بنگلہ دیش میں خاموشی سے طوفان مچا گئیں خالدہ ضیا کی پوتی ، بی این پی میں کیا ہوگا مستقبل ؟
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کسی بھی جمہوری ملک کے لیے اچھی بات نہیں۔ شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد سے ہنگامہ برپا ہے۔ محمد یونس کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اقلیتوں خصوصاً ہندوؤں کی حالت زار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ادھر طارق رحمان بھی 17 سال کی جلاوطنی کے بعد واپس آئے ہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں پرتشدد مظاہرے، اقلیتوں پر حملے اور ہجومی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سب کے درمیان خالدہ ضیا کی پوتی زائمہ رحمان نے حال ہی میں بنگلہ دیشی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
انتہا پسند طلبہ رہنما عثمان شریف ہادی کے حالیہ قتل نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ مظاہرین، جو اس کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، نے کئی مقامات پر تشدد، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کا سہارا لیا۔ان واقعات نے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بنا دیا ہے۔ شیخ حسینہ حکومت کے خلاف پرتشدد طلبہ تحریکوں کی حمایت سے برسراقتدار آنے والی یہ عبوری حکومت اب اسی تشدد پر قابو پانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت کئی شہروں میں امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ جبکہ عوامی پر مکمل پابندی کا مقصد اپنے فائدے کے لیے تھا، لیکن اس کا فائدہ بی این پی اور خالدہ ضیا کے دھڑوں کو ہوتا نظر آتا ہے۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائے اور ووٹرز کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اقلیتی ہندو برادری کے خلاف تشدد اور ماب لنچنگ نے بھی بھارت میں ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں کئی مقامات پر مظاہروں کی اطلاع ملی ہے۔ یہاں رہنے والے ہندوؤں کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی واپسی سے جہاں بی این پی کو نئی توانائی ملی ہے وہیں یہ ان کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے والا ہے۔
بنگلہ دیش میں وائرل ہوئیں خالدہ ضیا کی پوتی
خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان کی طرح ان کی پوتی جیما حمان بھی 17 سال بعد بنگلہ دیش واپس آئی ہیں۔ اس سے بنگلہ دیش کے سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ا ن کی واپسی خاموش لیکن بنگلہ دیش کی سیاست کو ہلا دینے والی رہی ۔ انہیںBNP کے نوجوان چہرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
اگر روزانہ ایک ماہ تک لگاتار گرین ٹی پی جائے تو کیا ہوگا؟
اگر آپ مسلسل ایک ماہ تک گرین ٹی پی جائے تو یہ معمولی سی عادت جسم میں اندرونی سطح پر مثبت تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مشروب کے فائدے آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں لیکن اثر دیرپا اور مفید ہوتا ہے۔آپ کو صحت کے چند ان فوائد کے بارے میں بتاتے ہیں جو 30 روز تک گرین ٹی پی کر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
میٹابولزم میں بہتری
این ڈی ٹی وی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گرین ٹی کا استعمال جسم میں چربی جلانے اور توانائی پیدا کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
ایک ماہ کے استعمال کے بعد عام طور پر توانائی میں واضح اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، کھانا جلد ہضم ہونے لگتا ہے، پیٹ کی سوجن اور بوجھل پن میں کمی محسوس ہوتی ہے اور وزن کم کرنے والے افراد کو باقاعدگی اور بہتر رفتار محسوس ہوتی ہے۔
جلد پر اثرات
گرین ٹی میں پائے جانے والے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس جلد کی سوزش اور نقصان کم کرتے ہیں۔
ایک ماہ تک گرین ٹی کے استعمال کے بعد اکثر لوگوں کی جلد پر دانوں اور سرخی میں واضح کمی ہو سکتی ہے۔ جلد زیادہ صاف رنگت شفاف محسوس ہوتی ہے جبکہ سوزش کم ہونے کی وجہ سے چہرہ تازہ دکھنے لگتا ہے۔
گرین ٹی میں موجود ایل تھیانین اور ہلکی کیفین دماغ کو پرسکون رکھتے ہیں۔ایک مہینے تک روزانہ استعمال سے پڑھائی اور دفتر کے کام میں توجہ بڑھتی ہے، ذہنی تھکاوٹ کم ہوتی ہے، موڈ بہتر ہوتا ہے اور سوچنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت میں بہتری محسوس ہوتی ہے۔
آنتوں اور ہاضمے کی صحت بہتر ہوتی ہے
گرین ٹی قدرتی پری بائیوٹک کا کردار ادا کرتی ہے اور جسم میں صحت مند بیکٹیریا بڑھاتی ہے۔
ایک ماہ میں ہاضمے میں بہتری آتی ہے، گیس اور پیٹ پھولنے کی شکایت کم ہوتی ہے، کھانے کے بعد بوجھل پن نہیں رہتا اور آنتوں کی صحت بہتر ہونے سے مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔
دل کی صحت پر مثبت اثرات
گرین ٹی کے قدرتی اجزا خون کی شریانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور دل کے نظام پر اچھا اثر ڈالتے ہیں۔اسے روزانہ پینے سے ایل ڈی ایل یعنی خراب کولیسٹرول میں کمی آنے کی توقع ہوتی ہے، بلڈ پریشر زیادہ متوازن رہتا ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور لمبے عرصے میں دل کی بیماریوں کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
تناؤ اور بے چینی میں کمی
تحقیقات کے مطابق گرین ٹی تناؤ بڑھانے والے ہارمون کو کم کرتی ہے۔ اس کے روازنہ استعمال نیند کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے، بے چینی اور چڑچڑے پن میں کمی محسوس ہوتی ہے، روزمرہ زندگی میں جذباتی استحکام بڑھتا ہے اور ذہن زیادہ پرسکون رہتا ہے۔
پاکستان کو ’لالی پاپ‘ دکھا کر ٹرمپ حاصل کرنا چاہتے ہیں 3 بڑے اہداف، نیا آفر سن کر شہباز شریف اور عاصم منیر کے اڑے ہوش!
امریکہ نے پاکستان کو ایک پیشکش کی ہے، جو پاکستان کے بکھرتے ہوئے ریل نیٹ ورک کو دوبارہ کھڑا کر سکتی ہے۔ حال ہی میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو جدید ترین امریکی لوکوموٹوز (ریل انجن) خریدنے کی پیشکش کی ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ پاکستان ایئرلائن کی طرح ریلوے بھی مالی بحران کا شکار ہے اور پرانے انجنوں کی مرمت پر کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ تاہم اس کے بدلے امریکہ نے پاکستان کے سامنے تین بھاری شرطیں رکھ دی ہیں۔
امریکہ کی پہلی شرط
پہلی شرط یہ ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کے لائسنس کی درخواست پر غور کیا جائے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں ہائی اسپیڈ سیٹلائٹ انٹرنیٹ پہنچایا جا سکے گا۔امریکہ کی دوسری شرط
دوسری شرط ڈیجیٹل سروس ٹیکس سے متعلق ہے، اور یہ شرط پوری بھی ہو چکی ہے۔ پاکستان نے غیر ملکی ٹیک کمپنیوں پر عائد 5 فیصد ڈیجیٹل سروس ٹیکس ختم کر دیا ہے۔ امریکہ نے واضح کیا تھا کہ ان کے تجارتی مفادات کا تحفظ ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس ٹیکس کے خاتمے سے گوگل، نیٹ فلکس اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں کاروبار کرنا آسان ہو جائے گا۔امریکہ کی تیسری شرط
تیسری شرط یہ ہے کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کی چابی امریکہ کو بھی دی جائے۔ امریکہ صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی زمین میں چھپے خزانوں میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ دونوں ممالک مل کر پاکستان کے معدنی ذخائر کا جائزہ لیں گے۔ امریکہ کے پاس اس مقصد کے لیے 135 ارب ڈالر کا عالمی فنڈ موجود ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے قیمتی معدنیات نکالنے اور برآمد کرنے کے لیے جلد از جلد معاہدے کیے جائیں۔