سیٹوں کی جنگ! چراغ پاسوان اور نریندر مودی کے رشتے میں دراڑ کی حقیقت کیا ہے؟
پٹنہ: جہاں این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم پر چراغ پاسوان کی ناراضگی کی خبریں میڈیا میں سرخیاں بن رہی ہیں، وہیں اس بات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا سیاسی حساب کتاب کے لیے چراغ پاسوان پی ایم مودی کو چھوڑ دیں گے۔ یہ ایک اہم سوال ہے، جیسا کہ چراغ پاسوان نے واضح طور پر کہا ہے کہ این ڈی اے کے اندر سیٹوں کی تقسیم کی بات چیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ واضح طور پر، چراغ کا سخت رویہ اور این ڈی اے کے اندر لڑائی کی خبریں اب کھل کر منظر عام پر آ رہی ہیں۔ لیکن مسئلہ پی ایم مودی کے ساتھ ان کے تعلقات کا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی ماہرین کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ درحقیقت وزیر اعظم نریندر مودی اور چراغ پاسوان کے درمیان تعلقات بہار کی سیاست میں واقعی ایک انوکھی مثال ہیں اور یہ کہنا کہ ایک جھٹکا کمزور ہو جائے گا یہ مبالغہ آرائی ہو گی۔
درحقیقت پی ایم مودی اور چراغ پاسوان کے درمیان یہ رشتہ طاقت کی سیاست سے بالاتر پیار، اعتماد اور احترام پر مبنی ہے۔ کیونکہ چراغ پاسوان نے بارہا پی ایم مودی کی تعریف کی ہے اور انہیں اپنے دل کا پیارا بتایا ہے۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی بار عوامی طور پر چراغ پاسوان کی تعریف کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور چراغ پاسوان کے درمیان تعلقات روایت، رواج اور عمل سے مختلف ہیں۔ یہ رشتہ طاقت کی سیاست کی بجائے پیار، اعتماد اور احترام پر استوار ہے۔ جب ان کے والد رام ولاس پاسوان کا انتقال ہوا تو پی ایم مودی نے نہ صرف چراغ پاسوان کی حمایت کی بلکہ انہیں خاندان جیسا پیار بھی دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رشتہ اب بہار کی سیاست میں ‘سیاسی اتحاد’ سے آگے کی کہانی بن گیا ہے۔
چراغ پی ایم مودی کی سرپرستی میں آگے بڑھ رہے ہیں! انہوں نے ایک بار چراغ پاسوان کو اپنے بیٹے جیسا بتایا تھا۔ مزید برآں، چراغ پاسوان نے ایک بار اپنے ایم پی کی حیثیت کی تعریف کی تھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ابتدائی دنوں میں پارلیمنٹ میں چراغ پاسوان کی موجودگی میں کچھ خاص دیکھنے کی بات کی۔ پی ایم مودی کی تعریف کرتے ہوئے چراغ پاسوان کا کہنا ہے کہ جب ان کے والد رام ولاس پاسوان کا سایہ ان کے سر سے اٹھا تو پی ایم مودی نے انہیں اپنا تحفظ دیا۔
اس کے بعد، لوک سبھا انتخابات کے دوران، وزیر اعظم نریندر مودی نے حاجی پور میں ایک ریلی میں اسٹیج سے چراغ پاسوان کی کھل کر تعریف کی۔ پی ایم مودی نے کہا، “جب چراغ پہلی بار پارلیمنٹ میں آئے تھے، میں نے سوچا تھا کہ وہ رام ولاس جی کا بیٹا ہے، لیکن ان میں ایک اونس تکبر نہیں ہے، وہ بہار کا مستقبل ہے۔” پی ایم مودی کا یہ بیان محض ایک لیڈر کی تعریف نہیں تھا بلکہ اس جذباتی تعلق کی علامت تھا جو کبھی پی ایم مودی اور رام ولاس پاسوان کے درمیان موجود تھا اور اب چراغ پاسوان کے ساتھ موجود ہے۔
جب 8 اکتوبر 2020 کو رام ولاس پاسوان کا انتقال ہوا تو پی ایم مودی نے ٹویٹ کیا، “رام ولاس جی اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کا نشان ہمیشہ رہے گا۔” آخری رسومات میں پی ایم مودی کی موجودگی اور حمایت نے چراغ پاسوان کو جذباتی مدد فراہم کی۔ چراغ پاسوان نے بعد میں کہا، “میرے والد کے انتقال کے بعد پی ایم مودی نے جس طرح میرا ہاتھ تھاما، وہ باپ کی نعمت جیسا تھا۔”
پچھلے سال، عوامی زندگی میں پی ایم مودی کی 23 ویں سالگرہ کے موقع پر، چراغ پاسوان نے پٹنہ میں کہا، “میرے والد کے بعد، اگر میں کسی کو آئیڈیل سمجھتا ہوں تو وہ وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “انہوں نے مجھے سیاست میں وہ سمت دی جو میرے والد کرتے تھے۔” سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ چراغ پاسوان کا بیان صرف ذاتی جذبات نہیں ہے بلکہ این ڈی اے کے اتحاد کا ایک مضبوط اشارہ بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی اور چراغ پاسوان کے درمیان تعلقات روایتی سیاسی حدود سے بالاتر ہیں۔ یہ رشتہ نہ صرف دلت سیاست کے لیے تحریک کا ذریعہ ہے بلکہ بہار میں مخلوط سیاست کا ایک نیا باب بھی ہے۔ مودی نے رام ولاس پاسوان کی وراثت کا احترام کیا اور چراغ پاسوان کو آگے بڑھنے کا اعتماد دیا۔ یہ کہانی طاقت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ رشتوں کی ہے- جہاں “باپ کی میراث” اور “بیٹے کا مستقبل” ایک ہی چھتری کے نیچے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ رشتہ دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی احترام اور اعتماد کی علامت ہے۔
رامپورمیں اعظم خان اوراکھلیش یادو کی آج ملاقات ہوگی۔اعظم خان کی جیل سے رہائی کے بعد سے پارٹی کے کسی سینئرلیڈر نے ان سے ملاقات نہیں کی ہے۔ ہاں ! کچھ ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی ،اعظم خان سے ضررورملے ہیں۔ جب اعظم خان سے اکھلیش کے ساتھ ان کی مجوزہ ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح جواب دیا کہ ، وہ صرف اکھلیش یادو سے ملاقات کریں گے، اور ان کی ملاقات کے دوران کوئی تیسرا موجودنہیں ہوگا۔
اعظم ۔اکھلیش ملاقات
انڈین ایکسپریس کے انٹرویو کے دوران جب اعظم خان سے پوچھا گیا کہ اکھلیش یادو آپ سے ملنے آرہے ہیں۔کیا آپ نے سوچا ہے جس ان سے کیا بات کریں گے ؟تواعظم خان نے جواب دیا کہ سوچنے کی کوئی بات نہیں۔ وہ آئیں گے اور میری عزت افزائی ہوگی۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ پہلی بار آرہے ہیں ۔ میرے تن من پران کا حق ہے۔ وہ آئیں گے مجھےخوش ہوگی ۔ میرے لیے اعزاز ہےلیکن میں چاہتا ہوں کہ صرف وہی آئیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں تو انھوں نے قدرے تلخ لہجے میں کہا کہ میں صرف ان سے ملوں گا۔ دوسرے مجھ سے کیوں ملیں؟ اتنے دنوں میں کس نے میرے گھر والوں کے بارے میں پوچھا؟ عید پر میری بیوی اکیلی رو رہی تھی۔ کیا کوئی آیا؟ کیا کسی نے فون کیا؟ تو اب وہ کیوں آئیں؟
کیا اکھلیش یادو سے بھی فون پر نہیں ہوئی بات ؟
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اکھلیش یادو سے فون پر ان کی بات ہوئی، تو اعظم خان نے کہا کہ ان دنوں ہمارے فون وغیرہ بند تھے۔ اس لیے یہ صرف دو لوگوں کے درمیان ملاقات ہوگی، تیسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ گزشتہ ماہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد سے، سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو رام پور کے ممتاز پارک علاقے میں واقع اپنے گھر پر شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے۔ ایک زمانے میں اتر پردیش کے سب سے طاقتور وزیروں میں اعظم خان کا شمارہوتا تھا۔وہ پارٹی کا بڑا مسلم چہرہ رہے ہیں ۔وہ رام پور صدر سے 10 بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ 2019میں ان کے خلاف الزامات کا ایک سلسلہ سامنے آنے کے بعد سے ان کے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی آئی
سیاسی مستقبل پرکیا بولے اعظم خان
جیل میں گزارے دن کے بارے میں اعظم خان نے بتایا کہ قید میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کبھی اپنے سیاسی مستقبل پر غور کیا تو خان نے جواب دیا کہ مجھے باہر سے، ہر طرف سے بے شمار پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ یہ توبس کہانیاں ہیں۔ مجھ سے بات کرنے کی ہمت کون کرتا؟میں صرف وہی بتا رہا ہوں جو میں نے سنا ہے۔
پپیتا ویٹامنز کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہمارے جسم کی قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے استعمال سے جسم بھی توانا رہتا ہے۔
کمزور بینائی جیسے مسائل کے لئے پپیتا بہت فائدہ مند پھل مانا جاتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے لائکوپین اور بیٹا کیروٹین آنکھوں کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
میں پایا جانے والا ویٹامن سی جلد کے لئے بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہ جلد کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے جلد بھی جوان نظر آتی ہے۔ اس کے لیے پپیتے کے استعمال کے ساتھ اس کا فیس پیک بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
اس پھل میں پوٹاشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہمارے جسم کو کئی قسم کے وائرسوں سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے ہمارا جسم صحت مند رہتا ہے۔
پپیتے میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں۔ اس کا باقاعدہ استعمال جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے اور یہ وزن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔