Friday, 26 December 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*




دیامر بھاشا ڈیم کے مقام پر ہزاروں سال قدیم پتھر کیا کہانی سناتے ہیں؟
پاکستان کا دیامر بھاشا ڈیم اپنی تعمیر مکمل ہونے پر ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا جس سے 4800 میگاواٹ کے قریب بجلی حاصل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ تربیلا ڈیم کی زندگی میں بھی اضافہ ہوگا۔

تاہم سات ہزار سال قبل از مسیح سے لے کر 16 ویں صدی عیسوی تک کے مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ ہزار اہم ترین تاریخی پہاڑی نقش و نگار اس ڈیم کے مکمل ہونے پر زیر آب آسکتے ہیں۔کئی برسوں تک پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پرانے ادوار کے حوالے سے تحقیقات کرنے والے محقق ڈاکر جیسن نیلِس کہتے ہیں کہ جب سے قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں کی طرف جانے کا راستہ شاہراہ قراقرم کھلا ہے۔ اس وقت سے اب تک پاکستانی اور یورپی ماہرین نے 30 ہزار سے لے کر 50 ہزار تک پہاڑی نقش و نگار اور پانچ ہزار کے قریب مختلف قسم کی لکھائیوں کے کتبے دریافت کیے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیوں پر مشتمل آثار قدیمہ کے خزانے دریائے سندھ کے آس پاس گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں موجود ہیں۔

بیسویں صدی میں تعمیر ہونے والی شاہراہِ قراقرم پاکستان کو چین کے علاقے سنکیانگ سے ملاتی ہے جس کے ذریعے پاکستان کا زمینی رابطہ وسطی ایشیا تک سے ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر جیسن نیلس کا کہنا تھا کہ یہ پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیاں ہمیں بتاتے ہیں کہ (اس شاہراہ کی تعمیر سے قبل) قدیم دور میں سیاح کس طرح ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں میں مختلف راستوں پر سفر کیا کرتے تھے۔
ان پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیوں سے ہمیں شمالی علاقہ جات میں بسنے والے قدیم لوگوں کے عقائد اور ثقافت دیکھنے اور سمجھنے کے علاوہ یہاں دنیا کے دوسرے خطوں سے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے بارے میں بھی پتا چلتا ہے۔یہ پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیاں کیا بتاتی ہیں؟
گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں موجود تھلپن کے گاؤں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ڈیم کا شکار ہوسکتا ہے۔ تھلپن میں اب تک ماہرین کئی قدیم پہاڑی نقش و نگار اور لکھائیاں دریافت کر چکے ہیں۔ڈاکٹر جیسن نے تھلپن میں موجود ایک ایسی ہی چٹان پر نقش و نگار کے حوالے سے بتایا کہ اس علاقے میں موجود پتھروں پر موجود جانوروں، انسانوں اور کچھ نشانیوں کے خاکے قبل از تاریخ اور بعد از تاریخ کی ہیں، جس میں زیادہ تر ماخور، پہاڑی بکروں اور دیگر جانوروں کی ہیں، جبکہ شکاریوں اور گھڑ سواروں کے علاوہ مختلف دیگر نشانات اور عمارات ہیں جن کا تعلق ہر عہد سے ہے۔

اسی طرح چلاس ہی میں موجود کچھ پہاڑوں پر موجود پرانی لکھائیوں کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ کچھ لکھائیاں سابق ادوار کی اہم شخصیات کے حوالے سے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چلاس میں پہاڑی نقوش و نگار، کچھ تصاویر اور نشانات کے علاوہ یہاں جنوبی ایشیا، ایران اور وسطی ایشیا کی پرانی زبانوں میں لکھائیاں بھی موجود ہیں۔ شروع کی لکھائیاں گندھارا زبان میں ہیں جو کہ خروستی رسم الخط میں ہیں، جو اس علاقے میں دو ہزار سے 17 سو سال پہلے کی ہیں۔

اس پر موجود خاکے بالادیوا، واسودیوا اور راہولہ کے نام کے ساتھ خروستی رسم الخط کے ساتھ کندہ ہیں۔ایک اور پہاڑی نقش کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر جیسن نیلس کا کہنا تھا کہ بدھ مت کی اس ڈرائنگ میں گندھارا زبان میں لکھائی ہوئی ہے جو کہ بتاتی ہے کہ بخش یعنی راہب سٹوپا کی عمارت میں عبادت کر رہے ہیں۔

یہ پہاڑی نقش و نگار ٹیکسلا، سوات اور گندھارا میں موجود آثارقدیمہ سے ملتے جلتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر جیسن نیلس کے مطابق دریائے سندھ کے آر پار سٹوپا کے اور بھی خاکے موجود ہیں جن میں لکھائیاں برہمی رسم الخط میں ہیں جن کو سنسکرت زبان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ کوئی 1500 سال پرانی اور غالباً گندھارا زبان کے بعد کے دور کی ہیں۔ ان پر موجود خاکوں میں گوتم بدھ اور ان کے پہلے پانچ طالب علموں کی عکاسی کی گئی ہے۔مانا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنا پہلا درس انڈیا کے شہر بنارس کے قریب واقع سرناتھ میں ہرنوں کے پارک میں دیا تھا، اسی لیے ان خاکوں میں ہرن بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر جیسن کے مطابق ایک اور پہاڑی نقش جن میں شکاریوں، مختلف آلات، نشانات اور پہاڑی بکرے کی تصاویر ہیں سے اندازہ ہے کہ یہ بدھ ازم کے دور کے بعد کی تصاویر ہیں، جن میں عقائد اور تہذیب و تمدن تبدیل ہو رہے ہیں۔ثقافی ورثے کا مستقبل
اس بارے میں دو رائے نہیں پائی جاتی ہیں کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی صورت میں یہ قدیم ورثہ بہرحال اپنی اصل حالت میں موجود نہیں رہے گا، جس کے بعد پوری دنیا کے ماہرین میں یہ بات زیر موضوع ہے کہ اس کو کس طرح محفوظ کیا جائے۔ڈاکٹر جیسن کا کہنا تھا کہ اس ورثہ کا کچھ نہ کچھ حصہ تو مختلف صورتوں میں محفوظ ہے۔ پاکستانی دانشور مرحوم پروفیسر احمد حسن دانی کی کتابوں کے علاوہ جرمنی کی ہائیڈلبرگ یونیورسٹی کے تحقیق دانوں کی پاکستان کے شمالی علاقہ جات پر کتب کے پانچ شمارے چھپ چکے ہیں۔ یہ کتب انتہائی قیمتی ہیں، مگر ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔اس کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید طریقے اختیار کر کے ان قیمتی نقوش و نگار اور لکھائیوں کو محفوظ کیا جائے تاکہ ثافتی ورثے کو نقصان سے بچایا جاسکے۔واپڈا کا مؤقف
یہ ڈیم پاکستان میں آبی ذخائر اور توانائی کے ذرائع کے لیے ذمہ دار ادارے واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے زیرِ انتظام ہو گا۔

ادارے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے مرکزی ڈیم پر تعمیراتی کام کے آغاز کے ساتھ ساتھ منصوبے کی تعمیر کے حوالے سے اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت واپڈا پراجیکٹ کے علاقے میں ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لیے مینیجمنٹ پلان پر بھی کام شروع کر رہا ہے۔

مینجمنٹ پلان کا مقصد دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے باعث زیرِ آب آنے والی چٹانوں پر نقش کی گئی تصویروں اور تحریروں کو محفوظ بنانا ہوگا، جبکہ اس سلسلے میں چلاس قلعے کی بحالی اور تزئین و آرائش کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ یہاں ایک میوزیم قائم کیا جائے گا اور گلگت بلتستان خصوصاً چلاس اور اِس کے ارد گرد واقع علاقوں میں ثقافتی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

واپڈا کے مطابق ثقافتی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے مینیجمنٹ پلان ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسکو سمیت عالمی سطح پر معروف ماہرین نے تیار کیا ہے۔

اِن بین الاقوامی ماہرین میں چند برس قبل وفات پانے والے ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی میں منقش چٹانوں اور تحریروں کے ادارے سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر ہیرالڈ ہاپٹ مین بھی شامل تھے۔

واپڈا کے مطابق تقریباً پانچ ہزار اہم ترین تاریخی پہاڑی نقش و نگار کی تھری ڈی سکیننگ کی جائے گی۔ ان کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ جن پتھروں کو منتقل کرنا ممکن ہوا انھیں محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا اور جن پہاڑی نقش و نگار کو منتقل کرنا ممکن نہیں ہوا اُن کی نقول تیار کی جائیں گی۔

واپڈا کے مطابق تعمیراتی کام کے دوران تاریخی پہاڑی نقوش و نگار کے تحفظ کے لیے سائٹ پر بینرز، سکرین اور علامات سمیت دیگر تمام احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جائیں گی۔











گڑگاؤں: شادی سے انکار پر خاتون کو ماردی گولی ۔ پولیس نے ملزم کو کیاگرفتار
گڑگاؤں میں ایک نائٹ کلب کے قریب 25 سالہ خاتون کو شادی کی پیشکش مسترد کرنے پر گولی مار دی گئی۔ پولیس نے اس واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ واقعہ 20 دسمبر کی علی الصبح اس وقت پیش آیا جب متاثرہ خاتون، جس کی شناخت کلپنا کے نام سے ہوئی ہے، اس نائٹ کلب کے قریب موجود تھیں جہاں وہ کام کرتی تھیں۔ پولیس کے مطابق انہیں میکس اسپتال سے اطلاع ملی کہ ایک زخمی خاتون کو داخل کرایا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ڈی ایل ایف سیکٹر 29 پولیس اسٹیشن کے تحت ایم جی روڈ پولیس پوسٹ کی ٹیم اسپتال پہنچی اور خاتون کی میڈیکو لیگل رپورٹ حاصل کی۔ ڈاکٹروں نے خاتون کو بیان دینے کے لیے نااہل قرار دیا۔کلپنا کے شوہر، جو نجف گڑھ میں رہتے ہیں، اطلاع ملتے ہی اسپتال پہنچے اور پولیس کو تحریری شکایت دی۔ شوہر کے مطابق کلپنا 19 دسمبر کی شام روز کی طرح کام پر گئی تھیں۔ رات تقریباً ایک بجے کلپنا نے فون کر کے بتایا کہ تشار نامی شخص نے انہیں پیٹ میں گولی مار دی ہے اور انہیں اسپتال لے جایا جا رہا ہے۔
شکایت میں بتایا گیا کہ تشار، جو دہلی کے سنگم وہار کا رہائشی ہے، گزشتہ کئی مہینوں سے کلپنا کو شادی کے لیے مسلسل ہراساں کر رہا تھا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ کلپنا پہلے سے شادی شدہ ہیں۔ کلپنا نے بارہا اس کی پیشکش کو مسترد کیا۔ تقریباً ایک ماہ قبل تشار نے ان کے محلے میں آ کر ہنگامہ کیا اور ان کے گھر پر فائرنگ بھی کی تھی، جس پر اس وقت بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

شکایت کی بنیاد پر کرائم برانچ سیکٹر 40 اور ایم جی روڈ پولیس پوسٹ کی مشترکہ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے 25 دسمبر کو اتر پردیش کے شہر براوت سے دو ملزمان کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد کی شناخت تشار عرف جونٹی (25) اور شبھم عرف جانی (24) کے طور پر ہوئی ہے۔

پولیس تفتیش کے دوران تشار نے اعتراف کیا کہ اس کی کلپنا سے تقریباً چھ ماہ قبل دوستی ہوئی تھی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ واقعے کی رات وہ شبھم کے ساتھ نائٹ کلب گیا اور ایک بار پھر شادی کی پیشکش کی۔ جب کلپنا نے انکار کیا تو اس نے پستول سے اسے گولی مار دی۔

پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔












وزن کم کرتے وقت کن تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
زیادہ تر لوگ جب اپنی فٹنس یا وزن کم کرنے کے سفر کی شروعات کرتے ہیں تو وہ فوری نتائج کے پیچھے بھاگتے ہیں; کریش ڈائٹس، تیز رفتار چیلنجز اور جلد از جلد ’دبلے‘ ہونے کی خواہش۔ مگر پائیدار بہتری نہ خود کو فاقوں پر رکھنے سے آتی ہے اور نہ ہی بے تحاشہ کیلوریز خرچ کرنے سے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اصل تبدیلی آہستہ، مسلسل چربی کم کرنے اور مسلز بنانے سے آتی ہے، جو طویل عرصے تک وزن کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قلیل مدتی ڈرامائی نتائج کے بجائے طاقت اور دیرپا عادات کو ترجیح دینا ہی جسم اور صحت میں حقیقی تبدیلی لاتا ہے۔’سلو برن میتھڈ‘ کے بانی، کوآڈ فٹنس کے شریک بانی اور ہیڈ کوچ، اور کتاب ’سمپل، ناٹ ایزی‘ کے مصنف فٹنس ٹرینر راج گنپتھ نے وزن کم کرنے کے آغاز سے متعلق تین اہم مگر اکثر نظر انداز کیے جانے والے حقائق بیان کیے ہیں۔
ایک انسٹاگرام ویڈیو میں انہوں نے واضح کیا کہ کیوں آہستہ اور مسلسل پیش رفت تیز رفتار پروگراموں کے مقابلے میں بہتر ہے، اور کیوں مقصد صرف ’دبلے‘ ہونا نہیں بلکہ لین اور مضبوط بننا ہونا چاہیے۔
سست رفتاری سے وزن میں کمی زیادہ پائیدار
راج کے مطابق وزن میں کمی کبھی صرف چربی میں کمی نہیں ہوتی؛ اس میں مسلز کا کم ہونا بھی شامل ہوتا ہے، چاہے آپ کوئی بھی ڈائیٹ فالو کر رہے ہوں یا جتنی بھی ورزش کر رہے ہوں۔ البتہ جب وزن دوبارہ بڑھتا ہے تو کھوئے ہوئے مسلز واپس نہیں آتے، بلکہ ان کی جگہ چربی لے لیتی ہے۔زیادہ مسلز کا مطلب زیادہ چربی کا خاتمہ
زیادہ تر لوگ وزن کم کرنے کے لیے کارڈیو، کیلوریز جلانے اور کم کھانے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن راج کے مطابق اصل ترجیح مسلز بنانا ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’جتنے زیادہ مسلز ہوں گے، اتنی ہی آپ کا میٹابولک ریٹ زیادہ ہو گا۔ اگر آپ وزن کو منظم رکھنا اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو جتنے زیادہ ہو سکے مسلز بنائیں۔‘
دبلے ہونے کے بجائے مضبوط بننے پر توجہ دیں
راج نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’دبلے ہونا تقریباً بے فائدہ ہے۔ اگر آپ زیادہ وزن کے حامل ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ دبلے ہونا ہی حل ہے۔ مگر دبلے کا مطلب کم توانائی، کمزور ہڈیاں، تھکاوٹ اور ڈھیلا جسم ہے۔‘انہوں نے واضح کیا کہ اصل ہدف لین اور مضبوط ہونا چاہیے۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ غیرضروری وزن، یعنی چربی کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے، جبکہ ضروری مسلز، ہڈیاں، اور اعضا کو محفوظ رکھا جائے۔‘

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...