Thursday, 11 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

سی پی رادھا کرشنن نے نائب صدر کی حیثیت سے لیاحلف، صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے دلایا حلف ، ملک کے 15ویں نائب صدربنے
سی پی رادھا کرشنن نے نائب صدرجمہوریہ کے عہدے کا حلف لے لیا ہے۔اس طرح وہ15ویں نائب صدر بن گئےہیں۔راشٹرپتی بھون میں ، صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے رادھاکرشنن کو عہدے کا حلف دلایا۔

حلف برداری تقریب میں پرائم منسٹر نریندرمودی، وزیرداخلہ امت شاہ اور جے پی نڈا موجود تھے۔اس موقع پر ،سابق صدر رام ناتھ کووند کے ساتھ سابق نائب صدر وینکیا نائیڈو اور جگدیپ دھنکھر بھی موجود تھے۔جگدیپ دھنکھر جولائی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد پہلی بار کسی عوامی تقریب میں نظر آئے ہیں۔

منگل کے روز نائب صدر کے لئے ہوئے انتخاب میں این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن نے کامیابی حاصل کی۔ رادھاکرشنن نے 452 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف بی سدرشن ریڈی کو 300 ووٹ ملے۔

اس طرح انھوں نے مدمقابل حریف بی سدرشن ریڈی کوبڑے فرق سے زیر کیا۔

انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد عوامی سطح پر اپنی پہلی بات چیت میں نو منتخب نائب صدر نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے اس انتخاب کو نظریاتی جنگ قرار دیا تھا، لیکن ووٹنگ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوم پرستی کا نظریہ کامیاب ہوا ہے۔
معمولی سی بات پرامریکہ میں ہندوستانی نژاد چندرمولی ناگاملیا کا قتل ،خراب واشنگ مشین استعمال کرنے سے روکا توملزم کو آیا غصہ

امریکہ کے ڈلاس سے بُری خبر ہے۔یہاں ہندوستانی نژادچندرمولی ناگاملیا کا ایک موٹل میں قتل کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق 10 ستمبر کی صبح ہندوستانی نژاد 50 سالہ چندرمولی ناگاملیا کو ایک موٹل میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔اُن حملہ ان کے اہل خانہ کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ ناگاملیا کا تعلق کرناٹک سے بتایا جاتا ہے ۔

یہ واقعہ ڈلاس کے ڈاون ٹاؤن سویٹس موٹل میں پیش آیا، جو انٹر اسٹیٹ-30 ہائی وے کے قریب ٹینیسن گولف کورس کے قریب ہے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی ہے جس میں مقتول کا سر کار پارکنگ میں لڑھکتا ہوا دیکھا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق موٹل میں کام کرنے والے 37 سالہ یوردانس کونوس ماٹینیز کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وہ بغیر ضمانت کے جیل میں ہے۔ اس کے خلاف امیگریشن ڈیٹینر بھی جاری کیا گیا ہے۔

پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے سے کچھ وقت پہلے ناگاملیا نے ملزم اور اس کی خاتون ساتھی سے کہا تھا کہ وہ موٹل کی خراب واشنگ مشین استعمال نہ کریں۔ انھوں نے یہ بات خاتون ملازم کو بتائی اور اس کا ترجمہ کروایا۔ اس پر ملزم بھڑک گیا اور بحث بڑھتی چلی گی۔

بتایا جاتا ہے کہ ملزم اچانک کمرے سے باہر آیا اور ہتھیار سے ناگاملیا پر حملہ کر دیا۔ متاثرہ شخص مدد کے لیے باہر بھاگا لیکن ملزم نےپارکنگ تک اس کا پیچھا کیا۔ اس دوران ،ناگاملیا کی بیوی اور بیٹا بھی باہر آئے اور مداخلت کرنے کی کوشش کی لیکن ملزمین نے انہیں دھکیل دیا اور حملہ جاری رکھا۔
موقع پر موجود لوگ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ واقعے کے فوری بعد ڈیاس فائر ریسکیو ٹیم وہاں پہنچی اور خون میں لت پت ملزم کا پیچھا کیا۔ کچھ دیر بعد پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ حملہ منصوبہ بند تھا یا غصے میں کیا گیا۔
سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست دہلی کی عدالت نے مسترد کردی
سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست مسترد
دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو کانگریس کی سینئر رہنما اور سابق صدر سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ایک عرضی کو مسترد کر دیا۔ اس عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں دہلی کے ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، جبکہ اس وقت وہ بھارتی شہری نہیں تھیں۔

درخواست وکاس ترپاٹھی نامی شکایت گزار نے دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سونیا گاندھی کا نام جنوری 1980 میں نئی دہلی اسمبلی حلقہ کے ووٹر لسٹ میں درج ہوا، جبکہ وہ 1983 میں بھارتی شہریت حاصل کرنے کے بعد ہی اس کی اہل تھیں۔

شکایت گزار کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ پون نرنگ نے عدالت میں کہا کہ بھارتی شہریت حاصل کیے بغیر کوئی بھی شخص ووٹر نہیں بن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ووٹر لسٹ میں سونیا گاندھی کا نام شامل ہونا جعلسازی اور عوامی اداروں کے ساتھ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا


پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، نرنگ نے عدالت میں یہ دلیل بھی دی کہ 1980 میں رہائش ثابت کرنے کے لیے راشن کارڈ یا پاسپورٹ جیسے دستاویزات درکار ہوتے تھے۔ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سونیا گاندھی کے نام کو کس بنیاد پر ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا، جبکہ اس وقت وہ شہری نہیں تھیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ 1982 میں الیکشن کمیشن نے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا تھا۔ اسی سال سنجے گاندھی کا نام بھی ان کی فضائی حادثے میں موت کے بعد حذف کیا گیا۔ نرنگ نے دلیل دی کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندراج میں کوئی بے ضابطگی موجود تھی۔ بعد ازاں 1983 میں بھارتی شہریت حاصل کرنے کے بعد سونیا گاندھی کا نام دوبارہ لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔

نرنگ نے کہا:
’’نام حذف کرنے کی وجہ کہیں درج نہیں۔ اس کی دو ہی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں: یا تو کسی نے دوسری ملک کی شہریت حاصل کر لی ہو، یا پھر فارم نمبر 8 جمع کرایا گیا ہو (جس کے تحت ووٹر لسٹ کی تفصیلات میں اصلاح کی جاتی ہے)، مگر اس کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ متعلقہ شخص بھارتی شہری ہو۔‘‘

انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ:
’’آخر 1980 میں جب سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تو الیکشن کمیشن کو کون سے دستاویزات جمع کرائے گئے تھے؟‘‘

یہ عرضی بھارتیہ نگریِک سرکشا سنہیتا (Bharatiya Nagarik Suraksha Sanhita) کی دفعہ 175(4) کے تحت دائر کی گئی تھی، جس کے مطابق مجسٹریٹ پولیس کو تحقیقات کا حکم دے سکتا ہے۔ شکایت گزار نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور مبینہ جعلسازی کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ج

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...