Wednesday, 1 October 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

کے بعد پہلی بار امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن، اثر ہندوستان تک پھیل گیا، امریکی سفارت خانے نے کیا بڑا اعلان

سیاسی تعطل نے ایک بار پھر امریکی حکومت کو مفلوج کر دیا ہے۔ نئے مالی سال کے آغاز سے قبل فنڈنگ بل پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے حکومت باضابطہ طور پر بند ہوگئی ہے۔ 2018 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی حکومت نے شٹ ڈاؤن کیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔ کوئی بھی سمجھوتہ نہ کر سکا اور آدھی رات کی ڈیڈ لائن گزر گئی۔ اس کے نتیجے میں، لاکھوں وفاقی ملازمین کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا جا رہا ہے یا انہیں چھٹیوں کا سامنا ہے۔
سینیٹ کے ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے الزام لگایا کہ ریپبلکن انہیں “بلیک میل” کر رہے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے فوائد سمیت متعدد ترجیحات پر بات چیت سے انکار کر رہے ہیں۔ ریپبلکن رہنما جان تھون نے جواب دیا کہ ان کی پارٹی کو “ڈیموکریٹس کے حالات کا یرغمال” نہیں بنایا جا سکتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو ان کے پاس “وفاقی ملازمین کو فارغ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔” انہوں نے ڈیموکریٹس پر “اوپن بارڈر پالیسی” پر عمل پیرا ہونے اور “غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی” کا الزام لگایا۔

بند کا براہ راست اثر سرکاری اداروں اور خدمات پر پڑ رہا ہے۔ آخری شٹ ڈاؤن، 2018 میں ٹرمپ کی صدارت کے دوران، 34 دن تک جاری رہا، جو جدید امریکی تاریخ میں سب سے طویل تھا۔ اس وقت، تقریباً 800,000 ملازمین کو بلا معاوضہ چھٹی پر رکھا گیا تھا۔

صورتحال کو دیکھتے ہوئے سینیٹ ریپبلکنز نے بدھ کی صبح دوسری ووٹنگ کا اعلان کیا ہے تاکہ ڈیموکریٹس کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم، ڈیموکریٹک رہنماؤں حکیم جیفریز اور چک شومر نے واضح کیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے، بجٹ آفس کے ڈائریکٹر Russ Vought نے ایجنسیوں کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ شٹ ڈاؤن “ڈیموکریٹس کی جانب سے ناقابل عمل مطالبات” کی وجہ سے ہوا، اور یہ کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ بحران کب تک چلے گا۔

کچھ ڈیموکریٹس میں بھی اختلاف کے آثار ہیں۔ نیواڈا کی ڈیموکریٹک سینیٹر کیتھرین کارٹیز مستو نے ریپبلکن بل کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا، “میں مہنگے شٹ ڈاؤن کی حمایت نہیں کر سکتی، کیونکہ اس سے نیواڈا کے خاندان متاثر ہوں گے اور وائٹ ہاؤس کو مزید طاقت ملے گی۔”

شٹ ڈاؤن سے محکمہ تعلیم سب سے زیادہ متاثر!
امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر محکمہ تعلیم پر پڑ رہا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی کٹوتیوں سے پہلے ہی کمزور ہو چکا تھا۔ محکمہ نے کہا ہے کہ اس کی کچھ اہم خدمات جاری رہیں گی، بشمول وفاقی مالی امداد اور طلباء کے قرض کی ادائیگی۔ تاہم، نئی وفاقی گرانٹس روک دی جائیں گی، اور شہری حقوق کی شکایات کی تحقیقات بھی روک دی جائیں گی۔ اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق، محکمے کی 87 فیصد افرادی قوت کو فارغ کیا جا رہا ہے، جو کہ 4,100 ملازمین سے کم ہو کر تقریباً 2,500 ہو گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے محکمہ تعلیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

2018 میں 35 دن کے شٹ ڈاؤن سے 11 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا
2018 میں امریکہ میں 35 دن کا جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن انتہائی مہنگا ثابت ہوا تھا ۔ کانگریس کے بجٹ آفس (سی بی او) کی جنوری 2019 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، شٹ ڈاؤن سے امریکی معیشت کو تقریباً 11 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔
13اکتوبرسے اسمبلی کا اجلاس بلانے کی عمرعبداللہ کابینہ نے کی سفارش ، مختصرہوسکتا ہے اجلاس

عمرعبداللہ کابینہ نے اسمبلی کا اجلاس 13اکتوبر سے طلب کرنے کی لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے سفار ش کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی صدارت میں آج سرینگر میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی ۔اس اجلاس میں تمام وزراء نے شرکت کی ۔ذرائع کے مطابق ،یہ اجلاس مختصر ہوسکتا ہے ۔ممکنہ طور پر یہ اجلاس سات دنوں پر مشتمل ہوگا۔ 13 اکتوبر سے 20 اکتوبر تک ہوگا۔

خیال رہے کہ ،جموں کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت اسمبلی کے دو اجلاسوں کے درمیان چھ ماہ سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہو نا چاہیے ۔کابینہ کی سفارشات اسمبلی اجلاس کی تاریخ کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔جسے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا طلب کریں گے۔

واضح رہے کہ ، اسمبلی کے پچھلے اجلاس کی آخری نشست 29 اپریل کو ہوئی تھی، اس لیے اگلا اجلاس 28 اکتوبر سے قبل بلانا لازمی ہے۔سرینگر میں کابینہ اجلاس کے لیے گہما گہمی رہی ۔ اجلاس کے حوالے سے قیاس أرائیوں کا دوردورہ رہا۔

یاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جموں کشمیر اسمبلی کا آئندہ اجلاس کےہنگامہ خیز ہونے کے آثار ہیں ۔اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ریاستی حیثیت اور ریزرویشن جیسے حساس معاملات غالب رہیں گے۔ مہراج ملک کی گرفتاری کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ بارش اور سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں کے نتیجے میں متاثرین کے معاوضے سے متعلق معاملہ بھی اسمبلی کے اجلاس میں اٹھ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ، مون سون کے دوران، جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی ۔
یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ ،گزشتہ اسمبلی اجلاس میں، ریاستی درجے سے متعلق تین قرارداد لیپس کرگئیں۔وقف ترمیمی بل2025پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ کیا گیا۔یہ ہنگامہ وقف ترمیمی بل پر قانون سازوں کے ذریعہ پیش کی گئی تحریک التواء کو مسترد کیے جانے پر ہوا تھا ۔پچھلے سیشن میں ریزویشن کا معاملہ بھی شدومد سے اٹھایا گیا تھا۔پیپلز کانفرنس کے صدرسجاد غنی لون نے اس معاملے پر حکومت کو گھیرا تھا۔
کیا یوپی آئی پیمنٹ پرلگے گی فیس؟ ریزرو بینک کے گورنر کیا کہا ، جانیے

پچھلے کچھ مہینوں سے، یہ افواہ تھی کہ حکومت UPI لین دین پر فیس عائد کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس بھی وائرل ہوئی ہیں۔ تاہم ریزرو بینک آف انڈیا نے صورتحال کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا کا کہنا ہے UPI پر کوئی چارج نہیں لگایا جائے گا۔

منی کنٹرول کی ایک رپورٹ کے مطابق، سنجے ملہوترا نے کہا کہ اس وقت ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور یہ کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال کرنے والوں کو کوئی فیس ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ UPI ہمیشہ فری رہے گا اور لوگ اسے آسانی سے استعمال کرسکیں گ

اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور RBI دونوں UPI کو زیرو کوسٹ پلیٹ فارم کے طور پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال کرنے اور کیش لیس انڈیا کی طرف بڑھنے کی ترغیب دی جائے۔ UPI لین دین میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ہندوستان اب دنیا کی سب سے بڑی ریئل ٹائم ادائیگیوں کی منڈیوں میں سے ایک ہے۔

اس خبر کے فوراً بعد پے منٹ کمپنی Paytm کے شیئر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ NSE پر اسٹاک تقریباً 2فیصد بڑھ کر1,147 روپئےتک پہنچ گیا۔ اس طرح، گورنر کے بیان سے نہ صرف ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اعتماد بڑھا بلکہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔ یہ اعلان کہ یو پی آئی مفت رہے گا، ڈیجیٹل ادائیگی کے صارفین کے لیے ایک بڑی راحت ہے اور اس سے کیش لیس لین دین کے لیے لوگوں کا جوش بڑھے گا۔
ریپو ریٹ پر بھی فیصلہ آیا

ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کی تین روزہ میٹنگ آج بدھ کو ختم ہوئی۔ میٹنگ کے آخری دن، کمیٹی کے چیئرمین اور آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے ریپو ریٹ کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ ریپو ریٹ کو 5.50 فیصد پربرقرار رکھا گیا ہے، اس سال 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی ہے۔کمیٹی نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیاہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...