Sunday, 28 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*



وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں
صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پر گہرے مثبت اثرات ڈالتی ہے۔ صحت مند خوراک جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے، ہاضمہ بہتر بناتی ہے، موڈ کو خوشگوار رکھتی ہے اور جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔
یہی نہیں بلکہ متوازن غذا جسم کو جلد صحت یاب ہونے میں بھی مدد دیتی ہے، جو طویل المدتی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے تین ایسی غذاؤں کا ذکر کیا جو وہ روزانہ استعمال کرتی ہیں تاکہ ہارمونز، میٹابولزم اور خون میں شوگر کو متوازن رکھا جا سکے۔اس پوسٹ کا کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ ’وہ تین غذائیں جو میں بطور ڈاکٹر روزانہ استعمال کرتی ہوں۔‘
فروزن جنگلی بلیو بیریز
ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ کے مطابق جنگلی بلیو بیریز عام بلیو بیریز کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے چھلکے زیادہ ہوتے ہیں اور ان میں اینتھوسائننز کی مقدار بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔
یہ مرکبات انسولین کی حساسیت بہتر بناتے ہیں، دماغی صحت کو سپورٹ کرتے ہیں اور جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جنگلی بلیو بیریز کو ان کے عروجِ پختگی کے وقت فریز کیا جاتا ہے، جس سے ان کے غذائی اجزا محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ موسمی پھل نہ ہونے کے باوجود آسانی سے دستیاب بھی ہوتی ہیں۔
سرخ یا جامنی بند گوبھی
ڈاکٹر کے سرخ یا جامنی بند گوبھی مطابق آنتوں کی صحت انسولین ریزسٹنس اور وزن کو کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے سرخ بند گوبھی کو میٹابولزم کے لیے ایک کم قدر کی جانے والی مگر انتہائی مفید غذا قرار دیا۔ سرخ بند گوبھی میں فائبر، پولی فینولز اور ایسے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو آنتوں کی صحت بہتر بناتے ہیں، سوزش کم کرتے ہیں اور ہارمونز پر براہِ راست مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق یہ سبزی ایسٹروجن میٹابولزم کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انسولین کی حساسیت بھی بڑھاتی ہے۔
ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل
ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل بھی ڈاکٹر کی روزمرہ غذا کا لازمی حصہ ہے۔ان کے مطابق خاص طور پر جب اسے کھانے کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ انسولین لیول کم کرنے، انسولین کی حساسیت بہتر بنانے اور جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے ایک اہم مشورہ بھی دیا کہ زیتون کے تیل میں موجود صحت مند چکنائی خون میں شوگر کے اچانک اضافے کو سست کر دیتی ہے، جو بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کا ایک آسان مگر اکثر نظرانداز کیا جانے والا طریقہ ہے۔
اس حوالے سے ڈاکٹر الیسیا روہنلٹ نے کہا ’یہ کوئی وقتی یا فیشن ایبل غذائیں نہیں بلکہ بلڈ شوگر کے توازن اور طویل المدتی صحت کے لیے بنیادی غذائی ذرائع ہیں جنہیں میں روزانہ استعمال کرتی ہوں۔‘
ایک اور انسٹاگرام پوسٹ میں ڈاکٹر نے وہ پانچ غذائیں بھی بتائیں جو وہ گروسری سٹور سے لازمی خریدتی ہیں۔ ان میں سرخ بند گوبھی، ایووکاڈو، بے بی سپینچ، فروزن جنگلی بلیوبیریز اور جنگلی طور پر پکڑی گئی الباکور ٹونا شامل ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق یہ غذائیں جسم میں سوزش کم کرنے، ہارمونز کو متوازن رکھنے اور بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔







نئی جھڑپیں، صدر ٹرمپ کی ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’فوجی آپریشن مکمل کرنے‘ کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کو جنگ دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کیا گیا تو ’اسلامی جمہوریہ باقی نہیں رہے گا۔‘  
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر تازہ حملے کیے ہیں اور نازک جنگ بندی اور امن مذاکرات مزید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے سنیچر کو ایران پر فضائی حملے کیے اور اس دوران ایران کے اندر 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی بیسز کو نشانہ بنایا ہے اور صورت حال نے دونوں ممالک کے درمیان عبوری معاہدے کو خدشات کا شکار کر دیا ہے۔
اسی طرح اتوار کی صبح کو کویت پر ہونے والا حملہ اس معاہدے کے بعد ہونے والا پہلا حملہ تھا جس کا مقصد لڑائی کو بند کرنا تھا۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب امریکہ افواج نے ایران کے متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
صدر ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ ’امریکی طیاروں نے جنگ بندی کے معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کرنے پر ایران کے میزائل اور ڈرونز ذخیرہ کرنے والے مقامات اور ساحلی ریڈار کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہمارے لیے مزید تحمل سے کام لینا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ کام فوجی کارروائی کے ذریعے مکمل کرنا پڑے جس کا ہم نے کامیابی کے ساتھ آغاز کیا تھا، ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
تازہ جھڑپوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات پر ایک بار پھر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی بیسز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
یہ فوجی کشیدگی ایک ایسے نازک موڑ پر پیدا ہوئی ہے جب رواں ماہ جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی کے تحت دونوں ممالک کے مابین ایک اہم مفاہمت کی یادداشت طے پائی تھی جس کا مقصد خطے میں جاری جنگ کا پائیدار خاتمہ تھا۔
امریکہ اور ایران کے دستخط شدہ اس متن کے مطابق، دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی یا فوجی آپریشن کی ابتدا نہ کرنے اور طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کرنے کا عہد کیا تھا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں اور اب خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایران نے جمعرات کو بھی واضح کیا تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز نہیں گزرے گا جس کے بعد عمان نے، جو ایران کے مقابل ساحل پر واقع ہے، ایک متبادل بحری راستے کی نشاندہی کی تھی۔
اس وقت ایران کی جانب سے جہازوں کو صرف اپنے ساحل کے ساتھ واقع کوریڈور سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔









وینزویلا زلزلہ، ہلاکتیں 1400 سے بڑھ گئیں، ملبے تلے زندگی کے آثار معدوم
وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں مرنے والواں کی تعداد ایک ہزار چار سو 30 ہو گئی ہے جبکہ ملبے تلے مزید زندہ افراد کی امیدیں مدھم پڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے کا نشانہ بننے والے مختلف مقامات پر تیسرے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ اب بھی ہزاروں لاپتہ ہیں اور متعدد عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب وینزویلا پہلے ہی معاشی بحران اور سیاسی بے چینی کا شکار ہے۔
اس کی وجہ امریکی فوج کا وہ آپریشن تھا جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا تھا۔
اس کے بعد سے ملک کے حالات بہتر نہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو صاف پانی اور دوسری بنیادی ضروریات دستیاب نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت کے آنے کے بعد پہلے 72 گھنٹے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران ہی زیادہ سے زیادہ زندہ لوگوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے اور یہ وقت گزر جانے کے بعد لوگوں کے زندہ ملنے کی امیدیں کم ہوتی جاتی ہیں۔السواڈور سے تعلق رکھنے ایک امدادی کارکن جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے بتایا کہ ’اس مرحلے پر غالب امکان یہی ہے کہ ہمیں صرف لاشیں ملیں، اگر کچھ لوگ زندہ مل جائیں تو خدا کا بہت شکر ہو گا۔‘
ملک کے عبوری رہنما کا کہنا ہے کہ سنیچر کو رات گئے کیرابالیڈا کے علاقے میں ایک 11 سالہ لڑکے کو ملبے سے زندہ نکالا گیا۔
انہوں نے ایکس پر ایک ویڈیو بیان، جس میں وہ ریسکیو ورکروں کے ہمراہ تھے، کا کہنا تھا کہ ’ہر زندگی وینزویلا کے لیے امید کا ذریعہ ہے۔‘
دوسرے ممالک کی جانب سے امداد لینے پر مقامی حکام نے ناراضی کا اظہار کیا جبکہ امریکی حمایت روڈریگز نے مدد فراہم کرنے دوسرے ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ سائمن بولیوار بین الاقوقامی ہوائی اڈے کا ایک رن وے جزوی طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ طیارے امدادی سامان لے جا سکیں جبکہ امریکی بحریہ کا ایک جہاز وینزویلا کے ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
وینزویلا میں 24 جون کو خوفناک زلزلہ آیا تھا جس کے بعد 188 افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے ملبے تلے دبنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو لواحقین اور امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لیے بے تاب کوششیں کرتے رہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شب شمالی وینزویلا میں ایک منٹ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جن سے عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور ہزاروں افراد گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔
دارالحکومت کاراکاس کے شمال میں واقع ریاست لا گوائیرا سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں لوگ ملبے کے ڈھیروں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرتے اور ان کے نام پکارتے دکھائی دیے۔










*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...