واجپئی کا اٹل فیصلہ، ہل گئی تھی دنیا
تاریخ تھی 11 مئی 1998 اور وقت 3 بج کر 45 منٹ ۔ راجستھان کے پوکھران کی تپتی ریت کے نیچے ایک ایسی ہلچل ہوئی جس نے پوری دنیا کوحیران کردیا۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں یہ کارنامہ ہندوستان نے انجام دیا۔ یہ تجربہ صرف سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ ہندوستان کی اسٹریٹجک خود انحصاری کا اعلان تھا۔
واجپئی کا سخت فیصلہ
25 دسمبر 1924 کو گوالیار میں پیدا ہونے والے اٹل بہاری واجپئی کو ان کے سخت فیصلوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ 1998 کا جوہری تجربہ کوئی عام فیصلہ نہیں تھا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں ہندوستان پر تھیں۔ ایٹمی مرکز سمجھے جانے والے ممالک نہیں چاہتے تھے کہ ہندوستان ایٹمی طاقت بنے۔ دباؤ بہت زیادہ تھا۔ پابندیوں کا خطرہ تھا لیکن واجپئی نے ان سب کی پرواہ کیے بغیر مستقبل کا انتخاب کیا۔ یہ امتحان ہندوستان کی عزت نفس اور خودمختاری کا اعلان تھا۔ واجپئی جانتے تھے کہ اگر ہندوستان محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اسے طا قت ور بننا ہوگا۔نرسمہا راؤ کا واجپئی کو مشورہ
اس تاریخی واقعے کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔ جب اٹل بہاری واجپئی 1998 میں اقتدار میں واپس آئے تو ان کی حکومت 13 جماعتوں کے اتحاد سے بنی۔ حلف لینے کے چند دن بعد ہی سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ ان سے ملنے گئے۔ راؤ نے واجپئی سے کہاکہ مٹیریل تیار ہے، آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ ایٹمی بم کی تیاریوں کا حوالہ تھا۔ اٹل بہاری واجپئی نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور ڈاکٹر آر چدمبرم کو طلب کیا اور انہیں تیاری شروع کرنے کی ہدایت دی۔ واجپئی اپنی گزشتہ 13 دن کی حکومت کے تجربے سے جانتے تھے کہ وقت بہت قیمتی ہے
کلام بنے’میجر پرتھوی راج‘
اس مشن کو آپریشن شکتی کا نام دیا گیا۔ سب سے بڑا چیلنج امریکی جاسوس سیٹلائٹس سے بچنا تھا۔ اس کے لیے انوکھی حکمت عملی بنائی گئی۔ سائنسدانوں نے کبھی ایک ساتھ سفر نہیں کیا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور ان کی ٹیم نے شکوک و شبہات سے بچنے کے لیے فوجی وردی پہنی۔ انہیں کوڈ نام دیے گئے۔ کلام کا کوڈ نام ’میجر جنرل پرتھویراج‘ تھا، جب کہ ڈاکٹر چدمبرم’نٹراج‘ بن گئے۔تمام تعمیراتی کام رات کے اندھیرے میں انجام دیا گیا۔ ہندوستانی فوج کی 58ویں انجینئرز رجمنٹ نے مکمل تعاون فراہم کیا۔ یہ بلی اور چوہے کا کھیل تھا جو انڈیا نے جیت لیا۔
دنیا کو سخت پیغام
ڈاکٹر کلام نے مشورہ دیا تھا کہ ٹیسٹ کے لیے بدھ پورنیما کے دن کا انتخاب کیا جائے۔ 11 مئی 1998 بھی یہی دن تھا۔ ڈاکٹر کلام نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بہت دباؤ تھا، لیکن اٹل بہاری واجپئی نے فیصلہ کیا تھا۔ جیسے ہی سہ پہر 3 بج کر 45 منٹ پر پہلا دھماکہ ہوا، بھارت نے دنیا کو بتا دیا کہ وہ اب کسی پر منحصر نہیں رہا۔ اس تجربے نے بھارت کو نیوکلیئر ڈیٹرنس دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب کوئی بھی دشمن بھارت کی طرف آنکھ اٹھانے سے پہلے دو بار سوچے گا۔ یہ اٹل بہاری واجپئی کی دور اندیشی تھی جس نے ہندوستان کو ایک کمزور ملک سے ایک عالمی طاقت میں تبدیل کردیا۔آپریشن شکتی کی اہمیت
1974 میں اندرا گاندھی کے دور میں کیے گئے پہلے جوہری تجربے کو اسمائلنگ بدھ کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم، 1998 میں آپریشن شکتی مختلف تھا کیونکہ اس نے ہندوستان کو ایک جوہری ہتھیار کا حامل ملک بنادیا۔ اس کے بعد بھارت نے پانچ دھماکے کئے۔ اس دن کی یاد میں، ہندوستان ہر سال 11 مئی کو نیشنل ٹیکنالوجی ڈے مناتا ہے۔ یہ دن ہندوستانی سائنس اور سیاسی ارادے کی فتح کی علامت ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس میں فائرنگ، ٹیچرہلاک ،حملہ آور فرار
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(AMU) کیمپس میں بدھ کی شام اس وقت افراتفری مچ گئی جب اے ایم یو کے اے بی کے ہائی اسکول میں کمپیوٹر ٹیچر راؤ دانش کو گولی مار دی گئی۔ بتایا جاتاہے کہ، دانش لائبریری کینٹین کے قریب تھے جب موٹرسائیکل پر سوار دو نقاب پوش اچانک وہاں پہنچے ۔
حملہ آوروں نے دانش پر فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔زخمی دانش کو جے این میڈیکل کالج میں داخل کرادیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قراردے دیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور اے ایم یو انتظامیہ جائے وقوع پر پہنچی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور اے ایم یو احاطے میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالے جارہے ہیں۔ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے، واقعے کے پیچھے محرکات کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ایس ایس پی نیرج جادون نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور ٹیچرکو جانتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور حملہ آوروں کو جلد گرفتاکرلیا جائیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے ایس پی سٹی کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
’پِن پِرک‘ بلڈ ٹیسٹ سے علامات ظاہر ہونے سے 10 سال قبل بیماری کی تشخیص ممکن
محققین کا کہنا ہے کہ خون میں موجود اہم مادّوں پر دنیا کی سب سے بڑی تحقیق نے ایسے متعدد ’پِن پِرک ٹیسٹوں کی راہ ہموار کر دی ہے جو بیماریوں کی ابتدائی علامات کے ظاہر ہونے سے ایک دہائی پہلے شناخت کر سکتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ان ٹیسٹوں پر کام اس پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد سامنے آیا ہے جس میں یوکے بایو بینک نے پانچ لاکھ رضاکاروں سے جمع کیے گئے خون میں قریباً 250 مختلف پروٹینز، شکر، چکنائی اور دیگر مرکبات کی سطحیں جانچیں۔
یہ پیچیدہ مالیکیولر پروفائل ہر فرد کی جسمانی حالت کی تفصیلی تصویر فراہم کرتے ہیں، اور جب انہیں طبی ریکارڈز اور اموات کے اندراجات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو سائنس دان ذیابیطس، امراضِ قلب، سرطان اور ڈیمنشیا سمیت بے شمار بیماریوں کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ایڈنبرا یونیورسٹی کی ڈاکٹر جوئے ایڈورڈز ہِکس، جو خون کے میٹابولائٹس میں تبدیلیوں کا مدافعتی نظام پر اثرات کا مطالعہ کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ ’یہ ہمارے کام کے لیے واقعی ایک بہت بڑا سنگِ میل ثابت ہوگا۔‘
یہ ٹیسٹس صحت کی دیکھ بھال کا رخ علاج کے بجائے بیماریوں کی روک تھام کی طرف موڑ دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا ’یہ احتیاطی صحت کے اُس ماڈل سے مطابقت رکھتا ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں، جہاں آپ صرف ایک چھوٹی سی سوئی چبھو کر خون کا نمونہ بھیجیں اور اپنی صحت کے بارے میں اندازہ لگا سکیں۔ اگر ہمارے پاس بیماریوں کے ابتدائی اشارے ہوں تو ہم 40 سال کی عمر میں ہی لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ اُن کے بائیومارکرز عمر کے لحاظ سے بہتر نہیں لگ رہے، اور وہ اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔‘
یوکے بایو بینک نے نائٹنگیل ہیلتھ کے ساتھ مل کر خون میں سینکڑوں اہم میٹابولائٹس کی سطحیں جانچیں، جن میں شکر، امینو ایسڈز، چکنائیاں، ہارمونز اور یوریا جیسے فاضل مادّے شامل ہیں۔ یہ مالیکیول اُس وقت بنتے یا استعمال ہوتے ہیں جب جسم خوراک، مشروبات اور ادویات کو توڑتا ہے، یا جب اعضا توانائی استعمال کرتے ہیں، مرمت کرتے ہیں اور نشوونما کے لیے نئے خلیات بناتے ہیں۔انسانی جسم کے میٹابولک پروفائل میں تبدیلیاں بیماری کی علامات اور اس کی وجہ دونوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ جب اعضا صحیح طرح کام نہیں کرتے تو پروفائل بھی بدل جاتا ہے۔ بیمار جگر امونیا بڑھا دیتا ہے، خراب گردہ یوریا اور کریٹینین بڑھا دیتا ہے، پٹھوں کو نقصان پہنچے تو لیکٹیٹ کی سطح بڑھ جاتی ہے، اور سرطان میں گلوکوز کا استعمال بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔
میٹابولک پروفائل سے ملنے والی تصویر اکثر دیگر ٹیسٹوں سے زیادہ مکمل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میٹابولائٹس نہ صرف جینیاتی عوامل سے بلکہ ماحول، خوراک، ورزش، آلودگی اور ذہنی دباؤ سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اگرچہ کچھ میٹابولک پروفائل پہلے بھی دستیاب تھے، لیکن اب پانچ لاکھ افراد کے پروفائل ہونے سے سائنس دان زیادہ قابلِ اعتماد اور وسیع تر بیماریوں کے لیے ابتدائی تشخیصی ٹیسٹ تیار کر سکیں گے۔
کنگز کالج لندن کے ڈاکٹر جولیئن مُٹز کا کہنا ہے کہ وہ ڈیمنشیا کے خطرے کی پیش گوئی کے لیے انہی پروفائلز کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر ٹیسٹ 10 سے 15 سال پہلے ہی خطرے کی نشان دہی کر دیں تو ڈاکٹر مریضوں کو وقت سے پہلے ایسے اقدامات کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو بیماری کے امکانات کم کر دیں۔