کرناٹک میں دلخراش واقعہ ، فیملی پکنک سانحہ میں بدل گئی ۔ 7 افراد پانی میں بہہ گئے
کرناٹک میں خاندانی سیر تفریح افسوسناک سانحہ بن گئی، ڈیم کے پانی کے اچانک بہاؤ نے 7 افراد کو بہا دیا، ایک شخص کو زندہ بچا لیا گیا
کرناٹک کے ضلع تُمکورو (Tumakuru) میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں مارکوناہلی (Markonahalli) ڈیم کے قریب پکنک منانے آئے ایک ہی خاندان کے سات افراد تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ یہ واقعہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب خاندان کے تقریباً 15 افراد ڈیم کے کنارے سیر و تفریح کے لیے جمع ہوئے تھے۔
ضلع تُمکورو کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک کے وی (Ashok KV) کے مطابق، سات افراد ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ، ڈیم کے پانی میں اترے ہی تھے کہ اچانک سائفن سسٹم (Siphon System) نے پانی چھوڑ دیا، جس سے ایک زبردست بہاؤ پیدا ہوا اور سبھی پانی میں بہہ گئے۔
دو لاشیں برآمد، چار افراد تاحال لاپتہ
ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ فائر بریگیڈ، ایمرجنسی سروسز اور مقامی غوطہ خوروں نے مشترکہ طور پر متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن چلایا۔ اب تک دو لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جن کی شناخت سازیہ اور عربین کے نام سے ہوئی ہے۔ ایک شخص نواز کو زندہ نکالا گیا، جو زخمی حالت میں اسپتال داخل ہے۔
باقی چار لاپتہ افراد کی شناخت تبسم (45)، شبانہ (44)، میفرا (4) اور محب (1) کے طور پر کی گئی ہے۔
قدرتی بہاؤ یا تکنیکی خرابی؟ تحقیقات جاری
ڈیم کے انجینئروں کے مطابق، سائفن سسٹم کا اچانک کھل جانا ایک ’’قدرتی پانی کے دباؤ‘‘ کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم اصل وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ جب تک حفاظتی اقدامات مکمل نہیں ہو جاتے، وہ ڈیم کے اطراف میں جانے سے گریز کریں۔
ایک رشتہ دار نے اخبار ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو میں کہا: ’’ وہ ہم سے ملنے آئے تھے اور بعد میں ڈیم کی سیر کا پروگرام بنایا۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ خوشی کا دن یوں قیامت میں بدل جائے گا۔‘‘
گزشتہ چند ماہ میں اسی نوعیت کے سانحات میں اضافہ
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں کرناٹک کے مختلف حصوں میں اسی طرح کے غمناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔
7 ستمبر کو بیلگاوی (Belagavi) ضلع میں 22 سالہ نوجوان مالاپربھا ندی میں گنیش وسرجن کے دوران ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔
جولائی میں تین نوجوان تنگبھدرا ندی (Tungabhadra River) میں بہہ گئے۔
یہ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس خطرے کو نمایاں کرتا ہے کہ برساتی موسم میں ڈیم اور جھیلوں کے پانی میں داخل ہونا کتنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ہماری محنت، آپ کی سہولت کے لیے!
لاڈلی بہن یوجنا کے تحت جن بہنوں کا ابھی تک ای کے وائ سی (EKYC) نہیں ہوا ہے، اُن کے لیے اشرف آنلائن شاپی کی جانب سے عوام کی مسلسل فرمائش پر ایک خاص کیمپ لگایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں، مگر ہم نے دن رات کی محنت سے یہ سہولت صرف آپ سب کے لیے نکالی ہے۔ نہ کوئی دوسرا یہ کر رہا ہے، نہ کہیں اور کیمپ لگ رہا ہے۔ یہ کام صرف ہم کر رہے ہیں — وہ بھی صرف 30 روپے میں۔
یہ کیمپ صرف تین دن کے لیے ہوگا:
📅 جمعہ، سنیچر اور اتوار
⏰ شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک ٹوکن، اور رات 11 بجے کے بعد EKYC مکمل
💰 فیس: صرف 30 روپیہ
ویب سائٹ صرف رات 11 بجے کے بعد کام کرتی ہے، اسی لیے ہم نے رات کے وقت بیٹھ کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آپ کو وقت پر سرکاری اسکیم کا فائدہ مل سکے۔
بہت سی بہنیں خود سے کوشش کر کے تھک چکی ہیں، ناکام ہو چکی ہیں — اب اُن کے لیے ہم نے یہ موقع پیدا کیا ہے۔
📌 خواتین کو کیمپ پر آنے کی ضرورت نہیں ہے — وہ اپنے شوہر، والد یا بچوں کو بھیج سکتی ہیں تاکہ وہ آ کر یہ کام مکمل کروا سکیں۔
کیمپ میں آنے والے شخص کے ساتھ درج ذیل چیزیں ہونا لازمی ہیں:
1. جس بہن کا EKYC ہونا ہے اُس کا آدھار کارڈ
2. اُس سے جُڑا ہوا موبائل فون
3. شوہر یا والد کا آدھار کارڈ اور اُن کا موبائل فون
کسی فوٹو کاپی، کاغذ یا فارم کی ضرورت نہیں۔ صرف اصل آدھار کارڈ اور موبائل ساتھ لانا ہوگا۔
ٹوکن شام 6 سے رات 10 بجے تک دیے جائیں گے۔ جس وقت کا ٹوکن ملے، اُس وقت پر حاضر ہونا ضروری ہے۔ اگر مقررہ وقت پر نہیں آئے، تو اگلے دن نیا ٹوکن لینا ہوگا۔ رش ہونے پر صبر سے باری کا انتظار کریں۔
یہ موقع صرف تین دن کے لیے ہے — جمعہ، سنیچر اور اتوار — دیر نہ کریں!
یہ کام کوئی اور نہیں کر رہا، صرف ہم کر رہے ہیں — وہ بھی آپ کے فائدے کے لیے۔
📍 پتہ: اشرف آنلائن شاپی، اسلام آباد، روی وار وارڈ، حیات میڈیکل اسٹور کے بازو میں، چندن پوری گیٹ، بسم اللہ ہوٹل کے پیچھے، مالک میر کے گھر کے کونے پر۔
معلومات کے لیے شام 6 بجے کے بعد تشریف لائیں۔
جے پور۔اجمیر ہائی وے پر دُودُو کے قریب سڑک کے کنارے کھڑے سلنڈرسے بھرے ٹرک میں دوسرے ٹرک نے ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں سلنڈرسے بھرے ٹرک میں آگ لگ گئی۔آگ لگنے کی وجہ سے ایک کے بعد ایک سلنڈرپھٹنے لگے اور دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔
آگ کے شعلے اٹھنے لگے جو کئی کلومیٹرفاصلے سے نظر آرہے تھے۔ دھماکوں کی آواز دور تک سنائی دی۔ پولیس اہلکار اور فائربریگیڈ جلد ہی جائے وقوع پر پہنچ گئے ۔
جائے وقوع سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ہائی وے پر ٹریفک روک دی گئی ۔ یہ واقعہ جے پور۔اجمیر شاہراہ پر معظم آباد علاقے میں ساوردا پل کے قریب ہوا ۔ وزیر اعلی بھجن لال شرما کی ہدایت پر نائب وزیر اعلیٰ پریم چند بیروا صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچے۔
بیروا نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے میں شامل گاڑی کے ڈرائیور اور ہیلپر کی ابھی شناخت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی دوسرے کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔
پولیس اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار بھی موقع پر موجود ہیں۔ ایس ایم ایس اسپتال انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے، اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شرما نے ایکس پر پوسٹ لکھا کہ جے پور رورل کے معظم آباد تھانہ علاقے میں جے پور۔اجمیر قومی شاہراہ پر گیس سلنڈروں سے بھرے ٹرک میں آگ لگنے کا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ فائر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیمیں جائے وقوع پر راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کریں اور مناسب علاج فراہم کریں۔
اس بیچ، عینی شاہدین نے بتایا کہ ایل پی جی سلنڈروں سے بھرا ٹرک سڑک کے کنارے ڈھابے کے باہر کھڑا تھا غالباً ڈرائیور کھانے کے لیے وہاں رکا تھا۔ قریب ہی موجودعینی شاہد ونود نے میڈیا کو بتایا کہ ایک اور ٹرک نے ایل پی جی سلنڈروں سے بھرے ٹرک کو پیچھے سے ٹکر ماردی۔ اس ٹرک کے ڈرائیور کو زخمی حالت میں قریبی اسپتال لے جایا گیا۔
چیف میڈیکل افسرروی شکھاوت نے بتایا کہ ایس ایم ایس اسپتال میں تمام انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک کوئی زخمی اسپتال نہیں لایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ابتدائی معلومات کے مطابق، ایک شخص کو دودو کے ایک اسپتال میں ابتدائی طبی امداد دی گئی ہے۔ گزشتہ دسمبر میں جے پور کے بھانکروٹا کے قریب اسی ہائی وے پر حادثہ ہوا تھاجس میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔