Monday, 29 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

جنگ کے بعد مالال ہوا ایران، جلد ملیں گے اتنے ارب ڈالر، مسعود پزشکیان نے کیا یہ بڑا اعلان
ایران صدر کے مسعود پزشکیان نے پیر کے روز ایک اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر میں پھنسے ایران کے کل 12 ارب ڈالر میں سے پہلے مرحلے میں 6 ارب ڈالر جلد جاری کر دیے جائیں گے۔ شہر قم میں ایک تقریب کے دوران صدر پزشکیان نے یہ بات کہی۔ انہوں نے گرینڈ آیت اللہ شبیری زنجانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ صدر پزشکیان کے مطابق، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت اور اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت یہ رقم جاری کی جا رہی ہے۔ باقی 6 ارب ڈالر کی واپسی کے لیے بھی حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

پزشکیان نے بتایا کہ امن معاہدے کے تحت ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ انہوں نے اسے ایرانی عوام کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے خاتمے سے ملک کی معیشت کو بڑی راحت ملے گی۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے صدر کے بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ صدر پزشکیان نے حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے عوام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر، وزراء، فوجی کمانڈرز، دانشور اور عام شہری بھی بحران کے وقت متحد رہے۔ایرانی صدر نے عوام کی جیت بتایا
مسعود پزشکیان نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اقتصادی دباؤ ڈال کر ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی، لیکن ایرانی عوام کے صبر اور اتحاد کے سامنے وہ ناکام رہے۔ ایرانی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کا ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی ملک کے مرحوم سپریم لیڈر کی جانب سے طے کی گئی تھی اور موجودہ حکومت بھی اسی پر قائم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پُرامن ضروریات کے لیے ہے۔ پزشکیان نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کو امن معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا، اگرچہ بعض اپوزیشن عناصر اب بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔300 ارب ڈالر کون دے گا؟
صدر نے بتایا کہ تنازع کے بعد حکومت نے تعمیرِ نو کا کام شروع کر دیا ہے۔ عام لوگوں کو راحت دینے کے لیے خوراک پر سبسڈی بڑھانے اور اضافی مالی امداد فراہم کرنے کے منصوبے بھی نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ایران کے اس دعوے سے امید کی جا رہی ہے کہ ملک کی معیشت کو کچھ راحت ملے گی۔ قطر میں پھنسی رقم جاری ہونے سے تیل کی برآمدات اور دیگر شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایران کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی حکمتِ عملی میں نئی سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم اب تک ایران میں ہونے والی 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بارے میں کوئی بات واضح نہیں ہوئی ہے۔ یہ فنڈ کہاں سے آئے گا، اس بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔









مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کا تعزیتی پیغام
مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ سید سلمان حسینی ندوی صاحبؒ کے اچانک انتقال کی خبر سے گہرا صدمہ ہوا۔ وہ دور حاضر کے ممتاز عالم دین، معروف مصنف، ماہر تعلیم اور دانشور تھے۔ ان کا انتقال نہ صرف ان کے اہلِ خانہ اور شاگردوں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور عالمِ اسلام کے علمی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی پوری زندگی دین کے لیے وقف

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ نے اپنی پوری زندگی تعلیم، تحقیق، دعوتِ دین، فکری رہنمائی اور علمی و تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی کے ذریعے اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ قرآن، حدیث، سیرت رسولؐ اور اسلامی فقہ کے ایک ممتاز استاد کی حیثیت سے انہوں نے ہندوستان اور بیرونِ ملک ہزاروں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی۔ ان کی تصانیف، مقالات، خطبات اورعلمی خدمات ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جس سے امتِ مسلمہ طویل عرصے تک استفادہ کرتی رہے گی۔

متعدد تعلیمی و طبی اداروں کے قیام میں مولانا مرحوم کا کلیدی کردار

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء اور جامعہ سید احمد شہید سے ان کی طویل وابستگی، جمعیت شباب الاسلام کی قیادت اور متعدد تعلیمی و طبی اداروں کے قیام میں اپنے کلیدی کردار نیز علم دین کی اشاعت، کردار سازی اور سماجی خدمات میں اپنی سرگرمی کے لیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سید سلمان حسینی ندوی نے دینی علوم کی گہری بصیرت کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ہندوستان اور عالمی سطح پر اسلامی فکر و دانش کو نئی جہت عطا کی۔

سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ بڑے سے بڑا مفکر بھی غلطیوں اور لغزشوں سے مکمل پاک نہیں ہوسکتا۔مولانا سلمان ندوی صاحب کے بعض خیالات، مواقف اور بیانات سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے ان کی ہمہ جہت گراں قدر خدمات کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے میں ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، رفقائے کار، عقیدت مندوں اور پوری ملت اسلامیہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

ہم اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مولانا مرحوم کی لغزشوں کو معاف فرمائے، اسلام کے لیے ان کی تمام عمر کی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، انہیں صالحین کے اعلیٰ درجات میں جگہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب فرمائے۔ نیز اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو ایسے باکردار اور باصلاحیت علماء عطا فرمائے جو دین کی خدمت کے اس عظیم مشن کو آگے بڑھاتے رہیں۔










کیا شام میں احمد الشراع کی حکومت لبنان میں حزب اللہ کے خلاف نیا محاذ کھولنے جا رہی ہے؟
حزب اللہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے ’فریم ورک معاہدے‘ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سنیچر کے روز جاری بیان میں حزب اللہ کے رہنما شیخ نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل کیا جانا چاہیے اور اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رہنی چاہیے۔

ایسے میں شام کی حزب اللہ کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑتی نظر آرہی ہیں۔

ان قیاس آرائیوں کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا دی جانے والی یہ تجویز ہے کہ جہاں اسرائیل ’ناکام‘ رہا ہے وہاں دمشق مداخلت کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ کے شام کے صدر احمد الشراع کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ٹرمپ اور احمد الشراع کی پہلی ملاقات گذشتہ برس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کروائی تھی۔ اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے انھیں (احمد کو) ’نوجوان اور پرکشش‘ شخصیت قرار دیا۔

اس کے بعد نومبر میں وہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے شامی صدر بن گئے تھے۔
اوول آفس میں ٹرمپ نے اُن کا استقبال کیا۔ انھوں نے الشرع پر ٹرمپ برانڈ کا کولون چھڑکا اور پھر انھیں اُن کی بیوی کے لیے گھر لے جانے کے لیے کافی پرفیوم دیے۔
دسمبر میں بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ کیمروں کے لیے دکھاوا کرنے کے علاوہ بھی سعودی عرب اور مغربی حکومتیں آلشراع کو مشرق وسطیٰ کے دل میں واقع ملک شام کو مستحکم کرنے کے لیے بہترین راستہ سمجھتی ہیں۔

الشراع ایک سابق جہادی رہنما ہیں اور ان کی حکومت ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کی مخالف سمجھی جاتی ہے۔

ماضی میں حزب اللہ نے شام میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران بشار الاسد کی فورسز کے ساتھ مل کر باغی گروہوں کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔

اسد خاندان کے زیرِ اقتدار شام نے لبنان کی خانہ جنگی میں مداخلت کی اور کئی دہائیوں تک لبنان پر ان کا اثر و رسوخ قائم رہا۔ تاہم 2005 میں شام نے اپنی فوجیں لبنان سے واپس بُلا لی تھیں۔

حالیہ ہفتوں میں یہ قیاس آرائی زور پکڑ رہی ہے کہ شام میں لبنان کی سرحد پر فوج کی مبینہ تعیناتی کسی ممکنہ دراندازی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ دمشق اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ یہ نقل و حرکت دفاعی نوعیت کی ہے۔

شام اور لبنان کی سرحد سے متعلق اطلاعات کیا کہتی ہیں؟
شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کی جانب سے 24 جون کو جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حمص صوبے میں سرحد کے ساتھ شامی فوج کی نقل و حرکت جاری ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ فوج کی نقل و حرکت حمص کے سرحدی علاقوں میں ہو رہی ہے اور یہ دمشق کے نواحی علاقے ریف دمشق، طرطوس اور قلمون کے پہاڑی سلسلے تک پھیلی ہوئی ہے۔

ایس او ایچ آر کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت بھاری ہتھیار اور فوجی گاڑیاں حلب سے سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کر رہی ہے۔

تاہم یہ ادارہ گذشتہ کئی ماہ سے اس طرح کے دعوے کرتا آیا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے 17 جون کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگجو، جن میں ازبک شامل ہیں، لبنان میں دراندازی کی مشقیں کرتے رہے ہیں۔

24 جون کو ایک شامی سکیورٹی ذریعے نے لبنانی اخبار ’النهار‘ سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ سرحد پر کوئی غیر معمولی کمک نہیں پہنچائی گئی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے شامی سکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ نقل و حرکت معمول کی فوجی تعیناتی کا حصہ ہے اور اس سے کسی غیر معمولی تیاری کا اشارہ نہیں ملتا۔
آن لائن کیا دعوے کیے جا رہے ہیں؟
تاہم سرحد پر شامی فوج کی اضافی نفری پہچائے جانے سے متعلق دعوؤں اور ٹرمپ کے بیانات نے سوشل میڈیا پر افواہوں کی ایک لہر کو جنم دیا ہے۔ تاہم ان میں سے زیادہ تر افواہیں شامی حکومت مخالف اکاؤنٹس سے پھیلائی جا رہی ہیں۔

کرد حامی روزاوا نیٹ ورک نے ان دعوؤں کو اس بات کا ثبوت قرار دیا ہے کہ دمشق ایک حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس ہی طرح ایک علوی فیس بک پیج نے 23 جون کو دعویٰ کیا کہ الشراع حکومت کے حامی تقریباً پانچ ہزار جنگجو ممکنہ کارروائی سے پہلے سرحدی قصبے القصیر پہنچ چکے ہیں۔ فیس بک پیج پر جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک سابق جہادی کمانڈر اس فوجی نقل و حرکت کی قیادت کر رہا ہے۔

بعد ازاں شامی فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم ’کشاف‘ نے اس دعوے کو غلط قرار دیا۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ایک دروز اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ اس میں لبنانی سرحد کے نزدیک شامی فوج کی کمک بشمول توپخانے اور ٹینک دیکھے جا سکتے ہیں۔
تاہم آزاد شامی فیک چیکنگ پلیٹ فارم ’ویریفائے-سی‘ کے مطابق یہ ایک پرانی ویڈیو تھی جس میں عراق کی سرحد کے قریب فوجی تعیناتی دکھائی گئی تھی۔

اب افواہوں کی یہ لہر لبنان تک بھی پہنچ گئی ہے۔ کچھ لبنانی ایکس صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سرحد کے نزدیک شامی فوج کے جمع ہونے کے جواب میں مقامی قبائلیوں نے بھی نقل و حرکت شروع کر دی ہے۔

یہ قیاس آرائیاں کیوں جنم لے رہی ہیں؟
یہ قیاس آرائیاں زیادہ تر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد پیدا ہوئیں، جن میں انھوں نے بارہا کہا کہ شام لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے پہلی بار سات جون کو امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اس بارے میں بات کی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف ’زیادہ سرجیکل‘ کارروائیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے تجویز دی کہ امریکہ شام کو اس میں کردار ادا کرنے کی ’سفارش‘ کر سکتا ہے۔

16 جون کو فرانس میں جی-سیون کے موقع پر ٹرمپ نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ’شام کو حزب اللہ سے نمٹنے دیں‘ کیونکہ دمشق یہ کام ’بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔‘

21 جون کو فاکس نیوز نے خبر دی کہ ٹرمپ نے چینل کو بتایا ہے کہ انھیں اس بات پر ’مایوسی‘ ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو ختم نہیں کر سکا اور وہ اس معاملے کو ’شام کے حوالے کرنے‘ کے قریب ہیں۔

ٹرمپ کے ان بیانات سے پہلے امریکہ اس قسم کی تجویز سامنے رکھ چکا ہے۔

رواں سال مارچ میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی تھی کہ واشنگٹن نے دمشق کو کہا ہے کہ مشرقی لبنان میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کرے تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں مدد مل سکے۔

تاہم امریکی ایلچی ٹام بریک نے بعد میں اس خبر کی تردید کی تھی۔

لبنان میں مداخلت سے متعلق افواہیں اور شام کا مؤقف
شامی صدر احمد الشراع اور دیگر حکام بارہا اس بات کی تردےد کر چکے ہیں کہ شام لبنان میں فوجی مداخلت کی تیاری کر رہا ہے۔

13 جون کو صدر الشراع نے دمشق کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک وفد کو بتایا کہ لبنان میں مداخلت سے متعلق افواہیں ’غلط‘ ہیں۔

یو اے ای کے چینل ’المشہد‘ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں احمد الشراع نے ایک بار پھر اس معاملے پر بات کی۔

21 جون کو شائع ہونے والے اس انٹرویو میں انھوں نے معروف لبنانی صحافی ٹونی خلیفہ کو بتایا کہ ’اگر ہمارا کسی تصادم یا جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ ہوتا تو ہم واضح طور پر کہتے… ہم لبنان میں اپنے لوگوں کے لیے خیر کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شام لبنان میں کسی حل کے لیے ’محفوظ راستہ` تلاش کرنے میں مدد تو فراہم کر سکتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر اپنے پڑوسی پر اپنا اثرورسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔

شامی حکومت کے ترجمان نے بھی 11 جون کو سعودی چینل ’الحدث‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اسی طرز کا مؤقف اپنایا۔

نورالدین البابا کا کہنا تھا کہ دمشق لبنان کو اپنے حصے کی طرح نہیں سمجھتا اور لبنان میں شام کے کسی بھی کردار کے لیے لبنانی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔
لبنان اور حزب اللہ کا مؤقف کیا ہے؟
بیروت نے بھی ان قیاس آرائیوں کی اہمیت کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق لبنانی صدر جوزف عون نے 24 جون کو کہا کہ احمد الشراع کے حالیہ بیانات نے لبنان میں شامی فوجی کردار سے متعلق بار بار سامنے آنے والی افواہوں کو ’خاتمہ‘ کر دیا ہے۔

وزیراعظم نواف سلام نے بھی الشراع کی جانب سے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں اختیار کیے گئے مؤقف کو ’برادرانہ اور واضح‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے شام کے لبنان کے بارے میں عزائم سے متعلق گمراہ کن افواہوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے 19 جون کو ایک خطاب میں کہا کہ شامی مداخلت کا خیال دراصل امریکہ اور اسرائیل کی اس سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔

ان کے مطابق اس منصوبے میں ’شام پر دباؤ‘ ڈالنا بھی شامل ہے تاکہ وہ مشرق کی جانب سے لبنان مداخلت کرے اور اسرائیل کے ساتھ مل کر شمال سے گھیرا ڈالے۔

’خدا کا شکر ہے کہ شامی حکومت نے اس کا جواب نہیں دیا۔‘

*🛑سیف نیوز اُردو*

جنگ کے بعد مالال ہوا ایران، جلد ملیں گے اتنے ارب ڈالر، مسعود پزشکیان نے کیا یہ بڑا اعلان ایران صدر کے مسعود پزشکیان ...