*ممبئی: سینئر صحافی انصاری احسان الرحیم کو مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کی جانب سے اردو صحافت میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں صحافتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز منگل، ۷ اکتوبر ۲۰۲۵ کو ممبئی کے پرگوام ایس وی پی اسٹیڈیم (ڈوم)، ورلی میں منعقدہ پروقار تقریب میں پیش کیا گیا۔*
*تقریب میں ریاست بھر کے صحافی، ادیب، شعراء اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اکیڈمی کے عہدیداران نے انصاری احسان الرحیم کی صحافتی دیانت، تحقیقی طرزِ تحریر اور اردو زبان کی فروغ میں ان کے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔*
کی گولڈنجوبلی تقریبات ۔۔۔۔۔۔دس کروڑ روپوں کے بجٹ میں مہاراشٹر کے دس اردو دان شہروں میں دس بڑے پروگرام ہو سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔
مہاراشٹر اسٹیٹ ساہتیہ اردو اکیڈمی کو گولڈن جوبلی سال میں بھایی لوگوں نے ممبی شہر اردو اکیڈمی بنا دیاہے۔۔۔۔۔۔۔
اور جو سہ روزہ تقریبات ممبیی شہر میںہو رہی ہے ۔۔۔وہ قطعی اکیڈمک یا لٹریری نہیں ۔۔۔یہ علمی کمہے ۔۔فلمی زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔بس انٹر ٹینمنٹ ایونٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ہفتے قبل منسٹر ایڈوکیٹ کو کاٹے نے بتایاتھا کہ گولڈن جوبلی تقریبات کی ذمہ داری نڈیاڈ والا کی ایک کمپنی کے سپرد کی گیی ہے۔اس لیے سمجھا جا سکتا ہے کہ سہ روزہ گولڈن جوبلی تقریبات علمی کم اور فلمی زیادہ کیوں ہو گیی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حد تو یہ ہے کہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کی پچاس سالہ تقریبات میں پہلی مرتبہ فیشن شو کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔۔۔۔
اپریل ١٩٧٥ ء میں پہلی مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔۔۔اس اکیڈمی کے ممبران میں کرشن چندر ، عصمت چغتایی ۔۔علی سردار جعفری ، خواجہ احمد عباس ، سکندر علی وجد ، اعجاز صدیقی ، سیتو مادھو راؤ پگڑی ، ودیا دھر گوکھلے جیسے لوگ شامل تھے۔۔۔
اگر ان کے سامنے اردو ساہتیہ اکیڈمی کے پروگرام میں فیشن شو کی تجویز پیش کی جاتی تو وہ یقینا اپنا سر پیٹ لیتے۔۔۔۔۔۔
یہ اکیڈمی کے
زوال ۔۔۔علمی کم اور فلمی زیادہ ہونے کا اشارہ ہے۔۔۔
بہر کیف ۔۔۔گولڈن جوبلی تقریبات صرف ممبیی شہر میں کیوں ؟
جبکہ اس کے لیے بجٹ بھی بڑا بھاری منظور ہوا ہے۔۔۔
دس کروڑ روپیے ۔۔۔۔یہ مہاراشٹر اسٹیٹ سا ہتیہ اکیڈمی کے گزشتہ بارہ پندرہ برس کے اوسط مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ رقم ہے ۔۔۔۔۔
ایک اندازہ کے مطابق گزشتہ بارہ پندرہ برس میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کو سالانہ اوسطاً ستر لاکھ روپیہ کا بجٹ سرگرمیوں کے لیے دیا گیا ، لیکن گولڈن جوبلی کے نام پر دس کروڑ روپیہ ملا جتنا دس بارہ برس کے مجموعی سالانہ بجٹ میں بھی نہیں ملا ۔۔
اس پر صرف ممبیی کا قبضہ کیوں ؟
گولڈن جوبلی تقریبات مہاراشٹر کے دس شہروں میں شاندار ، علمی ، اکیڈمک اور ادبی طریقے سے منای جا سکتی تھی۔۔۔۔۔ا ر ہر شہر کو ایک کروڑ روپیہ فرا ہم کیا جا سکتا تھا۔۔۔تبہی انصاف ہوتا ۔۔۔۔۔
لیکن جنہاتھوننے اردو ساہتیہ اکیڈمی کی گولڈنجوبلی تقریبات اور فنڈ کو ہایی جیک کرلیا ہے ۔۔۔وہ اسے علمی نہیں ۔۔۔فلمی بنانا چاہتے تھے ۔۔سو ، ویسا ہی کردیا ۔۔۔۔
یہ مہاراشٹر کے اردو اکثریتی اضلاع کے ساتھ کھلا تعصب ، بھید بھاؤ ، نا انصافی ہے ۔۔۔۔۔۔
خاص طور پر انعلاقوںکے ساتھ جہاں اردو گھر قایم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اناردو گھروںمیں بھی مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کی گولڈن جوبلی تقریبات کے متعدد فنکشنمنعقد ہو سکتے تھے ۔۔اور دس کروڑ کے فنڈ سے انہیں بھی فنڈ فراہم کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔
ایسا نہیں ہوا۔۔۔یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ممبی شہر میں اردو اکیڈمی آج تک اردو گھر نہیں بنا سکی۔۔لیکن ناندیڑ ، اورنگ آباد ، مالیگاؤں ، شولاپور سمیت کیی شہروں میں اردو گھر موجود ہیں ۔۔۔
۔۔ممبیی شہر میں تو اسٹیٹ اردو اکیڈمی کا اپنا دفتر تک موجود نہیں ۔۔اسے خالی کرنے کا آرڈر بھی ملا تھا جسے کو ششوں سے رکوایا گیا۔۔۔
لیکن جب گولڈن جوبلی تقریبات کادس کروڑ فنڈ ملا۔۔۔۔۔۔
تو سب کا سب ممبی نے ہڑپ لیا ۔۔۔۔۔۔
مہاراشٹر کے کسی بھی اردو دان شہر سے حصہ داری نہیں کی ؟
کیایہ نا انصافی نہیں ؟ یا اس کے پیچھے کویی گھپلہ ہے ؟
کیونکہ گولڈن جوبلی تقریبات کی تیار ی انتہایی غیر شفاف
NON TRANSPARENT
طریقے سے ہویی ہے ۔۔اس لیے اردو دان طبقہ کو اس پر سوالات پوچھنے کا حق ہے ۔۔۔
سچ جاننے کا حق ہے۔۔
تفصیل جاننے کا حق ہے۔۔۔۔
مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کو ہر سوال کا جواب دینا ہوگا ۔
اور ایک اہمنکتہ ۔۔۔
جب سرکار مراٹھی کے لیے سختی کر رہی ہے ۔۔۔
تب ہی مہا راشٹر کی دوسری سب سے بڑی زبان ۔۔
اردو کی سرکاری ساہتیہ اکیڈمی کے گولڈن جوبلی فنکشن کے سرکاری دعوت نامہ سے ۔۔۔۔۔۔
اردو رسمالخط کو۔۔۔۔۔۔تقریبا بے دخل کردیا گیا ۔۔۔۔۔
دعوت نامہ ثبوت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#سعید حمید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کو دھمکیاں دے رہے تھے۔ اب بھارت اس خطرے کے خلاف طالبان کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت نے طالبان، پاکستان، چین اور روس کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان کا بگرام ایئربیس امریکا کو واپس کرنے کے مطالبے کی مخالفت کی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب طالبان کی حکومت والے افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اس ہفتے بھارت کا تاریخی دورہ کرنے والے ہیں۔
بھارت، ایران، قازقستان، چین، پاکستان، روس، تاجکستان، ازبکستان اور کرغزستان سمیت دس ممالک نے ماسکو میں منعقدہ “افغانستان پر ماسکو فارمیٹ کنسلٹیشنز” کے ساتویں اجلاس میں شرکت کی۔ بیلاروس کے نمائندے بھی بطور مہمان موجود تھے۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں، کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا گیا، “شرکاء نے افغانستان یا اس کے پڑوسی ممالک میں فوجی انفراسٹرکچر کی تعیناتی کی کسی بھی ملک کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، کیونکہ یہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔” اس بیان کو ٹرمپ کے منصوبے پر براہ راست تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ اور طالبان میں جھڑپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں طالبان سے بگرام ایئر بیس واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ وہی اڈہ ہے جہاں سے امریکہ نے 2001 کے بعد اپنی “وار آن ٹیرر” مہم کا آغاز کیا تھا۔18 ستمبر کو برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ “ہم نے وہ اڈہ انہیں مفت میں دیا تھا، اب ہم اسے واپس چاہتے ہیں۔” انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یہ بھی لکھا کہ ’اگر افغانستان نے بگرام ایئربیس واپس نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “افغان کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کسی اور کو نہیں دیں گے۔ ہم اگلے 20 سال تک جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں”۔
اس معاملے پر طالبان کے ساتھ بھارت کا موقف کئی لحاظ سے تاریخی ہے۔ متقی پہلی بار ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں، جس کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے انہیں 9 سے 16 اکتوبر تک اجازت دی ہے۔ کیونکہ متقی یو این ایس سی کی پابندیوں کی فہرست (قرارداد 1988) میں شامل ہیں، اس لیے انہیں خصوصی منظوری ملی ہے۔
امریکہ بگرام کیوں چاہتا ہے؟
بگرام ایئربیس، جو کابل سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، افغانستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہے۔ اس کے دو بڑے رن وے ہیں، ایک 3.6 کلومیٹر لمبا اور دوسرا 3 کلومیٹر طویل۔ پہاڑی علاقہ افغانستان میں بڑے طیاروں کی لینڈنگ کو مشکل بناتا ہے، بگرام کو ایک اسٹریٹجک مرکز بناتا ہے۔