Wednesday, 9 September 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی*

مالیگاؤں:
مالیگاؤں میں بجلی کی فراہمی پر مامور پرائیویٹ فرینچائزی مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ (MPSL) کی 7 سالہ مسلسل نااہلی، خستہ حال انفراسٹرکچر اور بنکروں کے معاشی استحصال کے خلاف درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی کی جانب سے حکومتِ مہاراشٹرا کی اقلیتی کمیٹی کے نمائندے جناب ضیاء پیارے خان صاحب کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھرش سمیتی کے سیکریٹری محمد عمیر شمشاد علی (عمیر انصاری) نے کہا کہ ایم پی ایس ایل کو آئے 7 سال ہو چکے ہیں، لیکن کمپنی نے D.F.A. (فرینچائزی معاہدے) کی تمام شرطوں کو پامال کر دیا ہے۔

*اہم اعتراضات و حقائق:*
 * انفراسٹرکچر کی ناکامی: 7 سال میں نہ نئے سب اسٹیشنز بنے اور نہ انفراسٹرکچر سدھرا۔ تمام فیڈرز اوور لوڈ ہیں اور ٹرانسفارمرز کے نااہل نظام سے بنکروں کی موٹریں جل رہی ہیں۔

 * میٹروں کی بار بار تبدیلی و بلاوجہ کے کیسز: 7 سالوں میں 5 مرتبہ میٹر بدلے گئے۔ کوٹیشن اور فیس بھرنے کے باوجود مہینوں نیا میٹر نہیں دیا جاتا، اور پھر انہی جگہوں پر غیر قانونی چوری (Section 135) کے بھاری بل بنا کر بنکروں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔

 * 57 اموات و قانون کی خلاف ورزی: خستہ حال تاروں اور کھلے ٹرانسفارمرز کی وجہ سے 7 سال میں 57 افراد کرنٹ لگنے سے جان بحق ہوئے۔ الیکٹرسٹی ایکٹ کی دفعہ 56(1) کے تحت 15 دن کا نوٹس دیے بغیر بجلی کاٹنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
حکومت سے بنیادی مطالبات:

 * حکومت ایم پی ایس ایل انتظامیہ سے ان تمام ناکامیوں اور D.F.A. کی خلاف ورزیوں پر تحریری جواب (Written Response) طلب کرے۔

 * بنکروں کو بلوں میں کم از کم 50% جزوی ادائیگی اور 3 سے 4 اقساط کی سہولت دی جائے۔

 * اگر کمپنی تسلی بخش جواب نہ دے، تو حکومت اس فرینچائزی معاہدے (DFA) کو فوراً منسوخ (Terminate) کرے۔


محمد عمیر شمشاد علی (عمیر انصاری)
سیکریٹری: درے گاؤں پاور لوم سنگھرش سمیتی، مالیگاؤں







*🛑سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی، 24 قیراط سونا 1.52 لاکھ روپے فی 10 گرام*
حیدرآباد: بھارتی صرافہ بازار میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ عالمی بازاروں سے ملنے والے کمزور اشاروں اور گھریلو سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصولی کے باعث آج صبح ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج اور انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن دونوں پر قیمتی دھاتیں سرخ نشان کے ساتھ کھلیں۔

آئی بی جے اے کے مطابق آج 24 قیراط خالص سونے کی اسپاٹ قیمت 1,52,880 روپے فی 10 گرام ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 460 روپے کی کمی ہے۔ وہیں صنعتی طلب میں سست روی کے باعث چاندی کی قیمت پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔ بازار میں چاندی کی قیمت 2,36,770 روپے فی کلوگرام کی سطح پر کھلی، جس میں 400 روپے کی معمولی کمی درج کی گئی۔خالصیت کے لحاظ سے قیمتیں

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری صبح کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف خالصیت کے سونے کے بینچ مارک ریٹس یہ ہیں:

24 قیراط سونا (999 خالصیت): 1,52,880 روپے فی 10 گرام

22 قیراط سونا (916 خالصیت): 1,40,040 روپے فی 10 گرام

18 قیراط سونا (750 خالصیت): 1,14,660 روپے فی 10 گرام

فائن چاندی (999 خالصیت): 2,36,770 روپے فی کلوگرام

بڑے بھارتی شہروں میں آج سونے کی قیمت

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف بڑے شہروں میں 24 قیراط اور 22 قیراط سونے کی خوردہ قیمتیں درج ذیل رہیں۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کموڈیٹی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کی آئندہ میٹنگ پر ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث فیڈرل ریزرو شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں معمولی اضافے کے بعد دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کی رائے

مارکیٹ کے بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، لیکن طویل مدت میں ان میں مضبوطی برقرار رہ سکتی ہے۔ گولڈمین سیکس سے لے کر رابرٹ کیوساکی تک کئی ماہرین بھی سونے اور چاندی کے حوالے سے ایسی ہی پیش گوئیاں کر چکے ہیں۔







*🛑روزمرہ کی یہ عادتیں دماغ کو پہنچا سکتی ہیں نقصان، ماہرین نے بتائے بچاؤ کے طریقے*
ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادتیں ہمارے دماغ کی ساخت اور کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں سائنسی زبان میں اسے نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) کہا جاتا ہے، یعنی ہمارا دماغ ہمارے تجربات اور معمولات کے مطابق مسلسل خود کو ڈھالتا رہتا ہے۔ تاہم کئی عادتیں ایسی ہیں جو انجانے میں ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی تبدیلیوں کے ذریعے ان اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کون سی عادتیں دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور ان میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔

نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد قدرتی روشنی میں جائیں

ماہرین کے مطابق صبح کی قدرتی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی یعنی انٹرنل کلاک کو درست رکھنے اور دن بھر چوکنا رہنے میں مدد دیتی ہے۔ بیدار ہونے کے بعد پہلے گھنٹے میں اندھیرے یا مصنوعی روشنی میں گھر کے اندر رہنے سے دماغ کی قدرتی حیاتیاتی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سوچنے کی رفتار اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔

کیا کریں:

صبح اٹھنے کے فوراً بعد کچھ دیر چہل قدمی کے لیے باہر نکلیں یا 5 سے 10 منٹ تک دھوپ میں رہیں۔ ماہرین کے مطابق بادل چھائے ہونے کے باوجود قدرتی روشنی دماغ کو متحرک رکھنے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

فون پر مسلسل اسکرولنگ سے گریز کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار ایپس تبدیل کرنا اور مسلسل فون اسکرول کرتے رہنا دماغ کی توجہ کو محدود کر دیتا ہے۔ جب ہم چند سیکنڈز کے اندر مختلف ایپس یا مواد تبدیل کرتے رہتے ہیں تو دماغ کسی ایک کام پر گہری توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عادت یادداشت کو متاثر کرنے کے ساتھ ذہنی تھکن اور تناؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

کیا کریں: ماہرین ’بیچ اسکرولنگ‘ کا طریقہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دن بھر بار بار فون چیک کرنے کے بجائے سوشل میڈیا ایپس کو مخصوص اوقات میں، مثلاً ہر تین گھنٹے بعد، دیکھیں۔ اس طرح درمیان کے وقت میں دماغ کو پوری توجہ کے ساتھ کام کرنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔

رات دیر سے کھانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے

ماہرین کے مطابق رات دیر سے کھانا کھانے سے جسم کو اس وقت بھی ہاضمے کے عمل میں مصروف رہنا پڑتا ہے، جب دماغ اور جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے گہری نیند کے دوران دن بھر سیکھی گئی معلومات کو یادداشت میں تبدیل کرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور صبح اٹھنے پر ذہنی تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق رات دیر سے کھانے سے ڈوپامین کے قدرتی ردھم میں بھی خلل پڑ سکتا ہے۔

کیا کریں: ماہرین رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹے کا وقفہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سونے سے قبل کیمومائل چائے یا ہلدی والا دودھ جیسے گرم مشروبات ذہن کو پرسکون کرنے اور بہتر نیند میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تناؤ میں مبتلا رہنے کے بجائے وجہ سمجھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجہ کو سمجھے بغیر اسے مسلسل دبانے سے دماغ کے ’بقا کا نظام‘ طویل عرصے تک غیر ضروری طور پر متحرک رہ سکتا ہے۔ جب دماغ کسی مخصوص جذبات کو درست طور پر شناخت نہیں کر پاتا تو وہ اردگرد ہونے والے معمولی واقعات کو بھی خطرے کے طور پر دیکھ سکتا ہے، جس سے مسلسل بے چینی برقرار رہتی ہے۔

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق تناؤ کی صورت میں ایڈرینل غدود زیادہ مقدار میں کورٹیسول پیدا اور خارج کر سکتے ہیں، جس کا یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

کیا کریں:

ماہرین کے مطابق تناؤ کی اصل وجہ کو پہچاننا ضروری ہے، خواہ وہ غصہ، بے چینی یا احساسِ جرم ہو۔ اپنے جذبات کو واضح طور پر شناخت کرنے سے دماغ کے امیگڈالا حصے کی سرگرمی کو سمجھنے اور تناؤ کے ردعمل کو منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امیگڈالا دماغ کا وہ حصہ ہے جو خوف اور تناؤ کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کام کے دوران چھوٹے چھوٹے وقفے لیتے رہیں

ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، جس سے ذہنی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صحت مند افراد میں بھی مسلسل ایک گھنٹے تک بغیر حرکت کیے بیٹھنے سے ذہنی دھند یعنی ’برین فوگ‘ اور ذہنی الجھن محسوس ہو سکتی ہے۔

کیا کریں:

ہر گھنٹے کے بعد چند منٹ کے لیے اٹھیں، جسم کو اسٹریچ کریں یا تھوڑی دیر چہل قدمی کریں۔ معمولی سی جسمانی حرکت بھی جسم اور دماغ کو تازگی فراہم کرنے، توجہ بہتر بنانے اور ذہنی کارکردگی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی* ...