تل ابیب: غزہ جنگ کے تقریباً دو سال مکمل ہونے سے قبل اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے سابق سربراہ ہرزی حلیوی نے چونکا دینے والا بیان دیا ہے۔ جنوبی اسرائیل میں ایک کمیونٹی تقریب میں حیلوی نے کہا کہ اس جنگ میں اب تک 2 لاکھ سے زائد فلسطینی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ حلیوی نے واضح طور پر کہا کہ غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے 10 فیصد سے زیادہ اس تنازعے سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارت صحت کی رپورٹ سے میل کھاتا ہے۔ وہی وزارت جسے اسرائیلی حکام اکثر ‘حماس کا پروپیگنڈہ’ کہہ کر مسترد کرتے رہے ہیں۔ لیکن بین الاقوامی انسانی ادارے ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ وزارت کے مطابق غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 64,718 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 1,63,859 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔ ہزاروں لاپتہ افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ کوئی عام جنگ نہیں ہے۔ ہم نے پہلے ہی منٹ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ بدقسمتی سے، پہلے نہیں.’ حلیوی یہاں یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے غزہ میں سخت موقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ سابق کمانڈر عین حبصور موشاو (زرعی کوآپریٹو) کے رہائشیوں سے بات کر رہے تھے، جو دو سال قبل حماس کے حملہ آوروں کو بھگانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کے تبصروں کی ریکارڈنگ بعد میں Ynet نیوز نے شائع کی۔ قانونی مشیر کارروائی کو جائز قرار دیتے ہیں۔
سابق فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم بین الاقوامی انسانی قوانین کے دائرے میں رہ کر کام کر رہے ہیں لیکن ‘کسی قانونی مشیر نے مجھے یا میرے افسران کو کبھی نہیں روکا’۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فوجی وکلاء کا کردار زیادہ تر ‘دنیا کے سامنے IDF کی کارروائی کی قانونی حیثیت کو ثابت کرنے’ تک محدود تھا۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ آئی ڈی ایف کے موجودہ سربراہ ایال ضمیر نے بھی حال ہی میں قانونی مشورے کو نظر انداز کیا ہے۔ اس سارے معاملے نے انسانی حقوق کے کارکنوں کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اسرائیلی انسانی حقوق کے وکیل مائیکل سفارڈ نے کہا ، ‘حلیوی کے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ فوجی وکلاء صرف رسمی کارروائیوں کو پورا کرنے کے لیے موجود ہیں، درحقیقت ان کے مشورے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔’
پاکستانی فوجی قافلے پر حملہ: 12 اہلکار ہلاک، ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی
پاکستان میں فوجی قافلے پر حملہ: ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی، کم از کم 12 فوجی ہلاک
پاکستان کے شمال مغرب میں ہفتے کی صبح حملہ آوروں نے فوجی قافلے پر ambush گھات لگا کرحملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے۔ واقعہ صبح تقریباً 4 بجے پیش آیا، جب فوجی قافلہ اپر ساؤتھ وزیرستان کے علاقے فاقِر سرائے سے گزر رہا تھا۔ حملہ آوروں نے دونوں طراف سے بھاری اسلحے سے فائرنگ کی۔ مقامی حکومت کے ایک عہدیدار نے AFP کو بتایا کہ اس حملے میں چار اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایک سکیورٹی افسر نے بھی تصدیق کی اور بتایا کہ حملہ آور نہ صرف فرار ہوگئے بلکہ قافلے کا اسلحہ بھی لے گئے۔
تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یہ واقعہ خیبر پختونخواہ صوبے کے اندر اب تک کے سب سے سنگین حملوں میں سے ایک ہے۔ وہاں TTP گزشتہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں دوبارہ سرگرم ہو گئی ہے، خاص کر افغانستان-پاکستان سرحد کے علاقوں میں۔
ایک مقامی اعلیٰ عہدیدار نے AFP کو بتایا کہ TTP کے جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور حملوں کی تعدد میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے
ادھر لاہور میں مقامی رہائشیوں نے شمال مغربی خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع میں دیواروں اور عمارتوں پر “TTP” کے نام اور نشانات بنے ہوئے دیکھے ہیں، جس سے لوگوں میں خدشہ ہے کہ ماضی کی طرح ان علاقوں میں ان کا دوبارہ اثرورسوخ بڑھ سکتا ہے۔
AFP ریکارڈ کے، ۱ جنوری سے اب تک خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں تقریباً 460 افراد مسلح گروپوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، مرنے والوں میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔
پچھلے سال، پاکستان کو تقریبا دس سالوں کی سب سے خونریز مدت کا سامنا کرنا پڑا، جب تقریباً 1600 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے نصف کے قریب فوجی اور پولیس تھے۔
تحریکِ طالبان پاکستان (TTP): ایک مسلح گروپ ہے جو پاکستان کے شمالی قبائلی علاقوں اور سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں اپنی شرائط پر حکمرانی کرنا، سرکاری فورسز کو کمزور کرنا اور سرحد کے پار سے عناصر کی مدد حاصل کرنا شامل ہے۔
سرحدی امن اور افغانستان کا اثر**:** افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، سرحدی علاقوں میں TTP کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، جس پر پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کی حکومت دہشت گرد عناصر کو پاکستان میں حملے کرنے کی پناہ گاہ فراہم کر رہی ہے۔
سکیورٹی فورسز کی سرگرمیاں**:** فوجی مہمات اور آپریشنز ہوتے رہے ہیں، مگر ایسے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ TTP ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ دوبارہ تنظیم سازی اور حملوں کی انجام دہی میں سرگرم ہے۔
نیپال کے امن کے لئے بھارت پرعزم ہے‘: وزیراعظم مودی نے ’سوشیلا کرکی‘ کو وزیرِاعظم بننے پر مبارکباد دی
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ’سوشیلا کرکی‘ کو نیپال کی عبوری حکومت کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کی
سابق چیف جسٹس ’سوشیلا کرکی‘ کو نیپال کے صدر رام چندر پاؤڈل نے وزیرِاعظم کے طور پر حلف دلایا۔ وہ نیپال کی پہلی خاتون ہیں جنہیں وزیرِاعظم کا عہدہ ملا ہے۔ ان کی تقرری اُس وقت عمل میں آئی جب پچھلے ہفتے ملک بھر میں ہونے والے عوامی احتجاج کے نتیجے میں ’ کے پی شرما اولی‘ کی حکومت گر گئی تھی۔
کے پی شرما اولی‘ نے طویل بدعنوانی مخالف احتجاج اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے دباؤ کے تحت استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد نیپال کی پارلیمان کو جمعہ کی شب تحلیل کر دیا گیا اور ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ 5 مارچ 2026 مقرر کی گئی۔
Back
وطن نامہ
FOLLOW US
SHARE
INSTALL APP
بھارت،نیپال کے امن کے لئے پُرعزم ہے۔ وزیراعظم مودی نے نیپال کی عبوری وزیراعظم کو دی مبارکباد
PM Modi Backs Nepal’s Peace, Congratulates Sushila Karki on Taking Office وزیراعظم مودی نے سوشیلا کرکی کو نیپال کی پہلی خاتون عبوری وزیراعظم بننے پر مبارکباد دی۔وزیراعظم مودی نے کہاکہ بھارت، نیپال کے عوام کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پُرعزم ہے۔
اشتہار
Last Updated : September 13, 2025, 12:42 pm IST
Published by : MM Sayeed
بھارت،نیپال کے امن کے لئے پُرعزم ہے۔ وزیراعظم مودی نے نیپال کی عبوری وزیراعظم کو دی مبارکباد
اشتہار
متعلقہ ویڈیو
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا
Aasaduddin owaisi: کیجریوال اور مودی ایک سکے کے دو پہلو، اسد الدین اویسی نے مصطفی آباد میں کہا
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Donald Trump: پی ایم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Mann ki Baat: من کی بات میں پی ایم مودی نے کیا عوام سے خطاب
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Prime Minister News: سونہ مرگ زیڈ موڈ ٹنل کا آج پی ایم مودی نے افتتاح کیا
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان
Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا بیان
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی کٹرا سے سرینگر تک پہلی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا سکتے ہیں
Sushila Karki Becomes Nepal’s First Woman Interim PM, Modi Extends Congratulations
’نیپال کے امن کے لئے بھارت پرعزم ہے‘: وزیراعظم مودی نے ’سوشیلا کرکی‘ کو وزیرِاعظم بننے پر مبارکباد دی
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ’سوشیلا کرکی‘ کو نیپال کی عبوری حکومت کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کی۔
متعلقہ خبریں
PM Modi Manipur Visit: وزیر اعظم مودی سیدھا چورا چند پور ہی کیوں جا رہے ہیں؟
پی ایم مودی 13 ستمبر کو کریں گے منی پور کا دورہ ، تشدد پھوٹنے کے بعد مودی کا یہ پہلا دورہ
سی پی رادھا کرشنن نے نائب صدر کی حیثیت سے لیاحلف، ملک کے 15ویں نائب صدربنے
نیپال ، بنگلہ دیش... تین ممالک میں تختہ پلٹ، پیچھے کون سے ’خفیہ سازش‘
سابق چیف جسٹس ’سوشیلا کرکی‘ کو نیپال کے صدر رام چندر پاؤڈل نے وزیرِاعظم کے طور پر حلف دلایا۔ وہ نیپال کی پہلی خاتون ہیں جنہیں وزیرِاعظم کا عہدہ ملا ہے۔ ان کی تقرری اُس وقت عمل میں آئی جب پچھلے ہفتے ملک بھر میں ہونے والے عوامی احتجاج کے نتیجے میں ’ کے پی شرما اولی‘ کی حکومت گر گئی تھی۔
کے پی شرما اولی‘ نے طویل بدعنوانی مخالف احتجاج اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے دباؤ کے تحت استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد نیپال کی پارلیمان کو جمعہ کی شب تحلیل کر دیا گیا اور ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ 5 مارچ 2026 مقرر کی گئی۔
اشتہار
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشیلا کرکی‘ کی عبوری وزیراعظم کے طور پر تقرری ایک منفرد انداز میں ہوئی۔ نوجوان نسل (Gen Z) نے ایک آن لائن پلیٹ فارم ’ڈسکارڈ‘ پر عوامی ووٹ کے ذریعے انہیں منتخب کیا۔
وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
’’میں معزز محترمہ سوشیلا کرکی کو نیپال کی عبوری حکومت کی وزیراعظم بننے پر نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ بھارت نیپال کے عوام کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پُرعزم ہے
بھارت-نیپال تعلقات کا پس منظر
بھارت اور نیپال کے درمیان 1,751 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے جو بھارت کی پانچ ریاستوں سکم، مغربی بنگال، بہار، اتر پردیش اور اتراکھنڈ سے گزرتی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو مذہب، زبان اور ثقافت کی یکسانیت نے مزید مضبوط بنایا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی مئی 2014 کے بعد سے اب تک پانچ مرتبہ نیپال کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ نیپال کے وزرائے اعظم بھی دس مرتبہ بھارت کے سرکاری دورے کر چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی اور ثقافتی روابط ہمیشہ سے جنوبی ایشیا کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
سوشیلا کرکی کا وزیراعظم کے طور پر تقرر نیپال کی تاریخ میں نہ صرف ایک بڑی تبدیلی ہے بلکہ یہ خواتین کی سیاسی شمولیت کے لئے بھی ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔