Wednesday, 8 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


پاکستانی فوج پر ٹی ٹی پی نے کیا بڑا حملہ، 11 فوجی جوانوں کو بم سے اڑایا، ہرطرف مچی افراتفری

پاکستان کے خیبر پختونخواہ صوبے میں دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس حملے میں 11 پاکستانی فوجیوں کی، جن میں دو افسران بھی شامل ہیں، موت ہوگئی ہے۔ یہ حملہ افغانستان کی سرحد سے متصل کرم ضلع میں ہوا۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، دہشت گردوں نے پہلے سڑک کنارے رکھے گئے بموں سے قافلے کو نشانہ بنایا اور پھر آٹومیٹک ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں۔ پاکستانی فوج نے بتایا کہ فوجی جوان اس وقت ایک خفیہ مشن پر تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب منگل کو خیبر پختونخواہ میں ہی پاکستانی فوج نے ایک آپریشن میں اہم دہشت گرد پیر آغا قندھاری کو مار گرایایا تھا۔

فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مہم کے دوران سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 19 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ یہ انکاونٹر خیبر پختونخواہ کے اورکزئی ضلع میں ہوا، جو دہشت گردوں کا مضبوط ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے۔ مارے گئے فوجیوں میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف (39 سال) اور میجر طیب راحت (33 سال) بھی شامل ہیں۔ فوج نے کہا کہ انہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے اعلیٰ ترین قربانی دی۔ تاہم اس حملے نے ایک بار پھر پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ خطرے کو اجاگر کر دیا ہے۔

ٹی پی کے بڑھتے ہوئے حملے
گزشتہ کچھ مہینوں میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے حملے تیز ہو گئے ہیں۔ یہ تنظیم اسلامی قانون پر مبنی حکومت نافذ کرنا چاہتی ہے اور مسلسل سرکاری مقامات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی زمین استعمال کر رہی ہے اور وہاں سے تربیت اور حمایت حاصل کر رہی ہے۔ تاہم افغانستان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جنوبی وزیرستان میں بھی تشدد
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تشدد تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پچھلے ماہ جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں 12 فوجی جوانوں کی موت ہوگئی تھی ۔ حال ہی میں پاکستانی فضائیہ نے خیبر پختونخواہ کے ایک گاؤں پر بمباری کی تھی، جسے ٹی ٹی پی کا ٹھکانہ بتایا گیا تھا۔ بعد میں ایسی رپورٹس آئیں کہ اس میں کئی شہری بھی مارے گئے۔ پاکستان نے اس حملے کے بعد ایک بار پھر افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے لڑاکوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے
مدھیہ پردیش کھانسی شربت سانحہ : 20 بچوں کی ہلاکت کے بعد تمل ناڈو کی دوا ساز کمپنی کا مالک فرار

مدھیہ پردیش کھانسی شربت سانحہ : تمل ناڈو کی دوا ساز کمپنی کا مالک فرار، پولیس کی بڑے پیمانے پر تلاش جاری
مدھیہ پردیش میں زہریلے کھانسی کے شربت (cough syrup) سے 20 بچوں کی ہلاکت کے بعد، پولیس نے تمل ناڈو کی دوا ساز کمپنی سریسان فارما سیوٹیکلز (Sresan Pharmaceuticals) کے مالک جی رنگاناتھن (G. Ranganathan) کی گرفتاری کے لیے ملک گیر مہم شروع کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، رنگاناتھن، جو 73 سال کے ہیں، ریاست تمل ناڈو کی دوا ساز صنعت میں ایک پرانا اور معروف نام ہیں۔ ان کی کمپنی کی 2,000 مربع فٹ فیکٹری، جو چنئی-بنگلور ہائی وے پر واقع ہے، کمپنی کو سیل کر دیا گیا ہے، جب کہ ان کا رجسٹرڈ دفتر کوڈمباکم میں بند پایا گیا۔

پس منظر : چار دہائیوں پر محیط ایک دوا ساز کا سفر

رنگاناتھن نے مدراس میڈیکل کالج سے فارمیسی میں تعلیم حاصل کی اور 1980 کی دہائی کے آغاز میں ’’پرونِٹ‘‘ (Pronit) نامی ایک غذائی شربت متعارف کرایا۔
یہ شربت ابتدائی طور پر حاملہ خواتین کے لیے مفید غذائی سپلیمنٹ کے طور پر مشہور ہوا۔ وہ خود چنئی کے مختلف ماہر اطفال (paediatricians) سے ملاقات کرتے اور انہیں اس شربت کے فوائد بتاتے تھے۔
ابتدائی کامیابی کے بعد ان کا کاروبار تیزی سے بڑھا، لیکن کچھ ہی عرصے میں ریاستی Drug Control Department نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کے لیے سرکاری منظوری لازمی ہے۔
رنگاناتھن کو اس کے بعد اپنی پروڈکٹ کے لیے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا پڑا، اور اس کے بعد انہوں نے قانون کے مطابق اپنی پیداوار کو جاری رکھا۔
تاہم، مارکیٹ میں اسی طرز کی دیگر مصنوعات آنے لگیں، جس سے مقابلہ بڑھ گیا۔ اس دباؤ کے باعث رنگاناتھن نے اپنی توجہ دیگر مائع (liquid) مصنوعات، خصوصاً ناک کے لیے استعمال ہونے والے دواؤں پر مرکوز کر دی۔
رفتہ رفتہ انہوں نے چنئی اور اس کے نواح میں چھوٹی دوا ساز یونٹس قائم کر لیں۔

’’کولڈ رف‘‘ (Coldrif) شربت کا المیہ
تاہم، حالیہ دنوں میں رنگاناتھن کی کمپنی سریسان فارما سیوٹیکلز کے تیار کردہ کولڈ رف کھانسی شربت میں زہریلے کیمیکل کی آمیزش پائی گئی۔
مدھیہ پردیش میں اس شربت کے استعمال کے بعد 20 بچوں کی موت واقع ہوئی، جس نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی۔
اس واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے دوا کے نمونے تجزیے کے لیے لیب بھجوائے، جن میں خطرناک کیمیائی آلودگی (chemical contamination) کی تصدیق ہوئی۔

فیکٹری سیل، دفتر بند ۔۔۔ مالک لاپتہ
پولیس نے جب چنئی میں کمپنی کے مقامات پر چھاپے مارے تو فیکٹری کو بند کر دیا گیا اور رجسٹرڈ دفتر بند پایا گیا۔
مقامی مکینوں کے مطابق، دفتر جو کبھی سرگرمیوں سے بھرا رہتا تھا، پچھلے ہفتے اچانک خالی کر دیا گیا۔
رات کے وقت ملازمین کو مشینری اور کمپیوٹرز باہر منتقل کرتے دیکھا گیا۔
اب ایک اکیلا سیکیورٹی گارڈ وہاں موجود ہے جو آنے والوں کو کمپنی کے وکیل کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیتا ہے، مگر وکیل نے کوئی تفصیل فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

صنعتی حلقوں میں حیرت

تمل ناڈو کے دوا ساز حلقوں میں رنگاناتھن کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جو نوجوان فارماسسٹوں کی رہنمائی کرتے اور انہیں چھوٹے پیمانے پر دوا سازی کے کاروبار کی تربیت دیتے تھے۔
معروف دوا ساز جے جیاسیلن نے کہا کہ رنگاناتھن اکثر فارماسیوٹیکل کانفرنسوں میں شریک ہوتے اور نئی نسل کو مشورے دیتے تھے۔
اسی لیے ان کی اچانک گمشدگی نے صنعتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ ان کا پہلے کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق نہیں رہا۔

ہندوستان میں گزشتہ ایک دہائی میں غیر معیاری دواؤں کے باعث متعدد اموات ہو چکی ہیں۔
2022 میں گیمبیا میں بھارتی کمپنی کی دوا سے 66 بچوں کی موت کے بعد، بھارت میں فارماسیوٹیکل نگرانی کے قوانین سخت کیے گئے تھے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر دوا ساز کمپنیوں کی نگرانی اور لائسنسنگ کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ریاستی محکمے بروقت معیار کی جانچ کرتے، تو اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔
آندھرا پردیش : پٹاخوں کی فیکٹری میں آگ نے 6 جانیں لے لی،زخمی ہسپتال منتقل،تحقیقات جاری

آندھرا پردیش کے کونسیما ضلع میں پٹاخوں کے کارخانے میں خوفناک آگ:
آندھرا پردیش کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کونسیما ضلع میں بدھ کے روز پٹاخوں کے ایک کارخانے میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں چھ افراد جھلس کر ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ حادثہ ممکنہ طور پر پٹاخوں کے غیر محتاط ہینڈلنگ یا غلط طریقے سے تیار کرنے کے باعث پیش آیا۔


پولیس سپرنٹنڈنٹ راہل مینا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یہ واقعہ ایک لائسنس یافتہ فیکٹری میں پیش آیا ہے۔ ہمیں اب تک چھ لاشیں ملی ہیں اور ہم متاثرین کی شناخت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

ذرائع کے مطابق، دھماکہ اس وقت ہوا جب مزدور فیکٹری کے اندر مختلف اقسام کے آتش بازی کے سامان تیار کر رہے تھے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کارکنوں کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا۔ ریسکیو ٹیموں نے بڑی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم فیکٹری کا زیادہ تر حصہ جل کر راکھ ہو گیا۔

مقامی پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ کس مقام سے لگی اور حفاظتی انتظامات میں کہاں کوتاہی ہوئی۔ مقامی انتظامیہ نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کا اعلان کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

پس منظر (Background):

آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں ہر سال دیوالی اور دیگر تہواروں سے قبل پٹاخوں کی تیاری میں تیزی آجاتی ہے۔ اس دوران اکثر چھوٹے پیمانے پر چلنے والی فیکٹریوں میں حفاظتی معیارات پر عمل نہیں کیا جاتا، جس کے باعث ایسے المناک واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔
پچھلے چند سالوں میں بھی آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے مختلف علاقوں میں پٹاخوں کے کارخانوں میں درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جس کے بعد حکومت نے کئی بار سیفٹی آڈٹ اور لائسنسنگ عمل سخت کرنے کے احکامات دیے، مگر زمینی سطح پر ان پر عمل درآمد اب بھی ناکافی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...