Wednesday, 8 October 2025

"اردو کا جشن یا اردو کی آزمائش؟ مہاراشٹر کی اکیڈمی، ادب اور ادارہ جاتی زوال کی کہانی"؟تحریر: علیم طاہر---ادب کا جشن جب فکر سے خالی ہو جائےتو روشنی کی محفلیں بھی اندھیرے پیدا کرتی ہیں۔مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے پچاس سال مکمل ہوئے یہ لمحہ اردو کے لیے افتخار اور وقار کا ہونا چاہیے تھا،مگر افسوس، یہ لمحہ ایک تنازع، تماشا اور تلخی میں بدل گیا۔دس کروڑ روپے کے بھاری بجٹ کے باوجوددلوں میں خوشی نہیں،زبانوں پر سوالات ہیں۔کیا یہ جشنِ اردو ہے؟یا اردو کی آزمائش؟--- گولڈن جوبلی:* * سنہری موقع یا سیاہ سوال؟ ١٩٧٥ ءمیں جب اردو ساہتیہ اکیڈمی قائم ہوئی تھی۔تو اس کے گرد کرشن چندر، عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس، سردار جعفری جیسے ناموں کی روشنی تھی۔وہ ادب کو انسانیت، صداقت، اور آزادیٔ فکر کا چراغ سمجھتے تھے۔لیکن آج، جب گولڈن جوبلی کا وقت آیا —اسی اکیڈمی نے اپنے ماضی کے چراغوں کو خود بجھا دیا۔دس کروڑ روپوں کا بجٹ،جو ریاست بھر کے ادبی مراکز تک پہنچنا چاہیے تھا،بمبئی کی چمک دمک میں گم ہوگیا۔یہ محض بجٹ کی تقسیم نہیں یہ اعتبار کی تقسیم بھی ہے۔--- *اردو اکیڈمی یا انٹرٹینمنٹ کمپنی؟*ادب کا جشن تب بامعنی ہوتا ہےجب وہاں فکر، مکالمہ، اور مطالعہ ہو۔لیکن جب ادبی اجتماع کو کارپوریٹ ایونٹ بنا دیا جائے،جہاں مائیک، لائٹس اور فیشن شو مرکزی کردار ہوں،تو وہاں الفاظ مر جاتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جب اردو زبان نہیں، زیور بن جاتی ہے۔اور ادیب شرکت دار نہیں، شو پیس بن جاتا ہے۔ادب کے منچ پر اگر شاعر کے بجائے "برانڈ" بولے،تو سمجھ لیجیے، اکیڈمی نے اپنا مقصد کھو دیا۔--- *بمبئی کا اجارہ، ریاست کی محرومی*مہاراشٹر میں ناندیڑ، مالیگاؤں، اورنگ آباد، شولاپور —یہ سب اردو کے زندہ مراکز ہیں۔یہاں اردو بولی بھی جاتی ہے، جانی بھی جاتی ہے،اور لکھی بھی جاتی ہے۔پھر کیوں یہ تمام شہر گولڈن جوبلی سے بے دخل ہیں؟کیا اردو صرف بمبئی کی میراث ہے؟اگر دس کروڑ کا بجٹ دس شہروں میں تقسیم کیا جاتاتو یہ جشن سچ میں ریاستی سطح پر اردو کی آواز بنتا۔لیکن اب یہ ایک شہری شو بن گیا ہے،جہاں مہاراشٹر کے دوسرے اضلاع صرف تماشائی ہیں۔--- *ادب کا ایوارڈ یا فلمی شو؟*جب ایوارڈ دینے والے ہاتھوں میں کتاب کے بجائے کیمرہ ہو،اور ایوارڈ لینے والا ادیب اپنے فن کے بجائےسیلیبرٹی کی تصویر کے ساتھ “سیلفی” میں مصروف ہو،تو سمجھ لیجیے کہ ادب کی روح خطرے میں ہے۔ایوارڈ ادب کی عزت بڑھاتا ہے،لیکن اگر وہ شوبز کی چمک میں دیا جائے،تو وہ ادب کی توہین بن جاتا ہے۔ادب کی عزت اس کے لفظ میں ہے،نہ کہ ریڈ کارپٹ کے نیچے بچھی ہوئی روشنیوں میں۔--- *اردو رسم الخط کی بے دخلی **خاموش خطرہ*اردو کی سرکاری اکیڈمی کے دعوت نامے سےاگر اردو رسم الخط غائب ہو جائے،تو یہ محض غفلت نہیں یہ لسانی بے دخلی کا اعلان ہے۔زبان جب اپنے رسم الخط سے محروم ہوتی ہے،تو صرف حروف نہیں مرتے پوری تہذیب مر جاتی ہے۔---. سوال جن کے جواب ابھی باقی ہیںگولڈن جوبلی کے دس کروڑ کا حساب کہاں ہے؟مہاراشٹر کے دیگر اضلاع کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟اکیڈمی کا علمی و ادبی مقصد فلمی ایونٹ میں کیوں بدلا؟اردو رسم الخط کو سرکاری دعوت نامے سے کیوں خارج کیا گیا؟یہ سوالات اردو کے ہیں،یہ سوالات ادب کے ہیں،اور سب سے بڑھ کر - یہ سوالات ضمیر کے ہیں۔---* اردو کا اصل جشن کیا ہوتا؟*اگر یہ بجٹ واقعی اردو کے لیے استعمال ہوتا تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا؟اردو فکشن، شاعری اور تنقید پر ریاستی سطح کے سمپوزیماسکولوں اور کالجوں میں اردو مشاعرے اور لیکچر سیریزنوجوان لکھنے والوں کے لیے ریذیڈنسی پروگراممختلف اضلاع میں ادبی ورک شاپس اور مطالعہ گاہیں“اردو گھر” مراکز میں کتاب میلے اور مکالماتی نشستیںیہ ہوتا اردو کا جشن —جہاں چراغ بجھائے نہیں جاتے،بلکہ نئے چراغ جلائے جاتے۔---ادب کا وجود صرف لفظوں میں نہیں،بلکہ نیت، نُور اور نظام میں ہے۔اگر اکیڈمیاں ادب کی خدمت کے بجائے سیاست کی خدمت میں لگ جائیں،تو پھر اردو کا مستقبل "تقریبات" میں نہیں، "تحقیقات" میں تلاش کرنا ہوگا۔اردو کا جشن تب ہی سچا ہوگا جب ہر شاعر، ادیب، استاد، قاری،خود اپنے اندر ایک اکیڈمی جگا لے۔کیونکہ آخر میں اردو کو بچانے والا کوئی فنڈ نہیں،بلکہ فکر ہے۔---“اردو کا جشن، اردو کی آزمائش” _یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ آئینہ ہے۔اور اس آئینے میں ہم سب کو اپنا چہرہ دیکھنا ہوگا۔ظرف ہر بار مرا ضد پہ اڑا رہتا ہےحق بہ جانب ہے جو دنیا سے لڑا رہتا ہے *علیم طاہر*________________🔴🔴نعیم بن اسماعیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*رشتوں کا قرض* دھوپ کی تمازت عروج پر تھی ، مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی ، آج میں نے فیصلہ لے ہی لیا کہ میں ، ماں کو اپنے دل کی بات کہہ ہی دوں گا گھر میں داخل ہوتے ہی ماں سامنے ہی تھیں ، میں نے سکون کی سانس محسوس کی ، ماں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔"آگئے بیٹا۔"ماں کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا ، مجھے پسینے میں شرابور دیکھ کر ماں نے گلاس میری طرف بڑھادیا ، بیٹا پہلے پانی پی لو ، میں نے ایک ہی سانس میں پانی پی لیا ، ماں نے میری طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا ، بہت تھک گئے ہو بیٹا ، آرام کرلو میں نے نظر انداز کرتے ہوئے کہا ، اماں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ، ماں نے ممتا بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی "بیٹا باتیں تو ہوتی رہیں گی پہلے آرام کرلو آہستگی سے پانی کا گلاس واپس کرتے ہوئے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ذرا تلخ لہجہ میں کہا۔"اماں میں تھک چکا ہوں اب مجھ سے ابا کی خدمت نہیں ہوسکتی شفقت بھرے لہجہ میں ماں نے کہا۔"بیٹا پہلے سکون سے بیٹھ تو جاؤ میں نے سخت لہجہ میں کہا۔"اماں!بات کو ٹالنے کی کوشش نہ کریں آج فیصلہ کر ہی لیتے ہیں۔" کیسا فیصلہ بیٹا؟حسرت و یاس بھری نگاہوں سے ڈوبتی آواز میں ماں نے کہا ماں کے چہرے کی مایوسی جس پر دکھوں کی پرت کو دیکھ کر بھی میں انجان تھا اور قطعی و آخری فیصلہ کرنا چاہتا تھا ایک ہی سانس میں ، میں کہہ گیا۔"اماں بتایا نا کہ اب مجھ سے ابا کی خدمت نہیں ہو سکتی۔"ماں نے رندھے ہوئی آواز میں پوچھا " ٹھیک ہے بیٹا لیکن کیوں؟"مجھے ایسا گمان ہوا کہ ماں نے میرے آگے ہتھیار ڈال دئیے ہیں میں خوش فہمی کا شکار ہوگیا تھا ، پر اعتماد لہجہ میں کہا۔"آپ کے دوسرے بیٹوں نے شادی کے بعد کنارہ کشی اختیار کرنا بہتر سمجھا لیکن کسی نے یہ نہیں گوارا کیا کہ والدین کو ساتھ لے جاتے یا باری باری اپنے اپنے گھروں میں سنبھالتے ، ماں کی آنکھیں نم ہو گئ تھیں لیکن میں تو تعلیم یافتہ ٹہرا نا ، اپنے دلائل میں پختگی لانے کے لئے منور رانا کا شعر بھی سنایا ، کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصہ میں ماں آئیاور اپنی دلیل کو مؤثر بناتے ہوئے طنزیہ جملوں میں کہاکہ "میرے حصہ میں ماں کے ساتھ ابا بھی آئے۔"ماں بدستور کھڑی تھی اور نظریں بھی جھکی ہوئی تھیں لیکن خاموش تھیں ، میں نے تعلیم یافتہ ہونے کا ایک اور ثبوت دیا اور فیصلہ کن انداز میں کہا کہ "اماں میں محلہ کمیٹی میں سکریٹری ہوں لیکن مجھے گھر کا مسئلہ گھر میں ہی حل کرنا ہے ، آپ اپنے تینوں بیٹوں کو فون کردیجئے کہ آپ دونوں کو باری باری ایک ایک مہینہ سنھالیں۔" ماں تو ممتا کی دیوی ہوتی ہے ماں نے دھیمے لہجہ میں کہا "ٹھیک ہے بیٹا آپ پہلے کھانا کھا لیجئے شام کو سب کو فون کروں گی آج منگل ہے سنیچر کو سب بیٹوں کو بلا لوں گی اور آپ کی تجویز سب کے سامنے رکھوں گی۔" اماں بےشک یہ آپ کے لئے تجویز ہوگی لیکن یہ میرا فیصلہ ہے"ٹھوس لہجہ میں اپنی تجویز کو فیصلہ کا رنگ دے کر میں دل ہی دل میں سکون محسوس کررہا تھا ، تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ مجھ میں شعور آچکا تھا ، پہلے میں نے آرام سے کھانا کھایا پھر معمول کے مطابق والد کی خدمت کی ، ابا دو سال سے سخت علیل تھے ، ابا کو دمہ تھا اور کافی کمزور ہونے کے سبب چلنے پھرنے سے معذور تھے۔مسلسل بستر پر رہنے کی وجہ سے دونوں جانب کمر پر سیاہ داغ بھی بن گئے تھے اور زخم بھی تھا ، قسمت کی ستم ظریفی کہ سات آٹھ دنوں سے آواز بند ہو گئ تھی لیکن ابا کی قوت سماعت متاثر نہیں ہوئی تھی ، جب ابا قوت گویائی کی تاب رکھتے تھے تب میری جھنجھلاہٹ کو محسوس کرتے ہوئے‌ کہتے تھے "بیٹا اس طرح کی خدمت سے اللہ ناراض ہوتے ہیں خوب سیوا کرو خوب میوہ ملے گا ، آج میں بہت خوش تھا کیوں کہ والدین کے بوجھ سے دو چار دن میں چھٹکارہ ملنے والا تھا ، سنیچر کو اماں ابا چلے جائیں گے پھر تین مہینہ بعد میرا نمبر آئے گا ، ابا کی خدمت ، میں کافی پرجوش انداز سے کر رہا تھا ، زخموں کو ڈیٹول سے صاف کرنے مرہم لگا رہا تھا سر میں تیل لگاکر ہلکا مساج اور پھر پیروں کو دبا رہا تھا ، ابا مجھے ایک ٹک دیکھتے جارہے تھے اور آنکھوں سے اشک جاری تھے ، میں نے نظر انداز کیا ، دوپہر سے شام اور پھر رات ہو گئ۔رات کے گیارہ بجے امی سے اجازت لے کر میں اپنے کمرے میں سونے گیا ، کافی سکون محسوس کررہا تھا۔ساڑھے چار بجے اچانک آنکھ کھلی دیکھا کہ کمرے میں بیوی نہیں ہے ، امی ابو کے کمرے میں گیا وہاں کا منظر دیکھ کر میرے قدموں تلے زمین نکل گئ ، *ابا کی سانس اکھڑ رہی تھیں۔میری بیوی نے کہا کہ ابو کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ماں بیچاری اپنے نحیف ہاتھوں سے ابا کے پیروں کو مسل رہی تھیں‌۔میری بیوی ابا کے ہاتھوں کو رگڑ رہی تھی۔* میں پڑوسیوں کو بلانے چلا گیا۔جب کچھ پڑوسیوں کے ساتھ لوٹا تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔بیوی زارو قطار رو رہی تھی اور ماں کے بھی آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ ماں نے کہا۔ *بیٹا آپ تھک گئے تھے نا اللہ نے آپ کی تھکن دور کردی۔* یہ جملہ مجھ پر بجلی بن کر گرا میں زار و قطار پاگلوں کی طرح رو رہا تھا لیکن مجھے احساس ہو گیا کہ میں نے اپنی آخرت خراب کر لی۔ *دنیا میں بھی بازی ہار گیا اور آخرت کا اللّٰہ مالک ہے*_____________غزل🔴منتظمِ عاصی مالیگاؤںحسّاسِ دل طلوعِ اساسِ الم رہاطائر عمارِ روحِ رواں آمدم رہادارالامکاں سے عالمِ اسرارِ لا مکاں اصلاحِ عم سلامِ درودِ حرم رہا طاہورِ حدِّ حور و ملک راہِ سالمہعالم کراں سَرارِ رُعادہ عدم رہا معدوم حصار وا کُرَۂِ آسماں سَرااسلام سر علیٰ دمِ لہرا عَلَم رہا محلول روحِ عادِ کلاں لم سلام کا وعدہ امامِ عالی کا احرامِ دم رہا مہموسہ لوحِ لام دِرَم ماہِ ماہ لا احرامِ سلسلہ رگِ اکرامِ سَم رہاعاصی علومِ عار عَرا عودِ عاملہمل کر ملولِ دل مہِ امدادِ ہم رہامنتظمِ عاصی مالیگاؤں____________ندا فاضلیجو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتاہمیشہ ایک ہی سے پیار ہو ایسا نہیں ہوتاہر اک کشتی کا اپنا تجربہ ہوتا ہے دریا میںسفر میں روز ہی منجدھار ہو ایسا نہیں ہوتاکہانی میں تو کرداروں کو جو چاہے بنا دیجےحقیقت بھی کہانی کار ہو ایسا نہیں ہوتاکہیں تو کوئی ہوگا جس کو اپنی بھی ضرورت ہوہر اک بازی میں دل کی ہار ہو ایسا نہیں ہوتاسکھا دیتی ہیں چلنا ٹھوکریں بھی راہگیروں کوکوئی رستہ سدا دشوار ہو ایسا نہیں ہوتا

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...