Monday, 29 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟
ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت کے حوالے سے آگاہی دے رہے ہیں اور یہ بتا رہے ہیں کہ کون سی عام غذائیں اور گھریلو اشیاء وہ اپنے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں گے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق سان فرانسسکو کے دانتوں کے ڈاکٹر مارک برہن جو 40 سالہ تجربے کے حامل ہیں، نے انسٹاگرام پر بچوں کے لیے اپنی ’نو گو لسٹ‘ شیئر کی۔انہوں نے والدین کو بچوں کی ’مسکراہٹ کی حفاظت‘ کے لیے درج ذیل چیزوں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا۔
سونے سے پہلے دودھ پینا
بچوں کو سونے سے پہلے دودھ دینا ایک عام روایت ہے، لیکن ڈاکٹر مارک برہن نے خبردار کیا کہ یہ عادت دانتوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
’دودھ میں قدرتی شکر ہوتی ہے جو رات بھر دانتوں پر رہ جاتی ہے اور بیکٹیریا کے لیے غذا بن جاتی ہے۔ سونے سے پہلے دودھ دینا تو راحت بخش عادت معلوم ہوتی ہے لیکن یہ رات بھر دانتوں پر شکر کی تہہ بنا دیتا ہے۔ دودھ صرف کھانے کے وقت لیا جائے، اور برش کرنے، فلوس کرنے اور زبان صاف کرنے کے بعد صرف پانی پیا جائے۔بچوں کے لیے سپی کپ کا استعمال
بچوں کے لیے’سپی کپ‘ کو والدین ممکنہ طور پر دودھ کو گرنے سے بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر کے مطابق یہ عادت دانتوں کی نشوونما اور صفائی کے لیے مفید نہیں ہے۔
ان کے مطابق کُھلے کپ استعمال کریں کیونکہ یہ بہتر نگلنے کے طریقے سکھاتے ہیں اور دودھ کی تہہ کو دانتوں پر دیر تک نہیں رہنے دیتے۔
فلیورڈ پانی اور جوس
فلیورڈ یعنی مختلف ذائقوں کے پانی اور جوس کو والدین سودا کا صحت مند متبادل سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹر مارک برہن نے خبردار کیا کہ یہ مرکب جس میں تیزاب اور شکر دونوں شامل ہیں، کیویٹیز پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صرف پانی استعمال کریں۔خشک میوہ جات
خشک میوہ بظاہر صحت مند معلوم ہوتا ہے تاہم امریکی ڈاکٹر کے مطابق یہ ’چپچپا شکر بم‘ہوتا ہے۔ خشک میوہ دانتوں میں چپک جاتا ہے اور بیکٹیریا کئی گھنٹوں تک وہاں رہتے ہیں۔‘
پروسیس شدہ کریکرز
پروسسڈ کریکرز جیسے مشہور سنیکس بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق یہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس دانتوں کی سطح پر چپچپی تہہ بناتے ہیں جو مولرز کی دراڑوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کریکرز کے بجائے چیز، سیب یا کرنچی سبزیاں دیں۔
ڈاکٹر مارک برہن نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’مجھ پر بھروسہ کریں، دانتوں میں کیویٹیز کو روکنا بعد میں علاج کروانے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔‘








شمال مشرقی ہندوستان میں شدید بارش سے تباہی، پل اور سڑکیں تنکے کی طرح بہہ گئے، دہلی اور یوپی میں گرمی نے کیا بے حال
نئی دہلی: شمال مشرقی ہندوستان میں موسلادھار بارش نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ اروناچل پردیش اور آسام سمیت کئی ریاستوں میں سیلاب کے باعث سڑکیں اور پل بہہ گئے ،جب کہ ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب دہلی، اتر پردیش، راجستھان، پنجاب اور ہریانہ میں شدید گرمی اور لو کا سلسلہ برقرار ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے آئندہ چند روز میں مانسون کے مزید آگے بڑھنے اور کئی ریاستوں میں بھاری بارش کی پیش گوئی کی ہے۔پیر کے روز شمال مشرقی ریاستوں میں ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد حالات سنگین ہو گئے، جس پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اروناچل پردیش اور آسام کے وزرائے اعلیٰ سے فون پر رابطہ کرکے سیلاب سے ہونے والے نقصان اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ اروناچل پردیش کے کم از کم 12 اضلاع میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جبکہ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق ضلع دھیمجی کے چار ریونیو سرکلوں کے 69 دیہات میں تقریباً 16 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ پانچ دنوں کے دوران شمال مشرقی ہندوستان، سب ہمالیائی مغربی بنگال اور سکم میں شدید بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ دوسری جانب اگلے دو دنوں تک اتر پردیش اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید لو چلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ راجستھان، پنجاب، ہریانہ، دہلی اور اتر پردیش کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔دہلی میں گرمی کی شدت برقرار رہی اور بیشتر موسمی مراکز پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا۔ صفدر جنگ موسمی مرکز میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے پانچ ڈگری زیادہ تھا۔ تاہم شام کے وقت تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی اور لوگوں کو وقتی راحت ملی۔

راجستھان میں بھی شدید گرمی کا سلسلہ جاری ہے۔ سری گنگا نگر ریاست کا گرم ترین شہر رہا، جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جے پور میں پارہ 40.4 ڈگری سیلسیس تک پہنچا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی مانسون کے آگے بڑھنے کے لیے حالات سازگار ہیں اور اس ہفتے راجستھان کے کئی علاقوں میں درمیانی سے شدید بارش ہونے کی توقع ہے، جس سے گرمی کی شدت میں کمی آ سکتی ہے۔آئی ایم ڈی کے مطابق آئندہ دو سے تین دنوں کے دوران گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے بعض حصوں میں مانسون مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ اتراکھنڈ میں اگلے تین سے چار دنوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں 4 سے 6 ڈگری سیلسیس تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پوڑی، پتھورا گڑھ اور باگیشور اضلاع کے لیے بھاری بارش کا ییلو الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں آسمانی بجلی، تیز بارش اور 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ادھر پنجاب میں شدید گرمی اور نمی کے باعث بجلی کی طلب ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جس سے بجلی کے نظام پر غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی اتر پردیش، پنجاب، ہریانہ، اتراکھنڈ، مشرقی اتر پردیش اور ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں بھی درجہ حرارت معمول سے 3 سے 5 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں مانسون کی پیش رفت کے ساتھ موسم میں نمایاں تبدیلی کی توقع ہے۔









اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
پروگرام نظام الاوقات کے مطابق مختصر ہے اس لۓ عشاء کی نماز حبیب لانس کے قریب مسجد میں ادا کریں عین نوازش ہوگی پیشگی شکریہ
جزاک اللہ
پروگرام کے عشاٸیہ میں شرکت کریں

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...