بی بی سی کے مطابق حماس کے سینئرلیڈر نے کہا کہ حماس کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کی ایک اہم شرط یعنی غیر مسلح ہونا اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ قبول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یعنی مجوزہ منصوبے میں اختلافی نکات ہیں جس پر پیچ پھنس سکتا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق،قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حماس ٹرمپ کے امن منصوے کا ذمہ داری سے جائزہ لے رہا ہے۔
ادھر، امریکی صدرڈرمپ نے ایک بارپھر کہا کہ حماس کے لیے مجوزہ منصوبے پر فیصلے کے لیے حماس کے پاس تین ۔چار دن کا وقت ہے۔انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر حماس نے اس منصوبے کوتسلیم نہ کیا تواس کے ’انتہائی افسوسناک نتائج‘ ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ، اسرائیلی اور عرب لیڈران اس منصوبے کو تسلیم کرچکے ہیں، معاہدے پر اب صرف حماس کے جواب کا انتظار ہے، معاہدے سے متعلق حماس کے جواب کے منتظر ہیں بصورت دیگر بہت افسوس ناک انجام ہوگا۔ اب سب کی نظریں حماس پر ہیں۔ اگر حماس اس منصوبے کو مسترد کرتی ہے تو اسرائیل کی فوجی کارروائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کا ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس منصوبے کو ’تاریخی‘ قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل فلسطین کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ اس میں فلسطینی ریاست کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کبھی بھی دہشت گردی کوانعام نہیں دے گا۔ ان کے مطابق،ریاست کا درجہ دینا ایک سنگین غلطی ہو گی۔اس بیچ ، اسرائیلی وزیر خزانہ اسموٹرچ نے ٹرمپ کے اس منصوبے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے سفارتی ناکامی قرار دیا۔انھوں نےکہا کہ قطر کا بڑھتا ہوا کردار اور غزہ میں نئے سکیورٹی انتظامات اسرائیل کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔
فلپائن میں تباہ کن زلزلہ ، مہلوکین کی تعداد 65 سے تجاوز، راحت وامدادی کام جاری
فلپائن میں طاقت ور زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 65 سے زیادہ ہوگئی ہے ۔سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ راحت و امدادی کا م جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ ملبے میں دبے لوگوں کو نکالا جارہا ہے ۔ ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے اہلکار کے مطابق کچھ علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی خدمات میں خلل پڑا ہے، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے زلزلے سے ہوئی ہلاکتوں پرگہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ،میرا دل ان خاندانوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے۔انھوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
انھوں نے کہا کہ تمام متاثرین کے لیے وہ دعا کررہے ہیں۔ صدر مارکوس نے عوام سے چوکس رہنے اور مقامی حکام کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل بھی کی ۔انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکام بجلی کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں اور مقامی اسپتالوں میں مزید عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق،سیبو کے نائب گورنر گلین سوکو نے آج صبح ہنگامی اجلاس طلب کی اورصورتحال کا جائزہ لیا۔ نائب گورنر نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں حکومت عوام کے ساتھ ہے اور متاثرین کو ہرممکن مددپہنچانے کے لیے کاربند ہے۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ آفٹرشاکس سے محتاط رہیں۔حکام کے ساتھ تعاون کریں ۔
ریکٹر اسکیل پرزلزلے کی شدت 6.9 درج کی گئی ہے۔زلزلے کا مرکز بوگوشہر کے شمال مشرق میں تقریبًا17 کلومیٹرکے فاصلے پر تھا۔زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر اور اس کا مرکز شمالی سیبو تھا۔زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ کئی رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں اور تعلیمی ادارے شدید متاثر ہوئے۔
زلزلے کے باعث باسکٹ بال میچ کے دوران ایک اسپورٹس کمپلیکس گر گیا ۔ خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی ساحلی علاقے میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے ہیں ۔فلپائن کے انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی کے مطابق،اب تک کم از کم 225 آفٹرشاکس آچکے ہیں ۔
لیہہ پولیس نے سونم وانگچک کو کیا گرفتار، نامعلوم مقام پر لے گئی پولیسلداخ۔ لیہہ پولیس نے جمعہ کو سونم وانگچک کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے گئی۔ حکومت نے وانگچک پر لداخ میں تشدد کو ہوا دینے والے “اشتعال انگیز بیانات” دینے کا الزام لگایا ہے۔ حکام کے مطابق، وانگچک کی قیادت میں لداخ ریاستی تحریک بدھ کے روز لیہہ میں تشدد، آتش زنی اور تشدد میں اتری، جس میں چار افراد ہلاک اور 40 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 80 زخمی ہوئے تھے ۔
مرکزی وزارت داخلہ نے 24 ستمبر کی رات کو ایک بیان میں الزام لگایا کہ ہجوم نے ایکٹوسٹ سونم وانگچک اور کچھ “سیاسی طور پر محرک” افراد کے “اشتعال انگیز بیانات” کی وجہ سے پرتشدد ہو گئے جو حکومت اور لداخی گروپوں کے نمائندوں کے درمیان بات چیت میں پیش رفت سے ناخوش تھے-
مجھ پر الزام لگاکر بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے: سونم وانگچک
تاہم موسمیاتی کارکن سونم وانگچک نے حکومت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے لداخ میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے لیے اس پر الزام لگانے کو “بلی کا بکرا” کا حربہ قرار دیتے ہوئے، انہوں نے جمعرات کو کہا، جس کا مقصد ہمالیائی خطے کے بنیادی مسائل کو حل کرنے سے گریز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ یہ (تشدد) میری طرف سے ہوا یا کانگریس نے مسئلہ کی جڑ پر توجہ دینے کے بجائے بلی کا بکرا تلاش کرنے کے مترادف ہے اور اس سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔
وانگچک نے کہا، “وہ کسی کو بلی کا بکرا بنانے کی چالاکی کر سکتے ہیں، لیکن وہ ذہین نہیں ہیں۔ اس وقت، ہم سب کو ‘چالاکی’ کے بجائے دانشمندی کی ضرورت ہے، کیونکہ نوجوان پہلے ہی مایوس ہیں۔” سونم وانگچک نے کہا، “میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مجھے گرفتار کرنے اور دو سال کے لیے جیل میں ڈالنے کا مقدمہ بنا رہے ہیں۔ میں اس کے لیے تیار ہوں، لیکن سونم وانگچک کو رہا کرنے کی بجائے جیل میں ڈالنے سے مسائل مزید بڑھیں گے۔”
لیہہ تشدد کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ، سونم وانگچک کا دفاع
دوسری طرف، کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے جمعرات کو لداخ کے لیہہ شہر میں مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور یونین ٹیریٹری انتظامیہ سے کہا کہ وہ لوگوں کو نشانہ بنانا اور ہراساں کرنا بند کرے۔ کے ڈی اے نے موسمیاتی کارکن سونم وانگچک کا بھی دفاع کیا، جن پر حکومت نے “اشتعال انگیز بیانات” دینے کا الزام لگایا ہے۔ تنظیم نے تشدد میں مارے گئے چار مظاہرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “لداخ کے ہیرو” قرار دیا۔
لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے اپنے مطالبات بشمول لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کی حمایت میں گزشتہ چار سالوں سے مشترکہ طور پر احتجاج کر رہے ہیں اور ماضی میں حکومت کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کر چکے ہیں۔ کربلائی، جو کہ لداخ کے ایم پی حنیفہ جان اور ممتاز رہنما سجاد کرگل سمیت دیگر سینئر کے ڈی اے اراکین کے ساتھ موجود تھے، نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ افسوس ناک تھا، لیکن حکومت نے نے حالات کو جس طرح سے سنبھالا وہ “ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے” کے مترادف تھا ۔
انہوں نے کہا، “مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ اور وزارت داخلہ ان واقعات کے لیے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ہم اپنے چار مطالبات کی حمایت میں پانچ سالوں سے پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں، جن میں ریاست کا درجہ، چھٹے شیڈول کی توسیع، پبلک سروس کمیشن، اور لیہہ اور کرگل کے لیے الگ لوک سبھا سیٹ شامل ہے