Thursday, 2 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


💧✨ پانی پیئیں، صحت مند رہیں! ✨💧

نیو ایرا انگلش میڈیم اسکول اینڈ جونیئر کالج، مالیگاؤں میں،
ہم بچوں کی صرف تعلیم کا نہیں بلکہ ان کی صحت اور خوشحالی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ 🌱

پیاس اور ڈی ہائیڈریشن خاموشی سے توجہ، توانائی اور سیکھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتے ہیں۔
اسی لیے ہم نے شروع کیا ہے گھنٹہ وار پانی کی گھنٹی ⏰💦
جو ہر طالب علم اور استاد کو یاد دلاتی ہے:
رُکیں، پانی پیئیں، اور اپنے دماغ کو تازہ کریں۔

کیوں کہ ایک صحت مند اور سیراب بچہ ہی خوش، فعال اور ذہین سیکھنے والا بنتا ہے۔ 🧠💙

📢 والدین سے اپیل ہے کہ بچوں کو پانی کی بوتلیں ضرور دیں، انہیں بار بار پانی پینے کی عادت ڈالیں اور اس چھوٹی سی نیکی کو ان کی زندگی کا حصہ بنائیں۔

👉 آئیے، ہم سب مل کر ایک ایسی نسل تیار کریں جو طاقتور، باشعور اور صحت مند ہو۔

💧 پانی پیو، صحت مند رہو، ذہین بنو! 💧
ٹرمپ کے ٹیرف کاجواب بھارت کیسے دے، موہن بھاگوت نے بتایا، پی ایم مودی کامنتر بھی دہرایا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف وار کے جواب میں بھارت کو اب کیا کرنا چاہیے؟ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اس کا نسخہ دیا ہے۔ موہن بھاگوت نے آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں وجے دشمی کے موقع پراپنے خطاب میں پی ایم مودی کے سودیسی منتر کو دہرایا۔

انہوں نے ٹرمپ کے ٹیرف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی مارسب پرپڑ رہی ہے۔ بھارت پرعائد امریکی ٹیرف پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ درآمدات پر انحصار مجبوری نہیں بننی چاہیے اور سودیسی یا دیسی پیداوار کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
انہوں نے مزیدکہا کہ امریکہ کی ٹیرف پالیسی اس کے اپنے مفادات کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی تھی لیکن اس کے اثرات سب پر پڑ رہے ہیں، دنیا ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہے… کوئی ملک تنہائی میں نہیں رہ سکتا، یہ انحصار مجبوری نہیں ہونی چاہیے… ہمیں مقامی وسائل پر انحصار کرنا چاہیے اور خود انحصاری پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، ہمیں سفارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ان کے مطابق ، کوئی ملک اکیلا زندہ رہ سکتا ہے۔

نیپال کے احتجاج کا ذکر کیوں؟
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے نیپال میں حالیہ انقلاب کا بھی ذکر کیا۔ نیپال میں Zen-G انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ پڑوس میں بدامنی اچھی علامت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور حال ہی میں نیپال میں عوامی غصے کے پرتشدد پھوٹ پڑنے سے اقتدار کی تبدیلی ہمارے لیے تشویش ناک ہے۔

بھارت میں اس طرح کی بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والی قوتیں ہمارے ملک کے اندر اور باہر سرگرم ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پرتشدد احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وہ صرف انتشار پھیلاتے ہیں۔ بدامنی بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع فراہم کرتی ہے۔

قانون کے دائرے میں اختلافات کا اظہار‘

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ تنوع ہندوستان کی روایت ہے اور ہمیں اپنے اختلافات کو قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اختلافات تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان اختلافات کا اظہار قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ برادریوں کو اکسانا ناقابل قبول ہے۔ انتظامیہ کو غیر جانبداری سے کام کرنا چاہیے، لیکن نوجوانوں کو بھی چوکنا رہنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کرنی چاہیے۔ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم‘ بنام ’وہ ‘کی ذہنیت قابل قبول نہیں ہے۔
دن بھر رہنا ہے تروتازہ اور خود کو رکھنا ہے فٹ،تو ضرور آزمائیں یہ فروٹ چاٹ ریسیپی

پھل کھانا ہم سبھی کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے اور یہ سن کر ہی ہم بڑے ہوئے ہیں۔ پھل ضروری وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی بیماریوں سے دور رہنے کے لیے روزانہ پھل کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ بہت سے طریقے ہیں جن سے ہم صحت مند اور لذیذ پھلوں کو اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ جب بھی آپ کو بھوک لگے اور کچھ ناشتہ کھانے کو محسوس ہو تو آپ فروٹ چاٹ بنا کر کھا سکتے ہیں۔ یہ فوری طور پر تیار ہوتا ہے اور کھانے میں بہت لذیذ ہوتا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔

Wednesday, 1 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

مظفرآباد کی گلیوں میں خون ہی خون... پاکستانی رینجرس کی فائرنگ میں 12 افراد کی موت

پاک مقبوضہ کشمیر (PoK) میں حالات مسلسل خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ مظفرآباد سمیت کئی علاقوں میں پاکستان مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ بھیڑ پر فائرنگ سے اب تک 12 افراد کے مرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ متعدد ویڈیوز سامنے آئے ہیں جن میں زخمی افراد کو بغیر ابتدائی طبی امداد کے اسپتالوں میں تڑپتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ نے پاکستانی فوج اور رینجرز پر ظلم و بربریت کا الزام عائد کیا ہے۔ PoK کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بندش اور فورسز کی تشدد نے اس علاقے کو مکمل طور پر بلیک آؤٹ زون بنا دیا ہے۔ یہ معاملہ اب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) سے لے کر برطانوی پارلیمانی کمیٹی تک پہنچ چکا ہے۔
 کے مقامی رہنماؤں نے کھل کر پاکستان پر شدید تنقید کی ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے شوکت نواز میر نے کہا کہ “یہ ڈائن بن چکی ہے، اپنے بچوں کو کھا رہی ہے۔ ریاست اپنے ہی لوگوں کو مارنے لگی ہے۔” ایک اور رہنما نے کہا، “آزاد کشمیر، آزاد نہیں ہے۔” ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی فوج کے ذریعے کشمیریوں پر فائرنگ کرواتا ہے، ان کے حقوق چھین کر انہیں غلام بنائے رکھنا چاہتا ہے۔

PoK کے دارالحکومت مظفرآباد میں اتوار کو ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ پولیس اور رینجرز کی فائرنگ میں 8 مظاہرین کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ اس کے بعد بھیڑ مشتعل ہو گئی اور نعرے لگائے گئے، “قاتلوں جواب دو، خون کا حساب دو۔” سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں زخمی پاکستانی رینجرز زمین پر پڑے کراہتے دکھائی دیے، جو عوام کے غصے کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے۔

پورے PoK میں اتوار سے انٹرنیٹ اور فون سروسز بند کر دی گئی ہیں۔ UKPNP کے رہنما سردار ناصر عزیز خان نے جنیوا میں UNHRC کے 60ویں اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ 3 ملین کشمیری محصور ہیں، نہ انٹرنیٹ، نہ فون، نہ میڈیا تک رسائی۔ یہ لوگ ہتھیار نہیں اٹھا رہے، صرف اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پاکستان گولیوں اور لاٹھیوں سے جواب دے رہا ہے۔

پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر دباؤ میں اضافہ
جنیوا سے لندن تک PoK کا درد اٹھ چکا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں UKPNP کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن وہ پرامن طریقے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر کشمیری نژاد برطانوی شہریوں نے بھی احتجاج کیا اور وہاں بھی نعرے لگے – “قاتلوں جواب دو”۔
بڈگام پولیس نے یو اے پی اے کے تحت کالعدم تحریک حریت کے ہیڈ آفس کو کیا منسلک

سرینگر: جموں و کشمیر پولیس نے بدھ کو بڈگام میں علیحدگی پسندی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی مرحوم کے گھر واقع تحریک حریت کے ہیڈ کوارٹر کو سیل کر دیا گیا اور سوپور میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔

پولیس کے مطابق ضبط کی گئی جائیداد میں ایک کنال اور ایک مرلہ رقبہ کی اراضی اور اس پر تعمیر کی گئی ایک تین منزلہ عمارت شامل ہے۔ اسی عمارت میں برسوں تک مرحوم گیلانی رہائش پذیر تھے دفتر سرگرمیاں بھی اسی عمارت میں انجام دی جاتی تھیں۔
پولیس کی جانب سے انجام دی گئی یہ کارروائی یو اے پی اے (Unlawful Activities Prevention Act) کے تحت درج ایک کیس کے تناظر میں کی گئی۔ پولیس کے مطابق یہ اقدام جمع کیے گئے شواہد اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد عمل میں لایا گی۔

پولیس نے سوپور میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے گھروں کی تلاشی بھی لی۔ اس کارروائی کا مقصد علاقے میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو کمزور کرنا ہے، تاکہ مقامی سلامتی اور امن کو برقرار رکھا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

مرکزی وزارت داخلہ نے تنظیم کو دہشت گردی کو ہوا دینے اور بھارت مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے کے الزام میں پہلے ہی کالعدم قرار دیا ہے۔ اور سید علی گیلانی سنہ 2022 میں اسی عمارت پر وفات پا گئے تھے
پولیس نے اس کارروائی کو وادی میں غیر قانونی اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف تحقیقات کا اہم قدم قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے عناصر اور تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے تاکہ امن اور قومی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

گاندھی جینتی آج، ملک کررہاہے یاد ، صدرجمہوریہ دروپدی مرمو اور پی ایم مودی نے کیے گلہائےعقیدت پیش

آج بابائے قوم مہاتما گاندھی کی جینتی ہے۔اور آج ہی سابق وزیراعظم لال بہار شاستری کی بھی جینتی ہے۔ملک گاندھی جی اورلال بہادرشاستری کوخراج عقیدت پیش کررہا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے راج گھاٹ پہنچ کر گاندھی جی کی سمادھی پرپھول چڑھائے ۔

پرائم منسٹرنریندرمودی نے بھی راج گھاٹ اور وجے گھاٹ پہنچ کر گاندھی جی اورلال بہادرساشتری کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔آج ہی سابق وزیراعظم لال بہادر شاستری کی 121 جینتی ہے۔ پی ایم مودی نے وجے گھاٹ پر لال بہادر شاستری کو خراج عقیدت پیش کیا۔دیگر مرکزی وزراء، اپوزیشن لیڈروں اور دیگر معززین کے ساتھ دہلی کے راج گھاٹ اور وجے گھاٹ پر دو عظیم لیڈروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔


اس سے قبل، پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ گاندھی جینتی پیارے باپو کی غیر معمولی زندگی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے، جن کے نظریات نے انسانی تاریخ کی سمت بدل دی ۔

انہوں نے دکھایا کہ کس طرح ہمت اور سادگی عظیم تبدیلی کا آلہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے خدمت اور ہمدردی کی طاقت کو سمجھا۔ ہم اپنے لوگوں کو بااختیار بنانے کے لیے ان کے راستے پر چلنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

پرائم منسٹر نریندرمودی نے وجے گھاٹ پر لال بہادر شاستری کو خراج عقیدت پیش کیا۔اس سے قبل،سابق وزیراعظم آنجہانی لال بہادر شاستری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پرلکھا کہ لال بہادر شاستری جی ایک غیر معمولی سیاست دان تھے جن کی ایمانداری، عاجزی اور عزم نے ہندوستان کو مشکل وقت میں بھی طاقت بخشی۔

وہ مثالی قیادت، طاقت اور فیصلہ کن عمل کی علامت تھے۔ ان کے’جئے جوان جئے کسان‘ کے نعرے نے لوگوں میں حب الوطنی کے جذبے کوبیدار کیا۔وہ ہمیں ایک مضبوط اور خود انحصار بھارت کی تعمیر کے لیے ہمیں مسلسل ترغ دیتے ہیں ۔

سوشل میڈیا پراپنے پوسٹ کے توسط سے پی ایم مودی نے عوام کو وجے دشمی کی مبارک باد بھی دی ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ وجے دشمی برائی اور جھوٹ پر اچھائی اور سچائی کی جیت کی علامت ہے۔ میری خواہش ہے کہ اس مبارک موقع ہر کسی کو ہمت، دانشمندی اور لگن کے راستے پر چلنے کی ترغیب ملے۔ اہل وطن کو وجے دشمی مبارک ۔

*دیار ادیب مالیگاؤں سیف نیوز ادبی پوسٹ* *⭕دیارِ ادیب ادبی پوسٹ مالیگاؤں**چھترپتی شیواجی مہاراج کی' سیکولر بادشاہ کی شبیہ اجاگر کرنے والی کتاب ___' تبصرہ پروفیسر ڈاکٹر گریش سی پاٹل 🇨🇮**🔴سعید حمید 'اردو ٹائمز ممبئی**🎈اوس کے موتی (میری کہانی میری زبانی)* *⚫اقبال حسن آزاد* *⭕غزل :-_______ بطور" صالح ابن تابش" کو خراج عقیدت**🔴 عبد الدیان اسد مالیگاؤں* *نظم :- 'یہ مالیگاؤں ہے __'**🔴 علیم طاہر مالیگاؤں*______ *🔴انتخاب و پیشکش :- احمد نعیم (موت ڈاٹ کام مالیگاؤں بھارت)**دیار ادیب مالیگاؤں سیف نیوز ادبی پوسٹ پر روزانہ ادبی پوسٹ شالع کی جاتی ہے کہ لہذا آپ اپنے مضامین حمد نعت، افسانے اسکول رپورٹ اس نمبر پر ارسال کریں 9273946747* *دیارِ ادیب ادبی پوسٹ مالیگاؤں*

*دیار ادیب مالیگاؤں سیف نیوز ادبی پوسٹ* *⭕دیارِ ادیب ادبی پوسٹ مالیگاؤں**چھترپتی شیواجی مہاراج کی' سیکولر بادشاہ کی شبیہ اجاگر کرنے والی کتاب ___' تبصرہ پروفیسر ڈاکٹر گریش سی پاٹل 🇨🇮**🔴سعید حمید 'اردو ٹائمز ممبئی**🎈اوس کے موتی (میری کہانی میری زبانی)* *⚫اقبال حسن آزاد* *⭕غزل :-_______ بطور" صالح ابن تابش" کو خراج عقیدت**🔴 عبد الدیان اسد مالیگاؤں* *نظم :- 'یہ مالیگاؤں ہے __'**🔴 علیم طاہر مالیگاؤں*______ *🔴انتخاب و پیشکش :- احمد نعیم (موت ڈاٹ کام مالیگاؤں بھارت)**دیار ادیب مالیگاؤں سیف نیوز ادبی پوسٹ پر روزانہ ادبی پوسٹ شالع کی جاتی ہے کہ لہذا آپ اپنے مضامین حمد نعت، افسانے اسکول رپورٹ اس نمبر پر ارسال کریں 9273946747* *دیارِ ادیب ادبی پوسٹ مالیگاؤں*

*🔴سیف نیوز بلاگر*

کے بعد پہلی بار امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن، اثر ہندوستان تک پھیل گیا، امریکی سفارت خانے نے کیا بڑا اعلان

سیاسی تعطل نے ایک بار پھر امریکی حکومت کو مفلوج کر دیا ہے۔ نئے مالی سال کے آغاز سے قبل فنڈنگ بل پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے حکومت باضابطہ طور پر بند ہوگئی ہے۔ 2018 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی حکومت نے شٹ ڈاؤن کیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔ کوئی بھی سمجھوتہ نہ کر سکا اور آدھی رات کی ڈیڈ لائن گزر گئی۔ اس کے نتیجے میں، لاکھوں وفاقی ملازمین کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا جا رہا ہے یا انہیں چھٹیوں کا سامنا ہے۔
سینیٹ کے ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے الزام لگایا کہ ریپبلکن انہیں “بلیک میل” کر رہے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے فوائد سمیت متعدد ترجیحات پر بات چیت سے انکار کر رہے ہیں۔ ریپبلکن رہنما جان تھون نے جواب دیا کہ ان کی پارٹی کو “ڈیموکریٹس کے حالات کا یرغمال” نہیں بنایا جا سکتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو ان کے پاس “وفاقی ملازمین کو فارغ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔” انہوں نے ڈیموکریٹس پر “اوپن بارڈر پالیسی” پر عمل پیرا ہونے اور “غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی” کا الزام لگایا۔

بند کا براہ راست اثر سرکاری اداروں اور خدمات پر پڑ رہا ہے۔ آخری شٹ ڈاؤن، 2018 میں ٹرمپ کی صدارت کے دوران، 34 دن تک جاری رہا، جو جدید امریکی تاریخ میں سب سے طویل تھا۔ اس وقت، تقریباً 800,000 ملازمین کو بلا معاوضہ چھٹی پر رکھا گیا تھا۔

صورتحال کو دیکھتے ہوئے سینیٹ ریپبلکنز نے بدھ کی صبح دوسری ووٹنگ کا اعلان کیا ہے تاکہ ڈیموکریٹس کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم، ڈیموکریٹک رہنماؤں حکیم جیفریز اور چک شومر نے واضح کیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے، بجٹ آفس کے ڈائریکٹر Russ Vought نے ایجنسیوں کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ شٹ ڈاؤن “ڈیموکریٹس کی جانب سے ناقابل عمل مطالبات” کی وجہ سے ہوا، اور یہ کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ بحران کب تک چلے گا۔

کچھ ڈیموکریٹس میں بھی اختلاف کے آثار ہیں۔ نیواڈا کی ڈیموکریٹک سینیٹر کیتھرین کارٹیز مستو نے ریپبلکن بل کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا، “میں مہنگے شٹ ڈاؤن کی حمایت نہیں کر سکتی، کیونکہ اس سے نیواڈا کے خاندان متاثر ہوں گے اور وائٹ ہاؤس کو مزید طاقت ملے گی۔”

شٹ ڈاؤن سے محکمہ تعلیم سب سے زیادہ متاثر!
امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر محکمہ تعلیم پر پڑ رہا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی کٹوتیوں سے پہلے ہی کمزور ہو چکا تھا۔ محکمہ نے کہا ہے کہ اس کی کچھ اہم خدمات جاری رہیں گی، بشمول وفاقی مالی امداد اور طلباء کے قرض کی ادائیگی۔ تاہم، نئی وفاقی گرانٹس روک دی جائیں گی، اور شہری حقوق کی شکایات کی تحقیقات بھی روک دی جائیں گی۔ اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق، محکمے کی 87 فیصد افرادی قوت کو فارغ کیا جا رہا ہے، جو کہ 4,100 ملازمین سے کم ہو کر تقریباً 2,500 ہو گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے محکمہ تعلیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

2018 میں 35 دن کے شٹ ڈاؤن سے 11 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا
2018 میں امریکہ میں 35 دن کا جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن انتہائی مہنگا ثابت ہوا تھا ۔ کانگریس کے بجٹ آفس (سی بی او) کی جنوری 2019 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، شٹ ڈاؤن سے امریکی معیشت کو تقریباً 11 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔
13اکتوبرسے اسمبلی کا اجلاس بلانے کی عمرعبداللہ کابینہ نے کی سفارش ، مختصرہوسکتا ہے اجلاس

عمرعبداللہ کابینہ نے اسمبلی کا اجلاس 13اکتوبر سے طلب کرنے کی لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے سفار ش کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی صدارت میں آج سرینگر میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی ۔اس اجلاس میں تمام وزراء نے شرکت کی ۔ذرائع کے مطابق ،یہ اجلاس مختصر ہوسکتا ہے ۔ممکنہ طور پر یہ اجلاس سات دنوں پر مشتمل ہوگا۔ 13 اکتوبر سے 20 اکتوبر تک ہوگا۔

خیال رہے کہ ،جموں کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت اسمبلی کے دو اجلاسوں کے درمیان چھ ماہ سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہو نا چاہیے ۔کابینہ کی سفارشات اسمبلی اجلاس کی تاریخ کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔جسے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا طلب کریں گے۔

واضح رہے کہ ، اسمبلی کے پچھلے اجلاس کی آخری نشست 29 اپریل کو ہوئی تھی، اس لیے اگلا اجلاس 28 اکتوبر سے قبل بلانا لازمی ہے۔سرینگر میں کابینہ اجلاس کے لیے گہما گہمی رہی ۔ اجلاس کے حوالے سے قیاس أرائیوں کا دوردورہ رہا۔

یاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جموں کشمیر اسمبلی کا آئندہ اجلاس کےہنگامہ خیز ہونے کے آثار ہیں ۔اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ریاستی حیثیت اور ریزرویشن جیسے حساس معاملات غالب رہیں گے۔ مہراج ملک کی گرفتاری کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ بارش اور سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں کے نتیجے میں متاثرین کے معاوضے سے متعلق معاملہ بھی اسمبلی کے اجلاس میں اٹھ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ، مون سون کے دوران، جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی ۔
یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ ،گزشتہ اسمبلی اجلاس میں، ریاستی درجے سے متعلق تین قرارداد لیپس کرگئیں۔وقف ترمیمی بل2025پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ کیا گیا۔یہ ہنگامہ وقف ترمیمی بل پر قانون سازوں کے ذریعہ پیش کی گئی تحریک التواء کو مسترد کیے جانے پر ہوا تھا ۔پچھلے سیشن میں ریزویشن کا معاملہ بھی شدومد سے اٹھایا گیا تھا۔پیپلز کانفرنس کے صدرسجاد غنی لون نے اس معاملے پر حکومت کو گھیرا تھا۔
کیا یوپی آئی پیمنٹ پرلگے گی فیس؟ ریزرو بینک کے گورنر کیا کہا ، جانیے

پچھلے کچھ مہینوں سے، یہ افواہ تھی کہ حکومت UPI لین دین پر فیس عائد کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس بھی وائرل ہوئی ہیں۔ تاہم ریزرو بینک آف انڈیا نے صورتحال کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا کا کہنا ہے UPI پر کوئی چارج نہیں لگایا جائے گا۔

منی کنٹرول کی ایک رپورٹ کے مطابق، سنجے ملہوترا نے کہا کہ اس وقت ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور یہ کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال کرنے والوں کو کوئی فیس ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ UPI ہمیشہ فری رہے گا اور لوگ اسے آسانی سے استعمال کرسکیں گ

اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور RBI دونوں UPI کو زیرو کوسٹ پلیٹ فارم کے طور پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال کرنے اور کیش لیس انڈیا کی طرف بڑھنے کی ترغیب دی جائے۔ UPI لین دین میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ہندوستان اب دنیا کی سب سے بڑی ریئل ٹائم ادائیگیوں کی منڈیوں میں سے ایک ہے۔

اس خبر کے فوراً بعد پے منٹ کمپنی Paytm کے شیئر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ NSE پر اسٹاک تقریباً 2فیصد بڑھ کر1,147 روپئےتک پہنچ گیا۔ اس طرح، گورنر کے بیان سے نہ صرف ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اعتماد بڑھا بلکہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔ یہ اعلان کہ یو پی آئی مفت رہے گا، ڈیجیٹل ادائیگی کے صارفین کے لیے ایک بڑی راحت ہے اور اس سے کیش لیس لین دین کے لیے لوگوں کا جوش بڑھے گا۔
ریپو ریٹ پر بھی فیصلہ آیا

ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کی تین روزہ میٹنگ آج بدھ کو ختم ہوئی۔ میٹنگ کے آخری دن، کمیٹی کے چیئرمین اور آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے ریپو ریٹ کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ ریپو ریٹ کو 5.50 فیصد پربرقرار رکھا گیا ہے، اس سال 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی ہے۔کمیٹی نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیاہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر *

منصورہ انجینئرنگ کالج میں پانچ روزہ سافٹ اسکل اینڈ لائف اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ پروگرام کامیابی سے ہمکنار

مالیگاؤں ( پریس ریلیز) جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سو سائٹی (منصورہ) کے زیر اہتمام جاری مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس المعروف منصورہ انجینئرنگ کالج میں گزشتہ دنوں انجینئرنگ ڈگری کورس کے سال سوم اور آخر میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کیلئے پانچ روزہ سافٹ اسکل اینڈ لائف اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔

ڈاکٹر شاہ عقیل احمد نے بتایا کہ مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل میں طلبہ کے پلیسمنٹ کیلئے مختلف سرگرمیوں کو انجام دیا جا رہا ہے۔ جن میں سافٹ اسکل ٹریننگ پروگرام، ماک انٹرویو، پرسنالٹی ڈیولپمنٹ پروگرام، انگلش کمیونیکیشن اسکل پروگرام، پلیسٹمنٹ ڈرائیو، انڈسٹریزیل وزٹ اور کمپنیوں کے ساتھ ایم او یو وغیرہ شامل ہیں۔

اسی مقاصد کے پیش نظر منصورہ انجینئرنگ کالج میں قائم ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل کی جانب سے منعقد اس پروگرام میں ناسک کے سنیئر ٹرینرز جناب مادھوکر دوبے ( سافٹ اسکل سرٹیفائڈ ٹرینر)اور محترمہ پرتیما کارکالے نے طلبہ کو شخصیت سازی، کمیونی کیشن اسکل، گروپ ڈسکشن، خود اعتمادی، بائیوڈاٹا اور عریضہ نویسی سمیت انڈسٹری کے تقاضوں کے مطابق خصوصی تربیت فراہم کی۔اس پرروگرام کے کوآرڈینیٹر پروفیسر اسماعیل انصاری ( ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر)نے پلیسمنٹ کے لئے اس پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر آصف رسول (ڈین، ٹی اینڈ پی) نے اس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 اس پروگرام کے مہمان و مقرر خصوصی جناب مادھوکر دوبے اور محترمہ پرتیما کارکالے میڈم کا جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سو سائٹی کے سیکریٹری جناب راشد مختار صاحب کے ہاتھوں استقبال کیا گیا۔ وہیں جامعہ محمدیہ کے چیئرمن جناب ارشد مختار صاحب نے اس پروگرا م کے کامیابی پر ٹیم ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ اور پروگرام میں شریک طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔ اس طرح سےڈاکٹر یعقعوب انصاری ( پرنسپل، ڈپلومہ کالج)، ڈاکٹر سلمان بیگ ( ڈین اکیڈمکس)، ڈاکٹر نوید حسین( ڈین ریسرچ) ، ڈاکٹر دلاور حسین( ڈین ایڈمیشن)، ڈاکٹر فہد اقبال( ڈین آئی کیو آے سی) اور دیگر ذمہ داران نے طلبہ کو نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ 

 اس پروگرام میں روزانہ ڈیڑھ سو سے زائد انجینئرنگ ڈگری کورس کے سال سوم اور آخر میں زیر تعلیم طلبہ نے شرکت کی اور استفادہ کیا۔ اس پرگرام کو کامیاب بنانے میں پروفیسر اسماعیل انصاری ( ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر)، پروفیسر فیضان انصاری، پروفیسر مومن شہباز ،پروفیسر محسن صدیقی، پروفیسر فہد بلال، پروفیسر زاہد فیضی، پروفیسر جویریہ صدف، اویناش آہیئر، نکھل لاڈکے اور دیگر نان ٹیچنگ اسٹاف نے بھر پور تعاون پیش کیا۔
مالیگاؤں میں مفت سولار کلاسیز کا بارہواں بیچ مکمل، اردو گھر میں تقسیم اسناد

مالیگاؤں کو "سولار ہب" بنانے کا عزم: انجینئر عرفان

مالیگاؤں (پریس ریلیز) — شہر میں ٹائٹانک بزنس ہب کے تحت جاری مفت سولار ٹیکنیشین کورس کا 12واں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا۔ اس سے قبل 11 بیچوں کی تکمیل ٹائٹانک بزنس ہب میں ہوئی تھی، جب کہ بارہواں بیچ مسجد نمرہ، اقصیٰ کالونی میں منعقد کیا گیا۔

30 روزہ مفت کورس میں تقریباً 70 شرکاء کو "سولار ٹیکنیشین" کی تربیت دی گئی۔ کورس کے اختتام پر طلبہ کی حوصلہ افزائی کی گئی اور فارغ طلبہ کی عملی کارکردگی پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے پیش کی گئی۔ سرٹیفیکیٹ کی تقسیم کا پروگرام اردو گھر میں عشاء کے بعد رکھا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ معززین شریک ہوسکیں۔ اسی موقع پر 13ویں بیچ کے اندراج کا آغاز بھی کیا گیا۔

اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر جناب احسان شیخ صاحب نے شرکت کی، جو اپنے بھائی جناب شیخ آصف رشید صاحب کی نمائندگی کررہے تھے۔ یاد رہے کہ شیخ آصف صاحب نے مالیگاؤں کی کئی مساجد کو مفت سولار سسٹم فراہم کرنے کی شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی اعزاز بھی پیش کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت مفتی عامر ملی صاحب نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر نے انجام دیے۔

دیگر معزز مہمانوں میں انجینئر عرفان احمد صاحب، بلال انصاری (سولار ایکسپرٹ)، ایوب فیضی (سابق پرنسپل اے ٹی ٹی)، ڈاکٹر ساجد نعیم، شکیل حنیف (اے ٹی ٹی ہائی اسکول، ہمارا مالیگاؤں بلاگ)، ساجد دیوان، حارث قادری، محمد علی، افتخار انجینئر، اقبال انجینئر، اشفاق منصوری (امام نمرہ مسجد)، آزاد انور (منظوم پیشکش)، آصف مسعود (فارمیسی کالج)، اشفاق لعل خان (جے اے ٹی)، جاوید منصوری (سیوا)، منیب فیت والا، اور اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے رضوان سر شامل تھے۔

انجینئر عرفان احمد اور عبداللہ انصاری کی نگرانی میں تربیت پانے والے کئی طلبہ آج مالیگاؤں، ناسک اور بنگلور میں روزگار سے وابستہ ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کورسز اور روزگار کے مواقع کے لیے طلبہ سے کبھی کوئی معاوضہ نہیں لیا گیا۔ جن طلبہ کو فوری طور پر روزگار میسر نہ ہوسکا، انہوں نے بھی کورس مکمل کرنے کے بعد مہارت حاصل کرنے پر مسرت کا اظہار کیا۔

نمرہ مسجد کے ٹرسٹیان کی معاونت سے کورس میں شریک طلبہ نے عبداللہ انصاری کی رہنمائی میں مسجد کی چھت پر سولار سسٹم نصب کر کے اپنی عملی تربیت کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔

اس پروگرام میں سولار کلاسیز کے سابق طلبہ بھی شریک ہوئے۔ یہ خالص تعلیمی و سماجی تقریب تھی، جس میں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ شہر کی نامور شخصیات نے شرکت کرکے طلبہ کے حوصلے بڑھائے۔
مستقیم ڈگنیٹی کی پرنسپل سیکرٹری وزیر شہری ترقیات سے منترالیہ میں ملاقات


گھرکل یوجنا میں ہوئی کروڑوں کی لوٹ کھسوٹ کی جانچ کیلئے آزادانہ انکوائری کمیشن بنایا جائے



شہریان کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح، پرنسپل سیکرٹری نے مستقیم ڈگنیٹی کو مثبت کارروائی کا تیقن دیا



مالیگاؤں : 30 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) سماجوادی پارٹی کے یوا نیتا مستقیم ڈگنیٹی نے مہاراشٹر حکومت کے وزیر شہری ترقیات و نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور پرنسپل سیکرٹری وزیر شہری ترقیات موڑے کو ایک انتہائی چونکا دینے والی اور عوامی زندگی کو خطرہ پہنچانے والی ایک شکایت دی ہے جس کے مطابق انہوں نے شکایتی مکتوب میں کہا کہ 2009 میں، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ شراکت سے مالیگاؤں شہر کے مالدہ شیوار میں گھرکل اسکیم کے تحت 11,520 مکانات بنائے گئے تھے۔ لیکن ان مکانات کی تعمیر میں ٹھیکیدار نے بنیادی سہولیات، حفاظت اور پائیداری کا مکمل طور پر فقدان کیا اور اس کالونی کو مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کو منتقل کر دیا۔ بدقسمتی سے میونسپل کارپوریشن نے بھی عوام کے تحفظ اور شہریوں کے مستقبل کی فلاح و بہبود کو دیکھنے کی بجائے لاپرواہی سے اس کالونی کو قبول کرلیا۔ جس کی وجہ سے آج بھی ہزاروں خاندان ہر موسم میں مشکل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔26 ستمبر 2025 کو تحصیلدار نے کارروائی کرتے ہوئے اس کالونی کے علاقے سے بڑے پیمانے پر ریت اور مٹی اور مورم کی چوری کا پردہ فاش کیاہے، تاہم یہ معاملہ چوری ریت تک محدود نہیں ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق کالونی کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھر، اینٹیں اور مورم کی بڑی مقدار بھی چوری ہو گئی ہے، جس سے تقریباً 25 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس چوری کے سبب عمارت کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کو خطرہ ہے اور عمارتیں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں، جس سے ہزاروں عوام کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔مستقیم ڈگنیٹی نے مزید لکھا کہ ہم نے پہلے اس معاملے کو مالیگاؤں میونسپل کمشنر اور میونسپل انجینئر کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔ لیکن انہوں نے کوئی فوری اور ٹھوس اقدام نہیں کیا۔ آخر کار تحصیلدار کی کارروائی سے ہی اس گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا۔

مستقیم ڈگنیٹی نے منترالیہ میں آج وزیر شہری ترقیات کے پرنسپل سیکرٹری موڑے صاحب سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سے ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے میں ہونے والی تمام چوریوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اور اس کے پیچھے ٹھیکیداروں، کارپوریشن آفیسران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نام سامنے لائے جائیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔اسی طرح کالونی میں تمام عمارتوں کا فوری طور پر اسٹرکچرل آڈٹ کرایا جائے اور اگر ضروری ہو تو رہائشیوں کی بحالی، عارضی طور پر نقل مکانی یا دیگر جان بچانے والے اقدامات کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔چونکہ اس معاملے میں کارپوریشن انتظامیہ میں سنگین لاپرواہی اور بدعنوانی ثابت ہوئی ہے، اس لیے مالیگاؤں میونسپل کمشنر اور میونسپل انجینئر کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور سخت سزا دی جائے۔اگر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن پر ایڈیشنل تحصیلدار کے ذریعہ عائد کردہ ₹5,47,34,650/- کا جرمانہ براہ راست میونسپل کارپوریشن کے خزانے سے ادا کیا جائے تو اس کا بوجھ عام شہریوں کے ٹیکسوں پر پڑے گا۔ یہ ٹیکس عوام کی سہولت کے لیے ہیں جرمانے کی ادائیگی کے لیے نہیں۔ لہٰذا یہ جرمانہ متعلقہ قصور وار افسر، کمشنر اور میونسپل انجینئر کے ذاتی اثاثے ضبط کر کے وصول کیا جائے۔ اس کے لیے مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1949 میں ذمہ داری اور ضبطی کی دفعات کے مطابق کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ پورے معاملے کا جائزہ لے اور ایک آزاد انکوائری کمیشن کا تقرر کرے، اور محکمہ شہری ترقیات کو متعلقہ قواعد کو مزید سختی سے نافذ کرنا چاہیے۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف جائیداد کی چوری تک محدود نہیں ہے۔ یہ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ، عوامی فنڈز کی لوٹ مار اور حکمرانی کے نظام میں اعتماد اور خیانت کا معاملہ ہے۔ اس لیے فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ہمیں پوری امید ہے کہ ہماری براہ راست مداخلت سے انصاف دیا جائے گا۔مستقیم ڈگنیٹی نے اس خط کے ساتھ ایڈیشنل تحصیلدار کی جانب سے کی گئی کارروائی کا خط، ریت اور سامان کی چوری کی رپورٹ، سب ڈویژنل افسران کو دیے گئے خط کی کاپی کے ساتھ ساتھ کالونی کے علاقے میں ریت کی چوری کی وجہ سے پیدا ہونے والے گڑھوں کی تصاویر، جس سے مکینوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہے، اور گھرکل کالونی کی تعمیر کے سنگین نقصانات اور خطرناک حالات کی تصاویر بھی منسلک ہیں۔

اس موقع پر پرنسپل سیکرٹری نے مستقیم ڈگنیٹی کو تیقن دیا کہ مہاراشٹر حکومت اس معاملے میں سنجیدگی سے نوٹس لیکر انکوائری کریگی اور خاطی افراد و آفیسران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔سیکرٹری نے اس مکتوب کی روشنی میں مالیگاؤں کارپوریشن سے بھی جواب طلب کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔اس موقع پر مستقیم ڈگنیٹی کے ہمراہ عبدالرحمن انصاری ، خورشید کابل وغیرہ موجود تھے ۔

*🔴سیف نیوز بلاگر *

غزہ میں مجوزہ امن منصوبے پر دنیا کوحماس کے فیصلے کا انتظار، ٹرمپ نے ایک بارپھردی دھمکی
 میں جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پرحماس کے فیصلے کا انتظار دنیا بھر کو ہے۔ حماس مجوزہ منصوبے کا مطالعہ کررہا ہے۔ حماس کی جانب سے تاحال اس امن منصوبے پرباضابطہ جواب جاری نہیں کیا گیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ،حماس کے ایک سینئراہلکار کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کے مفادکوآگے بڑھانے والا اور فلسطینیوں کے مفادات کی ان دیکھی کرتا ہے۔ان کے مطابق ،کسی بھی معاہدے میں فلسطینیوں کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔جہاں تک ہتھیارترک کرنے کا معاملہ ہے اس پربھی حماس کا موقف واضح ہے۔اسرائیل کا قبضہ جب تک جاری رہے گا، مسلح مزاحمت سُرخ لکیرہے۔


بی بی سی کے مطابق حماس کے سینئرلیڈر نے کہا کہ حماس کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کی ایک اہم شرط یعنی غیر مسلح ہونا اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ قبول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یعنی مجوزہ منصوبے میں اختلافی نکات ہیں جس پر پیچ پھنس سکتا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق،قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حماس ٹرمپ کے امن منصوے کا ذمہ داری سے جائزہ لے رہا ہے۔

ادھر، امریکی صدرڈرمپ نے ایک بارپھر کہا کہ حماس کے لیے  مجوزہ منصوبے پر فیصلے کے لیے حماس کے پاس تین ۔چار دن کا وقت ہے۔انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر حماس نے اس منصوبے کوتسلیم نہ کیا تواس کے ’انتہائی افسوسناک نتائج‘ ہوں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ، اسرائیلی اور عرب لیڈران اس منصوبے کو تسلیم کرچکے ہیں، معاہدے پر اب صرف حماس کے جواب کا انتظار ہے، معاہدے سے متعلق حماس کے جواب کے منتظر ہیں بصورت دیگر بہت افسوس ناک انجام ہوگا۔  اب سب کی نظریں حماس پر ہیں۔ اگر حماس اس منصوبے کو مسترد کرتی ہے تو اسرائیل کی فوجی کارروائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

اسرائیل کا ردعمل

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس منصوبے کو تاریخی قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل فلسطین کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ اس میں فلسطینی ریاست کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کبھی بھی دہشت گردی کوانعام نہیں دے گا۔ ان کے مطابق،ریاست کا درجہ دینا ایک سنگین غلطی ہو گی۔اس بیچ ، اسرائیلی وزیر خزانہ اسموٹرچ نے ٹرمپ کے اس منصوبے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے سفارتی ناکامی قرار دیا۔انھوں نےکہا کہ قطر کا بڑھتا ہوا کردار اور غزہ میں نئے سکیورٹی انتظامات اسرائیل کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔

فلپائن میں تباہ کن زلزلہ ، مہلوکین کی تعداد 65 سے تجاوز، راحت وامدادی کام جاری

فلپائن میں طاقت ور زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 65 سے زیادہ ہوگئی ہے ۔سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ راحت و امدادی کا م جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ ملبے میں دبے لوگوں کو نکالا جارہا ہے ۔ ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے اہلکار کے مطابق کچھ علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی خدمات میں خلل پڑا ہے، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔


فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے زلزلے سے ہوئی ہلاکتوں پرگہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ،میرا دل ان خاندانوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے۔انھوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔


انھوں نے کہا کہ تمام متاثرین کے لیے وہ دعا کررہے ہیں۔ صدر مارکوس نے عوام سے چوکس رہنے اور مقامی حکام کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل بھی کی ۔انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکام بجلی کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں اور مقامی اسپتالوں میں مزید عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔


مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق،سیبو کے نائب گورنر گلین سوکو نے آج صبح ہنگامی اجلاس طلب کی اورصورتحال کا جائزہ لیا۔ نائب گورنر نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں حکومت عوام کے ساتھ ہے اور متاثرین کو ہرممکن مددپہنچانے کے لیے کاربند ہے۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ آفٹرشاکس سے محتاط رہیں۔حکام کے ساتھ تعاون کریں ۔


ریکٹر اسکیل پرزلزلے کی شدت 6.9 درج کی گئی ہے۔زلزلے کا مرکز بوگوشہر کے شمال مشرق میں تقریبًا17 کلومیٹرکے فاصلے پر تھا۔زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر اور اس کا مرکز شمالی سیبو تھا۔زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ کئی رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں اور تعلیمی ادارے شدید متاثر ہوئے۔

زلزلے کے باعث باسکٹ بال میچ کے دوران ایک اسپورٹس کمپلیکس گر گیا ۔ خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی ساحلی علاقے میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے ہیں ۔فلپائن کے انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی کے مطابق،اب تک کم از کم 225 آفٹرشاکس آچکے ہیں ۔

لیہہ پولیس نے سونم وانگچک کو کیا گرفتار، نامعلوم مقام پر لے گئی پولیس

لداخ۔ لیہہ پولیس نے جمعہ کو سونم وانگچک کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے گئی۔ حکومت نے وانگچک پر لداخ میں تشدد کو ہوا دینے والے “اشتعال انگیز بیانات” دینے کا الزام لگایا ہے۔ حکام کے مطابق، وانگچک کی قیادت میں لداخ ریاستی تحریک بدھ کے روز لیہہ میں تشدد، آتش زنی اور تشدد میں اتری، جس میں چار افراد ہلاک اور 40 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 80 زخمی ہوئے تھے ۔

مرکزی وزارت داخلہ نے 24 ستمبر کی رات کو ایک بیان میں الزام لگایا کہ ہجوم نے ایکٹوسٹ سونم وانگچک اور کچھ “سیاسی طور پر محرک” افراد کے “اشتعال انگیز بیانات” کی وجہ سے پرتشدد ہو گئے جو حکومت اور لداخی گروپوں کے نمائندوں کے درمیان بات چیت میں پیش رفت سے ناخوش تھے-

مجھ پر الزام لگاکر بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے: سونم وانگچک

تاہم موسمیاتی کارکن سونم وانگچک نے حکومت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے لداخ میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے لیے اس پر الزام لگانے کو “بلی کا بکرا” کا حربہ قرار دیتے ہوئے، انہوں نے جمعرات کو کہا، جس کا مقصد ہمالیائی خطے کے بنیادی مسائل کو حل کرنے سے گریز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ یہ (تشدد) میری طرف سے ہوا یا کانگریس نے مسئلہ کی جڑ پر توجہ دینے کے بجائے بلی کا بکرا تلاش کرنے کے مترادف ہے اور اس سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔


وانگچک نے کہا، “وہ کسی کو بلی کا بکرا بنانے کی چالاکی کر سکتے ہیں، لیکن وہ ذہین نہیں ہیں۔ اس وقت، ہم سب کو ‘چالاکی’ کے بجائے دانشمندی کی ضرورت ہے، کیونکہ نوجوان پہلے ہی مایوس ہیں۔” سونم وانگچک نے کہا، “میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مجھے گرفتار کرنے اور دو سال کے لیے جیل میں ڈالنے کا مقدمہ بنا رہے ہیں۔ میں اس کے لیے تیار ہوں، لیکن سونم وانگچک کو رہا کرنے کی بجائے جیل میں ڈالنے سے مسائل مزید بڑھیں گے۔”


لیہہ تشدد کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ، سونم وانگچک کا دفاع 

دوسری طرف، کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے جمعرات کو لداخ کے لیہہ شہر میں مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور یونین ٹیریٹری انتظامیہ سے کہا کہ وہ لوگوں کو نشانہ بنانا اور ہراساں کرنا بند کرے۔ کے ڈی اے نے موسمیاتی کارکن سونم وانگچک کا بھی دفاع کیا، جن پر حکومت نے “اشتعال انگیز بیانات” دینے کا الزام لگایا ہے۔ تنظیم نے تشدد میں مارے گئے چار مظاہرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “لداخ کے ہیرو” قرار دیا۔


لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے اپنے مطالبات بشمول لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کی حمایت میں گزشتہ چار سالوں سے مشترکہ طور پر احتجاج کر رہے ہیں اور ماضی میں حکومت کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کر چکے ہیں۔ کربلائی، جو کہ لداخ کے ایم پی حنیفہ جان اور ممتاز رہنما سجاد کرگل سمیت دیگر سینئر کے ڈی اے اراکین کے ساتھ موجود تھے، نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ افسوس ناک تھا، لیکن حکومت نے نے حالات کو جس طرح سے سنبھالا وہ “ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے” کے مترادف تھا ۔


انہوں نے کہا، “مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ اور وزارت داخلہ ان واقعات کے لیے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ہم اپنے چار مطالبات کی حمایت میں پانچ سالوں سے پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں، جن میں ریاست کا درجہ، چھٹے شیڈول کی توسیع، پبلک سروس کمیشن، اور لیہہ اور کرگل کے لیے الگ لوک سبھا سیٹ  شامل ہے


*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑بنگلہ دیش میں بڑا الٹ پھیر، صدرمحمد شہاب الدین نے دیا استعفیٰ، شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے تعطل برقرار* بنگلہ ...