وینزویلا میں ہلاکتوں کی تعداد 235 ہوئی، دو طاقتور زلزلوں کے بعد تباہی میں اضافہ، 20 کروڑ ڈالر کے خصوصی امدادی فنڈ کا اعلان
کاراکاس: وینزویلا میں بدھ کی شام آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 235 ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پہلے 32 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم اب یہ تعداد 235 تک پہنچ گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ملک کے شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد امدادی اور تعمیرِ نو کے کاموں میں تیزی لانے کے لیے تین اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
خصوصی امدادی فنڈ اور تعمیر نو کا منصوبہ
قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے بتایا کہ قائم مقام صدر نے نجی کمپنیوں کو ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے 20 کروڑ امریکی ڈالر کے خصوصی امدادی فنڈ کے قیام اور متاثرہ تاجروں کے لیے خصوصی قرضہ اسکیم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات کئی دہائیوں بعد آنے والے ملک کے شدید ترین زلزلوں سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اوان گل نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی امداد کے مؤثر رابطے اور تقسیم کے لیے ضروری انتظامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق خطے سمیت دنیا کے مختلف حصوں کے کم از کم ایک درجن ممالک نے وینزویلا کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ملبے تلے افراد، آفٹر شاکس اور عالمی یکجہتی
بدھ کے روز وینزویلا میں مسلسل دو زلزلے آئے جن کی شدت بالترتیب 7.2 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی۔ ان زلزلوں سے شمالی وسطی ریاست لا گوئیرا میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جبکہ دارالحکومت کاراکاس اور اس کے مضافاتی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق تقریباً 200 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچانے کے لیے وقت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘ دونوں زلزلے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آئے، جس کی وجہ سے ان کی زیادہ تر توانائی زمین کی سطح کے قریب خارج ہوئی۔ دونوں جھٹکوں کے درمیان ایک منٹ سے بھی کم وقفہ تھا، جبکہ بعد ازاں آنے والے متعدد آفٹر شاکس کے باعث متاثرہ عمارتوں کے مزید منہدم ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی سرکاری اداروں کو فوری امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امریکہ وینزویلا کی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ادھر میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے بھی وینزویلا کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو ضروری امداد کی تیاری کی ہدایت دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وینزویلا کی حکومت نے فی الحال ریسکیو اور طبی ماہرین کی مدد کی درخواست کی ہے، اور میکسیکو ہر مشکل وقت میں وینزویلا کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
اب وینزویلا میں آئے زلزلے کی وجہ سےبھارت میں بڑھیں گی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں؟
وینزویلا میں آنے والے شدید زلزلے (Venezuela Earthquake) کے اثرات بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تقریباً 14 ہزار کلومیٹر دور پیش آنے والی اس قدرتی آفت نے بھارت کی خام تیل کی سپلائی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر زلزلے کے باعث وینزویلا کی بندرگاہیں اور تیل برآمد کرنے کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا تو بھارت کو خام تیل کی سپلائی میں تاخیر، شپنگ لاگت میں اضافے اور میرین انشورنس پریمیم مہنگا ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
125 برس کا طاقتور ترین زلزلہ
24 جون کو وینزویلا میں چند سیکنڈ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلے آئے۔ انہیں گزشتہ 125 برس میں ملک کا سب سے شدید زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس آفت میں سیکڑوں افراد کے ہلاک اور ہزاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ مسلسل آنے والے آفٹر شاکس کے باعث حالات اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکے۔
بھارت کے لیے تشویش کیوں بڑھی؟
حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بھارت نے وینزویلا سے خام تیل کی درآمد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اپریل اور مئی کے دوران بھارتی ریفائنریوں نے بڑی مقدار میں وینزویلا سے تیل خریدا، جس کے بعد یہ بھارت کے اہم خام تیل فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ ایسے میں زلزلے کے باعث تیل کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ بھارت کی توانائی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
خام تیل کی درآمد مہنگی ہو سکتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل بردار جہازوں کو بندرگاہوں پر زیادہ دیر انتظار کرنا پڑا یا متبادل راستے اختیار کرنے پڑے تو شپنگ لاگت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ڈیمرج چارجز اور میرین انشورنس پریمیم بھی بڑھ سکتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارتی ریفائنریوں اور بالآخر صارفین پر پڑ سکتا ہے۔
بھارت کی سرمایہ کاری بھی داؤ پر
بھارت کی سرکاری کمپنی او این جی سی ودیش (ONGC Videsh) نے بھی وینزویلا کے کئی تیل منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اگر زلزلے کی وجہ سے طویل عرصے تک تیل کی پیداوار یا برآمدات متاثر رہیں تو بھارت کے مالی اور تجارتی مفادات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی معمول پر آنے کی امید پیدا ہوئی تھی، جس کے بعد بھارت نے متبادل ذریعہ کے طور پر وینزویلا پر اپنا انحصار بڑھایا تھا۔ تاہم تازہ زلزلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ توانائی کی سپلائی کے نئے ذرائع بھی قدرتی آفات جیسے غیر متوقع خطرات سے محفوظ نہیں ہیں۔
’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق ماہر غذائیت ڈاکٹر سمرت کتھوریا کے مطابق ’پروفی کیفین کے فوری اثرات کے ساتھ پروٹین کی اضافی مقدار بھی فراہم کرتی ہے، جس سے معدہ زیادہ دیر تک بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے اور توانائی بتدریج حاصل ہوتی رہتی ہے۔ ان کے مطابق پروٹین ہاضمے کے عمل کو سست کرتا ہے، جس سے کیفین کے استعمال کے بعد ہونے والی اچانک تھکاوٹ یا توانائی میں کمی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔‘
اسی طرح انٹیگریٹو میڈیسن اور غذائیت کی ماہر ڈاکٹر کارتھیگائی سیلوی کا کہنا ہے کہ ’پروفی عام کافی کے مقابلے میں غذائی اعتبار سے زیادہ متوازن مشروب بن سکتی ہے، کیونکہ اس میں پروٹین شامل ہونے سے جسم کو اضافی غذائیت حاصل ہوتی ہے اور دن بھر بار بار کافی پینے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔‘
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پروفی کو مکمل ناشتہ سمجھنا درست نہیں۔ ایک متوازن ناشتے میں پروٹین کے ساتھ فائبر، صحت بخش چکنائیاں اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس بھی شامل ہونے چاہئیں۔ اس لیے پروفی کو صرف ایک معاون مشروب کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ مکمل غذا کے متبادل کے طور پر۔
ماہرین کے مطابق صحت مند پروفی تیار کرنے کے لیے کم چینی والا معیاری پروٹین پاؤڈر استعمال کرنا چاہیے۔ بہت زیادہ گرم کافی میں پروٹین شامل کرنے سے اس کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے ٹھنڈی یا نیم گرم کافی زیادہ بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہے۔بازار میں تیار شدہ پروفی مصنوعات بھی دستیاب ہیں، تاہم گھر میں تیار کی گئی پروفی میں چینی، کیفین اور پروٹین کی مقدار پر بہتر کنٹرول رکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پروفی کا حد سے زیادہ استعمال بے خوابی، بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے، ہاضمے کے مسائل، پیٹ پھولنے اور جسم میں پانی کی کمی جیسی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ گردوں کے امراض، کیفین سے حساسیت یا دیگر طبی مسائل رکھنے والے افراد کو اس کے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پروفی ایک مفید اور سہل غذائی انتخاب ہو سکتی ہے، تاہم یہ کوئی جادوئی صحت بخش مشروب نہیں۔ اس کے فوائد کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس مقدار میں، کن اجزاء کے ساتھ اور مجموعی غذا کے کس حصے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق جو افراد اپنی خوراک سے پہلے ہی مناسب مقدار میں پروٹین حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے عام بلیک کافی بھی ایک مناسب انتخاب ہو سکتی ہے، جبکہ اضافی پروٹین کی ضرورت رکھنے والے افراد پروفی کو اپنی روزمرہ روٹین کا حصہ بنا سکتے ہیں۔