یہ ہمارے شہر کی سب سے افسوسناک اور شرمناک روایت بن چکی ہے کہ جو لوگ حقیقت میں عوامی مسائل کے حل کے لیے میدان میں اترتے ہیں، سرکاری دفاتر کے دھکے کھاتے ہیں، فائلوں کے پیچھے مہینوں دوڑتے ہیں، افسران کے سامنے عوام کی آواز بنتے ہیں اور اپنی ذاتی مصروفیات چھوڑ کر علاقے کی ترقی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف کچھ ایسے چہرے، جو پورے کام کے دوران کہیں دکھائی نہیں دیتے، صرف افتتاح کے دن اپنی سیاسی دکان چمکانے، تصویریں کھنچوانے اور سوشل میڈیا پر جھوٹا کریڈٹ لینے کے لیے اچانک نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہی لوگ آج اس شہر کی سیاست اور سماج پر بوجھ بن چکے ہیں۔
عبداللہ نگر مسجد سعیدہ حجن کے پاس سے راجو ہوٹل تک سیمنٹ کانکریٹ روڈ کی تعمیر کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ اہلِ علاقہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس روڈ کی منظوری اور تعمیر کے لیے احتشام بیکری والے نے مسلسل جدوجہد کی۔ کتنی بار متعلقہ محکموں کے دفاتر کے چکر لگائے گئے، کتنی بار افسران سے ملاقاتیں کی گئیں، کتنی بار فائلیں رکی رہیں اور کتنی بار فالو اپ کیا گیا، یہ سب عوام جانتی ہے۔ یہ سڑک کسی لیڈر کی ایک تقریر یا ایک فوٹو سیشن سے نہیں بنی بلکہ ایک شخص کی مستقل محنت، خلوص اور عوامی درد کے نتیجے میں مکمل ہوئی۔
لیکن افسوس اور شرم کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی کام مکمل ہوا، وہ لوگ سامنے آ گئے جنہوں نے نہ کبھی اس مسئلے پر آواز اٹھائی، نہ عوام کے درمیان کھڑے ہوئے اور نہ ہی کسی دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ صرف تیار شدہ کام پر اپنی سیاست چمکانے اور کریڈٹ لوٹنے کے لیے یہ لوگ سب سے آگے کھڑے نظر آئے۔ ایسے لوگوں کا کام صرف دوسروں کی محنت پر قبضہ کرنا، جھوٹے دعوے کرنا اور عوام کو بے وقوف بنانا رہ گیا ہے۔ انہیں نہ علاقے کی فکر ہے، نہ عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی، بلکہ مقصد صرف اپنی تشہیر، اپنی تصویر اور اپنا نام آگے کرنا ہوتا ہے۔
یہ شہر کی بدقسمتی ہے کہ یہاں محنت کرنے والے خاموش رہ جاتے ہیں اور شور مچانے والے ہیرو بن جاتے ہیں۔ جو لوگ ایک اینٹ تک نہ لگائیں وہ پورے منصوبے کے مالک بن کر گھومتے ہیں۔ یہ وہی عناصر ہیں جو ہر ترقیاتی کام کو اپنی ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ اگر واقعی ان میں عوامی خدمت کا جذبہ ہوتا تو یہ لوگ کام شروع ہونے سے پہلے میدان میں نظر آتے، نہ کہ صرف ربن کاٹنے کے وقت۔
عوام کو اب سمجھنا ہوگا کہ اصل خدمت اور دکھاوے کی سیاست میں فرق کیا ہے۔ عوام اب اتنی سادہ نہیں رہی کہ صرف چند تصویروں، بینروں اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے دھوکہ کھا جائے۔ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس نے دن رات محنت کی، کس نے دفاتر کے چکر لگائے اور کس نے صرف تیار شدہ سڑک پر کھڑے ہو کر تصویریں بنوائیں۔ اصل خدمتگار وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے عوام کے مسائل حل کرے، نہ کہ وہ جو دوسروں کی محنت چرا کر خود کو مسیحا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرے۔
سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں چاپلوسی اور مفاد پرستی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کچھ لوگ حقیقت جاننے کے باوجود جھوٹے دعویداروں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ صرف ذاتی مفاد، تعلقات یا وقتی فائدے کے لیے اصل محنت کرنے والوں کا حق مارا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتی۔ عوام سب دیکھ رہی ہے، سب سمجھ رہی ہے اور وقت آنے پر فیصلہ بھی عوام ہی کرے گی کہ کون مخلص ہے اور کون صرف فوٹو سیشن کا کھلاڑی۔
احتشام بیکری والے کی محنت، جدوجہد اور عوامی خدمت قابلِ تحسین ہے۔ اصل کریڈٹ اسی شخص کو ملنا چاہیے جس نے اس کام کے لیے پسینہ بہایا، وقت دیا اور مستقل کوشش کی۔ جبکہ صرف تیار کام پر قبضہ جمانے والے لوگوں کو عوام کو جواب دینا چاہیے کہ آخر کام کے آغاز سے لے کر تکمیل تک وہ کہاں تھے؟ عوامی خدمت صرف مائیک پکڑنے، بینر لگانے اور ربن کاٹنے سے نہیں ہوتی، بلکہ خدمت وہ ہوتی ہے جس میں انسان اپنا سکون قربان کر کے عوام کے مسائل حل کرے۔
وقت آ گیا ہے کہ عوام ان نام نہاد کریڈٹ خور سیاستدانوں اور موقع پرست لوگوں کو پہچانے، جو ہر تیار شدہ منصوبے پر ٹڈّی دل کی طرح حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ شہر کو ترقی دینے والے وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں، نہ کہ وہ جو دوسروں کی محنت پر اپنی سیاست کی دکان چلاتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ محنت کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے، جبکہ کریڈٹ چور صرف وقتی شور تک محدود رہتے ہیں۔
_*قلمکاروں کے نام: ارتداد پیار عشق محبت دھوکہ اور خودکشی ؛ نشہ ،پر درد مندانہ اپیل*_
_تحریر: شعیب احمد محمدی_
_گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں_
_تمہید_
ہمارے شہر کے تمام سوشل ورکرز نے ایک پروگرام ترتیب دیا ہے جس میں ان موضوعات پر گفتگو ہوگی: ارتداد، خودکشی، بد اخلاقی، پیار محبت اور دھوکا، نشہ، آتی کرمن، اور دیگر سماجی برائیاں۔ خواتین اسلام کے روبرو نازیہ تسکین آپا اور دیگر عالمہ آپا کی تفصیلی گفتگو ہوگی۔ ان شاء اللہ 12 جولائی 2026 بروز اتوار دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک اسکول نمبر 1 گراؤنڈ، قدوائی روڈ پر۔ اس لیے قلمکاروں کے نام _امتی فاؤنڈیشن مالیگاؤں _ مالیگاؤں ہیلتھ آرگنائزیشن _ مسلم اُنتی سیوا فاؤنڈیشن _ ایم آئی سی بلڈ ڈونر گروپ مولانا کمپاؤنڈ _ ادارہ ستارہ ہند _ اسماعیل رحمانی گروپ _ امان فاؤنڈیشن رمضان پورہ _ رضوان بھانجہ گروپ سلامت آباد _ للّہ چیریٹیبل فاؤنڈیشن _ الخدمت خواتین گروپ _ الیون اسٹار خواتین گروپ مالیگاؤں _ گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں_ کا درد بھرا پیغام:
اے قلم کے وارثو، اے لفظوں کے امینو! یہ تحریر تمہارے نام ہے۔ وہ تم جو معاشرے کا ضمیر ہو، جو قوموں کی تقدیر لکھتے ہو، جو سیاہی سے اجالا کرتے ہو۔ آج تم سے ایک دردمندانہ گزارش ہے۔ موضوع ہے "ارتداد"۔ ایسا زہر جو عقیدے کی جڑیں کھوکھلی کر دیتا ہے، جو ایمان کے محل کو گرا دیتا ہے۔
_1 ارتداد کیا ہے؟_
ارتداد یعنی دین اسلام کو چھوڑ دینا۔ زبان سے، عمل سے، یا دل سے انکار کر دینا۔ یہ صرف مذہب بدلنے کا نام نہیں، یہ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد "ألست بربکم" کو توڑ دینے کا نام ہے۔
قرآن کہتا ہے: _وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ_
"تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مرے تو اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے۔"
_2 دینی پہلو: ارتداد صرف فرد کا مسئلہ نہیں_
اے قلمکارو! یاد رکھو، ارتداد ایک روحانی خودکشی ہے۔ جب کوئی نوجوان سوشل میڈیا پر اسلام کا مذاق اڑاتا ہے، جب کوئی بیٹی ملحد ویب سائٹس سے متاثر ہو کر نماز چھوڑ دیتی ہے، جب کوئی بھائی شکوک کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے تو یہ صرف اس کا ذاتی معاملہ نہیں رہتا۔ یہ پوری امت کے جسم میں ایک ناسور بن جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے۔ اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"
تو بتاؤ، جب امت کا ایک فرد ایمان سے پھر جائے تو کیا ہمارے قلم کو بخار نہیں چڑھنا چاہیے؟
_3 معاشرتی پہلو: ارتداد کیوں پھیل رہا ہے؟_
قلمکارو! تم معاشرے کی نبض دیکھتے ہو۔ تم بتاؤ کیا وجہ ہے کہ آج کا نوجوان دین سے دور ہو رہا ہے؟
1. _جہالت:_ ہم نے اپنے بچوں کو ڈگریاں تو دلوا دیں، قرآن کا ترجمہ نہ سکھایا۔
2. _نفرت انگیز مواد:_ یوٹیوب پر 5 منٹ کی ویڈیو ایک عالم کی 50 سال کی محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔
3. _گھریلو ماحول:_ جب گھر میں باپ سود کھائے، ماں ڈراموں میں گم رہے، تو بیٹے سے ایمان کی پختگی کی امید کیسی؟
4. _احساس کمتری:_ مغرب کی چکا چوند دیکھ کر ہمیں اپنا دین "پرانا" لگنے لگا ہے۔
تمہارا قلم اگر خاموش رہا تو یہ آگ ہر گھر تک پہنچے گی۔
_4 جذباتی پہلو: ایک مرتد کی ماں کا دکھ_
ذرا آنکھیں بند کرو اور تصور کرو۔ ایک ماں جس نے راتوں کو اٹھ کر اپنے بیٹے کے لیے دعائیں کیں، جس نے اسے لا الہ الا اللہ سکھایا، آج وہی بیٹا کہتا ہے "میں خدا کو نہیں مانتا"۔
اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ سجدے میں گر کر کس سے فریاد کرے گی؟
اے قلمکارو! تمہارے لفظ اگر اس ماں کا سہارا نہ بنے تو پھر کس کام کے؟ تمہاری تحریر اگر اس بیٹے کو واپس نہ لا سکی تو تمہاری سیاہی کس دن کام آئے گی؟
_5 سماجی پہلو: ارتداد کا زہر کیسے روکیں؟_
یہ کام صرف مولوی کا نہیں، یہ تمہارا بھی کام ہے۔
1. _محبت کا قلم اٹھاؤ:_ فتوے سے پہلے دلیل دو۔ نفرت سے پہلے محبت سے سمجھاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں پتھر کھا کر بھی دعا دیتے رہے۔
2. _سوال کا جواب دو:_ نوجوان کے ذہن میں جو شک ہے اسے "گستاخ" کہہ کر نہ دباؤ۔ اس کا جواب لکھو۔ آسان زبان میں لکھو۔
3. _متبادل دو:_ اگر وہ غلط ویب سائٹ دیکھتا ہے تو تم صحیح مواد بناؤ۔ کہانی لکھو، ناول لکھو، ڈرامہ لکھو، مگر پیغام ایمان کا دو۔
4. _گھر کو مسجد بناؤ:_ اپنے کالم میں لکھو کہ ماں باپ اپنے بچوں سے روز 10 منٹ دین کی بات کریں۔
_6 اخلاقی پہلو: قلمکار کی ذمہ داری_
اے اہل قلم! تمہارا قلم اللہ کی امانت ہے۔ قیامت کے دن اس سیاہی کا حساب ہوگا۔
اگر کوئی مرتد ہوتا ہے اور دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے، تب تمہارا ایک مضمون کسی کو جہنم سے بچا کر جنت میں لے جا سکتا ہے۔
کیا تم نے کبھی سوچا کہ اگر تمہاری تحریر پڑھ کر کوئی مرتد ہو گیا تو اس کا وبال کس پر ہوگا؟ اور اگر تمہاری تحریر سے کسی کا ایمان بچ گیا تو اس کا اجر کتنا ہوگا؟
قرآن کہتا ہے: _وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا_
"جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔"
اور ایمان بچانا، جان بچانے سے بڑھ کر ہے۔
_حرف آخر: قلم کو تلوار بناؤ_
اے قلمکارو! اٹھو۔ تمہارا وقت آ گیا ہے۔ ارتداد کا فتنہ دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
1. اپنے بچوں کو دلائل کے ساتھ دین سکھاؤ۔
2. سوشل میڈیا پر ہر شکوے کا جواب دو۔
3. محبت سے لکھو، درد سے لکھو، آنسوؤں کی سیاہی سے لکھو۔
4. یاد رکھو، تمہارا قلم اگر آج نہ اٹھا تو کل تمہاری نسلیں تم سے سوال کریں گی۔
ارتداد کے اس دور میں خاموش قلمکار مجرم ہے۔ بولو، لکھو، چیخو، مگر امت کے ایمان کو بچا لو۔
کیونکہ مٹی کے ذرے بھی گواہی دیں گے کہ جب ایمان لٹ رہا تھا، کس کا قلم سویا تھا اور کس کا قلم جاگا تھا۔
_وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ_
---
*کربلا کے پس منظر میں عصرِ حاضر کا معرکہ: تعلیمی انقلاب اور قوم کی تعمیر*
کربلا صرف تاریخ کا ایک المناک باب نہیں، بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم، کردار و مفاد اور قربانی و مصلحت کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک روشن معیار ہے۔
حضرت امام حسینؓ نے صرف اپنی اور اپنے اہلِ بیت کی جانوں کی قربانی نہیں دی، بلکہ پوری انسانیت کو یہ عظیم پیغام دیا کہ جب حق، انصاف، دیانت، عزتِ نفس اور دین کی حفاظت کا سوال ہو تو کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
ہر دور کا اپنا ایک یزید ہوتا ہے اور ہر زمانے کا ایک کربلا بھی۔
آج سوال یہ ہے کہ ہمارے دور کا معرکہ کیا ہے؟
آج کا سب سے بڑا معرکہ
جہالت اور علم.....
پسماندگی اور ترقی.....
کمزوری اور خود انحصاری.....
بدعنوانی اور دیانتداری.....
بے شعوری اور بیداری.....
کردار اور بے کرداریت کے درمیان برپا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کا اصل میدان
تعلیم.....
تعلیمی بیداری.....
تحقیق.....
سائنس.....
ٹیکنالوجی.....
معیشت،
قیادت،
اخلاق اور کردار کا میدان ہے۔
جہاں دنیا کی دوسری قومیں علم، تحقیق، صنعت، تجارت، معیشت اور جدید ٹیکنالوجی میں مسلسل آگے بڑھتی گئیں، وہیں امتِ مسلمہ کا ایک بڑا حصہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری آبادی تو بڑھتی رہی، لیکن ہماری نمائندگی،
ہماری آواز،
ہماری معاشی طاقت اور
فیصلہ سازی میں ہمارا کردار کمزور ہوتا چلا گیا۔
سوچیے...
اگر ہماری تعلیمی نمائندگی کمزور ہوگی تو بہترین
ڈاکٹر کون بنے گا.....؟
انجینئر کون ہوگا.....؟
جج کون ہوگا.....؟
پروفیسر کون ہوگا.....؟
سائنس دان کون ہوگا.....؟
محقق کون ہوگا.....؟
پالیسی ساز کون ہوگا.....؟
منتظم، صنعت کار، ماہرِ معاشیات، بزنس لیڈر اور قومی رہنما کون ہوں گے........؟
اگر ان تمام شعبوں میں ہماری موجودگی نہ ہونے کے برابر ہوگی تو........
ہماری آواز بھی کمزور ہوگی،
ہماری معیشت بھی دوسروں کی محتاج ہوگی اور
ہماری آنے والی نسلیں بھی محرومی کا شکار رہیں گی۔
اسی لیے آج ہر مسلمان کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ
امت کی بقا.....
عزت.....
آزادی.....
خودمختاری.....
قیادت اور ترقی کا بنیادی ستون ہے۔
ہمارے مسلم اسکول، کالج، جامعات اور تحقیقی ادارے صرف تعلیمی عمارتیں نہیں بلکہ امت کے مستقبل کی تجربہ گاہیں ہیں۔
یہی وہ مراکز ہیں جہاں سے کل کے سائنس دان.....
ڈاکٹرز.....
انجینئرز.....
اساتذہ.....
صنعت کار.....
تاجر.....
منتظمین.....
سیاست دان.....
سماجی قائدین.....
مصلحین اور علماء تیار ہوں گے۔
یاد رکھئے...
ایک مضبوط تعلیمی معاشرہ ہی ایک مضبوط معاشی قوم کو جنم دیتا ہے۔
جب تعلیم آئے گی تو شعور پیدا ہوگا!!!!
شعور آئے گا تو تحقیق ہوگی!!!!!
تحقیق ہوگی تو نئی ایجادات ہوں گی۔!!!!!
ایجادات ہوں گی تو صنعت ترقی کرے گی۔!!!!!
صنعت بڑھے گی تو تجارت مضبوط ہوگی۔!!!!!
تجارت مضبوط ہوگی تو معیشت مستحکم ہوگی۔!!!!!
معیشت مضبوط ہوگی تو قوم خودمختار ہوگی۔!!!!!
اور جب تعلیم، معیشت، کردار اور قیادت ایک ساتھ مضبوط ہوں گے تو امت دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
اسی لیے اگر ہم واقعی امام حسینؓ کی قربانی کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے دور کے کربلا کو بھی پہچاننا ہوگا۔
آج کی سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ
ہم اپنی ذاتی خواہشات پر اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو ترجیح دیں۔!!!
اپنی دولت کا ایک حصہ معیاری تعلیم پر خرچ کریں۔!!!
اپنے بچوں اور بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔!!!
مسلم اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو مضبوط بنائیں۔!!!
مسلم اداروں کو مضبوط کریں اور ان پر آنچ نہ آنے دیں۔!!!
تعلیمی وظائف قائم کریں۔!!!
کتاب سے دوستی پیدا کریں۔!!!
مطالعہ، تحقیق اور اختراع کو فروغ دیں۔!!!
اور ہر گھر کو علم کا چراغ بنا دیں۔!!!
لیکن یاد رکھیے...
آج ملک اور پوری دنیا کو صرف اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والے افراد کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ایسے ایماندار، دیانتدار، باکردار، انصاف پسند، حق پسند، شفاف کردار کے حامل اور علم پر عمل کرنے والے انسانوں کی اشد ضرورت ہے، جو اپنی صلاحیتوں کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ انسانیت، قوم اور وطن کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔
ہمیں ایسے ڈاکٹر چاہییں جن کی دیانت پر مریض کو اعتماد ہو۔!!!
ایسے انجینئر چاہییں جن کی امانت داری سے قوم کا سرمایہ محفوظ رہے۔!!!
ایسے تاجر چاہییں جن کی تجارت سچائی، انصاف اور امانت پر قائم ہو۔!!!
ایسے اساتذہ چاہییں جو صرف کتابیں نہ پڑھائیں بلکہ نسلوں کا کردار بھی تعمیر کریں۔!!!
ایسے جج، وکیل، افسر اور سیاست دان چاہییں جن کا ہر فیصلہ انصاف، شفافیت، دیانت اور عوامی بھلائی پر مبنی ہو۔!!!
ایسے سائنس دان اور محققین چاہییں جو اپنی تحقیقات سے انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔!!!
یہی وہ افراد ہیں جن سے ہر شہری کو امید ہوگی کہ ہمارا ملک ایک صالح، انصاف پسند، ترقی یافتہ، خوشحال اور پُرامن معاشرہ بنے گا۔
اسلام ہمیں صرف عبادت گزار انسان نہیں بناتا، بلکہ ایسا انسان بناتا ہے جو امانت دار بھی ہو، دیانت دار بھی، انصاف پسند بھی، محنتی بھی، باکردار بھی اور اپنی قوم و ملک کے لیے مفید بھی۔
اسی لیے ہمارا مقصد صرف تعلیم یافتہ افراد پیدا کرنا نہیں بلکہ کردار یافتہ، باصلاحیت، بااخلاق اور ذمہ دار انسان تیار کرنا ہونا چاہیے۔ ایسی تعلیم جو علم کے ساتھ اخلاق، مہارت کے ساتھ دیانت، ترقی کے ساتھ خدمت، کامیابی کے ساتھ اللہ کا خوف اور دنیاوی کامیابی کے ساتھ آخرت کی جواب دہی کا احساس بھی پیدا کرے۔
جب ہمارے اسکولوں، کالجوں اور جامعات سے ایسے نوجوان نکلیں گے تو صرف مسلم معاشرہ ہی نہیں بلکہ پورا ملک ان سے فائدہ اٹھائے گا۔ وہ قومی ترقی، معاشی استحکام، سماجی انصاف، قومی یکجہتی، مضبوط جمہوریت اور ایک روشن مستقبل کی ضمانت بنیں گے۔
ایک اور حقیقت جسے ہمیں کربلا کے پیغام کی روشنی میں سمجھنا ہوگا، وہ اتحاد، اداروں کا تحفظ اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
کسی بھی قوم کے تعلیمی، دینی اور سماجی ادارے ایک دن میں وجود میں نہیں آتے۔ ان کے پیچھے
بزرگوں کی دعائیں...
مخلص افراد کی قربانیاں...
عوام کا اعتماد۔..
اور کئی دہائیوں کی مسلسل محنت شامل ہوتی ہے۔
ایسے ادارے پوری قوم کا سرمایہ اور آنے والی نسلوں کی امانت ہوتے ہیں۔
یہ فطری بات ہے کہ افراد، جماعتوں یا اداروں کے درمیان بعض اوقات رائے کا اختلاف پیدا ہو جائے۔
لیکن یہ اختلاف کبھی اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ ہمارے اپنے ادارے کمزور ہوں، قوم تقسیم ہو جائے، یا برسوں کی محنت سے قائم کیے گئے تعلیمی مراکز تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیں۔
یاد رکھیے!
گھر کے افراد کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن گھر کی عزت، اس کی بنیاد اور اس کے مستقبل کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے اختلافات کو حکمت، شریعت، اخلاق اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنا چاہیے، نہ کہ اس انداز میں کہ قوم کے دشمن یا بدخواہ ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں۔
اگر ہمیں اپنے اداروں، قیادت یا کسی پالیسی سے اختلاف ہو تو اس کا حل اصلاح، مشورہ اور خیرخواہی ہے، نہ کہ ایسی کشمکش جو ہمارے ہی تعلیمی، دینی اور سماجی سرمایہ کو نقصان پہنچا دے۔
آج امت کو ایک دوسرے کو گرانے والوں کی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سنبھالنے والوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جو قوم اپنے اداروں اور اسلاف کی حفاظت کرتی ہے، وہی قوم اپنا مستقبل محفوظ کرتی ہے۔
اختلاف ہو سکتا ہے، انتشار نہیں؛
تنقید ہو سکتی ہے، تخریب نہیں؛
اصلاح ہونی چاہیے، تباہی نہیں۔
یہی کربلا کا شعور ہے اور یہی امت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
یاد رکھیے...
جس قوم کی کتاب بند ہوجاتی ہے، اس کی تقدیر بھی بند ہوجاتی ہے۔
اور...
جس قوم کے اسکول آباد ہوتے ہیں، اس کے مستقبل کے ایوان بھی آباد ہوتے ہیں۔
آئیے! اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم اپنے دور کے معرکے میں
قلم اور علم کا علم اٹھائیں گے؛
نفرت نہیں، علم پھیلائیں گے؛
تقسیم نہیں، تعمیر کریں گے؛
مایوسی نہیں، امید پیدا کریں گے؛
اور ایک ایسا تعلیمی انقلاب برپا کریں گے جو امت کو علم، کردار، معیشت، قیادت اور خدمت کے اعلیٰ مقام تک پہنچا دے۔ ان شاءاللہ
کیونکہ آنے والی صدیوں میں
امت کی عزت،
مضبوط معیشت،
باوقار سیاست،
کامیاب تجارت،
مؤثر قیادت،
صالح معاشرہ،
اور عالمی رہنمائی کا راستہ
صرف اور صرف تعلیم، کردار اور دیانت سے ہو کر گزرتا ہے۔
تعلیم صرف روزگار نہیں دیتی، بلکہ کردار بناتی ہے؛
کردار قوم بناتا ہے،
اور قومیں ہی تاریخ کا رخ بدلتی ہیں۔
آئیے! کربلا کے پیغام کو صرف آنسوؤں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے تعلیمی انقلاب، کردار سازی اور امت و ملک کی تعمیر کی عملی تحریک بنائیں۔ یہی آج کے دور میں امام حسینؓ کی قربانی کو حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔
✍️ اظہر مہدی
چیئرمن نیوارا گروپ آف ایجوکیشن
azhar.newera@gmail.com