظاہرہ کردیا۔ 

کانگریس کارگذار صدر اعجاز بیگ کی اس حرکت کیخلاف انیس مستری نے سٹی پولیس اسٹیشن میں فریاد درج کرنے کے بعد میڈیا کے روبرو اپنا بیان بھی درج کروایا۔ ابھی کانگریس کمیٹی میں منعقدہ جمیل کرانتی اور کانگریس مجلس عاملہ کی پریس کانفرنس پر تبصرہ ہی چل رہا تھا کہ اعجاز بیگ کے ذریعہ گالی گلوچ کی گونج سنائی دینے لگی۔ اس سے قبل اسمبلی الیکشن کے ایام میں دھولیہ مالیگاؤں حلقہ کی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شوبھا تائی بچھاؤ کو ماں بہن کی گالیاں دینے پر ہنگامہ مچا تھا۔ تب بھی کانگریس کے نائب صدر اور مجلس عاملہ نے پریس کانفرنس لیکر اعجاز بیگ کیلئے صفائی پیش کی تھی۔ مستقیم ڈگنیٹی اور اعجاز بیگ کی چپلقش کے درمیان مستقیم اور شان ہند پر الزام تراشیوں کے بعد نہالی تحریک اور منہ کالا کرنے کے الٹی میٹم پر پھر سے قدوائی روڈ کانگریس کمیٹی پر پریس کانفرنس کا انعقاد کرنا پڑا۔ اب ایک بار پھر مرزا غالب روڈ پر رہبر کوچنگ کلاسیس کے پاس انیس مستری کو گالیاں دینے اور جان سے مارنے کی دھمکی کا معاملہ اجاگر ہوا ہے تو کیا اب پھر سے الحاج جمیل کرانتی اور کانگریس مجلس عاملہ پریس کانفرنس لیکر اعجاز بیگ کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ایسا سیاسی گلیاروں میں کہا اور سنا جارہا ہے۔
حیدرآباد: 6 سالہ بچی مین ہول میں گری، ماں نے بچایا:ویڈیو وائرل

حیدرآباد میں 6 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر گئی، ماں نے بروقت بچا لیا۔ویڈیو وائرل
حیدرآباد کے پرانے شہر میں 6 سالہ بچی اپنی ماں کے ساتھ چل رہی تھی کہ اچانک ایک کھلے نالی میں گر گئی، لیکن خوش قسمتی سے اسے فوراً بچا لیا گیا۔ بچی کے والدین نے شہری انتظامیہ کو لاپرواہی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

یہ واقعہ بدھ کے روز حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقے مولا کاچھلہ میں پیش آیا۔ بچی اپنی ماں کے ساتھ چل رہی تھی کہ وہ بغیر ڈھکے ہوئے ڈرین میں پھسل گئی، لیکن فوری طور پر اسے نکال کر محفوظ جگہ پر لایا گیا۔

یہ واقعہ علاقے کی CCTV کیمرا میں قید ہو گیا، جس میں دکھایا گیا کہ بچی چلتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی، اور اسی دوران وہ پھسل کر کھلے مین ہول میں گر گئی۔

بچی کے والدین نے شہری انتظامیہ کی لاپرواہی پر غصہ ظاہر کیا اور اس واقعے کا ذمہ دار مین ہول کے بغیر ڈھکن چھوڑنے کو ٹھہرایا۔

کی تحقیقات:

اس دوران، Hydraa کمشنر AV رنگناتھ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ پریس ریلیز کے مطابق، Hydraa بدھ سے جمعرات صبح تک مین ہول کھولے جانے کے CCTV فوٹیج کا مکمل جائزہ لے گا۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق، Hydraa کی MET ٹیم نے مقامی کارپورٹر کے حکم پر HMWSSB کی جیٹنگ مشینوں کا استعمال کرتے ہوئے جمع شدہ کیچڑ کو ہٹانے کے لیے مین ہول کھولا تھا، لیکن صفائی کے بعد مین ہول کو صحیح طریقے سے بند نہیں کیا گیا۔

ریلیز کے مطابق، “10 ستمبر کی شام، جب دوسری شفٹ کی MET ٹیم نے مین ہول بند کرنے کی کوشش کی، مقامی لوگوں نے اسے کھلا رکھنے پر اصرار کیا، جس سے بند کرنا ممکن نہیں ہوا۔ نتیجتاً کھلا مین ہول بچی کے گرنے کا سبب بنا۔”

Hydraa نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں بھی مین ہول کا ڈھکن کھلا چھوڑا گیا ہو تو فوری اطلاع درج ذیل نمبر پر دیں: 9000113667

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...