Wednesday, 8 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


پاکستانی فوج پر ٹی ٹی پی نے کیا بڑا حملہ، 11 فوجی جوانوں کو بم سے اڑایا، ہرطرف مچی افراتفری

پاکستان کے خیبر پختونخواہ صوبے میں دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس حملے میں 11 پاکستانی فوجیوں کی، جن میں دو افسران بھی شامل ہیں، موت ہوگئی ہے۔ یہ حملہ افغانستان کی سرحد سے متصل کرم ضلع میں ہوا۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، دہشت گردوں نے پہلے سڑک کنارے رکھے گئے بموں سے قافلے کو نشانہ بنایا اور پھر آٹومیٹک ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں۔ پاکستانی فوج نے بتایا کہ فوجی جوان اس وقت ایک خفیہ مشن پر تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب منگل کو خیبر پختونخواہ میں ہی پاکستانی فوج نے ایک آپریشن میں اہم دہشت گرد پیر آغا قندھاری کو مار گرایایا تھا۔

فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مہم کے دوران سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 19 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ یہ انکاونٹر خیبر پختونخواہ کے اورکزئی ضلع میں ہوا، جو دہشت گردوں کا مضبوط ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے۔ مارے گئے فوجیوں میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف (39 سال) اور میجر طیب راحت (33 سال) بھی شامل ہیں۔ فوج نے کہا کہ انہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے اعلیٰ ترین قربانی دی۔ تاہم اس حملے نے ایک بار پھر پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ خطرے کو اجاگر کر دیا ہے۔

ٹی پی کے بڑھتے ہوئے حملے
گزشتہ کچھ مہینوں میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے حملے تیز ہو گئے ہیں۔ یہ تنظیم اسلامی قانون پر مبنی حکومت نافذ کرنا چاہتی ہے اور مسلسل سرکاری مقامات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی زمین استعمال کر رہی ہے اور وہاں سے تربیت اور حمایت حاصل کر رہی ہے۔ تاہم افغانستان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جنوبی وزیرستان میں بھی تشدد
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تشدد تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پچھلے ماہ جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں 12 فوجی جوانوں کی موت ہوگئی تھی ۔ حال ہی میں پاکستانی فضائیہ نے خیبر پختونخواہ کے ایک گاؤں پر بمباری کی تھی، جسے ٹی ٹی پی کا ٹھکانہ بتایا گیا تھا۔ بعد میں ایسی رپورٹس آئیں کہ اس میں کئی شہری بھی مارے گئے۔ پاکستان نے اس حملے کے بعد ایک بار پھر افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے لڑاکوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے
مدھیہ پردیش کھانسی شربت سانحہ : 20 بچوں کی ہلاکت کے بعد تمل ناڈو کی دوا ساز کمپنی کا مالک فرار

مدھیہ پردیش کھانسی شربت سانحہ : تمل ناڈو کی دوا ساز کمپنی کا مالک فرار، پولیس کی بڑے پیمانے پر تلاش جاری
مدھیہ پردیش میں زہریلے کھانسی کے شربت (cough syrup) سے 20 بچوں کی ہلاکت کے بعد، پولیس نے تمل ناڈو کی دوا ساز کمپنی سریسان فارما سیوٹیکلز (Sresan Pharmaceuticals) کے مالک جی رنگاناتھن (G. Ranganathan) کی گرفتاری کے لیے ملک گیر مہم شروع کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، رنگاناتھن، جو 73 سال کے ہیں، ریاست تمل ناڈو کی دوا ساز صنعت میں ایک پرانا اور معروف نام ہیں۔ ان کی کمپنی کی 2,000 مربع فٹ فیکٹری، جو چنئی-بنگلور ہائی وے پر واقع ہے، کمپنی کو سیل کر دیا گیا ہے، جب کہ ان کا رجسٹرڈ دفتر کوڈمباکم میں بند پایا گیا۔

پس منظر : چار دہائیوں پر محیط ایک دوا ساز کا سفر

رنگاناتھن نے مدراس میڈیکل کالج سے فارمیسی میں تعلیم حاصل کی اور 1980 کی دہائی کے آغاز میں ’’پرونِٹ‘‘ (Pronit) نامی ایک غذائی شربت متعارف کرایا۔
یہ شربت ابتدائی طور پر حاملہ خواتین کے لیے مفید غذائی سپلیمنٹ کے طور پر مشہور ہوا۔ وہ خود چنئی کے مختلف ماہر اطفال (paediatricians) سے ملاقات کرتے اور انہیں اس شربت کے فوائد بتاتے تھے۔
ابتدائی کامیابی کے بعد ان کا کاروبار تیزی سے بڑھا، لیکن کچھ ہی عرصے میں ریاستی Drug Control Department نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کے لیے سرکاری منظوری لازمی ہے۔
رنگاناتھن کو اس کے بعد اپنی پروڈکٹ کے لیے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا پڑا، اور اس کے بعد انہوں نے قانون کے مطابق اپنی پیداوار کو جاری رکھا۔
تاہم، مارکیٹ میں اسی طرز کی دیگر مصنوعات آنے لگیں، جس سے مقابلہ بڑھ گیا۔ اس دباؤ کے باعث رنگاناتھن نے اپنی توجہ دیگر مائع (liquid) مصنوعات، خصوصاً ناک کے لیے استعمال ہونے والے دواؤں پر مرکوز کر دی۔
رفتہ رفتہ انہوں نے چنئی اور اس کے نواح میں چھوٹی دوا ساز یونٹس قائم کر لیں۔

’’کولڈ رف‘‘ (Coldrif) شربت کا المیہ
تاہم، حالیہ دنوں میں رنگاناتھن کی کمپنی سریسان فارما سیوٹیکلز کے تیار کردہ کولڈ رف کھانسی شربت میں زہریلے کیمیکل کی آمیزش پائی گئی۔
مدھیہ پردیش میں اس شربت کے استعمال کے بعد 20 بچوں کی موت واقع ہوئی، جس نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی۔
اس واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے دوا کے نمونے تجزیے کے لیے لیب بھجوائے، جن میں خطرناک کیمیائی آلودگی (chemical contamination) کی تصدیق ہوئی۔

فیکٹری سیل، دفتر بند ۔۔۔ مالک لاپتہ
پولیس نے جب چنئی میں کمپنی کے مقامات پر چھاپے مارے تو فیکٹری کو بند کر دیا گیا اور رجسٹرڈ دفتر بند پایا گیا۔
مقامی مکینوں کے مطابق، دفتر جو کبھی سرگرمیوں سے بھرا رہتا تھا، پچھلے ہفتے اچانک خالی کر دیا گیا۔
رات کے وقت ملازمین کو مشینری اور کمپیوٹرز باہر منتقل کرتے دیکھا گیا۔
اب ایک اکیلا سیکیورٹی گارڈ وہاں موجود ہے جو آنے والوں کو کمپنی کے وکیل کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیتا ہے، مگر وکیل نے کوئی تفصیل فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

صنعتی حلقوں میں حیرت

تمل ناڈو کے دوا ساز حلقوں میں رنگاناتھن کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جو نوجوان فارماسسٹوں کی رہنمائی کرتے اور انہیں چھوٹے پیمانے پر دوا سازی کے کاروبار کی تربیت دیتے تھے۔
معروف دوا ساز جے جیاسیلن نے کہا کہ رنگاناتھن اکثر فارماسیوٹیکل کانفرنسوں میں شریک ہوتے اور نئی نسل کو مشورے دیتے تھے۔
اسی لیے ان کی اچانک گمشدگی نے صنعتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ ان کا پہلے کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق نہیں رہا۔

ہندوستان میں گزشتہ ایک دہائی میں غیر معیاری دواؤں کے باعث متعدد اموات ہو چکی ہیں۔
2022 میں گیمبیا میں بھارتی کمپنی کی دوا سے 66 بچوں کی موت کے بعد، بھارت میں فارماسیوٹیکل نگرانی کے قوانین سخت کیے گئے تھے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر دوا ساز کمپنیوں کی نگرانی اور لائسنسنگ کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ریاستی محکمے بروقت معیار کی جانچ کرتے، تو اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔
آندھرا پردیش : پٹاخوں کی فیکٹری میں آگ نے 6 جانیں لے لی،زخمی ہسپتال منتقل،تحقیقات جاری

آندھرا پردیش کے کونسیما ضلع میں پٹاخوں کے کارخانے میں خوفناک آگ:
آندھرا پردیش کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کونسیما ضلع میں بدھ کے روز پٹاخوں کے ایک کارخانے میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں چھ افراد جھلس کر ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ حادثہ ممکنہ طور پر پٹاخوں کے غیر محتاط ہینڈلنگ یا غلط طریقے سے تیار کرنے کے باعث پیش آیا۔


پولیس سپرنٹنڈنٹ راہل مینا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یہ واقعہ ایک لائسنس یافتہ فیکٹری میں پیش آیا ہے۔ ہمیں اب تک چھ لاشیں ملی ہیں اور ہم متاثرین کی شناخت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

ذرائع کے مطابق، دھماکہ اس وقت ہوا جب مزدور فیکٹری کے اندر مختلف اقسام کے آتش بازی کے سامان تیار کر رہے تھے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کارکنوں کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا۔ ریسکیو ٹیموں نے بڑی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم فیکٹری کا زیادہ تر حصہ جل کر راکھ ہو گیا۔

مقامی پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ کس مقام سے لگی اور حفاظتی انتظامات میں کہاں کوتاہی ہوئی۔ مقامی انتظامیہ نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کا اعلان کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

پس منظر (Background):

آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں ہر سال دیوالی اور دیگر تہواروں سے قبل پٹاخوں کی تیاری میں تیزی آجاتی ہے۔ اس دوران اکثر چھوٹے پیمانے پر چلنے والی فیکٹریوں میں حفاظتی معیارات پر عمل نہیں کیا جاتا، جس کے باعث ایسے المناک واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔
پچھلے چند سالوں میں بھی آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے مختلف علاقوں میں پٹاخوں کے کارخانوں میں درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جس کے بعد حکومت نے کئی بار سیفٹی آڈٹ اور لائسنسنگ عمل سخت کرنے کے احکامات دیے، مگر زمینی سطح پر ان پر عمل درآمد اب بھی ناکافی ہے۔

"اردو کا جشن یا اردو کی آزمائش؟ مہاراشٹر کی اکیڈمی، ادب اور ادارہ جاتی زوال کی کہانی"؟تحریر: علیم طاہر---ادب کا جشن جب فکر سے خالی ہو جائےتو روشنی کی محفلیں بھی اندھیرے پیدا کرتی ہیں۔مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے پچاس سال مکمل ہوئے یہ لمحہ اردو کے لیے افتخار اور وقار کا ہونا چاہیے تھا،مگر افسوس، یہ لمحہ ایک تنازع، تماشا اور تلخی میں بدل گیا۔دس کروڑ روپے کے بھاری بجٹ کے باوجوددلوں میں خوشی نہیں،زبانوں پر سوالات ہیں۔کیا یہ جشنِ اردو ہے؟یا اردو کی آزمائش؟--- گولڈن جوبلی:* * سنہری موقع یا سیاہ سوال؟ ١٩٧٥ ءمیں جب اردو ساہتیہ اکیڈمی قائم ہوئی تھی۔تو اس کے گرد کرشن چندر، عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس، سردار جعفری جیسے ناموں کی روشنی تھی۔وہ ادب کو انسانیت، صداقت، اور آزادیٔ فکر کا چراغ سمجھتے تھے۔لیکن آج، جب گولڈن جوبلی کا وقت آیا —اسی اکیڈمی نے اپنے ماضی کے چراغوں کو خود بجھا دیا۔دس کروڑ روپوں کا بجٹ،جو ریاست بھر کے ادبی مراکز تک پہنچنا چاہیے تھا،بمبئی کی چمک دمک میں گم ہوگیا۔یہ محض بجٹ کی تقسیم نہیں یہ اعتبار کی تقسیم بھی ہے۔--- *اردو اکیڈمی یا انٹرٹینمنٹ کمپنی؟*ادب کا جشن تب بامعنی ہوتا ہےجب وہاں فکر، مکالمہ، اور مطالعہ ہو۔لیکن جب ادبی اجتماع کو کارپوریٹ ایونٹ بنا دیا جائے،جہاں مائیک، لائٹس اور فیشن شو مرکزی کردار ہوں،تو وہاں الفاظ مر جاتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جب اردو زبان نہیں، زیور بن جاتی ہے۔اور ادیب شرکت دار نہیں، شو پیس بن جاتا ہے۔ادب کے منچ پر اگر شاعر کے بجائے "برانڈ" بولے،تو سمجھ لیجیے، اکیڈمی نے اپنا مقصد کھو دیا۔--- *بمبئی کا اجارہ، ریاست کی محرومی*مہاراشٹر میں ناندیڑ، مالیگاؤں، اورنگ آباد، شولاپور —یہ سب اردو کے زندہ مراکز ہیں۔یہاں اردو بولی بھی جاتی ہے، جانی بھی جاتی ہے،اور لکھی بھی جاتی ہے۔پھر کیوں یہ تمام شہر گولڈن جوبلی سے بے دخل ہیں؟کیا اردو صرف بمبئی کی میراث ہے؟اگر دس کروڑ کا بجٹ دس شہروں میں تقسیم کیا جاتاتو یہ جشن سچ میں ریاستی سطح پر اردو کی آواز بنتا۔لیکن اب یہ ایک شہری شو بن گیا ہے،جہاں مہاراشٹر کے دوسرے اضلاع صرف تماشائی ہیں۔--- *ادب کا ایوارڈ یا فلمی شو؟*جب ایوارڈ دینے والے ہاتھوں میں کتاب کے بجائے کیمرہ ہو،اور ایوارڈ لینے والا ادیب اپنے فن کے بجائےسیلیبرٹی کی تصویر کے ساتھ “سیلفی” میں مصروف ہو،تو سمجھ لیجیے کہ ادب کی روح خطرے میں ہے۔ایوارڈ ادب کی عزت بڑھاتا ہے،لیکن اگر وہ شوبز کی چمک میں دیا جائے،تو وہ ادب کی توہین بن جاتا ہے۔ادب کی عزت اس کے لفظ میں ہے،نہ کہ ریڈ کارپٹ کے نیچے بچھی ہوئی روشنیوں میں۔--- *اردو رسم الخط کی بے دخلی **خاموش خطرہ*اردو کی سرکاری اکیڈمی کے دعوت نامے سےاگر اردو رسم الخط غائب ہو جائے،تو یہ محض غفلت نہیں یہ لسانی بے دخلی کا اعلان ہے۔زبان جب اپنے رسم الخط سے محروم ہوتی ہے،تو صرف حروف نہیں مرتے پوری تہذیب مر جاتی ہے۔---. سوال جن کے جواب ابھی باقی ہیںگولڈن جوبلی کے دس کروڑ کا حساب کہاں ہے؟مہاراشٹر کے دیگر اضلاع کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟اکیڈمی کا علمی و ادبی مقصد فلمی ایونٹ میں کیوں بدلا؟اردو رسم الخط کو سرکاری دعوت نامے سے کیوں خارج کیا گیا؟یہ سوالات اردو کے ہیں،یہ سوالات ادب کے ہیں،اور سب سے بڑھ کر - یہ سوالات ضمیر کے ہیں۔---* اردو کا اصل جشن کیا ہوتا؟*اگر یہ بجٹ واقعی اردو کے لیے استعمال ہوتا تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا؟اردو فکشن، شاعری اور تنقید پر ریاستی سطح کے سمپوزیماسکولوں اور کالجوں میں اردو مشاعرے اور لیکچر سیریزنوجوان لکھنے والوں کے لیے ریذیڈنسی پروگراممختلف اضلاع میں ادبی ورک شاپس اور مطالعہ گاہیں“اردو گھر” مراکز میں کتاب میلے اور مکالماتی نشستیںیہ ہوتا اردو کا جشن —جہاں چراغ بجھائے نہیں جاتے،بلکہ نئے چراغ جلائے جاتے۔---ادب کا وجود صرف لفظوں میں نہیں،بلکہ نیت، نُور اور نظام میں ہے۔اگر اکیڈمیاں ادب کی خدمت کے بجائے سیاست کی خدمت میں لگ جائیں،تو پھر اردو کا مستقبل "تقریبات" میں نہیں، "تحقیقات" میں تلاش کرنا ہوگا۔اردو کا جشن تب ہی سچا ہوگا جب ہر شاعر، ادیب، استاد، قاری،خود اپنے اندر ایک اکیڈمی جگا لے۔کیونکہ آخر میں اردو کو بچانے والا کوئی فنڈ نہیں،بلکہ فکر ہے۔---“اردو کا جشن، اردو کی آزمائش” _یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ آئینہ ہے۔اور اس آئینے میں ہم سب کو اپنا چہرہ دیکھنا ہوگا۔ظرف ہر بار مرا ضد پہ اڑا رہتا ہےحق بہ جانب ہے جو دنیا سے لڑا رہتا ہے *علیم طاہر*________________🔴🔴نعیم بن اسماعیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*رشتوں کا قرض* دھوپ کی تمازت عروج پر تھی ، مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی ، آج میں نے فیصلہ لے ہی لیا کہ میں ، ماں کو اپنے دل کی بات کہہ ہی دوں گا گھر میں داخل ہوتے ہی ماں سامنے ہی تھیں ، میں نے سکون کی سانس محسوس کی ، ماں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔"آگئے بیٹا۔"ماں کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا ، مجھے پسینے میں شرابور دیکھ کر ماں نے گلاس میری طرف بڑھادیا ، بیٹا پہلے پانی پی لو ، میں نے ایک ہی سانس میں پانی پی لیا ، ماں نے میری طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا ، بہت تھک گئے ہو بیٹا ، آرام کرلو میں نے نظر انداز کرتے ہوئے کہا ، اماں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ، ماں نے ممتا بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی "بیٹا باتیں تو ہوتی رہیں گی پہلے آرام کرلو آہستگی سے پانی کا گلاس واپس کرتے ہوئے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ذرا تلخ لہجہ میں کہا۔"اماں میں تھک چکا ہوں اب مجھ سے ابا کی خدمت نہیں ہوسکتی شفقت بھرے لہجہ میں ماں نے کہا۔"بیٹا پہلے سکون سے بیٹھ تو جاؤ میں نے سخت لہجہ میں کہا۔"اماں!بات کو ٹالنے کی کوشش نہ کریں آج فیصلہ کر ہی لیتے ہیں۔" کیسا فیصلہ بیٹا؟حسرت و یاس بھری نگاہوں سے ڈوبتی آواز میں ماں نے کہا ماں کے چہرے کی مایوسی جس پر دکھوں کی پرت کو دیکھ کر بھی میں انجان تھا اور قطعی و آخری فیصلہ کرنا چاہتا تھا ایک ہی سانس میں ، میں کہہ گیا۔"اماں بتایا نا کہ اب مجھ سے ابا کی خدمت نہیں ہو سکتی۔"ماں نے رندھے ہوئی آواز میں پوچھا " ٹھیک ہے بیٹا لیکن کیوں؟"مجھے ایسا گمان ہوا کہ ماں نے میرے آگے ہتھیار ڈال دئیے ہیں میں خوش فہمی کا شکار ہوگیا تھا ، پر اعتماد لہجہ میں کہا۔"آپ کے دوسرے بیٹوں نے شادی کے بعد کنارہ کشی اختیار کرنا بہتر سمجھا لیکن کسی نے یہ نہیں گوارا کیا کہ والدین کو ساتھ لے جاتے یا باری باری اپنے اپنے گھروں میں سنبھالتے ، ماں کی آنکھیں نم ہو گئ تھیں لیکن میں تو تعلیم یافتہ ٹہرا نا ، اپنے دلائل میں پختگی لانے کے لئے منور رانا کا شعر بھی سنایا ، کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصہ میں ماں آئیاور اپنی دلیل کو مؤثر بناتے ہوئے طنزیہ جملوں میں کہاکہ "میرے حصہ میں ماں کے ساتھ ابا بھی آئے۔"ماں بدستور کھڑی تھی اور نظریں بھی جھکی ہوئی تھیں لیکن خاموش تھیں ، میں نے تعلیم یافتہ ہونے کا ایک اور ثبوت دیا اور فیصلہ کن انداز میں کہا کہ "اماں میں محلہ کمیٹی میں سکریٹری ہوں لیکن مجھے گھر کا مسئلہ گھر میں ہی حل کرنا ہے ، آپ اپنے تینوں بیٹوں کو فون کردیجئے کہ آپ دونوں کو باری باری ایک ایک مہینہ سنھالیں۔" ماں تو ممتا کی دیوی ہوتی ہے ماں نے دھیمے لہجہ میں کہا "ٹھیک ہے بیٹا آپ پہلے کھانا کھا لیجئے شام کو سب کو فون کروں گی آج منگل ہے سنیچر کو سب بیٹوں کو بلا لوں گی اور آپ کی تجویز سب کے سامنے رکھوں گی۔" اماں بےشک یہ آپ کے لئے تجویز ہوگی لیکن یہ میرا فیصلہ ہے"ٹھوس لہجہ میں اپنی تجویز کو فیصلہ کا رنگ دے کر میں دل ہی دل میں سکون محسوس کررہا تھا ، تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ مجھ میں شعور آچکا تھا ، پہلے میں نے آرام سے کھانا کھایا پھر معمول کے مطابق والد کی خدمت کی ، ابا دو سال سے سخت علیل تھے ، ابا کو دمہ تھا اور کافی کمزور ہونے کے سبب چلنے پھرنے سے معذور تھے۔مسلسل بستر پر رہنے کی وجہ سے دونوں جانب کمر پر سیاہ داغ بھی بن گئے تھے اور زخم بھی تھا ، قسمت کی ستم ظریفی کہ سات آٹھ دنوں سے آواز بند ہو گئ تھی لیکن ابا کی قوت سماعت متاثر نہیں ہوئی تھی ، جب ابا قوت گویائی کی تاب رکھتے تھے تب میری جھنجھلاہٹ کو محسوس کرتے ہوئے‌ کہتے تھے "بیٹا اس طرح کی خدمت سے اللہ ناراض ہوتے ہیں خوب سیوا کرو خوب میوہ ملے گا ، آج میں بہت خوش تھا کیوں کہ والدین کے بوجھ سے دو چار دن میں چھٹکارہ ملنے والا تھا ، سنیچر کو اماں ابا چلے جائیں گے پھر تین مہینہ بعد میرا نمبر آئے گا ، ابا کی خدمت ، میں کافی پرجوش انداز سے کر رہا تھا ، زخموں کو ڈیٹول سے صاف کرنے مرہم لگا رہا تھا سر میں تیل لگاکر ہلکا مساج اور پھر پیروں کو دبا رہا تھا ، ابا مجھے ایک ٹک دیکھتے جارہے تھے اور آنکھوں سے اشک جاری تھے ، میں نے نظر انداز کیا ، دوپہر سے شام اور پھر رات ہو گئ۔رات کے گیارہ بجے امی سے اجازت لے کر میں اپنے کمرے میں سونے گیا ، کافی سکون محسوس کررہا تھا۔ساڑھے چار بجے اچانک آنکھ کھلی دیکھا کہ کمرے میں بیوی نہیں ہے ، امی ابو کے کمرے میں گیا وہاں کا منظر دیکھ کر میرے قدموں تلے زمین نکل گئ ، *ابا کی سانس اکھڑ رہی تھیں۔میری بیوی نے کہا کہ ابو کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ماں بیچاری اپنے نحیف ہاتھوں سے ابا کے پیروں کو مسل رہی تھیں‌۔میری بیوی ابا کے ہاتھوں کو رگڑ رہی تھی۔* میں پڑوسیوں کو بلانے چلا گیا۔جب کچھ پڑوسیوں کے ساتھ لوٹا تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔بیوی زارو قطار رو رہی تھی اور ماں کے بھی آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ ماں نے کہا۔ *بیٹا آپ تھک گئے تھے نا اللہ نے آپ کی تھکن دور کردی۔* یہ جملہ مجھ پر بجلی بن کر گرا میں زار و قطار پاگلوں کی طرح رو رہا تھا لیکن مجھے احساس ہو گیا کہ میں نے اپنی آخرت خراب کر لی۔ *دنیا میں بھی بازی ہار گیا اور آخرت کا اللّٰہ مالک ہے*_____________غزل🔴منتظمِ عاصی مالیگاؤںحسّاسِ دل طلوعِ اساسِ الم رہاطائر عمارِ روحِ رواں آمدم رہادارالامکاں سے عالمِ اسرارِ لا مکاں اصلاحِ عم سلامِ درودِ حرم رہا طاہورِ حدِّ حور و ملک راہِ سالمہعالم کراں سَرارِ رُعادہ عدم رہا معدوم حصار وا کُرَۂِ آسماں سَرااسلام سر علیٰ دمِ لہرا عَلَم رہا محلول روحِ عادِ کلاں لم سلام کا وعدہ امامِ عالی کا احرامِ دم رہا مہموسہ لوحِ لام دِرَم ماہِ ماہ لا احرامِ سلسلہ رگِ اکرامِ سَم رہاعاصی علومِ عار عَرا عودِ عاملہمل کر ملولِ دل مہِ امدادِ ہم رہامنتظمِ عاصی مالیگاؤں____________ندا فاضلیجو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتاہمیشہ ایک ہی سے پیار ہو ایسا نہیں ہوتاہر اک کشتی کا اپنا تجربہ ہوتا ہے دریا میںسفر میں روز ہی منجدھار ہو ایسا نہیں ہوتاکہانی میں تو کرداروں کو جو چاہے بنا دیجےحقیقت بھی کہانی کار ہو ایسا نہیں ہوتاکہیں تو کوئی ہوگا جس کو اپنی بھی ضرورت ہوہر اک بازی میں دل کی ہار ہو ایسا نہیں ہوتاسکھا دیتی ہیں چلنا ٹھوکریں بھی راہگیروں کوکوئی رستہ سدا دشوار ہو ایسا نہیں ہوتا

*🔴سیف نیوز بلاگر*


کرناٹک میں دلخراش واقعہ ، فیملی پکنک سانحہ میں بدل گئی ۔ 7 افراد پانی میں بہہ گئے

کرناٹک میں خاندانی سیر تفریح افسوسناک سانحہ بن گئی، ڈیم کے پانی کے اچانک بہاؤ نے 7 افراد کو بہا دیا، ایک شخص کو زندہ بچا لیا گیا
کرناٹک کے ضلع تُمکورو (Tumakuru) میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں مارکوناہلی (Markonahalli) ڈیم کے قریب پکنک منانے آئے ایک ہی خاندان کے سات افراد تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ یہ واقعہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب خاندان کے تقریباً 15 افراد ڈیم کے کنارے سیر و تفریح کے لیے جمع ہوئے تھے۔


ضلع تُمکورو کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک کے وی (Ashok KV) کے مطابق، سات افراد ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ، ڈیم کے پانی میں اترے ہی تھے کہ اچانک سائفن سسٹم (Siphon System) نے پانی چھوڑ دیا، جس سے ایک زبردست بہاؤ پیدا ہوا اور سبھی پانی میں بہہ گئے۔

دو لاشیں برآمد، چار افراد تاحال لاپتہ

ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ فائر بریگیڈ، ایمرجنسی سروسز اور مقامی غوطہ خوروں نے مشترکہ طور پر متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن چلایا۔ اب تک دو لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جن کی شناخت سازیہ اور عربین کے نام سے ہوئی ہے۔ ایک شخص نواز کو زندہ نکالا گیا، جو زخمی حالت میں اسپتال داخل ہے۔
باقی چار لاپتہ افراد کی شناخت تبسم (45)، شبانہ (44)، میفرا (4) اور محب (1) کے طور پر کی گئی ہے۔


قدرتی بہاؤ یا تکنیکی خرابی؟ تحقیقات جاری

ڈیم کے انجینئروں کے مطابق، سائفن سسٹم کا اچانک کھل جانا ایک ’’قدرتی پانی کے دباؤ‘‘ کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم اصل وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ جب تک حفاظتی اقدامات مکمل نہیں ہو جاتے، وہ ڈیم کے اطراف میں جانے سے گریز کریں۔

ایک رشتہ دار نے اخبار ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو میں کہا: ’’ وہ ہم سے ملنے آئے تھے اور بعد میں ڈیم کی سیر کا پروگرام بنایا۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ خوشی کا دن یوں قیامت میں بدل جائے گا۔‘‘

گزشتہ چند ماہ میں اسی نوعیت کے سانحات میں اضافہ

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں کرناٹک کے مختلف حصوں میں اسی طرح کے غمناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔

7 ستمبر کو بیلگاوی (Belagavi) ضلع میں 22 سالہ نوجوان مالاپربھا ندی میں گنیش وسرجن کے دوران ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

جولائی میں تین نوجوان تنگبھدرا ندی (Tungabhadra River) میں بہہ گئے۔

یہ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس خطرے کو نمایاں کرتا ہے کہ برساتی موسم میں ڈیم اور جھیلوں کے پانی میں داخل ہونا کتنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
*لاڈلی بہنوں کے لیے ای کے وائ سی خصوصی کیمپ — صرف اشرف آنلائن شاپی پر، چارج صرف 30 روپیہ* 

ہماری محنت، آپ کی سہولت کے لیے!

لاڈلی بہن یوجنا کے تحت جن بہنوں کا ابھی تک ای کے وائ سی (EKYC) نہیں ہوا ہے، اُن کے لیے اشرف آنلائن شاپی کی جانب سے عوام کی مسلسل فرمائش پر ایک خاص کیمپ لگایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں، مگر ہم نے دن رات کی محنت سے یہ سہولت صرف آپ سب کے لیے نکالی ہے۔ نہ کوئی دوسرا یہ کر رہا ہے، نہ کہیں اور کیمپ لگ رہا ہے۔ یہ کام صرف ہم کر رہے ہیں — وہ بھی صرف 30 روپے میں۔

یہ کیمپ صرف تین دن کے لیے ہوگا:
📅 جمعہ، سنیچر اور اتوار
⏰ شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک ٹوکن، اور رات 11 بجے کے بعد EKYC مکمل
💰 فیس: صرف 30 روپیہ

ویب سائٹ صرف رات 11 بجے کے بعد کام کرتی ہے، اسی لیے ہم نے رات کے وقت بیٹھ کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آپ کو وقت پر سرکاری اسکیم کا فائدہ مل سکے۔

بہت سی بہنیں خود سے کوشش کر کے تھک چکی ہیں، ناکام ہو چکی ہیں — اب اُن کے لیے ہم نے یہ موقع پیدا کیا ہے۔

📌 خواتین کو کیمپ پر آنے کی ضرورت نہیں ہے — وہ اپنے شوہر، والد یا بچوں کو بھیج سکتی ہیں تاکہ وہ آ کر یہ کام مکمل کروا سکیں۔

کیمپ میں آنے والے شخص کے ساتھ درج ذیل چیزیں ہونا لازمی ہیں:

1. جس بہن کا EKYC ہونا ہے اُس کا آدھار کارڈ


2. اُس سے جُڑا ہوا موبائل فون


3. شوہر یا والد کا آدھار کارڈ اور اُن کا موبائل فون



کسی فوٹو کاپی، کاغذ یا فارم کی ضرورت نہیں۔ صرف اصل آدھار کارڈ اور موبائل ساتھ لانا ہوگا۔

ٹوکن شام 6 سے رات 10 بجے تک دیے جائیں گے۔ جس وقت کا ٹوکن ملے، اُس وقت پر حاضر ہونا ضروری ہے۔ اگر مقررہ وقت پر نہیں آئے، تو اگلے دن نیا ٹوکن لینا ہوگا۔ رش ہونے پر صبر سے باری کا انتظار کریں۔

یہ موقع صرف تین دن کے لیے ہے — جمعہ، سنیچر اور اتوار — دیر نہ کریں!
یہ کام کوئی اور نہیں کر رہا، صرف ہم کر رہے ہیں — وہ بھی آپ کے فائدے کے لیے۔

📍 پتہ: اشرف آنلائن شاپی، اسلام آباد، روی وار وارڈ، حیات میڈیکل اسٹور کے بازو میں، چندن پوری گیٹ، بسم اللہ ہوٹل کے پیچھے، مالک میر کے گھر کے کونے پر۔

 معلومات کے لیے شام 6 بجے کے بعد تشریف لائیں۔
جے پور۔اجمیرہائی وے پرسلنڈرسے بھرے ٹرک میں لگی آگ، دھماکوں سے لرز اٹھا پورا علاقہ،آگ پرقابوپالیاگیا

جے پور۔اجمیر ہائی وے پر دُودُو کے قریب سڑک کے کنارے کھڑے سلنڈرسے بھرے ٹرک میں دوسرے ٹرک نے ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں سلنڈرسے بھرے ٹرک میں آگ لگ گئی۔آگ لگنے کی وجہ سے ایک کے بعد ایک سلنڈرپھٹنے لگے اور دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔

آگ کے شعلے اٹھنے لگے جو کئی کلومیٹرفاصلے سے نظر آرہے تھے۔ دھماکوں کی آواز دور تک سنائی دی۔ پولیس اہلکار اور فائربریگیڈ جلد ہی جائے وقوع پر پہنچ گئے ۔

جائے وقوع سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ہائی وے پر ٹریفک روک دی گئی ۔ یہ واقعہ جے پور۔اجمیر شاہراہ پر معظم آباد علاقے میں ساوردا پل کے قریب ہوا ۔ وزیر اعلی بھجن لال شرما کی ہدایت پر نائب وزیر اعلیٰ پریم چند بیروا صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچے۔

 بیروا نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے میں شامل گاڑی کے ڈرائیور اور ہیلپر کی ابھی شناخت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی دوسرے کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

پولیس اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار بھی موقع پر موجود ہیں۔ ایس ایم ایس اسپتال انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے، اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شرما نے ایکس پر پوسٹ لکھا کہ جے پور رورل کے معظم آباد تھانہ علاقے میں جے پور۔اجمیر قومی شاہراہ پر گیس سلنڈروں سے بھرے ٹرک میں آگ لگنے کا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ فائر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیمیں جائے وقوع پر راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کریں اور مناسب علاج فراہم کریں۔

اس بیچ، عینی شاہدین نے بتایا کہ ایل پی جی سلنڈروں سے بھرا ٹرک سڑک کے کنارے ڈھابے کے باہر کھڑا تھا غالباً ڈرائیور کھانے کے لیے وہاں رکا تھا۔ قریب ہی موجودعینی شاہد ونود نے میڈیا کو بتایا کہ ایک اور ٹرک نے ایل پی جی سلنڈروں سے بھرے ٹرک کو پیچھے سے ٹکر ماردی۔ اس ٹرک کے ڈرائیور کو زخمی حالت میں قریبی اسپتال لے جایا گیا۔

چیف میڈیکل افسرروی شکھاوت نے بتایا کہ ایس ایم ایس اسپتال میں تمام انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک کوئی زخمی اسپتال نہیں لایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ابتدائی معلومات کے مطابق، ایک شخص کو دودو کے ایک اسپتال میں ابتدائی طبی امداد دی گئی ہے۔ گزشتہ دسمبر میں جے پور کے بھانکروٹا کے قریب اسی ہائی وے پر حادثہ ہوا تھاجس میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*

سیٹوں کی جنگ! چراغ پاسوان اور نریندر مودی کے رشتے میں دراڑ کی حقیقت کیا ہے؟

پٹنہ: جہاں این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم پر چراغ پاسوان کی ناراضگی کی خبریں میڈیا میں سرخیاں بن رہی ہیں، وہیں اس بات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا سیاسی حساب کتاب کے لیے چراغ پاسوان پی ایم مودی کو چھوڑ دیں گے۔ یہ ایک اہم سوال ہے، جیسا کہ چراغ پاسوان نے واضح طور پر کہا ہے کہ این ڈی اے کے اندر سیٹوں کی تقسیم کی بات چیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ واضح طور پر، چراغ کا سخت رویہ اور این ڈی اے کے اندر لڑائی کی خبریں اب کھل کر منظر عام پر آ رہی ہیں۔ لیکن مسئلہ پی ایم مودی کے ساتھ ان کے تعلقات کا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی ماہرین کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ درحقیقت وزیر اعظم نریندر مودی اور چراغ پاسوان کے درمیان تعلقات بہار کی سیاست میں واقعی ایک انوکھی مثال ہیں اور یہ کہنا کہ ایک جھٹکا کمزور ہو جائے گا یہ مبالغہ آرائی ہو گی۔

درحقیقت پی ایم مودی اور چراغ پاسوان کے درمیان یہ رشتہ طاقت کی سیاست سے بالاتر پیار، اعتماد اور احترام پر مبنی ہے۔ کیونکہ چراغ پاسوان نے بارہا پی ایم مودی کی تعریف کی ہے اور انہیں اپنے دل کا پیارا بتایا ہے۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی بار عوامی طور پر چراغ پاسوان کی تعریف کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور چراغ پاسوان کے درمیان تعلقات روایت، رواج اور عمل سے مختلف ہیں۔ یہ رشتہ طاقت کی سیاست کی بجائے پیار، اعتماد اور احترام پر استوار ہے۔ جب ان کے والد رام ولاس پاسوان کا انتقال ہوا تو پی ایم مودی نے نہ صرف چراغ پاسوان کی حمایت کی بلکہ انہیں خاندان جیسا پیار بھی دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رشتہ اب بہار کی سیاست میں ‘سیاسی اتحاد’ سے آگے کی کہانی بن گیا ہے۔

چراغ پی ایم مودی کی سرپرستی میں آگے بڑھ رہے ہیں! انہوں نے ایک بار چراغ پاسوان کو اپنے بیٹے جیسا بتایا تھا۔ مزید برآں، چراغ پاسوان نے ایک بار اپنے ایم پی کی حیثیت کی تعریف کی تھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ابتدائی دنوں میں پارلیمنٹ میں چراغ پاسوان کی موجودگی میں کچھ خاص دیکھنے کی بات کی۔ پی ایم مودی کی تعریف کرتے ہوئے چراغ پاسوان کا کہنا ہے کہ جب ان کے والد رام ولاس پاسوان کا سایہ ان کے سر سے اٹھا تو پی ایم مودی نے انہیں اپنا تحفظ دیا۔

اس کے بعد، لوک سبھا انتخابات کے دوران، وزیر اعظم نریندر مودی نے حاجی پور میں ایک ریلی میں اسٹیج سے چراغ پاسوان کی کھل کر تعریف کی۔ پی ایم مودی نے کہا، “جب چراغ پہلی بار پارلیمنٹ میں آئے تھے، میں نے سوچا تھا کہ وہ رام ولاس جی کا بیٹا ہے، لیکن ان میں ایک اونس تکبر نہیں ہے، وہ بہار کا مستقبل ہے۔” پی ایم مودی کا یہ بیان محض ایک لیڈر کی تعریف نہیں تھا بلکہ اس جذباتی تعلق کی علامت تھا جو کبھی پی ایم مودی اور رام ولاس پاسوان کے درمیان موجود تھا اور اب چراغ پاسوان کے ساتھ موجود ہے۔

جب 8 اکتوبر 2020 کو رام ولاس پاسوان کا انتقال ہوا تو پی ایم مودی نے ٹویٹ کیا، “رام ولاس جی اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کا نشان ہمیشہ رہے گا۔” آخری رسومات میں پی ایم مودی کی موجودگی اور حمایت نے چراغ پاسوان کو جذباتی مدد فراہم کی۔ چراغ پاسوان نے بعد میں کہا، “میرے والد کے انتقال کے بعد پی ایم مودی نے جس طرح میرا ہاتھ تھاما، وہ باپ کی نعمت جیسا تھا۔”

پچھلے سال، عوامی زندگی میں پی ایم مودی کی 23 ویں سالگرہ کے موقع پر، چراغ پاسوان نے پٹنہ میں کہا، “میرے والد کے بعد، اگر میں کسی کو آئیڈیل سمجھتا ہوں تو وہ وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “انہوں نے مجھے سیاست میں وہ سمت دی جو میرے والد کرتے تھے۔” سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ چراغ پاسوان کا بیان صرف ذاتی جذبات نہیں ہے بلکہ این ڈی اے کے اتحاد کا ایک مضبوط اشارہ بھی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی اور چراغ پاسوان کے درمیان تعلقات روایتی سیاسی حدود سے بالاتر ہیں۔ یہ رشتہ نہ صرف دلت سیاست کے لیے تحریک کا ذریعہ ہے بلکہ بہار میں مخلوط سیاست کا ایک نیا باب بھی ہے۔ مودی نے رام ولاس پاسوان کی وراثت کا احترام کیا اور چراغ پاسوان کو آگے بڑھنے کا اعتماد دیا۔ یہ کہانی طاقت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ رشتوں کی ہے- جہاں “باپ کی میراث” اور “بیٹے کا مستقبل” ایک ہی چھتری کے نیچے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ رشتہ دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی احترام اور اعتماد کی علامت ہے۔
جیل سےرہائی کے بعداعظم خان کی اکھلیش یادوسے ملاقات، کہا ان کا آنا خوشی بات لیکن ساتھ نہ ہوکوئی اور

رامپورمیں اعظم خان اوراکھلیش یادو کی آج ملاقات ہوگی۔اعظم خان کی جیل سے رہائی کے بعد سے پارٹی کے کسی سینئرلیڈر نے ان سے ملاقات نہیں کی ہے۔ ہاں ! کچھ ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی ،اعظم خان سے ضررورملے ہیں۔ جب اعظم خان سے اکھلیش کے ساتھ ان کی مجوزہ ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح جواب دیا کہ ، وہ صرف اکھلیش یادو سے ملاقات کریں گے، اور ان کی ملاقات کے دوران کوئی تیسرا موجودنہیں ہوگا۔

اعظم ۔اکھلیش ملاقات
انڈین ایکسپریس کے انٹرویو کے دوران جب اعظم خان سے پوچھا گیا کہ اکھلیش یادو آپ سے ملنے آرہے ہیں۔کیا آپ نے سوچا ہے جس ان سے کیا بات کریں گے ؟تواعظم خان نے جواب دیا کہ سوچنے کی کوئی بات نہیں۔ وہ آئیں گے اور میری عزت افزائی ہوگی۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ پہلی بار آرہے ہیں ۔ میرے تن من پران کا حق ہے۔ وہ آئیں گے مجھےخوش ہوگی ۔ میرے لیے اعزاز ہےلیکن میں چاہتا ہوں کہ صرف وہی آئیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں تو انھوں نے قدرے تلخ لہجے میں کہا کہ میں صرف ان سے ملوں گا۔ دوسرے مجھ سے کیوں ملیں؟ اتنے دنوں میں کس نے میرے گھر والوں کے بارے میں پوچھا؟ عید پر میری بیوی اکیلی رو رہی تھی۔ کیا کوئی آیا؟ کیا کسی نے فون کیا؟ تو اب وہ کیوں آئیں؟

کیا اکھلیش یادو سے بھی فون پر نہیں ہوئی بات ؟
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اکھلیش یادو سے فون پر ان کی بات ہوئی، تو اعظم خان نے کہا کہ ان دنوں ہمارے فون وغیرہ بند تھے۔ اس لیے یہ صرف دو لوگوں کے درمیان ملاقات ہوگی، تیسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ گزشتہ ماہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد سے، سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو رام پور کے ممتاز پارک علاقے میں واقع اپنے گھر پر شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے۔ ایک زمانے میں اتر پردیش کے سب سے طاقتور وزیروں میں اعظم خان کا شمارہوتا تھا۔وہ پارٹی کا بڑا مسلم چہرہ رہے ہیں ۔وہ رام پور صدر سے 10 بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ 2019میں ان کے خلاف الزامات کا ایک سلسلہ سامنے آنے کے بعد سے ان کے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی آئی

سیاسی مستقبل پرکیا بولے اعظم خان
جیل میں گزارے دن کے بارے میں اعظم خان نے بتایا کہ قید میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کبھی اپنے سیاسی مستقبل پر غور کیا تو خان نے جواب دیا کہ مجھے باہر سے، ہر طرف سے بے شمار پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ یہ توبس کہانیاں ہیں۔ مجھ سے بات کرنے کی ہمت کون کرتا؟میں صرف وہی بتا رہا ہوں جو میں نے سنا ہے۔
خالی پیٹ کریں اس پھل کا استعمال، کئی بیماریوں کو رکھتا ہے دور، فوائد جان کر رہ جائیں گے دنگ

پپیتا ویٹامنز کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہمارے جسم کی قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے استعمال سے جسم بھی توانا رہتا ہے۔

کمزور بینائی جیسے مسائل کے لئے پپیتا بہت فائدہ مند پھل مانا جاتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے لائکوپین اور بیٹا کیروٹین آنکھوں کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔

میں پایا جانے والا ویٹامن سی جلد کے لئے بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہ جلد کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے جلد بھی جوان نظر آتی ہے۔ اس کے لیے پپیتے کے استعمال کے ساتھ اس کا فیس پیک بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

اس پھل میں پوٹاشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہمارے جسم کو کئی قسم کے وائرسوں سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے ہمارا جسم صحت مند رہتا ہے۔

پپیتے میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں۔ اس کا باقاعدہ استعمال جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے اور یہ وزن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

Tuesday, 7 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


*سینئر صحافی انصاری احسان الرحیم کو مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کا صحافتی ایوارڈ*

*ممبئی: سینئر صحافی انصاری احسان الرحیم کو مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کی جانب سے اردو صحافت میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں صحافتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز منگل، ۷ اکتوبر ۲۰۲۵ کو ممبئی کے پرگوام ایس وی پی اسٹیڈیم (ڈوم)، ورلی میں منعقدہ پروقار تقریب میں پیش کیا گیا۔*

*تقریب میں ریاست بھر کے صحافی، ادیب، شعراء اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اکیڈمی کے عہدیداران نے انصاری احسان الرحیم کی صحافتی دیانت، تحقیقی طرزِ تحریر اور اردو زبان کی فروغ میں ان کے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔*
مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی 
کی گولڈن‌جوبلی تقریبات ۔۔۔۔۔۔دس کروڑ روپوں کے بجٹ میں مہاراشٹر کے دس اردو دان شہروں میں دس بڑے پروگرام ہو سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔
مہاراشٹر اسٹیٹ ساہتیہ اردو اکیڈمی کو گولڈن جوبلی سال میں بھایی لوگوں نے ممبی شہر اردو اکیڈمی بنا دیا‌ہے۔۔۔۔۔۔۔
اور جو سہ روزہ تقریبات ممبیی شہر میں‌ہو رہی ہے ۔۔۔وہ قطعی اکیڈمک یا لٹریری نہیں ۔۔۔یہ علمی کم‌ہے ۔۔فلمی زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔بس انٹر ٹینمنٹ ایونٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ہفتے قبل منسٹر ایڈوکیٹ کو کاٹے نے بتایا‌تھا کہ گولڈن جوبلی تقریبات کی ذمہ داری نڈیاڈ والا کی ایک کمپنی کے سپرد کی گیی ہے۔اس لیے سمجھا جا سکتا ہے کہ سہ روزہ گولڈن جوبلی تقریبات علمی کم اور فلمی زیادہ کیوں ہو گیی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حد تو یہ ہے کہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کی پچاس سالہ تقریبات میں پہلی مرتبہ فیشن شو کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔۔۔۔
اپریل ١٩٧٥ ء میں پہلی مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔۔۔اس اکیڈمی کے ممبران میں کرشن چندر ، عصمت چغتایی ۔۔علی سردار جعفری ، خواجہ احمد عباس ، سکندر علی وجد ، اعجاز صدیقی ، سیتو مادھو راؤ پگڑی ، ودیا دھر گوکھلے جیسے لوگ شامل تھے۔۔۔
اگر ان کے سامنے اردو ساہتیہ اکیڈمی کے پروگرام میں فیشن شو کی تجویز پیش کی جاتی تو وہ یقینا اپنا سر پیٹ لیتے۔۔۔۔۔۔
 یہ اکیڈمی کے
زوال ۔۔۔علمی کم اور فلمی زیادہ ہونے کا اشارہ ہے۔۔۔
بہر کیف ۔۔۔گولڈن جوبلی تقریبات صرف ممبیی شہر میں کیوں ؟
جبکہ اس کے لیے بجٹ بھی بڑا بھاری منظور ہوا ہے۔۔۔
دس کروڑ روپیے ۔۔۔۔یہ مہاراشٹر اسٹیٹ سا ہتیہ اکیڈمی کے گزشتہ بارہ پندرہ برس کے اوسط مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ رقم ہے ۔۔۔۔۔
ایک اندازہ کے مطابق گزشتہ بارہ پندرہ برس میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کو سالانہ اوسطاً ستر لاکھ روپیہ کا بجٹ سرگرمیوں کے لیے دیا گیا ، لیکن گولڈن جوبلی کے نام پر دس کروڑ روپیہ ملا جتنا دس بارہ برس کے مجموعی سالانہ بجٹ میں بھی نہیں ملا ۔۔

اس پر صرف ممبیی کا قبضہ کیوں ؟ 
گولڈن جوبلی تقریبات مہاراشٹر کے دس شہروں میں شاندار ، علمی ، اکیڈمک اور ادبی طریقے سے منای جا سکتی تھی۔۔۔۔۔ا ر ہر شہر کو ایک کروڑ روپیہ فرا ہم کیا جا سکتا تھا۔۔۔تب‌ہی انصاف ہوتا ۔۔۔۔۔
لیکن جن‌ہاتھون‌نے اردو ساہتیہ اکیڈمی کی گولڈن‌جوبلی تقریبات اور فنڈ کو ہایی جیک کرلیا ہے ۔۔۔وہ اسے علمی نہیں ۔۔۔فلمی بنانا چاہتے تھے ۔۔سو ، ویسا ہی کردیا ۔۔۔۔
یہ مہاراشٹر کے اردو اکثریتی اضلاع کے ساتھ کھلا تعصب ، بھید بھاؤ ، نا انصافی ہے ۔۔۔۔۔۔
خاص طور پر ان‌علاقوں‌کے ساتھ جہاں اردو گھر قایم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ان‌اردو گھروں‌میں بھی مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کی گولڈن جوبلی تقریبات کے متعدد فنکشن‌منعقد ہو سکتے تھے ۔۔اور دس کروڑ کے فنڈ سے انہیں بھی فنڈ فراہم کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔
ایسا نہیں ہوا۔۔۔یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ممبی شہر میں اردو اکیڈمی آج تک اردو گھر نہیں بنا سکی۔۔لیکن ناندیڑ ، اورنگ آباد ، مالیگاؤں ، شولاپور سمیت کیی شہروں میں اردو گھر موجود ہیں ۔۔۔
۔۔ممبیی شہر میں تو اسٹیٹ اردو اکیڈمی کا اپنا‌ دفتر تک موجود نہیں ۔۔اسے خالی کرنے کا آرڈر بھی ملا تھا جسے کو ششوں سے رکوایا گیا۔۔۔
لیکن جب گولڈن جوبلی تقریبات کا‌دس کروڑ فنڈ ملا۔۔۔۔۔۔
تو سب کا سب ممبی نے ہڑپ لیا ۔۔۔۔۔۔
مہاراشٹر کے کسی بھی اردو دان شہر سے حصہ داری نہیں کی ؟ 
کیا‌یہ نا انصافی نہیں ؟ یا اس کے پیچھے کویی گھپلہ ہے ؟ 
کیونکہ گولڈن جوبلی تقریبات کی تیار ی انتہایی غیر شفاف 
NON TRANSPARENT 
طریقے سے ہویی ہے ۔۔اس لیے اردو دان طبقہ کو اس پر سوالات پوچھنے کا حق ہے ۔۔۔
سچ جاننے کا حق ہے۔۔

تفصیل جاننے کا حق ہے۔۔۔۔
مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کو ہر سوال کا جواب دینا ہوگا ۔
اور ایک اہم‌نکتہ ۔۔۔
جب سرکار مراٹھی کے لیے سختی کر رہی ہے ۔۔۔
تب ہی مہا راشٹر کی دوسری سب سے بڑی زبان ۔۔
اردو کی سرکاری ساہتیہ اکیڈمی کے گولڈن جوبلی فنکشن کے سرکاری دعوت نامہ سے ۔۔۔۔۔۔
اردو رسم‌الخط کو۔۔۔۔۔۔تقریبا بے دخل کردیا گیا ۔۔۔۔۔
دعوت نامہ ثبوت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#سعید حمید
بھارت اور پاکستان امریکی اقدام کو ناکام بنانے کے لیے اکٹھے ہو گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کو دھمکیاں دے رہے تھے۔ اب بھارت اس خطرے کے خلاف طالبان کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت نے طالبان، پاکستان، چین اور روس کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان کا بگرام ایئربیس امریکا کو واپس کرنے کے مطالبے کی مخالفت کی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب طالبان کی حکومت والے افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اس ہفتے بھارت کا تاریخی دورہ کرنے والے ہیں۔

بھارت، ایران، قازقستان، چین، پاکستان، روس، تاجکستان، ازبکستان اور کرغزستان سمیت دس ممالک نے ماسکو میں منعقدہ “افغانستان پر ماسکو فارمیٹ کنسلٹیشنز” کے ساتویں اجلاس میں شرکت کی۔ بیلاروس کے نمائندے بھی بطور مہمان موجود تھے۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں، کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا گیا، “شرکاء نے افغانستان یا اس کے پڑوسی ممالک میں فوجی انفراسٹرکچر کی تعیناتی کی کسی بھی ملک کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، کیونکہ یہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔” اس بیان کو ٹرمپ کے منصوبے پر براہ راست تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ اور طالبان میں جھڑپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں طالبان سے بگرام ایئر بیس واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ وہی اڈہ ہے جہاں سے امریکہ نے 2001 کے بعد اپنی “وار آن ٹیرر” مہم کا آغاز کیا تھا۔18 ستمبر کو برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ “ہم نے وہ اڈہ انہیں مفت میں دیا تھا، اب ہم اسے واپس چاہتے ہیں۔” انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یہ بھی لکھا کہ ’اگر افغانستان نے بگرام ایئربیس واپس نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “افغان کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کسی اور کو نہیں دیں گے۔ ہم اگلے 20 سال تک جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں”۔

اس معاملے پر طالبان کے ساتھ بھارت کا موقف کئی لحاظ سے تاریخی ہے۔ متقی پہلی بار ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں، جس کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے انہیں 9 سے 16 اکتوبر تک اجازت دی ہے۔ کیونکہ متقی یو این ایس سی کی پابندیوں کی فہرست (قرارداد 1988) میں شامل ہیں، اس لیے انہیں خصوصی منظوری ملی ہے۔
امریکہ بگرام کیوں چاہتا ہے؟
بگرام ایئربیس، جو کابل سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، افغانستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہے۔ اس کے دو بڑے رن وے ہیں، ایک 3.6 کلومیٹر لمبا اور دوسرا 3 کلومیٹر طویل۔ پہاڑی علاقہ افغانستان میں بڑے طیاروں کی لینڈنگ کو مشکل بناتا ہے، بگرام کو ایک اسٹریٹجک مرکز بناتا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*


لشکرکی وزیراعظم مودی کو دھمکی:پاکستان کے سیلاب کابدلہ لینے کی کھائی قسم

لشکرِ طیبہ (LeT) کے نائب سربراہ اور پہلگام دہشت گرد حملے کا ماسٹر مائنڈ سیف اللہ قصوری نے ایک ویڈیو پیغام میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کو کھلی دھمکی دی ہے ۔ یہ ویڈیو CNN-News18 نے حاصل کی۔ قصوری نے بھارت پر ’’پانی دہشت گردی‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پاکستان مبنی آن لائن پلیٹ فارمز پر گردش کرتے اس ویڈیو میں قصوری دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ’’سیلابی ریلیف کے نام‘‘ پر کارروائی کر رہا ہے اور کھلے عام اُن حالیہ سیلابوں کا بدلہ لینے کی قسم کھا رہا ہے جنہوں نے پاکستان کے بعض حصوں کو تباہ کیا تھا۔

قصوری، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لشکرِ طیبہ کا بانی حافظ سعید کے اندرونی حلقے کی براہِ راست سرپرستی میں کام کرتا ہے۔ قصوری نے اعلان کیا کہ بھارت ’’پانی دہشت گردی‘‘ کر رہا ہے اور الزام لگایا کہ نئی دہلی نے بنا کنٹرول کئے پانی کا اخراج کیا‘جسکی وجہہ سے پاکستان میں سیلاب آگیا۔۔ ویڈیو میں وہ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’’فیلڈ مارشل‘‘ کہتا ہے اور زور دیتا ہے کہ انہیں ’’وزیرِ اعظم مودی کو 10 مئی 2025 کی طرح سبق سکھانا چاہیے‘‘ ۔یہ ایک حوالہ ہے جسے خفیہ ایجنسیاں ماضی کی سرحد پار دہشت گردانہ سازشوں کی طرف اشارہ سمجھتی ہیں۔

اعلیٰ خفیہ ذرائع کے مطابق قصوری کی ویڈیو محض پروپیگنڈہ نہیں ہے۔ اسے ایک مربوط، مبینہ طور پر آئی ایس آئی کے زیرِ سرپرستی بیانیہ وارفیئر کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد پاکستان میں عوامی جذبات کو بھڑکانا اور سرحد پار دراندازی اور سلیپرسیلس کو متحرک کرناہے۔۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لاہور اور بہاولپور میں قائم لشکر کو جموں اور پنجاب سیکٹرز کے ساتھ پُرتشدد سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو اندرونِ طور پر ’’پہلگام 2‘‘ کے نام سے ممکنہ طور پر ایک اور بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی علامت ہو سکتی ہے۔

قصوری کا پیغام اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیمیں کس حد تک بے باک ہو چکی ہیں ۔ وہ انسانی ہمدردی کے بہانے جیسے سیلابی ریلیف کو اپنی انتہا پسند سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ خفیہ ذرائع کے مطابق لشکرِ طیبہ کے اراکین سوشل میڈیا اور مذہبی نیٹ ورکس کا غلط استعمال کر کے بھارت مخالف پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں، اور قدرتی آفات کو ’’بھارت کے جنگی اقدامات‘‘ کے طور پر پیش کر کے دوبارہ مسلح ہونے کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ تازہ دھمکی اس وقت سامنے آئی ہے جب بھارت اور پاکستان سفارتی اور فوجی کشیدگی میں ہیں، اور اسلام آباد خطے میں امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہائبرڈ حربے پروپیگنڈہ، غلط معلومات، اور خفیہ دہشت گردانہ کارروائیاں استعمال کر رہا ہے۔ نئی دہلی کے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسی دھمکیاں بھارت کے انسدادِ دہشت گردی اقدامات کو روک نہیں سکتیں، اور کسی بھی کوشش جو بھارتی خودمختاری کی خلاف ورزی کرے گی، اس کے خلاف ’’قوی اور فیصلہ کن کارروائی‘‘ کی وارننگ دی ہے۔
شہباز شریف نے اب ملیشیا کے سامنے پھیلایا ہاتھ ، دوستی کا حوالہ دے کر چلی نئی چال

معاشی بحران سے دوچار پاکستان ایک بار پھر مدد کے لیے پہنچ رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اب ملیشیا پہنچے ہیں جہاں انہوں نے ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کی اور سرمایہ کاری اور شراکت داری کا نیا راگ چھیڑا۔ دو روزہ دورے (6-7 اکتوبر) کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس میں شریف نے صاف لفظوں میں کہا کہ ‘اس وقت پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت ہے لیکن اگر ملیشیا تعاون کرے تو ہم ہمیشہ کے لیے آئی ایم ایف سے آزاد ہو سکتے ہیں’۔

دراصل آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی معاشی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور افراط زر نے ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کی امداد ملنے کے بعد اب شریف حکومت ملیشیا کے ذریعے معاشی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک نیا اقدام کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شریف کی حکمت عملی “دوستی کی آڑ میں معاشی کٹورے پھیلانے " کے مترادف ہے۔

فی الحال ہمیں آئی ایم ایف کی ضرورت ہے‘‘ شریف کا بیان
کوالالمپور میں ملیشیا کے وزیر اعظم کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ “ہماری معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام فی الوقت ضروری ہے، لیکن ہمارا مقصد جلد ہی خود کو بیرونی مالیاتی انحصار سے آزاد کرنا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ملیشیا کے تاجروں کو پاکستان کی اقتصادی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ شریف نے واضح طور پر کہا کہ اگر یہ تعاون عمل میں آتا ہے تو پاکستان آئی ایم ایف کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ سکتا ہے۔

ملیشیا کے سامنے پاکستان نے پھیلایا ہاتھ
شہباز شریف نے ملیشیا پر زور دیا کہ وہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں اضافہ کرے اور ٹیکنالوجی، توانائی اور زراعت میں شراکت دار بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ملیشیا پاکستان میں صنعتی یونٹس لگاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔’ لیکن سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ شریف کا موقف پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کو چھپانے کی کوشش ہے، کیونکہ ملک نے بار بار آئی ایم ایف کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

آپریشن سندور کے بعد آئی ایم ایف کی امداد

مئی 2025 میں، IMF نے پاکستان کو تقریباً 8,000 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی۔ بھارت نے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف دہشت گردی کو فروغ دینے والے ملک کو امداد فراہم نہ کرے۔

آپریشن سندورکے دوران، ہندوستان نے پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا، جس سے پاکستان کی معیشت اور بین الاقوامی ساکھ دونوں کو دھچکا لگا۔

ملٹری گریب اکانومی

پاکستان کی معیشت پر فوج کی گرفت مضبوط ہے۔ دفاعی اخراجات اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت نے ملک کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے دوسرے جائزے میں پانچ میں سے تین اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی اقتصادی پالیسیاں پائیداری سے زیادہ سیاسی فائدے پر مرکوز ہیں۔

اڈیشہ میں بی جے پی لیڈر کا گولی مار کر قتل، جانئے کون تھا پتاش پانڈا؟

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اور سینئر وکیل پتاش پانڈا (50) کو پیر کی رات برہما نگر علاقے میں ان کے گھر کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پانڈا اسٹیٹ بار کونسل کے رکن اور آر ٹی آئی کارکن بھی تھے۔ پولیس نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کے قریب سڑک کے کنارے کھڑا تھا جب موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے اسے قریب سے گولی مار دی۔

پولیس نے بتایا کہ پانڈا کو ہنگامی طور پر ایم کے سی جی میڈیکل کالج اور اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے پیچھے محرکات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ کامرس اور ٹرانسپورٹ کے وزیر بیبھوتی بھوشن جینا اور بی جے پی کے کئی لیڈروں نے ایم کے سی جی ہسپتال کا دورہ کیا۔ پولیس نے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

جے پی لیڈروں کی آمد شروع کامرس اور ٹرانسپورٹ کے وزیر بیبھوتی بھوشن جینا اور بی جے پی کے کئی لیڈروں نے ایم کے سی جی ہسپتال کا دورہ کیا۔ پولیس نے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی مکمل تفتیش کی جائے گی۔

کٹک میں انٹرنیٹ بند کٹک، اڈیشہ میں درگا پوجا مورتی وسرجن کے دوران پرتشدد جھڑپوں کے بعد کشیدگی برقرار ہے۔ اوڈیشہ حکومت نے پیر کو کٹک میں انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کو شام 7 بجے تک بڑھا دیا۔ منگل، 7 اکتوبر کو۔ اڈیشہ محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں، حکام نے کہا کہ کٹک شہر میں کچھ سماج دشمن عناصر افواہیں پھیلانے کے لیے قابل اعتراض مواد پھیلانے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کر سکتے ہیں، اس لیے کرفیو کو شام 7 بجے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ منگل کو

*🔴سیف نیوز بلاگر*

اسرائیل ڈرون حملے میں حزب اللہ کے لیڈر کی موت! گاڑی تباہ، دیکھئے ویڈیو

اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جو اپنے دشمنوں کو مارنے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔ اس کی سب سے بڑی مثال اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری جنگ ہے۔ حماس نے اسرائیل کو ایک زخم پہنچایا، جس سے پوری غزہ کی پٹی ملبے میں تبدیل ہو گئی۔ تاہم اسرائیل کی دشمنی اور بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ یمن، ایران اور شام میں اپنے دشمنوں پر حملے کرتا ہے۔ اسی تناظر میں ایک اسرائیلی ڈرون نے لبنان میں حزب اللہ کے ایک رہنما اور ان کی اہلیہ کو ہلاک کر دیا۔

اس حملے میں حزب اللہ تنظیم سے وابستہ حسن علی جمیل عطوی مارا گیا۔ مبینہ طور پر ڈرون نے ایک کار کو نشانہ بنایا جس میں عطوی اور ان کی اہلیہ سفر کر رہے تھے۔ حملے کو انتہائی درست قرار دیا جا رہا ہے اور حملے کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق حزب اللہ نے اپنے رکن کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ اسرائیل نے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

یہ حملہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے حسن علی جمیل عطوی کو لے جانے والی کار کو نشانہ بنایا۔ حسن علی جمیل عطوی کا تعلق حزب اللہ تنظیم کے جنوبی لبنان یونٹ سے تھا اور اسرائیل کے خلاف حالیہ حملوں کے لیے اسٹریٹجک سرگرمیوں میں ملوث سمجھا جاتا تھا۔ اس حملے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

حزب اللہ، جس کا عربی میں مطلب “خدا کی پارٹی” ہے، لبنان میں سرگرم شیعہ مسلم عسکریت پسند تنظیم ہے اور خود کو ایک سیاسی جماعت سمجھتی ہے۔ اس کی بنیاد 1982 میں رکھی گئی تھی۔ اسرائیل کے خلاف اسرائیل کی دشمنی خاص طور پر شدید ہے کیونکہ ایران نے اس گروپ کو تربیت اور مالی امداد فراہم کی ہے۔ یہ اسرائیل کے خلاف ایران کی خاطر لڑتا ہے، اور اسرائیل اپنے جنگجوؤں کو جہاں بھی ملے مارنے کے لیے تیار ہے۔

یہ جنگجو گروپ اسرائیل کا ایران کے ساتھ تنازع کے دوران بھی لڑا، اس لیے اسرائیلی افواج اس کے ہر لیڈر کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس سے قبل آئی ڈی ایف کے ڈرون حملوں میں حزب اللہ کے متعدد جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کے جواب میں بھارت کا 3D ہتھیار بنے گا گیم چینجر! جے شنکر کے پلان کو سمجھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے بھارت سمیت پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ اسی دوران بھارتی وزیرِ خارجہ ایس۔ جے شنکر نے دنیا کے بدلتے ہوئے معاشی حالات پر بھارت کی حکمتِ عملی واضح کر دی ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں منعقدہ پہلی ’اراؤلی سمٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ ’’آج عالمی نظام میں ہر چیز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک حقیقت بن چکی ہے، اور بھارت کو اس غیر مستحکم ماحول میں بھی مسلسل آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘

جے شنکر نے ٹرمپ کے ہندوستانی سامان پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کے فیصلے کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا، “ٹیرف کے اتار چڑھاؤ نے عالمی تجارتی حسابات کو متاثر کیا ہے۔ اب، ملکیت اور حفاظت، لاگت نہیں، اقتصادی لین دین کے لیے اہم معیار بن گئے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا عروج ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا “غیر معمولی عدم استحکام” کا سامنا کر رہی ہے۔ عالمی مینوفیکچرنگ کا ایک تہائی حصہ ایک واحد جغرافیائی خطہ (چین) میں مرکوز ہے، سپلائی چین محدود ہے، نایاب زمینی معدنیات کے لیے مقابلہ تیز ہو رہا ہے، اور ٹیکنالوجی کے کنٹرول سخت ہو گئے ہیں۔

جے شنکر کا تھری ڈی پلان
وزیر خارجہ نے ہندوستان کی ترقی کے تین کلیدی انجنوں کی نشاندہی کی، جسے انہوں نے “3D” یعنی ڈیمانڈ، ڈیموگرافی اور ڈیٹا قرار دیا۔ مانگ کے بارے میں، جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کی ایک بہت بڑی مقامی مارکیٹ ہے اور، “اگر دوسروں کی طرح ہم پر محصولات عائد کیے جاتے ہیں، تو ہم جانتے ہیں کہ اپنی مارکیٹ کی مضبوطی کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ ہمیں دیسی ٹیکنالوجی کو اپنانا چاہیے تاکہ ہماری مارکیٹ ہمیں فائدہ پہنچا سکے۔” آبادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے ہندوستان کی ہنر مند نوجوان آبادی کو ہندوستان کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی کئی اسکیمیں، جیسے اسکل انڈیا اور اسٹارٹ اپ انڈیا، نوجوانوں کی اختراع کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کو فروغ دینا ہماری ترجیح ہے۔” بھارت ڈیٹا پاور بن رہا ہے۔ جے شنکر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان تیزی سے ڈیٹا پاور بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہاں ڈیٹا سینٹر بنائے جا رہے ہیں، اور نوئیڈا اور جنوبی ہندوستان میں بڑے مرکز تیار ہو رہے ہیں۔” ڈیٹا مستقبل کی توانائی ہے، اور ہندوستان اس کا مرکز بن سکتا ہے۔

جے شنکر نے عالمی چیلنجوں کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے کہا، “ہتھیاروں کا معیار اور جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے۔ یہ زیادہ دور دراز، زیادہ موثر اور زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے دخول نے خودمختاری کو متاثر کیا ہے۔ دنیا سمجھوتے کی بجائے تنازعات کی طرف بڑھ رہی ہے۔” جے شنکر نے کہا، “ہندوستان کو اپنے داؤ کی حفاظت کرتے ہوئے عالمی درجہ بندی میں مسلسل اضافہ کرنا چاہیے۔ ہمیں دونوں کو خطرات سے بچنا چاہیے اور جب ضروری ہو تو خطرہ مول لینا چاہیے۔” ان کا پیغام واضح تھا: اگر ٹرمپ ٹیرف کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، تو ہندوستان اپنے ‘3D’ کو نئی حکمت عملی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔
روزانہ کھائیں یہ خشک میوہ ، تھکاوٹ ۔ کمزوری اور نیند کے پریشانی سے ملے گی نجات ، جانیے اس کے حیران کن فوائد

کھجور کھانا ہر کوئی پسند کرتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کھجور ہماری صحت کے لیے ناقابل یقین حد تک فائدہ مند ہے؟ کھجور وٹامنز، منرلز، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ صحت کے لیے بے شمار فوائد فراہم کرتی ہے۔ کھجور میں قدرتی شکر ہوتی ہے، جیسے گلوکوز، فرکٹوز اور سوکروز۔

کھجور میں پایا جانے والا پوٹاشیم اور میگنیشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے اور دل کی بیماری کا خطرہ کم کر سکتا ہے۔ اس لیے صبح کے وقت تین سے چار کھجوریں کھانے سے بلڈ پریشر کے مسائل سے نجات مل سکتی ہے۔ کھجور ایک میٹھا پھل ہے۔

کھجور نیند کے مسائل سے چھٹکارا دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ بہت سے لوگ اکثر نیند کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں اور بستر پر جانے کے بعد بھی انہیں نیند نہیں آتی ۔ ایسی صورتوں میں سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے دودھ کے ساتھ کھجور کا استعمال کرنے سے آپ کو جلد نیند آجائے گی ، کیونکہ کھجور میں میگنیشیم کی اچھی مقدار ہوتی ہے، جو جسم کو پرسکون اور پٹھوں کو آرام دیتی ہے

کھجور میں کیلشیم کے ساتھ ساتھ فاسفورس، میگنیشیم اور پوٹاشیم جیسے ضروری غذائی اجزاء بھی ہوتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ قوت مدافعت بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

کھجور آئرین کا بہترین ذریعہ ہیں۔ وہ جسم میں ہیموگلوبن کی سطح کو بڑھانے میں مدد کرتے ہیں، خون کی کمی کو روکتے ہیں۔ خون کی کمی کو روک کر تھکاوٹ، کمزوری اور سردی کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔ کھجور ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔

وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور کھجور صحت مند جلد کو صحت مند اور چمکدار بنانے میں مدد کرتی ہے۔ ساتھ ہی سردی کے موسم میں ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے جلد خشک اور بے جان لگنے لگتی ہے ۔ ایسے میں کھجور کھانے سے جلد کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ایم پی ایس ایل (MPSL) کی 7 سالہ نااہلی اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حکومت سے تحریری جواب کا مطالبہ: محمد عمیر شمشاد علی* ...