نیو ایرا انگلش میڈیم اسکول اینڈ جونیئر کالج، مالیگاؤں میں،
ہم بچوں کی صرف تعلیم کا نہیں بلکہ ان کی صحت اور خوشحالی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ 🌱
پیاس اور ڈی ہائیڈریشن خاموشی سے توجہ، توانائی اور سیکھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتے ہیں۔
اسی لیے ہم نے شروع کیا ہے گھنٹہ وار پانی کی گھنٹی ⏰💦
جو ہر طالب علم اور استاد کو یاد دلاتی ہے:
رُکیں، پانی پیئیں، اور اپنے دماغ کو تازہ کریں۔
کیوں کہ ایک صحت مند اور سیراب بچہ ہی خوش، فعال اور ذہین سیکھنے والا بنتا ہے۔ 🧠💙
📢 والدین سے اپیل ہے کہ بچوں کو پانی کی بوتلیں ضرور دیں، انہیں بار بار پانی پینے کی عادت ڈالیں اور اس چھوٹی سی نیکی کو ان کی زندگی کا حصہ بنائیں۔
👉 آئیے، ہم سب مل کر ایک ایسی نسل تیار کریں جو طاقتور، باشعور اور صحت مند ہو۔
💧 پانی پیو، صحت مند رہو، ذہین بنو! 💧
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف وار کے جواب میں بھارت کو اب کیا کرنا چاہیے؟ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اس کا نسخہ دیا ہے۔ موہن بھاگوت نے آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں وجے دشمی کے موقع پراپنے خطاب میں پی ایم مودی کے سودیسی منتر کو دہرایا۔
انہوں نے ٹرمپ کے ٹیرف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی مارسب پرپڑ رہی ہے۔ بھارت پرعائد امریکی ٹیرف پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ درآمدات پر انحصار مجبوری نہیں بننی چاہیے اور سودیسی یا دیسی پیداوار کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
انہوں نے مزیدکہا کہ امریکہ کی ٹیرف پالیسی اس کے اپنے مفادات کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی تھی لیکن اس کے اثرات سب پر پڑ رہے ہیں، دنیا ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہے… کوئی ملک تنہائی میں نہیں رہ سکتا، یہ انحصار مجبوری نہیں ہونی چاہیے… ہمیں مقامی وسائل پر انحصار کرنا چاہیے اور خود انحصاری پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، ہمیں سفارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ان کے مطابق ، کوئی ملک اکیلا زندہ رہ سکتا ہے۔
نیپال کے احتجاج کا ذکر کیوں؟
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے نیپال میں حالیہ انقلاب کا بھی ذکر کیا۔ نیپال میں Zen-G انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ پڑوس میں بدامنی اچھی علامت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور حال ہی میں نیپال میں عوامی غصے کے پرتشدد پھوٹ پڑنے سے اقتدار کی تبدیلی ہمارے لیے تشویش ناک ہے۔
بھارت میں اس طرح کی بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والی قوتیں ہمارے ملک کے اندر اور باہر سرگرم ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پرتشدد احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وہ صرف انتشار پھیلاتے ہیں۔ بدامنی بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع فراہم کرتی ہے۔
قانون کے دائرے میں اختلافات کا اظہار‘
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ تنوع ہندوستان کی روایت ہے اور ہمیں اپنے اختلافات کو قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اختلافات تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان اختلافات کا اظہار قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ برادریوں کو اکسانا ناقابل قبول ہے۔ انتظامیہ کو غیر جانبداری سے کام کرنا چاہیے، لیکن نوجوانوں کو بھی چوکنا رہنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کرنی چاہیے۔ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم‘ بنام ’وہ ‘کی ذہنیت قابل قبول نہیں ہے۔
پھل کھانا ہم سبھی کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے اور یہ سن کر ہی ہم بڑے ہوئے ہیں۔ پھل ضروری وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی بیماریوں سے دور رہنے کے لیے روزانہ پھل کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ بہت سے طریقے ہیں جن سے ہم صحت مند اور لذیذ پھلوں کو اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ جب بھی آپ کو بھوک لگے اور کچھ ناشتہ کھانے کو محسوس ہو تو آپ فروٹ چاٹ بنا کر کھا سکتے ہیں۔ یہ فوری طور پر تیار ہوتا ہے اور کھانے میں بہت لذیذ ہوتا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔