Saturday, 27 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





بنگلہ دیش میں خاموشی سے طوفان مچا گئیں خالدہ ضیا کی پوتی ، بی این پی میں کیا ہوگا مستقبل ؟
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کسی بھی جمہوری ملک کے لیے اچھی بات نہیں۔ شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد سے ہنگامہ برپا ہے۔ محمد یونس کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اقلیتوں خصوصاً ہندوؤں کی حالت زار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ادھر طارق رحمان بھی 17 سال کی جلاوطنی کے بعد واپس آئے ہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں پرتشدد مظاہرے، اقلیتوں پر حملے اور ہجومی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سب کے درمیان خالدہ ضیا کی پوتی زائمہ رحمان نے حال ہی میں بنگلہ دیشی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔

انتہا پسند طلبہ رہنما عثمان شریف ہادی کے حالیہ قتل نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ مظاہرین، جو اس کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، نے کئی مقامات پر تشدد، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کا سہارا لیا۔ان واقعات نے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بنا دیا ہے۔ شیخ حسینہ حکومت کے خلاف پرتشدد طلبہ تحریکوں کی حمایت سے برسراقتدار آنے والی یہ عبوری حکومت اب اسی تشدد پر قابو پانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت کئی شہروں میں امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ جبکہ عوامی پر مکمل پابندی کا مقصد اپنے فائدے کے لیے تھا، لیکن اس کا فائدہ بی این پی اور خالدہ ضیا کے دھڑوں کو ہوتا نظر آتا ہے۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائے اور ووٹرز کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اقلیتی ہندو برادری کے خلاف تشدد اور ماب لنچنگ نے بھی بھارت میں ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں کئی مقامات پر مظاہروں کی اطلاع ملی ہے۔ یہاں رہنے والے ہندوؤں کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی واپسی سے جہاں بی این پی کو نئی توانائی ملی ہے وہیں یہ ان کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے والا ہے۔

بنگلہ دیش میں وائرل ہوئیں خالدہ ضیا کی پوتی
خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان کی طرح ان کی پوتی جیما حمان بھی 17 سال بعد بنگلہ دیش واپس آئی ہیں۔ اس سے بنگلہ دیش کے سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ا ن کی واپسی خاموش لیکن بنگلہ دیش کی سیاست کو ہلا دینے والی رہی ۔ انہیںBNP کے نوجوان چہرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔












اگر روزانہ ایک ماہ تک لگاتار گرین ٹی پی جائے تو کیا ہوگا؟
اگر آپ مسلسل ایک ماہ تک گرین ٹی پی جائے تو یہ معمولی سی عادت جسم میں اندرونی سطح پر مثبت تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مشروب کے فائدے آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں لیکن اثر دیرپا اور مفید ہوتا ہے۔آپ کو صحت کے چند ان فوائد کے بارے میں بتاتے ہیں جو 30 روز تک گرین ٹی پی کر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
میٹابولزم میں بہتری
این ڈی ٹی وی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گرین ٹی کا استعمال جسم میں چربی جلانے اور توانائی پیدا کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
ایک ماہ کے استعمال کے بعد عام طور پر توانائی میں واضح اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، کھانا جلد ہضم ہونے لگتا ہے، پیٹ کی سوجن اور بوجھل پن میں کمی محسوس ہوتی ہے اور وزن کم کرنے والے افراد کو باقاعدگی اور بہتر رفتار محسوس ہوتی ہے۔
جلد پر اثرات
گرین ٹی میں پائے جانے والے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس جلد کی سوزش اور نقصان کم کرتے ہیں۔
ایک ماہ تک گرین ٹی کے استعمال کے بعد اکثر لوگوں کی جلد پر دانوں اور سرخی میں واضح کمی ہو سکتی ہے۔ جلد زیادہ صاف رنگت شفاف محسوس ہوتی ہے جبکہ سوزش کم ہونے کی وجہ سے چہرہ تازہ دکھنے لگتا ہے۔
گرین ٹی میں موجود ایل تھیانین اور ہلکی کیفین دماغ کو پرسکون رکھتے ہیں۔ایک مہینے تک روزانہ استعمال سے پڑھائی اور دفتر کے کام میں توجہ بڑھتی ہے، ذہنی تھکاوٹ کم ہوتی ہے، موڈ بہتر ہوتا ہے اور سوچنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت میں بہتری محسوس ہوتی ہے۔
آنتوں اور ہاضمے کی صحت بہتر ہوتی ہے
گرین ٹی قدرتی پری بائیوٹک کا کردار ادا کرتی ہے اور جسم میں صحت مند بیکٹیریا بڑھاتی ہے۔
ایک ماہ میں ہاضمے میں بہتری آتی ہے، گیس اور پیٹ پھولنے کی شکایت کم ہوتی ہے، کھانے کے بعد بوجھل پن نہیں رہتا اور آنتوں کی صحت بہتر ہونے سے مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔
دل کی صحت پر مثبت اثرات
گرین ٹی کے قدرتی اجزا خون کی شریانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور دل کے نظام پر اچھا اثر ڈالتے ہیں۔اسے روزانہ پینے سے ایل ڈی ایل یعنی خراب کولیسٹرول میں کمی آنے کی توقع ہوتی ہے، بلڈ پریشر زیادہ متوازن رہتا ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور لمبے عرصے میں دل کی بیماریوں کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
تناؤ اور بے چینی میں کمی
تحقیقات کے مطابق گرین ٹی تناؤ بڑھانے والے ہارمون کو کم کرتی ہے۔ اس کے روازنہ استعمال نیند کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے، بے چینی اور چڑچڑے پن میں کمی محسوس ہوتی ہے، روزمرہ زندگی میں جذباتی استحکام بڑھتا ہے اور ذہن زیادہ پرسکون رہتا ہے۔














پاکستان کو ’لالی پاپ‘ دکھا کر ٹرمپ حاصل کرنا چاہتے ہیں 3 بڑے اہداف، نیا آفر سن کر شہباز شریف اور عاصم منیر کے اڑے ہوش!
امریکہ نے پاکستان کو ایک پیشکش کی ہے، جو پاکستان کے بکھرتے ہوئے ریل نیٹ ورک کو دوبارہ کھڑا کر سکتی ہے۔ حال ہی میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو جدید ترین امریکی لوکوموٹوز (ریل انجن) خریدنے کی پیشکش کی ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ پاکستان ایئرلائن کی طرح ریلوے بھی مالی بحران کا شکار ہے اور پرانے انجنوں کی مرمت پر کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ تاہم اس کے بدلے امریکہ نے پاکستان کے سامنے تین بھاری شرطیں رکھ دی ہیں۔

امریکہ کی پہلی شرط
پہلی شرط یہ ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کے لائسنس کی درخواست پر غور کیا جائے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں ہائی اسپیڈ سیٹلائٹ انٹرنیٹ پہنچایا جا سکے گا۔امریکہ کی دوسری شرط
دوسری شرط ڈیجیٹل سروس ٹیکس سے متعلق ہے، اور یہ شرط پوری بھی ہو چکی ہے۔ پاکستان نے غیر ملکی ٹیک کمپنیوں پر عائد 5 فیصد ڈیجیٹل سروس ٹیکس ختم کر دیا ہے۔ امریکہ نے واضح کیا تھا کہ ان کے تجارتی مفادات کا تحفظ ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس ٹیکس کے خاتمے سے گوگل، نیٹ فلکس اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں کاروبار کرنا آسان ہو جائے گا۔امریکہ کی تیسری شرط
تیسری شرط یہ ہے کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کی چابی امریکہ کو بھی دی جائے۔ امریکہ صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی زمین میں چھپے خزانوں میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ دونوں ممالک مل کر پاکستان کے معدنی ذخائر کا جائزہ لیں گے۔ امریکہ کے پاس اس مقصد کے لیے 135 ارب ڈالر کا عالمی فنڈ موجود ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے قیمتی معدنیات نکالنے اور برآمد کرنے کے لیے جلد از جلد معاہدے کیے جائیں۔

Friday, 26 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




عاصم منیر کو ضیاء الحق جیسے انجام کی دھمکی! 1988 حادثہ کی یادیں تازہ، وہ خوف جو آج بھی عاصم منیر کو ستاتا ہے
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو برطانیہ میں ملنے والی دھمکی نے پرانی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ بریڈ فورڈ میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر احتجاج کے دوران ایک خاتون نے کہا، ’’منیر کا وہی حشر ہوگا جو جنرل ضیاء الحق کا ہوا۔‘‘ اس خطرے کا براہ راست تعلق 1988 کے پراسرار طیارہ حادثے سے ہے جس میں پاکستانی آمر جنرل ضیاء الحق ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے اس دھمکی پر برطانیہ سے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔ دریں اثنا، پاکستانی فوج کو ایک بار پھر اسی “نامعلوم خوف” نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو ضیا کی موت کے بعد سے اس کا خون بہا رہا ہے۔

آج بھی پاکستانیوں کے ذہنوں میں 1988 کا واقعہ تازہ ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو سازشوں، اسرار اور سیاسی انتشار کی مثال دیتا ہے۔ تو آئیے اس کہانی پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی فوج کی طاقت بیرونی دنیا کے لیے کتنی کمزور ہو سکتی ہے۔ضیاء الحق کون تھا؟
جنرل محمد ضیاء الحق 12 اگست 1924 کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا اور قیام پاکستان کے بعد فوج میں بھرتی ہو گئے۔ 1970 کی دہائی میں وہ تیزی سے عروج پر پہنچے اور 1976 میں جنرل ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں پاکستانی فوج کا سربراہ مقرر کیا۔ تاہم 5 جولائی 1977 کو ضیاء نے بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا دیا۔ اس کے بعد بھٹو کو گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی، اور ضیاء نے پاکستان پر 11 سال تک آمر کی حیثیت سے حکومت کی۔بہت سے ناقدین ضیاء کی حکمرانی کو مذہبی جنون پر مبنی آمریت سمجھتے ہیں، کیونکہ اس نے اسلامی نظریہ کو پاکستانی سیاسی زندگی، آئین اور پالیسیوں کی بنیاد بنانے کی کوشش کی۔ ضیاء الحق نے اسلامائزیشن کی پالیسی پر عمل کیا جس نے پاکستان کو بنیاد پرستی کی طرف لے جایا۔ اس نے مدارس، شریعت کو فروغ دیا اور افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کی حمایت کی۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کو امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ اتحاد سے اربوں ڈالر ملے۔ تاہم، اس سے صرف آئی ایس آئی اور فوج کی طاقت میں اضافہ ہوا۔

ضیاء کی موت کیسے ہوئی؟
ضیاء کا دور متنازعہ تھا۔ وہ انتخابات کے وعدے کرتے رہے لیکن انہیں ملتوی کرتے رہے۔ 1985 میں انہوں نے غیر جماعتی انتخابات کرائے لیکن اپوزیشن نے انہیں دھاندلی زدہ قرار دیا۔ اس کے بعد ضیاء نے خود کو صدر بنایا اور آرمی چیف رہے۔ 1988 تک پاکستان میں عدم استحکام بڑھنے لگا۔ معیشت تباہ ہو رہی تھی، اور نسلی فسادات بھڑک رہے تھے۔ اس دوران بے نظیر بھٹو کی ضیا کے خلاف مہم بھی زور پکڑ رہی تھی۔ ضیاء نے پھر عام انتخابات کا اعلان کیا لیکن ان کی اچانک موت نے سب کچھ بدل دیا۔

وہ دن، 17 اگست 1988، پاکستانی تاریخ کے عظیم ترین اسرار میں سے ایک ہے۔ ضیاء الحق امریکی ٹینک کے مظاہرے کو دیکھنے بہاولپور گئے تھے۔ وہاں سے واپس آکر وہ پاکستانی فضائیہ کے C-130B ہرکولیس طیارے میں سوار ہوئے۔ طیارے میں 30 افراد سوار تھے جن میں ضیا، امریکی سفیر آرنلڈ رافیل، امریکی بریگیڈیئر جنرل ہربرٹ واسم اور پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران شامل تھے۔ طیارہ 3 بج کر 46 منٹ پر بہاولپور ایئرپورٹ سے اڑان بھرا لیکن چند منٹوں کے بعد ہی اس نے ہلنا شروع کر دیا اور 3 بج کر 51 منٹ پر پھٹ گیا اور زمین سے ٹکرا گیا۔ حادثے میں جہاز میں سوار تمام 30 افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ طیارہ حادثہ کیسے ہوا؟
یہ حادثہ کوئی معمولی نہیں تھا۔ تحقیقات میں طیارے میں کوئی مکینیکل خرابی نہیں پائی گئی۔ امریکی اور پاکستانی تفتیش کاروں کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک سازش تھی۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ دھماکا خیز مواد ضیاء کو تحفے میں دیئے گئے آموں کے کریٹوں میں رکھا گیا تھا۔ یہ کریٹس طیارے میں لدے ہوئے تھے جس کے باعث دھماکہ ہوا۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ طیارے میں گیس خارج ہوئی جس سے پائلٹ بے ہوش ہو گیا اور طیارہ زمین پر گر گیا۔

حادثے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی تاہم تحقیقاتی رپورٹس نے مختلف سازشوں کے شبہات کو جنم دیا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ افغان جہاد کے لیے ضیاء کی حمایت سوویت KGB یا افغان انٹیلی جنس کی طرف سے انھیں قتل کرنے کی سازش کا باعث بنی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سوویت فوج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد ضیاء کا کام مکمل ہو گیا تھا اور امریکہ ان سے تنگ آ گیا تھا۔

ضیاء کے جانشین جنرل اسلم بیگ پر بھی شبہ تھا کیونکہ وہ آخری وقت میں طیارے میں سوار نہیں ہوئے تھے۔ پاکستانی میڈیا نے بھارتی خفیہ ایجنسی را پر الزام لگایا لیکن کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایک پاکستانی تحقیقاتی کمیشن نے 1989 میں اپنی رپورٹ پیش کی، لیکن اسے کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

بے نظیر بھٹو کی برطرفی اس کے بعد آتی ہے۔
ضیاء کی موت نے پاکستان میں فوجی حکمرانی کا خاتمہ کیا اور جمہوریت کے شعلے کو دوبارہ جلایا۔ نومبر 1988 میں عام انتخابات ہوئے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، اور بے نظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ اس تبدیلی نے نہ صرف ایک سیاسی موڑ کا نشان لگایا بلکہ اس جنگ کی علامت بھی ہے جو پاکستان فوجی حکمرانی، بنیاد پرستی اور جمہوری اصولوں کے درمیان لڑ رہا تھا۔ضیاء کے دور کو آج بھی پاکستان کا سب سے متنازعہ دور سمجھا جاتا ہے۔ حامی انہیں ایک سخت رہنما سمجھتے ہیں جس نے ملک میں استحکام لایا اور افغان جنگ میں سٹریٹجک کردار ادا کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ضیاء کے دور میں پاکستان میں اسلامی بنیاد پرستی، جمہوریت کو دبانے اور سماجی تقسیم کو جنم دیا گیا، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔














فلسطین میں نماز ادا کرنے والے شخص پر اسرائیلی فوجی نے گاڑی چڑھادی ۔۔۔ ویڈیو وائرل
اسرائیلی بربریت کی ایک اور ویڈیو وائرل:
سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے، جس میں ایک اسرائیلی ریزرو فوجی کو مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں سڑک کنارے نماز ادا کرتے ہوئے ایک فلسطینی شخص پر اپنی گاڑی چڑھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج (IDF) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ ریزرو فوجی نے ’’اپنے اختیارات کی سنگین خلاف ورزی‘‘ کی ہے، جس کے بعد اس کی فوجی سروس ختم کر دی گئی اور اس کا اسلحہ ضبط کر لیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق :
’’ ایک مسلح شخص کی جانب سے فلسطینی فرد کو گاڑی سے کچلنے کی فوٹیج موصول ہوئی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شخص ریزرو فوجی تھا۔‘‘

مقامی میڈیا کے مطابق، ملزم کو گھر میں نظر بند (ہاؤس اریسٹ) کر دیا گیا ہے۔متاثرہ فلسطینی کی حالت

واقعے کے بعد فلسطینی شخص کو طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا، تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا اور اب اپنے گھر پر موجود ہے۔
متاثرہ شخص کے والد مجدي ابو مخو نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی دونوں ٹانگوں میں شدید درد ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوجی نے ان کے بیٹے پر مرچوں والا اسپرے (Pepper Spray) بھی کیا، تاہم ویڈیو میں اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

حملہ آور کون تھا؟

متاثرہ شخص کے والد کے مطابق :
’’ حملہ آور ایک معروف اسرائیلی آبادکار (سیٹلر) ہے۔ اس نے گاؤں کے قریب ایک غیر قانونی چوکی قائم کر رکھی ہے۔ وہ دیگر آبادکاروں کے ساتھ مویشی چرانے آتا ہے، سڑک بند کرتا ہے اور مقامی لوگوں کو اشتعال دلاتا ہے۔‘‘

The Times of Israel کی رپورٹ کے مطابق، یہی شخص اس سے قبل گاؤں میں فائرنگ بھی کر چکا تھا، جسے اسرائیلی فوج نے ’’اختیارات کی سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا تھا۔

بڑھتا ہوا تشدد

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل پانچ اسرائیلی آبادکاروں کو ایک فلسطینی گھر پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں ایک آٹھ ماہ کی بچی زخمی ہو گئی تھی۔ بچی کے چہرے اور سر پر درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے ہاتھوں 1,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں درجنوں عام شہری بھی شامل ہیں۔
اسی عرصے میں فلسطینی حملوں یا اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران 44 اسرائیلی شہری اور فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں پر تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکی ہیں، مگر زیادہ تر واقعات میں ملزمان کو معمولی سزائیں یا گھر میں نظر بندی تک محدود رکھا جاتا ہے، جس سے فلسطینی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔












پانی کے محاذ پر نیا دھماکا، سندھ کے بعد چناب نشانے پر، پاکستان کو برہموس سے بھی بڑا جھٹکا
جب پاکستان نے اپنے سپانسر شدہ دہشت گردوں کے ذریعے پہلگام میں قتل عام کو ہوا دی تو اسے اندازہ نہیں تھا کہ بھارت اتنا بھیانک قدم اٹھائے گا۔ کروڑوں پاکستانی پانی کی بوند کے لیے پیاسے رہ جائیں گے۔ پہلگام حملے کے بعد بھارت نے سندھ آبی معاہدہ (IWT) کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے دریائے سندھ کے نظام پر پاور پروجیکٹ اور ڈیم بنانے کا منصوبہ بھی تیار کیا۔ اب، اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہند کی وزارت ماحولیات کی ماہر کمیٹی نے دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج II پاور پروجیکٹ کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب متعلقہ ادارے دریائے چناب پر پن بجلی کے منصوبے پر اپنا کام آگے بڑھا سکیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ دلہستی سٹیج II پروجیکٹ کا مقصد 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنا ہے۔ بھارت کا یہ فیصلہ حکمت عملی اور حکمت عملی کے لحاظ سے اہم ہے۔ درحقیقت سندھ طاس معاہدے کے جمود کے تحت دریائے چناب پاکستان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے پانی پر پڑوسی ملک کا حق ہے لیکن فی الحال ایسا نہیں ہے۔ دریائے چناب پر پاور پراجیکٹ بنانے کا فیصلہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

دریائے سندھ کے طاس میں زیر التوا بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں کو تیز کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی کوششوں کے درمیان، وزارت ماحولیات کی سیکٹرل ایکسپرٹ اپریزل کمیٹی (ای اے سی) نے جموں کشمیر کے ضلع چناب اور جموں میں دریائے چناب پر مجوزہ 260 میگاواٹ کے دلہستی مرحلے-II ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی منظوری کی سفارش کی ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ 19 دسمبر کو ہونے والی کمیٹی کی میٹنگ میں لیا گیا تھا۔ اس پروجیکٹ کو پبلک سیکٹر کی کمپنی NHPC لمیٹڈ تیار کرے گی اور اس پر 3,277.45 کروڑ روپے لاگت آنے کی توقع ہے۔ دلہستی سٹیج II موجودہ دولہستی سٹیج I پروجیکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرے گا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ دلہستی اسٹیج I، 390 میگاواٹ کا رن آف دی ریور پروجیکٹ، 2007 میں شروع کیا گیا تھا۔

سندھ طاس معاہدہ معطل
بھارت کے زیر کنٹرول دریا پاکستان کے زیر کنٹرول دریا

بیاس انڈس

راوی جہلم

ستلج چناب

دریائے چناب کے پانی کا رخ موڑنا
دلہستی اسٹیج II پروجیکٹ اسٹیج I کے موجودہ ڈیم، ریزروائر اور پاور انٹیک کو استعمال کرے گا۔ دریائے مرسودر سے پانی نکالا جائے گا اور پاکل دول پروجیکٹ کے ذریعے دلہستی ڈیم تک لایا جائے گا۔ اس انتظام کا مقصد دستیاب پانی کے وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے اضافی بجلی کی پیداوار کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، ماحولیاتی منظوری دیتے ہوئے، EAC نے یہ بھی واضح کیا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ تبدیلی دریا کی قدرتی خصوصیات اور ماحولیات کو متاثر کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ تقریباً 25 کلو میٹر کا مرسودر دریائے نکاسی آب کا علاقہ پاکل ڈل پروجیکٹ کے نیچے کی طرف جانے کے بعد پراجیکٹ کے شروع ہونے کے بعد اہم ہائیڈرولوجیکل تبدیلیوں سے گزرے گا۔بھارت کا اسٹریٹجک فیصلہ
کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ دریائے چناب کے طاس کا پانی 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی (IWT) کے تحت ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مشترک ہے اور یہ کہ دلہستی مرحلہ II منصوبے کی منصوبہ بندی معاہدے کی دفعات کے مطابق کی گئی تھی۔ تاہم، میٹنگ منٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ آبی معاہدہ 23 اپریل 2025 سے مؤثر طریقے سے معطل کر دیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے یہ قدم اس سال 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد اٹھایا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت پہلے دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کا کنٹرول تھا جب کہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں پر بھارت کا کنٹرول تھا۔ معاہدے کی معطلی کے بعد، مرکزی حکومت نے سندھ طاس میں کئی ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان منصوبوں میں ساولکوٹ، رتلے، برسر، پاکل دول، کوار، کیرو، اور کیرتھائی-1 اور 2 شامل ہیں۔ لہستی مرحلہ-2 اس جامع حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔چناب طاس میں کئی منصوبے پہلے سے کام کر رہے ہیں۔
دریائے چناب کے طاس میں ہائیڈرو پاور کے کئی بڑے منصوبے پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ ان میں کشتواڑ میں 390 میگاواٹ کا دلہستی-1 پروجیکٹ، رامبن میں 890 میگاواٹ کا بگلیہار پروجیکٹ، اور ریاسی میں 690 میگاواٹ کا سلال پروجیکٹ شامل ہے۔ رتلے (850 میگاواٹ)، کیرو (624 میگاواٹ)، اور کوار (540 میگاواٹ) جیسے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ لہستی اسٹیج-II کے اضافے سے خطے میں بجلی کی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ قومی گرڈ کو بھی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

زمین کا حصول
لہستی اسٹیج II پروجیکٹ کے لیے کل 60.3 ہیکٹر اراضی درکار ہوگی۔ ای اے سی کو جمع کرائی گئی معلومات کے مطابق، 8.26 ہیکٹر نجی زمین حاصل کی جائے گی، جس کا تعلق کشتواڑ ضلع کے بنجر اور پالمار گاؤں کے 62 خاندانوں سے ہے۔ مجوزہ پاور ہاؤس سائٹ کے قریب بنجر گاؤں میں 22 اگست کو ایک عوامی سماعت بھی منعقد کی گئی۔حکومت اور NHPC کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ضابطوں کے مطابق معاوضہ اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دلہستی اسٹیج-II پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کو مرکزی حکومت کی توانائی کی حفاظت اور آبی وسائل کی پالیسیوں میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




*میڈیا کا گرتا ہوا معیار اور نظریاتی پولرائزیشن: ایک سنگین بحران*
✍️*وسیم رضا خان*✍️
حال ہی میں 'للن ٹاپ' پر سوربھ دویدی کی جانب سے پیش کردہ پروگرام "Does God Exist?" نے ڈیجیٹل میڈیا کی اخلاقیات اور اس کے پیچھے چھپے مبینہ ایجنڈے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کے درمیان ہونے والی اس بحث کو کئی تجزیہ نگار محض ایک 'فلسفیانہ گفتگو' نہیں، بلکہ معاشرے میں دراڑیں پیدا کرنے کی ایک گہری سازش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ جب موضوع 'خدا کا وجود' تھا، تو منطقی طور پر جاوید اختر (جو کہ ایک اعلانیہ ملحد ہیں) کے سامنے کسی سناتنی عالم یا اکثریتی سماج کے فلسفی کو ہونا چاہیے تھا۔ لیکن جان بوجھ کر ایک 'مفتی' کا انتخاب کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقصد سچ کی تلاش نہیں، بلکہ ایک خاص طبقے کے اندر نظریاتی تصادم پیدا کرنا تھا۔ یہ حکمت عملی اکثر آر ایس ایس (RSS) اور دائیں بازو کے نظریات سے متاثر ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنائی جاتی ہے، جہاں گفتگو کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دیا جاتا ہے۔

سوربھ دویدی جیسے صحافیوں پر یہ الزام اکثر لگتا رہا ہے کہ وہ اپنے دیسی اور سادہ انداز کی آڑ میں ان مسائل کو ہوا دیتے ہیں جو معاشرے کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کرتے ہیں۔ جب میڈیا ادارے کسی خاص نظریے (جیسے آر ایس ایس) کے ترجمان کے طور پر کام کرنے لگتے ہیں، تو صحافت 'جمہوریت کے چوتھے ستون' سے گر کر 'اقتدار کے ہاتھ کی کٹھ پتلی' میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہوا میں زہر گھولنے کا کام صرف براہِ راست نفرت پھیلا کر نہیں، بلکہ ایسے فکری معرکے چھیڑ کر بھی کیا جاتا ہے جس کا حتمی نتیجہ سماجی تناؤ ہی ہوتا ہے۔

اس مضمون کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اگر اس بحث میں جاوید اختر کی باتیں موثر ثابت ہوتیں، تو اسے 'اسلام بمقابلہ جدیدیت' کے طور پر پیش کیا جاتا۔ اور چونکہ یہاں مفتی صاحب نے اپنے دلائل مضبوطی سے رکھے، تو اسے ایک الگ طرح کی پولرائزیشن (تقطیب) کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کھیل دوہرا ہے۔ اگر ملحد جیتتا ہے تو مذہب کو خطرے میں بتایا جاتا ہے، اور اگر مذہبی عالم جیتتا ہے تو اسے انتہا پسندی کے چشمے سے پیش کرنے کی زمین تیار کی جاتی ہے۔ اس طرح کے پروگراموں کا سب سے برا اثر 'نیوٹرل' یا سیکولر سماجی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ میڈیا کا کام عوامی مفاد کے مسائل (تعلیم، صحت، بے روزگاری) پر بات کرنا ہے، لیکن موجودہ دور میں آر ایس ایس نواز میڈیا نیٹ ورک عوام کی توجہ بھٹکانے کے لیے خدا، مذہب اور شناخت کی سیاست کو مرکزی دھارے میں بنائے رکھتا ہے۔ آج کا میڈیا جمہوریت کا پاسبان ہونے کے بجائے تنازعات کا بیوپاری بن گیا ہے۔ سوربھ دویدی جیسے صحافیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صحافت کا اصل مذہب معاشرے میں مکالمہ قائم کرنا ہے، نہ کہ اسے میدانِ جنگ میں بدلنا۔ اگر میڈیا اداروں نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو قومی مفاد سے اوپر رکھا، تو وہ معاشرے میں صرف نفرت اور زہر ہی بانٹیں گے، جس کا ازالہ آنے والی نسلیں بھی نہیں کر پائیں گی۔

میڈیا کے ذریعے معاشرے میں دراڑ پیدا کرنے کے طریقے:
جہاد کی اصطلاحات کا غلط استعمال: کئی چینلز نے 'لینڈ جہاد'، 'لو جہاد'، 'یو پی ایس سی جہاد' اور 'معاشی جہاد' جیسی اصطلاحات گھڑی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ لغت آر ایس ایس کے اس نظریے کی توسیع ہے جو ایک خاص طبقے کو 'اندرونی دشمن' کے طور پر پیش کرتی ہے۔

غیر متوازن پینل ڈسکشن: چینلز کی یہ پرانی حکمت عملی رہی ہے کہ وہ ایک طرف انتہائی لبرل (آزاد خیال) شخص کو رکھتے ہیں اور دوسری طرف کسی انتہا پسند تصویر والے شخص کو۔ اس کا مقصد کسی بامعنی نتیجے پر پہنچنا نہیں، بلکہ ناظرین کے ذہنوں میں یہ بٹھانا ہوتا ہے کہ دوسرا فریق غیر منطقی یا متعصب ہے۔

حقیقی مسائل سے توجہ بھٹکانا: جب بھی ملک میں بے روزگاری، مہنگائی یا معاشی مندی جیسے سنگین سوالات اٹھتے ہیں، تو اکثر یہ چینلز مندر-مسجد، ہندو-مسلم یا 'خدا ہے یا نہیں' جیسے جذباتی مسائل پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔ اسے 'ایجنڈا سیٹنگ' کہا جاتا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ حکمراں نظریے کو ملتا ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا 'سافٹ پروپیگنڈا': للن ٹاپ جیسے پلیٹ فارمز اپنی زبان کو بہت غیر رسمی اور 'دوستانہ' رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے موضوعات کا انتخاب (جیسے جاوید اختر بمقابلہ مفتی) اکثر اسی سماجی تقسیم کو گہرا کرتا ہے جسے ٹی وی چینل چیخ چلا کر کرتے ہیں۔ یہ 'سافٹ پروپیگنڈا' زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں آتا ہے۔

معاشرے پر اس کے طویل مدتی اثرات:
رواداری میں کمی: جب لوگ دن رات اسکرین پر مذہب اور شناخت کی لڑائی دیکھتے ہیں، تو ان کے اندر دوسری برادریوں کے تئیں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

صحافت کی ساکھ کا خاتمہ: جب صحافی سوال پوچھنے کے بجائے کسی نظریے (جیسے آر ایس ایس) کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں، تو عام آدمی کا میڈیا سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔ سوربھ دویدی جیسے صحافی نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ اگر وہ متنازع اور اشتعال انگیز موضوعات کو 'کول' (Cool) انداز میں پیش کریں گے، تو نوجوان نسل منطقی سوچ کے بجائے نظریاتی نفرت کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

میڈیا، کارپوریٹ اور سیاست: 'کرونی جرنلزم' کا جال
آج بھارت کے بیشتر بڑے میڈیا ادارے چند گنے چنے ارب پتیوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کا مقصد صحافت سے منافع کمانا کم اور اپنے دیگر کاروباری منصوبوں کے لیے حکومت سے سازگار پالیسیاں بنوانا زیادہ ہوتا ہے۔

رReliance Industries (مکیش امبانی): 'Network18' گروپ (جس میں News18، CNN-News18 اور کئی علاقائی چینلز شامل ہیں) کی ملکیت ریلائنس کے پاس ہے۔ امبانی کے اقتدار کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے ان چینلز کا جھکاؤ اکثر دائیں بازو کے ایجنڈے کی طرف رہتا ہے۔

Adani Group (گوتم اڈانی): حال ہی میں اڈانی گروپ نے NDTV حاصل کیا۔ اس کے بعد NDTV کی ادارتی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جسے ناقدین آزاد صحافت کا خاتمہ قرار دیتے ہیں۔

Aditya Birla Group: انڈیا ٹوڈے گروپ (جس کا حصہ للن ٹاپ اور آج تک ہیں) میں آدتیہ برلا گروپ کا بڑا حصہ ہے۔

میڈیا اداروں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سرکاری اشتہارات ہوتے ہیں۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں کے پاس اربوں روپے کا اشتہاری بجٹ ہوتا ہے۔ جو چینل حکومت یا اس کے نظریے (آر ایس ایس) کے خلاف رپورٹنگ کرتے ہیں، ان کے اشتہارات کاٹ دیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو چینل 'ہندو-مسلم' بحث یا سرکاری منصوبوں کی قصیدہ خوانی کرتے ہیں، انہیں بھاری فنڈنگ ملتی ہے۔ یہ معاشی دباؤ ایڈیٹرز کو 'گودی میڈیا' بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔

سوربھ دویدی کا پلیٹ فارم 'للن ٹاپ'، 'انڈیا ٹوڈے گروپ' کا حصہ ہے جس کے چیئرمین ارون پوری ہیں۔ انڈیا ٹوڈے گروپ اکثر 'بیلنسنگ ایکٹ' کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن پچھلے چند برسوں میں اس کے پروگراموں (جیسے 'ایجنڈا آج تک') میں دائیں بازو کے رہنماؤں اور نظریات کو جتنا اسٹیج ملا ہے، اس سے اس کے جھکاؤ کا پتہ چلتا ہے۔ للن ٹاپ جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اشتہارات کے علاوہ 'ویورشپ' سے پیسہ ملتا ہے۔ 'خدا بمقابلہ مفتی' جیسے متنازع تھمب نیلز اور موضوعات زیادہ کلکس اور شیئر لاتے ہیں، جس سے یوٹیوب ایڈ ریونیو بڑھتا ہے۔ یہاں تجارت اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن ایک دوسرے کے مددگار بن جاتے ہیں۔

کئی میڈیا ہاؤسز کے مالکان براہِ راست سیاست سے وابستہ ہیں:

Zee News: اس کے سابق مالک سبھاش چندرا بی جے پی کی حمایت سے راجیہ سبھا کے رکن رہے۔

Republic TV: ارنب گوسوامی کے چینل کو ابتدائی فنڈنگ دینے والوں میں راجیو چندر شیکھر شامل تھے، جو بی جے پی حکومت میں وزیر رہے۔












وارڈ نمبر 15 کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ
وارڈ نمبر 15 سے احتشام بیکری والا کس پارٹی سے امیدواری کریں اور آگے کس پارٹی سے امیدوار ہونا چاہیے—
اسی اہم فیصلے کے لیے ایک اہم مشاورتی میٹنگ آج رات 9 بجے
مسجد سعیدہ، حجن کے پاس منعقد کی گئی ہے۔
وارڈ نمبر 15 کے تمام نوجوانوں، ووٹروں اور ذمہ دار شہریوں سے گزارش ہے کہ اس میٹنگ میں ضرور شرکت کریں اور اپنے قیمتی و مفید مشوروں سے نوازیں۔
میٹنگ میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ
وارڈ کے رکے ہوئے کاموں کو کس طرح آگے بڑھایا جائے
اور کس طرح وارڈ نمبر 15 کو ایک مثالی اور بے مثال وارڈ بنایا جائے۔
یہ تمام فیصلے آنے والے کارپوریشن الیکشن میں نہایت اہم ثابت ہوں گے،
کیونکہ یہی فیصلے عوام کے ووٹ کے رخ کا تعین کریں گے۔
آپ کی شرکت، وارڈ کے مستقبل کی ضمانت ہے۔











مسجد الحرام میں خودکشی کی کوشش، سیکیورٹی اہلکار نے جان بچائی، ڈرامائی ویڈیو وائرل
شخص نے مسجد الحرام کی بالائی منزل سے لگائی چھلانگ :
ایک ڈرامائی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے سعودی عرب کے مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کی بالائی منزل سے کود کر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن ایک سیکیورٹی افسر نے فوری مداخلت کی اور شخص کے گرنے سے پہلے اسے پکڑ کر بچایا، جس کے دوران دونوں زخمی ہوگئے۔

امارت مکہ المکرمہ نے بتایا کہ مسجد الحرام کی سیکیورٹی کے لیے تعینات خصوصی فورس نے فوری کارروائی کی جب شخص نے بالائی منزل سے چھلانگ لگائی۔ ایک افسر زخمی ہوا، جب اس نے شخص کو زمین سے ٹکرانے سے روکا؛ حکام کے مطابق افسر کو ہلکی چوٹیں آئیں اور یہ صرف فریکچر تک محدود رہی۔

حرمین شریفین کی سیکیورٹی فورسز نے ایک بیان میں کہا، ’’ایک شخص نے مسجد الحرام کی بالائی منزل سے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا، ’’ایک سیکیورٹی افسر زخمی ہوا جب اس نے شخص کو زمین سے ٹکرانے سے روکا۔ دونوں افراد کو فوری طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا اور تمام قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔‘‘آن لائن گردش کرنے والے فوٹیج میں دکھایا گیا کہ شخص بالائی منزل کی جانب بڑھ رہا تھا اور کود گیا، جس پر سیکیورٹی افسران نے فوری طور پر اسے روکنے کی کوشش کی۔ نیچے کھڑے ایک گارڈ نے شخص کے گرنے سے بچانے کی کوشش کی، جس کے دوران دونوں زخمی ہوئے۔

مسجد الحرام کے چیف امام، شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے زائرین پر زور دیا کہ وہ قواعد و ضوابط کی پابندی کریں، مقدس مقام کی حرمت کا احترام کریں، اسلامی آداب کا خیال رکھیں اور عبادت و اطاعت میں مشغول رہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ چند افراد، اگرچہ تعداد میں بہت کم، بالائی منزل سے کود کر خودکشی کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ شریعت اسلامی کے تحت سختی سے ممنوع ہے۔

مکہ المکرمہ کے حکام نے بتایا کہ قانونی کارروائی متعلقہ قوانین کے مطابق مکمل کی جا رہی ہے۔ 2017 میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جب ایک شخص کعبہ کے قریب بالائی منزل سے کود کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جبکہ ہزاروں زائرین نماز ادا کر رہے تھے۔

خودکشی کے واقعات مکہ مکرمہ میں بہت کم ہوتے ہیں، لیکن مسجد الحرام کی ہجوم بھری بالائی منزلیں خطرہ بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اپنے تربیت یافتہ عملے کے ذریعے ایسے کسی بھی واقعے کو فوری روکنے کے لیے ہنگامی کارروائی کی۔ اسلام میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*





*تیری رحمتوں کا دریا سرعام چل رہا ہے*
ایک بار پھر اللہ پاک کی نوازش کا شکریہ ادا کرتے یہ خبر دیتے ہوئے بڑی مسرت ہورہی ہے ہزل خوانی کے مقابلے میں بھی اللہ پاک نے سرخروئی عطا کی ہے 
آج بروز جمعرات 25 دسمبر 2025 کو *خاتون حجن اسکول* کے زیر اہتمام *آل مالیگاؤں ہزل خوانی مقابلے* میں *شیخ امام پرائمری اسکول* مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر نے شرکت کرتے ہوئے *دوم اعزازی انعام* سے سرفراز ہوئی۔
جماعت سوم۔کے طالب علم *محمد احتشام شیخ اختر* نے اسکول ہذا کے اساتذہ *آصف اقبال سر* اور *زاہد امین سر* کی نگرانی و رہنمائی میں اپنی بہترین فنی صلاحیت کو پیش کرکے حاضرین، ناظرین، سامعین اور منصفین کو گدگدانے مسکرانے اور قہقمے لگانے پر مجبور کیا اور 31 امیداوروں کے درمیان دوسرا اعزازی انعام حاصل کیا۔اس اہم کامیابی پر شیخ امام پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر شیخ تنویر سر، آصف اقبال سر ،زاہد امین سر ،طالب علم محمد احتشام اور دیگر اسٹاف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ پاک سے دعا گو ہیں کہ اللہ پاک اپنی رحمتوں کا نزول یونہی جاری رکھے ۔۔آمین ثم آمین یارب العالمین ۔











جنتا دل امیدواروں نے امیدواری فارم بھرنے کی تیاری شروع کردیں۔ A/B فارم آگئے ہیں۔عبدالخالق صدیقی صدر JDS مالیگاؤں
                    جن جن افراد نے جنتادل سیکولر مالیگاؤں سے امیدواری کرنے کی خواہش کیئے تھےایسے تمام افراد امیدواری فارم بھرنے کی تیاری شرروع کردیں کیونکہ پارٹی کا A/B فارم آگیا امیدواری کرنے کی خاص شرطذیل کے مطابق ہے
                 تاریخ 19 جنوری سے شروع ہونے والی جنتادل تحریک میں آپ بھی حصہ لوگے۔۔۔۔تحریک یہ ہوگی (1) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں آبادی کی مناسبت سے نوکر بھرتی کیجائے (2) جنم داخلہ معاملہ میں قید افراد کی رہائی کرکے مقدمات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے اور مقدمات کو واپس لیا جائے(3) جن کی عمر 20 سال سے زائد ہے اور انکے پاس اسکول خارجہ سرٹیفیکیٹ ہے انکے جنم داخلہ بنانے کا کام جاری کیا جائے۔۔۔تحصیلدار کو جنم داخلہ۔ آدیس دینے کا حکم سرکار دے یا کسی بھی سرکاری محکمہ۔۔عدالت کو ذمہ داری دیجائے۔ان تحریکوں میں جنکو ساتھ رہنا ہے وہی جنتادل سیکولر سے امیدواری کرسکتا ہے۔۔فقط عبدالخالق صدیقی صدر JDS نائب صدور۔۔عبدالغفار عبدالستار۔عبدالودود سالکی اشرفی۔۔شبیر احمد محمد حنیف۔سکریٹری ایڈوکیٹ عبدالرحمان انصاری












*سچ کی آواز، عوام کی امید — مشتاق محاذ سر*
کچھ لوگ سیاست میں صرف عہدے کے حصول کے لیے آتے ہیں، اور کچھ لوگ عہدے کو خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ *مشتاق محاذ سر انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے قلم کو طاقت بنایا، سچ کو اپنا ہتھیار بنایا اور ہر دور میں مظلوم کی آواز بن کر حق کا ساتھ دیا۔*

مشتاق محاذ سر نہ صرف سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی ایک باشعور شخصیت ہیں بلکہ ایک بہترین اور بااصول صحافی بھی ہیں۔ تقریباً ۲۰ برسوں سے وہ شہرِ مالیگاؤں کی مظلوم عوام کی آواز کو ایوانِ اقتدار، سرکاری دفاتر اور انتظامیہ تک پہنچاتے رہے ہیں۔ بطور صحافی انہوں نے ہمیشہ طاقت کے مراکز سے سوال کیے، ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے اور وہ بات کہی جسے کہنے کی ہمت بہت کم لوگ کرتے ہیں۔

ان کی تحریر میں سچ کی گرمی، آواز میں درد کی گونج اور موقف میں اصولوں کی مضبوطی صاف جھلکتی ہے۔ *صحافت کے ساتھ ساتھ مشتاق محاذ سر گزشتہ ۱۵ برسوں سے تدریس و تعلیم کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔ وہ M.A، B.Ed کے ساتھ ساتھ مختلف ڈگریوں کے حامل ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت ہیں، جنہوں نے بطور معلم نسلِ نو کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے وہ شہر میں ایک سنجیدہ، باوقار اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔*

آج جب مشتاق محاذ سر ایس ڈی پی آئی کے ریاستی کمیٹی رکن کی حیثیت سے عملی سیاست میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، تو یہ محض ایک عہدہ نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، پارٹی کے نظریے اور انصاف و برابری کی جدوجہد کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔

مشتاق محاذ سر کی سیاست موقع پرستی پر نہیں بلکہ نظریے اور اصولوں پر مبنی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ خاموشی بھی ایک جرم ہوتی ہے، اسی لیے وہ خاموش نہیں رہتے۔ چاہے مسئلہ غریب کا ہو، نوجوانوں کا ہو یا سماج میں پھیلتی ناانصافی کا—وہ ہر محاذ پر عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈٹ کر کھڑے نظر آتے ہیں۔

*ان میں نہ صرف ایک بہترین لیڈر کی صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ ایک کامیاب صحافی، مؤثر سماجی کارکن اور عوامی مسائل کو حل کرنے کی عملی صلاحیت رکھنے والی شخصیت بھی ہیں۔ مشتاق محاذ سر جب بھی کسی مسئلے کو دیکھتے ہیں، اسے سنجیدگی سے سمجھتے ہیں اور پوری قوت کے ساتھ اس پر آواز بلند کرتے ہیں۔*

ایس ڈی پی آئی کا پیغام “Power to People” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے، اور مشتاق محاذ سر اس عہد کی زندہ مثال ہیں۔ وہ سیاست کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھتے ہیں، اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ مانتے ہیں۔

*آج وارڈ نمبر 04 کے عوام کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو بولے تو سچ بولے، چلے تو عوام کے ساتھ چلے، اور لڑے تو حق کے لیے لڑے۔*
*مشتاق محاذ سر اسی امید، اسی یقین اور اسی حوصلے کا نام ہیں۔*

یہ انتخاب صرف ووٹ ڈالنے کا نہیں،
یہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے
کا انتخاب ہے۔

*🔴سیف نیوز بلاگر*




دیامر بھاشا ڈیم کے مقام پر ہزاروں سال قدیم پتھر کیا کہانی سناتے ہیں؟
پاکستان کا دیامر بھاشا ڈیم اپنی تعمیر مکمل ہونے پر ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا جس سے 4800 میگاواٹ کے قریب بجلی حاصل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ تربیلا ڈیم کی زندگی میں بھی اضافہ ہوگا۔

تاہم سات ہزار سال قبل از مسیح سے لے کر 16 ویں صدی عیسوی تک کے مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ ہزار اہم ترین تاریخی پہاڑی نقش و نگار اس ڈیم کے مکمل ہونے پر زیر آب آسکتے ہیں۔کئی برسوں تک پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پرانے ادوار کے حوالے سے تحقیقات کرنے والے محقق ڈاکر جیسن نیلِس کہتے ہیں کہ جب سے قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں کی طرف جانے کا راستہ شاہراہ قراقرم کھلا ہے۔ اس وقت سے اب تک پاکستانی اور یورپی ماہرین نے 30 ہزار سے لے کر 50 ہزار تک پہاڑی نقش و نگار اور پانچ ہزار کے قریب مختلف قسم کی لکھائیوں کے کتبے دریافت کیے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیوں پر مشتمل آثار قدیمہ کے خزانے دریائے سندھ کے آس پاس گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں موجود ہیں۔

بیسویں صدی میں تعمیر ہونے والی شاہراہِ قراقرم پاکستان کو چین کے علاقے سنکیانگ سے ملاتی ہے جس کے ذریعے پاکستان کا زمینی رابطہ وسطی ایشیا تک سے ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر جیسن نیلس کا کہنا تھا کہ یہ پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیاں ہمیں بتاتے ہیں کہ (اس شاہراہ کی تعمیر سے قبل) قدیم دور میں سیاح کس طرح ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں میں مختلف راستوں پر سفر کیا کرتے تھے۔
ان پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیوں سے ہمیں شمالی علاقہ جات میں بسنے والے قدیم لوگوں کے عقائد اور ثقافت دیکھنے اور سمجھنے کے علاوہ یہاں دنیا کے دوسرے خطوں سے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے بارے میں بھی پتا چلتا ہے۔یہ پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیاں کیا بتاتی ہیں؟
گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں موجود تھلپن کے گاؤں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ڈیم کا شکار ہوسکتا ہے۔ تھلپن میں اب تک ماہرین کئی قدیم پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیاں دریافت کر چکے ہیں۔ڈاکٹر جیسن نے تھلپن میں موجود ایک ایسی ہی چٹان پر نقش و نگار کے حوالے سے بتایا کہ اس علاقے میں موجود پتھروں پر موجود جانوروں، انسانوں اور کچھ نشانیوں کے خاکے قبل از تاریخ اور بعد از تاریخ کی ہیں، جس میں زیادہ تر ماخور، پہاڑی بکروں اور دیگر جانوروں کی ہیں، جبکہ شکاریوں اور گھڑ سواروں کے علاوہ مختلف دیگر نشانات اور عمارات ہیں جن کا تعلق ہر عہد سے ہے۔

اسی طرح چلاس ہی میں موجود کچھ پہاڑوں پر موجود پرانی لکھائیوں کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ کچھ لکھائیاں سابق ادوار کی اہم شخصیات کے حوالے سے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چلاس میں پہاڑی نقوش و نگار، کچھ تصاویر اور نشانات کے علاوہ یہاں جنوبی ایشیا، ایران اور وسطی ایشیا کی پرانی زبانوں میں لکھائیاں بھی موجود ہیں۔ شروع کی لکھائیاں گندھارا زبان میں ہیں جو کہ خروستی رسم الخط میں ہیں، جو اس علاقے میں دو ہزار سے 17 سو سال پہلے کی ہیں۔

اس پر موجود خاکے بالادیوا، واسودیوا اور راہولہ کے نام کے ساتھ خروستی رسم الخط کے ساتھ کندہ ہیں۔ایک اور پہاڑی نقش کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر جیسن نیلس کا کہنا تھا کہ بدھ مت کی اس ڈرائنگ میں گندھارا زبان میں لکھائی ہوئی ہے جو کہ بتاتی ہے کہ بخش یعنی راہب سٹوپا کی عمارت میں عبادت کر رہے ہیں۔

یہ پہاڑی نقش و نگار ٹیکسلا، سوات اور گندھارا میں موجود آثارقدیمہ سے ملتے جلتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر جیسن نیلس کے مطابق دریائے سندھ کے آر پار سٹوپا کے اور بھی خاکے موجود ہیں جن میں لکھائیاں برہمی رسم الخط میں ہیں جن کو سنسکرت زبان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ کوئی 1500 سال پرانی اور غالباً گندھارا زبان کے بعد کے دور کی ہیں۔ ان پر موجود خاکوں میں گوتم بدھ اور ان کے پہلے پانچ طالب علموں کی عکاسی کی گئی ہے۔مانا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنا پہلا درس انڈیا کے شہر بنارس کے قریب واقع سرناتھ میں ہرنوں کے پارک میں دیا تھا، اسی لیے ان خاکوں میں ہرن بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر جیسن کے مطابق ایک اور پہاڑی نقش جن میں شکاریوں، مختلف آلات، نشانات اور پہاڑی بکرے کی تصاویر ہیں سے اندازہ ہے کہ یہ بدھ ازم کے دور کے بعد کی تصاویر ہیں، جن میں عقائد اور تہذیب و تمدن تبدیل ہو رہے ہیں۔ثقافی ورثے کا مستقبل
اس بارے میں دو رائے نہیں پائی جاتی ہیں کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی صورت میں یہ قدیم ورثہ بہرحال اپنی اصل حالت میں موجود نہیں رہے گا، جس کے بعد پوری دنیا کے ماہرین میں یہ بات زیر موضوع ہے کہ اس کو کس طرح محفوظ کیا جائے۔ڈاکٹر جیسن کا کہنا تھا کہ اس ورثہ کا کچھ نہ کچھ حصہ تو مختلف صورتوں میں محفوظ ہے۔ پاکستانی دانشور مرحوم پروفیسر احمد حسن دانی کی کتابوں کے علاوہ جرمنی کی ہائیڈلبرگ یونیورسٹی کے تحقیق دانوں کی پاکستان کے شمالی علاقہ جات پر کتب کے پانچ شمارے چھپ چکے ہیں۔ یہ کتب انتہائی قیمتی ہیں، مگر ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔اس کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید طریقے اختیار کر کے ان قیمتی نقوش و نگار اور لکھائیوں کو محفوظ کیا جائے تاکہ ثافتی ورثے کو نقصان سے بچایا جاسکے۔واپڈا کا مؤقف
یہ ڈیم پاکستان میں آبی ذخائر اور توانائی کے ذرائع کے لیے ذمہ دار ادارے واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے زیرِ انتظام ہو گا۔

ادارے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے مرکزی ڈیم پر تعمیراتی کام کے آغاز کے ساتھ ساتھ منصوبے کی تعمیر کے حوالے سے اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت واپڈا پراجیکٹ کے علاقے میں ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لیے مینیجمنٹ پلان پر بھی کام شروع کر رہا ہے۔

مینجمنٹ پلان کا مقصد دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے باعث زیرِ آب آنے والی چٹانوں پر نقش کی گئی تصویروں اور تحریروں کو محفوظ بنانا ہوگا، جبکہ اس سلسلے میں چلاس قلعے کی بحالی اور تزئین و آرائش کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ یہاں ایک میوزیم قائم کیا جائے گا اور گلگت بلتستان خصوصاً چلاس اور اِس کے ارد گرد واقع علاقوں میں ثقافتی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

واپڈا کے مطابق ثقافتی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے مینیجمنٹ پلان ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسکو سمیت عالمی سطح پر معروف ماہرین نے تیار کیا ہے۔

اِن بین الاقوامی ماہرین میں چند برس قبل وفات پانے والے ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی میں منقش چٹانوں اور تحریروں کے ادارے سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر ہیرالڈ ہاپٹ مین بھی شامل تھے۔

واپڈا کے مطابق تقریباً پانچ ہزار اہم ترین تاریخی پہاڑی نقش و نگار کی تھری ڈی سکیننگ کی جائے گی۔ ان کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ جن پتھروں کو منتقل کرنا ممکن ہوا انھیں محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا اور جن پہاڑی نقش و نگار کو منتقل کرنا ممکن نہیں ہوا اُن کی نقول تیار کی جائیں گی۔

واپڈا کے مطابق تعمیراتی کام کے دوران تاریخی پہاڑی نقوش و نگار کے تحفظ کے لیے سائٹ پر بینرز، سکرین اور علامات سمیت دیگر تمام احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جائیں گی۔











گڑگاؤں: شادی سے انکار پر خاتون کو ماردی گولی ۔ پولیس نے ملزم کو کیاگرفتار
گڑگاؤں میں ایک نائٹ کلب کے قریب 25 سالہ خاتون کو شادی کی پیشکش مسترد کرنے پر گولی مار دی گئی۔ پولیس نے اس واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ واقعہ 20 دسمبر کی علی الصبح اس وقت پیش آیا جب متاثرہ خاتون، جس کی شناخت کلپنا کے نام سے ہوئی ہے، اس نائٹ کلب کے قریب موجود تھیں جہاں وہ کام کرتی تھیں۔ پولیس کے مطابق انہیں میکس اسپتال سے اطلاع ملی کہ ایک زخمی خاتون کو داخل کرایا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ڈی ایل ایف سیکٹر 29 پولیس اسٹیشن کے تحت ایم جی روڈ پولیس پوسٹ کی ٹیم اسپتال پہنچی اور خاتون کی میڈیکو لیگل رپورٹ حاصل کی۔ ڈاکٹروں نے خاتون کو بیان دینے کے لیے نااہل قرار دیا۔کلپنا کے شوہر، جو نجف گڑھ میں رہتے ہیں، اطلاع ملتے ہی اسپتال پہنچے اور پولیس کو تحریری شکایت دی۔ شوہر کے مطابق کلپنا 19 دسمبر کی شام روز کی طرح کام پر گئی تھیں۔ رات تقریباً ایک بجے کلپنا نے فون کر کے بتایا کہ تشار نامی شخص نے انہیں پیٹ میں گولی مار دی ہے اور انہیں اسپتال لے جایا جا رہا ہے۔
شکایت میں بتایا گیا کہ تشار، جو دہلی کے سنگم وہار کا رہائشی ہے، گزشتہ کئی مہینوں سے کلپنا کو شادی کے لیے مسلسل ہراساں کر رہا تھا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ کلپنا پہلے سے شادی شدہ ہیں۔ کلپنا نے بارہا اس کی پیشکش کو مسترد کیا۔ تقریباً ایک ماہ قبل تشار نے ان کے محلے میں آ کر ہنگامہ کیا اور ان کے گھر پر فائرنگ بھی کی تھی، جس پر اس وقت بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

شکایت کی بنیاد پر کرائم برانچ سیکٹر 40 اور ایم جی روڈ پولیس پوسٹ کی مشترکہ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے 25 دسمبر کو اتر پردیش کے شہر براوت سے دو ملزمان کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد کی شناخت تشار عرف جونٹی (25) اور شبھم عرف جانی (24) کے طور پر ہوئی ہے۔

پولیس تفتیش کے دوران تشار نے اعتراف کیا کہ اس کی کلپنا سے تقریباً چھ ماہ قبل دوستی ہوئی تھی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ واقعے کی رات وہ شبھم کے ساتھ نائٹ کلب گیا اور ایک بار پھر شادی کی پیشکش کی۔ جب کلپنا نے انکار کیا تو اس نے پستول سے اسے گولی مار دی۔

پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔












وزن کم کرتے وقت کن تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
زیادہ تر لوگ جب اپنی فٹنس یا وزن کم کرنے کے سفر کی شروعات کرتے ہیں تو وہ فوری نتائج کے پیچھے بھاگتے ہیں; کریش ڈائٹس، تیز رفتار چیلنجز اور جلد از جلد ’دبلے‘ ہونے کی خواہش۔ مگر پائیدار بہتری نہ خود کو فاقوں پر رکھنے سے آتی ہے اور نہ ہی بے تحاشہ کیلوریز خرچ کرنے سے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اصل تبدیلی آہستہ، مسلسل چربی کم کرنے اور مسلز بنانے سے آتی ہے، جو طویل عرصے تک وزن کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قلیل مدتی ڈرامائی نتائج کے بجائے طاقت اور دیرپا عادات کو ترجیح دینا ہی جسم اور صحت میں حقیقی تبدیلی لاتا ہے۔’سلو برن میتھڈ‘ کے بانی، کوآڈ فٹنس کے شریک بانی اور ہیڈ کوچ، اور کتاب ’سمپل، ناٹ ایزی‘ کے مصنف فٹنس ٹرینر راج گنپتھ نے وزن کم کرنے کے آغاز سے متعلق تین اہم مگر اکثر نظر انداز کیے جانے والے حقائق بیان کیے ہیں۔
ایک انسٹاگرام ویڈیو میں انہوں نے واضح کیا کہ کیوں آہستہ اور مسلسل پیش رفت تیز رفتار پروگراموں کے مقابلے میں بہتر ہے، اور کیوں مقصد صرف ’دبلے‘ ہونا نہیں بلکہ لین اور مضبوط بننا ہونا چاہیے۔
سست رفتاری سے وزن میں کمی زیادہ پائیدار
راج کے مطابق وزن میں کمی کبھی صرف چربی میں کمی نہیں ہوتی؛ اس میں مسلز کا کم ہونا بھی شامل ہوتا ہے، چاہے آپ کوئی بھی ڈائیٹ فالو کر رہے ہوں یا جتنی بھی ورزش کر رہے ہوں۔ البتہ جب وزن دوبارہ بڑھتا ہے تو کھوئے ہوئے مسلز واپس نہیں آتے، بلکہ ان کی جگہ چربی لے لیتی ہے۔زیادہ مسلز کا مطلب زیادہ چربی کا خاتمہ
زیادہ تر لوگ وزن کم کرنے کے لیے کارڈیو، کیلوریز جلانے اور کم کھانے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن راج کے مطابق اصل ترجیح مسلز بنانا ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’جتنے زیادہ مسلز ہوں گے، اتنی ہی آپ کا میٹابولک ریٹ زیادہ ہو گا۔ اگر آپ وزن کو منظم رکھنا اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو جتنے زیادہ ہو سکے مسلز بنائیں۔‘
دبلے ہونے کے بجائے مضبوط بننے پر توجہ دیں
راج نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’دبلے ہونا تقریباً بے فائدہ ہے۔ اگر آپ زیادہ وزن کے حامل ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ دبلے ہونا ہی حل ہے۔ مگر دبلے کا مطلب کم توانائی، کمزور ہڈیاں، تھکاوٹ اور ڈھیلا جسم ہے۔‘انہوں نے واضح کیا کہ اصل ہدف لین اور مضبوط ہونا چاہیے۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ غیرضروری وزن، یعنی چربی کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے، جبکہ ضروری مسلز، ہڈیاں، اور اعضا کو محفوظ رکھا جائے۔‘

*🔴سیف نیوز بلاگر*




 بی جے پی-جے ڈی یو میں کابینہ توسیع پراتفاق، 12 نئے چہرے ہوسکتے ہیں شامل، کسی مسلم کو شامل کئے جانے پر تعطل برقرار
نئی دہلی: بہارمیں نئی حکومت کی تشکیل 20 نومبر 2025 کوہوئی تھی۔ اسی دن نتیش کمار نے دسویں بار بہارکے وزیراعلیٰ عہدے کا حلف لیا تھا۔ اب نتیش حکومت کے کابینہ توسیع کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں بہارکابینہ کی توسیع ہوسکتی ہے۔ اس سے متعلق این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں میں بھی رضا مندی بن گئی ہے۔ کابینہ توسیع سے متعلق قیاس آرائیاں تیزہوگئی ہیں۔ جنوری میں بہارکابینہ میں خالی عہدوں کوبھرنے کے لئے توسیع ہوگی۔ بی جے پی اور جے ڈی یوقیادت کے درمیان بہارکابینہ کی توسیع سے متعلق رضا مندی بن گئی ہے۔ ابھی نتیش کابینہ میں وزیراعلیٰ سمیت 24 وزرا ہیں جبکہ کل 36 وزیربنائے جاسکتے ہیں۔ ایسے میں ابھی 11 سے 12 نئے وزیرشامل ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم مودی سے نتیش کمارکی ملاقات










فضائیہ کے لیے جدید میزائل نظام، وزارت دفاع آج بڑے دیسی دفاعی منصوبوں کو دے سکتی ہے منظوری
نئی دہلی: وزارت دفاع کی اعلیٰ ترین خریداری کمیٹی، ڈیفنس ایکوزیشن کونسل (DAC)، آج ایک اہم اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے جس میں بھارتی مسلح افواج کے لیے کئی بڑے دیسی دفاعی منصوبوں کو منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ ان منصوبوں میں دہلی این سی آر کو فضائی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کردہ مربوط فضائی دفاعی ہتھیاروں کا نظام بھی شامل ہے۔

بھارتی فوج کے لیے ڈرون اور لوئٹرنگ میونیشنز

اجلاس میں بھارتی فوج کی ڈرون صلاحیتوں میں اضافے کے تحت تقریباً 850 لوئٹرنگ میونیشنز کی خریداری پر بھی فیصلہ متوقع ہے۔ ان ہتھیاروں کا مقصد میدان جنگ میں نگرانی اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

بحریہ کے لیے فضائی دفاعی نظام

بھارتی بحریہ کی جانب سے جنگی جہازوں کو فضائی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (میڈیم رینج سرفیس ٹو ایئر میزائل) نظام کی بڑی تعداد میں دیسی ذرائع سے خریداری کی تجویز بھی زیرِ غور آنے کی امید ہے۔
سی گارڈین ڈرونز پر فیصلہ متوقع

اجلاس میں امریکہ سے تقریباً تین سال کے لیے دو سی گارڈین MQ-9B ہائی آلٹی ٹیوڈ لانگ اینڈیورنس ڈرونز کو لیز پر لینے کے معاملے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت پہلے ہی 31 ایسے ڈرونز کی خریداری کا معاہدہ کر چکا ہے، جن کی ترسیل 2028 سے شروع ہونے کی توقع ہے۔

فضائیہ کے لیے جدید میزائل نظام

وزارت دفاع بھارتی فضائیہ کے لیے 200 کلومیٹر سے زائد مار کرنے والے آسترا مارک-2 فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی بڑی تعداد کی تیاری اور خریداری کو بھی منظوری دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مخصوص تعداد میں میٹیور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی خریداری پر بھی غور متوقع ہے۔

ٹینکوں کی مرمت اور جدید کاری

بھارتی فوج نے 200 ٹی-90 ٹینکوں کی دیسی سطح پر مرمت اور اوورہالنگ کی تجویز بھی پیش کی ہے، جسے دفاعی شعبے کے سرکاری ادارے کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔

دیگر اہم دفاعی تجاویز

اجلاس میں بھارتی فضائیہ کے لیے اسرائیل سے اسپائس-1000 فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی بڑی تعداد کی خریداری پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے چھ طیاروں کی خریداری کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا، جس میں اسرائیلی ایئرکرافٹ انڈسٹریز واحد سپلائر کے طور پر شامل ہے۔

پینا کا راکٹ نظام کی توسیع

ڈیفنس ایکوزیشن کونسل 120 کلومیٹر تک مار کرنے والے پناکا راکٹوں کی تیاری اور منظوری پر بھی غور کر سکتی ہے۔ یہ راکٹ اسی لانچر سے فائر کیے جا سکیں گے جو 45 اور 80 کلومیٹر رینج والے پناکا راکٹوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔











کینیڈا کے ٹورنٹو میں ہمانشی کُھرانہ کے بعد شِوانک اوستھی کا گولی مار کر قتل
نئی دہلی: کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں گزشتہ چھ دنوں کے دوران دو بھارتی شہریوں کے قتل نے بھارتی برادری میں شدید تشویش اور غم کی لہر پائی جارہی ہے۔ ایک واقعے میں 30 سالہ بھارتی خاتون ہیمانشی کھورانہ کی لاش ایک گھر کے اندر سے ملی، جب کہ دوسرے واقعے میں 20 سالہ بھارتی میڈیکل طالب علم شیوانک اوستھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ دونوں واقعات نے نہ صرف کینیڈا میں مقیم بھارتیوں کو خوفزدہ کر دیا ہے، بلکہ بیرونِ ملک طلبہ کی سلامتی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ہیمانشی کھورانہ، جو ٹورنٹو میں رہائش پذیر تھیں اور سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئیٹر کے طور پر سرگرم تھیں، 19 دسمبر 2025 کی رات تقریباً 10 بج کر 41 منٹ پر لاپتہ ہوگئیں۔ ان کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی،قابل ذکر بات یہ ہےکہ اگلی صبح 20 دسمبر کو تقریباً 6 بج کر 30 منٹ پر ان کی لاش اسٹریچن ایونیو اور ویلنگٹن اسٹریٹ ویسٹ کے علاقے میں ایک مکان کے اندر سے برآمد ہوئی۔ ٹورنٹو پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس موت کو قتل قرار دیا اور باقاعدہ تفتیش شروع کر دی۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ قریبی تعلقات میں تشدد، یعنی انٹی میٹ پارٹنر وائلنس کا معاملہ ہو سکتا ہے، کیونکہ مقتولہ اور مشتبہ شخص ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے۔ اس کیس میں 32 سالہ ٹورنٹو کے رہائشی عبدالغفور کے خلاف فرسٹ ڈگری مرڈر کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور پورے کینیڈا میں اس کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ پولیس عوام سے اپیل کر رہی ہے کہ اگر کسی کے پاس ملزم سے متعلق کوئی اطلاع ہو تو فوراً رابطہ کریں۔ یہ ٹورنٹو میں سال 2025 کی 40ویں قتل کی واردات تھی۔دوسری جانب 23 دسمبر 2025 کو ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس میں 20 سالہ بھارتی طالب علم شیوانک اوستھی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ شیوانک یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے اسکاربرو کیمپس میں لائف سائنسز میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ یہ واقعہ سہ پہر تقریباً 3 بج کر 34 منٹ پر ہائی لینڈ کریک ٹریل اور اولڈ کنگسٹن روڈ کے قریب پیش آیا، جو کیمپس کے نہایت قریب واقع ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، مگر شیوانک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔ حملہ آور پولیس کے پہنچنے سے قبل فرار ہو گئے۔

تحقیقات کے دوران یونیورسٹی کیمپس میں عارضی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ پولیس نے شیوانک کی تصویر جاری کرتے ہوئے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ یہ ٹورنٹو میں سال 2025 کی 41ویں قتل کی واردات تھی۔ٹورنٹو میں بھارتی قونصل خانے نے دونوں واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور کینیڈین حکام کے ساتھ مل کر ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ دونوں قتل کے واقعات کے درمیان کسی قسم کا کوئی تعلق سامنے نہیں آیا ہے اور دونوں کی الگ الگ تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے باوجود ان واقعات نے کینیڈا میں مقیم بھارتی طلبہ اور کمیونٹی کے درمیان عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا کر دیا ہے۔

Thursday, 25 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






واجپئی کا اٹل فیصلہ، ہل گئی تھی دنیا
تاریخ تھی 11 مئی 1998 اور وقت 3 بج کر 45 منٹ ۔ راجستھان کے پوکھران کی تپتی ریت کے نیچے ایک ایسی ہلچل ہوئی جس نے پوری دنیا کوحیران کردیا۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں یہ کارنامہ ہندوستان نے انجام دیا۔ یہ تجربہ صرف سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ ہندوستان کی اسٹریٹجک خود انحصاری کا اعلان تھا۔

واجپئی کا سخت فیصلہ
25 دسمبر 1924 کو گوالیار میں پیدا ہونے والے اٹل بہاری واجپئی کو ان کے سخت فیصلوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ 1998 کا جوہری تجربہ کوئی عام فیصلہ نہیں تھا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں ہندوستان پر تھیں۔ ایٹمی مرکز سمجھے جانے والے ممالک نہیں چاہتے تھے کہ ہندوستان ایٹمی طاقت بنے۔ دباؤ بہت زیادہ تھا۔ پابندیوں کا خطرہ تھا لیکن واجپئی نے ان سب کی پرواہ کیے بغیر مستقبل کا انتخاب کیا۔ یہ امتحان ہندوستان کی عزت نفس اور خودمختاری کا اعلان تھا۔ واجپئی جانتے تھے کہ اگر ہندوستان محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اسے طا قت ور بننا ہوگا۔نرسمہا راؤ کا واجپئی کو مشورہ
اس تاریخی واقعے کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔ جب اٹل بہاری واجپئی 1998 میں اقتدار میں واپس آئے تو ان کی حکومت 13 جماعتوں کے اتحاد سے بنی۔ حلف لینے کے چند دن بعد ہی سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ ان سے ملنے گئے۔ راؤ نے واجپئی سے کہاکہ مٹیریل تیار ہے، آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ ایٹمی بم کی تیاریوں کا حوالہ تھا۔ اٹل بہاری واجپئی نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور ڈاکٹر آر چدمبرم کو طلب کیا اور انہیں تیاری شروع کرنے کی ہدایت دی۔ واجپئی اپنی گزشتہ 13 دن کی حکومت کے تجربے سے جانتے تھے کہ وقت بہت قیمتی ہے

کلام بنے’میجر پرتھوی راج‘
اس مشن کو آپریشن شکتی کا نام دیا گیا۔ سب سے بڑا چیلنج امریکی جاسوس سیٹلائٹس سے بچنا تھا۔ اس کے لیے انوکھی حکمت عملی بنائی گئی۔ سائنسدانوں نے کبھی ایک ساتھ سفر نہیں کیا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور ان کی ٹیم نے شکوک و شبہات سے بچنے کے لیے فوجی وردی پہنی۔ انہیں کوڈ نام دیے گئے۔ کلام کا کوڈ نام ’میجر جنرل پرتھویراج‘ تھا، جب کہ ڈاکٹر چدمبرم’نٹراج‘ بن گئے۔تمام تعمیراتی کام رات کے اندھیرے میں انجام دیا گیا۔ ہندوستانی فوج کی 58ویں انجینئرز رجمنٹ نے مکمل تعاون فراہم کیا۔ یہ بلی اور چوہے کا کھیل تھا جو انڈیا نے جیت لیا۔

دنیا کو سخت پیغام
ڈاکٹر کلام نے مشورہ دیا تھا کہ ٹیسٹ کے لیے بدھ پورنیما کے دن کا انتخاب کیا جائے۔ 11 مئی 1998 بھی یہی دن تھا۔ ڈاکٹر کلام نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بہت دباؤ تھا، لیکن اٹل بہاری واجپئی نے فیصلہ کیا تھا۔ جیسے ہی سہ پہر 3 بج کر 45 منٹ پر پہلا دھماکہ ہوا، بھارت نے دنیا کو بتا دیا کہ وہ اب کسی پر منحصر نہیں رہا۔ اس تجربے نے بھارت کو نیوکلیئر ڈیٹرنس دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب کوئی بھی دشمن بھارت کی طرف آنکھ اٹھانے سے پہلے دو بار سوچے گا۔ یہ اٹل بہاری واجپئی کی دور اندیشی تھی جس نے ہندوستان کو ایک کمزور ملک سے ایک عالمی طاقت میں تبدیل کردیا۔آپریشن شکتی کی اہمیت
1974 میں اندرا گاندھی کے دور میں کیے گئے پہلے جوہری تجربے کو اسمائلنگ بدھ کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم، 1998 میں آپریشن شکتی مختلف تھا کیونکہ اس نے ہندوستان کو ایک جوہری ہتھیار کا حامل ملک بنادیا۔ اس کے بعد بھارت نے پانچ دھماکے کئے۔ اس دن کی یاد میں، ہندوستان ہر سال 11 مئی کو نیشنل ٹیکنالوجی ڈے مناتا ہے۔ یہ دن ہندوستانی سائنس اور سیاسی ارادے کی فتح کی علامت ہے۔













علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس میں فائرنگ، ٹیچرہلاک ،حملہ آور فرار
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(AMU) کیمپس میں بدھ کی شام اس وقت افراتفری مچ گئی جب اے ایم یو کے اے بی کے ہائی اسکول میں کمپیوٹر ٹیچر راؤ دانش کو گولی مار دی گئی۔ بتایا جاتاہے کہ، دانش لائبریری کینٹین کے قریب تھے جب موٹرسائیکل پر سوار دو نقاب پوش اچانک وہاں پہنچے ۔

حملہ آوروں نے دانش پر فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔زخمی دانش کو جے این میڈیکل کالج میں داخل کرادیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قراردے دیا۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور اے ایم یو انتظامیہ جائے وقوع پر پہنچی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور اے ایم یو احاطے میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالے جارہے ہیں۔ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے، واقعے کے پیچھے محرکات کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ایس ایس پی نیرج جادون نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور ٹیچرکو جانتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور حملہ آوروں کو جلد گرفتاکرلیا جائیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے ایس پی سٹی کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔












’پِن پِرک‘ بلڈ ٹیسٹ سے علامات ظاہر ہونے سے 10 سال قبل بیماری کی تشخیص ممکن
محققین کا کہنا ہے کہ خون میں موجود اہم مادّوں پر دنیا کی سب سے بڑی تحقیق نے ایسے متعدد ’پِن پِرک ٹیسٹوں کی راہ ہموار کر دی ہے جو بیماریوں کی ابتدائی علامات کے ظاہر ہونے سے ایک دہائی پہلے شناخت کر سکتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ان ٹیسٹوں پر کام اس پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد سامنے آیا ہے جس میں یوکے بایو بینک نے پانچ لاکھ رضاکاروں سے جمع کیے گئے خون میں قریباً 250 مختلف پروٹینز، شکر، چکنائی اور دیگر مرکبات کی سطحیں جانچیں۔
یہ پیچیدہ مالیکیولر پروفائل ہر فرد کی جسمانی حالت کی تفصیلی تصویر فراہم کرتے ہیں، اور جب انہیں طبی ریکارڈز اور اموات کے اندراجات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو سائنس دان ذیابیطس، امراضِ قلب، سرطان اور ڈیمنشیا سمیت بے شمار بیماریوں کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ایڈنبرا یونیورسٹی کی ڈاکٹر جوئے ایڈورڈز ہِکس، جو خون کے میٹابولائٹس میں تبدیلیوں کا مدافعتی نظام پر اثرات کا مطالعہ کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ ’یہ ہمارے کام کے لیے واقعی ایک بہت بڑا سنگِ میل ثابت ہوگا۔‘
یہ ٹیسٹس صحت کی دیکھ بھال کا رخ علاج کے بجائے بیماریوں کی روک تھام کی طرف موڑ دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا ’یہ احتیاطی صحت کے اُس ماڈل سے مطابقت رکھتا ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں، جہاں آپ صرف ایک چھوٹی سی سوئی چبھو کر خون کا نمونہ بھیجیں اور اپنی صحت کے بارے میں اندازہ لگا سکیں۔ اگر ہمارے پاس بیماریوں کے ابتدائی اشارے ہوں تو ہم 40 سال کی عمر میں ہی لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ اُن کے بائیومارکرز عمر کے لحاظ سے بہتر نہیں لگ رہے، اور وہ اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔‘
یوکے بایو بینک نے نائٹنگیل ہیلتھ کے ساتھ مل کر خون میں سینکڑوں اہم میٹابولائٹس کی سطحیں جانچیں، جن میں شکر، امینو ایسڈز، چکنائیاں، ہارمونز اور یوریا جیسے فاضل مادّے شامل ہیں۔ یہ مالیکیول اُس وقت بنتے یا استعمال ہوتے ہیں جب جسم خوراک، مشروبات اور ادویات کو توڑتا ہے، یا جب اعضا توانائی استعمال کرتے ہیں، مرمت کرتے ہیں اور نشوونما کے لیے نئے خلیات بناتے ہیں۔انسانی جسم کے میٹابولک پروفائل میں تبدیلیاں بیماری کی علامات اور اس کی وجہ دونوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ جب اعضا صحیح طرح کام نہیں کرتے تو پروفائل بھی بدل جاتا ہے۔ بیمار جگر امونیا بڑھا دیتا ہے، خراب گردہ یوریا اور کریٹینین بڑھا دیتا ہے، پٹھوں کو نقصان پہنچے تو لیکٹیٹ کی سطح بڑھ جاتی ہے، اور سرطان میں گلوکوز کا استعمال بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔
میٹابولک پروفائل سے ملنے والی تصویر اکثر دیگر ٹیسٹوں سے زیادہ مکمل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میٹابولائٹس نہ صرف جینیاتی عوامل سے بلکہ ماحول، خوراک، ورزش، آلودگی اور ذہنی دباؤ سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اگرچہ کچھ میٹابولک پروفائل پہلے بھی دستیاب تھے، لیکن اب پانچ لاکھ افراد کے پروفائل ہونے سے سائنس دان زیادہ قابلِ اعتماد اور وسیع تر بیماریوں کے لیے ابتدائی تشخیصی ٹیسٹ تیار کر سکیں گے۔
کنگز کالج لندن کے ڈاکٹر جولیئن مُٹز کا کہنا ہے کہ وہ ڈیمنشیا کے خطرے کی پیش گوئی کے لیے انہی پروفائلز کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر ٹیسٹ 10 سے 15 سال پہلے ہی خطرے کی نشان دہی کر دیں تو ڈاکٹر مریضوں کو وقت سے پہلے ایسے اقدامات کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو بیماری کے امکانات کم کر دیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جنگ کے بعد مالال ہوا ایران، جلد ملیں گے اتنے ارب ڈالر، مسعود پزشکیان نے کیا یہ بڑا اعلان ایران صدر کے مسعود پزشکیان ...